پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ
خورشید خاور ترجمہشبہائے پشاور
جلددوم
مصنف
حجة الاسلام وسلطان الواعظین آقائے سید محمد شیرازی
مترجم
الحاج مولانا سید محمد باقر صاحب باقری رئیس جوارس ضلع بارہ نیکی
تجدید نظر
سید اعجاز محمد ( فاضل)
شروع حصہ دوم
آٹھویں نشست
شب جمعہ یکم شعبان المعظم سنہ1345ھ
اول شب میں ابھی نماز عشا میں مشغول تھا کہ حضرات تشریف لے آئے۔ نماز اور چائے نوشی کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔
سید عبدالحی : قبلہ صاحب! گذشتہ شب آپ نے کچھ ایسی باتیں بیان فرمائیں جو آپ جیسے انسان کو زیب نہیں دیتیں کیوںکہ ان سے مسلمانوں کے درمیان باہمی رنجش اور منافرت پھیلتی ہے۔ آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ آپس کی پھوٹ اور نفرت ہی کے سبب سے مسلمان فنا ہورہے ہیں جس طرح کبھی اتفاق اور یگانگی کی وجہ سے غالب تھے۔
خیر طلب : (انتہائیتعجب کے ساتھ) مہربانی کر کے بیان فرمائیے کہ میری تقریر کا کون سا حصہ مسلمانوں میں جدائی اور افتراق پیدا کرنے والا ہے؟ اگر آپ کا اعتراض درست ہے اور واقعی مجھ سے کوئی غفلت ہوئی ہے تو میں متنبہ ہوجائوں گا۔
سید : کس و ناکس کی توضیح اور تعریف کے موقع پر آپ نے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مسلم و مومن سے تعبیر فرمایا تھا در آنحالیکہ مسلمان سب ایک ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کہنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دو گروہوں میں تقسیم نہ کرنا چاہیئے اس سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے آپ ہی جیسے حضرات کے بیانات کا یہ اثر ہے کہ خاص و عام پیدا ہوگئے اور شیعہ اپنے کو مومن اور ہم کو مسلم کہنے لگے چنانچہ آپ نے ہندوستان میں دیکھا ہے کہ شیعہ کو مومن اور سنی کو مسلم کہتے ہیں۔ حالانکہ اسلام و ایمان ایک چیز ہے اس لیے کہ اسلام در اصل احکام کی اطاعت و قبولیت اور ان کو تسلیم کرنے کا نام ہے اور یہی تصدیق کا مطلب اور ایمان کی حقیقت ہے ساری امت نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اسلام عین ایمان اور ایمان حقیقت اسلام ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔لیکن آپ نے جمہور کے برخلاف بیان دے کر اسلام اور ایمان کو ایک دوسرے سے الگ قرار دیا۔
اسلام اور ایمان میں فرق
خیر طلب : ( تھوڑے سکوت اور تبسم کے بعد) مجھ کو حیرت ہے کہ کس صورت سے جواب عرض کروں۔ اولا جو جمہور آپ کے پیش نظر ہے اور جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ عام امت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس جمہور سے چند اہل سنت وجماعت مراد ہیں۔
دوسرے افسوس ہے کہ اسلام اور ایمان کے بارے میں آپ کا بیان کافی نہیں ہے اس لیے کہ اس موضوع میں نہ صرف شیعوں کو اہل سنت وجماعت کے عقیدے سے اختلاف ہے بلکہ اشعری،معتزلی، حنفی اور شافعی فرقے بھی عقائد میں الگ ہیں۔ لیکن اتنا وقت نہیں ہے کہ مختلف فرقوں کے تمام اقوال نقل کئے جائیں۔
تیسرے آپ حضرات جو عالم و اہل قرآن ہیں اور آیات قرآنی پر نظر رکھتے ہیں ایسے عامیانہ اشکالات قائم کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ غالبا آپ حضرات کا مقصد یہ ے کہ جلسے کا وقت ضائع کیا جائے ورنہ اس سے کہیں اہم اصولی مطالب موجود ہیں جن سے ہم پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایسے طفلانہ اعتراضات تو آپ جیسے انسان سے میل نہیں کھاتے کہ تم نے اسلام و ایمان کو الگ الگ کر کے دو مختلف گروہ قائم کرنے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔
حالاکہ ( بقول آپ کے) یہ دو گروہوں کی تقسیم خود خداوند حکیم نے قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں فرمائی ہے، غالبا آپ حضرات نے قرآن مجید کے اندر اصحاب یمین و اصحاب شمال کے ذکر کو فراموش کردیا ہے۔ کیا ایسا نہیں کہ سورہ نمبر49 (حجرات) آیت نمبر14 میں صریحا فرماتا ہے۔
"قالَتِ الْأَعْرابُآمَنَّاقُلْ لَمْ تُؤْمِنُواوَلكِنْ قُولُواأَسْلَمْناوَلَمَّايَدْخُل ِالْإِيمانُ فِي قُلُوبِكُمْ"
یقینا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیہ شریفہ حجاز کے اعراب بنی اسد کے مذمت میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے قحط کے سال مدینہ منورہ میں آکر اسلام و ایمان کا اظہار کیا اور کلمہ شہادتین زبان پر جاری کیا لیکن چونکہ نعمات سے مستفید ہونے کے لیے ظاہری اسلام لائے تھے لہذا خدا نے اس آیت میں کو اس طریقہ سے جھٹلایا ہے کہ ( اے رسول (ص) اعراب و بنی اسد وغیرہ ) نے جو تم پر احسان رکھا ہے اور کہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے تو ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائےالبتہ یہ کہو کہ اسلام لائے ( جس سے مسلم میں داخل ہونا اظہار شہادت اور اطاعت احکام مراد ہے تاکہ قتل و اسیری سے تحفظ اور مالی حقوق حاصل ہوں اور ابھی تو تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا ہے یہ آیت شریفہ صاف صاف کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں میں دو گروہ ہیں، ایک فرقہ حقیقی مسلمانوں کا ہے جو قلب اور عقیدے کے روسے حقائق پر ایمان لائے ہوئے ہیں اور انہیں کو مومن کہتے ہیں۔ اور دوسرا فرقہ ظاہری مسلمانوں کا ہےجو اپنے اغراض و مقاصد کے لیے خوف یا طمع کی بنا پر ( قبیلہ بنی اسد وغیرہ کی طرح) فقط کلمہ شہادتین زبان پر جاری کر کے اپنے کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت و معنویت یعنی باطنی ایمان کا ان کے دل و دماغ میں کوئی اثر نہیں، اگرچہ ظاہر کی بنا پر ان کے ساتھ معاشرت کی اجازت دی گئی ہے لیکن بحکم قرآن
" لیس لهم فی الآخرة من خلاق" آخرت میں ان کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے، پس صرف کلمہ شہادتین کے اقرار اور اسلام کے مظاہرے سے معنوی نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔
سید : یہ آپ کا بیان صحیح ہے لیکن بغیر ایمان کے اسلام کا قطعا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جیسا کہ بغیر اسلام کے ایمان کا کوئی نتیجہ نہیں کیا سورہ نمبر4 (نساء) آیت نمبر96 میں ارشاد نہیں ہے کہ" وَلاتَقُولُوالِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلام َلَسْتَ مُؤْمِناً" ( یعنی جو شخص تم پر سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔) یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس کی کہ ہم ظاہر پر مامور ہیں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دے اس کو پاک و طاہر مقدس اور اپنا بھائی سمجھیں اور اس کے ایمان کا انکار نہ کریں۔ یہ بات اس کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام و ایمان ایک حکم میں ہیں۔
خیر طلب : اول تو یہ آیت ایک معین شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ( جو اسامہ بن زید یا محلم بن جثامہ لیثی تھا) جس نے میدان جنگ میں ایک لا الہ الا اللہ کہنے والے کو اس خیال سے قتل کردیا تھا کہ اس نے محض خوف کی بنا پر کلمہ پڑھا ہے اور مسلمان ہوا ہے۔ لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ عموم کا فائدہ دیتی ہے تو اس پہلو سے بھی ہم تمام مسلمانوں کو تا وقتیکہ ان سے کھلم کھلا کوئی عمل نہ دیکھا جائے، ضروریات دین کے منکر نہ ہوجائیں اور کفر و ارتداد کا اظہار نہ کریں، مسلمان اور پاک جانتے ہیں ان کے ساتھ اسلامی معاشرت رکھتے ہیں۔ ظاہر کے حدود سے تجاوز نہیں کرتے، ان کے باطن سے کوئی مطلب نہیں رکھتے اور نہ لوگوں کے باطنی حالات کی جستجو کرنے کا حق ہی رکھتے ہیں۔
مراتب ایمان
البتہ انکشاف حقیقت کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اسلام و ایمان کے درمیان مورد اور محل کے لحاظ سے عموم مطلق اور عموم من وجہ کا فرق ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے لیے کچھ درجات ہیں اور اس سلسلہ میں اہل بیت طہارت(ع) کے اخبار و احادیث اختلاف اقوال کو ختم کر کے حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ امام بحق ناطق حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے عمرو زبیری کی روایت میں فرمایا ہے۔
"أنّ للإيمان حالات ودرجاتوطبقات و منازل فمنه الناقص البين نقصانه ومن الراجح الزائل رجحانه و منهالتام المنتهی تمامه"
یعنی ایمان کے لیے حالات و درجات اور طبقات و منازل ہیں۔ ان میں سے بعض ناقص ہیں جن کا نقصان ظاہر ہے بعض راجح ہیں جن کا رجحان زاید ہے، اور بعض ان میں سے مکمل ہیں جو انتہائے کمال پر پہنچے ہوئے ہیں۔)
ایمان ناقص ایمان کا وہی پہلا درجہ ہے جس کے ذریعے انسان کفر کے دائرے سے خارج ہوکر جماعت مسلمین میں شامل ہوتا ہے اور اس کی جان، مال، خون اور عزت مسلمانوں کی امان میں آجاتی ہے۔
ایمان راجح سے حدیث میں اس شخص کا ایمان مراد ہے جو ایمانی صفات کا حامل ہونے کی وجہ سے ایمان میں اس آدمی پر فوقیت حاصل کرے جو ان صفتوں سے محروم ہو۔ جن کی طرف بعض روایتوں میں ارشاہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ کتاب مستطاب کافی و
نہج البلاغہ میں حضرت امیرالمومنین(ع) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ فرمایا :
"إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ وَضَعَ الْإِيمَانَ عَلَى سَبْعَةِأَسْهُمٍ عَلَى الْبِرِّوَالصِّدْقِ وَالْيَقِينِ وَالرِّضَاوَالْوَفَاءِوَالْعِلْمِ وَالْحِلْمِ ثُمَّ قَسَمَ ذَلِكَ بَيْنَ النَّاسِ فَمَنْ جَعَلَ فِيهِ هَذِهِ السَّبْعَةَالْأَسْهُمِ فَهُوَكَامِلٌ مُحْتَمِلٌ"
یعنی در حقیقت خدائے تعالی نے ایمان کو سات حصوں میں تقسیم کیا ہے مطلب یہ ہے کہ مومن کے اندر سات صفتیں ہونا چاہیئے ، جن سے مراد نیکی ، راست بازی، یقین قلبی، رضاء وفاء علم اور بردباری ہے۔ یہ ساتوں صفات انسانوں کے درمیان تقسیم ہوگئے۔ جو شخص پوری طرح سے ان سب کا حامل ہو وہی مومن کامل ہے۔ پس جس کے اندر ان میں سے بعض موجود ہوں اور بعض نہ ہوں اس کا ایمان اس شخص کے ایمان سے بلند ہے جو سب ہی صفتوں سے خالی ہو۔
اور ایمان کامل اس شخص کا ایمان ہے جو تمام صفات حمیدہ اور اخلاق پسندیدہ کا حامل ہو۔ چنانچہ اسلامسے ایمان کا وہ پہلا درجہ مراد ہے جہاں صرف قول اور وحدانیت خدا و نبوت خاتم الانبیاء(ص) کا اقرار ہو۔ لیکن حقیقت دین، ایمان اس کے قلب میں داخل نہ ہوئی ہو، جیسا کہ رسول اللہ(ص) نے امت کے ایک گروہ سے فرمایا ہے۔"يا معشر من اسلم بلسانه و لم يخلص الايمان بقلبه " (یعنی اے وہ جماعت جس نے اپنی زبان سے اسلام قبول کیا ہے لیکن اس کے قلب میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے) بدیہی چیز ہے کہ اسلام و ایمان کے درمیان کھلا ہوا فرق ہے لیکن ہم لوگوں کے اندرونی کیفیات پر مامور نہیں ہیں اور شب گذشتہ ہم نے یہ نہیں کہا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ان کے درمیان تفرقہ اور جدائی ڈالنا چاہیئے۔ ہم نے فقط اتنا کہا تھا کہ مومن کی علامت اس کا عمل ہے، لیکن ہم کو اعمال مسلمین کے کھوج کرنے کا حق نہیں ہے۔ البتہ ہم مجبور ہیں کہ ایمان کی علامتیں بیان کریں تاکہ جو لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور عمل کی کوشش کر کے ظاہر سے باطن اور صورت سے سیرت کی طرف آئیں جس سے حقیقت ایمان کا اظہار ہو اور وہ سمجھ لیں کہ آخرت کی نجات صرف عمل سے ہے، اس لیے کہ حدیث میں ارشاد ہے "الايمان هو الاقرار باللسان والعقد الجنان والعمل بالارکان " ( یعنی ایمان زبان سے اقرار، قلب سے عقیدہ اور اعضاء و جوارح سے عمل کا نما ہے، ( یعنی اس کے تین رکن ہیں) پس زبان سے اقرار اور دل سے عقیدہ عمل کا مقدمہ ہے، چنانچہ اگر کوئی مسلمانلا اله الا الله محمد رسول الله کا قائل اور اسلامی شکل و صورت میں بھی ہو لیکن واجبات کا تارک اور حرام افعال کا مرتکب ہو تو ہم اس کو مومن نہیں سمجھتے، ہرچند کہ بظاہر اس سے قطع تعلق نہیں کرتے بلکہ اسلامی معاشرت رکھتے ہیں۔ البتہ یہ جانتے ہیں کہ عالم آخرت میں جس کا مقدمہ یہ دنیا ہے ایسے شخص کے لیے راہ نجات مسدود ہے جب تک نیک اور خالص عمل کا حامل نہ بن جاوے جیسا کہ سورہ والعصر میں صاف اشارہ ہے "وَالْعَصْرِإِنَ الْإِنْسانَ لَفِي خُسْرٍإِلَّاالَّذِينَ آمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحاتِ "( یعنی قسم عصر کی نوع انسان بڑے خطرے اور نقصان میں ہے سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے) غرضیکہ بحکم قرآن ایمان کی جڑ عمل صالح ہے اور بس۔ اور اگر کوئی شخص عمل نہیں رکھتا تو چاہے قلب و زبان سے اقرار بھی کرتا ہو ایمان سے دور ہے۔
اہل سنت قرآنی قواعد کے خلاف شیعوں کو مطعون کرتے ہیں
اس سلسلے میں آپ کا قول سامنے رکھتے ہوئے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر آپ کا یہ فرمانا صحیح ہے اور آپ اس عقیدے میں مضبوط ہیں کہ صرف ظاہر پر حکم کیا جائے اورلا اله الا الله محمد رسول الله کہنے والے کو مسلمان و مومن اور بھائی سمجھیں تو پھر آپ حضرات شیعوں اور اہل بیت رسالت(ع) کے پیروئوں کو جو وحدانیت پروردگار اور نبوت خاتم الانبیاء کا اقرار کرتے ہیں۔ سب ایک قبلہ اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں، تمام احکام و واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، حج بیت اللہ کے لیے جاتے ہیں، محرمات کو ترک کرتےہیں۔ خمس و زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ اور معاد جسمانی کے معتقد ہیں، کس لیے کافر و مشرک اور رافضی کہتے ہیں اور اپنے سے الگ رکھتے ہیں؟ تعجب ہے کہ خوارج و نواصب اور بنی امیہ کے پروپیگنڈوں کا اثر اب تکآپ حضرات میں نمایاں ہے۔
پس آپ کو تصدیق کرنا چاہئیے کہ باہمی افتراق و نفاق اور علیحدگی کے باعث آپ ہی حضرات ہیں جو دس کروڑٰ سے زیادہ موحد ومومن مسلمانوں کو اپنے سے جدا، کافر ومشرک اور رافضی کہتے ہیں۔ در آنحالیکہ ان کے کفر و شرک پر کوئی چھوٹی سی دلیل بھی آپ کے پاس نہیں ہے جو کچھ کہا جاتا ہے محض تہمت، خلط مبحث اور مغالطہ بازی ہے۔ یقین کیجئے کہ یہ سب غیروں کے تحرکات ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان باتوں سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کے پارٹیاں قائم کردیں تاکہ ان کا الو سیدھا ہو اور مسلمان ان سے مغلوب اور ذلیل و خوار رہیں۔ ہمارے درمیان امامت و ولایت کے سوا اصول و قواعد و احکام میں کوئی اختلاف نہیں ہے اگر فروعی احکام میں اختلاف ہے تو آپ کے چاروں مذاہب کے درمیان ہم سے کہیں زیادہ سخت اختلافات موجود ہیں لیکن اس وقت اتنا موقع نہیں کہ مالکیوں کے ساتھ حنفیوں کے یا حنبلیوں کے ساتھ شافعیوں کے اختلافات بیان کئے جائیں۔
میں جتنا بھی غور کرتا ہوں سوا تہمت و افترا اور نرے تعصب کے کوئی ایک دلیل بھی نظر نہیں آتی جو محکمہ عدل الہی میں آپ شیعوں کے کفر وشرک پر قائم کرسکیں۔
شیعوں کا ناقابل معافی گناہ جو خوارج و نواصب اور بنی امیہ کے ہوا خواہوں نے اپنے پروپیگنڈے سے برادران اہل سنت کے سامنے ہوا بنا کے پیش کیا ہے صرف یہ ہے کہ ہم رسول اللہ(ص) کے اوامر و احکام اور احادیث میں اپنی خواہش اور مطلب کے مطابق خود رائے اور قیاس کے ذریعے تغیر و تبدلنہیں کرتے اور رسول خدا(ص) کے درمیان ابوہریرہ، انس اور سمرہ جیسے کو واسطہ نہیں بناتے جن کو آپ کے علماء یہاں تک کہ بڑے بڑے خلفاء نے بھی مردود اور جھوٹا کہا ہے۔
شیعہ علی(ع) اور اہلبیت(ع) کی پیروی کیوں کرتے ہیں اور ائمہ اربعہ کی تقلید کیوں نہیں کرتے
بلکہ ہم خود پیغمبر کے حکم و ہدایت کے مطابق آںحضرت(ص) کے اہل بیت (ع) کی پیروی کرتے ہیں، رسول اللہ(ص) نے امت کے سامنے جو باب علم کھولا ہے اس کو بند کر کے حسب خواہش دوسرا دروازہ کھولتے، سب سے بڑا گناہ جو حضرات شیعوں پر عائد کرتے ہیں یہ ہے کہ عترت و اہل بیت رسول(ص) میں سے علی(ع) اور ائمہ اثنا عشری کی پیروی کیوں کرتے ہیں اور ائمہ اربعہ اور چاروں فقہاء کی تقلید کیوں نہیں کرتے۔ حالانکہ آپ کے ہاتھ میں رسول خدا(ص) کی طرف سے قطعا اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ مسلمانوں کو لازمی طور پر اصول میں اشعری یا معتزلی اور فروع میں مالکی یا حنبلی یا حنفی یا شافعی ہونا چاہئیے۔
البتہ اس کے برعکس رسول اللہ(ص) سے بکثرت احکام و ہدایات علاوہ ان کے جو ہمارے یہاں تواتر کے ساتھ موجود ہیں پوری تاکید کے ساتھ خود آپ کے رواۃ وعلماء کے طرق سے ہم تک پہنچے ہیں جن میں عترت طاہرہ اور اہل بیت (ع) کو عدیل قرآن قرار دیا گیا ہے اور امت والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان حضرات سے تمسک رکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ من جملہ ان کے حدیث ثقلین ، حدیث سفینہ، حدیث باب حط اور دوسرے احادیث ہیں جن کو موقع موقع سے ہم نے گذشتہ شبوں میں مع اسناد کے ذکر کیا ہے۔ یہ ہم شیعوں کی بزرگترین مضبوط سندیں ہیں جو آپ کے علماء کی معتبر کتابوں میں بھی درج ہیں۔
اب ذرا آپ ایک ہی حدیث ایسی بیان کردیجئے چاہے وہ یک طرفہ اور صرف آپ ہی کی کتابوں سے ہو ۔ جن میں آنحضرت(ص) نے فرمایا ہو کہ میری امت کو میرے بعد اصول میں ابوالحسن اشعری اور واصل بن عطا وغیرہ کی اور فروع میں چاروں نفر مالک بن انس، احمد بن حنبل ، ابوحنیفہ اور محمد بن ادریس شافعی میں سے کسی ایک کی پیروی کرنا چاہیئے۔
حضرات! عادت اور تعصب کو ذرا الگ رکھ کے دیکھئے کہ شیعوں کا آخر کیا گناہ ہے۔ آپ کی معتبر کتابوں میں جو اخبار و احادیث عترت طاہرہ(ع) اور ان کی پیروی کے بارے میں منقول ہیں، اگر ان کے مقابلہ میں فی صدی ایک حدیث بھی آپ کے کسی مذہبی پیشوا کے لیے وارد ہوتی تو ہم قبول کر لیتے۔
بحکم رسول(ص) امت کو عترت کا اتباع کرنا چاہیئے
لیکن ہم کیا کریں کہ آپ کی معتبر کتابیں ان بے شمار اخبار و احادیث سے چھلک رہی ہیں جو ہمارے مقصد اور عقیدے کا مکمل ثبوت ہیں اور جن سب کو پیش کرنے کے لیے کئی مہینے درکار ہیں۔ پھر بھی نمونہ کے طور پر ایک حدیث جو نظر کے سامنے آگئی ہے عرض کئے دیتاہوں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ شیعوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کے
علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب نمبر4 میں فرائد حموینی سے بروایت ابن عباس ( جرامتہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے امیرالمومنین علیہ السلام سے فرمایا :
"يَاعَلِيُ أَنَامَدِينَةُالْعِلْمِوَأَنْتَ بَابُهَاوَلَنْ تُؤْتَى الْمَدِينَةُإِلَّامِنْ قِبَل ِالْبَابِ وَكَذَبَ مَنْ زَعَمَ أَنَّه ُيُحِبُّنِي وَيُبْغِضُكَ لِأَنَّكَ مِنِّي وَأَنَامِنْكَ لَحْمُكَ مِنْ لَحْمِي وَدَمُكَ مِنْ دَمِي وَرُوحُكَ مِنْ رُوحِي وَسَرِيرَتُكَ سَرِيرَتِي وَعَلَانِيَتُ كَعَلَانِيَتِي سَعِدَمَنْ أَطَاعَكَ وَشَقِيَ مَنْ عَصَاكَ وَرَبِحَ مَن ْتَوَلَّاكَ وَخَسِرَمَنْ عَادَاكَ وَفَازَمَنْ لَزِمَكَ وَهَلَكَ مَنْ فَارَقَكَ مَثَلُكَ وَمَثَل ُالْأَئِمَّةِمِنْ وُلْدِكَ بَعْدِي مَثَلُ سَفِينَةِنُوحٍ مَنْرَ كِبَهَانَجَاوَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَاغَرِقَ وَمَثَلُكُمْ مَثَل ُالنُّجُومِ كُلَّمَاغَابَ نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ."
اس حدیث شریف میں صاف صاف ارشاد ہے کہ اے علی میں شہر علم اور تم اس کے دروازہ ہو اورکوئی شخص بغیر دروازے کے شہر میں داخل نہیں ہوسکتا جھوٹا ہے وہ شخص جو میری محبت کا دعوی کرےاور تم سے دشمنی رکھے کیونکہ تم مجھ سے اورمیں تجھ سے ہوں۔ تمہارا گوشت میرا گوشت، تمہارا خون میرا خون، تمہارا باطن میرے باطن اور تمہارا ظاہر میرے ظاہر سے ہے۔ جو تمہاری اطاعت کرے وہ نیک بخت اور جو تمہاری مخالفت کرے وہ بدبخت ہے۔ تمہارا دوست فائدے میں اور تمہارا دشمن گھاٹےمیں ہے۔ جو تمہارے ساتھ ہے وہ کامیاب اور جو تم سے الگ ہے وہ تباہیمیں ہے۔ میرے بعد تمہاری اور تمہاری اولاد میں سے سارے ائمہ کی مثال سفینہ نوح کے مانند ہے، جو اس پر بیٹھا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ غرق ہوگیا۔
ان کی مثال ستاروں کی طرح ہے کہ جب ایک ستارہ ڈوب ا تو دوسرا طالع ہوگیا اور یہ سلسلہ روز قیامت تک رہے گا۔ ہماری اور آپ کی متفق علیہ حدیث ثقلین میں کھلا ہوا ارشاد ہے کہ اگر عترت اور اہل بیت(ع) سے تمسک رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ یہ وہ حدیث ہے جو آپ کے معتبر راویوں کے مختلف طرق سے نقل کی گئی ہے۔ چنانچہ پچھلی راتوں میں آپ کی معتبر کتابوں اور روایات و سلسلہ اسناد کے ایک جز کی طرف اشارہ کرچکا ہوں و ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص؟؟؟؟و ص؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اس وقت موقع اور اثبات حقیقت کے خیال سے مزید تاکید کے لیے عرض کرتا ہوں کہ ابن حجر مکی جیسے متعصب نے بھی صواعق محرقہ باب11 فصل اول ص92 میں "وقفوهم إنّهم مسئولون" (یعنی موقف حساب میں حکم ہوگا کہ ان کو ٹھہرائو کیونکہ ابھی ان سے سخت بازپرس کی جائے گی۔ سورہ نمبر37 (الصافات) آیت نمبر24(1) کے ذیل میں اپنی تحقیقات اس بارے میں درج کی ہے جس کو شیخ سلیمان بلخی حنفی نے بھی ینابیع المودۃ باب59 ص296 مطبوعہ اسلام بول میں اس سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث مختلف طریقوں سے
مروی ہے۔ یہاں تک کہ ابن حجر کہتے ہیں۔"ان الحديث التمسک بالثقلين طرقا کثيرة وردت من نيف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ شیعہ وسنی متفق علیہ روایات ہیں چنانچہ ابن حجر سے بھی منقول ہے کہ روز قیامت امت سے ولایت علی و اہلبیت(ع) کو سوال ہوگا۔
و عشرين صحابيا" ( یعنی ثقلین ( قرآن و عترت رسول(ص)) سے تمسک کی حدیث کے طرق بکثرت ہیں۔ یہ پچیس سے زیادہ اصحاب رسول(ص) سے منقول ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض طرق میں عرفہ، بعض میں پیغمبر(ص) کے مرض الموت کا موقع جب کہ حجرہ اصحاب سے بھرا ہوا تھا اور بعض میں خطبہ وداع بتایا گیا ہے پھر ابن حجر اپنا عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ
" ولا تنافی اذا لا مانع من انه کرر عليهم ذالک فی تلک المواطن و غيرها اهتماما بشان الکتاب العزيز والعترة الطاهرة "
یعنی اس میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ بہت ممکن ہے پیغمبر(ص) نے قرآن مجید اور عترت طاہرہ کی شان ظاہر کرنے کے لیے ان سب مواقع نیز دیگر اوقات میں اس حدیث کی تکرار فرمائی ہو۔
نیز اسی صفحے کے شروع میں کہتے ہیں:
" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ أَمْرَيْنِلَنْ تَضِلُّواإِنْ أَتبعتُمُوهُمَا وهُمَاكِتَابُ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَبَيْتِي؛ و زَادَ طَبرَانِی اِنِی سَئَلتُ ذَالِک لهَُما فَلا تُقدِمُوهُما؛فَتَهْلِكُوا،و لا تّقصُرُوا عّنهُم فَتَهْلِكُوا ولَاتُعَلِّمُوهُمْ؛فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ."
یعنی روایت صحیحہ میں ہے کہ فرمایا میں تمہارے درمیان دو امر چھوڑتا ہوں کہ اگر ان دونوں کی پیروی کرو گے تو گمراہ نہ ہوگےاور وہ دونوں کتاب خدا اور میری عترت و اہل بیت ہیں۔ طبرانی نے اس حدیث کو اتنی زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے کہ میں ان دوںوں (قرآن و اہلبیت) کے لیے تم سے اس بات کا سوال کرتا ہوں۔ پس ان دونوں سے سبقت اور پیش قدمی نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجائو گے ان سے تقصیر و کوتاہی نہ کرو ورنہ تباہ ہوجائو گے، اور ان کو سکھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔
پھر اپنے انتہائی تعصب کے باوجود اسی ص92 کے آخر میں طبرانی وغیرہ سے حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے قرآن و عترت ثقلین اس لیے فرمایا کہ یہ دونوں ہر حیثیت سے گرانقدر اور با وقار ہیں۔ اس وجہ سے کہ ثقل سے مراد وہ چیز ہے جو پاکیزہ، پسندیدہ، گران قیمت، نفع بخش اور ہر پستی و ذلت سے منزہ ہو۔ اور حق یہ ہے کہ قرآن و عترت ایسے ہی ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر ایک علم دین، علم اسرار و حکم اور شرعی احکام و قوانین کا خزانہ ہے۔ لہذا ان دونوں (قرآن و عترت ، میں سے ہر ایک پیروی و تمسک اور ان سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ(ص) کی وصیت وارد ہوئی ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔"الحمدللّه الذي جعل الحكمةفيناأهل البيت." ( یعنی میں حمد کرتا ہوں اس خدا کی جس نے ہم اہل بیت کے اندر حکمت قرار دی۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ قرآن وعترت کو اس سبب سے ثقلین فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کے حقوق کی رعایت لازمی ہے۔ اور اہل بیت کے حق میں آنحضرت کی غیر معمولی سفارش کا باعث یہ ہے کہیہ حضرات علم کتاب(قرآن) وسنت رسول(ص) کے لیے مخصوص ہیں۔ کیونکہ یہ دوںوں یعنی قرآنو عترت کسی وقت بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے آں حضرت کے پاس وارد ہوں۔
اس بیان کی موئد وہ حدیث ہے جو پہلے گذر چکی کہ فرمایا "ولَاتُعَلِّمُوهُمْ؛فَإِنَّهُمْأَعْلَمُ مِنْكُمْ ."( یعنی کسی وقت عترت کو کوئی تعلیم نہ دو کیونکہ وہ تم سب سے زیادہ عالم و دانا ہیں اور ان کو ان صفتوں کے پیش نظر اپنے دوسرے علماء سے ممتاز سمجھو۔ اس لیے کہ خدائے تعالی نے ان کو پاک و پاکیزہ پیدا کیا ہے اور کرامات باہرہ اور بے شمار فضائل و کمالات کے ساتھ ان کو امت
کے سامنے روشناس کرایا ہے۔ جن احادیث کے ذریعے عترت واہلبیت اطہار(ع) سے تمسک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ روز قیامت تک کسی وقت بھی دنیا میں افراد اہل بیت(ع) کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا جو خدا کی جانب سے احکام دین کو نشر کرنے پر مامور ہیں ابتہی تعجب تو یہ ہے کجہ باجودیکہ خود ہی اقرار کرتے ہیں کہ عترت و اہل بیت(ع) رسول(ص) میں سے جو فرد علمی درجات عالیہ اور عملی فرائض دینیہ کی حامل ہو وہ ان تمام لوگوں سے مقدم ہے جو آںحضرت کی عترت طاہرہ اور اہلبیت(ع) میں سے نہ ہوں لیکن پھر بھی عملی طور پر حکم رسول(ص) کےبرخلاف ان اشخاص کو آگے بڑھایا جن کو فوقیت کا کوئی حق حاصل نہ تھا اور اس جلیل القدر خاندان کو نظر انداز کردیا۔
فاعتبروا يا اولی الابصارنعوذ بالله من الفتن والتعصب
اب میں آپ حضرات سے انصاف چاہتا ہوں کہ انسخت تاکیدات اور ہدایات کے بعد کہ امت کی نجات قرآن مجید اور عترت طاہرہ(ع) کی ایک ساتھ تقلید اور پیروی کرنے میں منحصر ہے۔ ہماری ذمہ داری کیا ہے۔
حضرات ! راستہ بہت باریک اور خطرناک ہے، اپنے اسلاف کی عادت چھوڑیے اور علم و عقل اور انصاف سے فیصلہ کیجئے۔ آیا ہم اور آپ قرآن کو بدل سکتے ہیں اور زبان و مکان کی مصلحت دیکھتے ہوئے دوسری کتاب کا انتخاب کرسکتے ہیں؟
سید : ایسی کوئی بات ہرگز نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ رسول اللہ(ص) کی امانت، مضبوط آسمانی سند اور بزرگ رہنما ہے۔
جزاک اللہ حقیقت یہی ہے۔ پس جب ہم قرآن کو بدل کے ملک و قوم کی مصلحت پر اس کی جگہ دوسری کتاب منتخب کرسکتے تو عدیل شریک قرآن کے لیے بھی یہی حکم جاری ہوگا۔لہذا اس قاعدے کے رو سے وہ لوگ عترت پر مقدم رکھے گئے جو عترت سے نہیں تھے؟ میرے اس سادہ سوال کا جواب ارشاد فرمائیے تاکہ ہم بھی دیکھین کہ کیا خلفاء ثلثہابوبکر و عمرو عثمان عترت اور اہل بیت(ع) پیغمبر(ص) میں سے ہیں۔ جس سے یہ آیات و اخبار کثیرہ ( ثقلین و سفینہ و باب حطہ وغیرہ) کے مصداق قرار پائیں اور ہم مجبور ہوںکہ رسول اللہ(ص) کے حکم سے ان لوگوں کی اطاعت کریں؟
سید : ہرگز کسی نے ایسا دعوی نہیں کیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہ کے علاوہ دوسرے خلفاء رضی اللہ عنہما عترت و اہل بیت پیغمبر(ص) میں سے تھے۔ البتہ رسول اللہ(ص) کے نیک صحابہ میں سے تھے۔
خیر طلب : یہ فرمائیے کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی فرد یا قوم کی اطاعت کا حکم دیں اور امت کی ایک جماعت کہے کہ نہیں مصلحت اس میں ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کی پیروی کریں ( چاہے وہ دوسرے بڑے مومن اور صالح کیوں نہ ہوں، تو آیا حکم رسول(ص) کی اطاعت واجب ہے یا امت کی رائے پر عمل کرنا۔
سید : یہی چیز ہے کہ پیغمبر(ص) کی اطاعت واجب ہے۔
انسان کو اندھی تقلید مناسب نہیں
خیر طلب : پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کہ قرآن وعترت کی ایک ساتھ پیروی کرو اور دوسروں کو ان پر مقدم نہ کرو، دوسروں کو آخر کس لیے ترجیح دی گئی در آنحالیکہ اہلبیت(ع) علم و فضل میں ساری امت سے بہتر تھے؟ آیا ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری، واصل بن عطا، مالک بن انس، ابوحنیفہ، محمد بن ادریس شافعی اور احمد بن حنبل عترت واہلبیت پیغمبر(ص) ہیں یا حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد میں سے گیارہ امام جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام وغیرہ؟ اںصاف کے ساتھ واضح جواب دیجئے۔
سید : ظاہر ہے کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ یہ اشخاص عترت اور اہل بیت پیغمبر(ص) ہیں۔ البتہ امت کے سر برآوردہ صلحاء فقہاء تھے۔
خیر طلب : لیکن جمہور امت کا اتفاق ہے کہ ہمارے بارہ امام سب کے سب عترت صحیح النسب اور پیغمبر کے اہل بیت(ع) خاص ہیں خود آپ کے بڑے بڑے علماء کے اقرار کے مطابق رسول(ص) نے عدیل وشریک قرآن اور ان کی اطاعت کو ذریعہ نجات قرار دیا ہے اور صاف صاف فرماتے ہیں کہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں ان پر سبقت نہ کرنا۔ اتنی پر زور ہدایات کی موجودگی میں جس وقت رسول اللہ(ص) لوگوں سے سوال کریں گے کہ تم نے میرے حکم سے سرتابی کیوں کی اور دوسروں کو میرے ان اہل بیت پر جو تم سے زیادہ عالم تھے ترجیح کیوں دی حالانکہ میں حکم دے چکا تھا کہ ان پر سبقت نہ کرنا؟ تو اس کا کیا جواب دیں گے؟ چنانچہ شیعوں نے آں حضرت کے حسب الحکم اپنا مذہب باب علم پیغمبر حضرت امیرالمومنین(ع) اور عترت واہل بیت طاہرین علیہم السلام سے حاصل کیا اور زمانہ حضرت علی و حسن و حسین علیہم السلام سے ( جنہوں نے براہ راست آں حضرت سے فیض حاصل کیا تھا ، سلسلہ بہ سلسلہ اس پر قائم رہے، لیکن دوسرے لوگ جو اصول مذہب میں اشعری یا معتزلی اور فروعات میں مالکی، حنبلی، حنفی اور شافعی ہیں ان اشخاص کی پیروی میں رسول خدا(ص) کی کونسی تاکید اپنے پاس رکھتے ہیں؟
علاوہ اس کے کہ یہ اشخاص عترت طاہرہ میں سے نہیں ہیں اور ان کی پیروی کے لیے آنحضرت(ص) کا کوئی حکم نافذ نہیں ہوا ہے۔
بعد رسول(ص) بھی تقریبا تین سو سال تک جو صحابہ اور تابعین کو دور تھا یہ کسی شمار میں نہیں تھے۔ البتہ بعد کو سیاست یا معلوم نہیں اور کس وجہ کی بنا پر میدان میں آگئے۔
لیکن عترت واہل بیت رسول(ص) میں سے ائمہ معصومین خود آں حضرت کے زمانہ سے نمایاں تھے۔ بالخصوص علی(ع) اور حسن حسین علیہم السلام جزء اصحاب کساء اور آیہ تطہیر میں شامل تھے۔
آیا یہ مناسب ہے کہ علی، حسن وحسین اور ائمہ عترت و اہل بیت اطہار پیغمبر صلوۃ اللہ علیہم اجمعین کے پروئوں کو جنہوں نے آں حضرت کے حکم سے ان معصوم و منصوص ائمہ کی پیروی کی ہے مشرک و کافر اور گردن زدنی سمجھائے؟ آپ نے کام وہ کیا جو نہ کرنا چاہئیے تھا اور فقہائے عترت عدیل قرآن پر ایسے اشخاص کو مقدم کیا جو نہ اس کی اہلیت رکھتے تھے، نہ عترت رسول(ص) میں سے تھے پھر بھی ہم نہ آپ سے جھگڑتے ہیں نہ آپ حضرات کو مشرک و کافر کہتے ہیں بلکہ اسلامی بھائی سمجھتے ہیں لیکن محکمہ عدالت الہی میں آپ اس کا کیا جواب دیجئے گا کہ بے چارے عوام کو غلط فہمی میں مبتلا کرتے ہیں اور عترت واہل بیت رسول اللہ(ص) کے شیعوں اور پیروئوں کو جو آں حضرت(ص) کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عترت طاہرہ کا اتباع کرتے ہیں کافر و مشرک، رافضی اور بدعتی مشہور کرتے ہیں؟
انسان کو علم و عقل کا پیرو ہونا چاہئیے
یہ سب محض اس لیے ہے کہ ہم نے اپنے مذہب کا نام حنفی یا مالکی یا حنبلی یا شافعی کیوں نہیں رکھا اور عترت طاہرہ میں سے امام جعفر صادق علیہ السلام کا طریقہ کیوں اختیار کیا؟ ہم شیعہ کسی کے ساتھ کینہ اور عداوت نہیں رکھتے۔ لیکن چونکہ عقل وخرد اور علم ہم کو حکم دیتا ہے کہ آنکھ بند کر کے کوئی راستہ نہ پکڑیں اور کتاب آسمانی قرآن مجید نے بھی سورہ 39 ( زمر) آیت نمبر19 میں ہماری رہنمائی کی ہے کہ:
"فَبَشِّرْعِبادِالَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ"
یعنی اے رسول(ص) میرےلطف وکرم کی ان بندوں کو بشارت دے دو جو بات سنتے ہیں اور اس میں سے بہتر کا انتخاب کر کے اس کی پیروی کرتے ہیں۔
لہذا بغیر دلیل کسی کی متابعت نہیں کرتے، ہمارے ہادی اور راہنما خدائے عزوجل اور رسول خدا(ص) ہیں، خدا و رسول نے جو راستہ ہمارے سامنے رکھا ہے ہم اسی پر چلتے ہیں، چنانچہ آیات قرآن مجید اور ارشادات رسول(ص) کے اندر جیسا کہ ( علاوہ روات شیعہ میں تواتر کے) آپ کی معتبر کتابوں میں بھی درج ہیں بے شمار دلائل و براہین ایسے ہیں جو ہم کو ہدایت دے رہے ہیں کہ احق اور صراط مستقیم آل محمد(ص) اور عترت و اہل بیت آنحضرت(ص) کی پیروی میں منحصر ہے۔
اگر آپ قرآن مجید کی ایک آیت یا رسول اللہ(ص) کی ایک حدیث بھی ایسی دکھا دیجئے جو بتاتی ہو کہ اصول میں اشعری یا معتزلی اور فروع میں چاروں امام پ ابوحنیفہ، مالک، احمد حنبل اور شافعی، میں سے کسی ایک کا پیرو ہوناضروری ہے۔ تو چاہے وہ آپ ہی کے یہاں کی حدیث ہو میں مان لوںگا اور ابھی اپنا مذہب بدل دوں گا۔
لیکن آپ کے پاس قطعا کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے سوا کے کہ کہدیجئے یہ اسلامی فقہا تھے اور سنہ666ھ میں ایک ظاہربیبرس نےلوگوں کو مجبور کیا کہ ان چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کی تقلید کرنا لازمی ہے۔ ان واقعات کی تفصیل بیان کرنے کی اس وقت گنجائش نہیں، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ بغیر کسی نص اور خاص ہدایت کے ان چاروں اماموں کی تقلید پر انحصار کردینا
اسلام کے سارے فقہاء و علماء پر کھلا ہو، ظلم اور ان کی حق تلفی ہے۔ در آنحالیکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے اندر اور بالخصوص آپ کے مذہب میں کثرت سے فقہاء و علماء پیدا ہوئے جو اپنے کارناموں کے پیش نظر قطعا ان چاروں اماموں سے زیادہ عالم اور فقیہ تھے اور جن کا حق پوری طرح ضائع کیا گیا۔
واقعا تعجب کا مقام ہے کہ آپ باوجود اس قدر نصوص اور واضح دلائل کے جن کا خدا و رسول(ص) کے کثیر آیات و احادیث میں اعلان فرمایا ہے اور جن کو خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی پیروی پر تو مجبور نہیں ہوتے لیکن کسی دلیل و نص کے آنکھ بند کر کے ان چار اماموں کی تقلید و متابعت پر انحصار کر رکھا ہے اور ہمیشہ کے لیے اجتہاد و تقلید کا دروازہ ہی بند کردیا ہے۔
سید : جس دلیل و برہان کی روسے آپ نے بارہاماموں کے اتباع پر انحصار کیا ہےہم نے بھی چار اماموں پر اںحصار کیا۔
خیر طلب : خوب خوب ، ماشاء اللہ! آپ نے تو بہت عمدہ بات کہی، میں بھی آپ کے قاعدے پر آپ کی دلیل و برہان کے سامنے سرجھکانے کو تیار ہوں اگر کچھ ہوتو بیان فرمائیے ۔ خدا سورہ نمبر2( بقرہ) آیت نمبر2 میں فرماتا ہے۔"قُلْ هاتُوابُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ " ( یعنی ( مخالفین سے ) کہدو کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔)
اول تو بارہ اماموں کو شیعوں نے یا ان کے علماء نے سینکڑوں برس بعد اس تعداد میں منحصر نہیں کیا ہے بلکہ نصوص و احادیث کثیرہ جو ہمارے آپ کے طریق سے منقول ہیں ثابت کرتی ہیں کہ خود صاحب شریعت حضرت خاتم الانبیاء(ص) نے ائمہ(ع) کی تعداد بارہ قرار دی ہے۔
پیغمبر(ص) نے خلفا کی تعداد بارہ بتائی ہے
چنانچہ آپ کے اکابر علماء نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ من جملہ ان کے شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے ینابیع المودۃ باب77 ص444 مطبوعہ اسلام بول میں اس عبارت کے ساتھ لکھا ہے۔" فی تحقیق حدیث بعدی اثنا عشر خلیفہ " یعنی اس حدیث کی تحقیق میں کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے) پھر ایک حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :
"ذكريحيى بن الحسن في كتاب العمدةمن عشرين طريقافي أنّ الخلفاءبعدالنبيصلّى اللّه عليه وآله اثناعشرخليفةكلّهم من قريش،في البخاري من ثلاثةطرق وفي مسلم من تسعةطرق،وفي أبي داودمن ثلاثةطرق،وفي الترمذي من طريق واحد،وفي الحميدي من ثلاثةطرق."
یعنی یحییٰ بن حسن نے کتاب عمدہ میں بیس(20) طریقوں سے روایت کی ہے کہ رسول خدا(ص) کے بعد خلفاء برہ عدد ہوں گے اور یہ سب قریش سے ہوں گے صحیح بخاری میں تین(3) طریقوں سے صحیح مسلم میں نو طریقوں سے ، سنن ابی دائود میں تین طریقوں سے، سنن ترمذی میں ایک طریقہ سے اور جمع بین الصحیحین حمیدی میں تین طریقوں سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
علاوہ ان کے آپ کے دوسرے علماء جیسے حموینی نے فرائد میں، خوارزمی اور ابن مغازلی نے مناقب میں، امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور بالخصوص میرسید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودۃ دہم میں بارہ حدیثیں عبداللہ ابن مسعود، جابر بن سمرہ، سلمان فارسی، عبداللہ ابن عباس، عبایہ بن ربعی، زید بن حارثہ، ابوہریرہ اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے اور ان سب نے مختلف طریقوں سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقل کیا ہے کہ فرمایا میرے بعد خلفاء اور ائمہ کی تعداد بارہ ہوگی اور یہ سب قریش سے ہوں گے۔ ان میں سے بعض روایات میں ہے کہ بنی ہاشم سے ہوں گے، بعض میں ان کے نام معین کئے گئے ہیں اور بعض میں صرف عدد کا شمار بتایا گیا ہے۔ یہ ان اخبار و احادیث میں سے صرف ایک نمونہ ہےجو آپ کی کتابوں میں کثرت سے درج ہیں۔ اب یہ ذمہ داری آپ کے سر ہے کہ اگر چار اماموں کے لیے بھی کوئی حدیث آپ کے پاسہو تو بیان کیجئے چاہے وہ ایک ہی ہو۔ ہم اسی ایک حدیث کو تسلیم کر لیں گے۔
قطع نظر اس سے کہ آپ ائمہ اربعہ کے لیے ایک حدیث بھی پیش نہیں کرسکتے۔ شیعوں کے اور آپ کے اماموں کے درمیان بڑا فرق بھی ہے، چنانچہ گذشتہ شبوں میں حسب موقع ہم نے اسکی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ ہمارے ائمہ اثنا عشر اوصیاء رسول(ص) اور من جانب خدا منصوص ہیں۔
آپ کے ائمہ اربعہ کے ساتھ ہرگز ان کا موازنہ نہیں ہوسکتا اس لیے کہ آپ کے امام صرف فقہ اور اجتہاد کا جذبہ رکھتے بلکہ بعض ان میں سے جیسے ابوحنیفہ آپ ہی کے علماء کے اقرار و اعتراف کے مطابق حدیث اور فقہ و اجتہاد سے بھی عاری تھے اور قیاس پر عملکرتے تھے جو خود اپنی جگہ پر ایک کم علمی کی دلیل ہے(ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص--- لیکن ہمارے ائمہ اثنا عشر حجج الہہ اور رسول اللہ(ص) کے اوصیاء و خلفاء منصوص ہیں۔ ہم ان کی تقلید نہیں کرتے بلکہ پیغمبر(ص) کے حسب الحکم ان کے طریقے کے پیرو ہیں۔ البتہ ہر زمانے میں شیعوں کے کچھ فقہاء و مجتہدین ہوتے ہیں جو کتاب وسنت اور عقل و اجماع کے قاعدوں سے احکام الہی کا استنباط کر کے فتاوی صادر کرتے ہیں جن پر ہم ان کی تقلید کرتے ہوئے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ باوجودیکہ آپ کے فقہاء ائمہ اہلبیت(ع) کے خرمن علم سے خوشہ چینی کرنے والوں میں تھے۔ لیکن آپ حضرات اپنی عادت اور اسلاف کی تقلید میں علم و عمل کے اساتذہ کو چھوڑ کر ایسے شاگردوں کے پیرو بن گئے جنہوں نے علمی بنیادوں سے ہٹ کے رائے اور قیاس پر عمل کیا۔
سید : یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ ہمارے امام آپ کے اماموں سے فیض حاصل کرتے تھے؟
امام جعفر صادق علیہ السلام کے مراتب
خیر طلب : یہ تاریخ کا بیان ہے کتابوں میں درج ہے اور خود آپ کے اکابر علماء نے لکھا ہے، ملاحظہ ہو کتاب فصول المہمہ جلیل القدر عالم نور الدین بن صباغ مالکی نے فصل حالات امام بحق ناطق کاشف اسرار حقائق جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام میں اقرار کیا ہے کہ حضرت علم وفضل میں مشہور اورممتاز تھے، یہاں تک کہ کہتے ہیں:
"ونقل الناس عنه من العلوم ماسارت به الركبان،وانتشر صيته و ذكره في سائر البلدان،ولم ينقل العلماءعن أحدمن أهلبيته مانقل عنه من الحديث"
یعنی حضرت سے اس قدر علوم نقل کئے گئے ہیں کہ طالبان فیض اپنی اپنی سواریوں پر روانہ ہوئے، آپ کا شہر اور ذکر خیر تمام شہروں میں پھیل گیا اور علماء نے اہل بیت کی کسی فرد سے اتنی حدیثیں نقل نہیں کیں جتنی آپ سے نقل کیں۔
اس کے بعد کہتے ہیں کہ اکابر امت کی بہت بڑی جماعت جیسے یحییٰ بن سعید، ابن جریح، مالک ابن انس( مالکوں کے امام) سفیان ثوری، ابوعینیہ، ابوایوب سجستانی ، ابوحنیفہ( حنفیوں کے امام) اور شعبہ وغیرہ نے حضرت سے روایت کی ہے۔ انتہی۔
کمال الدین ابن ابی طلحہ اپنے مناقب میں لکھتے ہیں کہ بڑے بڑے بزرگ علماء اور ائمہ دین نے حضرت سے حدیثیں نقل کی ہیں اور آپ کے علم و کمال سے بہرہ اندوز ہوئے ہیں، من جملہ انکے انہیں اقرار کا ذکر کیا ہے جن کے نام صاحب فصول المہمہ نے بتائے ہیں۔
حضرت کے ظاہری و باطنی فضائل و کمالات کے دوست و دشمن سبھی قائل تھے، چنانچہ خود آپ کے منصف اور غیر متعصب اکابر علماء نے اپنی خاص کتابوں میں اس کو درج کیا ہے۔ مثلا شہرستانی ملل و نحل میں، مالکی فصول المہمہ میں اور خصوصیت سے شیخ ابوعبدالرحمن سلمی طبقات المشائخ میں کہتے ہیں۔
"ان الامام جعفرالصادق فاق جميع أقرانه،وهوذوعلم غزيرفي الدين،وزهدبالغفي الدنيا،وورع تامّ عن الشهوات،وأدبكاملفيالحكمة"
در حقیقت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے تمام ہمعصروں سے بالاتر تھے، آپ کے دین میں فطری علم و مہارت ، دنیا میں پورا زہد، شہوات سےکامل ورع پرہیز گاری اور حکمت میں مکمل ادب حاصل تھا۔
محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول شروع باب6 ص81 میں ان سارے مطالب کو نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں
"هومن عظماءأهل البيت وساداتهم(عليهمالسّلام)ذوعلوم جمّةوعبادةموفورةوأورادمواصلةوزهادةبيّنةوتلاوةكثيرةتتبع معاني القرآن الكريم واستخرج من بحرجواهره واستنتج عجائبه وقسم أوقاته على انواع الطاعات بحيث يحاسب عليهانفسه،رؤيته تذكرةالاخرة،واستماع كلامه تزهدفي الدنيا،والاقتداءبهديه يورث الجنّة،نورقسماته شاهدأنّه من سلالةالنّبوّة،وطهارةأفعالهتصدعبأنهمنذريةالرسالة،نقلالحديثواستفادمنهالعلم
جماعةمنأعيانالأئمةوأعلامهممثليحيىبنسعيدالأنصارى،وابنجريح،ومالكبنأنس،والثورى،وابنعيينة،وأبيحنيفة،وشعبة،وأيّوبالسجستانيوغيرهموعدواأخذهمعنهعليهالسّلاممنقبةشرّفوابها،وفضيلةاكتسبوها."
یعنی یہ بزرگوار سادات و بزرگان اہل بیت میں سے ہر طرح کے علم جملہ عبادات ، مسلسل اور راد و وظائف اور نمایاں زہد کے حامل تھے کثرت سے تلاوت فرماتے تھے اور ساتھ ہی آیات قرآنی کی تفسیر بیان فرماتے تھے، اصحاب آپ کے بحر علم سے جواہرات حاصل کرتے اور عجیب و غریب نتائج اخذ کرتے تھے، اپنے اوقات شب و روز کو مختلف عبادتوں پر تقسیم کر دیا تھا گویا اس طرح اپنے نفس کا محاسبہ فرماتے تھے، آپ کی زیارت آخرت کی یاد دلانے والی آپ کلام سننا اس دنیا میں زہد اور آپ کے ہدایات پر عمل کرنا حصول جنت کا باعث تھا، آپ کی نورانی شکل گواہی دیتی تھی کہ خاندان نبوت سے ہیں اور اعمال کی پاکیزگی بتاتی تھی کہ نسل رسول(ص) سےہیں۔ آپ سے ائمہ اور علماء اعلام کی ایک جماعت نے حدیثیں نقل کی ہیں اور علوم حاصل کئے ہیں۔ جیسے یحیٰ بن سعید انصاری، ابن جریح، مالک ابن انس، سفیان ثوری، ابن عینیہ، شعبہ اور ایوب سجستانی وغیرہ جو اپنے اس شرف استفادہ اور کسب فضیلت پرفخر کرتے تھے۔
اگرمیں حضرت کے بارے میں آپ ہی کے علماء کے اقوال اور نظریات و عقائد نقل کرنا چاہوں تو سلسلہ بیان بہت طولانی ہوجائے گا، خلاصہ یہ کہ آپ کے منصف علماء نے عام طور پر اس کا اقرار کیا ہےکہ آپ علم، زہد، ورع و تقوی اور اخلاق حمیدہ میں یگانہ روز گار تھے۔ بدیہی چیز ہے کہ یہ آفتاب کی تعریف و توصیف ہے جس میں زبانیں گنگ ہیں کہ حضرت کے درجات عالیہ میں سے عشر عشیر بلکہ ہزار میں سے ایک بھی بیان کرسکیں۔
نواب : قبلہ صاحب میں آپ کے سلسلہ کلام میں دخل دینے کی معافی چاہتا ہوں لیکن چونکہ میں جلد بھول جاتا ہوں لہذا اگر اجازت ہو تو کچھ دریافت کرلوں؟
خیر طلب : کوئی حرج نہیں فرمائیے! میری درخواست ہے کہ کسی وقت بھی سوال کرنے میں پس وپیش نہ کیجئے۔ مجھ کو ہرگز ناگوار نہیں ہوتا۔
نواب : باوجودیکہ جیسا آپ ن ان راتوں میں بیان فرمایا مذہب تشیع دوازدہ امامی اور اثنا عشری ہے یہ مذہب امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نام سے کیوں منسوب ہوا اور اس کو مذہب جعفری کس لیے کہا جاتا ہے؟
مذہب جعفری کا ظہور
خیر طلب : حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نبوت کے اس بنیادی دستور کے مطابق کہ ہر پیغمبر اپنی وفات سے قبل من جانب خدا اپنے لیے ایک وصی اور جانشین مقرر کرتا ہے۔امیرالمومنین علی علیہ السلام کو اپنا باب علم
وصی، خلیفہ اور جانشین بتایا اور امت کو آپ کی اطاعت کا حکم دیا، لیکن وفات رسول (ص) کے بعد چند وجوہ کی بناء پر جو ارباب ہوش سے مخفی نہیں ہیں سیاسی تدبیروں سے امر خلافت ابوبکر، عمر اور عثمان کے تصرف میں آیا، پھر بھی ابتدائی دور کو چھوڑ کے) سارے زمانہ خلافت میں ابوبکر و عمر جملہ امور میں برابر حضرت سے مشورہ کرتے تھے اور آپ کے ارشادات پر عمل کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غیر مذاہب کے بڑے بڑے علماء اور دانشمند بھی جب تحقیق حقائق کے لیے مدینے آتے تھے، تو مباحثات و مناظرات میں حضرت علی(ع) ہی ان کو قائل و معقول فرماتے تھے۔ غرض کہ جب تک آپ زندہ رہے مختلف طریقوں سے مقدس دین اسلام کی اپنی شایان شان خدمات انجام دیتے رہیے لیکن حضرت کی شہادت کے بعد جب لجام حکومت بنی امیہ کے ہاتھوں میں آئی تو ولایت و امامت کی منزلت بالکل اندھیرے میں پڑ گئی اور عترت و اہل بیت رسول(ص) کے ساتھ انتہائی قساوت اور ظلم وتعدی کا برتائو کیاگیا۔ امام برحق حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام سید الشہداء حضرت امام حسین حضرت امام زین العابدین اور حضرت امام محمد باقر علیہم السلام بنی امیہ کی شدید عداوت اور ظلم و ایذا رسانی کے شکار رہےان حضرات کے لیے تمام راہیں مسدود کر دی گئی تھیں اور سوا چند خالص شیعوں کے لوگوں کو ان کے دیدار اور ان سے علوم و حقائق حاصل کرنے کی توفیق نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ہر ایک امام کو کسی نہ کسی طریقے سے شہید کردیا گیا۔
بالآخر دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جب لوگ بنی امیہ کے ظلم و تعدی اور بد اعمالیوں سے بہت تنگ آگئے تو ان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے ہر طرف سے اٹھ کھڑے ہوئے اور خصوصیت کے ساتھ بنی عباس اور بنی امیہ کے درمیان خون ریز لڑائیاں ہوئیں۔
اس موقع پر جب کی بنی امیہ اپنی حکومت بچانے کی فکر میں تھےکچھ اطمیانی صورت پیدا ہوئی کیوںکہ وہ لوگ اتنے مشغول تھے کہ عترت و اہل بیت رسول(ص) پر اپنی شدید سخت گیری کو قائم نہ رکھ سکے۔
لہذا امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس فرصت سے پورا فائدہ اٹھایا، امیوں کےفشار اور مظالم کی وجہ سے جس گوشہ نشینی پر مجبور تھے اس کو ترک کر کے اپنے گھر کا دروازہ کھول دیا اور مسجد رسول(ص) میں آزادانہ برسر منبر دین کے احکام و قواعد اور علوم نشر فرمانے لگے، چار ہزار علم و دانش اور حدیث کے شائقین بے روک ٹوک زیر منبر یک جا ہوتے تھے۔ اصحاب خاص اور چنے ہوئے طالبان علم نے آپ کے پائین منبر بیٹھ کر جو علمی فیوض و برکات حاصل کئے تھے ان سے انہوں نے چار سو اصول لکھے جو اصول اربعماۃ کے نام سے مشہور ہوئے۔
امامیافعی یمنی نے اپنی تاریخ میں حضرتکی تعریف کی ہے کہ کثرت علم اور وسعت فضل میں کوئی آپ کے قدم بہ قدم نہیں تھا اور آپ کی بلندی علوم و دانش کی کوئی حد نہیں تھی۔ حضرت کے شاگردوں میں سے ایک شخص جابر ابن حیان صوفی نے آپ کے تعلیم کئے ہوئے علوم سے ہزار ورق کی ایک کتاب لکھی اور پانچ سو رسالے تالیف کئے۔ انتہی
اہل سنت کے اکابرفقہائے اسلام اور ائمہ عظام آپ کی بزم فیض کے شاگردوں اور طالب علموں میں سے تھے۔
مثلا ابوحنیفہ، مالک ابن انس، یحییٰ بن سعیدانصاری، ابن جریح ، محمد بن اسحاق، یحییٰ ابن سعید قطان، سفیان بن عینیہ، اور سفیان ثوری وغیرہ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا جن میں سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق حضرت کی خدمت سے بہرہ اندوز ہوتا تھا۔
آپ کے آبائے کرام اور ابنائے ذوی الاحترام میں سے کسی بزرگوار کو ظاہری طور پر ایسی ریاست علمی حاصل نہیں ہوئی کہ بغیر کسی مانع کےدین کے احکام و قواعد،آیات قرآنی کی تفسیر، اصول علم و حدیث اور اسرار و حقائق کو علانیہ اور کھلم کھلا بیان کرسکتے۔
اس لیے کہ بنی امیہ تو آپ کے آباء کو مانع رہے اور بنی عباس نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ آپ کی اولاد میں سے کل ائمہ پر سخت قدغن رکھا۔
در حقیقت شیعیت کی اصلیت کا مکمل ظہور اور معارف آل محمد(ص) کی با لاعلان اشاعت ( جس کا سرچشمہ ذات رسول(ص) تھی) حضرت ہی کے ذریعے انجام پذیر ہوئی۔ لہذا یہ مذہب آپ کے نام سے مشہور ہوا اور مذہب جعفری کہا گیا۔ ورنہ امام جعفر صادق علیہ السلام، آپ کے آبائے میں سے چار اور اولاد میں سے چھ امام نیز عم بزرگوار حضرت امام حسن علیہ السلام سب کے سب ائمہ برحق تھے اور ان میں باہم کوئی فرق نہیں تھا۔
عظیم درد دل اور عترت سے بے اعتنائی
لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ایسے عظیم المرتبت امام کو جن کی اعلمیت اور اکملیت کا اقرار دوست و دشمن سبھی نے کیا ہے آپ کے اسلاف سب سے زیادہ عالم و فقیہ اور کامل ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے بلکہ اتنی رواداری بھی نہیں برتی کہ آپکا نام گرامی ائمہ اربعہ کی فہرست میں شامل کر لیں۔ حالانکہ حضرت علم و فضل، زہد و ورع اور تقوی و کمال کے ان تمام مراتب کے ساتھ ساتھ( جن کی خود آپ کے علماء بھی تصدیق کرتے ہیں) چونکہ رسول اللہ (ص) کی عترت اور اہل بیت پاک میں سے تھے لہذا دوسروں پر تقدم کا حق رکھتے تھے۔
اگر ہم پیروی کرنے والوں کی حیثیت سے اندازہ کریں تب بھی آپ کے ائمہ اربعہ میں سے کسی کے پیرو غالبا پیروان امام جعفر صادق علیہ السلام کے برابر نہیں نکلیں گے۔
آپ کے متعصب علماء نے ( اتنی سفارشوں کے باوجود) اپنے پیغمبر(ص) کی عترت کے ساتھ اس قدر بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا کہ آپ کے بڑے بڑے فقہاء جیسے بخاری اور مسلم تو اس پر بھی راضی نہیں ہوئے کہ اس فقیہہ اہل بیت طہارت(ع) کی روایتیں اپنی کتابوں میں نقل کریں۔ بلکہ عترت طاہرہ(ع) میں سے کسی امام اور سادات علوی و حسینی و عابدی و موسوی و رضوی میں سے بڑے
بڑے علماء و صفحاء جیسے زید بن علی بن الحسین( شہید) یحییٰ بن زید، محمد بن عبداللہ، ( نفس زکیہ) حسین بن علی مدفون بہ فخ، یحییٰ بن عبداللہ بن حسن اور ان کے بھائی ادریس، محمد بن جعفر الصادق، محمد بن ابراہیم(معروف بہ ابن طباطبا) محمد بن زید، عبداللہ بن حسن اور علی بن جعفر ( عریضی) وغیرہ سے جو سب کے سب خاندان رسالت کے اکابر علماء و فقہا میں سے تھے کوئی حدیث یا روایت نقل نہیں کیا ہے۔
لیکن معلوم الحال ابوہریرہ اور بے مثال جھوٹے جعلساز اور خارجی عکرمہ کو جن کے صفات کی، آپ کے علماء نے بھی تصدیق کی ہے ( اور ہم بھی گذشتہ شبوں میں ان کے حالات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں) جان و دل سے قبول کر کے ان سے روایتیں نقل کی ہیں۔
یہاں تک کہ ابن البیع نے لکھا ہے کہ بخاری نے خوارج و نواصب میں سے عمران ابن حطان ( عبدالرحمن ابن ملجم مرادی قاتل امیرالمومنین علیہ السلام کا مداح) جیسے بارہ سو اشخاص سے روایت کی ہے۔
تاثر بالائے تاثر
بڑی حیرت کی بات ہے کہ امام اعظم ، امام مالک، امام شافعی اور امام حنبل کو جن میں سے کوئی بھی عترت اور اہل بیت رسول(ص) سے نہیں تھا مسلمان پاک سمجھیں اور ہرفرقے والا اپنے طریقے میں آزاد ہو باوجودیکہ باہم اصول و فروع میں شدید اختلافات بھی رکھتے ہیں، لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے پروئوں کو کافر و مشرک اور رافضی کہیں۔ اور سنی ممالک میں یہاں تک کہ مکہ معظمہ کے اندر جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے " من دخلہ کان آمنا" ( یعنی جو اس میں داخل ہوگیا وہ بے خوف ہے۔ ان کو اپنے عقیدے اور اعمال میں آزادی میسر نہ ہو۔
کیا خوب کہا ہے حافظ شیرازی نے
گرمسلمانی ہمیں اس کہ حافظ دارد وائے گر از پس امروز بود فردائے
پاس آپ حضرات یہ جان لیجئے کہ ہم شیعہ لوگ اسلام میں افتراق کے باعث نہیں ہیں، باہمی نفرت اور جدائی ہم نہیں پیدا کرتے بلکہ جو کچھ ہوتا ہے آپ ہی کی طرف سے ہوتا ہے کہ دس کروڑ سے زائد مسلمان، موحد اور مومن جماعت کو جو قبلہ، نماز، روزہ، حج اور دوسرے احکام دین میں آپ کے ساتھ شریک ہے۔ آپ اسے بیگانہ اور کافر و مشرک سمجھتے ہیں ( اس موقع پر موذن نے نماز کی اطلاع دی اور مولوی صاحبان نماز عشاء میں مشغول ہوئے۔ ادائے فریضہ اور چائے سےفراغت کے بعد جناب حافظ صاحب نے سلسلہ کلام شروع کیا۔
حافظ : حقیقت امر یہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا میں بے اںصاف اور حق کش آدمی نہیں ہوں، آپ کے بیان کے ان
خاص مقامات میں مجھ کو اعتراف ہے متعصبانہ زیادتیاں بہت ہوئی ہیں اور بغیر کسی دنیا سازی اور چاپلوسی کے کہتا ہوں، کہ بالخصوص ان راتوں میں میں نے بذاب خود آپ کی صحبت سے کافی فائدہ اٹھایا ہے، اور پوری طرح متنبہ ہوچکا ہوں لیکن اس وقت آپ کی اجازت سے ایک جملہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جو شکوہ بھی ہے اور حریم اہل تسنن کی طرف سے دفاع بھی اور وہ یہ کہ آپ جیسے شیعہ مبلغین اور علماء اپنے عوام کو ایسی رفتار و گفتار سے منع کیوں نہیں کرتے جس کا انجام کفر ہے تاکہ دوسروں کو لفظ کفر زبان پر جاری کرنے کا موقع ہی نہ ملے؟
چونکہ انسان اکثر کسی ایک بیجا بات یا بے محل گفتگو کی وجہ سے بھی حملوں کی زد میں آجاتا ہے۔ لہذا آپ حضرات بھی اہل سنت والجماعت کو اعتراضات کا نشانہ نہ بنائیے ، کیونکہ خود شیعہ ہی اس کا موقع دیتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے قلوب متاثر ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کی طرف کفر کی نسبت دی جاتی ہے۔
خیر طلب: وہ کون سی رفتار و گفتار ہے جس کا انجام کفر ہے؟گزارش ہے کہ ذرا وضاحت کیجئے تاکہ معمہ حل ہو۔
شیعہ صحابہ اور ازواج رسول(ص) پر طعن کیوں کرتے ہیں؟
حافظ : ان کا بد کلامی اس قسم کی ہے کہ رسول اللہ(ص) کے خاص صحابہ اور آنحضرت(ص) کے بعض ازواج طاہرات پر طعن و تشنیع اور نکتہ چینی کرتے ہیں جو یقینا کھلا ہوا کفر ہے۔
چونکہ ان حضرات نے اعلائے کلمہ توحید کے لیے آن حضرت(ص) کی رکاب میں محضر انتساب میں کافروں سے کافی جہاد کئے ہیں۔ لہذا بدیہی چیز ہے کہ ان کے خدمات مفاسد اور نقائص سے خالی تھے اور یہ قطعا جنت کے مستحق ہوں گے۔ خصوصا وہ حضرات جو بمقضائے آیت نمبر18 سورہ نمبر48 ) فتح):
"لَقَدْرَضِيَ اللَّهُعَنِالْمُؤْمِنِينَإِذْيُبايِعُونَكتَحْتَالشَّجَرَةِ"
یعنی خدا یقینا مومنین سے خوش ہوا جب کہ وہ ( حدیبیہ میں) درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے رضائے الہی کے شرف سے مشرف ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ(ص) قولا و فعلا ان کی توقیر فرماتے تھے،ان کے کمال کا منکر لازمی طورپر ذلت و گمراہی میں مبتلا ہوا اور وہ در حقیقت بمقتضائے آیہ شریفہ سورہ نجم "وَمايَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحى "( یعنی آپ ہرگز اپنی خواہش نفس سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ آپ ہر قول سوا وحی خدا کے اور کچھ نہیں) پیغمبر اور قرآن کا منکر ٹھہرا اور جو شخص پیغمبر اور قرآن کا انکار کرے وہ بلا شبہ کافر ہے۔
خیر طلب : میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ جناب عالی اس قسم کے موضوعات کو اس کھلے ہوئے جلسے میں زیر بحث لائیں یا بقول خود شکوہ قرار دیں تاکہ میں بھی جواب دینے پر مجبور ہوں اور بات عوام کے جاہل و متعصب گروہ تک پہنچے جس سے ان کو مخالف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ہاتھ آئے۔ بہتر تو یہ تھا کہ ہمارے درمیان تنہائی میں ان مطالب پر رد و بدل ہوتی تاکہ میں جواب
بالصواب عرض کرتا۔ گذارش ہے کہ اب بھی میری درخواست قبول کیجئے اور اس موضوع پر علانیہ گفتگو نہ کیجئے۔ ایک روز صبح کو میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائوں گا اور ہم دونوں اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔
حافظ : میں بے قصور ہوں، چونکہ حضرات اہل جلسہ کئی راتوں سے مجھ پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ یہ موضوع زیر بحث لایا جائے۔ لہذا انہیں کی خواہش پر میں نے یہ سوال اٹھایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی گفتگو سنجیدہ ہوتی ہے۔ لہذا اگر ان کی تسکین خاطر کے لیے کوئی مسکت جواب دے دیجئے تو کوئی ضرر نہ ہوگا یا پھر تصدیق کیجئے کہ حق ہمارے ساتھ ہے۔
نواب : صحیح ہے۔ ہم سب منتظر ہیں کہ معمہ حل ہو۔
خیر طلب :چونکہ آپ حکم دے رہے ہیں لہذا تعمیل کرتا ہوں لیکن آپ کے ایسے محترم فاضل سے مجھ کو یہ امید نہیں تھی کہ ان مفصل تشریحات کے بعد جو میں گذشتہ شبوں میں پیش کرچکا اور کفر کے پہلو واضح کرچکا پھر بھی ملت شیعہ سے کفر کو نسبت دیجئے گا۔ حالانکہ میں آپ کے سامنے پورا ثبوت دے چکا کہ شیعہ اثناعشری محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے پیرو ہیں لہذا ہرگز کافر نہیں ہوسکتے چونکہ آپ نے چند مخلوط جملے بیان فرمائے ہیں۔ لہذا میں مجبور ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ کر کے علیحدہ جواب عرض کروں تاکہ جملہ حضرات حاضرین و غائبین خود ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کر کے اپنے دلوں سے شبہات کو دور کریں اور جان لیں کہ نہ شیعہ کافر ہیں نہ کفر کے وہ طریقے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے۔
صحابہ پر طعن و ایراد موجب کفر نہیں
اوّل آپ نے فرمایا ہے کہ شیعہ صحابہ اور بعض ازواج رسول(ص) پر جو طعن اور تنقید کرتے ہیں وہ موجب کفر ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بیان کس دلیل و برہان کے رو سے دیا گیا۔ اگر طعن اور تنقید دلیل و برہان سے مضبوط ہو تو قطعا مذموم بھی نہیں ہے۔ نہ یہ کہ اس کو کفر کا سبب بتایا جائے، بلکہ اگر بغیر کسی ثبوت کے محض تہمت ہی تہمت ہو جب بھی باعث کفر نہیں۔
مثلا کسی مومن پر چاہے وہ صحابی ہی کیوں نہ ہو کوئی شخص بلا وجہ بھی طعن اور تنقید یا لعنت کرے۔ تو وہ کافر نہ ہوگا، بلکہ فاسق ہوگا۔ جیسے کہ شراب پینے والا یا زنا کرنے والا۔ بدیہی چیز ہے کہ ہر فسق اور گناہ معافی اور در گذر کے قابل ہوتا ہے۔
چنانچہ ابن حزم ظاہری اندلسی متولد سنہ456ہجری کتاب الفصل فی الملل والنحل جز سوم ص227 میں کہتے ہیں کہ جو شخص جہالت اور نادانی کی وجہ سے اصحاب رسول(ص) کو گالی دے تو وہ معذور ہے اور اگر جان بوجھ کر دے تو فاسق
ہوگا جس طرح کوئی زنا اور چوری جیسے گناہوں میں مشغول ہو۔ البتہ جب اس نیت سے دشنام دے کہ یہ رسول خدا(ص) کے اصحاب ہیں توکافر ہوجائے گا۔ کیوں کہ اس کی انتہا خدا و رسول(ص) کی عداوت اور اہانت پر ہوگی۔
ورنہ صرف صحابہ کو دشنام دینا موجب کفر نہیں ہے، چنانچہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے پیغمبر سےعرض کیا کہ آپ اجازت دیجئے میں حاطب منافق کی گردن ماردوں( باوجودیکہ یہ بزرگان صحابہ، مہاجرین اور اصحاب بدر میں سے تھا) پھر بھی وہ اس گالی اور نفاق کی نسبت دینے سے کافر نہیں ہوئے۔ انتہی کلامہ۔
پس کیونکر ممکن ہے کہ شیعوں کو اس لیے کافر کہہ دیا جائے کہ وہ بعض افراد صحابہ کو دشنام دیتے ہیں۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ سچ کہتے ہیں؟ در آنحالیکہ آپ کے اکابر علماء متقدمین اپنی معتبر کتابوں میں از روئے انصاف آپ کے عقیدے کے بر خلاف حق اور حقیقت کی کافی حمایت کرچکے ہیں۔ من جملہ ان کے قاضی عبدالرحمن ریجی شافعی نے مواقف میں ان وجوہ کو تعصب و عناد کا نتیجہ بتاتے ہوئے رد کیا ہے جن کو آپ کے متعصب علماء نے شیعوں کے کفر میں بیان کیا ہے۔
امام محمد غزالی صریحا لکھتے ہیں کہ صحابہ کا سب و شتم ہرگز کفر نہیں ہے، یہاں تک کہ سب شیخین بھی باعث کفر نہیں ملا سعد تفتازانی شرح عقائد نسفی میں کہتے ہیں کہ متعصب لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ صحابہ کو سب وشتم کرنے والے کافر ہیں، تو اس میں اشکال ہے اور ان کا کفر ثابت نہیں، اس لیے کہ بعض علماء نے جو صحابہ سے حسن ظن رکھتے تھے ان کی بد اعمالیوں سے چشم پوشی کی بلکہ ان کی مہمل تاویلیں کیں اور کہا کہ رسول اللہ(ص) کے صحابہ گمراہی اور فسق وفجور سے محفوظ تھے۔ حالانکہ ایسا نہ تھا اور اس کی دلیل وہ لڑائیاں ہیں جو ان کے درمیان واقع ہوئیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ فاسق اور گنہگار تھے بغض و حسد، اور جاہ طلبی ان کو رے افعال پر مجور کرتی تھی اور یہ حق سے منحرف ہوجاتے تھے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے بزرگ صحابہ بھی اعمال بد سے پاک نہ تھے۔ پس اگر کوئی شخص دلیل کے ساتھ ان کی گرفت اور تنقید کرے تو موجب کفر نہ ہوگا کیونکہ بعض نے محض حسن و ظن کی وجہ سے ان چیزوں پر پردہ ڈالا ہے اور نقل نہیں کیا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ان کی حرکتوں کو نقل کر کے ان پر نکتہ چینی کرتے ہیں، ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کافر ہیں اس لیے کہ ہر وہ صحابی جس نے رسول اللہ(ص) کو دیکھا معصوم اور بے گناہ نہیں تھا۔ انتہی۔
ان باتوں کے علاوہ ابن اثیر جزری صاحب جامع الاصول نے شیعوں کو اسلامی فرقوں میں شمار کیا ہے لہذا آپ کیوںکر ان پر کفر عائد کرتے ہیں؟ بعض صحابہ کے اعمال کی وجہ سے ان کو برا کہنے والوں کے عدم کفر کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ خلفاء کی زندگی میں کچھ لوگ ان کو سب وشتم کرتے تھے اور رکیک گالیاں دیتے تھے۔ پھر بھی خلفاء انکے کفر اور قتل کا حکم نہیں دیتے تھے۔
چنانچہ حاکم نیشاپوری مستدرک جز چہارم ص335 و ص354 میں، احمد بن حنبل مسند جز اول ص9 میں، ذہبی تلخیص مستدرک میں، قاضی عیاض کتاب شفاء جز چہارم باب اول میں اور امام غزالی احیاء العلوم جلد دوم میں نقل کرتے ہیں کہ زمانہ خلافت ابوبکر میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور انکو اس طرح سےفحش باتیں کہیں اور گالیاں دیں کہ حاضرین کو غصہ آگیا، ابوبرزہ سلمی نے کہا کہ خلیفہ کی اجازت ہو تو اس کو قتل کردوں۔ اس لیے کہ یہ کافر ہوگیا ہے۔ ابوبکر نے کہا نہیں ایسا نہیں سوا پیغمبر(ص)
کے ایسا حکم نہیں لگا سکتا۔
واقعی حضرت اہل تسنن مدعی سست گواہ چست کے مصداق ہیں۔ خود خلیفہ سب و شتم اور گالیاںسنتے ہیں اور کفر کا فتوی یا قتل کا حکم نہیں دیتے لیکن آپ حضرات ( اپنی فرضی خیالات کی بنا پر) بے خبر عوام کو بہکاتے ہیںکہ شیعہ صحابہ کو سب و شتم کرتے ہیں لہذا کافر ہیں اور ان کا خون حلال ہے۔
اگر سب صحابہ موجب کفر ہے تو آپ حضرات معاویہ اور ان کے پیروئوں کو کس لیے کافرنہیں کہتے ہیں جنہوں نے صحابہ کی فرد اکمل اور خلفاء میں سے افضل امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر سب وشتم اور لعنت کی؟
پس معلوم ہوا کہ آپ کا مقصد کچھ اورہی ہے اور وہ ہے اہل بیت و عترت طاہرہ(ع) اور ان کی پیروی کرنے والوں سے جنگ۔
اگر صحابہ بالخصوص خلفاء راشدین پر سب وشتم کرنا کفر ہے تو آپ حضرات ام المومنین عائشہ پر کس لیے کفر کا فتوی نہیں دیتے جن کے لیے آپ کے تمام علماء و مئورخین نے لکھا ہے کہ ہمیشہ خلیفہ عثمان پر سب وشتم کیا کرتی تھیں اور علانیہ کہتی تھیں۔"اقتلوا انعثلا فقد کفر " یعنی اس فاتر العقل بوڑھے (یعنی عثمان ) کو قتل کر ڈالو کیوںکہ فی الحقیقت یہ کافرہوگیا ہے۔
اگر مظلوم شیعوں میں سے کوئی شخص کہدے کہ اچھا ہوا کہ عثمان مار دالے گئے اس لیے کہ وہ کافر تھے تو آپ حضرات اس کو کافر اور واجب القتل کہدیں گے۔ لیکن خود عثمان کے منہ پر عائشہ ان کو نعثل اور کافر کہتی تھیں تو نہ خلیفہ ان کو منع کرتے تھے نہ صحابہ کی طرف سے کوئی تنبیہ ہوتی تھی اور نہ آپ ہی ان کی ندامت کرتے ہیں۔
نواب : قبلہ صاحب اس نعثل کے کیا معنی ہیں جس کی طرف نسبت دی گئی؟
خیر طلب : فیروز آبادی جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں۔ " قاموس اللغہ" میں اس کے معنی بیان کرتے ہیں۔ نعثل بے وقوف بوڑھے کو کہتے ہیں، نیز مدینے میں ایک بڑی داڑھی والا یہودی تھا جس سے عثمان کو تشبیہ دیتے تھے اور شارح قاموس علامہ قزوینی یہی معنی بیان کرنے کے بعد مزید کہتے ہیں کہ ابن حجر نے تبصرۃ المنتبہ میں ذکر کیا ہے کہ :
"اننعثليهوديكانبالمدينةهورجللحيانيكانيشبه به عثمان "
یعنی نعثل مدینہ میں ایک لمبی داڑھی والا یہودی تھا جس سے عثمان کو مشابہت تھی۔
سب سے بالاتر یہ کہ اگر صحابہ کو دشنام دینا برا کام ہے اور دشنام دینے والا کافر ہے تو خلیفہ ابوبکر بالائے منبر صحابہ اور جماعت مسلمین کے سامنے سب سے بلند و برتر صحابی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو کیوں گالی دی؟ اس پر آپ کو غصہ نہیں آتا ہے بلکہ ابوبکر کی توصیف و تقدیس ہوتی ہے۔ حالانکہ مذمت ہونا چاہئیے۔
حافظ : کیوں تہمت لگا رہے ہیں؟ کہاں خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ علی کرم اللہ وجہہ کا گالی دی؟
خیر طلب : معاف کیجئے گا ہم تہمت لگانے والوں میں سے نہیں۔ جب تک کسی چیز کی جانچ نہیں کر لیتے نقل
نہیں کرتے۔ بہتر ہوگا کہ شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص80 میں ملاحظہ فرمائیے کہ ابوبکر نے مسجد میں بر سر منبر امیرالمومنین علیہ السلام پر طعن کرتے ہوئے کہا :
"إنماهوثعالةشهيده ذنبه،مربّلكلفتنة،هوالذييقول: كروهاجذعةبعدماهرمت،يستعينونبالضعفة،ويستنصرونبالنساء،كأمطحالأحبأهله االيهاالبغي"
یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ وہ (علی علیہ السلام) ایک لومڑی ہے۔ جس کی گواہ اس کی دم ہے۔ طرح طرح کے نکتے اٹھاتا ہے بڑے بڑے فتنوں کو گھٹا کے بیان کرتا ہے اور لوگوں کو فتنہ و فساد کی ترغیب دیتا ہے۔ ضعیوں سے کمک مانگتا ہے۔ اور عورتوں سے امداد حاصل کرتا ہے وہ ام طحال کے مانند ہے(ابن ابی الحدید تشریح کرتے ہیں کہ یہ زنانہ جاہلیت میں ایک زنا کار عورت تھی) جس سے اس کے گھر والے زنا کرنے کے شائق تھے) ( لیکن دوسری تاریخوں میں اس عبارت کے ساتھ ہے کہ ابوبکر نے کہا "إنماهی ثعالةشهيدهاذنبها "
اب ذرا آپ حضرات موازنہ کیجئے کہ خلیفہ ابوبکر نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں جو فحش باتیں کہیں، ان سے اور اس طعن و اعتقاد سے کتنا تفاوت ہے جو ایک شیعہ ان لوگوں کے لیے کرے۔
پس اگر کسی صحابی کو دشنامدینا باعث کفر ہے تو ابوبکر ان کی بیٹی عائشہ معاویہ اور ان کے پیروئوں کو سب سے پہلے کافر ہونا چاہیئے اور اگر سبب کفر نہیں ہے تو آپ اسی بنا پر شیعوں کو بھی کافر نہیں کہہ سکتے۔
آپ کےبڑے بڑے فقہاء اور خلفاء کے فتاوی اور احکام کے مطابق دشنام دینے والے کافر اور واجب القتل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ امام احمد حنبل نے مسند جلد سوم میں، ابن سعد کاتب نے کتاب طبقات جزء پنجم ص670 میں اور قاضی عیاض نے شفاء جز چہارم باب اول میں نقل کیا ہے کہ خلیفہ عمر ابن عبدالعزیز کے عامل نے کوفے سے ان کو لکھا کہ ایک شخص نے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب کو سب کیا ہے اور گالی دی ہے، اجازت دیجئے کہ ہم اس کو قتل کردیں۔ انہوں نے جواب میں لکھا کسی مسلمان کو سب و شتم کرنے کی وجہ سے ایک مسلمان کا خون مباح نہیں ہوتا، سوا اس کے کہ کوئی شخص رسول خدا(ص) کو دشنام دے ۔ ان اقوال کے علاوہ خود آپ کے اکابر علماء جیسے ابوالحسن اشعری اور ان کے پیروئوں کے عقائد یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص دل سے مومن ہو اور کفر کا اظہار کرے ( مثلا یہودیت اور نصرانیت وغیرہ) یا رسول اللہ (ص) سے جنگ کرنے اٹھے یا خدا و رسول(ص) کو بلاعذر سخت گالی دے۔ تب بھی وہ کافر نہیں ہوتا اور اس پر کفر کا جاری نہیں کیا جاسکتا، اس لیےکہ ایمان عقیدہ قلبی ہے اور چونکہ کوئی کسی کے قلب سے واقف نہیں ہے لہذا یہ نہیں جان سکتا کہ کفر کا اظہار دل سے تھا یا فقط ظاہری حیثیت سے اور ان مراتب کو دیگر علماء اشعری نے بھی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ خصوصا ابن حزم اندلسی نے کتاب الفضل جز چہارم ص204 و ص406 میں ان عقائد کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔
پس ایسی صورت میں آپ حضرات موحد، پاک نفس، مطیع خدا و رسول(ص) اور شرع انور کے تمام واجب و مستحب احکام پر عمل کرنے والے شیعوں پر کفر کا حکم لگانے کا کیا حق رکھتے ہیں؟ فرض کر لیجئے کہ ( جیسا آپ کا خیال ہے) کوئی شیعہ بعض
اصحاب کو دلیل و برہان کےساتھ سب و شتم ہی کرے یا دشنام دے جب بھی تو آپ اپنے بڑے بڑے پیشوائوں کے عقائد اور بیانات کے مطابق اس پر کفر کا حکم نہیں لگا سکتے۔
حالت تو یہ ہے کہ آپ کی معتبر کتابوں میں مثلا مسند احمد حنبل جلد دوم ص236 سیر حلبیہ جلد دوم ص107 صحیح بخاری جلد دوم ص74 ، صحیح مسلم کتاب جہاد اور اسباب النزول واحدی ص108 وغیرہ میں بکثرت روایتیں موجود ہیں کہ پیغمبر(ص) کے سامنے اکثر اصحاب جیسے ابوبکر وغیرہ آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے بلکہ مار پیٹ بھی کرتے تھے اور رسول(ص) مشاہد فرماتے تھے لیکن ان کو کافر نہیں کہتے تھے بلکہ نصیحت فرماتے تھے( البتہ رسول اللہ(ص) کے روبرو اصحاب کی اس قسم کی باہمی جنگ اور نزاع کی روایتیں علماء اہل تسنن ہی کیکتابوں میں ہیں، شیعوں کی کتابوں میں نہیں۔
اس مختصر بیان کے ساتھ آپ نے اپنے پہلے ایراد کا جواب سن لیا کہ کسی صحابی پر لعنت یا دشنام موجب کفر نہیں ہوا کرتی۔
اگر بغیر کسی دلیل و برہان کے سب ولعن کریں تو فاسق ہوجائیں گے، کافر نہ ہوں گے۔ اور ہر عمل بد عفو و مغفرت کے قابل ہوتا ہے۔
صحابہ کے نیک و بد اعمال رسول اللہ(ص) کے پیش نظر تھے
دوسرے آپ نے فرمایا ہے کہ رسول خدا(ص) اصحاب کی توقیر اور تعظیم و تکریم فرماتے تھے تو یہ صحیح ہے میں بھی تصدیق کرتا ہوں اور تمام مسلمان اور صاحبان علم و فضل اس پر متفق ہیں کہ لوگوں کے سارے نیک و بد اعمال پر آنحضرت(ص) کی نظر رہتی تھی اور آپ ہر شخص کے اچھے عمل کی قدر فرماتے تھے۔ چنانچہ نوشیرواں کی عدالت اور حاتم طائی کی سخاوت کا بھی احترام فرماتے تھے۔ لیکن یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ اگر کسی فرد یا جماعت کی توقیر و تکریم فرماتے تھے تومحض اسی نیک عمل کی بنا پر جو اس سے ظاہر ہوتا تھا۔
بدیہی چیز ہے کہ کسی مخصوص عمل پر کسی فرد یا جماعت کی قدر و منزلت قبل اس کے کہ اس سے اس ک برعکس فعل صادر ہو اس کی نیک بختی اور خوش انجامی پر دلالت نہیں کرتی ؟؟؟ ؟؟؟؟ صدور گناہ سے قبل قہر و عقوبت جائز نہیں ہے چاہے یہ معلوم بھی ہو کہ آئندہ اس کی مرتکب ہوگا۔
چنانچہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام باوجودیکہ عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کے عمل و شقاوت اور انجام بد سے آگاہ تھے اور بار بار اس سے فرماتے بھی تھے کہ تو میرا قاتل ہے بلکہ ایک موقع پر صریحا فرمایا کہ
اريدحياته ويريدقتلىعذيرك من خليلك من مراد
خیر طلب : یہ آپ نے بے لطفی کی بات کی کہ چند خارجی اور ناصبی ذہنیت والوں کے عقائد کو اپنی بحث کا ماخذ بنایا یہ واقعہ تو اتنا مشہور اور واضح و آشکار ہے کہ خود آپ کے علماء نے اس کی تصدیق کی ہے۔
ملاحظہ فرمائیے حافظ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی شافعی نے جو آپ کے اکابر علماء و فقہاء میں سے ہیں، اپنی کتاب دلائل نبوۃ میں داستان بطن عقبہ کو معتبر سلسلہ روات کے ساتھ، امام احمد بن حنبل نے مسند آخر جلد پنجم میں ابو طفیل سے اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے اور علماء میں مشہور ہے۔ کہ آنحضرت(ص) نے اس رات اصحاب کی ایک جماعت پر لعنت فرمائی۔
واقعہ عقبہ اور قتل رسول(ص) کا ارادہ
نواب : قبلہ صاحب واقعہ کیا تھا اور کون سے لوگ رسول اللہ(ص) کو قتل کرنا چاہتے تھے، گذارش ہے کہ مختصر ہی بیان فرما دیجئے۔
خیر طلب : اکابر فریقین نے لکھا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں چودہ منافقین نے خفیہ طور پر عقبہ کی گھاٹی میں جو پہاڑ کے دامن میں ایک تنگ راستہ تھا اور جس سے فقط ایک ایک آدمی گذر سکتا تھا رسول خدا(ص) کو قتل کرنے کی سازش کی۔ جب انہوں نے اپنی تجویز کو عملی جامہ پہنانا چاہا تو جبرئیل نے رسول اللہ(ص) کو اس کی خبر دی، آں حضرت(ص) نے حذیفہ نخعی کو بھیجا اور وہ جاکر دامن کوہ میں پوشیدہ ہوگئے۔ جس وقت وہ لوگ آئے اور آپس میں گفتگو کی تو انہوں نے سب کو پہچان لیا۔ چنانچہ ان میں سات نفر بنی امیہ میں سے تھے۔ حذیفہ آں حضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب کے نام بتائے۔ آں حضرت(ص) نے فرمایا کہ یہ بات راز میں رکھو خدا ہمارا نگہبان ہے۔ اول شب آں حضرت(ص) لشکر کے آگے آگے روانہ ہوئے عمار یاسر اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔ اور حذیفہ اس کو پیچھے سے ہانک رہے تھے، جب اس تنگ راستے میں پہنچے تو منافقوں نے اپنے چمڑے کے تھیلے بالوں سے بھر کے ( یا تیل کے کپے) شور مچا کر اونٹ کے سامنے پھینگے تاکہ اونٹ بھڑک کے بھاگے اور آں حضرت(ص) کو گہرے درے میں گرادے لیکن خدائے تعالی نے آپ کی حفاظت فرمائی اور وہ لوگ بھاگ کر مجمع میں چھپ گئے۔
کیا یہ لوگ اصحاب میں سے نہیں تھے؟ تو کیا ان کا یہ عمل نیک تھا اور ان کی پیروی راہ ہدایت تھی۔ آیا یہ مناسب ہے کہ انسان کی خوش عقیدگی اس حد تک بڑھ جائے کہ جس وقت کہا جائے اصحاب رسول(ص) یعنی وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر(ص) کو دیکھا ہے یا آں حضرت(ص) سے حدیث نقل کی ہے، تو اپنی آنکھیں بند کر لے، ان کےعیوب اور برائیوں پر نظر نہ ڈالے اور کہے کہ سب کے سب نجات یافتہ ہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کے پیروئوں کو بھی ناجی بتائے؟
پیغمبر(ص) نے جھوٹوں کی پیروی کا حکم نہیں دیا ہے
آیا ابوہریرہ جن کے حالات کی طرف میں پچھلی شبوں میں اشارہ کرچکا ہوں کہ خلیفہ عمر نے ان کو تازیانہ مارا اور کہا کہ یہ پیغمبر(ص) سے جھوٹی حدیثیں بہت نقل کرتا ہے، اصحاب میں سے نہیں تھے اور انہوں نے کثرت سے احادیث نقل نہیں کی ہیں؟ اسی طرح دوسرے اصحاب جیسے سمرۃ بن جندب وغیرہ جو حدیث گڑھتے تھے اصحاب میں سے نہیں تھے؟ آیا رسول خدا(ص) امت کو حکم دے سکتے ہیں کہ جھوٹے اور جعل ساز لوگوں کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پائو؟ اگر یہ حدیث جس کو آپ نے عظمت اصحاب کا سرچشمہ قرار دیا ہے صحیح ہے کہ اصحاب میں سے چاہے جس کی پیروی کریں ہدایت پا جائیں گے تو فرمائیے اگر دو صحابی ایک دوسرے کے خلاف راستہ چلیں تو ہم کس کی پیروی کریں تاکہ ہدایت حاصل ہو؟ یا اگر اصحاب کے دو گروہ باہم ایک دوسرے سے جنگ کریں یا عقیدے میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں تو ہم کس گروہ کا ساتھ دیں۔ تاکہ نجات حاصل ہو؟
حافظ : اول تو رسول اللہ(ص) کے اصحاب پاک آپس میں کوئی مخالفت اور جنگ ہرگز کرتے ہی نہیں تھے۔ اور اگر مخالفت کی بھی تو آپ غور و فکر کیجئے ان میں سے جو شخص زیادہ پاک اور جس کی گفتگو زیادہ مدلل ہو اس کیپیروی کیجئے۔
خیر طلب : آپ کے اس بیان کے بنا پر اگر ہم نے غور کیا اور تحقیق کر کے دونوں میں سے ایک کو پاک و برحق سمجھ لیا تو قطعا اصحاب کا مخالف گروہ ناپاک اور باطل پر ہوگا۔
پس یہ حدیث اپنی جگہ پر خود ہی درجہ اعتبار سے گر جاتی ہے۔ کیوںکہ صحابہ میں سے ہر ایک کی اقتدا کر کے ہدایت پا جانا ممکن ہی نہیں۔
سقیفہ میں اصحاب کی مخالفت
اگر یہ حدیث صحیح ہے تو آپ کو شیعوں پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے کیوںکہ انہوں نے اصحاب ہی کے ایک گروہ کی پیروی کی ہے جیسے سلمان، ابوذر، مقداد، عمار یاسر، ابو ایوب اںصاری، حذیفہ نخعی، اور خزیمہ ذوالشہادتین وغیرہ جن کے متعلق میں گذشتہ شبوں میں اشارہ کر چکا ہوں کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی بلکہ مخالفت اور احتجاج بھی کرتے رہے؟
پس اصحاب کی ان دونوں جماعتوں میں سے جو ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑی تھیں کونسی حق پر تھی؟ قطعی طور پر ایک باطل پر تھی، حالانکہ جو حدیث آپ نے نقل کی ہے وہ بتا رہی ہے کہ اصحاب میں سے جس کی بھی اقتدا کرو ہدایت پا جائو گے۔
ابوبکر و عمر سے سعد بن عبادہ کی مخالفت
کیا سعد بن عبادہ انصاری اصحاب میں سے نہیں تھے جنہوں نے ابوبکر و عمر کی بیعت نہیں کی؟ تمام شیعہ و سنی مورخین اسلام کا اتفاق ہے کہ یہ جاکر شام میں رہنے لگے یہاں تک کہ اواسط خلافت عمر میں قتل ہوئے۔
پس ان کی اقتدا کرنا اور ابوبکر کی مخالفت اس حدیث کے حکم سے راہ ہدایت ٹھہری۔
بصرے میں علیعلیہ السلام سے طلحہ و زبیر کا مقابلہ
آیا طلحہ و زبیر اصحاب اور تحت شجرہ بیعت کرنے والوں میں سے نہیں تھے؟ آیا ان کا مقابلہ پیغمبر کے خلیفہ برحق سے نہیں تھا۔ ( جو آپ کے عقیدے میں بھی چوتھے خلیفہ مسلم ہیں) اور یہ دونوں صحابی بے شمار مسلمانوں کا خون بہانے کے باعث نہیں ہوئے؟ اب بتائیے کہ اصحاب کے ان دونوں گروہوں میں سے جو ایک دوسرے کے مقابلے پر آئے کس کی پیروی اور اقتدا سبب ہدایت تھی؟ اگر آپ کہیں کہ دونوں گروہ چونکہ اصحاب کے تابع تھے لہذا حق پر تھے تو آپ غلط راستے پر جا پڑیں گے۔ اس لیے کہ جمع بین الضدین محال ہے یعنی یہ ممکن نہیں کہ ایک دوسرے سے لڑنے والے دوںوں فرقے ہدایت یافتہ اہل جنت ہوں لہذا قطعی طور پر جو اصحاب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف تھے وہ ہدایت یافتہ تھے اور فریق مخالف باطل پر اور یہ خود دوسری دلیل ہے آپ کا یہ قول باطل ہونے کی کہ جتنے اصحاب تحت شجرہ بیعت رضوان میں حاضر تھے وہ سب نجات یافتہ ہیں، کیوںکہ تحت شجرہ بیعت کرنے والوں میں سے دو نفر طلحہ و زبیر بھی تھے جو امام و خلیفہ برحق سے لڑنے کو اٹھے۔ آیا ان کا یہ عمل یعنی خلیفہ رسول(ص) کے مقابلہ پر آنا اور ایسے شخص سے جنگ کرنا جس کے لیے رسول اللہ(ص) نے فرمایا تھا کہحربک حربی ( یعنی اے علی(ع) تم سے جنگ کرنا مجھ سے جنگ کرنا ہے۔ بہت بڑا ننگ اور رسول خدا (ص) سے جنگ نہیں تھی؟ پس آپ کیوںکر کہہ سکتے ہیں کہ لفظ اصحاب یا بیعت رضوان میں حاضری مکمل نجات کی ضامن ہے؟
معاویہ اور عمرو عاص علی علیہ السلام کو سب و شتم کرتے تھے
آیا معاویہ اور عمرو بن عاص اصحا بمیں سے نہیں تھے جنہوں نے خلیفہ رسول سے جنگ کی۔ اس کے علاوہ منبروں اور جلسوں میں یہاں تک خطبہ نماز جمعہ میں علی علیہ السلام پر سب و شتم اور لعنت کرتے تھے؟
باوجودیکہ آپ ہی کے اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار فرمایا :
"من سبّ عليافقدسبني،ومنسبنيفقدسبّاللّهعزوجل. "
یعنی جو شخص علی(ع) کو دشنام دے در حقیقت اس نے مجھ کو دشنام دی اور جو شخص مجھ کو سب و دشنام دے در حقیقت اس نے خدا کو سب و دشنام دیا۔
پس اس حدیث کے قاعدے سے جس پر آپ کا دارو مدار ہے، بقول رسول(ص)، ملعون ابن ملعون اشخاص اور علی علیہ السلام کو سب وشتم کرنے والوں کی جو حقیقتا خدا و رسول(ص) کو سب وشتم ( جیسا کہ خود آپ کے علماء نے لکھا ہے) پیروی کرنے والے ہدایت یافتہ اور اہل بہشت ٹھہرے۔ فاضل تفتازانی نے شرح مقاصد میں اس موضوع پر ایک مفصل بیان دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ صحابہ کے درمیان چونکہ سخت لڑائیاں اور عداوتیں واقع ہوئیں لہذا پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ راہ حق سے منحرف ہوگئے اور بعض بغض و حسد، عناد، حب ریاست، اور لذات شہوانی کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے ہر قسم کا ظلم و تعدی کیا۔ بدیہی چیز ہے کہ بہت سے اصحاب چونکہ معصوم نہیں تھے افسوسناک حرکات کے مرتکب ہوئے لیکن بعض علماء نے اپنے حسن ظن کی وجہ سے ان کی بد اعمالیوں کےلیے فضول تاویلیں کی ہیں۔
آپ کی نقل کی ہوئی اس حدیث کی رد میں اس طرح کی واضح دلیلیں بہت ہیں لیکن اس سے زیادہ تفصیل کی وقت میں گنجائش نہیں۔ پس قطعا یہ حدیث گڑھی ہوئی ہے جیسا کہ آپ ہی کے بہت سے علماء نے کتاب الموضوعات میں اس کے سلسلہ اسناد کو مشتبہ بتایا ہے۔
اصحابی کالنجوم کے اسناد ضعیف ہیں
چنانچہ قاضی عیاض شرح الشفاء جلد دوم ص91 میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ دار قطنی نے فضائل میں اور ابن عبدالبر نے انہیں کے طریق سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے اسناد میں کوئی مضبوطی نہیں۔ نیز عبد بن حمید سے اور انہوں نے اپنی مسند میں عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ بزار اس حدیث کی صحت کا منکر تھا۔
نیز کہتے ہیں کہ ابن عدی نے کامل میں اپنے اسناد کے ساتھ نافع سے اور انہوں نے عبداللہ ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے اسناد ضعیف ہیں۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ بیہقی نے روایت کی ہے کہ اس حدیث کا متن مشہور ہے لیکن اس کے اسناد ضعیف ہیں۔ انتہی۔
چونکہ اس حدیث کے اسناد میں حارث بن غفین مجہول الحال اور حمزہ ابن ابی حمزہ نصیری جو کذب و دروغ گوئی سے متہم ہے موجود ہیں لہذا حدیث کا ضعف ثابت ہے۔
نیز ابن حزم نے کہا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی، گڑھی ہوئی اور باطل ہے۔ پس ایسی ضعیف سلسلہ اسناد کی حدیث
قابل اعتماد نہیںاور اس کے استدلال کا سہارا نہیں لیا جاسکتا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے تب بھی قطعا اس کی عمومیت منظور نظر نہیں تھی بلکہ نیک بخت اور نیکوکار اصحاب کی اقتدا مراد تھی جنہوں نے حکم رسول(ص) سے کتاب خدا اور عترت طاہرہ(ع) کی اطاعت کی۔
صحابہ معصوم نہیں تھے
اب ان مقدمات کے بعد عرض کئے گئے اگر بعض صحابہ پر تنقید اور نکتہ چینی کی جائے تو قابل مذمت نہ ہوگی۔ اس لیے کہ صحابہ بشری عادتوں کے حامل اور غیر معصوم تھے۔ پس جب وہ معصوم نہ تھے تو ان سے خطا بھی ہوسکتی ہے۔
حافظ : ہم بھی قائل ہیں کہ صحابہ معصوم نہیں تھے لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ سب کے سب عدول تھے اور ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا تھا۔
خیر طلب : یہ آپ کی زیادتی ہے کہ حتمی طور سے ان کو عادل اور گناہوں سے مبرا سمجھ لیا۔ اس لیے کہ خود آپ کے علماء کی معتبر کتابوں میں جو روایتیںمروی ہیں اور اس کے برخلاف حکم دے رہی ہیں کہ بہت سے اکابر صحابہ بھی اپنی پرانی عادت کی بنا پر کبھی کبھی گناہوں کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔
حافظ : ہم کو ایسی روایتوں کا علم نہیں ہے۔ اگر آپ کے پیش نظر ہوں تو بیان فرمائیے۔
خیر طلب : قطع نظر ان باتوں سے جو زمانہ جاہلیت میں سرزد ہوئیں تھیں اسلام کی حالت میں بھی اکثر گناہوں کے مرتکب ہوتے تھے جن سے بطور نمونہ میں صرف ایک روایت پر اکتفا کرتا ہوں۔
آپ کے بڑے علماء اپنی معتبر کتابوں میں نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال ( سنہ8 ہجری میں) کبار صحابہ میں سے کچھ لوگ ایک بزم عشرت قائم کئے ہوئے تھے جس میں پوشیدہ طور سے شراب نوشی ہوتی تھی۔
حافظ : قطعی طور پر یہ روایت مخالفین کی گڑھی ہوئی ہے۔ کیونکہ حرام ہوجانے کے بعد شراب پینا تو در کنار، بزرگ صحابہ تو ایسی گندی محفلوں میں شریک بھی نہیں ہوتے تھے۔
خیر طلب : قعطا مخالفین کی گڑھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اگر اس کو وضع کیاہے تو آپ ہی کے علماء نے کیا ہے۔
نواب : قبلہ صاحب اگر کوئی ایسی بزم تھی تو یقینا صاحب خانہ اور مدعو اشخاص کے نام بھی ذکر کئے گئے ہوں گے کیا آپ ہم لوگوں کے لیے اس کی وضاحت فرما سکتے ہیں؟
خیر طلب : جی ہاں یہ مطلب آپ کے علماء کے یہاں تشریح سے بیان ہوا ہے۔
نواب : گذارش ہے کہ بیان فرمائیے تاکہ معمہ حل ہو۔
خفیہ جلسے میں دس(10) نفر صحابہ کی شراب نوشی
خیر طلب : ابن حجر فتح الباری جلد دہم ص30 میں لکھتے ہیں کہ ابوطلحہ زید بن سہل نے اپنے مکان میں ایک محفل شراب تشکیل دی اور اس میں دس افراد کو دعوت دی، ان سب نے شراب پی اور ابوبکر نے کفار و مشرکین اور کشتگان بدر کے لیے مرثیے کے چند شعر کہے۔
نواب : آیا مدعو اشخاص کے نام بھی ذکر کئے گئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بیان فرمائیے تاکہ حقیقت ظاہر ہو۔
خیر طلب : 1۔ ابوبکر بن ابی قحافہ۔ 2۔ عمر ابن خطاب۔ 3۔ ابوعبیدہ جراح۔ 4۔ ابی بن کعب۔ 5۔ سہل بن سفیاء۔ 6۔ ابوایوب اںصاری۔ 7۔ ابوطلحہ ( دعوت کرنے والا اور صاحب خانہ۔ 8۔ ابو دجاتہ سماک بن حرشہ ۔ 9۔ ابوبکر بن شغوب۔ 10۔ و انس بن مالک جو اس وقت 18 سال کے اور ساقی محفل تھے۔ چنانچہ بیہقی نے سنن جلد ہشتم ص29 میں خود انس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں اس وقت سب سے کم سن اور ساقی محفل تھا(جلسہ میں سخت ہمہمہ)
شیخ : ( غصے کےساتھ) قسم پروردگار کی یہ روایت دشمنوں کی بنائی ہوئی ہے۔
خیر طلب : ( تبسم کے ساتھ) آپ تو بہت تیز پڑگئے اور جھوٹی قسم بھی کھالی۔ خطا آپ کی بھی نہیں ہے، آپ کا مطالعہ ہی کم ہے اگر کتابیں دیکھنے کی زحمت برداشت کرتے تو نظر آتا کہ خود آپ ہی کے علماء نے لکھا ہے۔ پس آپ کو استغفار کرنا چاہیئے۔ اب میں آپ حضرات کے سامنے وضاحت کرنے پر مجبور ہوں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ آپ ہی کے علماء کا بیان ہے۔اس واقعہ کے بعض اسناد جو میرے پیش نظر ہیں عرض کرتا ہوں۔
محمد بن اسمعیل بخاری نے اپنی صحیح تفسیر آیہ خمر سورہ مائدہ میں، مسلم ابن حجاج نے اپنی صحیح کتاب اشربہ باب تحریم الخمر میں، امام احمد بن حنبل نے مسند جلد سوم ص181 و ص227 میں، ابن کثیر نے اپنی تفسیر جلد دوم ص93 و ص94 میں، جلال الدین سیوطی نے درالمنثور جلد دوم ص321 میں، طبری نے اپنی تفسیر جلد ہفتم ص24 میں< ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد چہارم ص22 اور فتح الباری جلد دہم ص30 میں، بدر الدین حنفی نے عمدۃ القاری جلد دہم ص84 میں، بیہقی نے سنن ص286 وص290 میں اور دوسروں نے بھی ان حالات کو شرح و بسط سے نقل کیا ہے۔
شیخ : شاید حرام ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ایسا ہوا ہو۔
خیر طلب : تفسیر و تاریخ کی کتابوں میں جو قواعد درج ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات تحریم نازل ہونے کے بعد بھی بعض مسلمان اور صحابہ شراب حرام استعمال کرتے تھے۔
چنانچہ محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر کبیر جلد دوم ص203 میں ابی القموس زید بن علی کی سند سے نقل کیا ہے کہ انہوں
نے کہا ، خدا نے تین مرتبہ آیات خمر یہ نازل فرمائیں۔ پہلی مرتبہ آیت نمبر219 سورہ بقرہ:
"يَسْئَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِوَالْمَيْسِرِقُلْفِيهِماإِثْمٌكَبِيرٌوَمَنافِعُلِلنَّاسِوَإِثْمُهُماأَكْبَرُمِنْنَفْعِهِما"
یعنی اے پیغمبر(ص) تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں تو کہہ دو کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے۔
نازل ہوئی لیکن مسلمان متبہ نہ ہوئے اور شراب پیتے رہے، یہاں تک کہ دو آدمی شراب پی کر مستی کی حالات میں مشغول نماز ہوئے اور بیہودہ باتیں بکیں تو خداوند عالم نے آیت نمبر43 سورہ نمبر4( نساء) نازل فرمائی کہ :
"ياأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوالاتَقْرَبُواالصَّلاةَوَأَنْتُمْسُكارى حَتَی تَعْلَمُوا مَا تقُولُون"
یعنی اے ایمان لانے والوں نشے کی حالت میں نماز کے پاس نہ جائو یہاں تک کہ اپنی باتیں سمجھنے لگو۔
لیکن پھر بھی شراب نوشی جاری رہی، البتہ نشے کی حالت میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ حتی کہ ایک روز ایک شخص نے شراب پی ( جو روایت بزرو ابن حجر و ابن مردویہ کی بنا پر ابوبکر تھے) اور جنگ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کے لیے مرثیےکے چند اشعار کہے، رسول اللہ(ص) نے سنا تو غصے کے عالم میں تشریف لائے اور جو چیز دست مبارک میں لیے ہوئے تھے اس سے مارنا چاہا تو اس نے کہا کہ میں خدا و رسول(ص) کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں۔ خدا کی قسم اب نہیں پئیوں گا۔ اس وقت یہ آیت نمبر91 سورہ نمبر5 ( مائدہ) نازل ہوئی کہ :
"ياأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُواإِنَّمَاالْخَمْرُوَالْمَيْسِرُوَالْأَنْصابُوَالْأَزْلامُرِجْسٌمِنْعَمَلِالشَّيْطانِفَاجْتَنِبُوهُلَعَلَّكُمْتُفْلِحُونَ"
یعنی اے ایمان لانے والو شراب ، قمار بازی، بت پرستی اور جوئے کے تیر ( زمانہ جاہلیت کی ایک رسم) یہ سب نجاست و گندگی اور عمل شیطان ہے لہذا اس سے دور رہو تاکہ شاید نجات پائو۔
جو کچھ عرض کیا گیا اس کا مقصد آپ حضرات کو یہ بتانا تھا کہ صحابہ میں بھی دوسرے مومنین ومسلمان کی طرح اچھے اور برے لوگ تھے۔ یعنی ان میں سے جو لوگ احکام خدا و رسول(ص) کی اطاعت میں سعی کرتے تھے وہ سعادتکی بلند منزل پر پہنچے اور جنہوں نے خواہش نفسانی اور فریب شیطانی کا اتباع کیا وہ پست و حقیر ہوئے۔ پس جو لوگ صحابہ پر طعن اور تنقید کرتے ہیں وہ جو کچھ کہتے ہیں منطقی دلائل کے ساتھ کہتے ہیں، صحابہ کے زشت و ناپسندیدہ حالات علاوہ اس کے کہ خود آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہیں، آیات قرآنی کے شواہد سے بھی قابل مذمت قرار پاتے ہیں اور شیعہ بھی اسی وجہ سے ان کی گرفت کرتے ہیں۔ لہذا ان منطقی اعتراضات کا اگر کوئی منطقی ہی جواب ہو تو قابل قبول ہوسکتا ہے۔ مذموم صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان بے جا محبت اور دشمنی کا برتائو کرے، یعنی کسی فرد یا افراد سے اپنی محبت اور تعلقات کی بنا پر ان کے سارے حرکات وسکنات اور اقوال و افعال کو نگاہتحسین سے دیکھے اور کہے کہ ان سے ہرگز کوئی بدی عالم وجود میں نہیں آئی۔
حافظ : بہت بہتر، فرمائیے اصحاب کے زشت و ناپسندیدہ اعمال و افعال کس قسم کے تھے؟ اگر دلیل و برہان سے منطبق ہو تو ہم بھی مان لیں گے۔
صحابہ کی عہد شکنی
خیر طلب : تعجب ہے کہ ان ساری مذموم صفتوں کے بعد ( جن میں سے مشتے نمونہ از خردار نے پیش کیا گیا) پھر آپ فرماتے ہیں کہ ان کی مذموم صفتیں کیا تھیں۔ اب میں اپنی گذارش کی تائید میں ان زشت و زبوں اعمال میں سے جو ان سے سرزد ہوئے اور فریقین کی تمام کتابوں میں درج ہیں ایک اور نمونہ پیش کرتا ہوں اور وہ ہے ان کی عہد شکنی اور بیعت کی خلاف ورزی کیونکہ خدائے تعالی نے آیت نمبر29 سورہ نمبر16 ( نحل) میں ایفائے وعدہ اور تکمیل عہد کو واجب فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے :
"وَأَوْفُوابِعَهْدِاللَّهِإِذاعاهَدْتُمْوَلاتَنْقُضُواالْأَيْمانَبَعْدَتَوْكِيدِها"
یعنی تم پر واجب ہے کہ جب تم خدا و رسول(ص) سے کوئی عہد و پیمان کرچکے تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو مستحکم کرنے کے بعد نہ توڑو۔
اور آیت نمبر25 سورہ نمبر13( رعد) میں عہد توڑنے والوں کو ملعون فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
"وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَاللَّهِمِنْبَعْدِمِيثاقِهِوَيَقْطَعُونَماأَمَرَاللَّهُبِهِأَنْيُوصَلَوَيُفْسِدُونَفِيالْأَرْضِأُولئِكَلَهُمُاللَّعْنَةُوَلَهُمْسُوءُالدَّارِ."
یعنی جو لوگ خدا و رسول(ص) سے عہد و پیمان مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کو ملانے کے لیے اللہ نے حکم دیا ہے( جیسے صلہ رحم اور محبتو ولایت امیرالمومنین علیہ السلام) ان کو قطع کرتے ہیں اور روئے زمین پر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے خاص طور پر لعنت وغضب الہی ہے اور انہیں کے لیے عذاب جہنم ہے۔)
پس آیات الہی اور ان کثیر اخبار و احادیث کے حکم سے جو ہماری اور آپ کی کتابوں میں وارد ہیں عہد توڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ خصوصا خدا اور حکم خدا و رسول(ص) کے ساتھ عہد شکنی جو قطعا آن حضرت(ص) کے اصحاب و اقربا کے لیے تو بد سے بدتر تھی۔
حافظ : کونسا عہد اور کونسی بیعت تھی جو خدا و رسول(ص) کے حکم سے قائم ہوئی اور اصحاب و یاران پیغمبر(ص) نے اس میں عہد شکنی کی جس سے ہم ان کو آیات قراںی کی زد میں لا سکیں؟
میرا خیال ہے کہ اگر آپ توجہ کیجئے تو تصدیق کیجئے گا کہ یہ سب شیعہ عوام کی من گڑہت باتیں ہیں ورنہ صحابہ رسول(ص) ایسی حرکتوں سے مبرا تھے۔
قرآن میں صادقین سے مراد محمد(ص) و علی(ع) ہیں
خیر طلب: میں بار بار عرض کرچکا ہوں کہ شیعہ چونکہ اپنے صادق و مصدق پیشوائوں کی پیروی پر مجبور ہیں ورنہ شیعہ ہی نہیں رہ سکتے لہذا ان کے خواص یا عوام ہرگز کوئی حدیث و روایت نہیں گڑھتے اور جھوٹ نہیں کہتے، اس لئے کہ ان کے ائمہ
ہر حیثیت سے صادق ومصدق تھے، چنانچہ قرآن مجید کی سچائی پر گواہی دی ہے۔ جیسا کہ آپ کے بڑے بڑے علماء مثلا امام ثعلبی اور جلال الدین سیوطی نے تفسیر میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے مانزل من القرآن فی علی میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، شیخ سلمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب39 میں خوارزمی و حافظ ابونعیم اور حموینی سے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 میں پوری سند کے ساتھ نیز تاریخ محدث شام سے، سب نے نقل کیا ہے کہ آیت نمبر120 سورہ نمبر9 ( توبہ) :
"ياأَيُّهَاالَّذِينَ آمَنُوااتَّقُوااللَّهَوَكُونُوامَعَ الصَّادِقِينَ"
یعنی اے ایمان والو خدا ترس بنو اور سچے لوگوں کی پیروی اختیار کرو۔( جو محمد(ص) و علی(ع) اورع ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں) میں صادقین سے مراد محمد(ص) و علی علیہم سلام ہیں، اور ان روایات میں سے بعض میں ہے کہ پیغمبر(ص) اور ائم اہل بیت علیہم السلام والصلوۃ مراد ہیں۔ پس اس جلیل القدر خاندان کے پیرو چاہے عالم ہوں یا جاہل، جھوٹے اور جعل ساز نہیں ہوسکتے۔ کیوںکہ غلط اور من گھڑت باتیں کہنے کی ضرورت تو اسی کو ہوگی جو اپنی حقانیت پر سچے اور مضبوط دلائل نہ رکھتا ہو۔ شیعہ تو وہی کہتے ہیں جو خود آپ کے علماء مورخین تحریر کرچکے ہیں۔ اگر کوئی ایراد ہے تو سب سے پہلے اپنے علماء پر وارد کیجئے کہ انہوں نے لکھا کیوں۔ اگر آپ کے اکابر علماء صحابہ کی عہد شکنی کو اپنی معتبر کتابوں میں درج نہ کرچکے ہوں تو میں ایسے جلسے میں ان باتوں کو ہرگز پیش نہ کرتا۔
حافظ : علماء اہل سنت میں سے کس نے اور کہاں لکھا ہے کہ صحابہ نے عہد شکنی کی اور کیا عہد شکنی کی؟ صرف لفاظی سے تو بات نہیں بنے گی۔
خیر طلب: یہ لفاظی نہیں بلکہ برہان و منطق اور حقیقت ہے اکثر مقامات پر صحابہ نے عہد شکنی کی ہے اورجس بیعت کا حکم رسول اللہ(ص) نے دیا تھا اس کو توڑا ہے چنانچہ ان میں سب سے اہم غدیر کا عہد اور بیعت تھی۔
حدیث غدیر اور اس کی نوعیت
فریقین ( شیعہ و سنی) کےجمہور علماء معترف ہیں کہ ہجرت کے دسویں سال حجتہ الوداع میں مکہ معظمہ سے واپسی کے وقت اٹھارویں ذی حجہ کو رسول اللہ(ص) نے غدیر خم کے میدان میں اپنے تماماصحاب کو جمع کیا، یہاں تک کہ آں حضرت(ص) کے حکم آگے جانے والے لوگ واپس بلائے گئے اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتطار کیا گیا۔ چنانچہ آپ کے اکثر بڑے بڑے علماء و مورخین اور شیعوں کی سند سے ستر ہزار اور آپ کے بعض دوسرے علماء کی سند سے جیسا کہ امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ فی معرفۃ الائمہ میں نیز اورروں نے لکھا ہے، ایک لاکھ بیس ہزار مسلمان اکٹھا ہوگئے تھَ۔
حضرت رسول خدا(ص) کے لیے ایک منبر مرتب کیا گیا جس پر آں حضرت تشریف لے گئے اور ایک بہت طولانی خطبہ ارشاد فرمایا جس کا زیادہ تر حصہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب پر مشتمل تھا، جو آیتیں حضرت علی(ع)
کی شان میں نازل ہوئی تھیں ان میں سے اکثر کی تلاوت اور یاد دہانی فرمائی اور ساری امت کو ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کے مقدس مرتبے کی طرف بخوبی متوجہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا :
" معاشر الناسألست أولى بكممنأنفسكم؟قالوا: بلى؛قال: منكنتمولاهفهذا عليّمولاه"
یعنی اے جماعت انسانی آیا میںتمہاری جانوں سے زیادہ تم پر اولی بہ تصرف نہیں ہوں؟ ( یہ آیہ شریفہ "النَّبِيُ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" ( یعنی رسول اللہ(ص) تمام مومنین کی جانوں سے زیادہ ان پر تصرف کا حق رکھتے ہیں 12 مترجم، کی طرف اشارہ تھا) لوگوں نے عرض کیا ضرور ایسا ہی ہے۔ اس وقت آں حضرت(ص) نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں ( یعنی اس کے امور میں اولی بہ تصرف ہوں) پس یہ علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں)
پھر ہاتھوں کا بلند کر کے دعا فرمائی:
"اللهمّوالمنوالاه،وعادمنعاداه،وانصرمننصره،واخذلمنخذله"
یعنی خداوند دوست رکھ اس کو جو علی(ع) کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی(ع) کو دشمن رکھے، اور مدد کر اس کی جو علی(ع) کی مدد کرے اور چھوڑ دے اس کو جو علی(ع) کو چھوڑ دے۔
اس کے بعد رسول اللہ(ص) کے حکم سے ایک خیمہ نصب کیا گیا اور آنحضرت(ص) نے امیرالمومنین(ع) کو حکم دیا کہ خیمہ کے اندر بیٹھیں اور جتنی امت وہاں موجود تھی سب کو مامور فرمایا کہ جا کر علی(ع) کی بیعت کرو کیونکہ مجھ کو خدا کی طرف سے تاکید ہے کہ میں تم سے علی(ع) کے لیے بیعت لوں۔
"من بايع ذالک اليوم عليا کان عمر ثم ابابکر ثم عثمان ثم طلحة ثم زبير و کانوايبايعون ثلاثةايام متواترة"
یعنی اس روز سب سے پہلے جس شخص نے بیعت علی(ع) کی وہ عمر تھے پھر ابوبکر پھر عثمان پھر طلحہ پھر زبیر اور یہ پانچوں اشخاص متواتر تین روز تک ( جب تک پیغمبر(ص) وہاں فروکش رہے) بیعت کرتے رہے۔
حافظ : بھلا اس بات کا یقین کیا جاسکتا ہے کہ جیسا کہ آپ نے بیان کیا اس قدر اہمیت کے ساتھ حکم دیا گیا ہو اور بڑے بڑے علماء نے اسے نقل نہ کیا ہو۔
خیر طلب : مجھ کو بالکل توقع نہیں تھی کہ آپ ایسی بات کہیں گے۔ در آنحالیکہ غدیر خم کا یہ واقعہ آفتاب نصف النہار کی طرح ظاہر اور روشن ہے اور اس حقیقت سے سوا متعصب اور ہٹ دھرم انسان کے اور کوئی شخص انکار کر کے اپنی فضیحت و رسوائی مول نہیں لے سکتا۔ اس لیے کہ اس اہم واقعہ کو آپکے سارے ثقہ علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے، جن میں سے چند نام جو اس وقت میری نظر میں ہیں پیش کرتا ہوں تاکہ مطلب واضح ہوجائے اور آپ جان لیں کہ آپ کے جمہور اکابر علماء نے اس پر یقین و اعتماد کیا ہے۔
علمائے عامہ میں سے حدیث غدیر کے معتبر راوی
1۔ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر مفاتیح الغیب میں۔ 2۔ امام احمد ثعلبی تفسیر کشف البیان میں۔
3۔ جلال الدین سیوطی تفسیردر المنثور میں۔ 4۔ ابو الحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری اسباب النزول میں۔5۔ محمد بن جریر طبری تفسیر کبیر میں۔6۔ حافظ ابونعیم اصفہانی کتاب ما نزل من القرآن فی علی اور حلیتہ الاولیاء میں۔7۔ محمدبن اسماعیل بخاری اپنی تاریخ جلد اول ص375 م میں۔ 8۔ مسلم بن حجاج نیشاپوری اپنی صحیح جلد دوم ص325 میں۔ 9۔ ابو دائود سجستانی سنن میں۔ 10۔ محمدبن عیسی ترمذی سنن میں۔ 11۔ حافظ ابن عبدہ کتاب الولایہ میں۔ 12۔ ابن کثیر شافعی دمشقی اپنی تاریخ میں۔ 13۔ امام ائمہ حدیث احمد ابن حنبل مسند جلد چہارم ص281، 371 میں۔ 14۔ ابو حامد محمد بن بن محمد الغزال سر العالمین میں۔ 15۔ ابن عبدالبر الاستیعاب میں۔ 16۔ محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص16 میں۔ 17۔ ابن مغازلی فقیہ شافعی مناقب میں۔ 18 ۔ نور الدین بن صباغ مالکی فصول المہمہ ص24 میں۔ 19۔ حسین بن مسعود نجومی مصابیح السنہ میں۔ 20۔ ابو الموئد موفق بن احمد خطیب خوارزمی مناقب میں۔21۔ مجدد الدین اثیر محمد بن محمد شیبانی جامع الاصول میں۔ 22۔ حافظ ابو عبدالرحمن احمد بن علی نسائی خصائص العلوی اور سنن میں۔ 23۔ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب4 میں۔ 24۔ شہاب الدین احمد بن حجر مکی صواعق محرقہ اور کتاب المخ الملکیہ میں، بالخصوص صواعق باب اول ص25 میں اپنے انتہائی تعصب کے باوجود کہتے ہیں :
"إنه حديث صحيح لامريةفيه،وقدأخرجه جماعةكالترمذي،والنسائي،وأحمد،وطرقه كثيرةجدا"
یعنی یہ ایک صحیح حدیث ہے جس کی صحت میں کوئی شک نہیں، بتحقیق کہ اس کو ایک جماعت نے مثلا ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ اور اگر تلاش کی جائے تو اس کے طرق کثرت سے ہیں۔
25۔ محمد بن یزید حافظ ابن ماجہ قزوینی سنن میں۔ 26۔ حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری مستدرک میں۔ 27۔ حافظ سلیمان بن احمد طبرانی اوسط میں۔ 28۔ ابن اثیر جذری اسد الغابہ میں۔ 29۔ یوسف سبط ابن جوزی تذکرہ خواص الائمہ ص17 میں۔ 30۔ ابو عمر احمد بن عبدریہ عقد الفرید میں۔ 31۔ علامہ سمہودی جواہر العقدین میں۔ 32۔ ابن تیمیہ احمد ابن عبدالحلیم منہاج السنتہ میں۔ 33۔ ابن حجر عسقلانی فتح الباری اور تہذیب التہذیب میں۔ 34۔ ابوالقاسم محمد بن عمر جار اللہ زمخشری ربیع الابرار میں۔
35۔ ابو سعید سجستانی کتاب الدرایہ فی حدیث الولایتہ میں۔ 36۔ عبید اللہبن عبداللہ حسکانی دعاۃ الہدی الی ادا حق الموالات میں۔ 37۔ زرین بن معاویتہ العبدری جمع بین الصحاح الستہ میں۔ 38۔ امام فخر الدین رازی کتاب الاربعین میں کہتے ہیں کہ اس حدیث شریف پر تمام امت نے اجماع کیا ہے۔ 39۔ مقبلی احادیث المتواترہ میں۔ 40۔ جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں۔ 41۔ میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی میں۔ 42۔ ابوالفتح نظری خصائص العلوی میں۔43۔ خواجہ پارسائے نجاری فصل الخطاب میں۔ 44۔ جماالدین شیرازی کتاب الاربعین میں۔45۔ عبدالرئوف المنادی فیض القدیر فی شرح جامع الصغیر میں۔ 46۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب میں۔ 47۔ یحیی بن شرف النووی کتاب تہذیب الاسماء واللغات میں۔ 48۔ ابراہیم بن محمد حموینی فرائد السمطین میں۔ 49۔ قاضی فضل اللہ بن روز بہمان البطال الباطل میں۔ 50۔ شمس الدین محمد بن احمد شربینی سراج المنیر میں۔ 51۔ ابو الفتح شہرستانی شافعی ملل و نحل میں۔ 52۔ حافظ ابوبکر خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں۔ 53۔ حافظ ابن عساکر ابوالقاسم دمشقی تاریخ کبیر میں۔ 54۔ ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ میں۔ 55۔ علائو الدین سمنانی عروۃ الوثقی میں۔ 56۔ ابن خلدون اپنی تاریخ کے مقدمے میں۔ 57۔ مولوی علی متقی ہندی کنزالعمال میں۔58۔ شمس الدین ابوالخیر دمشقی اسنی المطالب میں۔ 59۔ سید شریف جرجانی حنفی شرح مواقف میں۔ 60۔ نظام الدین نیشاپوری تفسیر غرائب القرآن میں۔
طبری، ابن عقدہ اور ابن حداد
غرض کہ جس میرے حافظے میں محفوظ تھا عرض کردیا ورنہ آپ کے تین سو سے زائد اکابر علماء نے مختلف طریقوں سے حدیث غدیر، آیات تبلیغ و اکمال دین اور صحن مسجد کی گفتگو کو سو نفر سے زیادہ اصحاب رسول(ص) کے اسناد سے نقل کیا ہے۔ اگر میں تمام روات اور ان کے اسماء کی فہرست پیش کرنا چاہوں تو ایک مستقل کتاب تیار ہوجائے گی۔ لہذا میرا خیال ہے کہ تواتر کو ثابت کرنے کے لیے نمونےکے طور پر اسی قدر نام کافی ہوں گے۔
آپ کے بعض اکابر علماء نے اس موضوع پر پوری پوری کتابیں لکھی ہیں، جیسے چوتھی صدی کے مشہور مفسر و مورخ جعفر محمد بن جریر طبری متوفی سنہ310ہجری نے کتاب الولایتہ میں جو مستقل طور پر حدیث غدیر کے بارے میں لکھی ہے۔ پچھتر طریقوں سے اس کی روایت کی ہے۔
حافظ ابوالعباس احمد بن سعید بن عبدالرحمن الکوفی معروف بابن عقدہ متوفی سنہ333ھ نے کتاب الولایتہ میں اس حدیث
شریف کو ایک سو پچیس طریقوں سے ایک سو پچیس صحابہ رسول(ص) کے اسناد سے پوری تحقیقات کے ساتھ نقل کیا ہے۔
اور ابن حداد حافظ ابوالقاسم حسکانی متوفی سنہ492 ہجری نے کتاب الولایتہ میں واقعہ غدیر کو نزول آیات کے ساتھ تفصیل سے نقل کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ( سوا تھوڑے سے متعصب مخالفین کے)آپ کے سبھی محققین علماء فضلاء نے سلسلہ روایت کے ساتھ حضرت رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے کہ اس روز ( 18 ذی الحجہ کو) حجتہ الووداع کے سال آنحضرت نے علی علیہ السلام کو منصب ولایت پر نصب فرمایا۔
یہاں تک کہ خلیفہ عمر ابن الخطاب نے تمام اصحاب سے پہلے مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت کا ہاتھ پکڑ کر کہا :
"بخ بخ ياعليأصبحتمولايوم ولى كل مؤمن ومؤمنة."
مبارک ہو۔ مبارک ہو( بخ بخ اسم فعل ہے جو کسی موقع پر مدح اور اظہار مسرت کے لیے کہا جاتا ہے اور اس کی تکرار مبالغے کے لیے ہے) اے علی تم نے ایسی حالت میں صبح کی کہ میرے آقا و مولا اور ہر مومن ومومنہ کے آقا ومولا ہوگئے۔
امور مسلمہ میں سے ہے کہ یہ حدیث شریف فریقین کے نزدیک متواترات میں سے ہے۔
عمر کو جبرئیل کی نصیحت
فقیہ شافعی میر سید علی ہمدانی میں آپ کے موثق فضلا و فقہاء اور علماء میں سے تھے۔ کتاب مودۃ القربی کی مودت پنجم میں لکھتے ہیں کہ صحابہ کی بہت بڑی جماعت نے مختلف مقامات پر خلیفہ عمر ابن خطاب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا "نصب رسول اللهعليا علما " یعنی رسول خدا(ص) نے علی(ع) کو بزرگ و سردار اور رہنمائے قوم مقرر فرمایا مجمع عام میں ان کی مولائیت کا اعلان فرمایا اور ان کے دوستوں اور دشمنوں کے حق میں دعا و بد دعا کرنے کے بعد عرض کیا"اللهم انت شهيدی عليهم " خداوند تو ان لوگوں پر میرا گواہ ہے( یعنی میں نے تبلیغ رسالت کردی) اس موقع پر ایک جوان رعنا حسن صورت اور لوئے خوش کے ساتھ میرے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔اس نے مجھ سے کہا :"لقد عقد رسول الله عقد الايحله الا المنافق فاحذر ان تحله " ( یعنی بتحقیق رسول اللہ(ص) نے ایسا عہد باندھا ہے کہ سوا منافق کے اور کوئی نہیں توڑے گا۔ پس اے عمر تم بچو اس سے کہ اس کے توڑنے یا کھولنے والے بنو۔ ( مطلب یہ کہ اگر ایسا ہوا تو تمہارا شمار منافقین میں ہوگا۔)
میں نے رسول اللہ(ص) سے عرض کیا کہ جس وقت آپ علی(ع) کے بارے میں تقریر فرمارہے تھے اس وقت میرے پہلو میں ایک خوش رو اور خوشبو جوان بیٹھا ہوا تھا جس نے مجھ سے ایسی بات کہی آں حضرت(ص) نے فرمایا :
"انه ليس من له آدم لکنه جبرئيل اراد ان يوکد عليکم ما قلته فی علی (عليه السلام )
یعنی وہ اولاد آدم میں سے نہیں تھا۔ بلکہ
جبرئیل امین تھے ( جو اس صورت میں ظاہر ہوئے) اور انہوں نے اس کی تاکید کرنا اہی جو میں نے علی کے بارے میں کہا تھا۔
اب میں آپ حضرات سے انصاف چاہتا ہوں کہ آیا یہ مناسب تھا کہ دو ہی مہینے کی مدت میں ایسے مضبوط عہد و پیمان کو توڑ دیا جائے جو رسول اللہ(ص) نے بحکم خدا ان لوگوں کے ساتھ باندھا تھا، بیعت سے انحراف کریں ہوا و ہوس میں پھنس کے حق کو پس پشت ڈال دیں اور وہ کچھ کریں جو نہ کرنا چاہیئے تھا ان کے دروازے پر آگ لے جائیں ان کے اوپر تلوار اٹھائیں۔ اہانتیں کریں اور بجبر و اکراہ ایک ہنگامہ اور فساد برپا کر کے توہین و تذلیل کے ساتح ڈرا دھمکا کر بیعت کے لیے مسجد میں لے جائیں؟
حافظ : مجھ کو آپ کے ایسے جلیل القدر مہذب سید سے یہ توقع نہیں تھی کہ اصحاب رسول(ص) کی طرف ہوا پرستی کی نسبت دیں گے حالانکہ آنحضرت(ص) نے اصحاب کو قوم کی ہدایت کا ذریعہ قرار دیا تھا جیسا کہ ارشاد ہے : "اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم" ( یعنی میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں، ان میں سے جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پائو گے۔
اقتدائے اصحاب کی حدیث غیر معتبر ہے
خیر طلب : پہلی درخواست تو میری یہ ہے کہ بار بار ایک ہی بات نہ دہرائیے ۔ ابھی بھی آپ اس حدیث سے استدلال کرچکے ہیں اور میں جواب عرض کرچکا ہوں کہ اصحاب بھی دوسرے لوگوں کی طرح جائز الخطا تھے، پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ معصوم نہیں تھے تو اگر دلیل کے ساتھ ان میں سے کسی کی طرف ہوا پرستی کی نسبت دی جائے تو کونسی حیرت کی بات ہے؟ دوسرے آپ کے خیالات کو صاف کرنے اور یاد دہانی کے لیے چاہتا ہوں کہ پھر جواب عرض کردوں تاکہ اس کے بعد آپ ایسی کمزور حدیثوں کا سہارا نہ لیں۔ چونکہ آپ نے تجدید کلام فرمائی ہے لہذا میں بھی تکرار جواب کررہا ہوں۔ خود آپ کے اکابر علماء کی بحث و تحقیق کی بنا پر یہ حدیث قابل اعتبار نہیں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں۔ قاضی عیاض مالکی نے آپ کے اجلہ علماء سے نقل کیا ہے کہ اس کے سلسلے روایات میں چونکہ مجہول الحال راوی حارث بن قضین اور حمزہ نصیبی کا نام بھی شامل ہے جس پر کذب و دروغ گوئی کا الزام ہے لہذا یہ قابل نقل نہیں ہے۔ نیز قاضی عیاض نے شرح شفاء میں اور تعدیل احادیث کے نقاد بیہقی نے اپنی کتاب میں خود حدیث کو موضوع بنایا ہے اور اس کی سند کو ضعیف و مردود شمار کیا ہے۔
بعض صحابہ ہوائے نفس کے تابع اور حق سے منحرف ہوگئے
تیسرے میں تہذیب و ادب سے ہٹ کے ہرگز کوئی بات نہیں کہتا میں تو وہی کہتا ہوں جو خود آپ کے علماء لکھ چکے ہیں بہتر ہوگا آپ حضرات فاضل تفتازانی کی شرح مقاصد ملاحظہ فرمائیے جس میں وہ جیسا میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں
صاف صاف لکھتے ہیں کہ صحابہ کے درمیان چونکہ کثرت سے اختلافات ، عداوتیں اور لڑائیاں رونما ہوئیں۔لہذا پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ راہ حق سے منحرف ہو کر ہوائے نفس کے تابع ہوگئے تھے بلکہ ظالم اور فاسق تھے۔
پس ہر فرد یا جماعتقابل احترام نہیں سمجھی جاسکتی۔ جس نے رسول اکرم (ص) کی مصاحبت پالی بلکہ احترام انکے اعمال و کردار کا ہے اگر وہ اہل نفاق نہیں تھے بلکہ رسول اللہ(ص) کے مطیع و فرمانبردار تھے اور آں حضرت(ص) کے احکام و ہدایات کے برخلاف عمل نہیں کرتے تھے تو یقینا بزرگ و محترم ہوں گے اور ان کی خاک قدم ہمارے لیے سرمہ چشم ہوگی۔
صاحبان انصاف یا تو آپ کو یہ کہنا چاہئیے کہ آپ کی معتبر کتابوں میں کثرت کے ساتھ جو اخبار و واحادیث امیرالمومنین علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کے بارے میں وارد ہوئے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا علی(ع) جنگ کرنا مجھ سے جنگ کرنا ہے یہ سب بے بنیاد ہیں۔ یا اگر تصدیق کیجئے گا کہ اس طرح کی حدیثیں اور روایتیں انتہائی معتبر ہیں اس لیے سلسلہ اسناد صحیحہ کے ساتھ آپ اکابر علماء کی کتابوں میں منقول ہیں( علاوہ اس تواتر کے جو علماء شیعہ کی معتبر کتابوں میں موجود ہے) تو آپ کو یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ متعدد اصحاب فاسد، کھوٹے اور باطل پرست تھے۔ مثلا معاویہ، عمرو عاص، ابوہریرہ ،ثمرہ بن جندب، طلحہ اور زبیروغیرہ جو علی(ع) سے جنگ کرنے اٹھے ، کیونکہ علی(ع) سے جنگ کرنا رسول خدا(ص) سے جنگ کرنا تھا۔
اور چونکہ انہوں نے رسول اللہ(ص) سے جنگ کی لہذا قطعا حق سے برگشتہ تھے۔ پس اگر ہم نے کہہ دیا کہ بعض صحابہ ہوا و ہوس کے تابع ہوگئے تو غلط نہیں کہا بلکہ دلیل و برہان کے ساتھ کہا ہے۔ علاوہ اس کے ہم اس دعوے میں تنہا نہیں ہیں کہ بعض صحابہ فاسق و ظالم تھے اور حق سے منحرف ہوکر منافقین میں شامل تھے، بلکہ آپکے اکابر علماء سے اس کی سند لیتے ہیں۔
صحابہ کی عہد شکنی پر امام غزالی کا قول
آپ اگر کتاب سر العالمین مولفہ حجتہ الاسلام ابو حامد محمد بن حمد غزالی ؟؟؟؟ کا مطالعہ کریں تو ہرگز ہم پ؛ر ایراد نہ کریں۔ مجبورا میں اس کے چوتھے مقالے کا ایک حصہ اثبات حق کے لیے پیش کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:
"أسفرت الحجّةوجهه اوأجمعالجماهيرعلى متن الحديث من خطبته- صلى اللّه عليه وآله وسلم- في يوم غديرخمّ باتّفاق الجميع وهويقول: «من كنت مولاه فعليّ مولاه»فقالعمر: «بخ بخ لك ياأباالحسن لقدأصبحتم ولايوم ولى كلّ مؤمن ومؤمنة»فهذاتسليم ورضىوتحكيم؛ثمّ بعدهذاغلب الهوى بحبّ الرّئاسةوحمل عمودالخلافةوعقودالبنودوخفقانالهواءفيقع قعةالرايات واشتباك ازدحامالخيول وفتح الأمصارسقاهم كأسالهوى،فعادواإلى الخلاف الأوّل،فنبذواالحقّ وراءظهورهم واشتروابه ثمناقليلافبئس مايشترون و لما مات رسول الله قال قبل وفاته ايتونی بدوات و بياض
روبيضا نسخة) لا زيل عنکم اشکال الامر و اذکر لکم من الستحق لو ابعدی قال عمرو عوا الرجل فانه لبهجر. و قيل بهذا فاذا بطل تعلقکم بتاويل النصوص فعدتم الی الاجماع و هذا منقوص ايفا فان العباس و اولاده و عليا و زوجته و اولاده لم يحضروا حلقة البية و خالقکم اصحاب السفية فی مبايعة الخزرجی ثم خالفهم الانصار"
یعنی جہت و برہان کا چہرہ روشن ہوگیا اور خطبہ روز غدیر کے متن حدیث پر متفقہ حیثیت سے جمہور مسلمین کا اجماع ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا جس کا مولا و آقا میں ہوں علی(ع) بھی اس کے مولا و آقا ہیں، پس فورا عمر نے کہا مبارک ہو مبارک ہو تم کو اے ابو الحسن( علی) کو تم میرے مولا و آقا اور سردار اور ہر مومن و مومنہ کے مولا و آقا ہوگئے اس قسم کی مبارک باد کا کھلا ہوا مطلب فرمان رسول(ص) کا مان لینا اور حکومت و خلافت علی(ع) کو بہ رضا و رغبت قبول کرنا ہے) لیکن اس کے بعد ان پر نفس امارہ غالب آگیا، مسند ریاست خلافت کی عمارت بلند کرنے، حکومت کا سہارا باندھنے، پھڑپھڑاتے پھریروں میں، ہوا کی سنناہٹ، کی طرف پلٹ گئے، خدا و رسول(ص) کے کم کو پس پشت ڈال دیا اور دین کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالا اور ان لوگوں نے خدا کے ساتھ کیا برا معاملہ کیا جب رسول(ص) کی موت کا وقت قریب آیا تو آں حضرت(ص) نے اپنی وفات سے قبل فرمایا کہ کاغذ و قلم دوات لائو تاکہ میں تمہاری مشکل رفع کردوں اور اپنے امر خلافت کا مستحق بتا جائوں ؟ لیکن عمر نے کہا کہ اس شخص کو چھوڑو یہ ( معاذ اللہ) ہذیان بک رہا ہے۔ پس جب قرآن و حدیث کی تاویل سے تمہارا کام نہیں چلا تو تم نے اجماع کا سہارا لیا حالانکہ اسی طرح سقیفہ والوں نے بھی خزرجی کی بیعت سے اختلاف کیا پھر انصار نے بھی مخالفت کی۔
پس حضرات یاد رکھئے کہ جو کچھ آپ کے بڑے بڑے انصاف پسند علماء کہتے ہیں وہی بات شیعہ بھی کہتے ہیں لیکن چونکہ آپ ہم لوگوں سے بدگمانی رکھتے ہیں لہذا ہماری باقاعدہ باتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اپنے علماء پر کوئی گرفت نہیں کرتے کہ انہوں نےلکھا کیوں، بلکہ تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے از روئے علم و انصاف حق کو ظاہر کیا اور واقعات کی حقیقت کو صفحات تاریخ کے حوالے کرگئے۔
شیخ : کتاب سرالعالمین امام غزالی کی تصنیف نہیں ہے اور ان کی منزل اس سے بلند ہے کہ ایسی کتاب لکھیں۔ چنانچہ خاص خاص علماء بھی اس کے قائل ہیں کہ یہ کتاب ان بزرگوار عالی مقام کی نہیں ہے۔
سرّ العالمین امام غزالی کی کتاب ہے
خیر طلب : آپ کے متعدد علماء نے تصدیق کی ہے کہ یہ کتاب امام غزالی کی لکھی ہوئی ہے۔ اس وقت جو کچھ میرے پیش نظر ہے عرض کرتا ہوں کہ یوسف سبط ابن جوزی نے جو بہت نکتہ رس تھے اور نقل مطالب میں بہت احتیاط سےقلم اٹھاتے تھے اس کے علاوہ نیت میں بھی متعصب تھے تذکرۃ خواص الامہ میں اسی موضوع پر بحوالہ سر العالمین امام غزالی کے قول سے استدلال کیا ہے اور یہی عبارتیں نقل کی ہیں جو میں نے پیش کیں اور چونکہ ان باتوں پر کوئی تنقید نہیں کی ہے لہذا ثابت ہوتا ہے کہ اول تو وہ اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ کتاب امام غزالی ہی کی ہے، دوسرے موصوف کے ان اقوال سےبھی موافقت کرتے ہیں جو میں نے وقت کے لحاظ سے مختصر طور پر عرض کئے ہیں لیکن انہوں نے تفصیل اور زیادتی کے ساتھ نقل کئے ہیں ورنہ ان پر نقد و تبصرہ ضرور کرتے البتہ آپ کے متعصب علماء جب اس قسم کے حقائق اور کابر علماء کے بیانات سے دوچار ہوتے ہیں اور کوئی منطقی جواب دینے سے عاجز ہوتے ہیں تو یا یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کتاب اس عالم کی تالیف ہی نہیں ہے یا ان کی طرف تشیع کی نسبت دینے لگتے ہیں۔ بلکہ اگر ممکن ہو تو ان صاحبان انصاف کو فاسق اور کافر کہہ کر بالکل جڑ ہی کاٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے انصاف کی بات کیوں کہی اور حق و حقیقت کا انکشاف کیوں کیا؟ اس لیے کہ
مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتدرازورنہ مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست
ابن عقدہ کی حالت
چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ آپ کے بہت سے اکابر علماء حق گوئی اور حق نگاری کی وجہ سے اپنی زندگی ہی میں حیران و پریشان اور حقیر بے بس ہوگئے اور ان کی کتابوں کا پڑھنا متعصب علماء اور بے خبر عوام نے حرام سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ اس خطا میں ان کو قتل کر دیا گیا۔
مثلا حافظ ابن عقدہ ابوالعباس احمد بن محمد بن سعید ہمدانی متوفی سنہ333ہجری جو آپ کے جلیل القدر علماء میں سے ہیں۔ اور آپ کے علماء رجال جیسے ذہبی اور یافعی وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے اور ان کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کو مع اسناد تین لاکھ حدیثیں یاد تھیں اور بہت ثقہ اور سچے تھے۔ لیکن چونکہ تیسری صدی ہجری میں کوفہ اور بغداد کے اندر عام مجمعوں میں شیخیں ( ابوبکر و عمر) کے عیوب اور برائیاں بیان کر دیتے تھے لہذا لوگ ان کو رافضی کہتے تھے اور ان کی روایتیں نقل کرنے
سے پرہیز کرتے تھے۔ چنانچہ ابن کثیر ، ذہبی اور یافعی نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔
"ان هذا الشيخ کان يجلس فی جامع براثا و يحدث الناس بمثالب الشيخين و لذا ترکت روايته فلا کلام لاحد فی صدقه و ثقته"
یعنی شیخ ابن عقدہ جامع براثا میں(مسجد براثا بغداد اور کاظمین کے درمیان مشہور جگہ ہے) بیٹھ کر لوگوں کے سامنے شیخین ( ابوبکر و عمر) کے معائب نقل کرتے تھے اسی وجہ سے ان کی روایتیں ترک کردی گئیں ورنہ ان کےسچے اور معتبر ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے)
اور خطیب بغداد نے بھی اپنی تاریخ میں ان کی تعریف کی ہے لیکن آخر میں کہتے ہیں کہ "انه کان خرج مثالب الشيخين "( یعنی یہ شیخین کے معائب و مثالب بیان کرتے تھے لہذا رافضی تھے) پس آپ حضرات اس خیال میں نہ رہیں کہ صرف شیعہ ہی ان حقائق کو بیان کرتے ہیں بلکہ خود آپ کے اکابر علماء جیسے امام غزالی اور ابن عقدہ وغیرہ بھی کبار صحابہ کے عیوب و نقائص نقل کرتے تھے۔
طبری کی موت
تاریخ کے ہر دور میں کثرت سے اس قسم کے علماء و دانشمندان گزرے ہیں جو حق کہنے اور حق لکھنے کے جرم میں متروک و مردود قرار دئے گئے یا قتل ہوئے جیسے تیسری صدی ہجری کے مشہور معروف مفسر و مورخ محمد بن جریر طبری جو آپ کے اکابر علماء کے اندر مایہ ناز تھے جب سنہ310 ہجری میں چھیاسی سال کی عمر میں بغداد کے اندر فوت ہوئے تو لوگوں نے دن کو ان کا جنازہ ہی نہیں اٹھنے دیا اور فساد پر آمادہ ہوئے لہذا مجبورا ان کی میت رات کے وقت انہیں کے گھر میں دفن کی گئی۔
امام نسائی کا قتل
تمام واقعات سے عجیب تر امام ابو عبدالرحمن احمد بن علی نسائی کے قتل کا واقعہ ہے جو بہت جلیل القدر اور ائمہ صحابہ ستہ میں سے تھے اور جو تیسری صدی ہجری کے اواخر میں آپ کے سرمایہ افتخار اکابر علماء میں سے تھے۔ اس واقعہ کی مختصر کیفیت کے بعد حتی کہ ہر نماز جمعہ کے خطبے میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر علانیہ سب و شتم اور لعنت کرتے ہیں، ان کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے طے کر لیا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل میں رسول خدا(ص) کی جو معتبر حدیثیں اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ ان کو یاد ہیں ان کو جمع کریں گے۔
چنانچہ حضرت کے مراتب عالیہ اور فضائل کاملہ کے اثبات میں کتاب خصائص العلوی لکھی اور برسر منبر اس کتاب کو
اور اس کی حدیثوں کو پڑھ کے آپ کے فضائل و مناقب نشر کرتے تھے۔
ایک روز منبر پر یہ فضیلتیں بیان کر رہے تھے کہ جاہل اور متعصب لوگوں نے ہجوم کر کے ان کو منبر سے نیچے کھینچ لیا، سخت زد و کوب کی، ان کے انیثیں کو کوٹا اور آلہ تناسل کو پکڑ کے کھینچتے ہوئے مسجد کے باہر لے جاکر ڈال دیا۔ چنانچہ انہیں سخت ضربات اور لاتوں گھونسوں کی چوٹ سے چند روز کے بعد وفات پائی اور حسب وصیتان کی میت مکہ معظمہ لے جا کر دفن کر دی گئی۔
اسی طرح کے حرکات اس قوم کے بغض و عناد ،جہل مرکب اور احمقانہ تعصبات کے نتائج ہیں جو اپنے بزرگان ملت کو اس جرم ذلیل و رسوا اور تفس کرتے ہیں کہ انہوں نے سچی بات کیوں کہی اور حقائق کو بے نقاب کیوں کیا؟ حالانکہ اتنا نہیں سمجھتے کہ حق کو جس قدر چھپایا جائے گا اسی قدر آفتاب کی طرح چمکے گا اور باطل کے پردے چاک ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ میں معذرت چاہتا ہوں کہ مطلب سے دور ہوگیا ورنہ مقصد یہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے مقام ولایت کو صرف علمائے شیعہ ہی نے تحریر نہیں کیا ہے بلکہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے ستر ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار کے سامنے علی(ع) کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے امت کی امامت کے لیے نامزد فرمایا۔
لفظ مولیٰ میں اشکال
حافظ : اس قضیئے کے محل وقوع اور اصل حدیث میں کوئی حدیث میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ہے لیکن اس اہمیت اور آب و تاب کے ساتھ نہیں جس طرح آپ نے بیان فرمایا۔
اس کے علاوہ متن حدیث بعض ایسے اشکال موجود ہیں جو آپ کے نقطہ نظر اور مقصد سے مطابقت نہیں کرتے۔ من جملہ ان کے لفظ مولا کے اندر بھی یہی بات ہے جس کے لیے اپنی تقریر کےسلسلے میں آپ نے ثابت کرنا چاہا ہے کہ مولی اولی بتصرف کے معنی میں ہے حالانکہ یہ طے ہوچکا ہے کہ اس حدیث میں مولی کے معنی محب و ناصر اور دوست کے ہیں، کیونکہ پیغمبر جانتے تھے کہ علی کرم اللہ وجہہ کے دشمن بہت میں لہذا آپ نے چاہا کہ وصیت کر کے امت کو بتادیں کہ جس کا محب و دوست اور ناصر میں ہوں، علی(ع) بھی اس کے محب و دوست اور ناصر ہیں اور اگر لوگوں سے کوئی بیعت لی ہے تو محض اس لیے کہ آں حضرت(ص) کے بعد علی کرم اللہ وجہہ کو اذیت نہ پہنچائیں۔
خیر طلب : میرا خیال ہے کہ کبھی کبھی آپ زبردستی اور خواہ مخواہ اپنے اسلاف و عادات کی پیروی کرنے لگتے ہیں، ورنہ اگر تھوڑا سا غور کریں، اپنے علم و اںصاف سے کام لیں اور قرائن پر توجہ کریں تو حق و حقیقت پوری طرح ظاہر و آشکار ہوجائے۔
حافظ : کون سے قرائن کے ساتھ آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ مہربانی کر کے بیان فرمائیے۔
اولی بہ تصرف کے معنی اور آیہ بلغ
خیر طلب : سب سے پہلا قرینہ قرآن مجید اور آیہ نمبر17 سورہ نمبر5( مائدہ) ہے:
"ياأَيُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ ماأُنْزِلَإِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمابَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ"
یعنی اے رسول(ص) جو کچھ تم پر خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو امت تک پہنچا دو! کیونکہ ایسا نہ کروگے تو گویا تم نے تبلیغ رسالت کا فرض ہی انجام نہیں دیا۔ اور اللہ تم کو لوگوں کے شر سے محفوط رکھے گا۔
حافظ : یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اس روز اور اس مقصد کے لیے نازل ہوئی؟
خیر طلب : آپ کے فحول علماء جیسے جلال الدین سیوطی نے در منثور جلد دوم ص298 میں، حافظ ابن ابی حاتم رازی نے تفسیر غدیر میں، حافظ ابو جعفر طبری نے کتاب الولایہ میں، حافظ ابو عبداللہ محاملی نے امالی میں، حافظ ابوبکر شیرازی نے مانزل من القرآن فی امیرالمومنین میں، حافظ ابوسعید سجستانی نے کتاب الولایہ میں، حافظ ابن مردویہ نے آیت کی تفسیر میں، حافظ ابوقاسم حسکانی نے شواہد التنزیل میں، ابو الفتح نطتری نے خصائص العلوی میں، معین الدین میبدینے شرح دیوان میں، قاضی شوکانی نے فتح القدیر جلد سوم ص57 میں، سید جمال الدین شیرازی نے اربعین میں، بدالدین حنفی نے عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری جلد ہشتم ص584 میں، امام اصحاب حدیث احمد ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں، امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر جلد سیم ص636 میں،حافظ ابو نعیم اصفہانی نے ما نزل من القرآن فی علی میں، ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد السمطین میں، نظام الدین نیشاوپوری نے اپنی تفسیر جلد ششم ص170 میں، سید شہاب الدین آلوسی بغدادی نے روح المعانی جلد دوم ص348 میں، نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص37 میں، علی بن احمد واحدی نے اسباب النزول ص150 میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص16 میں، میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت پنجم میں اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب39 میں، خلاصہ یہ کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے خود آپ کے تقریبا تیس علماء اعلام نے اپنی معتبر ترین کتب و تفاسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیہ شریفہ روز غدیر خم امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی یہاں تک کہ قاضی روز بہان بھی باوجود اپنے انتہائی عناد و ضد اور تعصب کے لکھتے ہیں کہ "فقد ثبت هذا فی الصحاح " یعنی بتحققی کی یہ قضیہ ہماری صحاح معتبر میں ثابت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے علی(ع) کا بازو تھام کر فرمایا:"منكنتمولاهفعليّمولاه " اور تعجب یہ ہے کہ انہیں متعصب قاضی صاحب نے کشف الغمہ میں رزین بن عبداللہ سے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا ہم لوگ رسول خدا(ص) کے زمانہ میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے:
"ياأَيُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ ماأُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ انَّ عَلياََ مُولَی المُومِنِينَ فانَ لَمْ تَفْعَلْ فَمابَلَّغْتَ رِسالَتَهُ "
یعنی اے پیغمبر(ص) جو کچھ خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے یعنی یہ کہ علی علیہ السلام مومنین کے امور میں اولی بتصرف ہیں اس کو
لوگوں تک پہنچا دو۔ پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تبلیغ رسالت کا فریضہ ہی پورا نہیں کیا۔
نیز سیوطی نے درالمنثور میں ابن مردویہ سے، ابن عساکر اور ابن ابی حاتم نے ابوسعید خدری اور عبداللہ ابن مسعود (کاتب وحی) سے اور قاضی شوکانی نے تفسیر فتح القدیر میں نقل کیا ہے کہ زمانہ رسول(ص) میںہم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
غرضیکہ آیہ مبارکہ میں اس تاکید بلکہ تہدید سے کہ اگر اس امر کی تبلیغ نہ کرو گے تو گویا رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہیں دیا صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ آں حضرت جس اہم اور عظیم امر کی تبلیغ پر مامور ہوئے تھے وہ مقام رسالت ہی کے قدم بہ قدم تھا اور قطعا وہ امامت و وصایت اور اولی بتصرف ہونے کا معاملہ تھا جو رسول خدا(ص) کے بعد دین و احکام الہی کا محافظ اور نگہبان ہے۔
غدیر خم میں
آیہ اکملت لکم دینکم
دوسرا قرینہ آیت نمبر5 سورہ نمبر5(مائدہ) کا نزول ہے جس میںتکمیل دین کے لیے ارشاد ہے :
"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً"
یعنی آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا، تم اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو ایک پاکیزہ دین قرار دیا۔
حافظ: مسلم تو یہ ہے کہ آیت روز عرفہ نازل ہوئی ہے اور کسی عالم نے اس کا نزول روز غدیر میں نہیں بتایا ہے۔
خیر طلب : میری درخواست ہے کہتقریر کے وقت انکار میں جلدی نہ فرمایا کیجئے کیونکہ شاید اثبات کا کوئی راستہ موجود ہی ہو۔ بلکہ مطالب کے بیان میں احتیاط کو مد نظر رکھا کیجئے تاکہ جواب ملنے پر ندامت کی زحمت نہ ہو۔
میں مانتا ہوں کہ آپ بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ آیت عرفہ میں نازل ہوئی لیکن آپ ہی کے اکابر علماء کی ایک بڑی جماعت نے روز غدیر میں اس کا نازل ہونا نقل کیا ہے۔ نیز کے چند علماء کا قول ہے کہ غالبا یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی، ایک مرتبہ غروب عرفہ کے وقت اور ایک مرتبہ غدیر میں۔ چنانچہ سبط ابن جوزی، تذکرہ خواص الامہ آخر ص18 میں کہتے ہیں کہ:
"احتمل ان الآية نزلت مرتين مرة بعرفة و مرة يوم الغدير کما نزلت بسم الله الرحمن الرحيم مرتين مرة بمکة و مرة بالمدينة"
یعنی احتمال ہے کہ یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ عرفہ میں، اور ایک مرتبہ روز غدیر، جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور ایک مرتبہ مدینہ میں۔
ورنہ آپ کے موثق اکابر علماء جیسے جلال الدین سیوطی نے در المنثور جلد دوم ص256 اور اتقان جلد اول ص31 میں، العلوی میںامام المفسرین ثعلبی نے کشف البیان میں ، حافظ ابو نعیم اصفہانی نے ما نزل من القرآن فی علی میں ، ابوالفتح نطززی نے خصائص العلوی میں ابن کثیر شامی نے اپنی تفسیر جلد دوم ص14 میں، حافظ ابن مردویہ کے طریق سے، تیسری صدی ہجری کے مفسر اور مورخ عالم
محمد بن جریر طبری نے تفسیر کتاب الولایہ میں، حافظ ابوالقاسم حسکانی نے شواہد التنزیل میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامۃ ص18 میں، ابو اسحاق حموینی نے فرائد السمطین باب دوازدہم میں، ابوسعید سجستانی نے کتاب الولایہ میں، خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد جلد ہشتم ص290 میں، ابن مغازلی فقییہ شافعی نے مناقب میں، ابوالموئد موفق بن احمد خورزمی نے مناقب فصل چہاردہم اور مقتل الحسین فصل چہارم میں نیز آپ کے دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ غدیر خم کے روز جب رسول اللہ(ص) بحکم الہی علی علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے نمایاں کر کے منصب ولایت پر معین فرمایا۔
علی(ع) کے بارے میں جس امر پر مامور تھے اس کی تبلیغ فرمائی اور آپ کو اپنے ہاتھوں پر اس قدر بلند فرمایا کہ دونوں بغلوں کی سفیدی نمودار ہوگئی تو اس وقت امت سے ارشاد فرمایا کہسلموا علی علیّ بامرة المومنین " یعنی امارت مومنین کے ساتھ علی(ع) پر سلام کرو اور ساری امت نے اس کی تعمیل کی۔ ابھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوئے تھے کہ مذکورہ آیہ شریفہ نازل ہوئی۔
خاتم الانبیاء اس آیت کے نازل ہونے سے بہت خوش ہوئے لہذا حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر :
" الله اکبر علی اکمال الدين و اتمام النعمة و رضا الرب برسالتی والولايه لعلی ابن ابی طالب بعدی "
یعنی اللہ بزرگ ہے جس نے دین کا کامل اور نعمت کو تمام کیا اور میری رسالت اورمیرے بعد علی(ع) کی ولایت پر راضی ہوا۔
امام حسکانی اور امام احمد ابن حنبل نے تو اس قضیے کو پوری تفصیل سے نقل کیا ہے اگر آپ حضرات تھوڑی دیر کے لیے اپنی عادت سے الگ ہو کر چشم انصاف اور حقیقت بین نگاہوں سے دیکھیں تو آیات کریمہ کے نزول اور حدیث شریف سے آپ پر بخوبی واضح ہوجائے گا کہ لفظ مولی، امامت و ولایت اور اولی بہ تصرف کے معنی میں ہے۔
اگر مولی اور ولی اولی بہ تصرف کے معنی میں نہ ہوتا تو بعدی کا فقرہ بے معنی ہو جاتا۔ یہ جملہ جو بار بار رسول خدا(ص) کی زبان مبارک پر جاری ہوا ہے ثابت کرتا ہے کہ مولی اور ولی اولی بہ تصرف کے معنی میں ہے کیونکہ فرماتے ہیں میرے بعد یہ منصب علی علیہ السلام کے لیے مخصوص ہے۔
تیسرے ذرا گہری نظر سے جائزہ لیجئے اور اںصاف کیجئے کہ اس گرم ہوا اور بے گیاہ میدان میں جہاں پہلے سے مسافروں کی کوئی منزل نہیں تھی پیغمبر تمام امت کو جمع کریں۔ آگے جانے والوں کو پلٹانے کا حکم دیں، اس دیکتی ہوئی دھوپ میں جب لوگ اپنے پائوں کو دامنوں سے لپیٹے ہوئے اونٹوں کے سائے میں بیٹھے تھے منبر پر تشریف لے جائیں اور فضائل و مقامات امیرالمومنین کے اثبات میں وہ طولانی خطبہ ارشاد فرمائیں جس کو خوارزمی و ابن مردویہ نے مناقب میں طبری نے کتاب الولایتہ میں نیز دوسروں نے نقل کیا ہے، تین روز تک لوگوں کا وقت لے کر اسی گرم وخشک صحرا میں ٹھہرائے رکھیں اور حکم دیں کہ تمام اعلی اونی اشخاص کر فردا فردا علی علیہ السلام کی بیعت کرنا چاہیئے اور نتیجہ صرف اتنا ہی ہو کہ علی (ع) کو دوست رکھو یا یہ کہ علی(ع) تمہارے دوست اور ناصر ہیں؟ ایسی صورت میں کہ افراد امت میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو علی(ع) کے ساتھ آنحضرت(ص) کے انتہائی ربط کو نہ جانتا
ہو اور بار بار آپ کی وصیت اور سفارش کو نہ سن چکا ہو( جیسا کہ ان میں سے بعض کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں) دوبارہ خاص طور پر ایسے سخت گرم مقام پر نزول آیات اور اس قدر شدید تاکید کی کیا ضرورت تھی کہ اگر زحمت اور تعطل میں پڑ جائیں اور نتیجہ فقط یہ ہو کہ علی کودوست رکھو؟ بلکہ اگر آپ اچھی طرح سے غور کریں تو یہ عمل جب کہ اس کا کوئی اہم مقصد اور خاص پہلو نہ ہو۔ صاحبان عقل کی نظر میں لغو ٹھہرے گا۔ اور رسول اکرم(ص) سے کوئی لغو کام ہرگز صادر نہیں ہوتا۔
پس عند العقلاء ثابت ہے کہ یہ سارا ارضی و سماوی اہتمام و انتظام محض محبت و دوستی کے لیے نہ تھا بلکہ منصب رسالت کے قدم بہ قدم کوئی اہم کام تھا اور وہ وہی امر ولایت و امامت تھا اور مسلمانوں کے امور اولی بہ تصرف ہونا تھا۔
مولی کے معنی میں سبط ابن جوزی کا عقیدہ
چنانچہ آپ کے اکابر علماء کے ایک گروہ نے از روئے غور و اںصاف اس بات کی تصدیق کی ہے۔ من جملہ ان کے سبط ابن جوزی تذکرۃ خواص الامہ باب دوم میں کلمہ مولیٰ کے دس مطلب ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ان معانی میں سے کوئی بھی رسول اللہ(ص) کے کلام سے مطابقت نہیں کرتا :
"و المراد من الحديث، الطاعة المحضة المخصوصة، فتعيّن الوجه العاشر و هوالأولى، و معناه: من كنت أولى به من نفسه، فعليّ أولى به."
یعنی حدیث سے خالص اور مخصوص اطاعت مراد ہے پس دسواں مطلب صحیح ٹھہرتا ہے اور وہ اولی بہ تصرف ہونا ہے لہذا معنی یہ ہوئے کہ جس شخص کے لیے میں اس کے نفس سے زیادہ اولی بہ تصرف ہوں علی(ع) بھی اس کے لیے اولی بہ تصرف ہیں۔
اور کتاب مرج البحرین میں حافظ ابوالفرج یحیی بن سعید ثقفی اصفہانی کا قول بھی اس معنی کی صراحت کرتا ہے جنہوں نے اس حدیث کی اپنے اسناد کے ساتھ اپنے مشایخ سے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ پیغمبر(ص) نے علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کے فرمایا "من كنت وليه وأولى به من نفسه فعلي وليه." یعنی جس کا میں ولی اور اس کے نفس سے اولی بہ تصرف ہوں۔ پس علی(ع) بھی اس کے ولی یعنی اولیٰ بہ تصرف ہیں۔
پھر سبط ابن جوزی کہتے ہیں:
"ودل عليه أيضاقولهعليهالسلام«الست أولى بالمؤمنين منأنفسهم»وهذانص صريح في إثباتامامته وقبول طاعته"
یعنی آں حضرت (ص) کا قول الست اولی بالمومنین من انفسہم بھی اس پر دلالت کرتا ہے اور یہ علی علیہ السلام کی امامت اور ان کی اطاعت قبول کرنے کے اثبات میں ایک کھلی ہوئی نص ہے۔ انتہی کلامہ۔
مولیٰ کے معنی میں
ابن طلحہ شافعی کا نظریّہ
نیز محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول باب اول اواسط پنجم ص16 میں کہتے ہیں کہ لفظ مولی کے متعدد معنی ہیں مثلا اولیٰ بہ تصرف، ناصر، وارث، صدیق اور سید، اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ حدیث اسرار آیہ مباہلہ میں سے ہے اس لیے کہ خدائے تعالی نے علی علیہ السلام بمنزلہ نفس پیغمبر(ص) فرمایا ہے اور نفس علی(ع) کے درمیان کوئی جدائی نہیں تھی کیونکہ ان دونوں کو رسول اللہ(ص) کی طرف ضمیر مضاف کے ذریعے باہم جمع فرمایا ہے۔
"أثبت رسول اللّه لنفس علي بهذاالحديث ماهوثابت لنفسه على المؤمنين عموما،فإنه أولى بالمؤمنين،وفاءالمؤمنين،وسيدالمؤمنين،وكل معنى أمكن إثباتهم مايدل عليه لفظ المولى لرسول اللّه فقدجعله لعلي (ع)،وهي مرتبةسامية،ومنزلةسامقة،ودرجةعلية،ومكانةرفيعة،خصصه بهادونغيره،فلهذاصارذلكاليوميومعيده وموسمسرورلأوليائه."
یعنی رسول اللہ(ص) اس حدیث کے ذریعے نفس علی(ع) کے لیے بالعموم ہر وہ چیز ثابت فرمادی جو مومنین پر ان کے نفس کے لیے ثابت ہے، پس آں حضرت یقینا مومنین کے امور میں اولی بہ تصرف ، مومنین کے مددگار اور مومنین کے سید و آقا ہیں اور ہر وہ معنی جس پر رسول خدا(ص) کے لیے لفظ مولا دلالت کرتا ہے اور اس کا اثبات ممکن ہے علی(ع) کے لیے بھی قرار دیا، اور یہ ایک مرتبہ عالیہ، منزلت بزرگ ، درجہ بلند اور مقام رفیع ہے۔ جس سے بلاشرکت غیرے صرف آپ کو مخصوص فرمایا چنانچہ اسی وجہ سے روز غدیر آپ کے دوستوں کے لیے عید اور موسم سرور بن گیا۔
حافظ : آپ کے ارشاد کے پیش نظر لفظ مولی چونکہ متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے لہذا اس کو تمام معانی کے درمیان سے بغیر کسی مختص کے صرف اولی بہ تصرف کے معنی سے مخصوص کردینا باطل ہوگا۔
خیر طلب : آپ محققین علم اصول کے اس قول سے تو یقینا بخوبی واقف ہیں کہ حیثیت سے جس لفظ کے متعدد معانی آئے ہیں ان میں سے ایک حقیقی ہے اور باقی مجازی، اور یہبدیہی چیز ہے کہ ہر جگہ حقیقت مجاز پر مقدم ہوتی ہے۔ پس اس اصول کی بنا پر لفظ مولی و ولی ہیں حقیقی معنی مولی بہ تصرف کے ہوتے ہیں۔ جیسے ولی نکاح یعنی امر نکاح کا متولی، عورت کا دل اس کا شوہر اور بچے کا ولی اس کا باپ یعنی اس پر اولی بہ تصرف اور بادشاہ کا ولی عہد یعنی بادشاہ کے بعد اس کے امور سلطنت میں متصرف اسی قبیل سے دوسرے تمام معنی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اعتراض تو خود آپ ہی پر وارد ہوتا ہے کہ لفظ ولی و مولی کو جس کے متعدد معنی ہیں صرف محب و ناصر کے معنی سے مخصوص کرتے ہیں لہذا یہ تخصیص بلا مخصص قطعا باطل ہے۔ اور یہ ایراد زیادہ تر آپ ہی پر وارد ہے نہ کہ ہم پر اس لیے کہ ہم نے اگر تخصیص کی ہے تو بلا مخصص نہیں ہےبلکہ آیات و اخبار اور بزرگان قوم
کے اقوال کے ان کثیر قرائن و دلائل کے روسے ہے جو اس مفہوم پر قائم ہیں۔
من جملہ ان کے وہ دلیلیں بھی ہیں جو آپ کے بڑے بڑے علماء جیسے سبط ابن جوزی اور محمد بن ابی طلحہ شافعی نے بیان کی ہیں۔ اور سب سے بڑی دلیل وہ ظاہیر و باطنی قرینے ہیں جو اس کے معنی کی تخصیص کرتے ہیں۔ اور جن میں سے بعض کی طرف میں اشارہ بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے اور آپ کے طرق سے بکثرت احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ اس آیہ مبارکہ کو اس طرح نقل کیا ہے:
"ياأَيُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ ماأُنْزِلَ إِلَيْكَ فی و لاية علی و امامةاميرالمومنين"
چنانچہ جلال الدین سیوطی نے جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں در المنثور میں ان حدیثوں کو جمع کیا ہے۔
رحبہ میں حدیث غدیر سے علی(ع) کا احتجاج
الرحبہ حدیث اور لفظ مولی امامت اور خلافت اولی پر نص نہ ہوتی تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اس سے بار بار احتجاج نہ فرماتے اور بالخصوص شوری کے جلسوں میں اس سے استدلال نہ کرتے۔ جیسا کہ خطیب خوارزمی نے مناقب میں، ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد باب58 میں، حافظ ابن عقدہ نے کتاب الولایہ میں، ابن حاتم دمشقی نے وراء النظم میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص61 میں تفصیل سے نقل کیا ہے اور خالص طور پر یہ کہ رحبہ میں تیس عدد اصحاب نے اس کی گواہی دی۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل نے مسند جز اول ص119 وجزء چہارم ص370 میں، ابن اثیر جزری نے اسد الغابہ جلد سوم ص307 و جلد پنجم ص205، ص276 میں، ابن قتیبہ نے معارف ص194 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص362 میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیاء جلد پنجم ص26 میں، ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد دوم ص408 میں، محب الدین طبری نے ذخائر العقبی ص67 میں، امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی ص26 میں، علامہ سمہودی نے جواہر العقدین میں، شمس الدین جزری نے اسنی المطالب ص3 میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب4 میں، حافظ ابن عقدہ نے کتاب الولایہ میں اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے رحبہ کوفہ (یعنی مسجد کوفہ کے صحن) میں مسلمانوں سے علی علیہ السلام کا احتجاج نقل کیا ہے کہ حضرت نے لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ جس شخص نے غدیر خم میں اپنے کانوں سے میرے بارے میں رسول اللہ(ص) سے کچھ سنا ہو وہ اٹھ کر گواہی دے! اصحاب میں سے تیس نفر اٹھے جن میں بارہ عدد بدری صحابی تھے اور کہا کہ ہم نے غدیر خم کے روز دیکھا کہ رسول اللہ(ص) نے علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کے لوگوں سے فرمایا:
"اتعلمون اني أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟قالوا: نعم،قال من كنت مولاه فهذامولاه- الخ"
یعنی آیا تم جانتے ہو کہ میں مومنین کے جانوں سے زیادہ ان پر حق رکھتا ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا ہاں ، تو فرمایا جس شخص کا میں مولا ہوں پس یہ علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں۔
اس مجمعمیں سے تین افراد نے شہادت نہیں دی جن میں ایک انس بن مالک بھی تھے جنہوں نے کہا مجھ پر بڑھاپا غالب
آگیا ہے اس وجہ سے بھول گیا ہوں۔ حضرت نے ان لوگوں پر نفرین اور بد دعا فرمائی اور خصوصیت سے انس کے لیے فرمایا کہ اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو خدا تم کو جذام اور برص میں مبتلا کرے جس کو عمامہ چھپا نہ سکے! پس انس ابھی اپنی جگہ سے اٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کے جسم میں کوڑھ اور سفید داغ پیدا ہوگئے( بعض روایتوں میں ہے کہ اندھے اور کوڑھی ہوگئے)
بدیہی چیز ہے کہ اس حدیث کو حجت قرار دینا اور اس سے استشہاد کرنا اس کی مکمل دلیل ہے کہ آپ نے سب سے بڑھے حق یعنی امارت و خلافت مںصوصہ کو ثابت فرمایا۔
( اس موقع پر مئوذن کی آواز بلند ہوئی اور مولوی صاحبان نماز عشاء پڑھنے کے لیے اٹھ گئے ۔ ادائے فریضہ تھوڑی استراحت اور چائے نوشی کے بعد پھر گفتگو شروع ہوئی۔)
چوتھا قرینہ
الست اولی بکم من انفسکم
خیر طلب : چوتھے حدیث کا قرینہ کلام خود اس مقصد کو ثابت کررہا ہے کہ مولی سے مراد اولی بہ تصرف ہے کیونکہ خطبہ غدیر اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ(ص) نے اظہار مطلب سے قبل فرمایا "الست اولی بکم من انفسکم " یعنی آیا میں تمہارے نفوس سے زیادہ تم پر اولی بہ تصرف نہیں ہوں؟( اشارہ سورہ نمبر33 ( احزاب) کے آیہ نمبر6 کی طرف جس میں ارشاد ہے "النبی أنّي أولى بالمؤمنين من أنفسهم" ( یعنی پیغمبر(ص) مومنین کی جانوں سے زیادہ ان کے لیے اولی بہ تصرف اور حقدار ہیں)
اور کتب فریقین میں یہ حدیث صحیح بھی وارد ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا " ما من مومن الا انا اولی به فی الدنيا والآخرة " یعنی کوئی مومن ایسا نہیں ہے جس پر میں دنیا و آخرت میں اولی بہ تصرف ہوں۔
سب نے کہا ہاں، آپ ہمارے نفوس سے زیادہ ہم پر اولی بہ تصرف ہیں، تب آں حضرت(ص) نے فرمایا"من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه" پس سباق کلام بتاتا ہے کہ مولی سے وہی اولیت مراد ہے جو رسول خدا(ص) کو امت پر حاصل تھی۔
حافظ : بہت سی کتابوں میں اس قرینے کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ فرمایا ہو" الست اولی بکم من انفسکم "
خیر طلب : حدیث غدیر کے سلسلہ میں عبارات و الفاظ اور نقل کرنے والوں کے اقوال مختلف ہیں۔ اخبار امامیہ میں تو عمومیت ہے اور جمہور علماء شیعہ نے اپنی معتبر کتابوں میں اسی قرینے کے ساتھ نقل کیا ہے۔ لیکن آپ کی معتبر کتابوں میں بھی کثرت سے موجود ہے۔ چنانچہ اس وقت جہاں تک میرے پیش نظر ہے، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص18 میں، امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، نور الدین بن صباغ مالکی نے امام احمد وزہری اور حافظ ابوبکر بیہقی سے نقل کرتے ہوئے فصول المہمہ میں، ابوالفتوح اسعد بن ابی الفضائل بن خلف العجلی نے اپنی کتاب الموجز فی الفضائل الخلفاء الاربعہ میں، خطیب خوارزمی نے مناقب فصل چہاردہم
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب اول میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب4 میں، مسند احمد حنبل مشکوۃ ال؟؟؟؟ سنن ابن ماجہ، حلیتہ الاولیاء حافظ ابو نعیم اصفہانی، مناقب ابن مغازلی شافعی اور کتاب الموالات ابن عقدہ کے حوالوں سے اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے الفاظ اور انداز بیان کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث غدیر کو نقل کیا ہے اور ہر ایک کے یہاں جملہ "الست اولی بکم من انفسکم " موجود ہے۔ تیمنا و تبرکا میں اس حدیث کا ترجمہ عرض کرتا ہوں جو اصحاب حدیث کے امام احمد بن حنبل نے مسند جلد چہارم ص481 میں، براء بن عازب کی سند سے نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا میں ایک سفر میں رسول خدا(ص) کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم لوگ غدیر میں پہنچے۔ آں حضرت(ص) نے منادی کرائی " الصلوۃ جامعۃ " ( عادت اور رسم یہی تھی کہ جب کوئی اہم مسئلہ در پیش ہوتا تھا تو آں حضرت(ص) حکم دیتے تھے کہ " الصلوۃ جامعۃ " کی ندا دی جائے جب امت جمع ہوجاتی تھی تو ادائے نماز کے بعد اس امر خاص کی تبلیغ فرماتے تھے) اس کے بعد دو درختوں کے درمیان پیغمبر(ص) کی قیام گاہ بنائی گئی اور ادائے نماز کے بعد آں حضرت(ص) نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر مجمع کے سامنے ارشاد فرمایا :
"ألستم تعلمون أنّي أولى بالمؤمنين من أنفسهم قالوا: بلى.قال: ألستم تعلمون أنّي أولى بكلّ مؤمن من نفسه؟!قالوا: بلى.قال: من كنت مولاه فعليّ مولاه، اللّهمّ وال من والاه، و عاد من عاداه. فلقيه عمر بن الخطاب بعد ذلك، فقال له: هنيئا يا بن أبي طالب! أصبحت و أمسيت مولى كلّ مؤمن و مؤمنة"
یعنی آیا تم لوگ نہیں جانتے ہو کہ میں مومنین کے نفسوں سے زیادہ ان پر تصرف کا حق رکھتا ہوں؟ لوگوں نے کہا ہاں ہم واقف ہیں۔ پھر فرمایا آیا تم لوگ نہیں جانتے ہو کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے بڑھ کے اولی بتصرف ہوں؟ پھر دعا فرمائی کہ خداوند دوست رکھ اس کو جو علی(ع) کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی(ع) کو دشمن رکھے۔ اس کے بعد فورا عمر ابن خطاب نے علی علیہ السلام سے ملاقات کی اور کہا مبارک ہو تم کو اے ابوطالب کے فرزند کہ تم ہر مومن ومومنہ کے مولا ہوگئے۔
نیز میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت پنجم میں ، سلیمان بلخی حنفی نے یبابیع میں اور حافظ ابو نعیم نے حلیہ میں مختصر لفظی تفاوت کے ساتھ اسی حدیث کو درج کیا ہے۔
بالخصوص حافظ ابو الفتح نے جن سے ابن صباغ نے بھی فصول المہمہ میں نقل کیا ہے اس عبارت کے ساتھ لکھا ہے، کہ خاتم الانبیاء(ص) نے فرمایا :
"ايهاالناس ان الله تبارک و تعالی مولای و انا اولی بکم من انفسکم الا ومن کنت مولاه فعلی مولاه"
یعنی اے لوگو خدائے تبارک و تعالی میرا مولا ہے اور میں تمہارے نفوس سے زیادہ تم پر اولی بہ تصرف ہوں۔ آگاہ ہو کہ جس کے لیے میں اولی بہ تصرف ہوں پس علی(ع) بھی اس کے لیے اسی طرح اولویت رکھتے ہیں۔
ابن ماجہ قزوینی نے سنن میں اور امام ابو عبدالرحمن نسائی نے احادیث ص81،83، و ص92، 94، میں بھی اسی قرینے کو نقل کیا ہے اور حدیث نمبر84 میں
زید بن ارقم سے اس عبارت کے ساتھ روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے خطبے کے ضمن میں فرمایا :
"ألستم تعلمون أنّي أولى بكلّ مؤمن من نفسه؟!قالوا: بلى. نشهد لانت اولی بکل مومن من نفسه قال: فانی من كنت مولاه فعليّ مولاه و اخذ بيد علی عليه السلام"
یعنی آیاتم نہیں جانتے ہو کہ میں ہر مومن و مومنہ پر اس کے نفس سے زیادہ تصرف کا حق رکھتا ہوں؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہر مومن کے نفس سے زیادہ اس پر اولی بہ تصرف ہیں اس وقت فرمایا کہ جس پر میں اولی بہ تصرف ہوں یہ بھی اس پر اولی بہ تصرف ہیں۔ اور علی(ع) کا ہاتھ پکڑ لیا اس کے علاوہ ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی متوفی سنہ463 ہجری نے تاریخ بغداد جلد ہشتم ص290 میں ابوہریرہ سے ایک مفصل حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اٹھارہویں ذی حجہ ( روز غدیر) کو روزہ رکھے تو اس کو ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب حاصل ہوگا۔ پھر مذکورہ حدیث غدیر کو اسی قرینے کے ساتھ نقل کیا ہے۔
میرے خیال میں نمونے کے لیے اسی قدر روایتوں کا نقل کردینا کافی ہوگا تاکہ آپ دوبارہ یہ نہ فرمائیں کہ اخبار و احادیث میں قرینہ "الست اولی بکم من انفسکم " کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
رسول اللہ(ص) کے سامنے حسان کے اشعار
پانچوان قرینہ حسان بن ثابت اںصاری کے وہ اشعار ہیں جو انہوں نے رسول اللہ(ص) کے سامنے خود آنحضرت(ص) کی اجازت سے اسی جلسے میں پڑھے جس میں علی(ع) کے منصب ولایت کا اعلان فرمایا گیا تھا۔ سبط ابن جوزی وغیرہ لکھتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے جس وقت یہ اشعار سنے تو فرمایا :
"ياحسان لاتزال مؤيدابروح القدس مانصرتناأونافحت عنابلسانك."
یعنی اے حسان جب تک تم ہماری نصرت یا اپنی زبان سے ہماری تعریف و توصیف کرتے رہے ہوگے روح القدس برابر تمہاری تائید کرتا رہے گا۔ یعنی تمہارے یہ اشعاد روح القدس کی تائید میں سے ہیں٫
چنانچہ چوتھی صدی ہجری کے مشہور مفسر و محدث حافظ ابن مردویہ احمد بن موسی متوفی سنہ352 ہجری مناقب میں، صدر الائمہ موفق بن احمد خوارزمی مناقب اور مقتل الحسین فصل چہارم میں، جلال الددن سیوطی رسالہ الازہار فیما عقدہ الشعراء میں، حافظ ابوسعید خرگوشی شرف المصطفی میں، حافظ ابوالفتح نطتری خصائص العلویہ میں، حافظ جمال الدین زرندی نظم دار السمطین میں، حافظ ابونعیم اصفہانی مانزل من القرآن فی علی میں، ابراہیم بن محمد حمیونی فرائد السمطین باب 12 میں، حافظ ابوسعید سجستانی کتاب الولایہ میں، یوسف ابن جوزی ت تذکرۃ خواص الامہ ص20 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب اول میں، اور آپ کے دوسرے علماء و محدثین و مورخین ابو سعید خدزی سے نقل کرتے ہیں کہ روز غدیر خم خطبہ رسول(ص) اور نصب امیرالمومنین نیز گر تشریحات کے بعد جن کا مختصر ذکر ہوچکا ہے حسان بن ثابت نے عرض کیا:
"أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَقُولَ أَبْيَاتاً فَقَالَ صلی الله عليه ،سلم
قُلْ بىبَرَكَةِاللَّهِ"
یعنی کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس بارے میں کچھ اشعار کہوں؟آنحضرت(ص) نے فرمایا کہو یہ برکتِ خداوندی یعنی لطف و عنایت پروردگار۔ پس وہ ایک بلند قدم پر کھڑے ہوئے اور فی البدیہ یہ اشعار شروع کئے۔
يُنَادِيهِمْ يَوْمَ الْغَدِيرِنَبِيُّهُمْبِخُمٍّ وَأَسْمِعْ بِالنَّبِيِّ مُنَادِياً
أَلَسْتُ أَنَامَوْلَاكُمْ وَوَلِيَّكُمْفَقَالُواوَلَمْ يَبْدُواهُنَاكَ التَّعَامِيَا
إِلَهُكَ مَوْلَانَاوَأَنْتَ وَلِيُّنَاوَلَاتَجِدَنْ فِي الْخَلْقِ لِلْأَمْرِعَاصِياً
فَقَالَ لَه ُقُمْ يَاعَلِيُّ فَإِنَّنِيرَضِيتُكَ مِنْ بَعْدِي إِمَاماًوَهَادِياً
فمن کنت مولاه فهذا وليهفکونوا لهانصار صدق مواليا
هناک دعا اللخم وال وليهو کن الذی عادی عليا معاديا
یعنی غدیر خم کے روز نبی اکرم(ص) نے امت کو آواز دی اور میں نے آں حضرت(ص) کے منادی کی ندا سنی۔ آں حضرت(ص) نے فرمایا کہ تمہارا مولا اور ولی ( یعنی اولی بہ تصرف ) کون ہے ؟ تو لوگوں نے صاف صاف کہا کہ خدا ہمارا مولی اور آپ ہمارے ولی ہیں اور کسی کو اس حقیقت سے انکار نہیں ہے۔ پس آں حضرت (ص) نے علی(ع) سے فرمایا کہ اٹھو میں اپنے بعد تمہارے امام اور ہادی ہونے پر راضی ہوں پس میں جس کے امور میں ولی اور اولی بہ تصرف ہوں یہ علی(ع) بھی اس کے امور میں ولی اور اولی بہ تصرف ہیں، لہذا اے امت والو سچائی اور وفادار کے ساتھ ان کے یار و مددگار بنو پھر دعا فرمائی کہ خداوندا جو علی(ع) کا دوست ہو اس کو دوست رکھ اور جو ان کا دشمن ہو اس کو دشمن رکھ۔
یہ اشعار بہت واضح دلیل ہیں اس بات کی کہ اس روز اور اس موقع پر اصحاب نے لفظ مولی سے علی علیہ السلام کی امامت و خلافت کے سوا اور کوئی مطلب نہیں نکلا۔ اگر مولا امام ہادی اور اولی بہ تصرف کے معنی میں نہ ہوتا تو قطعا جس وقت حضرت نے حسان کے اشعار میں مصرع "رَضِيتُ كَمِنْ بَعْدِيإ ِمَام اًوَهَادِياً " سنا تھا فوراارشاد فرماتے کہ حسان تم نے دھوکا کھایا اور میرا مقصد نہیں سمجھے اس لیے کہ اس بیان سے میرا مقصود امام و ہادی اور اولی بہ تصرف قائم مقام منصب نبوت نہیں بلکہ دوست و ناصر کا مفہوم مراد تھا۔ لیکن قطع نظر اس سے کہ ان کی تکذیب نہیں کی، الفاظ "لاتزال مؤيدابروح القدس " سے ان کی تصدیق بھی فرما دی ۔ اس کے علاوہ خطبے کی ضمن میں بھی پوری وضاحت کے ساتھ آپ کی امامت و خلافت کا اعلان فرمایا آپ حضرات کو لازم ہے کہ خطبہ ولایت کا مطالعہ کیجئے جو رسول خدا(ص) نے غدیر کے روز بیان فرمایا تھا اور جس کو ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی سنہ310 ہجری نے کتاب الولایہ میں تمام و کمال نقل کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
"اسمعواوأطيعوافإن الله مولاكموعلي إمامكم ثم الإمامةفي ولدي من صلبه إلى يوم القيامة. معاشر الناس هذا اخی و وصيی و داعی علمی و خليفتی علی من آمن بی و علی تفسير کتاب ربی"
یعنی سنو اور اطاعت کرو پس یقینا اللہ تمہارا مولا اور علی(ع) تمہارے امام ہیں۔ پھر قیامت تک امامت علی(ع) کی نسل سے میری اولاد ہی میں رہے گی۔ اے گروہ ناس یہ(علی(ع)) میرے بھائی،
میرے وصی میرے علم کے محافظ اور میرے خلیفہ ہیں ہر اس شخص پر جو مجھ پر اور کتاب الہی کی تفسیر پر ایمان لایا ہے۔
حضرات ! اگر انصاف سے دیکھئے تو خود آں حضرت(ص) کے بیانات کے علاوہ یہ اشعار سننے کےبعد آپ کی خاموشی دلیل قاطع ہے اس چیز پر کہ آں حضرت(ص) کی مراد محب و ناصر نہیں تھی بلکہ وہی تھی جس کو حسان نے نظم کیا ہے یعنی امام و ہادی امور مسلمین میں اولی بہ تصرف۔ چنانچہ فرمایا کہ حسان ! یہ حقیقت تمہاری زبان پر روح القدس کی تائید سے جاری ہوئی ہے۔
صحابہ کی وعدہ شکنی
بہر حال آں حضرت(ص) کے حسب الارشاد و لایت مطلقہ کے حقیقی معنی لیے جائیں یا آپ کے عقیدے کے مطابق محب و ناصر کے معنی، یہ مسلم ہے کہ اس روز اصحاب نے حکم رسول(ص) سے کچھ وعدہ کیا تھا، ایک بیعت کی تھی اور کوئی عہد و پیمان کیا تھا۔ جس پر علمائے فریقین ( شیعہ و سنی) کا اتفاق ہے، پس آخر اس عہد و پیمان کو کیوں توڑا؟ اگر آپ ہی کا فرمانا صحیح فرض کر لیا جائے کہ آنحضرت(ص) کا مقصود دوستی اور یاوری تھا تو خدا کے لیے انصاف سے بتائیے کہ جس دوستی کا اور نصرت و یاری کا عہد باندھا تھا کیا اس کا مطلب اور نتیجہ یہی ہونا چاہئیے تھا کہ ان کے دروازے پر آگ لے جائیں، ان کی بیوی بچوں کو جو اولاد رسول(ص) تھے آزار پہنچائیں اور خوف زدہ کریں ان کو جبرا کھینچتے ہوئے مسجد میں لے جائیں، اور ننگی تلواریں لیے ہوئے ان کو قتل کردینے کی دھمکی دیں، رسول خدا(ص) کا پارہ جگر جناب فاطمہ(ع) کو خوفزدہ اور اذیت میں مبتلا کریں اور حمل ساقط کریں؟
آیا اس خاص تاریخ میں اس قدر عظیم الشان انتظامات اور اتنے سخت تاکیدات کے ساتھ رسول(ص) کی سفارشوں کا یہی مقصد تھا؟ آیا آں حضرت(ص) کی وفات کے بعد اس قسم کے حرکات خدا و رسول(ص) سے عہد شکنی نہیں تھی؟ آیا جن لوگوں نے یہ عہد توڑٰا یا ( آپ کے خیال سے ) دوستی کا پیمان آخر تک نہیں نبھایا۔ انہوں نے سورہ نمبر13 ( رعد) کی آیت نمبر25 نہیں پڑھی تھی؟ اگر ہم جاہلانہ محبت اور بغض کو الگ رکھیں تو حق و حقیقت بالکل ظاہر ہے۔
گرپردہ زروئے کار ہا بردارندمعلوم شود کہ درجہ کار ہمہ
احد حنین اور حدیبہ میں صحابہ کی عہد شکنی
غزوہ احد اور حنین میں جب رسول اللہ(ص) نے تمام اصحاب سے عہد لیا تھا کہ آج کے روز فرار نہ کرنا تو کیا ان لوگوں نے فرار نہیں کیا؟ آیا یہ میدان جنگ سے بھاگنا اور دشمنوں کے مقابلہ میں پیغمبر(ص) کو تنہا چھوڑ کر چل دینا، جس کو خود آپ کے مورخین طبری، ابن ابی الحدید اور ابن عثم کوفی وغیرہ نے بھی لکھا ہے، عہد شکنی نہیں تھی؟
قسم خدا کی آپ لوگ بلا وجہ ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔ شیعہ بھی وہی کہتے ہیں جو آپ کے بڑے بڑے علماء نے کہا ہے اور کتابوں میں وہی لکھتے ہیں جو خود آپ کے علماء ومورخین لکھ چکے ہیں۔
اگر علماء شیعہ نے صحابہ پر کچھ تنقیدیں کی ہیں تو وہ وہی ہیں جو آپ کے علماء نے لکھی ہیں۔
اںصاف سے فیصلہ کرنا چاہئیے
پس آخر آپ لوگ نسلا بعد نسل ہم پر کس لیے حملے کرتے چلے آرہے ہیں؟ آپ لوگ لکھیں تو کوئی عیب نہیں اور نہ قابل گرفت ہے۔ لیکن جو کچھ سنی اکابر علماء نے لکھا ہے اگر وہی ہم کہہ دیں تو کافر ہوجاتے ہیں، ہمارا قتل واجب ہوجاتا ہے محض اس جر م میں کہ بعض صحابہ کے افعال زشت اور اعمال قبیحہ پر تبصرہ اور نکتہ چینی کرتے ہیں۔
حالانکہ اگر صحابہ پر طعن و تشنیع مذموم اور موجب رفض ہے تو قطعا تمام صحابہ بھی رافضی تھے کیونکہ عام طور پر سب نے ایک دوسرے کو لعنت ملامت کی ہے اور اعمال کی مذمت کی ہے یہاں تک کہ ابوبکر و عمر نے بھی۔
اگر تنگی وقت کا خیال نہ ہوتا تو تفصیل سے ان کے اقوال بیان کرتا۔ اگر آپ بخوبی اس کی جانچ کرنا چاہتےہوں کہ اصحاب رسول(ص) بھی دوسرے لوگوں کی طرح جائز الخطا تھے۔ ان میں سے جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی وہ مومنین یا پاکباز اور قابل احترام ٹھہرے اور جو لوگ ہوا و ہوس کے بندے بنے اور ان سے بری حرکتیں سر زد ہوئیں وہ مطعون مذموم قرار پائے تو شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد چہارم کے ص454 سے ص462 تک صحابہ کے بارے میں ابوالمعانی جوینی کے اعتراض پر زیدی کا مفصل جواب ملاحظہ فرمائیے۔ جس کو ابوجعفر نقیب نے نقل کیا ہے تاکہ آپ کومعلوم ہو کہ صحابہ کس قدر اختلاف و افتراق تھا اور کس طرح ایک دوسرے کی تفسیق و تکفیر اور لعنت و ملامت کرتے تھے۔
شیعوں اور آپ کے منصف علماء اور عام حضرات اہل سنت وجماعت کے درمیان جو خاص فرق ہے وہ محبت اور بغض کے مسئلے میں ہے، آپ لوگ چونکہ بعض صحابہ سے اندھادھند عقیدت اور خلوص و محبت رکھتے ہیں لہذابمصداق حب الشی يعمی و يعصم ( یعنی کسی چیز کی محبت اندھا اور بہرا بنادیتی ہے 12مترجم ) ان کے اندر برائی نظر ہی نہیں آتی بلکہ اگر نگاہ محبت سے دیکھنے کے باوجود بھی ان کے دامن داغدار نظر آتے ہیں تو ان کو تمام مطاعن سے مبرا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کھلے ہوئے معائب کے مقابلہ میں ایسے پھسپھسے جوابات دیتے ہیں کہ ان پر ہنسی آجاتی ہے۔
لیکن ہم خدا کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول(ص) کو بغض و عناد اور عداوت کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ متفقہ حالات و واقعات کا عقل وبرہان کی نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں، اچھائیوں کو اچھا اور برائیوں کو برا دیکھتے ہیں اور حق فیصلہ کرتے ہیں٫
محترم حضرات! ہم اور آپ قیامت اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں، دنیا کی اس چند روز زندگی میں کیا رکھا ہے جو عنقریب
ختم ہوجائے گی۔ فکر تو اس روز کی کرنا چاہئے۔
قسم خدا کی ہم شیعہ مظلوم ہیں، بے خبر عوام کو بلاوجہ دھوکا نہ دیجئے اور موحد شیعوں کو کافر اور رافضی نہ کہئے۔ آیا یہ مناسب ہے کہ محمد(ص) و آل محمد صلوۃ اللہ علیہم اجمعین کے پیرئوں کو خواہ مخواہ بہانہ بنا کے رافضی اور خطا وار قرار دیجئے؟ در آنحالیکہ اگر اس تنقید اور اظہار حقیقت کی وجہ سے آپ شیعوں کر برا کہتے اور کافر سمجھتے ہیں تو ان سے پہلے اپنے بڑے بڑے علماء کو برا کہئے جن کے قلم سے اس قسم کی تنقیدیں نکلی ہیں اور آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہیں۔
حدیبیہ میں صحابہ کا فرار
مثلا قضیہ حدیبیہ کے سلسلے میں ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور آپ کے دوسرے مورخین لکھتے ہیں کہ قرار داد صلح کے بعد عمر ابن خطاب کے ساتھ اکثر صحابہ بگڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ(ص) کو تائو دکھا رہے تھے کہ ہم صلح پر راضی نہیں تھے جنگ کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے کیوں صلح کر لی؟ آنحضرت(ص) نے فرمایا اگر تم لڑائی کا شوق ہے تو جائو میں منع نہیں کرتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے حملہ کیا، لیکن قریش بھی تیار تھے انہوں نےمنہ توڑ جواب دیا اور ان کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ اب جو بھاگے تو پیغمبر(ص) کے پاس بھی نہیں ٹھہر سکے بلکہ صحرا کی طرف نکل گئے۔ آں حضرت(ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ تلوار اٹھائو اور قریش کی روک تھام کرو۔ قریش نے جونہی علی(ع) کو مقابلے پر دیکھا پیچھے ہٹ گئے۔ اس کے بعدبھاگے ہوئے اصحاب تھوڑے تھوڑے کر کے واپس آئے اور اپنی حرکت سے شرمندہ ہوکر معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ(ص) نے فرمایا کہ میں تم کو پہنچانتا نہیں ہوں ؟ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو غزوہ بدر کبری میں دشمنوں کے سامنے کانپ رہے تھے یہاں تک کہ خدا نے ہماری مدد کے لیے فرشتے بھیجے؟ آیا تمہیں لوگ میرے وہ اصحاب نہیں ہو جو احد کے روز بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے اور مجھ کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ میں ہر چند پکارتا رہا لیکن تم لوگ نہیں پلٹے؟ خلاصہ یہ کہ آںحضرت(ص) ان کی تمام کمزوریان اور بے ثباتیاں گنواتے رہے اور وہ لوگ برابر عذار خواہی کرتے رہے بالآخر ابن ابی الحدید اس مقام پر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے یہ ساری زجرو توبیخ عمر کے اوپر کی جب وہ آں حضرت(ص) کے وعدوں کو جھٹلا چکے تھے۔ پھر لکھتے ہیں کہ پیغمبر(ص) کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ احد میں ضرور بھاگے ہوں گے کیونکہ آں حضرت(ص) نے عتاب فرماتے ہوئے اس کا بھی ذکر فرمایا ہے آپ حضرات ملاحظہ فرمائیے کہ یہی قضیہ جس کو ابن ابی الحدید وغیرہ کے ایسے بزرگ علماء لکھ چکے ہیں اگر ہم بیاں کریں تو آپ فورا دھر پکڑ کرنے اور ہم کو رافضی و کافر کہنے لگتے ہیں کہ ایسا کیوں کہتے ہو اور خلیفہ کی توہین کیوں کرتے ہو، لیکن ابن ابی الحدید اور انہیں جیسے دوسرے علماء پر کوئی اعتراض نہیں، یاد رکھئیے ہم جو کچھ کہتے ہیں توہین کی غرض سے نہیں کہتے بلکہ تاریخی واقعات کو نقل کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ آپ ہماری طرف سے بد گمانی رکھتے ہیں لہذا اس کا کوئی اثر نہیں لیتے۔
اس موقع کے لحاظ سے عرب کے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
وعين الرضاعنك لعيبك ليلةكماأن عين السخط تبديالمساويا
یعنی عقیدت مند کی آںکھ ہر عیب سے چشم پوشی کرتی ہے لیکن چشم غضب خطائوں کو ڈھونڈ نکالتی ہے۔
قیامت کے روز آپ کے علماء پر ہمارے بہت سے استغاثے ہیں ضیا تو گزر جائے گی لیکن اللہ کے دربار عدالت میں آپ کو ہماری مظلومانہ فریاد کی جواب دہی کے لیے حاضری دینا ہوگی۔
حافظ : آپ پر کون سا ظلم ہوا ہے کہ قیامت کے روز داد خواہی کیجئے گا؟
خیر طلب: مظالم بہت اور ہتک حرمت کے واقعات کثرت سے ہیں۔ لیکن اگر سب سے چشم پوشی کر لی جائے تب بھی چونکہ میں صدیقہ مظلومہ جناب فاطمہ صلوات اللہ علیہا کی اولاد میں ہونے کا فخر رکھتا ہوں لہذا اپنے حق سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور جس روز محکمہ عدل الہی قائم ہوگا جس پر ہمارا اعتقاد ہے تو میں بہت سے ظلموں و زیادتیوں کو داد خواہی کروں گا اور یقین رکھتا ہوں کہ انصاف کیا جائے گا۔
حافظ : گذارش ہے کہ جذبات کو نہ ابھاریئے آپ کا کون سا حق مارا گیا ہے اور آپ پر کیا ظلم ہوا ہے یہ بیان کیجئے؟
خیر طلب : ظلم و تعدی اور ہماری حق تلفی کوئی آج ہی کے دن سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہمارے جد بزرگوار حضرت خاتم الانبیاء(ص) کی وفات کے بعد ہی سے اس کی بنا قائم کی گئی کیونکہ خدا ورسول(ص) نے ہماری جدہ مظلومہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ان کے بچوں کی پرورش کے لیے جو واجبی حق عطا کیا تھا اس کو غصب کر لیا گیا اور ان معصومہ(ع) کے نالہ وفریاد کا کوئی اثر نہیں لیا گیا، یہاں تک کہ وہ پیغمبر(ص) کی یادگار عفوان شباب ہی میں درد بھرے دل کے ساتھ دنیا سے اٹھ گئی۔
حافظ : میں عرض کرتا ہوں کہ جناب عالی بہت تیزی دکھا رہے ہیں اور جوشیلے جملے استعمال کر کے لوگوں میں بلاوجہ ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ آخر فاطمہ رضی اللہ عنہا کا واجبی حق کیا تھا جو زبردستی چھین لیا گیا؟ اگر آپ اپنے برادران مومن کے سامنے اپنا دعوی ثابت نہ کرسکے تو محکمہ عدل الہی میں درجہ اولی ہرگز کامیاب نہ ہوسکتیں گے آپ سمجھئے کہ آجہی محکمہ عدل الہی قائم ہے لہذا اپنا دعوی ثابت کیجئے۔
خیر طلب: وہاں خدائی عدالت ہے ذاتی اغراض اور تعصب وغیرہ کی گنجائش نہیں لہذا سچا اور بے لوث فیصلہ ہوگا۔ اگر آپ حضرات بھی نگاہ انصاف سے رکھتے ہوں تو قاضی عادل کی طرح غیر جانبداری کے ساتھ میرے معروضات سنیئے یقین ہے کہ ہماری حقانیت کی تصدیق کیجئے گا۔
خدا جانتا ہے کہ میں کٹ حجتی نہیں کرتا
حافظ : خدا اور آپ کے جد امجد رسول خدا(ص) کے اس عظیم حق کی قسم کھاتا ہوں جو ہم لوگوں پر ہے کہ میں ذاتی طور پر کوئی عناد و تعصب یا بے جا ضد نہیں رکھتا۔ ان راتوں میں جب سے آپ کا ساتھ ہے یقینا آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ میں کج بحثی نہیں کرتا۔ جس مقام پر میں نے مضبوط دلیل و برہان کے ساتھ کوئی قاعدے کی بات سنی تو اپنے اندر سکون و اطمینان کا جذبہ پایا اور یہ میری خاموشی خود حق و اںصاف کی بات تسلیم کر لینے کی دلیل ہے ورنہ اگر ہم حیلہ سازی اور کٹ حجتی کرنا چاہتے تو آپ کے بیانات اور دلائل کو مغالطہ بازی میں ڈال کر جھٹلا سکتے تھے جیسا کہ ہمارے پچھلے لوگ کرتے رہے ہیں۔ لیکن میں نظرتا جھگڑالو اور مکار نہیں تھا بالخصوص جس وقت سے آپ کا سامنا ہوا ( تو اگرچہ یہاں پہنچے اور آپ کی ملاقات سے قبل میں کسی اور ہی قصد سے چلا تھا) آپ کی پاک نفسی تہذیب خوش اخلاقی، سادگی اور جذبہ حقیقت نے مجھ پر ایسا اثر کیا ہے میں نے اپنے خدا سے اصولی منطقی بات کےسامنے پورے طور پر سر تسلیم خم کردینے کا عہد کر لیا۔چاہے یہ طریقہ لوگوں کے توقعات پر پانی ہی کیوں نہ پھر دے آپ یقین کیجئے کہ میں وہ پہلی شب والا آدمی نہیں ہوں اور نڈر ہوکر بالکل صاف صاف کہتا ہوں کہ آپ کے دلائل و براہین اور تاثرات نے میرے دل پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ میں تمنا کرتا ہوں کہ محبت و ولائے محمد و آل محمد(ص) کے ساتھ مروں تاکہ رسول خدا(ص) کے سامنے سرخرو ہوں۔
خیر طلب : آپ کے ایسے انصاف پسند عالم سے میں اس کے خلاف امید بھی نہیں کرتا تھا۔ اور نہ آئیندہ کروں گا۔ آپ کے ان الفاظ نے میرے دل میں کچھ اور ہی اثر کیا اور آپ سے ایک قلبی لگائو پیدا ہوگیا ہے۔ اب میں جناب عالی سے درخواست کرنا چاہتا ہوں، امید ہے کہ آپ قبول فرمائیں گے۔
حافظ : بہتر ہے فرمائیے۔
خیر طلب : میں چاہتا ہوں کہ آج کی شب آپ کو قاضی اور دوسرے حضرات کو گواہ قرار دوں اور آپ انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ فرمائیے کہ آیا میرا بیان حق ہے اور میں اپنا دعوی ثابت کرسکتا ہوں یا نہیں؟
ہوسکتا ہے کہ جس موضوع کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں وہہر رات سے کچھ طولانی ہوجائے لیکن اس زحمت کو برداشت کر لیں تاکہ میں اپنے اندرونی درد و غم کو ظاہر کر کے تھوڑا سکون حاصل کرسکوں۔
بعض جاہلوں اور بے خبر عقیدت مندوں کا قول ہے کہ جو معاملہ تیرہ سو سال واقع ہوا ہے ہم کو اس میں گفتگو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ یہ نہیں سمجھتے کہ علمی مسائل ہر زمانہ اور ہر دور میں قابل بحث ہوتے ہیں، عادلانہ مباحثوں میں حقیقتوں کا انکشاف ہوتا ہے اور خاص طور پر وارثت کا دعوی تو قانونا ہر زمانے میں کسی وارث کی طرف سے فیصلے کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے ۔ چونکہ وارثوں کی ایک فرد میںِ بھی ہوں لہذا آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم منصفانہ جواب عنایت فرمائیے۔
حافظ : میں انتہائی رغبت اور توجہ سے آپ کے بیانات سننے کے لیے حاضر ہوں۔
خیر طلب : اگر ایک باپخدا کے حکم سے کوئی جائداد اپنے بیٹےکو ہبہ کر دے اور باپ کے مرنے کے بعد اس قابض و متصرف بیٹے سے وہ جائداد چھین لی جائے تو اس کی کیا نوعیت ہوگی؟
حافظ : کھلی ہوئی بات ہے کہ جس طریقے سے آپبیان کر رہے ہیں غصب کرنے والا بدترین ظم کا مرتکبہوگا۔ لیکن اس ظالم و مظلوم اور غاصب و مغصوب سے آپ کا مقصود کون ہے اور کیا ہے؟ صاف صاف فرمائیے۔
خیر طلب: بالکل واضح بات ہے کہ جو ظلم ہماری جدہ ماجدہ صدیقہ کبری فاطمہ زہرا صلوۃ اللہ علیہا کے اوپر ہوا وہ کسی اور پر نہیں ہوا۔
حقیقت فدک اور اس کا غصب
کیونکہ خیبر کے قلعے فتح ہوگئے تو اشراف و مالکان فدک و عوالی ( یہان مدینے کے پہاڑوں کے دامن میں سمندر کے ساحل تک آگے پیچھے سات گائوں تھے جو بہت زر خیز تھے۔ نخلستان بکثرت تھے اور اراضی کو طول و عرض بہت وسیع تھا اس کے حددود اربعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حد مدینے کے نزدیک کوہ احد، ایک حد عریش ، ایک سمندر کے کنارے اور ایک حد دومتہ الجندل تک تھی۔
رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس اور اس شرط پر صلح کی کہ سارے فدک کا نصف ان کا اور نصف حصہ رسول خدا(ص) کی ملکیت ہوگا۔ جیسا کہ صاحب معجم البلدان یاقوت حموی نے فتح البلدان جلد ششم ص343 میں، احمد بن یحیی بلاذری بغدادی متوفی سنہ279 نے اپنی تاریخ میں، ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم مطبوعہ مصر ص78 میں، ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری سے نقل کرتے ہوئے، محمد بن جریر طبری نے تاریخ کبیر میں اور آپ دوسرے محدثین و مورخین نے درج کیا ہے۔
آیہ و آت ذا القربیٰ حقہ کا نزول
مدینہ منورہ میں واپسی کے بعد رب جلیل کی طرف سے جبرئیل نازل ہوئے اور سورہ نمبر17 (بنی اسرائیل) کی آیت نمبر28 پڑھی کہ:
"وَآتِ ذَاالْقُرْبى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاتُبَذِّرْتَبْذِيراً"
یعنی اپنے اقربا نیز فقیروں اور مجبور مسافروں کا حق ادا کرو اور اسراف ہرگز نہ کرو۔
رسول خدا(ص) سوچنے لگے کہ ذوی القربی کون ہیں اور ان کا حق کیا ہے؟ جبرئیل پھر حاضر ہوئے اور عرض کیا خدا فرماتا ہے " ادفع فدکا الی فاطمہ" فدک فاطمہ(ع) کو دے دیجئے! آں حضرت(ص) نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فرمایا: "إنّ اللّه أمرني أن أدفع إليك فدكا" بتحقیق خدا نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ فدک تم کو دیدوں
پس اسی وقت فدک جناب فاطمہ (ع) کو ہبہ فرمایا اور قبضہ دے دیا۔
حافظ : آیا آیہ شریفہ کی یہ شان نزول شیعوں کے کتب و تفاسیر میں لکھی ہوئی ہے یا آپ نے ہماری معتبر کتابوں میں بھی اس کے شواہد دیکھے ہیں؟
خیر طلب : امام المفسرین احمد ثعلبی کشف البیان میں، جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر جلد چہارم میں حافظ ابن مردویہ سے مشہور مفسر احمد بن موسی متوفی سنہ352 ہجری ابوسعید خدری اور حاکم ابوالقاسم حسکانی سے، ابن کثیر عماد الدین اسمعیل ابن عمر دمشقی فقیہ شافعی اپنی تاریخ میں اور شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب39 میں تفسیر ثعلبی ، جمع الفوائد اور عیون الاخبار سے نقل کرتے ہیں کہ:
"لَمَّانَزَلَتْ: وَآتِ ذَاالْقُرْبى حَقَّهُ دَعَاالنبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه ِوَآلِه ِو سلم فَاطِمَةَوَأَعْطَاهَافَدَك الکبير."
یعنی جب آیتوَآتِ ذَاالْقُرْبى حَقَّهُ نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے فاطمہ(ع) کو بلایا اور فدک بزرگ ان کو عطا فرمایا۔
چنانچہ جب تک آں حضرت(ص) حیات رہے فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے تصرف میں رہا وہ معظمہ اس کو ٹھیکے پردیتی تھیں اور مال اجارہ تین قسطوں میں وصول ہوتا تھا۔ جس میں سے بی بی فاطمہ(ع) اپنی اور اپنے فرزندوں کی ایک شب کی خوراک کے حساب سے نکال کر فقرائے بنی ہاشم کے درمیان اور فاضل رقم دیگر فقراء و ضعفاء کو اپنی رضا و رغبت سے بطور اعانت تقسیم فرمادیتی تھیں۔
رسول اللہ(ص) کی وفات کے بعد خلیفہ وقت کے کارندوں نے جار یہ جائداد بی بی فاطمہ(ع) کے اجارہ داروں سے چھین کر ضبط کر لی۔ حضرات خدا کے لیے انصاف سے بتائیے کہ اس حرکت کا کیا نام رکھنا چاہیئے۔
حافظ : یہ پہلا موقع ہے جب میں آپ سے سن رہا ہوں کہ رسول خدا(ص) نے خدا کے حکم سے فدک فاطمہ(ع) کے سپرد کردیا تھا۔
خیر طلب: ممکن ہے آپ کی نظر سے نہ گذرا ہو لیکن میں نے بہت دیکھا ہے میں عرض کرچکا کہ آپ کے اکثر اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس کو درج کیا ہے لیکن مزید توضیح کے لیے پھر عرض کرتا ہوں کہ حافظ ابن مردویہ، واقدی اور حاکم نے اپنی تفسیر و تاریخ میں، جلال الدین سیوطی نے درالمنثور جلد چہارم ص177 میں، مولوی علی متقی نے کنزل العمال اور اس مختصر حاشیہ میں جو مسند امام احمد ابن حنبل کی کتاب الاخلاق کے مسئلہ صلہ رحم پر لکھا ہے اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم میں، ابو سعید خدری کے علاوہ دوسرے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی تو پیغمبر(ص) نے فدک کو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد کیا۔
حدیث لا نورث سے استدلال اور اس کا جواب
حافظ : مسلم تو یہ ہے کہ خلفاء نے فدک کو اس مشہور حدیث کی بنیاد پر ضبط کیاکہ خلیفہ ابوبکر نے کہا میں نے رسول خدا(ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا :
"نحن معاشرالأنبياءلانورثماتركناه صدقة"
یعنی ہم گروہ انبیاء وارث نہیں بناتے ، جو ہمارے ترکہ ہو وہ صدقہ ہے۔ ( یعنی امت کا حق ہے)
خیر طلب : اول تو یہ وراثت نہیں تھی ہبہ تھا دوسرے جو عبارت آپ نے حدیث کے عنوان سے نقل کی ہے اس میں بھی بہت سے اشکال ہیں اور باطل ہے۔
حافظ : اس مسلم حدیث کی مردویت کے اوپر آپ کی دلیل کیا ہے؟
خیر طلب : اس کی مردودیت کے دلائل بہت ہیں جو صاحبان علم و اںصاف کے نزدیک ثابت ہیں۔
اول تو یہ جس شخص نے بھی یہ حدیث بنائی ہے بغیر غور فکر کے یہ جملے منہ سے نکال دے اس لیے کہ اگر غور کیا ہوتا تو ایسی عبارت بناتا جس سے بعد کو شرمندگی نہ ہو اور ارباب عقل و دانش اس کا مذاق نہ اڑائیں ۔"و نحنمعاشرالأنبياءلانورث" ہرگز نہ کہتا کیوں کہ وہ سمجھ لیتا کہ ایک روز اس کا جھوٹ خود اس مصنوعی حدیث کی عبارت سے کھل جائے گا۔ اگر کہا ہوتا "انا لااورث " یعنی صرف میں نے جو خاتم الانبیاء ہوں وارث قرار نہیں دی ہے تو گفتگو میں فرار کا راستہ نکل سکتا تھا، لیکن جب کلمہ جمع استعمال کیا کہ ہم گروہ انبیاء وارث نہیں بناتے تو ہم حدیث کی صحتوسقم کی جانچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور خود آپ ہی کے قول کی بناء پر قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ حقیقت ظاہر ہوجائے۔
جس وقت قرآن سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں قرآن مجید میں وراثت انبیاء کے بارے میں کافی آیتیں موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ سارے انبیاء عظام میراث رکھتے تھے اور ان کے بعد ورثاء اس پر تصرف کرتے تھے۔ لہذا اس حدیث کی مردودیت واضح ہوجاتی ہے۔
چنانچہ عالم محدث ابوبکر احمد بن عبدالغزیر جوہری نے جن کے متعلق ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص78 میں توثیق کی ہے کہ اہل سنن کے اکابر علماء و محدثین میں سے اور صاحب ورع و تقویتھے کتاب سقیفہ میں، ابن اثیر نے نہایہ میں، مسعودی نے اخبار الزمان اور اوسط میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص ؟؟؟؟؟؟میں، ابوبکر احمد جوہری سے بحوالہ، کتاب سقیفہ و فدک بکثرت طرق و اسانید کے ساتھ جن میں سے بعض نے امام پنجم ابوجعفر حضرت محمد باقر علیہ السلام سے بسلسلہ صدیقہ صغری زینب کبری اور بعض نے عبداللہ ابن حسن سے بروایت صدیقہ کبری فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا اور ص93میں بسند ام المومنین عائشہ نیز ص94 میں محمد بن عمر عمران مرزبانی سے۔ انہوں نے جناب زید بن علی بن الحسین علیہم السلام سے انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے، انہوں نے اپنے پدر گرامی حضرت امام حسین علیہم السلام سے اور انہوں نے جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا سے نقل کیا ہے۔ اور آپ کے دوسرے علماءنے بھی۔
مسجد کے اندر مہاجرین و اںصاف کے مقابل مسلمانوںکے مجمع عام میں جناب فاطمہ مظلومہ، سلام اللہ علیہا کی اس تقریر اور استدلال کو نقل کیا ہے جس نے مخالفین کو اس طریقے سے مبہوت کیا کہ وہ کوئی جواب نہ ہی دے سکے( چونکہ ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا لہذا ہنگامے اور دھاندلی سے کام نکالا۔)
ان کی اس جھوٹی، مہمل اور بے بنیاء حدیث کے مقابلہ میں جناب معصومہ کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ فرمایا کہ اگر یہ حدیث
صبح ہے اور انبیاء میراث نہیں چھوڑتے تھے تو قرآن مجید کے اندر وراثت کی ساری آیتیں کیوں موجود ہیں؟
حدیث لا نورث کے رد میں جناب فاطمہ(ع) کے دلائل
ایک مقام پر ارشاد ہےووارث سلیمان دائود آیت نمبر16سورہ نمبر27( نمل) یعنی سلیمان نے دائود کی میراث پائی) حضرت زکریا کے قصے میں فرمایا "فَهَبْلِيمِنْلَدُنْكَوَلِيًّايَرِثُنِيوَيَرِثُمِنْآلِيَعْقُوبَ " آیت نمبر5 سورہ نمبر19 ( مریم) ( یعنی اپنے لطف خاص سے مجھ کو ایک فرزند صالح اور جانشین عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو) اور حضرت زکریا کی دعا کے میں آیا ہے"وَزَكَرِيَّاإِذْنادى رَبَّهُ رَبِّ لاتَذَرْنِي فَرْداًوَأَنْتَ خَيْرُالْوارِثِينَ فَاسْتَجَبْنالَهُ وَوَهَبْنالَهُ يَحْيى" آیت نمبر89 سورہ نمبر21 ( انبیاء) یعنی اور یاد کرو زکریا کو جب کہ انہوں نے اپنے خدا کو پکارا کہ خداوند مجھ کو تنہا نہ چھوڑ( یعنی مجھ کو بیٹا اور وارث عطا فرما) اور تو دنیا کے تمام وارثوں سے بہتر ہے۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحیی سا فرزند عطا کیا۔
اس کے بعد فرماتی ہیں:
"يابن أبي قحافةأفي كتابالله أن ترث أباك ولاأرثأبي،لقدجئت شيئافريا،أفعلى عمد تركتم كتابالله ونبذتموه وراءظهوركم"
اے پسر ابو قحافہ!آیا کتاب خدا میں یہی ہے کہ تو اپنے باپ کا وارث ہو اور میں اپنے باپ کی وارثت سے محروم رہوں؟ یہ تو نے بڑا بہتان باندھا ہے آیا تم لوگوں نے جان بوجھ کر عمدا اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور قرآن کو پس پشت ڈال دیا؟ کیا میں پیغمبر(ص) کی اولاد نہیں ہوں کہ مجھے میرے حق سے محروم کر رہے ہو؟ پس یہ سب وراثت کی آیتیں جو عام طور سے انسانوں کے لیے اور خاص طور پر انبیاء کے لیے ہیں آخر کس وجہ سے قرآن مجید میں درج ہوئیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی آیتیں روز قیامت تک اپنی حقیقت پر باقی ہیں کیا قرآن یہ ارشاد نہیں ہے۔"وَأُولُواالْأَرْحامِبَعْضُهُمْأَوْلى بِبَعْضٍ" ( یعنی خویش و اقربا میں سے بعض وارثت میں، بعض دوسروں پر مقدم ہیں۔ آیت نمبر76 سورہ نمبر4 ( انفال)"يُوصِيكُمُاللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِمِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ" (یعنی تمہاری اولاد کے بارے میں حکم خدا یہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں سے دوگنی وراثت پائیں۔ آیت نمبر12 سورہ نمبر4 (نساء) :
" كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذاحَضَرَأَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْراً- الْوَصِيَّةُلِلْوالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّاعَلَى الْمُتَّقِينَ"
یعنی سب کو باقاعدہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو موت کو وقت آجادے اور وہ کچھ مال متاع چھوڑے تو اپنے ماں باپ اور خویش و اقرباء کے لیے نیکی کے ساتھ وصیت کرے۔ یہ کام پرہیز گاروں پر فرض ہے آیت نمبر186 سورہ نمر4( نساء) آخر کس خصوصیت نے مجھ کو باپ کے ترکہ سے محروم کیا؟
"أَفَخَصَّكُمُ اللَّهُ بِآيَةٍأَخْرَجَ مِنْهَاأَبِي (ص) أَمْ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِخُصُوصِ الْقُرْآنِ وَعُمُومِهِ مِنْ أَبِي وَابْنِ عَمِّي؟!"
آیا خاص طور پر خدا نے تمہارے اوپر کوئی آیت نازل کی
ہے جس سے میرے باپ کو محروم رکھا ہے؟ یا تم میرے باپ( محمد (ص)) اور میرے ابن عم (علی(ع)) سے زیادہ قرآن کے عام اورخاص کو جانتے ہو؟ جب وہ لوگ ان دلائل اور حق باتوں کے مقابلے میں بالکل ساکت ہوگئے اور سوا مغالطہ بازی، فحش بکنے اور اہانت کرنے کے ان کے پاس کوئی جواب نہ رہا تو بالآخر انہیں طریقوں سے جناب معصومہ(ع) کو مجبور بنایا۔
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فریاد بلند کی اور فرمایا کہ آج تم نے میرا دل توڑدیا اور زبردستی میرا حق چھیں لیا ہے۔ لیکن میں قیامت کے روز اللہ کے محکمہ عدالت میں تمہارے خلاف دعوی دائر کروںگی اور خدائے قادر و توانا تم سے میرا حق وصول کرے گا۔
"فنعم الحكم اللّه،والزعيم محمد،والموعدالقيامة،وعندالساعةيَخْسَرُالْمُبْطِلُونَ،ولِكُلِّ نَبَإٍمُسْتَقَرٌّوَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذابٌ مُقِيمٌ"
یعنی سب سے بہتر حکم کرنے والا اللہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رئیس و آقا ہیں۔ ہماری تمہاری وعدہ گاہ قیامت ہے اس روز اہل باطل گھاٹے میں رہیں گے اور ندامت و پریشانی تم کو کوئی نفع نہ بخشے گی، ہر چیز کے لیے ایک وقت اور موقع ہے اور عنقریب تم کو معلوم ہوگا کہ ذلیل وخوار کرنے والا عذاب کس پر نازل ہوتا ہے اور کون ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔
حافظ : کون شخص اتنی جرائت کرسکتا تھا رسول اللہ(ص) کی امانت اور پارہ جگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرے جو آپ فرماتے ہیں کہ مغالطہ بازی میں ان معظمہ کو فحش باتیں کہیں؟ میں اس بیان پر یقین نہیں کرسکتا۔ مغالطہ بازی ممکن ہے لیکن فحش باتیں کہنا ممکن نہیں۔ آپ دوبارہ ایسی بات نہ فرمائیے گا۔
خیر طلب: کھلی ہوئی بات ہے کہ کسی کو اتنی جرائت نہیں تھی سوا آپ کےخلیفہ ابوبکر کے جو ان مظلومہ بی بی کی مضبوط دلیلوں کا جواب نہ دے سکے تو اسی وقت منبر پر چڑھ گئے اور گستاخی کرنا شروع کی۔ اور صرف جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نہیں بلکہ ان کے شوہر اور ابن عم، محبوب خدا و رسول امیرالمومنین علی علیہ السلام کی بھی اہانت کی۔
حافظ : میرا خیال ہے کہ اس قسم کی تہمتیں شیعہ عوام اور متعصب لوگوں کی طرف سے پھیلائی گئی ہوں گی۔
خیر طلب : آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے یہ چیزیں شیعہ عوام کی طرف سے نہیں بلکہ اہل سنت والجماعت کے خواص اور بڑے بڑے علماء کی طرف سے نشر ہوئیں شیعہ جماعت میں ایسا تعصب بہت ہی شاذ بلکہ ناممکن ہے کہ جھوٹی باتیں پھیلائی جائیں، ہمارے عوام چاہے جتنے متعصب ہوں لیکن روایتیں نہیں گڑھتے۔ پس یہ بالکل سچی روایت ہے جس کو آپ کے اکابر علما نےبھی نقل کیا ہے۔ آپ اپنے یہاں کی معتبر اور مشہور کتابیں دیکھئے تو خود ہی تصدیق کیجئے کہ آپ کے انصاف پسند اکابر علماء بھی ان حقائق کے معترف ہیں چنانچہ ابن ابی معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص80 مطبوعہ مصر میں، ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری سے نقل کرتے ہوئے علی (ع)وفاطمہ علیہما السلام کے احتجاج کے بعد ابوبکر کا منبر پر جانا اور اس امانت رسول(ص) کی اہانتیں کرنا تفصیل سے درج کیا ہے
ابوبکر سے علی(ع) کا احتجاج
اس کے علاوہ دوسروں نے بھی لکھا ہے کہ جب جناب فاطمہ سلام اللہعلیہا نےاپنا خطبہ تمام کیا تو علی علیہ السلام نے احتجاج شروع کیا، مسجد کے اندر مہاجرین و انصار اور مسلمانوں کے عام مجمع میں ابوبکر کی طرف رخ کر کے فرمایا کہ تم نے فاطمہ (ع) کو ان کے باپ کی میراث سے کیوں محروم کیا، در آنحالیکہ وارثت کے علاوہ وہ اپنے باپ کی زندگی ہی میں اس کی مالک اور متصرف تھیں؟ ابوبکر نے کہا فدک مسلمانوں کا مال غنیمت ہے۔ اگر فاطمہ(ع) مکمل شہادت پیش کریں کہ یہ ان کی ملکیت ہے تو میں ضرور ان کو دے دوں گا ورنہ محروم کردوں گا۔
حضرت نے فرمایا :
"أَتَحْكُمُ فِينَابِخِلَافِ حُكْمِ اللَّهِ فِي الْمُسْلِمِينَ؟"( یعنی آیا تم مسلمانوں کے درمیان جو کچھ حکم دیتے ہو ہمارے بارے میں اس کے خلاف حکم لگاتے ہو؟
کیا رسول خدا(ص) نے نہیں فرمایا ہے کہ"الْبَيِّنَةُعَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنِ ادُّعِيَ عَلَيْهِ." ( یعنی ثبوت اور گواہ مدعی کے ذمے ہے اور قسم مدعا علیہ کے ذمے ؟ تم نے قول رسول(ص) کو رد کر دیا اور دستور شرع کے برخلاف فاطمہ(ع) سے گواہ طلب کرتے ہو پیغمبر(ص) کے زمانے سے اب تک اس پر متصرف رہیں۔ کیا فاطمہ(ع) کو قول و فعل ( جو اصحاب کساء کی ایک فرد اور آیہ تطہیر میںشامل ہیں) حق نہیں ہے؟
"أخبرنا لو انّ شاهدين شهداعلى فاطمةبفاحشةماكنت صانعة بها؟قال أقيم عليهاالحدّكسائرالنساء قال عليه السلام كنت اذاًعنداللّه من الكافرين لانّك رددت شهادةاللّه لهابالطّهارةإِنَّمايُرِيدُاللَّه لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَالْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً"
یعنی مجھے بتائو کہ اگر دو گواہ گواہی دے دیں کہ ( معاذ اللہ( فاطمہ(ع) سے کوئی بدکاری سرزد ہوئی ہے تو تم ان سے کیا برتائو کرو گے؟ ابوبکر نے کہا کہ دوسری عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا۔حضرت نے فرمایا کہ اگر تم ایسا کرو تو خدا کے نزدیک کافر قرار پائو گے کیونکہ تم نے طہارت فاطمہ(ع) کے بارے میں اللہ کی گواہی کو جھٹلا دیا جیسا کہ اس کا ارشاد ہے کہ سوا اس کے نہیں ہے کہ خدا یہ ارادہ رکھتا ہے کہ اے اہل بیت(ع) تم سے ہر گندگی کو دور رکھے اور تم کو اس طرح سے پاک و پاکیزہ جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
کیا یہ آیت ہمارے حق میں نازل نہیں ہوئی ہے؟ کہا کیوں نہیں، حضرت نے فرمایا کہ آیا فاطمہ(ع) جنکی طہارت پر خدا نے شہادت دی ہے دنیا کی ایک حقیر جائداد کے لیے جھوٹا دعوی کرسکتی ہیں؟ تم طاہرہ کی شہادت تو رد کرتے ہو"وقبلت شهادةاعرابيّ بائل على عقبه" اور اس اعرابی کی شہادت قبول کر لیتے ہو۔ جو اپنے پائوں کی ایڑی پر پیشاب کرتا ہے؟
حضرت یہ جملے ارشاد فرما کر جھنجھلائے ہوئے اپنے گھر تشریف لے گئے اس احتجاج سے لوگوں میں ایک عجیب ہنگامہ برپا
ہوگیا ہر شخص یہی کہتا تھا کہ حق علی(ع) و فاطمہ(ع) کےساتھ ہے خدا کی قسم علی(ع) سچ کہتے ہیں۔ آخر رسول(ص) کی بیٹی سے یہ کیسا سلوک کیا جارہا ہے۔
بالائے منبر ابوبکر کی بدکلامی اور علی(ع) و فاطمہ(ع) کو گالی دینا
اسی موقع پر ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ جب علی(ع) و فاطمہ(ع) کے احتجاج سے لوگ متاثر ہوئے اور شور کرنے لگے تو ان دونوں حضرات کے چلے جانے کے بعد ابوبکر منبر پر گئے اور کہا ایہا الناس تم نے یہکیا شور وغل مچا رکھا ہے اور ہر ایک کی بات پر کان دھرتے ہو؟ چونکہ میں ان کی شہادت رد کر دی ہے اس لیے وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔
"إنماهوثعالةشهيدهذنبه(1) مرب لكل فتنة هوالذي يقول كروهاجذعةبعدماهرمت يستعينون بالضعفةويستنصرون بالنساءكأمطحال أحب أهلهاإليهاالبغي"
یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ وہ علی(ع) ایک لومڑی ہے جس کی گواہ اس کی دم ہے ہر طرح کے فتنے برپا کرتا ہے۔ بڑے بڑے فتنوں کا ہلکا کر کے بیان کرتا ہے اور لوگوں کو فتنہ و فساد پر آمادہ کرتا ہے کمزوروں سے کمک چاہتا ہے اور عورتوں سے مدد چاہتا ہے وہ ام طحال کے مانند ہے جس سے اس کے گھر والے زنا کرنے کے شائق تھے۔
آپ حضرات فحش اور اہانت کے لفظ سے تعجب کرتے ہیں تو کیا یہ دشنام اور اہانت کے الفاظ نہیں تھے؟ کیا لومڑی کی دم او زنا کار عورت ام طحال سے علی(ع) و فاطمہ(ع) کو نسبت دینا ہی وہ تعریف و احترام ، محبت و نصرت اور ہمدردی تھی جس کی پیغمبر(ص) ہدایت فرمائی تھی؟ حضرات اس حسن ظن اور تعصب میں کب تک غرق رہیئے گا ؟ بیچارے شیعوں سے کب تک بدگمانی کیجئے گا اور ان کو محض اس جرم میں کب تک رافضی و کافر کہتے رہیئے گا کہ وہ ان اشخاص کے ایسے اقوال و افعال پر نکتہ چینی کیوں کرتے ہیں جو خود آپ کی کتابوں میں درج ہیں۔
منصفانہ فیصلہ ضروری ہے
آخر آپ حق و اںصاف کی آنکھیں کیوں نہیں کھولتے تاکہ حقیقت نطر آئے؟ آیا رسول اللہ(ص) کے بوڑھے مصاحب کی یہ حرکت اور غیر مہذب گفتگو مناسب اور جائز تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ دوسری کتابوں میں ہے کہ کہا :إنماهوثعالةشهيده ذنبها یعنی معاذ اللہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ایسی لومڑی ہیں جس کی گواہ اس کی دمہے (یعنی معاذ اللہ علی علیہ السلام)
اگر کوئی بازاری اور حقیر آدمی کسی کو گالی دے تو اس میں اور اس بوڑھے انسان میں فرق ہے جو رات دن مسجد میں موجود رہتا ہے اور ذکر وعبادت میں دلچسپی دکھاتا ہو پھر بھی ایسے الفاظ منہ سے نکالے۔
معاویہ ، مروان اور خالد جیسے لوگوں کی زبان سے زشت و بیہودہ کلمات فحش گوئی ، دشنام طرازی اور رکیک اتہامات دل کو اتنی زیادہ تکلیف نہیں پہنچاتے جس طرح رسول اللہ(ص) کے مصاحب غار کے منہ سے۔
حضرات ہم اس زمانے میں موجود نہیں تھے صرف علی(ع) ابوبکر، عمر ، عثمان ، طلحہ، زبیر، معاویہ، مروان، خالد اور ابو ہریرہ وغیرہ کے نام سنتے ہیں لہذا ان میں سے کسی کے ساتھ ہماری دوستی یا دشمنی نہیں ہے۔ ہم تو صرف دو چیزیں دیکھتے ہیں ایک یہ کہ خدا و رسول(ص) ان میں سے کس کو دوست رکھتے تھے اورکس لیے سفارشاور وصیت فرمائی ہے؟ دوسرے ان کے اعمال و اقوال اور رفتار و گفتار کا جائزہ لیتے ہیں ، اس کے بعد انصاف کے ساتھ حق فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم آپ حضرات کی طرح فورا یقین نہیں کرلیتے اور خواہ مخواہ سر نہیں جھکاتے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ محض حسن ظن کی بنا پر آنکھیں بند کر کے ہرکس و ناکس کے برے عمل کو بھی نیکی پر محمول کریں، اس کی تعظیم و تکریم فرض سمجھیں اور اس کے ناجائز حرکات کی بے موقع صفائی پیش کریں۔
انسان جس وقت آںکھوں پر سفید عینک لگاتا ہے تو اس کو ہررنگ اپنی اصلی حالت پر نظر آتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اگر اس کو سفید رنگ مطلوب ہے تو سیاہ زرد اور سرخ رنگ بھی سفید نظر آئیں۔ لہذا اگر آپ حضرات بھی اپنی دوستی اور دشمنی سے الگ ہوکر انصاف کی سفید اور نورانی عینک لگائیں تو اچھا اور برے کو برا دیکھیں۔ اور تصدیق کریں گے کہ ابوبکر جیسے آدمی کے لیے ایسا قول و فعل انتہائی مذموم ہے ۔ جو شخص اپنے کو مسلمانوں کا خلیفہ سمجھے اور ایک مدت تک رسول اللہ(ص) کی صحبت میں بیٹھ چکا ہو وہ جاہ و اقتدار کی محبت میں اور شان حکومت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے رکیک جملے اور انتہائی قبیح گالیاں زبان پر جاری کرنے کے لیے تیار ہوجائے، اور وہ بھی خدا و رسول(ص) کی دو محبوب ہستیوں کی شان میں؟
ابوبکر کی باتوں پر ابن ابی الحدید کا تعجب
اس برتائو پر صرف ہمیں کو تعجب نہیں ہے بلکہ آپ کے انصاف پسند علماء کو بھی حیرت ہوتی ہے، چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص80 میں لکھا ہے کہ خلیفہ کی اس گفتگو سے مجھ کو تعجب ہوا اور میں نے اپنے استاد ابو یحیی نقیب جعفر بن یحیی بن ابی زید البصری سے دریافت کیا کہ ان کلمات میں خلیفہ کا کنایہ اور تعریض کا رخ کس کی طرف تھا؟ انہوں نے کہا کہ کنایہ اور تعریض نہیں تھی بلکہ صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے میں نے کہا کہ اگر صراحت ہوتی تو میں سوال ہی نہ کرتا :
"فضحك وقال بعلي بن أبيطالب عقلت هذاالكلام كله لعلي يقوله قال نعم إنه الملكي ابني"
یعنی وہ ہنس پڑے اورکہا کہ یہ باتیں علی علیہ السلام کو کہی گئیں میں نے کہا کیا یہ سارے الفاظ علی علیہ السلام کے لیے
استعمال کئے گئے؟ انہوں نے کہا ہاں اے فرزند سلطنت اسی کو کہتے ہیں۔( یعنی جاہ طلب لوگ اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے ایسے عمل سے بھی دریغ نہیں کرتے)
صاحبان انصاف!عبرت حاصل کیجئے اور منصفانہ فیصلہ کیجئے کہ اگر کوئی شخص آپ کے ماں باپ کے لیے ایسی جسارت و اہانت کرے اور ان کو لومڑی، لومڑی کی دم اور زنا کار عورت سے مثال دے تو کیا آپ کا دل اس سے صاف ہوسکتا ہے؟ کیا یہی انصاف ہے کہ اگر ہم اس پر گرفت کریں تو آپ اعتراض کے لیے تیار ہوجائیں ؟ پھر بھی ہمارا ایمان مانع ہے کہ جتنا واقعہ ہوا ہے اور جس کی خود آپ کے اکابر علماء نے تصدیق کی ہے اس سے زیادہ نہ کہیں اور نہ لکھیں۔
اگر اس مجمع کے سامنے کوئی شخص کہے کہ حافظ صاحب لومڑی ہیں شیخ صاحب اس کی دم ہیں اور فاحشہ عورت کی طرح جلسے میں گفتگو کرتے ہیں تو آپ کو کس قدر ناگوار ہوگا؟
حضرات آنکھیں بند نہ کیجئے بلکہ دیدہ اںصاف سے مسجد رسول(ص) پر نظر ڈالئے کہ ایک بوڑھا شخص پیغمبر(ص) کا یار غار بعنوان خلافت منبر رسول(ص) کے اوپر مہاجرین و اںصار کے سامنے کہتا ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام(معاذ اللہ) لومڑی ہیں، فاطمہ(ع) اس کی دم ہیں( یا دوسری روایتوں کی بنا پر اس کے برعکس اور یہ ( نعوذ باللہ) زن زانیہ و فاحشہ کے مانند لوگوں کے درمیان حرکتیں کرتے ہیں تو اس وقت ہمارے مولا و آقاامیرالمومنین اور ہماری جدہ مظلومہ زہرا صلوات اللہ علیہا پر اس مجمع کے سامنے کیا گذری؟ خدا جانتا ہے کہ اس وقت میرا بند بند کانپ رہا ہے، اور آپ دیکھ رہےہیں کہ لزرتے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ میں آپ سے گفتگو کر رہا ہوں۔ اب اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ورنہ ہمارا درد دل بہت ہے۔ع
ایں زماں بگذارتا وقت دگر
آیا رسول اللہ(ص) کی مسند پر بیٹھنے والے اور مصاحب کے لیے سزاوار تھا کہ مطالبہ حق اور صحیح و معقول باتوں کے جواب میں گالیاں دے اور رکیک الفاظ سے حقیقی مومنین کی اور امت کے درمیان آں حضرت کی امانتوں کی توہین کرے۔ ظاہر ہے کہ فحش کہنا عاجزی کا حربہ ہے جس کے پاس صحیح جواب نہیں ہوتا ہے وہ اپنے حریف کو بدزبانی سے مغلوب کرتا ہے۔ پھر یہ سب حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا جن کے لیے آپ کے تمام علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے آپ کے بارے میں فرمایا "علی مع الحق والحق مع علی حيث دار " ( یعنی علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ گردش کرتا ہے) دشنام دینے کے بعد آپ کی طرف فتنہ انگیزی نسبت بھی دی گئی اور آپ کو سارے فساد کا بانی بتایا گیا۔
علی(ع) کو ایذا دینا پیغمبر(ص) کو ایذا دینا ہے
کیا علی(ع) وفاطمہ علیہما السلام کے بارے میں پیغمبر(ص) کی ان سفارشوں کا یہی نتیجہ تھا جن کو آپ کے سارے علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے؟ یعنی آں حضرت(ص) نے ان دونوں حضرات کے لیے علیحدہ علیحدہ فرمایا کہ ان کو اذیت دینا مجھ کو
اذیت دینا ہے۔ ان ارشادات کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا "من اذاهما فقد آذانی و من آذانی فقد اذی الله " ( یعنی جس شخص نے ان دونوں (علی و فاطمہ(ع)) کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھ کو آزار دیا اس نے خدا کو آزار دیا۔
نیز فرمایا:من آذی عليا فقد اذانی ( یعنی جس نے علی(ع) کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی۔)
علی(ع) کو دشنام دینا پیغمبر(ص) کو دشنام دینا ہے
اور ان سب سے بالاتر آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہے کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا "من سب عليا فقد سبنی و من سبنی فقد سب الله " یعنی جس نے علی(ع) کو دشنام دیا اس نے در اصل مجھ کو دشنام دیا اور جس نے مجھ کو دشنام دیا اس نے درحقیقت خدا کو دشنام دیا)
اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب10 کے شروع میں ابن عباس سے ایک مفصل حدیث نقل کی ے کہ انہوں نے شام والوں کو ایک جماعت کے سامنے جو علی(ع) کو سب و طعن کرتے تھے کہا کہ میں نے حدیث رسول خدا(ص) کو علی علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے سنا "من سبک فقد سبنی و من سبنی فقد سب الله و من سب الله ابنه الله علی مفخزيه فی النار " ( یعنی جو شخص تم کو گالیدے خدا اس کو منہ کےبل جہنم میں جھونک دے گا۔
اس حدیث کے بعد اور بھی مسند احادیث نقل کرتے ہیں جو سب کی سب ان لوگوں کے کفر پر دلالت کرتی ہیں جو علی (ع) کو دشنام دیں۔ چنانچہ دسویں باب کا عنوان ہیاس عبارت سے قائم کیا ہے کہ "الباب العاشر فی کفر من سبعليا "( یعنی دسواں باب اس شخص کے کفر میں جو علی(ع) کو دشنام دے)
نیز حاکم نے مستدرک جلد سوم ص121 میں آخری جملے کے علاوہ یہی حدیث نقل کی ہے پس ان حدیثوں کے مطابق علی علیہ السلام کو سب وشتم کرنے والے خدا و رسول(ص) کو سب و شتم کرنے والے ہیں اور خدا و رسول(ص) کو سب و شتم کرنے والے ہیں۔
جیسے فرزندان ابی سفیان دیگر بنی امیہ خوارج اور نواصب وغیرہ، ملعون اور جنہمی ہیں۔ بس اس قدر کافی ہے۔ قیامت چاہے دیر میں آئے لیکن آئے گی ضرور چونکہ ہماری جدہ مظلومہ(ع) نے سکوت اختیار کیا اور اس کی داد رسی روز قیامت محکمہ عدالت دالہیہپر اٹھا رکھی لہذا ہم بھی سکوت اختیار کر کے آپ کی معتمد علیہ حدیث کو رد کرنے والے دلائل کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
علی(ع) باب علم وحکمت ہیں
حدیث لا نورث کی مردودیت پر دوسری دلیل یہ ہے کہ اس متفق علیہ فریقین (شیعہ وسنی) حدیث شریف کو دیکھتے ہوئے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا "انا مدينة العلم و علی بابها انا دار الحکمه و علی بابها" (یعنی میں شہر علم ہوں اور علی(ع) اس کے در ہیں۔ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی(ع) اس کے در ہیں۔) علمی اور عقلی قواعد کے روسے لازمی ہے کہ رسول اللہ(ص) کا باب علم آں حضرت(ص) کے احادیث و ہادایات سے بالخصوص جن کا تعلق احکام سے ہو اور خاص الخاص طور پر جو وراثت کے بارے میں ہوں پوری آگاہی رکھتا ہو کیونکہ ان سے ساری امت کا فائدہ اور نقصان و ابستہ ہے۔ ورنہ پھر وہ باب علم نہیں ہوسکتا جس کے لیے رسول خدا(ص) فرمائیں "من اراد العلم فليات الباب " یعنی جو شخص علم حاصل کرنا چاہے وہ علی(ع) کے دروازہ پر آئے) اور نہ عقل اس کو باور کرسکتی ہے کہ پیغمبر(ص) نے بنا پر ان روایات کے جو آپ کی تمام معتبر کتابوں میں وارد ہیں علی علیہ السلام کو ساری امت سے بہتر فیصلہ کرنے والا بتایا ہوگا اور فرمایا ہوگا علی اقضاکم یعنی علی علم و قضاوت میں تم سب لوگوں سے افضل ہیں۔
کیا یہ ایک مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) کسی کے لیے تصدیق فرمائیں کہ یہ علم قضاوت میں سب سے بالاتر ہے لیکن وہ وراثت و حقوق کے مسائل اچھی طرح نہ جانتا ہو۔ اور پھر آں حضرت(ص) احکام میراث اس کو بتائیں بھی نہیں؟ در آنحالیکہ قاضی کے لیے جملہ علوم میں کہ ایک حدیث اور وہ بھی میراث کے بارے میں جس کا خصوصیت سے رسول اللہ(ص) کے ذاتی اور گھریلو معاملات سے تعلق ہو آںحضرت کے وصی اور باب علم علی علیہ السلام نے تو نہ سنی ہو لیکن اوس بن حدثان یا ابوبکر ابن ابی قحافہ نے سن لی ہو؟
آیا آپ کی عقل قبول کرتی ہے کہ ایک معمولی جاہل آدمی بھی وصیت کرے، کسی قابل اطمیان انسان کی میراث کا معاملہ نہ بتائے بلکہ ایک غیر شخص سے کہہ جائے کہ میرے بعد ایسا ایسا ہوگا؟ نہ کہ رسول خدا(ص) کی ایسی جامع ومانع ہستی جو خاتم الانبیاء بھی ہوں اور جس کی غرض بعثت انسانوں کے نظام اجتماعی کی حفاظت اور دنیا و آخرت کی آسانیاں فراہم کرنا ہوں، اپنے لیے وصی و وراث اور جانشین معین فرمائے یعنی خدا علی (ع) کو آں حضرت کا وصی اور وارث مقرر کرے، اور پھر ایسی حدیث جو منصب و صایت پر فائز ہونے کے علاوہ آں حضرت کے علم و حکمت کا در بھی ہو؟
شیخ : ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہے کیوںکہ حدیث مدینہ کو اکابر علماء نے قبول نہیں کیا ہے اور موضوع وصایت بھی علماء جمہور کے نزدیک مردود اور غیر مسلم ہے اس لیے کہ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں نیز ہمارے دوسرے بزرگ عالموں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے احتضار کے وقت پیغمبر(ص) کا سر میرے
سینے پر تھا یہاں تک کہ آپ نے انتقال فرمایا۔ یعنی میں دیکھ رہی تھی کہ کوئی وصیت نہیں کی یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی وصیت کی ہو اور ام المومنین کو پتہ نہ چلا ہو جب کہ آخر وقت تک رسول اللہ(ص) کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا؟ اگر وصیت کی ہوتی تو ام المومنین رضی اللہ عنہا اس کو ضرور نقل کرتیں۔ پس وصیت کا قصہ سرے سے ہی ختم ہو جاتا ہے۔
خیر طلب: حدیث مدینہ کے بارے میں آپ نے زیادتی فرمائی کیونکہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ اس پر فریقین کا اتفاق ہے اور یہ تقریبا تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے جیسا کہ آپ کے اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں مثلا امام ثعلبی، فیروز آبادی حاکم نیشاپوری محمد جزری، محمد بن جریر طبری، سیوطی، سخادی متقی ہندی، محمد بن یوسف گنجی شافعی، محمد بن طلحہ شافعی، قاضی فضل بن روز بہان منادی، ابن حجر مکی، خطیب خوارزمی، سلیمان قندوزی ، حنفی، ابن مغازل فقیہ شافعی، دیلمی، ابن طلحہ شافعی، میر سید علی ہمدانی، حافظ ابونعیم اصفہانی ، شیخ الاسلام حموینی، ابن ابی الحدید، معتزلی، طبرانی، سبط ابن جوزی اور امام ابوعبدالرحمن نسائی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ رہا موضوع وصایت اور رسول اللہ(ص) سے مروی نصوص تو وہ بکثرت، بے شمار اور متواترات مسلمہ میں سے ہیں۔ اور سوا کینہ پرور، ضدی متعصب اور جاہل انسان کے قطعا کوئی وصیت کا منکر نہیں ہوسکتا ۔
نواب : خلیفہ پیغمبر(ص) ہی آں حضرت(ص) کا وصی بھی ہے جو آںحضرت(ص) کے گھریلو کاموں کو بھی انجام دیتا ہے۔ جیسا کہ خلفاء رضی اللہ عنہم انجام دیتے تھے اور ازواج رسول (ص) کے وظیفہ ادا کرتے تھے۔ یہ کہاں سے معلوم ہواکہ علی کرم اللہ وجہہ کو خاص طور سے وصایت پر معین فرمایا تھا؟
خیر طلب : آپ نے صحیح فرمایا۔ جو بدیہی چیز ہے کہ رسول اللہ(ص) کا خلیفہ اور وصی ایک ہی شخص تھا چنانچہ دلائل و نصوص خلافت کو گذشتہ راتوں میں عرض کرچکا ہوں۔ اور آن حضرت کو وصایت نصوص جلیہ کےساتھ بالکل واضح و آشکار ہے کہ جس موقع پر دوسرے لوگ سازش اور سیاسی چالوں میں منہمک تھے وصی رسول(ص) آں حضرت کے غسل اور کفن و دفن میں مشغول تھا، اور بعد کو بھی وہ امانتیں ادا کرنے میں مصروف رہا جو آں حضرت کے پاس جمع تھیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس اور ہمارے آپ کے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے۔
وصایت کے بارے میں روایتیں
اب میں مجبور ہوں کہ اس مطلب کے ثبوت میں چند مختصر حدیثوں کی طرف اشارہ کروں تاکہ شیخ صاحب پھر یہ نہ فرمائیں کہ ہمارے علماء کے نزدیک مردود ہے۔ امام ثعلبی مناقب اور اپنی تفسیر میں، ابن مغازلی فقیہ شافعی مناقب میں اور میر سید علی ہمدانی مودت القربیمودت ششم میں خلیفہ دوم عمر ابن خطاب سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
" ان رسول الله لما عقد المواخاة بين اصحابه قال هذا علی اخی فی الدنيا والآخرة و خليفتی فی اهلی و وصيي فی امتی و وارث علمی و قاضی دينی ماله منی مالی منه نفعه نفعی و ضره ضری منأحبهفقدأحبني
ومنأبغضهفقدأبغضني"
یعنی رسول اللہ (ص) نے جس روز اصحاب کے درمیان اخوت اور برادری قائم فرمائی تو فرمایا یہ علی(ع) دنیا و آخرت میں میرے بھائی، میرے اہل بیت میں میرے خلیفہ ، میری امت میں میرے وصی، میرے علم کے وارث اور میرے قرضکو ادا کرنے والے ہیں، جو ان کا ہے وہ میرا ہے،جو میرا ہے وہ ان کا ہے، ان کانفع میرا نفع اور ان کا ضرر میرا ضرر ہے، جو شخص ان کو دوست رکھے اس نے در اصل مجھ کو دوست رکھا اور جو ان سے دشمنی رکھے در حقیقت اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ کے باب15 کو اسی موضوع سے مخصوص کیا ے اور امام ثعلبی، حموینی، حافظ ابونعیم، احمد بن حنبل، ابن مغازلی، خوارزمی اور دیلمی سے بیس روایتیں وصایت علی علیہ السلام کے ثبوت میں نقل کی ہیں جن میں سے بعض کو آپ حضرات کے خیالات روشن کرنے کے لیے عرض کرتا ہوں۔
مسند امام احمد ابن حنبل سے نقل کرتے ہیں (سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص26، اور ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں بھی یہروایت نقل کی ہے) کہ انس بن مالک کہتے ہیں میں نے سلمان سے کہا کہ پیغمبر(ص) سے سوال کرو کہ ان کا وصی کون ہے؟
" فَقَال سَلْمَان يَارَسُولَاللَّهِمَنْ وَصِيُّكَ،فقَالَ: يَاسَلْمَانُمَنْكَانَوَصِيُّمُوسَى،فَقَالَ: يُوشَعُبْنُنُونٍ. قَالَ: فَإِنَّوَصِيِّيوَوَارِثِييَقْضِيدَيْنِيوَيُنْجِزُمَوْعُودِيعَلِيُّبْنُأَبِيطَالِبٍ."
یعنی سلمان نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ(ص) آپ کا وصی کون ہے ؟ فرمایا اے سلمان موسی کاوصی کون تھا؟ عرض کیا یوشع بن نون ۔ فرمایا میرا وصی وارث جو میرے قرض کو ادا کرے گا اور میرے وعدے کو پورا کرے گا۔ علی ابن ابی طالب ہیں۔
خوارزم کے اخطب الخطباء موفق بن احمد سے اور وہبریدہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :"لکل نبی وصی و وارث و ان عليا وصی و وارثی " ( یعنی ہر نبی کا ایک وصی اور وارث ہے اور بتحقیق میرے وصی اور وارث علی(ع) ہیں۔)
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب22 ص131 میں بھی سند کے ساتھ اسی خبر کی روایت کی ہے اور نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ ایسی بہتر حدیث ہے کہ اس کو محدث شام نے بھی اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔
شیخ الاسلام حموینی سے اور وہابوذر غفاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
"قال رسول الله صلی الله عليه وسلم انا خاتم النبيين و انت يا علی خاتم الوصيين الی يوم الدين"
یعنی رسول اللہ صلعم نے فرمایا میں خاتم الانبیاء ہوں اور تم اے علی(ع) خاتم الاوصیاء ہو روز قیامت تک۔
خطیب خوارزمی سے اور وہ ام المومنین ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اکرم(ص) نے فرمایا :
"إِنَّاللَّهَعَزَّوَجَلَّاخْتَارَمِنْكُلِّنَبِيٍّوَصِيّاًوَعَلِيٌ وَصِيِّي فِي عِتْرَتِيوَأَهْلِبَيْتِيوَأُمَّتِيمِنْبَعْدِي"
یعنی خدا نے ہر پیغمبرکے لے ایک وصی منتخب فرمایا اور میرے بعد میری عترت میرے اہل بیت اور میری امت میں میرے وصی علی(ع) ہیں۔
اور ابن مغازلی فقیہ شافعی سے اور وہ اصبغ ابن نباتہ سے ( جو امیرالمومنین(ع) کے اصحاب خاص میں سے تھے اور بخاری و مسلم نے بھی ان سے روایت کی ہے) نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہمارے مولا امیرالمومنین(ع) نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا :
"ايها الناس
أناإمام البرية،ووصي خيرالخليقة،وأبوالعترةالطاهرة،أناأخورسولاللّهصلّىاللّهعليهوآلهووصيهووليهوصفيه،وحبيبه،أناأميرالمؤمنينوقائدالغرالمحجلينوسيدالوصيين،حربيحرباللّهوسلمىسلماللّهوطاعتىطاعةاللّهوولايتىولايةاللّهوشيعتىأولياءاللّهوأنصارىأنصاراللّه،"
یعنی لوگو میں امام خلائق بہترین مخلوقات کا وصی اورہدایت کرنے والی پاک عترت کا پدر ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھائی، ان کا وصی، ان کا ولی، ان کا خالص دوست اور ان کا حبیب ہوں، میں امیر المومنین، نورانی چہروں ہاتھوں اور پائوں والوں کا پیشوا اور اوصیاء کا سید و سردار ہوں مجھ سے جنگ کرنا خدا سے جنگ کرنا ہے مجھ سے صلح و آشتی رکھنا خدا سے صلح و آشتی رکھنا ہے، میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے، میری دوستی خدا کی دوستی ہے،میرے پیرو خدا کے دوست ہیں۔ اور میری نصرت کرنے والے خدا کی نصرت کرنے والے ہیں۔
نیز ابن مغازلی شافعی مناقب میں عبداللہ ابن مسعود سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :
"انْتَهَتِ الدَّعْوَةُإِلَيَّوَإِلَىعَلِيٍّلَمْيَسْجُدْأَحَدُنَاقَطُّلِصَنَمٍفَاتَّخَذَنِينَبِيّاًوَاتَّخَذَعَلِيّاًوَصِيّاً."
یعنی دعوت رسالت مجھ پر اور علی(ع) پر ختم ہوئی، ہم دونوں میں سے کسی نے قطعا بت کو سجدہ نہیں کیا، پس مجھ کو نبی(ص) اورعلی(ع) کو وصی بنایا۔
میر سید علی ہمدانی شافعی مودۃ القربی مودت چہارم میں عتبہ بن عامر جہنی سے نقل کرتے ہیں کہ کہا :
"بايعنارسول اللهعلىقول ان لا الهالله وحده لا شريک لهوأن محمدا نبيهوعلياوصيهفأيالثلاثةتركناكفرنا"
یعنی ہم نے اس قول پر رسول اللہ(ص) کی بیعت کی کہ سوا اللہ کے کوئی خدا نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یقینا محمد(ص) اس کے نبی اور علی(ع) ان کے وصی ہیں۔ پس ہم ان تینوں باتوں میں سے جس کو بھی چھوڑیں گے کافر ہوجائیں گے۔
نیز اسی کتاب مودۃ القربی میں ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :
"إِنَّاللَّهَجَعَلَلِكُلِّنَبِيٍّوَصِيّاً- شَيْثوَصِيُّآدَمَ،يٌوشَع وَصِی مُوسَی وَشَمْعُونوَصِيُّعِيسَى،وَعَلِيّاوَصِيِّي،وَهُوَخَيْرُالْأَوْصِيَاءِفِيالبَدَاء،وَأَنَاالدَّاعِي،وَهُوَالْمُضِيئ."
یعنی در حقیقت خدائے تعالی نے ہر پیغمبرکے لیے ایک وصی قرار دیا شیث کو وصی آدم، یوشع کو وصی موسی، شمعون کو وصی عیسی، اور علی(ع) کو میرا وصی بنایا اور میرا وصی سارے او صیاء سے بہتر ہے میں حق کی طرف دعوت دینے والا ہوں اور علی(ع) اس کو روشن کرنے والے ہیں۔
صاحب ینابیع المودۃ مناقب موفق بن احمد خوارزمی سے اور وہ ابو ایوب اںصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ(ص) بیمار تھے تو فاطمہ سلام اللہ علیہا آئیں اور رونے لگیں، آں حضرت(ص) نے فرمایا :
"يافاطمةإنّ لكرامةاللّهإياكزوّجكمنهوأقدمهمسلماوأكثرهمعلما،وأعظمهمحلما،إنّاللّهعزّوجلّأطلعإلىأهلالأرضاطلاعةفاختارنيمنهمفبعثنينبيّامرسلا،ثمّأطلعاطلاعةفاختارمنهمبعلكفأوحىإليأنازوجهإياكواتخذهوصيّا."
یعنی فاطمہ (ع) تم پر اللہکی خاص کرامت یہ ہے کہ تمہارا شوہر ایسے شخص کو قرار دیا جس
کا اسلام سب سے سابق، جس کا علم سب سے زیادہ اور جس کی بردباری سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
در حقیقت خدائے تعالی نے اہل زمین کی طرف مخصوص توجہ فرمائی پس ان میں سے مجھ کو منتخب کر کے نبوت و رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ پھر ایک خاص توجہ فرمائی اور ان میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کیا، پس میری طرف وحی بھیجی کہ تمہارے ساتھ ان کا عقد کردوں اور ان کو اپنی وصی قرار دوں۔
ابن مغازلی فقیہ شافعی نے مناقب میں اس حدیث کو درج کرنے کے بعد یہ جملے مزید نقل کئے ہیں کہ فرمایا:
" يَافَاطِمَةُإِنَّاأَهْلَالْبَيْتِأُعْطِينَاسِتَّخِصَالٍلَمْيُعْطَهَاأَحَدٌمِنَالْأَوَّلِينَوَلَمْيُدْرِكْهَاأَحَدٌمِنَالْآخِرِينَمنا نَبِيُّنَاافضل الْأَنْبِيَاءِوَهُوَأَبُوكِوَوَصِيُّنَاخَيْرُالْأَوْصِيَاءِوَهُوَبَعْلُكِوَشَهِيدُنَاخَيْرُالشُّهَدَاءِوَهُوَحَمْزَةُعَمُّأَبِيكِوَمِنَّاالَذيلَهُجَنَاحَانِيَطِيرُبِهِمَافِيالْجَنَّةِحَيْثُيَشَاءُوَهُوَجَعْفَرٌابْنُعَمِّكِوَمِنَّاسِبْطَان و سَيدَا شَبَابِ اَهلِ الجَنَةِابْنَاكِوَالَّذِينَفْسِيبِيَدِهِان مَهْدِيّهَذِهِالْأُمَّةِيُصَلِّيعِيسَى بن مريمخَلْفَهُمِن وُلدِکِ"
یعنی اے فاطمہ(ع) ہم اہل بیت(ع) کو سات خصلتیں ایسی عطا کی گئیں جو نہ اولین میں سے کسی کو ملیں نہ آخرین میں سے کوئی ان کو پاسکے گا۔ سب سے افضل پیغمبر(ص) ہم میں سے ہے اور وہ تمہارا باپ ہے، ہمارا وصی تمام اوصیاء سے بہتر ہے اور تمہارا شوہر ہے، ہمارا شہید سب شہداء سے اچھاہے اور وہ تمہارے چچا حمزہ ہیں، ہم میں سے وہ شخص ہے جس کے دو شہپر ہیں جن سے وہ جب چاہتا ہے جنت میں پرواز کرتا ہے اور وہ تمہارے چچا کے بیٹے جعفر ہیں ہم میں سے دو سبط اور جوانان اہل جنت کے دو سردار ہیں اور وہ دونوں تمہارے فرزند ہیں اور قسم اس خدا کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یقینا اس امت کے مہدی جن کے پیچھے عیسی ابن مریم نماز پڑھیں گے تمہاری اولاد میں سے ہیں۔
ابراہیم ابن محمد حموینی نے فرائد میں نقل حدیث کے بعد اتنے جملے اور زیادہ روایت کئے ہیں کہ نام مہدی علیہ السلام کے بعد فرمایا :
"ويملأالأرضعدلا و قسطاكماملئتجوراو ظلما يافاطمةلاتحزنيولاتبكيفإنّاللّهعزّوجلّأرحمبكوأرأفعليكمنّي وذالکلمكانكوموقعكفيقلبيقدزوّجكاللّهزوجاوهوأعظمهمحسبا، و اکرمهم نسباوأرحمهمبالرعية،وأعدلهم بالسويّة،وابصرهمبالقضيّة"
یعنی یہ زمین کو عدل و داد سے بھر دیں گے جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ اے فاطمہ(ع) غمگین نہ ہو اور گریہ نہ کرو کیونکہ خدا تعالی تم پر مجھ سے زیادہ رحیم و مہربان ہے اور یہ میرے دل میں تمہاری قدر و منزلت کی وجہ سے ہے۔ در حقیقت تم کو ایسا شوہر عطا کیا ہے جو حسب میں سب سے بزرگ نسب میں سب سے بلند رعایا پر سب سے زیادہ مہربان، مساوات کے ساتھ سب سے زیادہ عادل اور فیصلے میں سب سے زیادہ باریک بیں ہے۔
میرا خیال ہے کہ نواب صاحب کی تسکین کی خاطر اور شیخ صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اسی قدر احادیث نبوی(ص) کا نقل کر دینا کافی ہوگا۔ ورنہ بارگاہ رسالت سے منقولہ وہ احادیث جن میں سے ہر ایک میں کسی نہ کسی مناسبت سے
حضرت علی(ع) کی وصایت کا ذکر کیا گیا ہے بہت کثرت سے اور بے شمار ہیں۔
وقتِ وفات رسول(ص) کا سر مبارک سینہ امیرالمومنین(ع) کے اوپر تھا
اور شیخ صاحب کا یہ فرمانا بھی بالکل مردود ہے کہ وقت وفات رسول اللہ(ص) کا سر مبارک ام المومنین عائشہ کے سینے پر تھا۔ اس لیے کہ ان اخبار کثیرہ کے خلاف ہے جو علاوہ اس کے کہ عترت اور اہل بیت طہارت(ع) کے نزدیک ثابت و محقق ہیں اور تمام علماء شیعہ نے تواتر کے ساتھ ان کو نقل کیا ہے، خود آپ کے اکابر علماء کی معتبر کتابوں میں بھی وارد ہے کہ وقت وفات آں حضرت(ص) کا سر مبارک حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے سینہ پر تھا اور اسی وقت سینہ علی(ع) میں علوم کے دروازے کشادہ فرمائے۔
شیخ : ہمارے علماء نے کونسی کتاب میں ایسا مضمون ذکر کیا ہے؟
خیر طلب: بہتر ہوگا کہ آپ کنز العمال جلد چہارم ص55 اور جلد ششم ص392 ، ص400 طبقات محمد بن سعد کاتب جز دوم ص51، مستدرک حاکم نیشاپوری جلد سومص139، تلخیص ذہبی، سنن ابن ابی شیبہ، کبیر طبرانی، مسند امام احمد حنبل جلد سوم، حلیتہ الاولیاء، حافظ ابونعیم اور دوسری معتبر کتابیں ملاحظہ فرمائیے جن میںالفاظ و مطالب کے تھوڑے تھوڑے اختلاف کے ساتھ سب کے سب ام المومنین ام سلمہ اور جابر ابن عبداللہ انصاری وغیرہ سے نقل کرتے ہیں کہ اپنی وفات کے وقت رسول اللہ(ص) نے علی علیہ السلام کو بلایا اور آن حضرت(ص) کا سر مبارک ان کے سینے پر رہا یہاں تک کہ روح نے جس اقدس سے مفارقت کی۔
اور ان ساری روایتوں سے زیادہ اہم خود امیرالمومنین علیہ السلام کا بیان ہے جو نہج البلاغہ میں مذکور ہے۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص561 میں روایت کی ہے کہ حضرت نے اپنی تقریر میں صاف صاف فرمایا:
"وَلَقَدْقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صوَإِنَّرَأْسَهُعَلَىصَدْرِيوَلَقَدْسَالَتْنَفْسُهُفِيكَفِّيفَأَمْرَرْتُهَاعَلَىوَجْهِي"
یعنی در حقیقت رسول اللہ(ص) اس حالت میں قبض ہوئی کہ ان کا سر قطعا میرے سینے پر تھا اور ان کی رحالت میرے ہاتھوں پر ہوئی پس میں نے اپنے ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر لیے۔
لیکن ابن ابی الحدید جلد دوم ص562 میں حضرت کے اس بیان کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب آں حضرت(ص) کا سر آپ کے سینے پر تھا تو چند قطرے خون کے جاری ہوئے جو علی علیہ السلام نے اپنے چہرے پر مل لئے۔
یہ سارے مضبوط دلائل ثابت کرتے ہیں کہ عائشہ والی روایت مردود ہے اور ناقابل قبول ہے اس لیے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے عائشہ کو پہلے ہی سے سخت عداوت تھی۔ چنانچہ آئندہ انشاء اللہ کسی شب میں اگر کوئی مناسب موقع آگیا تو اس کو بھی عرض کروں گا۔
امر وصایت کی تحقیق
انہیں احادیث سے نواب صاحب کی اس بات کا ایک دوسرا مکمل جواب بھی نکلتا ہے کہ خلیفہ کی موجودگی میں وصی کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ اگر ایک عقلمند انسان اپنی عادت سے ہٹ کے ذرا انصاف کے ساتھ حدیثوں ہی میں غور کرےبالخصوص ان احادیث میں جن کے اندر ارشاد ہے کہ جس خدا نے اوصیاء اور انبیاء کرام کو معین فرمایا اسی نے علی کو میری وصایت پر مقرر فرمایا ہے تو اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں ذاتی اور معمولی خاندانی وصیت مراد نہیں ہے جیسی کہ ہر فرد بشر اپنے بعد کے لے کرتا ہے بلکہ وصایت بمعنائے خلافت مراد ہے جس کا حامل امت کے جملہ اجتماعی و انفرادی معاملات میں تصرف کاحق رکھتا ہے اور یہی وصایت منصب نبوت کی قائم مقام ہے۔
حضرت کے مرتبہ وصایت کی آپ کے تمام بزرگ علماء نے تصدیق کی ہے اور سوا ان تھوڑے سے متعصب و معاند افراد کے جنہوں نے آپ کے جملہ فضائل سے انکار کردیا ہے اور کسی کو اس حقیقت سے انکار نہیں ہے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص26 مطبوعہ مصر میں کہتےہیں:
"فلاريب عندناأنّعليّاعليهالسّلامكانوصيّرسولاللّهصلّىاللّهعليهوآلهوإنخالففيذلكمنهومنسوبإلىالعناد"
یعنی ہمارے نزدیک اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ علی علیہ السلام رسول خدا(ص) کے وصی تھے، اگر چہ وہ شخص اس کی مخالفت کرتا ہے جو ہمارے نزدیک بغض و عناد رکھنے والا ہے۔
وصیت سے متعلق بعض صحابہ کے اشعار
پھر اصحاب رسول(ص) کےبہت سے اشعار نقل کئے ہیں جو سب کے سب وصایت امیرالمومنین کے سلسلے میں ہیں، منجملہ ان کے عبداللہ ابن عباس ( حبر امت) کے دو شعر ہیں۔ پہلے شعر میں کہتے ہیں۔
وَصِيُ رَسُولِ اللَّهِ مِنْدُونِأَهْلِهِوَفَارِسُهُإِنْقِيلَ: هَلْمِنْمُنَازِلِ
یعنی آپ رسول اللہ(ص) کے اہل بیت میں ہونے کے علاوہ ان کے وصی بھی ہیں۔ اور جس وقت مبارز طلب کیا جائے تو میدان جہاد کے شہسوار ہیں۔
خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتیں کے لیے نقل کیا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں کہتے ہیں۔
وصيّ رسول اللّهمندونأهلهوأنتعلىماكانمنذاكشاهده
یعنی آپ رسول اللہ(ص) کے اہل بیت میں ہونے کے علاوہ ان کے وصی ہیں۔ اور جو کچھ آں حضرت(ص) سے صادر ہوا ہے اس پر
آپ ان کے گواہ ہیں۔
نیز ابوالہیثم بن تیہان صحابی کے اشعار میں سے یہ بھی لکھتے ہیں۔
إن الوصي إمامناوولينابرحالخفاءوباحتالأسرار.
یعنی یقینا وصی رسول (ص) ہی ہمارے امام اور ہمارے مولا ہیں، پردہ ہٹ گیا اور خفیہ باتوں کا اعلان ہوگیا۔
یعنی یقینا وصی رسول(ص) ہی ہمارے امام اور ہمارے مولا ہیں، پردہ ہٹ گیا اور خفیہ باتوں کا اعلان ہوگیا۔
اثبات مقصد کے لیے میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں، اگر آپ اس بارے میں بقیہ اشعار و اقوال دیکھنا چاہتے ہوں تو اسی کتاب کی طرف رجوع کیجئے تاکہ اس سے زیادہ حقیقت ظاہر ہو، جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں ایسے اشعار سے بہترے اوراق بھر دیتا جن میں وصیت کا تذکرہ ہے۔
پس معلوم ہوا کہ وصایت او نبوت دنوں لازم و ملزوم ہیں یہ مقام نبوت کے بعد ایک منزل ہے اور یہی خلافت و ریاست عامہ الیہہ کا منصب ہے۔
شیخ : اگر یہ روایتیں صحیح ہیں تو کتب اخبار و احادیث میں ہم کو علی کرم اللہ وجہہ کے نام رسول خدا(ص) کا کوئی ایسا وصیت نامہ کیوں نہیںملتا جیسے مرنے کے وقت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے وصیت نامے ہیں۔
خیر طلب : حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے وصی ہونے کا ذکر اور منصب ولایت کے بارے میں حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے جو ہدایات صادر ہوئے ہیں وہ اہل بیت طاہرین(ع) کے سلسلے سے اکابر علماء شیعہ کی معتبر کتابوں میں تواتر کے ساتھ مندرج اور مروی ہیں، لیکن چونکہ شب اول معاہدہ ہوچکا ہے کہ ہم لوگ یک طرفہ روایتوں سے استدلال نہیں کریں گےلہذا آپ کی معتبر کتابوں میں جو روایات منقول ہیں مجبورا ان میں سے بعض کی طرف جو فی الحال میرے پیش نظر ہیں اشارہ کرتا ہوں۔
فرمان وصیت کی طرف اشارہ
اگر آپ حضرات رسول خدا(ص) کی وصیت اور ان کی ہدایات کے متعلق جو حضرت امیرالمومنین کو دیئے گئے ہیں جملہ روایتوں کا پتہ لگانا چاہتے ہیں تو طبقات ابن جلد دوم ص61، ص63 کنزالعمال علی متقی جلد چہارم ص54 و جلد ششم ص155، ص393، ص403 مسند امام احمد ابن حنبل جلد چہارم ص164 اور مستدرک حاکم جلد سوم ص59، ص111 کی طرف رجوع کیجئے۔ ان کے علاوہ سنن، دلائل بیہقی استعیاب ابن عبدالبر، کبیر طبرانی اور تاریخ ابن مردویہ وغیرہ میں بھی آپ کے اکابر علماء نے مختلف عبارتوں کے ساتھ متفاوت زمانوں میں آں حضرت(ص) کی ہدایتیں نقل کی ہیں۔
جوعبارتیںمکرر ذکر کی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرمایا :
" يا علی أنتأخيووزيريوخليفتيمنبعديفيأهلي،تقضيدينيوتبرئ ذمتي."
یعنی اے علی(ع) تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو تم میرے قرض کو ادا کروگے۔ میرے وعدے کو پورا کروگے
اور مجھ کو بری الذمہ کروگے۔
"يَاعَلِيُّأَنْتَتُغَسِّلُنیوَتُؤَدِّيدَيْنِيوَتُوَارِينِي فِيحُفْرَتِي"
یعنی تمہیں مجھ کو غسل دوگے، میرا قرضادا کروگے اور مجھ کو قبر میں پوشیدہ کروگے۔
علاوہ ان اخبار صریحہ کے اس طرح کے فرمان آںحضرت(ص) کی طرف سے بکثرت صادر ہوئے ہیں، وصیت پر عمل کرنے کے آثار بھی ثبوت دے رہے ہیں کہ امر وصیت کے ماتحت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے آں حضرت(ص) کو غسل دیا ، کفن پہنایا، آپ کے حجرے میں دفن کیا اور آپ کا پانچ لاکھ درہم قرض ادا کیا، جیسا کہ عبد الرزاق نے اپنی جامع میں نقل کیا ہے۔
شیخ : قرآن کے قاعدے اور حکم کے روسے جیسا کہ ارشاد ہے:
"كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذاحَضَرَأَحَدَكُمُالْمَوْتُإِنْتَرَكَخَيْراً- الْوَصِيَّةُلِلْوالِدَيْنِوَالْأَقْرَبِينَبِالْمَعْرُوفِحَقًّاعَلَىالْمُتَّقِينَ"
یعنی تمہارے اوپر فرض کیا گیا کہ جب تم سے کسی کی موت آئے تو اگر دنیاوی مال و متاع چھوڑ رہا ہے تو اپنے ماں باپ اور اقربا کے لیے اس میں سے مناسب حصے کی وصیت کرے یہ پرہیز گاروں کے لیے ضروری ہے۔ آیت ںمبر176 سورہ نمبر2( بقرہ)۔
لازم تھا کہ وفات کے وقت وصیت کریں اور اپنا وصی معین کریں۔ پس جب رسول خدا(ص) نے آثار موت مشاہدہ کئے تو اس موقع پر کیوں وصیت نہیں کی جس طرح سے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے وصیت کی ہے؟
خیر طلب : اول "إِذاحَضَرَأَحَدَكُمُالْمَوْتُ" کا معائنہ یعنی زندگی کے آخری لمحات مراد نہیں ہیں اس لیے کہ اس حالت میں مشکل ہی سے کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنے ہوش میں رہے اور پوری سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنے فرائض پر عمل کرسکے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ موت کے اسباب و آثار و علامتیں مثلا بڑھاپا، ضعف جسمانی اورمرض وغیرہ ظاہر ہوجائے۔
دوسرے آپ کے اس بیان سے میرا درد دلتازہ ہوگیا اور ایک بڑی مصیبت یاد آگئی جو ہرگز بھولنے کے قابل نہیں ہے۔ وہ بڑی مصیبت یہ ہے کہ میرے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باجودیکہ آیات قرآنی کی روشنی میں وصیت کے لیے اس قدر سخت تاکیدات فرمائے اور یہاں تک کہ فرمایا کہ :"مَنْ مَاتَ بِغَيْرِوَصِيَّةٍمَاتَمِيتَةًجَاهِلِيَّةً." ( یعنی جو شخص بغیر وصیت کے مرجائے وہ اہل جاہلیت کی موت مرا۔) تاکہ امت کی کوئی فرد بغیر وصیت کے نہ مرے، مبادا اس کے بعد پس ماندگان میں کوئی نزاع پیدا ہوجائے لیکن جب خود آں حضرت(ص) کا وقت آیا تو حالانکہ تیئس سال کی مدت میں ایک مرتب دستور العمل کے ماتحت اپنے واحد عظیم المرتبت وصی کے لیے جس کو آں حضرت(ص) کے لیے خدا نے معین فرمایا تھا برابر اپنی وصیتوں کا خصوصی اعلان فرمارہے تھے آپ نے مرض الموت میں بھی چاہا کہ جو کچھ اس عرصہ میں کہہ چکے ہیں اس کی تکمیل فرما دیں تاکہ اس کے ذریعہ امت کے اندر ضلالت و گمراہی جنگ و نزاع اور گروہ بندی کی روک تھام ہوجائے لیکن افسوس کہ سیاسی بازیگروں نے سخت مخالفت کر کے آں حضرت(ص) کو اس شرعی اورع خدائی فریضے کہ عملی جامہ پہنانے کی مہلت نہیں دی، جس سے آج آپ کو بھی یہ فرمانے کا موقع ہاتھ آیا کہ آں حضرت(ص) نے مرض الموت میں کیوں وصیت نہیں کیا؟
حکم رسول(ص) کی اطاعت واجب ہے
شیخ : میں سوچتا ہوں کہ آپ کا یہ بیان حقیقت نہ رکھتا ہوگا اس لیے کہ عقل اس کو نہیں مانتی کہ کوئی شخص رسول خدا(ص) کو روکنے کی طاعت رکھتا ہو جب کہ قرآن کریم صاف صاف کہہ رہا ہے"وماأتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا" ( یعنی رسول خدا(ص) تم کو جس چیز کی ہدایت کریں اس کو قبول کرو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہو) نیز اور متعدد آیتوں میں آںحضرت(ص) کے احکام کی اطاعت لازمی قرار دی گئی ہے جیسے"أَطِيعُوااللَّهَ وَأَطِيعُواالرَّسُولَ" ( یعنی اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرو) بدیہی چیز ہے کہ رسول اللہ(ص) کی اطاعت سے انکار کرنا کفر ہے لہذا صحابہ اور آںحضرت(ص) کے ماننے والے ایسا عمل نہیں کرسکتے تھے کہ آپ کو وصیت سے منع کریں۔ ممکن ہے کہ یہ گڑھی ہوئی روایت ہو جس کو امت کی بے اعتنائی ثابت کرنے کے لیے ملحدین کی طرف سے مشہور کردیا گیا ہو۔
پیغمبر(ص) کو وصیت سے روکنا
خیر طلب: میں التماس کرتا ہوں کہ انجان بننے کی کوشش نہ کیجئے! یہ گڑھی ہوئی روایتوں میں سے نہیں ہے بلکہ مسلم الثبوت اخبار صحیح میں سے ہے جس کی صحت پر جملہ اسلامی فرقوں کو اتفاق ہے یہاں تک کہ شیخین بخاری و مسلم نے بھی نقل روایت میں اس قدر سخت احتیاط کے باوجود کہ کوئی ایسی روایت درج نہ ہونے پائے جس سے مخالفین کو گرفت اور استدلال کا موقع ملنے اپنی صحیحین میں اس دردناک واقعے کو نقل کیا ہےکہ رسول اللہ(ص) نے موت کے وقت فرمایا کہ دوات اور کاغذ لائو تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو۔ حاضرین مجلس میں سے کچھ لوگ ایک (سیاسی ) آدمی کے بہکانے میں آکر مانع ہوئے اور اس قدر ہنگامہ برپا کیا کہ آں حضرت بہت دل شکستہ ہوئے اور ناراض ہو کر ان کو اپنے پاس سے نکال دیا۔
شیخ : میں ہرگز اس بات کا یقین نہیں کرسکتا۔ بھلاکون شخص ایسی جرات کرسکتا تھا کہ رسول خدا(ص) کا مد مقابل بنے؟ اگرا یک معمولی انسان بھی وصیت کرنا چاہتا ہے تو کوئی اس کو منع نہیں کرسکتا نہ کہ خدا کے رسول(ص) کو جس کی اطاعت واجب اور جس سے مخالفت و سرکشی باعث کفر ہے۔
چونکہ بزرگحوں کی وصیت ذریعہ ہدایت ہوتی ہے لہذا کوئی اس کی ممانعت نہیں کرتا، چنانچہ خلیفہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے وصیت کی اور کسی نے روک ٹوک نہیں کی۔
میں پھر عرض کرتا ہوں کہ ایسی روایت کو تسلیم نہیں کرسکتا۔
خیر طلب: آپ حق رکھتے ہیںکہ یقین نہ کریں۔ اس پر آپ ہی نہیں ہرمسلمان تعجب کرتا ہے بلکہ اس سے بالاتر میں کہتا ہوں کہ ہر قوم وملت کا سننے والا اس قضیہ سے حیرت میں ہے کہ اگر ایک واجب الاطاعت پیغمبر(ص) آخری وقت میں ایسی وصیت کرنا چاہے جس کا مقصد امت کو گمراہی سے بچانا اور راہ سعادت پر لگانا ہو تو کیونکر اس کو منع کریں گے لیکن کیا کیا جائے کہ ایسی حرکت کی گئی ہے اور اس نے مسلمانوںکے غم و مصیبت کو بڑھا دیا ہے۔
پیغمبر(ص) کو وصیت سے باز رکھنے پر ابن عباس(رض) کا گریہ
یہ صدمہ صرف ہمارے ہی اور آپ کے لیے نہیں ہے بلکہ اصحاب رسول(ص) بھی اس غم انگیز حادثے پر گریہ کرتے تھے۔ چنانچہ بخاری و مسلم اور آپکے دوسرے اکابر علماء نے روایت کی ہے کہ عبداللہ ابن عباس ( حبر امت) اکثر روتے تھے اور کہتے تھے" يوم الخميس ما يو الخميس" (1) اس کے بعد اس قدر گریہ کرتے تھے کہ زمین آںسوئوں سےبھیگ جاتی تھی۔
جب لوگ پوچھتے تھے کہ پنچ شنبے کے روز کیا واقعہ ہوا ہے جس پر آپ اس قدر روتے ہیں؟ تو کہتے تھے کہ جب رسول اللہ(ص) پر مرض الموت طاری ہوا تو آپنے حکم دیا کہ دوات اور کاغذ لے آئو تاکہ تمہارے لیے ایسا نوشتہ لکھ دوں جس سے تم لوگ میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو۔ بعض حاضرین بزم مانع ہوئے اور مزید بر آں یہ کہا کہ محمد(ص) ہذہانبکتے ہیں( معاذ اللہ) وہ جمعرات کا دن تھا جو فراموش نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ قطع نظر اس سے کہ
آں حضرت(ص) کو وصیت نہیں کرنے دی زبان سے بھی تکلیف پہنچائی۔
شیخ : رسول خدا(ص) کو وصیت کرنے سے کس نے منع کیا؟
خیر طلب: یہ خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب تھے جنہوں نے آں حضرت(ص)کو وصیت سے روکا۔
شیخ : میں بہت ممنون ہوں کہ آپ نے جلد ہی میری الجھن رفع کردی۔ چونکہ ان بیانات سے میں بہت پریشان تھا اور یہ کہنا چاہتا تھا کہ اس قسم کی روایتیں شیعہ عوام کی گڑھی ہوئی ہیں لیکن آپ کے لحاظ سے خاموش تھا، اب دل کی بات ظاہر کرتا ہوں اور آپ کو سمجھاتا ہوں کہ اس طرح کے جعلی روایات سے کام نہ لیجئے۔
خیر طلب : میں بھی آپ کو سمجھاتا ہوں کہ بغیر سوچے سمجھے انکار یا اقرار نہ کیا کیجئے کہ حقیقت کھلنے کے بعد (پچھتانا پڑے۔ چنانچہ اس موضوع میں بھی آپ جلدی کر گئے اور اپنی پرانی عادت اور بدگمانی کی بنا پر بغیر سمجھے بوجھے پاکدامن شیعوں پر جعلسازی کی تہمت لگادی۔ حالانکہ میں بار بار عرض کرچکا ہوں کہ ہم شیعوں کو گڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کیونکہ خود آپ ہی کی کتابوں میں ہمارے موافق اور ہمارے عقیدے کے ثبوت میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یعنی جمعرات کا دن، کیسا تھا جمعرات کا دن۔
حدیث منع وصیت کے ماخذ
اس زیر بحث موضوع میں اگر آپ اپنے علماء کی معتبر کتابیں دیکھئیے تو معلوم ہوگا کہ آپ ہی کےاکابر علماء نے اس قضیہ کو نقل کیا ہے مثلا بخاری نے صحیح بخاری جلد دوم ص118 میں، مسلم نے اپنی صحیح مسلم آخر کتاب وصیت میں، حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں، امام احمد بن حنبل نے مسند جلد اول ص222 میں، ابن ابی الحدید نہج البلاغہ جلد دوم ص563 میں، کرمانی نے شرح صحیح بخاری میں، نودی نے شرح صحیح مسلم میں، ابن حجر نے صواعق میں نیز قاضی ابو علی قاضی روز بہان، قاضی عیاض، امام غزالی، قطب الدین شافعی، محمد ابن عبدالکریم شہرستانی، ابن اثیر، حافظ ابونعیم اصفہانی، سبط ابن جوزی، غرض کہ بالعموم آپ کے علماء نے اس المناک وقوعے کی تصدیق کی ہے۔ کہ حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد رسول اللہ(ص) بیمار ہوئے اور اصحاب کی ایک جماعت عیادت کے لیے حاضر ہوئی تو آں حضرت(ص) نے فرمایا"ايتونى بدوات وبياض لاكتب لكم كتابالن تضلوابعدي" ( یعنی میرے پاس دوات اور سادہ کاغذ لےآئو میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد تم لوگ ہرگز گمراہ نہ ہو۔)
امام غزالی نے سر العالمین مقالہ چہارم میں لکھا ہے۔ جس سے سبط ابن جوزی نے بھی تذکرہ ص36 میں نقل کیا ہے نیز آپ کے بعض دوسرے بزرگ علماء نے اس طرح روایت کی ہے کہ فرمایا دوات اور ایک سادہ کاغذ لے آئو" لازيل عنکم اشکال الامر واذکر لکم من المستحق لها بعدی "( اور بعض روایتوں میں ہے کہ فرمایا:)
"لأكتب لكم كتابالاتختلفون فيهبعدي)فقالعمر: عوا الرجل فإنهليهجر،حسبناكتاباللّه"
یعنی تاکہ تم سے (امر خلافت) کا اشکال دفع کردوں، یہ بتادوں کہ میرے بعد اس خلافت کا مستحق کون ہے یا یہ کہ تمہارے لیے ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ جس سے تم لوگ میرے بعد اس معاملہ میں اختلاف پیدا نہ کرو۔ پس عمر نے کہا کہ اس شخص ( یعنی رسول اللہ(ص)، کو چھوڑو کیونکہ در حقیقت یہ ہذیان بک رہا ہے( معاذاللہ) کتاب خدا ہمارے لیے کافی ہے۔
اصحاب کا مجمع دو گروہوں میں بٹ گیا، کچھ عمر کے طرفدار ہوگئے ادر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے اور کچھ لوگ رسول اللہ(ص) کے حامی رہے یہاں تک کہ آپس میں اس قدر تھکا فضیحتی شور و غوغا ہوا کہ آںحضرت(ص) نے ( جو خلق عظیم کے مجسمہ تھے) غصے میں بھر کر فرمایا "قوموا عنی ولا ينبغی عندی التنازع" ( یعنی میرے پاس سے اٹھ جائو کیونکہ میرے پاس لڑنا جھگڑنا ٹھیک نہیں ہے) یہ وہ پہلا فتنہ و فساد تھا جو پیغمبر(ص) کی تیس سال کیجانگاہ محنتوں کے بعد مسلمانوں کے درمیان خود آنحضرت(ص) کے سامنے رونما ہوا اور اس فتنے اور گروہ بندی کے باعث خلیفہ عمر تھے جنہوں نے اپنی باتوں سے نفاق و اختلاف کا بیج بویا اور در پارٹیاں قائم کر دیں، یہاں تک کہ آجکی رات بھی ہماور آپ دونوں اسلامی بھائیوں کو دو گروہوں میں بانٹ کے ایک دوسرے کے مقابلے پر لا کھڑا کیا۔
شیخ : آپ جیسے مہذب اور با اخلاق آدمی سے ایسی جرات اور جسارت کی امید نہیں تھی کہ خلیفہ کی ایسی بزرگ ہستی پر ایسا الزام لگائیے گا۔
خیر طلب : آپ کو خدا کا واسطہ کہ محبت و عداوت کو الگ رکھ کے اور بدگمانی سے ہٹ کے ذرا اںصاف سے بتائیے کہ آپکے انکار کے جواب میں آپ ہی کی کتابوں سے تاریخی واقعات نقلکر کے میں نے جرات و جسارت کی یا خلیفہ عمر نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت با عظمت میں انتہائی درجے کی گستاخی کی کہ علاوہ وصیت سے روکنے، فتنہ و فساد پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں رسول اللہ(ص) کی ایسی بلند شخصیت کے سرہانے شور و ہنگامہ برپا کرنے کے منہ کے اوپر گالی بھی دی اور کہا کہ یہ شخص ہذیان یعنی پاگل پن کی باتیں بک رہا ہے( معاذ اللہ)؟
اس موقع کی مناسبت سے عرب کے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
وتبصرفيالعينمني القذىوفيعينكالجذعلاتبصره
یعنی میری آنکھ کا تنکا تو ڈھونڈتے ہو اور اپنی آںکھ کا شہتیر تم کو نظر نہیں آتا ( مطلب یہ کہ آپ میرے چھوٹے چھوٹے عیوب کی تاک میں تو رہتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں لیکن اپنے بڑے بڑے عیب نہیں دیکھتے) آیا خدائے تعالی آیت نمبر40 سورہ نمبر33( احزاب) میں ارشاد نہیں فرماتا ہے کہ :
"ماكانَ مُحَمَّدٌأَباأَحَدٍمِنْرِجالِكُمْوَلكِنْرَسُولَاللَّهِوَخاتَمَالنَّبِيِّينَ"
یعنی محمد(ص) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول(ص) اور خاتم النبیین ہیں۔
اشارہ یہ ہے کہ آں حضرت(ص) کا ذکر ہمیشہ ادب اور احترام کے ساتھ کرنا چاہئیے اور رسول اللہ(ص) یا خاتم النبیین کہنا چاہئیے۔ یعنی آن حضرت(ص) کو نام لے کر نہ پکارو بلکہ رسول اللہ(ص) کہو۔
لیکن اس موقع پر عمر نے بغیر ادب اور فرمان الہی کا لحاظ کئے ہوئے نام کے ساتھ بھی نہیں بلکہ یہ شخص کہہ کے آں حضرت(ص) کی طرف اشارہ کیا۔
خدا کے لیے انصاف سے کہئے کہ گستاخی میں نے کی یا خلیفہ نے؟
شیخ : یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ ہجر کے معنی ہذیان کے ہیں جس سے بے ادبی اور جسارت کا شبہ کیا جائے؟
تعصب آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے
خیر طلب : تمام اہل لغت و تفسیر اور بالخصوص آپ کے اکابرعلماء جیسے ابن اثیر جامع الاصول میں ابن حجر شرح صحیح بخاری میں اور صاحبان صحاح وغیرہ کہتے ہیں کہ ہجر ہذیان کے معنی میں ہے۔ محترم ! انسان کو تعصب وعناد کا لباس اتار دینا چاہئیے تاکہ حقائق بے نقاب ہو کر سامنے آئیں۔جس پیغمبر(ص) کے حق قرآن مجید ہدایتدے رہا ہے کہ ان کو رسول اللہ(ص) اور خاتم النبیین کہو اگر کوئی شخص ان الرجل لیہجرکہہ کے عمدا ان بزرگوار کی شان اس قدر گھٹائے کہ کہے یہ شخص ہذیان بک رہا ہے( معاذ اللہ) تو کیا اس نے ادب اور حکم قرآن کے خلاف بات نہیں کہی؟
اور جس رسول(ص)کی نبوت و عصمت تا دم مرگ زائل نہ ہوئی ہو بالخصوص اس موقع پر جب کہ قوم کی ہدایت اور تبلیغ کی منزل میں ہو
اگر کوئی شخص اس کی طرف ہذیان گوئی کی نسبت دے تو کیا یہ اس کی عدم معرفت اور آں حضرت پر ایمان نہ لانے کی دلیل نہیں ہے؟
شیخ : آیا مقام خلافت کے مقابلہ میں ایسا الزام مناسب ہے کہ وہ معرفت اور مرتبہ رسالت پر ایمان نہرکھتے تھے؟
خیر طلب: اول جناب عالی نے جس وقت یہ سنا کہ رسول اللہ(ص) کی طرف ہذیان کی نسبت دی گئی تو کیوں متاثر نہیں ہوئے؟ حالانکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ آںحضرت کو رو دررو دشنام دینے اور ہذیان سے منسوب کرنے والے سے بیزازی اختیار کرے۔ لیکن جس وقت ایک معمولی آدمی کے لیے جس کا زیادہ سے زیادہ درجہ یہ ہے کہ اصحاب رسول کی ایک فرد ہو افور بعد کو چند اشخاص کے بل پر مسند خلافت تک پہنچ گیا ہو، اس قسم کا اشارہ کیا گیا تو آپ کو نا گوار ہوا۔ در آنحالیکہ یہ خیالات صرف میرے ہی نہیں تھے بلکہ ہر صاحب علم اور معقول انسان ان واقعات کے سننے کے بعد فطری طور پر یہی سوچتا ہے کہ ایک مومن شخص کیا رسول اللہ(ص) کی طرف ایسی نسبت دے گا؟ لہذا ظاہر ہے کہ ایک خوش عقیدہ اور پاک نفس مسلمان کے جذبات کیا ہوں گے۔
علمائے عامہ کا اعتراف کہ لفظ ہذیان کہنے والے کو معرفتِ رسول(ص) نہ تھی
چنانچہ آپ کے منصف اور با فہم علماء جیسے قاضی عیاض شافعی نے کتاب شفاء میں، کرمانی نے شرح صحیح بخاری میں اور نودی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ ایسی بات کہنے والا چاہے جو بھی تھا وہ قطعا رسول اللہ(ص) پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور آں حضرت(ص) کی منزل اور مرتبے کو پہچاننے سے عاجز تھا، اس لیے کہ ارباب مذاہب کے نزدیک ثابت ہے کہ انبیاء عظام ارشاد و ہدایت خلق کی منزل میں عالم غیب سے اتصال رکھتے ہیں اور تندرستی کا زمانہ ہو یا بیماری کی حالت بہر حال ان کے احکام کی تعمیل واجب ہے پس آں حضرت(ص) کی مخالفت بالخصوص جسارت و دشنام اور کلمہ ہذیان کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو رسول(ص) کی معرفت حاصل نہ تھی۔ انتہی کلامہم۔
پیغمبر(ص) کے روبرو اسلام کے اندر پہلا فتنہ
دوسرے آپ نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں نے فتنہ اور نفاق پیدا کرنے کا الزام کیوں لگایا تو یہ بات بھی میری تنہا میری ہی جانب سے نہیں ہے بلکہ آپ کے انصاف پسند علماء نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
عالم جلیل حسین میبذی شرح دیوان میں کہتے ہیں کہ پہلا فتنہ جو اسلام کے اندر برپا ہوا وہ مرض الموت میں خود رسول اللہ(ص) کے روبرو ہوا جب کہ آں حضرت(ص) نے وصیت کرنا چاہا اور عمر مانع ہوئے۔ نتیجہ کے طور پر مسلمانوں میں فتنہ، فساد فرقہ بندی اور مذہبی اختلاف پیدا ہوگیا۔
شہرستانی اپنی کتاب ملل و نحل کے مقدمہ چہارم میں کہتے ہیں کہ پہلی مخالفت جو اسلام کے اندر واقع ہوئی وہ رسول اللہ(ص) کے حکم سے وصیت لکھنے کے لیے دوات اور کاغذ لانے سے عمر کا منع کرنا تھا۔
اورع ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص563 میں اسی مقصد کی طرف اشارہ کیا ہے۔
شیخ : اگر خلیفہ عمر رضی اللہ نے یہ الفاظ کہے ہوں تو میں اس میں کوئی بے ادبی نہیں سمجھتا بلکہ ایسے امور انسان کے جسمانی عوارض میں سے ہیں۔ جس وقت کسی شخص پر مرض کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ بے تک جملہ بولنے لگتا ہے جن کو ہذیان سے تعبیر کرتے ہیں اور جسم کے ان فطری کیفیات میں پیغمبر(ص) اور دوسرے لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہ ہو گا۔
خیر طلب : آپ بخوبیجانتے ہیں کہ نبوت کی ایک خاص صفت عصمت بھی ہے جو نبی سے مرتے دمتک سلب نہیں ہوتی، خصوصا جب کہ ارشاد اور ہدایت خلق کی منزل میں ہو اور فرمائے کہ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھنا چاہتا ہوں تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔
پس چونکہ آں حضرت(ص) مقام ارشاد و ہدایت میں تھے لہذا قطعا با عصمت اور حق سے متصل تھے۔ اگر آپ آیہ شریفہ "وَمايَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْهُوَإِلَّاوَحْيٌيُوحى" و آیہ مبارکہ" وماأتاكم الرسول فخذوهومانهاكمعنهفانتهوا" اور آیت " أَطِيعُوااللَّهَ وَأَطِيعُواالرَّسُولَوَأُولِيالْأَمْرِمِنْكُمْ" پیغمبر(ص) اپنی خواہش نفس سے نہیںبولتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف خدا کی وحی ہوتی ہے۔ اور تم کو رسول جس چیز کی ہدایت کریں اس کو اختیار کرو۔ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ص) کی۔ کی طرف توجہ کریں تو خود ہی حقیقت آپ کے اوپر ظاہر ہوجائے گی اور معلوم ہوجائے گا کہ دوات اور کاغذ لانے سے روکنا اور آںحضرت(ص) کو امت کی ہدایت کے لیے وصیت نامہ لکھنے سے مانع ہونا در حقیقت خدا کی مخالفت تھی۔ طے شدہ چیز ہے کہ لفظ ہذیان کھلی ہوئی گالی تھی، پھر اس کے ساتھ رجل کہہ کے اشارہ کرنا اور بھی سخت توہین ہے۔
حضرات ! اںصاف سے بتائیے گا کہ اگر اس جلسہ میں سے کوئی شخص آپ کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ یہ شخص ہذیان بکتا ہے تو آپ کو کیسا معلوم ہوگا؟ حالانکہ ہم اور آپ معصوم نہیں ہیں۔ ہذیان بھی بک سکتے ہیں۔ آیا آپ اس کلام کو ادب و احترام کی کوئی قسم سمجھیں گے یا بے ادبی توہین اور گستاخی؟
اگر یہ گفتگو ادب و احترام کے خلاف ہے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت خاتم النبییین (ص) کی شان میں یہ اور زیادہ اہانت و جسارت ہے۔
اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ رسول خدا(ص) کی خدمت میں ایسی توہین آمیز بات کہنے والے سے بیزاری اختیار کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ جب کہ خدائے تعالی نے قرآن مجید میں آں حضرت کو صاف طور سے رسول(ص) اور خاتم النبیین(ص) کہا ہے۔ اگر جانبداری اور تعصب کو الگ رکھئیے تو آپ کی عقل و حق شناسی ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتی ہے جو آں حضرت(ص) کو رسول اللہ(ص) اور خاتم النبیین(ص) کہنے کے عوض کہے یہ شخص ہذیان بک رہا ہے۔
شیخ : فرض کیجئے کہ ہم غلطی کے قابل بھی ہوجائیں تو چونکہ یہ خلیفہ رسول(ص) تھے اور دین و شریعت کی حفاظت کے لیے اجتہاد کیا تھا لہذا قطعا بری الذمہ اور قابل درگزر ہیں۔
خیر طلب : اول تو آپ نے یہی بے محل بات کہی کہ چونکہ خلیفہ رسول(ص) تھے لہذا اجتہاد کیا، کیونکہ جس روز عمر نے یہ الفاظ کہے اس روز وہ
خلیفہ تھے ہی نہیں بلکہ شاید خلافت کا خواب بھی نہ دیکھا ہوگا۔ وفات رسول(ص) کے بعد جیسا کہ آپ خود بہتر جانتے ہیں۔ ہنگامی طور پر چند لوگوں نے جلد بازی کر کے ابوبکر کو خلیفہ بنادیا اور بعد کو بھی جبر و تشدد، قتل و اہانت اور دروازےمیں آگ لگانے کے ذرائع سے دوسروں کو قابو میںلائے۔ پھر دو سال تین ماہ کے بعد اپنے مرنے کے وقت ابوبکر نے عمر کو خلافت کی گدی سونپ دی۔
دوسرے آپ کا فرمانا بھی بہت تعجب خیز ہے کہ اجتہاد کیا، کیا آپ نے اتنا بھی غور نہیں کیا کہ ںص اور صریحی حکم کے مقابلہ میں اجتہاد کی کوئی حقیقت ہی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی خطا ہے جو معافی اور درگذر کے قابل نہیں۔
تیسرے آپ نے فرمایا ہے کہ دین و شریعت کی حفاظت کے لیے ایسا کیا آپ جیسے علماء سے ایسی غلط بات سن کر سخت حیرت ہوتی ہے کہ آپ کے عدل و اںصاف پر تعصب کس طرح سے غالب آگیا ہے۔
جناب محترم ! دین و شریعت کی حفااظت رسول خدا(ص) کے ذمے تھی یا عمر ابن خطاب کے ؟ آیا آپ کی عقل قبول کرتی ہے کہ رسول اللہ(ص) کو تو اس قید کے باوجود کہ اس تحریر کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ، یہ پتہ نہ ہو کہ امت کے لیے وصیت نامہ لکھنا دین و شریعت کے خلاف ہے لیکن عمر ابن خطاب کو معلوم ہو اور وہ حفاظت دین و شریعت کے لیے آںحضرت(ص) کو وصیت سے روک دیں؟"فَاعْتَبِرُواياأُولِي الْأَبْصارِ"
آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ضروریات دین میں خطا کرنا بہت بڑا جرم ہے اور ہرگز اس سے عفو و چشم پوشی نہیں ہوسکتی۔
شیخ : اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے دینکے حالات و کیفیات سے اندازہ لگایا تھا کہ اگر رسول خدا(ص) کوئی چیز لکھیں گے تو اختلاف پیدا ہوجائے گا اور فتنہ بر پا ہوگا لہذا از روئے خیر خواہی خود پیغمبر(ص) کے فائدے کے لیے دوات اور کاغذ نہیں لانے دیا۔
عذر گناہ بدتر از گناہ
خیر طلب: جو کچھ آپ نے فرمایا ہے، عذر گناہ بدتر از گناہ اسی کو کہتے ہیں مجھ کو یاد ہے کہ طالب العلمی کے زمانہ میں میرے ایک استاد جامع منقول و معقول فاضل قزوینی الحاج شیخ محمد علی تھے جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک غلطی کو نبھانے کی کوشش کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ ایک کے بجائے سو غلطیان ہوجائیں۔ بعینہ مین اسی طرح دیکھ رہا ہوں کہ آپ خلیفہ کی طرف سے خواہ مخواہ جو دفاع کررہے ہیں وہ ایک خطا اور فاحش غلطی کو بہت سی غلطیوں کا مجموعہ بنا رہا ہے۔
آپ کی اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ(ص) درجہ عصمت ( یعنی خطا سے محفوظ ہونے) اور عالم غیت سے اتصال کے باوجود امت کے ارشاد و ہدایت کے موقع پر خیر و اصلاح اور فتنہ و فساد کیطرف کوئی توجہ نہیں رکھتے تھے لہذا خلیفہ عمر نے آںحضرت(ص) کی خیر خواہی اور رہنمائی کی۔
اگر آپ آیت نمبر36 سور نمبر33( احزاب) پر تھوڑا غور کیجئے جس میں ارشاد ہے:
"وَماكانَلِمُؤْمِنٍوَلامُؤْمِنَةٍإِذاقَضَىاللَّهُوَرَسُولُهُأَمْراًأَنْيَكُونَلَهُمُالْخِيَرَةُمِنْأَمْرِهِمْوَمَنْ يَعْصِ اللَّهَوَرَسُولَهُفَقَدْضَلَّضَلالًامُبِيناً"
یعنی جب خدا و رسول(ص) کسی کام کا حکم دیں تو کسی مرد یا عورت کو اس میں اپنے ارادے اور اختیار سے کوئی دخل حاصل نہیں ( یعنی اپنے قول و فعل سے آں حضرت(ص) کو روکنے یا اختلاف رائے کا حق نہیں رکھتے) اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانیکرے تو یقینا کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوا۔
تو یقینا اپنے الفاظ واپس لیجئے گا اور خلیفہ عمر کے اس عمل کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ آں حضرت کے حکم سے سرتابی، وصیت سے روکنا اور لفظ ہذیان کے ذریعہ گستاخی کرنا انتہائی شنیع فعل تھا اور اس نے پیغمبر(ص) کو اتنا متاثر کیا کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔
شیخ : خلیفہ کی نیک نیتی تو ان کے آخری جملے سے ظاہر ہے کہا "حسبنا کتاب اللہ" یعنی خداکی کتاب قرآن کریم ہمارے لیے کافی ہے ہم کو رسول خدا(ص) کے نوشتہ کی ضرورت نہیں ہے۔
خیر طلب: اتفاق سے خود یہی جملے ان کے عدم معرفت اور قرآن مجید پر توجہ نہ ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے یا پھر عمدا رسول اللہ(ص) کو رنج پہنچانا اور اس عمل سے روکنا مقصود تھا جو ان لوگوں کے جذبات کےخلاف تھا کیوںکہ اگر قرآن مجید کی پوری معرفت ہوتی تو یہ بھی معلوم ہوتا کہ جملہ امور میں قرآن تنہا کفایت نہیں کرتا۔ اس لیے کہ یہ وہ یکتا کتاب محکم ہے جو مجمل اور مختصر ہے۔ اس نے کلیات احکام تو بیان کر دیے ہیں لیکن ان کے جزئیات کو شارح اور مفسر کی توضیح پر چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ ممکن ہے کہ ایک معمولی انسان بغیر فیضان الہی اور بیان عالم ربانی کے اس جمل اور جامع قرآن سے پورا فائدہ اٹھا سکے؟ علاوہ ان باتوں کے اگر تنہا قرآن امت کے امور میں کافی ہوتا تو یہ آیت کیوں نازل ہوتی کہ
"وماأتاكم الرسول فخذوهومانهاكمعنهفانتهوا"
(یعنی رسول اللہ(ص) جس چیز کی ہدایت کریں اس کو اختیار کرو اور جس سے منع کریں اس سےباز رہو) نیز کیا آیت نمبر85 سورہ نمبر4(نساء) میں یہ ارشاد نہیں ہے:
"وَلَوْرَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلى أُولِي الْأَمْرِمِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ"
یعنی اگر رسول(ص) اور صاحبان حکم و رسول کے بعد پیشوایان اسلام کی طرف رجوع کرتے تو یقینا جو اہل معرفت ہیں وہ صحیح تدبیر معلوم کر لیتے۔
پر ثابت ہوا کہ قرآن مجید تنہا مفید طلب نہیں ہے جب تک شارحین قرآن یعنی محمد و آل محمد صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کی تفسیر بھی ساتھ ساتھ نہ ہو۔
چنانچہ فریقین کی متواتر حدیث میں ( جس کے چنداسناد گذشتہ شبوں میں پیش کرچکا ہوں)(1) وارد ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء نے بار بار یہاں تک کہ وفات کے وقت بھی فرمایا :
"إني تارك فيکم الثقلين كتاباللّهوعترتياهلبيتي لنيتفرّقاحتىيرداعليّالحوض أنتمسكتمبهما فقد نجوتملنتضلواابدا"
یعنی میں ( رسول خدا(ص)) تمہارے درمیان یقینا دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں، اللہ کی کتاب اور میری عترت و اہل بیت، یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص----
کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں۔ اگر تم لوگ ان دوںوں سے تمسک رکھو گے تو ضرور نجات پائو گے اور کبھی ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔
صاحبان عقل کی فہم و فراست سے تعجب ہے کہ وہ اس پرغور کیوں نہیں کرتے کہ رسول اللہ(ص) تو ( جن کا ہر قول بحکم آیہ"وَمايَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْهُ وَإِلَّاوَحْيٌ يُوحى" خدا کی طرفسے ہوتا ہے، ہدایت و نجات امت کے لیے تنہا قرآن کافی نہ سمجھیں اور اس کو اپنی عترت طاہرہ سے وابستہکرتے ہوئے صاف صاف فرمائیں کہ اگر دونوں ( یعنی قرآن و عترت) سے تمسک رکھو گے تب نجات پائو گے اور ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ لیکن خلیفہ عمر یہ کہیں کہ نہیں اکیلا قرآن ہی کافی ہے؟
اب ذرا آپ حضرات اںصاف سے کام لیں اور سچا فیصلہ کریں کہ ایک طرف تو خدا کے بھیجے ہوئے بر حق پیغمبر(ص) کا یہ ارشاد ہے کہ قرآن و اہل بیت(ع) دونوں سے تمسک کرو کیونکہ یہ دونوں تا قیامت ایک دوسرے سے وابستہ ایک دوسرے کی ںظیر اور ایک ساتھ ذریعہ ہدایت ہیں اورکا یہ قول کہ ہم کو صرف قرآن کافی ہے جس کا مطلب یہ کہ انہوں نے فقط عترت ہی کو نہیں ٹھکرایا بلکہ رسول اللہ(ص) کے حکم اور وصیت کو بھی قبول نہیں کیا۔
ایسی صورت میں ہم پر ان دونوں میں سے کس کی اطاعت واجب ہے؟ ہرگز کوئی عقلمند انسان یہ نہیں کہے گا کہ بارگاہ خداوندی سے الحاق رکھنے والے اللہ کے رسول(ص) کا فرمان چھوڑ کے عمر کی بات ماننا چاہئیے۔ تو پھر آپ نے کیوں عمر کا قول لے لیا اور آںحضرت(ص) کا قول پس پشت ڈال دیا؟ اگر فقط کتاب خدا کافی تھی تو آیت نمبر35 سورہ نمبر16 (نحل):"فَسْئَلُواأَهْلَ الذِّكْرِإِنْكُنْتُمْ لاتَعْلَمُونَ" (یعنی اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر( یعنی اہل بیت رسول(ص) ہیں) سے دریافت کرو۔) میں ہم کو کیوں حکم دیا گیا ہے کہ اہل ذکر سے سوال کرو؟ ظاہر ہے کہ ذکر سے مراد قرآن یا رسول خدا(ص) ہیں اور اہل ذکر آںحضرت(ص) کی عترت اور اہل بیت ہیں۔
چنانچہ پچھلی راتون میں دلائل اور اسناد کے ساتھ عرض کرچکا ہوں کہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء جیسے سیوطی وغیرہ نے درج کیا ہے کہ اہل ذکر سے رسول اللہ(ص) کے اہل بیت پاک (ع) مراد ہیں جو عدیل قرآن ہیں۔
آپ ہماری باتوں کو بدگمانی کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور یہ نہ سمجھیں کہ صرف ہمیں ان چیزوں کی گرفت کرتے ہیں کیوں کہ آپ کے اکابر علماء بھی محل انصاف میں خلیفہ عمر کے اس قول پر مضحکہ کرتے ہیں۔
عمر کے قول پر قطب الدین شیرازی کا اعتراض
آپ کے اکابر علماء میں سے قطب الدین شافعی شیرازی کشف الغیوب میں کہتے ہیں یہ امر مسلم ہے کہ بغیر راہنما کے راستہ طے نہیں کیا جاسکتا ہم کو خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول پر تعجب ہے کہ چونکہ ہمارے درمیان قرآن موجود ہے لہذا ہم کو کسی رہنما کی احتیاج نہیں ہے یہ بات تو ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے چونکہ ہمارے پاس طب کی کتابیں موجود ہیں لہذا ہم کو کسی طبیب کی ضرورت نہیں ---- کہ یہ بات ناقابل قبول اور بالکل غلط ہے اس لیے کہ جو شخص طبی کتابوں سے مطلب حل نہ کرسکے اس گو قطعی طور پر کسی ہوشیار طبیب کی طرف
رجوع کرنا چاہئیے۔ یہی صورت قرآن کریم کی ہے کہ جو شخص اپنی عقل کے ذریعے اس سے پورا فائدہ نہ اٹھا سکے اس کو مجبورا ان ہستیوں کی طرف جھکنا پڑے گا جو عالم قرآن ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے :
"وَلَوْرَدُّوهُ إِلَىالرَّسُولِوَإِلى أُولِيالْأَمْرِمِنْهُمْلَعَلِمَهُالَّذِينَيَسْتَنْبِطُونَهُمِنْهُمْ"
یعنی اگر یہ لوگ رسول(ص) اور صاحبان امر( پیشوایان اسلام) کی طرف رجوع کرتے تو جو لوگ اہل معرفت ہیں وہ صحیح نتیجے تک پہنچ جاتے۔
آیت نمبر83 سورہ نمبر4(نساء) حقیقی کتاب تو اہل علم کے سینے ہیں جیسا کہ آیت نمبر48 سورہ نمبر29( عنکبوب) میں ارشاد ہے:"هُوَآياتٌ بَيِّناتٌ فِيصُدُورِالَّذِينَأُوتُواالْعِلْمَ" ( یعنی بلکہ یہ قرآن و روشن آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جن کو( من جانب خدا) علم خدا دیا گیا ہے) اسی وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے:"أَنَاكِتَابُ اللَّهِ النَّاطِقُ هوالصَّامِتُ." ( یعنی میں خدا کی بولتی ہوئی کتاب ہوں اور یہ قرآن خاموش کتاب ہے۔ انتہی۔
پس خلیفہ کے کلام کے اول و آخر دونوں حصے نا قابل اعتبار اور علم و عمل اور اںصاف رکھنے والے کے نزدیک لائق نفرت ہیں لہذا آپ بھی تصدیق کیجئے کہ انہوں نے رسول اللہ(ص) پر بہت بڑا ظلم کیا جو وصیت نہیں لکھنے دی۔
ابوبکر کو مرتے دم وصیت لکھنے سے نہ روکنا
رہا آپ کا بار بار یہ فرمانا کہ لوگوں نے ابوبکر و عمر کو صیت کرنے سے نہیں روکا تو یہ درست ہے اور یہی چیز انتہائی حیرت اور تعجب کا باعث ہے جس کو آپ کے تمام مورخین و محدثین نے اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے کہ خلیفہ ابوبکر نے اپنے مرنے کے وقت عثمان ابن عفان سےکہا کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو لکھ کیوں کہ یہ لوگوں کی طرف میرا وصیت نامہ ہے۔ چنانچہ جو کچھ ابوبکر نے کہا انہوں نے لکھ لیا۔ خلیفہ عمر وغیرہ بھی موجود تھے لیکن کسی نے اس سے انکار نہیں کیا۔
بالخصوص عمر نے اس وقت یہ نہیں کہا " حسبنا کتاب اللہ" ہم کو ابوبکر کے وصیت نامے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے۔ لیکن خاتم الانبیاء کو اسی بہانے سے کہ ہمارے لیے خدا کافی ہے وصیت نہ لکھنے دی۔"فَاعْتَبِرُواياأُولِي الْأَبْصارِ"
اگر اس سازش کے آگےسرنیا زخم کرنے سے ہم کو اور کوئی دلیل مانع نہ ہو تو صرف یہی توہین و جسارت، رسول اکرم(ص) کو دشنام دینا اور اس وصیت سے منع کرنا جو امت کے لیے ہدایت اور ضلالت و گمراہی سے حفاظت کا ذریعہ بنتی، ہر عالم و عاقل اور نکتہ رس منصف کو یہ سمجھا دینے کےلیے کافی ہے کہ اس روز کی یہ کار روائی کسی دلیل و برہان کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ محض دھاندلی، ہنگامہ سازی اور سیاسی چالا کی تھی۔
مصیبت عظیم وقت آخر اہانت رسول(ص) اور ممانعت ہدایت
ابن عباس گریہ کرنے میں حق بجانب تھے بلکہ میں تو کہتا ہوں سارے مسلمانوں کو خون کے آنسوئوں سے رونا چاہئیے کو خاتم المرسلین کو اتنی مہلت بھی دی کہ وصیت کر کے امت کے لیے دستور العمل معین کر جائیں، اور زندگی کے آخری لمحون میں آںحضرت(ص) کو توہین و دشنام کے ذریعے تبلیغ رسالت کو عوض دیا۔ اگر وصیت کا موقع دے دیا ہوتا تو یقینا امر خلافت بالکل واضح ہوجاتا اور آں حضرت کے پچھلے ارشادات کی تائید ہوجاتی۔ لیکن سیاسی دائو پیچ جاننے والے بغاوت کر کے سد راہ بن گئے۔
شیخ : یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آں حضرت(ص) خلافت کے بارے میں کچھ فرمانا چاہتے تھے؟
خیر طلب: اولا مطلب بالکل ظاہر ہے کہ وقت وفات تک دین کے احکام و قواعد میں سے کوئی چیز باقی ہی رہ گئی تھی کہ امت کی ہدایت کے لیے اس کی یاد دہانی ضروری ہوتی، کیونکہ آیت اکمال دین نازل ہوچکی تھی، البتہ خلافت کا معاملہ ایسا تھا آں حضرت(ص) نے تئیس سال کی مدت میں اس کے لیے جو کچھ فرمایا تھا چاہتے تھے کہ اس کی تائید میں مزید وضاحت فرمادیں، چنانچہ میں عرض کرچکا ہوں کہ امام غزالی نے سرالعالمین کے مقالہ چہارم میں نقل کیا ہے کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا :
"ايتونى بدوات وبياضلاكتبلكمكتابالنتضلوابعدي لازيل عنکم اشکال الامر واذکر لکم من المستحق لها بعدی"
یعنی دوات و کاغذ لے آئو تاکہ تم سے امر خلافت کا اشکال دور کر دوں اور اپنے بعدکے لیے اس کے مستحق کی یاد دہانی کر جائو۔
پھر جملہ"لنتضلوابعدی" بھیثابت کرتا ہے کہ وصیت کا موضوع ہدایت امت تھا۔ اور طرق ہدایت میں سوا امر خلافت و امامت کے اور کسی چیز کی تاکید باقی نہ تھی۔ اس کے علاوہ ہم کو اصرار بھی نہیں ہے کہ آں حضرت(ص) خلافت و امامت کے لیے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن اتنا تو قطعا چاہتے تھے کہ امت کی ہدایت و رہنمئی کے لیے کوئی تحریر دے دیں۔ تاکہ ضلالت و گمراہی نہ پھیلے تو پھر کیوں ممانعت کی؟ فرض کر لیا جائے کہ ممانعت ہی مناسب تھی تو کیا اس کے لیے فحش و دشنام اور اہانت بھی ضروری تھی؟
چشم باز و گوش باز وایں عمی حیرتم از چشم بندی خدا
فَاعْتَبِرُواياأُولِيالْأَبْصارِ
صاف فرمائیے گا سلسلہ کلام ذرا طولانی ہوگیا لیکن یہ میرے اختیار سے نہیں تھا بلکہ درد و دل کا ایک مختصر سا نمونہ تھا جو آپ کی توجہ کے لیے بے ساختہ زبان پر آگیا۔
پس ان مقدمات سے معلوم ہوگیا کہ علی علیہ السلام رسول خدا(ص) کے وصی تھے اور باوجودیکہ آن حضرت(ص) بارہا ہدایات جاری فرماچکے تھےلیکن آخری منزل پر تکمیل وصیت کے لیے چاہا کہ یہ حقائق تحریر کر کے امت کی ذمہ داری کو پختہ فرمادیں سیاسی بازیگر سمجھ رہے تھے لہ کیا لکھنا چاہتے ہیں لہذا شور و غوغا اور اہانت کر کے روک دیا۔
اںحضرت(ص) نے اتمام حجت اور رفع شبہات کے لیے بعض احادیث میں خصوصیت کے ساتھ فرمایا ہے کہ جس خدا نے دیگر انبیائے کرام آدم(ع)، نوح(ع)، موسی(ع)، اور عیسی(ع) وغیرہ کے لیے وصی معین فرمائے اس نے میرے لیے بھی علی(ع) کو وصی قرار دیا۔
نیز فرمایا ہے کہ علی میرے اہل بیت اور میری امت میں میرے بعد میرے وصی ہیں۔ اور یہ خود ایک مضبوط دلیل ہے اس بات کی کہ وصایت اس مقام پر خلافت کے معنی میں ہے۔ لہذا علی وصی و خلیفہ رسول(ص) ہیں۔
شیخ : یہ اخبار اگر صحیح بھی ہوں تو متواتر نہیں ہیں لہذا آپ کیونکر ان سے سند لے رہے ہیں؟
خیر طلب : تواتر وصیت کا مسئلہ ہمارے نزدیک تو اہل بیت عترت و طہارت کے طریق سے جو عدیل قرآن ہیں ثابت و مسلم ہے۔ لیکن آپ کو یاد ہوگا میں نے پچھلی راتوں میں عرض کیا ہے کہ آپ کے علماء اپنے علمی بیانات میں خبر واحد کو بحث سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان اخبار میں اگر تواتر لفظی نہ ہو تو تواتر معنوی قطعا موجود ہے۔
ان بے شمار روایتوں سے ( جن کی پوری تفصیل سے اس وقت معذور ہوں کیونکہ اتنا وقت ہے نہ سب حافظے میں محفوظ ہیں لہذا موقع کے لحاظ سے ان میں سے بعض کو جو اس وقت یاد تھیں پیش کر دیا) معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کے لیے ایسی وصایت پر نص فرمائی ہے جس سے صاف صاف خلافت کے معنی نکلتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ جو تواتر کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں اور جس وقت ہمارے مقابل کوئی حربہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں یا جس مقام پر لا جواب ہوجاتے ہیں تواتر کی آڑ لینے لگتے ہیں۔ ذرا یہ فرمائیے کہ حدیث لا نورث کا تواتر کہاں سے ثابت کیجئے گا؟ در آنحالیکہ اس حدیث کے راوی بقول آپ کے ابوبکر یا اوس بن حدثانتھے اور چند معلوم الحال مطلبی اشخاص نے ہاں میں ہاں ملادی لیکن ہر زمانے میں کروڑوں موحد اور پاک نفس مسلمان اس حدیث کے منکر رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کے باب علم رسول علی علیہ السلام اور تمام عترت و اہل بیت پیغمبر(ص) کا انکار جو عدیل قرآن ہیں اس کے باطل ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ ان حضرات نے منطقی دلائل کے ساتھ اس کے غلط اور مصنوعی ہونے کو ثابت کیا ہے، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا چکا۔ اور ان ساری دلیلوں سے اہم خود ابوبکر کے سامنے صدیق و صدیقہ علی و فاطمہ علیہما السلام کی مخالفت اور انکار تھا۔ اس لیے کہ جس وقت رسول اللہ(ص) کا باب علم اور آں حضرت(ص) کے ارشاد کے مطابق اہل تقوی کا امام کسی حدیث کو جھٹلا دے تو قطعا یہ اس کے مصنوعی او جھوٹ ہونے پر کامل حجت ہوگی۔
اگر تمام انبیاء بالعموم اور خاتم الانبیء بالخصوص اپنا کوئی وارث نہیںرکھتے تھے تو وصی اور وارث کیونکر بنایا؟ جیساکہ عرض کر چکا ہوں کہ آں حضرت نے فرمایا " لکل نبی وصیووارث و ان علیا وصیی ووارثی" ( یعنی ہر پیغمبر کے لیے ایک وصی و وارث ہے اور یقینا علی میرے وصی اور وارث ہیں۔)اور ظاہر ہے کہ بغیر مال و جائداد کی میراث کے وصی اور وارث کے کوئی معنی نہیں۔ اگر آپ کہئے کہ مالی نہیں بلکہ علمی وراثت مراد ہے( حالانکہ عقلی و نقلی اور علمی دلائل و براہین سے ثابت ہے کہ مالی وراثت مراد تھی) تو میرا مطلب اور زیادہ ثابت ہوجاتا ہے کہ سب سے پہلے تو پیغمبر(ص) کے وارث منصب خلافت کے لیے اولی اور حقدار ہوگا تب کہیں ان لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے جو آں حضرت(ص) کے علم سے کورے تھے۔
دوسرے یہ کہ یہ ثابت ہوجانے کے بعد کہ رسول خدا(ص) نے علی(ع) کو اپنا وصی اور وارث قرار دیا ہے بلکہ ان احادیث کے حکم سے جو آپ کے علماء نے نقل کئے ہیں( جن میں سے بعض کی طرف اشارہ بھی ہوچکا ہے) خدا ہی نے آپ کو اس درجے پر معین فرمایا ہے یہ کیونکر ممکن ہے ہے اس حدیث کو اپنے وصی اور وارث ( یا بقول آپ کے وارث علمی) سے تو نہ فرمایا ہوتا کہ بعد کو اختلاف نہ پیدا ہو لیکن اس شخص سے فرما دیا جو نہ وصی تھا نہوارث؟
شخت تعجبہے کہ جب دینی احکام میں علی علیہ السلام کوئی فیصلہ فرماتے تھے تو ابوبکر و عمر چونکہ خود ناواقف تھے لہذا آپ کے قول کو حجت سمجھ کے فورا تصدیق کرتے تھے کہ آپ کا فرمانا صیحی ہے اور اسی کے مطابق عمل کرتے تھے چنانچہ آپ کے علماء و مورخین نے ابوبکر عمر او عثمان کے زمانہ خلافت میں حضرت کے فیصلے نقل کئے ہیں۔ لیکن خاص طور سے اس موقع پر حضرت(ع) کے قول کو قبول نہیں کیا بلکہ ایسی رکیک مثالوں کےساتھ اہانت بھی کی کہ ہر عقلمند انسان ان کو نقل کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہے۔
حافظ : سخت تعجب ہے کہ آپ فرماتے ہیں خلفاء رضی اللہ عنہم دینی احکام نہیں جانتے تھے اور علی کرم اللہ وجہہ ان کو یاد دلاتے تھے۔
خیر طلب : اس میںتعجب کی کوئی بات نہیں ہے اس لیے کہ سارے احکام و قواعد کا جاننا بہت مشکل کام ہے اور سوا اس کے جو پیغمبر(ص) یا باب علم ہو کسی معمولیانسان کے لیے اتنا مکمل علم ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ تنہا میں ہی اس عقیدے کا قائل نہیں ہوں بلکہ آپ کے اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس کو نقل کیا ہے۔ مطلب واضح کرنے کے لیے ایسے اتفاقات میں سے ایک نمونہ پیس کئے دیتا ہوں تاکہ نا واقف لوگوں کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم توہیں کے مقصد سے ایسا کہتے ہیں۔
چھ مہینے کا بچہ جننے والی عورت کے حق میں علی(ع) کا حکم
امام احمد بن حنبل مسند میں، امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی ذخائر العقبی می، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور شیخ سلیمان حنفی ینابیع المودۃ باب56 میں احمد بن عبداللہ ، اور احمد بن حنبل، قلعی اور ابن سمان سے روایت کرتے ہیں:
"أنعمرأرادرجمامرأةالتی ولدت لستةأشهرفقاللهعليعليه السلام فیكتاباللهوَحَمْلُهُوَفِصالُهُثَلاثُونَشَهْراً ثمقالو فصاله فی عامين فالحمل ستةأشهرفترکها وقاللولاعلي لهلك عمر"
یعنی عمر نے ایک ایسی عورت کو سنگسار کرنا چاہا جس کے یہاں چھ مہینے کا بچہ پیدا ہوا تھا، تو علی علیہ السلام نے فرمایا خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ حمل و رضاعت سے دودھ بڑھائی تک تیس (30) مہینوں کی مدت ہے اور چونکہ دودھ چھڑا نے تک رضاعت کا زمانہ دو سال ہے لہذا حمل کا زمانہ چھ ماہ رہ جاتا ہے ( خلاصہ یہ کہ چھ ماہ میں ولادت
ممکن ہے کیونکہ حمل کی کم سےکم مدت چھ ہی مہینے ہے) پس عمر نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور کہا کہ علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا نیز اسی باب میں مناقب احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں۔
"ان عمر بن الخطاب اذا اشکل عليه شئی اخذ من علی رضی الله عنه."
یعنی جس وقت عمر کو کوئی مشکل مرحلہ پیش آتا تھا( اور بات سمجھ میں نہیں آتی تھی) تو علی علیہ السلام سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔
اس قسم کے قضیے ابوبکر، عمر اور عثمان کے دور خلافت میں کثرت سے پیش آئے کہ جب یہ لوگ مشکل میں پھنس جاتے تھے تو علی علیہ السلام اصلی حکم بتاتے تھے اور یہ بھی اس کو تسلیم کر کے عمل کرتے تھے۔
ابآپ حضرات غور کیجئے کہ آخر اس مقام پر علی علیہ السلام کی بات کیوں نہیں مانی بلکہ جسارت و اہانت شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے جناب فاطمہ مظلومہ صلوات اللہ علیہا کا بنیادی حق بھی چھینلیا؟ بات در اصل یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں دکھانے کے اور
تیسری دلیل اس حدیث کے بطلان پر خود خلیفہ ابوبکر کا قول و فعل ہے کیونکہ اگر حدیث صحیح ہے تو جو کچھ رسول اللہ(ص) نے چھوڑا تھا، سب ضبط کر لینا چاہئیے تھا۔ وارثوں کو آں حضرت کی کسی چیز پر تصرف کا حق نہیں تھا لیکن ابوبکر نے حجرہ فاطمہ ان کو دے دیا، اور ازواج رسول عائشہ و حفصہ وغیرہ کے حجرے بھی میراث کے طور پر ان سب کے عطا کئے۔ یک بامو دو ہوا کی مثل اسی موقع کے لیے ہے ۔يومن ببعض و يکفر ببعض ۔
علاوہ ان چیزوں کے اگر یہ حدیث صحیح تھی اور اس پر ان کا ایمانتھا کہ یہ آل رسول(ص) ہے تو فدک کو ضبط کرنے کےبعد جو ( ان کے خیال میں) صدقہ مسلمین تھا، ابوبکر نے یہتحریر کیوں دی کہ میں نے فدک فاطمہ(ع) کو واپس دیا جس کے بعد عمر مانع ہوئے اور وہ سند لے کر چاک کر ڈالی؟
حافظ ؟ آپ کا یہ بیان انوکھا ہے میں نے تو نہیں سنا کہ خلیفہ نے فدک واپس کیا ہو۔ آخر اس مضمون کی سند کہاں سے ہے؟
ابوبکر کا فاطمہ(ع) کو فدک واپس کرنا اور عمر کا مانع ہونا
خیر طلب : غالبا آپ میرے اس اصول سے واقف ہوں گے کہ بغیر سند کے میں کوئی بات عرض نہیں کرتا۔ نیز میرا اندازہ ہے کہ آپ کے پاس مطالعہ کتب کا وقت بہت کم ہے۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور علی بن برہان الدین شافعی ، تاریخ سیرۃ اطلبیہ جلد سوم ص391 میں لکھتے ہیں کہ ابوبکر فاطمہ(ع) کی گفتگو سے متاثر ہو کر رونے لگے ( در اصل یہ واقعہ چند روز کے بعد ابوبکر کے مکان پر پیش آیا۔)
"فاستعيرو بکی و کتب لها برد فدک"
یعنی حال فاطمہ(ع) پر گریہ کیا اور لکھ دیا کہ میںنے فدک فاطمہ(ع) کو واپس کیا، لیکن عمر نے وہ پروانہ لے کر پھاڑ ٰڈالا۔
تعجب یہ ہے کہ انہیں عمر نے جنہوں نے اس روز تحریر چاک کر ڈالی تھی اور فدک واپس کر نے پر اعتراض کیا تھا خود انے زمانہ خلافت میں اس کو واپس دیا اور اسی طرح بعد کے ( اموی اور عباسی) خلفا نے بھی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے وارثوں کو فدک لوٹایا۔
حافظ : آپ کی اس تقریر تو بہت ہی تعجب ہے یہ کیونکر ممکن ہے کہ خلیفہ عمر جو بقول آپ کے فاطمہ(ع) کو فدک واپس دینے میں سختی سے مانع ہوئے تھے کیونکہ یہ صدقہ مسلمین تھا، یہاں تک کہ تحریر کو بھی پھاڑ کے پھینک دیا تھا خود ہی فاطمہ(ع) کے وارثوں کو اسے واپس کردیں؟
خیر طلب : تعجب ہونا بھی چاہئیے۔ ممکن ہے آپ نے نہ دیکھا ہو لہذا اب میں آپ کی اجازت سے ذکر اسناد کے ساتھ آپ کے اکابر علماء سے ان خلفاء کے حوالے نقل کرتا ہوں جنہوں نے واپس دیا اور واپس لیا، تاکہ تعجب نہ کریں اور سمجھ لیں کہ حق ہمارے ساتھ ہے۔
خلفاءکا اولاد فاطمہ(ع) کو فدک لوٹانا
مدینہ منورہ کے مشہور محدث و مورخ علامہ سمہودی متوفی سنہ911ھ تاریخ المدینہ میں اور یاقوت بن عبداللہ رومی حسمومی معجم البلدان میں نقل کرتے ہیں کہ ابوبکر نے اپنے زمانہ خلافت میں فدک پر تصرف کیا اور عمر نے اپنے دور خلافت میں علی علیہ السلام اور عباس کے حق میں واگزار کردیا۔ اگر ابوبکر نے رسول اللہ(ص) کے حکم سے مسلمانوں کا حق سمجھ کے فدک پر قبضہ کیا تھا تو عمر نے کس دلیل سے سارے مسلمانوں کی جائداد کسی ایک فرد کے سپرد کردی؟
شیخ : شاید اس نیت سے ایک مسلمان فرد کے حق میں واگزار کیا ہو کہ مسلمانوں ہی کے تصرف میں رہے۔
خیر طلب : آپ کی توضیح پر تو مدعی سست گواہ چست کی مثل صادق آتی ہے کیونکہ خود خلیفہ کا یہ مقصد نہیں تھا۔ اگر مسلمانوں کے خرچ کے لیے واپس کیا ہوتا توتاریخ میں اس کا تذکرہ ہونا چاہئیے تھا، حالانکہ آپ کے بڑے بڑے مورخین لکھتے ہیں کہ عمر نے علی علیہ السلام اور عباس کے حق میں واگزار کیا۔ اور علی علیہ السلام نے بھی میراث کے طور پر فدک کو قبول کیا تھا نہ کہ ایک مسلمان فرد کی حیثیت سے، ورنہ ایک مسلمان تمام مسلمانوں کے حق پر قابض و متصرف نہیں ہوسکتا ۔
شیخ : شاید عمر ابن عبدالعزیز مراد ہوں۔
عمر ابن عبدالعزیز کا فدک واپس کرنا
خیر طلب : ( مسکراتے ہوئے) علی علیہ السلام اور عباس عمر ابن عبدالعزیز اموی کے زمانے میں نہیں تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کا حکم اس کے علاوہ ہے،چنانچہ علامہ سمہودی تاریخ المدینہ میں اور ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص18 میں ابوبکر جوہری سے نقل کرتے ہیں کہ
عوام عمر ابن عبدالعزیز کو خلافت حاصل ہوئی تو مدینے میں اپنے عامل کو لکھا کہ فدک اولاد فاطمہ کو واپس کر دو لہذا اس نے حسن ابن حسن مجتبی اوربعض کا قول ہے کہ حضرت کا قول ہے کہ حضرت علی بن الحسین علیہما السلام کو بلا کر ان کے پسرد کردیا۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم مطبوعہ مصر کے ص81 سطر اول میں یہ عبارت لکھی ہے کہ کانت اول ظلامہ ردہا ( یعنی یہ وہ پہلی بجز وظلم چھنی ہوئی جائداد تھی جو عمر ابن عبدالعزیز نے اولاد فاطمہ(ع) کو دی، اور یہ ایک مدت تک ان حضرات کے تصرف میں رہی، یہاں تک کہ خلیفہ یزید ابن عبدالملک نے پھر اس کو غصب کر لیا اور اس پر بنی امیہ کا قبضہرہا۔ جب خلافت بنی عباس کا زمانہآیا تو پہلے عباسی خلیفہ عبداللہ سفاح نے اولاد امام حسن علیہ السلام کے سپرد کیا اور وہ حقوق وارثت کی صورت میں آمدنی کو بنی فاطمہ کے درمیان تقسیم کردیتے تھے۔
عبداللہ مہدی، اور مامون عباسی کا نسل فاطمہ(ع) کو فدک واپس دینا
جب اولاد امام حسن(ع) پر مںصور نے خروج کیا تو فدک ان سے چھین لیا، جب اس کا بیٹا مہدی خلیفہہوا تو ان کو لوٹا دیا، موسی بن ہادی خلیفہ ہوا تو اس نے پھر ضبط کر لیا، یہاں تک کہ مامون الرشید عباسی نے اپنی خلافت کے دور میں حکم دیا کہ اس کو اولاد علی اور بنی فاطمہ(ع) کے حق واگزار کر دیا جائے۔
یاقوت حمومی نے معجم البلدان طبع اول ذیل حرف" ف، و" میں مامون کے پروانے کی عبارت درج ہے کہ اس نے اپنے عامل قثم بن جعفر کو لکھا:
انه کان رسول الله صلی اللهعليه وسلم اعطی ابنته فاطمه رضی الله عنها فدک و تصدق عليها بها و ان ذالک کا امرا ظاهرا معروفا عند آلهعليه الصلوة والسلام"
یعنی بتحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک اپنی بیٹی فاطمہ(ع) کو عطا فرما دیا تھا اور یہ امر آں حضرت کی اولاد کے نزدیک ظاہر اور معروف تھا۔
مشہور شاعر دعبل خزاعی بھی موجود تھے انہوں نے اٹھ کر کچھ اشعار پڑھے جن کا مطلع یہ تھا
اصبح وجه الزمان قد ضحکا برد مامون هاشم فدکا
یعنی آج زمانہ شاد و خنداں ہے کہ مامون نے بنی ہاشم کو فدک لوٹا دیا۔
فدک کے عطیہ ہونے کا ثبوت
یہ قطعی دلیلوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس رسول(ص) کا عطیہ تھا جس کو روز اول ہی بغیر کسی شرعی جواز کے غصب کر لیا گیا، لہذا بعض خلفاء نے انصاف یا سیاست کی بنا پر اس کو ان مظلوم بی بی کی اولاد کی طرف پلٹا دیا۔
حافظ : اگرفدک فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بخش دیا گیا تھا تو انہوں نے وراثت کا دعوی کیوں کیا اور ہبہ کے بارے میں کوئی لفظ کیوں نہیں کیا؟
خیر طلب: پہلی مرتبہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ہبہ ہی کا دعوی کیا لیکن جب شارع مقدس اسلام کی ہدایت کے خلاف قابض و متصرف سے گواہ طلب کئے گئے اور انہوں نے گواہ پیش کردئے تو شرع انور کے برخلاف ان شہادتوں کو رد کردیا گیا، لہذا آپ نے مجبورا وراثت کا راستہ اختیار کیا تاکہ احقاق حق ہوجائے۔
حافظ : میراخیال ہے کہ آپ کو دھوکا ہو رہا ہے اس لیے کہ کسی مقام پر یہ نہیں دیکھا گیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہبہ کے سلسلے میں ایک حرف بھی کہا ہو۔
خیر طلب: مجھ کو دھوکا نہیں ہوا بلکہ یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ فقط شیعہ میں نہیں بلکہ خود آپ کےاکابر علماء کی کتابوں میں بھی درج ہے چنانچہ سیرۃ الحلبیہ مولفہ علی بن برہان الدین حلبی شافعی متوفی سنہ1044ھ کے ص39 پر لکھا ہوا ہے کہ پہلے فاطمہ(ع) نے ابوبکر سے اس عنوان پر مناظرہ کیا کہ فدک پر ان کا مالکانہ قبضہ ہے اور رسول خدا(ص) نے ان کو عطا کردیا تھا، لیکن چونکہ شرعی گواہ نہیں مل سکے لہذا مجبورا وراثت کے قاعدے سے دعوی کیا پس وراثت کا دعوی ہبہ کےبعد تھا۔
نیز امام فخر الدین تفسیر کبیر ضمن ادعائے فاطمہ(ع) میں ، یاقوب حموی، معجم البلدان میں، ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص80 میں ابوبکر جوہری سے اور ابن حجر متعصب صواعق محرقہ میں آخر صہ21 میں شہبہ ہفتم از شبہات رفضہ کے ضمن میں کلام کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا پہلا دعوی ہبہ کے متعلق تھا لیکن جب ان کی گواہیاں مسترد کردی گئیں تو رنجیدہ اور ناراض ہو کر فرمایا کہ اب میں آئیندہ تم سے بات نہیں کروں گی۔(1)
اور ہوا بھی یہی کہ پھر نہ ان لوگوں سے ملاقات کی نہ ان سے ہمکلام ہوئیں، یہاں تک کہ آپ کی وفات کا زمانہ آیا تو وصیت کردی کہ ان میں سے کوئی بھی میرے جنازے پر نماز نہ پڑھے۔ آپ کے چچا عباس نے نماز پڑھی اور رات کے وقت دفن کی گئیں۔
(لیکن پر بنائے روایات شیعہ و بیانات ائمہ عترت طاہر حضرت علی علیہ السلام نے جناب معصومہ پر نماز پڑھی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یہاں تک ابن تیمیہ اور ابن قیم وغیرہ اکابر علمائے اہل سنت نے بھی اقرار کیا ہے کہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دعوی کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک مجھ کو بخش دیا ہے۔
مخالفین کا قول کہ ابوبکر نے آیہ شہادت پر عمل کیا اور اس کا جواب
حافظ : اس میں کوئی شک نہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت دل تنگ اور رنجیدہ خاطر ہوئیں لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی زیادہ قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس لیے کہ وہ بھی شرع کی ظاہری صورت پر عمل کرنے کے لیے مجبور تھے۔ چونکہ آیت شہادت کا عام حکم ہے کہ مدعی کو اپنے ثبوت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں یا چار عورتیں جو دو مردوں کے برابر ہیں گواہی میں پیش کرنا چاہئیے اور یہاں گواہوں کی تعداد مکمل نہیں ہوسکی لہذا وہ بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے موافق کوئی قطعی فیصلہ نہیں دے سکے۔
خیر طلب: ممکن ہے اس مقام پر سلسلہ کلام طولانی ہوجائے اور حضرات حاضرین جلسہ کے لیے باعث زحمت ہو لہذا آگر آپ بھی مناسب سمجھیں تو بہتر ہوگا کہ بقیہ گفتگو کل شب کے لیے اٹھا رکھی جائے؟
نواب : قبلہ صاحب! ہمارے درمیان ایک اہم موضوع یہ بھی زیر بحث تھا اور ہم اس کی حقیقت معلوم کرنے کے از حد مشتاق ہیں، حسن اتفاق سے آج یہ مسئلہ معرض تحقیق میں آگیا ہے لہذا التجا ہے کہ اگر آپ خستگی اور تکان محسوس نہ کر رہے ہوں تو مطلب ادھورا نہ چھوڑئیے کیونکہ بات کٹ جانے سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔یہ گفتگو اگر صبح تک طول کھینچے تب بھی ہم سامعین کی جانب سے کوئی عذر نہیں بلکہ سب اتنہائی شوق و ذوق سے سننے کے لیے تیار ہیں، اور جب تک یہ قضیہ حل نہ ہوجائے یہاں سے واپس نہ جائیں گے۔ آپ پوری وضاحت کےساتھ تقریر فرمائیں۔ البتہ اگر آپ ہی تھک گئے ہوں تو ایسی صورت میں ہم تکلیف نہ دیں گے۔
خیر طلب: مجھ کو علمی اور دینی مباحث میں کبھی زحمت یا خستگی نہیں ہوتی، میں تو صرف آپ حضرات کا خیال کررہا ہوں کیونکہ سبھی کی رعایت ملحوظ رکھنا چاہئیے۔
( سارے اہل جلسہ نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ کے بیانات باعثِ زحمت نہیں ہیں، خصوصا فدک کے موضوع پر جو بہت اہم اور قابل سماعت ہے اور ہم سب اس کے لیے بے چین ہیں۔)
خیر طلب: حافظ صاحب نے فرمایا ہے کہ خلیفہ شرعی قانون پر عمل کرنے کے لیے مجبور تھے۔ چونکہ گواہ پورے نہیں تھے اس لیے حکم صادر نہیں ہوا۔ اس مقام پر چند جملے عرض کرنا ضروری ہیں۔ آپ حضرات انصاف سے فیصلہ کریں۔
قابض و متصرف سے گواہ مانگنا خلافِ شرع تھا
اولا بقول آپ کے حضرات ابوبکر قانون شرع سے مجبور تھے تو یہ فرمائیے کہ شرع میں یہ حکم کہاں پر ہے کہ قبضہ وار سے گواہ طلب کئے جائیں؟ بالاتفاق ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا قابض و متصرف تھیں لہذا ابوبکر کا یہ عمل جس کو آپ کے
تمام علماء نے لکھا ہے کہ ان مظومہ بی بی سے گواہ طلب کئے آخر دین و شریعت کے کس قانون کے مطابق تھا؟ کیا شریعت کا دستور یہ نہیں ہے کہ گواہ مدعی کو پیش کرنا چاہئیے متصرف کو نہیں؟ آیا یہ طریقہ انور کے خلاف تھا یا نہیں؟ ذرا انصاف سے فیصلہ کیجئے۔
ثانیا آیہ شہادت کی عمومیت سے کسی کا انکار نہیں ہے، اس کی عمومیت اپنی جگہ پر باقی ہے لیکن بمقتضائے قاعدہ مسلمہ ما من عام الا و قد خص ، یعنی ہر عام کا ایک خاص ہوتا ہے 12 مترجم) قابل استثناء اور تخصیص کی حامل ضرور ہے۔
حافظ : آپ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ آیہ شہادت تخصیص کی حامل ہے؟
خزیمہ ذوالشہادتین
خیر طلب : اس مقصد کی دلیل وہ روایت ہے جو آپ کی معتبر صحاح کے اندر بھی نقل ہوئی ہے کہ جس وقت خزیمہ ابن ثابت نے گھوڑے کی فروخت کے معاملے میں ایک عرب کے مقابل جس نے رسول اللہ(ص) کے خلاف دعوی کیا تھا آں حضرت(ص) کے موافق شہادت دی تو تنہا انہیں کی گواہی کافی سمجھی گئی اور پیغمبر(ص) نے ان کا لقب ذوالشہادتین مقرر فرمایا کیونکہ ان کی ایک شہادت دو عادل گواہوں کے برابر قرار دی گئی پس معلوم ہوا کہ آیہ شہادت کی تخصیص موجود ہے۔ جہاں پر امت کی ایک مومن اور صحابی ذوخزیمہ آیت کے مخصص بن جائیں وہاں علی(ع) و فاطمہ علیہما السلامجو نبض آیہ تطہیر درجہ عصمت پر فائز ہیں بدرجہ اولی مستثنی ہوں گے۔ معصوم و معصومہ اور صدیق و صدیقہ قطعا کذب و دروغ سے مبرا ہیں اور ان کی تردید یقینا خدا کی تردید ہے۔
فاطمہ(ع) کے گواہوں کی تردید
صدیقہ طاہرہ جناب فاطمہ(ع) نے دعوی کیا کہ فدک میرا نحلہ ہے اور میرے باپ نے مجھ کو بخش دیا تھا اور میں خود آں حضرت(ص) کی حیات ہی میں اس پر متصرف تھی۔ اس دستور شرع کے خلاف جناب معصومہ سےگواہ مانگے گئے۔ آپ نے امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام، ام ایمن اور حسنین علیہا السلام کو شہادت میں پیش کیا لیکن ان کو رد کردیا گیا۔ آیا یہ عمل حقیقت اور قواعد شرع کے بر خلاف نہیں تھا اگر فاطمہ کے پاس سوا قبضے کے اور کوئی گواہ نہ ہوتا تب بھی قانون شریعت کے مطابق آپ کی حقانیت کے لیے کافی تھا۔ علاوہ اس کے کہ خدائے تعالی نے آیہ تطہیر میں ان معظمہ کی پاکیزگی کی شہادت دی ہے کہ آپ ہر رجس اور گندگی سے مبرا ہیں جس میں جھوٹ بولنا اور غلط ادعا کرنا بھی شامل ہے۔ بالخصوص ایسی صورت میں کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام جیسے کامل گواہ نے ان طاہرہ بی بی کی صداقت پر شہادت دی، جن کی گواہی کو جھٹلانا قطعا خدا کو جھٹلانا ہے، کیونکہ خدائے اعلی نے علی علیہ السلام کو آیات قرآنی میں صادق و صدیق فرمایا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جس کی تصدیق خدا کرے اس کی بات کو رد کرنے کی جرائت کیونکہ ہوئی؟ حالانکہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ
علی کے ساتھ رہو یعنی ان کی پیروی کرو، اور جیسے زید" عدل" اپنی اتنہائی سچائی کی وجہ سے مجسمہ صدق بن گئے تھے آپ کو بھی صادق فرمایا چنانچہ آیت نمبر120 سورہ نمبر9(توبہ) میں ارشاد ہے۔
"ياأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوااتَّقُوااللَّهَوَكُونُوامَعَ الصَّادِقِينَ"
یعنی اے مومنین خدا سے ڈرو اور سچوں کے( جن سے محمدج(ص) و علی(ع) اور اہل رسولی مراد ہیں، ساتھ رہو۔
جیسا کہ اسی کتاب کے ص؟؟؟؟ میں اشارہ ہوچکا ہے۔
حافظ : یہ آیت آپ کے مقصد پر کیونکر دلالت کرتی ہے جس سے علی کرم اللہ وجہہ کی پیروی فرض ہوجائے؟
صادقین سے محمد(ص) و علی(ع) مراد ہیں
خیر طلب : آپ کے اکابر علماء اپنی کتابوں اور تفسیروں میں کہتے ہیں کہ یہ آیت محمد و علی علیہما الصلوۃ والسلام کی شان میں نازل ہوئی ہے کہ صادقین سے یہی دونوں بزرگوار اور بعض اخبار کی بنا پر علی علیہ السلام مراد ہیں، نیز دوسری بعض روایتوں میں ہے کہ عترت رسول(ص) مراد ہے۔
امام ثعلبی تفسیر کشف البیان میں، جلال الدین سیوطی درالمنثور میں ابن عباس سے، حافظ ابوسعید عبدالملک بن محمد خرگوشی کتاب شرف المصطفے میں اصمعی سے اور حافظ ابو نعیم اصفہانی حلیتہ الاولیاء میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا " ہو محمد و علی علیہا السلام " ( یعنی یہ صادق محمد و علی علیہما السلام ہیں 12 مترجم)
شیخ سلمان حنفی ینابیع المودۃ باب 29 ص119 مطبوعہ اسلام بول میں موفق بن احمد خوارزمی۔ حافظ ابونعیم اصفہانی اور حموینی سے بروایت ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ
" الصادقون فی هذه الايةمحمد صلی الله عليه و سلم و اهلبيته"
یعنی اس آیت میں صادقین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے اہل بیت طاہرین ہیں۔
اور شیخ الاسلام ابراہیم بن محمد حموینی جو آپ کے اجلہ علماء میں سے ہیں فرائد السمطین میں، محمد بن یوسف گنجی کفایت الطالب باب 62 میں، نیز محدث شام اپنی تاریخ میں سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ:
"مع الصادقين ای مع علی ابن ابی طالب " (یعنی صادقین کے ساتھ یعنی علی ابن ابی طالب کے ساتھ12 مترجم)
(2) آیت نمبر34 سورہ نمبر39 ( زمر) میں فرماتا ہے۔
"وَالَّذِيجاءَبِالصِّدْقِوَصَدَّقَبِهِأُولئِكَهُمُالْمُتَّقُونَ."
یعنی جو شخص سچی بات لے کر آیا ( پیغمبر(ص)) اور جس نے اس کی تصدیق کی( علی ابن ابی طالب)
یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔
جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں، حافظ ابن مردوویہ نے مناقب میں، حافظ ابونعیم نےحلیتہ الاولیاء میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اہل تفسیر کی ایک جماعت سے ابن عباس اور مجاہد کی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:
" الّذيجاءبالصدقرسولاللّهصلّىاللّهعليهوآلهوالّذيصدّقبه علی ابن ابی طالب"
یعنی جو شخص سچائی کے ساتھ آیا وہ محمد صلعم ہیں اور جس نے ان کی تصدیق کی وہ علی ابنابی طالب ہیں۔
(3) آیت نمبر18 سورہ نمبر75( حدید) میں ہے۔
"الَّذِينَآمَنُوابِاللَّهِوَرُسُلِهِأُولئِكَهُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَداءُعِنْدَرَبِّهِمْ،لَهُمْأَجْرُهُمْوَنُورُهُمْ"
یعنی جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور حقیقت میں ہی سب سے سچے اور خدا کے نزدیک شہید ہیں جن کے واسطے ان کے؟؟؟؟؟؟؟؟
احمد ابن حنبل نے مسند میں اور حافظ ابونعیم اصفہانی نے مانزل من القرآن فی علی میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیہ شریفہ علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے کہ آپ صدیقین میں سے ہیں۔
(4) اور آیت نمبر71 سورہ نمبر4( نساء) میں ارشاد ہوتا ہے
"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَوَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَأَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ- وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِوَالصَّالِحِينَ- وَحَسُنَأُولئِكَ رَفِيقاً"
یعنی جو لوگ اللہ و رسول(ص) کی اطاعت کریں پس وہ انبیاء و صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے جن پر خدا نے پوری عنایت و مرحمت فرمائی ہے ان کے ہمراہ محشور ہوں گے، اور یہ لوگ( جنت میں) اچھے رفیق ہوں گے۔
اس آیہ مبارکہ میں بھی صدیقین ہے مراد علی علیہ السلام ہیں جیسا کہ ہمارے اور آپ کے طریقوں سے بکثرت روایتیں وارد ہیں کہ علی علیہ السلام اس امت کے صدیق اور سچےبلکہ صدیقین میں سب سے افضل ہیں۔
علی(ع) افضل صدیقین ہیں
چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء جیسے امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں امام ثعلبی نے کشف البیان میں، جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، ابن شیرویہ نے فردوس میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص351 میں،
ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں اور ابن حجر مکی نے ان چالیس حدیثوں میں سے جو انہوں نے صواعق محرقہ کے اندر فضائل علی علیہ السلام میں نقل کی ہیں تیسویں حدیث میں بخاری سے اور انہوں نے ابن عباس سے باستثنائے جملہ آخر روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :
"الصِّدِّيقُونَ ثَلَاثَةٌحِزْقِيلُمُؤْمِنُآلِفِرْعَوْنَوَحَبِيبٌالنَّجَّارُمُؤْمِنُآلِيسوَعَلِيُّبْنُأَبِيطَالِبٍوَهُوَأَفْضَلُهُمْ."
یعنی بہت بڑے سچے تین شخص ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب یس اور علی ابن ابی طالب جو ان سب میں سے افضل ہیں۔
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ شروع باب42 میں مسند امام احمد بن حنبل، ابونعیم اور مغازلی شافعی سے، اخطب خوارزمی نے مناقب میں، ابو لیلی اور ابو ایوب انصاری سے ، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ کی چالیس حدیثوں میں اکتیسویں حدیث میں، ابو نعیم و ابن عساکر سے اور انہوں نے ابو لیلی سے ، اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب24 میں ابو لیلی کی سند سے نقل کیا ہے اور آخر خبر میں کہتے ہیں کہ محدث شام نے اپنی تاریخ میں اور حافظ ابونعیم نے حلیتہ الاولیاء میں علی علیہ السلام کے حالات بیان کرتے ہوئے رسول خدا(ص) سے روایت کی ہے کہ فرمایا:
"الصِّدِّيقُونَ ثَلَاثَةٌحَبِيبٌ النَّجَّارُمُؤْمِنُ آلِيس الَّذِي قالَ ياقَوْمِ اتَّبِعُواالْمُرْسَلِينَ وَحِزْقِيلُ مُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ الَّذِي قَالَ أَتَقْتُلُونَرَجُلًاأَنْيَقُولَرَبِّيَاللَّهُ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِيطَالِبٍ [ع] الثَّالِثُ وَهُوَأَفْضَلُهُمْ."
یعنی سچے تین شخص ہیں، حبیب نجار مومن آل یاسین جنہوں نے کہا" اے قوم پیغمبروں کی پیروی کرو" حزقیل مومن آل فرعون جنہوںنے کہا۔ آیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو خدا پرست ہے۔ اور علی ابن ابی طالب جو ان سب سے افضل ہیں۔
واقعی ہر عقلمند انسان حیران رہ جاتا ہے کہ آپ حضرات کے علم و انصاف پر عادت اور تعصب کیونکر غالب آگیا ہے باوجودیکہ خود آپ ہی آیات قرآنی کے مطابق متعدد روایتوں سے ثابت کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام افضل الصدیقین تھے پھر بھی دوسروں کو صدیق کہتے ہیں در آںحالیکہ انکے صدیق ہونے پر ایک آیت بھی نقل نہیں کی گئی ہے۔
حضرات! خدا کے لیے اپنی عادت سے ہٹ کر ذرا انصاف سے کام لیجئے کہ خدائے تعالی نے جسبزرگوار کو قرآن مجید صدیق فرمایا ہو کہ وہ ہرگز جھوٹ نہیں بول سکتا، نیز قرآن میں حکم دیا ہو کہ اس کی پیروی کرو( جیسا کہ خود آپ کے علماء کا اقرار ہے)اس کی گواہی مسترد کردیں بلکہ اہانت بھی کریں؟ آیا عقل باور کرتی ہے کہ جس کو رسول خدا(ص) نے اس امت کا صدیق فرمایا ہو بلکہ صدیقین سے افضل بنایا ہو اور آیات قرآنی اس کی صداقت رپ شہادت دے رہی ہوں وہ ہوائے نفسانی کی بنا پر جھوٹ بولے گا یہاں تک کہ جھوٹی گواہی بھی دے گا؟
علی(ع) حق اور قرآن کے ساتھ ہیں
آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ علی(ع) حق کے ساتھ اور حق علی(ع) کے ساتھ گردش کرتا ہے؟ چنانچہ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ جلد چہارم ص321 میں، حافظ ابن مردویہ نے مناقب میں، دیلمی نے فردوس میں، حافظ میثمی نے مجمع الزوائد جلد ہفتم ص236 میں، ابن قتیبہ نے الامامہ والسیاسہ جلد اول ص68 میں، حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری نے مستدرک جلد سوم ص124 میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، طبرانی نے اوسط میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر جلد اول ص111 میں، ابن حجر مکی نے جامع الصغیر جلد دوم ص74، 75، 140 میں، اور صواعق محرقہ باب9 فصل دوم حدیث بیست ویکم درفضائل مولانا امیرالمومنین علیہ السلام میں بروایت ام سلمہ اوسط سے نقل کرتے ہوئے شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب20 میں جمع الفوائد و اوسط صغیر طبرانی ، فرائد حموینی، مناقب خوارزمی اور ربیع الاول الابرار زمخشری سے بروایت ام سلمہ و ابن عباس نیز ینابیع المودت مطبوعہ اسلامبول باب 65 ص185 میں جامع الصغیر جلال الدین سیوطی سے، ان کے علاوہ تاریخ الخلفاء ص116 میں، فیض القدیر جلد 4 ص358 میں ابن عباس سے مناقبالسبعین ص237حدیث نمبر44 صاحب فردوس سے، صواعق محرقہ باب 59 فصل دوم ص283 میں ام سلمہ سے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، بعض نے ام سلمہ سے بعض نے عائشہ سے اور بعض نے محمد بن ابوبکر سے اور انہوں نے رسول خدا(ص) سے روایت کیہے کہ فرمایا:
"عليّ مع القرآن والقرآنمععليلايفترقانحتّىيرداعليالحوض"
یعنی علی(ع) قرآن کے ساتھ اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں۔
چند حضرات نے اس عبارت کےساتھ نقل کیا ہے کہ:
"الحقّ لن يزالمععلىّوعلىّمعالحقّلنيختلفاولنيفترقا"
یعنی حق ہمیشہ کے لیے علی(ع) کے ساتھ اور علی(ع) حق کے ساتھ ہیں، ان دونوں میں ہرگز کبھی کوئی اختلاف نہ ہوگا اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔
ابن حجر صواعق محرقہ باب9 اواخر فصل دوم ص77 میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے مرض الموت میں فرمایا:
"انی مخلف فيکم کتاب الله و عترتی اهل بيتی ثم اخذ بيد علی فرفعها فقال الحقمععليوعليمعالحقلايفترقانحتىيرداعليّالحوض فاسئلهما ما خلفت فيهما."
یعنی میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اور میرے اہل بیت، پھر علی(ع)
کا ہاتھ پکڑ کے بلند کیا اور فرمایا یہ علی(ع) قرآن کے ساتھ اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کبارے میرے پاس پہنچ جائیں، میں ان دونوں سے اپنی قائم مقامی کے بارے میں سوال کروں گا۔
نیز بالعموم نقل کرتے ہیں کہ فرمایا:
"علىّ مع الحقّ والحقّمععلىّيدورمعهحيثمادار"
یعنی علی(ع) حق کےساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے جدھر وہ گردش کرتے ہیں ادھر یہ بھی گردش کرتا ہے۔
سبط ابن جوزی تذکرۃ خواص الامہ ص20 ضمن حدیث غدیر میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"وأدرالحقمعهحيثماداروكيف مادار"
یعنی حق کو علی(ع) کےساتھ گردش دے جہاں اور جس طرح یہ گردش کریں۔
اس کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
"فيهدليلعلىأنهماجرىخلافبينعليعليهالسلاموبينأحدمنالصحابةإلاوالحقمععلي"
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے اس بات پرکہ اگر علی(ع) اور کسی صحابی کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو حق یقینا علی(ع) کےساتھ ہوگا۔
علی(ع) کی اطاعت خدا و رسول(ص) کی اطاعت ہے
جن کتابوں کا ذکر کیا گیا ان میں آپ کی دوسری معتبر کتابوں میں منقول ہے کہ خاتم الانبیاء اکثر مقامات اور مختلف عبارتوں کے ساتھ فرماتے رہے۔
"من اطاع عليا فقد اطاعنی ومن اطاعنی فقد اطاع الله و من انکر عليا فقد انکرنی و من انکرنی فقد انکر الله"
یعنی جو شخص علی(ع) کی اطاعت کرے اس نے یقینا میری اطاعت کی اور جو شخص میری اطاعت کرے اس نے در حقیقت خدا کی اطاعت کی، او جو شخص علی(ع) سے انکار کرے اس نے در اصل مجھ سے انکار کیا اور جو شخص مجھ سے انکار کرے قطعی طور پر اس نے خدا سے انکار کیا۔
ابوالفتح محمد بن عبدالکریم شہرستانی ملل و نحل میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم}ص) نے فرمایا:
"لقد کان علی علی الحق فی جميع احواله يدور الحق معه حيث دار"
یعنی حق یہ ہے کہ علی(ع) ہر حال میں حق پر ہیں اور جس طرف یہ گردش کرتے ہیں حق بھی ان کے ساتھ گردش کرتا ہے۔
آیا باوجود اتنے اخبار صریحہ کے جو خود آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہیں علی علیہ السلام کی تردید، آپ سے انکار کے اوپر اعتراض کرنا خدا و رسول(ص) کی شان میں تردید و انکار اور اعتراض کرنا نہیں تھا؟ اور کیا یہ حق و حقیقت سے روگردانی نہیں تھی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ ابوالموید موفق بن احمد خوارزمی نے مناقب میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں اور ابن الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے صاف صاف فرمایا ہے:
"من اکرم عليا فقد اکرمنی و من اکرمنی فقد اکرم الله و من اهان عليا فقد اهاننی و من اهاننی فقد اهان الله؟
یعنی جس نے علی(ع) کی عزت کی اس نے میری عزت کی اور جس نے میری عزت کی اس نے خدا کی عزت کی، اور جس شخص نے علی(ع) کی توہین کی اس نے میری توہین کی اور جس نےمیری توہین کی اس نے خدا کی توہین کی۔
عدل و اںصاف سے فیصلہ کیجئے
صاحبان اںصاف! مذکورہ واقعات کو ان اخبار احادیث سے جو آپ کی معتبر کتابوں میں بھی منقول ہیں مطابق کر کے ذرا عادلانہ فیصلہ کیجئے اور بے خطا شیعوں سے اس قدر بدظنی اختیار نہ کیجئے!
اور دوسری بات آپ نے یہ فرمائی ہے کہ خلیفہ شریعت کے ظاہری دستور پر عمل کرنے کے لیے مجبور تھے اس لیے کہ آیت شہادت اپنی عمومیت پر باقی تھی اور شرعی معیار پر گواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے صرف دعوی کی بنیاد پر مسلمانوں کا مال فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نہیں دے سکتے تھے ( بلکہ اتنے محتاط تھے کہ خلافِ شرع آپ نے متصرف اور قابض سے گواہ مانگے)
اولا میں پہلے ہی عرض کرچکا کہ یہ مسلمانوں کا مال نہیں بلکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نحلہ اور زیر تصرف ملکیت تھی۔
دوسرے اگر خلیفہ واقعی قانون شرع کا نفاذ کرنے والے تھے تو ان کا فرض تھا کہ سرمواس کے خلاف نہ کریں۔
پس آخر دو رنگی سے کس لیے کام لیتے تھے کہ دوسرے اشخاص کو تو بغیر اکسی گواہ کے صرف زبانی دعوے پر مسلمانوں کا مال دے دیتے تھے لیکن خاص طور سے امانت رسول(ص) جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا کے بارے میں اس قدر شدید اور سخت گیری کے ساتھ حکم دینا ضروری سمجھتے تھے؟
چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص25 میں درج کیا ہے کہ میں نے علی ابن ابی الفارقی مدرس مدرسہ عربیبغداد سے سوال کیا کہ" اکانت فاطمہ صادقہ قال نعم" ( آیا فاطمہ صادقہ اور راست گو تھیں ( اپنے دعوی میں)انہوں نے کہا میں نے کہا کہ جب وہ صادقہ اور سچی تھیں تو خلیفہ نے ان کو فدک کیوں واگزار نہیں کیا؟ وہ مسکرائے( حالانکہ کوئی شوخ طبیعت آدمی نہیں تھے اور ایک
لطیف و دلچسپ بات کہی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر اس روز فاطمہ(ع) کے دعوے پر فدک واگزار کردیتے تو وہ دوسرے روز آکر اپنے شوہر کے لیے خلافت کا دعوی کرتیں اور اس وقت خلیفہ مجبور ہوتے کہ یہ حق بھی واپس کریں کیونکہ اس سے قبل ان کی صداقت تسلیم کرچکے ہوتے۔ انتہی کلامہ
معلوم ہوا کہ آپ کے بڑے بڑے علماء کے نزدیک اصلیت واضح و آشکار تھی اور انہوں نے از روئے اںصاف و حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ روز اول ہی سے حق جناب فاطمہ مظلومہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ تھا لیکن در اصل اپنا منصب بچانے کے لیے سیاست کا تقاضا یہی تھا کہ جان بوجھ کر جناب معصومہ کو ان کے یقینی حق سے محروم کردیں۔
حافظ : کس شخص کو خلیفہ نے بغیر گواہ کے مسلمانوں کا مال دے دیا؟
جابر(رض) کا واقعہ اور ان کو مال عطا کرنا باعث عبرت ہے
خیر طلب : جس وقت جابر نے دعوی کیا کہ پیغمبر(ص) نے نجرین کے مال سے مجھ کو عطا کرنے کا وعدہ کیا تھا تو بغیر کسی تردید اور گواہ طلب کرنے کے ان کو مسلمانوں کے مال میں سے یعنی بیت المال سے پندرہ سو دینار دے دیئے۔
حافظ : اول تو میں نے یہ روایت دیکھی ہی نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کی کتابوں میں ہو۔ دوسرے یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ گواہ نہیں مانگے تھے؟
خیر طلب: بہت تعجب ہے کہ آپ نے نہیں دیکھا کیونکہ آپ کے علماء ن اس بات کے ثبوت میں کہ عادل صحابی کو خبر واحد قابل قبول ہے جو دلائل قائم کئے ہیں ان میں سے جابر ابن عبداللہ انصاری کی یہ روایت بھی ہے۔
چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی فتح الباری فی شرح صحیح البخاری"باب يکفل عن ميت دينا " میں کہتے ہیں:
"ان هذا الخير فيه دلالة علی قبول خير العدل من الصحابة و لو حر ذالک نفعا نفسه لان ابابکر لم يلتمس من جابر شاهد اعلی صحة دعواه"
یعنی یہ خبر عادل صحابی کی روایت قابل قبول ہونے پر دلالت کرتی ہے چاہے اسی کی ذات کو نفع پہنچاتی ہو، اس لیے کہ ابوبکر نے جابر سے ان کے دعوے کی صحت پر گواہ نہیں مانگے۔
اسی روایت کو بخاری نے اپنی صحیح میں مزید تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ باب من یکفل عن میت دینا اور کتاب الخمس فی باب ما قطع النبی من البحرین میں لکھا ہے کہ جس وقت بحرین کا مال مدینہ لایا گیا تو ابوبکر کے منادی نے اعلان کیا کہ جس شخص سے رسول اللہ(ص) نے وعدہ کیا ہو یا آں حضرت(ص) پر کسی کا مطالبہ ہو تو وہ آکر لے جائے۔ جابر آئے اور کہا کہ رسول اکرم(ص) نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بحرین فتح ہو کر مسلمانوں کے تصرف میں آجائے گا تو وہاں کے مال سے تمہیں دوں گا۔ پس فورا بغیر کسی شاہد کے محض ادعا پر ان کو پندرہ سو دینار دے دیئے۔
نیز جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء کی فصل خلافت ابوبکر اور اس کے واقعات میں جابر کے اسی قضیے کو نقل کیا ہے۔ صاحبان انصاف !خدا کے لیے بتائیے کیا یہ دو رنگی کا برتائو نہیں تھا؟
اگر کوئی خاص جذبہ کار فرما نہیں تھا تو ابوبکر کے لیے جس طرح یہ جائز ہوگیا تھا کہ آیہ شہادت کے خلاف عمل کر کے بغیر کسی گواہ کے محض ادعا پر جابر کو مسلمانوں کے مال میں سے عطا کردیں اسی طرح ( بقول ان کے ) اگر فرض کر لیا جائے کہ فدک مسلمانوں ہی کا مال تھا( حالانکہ یہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی مقبوضہ ملکیت تھی) تب بھی لازم تھاکہ رسالت کی رعایت کرتے ہوئے ودیعہ رسول خدا(ص) جناب فاطمہ صدیقہ(ع) کا دل نہ توڑیں اور ان کا دعوی تسلیم کر کے فدک واپس دے دیں۔
علاوہ اس کے بخاری اپنی صحیح میں اور آپ کے دوسرے علماء وفقہاء عادل صحابی کیخبر واحد کو قبول کرتے ہیں چاہے اس سے ذاتی فائدہ ہی مقصود رہا ہو لیکن علی علیہ السلام کے ادعا اور آپ کے بیان کو اس عذر کے ساتھ نا قابل قبول جانتے ہیں کہ حر النفع الی نفسہ ( یعنی وہ اپنا ذاتی نفع چاہتے تھے 12 مترجم) تو کیا علی علیہ السلام اصحاب کی ایک کامل فرد نہیں تھے؟ اگر آپ اںصاف کے ساتھ غور کیجئے تو تصدیق کیجئے گا کہ یہ حق اور حقیقت کا نفاذ نہیں بلکہ محض دھاندلی تھی۔
حافظ : میرا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جابر سے گواہ اس لیے نہیں مانگے کہ یہ رسول اللہ(ص) کے مقرب اور تربیت یافتہ اصحاب میں سے تھے اور قطعا آں حضرت(ص) سے سن چکے تھے کہ:
"من کذب علی متعمدا فليتبئو مقعده من النار"
جو شخص عمدا مجھ پر جھوٹ باندھے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
لہذا اتنی شدید وعید کے بعد ظاہر ہے کہ ایک مقرب وتربیت یافتہ مومن صحابی ہرگز ایسا غلط اقدام نہیں کرے گا اور اس پست وحقیر دینائے فانی کے لیے رسول اللہ(ص) ی طرفجھوٹا قول منسوب کر کے اپنی عاقبت برباد نہیں کرےگا۔
خیر طلب : آیا جابر رسول اللہ(ص) سے زیادہ قریب تھے یا علی وفاطمہ علیہا السلام، جن کی آں حضرت(ص) نے خاص طورپر تربیت فرمائی تھی۔
حافظ : ظاہر ہے کہ علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما ہر شخص سے زیادہ رسول اللہ(ص) سے قریب تھے کیونکہ بچپن ہی سے آں حضرت (ص) کے زیر تربیت رہے۔
خیر طلب : پس آپ کو ماننا پڑے گا کہ علی و فاطمہ علیہما السلام سب سے بڑھ کے اس کے پابند تھے کہ اس وعید کے بعد قول رسول(ص) کی بنیاد پر کوئی جھوٹا دعوی نہ کریں، اور ان لوگوں پر فرض تھا کہ جناب فاطمہ صدیقہ(ع) کا دعوی تسلیم کریں اس لیے کہ قطعا اور یقینا ان دونوں بزرگواروں کی منزل جابر سے بالاتر تھی( جیسا کہ خود آپ ہی کو بھی اعتراف ہے) بلکہ سارےاصحاب سے بلند۔ کیونکہ آیہ تطہیر کے مصداق اور معصوم تھے۔ اور ان پانچ افراد یعنی محمد(ص)، علی(ع)، فاطمہ(ع)، حسن(ع) اور حسین علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے جو آیت تطہیر میں داخل ہے، یہ آیت عصمت و پاکیزگی کی صراحت کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ آپ کے اکابر علماء نے بھی ان حضرات کی صداقت درست گوئی کی تصدیق کی ہے۔
حضرت امیرالمومنین (ع) کے متعلق تومیں پہلے ہی عرض کرچکا کہ رسول اکرم(ص) نے آپ کو اس امت کا صدیق اور راست گو فرمایا ہے اور خدا نے بھی قرآن مجید میں آپ کو صادق بتایا ہے۔ لیکن صدیقہ کبری جناب فاطمہ زہر صلوات اللہ علیہا کے بارے میں بھی ایسی روایتیں کثرت سے ہیں۔ من جملہ ان کے حافظ ابونعیم اصفہانی حلیتہ الالیاء، جلد دوم ص42 میں عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
"ما رائيت احدا قط اصدق من فاطمة غير ابيها"
یعنی میں نے ہرگز کسی کو فاطمہ(ع) سے زیادہ سچا نہیں دیکھا سوا ان کے باپ کے۔
آیہتطہیر کی شانِ نزول میں اشکال
حافظ : ان پانچ بزرگوارون کی شان میں آیہ تطہیر نازل ہونے کے بارے میں آپ کا دعوی مسلم نہیں ہے۔ چونکہ ان جلسوں میں ہم لوگوں پر واضح ہوچکا ہے کہ آپ ہماری کتابوں سے پوری واقفیت رکھتے ہیں لہذا تصدیق فرمائیے کہ اس موضوع میں آپ کو دھوکا ہوا۔ اس لیے کہ قاضی بیضاوی اور زمخشری جیسے مفسرین کا عقیدہ ہے کہ یہ آیہ شریفہ ازواج رسول(ص) میں نازل ہوئی ہے اور اگر کوئی قول ان پانچوں حضرات کے حق میں نازل ہونے کے لیے ہو بھی تو وہقطعا ضعیف ہوگا سبب یہ ہے کہ آیت خود ہی اس مفہوم کے خلاف دلالت کررہی ہے کیونکہ آیہ تطہیر کا سیاق و سباق ازواج سے مربوط ہے اور درمیان حصے کو الگ کر کے دوسرون سے ملحق نہیں کیا جاسکتا۔
جواب اشکال اور اس کا ثبوت کہ آیت ازواج کے حق میں نہیں ہے
خیر طلب: جناب عالی کا یہ ادعا کئی پہلوئوں سے باطل ہے۔ اول یہ کہ آپ نے فرمایا ہے کہ سیاق و سباق آیت ازواج سے مربوط ہے لہذا علی(ع) و فاطمہ علیہما السلام شمول آیہ شریفہ سے خارج ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ عرف عام اکثر ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ اثنائے کلام میں روئے سخن کسی دوسرے کی طرف کر کے خطاب کرتے ہیں اس کے بعد پھر پہلی گفتگو پر آجاتے ہیں عرب کے فصحاء و بلغاء اور ادیبوں کے اشعار میں تو اس کی کافی مثالیں ملتی ہی ہیں۔ خود قرآن کریم میں بھی ایسی نظیر یں بہت ہیں۔ خصوصا اسی سورہ احزاب میں غور فرمائیے کہ ازواج سے خطاب کرتےہوئے روئے سخن مومنین کی طرف موڑ دیا گیا اس کے بعد پھر ان کو مخاطب کیا گیا ہے ، لیکن وقت کے اندر اتنی گنجائش نہیں کہ مزید وضاحت کے لیے مفصل شواہد پیش کئے جائیں۔
دوسرے اگر یہ آیت ازواج رسول کے بارے میں ہوتی تو ان کے لیے ضمیر تانیت استعمال ہوتی۔ اور ارشاد ہوتا ہے " لیذہب
عنکن الرجس و یطہرکن تطہیرا" لیکن چونکہ ضمیر مذکور ہے لہذا معلوم ہوا کہ ازواج کے لیے نہیں بلکہ عترت و اہل بیت پیغمبر(ص) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
نواب : جب بقول آپ کے فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی اس جماعت میں داخل ہیں تو ان کا لحاظ کیوں نہیں کیا گیا اور تانیث کے ساتھ ان کا ذکر کیوں نہیں ہوا؟
خیر طلب : ( علماء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) آپ حضرات جانتے ہیں اس آیہ شریفہ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کے باوجود صیغہ تذکیر باعتبار تغلب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس جماعت میں مذکور ومونث دونوں صنفوں کے افراد شامل ہوں وہاں مذکر کو مونث پر غالب قرار دیتے ہیں، اور اس آیت میں صیغہ تذکیر خود دلیل قاطعی ہے کہ یہ قول ضعیف نہیں ہے بلکہ مکمل قوت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ غلبہ تعداد کے لحاظ سے بھی ضمیر مذکر ہونا چاہئیےکیونکہ پنچ تن میں ایک عورت اور چار مرد ہیں۔
اگر یہ آیت ازواج رسول(ص) کے حق میں نازل ہوتی تو جمع مونث میں مذکر کا لفظ بالکل ہی غلط ہوتال۔ علاوہ اس کے خود آپ کی معتبر کتابوں میں روایات صحیحہ کا یہی فیصلہ ہے کہ یہ آیہ مبارکہ آں حضرت(ص) کی عترت اور اہل بیت کے بارے میں ازواج کے واسطے نہیں۔
چنانچہ ابن حجر مکی اپنے انتہائی تعصب کے باوجود صواعق محرقہ میں لکھتے ہیں کہ زیادہ تر مفسرین کا عقیدہ یہی ہے کہ یہ آیت علی(ع) وفاطمہ(ع) اور حسن و حسین ( علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی ہےلتذکر منمير عنکم ويطهرکم اس لحاظ سے کہعنکم اوريطهرکم میں جمع مذکر کی ضمیریں ہیں۔
ازواج رسول اہل بیت(ع) میں داخل نہیں
ان روشن دلیلوں سے قطع نظر ازواج رسول(ص) تو اہل بیت میں داخل بھی نہیں ہیں۔
چنانچہ صحیح مسلم اور جامع الاصول میں روایت ہے کہ حصین بن سمرہ نے زید ابن ارقم سے پوچھا کہ آیا رسول اللہ(ص) کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں؟ زید نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں، اس لیے کہ عورت ایک مدت تک اپنے شوہر کے گھر رہتی ہے لیکن جب وہ طلاق دے دیتا ہے تو یہ اپنے باپ کے گھر جا کر اپنے میکے والوں سے ملحق ہوجاتی ہے اور شوہر سے بالکل الگ ہوجاتی ہے۔
اہلبیت (ع) تو در اصل آں حضرت(ص) کے وہگھر والے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور چاہے جہاں چلے جائیں اہل بیت(ع) سے جدا نہیں ہوتے ۔
تیسرے عترت و اہل بیت طہارت کی روایتوں پر مذہب شیعہ امامیہ کا جو اجماع ہے اس سے ہٹ کے خود آپ کے طریقوں سے بکثرت روایتیں اس نظریے کے خلاف وارد ہیں۔
اخبار عامہ اس بارے میں کہ آیت تطہیر پنجتن کی شان میں آئی ہے
چنانچہ امام ثعلبی تفسیر کشف البیان میں، امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر جلد ششم ص783 میں، جلال الدین سیوطی در المنثور جلد پنجم ص199 اور خصائص الکبری جلد دوم ص264 میں نیشاپوری اپنی تفسیر جلد سوم میں، امام عبدالرزاق الرسعنی تفسیر رموز الکنوز میں، ابن حجر عسقلانی اصابہ جلد چہارم ص207 میں، ابن عساکر اپنی تاریخ جلد چہارم ص204 و ص206 میں، امام احمد بن حنبل مسند جلد اول ص32 میں، محب الدین البری ریاض النفرہ جلد دوم ص188 میں، مسلم بن حجاج اپنی صحیح جلد دوم ص1331 اور جلد ہفتم ص140 میں، پنہائی شرف المئوید مطبوعہ بیروت ص10 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب 10 میں چھ مسند اخبارکے ساتھ اور شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب33 میں صحیح مسلم اور شواہد حاکم سے بسند ام المومنین عائشہ اور دس (10) روایتیں ترمذی، حاکم علاء الدولہ سمہانی، بیہقی، طبرانی، محمد بن جریر، احمد بن حنبل، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ؟؟؟؟ ، حافظ زرندی اور حافظ ابن مردویہ سے ام المومنین ام سلمہ، عمر بن ابی سلمہ ( ربیب رسول(ص))انس بن مالک، سعد بن ابی وقاص، واثلہ بن اسقع اور ابو سعید خدری کی سندوں کےساتھنقل کرتے ہیں کہ آیت تطہیر پنجتن پاک و آل عبا کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ابن حجر مکی جیسے سخت و متعصب عالم نے بھی صواعق محرقہ ص85، ص86 سات طریقوں سے ان کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے اس اہم حقیقت کو نقل کیا ہے کہ یہ آیت محمد(ص)، علی(ع)، فاطمہ(ع)، حسن(ع) اور حسین(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے اور صرف یہی پانچ مقدس ہستیاں اس آیہ شریفہ کی طہارت سے مخصوص کی گئی ہیں۔
سید ابوبکر بن شہاب الدین علوی نے کتاب رشفتہ الصادی من بحر فضائل بنی النبی الہادی مطبوعہ اعلامیہ مصرسنہ1303ھ کے باب ص؟؟؟ ص14تا ص19 میں ترمذی ، ابن جریر، ابن منذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی ابن ابی حاتم، طبرانی، احمد بن حنبل، ابن کثیر، مسلم بن حجاج، ابن ابی شیبہ اور سہودی سے آپ کے اکابر علماء کی گہری تحقیقات کے ساتھروایت کی ہے کہ یہ آیہ شریفہ مقدس آل عبا اور پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ استدلال کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ تمام اولاد اہل بیت رسول(ص) جن پر صدقہ حرام ہے۔ قیام قیامت تک اس آیہ شریفہ کے مصداق رہیں گے۔
جمع بین الصحاح الستہ موطا امام مالک بن انس الاصبحی و صحاح بخاری ومسلم و سنن ابی دائود رسجستانی و ترمذی، اور جامع الاصول میں، یہاں تک کہ بالعموم آپ کے علماء و فقہاء اور مورخین و محدثین اقرار کرتے ہیں کہ یہ آیت انہیں پنج تن آل عبا(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور یہ آپ کے یہاں تقریبا تواتر کی حد میں ہے۔ اگر بعض اشخاص نے حق کشی اور بعض وعناد کے جذبے میں اس روایت کو ضعیف کہہ دیا ہے تو اس سے اتنی کثیر التعداد اور معتبر روایات پر جو آپ ہی کے اکابر علماء کی معتبر کتب میں درج ہیں کوئی اثر نہیں پڑسکتا ۔
نیست خفاشک عدرے آفتاب او عدوے خویش آمد ور حجاب
حریرہ فاطمہ(ع) کے بارے میں ام سلمہ (رض) اور نزول آیہ تطہیر
مختصر یہ کہ بعض نے حریرہ والی روایت کےساتھ ذرا تفصیل سے اور بعض نے اختیار کےساتھ نقل کیا ہے۔ من جملہ ان کے انام ثطبی نے اپنی تفسیر میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، اور ابن اثیر نے جامع الاصول میں ترمذی و مسلم سے الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ زوجہ رسول ام المومنین ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ(ص) میرے یہاں صفے میں بیٹھے ہوئے تھے جو آں حضرت(ص) کی خوابگاہ تھی اور پائے مبارک کے نیچے خیبری عبا بچھی ہوئی تھی، میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اتنے میں فاطمہ سلام اللہ علیہا آں حضرت(ص)کے لیے ایک ظرف میں حریر لائیں، پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ جائو اپنے شوہر اور اپنے فرزندوں کو بلا لائو! ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ علی اور حسنین علیہم السلام آئے اور حریرہ کھانے میں مشغول ہوئے، اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور آں حضرت(ص) کے سامنے یہ آیت پڑھی۔
"إِنَّمايُرِيدُاللَّهُلِيُذْهِبَعَنْكُمُالرِّجْسَأَهْلَالْبَيْتِوَيُطَهِّرَكُمْتَطْهِيراً"
یعنی سوئے اس کے نہیں ہے کہ خدا یہ ارادہ رکھتا ہے کہ اہل بیت رسول(ص) تم سے ہر گندگی کو دور رکھے اور تم کو اس طرح پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
( آیت نمبر33 سورہ نمبر33 ( احزاب)
ام سلمہ کہتی ہیں میں نے عبا کے اندر اپنا سر بڑھا کر عرض کیا:
"أَنَامَعَكُمْ يَارَسُولَاللَّهِقَالَ: إِنَّكِإِلَىخَيْرٍ،إِنَّكِإِلَىخَيْرٍ."
یا رسول اللہ(ص) میں بھی آپ حضرات کے ساتھ ہوں تو آں حضرت(ص) نے فرمایا کہ تم نیکی پر ہو( مطلب یہ ہے کہ تم کو میرے اہل بیت(ع) کا درجہ حاصل نہیں ہے اور تم ان میں شامل نہیں ہو البتہ تمہارا انجام بخیر ہے)
پس یہ آیہ مبارکہ اس بات پر پوری دلالت کرتی ہے کہ یہ پانچوں بزرگوار کفر و شقاق، شرک و نفاق، شک و شبہہکذب و ریا اور ہر گناہ صغیرہ و کبیرہ سے معصوم اور پاک ہیں۔
چنانچہ امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں "لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ " یعنی تم سے تمام گناہوں کو زائل کردیا۔ "وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً " یعنی تم کو اپنی کرامت کی خلعتیں پہنائیں۔
واقعی ان بے انصاف علماء پر سخت تعجب ہوتا ہے جو اپنی معتبر کتابوں میں یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ علی(ع) و فاطمہ علیہا السلام آیہ تطہیر میں شامل اور ہر رجس و پلیدی سے معرا و مبرا تھے اور سب سے بڑا رجس جھوٹ بولنا ہے، اور پھر حضرت کے دعوی الامت کی تکذیب بھی کرتے ہیں، جناب فاطمہ(ع) کے حق میں آپ کی شہادت کو غلط قرار دیتے ہیں اور فدک کے بارے میں طاہرہ اور معصومہ بی بی کے بیان کو جھٹلاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ مدعیان انصاف اس مقام پر کس قاعدے سے فیصلہ کرتے ہیں؟
اب میں اصل مقصد کی طرف آتا ہوں، ذرا اںصاف سے فیصلہ کیجئے کہ آیا یہ مناسب تھا کہ علی(ع) و فاطمہ(ع) کے بیانات کو تو مسترد
کردیں جن کے لیے خدا گواہی دے رہا ہے کہ تمام ظاہری وباطنی رجس وگندگی سے پاک و منزہ یعنی جملہ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں، اور اس جلیل القدر خاندان کا مقررہ حقسرے سے غائب ہی کردیں، لیکن جابر کا دعوی بے چون وچرا تسلیم کر لیں جو صرف ایک مرد مسلمان اور معمولی مومن تھے؟
حافظ : یہ ہرگز با ور نہیں کیا جاسکتا کہ خلیفہ رسول(ص) اور مومن صحابی جن کو پیغمبر(ص) سے انتہائی قربت حاصل ہو جان بوجھ کر فدک کو غصب کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ انسان جو کام کرتا ہے قطعا اس کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے، جس خلیفہ کے تصرف میں مسلمانوں کا سارا بیت المال تھا اس کو فدک کے ایک باغ یا گائوں کی کیا ضرورت تھی جو اس کو غصب کرتا ؟
خیر طلب : کھلی ہوئی بات ہے کہ کسی احتیاج کا سوال نہیں تھا بلکہ اس وقت کے سیاسی طبقے کی نظر میں خاندان رسول اور آں حضرت کی عترت طاہرہ کو تباہ کرنا ضروری تھا۔ مقصد یہ تھا کہ یہ حضرات چونکہ منصب خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں لہذا ان کو اس قدر پریشانی اور فقر و تہی دستی میں مبتلا کر دیا جائے کہ خلافت کا خیال ہی دل میں نہ لائیں اس لیے کہ دنیا طلب لوگ اسی کی طرف جاتے ہیں جس سے ان کی دنیا سنورتی ہو۔
یہ لوگ سمجھتے تھے کہ جو خاندان جلیل علم و فضل اور ادب و تقوی کے زیور سے مکمل طور پر آراستہ ہے اگر اس کا ہاتھمال دنیا سے بھی پر ہوگا تو یقینا لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے۔ لہذا بر بنائے سیاست تنہا فدک ہی غصب نہیں کیا بلکہ ان حضرات پر تمام وہ راستے مسدود کر دیے جن کے ذریعے کوئی مالی منفعت پہنچ سکتی تھی۔
عترتِ رسول(ص) پر خمس کی بندش
من جملہ ان کے ایک مستقل حق خمس کا تھا جس کی قرآن مجید میں بھی تاکید کی گئی تھی۔ چونکہ خدا نے صدقات کو رسول(ص) اور آل علیہم الصلوۃ و السلام پر حرام قرار دیا تھا لہذا باجماع جمہور امت ان کے لیے خمس کا دروازہ کھول دیا۔
چنانچہ آیت نمبر42 سورہ نمبر8 (ا نفال) میں صریحا فرمایا:
"وَاعْلَمُواأَنَّماغَنِمْتُمْمِنْشَيْءٍفَأَنَّلِلَّهِخُمُسَهُوَلِلرَّسُولِوَلِذِيالْقُرْبى وَالْيَتامى وَالْمَساكِينِ"
یعنی جان لو کہ تم کو جو کچھ غنیمت اور فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ و رسول(ص) ، آنحضرت(ص) کے اقرباء یتیموں مسکینوں اور مجبور مسافروں کے لیے مخصوص ہے( تاکہ پیغمبر(ص) کی عترت قیامت تک خوش حالی اور آسائش میں رہے، اور اپنی رعایا کی محتاج نہ ہو۔
لیکن آں حضرت(ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی اس رخ سے بھی عترت و اہل بیت(ع) رسول(ص) کو فشار کیا گیا۔ خلیفہ ابوبکر نے اپنے جتھے
والوں کے اتفاق رائے سے یہ واجبی حق ان حضرات سے سلب کر لیا اور کہا کہ خمس جنگی ساز وسامان ، خریداری اسلحہ اور دیگر ضروریات حرب میں صرف ہونا چاہئیے غرضیکہ ان کو ہر صورت سے بے دست و پا کر دیا گیا ، کیونکہ صدقات تو ان پر حرام تھے ہی خمس کا کھلا ہوا حق بھی روک دیا گیا۔
چنانچہ امام شافعی محمد بن ادریس کتاب الام کے اس بات میں ص69 پر کہتے ہیں۔
"و اما آل محمد الذين جعل لهم الخمس عوضا من الصدقة فلا يعطون من الصدقات المفروضات شيئا قل او کثر لا يحل لهم ان ياخذوها ولا يجزی عمن يعطيهم ؟؟؟ اذا عرفهم "یہاں تک کہ کہتے ہیں"وليس منهم حقهم فی الخمس يحل لهم ماحرم عليهم من الصدقة "
یعنی آلمحمد(ص)کو جن کے لیے خدا نے صدقے کے عوض خمس متعین کیا ہے صدقات واجبہ میں سے کم یا زیادہ کچھ بھی نہیں دیا جاسکتا اور ان کے لیے اس کا لینا جائز نہیں ہے اور جو لوگ جان بوجھ کر ان کو دیں وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوں گے اور ان کے اوپر ان کا حق خمس بند کردینے سے صدقہ جو ان پر حرام ہوچکا ہے حلال نہیں ہوگا۔
عمر ابن خطاب کے دور خلافت میں بھی اس بہانے سے کہ خمس زیادہ ہوچکا ہے لہذا یہ سب ذوی القربی کو نہیں دیا جاسکتا بلکہ سامان جنگ کی تیاری میں صرف ہونا چاہئیے ان کو اپنے اس مسلم اور خدا داد حق سے محروم کیا گیا اور آج تک محروم کئے جاتے ہیں۔
حافظ : امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ خمس پانچ حصوں پر تقسیم ہونا چاہئیے سہم پیغمبر(ص) جو مسلمانوں کے مصارف اور ضروریات میں خرچ ہو، دوسرا حصہ ذوی القربی کے لیے ہو اوربقیہ تین حصے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے صرف میں آئیں۔
خیر طلب : جمہور مفسرین کا اتفاق ہے کہ زمانہ رسول(ص) میں یہ آیت آں حضرت(ص) کی اولاد و اقارب کی اعانت کے لیے نازل ہوئی تھی اور خمس انہیں حضرات کے صرف میں دیا جاتا تھا پس فقہائے امامیہ کے نزدیک عترت اور ائمہ اطہار کی پیروی میں نیز صراحت آیہ شریفہ کے مطابق خمس چھ حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ سہم خدا، سہم رسول اور سہم ذوی القربی امام کو پہنچتا ہے اور غیبت امام میں نائب امام یعنی مجتہد فقیہ و عادل کو دیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے مناسب ضروریات میں جہاں مصلحت ہوتی ہے صرف کرتا ہے اور بقیہ تین حصے بنی ہاشم اور اولاد رسول(ص) میں سے یتیموں ، محتاجوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہو، لیکن وفات پیغمبر(ص) کے بعد اس حق کو سادات سے سلب کر لیا گیا، چنانچہ آپ کے اکابر علماءجیسے جلال الدین سیوطی درالمنثور جلد سوم میں طبری ، امام ثعلبی تفسیر کشف البیان میں، جار اللہ زمخشری کشاف میں، قوشجی شرح تجرید میں، نسائی کتاب الفے میں اور دوسرے حضرات بالاتفاق اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ بدعت رسول خدا(ص) کے بعد چالاک سیاسی لوگوں نے اپنے مقاصد پر قابو پانے کے لیے قائم کی۔
حافظ : آیا آپ کے نزدیک مجتہد کو رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے؟ خلیفہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے قطعا مسلمانوں کی امداد کے لیے اجتہاد کر کے یہ فیصلہ کیا۔
خیر طلب : ہاں مجتہد کو اپنی رائے قائم کرنے کا حق حاصل ہے لیکن نص کے مقابلے میں نہیں۔ کیا آپ خلیفہ ابوبکر و عمر کی رائے اور فیصلے کو آیت اور عمل رسول(ص) کے مقابلے لاتے ہیں؟ آیا انصافا یہ جائز ہے کہ خدا و رسول(ص) تو کوئی حکم نافذ کریں لیکن خلیفہ پیغمبر(ص) امت کی مصلحت کو ان سے بہتر سمجھتا ہو اور نص کے مقابلے میں اپنے اجتہاد سے کام لے ؟ خدا کے لیے حق و اںصاف سے کہئیے کہ ان کاموں کا کوئی خاص مقصد تھا یا نہیں؟ اگر کوئی عقل مند انسان غیر جانبدار انسان گہری توجہ کے ساتھ نتیجہ نکالے گا تو اس کو اس ترکیب عمل سے قطعی طور سخت سوء ظن پیدا ہوگا اور وہ سمجھ لے گا کہ یہ معاملات معمولی نہیں تھے بلکہ خاندان رسول(ص) کو بے بس بنانا تھا۔
خدا نے علی(ع) کو پیغمبر(ص) کا شاہد قرار دیا ہے
ان چیزوں کے علاوہ خدا نے علی علیہ السلام کو پیغمبر(ص) کا شاہد و گواہ قرار دیا ہےاور آیت نمبر20 سورہ نمبر11 ( ہود) میں صاف طور سے فرماتا ہے :
"أفمن كان علىبيّنةمنربّهويتلوهشاهدمنه"
یعنی آیا وہ پیغمبر(ص) جو اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل (قرآن ) رکھتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کا سچا گواہ ہے۔ (یعنی علیعلیہ السلام جو ہمہ تن صداقت رسالت کے گواہ ہیں۔)
حافظ: جہاں تک مجھ کو علم ہے صاحب بینہ سے مراد رسول خدا(ص) ہیں اور ان کا شاہد قرآن کریم ہے آپ نے کس دلیل و برہان سے شاہد کو علی کرم اللہ وجہہ سے تعبیر کیا ہے۔
خیر طلب : مجھ میں اتنی طاقت و جرات نہیں کہ آیات قرآنی میں تصرف یا تفسیر بالائے کرسکوں۔ ہم کو عترت و اہل بیت(ع) رسول(ص) سے جو عدیل قرآن ہیں یہی تعلیم پہنچی ہے ک شاہد سے مراد علی علیہ السلام ہیں، اور علماء و مفسرین نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ چنانچہ تقریبا تیس حدیثیں آپ کے اکابر علماء میں سے امام ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں تین حدیثین جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم اور ابونعیم سے ، ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد السمطین میں تین سندوں کے ساتھ، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب22 میں ثعلبی ، حموینی ، خوارزمی ، ابونعیم، واقدی اور ابن مغازلی سے ابن عباس اور جابر ابن عبداللہ اںصاری وغیرہ کی سندوں کے ساتھ ، حافظ ابونعیم اصفہانی نے تین طریقوں سے ، طبری نے ابن مغازلی فقیہ شافعی نے، ابن ابی الحدید معتزلی نے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 میں نقل کی ہیں۔ اور آپ کے دوسرے بہت سے علماء یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور الفاظ و عبارت کے مختصر سے فرق کے ساتھ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
خطیب خوارزمی مناقب میں کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عباس سے پوچھا شاہد سے کون مراد ہے؟ انہوں نے کہا : "هو علی يشهد للنبی وهو منه " وہ علی(ع) ہیں جنہوں نے پیغمبر(ص) کی گواہی دی اور وہ پیغمبر(ص) سے ہیں پس ان دلائل و اخبار معتبرہ کی بنا پر جن کی خود آپ کے اکابر علماءتصدیق کرتے ہیں امت پر حضرت کی شہادت قبول کرنا واجب تھا۔ کیونکہ خدا نے آپ کو پیغمبر(ص) پر گواہ قرار دیا ہے۔
اس طرح سے رسول اکرم(ص) ن خزیمہ بن ثابت کی خصوصیت کا اقرار فرمایا تھا کہ ان کی شہادت دو مسلمانوں کے برابر قرار دی ، اور ذوالشہادتین کا لقب عطا فرمایا، اسی طرح خدائے تعالی نے بھی اس آیت میں مسلمانوں کے درمیان حضرت علی(ع) کی فضیلت کا اظہار فرمایا کہ آپ کو پیغمبر(ص) پر شاہد اورگواہ قرار دیا قطع نظر اس سے کہ بحکم آیہ تطہیر آپ معصوم اور ہر خطا سے مبرا تھے اور اپنی نفع اندوزی کے لیے ہرگز جھوٹی گواہی نہیں دے سکتے تھے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ ان لوگوں نے کیونکہ نے اتنی جرات کی اور شرع کے کس اصول سے آپ کی شہادت رد کی بلکہ توہین بھی کی اور گواہی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علی شہادت قابل قبول نہیں ہے " لانہ یجر النفع الی نفسہ" یعنی چونکہ علی(ع) اس قضیے میں خود کسب منفعت کررہے ہیں لہذا ان کی گواہی مردویہ ہے، علاوہ ان اہانتوں اور بہت سے اشارات و کنایات کے جو مجمع کے اندر آپ کے منہ پر اور پیٹھ پیچھے زبان پرلائے ، اور جن میں سے بعض کی طرف میں بھی اشارہ کرچکا ہوں۔ اب اس سے زیادہ میںاس مطلب کے خزئیات میں نہیں پڑنا چاہتا، البتہ اتنا عرض کروں کہ آیا آپ سننے کے لیے رضامند ہیں کہ مولائے متقیان امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسی بزرگ شخصیت کو جس نے دینا کو تین طلاقین دی ہوں ، جو تمام انسانوں سے زیادہ دولت دنیا کی طرف سے بے پروا ہو اور جس کی رفتار و کردار کو دوست و دشمن بھی مانتے ہوں، دنیا طلب بلکہ اس سے بھیزیادہ سخت الفاظ کہے جائیں جن کو ادا کرنے کی میری زبان میں طاقت نہیں اور جو خود آپ کی کتابوں میں درج ہیں؟
خلاصہ یہ کہ جملہ یجر النفع الی نفسہ استعمال کر کے لوگوں کو یہ فریب دیں کہ علی(ع) چونکہ اس معاملے صاحب نفع ہیں لہذا ممکن ہے کہ اپنے اہل وعیال کے فائدے کے لیے(معاذ اللہ) جھوٹی شہادت دے دیں، اس وجہ سے ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے خدائے تعالی تو آپ کو معتبر قرار دے لیکن چند ترکیبی لوگ اس کو رد کردیں؟
علی علیہ السلام کا دردِ دل
آیا علی(ع) کے بارے میں نزول آیات قرآنی ، منصب ولایت کی توثیق اور رسول اللہ(ص) کی وصیت و سفارش کا یہی نتیجہ تھا کہ آپ کو اس قدر آزاد و آذیت پہنچائیں کہ آپ خطبہ شقشقیہ میں اپنے درد دل کا اس طرح اظہار فرمائیں "صبرت وفی العین قذی و فی الحق شجی "( یعنی میں صبر کیا اس حال میں کہ ؟؟؟؟ میری آنکھ میں خس و خاشاک اور حلق میں ہڈی پھنسی ہوئی ہو۔) حضرت کے یہ جملے شدیدغم وغصہ اندوہ والم اور تلخی صبر کی ترجمانی کررہے ہیں۔
آپ یہ بے خودی میں نہیں فرماتے تھے کہ:
"وَاللَّهِلَابْنُأَبِيطَالِبٍآنَسُبِالْمَوْتِمِنَالطِّفْلِبِثَدْيِ أُمِّهِ"
یعنی قسم خدا کی ایک شیر خوار بچے کو جس قدر اپنی اپنی ماں کے پستان سے انس ہوتا ہے اس سے زیادہ فرزند ابوطالب کو موت کا شوق ہے۔
آپ کا قلب اس قدر مجروح اور زندگانی دنیا سے سیر تھا کہ جس وقت اولین و آخرین کے شقی ترین آدمی عبدالرحمان ابن ملجم مرادی
نے زہر میں بجھائی ہوئی تلوار فرق مبارک پر لگا تو محراب عبادت کے اندر آپ فرماتے تھے فزت و رب الکعبۃ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا۔
حضرات تاریخ کی شہادت اور آپ کے بزرگ مورخین کے قول کے مطابق ہوا جو نہ ہونا چاہئیے تھا، کیا گیا جو نہ کرنا چاہئیے تھا اور کہا گیا جو نہ کہنا چاہئیے تھا۔ لیکن اب آج کے روز مناسب نہیں ہے کہ آپ جیسے دانشمند علماء خدا و رسول(ص) کے عزیز و محبوب کو مزید اذیت پہنچائیں اور بے خبر لوگوں میں غلط فہمی پھیلائیں در آنحالیکہ خوب واقف ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ایذا دنیا در حقیقت رسول خدا(ص) کو ایذا دینا ہے۔
علی(ع) کو اذیت دینے والوں کی مذمت میں احادیث
جیسا کہ آپ کے اکابر علماء مثلا امام احمد بن حبنل نے اپنی مسند میں کسی و طریقوں سے امام ثعلبی نے تفسیر میں اور شیخ الاسلام حموینی نے فرائد میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) فرمایا:
"من آذى عليافقدآذاني! ياأيهاالناسمن آذى عليابعثيومالقيامةيهوديّاًأونصرانياً."
یعنی جس نے علی(ع) کو ایذا دی اس نے یقینا مجھ کو ایذا دی۔ ایہا الناس! جو شخص علی کو اذیت دے وہ قیامت کے دن یہودی یا نصرانی اٹھے گا۔
ابن حجر مکی باب9 فصل دوم ص76 حدیث نمبر16 میں سعد ابن ابی وقاص سے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب68 میں سند کے ساتھ رسول اللہ(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا:
"من آذى عليافقدآذاني"
یعنی جس نے علی(ع) کو اذیت دی اس نے در حقیقت محمد(ص) کو اذیت دی۔
مجھ کو اس وقت ایک اور حدیث یاد آگئی، اجازت ہو تو عرض کروں اس لیے کہ حدیث رسول(ص) کا بیان کرنا اور سننا عبادت ہے۔ اس حدیث کا بخاری نے اپنی صحیح میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے کتاب ما نزل من القرآن فی علی میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں اور حاکم ابوالقاسم حسکانی نے حاکم ابو عبداللہ حافظ سے انہوں نے احمد بن محمد بن ابی دائود حافظ سے انہوں نے علی بن احمد عجلی سے انہوں نے ؟؟؟؟ یعقوبسے انہوں نے ارطاۃ بن حبیب سے انہوں نے ابوخالد واسطی سے انہوں نے زید بن علی علیہ السلام سے ، انہوں نے اپنے باپ علی ابن الحسین علیہما السلام سے آپ نے اپنے باپ حسین بن علی علیہما السلام سے اور آپ نے اپنے پدر بزرگوار علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک راوینے اپنی داڑھی کا بال پکڑ کے کہا کہ رسول اللہ(ص) نے اس
طرح سے اپنا موئے مبارک ہاتھ میں لے کر فرمایا:
"ياعلي من آذىشعرةمنكفقدآذانيومنآذانيفقدآذىاللهومنآذىاللهفعليه لعنة الله"
یعنی اے علی(ع) جو شخص تمہارے ایک بال کو بھی تکلیف پہنچائے اس نے در حقیقت مجھ کو تکلیف پہنچائی۔ اور جو شخص مجھ کو تکلیف پہنچائے اس نے حقیقتا خدا کو تکلیف پہنچائی اور جو خدا کو تکلیف پہنچائے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
سید ابوبکر بن شہاب الدین علوی نے کتاب رشفتہ الصاری من بحر فضائل بنی النبی الہادی مطبوعہ مطبع اعلامیہ مصر سنہ1303 باب4 ص60 میں کبیر طبرانی، صحیح ابن حبان اور حاکم سے صحت حدیث کی تصدیق کے ساتھ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ :
"مَنْ آذَانِي فِي عِتْرَتِيفَعَلَيْهِلَعْنَةُاللَّهِ."
یعنی جو شخص مجھ کو میری عترت کے بارے میں اذیت پہنچائے پس اس پر خدا کی لعنت ہو۔
امید ہے کہ میرے سچے معروضات بے اثر نہ ثابت ہوں گےے اور آپ حضرات اب اس سے زیادہ آں حضرت(ص) کی مقدس روح کو آزردہ کرنے پر رضا مند نہ ہوں گے ، کیوںکہ محکمہ عدل الہی میں جواب دہی بہت مشکل ہے۔
( جیسے ک اس ساری مدت میں میں خود بھی رو رو کر بیان کرتا رہا اور اکثر حاضرین کی آںکھوں میں بھی آنسو بھرے رہے بلکہ بعض کے رخساروں پر جاری ہوگئے تھے، یہاں تک کہ جناب حافظ صاحب بھی کبھی کبھی اشکبار ہوجاتے تھے۔)
حضرات! ذرا غائر نظر ڈالئے اور اپنے معرض عمل میں قرار دیجئے تو معلوم ہو کہ جماعت امت کے درمیان ( وہی امت جو دو مہینے قبل حضرت علی علیہ السلام کے پائیں پا بیٹھی ہوتی تھی اور آپ کو پیغمبر(ص) اپنے ہاتھوں پر بلند کئے ہوئے، سب نے آپ کی بیعت کی تھی اور خدا و رسول (ص) کے حکم سے آپ کے سامنےسر تسلیم خم کیا تھا) جس وقت امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت رد کی گئی اور قطعی حکم دے دیا گیا کہ صدیقہ مظلومہ جناب فاطمہ (ع) کی زیر تصرف جائداد اور آپ کے بچوں کی پرورش کا ذریعہ ضبط کر لیا جائے تو اتنی سخت اہانتوں سے پیغمبر(ص) کی ان دوںوں امانتوں پر کیا گزری ہوگی؟ یہاں تک کہ دشمن مسجد رسول سے خوش ہو کر اٹھے۔
یہ غیظ و غضب جناب معصومہ پر ایسا موثر اور مستول ہوا کہ عین عالم شباب میں انتہائی غصے اور درد و الم کے ساتھ دنیا سے اٹھ گئیں۔
حافظ : بدہی چیز ہے کہ بی بی فاطمہ(ع) شروع شروع میں ضرور دل تنگ اور غضب ناک ہوئیں لیکن آخر کار جب دیکھا کہ خلیفہ نے حکم صحیح دیا ہے تو ناراضگی جاتی رہی اور ان لوگوں سے خوش ہوگئیں۔ یہاں تک کہ انتہائی رضا و خوشنودی کے ساتھ دنیا سے گئیں۔
فاطمہ (ع) مرتے دم تک ابوبکر و عمر سے خوش نہیں تھیں
خیر طلب: اگر یہی بات ہے تو آپ کے بڑے بڑے علماء اس کے برعکس کیوں لکھتے ہیں؟ مثلا دو موثق عالم بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں لکھا ہے۔
"فوجدت(1) ای فغضبت فاطمةعلى أبى بكرفهجرته فلم تكلمه حتّى توفيت فلماتوفيت دفنهازوجهاعليّ بن أبي طالب ليلاولم يؤذنبهاأبابكريصلى عليها"
یعنی فاطمہ(ع) نے غیظ و غضب کے عالم میں ابوبکر کو ترک کر دیا اور ناراضگی کی وجہ سے مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی یہاں تک کہ جب وفات پائی تو ان کے شوہر علی(ع) نے رات کے وقت دفن کیا اور ابوبکر کو اس کی اجازت نہیں دی کی جنازے میں شریک ہوں اور ان پر نماز پڑھیں۔
چنانچہ بخاری نے اپنی صحیح جلد پنجم باب غزوۃ خیبر ص9 نیز جلد ہفتم باب قول النبی ، لا نورث ما ترکناہ صدقہ ، ص87 میں نقل کیا ہے کہ :
"فهجرته فاطمةفلم تكلمه حتى ماتت."
یعنی فاطمہ(ع) نے ابوبکر کو چھوڑ دیا اور ان سے کلام نہیں کیا یہاں تک کہ وفات پائی۔(12 مترجم)
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب99 میں بھی اسی روایت کو نقل کیا ہے۔ ابومحمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری نے الامامۃ والسیاستہ ص14 میں روایت کی ہے کہفاطمہ سلام اللہ علیہا نے بستر بیماری پر ابوبکر و عمر سے فرمایا:
"انّي اشهداللَّه وملائكته انّكمااسخطانىوماارضيتمانى لئن لقيت النّبىّ لأشكون كما"
یعنی میں خدا اور فرشتون کو گواہ کر کے کہتی ہوں کہ تم دونوں ( ابوبکر و عمر) نے مجھ کو غضبناک کیا ہے اور مجھ کو راضی نہیں کیا۔ اگر پیغمبر(ص) سے ملاقات کروں گی تو ضرور بالضرور تم دونوں کی شکایت کروں گی۔
نیز اسی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
"غضبت فاطمةمن ابی بکر وهجرتهالیماتت"
یعنی فاطمہ(ع) ابوبکر پر خشمناک ہوئیں اور ان کو ترک کردیا یہاں تک کہ اسی حالت میں وفات پائی۔
ان روایتوں کے مقابل آپ کی معتبر کتابوں میں اور بھی بہت سے اخبار و احادیث درج ہیں خیر ذرا آپ حضرات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ وجد لغت میں جیسا کہ فیروز آبادی نے قاموس میں لکھا ہے خشم و غضب کے معنی میں ہے۔ 12
غیر جانبداری اور عدل و اںصاف کی نظر ڈالیں اور مجھ س ان روایات کے درمیان جمع کرنے کا طریقہ بیان فرمائیں۔
فاطمہ(ع) کی اذیت خدا و رسول(ص) کی اذیت ہے
من جملہ ان کے وہ مشہور حدیث ہے جس کو بالعموم آپ کے علماء جیسے امام احمد بن حنبل مسند میں سلیمان قندوزی ینابیع المودۃ میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی اور بن حجر نے صواعق میں ترمذی اور حاکم وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے الفاظ و عبارات کی مختصر کمی و بیشی کے ساتھ درجکیا ہے کہ رسول اللہ(ص) مکرر فرماتے تھے۔
" فاطمة بضعة منی وهی نور عينی و ثمرة فئوادی و روحی التی بين جنبی من آذاها فقد آذانیو من آذانی فقد اذی الله و من اغضبها فقد اغضبنی يوذينی ما اذاها"
یعنی فاطمہ(ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، یہ میری آنکھوں کا نور، میرا میوہ دل اور میرے دونوں پہلوئون کے درمیان میری روح ہے، جس نے فاطمہ(ع) کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی اور جس نے مجھ کو اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی جس نے فاطمہ(ع) کو غضب ناک کیا اس نے مجھ کو غضب ناک کیا، جس چیز سے فاطمہ(ع) کو تکلیف پہنچتیہے اس سے مجھ کو تکلیف پہنچتی ہے۔
ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا ک حالات بیان کرتے ہوئے صحیحین بخاری و مسلم سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :
"فاطمة بضعة منیيوذينیمن اذاهاو يريبنی ما ازا بها"
یعنی فاطمہ(ع) میرا پارہ تن ہے جو چیز اس کو اذیت پہنچائے وہ مجھ کو بھی اذیت پہنچاتی ہے اور جو چیز اس کی بزرگی قائم رکھے وہ میری بزرگی بھی قائم رکھتی ہے۔
محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص6 میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیاءجلد دوم ص40 میں اور امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا:
"انما فاطمة ابنتی بضعة منی يريبنی ما ارا بها و يوذينی ما آذاها "
یعنیسوائے اس کے نہیں ہے کہ فاطمہ(ع)میری بیٹی میرے بدن کا ٹکڑا ہے، جو اس لیے باعث عزت ہے وہ میرے لیے بھی باعث عزت ہے اور جو اس کے لیے ایذا رساں رہے وہ میرے لیے بھی ایذا رساں ہے۔
ابوالقاسم حسین بن محمد ( راغب اصفہانی) محاضرات الادباء جلد دوم ص204 میں نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:
"فاطمة بضعة منیفمن اغضبها فقد اغضبنی"
یعنی فاطمہ(ع) میرے جسم کا حصہ ہے پس جس نے اس کو غصہ دلایا اس نے مجھ کو غصہ دلایا۔
حافظ ابوموسی بن المثنی بصری متوفی س252ہجری نے اپنی معجم میں، ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد 4 ص375 میں، ابویعلی موصلی نے سنن میں، طبرانی نے معجم میں حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد سیم ص154 میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے فضائل الصحابہ میں، حافظ ابن عساکر نے تاریخ شام میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ ص175 میں، محب الدین طبری نے ذخائر ص39 میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ ص105 میں اور ابوالعرفان الصبان نے اسعاف الراغبین ص171 میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے اپنی دختر سلام اللہ علیہا سے فرمایا:
" يا فاطمه ان اللهيغضب لغضبک و يرضی لرضاک"
یعنی اے فاطمہ(ع) یقینا تم ناراض ہو تو اللہ بھی ناراض ہوتا ہے اور تم راضی ہوتو خدا بھی راضی ہوتا ہے۔
اور محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح باب مناقب قرابہ رسول اللہ(ع) ص71 میں مسور بنمخزومہ سے نیز ص75 میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
"فاطمة بضعة منیفمن اغضبها فقد اغضبنی"
یعنی فاطمہ(ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے پس جو شخص فاطمہ(ع) کو غصہ میں لایا در حقیقت وہ مجھ کو غصہ میں لایا۔
اسی قسم کی حدیثیں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، ترمذی، مسند امام احمد بن حنبل، صواعق محرقہ ابن حجر اور ینابیع المودت شیخ سلیمان بلخی حنفی وغیرہ جیسی آپ کی معتبر کتابوں میں بکثرت سے مروی ہیں، پس ان اخبار کو ان روایات کےساتھ کیونکر جمع کیجئے گا کہ جناب فاطمہ(ع) ان لوگوں سے غضبناک اور ناراج دنیا سے نہ اٹھیں؟
شیخ : یہ روایتیں صحیح ہیں لیکن علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ جب انہوں نے ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ عقد کا پیغام دینا چاہا تو رسول خدا(ص) ان پر غضبناک ہوئے فرمایا کہ جو شخص فاطمہ(ع) کو آزار دے اس نے مجھ کو آزار دیا اور جو شخص مجھ کو آزار دے وہ مغضوب خدا ہے اور اس سے مراد علی(ع) تھے۔
دختر ابوجہل کے لیے پیغام دینے کا جواب
خیر طلب : انسان اور دوسرے حیوانات میں بہت فرق ہے۔ انسان کو جو امتیازی خصوصیات حاصل ہیں ان میں سب سے اہم عقل و غور و فکر کی قوت ہے جو اس کے دماغ میں ودیعت کی گئی ہے یعنی حیوان پر اسی آدمی کو برتری حاصل ہے جو زندگی کی تمام منزلوں میں عقل کیہدایت پر عمل کر لے۔ اس طریقے سے کہ جو کچھ سنے اس فورا آنکھ بند کر کے قبول نہ کر لے بلکہ اس کے ہر پہلو پر گہری نظر ڈالے ، اگر عقل اس کیو قبول کرے تو مان لے ورنہ رد کردے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
"فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولئِكَ الَّذِينَ هَداهُمُ اللَّهُ وَ أُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ."
یعنی(اے رسول(ص)) بشارت دے دو انبندوں کو جو بات سنتے ہیں پس اس کے بہترین حصے کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی لوگ در حقیقت صاحبان عقل ہیں۔( آیت نمبر19 سورہ نمبر39 ( زمرا))
ایک روایت آپ کے اسلاف نے نقل کی اور آج آپ بھی اپنی عادت او گذشتہ لوگوں کی فریب کاری کا اتباع کرتے ہوئے بغیر عقل کی کسوٹی پر کسے اور جرح و تعدیل کئے ہوئے یہ غیر معقول جملے زبان پر جاری کر رہے ہیں لہذا میں بھی مجبور ہوں کہ مختصر جواب عرض کروں۔
اول تو خود آپ کے علماء نے تصدیق کی ہے ( جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا) کہ علی علیہ السلام آیہ تطہیر میں شامل اور طہارت ذاتی کے حامل ہیں یعنی ہر رجس و کثافت ، لہو ولعب اور اخلاق رذیلہ سے منزا و مبرا ہیں۔
دوسرے یہ کہ آیہ مباہلہ میں خدا نے ان کو بمنزلہ نفس پیغمبر(ص) فرمایا ہے جس کے متعلق ہم گذشتہراتوں میںتفصیل سے بحث کرچکے ہیں اس کے باب علم رسول(ص) تھے لہذا قرآن کے احکام و قوانین سے بخوبی واقف تھے اور جانتے تھے کہ خڈا نے آیت نمبر53 سورہ نمبر33( احزاب) میں فرمایا ہے:
"وَ ما كانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ "
یعنی تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) کو ( زندگی میں یا بعد از وفات) اذیت پہنچائو۔
پس عقل کیونکر باور کرسکتی ہے کہ آپ کوئی ایسا اقدام کریں کہ آپ کے قول یا فعل سے رسول خدا(ص) آزردہ خاطر اور غضبناک ہوں؟ اور یہ کیونکر سمجھ میں آسکتا ہے کہ مجسمہ خلق عظیم پیغمبر(ص) اس ہستی پر ناراض ہو جو خدا کو محبوب ہو اور وہ بھی ایک مباح کام کے لیے کیونکہ خدائے تعالے نے قرآن مجید میں کوئی استثناء نہیں فرمایا ہے۔ آیت نمبر3 سورہ نمبر4 ( نساء)
"فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْنى وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ"
یعنی تم کو جو بہتر معلوم ہو دو تین اور چار عورتون سے نکاح کرسکتے ہو۔
اس حکم سے امر نکاح انبیاء و اوصیاء اور ساری امت میں عمومیت رکھتا ہے اگرفرض کر لیاجائے کہ امیرالمومنین(ع) کوئی ایسا قصد کر بھی رہے تھے تو شرعا جائز تھا اور رسول اکرم(ص) کسی امر مباح کے لیے ہرگز غضبناک نہیں ہوتے تھے اور نہ ایسے کلمات فرماتے تھے۔
چنانچہ ہر عقل مند انسان غور و تحقیق کے بعد سمجھ لیتا ہے کہ ی روایت بنی امیہ والوں کے موضوعات میں سے ہے اور آپ کے اکابر علماء بھی اس حقیقت کے معترف ہیں۔
عہد معاویہ کی حدیث سازی اور ابو جعفر اسکافی کا بیان
چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص358 میں اپنے شیخ و استاد ابوجعفر اسکافی بغدادی سے اس بارے میں ایک بیان نقل کرتے ہیں کہ معاویہ ابن ابوسفیان نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کو معین کیا تھا کہ علی علیہ السلام کی مذمت میں روایتیں وضع کریں اور ان حضرت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں تاکہ لوگ آپ سے بیزاری اختیار کریں۔
من جملہ ان کے ابوہریرہ و عمرو بن عاص ، مغیرہ بن شعبہ اور تابعین میں سے عروہ بن زبیربھی تھے۔ لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کی بعض جعلی روایتوں کا بھی تذکرہ کیا ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ کا نام آیا تو کہا ابوہریرہ وہ شخص ہے جس نے ایک حدیث اس مفہوم کی روایت کی ہے کہ علی علیہ السلام نے رسول خدا(ص) کی زندگی میں دختر ابوجہل کی خواستگاری کی جس سے آں حضرت(ص) نے ان پر غیظ وغضب کا اظہار کیا اور بالائے منبر فرمایا کہ دوست خدا اور دشمن خدا میں یکجائِ نہیں ہوسکتی ، فاطمہ(ع) میرا پارہ تن ہے جو شخص اس کو اذِیت دے اس نے مجھ کو اذیت دی، جو شخص ابوجہل کی بیٹی کو لانا چاہتا ہے اس کو چاہئیے کہ میری بیٹی سے علیحدہ ہوجائے۔
اس کے بعد ابوجعفر کہتے ہیں " والحدیث مشہور من روایہ الکرابیسی" یعنی یہ حدیث روایت کرابیسی کے نام سے مشہور ہے اس لیے کہ ہر بے بنیاد روایت کو کرابیسی کہتے ہیں۔
ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیحیں بخاری و مسلم میں مسور بن محرمہ الزہر سے مروی ہے۔ اور سید مرتضی علم الہدی ( جو اکابر و مفاخر محققین علمائے شیعہ میں سے ہیں) کتاب تنزیہ الانبیاء و الائمہ میں کہتے ہیں کہ یہ روایت حسین کرابیسی سے منقول ہے جو اہل بیت طاہرین کی مخالفت میں مشہور ہے، یہ اس خاندان جلیل کے سخت دشمنوں اور نواصب میں سے تھا اور اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے۔ چونکہ خود آپ کی معتبر کتابوں میں مروی اخبار کثیرہ کی بنا پر علی(ع) کا دشمن منافق ہے اور منافق بحکم قرآن مجید جہنمی ہے لہذا اس کی روایت مردود ہے۔
اس کے علاوہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اذیت دینے والوں کی مذمت میں روایتیں صرف کرابیسی کے بیان یا دختر ابوجہل کے گڑھے ہوئے واقعہ میں ابوہریرہ کی نقل سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اس موضوع میں بکثرت روایات وارد ہیں۔
من جملہ ان کے خواجہ پارسائے بخاری فصل الخطاب میں، امام احمد بن حنبل مسند اورمیر سید ہمدانی شافعی مودۃ القربی مودۃ سیزدہم میں سلمان محمدی سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا۔
"حبّ فاطمة ينفع في مائة من المواطن ايسر تلك المواطن الموت و القبر و الميزان و الصّراط و الحساب فمن رضيت عنه ابنتى فاطمة رضيت عنه و من رضيت عنه
رضى اللَّه عنه و من غضبت عليه ابنتى فاطمة غضبت عليه و من غضبت عليه غضب اللَّه عليه و ويل لمن يظلمها و يظلم بعلها عليا و ويل لمن يظلم ذرّيّتها و شيعتها"
یعنی فاطمہ(ع) کی محبت سو مقامات پر نفع پہنچاتی ہے۔ جن میں سب سے آسان موت، قبر، میزان، صراط اور حساب ہے پس جس سے میری بیٹی فاطمہ(ع) خوش ہے اس سے میں بھی راضی ہوں اور جس سے میں راضی ہوں اس سے خدا راضی ے اور جس پر میری بیٹی فاطمہ(ع) ناراض ہے اس پر میں بھی ناراض ہوں اور جس پر میں غضبناک ہوں اس پر خدا غضب ناک ہے وائے ہو اس پر جو فاطمہ(ع) پر اور ان کے شوہر علی(ع) پر ظلم کرے اور وائے ہو اس پر جو علی(ع) و فاطمہ(ع) کی اولاد اور ان دونوں کے شیعوں پر ظلم کرے۔
جس قدر روایتیں پیش کی گئیں ثبوت اور نمونے کے لیے اتنی ہی کافی ہیں۔ اب آپ حضرات یہ فرمائیں کہ یہ اخبار صحیحہ جو فریقین کی کتب معتبرہ میں بکثرت سے منقول ہیں ان روایات کے ساتھ جو پہلے عرض کرچکا کہ آپ کے اکابر علماء جیسے بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کی ہے کہ فاطمہ(ع) ابوبکر وعمر پر غضبناک اور ناراض رہیں یہاں تک کہ دنیا سے اٹھ گئیں ، کیونکر جمع کی جاسکتی ہیں؟
حافظ : یہ روایتین صحیح ہیں اور ہماری معتبر کتابوں میں بکثرت اور بہت تفصیل سے منقول ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دختر ابوجہل کے لیے علی کرم اللہ وجہہ کی خواستگاری کے سلسلہ میں حدیث کرابیسی خود میرے دل میں کھٹکتی تھی اور مجھ کو اس پر یقین نہیں آتا تھا، میں بہت ممنون ہوں کہ آج آپ نےاس گتھی کو حل فرما دیا۔
غضب فاطمہ(ع) کے دینی ہونے میں اشکال اور اس کا جواب
دوسری یہ کہ ان احادیث میں غضب سے غضب دینی مراد ہے نہ کہ معمولی دنیاوی غصہ۔ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما فاطمہ رضی اللہ عنہا کایہ غصہ جو ہماری تمام صحیح کتابوں میں منقول ہے غضب دینی نہیں تھا۔یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا ن شیخین رضی اللہ عنہما پر دینی فرائض کے خلاف کوئی عمل کرنے کی وجہ سے غصہ نہیں کیا البتہ جو شخص فاطمہ(ع) کو دینی غصہ دلائے قطعا اس پر خدا و رسول(ص) کا غضب نازل ہوگا۔
در اصل فاطمہ رضی اللہ عنہا کا یہ غصہ ان کا حالت میں اس قسم کا تغیر تھا جو ہر حساس انسان میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ اپنی مراد اور مقصد کو حاصل نہ کرسکے۔
چونکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فدک کی درخواست کی تھی اور خلیفہ نےفدک واپس کرنے سے موافقت نہیں کی لہذا فطری طور پر متاثر ہوئیں اور اس وقت غضبناک ہوئیں لیکن بعد کو یہ معمولی غصہ بھی ان کے دل سے نکل گیا اور خلیفہ کے حکم پر راضی ہوگئیں اور ان جلیل القدر بی بی کی رضامندی کا ثبوت ان کی خاموشی تھی۔
یہاں تک کہ جب علی کرم اللہ وجہہ کو خلافت ملی تو باوجود ا پنے اس اثر و اقتدار کے فدک کو ضبط نہیں کیا چنانچہ یہ بھی ایک دلیل قاطع ہے کہ آپ سابق خلفاء کے فیصلے پر راضی تھے۔
خیر طلب: آپ نے ایسے مطالب بیان فرمائے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا ایک مفصل جواب ہے چونکہ رات کافی گزر چکی ہے لہذا اگرچہ حضرات سامعین میں کوئی کسل نظر نہیں آتا پھر بھی بہتر ہوگا کہ اگر آپ کی رائے ہو تو جوابات کل شب پر رکھے جائیں۔
و تمام اہل جلسہ بول اٹھےاور کہنے لگے کہ ہم ہرگز رضامند نہیں۔ چونکہ ہم ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکے ہیں لہذا جب تک اس مسئلہ کا نتیجہ معلوم نہ ہوجائے گا نہ جائیں گے۔
خیر طلب : مجھ کو منظور ہے، لیکن وقت کے لحاظسے مفصل جواب ترک کر کے مختصر طور پر عرض کرتا ہوں۔
فاطمہ(ع) کے قلب و جوارح ایمان سے مملو تھے
اول یہ کہ آپ نے فرمایا ہے کہ فاطمہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کا غصہ دینی نہیں بلکہ نفسانی تھا تو یہ غلط فہمی ہے اور آپ نے بغیر تحقیق اور غور و فکر فرما دیا، اس لیے کہ اصول اخلاق، آیات قرآن اور احادیث رسول(ص) کے مطابق ایک مومن کامل بھی ایسا غصہ نہیں کرتا نہ کہ جناب فاطمہ(ع) جن کی بزرگی آیہ تطہیر، آیہ مباہلہ اور سورہ ہل اتی سے واضح ہے۔
ہماری اور آپ کی معتبر کتابوں میں کثرت سے وارد ہے کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کمال ایمان کے درجہ پر فائز تھیں، اور رسول اکرم(ص) نے خاص طور فرمایا ہے۔
"ان ابنتی فاطمة ملاء الله قلبها و جوارحها ايمانا الی مشاشها"
یعنی یقینا خدا نے میری بیٹی فاطمہ(ع) کے قلب و جوارح کو سرتا قدم ایمان سے بھر دیا ہے۔
فاطمہ(ع) کا غصہ دینی تھا
وہ مومن ومومنہ جن کے ایمان کی علامت حق کوتسلیم کرنا ہو ہرگز ایسا عمل نہیں کرتے کہ جب کوئی حاکم سچا فیصلہ کرے یعنی خدا کا حکم جاری کرے تو اس پر غصہ دکھائیں اور وہ بھی ایسا غصہ جو کینے اور عداوت کے ساتھ ہو، پھر اسی غیض و غضب پر مرتے دم تک قائم رہیں یہاں تک کہ وصیت کر جائیں کہ ان ناحق حکم دینے والوں میں سے کسی کو میرے جنازے پر نماز نہ پڑھنے دینا۔
حق تو یہ ہے کہ وہ فاطمہ(ع) جن کی طہارت کا ثبوت خدا دے رہا ہو قطعا کوئی جھوٹا دعوی ہی نہیں کرسکتیں تاکہ حاکم ان کے خلاف حکم دے۔
دوسرے اگر بی بی فاطمہ(ع) کا غصہ صرف حالت کا تغیر تھا تو جلد زائل بھی ہوجانا چاہیے تھا، بالخصوص اس عذر خواہی کے بعد تو دل بالکل صاف ہوجانا چاہئیے جو بعد کو ان لوگوں نے کی، کیونکہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے" المومن لیس بحقود " مومن کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ طبیعتا اور ہوائے نفسانی کی بنا رپ دل میں بغض و عداوت نہ رکھتا ہو۔ نیز حدیث میں ارشاد رسول(ص) ہے کہ اگر مومن سے کوئی غلطی ہوجائے تو مومن تین روز سے زیادہ اپنے دل میں عداوت نہیں رکھتا۔ پس صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا(ع) کی ذات جو سرتا پا ایمان میں غرق اور شہادت خداوندی کی بنا پر ہر قسم کے رجس و کثافت اور اخلاق رذیلہ سے پاک و مبرا تھی ہرگز کینہ پرور نہیں ہوسکتی۔ اور دوسری طرف فریقین کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر و عمر سے ناراض اور غضبناک دنیا سے گئیں لہذا معلوم ہوا کہ جناب معصومہ کا غصہ دینی تھا کہ جب خدا اور اپنے پدر بزرگوار کے حکم کے خلاف فیصلہ صادر ہوتے دیکھا تو غضب دینی کے ساتھ غضب ناک ہوئیں اور یہی وہ غصہ ہے جو غضب خدا و رسول(ص) کا ذریعہ ہے۔
فاطمہ(ع) کا سکوت رضا مندی کی دلیل نہیں تھا
تیسرے آپ نے فرمایا ہے کہ فاطمہ(ع) کی خاموشی ان معصومہ مظلومہ(ع) کی رضامندی کی دلیل تھی تو اس میں بھی آپ کو دھوکا ہوا ہے۔ ہر سکوت رضامندی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ بعض مواقع پر ظالم کے سخت اقتدار کے سبب سے مظلوم خاموشی پر مجبور ہوجاتا ہے تاکہ ہنگامے اور فساد کے مقابلے میں اپنی آبرو بچائے۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا صرف یہی نہیں کہ راضی تھیں بلکہ دنیا سے غضب ناک بھی گئیں جیسا کہ میں خود آپ کے اکابر علماء کے اقوال پیش کرچکا ہوں، بالخصوص آپ کے وہ بزرگ او موثق عالم بخاری و مسلم لکھتے ہیں:
"فغضبت فاطمةعلىأبىبكرفهجرتهولمتكلمهحتّىتوفيت"
یعنی فاطمہ ابوبکر پر غضبناک ہوئیں، پس ان سے دوری اختیار کی اور ان سے بات نہیں کی یہاں تک کہ وفات پائی۔
علی(ع) کو اپنی خلافت میں عمل کی آزادی نہیں تھی
چوتھے آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ علی علیہ السلام نے اپنی خلافت ( ظاہری) کے اقتدار میں چونکہ فدک پر تصرف نہیں کیا اور اس کو اولاد فاطمہ(ع) کے سپردنہیں کیا لہذا یہ فیصلے پر آپ کی رضامندی کی دلیل ہے ،اس میں بھی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس لیے کہ حضرت اپنے دور خلافت میں عمل کے لیے آزاد نہیں تھے کہ جو چاہتےاقدام کرتے یا کوئی حق واگذار کرتے یا کوئی بدعت دفع کرتے ۔ آپ جونہی اس قسم کا کوئی قدم اٹھاتے تھے فورا وادیلا مچ جاتی تھی۔
اگر آپ اولاد فاطمہ(ع) کو فدک واپس کر دیتے تو یقینا مخالفین اور خاص طور سے معاویہ اور انکےچیلو کو موقع ہاتھ آجاتا کہ پہلے والوں نے جو بات کہی تھی کہ علی(ع) اپنے لیے کسب منفعت کررہے ہیں اس کو صحیح ثابت کریں اور یہ پروپیگنڈا کر کے اپنے قدم مضبوط کریں کہ علی(ع) نے ابوبکر کے خلاف عمل کیا۔
اس کے علاوہ ایسا حکم دینے کے لیے قدرت اور خودمختاری ضروری تھی حالانکہ لوگوں نے حضرت کے لیے ایسی طاقت اور اختیارات ہی باقی نہیں رکھے تھے کہ سابق خلفاء کے قول و فعل کے خلاف کوئی طریقہ رائج کرسکیں۔ چنانچہ منبر اور تراویح کے قضیہ سے یہ بات صاف ہوگئی۔
چونکہ حضرت سے پہلے دوسرے خلفاء نے منبر کو اس مقام سے ہٹا دیا تھا جہاں پر رسول خدا(ص) نے رکھا تھا لہذا جس وقت آپ کو خلافت ظاہری حاصل ہوئی تو چاہا کہ منبر رسول(ص) کو پھر اس کی اصلی جگہ لے جائیں لیکن لوگوں نے ہنگامہ برپا کر دیا اور اس کے لیے تیار نہیں ہوئے کہ سیرت شیخین کے خلاف عمل کیا جائے چاہے وہ عمل پیغمبر(ص) کے مطابق ہی کیون نہ ہو۔
اسی طرح لوگوں کو نماز تراویح با جماعت سے منع فرمایا تو پھر شور و غوغا بلند ہوا کہ علی خلیفہ عمر کے خلاف چلنا چاہتے ہیں۔
نواب : قبلہ صاحب ! نماز تراویح کیا تھی کہ علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی جماعتسے منع کیا؟
خیر طلب : تراویح لغت میں ترویحہ کی جمع ہے جو در اصل نشست کے معنی میں ہے۔ بعد کو ماہ رمضان ال مبارک کی راتوں مِں چار رکعت نماز کے بعد استراحت کے لیے بیٹھنے کا نام قرار پایا، شبہائے ماہ رمضان میں چار رکعت مستحبی نماز کا( یاتمام شبوں میں بیس رکعت مستحبی نماز کا) نام ہوگیا۔
یہی مسئلہ ہے کہ اسلامی دینیات میں صرف فریضہ اور واجب نمازیں تو جماعت سے پڑھی جاسکتی ہیں لیکنمستحبی نمازیں ممنوع ہیں کیونکہ خود پیغمبر(ص) کا ارشاد ہے۔
" إِنَّ الصَّلَاةَ بِاللَّيْلِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ النَّافِلَةَ فِي جَمَاعَةٍ بِدْعَةٌ وَ صَلَاةَ الضُّحَىمَعْصِيَةٌ أَلَا فَلَا تَجْتَمِعُوا لَيْلًا شَهْر رَمَضَانَ فِيلنَّافِلَةوَ لَا تُصَلُّوا صَلَاةَ الضُّحَى فَإِنَّ قَلِيلا مِنَ السُنَّة خَير مِن کَثِير مِن بِدعةَِ أَلَا وَ إِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلَّ ضَلَالَةٍ سَبِيلُهَا إِلَى النَّارِ "
یعنی در حقیقت شبہائے ماہ رمضان کی نماز نافلہ جماعت سے پڑھنا بدعت ہے اور نماز چاشت پڑھن گناہ ہے لوگو!ماہ رمضان کا نافلہ جماعت سے نہ پڑھو اور نماز چاشت بھی نہ پڑھو بس یقینا تھوڑا سا عمل جو سنت کے مطابق ہو اس بہت سے عمل سے بہتر ہے جو بدعت ہو۔ جان لوگ کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا راستہ آتش جہنم کی طرف ہے۔
ایک رات عمر اپنے دور خلافت کے سنہ14ہحری میں مسجد کے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ چراغ روشن ہیں اور لوگ
جمع ہیں، پوچھا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ سب سنتینماز جماعت سے پڑھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ عمر نے کہا: بدعۃ و نعمت البدعۃ یہ عمل بدعت ہے لیکن اچھی بدعت ہے۔
بخاری اپنی صحیح میں عبدالرحمن ابنعبدالقادری سے نقل کرتے ہیں کہ خلیفہ نے جب دیکھا کہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہے ہیں تو کہا کہ جماعت سے پڑھیں تو بہتر ہے اور ابی بن کعب کو حکم دیا کہ ان کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھائو! دوسری رات مسجد میں آئے تو دیکھا کہ لوگ ان کے حکم کیتعمیل میں جماعت سے پڑھ رہے ہیں کہ کہا نعمت البدعت ہذہ کیا اچھی بدعت ہے یہ بدعت۔
اس زمانہ سے عہد خلافت امیرالمومنین علیہ السلام تک یہ عمل جاری رہا۔ حضرت نے اس کو منع فرمایا کہ رسول خدا صلعم کےزمانے میں چونکہ یہ طریقہ نہیں تھا بلکہا سکی ممانعت تھی لہزا اسے ترک کردینا چاہئیے یہاں تک کہ آپ کوفے میں تشریف لائے تو اہل کوفہ نے درخواست کی کہ ہمارے لیے ایک پیشنماز معین فرمادیجئے تاکہ ہم نافلہ شبہائے رمضان جماعت سے پڑھیں حضرت نے اس سے منع فرمایا لیکن اس کے باوجود چونکہ ان لوگوں کی عادت ہوچکی تھی لہذا باز نہیں آئے اور جو نہی آپ تشریف لےگئے سب نے جمع ہو کر آپس میں ایک شخص کو امام مقرر کیا تاکہ جماعت سے نماز پڑھیں۔ فورا یہ خبر امیرالمومنین علیہ السلام کو پہنچی تو آپ نے اپنے بڑے فرزند امام حسن(ع) کو بلا کر حکم دیا کہ تزیانہ لے کر جائو اور اس مجمع کو نماز نافلہ جماعت کے ساتھ پڑھنے سے روکو! جب لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی تو نالہ و فریاد کی آوازیں بلند کیں کہ ہائے علی(ع) تو ہم کو نماز نہیں پڑھنے دیتے۔
باوجودیکہ خود جانتے تھے کہ رسول خدا(ص) کے عہد میں نماز کا یہ طریقہ نہیں تھا بلکہ عمر کے زمانے میں رائج ہوا ہے پھر بھی جضرت علی علیہ السلام کے فرمان اور ہدایت پر عمل پیرا نہیں ہوئے جو حکم رسول کے مطابق تھی۔
پس حضرت فدک کو اولاد فاطمہ(ع) کےسپرد کیونکر کرسکتے تھے؟ اگر ایسا کرتے اور فرماتے کہ اس کو ظلم سے غصب کیا گیا تھا لہذا مظلومہ کے وارثوں کو ملنا چاہئیے ۔ تو فورا لوگ چیخنے لگتے کہ علی ابن ابی طالب(ع) دنیا کی طرف مائل ہیں اور اپنی اولاد کے فائدے کے لیے مسلمانوں کا حق ضبط کر لیا ہے۔ چنانچہ سابق کی طرح آپ نے صبر ہی مناسب سمجھا۔ اور چونکہ اصلی حقدار بھی دنیا سے اٹھ چکا تھا لہذا آپ نے استقرار حق کو ملتوی کردیا تاکہ جب خلائق کو واگزار کرانے کے لیے امام مہدی آخر الزمان عجل اللہ فرجہ تشریف لائیں تو ان کا یہ حق واپس لیں۔
ایسی صورت میں حضرت کی خاموشی بھی فیصلہ پر راضی ہونے کی دلیل نہیں تھی۔ اگر آپ فدک کے معاملے میں سابق خلفاء کے طرز عمل کو حق سمجھتے تو اولا ان کے مقابلے میں استدلال نہ فرماتے۔
دوسرے اپنے درد دل اور ناراضگی کا اظہار نہ کرتے اور خدائے حکیم مطلق کو حکم قرار نہ دیتے۔
چنانچہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت نے اپنے عامل بصرہ عثمان ابن حنیف انصاری کے نام ایک خط اپنا دلی صدمہ ظاہر کرتے ہوئے لکھا :
" كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْهُ السَّمَاءُ فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ وَ نِعْمَ الْحَكَمُ اللَّهُ "
یعنی دنیا کی جن چیزوں پر آسمان نے سایہ ڈالا ہے ان میں سے ہمارے قبضے میں صرف فدک تھا ایک گروہ( خلفائے ماسبق ) نے اس کے لیے بخل دکھایا ( اور ہم سے چھین لیا) اور دوسری جماعت ( فاطمہ(ع) اور ان کی اولاد ) نے بھی اس سے ہاتھ کھینچ لیا اور اللہ سب سے اچھا اور فیصلہ کرنے والا ہے۔
رہا آپ کا یہ فرمانا کہ فاطمہ مظلومہ سلام اللہ علیہا آخر عمر میں ان پر راضی ہوگئیں اور ان لوگوں سے در گذر کی تو یہاں پھر آپ نے سخت دھوکا کھایا کیونکہ ہرگز ایسی صورت پیدا نہیں ہوئی، جیسا کہ ان روایتوں سے جو پہلے عرض کی جاچکیں تم نے ثابت کیا ہے کہ وہ مظلوم بی بی مرتے دم تک ناراض اور غضب ناک رہیں۔
ابوبکر اور عمر کی عیادت فاطمہ(ع)
اب میں خاتمہ کلام پر مزید ثبوت کے لیے ایک روایت اور پیش کرتا ہوں کہ ابومحمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوی متوفی سنہ276 ہجری نے تاریخ الخلفاء الراشدین معروف بہ الامامتہ والسیاستہ جلد اول ص12 میں اور آپ کے دیگر علماء جیسے ابن ابی الحدید وغیرہ نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے کہ:
"فقال عمر لأبي بكر: انطلق بنا إلى فاطمة، فإنّا قد أغضبناها."
یعنی عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آئو ہم فاطمہ(ع)کے پاس چلیں کیونکہ ہم نے یقینا ان کو غضب ناک کیا ہے۔
(اور بعض روایتوں میں ہے کہ ابوبکر نے عمر سے کہا کہ ہمارے ساتھ فاطمہ(ع) کے پاس چلو اور بظاہر یہی ہے)
خلاصہ یہ ہے کہ دونوں ایک ساتھ بی بی فاطمہ(ع) کے دروازے پر گئے لیکن جناب معصومہ(ع) نے ملاقات کی اجازت نہیں دی جب انہوں نے علی علیہ السلام کو واسطہ قرار دیا تو آپ ن سکوت اختیار کیا ۔ حضرت(ص)نے اسی پر اکتفا کر کے ان لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے پہنچ کر سلام کیا تو ان مظلومہ ن دیوار کی طرف منہ پھیر لیا ابوبکر نے کہا اے رسول خدا(ص) کی پارہ جگر خدا کی قسم میں رسول اللہ(ص) کے رشتے کو اپنے رشتے سے زیادہ محبوب اور تم کو اپنی بیٹی عائشہ سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ کا شکر میں رسول اللہ(ع) کے بعد ہی مرگیا ہوتا۔ میں تمہاری منزلت اور فضل او شرف کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، اگر میں نے تم کو حق وراثت سےمحروم کیا ہے تو یہ آں حضرت ہی کیطرف سے تھا کیونکہ میں نے خود سنا ہے کہ فرمایا " لا نورث ماترکناہ صدقۃ"
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے امیرالمومنین علیہ السلام سے کہا کہ میں رسول اکرم(ص) کی ایک حدیث ان لوگوں کو یاد دلاتی ہوںتم دونوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا تم نے آں حضرت(ص) کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ:
"رِضَا فَاطِمَةَ مِنْ رِضَايَ وَ سَخَطُ فَاطِمَةَ مِنْ سَخَطِي وَ مَنْ أَحَبَّ فَاطِمَةَ ابْنَتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَ مَنْ أَرْضَى فَاطِمَةَ فَقَدْ أَرْضَانِي وَ مَنْ أَسْخَطَ فَاطِمَةَ فَقَدْ أَسْخَطَنِي"
یعنی فاطمہ(ع) کی خوشنودی میری خوشنودی سے ہے اور فاطمہ(ع) کا غصہ میرے غصے سے ہے۔ پس جوشخص میری بیٹی فاطمہ(ع) کو دوست رکھے اس نے یقینا مجھ کو دوست رکھا، جو شخص فاطمہ(ع) کو خوش رکھے اس نے مجھ کو خوش رکھا اور جو شخص فاطمہ(ع) کو خشمناک کرے اس نے مجھ کو خشمناک کیا۔
" قَالا نَعَمْ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلی اللهُ علَيهِ وَ سَلَّم "
دونوں نے کہا ہاں ہم نے رسول اللہ(ص) سے یہ کلمات سنے ہیں، اس وقت جناب فاطمہ(ع) نے فرمایا:
" فَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَ مَلَائِكَتَهُ أَنَّكُمَا أَسْخَطْتُمَانِي وَ مَا أَرْضَيْتُمَانِي وَ لَئِنْ لَقِيتُ النَّبِيَّ ص لَأَشْكُوَنَّكُمَا إِلَيْهِ"
یعنی پس میں اللہ اور اس کے فرشتوں کو گواہ کر کے کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھ کو خشمناک کیا ہے اور مجھ کو راضی نہیں رکھا اور اگر میں پیغمبر(ص) سے ملاقات کروں گی تو ضرور بالفرور تم دونوں کی شکایت کروں گی۔
ابوبکر آپ کے ان الفاظ و بیانات سے دل تنگ ہوکر رونے لگے اور کہا میں تمہارے اور آں حضرت(ص) کے غیظ و غضب سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں، اس وقت فاطمہ زہرا(ع) نے نال و فریاد کے ساتھ فرمایا:
" و الله لأدعون عليك في كل صلاة اصليها ثم خرج باکيا."
یعنی خدا کی قسم میں اپنی ہر نماز میں تم پر ضرور بالضرور بدعا اور نفرین کروں گی۔
ابوبکر یہ سن کر روتے ہوئے باہر چلے گئے۔ لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے اور تسلی دینے لگی تو انہوں نے کہا وائے ہو تم پر تم سب تو خوش و خرم اپنے اپنے گھروں اپنی بیویوں کے پاس آرام کرتے ہو، اور میں اس حال میں ہوں "لا حاجة فی بيعتکم اقيلونی بيعتی " مجھے تمہاری بیعت کی کوئی احتیاج نہیں مجھ کو اس سے چھٹکارا دو، خدا کی قسم میں نے جو کچھ فاطمہ(ع) سے سنا اور دیکھا ہے اس کے بعد یہ خواہش نہیں رکھتا کہ کسی مسلمان کی گردن پر میری بیعت رہے۔ انتہی
پس اس قسم کی روایتوں سے جن کو خود آپ کے اکابر علماء نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم و مغموم بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آخری وقت تک ابوبکر و عمر سے ناراض وغضبناک رہیں، غصے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ دنیا سے گئیں اور ہرگز ان سے خوش نہیں ہوئیں۔
فاطمہ(ع) کو شب میں دفن کیا
امت کے ان وضیع اور ذات شریف لوگوں سے جناب معصومہ کی ناراضگی اور غم و غصہ کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اپنے شوہر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے یہ وصیت کی۔
" لَا يَشْهَدَ أَحَدٌ جِنَازَتِي مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ظَلَمُونِي وَ أَخَذُوا حَقِّي فَإِنَّهُمْ عدُوّی وَ عَدو رَسُولِ اللَّهِ ولا تترک أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيَّ أَحَدهمْ وَ لَا مِنْ أَتْبَاعِهِمْ وَ ادْفِنِّي فِي اللَّيْلِ إِذَا هَدَأَتِ الْعُيُونُ وَ نَامَتِ الْأَبْصَارُ"
یعنی ان لوگوں میں سے جنہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور میرا حق چھینا ہے ایک شخص بھی میرے جنازے پر نہ آئے کیونکہ یقینا یہ لوگ میرے اور رسول اللہ(ص) کے دشمن ہیں۔ ان میں سے اور ان کے پیروئوں میں سے کسی کو میرے جنازہ پر نماز نہ پڑھنے دیجئے گا اور مجھ کو شب میں دفن کیجئے گا جب لوگ سورہے ہوں۔
چنانچہ بخاری اپنی صحیح میں کہتے ہیں کہ علی(ع) نے فاطمہ(ع) کی وصیت پر عمل کیا اور ان کو رات کے وقت دفن کیا، لوگوں نے ہرچند جستجو کی کہ فاطمہ(ع) کو کہا دفن کیا ہے لیکن پتہ نہ پاسکے
فاطمہ(ع) کا درد دل قیامت تک رلائے گا
یہ بات بالاتفاق ثابت ہے کہ فاطمہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اپنی وصیت کے موافق ات کو دفن کیا گئیں۔
محترم حضرات!خدا کے لیےانصاف سے کام لیجئے کہ جس پیغمبر(ص) نے امت کی اصلاح و فلاح کے لیے اس قدر صبر آزما زحمتیں پرداشت کی ہوں اور اس امت کے آرام و خوش حالی کے لیے ساری زندگی صرف کردی ہو وہ وقت وفات اپنی یادگار میں صرف ایک بیٹی چھوڑے اور اس کے لیے شب و روز اور خفیہ و علانیہ اس قدر پر زور وصیتیں اور ہدایتیں فرمائے جن سے آپ کے اکابر علماء کی معتبر کتابیں پر ہیں کہ فاطمہ(ع) میرے جسم کا حصہ اور میری و دیعت و امانت ہے، میری ہی طرح اس کا بھی لحاظ رکھنا اور کوئی کام ایسا نہ کرنا جس سے یہ تم پر ناراض ہو، کیونکہ اگر یہناراض ہوگی تو میں بھی تم سے ناراض ہوں گا۔
چنانچہ میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی مودۃ القربی میں کہتے ہیں کہ پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ فاطمہ(ع) کو آزار دیں گے میں قیامت کے روز ان سےسخت مواخذہ کروں گا، اس لیے کہ فاطمہ(ع) کی رضامندی میری رضامندی ہے اور فاطمہ(ع) کا غصہ میرا غصہ ہے وائے ہو اس شخص پر جس سے میں ناراض و غضبناک ہوں۔
اس کے بعد بھی یہ امت آں حضرت(ع) کی سفارش اور وصیت و ہدایت کی کوئی پروانہ کرے بلکہ آپ کا حق ثابت چھین لے اور اس قدر اذیت پہنچائے اور غم و غصہ دلائے کہ عین عالم شباب میں اپنی ناکامی پر فریاد کریں اور کہیں۔
صُبَّتْعَلَيَمَصَائِبُلَوْ أَنَّهَاصُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا.
یعنی مجھ پر اتنی مصیبتیں ڈالی گئیں کہ اگر وہ دنوں پر ڈالی جائیں تو رات ہوجاتے۔
چنانچہ غم و غصہ اور مصائب و اندوہ کےفشار سے مجبور ہو کر وہ مظلوم و ناکام بی بی اور رسول خدا(ص) کی عزیز و محبوب بیٹیبارگاہ خداوندی میں برابر موت کے لیے دعا کیا کرتی تھی کہ " اللہم عجل وفاقی سریعا" یعنی خداوندا مجھ کو جلد از جلد موت دے دے۔ 12 مترجم۔
آخر کار اس کیوصیت بھی کر جائیں کہ میریمیت رات کے وقت سپرد خاک کیجئے گا اور میرے مخالفین میں سے کسی کو نہ میرے جنازے میں شرکت کرنے دیجئے گا نہ مجھ پر نماز پڑھنے دیجئے گا۔
بزرگان محترم! سچے دل سے فیصلہ کیجئے کہ آیا یہ حالت فاطمہ(ع) مظلومہ سلام علیہا کی خوشنودی مزاج کا نتیجہ تھے یا آپ کے شدید غیظ و غضب کا کھلا ہوا ثبوت؟ پھر ان اخبار کو ایک دوسرے سے ملا کر حقیقت آشکار کا مشاہدہ کیجئے۔
اندر کے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
ان بیانات کے دوران میں سارے حاضرین جلسہ روتے رہے، خصوصا جناب حافظ صاحب جنہوں نے اپنا سر نہوڑا لیا تھا، آنسوئوں کے قطرات ان کے دامن پر گررہے تھے اور کلمات استرجاع و استغفار ان کی زبان پر جاری تھے، چنانچہ اس شب کے بعد پھر انہوں نے بحث نہیں کی۔ معلوم ہو رہا تھا کہ بہت متاثرت ہیں اور چونکہ ایک منصف مزاج عالم تھے لہذا ہمارے منطقی دلائل نے ان کے عقائد میں انقلاب پیدا کردیا ہے ، جیسا کہ آخری شبمیں اشارۃ مذہب شیعہ قبول کرنے کے بعد ہم سے رخصت ہوئے۔
تقریبا پندرہ منٹ تک مجمع پرسکوت و حیرانی اور حزن و اندوہ کی کیفیت طاری رہی، چائے لائی گئی لیکن کسی نے نہیں پی اور تین بجے شب کو اذان صبح کے قریب یہ نشست ختم ہوئی۔
نویں نشست
شب شنبہ 2 شعبان المعظم سنہ1345 ہجری
غروب آفتاب کے وقت شرکاء میں سے چند سنی حضرات، نواب عبد القیوم خان، غلام امامین مولوی عبدالواحد، غلام حیدر خان اور سید احمد علی شاہ آئے اور رسمی صاحب سلامت کے بعد کہا کہ ان تمام راتوں میں بالخصوص گزشتہ شب ہمارے اوپر حق بالکل ظاہر ہوگیا اور جوکچھ چاہئیے ہم کو معلوم ہوگیا ہے، چونکہ ہم لوگ ضدی اور متعصب نہیں ہیں اور جاہ و منصب کی خواہش بھی نہیں رکھتے ، صرف عادت اور ماحول کے اثرات سے بغیر سمجھے بوجھے اتنی زندگی گمراہی میں بسر کردی لہذا اب جب کہ حق آشکار ہوچکا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ پھر بھی ہم لکیر کے فقیر بنے رہیں۔ چنانچہ ہم نے طے کر لیا ہے کہ آج کی رات تمام حاضرین جلسہ کےسامنے بالاعلان حضرات اہل سنت کے طریقے سے بیزاری کا اظہار کردیں( جیسا کہ آخری شب میں کیا بھی اور با قاعدہ تشیع کا اعلان کردیا)
میں نے تھوڑی اخلاقی گفتگو کے بعد ان حضرات سے خواہش کی کہ جب تک مناظرے کے جلسے ہو رہے ہیں خاموشی سے سنتے رہیں اور ابھی اپنے عقیدے کا اظہار نہ کریں بلکہ انتظار کریں کہ ان کا آخری نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنہا ہمیں لوگوں پر نہیں بلکہ رسائل و اخبارات کو پڑھنے اور طرفین کے مباحثات اور دلائل کا مطالعہ کرنے کے بعد بہت سے پاک نفس لوگوں پر مطلب واضح اور حقیقت ظاہر ہوگئی ہے اور انہوں نے اپنی شیعیت کا اظہار کیا ہے لیکن دوسرے اشخاص کے دبائو اور خجالت کی وجہ سے وہ آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے۔ اور انمیں سے بعض افراد تو اپنے ضروریات زندگی اور شہر والوں کے ساتھ معاشرتی پابندیوں کے سبب سے مجبور ہیں کہ اپنے خیالات کو پوشیدہ رکھیں۔
نماز مغرب کے بعد ہی علماء اور دیگر حضرات بھی تشریف لے آئے جن کا باقاعدہ استقبال کیا گیا اور جب مجلس مناظرہ منعقد ہوئی تو شیخ عبدالسلام صاحب ہمارے فریق مقابل قرار پائے۔ حافظ صاحب چونکہ کل شب کے بیانات سے بہت متاثر تھے لہذا وہ صرف طرفین کی گفتگو سنتے رہے۔
شیخ : مولانا صاحب ان جلسوں میں جب سے ہم آپ کی ملاقات سے فیض یاب ہو رہے ہیں علاوہ علم ومنطق کے
آپ کے حسنِ اخلاق اور بلند تہذیب و ادب نے ہم سب کو مسخر کر لیا ہے آپ کی سامنے اگر کوئی دشمن بھی آجائے سر تسلیم خم کردے، دوستوں کا کیا ذکر۔
آپ ہر مقام پراہل سنت والجماعت کے اعمال و افعال کا تو شکوہ کرتے ہیں لیکن شیعوں کے طرز طریقوں پر کوئی توجہ نہیں کرتے بلکہ برابر ان کی طرف سے دفاع کرتے رہتے ہیں، در آنحالیکہ اہل تشیع کے اعمال قبیحہ اور افعال شیعہ اس قدر گندے ہیں کہان کی اصلاح ممکن نہیں۔
خیر طلب : میں صرف حق کی طرف سے دفاع کرنے کا عادی ہوں وہ چاہے جہاں ہو، اس لیے کہ ہمارے مولا و آقا امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے فرزندوں بالخصوص حسنین علیہما السلام کو جو وصیتیں فرمائی ہیں ان میں ارشاد فرماتے ہیں:
"قولا للحق واعملا للآخرة کونا للظالم خصما وللمظلوم عونا"
یعنی حق بات کہو اور آخرت کے لیے عمل کرو، ظالم کے دشمن رہو اور مظلوم کی مدد کرو۔
اگر میں نے مخالفین کی شکایت یاشیعوں کی طرف سے کوئی دفاع کیا ہے تو حق کی روسے کیا ہے، میں نے جو کچھ شکوہ کیا ہے اس کو عقلی اور منطقی دلیلوں سے ثابت کردیا ہے، اب اس کا ثبوت آپ کے ذمے ہے کہ شیعوں کے وہ کونسےبرے اعمال ہیں جن کی آپ اس قدر سخت مذمت اور تنقید کررہے ہیں کہ ان کی اصلاح ہی نہیں ہوسکتی؟
شیعوں پر اعتراض کہ عائشہ کو زنا کاری کی نسبت دیتے ہیں اور اس کا جواب
شیخ : بدترین حرکت جو شیعوں سے سرزد ہوتی ہے اور عقلی نقلی حیثیت سے مذموم ہے وہیہ ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کوبعض برے کاموں اور زناکاری سے نسبت دیتے ہیں، حالانکہ یہ مسلم ہے کہ آپ نے رسول اللہ(ص) کی ہمبستری کا شرف پایا ہے۔ اور آںحضرت(ص) کی محبوب بیوی تھیں۔ وہ اس کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتے کہ عائشہ پر بدکاری اور زنا کاری کی تہمت کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے کہ انہوں نے سورہ نورنہیں پڑھا جس میں خدا فرماتا ہے۔
"الْخَبِيثاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَ الْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثاتِ وَ الطَّيِّباتُ لِلطَّيِّبِينَ وَ الطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّباتِ أُولئِكَ مُبَرَّؤُنَ مِمَّا يَقُولُونَ "
یعنی بدکار و ناپاک عورتیں اسی قسم کے مردوں کے لیے اور بدکار و ناپاک مرد اسی طرح کی عورتوں کے لیے مناسب ہیں اور نیک و پاکیزہ عورتیں اسی طریقے کے مردوں کے لیے اور نیک و پاکباز مرد اسی صفت کی عورتوں کے لائق ہیں اور یہ پاک و پاکیزہ افراد ان اتہامات سے مبرا ہیں جو ان پر لوگ عائد کرتے ہیں۔
خیر طلب : اولا آپ نے ام المومنین عائشہ کے بارے میں آوارگی اور زنا کاری کہ تہمت کا جو الزام شیعوں پر لگایا ہے وہ سراسر
جھوٹ اور زبردست دھوکا ہے۔ حاشا ثم حاشا، شیعوں کی جانب سے بلکہ شیعہ عوام کی طرف سے بھی ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی، آپ کا یہ فرمانا، ایک کھلا ہوا بہتان ہے جو جذبات برانگیختہ کرنے کے لیے صدیوں پہلے چند نواصب اور خوارج کی زبانوں سے نکلا تھا وہ جو کچھ خود کہنا چاہتے تھے اس کو شیعوں کے سرتھوپ کے ان کی زبانیبیان کرنا شروع کیا اور بیچارے شیعوں کوبدنام کیا، پھر کچھ دوسرے لوگ بھی یکے بعد دیگر بغیر جانچ پڑتال کے ان الزامات کو تسلیم کر کے اعتراض پر تل گئے جیسا کہ جناب عالی ایراد اور عجیب جوئی کررہے ہیں۔ آپ اگر علمائے شیعہ کی تمام کتابوں کا ایک ایک ورق الٹ ڈالیں گے تب بھی ہرگز کہیں نظر نہیں آئے گا کہ کسی نے ام المومنین عائشہ پر بدکاری اور زنا کی تہمت لگائی ہو۔ یہ دعوی نرا جھوٹا الزام ہے۔
قضیہ افک اور تہمت زنا سے عائشہ کی بریت
آپ شیعوں کی تفسیروں اور کتب اخبار کا مطالعہ کیجئے تو پتہ چلے کی قضیہ افک میں انہوں نے ام المومنین عائشہ کی طرف سے کیونکر دفاع کیا ہے در آنحالیکہ اگر شیعوں کے ایسے عقائد ہوتے تو ام المومنین عائشہ کی ذات پر حملہ کرنے کے لیے آوارگی و زناکاری کی تہمت لگانے کا سب سے اچھا موقع افک ہی کا معاملہ تھا۔
در حقیقت اس قسم کے اتہامات تو خود رسول اللہ(ص)کے زمانے میں منافقین صحابہ کی ایک جماعت نے عائد کئے تھے، جیسے مسطح بن اثاثہ، حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی وغیرہ، چنانچہ عائشہ کی برائت ذمہ اور منافقین کی غلط بیانی پر قرآن مجید میں سات آیتیں بھی نازل ہوئیں۔
آپ کی یاد داشت کے لیے عرض کرتا ہوں کہ ہم شیعوں کا عقیدہ اس بات پر ہے کہ جو شخص رسول اللہ(ص) کی بیوی کو چاہے وہ عائشہ اور حفصہ ہی ہوں آوارگی و زناکاری کی نسبت دیے وہ ملحد و کافر اور ملعون ہے اور کا خون و مال حلال ہے، اس لیے کہ ایسی نسبت خود آں حضرت(ص) کے مقدس مرتبے کی شان میں بہت بڑی اہانت ہے۔
اس کے علاوہ شیعوں کو یہ بھی علم ہے کہ کسی مسلمان پر بھی زناکاری اور حرام کاری کی تہمت لگانا حرام ہے نہ کہ حرم رسول (ص) پر چاہے وہ عائشہ اور حفصہ ہی کیوں نہ ہوں۔
شوہر و زوجہ نیکی اور بدی میں ایک دوسرے کے مثل نہیں
دوسرے جو آیہ شریفہ آپ نے تلاوت کی اس کے معنی وہ نہیں ہیں جو آپ سمجھے ہوئے ہیں کہ شوہر و زوجہ کو نیکی او بدی میں ہر پہلو سے ایک دوسرے کا شریک ومماثل ہونا چاہیے ۔ یعنی اگر ان میں سے ایک نیک بخت، مومن اور جنت کا مستحق
ہوتو دوسرا بھی ایسا ہی ہو۔ یا اگر ایک بدبخت و فاسق یا کافر و مستحق جہنم ہو تو دوسرا بھی اسی کے مثل ہو۔
اگر مطلب یہی ہو جیسا آپ کا خیال ہے تو اس کی زد میں بہت سے لوگ آجائیں گے جن میں شیخ الانبیاء حضرت نوح(ع) اور حضرت لوط علی نبینا و آلہ و علیہما السلام ، ان کی بیویان اور آسیہ وفرعون بھی ہیں۔ کیونکہ آیت نمبر10، 11 سورہ نمبر26 ( تحریم) میں ارشاد ہے۔
"ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوطٍ كانَتا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبادِنا صالِحَيْنِ فَخانَتاهُما فَلَمْ يُغْنِيا عَنْهُما مِنَ اللَّهِ شَيْئاً وَ قِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَوَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ."
یعنی خدائے تعالی نے کافروں کے لیے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال دی ہے جو ہمارے دو صالح بندوں کے تحت میں تھیں پس ان عورتوں نے دونوں کے ساتھ خیانت کی اور یہ دونوں ( نوح و لوط) ان کو قہر خدا سے نہیں بچا سکے ان دونوں عورتوں کے لیے حکم دے دیا گیا کہ دوسرے دو زخمیوں کے ساتھ آگ میں جھونک دی جائیں نیز خدا نے مومنین کے لیے( آسیہ) زن فرعون کی مثال دی ہے جب کہ انہوں نے دعا کی کہ بار الہا میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور قوم جفا کار سے بچالے۔
نوح(ع) و لوط(ع) کی بیویاں جہنم میں اور فرعون کی زوجہ جنت میں جائیگی
یہ دونوں آیتیں صاف صاف تبارہی ہیں کہ زوجیت طرفین کے لیے ایک ہی قسم کا نتیجہ اور ثمر نہیں دیا کرتی، چنانچہ شیخ الانبیاء حضرت نوح(ع) اور حضرت لوط(ع) کی بیویاں نے اپنے شوہروں کے ساتھ جو خیانت کی اس کی وجہ سے ان دو بزرگ پیغمبروں کی زوجیت نے ان کو کوئی نفع نہیں بخشا۔ دونوں کافر مریں اور جہنم میں جائیں گی جیسا کہ آخری حصہ "قِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ " صراحت کر رہا ہے یعنی حکم دے دیا گیا کہ ان دونوں عورتوں کو دو زخمیوں کے ساتھ آگ میں ڈال دو۔
اور اسی کے برعکس آسیہ زن فرعون کو اپنے کافر شوہر سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ فرعون جہنم میں اور یہ بہشت میں جائیں گی۔
پس زوجیت کا رشتہ جس کو آپ سبب شرافت سمجھتے ہیں کوئی حقیقت نہیں رکھتا، البتہ یہ تعلق اس وقت اثر انداز ہوگا جب کہ ظاہر و باطن اور اخلاق وسیرت میں ایک دوسرے سے مشابہ ہوں۔ ورنہ کافر ومسلم اور منافق و مومن کو آپس میں ازدواجی سلسلہ کی وجہ سے کوئی نفع یا ضرر نہیں پہنچتا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مومن ہے اور اس کی زوجہ بے دین ہو کر اس کو برا کہے
اس کے اخلاق کی مذمت کرے تو اس سے شوہر کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اور اگر لوگ اس عورت کے فاسد اخلاق کی بدگوئی کریں تو اس سے بھی مومن شوہر کی کوئی اہانت نہ ہوگی۔
شیخ : سخت تعجب ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں آپ کے بیان کے اندر کھلا ہوا تضاد نظر آیا۔
خیر طلب: صرف ایک نشست میں نہیں بلکہ اول عمر سے آخری دم تک ممکن نہیں ہے کہ میں متضاد گفتگو کروں کیونکہ دینیو مذہبی امور علمی اور عقلی ہیں، ان کا ایک مرتب نقشہ ہے جو ہمارے ہاتھوں میں دیا گیا ہے۔ ہم عقائد میں ذاتی نظریات کو دخل نہیں دیتے، نہ فلاسفہ اور حکماء کے ایسے عقیدے رکھتے ہیں جو برابر بدلتے رہیں ہر ایک ذاتی مضر؟؟؟؟؟ پر کار بند ہو اور اپنے ہی نظریات پر عملدرآمد کرے۔ افلاطون کے نظریے اس کے استاد سقراط سے مطابقت نہیں کرتے اور فیض و فیاض کے خیالات ان کے استاد صدر المتالہین سے میل نہیں کھاتے۔
لیکن مکتب انبیاء کے تربیت یافتہ لوگوں میں بالخصوص حضرت خاتم الانبیاء کے بلند تعلیمات میں جو آں حضرت(ص) کے باب علم حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے وسیلے سے ہم تک پہنچے ہیں کوئی تناقض نہیں ہے۔ لہذا ہم بھی متناقض اور متضاد باتیں نہیں کہتے۔
در پس پردہ کہ طوطی صفتم داشتہ اندآنچہ استاد ازل گفت ہماں می گویم
اگر جناب عالی رسائل واخبارات کی طرف رجوع کریںاو گذشتہ راتوں کے میرے تمام بیانات اور گفتگو پر غور کریں تو نظر آئے گا کہ میں اپنے بزرگان دین حضرت رسول خدا(ص) او ائمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ہدایات و ارشادات سے جو قرآن مجید کی بنیادوں پر قائم ہیں کہیں پر الگ نہیں ہوا اور نہالگ ہوں گا۔ یہ یرے ذاتی نظریات نہیں تھے جو کبھی فراموش ہوجائیں یا نقطہ خیال بدل جائے۔ جو کچھ میں نے اب تک عرض کیا یا آئیندہ کروں گا وہ قرآن مجید اور اقوال بزرگان دین سے استفادہ ہوگا۔ لہذا میرے کلمات اور گفتگو میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب ذرا آپ بیان فرمائیے تاکہ میں بھی دیکھوں کہ وہ کون سے جملے تھے جن میں آپ کو تناقض نطر آیا؟
شیخ : ایک جگہ تو آپ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کو بھی زنا اور حرام کاری کی نسبت دینا حرام ہے اور دوسرے مقام پر یہ فرمایا کہ نوح(ع) و لوط(ع) کی بیویوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی۔کیا یہ دونوں جملے متناقض نہیں ہیں؟ اور آیا آپ کی گفتگو بیجا نہیں ہے کہ انبیاء کی بیویوں پر آوارگی و زناکاری اور خیانت کی تہمت رکھ رہے ہیں؟
خیر طلب : مجھ کو یقین ہے کہ آپ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں اور بلاوجہ جلسے کا وقت لے رہے ہیں۔ آپ خود جانتے ہیں کہ اس مقام پر آپ نے مغالطہ دیا ہے لیکن مجھ کو آپ جیسے دانشمند عالم سے اس خلط مبحث کی امید نہیں تھی کیونکہ آیہ شریفہ میں خیانت کے معنی آپ کو خود معلوم ہیں۔ ازواج انبیاء کے لیے آپ کی یہ طرفداری قطعا اسی غرض سے ہے کہ ایسا نہ ہو یہ بات آگے بڑھے اور آپ کے مقصد کے خلاف حقیقتوں کا انکشاف ہونے لگے۔
نوح(ع) و لوط(ع) کی بیویوں کی خیانت کا مطلب
آپ سے تعجب ہے کہ خیانت کو زناکاری سے تعبیر کر رہے ہیں حالانکہ دونوں چیزوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ ابنیاء کی عورتیں آوارگی سے بالکل معر و مبرا تھیں، یہاں تو صرف خیانت کا تذکرہ ہے۔
اول : یہ کہ کسی پیغمبر کی زوجہ ہو اگر وہ اس پیغمبر کی رفتار و گفتار اور ہدایت کے خلاف عمل کرے تو یقینا خائن ہے۔
دوسرے : یہ میرا قول نہیں ہے کہ انہوں نے خیانت کی جس پر آپ غلط فہمی پھیلانے اور اعتراض قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔بلکہ آیہ شریفہ میں صاف صاف ارشاد ہے"فَخانَتاهُما " ( یعنی دونوں عورتوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی 12 مترجم) اور ان کی خیانت زناکاری نہیں تھی جیسا میں عرض کرچکا کہ ازواج انبیاء بالعموم اس قسم کی خیانت سے مبرا تھیں پس ان کی خیانت کا مطلب نافرمانی اور کفر و نفاق تھا۔
حضرت نوح(ع)کی زوجہ اپنے شوہر کی مخالف تھی اور لوگوں سے آپ کی بدگوئی کرتی تھی، کہتی تھی کہ میرا شوہر دیوانہ ہے چونکہ میرا اور اس کا رات دن کا ساتھ ہے لہذا میں اس کے حالات سے بخوبی واقف ہوں، اس کے فریب میں نہ آنا۔ اور حضرت لوط(ع) کی زوجہ آپ کی قوم کو تازہ وارد مہمانوں کی خبر پہنچاتی تھی اور آپ کے دشمنوں اور ظالموں کو شوہر کے گھر کے راز بتا کر فتنہ و فساد برپا کرتی تھی۔
آیہ مبارکہ کے معنی
اور سورہ نور کی جس آیت سے آپ نے اپنے مطلب پر استدلال کیا ہے، بر بنائے تحقیق مفسرین اور بقول معصوم اس کے معنی اس طرح سے ہیں کہ ناپاک عورتیں نا پاک مردوں کے لائق ہیں اور نا پاک مرد ان کی طرف مائل ہیں، اور پاک عورتیں پاک مردوں کے قابل ہیں اور پاک مرد ان کی طرف مائل ہیں، اور اسی سورے میں اس سے قبل کی ایک آیت کے بھی یہی معنی ہیں جس میں ارشاد ہے:
"الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَ الزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُها إِلَّا زانٍ أَوْ مُشْرِكٌ "
یعنی زناکار مرد صرف زنا کار اور مشرک عورت سے نکاح کرتا ہے اور زنا کار عورت سے صرف زناکار اور مشرک مرد ہی نکاح کرنا چاہتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ آیہ شریفہ"الْخَبِيثاتُ لِلْخَبِيثِينَ" ہرگز آپ کے مدعا کو ثابت نہیں کرتی اور اس کے معنی آپ کے نظریے اور مقصد سے کوئی ربط نہیں رکھتے۔
حالات عائشہ کی طرف اشارہ
ام المومنین عائشہ پر تنقید کی جاتی ہے تو کسی جانبداری یا تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے غلط طرز عمل کی وجہ سے ہے کہ وہ ساری زندگی سکون سے نہیں بیٹھیں اور برابر ان سے ایسے افعال سرزد ہوتے رہے جو رسول اللہ(ص) کی کسی بیوی سے حتی کہ حفصہ دختر عمر سے بھی سرزد نہیں ہوئے۔ جماعت شیعہ کی تنقید اور تبصرہ انہیں تنقیدوںکے حدود کے اندر ہے جن کو خود آپ کے علما نے نقل کیا ہے کہ اس مضطرب الحال عورت نے اپنی تاریخ زندگی کو داغدار بنایا ہے۔
شیخ : آپ خود اںصاف کیجئے کہ آپ کے سابق بیانات کے پیش نظر کیا آپ جیسےشریف اور متین انسان کے لیے ایسے جملے زبان سے نکالنا مناسب ہے ک ام المومنین نے اپنی تاریخ کو داغدار بنا دیا؟
خیر طلب : رسول اللہ(ص) کی بیویاں سو ام المومنین جناب خدیجہ کے سب سب ہمارے لیے یکسان ہیں۔ ام سلمہ، سودہ، عائشہ، حفصہ، اور میمونہ وغیرہ سبھی امہات المومنین ہیں لیکن عائشہ کی رفتار و گفتار اور اعمال و افعال نے ان کو دوسری عورتوں سے الگ اور ان کی تاریخ کو داغدار کردیا۔ یہ میرا ہی قولنہیں ہے بلکہ خود آپ کے اکابر علماء نے ان کی زندگی کو داغدار لکھا ہے کسی شخص کے نیک و بد افعال چھپے نہیں رہتے، ایک دن حقیقت کھل جاتی ہے۔
اصلیت یہ ہے کہ آپ حضرات اپنی والہانہ محبت کی بنا پر چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے بجائے اس کے کہ روایات کی مطابقت کریں ہر بات کو صحت پر محمول کر کے دفاع کرنے لگتے ہیں۔
ہم بھی وہی کہتے ہیں جو آپ کے اکابر علماء کہتے ہیں البتہ حیرت تو اس پر ہے کہ اگر سنی علماء مورخین لکھیں اور کہیں تو کوئی قباحت نہیں اور نہ آپ ان کو کوئی گرفت کرتے ہیں، لیکن گر بیچارہ کوئی شیعہ وہی بات لکھدے یا کہدے تو آپ اس پر ہزاروں عیب اور تہمتیں لگا کر اعتراضات کی بھرمار کردیتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایراد و اعتراض ہے تو سب سے پہلے اپنے علماء پر وارد کیجئے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا کیوں؟
شیخ : یقینا بات یہ ے کہ انہوں نے چونکہ علی کرم اللہ وجہہ کی مخالفت کی ہے اس وجہ سے آپ خردہ بینی کرتے ہیں۔
خیر طلب : اولا ہمارے یہاں خردہ بینی نہیں بلکہ کلی بینی ہے۔ امیرالمومنین، امام حسن اور اہل بیت طہارت علیہم السلام کی مخالفت تو اپنی جگہ پر ایک مستقل چیز ہی ہے، لیکن ام المومنین عائشہ کی بدنما تاریخ زندگی کی داغ بیل تو خود رسول اللہ(ص) کے زمانے میں پڑچکی تھی جب کہ وہ فطرت اور ذاتی خصلتوں کی بنا پر خود پیغمبر(ص) کو اذیت و آزار پہنچاتی رہتی تھیں دوسروں کا کیا تذکرہ اور ہمیشہ آں حضرت(ص) کی نافرمانی پر کمر بستہ رہتی تھیں۔
شیخ : تعجب ہے کہ ام المومنین اور رسول خدا(ص) کی محبوبہ کو آپ اس قدر پست سمجھتے ہیں کہ یہاں تک کہنے پر تیار ہوگئے کہ وہ آںحضرت(ص)
کو اذیت پہنچاتی تھیں۔ آپ کا یہ دعوی کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ در آنحالیکہ ام المومنین نے قطعا قرآن کریم کر پڑھا تھا اور آیہ شریفہ :
" إِنَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيا وَ الْآخِرَةِ- وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهِيناً"
یعنی جو لوگ خدا و رسول(ص) کو ( نافرمانی اور مخالفت وغیرہ سے) آزار و اذیت پہنچاتے ہیں یقینا خدا نے ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلت و خواری کے ساتھ عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
ان کی نظر سے گذر چکی تھی لہذا کیسے ممکن تھا کہ آں حضرت(ص) کو اذیت و آزار دے کر دنیا و آخرت میں خدا کی ملعون بنیں او آخرت میں اپنےلیے ذلت و خواری کے ساتھ عذاب سخت مہیا کریں؟ پس قطعا یہ مضمون خالص جھوٹ اور شیعوں کی لگائی ہوئی تہمتوں میں سے ہے۔
خیر طلب: میری درخواست ہے کہ اس قدر گندی باتیں نہ کہئے کیونکہ میں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ شیعہ تہمت طراز اور افترا پرواز نہیں ہیں، اس لیے کے ان کےہاتھوں میں ایسی واضح دلیلیں ہیں جن کے بعد ان کو کسی جعلسازی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
رہا آیئہ شریفہ کا معاملہ تو میں بھی تصدیق کرتا ہوں کہ تنہا ام المومنین عائشہ ہی نے اس آیت کو نہیں دیکھا تھا بلکہ ان کے باپ ابوبکر اور کبار صحابہ سبھی نے دیکھا تھا۔ اس کے بعد ان اخبار و احادیث کی مطابقت سے جو میں گذشتہ شبوں میں پیش کرچکا ہوں بہت سی حقیقتوں کا انکشاف بھی ہوتا ہے۔ بشرطیکہ انصاف سے کام لیا جائے۔
پیغمبر(ص) کو عائشہ کی ایذا رسانی
اور رسول اللہ(ص) کو عائشہ کی ایذا رسانی کا مضمون صرف علمائے شیعہ ہی کی کتابوں میں نہیں ہے بلکہ آپ کے اکابر علماء بڑے بڑے مورخین نے بھی لکھا ہے کہ انہوں نے بار بار آں حضرت(ص) کو تکلیف پہنچائی اور رنجیدہ خاطر کیا۔
چنانچہ امام غزالی نے احیاء العلوم جزء دوم باب 3 کتاب آداب النکاح ص135 میں عائشہ کی مذمت میں کئی روایتیں نقل کی ہیں، من جملہ ان کے رسول خدا(ص) سے ان کا مقابلہ اور ابوبکر کا فیصلہ ہے ک جس کو مولوی علی متقی ہندی نے کنزالعمال جلد ہفتم ص116 میں ابویعلی نے مسند میں اور ابو الشیخ نے کتاب امثال میں بھی روایت کیا ہےکہ :
ابوبکر اپنی بیٹی عائشہ سے ملنے گئے تو وہاں پیغمبر(ص) اور عائشہ کے درمیان رنجش ہوگئی تھی جس کا فیصلہ ابوبکر کے اوپر رکھا گیا عائشہ اپنی گفتگو میں توہین آمیز الفاظ کہہ رہی تھیں، چنانچہ اسی سلسلہ میں آں حضرت(ص) سے کہا کہ اپنی بات چیت اور طرز عمل میں اںصاف کا طریقہ اختیار کرو، اس گستاخانہ کلام سے ابوبکر کو اتنا غصہ آیا کہ ا پنی بیٹی کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کردیا جس سے خون ان کے کپڑوں پر بہہ نکلا۔
نیز امام غزالی نے اسی باب نکاح میں اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے کہ :
ابوبکر اپنی بیٹی کے گھر پہنچے تو ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ(ص) عائشہ سے ناراض ہیں، انہوں نے کہا کہ تمہارے درمیان جو قضیہ ہو اس کو بیان کرو تاکہ میں فیصلہ کردوں پیغمبر(ص) نے عائشہ سے فرمایا " تکلمین او اتکلم" تم کہو گی یا میں بیان کروں؟ انہوں نے جواب دیا " بل تکلم ولا تقل الا حقا" تم ہی بتائو لیکن بات سچ ہی کہنا( جھوٹ نہ بولنا) اور اپنے دوسرے جملہ میں آں حضرت(ص) سے کہا:
" انت الذی تزعم انک نبی الله"( تم تو وہ ہو کہ اپنے کو واقعی خدا کا نبی سمجھ بیٹھے ہو۔)
آیا ان جملوں سے مقام نبوت پر حملہ نہیں ہوا؟ معلوم تو یہ ہوتا ہے کہ شاید عائشہ رسول خدا(ص) کو برحق پیغمبر(ص) ہی نہیں سمجھتی تھیں اور جب تو آں حضرت(ص) کی شان میں ایسے فقرے استعمال کرتی تھیں۔
اس قسم کی اہانتیں آپ کی کتابوں میں کثرت سے منقول ہیں جو سب کی سب آں حضرت(ص) کے آزار و اذیت اور دلی رنجش کا باعث تھیں۔
آخر فریقین کے علماء و مورخین بلکہ غیروں نے بھی تاریخ اسلام میں دوسرے ازواج رسول(ص) کے لیے کوئی بات کیوں نہیں لکھی؟ اور کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟ حتی کہ حفصہ دختر عمر کے لیے بھی اس قسم کے ایرادات نہیں کئے، فقط عائشہ ہی کے طور طریقے ان کی بدنامی کا سبب بنے اور ہم بھی عائشہ کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو خود آپ کے کابر علماء نے کہا ہے آیا آپ نے امام غزالی کی کتابیں، تاریخ طبری، مسعودی اور ابن اعثم کوفی وغیرہ کا مطالعہ نہیں کیا ہے آپ کے بڑے بڑے علماء نے ان کو احکام خدا و رسول(ص) کےمقابلہ میں سرکش اور نافرمان قرار دیا ہے؟ آیا اللہ اور اس کے رسول(ص) کے حکم سے انحراف نیک بختی اور سعادت کی دلیل ہے؟ اس کے بعد بھی آپ اس کی شکایت کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین کی تاریخ زندگی کو داغدار کیوں کہا؟ خدا و رسول(ص) کے احکام سے سرکشی، خلیفہ رسول(ص) کے مقابلے میں بغاوت اور آں حضرت(ص) کے مسلم الثبوت وصی سے جنگ کرنے سے بڑھ کے اور کونسا تاریخی داغ ہوسکتا ہے؟
حالانکہ آیت نمبر33 سورہ نمبر33( احزاب) میں خدا آں حضرت(ص) کی تمام بیویوں سے خطاب فرماتا ہے۔
"وَ قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَ لا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجاهِلِيَّةِ الْأُولى"
یعنی اپنے اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھو اور پہلے زمانہ جاہلیت کی طرح بنائو سنگار نہ دکھائو۔
چنانچہ آں حضرت(ص) کی دوسری بیویوں نے اس حکم کی پابندی بھی کی اور بخیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی تھیں یہاں تک کہ اعمش نے بھی اس کی روایت کی ہے۔
سودہ زوجہ رسول(ص) کی گفتگو
چنانچہ صحاح کے اندر اور آپ کے محدثین و مورخین کی کتابوں میں درج ہے کہ سودہ زوجہ رسول خدا(ص) سے لوگوں نے کہا کہ تم حج وعمرہ کیوں نہیں کرتیں اور اس سعادت عظمی سے کس لیے محروم ہو؟ سودہ نے جواب دیا کہ مجھ پر ایک مرتبہ حج واجب تھا اس کو بجالائی، اب اس کے بعد میرا حج و عمرہ حکم خداوندی کی اطاعت ہے کیونکہ اس کا ارشاد ہے "وَ قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ " ( یعنی اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھو 12 مترجم) بس میں اس کی تعمیل میں گھر سے باہر نہیں نکلوں گی بلکہ میرا تو ارادہ یہ ہے کہ جس حجرے میں رسول اللہ(ص) مجھ کو بٹھا گئے ہیں حتی الامکان اس سے بھی قدم باہر نہ رکھوں گی یہاں تک کہ مرجائوں ( چنانچہ انہوں نے کیا بھی یہی کہ گھر سے باہر نہیں نکلیں ان کا جنازہ ہی باہر نکلا)
ہمارے لیے سودہ یا عائشہ اور ام سلمہ میں کوئی فرق نہیں سبھی پیغمبر(ص) کی بیویاںاور امہات المومنین ہیں۔ البتہ ان کے اعمال کے لحاظ سے فرق ہے۔
امت کے نزدیک عائشہ و حفصہ کا جو احترام ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ ابوبکر و عمر کی بیٹیاں تھیں( اگر چہ آپ اسی جہت سے احترام کرتے ہیں) بلکہ اس لیے ہے کہ رسول اللہ(ص) کی زوجہ اور شریک حیات تھیں۔ لیکن ازواج رسول(ص) کو فخر و شرف اسی وقتحاصل ہوگا جب وہ متقی اور پرہیز گار ہوں جیسا کہ آیت نمبر31 سورہ نمبر33 ( احزاب) میں صاف صاف ارشاد ہے۔
"يا نِساءَ النَّبِيِ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ ."
جس کا مطلب یہ ہے کہ اے زنان پیغمبر(ص) تم کسی دوسری عورت کے مانند نہیں ہو ( یعنی شرافت فضیلت کی حیثیت سے سب پر فوقیت رکھتی ہو) لیکن شرط یہ ہے کہ خدا ترسی اور پرہیز گاری اختیار کرو۔
علی علیہ السلام سے عائشہ کی مخالفت اور جنگ
پس سودہ رسول اللہ(ص) کی ایک متقی اور مطیع و فرمانبردار بیوی تھیں، اور عائشہ آں حضرت(ص) کی و سرکش زوجہ تھیں جو طلحہ و زبیر کے فریب میں آکر( یا حضرت علی علیہ السلام سے اپنے ذاتی بغض و عداوت کی بنا پر) بصرہپہنچیں جہاں علی علیہ السلام کی طرف سے والی بصرہ اوربزرگ صحابی عثمان ابن حنیف کو گرفتار کر کے ان کے سر اور چہرے کے سب بال اکھاڑ ڈالے گئے۔ تازیانوں کی زبردست مار دے کر ان کو نکال دیااور بیچارے سو(100) نفر سے زیادہ نہتے لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ چنانچہ ابن اثیر، مسعودی، محمد بن جریر طبری اور ابن ابی الحدید وغیرہ سب نے سب اس کو تفصیل سے لکھا ہے۔
اس کے بعد عسکرنامی اونٹ پر سوار ہو کر جس کو تیندوے کی کھال اور زرہ پہنائی گئی تھی ایک( زمانہ جاہلیت کے ) جنگی سپاہی کے میدان میں آگئیں اور محض ان کی بغاوت کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کے خون بہہ گئے۔ آیا یہ داغ نہیں تھا کہ بے حیثیت اور خدا ناشناس لوگ اپنی عورتوں کو تو گھروں کے اندر پردے میں بٹھائیں لیکن رسول خدا(ص) کی بیوی کو اس نصیحت و رسوائی کے ساتھ مجمع عام میں لا کھڑی کریں۔
آیا یہ اقدام خدا و رسول(ص) کے حکم سے سرتابی نہیں تھا؟
فضائل علی(ع) شمار سے باہر ہیں
اور وہ بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ایسی بزرگ شخصیت کے مقابلے میں جس کے فضائل و مناقب میں خود آپ کے اکابر علماءنے اتنی کثرت سے روایتیں نقل کی ہیں کہ ان کا شمار و احصار و شواہد ہے۔
چنانچہ امام احمد ابن حنبل مسند میں، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں، امام فخرالدین تفسیر کبیر میں خطیب خوارزمی مناقب میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب64 میں اور میر سید علی ہمدانی شافعی مودۃ القربی مودت پنجم میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب اور جرامت عبداللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلعم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:
" لو انّ البحر مداد و الغياض اقلام و الإنس كتّاب و الجنّ حسّاب ما احصوا فضائلك يا ابا الحسن"
یعنی اگر سمندر روشنی بن جائے، درخت قلم بن جائیں، سارے انسان لکھنے والے ہوں اور پوری قوم جن حساب کرنے والی ہو تب بھی اے ابو الحسن(ع) تمہارے فضائل کا شمار نہیں کرسکتے۔
جن بزرگوار کے حق میں جناب رسالت ماب ایسے کلمات ارشاد فرمائیں کہ تمام جن و انس مل کر بھی ان کے فضائل کا حساب نہیں کرسکتے تو بھلا ہم لوگ اپنی کند زبانوں اور شکستہ قلموں سے آپ کے مراتب و مناقب عالیہ کا حصر کیونکر کرسکتے ہیں؟
پھر بھی جہاں تک طاقت و قدرت تھی اکابر علمائے شیعہ کے علاوہ خود آپ کے علماء نے باوجود اپنے پورے تکلف کے اور بعض نے اپنے انتہائی تعصب کے بعد بھی جیسے قوشجی ، ابنحجر اور روز یہاں وغیرہ نے حضرت علی(ع) کا لا تعداد لا تحصی فضائل میں سے صرف ایک جز کو درج کر کے اپنی کتابوں کو بھر دیا ہے۔
علی(ع) کے فضائل و مناقب میں روایتیں
آپ صحاح ستہ کو غور سے ملاحظہ فرمائیے۔ ان کے علاوہ مودت القربی پر سید علی ہمدانی ، معجم طبرانی، مطالب السئول محمد بن طلحہ شافعی، مسند وفضائل امام احمد بن حنبل جمع بین الصحیحین حمیدی مناقب اخطب الخطباء خوازرمی، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد دوم ص449 اور فصول المہمہ ابن صباغ مالکی بالخصوص ص124 میں کتاب معالم العترۃ النبویہ حافظ عبدالعزیزبن الاخضر الجنابذی سے بروایت جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا میرے پدر بزرگوار حضرت رسول خدا(ص) عرفہ کی شام کو ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ َو جَل بَاهَى بِكُمْ الملَائِکةَعَامَّةً وَ غَفَرَ لَكُمْ عَامَّةً وَ لِعَلِيٍّ خَاصَّةً وَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ غَيْرَ مُحَابٍ لِقَرَابَتِي هَذَا جَبْرَئِيلُ يُخْبِرُنِي أَنَّ السَّعِيدَ كُلَّ السَّعِيدِ حَقَّ السَّعِيدِ مَنْ أَحَبَّ عَلِيّاً فِي حَيَاتِهِ وَ بَعْدَ مَوْتِهِ وَ إِنَّ الشَّقِيَّ كُلَّ الشَّقِيِّ حَقَّ الشَّقِيِّ مَنْ أَبْغَضَ عَلِيّاً فِي حَيَاتِهِ وَ بَعْدَ ممَاَتِهِ."
یعنی خدائے عزوجل فرشتوں کے سامنے بالعموم تم لوگوں پر فخر کرتا ہے اور بالعموم تم لوگوں کوبخش دیا ہے اور خصوصیت کے ساتھ علی(ع) کو اور میں جو کہ خدا کا رسول(ص) ہوں بغیر رشتے اور قرابت والے جذبہ محبت کے کہتا ہوں کہ در حقیقت پوری سعادت کے ساتھ سعید و نیک بخت وہی ہے جو علی(ع) کو ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد دوست رکھے اور پوری شقاوت کے ساتھ شقی و بد بخت دہی ہے جو علی(ع) سے ان کی زندگی میں اور موت کے بعد بغض رکھے۔
انہیں کتابوں میں ایک مفصل حدیث جس کو غالبا میں گذشتہ شبوں میں عرض بھی کرچکاہوں۔ خلیفہ عمر ابن خطاب سے وہ رسول اللہ(ص) سے نقل کرتے ہیں جس کے آخر میں علی علیہ السلام سے فرمایا:
"كَذَبَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُحِبُّنِي وَ هو مُبْغِضُكَ يَا عَلِيُّ مَنْ اَحبَّکَ فقَد اَحبَّنی وَمَن اَحبَّنیفَقَد اَحَبّه اللهُ وَمَن اَحَبّه اللهُ اَدخَلهُ الجَنَّة وَ مَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي وَ مَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ وَ أَدْخَلَهُ النَارَ."
یعنی جھوٹا ہے وہ شخص جو اے علی(ع) تم کو دشمن رکھتا ہو اور پھر میری دوستی کا دعوی کرے، اے علی(ع) جس نے تم کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جسنے مجھ کود وست رکھا اس کو خدا دوست رکھتا ہے اور جسکو خدا دوست رکھتا ہے اس کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ اور جس نے تم کو دشمن رکھا اس نے مجھ کو دشمن رکھا اور جس نے مجھ کو دشمن رکھا اس کو خدا دشمن رکھتا ہے اور دوزخ میں ڈل دیتا ہے۔
علی(ع) کی دوستی ایمان اور آپ(ع) کی دشمنی کفر و نفاق ہے
نیز کتاب الآل ابن خالویہ سے بروایت ابو سعید خدری نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے علی(ع) سے فرمایا :
"حبّک إيمان، و بغضک نفاق و اول من يدخل الجتة مجبک و اول من يدخل النار مبغضک."
یعنی اے علی(ع) تمہاری محبت ایمان اور تمہاری عداوت نفاق ہے، اور سب سے پہلے جو شخص جنت میں داخل ہوگا، وہ تمہارا دوست ہوگا اور سب سے پہلے جو شخص جہنم واصل ہوگا وہ تمہارا دشمن ہوگا۔
میرسید علی ہمدانی شافعی مودت القربی مودت سیم میں اور حموینی فرائد میں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے اصحاب کے درمیان فرمایا:
"لا يحب عليا الا مومن و لا يبغضه الا کافر"
یعنی علی(ع) کو دوست نہیں رکھتا لیکن مومن اور ان کو دشمن نہیں رکھتا لیکن کافر۔
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
" لا يحبك الّا مؤمن و لا يبغضك الامنافق"
یعنی اے علی(ع) تم کو دوست نہیں رکھتا لیکن مومن اور دشمن نہیں رکھتا لیکن منافق۔
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 ص119 میں تاریخ دمشق، محدث شام اور محدث عراق سے اور انہوں نے حذیفہ اور جابر سے روایت نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:
" عَلِيٌ خَيْرُ الْبَشَرِ مَنْ أَبَى فَقَدْ كَفَرَ.."
یعنی علی(ع) بہترین بشر ہیں، جو شخص اس سے انکار کرے وہ کافر ہے۔
نیز عطا سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے عائشہ سے علی(ع) کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا:
"ذَاكَخَيْرُالْبَشَرِ، لاَ يَشُكُّ "( یعنی یہ بترین بشر ہیں، اس میں سوا کافر کے کوئی شک نہیں کرتا ۔)
اور کہتے ہیں کہ حافظ ابن عساکر اپنی تاریخ میں جس کو سو(100) جلدیں ہیں اور ان میں سے تین جلدیں علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب میں ہیں پچاسویں جلد میں عائشہ سے اسی روایت کو نقل کیا ہے۔
محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص17 میں اور ابن صباغ مالکی فصول المہمہ ترمذی اور نسائی سے اور وہ ابوسعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
"مَا كُنَّا نَعْرِفُ الْمُنَافِقِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيّاً "
یعنی ہم زمانہ رسول(ص) میں منافقین کو صرف علی(ع) کی عداوت سے پہنچانتے تھے۔
نیز فصول المہمہ میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمومنین علی علیہ السلام سے فرمایا:
"حربک حربی و دمک دمی و انا حارب لمن حاربک لا يحبك إلّا طاهر الولادة، و لا يبغضك إلّا خبيث الولادةلا يحبك الّا مؤمن و لا يبغضك الامنافق."
یعنی اے علی(ع) تم سے جنگکرنا مجھ سے جنگ کرنا ہے، تمہارا خون میرا خون ہے اور جو شخص تم سے جنگ کرے اس سے میری بھی جنگ ہے۔ تم سے وہی محبت رکھتا ہے جو حلال زادہ ہے اور تم سے وہی بغض رکھتا ہے جو ولد الحرام ہو۔ تم کو دوست نہیں رکھتا مگر مومن اور تم کو دشمن نہیں رکھتا مگر منافق۔
شیخ : اس قسم کی حدیثیں صرف علی کرم اللہ وجہہ سے مخصوص نہیں، بلکہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہیں۔
خیر طلب: ممکن ہو تو ان حدیثوں میں سے کوئی نمونہ بیان فرمائیے تاکہ حقیقت کھل جائے۔
شیخ : عبدالرحمن ابن مالک مغول اپن سند کے ساتھ جابر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :
"لا يبغـضابابکر و عمر مومن و يحبهما منافق"
یعنی ابوبکر و عمر کا بغض مومن اور محبت منافق نہیں رکھتا۔
خیر طلب : آپ کے بیان سے پھر مجھ کو تعجب ہوا۔ کیا آپ پہلی شب کا یہ معاہدہ بھول گئے کہ ہم لوگ یکطرفہحدیثوں سے استدلال نہیں کریں گے؟ پھر بھی اگر آپ ایسا کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس قسم کے ضعیف و موضوع اور ناقابل قبول حدیثیں نہیں جن کے راوی جھوٹے اورجعلساز ہوں بلکہ صحیح الاسناد احادیث پیش کیجئے۔
شیخ : آپ نے طے کر لیا ہے جو حدیث بھی ہم سے سنیں گے اس کو اہانت کے ساتھ رد کریں گے۔
خیر طلب: مجھ کو افسوس ہے کہ تنہا میں نے ہی تردید نہیں کی ہے بلکہ خود آپ کے اکابر علماء نے بھی رد کیا ہے بہتر ہوگا کہ آپ میزان الاعتدلال ذہبی اور تاریخ خطیب بغدادی جلد دہم ص236 کی طرف رجوع کیجئے تو نظر آئے کہ اکثر ائمہ جرح و تعدیل نے عبدالرحمن ابن مالک کے حالات میں نقل کیا ہے کہ انہ کذاباناک وضاع لا یشک فیہ احد۔ یعنی در حقیقت یہ ( عبدالرحمن) سخت جھوٹا، بڑا تہمت باندھنے والا اور بہت حدیثیں گڑھنے والا ہے جس میں کسی شخص کو بھی شک و شبہ نہیں۔
آپ کو خدا کا واسطہ انصاف سے بتائیے کہ آیا آپ کی یک طرفہ حدیث جو ایک دروغ گو اور جعل ساز شخص سے مروی ہے ان تمام احادیث وروایات کا مقابلہ کرسکتی ہے جو آپ کے اکابر علماء سے منقول ہیں اور جن میں سے بعض نمونے کے طور پر پیش کی جاچکی ہیں؟
مہربانی کر کے جامع الکبیر سیوطی جلد ششم ص390، ریاض النظرہ محب الدین جلد دوم ص215 جامع ترمذی جلد دوم ص299، استیعاب ابن عبد البر جلد سیم ص49، حلیتہ الاولیاء حافظ ابونعیم جلد ششم ص295، مطالب السئول محمد بن طلحہ شافعی ص17، اور فصول المہمہ ابن صباغ مالکی ص126، کو ملاحظہ فرمائیے کہ ہر ایک نے مختلف عبارتوں کے ساتھ ابوذر غفاری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :
"ما كنّا نعرف المنافقين على عهد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله إلّابثلاث بتكذيبهم اللّه و رسوله،
و التخلّف عن الصلوات، و بغضهم علي بن أبي طالب و عن ابی سعيد الخدری كنّا نعرف المنافقين إلّا ببغضهم عليّا و ما کنا نعرف المنافقين علی عهد رسول الله الا ببغضهم عليا."
یعنی ہم لوگ عہد رسول(ص) میں منافقین کو صرف تین علامتوں سے پہچانتے تھے، خدا و رسول(ص) کو جھٹلانے سے ، ترک نماز سے اور علی ابن ابی طالب(ع) کی عداوت سے ، اور ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم منافقین کو بغض علی(ع) سے پہچانتے تھے اور عہد رسول(ص) میں ہمارے پاس منافقین کی سوا اس کے اور کوئی پہچان نہیں تھی کہ وہ علی(ع) سے دشمنی رکھتے تھے۔
نیز امام احمد بن حنبل نے مسند جلد اول ص95 و ص138 میں، ابن عبدالبر نے استیعاب جلد سیم ص137 میں، احمد خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد جلد چہاردہم ص426 میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص264 میں، امام نسائی نے سنن جلد ہشتم ص117، او خصائص العلوی ص27 میں، حموینی نے فرائد باب 22 میں ابن حجر نے اصابہ جلد دوم ص509 میں، حافط ابونعیم نے حلیتہ الاولیاء جلد چہارم ص185 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ ص15، سیوطی نے جامع الکبیر ص152، ص408 میں، محمد ابن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص17 میں اور ترمذی نےجامع جلددوم ص13 میںمختلف عبارات کےساتھ کہیں ام سلمہ اور کہیں ابنعباس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا :
" ياعلی ال يحبک منافق و لا يبغضک مومن لا يحبک الا مومن و لا يبغضک الا منافق ال يحب عليا المنافق و لا يبغضه مومن"
یعنی اے علی(ع) منافق تم سے محبت نہیں رکھتا اور مومن تم سے بغض نہیں رکھتا۔ تم کو دوست نہیں رکھتا۔ مگر مومن اور تم کو دشمن نہیں رکھتا مگر منافق، علی سے منافق محبت نہیں رکھتا اور مومن ان سے عداوت نہیں رکھتا۔
اور ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص364 میں شیخ معتزلہ شیخ ابوالقاسم بلخی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں :
"و قد اتفقت الاخبار الصحيحه التی لا ريب فيها عند المحدثين علی ان النبی قال له لايبغضک الا منافق و لا يحبک الا مومن"
یعنی اخبار صحیحہ کا اتفاق ہے اور تمام محدیثیں اس پر متفق ہیں کہ یقینا پیغمبر(ص) نے علی(ع) سے فرمایا کہ تم کو سوا منافق کے کوئی دشمن نہیں رکھتا اور سوا مومن کے کوئی دوست نہیں رکھتا۔
نیز جلد چہارم ص264 میں امیرالمومنین علیہ السلام کا ایک خطبہ نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"لو ضربت خيشوم المؤمن بسيفي هذا على أن يبغضني ما أبغضني، و لو صببت الدنيا بجملتها على المنافق أن يحبّني ما أحبّني، و ذلك أنّه قضي فانقضى على لسان النبيّ الامّي صلّى اللّه عليه و آله و سلّم: أنّه لا يبغضك مؤمن و لا يحبّك منافق."
یعنی اگر میں اپنی اس تلوار سے مومن کی ناک پر ماروں کو مجھ کو دشمن رکھے تب بھی وہمجھ سے دشمن نہ رکھے گا اور اگر میں تمام دنیا منافق کو دے دوں کہ مجھ کو دوست رکھے تب بھی وہ مجھ کو دوست نہ رکھے گا۔ اور یہ وہی فیصلہ ہے جو زبان رسول(ص) پر جاری ہوچکا ہے کہ آپ نے فرمایا اے علی(ع) مومن تم سے بغض نہیں رکھتا اور منافق تم سے محبت نہیں کرتا۔
اس قسم کے اخبار و احادیث آپ کی معتبر کتابوں میں بکثرت سے مروی ہیں۔ میں نے وقت کے لحاظ سے یہ چند حدیثیں جو اس وقت پیش نظر تھیں عرض کردیں۔
اب میں آپ حضرات سے حق کے نام پر سوال کرتا ہوں کہ علی علیہ السلام سے عائشہ کیبغاوت اور جنگ آیا رسول خدا(ص) سے جنگ نہیں تھی؟ آیا یہ لڑائی اور لوگوں کو علی علیہ السلام سے جنگ کرنے پر آمادہ کرنا خلوصو محبت اور دوستی کی وجہ سے تھا یا بغض و کینہ اور عداوت کی بنا پر؟ ظاہر ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان محبت کے سبب سے جنگ ہوتی ہے لہذا قطعا بغض و عداوت کی وجہ سے تھی، تو ان تمام احادیث میں جن کا نمونہ پیش کیا گیا ہے کیا رسول اکرم(ص) نے علی(ع) سے دشمنی اور جنگ کرنے کو کفر ونفاق کی ایک علامت قرار نہیں دیا ہے؟ آیا ان اخبار و احادیث کو علی سے عائشہ کے مقابلے اور جنگ پر منطبق کرنے سے کیا نتیجہ نکلے گا؟
گذارش ہے کہ بغیر کسی طرفداری اور جذبہ محبتو عداوت کے از روئے انصاف سچا فیصلہ فرمائیے۔ عجیب چیز ہے کہ اس وقت مجھ کو ایک ایسی حدیث یاد آگئی جس کو نقیہ ہمدانی میر سید علی شافعی نے مودۃ القربی کی مودت سیم میں خود عائشہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ :
" أنّ اللّه قد عهد إليّ أنّ من خرج على عليّ عليه السّلام فهو كافر في النار"
یعنی بتحقیق اللہ نے قطعی طور پر مجھ سے قول و قرار فرمایا ہے کہ جو شخص بھی علی(ع) پر خروج اور بغاوت کرے وہ کافر ہے۔ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
پھر تعجب یہ ہے کہ جب لوگوں نے ان پر اعتراض کیا کہ جب آپ پیغمبر(ص) سے ایسی بات سن چکی تھیں تو علی (ع) پر خروج کیوں کیا؟ تو یہ پھسپھسا عذر پیش کردیا کہ:
" نسيت هذا الحديث يوم الجمل حتّى ذكرته بالبصرة"
یعنی میں اس حدیث کو جنگ جمل کے روز بھول گئی تھی یہاں تک کہ بصرے میں یاد آئی۔
شیخ : حضرت آپ خود ایسا بیان دے رہے ہیں تو اب ام المومنین رضی اللہ عنہا پر کیا اعتراض ہے؟ بدیہی چیز ہے کہ انسان سہوو نسیان کا مرکز ہے۔
خیر طلب: اگر میں بھی مان لوں کہ جنگ جمل کے روز وہ اس حدیث کو بھول گئیں تھیں تو کیا جس روز مکہ معظمہ سے واپس ہو رہی تھیں اور تمام خیر خواہوں نے یہاں تک کہ رسول اللہ(ص) کی پاک باز بیویوں نے بھی ان کو منع کیا تھا کہ یہ بیجا حرکت نہ کرو اس لیے کہ علی(ع) سے مخالفت کرنا پیغمبر(ص) سے مخالفت کرنا ہے اس وقت بھی یہ حدیث یاد نہیں تھی؟
آیا آپ کے مورخین جنہوں نے واقعہ جمل تحریر کیا ہے متوجہ نہیں کرچکے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا تھا عائشہ اس راستے سے جس میں حوائب کے کتے تم پر بھونکیں۔ چنانچہ جب یہ بصرے جارہی تھیںاور چشمہ بنی کلاب پر پہنچیں تو کتوں نے چاروں طرف سے محمل کو گھیر لیا اور بھونکنا شروع کیا، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون سا مقام ہے ؟ تو لوگوں نے جواب دیاکہ حوائب اس پر ان کو پیغمبر(ص) کا ارشاد یاد آگیا تھا تو پھر کس لیے طلحہ و زبیر کے فریب میں آئیں اور آگے بڑھتی گئیں، یہاں تک کہ بصرے پہنچ کر ایسا عظیم فتنہ برپاکردیا؟
آیا اس کے لیے بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھول گئی تھیں یا بالقصد و بالارادہ جان بوجھ کر یہ راستہ طے کیا؟ آیا یہ حقیقت میں ایک بہت بڑا دھبہ نہیں تھا جس نے ام المومنین عائشہ کا دامن آلودہ کردیا اور جو کسیپانی سے دھویا نہیں جاسکتا کیوںکہ انہوں نے
سب سمجھتے ہوئے عمدا خدا و رسول(ص) کے حکم سے منہ موڑا ااور طلحہ و زبیر کی بات مان کے خلیفہ اور وصیرسول(ص) سے لڑنے کے لیے پہنچ گئیں باوجودیکہ خود بھی کہتی تھیں کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے کہ جو شخص علی(ع) سے جنگ کرے اور ان پر خروج کرے وہ کافر ہے؟ آیا امیرالمومنین علیہ السلام سے جو رسول اللہ(ص) کے وصی اور خلیفہ تھے جنگ کرنا اور مسند خلافت پر بیٹھتے ہی آپ کے لیے پریشانی کے اسباب اور جنگی انقلاب پیدا کرنا آں حضرت صلعم کے لیے باعث تکلیف نہیں تھا ؟ کیا جیسا کہ میں گذشتہ شب مع اسناد کے عرض کرچکا ہوں حدیث میں نہیں ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :
"من آذى عليا فقد آذاني!! إن عليا أولكم إيماناً و أوفاكم بعهد اللَّه، يا أيها الناس من آذى عليا بعث يوم القيامة يهوديّاً أو نصرانياً."
یعنی جس نے علی(ع) کو ایذا دی اس نے یقینا مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذا دی اس نے در حقیقت خدا کو ایذا دی۔ اے گروہ ناس جس نے علی(ع) کو تکلیف پہنچائی وہ قیامت کے روز یہودی یا ںصرانی اٹھایا جائے گا۔
عائشہ کے حکم سے بصرے میں صحابہ اور بے گناہ مومنین کا قتل عام
جب یہ تمام روایتیں آپ کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں تو آپ کس حق سے شیعوں پر اعتراض فرماتے ہیں؟
آیا بے خطا مومنین کا خون، رسول اللہ(ص) کے محترم صحابیعثمان ابن حنیف کی زجر و توبیخ اور سو(100) نفر سے زیادہ خزانے کے محافظین کا قتل جو غیر مسلح تھے اور جنگی سپاہیوں میں سے نہیں تھے اور جن سے چالیس اشخاص مسجد کے اندر مارے گئے، یہ سب جنگ کے محرک اور بانی کی گردن پر نہیں تھا؟
چنانچہ علامہ مسعودی نے مروج الذہب جلد دوم ص7 میں اس عبارت کے ساتھ لکھا ہے :
" فقتل منهم سبعون رجلا غير من جرح، و خمسون من السبعين ضرب رقابهم صبرا من بعد الاسر، و هؤلاء أول من قتل ظلما في الاسلام"
یعنی علاوہ ان لوگوں کے جو زخمی کئے گئے بیت المال کے نہتے محافظین میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا جن میں سے پچاس کی اسیری اور مجبوری کی حالت میں گردنیں ماری گئیں، اور یہ لوگ اسلام کے اندر سب سے پہلے ظلم کے ساتھ قتل کئے گئے۔
اور آپ کے علماء مورخیں میں سے ابن جریر اور ابن اثیر وغیرہ نے ان واقعات کو پوری تفصیل سے نقل کیا ہے ، اب آپ یا تو ان روایات کو اپنی معتبر کتابوں سے خارج کیجئے، جیسا کہ جدید مطبوعات میں آپ کے علماء تحریف سے کام لے رہے ہیں بلکہ بعض مطالب کو تو سرے سے غائب ہی کردیتے ہیں، اور اپنے علمائے اعلام و اکابر مورخین کو جھٹلائیے یا شیعوں پر طعن و تشنیع اور اعتراض کرنے سے باز آئیے کیونکہ شیعہ تو وہی کہتے ہیں جو آپ کی کتب معتبرہ میں درج ہوچکا ہے۔ خدا کی قسماس میں جماعت شیعہ کا کوئی قصور نہیں ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان فرق صرف ؟؟؟؟؟ رہے کہ آپ اپنی معتبر کتب میں ان اخبار و احادیث کا سطحینظر سے مطالعہ کرتے ہیںاور حب الشی یعمی ویصم ( یعنی کسی چیز کی محبت اندھا اور بہرا بنادیتی
ہے۔12 مترجم) کے مصداق تاریخ کے ان اہمواقعات کو اخبار کے مطابق نہیں کرتے، ہمیشہ محض حسنِ ظن اور بے موقع دفاع سے کام لیتے ہیں اور حقائق پر کوئی توجہ نہیں کرتے۔ یا اگر توجہ کرتے بھی ہیں تو پردہ پوشی کی کوشش کرتے ہوئے اس کی صفائی اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ پسر مردہ عورت بھی ہنس پڑے۔
لیکن ہم غیر جانبداری کے ساتھ منصفانہ اور گہری نظر ڈالتے ہیں اور کتب فریقین میں مروی اخبار و احادیث کو واقعات کے مطابق کر کے حقائق کا انکشاف کرتے ہیں۔ اس مطابقت میں بھی آپ کو جس مقام پر کوئی شبہ یا غلطی اور خود غرضی نطر آئیے۔منطقی اعتراض کے ساتھ اس کی تردید کر دیجئے میں انتہائی ممنوں ہوں گا۔
شیخ : آپ کے بیانات درست ہیں لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی انسان تھیں معصوم نہیں تھیں یقینا دھوکہ میں آکر ان سے ایک خطا سرزد ہوگئی۔ اپنی سادگی کی وجہ سے دو بڑے صحابیوں کے فریب میں آگئی تھیں لیکن بعد میں توبہ کر لی اور خدا نے بھی ان سے درگذر فرمائی۔
خیر طلب: اولا آپ نے اقرار کر لیا کہ کبار صحابہ خطار کار اور فریبی تھے حالانکہ حاضرین تحت شجرہ اور بیعت رضوان والوں میں سے تھے۔ پس آپ کی وہ حدیث جو صحابہ کی پاک دامنی کے لیے آپ پچھلی راتوں میں پیش کرچکے ہیں کہ سارے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی پیروی کی جائے ہدایت حاصل ہوجائی گی خود بخود باطل ہوجاتی ہے۔
دوسرے آپ نے فرمایا کہ ام المومنین عائشہ نے توبہ کرلی تو یہ محض دعوی ہی دعوی ہے۔ کیونکہ بغاوت و جنگ اور مسلمانوں کا قتل عام تو بالاتفاق ثابت ہے لیکن ان کی توبہ کا کوئی ثبوت نہیں لہذا اس کا سہارا نہیں لیا جاسکتا۔
امام حسن(ع)کو پیغمبر(ص) کے پاس دفن کرنے سے عائشہ کی ممانعت
البتہ یہ مسلم ہے کہ عائشہ کی طبیعت میں سکون نہیں تھا، ان سے پے در پے طفلانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہیں جنمیں سے ہر ایک نے ان کی تاریخ زندگی کو فاسد بنایا۔ بقول آپ کے اگرتوبہ کر لی تھی اور پشیمان ہو کر خاموش بیٹھ گئی تھیں تو پھر کس لیے بعد کو سبط رسول(ص) امام حسن علیہ السلام کے جنازے کے ساتھ ایسا سلوک کیا اور ایسا فساد برپا کیا جس سے ہر سننے والا بغیر متاثر ہوئے نہیں رہتا؟
فقط یہی نہیں کہ رسول اللہ(ص) کو رنجیدہ اورآرزدہ کرتیتھیں یا زمانہ جاہلیت کی عورتوں کی طرح اونٹ پر سوار ہوکر پیغمبر(ص) کے وصی اور خلیفہ سے لڑنے جاتی تھیں جس سے ہم کہہ سکیں کہ صرف زندہ افراد سے ضد اور مخالفت رکھتی تھیں، بلکہ خچر پر سوار ہو کر رسول خدا(ص) کے بڑے نواسے حضرت امام حسن علیہ السلام کے جنازے کا راستہ بھی روکا چنانچہ آپ کے اکابر علماء مورخین بالخصوص یوسف سبط ابن جوزی نے تذکرہ خواص الامہ ص122 میں، علامہ مسعودی صاحب مروج الذہب نے اثبات الوصیہ ص136 میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص18 کے شروع میں ابو الفرج اور یحیی بن الحسن صاحب کتاب النسب سے نقل کرتے ہوئے خداوند شاہ نے
روضتہ الصفا جلد دوم میں واقدی نے ، متوفی احمد بن محمد حنفی نے ترجمہ تاریخ اعثم کوفی میں، ابن شخنہ نے روضتہ المناظر میں، اور ابو الفداء وغیرہ نے اپنی تاریخوں میں نقل کیا ہے کہ جس وقت حضرت کا جنازہ لے چلے تو عائشہ خچر پر سوار ہو کر بنی امیہ اور ان کے غلاموں کی ایک جماعت کے ساتھ لیے ہوئے سد راہ ہوئیں اور کہا کہ ہم امام حسن(ع) کو قبر رسول (ص) کے پہلو میں دفن نہ کرنے دیں گے۔
بروایت مسعودی ابن عباس نے کہا کہ عائشہ تمہارے حال پر تعجبہے :
"اما كفاك أن يقال يوم الجمل حتى يقال يوم البغل؟ يوما على جمل و يوما على بغل بارزة عن حجاب رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله تريدين إطفاء نور اللّه؛ و اللّه متمّ نوره و لو كره المشركون، انّا للّه و انّا إليه راجعون."
یعنی آیا تمہارے لیے روز جمل کی شہرت کافی نہیں ہوئی تھی، ( یعنی اونٹ پر سوار ہو کر میدان جنگ میں نکل پڑیں) یہاں تک کہ لوگ یوم بغل کا ذکر کریں( یعنی خچر پر سوار ہوکر فرزند رسول(ص) کا جنازہ روکا) تمنے کبھی خچر پر بیٹھ کر حجاب پیغمبر(ص) کو چاک کر دیا یا تمہارا عزم ہے کہ اللہ کے نور کو بجھا دو حالانکہ خدا اپنے نور کو کامل کرنےوالا ہے چاہے مشرکین کو ناگوار ہی ہو یقینا ہم اللہ کے لیے ہیں اور یقینا ہم کو اسی کی طرف پلٹ کے جانا ہے۔
اور بعض نے لکھا ہے کہ ان سے یہ فرمایا:
تجملتتبغلتو لو عشت تفيلتلك الثمن من التسعو في الكل تطمعت
یعنی تم کبھی اوںٹ پر سوار ہوئیں کبھی خچر پر، اور اگر زندہ رہوگی تو ہاتھی پر بھی سوار ہوگی۔ تمہارا آٹھویں حصے میں سے صرف نواں حصہ ہے لیکن سب پر قابض ہوگئیں۔
بنی ہاشم نے چاہا کہ تلوار کھینچ کر ان لوگوں کودفع کریں لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام مانع ہوئے اور فرمایا میرے بھائی نے وصیت فرمائی ہے کہ میں اس پر راضی نہیں ہوں کہ میرے جنازے کے پیچھے ایک فصد کے برابر بھی خون ریزی ہو، چنانچہ آپ کے حکم سے جنازہ واپس لائے اور بقیع میں دفن کیا۔
شہادت امیرالمومنین (ع) پر عائشہ کا سجدہ اور اظہار مسرت
اگر یہ صحیح ہے کہ عائشہ نے توبہ کر لی تھی اور امیرالمومنین(ع) سے جنگ کرنے پر نادم تھیں تو حضرت کی خبر شہادت سننے کے بعدسجدہ شکر کیوں بجالائیں؟ جیسا کہ ابو الفرج اصفہانی صاحب اغالی نے مقاتل الطالبین میں حضرت کے حالات بیان کرتے ہوئے آخر میں نقل کیا ہے کہ "لما جاء عائشه قتل اميرالمومنين علی سجدت "( یعنی جب عائشہ کو قتل و شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی خبر ملی تو انہوں نے (شکر کا) سجدہ کیا۔)
اگر واقعی توبہ کر لی تھی اور پشیمان تھیں تو حضرت کی خبر شہادت سن کر مسرت وشادمانی کا اظہار کس لیے کیا؟ جیسا کہ محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ حوادث سنہ40 ہجری میں اور ابوالفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبین آخر حالات حضرت علی علیہ السلام میں روایت کی ہے جس وقت ان کو ایک غلام نے حضرت کی شہادت سے مطلع کیا تو انہوں نے کہا:
فالقف عصاها واستفرت بها النوی کما فر عيناه بالاياب السافر
القاء عصاء اطمینان قلب اور خاطر جمعی کا کنایہ ہے بعنی جس وقت کسی مخصوص موقع پر کسی شخص کے دل کو اطمینان اور دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے القی عصاہ (جیساکہ مسکویہ نے تجارب الامم اور میری نے حیات الحیوان میں بیان کیا ہے) یہ شعر پڑھنے سے عائشہ کا مطلب یہ تھا کہ علی(ع) کے بارے میں میرے خیالات کو تسکین میرے دل کو فرحت اور میرے دماغ کو آسودگی حاصل ہوگئی اس لیے کہ میں اسی اطلاع کی منتظر تھی، جیسے کوئی شخص اپنے مسافر کی واپسی کا انتظار کر رہا ہو اور اس کے آجانے پر اس کی آںکھیں روشن اور دل باغ باغ ہوجائے اس کے بعد خبر لانے سے دریافت کیا کہ کس نے ان کو قتل کیا؟ جواب ملا کہ قبیلہ بنی مراد کےعبدالرحمن ابن ملجم نے تو فورا کہا:
فان يک نائبا فلقد نغاه غلام ليس فی فيه التراب
یعنی اگر علی(ع) مجھ سے دور ہیں تو ان کی موت کی خبر وہ غلام لایا ہے جس کے منہ میں خاک نہ ہو۔
زینب دختر ام سلمہ موجود تھیں انہوں نے کہا۔ آیا علی(ع) کے بارے میں تم کو اس طرح خوش ہونا اور ایسی باتیں کہہ کے اظہار مسرت کرنا مناسب ہے؟ انہوں نے دیکھا کہ یہ تو برا ہوا لہذا جواب دیا کہ میں آپے میں نہیں تھی اور بھول چوک میں اس قسم کے الفاظ کہہ ریئے، چنانچہ اگر پھریہ کیفیت مجھ پر طاری ہو اور یہ باتیں دہرائوں تو مجھ کو یاد دلا دینا تاکہ باز رہوں۔
بہتر ہوگا کہ آپ حضرات محبت و عداوت کے جذبات کو الگ رکھ کے عبرت حاصل کریں تو معلوم ہو کہ مسئلہ توبہ کی کوئی حقیقت نہ تھی بلکہ یہ مرتے دم تک اپنی دشمنی پر قائم رہیں، ورنہ اظہار مسرت اور سجدہ شکر کیوں کرتیں؟ حضرات ! ان افعال کو کس چیز پرمحمول کیجئے گا؟ کیا اس کے علاوہ اور کوئی مطلب نکل سکتا ہے کہ ام المومنین عائشہ عقل کی اوچھی عورت تھیں اور زندگی بھر چین سے نہیں بیٹھیں؟ اس وقت مجھ کو ایک اوربات یاد آگئی ، آپ حضرات شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو عداوت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ خلیفہ سوم عثمان پر نکتہ چینی کیوں کرتے ہیں اور ان کے وہ مطاعن جن کو خود آپ کے علماء نے بھی نقل کیا ہے کیوں بیان کرتے ہیں؟
عثمان کی نسبت عائشہ کے متضاد فقرے
اگر یہی بات ہے و آپ کو ام المومنین عائشہ سے بھی حسن ظن نہ رکھنا چاہئیے اس لیے کہ بالعموم آپ کے اکابر علماء مورخین جیسے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص77 میں، مسعودی نے کتاب اخبار الزمان اور اوسط میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص36 میں، نیز ابن جریر، ابن عساکر اور ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ ام المومنین عائشہ برابر عثمان کی بدگوئی کرتی رہتی تھیں یہاں تک کہ آواز دیتی تھیں "اقتلوا نعثلا قتله الله فقد کفر " یعنی نعثل ( عثمان) کو قتل کردو، خدا اس کو قتل کرے کیونکہ بتحقیق یہ کافر ہوگیا ہے) لیکن جیسے ہی عثمان قتل ہوئے تو علی علیہ السلام سے اپنے کینے اور عداوت کی بناء پر
کہنے لگیں "قتل عثمان مظلوما والله لاطلبن بدمه فقوموا " ( یعنی عثمان مظلوم قتل ہوئے، خدا کی قسم میں ان کے خون کا مطالبہ کروں گی پس میری حمایت میں اٹھ کھڑے ہو)
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں :
" أن عائشة كانت من أشد الناس على عثمان حتى إنها أخرجت ثوبا من ثياب رسول الله ص فنصبته في منزلها و كانت تقول للداخلين إليها هذا ثوب رسول الله صلی الله عليه و آله لم يبل و عثمان قد أبلى سنته."
یعنی در حقیقت عائشہ تمام لوگوں سے زیادہ عثمان کی دشمن تھیں، یہاں تک کہ رسول اللہ(ص) کا پیراہن نکال کے اپنے گھر میں لٹکا دیا تھا اور آنے والوں سے کہتی تھیں کہ ابھی رسول اللہ(ص) کا پیراہن بوسیدہ نہیں ہوا اور عثمان نے آںحضرت(ص) کی سنت کو فرسودہ اور بیکار بنا دیا۔
نیز ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ جس وقت مکے میں عائشہ کو قتل عثمان کی خبر ملی تو کہا:
"أبعده الله ذلك بما قدمت يداه و ما الله بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ."
یعنی خدا ان کو اپنی رحمت سے دور کرے، یہ انہیں کی کرتوت کا نتیجہ ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
آپ خلیفہ عثمان کے حق میں عائشہ سے بغیر کسی دلیل کے اس قسم کے الفاظ سنتے ہیں اور قطعا کوئی اثر نہیں لیتے لیکن یہی باتیں اگر بے چارے شیعوں کی زبانسے نکلیں تو آپ فورا رفض اور کفر کا حکم لگا کر ان کا قتل واجب جانتے ہیں۔
انسان کی نظر بے لوث ہونا چاہئیے کیونکہ بدگمانی ہی سے ساری خرابیان پیدا ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت مسلم ہے کہ ام المومنین عائشہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرف سے شدید کینے اور عداوت کا جذبہ رکھتی تھیں، چنانچہجس وقت یہ سنا کہ مسلمانوں نے حضرت سے بیعت کر لی تو کہا:
" لوددت إن السماء انطبقت على الارض ، ثمّ ان اتم هذا قتلوا ابن عفّان مظلوما."
یعنی میرے نزدیک آسمان کو زمین پر پھٹ پڑنا بہتر ہے اگر میں اس ( خلافت ) کو مکمل ہوجانے دوں، ابن عفان (عثمان) کو مظلوم قتل کیا۔
آیا اس قسم کے مختلف اور متضاد جملے ام المومنین عائشہ کے تلون مزاج کو ثابت نہیں کرتے؟
شیخ :ام المومنین عائشہکے طرز عمل اور رفتار و گفتار میں ایسے اختلافات کثرت سے منقول ہیں لیکن دو چیزیں مسلم اور ثابت ہیں۔
ایک یہ کہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کو لوگوں نے فریب دیا اور وہ اس روز علی کرم اللہ وجہہ کے مرتبہ ولایت کی طرف متوجہ نہیں تھیں جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں بھول گئی تھی اور مجھ کو بصرے میں یاد آیا۔
دوسرے توبہ کرنی تھی لہذا قطعا خداوند عالم پچھلی غلطیوں کو معاف کر کے ان کو بہشت کے بلند درجات میں جگہ دیگا۔
خیر طلب : توبہ کے موضوع پر میں بار بار اپنی گفتگو نہیں دہرائوں گا اور یہ نہیں پوچھوں گا کہ اتنے زیادہ بے گناہ مسلمانوں کا خون بہائے جائے، ان کی ہتک حرمت کئے جانے اور ان کے اموال تاخت و تاراج کئے جانے کے بعد کیوںکر ممکن ہے کہ بغیر محاکمے اور باز پرس کے چھٹی مل جائے؟ یہ صحیح ہے کہ خدا ارحم الراحمین ہے لیکن
" فِي مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَ الرَّحْمَةِ، وَ أَشَدُّ الْمُعاقِبِينَ فِي مَوْضِعِ النَّكالِ وَ النَّقِمَةِ"
یعنی خدا عفو و رحمت کے موقع پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اورعذاب و عقوبت کے
محل پر سب سےزیادہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔
اس کے علاوہ ان کو خود مرتے دم اعتراف رہا کہ وہ عمدا ان واقعات و حوادث کی باعث ہوئیں۔ اور اسی وجہ سے جیسا کہ آپ کے اکابر علماء نے نقل کیا ہے وصیت کی تھی کہ مجھ کو پیغمبر(ص) کے پہلو میں دفن نہ کرنا اس لیے کہ میں خود جانتی ہوں کہ میں نے آں حضرت(ص) کے بعد کون کون سے حادثات رونما کئے ہیں چنانچہ حاکم نے مستدرک میں، ابن قتیبہ نے معارف میں، محمد بن یوسف زرندی نے کتاب اعلام بسیرۃ النبی میں اور ابن البیع نیشاپوری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ عائشہ نے عبداللہ ابن زبیر کو وصیت کی :
"ادفونی مع اخواتی بالبقيع فانی قد احدث امورا بعده"
یعنی مجھ کو بقیع کے اندر میری بہنوں کے پہلو میں دفن کرنا اس لیے کہ میں نے رسول اللہ(ص) کے بعد نئی نئی باتیں پیدا کی ہیں۔
اور آپ جو یہ فرمایا ہے کہ ام المومنین پر نسیان طاری تھا، فضائل علی(ع) کی حدیثوں کو بصرے میں یاد کیا اور اسی بنا پر پیغمبر(ص) کی ممانعت بھی بھول گئی تھیں، تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے بہتر ہوگا کہ اپنے اکابر علماء کی معتبر کتب کا مطالعہ کیجئے تاکہ اس حسن ظن کی حقیقت واضح ہوجائے، خصوصیت کے ساتھ ابن ابی الحدید کی شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص77 کو پڑھئیے تو اصلیت کا پتہ چل جائے۔
اب میں مطلب روشن ہونے کے لیے اس کتاب کے بعض مندرجات کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔
عائشہ کو ام سلمہ کی نصیحتیں
ابن ابی الحدید نے تاریخ ابی مخنف لوط بن یحیی ازدی سے نقل کیا ہے کہ اس موقع پر ام المومنین ام سلمہ بھی بسلسلہ حج مکہ معظمہ میں موجود تھیں، جب انہوںنے سنا کہ عائشہ عثمان کی خون خواہی کے لیے اٹھی ہیں اور بصرہ جارہی ہیں تو بہت متاثر ہوئیں اور ہر مجمع میں علی علیہ السلام کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگیں۔ عائشہ ام کے پاس آئیں تاکہ ان کو فریب دے کر اپنا شریک کار بنالیں تب بصرہ روانہ ہوں۔
ام سلمہ نے فرمایا کہ تم کل تک تو عثمان کو اس قدر گالیاں دیتی تھیں ، ان کی مذمت کرتی تھیں، اور ان کو نعثل کہتی تھیںاور اب انہیں کے خون کا قصاص لینے کے لیے علی علیہ السلام کے مقابلے میں اٹھی ہو۔ کیا تم ان حضرت کے فضائل سے آگاہ نہیں ہو؟ اگر بھول گئی ہوتو میں اب پھر یاد دلاتی ہوں۔
عائشہ کو فضائل علی علیہ السلام کی یاد دہانی
یاد کرو کہ ایک روز میں رسول خدا(ص) کے ہمراہ تمہارے حجرے میں آئی تھی کہ اتنے میں علی(ع) بھی آگئے اور پیغمبر(ص) سے کچھ خفیہ باتیں کرنے لگے جب اس سرگوشی میں دیر لگی تو تم ان حضرت کو سخت و سسنت کہنے کے لیے اٹھیں، میں نے منع بھی کیا لیکن تم نے دھیان
نہیں دیا اور ان بزرگوار پر غصہ دکھاتے ہوئے کہا کہ نو دنوں میں سے ایک دن میری باری کا ہے اس میں بھی تم آگئے اور پیغمبر(ص) کو مشغول کر لیا، اس پر رسول اکرم(ص) اس قدر غضبناک ہوئے کہ چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور تم سے فرمایا:
"ارجعى ورائك و اللّه لا يبغضه أحد من أهل بيتي و لا من غيرهم من الناس إلّا و هو خارج من الايمان، "
یعنی پیچھے ہٹو، خدا کی قسم کوئی میرا گھر والا ہو یا غیر شخص اگر علی(ع) سے بغض رکھے گا تو وہ قطعا ایمان سے خارج ہے۔
پس تم نادم اور شرمندہ ہو کر لوٹ آئی تھیں!عائشہ نے کہا ہاں مجھ کو یاد ہے ۔ ام سلمہ نے فرمایا یاد کرو ایک روز تم پیغمبر(ص) کا سرمبارک دھو رہی تھیں اور میں حیس ( ایک قسم کا کھانا) تیار کر رہی تھی، آں حضرت (ص) نے سر مبارک بلند کر کے فرمایا کہ تم دونوں میں سے اونٹ پر بیٹھنے والی گنہ گار عورت کون ہے جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے اور وہ پل صراط پر منہ کے بل گرے گی؟ میں نے حیس کو چھوڑ دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ(ص) میں ایسے کام سے اللہ اور اس کے رسول(ص) سے پناہ مانگتی ہوں۔ اس کے بعد آن حضرت(ص) نے تمہاری پیٹھ پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ بچو اس سے کہ یہ حرکت کرنے والی عورت تمہیں ہو!عائشہ نے کہا ہاں مجھ کو یاد ہے۔
ام سلمہ نے کہا میں تم کو یاد دلاتی ہوں کہ ایک سفر میں ہم دونوں پیغمبر(ص) کے ہمراہ تھیں ایک روز علیعلیہ السلام پیغمبر صلعم کی کفشین سی رہے تھے اور ہم دونوں ایک درخت کے سائے میں بیٹھی تھیں۔ اتفاق سے تمہارے باپ ابوبکر اور عمر نے آکر اجازت چاہی میں اور تم پردے میں چلی گئیں اور یہ لوگ بیٹھ گئےتھوڑی گفتگو کے بعد انہوں نے کہا یا رسول اللہ(ص) :
" يا رسول اللّه إنا لا ندرى قدر ما تصحبنا فلو أعلمتنا من يستخلف علينا ليكون بعدك لنا مفزعا، فقال لهما: أما أنّى أرى مكانه و لو فعلت لتفرّقتم عنه كما تفرّقت بنو اسرائيل عن هارون بن عمران، فسكتا ثمّ خرجا"
مطلب یہ کہ ہم لوگ آپ کی مصاحبت کی قدر نہیں جانتے پس ہماری خواہش ہے کہ ہم سے بتائیے کہ ہم پر آپ کا خلیفہ اور جانشین کون ہوگا تاکہ آپ کےبعد وہ ہمارے لیے فریاد رس اور پناہ گاہ ہو، آں حضرت(ص) نے ان دونوں (ابوبکر و عمر) سے فرمایا میں اس کے مقام اور منزل کو دیکھ رہا ہوں لیکن اگر عملا ایسا کروں اور اس کو پہنچوادوں تو تم لوگ اس کو چھوڑ کے الگ ہوجائو گے جس طرح بنی اسرائیل ہارون کو چھوڑ کر الگ ہوگئے تھے۔ پس وہ دونوں خاموش ہو کر چلے گئے ۔
ان دونوں کے جانے کے بعد ہم لوگ باہر آئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص):
"من كنت يا رسول اللّه مستخلفا عليهم؟ فقال عليه السّلام: خاصف النّعل، فنزلنا و لم نر أحدا إلّا عليا، فقلت: يا رسول اللّه ما نرى إلّا عليّا، فقال: هو ذاك."
یعنی ان لوگوں پر آپ کا خلیفہ کون ہوگا؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا جو شخص میری جوتیاں سی رہا ہے۔ ہم لوگوں نے نکل کے دیکھا تو سوا علی(ع) کے اور کوئی نظر نہ آِیا پس میں ن ے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) ! مجھ کو تو سوا علی(ع) کے اور کوئی نظر نہیں آرہا ہے فرمایا وہی ( علی(ع)) خلیفہ ہیں۔
عائشہ نے کہا ہاں مجھ کو یاد ہے ام سلمہ نےکہا کہ جب ان احادیث کو جانتی ہو تو پھر کہاں جارہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا میں لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے جارہی ہوں۔ اب تو آپ حضرات کو بھی تصدیقکرنا چاہئیے کہ ام المومنین عائشہ نے فریب نہیں کھایا بلکہ جان بوجھ کر فتنہ انگیزی پر آمادہ تھیں اور سب کچھ سمجھتے ہوئے عمدا بغاوت کی، باوجودیکہ ام سلمہ نے رسول اللہ(ص) کی حدیثیں بھی یاد دلائیں لیکن باز نہیں آئیں اور امیرالمومنین(ع) کی عظمت ومنزلت
کا اقرار کرنے کےبعد بھی بصرے کی طرف سفر کر کےاتنا بڑا فتنہ برپا کیا جس کے نتیجے میں بے شمار مسلمانوں کا خون بہہ گیا۔ خصوصیت کے ساتھ اس حدیث خاصف النعل میں حضرت کی امامت و خلافت پر بہت بڑی نص اور حجت موجود ہے کیونکہ جس وقت ام سلمہ عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ(ص) کون ہے وہ شخص جس کو آپ اپنے بعد خلیفہ بنا رہے ہیں تو آں حضرت(ص) نے فرمایا میری نعلین کا سینے والا اور وہ سوا علی(ع) کے کوئی دوسرا نہیں تھا۔ شیعوں کا گناہ صرف یہ ہے کہ کسی عادت سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ تحقیق کے دور میں سے چودہ سو برس قبل کے اہم واقعات کا معائنہ کرتے ہیں اور بغیر تعصب یا جانبداری کے آیات قرآن مجید اور علمائے فریقین کی معتبر کتابوں سے استفادہ کر کے سچا سچا فیصلہ کرتے ہیں۔
اسی بنا پر ان کا عقیدہ ہے کہ اگر چہ سیاسی چالبازیوں کی وجہ سے بظاہر تاریخ میں علی علیہ السلام کی خلافت چوتھے نمبر پر آتی ہے لیکن یہ پس ماندگی حضرت کی افضلیت اور حضرت کے حق میں جو نصوص وارد ہیں ان کو قطع نہیں کرسکی اور نہ کرسکے گی۔
ہمارا بھی اعتقاد ہے اور ہم بھی اقرار کرتے ہیں کہ جیسا تاریخ میں درج ہے ابوبکر (سیاسی دائوں پیچ سے) کے اندر بغیر علی علیہ السلام ، بنی ہاشم اور کبار صحابہ کی موجودگی کے اور اںصار کے قبیلہ خزرج کی مخالفت کے باوجود خلیفہ نامزد کردیئے گئے، پھر اس کے بعد شخصی ڈکٹیڑی اور شوری کے بل پر عم و عثمان ظاہری طور پر علی علیہ السلام سے قبل مسند خلافت پر قابض ہوگئے۔
لیکن فرق یہ ہے کہ یہ لوگ امت والوں کے خلیفہ تھے یعنی ان کے چند ساتھی براتی لوگوں نے زور آزمائی کر کے ان کی گردن میں خلافت کا قلادہ ڈال دیا ۔ اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام خلیفہ رسول(ص) ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے پیغمبر(ص) کی طرف سے منصوص تھے۔
شیخ : آپ بے لطفی کیبا تیں کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا، جن لوگوں نے خلفائے ثلثہ ابوبکر و عمر وعثمان رضی اللہ عنہم کو اجماع کے ساتھ مقامات خلافت پر نصب کیا انہیں نے علی کرم اللہ وجہہ کو بھی خلافت پر مقرر کیا۔
خلفائے ثلاثہ کی تعیین میں اختلاف ان کی خلافت باطل ہونے کی دلیل ہے
خیر طلب: خلافت خلفاء کےطریق تعیین میں مختلف پہلوئوںسے کھلا ہوا تفاوت سے اولا آپ نے اجماع کی طرف اشارہ کیا ہے تو یہ بڑی بے لطفی کی بات ہے کہ ایک ہی مطلب بار بار دہرایا جائے کیونکہ میں پچھلی راتوں میں دلیل اجماع کے بے بنیاد ہونے پر مکمل روشنی ڈال چکا ہوں اور ثابت کرچکا ہوں کہ خلفائے ثلاثہ میں سے کسی ایک کی خلافت بھی اجماع امت کے ساتھ قائم نہیں ہوئی۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص29
بطلان اجماع پر دوسرے دلائل
دوسرے اگر دلیل اجماع پر آپ کا اعتماد ہے اور آپ کے نزدیک خدا و رسول(ص) کی جانب سے امت کے لیے یہ حق
شرعا ثابت ہے تو قاعدے کے رو سے چاہئیے یہ تھا کہ جو خلیفہ بھی دنیا سے اٹھے ساری امت جمع ہو یا زمانہحالکی رسم کے مطابق ایک نمائندہ جماعت یا انتظامی کمیٹی کی تشکیل کرے جو خلیفہ معین کرنے کا مسئلہ طے کرے اور جس پر سب کا اجماع ہوجائے یا ( بقول آپ کے ) صاحبان عقل متفق ہوجائیں اور اتفاق رائے ثابت ہوجائے وہشخص لوگوں کا منتخب خلیفہ قرار پائے ( رسول خدا(ص) کا خلیفہ نہیں) نیز ضروری تھا کہ اس تمدنی اصول پر ہر زمانے میں عملدر آمد ہوتا رہے۔
یقینا آپ تصدیق کریں گے کہ کسی اسلامی خلیفہ کے لیے اس قسم کا اجماع قطعا واقع نہیں ہوا، حتی کہ ناقص اجماع بھی (جس کے متعلق ہم پہلے ہیثابتکرچکے ہیں کہ کبار صحابہ بنی ہاشم اور انصار اس میں شامل نہیں تھے ) سوا ابوبکر بن ابی قحافہ کے کسی اور کے لیے منعقد نہیںہوا۔
اس لیے کہ اسلام کے جمل مورخین و محدثین کا اتفاق ہے کہعمر کی خلافت فقط خلیفہ ابوبکر کی نص پر قائم ہوئی ۔ اگر تعیین خلافت میں اجماع شرط ہےتو ابوبکر کے بعد عمر کے لیے اجماع کی تشکیل کیوں نہیں ہوئی اور رائے عامہ کا سہارا کیوں نہیں لیا گیا؟
شیخ : کھلی ہوئی بات ہے کہ چونکہ ابو بکر کو اجماع امت نے خلافت پر معین کیا تھا لہذا اپنے بعد والے خلیفہ کے تقرر تنہا خلیفہ اول کا قول ایک مضبوط سند ہے اور ان کے بعد بھی دوبارہ اجماع یا خلیفہ کے تعیین میں امت کی رائے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر خلیفہ کا قول خلیفہ ما بعد کی تعیین میں مستحکم سند ہے اور یہ خلیفہ کا مخصوص حق ہے کہ اپنے بعد کے لیے خلیفہ معین کر جائے او لوگوں کو حیران و سرگردان نہ چھوڑے ، چنانچہ مسلم الثبوت اجماعی خلیفہ ابوبکر نے جب عمر کو خلافت پر نصب کردیا تو وہ پیغمبر(ص) کے مستقل خلیفہ ہوگئے۔
خیر طلب: اول یہ کہ اگر آپ اپنے عقیدے کے مطابق، مسلم الثبوت خلیفہ کے لیے خلیفہ ما بعد کے تقرر میں ایسے حق کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ خلیفہ کا فرض ہے کہ امت کو حیران نہ چھوڑے نیز اپنے بعد خلیفہ معین کرنے کے لیے پس اسی کی ںص کافی ہے، تو آپ نے اسی حق کو مسلم الثبوت پیغمبر(ص) اور رسول برحق سے آخر کیوں سلب کرلیا؟ اور ان تمام مخصوص اور واضح نصوص کو جن کے ذریعہ رسول اکرم(ص) نے صراحتہ وکنایۃ باربار اور مختلف مقامات پر علی علیہ السلام کو معین فرمایا( جن میں سے بعض کی طرف ہمپچھلی شبوں میں اشارہ کرچکے ہیں اور آج کی رات بھی حدیث ام سلمہ کی کھلی ہو نص پیش کی جاچکی ہے) کیوں نظر انداز کردیتے ہیں اور ان سے اثر لینے کے بجائے ہر ایک کے لیے فضول تاویلیں کرتے ہیں جیسے ابن ابی الحدید نے حدیث ام سلمہ میں مضحکہ خیز تاویل و ترمیم کر کے اس نص صریح کو رد کیا ہے؟
واقعی بڑے تعجب کا مقام ہے کہ آخر کس بنیاد پر آپ فرماتے ہیں کہ عمر کو خلافت پر نصب کرنے کے لیے ابوبکر کا قول سند ہے لیکن رسول خدا(ص) کے قول میں کوئی سندیت نہیں؟ اور آں حضرت(ص) کے حکیمانہ ارشادات سے بے ربط مطالب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
دوسرے آپ کہاں سے اور کس دلیل سے فرماتے ہیں کہ خلیفہ اول جو اجماع سے معین ہوئے اپنے بعد خلیفہ مقررکرنے کا حق رکھتے ہیں؟ آیا پیغمبر(ص) کی طرف سے اس قسم کی کوئی ہدایت نافذ ہوئی ہے؟ جواب قطعا نفی میں ہوگا۔
تیسرے آپ کہتے ہیں کہ جب خلیفہ اول اجماع سے مقرر ہوچکے تو اب دوسرے خلفاء کی تعیین دوبارہ اجماع کی ضرورت نہیں ہے۔ وہی مںصوب خلیفہ امت کی جانب سے اس کا حق رکھتے ہیں کہ اپنے بعد کے لیے خلیفہ معین کردیں اور تنہا انہیں کی نص کافی ہے۔
مجلس شوری پر اعتراض
اگر حقیقت یہی ہے تو یہ اصول صرف عمر ہی کی خلافت میں کیوں برتا گیا؟ بلکہ خلافت عثمان میں تو اس کے برخلاف عمل کیا گیا اور عمر نے خود خلیفہ معین کرنے کے عوض یہ معاملہ چھ اشخاص کے شوری پر چھوڑ دیا۔ معلوم نہیں اثبات خلافت پر آپ حضرات کی دلیل کیا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ جب دلائل میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اصل موضوع ہی باطل ہوجاتا ہے۔
اگر اثبات خلافت پر آپ کی دلیل اجماع امت ہے اور ساری امت کو جمع ہو کر متفقہ رائے دنیا چاہئیے (قطع نظر اس سے کہ ابوبکر کی خلافت میں بھی ایسا اجماع واقع نہیں ہوا) تو عمر کی خلافت میں اس طرح کا اجماع کیوں تشکیل نہیں دیا گیا؟ اگر آپ اجماع کو صرف پہلی ہی خلافت میں ضروری سمجھتے ہیں اور بعد والے خلفاء کی تعیین میں فقط اجماع کے ذریعے متنخب کئے ہوئے خلیفہ کی نص ہی کافی ہے۔ تو عثمان کی خلافت میں اس قاعدے پر کیوں عمل نہیں کیا گیا؟ اور خلیفہ عمر نے ابوبکر کے رویے کے بر خلاف خلیفہ کا انتخاب (ہٹلر شاہی نمونے کے)شوری کے اوپر کیوں چھوڑا؟ وہ بھی ایسی مجلس شوری جیسی دنیا کے کسی گوشے میں( یہاں تک کہ وحشی اقوام کے درمیان بھی) قائم نہیں ہوئی، بجائے اس کے کہ مجلس کے نمائندوں کو قوم منتخب کرے( تاکہ اس میں اکثریت کے قول اور خیال کی کچھ تو جھلک موجود ہے) خلیفہ عمر نے خود ہی نامزد کردیا۔
عبد الرحمن ابن عوف کی حکمیت پر اعتراض
اور سب سے عجیب تر بات یہ کہ جملہ ارکان کے اختیارات پامال کر کے ہر ایک ممبر کو عبدالرحمن بن عوف کا ماتحت اور محکوم بنادیا۔
معلوم نہیں کون سرشرعی، عرفی، علمی، یا عملی بنیاد پر عبدالرحمن کو یہ امتیازی ورجہ دے دیا( سوا اس کے کہ یہ عثمان کے عزیز قریب تھے اور یقین تھا کہ عثمان کو چھوڑ کے دوسرے کا ساتھ نہیں دیں گے) کہ اپنے دستور العمل میں کہہ دیا، جس طرف عبدالرحمن ہوں وہی حق ہے اور عبدالرحمن جس کی بیعت کرلیں دوسروں کو بھی اس کی اطاعت کرنا چاہئیے؟
جب ہم گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ یہ ایک آمرانہ حکم تھا جس کو شوری کے بھیس میں نافذ کیا گیا تھا۔ ورنہ ہم آج دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کا قانون اس طرز عمل کے بالکل برعکس ہے۔ واقعی تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ جیسا میں گذشتہ شبوں
میں بھی سلسلہ اسناد کے ساتھ عرض کرچکا ہوں۔ باوجودیکہ رسول اللہ(ص) نے بار بار فرمایا ہے:
"عَلِيٌ مَعَ الْحَقِ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ دَارَ."
یعنی علی(ع) حق کے ساتھ اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے جدھر وہ گردش کریں۔
نیز فرمایا ہے: "هذا علی فاروق هذه الأمّة يفرق بين الحقّ و الباطل "
یعنی یہ علی(ع) اس امت کے فاروق ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔
چنانچہ حاکم مستدرک میں، حافظ ابونعیم نے حلیتہ الاولیاء میں، طبرانی ن اوسط میں، ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، محب الدین طبری نے ریاض النظرہ میں، حموینی نے فرائد میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، اور سیوطی نے در المنثور میں، ابن عباس، سلمان، ابوذر، اور حذیفہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"ستكون بعدي فتنة، فإذا كان ذلك فالزموا عليّ بن أبي طالب عليه السّلام، فإنّه أوّل من يراني، و أوّل من يصافحني يوم القيامة، و هو الصدّيق الأكبر، و هو فاروق هذه الأمّة؛ يفرق بين الحقّ و الباطل، و هو يعسوب المؤمنين."
یعنی عنقریب میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا پس اس موقع پر تم کو لازم ہے کہ علی ابن ابی طالب کا ساتھ پکڑو اس لیے کہ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو قیامت کے روز مجھ سے مصافحہ کریں گے۔ یہ سب سے بڑے بڑے راست گو اور اس امت کے فاروق ہیں جو حق وباطل کے درمیان تفریق کرتے ہیں اور یہی مومنین کے بادشاہ ہیں۔
اور عمار کے مشہور حدیث میں ہے جس کو سلسلہ اسناد کے ساتھ پچھلی راتوں میں تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کہ آں حضرت(ص) نے عمار یاسر سے فرمایا:
"إن سلك الناس كلهم واديا و علي واديا فاسلك وادي علي دخل عن الناس يا عمار علی لايردک عن هدى و لا يدلک علی ردی يا عمار طاعة علي من طاعتي و طاعتي من طاعة الله."
یعنی اگر تمام لوگ ایک راستے پر ہوجائیں اور علی(ع) ایک راستے پر تو علی(ع) ہی کے راستے پر چلنا اور تمام لوگوں کا ساتھ چھوڑ دینا۔ اے عمار علی(ع) تم کو ہدایت سے برگشتہ نہ کریں گے اور ہلاکت کی طرف نہ لے جائیں گے۔ اے عمار علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت اور میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔
حضرت امیرالمومنین کی منزلت پر بدترین ظلم
لیکن پھر بھی خلیفہ عمر پیغمبر(ص) کی ہدایت کے برخلاف علی(ع) کو شوری میں عبدالرحمن کو محکوم اور ماتحت قرار دیتے ہیں آیا ایسی حکومت حقبجانب ہوسکتی ہے جس نے دوسرے تمام بزرگان صحابہ کو دودھ کی مکھی بنا دیا اور امر خلافت میں ان کے حق رائے وہی کو کالعدم کردیا؟ پھر اسی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ خود شوری میں بھی علی علیہ السلام پر شرمناک ظلم ڈھایا اور ان حضرت کی انتہائی اہانت کی کہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ( فاروق ) کو عبدالرحمن کا ماتحت اور محکوم بنایا۔
محترم حضرات ! انصاف سے فیصلہ کیجئے اور استیعاب ، اصابہ، اور حلیتہ الاولیاء وغیرہ جیسی کتاب رجال کا مطالعہ کرنے کے بعد علی علیہ السلام کے حالات کا عبدالرحمن بلکہ شوری کے پانچوں ممبروں کی حیثیت کے ساتھ موازنہ کیجئے اور دیکھئے کہ حاکم بننے
کی لیاقت عبدالرحمن کے اندر تھی یا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام میں؟ اس کے بعد اندازہ کیجئےکہ سیاسی پارٹی بندی کے ماتحتبھی حضرت علی(ع) کے حق ولایت کو پامال کردیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ اگر خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب کا یہ دستور قابل عمل تھا کہ تعیین خلافت کے لیے مجلس شوری ضروری ہے تو حضرت امیرالمومنین(ع) کی خلافت میں اس کا سہارا کیوں نہیں لیا گیا؟
حیرت ہے کہ خلافت خلفائے اربعہ ( راشدین) ابوبکر، عمر ، عثمان اور علی(ع) میں چار طریقے بروئے کار آئے تو آیا ان چاروں قسموں میں سے کون سی قسم بنیادی برحق اور قابل اعتماد تھی اور کون سے اقسام باطل؟ اگر آپ کے حسب دل خواہ چاروں طریقے حق تھے تو ماننا پڑے گا کہ آپ کے پاس تعیین خلافت کے لیے کئی مستقل اصول اور محکم دلیل ہی موجود نہیں ہے۔
اگر آپ حضرات اپنی عادت سے ذرا ہٹ کے مںصفانہ اور گہری نظر سے حقائق کیجئے تو اعتراف کیجئے گا کہ حقیقت اس کے علاوہ ہے جس کا ظاہر بظاہر شہرہ اور رواج ہے۔
چشمباز وگوش باز و این عمی خیرتم از چشم بندی خدا
شیخ : اگر آپ کے یہ بیانات صحیح ہوںکہ (بقول آپ کے ) اس معاملے پر گہری نگاہ ڈالنا چاہئیے تو ایسی صورت میں علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بھی ڈانواں ڈول ہوجاتی ہے، کیونکہ جس اجماع نے خلفائے سابق( ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم) کو خلافت پر نصب کیا اور تقویت دی اسی نے علی کرم اللہ وجہہ کو بھی منتخب کیا اور خلافت پر مقرر کیا ہے۔
خیر طلب: آپ کا یہ بیان اس وقت درست ہوسکتا ہے جب کہ پہلے سے رسول خدا(ص) کے نصوص اور ارشادات موجود نہ ہوں حالانکہ علی علیہ السلام کی خلافت اجماع امت کی پابند نہ تھی بلکہ خدا و رسول (ص) کی جانب سے مںصوص تھی۔
خلافت علی(ع) خدا و رسول(ص) کی طرف سے منصوص تھی
اگر حضرت نے خلافت کا بار سنھبالا تو وہ اجماع یا لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اپنا حق واپس پانے کے صورت میں تھا، اس لیے کہ اگر کسی حق دار کا حق غصب کر لیا جائے تو چاہے مدتین گذر جائیں لیکن جس وقت موقع ہاتھ آجائے،حالات سازگار ہوجائیں اور مانع برطرف ہوجائے وہ اپنا حق وصول کرسکتا ہے ۔ چنانچہ جس روز مانع برطرف ہوا اور ماحول مقتضی ہوگیا حضرت نے احقاق حق فرمایا اور حق اپنے مرکز سے ملحق ہوگیا۔
آپ حضرات اگر بھول گئے ہوں تو رسائل واخبارات کے صفحات او خصوصی اشاعتوں کا مطالعہ فرمائیے جن میں وہ دلائل اور نصوص خلافت درج ہیں جن کو ہم نے گذشتہ راتوں میں پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ خلافت ظاہری کی مسند پر حضرت کا قیام اجماع یا لو گوں کی توجہ کے سبب سے نہیں بلکہ آیات قرآنی و نصوص پیغمبر(ص) کی بنیاد پر تھا اور اپنے حق کی واپسی تھی۔
آپ تو ایسی ایک بھی متفق علیہ حدیث نہیں پیش کرسکتے جس میں رسول اکرم(ص) نے فرمایا ہو کہ ابوبکر، عمر اور عثمان میرے وصی اور خلیفہ ہیں یا جس میں اموی اور عباسی خلفاء میں سے کسی کا نام لیا ہو۔ البتہ ( علاوہ توار کتب شیعہ کے) آپ کی تمام معتبر کتابوںمیں پیغمبر(ص) سے ایسی حدیثیں ضرور کثرت سے منقول ہیں جن میں آں حضرت (ص) نے علی علیہ السلام کو اپنی خلافت و وصایت پر نصب فرمایا ہے چنانچہ ان میں سے چند پچھلی راتوں میں اور حدیث ام سلمہ آج کی شب عرض کرچکا ہوں۔
شیخ : ہماری روایتوں میں بھی وارد ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ابوبکر میرے خلیفہ ہیں۔
خیر طلب: گویا آپ ان دلائل کو بالکل بھول ہی گئے جو میں سابق راتوں میں ان احادیث کے بطلان پر قائم کرچکا ہوں، اور آج کی شب بھی میں آپ کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑوں گا ۔ شیخ مجددالدین فیروز آبادی صاحب قاموس اللغات کتاب مضرالسعادت میں کہتے ہیں :
" إن ما ورد في فضائل أبي بكر فهي من المفتريات التي يشهد بديهة العقل بكذبها "
یعنی فضائل ابوبکر میں جو کچھ بھی نقل ہوا ہے وہ ایسی افترا پروازیون میں سے ہے کہ عقل بدیہی طور پر اس کے جھوٹ ہونے کی گواہی دیتی ہے۔
علی(ع) کی خلافت اجماع سے قریب تر تھی
ان چیزوں کے علاوہ اگر آپ خلافت کے ظاہری طریقے پر اچھی طرح غور کریں تو خلفائے راشدین( ابوبکر، عمر، عثمان اور علی(ع)) اور اموی و عباسی خلفاء میں سے کسی ایک کے لیے بھی کوئی اجماع منعقد نہیں ہوا کہ تمام امت جمع ہوتی یا ساری امت کے باقاعدہ چنے ہوئے نمائیندے اکٹھا ہوتے اور بالاتفاق اس کی خلافت کے لیے رائے دیتے ۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرےخلفاء کی نسبت بظاہر حضرت علی علیہ السلام ہی کی خلافت اجماع سے قریب تر تھی اس لیے کہ آپ کے علماء و مورخین لکھتے ہیں کہ خلافت خزرج کے ساتھ اپنی مخالفت کی وجہ سے بیعت کر لی کیونکہ اس نے سعد بن عبادہ کو امارت کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ پھر آگے چل کر بعض نے ڈرانے دھمکانے سے ( جس کی تفصیل عرض کرچکا ہوں) اور ایک جماعت نے لالچ دلانے سے بیعت کی لیکن پھر بھی ایک گروہ نے مثلا سعد بن عبادہ کی پیروی میں اںصار نے آخر تک خلافت تسلیم نہیں کی پھر عمر کی خلافت تنہا ابوبکر کی تجویز سے قائم ہوئی جس میں اجماع اور رائے عامہ کا قطعا کوئی دخل تھا بلکہ یہ خلافت شاہانہ انداز کا ایک نمونہ تھی۔
اس کے بعد عثمان عمر کی بنائی ہوئی آمرانہ مجلس شوری کی سیاسی ترکیب سے مسند خلافت پر بیٹھے ۔ البتہ علی علیہ السلام کےقیام خلافت میں تقریبا سارے بلاد مسلمین کے اکثر نمائیندوں نے جو اتفاق سے دربار خلافت سے داد خواہی کرنکے لیے مدینے آئے ہوئے تھے، شریک ہو کر ایک بڑے اجماع کی تشکیل کی اور سبھی کے اصرار سے حضرت خلافت ظاہری
کی مسند پر بیٹھے۔
نواب: قبلہ صاحب مدینے میں بلاد مسلمین کے نمائیندوں کا اجماع کیا تعیین خلافت کے لیے تھا؟
خیر طلب: نہیں، ابھی تو خلیفہ سوم ہی مسند خلافت پر موجود تھے، اور اکثر بلاد مسلمین کے سرداران قوم اور بزرگان قبائل کی ایک بہت بڑی جماعت، عرض حال اور اور بنی امیہ وغیرہ کے جابر و ظالم عمال و حاکم اور بار خلافت کے مخصوصین جیسے مروان وغیرہ کے زشتو قبیح حرکاتکی شکایت کرنے کے لیے مدینے میں اکٹھا ہوئی تھی، بالاخر اسی اجماع کا جس میں کبار صحابہ بھی شامل تھے انجام یہ نکلا کہ خود عثمان کی غلط کاریوں اور امیرالمومنین و کبار صاحابہ کی مشفقانہ نصیحتوں پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے ان کے قتل کی نوبتآئی۔
اس کے بعد بلاد مسلمین کے ان تمام بزرگان قبائل اور رئوسائے قوم کے ہمراہ جو مدینے میں موجود تھے مدینے والے بصورت اجماع حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں حاجر ہوئے اور آپکو التماس و اصرار کےساتھ مسجد میں لائے، پھر سب نے بالاتفاق اس بزرگوار کی بیعت کی۔ حضرت سے قبل خلفائے ثلاثہ میں سے کسی ایک کی بیعتمیں بھی ایسا کھلا ہوا اجماع واقع نہیںہوا کہ اپنی خواہش اور عزم و اختیار سے سارے اہل مدینہ اور زعمائے ملت نے مل کر ایک مخصوص فرد کی طرف بیعت کا ہاتھ بڑھایا ہو اوراس کو خلیفہ تسلیم کیا ہو۔
لیکن ایسے اجماع اور اجتماع کے باوجود جو امیرالمومنین (ع) کے لیے منعقد ہوا ہم اس کو حضرت کے لیے دلیل خلافت نہیں سمجھتے بلکہ آپ کی خلافت پر ہماری دلیل قرآن مجید اور خدا و رسول خدا(ص) کی نص ہے، جس طرح تمام انبیاء کی سیرت تھی کہ حکم خداوندی سے اپنا وصی اور خلیفہ معین فرما تے تھے۔
تیسرے آپ نے فرمایا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام اور دوسرے خلفاء کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا، معلوم نہیں آپ جان بوجھ کر ایسا کہہ رہے ہیں یا واقعی غلط فہمی کا شکار ہیں، اس لیے کہ عقلی و نقلی دلائل بلکہ امت کے اجماع سے بھی ثابت ہے کہ علی(ع) اور دوسرے خلفاء بلکہ ساری امت کے درمیان بہت بڑا فرق تھا۔
علی(ع) دوسرے تمام خلفاء سے ممتاز تھے
پہلی خصوصیت جو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کو حاصل تھی اور اسی جہت سے آپ تمام دوسرے خلفاء سے ممتاز تھے یہ ہے کہ وہ سب صرف مخلوق کی ایک جماعت کے مقرر کئے ہوئے تھے لیکن علی علیہ السلام خدا و رسول(ص) کی طرف سے معین ہوئے ہیں، اور ظاہر ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبر(ص) کا مقرر کیا ہوا خلیفہ یقینا ان لوگوں سے افضل ہے جن کو مخلوق نے مقرر کیا ہو۔ ہر عقلمند انسان جانتا ہے کہ خلیفہ منصوص اور خلیفہ غیر منصوص میں بہت فرق ہے اور سب سے بڑی امتیازی صفت جو علی علیہ السلام کو دیگر خلفاء اور ساری امت سے بلند قرار دیتی ہے وہ حضرت کے علم وفضل اور شرف و تقوی کا درجہ ہے، کیونکہ ( تھوڑے سے خوارج و نواصب اور
بکریین کے علاوہ جن کی حالت سب کو لعلمو ہےجملہ علمائے امت کا اتفاق ہے کہ علی علیہ السلام پیغمبر صلعم کے بعد ساری امت سے اعلم، افضل، اقضی، اشرف اور اتقی تھے۔
چنانچہ میں اس بارے میں قرآن مجید کی تائیدوں کے ساتھ کافی روایتیں حتی کہ ابوبکر وعمر کی زبان سے بھی پچھلی شبوں میں آپکی معتبر کتابوں سے نقل کرچکا ہوں اور اس وقت پھر ایک حدیث یاد آگئی ہے جو پہلے بیان نہیں کی تھی لہذا انکشاف حقیقت کے لیے اس کو بھی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ امام احمد ابن حنبل نے مسند میں ، ابوالموئدموفق بن احمد خوارزمی نے مناقب میں، میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی میں، حافظ ابوبکر بیہقی شافعی نے اپنی سنن میں اور دوسرے نے بھی رسول اکرم(ص) سے مختلف الفاظ وعبارات کے ساتھ مکرر نقلکیا ہے کہ فرمایا:
" علی اعلمکم و افضلکم و اقضاکم والرد عليه کالرد علی والرد علی کالرد علی الله وهو علی حد الشرک بالله"
یعنی علی(ع) تم سب سے اعلم ، افضل اور اقضی ہیں، جو شخص ان کے قول و فعل یا رائے کو رد کرے اس ن گویا میری تردید کی اور جس نے میری تردید کی اس نے گویا خدا کی تردید کی اور وہ شخص شرک باللہ کی حد میں ہے۔
ابن ابی الحدید معتزلی نے جو آپ کے جلیل القدر علماء میں سے ہیں شرح نہج البلاغہ کی جلدوں میں کئی مقامات پر لکھا ہے کہ تفصیل امیرالمومنین علی علیہ السلام کا قول ایک قدیم قول ہے جس کے بہت سے اصحاب اور تابعین قائل تھے اور بغداد کے شیوخ نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے ( اس موقع پر عشاء کی اذان ہوئی اور مولوی صاحبان نماز کے لیے اٹھ گئے ادائے فریضہ اور چائے نوشی کے بعد خیر طلب نےافتتاح کلام کیا۔)
چوٹی کے فضائل وکمالات کیا ہیں؟
خیر طلب: جب آپ حضرات نماز میں مشغول تھے تو غور کرنے اے ایک موضوع نظر میں آیا ہے جو سوال کے طور پر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
یہ فرمائیے کہ کسی شخص کی ایسی شرافت و فضیلت جس سے اس کو دوسرے افراد کے مقابلے میں فوقیت کا حق حاصل ہو کس چیز سے ہے؟
شیخ : ( تھوڑے سکوت کے بعد) حقیقتا شرافت اور فضیلت کے طریقے بہت ہیں لیکن اول درجے میں جن کو چوٹی کے فضائل و کمالات کہہ سکتے ہیں وہخدا و رسول(ص) پر ایمان کے بعد میرے نزدیک تین چیزیں ہیں۔
1۔ پاکیزہ نسب اور نسل۔ 2۔ علم و دانش۔ 3۔ تقوی و پرہیزگاری۔
خیر طلب: جزاک اللہ، میں بھی انہیں تین طریقوں سے بحث میں قدم رکھتا ہوں جن کو آپ نے بلند ترین فضائل و کمالات
کے عنون سے انتخاب فرمایا ہے۔ یہ مان لینے کے بعد بھی کہ ہر ایک صحابی چاہے وہ خلیفہ ہو یا نہیں کسی نہ کسی خصوصیت کا حامل تھا عقلی و نقلی قواعد کے روسے یہ مسلم ہے کہ ان میں سے جو فردیں ان بلند خصوصیات اور اعلی فضائل کی جامع تھیں وہ سب سے مقدم اور بالاتر تھیں۔ اگر میں ثابت کردوں کہ ان تینوں خصوصیات میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ہی سب کے سید و سردار تھے تو آپ کو تصدیق کرنا چاہئیے کہ حضرت رسول خدا(ص) سے وارد نصوص کی موجودگی میں یہ بزرگوار امر خلافت میں بھی اولی اور سب سے زیادہ حقدار تھے، اور اگر تخت خلافت سے محروم رہے تو محض ان سیاسی حیلہ سازیوں کی وجہ سے جن کا نام مصلحت رکھ دیا گیا۔
( جیسا کہ شرح نہج البلاغہ جلد اول ص46 میں ابن ابی الحدید کا عقیدہ ہے)
علی علیہ السلام کا پاکیزہ نسب
اولا نسل ونسب کے معاملے میں مسلم ہے کہ ذات خاتم الانبیاء کے بعد شرافت میں کوئی شخص بھی علی علیہ السلام کو نہیں پہنچتا اور حضرت کی اصل و نسل اس قدر پاک و پاکیزہ اور درخشان ہے کہ صاحبان عقل کی عقلیں حیران اور دم بخورد ہیں، یہاں تک کہ آپ کے متعصب اکابر علماء جیسے علاء الدین مولوی علی بن محمد قوشجی ، ابو عثمان عمرو بن بحر جاحظ ناصبی اور سعد الدین مسعودی بن عمر تفتازانی بھیکہتے ہیں کہ ہم علی کرم اللہ وجہہ کے کلمات میں دم بخود اور حیران ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں"نَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ لَا يُقَاسُ بِنَا أَحَدٌ "
( یعنی ہم اہل بیت رسالت ہیں ہمارے اوپر کسی دوسرے کا قیاس نہیں کیا جاسکتا)
نیز نہج البلاغہ کے دوسرے خطبے میں ہے کہ خلافت ظاہری حاصل ہونے کے بعد حضرت نے فرمایا:
"لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه و آله مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحَدٌ وَ لَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْهِ أَبَداً هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وَ عِمَادُ الْيَقِينِ إِلَيْهِمْ يَفِيءُ الْغَالِي وَ بِهِمْ يُلْحَقُالتَّالِي وَ لَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ وَ فِيهِمُ الْوَصِيَّةُ وَ الْوِرَاثَةُ الْآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِهِ وَ نُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِهِ"
یعنی اس امت کے کسی ایک شخص کا بھی آل محمد صلی الہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قیاس اور موازنہ نہیں ہوسکتا، جس شخص پر ہمیشہ اہل بیت کی نعمت و مرحمت جاری رہی ہو وہ ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ دین کی بنیاد اور ایمان و یقین کے ستون ہیں، حد سے آگے بڑھ جانے والا پلٹ کے انہیں کی طرف آ تا ہے او رپیچھے رہ جانے ولا بڑھ کے انہیں سے ملحق ہوتا ہے، حق ولایت و امامت کے خصوصیت انہیں کے لیے ہیں اور ( رسول خدا(ص) کی) وصیت و وراثت انہیں میں ہے۔ اس وقت حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا ہے اور جہاں سے متقل کیا گیا تھا وہیں پھر پہنچ گیا ہے)
امیرالمومنین کے یہ بیانات حق خلافت میں حضرت کے اور خاندان آلِ محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے اولی اور مقدم ہونے پر پوری دلالت کرتے ہیں۔
یہ جملے صرف آپ ہی نے نہیں فرمائے ہیں بلکہ مخالفین بھی اس مفہوم کی تصدیق کرتےہیں۔ چنانچہ کسی شب میں عرض کرچکا
ہوں کہ میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی مودت ہفتم میں ابی وائل سے اور وہ عبداللہ ابن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، اصحاب پیغمبر(ص) کو شمار کرتے ہوئے ہم نے ابوبکر، عمر اور عثمان کا ذکر کیا تو ایک شخص نے کہا علی(ع) کا نام کہاں گیا؟ ہم نے کہا :
"عَلِيِ مِنْ أَهْلِ البَيْتٍ لَا يُقَاسُ بِهِ أَحَدٌ هوَ مَعَ رَسُول الله ِ صَلیَ اللهُ عَليه وَ آلِهِ فِي دَرَجَتَه"
یعنی علی(ع) اہل بیت نبوت میں سے ہیں ان کے ساتھ کسی اور کا قیاس نہیںکیا جاسکتا،وہ رسول خدا صلعم کے ساتھ انہیں کے درجے میں ہیں۔)
نیز احمد بن محمد کرزی بغدادی سے نقل کرتے ہں کہ عبداللہ بن احمدحنبل نے کہا میں نے اپنے باپ ( امام حنابلہ احمد بن حنبل) سے تفصیل صحابہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا ابوبکر ،عمر اور عثمان میں نے کہا بابا علی ابن ابی طالب(ع) کیا ہوئے؟ تو کہا "هوَ مِنْ أَهْلِ البَيْتٍ لَا يُقَاسُ بِهِ هَئُولا ءِ " ( یعنی وہ اہل بیت(ع) میں سے ہیں ان کے ساتھ ان لوگوں کا موازنہ نہیں ہوسکتا۔)
غیر معمولی بات یہ ہے کہ علی علیہ السلام کا نسب دو پہلو رکھتا ہے۔ نورانی اور جسمانی اور اس حیثیت سے رسول خدا(ص) کے بعد حضرت کی ذات منفرد تھی۔
علی(ع) کی نورانی خلقت اور پیغمبر(ص) کےساتھ آپ کی شرکت
جنبہ نورانیت اور حقیقت خلقت کے لحاظ سے تقدم کا حق امیرالمومنین علیہ السلام کےساتھ ہے۔ چنانچہ آپ کے اکابر علماء مثلا امام احمد ابن حنبل اپنی باعظمت کتاب مسند میں، میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی مودۃ القربی میں، ابن مغازلی شافعی مناقب میں اور محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول فی مناقب آل الرسول میں رسول اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ فرمایا:
" كُنْتُ أَنَا وَ عَلِي ابن ابی طالبِ نُوراً بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ من قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ آدَمَباربعةِ عَشرَاَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ رَكَّبَ ذَلِكَ النُّورَ فِي صُلْبِهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ حَتَّى افْتَرَقْنَا فِي صُلْبِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَفِيَّ النُّبُوَّةُ وَ فِي عَلِيٍّ الْخِلَافَةُ."
یعنی میں اور علی ابن ابی طالب(ع) دونوں خلقت آدم سے چودہ ہزار سال قبل بارگاہ خداوندی میں ایک نور تھے، پس جب خدا نے آدم کو پیدا کیا تو اس نور کو ان کے صلب میں قرار دیا اور ہم برابر ایک نور کی صورت میں رہے یہاں تک کہ عبدالمطلب کے صلب میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے پس مجھ میں نبوت اور علی(ع) میں خلافت آئی۔
میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی نے مودۃ القربی کی مودت ہشتم کو اس عبارت کے ساتھ اسی موضوع سے مخصوص کیا ہے :
"المودة الثامنة فی ان رسول الله و عليا من نورواحد اعطی علی من الخصال مالم يعط احد من العالمين"
یعنی آٹھویں مودت اس باب میں کہ رسول خدا(ص) اور علی(ع) ایک نور سے ہیں، علی(ع) کو ایسی خصلتیں عطا کی گئیں جو عالمین میں کسی کو نہیں ملیں۔
من جملہ ان احادیث کے جو اس مودت میں نقل کی ہیں اور ابن مغازلی شافعی نے بھی ذکر کیا ہے خلیفہ سوم عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"خلقت أنا و علي من نور واحد قبل أن
یخلق اللّه آدم (عليه السّلام) بأربعة آلاف عام، فركّب ذلك في صلبه فلم يزل شيء واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب ففی النبوة و فی علی الوصية."اور اسی کے بعد دوسری حدیث میں لکھتے ہیں کہ علی سے خطاب فرمایا :" ففی النبوة والرسالة و فيک الوصية والامانة يا علی."
یعنی میں اور علی خلقت آدم سے چار ہزار برس قبل ایک نور سے پیدا ہوئے پس جب اللہ نے آدم کو پید اکیا تو اس نور کو ان کے صلب میں ودیعت فرمایا پھر ہم برابر ایک نور رہے یہاں تک کہصلب عبدالمطلب میں ایک دوسرے سے جدا ہوئے، پس مجھ میں نبوت اور علی(ع) میں وصایت قرار پائی۔یا یہ کہ میرے اندر نبوت و رسالت اور اے علی(ع) تمہارے اندر وصیت و امامت آئی۔
نیز اسی حدیث کو ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص450 ( مطبوعہ مصر) میں صاحب کتاب فردوس سے نقل کیا ہے، اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب اول میں جمع الفوائد، مناقب ابن مغازلی شافعی، فردوس دیلمی، فرائد السمطین حموینی اور مناقب خوارزمی سے یہ الفاظ و عبارات کے تھوڑے سے تفاوت لیکن وحدت مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے کہ محمد و علی صلوات اللہ علیہما کی نورانی خلقت کائنات کی خلقت سے ہزاروں سال پہلے ہوئی اور یہ کہ دونوں ایک ہی نور تھے یہاں تک کہ صلب عبد المطلب میں ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ ایک حصہ صلب عبد اللہ میں قائمہوا جس سے خاتم الانبیاء کی پیدائش ہوئی اور دوسرا حصہ صلب ابوطالب میں پہنچا جس سے علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی، محمد صلعم کا نبوت و رسالت کے لیے اور علی علیہ السلام کا وصایت و امامت اور خلافت کے لیے انتخاب ہوا۔ جیسا کہ تمام اخبار میں خود رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے۔ اور ابو الموئد موفق بن احمد خوارزمی مناقب فصل چہاردہم اور مقتل الحسین فصل چہارم میں، سبط ابن جوزی تذکرہ ص28 میں، ابن صباغ مالکی فصول المہمہ میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب87 میں پانچ حدیثیں حافظ محدث شام کی سند سے اور حافظ محدث عراق معجم طبرانی سے اپنا اسناد کےساتھ نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا میں اور علی(ع) دونوں ایک نور سے پیدا ہوئے اور ایک ساتھ رہے یہاں تک صلب عبدالمطلب میں ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ ان میں سے بعض اخبار مفصل اور بہت بلند و مفید ہیں لیکن اختصار کے لحاظ سے میں نے مکمل طور پر ذکر نہیں کیا، (شائقین اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں)عبارتوں اور لفظوں کا اختلاف اس وجہ سے نہیں ہے کہ آں حضرت(ص) نے ایک ہی موقع پر ارشاد فرمایا اور ہر مادی نے ایک عبارت کےساتھ نقل کردیا ، بلکہ بہت ممکن ہے مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہو جیسا کہ خود حدیثوں کے سیاق سے ظاہر ہو رہاہے۔
علی علیہ السلام کا نسبِ جسمانی
اورجسمانی جنبہ بھی ماں باپ دونوں کی طرف سے بہت بڑی شرافت کا حامل ہے جو حضرت کے مخصوص خصائص و فضائل میں سے ہے۔
دوسروں کے برخلاف آپ کے آبائواجداد ابوالبشر حضرت آدم(ع) تک سب کےسب موحد اورخدا پرست تھے اور کسی ناپاک صلب یا رحم میں یہ پاک نور جاگزین نہیں ہوا۔ یہ فخر صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی حاصل نہیں تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
علی1۔ ابن ابی طالب2۔ بن عبدالمطلب3۔ بن ہاشم4۔ بن عبد5۔ مناف بن قصی6۔ بن کلاب7۔ بن 8۔مرہ بن کعب9۔ بن لوی10۔ بن غالب11۔ بن فہر12۔ بن مالک13۔ بن نضر14۔بن کنانہ15۔ بن خزیمہ16۔بن مدرکہ17۔ بن الیاس18۔ بن مضر19۔ بن نزار20۔بن سعد21۔بن عدنان22۔بن ادو23۔ بن الیسع24۔ بن الہمیس25۔ بن نبت26۔ بن سلامان27۔ بن حمل28۔ بن قیدار29۔ بن اسمعیل30۔ بن ابراہیم31۔ خلیل اللہ بن تارخ32۔ بن تاحور33۔ بن شاروع34۔ بن ابرغو 35۔بن تالغ36۔ بن عابر37۔ بن شالع38۔ بن ارفخشد 39۔بن سام 40۔بن نوح41۔ بن ملک42۔ بن متوشلخ43۔ بن اخںوخ44۔ بن یار45۔و بن مہلائل46۔ بن قینان47۔ بن انوش48۔ بن شیث49۔ بن آدم50۔ ابوالبشر علیہم السلام و رسول خدا صلعم کے بعد کسی کو بھی ایسا درخشان نسب نصیب نہیں ہوا۔
شیخ : آپ نے جو یہ فرمایا کہ آدم ابو البشر تک علی کرم اللہ وجہہ کے سبھی آبائو اجدا موحد تھے تو بظاہر اس میں آپ کو دھوکا ہوا ہے کیونکہ در اصل ایسا نہیں ہے۔ ہم بھی ظاہر پر مامور ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان بزرگوار کے آبائو اجداد میں مشرکین اور بت پرست بھی تھے جیسے ابراہیم خلیل کے باپ آزر جن کے لیے آیہ شریفہ میں صاف صاف ارشاد ہے:
" وَ إِذْ قالَ إِبْراهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَ تَتَّخِذُ أَصْناماً آلِهَةً- إِنِّي أَراكَ وَ قَوْمَكَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ"
یعنی یاد کرو اس وقت کو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ آیا تم بتوں کو اپنا خدا بناتے ہو؟ میں تم کو اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ سورہ نمبر6 ( انعام) آیت نمبر74۔
اس اشکال کا جواب کہ ابراہیم کا باپ آزر تھا
خیر طلب : بغیر سوچے سمجھے ہوئے آپ کا یہ بیان میری نظر میں عادتا اپنے اسلاف کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لیے کہ آپ کے اگلےاور پچھلے لوگ محض اس عرض سے کہ اپنے بزرگ اور چہیتے صحابیوں کو جن کی طرف قطعی طور سے کفر و شرک کی نسبت موجود ہے پاک قرار دے دیں یعنی یہ نسبی عیب ان سے دور ہوجائے اور ماں باپ کا مشرک ہونا معیوب نہ سمجھا جائے، اس بات پرآمادہ ہوگئے کہ اپنے عظیم المرتبت پیغمبر(ص) کے آبائو و اجداد میں بھی مشرک کو داخل کردیں اور آں حضرت(ص) کے نسب کو کفر و شرک سے ملا دیں تاکہ اپنے اسلاف اور بزرگان دین کی صفائی پیش کرسکیں۔
واقعی صاحبان عقل و دانش کی طرف سے ایسی مطلب پرستیاں بہت افسوسناک ہیں جن کو سواتعصب و عناد اپنے پیشوائوں کی اندھا دھند محبت اور بے محل ہاتھ پائوں مارنے کے اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ اور آپ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے کی عادت سے مجبور ہو کر ایسے جلسے میں ان باتوں کو دہراتے ہیں۔ حالانکہ آپ خود جانتے ہیں کہ علمائے انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابراہیم(ع) کے باپ تارخ تھے آزر نہیں تھا۔
شیخ : آپ نص کے مقابلے میں اجتہاد کر رہے ہیں اور علمائے انساب کے عقائد و نظریات کو قرآن کے مقابلے میں لا رہے ہیں
باوجودیکہ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ آزر بت پرست تھا۔
خیر طلب : میں کبھی نص کے مقابلے میں اجتہاد نہیں کرتا بلکہ قرآنی حقائق کو سمجھنے کے علاوہ چونکہ میرا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ لہذا جب میں قرآن کے عدیل و مفسر یعنیاہل بیتاور عترت رسول(ص) کی رہنمائی میں تھوڑے غور و فکر اور دقت نظر سے کام لیتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس آیہ شریفہ میں عرف عام کا قاعدہ استعمال ہوا ہے اس لیے کہ عام اصطلاح میں چچا اور ماں کے شوہر کو بھی باپ کہا جاتا ہے۔
اور آزر کے بارے میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ حضرت ابراہیم(ع) کا چچا تھا، اور دوسرا یہ کہ چچا ہونے کے علاوہ اپنے بھائی تارخ یعنی حضرت ابراہیم کے والد کی وفات کے بعد اس نے حضرت کی والدہ کو اپنی زوجیت میں لے لیا تھا لہذا حضرت دو وجہوں سے ہمیشہ اس کو باپ کہہ کر خطاب فرماتے تھے، ایک چچا ہونے کی جہت سے اور دوسرے ماں کا شوہر ہونے کے سبب سے۔
شیخ : ہم قرآن کیصراحت سے چشم پوشی نہیں کرسکتے جب تک خود قرآن ہی میں اس کی دلیل نہ مل جائے کہ چچا یا ماں کے شوہر کو باپ کہا گیا ہو، اور اگر آپ ایسی دلیل پیش نہ کرسکیں ( اور ہرگز پیش نہ کرسکیں گے) تو آپ کا استدلال ناقص اور ناقابل قبول ہے۔
خیر طلب: ایسا حتمی دعوےنہ کیجئے کہ جب اس کے خلاف دلیل قائم کی جائے تو سارا زور بیان ٹوٹ جائے، اس لیے کہ خود قرآن مجید میں ایسی نظیریں موجود ہیں جن میں عرف عام کے قاعدے سے بیان کیا گیا ہے من جملہ ان کے سورہ نمبر2( بقرہ) کی آیت نمبر127 ہے جو میری گذارش کا ثبوت دے رہیہے اور جس میں موت کے وقت حضرت یعقوب کا اپنے بیٹوں کے ساتھ سوال وجواب مذکور ہے ارشاد ہے:
"إِذْ قالَ لِبَنِيهِ ما تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي- قالُوا نَعْبُدُ إِلهَكَ وَ إِلهَ آبائِكَ إِبْراهِيمَ وَ إِسْماعِيلَ وَ إِسْحاقَ إِلهاً واحِداً"
یعنی جس وقت جناب یعقوب(ع) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم لوگ میرے بعدکس کی پرستش کروگے تو انہوں نے کہا کہ تمہارے خدا اور تمہارے باپوں ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق کی جو یکتا معبود ہے۔
اس آیت میں میرے دعوے کی دلیل لفظ اسماعیل ہے کیونکہ قرآن مجید کی شہادت سے حضرت یعقوب(ع) کے باپ حضرت اسحاق(ع) ہیں اور حضرت اسماعیل(ع) باپ تو نہیں بلکہ چچا ہیں لیکن آپ اصطلاح عام کے قاعدے سے ان کو باپ ہی کہتے تھے۔ چونکہ فرزندان یعقوب(ع) بھی عرفا چچا کو باپ کہتے تھے لہذا اپنے پدر بزرگوار کے جواب میں چچا کو باپ ہی کہا اور خدا نے ان کے سوال و جواب کو اسی طرح سے نقل کیا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے چچا اور ماں کے شوہر کو عرفا باپ کہتے تھے لہذا قرآن مجید نے بھی ان کو باپ کہا ورنہ تاریخ اور علم الانساب کی مضبوط دلیل سے یہ مسلم ہے کہ حضرت ابراہیم(ع) کے باپ آزر نہیں بلکہ تارخ تھے۔
پیغمبر(ص) کے آبائو امہات مشرک نہیں بلکہ سب مومن تھے
اس کی دوسری دلیل کہ پیغمبر(ص) کے آبائو اجداد مشرک اور کافر نہیں تھے۔ سورہ نمبر26،(شعراء) کی آیت نمبر219 ہے جس میں ارشاد ہے
" وَ تَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ" ( یعنی اور خدا پرستوں میں تمہاری گردش، 12 مترجم)
اس آیہ شریفہ کے معنی میں شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب2 میں نزی آپ کے دورے علماء نے ابن عباس ( جرامت و مفسر قرآن) سے روایت کی ہے کہ :
" تقلبهمن أصلاب الموحّدينمن موحّدين نبی الى نبی حتى أخرجهمن صلب ابيه من نکاح غير سفاح من لدن آدم"
یعنی خدا نے پیغمبرج(ص) کو پشت آدم(ع) سے ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کی طرف اہل توحید کے اصلاب میں منتقل فرمایا، یہاں تک کہ آپ کو اپنے باپ کے صلب سے ظاہر فرمایا بذریعہ نکاح نہ کہ حرام سے۔
من جملہ اور دلائل کے ایک مشہور حدیث ہے جس کو آپ کے سبھی علماء نے نقل کیا ہے ، یہاں تک کہ امام ثعلبی جو اصحاب حدیث کے امام ہیں اپنی تفسیر میں اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب2 میں ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"اهبطنی الله الی الارض فی صلب آدم و جعلنی فی صلب نوح فی السفينة و قذف بی فی صلب ابراهيم ثم لم يزل الله ينقلبی من الاصلاب الکريمة الی الارحام الطاهرة حتی اخرجنی من بين ابوين لم يلتقيا علی سفاح قط"
یعنی خدا نے مجھ کو زمین کی طرف صلب آدم میں ا تارا اور کشتی کے اندر مجھ کو صلب نوح(ع) میں قرار دیا اور مجھ کو صلب ابراہیم(ع) منفقل کیا اور اللہمجھ کو ہمیشہ بزرگ و محترم اصلاب سے پاک و پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ مجھ کو میرے ماں باپ سے پیدا کیا جنہوں نے ہرگز حرام طریقے سے باہم ملاقات نہیں کی۔
اور دوسری حدیث میں فرمایا" لم یدنسنی بدنس الجاہلیہ "( یعنی مجھ کو جاہلیت کی گندگی سے آلودہ نہیں کیا) اسی باب میں کتاب ابکار الافکار شیخ صلاح الدین بن زین الدین بن احمد معروف بہ ابن الصلاح حلبی اور علاء الدولہ سمنانی کی شرح کبریت احمر میں شیخ عبدالقادر سے بروایت جابر ابن عبداللہ انصاری ایک مفصل حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) سے اول ما خلق اللہ کے متعلق دریافت کیا گیا اور آں حضرت(ص) نے جوابات دیتے ہیں( جن کی تشریح کا وقت نہیں ) یہاں تک کہ آخر حدیث میں فرمایا ہے :
"و هکذا ينتقل الله نوری من طيب الی طيب و من طاهر الی طاهر الی اوصله الله الی صلب ابی عبد الله بن عبد المطلب و منه اوصله الله الی رحم امی آمنة ثم اخرجنی الی الدنيا فجعلنی سيد المرسلين و خاتم النبيين"
یعنی اور اسی طرح خدائے تعالے میرے نور کو طیب وطاہر اور پاک پاکیزہ سے طیب و طاہر اور پاک و پاکیزہ کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ میرے باپ عبداللہ ابن عبدالمطلب کے صلب میں ودیعت کیا اور ان سے میری ماں آمنہ کے رحم میں لایا۔ پھر مجھ کو دنیا میں ظاہر کیا اور سید المرسلین و خاتم النبیین قرار دیا۔
یہ ارشاد کہ میں طیب سے طیب اور طاہر سے طاہر کی طرف منتقل ہوتا رہا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آں حضرت(ص) کے آبائو اجداد میں کوئی کافر نہیں تھا، اس لیے کہ قرآن مجید کے حکم انما المشرکین نجس کے مطابق ہر کافر و مشرک نجس ہے پس جب یہ فرمایا کہ" لم يزل انقل من اصلاب الطاهرين الی ارحام الطاهرات " یعنی میں برابر اصلاب طاہرین سے پاک پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل ہوتا رہا تو ثابت ہوا کہ مشرکین چونکہ نجس ہیں لہذا آں حضرت(ص) کے آبائو اجداد مشرک نہیں تھے۔
نیز ینابیع المودت کے اسی باب میں کبیر سے بروایت ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
"ما ولدني في سفاح الجاهلية شيء و ما ولدني إلّا نكاح كنكاح الإسلام"
یعنی میں زمانہ جاہلیت کےکسی حرام طریقے سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اسلامی نکاح کے ذریعہ متولد ہوا۔
آیا آپ نے نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر105نہیں پڑھا ہے جس میں امیرالمومنین علی علیہ السلام نے رسول اللہ(ص) کے آبائو اجداد کیاس طرح توصیف کی ہے کہ :
"فاستودعهم في أفضل مستودع، و أقرهم في خير مستقر، تناسختهم كرائم الأصلاب إلى مطهرات الأرحام، كلما مضى منهم سلف قام منهم بدين اللّه خلف» إلى أن قال: «حتى أفضت كرامة اللّه سبحانه و تعالى إلى محمد صلى اللّه عليه و آله، فأخرجه من أفضل المعادن منبتا، و أعز الأرومات مغرسا، من الشجرة التي صدع منها أنبياءه، و انتجب منها أمناءه"
یعنی خدا نے ان( انبیاء) کو بزرگترین جائے امانت ( یعنی ان کے آبا ئے کرام کے اصلاب) میں امانت رکھا اور ان کو بہترین جائے قیام ( یعنی ان کی امہات کے ارحام طاہرہ) میں قرار دیا، ان کو بزرگ و احترام اصلاب سے پاک پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل فرمایا ، جب ان کے کسی سلف نے رحلت کی تو ایک خلف دین خدا کے ساتھ ان کا قائم مقام ہوا۔ یہاں تک کہ خدائے تعالے کی کرامت (یعنی نبوت و رسالت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئی، پس آں حضرتج(ص) کو سب سے افضل معدن پیدائش اور سب سے معزز اصل و بنیاد سے ظاہر فرمایا، ایسے شجرہ طیبہ سے جس سے اپنے انبیاء کو پیدا کیا، اور جس سے اپنے امانت داروں کو برگزیدہ کیا۔
اگر میں چاہوں تو اس طرح کے دلائل جلسے کا وقت ختم ہونے تک برابر پیش کرتا ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ مطلب ثابت کرنے کے لیے اور وہ بھی صاحبان اںصاف کے سامنے اسی قدر کافی ہوگا جس سے آپ حضرات سمجھ لیں کہ آدم ابوالبشر تک پیغمبر(ص) کے سارے آبائو اجداد مومن و موحد تھے۔ بدیہی چیز ہے کہ اہل البیت ادری بما فی البیت کے مصداق اہلبیت طہارت اور خاندان رسول (ص) کے افراد اپنےبزرگوں کے حالات سے دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگاہ تھے۔
پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ پیغمبر(ص) کے آبائو اجداد بھی سب کے سب مومن و موحد تھے تو یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ علی علیہ السلام کے آبائو و اجداد بھی سب کےسب مومن اور خدا پرست تھے۔ کیونکہ میں( تواتر اخبار شیعہ کے علاوہ) صرف ان اخبار و احادیث سے جن کو آپ کے علماء نے نقل کیا ہے پہلےہی ثابت کرچکا ہوں کہ محمد و علی علیہما الصلوۃ والسلام ایک نور تھے اور تمام پاک و پاکیزہ اصلاب و ارحام میں ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ صلب عبدالمطلب میں ایک دوسرے سے جدا
ہوئے نورانی اور جسمانی دونوں منزلوں میں جہاں رسول خدا(ص) تھے وہیں علی(ع) بھی تھے( پس ہر عقلمند کی عقل فیصلہ کرلے گی کہ جو بزرگ شخصیت ایسے روشن ومنزہ اور پاک و پاکیزہ نسب اور نسل کی حامل اور تمام اشخاص سے زیادہ رسول اللہ(ص) سے قریب تھی وہی منصب خلافت کے لیے اولی اور سب سے زیادہ حقدار تھی۔
شیخ: اگرچہ آپ نے ذزر اورتارخ کے مسئلے میں کامیابی کا راستہ نکال لیا ہے اور رسول خدا(ص) کے آبائو اجداد کی طہارت ثابت کردی ہے لیکن علی کرم اللہ وجہہ کے لیے اس قسم کا ثبوت ناممکن ہے کیونکہ (چاہے ہم اس کو تسلیم بھی کر لیں کہ عبدالمطلب تک سب موحد تھے لیکن ) علیکرم اللہ وجہہ کے باپ ابوطالب کے بارے میں ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ ثابت ہے کہ وہ کفر کی حالت میں دنیا سے اٹھے۔
ایمان ابوطالب میں اختلاف
خیر طلب: میں تصدیق کرتا ہوں کہ جناب ابوطالب کے بارے میں امت کے اندر اختلاف پیدا کردیا گیا، لیکن کہنا چاہئیے کہ :
"اللهم العن أول ظالم ظلم حق محمّد و آل محمّد "(یعنی خداوندا لعنت کر اس پہلے ظالم پر جس نے محمد و آل محمد(ص) کے حق میں ظلم کیا) لعنت ہو خدا کی اس شخص پر جس نے روز اول علی علیہ السلام کو ایذا اور نقصان پہنچانے کے لیے سب و لعن اہانت اور جھوٹی حدیثیں گڑھنے کا وہ طریقہ ایجاد کیا جس پر ایسے مطالب کی بنیاد قائم ہوئی کہ بعد کو خوارج و نواصب جو حضرت سے مخصوص طور پر عداوت رکھتے تھے اور آپ کے چند تنگ نظر اور نا فہم علماء اپنے اسلاف کی پیروی میں عادت اور تعصب کی بناء پر آپ کے اس قول کے قائل ہوگئے اور خیال قائم کر لیا کہ جناب ابوطالب بغیر ایمان کے دنیا سے اٹھے۔
حالانکہ جہمور علمائے شیعہ اور تمام اہل بیت طہارت و خاندن رسالت جن کے اقوال سند اور جن کا اجماع حجت ہے کیونکہ عدیل قرآن ہیں، نیز آپ کے بیشتر محققین و اںصاف پسند علماء جیسے ابن ابی الحدید، جلال الدین سیوطی، ابوالقاسم بلخی، ابوجعفر اسکافی ، فرقہ معتزلہ میں سے ان کے اساتذہ اور امیر سید علی ہمدانی شافعی وغیرہ سب بالاتفاق جناب ابوطالب کے اسلام و ایمان کے قائل ہیں۔
ایمان ابوطالب(ع) پر اجماع شیعہ
اور جماعت شیعہ کا تو اجماعی عقیدہ ہے کہ "انه قد آمن بالنبی فی اول الامر " ( یعنی ابوطالب(ع) در حقیقت شروع ہی میں پیغمبر(ص) پر ایمان لے آئے تھے۔
پھر سب سے بالاتر یہ کہ جناب ابوطالب کا ایمان دیگر بنی ہاشم یا آپ کے بھائی حمزہ اورعباس کے مانند کفر سے نہیں بلکہ
فطری تھا اور اہل بیت طاہرین کے اتباع میں جماعت شیعہ کامسلمہ مسئلہ ہے کہ" انه لم يعبد صنما قط بل کان من اوصياء ابراهيم " ( یعنی ابوطالب نے قطعا کبھی کسی بت کی پرستش نہیں کی بلکہ آپ حضرت ابراہیم کے اوصیاء میں سے تھے)
اور آپ کے محقق علماء کی معتبر کتابوں میں اس مطلب کی طرف کثرت سے اشارے موجود ہیں۔ من جملہ ان کے ابن اثیر نے جامع الاصول میں کہا ہے:
" و ما اسلم من اعمام النبیغير حمزة والعباس و ابی طالب عند اهل البيت عليهم السلام"
یعنی اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک پیغمبر(ص) کے اعمام میں سے صرف حمزہ، ابن عباس اورابوطالب ایمان لائے۔
بدیہی چیز ہے کہ اہل بیت رسول علیہم السلام کا اجماع ہر مسلمان کے نزدیک حجت ہونا چاہئیے کیونکہ حدیث ثقلین اور ان دیگر احادیث کی بنا پر جن کو میں پچھلی راتوں میں پیش کرچکا ہوں اور جن سے باتفاق فریقین ثابت ہے کہ رسول اللہ(ص) نے ان حضرات کے حق میں وصیتیں اور سفارشیں فرمائی ہیں، یہ ہستیاں عدیل قرآن اور ثقلین میں سے ایک ہیں اور ہم سب مسلمان اس پر مامور ہیں کہ ان کی گفتار و کردار سے تمسک رکھیں تاکہ گمراہ نہ ہوں۔
دوسرے یہ کہ قاعدہ "اهل البيت ادری بما فی البيت" (یعنی گھر کیچیزوں سے گھر والے ہی زیادہ واقف ہوتے ہیں 12 مترجم) کے مطابق یہ جلیل القدر خاندان جو تقوی و پرہیزگاری کامجسمہ تھا اپنے آبائو اجداد اور اعمام کے ایمان و کفر سے مغیرہ بن شعبہ، دیگر نبی امیہ، خوارج و نواصب اور بے خبر لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگاہ تھا۔ واقعی تعجب تو ہوتا ہے آپ کے علماء پر کہ تمام اہل بیت رسالت اور امام المتقین حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا قول تو قبول نہیں کرتےجن کی صداقت و راست گوئی کی تصدیق خود آپ ہی کی معتبر روایتوں کے مطابق خدا و رسول (ص) نے فرمائی ہے اور جو بالاتفاق یہی کہتے ہیں کہ جناب ابوطالب مومن و موحد دنیا سے اٹھے، لیکن امیرالمومنین(ع) کے ایک جانی دشمن، فاسق و فاجر اور جانے بوجھے ہوئے آدمی مغیرہ ملعون اور چند اموی اور خارجی و ناصبی اشخاص کی بات ماننے کےلیے تیار ہیں بلکہ اس پر اصرار اور مقابلہ بھی کرتے ہیں۔
ابن ابی الحدید معتزلی جو آپ کے بزرگ علماء میں سے ہیں شرح نہج البلاغہ جلد 3 میں کہتے ہیں کہ ابوطالب کے اسلام میں اختلاف ہے، جماعت شیعہ امامیہ اور اکثر زیدیہ نے کہا ہے کہ وہ دنیا سے مسلمان اٹھے علاوہ اجماع جمہور علمائے شیعہ کے ہمارے بعض شیوخ علماء بھی جیسے ابوالقاسم بلخی اور ابو جعفر اسکافی وغیرہ بھی اسی عقیدے پر ہیں کہ ابوطالب اسلام لائے، لیکن اپنا ایمان ظاہر نہ کرنے کا مقصد یہتھا کہ پیغمبر(ص) کی پوری اماد کرسکیں اور مخالفین ان کے لحاظ سے آںحضرت(ص) کی مزاحمت نہ کرسکیں۔
حدیث ضحضاح اور اس کا جواب
شیخ : معلوم ہوتا ہے آپ نے حدیث ضحضاح نہیں دیکھی ہے جس میں ارشاد ہے "ان اباطالب فی ضحضاح من نار " (یعنی ابوطالب جہنم کے پانی میں ہیں)
خیر طلب: یہ حدیث بھی ان دوسری موضوع اور جعلی حدیثوں کے مانند ہے جن کو زمانہ بنی امیہ اور بالخصوص منافقین کے رئیس معاویہ ابن ابو سفیان کے دور خلافت میں آل محمد(ص) اور اہل بیتطہارت علیہم السلام کے چند دشمنوں نے خوشامد اور جذبہ کفر و نفاق کے ماتحت تصنیف کیا تھا، اور بعد کو بنی امیہ اور ان کے پیروئوں نے بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی عداوت میں ان گڑھیہوئی حدیثوں کی تقویت دی اور مشہور کیا، انہوں نے اس کا موقع ہی نہیں دیا کہ جناب حمزہ و عباس کی طرح جناب ابوطالب کا ایمان بھی شہرت پاسکے، بلکہ اس کو قوم کی نگاہ سے بالکل اوجھل ہی کردیا۔
حدیث ضحضاح کی مجہولیت
عجیب تر چیز یہ ہے کہ حدیث ضحضاح کو وضع اور نقل کرنےوالا بھی حضرت امیرالمومنینعلیہ السلام کا فاسق وفاجر دشمنتنہا مغیرہ بن شعبہ ہی تھا جس کے لیے ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص159 تا ص163 میں، مسعودی مروج الذہب میں اور دیگر علماء لکھتے ہیں کہ مغیرہ نے بصرہ میں زنا کی، لیکن جس روز خلیفہ عمر کے سامنے اس کے گواہ پیش ہوئے تو تین آدمیوں نے شہادت دی اور چوتھا شخص بیان دینے آیا تو اس کو ایسا جملہ سکھا دیا گیا کہ گواہی ٹوٹ گئی، چنانچہ ان تیتوں پر حد جاری کی گئی اور مغرہ چھوڑ دیا گیا۔
ایک ایسے فاسق و فاجر زنا کار اور شرابیآدمی نے جس ر شرعی حد جاری ہونے والی تھی اور جو معاویہ ابن ابوسفیان کا جگری دوست تھا اس حدیث کو امیرالمومنینعلیہ السلام کے بغض و عداوت اور معاویہ کی چاپلوسی میں گڑھا اور معاویہ ان کے اتباع اور دیگر اموی افراد نے اس جعلی حدیث کو تقویت دی اور تصدیق کرنے لگے کہ "ان اباطالب فی ضحضاح من نار" ( ترجمہ گزر چکا ہے۔)
نیز جو افراد اس کے سلسلہ روایت میں داخل ہیں جیسے عبدالملک بن عمیر، عبدالعزیز داوردی اور ابوسفیان ثوری وغیرہ وہ بھی آپ کے اکابر علمائے جرح و تعدیل کے نزدیک جیساکہ ذہبی نے میزان الاعتدال جلد دوم میں لکھا ہے ضعیف و مردود اور ناقابل قبول ہیں اور ان میں سے بعض مثلا سفیان ثوری جعلسازوں اور سخت جھوٹے لوگوں میں شمار کئے گئے ہیں لہذا ایسی حدیث پر کیونکر اعتماد کیا جاسکتا ہے جس کو ایسے مشہور معروف ضعیف و کذاب لوگوں نے نقل کیا ہو؟
ایمان ابوطالب(ع) پر دلائل
حقیقت یہ ہے کہ جناب ابوطالب کے ایمان پر کثرت سے دلیلیں موجود ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور ایسے
واضح دلائل سے صرف وہی بے حس یا متعصب اور ضدی لوگ انکار کرسکتے ہیں جو حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
1۔ رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے کہ : "انا وکافل اليتيم کهاتين فی الجنة " ( یعنی اپنی دونوں انگلیاں ملاکر فرمایا) میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا اندونوں انگلیوں کی طرح جنت ہیں باہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔)
ابن ابی الحدید نے بھی اس حدیث کو شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ص312 میں نقل کیا ہے، اور لکھا ہے کہ بدیہی چیز ہے کہ ارشاد رسول(ص) سے ہر یتیم کی کفالت کرنے والا مراد نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اکثر یتیم کےکفیل فاسق و فاجر بلکہ گمراہ و بے دین اور جہنم کے مستحق ہوتے ہیں۔ پس آں حضرت(ص) کی مراد اس سے جناب ابوطالب(ع) اور آپ کے جد بزرگوار جناب عبدالمطلب تھے جو پیغمبر(ص) کے کفیل رہے او خصوصیت کے ساتھ مکہ معظمہ میں آں حضرت(ص) یتیم ابوطالب کے لقب سے مشہور تھے کیوںکہ وفات عبدالمطلب کے بعد آٹھ سال کے سن سے رسول اللہ(ص) کی کفالت اور دیکھ بھال آپ ہی کے ذمہ رہی۔
2۔ ایک مشہور حدیث ہے جس کو فریقین ( شیعہ و سنی) نے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے، اور بعض نے اس طریقے سے روایت کی ہے کہآں حضرت صلعم نے فرمایا، جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور ان الفاظ میں مجھ کو بشارت دی کہ:
"ان الله حرم علی النار صلبا انزلک و بطنا حملک و ثديا ارضعک و حجرا کفلک "
یعنی قطعی طور پر اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے اس پشت کو جس سے آپ کا نزول ہوا، اس شکم کو جس نے آپ کو اٹھایا، اس پستان کو جس نے آپ کو دودھ پلایا اور اس گود کو جس نے آپ کی کفالت کی۔
میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور قاضی شوکانی نے حدیث قدسی میں اس طرح روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا، جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا :
"ان الله يقرئک السلام و يقول انی حرمت النار علی صلب انزلک و بطن حملک و حجر کفلک"
یعنی پرورگار آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یقینا میں نے حرام کردی ہے آتش جہنم اس پشت پر جس نے آپ کو اتارا، اس شکم کو جس نے آپ کو بار اٹھایا اور اس آغوش کو جس نے آپ کی کفالت کی۔
(صاحب صلب سے جناب عبداللہ، صاحب شکم سے حضرت آمنہ او صاحب آغوش سے جناب عبدالمطلب و ابوطالب مراد تھے۔)
اس قسم کے اخبار و احادیث پیغمبر(ص) کے کفیل جناب عبدالمطلب ، جناب ابوطالب اور ان کی زوجہ فاطمہ بن اسد کے ، نیز آں حضرت صلعم کے باپ اور ماں جناب عبداللہ اور آمنہ بنت وہب اور آں حضرت کی دایہ حلیمہ سعدیہ کے ایمان پر پوری دلالت کرتے ہیں۔
مدح ابوطالب میں ابن ابی الحدید کے اشعار
من جملہ ان دلائل کے وہ اشعار ہیں جو آپ کے بہت بڑے عالم عزالدین عبد الحمید ابن ابی الحدید معتزلی نےجناب ابوطالب کی مدح میں نظم کئے ہیں اور شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص318 ( مطبوعہ مصر) نیز دوسری کتابوں میں درج ہیں کہتے ہیں:
ولولاأبوطالبو ابنهلما مثل الدين شخصا فقاما
فذاك بمكّة آوى و حامىو هذا بيثرب جس الحماما
تكفل عبد مناف بأمرو أودى فكان عليّ تماما
فقل في ثبير مضى بعد ماقضى ما قضاه و ابقى شماما
فلله ذا فاتحا للهدىو للّه ذا للمعالي ختاما
و ما ضر مجد أبي طالبجهول لغا أو بصير تعامى
كمالايضرإياةالصباح من ظنّ ضوء النهارالظلاما
مطلب یہ کہ اگر ابوطالب اور ان کے فرزند ( علی ابن ابی طالب(ع)) نہ ہوتے تو دین اسلام کو کوئی امتیاز اور مضبوطی حاصل نہ ہوتی، ابوطالب نے مکے میں آں حضرت(ص) کو پایا اور؟؟؟؟؟ کی اور علی علیہ السلام نے مدینے میں آں حضرت کے لیے جان نثار کی۔ عبدمناف ( ابوطالب) (اپنے پدر بزرگوار عبدالمطلب کے) حکم سے آں حضرت(ص) کی کفالت کرتے رہے اور علی(ع) نے ان خدمات کی تکمیل کی۔
ابوطالب(ع) نے قضائے الہی سے وفات پائی تو اس سے کوئی کمی نہیں ہوئی کیوںکہ انہوں نے اپنی خوشبو ( علی علیہ السلام) کو یاد گار چھوڑا ۔ ابوطالب نے خدا کی راہ میں ہدایت پر چلنے کے لیے ان خدمتوں کی ابتدا کی اور علی علیہ السلام نے اللہ کے لیے ان کو انتہا تک پہنچا کر بلندیاں حاصل کیں۔
ابوطالب کی بزرگی کو کسی نادان کی بکواس یا کسی بینا کی چشم پوشی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جس طرح کوئی دن کی روشنی کو اندھیرا سمجھ لے تو اس سے آثار صبح کا کوئی نقصان نہیں 12 مترجم عفی عنہ)
ابوطالب(ع) کے اشعار ان کے اسلام کی دلیل ہے
اسی طرح خود جناب ابوطالب(ع) نے آں حضرت صلعم کی مدح میں جو اشعار نظم کئے ہیں وہ بھی ان کے ایمان کا کھلا ہوا ثبوت
ہیں، چنانچہ ان میں سے کچھ شعر ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص316 میں نقل کئے ہیں اور آپ کے بہت سے اکابر علماء جیسے شیخابو القاسم بلخی اور ابوجعفر اسکافی نے انہیں اشعار سے آپ کے ایمان پر استدلال کیا ہے، حق یہ ہے کہ ان جناب نے اپنے ایمان کو ان اشعار کی صورت میں بالکل ظاہر و ہویدا کردیا ہے ، ان کے قصیدے لامیہ کے چند شعر یہ ہیں۔
أعوذبربالبيتمن كل طاعنعلينا بسوء أو يلوح بباطل
و من فاجر يغتابنا بمغيبةو من ملحق في الدين ما لم نحاول
كذبتم و بيت الله يبزى محمدو لما نطاعن دونه و نناضل
و ننصره حتى نصرع دونهو نذهل عن أبنائنا و الحلائل
و حتى نرى ذا الردع يركب ردعهمن الطعن فعل الأنكب المتحامل
و ينهض قوم في الحديد إليكمنهوض الروايا تحت ذات الصلاصل
و إنا و بيت الله من جد جدنالتلتبسن أسيافنا بالأماثل
بكل فتى مثل الشهاب سميدعأخي ثقة عند الحفيظة باسل
و ما ترك قوم لا أبا لك سيدايحوط الذمار غير نكس مواكل
و أبيض يستسقى الغمام بوجههثمال اليتامى عصمة للأرامل
يلوذ به الهلاك من آل هاشمفهم عنده في نعمة و فواضل
و ميزان صدق لا يخيس شعيرةو وزان صدق وزنه غير عائل
أ لم تعلموا أن ابننا لا مكذبلدينا و لا يعبأ بقول الأباطل
لعمري لقد كلفت وجدا بأحمدو أحببته حب الحبيب المواصل
و جدت بنفسي دونه فحميتهو دافعت عنه بالذرى و الكواهل
فلا زال للدنيا جمالا لأهلهاو شينا لمن عادى و زين المحافل
و أيده رب العباد بنصرهو أظهر دينا حقه غير باطل.
یعنی پناہ چاہتا ہوں میں رب کعبہ کی طرف ان لوگوں سے جو ہم پر برائی کے ساتھ طعن کرتے ہیں یا ہمکو باطل کے ساتھ نسبت دیتے ہیں اور اس بدکار سے جو ہماری غیبت اوربدگوئی کرتا ہے اورع اس شخص سے جو دین میں ایسی باتیں کرتا ہے جن سے ہم دور ہیں۔ قسم خانہ خدا کی تم نے جھوٹ کہا کہ ہم محمد(ص) کا ساتھ چھوڑ دیں گے، حالانکہ ابھی ہم نے ان کے مخالف سے نیزہ و تیر کے ساتھ جنگ نہیں کی ہے۔ اور ہم ان کی نصرت کریں گے یہاں تک کہ ان کے دشمن کو پچھاڑ دیں اور ایسی جان نثاری کریں گے کہاپنے بیوی بچوں کو بھول جائیں گے۔ ان کی نورانیت ایسی ہے کہ ان کے روئے روشن کے ذریعےباران رحمت طلب کیا جاتا ہے ، وہ یتیموں کے فریادرس اور بیوہ عورتوں کے پناہ دہندہ ہیں۔ بنی ہاشم کے بے بس افراد ان کے پاس پناہ لیتے ہیں اور ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔ قسم اپنی جان کی مجھ کی احمد(ص) سے والہانہ محبت ہے اور میں ان کو ایک خالص دوست کی طرح محبوب رکھتا ہوں۔ میں نے اپنے نفس کو اس قابل پایا کہ ان پر فدا ہوجائوں پس میں نے ان کی حمایت کی اور سرو گردن کے ذریعہ ان کی طرف سے دفاع کیا۔ خدا ان کو قائم رکھے کہ وہ اہل دنیا کےلیےجمال، دشمنوں کے لیے مصیبت اور محفلوں کی زینت ہیں۔ پروردگار عالم اپنی نصرت سے ان کی تائید کرے اور ان کے دین کو ظاہر کرے جو برحق ہے اور اس میں باطل کی گنجائش نہیں۔آپ کے جو مخصوص اشعار ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص312 میں نیز اور لوگوں نے نقل کئے ہیںاور جن سے آپ کے ایمان پر استدلال کیا گیا ہےان میں سے قصیدہ میمیہ میں فرماتے ہیں۔
يرجونمناخطة دون نيلهاضراب و طعن بالوشيج المقوم
يرجون أن نسخى بقتل محمدو لم تختضب سمر العوالي من الدم
كذبتم و بيت الله حتى تفلقواجماجم تلقى بالحطيم و زمزم
و ظلم نبي جاء يدعو إلى الهدىو أمر أتى من عند ذي العرش قيم
خلاصہ یہ کہ لوگ ہم سے دین اسلام کے خلاف نیزہ و شمشیر سے جنگ کر نے کی امید کرتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ ہم محمد(ص) کو قتل کر کے اس کو منسوخ کردیں، حالانکہ ابھی ان کی نصرت میں چہرے خون سے رنگیننہیں ہوئے۔ خانہ خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا، یہاں تک کہ تم مصیبت میں پڑ جائو اور اور حطیم و زمزم کٹے ہوئے سروں سے پٹ جائیں۔ اور اس نبی پر جوہدایت خلق کے لیےمبعوث ہوا ہے اور اس کتاب پر جو مالک عرش نے نازل کی ہے ظلم ہورہا ہے) من جملہ ان واضح دلائل کے جن سے حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے اور ان جناب کے ایمان کا کھلا ہوا ثبوت ملتا ہے۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص315 میں آپ کا یہ کلام نقل کیا ہے۔
ياشاهداللهعلي فاشهدانی علی دين النبی أحمد
من ضل في الدين فإني مهتدي
یعنی اے اللہ کی گواہی دینے والے گواہ رہو کہ میں یقینا پیغمبر خدا(ص) احمد کے دین پر ہوں۔ اگر کوئی دین میں گمراہ ہے تو میں ہدایت یافتہ ہوں۔
حضرات ! خدا کے لیے انصاف کیجئے، کیا ایسے اشعار کہنے والے کو کافر کہا جاسکتا ہے جو صاف صاف اقرار کر رہا ہے کہمیں محمد صلعم کےدین پر ہوں اور ایسے برحق پیغمبر(ص) کی نصرت کرتا ہوں جس کے یہاں باطل کی کوئی گنجائش ہی نہیں؟
شیخ : یہ اشعار دو وجہوں سے قابل قبول و استدلال نہیں ہیں۔ اول یہ کہ ان میں کوئی تواتر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی مقام پر یہ نہیں دیکھا گیا کہ ابوطالب نے اسلام و ایمان کا اقرار اور شہادتیں کا اعتراف کیا ہو، لہذا چند شعر نقل کردینے سے ان پر اسلام کا حکم جاری نہیں کیا جاسکتا۔
خیر طلب: تواتر کے بارے میں آپ کا ایراد عجیب ہے، جہاں آپ کا دل چاہتا ہے وہاں تو خبر واحد کو حجت سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں لیکن جہاں آپ کے مرضی کے خلاف ہو وہان فورا عدم تواتر کا حربہ استعمال کرنے لگتے ہیں۔
اگر آپ حضرات تھوڑا سا غور کر لیں تو بخوبی سمجھ میں آجائے کہ یہ اشعار اگرفردا فردا متواتر نہ ہوں تب بھی یہ سب مجموعی طور پر اس ایک امر پر متواتر حیثیت سے دلالت کرتے ہیں کہ جناب ابوطالب با ایمان اورخاتم الانبیاء(ص) کی نبوت و رسالت کے معتقد تھے، اکثر امور ایسے ہیں جن کا تواتر اسی طریقے سے معین ہوتا ہے۔ مثلا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی جنگیں اور غزوات میں آپ کی شجاعتیں اور حملے سبھی خبر واحد ہیں لیکن ان کے مجموعے سے معنوی تواتر پیدا ہوجاتا ہے جس سے حضرت کی بہادری کا
ضروری علم حاصل ہوتا ہے۔ اور حاتم کی سخاوت یا نوشیروانکے عدل وغیرہ کی بھی یہی صورت ہے۔
علاوہ اس کے آپ جو تواتر کے اس قدر دل دادہ ہیں، یہ فرمائیے کہ گڑھی ہوئی حدیث ضحضاح کا تواتر کہاں سے ثابت کیجئے گا۔
آخری وقت ابوطالب(ع) کا اقرار وحدانیت
رہا آپ کا دوسرا اشکال تو اس کا جواب بالکل ظاہر ہے ، اس لیے کہ توحید ونبوت کا اقرار اور مبدائ و معاد کا اعتراف ضروری نہیں ہے کہ نثر ہی میں ہو، مثلا کہے:
"اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد رسول الله " بلکہ اگر کوئی غیر شخص ایسے شعر کہے جو وحدانیت خدا اور رسالت خاتم الانبیاء(ص) کے اقرار و اعتراف کے قائم مقام ہوں تو قطعا کافی ہے۔ پس جس وقت جناب ابوطالب نے فرمایا:
ياشاهداللهعلي فاشهدانی علی دين النبی أحمد
تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو نثر میں اقرار کرنےکا ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ موت کے وقت نثر میں بھی اقرار کیا ہے۔ چنانچہ سید محمد رسولی بزنجی ، حافظ ابونعیم اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ ابوجہل اور عبداللہ ابن ابی امیہ وغیرہ سرداران قریش کی ایک جماعت مرض الموت میں جناب ابوطالب کی عیادت کے لیے گئی، اس موقع پر رسول اللہ (ص) نے اپنے چچا ابوطالب(ع) سے فرمایا کہ کہئیے"لا اله الا الله" تاکہ میں خدائے تعالی کے سامنے اس پر گواہی دوں !فورا ابوجہل اور ابن ابی امیہ نے کہا، اے ابوطالب ! کیا عبدالمطلب کی ملت سے پلٹ جائو گے؟ اور بار بار ان الفاظ کو دہرایا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا تم لوگ جان لو کہ ابوطالب عبدالمطلب ہی کی ملت پر ہے، چنانچہ وہ لوگ خوش خوش چلے گئے،ادھر ان جناب پر موت کے آثار طاری ہوئے تو ان کے بھائی عباس نے ( جو سرہانے بیٹھے ہوئے تھے) دیکھا کہ آپ کے ہونٹ جنبش کر رہے ہیں ، کان قریب لے گئے تو سنا کہ کہہ رہے ہیں"لا اله الا الله" عباس نے رسول اللہ(ص) کی طرف رخ کر کے عرض کیا کہ اے بھتیجے" والله لقد قال اخی الکلمة التی امرته بها" خدا کی قسم میرے بھائی (ا بوطالب) نے وہی بات کہی ہے جس کا تم نے حکم دیا تھا۔ لیکن چونکہ اس و قت تک عباس اسلام نہیں لائے تھے۔ لہذا کلمہ شہادت کو خود اپنی زبان پر جاری نہیںکیا۔ انتہی۔
جب کہ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ پیغمبر(ص) کےآبائو اجداد کے سب موحد ومومن تھے تو آپ کو سمجھ لینا چاہئیے کہ ابوطالب نے مصلحتا یہ جملہ فرمایا تھا کہ میں عبدالمطلب کی ملت پر ہوں، کیونکہ بظاہر تو ان لوگوں کو خوش اور مطمئن کردیا لیکن بباطن توحید کا اقرار بھی کیا، اس لیے کہ جناب عبدالمطلب ملت ابراہیم پر اور موحد تھے، مزید برآں یہ کہ صریحی طور پر کلمہ طیبہ"لا اله الا الله" بھی زبان پر جاری کیا۔ اگر آپ حضرات تھوڑی دیر کے لیے اپنی عادت سے ہٹ کے جناب ابوطالب کے تاریخی
حالات کا اںصاف سے مطالعہ کر لیں تو بے ساختہ ان کے ایمان کی تصدیق کریں گے۔
ابتدائے بعثت میں ابوطالب(ع) سے پیغمبر(ص)کی گفتگو
اگر جناب ابوطالب کافر و مشرک اور بت پرست تھے تو پہلے ہی روز جب پیغمبر(ص) مبعوث برسالت ہوئے اور اپنے چچا عباس کے ہمراہ ابوطالب کے پاس جاکر فرمایا:
"ان الله قد امرنی باظهار امری وقد انبائی و استنبانی فما عندک يا عم"
یعنی بہ تحقیق اللہ نے مجھ کو اپنا امر ظاہر کرنے کاحکم دیا ہے اور قطعی طور پر مجھ کو اپنا نبی بنایا ہے پس آپ میرے ساتھ کیا سلوک کریںگے؟
تو قریش کے سردار ، بنی ہاشم کے رئیس اہل مکہ کے نزدیک مقبول القول اور پیغمبر(ص) کے کفیل زندگی ہونے کے بعد یہ دیکھتے ہوئے کہ آں حضرت(ص) ہمارے دین کے خلاف ایک نیا دین پیش کررہے ہیں قاعدے کے موافق اور اس تعصب کے پیش نظر جو اہل عرب اپنے دین میں رکھتے تھے )چاہئیے تو یہ تھا کہ فورا مخالفت پر آمادہ ہوجاتےاور آن حضرت(ص) کو سختی کے ساتھ اس اقدام سے روکنے کی کوشش کرتے اور اگر اس طرح کام نہ چلتا تو چونکہ ان کے عقیدے کے برخلاف نبوت کا دعوی کر کے مدد مانگنے آئے تھے۔ از آں حضرت(ص) کو نظر بند کردیتے یا کم از کم اپنے پاس سے نکال ہی دیتے اور نصرت و حمایت کا وعدہنہ کرتے تاکہ اس عظیم ارادے سے باز رہیں، جس سے اپنا مذہب بھی محفوظ رہے اور اپنے ہم مشرب لوگ ممنوں احسان بھی ہوجائیں۔ جس طرح آزر نے اپنے بھتیجے حضرت ابراہیم(ع) کو جھڑکا اور دھتکارا تھا۔
بعثت ابراہیم(ع) اور آزر سے آپ کی گفتگو
چنانچہ سورہ نمبر19 (مریم) کی آیت نمبر44 میں خدائے تعالی حضرت ابراہیم(ع) کی بعثت کا تذکرہ فرماتا ہے کہ جب آپ رسالت پر مبعوث ہوئے تو اپنے چچا آزر کے پاس گئے اور کہا :
"إِنِّي قَدْ جاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ ما لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِراطاً سَوِيًّا. قالأَ راغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يا إِبْراهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِي مَلِيًّا"
یعنی یقینا میرے پاس ( وحی کے ذریعہ ) وہ علم آیا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا، پس تم میری پیروی کرو تاکہ تم کو راہ راست کی ہدایت کروں آزر نے جواب میں کہا، کیا تم میرے خدائوں سے منحرف ہوگئے ہو؟ اگر تم اپنے عقیدے سے دست بردار نہ ہوگے تو میں تم کو سنگ سار کردوں گا، اور تم میرے پاس سے عرضہ دراز کے لیے دور ہوجائو۔
لیکن اس کے برعکس جب حضرت خاتم الانبیاء(ص) نے جناب ابوطالب سے اعانت طلب کی تو آپ نے کہا:
" اخْرُجْ يَا ابْنَ أَخِي فَإِنَّكَ الْمَنِيعُ كَعْباً وَ الْمَنِيعُ حِزْباً وَ الْأَعْلَى أَباً وَ اللَّهِ لَا يَسْلُقُكَ لِسَانٌ إِلَّا سَلَقَتْهُ أَلْسُنٌ حِدَادٌ وَ اجْتَذَبَتْهُ سُيُوفٌ حِدَادٌ وَ اللَّهِ لَتُذَلَّلَنَّ لَكَ الْعَرَبُ ذُلَّ الْبُهَمِ لِحَاضِنِهَا "
یعنی اےمیرے بھتیجے خروج کرو کیوںکہ تم یقینا مرتبے میں بلند قبیلے اور گروہ کے لحاظ سے مضبوط اور نسل کے اعتبار سے سب سے بزرگ و برتر ہو۔ قسم خدا کی جو زبان تم کو سخت وسست کہے گی میں تیز و تند زبانوںاور تیز دھار والی تلواروں سے اس کا جواب دوں گا۔ قسم خدا کی سارا عرب تمہارے سامنے اس طرح گھٹنے ٹیک دے گا۔ جس طرح جانور اپنے مالک کے آگے ذلیل رہتے ہیں۔
اس کے بعد مندرجہ ذیل اشعار سے جن کو ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص306 (مطبوعہ مصر) میں اور سبط ابن جوزی نے تذکرۃ ص5 میں درج کیا ہے۔ پیغمبر(ص) کو خطاب کیا۔
وَاللَّهِلَنْيَصِلُواإِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْحَتَّى أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيناً
فَاصْدَعْ بِأَمْرِكَ مَا عَلَيْكَ غَضَاضَةٌوَ انْشُرْ بِذَاكَ وَ قَرَّ مِنْكَ عُيُوناً
وَ دَعَوْتَنِي وَ زَعَمْتَ أَنَّكَ نَاصِحٌفَلَقَدْ صَدَقْتَ وَ كُنْتَ قَبْلُ أَمِيناً
وَ عَرَضْتَ دِيناً قَدْ عَرَفْتُ بِأَنَّهُمِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ الْبَرِيَّةِ دِيناً
لَوْ لَا الْمَخَافَةُ أَنْ يَكُونَ مَعَرَّةٌلَوَجَدْتَنِي سَمِحاً بِذَاكَ مُبِيناً
یعنی قسم خدا کی وہ وگ اپنی جماعت کے ساتھ تم تک نہیں پہنچ سکتے، یہاں تک کہ میں ان کو قبروں کے اندر سلادوں۔ پس تم بیخوف ہوکر اپنا فرض اداکرو میں تم کو کامیابی کی خوشخبری دیتا ہوں ، تم اس کے ذریعے آنکھوں میں خنکی پیدا کرو۔ تم نے مجھ کو اپنے دین کی طرف دعوت دی اور میں یقین کرتا ہوں کہ تم نےمجھ کو صحیح راستےکی ہدایت کی، تم یقینا سچے اور ہمیشہ سےامانت دار ہو۔ تم نے ایسا دین پیش کیا ہے جس کے لیے مجھ کو معلوم ہے کہ دنیا کے تمام ادیان سے بہتر ہے۔ اگر مجھ کو ملامت اور بدگوئی کا خوف نہ ہوتا تو تم مجھ کو باعلان اس کا ہمنوا پاتے۔
خلاصہ یہ کہ پیغمبر(ص) سے ناراض ہونے اور آں حضرت(ص) کو اس ارادے سے باز رکھنے یا قتل و اسیری اور گھر سے نکال دینے کی دھمکی دینے کے عوض اس قسم کے ہمت بڑھانے والے اشعار اور ہمدردانہ گفتگو سے آپ کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کی کہ کھلم کھلا اپنا فرض ادا کرو تمہارے لیے کسی ذلت و رسوائی یا نقصان کا خوف نہیں ہے۔ تم اپنے عقیدے کا اعلان کرو تاکہ اس سے لوگوں کی آںکھیں روشن ہوں۔ تم نے مجھ کو دعوت دی ہے اور میں بھی جانتا ہوں کہ تم ہادی برحق اور سچے ہو، اور جس طرح پہلےسے امانتدار ہو اس دعوی میں بھی صادق ہو۔ میں نے اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے کہ در حقیقت یہ دین سارے ادیان عالم سے بہتر ہے۔
جس قدر میں نے پیش کیا ہے اس کے علاوہ ایسے اشعار بہت ہیں جن کو اس موضوع پر ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم میں، نیز دوسرے علماء نے نقل کیا ہے لیکن ان سب کو پیش کرنے کا وقت نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ نمونے کے لیے
اسی قدر کافی ہوگا۔
اب آپ حضرات خدا کو حاضر و ناظر جان کر انصاف سے بتائیے کہ ایسے جملے اور اشعار کہنے والے کو مشرک اور کافر کہا جائے گا یا مومن وموحد اور سچا خدا پرست مانا جائے گا؟چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے بھی اس حقیقت کی بے ساختہ تصدیق کی ہے۔
ینابیع المودت شیخ سلیمان بلخی باب52 کو ملاحظہ فرمائیے جس میں ابوعثمان عمرو بن بحر جاحظ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے:
" و حامي النّبي و معينه و محبه أشدّ حبّا و كفيله و مربيه و المقر بنبوته و المعترف برسالته و المنشد في مناقبه أبياتا كثيرة، و شيخ قريش أبو طالب"
یعنی ابوطالب پیغمبر(ص) کے حامی، مددگار، انتہائی چاہنے والے، کفیل زندگی، مربی، آں حضرت(ص) کی نبوت کا اقرار کرنے والے، رسالت کے معترف، آں حضرت(ص) کی مدح وثنا میں کثرت سے اشعار کہنے والےاور قریش کے رئیس و بزرگ تھے۔
تھوڑے سے غور وتامل کے بعد ہر منصف مزاج عقلمند اور غیر جانب دار انسان جناب ابوطالب کے ایمان کی گواہی دیگا۔ البتہ جوبنی امیہ اپنے خلیفہ معاویہ کے حسب الحکم اسی سال تک سید الموحدین حضرت امیرالمومنین (ع) اور پیغمبر(ص) کے دونوں جان سے زیادہ عزیز نواسوں حسن و حسین علیہم السلام پر لعنت اور سب وشتم کے لیے لوگوں کو آمادہ کرتے رہے اور حضرت کافر اٹھے اور اہل جہنم سے ہیں تاکہ جس طرح ہر پہلو سے امیرالمومنین(ع) کے قلب کو اذیتیں پہنچائیں اسی طرح اس رخ سے بھی حضرت کو رنج و تکلیف میں مبتلا کریں۔ چنانچہ اس جعلی حدیث کا راوی بھی میرہ بن شعبہ ملعون ہے جو حضرت علی علیہ السلام کا دشمن اور معاویہ کا جگری دوست تھا۔ ورنہ جناب ابوطالب کا ایمان فریقین کے صاحبان عقل کے نزدیک اظہر من الشمس ہے، اور صرف خوارج و نواصب اور ان دونوں گمراہ فرقوں کے بچے کچے افراد ہی اب تک ہر دور اور ہر زمانے میں جناب ابوطالب کے کفر کا عقیدہ پھیلاتے اور اس پر زور دیتے رہے جس کو بے خبر اور سادہ لوح لوگوں نے بر بنائے عادت صحیح سمجھ لیا سب سے زیادہ تعجب خیز اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ابوسفیان ، معاویہ اور یزید لعنت اللہ علیہم کوتو مومن و مسلمان بلکہ خلیفہ رسول سمجھ لیا حالانکہ ان کے کفر پر بیشمار واضح دلائل موجود ہیں لیکن جناب ابوطالب کو آپ کے ایمان پرایسی کھلی ہوئی دلیلوں کے باوجود کافر ومشرک کہتے ہیں۔
شیخ : آیا یہ مناسب ہے کہ آپ خال المومنین معاویہ بن ابی سفیان کو کافر کہیں اور ہمیشہ ان پر لعنت کریں آخر معاویہ ابن ابی سفیان و یزید رضی اللہ عنہما کے کفر و لعن پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے جبکہ یہ دونوں ہر بزرگ خلفاء میں سے ہیں اور بالخصوص معاویہ رضی اللہ عنہ تو خال المومنین اور کاتب وحی بھی تھے؟
خیر طلب: پہلے آپ یہ فرمائیے کہ معاویہ خال مومنین کس صورت سے ہیں؟
شیخ :ظاہر ہے کہ معاویہ کہ بہن ام حبیبہ چونکہ رسول اللہ(ص) کی زوجہ اور ام المومنین تھیں لہذا قطعا ان کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خال المومنین ہوئے۔
خیر طلب : یہ فرمائیے کہ ام المومنین عائشہ کا مرتبہ زیادہ بلند تھا یا ام حبیبہ خواہر معاویہ کا؟
شیخ : اگرچہ دونوں ام المومنین تھیں لیکن عائشہ کا مقام و مرتبہ یقینا سب سے بالاتر تھا۔
محمد ابن ابی بکر علی(ع) کے پیرو تھے اس لیے خال المومنین نہیں کہلائے
خیر طلب : آپ کے اس قاعدے سے تو ازواج رسول(ص) کےسبھی بھائی خال المومنین ہیں۔ پھر آپ محمد بن ابی بکر کو خال المومنین کیوں نہیں کہتے ؟ حالانکہ آپ کے نزدیک ان کے باپ معاویہ کے باپ سے بالاتر اور ان کی بہن بھی معاویہ کی بہن سے جلیل القدر ہیں معلوم ہوا کہ معاویہ کا خال المومنین ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس میں ان کے لیے کوئی شرف بھی نہیں ہےورنہ صفیہ زوجہ رسول(ص) کے باپ حی ابن اخطب یہودی کو بھی صاحب شرف ہونا چاہیے۔
آپ قطعی طور پر سمجھ لیجئے کہ ام المومنین اور خال المومنین ہونے کا کوئی لحاظ نہیں ہے بلکہ در حقیقت خاندان رسول(ص) اور عترت و اہل بیت رسالت(ع) کی ضد اور مخالفت مںظور ہے۔ چونکہ معاویہ نے عترت رسول(ص) سے جنگ کی، امام الموحدین حضرت امیرالمومنین(ع) اور پیغمبر(ص) کے دونوں نواسوں یعنی سرداران جوانان اہل جنت حسن و حسین علیہم السلام پر لعنت اور سبوشتم کرنے کا حکم دیا۔ اور فرزند رسول(ص) امام حسن مجتبی(ع) نیز دوسرے پاکباز صحابہ اور شیعوں کا قتل عام کیا لہذا خال المومنین ہوگئے( چنانچہ ابوالفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبین میں، ابن عبدالبر نے استیعاب میں، مسعودی نے اثبات الوصیہ میں اور دوسرے علماء نے نقلکیا ہے کہ اسماء جعدہ نے معاویہ کے حکم اور وعدے پر حضرت ابو محمد حسن ابن علی علیہما السلام کو زہر دیا۔ یہاں تک کہ ابن عبد البر اور محمد بن جریر طبری نے لکھا ہےکہجس وقت ان بزرگوار کی خبر وفات معاویہ کو ملی تو انہوں نےتکبیر کہی اور ان کے سارے حاشیہ نشینوں نے بھی جوش مسرت میں تکبیر کہی) یقینا ایسے ہی ملعون کو آپ کے نزدیک خال المومنین ہونا چاہئیے۔
لیکن جناب محمد ابن ابوبکر چونکہ حضرت امیرالمومنین (ع) کے پروردہ اور اہلبیت طاہرین (ع) کے مخلص شیعوں میں سے تھے جیسا کہ اس جلیل القدر خاندان سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
يابنيالزهراءأنتم عدتيو بكم في الحشر ميزاني رجح
و إذا صح ولائي فيكملا ابالي أي كلب قد نبح
یعنی اے اولاد فاطمہ(ع) میرے لیے جائے پناہ اور سرپرست ہو اور تمہارے ہی وسیلے سے قیامت کے روز میرے میزان عمل کا پلہ بھاری ہوگا۔ جب میری محبت تمہارے لیے خالص ہوگئی تو میں اس کی پروا نہیں کرتا کہ کوئی میرے گرد بھونکتا رہے۔
لہذا باوجودیکہ خلیفہ اول ابوبکر کے فرزند اور ام المومنین عائشہ کے بھائی تھے پھر بھی خال المومنین نہ کہے جائیں بلکہ ان پر سب ، لعن کی جائے اور باپ کی وراثت سے بھی محروم کردیئے جائیں؟
یہاں تک کہ جس وقت عمرو بن عاص اور معاویہ بن خدیج نے مصر کو فتح کیا تو جناب محمد ابن ابوبکر پر پانی بندکردیا اور سخت پیاس کے عالم میں ان کو قتل کیا، پھر ایک مرے ہوئے گدھےکے پیٹ میں رکھ کے آگ سے جلا دیا۔ جب معاویہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے انتہائی مسرت اور شادمانی کا اظہار کیا۔
آپ ان واقعات کو سن کر تو قطعی متاثر نہیں ہوتے کہ ان ملاعین نے خلیفہ ابوبکر کے بیٹے خال المومنین جناب محمد کے ساتھ کیوں ایسا سلوک کیا اور ان کو اس ذلت و خواری کے ساتھ کیوں شہید کیا۔ لیکن معاویہ پر لعن کی جائے تو ناراض ہوجاتے ہیں، کہ خال المومنین کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟
پس آپ کو تصدیق کرنا چاہیئے کہ جنگ در اصل عترت رسول(ص) سے تھی اور ہے۔
محمد ابن ابی بکر چونکہ اہل بیت(ع) کے دوستوں میں سے تھے لہذا نہ آپ ان کو خال المومنین کہتے ہیں نہ ان کے قتل سے رنجیدہ ہوتے ہیں اور معاویہ چونکہ عترت و اہل بیت رسول(ص) کے پکے دشمن تھے اور ان حضرات پر علانیہ لعنت کرتے تھے لہذا ان کو خال المومنین بھی کہتے ہیں اور ان کی طرف داری بھی کرتے ہیں۔ خدا کی پناہ اس تعصب وعناد اور ہٹ دھرمی سے۔
معاویہ وحی کے نہیں بلکہ خطوط کے کاتب تھے
دوسرے معاویہ کاتب وحی بھی نہیں تھے کیوں کہ یہ ہجرت کے دسویں سال اسلام لائے ہیں جب کہ وحی کے سلسلے میں کوئی چیز باقی ہی نہیں رہ گئی تھی، بلکہ کاتب مراسلات تھے۔ چونکہانہوں نے رسول اللہ(ص) کو بہت اذیتیں پہنچائی تھیں اور آں حضرت(ص) کی بدگوئیاں کی تھیں ، نیز سنہ8 ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر جب ابوسفیان نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے اپنے باپکو بہت سے خطوط لکھے تھے جن میں تو بیخ و سرزنش کی تھی کہ تم کیوں مسلمان ہوئے؟ لہذا جس وقت جزیرہ عرب میں اور اس سے باہر اسلام کی عام اشاعت کے اثر سے خود بھی مسلمان ہونے پر مجبور ہوئے تو مسلمانوں کے درمیان ان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ پیغمبر(ص) کے چچا جناب عباس نے آں حضرت(ص) سے درخواست کی کیا معاویہ کو کبھی امتیاز دے نہ دیجئے تاکہ سب کی اور خجالت سے نجات پاجائے آں حضرت(ص) نے اپنے چچا کی رعایت سے ان کو مراسلات کا کاتب مقرر کردیا۔ چنانچہ مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ "ان معاوية يکتب بين يدی النی صلی الله عليه و آله "( یعنی معاویہ پیغمبر(ص) کے سامنے کتابت کرتے تھے اور مدائنی کہتے ہیں:
" كان زيد بن ثابت يكتب الوحي، و كان معاوية يكتب للنبي صلّى اللّه عليه و آله فيما بينه و بين العرب"
یعنی زید بن ثابت وحی لکھتے تھے اور معاویہ آں حضرت(ص) اور عرب کے درمیان خط کتابت کا کام کرتے تھے۔
معاویہ کے کفر و لعن پر دلائل
تیسرے ان کے کفر اور ان پر لعنت کے ثبوت میں آیات و اخبار اور ان لوگوں کے حرکات سے بکثرت دلیلیں قائم ہیں۔
شیخ : اخبار و آیات کے دلائل سننے کے قابل ہیں۔ التماس ہے کہ انکوبیان کیجئے تاکہ یہ معمہ حل ہو۔
خیر طلب: آپ تعجب نہ کریں، اس میں کوئی معما نہیں ہے بلکہ اتنی کثرت سے دلیلیں موجود ہیں کہ اگر سب کو نقل کروں تو ایک مستقل کتاب بن جائے لیکن یہاں وقت کے لحاظ سے بعض کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔
معاویہ و یزید کی لعن پر آیات و اخبار کی دلالت
1۔ سورہ نمبر17( بنیاسرائیل) آیت نمبر62 میں ارشاد ہے :
"وَ ما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْناكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَ نُخَوِّفُهُمْ فَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْياناً كَبِيراً"
آپ کے علمائے مفسرین جیسے امام ثعلبی اور امام فخرالدین رازی وغیرہ نے روایت کی ہے کہ رسول خدا(ص) نے عالم خواب میں دیکھا کہ بنی امیہ بندروں کے مانند آں حضرت(ص) کے منبر پر چڑھ اتر رہے ہیں اس کے بعد جبرئیل یہ آیت لائے کہ جو کچھ ہم نے تم کو خواب میں دکھایا ہے وہ لوگوںکے لیے فتنہ اور امتحان ہے اور وہ درخت ہے جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے( یعنی شجرہ نسل بنی امیہ) اور ہم ان کو ان آیات عظیم کے ذریعے خدا سے ڈراتے ہیں لیکن اس سے ان کے سوائے کفر اور سخت سرکشی کے اور کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ پس جب خدائے تعالی نے نسل بنی امیہ کو جن کے راس و رئیس ابوسفیان اور معاویہ تھے قرآن میں شجرہ ملعونہ یعنی لعنت کیا ہوا درخت فرمایا ہے تو معاویہ بھی جو اسی درخت کی ایک مضبوط شاخ ہیںقطعا ملعون ہوئے۔
2۔ سورہ نمبر47(محمد) آیت نمبر32، 32 میں فرماتا ہے:
"فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَ تُقَطِّعُوا أَرْحامَكُمْ أُولئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَ أَعْمى أَبْصارَهُمْ"
یعنی اے منافقین کیا عنقریب اگر تم حاکم بن جائو تو زمین میں فساد برپا کروگے اور اپنے قرابت کے رشتہ قطع کروگے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پس (گویا) انکے کانوں کو بہرا اورآنکھوں کو اندھا بنادیا ہے۔
اس آیت میں زمین پر فساد پھیلانے والوں اور قطع رحم کرنے والوں پر کھلی ہوئی لعنت کی گئی ہے اور معاویہ سے زیادہ مفسد کون ہوگا جن کا فساد ان کے دور خلافت میں ز بان زد خاص و عام تھا۔ ان کے علاوہ قاطع ارحام بھی تھے جو ان پر ثبوت لعن کے
لیے خود ایک دوسری دلیل ہے۔
3۔ سورہ نمبر33 ( احزاب) آیت نمبر57 میں ارشاد فرمایا ہے:
" إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهِيناً."
یعنی جو لوگ خدا و رسول(ص) کو اذیت پہنچاتے ہیں یقینا اللہ نے ان پر دنیا و آخرت میں کمی کی ہے اور ان کے لیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
بدیہی چیز ہے ک امیرالمومنین (ع) اور دونوں ریحانہ رسول حسنو حسین علیہم السلام نیز عمار یاسر وغیرہ کے ایسے رسول اللہ(ص) کے خاص صحابہ کو رنج و اذیت پہنچانا در اصل آن حضرت(ص) کو رنج اذیت پہنچانا ہے اور معاویہ نے چونکہ ان مقدس ہستیوں کو رنج و آزار پہنچایا ہے لہذا بصراحت آیت دنیا وآخرت میں ملعون ہوئے۔
4۔ سورہ نمبر40( مومن) آیت نمبر55 میں فرمایا ہے:
"يَوْمَ لا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوءُ الدَّارِ"
یعنی اس روز ظالمون کو ان کی معذرت اور پشیمانی کوئی فائدہ نہ دے گی، ان کے لیے لعنت اور بری قیام گاہ موجود ہے۔
5۔ سورہ نمبر11 (ہود) آیت نمبر21 میں ارشاد ہے:
"أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ"( یعنی جان لو کہ ظالمون پر خدا کی لعنت ہے۔)
6۔ سورہ نمبر7( اعراف) آیت نمبر42 میں ارشاد ہے:
" فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ- أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ"( یعنی ان کے درمیان ایک منادی نے ندا کی کہ ظالمون پر خدا کی لعنت ہو)
اور اسی طرح کی دوسری آیتوں میں بھی جو ظالمین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ ہر ظالم ملعون ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اپنا یا غیر معاویہ کے کھلے ہوئے مظالم سے انکار کرے گا۔ پس اسی دلیل سے کہ وہ ظالم تھے لعنت خداوندی کے مستحق قرار پائے اور ایسے صریحی نصوص کی موجودگی میں ہم بھی اس شخص پر لعن کرسکتے ہیں جو خدا کے نزدیک ملعون ہو۔
7۔ سورہ نمبر4 ( نساء) آیت نمبر95 میں فرمایا ہے:
"وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خالِداً فِيها وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهُ وَ أَعَدَّ لَهُ عَذاباً عَظِيماً"
یعنی جو شخص کسی مومن کو عمدا قتل کردے تو اس کا عوض جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ معذب رہے گا۔ خدا اس پر غضب ناک ہے اور اس پر لعنت کرتا ہے اور اس کے لیے زبردست عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
معاویہ کے حکم سے خاص خاص مومنین کا قتل
یہ آیہ شریفہ واضح کررہی ہے کہ جو شخص کسی ایک مومن کو بھی عمدا قتل کردے وہ خدا کا ملعون ہے اور اس کی قیام گاہ جہنم ہے اب آپ حضرات انصاف سے بتائیے کہ آیا معاویہ عام اور خاص مومنین کے قتل میں شریک نہیں تھے؟ آیا حجر ابن عدی اور ان کے سات اصحاب کو انہوں نے اپنے حکم سے عمدا قتل نہیں کرایا؟ اور خصوصیت کے ساتھ کہا عبدالرحمن ابن حسان غزمی کو زندہ درگور نہیں کرایا؟ چنانچہ ابن عساکر اور یعقوب بن سفیان نے اپنیتاریخوں میں، بیہقی نے دلائل میں، ابن عبدالبر نے
استیعاب میں اور ابن اثیر نے کامل میں نقل کیا ہے کہ حجر ابن عدی کبار وبزرگان صحابہ میں سے تھے جن کو معاویہ نے مع ان کے سات آدمیوں کے بہت سختی کے ساتھ محض اس خطا پر قتل کرایا کہ انہوں نے علی علیہ السلام پر لعن اور آپ سے تبرا کیوں نہیں کیا۔ آیا امام حسن ابن علی ابن ابی طالب علیہما السلام رسول اللہ(ص) کے بڑے نواسے ، اصحاب کساء کی ایک فرد، جوانان اہل جنت کے دو سرداروں میں سے ایک اور اکابر مومنین میں سے نہیں تھے جن ک لیے برابر روایت مسعودی و ابن عبدالبر و ابوالفرج اصفہانی وطبقات محمد بن سعد وتذکرۃ سبط ابنجوزی وغیرہ اکابر علمائے اہل سنت ، معاویہ نے اسماء جعدہ کے پاس ایک زہر بھیجا اور وعدہ کیا کہ اگر تم حسن بن علی(ع) کو مار ڈالو گی تو تم کو ایک لاکھ درہم دوں گااور اپنے بیٹے یزید کے ساتھ عقد کروں گا؟ ( چنانچہ شہادت امام حسن علیہ السلام کے بعد ایک لاکھ درہم تو دے دئیے لیکن یزید کے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کردیا) آیا قتل مومن کے علاوہ رسول اللہ(ص) کے پارہ جگر حضرت امام حسن علیہ السلام کو شہید کرنے سے آں حضرت(ص) کو اذیت نہیں پہنچی؟ اور مذکورہ بالا دونوں آیتوں کے بعد بھی آپ کو ملعون ہونے میں تامل ہے؟ آیا صفین میں رسول خدا(ص) کے بزرگ صحابی عمار یاسر کی شہادت معاویہ کے حکم سے نہیں ہوئی ؟ اور کیا باتفاق اکابر علمائے اہل سنت رسول اللہ(ص) نے عمار یاسر سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ "ستقتلک الفئة الباغية "( یعنی عنقریب تم کو ایک باغی اور گمراہ گروہ قتل کرے گا؟
آیا آپ کو اس میں کوئی شک ہے کہ معاویہ کے حکم اور عمال معاویہ کے ہاتھوں سے اتنے بزرگان مومنین قتل ہوئے کہ انکی تعداد کئی ہزار تک پہنچتی ہے؟ آیا مومن پاک نفس اور بہت بڑے مرد مجاہد مالک اشتر کو معاویہ کے حکم سے زہر نہیں دیا گیا؟ آیا معاویہ کے خاص کارندے عمرو بن عاص اور معاویہ بن خدیج نے مصر میں امیرالمومنین (ع) کے گورنر اور صالح و کامل مومن محمد ابن ابوبکر کو ظلم سے شہید نہیں کیا، یہاں تک کہ بعد کو مردہ گدھے کے پیٹ میں رکھ کے آگے سے جلایا بھی؟ اگر میں چاہوں کہ جس قدر مومنین کو معاویہ اور ان کے عمال نے قتل کرایا ہے سب کی تفصیل بیان کروں تو ایک رات نہیں بلکہ کئی راتیں درکار ہوں گی۔
معاویہ کے حکم سے بسر بن ارطاۃکے ہاتھوں تیس(30) ہزار مومنین کا قتل
ان کا ایک بدترین عمل مومنین اور شیعیان علی کا وہ قتل عام ہے جو معاویہ کے حکم سے خونخوار وسفاک بسر ابن ارطاۃ نے کیا۔ چنانچہ ابوالفرج اصفہانی و علامہ سمہوددی نے تاریخ المدینہ میں، ابن خلکان ، ابن عساکر اورطبری نے اپنی تاریخوں میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں اورآپ کے دوسدرے اکابر علماء نے لکھا ہے کہ معاویہ نے بسر کو حکم دیا کہ اپنا لشکر لے کر مدینے اور مکے سے صنعاء اور یمن کی طرف دھاوا کرو اور ایس طرح کا حکم ضحاک بن قیس فہری وغیرہ کو بھی دیا جس کو الفرج نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ :
" فيقتلوا کل من وجده من شيعتة علی ابن ابی طالب و اصحابه ولا يکفوا ايديهم عن النساء والصبيان"
یعنی علی ابن ابی طالب(ع) کے اصحاب اور شیعوں میں سے جو بھی مل جائے قتل کردیا جائے ، یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نہ چھوڑا
جائے۔ پس یہ لوگ اس شدید حکم کے ساتھ تین ہزار کاجراد و خونخوار لشکر کے کر روانہ ہوئے اور مدینہ ، صنعاء،یمن ، طائف اور نجران میں نیز راستے کے درمیان اس قدر مومنین و مسلمین حتی کہ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کیا کہ ان کے اعمال سے تاریخ کے صفحات سیاہ ہوگئے افسوس کہ ان سارے انسانیت سوز حرکات کی تشریح پیش کرنے کا وقت نہیں لیکن مختصر نمونہ یہ ہے کہ جس وقت یمن میں پہنچے تو والی یمن عبیداللہ ابن عباس شہر سے باہر تھے، یہ ان کے گھر میں گھس گئے اور ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچوں سلیمان اور دائود کو ماں کی گود میں ذبح کردیا۔
ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص121 سطر اول میں لکھتے ہیں کہ اس فوج کشی میںجولوگ آگ سے جلا دیئے گئے ان کے علاوہ تیس ہزار افراد قتل کئے گئے۔
آیا آپ حضرات کو اب بھی اس حقیقت میں کوئی شک وشبہ ہے کہ معاویہ پر آیات قرآنی کے حکم سے دنیا وآخرت میں خدا و رسول(ص) کی لعنت ہے؟
امیرالمومنین (ع) پر سب وشتم اور آپ کی مذمت میں حدیثیں گھڑنے کےلیے معاویہ کا حکم
معاویہ ک کفر اور قابل لعن ہونے کے ثبوت میں من جملہ دوسرے واضح دلائل کے امیرالمومنین(ع) پر سب وشتم اور لعنت کرنا نیز لوگوں کو نمازوں کے قنوت اور نماز جمعہ کے خطبے وغیرہ میں اس گناہ عظیم کا حکم دینا بھی ہے جس پر ہم آپ جہمور امت یہاں تک کہ غیر اقوام کے مورخین کو بھی اتفاق ہے کہ یہ عمل قبیح اور بدعت کھلم کھلا حتی کہ مبروں کے اوپر بھی رائج تھی اور ایک بڑی جماعت کو لعنت نہ کرنےکے جرم میں قتل کردیا گیا، بالآخر عمر ابن عبدالعزیز نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس بدعت کو ختم کیا۔
قطعی چیز ہے کہ جو شخص امام الموحدین برادر رسول(ص) زوج بتول(ص) امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر آپ کی حیات میں یا بعد وفات سب وشتم اور لعن کرے یا اس کا حکم دے وہ ملعون اور کافر ہے اس لیے کہ آپ کے اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں جیسے امام احمد نے مسند میں، امام ابوعبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں، امام ثعلبی و امام فخرالدین رازی نے اپنی تفسیروں میں، ابن ابی الحدید ن شرح نہج البلاغہ میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں، ابن صباغ مالکی ن فصول المہمہ میں، حاکم نے مستدرک میں، خطیب خوارزمی ن مناقب میں، ابراہیم حموینی ن فرائد میں، ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں، امام الحرم ن ذخائر العقبی میں اور ابن حجر نے صواعق میں، غرضیکہ آپ کے سبھی بڑے بڑے علماء نے مختلف الفاظ عبارات کے ساتھ مجمل اور مفصل طور سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا۔ "من سب عليا فقد سبنی ومن سبنی فقد سب الله " ( یعنی جس شخص نے علی(ع) کو سب وشتم کیا اس نے
یقینا مجھ کو سب وشتم کیا اور جس نے مجھ کو سب وشتم کیا اس نے در حقیقت خدا کو سب وشتم کیا۔)
ان میں سے بعض نے ان اخبار کو نقل کر کے عمومیت دی ہے جو اس چیز پر دلالت کرتے ہیں کہ علی(ع) کو اذیت دینا اذیت دینے والے کے ملعون ہونے کا باعث ہے، مثلا دیلمی نے فردوس میں، سلیمان حنفی نے ینابیع المودت میں مختلف اسناد کے ساتھ نیز اوروںنے نقل کیا ہے اور جس کی طرف میں پچھلی شبوں میں ارشارہبھی کرچکا ہوں کہ فرمایا:
" من آذی عليا فقد آذانی و من اذانی فعليه لعنة الله"
یعنی جو شخص علی(ع) کو اذیت دے اس نے حقیقتا مجھ کو اذیت دی اور جو شخص مجھ کواذیت دے اس پر خدا کی لعنت ہو۔
یہاں تک کہ ابن حجر مکی نے صواعق میں اس سے بالاتر کل عتر و اہل بیت(ع) کے سب ولعن سے متعلق حدیث نقل کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :
"من سب اهل بيتی فانما يرتد عن الله والاسلام و من اذانی فی عترتی فعليه لعنة الله"
یعنی جو شخص میرے اہل بیت کو سب وشتم کرے تو سوا اس کے نہیں ہے کہ وہ دین خدا اور اسلام سے مرتد ہوگیا اور جس نے میری عترت کے بارے میں مجھ کو ایذا دی پس اس پر خدا کی لعنت ہو۔
پس معاویہ کا ملعون ہونا ثابت ہے کیونکہ جب ابن اثیر نے کامل میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے وہ نماز کے قنوت میں حضرت امیرالمومنین(ع) اور پیغمبر(ص) کے دونوں نواسوں امام حسن و امام حسین علیہم السلام نیز ابن عباس اور مالک اشتر پر لعنتکیا کرتے تھے۔
اور امام احمد ابن حنبل نے مسند میں کئی سلسلوں سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"من اذی عليا بعث يوم القيمة يهوديا او نصرانيا"
یعنی جو شخص علی(ع) کو اذیت دے وہ قیامت کے روز یہودی یا نصرانی محشور ہوگا۔
یقینا خود بہتر جانتے ہیں کہ یہ چیز مقدس دین اسلام کے ضروریات میں سے ہے کہ خدا و رسول(ص) کو سب وشتم کرنا کفر اور نجاست کا باعث ہے اور ایسے آدمی کا قتل واجب ہے۔
اس قسم کے اخبار و احادیث کے حکم سے جوآپ کی معتبر کتابوں میں کثرت سے منقول ہیں اور پچھلی راتوں میں تفصیل سے بیان ہوچکے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا، علی علیہ السلام اور میری عترت و اہل بیت پر سب وشتم اور لعن و دشنام در اصل مجھ پر اور میرے پروردگار پر سب و لعن اور دشنام ہے" معاویہ کا ملعون اور کافر ہونا قطعا ثابت ہے۔
چنانچہ محمد ابن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب دہم میں اپنے اسناد سے نیز دوسروں نے ایک روایت نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبد اللہ ابنعباس اور سعید ابن جہمیر نے زمزم کے کنارے دیکھا کہ اہل شام کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی ہے اور علی علیہ السلام کو سب وشتم کررہی ہے انہوں نے قریب جا کر پوچھا "ايکم السباب لله عزوجل "( تم میں سے کون خدا تعالے کو گالیاں دے رہا تھا؟ ان لوگوں نےکہا ہم میں سے کسی یہ حرکت نہیں کی۔ انہوں نے پوچھا"ايکم السباب رسول لله صلی الله عليه و آله" تم میں سےکون رسول اللہ(ص) کو گالیاں دے رہا تھا؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم میں سے کسی نے بھی آں حضرت(ص)کو دشنام نہیں دی، تو انہوں نے فرمایا"ايکم السباب علی ابن ابی طالب" پھر تم میں سے کون شخص علی(ع) ابن ابی طالب کو گالیان دے رہا تھا؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ علی(ع) کو دشنام دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ تم
لوگ رسول خدا(ص) پر گواہ رہو کہ میں نے آن حضرت(ص) سے خود سنا ہے کہ آپ نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا
" من سبک فقد سبنی ومن سبنی فقدسب الله ومن سب الله اکبه الله علی فحزيه فی النار"
یعنی اے علی(ع) جو شخص تمکو دشنام دے اس نے مجھ کو دشنام دیا اور جس نے مجھ کو دشنام دیا اس نے خدا کو گالی دی اور جس نے خدا کو گالی دی خدا اس کومنہ کے بل آگ میں جھونک دے گا، کسی مسلم یا غیر مسلم عالمکو اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہےکہ یہ زبردست بدعت معاویہ کے حکم سے مسلمانوں میں اس طرح رائج ہوئی کہ جیسا عرض کیا گیا۔ اسی سال تک علانیہ اور بے دھڑک حتی کہ منبروں کے اوپر اور خطبوں کے اندر حضرت امیرالمومنین مظلوم پر لعنت اور دشنام طرازی کی جاتی تھی۔ اور چونکہ صحیح و معتبر احادیث کے مطابق علی علیہ السلام کو دشنام دینا خدا و رسول(ص) کو دشنام دینا ہے اور بدیہی بات ہے کہ خدا و رسول(ص) کوسب وشتم کرنے والا کافر اور ملعون ہے لہذا اسی دلیل سے معاویہ کا کفر واضح اور ان پر خدا کی لعنت ثابت ہے۔
علی(ع) کا دشمن کافر ہے
علاوہ ان دلائل کے آپ کے اکابر علماء کی معتبر کتابوں میں جیسے تفسیر جلال الدین سیوطی ، تفسیر امام ثعلبی، مودۃ القربی میر سید علی ہمدانی مسند امام احمد ابن حنبل، صواعق ابن حجر، مناقب خوارزمی، فضائل ابن مغازلی شافعی، نیابیع المودۃ سلیمان بلخی حنفی ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی، اوسط طبرانی، ذخائر العقبی امام الحرم، خصائص العلوی امام ابوعبدالرحمن نسائی، کفایت الطالب گنجی شافعی، مطالب السئول محمد بن شافعی،تذکرۃ خواص الامہ سبط ابن جوزی اور فصول المہمہ ابن صباغ مالکی وغیرہ میں کثرت کے ساتھ مختلف الفاظ و عبارات میں درج ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا "لا يحب عليا الا مومن ولا يبغضه الا کافر "( اور بعضروایتوں میں ہے الا منافق (یعنی دوست نہیں رکھتا علی کو سوا اس کے جو مومن ہو اور بغض نہیں رکھتا ان سے سوا اس شخص کے جو کافر ہو یا منافق ہو) جیسا کہ پچھلی شبوں میں مفصل عرض کرچکاہوں، بدیہی چیز ہے کہ حدیث میں کافر یا منافق دونوں میں سے جو لفظ بھی ہو اس بات کو پوری دلیل ہے کہ علی(ع) کا دشمن دوزخی ہے کیونکہ خدائے تعالی قرآن مجید میں صاف صافاعلان فرما رہا ہے کہ کفار و منافقین کا ٹھکانا طبقات جہنم ک اندر ہوگا۔
چنانچہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب آخر باب 3 میں بسند نقل کیا ہے کہ محمد بن منصور طوسی نے کہا ہم امام احمد ابن حنبل کے پاس تھے کہ ایک شخص نے ان سےکہا اے ابو عبداللہ لوگ علی کرم اللہ وجہہ سے جو یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا " انا قسیم النار میں آتش جہنم کا تقسیم کرنے والا ہوں تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ احمد ابن حنبل نے کہا" کون ہے جو اس حدیث سے انکار کرے؟ کیا ہم نے رسول خدا(ص) سے روایت نہیں کی ہےکہ آپ نے علی(ع) سے فرمایا"لا يحبک الا مومن ولا يبغضک الا منافق" (یعنی تم کو دوست نہیں رکھتا ہے لیکن مومن اوردشمن نہیں رکھتا ہے۔ لیکن منافق؟ ہم نے کہا آپ کا کہنا درست ہے اس پر احمد بن حنبل نے مطلب کی توجیہ کی اور کہا، پس مومن کہاں ہے ہم نے کہا بہشت میں پھر انہوں نے کہا منافق کہاں ہے؟ ہم نے کہا جہنم میں، انہوں نے کہا پھر تو صحیح ہے کہ علی(ع) جہنم کے تقسیم کرنے والے ہیں۔
( یعنی علی کا دشمن بارشاد پیغمبر(ص) منافق ہے اور منافق بحکم آیہ نمبر144 سورہ نمبر4 ( نساء) :
"إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيراً"
یعنی یقینا منافقین جہنم کے سب سے پستطبقے میں ہیں اور تم ان کا ہرگز کوئی یار و مددگار نہیں پائو گے ۔
جہنم کے درک اسفل اور سب سے پست طبقے میں رہے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ علی(ع) کا دشمن جہنم کے پست ترین طبقے میں معذب ہوگا اور اس آیت کے مطابق منافقین کا عذاب کفار سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
نیز آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :
" من ابغض عليا فقد ابغضنى و من ابغضنى فقد ابغض اللّه "
یعنی جو شخص علی علیہ السلام سے دشمنی رکھے پس یقینا اس نے مجھ کو دشمن رکھا اور جو شخص مجھ کو دشمن رکھے اس نے در حقیقت خدا کو دشمن رکھا، ) اس قسم کے اخبار و احادیث اس کثرت سے ہیں کہ تواتر معنوی کی حد میں آگئے ہیں۔
شیخ : آیا آپ کے ایسے انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ صحابہ رسول(ص) میں سے ایک لائق و فائق ہستی کی شان میں جسارت اور رد و قدح کے الفاظ کہیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ خدا نےآں حضرت(ص) کے اصحاب کی مدح و ثناء میں متعدد آیتیں نازلفرمائی ہیں اور ان کے اندر ان لوگوں کو مغفرت اور خوشنودی کی بشارت دی ہے؟ اور خال المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ تو یقینا بزرگ صحابہ میں سے اور آیات مدح و رضامندی کے مصداق ہیں۔ آیا صحابہ کی اہانت خدا و رسول(ص) کی اہانت نہیں ہے۔
اصحاب رسول(ص) میں اچھے برے سبھی تھے
خیر طلب: غالبا آپ بھولے نہ ہوں گے کہ گذشتہ شبوں میں صحابہ کے موضوع پر میں کافی تشریح کرچکا ہوں اور اس وقت بھی آپ کی تقریر کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑوں گا۔ مختصر عرض ہے کہ صحابہ عظام کی مدح میں آیتوں کے نزول سے کسی نے انکار نہیں ہے لیکن اگر آپ حضرات تھوڑا سا غور کر لیں اور صحابہ یا اصحاب کے لغوی اور اصطلاحی معنی پر توجہ کریں تو خود تصدیق کریں گے کہ مدح صحابہ میں جو آیتیں نازل ہوئی ہیں وہ کلی اطلاق نہیں رکھتی ہیں جن کی روشنی میں ہم جملہ اصحاب کو پاک عادل اور ہر رجس و گندگی سارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں اور ارتداد وغیرہ سے منزہ و مبرا سمجھ لیں۔
جناب من آپ بخوبی جانتے ہیں کہ صحبہ لغت میں معاشرت کے معنی رکھتا ہے، چنانچہ فیروز آبادی قاموس میں کہتے ہیں کہ صحبہ بروزن سمعہ یعنی اس کےساتھ زندگی گزاری اور عرف عامہ میں اس پر ملازمت نصرت اور موازرت کا بھی اضافہ کرتے ہیںچاہے مدت میں زیادہ ہو یا کم۔
پس لغت عرب اور قرآن و حدیث کے بہت سے شواہد بتاتے ہیں کہ مصاحب نبی(ص) اس شخص کو کہتے ہیں جو آں حضرت(ص) کےساتھ زندگی گذار چکا ہو چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، اچھا ہو یا برا، پرہیزگار ہو یا بدکار مومن ہو یا منافق۔
جس طرح آپ نے صاحب اور مصاحب نبی کے لفظ کو صرف پاک دامن مومنین کے لیے مخصوص کردیا ہے کہ
صحابہ سب کے سب جنتی ادور رضائے الہی سے ممتاز تھے تو یہ صحیح نہیں ہے اور عقل و نقل کے خلاف ہے۔ سبب واضح کرنے کے لیے میں مجبور ہوں کہ مذکورہ سابق آیات اور معتبر احادیث و اہل سنت کے علاوہ مختصر طور پرکچھ مزید دلائل پیش کردوں تاکہ آپ حضرات لفظ اصحاب سے مرعوب ہو کر حق سے منحرف نہ ہوں اورجان لیں کہ صحبہ، صحاب، مصاحب اور اصحاب کا اطلاق مسلم، کافر، مومن و منافق اور نیک و بد سب پر ہوتا ہے۔
1۔ آیتنمبر2 سورہ نمبر53 ( نجم) میں مشرکین سے خطاب ہے:" ما ضَلَ صاحِبُكُمْ وَ ما غَوى" (یعنیتمہارا صاحب ( محمد(ص)) نہ کبھی گمراہ ہوا نہ بہکا)
2۔ آیت نمبر25 سورہ نمبر34 ( سبا) میں فرماتا ہے " قُلْ إِنَّما أَعِظُكُمْ بِواحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنى وَ فُرادى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بِصاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ"
یعنیامت سے کہدو کہ میں تم کو ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم لوگ خالص خدا کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو پھر غور و فکر کرو کہ تمہارے صاحب و رسول خدا(ص) کو جنون نہیں ہے۔
3۔ آیت نمبر32 سورہ نمبر18( کہف) میں ارشاد ہے" وَ كانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقالَ لِصاحِبِهِ وَ هُوَ يُحاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مالًا وَ أَعَزُّ نَفَراً"
( یعنی اس کافر نے ) اپنے مصاحب و رفیق سے ( جو مومن و فقیر تھا) گفتگو اور فخر کے موقع پر کہا کہ میںتم سے دولت اور ثروت میں زیادہ اور حشم و خدم کی حیثیت سے بھی عزت میں بڑھا ہوا ہوں۔
4۔ اسی سورہ کی آیت نمبر35 میں فرمایا ہے: "قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَ هُوَ يُحاوِرُهُ أَ كَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا "
یعنی (با ایمان اور فقیر) مصاحب و رفیق نے بات چیت اور نصیحت کرتے ہوئے اپنے (کافر) ساتھی سے کہا کہ آیا تم نے اس خدا سے کفر اختیار کر لیا جس نے تم کو اولامٹی سے پھر نطفے سے پیدا کیا اس کے بعد تم کو پورا آدمی بنا کر تیار کردیا ؟
5۔ آیت نمبر183 سورہ نمبر7( اعراف) میں ارشاد ہوتا ہے: "أَ وَ لَمْ يَتَفَكَّرُوا ما بِصاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ "
یعنی آیا انلوگوں نے غور و فکر سے کام نہیں لیا کہ ان کے صاحب (محمد(ص)) کو جنون نہیں ہے۔
6۔ آیت نمبر70 سورہ نمبر6 ( انعام) میں فرمارہا ہے : "قُلْ أَ نَدْعُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَنْفَعُنا وَ لا يَضُرُّنا وَ نُرَدُّ عَلى أَعْقابِنا بَعْدَ إِذْ هَدانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرانَ لَهُ أَصْحابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدى "
یعنی کہدو اے پیغمبر(ص) کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کیا اس (بت وغیرہ) کو پکاریں جو نہ ہم کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور پھر طریقہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائیں جب کہ خدا ہم کو ہدایت دے چکا ہے!اس کے کچھ اصحاب ہیں جو ہدایت کے لیے اس کو پکارتے ہیں کہدو کہ ہدایت تو در حقیقت اللہ کی ہدایت ہے۔
7۔ آیت نمبر39 سورہ نمبر14( یوسف) میں حضرت یوسف(ع) کی زبان سے ان کے دو قید خانے کے کافر، مصاحبوں کو
خطاب فرماتا ہے "يا صاحِبَيِ السِّجْنِ أَ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ "
یعنی اے میرے قید خانے کے دونوں رفیقو میں تم سے پوچھتا ہوں کہ بہت سے متفرق خدا بہتر ہیں یا ایک اللہ جو قہار ہے؟
نمونے کے طور پر یہ چند آیتیں پیش کردینے کے بعد ظاہر ہوگیا کہ صرف صحبہ، صاحب، مصاحب اور اصحاب کے ناموں کو بحیثیت لغت مسلم و مومن سے کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ ان کا استعمال مسلم و کافر مومنو منافق اور نیک و بد سبھی کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کسی کے ساتھ معاشرت رکھنے والے کو لغت میں مصاحب یا اصحاب کہتے ہیں۔ بدیہی چیز ہے کہ اصحاب رسول(ص) سے وہی لوگ مراد ہیں جو آں حضرت(ص) کے ساتھ معاشرت رکھتے تھے اور آیات مبارکہ اس پر گواہ ہیں۔
یقینا اصحاب اور آں حضرت(ص) کے ساتھرہنے سہنے والوں کے درمیان اچھے اور برے ( یعنی مومن و منافق) بہت سے لوگ تھے اور جو آیتیں اصحاب کی مدح میں نازل ہوئی ہیں ان کا اطلاق عمومیت کے ساتھ سب کے اوپر نہیں بلکہ صرف نیک اصحاب سے تعلق ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ آں حضرت(ص) کے بزرگ اصحاب ایسے تھے کہ دیگر انبیاء عظام میں سے کسی کو بھی ویسے اصحاب نہیں ملے۔ مثلا بدر و احد اور حنین کے اصحاب، جنہوں نے پورا امتحان دیا۔ بغیر ہوا و ہوس کے پیغمبر(ص) کی نصرت اور فرمانبرداری میں ثابت قدمرہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی آں حضرت(ص) سے انحراف نہیں کیا لیکن اصحاب کے درمیان بدنفس ، صاحب مکرو فریب ، اہل نفاق اور آں حضرت(ص) نیز اہل بیت طاہرین علیہم السلام کے دشمن بھی کثرت سے موجود تھے جیسے عبداللہ ابن ابو سفیان حکم بن عاص ( یعنی عثمان کا چچا اور طرید رسول) ابو ہریرہ ، ثعلبہ ، یزید بن سفیان، ولید بن عقبہ، حبیب بن مسلمہ، سمرہ بن جندب، عمرو بن عاص، بسر بن ارطاۃ، ( سفاک و خونخوار) مغیرہ بن شعبہ معاویہ بن ابی سفیان اور ذو الثد یہ خارجی وغیرہ جنہوں نے رسول اللہ(ص) کے زمانہ حیات میں اور بعد وفات بھی کافی فتنے اٹھائے ۔ اپنی پچھلی حالت پر الٹے پائوں پلٹ گئے اور بڑے بڑے فسادات پھیلائے چنانچہ انہیں افراد میں سے ایک معاویہ کی ذات بھی ہے جس پر اپنی زندگی میں رسول اللہ(ص) نے لعنت کی تھی اور آںحضرت(ص) کی وفات کے بعد جب مناسب موقع ہاتھ آیا تو خون خواہی عثمان کے نام سے بغاوت کردی اور بے شمار مسلمانوں کی خونریزی کا باعث ہوا۔ خصوصیت کے ساتھ آں حضرت(ص) عمار یاسر جیسے کئی محترم صحابی اس فتنے میں شہید ہوئے، جس کی خبر آں حضرت(ص) خود دے گئے تھے اور ہم گذشتہ شبوں میں ان روایتوں کو نقل کرچکے ہیں۔ لہذا جس طرح سے بزرگان اصحاب اور مومنین صالحین کی تعریف وتوصیف ، فضائل و مناقب اور وعدہ بخشش کے سلسلے میں کافی آیات و اخبار وارد ہوئے ہیں اسیطرح خائن و بدکار اور منافقین صحابہ کے بارے میں بھی وعید شدید اور عذاب کے لیے کثرت سے آیتیں اور حدیثیں موجود ہیں جوثابت کرتی ہیں کہ ان لوگوں نے آں حضرت(ص) کو آپ کی زندگی میں جو اذیتیں پہنچائی تھیں ان کے علاوہ بعد وفات بھی فتنےبرپا کئے، اور مرتد ہوگئے۔
شیخ : تعجب ہے آپ کیونکر فرمارہے ہیں کہ رسول خدا(ص) کے اصحاب مرتد ہوگئے اور انہوں نے فتنہ و فساد برپا کیا؟
خیر طلب: میں نہیں کہہ رہا ہوں آیتیں اور حدیثیں کہہ رہی ہیں۔ اگر ذرا سنجیدگی سے غور کیجئے تو تعجب رفع ہوجائے اولا خداوند عالم نے آیت نمبر138 سورہ نمبر3( آل عمران) میں ان کے ارتداد کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے:
" أَ فَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ"( یعنی اگر پیغمبر(ص) کو موت آجائے یا قتل ہوجائیں تو کیا تم اپنے پچھلے پائوں (یعنی دین جاہلیت، پر پلٹ جائو گے؟)
اس آیہ شریفہ اور سورہ منافقون نیز دوسرے آیات کے علاوہ خود آپ کے علماء بخاری، مسلم، ابن عساکر، یعقوب بن سفیان احمد ابن حنبل اور عبدالبر وغیرہ ہم کے طرف سے بکثرت اخبار و حدیث اصحاب کی مدح و مذمت ، کفر و ار تداد اور نفاق کے بارے میں انفرادی یا اجتماعی طور سے مروی ہیں۔ چونکہ وقت تنگ ہے لہذا نمونے کے لیے فی الحال دو روایتوں کا حوالہ دےرہا ہوں تاکہ آپ کا تعجب رفع ہوجائے اور سمجھ لیجئے کہ نیک صحابہ کو نیک اور بد کو بد جاننا چاہئیے۔ اور پھر یہ تو فرمائیے کہ منافقین کے سردار، امیرالمومنین علی علیہ السلام ک سب سے بڑے دشمن اور سب و شتم کرنے والے رسول اللہ(ص) کی فدیت طاہرہ اور اصحاب پاک کو قتل کرنے والے اور خدا و رسول(ص) سے باقاعدہ دشمنی کرنے والے کے کفر پر کیا دلیلہے؟
بخاری نے لفظوں کے معمولی فرق کے ساتھ سہل ابن سعد اور عبداللہ ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
" انا فرطكم على الحوض و ليرفعن معى رجال منكم حتی اذا هويت لاناولهم اختجلوا دونى فاقول: يا ربّ اصحابى فيقول لا تدرى ما احدثوا بعدك؟! "
یعنی میں تمسے پہلے حوض کوثر پر تمہارا مںتظر رہوںگا اور جب تم میں سے ایک گروہ مجھ سے کترائے گا تو عرض کروں گاکہ خداوندا یہ تومیرے اصحاب ہیں؟ ادھر سے جواب آئے گا کہ تم کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں پھیلائیں۔
احمد بن حنبل نے مسند میں، طبرانی نے کبیر میں اور ابونصر سخری نے ابانہ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:
" أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَقُولُ اتَّقُوا اللَّهَ اتَّقُوا الْحُدُودَ اتَّقُوا النَّارَ فَإِذَا مِتُ تَرَكْتُكُمْ وَ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ تَزَوَّدَ فَقَدْ أَفْلَحَ فَيُوتَی بِاقوَام فَيُؤْخَذُبِهِمْذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَارَبِّ أُمَّتيفَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوامُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ و فی روايَة للطبری فی الکبير بعد قوله : يَارَبِّ أُمَّتيفَيُقَالُ إِنَّكَ لَاتَدْرِي مَاأَحْدَثُوابَعْدَكَ مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"
یعنی میں تم کو عذاب دوزخ سے بچانا چاہتا ہوں لہذا کہتا ہوں کہ نار جہنم سے ڈرو اور دین خدا میں کمی بیشی نہ کرو جب میں وفات پا جائوں گا اور تم سے جدا ہوں جائون گا تو تم سے پہلے حوض کوثر پر موجود رہوں گا۔ پس جو شخص وہاں میرے پاس پہنچے وہی ناجی اور کامیاب ہے۔ اس وقت میں بہت سے لوگوں کو عذاب الہی میں گرفتار پائوں گا تو عرض کروں گا کہ خداوندا یہ تو میری امت کےلوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ حقیقتا یہ لوگتمہارے بعد مستقل طور سے اپنے پچھلے دین پر پلٹ گئے اور یا رب امتی کے بعد کبیر میں طبرانی کی روایت ہے کہ پس کہا جائیگا تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعت یں پیدا کیں اور اپنے دین جاہلیت پر مرتد ہوگئے۔
واقعی یہ دیکھ کر دل جلتا ہے کہ ایک ایسے ملحد و کافر اور بے دین کو ( جیسا کہ اس سے قبل اس کے کفر وملعونیت کے
کافی دلائل پیش کرچکا ہوں(1) اور اس کے دوزخی فرزند یزید پلید کو تو ( جس کا کفر گذشتہ راتوں میں ثابت کرچکا ہوں(2) آپ مسلم و مومن کہیں ان کے ایمان پر اصرار اور کفر سے انکار کریں،ان کو خلیفہ اور جنتی ثابت کرنے کی کوشش کریں بلکہ ناحق امیرالمومنین کا خطاب بھی دے دیں حالانکہ ان کے کفر آمیز حرکات اور اس کے دلائل خود آپ ہی کی معتبرکتابوں میں مکمل طور سے درج ہیں۔ ( یہاں تک کہ اہل سنت کے انصاف پسند
اکابر علماء نے ان دونوں کے رد میں مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں(3) لیکن جناب ابوطالب(ع) کے کفر پر شدید اصرار کر کے اس یکتا جوان مرد اور مومن وموحد کا کافر ثابت کرنے کی سعی بلیغ کریں۔
کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ عقیدہ اور اس قسم کی فضول باتیں فحش امیرالمومنین علی علیہ السلام سے بغض و کینہ رکھنے کا نتیجہ ہیں تاکہ ان بیہودہ الفاظ کےذریعے جہاں تک ممکن ہو اس محبوب خدا و رسول امام مظلوم کے زخمی قلب پر برابر ظلم و اذیت کے تیر چلائے جائیں۔ ورنہ معاویہ و یزید ملعون کے کفر ونفاق پر جو محکم دلیلیں قائم ہیں ان پر تو ہزاروں طرح کے حاشیے چڑھا کر ان دونوں کو مجتہد کہیں ان کے اعمال و کفر کو ان کے اجتہاد کا نتیجہ بتائیں اور ان کی صفائی میںانتہائی اوچھے دلائل قائم کریں، اور جناب ابوطالب (ع) کے خدا و رسول(ص) پر ایمان رکھنے کے سلسلے میں واضح دلائل اور آپ کے کھلے ہوئے اعلانات کو جھٹلا کر آپ کا کفر ثابت کریں؟ میں نہیں جانتا کہ خارجی، ناصبی، اموی اور ان کے بچے کھچے دوست اشخاص کب تک اور کہاں تک ہمارے سنی بھائیوں پر حکومت کریں گے۔ عادت اور تعصب کی بنیاد پر ان کو اندھا دھند اپنے عقائد کے پیچھے دوڑاتے رہیں گے اور برادران اہل سنت کو اتنا موقع نہ دیں گے کہ وہ چشم انصاف کھول کے حق و صداقت کا جلوہ دیکھ سکیں۔
ایمان ابوطالب(ع) پرمزید دلائل
آیا پیغمبر(ص) کے اہل بیت(ع) نے جو آں حضرت(ص) کے حسب الایثار عدیل قرآن ہیں جن کا اجماع مسلمانون کے لیے حجت ہے اور جن کے علم زاہد اور ورع و تقوی پر خور آپ کے اکابر علماء کا اتفاق ہے یہ نہیں
کہا ہے کہ جناب ابوطالب(ع) صاحب ایمان تھے اور دنیا سے مومن ہی اٹھے؟
آیا اصبع بن نباتہ نے جو آپ کے علماء رجال کے نزدیک قابل وثوق اور معتمد علیہ تھے امیرالمومنین علی علیہ السلام سے روایت نہیں کی ہے کہحضرت نے فرمایا :
" والله ما عبد ابی ولا جدی عبد المطلب ولا هاشم ولا عبد مناف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص--- تا ص---
2۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کی جلد اول ص-- تا ص--
3۔ جیسے ابوالفرج ابن جوزی اور آخر میں جلیل القدر مصنف عالم سید محمد بن عقیل علوی متوفی سنہ1350ھ نے ایک کتاب نصائح الکافیہ میں تیوسی معاویہ کے نام سے تالیف کی ہے جس کے اب تک دو ایڈیشن ہوچکے ہیں اور آخری بار سنہ1306 ھ میں مطبع النجاح( بغداد میں چھپی)
صنما قط"یعنی خدا کی قسم میرے باپ ابوطالب میرے دادا عبدالمطلب ہاشم اور عبد مناف نے ہرگز کبھی بت پرستی نہیں کی، مقصد یہ کہ خدائے وحدہ لاشریک کی رو بقبلہ عبادت کی اور دین حضرت ابراہیم کے پیرو رہے۔
کیا یہ حق بجانب ہے کہ آپ علی اور اہل بیتطاہرین علیہم السلام کا قول ترک کر کے مغیرہ ملعون، امویوں ، خارجیوں، ناصبیوں اور امیرالمومنین(ع) کے شدیدترین دشمنوں کے اقوال کے پیچھے دوڑتے پھریں اور جناب ابوطالب(ع) کے صریحی اشعار وکلمات کی اوچھی تاویلیں کرتے رہیں؟ حضرت امیرالمومنین(ع) کے ارشاد کی تائید میں من جملہ دوسرے دلائل کے ام المومنین جناب خدیجہ اور پیغمبر صلعم کے عقد کا وہ خطبہ بھی ہے جس کو سبط ابن جوزی نے تذکرہ خواص الامہ آخر باب 11 ص170 میں نقل کیا ہے کہ جس وقت محفل عقد آراستہ ہوئی تو جناب ابوطالب نے ایسی عبارت کے ساتھ خطبہ پڑھا جو کل کی کل ان کے ایمان اور اعتقاد وحدانیت خدا پر دلالت کررہی ہے۔ خطبے کی تمہید اس طرح شروع کی:
"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَ زَرْعِ إِسْمَاعِيلَ وَ جَعَلَ لَنَا بَلَداً حَرَاماً وَ بَيْتاً مَحْجُوجاً وَ جَعَلَنَا الْحُكَّامَ عَلَى النَّاسِ الی آخرها"
یعنی حمد اس خدا کی جس نے ہم کو ابراہیم(ع) کی ذریت اسماعیل (ع) کی اولاد، معدکی اصل اور مضر کے عنصر میں سے قرار دیا ہم کو اپنے گھر کا محافظ اور اپنے حرم کا ذمہ دار بنایا ہمارے لیے ایسا گھر تجویز کیا جس کا حج کیا جاتا ہے اور ایسا حرم مقرر کیا جو امن و امان کی جگہ ہے ہمکو انسانوں پر حاکم معین کیا ۔ الی آخرہ۔
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب14 ص73 ( مطبوعہ اسلامبول) میں موفق بن احمد خوارزمی سے اور انہوں نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ :
رای ابوطالب النبی صلی الله عليه وآله وسلم يتفل فی فم علی ای يدخل لعاب فمه علی فقال ما هذا يابن اخی فقال ايمان وحکته فقال ابوطالب لعلی يا بن انصر ابن عمک وازرة"
یعنی ابوطالب نے دیکھا کہ پیغمبر(ص) اپنا لعاب دہن علی(ع) کے منہ میں ڈال رہے ہیں تو پوچھا کہ اے میرے بھتیجے اس کا کیا مقصد ہے؟ آپ نے فرمایا یہ سب ایمان اور حکمت کا فیضان تھا ۔ پس ابوطالب نے علی سے کہا اے بیٹے ابن عم کے ناصر اور وزیر بنو۔
آیا یہ بیانات جناب ابوطالب کے ایمان کو ثابت نہیں کرتے؟ علاوہ اس کے کہ پیغمبر(ص) کوکوئی روک ٹوک اور ممانعت نہیں کی اور نہ اپنے دوازدہ سالہ فرزند کو باز رکھنے کی کوشش کی، ان کو تاکید بھی کی کہ اپنے پسر عم رسول خدا(ص) کی مدد کریں۔
جعفر طیار(ع) کا باپ کے حکم سے ایمان لانا
نیز آپ کے سبھی علماء نے اپنی کتابوں میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ ایک روز جناب ابوطالبپ(ع) مسجد میں آئے تو دیکھا کہ رسول اکرم(ص) نماز پڑھتے ہیں اور علی(ع) آں حضرت(ص) کے داہنی طرف مشغول
نماز ہیں انہوں نے اپنے فرزند جعفر (طیار) سے جو ان کے ہمراہ تھے اور ابھی ایمان نہیں لائے تھے کہا " صل جناح ابن عمک" اپنے پسر عم کے پہلو میں کھڑے ہو کر تم بھی ان کے ساتھ نماز پڑھو!جعفر آگے بڑھے اور رسول اللہ(ص) کے بائیں جانب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اس وقت جناب ابوطالب نے یہ شعر نظم کئے۔
إِنَّ عَلِيّاً وَ جَعْفَراً ثِقَتِيعِنْدَ مُلِمِّ الزَّمَانِ وَ الْكَرْبِ
لَا تَخْذُلَا وَ انْصُرَا ابْنَ عَمِّكُمَاأَخِي لِأُمِّي مِنْ بَيْنِهِمْ وَ أَبِي
وَاللَّهِلَاأَخْذُلُالنَّبِيَّ وَ لَايَخْذُلُهُ مِنْ بَنِيَّ ذُو حَسَبٍ
یعنی یقینا علی(ع) اور جعفر(ع) رنج و مصیبت کے وقت میرے سہارے اور قوت ہیں۔ اے علی(ع) و جعفر(ع) اپنے چچا کے فرزند اور میرے سگے بھتیجے کاساتھ نہ چھوڑو بلکہ ان کی مدد کرو۔ قسم خدا کی میں نبی(ص) کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا اور کوئی شریف پیغمبر(ص) کا ساتھ چھوڑ بھی سکتا ہے؟
پس آپ کے علماء ومورخین کا اتفاق ہے کہ جعفر کا اسلام و ایمان اور رسول اللہ(ص) کے سات ان کا نماز پڑھنا اپنےباپ جناب ابوطالب کے حکم اور اجازت سے تھا۔
کوئی صاحب عقل کیونکر یقین کر سکتا ہے کہ جو باپ مشرک اور کافر ہو وہ اپنے بھتیجے کو اتنے زبردست دعوے سے منع نہ کرے یہاں تک کہ اپنے بیٹوں کو بھی ایسے شخص پر ایمان لانے سے باز رکھنے کی کوشش نہ کرے جو ایک نیا دین لایا ہو اور اس کے دین کا دشمن ہو؟ اور وہ بھی جناب ابوطالب(ع) کا ایسا با اقتدار و با اثر باپ جو قریش کا سردار تھا؟ بلکہ مزید برآں اپنے فرزند کو حکم دے کہ جائو اور اپنے چچا کے بیٹے پر ایمان لائو اور ان کی اقتداء کرو؟ پھر اپنے سارے جسمانی و روحانی قوی کےساتھ اپنے دین کے سب سے بڑے دشمن کی حمایت و نصرت کرے؟فاعبروا يا اولی الالباب.
فریقین کے سارے اکابر علماء نے نقل کیا ہے کہ جب قریش اور مکے کے باشندوں نے بنی ہاشم کی اقتصادی ناکہ بندی کی تو جناب ابوطالب(ع) سارے خاندان کے ساتھ رسول اللہ(ص) کی حمایت پر کمر بستہ ہوگئے اور چار سالم تک شعب ابوطالب(ع) میں آں حضرت(ص) کی حفاظت و نگہبانی کی ، یہاں تک کہ اس ساری مدت کے اندر جس مقام پر شب کے پہلے حصے میں رسول اللہ(ص) سوتے تھے، ایک ساعتکے بعد جناب ابوطالب(ع) آکر آں حضرت(ص) کو بیدار کرتے تھے اور اس سے محفوظ جگہ لے جاتے تھے اور اپنے فرزند دل بن علی علیہ السلام کو آپ کے بستر پر سلادیتے تھے تاکہ اگر کسی دشمن نے آں حضرت(ص) کو ابتدائے شب میں وہاں دیکھا ہو اور آپ کے متعلق کوئی بری نیت رکھتا ہو تو علی(ع) آپ پر قربان ہوجائیں اور آپ کا وجود مسعود امن و آسائش اور حفاظت و اطمینان میں رہے۔
آپ کو خدا کی قسم یہ بتائیے کہ آیا کوئی مشرک کسی ایسے موحد کے لیے جو نبوت کا مدعی اورمشرکین کو کفر و گمراہی میں مبتلا جانتا ہو اس قدر ہمدردی اور کوشش کرسکتا ہے؟ یقینا جواب نفی میں ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ساری جانفشانی اور فداکاری ایمان کامل کا نتیجہ تھی۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ میں طبقات محمد بن سعد سے اور انہوں نے واقدی سے نیز علامہ سید محمد بن سید رسول برزنجی نے کتاب الاسلام فی العم وآباء سید الانام میں ابن مسعد اور ابن عساکر وغیرہ سے اور انہوں نے صحیح اسناد کے ساتھ محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا جب ابوطالب نے وفات پائی تو میں نے رسول اللہ(ص) کو خبر دیفبکی بکاء شديدا! پس آں حضرت(ص) نے شدید گریہ فرمایا پھر مجھ کو حکم دیا کہ "اذهب فغسنله و کفنه ووازرة غفر الله له و رحمه " جاو ان کو غسلوکفن دو اور دفن کرو، خدا ان کی مغفرت کرے اور ان پر رحمت نازل فرمائے۔
خدا کے لیے انصاف کیجئے کہ اسلام میں کافر کو غسل و کفن دینے کی اجازت دی گئی ہے ؟ کیا ہمارے لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ رسول خدا(ص) نے کافر و مشرک کے لیے مغفرت طلب کی، یہاں تک کہ لکھتے ہیں"و جعل الله يستغرله اياما لا يخرج من بيته " یعنی رسول خدا(ص) کئی روز تک گھر سے باہر نہیں نکلے اور جناب ابوطالب(ع) کے لیے استغفار اور دعائے بخشش کرتے رہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ آں حضرت(ص) نے اپنے قرآن میں سورہ نمبر4(نساء) کی آیت نمبر51، 116 نہ دیکھی ہو کہ خدائے تعالی نے فرمایا ہے:
" إِنَ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ ما دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشاءُ"
یعنی خدا اس کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے علاوہ دوسرے گناہوں کو بخشے گا۔
پروردگار عالم کے اس صریحی اعلان کے باوجود کہ ہم مشرک ہو نہیں بخشیں گے۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم(ص) ایک مشرک کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کریں؟ در آنحالیکہ اس کے لیے طلب رحمت و مغفرت حرام ہے اسی طرح جسم میت کو غسل و کفن دینا بھی مسلمان کے لیے مخصوص ہے اور کفار کے لیے ہزگز جائز نہیں۔ پس یہی رسول اللہ(ص) کا جناب ابوطالب کے لیے استغفار کرنا اور علی علیہ السلام ک وحکم دینا کہ جائو اپنے باپ کوغسل و کفن دو، جناب ابوطالب کے ایمان کی ایک واضح دلیل ہے دیدہ حق میں اور نگاہ انصاف سے تذکرہ سبط ابن جوزی ص6 کا مطالعہ کیجئے اور دیکھیئے کہ امیرالمومنین(ع) نے اپنے باپ کے لیے کیونکر مرثیہ کہا ہے۔ فرماتے ہیں:
أبا طالب عصمة المستجيروغيثالمحولو نور الظلم
لقد هدّ فقدك أهل الحفاظفصلّى عليك ولي النعم
و لقاك ربك رضوانهفقد كنت للطهر من خير عم
یعنی اے ابوطالب آپ پناہ چاہنے والے کو پناہ، افتادہ زمینوں کے لیے بارانِ رحمت اور تااریکیوں کے لیے وشنی تھے۔ آپ کی موت سے اراکان حفاظت تباہ ہوگئے، پس آپ پر منعم حقیقی نے اپنی رحمت نازل کی اور پروردگار نے آپ کو اپنیبارگاہ کرم سے لحق کر لیا۔ آپ یقینا پیغمبر کے بہترین چچا تھے۔
آیا یقین کیا جاسکتا ہے کہ ایسی بزرگ شخصیت جس کے لیے مجسمہ توحید پرستی ( علی علیہ السلام) نے اس قسم کا مرثیہ
کہا ہو وہ دنیا سے کافر اٹھی ہو؟
یہ ساری دلیلیں ثابت کرتی ہیں کہ جناب ابوطلب دنیا سے مومن گئے ورنہ رسول اکرم(ص) نہ ان کو غسل و کفن دیتے اور نہ دفن کرنے کے لیے ایک معصوم امام کو مامور فرماتے اور نہ ا ن کے لیے دعائے رحمت ہی کرتے اس لیے کہ آں حضرت(ص) حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کا مکمل نمونہ تھے آپ کی دوستی اور دشمنی محض خدا کے لیے تھی، خواہش نفس کی وجہ سے نہیں کہ ابوطالب(ع) چونکہ میرے چچا ہیں لہذا چاہے وہ مشرک ہی ہوں اور حکم خدا کے خلاف ہی کرنا پڑے لیکن میں ان کے واسطے شدید گریہ بھی کروں گا اور استغفار دعائےرحمت بھی۔
شیخ : اگرابوطالب(ع) مومن و موحد تھے تو کس وجہ سے اپنا ایمان پوشیدہ رکھا اور اپنے بھائی عباس و حمزہ کی طرح علانیہ اظہار ایمان نہیں کیا۔
خیر طلب: بدیہی چیز ہے کہ عباس و حمزہ اور جناب ابوطالب(ع) کے درمیان کافی تفاوت اور فرق تھا کیونکہ جناب حمزہ اس قدر شجاع ، نڈر اور شہزور تھے کہ سارے اہل مکہ ان سے دبتے تھے لہذا ان کا اسلام لانا اور ایمان کا اعلانکرنا پیغمبر(ص) کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوا۔
عباس(رض) کا اسلام پوشیدہ تھا!
لیکن جناب عباس نے بھی فورا ا پنا اسلام ظاہر نہیں کیا، چنانچہ ابن عبدالبر استیعاب میں نقل کرتے ہیں کہ عباس مکہ ہی میں ایمان لے آئے تھے لیکن لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب رسول خدا(ص) نے ہجرت کی تو انہوں نے بھی آں حضرت(ص) کے ساتھ روانہ ہونا چاہا حضرت نے ان کو لکھا کہ آپ کا مکے میں ٹھہرنا میرے لیے مفیدہے۔ چنانچہ یہ مکے کی خبریں آں حضرت(ص) کو پہنچاتے تھے، بدرکبری کی جنگ میں کفار کو اپنے ہمراہ لائے کافروں کی شکست کے بعد آپ اسیر ہوگئے اور فتح خیبر کے روز مناسب موقع ہاتھ آیا تو، اپنے ایمان کو ظاہر کیا۔
نیز شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 56 ص226 ( مطبوعہ اسلامبول) میں ذخائر العقبی امام الحرم ابوجعفر احمد بن عبداللہ طبری شافعی سے اور انہوں نے فضائل ابوالقاسم الہی سے کیا ہے کہ اہل علم جانتےہیں کہ عباس پہلے ہی اسلام لے آئے تھے لیکن اس کو چھپاتے تھے جب جنگ بدر میں کفار کے لشکر کے ہمراہ آئے تو پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ جو شخص عباس سے ملاقات کرے وہ ان کو قتل نہ کرے اس لیے کہ انہوں نے کراہت کے ساتھ کافروں کی ہمراہی اختیار کی ہے، وہ ہجرت پر تیار تھے لیکن میں نے ان کو لکھا کہ وہیں رہ کر مشرکین کی خبریں مجھ کو پہنچائیں جس روز ابو رافع نے آں حضرت(ص) کو عباس کے اظہار اسلام کی خبر دی تو آں حضرت(ص) نے اس کو آزاد فرما دیا۔
ابوطالب(ع) نے اپنا ایمان کس لیے چھپایا
اور اگر جناب ابوطالب اپنا ایمان ظاہر کردیتے تو معاملہ یک طرفہ ہوجاتا یعنی تبلیغ اسلام کی ابتداء میں جب کہ ابھی رسول اکرم(ص) کے ساتھ اور ناصر و مددگار نہیں تھے۔ سار قریشاور پورا عرب متحد ہو کر بنی ہاشم کے مقابلے پر اٹھ کھڑا ہوتا اور نبوت کو نبیخ رین سے اکھاڑ پھینکتا۔ لہذا جناب ابوطالب نے مصلحتا اپنے ایمان کا اعلان نہیں کیا تاکہ بظاہر ایک ہم مشرب کی حیثیت سے قریش اور دیگر دشمنوں کی روکتھام کر سکیں اور وہ لوگ بھی محض جناب ابوطالب کے احترام اور لحاظ کی وجہ سے زیادہ شدید اقدامات نہ کریں جس سے آں حضرت کو اپنے مقصد کی اشاعت کا پورا موقع ملتا رہے۔ چنانچہ جب تک آپ زندہ رہے یہی صورت حال رہی اور رسول خدا(ص) پوری لگن کے ساتھ اپنا جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا"اخرج عن مكّة فما لك بها ناصر بعد أبى طالب. " ( اب آپ مکے سے چلے جائیے کیونکہ ابوطالب کے بعد اب یہاں آپ کا کوئی حمایتی نہیں ہے۔
شیخ: آیا رسول خدا(ص) کے زمانے میں ابو طالب کا اسلام مشہور تھا اور امت اس کی قائل تھی نہیں۔
خیر طلب : ہاں پوری شہرت رکھتا تھا اور ساری امت ان جناب کا نام تعظیم کے ساتھ لیتی تھی۔
شیخ : یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر(ص) کے زمانے میں تو ایک معاملہ طشت ازبام اور پوری طرح مشہور ہو لیکن تقریبا تیس(30) سال کے بعد ( بقول آپ کے) ایک حدیث گڑھ دینے سے حق اور حقیقت کے برخلاف اس طرح سے شہرت پا جائے کہ سابقہ حقیقت کالعدم ہی ہوجائے؟
خیر طلب:ليس هذا بأوّل قارورة كسرت في الإسلام. ( یعنی یہ کوئی (اصلیت کا) پہلا شیشہ نہیں ہے جو اسلام میں توڑا گیا)
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کہ رسول اللہ(ص) کے زمانے میںکوئی اصلیت مشہور رہی ہو لیکن برسوکے بعد کوئی حدیث گڑھنے کی وجہ سے اس کی پہلی صورت ختم ہوگئی ہو۔
بہت سے امور بلکہ دینی احکام بھی ایسے ہیں جو صاحب شریعت حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے عہد میں رائج و نافذ اوعر جائز بلکہ عمل و رامد کے اندر تھے) لیکن چند سال گزرنے کے بعد لوگوں کے دبائو اور اثرات کے نتیجے میں ان کی حقیقت ہی بدل گئی اور ایک صورت قائم ہوگئی۔
شیخ : ممکن ہو تو جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں ان بہت سے امور میں سے ایک ہی نمونہ بیان کیجئے۔
خیر طلب : شواہد تو اتنے زیادہ ہیں کہ جلسے کا وقت ان سب کو پیش کرنے کی گنجائش ہی نہیں رکھتا، لیکن نمونے کے طور پر ان میں سے ایک ایسی مثال پیش کرتا ہوں جو سب سے زیادہ اہم اور واضح نیز قرآن مجید کی دلالت اور جمہور مسلمین کے اتفاق سے بالکل مستحکم ہے اور وہ ہیں متعہ کے دو مستقل حکم یعنی منقطع اور حج نساء بحکم قرآن اور باتفاق فریقین ( شیعہ و سنی) زمانہ رسول(ص) میں یہ دونوں عمل عام شہرت اور رواج کے مالک تھے، یہاں تک کہ پوری خلافت ابوبکر اور خلافت عمر ابن خطاب کے ایک حصے میں بھی امت کے اندر جاری رہے، لیکن خلیفہ عمر کے صرف ایک جملے سے کایا پلٹ ہوگئی، انہوں نے کہا:
"متعتان كانتا على عهد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلم و أنا أحرمهما و اعاقب عليهما"
یعنی دو متعے جو رسول اللہ(ص) کے زمانے میں رائج تھے میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں اور جو کوئی ان پر عمل کرے گا اس کو سزادوں گا۔
یعنی تیرہ سو سال سے زیادہ ہوگئے حلال خدا حرام ہوچکا ہےعمر کے اس قول پر ان کے زمانہ خلافت میں اور اس کے بعد اس قدر زور دیا گیا اور بغیر کسی دلیل کے قرآن مجید کی نص صریح اور عمل رسول(ص) و اصحاب رسول(ص) کے برخلاف اس طرح سے اس کی اندھی اور بھیڑیا دھسان تقلید کی گئی کہ سابقہ حقیقت بالکل فراموش ہوگئی اب تک عام طور پر برادران اہل سنت کے کروڑوں لوگ اس متعہ کو جو حلال خدا اور پیغمبر(ص) کی روش سنت ہے شیعوں کی ایک بدعت سمجھتے ہیں اور اگر ہم دلائل کے ساتھ بیان کریں تب بھی تسلیم نہیں کرتے کہ پیغمبر(ص) اور ابوبکر و عمر کے زمانے میں یہ دونوں متعے شائع اور حلالتھے، صرف خلیفہ عمر کے کہنے سے ان کے اواسطخلافت میں یہ حلال خدا حرام بن گیا۔ جس جگہ اللہ کا وہ محکم حکم جس کی گواہی قرآن دے رہا ہو۔ رسول اللہ(ص) اور پاک صحابہ کی سیرت جس کی تصدیق کر رہی ہو، جس کو شیخیں ابوبکر و عمر کی تائید حاصل ہو اور جس کی حلت پر قرآن مجید نیز اہل سنت کی معتبر کتابوں میں واضح دلیلیں موجود ہوں، تنہا عمر کے اس اعلان سے جس کو آیات و احادیث کی قطعا کوئی حمایت حاصل نہ ہو حرام و بدعت ہوجائے وہاں آپ چاہتے ہیں کہ جناب ابوطالب(ع) کا اسلام و ایمان کفر سے مبدل نہ ہو۔
شیخ : یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا کے کروڑوں مسلمان صدیوں سے قرآن مجید اور سنت رسول(ص) کے خلاف عمل کرتے آرہے ہیں حالانکہ سارا عالم ہم کو سنی کہتا ہے، یعنی ہم سنت رسول(ص) کے پیرو ہیں، اور شیعوں کو رافضی کہا جاتا ہے، یعنی انہوں نےرسول(ص) کی سنت سے انحراف کیا۔
سنی درحقیقت رافضی اور شیعہ اہل سنت ہیں
خیر طلب : بظاہر آپ لوگ اپنے کو سنی اور شیعوں کو رافضی کہتےحالانکہ اگر عادت اور تعصب سے ہٹ کے اںصاف سے جائزہ لیجئے تو نظرآئے گا کہ بباطن اور در حققیت شیعہ سنی یعنی قرآن و سنت رسول(ص) کے تا بع اور احکام پیغمبر(ص) کے فرمانبردار ہیں اور آپ لوگ رافضی یعنی قرآن سنت اور احکام رسول(ص) سے منحرف ہیں۔
شیخ : یہ خوب رہی۔ آپ نے کروڑوں خالص مسلمانوں کو رافضی کیسے بنادیا؟ کیا دلیل ہے۔ آپ کے پاس اس مقصد پر؟
خیر طلب: اسی طرح جیسے آپ لوگ یعنی سنی حضرات دس کروڑ پاک نفس شیعوں اور عترت و اہل بیت رسول(ص) کے پیروئوں کو رافضی کافر اور مشرک کہتے ہیں میں گذشتہ راتوں میں کافی دلائل کےساتھ عرض کرچکا ہوں کہ رسول اکرم(ص) نے ہدایت فرمائی ہے کہ میرے بعد قرآن اورمیری عترت کی پیروی کرنا لیکن آپ لوگ جان بوجھ کر عترت(ع) سے منہ موڑ کر دوسرون کے پیرو بنے پیغمبر(ص) کی سیرت اورسنت کو جس کی آں حضرت(ص) بحکم قرآن اپنی زندگی میں برابر عملی تاکید فرماتے رہےپامال کردیا، شیخین کے حکم سےا ن حضرات کاسات ھ چھوڑ دیا اور پھر سنت و سیرت رسول(ص) پر عمل کرنے والوں کو رافضی بلکہ مشرک اور کافر تک کہہ دیا۔
من جملہ ان احکام کے آیت 42 سورہ 8 ( انفال) میں صریحا ارشاد ہے کہ:
"وَ اعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبى الخ"
یعنی جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت اور فائدہ حاصل ہو اس میں سے خمس یعنی پانچواں حصہ خدا و رسول(ص) اور قرابتداروں کے لیے مخصوص ہے۔الخ
چنانچہ آں حضرت(ص) اپنی زندگی میں اس حکم پر عمل فرماتے رہے اور خمس غنائم کو اعزہ و اقارب میں تقسیم فرمادیتے تھے لیکن آپ لوگوں نے اس سے مخالفت اور روگردانی کی۔(1)
اگر میں سب کی فہرست پیش کرنا چاہوں تو رشتہ کلام بہت طولانی ہوجائے گا۔
البتہ سب سے بڑی دلیل اس مطلب پر کہ ہم شیعہ رسول اللہ(ص) کی سنت و سیرت کے تابع اور آپ لوگ رافضی، رسول خدا(ص) اور صحابہ کرام کی سنت و سیرت کے تارک اور اس سے منحرف ہیں۔ یہی متعہ کا موضوع بہ حکم خدا، سنت رسول(ص) اور عمل صحابہ کی بنا پر خود آں حضرت( ص) کے عہد پورے زمانہ خلافت ابوبکر میں، اور خلافت عمر کے درمیان تک حلال اور زیر عمل تھا۔ لیکن عمر کے صرف فقرے سے جو انہوں نے از رو ئے سیاست اور ایک خاص مقصد کے تحت کہا تھا آپ لوگوں نےحلال خدا کو حرام اور سنت رسول(ص) کو بیکار سمجھ کر ترک کر دیا اس کے باوجود اپنے کو سنی اور ہم شیعوں کو جو قرآن اورسنت پیغمبر(ص) کے تابع ہیں راضی کہتے ہیں اور بے خبر لوگوں کو یہ سبق اس طرح سے رٹایا ہے کہ چودہ سو برس کے قریب ہو رہے ہیں وہ ہم کو رافضی اور مشرک ہی کہتے ہیں۔
حیرت یہ ہے کہ آپ یعنی برادران اہل سنت بالکل مدعی سست گواہ چست کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ خود خلیفہ عمر نے تو اپنی بات کے ثبوت میں کوئی دلیل و برہان پیش نہیں کی لیکن سنی علماء نے اپنی کتابوں میں یہ ثابت کرنے کے لیے دسیوں پھسپسی دلیلیں اکٹھا کی ہیں کہ خلیفہ عمر کا کلام حق ہے چاہے قرآن و سنت رسول}ص) اور سیرت صحاب باطل و بے بنیاد ٹھہر جائے۔
شیخ : حلت متعہ و عقد انقطاع پر آپ کی دلیل کیا ہے؟ کہاں سے اور کس دلیل سے آپ کہہ رہے ہیں کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے قول خدا اور سنت رسول(ص) کے خلاف عمل کیا۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص
حلت متعہ پر دلائل
خیر طلب : اس مطلب پر دلائل کثرت سے ہیں اور محکم آسمانی سند قرآن مجید ہے، چنانچہ آیت نمبر28 سورہ نمبر4 ( نساء) میں صاف صاف فرمایا ہے:
" فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَفَاتُوهُنَ أُجُورَهُنَ فَرِيضَةً."
یعنی جب تم نے ان سے فائدہ اور تمتع حاصل کیا( یعنی متعہ کیا) تو ان کی اجرت ( یعنی مہر معین) ان کو فورا ادا کرو کیونکہ یہ فرض و واجب ہے۔
ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا حکم ابد تک واجب العمل ہے جب تک خود قرآن میں اس کا کوئی ناسخ پایا جائے چونکہ اس موضوع مِں کوئی ناسخ نہیں آیا ہے لہذا یہ حکم محکم ہمیشہ کے لے باقی اور برقرار ہے۔
شیخ : یہ آیت نکاح دائمی سے کیوں مربوط نہیں ہے جب کہ انہیں آیتوں کے ذیل میں آئی ہے اور حکم دے رہی ہے کہ ان کی اجرت اور مہر ادا کیا جائے؟
خیر طلب : آپ نے اپنے بیان میں بے لطفی سے کام لیااور اصطلاح کے اندر خلط مبحث کردیا کیونکہ آپ ہی کے بڑے بڑے علماء جیسے طبری نے تفسیر کبیر جزء پنجم میں اور امام فخر الدین رازی نے تفسیر مفاتیح الغیب جز سیم میں نیز اوروں نے اس آیہ مبارکہ کو متعہ کے بارے میں نقل کیا ہے۔
آپ کے علماء و مفسرین کی تصریح کے علاوہ آپ حضرات خود ہی بخوبی جانتے ہیں کہ پورے سورہ نساء میں اسلام کے اندر نکاح و ازدواج کے اقسام بیان کئے گئے ہیں، یعنی عقدد دائمی ، متعہ منقطعہ اور ملک یمین نکاح دائمی کے لیے آیت نمبر3 سورہ نمبر4( نساء) میں ارشاد ہے:
"فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْنى وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ"
یعنی عورتوں سے اپنی مرضی کے مطابق دو، تین اور چار تک نکاح کرو، لیکن اگر اس کا ڈر ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو صرف ایک پر اکتفا کرو یا پھر جو تمہاری کنیز میںہو۔ ملک یمین اور کنیزوں کے بارے میں فرماتا ہے:
"وَ مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَناتِ الْمُؤْمِناتِ فَمِنْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ مِنْ فَتَياتِكُمُ الْمُؤْمِناتِ وَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَ آتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"
یعنی تم میں سے جس شخص کو اتنی قدرت اور استطاعت نہ ہو کہ پارسا اور مومنہ ( آزاد ) عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکے تو ان جوان عورتوں میں سے جو تمہاری ملکیت اور کنیزی میں ہوں اپنی زوجیت میں رکھو اللہ تمہارے ایمان کے متعلق سب سے زیادہ جاننے والا ہے تم میں سے ایک دوسرے سے ہےپسان کے مالکوں کی اجازت سے ان کےساتھ نکاح کرو اور ان کے مہر خوبی کے ساتھ ادا کر دو۔
اور متعہ یا عقد منقطع کے سلسلے میں آیت :
"فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَ فَاتُوهُنَ أُجُورَهُنَ فَرِيضَةً."
نازل ہوئی اگر یہ آیت نکاح دائم سے متعلق ہو تو لازم آتا ہے کہ ایک ہی سورے میں دائمی نکاح کا حکم دو مرتبہ دہرایا گیا ہے اور یہ چیز قاعدے کے خلاف ہوگی اور اگر متعہ کے لیے نازل ہوئی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک مستقل اور جدید حکم ہے۔
دوسرے (صرف شیعہ بھی نہیں بلکہ)تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ عقعد متعہ صدر اسلام میں رائج اور مشروع تھا۔ اور صحابہ کرام خود رسول اللہ(ص) کے زمانے میں اس ہدایت پر عمل کرتے تھے اگر یہ آیت نکاح کے لیے ہے تو آیت متعہ کونسی ہے جس کے عام طور پر مسلمان قائل ہیں؟ پس قطعا آیت متعہ یہی ہے جس کا خود آپ کے مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے اور اس کی شرعی حیثیت کو ثابت کیا ہے، نیز یہ کہ اس کے لیے کوئی ناسخ آیت نہیں آئی جیسا کہ خود آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہے۔
حلیت متعہ پر روایات اہل سنت
من جملہ صحیح بخاری اور مسند امام احمد ابن حنبل میں ابورجاءسے بسند عمران ابن حصین منقول ہے کہ انہوں نے کہا:
"نزلت آية المتعة في كتاب اللّه نفعلنا مع رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله لم ينزل قرآن بحرمته و لم ينه عنها رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله حتّى مات قال رجل برأيه ما شاء- قال محمد( يقال انه عمر )"
یعنی آیت متعہ کتب خدا میں نازل ہوئی پس ہم رسول اللہ (ص) کے دور میں اس پر عامل تھے اور اس کی حرمت پر نہ کوئی آیتنازل ہوئی نہ رسول خدا(ص) ہی نے مرتے دم تک اس کی ممانعت کی، صرف ایک شخص نے اپنی خود رائی سے جو چاہا کہہ دیا۔ بخاری کہتے ہیں کہ کہا جاتا ہے یہ شخص عمر تھے۔
صحیح مسلم جزو اول باب نکاح المتعہ ص545 میں ہے کہ :
"حدثنا الحسن الحلوائی قال حدثنا عبد الرزاق قال اخبرنا ابن جريح قال قال عطاء قال قدم جابر بن عبد الله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء، ثمَ ذكروا المتعة فقال: نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه (و آله) و سلم و أبي بكر و عمر."
یعنی ہم سےبیان کیا حسن حلوائی نے کہ ہم سے بتایا عبدالرزاق نے کہ ہم کو خبر دی ابن جریح نے کہ کہا عطا نے کہ جابر ابن عبداللہ اںصاری عمرہ کے لیے مکے میں آئے تو ہم ان کی قیام گاہ پر گئے، لوگوں نے ان سے مختلف باتیں دریافت کیں۔ یہاں تک کہ متعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہم رسول اللہ(ص) کے زمانے میں ابو بکر و عمر کے عہد میں متعہ کرتے تھے)
نیز اسی کتاب کے جزء اول ص467 باب المتعہ بالحج والعمرہ ( مطبوعہ مصر 1306 ہجری) میں ابونضرہ کی سند سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا، ؟؟؟؟ جابر ابن عبداللہ انصاری کے پاس تھا کہ ایک شخص وارد ہوا۔
" فقال: ابن عباس و ابن الزبير اختلفا في المتعتين فقال جابر فعلناهما مع رسول الله صلى الله عليه (و آله) ثمَّ نهانا عنهما عمر فلم نعد لهما."
یعنی اس نے کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر درمیان دونوں متعوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ ( یعنی متعہ النساء اور متعہ الحج) پس جابر نے کہا کہ ہم رسول اللہ(ص) کے زمان دونوں کو بجا لائے ہیں۔ پھر عمر نے ان کی ممانعتکی جس کےبعد سے نوبت نہیں آئی۔
اور امام احمد ابن حنبل نے مسند جزء اول ص25 میں روایت ابونضرہ کو دوسرے طریق سے نقل کیا ہے نیز دونوں ایک اور روایت جابر سے نقل کرتے ہیں کہ دوسرے موقع پر کہا :
" كنا نستمتع بالقبضة من التمر و الدقيق الأيام على عهد رسول الله صلى الله عليه (و آله) و أبي بكر و عمر حتى نهى عنه عمر في شأن عمرو بن حريث."
یعنی ہم رسول اللہ(ص) اور ابوبکر کے زمانے میں ایک مٹھی خرما اور آٹے پر متعہ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حریث کے بارے میں اس کو منع کیا۔
حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں عبداللہ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا ہم لوگ رسول خدا(ص) کے زمانے میں متعہ کرتے تھے، یہاں تک کہ جب عمر کی خلافت قائم ہوئی تو انہوں نے کہا کہ خدائے تعالی اپنے پیغمبر(ص) کے لیے جو چاہتا تھا حلال کردیتا تھا۔ اب ان کی رحلت ہوچکی ہے اور قرآن اپنی جگہ پر باقی ہے پس جب تم حج یا عمرہ شروع کروتو اس طرح ختم کرو جس طرح خدا نے فرمایا ہے اور متعہ سے تو بہ کرو اور جس شخص نے متعہ کیا ہوا اس کو میرے سامنے لائو تو میں اس کو سنگسار کروں گا۔
آپ کی معتبر کتابوں میں ایسے اخبار میں ایسے کثرت سے منقول ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ عہد رسول(ص) میں متعہ عام طور پر رائج اور مشروع تھا اور اصحاب اس پر عمل کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے اس کو اپنی خلافت کے دور میں حرام قرار دیا۔ ان روایتوں میں علاوہ اصحاب وغیرہ کی ایک جماعت جیسے ابی بن کعب، ابن عباس، عبداللہ ابن مسعود، سعید بن جبر اور سدی وغیرہ نے آیت متعہ کو اس طریقے سے پڑھا ہے۔
" فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَ- إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى"( یعنی پس جب تم ان سے متمتع اور بہرہ مند ہوئے یعنی متع کیا اس مدت تک جو مقرر کی گئی تھی۔
چنانچہ جاء اللہ زمخشری نے کشاف میں ابنعباس سے بطریق ارسال مسلمات نقل کیا ہے، نیز محمد بن جریر طبری سے اپنی تفسیر کبیر میں اور امام فخرالدین رازی نے تفسیر مفاتیح الغیب جلد سیم میں اسی آیہ مبارکہ کے ذیل میں ذیل میں اور امام نووی نے شرح صحیح مسلمباب اول نکاح المتعہ میں بازری سے قاضی عیاض کا قول نقل کیا ہے کہ عبد اللہ ابن مسعود ( کاتب وحی) اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے۔"فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَ- إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى " امام فخر الدین رازی نے ابی ابن کعب اور ابن عباس کا قول نقل کرنے کے بعد کہا ہے:
"والامة ما انکروا عليها فی هذه القرائة فکان ذالک اجماعا علی صحة ما ذکرنا"
یعنی امت نے اس قرائت میں ان دونوں کا انکار نہیں کیا ہے۔ پس جو کچھ ہم نے زکر کیا اس کے صحیح ہونےپر اس طرح اجماع قائم ہوچکا ہے۔
پھر بعد والے ورق میں جواب دیتے ہوئے کہتے :
" فان تلک القرائة لا تدل الا علی ان المتعته کانت مشروعة و نحن لا ننازعفيه"
یعنی یہ قرائت یقینا اس پر دلالت کرتی ہے کہ متعہ شرعا جائز تھا اور ہم اس بارے میں کوئی نزاع نہیں رکھتے( کہ متعہ عہد رسول(ص) میں مشروع تھا۔
شیخ : آپ کی دلیل عدم نسخ پر کیا ہے کہ رسول خدا(ص) کے زمانے میں تو جائز تھا لیکن بعد کو منسوخ نہیں ہوا؟
خیر طلب : عدم نسخ اور اس بات کے دلائل بہت ہیں کہ یہ حکم اب بھی اپنے شرعی جواز پر باقی ہے۔ عام عقلوں کے
لیے ساری دلیلوں سے زیادہ قرین قیاس دلیل جس سے ان کو معلوم ہو جائےکہ متعہ عہد رسول سے لے کر اواسط خلافت عمر تک عام طور پر جائز و مشروع تھا اور یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے، علاوہ مذکورہ بالا روایات اور صحابہ کرام کی سیرت و عمل کے خود خلیفہ عمر ابن خطاب کا قول ہے جس کو آپ کے علماء نے عمومیت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ بالائے منبر کہا:
"متعتان كانتا على عهد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلم و أنا أحرمهما و اعاقب عليهما"
اور بعض اخبار میں ہے"انهی عنهما" (یعنی رسول خدا(ص) کے زمانے میں دو متعے جائز تھے اور میں ان دونوں کو حرام یا منع کرتا ہوں، اور جو شخص ان عامل ہوگا اس کو سزا دوں گا۔(1)
شیخ : آپ کا فرمانا بجا ہے، لیکن میں نے عرض کیا کہ رسول خدا(ص) کے زمانے میں اول اول بہت سے ایسے احکام رائج تھے جو بعد میں منسوخ ہوگئے، چنانچہ یہ متعہ بھی شروع میں جائز تھا لیکن بعد میں منسوخ ہوگیا۔
خیر طلب : چونکہ دین کی بنیاد اور اساس قرآن مجید پر ہے لہذا جو حکم قرآن کے اندر نافذ ہوا ہو اس کا ناسخ بھی قرآن کے اندر اور زبان حضرت خاتم الانبیاء سے موجود ہونا ضروری ہے۔ اب فرمائیے کہ قرآن مجید میں کس مقام پر یہ حکم منسوخ ہوا ہے؟
شیخ : سورہ نمبر 23 ( مومنون کی آیت نمبر6 اس کی ناسخ ہے ارشاد ہوتا ہے :
" إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ "
یعنی سوا اپنی بیویوں کے اور ان کنیزوں کے جن پر مالکانہ قبضہ ہے ( اور کسی پر تصرف جائزنہیں، پس ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے)
اس آیت میں حلال ہونے کے دو سبب قرار دیئے گئے ہیں ۔1۔ زوجیت۔ 2۔ اور ملک یمین کے ذریعے قبضہ ۔ لہذا اسی آیت کی دلیل سے کہ متعہ منسوخ ہوچکا ہے۔
خیر طلب : اس آیت میں متعہ کے منسوخ ہونے پر کوئی دلالت نہیں ہے بلکہ اور اس کی تائید ہے، اس لیے کہ متعہ بھی زوجیت کے حکم میں ہے اور ممتوعہ عورت مرد کی حقیقی زوجہ ہے اگر ممتوعہ حقیقتا بیوی نہ ہوتی تو خداوند عالم آیت میں یہ حکم نہ دیتا کہ ان کا حق مہر ادا کرو۔ علاوہ اس مفہوم کے سورہ مومنون مکی ہے اور سورہ نساء مدنی، ظاہر ہے کہ مکی سورتیں مدنی سورتوں پر مقدم ہیں۔ پس یہ آیت ناسخ کیونکر بن سکتی ہے جب کہ آیت متعہ سے قبل نازل ہوئی ہے؟ کیا ناسخ منسوخ سے پہلے ہی آگئی۔"فاعتبروا يا أولي الألباب"
اکابر صحابہ و تابعین اور امام مالک کا حکم کہ متعہ منسوخ نہیں
قطع نظر اس سے کہ عبداللہ ابن عباس، عبد اللہ ابن مسعود ( کاتب وحی) جابر ابن عبداللہ انصاری، سلمہ ابن اکوع، ابوذر غفاری،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اس کو سنگسار کروں گا، جیسا کہ مسلم نے اپنی صحیح جزء اول ص467 میں نقل کیا ہےاحکام اسلام کے اندر متعہ کرنے والے کو رجم و سنگسار کرنے کا حکم کہیں نظر سے نہیں گذرا۔ پھر خلیفہ عمر نے ایسا کیوں کیا؟ مجھ کو پتہ نہیں۔
سبرۃ بن معبد، اکوع بن عبداللہ الالمی، اور عمران بن حصین وغیرہ اکابر صحابہ و تابعین نے اس کے عدم نسخ کا حکم دیا ہے، آپ کےبڑے بڑے علماء نے بھی صحابہ کی پیروی میں اس کے منسوخ نہ ہونے کا فتوی دیا ہے۔ مثلا جار اللہ زمخشری تفیہ کشاف میں جس مقام پر جرامت عبداللہ ابن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ آیت متعہ محکمات قرآن میں سے ہے وہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ یعنی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ نیز امام مالک ابن انس نے متعہ کے مشروع و جائز ہونے اور منسوخ نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
چنانچہ ملا سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصد میں، برہان الدین حنفی نے ہدایہ میں، ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور دوسروں نے بھی مالک کا قول اور فتوی نقل کیا ہے کہ ایک جگہ ہے :
"هو جائز لانه کان مباحا مشروعا واشتهر عن ابن عباس حليتها و تبعه علی ذالک اکثر اهل اليمن و مکة من اصحابه"
یعنی متعہ جائز ہے اس لیے کہ شرعا جائز اور مباح ہے، اور ابن عباس سے اس کی حلت مشہور ہے اور ان کے اصحاب میں سے یمن و مکہ کے زیادہ تر لوگوں نے اس کی متابعت کی ہے۔
اور دوسرے مقام پر کہا ہے "هو لانه کان مباحا فيبقی الی ان يظهر ناسخه " (یعنی متعہ جائز ہے اس لے کہ مباحتھا اور وہ اپنے حلال و مباح ہونے پر قائم ہےجب تک اسی کا ناسخ ظاہر نہ ہو) معلوم ہوتا ہے کہ سنہ179 ہجری تک یعنی جب مالک کا انتقال ہوا ہے اس وقت تک نسخ متعہ کے دلائل ان کے سامنے نہیں آئے تھے اور ظاہر ہوا کہ یہ سب کچھ متاخرین کی ایجاد ہے تاکہ خلیفہ عمر کے قول میں جان پیدا کی جائے۔
اور آپ کے بزرگ مفسرین جیسے زمخشری، بغوی اور امام ثعلبی بھی ابن عباس اور کبار صحابہ کے عقیدے پر گئے ہیں، اور حلت و جواز متعہ کے قائل ہوئے ہیں۔
شیخ : چونکہ ممتوعہ عورت کے لیے وراثت، طلاق، عدہ اورنفقہ کے شرائط زوجیت نہیں ہیں لہذا وہ حقیقی زوجہ نہیں ہوسکتی۔
ممتوعہ عورت میں زوجیت کے سارے آثار موجود ہیں
خیر طلب : معلوم ہوتا ہے تنفر اور بدظنی کی وجہ سے آپ نے شیعوں کی فقہی کتابوں کا پورا مطالعہ نہیں کیا ہے ورنہ آپ دیکھتے کہ ممتوعہ عورت میں زوجیت کے سارے آثار موجود ہیں، سوا ان چیزوں کے جو دلیل کے ساتھ خارج ہو جائیں اور پھر آپ اس قسم کا اشکال قائم نہ کرتے۔ دوسرے یہ کہ متعہ نکاح مسلم کی ایک قسم ہے جس پر تحقیق کے ساتھ زوجیت صادق آتی ہے البتہ امت کی سہولت و آسانی اور حرام کاری سے محفوظ رکھنے کے لیے از راہ لطف و کرم اس کے بعض شرائط اور تکلفاتحذف کردیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں تک شرائط کا سوال ہے، اول تو یہی ثابت نہیں ہے کہ وراثت کوئی زوجیت کا لازمی جز ہے کیونکہ اکثرعورتیں زوجہ ہونے کے باوجود شوہر کا ورثہ نہیں پاتیں جیسےکتابیہ، ناشزہ( نافرمان) اور اپنے شوہر
کی قاتل عورت، جو بیوی تو کہلاتی ہے لیکن وراثت سے محروم ہے۔
دوسرے زن ممتوعہ کا حق وراثت سے محروم ہونا بھی قطعی طور سے معلوم نہیں ہے اس لیے کہ فقہا کے فتوی اس بارے میں مختلف ہیں جیسا کہ آپ کے یہاں بھی مسائل اور احکام میں کافی اختلاف ہے۔
تیسرے علمائے امامیہ کا اس پر اجماع ہے کہ ممتوعہ بیوی کو بھی عدہ رکھنا چاہیے اور اس کی کم سے کم مدت پینتالیس روز مقرر کی گئی ہے اور اگر شوہر مرجائے تو چار ماہ دس دن کا عام عدہ وفات رکھے چاہے مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اور یائسہ ہو یا غیر یائسہ۔
چوتھے حق نفقہ بھی زوجیت کی لازمی شرطوں میں سے نہیں ہے، کیونکہ بہت سی عورتوں ایسی ہیں جو زوجیت کے اندر ہونے کے بعد بھی نفقے کی مستحق نہیں ہوتیں جیسے ناشزہ، کتابیہ اور شوہر کی قاتل۔
پانچوں مدت کا پورا ہوجانا ہی اس کی طلاق ہے، اور اسی طرح اگر درمیان ہی میں شوہر اس کی مدت بخش دے تو، اس کو طلاق ہو جاتی ہے۔
پس یہ جتنے شرائط آپ نے گنوائے ہیں ان میں سے کسی کے اندر کوئی وزن موجود نہیںہے، چنانچہ شیعوں کے مایہ ناز عالم کامل علامہ حلی حسن بن یوسف بن علی بن مطہر جمال الدین قدس سرہ نے آپ کے اکابر علماء کے مقابلے اور ان کیتردید میں انہیں دلائل کو انتہائی مکمل اور مفصل طریقے پر پیش کیا ہے، جن کو میں نے تنگی وقت کی وجہ سے مختصر کردیا (اگر کوئی شخص پوری تفصیل اور تحقیق کا خواہشمند ہو تو وہ علامہ حلی کی کتابمباحثات سنیہ و معارضات نصیریہ اور دوسرے تالیفات کی طرف رجوع کرے)
شیخ : آیہ شریفہ سے قطع نظر حدیثیں بھی کثرت سے وارد ہیں کہ متعہ کا حکم رسول خدا کے زما نے میں منسوخ ہوگیا تھا۔
خیرطلب: مہربانی کر کے بیان فرمائیے کہ حکم نسخ کہاں وارد ہوا ہے؟
شیخ: اختلاف کے ساتھ نقل ہو اہے، بعض کا قول ہے کہ فتح خیبر میں،بعض کہتے ہیں فتح مکہ کے روز، بعض روایتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حجتہ الوداع میں، بعض کابیان ہے کہ تبوکمیں اوربعض دوسرےلوگوںنے بتایا ہے کہ حکم نسخ عمرۃ القضا میں نازل ہوا۔
عہد رسول(ص) میں منسوخ نہ ہونے کے دلائل!
خیر طلب: یہی عقیدے کا اختلاف اور روایتوں کا تناقض و تعارض اس بات کی پوری دلیل ہے کہ ایسا کوئی حکم آیا ہی نہیں اور ایسے اخبار پر اعتماد ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ان کے برعکس سحاح ستہ،جمع بینالصحیحین،جمع بین الصحاح الستہ ا ور مسند وغیرہ جیسی آپ کی معتبر کتابوں میں کبار صحابہ سے کثرت کےساتھ ایسی روایتیں منقول ہیں جوزمانہ خلافت عمر تک
اس آیت کے منسوخ ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں۔
سارے دلائل سے واضح تر دلیل تو یہی ہے کہ آپ کے شیوخ اکابر علماءنے خود خلیفہ عمر کایہ قول نقل کیا ہے کہ:
"متعتان كانتا على عهد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلم و أنا أحرمهما "
اگر نسخ کا کوئی حکم آیت یا حدیث اور ارشاد پیغمبر کی صورت میں موجود ہوتا تو خلیفہ کو کہنا چاہئیےتھا کہ اسہدایت کے مطابق جو رسول اللہ(ص) دے گئے ہیں اور جس پر قرآن کی آیت دلالت کرتی ہے جو شخص متعہ کرے گا اور اس منسوخ وممنوع اور حرام فعل کا مرتکب ہوگا میں اس کو سزا دوں گا( اور دلوں کو متاثر و مرعوب کرنے کے لیے یقینا اس قسم کا بیان زیادہ کار آمد ہوتا) نہ بجائے اس کے کہتے یہ ہیں کہدو متعے جو رسول خدا کے زمانے میں حلالتھے میں ان کو حرام کرتا ہوں۔اگر آپ کا دعوی صحیح ہو اورکوئی ناسخ اس کا قرآن مجید میں نازل ہوا ہو تو کیونکر ممکن تھا کہ صحابہ رسول (ص) اور آں حضرت کے مکتب و درس گاہ کے شاگرد جیسے عبداللہ ابن عباس ( جر امت) عمران بن حصین،ابوذر غفاری ابن مسعود ( کا تب وحی) جابرابن عبداللہ انصاری، ابوسعید خدری، سلمہ بن اکوعاور دوسرے اصحاب و تابعین اس پر عمل کرتے ؟چنانچہ آپ کےبڑے بڑے محدثین و مورخین یہاں تک کہبخاری اور مسلم نے بھی جن کی کتابوں کو آپ انتہائی اہم سمجھتے ہیں اس کو وزح کیا ہے اور جن میں سے بعض کی طرف اشارہ بھی کرچکا ہوں، یہ سب پورا ثبت ہے اس بات کا کہ رسول اکرم(ص) کے زمانے سے خلافت عمر کے دور تک اصحاب اس پر عامل تھے اور کہتے تھے کہ آں حضرت(ص) کے وقت وفات تک کوئی ایسی چیز جو حکم متعہ کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہو ہم نے نہیں سنی لہذا ہمارا عمل اس پر جاری رہا۔
اس مطلب کی صراحت وہ روایت بھی کرتی ہےجو امام احمد ابن حنبلنے مسند میں ابوبیار سے اور اس نے عمران ب ن حصین سے نقل کی ہے کہ:
"نزلت آية المتعة في كتاب اللّه، و عملنا بها مع رسول اللّه (ص)، فلم تنزل آية بنسخها و لم ينه عنها النبی (ص) حتى مات"
یعنی آیت متعہ قرآن مجید میں نازل ہوئی اور ہم رسول اللہ(ص) کے عہدمیں اس پر عامل تھے۔ پس نہ اس کو منسوخ کرنے کے لیے کوئی آیت اتری اور نہ پیغمبر(ص) نے وقت وفات تک اس سے منع فرمایا۔
نیز عمران بن حصین کی اس روایت میں بھی جو پہلے عرض کرچکا ہوں اس کی وضاحت موجود ہے کہ متعہ کی ممانعت نہ قرآن میں ہے نہ پیغمبر(ص) کی ز بان سے۔
پس جب کتاب و سنت کسی میں نسخ اورممانعت کا ذکر نہیں ہے تو متعہ قطعا اپنی حلیت و مشروعیت پر ابد تک باقی ہے چنانچہ ابوعیسی محمد بن عیسی بن سورة الترمذی نے اپنی سنن میں جو صحاح ستہ میں داخل ہے، امام احمد بن حنبل نے مسند جز دوم ص95 میں اور ابن اثیر نے جامع الاصول میں متعدد اسناد کےساتھ نقل کیا ہے کہ عبداللہ ابن عمر خطاب سے ایک شامی آدمی نے پوچھا کہ آپ متعتہ النساء کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا قطعا حلال ہے۔ اس نے کہا آپ کے باپ خلیفہ صاحب نے تو اس سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ پیغمبر﴿ ص﴾ نے حکم دیا ہے لہذا اگرمیرے باپ نے منع کیا ہےتو یقینامیرے
باپ کی ممانعت پر پیغمبر{ص} کا حکم مقدم ہے اور میں فرمانِ رسول کا تابع ہوں۔ رہے وہ اخبار جو بقول آپ کے منقول ہیں تو غالبا صحابہ اور تابعین کے بعد والے لوگوں نے خلیفہ عمر کے قول کو درست اور مضبوط کرنےکے لیے کچھی حدیثیں گڑھ کے مشہور کردی ہیں، ورنہ معاملہ اس قدر صاف اور واضح ہے کہ مزید توضیح یا تردید کی گنجایش ہی نہیں ہے اس لیے کہ آپ کے پاس خلیفہ عمر کے قول کے علاوہ ابطال متعہ اور اس کی حرمت پر ایک بھی صحیح سند یا کامل دلیل موجود نہیں ہے۔
شیخ : خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول خود مسلمانوں کے لیے ایک زبردست سند ہے جس کی ان کو پیروی کرنا چاہیے کیونکہ اگرخلیفہ نے رسول خدا سے سنا نہ ہوتا تو نقل نہ کرتے۔
خیر طلب: ایک نکتہ سنج اور انصاف پسند عالم سے بہت بعید ہے کہ {محض خلیفہ عمر کیوالہانہ محبت و عقیدت میں} اس قسم کی تقریر کرنےلگے،اس لیے کہ ہر کام میں غور و فکر کرنا ضروری ہے۔
حضرات! اپنے اس بیان پر کہ خلیفہ کا قول مسلمانوں کے لیے ایسی مضبوط سند ہے کہ اس کی پیروی ضروری ہے ذرا گہری نظر ڈالیے میں نے تو جہاں تک آپ کی صحیح و معتبر کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، ایک روایت بھی ایسی نہیں دیکھی کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہو کہ عمر بن خطاب کا قول سند ہے یا مسلمانوں پر اس کی پیروی لازم ہے۔ البتہ آپ کی معتبر کتابوں میں ایسی متواتر اور معتبر حدیثیں بھری پڑی ہیں کہ عترت طاہرہ رسالت{ع} کی پیروری کرو۔ بالخصوص اس عالی منزلت خاندان کی فرد اکمل امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی، جیسا کہ انمیں سے بعض اخبار کی طرف گزشتہ شبوں میں اشارہ کیا جاچکا ہے، اور ظاہر ہے کہ تمام عترت اور اہل بیت رسالت نے اس کے منسوخ نہ ہونے کا حکم دیا ہے۔
رہا آپ کا یہ فرمانا کہ اگر خلیفہ نے بارگاہ رسالت سے اس کی حرمت کو سنا نہ ہوتا توبیان نہ کرتے، تو اس میں بہت سے اشکال ہیں۔
اول اگرخلیفہ عمر نے رسول خدا{ص} سے ایسے نسخ کو سنا تھا تو ان کو چاہیے تھا کہ آں حضرت(ص) کے زمانے سے لے کر اپنے دورِ حکومت تک کبھی تو کہے ہوتے بالخصوص جس وقت دیکھتے تھے کہ کبار صحابہ اس کے مرتکب ہو رہے ہیں تو نہی عن المنکر کے عنوان سے بھی ان کا فرض تھا کہ جا کر لوگوں کو بتاتے کہ یہ عمل منسوخ ہے لہذا اس کا ارتکاب نہ کرو۔ آخر کیوں نہیں بتایا اور نہی عن المنکر کیوں نہیں کی؟
دوسرے جو حکم رسول(ص) کی ہدایت سے امت میں پھیلا ہو اس کا ناسخ بھی آں حضرت(ص) ہی کے ذریعے شایع ہونا چاہیے چنانچہ علم اصول میں معین ہے کہبیان میں وقت ضرورت سے تاخیر جایز نہیں ہے۔ آیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ حکم ساری امت میں شایع ہوچکا ہو پیغمبر(ص) اس کے منسوخ ہونے کا ذکر سوا عمر کے اور کسی سے نہ کریں اور عمر بھی کسی سے نہ کہیں۔ نہاں تک کہ اپنی خلافت کے آخری دور میں ایک خاص شخص کی مخالفت میں سیاسی طور پر اس کی حرمت کا اعلان کریں؟آیا اس ساری مدت میں جب امت ( بقول آپ کے) اس منسوخ حکم پر عمل پیرا ہو رہی تھی اس کے سر کوئی ذمہ داری نہ تھی؟ اور اس کا یہ طریقہ خلافِ
شرع نہیں تھا۔
آیا اس منسوخ اور غیر مشروع عمل کے لیے جس کی ممانعت (بقول آپ کے) لوگوں تک نہیں پہنچایی گئی۔ چنانچہ امت اس کو اپنائے رہی، سوا رسول خدا(ص) کے اور کوئی جواب دہ ہوسکتا ہے کہ ایک ناسخ حکم کو جو خدا کی طرف سے ان کے سپرد کیا گیا تھا(بقول آپ کے) امت کو نہیں پہنچایا اور راز داری کے ساتھ تنہا عمر سے کہہ دیا اور عمر نے بھی کسی سے نہیں بتایا یہاں تک کہ اپنی خلافت کے آخری حصے میں صرف ذاتی راۓ کے طور پر اس کی حرمت کا حکم دیا؟ اور خلیفہ ابوبکر نے بھی جن کا مرتبہ یقینا عمر سے بالاتر تھا اپنے سارے عہدِ خلافت میں اس منسوخ حکم کی روک تھام نہیں کی؟ آیا یہ کفر کا کلمہ نہیں ہے اور اس کا ----- کافر نہیں ہے کہ کہا جاۓ رسول اللہ (ص) نے احکام کی تبلیغ میں کوتاہی کی اور امت اپنی جہالت و ناواقفیت کی وجہ سے منسوخ حکم پر عمل کرتی رہی؟
تیسرے اگر متعہ پیغؐمبر کے زمانے میں منسوخ ہوچکا تھا اور عمر نے بھی اس کو آں حضرت (ص) ہی سے سنا تھا تو ضرورت اس کی تھی کہ بیان کرتے وقت اس حکم آں حضرت سے منسوب کرتے اور کہتے کہ میں نے خود پیغؐمبر کو فرماتے ہوۓ سنا کہ عقد متعہ منسوخ ہے اور کوئی شخص اس کا ارتکاب نہ کرے ورنہ اس پر حد جاری ہوگی یا سنگسار ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ارشاد پیغمبر(ص) کا حوالہ دینے سے امت پر کافی اثر قائم ہوتا۔ لیکن کہتے یہ ہیں کہ رسول اللہ(ص) کے زمانے میں دو متعے جائز اور مشروع تھے جن کو میں حرام کرتاہوں اور اب ایسا کرنے والوں کو سنگسار کروں گا۔ آیا حلال و حرام اور حدود و قواعد کا مقرر کرنا اس پیغؐمبر کا فرض ہے جس کا تعلق عالم غیب سے ہو یا ایسے خلیفہ کا حق ہے جس کو لوگوں نے معین کردیا ہو؟
ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آسکا اور نہ میری عقل فیصلہ کرسکی کہ عمر نے آخر کس دلیل و برہان سے حلال خدا کو حرام کہا اور کیوںکر یہ کہنے کی جرأ ت کی کہ انا احرمہا ( یعنی میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں) تعجب یہ ہے کہ خود رسول اللہ(ص) تو تبلیغ احکام کے مواقع پر یہ ہیں فرماتے تھے کہ میں نے حلال یا حرام کیا، بلکہ جس وقت کسی حکم کا اعلان فرماتے تھے تو یہی فرماتے تھے کہ مجھ کو اس کی تبلیغ کا حکم خداۓ تعالیٰ نے دیا ہے لیکن خلیفہ عمر انتہائی جسارت اور صراحت کے ساتھ کہتے ہیں۔
"متعتان كانتا على عهد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلم و أنا أحرمهما "
فاعتبروا یا اولی الابصار
مجتہد احکام میں الٹ پھیر کرسکتا ہے
شیخ : یقینا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے چند محقق علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ(ص)چونکہ احکام شرعی میں مجتہد تھے لہذا دوسرا مجتہد بھی اجتہاد کی روسے پہلے حکم کی مخالفت کر کے حلال کو حرام اورحرام کرسکتا ہے چنانچہ اسی بنا پر خلیفہ
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔"أنا أحرمهما "
خیر طلب: مجھ کو اس کی امید نہیں تھی کہ آپ حضرات ایک غلطی کو درست کرنے کے لیے دوسری بہت سی غلطیاں بھی کریں گے۔ آپ کو خدا کی قسم سچ بتائیے کیا نص کے مقابلے میں اجتہاد کی بھی کوئی حقیقت ہے؟ کیا یہ کوئی معقول بات ہے کہ رسول اکرم(ص) کو اس قدر پست اورخلیفہ عمر کو اس قدر بلند کیجئیے کہ دو مجتہدوں کے مانند دونوں کوبرابر بنادیجئے؟ کیا آپ کا یہ بیان سراسر غلو ا ور آیات قرآنی کا صریحی مخالفت نہیں ہے؟ اگرچہ وقت تنگ ہے لیکن نمونے کے طور پر ایسی کچھ آیتوں کا حوالہ دے دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
خداوند عالم آیت١٦ سورہ١ 0) یونس) میں پیغمبر(ص) سے صاف صاف فرماتا ہے:
"قُلْ ما يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا ما يُوحى إِلَيَ"
( یعنی ان سے کہہ دو کہ مجھ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اپنی طرف سے قرآن کو بدل دوں۔ میں صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے)
جس مقام پر خود رسول اکرم(ص) بغیر نزول وحی کے احکام شرع میں اپنی خواہش اور ارادے سے کوئی تغیر و تبدل نہ کرسکتے ہوں، ہاں خلیفہ عمرکو جو حقیقت وحی سے بالکل اجنبی تھے یہ اختیار کہاں سے حاصل ہوگیا کہ احکام میں تصرف کر کے حلال خدا کو حرام کردیں؟
آیت نمبر4 سورہ نمبر53 (نجم) میں ارشاد ہے:
" وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوىإِنْهُوَإِلَّاوَحْيٌيُوحى"
(یعنی پیغمبر(ص) اپنی خواہش نفس سے ایک بات بھی نہیں کہتے، وہ تو وہی کہتے ہیں جو احی الہی ہوتی ہے)
اور ایت نمبر8 سورہ نمبر46 ( احقاف) میں فرماتا ہے:
"قُلْماكُنْتُ بِدْعاً مِنَالرُّسُلِوَ ما أَدْرِي ما يُفْعَلُ بِي وَ لا بِكُمْإِنْأَتَّبِعُإِلَّامايُوحىإِلَيَّوَماأَنَاإِلَّانَذِيرٌمُبِينٌ."
(یعنی کہہ دو اے رسول (ص) کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں ہوں اور نہ از خود یہ جانتا ہوں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے)
یہ مکمل ثبوت ہے اس بات کا کہ پیغمبر(ص) کی متابعت واجب ہے، پس عمر ہوں یا اور کوئی غیر شخص ہرگز کسی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ احکام الہی میں تصرف کرے اور حلال خدا کو حرام کرے۔
شیخ : خلیفہ رضی اللہ عنہ نے قوم کی بھلائی اور مصلحت قطعا اسی میں دیکھی کہ حکم کو منسوخ کردیں، اس لئے کہ آج دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ساعت، ایک ماہ یا ایک سال کی لذت کے لئے کسی عورت سے متعہ کرتے ہیں اور بعد کو حاملہ یا غیر حاملہ اس کو یونہی، چھوڑ دیتے ہیں جس کے سبب سے آوارگی پھیلتی ہے۔
خیر طلب : معاف کیجئے گا جناب! آپ کا یہ بیان ہی مضحکہ خیز اور حیرت انگیز ہے، اس لئے کہ آپ چند شہوت پرست اور لا ابالی اشخاص کے طرز عمل کو احکام کے حلال و حرام میں دخل دے رہے ہیں۔ اگرایسے لوگوں کی نفس پرستی اور بے پروائی ہے سے کوئی حلال حرام ہوجاۓ تو دائمی نکاح بھی حرام ہوجانا چاہئیے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ
بعض لوگوں نے مال و جمال یا کسی اور چیز کی وجہ سے شریف لڑکیوں کے ساتھ دائمی نکاح کیا، پھر بغیر خرچ و نفقہ کے ان کو لا وارث چھوڑ کر چل دیئے، لہذا کہنا چاہیئے کہ کچھ اشخاص ایسے حرکات کرتے ہیں اس وجہ سے عقد نکاحبالکل غلط چیز ہے۔
چاہیئے یہ کہ لوگوں میں دیانت کی ترویج کی جاۓ اور ان کو دینی فرائض سے آگاہ کیا جاۓ اگرکوئی شخص دیندار ہے اور دائمی عورت کی ذمہ داری اٹھانے کی اہلیت اپنے میں نہیں پاتا نیز حرام کاری کے قریب بھی جانا نہیں چاہتا تو وہ دستور شریعت کے مطابق کسی عورت کو متعہ اور عقد منقطع کے ذریعہ تصرف میں لانا چاہے گا۔ چنانچہ پہلے شرائط متعہ کی تحقیق کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر حکم کے لئے کچھ شرطیں ہوتی ہیں جن کو پہلے معلوم کر لینا ضروری ہے۔ اس کے بعد عمل کی منزل میں قدم رکھنا چاہیئے لہذا قرار داد کے وقت وہ عورت کا مہر اتنا مقرر کرے گا کہ عدت متعہ تمام ہونے کے بعد وہ اپنے عدہ کے زمانے میں جو صرف پینتالیس روز ہے آسانی سے بسر کرسکے۔
دوسرے یہ کہ علیحدگی کے بعد عدہ کی ساری مدت میں وہ عورت کی دیکھ بھال کرتا رہےگا کہ اگر حاملہ ہوگئی ہے تو بچہ چونکہ اس کا ہے لہذا اس کی نگہداشت کرے تاکہ ولادت کے بعد اپنی اولاد کو حاصل کرسکے۔
اگر کچھ لوگ ان شرطوں کو لحاظ نہ کریں تو اس کا نتیجہ یہ نہیں نکل سکتا کہ آپ جیسے سادہ دل حضرات بغیر سوچے سمجھے ایک طے شدہ حلال حکم کو منسوخ فرض کر لیں۔
علاوہ اس کے اگر آپ کا فرمانا صحیح بھی ہو تو اس امت کی مصلحت اوربھلائی کو خدا و رسول(ص) قطعا عمر سے زیادہ جانتے تھے لہذا انہوں نے سب کو اس کی ممانعت کیوں نہیں کردی تھی؟
اگر پیغمبر(ص) نے منع نہیں کیا ہے تو خلیفہ وامام اور حجتہ منصوص بھی اپنی مصلحت بینی سے حلال خدا کو حرام نہیں کہہ سکتا، پس یہ بہانہ کام نہیں دے گا کہ امت کی بھلائی اسی میں تھی کہ لوگ متعہ نہ کریں۔
ممانعت متعہ سے آوارگی پھیلی
اگر اچھی طرح سے غور کیجیئے تو حکم متعہ آوارگی پھیلنے کا سبب نہیں ہوا بلکہ ممانعت متعہ نے آوارگی پھیلائی اس لئے کہ ایسے جوان مرد عورت جن کے پاس دائمی نکاح کے وسائل مہیا نہیں ہیں اور متعہ بھی خلیفہ عمر کے حسب الحکم ان کے لئے حرام بلکہ گناہ عظیم ہے، وہاگر اپنی شہوت اور جنسی جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے تو ظاہر ہے کہ سوا اس کے اور کیا کریں گے کہ مجبورا حرام کاری میں مبتلا ہوں؟ اور جب کسی قوم کے اندر زنا کاری کا رواج ہوجاتا ہے تو حرمتوں کے پردے چاک اور شرافت انسانی کی عمارت متزلزل ہوجاتی ہے۔ آتشک اور سوزاک وغیرہ کے ایسے امراض ساریہ کی فرا وانی ہوتی ہے اور خداندان پریشان حال وکمزور ہوجاتے ہیں۔
چنانچہ امام احمد ثعلبی اور طبری نے اپنی تفسیر میں اور امام احمد حنبل نے مسند میں آیت متعہ کے ذیل میں سند کے ساتھ امیرالمومنین علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
" لو لا ان عمر نهي عن المتعةما زنىإلّا شقيّ."
(یعنی اگر عمر نے متعہ کو منع نہ کیا ہوتا تو سوا بد بخت کے کوئی زنا نہ کرتا )
نیز ابن جریح اور عمرو بن دینار نے عبداللہ ابن عباس(جرامت) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
"ما كانت المتعة إلا رحمة رحم الله بها أمة محمد صلى الله عليه و آله لو لا نهيه(ای عمر) عنها ما احتاج إلى الزنا إلا شقي"
( یعنی متعہ در حقیقت خدا کی رحمت تھا جس کو اس نے امت محمد(ص) پر نازل کیا تھا، اگر عمر نے اس کی ممانعت نہ کی ہوتی تو سوا بدبخت کے کوئی زنا کا محتاج نہ ہوتا)
پس بقول اصحاب پیغمبر(ص) کے زنا کاری پھیلنے کا سبب متعہ کی ممانعت ہے نہ کہ خود عمل متعہ اور حلال و حرام کے جتنے احکام خداوندی پیغمبر اسلام(ص) کے ذریعے امت تک پہنچے ہیں وہ سب کے سب قوم کی بھلائی اور مصلحت پر مبنی تھے اور ہیں اور رہیں گے۔ الی یوم القیامہ۔
اس مقام پر کہنے کے لائق بہت کچھ ہے اور اس عقیدے کے بطلان پر ( کہ دوںوں متعے حرام ہیں) بیشمار شواہد موجود ہیں لیکن ہمارا یہ مختصر جلسہ ان کی تفصیل بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
اس کے علاوہ ہماری گفتگو اس موضوع پر تھی بھی نہیں بلکہ آپ کے تقاضے پر میں نے یہ حکم صرف اس غرض سے نقل کر دیا تھا کہ جناب عالی کی استبعاد رفع ہوجائے، کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر(ص) کے زمانے میں کوئی امر جاری اور نافذ رہا ہو لیکن بعد کو وضعی احادیث کی بنا پر اس کے برخلاف ہوجاۓ، میں نے آپ کو بتانا چاہا تھا کہ جس طرح خدا کے احکام بدل دیئے گئے، حلال و حرام میں تصرف کیا گیا، خمس اور دونوں متعوں کے مستقل احکام جو باتفاق فریقین(شیعہ و سنی) حضرت خاتم الانبیائ(ص) کے زمانے سے خلافت عمر کے آخری دور تک امت میں رائج اور کبار صحابہ و تابعین کے اعمال میں داخل تھے، بعد کو جیسا کہ جابر کی روایت سے ثابت ہے عمرو بن حریث کی خاطر سے بغیر کسی دلیل و برہان کے صرف خلیفہ عمرکی ذ اتی خواہش کی بنا پر اس کے ایک جملے سے منسوخ ہوگئے، حلال خدا حرام بن گیا، اور آج کروڑوں مسلمان بغیر ثبوت کے فقط اسلاف کی پیروی میں اسی جملے اور عقیدے پر جملے ہوۓ ہیں، حالانکہ وجوب خمس، متعہ کے دونوں حکم محکم اور عہد رسول میں ان کے منسوخ نہ ہونے پر قرآنی آیات اور حدیثوں کے دلائل خود آپ کی معتبر کتابوں میں اب تک موجود ہیں۔
مزید بر آں ان احکام پر عمل کرنے والوں کو جن کے منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نہیںبدعتی اور گمراہ کہا جاتا ہے۔ پس دوسرے محلپر بھی کوئی استبعاد باقی نہیں رہتا کہ جناب ابوطالب کے اسلام و ایمان کو بھی جو عہد پیغمبر(ص) اور صدر اسلام میں مشہور و معروف اور امت کی نظر میں قابل احترام تھا حدیث ضحضاح گڑھ کے برعکس مشہور کیا جاۓ اور پھر نا فہم لوگ اپنی عادت اور تقلید کی بنا پر بغیر کسی تحقیق کے حق و صداقت کو پامال اور نسیا منسیؑا بنا دیں۔
اب میں تقریر کو اس سے زیادہ طول نہیں دوں گا، کیونکہ ارباب عقل و دانش کے لئے اسی قدر دلائل کافی ہیں اورصاحبان بصیرت کے سامنے روشن ہے کہ ان جناب کے ایمان پر بہت کثرت سے دلیلیں موجود ہیں لیکن میں اختصار کے خیال سے اسی جگہ مطلب تمام کرتا ہوں۔
ورنہ خوارج و نواصب، بنی امیہ اور ان کے پیرو تو اگر دیکھیں کہ جناب ابوطالب زندہ ہو کر خود اپنی زبان سے کلمہ شہادتیں جاری کر رہے ہیں تب بھی عداوت امیرالمومنین(ع) کی وجہ سے اوجھی تاویلیں کر کے ان الفاظ کا کوئی دوسرا مطلب نکالیں گے۔
آپ حضرات سے کوئی صاحب اگر اس بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہوں تو اپنے اکابر علمائ جیسے جلال الدین سیوطی، ابوالقاسم بلخی، محمد بن اسحاق، ابن سعد، ابن قتیبہ، واقدی، امام موصلی، شوکانی، امام تلمسانی، امام قرطبی، علامہ برزنجی، علی اجہوری، امام شعرانی، امام سجمی اور ابوجعفر اسکافی وغیرہ کی متعبر کتابوں کا مطالعہ کریں، کیونکہ یہ سب رسول خدا صلعم کے ماں باپ اور چچا جناب ابوطالب کے اسلام وایمان کا اعتراف و اعتقاد رکھتے تھے اور اکثر نے اس موضوع پر مشتمل رسالے لکھے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ جو کچھ عرض کیا گیا اس سے معلوم ہوگیا کہ علی علیہ السلام روحانی و جسمانی حیثیت سے اس قدر ممتاز نسب اور پاکیزہ نسل کے مالک تھے کہ صحابہ کبار میں سے ایکبھی ان حضرت کے مقدس مرتبے کو نہیں پہنچتا۔
لقد ظهرت فلا تخفى على أحد إلّا على أكمهَ لا يعرف القمرا
یعنی یقینا یہ بات اس قدر ظاہر ہے کہ کسی کے اوپر مخفی نہیں، سوا اس مادر زاد اندھے کے جو چاند کو نہ دیکھ سکے۔
علی(ع) کا مولد خانہ کعبہ تھا
دوسری خصوصیت جو علی علیہ السلام کو ممتاز کرتی ہے وہ محل و مکان ولادت ہے، کیونکہ آدم سے لے کر خاتم(ص) تک سارے انبیاۓ عظام و اوصیاۓ کرام اور ان کی نیک امتوں میں سے ایک شخص بھی اس خصوصیت عظمی سے سرفراز نہیں ہوا، آپ جس طرح سے نسل و نسب اور جنبہ نورانیت کی حیثیت سے ساری خلقت میں ممتاز تھے اسی طرح جاۓ ولادت کے لحاظ سے بھی ایک نمایاں خصوصیت رکھتے تھے کہ آپ خانہ کعبہ کے اندر متولد ہوۓ اور اس امتیازی شان میں منفرد تھے۔
حضرت عیسی علی نبینا و آلہ و علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر آپ کی مادر گرامی حضرت مریم طاہرہ کو اس غیبی آواز نے بیت المقدس سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا کہ
"اخرجی عن البيت فان هذه بیت العبادة لا بيت الولادة "
(یعنی ( اے مریم) بیت المقدس سے نکل جاؤ کیونکہ یہ عبادت کا گھر ہے زچہ خانہ نہیں ہے۔)لیکن جب علی علیہ السلام کی ولادت
باسعادت کا وقت آیا تو آپ کی مادر گرامی فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کے اندر بلائی گئیں۔ پھر یہ کوئی اتفاقی بات بھی نہیں تھی کہ جیسے کوئی عورت مسجد میں ہو اور دفعتہ وضع حمل ہوجاۓ بلکہ باقاعدہ دعوت کی صورت میں اس گھر کے اندر لے جائی گئیں جس کا دروازہ مقفل تھا بعض ناواقف لوگ یہ وہم کرتے ہیں کہ فاطمہ بنت اسد مسجد کے اندر تھیں کہ اتنے میں ان کو دردِ زہ عارض ہوا اور وہ باہر نہ جاسکیں مجبورا اسی مسجد میں وضع حمل ہوا۔
حالانکہ یہ صورت نہیں تھی فاطمہ بنت اسد کے وضع حمل کا مہینہ تھا، آپ مسجد الحرام گئیں وہاں دردِ زہ عارض ہوا۔مستجار کعبہ مشغول دعا ہوئیں اور درگاہِ الہی میں فریاد کی کہ خداوندا تجھ کو اپنی عزت وجلال کا واسطہ اس دردِ زہ کو مجھ پر آسان فرما۔ ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی دیوار ( جو اس زمانے میں مسجد الحرام کے وسط میں تھی اور اس کا دروازہ زمین کے برابر سے تھا جو ہمیشہ بند اور مقفل رہتا تھا، صرف خاص موسم میں کھولا جاتا تھا) شگافتہ ہوئی یا مقفل دروازہ کھل گیا۔
دوسری روایت میں ہے اور ایک آواز آئی "یا فاطمةادخلیالبیت " اے فاطمہ گھر کے اندر داخل ہوجاؤ بیت اللہ اردگرد بیٹھے ہوۓ مجمع کے سامنے فاطمہ اندر گئیں اور در و دیوار پھر سابق حالت آگئے۔ سب کو بہت تعجب ہوا جناب عباسی بھی موجود تھے، انہوںنے یہ ماجرا دیکھا تو فورا اپنے بھائی جناب ابوطالب کو خبری کیوںکہ دروازے کی کنجی انہیں کے پاس تھی وہ اسی وقت آۓ اور ہر چند کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ تین روز تک فاطمہ بظاہر بغیر کسی دوا و غذا اور تیمار دار کے خانہ کعبہ کے اندر رہیں، مکے کے ہر گھر میں اس غیر معمولی واقعے کا چرچا ہورہا تھا یہاں تک کہ تیسرے روز جہاں سے داخل ہوئی تھیں اسی جگہ پھر راستہ بنا اور فاطمہ باہر آئیں۔ لوگوں نے ہجوم کیا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں پر ایک چاند سا بیٹا ہے جو آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔
اسد اللہ در وجود آمددر پس پردہ ہر چہ بود آمد
یہ خصوصیت اور امتیاز علی علیہ السلام کے لئے مخصوص ہو کے رہ گیا کہ ان کا مولد خانہ کعبہ تھا اور وہ بھی اس خصوصی دعوت کے ساتھ کہ ان کی مادر گرامی گھر کے اندر بلائی گئیں۔
اس مسئلے میں فریقین 0 شیعہ و سنی) کا اتفاق ہے ہے کہ آپ سے قبل یا بعد کسی اور کو یہ شرفِ خاص حاصل نہیں ہوا چنانچہ حاکم مستدرک میں اور نور الدین بن صباغ مالکی فصول المہمہ فصل اول نمبر14 میں کہتے ہیں۔
" و لم يولد في بيت الحرام قبله أحد سواه و هي فضيلة خصه الله تعالى بها إجلالا له و إعلاء لمرتبته و إظهارا لتكریمه "
یعنی علی(ع) سے قبل آپ کے سوا اور کسی کی ولادت خانہ کعبہ میں نہیں ہوئی اور یہ وہ فضیلت ہے جو خداۓ تعالی نے آپ کی عزت افزائی، آپ کا مرتبہ بلند کرنے اور آپ کی تعظیم و تکریم کے اظہار کے لئے آپ کی ذات سے مخصوص کردی۔
عالم غیب سے علی(ع) کا نام اور ایمان ا بوطالب(ع) پر ایک اور دلیل
دوسری خصوصیت جو اسی سلسلے میں علی علیہ السلام کے لیے ظاہر ہوئی اور آپ کی مزید شرافت و بزرگی کا باعث ہوئی وہ عالم غیب سے حضرت کا نام رکھا جانا ہے۔
شیخ : یہتو آپ نے انوکھی بات کہی گویا، ابوطالب پیغمبر تھے کہ ان کے اوپر وحی نازل ہوئی کہ بچے کا نام علی رکھو۔ آپ کا یہ بیان قطعا ان پروپیگنڈوں میں سے ہے جو شیعوں نے اپنے عشق و محبت میں وضع کئے ہیں، ورنہ اس کی کوئی صورت ہی نہیں کہ خدا بچے کا نام علی رکھنے کے لئے حکم دے۔ علی ایک معمولی نام تھا جو ماں باپ نے اپنی مرضی اور ارادے سے آپ کے لئے تجویز کیا عالم غیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خیر طلب: میں نے تو ہرگز کوئی انوکھی بات نہیں کہی جس پر آپ کو تعجب ہوا۔ البتہ آپ کی یہ حیرانی در اصل مرتبہ ولایت سے اجنبیت کی وجہ سے ہے۔
چونکہ آپ نے چندجملے ایک دوسرے سے مخلوط کر کے بیان کئے ہیں لہذا ان کو الگ الگ کر کے ہر ایک کا جواب علیحدہ علیحدہ عرض کرتا ہوں۔
اولا آپ سوچتے ہیں کہ بچے کا نام ولادت کے بعد رکھا گیا، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں میں محمد(ص) و علی علیہما الصلوۃ والسلام کے نام نبوت و امامت کے عنوان سے ذکر ہوۓ ہیں کیونکہ ان دونوں بزرگواروں کے نام خداۓ تعالی نے خلقت سے ہزاروں سال قبل رکھے تھے جو تمام آسمانوں، جنت کے دروازون اور عرش الہی پر لکھ دیئے گئے تھے۔ ابوطالب کے زمانے سے اس کا تعلق نہیں۔
شیخ : آیا آپ کا یہ بیان غلو نہیں ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ کو اس قدر اونچا اٹھائیے کہ خلقت خلائق سے پہلے عالم ملکوت میں پیغمبر(ص) کے نام گرامی کے ساتھ ان کا نام بھی درج کردیجئے حالانکہ پیغمبر(ص) کی ذات کے مانند آپ کا نام بھی سب سےبالاتر ہے اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ آپ حضرات کے اسی قسم کے بیانات کا نتیجہ ہے کہ اذان و اقامت میں آپ کے فقہائ کے فتوے پر نام پیغمبر(ص) کے بعد علی کا نام واجب سمجھ کے لیا جاتا ہے۔
خیر طلب: ( مسکرتے ہوئے) نہیں جناب، میرے اس بیان کو قطعا غلو سے کوئی ربط نہیں ہے۔ اور ملکوت اعلی میں اس نام مبارک کو میں نے لکھا بھی نہین ہے جو آپ مجھ سے منسوب کر رہے ہیں، بلکہ خود خداۓ تعالی نے اپنے اور اپنے رسول کے نام کے ساتھ آپ کا نام لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ کی متعبر کتابوں کے اندر اس بارے میں کافی روایتیں موجود ہیں۔
شیخ : حیرت ہے کہ آپ نے تو غلو کو ایک درجہ اور بڑھا دیا کہ علی کے نام کو خداۓ عزو جل کے نام سے ملحق کردیا؟ اگر ممکن ہو تو ذرا ان روایتوں میں سے کسی کا حوالہ دیجئے۔
نام خدا و رسول(ص) کے بعد عرش پر علی(ع) کا نام درج ہے
خیر طلب : محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں، ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بسلسلہ حالات علی علیہ السلام، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب بات62 میں، حافظ ابونعیم نے حلیتہ الاولیائ میں اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ( مطبوعہ اسلامبول صفحہ238) بات56 حدیث 52 میں ذخائر العقبی امام الحرم احمد بن عبداللہ طبری شافعی سے نقل کرتے ہوۓ ابوہریرہ کی سند سے ( بعض الفاظ کی مختصر الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ) روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"مكتوب على ساق العرش: لا إِلهَ إِلَّااللَّهُ وحده لا شريك له، و محمّد عبدي و رسولي أيّدته بعليّ بن ابی طالب"
یعنی ساق عرش پر لکھا ہوا ہے کہ سواۓ وحدہ لاشریک کے کوئی خدا نہیں اور محمد(ص) میرا بندہ اور رسولہے جس کی میں نے علی ابن ابی طالب کے ذریعے تائید کی ہے۔
جلال الدین سیوطی نے خصائص الکبری جلد اول ص10 اور تفسیر درمنثور اوائل سورہ بنی اسرائیل میں ابن عدی اور ابن عساکر سے نقل کیا ہے اور انہوںنے انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا، میں نے ساق عرش پر لکھا ہوا دیکھا۔
« لا إله إلّا اللّه محمّد رسول اللّه أيّدته بعليّ"
( یعنی سوا اللہ کے کوئی خدا نہیں) محمد اللہ کے رسول ہیں، میں نے علی(ص) کے ذریعے ان کی حمایت کی ہے۔(مترجم12)
ینابیع المودۃ ص207 میں ذخائر العقبی امام الحرم سے بروایت سیرت ملا منقول ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا، شبِ معراج جب مجھ کو ملکوت اعلی میں لے گئے تو:
" نظرت الی ساق الایمن من العرش فرایت مکتوبا محمد رسول اللّه ایدته بعلی ونصرته به"
یعنی میں نے داہنی جانب ساق عرش پر نظر کی تو دیکھا کہ لکھا ہوا ہے، محمد اللہ کے رسول(ص) ہیں میں نے علی کی ذات سے انکی تائید ونصرت کی ہے۔
نیز ینابیع المودت ص234 حدیث نمبر19 میں کتاب السبعین امام الحرم سے بحوالہ مناقب فقیہ واسطی ابن مغازلی شافعی میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودت القربی مودت ششم میں دو حدیثیں، خطیبخوارزمی نے مناقب میں، ابن شیرویہ نے فردوس میں اور ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں سب نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"مكتوب على باب الجنّة، لا إله إلّا اللّه محمّد رسول اللّه، عليّ أخو رسول اللّه قبل أن تخلق السّماوات و الأرض بألفي عام"
یعنی
یعنی پس درخت کے نیچے سے ان کو آواز دی کہ غم نہ کرو کیونکہ خدا نے تمہارے پاؤں کے نیچے چشمہ جاری کردیا ہے اور اپنی طرف درخت خرما کی شاخ کو حرکت دو تاکہ تمہارے لئے تازہ خرمے گریں پس ان کو کھاؤ اور پانی پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، اور اگر کسی آدمی کو دیکھو کہ (اشارے سے) کہو کہ میں نے خدا کے لئے ( خاموشی کے ) روزے کی نذر کی ہے۔ لہذا آج کسی شخص سے بات نہیں کروں گی۔) پس جس طرح وحی یا منادی کی آواز کے ذریعے شہد کی مکھی او نو خابذ مادر حضرت موسی اورمریم مادر حضرت عیسی کو ہدایت دی ہے حالانکہ ان میں سے کوئی پیغمبر نہیں تھا، اسی طرح جناب ابوطالب کو بھی اپنے فرزند کا نام رکھنے کے لیے ہدایت دی۔
نیز کسی نے یہ نہیں کہا کہ جناب ابوطالب پیغمبر تھے یا ان پر وحی نازل ہوئی بلکہ نداۓ آسمانی اور ایک لوح کے نزول سے جس میں نوزائیدہ بچے کا نام رکھنے کی ہدایت درج تھی ان کی رہنمانی کی گئی، چنانچہ خود آپ کے اکابر علمائ نے اس کو اپنی معتبر کتابوں میں تحریر کیا ہے۔
نام علی(ع) کے لئے ابوطالب(ع) پر لوح کا نزول
میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی نے مودۃ القربی کی مودت ہشتم میں بروایت عباس ابن عبدالمطلب جس کو سلیمان بلخی حنفی نے بھی ینابیع المودت باب56 میں نقل کیا ہے، اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے سو100 باب کےبعد باب7 میں الفاظ کے مختصر اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جب علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو آپ کی ماں فاطمہ نے اپنے باپ کے نام پر آپ کا نام اسد رکھا۔ جناب ابوطالب اس نام پر راضی نہیں ہوۓ اور فرمایا کہ فاطمہ آؤ آج رات کو ہم لوگ کوہ قبیس پر چلیں ( بعض نے کہا ہے کہ فرمایا مسجد الحرام میں چلیں) اور خدا سے دعا کریں شاید وہ ہم کو اس بچے کے لئے کسی نام کی خبر دے، جب رات ہوئی تو دوںوں کوہ ابوقبیس پر( یا مسجد الحرام میں) پہنچ کر دعا میں مشغول ہوۓ اور جناب ابوطالب نے دعا کو نظم کر کے اس طرح کہا:
يا ربّ هذا الغسق الدجيّ و القمر المبتلج المضيّ
بيّن لنا من(عن)امرك الخفی(لمقضيّ)ما ذا ترى في اسم ذا الصبيّ؟
لما تسمی لذاک العبی
یعنی اے اس اندھیرے رات اور روشن ومنور چاند یا صبح کے پروردگار! اپنے امر پہناں یا اپنی مرضی سے ہم پر ظاہر کردے کہ تو اس بچے کا نام کیا تجویز کرتا ہے؟ اس وقت آسمان کی طرف سے ایک آواز آئی، ابوطالب نے سر اٹھایا تو زبرجد سبز کے مانند ایک لوح نظر آئی جس پر چار سطریں لکھی ہوئی تھیں، انہوں نے لوح کو لے کر اپنے سینے سے لگایا اور پڑھا تو یہ اشعار درج تھے:
خُصِّصْتُمَا بِالْوَلَدِ الزَّكِيِ وَ الطَّاهِرِ الْمُنْتَجَبِ الرَّضِيِ
واسْمُهُ مِنْ قاهِرِالعَلِيٍ عَلِيٌّ اشْتُقَّ مِنَ الْعَلِيِ
یعنی میں نے تم دنوں کو پاک و پاکیزہ اور منتخب و پسندیدہ فرزند کے ساتھ مخصوص کیا۔ اس کا نام خداۓ علی کی جانب سے علی(ع) رکھا گیا ہے جو علی اعلیٰ سے مشتق ہے۔
گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں نقل کیا ہےکہ ایک آواز آئی جس نے ابوطالب کے جواب میں ی دو شعر سناۓ
یا اهلبیت المصطفی النبیخصصتم بالولدالزکی
ان اسمهم نشامخالعلیعلیاشتق من العلی
یعنی اے برگزیدہ پیغمبر کے گھر والوں میں نے ایک پاک و پاکیزہ بچے سے تم کو خصوصیت دی۔ یقینا اس کا نام خداۓ بزرگ و برتر کی طرف سے علی رکھا گیا ہے جو اس کے نام"علی" سے مشتق ہے۔
"سرّ ابوطالب سرورا عظيما وخر ساجد الله تبارک وتعالیٰ"
یعنی پس ابوطالب کو انتہائی مسرت و شادمانی حاصل ہوئی اور خداۓ عزوجل کے لئے سجدے میں گر پڑۓ۔
اس کے بعد اس امر عظیم کے شکرانے میں دس اونٹ قربانی کئے اور اس لوح کو مسجد الحرام میں لٹکا دیا بنی ہاشم اس لوح کی وجہ سے قریش پر فخر کرتے تھے اور وہ اسی طرح رہی یہاں تک کہ عبداللہ ابن زبیر سے حجاج کی جنگ کے زمانے میں غائب ہوگئی۔
یہ روایت بھی مذکورہ بالا روایتوں اور دلیلوں کیتائید کرتی ہے کہ ابوطالب ہمیشہ سے موحد اور با ایمان تھے چنانچہ اسی بنا پر خدا سے نام معین کرنے کا سوال کیا اورجس وقت رحمت الہی کا ایسا فیضان دیکھا تو خاک پر گر پڑے اور خداۓ وحدہ لاشریک کا سجدہ بجالاۓ۔ آیا ایسا شخص جو ایک جدید نعمت سےسر فراز ہوتے ہی خاک پر گر کے خدا کا سجدہ ادا کرے اس کو مشرک کہا جاسکتا ہے؟ خدا کی پناہ اس جاہلانہ تعصب وعناد سے۔
علی(ع) کا نام اذان و اقامت کا جزئ نہیں ہے
آپ نے جو یہ فرمایا کہ شیعہ فقہا کے فتوے سے اذان و اقامت میں علی علیہ السلام کا نام لینا واجب سمجھا جاتا ہے
تو یہ آپ کا جان بوجھ کے انجان بننا ہے، بہتر ہوتا کہ آپ ایسے کسی ایک ہی فتوے کا پتہ دیتے جس میں حضرت کے نام کو اذان و اقامت کا جزئ کہا گیا ہو۔ در آں حالیکہ ساری استدلالی کتابوں اور عملیہ رسالوں میں تمام شیعہ فقہائ نے بالاتفاق یہی بیان کیا ہے کہ ولایت حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی شہادت جزئ ایمان نہیں ہے اور اس کو اذان واقامت میں بقصد جزئیت کہنا حرام ہے، اگرنیت کے وقت مجموعی طور پر حضرت کے نام کےساتھ قصد کیا جاۓ تو نہ صرف یہ کہ فعل حرام ہوگا بلکہ عمل بھی باطل ہو جاۓ گا۔ البتہ رسول (ص) خدا کا نام ذکر کرنے کے بعد بغیر قصد جزئیت کے تیمن و تبرک کی نیت سے علی علیہ السلام کا نام لینا مطلوب و مستحسن ہے، اس لئے کہ خدا نے ہر مقام پر پیغمبر(ص) کے نام کے بعد آپ کا نام لیا ہے، جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے۔ پس آپ حضرات بلاوجہ شور و ہنگامہ مچاتے ہیں۔ غالبا اسی قدر کافی ہوگا لہذا ہم پھر اصل مطلب پر آتے ہیں کہ اگر آپ حضرات ذرا گہری نظر ڈالیں تو ثابت ہوگا کہ نسل و نسب کے اعتبار سے صحابہ کبار میں سے ایک بھی امیرالمومنین علی علیہ السلام کا مثل نہیںتھا۔
علی علیہ السلام کا زہد و تقویٰ
رہا زہد و تقوی اور پرہیزگاری کا موضوع تو یہ حضرت کی وہ خصوصیت ہے جس میں عالم کے اندر کوئی دوسرا آپ کی برابری نہیں کہ سکتا، کیونکہ امت کے اندر دوست دشمن سبھی کا اجماع ہے کہ رسول خدا(ص) کے بعد کوئی امیرالمومنین سے زیادہ عابد و زاہد اور متقی شخص نہیں دیکھا گیا، چنانچہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور محمد ابن طلحہ شافعی مطالب السئول میں بنی امیہ کی مشہور فرد عمرابن عبدالعزیز سے نقل کرتے ہیں کہ آپ پرہیزگاری میں اپنے زمانے کے سارے انسانوں سے بلند و ممتاز تھے، وہ کہتے ہیں:
"مَا عَلِمْنَا أَحَداً كَانَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ النَّبِيِّ أَزْهَدَ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ."
یعنی ہم نہیں جانتے کہ رسول خدا(ص) کے بعد اس امت میں کوئی شخص علی ابن ابی طالب سے زیادہ زاہد و پرہیزگار رہا ہو۔
ملا علی توشطی اپنے انتہائی تعصب کے با وجود اپنی کتاب کے اکثر مقامات پر کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام کے بارے میں عقلمندوں کی عقلیں مبہوت ہیں کیونکہ آپ نے پچھلے اور اگلے لوگوں کے کارناموں پر خط نسخ کھینچ دیا اور شرح تجرید میں کہتے ہیںکہ انسان علی علیہ السلام کے حالات اور طریقہ زندگی کو سن کر دم بخود ا ور حیران رہ جاتا ہے۔
عبداللہ بن رافع کی روایت
من جملہ عبداللہ رافع کی روایت ہے کہ ایک روز میںافطار کے وقت امیرالمومنین علیہ السلام کے یہاں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت کے سامنے ایک سر بہر کیسہ لایا گیا، جب آپ نے اس کو کھولا تو اس میں بغیر چھنا ہوا آٹا تھا جس میں کافی بھوسی ملی تھی۔
آپ نے اس میں سے تین مٹھی آٹا لے کرنوش فرمایا اور اوپر سے ایک گھونٹ پانی پی کر شکر خدا بجا لاۓ۔ مین نے عرض کیا کہ یا اباالحسن آپ نے تھیلی کے منہ پر مہرکس لئے لگائی ہے؟ فرمایا اس لئے کہ حسنین (علیہما السلام) چونکہ مجھ سے محبت کرتے ہیں لہذا ہوسکتا ہے کہ اس میں روغن زیتوں یا شیرینی شامل کردیں اور علی کا نفس اس کا کھانے سے لذت حاصل کرے۔
بدیہی چیز ہے کہ دنیا کی مباح لذتوں میں بھی نفس کو آزادی دینے سے رفتہ رفتہ بغاوت وسرکشی پیدا ہوتی ہے جو آدمی کو خدا کی یاد سے غافل کردیتی ہے۔
علی علیہ السلام اپنے نفس کو اسی بنا پر لذیذ غذاؤں سے باز رکھتے تھے تاکہ نفس کا غلبہ نہ ہوجاۓ اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب51 میں اس روایت کو احنف بن قیس سے نقل کیا ہے۔
سوید بن غفلہ کی روایت
نیز شیخ نے ینابیع المودت میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں اور طبری نے اپنیتاریخ میں سوید بن غفلہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں میں ایک روز امیرالمومنین کی خدمت میں مشرف ہوا تو دیکھا کہ ایک ایسے کھٹے دودھ کا پیالہ حضرت کے سامنے رکھا ہوا ہے کہ اس کی ترشی کی بو میری ناک تک آرہی تھی اور ایک بھوسی ملی ہوئی سوکھی روٹی دست مبارک میں ہے جو اس قدر خشک ہے کہ توڑے نہیں ٹوٹتی۔ حضرت اس کو زانوۓ مبارک سے دبا کرتوڑتے تھے اور اس کھٹے دودھ میں نرم کر کے تناول فرماتے تھے، مجھ کو کھانے کی دعوت دی تو میں نے عرض کیا کہ میں روزے سے ہوں، فرمایا، میں نے اپنے حبیب حضرت رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ جو شخص روزے سے ہو اور کسی کھانےکی طرف رغبت کرے پھر خدا کے لئے اس کو نہ کھاۓ تو خدا اس کو بہشت کے کھانے کھلاۓ گا۔
سوید کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام کی حالت پر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے حضرت کی خادمہ فضہ سے جو میرے قریب ہی تھیں کہا کہ تم خدا سے نہیں ڈرتیں جو بغیر جو کی بھوسی نکالے ہوۓ روٹی پکاتی ہو؟ فضہ نے کہا خدا کی قسم خود حضرت نے حکم دیا ہے کہ بھوسی نہ نکالی جاۓ۔
حضرت نے فرمایا تم فضہ سے کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ کہا تھا کہ آٹے کی بھوسی کیوں نہیں نکالتیں؟ حضرت نےفرمایا میرے ماں باپ فدا ہوں رسول اللہ(ص) پر کہ آں حضرت(ص) بھوسی الگ نہیں فرماتے تھے اور کبھی تین روز تک برابر گیہوں کی روٹی سے سیر نہیں ہوۓ یہاں تک کہ دنیا سے اٹھ گئے (یعنی میں رسول خدا(ص) کی تاسی کرتا ہوں)
علی علیہ السلام کا حلوا نہ کھانا
موفق بن احمد خوارزمی اور ابن مغازلی فقیہ شافعی ا پنےمناقب میں نقل کرتے ہیں کہ خلافت ظاہری کے زمانے میں ایک روز علی علیہ السلام کے لئے عمدہ حلوا لایا گیا، آپ نے انگشت مبارک سے تھوڑا سا اٹھا کر سونگھا اور فرمایا کس قدر خوش رنگ اور خوشبودار ہے لیکن علی اس کے مزے سے واقف نہیں( مطلب یہ کہ میں نے اب تک حلوا کھایا ہی نہیں) میں نے عرض کیا یا علی(ع)، کیا حلوا آپ کے لئے حرام ہے؟ فرمایا حلال خدا حرام نہیں کرتا لیکن میں خود اپنا شکم کیوں کر سیر کروں جب کہ ملک میں بہت سے بھوکے پیٹ والے بھی موجود ہیں۔
" ایت بطنا فاوحول الحجاز بطون عوثی و اکباد حرا و کیف ارضی بان اسمی امیرالمومنین ولا اشارکهم فی خشونةالعسروشدائدالضروالبلوی"
یعنی کیا میں شکم سیر ہو کر سوؤں حالانکہ اطراف حجاز میں گرسنہ پیٹ اور بھنتے ہوۓ جگر موجود ہیں؟ میں کس طرح رضامند ہوں اس پر کہ میرا نام امیرالمومنین ہو اور عسرت کی سختی اور رنج و بلا کے شدائد میں ان کا شریک نہ بنوں؟
نیز خوارزمی عدی بن ثابت سے نقل کرتے ہیں کہ ایک روز آپ کے لئے فالودہ لایا گیا لیکن آپ نے اپنے نفس کو دبا دیا اور اس کو نوش نہیں فرمایا۔
یہ ہیں حضرت کی خوارک کے نمونے کہ کبھی سرکہ کبھی نمک کبھی تھوڑی سبزی اور کبھی دودھ کے ساتھ جو کی سوکھی ہوئی روٹی تناول فرماتے تھے اور کسی وقت ایک دسترخوان پر دو قسم کی غذائیں مہیا نہیں فرماتے تھے۔ سنہ 40 ہجری میں ماہ رمضان المبارک کی انیسویں شب جس میں عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کے ہاتھ سے حضرت کو ضربت شہادت لگی، آپ افطار کے لئے اپنی بیٹی ام کلثوم کے مہمان تھے دسترخوان پر روٹی و دودھ اور نمک رکھا گیا تو باوجودیکہ اپنی بیٹی ام کلثوم کو انتہائی عزیز رکھتے تھے حضرت نے غصے کے ساتھ فرمایا کہ میں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ کوئی لڑکی اپنے باپ پرتمہاری طرح جفا کرے۔ام کلثوم نے عرض کیا کہ بابا میں نے کون سی جفا کی ہے؟ فرمایا تم نے کب دیکھا ہے کہ تمہارا باپ ایک دسترخوان پر دو طرح کی غذائیں جمع کرے؟ پھر حکم دیا کہ دودھ اٹھا لیا جاۓ کیوں کہ وہ زیادہ لذیذ تھا، اور روٹی کے چند لقمے نمک کے ساتھ تناول فرماۓ اس کے بعد ارشاد فرمایا:
"في حلال الدنيا حساب و في حرامها عذاب عقاب "
یعنی دنیا کے حلال میں حساب اور اس کے حرام میں عذاب وعقاب ہے۔
علی علیہ السلام کا لباس
حضرت کا لباس بھی بہت سادہ اور کم قیمت ہوتا تھا۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، ابن مغازلی فقیہ شافعینے
مناقب میں، امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ میں اور آپ کے دیگر علمائ نے لکھا ہے:
"و کان علیهإزار غليظ اشتراه بخمسة دراهم، "
یعنی آپ کا لباس موٹے کپڑے کا تھا جو آپنے پانچ درہم میں خریدا تھا۔
جہاں تک ممکن ہوتا تھا آپ اپنے لباس میں پیوند لگاتے رہتے تھے اور زیادہ تر پیوند چمڑے یا خرمے کی چھال کے ہوتے تھے۔ حضرت کی کفش لیف خرما کی ہوتی تھی۔ محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے لباس میں اتنے پیوند لگاۓ تھے کہ حضرت کی خلافت و ریاست ظاہری کے زمانے میں اس کو دیکھ کر آپ کے ابن عم عبداللہ ابن عباس کو صدمہ ہوا تو آپ نے فرمایا :
"لقد رفعت مرقعةحتی استحییت من راقعه امالعلی من زینةالدنیاکیف نفرح بلذة تفنی ونعیم لایبقی"
میں نے اس قدر پیوند کے اوپر پیوند لگواۓ ہیں کہ مجھ کو پیوند لگانے والے سے شرم آنے لگی ہے۔ علی کو زینت دنیا سے کیا کام؟ میں کیونکر خوش ہوں اس لذت پر جو مٹ جاۓ گی اور اس نعمت پر جو باقی نہ رہے گی۔
ایک اور شخص نے حضرت پر اعتراض کیا کہ آپ ریاست وخلافت کے زمانے میں بھی کس لئے پیوند دار کپڑے پہنتے ہیں جس سے دشمن آپ کو حقیر سمجھتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ وہ لباس ہے جو دل کو دباتا ہے، غرور کو انسان سے دور کرتا ہے اور مومن اس کی اقتدا کرتا ہے۔
نیز محمد بن طلحہ نے مطالب السئول میں، خوارزمی نے مناقب میں، ابن اثیر نے کامل میں اور سلیمانبلخی نے ینابیع المودۃ میں روایت کی ہے کہ علی علیہ السلام اور ان کے غلام کا لباس یکساں ہوتا تھا۔ آپ ایک نمونے اور ایک ہی قیمت کے دو کپڑے خریدتے تھے۔ ایک خود پہنتے تھے اور دوسرا اپنے غلام قنبر کو دےدیتے تھے۔ یہ تھی حضرت علی علیہ السلام کی خوراک و پوشاک کی مختصر کیفیت جس کو آپ کے علمائ نے بھی درج کیا ہے، اور میں نے وقت جلسہ کے لحاظ سے اختصار کی کوشش کی ہے ورنہ حضرت کے مفصل حالات محیرالعقول ہیں۔ حضرت جو کی خشک روٹی خود کھاتے تھے اور گیہوں کی روٹی شکر شہد اور خرما فقیروں، یتیموں اور محتاجوں کو کھلاتے تھے، خود پیوند دار لباس پہنتے تھے لیکن یتیموں اور بیواؤں کو نفیس کپڑے پہناتے تھے۔
معاویہ سے ضرار کی گفتگو
حضرت کے زہدو تقوی اور دنیا سے بے اعتنائی کے ثبوت میں آپ کا وہ کلام کافی ہے جس کے سامنے دنیاۓ دنی سے کسی اور کا خطاب نہیں ٹھہر سکا۔ چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح النہج البلاغہ میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیائ جلد اول ص84 میں، شیخ عبداللہ بن عامر شیراذی شافعی نے کتاب الاتحاف بحب الاشراف ص8 میں، محمد بن طلحہ نے مطالب السئول ص33میں، نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص128 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب51 میں، سبط ابن جوزی
نے تذکرۃ الخواص الامہ آخر باب5 میں اور آپ کے دوسرےبڑے بڑے علمائ مورخین نے ضرار بن ضمرہ کے ساتھ معاویہ کے جو مفصل مذاکرات نقل کئے ہیں ان میں ضرار نے معاویہ کے سامنے آخر گفتگو میں علی علیہ السلام کی تعریف اس طرح کی ہے:
" لقد رأيته في بعض مواقفه و قد أرخى الليل سدوله و غارت نجومه قابض على لحيته يتململ تململ السقيم و يبكي بكاء الحزين و يقول يَا دُنْيَا غُرِّي غَيْرِي أَ بِي تَعَرَّضْتِ أَمْ إِلَيَّ تَشَوَّقْتِ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ طَلَّقْتُكِ ثَلَاثاً لَا رَجْعَةَ لِي فِيكِ فَعُمُرُكِ قَصِيرٌ و خطرک کبیر وَ عیشک حَقِيرٌ آهِ مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وَ بُعْدِ السَّفَرِ وَ وَحْشَةِ الطَّرِيقِ فبکی معاوية و قال رحم الله اباالحسن لقد كان و الله كذلك "
یعنی میں نے بعض مواقع پر علی علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے، ستارے چھٹکے ہوۓ ہیں اور آپ اپنی ریش مبارک کو پکڑے ہوۓ مارگزیدہ کے مانند تڑپ رہے ہیں اور بہت کرب کے ساتھ رو رو کر کہہ رہے ہیں کہ اے دنیا میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے، کیا تو مجھ سے لپٹتی ہے اور میری طرف راغب ہے؟ تو یہ بات کو سوں دور ہے، میں نے تجھ کو تین طلاق دۓ ہیں جس کے بعد پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے، کیوں کہ تیری عمر کوتاہ، تیرا خطرہ بہت بڑا اور تیرا عیش بہت ذلیل ہے فریاد ہے زاد راہ کی کمی ہے، سفر کی دوری سے اور راستے کی وحشت سے۔ پس معاویہ نے رونا شروع کیا اور کہا خدا رحم کرے ابوالحسن (علی) پر واللہ یقینا وہ ایسے ہی تھے۔
دوسرے مقام پر معاویہ ہی کا قول ہے" عقمت النساء أن يلدن مثل علي ابن ابی طالب" یعنی عورتیں علی ابن ابی طالب ایسا انسان پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔
زہد کے لئے علی علیہ السلام کو پیغمبر(ص) کی بشارت
امیرالمومنین علیہ السلام کا زہد فیوض ربانی میں سے ایک ایسا فیض ہے جس کی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو بشارت دی ہے۔چنانچہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب46 میں عمار یاسر سے ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ علی علیہ السلام سے فرمایا:
"إن اللّه قد زيّنك بزينة لم يزيّن العباد بزينة أحبّ الى اللّه الزهد في الدنيا و جعلك لا تفال من الدنیا شيئا، و لا تنال الدنیا منک شیئاو وهب لك حبّ المساكين، فرضوا بک اماما و رضیت اتباها فطوبی لمن احبک و صدق فیکو ويل لمن أبغضك و كذب عليك، فأما الذین أحبّوك و صدقوا فيك، فاولئك جيرانك في دارك و رفقائک فی قصرک، وأما الذینأبغضوك و كذبوا عليك، فحقّ على اللّه أن يوقفهم موقف الكذابين یومالقیمة."
یعنی در حقیقت خداوند عالم نے تم کو اس زینت سے آراستہ کیا ہے کہ بندوں میں کسی اور کو ایسی زینت سے نہیں سنوارا جو خدا کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو، اور وہ ہے زہد فی الدنیا۔ تم کو ایسا بنا دیا کہ نہ تم دنیا سے
بہرہ اندوز ہوتے ہو نہ دنیا تم کو اپنے سے وابستہ کرسکتی ہے۔ تم کو مسکینوں اور محتاجوں کی محبت عطا کی پس وہ تمہاری امامت پر راضی ہوۓ اور میں بھی ان سے تمہاری پیروی کی وجہ سے رضامند ہوا۔ پس خوشا حالی اس کا جس نے تم کو دوست رکھا اور تمہاری تصدیق کی، اور واۓ ہو اس کے لئے جو تم سے دشمنی رکھے اور تمہاری تکذیب کرے۔ جن لوگوں نے تم سے محبت رکھی اور تمہاری تصدیق کی وہ جنت میں تمہارے پڑوسی اور تمہارے قصر میں تمہارے مصاحب ہوں گے، اور جن لوگوں نے تم کو دشمن رکھا اور تم کو جھٹلایا تو خدا پر لازم ہے کہ قیامت کے روز ان کو جھوٹوں کی منزل پر ٹھہرا کر کیفر کردار کو پہنچاۓ۔
آپ زہد و روع اور پرہیزگاری میں اس قدر کامل تھے کہ دوست و دشمن سبھی آپ کو امام المتقین کہتے تھے۔ اور صرف لوگوں ہی نے آپ کو امام المتفقین کا لقب نہیں دیا تھا بلکہ جس نے سب سے علی(ع) کو اس لقب سے پکارا اور آپ کو باربار اس لقب کے ساتھ امت میں روشناس کرایا وہ حضرت خاتم الانبیائ(ص) کی مقدس ذات تھی، چونکہ وقت تنگ ہے اور تفصیل سے روایتیں پیش کرنے کا موقع نہیں ہے، لہذا صرف نمونے کے لئے چند حدیثوں پر اکتفا کرتا ہوں۔
خدا و رسول(ص) نے علی(ع) کو امام المتقین فرمایا
ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص450 میں، حافظ ابونعیم اصفہانی حلیتہ الاولیائ میں، میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب54 میں انس ابن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اکرم(ص) نے مجھ سے فرمایا اے انس میرے واسطے وضو کا پانی لے آؤ، میں اٹھ کر پانی لایا تو آں حضرت(ص) وضو کر کے دو رکعت نماز بجالاۓ۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا اے انس:
" أول من يدخل من هذا الباب هو إمام المتقين، و سيد المسلمين، و يعسوب المؤمنين، و خاتم الوصيين، و قائد الغر المحجلين"
پہلا جو شخص اس دروازے سے داخل ہو وہ اہلِ تقوے کا امام، مسلمانوں کا سردار، مومنین کا بادشاہ( جس طرح شہد کی مکھیوں کا بادشاہ یعسوب ہوتا ہے) اوصیائ کا خاتم اور روشن چہروں اور ہاتھوں والے لوگوں کو (جنت کی طرف) لے جانے والا ہے۔
انس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا خداوند اس آنے والے کو اںصار میں سے قرار دے، لیکن اپنی دعا کو پوشیدہ رکھا۔ اتنے میں دیکھا کہ علی(ع) دروازے سے داخل ہوۓ۔ پیغمبر(ص) نے فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا علی ابن ابی طالب ہیں پس آنحضرت(ص) نے ہنسی خوشی کے ساتھ اٹھ کر علی(ع) کا استقبال کیا، ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور ان کے چہرے سے پسینہ پونچھا۔ علی(ع) نے عرض کیا رسول اللہ(ص) آج مجھ سے وہ برتاؤ کر رہے ہیں جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا کیونکر نہ کروں در آں حالیکہ تم میری جانب سے میری رسالت کو امت والوں تک پہنچاؤگے، میری آواز ان کو سناؤگے اور میرے بعد وہ جس چیز میں اختلاف کریں گے ان کے سامنے اس کی وضاحت کرو گے۔
نیز ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد دوم میں اور حافظ ابونعیم حلیتہ الاولیائ میں نقل کرتے ہیں کہ ایک روز علی علیہ السلام رسول خدا(ص) کے پاس حاضر ہوۓ تو آں حضرت نے فرمایا :مرحبابسید المسلمین و امام المتقین (یعنی خوش آمدید ہے مسلمانوں کے سردار اور پرہیزگاروں کے امام کو۔ 12 مترجم) پھر فرمایا کہ اس نعمت پر تمہارا شکر کیسا ہے؟ عرض کیا کہ میں حمد کرتا ہوں خدا کی اس نعمت پر جو مجھ کو عنایت کی ہے اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ مجھ کو شکر کیتوفیق عطا فرماۓ اور جو کچھ مجھ پر انعام فرمایا ہے اس میں اضافہ کرے۔ محمد بن طلحہ شافعی بھی مطالب السئول باب اول فصل چہارم کے آخر میں اس حدیث کو نقل کرتے ہیں اور اسی دلیل سے اہل تقوی پر حضرت کی امامت اور برتری کو ثابت کرتے ہیں۔
حاکم مستدرک جزئ سیم ص138 میں اور بخاری و مسلم اپنی صحیحیں میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا علی(ع) کے بارے میں مجھ پر تین چیزوں کی وحی ہوئی۔
"انه سيد المسلمين،و إمام المتقين، و يعسوب المؤمنين، و قائد الغر المحجلين"
یعنی در حقیقت وہ مسلمانوں کے سید و آقا، اہل تقوےٰ کے پیشوا اور روشن چہرے اور ہاتھ والوں کو ( بہشت کی طرف) کھینچنے والے ہیں۔
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب45 میں سند کے ساتھ عبداللہ بن اسعد بن زرارہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا، شب معراج جب مجھ کو آسمان پر لے گئے تو موتی کے ایک قصر میں پہنچایا، جس کا فرش چمکتے ہوۓ سونے کا تھا:
" فأوحي إلى في علي بثلاث خصال بأنه سيد المسلمين و إمام المتقين و قائد الغر المحجلين"
یعنی پس میری طرف وحی کی اور مجھ کو علی کے بارے میں تین خصلتوں کی ہدایت کی کہ وہ یقینا مسلمانوں کے سیدو سردار، اہل تقوی کے امام و پیشوا اور روشن چہرے اور ہاتھوں والوں کو ( جنت کی طرف) کھینچنے والے ہیں۔
اور امام احمد بن حنبل مسند میں نقل کرتے ہیں کہ ایک روز رسول خدا(ص) نے علی(ع) سے خطاب فرمایا:
" يا علي، النظر علی وجهک عبادةانک امام المتقین و سید المؤمنینمن احبك فقد احبني، و من احبنيفقد احب اللّه و من ابغضک فقد ابغضني، و من ابغضنيفقد أبغض اللّه "
یعنی اے علی(ع) تمہارے چہرے پر نظر کرنا عبادت ہے یقینا تم صاحبان تقوی کے امام او مومنین کے سردار ہو جو شخص تم کو دوست رکھے اس نے در حقیقت مجھ کو دوست رکھا اور جو شخص مجھ کو دوست رکھے اس نے در اصل خدا کو دوست رکھا۔ اور جو شخص تم سے دشمنی رکھے اس نے حقیقتا مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے مجھ سے دشمنی رکھی اس نے یقینا خدا سے دشمنی رکھی۔
یہ صحیح ہے کہ ذلیل اور بے عقل اور خوشامدی لوگ اور اکثر بے بصیرت اشخاص بعض افراد کا بے جا القاب و آداب اور غلط تعریف و توصیف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اکثر سلاطین و امرا اور وزارائ و خلفائ کے بارے میں کہا گیا ہے اور ارباب تواریخ نے بھی اس کو درج کیا ہے لیکن رسول خدا(ص) جیسی ہستی سے جو حق و حقیقت کا مجسمہ تھی ایک لمحے کے لئے بھی اس کی توقع نہیں ہوسکتی کہ آپ کسی شخص کو ایسے لقب یا صفت کے ساتھ یاد کریں گے جو اصلیت سے دور ہو بلکہ صاحب وحی کی زبان مبارک پر جو کچھ بھی جاری ہوجاۓ وہ یقینا عین حقیقت اور بمصداق آیہ شریفہ:
" وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحى"
یعنی وہ اپنی خواہش نفس سے کچھ بولتے ہی نہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں خالص وحی الہی ہوتی ہے۔
وحی مطلق، بالخصوص جب خودہی یہ فرمائیں کہ پروردگار نے شب معراج مجھ کو وحی فرمائی اور حکم دیا کہ علی کو امام المتقین کہوں۔
پس امیرالمومنین علی علیہ السلام کی عظمت و فضیلت اور تقوی کی تعریف میں یہی کافی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے خدا کے حکم سے آپ کو ایسی خصوصیت کے ساتھ مخصوص فرمایا جو کسی دوسرے صحابی کو نصیب نہیں ہوئی۔ تمام صحابہ کے نزدیک آپ کو امام المتقین قرار دیا۔ اور باربار اس لقب سے مخاطب فرمایا امام کو قطعا مکمل طور پر متقی ہونا چاہئیے تاکہ اہل تقوی کا پیشوا بن سکے، اس لئے کہ امام کے تقوی کو صاحبان تقوی کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ عمل ہونا چاہیئے۔
اگر میں علی علیہ السلام کے زہد و ورع اور تقوی کے سارے پہلوؤں کو شرح و بسط سے بیان کرنا چاہوں تو پورا دفتر بھی ناکافی ہے۔
شیخ : آپ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں جس قدر فرمائیے کم ہوگا۔ واقعی معاویہ نے سچ ہی کہ ہے کہ دنیا کی عورتیں علی ابن ابی طالب ایسا انسان پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔
خیر طلب: پس معلوم ہوا کہ کبارصحابہ کے درمیان علی علیہ السلام اہل تقوی کے سرگروہ تھے جن کو رسول اکرم(ص) حضرت خاتم الانبیائ نے خداۓ تعالیٰ کے حکم و ہدایت سے امام المتقین اور پرہیزگاروں کا پیشوا قرار دیا ہے لہذا جس طرح آپ روحانی و جسمانی حیثیت سے نسل و نسب میں ممتاز و مقدم تھے اسی طرح تقوے کی حیثیت سے بھی آپ کو برتری اور حق تقدم حاصل تھا۔
اس جگہ ایک مطلب نظر کے سامنے آگیا ہے، اگر اجازت ہو تو آپ سے ایک بات دریافت کروں؟
شیخ : بہتر ہے، فرمائیے۔
خیر طلب : آیا صحابہ کبار کے درمیان امامت اہل تقوےٰ کی اہلیت رکھنے کے بعد علی علیہ السلام کے لئے آپ نفس پرستی محبت جاہ و منصب اور دنیا طلبی کا شبہ کرتے ہیں؟
شیخ : یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق ایسا خیال پیدا ہو۔ جیسا کہ خود آپ نے فرمایا اور مشہور بھی ہے، جو شخص دنیا کو تین طلاق دے دے اور اس کا اعلان کر کے دنیا سے اپنی بے اعتنائی کو ثابت کر دے وہ کیونکر دنیا کی طرف مائل ہوسکتا ہے؟ اس کے علاوہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا مقام ومرتبہ اس سے بالاتر ہے کہ ہم ان جناب کی طرف ایسی نسبت دیں، بلکہ ایسا کرنا تو درکنار اس چیز کا تصور بھی محال ہے۔
خیر طلب : پس آپ جیسے مجسم تقوی کے سارے اعمال قطعا خدا کے لئے تھے، آپ نے ایک قدم بھی حق کے خلاف نہیں اٹھایا اور جہاں بھی حق نظر آتا تھا آپ بے اختیار اس کا استقبال کرتے تھے۔
شیخ : بدیہی چیز ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ہم کو اس کے خلاف کوئی سراغ نہیں ملتا۔
حقیقت پسند منصفانہ فیصلہ کریں
خیر طلب: بس اب یہ فرمائیے کہ رسول اللہ صلعم کی وفات کے بعد جب علی علیہ السلام حسب وصیت آں حضرت(ص) کے غسل و کفن اور دفن میں مشغول تھے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں چند اشخاص نے جمع ہو کر ابوبکر کی بیعت کر لی اس کے بعد حضرت کو بیعت کے لئے طلب کیا تو آپ نے کس وجہ سے بیعت نہیں کی؟
اگر ابوبکر کا طریقہ خلافت برحق اور مسئلہ اجماع ثابت و مسلم اور حقانیت کی دلیل تھا تو قاعدے کے لحاظ سے اس قدر شدید تقوی و پرہیزگاری کی موجودگی میں علی علیہ السلام کو ہرگز پہلو تہی اور حق سے انحراف نہ کرنا چاہیئے تھا، اس لئے کہ ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق جہاں حق ہو وہیں علی کو بھی ہونا چاہیئے، ایک طرف توتقوی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ متقی انسان حق سے روگردانی نہ کرے اور دوسری طرف وہ احادیث ہیں جو میں گذشتہ راتوں میں پیش کرچکا ہوں کہ رسول اللہ(ص) نےفرمایا:
" علی مع الحق والحق مع علی حیثما دار"( یعنی علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے جدھر وہ گردش کریں اگروہ اقدامات برحق اور منصب خلافت پر ابوبکر کا تعین صحیح تھا تو چاہیئے تھا کہ حضرت انتہائی رغبت اور پوری دلچسپی کے ساتھ ان لوگوں کا استقبال اور تصدیق کرتے نہ یہ کہ الٹی مخالفت کرتے، پس لامحالہ علی علیہ السلام کی مخالفت دو حال سے خالی نہیں تھی۔ یا تو علی کی روش حق کے خلاف تھی اور آپ نے حکم رسول(ص) سے سرتابی کی کہ خلیفہ پیغمبر(ص) سے بیعت نہیں کی۔ یا پھر آپ اس طرز خلافت اور طریقہ اجماع کو مصنوعی، سیاسی اور حق کے برخلاف سمجھتے تھے اس وجہ سے بیعت نہیں فرمائی۔
پہلی صورت تو حدیث پیغمبر(ص) کے پیش نظر کہ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ گردش کرتا ہے، نیز اس لئے کہ آپ کو امام المتقین فرمایا۔ اور علی علیہ السلام قطعا اہل دنیا میں سے نہیں تھے، جاہ وہ منصب کی خواہش اور ہوا و ہوس کی آپ کے دل میں کوئی گنجائش نہ تھی، دنیا کو تین طلاق دے چکے تھے اور ریاست ظاہری کے طلب گار نہیں تھے، قطعا نا ممکن ہے۔ لہذا لازمی طور پر دوسری ہی صورت تھی کہ آپ چونکہ اس خلافت کو مصںوعی، سیاسی اور خدا و رسول(ص) کی مرضی کے خلاف جانتے تھے اس وجہ سے بیعت نہیں فرمائی۔
شیخ: آپ تو عجیب بات فرمارہے ہیں کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے بیعت نہیں کی حالانکہ ہماری اور آپ کی تمام کتب اخبار و تواریخ سے ثابت ہے کہ سیدنا علی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور اجماع سے اختلاف نہیں کیا۔
خیر طلب: تعجب تو آپ سے ہے کہ پچھلی گفتگو کو بالکل بھول ہی گئے جس میں میں نے آپ کا اکابر علمائ کے اقوال تفصیل سے پیش کئے تھے۔ یہاں تک کہ بخاری اور مسلم نے بھی اپنی صحیحیں میں میں لکھا ہے کہ علی نے اس وقت بیعیت نہیں کی۔ آپ کے علمائ نے عام طور سے اعتراف کیا ہے کہ روز اول جب حضرت کو جبر و اہانت کے ساتھ گھر سے کھینچتے ہوۓ مسجد میں لے گئے
( جیسا کہ پچھلی شبوں میں تفصیل سے عرض کیا جاچکا ہے) تو آپ نے بیعت نہیں کی اور اسی طرح واپس آگئے۔ ابراہیم بن سعد ثقفی متوفی سنہ283ھ ابن ابی الحدید اور طبری وغیرہ نے لکھا ہے کہ حضرت کی بیعت چھ مہینے بعد ہوئی( یعنی صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد جیسا کہ گذشتہ شبوں میں تفصیل سے ذکر ہوچکا ہے)
بفرض محال اگر ہم ان بھی لیں کہ حضرت بیعت کر لی تو کم و بیش چھ ماہ تک کیوں تو ؟؟؟؟ کیا اور بیعت نہیں کی؟ بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کیا؟ حالانکہ علی(ع) جیسے مجسمہ حق و تقوی فرد کو ایک ساعت کے لئے بھی حق سے منحرف ہونا اور اس کو پسِ پشت ڈال دینا مناسب نہیں تھا۔
شیخ : ضرور کوئی وجہ رہی ہوگی، چنانچہ اس موقع پر وہ خود بہتر سمجھتے تھے کہ کیا کرنا چاہیئے۔ اب ہم کو کیا پڑی ہےکہ بزرگوں کے باہمی معاملات ا ور ان کے اختلاف میں تیرہ سو برص کے بعد دخل دیں؟ ( حاضرین کا زور دار قہقہہ)
خیر طلب: میں بھی آپ کے اسی قدر جواب پر قناعت کرتا ہوں، کیوںکہ جب آپ کو اپنا مطلب ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول جواب نہیں ملااور گریز و دفاع کا کوئی راستہ نظر نہ آیا تو اس قسم کے جواب کا سہارا لیا۔ لیکن نیک اور اںصاف پسند اشخاص کے نزدیک بات اس قدر واضحاور روشن ہے کہ کسی دلیل و برہان کی محتاج نہیں۔
رہا آپ کا یہ فرمانا کہ بزرگوں کے معاملات اور اختلافات میں ہم دخل دینے کی ضرورت نہیں، تو یقینا جہاں تک ان کا اور ان کے معاملات کا تعلق ہم سے نہیں ہے آپ کا فرمانا درست ہے اور بزرگوں کے اختلاف آرائ میں ہم کو دخل دینے کا حق نہیں ہے لیکن اس موضوع میں خصوصیت کے ساتھ آپ کو دھوکا ہوا ہے، کیونکہ ہر صاحب عقل مسلمان کا فریضہ ہے کہ تقلیدی نہیں بلکہتحقیقی دین رکھتا ہو۔ اور دین میں تحقیق کا راستہ یہی ہے کہ جب ہم جہمور مسلمین کی تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ وفات رسول(ص) کے بعد امت اور صحابہ کبار میں دو فرقے ہوگئے تو ہم کو چھان بین کر کے دیکھنا چاہیئے کہ ان دونوں فرقوں میں سے حق پر کون تھا تاکہ ہم اس کی پیروی کریں نہ یہ کہ بربناۓ عادت اور ماں باپ اور اسلاف کی تقلید میں بغیر کسی جانچ پڑتال کے محض اپنے خیال سے کسی راستے کو حق سمجھ کے اندھا دھند اس پر چلنے لگیں۔
شیخ: آپ یقینا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت برحق نہیں تھی۔ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت برحق نہیں تھی اور یہ منصب علی کرم اللہ وجہہ کا حق تھا تو اپنی مخصوص قوت وشجاعت نیز حق و حقیقت کے نفاذ میں پوری دلچسپی رکھنے کے باوجود جب کہ دوسرے لوگ ان کو ترغیب بھی دے رہے تھے حق کو قائم کرنے کے لیے کیوں نہیں اٹھے یہاں تک کہ بقول آپ کے چھ مہینے کے بعد بیعت(1) بھی کر لی، نماز میں بھی حاضر ہوتے تھے اور مشورہ طلب مواقع پر خلفائ رضی اللہ عنہم کو صائب رائیں بھی دیا کرتے تھے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یہ خیال در اصل اہل سنت کا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے بیعت کی ہی نہیں جس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ خلافت کیتیسری منزل میں جب آپ کے سامنے سیرت شیخیں پر عمل کرنے کی شرط رکھی گئی تو باتفاق فریقین آپ نے خلافت ظاہری سے محروم رہنا گوارا کر لیا لیکن اس شرط کو ٹھکرا دیا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کسی کی بیعت کرچکا ہو وہ اس کی سیرت پر عمل کرنے سے انکار نہیں کرسکتا اور پھر علی(ع) جیسا اپنے فرض اور عہد کا پابند انسان 12 مترجم عفی عنہ۔
تنہائی کی وجہ سے انبیائ(ع) کا سکوت اور گوشہنشینی
خیر طلب: پہلی چیز تو یہ کہ انبیائ(ع) ا وصیائ مشیت خداوندی اور ہدایات الہی کے مطابق عمل کرتے تھےاور اپنا ذاتی ارادہ نہیں رکھتے تھے لہذا ان کے اوپر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ جنگ کے لئے کیوں نہیں اٹھے یا دشمنوں کے مقابلہ میں سکوت و گوشہ نشینی کیوں اختیار کی یا شکست کیوں کھائی؟
اگر انبیاۓ عظام اور اصیاۓ کرام کے تاریخی حالات دیکھیئے تو اس قسم کے واقعات کثرت سے ملیں گے جو آپ کے خیالات سے میل نہیں کھاتے۔ خصوصیت کے ساتھ قرآن مجید نے بھی ان میں سے بعض کاذکر
کیا ہے کہ ان حضرات نے ہمراہی اورمددگار نہ ہونے کی وجہ سے خاموشی اور گوشہ نشینی یا روپوشی اور فرار اختیار کیا چنانچہ آیت نمبر10 سورہ نمبر54(قمر) میں شیخ الانبیائ حضرت نوح(ع) کا قول بیان کرتا ہے: "فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ "( یعنی پس خدا سے دعا کی کہ بار الہا میں ا پنی قوم سے مغلوب ہوں لہذا میری مدد کر) آیت نمبر48 سورہ نمبر16( مریم) میں حضرت ابراہیم علی نبینا و آلہ و علیہ السلام کے سکوت و کنارہ کشی کی خبر دیتا ہے کہ جس وقت انہوں نے اپنے چچا آزر سے امداد مانگی اور مایوس کن جواب پایا تو فرمایا:
"وَ أَعْتَزِلُكُمْ وَ ما تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ أَدْعُوا رَبِّي "
یعنی میں تم سے اور ان بتوں سے جن کی تم خدا کے علاوہ پرستش کرتے ہو کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں۔
پس جس مقام پر اپنے چچا سے امداد اور کمک نہ ملنے کی وجہ سے ابراہیم خلیل اللہ عزلت وگوشہ نشینی اختیار کریں، وہاں یار و مددگار نہ ملنے کی وجہ سے علی علیہ السلام کو بدرجہ اولی عزلت و کنارہ کشی اختیار کرنا چاہیئے۔
شیخ: میرا خیال ہے کہ اس عزلت سے مراد عزلت قلبی ہے کہ ان سے قلبا دوری اور بیزاری اختیار کی نہ کہ عزلت مکانی۔
خیر طلب: اگر جناب عالی فریقین کی تفسریں ملاحظہ فرمائیں تو دیکھیں گے کہ اعتزل سے مراد عزلت مکانی تھی نہ کہ عزلت قلبی مجھ کو یاد ہے کہ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر جلد پنجم ص809 میں کہتے ہیں:
" الاعزال للشئی هوالتباعدعنه ولمرادانی افارقکم فی المکان وافارقکم فی طریقتکم"
یعنی کسی چیز سے اعتزال کے معنی ہیں اس سے دوری اختیار کرنا، اور حضرت ابراہیم کی مراد یہ تھی کہ میں تم سے مکانی اور مذہبی دونوں حیثیتوں سے دوری اور علیحدگی اختیار کرتا ہوں۔
چنانچہ ارباب سیر نے روایت کی ہے کہ اس قضیے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل سے کوہستان فارس کی طرف ہجرت کر گئے اورسات سال تک انہیں پہاڑوں کے اطراف خلقت سے الگ تھلگ زندگی بسر کی، اس کےبعد بابل واپس آکے اپنی تبلیغ شروع کی اور بتوں کو توڑا۔ اس پر لوگوں نے ان کو گرفتار کر کے آگ میں ڈال دیا۔ خداوند عالم نے آگ کو ان پر سرد و سلامتی بنا دیا اور اس طرح ان کی رسالت کا سکہ بیٹھا۔
آیت نمبر20 سورہ نمبر28 (قصص) میں خوف و ہراس کی وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام کے فرار کرنے کا قصہ اس طرح نقل فرمایا ہے:
" فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ قالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ"
یعنی پسموسی خوف کی حالت میں دشمن کی نگرانی کرتے ہوۓ شہر سے باہر نکلے اور کہا خداوندا مجھ کو قوم ستمگار سے نجات دے۔
سورہ اعراف میں حضرت موسی(ع) کی عدم موجودگی میں سامری کے بہکانے سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی، اس کی شعبدہ بازی اور حضرت موسی(ع) کے خلیفہ ہونے کے باوجود حضرت ہارون کی خاموشی کو بیان کیا ہے، یہاں تک کہ آیت 149 میں خبر دی کہ:
" وَ أَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كادُوا يَقْتُلُونَنِي "
یعنی موسی(ع) غصے میں اپنے بھائی کاسرپکڑ کے اپنی طرف کھینچنے لگے تو انہوں نے کہا اے میری ماں کے فرزند ( میری طرف سے ہدایت میں کوتاہی نہیں ہوئی بلکہ) در حقیقت قوم نے مجھ کو حقیر و کمزور بنا دیا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں۔
امر خلافت میں ہارون(ع) سے علی(ع) کی مشابہت
پس آیات قرآنی کے مطابق حضرت ہارون علیہ السلام نے جو پیغمبر اور حضرت موسی علیہ السلام کے منصوص خلیفہ تھے اپنی تنہائی کی وجہ سے اور اسبنا پر کہ امت نے ان کو ضعیف خوار بنا دیا تھا سامری کے عمل شفیع اور لوگوں کے شرک و گوسالہ پرستی کے مقابلے میں سکوت اختیار کیا اور تلوار نہیں اٹھائی۔
لہذا علی علیہ السلامبھی جن کو رسول اللہ(ص)نے ہارون کی شبیہ اور منزلت ہارونی کا حامل بتایا تھا و جیسا کہ ہم گذشتہ شبوں میں تفصیل سے عرض کرچکے ہیں) اس بات کا پورا حق رکھتے تھے کہ جب ایسی صورت حال پیش آجاۓ آپ تنہارہ جائیں اور دنیا طلبوں اور مخالفین کو دوسری طرف پائیں تو جناب ہارون کی طرحبسر و تحمل اختیار کریں۔ اسی بنا پر آپ کے اکابر علمائ کی روایتوں کے مطابق جو پہلے عرض کی گئیں جس وقت حضرت کو جبرا مسجد میں لاۓ، برہنہ تلوار آپ کے سر پر رکھی اور بیعت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تو آپ نے اپنے کو قبر رسول(ص) تک پہنچایا اور وہی الفاظ دہراۓ جو خدا نے حضرت ہارون کی زبان نقل فرماۓ ہیں کہ انہوں نے حضرت موسی سے کہا تھا:
"ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كادُوا يَقْتُلُونَنِي "
مطلب یہ تھا، کہ یا رسول اللہ(ص) دیکھئیے امت نے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے، مجھ کو حقیر و ضعیف بنا دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ مجھ کو قتل کردیں۔تمام
انبیائ کی سیرتوں سے بالاتر اور سب سے بڑی حجت خود حضرت خاتم الانبیائ(ص) کی سیرت ہےجس پر غور کرنا ہمارے لئے ضروری ہے کہ مکہ معظمہ میں دشمنوں اور امت کی بدعتوں کے مقابل تیرہ سال تک کیوں خاموش رہے، یہاں تک کہ اپنے مرکز بعثت اور وطن مالوف سے رات کے وقت چھپ کر نکل گئے؟
بات صرف یہی تھی کہ آپ کے پاس ناصر و مددگار نہیں تھے لہذا انبیائ نے سلف کے مانند صبر و تحمل اور وہاں ٹھہرنے کے بجاۓ ہٹ جانے کو ترجیح دی، کیونکہ " الفرار مما لا یطاق من سنن المرسلین" یعنی جس چیز کی طاقت نہ ہو اس سے فرار اختیار کرنا پیغمبروں کی سنت۔ 12 مترجم، بلکہ اس سے بڑھ کر کہوں آں حضرت(ص) اپنی قدرت و طاقت کے دور میں بھی قوم سے کماحقہ بدعت کے آثار کو ہر طرف نہیں کرسکے۔
شیخ: یہ کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے کہ آں حضرت(ص) بدعتوں کو برطرف نہیں کرسکے؟
خیر طلب: حمیدی نے جمع بین الصحیحیں میں اور امام احمد ابن حنبل نے مسند میں ام المومنین عائشہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے ان سے فرمایا کہ اگر یہ لوگ عہد کفر اور زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتے اور مجھ کواس کاخوف نہ ہوتا کہ یہ اپنے دلوں سے اس کے منکر ہوجائیں گے تو میں حکم دیتا کہ خانہ کعبہ کو مسمار کردیا جاۓ اور جو کچھ اس میں سے نکال دیا گیا ہے وہ پھر اس میں داخلکیا جاۓ میں اس عمارت کو زمین کے برابر کر کے زمانہ حضرت ابراہیم کی طرح مشرق و مغرب کی جانب اس کے دو دروزے قائم کرتا اور حضرت ابراہیم کی قائم کی ہوئی بنیادوں پر پھر سے اس کی تعمیر کرتا۔
حضرات ذرا اںصاف سے غور کیجئے تو ماننا پڑے گا کہ جہاں رسول اللہ(ص) باوجود اس بلند مرتبے اور الہی منصب کے کہ آپ شرک و کفر اور اس کے آثار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے مبعوث ہوۓ تھے اپنے صحابہ سے مطمئن نہ ہوں( جیسا کہ آپ کے بڑےبڑے علمائ نے لکھا ہے) اور تعمیر ابراہیمی میں داخل کی ہوئی بدعتکر کے اس کو اصلی صورت پر اس لئے نہ لاسکیں کہ کہیں مسلمان اپنی عہد جاہلیت کی عادت کے پیش نظر اس سے انکار نہ کر بیٹھیں، وہاں امیرالمومنین علیہ السلام بھی اس سیرت اور دستور پر عمل کرنے میں حق بجانب تھے، کیونکہ آپ کا سامنا ایک ایسی حاسد اور کینہ پرور قوم سے تھا جو اس چیز کا موقع ہی تلاش کررہی تھی کہ انتقام لینے کے لئے آپ کو بلکہ اصل دین اسلام ہی کو نظم و عداوت کے تیروں کا نشانہ بنائے۔
چنانچہ فقیہ واسطی ابن مغازلی شافعی اور خطیب خوارزمی نے اپنے مناقب میں نقل کیا ہے کہ رسول صلعم نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ امت تمہاری طرف سے دلوں میں کینے رکھتی ہے اور میرے بعد عنقریب یہ لوگ تم کو دھوکا دیں گے اور جو کچھ اپنے دلوں میں چھپاۓ ہوۓ ہیں اس کوظاہر کریں گے۔ میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اس وقت صبر و تحمل سے کام لینا تاکہ خدا تم کو اس کا اجر اور جزاۓ خیر عنایت فرماۓ۔
وفاتِ رسول(ص) کے بعد خدا کے لئے علی(ع) کا صبر وسکوت
دوسرے امیرالمومنین علیہ السلام وہ یکتا انسنا کامل تھے جنہوں نے زندگی بھر کبھی اپنی ذات کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ہر وقت خدا پر نظر رکھتے تھے، یعنی ہر حیثیت سے فنا فی اللہ کی منزل میں تھے آپ اپنے کو، اپنے متعلقین کو اور امامت وخلافت اور ریاست کو محض خدا اور خدا کے دین کے لئے چاہتے تھے، لہذا آپ کا صبر وتحمل، خاموشی اور اپنا مسلم الثبوت حق حاصل کرنے کے لئے مخالفین سے مقابلہ نہ کرنا بھی صرف خدا کے لئے تھا تاکہ ایسا نہ ہو مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ پڑ جاۓ۔
لوگ اپنے سابق کفر کی طرف پلٹ جائیں۔ چنانچہ اس موقع پر جب حضرت فاطمہ مظلومہ(ع) کا حق چھینا جاچکا اور آپ مظلومی و مایوسی کی حالت میں گھر پلٹیں تو آپ نے امیرالمومنین علیہ السلام کو مخاطب کر کے عرض کیا:
" اشْتَمَلْتَ شَمْلَةَ الْجَنِينِ، وَ قَعَدْتَ حُجْرَةَ الظَّنِينِ، نَقَضْتَ قَادِمَةَ الْأَجْدَلِ، فَخَانَكَ رِيشُ الْأَعْزَلِ، هَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ يَبْتَزُّنِي نَحِيلَةَ أَبِي وَ بُلْغَةَ ابْنَيَّ، الخ لَقَدْ أَجْهَرَ فِي خِصَامِي، وَ أَلْفَيْتُهُ أَلَدَّ فِي كَلَامِي"
یعنی آپ جنین کے مانند سمٹ کے بیٹھ رہے، ایک متہم انسان کی طرح گوشہ نشینی اختیار کر لی اور اپنے شکاری پرندے والے شہ پر توڑ دیئے۔ پس کمزور پرندے والے پروں نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ ابن قحافہ(ابوبکر) میرے باپ کا عطیہ اورمیرے بچوں کا ذریعہ معاش مجھ سے بجز چھین رہا ہے۔ الخ ۔ در حقیقت ان لوگوں نے مجھ سے کھلی ہوئی دشمنی برتی اور مجھ سے بدکلامی کی۔
آپ کی تقریر طولانی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سارا بیان سنتے رہے۔ یہاں تک کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا خاموش ہوئیں تو ایک مختصر جواب دے کر ان معصومہ کو مطمئن کردیا۔ من جملہ اس کے فرمایا۔ فاطمہ! میں نے امر دین اور احقاق حق میں جہاں تک ممکن تھا کوتاہی نہیں کی آیا تم یہ چاہتی ہو کہ یہ دین مبین باقی اور پائدار رہے اور تمہارے باپ کا نام ابد تک مسجدوں اور اذانوں کے اندر لیا جاتا رہے؟
آپ نے کہا میری سب سے بڑی آرزو اور خواہش یہی ہے۔ حضرت نے فرمایا، پس اس صورت میں تم کوصبر کرنا چاہیئے کیونکہ تمہارے باپ حضرت خاتم الانبیائ(ص) نے مجھ کو اس کے لئے وصیتیں فرمائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ صبر سے کام لینا چاہیئے ورنہ میں اتنے طاقت رکھتا ہوں کہ دشمنوں کو زیر کر کے تمہارا حق وصول کرلوں، لیکن یہ جان لوکہ پھر دین ختم ہوجاۓ گا لہذا خدا کے لئے اور دین خدا کی حفاظت کے لئے صبر کرو کیونکہ آخرت کا ثواب تمہارے لئے اس حق سے بہتر ہے جو تم سے غصب کر لیا گیا ہے۔
اسی بنا پر حضرت نے صبر کو اپنا لائحہ عمل قرار دیا اور حوزہ اسلام کے تحفظ کی غرض سے ضبط و خاموشی اختیار کی تاکہ پارٹی بندی نہ پیدا ہونے پاۓ، چنانچہ اپنے اکثر خطبات و بیانات میں ان پہلوؤں کی طرف اشارہ بھی فرماتے رہے۔
وفات رسول(ص) کے بعد خاموشی کی مصلحت پر علی(ع) کے بیانات
من جملہ ان کے ابراہیم بن محمد ثقفی جو ثقاتعلماۓ اہل سنت میں سے ہیں۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور علی بن محمد ہمدانی نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ اور زبیر نے بیعت توڑ دی اور بصرے کی طرف روانہ ہوۓ تو حضرت علی علیہ السلام نے حکم دیا کہ لوگ مسجد میں جمع ہوں اس کےبعد ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا جس میں حمد و ثناۓ الہی کے بعد فرمایا:
" فإنّ اللّه تبارك و تعالى لمّا قبض نبيّه صلى اللّه عليه و آله و سلّم قلنا: نحن أهل بيته و عصبته، و ورثته، و أوليائه، و أحقّ خلائق اللّه به، لا تنازع حقّه و سلطانه، فبينما نحن على ذلك، إذ نفر المنافقون، فانتزعوا سلطان نبيّنا صلى اللّه عليه و آله و سلّم منّا، و ولّوه غيرنا، فبكت لذلك و اللّه العيون و القلوب منّا جميعا، و خشّنت و اللّه الصدور، و أيم اللّه لو لا مخافة الفرقة بين المسلمين أن يعودوا إلىالكفر، و يعوّر الدين لكنّا قد غيّرنا ذلك ما استطعناه، و قد ولّى ذلك ولاة و مضوا لسبيلهم، و ردّ اللّه الأمر إلينا و قد بايعاني، و قد نهضا إلى البصرة ليفرّقا جماعتكم، و يلقيا بأسكم بينكم"
مطلب یہ کہ وفاتِ رسول(ص) کے بعد ہم نے کہا کہ ہم پیغمبر(ص) کے اہل بیت آپ کے عزیز، آپ کے وارث، آپ کی عترت، آپ کے اولیائ اور اہل عالم میں آپ کی جانب سے سب سے زیادہ حقدار۔ آں حضرت(ص) کے حق اور سلطنتمیں ہمارا کوئی فریق نہیں تھا لیکن منافقین کے ایک گروہ نے گٹھ جوڑ کر کے ہمارے نبی کی حکومت وسلطنت کو ہم سے چھین لیا اور ہمارے غیر کے سپرد کردیا پس خدا کی قسم اس کے لئے ہماری آنکھیں اور ہمارے دل رو دیئے اور خدا کی قسم ہم سب کے سینے غم اور غصے سے لبریز ہوگئے خدا کی قسم اگر مسلمانوں میں تفرقہ پڑجانے کا خوف نہ ہوتا کہ وہ اپنے دین سے پھر کفر کی طرف پلٹ جائیں گے۔ تو ہم اس خلافت کا تختہ پلٹ دیتے( لیکن ہم نے سکوت اختیار کیا) وہ لوگ اس مسند پر قابض رہے یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھکانے لگ گئے اور خدا نے امر خلافت کو پھر میری طرف پلٹایا چنانچہ ان دونوں(طلحہ و زبیر) نے بھی میری بیعت کی اس کے بعد محض اس لئے بصرے کی طرف کوچ کیا کہ تمہاری جماعت میں پھوٹ ڈال دیں اور تمہارے اندر خانہ جنگی پیدا کردیں۔
نیز آپ کے بڑے علمائ میں سے ابن ابی الحدید اورکلبی نے روایت کی ہے کہ بصرے کی طرف روانہ ہونے کے موقع پر حضرت نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور دوران تقریر میں فرمایا:
" إن الله لما قبض نبيه استأثرت علينا قريش بالأمر و دفعتنا عن حق نحن أحق به من الناس كافة فرأيت أن الصبر على ذلك أفضل من تفريق كلمة المسلمين و سفك دمائهم و الناس حديثو عهد بالإسلام والدین"
یعنی جب رسولخدا(ص) نے رحلت فرمائی تو قریش نے خلافت کے
اور نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلام کی عمارت منہدم ہوجاتی۔
چونکہ امیرالمومنین علیہ السلام حقائق کے عالم ودانا تھے اور رسول اللہ(ص) بھی آپ کو خبر دے چکے تھے۔ لہذا جانتے تھےکہ دین کی ا صل فنا نہ ہوگی اور لوگوںکے درمیان دین کی مثال آفتاب کے مانند ہے جو کچھ مدت تک تو جہل و عناد کی گھٹاؤں میں چھپ سکتا ہے لیکن آخر کار ظاہر و درخشان ہوکر رہے گا(چنانچہ وہی ہوا کہ اس بزرگوار کے نور حقیقت نے عالم کو روشن ومنور کیا۔
پس آپ نے اندازہ کر لیا کہ مصلحت دین کے اقتضا سے اس وقت صبر کر جانا اس سے بہتر ہے کہ مقابلے کے لیے میدان میں آجائیں جس سے گروہ بندی کی تشکیل ہو، مسلمانوں میں پھوٹپڑے اور دشمنوں کو دین کی جڑ کاٹنےکا موقع ملے اگرچہ رسولِ خدا(ص) بقاۓ اسلام کی خبر دے چکے تھے لیکن یہ مسلمانوں کی ذلت و حقارت کا سبب تو بنتا ہی اور ایک زمانے تک کے لئے ان کی ترقی پھر پستی کے غار میں جا پڑتی۔ خلاصہ یہ کہ چھ مہینے تک اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی، جلسوں اور شبعوں میں کثرت سے مناظرے کر کے حق کو ظاہر فرمایا( جیسا کہ پچھلی شبوں میں عرض کرچکا) بیعت نہیں کی، اور گو کہ جنگ کے لئے نہیں اٹھے لیکن مباحثات اور احتجاجات کے ذریعے اثبات حق کرتے رہے۔
خطبہ شقشقیہ
چنانچہ خطبہ شقشقیہ کی ابتدا ہی سے اس مقصد کی طرف اشارہ فرمایا ہے فرماتے ہیں:
" أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَ إِنَّهُ لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ وَ لَا يَرْقَى إِلَيَّ الطَّيْرُ فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وَ طَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وَ طَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَ يَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ وَ يَكْدَحُ مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّهُ فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وَ فِي الْعَيْنِ قَذًى وَ فِي الْحَلْقِ شَجاً أَرَى تُرَاثِي نَهْباً حَتَّى مَضَى الْأَوَّلُ لِسَبِيلِهِ فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلَانٍ بَعْدَهُ الخ"
یعنی قسم خدا کی فلان شخص(ابوبکر) نے قمیص خلافت کو زبردستی پہن لیا حالانکہ یقینا وہ جانتا تھا کہ خلافت کے لئے میری حیثیت چکی کی میخ کی مانند ہے۔میرے سرچشمہ فیض سے علوم و معارف کا سیلاب امنڈتا ہے اور میرے علم و دانش کی بلندیوں میں کوئی پرندہ نہیں مارسکتا۔ پس میں نے اپنے اور اس جامہ خلافت کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ اس سے پہلو تہی کی اور اس معاملہ میں غور کرنا شروع کیا آیا اس بریدہ اور شکستہ ہاتھوں سے(یعنی بغیر تاخیر و مددگار کے) اس پر حملہ کردوں یا ظلمت وتا ریکی ضلالت پر صبر کروں۔ یہ وہ مصیبت تھی جس کے صدمے سے بوڑھا ضعیف ہوجاۓ، خوردسال بوڑھا ہوجاۓ اور مومن رنج و غم میں مبتلا ہو۔ یہاں تک کہ اپنے
پروردگار سے ملاقات کرے، اس وقت میں نے دیکھا کہ اس واقعے پر صبرکرنا ہی بہتر ہے اورع عقلمندی ہے۔ پس میں نے صبرکیا، در آنحالیکہ آنکھوں میں غبار اندوہ اور خار الم کی خلش تھی اور حلق میں غم و غصہ کا پھندا پڑ رہاتھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میری میراث کس طرح تاخت و تاراج ہو رہی ہے، یہاں تک کہ پہلا تو اپنے راستے چلا گیا لیکن اپنے بعد خلافت کا تحفہ فلان ( عمر) کی گود میں ڈال گیاالخ۔
یہ سارا خطبہ حضرت کے درد دل سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن وقت اس سے زیادہ زحمت دینے کی اجازت نہیں دے رہے ہے۔ میرا خیال ہے کہ اثبات مقصد اور حضرت کے دلی تاثرات کو ظاہر کرنے کے لئے اسی قدر کافی ہے۔
خطبہ شقشقیہ میں اشکال اور اس کا جواب
شیخ: اول تو یہ خطبہ ان حضرت کی رنجیدگی کی دلیل نہیں ہے، دوسرے اس خطبے کا حضرت سے تعلق ہی نہیں ہے بلکہ ہو تو سیدشریف رضی الدین کی تصنیف ہے جس کو انہوں نے حضرت کے خطبات میں شامل کردیا ہے۔ ورنہ ان جناب کو خلفائ رضی اللہ عنہم سے کوئی شکایت نہ تھی بلکہ انتہائی خوشی تھی اور ان کے عمل درآمد سے بھی راضی تھے۔
خیر طلب: آپ کا یہ بیان سخت تعصب کا نتیجہ ہے ورنہ خلافت کے بارے میں حضرت کے بیانات اور شکایات کا پہلے ہی ذکر ہوچکا ہے، اور حضرت کی رنجیدگی و آزردگی کچھ اسی خطبے سے مخصوص نہیں کہ آپ اس پر اشکال تراشی کریں آپ کے اس اشکال پر کہ یہ خطبہ ایک عابد و پرہیزگار اور بزرگوار عالم سید رضی الدین رضوان اللہ علیہ کی تصنیف ہے میں یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ آپ بغض و عناد کے باعث حد اعتدال سے آگے بڑھ گئے ہیں اور بغیر کسی دلیل کے آخری دور کے اپنے بعض متعصب اسلاف کی پیروی کی ہے۔ البتہ اتنا کہوں گا کہ آپ کا مطالعہ گہرا نہیں ہے ورنہ سمجھ میں آجاتا کہ یقینی اور قطعی طور پر یہ خطبہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کیونکہ آپ کے بڑے بڑے علمائ متقدمین ومتاخرین مثلا عزالدین عبدالحمید ابن ابی الحدید، شیخ محمد عبدہ، مفتی مصر اور شیخ محمد خصری نے محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ ص117 میں شہادت دی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ یہ خطبہ حضرت ہی کا ہے، نیز اس کی شرح بھی کی ہے۔ صرفچند آخری دور کے متعصب لوگوں نے اپنے فساد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے شبہات پیدا کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے ہیں ورنہ ان چالیس نفر سے زیادہ شیعہ و سنی اکابر علمائ میں سے جنہوں نے نہج البلاغہ کی شرحیں لکھی ہیں کسی ایک نے بھی ایسی بات نہیں کہی ہے۔
سید رضیؒ کے حالات
اس کے علاوہ جلیل القدر عالم ربانی سید رضی الدین علیہ الرحمہ کی پرہیزگاری اور تقدس کا درجہ اس سے کہیںبلند ہے کہ ان پر خطبہ تصنیف کر کے حضرت علی علیہ السلام کی طرف اس کی جھوٹی نسبت دینے کا الزام لگایا جاۓ۔ اس کے ماسوا عربی ادب کے جن ماہرین نے نہج البلاغہ کے خطبوں پر غور کیا ہے انہوں نے ان کی فصاحت و بلاغت، قدرت الفاظ، بلندی مطالب اور ان کے اندر سموۓ ہوۓ علم و حکمت کے بیشبہاخزاںوں کے پیش ںظریہ طے کردیا ہے کہ سید رضی ہی نہیں بلکہ کسی فرد بشر کے لئےبھی ایسا کلام پیش کرنا ممکن نہیں ہے جب تک اس کا تعلق عالم غیب سے نہ ہو چنانچہ آپ کے اکابر علمائ جیسے عبدلحمید ابن ابی الحدید معتزلی نے اور متاخرین میں سے شیخ محمد عبد و مفتی مصر نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت کے خطبات وبیانات میں جو خوبصورت الفاظ، بلند مطالب اور نادر انداز کلام استعمال ہوا ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کلمات کلام رسول(ص) کے بعد کلام خالق سے پست اور کلام مخلوق سے بلند ہیں۔
عالم جلیل القدر سید رضی رضوان اللہ علیہ کے نظم ونثر کلمات وخطبات اور رسائل شیعہ وسنی صاحبان علم کے تالیفات میں موجود ہیں جن کی نہج البلاغہ کے خطبوں سے مطابقت کرنے کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ دوںوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
چنانچہ ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ مصدق بن شبیب نے ابن الخشاب جیسے مشہور و معروف شخص سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا، نہ رضی نہ غیر رضیکسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ ایسے نادر اسلوب کے ساتھ ایسا کلام پیش کرسکے۔ ہم نے کلمات رضی کو دیکھاہے، ان کو اس مقدس خطبات سے ہرگز کوئی رابطہ نہیں ہے۔
خطبہ شقشقیہ سید رضیؒ کی ولادت سے پہلے درج کتب تھا
علمی قواعد اور عقل اصول سے قطع نظر فریقین ( شیعہ وسنی)کے اہل علم اور اصحاب حدیث و تاریخ کے بڑی جماعت نے عالم گزرگوار سید رضی الدین اور ان کے پدر مرحوم ابو احمد نقیب الطالبین کی ولادت سے قبل اس خطبے کی روایت کی ہے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں کہتے ہیں کہ اس خطبہ شریفہ کو میں نے اپنے شیخ ابوالقاسم بلخی امام معتزلہ کی تصانیف میں کثرت سے پایا ہے۔ جو مقتدر باللہ عباسی کے زمانے میں تھے، اور ظاہر ہے کہ سید رضی کی ولادت اس کے مدتوں بعد ہوئی ہے۔اس کے علاوہ میں نے اس کو مشہور متکلم ابوجعفر بن قبہ کی کتاب الانصاف میں بھی بارہا دیکھا ہے جو
شیخ ابوالقاسم بلخی کے شاگردوں میں سے تھے اور سید رضیکی ولادت سے قبل وفات پاچکے تھے۔ نیز شیخ ابوعبداللہ بن احمد معروف بابن خشاب سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیںمیں نے اس خطبے کو ان کتابوں میں دیکھا ہے جو سید رضی کی پیدائش سے دو سو برس پہلے تصنیف ہوچکی تھیں بلکہ یہ خطبہ میں نے علماۓ اہل ادب کی ان تحریروں میں بھی پایا ہے جو سید رضی کے والد احمد نقیب الطالبین کی ولادت سے قبل لکھی گئی تھیں۔
فیلسوف متبحر اور حکیم محقق کمال الدین میثم بن علی بن میثم بحرانی نے شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ میں نے اس خطبے کو دو جگہ پایا، ایک وزیر بن فرات کی تحریر میں جو سید شریف رضی الدین علیہ الرحمہ کی ولادت سے ساٹھ سال سے زیادہ پہلے لکھی گئی ہے۔ دوسرے شیوخ معتزلہ میں سے ابوالقاسم کے شاگرد ابوجعفر بن قبہ کی کتاب الانصاف میں جو ولادت سید رضی سے قبل ہی وفات پاچکے تھے۔ پس ان دلائل و شواہد سے آپ کے ان متعصب علماۓ متاخرین کی ہٹ دھرمی اور عناد ثابت ہوگیا جنہوں نے بجا طور پر ہاتھ پاؤں مارے ہیں، ان تمام دلائل و شواہد سے قطع نظر اس خطبے کے بارے میں آپ حضرات کا فرضی دعوے اس وقت صحیح ہوسکتا تھا جب کہ حضرت علی علیہ السلام کے دوسرے خطبات و واقعات اور دردِ دل کے نمونے جو خود آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہیں( اور جن میں سے بعض کی جانب میں گذشتہ شبوں میں اشارہبھی کرچکا ہوں) عام طور پر پیش نظر نہ ہوتے۔ کیا ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص561 میں حضرت کا یہ خطبہ تفصیل سے نقل نہیں کیا ہے کہ فرماتے ہیں، میں روز اول سے وقت وفات تک رسول اللہ(ص) کے ساتھ رہا۔ یہاں تک کہ آں حضرت(ص) نے میرے ہی سینے پر دم توڑا، میں نے ہی ملائکہ کی مدد سے آپ کوغسل دیا، آپ پر نماز پڑھی اور آپ کو قبر میں اتارا،پس آں حضرت(ص) کی نسبت مجھ سے زیادہ قریب اور حق دار کوئی بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ خطبے کے آخر میں اپنے اور مخالفین کے حالات بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:
" فوالّذي لا إله إلّا هو إنّي لعلى جادّة الحقّ، و إنّهم لعلى مزلّة الباطل"
یعنی قسم اس کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں یقینا میں حق کی شاہراہ پر ہوں اور میرے مخالفین قطعا مزلہ باطل یعنی اس منزل پر ہیں جہاں سے قعر ضلالت میں گرجاتے ہیں۔؟
پھر بھی آپ فرماتے کہ علی علیہ السلام اپنے مخالفین کو حق پر سمجھتے تھے اور ان سے رنجیدہ نہیں تھے بلکہ ان کے طرز عمل پر راضی تھے۔ جناب شیخ صاحب حق اور حقیقت اس طرح کی باتوں سے پوشیدہ اورفنا نہ ہوگی۔ اگر آپ سورہ نمبر9( توبہ) کی آیت نمبر(32) پر گہری نظر ڈالئے جس میں ارشاد ہے:
" يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَ يَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَ لَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ"
یعنی وہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو پھونکیں مار کے بجھا دیں اور خدا نے اس کے برخلاف یہ طے کردیا ہے کہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا چاہے کافروں کو ناگوار ہی ہو۔
تو تصدیق کیجئے گا کہ ؎چراغے را کہ ایزد برفروزدگرابلہ پف زند ریشش بسوزد
شیخ: چونکہ رات کافی گذر چکی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بھی بہت خشکی کے ساتھ گفتگو فرمارہے ہیں۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ اب جلسہ برخاست کیا جائے۔ بقیہ مطالب اور جناب عالی کا جواب کل شب پر رہا۔ انشائ اللہ۔
دسویں نشست
شب یک شنبہ سوم شعبان المعظم سنہ1345 ہجری
(رات ہوتے ہی مولوی صاحبان کافی بڑے مجمع کے ہمراہ تشریف لاۓ، عید ولادت حضرت امام حسین(ع) کی شب تھی لہذا شربت اور شیرینی وغیرہ کی تقسیم ہوئی، اس کے بعد ہم نے چاہا کہ مباحثے کا آغاز ہو کہ اتنے میں نواب عبدالقیوم خان صاحب بھی تشریف لے آۓ اور معمولی صاحب سلامت اور شربت و شیرینی کے بعد بیان کیا)
نواب: قبلہ صاحب میں اپنی جسارت کے لئے معافی چاہتا ہوں لیکن ایک ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ اس پر سوال اور گفتگو بہت ضروری ہے اگر اجازت ہو تو جلسے کی کاروائی اور مذاکرہ شروع ہونے سے پہلے اپنا مطلب عرض کروں۔
خیر طلب: ضرور فرمائیے، میں سننے کے لئے بسرو چشم حاضر ہوں۔
عمر کے علمی درجے پر سوال اور اس کا جواب
نواب: آج صبح کو کچھ لوگ غریب خانے پر اکٹھا تھے، سب جناب عالی کا ذکر خیر کر رہے تھے گذشتہ راتوں میں آپ مباحثہ کی تفصیل کے متعلق، اخبارات اور رسائل پڑھے جارہے تھے اور ہم لوگ طرفین کے بیانات پر بحث کر رہے تھے اتنے میں میرے ایک بندہ زادے( عبدالعزیز) نے جو اسلامیہ کالج میں تعلیم حاصل کر رہا ہے مجھ سے کہا کہ چند روز ہوۓ درجے میں درس دیتے ہوۓ ہمارے استاد معظم نے اپنی تقریر میں ایک موقع پر کہا کہ مدینہ منورہ میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ صدر اسلام کے سب سے بڑے فقیہوں میں سے تھے۔ آپ کو قرآن کے آیات و مطالب اسلام کے علمی و فقیہی مسائل پر پورا عبور حاصل تھا اور علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ ابن عباس، عکرمہ اور زید بن ثابت وغیرہ رضی اللہ عنہم جیسے فقہائ کے درمیان خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فقیہ اور ممتاز تھے، یہاں تک کہ علی ابن ابی طالب
کرم اللہ وجہہ جو علمی مسائل اور فقہی مباحث میں سارے صحابہ سے آگے تھے وہ بھی جب فقہی مشکلات اور حقوق مسلمین میں مجبور پڑتے تھے تو خلیفہ ثانی عمر کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کی ذہانت اور علم و دانش کا سہارا لیتے تھے اور خلیفہ بھی علی کے علمی مشکلات اور فقہی مسائل کو حل کردیا کرتے تھے اس پر اور سب نے نے بھی تصدیق کی کہ بات بالکل صحیح ہے کیونکہ ہمارے علمائ نے بیان کیا ہے کہ خلیفہ عمر مراتب علم وفضل میں یکتاۓ زمانہ تھے، مجھ کو چونکہ دینی معاملات اور تاریخی حالات سے پوری واقفیت نہیں تھی لہذا سکوت اختیار کیا، بالاخر اپنے احباب اور بالخصوص بندہ زادے سے وعدہ کیا کہ آج را ت کو مناظرہ شروع ہونے سے پہلے میں یہ مسئلہ پیش کروں گا، چونکہ فریقین کے علمائ موجود ہیں لہذا اس اہم مطلب کا کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا جس سے ہم کو صحابہ کے علمی مدارج کا پتہ چل جاۓ گا۔ چنانچہ جسارت کرتے ہوۓ گذارش ہے کہ آپ اس بات کی اچھائی یا برائی کو زیر بحث لائیں تاکہ عام لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکیں اور ہم ہر ایک صحابی کے علمی معیار کی جانچ کر کے فیصلہ کر سکیں کہ صحابہ میں سے کس کو علمی فوقیت حاصل تھی۔ بندہ زادہ اور احباب بھی نتیجہ معلوم کرنے کے لئے حاضر ہیں۔ ہم کو مستفیض فرمائیے تاکہ بالخصوص بندہ زادہ اگر متزلزل ہو تو ثابت قدم ہوجاۓ۔
خیر طلب: ( میں نے جناب یوسف علی شاہ کی طرف جو ایک محترم شیعہ فاضل اور اسی کالج میں تاریخ و جغرافیہ اور انگریزی زبان کے مدرس تھے، رخ کر کے پوچھا کہ کیا یہی بات ہے؟ انہوں نے فرمایا، مجھ کو معلوم نہیں کون معلم تھا اور اس نے کیا تقریر کی۔
خیر طلب: ایسا کہنے والا چاہے جو بھی ہو اس کے اوپر سخت تعجب ہے کہ اس نے یہ باتیں کہاں سے پیدا کر لیں۔ عوام کی بات چیت میں تو خیر افراط و تفریط کثرت سے ہوتی ہے لیکن ایک مسلم کی گفتگو کو حلم و منطق کے مطابق ہونا چاہیئے۔ یہ بے علم اور لفاظ معلم جو شخص بھی رہا ہو اس نے ایسا دعوی کیا ہے جو آپ کے علمائ نے اس کو جھٹلا دیا ہے اس کے علاوہ یہ تعریف تو بما لایرضی صاحبہ (یعنی جس پر خود ممدوح بھی راضی نہیں) ہے، کیونکہ خود خلیفہ عمر نے بھی ہرگز کبھی اس کا دعوی نہیں کیا ہے نیز آپ کے علمائ نے کسی کتاب میں اس عقیدے کا اظہار نہیں کیا ہے۔ جس محدث اور مورخنے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب کے حالات میں کچھ لکھا ہے اس نے صرف ان کی چالاکی، ہوشیاری، سخت گیری اور سیاسی مہارت سے بحث کی ہے اور ان کے علم کے موضوع پر اپنی کتابوں میں قطعا کوئی بحث یا نبوت پیش نہیں کیا ہے۔ ورنہ خلیفہ کے حالات کی تشریح میں انہوں نے جو ابواب قائم کئے ہیں انہیں میں ایک باب ان کے علم کے لئےبھی ہونا چاہیئے تھا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس قول کے برخلاف فریقین کی کتابوںمیں پوری صراحت سے درج ہے کہ خلیفہ عمر علمی مسائل کی مہارت اورفقہی مدارج سے کورے تھے اور اس قسم کے اتفاقات اور احتیاج کے مواقع پر علی(ع)، عبداللہ ابن مسعود اور دوسرے فقہاۓ مدینہ کا دامن تھامتے تھے خصوصیت کے ساتھ ابن ابنی الحدید نےنقل کیاہے کہ عبداللہ ابن مسعود مدینے کے فقیہوں میں سے تھے اور خلیفہ عمر کا اصرار تھا کہ عبداللہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں تاکہ جب ضروری موقع اور اہم مراحل در پیش ہوں اور ان سے فقہی سوالات کئے جائیں تو عبداللہ ان کا
ارتکاب نہیں کیا جاسکتا۔ اور ظاہر ہے کہ عورت کے اس مخصوص مال کو جس کی وہ بحکم قرآن اپنے مہر کے عنوان سے مالک ہوچکی ہے چھین کر بیت المال میں داخل کرنا شرعا ہرگز جائز نہیں ہے۔
ان تمام چیزوں سے قطع نظر کسی شخص پر ایسے عمل کے لئے جس میں اس نے کوئی جرم وگناہ نہ کیا ہو حد جاری کرنا فقہ اسلامی کے روسے قطعا جائز نہیں ہے۔ حدود تعزیرات کے باب میں میری نظر سے تو کوئی ایسا مسئلہ گذرا نہیں ہے، اگر آپ جانتے ہوں تو بتادیجئے۔ اور اگر باب حدود میں کوئی ایسی حد موجود نہیں ہے تو آپ کو تصدیق کرنا چاہیئے کہ معلم کا یہ دعوی غلط اور بے جا تھا۔
وفاتِ پیغمبر(ص) سے عمر کا انکار
اتفاق سے خلیفہ کی عادت ہی کچھ ایسی تھی کہ ان کو ہر موقع پر تاؤ آجاتا تھا اور دوسرے شخص کو مرعوب کرنے کے لیے غصہ دکھا کر کہتے تھے کہ میں حد جاری کروں گا۔ چنانچہ امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں، طبری نے اپنی تاریخ میں اور آپ کے دوسرے علمائ نے نقل کیا ہے کہ جب رسول خداصلعم نے دنیا سے ( رحلت فرمائی تو عمر ابوبکر کے پاس گئے اور کہا مجھ کو خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو محمد(ص) مرے نہ ہوں بلکہ حیلہ کیا ہو( یعنی اپنے کو مردہ بنا لیا ہو) تاکہ اپنے دوست و دشمن کو پہچان لیں، یا حضرت موسی(ع) کی طرح غائب ہوگئے ہوں اور پھر واپس آکر جس نے ان کی مخالفت کی ہو اور نافرمان بن گیا ہو اس کو سزا دیں۔ پس جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ(ص) مرگئے ہیں میں اس پر حد جاری کروں گا۔ ابوبکر نے جب یہ باتیں سنیں تو ان کے دل میں بھی شک پیدا ہوا اس طرح گفتگو سے لوگوں میں ایک اضطراب پھیل گیا اور آپس میں اختلاف ہونے لگا۔ جب اس کی خبر علی علیہ السلام کو پہنچی گو آپ فرما فورا مجمع کے سامنے تشریف لاۓ اور فرمایا، اے قوم! تم لوگوں نے یہ کیا جاہلانہ شور و غل برپا کر رکھا ہے۔ کیا تم اس آیہ شریفہ کو بھول گئے ہو کہ خداوند عالم نے رسول کی زندگی ہی میں آپ سے دیا تھا۔ انک میت و انہم میتون۔ یعنی یقینا تم کو بھی موت آۓ گی اور تمہاری امت والے بھی مریں گے؟ پس بحکم آیت رسول خدا(ص) نے دنیا سے رحلت فرمائی۔ علی علیہ السلام کا یہ استدلال امت کی سمجھ میں آگیا اور لوگوں نے آں حضرت(ص) کی موت پر یقین کر لیا۔ عمر نے کہا گویا میں نے یہ آیت کبھی سنی ہی نہیں تھی۔
ابن اثیر نے کامل اور نہایہ میں زمخشری نے اساس البلاغہ میں، شہرستانی نے ملل والنحل مقدمہ چہارم میں اور آپ کے دوسرے متعدد علمائ نے لکھا ہے کہ جس وقت عمر چیخ رہے تھے کہ پیغمبر(ص) ہرگز نہیں مرے ہیں، تو ابوبکر ان کے پاس پہنچے اور کہا، کیا خداوند عالم یہ نہیں فرماتا ہے کہانک میت و انهممیتون نیز یہ بھی فرمایا ہے کہافان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ( یعنی اگر وہ ( پیغمبر(ص)) اپنی موت سے مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو کیا تم پھر اپنے پچھلے کفر وجاہلیت
پر پلٹ جاؤگے؟) اس وقت عمر خاموش ہوۓ اور کہا، گویا میں نے یہ آیت قطعا سنی ہی نہیں تھی، اب مجھ کو یقین آیا کہ پیغمبر(ص) نے وفات پائی۔
اب آپ خدا کے لئے سچ بتائیے، کیا اس متعصب معلم نے بغیر علم کے بے جا اور غلط دعوی نہیں کیا ہے۔۔
پانچ اشخاص کی سنگساری کا حکم اور حضرت علی(ع) کی تنبیہ
من جملہ اور دلائل کے ایک یہ ہے جس کو حمیدی جمع بین الصحیحین میں نقل کرتے ہیں کہ خلافتِ عمر کے زمانے میں پانچ اشخاص زنا کے جرم میں گرفتار کر کے خلیفہ کے سامنے لاۓ گئے اور اس کا ثبوت بھی گزر گیا کہ ان پانچوں نے فلان عورتوں کے ساتھ زنا کی ہے۔ عمر نے فورا ان کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا، اسی وقت حضرت علی علیہ السلام مسجد میں داخل ہوۓ اور اس حکم سے مطلع ہوکر عمر سے فرمایا کہ اس مقام پر خدا کا حکمتمہارے حکم کے خلاف ہے۔ عمر نے کہا، یا علی زنا ثابت ہے اور ثبوت زنا کے بعد سنگساری کا حکم ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ زنا کے متعلق مختلف صورتوں میں الگ الگ احکام ہیں، چنانچہ اس موقع پر بھی حکم میں اختلاف ہے۔ عمر نے کہا جو خدا و رسول(ص) کا حکم ہو بیان کیجئے کیونکہ میں رسول خدا(ص) سے بارہا سن چکا ہوں کہ آں حضرت نے فرمایا" علی اعلمکم و اقضاکم" یعنی علی تم سب سے زیادہ عالم اور تم سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔ حضرت نے حکم دیا کہ وہ پانچوں اشخاص لاۓ جائیں۔ پہلے ایک شخصحاضر کیا گیا تو :
"امر بضرب عنقه وامر برجم الثانی و قدم الثالث فضربه فقدم الرابع فضربه نصف الحد خمسین جلدة فقدم الخامس فعزره"
یعنی حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جاۓ، دوسرے کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، تیسرا آیا تو اس کو سو(100) تازیانے لگواۓ، چوتھے کو نصف حد یعنی پچاس تازیانے اور پانچواں کو حد تعزیر یعنی پچیس تازیانے مارنے کا حکم صادر فرمایا۔
عمر متعجب و متحیر ہوۓ اورکہا" کیف ذالک یا ابالحسن " یہ فیصلہ آپ نے کیونکر کیا؟ حضرت نے فرمایا:
"أَمَّا الْأَوَّلُ فَكَانَ ذِمِّيّاً زَنَى بِمُسْلِمَةٍ فَخَرَجَ عَنْ ذِمَّتِهِ وَ أَمَّا الثَّانِي فَرَجُلٌ مُحْصَنٌ زَنَى فَرَجَمْنَاهُ وَ أَمَّا الثَّالِثُ فَغَيْرُ مُحْصَنٍ فَضَرَبْنَاهُ الْحَدَّ وَ أَمَّا الرَّابِعُ فَعَبْدٌ زَنَى فَضَرَبْنَاهُ نِصْفَ الْحَدِّ وَ أَمَّا الْخَامِسُ فَمَغْلُوبٌ عَلَى عَقْلِهِ مَجْنُونٌ فَعَزَّرْنَاهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا عِشْتُ فِي أُمَّةً لَسْتَ فِيهَا يَا أَبَا الْحَسَنِ."
یعنی پہلا شخص کافر ذمی تھا جس نے مسلمان عورت سے زیا کی تھی لہذا وہ ذمہ اسلام سے خارج ہوگیا تھا ( اور اس کے لئے گردن مارنے کا حکم تھا) دوسرا شخص شادی شدہ تھا اس وجہ سے سنگسار کیا گیا۔ تیسرا شخص مجرد تھا پس اس کے اوپر سو(100)تازیانوں کی حد جاری کی گئے چوتھا شخص غلام تھا جس کی حد آزاد کی نصف یعنی پچاس تازیانے ہے، اور پانچواں شخص ابلہ اور کم عقل تھا اس سبب سے اس کو صرف تعزیر دی گئی یعنی پچیس تازیانے مارے گئے۔ پس عمر نے کہا، اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا
ہوتا۔ میں زندہ نہ رہوں اس امت کے اندر جس میں آپ نہ ہوں۔ ( اے ابوالحسن(ع))
حاملہ عورت کی سنگساری کا حکم اور حضرت علی(ع) کی ممانعت
محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب فی مناقب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) میں، امام احمد بن حنبل مسند میں، بخاری اپنی صحیح میں، حمیدی جمع الصحیحین میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب14 ص75 میں مناقب خوارزمی سے امام فخرالدین رازی اربعین ص466 میں، محب الدین طبری ریاض النضرہ جلد دوم ص196 میں، خطیب خوارزمی مناقب ص48 میں، محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص13 میں اور امام الحرم ذخائر العقبی ص80 میں نقل کرتے ہیں کہ:
" اتي عند عمر بن الخطاب رضیالله عنه امرأة حاملة، فسألها فاعترفت بالفجور فأمر بها بالرجم فقال عليّ لعمر سلطانك عليها فما سلطانك على الذی في بطنها؟ فخلى عمر سبيلها و قال: عجزن النساء أن يلدن عليّا و لو لا علي لهلك عمروقال الله مل اتبقی لمعضلةلیس له اعلی حیا."
یعنی عمر ابن خطاب رضی اللہ نہ کے سامنے ایک حاملہ عورت لائی گئی، پوچھنے پر اس نے زنا کاری کا اقرار کیا، تو انہوں نے سنگسار کرنے کا حکم دیے دیا، پس علی علیہ السلام نے عمر سے فرمایا کہ تمہارا حکم اس عور ت کے اوپر تو نافذ ہے لیکن جو بچہ اس کے شکم کے اندر ہے اس کے اوپر تم کو کوئی اختیار نہیں ہے( کیونکہ وہ بے گناہ ہے اس کا قتل جائز نہیں) اس پر انہوں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اور کہا عورتیں علی جیسا انسان پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا۔ پھر کہا خداوندا مجھ کو کسی ایسے پیچیدہ اور مشکل امر کے لئے باقی نہ رکھ جس کو حل کرنے کے لئے علی موجود نہ ہوں۔
مجنون عورت کی سنگساری کا حکم اور حضرت علی(ع) کی روک تھام
نیز امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی نے ذخائر العقبی ص81 میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب14 ص75 میں حسن بصری سے، ابن حجر نے فتح الباری جلد دوازدہم ص101 میں، ابوداؤد نے سنن جلد دوم ص227 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص87 میں، ابن ماجہ نے سنن جلد دوم ص227 میں، منادی نے فیض القدیر جلد چہارم ص257 میں، حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد دوم ص59 میں، قسطلانی نے ارشاد الساری جلد دہم ص9 میں، بیہقی نے سنن جلد ہشتم ص164 میں، محب الدین طبری نے ریاض النضرہ ص196 میں اور بخاری نے اپنی صحیح بابلا یرجم المجنون والمجنونة میں، غرضیکہ آپ کے اکثر اکابر علمائ نے نقل کیا ہے کہ ایک روز ایک مجنون عورت کو خلیفہ عمر ابن خطاب کے
سامنے لاۓ جس نے زنا کیا تھا اور اقرار زنا کے بعد خلیفہ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔ حضرت امیرالمومنین موجود تھے آپ نے فرمایاتم یہ کیا کر رہے ہو۔
"رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتّى يستيقظ، و عن المجنون حتّى يفيق، و عن الطفل حتّى يحتلم قال فخلا سبيلها"
یعنی میں نے رسول اللہ(ص) کو یہ فرماتے ہوۓ سنا کہ تین قسم کے لوگ مرفوع القلم قرار دیئے گئے ہیں، سوتا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہ ہو، دیوانہ جب تک وہ صحت یاب اور صاحب عقل نہ ہوجاۓ اور بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہوجاۓ۔ یہ سن کر خلیفہ نے اس عورت کو رہا کردیا۔
ابن السمان نے کتاب الموافقہ میں اس قسم کی بہت سی روایتیں نقل کی ہیں اور بعض کتابوں میں تو خلیفہ کی غلطی اور اشتباہ کے تقریبا سو مقامات درج ہیں، لیکنجلسے کا وقت اس سے زیادہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ میرا خیال ہے کہ نمونے اور اثبات مقصد کے لئے جتنا عرض کیا گیا اسی قدر کافی ہوگا۔ امید ہے کہ اپنے اکابر علمائ کی نقل کی ہوئی یہ روایتیں سننے کے بعد آپ حضرات تسلیم کریں گے کہ جس بے خبرمعلم نے ایسی بات کہی ہے وہ علم سے بالکل بے بہرہ انسان ہے اور اس نے محض تعصب و عناد کے ماتحت یہ بیان دیا ہے قطعا اس سے دلیلکا مطالبہ کرنا چاہیئے( کیونکہ وہ ہرگز اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کرسکتا) جو کچھ فریقین کے نزدیک مسلم ہے وہ یہ ہے کہ سارے اصحابِ رسول کے درمیان کوئی شخص امیرالمومنین علیہ السلام سے زیادہعالم و فقیہ اور کامل نہیں تھا، جیسا کہ نورالدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ فصل سوم ص17 میں، بسلسلہ حالات حضرت علی علیہ السلام لکھا ہے۔
علی علیہ السلام کا علم وفضل اور منصب قضاوت
فصل فی ذکر شئی من علومه فمنهاعلم الفقه الذی هِومرجع الانام و منبع الحلال و الحرام فقد کان علی مطلعهاعلی فوامض احکامهِ منقادالهجامعهِ بزمامه مشهودالهفیه بعلومحله ومقامه ولهذااخصه رسولالله ِصلی الله علیه وسلم لعلم القضائکم اتقلهل امام ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی رحمةالله علیه فی کتابه المصابیحم رویاعن انس بن مالک أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص لَمَّا خَصَّصَ جَمَاعَةً مِنَ الصَّحَابَةِ كُلَّ وَاحِدٍ بِفَضِيلَةٍ خَصَّصَ عَلِيّاً بِعِلْمِ الْقَضَاءِ فَقَالَ صلی الله ِعلیه ِوآلهِ وسلم وَ أَقْضَاکُمْ عَلِيٌّ."
یعنی ابن صباغ مالکی کہتے ہیں کہ اس فصل میں علی علیہ السلام کے علوم کا تذکرہہے۔ منجملہ ان کے علم فقہ ہے جو
لوگوں کا مرجع حلال و حرام کا سرچشمہ ہے۔ پس یقینا علی علیہ السلام اس کے غوامض احکام اور حقائق سے آگاہ تھے، اس کے دشوار مسائل آپ کے لئے آسان اور اس کے بلند مطالب آپ کے پیش نظر تھے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو سب کے مقابلے میں علم و فضل سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ(ص) نے صحابہ کی ایک جماعت میں سے ہر ایک کی کسی نہ کسی فضیلت کے ساتھ تخصیص کی تو علی کو علم قضاوت کے ساتھ خصوصیت دی اور فرمایا، علی تم سب لوگوں سے بہتر فیصلہ الاحکم دینے والے ہیں۔
نیز اسی حدیث علی اقضا کم کو محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول فی مناقب آل رسول ص22 میں مخصوص فرمایا جیسا کہ امام ابومحمد حسین بن مسعود بغوی نے کتاب مصابیح میں انس بن مالک سے قاضی بغوی سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
"و قد صدع هذا الحديث بمنطوقه و صرح بمفهومه أن أنواع العلم و أقسامه قد جمعهارسول الله لعلي دون غيره "
یعنی یہ حدیث اپنے مضمون اور مفہوم سے اس بات کی پوری صراحت کررہی ہے کہ رسول خدا صلعم نے علم کے سارے انواع و اقسام کو دوسروں کے علاوہ صرف علی علیہ السلام کے اندر جمع فرمایا ہے اس لئے کہ قضاوت کا حق اسی شخص کو حاصل ہے جو علاوہ کمال عقل، زیادتی تمیز اور ذہانت و زکاوت کے سہو و غفلت سے دور ہو اور جملہ علوم کے کے اندر پوری مہارت رکھتا ہو۔ اور حدیث کے اندر افعل التفضیل کا صیغہ مکمل طور سے اس مقصد کا ثابت کرتا ہے، اس کے بعد بہت سے دلائل تشریح کے ساتھ بیان کئے ہیں کہ علی علیہ السلام تمام امت سے زیادہ عالم اور افضل تھے۔
پس آپ حضرات احادیث منقولہ پر غور کرنے اور اپنے بڑے بڑے محققین علمائ کے بیانات سے اس بے علم معلم کے الفاظ کو مطابق کرنے کے بعد تصدیق کریں گے اس کا دعوی سرتا سر غلط ہے کیونکہ علی علیہ السلام کا مقدس مرتبہ اس سے کہیں بلند ہے کہ صحابہ میں سے کسی کے ساتھ آپ کا موازنہ کیا جاۓ اس معلم صاحب کا تو یہ معاملہ ہے کہ" پیراں نمی پرند مریداں می پرانند" اس لئے کہ خود خلیفہ عمر نے علی علیہ السلام کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا ہے اور( جیسا کہ خود آپ کے اکابر علمائ نے اوقات اور مواقع کا حوالہ دیتے ہوۓ نقل کیا ہے) اپنے زمانہ میں خلافت میں ستر مرتبہ کہا ہے"لو لا علي لهلك عمر " ( یعنی اگرعلی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا"وہ ہرگز اس پر تیار نہیں تھے کہ ان کی طرف ایسی فضیلت منسوب کی جاۓ اور اس قسم کیتعریف و توصیف یقینا ان کی مرضی کے خلاف ہے۔
اس متعصب اور بے علم معلم کے مبالغہ آمیز قول کے برخلاف امام احمد بن حنبل مسند میں، اور امام الحرم احمد مکی شافعی ذخائر العقبی میں، جیسا کہ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب56 میں اور محب الدین طبری نے ریاض النضرہ جلد دوم ص195 میں معاویہ کا قول نقل کیا ہے، کہتے ہیں کہ:
"ان عمر بن الخطاب اذا اشکل علیه شئی اخذ من علی "
یعنی جس وقت عمر ابن خطاب کو کوئی مشکل معاملہ پیش آتا تھا تو علی علیہ السلام سے مدد حاصل کرتے تھے۔
یہاں تک کہ ابوالحجاج بلوی اپنی کتاب ( الف با) کی جلد اول ص224 میں نقل کرتے ہیں کہ جس و قت معاویہ کو شہادت علی اسلام کی
خبر ملی تو کہا"لقد ذهب الفقه والعلم بموت ابن ابیطالب " یعنی علی علیہ السلام کی موت سے فقہ اور حکم جاتا رہا۔
نیز سعید ابن مسیب سے معاویہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ :
" كان عمر رضی الله عنه يتعوذ من معضلة ليس لها أبو حسن."( یعنی عمر رضی اللہ عنہ ایسی دشواری سے پناہ کرتے تھے جس کو د فع کرنے کے لئے ابوالحسن ( علی علیہ السلام) موجود نہ ہوں۔
ابوعبداللہ محمد بن علی الحکیم الترمذی شرح رسالہ فتح المبین میں کہتے ہیں:
"کانت الصحابه رضی الله عنهم یرجعون الیه فی احکام الکتاب و یاخذون عنه الفتاوی کما قال عمر بن الخطاب رضی الله عنه فی عدةمواطنلو لا علي لهلك عمر و قال صلی اللهعلیهوسلمأعلم أمّتي من بعدي عليّ بن أبي طالب."
یعنی پیغمبر(ص) کے اصحاب احاکم قرآن میں علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ سے فتوی حاصل کرتے تھے، جیسا کہ عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے متعدد مقامات پر کہا ہے کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا اور رسول خدا صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت کے سب سے بڑے عالم علی ابن ابی طالب ہیں۔جو کچھ اخبار و تواریخ کی کتابوں میں ملتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ خلیفہ عمر علمی مراتب اور فقہی مسائل میں اس قدر کورے تھے کہ اکثر عام اور ضروری احکام و مسائل میں ایسا کھلا ہوا دھوکا کھاتے تھے کہ جو صحابی موجود ہوتا تھا وہ ان کو متنبہ اور متوجہ کردیتا تھا۔
شیخ: آپ بہت بے لطفی کی بات کر رہے ہیں کہ خلیفہ کو ایسی نسبت دیتے ہیں آیا یہ ممکن ہے کہ خلیفہ رضی اللہ عنہ دینکے احکام و مسائل میں دھوکا کھا گئے ہوں۔؟
خیر طلب: یہ بے لطفی میری طرف سے نہیں ہے بلکہ خود آپ کے بڑے بڑے علمائ نے حقیقت کا انکشاف کیا ہے اور اپنی معتبر کتابوں میں درج اور شائع کیا ہے۔
شیخ: اگر ممکن ہو تو ذرارہ اشتباہ کے واقعے مع اسناد کے بیان فرمائیے تاکہ سچ اور جھوٹ کا پول کھل جاۓ اورتہمت لگانے والا ذلیل ہو۔
خیر طلب: ان کے اشتباہ کے واقعات بہت ہیں اور ایسے تقریبا سو مواقع کتابوں میں درج ہیں لیکن اس وقت جو میرے پیش نظر ہیں ان میں سے بلحاظ وقت صرف ایک نمونہ عرض کرتا ہوں۔
تیممّ کےبارے میں اشتباہ اور غلط حکم
مسلمابن حجاج نے اپنی صحیح ب اب تیمم میں، حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں، امام احمد ابن حنبل نے مسند جلد چہارم ص90225
میں، بیہقی نے سنن جلد اول ص209 میں، ابو داؤد نے سنن جلد اول ص54 میں، ابن ماجہ نے سنن جلد اول ص20 میں، امام نسائی نے سنن جلد اول ص59 تا ص61 میں اور آپ کے دوسرے اکابر علمائ نے مختلف طریقوں سے الفاظ کے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے کہ خلافت عمر کے زمانے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا، میں جنب ہوگیا ہوں اور غسل کے لئے پانی نہیں مل سکا ہے، ایسی صورت میں میں نہیں جانتا کہ مجھ کو کیا کرنا چاہیئے۔ خلیفہ نے کہا جب تک پانی نہ ملے اور غسل نہ کر لو اس وقت تک نماز نہ پڑھو۔ صحابہ میں سے عمار یاسر موجود تھے انہوں نے کہا، اے عمر تم کیا بھول گئے ہو کہ ایک سفر میں اتفاق سے مجھ کو اور تم کو غسل کی ضرورت لاحق ہوئی، چونکہ پانی نہیں تھا لہذا تم نے نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے سوچا کہ تیمم بدل غسل کا طریقہ یہ ہے کہ سارے جسم پر مٹی ملی جاۓ لہذا اپنے کل بدن پر خاک مل کے نماز پڑھ لی۔ جب رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو آں حضرت(ص) نے مسکراتے ہوۓ فرمایا کہ تیمم کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ زمین پر مار کر دونوں ہتھیلیاں ملا کر پیشانی پر ملی جائیں اس کے بعد بائیں ہتھیلی سے داہنے ہاتھ کی پشت دست پر اور پھر داہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت دست پر مسح کیا جاۓ۔ پس اب تم یہ کیوں کہہ رہے ہو کہ نماز نہ پڑھو؟
عمر کو کوئی جواب نہ بن پڑا تو کہا، اے عمار خدا سے ڈرو۔ عمار نے کہا، کیاتم اجازت دیتے ہو کہ یہ حدیث نقل کروں تولیک ماتولیت۔ یعنی جاؤ میں نےتم کو تمہاری مرضی پر چھوڑا؟ اب اگر آپ حضرات اس معتبر روایت پر جس کو آپ کے علمائ نے اپنے معتبر صحاح میں نقل کیا ہے ہر پہلو سے غور کریں تو یقینا بے ساختہ تصدیق کریں گے کہ معلم صاحب کا یہ کہنا بالکل ہی بیجا ہے کہ خلیفہ صحابہ کے درمیان بہت بڑے فقیہ تھے۔
یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایکفقیہ جو شب و روز اور سفر و حضر میں پیغمبر(ص) کے ہمراہ رہا ہو اور آں حضرت(ص) سے سنا بھی ہو کہ پانی نہ ملنے پر کس طرح تیمم کرنا چاہیئے، اس کے علاوہ سورہ نمبر5 ( مائدہ) آیت نمبر9 میں خداوند عالم کا یہ صریحی حکم بھی پڑھ چکے ہو۔"فَلَمْ تَجِدُوا ماءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً" ( یعنی اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کرو) وہ حکم الہی میں ترمیم کر کے ایک مسلمان آدمی سے کہے کہاگر پانی نہیں ملا ہےتو نماز ہی نہ پڑھو۔ در آنحالیکہ قرآن مجید ایسی صورت میں تیمم کی تاکید کر رہا ہو؟ اتفاق سے تیمم کا مسئلہ مسلمانوں میں اس طرح رائج اور عام طور پر داخل عمل ہے کہ وضو اور غسل کے مانند اس سے ایک جاہل مسلمان بھی واقف ہے نہ کہ پیغمبر(ص) کا صحابی اور خلیفہ جس کے اوپر علاوہ اس کے کہ لوگوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داری ہےخود اپنے عمل کے لئے بھی اس کو جاننا فرض ہے۔ یہ تو میں نہیں کہوں گا کہ خلیفہ عمر نے جان بوجھ کر قصدا حکم خدا کو بدلایا وہ دین میں خلل ڈالنا چاہتے تھے لیکن اتنا ضرور ممکن ہے کہ مسائل کی یاد داشت میں ان کا حافظہ کمزور تھا اور احکام کو محفوظرکھنا ان کے لئے مشکل تھا، اور یہی سبب تھا کہ جیسا آپ کے علمائ نے لکھا ہے۔ یہ عبداللہ ابن مسعود جیسے فقیہ صحابی سے کہا کرتے تھے کہ تم میرے ساتھ ہی رہا کرو تاکہ جب مجھ سے کوئی بات پوچھی جاۓ تو تم اس
کا جواب دے دو۔ اب آپ حضرات پوری توجہ کے ساتھ فیصلہ کیجئے کہ کس قدر فرق ہے ایسے آدمی سے جو اس قدر سادہ دماغ اور سطحی معلومات رکھتا ہوکہ مسائل کو سمجھنے اور احکام کو بیان کرنے سے قاصر ہو، اور اس انسان سے جو جملہ امور کے جزئیات و کلیات پر مکمل عبور رکھتا ہو اور تمام علمی و عملی مسائل ہتھیلی کے مانند اس کی نگاہوں کے سامنے ہوں،
شیخ: سوا رسول خدا(ص) کے اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو کہ جملہ امور کے جزئیات وکلیات پر پورا عبور رکھتا ہو؟
خیر طلب: بدیی چیز ہے کہ رسول اکرم حضرت خاتم الانبیائ صلعم کے بعد صحابہ میں سے کسی فرد کو بھی ایسا عبور حاصل نہیں تھا سوا آں حضرت(ص) کے باب علم حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے، جن کے لئے خود پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے کہ علی تم سب سے زیادہ عالم ہیں۔
تمام علوم ہتھیلی کی طرح علی(ع) کے سامنے تھے
چنانچہ اخطب الخطبائ ابوالموئد موفق بن احمد خوارزمی اپنے مناقب میں نقل کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ عمر نے تعجب کے ساتھ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ سے چاہے جو حکم یا مسئلہ دریافت کیا جاۓ آپ بلاتامل جواب دے دیتے ہیں؟ حضرت نے عمر کے جواب میں ان کے سامنے اپنا دست مبارک کھول دیا اور فرمایا، میرے ہاتھ میں کتنی انگلیاں ہیں؟ انہوں نے فورا کہا، پانچ۔ حضرت نے فرمایا تم نے غور و تامل کیوں نہیں کیا؟ عمر نے جواب دیا کہ غور وتامل کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ پانچوں انگلیاں میری نظر کے سامنے تھیں۔ حضرت نے فرمایا بس اسی طرح تمام مسائل اور احکام اور علوم میری نظر کے سامنے ہیں لہذا بغیر کسی غور و تامل کے فورا سوالات کے جوابات دے دیا کرتا ہوں۔
صاحبان اںصاف ! کیا یہ بے شعوری نہیں ہے کہ محض جانبداری اور بغض وعناد کی بنا پر یہ بے لگام اوربے اںصاف معلم ایک اتنی بڑی درس گاہ میں بغیر کسی دلیل و برہان کے ایسی مہمل باتیں کرے اور نا واقف نوجوانوں کو یہ کہہ کر مغالطہ دے کہ ایسا عالم جو سارے علوم کا جامع اور رسول اللہ صلعم کا باب علم تھا وہ اپنے مشکلات میں خلیفہ عمر کی طرف رجوع کرتا تھا؟
حضرت علی(ع) کی طرف سے معاویہ کا دفاع
اس وقت مجھ کو ایک روایت یاد آگئی ہے جو مزید ثبوت کے لئے پیش کرتا ہوں۔
ابن حجر مکی جیسے متعصب عالم نے صواعق محرقہ باب11 مقصد پنجم ص110 میں آیت 14 کے ذیل میں لکھا ہے کہ امام احمد بن حبنل نے روایت کی ہے، نیز میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے معاویہ سے کوئی سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کو علی(ع) سے پوچھو کیونکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ عرب نےکہا کہ میں تمہارے جواب کو علی(ع) کے جواب سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ معاویہ نے کہا تو نے بہت بری بات کہی:
" كرهت رجلا كان رسول اللّه يغره بالعلم غرّا و لقد قال له: أنت منّي بمنزلة هارون من موسى إلّا أنّه لا نبيّ بعدي و كان عمر إذا أشكل عليه شيءاخذ منه"
یعنی تو نے اس شخص سے کراہت کی جس کو رسول اللہ(ص) نے علم کی پوری تعلیم دی ہے ا ور یقینی طور پر جس کے لئے فرمایا ہے کہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی، سوا اس کے کہ میرے بعد کوئی بنی نہ ہوگا۔ اور عمر جس وقت کسی مشکل میں پھنسے تھے تو اس کا حل علی ہی سے دریافت کرتے تھے۔
اسی کو کہتے ہیں کہ "الفضل ما شهدت بهالاعدائ " ( یعنی فضیلت وہی ہے جس کی دشمن بھی گواہی دیں) علی علیہ السلام کی شان میں آپ کے سب سے بڑے دشمن معاویہ ہی کی شہادت کافی ہے اور اس مقصد کو ثابت کرنے کے لئے یہی کیا کم ہے جس کو عام طور سے آپ کے اکابر علمائ نے اپنی معتبر کتابوں میں مثلا نورالدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور دوسروں نے لکھا ہے کہ خلیفہ عمر ابن خطاب نے ستر مرتبہ کہا"لو لا علي لهلك عمر " ( یعنی اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا) بلکہ صاف صاف اقرار کیا کہ اگر مشکلات اور مصائب میں نیز دشوار مسائل کا جواب دینے کے لئے علی موجود نہ ہوں تو کام نہیں چل سکتا۔ اور اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا۔ ( ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص---)
اپنے عجز اور علی(ع) کی مشکل کشائی کے لئے عمر کا اعتراف
نیز نورالدین مالکی نے فصول المہمہ فصل اول کی فصل سوم ص18 میں روایت کی ہے کہ لوگ ایک شخص کو خلیفہ عمر کے پاس لاۓ اور مجمع کے سامنے اس سے پوچھا کیف اصبحت تم نے کس حال میں صبح کی؟ اس نے کہا:
" اصحبت احب الفتنةواکره الحق واصدق الیه ودوالنصاری واؤمن بمالماره واقربم الم یخلق "
یعنی میں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ فتنے کو دوست رکھتا ہوں، حق سے کراہت رکھتا ہوں، یہود و نصاری کی تصدیق کرتا ہوں، بن دیکھی چیز پر ایمان رکھتا ہوں اور جو چیز خلق نہیں ہوئی اس کا اقرار کرتا ہوں۔
عمر نے حکم دیا
کہ جاکر علی علیہ السلام کو بلا لاؤ۔ جس وقت امیرالمومنین(ع) تشریف لاۓ تو یہ قضیہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا، اس نے صحیح کہا ہے۔ اس نے جو یہ کہا کہ فتنے کو دوست رکھتا ہوں تو اس سے مال واولاد مراد ہے، کیونکہ خداوند عالم نے فرمایا ہے"إِنَّما أَمْوالُكُمْ وَ أَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ " ( یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تمہارے اموال، اولاد فتنہ اور ذریعہ معاش ہیں۔ سورہ نمبر8 انفال آیت نمبر28۔
حق سے کراہت کرنے میں اس کی مراد موت ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے" وَ جاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِ " یعنی موت کی سختی اور بے ہوشی حق و حقیقت کے ساتھ آپہنچی۔ سورہ نمبر50( ق) آیت نمبر18۔ یہود و نصاری کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:
" وَ قالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصارى عَلى شَيْءٍ وَ قالَتِ النَّصارى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلى شَيْءٍ "
یعنی یہود نے کہا نصاری حق پر نہیں ہیں اور ںصاری نے کہا کہ یہود حق پر نہیں ہیں۔
یعنی دونوں فرقے ایک دوسرے کی تکذیب کرتے ہیں لہذا یہ عرب کہتا ہے کہ میں دونوں فرقوں کو تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی دونوں کی تکذیب کرتا ہوں۔ یہ کہنے کا مقصد کہ بن دیکھی چیز پر ایمان رکھتا ہوں۔ یہ ہے کہ خدا کی ذات پر ایمان رکھتا ہوں۔
رہا یہ کہنا کہ ایسی چیز کا اقرار کرتا ہوں جو خلق نہیں ہوئی ہے تو اس سے قیامت مراد ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے عمر نے کہا "اعوذ باللهمن معضلةلا علی لها " ( یعنی خداکی پناہ چاہتا ہوں اس مشکل امر سے جس کے لئے علی (ع) نہ ہوں)
اسی قضیہ کو بعض علمائ نے جیسے محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب57 میں دوسرے طریقے سے مزید تفصیل کے ساتھ بروایت حذیفہ بن الیمان خلیفہ عمر سے نقل کیا ہے۔
اس قسم کے مراحل ابوبکر و عمر کے زمانہ خلافت میں کثرت سے پیش آۓ ہیں جن میں ابوبکر وعمر جواب سے عاجز رہے اور علی(ع) نے جوابات دئیے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ جس وقت علمائ یہود و ںصاری مادئیں اور نیچری لوگ آتے تھے اور مشکل مسائل دریافت کرتے تھے تو صرف حضرت علی(ع) ہی تھے جو ان لی گھتیوں کو حل فرماتے تھے۔
غرضیکہ آپ کے اکابر علمائ کے اقرار کے مطابق جیسا کہ بخاری و مسلم نے اپنی صحیحیں میں، نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں، ابن مغازلی فقیہ شافعی نے مناقب میں، محمد بن طلحہ نے مطالب السئول باب4 میں ص18 میں، حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی سنہ852ھ نے تہذیب التہذیب(مطبوعہ حیدر آباددکن) ص338 میں، قاضی فضل اللہ بن روزبہان شیرازی نے ابطال الباطل میں، محب الدین طبری نے ریاض النضرہ جلد دوم ص84 میں، ابن اثیر جزری متوفی سنہ360ھ نے اسد الغابہ جلد چہارم ص22 میں، ابن عبد البر قرطبی متوفی سنہ463ھ نے استیعاب جلد دوم ص474 اور جلد سوم ص39 میں، ابن کثیر نے اپنی تاریخ جلد ہفتم ص369 میں، ابن قتیبہ دینوری متوفی سنہ276ھ نے تاویل مختلف الحدیث( مطبوعہ مصر) ص201 و 204 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی متوفی سنہ658ھ نے کفایت الطالب باب57 مین، جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفائ ص66 میں، سید مومن شبلنجی نے نور الابصار ص73 میں، نورالدین علی بن عبداللہ سمہودی متوفی سنہ911ھ نے جواہر القصدین میں،
حاج احمد آفندی نے ہدایۃ المرتاب ص146 و ص152 میں، محمد بن علی الصبان نے اسحاف الراغبین ص52 میں، یوسف سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ باب6 ص87 میں، ابن ابی الحدید متوفی سنہ655ھ نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص6 میں، مولوی علی قوشجی نے شرح تجرید ص407 میں، اخطب الخطبائ خوارزمی نے مناقب ص48 ، ص60 میں، حتی کہ ابن حجر مکی جیسے متعصب متوفی سنہ973ھ نے صواعق محرقہ ص78 میں، ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد دوم ص509 میں اور علامہ ابن قیم جوزیہ نے طرق الحکیمہ ص47، ص53 میں ایسے بہت سے واقعات نقل کئے ہیں کہ خلیفہ عمر نے مشکل مراحل و مسائل میں، بالخصوص بادشاہ روم کے سخت و دشوار سوالات میں امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرف رجوع کیا ہے، یہاں تک کہ یہ بات تقریبا تواتر کو پہنچ گئی ہے کہ خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب نے ایسے متعدد مواقع پر جب کہ علی علیہ السلام نے مشکلات کو حل کیا ہے اور ان کے جوابات دیئے ہیں باربار کبھی یہ کہا ہے کہ ""اعوذ باللهمن معضلةلیس فیها ابوالحسن" ( یعنی میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں اس دشواری سے جس میں ابوالحسن ( علی علیہ السلام) موجود نہ ہوں) کبھی کہتے تھے" لو لا علي لهلك عمر " یعنی اگر علی نہ ہوتے تو قریب تھا کہ پسر خطاب(عمر) ہلاک ہوجاۓ) اس بے خبر اور بے لحاظ معلم کی تقریر کے بر خلاف ابن مغازلی شافعی مناقب میں اور حمیدی جمع بین الصحیحین میں لکھتے ہیں کہ خلفائ تمام مراحل میں علی سے مشورہ کرتے تھے اور دین و دنیا کے امور میں مرکز فتوی علی علیہ السلام تھے۔ خلفائ آپ کے الفاظ اور ہدایات کو توجہ سے سنتے تھے ان پر عمل کرتے تھے اور فائدہ اٹھاتے۔ جیسا کہ مختصر طور پر عرض کیا گیا۔
پس ہر صاحب بصیرت پر ظاہر و آشکار ہے کہ دیگر کمالات اور نصوص و احادیث سے قطع نظر خود یہی منقول قضایا اور احکام و ارشادات جو ان حضرت سے صادر ہوۓ ہیں آپ کی امامت و ولایت اور دوسروں کے اوپر آپ کے حق تقدم کے لئے دلیل کامل ہیں۔
علی(ع) منصب خلافت کے لئے اولیٰ و احق تھے
کیونکہ اعلمیت خود ہی اولویت کی بہت بڑی دلیل ہے، بالخصوص جب کہ اس کے ساتھ دوسرے صفات کمالیہ بھی وابستہ ہوں، چنانچہ سورہ10 ( یونس) کی آیت 36 میں صاف صاف ارشاد ہے۔
" أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِ أَحَقُ أَنْ يُتَّبَعَ- أَمَّنْ لا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدى- فَما لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ"
یعنی آیا جو شخص حق کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ پیروی کا زیادہ حق دار ہے یا وہ شخص ہو جو خود ہی ہدایت نہیں پاتا جب تک دوسرا اس کو ر اہ نہ دکھاۓ؟ پس تم کو کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسے حکم لگاتےہو؟
یعنی جو شخص طریقہ ہدایت کا عالم ہو قطعا وہ لوگوں کا حاکم اور رہنما بننے کے لئے اولی اور سب سے زیادہ مستحق ہے نہ کہ وہ شخص جو راہ ہدایت سے جاہل اور اس کا محتاج ہو، کہ
دوسرا اس کی ہدایت و رہنمائی کرے۔ یہ آیہ شریفہ اس بات کی ایک مضبوط دلیل ہے کہ افضل کے اوپر مفضول کو مقدم کرنا جائز نہیں ہے اور امر خلافت و امامت دینی و دنیوی ریاست عامہ اورجانشینی رسول(ص) بھی اس عقلی ق اعدے کے ماتحت ہے۔ چنانچہ آیت 13 سورہ 29 ( زمر) میں استفہام تقریری و انکاری کے طور پر ارشاد ہے۔
" قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ"
یعنی آیا صاحبان علم و دانش ( جیسے علی علیہ السلام) اور جاہل ونادان لوگ برابر ہیں؟ ( ہرگز نہیں)
انصاف سے فیصلہ ہونا چاہیئے
حضرات! آپ کو خدا کاواسطہ عادت اور تعصب کو چھوڑ یئے اور منصفانہ فیصلہ کیجئے۔
کیا یہ انصاف تھا کہا یک ایسی بزرگ ہستی کو جس کا ہر شے کے ظاہری و باطنی حالات پر علمی عبور اظہر من الشمس ہے اور اس پر تمام علماۓ فریقین بلکہ غیروں کا بھی اتفاق ہے اور جس کے لئے رسول خدا صلعم نے وصیتیں فرمائیں تھیں بالکل بر طرف کردیا جاۓ؟ آیا حضرت کو برطر کرنے اور آپ سے کنارہ کشی کرنے میں سازشیں اور سیاست کام نہیں کررہی تھی؟ اگر آپ امت رسول اور صحابہ کبار میں سے کوئی فرد ایسا ڈھونڈھ کر نکال سکتے ہوں جس کو پیغمبر(ص) نے اپنا باب علم امام المتقین اور سید الوصیین فرمایا ہو تو امر خلافت میں ضرور اس کو مقدم کیجئے۔ اور اگر سوا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ان بلند صفات کا حامل کوئی دوسرا نہ مل سکے جو بعد رسول(ص) سب سے بڑا عالم، اور ساری امت سے زیادہ عابد و زاہد اور متقی و پرہیزگار ہو تو بحکم عقل آپ کو تصدیق کرنا ہوگا کہ علی امام برحق، رسول اللہ(ص) کے وصی اور خلیفہ اور تمام امت سے زیادہ اس بزرگ منصب کے لائق تھے اور ہیں اورقطعا ایسی بلند شخصیت کا محروم اور الگ کردیا جانا محض سیاسی داؤں پیچ کا نتیجہ تھا۔
شیخ: سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے جو علمی و عملی فضائل و مناقب جناب نے بیان کئے ان پر سب کو اتفاق ہے اور سوا چند ہٹ دھرمی اور تعصب و عناد سے کام لینے والے جاہل خارجیوں کے کسی نے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ سیدنا علی نے خود ہی بہ رضا و رغبت خلفائ رضی اللہ عنہم کی خلافت کو قبول کیا اور ان کے مرتبے کی برتری اور حق تقدم کو ماں لیا، لہذا ہم کو کیا پڑی ہے کہ بقول آپ کے مدعی سست و گواہ چست کے مصداق بنیں اور تیرہ سو سال کے بعد غم وغصہ دکھائیں اور آپس میں لڑیں کہ اجماع امت نے ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو کیوں پسند کیا اور علی پر کیوں مقدم رکھا؟
کیا قباحت ہے اگر ہم لوگ آپس میں صلح و صفائی کے ساتھ رہیں اور جس چیز کی تاریخ نے خبر دی ہے اور جس کی آپ کے علمائ بھی عام طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) کے بعد ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے مسند خلافت پر بیٹھے، ہم بھی برادرانہ طریقے سے آپس میں علی کرم اللہ وجہہ کے مرتبے کی برتری، علمی و عملی افضلیت اور رسول اللہ(ص) کے ساتھ
آپ کی قرابت کا لحاظ رکھتے ہوۓ ایک دوسرے کے ساتھ عملی تعاون کریں اور جس طرح ہمارے چاروں مذاہب باہم متحد ہیں اسی طرح شیعہ مذہب بھی اتحاد رکھے؟
ہم سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے علم و عمل کی عظمت سے قطعا انکار نہیں کرتے لیکن آپ خود تصدیق کریں گے کہ سن کی بزرگی، سیاسی سوجھ بوجھ، ہوشیاری اور دشمنوں کے مقابل تحمل و بردباری کی حیثیت سے یقینا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقدم تھے اور اسی وجہ سے اجماع اس کے زریعے مسند خلافت پر متمکن ہوۓ، کیونکہ علی کرم اللہ وجہہ ابھی نو عمر جوان تھے اور خلافت کی قدرت و طاقت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ پچیس سال کے بعد بھی جب خلیفہ ہوۓ تو سیاست نہ جاننے کی وجہ سے اس قدر خونریزیاں اور ساری باف برپا ہوۓ۔
خیر طلب: آپ نے کئی جملے ایک دوسرے سے ملاکر ارشاد فرماۓ لہذا ضرورت ہے کہ اپنی تیار کی ہوئی اس یاد داشت کی رو سے ہر ایک کو الگ الگ کر کے جواب عرض کروں۔
راہزن اور زوؔار کی مِثل
اول آپ نے فرمایا ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے خواہش و رغبت سے سر تسلیم خم کیا اور خلفاۓ ثلاثہ کی خلافت پر راضی ہوۓ اس مقام پر مجھ کو ایک واقعہ یاد آگیا جس کو مثال کے طور پر پیش کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے سابق زمانے میں جب ایران کے راستوں اور گزرگا ہوں میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی اور زائرین عتبات عالیات کو آمد و رفت میں سخت زحمت پیش آتی تھی،زائرین کا ایک قافلہ واپسی میں رہزنوں کے چنگل میں پھنس گیا۔ وہ لوگ ان کو گرفتار کر کے اور ان کا مال و متاع لوٹ کے آپس میں تقسیم کر رہے تھے کہ اتنے میں کسی زائر کا ایک عدد کفن ایک بوڑھے قزاق کے ہاتھ میں پڑا، اس نے کہا حضرات زائرین یہ کفن کس کا ہے؟ زائر نے کہا میرا سارا مال تمہارا لیکن یہ کفن مجھ کو واپس کر دو کیونکہ میری زندگی کا آخری زمانہ ہے اور میں نے اپنا یہ لباس آخرت بڑی زحمت سے مہیا کیا ہے۔ یہ میری تمناؤں کا سرمایہ ہے۔ قزاق نے ہرچند اصرار کیا لیکن زائر نے یہی کہا کہ میں اپنا یہ حق کسی کو نہیں بخشوں گا۔ لٹیرے نے تازیانہ نکال کے زائر کے سر اور چہرے پر مارنا شروع کیا اور کہا کہ میں یہاں تک ماروں گا کہ تم مجھ کو یہ کفن بخش دو اور کہہ دو کہ حلال ہے۔ بیچارے بوڑھے کو اس قدر مارا کہ وہ بے بس ہو کر چیخنے لگا، جناب، حلال، حلال، حلال،ماں کے دودھ سے بھی زیادہ حلال( حاضرین جلسہ کا قہقہہ)
یقین ہے کہآپ معاف فرمائیں گے کیونکہ مثل میں کوئی عیب نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف دماغوں کو متوجہ کرنا اور مطلب کی وضاحت ہوا کرتا ہے۔ آپ حضرات گویا گذشتہ راتوں کے بیانات بالکل بھول ہی گئے جن میں میں نے مضبوط
تاریخی دلائل اور ابن ابی الحدید، جوہری، طبری، بلاذری، ابن قتیبہ اور مسعودی وغیرہ کے ایسے آپ کے اکابر علمائ کی شہادتوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے گھر پر آگ لے گئے آپ کو ننگے سر اور بغیر ردا کے جبرا کھینچتے ہوۓ مسجد میں لے گئے اور آپ کے سامنے برہنہ تلوار کھینچ کر کہا بیعت کرو ورنہ تمہاری گردن ماردیں گے۔
خدا کے لئے اںصاف سے بتائیے،کیا رضا ورغبت کے معنی یہی ہیں؟ اگر شور و غل اور ہنگامہ و فساد برپا کر کے، گھر میں آگ لگا کر، ضرب شمشیر کے زور سے اور قتل کی دھمکی دے کر بجبربیعت لینے ہی کا مطلب اپنی خواہش اور رضامندی سے بیعت کرنا ہوتا ہے تو پھر جبر و اکراہ اور زبردستی کی بیعت کیسی ہوتی ہے؟
انشائ اللہ گھر واپس جانے کے بعد اگرآپ رسائل و اخبارات کے صفحات نگاہ انصاف سے پڑھیں گے اور گذشتہ شبوں میں ہم نے مکرر جو دلائل پیش کئے ہیں ان پر غور کریں گے تو قطعی طور پر تصدیق کریں گے کہ رضا ورغبت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ہان یہ ہوسکتا ہے کہ اسی قزاق کی طرح مار مار کے زبردستی ہم سے کہلا لیجیئے کہ ہاں راضی تھے۔
دوسرے آپ نے فرمایا ہے کہ ہم کو کیا پڑی ہے کہ تیرہ سو سال کےبعد اس مسئلے پر غور کریں اور آپس میں لڑائی جھگڑا کریں۔ تو اول تو ہم نے کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا ہے اور نہ ایسا کریں گے بلکہ حملوں اور اعتراضات کے جواب میں مجبورا دفاع سے کام لیتے ہیں۔ یہ حضرات اہل سنت ہی ہیں جو ہم شیعوں کی جان کو اٹکے ہوۓ ہیں اور ہماری جان و مال کو مباح سمجھتے ہیں۔ جس وقت وہ ناواقف عوام کے سامنے ہم کو مشرک، کافر اور بدعتی کہہ کے غلط فہمی پھیکلاتے ہیں تو ہم بھی مجبورا مقابلے پر آکے ثابت کرتے ہیں کہ ہم مشرک اور کافر نہیں ہیں بلکہ مومن اور موحد خالص ہیں اور اپنے اس پاکیزہ عقیدہ توحید پر فخر کرتے ہیں۔
دین کا اندھا سودا نہ کرنا چاہیئے
دوسرے میں قبل کی راتوں میں عرض کرچکا ہوں کہ دینی عقائد تقلیدی نہیں ہوتے ہیں کہ جیسا تاریخ بتارہی ہے خلفاۓ اربعہ جس طریقے سے کہ آپ نے بیان کیا جب حاکم بن گئے تو ہم بھی آںکھ بند کر کے اسلاف کے عادات اور طریقوں کے پابند ہو کر سرتسلیم خم کردیں۔ حالانکہ عقلی و نقلی دلیلوں سے بالکل ثابت و محقق ہے کہ اصول عقائد کو تقلیدی نہیں بلکہ تحقیقی ہونا چاہیئے میں پھر عرض کرتا ہوں کہ جب ہمارے اور آپ کے اور جمہور امت کے مورخین یہ لکھ چکے ہیں کہ وفات رسول(ص) کے بعد امت دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک فرقہ کہتا تھا کہ ابوبکرکی پیروی کرنا چاہیے اور ایک جماعت کا قول کہ حق علی(ع) کے ساتھ ہے، اور جب رسول اللہ(ص) مسلمانوں سے حضرت علی(ع) کے لئے بیعت لے چکے ہیں اور یہ فرماچکے ہیں کہ علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے۔ اور علیکی مخالفت میری مخالفت ہے تو آں حضرت(ص) کے حسب الحکم علی علیہ السلام کی اطاعت و پیروی فرض ہے۔ ہماری
اور آپ کی ہر فرد کا یہ فریضہ ہے کہ طرفین کی دلیلیں سنے اور جانچ پڑتال کرے، اس کے بعد جو طریقہ حق نظر آۓ اس کی پیروی کرے۔ اور یقینا برحق طریقہ وہی ہے جس پر عقلی و نقلی اور منطقی دلائل قائم ہوں۔
میں نے اپنا مذہب تحقیق کے ذریعے قبول کیا ہے
آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اپنے اسلاف اور آباء اجداد کی تقلید میں شیعہ مذہب کو اندھا دھند محض عادتا قبول کرلیا ہے لیکن خدا کی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ جب سے میں نے عقل و تمیز حاصل کی براہ راہ حق کی جستجو میں رہا۔ پہلے ذات وحدہ لاشریک کی معرفت میں غور و خوض کرتا رہا اور مادیین اور دوسرے فرقوں کے عقائد کا مطالعہ کیا یہاں تک کہ بحمد اللہ خالص توحید کے عقیدے پر قائم ہوا، پھر انبیائ کی رسالتوں اور دیگر بانیاں مذاہب کی تبلیغ کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے علاوہ ہر قوم کے علمائ سے مناظرے اور مباحثے کئے اور کافی تحقیقات کی، یہاں تک بالآخر مجھ پر مقدس دین اسلام کی حقانیت ثابت ہوگئی اور میں نے اپنے جد امجد حضرت رسول خدا محمد بن عبداللہ علیہو آلہ وسلم کو دلیل و برہان کے ساتھ خاتم الانبیائ مانا اسی طرح بعد پیغمبر(ص) کے طریقے میں اپنے اسلاف اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید نہیں کی بلکہ فریقین ( شیعہ و سنی) کے دلائل کی باریک بینی اورغیر جانب داری کے ساتھ جانچ کی اور اہل خلاف کی صدہا کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی حقیقت ولایت و خلافت کو عاقلانہ غور وفکر کے ساتھ بڑے بڑے علمائ اہل سنت کی معتبر کتابوں سے اخذ کیا ہے۔ اور منصب امامت و خلافت کے سلسلے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس بارے میں جس قدر سنی علمائ کی خاص خاص کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اتنا شیعہ علمائ کی کتابوں پرغور نہیں کیا۔ اس لئے کہ اثبات امامت میں جو دلیلیں علماۓ شیعہ کی کتابوں میں درج ہیں وہ اکابر علماۓ اہل سنت کی کتابوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔
بات در اصل یہ ہے کہ آپ حضرات آیات و اخبار کے دلائل کا سطحی مطالعہ کرتے ہیں، لیکن ہم گہری نظر ڈالتے ہیں آپ کے علمائ اپنے بزرگوں کی پیروی میں ہر آیت اور حدیث کی جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ثبوت میں ںص صریح ہے مضحکہ انگیز تاویلیں کر کے اس کو ایک فرضی مطلب پہ محمول کرتے ہیں۔ حالانکہ جو شخص بھی بڑے بڑے سنی علمائ کی کتابوں کا غائر مطالعہ کرے وہ ہماری طرح بے اختیار کہہ اٹھے گا کہ:
" أشهد أنّ عليّا وليّ اللّهو خلیفة رسوله و حجتهعلىخلقه"
تیسرے آپ کا ارشاد ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ہم مورخین کے بیان کی پابندی کرتے ہوۓ ابوبکر، عمر اور عثمان کو علی علیہ السلام پر مقدم سمجھیں، تو یہ عمل عقلی و نقلی قواعد کے روسے غیر ممکن ہے۔ کیونکہ انسان کو حیوان کے مقابلے میں عقل وعلم اور غور وفکر ہی کی قوتوں سے امتیاز ہے، اور آنکھ بند کر کے اسلاف کی پیروی نہیں کی جاسکتی۔
مثلا اگر کسی عالم اور فقیہ کا انتقال ہوجاۓ اور چند بازاری لوگ جمع ہوکر ایک جاہل محض یا لسان آدمی کو اس کی جگہ بٹھا کر اس کے علم وفقہ کا ڈنکا پیٹنے لگیں تو کیا تمام انسانوں کا فرض ہوجاۓ گا کہ اس فقیہ نما جاہل یا لسان شخص کی تقلید کریں؟ خصوصا اگر تحقیق اور امتحان کے موقع پر یہ ثابت ہوجاۓ کہ فقاہت کے مسند پر بیٹھنے والا اس علم سے بالکل کورا ہے تو عقل و نقل کے حکم سے اس کی تقلید قطعا حرام ہے، کیونکہ عالم کی موجودگی میں جاہل کو مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔
پس جب علاوہ صریحی نصوص کے آپ کے اکابر علمائ کی روایتوں اور قاعدوں کیروسے علی علیہ السلام کا علمی حق ثابت ہوگیا تو امر خلافت میں بھی آپ کا حق محفوظ اور عقل و نقل کے نزدیک مسلم ہے اور باب علم رسول ہونے کے بعد آپ سے انحراف عقلی و نقلی دونوں حیثیتوں سے مذموم ہے۔
البتہ تاریخی واقعات کی حیثیت سے ہم تصدیق کرتے ہیں کہ وفاتِ رسول(ص) کے بعد ابوبکر دو سال تین ماہ پھر عمر دس سال اور ان کے بعد عثمان بارہ سال کی مدت تک مسند خلافت پربیٹھے اور ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں کچھ کام انجام دیئے لیکن یہ تمام باتیں عقل و نقل اور دلیل و برہان کو منسوخ نہیں کرتی ہیں جس سے ہم باب علم رسول(ص) حضرت علی علیہ السلام کو واقعی اور حقیقی طور پر ان سے موخر سمجھ لیں۔ کیونکہ اکابر علمائ جیسے شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب37 ص112 میں سورہ نمبر37(صافات) کی آیت 24"وَ قِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ " ( یعنی ان لوگوں کو ( موقف حساب میں) ٹھہراؤ کیونکہ یقینا ان سے باز پرس کی جاۓ گی) کے ذیل میں فردوس دیلمی، ابونعیم اصفہانی، محمدابن اسحاق مطلبی صاحب کتاب مغازلی، حاکم، حموینی، خطیب خوارزمی اور ابن مغازلی سے جن میں سے بعض نے ابن عباس سے بعض نے ابو سعید خدری سے اور بعض نے ابن مسعود سے اور ان سب نے حضرت رسول اکرم صلعم سے نقل کیا ہے کہ:
" إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ عَنْ وَلَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ"(یعنی ان لوگوں سے ولایت علی علیہ السلام کا سوال کیا جاۓ)
نیز سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص10 میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 میں ابن جریر سے اور انہوں نے ابن عباس سے اسی آیت کے ذیل میں روایت کی ہے کہ اس سے علی علیہ السلام کی ولایت مراد ہے۔
اطاعت علی(ع) کے لئے پیغمبر(ص) کا حکم
علاوہ ان چیزوں کے خداوند عالم آیت7 سورہ 59 ( حشر) میں حکم دے رہا ہے کہ"و ما أتاكم الرسول فخذوه و ما نهاكم عنه فانتهوا "(یعنی جو کچھ رسول اللہ نے تمہارے سپرد کیا ہے بلاتاخیر اس کو قبول کرو اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے بلاپس و پیش باز رہو۔)
لہذا مسلمان مجبور ہیں کہ رسول خدا(ص9 نے جو حکم دیا ہے اس کی اطاعت کریں اور جب ہم آں حضرت(ص) کی ہدایات کی طرف توجہ کرتے ہیں تو( جیسا کہ آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہے) ہم کو نظر آتا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے ساری امت میں سے صرف علی علیہ السلام کو اپنا باب علم فرمایا ہے اور آپ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ بلکہ آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے وابستہ قرار دیا ہے۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل نے مسند میں، امام الحرم نے ذخائر العقبیٰ میں، خوارزمی نے مناقب میں، سلیمان حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، نیز دیگر علمائ نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :
"معشر الانصار ألا أدلكم على ما إن تمسکتم عليه لم تضلوا،بعدی ابدا قالوا بلیٰ قالهذا عليّ بن أبي طالب فاحبوه و اکرموه واتبعوه انه مع القرآن والقرآن معه انه یهدیکم الی الهدی ولایدلکم علی الردی، فان جبرئيل أخبرنى بالذی قلته"
یعنی اے جماعت انصار کیا میں تم کو ایسی چیز کی طرف ہدایت نہ کروں کہ اگرتم اسسے تمسک اختیار کرو تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے؟ لوگوں نے عرض کیا ہاں فرمایئے آں حضرت(ص) نے فرمایا۔ یہ علی(ع) ہیں پس ان کو دوست رکھو، ان کی تعظیم و تکریم کرو اور ان کی پیروی کرو۔ کیونکہ یقینا یہ قرآن کے ساتھ اور قرآن ان کے ساتھ ہے۔ لازمی طور پر یہ تم کو راہ ہدایت کی طرف لے جائیں گے اور ہلاکت میں نہ پھنسائیں گے۔ اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے، حقیقتا جبریل نے مجھ کو اس کی خبر دی ہے۔
نیز آپ ہی کے اکابر علمائ نے یہ روایت ہم تک پہنچائی ہے، جیسا کہ گذشتہ کسی شب میں نے مع اسناد کے عرض کرچکا ہوں کہ رسول اکرم صلعم نے عمار یاسر سے فرمایا:
ان سلک الناس کلهم وادیا وسلک علی وادیا فاسلک وادی علی و خل عن الناس"
یعنی اگر سارے انسان ایک طرف جائیں اور علی(ع) ایک طرف، تو علی(ع) کے راستے پر چلواور لوگوں کا ساتھ چھوڑ دو۔
اور مختلف مقامات اور مختلف اوقات میں بارہاارشاد فرمایا ہے:
" ومن اطاع علیا فقد اطاعنی و من اطاعنی فقد اطاع الله"( یعنی جس نے علی(ع) کی اطاعت کی اس نے درحقیقت میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ہے۔) جو کو میں گذشتہ راتوں میں اسناد کے ساتھ تفصیل سے پیش کرچکا ہوں۔
اس قسم کی حدیثیں آپ کی معتبر کتابوں میں بھری پڑی ہیں اورتواتر معنوی کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں کہ آں حضرت(ص) نے اس کا حکم دیا ہے کہ علی(ع) کے پیرو بنو، علی(ع) کے راستے پر چلو اور دوسروں کا راستہ ترک کرو۔ لیکن اس کے برعکس آپ کی کتابوں میں ایک حدیث بھی ایسی نظر نہیں آئی جسمیں رسول خدا(ص) نے فرمایا ہو کہ میرے بعد راہ ہدایت کے رہبر یا میرے باب علم اور میرے وصی و خلیفہ ابوبکر یا عمر یاعثمان ہیں۔ اگر آپ نے کچھ حدیثیں ایسی دیکھی ہوں جو موضوع ( یک طرفہ اور بکری واموی گروہوں کی گڑھی ہوئی نہ ہوں تو مہربانی کر کے ان کا پتہ دیجئے میں انتہائی ممنون ہوں گا۔
اس صورتِ حال کے باوجود آپ کہتے ہیں کہ ہم علی علیہ السلام کو جو بارشاد رسول(ص) آں حضرت(ص) کے باب علم، ہادی برحق
اور پیغمبر(ص) کے وصی وخلیفہ ہیں چوتھے درجے میں رکھیں آں حضرت(ص) نے آپ کی اطاعت و متابعت اور پیروی کے لئے جس قدر تاکید احکام صادر فرماۓ ہیں اور جن سے آپ کی کتابیں پر ہیں ان سب سے چشم پوشی کر کے بھیڑیا دھسان تاریخی عمل در آمد کر کے پیچھے لگ جائیں، اور ان اشخاص کی پیروی کریں جن کے بارے میں متفق علیہ احادیث کے اندر رسول اللہ(ص) کی کوئی ہدایت موجود نہیں ہے۔ آیا یہ ہر ممکن ہے؟ اور اگر ہم اس راستے پر چلیں تو کیا عقل و نقل کے سامنے ہمارا مضحکہ نہ اڑےگا؟ اور خدا کے یہاں ہم سے باز پرس نہ ہوگی؟ آیا آپ کی بات پر عمل کر کے ہم رسول اللہ(ص) اور آں حضرت(ص) کے احکام کی مخالفت میں گرفتار نہ ہوجائیں گے؟ ان امور کا فیصلہ ہم آپ حضرات کے شعور اورجذبہ انصاف پر چھوڑتے ہیں۔
علماۓ اہلِ سنت ہم سے ہم آہنگی نہیں چاہتے
چوتھے آپ نے فرمایا ہے کہ مذاہب اربعہ ( حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی) کے مانند ہم بھی آپ کے ساتھ مل کے رہیں، تو یہ بھی ہونے والا نہیں ہے کیوںکہ آپ لوگ بغیر کسی برہان و دلیل کے شیعوں اور عترت اور اہل بیت رسول(ص) کے پیروؤں پر تہمت و افترا کر کے ان کو رافضی، مشرک اور کافر کہتے ہیں اور بدیہی چیز ہے کہ مشرک اور مومن کے درمیان حقیقی اتحاد ممکن نہیں ورنہ تمام حنفی، حنبلی اور شافعی برادران اہل سنت کےساتھ اتحاد و اتفاق رکھنے اور عملی تعاون کرنے کے لئے ہم دل سے تیار ہیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ استدلال کے ساتھ مذہبی عقائد اور حقائق کو واضح کرنے میں ہم اور آپ سب آزاد ہیں اور ایک دوسرے کی کوئی مزاحمت نہ کریں۔ جس طرح چاروں مذاہب کے پیرو اپنے عمل میں آزاد ہیں اسی طرح عترت پیغمبر(ص) کا اتباع کرنے والے شیعہ بھی اپنے اعمال میں آزاد رہیں لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے مذاہب اربعہ کے اندر اس قدر شدید اختلاف موجود ہیں کہ بعض لوگ ایک دوسرے کو کافر و فاسق تک کہتے ہیں، پھر بھی آپ ان سب کو مسلمان سمجھتے اور عمل کی آزادی دیتے ہیں، لیکن بیچارے شیعوں کو مشرک اور کافر کہہ کے جماعت مسلمین سے نکال باہر کرتے اور عمل و عبادت کی آزادی ان سے چھین لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں اتحاد و موافقت کی کیا امید ہوسکتی ہے؟
خاک پر سجدہ کرنےسے اختلاف
اب یہی دیکھئے کہ خاک پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں آپ کس قدر ہنگامہ اور انقلاب برپا کرتے ہیں کہ خاک اور تربت کو عوام کی نگاہوں میں بت ثابت کرتے ہیں اور موحد و خدا پرست شیعوں کو بت پرست کہتے ہیں حالانکہ ہم خدا و رسول(ص) کے حکم اور اجازت سے خاک پر سجدہ کرتے ہیں، اس لئے کہ قرآن مجید کی آیتوں میں سجدے کا حکم دیا گیا ہے اور آپ خود
جانتے ہیں کہ سجدے کا مطلب ہے پیشانی زمین پر رکھنا۔ البتہ ہمارے اور آپ کے درمیان سجدے کے طریقے میں اختلاف ہے کہ کس چیز پر سجدہ کرنا چاہیئے۔
شیخ: پھر آپ تمام مسلمانوں کے مانند کس لئے سجدہ نہیں کرتے تاکہ اختلاف پیدا نہ ہو اور یہ بدظنی ختم ہوجاۓ۔
خیر طلب: سب سے پہلے تو یہی بتائیے کہ آپ یعنی حنفی حضرات فروعات بلکہ اصول میں بھی شافعیوں، مالکیوں اور حنبلیوں سے آخر اس قدر اختلاف کیوں رکھتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک دوسرے کو فاسق فاجر اور کافر کہنے کی بھی نوبت آجاتی ہے؟ بہتر ہوگا کہ سب مل کر آپس میں ایک عقیدہ پیدا کیجئے تاکہ یہ اختلافات پیدا نہ ہوں۔
شیخ: بات یہ ہے کہ فقہائ کے فتاوی میں اختلاف ہے اور ہم میں سے جو فرقہ امام شافعی، امام اعظم، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم میں سے جس فقیہ کی پیروی کرے اس کو اجر و ثواب حاصل ہوگا۔
تاثر کے ساتھ اعلان حقیقت
خیر طلب: آپ خدا کی قسم اںصاف کیجئے کہ جن فقہاۓ اربعہ کی پیروی پرسوا علم و دانش اور احکام "بلیبرس" کی کورکورانہ" تقلید کے ( جیسا کہ علامہ مقریزی نے خطط میں نقل کیا ہے) اور کوئی دلیل موجود نہ ہو ان کا اتباع تو اجر و ثواب رکھتا ہو( چاہے اصول وفروع میں ان کے درمیان کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو) لیکن وہ ائمہ عترت طاہرہ اور اہل بیت رسالت(ع) جن کے علم و دانش اور فقہ وتقویٰ کے اعلیٰ مدارج پر خود آپ کے اکابر علمائ بھی ایمان رکھتے ہیں اور علاوہ اسکے ان مقدس ہستیوں کے بارے میں حضرت رسول خدا صلعم کے صریحی نصوص و احادیث یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ حضرات عدیل قرآن ہیں اور ان کی متابعت میں نجات اور مخالفت میں ہلاکت ہے، ان کی اطاعت و پیروی شرک اور کفر بن جاۓ؟ پس آپ کو تصدیق کرنا چاہیئے کہ یہ مخالفتیں باہمی اختلافات کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ عترت و اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے بغض و نفرت رکھنے کی وجہ سے ہیں اور یہ اس وقت تک دور نہیں ہوسکتیں جب تک نفس کو اخلاق رذیلہ اور صفات ذمیمہ سے پاک اور دل کو بغض حسد اور کینے سے صاف کر کے اس میں اںصاف کا جذبہ پیدا کیا جاۓ ورنہ آپ کے مذاہب اربعہ کے درمیان تو اصول اور طہارت سے لے کر تا دان و قصاص تک جملہ فروعی احکام کے اندر اس قسم کے اختلافات کثرت سے موجود ہیں، باوجودیکہ آپ کے فقہائ اور ائمہ اربعہ کے اکثر فتوے قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ہیں پھر بھی آپ ان فتوے دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں سے کوئی بدظنی نہیں رکھتے، لیکن جماعت شیعہ کو جو بحکم قرآن مجید پاک مٹی پر سجدہ کرتی ہے مشرک، کافر اور بت پرست کہتے ہیں۔
شیخ: کس مقام پر فقہاۓ اہل سنت اور ائمہ اربعہ رضی اللہ عنہم نے قرآن مجید کے خلاف فتوی دیا ہے؟ اگر یہ محض زبانی
باتیں نہیں ہیں بلکہ کچھ حقیقت ہے تو مہربانی کر کے بیان فرمائیے۔
خیر طلب: اکثر مسائل میں ںص صریح بلکہ جمہور امت کے برخلاف حکم دیا گیا ہے جن کی پوری تفصیل پیش کرنے کا وقت نہیں ہے۔ قطع نظر اس سے کہ خود آپ ہی کے علمائ نے چاروں مذاہب کے درمیان اختلافی مسائل پر کافی کتابیں لکھی ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد ابن حسن ابن علی ابن طوسی قدس سرہ کی عظیم المرتبت کتاب "مسائل الخلاف فی الفقہ" کا مطالعہ فرمائیے جس میں انہوں نےفقہاۓ اسلام کے سارے اختلافات کو باتطہارت سے لے کر باب دیات تک بغیر کسی تعصب اور جانب داری کے جمع کر کے اہل علم کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ان سب کو نقل کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن نمونے اور مطلب کو صاف کرنے کے لئے تاکہ حضرات اہل جلسہ کو یہ معلوم ہوجاۓ کہ نہ ہم زبانی باتیں کرتے ہیں اور نہ غلط الزامات عائد کرتے ہیں مختصر طور پر ایک مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہوں، جس سے ظاہر ہوجاۓ گا کہ اسی کے اندر قرآن مجید کی نص صریح کےبرخلاف فتوی دیا گیا ہے۔
شیخ: فرمائیے، کون سا مسئلہ ہے جس میں برعکس فتوی دیا گیا ہے؟
پانی نہ ہو تو غسل و وضو کے بدلے تیمم کرنا چاہیئے
خیرطلب: آپ حضرات خود جانتے ہیں کہ باب طہارت کا یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہے کہ غسل اور وضو سنتی ہو یا واجب، خالص پانی سے ہونا چاہیئے۔ آیت نمبر8 سورہ نمبر5( مائدہ) میں ارشاد ہے:
"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ- فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ"
یعنی جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو مع کہنیوں کے دھوؤ۔
مطلب یہ کہ پاک وخالص پانی سے وضو کرو، اورجس موقع پر ایسا پانی دستیاب نہ ہوتو آیت نمبر46 سورہ نمبر4 ( نسائ) میں حکم ہوتا ہے:
" فَلَمْ تَجِدُوا ماءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَ أَيْدِيكُمْ مِنْهُ"
یعنی اگرپانی نہ پاؤتو پاک مٹی پر تیمم کرو پس اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو۔
لہذا خاک پاک سے تیمم کرنا چاہیئے ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی تیسرا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ پہلے درجے میں وضو کے لئے پانی ضروری ہے اور دوسرے درجے میں جب پانی نہ ملے یا کوئی اور مانع ہو تو سفر میں ہو یا حضر میں اس کے عوض پاک مٹی سے تیمم فرض ہے۔ اور اس حکم میں سارے فقہاۓ اہل اسلام متفق ہیں چاہے وہ شیعہ اثنا عشری جماعت کے ہوں یا مالکی، شافعی اور حنبلی۔
ابوحنیفہ کا فتویٰ کہ مسافر کو پانی نہ ملے تو نبیذ سے غسل و وضو کرے
لیکن آپ کے امام اعظم ابوحنیفہ ( جن کے اکثر فتوے قیاس یعنی بے سوادی کی بنیاد پر ہیں) حکم دیتے ہیں کہ سفر میں اگر پانی نہ ملے تو نبیذ خرما سے غسل اور وضو کیا جاۓ۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیںکہ نبیذ ایک ایسی رقیق چیز ہے جس میں خرمے وغیرہ کا عرق شامل ہوتا ہے اور مضاف شئی سے وضو کرنا چائز نہیں ہے پس یہ دیکھتے ہوۓ کہ قرآن مجید نے نماز کے لئے خالص اور پاک پانی کو اور پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی سے تیمم کو ذریعہ طہارت قرار دیا ہے، جب امام اعظم ابوحنیفہ نے نبیذ سے غسل و وضو کا فتوی دیا تو یہ یقینا ایک حکم صریح اور کھلی ہوئی نص قرآنی کی مخالفت ٹھہری۔ در آںحالیکہ بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب کا عنوان ہی یہ رکھا ہے کہ"لا یجوز الوضوء بالنبیذ والمسکر " ( یعنی نبیذ اور نشے والی چیز سے وضو جائز نہیں)
حافظ : باوجودیکہ میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کے مذہب پر ہوں اور آپ کے بیان سے پورے طور پر متفق ہوں کہ اگر پانی نہ ہوتو تیمم کرنا چاہیئے اور ہمارے مذہب میں نبیذ سے طہارت جائز نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ فتوے صرف شہرت کی بنا پر امام ابوحنیفہ رضی اللہ سے منسوب ہوگیا ہے۔
خیر طلب: قطعا جناب عالی نے اصل حقیقت سے واقف ہونے کے بعد یہ عذر بارز پیش کیا ہے ورنہ یہفتوی امام ابو حنیفہ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے چنانچہ فی الحال اس قدر میرے پیش نظر ہے کہ فخرالدین رازیتفسیر مفاتیح الغیب جلد سوم ص553 میں بسلسلہ آیت تیمم ( سورہ مائدہ) مسئلہ پنجم میں کہتے ہیں:
" قال الشافعی رحمه الله لایجوزالوضوءبنبیذالتمر و قال ابوحنیفه رحمه الله یجوزذالک فی السفر"
( یعنی شافعی نے کہا ہے کہ وضو نبیذ سے جائز نہیں اور ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ سفر میں جائز ہے۔)
نیز بہت بڑے فلسفی ابن رشد نے ہدایتہ المجتہد میں ابو حنیفہ کے اس فتوے کو نقل کیا ہے۔
شیخ: آپ کیونکر فرما رہے ہیں کہ نص کے خلاف فتوی دیا ہے، حالانکہ بعض روایتیں صراحت کے ساتھ رسول خدا(ص) کے عمل سے اس کو ثابت کرتی ہیں؟
خیر طلب: ہوسکتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی روایت نظر میں ہوتو بیان فرمائیے۔
شیخ: من جملہ ان کے ایک روایت ہے جس کو عمرو بن حریث کا غلام ابوزید عبداللہ ابن مسعود سے نقل کرتا ہے کہ:
" أنرسول الله (صلّى اللّه عليه و آله) قال فی ليلة الجن عندک طهور قال لا الا شئی من نبیذ فی اداوة قال تمرة طيبة و ماء طهور فتوضا"
یعنی رسول خدا صلعم نے لیلتہ الجن میں اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس پانی
ہے؟ اس نے کہا نہیں، البتہ ظرف آب میں صرف تھوڑی سی نبیذ ہے۔ آں حضرت(ص)نے فرمایا خرما بھی پاک اور پانی بھی پاک یہ کہہ کر آپ نے وضو فرما لیا۔
اور ایک دوسری روایت ہے کہ عباس ابن ولید ابن صبیح الحلال دمشقی نے مران بن محمد طاہری دمشقی سے، اس نے عبیداللہ بن لہیعہ سے، اس نے قیس بن حجاج سے، اس نے خش صنعانی سے، اس نے عبداللہ بن ولید سے اور انہوں نے عبداللہ ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
" أن رسول الله (صلّى اللّه عليه و آله) قال له ليلة الجن معک ماء قال لا الا نبیذا فیسطحة قال رسول الله تمرة طيبة و ماء طهور صب علی قال فصبت علیه فتوضا به"
یعنی رسول اللہ(ص) نے لیلتہ الجن میں ان سے فرمایا کہ تمہارے ساتھ پانی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، البتہ توشہ دان میں نبیذ موجود ہے، رسول اللہ(ص) نے فرمایا کہ پاکیزہ خرما اور پاک پانی ہے، اس کو میرے اوپر گراؤ، پس میں نے آں حضرت(ص) کے اوپر اس کو گرایا اور آپ نے اس سے وضو فرمایا۔
بدیہی چیز ہے کہ رسول خدا(ص) کا عمل ہمارے لئے حجت ہے اور کون سی نص اور دلیل آں حضرت(ص) کے عمل سے بہتر ہوسکتی ہے؟ یہی سبب ہے کہ ہمارے امام اعظم نے عمل پیغمبر(ص) کےروسے اس کے جواز کا فتوی دیاہے۔
خیر طلب: میرا خیال ہے کہ آپ خاموش رہے ہوتے تو ایسا بیان دینے سے بہتر ہوتا۔ اگرچہ میں شکرگذار ہوں کہ آپ نے دلیل قائم فرما دی تاکہ مطلب زیادہ بہتر طریقے سے صاف ہوسکے اور برادران اہل سنت اچھی طرح جان لیں کہ ان کے پیشوا غلط فہمی کے شکار ہیں اور ا نہوں نے بغیر تحقیق کے صرف قیاس کے روسے حکم دیا ہے۔نیز یہ کہ حق ہمارے ساتھ ہے مناسب ہوگا کہ پہلے ہم حدیث کے روات و اسناد کے بارے میں بحث کریں پھر اصل موضوع کے اوپر آئیں۔ اولا ابوزید غلام عمرو بن حریث کا حال معلوم نہیں اور یہ محدثین کے نزدیک مردود ہے جیسا کہ ترمذی وغیرہنے نقل کیا ہے، بالخصوص ذہبی میزان الاعتدال میں کہتے ہیں کہ یہ شخص پہچانا نہیں گیا اور یہ حدیث جو عبداللہ ابن مسعود سے مروی ہے صحیح نہیں ہے۔ حاکم کہتے ہیں کہ اس مجہول آدمی سے سوا اس کے اور کوئی حدیث منقول نہیں ہے، اور بخاری نے اس کو غیر معتبر راویوں میں شمار کیا ہے اسی وجہ سے قسطلاانی اور شیخ زکریا اںصاری جیسے آپ کے اکابر علمائ نے اپنی صحیح بخاری کی شرحوں میں باب لا یجوز الوضوء بالنبیذ ولا المسکر کے ذیل میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اور دوسری حدیث بھی کئی طریقوں سے مردود ہے۔
اول یہ کہ اس حدیث کو اس طریق سے سوا ابن ماجہ کے اور کسی عالم نے نقل نہیں کیا ہے۔
دوسرے اس کو اکابر علمائ نے اس وجہ سے اپنے سنن میں نقل نہیں کیا ہے کہ اس کے راویوں کا سلسلہ مجروح و مخدوش اور ناقابل اعتبار ہے۔ چنانچہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں کہ عباس ابن ولید قابل اعتماد نہیں ہے، اسی وجہ سے ارباب جرح ، تعدیل نے اس کو ترک کردیا ہے۔ نیز مروان بن محمد طاہری فرقہ مرجیہ کے گمراہوں میں سے
تھا۔ جس کو ابن حزم اور ذہبی نے ضعیف ثابت کیا ہے۔ اور اسی طرح عبداللہ بن لہیعہ کو بھی بڑے بڑے علمائ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے۔ پس جب کسی حدیث کے سلسلہ روات میں اس قدر ضعف اور فساد موجود ہو کہ خود آپ ہی کے اکابر علمائ اس کو متروک قرار دیں توقطعی طور پر خود بخود وہ حدیث درجہ اعتبار سے ساقط ہوجاتی ہے۔
تیسرے آپ کے علمائ نے جو روایتیں عبداللہ ابن مسعود سے نقل کی ہیں، ان کی بنا پر لیلتہ الجن میں کوئی شخص آں حضرت(ص) کےساتھ تھا ہی نہیں۔ چنانچہ ابوداؤد نے اپنی سنن ( باب الوضوء) میں اور ترمذی نے اپنی صحیح میں علقمہ سے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود سے پوچھا گیا:
" من كان منكم مع النبي صلى الله عليه و آله ليلة الجن؟ فقال: ما كانمعه أحد منا "
یعنی لیلتہ الجن میں رسول اللہ(ص) کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا؟ انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی بھی آں حضرت کے ساتھ نہیں تھا۔
چوتھے لیلتہ الجن مکے میں ہجرت سے قبل گزری ہے اور جملہ مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیت تیمم مدینے میں نازل ہوئی پس یہ حکم یقینا سابق حکم منسوخ کرتا ہے، اور اسی بنا پر آپ کے بڑے بڑے فقہائ جیسے امام شافعی اور امام مالک وغیرہ نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے۔
اس کے برعکس مدینے میں اس آیت کے نازل ہونے اور یہ حکم آنے کے بعدکہ سفر ہو یا حضر اگر پانی دستیاب نہ ہو تو حتمی طور پر تیمم کرنا چاہیئے، ایک ایسی جعلی حدیث کی بنیاد پر جس کے راویوں کا سلسلہ بھی مجہول الحال اور ضعیف ہو نبیذ سے وضو کرنے کا فتوی انتہائی تعجب خیز ہے اور اس سے زیادہ عجیب جناب شیخ صاحب کا ارشاد ہے کہ مجہول و ضعیف روایتوں کو قرآن مجید کے مقابلہ میں نص قرار دیتے ہیں اور اسی قاعدے کے روسے نص قرآنی کے خلاف ابوحنیفہ کے اجتہاد کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نواب: قبل صاحب ! کیا نبیذ خرما سے وہی نشہ آور شراب مراد ہے جس کا پینا حرام ہے؟
خیر طلب: نبیذ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک قسم حلال ہے جس میں نشہ نہیں ہوتا اور یہ وہ پانی ہے جس میں خرمے ڈال دۓ جاتے ہیں تاکہ خوش مزا ہوجاۓ۔ جب وہ تہ نشین ہوجاتے ہیں تو اوپر صاف پانی رہ جاتا ہے جو ایک طرح کا آپ مضاف ہوتا ہے اور اسی کو نبیذ کہتے ہیں یعنی خرمے کا نچوڑا ہوا شربت۔ اور دوسری قسم حرام ہے جس میں نشہ ہوتا ہے اسوقت ہمارا موضوع بحث جس کے جواز کا امام ابوحنیفہ نے فتوی دیا ہے وہ نبیذ جو نشہ آور اور پکائی ہوئی نہ ہو۔ ورنہ نشہ آور شراب سے وضو کرنا تو بالاتفاق حرام ہے۔
چنانچہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ بخاری نے اپنی صحیحین میں ایک باب ہی اس عنوان سے قائم کیا ہے کہ "لایجوز الوضوء بالنبیذ ولا المسکر " ( یعنی نبیذ اور نشہ آور چیز سے وضو کرنا جائز نہیں۔)
وضو میں نص کے خلاف پاؤں دھونے کا فتویٰ
من جملہ ان مسلمہ قواعد کے جن کو مذکورہ بالا آیت وضو میں ہدایت کی گئی ہے چہرہ اور ہاتھوں کو دھونے کے بعد سر اور کعبین یعنی پشت قدم کی بلندی تک پاؤں کا مسح کرنا ہے۔ چنانچہ صاف طور پر ارشاد ہے:
" وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"
یعنی مسح کرو اپنے سروں کا اور پشت قدم کی بلندی تک پاؤں کا۔
لیکن آپ کے سارے فقہائ اس نص صریح کے برخلاف پاؤں دھونے کا فتوی دیتے ہیں۔ حالانکہ دھونے اور مسح کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔
شیخ: بہت سی روایتیں پاؤں کے دھونے پر دلالت کرتی ہیں۔
خیر طلب: اول تو روایتیں اسی وقت قابل قبول ہیں جب نص کے موافق ہوں۔ ورنہ اگر نص کی مخالف ہوں تو قطعا مردود ہیں، بدیہی چیز ہے کہ آیت قرآنی کی نص صریح کو خبر واحد سے منسوخ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور آیہ شریفہ کی نص صریح دھونے کا نہیں بلکہ مسح کرنے کا حکم دے رہی ہے۔ ا گر آپ حضرات تھوڑی توجہ سے کام لیں تو سمجھ میں آجاۓ کہ اس آیت کا مضمون خود ہی اس مطلب پر دلالت کر رہا ہے، کیونکہ شروع میں فرماتا ہے"فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ "(یعنی دھوؤ اپنے چہروں اور ہاتھوں کو ۔ پس جس طرح آپ واو عطف کی وجہ سے ایدیکم میں حکم لگاتے ہیں کہ چہرہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو بھی دھونا چاہیئے، اسی طرح حکم ثانی میں ارشاد ہے"وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ " جس میں"أَرْجُلَكُمْ "کو "بِرُؤُسِكُمْ " کا معطوف قرار دیا گیا۔ یعنی سر کے مسح کے بعد اپنے پاؤں کا بھی مسح کرو۔ ظاہر ہے کہ دھونا ہرگز مسح کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ پس جس صورت سے وضو میں چہرے اور ہاتھوں کو دھونا واجب ہے اسی صورت سے سر اور پاؤں کا مسح کرنا بھی واجب ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک مسح کریں اور دوسرے کو دھوئیں کیوں کہ ایسا کرنے سے واو عطف بے کار و بے معنی ہوجاۓ گا۔
علاوہان کھلے ہوۓ، مطالب کے عرف عام کے قاعدے سے اسلام کی شریعت مقدسہ انتہائی سہولتیں لے کر آئی ہے اور اس کے احکام سختی اور مشقت سے محفوظ رکھے گئے ہیں اور ہر عقلمند بہ خوبی سمجھتا ہے کہ پاؤں کو دھونے میں جو مشقت ہے وہ مسح کرنے میں نہیں ہے۔ لہذا قطعی طور پر عمل مسح کے آسان تر ہونے کی وجہ سے شریعت کا حکم اسی کے اوپر جاری ہوا ہے، جیسا کہ آیت کا انداز کلام بھی یہی بتا رہا ہے۔ اور امام فخرالدین رازی نے بھی جو آپ کے اکابر مفسرین میں سے ہیں اسی آیہ شریفہ کے ذیل میں ظاہر کلام کے مطابق مسح کے واجب ہونے پر ایک مفصل بیان دیا ہے۔ جس کو تفصیل سے پیش کرنے کی وقت میں گنجائش نہیں، آپ خود اس کی طرف رجوع فرمائیں تاکہ آپ کے سامنے حقیقت واضح ہوجاۓ۔
نص صریح کے خلاف موزے پر مسح کرنے کا فتویٰ
اور پاؤں دھونے سے بھی زیادہ عجیب باختلاف فقہاۓ اہل سنت سفر میں یا حضر میں یا صرف سفر میں موزے اور جراب پر مسح کرنے کا فتوی ہے، یہ حکم علاوہ اس کے کہ قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ہے( کیونکہ قرآن نے موزے اور جراب پر نہیں بلکہ پاؤں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے)آپ کے پہلے حکم یعنی پاؤں دھونے کے بھی خلاف ہے، اس لئے کہ جب خود پاؤں کا مسح جائز نہیں ہے اور دھونا ضروری ہے تو اس مقام پر کیوں تخفیف کی گئی کہ بجاۓ دھونے کے موزے اورجراب پر مسح کرنا جائز کردیا گیا ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ موزے اور جراب کا مسح پاؤں کا مسح نہیں بن سکتافاعتبروا یا اولی الابصار
شیخ : بہت سی روایتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے موزوں کے اوپر مسح فرمایا ہے لہذا فقہاء نے اسی عمل کو جواز کی دلیل سمجھا۔
خیر طلب: میں باربار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکا ہوں کہ ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق جو روایت آں حضرت(ص) سے منقول ہو اور قرآن مجید سے مطابقت نہ کرتی ہو وہ مردود ہے، اس لئے کہ جعلساز اور شعبدہ باز لوگوں نے دین میں خلل ڈالنے کے لئے بکثرت روایتیں گڑھ کے آں حضرت سے منسوب کی ہیں، چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علمائ نے بھی ایسی بہت سی روایتوں کو رد کردیا ہے جو پیغمبر(ص) کے نام سے منقول ہیں لیکن معیار پر پوری نہیں اترتیں۔
علاوہ اس کے کہ یہ روایتیں نص صریح کے خلاف ہیں ان کے درمیان غیر معمولی تضاد بھی موجود ہے جس کا اقرار خود آپ کے اکابر علمائ نے بھی کیا ہے۔مثلا حکیم دانش مند ابن رشد اندلسی بدایتہ المجتہد و نہایتہ المقتصد جلد اول ص15،16 میں اختلاف کا تذکرہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں:
"سبب اختلافه متعارض الاخبارفی ذالک " ( یعنی ان کے اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس بارے میں روایتیں ایک دوسرے کی معارض ہیں) نیز کہتے ہیں: "السبب فی اختلافهم اختلاف الاثار فی ذالک " ( یعنی ان کے اختلاف کا سبب اسبارے میں روایات کا اختلاف ہے) پس ایسے اخبار و احادیث کے ذریعے استدلال و استناد جو آپس میں ایک دوسرے کی ضد بھی ہوں اور قرآن کی نص صریح کے خلاف بھی، عقلی اور نقلی دونوں حیثیتوں سے مرودو اور ناقابل قبول ہے، کیونکہ آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ جو روایتیں آپس میں ایک دوسرے کی مخالف ہوں ان میں سے صرف وہی روایت قابل قبول ہوتی ہے جو قرآن مجید سے موافقت کرتی ہو، اور اگر ان میں سے کوئی روایت بھی قرآن سے مطابقت نہ رکھتی ہو بلکہ نص صریح کے خلاف ہو تو سب ساقط اور متروک ہیں۔
نص صریح کے خلاف عمامے پر مسخ کرنے کا حکم
نیز اسی آیہ شریفہ میں صاف طور پر ارشاد ہے" وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ " ( یعنی چہرہ اور ہاتھ دھونے کے بعد) اپنے سروں کا مسح کرو) اسی قرآن اصول کی بنیاد پر ائمہ عترت طاہرہ کی پیروی کرتے ہوۓ فقہا شیعہ امامیہ نے اور اسی طرح فقہاۓ شافعی و مالکی و حنفی وغیرہ نے فتوی دیا ہے کہ مسح سر پر ہونا چاہیئے۔ لیکن امام احمد بن حنبل، اسحق،ثوری اور اوزاعی کا فتوی ہےکہ عمامے اور مسح کرنا جائز ہے،جیسا کہ امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں نقل کیا ہے حالانکہ ہر عقلمند سمجھتا ہے کہ عمامے کے اوپر مسح کرنا دوسری شے ہے اور سر کے اوپر مسح کرنا دوسری، کیونکہ سر سے مراد اس کا گوشت وپوست، استخوان اور وہ بال ہیں جو اس سے متصل ہوں اور عمامہ ایک بنا ہوا کپڑا ہے جو سر پر رکھا جاتا ہے۔ ع
ببین تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا
خاص توجہ اور منصفانہ فیصلے کی ضرورت ہے
اسی طریقے سے طہارت سے دیات تک جملہ احکام شروع میں آپ کے فقہائ اور ائمہ اربعہ کے درمیان سخت اختلافات موجود ہیں جن میں سے اکثر آیات قرآن کی نص صریح کے خلاف ہیں پھر بھی آپ ایک دوسرے کے شاکی نہیں ہیں اور سب اپنے اپنے اعمال میں پوری طرح آزاد ہیں۔
نہ آپ ابوحنیفہ اور حںفیوں کو مشرک کہتے ہیں جو اصول شرع کے برخلاف نبیذ سے طہارت اور وضو کا فتوی دیتے ہیں اور نہ دیگر فقہا کے ان فتاوی کو مردود سمجھتے ہیں جوآپس میں ایک دوسرے کے مخالف اور نصوص قرآن کے برعکس ہیں لیکن شیعہ کے اعمال پر جو عترت طاہرہ اور اہل بیت رسالت علیہم السلام سے صادر ہوۓ ہیں نکتہ چینی اور اعتراض کرتے ہیں بلکہ اس جلیل القدر اور عدیل قرآن خاندان کے پیروؤں کو رافضی، مشرک اور کافر بھی کہتے ہیں۔
چنانچہ اسی جلسہ کے اندر گذشتہ راتوں میں آپ نے باربار فرمایا ہے کہ شیعوں کے اعمال ان کے شرک کی دلیل ہیں۔
فرمارہے ہیں کہ مسلمانوں کی طرح نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟ حالانکہ ہم آپ کے اور تمام مسلمانوں کے ساتھ اصل نماز میں جو صبح کی دو رکعت مغرب کی تین رکعت اور ظہر و عصر و عشائ کی چار رکعت ہے۔ یعنی شب و روز میں کل سترہ(17) رکعتیں فرض ہیں، یکساں طور پر شریک عمل ہیں۔ رہے فروعی اختلافات تو یہ مسلمانوں کے سبھی فرقوں کے درمیان کثرت سے پاۓ جاتے ہیں۔
جس طرح سے ابوالحسن اشعری اور واصل بن عطا کے درمیان اصول و فروغ میں کھلا ہوا اختلاف موجود ہے نیز آپ کے ائمہ اربعہ( ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل) اور دوسرے بڑے بڑے فقہائ جیسے حسن، داؤد، کثیر، اوزاعی، سفیان ثوری، حسنبصری اور قاسم بن سلام وغیرہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اسی طرح ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے ارشادات بھی آپ کے فقہائ کے بیانات سے الگ ہیں۔ اگر فقہائ کے فتاوی اور اختلاف آراء پر اعتراض کیا جاسکتا ہے تو یہی اعتراضات آخر اہل سنت کے مختلف فرقوں پر کیوں وارد نہیں ہوتے؟
باوجودیکہ یہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ زیادہ تر فتوےٰ قرآن کی نص صریح کے خلاف دیتے ہیں۔ واضح نصوص کی پھسپھسی کرتے ہیں اور دوسرے فقہاء ان کے برعکس راۓ دیتے ہیں جیسا کہ میں ایک نمونہ پیش کرچکا ہوں،پھر بھی ان کے فتوی اور عمل کو ان کے شرک اور کفر کی دلیل نہیں سمجھتے۔ لیکن عمل سجدہ کے سلسلے میں دیگر فروعی اختلافات کے مانند ہمارے اور آپ کے درمیان فتوی اور راۓ میں جو اختلاف ہے اس پر آپ یہ شور و غل اور ہنگامہ برپا کرتے ہیں کہ شیعہ بت پرست ہیں۔ ساتھ ہی اپنے یہاں کے اس فتوے کو باکل ںظر انداز کردیتے ہیں کہ سوکھے ہوۓ فضلے اور غلیظ پر سجدہ کرنا جائز ہے۔ حالانکہ اگر نگاہِ انصاف سے جائزہ لیجئے تو ائمہ طاہرین علیہم السلام کی پیروی میں شیعہ فقہا کے فتوی فقہاۓ اہل سنت کے فتاوی سے کہیں زیادہ قرآن مجید کے صریحی نصوص سے قریب ہیں۔ مثلا آپ کے فقہاء اونی، سوتی، ریشمی، چرمی اور موم جامہ وغیرہ کے فروش کو جو زمین پر بچھے ہوۓ ہوں جزئ زمین سمجھتے ہیں، ان پر سجدہ کرتے ہیں اور ان کے جواز کا فتوی دیتے ہیں، حالانکہ کسی قوم و ملت کے صاحبان عقل وعلم سے پوچھئے کہ آیا اون، سوت اور ریشم وغیرہ سے بنے ہوۓ فرش جزئ زمین ہیں اور ان پر زمین کا اطلاق ہوتا ہے؟ تو ان کا جواب نفی میں ہوگا، بلکہ ایسا کہنے والوں کی عقل پر ہنس دیں گے لیکن جب شیعہ قوم ائمہ اہل بیت طاہرین علیہم السلام کے اتباع میں کہتی ہے کہ:
" لا يجوز السجود إلّا على الأرض او على ما انبته الأرضبما لایؤكل ولایلبس"
یعنی سوا زمین کے یا اس چیز کے جو زمین سے روئیدہ ہوئی ہو اور کھانے یا پہننے کے کام میں نہ آتی ہو اور کسی چیز پر سجدہ جائزہ نہیں) تو آپ اس پر حملے کرتے ہیں اور اس کو مشرک کہتے ہیں اور دوسری طرف خشک نجاست کے اوپر بھی سجدہ کرنے کو نہیں سمجھتے۔ بدیہی چیز ہے کہ زمین پر سجدہ کرنا( جیسا کہ خدا کا حکم ہے) اور فروش کے اوپر سجدہ کرنا ایک دوسرے سے الگ چیزیں ہیں۔
شیخ: آپ لوگ سجدے کو خاک کربلا کے ٹکڑوں سے مخصوص قرار دیتے ہیں، اس خاک سے بتوں کے مانند تختیاں بناکر اپنی بغلوں میں دباۓ رہتے ہیں اور ان پر سجدہ کرنا واجب جانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل مسلمانوں کے دستور اور طریقے کے خلاف ہے۔
خیر طلب: آپ نے یہ جملہ قطعا اپنی اسی عادت کی بنا پر جو بچپن سے آپ کے دماغ میں راسخ کردی گئی ہے اور وہ آپ کی طبیعت بن چکی ہے بغیر کسی دلیل و برہان کے محض اپنے اسلاف کی پیروی میں فرماۓ ہیں۔ حالانکہ آپ
جیسے منصف مزاج اور روشن خیال عالم کے اوپر ایسا بیان باکل زیب نہیں دیتا کہ خاک پاک کو بت سے تعبیر کرے یقین رکھیئے کہ آپ کو عدلِ الہی کے دربار میں اس زبردست تہمت اور اہانت کی جواب دہی کرنا پڑے گی اور خاک پاک کو بت اور خدا پرست موحدین کو مشرک و بت پرست کہنے پر سخت باز پرس کی جاۓ گی۔
جناب من! کسی عقیدے پر تنقید اور تبصرہ سند اور دلیل کے ساتھ ہونا چاہیئے، صرف اپنے جذبات کی بنا پر نہیں اگر آپ شیعوں کی فقہی اور استدلالی کتابیں اور عملیہ رسائل کا مطالعہ کیجئے جو عام طور پر ہرجگہ دستیاب ہوتے ہیں تو آپ کو اپنا جواب مل جاۓ گا اور آئندہ ایسے غلط اعتراضات کر کے نا واقف برادران اہل سنت کو بہکا کر شیعہ بھائیوں سے بد ظن نہ کریں گے۔
شیعہ خاک کربلا پر سجدہ کرنا واجب نہیں سمجھتے
اگر تمام استدلالی کتابوں اور عملیہ رسالوں میں آپ ایک روایت یا ایک فتوی بھی ایسا دکھا دیں کہ فقہاۓ امامیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو واجب قرار دیا ہو تو ہم آپ کے سارے بیانات تسلیم کر لیں گے کیونکہ جملہ فقہی اور استدلال کتابوں اور عملیہ رسائل میں سارے فقہاۓ امامیہ کے یہ احکام و ہدایات موجود ہیں کہ حکم قرآنی کے مطابق سجدہ پاک زمین پر ہونا چاہیئے۔ جس میں خاک، پتھر، ریت، بالو اور گھاس شامل ہے بشرطیکہ کوئی چیز معدنیات میں سے نہ ہو۔ نیز ہر اس چیز پر سجدہ کرسکتے ہیں جو زمین سے اگتی ہے بشرطیکہ وہ کھانے یا پینے کے کام میں نہ آتی ہو ان میں سے اگر ایک چیز نہ ہو تو دوسری پر سجدہ کریں۔
شیخ: پھر آپ کس لئے تختوں کی صورت میں خاک کربلا کے ٹکڑے پابندی سے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور نماز کے وقت انہیں پر سجدہ کرتے ہیں؟
شیعوں کا سجدہ گاہیں ساتھ رکھنا
خیر طلب: خاک کے ٹکڑے ساتھ رکھنے کا سبب یہ ہے کہ سجدہ پاک زمین پر کرنا واجب ہے اور نماز اکثر گھروں میں اور ایسے مقامات پر پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے جہاں قالین، رومال وغیرہ مختلف قسم کے فرش بچھے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے زمین پر سجدہ نہیں ہوسکتا، اور نماز کے وقت ان کو اٹھانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ان کو ہٹایا بھی جاۓ تو ان کے نیچے زیادہ تر گچ یا دوسری ایسیچیزوں کا فرش بنا ہوا ہوتا ہے جن پر سجدہ جائز نہیں ہے لہذا اگر ہم پاک مٹی کے ٹکڑے اپنے
ساتھ رکھتے ہیں تو اس غرض سے کہ نماز کے وقت خاک پر سجدہ کرسکیں۔ ا س کے علاوہ ہم مجبور ہیں کہ فقہاء کی ہدایت کے مطابق پاک زمین پر سجدہ کریں اور ہر موقع پر طاہر زمین نہیں ملتی اس وجہ سے ہم پاک مٹی کے ٹکڑے اپنے پاس رکھتے ہیںتاکہ جس مقام پر یہ زحمت پیش آۓ ہم اس طاہر مٹی سجدہ کرلیں۔
شیخ: ہم دیکھتے ہیں کہ تمام شیعہ مہر کی صورت میں خاکِ کربلا کی تختیاں بنا کر رکھتے ہیں اور انہیں پر سجدہ کرنا واجب و لازم سمجھتے ہیں۔
خاکِ کربلا پر سجدہ کرنے کا سبب
خیر طلب: یہ صحیح ہے کہ ہم کربلا کی خاک پاک پر سجدہ کرتے ہیں لیکن واجب سمجھ کے نہیں جیسا میں پہلے عرض کرچکا ہوں ہم لوگ ان احکام کے مطابق جو فقہی کتابوں میں دئیے گئے ہیں صرف پاک زمین پر سجدہ واجب سمجھتے ہیں۔لیکن ان روایتوں کی بنائ پر جو اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے مروی ہیں۔ حسینی تربت پاک پر سجدہ کرنا بہتر اور فضیلت و ثواب کثیر کا باعث ہے، اور وہ حضرات اشیائ کے خصوصیات کو سب سے زیادہ جانتے تھے کتنے افسوس کی بات ہے کہ خوارج و نواصب کے پیرو بازی گروں کی ایک جماعت نے یہ مشہور کر رکھا ہے اور اب بھی برابر کہتے رہتے ہیں کہ شیعہ حسین (ع) پرست ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کیقبر مطہر کی خاک پر سجدہ کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ باتیں ہمارے نزدیک کفر ہیں کیونکہ ہم ہرگز حسین(ع) پرست نہیں ہیں بلکہ علی(ع) پرست اور محمد پرست بھی نہیں ہیں( اور جس شخص کا یہ عقیدہ ہوا اس کو کافر جانتے ہیں) ہم صرف خدا پرست ہیں اور قرآن مجید کے حکم سے فقط پاک مٹی پر سجدہ کرتے ہیں۔ ہمارا سجدہ حسین علیہ السلام کے لئے نہیں ہوتا بلکہ ائمہ عترت طاہرہ کے ارشاد کے مطابق کربلا کی خاک پاک پر سجدہ کرنا زیادتی ثواب اور فضیلت کا سبب ہے، واجب کی حیثیت سے نہیں۔
شیخ: یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ کربلا کی خاک کچھ خصوصیات کی حامل ہے جن کی وجہ سے اس پر خاص توجہ کی جاۓ یہاں تک کہ سجدہ کرنے میں بھی اس کو دوسری ہرخاک پر فوقیت دی جاۓ۔
خاک کربلا کے خصوصیات اور پیغمبر(ص) کے ارشادات
خیر طلب: اولا یہ کہ اشیائ اور زمینوں کے اختلاف اور اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہر خاک کے کچھ آثار و خصوصیات ہیں جن کو ماہرین فن کے علاوہ عام لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
دوسرے خاک کربلا ائمہ طاہرین علیہم السلام ہی کے زمانے سے نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلعم کے عہد میں بھی حضرت(ص) کے لئے بھی مرکز توجہ تھی، جیسا کہ آپ کے اکابر علمائکی معتبر کتابوں میں درج ہے۔ مثلا خصائص الکبری مولفہ جلال الدین سیوطی مطبوعہ حیدر آباد دکن سنہ1320ھ میں ابونعیم اصفہانی، بیہقی اور حاکم وغیرہ کے ایسے آپ کے اکابر علمائ اور موثق راویوں سے
خاکِ کربلا کے بارے میں ام المومنین ام سلمہ، ام المومنین عائشہ، ام الفضل، ابن عباس اور انس ابن مالک وغیرہ کی کافی روایتیں نقل ہوئی ہیں، من جملہ ان کے راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا حسین(ع) اپنے نانا رسول خدا(ص) کی گود میں بیٹھے ہوۓ تھے اور آںحضرت(ص) کے ہاتھ میں ایک سرخ رنگ کی خاک تھی جس کو آپ چوم رہے تھے اور روتے جاتے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کیسی خاک ہے تو فرمایا کہ جبرئیل نے مجھ کو خبر دی ہے کہ میرا یہ حسین(ع) زمین عراق پر قتل کیا جاۓ گا اور اسی زمین سے یہ خاک میرے واسطے لاۓ ہیں۔ لہذا میں اپنے حسین(ع) کے اوپر پڑنے والی مصیبتوں پر گریہ کررہا ہوں۔ پھر وہ خاک ام سلمہ کے سپرد کی اور فرمایا کہ جب تم دیکھنا کہ یہ مٹی خون ہوگئے ہے تو سمجھ لینا کہ میرا حسین(ع) قتل کردیا گیا۔ چنانچہ ام سلمہ نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھی اور اس کی نگرانی کرتی رہیں یہاں تک کہ سنہ61ہجری میں عاشورہ کے روز دیکھا کہ وہ خاک خون آلود ہوگئی ہے اور جان لیا کہ حسین ابن علی علیہما السلام شہید ہوگئے۔ آپ کے اکابر علمائ اور فقہاۓ شیعہ کی معتبر کتابوں میں تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ اس خاک پاک پر حضرت رسولِ خدا صلعم اور عدیل قرآن ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی خاص توجہ تھی اور ریحانہ رسول حضرت سید الشہدائ کی شہادت کے بعد جس نے سب سے پہلے اس خاک کو تبرک سمجھ کر اٹھایا وہ امام چہارم سید الساجدین حضرت زین العابدین علی بن الحسین علیہما السلام تھے۔ جنہوں نے اس خاک پاک کو ایک تھیلی میں محفوظ کیا، آپ اس کے اوپر سجدہ بھی کرتے تھے اور اسی کی تسبیح بنا کر اس پر ذکرِ خدا بھی فرماتے تھے۔
آپ کے بعد تمام ائمہ طاہرین اس خاک کو تبرک سمجھتے رہے، اس کی تسبیح اور سجدہ گاہ بناتے رہے، خود اس پر سجدہ کرتے رہے اورواجب کی نیت سے نہیں بلکہ ثواب عظیم پر فائز ہونے کے لئے شیعوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہے یہ حضرات پوری تاکید کے ساتھ حکم دیتے تھے کہ خدا کے لئے صرف پاک زمین پر سجدہ ہونا چاہیئے لیکن حضرت سید الشہدائ کی تربت پر افضل اور زیادتی ثواب کا باعث ہے۔
چنانچہ شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی علیہ الرحمہ مصباح المتہجد میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تھوڑی تربت امام حسین(ع) ایک زرد کپڑے میں رکھے ہوۓ تھے جس کو نماز کے وقت کھول کر سامنے رکھ لیتے تھے اور اسی پر سجدہکرتے تھے۔
شیعہ ایک مدت تک اسی طریقے سے یہ مٹی اپنے پاس رکھتے رہے، پھر اس خیال سے کہ ب ادبی نہ ہو اس کو پانی میں گوندھ کر تختیوں اور ٹکڑوں کی شکل میں لے آۓ جس کو آج مہر کہا جاتا ہے، ہم لوگ اس کو محض تبرکا اور تیمنا اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور نماز کے موقع پر بقصد وجوب نہیں بلکہ زیادتی فضیلت کے لئے اس پر سجدہ کرتے ہیں ورنہ اکثر اوقات جب وہ خاک پاک کی مہر ہمارے ساتھ نہیں تھی ہم نے زمین یا پاک پتھر پر سجدہ کیا ہے۔ اور عمل واجب بھی ادا ہوگیا ہے۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سنہ1384ہجری میں جب مجھ کو حج بیت اللہ کیتوفیق حاصل ہوئی اور میں ہوائی جہاز کے ذریعے بیروت سے (باقی برصفحہ 276)
آیا یہ مناسب ہے کہ اتنی سادہ اور صاف بات کے لئے آپ لوگ اس قدر طوفان کھڑا کریں، یہاں تک کہ ہم کو کافر و مشرک اور بت پرست بھی بنائیں اور بیچارے ناواقف عوام کو دھوکے میں ڈالیں؟ جس طرح سے کہ آپ لوگ اپنے ائمہ اور فقہائ کے فتاوی پر ( جو اکثر حقیقت سے دور بلکہ آیات قرآن کی صراحت کے برخلاف بھی ہوتے ہیں) عمل کرتے ہیں اور ان کے قول و فعل کو حجت اور اپنا لائحہ عمل قرار دیتے ہیں اسی طرح ہم بھی عترت طاہرہ اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے احکام و ہدایات پر عمل کرتے ہیں البتہ فرق یہ ہے کہ آپ کے پاس پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک حکم بھی ایسا نہیں ہے کہ نعمانی یا محمد یا احمد یا مالک کی
ہدایتوں اور فتوؤں پر عمل کرنا تمہارا فرض ہے، سوا اس کے کہ آپ ان کو فقہاۓ اہل سنت میں سے ایک فقیہ سمجھ سکے ان کی پیروی کرتے ہیں۔
لیکن ہم خود رسول اللہ صلعم کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں کیونکہ آں حضرت(ص) نے باربار ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارے ائمہ عترت اوراہل بیت عدیل قرآن، سفینۃ نجات اور باب حطہ ہیں۔ ان کی اطاعت و پیروی ذریعہ نجات اور ان سے دوری و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بقیہ صفحہ قبل) مدینہ منورہ پہنچا تو غروب آفتاب میں ایک ساعت باقی تھی اور نماز کا وقت تنگ تھا لہذا میں اسی میدان میں نماز کے لئے کھڑا ہوگیا۔ ملا زمین وغیرہ کا ایک بڑا
مجمع میرے قریب اکٹھا ہوگیا اور سب میرے سجدے کرنے کو غور سے دیکھنے لگے۔جب انہوں نے دیکھا کہ میرے پاس سجدہ گاہ نہیں ہے اور میں زمین پر سجدہ کررہا ہوں تو ان کو بہت تعجب ہوا اور جب میں سلام پڑھ چکا تو ان کے بڑے بوڑھے لوگ میرےچاروں طرف جمع ہو کر پوچھنے لگے کہ کیاتم بت پرست شیعوں میں سے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ شیعہ ہونے کا فخر حاصل ہے لیکن ہم لوگ بت پرست ہرگز نہیں ہیں بلکہ موحد اور خدا پرست ہیں آپ لوگوں کا یہ کہنا شیعوں کے اوپر ایک تہمت ہے کیونکہ یہ لوگ سب اہل توحید اور پاک دل ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے اکثر اسی مقام پر ان کیبغلوں سے بتوں کا نکال کر توڑا ہے، تم کیسے شیعہ ہوکہ بت اپنے ساتھ نہیں رکھتے؟ میں نے کہا یہ الفاظ محض اشتباہ اور ایک بہت بڑی تہمت ہیں شیعہ بت اور بت پرستی سے بیزار ہیں، لیکن چونکہ بحکم قرآن ہم اس کے پابند ہیں کہ پاک زمین پر سجدہ کریں لہذا خاک کے ٹکڑے اپنے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ جس مقام پر پاک زمین ممکن نہ ہو وہاں اس خاک پر سجدہ کرلیں چنانچہ اس وقت جب کہ اس میدان کی ساری زمین پاک ہی ہے ہم کو اس خاک پاک کی کوئی احتیاج نہیں ہے اور آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ میں نے اسی زمین پر سجدہ کیا ہے، اس قسم کی تمہتیں صدیوں سے خوارج اور نواصب کی زبانوں پر جاری ہوئیں جو مسلمانوں کے اندر پھوٹ اور تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے، یہاں تک کہ آج آپ جیسے براداران اہل سنت بھی ان کے فریب میں مبتلا ہیں اور اور اپنے شیعہ بھائیوں کو مشرک و بت پرست کہتے ہیں۔ غرضیکہ میں نے غروب تک اس بڑے مجمع سے جس میں زیادہ تر وہابی تھے اس طرح گفتگو کیکہ سب کے سب کافی متاثر ہوۓ اور انہوں نے استغفار کیا اس کے بعد مجھ سے مصافحہ اور معانقہ کر کے رخصت ہوۓ۔ فاعتبروا یا اولی الالباب۔
سرکشی موجب ہلاکت ہے، جیساکہ ہم گذشتہ راتوں میں بعض احادیث کی طرف اشارہ بھی کرچکے ہیں۔ پس ان مقدس ہستیوں کا قول وفعل بحکم رسول(ص) ہمارے لئے حجت ہے اور اسی بنا پر ہم ان کی ہدایتوں کی پیروی کرتے ہوۓ استجابا یہ عمل کرتے ہیں۔
علمائ اہلِ سنت کا عمل تعجب خیز ہے
البتہ تعجب تو آپ کے علمائ پر ہے کہ ائمہ اربعہ اور دوسرے فقہاء کے عجیب و غریب فتوؤں پر قطعا کوئی اعتراض نہیں کرتے یعنی اگر امام اعظم اگر کہہ دییں کہ پانی نہ ملنے پر نبیذ سے وضو کرنا چاہیئے تو شافعی، مالکی اور حنبلی حضرات کو کوئی اعتراض نہیں، اگر امام احمد حنبل خداۓ تعالیٰ کی رؤیت کے قائل ہوجائیں اور عمامے پر مسح کرنے کو جائز سمجھیں تو دوسرے فرقے اس پر کوئی گرفت نہ کریں اور اسی طرح کے دوسرے حیرت انگیز اور نئے نئے فتاوی پر جیسے سفر میں نا بالغ لڑکوں سے نکاح کرنے یا فضلے اور نجاست پر سجدہ کرنے یا کپڑا لپیٹ کر ماؤں سے ہمبستری کرنے اور اسی قسم کے دوسرے مسائل پر کسی کو رد و قدح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔(1)
لیکن جس وقت یہ کہہ دیا جاۓ کہ ائمہ عترت رسول (ص) نے فرمایا ہے کہ کربلا کی خاک پاک پر سجدہ کرنا
دوسری زمینوں پر سجدہ کرنے سے افضل باعث اضافہ ثواب اور مستحب ہے تو آپ حضرات داد و فریاد اور شور وہنگامہ برپا کردیتے ہیں کہ شیعہ مشرک اور بت پرست ہیں۔ اور اس طرح باہمی نفاق کا بیج بوکر برادر کشی کا فتنہ ابھارتے ہیں اور غیروں کے غلبے اور تسلط کا راستہ کھول دیتے ہیں۔
درد دل بہت ہے جس کو چھوڑ کر آگے بڑھتا ہوں اور پھر اصل مطلب کی طرف آکر آپ کو جواب شروع کرتا ہوں ہماری یہ مظلومانہ فریاد روز قیامت رسول اللہ(ص) کے سامنے اثر دکھاۓ گی۔
پانچویں آپ نے بڑھاپے اور اجماع کے سلسلے میں بیان فرمایا ہے کہ پیرانہ سالی کی وجہ سے ابوبکر کو فوقیت اور تقدم کا حق حاصل تھا۔ تو یہ بھی آپ کی بہت بے لطفی کی بات ہے کہ دس راتوں کے بعد جب کہ میں قطعی طور پر عقلی اور نقلی دلائل سے اجماع او بڑھاپے کی دلیلوں کو باطل ثابت کرچکا، اب پھر آپ از سرِ نو وہی بات دھرا رہےہیں اور چاہتے ہیں کہ مطلب کی تکرار کر کے جلسہ کا وقت لیں۔ باوجودیکہ میں گزشتہ شبوں میں کافی اور مسکت جوابات دے چکا ہوں لیکن اس وقت بھی آپ کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑوں گا۔ آپ نے خلیفہ اول ابوبکر کے حق تقدم کے اوپر سیاسی سوجھ بوجھ اور ورازی سن کی جو دلیل قائم کی ہے اس کےبارے میں عرض ہے کہ یہ کیسی بات ہے کہ اور لوگ تو اس بات کی تہ تک پہنچ گئے کہ بڑے کام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ملاحظہ ہوں کتب فقیہہ اہل سنت، فتاوی قاضی خان، ہدایتہ اور بحر الرائق شرح کنز الدقائق وغیرہ12۔
کے لئے انسان کو بوڑھا اور سیاسی ہونا ضروری ہے لیکن خدا اور اس کےرسول(ص) کی سمجھ میں یہ معاملہ نہ آیا اور انہوں نے سورہ برائت کی ابتدائی آیتوں کی تبلیغ میں ابوبکر جیسے بوڑھے اور سیاسی آدمی کو معزول کر کے علی(ع) جیسے جوان شخص کو مقررفرمایا؟
نواب : قبلہ صاحب! معاف فرمائیےگا میں آپ کی گفتگو میں دخل دے رہا ہوں۔ اس قضیے کو مبہم نہ چھوڑیئے پہلے بھی ایک شب میں آپ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ کہاں اور کس کام کےسلسلے میں خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ معزول اور علی کرم اللہ وجہہ معین کئے گئے؟ جب ہم نے ان حضرات ( اپنے علمائ کی طرف اشارہ) سے دریافت کیا تو انہوں نے گول جواب دے دیا کہ کوئی اہم معاملہ نہیں تھا۔ گذارش ہے کہ اس کی وضاحت فرمادیجئے تاکہ یہ معما حل ہوجاۓ۔
تبلیغ سورہ برائت میں ابوبکر کی معزول اور علی(ع) کا تقرر
خیر طلب: جمہور امت اور فریقین (شیعہ و سنی) کے علمائ و مئورخین اس کے قائل ہیں کہ جب سورہ برائت کی ابتدائی آیتیں مشرکین کی مذمت میں نازل ہوئیں تو رسول اللہ(ص) نے ابوبکر کو بلا کر دس (10) آیتیں ان کے سپرد کیں اور ان کو مکہ معظمہ لے جائیں اور موسم حج میں اہل مکہ کے سامنے پڑھیں ابھی یہ چند ہی منزلیں طے کرنے پاۓ تھے کہ جبرئیل امین نازل ہوۓ اور عرض کیا یا رسول اللہ(ص) :
"ان الله یقرئکالسلامیقوللن يؤدّي عنك إلّا أنت أو رجل منك"
یعنی خداۓ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کی طرف سے ہرگز کوئی شخص تبلیغ رسالت نہیں کرسکتا، سوا آپ کے یا اس مرد کے جو آپ سے ہو۔
چنانچہ پیغمبر(ص) نے علی علیہ السلام کو بلایا اور اس خاص مہم پر مقرر کر کے فرمایا کہ جاؤ جس مقام پر ابوبکر مل جائیں ان سے آیات برائت واپس لے لو۔ اور خود جاکر مشرکین اہل مکہ کے سامنے ان کی تلاوت کرو، علی علیہ السلام فورا روانہ ہوگئے۔ منزل ذوالحلیفہ میں ابوبکر سے ملاقات ہوئی، ان کو رسول اللہ(ص) کا پیغام پہنچایا، ان سے آیتیں واپس لیں اور مکہ معظمہ پہنچ کے مجمع عام کے سامنےان آیات کو پڑھ کے پیغمبر(ص) کی طرف سے تبلیغ رسالت کا فرض انجام دیا۔ اس کے بعد آں حضرت(ص) کی خدمت میں مدینہ منورہ واپس آۓ۔
نواب: کیا ہماری معتبر کتابوں میں بھی یہ واقعہ درج ہے؟
خیر طلب: میں نے تو عرض کیا کہ اس پر امت کا اجماع ہے اور تمام شیعہ وسنی علمائ و مورخین اسلام نے بالاتفاق لکھا ہے کہ یہ واقعہ اسی طرح سے پیش آیا۔ لیکن آپ کے اطمینان قلب کے لئے چند کتابوں کے حوالے جو اس وقت میرے پیش نظر ہیں۔ عرض کئے دیتا ہوں تاکہ جب آپ ان پرغور کریں تو معلوم ہوجاۓ کہ یہ ایک اہم معاملہ تھا۔
بخاری نے اپنی صحیح جزئ چہارم و پنجم میں، عبدی نے جمع بین الصحاص الستہ جزئ دوم میں، بیہقی نے سنن ص9 ، ص224 میں، ترمذی نے جامع جلد دوم ص135 میں، ابوداؤد نے سنن میں، خوارزمی نے مناقب میں، شوکانی نے اپنیتفسیر جلد دوم ص219میں، ابن مغازلی فقیہہ شافعی نے فضائل میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص17 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے
ینابیع المودت باب18 میں، روایت و اکابر علماۓ اہل سنت کے مختلف طریقوں سے، محب الدین طبری نے ریاض النضرہ ص147 اور ذخائر العقبی ص69 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ خواص الامہ ص32 میں ( ائمہ صحاح میں سے ایک رکن) امام عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی ص14 میں اس سلسلے کی چھ حدیثیں، ابن کثیر نے تاریخ کبیر جلد پنجم ص38 اور جلد ہفتم ص357 میں، ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد دوم ص509 میں، جلال الدین سیوطی نے در المنثور جلد سوم ص208 تفسیر آیت اول سورہ برائت میں طبری نے جامع البیان جلد دوم ص323 میں، آلوسی نے روح المعانی جلد سوم ص268 میں، ابن حجر مکی متعصب نے صواعق محرقہ ص19 میں،ہیثمی نے مجمع الزوائد جلد ہفتم ص29 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب62 ص125 میں ابوبکر اور حافظ ابونعیم کی سند سے اور یہ روایت ابونعیم مسند حافظ دمشقی سے مختلف طریقوں کے ساتھ، امام احمد ابن حنبل نے مسند جلد اول ص3، ص151 جلد سوم میں ص283 اور جلد چہارم ص164، ص165 میں، حاکم نے مستدرک جلد دوم کتاب مغازی ص51ٍ اور اسی کتاب کی جلد دوم ص331 میں، اور مولوی علی نقی نے کنز العمال جلد اول ص246 تا ص249 اور جلد ششم ص154 فضائل علی علیہ السلام میں، غرضیکہ سبھی نے اس قضیے کو تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے اور عام طور سے اس کی صحت کی تصدیق کی ہے۔
سید عبدالحی : جس پیغمبر(ص) کا ہر قول و فعل خدا کی جانب سے تھا اس نے یہ منصب پہلے ہی سے علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کیوں نہیں کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تبلیغ پر مامور کردیا تاکہ بعد کو خدا کا پیغام پہنچے، علی روانہ ہوں اور بوڑھے ابوبکر کو بیچ راستے سے پلٹائیں۔
ابوبکر کی معزولی اور علی(ع) کے تقرر کا ظاہری سبب
خیر طلب: چونکہ ہماری اور آپ کی کتابوں میں اس کا کوئی اصلی سبب منقول نہیں ہے لہذا ہم اس سے کماحقہ واقفیت نہیں رکھتے، لیکن عقلی طور پر میرا اندازہ ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد دوسروں کے اوپر علی علیہ السلام کی برتری اور بزرگ منزلت کو ثابت کرنا تھا کہ تقریبا تیرہ سو چالیس برس کے بعد آج کی رات آپ کے لئے جواب موجود رہے اور آپ یہ نہ کہیں کہ پیرانہ سالی اور سیاسی مہارت کی وجہ سے خلات ابوبکر کو حق تقدم حاصل تھا، اگر ابتدا ہی میں یہ منصب علی علیہ السلام کو دے دیا گیا ہوتا تو یہ ایک معمولی سا معاملہ معلوم ہوتا اور ظاہری طور پر ہمارے لئے ممکن نہ ہوتا کہ اس حدیث کے ذریعے آپ کے مقابلے میں علی علیہ السلام کی فضیلت و کرامت ثابت کرسکیں، کیونکہ آپ نے اپنی یہ عادت بنا رکھی ہے کہ ہر اس حدیث کے لئے جو حضرت کی فضیلت اور منصب خلافت کا اثبات کرتی ہو کوئی نہ کوئی فضول سی تاویل ضرور کرتے ہیں چاہے وہ تاویل دوسری اکثر تاویلات کےمانند مضحکہ خیز ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ اس طرح سے علی علیہ السلام کی اعلی حیثیت اور باوجود کمسنی کے بوڑھے صحابہ کے اوپر آپ کی ترجیح اور حق تقدم ساری امت پر آج تک مکمل طور پر واضح ہو رہا ہے۔
پہلے آں حضرت(ص) مذکورہ آیتیں ابوبکر کو دیتے ہیں، پھر ان کے چند منزل آگے بڑھ جانے کے بعد علی علیہ السلام کو اس وضاحت کےساتھ معین فرماتے ہیں کہ جبرئیل نے من جانب خدا مجھ کو مامور کیا ہے اور صاف صاف کہا ہے کہ "لن يؤدّي عنك إلّا أنت أو رجل منك " (یعنی تمہاری طرف سے پیغام رسالت سوا تمہارے یا اس مرد کے جو تم سے ہو اور کوئی ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔
پس ابوبکر کا جانا اور درمیان راہ سے واپس آنا دوسروں پر علی علیہ السلام کی برتری اور فوقیت کا ایک بڑا ثبوت بن جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ امر خداوندی کی تبلیغ یعنی نبوت و خلافت کو بڑھاپے اور جوانی سے کوئی ربط نہیں ہے۔ع
ہزار نکتہ باریک ترزمو اینجاست
اگر ابوبکر کا بوڑھا اور سیاسی ہونا ان کی فوقیت اور حق تقدم کو ثابت کرتا تھا تو ان کو ایسے مقدس کام سے قطعا معزول نہ ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پیغام رسالت کا پہنچانا پیغمبر(ص) اور خلیفہ پیغمبر(ص) ہی کا کام ہے۔
سید : بعض روایتوں میں ابوہریرہ سے منقول ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ مکے جائیں، ابوبکر لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دیں اور علی آیات سورہ برائت کی تلاوت کریں، پس اس صورت سے پیغام رسالت پہنچانے میں دونوں باہم مساوی تھے۔
خیر طلب: اول تو یہ روایت بکرئین کی گڑھی ہوئی ہے اس لئے کہ دوسروں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ دوسرے ابوبکر کی معزول اور ابلاغ رسالت کے لئے علی علیہ السلام کے تنہا مکے بھیجا جانے پر ساری امت کا اجماع ہے اور یہ مخالف وموافق مذاہب کی صحاح و مسانید میں معتبر اسناد کے ساتھ تواتر کی حد ثابت ہے۔ دیہی چیز ہے کہ کثیر التعداد صحیح ومستند احادیث سے تمسک کرنے پر جمہور امت کا اتفاق ہے اور اگر کوئی خبر واحد ان صحاح کثیرہ کے خلاف ہو تو آپ خود بہتر جانتے ہیں، کہ محدثین اور اصولیین کے قاعدے سے اس کو ترک اور رد کردینا واجب ہے۔ اگر وہ خبر واحد صحیح بھی ہو تو مظنون ہے اور مظنون کے لئے معلوم کا ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ پس ابوبکر کی معزولی، علی علیہ السلام کی تعیین، ابوبکر کا رنج وغم کی حالت میں مدینے پلٹنا، ان سے پیغمبر(ص) کی گفتگو اور آں حضرت(ص) کا یہ کہہ کے مطمئن فرمانا کہ حکم خدا اسی طرح سے تھا، یہ سب روایئی مسلمات میں سے ہیں۔ نیز اپنی جگہ پر اس کی ایک مکمل دلیل ہے کہ حق تقدم کا کہنہ سالی اور پیری سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ عقلی و نقلی دلائل سے ثابت ہے کہ امت اور جماعت انسانی کے اندر تقدم اور فوقیت کا حق علم و دانش اور تقوی سے حاصل ہوتا ہے۔ افراد بشر میں سے جو فرد علم وفضل اور تقوی کے حیثیت سے برتری رکھتی ہو، قوم کے اندر اسی کو ترجیح اور تقدم کا حق ہوگا کیوں کہ آپ کا ارشاد ہے"الناس موتیٰ واهلالعلماحیائ "( یعنی تمام لوگ مردہ ہیں اور صاحبان علم زندہ ہیں)
اسی بنا پر رسول خدا صلعم نے علی علیہ السلام کو دوسرے صحابہ پر مقدم رکھا اور فرمایا علی میرے علم کا دروازہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ(ص) کا باب علم دوسروں سے مقدم ہوگا اگر چہ پیغمبر(ص) کے جو اصحاب آں حضرت(ص) کی اطاعت پر ثابت قدم رہے وہ بھی
فضیلتوں کے حامل تھے اور ہم فضائل صحابہ کے منکر نہیں ہیں لیکن ان کے فضائل باب علم پیغمبر(ص) کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے۔ کیونکہ آپ کا مقام و مرتبہ سب سے افضل ہے۔
اگر صحابہ میں سے کسی فرد کو حق تقدم اور ترجیح حاصل ہوتی تو رسول اللہ(ص) قطعا امت کو اس کی پیروی کا حکم دیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک امر الہی ہے جس کو پیری اور جوانی سے ہرگز ربط نہیں ہے بلکہ خداوند عالم جس شخص کو اس مںصب کے لائق پاتا ہے اسی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے چاہے وہ بوڑھا ہو یا نوجوان۔
پیغمبر(ص) کا علی(ع) کوعہدہ قضاوت پریمن بھیجنا
چنانچہ عام طور پر آپ کے اکابر علمائ نے علی علیہ السلام کو اہل یمن کی ہدایت اور قضاوت کے لئے بھیجے جانے کو تفصیل سے نقل کیا ہے بالخصوص ( ائمہ صحاح ستہ میں سے) امام ابوعبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی کے اندر اس بارے میں چھ حدیثیں درج کی ہیں۔ نیز ابوالقاسم حسین بن محمد راغب اصفہانی نے محاضرات الادبائ جدل دوم ص212 میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ مع سلسلہ اسناد یہ ہے کہ جس وقت رسول خدا صلعم نے علی علیہ السلام کو مامور فرمایا کہ قضاوت اور ہدایت خلق کے لئے یمن جائیں تو آپ نے عرض کیا کہ میں جوان ہوں آپ مجھ کو قوم کے بوڑھے لوگوں پر کیوں مقرر فرما رہے ہیں؟ آن حضرت(ص) نے فرمایا
" فان اللّه تعالى يهدي قلبك و يثبت لسانك."( یعنی عنقریب خدا ( علم قضا میں) تمہاری رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو قائم کرے گا اگر فوقیت کے لئے کمسن ہونا ضروری تھا تو بزرگان صحابہ اور ابوبکر جیسے بوڑھے اور سن رسیدہ اشخاص کی موجودگی میں علی علیہ السلام کو کس لئے یمن والوں کی قضاوت و ہدایت پر مامور فرمایا؟ پس معلوم ہوا کہ امت کا قاضی اور ہادی بننے میں عمر کی کمی و بیشی اور پیری وجوانی کو کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ فقط علم و فضل، تقوی اور خصوصیت کے ساتھ نص کا ہونا لازمی ہے۔
پیغمبر(ص) کے بعد علی(ع) امت کے ہادی تھے
اور ایسی نص قرآن و احادیث میں سوا علی علیہ السلام کے اور کسنی کے لئے نہیں تھی۔ چنانچہ آیت نمبر8 سورہ نمبر13 ( رعد) میں پیغمبر(ص) سے کھلا ہوا خطاب ہو رہا ہے کہ:
"إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ" ( یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تم ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہے اور وہ ہادی ورہنما پیغمبر(ص) کے بعد علی(ع) اور عترتِ رسول ہے، جیسا کہ امام ثعلبی تفسیر کشف البیان میں، محمد بن جریر طبری ا پنی تفسیر میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالبباب 62 میں اسناد تاریخ
ابن عساکرسے اور شیخ سلیمان حنفی نیابیع المودت آخر باب 26 میں ثعلبی، حموینی، حاکم ابوالقاسم حسکانی، ابن صباغ مالکی، میر سید علی ہمدانی اور مناقب خوارزمی سے ابن عباس، حضرت امیرالمومنین اورابوبریدہ اسلمی کے اسناد کے ساتھ مختلف الفاظ و عبارات میں گیارہ حدیثیں نقل کی ہیں، اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت نازل ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ و آلہ و سلم نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا انا : " أنا المنذر "( یعنی میں ڈرانے والا ہوں) پھر علی علیہ السلام کے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا :
" و انت الهادى بك يا على يهتدى المهتدون من بعدى"(یعنی تم ( میرے بعد اس امت کے) ہادی ہو اور تم سے ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے۔
اگر ایسی کوئی نص دوسروں کے بارے میں بھی آئی ہوتی تو یقینا ہم ان کی پیروی کرتے، لیکن چونکہ یہ خصوصیت صرف علی علیہ السلام کو عطا کی گئی ہے لہذا ہم بھی مجبور ہیں کہ انہیں بزرگوار کی اطاعت کریں اور پیروی و جوانی پر نظر نہ کریں۔
دشمنوں کی سازشیں اور مجازی و حقیقی سیاست میں فرق
اور جو آپ نے یہ فرمایا ہے کہ علی علیہ السلام جوان اورناتجربہ کار تھے لہذا خلافت کی طاقت و قدرت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ پچیس سال کے بعد بھی جب مسند خلافت پر آئے تو آپ کی سیاسی ناواقفیت کی وجہ سے اس قدر اس قدر خوں ریزیاں اور انقلابات برپا ہوئے۔ تو میں نہیں جانتا کہ آپ نے یہ بیان عمدا دیا ہے یا سہوا، یا محض اپنے اسلاف کی پیروی مقصود ہے؟ ورنہ ایک نکتہ رس عالم ہرگز ایسے الفاظ منہ سے نہیں نکالے گا۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر آپ حضرات کی نظر میں سیاست کا مطلب کیا ہے؟ اگر جھوٹ بولنا، حیلہ سازی کرنا۔ سازش کر جال بچھانا، حق و باطل کو خلط ملط کردینا اور نفاق پر عمل کرنا مراد ہے( جیسا کہ ہرزمانے کے دنیا دار لوگ اپنے اقتدار اور منصب کو محفوظ رکھنے کے لئے اس پر عامل رہے اور ہیں) تو میں تصدیق کرتا ہوں کہ علی علیہ السلام اس قسم کی سیاست سے بہت دور تھے اورآپ ہرگز اس معنی میں سیاسی انسان نہیں تھے۔ کیونکہ ایسا طریقہ کار و حقیقت سیاست نہیں ہے بلکہ سراپا شرارت، مکاری، فریب کاری، حیلہ جوئی اور جعل سازی ہے جس پر دنیا پرست لوگ اپنا مقصد حاصل کرنے اور اپنے جاہ و ثروت کا تحفظ کرنے کے لئے عمل پیرا ہوتے ہیں۔
حقیقی سیاست یہ ہے کہ عدل و اںصاف کا دامن نہ چھوڑتے ہوئے ہرکام کو اس کے صحیح محل پر انجام دیا جاۓ ایسی سیاست ان حق پرست لوگوں کے یہاں نشو ونما پاتی ہے جو فانی جاہ و منصب کے طالب نہیں ہیں بلکہ ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ حق کا رواج ہو، لہذا حضرت علی علیہ السلامجو حق و حقیقت، عدالت و اںصاف اور صداقت صلاحیت کے مجسمہ تھے اس طرح کی سیاست سے الگ تھے جس پر دوسرے لوگ کار بند تھے۔
چنانچہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جس وقت آپ کو خلافت ظاہری حاصل ہوئی تو فورا تمام پچھلے حکام اور کارندوں کو معزول کردیا۔ عبداللہ ابن عباس(آپ کے ابن عم) اور دوسرے لوگوں نے عرض کیا کہ بہتر ہوگا اگر آپ یہ حکم چند روز کے لئے ملتوی فرمادیں تاکہ ساری ریاستوں اور دلایتوںکے حکام و عمال آپ کے اقتدار خلافت کو تسلیم کرلیں، اس کے بعد آہستہ آہستہ ان کی معزولی کا فرمان نافذ فرمائیں۔
حضرت نے فرمایا، تم نے ظاہری سیاست کا لحاظ کرتے ہوتے یہ مشورہ دیا ہے لیکن یہ بھی جانتے ہو کہ اس ظاہری سیاست کے خیال سے میں جتنے زمانے تک ظالم و جابر حکام کو ان کے عہدوں پر باقی رکھوں گااور ان کی بقا پر راضی رہوں گا چاہے وہ وقتی اور ظاہری حیثیت سے کیوں نہ ہو، خدا کے نزدیک ان کے اعمال کا ذمہ دار قرار پاؤں گا اور موقف حساب میں مجھ کو اس کا جواب دینا پڑے گا؟
قطعی طور پر سمجھ لو کہ علی(ع) سے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔
غرضیکہ عدل و انصاف کی حفاظت کے لئے فورا ان کی معزولی کے احکام روانہ فرماۓ اور یہی فرمان معاویہ اور طلحہ و زبیر وغیرہ کی مخالفت کا باعث ہوا،جنہوںنے علم بغاوت بلند کر کے نفسانی خواہشات اور شیطانی خیالات کی بنا پرانقلاب اور خون ریزی کا بازار گرم کیا۔
طبری نے اپنی تاریخ میں، ابن عبدربہ نے عقد الفرید میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نیز اوروں نے نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام بار بار یہی فرماتے تھے کہ اگر مجھے دین و تقوی نے اور عدل و انصاف کا لحاظ نہ ہوتا تو میں تمام عرب سے زیادہ چالاکی اور مکاری کرسکتا تھا اور میری ہوشیاری سب سے بڑھی ہوئی تھی۔
محترم حضرات! آپ کو دھوکا ہوا ہے اور بغیر تحقیق کے غلط پروپیگنڈے کے شکار ہورہے ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ حضرت کے زمانہ خلافت کا انقلاب اورلوگوں کی پراگندگی آپ کے سیاست نہ جاننے کے وجہ سے تھی۔ در آں حالیکہ حقیقت یہ نہیں تھی بلکہ کچھ دوسرے ہی وجود و اسباب کام کررہے تھے جن کی پوری تفصیل تو اس تنگ وقت میں پیش نہیں کی جاسکتی لیکن آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتا ہوں تاکہ یہ معما حل ہوجاۓ۔
امیرالمومنین(ع) کے دورِ خلافت میں انقلاب کے اسباب
اولا تو تقریبا پچیس سال تک جن لوگوں کو حضرت سے کینہ اور بغض و عداوت رکھنے کی تربیت دی جاچکی تھی ان کے لئے بہت مشکل تھا کہ دفعتا سب کے سب آپ کی ولایت و خلافت پر رضامند ہوکر آپ کی بلند منزلت کی تصدیق کریں (چنانچہ خلافت کے پہلے ہی روز اس زمانے کے شریف زادوں میں سے ایک صاحب مسجد کے دروازے سے داخل
ہوۓ اور حضرت کو منبر پر دیکھا تو بآواز بلند کہا کہ اندھی ہوجاۓ وہ آنکھ جو بجاۓ خلیفہ عمر کے علی کو منبر کے اوپر دیکھے)
دوسرے دنیا طلب لوگوں کے لئے حضرت کے عدل و اںصاف کو قبول کرنا ممکن نہیں تھا( بالخصوص خلافت عثمان کے اندر حکومت بنی امیہ کے آخری برسوں میں جب کہ ان کو مکمل آزادی حاصل تھی) لہذا انہوں نے مخالفت کی آواز بلند کی تاکہ کوئی ایسا شخص برسر اقتدار آجاۓ جو ان کی دنیا پرستی اور ہوا و ہوس کے جذبات پورے کرسکے( چنانچہ خلافت معاویہ کے زمانے میں ان کی تمنائیں اور مرادیں بر آئیں اور دنیا طلبی کے مقاصد پورے ہوۓ) اسی بنائ پر طلحہ و زبیر نےپہلے تو بیعت کی لیکن جب حضرت سے حکومت کا تقاضا کیا اور وہ پورا نہیں کیا گیا تو فورا بیعت توڑ دی اور جنگ جمل کا فتنہ اٹھا کر کھڑا کردیا۔
تیسرے بہتر ہوگا کہ تاریخ کو ذرا غور سے پڑھئے اور انصاف کی نظر ڈالئے تو ظاہر ہو کہ ابتداۓ خلافت ہی سے فتنہ و فساد اور انقلاب انگیزی کا بانی کون تھا اور کس شخص نے لوگوں کو تحریص و ترغیب دے کر مخالفت اور بغاوت پر آمادہ کیا جس سے اس کثرت کے ساتھ خون ریزی ہوئی؟ آیا وہ شخص علاوہ ام المومنین عائشہ کے کوئی اور تھا؟ آیا وہ عائشہ ہی نہیں تھیں جو اسلام کے تمام شیعہ و سنی علمائ اور محدثین و مورخین کی شہادت کی روشنی میں اونٹ پر سوار ہوکر خدا و رسول کے اس فرمان کے برخلاف کہ اپنے گھر کے اندر بیٹھو) بصرہ پہنچیں اور انقلاب وفتنہ و فساد کی آگ بھڑکا کر لاتعداد مسلمانوں کا خون بہانے کی ذمہ دار ہوئیں؟
پس حضرت کی سیاسی ناواقفیت انقلاب اور فتنہ و فساد کا سبب نہیں بنی بلکہ پچیس سال تکتربیت پاۓ ہوۓ لوگوں کا طرزِ عمل ام المومنین عائشہ کی عداوت اور کینہ اور دنیا طلب اشخاص کی حرص و ہوس انقلاب اور خون ریزی کی باعث ہوئی۔
چوتھے آپ نے اشارہ کیا ہے کہ اندرونی لڑائیاں اور خون ریزیاں حضرت کی سیاسی کمزوری کی وجہ سے رونما ہوئیں تو یہ بھی ایک بہت بڑا اشتباہ ہے جو آپ نے بغیر تاریخ پر غور کئے بیان کیا ہے۔
اول تو عقل و اںصاف سے جائزہ لینے کے بعد نظر ہی آجاتا ہےکہ ان اندرونی لڑائیوں اور خون ریزیوں کی بانی ام المومنین عائشہ تھیں جو پیغمبر(ص) کی صریحی ممانعت کے باوجود حضرت علی(ع) کے مقابلے پر اٹھ کھڑی ہوئیں اور تمام لڑائیوں اور قتل و خون ریزی کی جڑ ثابت ہوئیں۔ اس لئے کہ اگر عائشہ نے بغاوت نہ کی ہوتی تو اور کسی کو حضرت کے مقابلے پر آنے کی جرات ہی نہ ہوتی جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صاف صاف فرمادیا تھا کہ علی(ع) سے جنگ کرنا مجھ سے جنگ کرنا ہے۔ پس جس شخص نے لوگوں کو جرات دلائی اور حضرت سے جنگ کرنے پر تیار کیا وہ عائشہ تھیں،جنہوں نے جنگ جمل کی تشکیل کی اور علی علیہ السلام کے حق میں بیہودہ باتیں کہہ کے میدان جنگ کو گرمایا اور لوگوں کی ہمت بڑھائی۔
جمل و صفین اور نہروان کے لئے پیغمبر(ص) کی پشین گوئی
دوسرے بصرہ اور صفین و نہروان میں منافقین و مخالفین سے آپ کی لڑائیاں وہی نوعیت رکھتی تھیں جو کفار کے مقابلے میں رسول اللہ(ص) کی جنگیں۔
شیخ: مسلمانون کے مقابلے میں لڑائیاں مشرکین سے لڑائیوں کے مانند کیوکر تھیں؟
خیر طلب: اس صورت سے کہ بنا بر ان اخبار و احادیث کے جن کو آپ کے اکابر علمائ نے مثلا امام احمد حنبل نے مسند میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ میں، سلیمان بلخی نے ینابیع المودت میں، امام عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، محمد ابن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب37 میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ( مطبوعہ مصر) جلد اول ص67 میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلعم نے ناکثین و قاسطین و مارقین سے علی علیہ السلام کی جنگوں کی خبر دی ہے۔ جن میں ناکثین سے طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھی، قاسطین سے معاویہ اور ان کے پیرو اور مارقین سے نہروان کے خوارج مراد تھے، یہ سب کے سب باغی اور واجب القتل تھے اور خاتم الانبیائ صلعم نے ان لڑائیوں کی خبر دیتے ہوۓ اسی کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ محمد ابن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب37 میں اسناد کے ساتھ ایک حدیث سعید ابن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس( جرامت) سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ام المومنین ام سلمہ سے فرمایا:
" هذا علي بن أبي طالب لحمه من لحمي، و دمه من دمي، و هو مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي. و قال: يا أم سلمة اشهدي و اسمعي هذا علي أمير المؤمنين و سيد المسلمين و وعاء علمي، و بابي الذي أوتي منه، و أخي في الدنيا و الآخرة، و معي في السنام الأعلى، يقتل القاسطين و الناكثين و المارقين."
یعنی یہ علی ابن ابی طالب ہیں ان کا گوشت میرے گوشت سے اور ان کا خون میرے خون سے ہے اور یہ مجھ سے بمنزلہ ہارون ہیں موسی سے لیکن یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اے ام سلمہیہ علی مومنین کے امیر مسلمانوں کے سردار، میرے علم کے مخزن، میرے وصی اور میرے علوم کے دروازہ ہیں جو ان سے حاصل ہوتے ہیں یہ دنیا و آخرت میں میرے بھائی اور مقام اعلیٰ میں میرے ساتھ ہیں۔ یہ ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کریں گے۔
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد محمد بن یوسف اس پر تبصرہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات
پر پوری دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ نے علی علیہ السلام سے ان تینوں گروہوں کے ساتھ جنگ کا وعدہ کیا اور قطعا آں حضرت(ص) کا ارشاد برحق اور جو وعدہ فرمایا تھا وہ سچا تھا اور یقینا آں حضرت(ص) نے علی کو ان تینوں گروہوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا چنانچہ مخنف بن سلیم کی سند سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا، ابوایوب اںصاری ( جو رسول خدا(ص) کے بزرگ صحابہ میں سے تھے) ایک لشکر کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہوۓ تو میں نے ان سے کہا کہ اے ابوایوب تمہارا معاملہ عجیب ہے، تم وہی ہو جس نے رسول خدا(ص) کے ہمراہ مشرکین سے جنگ کی اور اب مسلمانوں سے جنگ کرنے پر تلے ہوۓ ہو۔ انہوں نے جواب دیا :
"ان رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله امرنى بقتال الناكثين و القاسطين و المارقين."
رسول اللہ(ص) نے مجھ کو تین گروہوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ ناکثین قاسطین اور مارقین ہیں۔
اورجو میں نے یہ عرض کیا کہ اہل بصرہ(جمل) معاویہ ( صفین) اور اہل نہروان سے امیرالمومنین علیہ السلام کی جنگیں اسی طرح کی تھیں جس طرح کفار و مشرکین سے رسول کی جنگ، تو آپ کے اکابر علمائ جیسے امام ابو عبدالرحمن نسائی خصائص العلوی حدیث، ص155 میں ابو سعیدخدری کی سند سے اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب10 ص59 میں جمع الفوائد سے بروایت ابوسعید نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، ہم صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوۓ رسول اللہ(ص) کے منتظر تھے کہ ا تنے میں آں حضرت(ص) ہماری طرف اس حالت میں تشریف لاۓ کہ آں حضرت(ص) کی نعلین کا تسمہ کٹ گیا تھا۔ اس جوتی کو علیعلیہ السلام کی طرف ڈال دیا اور علی(ع) اس کو سینے میں مشغول ہوگئے، اس وقت آں حضرت(ص) نے فرمایا:
"إنّ منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلت على تنزيله». فقال أبو بكر: أنا ؟ قال: «لا». فقال عمر: أنا ؟ قال: «لا، و لكنّه خاصف النعل"
یعنی یقینا تم میں سے ایک شخص وہہے جو قرآن کی تاویل پر جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کی تنزیل پر جنگ کی ہے۔ پس ابوبکر نے عرض کیا وہ شخص میں ہوں؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا نہیں۔ پھر عمر نے کہا میں ہوں؟ فرمایا نہیں، بلکہ جوتی سینے والا شخص ہے(یعنی علی علیہ السلام)۔
پس یہ حدیث ایک نص صریح ہے اس چیز پر کہ علی علیہ السلام کی جنگیں جہاد برحق اور قرآن مجید کی تاویل اور اس کے حقیقی مفہوم کی حفاظت کے لئے تھیں جیسا کہ رسول اللہ(ص) کی جنگیں قرآن کی تنزیل اور اس کے ظاہری نزول کے لئے تھیں یہ تینوں لڑائیاں جو علی علیہ السلام نے لڑیں ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق مسلمانوں کے مقابلے میں نہیں تھیں، کیونکہ اگرمسلمانوں سے جنگ ہوتی تو یقینا آں حضرت(ص) اس سے منع فرماتے نہ یہ کہ اس کے لئے حکم دیتے اور مخالفین کو ناکثین و قاسطین و مارقین کے ناموں سے یاد کرتے جو خود اپنی جگہ پر ان لوگوں کے ارتداد اور قرآن سے بغاوت کرنے کی دلیل ہے، جس طرح مشرکین قرآن کے مقابلے پر آچکے تھے معلوم ہوا کہ یہ سارے انقلابات اور لڑائیاں امیرالمومنین علیہ السلام کی سیاسی ناتجربہ کاری سے نہیں بلکہ مخالفین کے بغض و نفاق اور رسول اللہ(ص) کے قواعد و قوانین اور ہدایات پر ان کے توجہ نہ کرنے کے سبب سے تھیں۔ اگر آپ حضرات از روۓ علم و اںصاف اور غیر جانب داری کے ساتھ اس مکمل شرعی حکومت کے طور طریقے
آپ کی پنج سالہ خلافت اور ان احکام پر جو آپ ولایتوں کے حکام اور فوجی وملکی افسروں کے نام صادر فرماتے تھے غور کیجئے ( مثلا وہ احکام و ہدایات جو حکومت مصر میں مالک اشتر اور محمد ابن ابی بکر کو، بصرے کی حکومت میں عثمان بن حنیف اور عبداللہ ابن عباس کو اور حکومت مکہ میں قثم ابن عباس کو نیز اپنے دوسرے عمال کو ان کی تقرری کے زمانے میں دیئے اور جو نہج البلاغہ کے اندر جمع ہیں) تو تصدیق کیجئے گا کہ رسول اللہ(ص) کے بعد علی علیہ السلام کا ایسا عادل اور قوم پرور سیاست دان چشم روزگار نے نہیں دیکھا، جس کا دوست و دشمن سبھی کواعتراف ہے۔ اس لئے کہ حضرت تقوی و پرہیزگاری میں امام المتقین تھے، علم ودانش میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل، ناسخ و منسوخ ، محکم و متشابہ اور اس کے مجمل ومفصل کے اور اس کے علاوہ غیب و شہود کے عالم تھے۔
شیخ : میں اس مبہم جملے کے معنی نہیں سمجھا کہ آپ نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو غیب و شہود کا عالم کہہ دیا۔ غیب و شہود کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا، التماس ہے کہ وضاحب کے ساتھ بیان فرمائیے۔
خیر طلب: اس مطلب میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ علم غیب امور عالم کے باطنی حالات سے واقفیت اور کائنات کے پوشیدہ اسرار سے آگاہی کو کہتے ہیں جس کے عالم غیب الغیوب یعنی خداۓ عزوجل کے افاضات سے انبیائ اور ان کے اوصیائ تھے، البتہ ہرایک کو غیبی امور پر اسی حد تک آگاہی ملی جس قدر خداوند عالم نے ان کے لئے مناسب اور ان کے تبلیغات کے واسطے ضروری جانا اور خاتم الانبیائ(ص) کے بعد ایسے علم کی عالم امیرالمومنین علی (ع) کی ذات تھی۔
شیخ: جناب عالی سے مجھ کو یہ توقع نہیں تھی کہ غالی شیعوں کے باطل عقاید کو ( باوجودیکہ ان سے بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں) بیان کیجئے گا۔
بدیہی چیز ہے کہ یہ ایسی تعریف ہے جس سے خود صاحب تعریف بھی راضی نہیں اس لئے کہ علم غیب ذات باری تعالی کے مخصوص صفات میں سے ہے اور بندوں میں سے کوئی شخص اس میں دخل نہیں رکھتا۔
خیر طلب : آپ کی یہ گفتگو اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس میں عمدا یا سہوا آپ کے اسلاف مبتلا رہ چکے ہیں اور اب آپ بھی بغیر سوچے سمجھے اور غور و فکر کے انہیں کی پیروی میں یہ باتیںزبان پر جاری کررہے ہیں۔ اگر آپ تھوڑی دقت نظر سے کام لیتے تو حقیقت بے نقاب ہوجاتی ہے معلوم ہوجاتا کہ انبیاۓ عظام و اوصیاۓ کرام اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے لئے علم غیب کا معتقد ہونا ہرگز غلو سے کوئی ربط نہیں رکھتا، بلکہ یہ تو ان کی ایک صفت اور ان کے لئےخالص مقام عبودیت کا اثبات تھا جس پر عقل و نقل اور قرآن مجید کی نص صریح شہادت دے رہے ہیں۔
علم غیب سواۓ خدا کے کوئی نہیں جانتا
شیخ: یہ بے لطفی کی بات ہے کہ آپ نے قرآن کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ قرآن کریم کی نص آپ کے اس بیان کے خلاف وارد ہوئی ہے۔
خیر طلب: میں بہت ممنوں ہوں گا جن آیات کو آپ مخالف بتارہے ہیں ان کی تلاوت فرمائیے۔
شیخ: قرآں کریم کے اندر کئی آیتیں ایسی ہیں جو میری اس گذارش پر گواہ ہیں۔ آیت نمبر59 سورہ6 ( انعام) میں صاف صاف ارشاد ہے:
" وَ عِنْدَهُ مَفاتِحُ الْغَيْبِ لا يَعْلَمُها إِلَّا هُوَ وَ يَعْلَمُ ما فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ ما تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُها وَ لا حَبَّةٍ فِي ظُلُماتِ الْأَرْضِ وَ لا رَطْبٍ وَ لا يابِسٍ إِلَّا فِي كِتابٍ مُبِينٍ."
یعنی خزانہ غیب کی کنجیاں خدا کے پاس ہیں سوا خدا کےآگاہ نہیں ہے، نیز خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے اس سے واقف ہے اور درخت کا کوئی پتا نہیں گرتا ہے لیکن یہ کہ اس کو جانتا ہے اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے اور نہ کوئی خشک و تر ایسا ہے جو کتاب مبین میں درج نہ ہو۔
یہ آیت دلیل قاطع ہے کہ سوا ذات پروردگار کے کوئی شخص علم غیب کا عالم نہیں ہے اور جو شخص غیر خدا کے لئے علم غیب کا قائل ہو اس نے غلو کیا اور ایک ضعیف بندے کو خدائی کی صفت میں شریک قرار دیا اور آں حالیکہ ذات الہی ذاتی اور مفاتی دونوں حیثیتوں میں شریک سے معرا و مبرا ہے۔ آپ نے جو یہ فرمایا کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ علم غیب سے واقف تھے تو علاوہ اس کے کہ آپ نے ان کو خدا کی مخصوص صفت میں شریک قرار دے دیا، ان کی منزل کو پیغمبر(ص) کی بلند منزل سے بھی اونچا کردیا، کیونکہ خود رسول اللہ(ص) مکرر فرماتے تھے کہ میں تمہارا ایسا ایک انسان ہوں۔ اور علم غیب کا عالم خدا ہے۔ اور آں حضرت(ص) صریحی طور پر علم غیب سے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے تھے۔ کیا آپ نے سورہ نمبر18(کہف) کی آیت 110 نہیں پڑھیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ:
"قُل إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحى إِلَيَّ- أَنَّما إِلهُكُمْ إِلهٌ واحِدٌ"( یعنی (اے رسول(ص)) امت سے کہہ دو کہ میں تمہارا ہی ایسا انسان ہوں(صرف فرق اتنا ہے کہ) مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ سوا اس کے نہیں ہے کہ تمہارا معبود خداۓ واحد ہے) ؟ نیز آیت نمبر188 ( اعراف) فرمایا ہے:
"قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَ لا ضَرًّا إِلَّا ما شاءَ اللَّهُ وَ لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ ما مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَ بَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ"
یعنی (اے رسول(ص)) امتسے کہہ دو کہ میں اپنے نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہوں سوا اس کے کہ جو خدا نے چاہا ہے۔ اور اگر میں(از خود) غیب کا عالم ہوتا تو اپنے لئے کثیر فائد مہیا کرلیتا اور کبھی نقصان و رنج نہ اٹھاتا میں صرف ایمان لانے والوں کو ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔
اور آیت نمبر33 سورہ نمبر11( ہود) میں فرماتا ہے:
" وَ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَ لا أَعْلَمُ الْغَيْبَ ..."
یعنی میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں خود علم غیب سے آگاہ ہوں۔
مزید بر آں آیت 201 سورہ نمبر27( النمل) میں ارشاد ہے:
" قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَ ما يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ."
یعنی (اے رسول(ص)) کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں سوا خدا کے کوئی علم غیب سے آگاہ نہیں ہے اور یہ بھی شعور نہیں رکھتے کہ کب محشور ہوں گے۔
ایسی صورت میں کہ خود پیغمبر(ص) ان آیات شریفہ کے کھلے ہوۓ اعلان سے علم غیب نہ جاننے پر یقین رکھتے ہیں اور اس علم کو ذاتِ الہی کے مخصوصات میں سے سمجھتے ہیں، آپ کیونکر علی(ع) کے لئے ایسے علم کے قائل ہیں؟ پس اس عقیدے کا مطلب سوا اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ علی(ع) کی منزل پیغمبر(ص) کی منزل سے بالاتر ثابت کی جاۓ۔ آخر آپ کس قاعدے سے غیر خدا کے لئے علم غیب کے قائل ہیں؟ اگر علی(ع) کو خدا کا شریک قرار دینے والا آپ کا یہ عقیدہ غلو نہیں ہے تو پھر غلو کیا چیز ہے۔
خیر طلب: آپ کے بیانات کے مقدمات صحیح ہیں جو ہمارے لئے قابل قبول ہیں اور یہی ہم سب کا عقیدہ ہے لیکن ان سے آپ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ ناقص ہے۔
انبیائ(ص) و اوصیائ(ع) کو علم غیب خدا کی طرف سے ملتا ہے
آپ نے فرمایا ہے کہ عالم غیب ذات پروردگار ہے۔ غیب کی کنجیاں خداۓ تعالیٰ کے پاس ہیں اور سورہ کہف کی آخری آیت کے پیش نظر خاتم الانبیائ حضرت رسول خدا صلعم تمام انبیاۓ عظام، اوصیاء کرام اور ائمہ طاہرین سلام اللہ علیہم اجمعین بھی دوسرے انسانوں کے مانند انسان ہیں جو اپنی جسمانی ساخت میں کوئی زیادتی نہیں رکھتے اور ان حضرات کے اجسام طاہرہ بھی اسی طرح پیدا ہوۓ ہیں جس طرح دوسروں کے تو اسمیں ہرگز کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور سارے فرقہ امامیہ کے یہی عقائد ہیں۔ نیز جو آیتیں آپ نے تلاوت کیں وہ سب اپنے اپنے محل پر صحیح ہیں۔ لیکن آپ نے سورہ ہود کی جو آیت پڑھی ہے وہ شیخ الانبیائ حضرت نوح علی نبینا و آلہ و علیہ وسلم کے بارے میں ہے۔ البتہ سورہ نمبر6( انعام) کی آیت نمبر50 ہمارے عظیم المرتبت پیغمبر(ص) کے لئے مخصوص ہے، کیونکہ جب کفار و مشرکین آں حضرت سے علامتوں کا مطالبہ کرتے تھے کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا اور وہ مستقل غیب سے کیوں واقف نہیں ہیں؟ تو ان کے جواب میں یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی:
"
قُلْلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَ لا أَعْلَمُ الْغَيْبَ- وَ لا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ- إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا ما يُوحى إِلَيَ"
یعنی کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں، نہ یہ کہ میں عالم الغیب ہوں اور نہ اس کا مدعی ہوں کہ فرشتہ ہوں( میں فقط اتنا کہتا ہوں کہ ) میں صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے۔
اس آیہ مبارکہ کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ جاہل لوگوں کی ہوس بازیوں کی روک تھام کی جاۓ تاکہ وہ جان لیں کہ خدائی
کارخانہ اور نبوت و رسالت کی منزل اس سے بالاتر ہے کہ شعبدہ بازی کے اسٹیج کے مانند ان کو خوش کرنے اور ان کے مطالبات پورے کرنے کا ذریعہ بنے۔ رہا وہ علم غیب جس کے ہم انبیاء اور ان کے اوصیائ کے لئےقائل ہیں، وہ وہ خدائی کی صفت میں شریک نہیں ہے بلکہوحی والہام کا ایک حصہ ہے جو من جانب خدا ن حضرات پر نازل ہو کر ان کے سامنے سے پردے اٹھاتا تھا اورحقائق کو ان پر ظاہر کرتا تھا۔ بہتر ہوگا کہ ہم اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ مطالب کی تشریح کریں تاکہ حقیقت کھل جاۓ اور دھوکا دینے والے لوگ شیعوں کے عقائد میں بے جا دخل اندازی نہ کریں، ان پر تہمتیں نہ لگائیں اور یہ نہ کہیں کہ شیعہ اپنے اماموں کا علم خداوندی میں شریک سمجھتے ہیں لہذا مشرک ہیں۔
علم کی دو قسمین ہیں، ذاتی اور عرضی
ہماری شیعہ امامیہ جماعت کا اعتقاد یہ ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں ذاتی اور عرضی۔
علم ذاتی وہ ہے جس میں الگ سے قطعا کوئی چیز عارض نہیں ہوتی اور ایک فرد اکمل پر اس کا اطلاق انحصار ہے۔ یہ خداۓ عزوجل کی ذات سے مخصوص ہے اور ہم سوا اس اجمال اقرار کے اس کی حقیقت کا کوئی تصور کرنے سے قاصر ہیں ہم اس کی جو بھی تعبیر یا اندازہ کریں وہ چند محدود الفاظ سے زیادہ نہ ہوگا۔ ورنہ علم بالذات کی انسان عاجز کا احاطہ عقل و خیال میں سمائی نہیں ہوسکتی۔
اور علم عرضی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان پیغمبر(ص) ہو یا امت میں سے امام ہو ماموم، ذاتی طور پر علم کا مالک نہیں ہوتا بلکہ بعد کو اس سے مستفیض ہوتا ہے، اور اس کی بھی دو قسمیں ہیں، تحصیلی اور لدنی۔ یہ دونوں قسمیں خداوند عالم کے فیضان قدرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ پہلی قسم میں جو طالب العلم تحصیل علم کرتا ہے اس کی کوششیں اس وقت تک بار آور نہیں ہوسکتیں جب تک فیضاں الہی اس کی تائید نہ کرے۔ اور چاہے جس قدر زحمت برداشت کرے عالم نہیں بن سکتا، سوا اس کے اسباب تعلیم یعنی مدرسہ جانے اور استاد کے آگے زانوۓ ادب تہ کرنے کے ساتھ ساتھ توفیق خداوندی بھی شاملِ حال ہو ایسی صورت میں جتنی مدت تک اور جس قدر مشقت برداشت کرے گا کسب فیض کرتا رہے گا۔
رہی دوسری قسم یعنی علم لدنی تو اس میں انسان بلا واسطہ کسب فیض کرتا ہے اور بغیر حروف و الفاظ کی تحصیل و تعلیم کے مبدا فیاض مطلق سے براہِ راست افاضہ ہوتا ہے جس سے وہ عام ہو جاتا ہے چنانچہ آیت نمبر64 سورہ نمبر18( کہف) میں ارشاد ہے:"وَ عَلَّمْناهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْماً "(یعنی ہم نے ان کو اپنے پاس سے علم لدنی ( اور اسرار غیب) کی غیب تعلیم دی۔)
کسی ایک شیعہ نے بھی اس کا دعوی نہیں کیا ہے کہ غیبی امور کا علم پیغمبر(ص) یا امام کا جزئ ذات تھا یعنی رسول اللہ(ص) اور ائمہ(ع) ذاتی حیثیت سے اسی طرح علم غیب کے عالم تھے جس طرح خداۓ تعالی عالم الغیب ہے۔البتہ جو ہم کہتے ہیں
اور جو ہمارا عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ خداۓ بزرگ و برتر کی ذات مجبور اور محدود نہیں ہے بلکہ جو اس کی مشیت ہو اس میں سب سے زیادہ خود مختار اور قادر مطلق ہے اور جن مواقع پر اس کی مشیت و مصلحت کا تعلق ہو وہ اپنی کسی بھی مخلوق کو حسب ضرورت اور مناسب علم و قدرت دینے پر قادر و توانا ہے۔چنانچہ کبھی تو بشری معلم کے واسطے اور ذریعے سے اور کبھی بلا واسطہ اپنے فیض کا افاضہ فرماتا ہے اور اسی کو بلا واسطہ علم لدنی اور علم غیب سے تعبیر کرتے ہیں جس میں بغیر مکتب میں یا استاد کے پاس حاضری کے فیض حاصل کیا جاتا ہے۔ بقول شاعر؎
نگار من کہ بہ مکتب نہ رفت و خط نہ نوشتبغمزہ مسئلہ آموزِ صدر مدرس شد
شیخ : آپ کا مقدماتی بیان درست ہے لیکن مشیت خداوندی ایسے غیر فطری امر سے متعلق نہیں ہوتی کہ بغیر معلم اور مدرس کے اپنے علم غیب کا اضافہ کرے۔
خیر طلب: آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اسی مقام پر دھوکاہوا ہے کیونکہ کہ تھوڑے سے غور و فکر سے کام نہیںلیتے یہاں تک کہ اپنے اکثرمحققین علمائ کے برخلاف گفتگو کرتے ہیں، ورنہ مطلب اس قدر صاف اور واضح ہے کہ اس میں بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس حقیقت میں کہ خداۓ تعالی نے تمام انبیائ اور ان کے اوصیائ کو جو اس کے برگزیدہ بندے ہیں جس قدر ہر ایک کی استعداد اور حلقہ عمل کے لحاظ سے ضروری تھا علم غیب کا افاضہ فرمایا ہے۔ کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
شیخ : قرآن مجید کی ان منفی آیتوں کے مقابلے میں جو صریحی طور سے جملہ افراد بشر سے علم غیب کی نفی کر رہی ہیں۔ آپ کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت میں کیا دلیل ہے؟
خیر طلب: ہم قرآن مجید کی منفی آیتوں کے مخالف نہیں ہیں، اس لئے کہ قرآن کی آیت ایک مخصوص امر کے لئے نازل ہوئی ہے جو صورتِ حال کے لحاظ سے کبھی منفی اورکبھی مثبت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بزرگوں کا قول ہے کہ "آیات القرآن یشددد بعضها بعضا " یعنی آیات قرآن میں سے ایک آیت دوسرے کو مضبوط کرتی ہے۔ در اصل کفار مشرکین کے تقاضے کے مقابلے میں جو برابر آں حضرت سے علامات اور نشانیاں طلب کرتے رہتے تھے اور در حقیقت چاہتے یہ تھے کہ منصب نبوت کو اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنادیں) یہ منفی آیتیں نازل ہوتی تھیں لیکن اصل مقصد کو ثابت کرنے کے لئے مثبت آیات کا بھی نزول ہوا تاکہ حقیقت کا انکشاف ہوجاۓ۔ رہے قرآن مجید اخبار صحیحہ اور تاریخ کے دلائل جن کا آپ کے علمائ کو بھی اعتراف ہے حتی کہ غیروں نے بھی تصدیق کی ہے بکثرت ہیں۔
انبیائ(ص) و اوصیائ(ع) کے علمِ غیب پر قرآنی دلائل
شیخ: سخت تعجب ہے کہ آپ فرماتے ہیں دلیل مثبت قرآن کریم کے اندر ہے مہربانی کر کے وہ آیتیں پڑھئے۔
خیر طلب: تعجب نہ فرمائیے، آپ خود بھی واقف ہیں لیکن اقرار کرنا آپ کی مصلحت کے خلاف ہے،کیونکہ اس طرح آپ کو اپنے عقیدے کے مطابق خلافت کا ثبوت دینے میں بہت زحمت ہوجاۓ گی یا پھر اپنے اسلاف کی پیروی نے آپ کو تعجب پر مجبور کیا ہے۔ ارشاد الہی ہے :
"عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ الخ".(سورہ جن آیت26 ( وہی اللہ) غیب داں ہے اور اپنی غیب کی بات کسی پر ظاہر نہیں کرتا مگر جس کو پسند فرماۓ تو اس کے آگے اور پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دئیے یہ آیت بتاتی ہے کہ حق تعالیٰ کے برگزیدہ مرسلین اس بارے میں مستثنی ہیں جن کو وہ علم غیب کا فیض پہنچاتا ہے۔
دوسرے یہی سورہ آل عمران کی آیت جس کا کچھ حصہ آپ نے پڑھا اور باقی چھوڑ دیا ہے، میرے دعوے اور مقصد ثابت کررہی ہے۔ پوری آیت یہ ہے:
"وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَ لكِنَ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ تَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ"
یعنی اللہ تم سب کو علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا لیکن اس کے لئے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ دونوں آیتیں صاف صاف بتارہی ہیں کہ چند برگزیدہ ہستیاں جو خدا کی طرف سے رسالت پر مبعوث ہوئی ہیں امر الہی سے علم غیب پر فائز ہیں۔ اور اگر ذات خداندی کے علاوہ کسی اور کو علم غیب حاصل نہ ہوتا تو لفظ الا کے ساتھ الا من ارتضی من رسول کا جملہ استثنائیہ مہمل ہوجاتا۔ ظاہر ہے کہ اس مقام پر کوئی استثنا ضرور موجود ہے اور ان صاحبان استثناء کو معین بھی فرمایا کہ وہ اس کے رسول اور پیغام رساں یعنی انبیاۓ عظام اور اوصیاۓ کرام تھے۔ (چنانچہ سورہ ہود )میں فرمااتا ہے:
"تِلْكَمِنْ أَنْباءِ الْغَيْبِ نُوحِيها إِلَيْكَ ما كُنْتَ تَعْلَمُها أَنْتَ وَ لا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هذا"
یعنی یہ خبر اخبار غیب میں سے ہے جو میں تمہاری طرف وحی کے ذریعے بھیج رہا ہوں۔ اس سے قبل نہ تم اس سے واقف تھے نہ تمہاری قوم۔
اور سورہ شوری میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
" وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنا ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ وَ لَا الْإِيمانُ وَ لكِنْ جَعَلْناهُ نُوراً نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشاءُ مِنْ عِبادِنا "
یعنی اور اسی طرح ہم نے روح یعنی ایک بزرگ فرشتے کو اپنے فرمان سے وحی کے لئے تمہاری طرف بھیجا تم ( علم تحصیلی سے ) یہنہیں جانتے تھے کہ کتاب خدا کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔ لیکن ہم نے اس کو نور علم دیا۔ جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔
کہ دنیا علم غیب کا افاضہ نہ ہوتا تو انبیائ(ع)
کیونکر باطنی امور کی خبر دیتے اور لوگوں کو ان کے باطنی حالات سے مطلع کرتے؟ حضرت بنی اسرائیل سے فرماتے :"وَ أُنَبِّئُكُمْ بِما تَأْكُلُونَ وَ ما تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ" ( یعنی میں تم کو علم غیب سے اس کی خبر دیتا ہوں کہ تم اپنے گھروں میں کھایا کرتے ہو اور ذخیرہ کرتے ہو) آیا لوگوں کے اندرونی معاملات کی خبر دینا علم غیب سے تعلق نہیں رکھتا؟ اگر میں قرآن مجید کی وہ تمام آیتیں پیش کرنا چاہوں جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں تو جلسے کا وقت کافی نہ ہوگا میرا خیال ہے کہ ثبوت کے لئے اس قدر کافی ہوگا۔
شیخ: آپ لوگوں کے اسی قسم کے بیانات اور عقاید سے قوم کے اندر یایوں، جفاروں، نجومیوں، زائچہ بنانے والوں اسی طرح کے دوسرے فریب کاروں کے گروہ پیدا ہوگئے جو ناواقف لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنی جیبیں بھرتے اور خلق خدا کو گمراہی اور حق و حقیقت سے دوری کی طرف لے جاتے ہیں۔
سچے ذرائع سے علمِ غیب کے مدعی جھوٹے ہیں
خیر طلب : سچے عقائد بدبختی کے باعث نہیں ہوتے، یہ قوموں کی جہالت اور نادانی ہے جو ان کو ہر کس و ناکس کے دروازے پر کھینچ کے لے جاتی ہے، ورنہ مسلمان اگر عقل سے کام لیتے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاکیدی ہدایتوں کے مطابق علم اور عالم کی پیروی کرتے، بالخصوص قرآن کی معرفت حاصل کرتے اور روز اول ہی سے باب علم کو مسدود نہ کرتے تو ایرے غیرے اور خود غرض اشخاص کے پیچھے نہ دوڑتے، ہر شغال و روباہ کے شکار نہ بنتے اورسمجھ لیتے کہ قرآن صریحی اعلان کررہا ہے کہ" الا من ارتضی من رسول" خصوصیت کے ساتھ لفظ رسول نے تو شعبدہ بازوں اور بازیگروں کا راستہ باکل ہی بند کردیا ہے کیونکہ یہ لفظ اس چیز کی پوری وضاحت کررہا ہے کہ بغیر اسباب و ذرائع اور وسائل تحصیل علم کے مخصوص خداوندی علم غیب کے عالم صرف خدا کے بھیجے ہوۓ برگزیدہ افراد ہیں۔
اگر کوئی شخص جنبہ رسالت نہ رکھتا ہو یعنی پیغمبر یا امام نہ ہو پھر بھی رمل یا جفر یا قیافہ شناسی یا صوفیت یا مجذوبیت یا زائچہ بنانے یا ہتھیلی دیکھنے یا فال نکالنےیا اسی قسم کی دوسری ترکیبوں کے ذریعہ اللہ کے مخصوص علم سے متعلق غیبی خبریں دینے کا مدعی ہوتو وہ قطعا جھوٹا ہے اور قرآن مجید کے سمجھنے اور پیروی کرنے والے سچے مسلمان نہ ان کو حق پر سمجھتے ہیں نہ ان کی طرف دوڑتے ہیں اور ان کے فریب میں آتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ اچھی طرح سمجھ بوجھ چکے ہیں کہ سوا قرآن مجید اور حاملین ومفسرین قرآن یعنی محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے جو عدیل قرآن ہیں اور کسی کی پیروی نہ کرنا چاہیئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ بجز پیغمبر(ص) اور آن حضرت(ص) کے اوصیاۓ طاہرین(ع) کے جو خدا کے برگزیدہ بندے ہیں اس امت میں جو شخص بھی غیب دانی کا دعوی کرے اور کہے کہ میں غیب کی خبر دیتا ہوں وہ لازمی اور مسلمہ حیثیت سے کذاب و شعبدہ باز ہے چاہے جو وسیلہ اور طریقہ اختیار کرے۔
شیخ: انبیاء چونکہ نزول وحی کے مرکز تھے لہذا بقول آپ کے غیبی امور پر علم و اطلاع حاصل کرتے تھے لیکن کیا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ بھی پیغمبر تھے۔ یا امررسالت میں شریک تھے جس سے غیب کی باتوں پر آگاہی رکھتے تھے، جیسا کہ آپ ان کے لئے اس منزلت کو ثابت کررہے ہیں۔
انبیائ(ع) و اصیائ(ع) عالم غیب تھے
خیر طلب: اول یہ کہ آپ نے فرمایا ہے بقول آپ کے "تو آخر آپ قصدا سہو کر کےمغالطہ کیوں دے رہے ہیں؟ اور بقول آپ کے فرمانے کے عوض یہ کیون نہیں فرماتے کہ" بقول خداۓ تعالی"؟ میں نہ اپنی طرف سے کوئی چیز ایجاد کرتا ہوں نہ اپنی مرضی سے کوئی عقیدہ اور دعوی پیشکرتا ہوں بلکہ قرآن مجید کا حکم نقل کر کے مبین قرآن حضرت رسول خدا صلعم کے ارشادات سے اس کے حقائق کا انکشاف کررہا ہوں۔
ایک تو جیسا میں نے آیات قرآںی کے شواہد سے بتایا ہے کہ انبیائ ومرسلین حق تعالی کے برگزیدہ اور علم غیب کےعالم ہیں، خود آپ کے اکابر علمائ نے بھی اس مطلب کی تصدیق کی ہے اور حضرت خاتم الانبیاء(ص) سے اخبار غیبیہ نقل کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔
من جملہ ان کے ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص67( مطبوعہ مصر) میں رسول اللہ(ص) سے ایک حدیث نقل کرنے کےبعد کہ آں حضرت نے علی(ع) سے فرمایا:
" سَيُقَاتِلُ بَعْدِيَ النَّاكِثِينَ وَ الْقَاسِطِينَ وَ الْمَارِقِينَ "
یعنی عنقریب تم میرے بعد ناکثین و قاسطین و مارقین سے جنگ کروگے۔
کہتے ہیں ک یہ حدیث آں حضرت کے دلائل نبوت میں سے ہے، اس لئے کہ اس میں صریحی طور سے غیب کی خبر دی گئی ہے جس کے اندر ہرگز کسی شک اور شبے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اپنےبعد کے لئے جن واقعات کی خبر دی ہے وہ تقریبا تیس سال کے بعدبعینہ اسی طرح سے رونما ہوۓ۔ آں حضرت(ص) نے فرمایا تھا کہ تم ان تین گروہوں سے جنگ کرو گے جن میں ناکثین سے اہل جمل مراد تھے جنہوں نے طلحہ و زبیر کے اغوا سے عائشہ کی قیادت میں حضرت علی(ع) سے جنگ کی، قاسطین سے اہل صفین یعنی معاویہ کے پیرو مقصود تھے اور مارقین خوارج نہروان تھے جو دین سے خارج ہوگئے تھے انتہی( جیسا کہ پہلے تشریح کے ساتھ عرض کرچکا ہوں)۔
دوسرے فرقہ امامیہ اور شیعوں میں سے ایک شخص نے بھی امیرالمومنینعلی ابن ابی طالب(ع) اور ائمہ طاہرین سلام اللہ علیہم اجمعین کے لئے نبوت کا دعوی نہیں کیا ہے۔ بلکہ ہم خود مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاتم النبیین اور بلاشرکت غیر کے امر نبوت میں مستقل جانتے ہیں اور مذکورہ بالا امر باطل کے مدعی اور معقد کو کافر سمجھتے ہیں۔ البتہ حضرت کو اور حضرت کی
نسل سے گیارہ اماموں کو ائمہ برحق اور رسول اللہ(ص) کے منصوص اوصیائ خلفائ جانتے ہیں جن کو خداوند عالم نے آں حضرت(ع) کے واسطے اور ذریعے سے اسرار و غیوب پر آگاہ مطلع فرمایا ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے اہل عالم کی نگاہوں کے سامنے جو ایک پردہ کھنچا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا کے اندر صرف انہیں چیزوں کو دیکھتے ہیں جو ظاہر و نمایاں ہیں وہی پردہ انبیائ(ع) و اصیائ(ع) کے سامنے بھی ہے لیکن وقت اور موقع کے لحاظ سے خداۓ عالم الغیب نے جو ہر قسم کے اضافے پر پوری قدرت رکھتا ہے جسقدر ضروری اور مصلحت کے مطابق تھا یہ حجاب ان کی نگاہوں سے ہٹا دیا جس سے وہ حالات پس پردہ کا بھی مطالعہ کرتے تھے اور اسی وجہ سے غیب کی خبریں دیتے تھے اور جس وقت مصلحت نہیں ہوتی تھی پردہ پڑا رہتا تھا اور یہ حضرات بھی بے خبر رہتے تھے۔( اسی بنا پر بعض روایتوں میں ہے کہ کبھی کبھی اپنی ناواقفیت کا اظہار کرتے تھے) چنانچہ ارشاد ہے:
" وَ لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ "
یعنی اگر میں عالم الغیب ہوتا تو یقینا اپنی خوبیوں میں اضافہ کرلیتا۔
مطلب یہ کہ میںبذاتِ خود مستقل طور پر غیب سے آگاہی نہیں رکھتا جب تک پردہ نہ اٹھے اور فیضان الہی شامل حال نہ ہو۔
شیخ: کہاں اور کس مقام پر پیغمبر(ص) نے امت والوں کو اس قسم کی خبریں دیہیں جس سے لوگ پوشیدہ حقائق پر آگاہ ہوۓ ۔
خیر طلب: آیا قرآنی آیتوں کی روشنی میں جن میں سے بعض کی جانب اشارہ کیا جاچکا ہے۔ آپ خاتم الانبیائ حضرت رسول خدا صلعم کومرتضی برگزیدہ خلائق اور خدا کا رسول برحق سمجھتے ہیں یا نہیں؟
شیخ: آپ نے یہ عجیب سوال کیا۔ بدیہی چیز ہے کہ آں حضرت(ص) مرتضی اور خاتم الانبیائ تھے۔
خیر طلب: بس آیہ شریفہ :"عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ " کے حکم سے پیغمبر(ص)خاتم علم غیب کے عالم تھے کیونکہ اس آیت میں ارشاد ہے کہ خداۓ عالم الغیب اپنے علم غیب سے صرف رسول مرتضی و برگزیدہ کو آگاہ کرتا ہے۔
شیخ: اگر فرض کر لیا جاۓ کہ آں حضرت(ص) غیب کے مالک تھے تو اس چیز کو اس چیز سے کیا ربط ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ بھی ضرور عالم غیب ہوں؟
خیر طلب: اگر آپ حضرات جمود اور تقلید اسلاف سے ہٹ کے دل و دماغ کو ذرا وسعت دیں اور اخبار صحیحہ اور حالات رسول اللہ صلعم پر غور کریں تو مطلب خود بخود واضح و آشکار ہوجاۓ۔
شیخ: اگر ہماری عقل محدود ہے ماشائ اللہ آپ کا دماغ تو کشادہ ہے اور زبان بھی روان ہے۔ فرمائیے کونسی حدیث ہے جو سیدنا علی اکرم اللہ وجہہ کے لئے علم غیب کو ثابت کرتی ہے؟
اگر عل غیب پیغمبر(ص) کے اوصیائ وخلفائ کے لئے ضروری ہو تو استثناء کے کوئی معنی نہیں اور لازمی طور پر سارے
خلفائ بالخصوص خلفاۓ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عالم غیب ہونا چاہیئے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی ایک خلیفہ نے بھی ایسا دعوی نہیں کیا بلکہ خود پیغمبر(ص) کے مانند اپنے عجز کا اظہار کرتے تھے۔ پھر آپ تنہا علی کرم اللہ وجہہ کو کیونکر مستثنی کررہے ہیں۔
خیر طلب: اولا میں پیغمبر(ص) کے اظہار عجز کے سلسلے میں پہلے ہی آپ کو جواب دے چکا ہوں کہ آں حضرت غیبی امور کی آگاہی میں بذات خود استقلال اور قدرت نہیں رکھتے تھے بلکہ ذاتِ علام الغیوب کے افاضے سے حقائق پر مطلع ہوتے تھے۔ جس مقام پر یہ فرماتے ہیں کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنی خوبیاں بڑھا لیتا وہاں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ میں خداۓ تعالی کے مانند علم حضوری کا حامل نہیں ہوں۔ یعنی جس وقت ادھر سے فیضان ہوتا تھا اور پردہ دار عالم الغیب آں حضرت(ص) کے سامنے سے حجات اٹھالیتا تھا تو آپ پر پوشیدہ حقیقتیں منکشف ہوجاتی تھیں اور آپ غیب کی خبریں دیا کرتے تھے۔
ائمہ طاہرین(ع) خلفاۓ برحق اور عالمِ غیب تھے
دوسرے آپ نے فرمایا کہ اگر علم غیب تھا تو خلفائ کے درمیان استثنائ نہ ہونا چاہیئے۔ آپ نے یہ ایک صحیح اور مضبوط بات کہی ہے ہم بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور یہیں سے ہمارا اور آپ کا اختلاف بھی شروع ہوتا ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ خلفاۓ رسول کو آں حضرت(ص) کے مانند امور ظاہری و باطنی کا علم ہونا چاہیئے بلکہ سوا مقام نبوت و رسالت اور نبوت کی خاص شرطوں کے (جن سے وحی اور کتاب و احکام کا نزول مراد ہے) جملہ صفات میں خلفائ و اوصیائ کو آں حضرت کا نمونہ ہونا چاہیئے۔ البتہ آپ مخلوق کے چنے ہوۓ خلفائ یعنی ان لوگوں کو جنہیں چند اشخاص نے اکٹھا ہو کر خلیفہ کہہ دیا ہو چاہے پیغمبر(ص)نے ان پر لعنت ہی کی ہو( جیسے معاویہ وغیرہ) خلیفہ رسول(ص) کہتے ہیں۔
لیکن ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) کے خلفائ و اوصیائ وہ حضرات ہیں جن کی خلافت پر خود آں حضرت نے نص فرمائی ہو جس طرح انبیاۓ ماسلف کے نصوص ان کے اوصیائ کے لئے وارد ہوۓ ہیں۔ قطعی طور پر وہ خلفائ و اوصیائ جن کے لئے رسول اکرم صلعم نے نص فرمائی ہے بلا استثنا آں حضرت(ص) کے صفات کے مکمل نمونے تھے اور اسی جہت سے علم غیب اور باطنی امور کے عالم بھی تھے۔
وہ منصوص اور برحق خلفائ بارہ نفر تھے جن کی تعداد اور نام آپ کے اخبار و احادیث میں بھی منقول ہیں اور شیعوں کے وہبارہ برحق امام عترت و اہل بیت رسالت(ع) میں سے امیرالمومنین علی علیہ السلام اور آپ کے گیارہ بزرگوار فرزند ہیں اور اس بات کی دلیل کہ دوسرے لوگ رسول اللہ صلعم کے منصوص خلیفہ نہیں تھے، خود آپ ہی کا وہقول ہے جس کی آپ کے جملہ اکابر علمائ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ لوگ برابر معمولی علم سے بھی اپنی عاجزی کا اظہار کرتے رہتے تھے علم غیب اور باطنی حالات سے آگاہی کا کیا ذکر۔
تیسرے آپ نے فرمایا ہے کہ کس حدیث سے امیرالمومنین علی علیہ السلام ک لئے علم غیب ثابت ہوتا ہے تو اس بارے میں حضرت رسول خدا صلعم سے بکثرت حدیثیں مروی ہیں۔ من جملہ ان کے ایک خاص حدیث ہے جو مختلف مقامات و اوقات میں باربار آں حضرت(ص) کی زبان مبارک پر جاری ہوئی ہے اور احادیث کے درمیان اس کو حدیث مدینہ کے نام سے شہرت حاصل ہے نیز تقریبا فریقین ( شیعہ و سنی) کے متواترات میں سے ہے کہ آںحضرت(ص) نے انحصار کے ساتھ صرف علی علیہ السلام کو اپنے علم و حکمت کا دروازہ بتایا اور یہ الفاظ ارشاد فرماۓ:
"أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا- فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ."
یعنی میں شہر علم ہوں اور علی(ع) اس کے در ہیں پس جو شخص علم کا خواہاں ہو وہ دروازے کے پاس آۓ۔
شیخ: یہ حدیث ہمارے علمائ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو خبر واحد ہے یا ضعیف حدیثوں میں سے ہوگی۔
حدیث مدینہ کے ناقلین و روات
خیر طلب: افسوس کی بات ہے کہ ایسی محکم اور متواتر حدیث کو آپ نے خبر واحد اور ضعیف احادیث میں شمار کیا حالانکہ آپ کے اکابر علمائ اس کی صحت کیتصدیق کرچکے ہیں۔
بہتر ہوگا کہ آپ جمع الجامع سیوطی، تہذیب الاثار محمد بن جریرطبری، تذکرۃ الابرار سید محمد بخاری مستدرک حاکم نیشاپوری، نقدالصحیح فیروز آبادی، کنزالعمال متقی ہندی، کفایت الطالب گنجی شافعی اور تذکرۃ الوضورات جمال الدین ہندی جیسی اپنی معتبر کتابوں کی طرف رجوع کیجئے جن میں کہتے کہ " فمن حکم بکذبہ فقد خطائ" یعنی جو شخص اس حدیث کو جھٹلاۓ وہ یقینا غلطی پر ہے نیز روضتہ الندایہ امیرمحمد کافی بحرالاسانید و حافظ ابو محمد سمرقندی اور مطالب السئول محمد بن طلحہ شافعی وغیرہ میں عام طور سے اس حدیث شریف کی صحت کا حکم دیا ہے۔
اس لئے کہ یہ با عظمت حدیث متفاوت اور مختلف طرق و اسناد کے ساتھ بکثرت اصحاب و تابعین سے مثلا صحابہ عظام میں سے حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ، سبط اکبر ابومحمد حسن بن علی علیہما السلام، امام المفسرین( جرامت) عبداللہ ابن عباس، جابر ابن عبداللہ انصاری، عبداللہ ابن مسعود، حذیفہ بن الیمان، عبداللہ ابن عمر، انس ابن مالک اور عمرو بن عاص تھے۔
تابعین میں سے امام زین العابدین علی الحسین اور امام محمد ابن علی الباقر علیہم السلام، اصبغ ابن نباتہ، جریر الضبی، حارث بن عبداللہ ہمدانی کوفی، سعدبن طریف الحنظلی کوفی، سعید بن جبیر اسدی کوفی، سلمہ بن کہیل حضرمی کوفی، سلیمان بن مہران اعمش کوفی، عاصم بن حمزہ سلولی کوفی، عبداللہ بن عثمان بن خیثم القاری المکی، عبدالرحمن ابن عثمان بن عیلتہ المرادی
ابو عبداللہ صنابحی اور مجاہد ابو الحاج المخزرمی المکی سے مروی ہے۔
اور ( علاوہ جمہور علماۓ شیعہ کے خود آپ ہی کے کثیر التعداد علماۓ اعلام، محدثیں عظام اور مورخین کرام اس کے ناقل ہیں، چنانچہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے آپ کے تقریبا دوسو علماء اور بزرگان دین نے اس حدیث مبارک کو نقل کیا ہے۔ اس وقت جس قدر میرے پیش نظر ہیں ان میں سے چند اقوال کا حوالہ پیش کرتا ہوں تاکہ شیخ صاحب زیادہ شرمندہ نہ ہوں اور سمجھ لیں کہ انہوں نے محض عادتا اور اپنے اسلاف کی پیروی میں اس حدیث کی سند میں شک وارد کیا ہے ورنہ بالعموم سب کے نزدیک مطلب بالکل صاف اور واضح ہے۔
منجملہ اکابر علماۓ اہل سنت
1۔ تیسرے صدی کے مفسر و مورخ محمد بن جریر طبری متوفی سنہ310 ہجری تہذیب الآثار میں۔
2۔ حاکم نیشاپوری متوفی سنہ405 ہجری مستدرک جلد سیم صفحہ 126و 128و 226 میں،
3۔ ابو عیسی محمد بن ترمذی متوفی سنہ289ہجری اپنی صحیح میں،
4۔ جلال الدین سیوطی متوفی سنہ911 ہجری جمع الجوامع میں اور جامع الصغیر جلد اول ص374 میں،
5۔ ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی سنہ360 ہجری کبیر اور اوسط میں،
6۔ حافظ ابو محمد حسن سمرقندی متوفی سنہ491 ہجری بحرالاسانید میں،
7۔ حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی سنہ430ہجری معرفتہ الصحابہ میں،
8۔ حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر قرطبی متوفی سنہ463 ہجری استیعاب جلد دوم ص461 میں،
9۔ ابوالحسن فقیہ شافعی علی بن محمد بن طبیب الجلابی ابن مغازلی متوفی سنہ483 ہجری مناقب میں،
10۔ ابو شجاع شیرویہ ہمدانی دیلمی متوفی سنہ509 ہجری فردوس الاخبار میں،
11۔ ابو الموید خطیب خوارزمی متوفی سنہ568 ہجری مناقب ص49 اور مقتل الحسین جلد اول ص93 میں،
12۔ ابو القاسم ابن عساکر علی بن حسن دمشقی متوفی سنہ571ہجری تاریخ کبیر میں،
13۔ ابو الحجاج یوسف بن محمد آندلسی متوفی سنہ605 ہجری" الف باء" جلد اول ص222 میں،
14۔ ابوالحسن علی بن محمد بن اثیر جزری متوفی سنہ630 ہجری اسد الغابہ جلد چہارم ص22 میں،
15۔ محب الدین احمد بن عبداللہ طبری شافعی متوفی سنہ694ہجری ریاض النفرہ جلد اول ص129 اور ذخائر العقطی ص77 میں،
16۔ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی شافعی متوفی سنہ478ہجری تذکرۃ الحفاظ جلد چہارم ص28 میں،
17۔ بدر الدین محمد زرکشی مصری شافعی متوفی سنہ749 ہجری فیض القدر جدل سیم ص47 میں،
18۔ حافظ علی بن ابی بکر ہیثمی متوفی سنہ807 ہجری مجمع الزوائد جدل نہم ص114 میں،
19۔ کمال الدین محمد بن موسی و میری متوفی سنہ808 ہجیر حیات الحیوان جلد اول ص55 میں،
20۔ شمس الدین محمد بن محمد جزری متوفی سنہ833ہجری اسنی المطالب ص14 میں،
21۔ شہاب الدین ابن حجر بن علی عسقلانی متوفی سنہ852ہجری تہذیب التہذیب جلد ہفتم ص337 میں،
22۔ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی سنہ855ہجری عمدۃ القاری جلد ہفتم ص631 میں،
23۔ علی بن حسام الدین متفقی ہندی متوفی سنہ975 ہجری کنز العمال جلد ششم ص156 میں،
24۔ عبدالرؤف المنادی شافعی متوفی سنہ1031ہجری فیض القدیر شرح جامع الصغیر جلد سیم ص46 میں،
25۔ حافظ علی بن احمد عزیزی شافعی متوفی سنہ1070 ہجری سراج المنیر جامع الصغیر جلد دوم ص63 میں،
26۔ محمد بن یوسف شافعی متوفی سنہ942 ہجری سبل الہدی والرشاد فی اسمائ خیر العباد میں،
27۔ محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی سنہ817ہجری نقد الصحیح میں،
28۔ امام احمد بن حنبل متوفی سنہ241ہجری مکرر مجلدات مناقب مسند میں،
29۔ ابوسالم محم بن طلحہ شافعی متوفی سنہ652ہجری مطالب السئول میں،
30۔ شیخ الاسلام ابراہیم بن محمد حموینی متوفی سنہ722ہجری فرائد السمطین میں،
31۔ شہاب الدین دولت آبای متوفی سنہ849ہجری ہدایت السعدائ میں،
32۔ علامہ سہودی سید نور الدینشافعی متوفی سنہ911ہجری جواہر العقدین میں،
33۔ قاضی فضل بن رزبہان شیرازی ابطال الباطل میں،
34۔ نور الدین بن صباغمالکی متوفی سنہ955 ہجری فصول المہمہ ص18 میں،
35۔ شہاب الدین ابن حجر مکی( متعصب عنید) متوفی سنہ974ہجری صواعق محرقہ ص73 میں،
36۔ جمال الدین عطا اللہ محدث شیرازی متوفی سنہ1000ہجری اربعین میں،
37۔ علی قاری ہروی متوفی سنہ1014 ہجری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں،
38۔ محمد بن علی الضبان متوفی سنہ1205 ہجری اسعاف الراغبین ص156 میں،
39۔ قاضی محمد بن شوکانی متوفی سنہ1250ہجری فوائد المجموعہ الاحادیث الموضوعہ میں،
40۔ شہاب الدین سید محمود آلوسی بغدادی متوفی سنہ1270ہجری تفسیر روح المعانی میں،
41۔ امام غزالی احیائ العلوم میں،
دو صفحے نہیں ہیں
صحت کا حکم کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
" أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعلمَ فَلْيَأْتِ الْبَابِ."
یعنی میں حکمت کا گھر ہوں اور علی(ع) اس کے دروازہ ہیں پس جو شخص حکمت کا طلبگار ہو وہ دروازے کے پاس آۓ۔
محمد بن یوسف گنجی نے کفایت الطالب کے باب21 کو اس حدیث شریف کے لئے مخصوص کردیا ہے۔ اور سلسلہ اسناد کے ساتھ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اپنا تبصرہ اور بیان بھی درج کیا ہے، یہاں تک کہ کہتے ہیں یہ حدیث بہت بلند و بہتر ہے یعنی خداوند عالم نے حکمت و فلسفہ اشیائ نیز امر ونہی اور حلال وحرام کی جو تعلیم پیغمبر(ص) کودی ہے اس میں سے علی علیہ السلام کو بھی مرحمت فرمایا ہے لہذا آں حضرت(ص) نے ارشاد فرمایا کہ علی میری حکمت کے در ہیں (پس اگر تم میری حکمت سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہو تو) ان کی طرف رجوع کرو تاکہ حقائق منکشف ہوں۔
ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں، ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اپنے مشائخ سے طرق حدیث کا ذکر کرتے ہوۓ خطیب خوارزمی نے مناقب میں، شیخ الاسلام حموینی نے فرائد میں، دیلمی ن فردوس میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب58 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب14 میں، اور آپ کے بہت سے اکابر علمائ نے ابن عباس اور جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلعم نے علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کے فرمایا۔
" هَذَا أَمِيرُ الْبَرَرَةِ وَ قَاتِلُ الْفَجَرَةِ مَنْصُورٌ مَنْ نَصَرَهُ مَخْذُولٌ مَنْ خَذَلَهُ ثُمَّ مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ثم قَالَأَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ."
یعنی یہ(علی(ع)) نیکو کار انسانوں کا رئیس و سردار اور کافروں کا قاتل ہے، جو شخص اس کی مدد کرے وہ نصرت یافتہ ہے اور جو شخص اس کی تذلیل کرے وہ خود ذلیل و خوار کردیاجاۓ گا۔ پس آں حضرت نے آواز مبارک بلند کی اور فرمایا میں شہر علم ہوں اور علی(ع) اس کے دروازہ ہیں پس جو شخص میرے علم کا خواہاں ہو وہ دروازے سے آۓ۔
نیز شافعی نے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
"انا مدينة العلم و علىّ بابها فمن اراد العلم فليأته من بابه".
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں اور کوئی شخص گھروں کے اندر داخل نہیں ہوتا لیکن دروازے سے۔
صاحب مناقب فاخرہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کے در ہیں پس جو شخص علم دین چاہتا ہے اس کو اسی درازے سے آنا چاہیئے۔ اس کے بعد فرمایا میں شہر علم ہوں اور تم
اے علی(ع( اس کے دروازہ ہو۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ بغیر تمہارے ذریعے کے مجھ تک پہنچ جاۓ گا۔
اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں کئی مقامات پر ابواسحق ابراہیم بن سعد الدین محمد حموینی نے فرائد السمطین میں ابن عباس سے، اخطب الخطبائ خوارزمی نے مناقب میں عمرو بن عاص سے، امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی نے ذخائر العقبی میں، امام احمد بن حںبل نے مسند میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں، یہاں تک کہ ابن حجر جیسے متعصب نے صواعق محرقہ باب9 فصل دوم ص75 میں ان چالیس حدیثوں میں سے جو انہوں نے فضائل علی علیہ السلام میں نقل کی ہیں، نویں حدیث بزاز سے، طبرانی نے اوسط میں جابر ابن عبداللہ انصاری سے، ابن عدی نے عبداللہ ابن عمر سے اور حاکم و ترمذی نے علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا۔
" أنا مدينة العلم و علي بابها، فمن أراد العلم فليأت الباب."
یعنی میں شہر علم ہوں اور علی(ع) اس کے در ہیں پس جو شخص علم چاہتا ہو وہ دروازے سے آۓ۔
پھر اسی حدیث کے ذیل میں کہتے ہیں کہ کوتاہ عقل لوگوں نے اس حدیث میں پس و پیش کیا ہے اور ایک جماعت نے کہہ دیا کہ یہ حدیث موضوعات میں سے ہے( جیسے ابن جوزی اور نووی) لیکن حاکم(صاحب مستدرک جن کا قول آپ حضرات کے نزدیک سند ہے) نے جس وقت یہ باتیں سنیں تو کہا:ان الحدیث صحیح ۔ یقینا یہ حدیث صحیح ہے۔ انتہی۔
اس قسم کی حدیثیں آپ کی معتبر کتابوں میں کثرت سے وارد ہوئی ہیں، لیکن جلسے کا وقت اس سے زیادہ نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
حدیث کی توضیح
بدیہی چیز ہے کہ حدیث مبارک میں العلم کا الف و لام ، الف و لام جنس ہے یعنی ظاہری و باطنی اور صوری و معنوی حیثیت سے جس چیز پر بھی علم کا اطلاق ہوتا ہے وہ رسول خدا(ص) کے پاس تھ۔ ان سارے علوم کا دروازہ علی علیہ السلام تھے۔
صاحب عبقات الانوار علامہ سید حامد حسین صاحب مرحوم لکھنوی اعلی اللہ مقامہ نے عبقات الانوار کی دو ضخیم جلدیں اس حدیث شریف کے اسناد اور صحت کے بارے میں تالیف کی ہیں جن میں سے ہر جلد صحیح بخاری کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑی ہے۔ اس وقت میرے پیشِ نظر نہیں ہے کہ اس حدیث کا تواتر ثابت کرنے کے لئے انہوں نے صرف اکابر علماۓ اہل سنت کی طرف سے کس قدر اسناد پیش کئے ہیں۔ لیکن اتنا بخوبی یاد ہے کہ
جب میں اس کتاب کو پڑھتا تھا تو برابر اس بزرگِ شخصیت کی روح پرفتوح کے لئے طلب رحمت کرتا رہتا تھا کہ کس قدر زحمت اٹھائی ہے اور کتنا تبحر حاصل تھا بہتر ہوگا کہ آپ حضرات اس کتاب کو حاصل کر کے مطالعہ فرمائیے تاکہ اس بات کی تصدیق کیجئے کہ اصحاب رسول کے اندر علی علیہ السلام کی ذات بے مثال تھی۔
علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل کے ثبوت میں جو کھلی ہوئی دلیلیں موجود ہیں ان میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے اس لئے کہ باتفاق عقل و نقل ہر قوم و ملت کے اندر عالموں کو جاہلوں پر فوقیت اور حق تقدم حاصل ہے بالخصوص ایسی صورت میں جب رسول اللہ(ص) کا فرمان موجود ہو کہ جو شخص میرے علم سے بہر اندوز ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیئے کہ علی کے دروازے پر آۓآپ کو خدا کا واسطہ انصاف سے بتائیے کہ آیا یہ مناسب تھا کہ جو باب علم خود پیغمبر(ص) نے امت کے سامنے کھولا تھا لوگ اس کو بند کر کے اپنے حسبِ دل خواہ ایسا دروازہ کھولیں جس کی مراتبِ علمی سے کوئی ربط ہی نہ ہو؟
شیخ: اس حدیث کے بارے میں اور اس موضوع پر کہ یہ حدیث ہمارے علمائ کے نزدیک عام طور سے مبقول ہے کافی بحث ہوچکی، اس میں شبہ نہیں کہ بعض نے اس کو ضعیف اور خبر واحد کہا ہے تو بعضوں کے نزدیک یہ تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے، لیکن اس کو علم لدنی سے اور اس بات سے کیا ربط ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ علم غیب کے عالم اور باطنی امور سے آگاہ تھے؟
علی علیہ السلام عالم غیب تھے
خیر طلب: یا تو آپ میرے معروضات اور دلائل پر توجہ نہیں کرتے یا محض مخالفت کے جذبے میں مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا میں پہلے عرض نہیں کرچکا ہوں کہ جیسا آپ کو خود اعتراف ہے پیغمبر خاتم الانبیاء(ص) سارے خلقت میں مرتضی اور برگزیدہ تھے اور بحکم آیہ مبارکہ:
"عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ"
یعنی وہ عالم الغیب ہے، پس اپنے غیب سے کسی کو آگاہ نہیں کرتا سوا اس رسول کے جس کو مرتضی اور برگزیدہ کیا ہے۔
خداوند عالم نے آں حضرت(ص) کی نگاہوں کے سامنے سے پردے ہٹا دیے تھے اور بطور استثنائ آں حضرت(ص) کو علوم غیبی عنایت فرماۓتھے؟ پس من جملہ ان علوم کے جو آپ کے شہر وجود میں جمع تھے عالم وجود کے اسرار و غیوب کا علم و وقوف بھی تھا۔ چنانچہ اس خداداد قوت کے اثرت سے جملہ باطنی امور آں حضرت کے پیشِ نظر تھے اور آں حضرت(ص)
کے ارشاد کے مطابق جس کو ہم اور آپ اور سارے اکابر علماۓاہل سنت جن میں سے بعض کا حوالہ بھی دے چکا ہوں تسلیم کرتے ہیں کہ فرمایا:
"انا مدينة العلم و على بابها، "
( میں شہر علم ہوں اور علی(ع) اس کے دروازہ ہیں۔)
لہذا ان تمام علوم میں سے جو آں حضرت(ص) کے شہر وجود میں اکٹھا تھے اور باب علم( علی علیہ السلام) کے ذریعہ ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، حالات غیب پر علم و اطلاع بھی ہے، اور قطعا علی علیہ السلام اسرار کائنات اور امورِ باطنی سے اسی طرح باخبر تھے جس طرح ظاہری احکام و حقائق سے۔
چونکہ اس خاندان جلیل کی بنیاد علم قرآن مجید کے اوپر تھی لہذا رسول خدا(ص) کے بعد قرآن کے ظاہری و باطنی علوم کے جاننے والے بھی علی علیہ السلام تھے، جیسا کہ خود آپ کے اکابر علمائ نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے۔
علی(ع) قرآن کے ظاہر و باطن سے آگاہ تھے
من جملہ ان کے حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیاء جلد اول ص656 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب74 ؟؟؟؟؟؟؟ میں اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب14 ص74 میں فصل الخطاب سے بسند معتبر عبداللہ ابن مسعود کاتب وحی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
"إن القرآن أنزل على سبعة أحرف ما منها إلا و له ظهر و بطن و إن علي بن أبي طالب ع علم الظاهر و الباطن."
یعنی حقیقتا قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے جس کے ہر حرف کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور یقینا علی علیہ السلام کے پاس قرآن کے ظاہر و باطن کا علم ہے۔
پیغمبر(ص) نے سینہ علی(ع) میں علم ک ہزار باب کھولے
آپ کے بڑے بڑے علمائ نے اپنی معتبر کتابوں میں تصدیق کی ہے کہ علی علیہ السلام علمِ لدنی کے حامل تھے ۔ کیونکہ آپ رسول اللہ(ص) کے بعد ساری مخلوق میں مرتضی تھے۔ من جملہ ان کے ابو حامد غزالی نے کتاب بیان علم لدنی میں نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا، رسول خدا(ص) نے اپنی زبان میرے دہن میں دی۔ پس آں حضرت(ص) کے لعابِ دہن سے مجھ پر علم کے ایک ہزار باب کھل گئے اور ہر باب سے مزید ایک ایک ہزار باب کشادہ ہوۓ۔
آپ کے بزرگ پیشوا سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب14 میں ص77 میں، اصبع ابن نباتہ سے نقل کرتے ہٰن کہ انہوں نے کہا میں نے امیرالمومنین علی علیہ السلام سے سنا کہ آپ فرماتے تھے:
"إنّ رسول اللّه علّمني ألف باب من الحلال و الحرام، و ممّا كان و ما هو كائن و ممّا يكون إلى يوم القيامة، كلّ يوم يفتح ألف باب، فذلك ألف ألف باب، حتّى علمت المنايا و الوصايا و فصل الخطاب."
یعنی در حقیقت رسول خدا(ص) نے مجھ کو ایک ہزار باب تعلیم کئے جن میں ہر باب سے ایک ایک ہزار باب کشادہ ہوتے ہیں، پس یہ ہزار ہزار(یعنی دس لاکھ) باب ہوۓ۔ یہاں تک کہ میں نے جان لیا جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ روز قیامت تک ہونے والا ہے نیز اموات و آفات اور سچے فیصلہ کا علم۔
اور اسی باب میں ابن مغازلی فقیہ شافعی سے انہیں کی سند کے ساتھ ابوالصباح سے، وہ ابن عباس سے اور وہ رسول اکرم صلعم سے نقل کرتے ہیں کہ فرمایا:
" فلما صرت بين يدي ربي كلمني و ناجاني فما علمني شيئا إلا علمه عليافهوباب علمی"
یعنی شب معراج جب میں مقام قرب خدا میں پہنچا تو خدا نے مجھ سے کلام اور رازدارانہ گفتگو کی پس جو کچھ بھی مجھ کو معلوم ہوا وہ سب میں نے علی(ع) کو سکھا دیا، پس وہ میرے باب علم ہیں۔
نیز اسی حدیث کو اخطب الخطباء موفق ابن احمد خوارزمی سے اس طریقے پر نقل کرتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
" أَتَانِي جَبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِدُرْنُوكٍ مِنْ دَرَانِيكِ الْجَنَّةِ فَجَلَسْتُ عَلَيْهِ، فَمَا صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي، وَ كَلَّمَنِيوَنَاجَانِي بِمَا عَلِمْتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ، فَمَا عَلِمْتُ شَيْئاً، إِلَّا عَلَّمْتُهُ ابْنَ عَمِّي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَهُوَ بَابُ مَدِينَةِ عِلْمِي ثم دعاه الیه فقال یا علی سلمک سلمی و حربک حربی و انت العلم فیما بینی وبین امتی ."
یعنی جبرئیل میرے پاس جنت کی ایک بساط لے کر آۓ پس میں اس کے اوپر بیٹھا یہاں تک کہ اپنے پروردگار کے قرب میں پہنچا تو اس نے مجھ سے کلام کیا اور مجھ سے راز کی با تیں کیں پس میں نے کچھ معلوم کیا سب علی(ع) کو بتادیا، چنانچہ وہ میرے باب علم ہیں۔ اس کے بعد علی(ع) کو بلایا اور کہا اے علی تمہارے ساتھ صلح میرے ساتھ صلح اور تم سے جنگ مجھ سے جنگ کرنا ہے اور تم میرے اور میری امت کے درمیان میرے نشان ہو۔
اس بارے میں امام احمد ابن حنبل، محمد ابن طلحہ شافعی، اخطب الخطباء خوارزمی، ابوحامد غزالی، جلال الدین سیوطی، امام احمد ثعلبی اور میر سید علی ہمدانی وغیرہ آپ کے اکابر علماء سے بکثرت حدیثیں مروی ہیں جن میں مختلف طرق اور الفاظ و عبارات کے ساتھ منقول ہے کہ رسول اکرم(ص) نے علم کے ہزار باب جن کے ہر باب سے اور ایک ایک ہزار باب منکشف ہوتے ہیں علی علیہ السلام کے سینے میں ودیعت فرماۓ۔
اورحافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیائ میں، مولوی علی متقی نے کنزالعمال جلد ششم نمبر294 اور ابو یعلی نے کامل بن طلحہ سے انہوں نے ابن الہیعہ سے انہوں نے حی بن عبد مغافری سےانہوں نے عبدالرحمان جبلی سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ رسول ِ خدا(ص) نے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا:
"ادعوا لي أخي! فجاء أبا بكر، فأعرض عنه!.ثمّ قال: ادعوا لي أخي! فجاء عثمان، فأعرض عنه!ثمّ دعی له عليّ فستره بثوب و أكبّ عليه فلمّا خرج من عنده قيل له: ما قال؟قال: علّمني ألف باب، يفتح لي من كلّ باب ألف باب»
یعنی میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، پس ابوبکر آۓ تو آں حضرت(ص) نےان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر فرمایا میرے پاس میرے بھائی کو بلاؤ، پس عثمان آۓ تو آں حضرت(ص) نے ان کی طرف سے بھی منہ پھیر لیا، دوسری روایتوں میں ہے کہ ابوبکر کے بعد عمر آۓ اور ان کے بعدعثمان) پھر علی(ع) بلاۓ گئے تو آں حضرت(ص) نے ان کو اپنے کپڑوں میں چھپا لیا اور ان کے اوپر سر نہوڑالیا۔ جن آپ خدمت رسول سے باہر آۓ تو لوگوں نے پوچھا یا علی(ع) پیغمبر(ص) نے تم سے کیا کہا؟ آپ نے فرمایا مجھ کو علم کے ایک ہزار باب تعلیم کئے جن میں سے ہر ایک باب ایک ایک ہزار باب کھولتا ہے۔
حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی سنہ430ہجری نے حلیتہ الاولیاء جلد اول ص65 فضائل علی(ع) میں، محمد جزوی نے اسنی المطالب ص14 میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب28 میں اسناد کے ساتھ احمد بن عمران بن سلمہ بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہم رسول اللہ(ص) کے پاس حاضر تھے پس علی ابن ابی طالب(ع) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آں حضرت(ص) نے فرمایا:
"قُسِّمَتِ الْحِكْمَةُ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ فَأُعْطِيَ عَلِيٌّ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ وَ النَّاسُ جُزْءاً وَاحِداً."
یعنی حکمت کے دس حصے کئے گئے جن میں سے نو حصے علی(ع) کو اور باقی ایک تمام انسانوں کو عطا ہوا۔
ابوالموید موفق بن احمد خوارزمی نے مناقب میں اور مولوی علی متقی نے کنزالعمال جلد پنجم ص156 و ص400 میں بہت سے اکابر علمائ سے ابن مغازلی فقیہ شافعی نے فضائل میں اور سلیمان بلخی نے ینابیع المودت باب14 میں انہیں اسناد کے ساتھ(کاتب وحی) عبداللہ ابن مسعود سے اور محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص21 میں حلیتہ اور علقمہ بن عبداللہ سے نقل کرتے ہوۓ روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) سے علی(ع) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آں حضرت(ص) نے فرمایا:
"قسّمت الحكمة عشرة اجزاء فاعطي عليّ تسعة اجزاء و النّاس جزء واحدا و عليّ اعلم بالجزء الواحد منهم) وهواعلم بالعشرالباقی".
یعنی حکمت دس حصوں پر تقسیم کی گئی جن میں سے علی(ع) کو نو حصےعطا ہوۓ اور تمام انسانوں کو ایک حصہ ملا، اور
علی اس دسویں حصے کے بھی سب سے زیادہ عالم ہیں۔
نیز ینابیع المودت کے اسی باب میں شرح رسالہ" فتح المبین" ابو عبداللہ محمد بن علی الحکیم ترمذی سے بروایت ( امام المفسرین وجہ مت) عبداللہ بن عباس نقل کرتے ہیں کہ:
"العلم عشرة اجزاء،لعلىّ تسعةاجزاء والنّاس عشرةالباقی و هو اعلمه به."
یعنی علم کے دس حصے ہیں نو حصے علی کے لئے اور باقی دسواں حصہ سارے انسانوں کے لئے اور علی(ع) اس ایک جز کے بھی سب سے بڑے عالم ہیں۔
اور متقی ہندی کنزالعمال جلد ششم ص153 میں، خطیب خوارزمی مناقب ص49 اور مقتل الحسین جلد اول ص43 میں، دیلمی فردوس الاخبار میں اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب10 میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا:
" اعلم امتی من بعدی علی ابن ابی طالب"
یعنی میرے بعد میری امت میں سب سے زیادہ علم و دانا علی ابن ابی طالب(ع) ہیں۔
علی(ع) کو علمِ رسول(ص) کی تفویض
پا ان مشتے ازخروارے حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ(ص) ساری مخلوق میں مرتضی اور عالم غیب تھے اور ظاہر و باطن کا جو علم مبدا فیاض سے حاصل کیا تھا وہ علی علیہ السلام کو تفویض کردیا تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ علی ابن ابی طالب(ع) اور آپ کی اولاد سے گیارہ ائمہ علیہم الصلوۃ و السلام کا ایک پیغمبر(ص) کے مانند پروردگار عالم سے بصورت وحی کوئی مستقل اور براہ راست سلسلہ تھا بلکہ قطعی اور یقینی طور سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مبدا فیاض کی طرف سے جو فیضان ہوتا تھا اس کا مرکز حضرت خاتم الانبیائ(ص) کی ذات اقدس تھی آں حضرت کی زندگی میں اور بعد وفات تمام موجودات کو اور بالخصوص ہمارے ائمہ اثنا عشریہ علیہم السلام کو جس قدر فیض پہنچایا پہنچ رہا ہے وہ حق تعالی کی جانب سے حضرت رسولِ خدا صلعم کے ذریعے پہنچا ہے۔ غرضی کہ سارے علوم اور گذشتہ و آئندہ زمانے کے اہم واقعات و حالات پیغمبر(ص) کے حیات ہی میں ان حضرت کو خداۓ تعالی کی طرف سے بتاۓ جاتے تھے جن میں سے کچھ باتیں جب آںحضرت(ص) اس دنیا سے رخصت ہونے والے تھے آپ کو تفویض فرمادیا۔ جیسا کہ اس بارے میں(علاوہ شیعوں کے معتبر روایات کے) خود آپ کے اکابر علماء کے طرف سے بکثرت روایتیں منقول ہیں جن میں سے ایک نمونہ پیش کیا گیا۔ چنانچہ آپ کے علماء نے ام المومنین عائشہ سے ایک مفصل حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں کہتیہیں کہ پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو بلایا اور ان کو اپنے سینے سے چپکا لیا اور سر سے چادر اوڑھ لی۔ میں اپنا سرقریب لے گئی اور ہرچند کان لگاۓ لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ جس وقت علی(ع) نے سر اٹھایا تو ان کی پیشانی سے پسینہ جاری تھا۔ لوگوں نے کہا یا علی(ع) پیغمبر(ص) اتنی
طولانی مدت تک آپ سےکیا کہتے رہے؟ آپ نے کہا:
"قد علّمني رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلّم ألف باب من العلم يفتح كلّ باب ألف باب."
یعنی در حقیقت رسول خدا(ص) نے مجھ کو علم کے ہزار باب تعلیم فرماۓ جن میں ہر باب سے اور ایک ہزار باب کھلتے ہیں۔
بعثت کی ابتدا ہی میں( جیسا کہ اس کی پوری تفصیل گذشتہ راتوں میں عرض کرچکا ہوں) جب رسول اللہ(ص) نے اپنے عم محترم جناب ابوطالب کے گھر میں اپنے چالیس قریبی اعزہ کی دعوت کی اور ان کو رسالت کا پیغام پہنچایا تو علی علیہ السلام پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے اپنا ایمان ظاہر کیا۔ پیغمبر(ص) نے ان کو بغل میں لیا اور اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں ڈالا۔ چنانچہ علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسی وقت علوم کے چشمے میرے سینے میں پھوٹ نکلے۔ چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے کہ آپ نے بر سرمنبر خطبہ دیتے ہوۓ اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فرمایا:
"سلوني قبل أن تفقدوني، فإنما بين جوانحي علم جم"
یعنی مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ۔ کیونکہ سوا، اس کے نہیں ہے کہ میرے سینے کے اندر بے پناہ علم موجود ہے۔
اس کے بعد اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا:
" هَذَا سَفَطُ الْعِلْمِ هَذَا لُعَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه وآله هَذَا مَا زَقَّنِي رَسُولُ اللَّهِ زَقّاً زَقّاً "
یعنی یہ علم کا مخزان ہے۔ یہ رسول اللہ(ص) کالعاب دہن ہے یہ ہے وہ جو رسول خدا(ص) نے مجھ کو دانے کی طرح بھرایا ہے۔
اورآں حضرت(ص) اپنے وقتِ وفات تک مختلف طریقوں سے علی علیہ السلام پر برابر فیض ربانی کا اضافہ فرماتے رہے اور مبدا فیاض غیب الغیوب سے جو کچھ حاصل ہوتا رہا وہ علی علیہ السلام کے سینے میں ودیعت فرماتے رہے۔
نورالدین ابن صباغ مالکی فصول المہمہ میں کہتے ہیں کہ پیغمبر خاتم النبیین(ص) نے بچپن ہی سے علی کو ا پنے آغوشِ محبت میں علمی اور عملی تربیت دی۔
جفر جامعہ اور اس کی کیفیت
جن طریقوں سے من جانب خدا اور خاتم الانبیائ(ص) کے وسیلے سے علی علیہ السلام پر فیوض ربانی کا فیضان ہوا۔ ان میں سے ایک جفر جامعہ تھا جو حروف رمز کے ساتھ علم ماکان وما یکون پر مشتمل ایک صحیفہ اورکتاب تھی۔ جس کے لئے خود
آپ کے بزرگ علمائ بھی معترف ہیں کہ وہ کتاب اور علم حضرت علی اور ائمہ طاہرین سلام اللہ علیہم اجمعین کے مخصوصات میں سے تھا۔
چنانچہ حجتہ الاسلام ابوحامد غزالی نے لکھا ہے کہ امام المتقین علی ابن ابی طالب(ع) کے لئے ایک کتاب ہے جس کا نام ہے جفر جامع الدنیا والاخرۃ اور وہ کتاب تمام علوم و حقائق، وقائق و اسرار حالات غیب، خواصِ اشیائ اثراتِ مافی العالم اور خواص اسماء و حروف پر مشتمل ہے جس سے سوا آپ کے اور آپ کے ان گیارہبزرگوار فرزندوں کے جو بنص رسول خدا(ص) امامت و ولایت کے منصب پر فائز ہیں اور کوئی شخص آگاہی نہیں رکھتا، کیونکہ یہ چیز ان حضرات کو وراثت میں ملی ہے۔ اسی طرح سلیمان بلخی نے ینابیع المودت ص403 میں درالنظم محمد بن طلحہ حلبی شافعی سے اس بارے میں ایک مبسوط تشریح نقل کی ہے کہ جفر جامع مفاتیح علوم کے سلسلہ میں ایک ہزار سات سو صفحات پر مشتمل اور امام علی ابن ابی طالب(ع) سےمخصوص ہے۔ لہذا ایک مشہور شاعر نے ان بزرگوا کی مدح میں کہا ہے۔
من مثله کان ذا جفرو جامعة له قدون سر الغیب تدوینا
یعنی کون ہے ان کے مانند جو جفر جامعہ کے حامل تھے۔ اس کتاب میں اسرار غیب کی تدوین کی گئی ہے۔
نیز تاریخ نگارستان میں شرح مواقف سے نقل کرتے ہیں۔
" ان الجفر و الجامعة كتابان لعلى عليه السلام قد ذكر فيهما على طريقة علم الحروف الحوادث الى انقراض العالم و كان الأئمّة المعروفون من أولاده يعرفونها و يحكمون بها "
یعنی حقیقتا جفر اور جامعہ دو کتابین ہیں جو علی(ع) کے لئے مخصوص ہیں، ان میں علم حروف کے طریقہ پر اختتام عالم تک سارے حادثات کا ذکر ہے۔ اور آپ کی اولاد انہیں کتابوں کے ذریعہ حکم کرتی ہے۔( مطلب یہ کہ ان کتابوں کے رموز و علوم کے حامل صرف علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد ہے۔)
نواب: قبلہ صاحب کتاب جفر جس کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے علمائ بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کیا چیز ہے اور کیسی ہے۔ گذارش ہے کہ اگر مناسب ہوتو اس کی کیفیت بیان فرمائیے۔
خیر طلب: وقت تنگ ہے اس وجہ سے اس علم اور کتاب کی تشریح اور تفصیل سے معذور ہوں۔
نواب: جس قدر ممکن ہو مفصل تشریحات کا خلاصہ ہی بیان فرمادیجئے۔
خیر طلب: ہجرت کے دسویں سال حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد جبرئیل امین آۓ اور رسول اللہ(ص) کو موت کی خبر دی کہ اب آپ کی عمر ختم ہور ہی ہے۔ آں حضرت(ص) نے درگارہ واہب العطایا میں دستِ مبارک بلند کئے اور عرض کیا۔
"اللَّهُمَّ وعدتک التی وَعَدْتَنی إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعادَ."
خداوندا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اور تو ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
خدا کی طرف سے خطاب ہوا کہ علی(ع) کو لے جائیے اور کوہ احد پر پشت بقبلہ بیٹھ کر صحرائی جانوروں کو آواز دیجئے وہ آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے، ان میں ایک سرخ رنگ کی بڑی بکری ہے جس کے سینگ تھوڑے تھوڑے ابھرے ہیں، علی(ع) کو حکم دیجئے کہ اس کو ذبح کر کے گردن کی طرف سے اس کی کھال اتاریں اور اس کو الٹ دیں۔ تو وہ دباغت کی ہوئی ملے گی، اس وقت جبرئیل دوات و قلم اور روشنائی لے کر آئیں گے جو زمین کی روشنائی سے الگ ہوگی، جو کچھ جبرئیل کہیں آپ علی(ع) سے کہئے کہ اس کو لکھ لیں، وہ تحریر اور کھال اسی طرح باقی رہے گی اور ہرگز بوسیدہ نہ ہوگی، وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی اور جس وقت کھولی جاۓ گی تازہ ہوجاۓ گی۔
رسولِ خدا صلعم نے کوہ احد پر اسی ہدایت کے مطابق عمل فرمایا، جبرئیل آۓ اور آں حضرت(ص) کے سامنے قلم دوات پیش کی، آں حضرت(ع) نے علی(ع) کو حکم دیا کہ عمل کے لئے مستعد ہوجائیں، اس کے بعد جبرئیل خداوند جلیل کی جانب سے عالم کی جزو کل اہم واقعات پیغمبر(ص) کے سامنے بیان کرتے جاتے تھے اور پیغمبر(ص) علی(ع) سے فرماتے تھے آپ اس کھال پر لکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہاتھوں اور پاوؤں کی باریک کھال پر بھی لکھا اور اس نوشتے میں درج ہوگیا۔
"کلمَا كَانَ وَ مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
یعنی جو کچھ ہوچکا تھا اور جو کچھ ہونےوالا تھا روز قیامت تک۔
آپ نے ہرچیز لکھ دی حتی کہ اپنی اولاد و احفاد اور ان کے دوستوں اور دشمنوں کے نام اور ہر ایک کے اوپر روز قیامت تک جو کچھ گزرنے والا تھا سب ہی کچھ اس کتاب میں درج کردیا۔
پھر خاتم الانبیاء(ص) نے وہ مکتوب اور علم جفر علی علیہ السلام کو دیا اور وہ اسباب وراثت اور ولایت و امامت کا ایک جزئ قرار دیا۔ چنانچہ جو امام دنیا سے جاتا ہے وہ اس کو اپنے ہونے والے امام معلوم کے سپرد کر کے جاتا ہے یہ وہی کتاب ہے جس کے متعلق ابوحامد غزالی کہتے ہیں کہ جفر جامعہ ایک کتاب ہے جو علی(ع) اور آپ کے گیارہ فرزندوں کے لئے مخصوص ہے اور اس میں ہرچیز موجود ہے۔
" من علم المنايا و البلايا والقفایا و فصل الخطاب."
یعنی علم اموات و بلایا، احکام اور برحق باتیں۔
نواب: یہ کیونکر ممکن ہے کہ روز قیامت تک کے سارے واقعات اور علوم بکری کی ایک کھال پر لکھ دیئے گئے ہوں؟
خیرطلب: اول تو اس روایت کا اندازہ بتاتا ہے کہ بکری کوئی معمولی نہیں تھی بلکہ بہت بڑی اور اسی مقصد کے لئے پیدا کی گئی تھی۔ دوسرے کتابوں اور رسالوں کے طریقے سے نہیں لکھا گیا بلکہ حروف رمز و اشارات کی صورت میں تحریر کیا گیا۔ چنانچہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہصاحب تاریخ نگارستان نے شرح مواقف سے نقل کیا ہے کہ "قدذکر فیهما علی طریقة علم الحروف " یعنی جفر اور جامعہ میں علم الحروف کے طریقے
پر ذکر کیا گیا ہے۔
اس کے بعد اس رمز کی مفتاح اور کنجی رسول اکرم صلعم نے علی علیہ السلام کو عطا فرمائی اور آپ نے آں حضرت(ص) کے حکم سے اپنےبعد آنے والے آئمہ کو دی۔
جس شخص کے پاس وہ کلید ہو وہی اس کتاب سے اسرار و حوادث کا استخراج کرسکتا ہے ورنہ مجبور و عاجز رہے گا۔ جس طرح کوئی بادشاہ اپنے وزیر یا والیان و حکام، سرداران لشکر اور افسران فوج کو جنہیں صوبوں اور ریاستوں کی طرفبھیجتا ہے، حروف یا اعداد کی صورت میں ایک خفیہ تحریر سپرد کرتا ہے اور اس مکتوب کی مفتاح وکلید صرف بادشاہ اور اس وزیر یا والی و حاکم اور سردار فوج ہی کےپاس ہوتی ہے، کیونکہ وہ تحریر بغیر کلید کے اگر کسی کے ہاتھ آبھی جاۓ تو وہ اس سے کچھ معلوم نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح سے کتاب جفر جامعہ ہے جس سے امیرالمومنین علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد میں سے گیارہ اماموں کے علاوہ اور کوئی شخص مطلب کا استخراج نہیں کرسکتا۔
چنانچہ ایک روز حضرت امیرعلیہ السلام نے جب آپ کے سارے فرزند اکٹھا تھے وہ جلد اپنے فرزند محمد حنفیہ کو دی لیکن وہ ( باوجودیکہ بہت عالم و دانا تھے) اس میں سے کچھ بھی نہیں سمجھ سکے۔(1)
اکثر احکام اور اہم واقعات جن کی خبر آئمہ معصومین علیہم السلام دیا کرتے تھے، اسی کتاب سے تھے یہ حضرات کلیات وجزئیات امور سے با خبر تھے اور اپنے اور اپنے اہلبیت(ع) اور شیعوں کے اوپرپڑنے والے مصائب و آلام کو اسی کتاب سے استخراج فرماتے تھے، جیسا کہ کتب اخبار میں مکمل اور مفصل طریقے سے درج ہے۔
عہد نامہ ماموں امام رضا(ع)کا اپنی موت کی خبر دینا
شرح مواقف میں مامون الرشید عباسی اور امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام کے عہد نامے کاقضیہ درج ہے کہ جب مامون نے امام رضا علیہ السلام کو چھ مہینے کی خط و کتابت اور دھمکی دینے کے بعد اپنے ولی عہدی قبولکرنے پر مجبور کیا تو ایک عہدنامہ لکھا گیا اور مامون نے اس کے اس مضمون پر دسخط کیا کہ اس کے مرنے کے بعد خلافت حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ چونکہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام علم خدا داد سے جانتے تھے کہ میرے بعد چند بازیگر لوگ میرے آزاد کردہ غلام کیسانی کے بہکانے سے میرے فرزند محمدحنفیہ کی امامت کے قائل ہوجائیں گے، لہذا گویا آپ نے اس امتحان کے ذریعہ پہلے ہی یہ ثابت کردینا چاہا کہ محمد حںفیہ منصب امامتکے اہل نہیں ہیں۔ یعنی اگر امامت پرفائز ہوۓتو ان کے پاس کتاب جفر کی کلید کا ہونا ضروری تھا۔
رضا علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگی۔ جب کاغذ امام رضا علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے دستخط سے مندرجہ ذیل عبارت تحریر فرمائی۔
" أَقُولُ وَ أَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَضَدَهُ اللَّهُ بِالسَّدَادِ وَ وَفَّقَهُ لِلرَّشَادِ عَرَفَ مِنْ حَقِّنَا مَا جَهِلَهُ غَيْرُهُ فَوَصَلَ أَرْحَاماً قُطِعَتْ وَ آمَنَ أَنْفُساً فَزِعَتْ بَلْ أَحْيَاهَا وَ قَدْ تَلِفَتْ وَ أَغَنْاهَا إِذِ افْتَقَرَتْ مُبْتَغِياً رِضَا رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا يُرِيدُ جَزَاءً مِنْ غَيْرِهِ وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ وَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ فَإِنَّهُ جَعَلَ إِلَيَّ عَهْدَهُ وَ الْإِمْرَةَ الْكُبْرَى إِنْ بَقِيتُ بَعْدَهُ "
یعنی میں علی ابن موسی جعفر(علیہم السلام) کہتا ہوں کہ مومنین کے فرمانبردار(مامون الرشید) نے خدا اس کو راستی پر قائم رکھے اور اس کو ر شید و ہدایت کی توفیق دے، ہمارے اس حق کو پہچانا جس کو دوسروں نے نہیںپہچانا، پس ان رشتوں کو جوڑا جن کو قطع کردیا گیا تھا اور ان نفوس کو امن و اطمینان دیا جو خوف زدہ تھے بلکہ ان کو زندگی بخشی جب وہ گویا فنا گھاٹ اترچکے تھے اور ان کو خوش حال بے نیاز بنایا جب وہ پریشان حال تھے تاکہ پروردگار کی رضامندی حاصل ہو۔ اور عنقریب خدا شکر گذاروں کو جزا عنایت کرے گا اور وہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ یقینا اس نے مجھ کو اپنا ولی عہد بنایا ہے اور زبردت امارت سپرد کی ہے بشرطیکہ میں اس کے بعد زندہ رہوں۔
یہاں تک کہ اس مضمون کے آخر میں تحریر فرمایا:
"ولکنالجفر و الجامعة يدلان على ضد ذلك او «ما أَدْرِي ما يُفْعَلُ بِي وَ لا بِكُمْ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَيْرُ الْفاصِلِينَ."
لیکن جفر اور جامعہ اس بات کے خلاف دلالت کرتے ہیں (یعنی میں اس کے بعد تک زندہ نہیں رہوں گا) اور میں خود سے نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا، حکم دینا تو صرف اللہ کا کام ہے جو بالکل سچا حکم دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
اور سعد بن مسعود بن عمر تفتازانی شرح مقاصد الطالبین فی علم اصول الدین میں عہد نامے کے اندر حضرت کے قلم سے نکلے ہوۓ جفر جامعہ کے جملے پر اپنے مفصل بیان میں اشارہ کرتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ علم جفر و جامعہ کے مطابق اپنے عہد پر قائم نہیں رہے گا۔ چنانچہ ہم نے دیکھ لیا کہ جو کچھ ہونا تھا ہوا اور اس پیغمبر(ص) کے فرزند پارہ جگر کو زہر جفا سے شہید کردیا۔ حضرت کی صداقت اور علم کی سچائی ظاہر ہوگئی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ یہ جلیل القدر خاندان تمام ظاہری و باطنی امور سےبا خبر ہے۔
جبرئیل کا وصی رسول(ص) کے لئے ایک مہر کی ہوئی کتاب لانا
رسول اللہ(ص) کے ذریعہ جن طریقوں سے علی علیہ السلام کو فیوض حاصل ہو ۓ ان میں ایک مہر کی ہوئی کتاب بھی ہے جو جبرئیل حضرت کے لئے لاۓ تھے۔
چنانچہ مقبول فریقین محقق و مورخ علامہ ابوالحسن علی بن الحسین مسعودی کتاب اثبات الوصیہ ص92 میں تفصیل سے نقل کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے۔
" أنزل اللّه جل و علا إليه من السماء كتابا مسجّلا نزل به جبرئيل عليه السّلام مع امناء الملائكة "
یعنی جبرئیل امناء ملائکہ کے ہمراہ خداۓ عزوجل کی جانب سے ایک مہر شدہ کتاب پیغمبر(ص) کے پاس لاۓ اور عرض کیا کہ جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں وہ علاوہ آپ کے وصی کے یہاں سے باہر چلے جائیں تاکہ میں کتاب وصیت کو پیش کروں۔
"فأمر رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله من كان عنده في البيت بالخروج ما خلا أمير المؤمنين عليه السّلام و فاطمة و الحسن و الحسين عليهم السّلام فقال جبرئيل: يا رسول اللّه ان اللّه يقرأ عليك السلام و يقول لك: هذا كتاب بما كنت عهدت و شرطت عليك و اشهدت عليك ملائكتي و كفى بي شهيدا.فارتعدت مفاصل سيّدنا محمّد صلّى اللّه عليه و آله فقال: هو السلام و منه السلام و إليه يعود السلام"
یعنی پس رسول اللہ نے امیرالمومنین فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کے علاوہ جملہ حاضرین کو گھر سے باہر جانے کا حکم دیا جبرئیل نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) خدا آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر میں نے تم سے یہ عہد و پیمان کیا ہے اور اپنے ملائکہ کو گواہ بنایا ہے اور میں بھی گواہ ہوں۔ پس حضرت رسول خدا(ص) کا جسم کانپنے لگا اور آں حضرت(ص) نے فرمایا وہی ہے سلام اور اسی کی طرف سے سلام ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے سلام کی۔
اس کے بعد وہکتاب جبرئیل سے لے کر پڑھی اور علی(ع) کو دے کر فرمایا یہ میری طرف میرے پروردگار کا عہد اور اس کی امانت ہے جس کو میں نے یقینا ادا کردیا اور خدا کا پیغام پہنچا دیا۔
امیرالمومنین(ع) نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں میں بھی اس تبلیغ و نصیحت کی اور جو کچھ آپ نے فرمایا ہے۔ اس کی سچائی پر گواہی دیتا ہوں اور اس حقیقت پر میرے کان، آنکھ، گوشت اور خون سبھی گواہ ہیں۔
اس وقت آں حضرت(ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا، لو یہ پروردگار کی جانب سے میری وصیت ہے اس کو قبول کرواور خداۓ تعالی کے لئے اس کی ضمانت کرو۔ اورمیرے لئے اس پر دعا کرنا فرض ہے علی نے عرض کیا میںنے اس کی ضمانت قبول کی اور یہ خدا کے ذمے ہے کہ میری مدد فرماۓ اس کتاب میں امیرالمومنین علیہ السلام سے ان چیزوں کا عہد لیا گیا ہے۔
"الموالاة لأولياء اللّه و المعاداة لأعداءاللّه و البراءة منهم، و الصبر على الظلم، و كظم الغيظ، و أخذ حقّك منك و ذهاب خمسك و انتهاك حرمتك، و على أن تخضب لحيتك من رأسك بدم عبيط.فقال أمير المؤمنين عليه السّلام: قبلت و رضيت و ان انتهكت الحرمة و عطلت السنن و مزّق الكتاب و هدمت الكعبة و خضبت لحيتي من رأسي صابرا محتسبا."
یعنی خدا کے دوستوں سے دوستی، خدا کے دشمنوں سے دشمنی اور ان سے بیزاری، ظلم کے اوپر صبر، ا پنا حق چھینے جانے اپنے خمس پر تصرف کئے جانے، اپنی حرمت کے ضائع کئے جانے اور بے خطا اپنے سر کے خون سے اپنی ڈاڑھی رنگین کئ جانے پر ضبط و تحمل اور غصے کو پی جانا۔ پس امیرالمومنین(ع) نے کہا میں نے قبول کیا اور راضی ہوا۔ اگر میری حرمت ضائع کی جاۓ، سنتوں کو معطل کردیا جاۓ احکام کتاب پارہ پارہ کردیئے جائیں کعبہ ڈھا دیا جاۓ اور میری ڈاڑھی میرے خون سے رنگین کی جاۓ تب بھی صبرو تحمل سے کام لیا۔
اس کےبعد جبرئیل و میکائیل اور ملائکہ مقربین کو امیرالمومنین پر گواہ قرار دیا۔ اور حسن و حسین و فاطمہ صلوات اللہ علیہم اجمعین کو بھی اسی طرح ذمہ داری سپرد کی اور ان حضرات کو پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیل بیان کی پھر اس وصیت نامے پربغیر تپاۓ ہوۓ سونے کی مہرین لگائیں اور علی علیہ السلام کو دے دیا۔
"و في الوصية سنن اللّه جلّ و علا و سنن رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و خلاف من يخالف و يغيّر و يبدّل و شيء شيء من جميع الأمور و الحوادث بعده صلّى اللّه عليه و آله و هو قول اللّه عز و جل « وَ كُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْناهُ فِي إِمامٍ مُبِينٍ"_ انتهی"
یعنی اس وصیت نامے کے اندر خداۓ عزوجل کی سنتیں، رسول خدا(ص) کی سنتیں، جو لوگ مخالف اور احکام خداوندی میں تغیر و تبدل کرنے والے ہیں ان کی مخالفت اور آں حضرت(ص) کے بعد واقع ہونے والے جملہ امور و حادثات کے تذکرے موجود ہیں۔ اور یہ وہی چیز ہے جو خداوند عالم فرماتا ہے کہ امام مبین(علی ابن ابی طالب(ع)) کو ہم نے ہر شئی کا علم عطا کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ امیرالمومنین(ع) اور آپ اولاد وعترت رسول(ص) میں سے ائمہ معصومین علیہم السلام کو جو کچھ ملا تھا وہ
رسول خدا(ص) سے ملا تھا اور آں حضرت(ص) کے تمام علوم ان حضرات کے پاس تھے۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو آں حضرت(ص) علی(ع) کو اپنا باب علم نہ فرماتے اور یہ حکم نہ دیتے کہ اگر تم میرے علم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو علی ابن ابی طالب(ع) کے دروزے پر جاؤ۔ اور اگر آپ رسول اللہ(ص) کے علوم خاص کے حامل نہ ہوتے اور آپ کے سارے علوم پر قابو حاصل نہ ہوتا تو دوست و دشمن سب ہی کے سامنے یہ اعلان نہ فرماتے کہ"سلونی قبل ان تفقدونی " یعنی مجھ سے جو چاہو پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ۔
اس لئے کہ اس پر فریقین کا اتفاق ہے کہ سوا امیرالمومنین کے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس نے سلونی کی آواز دی ہو اور آپ کی اس مخصوص منزلت کا دعوی کیا ہو اور پھر علوم ظاہری و باطنی کے متعلق لوگوں کے سوالات کے مقابلے میں لاجواب نہ ہوگیا ہو۔ آپ کے علاوہ جس نے بھی ایسا اعادہ کیا وہ ذلیل و رسوا ہوکررہا۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبر مغربی اندلسی کتاب استیعاب فی معرفتہ الاصحاب میں کہتے ہیں:
"ان کلمةسلونی قبل ان تفقدونی ماقال لهااحدغیرعلی ابن ابی طالب الاکان کاذبا"
یعنی کلمہ سلونی قبل ان تفقدونی کو سوا علی ابن ابی طالب(ع) کے اور جس شخص نے زبان سے نکالا وہ جھوٹا تھا۔
چنانچہ ابوالعباس احمد بن مسکان شافعی نے وفیات میں اور خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ جلد سیزدہم ص163 میں نقل کیا ایک روز مقاتل بن سلیمان نے جو آپ کے بزرگ علمائ میں سے اور ہر مسئلے میں بہت حاضر جواب تھے عام مجمع کے سامنے برسر منبر کہا" سلونی عما دون العرش" یعنی عرش کے نیچے جو کچھ بھی ہے اس کے متعلق مجھ سے پوچھ لو۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جب حضرت آدم فریضہ حج بجالاۓ تو حلق و تقصیر کے موقع پر ان کے سر کے بال کس نے کاٹے؟ مقاتل پریشان اور لاجواب ہوکر خاموش ہوگئے۔ دوسرے نے پوچھا کہ چیونٹی معدے کی نلی سے غذا جذب کرتی ہے یا کسی اور ذریعہ سے؟ اگر معدے کا ذریعہ ہے تو اس کے جسم میں معدہ اور آنتیں کس مقام پر ہیں؟ مقاتل پھر حیرت میں پڑ گئے کہ کیا جواب دیں۔ مجبور ہوکر کہا کہ یہ سوالتمہارے دل میں خدا نے ڈالا ہے تاکہ زیادتی علم کی بنا پر میرے دل میں جو غرور پیدا ہوگیا تھا اور میں اپنی حد سے تجاوز کر گیا تھا اس کی وجہ سے میں ذلیل و رسوا ہوجاؤں۔
بدیہی چیز ہے کہ یہ دعوی اسی شخص کو کرنا چاہیئے جو ہر سوال کے جواب پر کما حقہ، قدرت رکھتا ہو اور قطعی و یقینی امت کے اندر سوا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) کے اور کوئی بھی اس منزل پر فائز نہیں تھا۔
آپ چونکہ رسول اللہ(ص) کے باب علم تھے لہذا آں حضرت(ص) ہی کے مانند تمام ظاہری و باطنی امور پر حاوی اور علوم اولین و آخرین سے آگاہ تھے۔ اسی بنا پر پوری قدرت کے ساتھ سلونی کی آواز دیتے تھے اور ہر سوال کا شافی جواب عنایت فرماتے تھے۔ جس کی تفصیل پیش کرنے کا وقت نہیں ہے۔
علاوہ امیرالمومنین علی علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے بھی کسی نے ایسا اعلان نہیں کیا۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل نے مسند میں، موفق بن احمد خوارزمی نے مناقب میں، خواجہ بزرگ حنفی نے ینابیع المودۃ میں، بغوی نے معجم میں محب الدین طبری نے ریاض النضرہ جلد دوم ص198 میں اور ابن حجر نے صواعق ص76 میں، سعید ابن مسیب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نےکہا"لم یکن من الصحابه یقول سلونی الاعلی ابن ابی طالب(ع)" یعنی صحابہ میں سے علی ابن ابی طالب(ع) کے سوا اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے جو چاہو پوچھ لو۔
علی علیہ السلام کی نداۓ سلونی اور اخبار اہلِ سنت
لہذا خود آپ کے اکابر علمائ مثلا ابن کثیر نے اپنی تفسیر جلد چہارم میں، ابن عبدالبر نے استیعاب میں، سلیمنا بلخی حنفی نے ینابیع المودت میں، موید الدین خوارزمی نے مناقب میں، امام احمد نے مسند میں، حموینی نے فرائد میں، ابن طلحہ نے در المنظوم میں، میر سید علی شافعی نے مودۃ القربی میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور آپ کے دیگر محققین نے مختلف الفاظ و عبارات کے ساتھ متعدد و مقامات پر عامرین واثلہ، ابن عباس، ابی سعید البحری، انس ا بن مالک اور عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے بالاۓ منبر فرمایا:
" يا أيها الناس سلوني قبل أن تفقدوني، فإن بين جوانحي لعلما جما، سألوني فان عندی علم الاولین والاخرین"
یعنی لوگو مجھ سے (جو چاہو پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ) کیونکہ در حقیقت میرے سینے میں علم بھرا پڑا ہے۔ مجھ سے دریافت کر لو کیونکہ یقینا میرے پاس اولین و آخرین کا علم موجود ہے۔
ابوداؤدنے سنن ص356 میں، امام احمد حنبل نے مسند جلد اول ص278 میں، بخاری نے اپنی صحیح جلد اول ص46 اور جلد دہم ص241 میں سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا:
"سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ "
یعنی جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے پوچھ لو۔ اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے متعلق تم دریافت کرو اور میں اس کی خبر نہ دوں۔
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب14 ص74 میں موفق بن احمد خوارزمی سے اور شیخ الاسلام حموینی نے اپنی سند کے ساتھ ابوسعید بختری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
" رَأَيْتُ عَلِيّاً ع صَعِدَ الْمِنْبَرَ بِالْكُوفَةِ وَ عَلَيْهِ مِدْرَعَةٌ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ص مُتَقَلِّداً بِسَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ ص مُتَعَمِّماً بِعِمَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ ص فِي إِصْبَعِهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَ كَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ فَقَالَ سَلُونِي مِنْ قَبْلِ أَنْ تَفْقِدُونِي فَإِنَّمَا بَيْنَ الْجَوَانِحِ مِنِّي عِلْمٌ جَمٌّ هَذَا سَفَطُ الْعِلْمِ هَذَا لُعَابُ رَسُولِ اللَّهِ ص هَذَا مَا زَقَّنِي رَسُولُ اللَّهِ زَقّاً مِنْ غَيْرِ وَحْيٍ أُوحِيَ إِلَيَّ فَوَ اللَّهِ لَوْ ثُنِيَتْ لِي وِسَادَةٌ فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا لَأَفْتَيْتُ لِأَهْلِ التَّوْرَاةِ بِتَوْرَاتِهِمْ وَ لِأَهْلِ الْإِنْجِيلِ بِإِنْجِيلِهِمْ حَتَّى يُنْطِقَ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَ الْإِنْجِيلَ فَتَقُولَ صَدَقَ عَلِيٌّ قَدْ أَفْتَاكُمْ بِمَا أُنْزِلَ فِيَ وَ أَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتابَ أَ فَلا تَعْقِلُونَ."
یعنی میں نے حضرت علی(ع) کو منبر کوفہ پر اس صورت سے دیکھا کہ پیغمبر(ص) کی اونی چادر اوڑھے ہوۓ، آں حضرت(ص) کیتلوار باندھے ہوۓ اور آں حضرت(ص) کاعمامہ سر پر رکھے ہوۓ تھے پس منبر پر بیٹھے اور اپنا شکم مبارککھول کر فرمایا کہ مجھ سے پوچھ لو( جو چاہو) قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ، کیونکہ سواۓ اس کے نہیں ہے کہ میرے سینے میں کثیر علم موجود ہے۔ یہ میرا شکم علم کا مخزن ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن ( یعنی اس کا اثر) ہے یہ وہ چیز ہے جسے رسول خدا(ص) نے مجھ کو دانے کی طرح بھرایا ہے۔ پس قسم خدا کی اگر میرے لئے مسند بچھا دی جاۓ اور میں اس کے اوپر تمسکن ہوں تو یقینا توریت والوں کو ان کی توریت سے اور انجیل والوں کو ان کی انجیل سے فتوی یہاں تک کہ خدا توریت و انجیل کو گویا کردے اور گواہی دی کہ علی(ع) نے سچ کہا اور جو کچھ خدانے ہمارے اندر نازل کیا ہے اسی کے مطابق تم کو فتوی دیا ہے اور تم لوگ کتاب کی تلاوت کرتے ہو تو کیا اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
شیخ الاسلام حموینی فرائد میں اور موئد الدین خوارزمی مناقب میں نقل کرتے ہیں کہ آپ نے بالاۓ منبر فرمایا:
" سلونيقبل ان تفقدونی فو الذیفلق الحبةوبرالنسمةلا تسألوني من آية من كتاب اللَّه إلّا حدثتكم عنها متى نزلت [ظ] بليل أو بنهار أو في مقام أو فی میسر في سهل أو في جبل، و فيمن نزلتفي مؤمن أو منافق و ما عنى بها أم عام او خاصّ "
یعنی پوچھ لو مجھ سے قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ پس قسم اس خدا کی جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور آدمی کو پیدا کیا کہ مجھ سے کتاب خدا کی کسی آیت کے بارے میں سوال نہ کروگے مگر یہ کہ میں تم کو اس کے متعلق بتاؤں گا کہ کس وقت نازل ہوئی، رات کو یا دن کو، منزل میں راستے میں، زمین ہموار میں یا پہاڑ میں، اور کس کے بارے میں نازل ہوئی، مومن کے حق میں یا منافق کے اور خدا نے اس سے کیا مراد لیا ہے یہ آیت عام ہے یا خاص۔
ابن کوا خارجی اٹھا اور اس نے کہا:
" أخبرني عن قول الله جل و عز- الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ أولئك نحن و أتباعنا يوم القيامة غرا محجلين رواء مرويين يعرفون بسيماهم"
یعنی مجھ کو خداۓ تعالی کے اس قول کا مطلب بتائیے کہ " جو لوگ ایمان لاۓ اور عمل صالح بجالاۓ وہی لوگ تمام انسانوں سے بہتر ہیں" آپ نے فرمایا وہ ہم اور ہمارے پیرو ہیں جن کے چہرے اور ہاتھ پاؤں قیامت کے روز چمکتے ہوں گے اور اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے۔
امام احمد بن حنبل مسند میں اور شیخ سلیمان بلخی ینابیع المودت باب14 ص74 میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ علی(ع) نے بالاۓ منبر فرمایا:
" سَلُونِي عَنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ مَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا وَ أَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ بِحَضِيضِ جَبَلٍ أَوْ سَهْلِ أَرْضٍ وَ سَلُونِي عَنِ الْفِتَنِ وَ مَا مِنْ فِتْنَةٍ إِلَّا وَ قَدْ عَلِمْتُ كَبْشَهَا وَ مَنْ يُقْتَلُ فِيهَا."
یعنی دریافت کر لو جو مجھ سے قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ اور کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق سب سے زیادہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کیونکہ نازل ہوئی ہے، پہاڑ کے دامن یا زمین ہموار میں اور پوچھو مجھ سے فتنوں کے بارے میں پس کوئی فتنہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے میں نہ جانتا ہوں کہ کس نے اس کو اٹھایا ہے اور کون اس میں قتل ہوگا۔
ابن سعد نے طبقات میں، ابو عبداللہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے باب52 میں جس کو اسی موضوع کے لئے مخصوص کیا ہے، اور حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیاء جلد اول ص68 میں معتبر اسناد کے ساتھ امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
" وَ اللَّهِ مَا نَزَلَتْ آيَةٌ إِلَّا وَ قَدْ عَلِمْتُ فِيمَا نَزَلَتْ- وَ أَيْنَ نَزَلَتْ وَ عَلَى مَنْ نَزَلَتْ- إِنَّ رَبِّي تَعَالَى وَهَبَ لِي قَلْباً عَقُولًا وَ لِسَاناً طَلْقاً."
یعنی خدا کی قسم کوئی آیت نازل نہیں ہوئی لیکن یہ کہ میں قطعا جانتا ہوں کہ کس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہاں نازل ہوئی ہے اور کس پر نازل ہوئی ہے یقینا خدا نے مجھ کو فہم و ادراک رکھنے والا اور فصیح و گویا زبان عطا کی ہے۔
نیز انہیں کتابوں میں نقل کرتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:
"سلوني عن كتاب اللّه فانه ليس من آية إلا و قد عرفت بليل نزلت أم بنهار، في سهل نزلت أم في جبل."
یعنی مجھ سے کتاب خدا کے بارے میں سوال کرو کیونکہ کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق مجھ کو معلوم نہ ہو کہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں، پہاڑ میں نازل ہوئی ہے یا ہموار زمین میں۔
مناقب خوارزمی میں اعمش سے اور انہوں نے عبایہ بن ربعی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
" كَانَ عَلِيٌّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع كَثِيراً مَا يَقُولُ سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي فَوَ اللَّهِ مَا مِنْ أَرْضٍ مُخْصِبَةٍ وَ لَا مُجْدِبَةٍ وَ لَا فِئَةٌ تُضِلُّ مِائَةً أَوْ تَهْدِي مِائَةً إِلَّا وَ أَنَا أَعْلَمُ قَائِدَهَا وَ سَائِقَهَا وَ نَاعِقَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ."
یعنی علی علیہ السلام کثرت سے یہفرماتے تھے کہ مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ، پس خدا کی قسم کوئی سرسبز خطہ اور بے آب و گیاہ زمین اور کوئی ایسا گروہ جو سو آدمیوں کو گمراہ کرے یا سو آدمیوں کی ہدایت کرے۔ ایسا نہیں ہے جس کی قیادت کرنے والے اور جس کو پیچھے سے چلانے والے اور جس کو ابھارنے والے کو روز قیامت تک میں سب سے بہتر نہ جانتا ہوں۔
اور جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء ص124 میں بدرالدین حنفی عمدۃ القاری میں، محب الدین طبری ریاض النضرہ جلد دوم ص198 میں، سیوطی تفسیر اتقان جلد دوم ص319 میں، اور ابن حجر عسقلانی فتح الباری جلد ہشتم ص485 میں، نیز تہذیب التہذیب جلد ہفتم ص338 میں نقل کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے فرمایا:
"سلوني فو اللّه لا تسالوني عن شيء يكون الى يوم القيامة الا حدثتكم، سلوني عن كتاب اللّه فو اللّه ما من آية الا انا اعلم ابليل نزلت ام بنهار ام في سهل ام في جبل"
یعنی سوال کرو مجھ سے روز قیامت تک ہونے والی جس چیز کے متعلق بھی پوچھو گے میں تم کو اس کی خبر دوں گا اور کتاب خدا کے بارے میں مجھ سے دریافت کرو، پس خدا کی قسم کوئی آیت ایسی نہیں جس کے متعلق میں سب سے زیادہ نہ جانتا ہوں کہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں، زمین ہموار میں یا پہاڑ میں۔
آیا ان بیانات میں علم غیب کا دعوی نہیں ہے؟ اور سوا علم غیب جاننے والے کے کوئی دوسرا شخص دوست دشمن سب کے سامنے ایسا اعلان کرسکتا ہے؟ اگر آپ تھوڑی دیر کے لئے اپنی عادت کو چھوڑ دیں اور انصاف کی نظرسے دیکھیں تو صاف ظاہر ہوجاۓ گا کہ حضرت علم غیب کے عالم تھے جس کا عملی طور سے اظہار بھی فرماتے تھے اور غیبی باتوں کی خبر دیا کرتے تھے۔
سنان ابن انس کو قاتلِ امام حسین(ع) بتانا
چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی نے انہیں روایتوں کو شرح نہج البلاغہ جلد اول ص208 ( مطبوعہ مصر) میں کتاب غارات ابن ہلال ثقفی سے نقل کیا ہے، یہاں تک کہ کہتے ہی ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا:
" اخبرني بما في رأسي و لحيتي من طاقة شعر "
یعنی میرے سر اور ڈاڑھی کے بالوں کے متعلق مجھ کو خبر دیجئے۔
حضرت نے فرمایا کہ میرے خلیل حضرت رسول خدا(ص) نے مجھ کو خبر دی ہے کہ تیرے سر کے ہر بال کی جڑ میں ایک فرشتہ ہے جو تجھ پر لعنت کرتا ہے اور تیرے ہر بال کی جڑ میں ایک شیطان ہے جو تجھ کو بہکاتا ہے اور تیرے گھر میں ایک گوسالہ ہے جو فرزند رسول کو قتل کریگا یہ شخص انس نخعی تھا جس کا بیٹا سنان اس وقت کم سن تھا اور گھر میں کھیل کود رہا تھا اور پھر سنہ61ہجری میں کربلا پہنچ کر امام حسین علیہ السلام کا قاتل بنا(بعض کا قول ہے کہ سوال کرنے والا سعد ابن ابیوقاص تھا اور اس کا پسر گوسالہ عمر ابن سعد ملعون تھا جو فوج یزید کا سردار اور کربلا کے عظیم سانحےکا برپا کرنے والا تھا) یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں نے دو مختلف جلسوں میں سوال کیا ہو۔
حضرت نے ان روایات کے ذریعے بخوبی سمجھا دیا کہ میرے علم کا سر چشمہ پیغمبر(ص) کی ذات ہے اور م یں امور غیب پر عبور رکھتا ہوں۔
علمداری حبیب بن عمار کی خبر
آپ کے اکابر علمائ جیسے امام احمد حنبل نے مسند میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص208 میں نقل کیا ہے کہ خلافت ظاہری کے زمانہ میں ایک روز آپ مسجد کوفہ میں بیٹھے ہوۓ تھے اور اصحاب چاروں طرف جمع تھے ایک شخص نے کہا خالد ابن عویطہ نے وادی القربی میں انتقال کیا۔ آپ نے فرمایا:
"لَمْ يَمُتْ وَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَقُودَ جَيْشَ ضَلَالَةٍ صَاحِبُ لِوَائِهِ حَبِيبُ بْنُ جَمَّازٍ "
یعنی وہ نہیں مرا ہے اور نہیں مرےگا یہاں تک کہ لشکر ضلالت و گمراہی کا سردار ہو اور اس کا علمدار حبیب ابن عمار ہوگا۔
ایک جوان مجمع سے اٹھا اور اس نے عرض کیا یا امیرالمومنین(ع) حبیب ابن عمار میں ہوں اور آپ کے سچے اور خالص دوستون میں سے ہوں۔ حضرت نے فرمایا یہ میں نے جھوٹ کہا ہے اور نہ کہوں گا، گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ خالد لشکر ضلالت و گمراہی کا سردار ہے اور تو اس کا علمدار ہے، تم لوگ مسجد کے اس دروازے سے ( باب الفیل کی طرف اشارہ( داخل ہوگے اور علم کا پھریرا مسجد کے درواز ے سے لڑکر پھٹ جاۓ گا۔
امیرالمومنین علیہ السلام کی اس پیشن گوئی کو برسوں گزر گئے، یہاں تک کہ یزیز پلید کے دور خلافت میں عبداللہ
ابن زیاد ملعون کوفہ کا حاکم ہوا اور حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے بڑی بڑی فوجیں بھیجنا شروع کیں۔ جن لوگوں نے حضرت سے خالد اور حبیب ابن عمار کی پیشین گوئی سنی تھی ان میں سے اکثر افراد ایک روز مسجد میں اکٹھا تھے کہ لشکر والوں کے شور وغل اور نعروں کی آوازیں بلند ہوئیں( چونکہ پہلے اجتماعات کے مرکز مسجد میں ہوا کرتی تھیں۔لہذا فوجی سپاہی اپنی نمائش کے لئے مسجد میں آکر خروج کرتے تھے) ان لوگوں نے دیکھا کہ خالد ابن عویطہ جو لشکر ضلالت اثر کا سردار ہے اور فرزند رسول سے جنگ کرنے کے لئے کربلا جارہا ہے نمائش کے لئے اسی باب الفیل سے داخل ہوا اور حبیب ابن عمار اس کا علمدار ہے۔ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہوۓ اس کے علم کا پھریرا دروازے سے لڑکر پھٹ گیا تاکہ حضرت علی علیہ السلام کی سچائی اور علم کی گہرائی منافقین پر ثابت ہوجاۓ۔
آیا وقوع سے قبل ایسی علامت اور شناخت کے ساتھ اس واقعے کی خبر دینا علم غیب کا ثبوت نہیں تھا جو آپ حضرات کو یقین کرنے پر مجبور کرے؟
غیبی خبریں: اگر آپ نہج البلاغہ کو جو حضرت علی(ع) کے خطبات اور کلمات کامجموعہ ہے غور سے پڑھیں تو نظر آئیگا کہ اہم حادثات و فسادات، بڑے بڑے سلاطین کے حالات، صاحب زنج کے خروج، مغلوں کے غلبے چنگیز خان کی سلطنت، خلفاۓ جور کے حالات و واقعات اور شیعوں کے ساتھ ان کےطرز عم کے متعلق حضرت نے بکثرت غیبی خبریں دی ہیں، بالخصوص ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں ص208 سے ص211 تک ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے، اور خواجہ بزرگ بلخی حنفی نے بھی ینابیع المودت باب14 کے شروع میں ان سے بعض خطبوں اور پیشین گوئیوں کے ذریعے حضرت کی کثرت علم پر استشہاد کیا ہے۔ ان کے مطالعے سے آپ کے اوپر حقیقت منکشف ہوجاۓ گی۔
معاویہ کے غلبےاور مظالم کی خبر
من جملہ ان کے اہل کوفہ کو ان کے اوپر معاویہ کے غلبے اور حضرت(ع) پر سب وشتم اور لعنت کرنے کا حکم نافذ کرنے کی خبر دی گئی ہے، چنانچہ بعد کو یہ ساری باتیں لفظ بلفظ صحیح اتریں۔ مثلا فرمایا ہے کہ:
"أَمَّا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي رَجُلٌ رَحْبُ الْبُلْعُومِ مُنْدَحِقُ الْبَطْنِ يَأْكُلُ مَا يَجِدُ وَ يَطْلُبُ مَا لَا يَجِدُ فَاقْتُلُوهُ وَ لَنْ تَقْتُلُوهُ أَلَا وَ إِنَّهُ سَيَأْمُرُكُمْ بِسَبِّي وَ الْبَرَاءَةِ مِنِّي فَأَمَّا السَّبُّ فَسُبُّونِي فَإِنَّهُ لِي زَكَاةٌ وَ لَكُمْ نَجَاةٌ وَ أَمَّا الْبَرَاءَةُ فَلَا تَتَبَرَّءُوا مِنِّي فَإِنِّي وُلِدْتُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَ سَبَقْتُ إِلَى الْإِيمَانِ وَ الْهِجْرَةِ"
یعنی عنقریب میرے بعد تمہارے اوپر ایک ایسا شخص غالب ہوگا جس کا حلق کشادہ اور پیٹ نکلا ہوا ہوگا جو پائیگا کھا جاۓ گا اورجو کچھ نہ پائیگا اس کا مطالبہ کرے گا، پس اس کو قتل کر ڈالنا اور تم اس کو ہرگز قتل نہ کرو گے۔ یقینا وہ عنقریب مجھ کو دشنام دینے اور مجھ سے بیزاری اختیار کرنے کے لئے تم کو حکم دے گا، پس دشنام دیئے کے لئے میں تم کو اجازت دیتا ہوں کیونکہ وہ (ایک زبانی چیز ہے لہذا، میرے لئے پاکیزگی اور تمہارے لئے (اس شخص کے ضرر سے( نجات کا باعث ہے لیکن برائت و بیزاری ( چونکہ قلبی چیز ہے) پس مجھ سے بیزاری اختیار نہ کرنا کیونکہ میں فطرت (اسلام و توحید) پر پیدا ہوا ہوں(یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت کے والدین مومن تھے) اور میں نے ایمان و ہجرت کی طرف پیش قدمی کی ہے)(1)
ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص 356 (مطبوعہ مصر )میں اورآپ کے دوسرے اکابر تصدیق کرتے ہیں کہ یہ معاویہ ابن ابی سفیان تھے کیونکہ جب ان کا غلبہ ہوا اور ان کی خلافت کی چولیں بیٹھ گئیں تو لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام پر لعنت اور سب وشتم کرنے اور حضرت سے بیزاری اختیار کرنے کا حکم دیا ۔ یہ عمل شنیع مسلمانوں کے اندر اسی سال رائج رہا اور محراب ومنبر اور نماز جمعہ کے خطبے میں برابر حضرت پر سب ولعن کی جاتی رہی ، یہاں تک کہ جب عمر ابن عبد العزیزاموی کا زمانہ آیا تو انہوں نے اپنے حسن تدبیر سے اس بدعت سیئہ کوبرطرف کوبرطرف کیا اور لوگوں کو اس بدترین عمل سے منع کیا -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ پر خور آدمی سے حضرت نے معاویہ کو مرد لیا ہے، چنانچہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص335(مطبوعہ مصر) میں کہتے ہیں کہ اس سے معاویہ پر خور مراد ہیں کیوں کہ تاریخ کے اندر یہ اپنی پر خوری میں مشہور ہیں۔ "وکان یاکل فی الیوم سبع اکلات"( جیسا کہ زمخشری نے ربیع الابرار میں کہا ہے) یعنی ایک دن میں سات مرتبہ کھانا کھاتے تھے اور ہر مرتبہ اس قدر کھاتے تھے کہ دسترخوان کے کنارے لیٹ جاتے تھے اور آ واز دیتے کہ " یا غلام ارفع فواللہ ما شبعت ولکن مللت" یعنی اے غلام کھانا اٹھا لے جا، خدا کی قسم میں کھاتے کھاتے تھک گیا لیکن سیر نہیں ہوا۔ معاویہ کو جوع الکلاب کا مرض تھا( طب قدیم میں بتایا گیا ہے کہ ایسے شخص کے معدے میں ایک ایسی حرارت پیدا ہوجاتی ہے کہ جو غذا معدے میں پہنچتی ہے وہ بخار کی صورت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی نفع یا نقصان ظاہر نہیں ہوتا) ان کی پر خوری عرب میں ضرب المثل بن گئی تھی اور ہر زیادہ کھانے والے کو ان سے مثال دی جاتی تھی۔ ایک شاعر نے اپنے ایک ایسے ہی دوست کی کیا پرلطف ہجوکی ہے وہ کہتا ہے۔ ؎
وصاحبليبطنهكالهاويةكأنفيأمعائه معاوية
یعنی میرا ایک رفیق ہے جس کا شکم مثل معاویہ کے ہے( ہاویہ جہنم کا ایک طبقہ ہے اور جہنم کفار کی کثرت سے سیر نہیں ہوتا جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ جہنم سے کہا جاۓ گا" ہل امتلئت فتقولی ہل من مزید" یعنی کیا تو سیر ہوگئی؟ تو کہے گی کہ آیا اور زیادہ ہے؟ مطلب یہ کہ مجھ کو سیری نہیں ہوسکتی) (اس کی خوراک اتنی زبردست ہے گویا) اس کی آنتوں میں معاویہ جی اترے ہوۓ ہیں۔
چونکہ اس قبیح و شنیع فعل کی خبر حضرت نے پہلے ہی دے دی تھی لہذا آپ کو بھی اعتراف کرنا چاہیئے کہ امیرالمومنین علیہ السلام عام غیب تھے اور علم لدنی کے ذریعہ آئندہ ہونے والے واقعات سے بخوبی آگاہ تھے۔ حضرت(ع) نے بہترین پیشین گوئیاں فرمائی ہیں جو لوگوں نے برسوں اور صدیوں کے بعد پوری ہوتے دیکھیں۔
قتل ذوالثدیہ کی پیشین گوئی
جنگ نہروان میں لڑائی چھڑنے سے پہلے ہی خوارج اور تزملا معروف بر ذوالثدیہ کے قتل کی خبر دے دی تھی اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ خوارج میں سے دس نفر بھی نہیں بچیں گے اور مسلمانوں میں سے دس نفر بھی قتل نہیں ہوں گے۔ عبارت یہ ہے:
" لا یفلت منه معشرةولایهلک منک معشرة"
چنانچہ ابن ابی الحدید اور خواجہ بزرگ بلخی وغیرہ نے نقل کیا کہ آپ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ حروف بحروف پورا ہوا۔ بالخصوص ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول مطبوعہ مصر کے ص425 پر اس روایت کے ذیل میں کہتے ہیں:
"هذاالخبرمن اخبارالتی تکادتکون متواترةلاشتهاره ونقلالناسکافةوهومن معجزاته"
یعنی یہ روایت ان اخبار میں سے ہے جوقریب بہ تواتر ہیں، کیونکہ اس کو کافی شہرت حاصل ہے۔ اور سبھی لوگوں نے اس کو نقل کیا ہے اور یہ حضرت(ص) کے معجزات میں سے ہے۔
آیا یہ باتیں غیب کی پیشینگوئی اور زمانہ آئیندہ کے حالات سے آگاہی کا ثبوت نہیں ہیں تاکہ آپ کا شبہ اور اشکال رفع ہو اور آپ حضرت کے مقام ولایت اور حقیقی منزلت کی معرفت حاصل کر کے انصاف کے ساتھ تصدیق کریں کہ حضرت اور دوسرے خلفائ کے درمیان بڑا فرق تھا؟ اگر حضرت علم لدنی کے حامل نہیں تھے اور ماوراۓ عالم طبیعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے تو ان غیبی امور کی خبر کیوں کر دیتے تھے جو برسوں اور صدیوں کے بعد واقع ہوتے تھے؟
مثلا عبیداللہ ابن زیاد کے ہاتھوں میثم تمار کے قتل ہونے، زیاد کے ہاتھوں جویریہ اور رشید ہجری کے مارنے جانے نیز معاویہ کے یاروں اور مددگاروں کے ہاتھوں عمرو بن حمق کے حادثے اور قتل کی پیشنگوئیاں اور سب سے بڑھ کے اپنے فرزند دلبند حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دینا۔ چنانچہ میں پہلے ہی اشارہ کرچکا ہوں کہ انس اور عمر سعد کو خبر دیتے ہوۓ حضرت نے اس واقعہ شہادت کا باربار ذکر فرمایا ہے، اور طبری، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص208 نیز دوسری کتابوں میں، محمد بن طلحہ شافعی، سیوطی، خطیب خوارزمی اور آپ کے دوسرے اکابر علمائ نے ان تمام روایتوں کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔
اپنی شہادت اور ابن ملجم کی خبر
انہیں اخبار غیب میں سے یہ بھی ہے کہ اپنی شہادت کی خبر دے دی تھی اور عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کے متعلق اعلان فرمادیا تھا کہ یہ میرا قاتل ہے، حالانکہ وہ ملعون بظاہر آپ سے خلوص و وفاداری کا اظہار کرتا تھا۔ چنانچہ ابن کثیر نے اسد الغابہ جلد چہارم ص25 میں اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے کہ یہ جس وقت حاضر خدمت ہوا تو اصحاب کے سامنے حضرت(ع) کی مدح سرائی شروع کی اور کہا ؎
أَنْتَالْمُهَيْمِنُوَالْمُهَذَّبُ ذُوالنَّدَىوَابْنُ الضَّرَاغِمِ فِي الطِّرَازِالْأَوَّلِ
اللَّهُ خَصَّكَ يَاوَصِيَّ مُحَمَّدٍوَحَبَاكَ فَضْلًافِي الْكِتَابِ الْمُنْزَلِ الخ
یعنی آپ امام برحق، ہر عیب وریب سے پاک اور صاحب جود وسخا ہیں۔ اور ان شیرو دلیر آباد اجداد کے فرزند ہیں جو ابتدا ہی سے صفت شجاعت میں ممتاز ہیں۔
اے وصی پیغمبر(ص) اللہ نے آپ کو اس مرتبے کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے اور آپ کو وہ فضیلت وبزرگی عطا فرمائی ہے جو قرآن مجید کے اندر موجود ہے۔ تا آخر اشعار۔
تمام اصحاب نے اس کی زبان آوری اور حضرت سے اتنی شدید محبت پر تعجب کیا۔ حضرت نے جواب میں فرمایا:
أَنَاأَنْصَحُكَمِنِّي بِالْوَدَادِمُكَاشَفَةً وَ أَنْتَ مِنَ الْأَعَادِي
یعنی میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ مجھ سے کھلی ہوئی محبت کرے حالانکہ تو میرے دشمنوں سے ہے۔
نیز ابن حجر صواعق ص82 میں کہتے ہیں کہ حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا ؎
أُرِيدُ حَيَاتَهُ وَ يُرِيدُ قَتْلِيعَذِيرَكَ مِنْ خَلِيلِكَ مِنْ مُرَادٍ.
یعنی میں اس کی زندگی چاہتا ہوں اور یہ میرے قتل کا خواہاں ہے یہ ظاہری دوست قبیلہ مراد سے ہے۔
عبدالرحمن نے عرض کیا کہ شاید آپ نے میرا نام سنا ہے اور میرا نام آپ کو ناگوار ہوا ہے؟ فرمایا۔ ایسا نہیں بلکہ میں بغیر کسی شک اور شبے کے جانتا ہوں کہ تو میرا قاتل ہے اور عنقریب میری اس سفید ڈاڑھی کو میرے سر کے خون سے خضاب کرے گا اس نے عرض کیاکہ اگر ایسا ہے تو آپ مجھے قتل کرا دیجئے۔ اور اصحاب نے بھی یہی اسرار کیا، لیکن حضرت نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ میرا دین گناہ سے پہلے قصاص لینے کی اجازت نہیں دیتا۔
میرا علم مجھ کو صاف صاف بتا رہا ہے کہ تو میرا قاتل ہے لیکن احکام دین کا تعلق ظاہری اعمال سے ہے چونکہ ابھی تجھ سے تیری ظاہری حالت کے خلاف کوئی عمل سرزد نہیں ہوا ہے۔ لہذا میں شرعا تجھ پر کوئی حکم جاری نہیں
کرسکتا۔
انگلینڈ کے مسٹر کارلائل اپنی کتاب الابطال میں کہتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب(ع) اپنی عدالت کی وجہ سے قتل ہوۓ یعنی اگر عدل و انصاف سے کام نہ لیتے اور گناہ سے قبل ہی قصاص لے لیتے تو قطعا آپ کا جسم محفوظ رہتا۔ چنانچہ دنیا کے سلاطین کوجونہی کسی شخص سے بدظنی پیدا ہوتی تھی چاہے وہ ان کا بیٹا، بھائی، بیوی یا اور کوئی قریب ترین عزیز ہی کیوں نہ ہو فورا اس کو فنا کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔
لیکن علی علیہ السلام وہ یکتا جوان مرد تھے جنہوں نے شریعت و دیانت کے دائرے سے قدم باہر نہیں رکھا باوجودیکہ قطعی اور یقینی طور سے اپنے قاتل کی نشان دہی فرمائی لیکن چونکہ ظاہر بظار اس سے جرم کا ارتکاب نہیں ہوا تھا لہذا قصاص نہیں لیا بلکہ اس کے ساتھ اتنہائی محبت و عنایت کا برتاؤ کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنی شقاوت ظاہر کردی اور یہ ثابت کر دکھایا کہ حضرت جملہ امور کے باطنی حقائق اور ان کے نتائج سے بخوبی واقف تھے۔
یہ واقعہ اپنی جگہ پر اس بات کی ایک اور دلیل ہے کہ عالم غیب سوا پیغمبر(ص) یا امام کے جو خطاؤں سے معصوم ہوتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہوسکتا ہے، اس لئے کی اگر معصوم نہ ہوتو حقائق امور سے آگاہی رکھنے کی بنا پر اس سے کافی فساد اور فتنہ انگیزی کا امکان ہے۔ البتہ نبی یا امام چونکہ مرتبہ عصمت پر فائز ہوتا ہے( جیسے امیرالمومنین علیہ السلام) لہذا اپنے قاتل کو اچھی طرح جاننے پہچانے کے بعد بھی شرع انور کے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور قبل گناہ قصاص نہیں لیتا۔
آیا اسرار و حالات غیب پر حضرت کے علم و اطلاع کے لئے یہ دلائل کافی نہیں ہیں؟ کہ ایک جوان سفر طے کر کے آیا ہو اور ا نتہائی مسرت و گرم جوشی کے ساتھ دست بوسی کر کے مدح ثنا میں مشغول ہو پھر بھی حضرت فرمائیں کہ تو میرا قاتل ہے؟
بخدااگر کچھ بھی انصاف ہوتو ماننا پڑے گا کہ حضرت علی علیہ السلام علم ظاہر و باطن کے حامل تھے۔
علی علیہ السلام کی اعلمیت و افضلیت
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب14 کے شروع میں در المنظم ابن طلحہ شافعی سے نقل کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ؎
لقدحزتعلم الاوّلين و انّنىظنين بعلم الآخرين كتوم
و كاشف اسرار الغيوب بأسرهاو عندى حديث حادث و قديم
و انّي لقيّوم على كلّ قيّممحيط بكلّ العالمين عليم
یعنی در حقیقت میں علم اولین پر حاوی ہوں، اور یقینا مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں علم آخرین کو چھپاتا ہوں، میں تمام اسرار غیب کا نکشاف کرنے والا ہوں اور میرے پاس ہر جدید و قدیم کی داستان موجود ہے۔ اورقطعا میں تمام موجودات پرفرمانروا ہوں اورمیرا علم ساری کائنات کو گھیرے ہوۓ ہے۔
اس کے بعد حضرت(ع) نے فرمایا:
"لو شئت لاوقرت من تفسير الفاتحة سبعين بعيرا قال النبى انا مدينه العلم و على بابها قال اللَّه تعالى وَ أْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوابِها فمن اراد العلم فعليه بالباب"
یعنی اگر میں چاہوں تو یقینا صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ستر اونٹ بار کردوں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، نیز خداوند عالم کا ارشاد ہے کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو۔ پس جو شخص علم کا طلب گار ہے اس کو دروازے سے آںا چاہیئے۔
اگر امیرالمومنین(ع) کی خلافت بلافصل اور دوسروں پر حضرت کی فوقیت کے ثبوت میں کوئی اور دلیل نہ ہوتی(حالانکہ عقل و نقل، کتاب وسنت اور اجماع سے بے شمار دلیلیں قائم ہیں جیسا کہ ہم گذشتہ شبوں میں بعض کی طرف اشارہ کرچکے ہیں) تو صرف یہی دو دلیلیں کافی تھیں۔
ایک حضرت کی اعلمیت و افضلیت ہے کیوں کہ عقل ومنطق کے قاعدے سےکوئی جاہل کسی عالم پر تقدم کا حق نہیں رکھتا اور حضرت کی اعلمیت و افضلیت دوست دشمن سبھی کے نزدیک ظاہر و آشکار ہے، حتی کہ ابن ابی الحدید کتاب کے خطبہ اول کے ضمن میں کہتے ہیں:
"المفضول علی الافضل " یعنی ایک پست انسان کو بلند ترین شخصیت پر فوقیت دی گئی۔
یہ عبارت حضرت کی افضلیت کا کھلا ہوا اقرار و اعتراف ہے، لیکن پھر بھی اپنی عادت اور تعصب کی بنا پر کہتے ہیں کہ خدا نے چاہا کہ ہر حیثیت سے مفضول(یعنی بالکل حقیر و بے مایہ شخص) کو افضل واکمل کے اوپر مقدم رکھے۔
حالانکہ ابن ابی الحدید جیسے عالم انسان کے قلم سے ایسا بیان اچھا نہیں معلوم ہوتا جو صاحبان علم و فضل اور ارباب منطق کے سامنے قابل اعتراض ٹھہرے اور وہ ہر عیب گیری کریں کہ انہوں نے علم و عقل اور منطق کے قاعدوں کے برخلاف عقیدہ ظاہر کیا ہے اور یہ پروردگار عالم کی ذات اقدس پر کھلی ہوئی تہمت ہے، کیونکہ خداۓ علیم و حکیم ہرگز کوئی کام عقل ومنطق کے خلاف نہیں کرتا اور کسی پست و مفضول کو بلند وفاضل پر بھی مقدم نہیں کرتا نہ کہ اعلم و افضل اور بلندترین ہستی پر جو شخص معمولی سا فہم وشعور بھی رکھتا ہے اور علم و منطق سے کچھ بھی بہرہ اندوز ہوتا ہے وہ افضل پر فاضل کو ترجیح دینے پر تیار نہیں ہوسکتا چہ جاۓ کہ افضل پر مفضول کو۔
یہ کیونکر ممکن ہے کہ خداۓ علیم و حکیم کسی مفضول پر مقدم کرے در آں حالیکہ آیت نمبر14 سورہ نمبر39(زمر) بطریق استفہام انکاری خود ہی ارشاد فرمارہا ہو کہ:
" قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ"
یعنی آیا صاحبان علم و دانش جاہلوں کے برابر ہوسکتے ہیں۔
نیز آیت نمبر36 سورہ نمبر10(یونس) میں فرماتا ہے:
"أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّايَهِدّى إِلَّآ أَن يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ".
یعنی آیا وہ شخص جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے پیروی کا زیادہ حق دار ہے یا وہ شخص جو خود ہی اس وقت تک رستہ نہ پاۓ جب تک اس کی ہدایت نہ کی جاۓ۔
پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد امت میں اعلمیت اور افضلیت کے لحاظ سے تقدم کا حق صرف امیرالمومنین علی علیہ السلام کو حاصل تھا اور ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص4 میں اس بات کا صاف صاف اقرار کیا ہے وہ کہتے ہیں:
"فانّه أفضل البشر بعد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و أحقّ بالخلافة من جميع المسلمين"
یعنی در حقیقت علی علیہ السلام حضرت رسول خدا صلعم کے بعد تمام بشر سے افضل اور امر خلافت کے لئے سارے مسلمانوں سے زیادہ اولی و احق تھے۔
اور دوسری جو پہلی دلیل سے مربوط ہے وہ رسول خدا حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے ارشادات ہیں بالخصوص جیسا کہ اس حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں:
" من أراد العلم فليأت الباب."یعنی جو شخص علم کا طلبگار ہو اس کو دروازے ( یعنی علی ابن ابی طالب(ع)) کی طرف جانا چاہیئے۔
آپ کو خدا کا واسطہ انصاف سے بتائیے کہ آیا وہ شخص اطاعت کے لئے زیادہ سزاوار و اولی ہے جس کے در پر حاضر ہونے کے لئے پیغمبر(ص) حکم دے رہے ہوں یا وہ شخص جس کو لوگوں نے اپنی راۓ سے خلیفہ بنالیا ہو؟ اول تو یہ پیغمبر(ص) کا حکم ہے جس کی اطاعت واجب ہے، دوسرے آں حضرت تقدم اور فوقیت کا سبب بھی معین فرمارہے ہیں جو وہی عقلی سبب یعنی اعلمیت ہے۔
شیخ: اگراعلمیت اور افضلیت کی جہت سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو حق تقدم تھا تو رسول اللہ(ص) کو ان جناب کے لئے نص کردینا چاہیئے تھا تاکہ امت کو معلوم ہوجاۓ کہ آپ کی پیروی فرض ہے، حالانکہ ایسی کوئی نص ہماری نظر
سے نہیں گزری۔
خیر طلب: آپ جیسے عالم و فاضل حضرات سے ایسے بیانات سن کر مجھ کو سخت افسوس ہوتا ہے کہ آخر آپ کے اوپر عادت کا اتنا شدید اثر پڑجانے کی کیا وجہ ہے کہ وہ آپ کے علم و دانش اور حق پسندی کو بالکل ہی مقہور و مغلوب کردے۔
جناب محترم! آج مجھ کو دس راتیں ہو رہی ہیں کہ برابر آپ کی معتبر کتابوں سے دلائل و براہین اور نصوص واردہ کو جلسے کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں جس پر جملہ حاضرین مجلس اور رسائل واخبارات گواہ ہیں، لیکن آج آپ پھرنئے سر سے بحث کا آغاز کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی نص نہیں دیکھی، در آں حالیکہ آپ کی ساری معتبر کتابیں جلی اور خفی نصوص کی کثرت سے چھلک رہی ہیں۔
باوجوداس کے میں تمام باتوں سے چشم پوشی کرتے ہوۓ آپ سے ایک سوال کرتا ہوں کہ آیا امت رسول اللہ صلعم کے علم و سیرت کی محتاج ہے یا نہیں؟
شیخ: کھلی ہوئی بات ہے کہ تمام صحابہ اور امت کو قیامت تک رسول خدا کے علوم عالیہ اور سیرت متعالیہ کی ضرورت ہے۔
خیر طلب: خدا آپ کوجزاۓ خیر دے۔ اگر خلافت و امامت کے بارے میں سوا اس حدیث مدینہ کے آں حضرت(ص) سے اور کوئی بھی نص صریح وارد نہ ہوتی تو یہ اثبات مقصد کے لئے کافی تھی کیونکہ صریحی طور پر سے فرمایا ہے:
" أنا مدينة العلم و علي بابها و من أراد العلم فليأت الباب."
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ جو شخص چاہتا ہے وہ اس کے دروازے پر آے۔
بقول پیغمبر(ص) علی(ع) اعلم امت تھے
کونسی نص اس حدیث سے زیادہ صریح و واضح ہوسکتی ہے کہ ارشاد ہوتا ہے جو شخص میرےعلم سے بہرہ اندوز ہونا چاہتا ہے اس کو علی(ع) کے دروازے پر جانا چاہیئے کیونکہ وہ میرے باب علم ہیں؟ اس وقت صبح ہونے والی ہے، ساری رات میں نے اس موضوع پر پوری گرم جوشی کے ساتھ گفتگو کی اور آپ حضرات کا وقت لیا لیکن آخر میں آپ نے میرا سارا ولولہ سرد کردیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے اسلاف کے مانند آپ بھی عادتا کسی قاعدے کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہتے اسی وجہ سے میری تمام تقریروں کو ان سنی کر کے نص سے انکار کر رہے ہیں۔
کون سی علم کی نص سے بالاتر ہوگی؟ سارے اقوام و مذہب کے اندر کون سے عالم و دانا شخص نے یہ کہا ہے، کہ عالم اور اعلم کے ہوتے ہوۓ بھی لوگوں کو جاہل کی پیروی کرنا چاہیئے؟ اگر دنیا کے اندر کسی علم و منطق میں ایسی بات کہی گئی ہو تو میں آپ کا نظریہ تسلیم کر لوں گا۔
اور اگر عالم کے کسی گوشے میں اس منطق کا وجود نہ ہو کہ عالم اور اعلم کی موجودگی میں جاہل کی اطاعت فرض ہے تو آپ کو میرا کلیہ ماننا ہوگا جو میرا ہی نہیں بلکہ تمام اربابِ علم و دانش کا کلیہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام چونکہ اعلم امت تھے، لہذا علم و عقل اور منطق کے حکم سے آپ کا اتباع فرض ہے۔
چنانچہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ آپ کے اکابر علماء جیسے امام احمدحنبل نے مسند میں، ابوالموید خوارزمی نے مناقب میں حافظ ابونعیم اصفہانی نے نزول القرآن فی علی میں، خواجہ بزرگ حنفی نے ینابیع المودت میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں یہاں تک کہ ابن حجر مکی نے صواعق میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکرر فرماتے تھے۔
" اعلمامتی علی ابن ابی طالب")یعنی میری امت میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے علی ابن ابی طالب(ع) ہیں۔
صحابہ میں سے ایک فرد بھی حضرت کے علمی مرتبہ کو نہیں پہنچتے، جیسا کہ ابن مغازلی شافعی مناقب میں، محمد بن طلحہ مطالب السئول میں، حموینی فرائد میں شیخ سلیمان حنفی ینابیع المودت باب14 میں، کلبی سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن عباس(جرامت) نے کہا:
" علم النّبىّ صلى اللَّه عليه و آله و سلّم من علم اللَّه و علم علىّ من علم النّبىّ و علمى من علم علىّ و ما علمى و علم الصّحابة في علىّ الّا كقطرة بحر في سبعة ابحر".
یعنی رسول اللہ(ص) کا علم خدا کے علم سے، علی کا علم پیغمبر(ص) کے علم سے اور میرا علم علی(ع) کے علم سے ہے، اور میرا اور تمام صحابہ کاعلم علی(ع) کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے ساتوں سمندروں کے مقابلے میں ایک قطرہ۔
نہج البلاغہ خطبہ نمبر108 کے آخرمیں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:
" نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفُ الْمَلَائِكَةِ وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ وَ يَنَابِيعُ الْحِكَمِ "
ینعی ہم ( ائمہ معصومین علیہم السلام) شجرۃ نبوت، رسالت کی منزل، فرشتوں کی جاۓ آمد و رفت، علم کے معدن اور حکمتوں کے چشمے ہیں۔
ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص236 ( مطبوعہ مصر) میں اس خطبے کی شرح کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ یہ امر حضرت کے اندر قطعی طور سے ثابت اور ظاہر ہے کیونکہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے:
" أنا مدينة العلم و علي بابها و من أراد العلم فليأت الباب."
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں اور جو شخص شہر کا ارادہ کرے وہ دروازے کے اوپر آۓ۔
نیز فرمایا: "اقضاکم علی(ع)" یعنی تم سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی(ع) ہیں۔
فیصلہ اور قضا ایک ایسا کام ہے جس کے لئے بہت سے علوم ضروری ہیں، منجملہ ان کے۔
"و بالجملة فحاله في العلم حالة رفيعة جدّا لم يلحقه أحد فيها و لا قاربه، و حقّ له أن يصف نفسه بأنّه معادن العلم، و ينابيع الحكم، فلا أحد أحقّ به منها بعد رسول اللّه- صلى اللّه عليه و آله-".
یعنی آپ کی علمی حیثیت اتنی زیادہ بلند ہے کہ کوئی شخص اس میں آپ کے برابری نہیں کرسکا، بلکہ کوئی شخص آپ کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔ اور آپ کو اپنی یہ تعریف و توصیف کرنے کا حق حاصل ہے کہ ہم علم کے معدن اور حکمت کے چشمے ہیں پس رسول اللہ(ص) کے بعد کوئی ایک فرد بھی ان باتوں میں سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔ انتہی۔
ابن عبدالبر نے استیعاب جلد سیم ص38 میں، محمد بن طلحہ نے مطالب السئول ص23 میں اور قاضی ایجی نے مواقف ص276 میں روایت کی ہے کہ رسول خدا صلعم نے فرمایا:"اقضاکم علی "
چنانچہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص115 میں، حافظ ابونعیم نے حلیتہ الاولیاء جلد اول ص65 میں، محمد جزری نے اسنی المطالب ص14 میں، محمد بن سعد نے طبقات ص459 میں، ابن کثیر نے تاریخ کبیر جلد ہفتم ص359 میں ابن عبدالبر نے استیعاب جلد چہارم ص38 میں خلیفہ عمر ابن خطاب سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے علی اقضافا یعنی علی(ع) امر قضاوت میں( جس کا مطلب ہے جملہ علوم و فنون کی مہارت میں) ہم سب سے بہتر اور مقدم ہیں۔
ینابیع المودت ص69 میں نقل کرتے ہیں کہ صاحب در المنظم ابن طلحہ کہتے ہیں:
" اعلم ان جمیع اسرار الکتب السماویةفی القرآن وجمیع مافی القرآن فی الفاتحةوجمیع ما فی الفاتحةفی البسملةوجمیع ما فی البسلمةفی باءالبسملةوجمیع مافی باءالبسلمةفی النقطةالتی هی تحت الباءقال الامام علی کرم الله وجهه اناالنقطةالتی تحت الباء"
یعنی جان لو کہ حقیقتا تمام آسمانی کتابوں کے رموز و اسرار قرآن کے اندر ہیں، اور جو کچھ قرآن میں ہے وہ سب سورہ فاتحہ کے اندر ہے اور جو کچھ سورہ فاتحہ میں ہے وہ سببسم اللہ الرحمن الرحیم کے اندر ہے اور جو کچھ بسم اللہ میں ہے وہ سب باۓ بسم اللہ کے اندر ہے اور جو کچھ باۓ بسماللہ میں ہے وہ سب اس نقطہ کے اندر سمٹا ہوا ہے جو باۓ بسم اللہ کے نیچے ہے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ میں وہ نقطہ ہوں جو باۓ بسم اللہ کے نیچے ہے۔
نیز سلیمان بلخی ینابیع المودت میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
" أخذ بيدي الامام علي ليلة فخرج بي الى البقيع و قال: اقرأ يا ابن عباس فقرأت: بسم اللّه الرحمن الرحيم، فتكلم في أسرار الباء الى بزوغ الفجر."
یعنی ایک مرتبہ چاندنی رات میں عشا کے بعد حضرت علی علیہ السلام میرا ہاتھ پکڑ کے قبرستان بقیع کی طرف لے گئے اور فرمایا پڑھو اے عبداللہ، پس میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کی اور آپ نے طلوع صبح تک مجھ سے باۓ بسم اللہ کے رموز و اسرار بیان فرماۓ۔
اس پر فریقین کا اتفاق ہے کہ اسرار غیب کےعالم اور علوم انبیائ(ع) کے وارث کی حیثیت سے امیرالمومنین علیہ الصلوۃ والسلام تمام صحابہ کے درمیان یکتا اور فرد تھے۔
چنانچہ محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں در المنظم ابن طلحہ حلبی سے نقل کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے۔
" سلونی عن اسرار الغیوب فانی وارث علوم الانبیاء والمرسلین"
مجھ سے غیبی اسرار دریافت کرو کیوںکہ یقینا میں انبیاء و مرسلین کے علوم کا وارث ہوں۔
نیز امام احمد بن حنبل نے مسند میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور سلیمان بلخی نے ینابیع المودت میں نقل کیا ہے کہ حضرت بالاۓ منبر فرماتے تھے۔
"سلوني قبل أن تفقدوني، اسألوني عن طرق السموات، فإنّي أعرف بها مني بطرق الأرض"
یعنی پوچھ لو مجھ سے قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاؤ، مجھ سے آسمانوں کی راہوں کے بارے میں دریافت کرو۔ کیونکہ یقینا میں زمین کی راہوں سے زیادہ ان سے واقف ہوں۔
حضرت(ع) کا یہ دعوی اس زمانے میں جب کہ آج کے مانند آسمانی سیر وسلوک کے وسائل مہیا نہیں تھے۔ غیبی حالات کی آگاہی پر ایک بہت بڑی دلیل ہے، چنانچہ لوگ بارہا اس قسم کےسوالات کرتے تھے اور حضرت آسمانوں اور فضائی کروں کے متعلق خبریں دیتے تھے۔
اس کے علاوہ جس زمانہ میں بطلیموس مصری کے علم ہیئت کا چرچا تھا لوگوں کو آج کی ہیئت جدید کے مطابق جوابات دیتا خود ایک بڑا معجزہ ہے۔
ہیئت جدید کے مطابق فضائی کرات کی خبر
چنانچہ محقق و محدث شیخ علی ابن ابراہیم قمی قدس سرہ نے جو تیسری صدی ہجری میں ریاست علمی پر فائز تھے تفسیر سورہ والصافات میں، فاضل بغوی شیخ فخر الدین ابن طریح نجفی نے جن کو زہد و تقوی میں شہرت حاصل تھی اپنی مشہور و معروف کتاب لغت مجمع البحرین جو تقریبا تین سو سال قبل تالیف ہوئی ہے لغت کوکب کے ذیل اور علامہ ملا محمد باقر مجلسی علیہ الرحمہ نے بحارالانوار کی جلد 14 " السماء والعالم" میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا:
"هَذِهِ النُّجُومُ الَّتِي فِي السَّمَاءِ مَدَائِنُ مِثْلُ الْمَدَائِنِ الَّتِي فِي الْأَرْضِ "
یعنی یہ ستارے جو آسمان میں ہیں ان بھی شہر آباد ہیں جس طرح زمین میں شہر موجود ہیں۔
خدا کے لئے انصاف کیجئے کہ ایک ایسے دور میں جب کہ دنیا کے اندر ہیئت جدید کا کوئی ذکر نہیں تھا ہیئت بطلیموسی بھی جس پر اس زمانہ کے صاحبان علم الافلاک کا دارو مدار تھا یہ بتاتی تھی کہ کواکب اور ستارے صرف اجرام نور اور آسمان کی میخیں ہیں اور آج کی رصدگاہیں اور دوربینیں بھی موجود نہیں تھیں جو کروں اور ستاروں کے حالات بتاتیں۔ اگر کوئی فرد بشر آسمانی کیفیات اورفضائی کرات کے متعلق کوئی خبر دے اور وہ بھی اس عل ہیئت کے مطابق جو ایک ہزار برس کے بعد علماء کے نزدیک ثابت ہوتو کیا آپ ایسے خبر دینے والے کو غیب کا عالم نہیں سمجھیں گے اور اس خبر کو اخبار غیب میں شمار نہیں کریں گے؟
اگر آپ اس تعلیم کے اخبار کے لئے جو آپ کے اکابر علماء کی کتابوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے بکثرت مروی ہیں یہ کہنے کی کوشش کریں کہ یہ علم غیب نہیں ہے تو یہ اتنہائی بے لطفی کی بات ہوگی اور اس سے آپ کا پورا تعصب ظاہر ہوگا کیونکہ خبر خود ہی اس امر عظیم پر دلالت کرتی ہے اگر ملکوت اعلی اور کرات جویہ کے حالات بیان کئے جائیں جن کی کیفیت عام طور پر نگاہوں سے اوجھل تھی( یہاں تک کہ آج بھی جب کہ بہت طاقتیں دوربینیں موجود ہیں بغیر خاص حالات کے اس کو دیکھنا ممکن نہیں ہے) اور علوم جدیدہ بھی تیرہ سوسال بعد اس انکشاف کی حقیقت و نوعیت کی تصدیق کر رہے ہوں تو ماننا پڑے گا کہ یہ عالم غیب کیخبر تھی اور اعتراف کرنا پڑے گا کہ امام المسلمین امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام غیب کے عالم تھے جو بغیر کشف و انکشاف کے ان اسباب و وسائل کے جو اس زمانے میں ایجاد ہوۓ ہیں اپنی معمولی نظر سے عالم الملکوت کے اسرار کا جائزہ لے لیتے تھے۔
قطعی طور پر ایک نقطہ رس انسان ہزار سال کی یہ خبریں سنتے ہی فیصلہ کردے گا کہ خبر دینے والا عالم غیب تھا۔
فرانسیسی مستشرق موسیوژئن سے گفتگو
موقع کے لحاظ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرات کی اجازت سے ایک مطلب کی طرف اشارہ کردوں جو اسی سفر میں میرے سامنے آیا جس وقت ہم عراق عرب کے سدحدی شہر بصرہ سے وارملا جہاز میں سوار ہوۓ تو ہم درجہ اول کے جس کیبن میں تھے اس کے اندر سونے کی تین سیٹیں تھیں، اتفاق سے ایک فرانسیسی مستشرق موسیوژوئن بھی اسی درجہ میں تھے جو بڑے شریف و دانش مند اور فاضل و مہذب انسان تھے، باوجویکہ یہ فرانس کے رہنے والے تھے لیکن عربی اورفارسی بہت اچھی جانتے تھے لہذا ہم دونوں آپس میں کافی مانوس ہوگئے اور روزانہ علمی اور دینی گفتگو میں مصروف رہتے تھے۔
البتہ میری پوری کوشش تھی کہ اپنا فرض انجام دیتے ہوۓ ان بزرگوار کو مقدس دین اسلام اور مذہب حقہ، جعفری کے حقائق سے روشناس کراؤں۔
ایک روز دوران گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس کا اعتراف ہے کہ دین اسلام کے اندر کچھ ایسے خصوصیات ہیں جو دوسرے مذاہب میں نہیں ہیں، اس لئے کہ اسلام نے ہر مقام پر اور ہر کام میں اعتدال کو اپنا دستورالعمل بنایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ نہ بھولئے کہ علمی انکشافات میں یورپ والے جو حضرت مسیح کے پاک دین کی پیروی کرتے ہیں سب سے آگے ہیں اور انہوں نے اپنی ترقی سے دنیا بھر کو ممنون احسان بنایا ہے۔
خیر طلب: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل مغرب اور دوسروں نے بھی علمی انکشافات میں سعی بلیغ کی ہے، لیکن دیکھنا یہ چاہیئے کہ ان کے علمی تمدن کا سرچشمہ کہاں ہے اور علوم وفنون میں ان کے استاد و معلم کو ن سے لوگ تھے۔ چونکہ آپ خود ایک عالم و فاضل انسان ہیں اور ہر چیز کی حقیقت پر غور کرچکے ہیں لہذا یقینا آپ تصدیق کریں گے کہ مغرب والوں کے علوم و فنون کا سرچشمہ اسلام اور مسلمان تھے نہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے تعلیمات۔
کیونکہ تاریخی شہادت کے مطابق اہل مغرب آٹھویں صدی عیسوی تک وحشت و بربریت میں غرق تھے در آنحالیکہ اسی دور میں مسلمان علم و ہنر کے علمبردار تھے چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء جیسے ارنسٹ رنان فرانسیسی، انگلینڈ کے کارلائل اور جرمنی کے نور مال اس حقیقت کے معترف ہیں۔ اسی سفر میں جب میں زیارت کاظمین سے مشرف ہوا تھا تو ایک رات نواب محمد حسین خان صاحب قزلباش کا مہمان ہوا جو محترم قزلباش خاندان سے اور بہت شریف انسان ہیں برسوں سے کربلا اور کاظمین میں سکونت پذیر ہیں اور فی الحال سارے عراق عرب میںمعاون سفر ہیں۔ اتفاق سے تمدن اسلام کے بارے میں یورپ والوں کے اقرار و اعتراف کا ذکر آگیا تو موصوف نے فرمایا کہ ابھی بھی ایک فرانسیسی عالم کی کتاب کا اردو زبان ترجمہ ہوا ہے جس کی ایک جلد میرے پاس بھی آئی ہے۔ کتاب بہت عمدہ ہے۔ اور
ہندوستان کے فاضل جلیل مولوی سید علی بلگرامی نے ترجمہ کیا ہے۔
اس کتاب کا نام" تمدن العرب" ہے اور بہت ضخیم مفصل اور استدلالی تالیف ہے۔ اس کے مولف طب اور حقوق و اقتصادیات کے ڈاکٹر اور یورپ کے مشہور عالم" گوسٹادلوبون" ہیں جنہوں نےتقریبا چار سو عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اہل مغرب نے جس قدر علم و تمدن صنعتیں، حرفتیں، یہاں تک کہ تہذیب و معاشرت کا طریقہ، ملکی، مملکتی، فوجی اور صوبائی اداروں کی تشکیل اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے اصول حاصل کیئے ہیں وہ سب اہلِ عرب کے اعلی تعلیمات کا نتیجہ ہیں۔ ( بدیہی چیز ہے کہ یورپ والوں کے محاورے میں جیسا کہ اس عالم نے اپنی کتاب کا نام " تمدن العرب"رکھا ہے عرب سےمراد مسلمان عرب ہیں ورنہ اعراب قبل اسلام تو ہر علم و ادب سے عاری تھے)
موسیوژئن: ہاں وہ کتاب خود فاضل مولف ڈاکٹر گوسٹالوبون نے، پیرس میں مجھ کو دی تھی اور سچی بات یہ ہے کہ بہت محنت سے لکھی ہے اور خوب لکھی ہے۔
خیر طلب: نواب صاحب نے وہ کتاب مجھ کو عنایت فرمادی لیکن چونکہ میں اردو زبان نہیں جانتا تھا( اب ہندوستان) آنے کے بعد ضرورت رفع کرنے کے لئے کچھ سیکھ لی ہے) لہذا موصوف نے اس مبارک شہر میں میرے قیام کی مدت یعنی صرف دس روز کے اندر خصوصیت کے ساتھ دسویں باب کی دوسری فصل( مغرب میں تمدن اسلام کی تاثیر) کا پورا ترجمہ کر کے مجھ کو عطا فرمایا۔ میں صرف اس محبت سے بہت ممنون(1) ہوا۔ میں نے وہ اوراق کھول کر اپنے ہمسفر فرانسیسی مستشرق صاحب کے سامنے پڑھے اور کہا ملاحظہ فرمایئے یہ آپ
کے ہموطن فرانسیسی عالم اور ڈاکٹر جن کے مرتبے کی بلندی آپ خود تسلیم کرتے ہیں اس فصل میں مذکورہ بالا حقیقت کا اقرار کرتے ہوۓ کیا فرماتے ہیں؟
یورپ میں تمدن اسلام کی تاثیر پر گوسٹاولوبوں کا بیان
تمدن اسلام نے جتنا اثر مشرق کے اوپر ڈالا اسی قدر مغرب بھی اس سے متاثر ہوا اور اسی ذریعہ سے یورپ تمدن میں داخل ہوا۔ اس تمدن نے مغرب کو جتنےاثرات بخشے ہیں اگر ہم ان کی جانچ کرنا چاہیں تو ہم کو دیکھنا ہوگا کہ مذکورہ تمدن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ اب مولوی سید محمد تقی فخر داعی گیلانی نے جو ایک ایرانی عالم ہیں تہران میں اس کتاب کا اردو سے فارسی میں ترجمہ کر کے چھپوا دیا ہے۔ حق یہ ہے کہ موصوف نے اسلامی علوم و معارف کی ایک بڑی خدمت کی ہے۔ کا شکر ہمارے علمائ اور اہل قلم ان سے سبق حاصل کرتے اور بجاۓ ناولوں اور مصر و یورپ وغیرہ کی اخلاق و عقائد کو بگاڑنے والی کابوں کا ترجمہکرنے کے اس قسم کے مفید و کار آمد ترجمے کرتے۔ 12۔
اب میں نے تہران میں جناب فخرداعی کے ترجمے سے اس کی مطابقت بھی کر لی ہے۔12۔
کے داخل ہونے سے پہلے یورپ کا ماحول اور یورپ والوں کے حالاتِ زندگی کیا تھے۔ نویں اور دسویں عیسوی میں جس وقت تمدن اسلام مملکت اسپین میں اپنی ترقی اور عروج کی آخری منزل پر پہنچا ہوا تھا سارے یورپ میں سوا ان کلیساؤں کے جن پر ایسے جاہل راہبوں کا تصرف تھا جو اپنے کو عالم سمجھتے تھے اور لوگوں کو اپنے مذہبی فضولیات کا عادی بنا رہے تھے، کوئی مہذب خطہ یا علمی مرکز موجود نہیں تھا۔
بارھویں صدی ہجری سے جب کہ بعض حساس اشخاص علم و فہم حاصل کرنے کے درپے تھے، ان کے پاس سوا اسلام اور مسلمانوں کے جن کو یہ ہر حیثیت سے استاد اور سب سے بلند و بہتر سمجھتے تھے اور کوئی علمی ادارہ نہیں تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اندلس کے مدرسوں میں جاکر مسلمانوں کےتعلیمات سے فیض یاب ہوتے تھے۔ تمام اہل علم کو مسلمانوں کا ممنون احسان ہونا چاہیئے کیونکہ انہوں نے علم و فن کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور سارے عالم میں اس کو رواج دیا ہے۔ عرب کے مسلمانوں کا ہم اہل مغرب کی ترقی یافتہ زندگی پر بہت بڑا حق ہے اور تمدن مغرب کو در اصل تمدن عرب کہنا چاہیئے۔ انتہی۔
یہ ایک مختصر سا خلاصہ تھا اس بیان کا جو آپ کے مشہور فرانسیسی عالم نے درج کتاب کیا ہے۔ جناب عالی بھی چونکہ دوسرے تمام اہل مغرب کے مانند یورپ کے موجود علم و صنعت اور انکشافات پر فخر و مباہات فرمارہے ہیں لہذا بہتر ہوگا کہ یورپ کے پچھلے زمانوں پر ایک نظر ڈالیں اور ساتھ ہی قبل اسلام کے جزیرۃ العرب کی تاریخ اور حالات کاجائزہ لیں تاکہ حقیقت بے نقاب ہوسکے۔
جس زمانہ میں آپ کا یورپ حتی کہ پیرس بھی( جو آج علم وتمدن کا گہوارہ ہے) وحشت و بربریت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسوقت صرف جزیرۃ عرب سے اسلام اور مسلمین کے قائد اعظم خاتم الانبیائ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی میں عرب مسلمانوں کے توسط سےعلم وہنر اور تمدن کے سرچشمے پھوٹے اور ساری دنیا میں پھیلے۔
میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ماضی کے دور سے ایک پردہ ہٹاؤں تاکہ آپ کو مسلمان عربوں اور یورپ والوں کے تمدن سے روشناس کرسکوں اور حقیقت کماحقہ ظاہر ہوجاۓ۔
ہارون کی طرف سے شارلِمان کو مسلمانوں کی بنائی ہوئی گھڑی کا تحفہ
آپ خود جانتے ہیں کہ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں فرانس کے شہنشاہ امپراطور شارلمان کے خدمات جلیلہ سے یورپ نے ترقی کی منزلیں طے کیں لیکن اس کے باوجود اسی زمانہ میں جب اس نے بغداد کے اسلامی دربار خلافت سے اپنے روابط مضبوط کئے اور تحف و ہدایا روانہ کئے تو اس کے عوض میں ہارون الرشید عباسی نے جو تحفے اور ہدیے شارلمان کو بھیجے ان میں جواہرات، لباسہاۓ فاخرہ یا مسلمانان عرب کے بنے ہوۓ کپڑوں اور ایک بڑے ہاتھی کے علاوہ جس
کو یورپ والوں نے ابھی تک نہیں دیکھا بھی نہیں تھا، ایک بہت بڑی گھڑی بھی جس کو فرانس والوں نے اپنے شاہی محل کے اوپر نصب کیا۔ یہ گھڑی مسلمان عربوں کی ہنرمندی کا نمونہ تھی۔ جس میں چوبیس گھنٹوں کی تقسیم اس طرح کی گئی تھی کی ایک بڑے طلائی پیالے ہیں دھات کی بنی ہوئی گولیوں کے گرنے سے آواز پیدا ہوتی تھی۔
شارلمان کے دربار کے فرانسیسی صاحبان علم وہنر بلکہ تمام باشندگان پیرس ( جو آج کے متمدن یورپ کا پایہ تخت ہے) مل کر بھی اس عظیم صعنت کی حقیقت اور نوعیت کو نہیں سمجھ سکے، جیسا کہ گوسٹاولوبون نے تمدن العرب میں اور دوسرے علماء و مصنفین نے اپنے تالیفات میں درج کیا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یورپ کے تمدن کا مسلمان عربوں کے تمدن سے اور بہتر موازنہ کریں تو شارلمان کے زمانہ کیتاریخ اور مسلمانوں کی بنائی ہوئی گھڑی کا قضیہ ملاحظہ فرمایئے تاکہ حقائق روشن ہوجائیں لکھتے ہیں کہ جب قصر شاہی کے اوپر ایک بڑے برج میں وہ گھڑی نصب کر کے اس کے اوپر سے دھکن ہٹایا گیا اور پیرس کے لوگوں نے اس کی سوئیاں چلتی ہوئی دیکھیں تو لکڑیاں، گزر اور طرح طرح کے حربے لے کر عمارت کے اوپر حملہ کردیا۔ جب شارلمان کو اطلاع دی گئی کہ رعایا نے انتہائی جوش کے ساتھ دھاوابول دیا ہے تو اسنے محل کے دروازے بند کرادئے اور درباری علماء و وزرائ کو تحقیق حال کے لئے بھیجا۔ کافی بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ ان کو سطنت سے کوئی مخالفت نہیں ہے بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ برسوں سے پادری لوگ ہم کو بتاتے آۓ ہیں کہ انسانیت کے بڑے دشمن شیطان دور رہنا۔ ہم برابر اس عظیم دشمن کی تاک میں رہتے تھے کہ کہاں اس پر قابو حاصل ہو اور ہم اس کو ختم کر کے اس کے شر سے چھٹکارا پائیں، یہاں تک کہ یہ برج بتایا گیا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر ہم کو بہکانے کے لئے عجیب عجیب حرکتیں کر رہا ہے، لہذا ہم نے اس برج کو مسمار کرنے اور عالم بشریت کے سب سے بڑے دشمن کو قتل کرنے کے لئے حملہ کیا ہے۔ مجبورا بزرگان قوم کے چھوٹے چھوٹے جتھوں کو برج کے اوپر لے جاکر گھڑی کی ساخت اور مسلمانوں کی ہنرمندی دکھائی گئی اور انہوں نے عوام کےسامنے جاکر اس کی تشریح کی تب وہ لوگ عذر ومعذرت کر کے وہاں سے رخصت ہوۓ پس آپ یہ نہ فرمائیے کہ مسلمان یورپ والوں سے پیچھے تھے۔ یہ لوگ پیچھے تھے نہیں بلکہ اس وقت سے پیچھے رہ گئے ہین جب سے اہلِ مغرب بیدار ہوۓ اور اندلس قرطبہ، اشبیلہ، اسکندریہ اور بغداد وغیرہ میں مسلمانوں کی علم و ہنر کی درس گاہوں سے علوم اور ضایع و بدایع کی تعلیم حاصل کر کے سعی و عمل کے درپے ہوۓ، یہاں تک کہ عروج و ترقی کی چوٹی پر پہنچ گئے اور مسلمان اس طرف مغرور و کاہل اور تن پرست ہوکر بے حسی میں مبتلا ہوگئے لہذا پیچھے رہ گئے اور اس حالت کو پہنچ گئے جو آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ ایک دن ہمارے پاس کیا کچھ نہیں تھا لیکن آج ہم ہر چیز کے محتاج ہوچکے ہیں۔ ہمارے حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے ؎
سالہا وں طلب جام جم آزما می کردآنچہ خود داشت زبیگانہ تمنا می کرد
ان باتوں سے قطع نظر آپ کی علمی اور صنعتی ترقیوں کا تعلق حضرت عیسی علیہ السلام سے نہیں ہے بلکہ یہ سب ( آپ کے عقیدے کے مطابق) حضرت مسیح کو سولی دیئے جانے کے ایک ہزار سال بعد اہل مغرب کی سعی و کوشش کا نتیجہ ہے اور وہ بھی مسلمان عربوں سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے بعد غرضیکہ اس موضوع پر کافی دیر تک گفتگو رہی یہاں تک کہ ہم اس منزل پر پہنچے کہ میں نے کہا مسلمانوں کے پیشواؤں اور دنیا کے تمام ارباب علم و دانش کے درمیان فرق یہ ہے کہ یہ لوگ اسباب وآلات کے ذریعہ انکشافات کرتے ہیں اور وہ حضرات ان کے محتاج نہیں تھے۔
چنانچہ میں نے اپنے مقصد کے ثبوت میں آئمہ طاہرین علیہم الصلوۃ والسلام کے چند ارشادات جراثیم وغیرہ کےبارے میں پیش کئے کہ جس زمانے میں خردبینوں اور دور بینوں کا دنیامیں کہیں وجود نہیں تھا( یعنی آج سے تیرہ سو برس پہلے) اسلام کے بزرگ پیشوا بھی ہمارے پیغمبر(ص) کی عترت میں سے آئمہ معصومین(ع) بغیر ظاہری وسائل اور آلات کے اپنی معمولی نظر سے جراثیم کو دیکھ کر ہمیں بتاچکے ہیں اور ان سے پرہیز کرنے کی ہدایت فرماچکے ہیں آپ لوگ آج اس چیز پرفخر ومباہات کرتے ہیں کہ طاقت ور دوربینوں اور رصدگاہوں کے ذریعے فضائی کرات، ہوائی موجودات اور کواکب وسیارات ک مخلوقات سےکسی قدر واقفیت حاصل کر لی ہے۔ لیکن تیرہ سو برس قبل مسلمانوں کے دوسرے پیشوا اور اہل اسلام کے معلم ثانی یعنی امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوۃ والسلام بغیر بڑی بڑی دوربینوں رصدگاہوں اور آلات و اسباب کے ہیئت جدید کے مطابق آسمانی کروں کی خبر دے چکے ہیں، اس کے بعد میں نے ان کے سامنے حدیث پیش کی جس کا ابھی آپ کے سامنے حوالہ دے چکا ہوں کہ حضرت نے فرمایا:
"هَذِهِ النُّجُومُ الَّتِي فِي السَّمَاءِ مَدَائِنُ مِثْلُ الْمَدَائِنِ الَّتِي فِي الْأَرْضِ "
یعنی آسمان کے ان ستاروں میں بھی شہر شہر آباد ہیں جس طرح زمین میں ہیں۔
موسیوژئن: ( قدرے سکوت اورغور و فکر کے بعد) حدیث کو یاد کر کے کہا کہ میں چاہتا ہوں جن کتابوں میں یہ حدیث درج ہوئی ہے ان کے نام مجھ کو لکھوا دیجئے، چنانچہ میں نے لکھوا دیئے اس کے بعد موصوف نے کہا کہ لندن اور پیرس میں دنیا کے عظیم ترین اور خاص کتب خانے موجود ہیں جن میں ہرکتاب کے قلمی نسخے بھی موجود ہیں، میں پہلے لندن جاؤں گا اس کے بعد پیرس کے کتب خانوں میں ان کتابوں کا گہرا مطالعہ کروں گا اور علماء و مستشرقین سے اس موضوع پر بحث کروں گا۔ اگر دیکھوں گا جو آپ نے حوالہ دیا ہے۔ ان کی تالیف رصدگاہوں اور آسمانی دوربینوں کی ایجاد سے پہلے ہوئی ہے تو میں آپ سے عہد کرتا ہوں اور عیسی علیہ السلام اور محمد صلعم کے خدا کو اپنےاور آپ کے درمیان گواہ قرار دیتاہوں کہ تحقیق اور پورا اطمینان کرنے کے بعد مسلمان ہوجاؤں گا۔ اس لئے کہ بغیر اسباب وسائل کے ایک ہزار سال قبل ایسے خبر دینے والا انسان ہرگز یہ دنیاوی نظر نہیں رکھتا تھا بلکہ یقینا ملکوتی
چشم و نگاہ کا مالک اور الہی قوت کا حامل تھا۔ پسایسے پیشوا کی موجودگی میں دین اسلام بھی قطعا آسمانی دین ہوگا کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) کا جانشین طاقت بشری سے مافوق ایسی قوت اور علم کا مالک تھا۔ انتہی۔(1)
محترم حضرات! جس مقام پر اجنبی اور غیر اشخاص بغیر جذبہ محبت و عداوت کے صرف عقلی قاعدے اور علمی اصول کی بنیاد پر ایسا بے لاگ فیصلہ کریں وہاں ہم کو اور آپ کو بدرجہ اولی اس طریقے پر کاربند ہونا چاہیئے۔ چنانچہ انہیں دونوں قاعدوں کے روسے جس کو پیغمبری کے لائق اور شرائط جامع پائیں اس کی پیروی کریں، نیز اسی طرح مقام خلافت اور جانشینی رسول کا چشم انصاف اور نگاہ بصیرت سے جائزہ لیں اور غرض رانی و تعصب سے الگ ہو کر عادت کا لباس اتاردیں تو بخوبی سمجھ لیں گے کہ رسول خدا(ص) کے بعد صحابہ میں سے کسی کو بھی اس کی لیاقت حاصل نہ تھیکہ امیرالمومنین سے زیادہ زہد و اعلم اور افضل ہو اس کے علاوہ نسب میں بھی بالاتر ہو۔
جملہ علوم حضرت علی(ع) تک منتہی ہوتے ہیں
اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت جملہ فضائل وکمالات کے جامع تھے، علوم اولین و آخرین آپ ک قابو میں تھے اور حکمت، کلام، تفسیر، قرائت، صرف، نحو، فقہ، ہندسہ، طب، نجوم، عدد، جفر، حساب، شعر، خطبہ، موعظہ، بدیع، فصاحب، لغت اور منطق الطیر، غرضیکہ جتنے علوم و فنون خلق میں متعارف ہیں وہ سب کے سب آپ کی ذات تک منتہی ہوتے ہیں۔ ان تمام علوم کے اندر یا تو آپ موجد تھے یا علم کی تشریح فرمائی ہے اور ہر علم میں ایسا خاص کلام ارشاد فرمایا ہے کہ اس علم و فن کے ماہرین نے اس کو مصدر قرار دیا ہے اور بعد کو اس موضوع پر جس قدر گفتگو کی ہے وہ سب حضرت کے کلام کی شرح تھی۔
مثلا علم نحو میں ابوالاسود دوئلی سے فرمایا کہ کلمہ اسم وفعل اور حرف کا نام ہے۔ نیز باب ان، باب اضافہ، باب امالہ، باب نعت اور لطف کا قاعدہ معین فرمایا اور رفع، نصب، جزم پر اعراب کی تقسیم فرمائی۔ یہ وہ بنیادی ہدایت ہے جو عبارتوں میں غلطی سے محفوظ رہنے کے لئے امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف سے صادر ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سفر سے واپسی کے بعد مجھ کو موصوف کا ایک خط ملا جس میں انہوں نے اس حدیث کی حقیقت اور اس کی غیر معمولی حیثیت کیتصدیق کرنے کے بعد اظہار اسلام، اقرار شہادتین اور حقیقت اسلام کا اعتراف کیا تھا۔
علی(ع) کے علمی مدارج کے لئے ابن ابی الحدید کا اعتراف
اگر آپ دیباچہ کتاب شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی کےابتدائی صفحات کو غور سے پڑھئے تو انداہ ہوگا کہ اس اںصاف پسند عالم نے کیونکر ان تمام مطالب کی تصدیق اور حضرت کے علمی مرتبہ کی مدح و ستائش کی ہے ص6 میں صاف صاف کہتے ہیں۔
"و ما أقول في رجل تعزى إليه كل فضيلة، و تنتهي إليه كل فرقة، و تتجاذبه كل طائفة، فهو رئيس الفضائل و ينبوعها، و أبو عذرها، و سابق مضمارها، و مجلّي حلبتها، كل من بزغ فيها بعده فمنه اخذه، و له اقتفى، و على مثاله افتدى"
یعنی میں انسان کے بارے میں کیا کہوں جس کی طرف تمام فضیلتیں منسوب ہیں جو ہر فرقے کے لئے آخری منزل ہے اور جس سے ہر جماعت وابستہ ہونا چاہتی ہے پس وہ فضیلتوں کا راس و رئیس، ان کا سرچشمہ، ان کے حجج و براہین کا مرکز ان کی دوڑ میں سب سے آگے اور ان کے نتائج کو رونق دینے والا ہے۔ اس کے بعد جو شخص بھی ان میں نمایاں ہوا اس نے اسی سے فیض حاصل کیا، اسی کی پیروی کی، اور اسی کے نمونہ عمل پر عامل ہوا۔ انہوں نے فقہاۓ اربعہ ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد حنبلکے علم کو حضرت ہے سے وابستہ بتایا ہے، چنانچہ کہتے ہیں کہ فقہاۓ صحابہ نے فقہ علی(ع) سے سیکھی۔ چونکہ آج کی رات ہماری نشست کافی طور پکڑ چکی ہے لہذا اب اس سے زیادہ کا موقع نہیں ہے کہ آپ کے اس بزرگ عالم کی گفتگو اور بیانات نقل کر کے آپ کا مزید وقت لوں۔
ضرورت اس کی ہے کہ آپ مذکورہ شرح نہج البلاغہ کا دیباچہ ملاحظہ فرمایئے تاکہ اپنے اس مورخ اور منصف عالم کی شہادت تصدیق اور یقین و اعتراف کو دیکھ کر مبہوت ہوجایئے۔ جو کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام کا معاملہ بہت عجیب ہے کیونکہ ساری زندگی میں کبھی آپ کی زبان پر کلمہ لا اور ی یعنی میں نہیں جانتا) قطعا جاری نہیں ہوا۔ جملہ علوم ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہتے تھے یہاں تک کہ عالم موصوف اپنے جملوں کے آخر میںکہتے ہیں:
" هَذَا يَكَادُ يُلْحَقُ بِالْمُعْجِزَاتِ لِأَنَّ الْقُوَّةَ الْبَشَرِيَّةَ لَا تَفِي بِهَذَا الْحَصْرِ وَ لَا تَنْهَضُ بِهَذَا الِاسْتِنْبَاطِ."
یعنی اس امر کو معجزات میں شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ بشری طاقت ایسے علمی احاطے پر قادر نہیں ہے اور نہ استنباط کے اس درجے پرفائز ہے۔
اگر میں چاہوں کہ غیب کی جو خبریں حضرت(ع) نے ارشاد فرمائی ہیں اور جو برسوں بلکہ صدیوں کے بعد وقوع پذیر ہوئی ہیں اور جن کو آپ کے اکابر علماء نے نقل کر کے ان کی تصدیق کی ہے۔ ان کی طرف اشارہ کروں تو صبح ہوجاۓ گی اور ان میں سے عشر عشیر بھی پیش نہ کرسکوں گا، لہذا اب اس سے زیادہ زحمت نہیں
دینا چاہتا۔
در خانہ اگر کس است یک حرف بس است
میرے خیال میں نمونے کے طور پر اور دماغوں کو روشن کرنے کے لئے ذیل کا ایک ہی واقعہ کافی ہوگا۔ جس سے آپ حضرات سمجھ لیں گے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں دلیل و برہان کے ساتھ کہتے ہیں۔
جن مواقع پر حضرت کے علم سے پردہ اٹھا ہے اور امت کو معلوم ہوا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام غیب کے عالم ہیں ان میں سے ایک آئیندہ کل کی تاریخ بھی ہے جس میں بعض صحیح اور مشہور روایات کی بنا پر ریحانہ رسول الثقلین حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔
ولادت امام حسین(ع) اور تہنیت ملائکہ کی خبر
" إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ وَ هَنَّوْهُ بِمَوْلُودِهِ الحُسَيْنِ"
لوگ حضرات رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور آں حضرت کو ولادت حسین علیہ السلام کی تہنیت دی۔
مجمع میں سے ایک شخص نے عرض کیا "بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ " (میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں یا رسول اللہ(ص) ، ہم لوگوں نے آج علی(ع) سے ایک عجیب امر مشاہدہ کیا۔ فرمایا تم نے کیا دیکھا؟ جب ہم تہنیت کے لئے آۓ تو ہم کو یہ عذر بیان کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے سے روک دیا کہ ایک لاکھ بیس ہزار فرشتے تہنیت و مبارکباد کے لئے آسمان سے نازل ہوۓ ہیں اور رسول اللہ(ص) کی خدمت میں موجود ہیں۔ ہم نے تعجب کیا کہعلی کیونکر آگاہ ہوۓ اور کہان سے شمار کر لیا آیا آپ نے ان کو اطلاع دی ہے؟ آں حضرت(ص) نے تبسم فرمایا اور علی سے دریافت کیا کہ تم نے کہاں سے جانا کہ اتنے فرشتے میرے پاس آۓ ہیں؟ آپ نے عرض کیا:بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي" جوفرشتہ آپ کے اوپر نازل ہوتا تھا اور سلام عرض کرتا تھا وہ ایک نئی زبان میں آپ سے گفتگو کرتا تھا۔ جب میں نے شمار کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک لاکھ بیس ہزار زبانوں میں گفتگو کی ہے۔ لہذا میں نے سمجھ لیا کہ ایک لاکھ بیس ہزار ملائکہ حاضر خدمت ہوۓہیں۔
آں حضرت(ص) نے فرمایا" زَادَكَ اللَّهُ عِلْماً وَ حِلْماً يَا أَبَا الْحَسَنِ. " خدا تمہارے علم و حلم کو اور زیادہ کرے ابوالحسن(علی(ع)) پھر امت کی طرف رخ کر کے فرمایا:
"انا مدینة العلم و علی بابهاوماالله نباءاعظم منه ومالله آیةاکبرمنه هوامام البریةوخیرالخلیفةامین الله وخازن علم الله وهوالراسخ فی العلم وهواهل الذکرالذی
قال الله تعالی فاسئلوااهل الذکران کنتم لاتعلمون اناخزانةالعلم وعلی مفتاحهافمن ارادالخزانةفلیات المفتاح"
یعنی میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، خدا کے لئے ان سے بڑی کوئی خبر اور ان سے بڑی کوئی آیت نہیں۔ یہ امام ناس، بہترین خلق، خدا کے امین اور اس کے علم کے خزینہ دار ہیں۔ یہ علم میں راسخ اور وہ اہل ذکر ہیں جس کے لئے خدا نے فرمایا کہ اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔ میں علم کا خزانہ ہوں اور علی(ع) اس کی کنجی ہیں۔ پس جو شخص خزانہ چاہتا ہے اس کو کنجی کے پاس آنا چاہیئے۔
منصفانہ فیصلہ
حضرات محترم! اگر آپ اںصاف سے کام لیں، تھوڑی دیر کے لئے اپنی عادت کو چھوڑ دیں اور عادلانہ فیصلہ کریں تو بلا ارادہ فطری طور پر آپ کا دل تصدیقکرے گا کہ ایسی بزرگ شخصیت جو تمام علوم انبیاء اور اسرارغیب کی جامع صفات مرسلین کا مکمل آئینہ، جملہ صفات حمیدہاور اخلاق پسندیدہ کی حامل اور عدالت وتقوی اور عصمت کے مرتبے پر فائز تھی جس کے لئے خود رسول اللہ(ص) نے بھی حکم دیا ہے کہ اس کے دروازے پر جاؤ، نیز اس کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور اس کی مخالفت کو اپنی مخالفت قرار دیا ہے اور جو زہد ورع، پرہیزگاری اور نسل کے لحاظ سے ساری خلقت اور کل کائنات سے اسطرح فائق و برتر تھی کہ رسول اللہ(ص) نے اس کو امام المتقین اور سیدالمرسلین کہہ کے خطاب فرمایا چنانچہ اس سلسلے میں بعض احادیث کی طرف میں گزشتہ شبوں میں اشارہ بھی کرچکا ہوں۔ وہ یقینا منصب خلافت و امامت کے لئے دیگر صحابہ سے اولی و احق تھی۔ اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ پر کچھ خصوصیات رکھتے تھے لیکن ہماری بحث تو افضل و اکمل کے بارے میں ہے جو دوسروں پر فوقیت اور حق تقدم رکھتا ہو۔
اگر آپ رسول خدا صلعم کے اصحاب و اقارب میں سے ایسے کسی ایک فرد کا بھی پتہ دے دیجئے۔ جو فضائل و کمالات اور ظاہری وباطنی صفات میں حضرت علی علیہ السلام کیبرابری کرسکتا ہو تو میں سر تسلیم خم کردوں گا اور اگر ایسا کوئی فرد آپ پیش نہ کرسکیں( کیونکہ ایسی ممتاز ہستیصحابہ میں سوا آپ کے اور کوئی تھی ہی نہیں، تو آپ کا ایمانی فریضہ ہوگا کہ حقیقت کو تسلیم کیجئے اور ساری دنیا سے چشم پوشی کر کے حق سےرشتہ قائم کیجئے،( پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے عرض کیا) خداوندا! میں تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے حق کا راستہ دکھادیا ہے، بغیر کسی جذبہ محبت کے و عداوت کے اپنا دینی فرض انجام دے دیا ہے۔ حریم تشیع کی طرف سے دفاع کردیا ہے اور دشمنوں کی تہمتوں کے مقابلے میں حقیقت کو ظاہر کردیا ہے) اب تجھ ہی سے اس کا
اجر اور توفیق چاہتا ہوں اور بس۔
قبول تشیع میں نواب کے بیانات
نواب: قبلہ صاحب! دس راتیں ہو رہی ہیں کہ ہم اس مجلس مذاکرہ کے حاشیہ نشین ہیں ہم نے مقدس انوار ایمانی سے روشنی حاصل کی، بلند علمی اصول و قواعد سے استفادہ کیا اور طرفین کے دلائل کو غور سے سنا۔ ہم چند افراد ایسے ہیں جو تمام راتوں میں انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ جلسے میں حاضر رہے اور ہر روز آپس میں شب کی گفتگوؤں پر بحث و تبصرہ کر کے پوری چھان بین کرتے رہے ہیں خداۓ وحدہ لاشریک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ کے ذریعہہماری ہدایت کے اسباب مہیا فرمادیئے جس سے ہم لوگوں نے حق کو پہچان لیا اور وہ دلائل سنے جو اب تک کبھی نہیں سنے تھے۔ مخالفین کے غلط اور گندے پروپیگنڈے کے خلاف جیسا کہ انہوں نے ہم کو بتا رکھا تھا کہ شیعہ مشرک غالی، رافضی اور حق سے منحرف ہیں ہمارے اوپر صد فی صد اور باکل یقینی طور سے ثابت ہوگیا ہے کہ فرقہ شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کا مذہب حق اور ان کا طریقہ سچا ہے اور ہم نے اچھی طرح سے جان لیا ہے کہ حقیقی اسلام کے حامل یہی لوگہیں۔ صرف ہم چند حاضرین جلسہ ہی نہیں بلکہ اس شہر کے بہت سے بے لوث اور بے غرض اشخاص جو حق اور حقیقت کے طلب گارہیں روزنامہ اخبارات اور رسائل کو پڑھنے اور طرفین کےدلائل کو جانچنے کے بعد حق سے روشناس ہوچکے ہیں۔ البتہ عام مجمعوں میں آمد و رفت اور اپنے خاص مشاغل نیز مخالفین کے ساتھ ربط و ضبطکی وجہ سے اپنے عقائد کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا انہوں نے خفیہ طور سے ہمارے سامنے شیعیت کا اظہار کیا ہے، اس لئے کہ آپ نے کوئی بات مشکوک نہیں چھوڑی ہے، اور اپنی سادہ اور عام فہم تقریر سےہم سب کے دماغوں میں حقائق کو واضح کر دیا ہے۔
لیکن ہم چند اشخاص جو اس وقت حاضر ہیں چونکہ کسی کا خوفنہیں رکھتے لہذا پوری جرائت کے ساتھ اعلان کرنے کے لئے تیار ہیں، ہم کئی راتوں سے چاہتے تھے کہ درمیان سے پردہ ہٹادیں اور اپنے کو ظاہر کردیں لیکن موقع نہیں ملا اور حسن اتفاق سے ہر شب ہماری بصیرت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ہم نے مضبوط سے مضبوط تر دلائل سنے اور اپنے عقیدے میں اور زیادہ راسخ و ثابت قدم ہوگئے۔ وقت گذر رہا ہے لہذا اجازت دیجئے کہ یہ پردہ بر طرف کیا جاۓ ہمارے اقرار و اعتراف کو سن کر ہم کو سر فراز فرمائیے، ہمارے نام مولاۓ کائنات امیرالمومنین علی(ع) اور ائمہ اثناعشریہ علیہم السلام کے شیعوں کی فہرست میں درج فرمائیے اور شیعوں کی جماعت میں اعلان فرما دیجئے کہ وہ ہم کو اپنی برادری میں قبول کریں۔ نیز قیامت کے روز عدل الہی کے دربار میں اور اپ نے جد بزرگوار کے سامنے شہادت
دیجئے کہ ہم لوگ علم ویقین کے ساتھ آئمہ اثنا عشر اور رسول خدا(ص) کے اوصیائ وخلفاء کی ولایت پر ایمان لاۓ ہیں۔
خیر طلب: مجھ کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہے کہ چند نمایاں اور ممتاز ہستیوں نے چشم بصیرت اور گوش حقیقت کے ساتھ حقائق پر توجہ کی اور نور عقل کی روشنی میں منزول حق کو پہچان کر راہ راست اور صراط مستقیم پر گامزن ہوگئے۔
وہی راستہ جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے، چنانچہ اکابر علماۓ اہلِ سنت والجماعت جیسے امام احمد بن حنبل نے مسند میں ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول میں، ابن مغازلی نے فضائل میں، خوارزمی نے مناقب میں، سلیمان حنفی نے ینابیع المودت میں اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے کہ آں حضرت(ص) نے فرمایاصراط علی حق نمسک ه یعنی علی(ع) کا راستہ حق ہے جس سے ہمتمسک کرتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوسرے اسلامی بھائی بھی عادت اور تعصب سے ہٹ کے غور کریں گے تاکہ ان کی نگاہوں سے پردے ہٹ جائیں اور حق و حقیقت ان پر ظاہر ہوجاۓ۔
نواب: قبلہ صاحب ہم آپ کے الطاف و عنایات کے ممنون ہیں کہ آپ نے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق کے ساتھ ہمارے سوالات کے جوابات دے، البتہ ہمارے گوشہ دل میں ابھی ایک مختصر سا اشکال موجود ہے، گذارش ہے کہ اس کو ابھی حل فرمادیجئے تاکہ ہمارے بھائیوں کے لئے مسرت و امتنان اور بصیرت کا باعث ہو نیز ہمارے عقیدے اور ایمان میں مزید استحکام پیدا ہو۔
خیر طلب: میں حاضر ہوں۔ فرمائیے کس چیز میں اشکال ہے تاکہ اس کا جواب عرض کروں۔
نواب: ہمارا اشکال آئمہ اثنا عشر کی امامت اور ان کے ناموں کے بارے میں ہے چونکہ ان راتوں میں صرف امیرالمومنین علی علیہ السلام کی شخصیت زیربحث رہی، لہذا متمنی ہوں کہ ہم کو بتائیے کہ اولا قرآن مجید میں کوئیایسی آیت ہے جو ہم کو آئمہ اثنا عشر کی امامت کا ثبوت دے یا نہیں؟ دوسرے ہماری کتابوں میں شیعوں کے بارہ اماموں کے نام درج ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ہمارے اطمینان قلب کے لئےبیان فرمائیے۔
خیرطلب: آپ کا سوال بہت مناسب اور با محل ہے اور اس کا جواب بھی موجود ہے۔ لیکن چونکہ وقت تنگ ہےاور صبح ہونے والی ہے اور اس سوال کا جواب بھی ممکن ہے کچھ طول کھینچے لہذا اگر آپ بھی متفق ہوں تو یا کل شب میںتشریف لے آئیے تاکہ جواب عرض کردوں یا کل صبح بھی ممکن ہے۔
چونکہ کل ریحانہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی عید ولادت با سعادت ہے اور اس سلسلے میں ہمارے قزلباش بھائیوں کی طرف سے رسالدارکے امام باڑے میں صبح سے ظہر تک ایک شاندار جشن کا انتظام ہے لہذا یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر عیدی کے عنوان سے اس کا جواب پیش کر کے آپ کا
اشکال حل کردوں۔ انشائ اللہ تعالی۔
نواب: میں انتہا فخر کے ساتھ آپ کی راۓ سے موافقت کرتا ہوں اور اس سے زیادہ آپ کا وقت نہیں لینا چاہتا۔ پس اب اجازت دیجئے کہ جن محترم حضرات نے اس نورانی جلسے کی ضیا پاشیوں سے روشنی حاصل کی ہے ان کا تعارف کرادوں۔
خیر طلب: میں پورے شوق اور مسرتکے ساتھ تیار ہوں کہ ان عزیزان گرامی کو اپنے آغوش محبت میں قبول کروں۔
چھ افراد اہلِ تسنن کا قبول ت تشیع
نواب: اتنےحضرات آج کی شب لواۓ"لا إله إلّا اللّه، محمّد رسول اللّه" کے نیچے حضرت علی(ع) اور آپ کی اولاد میں سےگیارہ اماموں کی خلافت وامامت کے اقرار کا شرف حاصل کررہے ہیں۔
1۔ حقیر آپ کا مخلص عبدالقیوم۔ 2۔ سید احمد علی شاہ صاحب۔ 3۔ سیٹھ غلام امامین صاحب۔4۔ سرحد کے سردار غلام حیدر خان صاحب۔5۔ پنجاپ کےبڑے تاجر عبدالاحد خان صاحب۔6۔مشہور رئیس عبدالصمد خان صاحب ( اصل کتاب میں کافی مجمع کے ساتھ ان حضرات کے فوٹوبھی موجود ہیں۔ 12 مترجم)
( یہ حضرات میرے پاس تشریف لاۓ میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور تمام حاضرین جلسہ بھی کھڑے ہوگئے، میں نے ہر ایک سے محبت کے ساتھ بغل گیر ہوکر پیشانی پر بوسہ دیا اس کے بعد سارےاہل مجلس نے ان سے معانقہ کیا۔
میں نے دیکھا کہ برادران اہل سنت بہت اداس ہوگئے چنانچہ ان کی دلجوئی کے لئے کہا کہ آج عید کی شب ہے جس میں اسلامی ہدایات کے مطابق مسلمانوں کے ایک دوسرے سے مصافحہ و معانقہ کرنے میں بہت بڑا ثواب ہے لہذا بہتر ہوگا کہ ہم سب آپس میں مصافحہ و معانقہ کریں، اس کےبعد میں نے پہلے جناب حافظ صاحب اور شیخ عبدالسلام صاحب سے پھر دوسرے حضرات سےبغل گیر ہوکر سب کی پیشانیوں پربوسہ دیا۔ بعد اس کے جلسے میں شربت اور مختلف قسم کی شیرینی لائی گئی اور ہم نے پرلطف و شیرین باتوں سے مجمع میں ایک تازہ مسرت کی لہر دوڑاکر ان کے چہروں سے افسردگی دور کی۔)
حافظ: صاحب ہم نے ان راتوں میں آپ کی ملاقات سے کافی فیض حاصل کیا جس کی لذتیں آخر عمر تک بھلائی نہیں جاسکتیں بالخصوص میری ذات پر تو بڑا احسان ہے جس کا عوض آپ کو آپ کے جد بزرگوار سے
ملے گا۔ کیونکہ آپ نے بہت حقیقتوں کا انکشاف فرما دیا جیسا کہ پہلے بھی عرض کرچکا ہوں۔ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں میں قطعا وہ پہلی رات والا آدمی نہیں ہوں اور جو بھی عقلمند اور انصاف پسند انسان آپ کے شک و شبہ سے بالاتر دلائل کو سنے گا وہ یقینا خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاۓ گا۔ چنانچہ یہ حقیر امیدوار ہے کہ عترت و اہل بیت رسالت کے طریقہ ولایت پر دینا سے اٹھے اور ر سول اللہ(ص)کے سامنے سرخرو حاضر ہو۔
میری بڑی خواہش تھی کہ اس سے زیادہ مدت تک آپ کے ساتھ رہتا لیکن ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور بہت ذاتی کام در پیش ہیں کیونکہ ہم صرف دو روز کے خیال سے آۓ تھے، یہاں اتفاق سے کافی وقت صرف ہوگیا لہذا اس رات کو ہم آپ حضرات کی اجازت سے شب وداع قرار دیتے ہیں، کل شب کو ہم ریل گاڑی کی ذریعے روانہ ہوجائیں گے۔ اور آپ کو دعوت دۓ جاتے ہیں کہ ہمارے وطن تشریف لائیے۔ تاکہ ہم آپ کی صحبت سے خصوصی فوائد حاصل کرسکیں۔
خیر طلب: آپ حضرات یقین فرمائیے کہ پہلی شب سے جب کہ آپ کی زیارت ہوئی ہے اس وقت تک میں بغیر تعصب و عناد کے پورے خلوص کے ساتھ سرگرم محبت رہا اور آپ حضرات سے ایک خصوصی ربط و انس قائم ہوگیا ہے۔ باوجودیکہ میری جانب سے آپ حضرات کی روانگی میں کوئی مانع نہیں تھا لیکن اب یہ سن کے آپ حضرات واپسی کا قصد رکھتے ہیں اپنے اندر ایک عجیب سا تاثر محسوس کررہا ہوں۔
ایک بزرگ عارف کا قول ہے کہ میں زعام جذبات کے برعکس، انس و ملاقات کا مخالف ہوں۔ کیونکہ وصال کےبعد فراق آتا ہے اور دیوان امیرالمومنین علیہ السلام میں آپ کا ارشاد ہے۔
یقولون ان الموت علی الفتیمفارقه الاحباب والله اصعب
یعنی لوگ کہتے ہیں کہ جوان کے اوپر موت سخت ہوتی ہے، حالانکہ خدا کی قسم دوستوں کی جدائی اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حق یہ ہے کہ میں نے ان دس راتوں میں بالعموم آپ حضرات کے اور بالخصوص جناب عالی کے دیدار سے بہت فائدہ اٹھایا ہے جس کو کبھی نہ بھولوں گااگرچہ ان دس راتوں میں بمصداق الکلام یجر الکلام( یعنیبات میں بات نکلتی ہے سلسلہ گفتگو بہت طولانی رہا اور ہر شب میں نے بلا ارادہ چھ سات گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ محترم حاضرین جلسہ کا وقت لیا لیکن چونکہ ہماری نشستوں میں اول سے آخر تک آیات شریفہ قرآنی اور احادیث حضرت رسول خدا صلعم کاتذکرہ رہا اور ہم جاہلانہ تعصب وعناد اور لہو و لعب سے الگ رہے۔ لہذا ہم نے اپنی جگہ خدا کی ایک عبادت انجام دی۔ البتہ اس لحاظ سے کہ انسان سہو دلسان اور غلطی کا مرکز ہے اگر دورانِ گفتگو میں میری طرف سے عمدا نہیں بلکہ سہوا کوئی بے ادبی یا طول کلام کی غلطی سرزد ہوگئی ہو یا آپ حضرات کی نظر میں کوئی بری بات معلوم ہوئی ہو تو عفو و چشم پوشی فرمائیں اور استجابت دعا کر مواقع
پر اس حقیر و فقیر خیر طلب کو دعا خیر سے فراموش نہ فرمائیں۔
حافظ: آپ کے حسن بیان اور لطف و عنایت کے برتاؤ سے ہم بہت ممنون ہیں اور ہم میں سے کسی کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے جس کے لئے آپ معذرت کررہےہیں، کیونکہ جناب عالی کا حسنِ اخلاق اور ادب و لحاظ اس منزل پر ہے کہ اس نے ہمکو مفتون( گرویدہ بنالیا ہے اور طول بیان سے بھی ہرگز ہم کو کوئی افسردگی نہیں ہے بلکہ آپ کی شیرین کلامی اور فصاحت و بلاغت اتنی زبردست ہے کہ میرا خیال ہے چاہے جتنی طولانی تقریر ہو بار خاطر نہ ہوگی۔
خیر طلب: میں آپ حضرات کے مراحم و الطاف کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ اپنے معروضات کے خاتمے پر ایک مطلب عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کل چونکہ حامی امت فرزند رسول الثقلین حضرت امام حسین علیہ السلام کی عید ولادت با سعادت ہے اور محترم حضرات قزلباش نیز آپ کے دیگر شیعہ بھائیوں کی طرف سے رسالدار کے امام باڑے میں ایک شان دار محفل مسرت کی تشکیل کی گئی ہے، لہذا میں جناب عالی اور دیگر حضرات حاضرین جلسہ کو اور آپ کے توسط سے جملہ برادران اہل سنت کو پرخلوص دعودت دیتا ہوں کہ پیغمبر(ص) کی ذات مبارک سے اپنے مخصوص تعلق کے پیش نظر آں حضرت کی روح پرفتوح کی خوشنودی کے لئے ایک بڑے مجمع کے ساتھ کل صبح اس جشن ولادت میں تشریف لائیں، کیونکہ شیعوں کی اس محفل میں اپنی شرکت سے علاوہ اس کے کہ آپ ہم سب کو ممنون و متشکر کریں گے۔ مجھ کو امید ہے کہآپ میرے اس مقصد سے بھی اتفاق کریں گے۔ اس جشن عام میں برادرانِ ایمانی و اسلامی کے دونوں فرقوں کی شرکت سے ہم ایک ایسا متحدہ اسلامی محاذ قائم کریں کہ دشمنان اسلام کو ( جو مسلمانوں میں تفرقہ اور جدائی چاہتے ہیں) حیرت وعبرت میں ڈال دیں۔
( جمادی الثانیہ سنہ1374ہجری میں ترتیب و کتابت سے فراغت ہوئی)
( العبد الفانی محمد الموسوی( سلطان الواعظین شیرازی)
عید میلاد حسینی(ع)
فدت شهر شعبانهاالافهمفمن بنیهایمنه الاشهر
طوی الهمعناوزوالالعناوبشرائهنابیتناینشر
لثالثه فیرقابالانامایادلعمرکلاتنکر
فصبح الولاء بمیلاد سبطهادیالانام بهم سفر
و باب النجاةالامام الذیذنوب العبادبه تغفر
و غصن الامامةفیه سماجنی هدایته اثمم
و روض النبوةمننورهسن یومن نوره مزهم
لتهنب میلاده شیعهلهم طاب فی حبه عنصر
(یعنی شعبان پر دوسرے مہینے قربان ہیں کیونکہ اس کے اندر سے نمایاں خیر وبرکت حاصل ہوئی ہے ہمارے سارے رنج و غم دور ہوگئے اور ہمارے درمیان خوش خبری پھیل گئی۔ اس کی تیسری تاریخ لوگوں پر پسندیدہ انعام و احسانات کا نزول ہوا، پس صبح دلایت نواسہ رسول(ص) کی ولادت سے روشن ہوئی یہ وہ امام ہے جو نجات کا دروازہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ سے بندوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ اس سے امامت کی وہ شاخ بلند ہوئی ہے جو ہدایت کے ترو تازہ پھل دیتی ہے۔ نبوت کا باغ اس کے نور سے روشن اور پھلا پھولا ہوا ہے۔ شیعوں کو اس کی پیدائش کی تہنیت دو جو اس کی محبت میں ہر عیب و ریب سے پاک ہیں۔)
جب تیسری شعبان المعظم سنہ1345ہجری یعنی عید سعید ولادت با سعادت امام سیم حضرت ابو عبداللہ الحسین علیہ الصلوۃ والسلام کی صبح ہوئی تو محترم حضرات قزلباش کی جانب سے رسالدار کے امام باڑے میں ایک محفل مسرت بہت شان و شکوہ کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں مختلف طبقوں کے لوگ سویرے ہی سے کثرت کے ساتھ جمع ہوگئے میںبھی ظہر سے چار گھنٹے قبل ان شیعہ علماء اور رؤسا کے ایک بڑے مجمع کے ہمراہ جو میری قیام گاہ پر آگئے تھے جشن میں شرکت کے لئے امام باڑے گیا۔ حق یہ ہے کہ جلسہ کافی شاندار تھا۔
ہر طبقے کے شیعہ اور سنی افراد کااتنا کثیر مجمع تھا کہ اس قدر طویل و عریض امام باڑے کی کافی وسیع فضا اور دونوں طرف کے تمام بڑے بڑے ووہرے کمرے، یہاں تک کہ شاہراہ عاماور مکانوں کے کوٹھے بھی بھر گئے تھے۔ حضرات علماۓاہل سنت مع جناب حافظ رشید و شیخ عبدالسلام صاحبان بھی تشریف فرما تھے۔ میرے پہنچنےسے محفل میں ایک عجیب جوش وخروش پیدا ہوگیا۔ باوجودیکہ میرے بیٹھنے کے لئے ایک خوبصورت اسٹیج تیار کیا گیا تھا لیکن میں اہل تسنن کے بڑے بڑے علماء کا احترام ملحوظ رکھتے ہوۓ اپنی جگہ سے کترا کے سیدھا انہیں کے پاس چلا گیا میرے اس اکرام و احترام اور پر خلوص انکسارسے وہ حضرات بہت خوش ہوۓ ؟؟؟؟؟ سائقے اور بیٹھ جانے
کے بعد شربت اور طرح طرح کی شیرینی لائی گئی، اس خاطر تواضعکے بعد دو مداحوں نے اردو اور فارسی زبان میں بہترین قصیدے پڑھے، اس کے بعد سردار عبدالصمد خان صاحب جو پشاور کے نامی شیعہ رئیسوں میں سے تھے۔ چند محترم قزلباش حضرات کے ساتھ آۓ اور مجھ سے فرمائش کی کہ آج چونکہ عید کا دن ہے لہذا اہلِ جلسہ منتظر ہیں کہ آپ اپنی تقریر سے ان کو مسرور و شاد کام فرمائیں۔ میں نے ہر چند انکار کیا لیکن ان کا اصرار بڑھتا گیا۔ بالآخر حافظ صاحب واسطہ بنے اور کہا کہ آج چونکہ یہاں میرے قیام کا آخری دن ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تقریر کی یاد گار اپنے دل میں لے جاؤں مجھ کو بھی چونکہ موصوف سے کافی انسیت ہوگئی تھی۔ لہذا ان کی بات رد نہیں کرسکا اور فرمائش کیتعمیل کرتے ہوۓ منبر پر گیا۔ ظہر کے قریب اپنا بیان ختم کیا۔ پھر نماز جماعت کے بعد سر برآوردہ شیعہ و سنی مخصوصین اور مذہب شیعہ قبول کرنے والے حضرات کا متفقہ طور پر فوٹو لیا گیا۔
( یہ فوٹو اصل کتاب میں موجود ہے۔ 12مترجم)
اس کے بعد ان چھہ عدد جدید شیعوں کے اعزاز میں کھانے کی ایک عام دعوت دی گئی۔
اب اپنیتقریر کے متن کو بھی جسے اخبارات و رسائل کے نامہ نگاروں نے نوٹ کر کے شائع کرایا تھا۔ اصل کتاب میں شامل کرتا ہوں کیونکہ یہ فائدے سے خالی نہیں تھا، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے دس راتوں کے مناظرے اور بیانات کاتکملہ اور تتمہ یہی ہے۔
﷽
آغازِ بیان
(سلطان الواعظین مدظلہ نے ایک فصیح و بلیغ خطبے کے بعد فرمایا :باسم الل ه الرحمنالرحیم قالاللهالحکیمفیکتابهالکریم :"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْوِيلًا"
یعنی خداۓ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم آپس میں کسی چیز میں نزاع کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ کار تمہارے لئے بہت عمدہ اور نتیجے کے لحاظ سے بہترین ہے۔
مجازی اور حقیقی آزادی
ایک اہم موضوع جو مدتوں سے عمومیت کے ساتھ زیر بحث چلا آرہا ہے اور ہر قوم و فرقہ اپنی مطلب براری کے لئے اس کا سہارا لیتا ہے وہ حریتاور آزادی کا موضوع ہے اور جوبالآخر کج فہم و کوتاہ نظر لوگوں کی ایک جماعت کا آلہ کار بن گیا ہے۔ چنانچہ اسی حریت و آزادی کو بنیاد قرار دے کر وہ انبیاۓ کرام کے الہی احکام سے باغی ہو کر دین و شریعت کے دائرے سے خارج ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اتنا ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ پروردگار عالم کی بندگی اس کے شرائع حقہ کے قیود اور مقدس قوانین سے آزادی علم و عقل سے پوری مخالفت رکھتی ہے اور ایسی حریت و آزادی نوع بشر کے سکون و آسائش میں مخل و تباہی اور فتنہ وفساد کا باعث نظام فطرت کی مخالفت اور محققین علمائ و صاحبان عقل کے نزدیک مردود و ناقابل عمل ہے۔ البتہ جو حریت و آزادی بہتر اور ممدوح ہے اس سے مراد ہے مخلوق کی عبودیت، ابنا بشر کی تعظیم و پرستش اور اپنے ہی جیسے ہم جنسوں کی اندھی تقلید سے آزادی، ایسی آزادی انسانیت کا لازمی جز ہے، کیونکہ ای سنجیدہ فہمیدہ انسان جو زیور عقل سے آراستہ اور علم و معرفت کا حامل ہو اس کا فرض ہے کہ اپنے جیسے افراد بشر کی بندگی اور غلامی سے الگ رہے اور کسی ایسے شخص کی کور کورانہ پیروی نہ کرے
جو اس کو وادی حیرت و ضلالت میں سرگردان بنادے۔ البتہ انسان اشرف المخلوقات کو ایسی ہستی کے سامنے سر اطاعت خم کرنا چاہیئے حواس کی لیاقت و قابلیت رکھتی ہو اور اس پر عقلی و نقلی دلائل قائم ہوں۔
بدیہی چیز ہے کہ ستائش و بندگی صرف خداۓ عزوجل کی ذات لازوال کے لئے مخصوص ہے جو ہمارا آپ کا اور ساری کائنات کا خالق ہے، اور عقلی دلیلوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ مخلوق عاجز کو اس خالقِ قادر کے سامنے خاضع و خاشع اور ہمہ تن مطیع و فرمانبردار رہنا چاہیئے جس نے ہر چیز اسی کے لئے پیدا کی ہے اور مخلوقات میں سے کسی کی اطاعت انسان کے لئے جائز نہیں ہے سوا اس شخص کے جس کی اطاعت کا خداۓ تعالی نے حکم دیا ہو۔
اور اشخاص کی اطاعت و فرمانبرداری میں ہماری سند محکم قرآن مجید ہے۔ جب ہم قرآن مجید اور اس مضبوط آسمانی سند کی طرف رجوع کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ متعدد آیات میں ہم کو اطاعت کی مکمل ہدایت دی گئی ہے کہ عقلی قواعد کے روسے ہم کن اشخاص کی اطاعت و پیروی کریں اور کن افراد کے سامنے سر تعظیم خم کریں۔
خدا اور رسول(ص) اور اولی الامر کی اطاعت واجب ہے
من جملہ ان کے اسی آیہ شریفہ میں جس کو میں نے عنوان کلام قرار دیا ہے۔ صاف طور سے ارشاد ہے:
" أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ"
یعنی اطاعت کرو خدا کی اور اطاعت کرو پیغمبر(ص) اور صاحبان امر کی۔
پس بحکم آیت اللہ کی اطاعت کے بعد نوع بشر میں پیغمبر(ص) اور صاحبان امر کی اطاعت واجب ہے۔
پیغمبر خاتم النبیین(ص) کے احکام کی اطاعت میں تو تمام مسلمان بالعموم متفق ہیں اور کسی کو اس حقیقت سے انکار نہیں ہے البتہ اہل اسلام کے اندر جو اختلاف پیدا کیا گیا وہ صرف اولی الامر کے معنی میں ہے، کیونکہ خداۓ تعالی نے اس آیت میں اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے بعد اولی الامر کی اطاعت واجب قرار دی ہے۔
اولی الامر کے معنی میں اہل سنت کا عقیدہ
براداران عامہ اور اہل تسنن کا عقیدہ ہے کہ آیت میں اولی الامر ےس امراؤ حکام اور افسران لشکر مراد ہیں۔ لہذا سلاطین اور صاحبان حکومت ( ظاہری) اس کے ماتحت آتے ہیں۔
چنانچہ حضرات اہل تسنن بادشاہوں کے احکام کی اطاعت اپنے اوپر واجب سمجھتے ہیں(؟؟؟؟؟؟ وہ علانیہ فسق وفجور اور ظلم و جور کے مرتکب ہی کیوں نہ ہوں) اس دلیل سے کہ یہ لوگ آیہ اولی الامر میں داخل ہیں۔ لہذا ان
کی اطاعت فرض ہے۔
حالانکہ ایسا عقیدہ عقلی و نقلی دلیلوں سے باطل ہے۔ تنگئی وقت کی وجہ سے یہ مختصر محفل اس کی مقتضی نہیں ہے کہ اس عقیدہ کے بطلان پر سارے دلائل عرض کروں، اس لئے کہ تفصیل پیش کرنے کے لئے کم سے کم ایک مہینے کا موقع درکار ہے پھر بھی بمصداقما لا یدرک کل ه لایترککله " یعنی جو سب کا سب حاصل نہ ہوسکے وہ سب کا سب ترک بھی نہیں کیا جاتا۔
آپ دریا را گر نتواں کشید لیک بہر تشنگی باید چشید
وضاحت مطلب اور اثبات مقصد کے لئے آپ حضرات کی اجازت سے اس موضوع پر مختصر بحث پیش کر رہا ہوں تاکہ اہل انصاف عادلانہ فیصلہ کرسکیں اور حقیقت منکشف ہوسکے۔
صاحبانِ امر کی تین قسمیں
ظاہر ہے کہ اہل عالم پر حکمرانی کرنے والے امراء و سلاطین تین حال سے خالی نہیں ہیں، یا اجماع سے مقرر ہوۓ ہیں، یا طاقت و قدرت سے غالب ہوۓ ہیں یا خدا کی طرف سے منسوب ہیں۔
چنانچہ پہلا طریقہ یعنی یہ کہ اگر مسلمان کسی ایک شخص پر اجماع کر لیں اور اس کو منصب امارت پر مقرر کردیں، تو اس کی اطاعت خدا و رسول کی اطاعت کے مانند واجب ہے، اپنے ثبوت میں کوئی عقلی دلیل نہیں رکھتا جس سے تمام مسلمان کسی ایک کامل اور پاکباز ہستی پر اتفاق کر کے اس کو مسند امارت پر بٹھا سکیں، کیونکہ مسلمان چاہے جس قدر عالی دماغ اور ہوشمند ہوں وہ فقط ظاہری حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں اور لوگوں کے باطنی کیفیات اور دلی عقائدسے با خبر نہیں ہوسکتے۔
جناب موسی(ع) کے چنے ہوۓ بنی اسرائیل نا اہل ٹھہرے
مسلمان چاہے جس قدر عاقل و دانا ہوں اصول اور قاعدے کی بناء پر امر انتخاب میں حضرت موسی کلیم اللہ علی نبینا و آلہ وعلیہ السلام سے جو انبیاۓ اولوالعزم میں سے تھے قطعا زیادہ واقف کار نہیں ہوسکتے اور ان سب کی عقلیں خدا کے بھیجے ہوۓ رسول(ص) کی عقل سے بالاتر نہیں ہوسکتیں۔ حضرت موسی(ع) نے بنی اسرائیل ؟؟ ؟؟؟؟؟؟ ہزاروں عقلا اور دانشمندوں میں سے ظاہری حالات کی بنا پر ستر افراد منتخب فرماۓ( چونکہ انبیاء صرف ظاہری چیزوں پر
مامور تھے اور اشخاص کےباطنی امور کے پابند نہیں تھے لہذا ان کی ظاہری خوبیوں کو معتبر قرار دیتے تھے) اور ان کو طورسینا پر ساتھ لے گئے لیکن امتحان کے موقع پر سب کے سب ناکارہ ثابت ہوۓ اور ہلاک ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ ان کا دلی عقیدہ پہلے ہے سے درست اور مضبوط نہیں تھا، یہاں تک کہ امتحان کے موقع پر جب پردہ اٹھا تو جو کچھ اندرونی کیفیت تھی وہ ظاہر ہوگئی۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیت نمبر154 سورہ نمبر7( اعراف) میں اس کی طرف اشارہ ہے۔
انسان صالح و کامل امیر کے انتخاب پر قادر نہیں
پس جب کلیم اللہ پیغمبر(ص9 کے چنے ہوۓ لوگ اندر سے فاسد اور کافر نکلیں اور صاعقے کے ذریعے عذاب الہی میں گرفتار ہوں تو ظاہر ہے کہ دوسرے افراد بشر بدرجہ اولی صالح و کامل فرماں رواؤں کے انتخاب پر قادر نہیں ہیں اس لئے کہ بہت ممکن ہے ظاہری صلاح و تقوی کی بنا پر منتخب ہونے والے اشخاص حقیقی اور باطنی طور پر کافر یا فاسق ہوں جن کے دکھانے کے دانت اور ہوں کھانے کے اور چنانچہ جب سلطنت و امارت کی مسند پر بیٹھ جائیں، تو ریا کاری کا لبادہ اتار پھینکیں اور اپنے ضمیر کو بروۓ کار لاتے ہوۓ دھیرے دھیرے اپنے ناجائز مقاصد کی تکمیل شروع کردیں۔ جیساکہ بہت سے امراء و سلاطین میں( حتی کہ قومی اسمبلی کے نمائیندوں میں بھی) ایسا دیکھا گیا ہے اور اس طرح کے امیر و بادشاہ کی اطاعت قطعا دین کو مضمحل، حقوق انسانی کو ضائع اورآثار اسلام کو برباد کردے گی۔
سلاطین و امراء اولی الامر نہیں ہوتے
ہرگز عقل قبول نہیں کرتی کہ خداۓ تعالی فاسق و فاجر اور ظالم سلاطین و صاحبان امر کی اطاعت کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت میں شامل کرے، پس اس عقیدے کا باطل ہونا ظاہر و آشکار ہے۔ اس کے علاوہ اگر اجماع وقت کو شرعا یہ حق حاصل ہے تو ہر زمانے میں اولی الامر کو تمام ملل اسلامی کے حقیقی انتخاب سے معین ہونا چاہیئے یہ نہیں کہ ایک ملت کو تو موقع دیا جاۓ اور دوسری نطر انداز ہوجاۓ یہ شرعی حق مسلمان قوم کے تمام افراد کے لئے ہے چاہے وہ دنیا کے کسی گوشے اورکنارے پر ہوں، وہ ایک مسلمان ہو یا بہت سے اور شہر میں رہتے ہوں یا دیہات میں ان سب کو اس انتخاب میں راۓ دینا اور صاحب امر کی تعین میں شرکت کرنا چاہیئے نہ یہ کہ کسی ایک شہر یا مملکت میں چند لوگ راۓدے دیں تو ان کو راۓ واجب العمل بن جاۓ اور باقی تمام صاحبان عقل و تمیز اور سربرآوردہ مسلمان اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں۔ اگر کسی جماعت کو کچھ اختلاف ہو تو اس کو
رافضی اورمشرک کہیں اور گردن زدنی سمجھیں۔
چنانچہ جب ہم تیرہ سو سال کی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے بعد کسی زمانے میں بھی ایسا اجماع واقع نہیں ہوا جس میں دنیا کے تمام مسلمانوں نے یا ان کے حقیقی نمایئندوں نے اجتماعی حیثیت سے اپنی راۓ دی ہو۔ پس یہ اجماع کا عقیدہ نہ کسی دور میں عملی پہن سکا ہے اور نہ پہن سکے گا، بالخصوص آج کے زمانے میں جب کہ بلاد مسلمین ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے ہیں متعدد اسلامی ممالک ہیں اور ہرایک کا اپنا بادشاہ اور حکمران الگ ہے۔
اگر یہ طے کیا جاۓ کہ ہر ملک کے باشندے اپنے لئے ایک مستقل بادشاہ اور صاحب امر کا انتخاب کریں، تو قطع نظر اس سے کہ ہر زمانے میں متعدد اولی الامر ہوجائیں گے اور کوئی مملکت دوسرے ملک کے بادشاہ یا صاحب امر کی فرمانبرداری نہیں کرے گی، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاۓ اور آپس میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں( جیسا کہ تاریخ اسلام میں بارہا ایسے واقعات ہوۓ ہیں) اس وقت مسلمانوں پر کیا ذمہ داری ہوگی؟ کیونکہ مسلمانوں کے دونوں گروہ اپنے اپنے صاحب امر کی اطاعت میں مجبور ہوں گے کہ ایک دوسرے سے دست وگریبان ہوجائیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کریں تو کیا یہ دونوں مسلمان فریق برادر کشی میں ماجور و حق بجانب اور قاتل و مقتول دونوں جنتی ہوں گے؟
خدا جانتا ہے کہ اسلام اور شارع مقدس نے قطعا ایسی کوئی ہدایت نہیں دی ہے اوراسلام جیسا جامع و کامل اور عقلی دین ہرگز ایسا حکم نہیں دیتا جو صاحبان عقل کے نزدیک ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہو، نیز اس کی وجہ سے مسلمانوں میں باہمی نزاع اور پھوٹ پیدا ہو۔ پس وہ اولی الامر جن کی اطاعت کے لئے خداوند عالم نے حکم دیا ہے۔ اجماع کے پابند نہیں ہوسکتے، چنانچہ گزشتہ راتوں میں مجلس مناطرہ کے اندر فریقین(شیعہ و سنی) کے علماء اور دانشمندوں کے سامنے عقلی و نقلی حیثیت سے اجماع کا باطل ہونا ثابت ہوچکے ہیں اور اخبارات و رسائل کے صفحات پر اس کی اشاعت بھی ہوچکی ہے۔ یقینا ان حضرات کی نگاہوں سے بھی گزری ہوگی جو ان مجلسوں میں موجود نہیں۔(1)
ہربادشاہ اقتدار کی وجہ سے صاحب امر نہیں ہوجاتا
اور دوسری قسم جو طاقت و اقتدار سے متعلق ہے یعنی جو خونخوار و سفاک اور فاسق و فاجر امیر و سلطان یا خلیفہ قہر و غلبہ، نیزہ و شمشیر اور حیلہ سازی کے ذریعے لوگوں پر مسلط اور حکومت پر قابض ہوجاۓ اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ص1 ملاحظہ ہوں اسی کتاب کے صفحات۔
کوئی عقل سلیم کیونکر اس کی ہم آہنگ ہوسکتی ہے اور اس لا یعنی عقیدے کو تسلیم کرسکتی ہے کہ سفاک و بے باک اور فاسق و فاجر امراؤ سلاطین یا خلفائ کی اطاعت خدا و رسول کی اطاعت کے مانند واجب ہو۔ اگر حقیقت اسی طرح ہے تو اہل سنت کے اکابر علماء و مورخین اور ناقدین اپنی کتابوں اور تحریروں میں ظالم و سفاک امراء خلفاء کی مذمت آخر کس لئے کرتے ہیں؟ جیسے معاویہ یزید پلید، زیاد ابن ابیہ، عبیداللہ، حجاج، ابوسلمہ اور مسلم وغیرہ کے لئے۔
اگر واقعا کوئی شخص ہٹ دھرمی کی بناء پر کہنا چاہے کہ اس قسم کے اشخاص جب مسلمانوں پر امیر و حاکم اور سلطان وخلیفہ بن جائیں تو ان کی اطاعت واجب ہے( چنانچہ بعض علماۓ عامہ نے کہا بھی ے تو ایسی اطاعت قطعا قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ہوگی، کیونکہ خداۓ تعالی نے متعدد آیات میں کافروں، فاسقوں اور ظالموں پر لعنت فرمائی ہے اور مسلمانوں کو ان کی اطاعت سے منع فرمایا ہے۔ پس یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس آیہ مبارکہمیں فاسق و فاجر اور ظالم بلکہ کافر صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دے بدیہی چیز ہے کہ پروردگار عالم کی پاک و منزہ ذات سے دو متضاد باتوں کو نسبت دینا انتہائی بری حرکت ہے در آنحالیکہ امام فخرالدین رازی جو اکابر علماۓ عامہ میں سے ہیں اس آیہ شریفہ کی تفسیر میں صاف صاف کہتے ہیں کہ اولی الامر کوقطعا گناہ سے معصوم ہونا چاہیئےورنہ خداوند عالم ان کی اطاعت کو اپنی اور اپنے پیغمبر(ص) کی اطاعت سے ملحق نہ کرتا۔
اولی الامر کو منجانب اللہ منصوب و منصوص ہونا چاہیئے
جب انہیں مختصر دلیلوں سے ان دونوں عقیدوں کا بطلان ثابت ہوگیا کہ اولی الامر کا اجماع یا غلبے اور اقتدار سے معین ہونا ممکن نہیں ہے تو اب تیسری قسم ثابت ہوگئی کہ حتمی طور سے اولی الامر کو خدا کی طرف سے منصوب ومنصوص ہونا چاہیئے وہو المطلوب۔
یہی ہے شیعہ امامیہ اثناعشریہ فرقے کا عقیدہ جو یہ کہتا ہے کہ جب اولی الامر کو پیغمبر(ص) کے مانند مہذب، جملہ صفات رذیلہ اور اخلاق فاسدہ سے پاک اور ظاہری و باطنی حیثیت سے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے معصوم ہونا ضروری ہے اور جب با طنی حالات کا ذاتی اور مستقل علم بھی سوا خداۓ تعالی کےاورکسی کو حاصل نہیں ہے تو لازمہ ہوجاتا ہے کہ اولی الامر کو خدا ہی مقرر فرماۓ جو خدا رسول کو تمام مخلوق سے منتخب کر کے رسالت پر مبعوث فرماتا ہے اسی کی ذاتِ اقدس پر اس کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اولی الامر کا انتخاب کر کے انکو امت سے روشناس کراۓ۔ علاوہ اس قسم کی دلیلوں کے جو الگ سے اس مقصد کو ثابت کرتی ہیں خود آیت کی ظاہری صراحت حکم دے رہی ہے کہ اولی الامر وہی ہوسکتے ہیں جو سوا ان خصوصیات کے جو دلیل سے مستثنی ہیں، یعنی مقام وحی و رسالت کے علاوہ رسول اللہ(ص) کی جملہ صفتوں کے
حامل ہوں، اور چونکہ تمام انسانی صفات کا عالم سوا ذات پرردگار کے اور کوئی نہیں ہے لہذا حق انتخاب بھی اسی کے لئے مخصوص ہے۔
چنانچہ آیہ شریفہ میں واجب اور ممکن کا فرق بتانے کے لئے دو اطیعوا لاۓ گئے ہیں۔" اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول" اطاعت کرو خدا کی اس حیثیت سے کہ اس کو واجب الوجود بالذات جانتے ہو کیونکہ اس کی ہستی جن صفات کی مالک ہے جیسے حیات، علم، حکمت اور قدرت وغیرہ وہ خود اسی کی طرف سے اور عین ذات ہیں اور اطاعت کرو پیغمبر(ص) کی اس حیثیت سے کہ ان کو ممکن الوجود عبد صالح اور تمام صفات حمیدہ و اخلاق پسندیدہ کا حامل سمجھتے ہو جو سب کے سب واجب الوجود کی جانب سے ان کو تفویض ہوۓ ہیں لیکن جس وقت اولی الامر کے تذکرے پر پہنچا ہےتو پھر کلمہ اطیعوا نہیں لاتا بلکہ صرف واو عطف کے ساتھ اولی الامر کو پہچنواتا ہے۔ اس داؤ میں نکتہ یہ ہے کہ خداوند عالم روشن ضمیر اور خوش فکر لوگوں کو سمجھانا چاہتا ہے کہ صاحب امر وہی شخص ہے جو ہر اسصفت کا حامل ہو جس کے حامل رسول خدا(ص) تھے۔ سوا ان چیزوں کے جو بالدلیل مستثنی ہیں جیسے نزول وحی اور عہدہ تبلیغ رسالت وغیرہ۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ رسول اللہ(ص) کے پاس تھا وہی سب اولی الامر کے پاس بھی ہونا چاہیئے سوا مرتبہ نبوت ورسالت کے پس اطاعت اولی الامر اور اطاعت پیغمبر(ص) کی ایک بنیاد ہے۔
بس اولی الامر کی شان یہ ہے کہ احکام دین اور قوانین شرع سید المرسلین(ص) کے نافذ کرنے والے اور ان کے محافظ ہوں لہذا اسی بنا پر جماعت امامیہ کا اعتقاد ہے کہ اولی الامر سے اوہ ائمہ اثنا عشر مراد ہیں جو پیغمبر(ص) کی نسل اور آں حضرت(ص) کی عترت طاہرہ میں سے ہیں یعنی امیرالمومنین علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد میں سے گیارہ بزرگوار اور یہ آیہ مبارکہ دوازدہ امام علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت کے اثبات میں مذہب شیعہ اور فرقہ امامیہ کی بہت بڑی دلیل ہے۔
علاوہ اس کے اور بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن سے ہم استدلال کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی رخ سے ہمارے مطلب کو ثابت کرتی ہے۔
مثلا سورہ نمبر2 (بقرہ) آیت نمبر118"قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ."
یعنی خداۓ تعالی نے ( ابراہیم سے) فرمایا میں تم کو تمام انسانوں کا امام قرار دیتا ہوں، ابراہیم نے عرض کیا یہ امامت میری اولاد میں بھی رہے گی؟ فرمایا( ہاں لیکن) جو ظالم ہیں ان کو میرا یہعہد نہیں پہنچے گا۔)
سورہ نمبر33 ( احزاب) آیت نمبر6"النَّبِيُ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَ أَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ فِي كِتابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُهاجِرِينَ "
یعنی پیغمبر(ص) مومنین کے لئے اولی اور سزاوارتر ہیں خود ان کے نفوس سے اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور نسبی قرابتدار ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں کتاب خدا میں مومنین و مہاجرین سے)
سورہ نمبر9(توبہ) آیت نمبر120"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ"
یعنی اے ایمان لانے والو اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
سورہ نمبر13 (رعد) آیت نمبر8 "إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ " یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تم عذاب الہی سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے( ہماری طرف سے) ایک ہدایت کرنے والا بھی مقرر ہے۔
سور ہنمبر6 ( انعام) آیت نمبر154 " وَ أَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَ لا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ."
(یعنی یہ ہے میرا سیدھا راستہ پس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کا اتباع نہ کرو جس سے خدا کی راہ ےس بھٹک کر متفرق ہوجاؤ۔)
سورہ نمبر7( اعراف) آیت نمبر180" مِمَّنْ خَلَقْنا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَ بِهِ يَعْدِلُونَ"
یعنی ہماری مخلوق میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل سے کام لیتے ہیں( یعنی پیشوایان دین و ائمہ معصومین علیہم السلام۔)
سورہ نمبر3 ( آل عمران) آیت نمبر98"وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَ لا تَفَرَّقُوا"
یعنی سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور ادھر ادھر متفرق نہ ہو۔
سورہ نمبر16( نحل) آیت نمبر45 "فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ"
(یعنی اہل ذکر ( حاملان قرآن) سے پوچھ لو اگر تم کو نہیں معلوم ہے)
سورہ نمبر33( احزاب) آیت نمبر33 "إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً. "
یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ اللہ کا یہی ارادہ ہے کہ اے اہل بیت رسالت تم سے ہر رجس گندیگی کو دور رککھے اور تم کو ہر عیب سے کما حقہ پاک و پاکیزہ قرار دے۔
سورہ نمبر3(آل عمران) آیت نمبر30 "إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْراهِيمَ وَ آلَ عِمْرانَ عَلَى الْعالَمِينَذریة بعضها من بعض"
یعنی در حقیقت اللہ نے آدم، نوح اولاد ابراہیم اور اولاد عمران کو تمام اہل عالم پر بگرزیدہ فرمایا ہے، اس نسل کے بعض کو بعض سے۔
سورہ نمبر35( فاطر) آیت نمبر29" ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا"
یعنی پھر ہم نے اپنے ان بندوں کو کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے چن لیا ہے۔
سورہ نمبر24( نور) آیت نمبر35 "اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَ لا غَرْبِيَّةٍ يَكادُ زَيْتُها يُضِيءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نارٌ نُورٌ عَلى نُورٍ
يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشاءُ ...."
یعنی اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال اس قندیل کے مانند ہے جس میں ایک چراغ روشن ہو وہ چراغ ایک شیشے کے اندر ہو اور وہ شیشہ اس طرح چمکتا ہوگویا ایک بہت درخشان ستارہ ہے۔ وہ زیتون کے اس مبارک درخت سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ اس کا زیت ہر وقت ضو دینے کے لئے تیار ہے بغیر اس کے کہ آگ اس کو مس کرے، نور بالاۓ نور، خدا جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔
اور بہت سی آیتیں ہیں لیکن محفل کا وقت ان سب کو ذکر کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا حتی کہ خطیب خوارزمی کے مناقب میں امام احمد بن حنبل نے مسند میں، حافظ ابونعیم نے مانزل من القرآن فی علی میں اور حافظ ابوبکر شیرازی نے نزول القرآن فی امیرالمومنین میں روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا قرآن کا چوتھائی حصہ ہم اہل بیت کے حق میں نازل ہوا ہے۔
نیز حافظ ابونعیم ما نزل من القرآن فی علی میں، احمد بن حنبل مسند میں، واحدی اسباب النزول میں محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول میں، ابن عساکر اور محدث شام ا پنی اپنی تاریخ میں، حافظ ابوبکر شیرازی نزول القرآن فی امیرالمومنین میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب شروع باب62 میں اور خواجہ بزرگ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب42 میں طبرانی سے اور وہ ابن عباس( جرامت) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا "نزلت في على أكثر من ثلاث مائة آية في مدحه." (یعنی علی علیہ السلام کی مدح میں تین سو سے زیادہ آیتیں نازل ہوئیں۔)
یقینا ان میں سے ہر ایک آیت ک بارے میں کم سے کم کئی کئی گھنٹے تقریر کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں نے فہرست کے طور پر ان میں سے بعض کی تلاوت کردی ہے تاکہ صاحبان علم و فن اکابر علماۓ عامہ کی معتبر کتب مثلا تفسیر امام فخر الدین رازی، تفسیر امام ثعلبی، تفسیر زمخشری، تفسیر جلال الدین سیوطی، تفسیر طبری، تفسیر نیشاپوری، تفسیر واحدی، کتاب فرائد السمطینحموینی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، جمع بین الصحیحین حمیدی، مسند امام احمد بن حنبل، صواعق ابن حجر، شرف المصطفی خرگوشی، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، حلیتہ الاولیاء حافظ ابونعیم، مفاتیح الاسرار شہرستانی، مناقب خوارزمی، فصول المہمہ مالکی، شواہد التنزیل حاکم ابوالقاسم، استیعاب ابن عبدالبر، سقیفہ جوہری، ینابیع المودۃ خواجہ بزرگ حنفی، مودۃ القربی ہمدانی، مانزل من القرآن فی علی اصفہانی، مطالب السئول محمد بن طلحہ شافعی، نہایہ ابن اثیر، کفایت الطالب گنجی شافعی، نزول القرآن فی امیرالمومنین ابوبکر شیرازی، اور رشفتہ الصادی سید ابوبکر بن شہاب الدین علوی، وغیرہ کی طرف رجوع کر کے نگاہ تحقیق سے جائزہلیں جس سے ان پر حقیقت کا انکشاف ہوسکے۔
بہتر ہوگا کہ بیان کو زیادہ طول نہ دوں اور اسی آیت کا تذکرہ کروں جس کو عنوان کلام قرار دیا ہے اور سب سے بڑی دلیل بتایا ہے۔
میں نے عرض کیا تھا کہ شیعہ امامیہ فرقے کا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ مبارکہ میں عقلی و نقلی دلائل و براہین کی روشنی میں اولی الامر سے آئمہ عشر سلام اللہ علہیم اجمعین مراد ہیں۔
چنانچہ اس مطلب پر عقلی دلیلیں اتنی زیادہ ہیں کہ محفل کا وقت ان سب کو بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے لیکن قرینہ خود ثابت کررہا ہے کہ ان اولی الامر کو یقینا گناہ و خطا سے معصوم ہونا چاہیئے جن کی اطاعت خدا و رسول کی اطاعت سے وابستہ ہے۔
چنانچہ امام فخرالدین رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس مفہوم کا اقرار کیا ہے کہ اگر کہا جاۓ اولی الامر معصوم نہیں ہیں تو اجتماع ضدین لازم آۓ گا اور یہ محال ہے۔
دوسرےیہ کہ اولی الامر کو ہر فرد بشر سے اعلم و افضل، اورع و اثقی اور اکمل ہونا چاہیے تاکہ وہ صفات پیغمبر(ص) کے حامل بنیں اور ہر حیثیت سے ان کی اطاعت واجب ٹھہرے۔
یہ صفات ساری امت میں(بتصدیق اکابر علماء اہل سنت) سوا آئمہ اثناء عشر علیہم السلام ک اور کسی کے لئے بیان نہیں کئے گئے ہیں۔ ان کا درجہ عصمت اس قدر بلند ہے کہ خدا نے آیت تطہیر میں اس کی شہادت دی ہے۔ اس جلیل القدر خاندان کی عصمت کے بارے میں اکابر علماۓ اہل تسنن کی معتبر کتابوں کے اندر کثرت سے حدیثیں مروی ہیں جن میں سے چند خبریں نمونے ک طور پر پیش کررہا ہوں۔
طرق عامہ سے آئمہ کے لئے اخبارِ عصمت
شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 77 ص345 میں اور شیخ الاسلام حموینی نے فرائد السمطین میں ابن عباس سے روایت کیہے کہ انہوں نے کہا:
"سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ أَنَا وَ عَلِيٌّ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ وَ تِسْعَةٌ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ مُطَهَّرُونَ مَعْصُومُونَ."
یعنی میں نے سنا کہ رسول اللہ صلعم فرماتے تھے میں اور علی اور حسن و حسین اور حسین کی اولاد میں سے نو افراد سب کے سب پاک و پاکیزہ اور معصوم ہیں۔
سلمان فارسی نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلعم نے حسین علیہ السلام کے شانے پر ہاتھ رکھ کے فرمایا:
" الإمام ابن الإمام تسعة من صلبه أئمّة أبرار امناء معصومون"
یعنی قطعی طور پر یہ امام اور امام کے فرزند ہیں، ان کی نسل سے نو عدد امام، نیکوکار، امین اور معصوم ہوں گے۔
زید ابن ثابت سے روایت کی ہے کہ آں حضرت نے فرمایا:
" وَ إِنَّهُ لَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِ الْحُسَيْنِ ع أَئِمَّةٌ أَبْرَارٌ أُمَنَاءُ مَعْصُومُونَ قَوَّامُونَ بِالْقِسْطِ "
یعنی یقینا حسین(ع) کے صلب سے نیکوکار، امین، معصوم اور عدل و انصاف کو قائم رکھنے والے امام پیدا ہوں گے۔
اور عمران ابن حصین سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے رسول خدا صلعم سے سنا کہ آں حضرت نے
علی علیہ السلام سے فرمایا:
" أَنْتَ وَارِثُ عِلْمِي وَ أَنْتَ الْإِمَامُ وَ الْخَلِيفَةُ بَعْدِي تُعَلِّمُ النَّاسَ بَعْدِي مَا لَا يَعْلَمُونَ وَ أَنْتَ أَبُو سِبْطَيَّ وَ زَوْجُ ابْنَتِي مِنْ ذُرِّيَّتِكُمُ الْعِتْرَةُ الْأَئِمَّةُ الْمَعْصُومِينَ "
یعنی تم میرے علم کے وارث ہو اور تم امام اور میرے بعد خلیفہ ہو۔ تم لوگوں کو وہ باتیں بتاؤ گے جو وہ نہیں جانتے، تم میرے نواسوں کے باپ اور میری بیٹی کے شوہر ہو، اور تمہاری اولاد میں سے عترت اور معصوم امام ہیں۔
اس قسم کے اخبار و احادیث اکابر علماۓ اہل سنت کے طرق سے بکثرت مروی ہیں جن میں سے اس مختصر وقت میں نمونے کے لئے اسی قدر کافی ہیں۔
ان حضرات کے علم کے بارے میں بھی طرق اہل سنت سے بکثرت اخبار منقول ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ راتوں کی خصوصی نشستوں میں ہم اس موضوع پر تفصیلی بحث کرچکے ہیں اور جو یقینا رسائل و اخبارات میں آپ حضرات کی نظر سے گزری ہوگی۔ نمونے کے طور پر آج بھی چند حدیثیں نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔
عترت و اہلِ بیت(ع) کا علم
ابواسحق شیخ الاسلام حموینی فرائد السمطین میں، حافظ ابونعیم اصفہانی حلیتہ الاولیاء میں اور ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا میری عترت میری طینت سے پیدا کی گئی ہے اور خداۓ تعالی نے ان افراد کو علم وفہم کرامت فرمایا ہے راۓ ہو اس شخص پر جو ان کو جھٹلاۓ۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور صاحب کتاب سیر الصحابہ نے حذیفہ ابن اسید سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلعم نے ایک مفصل خطبہ اور حمد و ثناۓ الہی فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:
"إنّي تارك فيكم الثّقلين كتاب اللّه و عترتي ان تمسکتم بهما فقد نجوتم"اور طبرانی اتنے اضافے کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ فرمایا: " فلا تقدموهما فتهلكوا و لا تقصروا عنهما فتهلكوا و لا تعلموهم فانهم أعلم منكم. "
یعنی میں تمہارے اندر دو نفس وبزرگ چیزیں چھوڑتا ہوں، خدا کی کتاب اور میری عترت، اگر تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے تو ضرور نجات پاؤ گے۔
پھر فرمایا کہ ان سے پیش قدمی نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤگے، ان افراد سے تقصیر و کوتاہی نہ کرو ورنہ ہلاک ہوگے اور ان کو سکھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ یقینا یہ تم سے زیادہ عالم ہیں۔
نیز دوسری روایت میں حذیفہ بن اسید سے نقل کرتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
" الْأَئِمَّةُ بَعْدِي مِنْ
عِتْرَتِي عَدَدَ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ تِسْعَةٌ مِنْ صُلْبِ الْحُسَيْنِ وَ مِنَّا مَهْدِيُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِهِمْ فَقَدْ تَمَسَّكَ بِحَبْلِ اللَّهِ لَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ وَ اتَّبِعُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقَّ مَعَهُمْ "
یعنی میرےبعد میری عترت میں سے امام بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے مطابق ہوں گے( یعنی بارہ عدد جن میں سے نو عدد حسین کی نسل سے ہوں گے۔ خدا نے ان سب کو میرا علم وفہم عطا فرمایا ہے، بس ان کو تعلیم نہ دو کیونکہ یقینا وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں ان کی پیروی کرو کیونکہ قطعا یہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے۔
یہ ہے ایک مختصر حصہ ان دلائل میں سے جن کو اکابر علماۓ عامہ واہل تسنن نے ہمارے ائمہ اثناعشر علیہم السلام کے علم و عصمت کے ثبوت میں نقل کیا ہے اور جن سے عقلی دلیلوں کو اور بھی قوت پہنچتی ہے۔
اسماۓ آئمہ قرآن میں کیوں نہیں آۓ
بعض بہانہ ساز اور حیلہ جو اشخاص نے ایک شبہ ایجاد کر کے عوام میں پھیلایا ہے کہ اگر شیعوں کے بارہ امام برحق ہیں تو دین کی سند محکم یعنی قرآن مجید کے اندر ان کے نام کیوں نہیں بتاۓ گئے ہیں؟ کل شب کی نشست میں بھی برادران عزیز نے مجھ سے یہی سوال کیا لیکن چونکہ وقت کافی گزر چکاتھا لہذا میں نے جواب آج کے اوپر اٹھا رکھا۔ اب جب کہ آپ حضرات کے اصرار سے منبر پر آگیا ہوں اور موقع بھی مناسب ہے تو پروردگار کیتوفیق و تائید سے یہ اشکال رفع کرتا ہوں۔
پہلی گذارش یہ ہےکہ چند کوتاہ فہم لوگوں کو ایک بہت بڑی غلط فہمی دامن گیر ہے کہ ان کے خیال میں جملہ امور کے جزئیات بھی قرآن مجید میں مذکور ہیں، حالانکہ یہ محکم آسمانی کتاب بہت ہی مجمل و مختصر اور خلاصے کے طور پر نازل ہوئی ہے جس میں صرف کلیات امور کا حوالہ دیا گیا ہے اور جزائیات کو اس کے مفسر ومبین یعنی حضرت رسول خدا(ص) کے ذمے چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ نمبر59( حشر) آیت نمبر7 میں ارشاد ہے:
"وَ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا"
یعنی رسول اللہ(ص) تم کو جس چیز کی ہدایت کریں اس کو اختیار کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔
لہذا جب ہم طہارت سے دیات تک اسلام کے احکام و قوانین کا جائزہ لیتے ہیں تو ںظر آتا ہے کہ قرآن مجید میں ان کے کلیات کا ذکر تو موجود ہے لیکن ان کی تشریح و تفصیل پیغمبر(ص) نے فرمائی ہے۔
جواب اشکال
اولا جو حضرات اشکال تراشی کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ آئمہ اثناء عشر کے نام اور تعداد قرآن مجید میں نہیں ہے لہذا
ہم ان کو تسلیم نہیں کرتے اور اطاعت نہیں کرتے۔ ان سے کہنا چاہیئے کہ اگر بات یہی ہو کہ جس چیز کا نام قرآن میں نہ لیا گیا ہو، جس کی صراحت نہ کی گئی ہو، اور جس کے جزئیات کا تذکرہ نہ ہو اس کو ترک کردینا چاہیئے تو آپ حضرات کو خلفاۓ راشدین اور اموی و عباسی وغیرہ خلفاء کی پیروی بھی چھوڑ دینا چاہیئے، اس لئے کہ قرآن مجید کی کسی آیت میں( سوا علی ابن ابی طالب(ع)) کے خلفاۓ راشدین اور خلفاۓ اموی و عباسی کی خلافت،طریقہ اجماع تعیین خلافت میں امت کے اختیار اور ان کے اسماءو تعداد کی طرف کوئی اشارہ بھی نہیں ہے۔ پس آخر کس بنیاد اور کون سے قاعدے کے بنا پر ان کا اتباع کرتے ہوۓ ان کے مخالفین کورافضی، مشرک اور کافر کہا جاتا ہے؟ ان سب سے قطع نظر اگر قاعدہ یہی ہو کہ قرآن مجید میں جس چیز کو وضاحت اور نام موجود نہ ہو اس کو ترک کردینا ضروری ہے تو آپ حضرات کو تمام احکام و عبادات کا تارک بن جانا چاہیئے کیونکہان میں سے کسی ایک کے تفصیلات و جزئیات کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔
قرآن میں نماز کے رکعات و اجزاء کا تذکرہ نہیں
نمونے کے طور پر ہم اس وقت صرف نماز کا جائزہ لیتے ہیں جو فروع دین میں سب سے مقدم اور با تفاق فریقین رسول اللہ(ص) نے اس کے لئے بہت سخت سفارش اور تاکید فرمائی ہے، یہاں تک کہ ارشاد فرمایا:
"الصلاة عمود الدين، إن قبلت قبل ما سواها، و إن ردت رد ما سواها."
یعنی نماز دین کا ستون اور محافظ ہے، اگر نماز قبول ہوگئی تو باقی اعمال بھی قبول ہوجائیں گے اور اگر یہ ردکر دی گئی تو دیگر اعمال بھی رد کردۓ جائیں گے۔
ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں نمازوں کے رکعات کی تعداد اور حمد و سورہ، رکوع وسجود اور ذکر تشہد وغیرہ کے ساتھ ان کی ادائیگی کے طریقے کا قطعا کوئی ذکر نہیں آیا ہے لہذا جب ان کے اجزائ کا تذکرہ قرآن میں نہیں ہے تو نمازوں کو بھی ترک کردینا چاہیئے۔حالانکہ بات یہ نہیں ہے، قرآن مجید میں صرف کلمہ صلوۃ مجمل طور سے آیا ہے جیسے اقم الصلوۃ اقام الصلوۃ اور اقیموا الصلاۃ ۔ لیکن عدد رکعات کی تعیین اور دوسرے ارکان و واجبات اور مستحبات کی تفصیل اس کے شارح یعنی حضرت رسول خدا(ص) کے بیان سے معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح سے دین کے دوسرے احکام و قوانین ہیں جن کے کلیات تو قرآن مجید میں مذکور ہیں لیکن ان کے جزئیات و شرائط اور دیگر ہدایات پیغمبر(ص) نے بیان فرماۓ ہیں۔
پس جس طرح قرآن مجید میں کلمہ صلوۃ مجمل ہے لیکن اس کے معنی کی تشریح، اعداد رکعات کی تعیین اور دیگر اجزاء ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کی تو ضیح رسول اللہ(ص) نے فرمائی ہے اور ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اسی طرح خاتم الانبیاء کے بعد امامت و خلافت کا بیان بھی قرآن مجید میں مختصر ہے اور ارشاد ہوا ہے و اولی الامر منکم، یعنی اطاعت رسول(ص) کے بعد صاحبان امر کی
اطاعت کرو۔
بدیہی چیز ہے کہ کہ مسلمان مفسرین چاہے شیعہ ہوں یا سنی اولی الامر کی تفسیر اپنی جانب سے نہیں کرسکتے،جیسے کہ لفظ صلوۃ کا مطلب ا پنی راۓ اور خواہش سے بیان نہیں کرسکتے کیونکہ فریقین کے یہاں معتبر حدیث ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: "من فسر القرآن برانه فمقعده فی النار " یعنی جو شخص اپنی راۓ سے قرآن کیتفسیر کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم کے اندر ہے) لہذا مجبورا ہر صاحب عقل مسلمان کو مبین قرآن یعنی حضرت رسول خدا صلعم کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کہ آیا آں حضرت(ص) سے اولی الامر کے معنی میں کوئی حدیث مروی ہے یا نہیں اور آں حضرت(ص) سے اس بارے میں کوئی سوال ہوا ہے یا نہیں؟ اگر سوال کیا گیا ہے اور پیغمبر(ص) نے کوئی جواب دیا ہے تو ساری امت پر واجب ہے کہ عادت اور تعصب کو چھوڑ کر آن حضرت(ص) کے بیان اور ارشاد کی اطاعت و پیروی کرے۔میں ایک عرصہ دراز سے فریقین ( شیعہ و سنی) کی تمام تفاسیر اور کتب اخبار کا مطالعہ کررہا ہوں۔ لیکن آج تک مجھ کو کوئی حدیث ایسی نہیں ملی، جس میں رسول اللہ(ص) نے فرمایا ہو کہ اولی الامر سے امراء و سلاطین مراد ہیں۔ البتہ فریقین کی کتابوں میں اس کے برعکس کافی روایتیں موجود ہیں جن میں نقل کیا گیا ہے کہ رسول خدا(ص) سے اولی الامر کے معنی دریافت کئے گئے تو آں حضرت(ص) نے بہت واضح جوابات دئے اور فرمایا کہ اولی الامر سے مراد علی اور ان کے گیارہ فرزند ہیں۔ میں اس وقت محفل کی گنجائش دیکھتے ہوۓ نمونے کے طور پر چند حدیثیں پیش کررہا ہوں اور آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اکابر علمائے شیعہ کے طرق سے جو متواتر احادیث و عترت طاہرہ اور اصحاب خاص کے واسطوں سے منقول ہیں ان سے ہرگز استدلال نہیں کروں گا۔ بلکہ مشتے نمونہ از خردار سے صرف انہیں بکثرت حدیثوں میں سے چند کے ذکر پر اکتفا کروں گا جو حضرات اہل سنت والجماعت کے طریقوں سے مروی ہیں اور فیصلہ صاحبان علم وعقل اور اہل اںصاف کے ضمیر صاف اور قلب روشن کے اوپر چھوڑ دوں گا۔
اولی الامر سے علی(ع) اور آئمہ اہل بیت مراد ہیں
1۔ ابو اسحق شیخ الاسلام حموینی ابراہیم بن محمد فرائد السمطنین میں کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول اللہ(ص) سے ہم کو پہنچا ہے وہ یہ ہے کہ آیہ شریفہ میں اولی الامر سے علی ابن ابی طالب اور اہل بیت رسول(ص) مراد ہیں۔
2۔ عیسی بن یوسف ہمدانی ابوالحسن اور سلیم بن قیس سے اور وہ امیرالمومنین علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا میرے شریک وہ لوگ ہیں جن کی اطاعت کو خداۓ تعالی نے اپنی اطاعت سے ملحق قرار دیا ہے اور ان کے حق میں اولی الامر منکم نازل فرمایا ہے تم کو چاہیئے کہ ان کے کلام سے باہر نہ جاؤ، ان کے فرمانبردار ہو اور ان کے احکام و اوامر کی اطاعت کرو۔ جب میں نے یہ ارشاد سنا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ(ص) مجھ کو خبر دیجئے
----------- فرمایایاعلی انت اولهم ( یعنی اے علی تم ان سے پہلے ہو۔ مترجم)
3۔ محمد بن موسی شیرازی جو اجلہ علماۓ اہل سنت میں سے تھے رسالہ اعتقادات میں روایت کرتے ہیں کہ جس وقت رسول خدا(ص) نے امیرالمومنین علیہ السلام کو مدینے میں اپنا خلیفہ بنایا تو آیہ شریفہ اوالی الامر منکم علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی۔
4۔ خواجہ بزرگ شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت کے باب38 میں جس کو اسی آیت کے ساتھ مخصوص کیا ہے مناقب سے نقل کرتے ہیں کہ تفسیر مجاہد میں ہے۔
"ان هذه الآیة نزلت في أمير المؤمنين علی علیه السلام حين خلّفه رسول اللّه صلی الله علیه و آله وسلم بالمدينة "
یعنی یہ آیت امیرالمومنین علیہ السلام کے حق میں نازل ہوئی جس وقت پیغمبر(ص) نے ان کو مدینے میں اپنا خلیفہ قرار دیا۔
آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنا رہے ہیں؟ آں حضرت(ص9 نے فرمایا : "اما ترضی ان تکون منی بمنزلةهرون من موسی " آیا تم راضی نہیں ہو اس پر کہ تمہاری مجھ سے وہی منزلت ہو جو ہارون کو موسی سے تھی؟ یعنی جس طرح ہارون کو خدا نے موسی کو خلیفہ قرار دیا تھا اسی طرح تم کو میرا خلیفہ قرار دیا۔
5۔ اور شیخ الاسلام حموینی سے خود انہیں کی سند کے ساتھ سلیم بن قیس ہلالی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا خلافت عثمان کے زمانے میں نے دیکھا کہ مہاجرین و اںصار میں سے کچھ لوگ بیٹھے ہوۓ اپنے اپنے فضائل بیان کررہے ہیں اور علی(ع) ان کے درمیان خاموش بیٹھے ہیں لوگوں نے عرض کیا یا علی(ع) آپ نے بھی کچھ فرمائیے۔ آپ نے فرمایا آیا تم نہیں جانتے ہو کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے اور میرے اہل بیت(ع) سب ایک نور تھے جو خلقت آدم سے چودہ ہزار سال قبل قدرت خداوندی کے درمیان سعی کرتا تھا، پس جب آدم کو خلق فرمایا تو اس نور کو ان کے صلب میں قرار دیا، یہاں تک کہ وہ زمین پر آۓ۔ پھر نوح کی پشت میں رکھا کشتی کے اندر اور ابراہیم کے صلب میں آگ کے درمیان، اسی طرح باپوں اور ماؤں کے پاک اصلاب اور پاکیزہ رحموں میں ودیعت کرتا رہا جن میں سے کسی کی خلقت حرام سے نہیں تھی؟ سابقین بدر احد نے کہا، ہاں ہم نے رسول اللہ(ص) سے یہ جملے سنے ہیں۔ فرمایا تم کو خدا کی قسم کیا تم جانتے ہو کہ خدانے قرآن مجید میں سابق کو مسبوق پر فضیلت دی ہے اور اسلام میں کسی نے مجھ پر سبقت نہیں کی ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ فرمایا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں، آیا تم جانتے ہو کہ جس وقت آیہ شریفہ" وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ "( یعنی جن لوگوں نے ایمان میں پیش قدمی کی حقیقتا وہی مقربین بارگاہ ہیں۔ سورہ نمبر56(واقعہ) آیت نمبر10 نازل ہوئی تو لوگوں نے رسول اللہ(ص) سے دریافت کیا کہ سابقین کون ہیں اور یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
" أنزلها الله تعالى في الأنبياء و أوصيائهم، فانا أفضل أنبياء الله و رسله و على بن ابى طالب أفضل الأوصياء"
خداۓ عزوجل نے یہ آیت انبیاء اور ان کے اوصیائ کے حق میں نازل فرمائی ہے، پس میں تمام انبیاء و مرسلین سے بہتر ہوں اور علی(ع) میرے وصی
تمام اوصیاء سے بہتر ہیں؟ اس کے بعد فرمایا تم کو خدا کی قسم آیا جانتے ہو کہ جس وقت آیت"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ." (یعنی اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبان امر کی جوتم میں سے ہیں۔) سورہ نمبر4(نسائ) آیت نمبر62 اور آیت:
" إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ"
یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تمہارے امور میں اولیٰ بہ تصرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ مومنین ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں۔ سورہ نمبر5(مائدہ) آیت نمبر60)( مفسرین خاصہ و عامہ کا اتفاق ہے کہ رکوع میں زکوۃ دینے والے علی علیہ السلام تھے۔
اور آیت "وَ لَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ لا رَسُولِهِ وَ لَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً "(یعنی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے علاوہ کسی کو اپنا ہمراز دوست نہیں بنایا۔ سورہ نمبر9(توبہ) آیت نمبر16) نازل ہوئی تو خداۓ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کو حکم دیا کہ اولی الامر کو پہنچوا دیں اور سب کے سب سامنے اسی طرح ولی کی تفسیر کردیں جس طرح نماز و زکوۃ اور حج کی تفسیر کی ہے۔ پس آں حضرت(ص) نے مجھ کو غدیر خم میں لوگوں پر نصب فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ایہاالناس در حقیقت جب خداوند عالم نے مجھ کو رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا تو میں دل تنگ ہو اور خیال کیا کہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے۔ پھر فرمایا:
" أَ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ مَوْلَايَ وَ أَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ وَ أَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ"
آیا تم جانتے ہو کہ خداۓ عزوجل میرا مولا اور میں مومنین کا مولا ہوں اور ان پر ان کی جانوں سے زیادہ اولی بتصرف ہوں، سب نے عرض کیا۔ ہاں یا رسول اللہ(ص) پس آں حضرت(ص) نے میرا ہاتھ تھام کے فرمایا:
" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ هَذَا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ "
یعنی جس کا میں مولا ہوں پس علی بھی اس کے مولا ہیں۔ خداوند دوست رکھ اس کو جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی(ع) کو دشمن رکھے۔
یہ روایت بھی ان اخبار کی موئد ہے جن کو میں گذشتہ راتوں کے خصوصی جلسوں میں پیش کرچکا ہوں کہ لفظ مولیٰ کے معنی اولی بتصرف کے ہیں) سلمان نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ(ص) علی(ع) کی ولایت کیسی ہے؟ "وَلَایة عَلِی كَوَلَايَتِي مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ "(یعنی علی کی ولایت مثل میری ولایت کے ہے جس شخص پر میںاس کے نفس سے اولی بتصرف ہوں پس علی(ع) بھی اس پر اس کے نفس سے اولی بتصرف ہیں۔ پھر آیت ولایت:
" الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً"
(یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تمہارے اوپر ا پنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوا) پس پیغمبر(ص) نے فرمایا:"اللَّه اكبر على إكمال الدين، و اتمام النّعمة، و رضا الرّبّ برسالتي، و ولاية عليّ بعدي" ( یعنی بزرگ ہے خدا جس نے دین کو کامل اور نعمت کو تمام کیا اور میری رسالت اور میری بعد علی کی ولایت پر راضی ہوا( یہ روایت بھی ان روایتوں کی تائید کرتی ہے جن کو میں گذشتہ شبوں کی خالص نشستوں میں عرض کرچکا ہوں کہ کلمہ مولی اولی بتصرف کے معنی میں ہے) لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے سامنے اپنے اصیاء کو بیان فرمائیے! آں حضرت(ع)
نے فرمایا :
" عَلِيٌّ أَخِي وَ وَزِيرِي وَ وَارِثِي وَ وَصِيِّي وَ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِي وَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بَعْدِي ثُمَّ ابْنِي الْحَسَنُ ثُمَّ ابْنِي الْحُسَيْنُ ثُمَّ تِسْعَةٌ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ الْقُرْآنُ مَعَهُمْ وَ هُمْ مَعَ الْقُرْآنِ لَا يُفَارِقُونَهُ وَ لَا يُفَارِقُهُمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَيَّ الحَوْضِ."
یعنی میرے اوصیاء سے مراد علی(ع) ہیں جو میرے بھائی میرے وارث میرے وصی اورمیرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں، پھر میرے فرزند حسن(ع) پھر حسین(ع) کی اولاد سے نو افراد ہیں قرآن ان کے ساتھ ہے اور یہ قرآن کے ساتھ ہیں نہ یہ قرآن سے جدا ہوں گے نہ قرآن ان سے جدا ہوگا یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔
اس مفصل روایت کے بعد جس کا ایک حصہ میں نے محفل کا وقت دیکھتے ہوۓ پیش کیا، مناقب؟؟؟؟؟؟ میں روایتیں اور سلیم بن قیس، عیسی بن المسری اور ابن معاویہ کی سندوں سے نقل کرتے ہیں کہ اولی الامر سے مراد آئمہ اثنا عشر اور اہل بیت طہارت ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اولی الامر کے معنی واضح کرنے کے لئے یہی مذکورہ بالا چند روایتیں کافی ہوں گی۔ رہی آئمہ طاہرین سلام اللہ علیہم اجمعین کی تعداد اور ان کے اسماۓ مقدسہ تو اس سلسلے میں بھی اکابر علماۓ اہل تسنن کے طرق سے مروی چند احادیث کوثبوت میں پیش کرتا ہوں اور ان کثیر و متواتر اخبار و احادیث سے قطع نظر کرتا ہوں جو صرف عترت رسول اور اہل بیت طہارت کے طریق سے منقول ہیں۔
آئمہ اثنا عشر کے اسماء اور تعداد
شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب76 میں فرائد السمطین شیخ الاسلام حموینی سے، وہ مجاہد سے اور وہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ ایک یہودی جس کا نام نعثل تھا، رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اورتوحید کے بارے میں چند مسائل دریافت کئے، آں حضرت(ص) نے ان کے جوابات دۓ( جن کو تنگئی وقت کی وجہ سے نظر انداز کرتا ہوں) تو نعثل اسلام سے مشرف ہوا، اس کے بعد اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ(ص) ہر پیغمبر(ص) کا ایک وصی تھا اور ہمارے پیغمبر موسی بن عمران نے یوشع بن نون کے لئے وصیت کی تھی لہذا ہم کو خبر دیجئے کہ آپ کا وصی کون ہے؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
" إنّ وصيي عليّ بن أبي طالب و بعده سبطاي الحسن و الحسين، تتلوه تسعة أئمة من صلب الحسين"
(یعنی میرے وصی علی ابن ابی طالب ہیں ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسن(ع) اور حسین(ع) ہیں اور ان کے بعد نو امام حسین(ع) کی نسل سے ہوں گے۔)
نعثل نے عرض کیا، میری التجا ہے کہ ان کے اسماۓ مبارکہ مجھ سے بیان فرمایئے۔ آں حضرت نے فرمایا:
" إذا مضى الحسين فابنه علي فإذا مضى علي فابنه محمد، فإذا مضى محمّد فابنه جعفر، فإذا مضى جعفر فابنه موسى، فإذا مضى موسى فابنه عليّ، فإذا مضى عليّ فابنه محمّد فإذا مضى محمّد فابنه عليّ، فإذا مضى عليّ فابنه الحسن، فإذا مضى الحسن فابنه الحجة محمّد المهديّ فهؤلاء اثنا عشر"
(یعنی حسین(ع) کے بعد ان کے فرزند علی علی کے بعد ان کے فرزند محمد، محمد کے بعد ان کے فرزند جعفر، جعفر کے بعد ان کے فرزند
علی، علی کے بعد ان کے فرزند حسن(ع) اور حسن(ع) کے بعد ان کے فرزند حجتہ آخر محمد مہدی(عج) ہوں گے۔ پس یہ سب بارہ نفر ہوں گے، باقی نو اماموں کے نام بتانے اور یہ واضح کرنے کے بعد کہ بارہویں امام یعنی حضرت محمد مہدی علیہ السلام تک ہر امام کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اپنے باپ کا جانشین اور امام ہوگا، اس روایت میں اور بھی تفصیلات ہیں کہ اس نے ہر ایک کے طریقہ شہادت کے متعلق سوال کیا اور آں حضرت نے جواب دیا۔ اس وقت نعثل نے کہا:
"اشهد ان لا اله الا اللَّه و انّك رسول اللَّه و اشهد انّهم الاوصياء بعدك."
یعنی میں گواہی دیتا ہوں دیتا ہوں کہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور یقینا آپ خدا کے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حقیقتا یہ بارہ بزرگوار آپ کے بعد آپ کے اوصیائ ہیں۔ قطعی طور پر جو کچھ آپ نے فرمایا ہے یہی میں نے انبیاۓ ماسبق کی کتابوں میں دیکھا ہے اور حضرت موسی کے وصیت نامے میں بھی یہ سب موجود ہے۔آںحضرت نے فرمایا:
"طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّهُمْ وَ طُوبَى لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِمْ وَ وَيْلُ لِمن ابغضهم و خالفهم"
(یعنی بہشت ہے اس کے لئے جو ان حضرات کو دوست رکھے اور ان کی پیروی کرے۔ اور جہنم ہے اس کے لئے جو ان کو دشمن رکھے اور ان کی مخالفت کرے۔ اس موقع پر نعثل نے کچھ اشعار نظم کر کے پڑھے۔ اس نے کہا ؎
صَلَّى الْعَلِيُّ ذُوالْعَلَاعَلَيْكَ يَاخَيْرَالْبَشَرِأَنْتَ النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى وَالْهَاشِمِيُّ الْمُفْتَخَرُ
بِكَ اهْتَدَيْنَارُشْدَنَاوَفِيكَ نَرْجُومَاأَمَرَوَ مَعْشَرٍسَمَّيْتَهُمْ أَئِمَّةًاثْنَيْ عَشَرَ
حَبَاهُمُ رَبُّ الْعُلَى ثُمَّ صَفَاهُمْ مِنْ كَدَرٍقَدْفَازَمَنْ وَالاهُمُ وَخَابَ مَنْ عَفَاالْأَثَرَ
آخِرُهُمْ يَشْفِي الظَّمَ أَوَهُوَالْإِمَامُ الْمُنْتَظَرُعِتْرَتُكَ الْأَخْيَارُلِي وَالتَّابِعُونَ مَاأَمَرَ
مَنْ كَانَ عَنْكُمْ مُعْرِضاًفَسَوْفَ يَصْلَى بِسَقَرَ
یعنی درود و رحمت نازل کرے آپ پر خداۓ تعالیٰ اے بہترین افرادبشر۔ آپ برگزیدہ بنی اور قابل عزت و افتخار ہاشمی ہیں۔ آپ حضرات کے ذریعہ خدا نے ہماری ہدایت کی۔ اور آپ کے اور ان بزرگواروں اکے طفیل میں جن کو آپ نے دوازدہ امام بتایا ہے ہم کو احکام الہی حاصل ہوتے ہیں۔ خداۓ عزوجل نے ان کو اپنے فضل و کرم سے ہر عیب وگندگی سے پاک ومنزہ قرار دیا ہے۔ جس نے ان کی محبت اختیار کی وہ یقینا کامیاب ہوا اور جس نے ان سے عداوت رکھی وہ گھاٹے میں رہا ان میں آخر جو امام منتظر ہیں۔ تشنگان علم کو سیراب کریں گے اور آپ کی عترت واہل بیت(ع) میرے اور تمام پیروی کرنے والوں کے لئے باعث و برکت ہیں جو شخص ان سے روگردانی کرے گا وہ عنقریب واصل جہنم ہوگا۔)
نیز خواجہ بزرگ ینابیع المودت باب76 میں مناقب خوارزمی سے وہ واثلہ بن اسقع ابن عمر خاب ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟سے وہ جابر ابن عبداللہ انصاری سے اور ابوالفضل شیبانی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ سے، وہ محمد بن عبداللہ بن ابراہیم شافعی سے اور وہ اپنی سند کے ساتھ جابر انصاری سے وہ رسول اللہ سے اصحاب خاص میں سے تھے، نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک یہودی نے جس کا نام حندل بن مادہ بن جبیر ؟؟؟؟؟؟؟؟ خدمت رسول(ص) میں مشرف ہوکر مسائل توحید دریافت کئے اور شامی جوابات پانے کے بعد کلمہ شہادتین
زبان پر جاری کر کے مسلمان ہوگیا۔ پھر عرض کیا کہ کل رات میں نے خواب میں موسی بن عمران کی زیارت کی، حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ:
"أسلم على يد محمدخاتم الانبیاء (صلى الله عليه و آله)، و استمسك بالأوصياء من بعده"
یعنی محمد خاتم الانبیاء(ص) کے ہاتھ پر اسلام لا اور ان کے بعد ہونے والے ان کے اوصیائ سے تمسک اختیار کر۔
خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھ کو دین اسلام سے مشرف فرمایا۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کے اوصیاء کون ہیں تاکہ ان سے تمسک اختیار کروں؟ آں حضرت(ص) نے فرمایا، میرے اوصیاء بارہ ہیں۔ اس نے عرض کیا باکل درست ہے میں نے بھی توریت میں اسی طرح پڑھا ہے۔ممکن ہوتو ان کے نام بھی مجھ سے بیان فرمایئے۔
آں حضرت(ص) نے فرمایا
"أوّلهم سيّد الأوصياء أبو الأئمّة علي، ثمّ ابناه الحسن و الحسين "
ان میں سے اول سردار اوصیاء اور پدر ائمہ علی ہیں پھر ان کے دونوں بیٹے حسن(ع) و حسین(ع) ہیں۔
تم ان تینوں ہستیوں سے ملاقات کروگے، پھر جب زین العابدین پیدا ہوں گے تو وہ تمہاری زندگی کا آخری وقت ہوگا۔ اور دنیا سے توشہ دودھ ہوگا۔ پس ان سے تمسک رہنا، کہیں جاہلوں کا جہل تم کو گمراہ نہ کردے اس نے عرض کیا، میں نے توریت اور کتب انبیاء میں علی اور حسن و حسین کے نام ایلیا(ع) اور شبر(ع) و شبیر(ع) دیکھے ہیں، میری تمنا ہے کہ حسین(ع) کے بعد والے اسماء بھیتحریر فرمائیے۔ آں حضرت(ص) نے فرمایا:
"اذا انقضت مدة الحسين فالإمام ابنه على يلقب بزين العابدين فبعده ابنه محمد يلقب بالباقر فبعده ابنه جعفر يدعى بالصادق فبعده ابنه موسى يدعى الكاظم فبعده ابنه على يدعى بالرضا فبعده ابنه محمد يدعى بالتقى و الزكى فبعده ابنه على يدعى بالتقى و الهادى فبعده ابنه الحسن يدعى بالعسكرى فبعده ابنه محمد يدعى بالمهدى و القائم و الحجة فيغيب ثم يخرج فاذا خرج يملأ الارض قسطا و عدلا كما ملئت جورا و ظلما"
امام حسین علیہ السلام کے بعد نو اماموں کے نام اور القاب بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ان میں کے آخری محمد مہدی قائم وحجت غائب ہوجائیں گے، پھر ظاہر ہوں گے اور ظہور کے بعد زمین کو اسی طرح عدل و داد سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔
"طوبى للصابرين في غيبته، طوبى للمقيمين على محبتهم اؤلئك الذين وصفهم اللَّه في كتابه و قال هُدىً لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ثم قال اللَّه تعالى أُولئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الغالبون"
یعنی بہشت ہے ان حضرت کی غیبت میں صبر کرنے والوں کے لئے بہشت ہے ان حضرت کی محبت میں ثابت قدم رہنے والوں کے لئےیہی وہ لوگ ہیں جن کی خداۓ تعالی نے قرآن مجید میںتعریف کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ قرآن ہدایت ہے ان صاحبان تقوی کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ یہی لوگ اللہ کی جماعت والے ہیں آگاہ رہو کہ یقینا اللہ کی جماعت غالب آۓ گی۔
ابوالموئد موفق بن احمد اخطب الخطبائ خوارزمی مناقب میں اپنیسند کے ساتھابوسلیمان راعی رسول اللہ(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا خداوند عالم نے شب معراج مجھ کو وحی فرمائی کہ اے محمد میں نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو ان کے درمیان سے تم کو منتخب کیا اور اپنے ناموں میں سے ایک تمہارے لئے الگ کردیا۔ جس جگہ میرا ذکر کیا جاۓ گا وہاں میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا جاۓ گا، میں محمود ہوں اور تم محمد ہو تمہارے بعد میں نے اہل زمین کے درمیان سے علی کو چنا اور اپنے ناموں میں سے ایک نام ان کے لئے علیحدہ کیا، میں اعلیٰ ہوں اور وہ علی ہیں۔ اے محمد(ص) میں نے تم کو، علی(ع) کو، فاطمہ(ع) کو، حسن(ع) اورحسین(ع) کی اولاد میں سے باقی نو اماموں کو اپنے نور سے پیدا کیا اور تم سب کی ولایت کو آسمانوں اور زمینوں کے سامنے پیش کیا، پس جس شخص نے اس کو قبول کیا وہ مومنین میں سے ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافروں میں سے ہے۔ اے محمد(ص) کیا تم ان کو دیکھنا چاہیتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں، تو خطاب ہوا:
" انظر إلى يمين العرش فنظرت فإذا علي و فاطمة و الحسن و الحسين و علي بن الحسين و محمد بن علي و جعفر بن محمد و موسى بن جعفر و علي بن موسى و محمد بن علي و علي بن محمد و الحسن بن علي و محمد المهدي بن الحسن كأنه كوكب دري بينهم "
یعنی عرش ک داہنی جانب دیکھو،جب میں نے دیکھا تو مجھ کو اپنے بارہ جانشینون کے انوار نظر آۓ( آں حضرت(ص) نے نام بنام سب کا ذکر فرمایا، یہاں تک کہ ارشاد فرمایا) اور حسن عسکری کے فرزند محمد مہدی(عج) ان کے اندر ایک چمکتےہوۓ ستارے کے مانند تھے اور اس وقت خداوند عالی نے خطاب فرمایا: "يا محمد هؤلاء حججي على عبادي و هم أوصياؤك "(یعنی اے محمد(ص) یہ سب ہمارے بندوں پر ہماری حجتیں ہیں اور یہی تمہارے اوصیاء ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آئمہ اثنا عشر کے نام اور ان کی تعداد رسول خدا صل اللہ علی و آلہ وسلم سے منقول نہیں ہے ان کے مقابلے میں وقت کو دیکھتے ہوۓ نمونے کے طور پر اکابر علماۓ اہلسنت والجماعت کے معتبر راویوں کی طرف سے یہی روایتیں کافی ہوں گی۔
اور اگر کوئی شخص اس سے زیادہ کا خواہش مند ہو تو کتاب مناقب خوارزمی، ینابیع المودت، سلیمان بلخی حنفی، فرائد السمطین حموینی، مناقب محدث فقیہ ابن مغازلی شافعی، مودۃ القربی، میر سید ہمدانی شافعی، فصول المہمہ مالکی، مطالب السئول محمد بن طلحہ شافعی، تذکرۃ سبط ابن جوزی اور دوسرے تمام افاضل و اکابر علماۓ اہل تسنن کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ جن میں رسول اللہ صلعم کے خلفاء اور بارہ اماموں کے بارے میں برادران اہل سنت کے طرق سے سو روایتوں سے زیادہ مروی ہیں علاوہ اخبار و احادیث شیعہ کے جو بیشمار ہیں۔
پیغمبر(ص) کے بعد خلفائ کی تعداد بارہ ہے
میر سید ہمدانی شافعی ہمدانی مودۃ القربی مودت دوازدہم میں عمر ابن قیس سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہم ایک
احاطے کے اندر جس میں عبداللہ ابن مسعود بھی بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک اعرابی آیا اور سئوال کیا کہ تم میں عبداللہ کون ہے؟عبداللہ نے کہا میں ہوں اس نے کہا، اے عبداللہ آیا پیغمبر(ص) نے تم کو اپنے خلفاء کی خبر دی ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے: " الخلفاء بعدي اثنا عشر عدد نقباء بني إسرائيل" (یعنی میرے بعد میرے خلفاء بارہ ہوں گے جو نقباۓ بنی اسرائیل کی تعداد تھی۔) نیز شعبی سے انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے عبداللہ شبیہ سے اسی روایت کو نقل کیا ہے اور جریر سے انہوں نے اشعث سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے، نیز عبداللہ ابن عمر سے، انہوں نے جابر ابن سمرہ سے، اور ان سب نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا: "الخلفاء بعدي اثنا عشر عدد نقباء بني إسرائيل" اور عبدالملک کی روایت میں ہے کہ فرمایا : کلهم من بنی هاشم ( یعنی جو بارہ خلیفہ میرے بعد نقباۓ بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق ہوں گے وہ سب بنی ہاشم سے ہوں گے، مذکورہ کتابوں کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے علماۓ اہل سنت نے بھی اپنی کتابوں میں موقع موقع سے متفرق طور پر اس بارے میں کثرت سے حدیثیں نقل کی ہیں۔ چنانچہ خواجہ بزرگ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب77 کو اسی موضوع سے مخصوص کردیا ہے اور اس سلسلے میں شیخیں ترمذی، ابوداؤد،مسلم، سید علی ہمدانی اور شعبی وغیرہ سے کافی حدیثیں نقل کی ہیں، منجملہ ان کے کہتے ہیں یحیی بن حسن فقیہ نے کتاب عمدہ میں بیس طریقوں سے نقل کیا ہے کہ"ان الخلفاء بعد النبی صلی الله علیه وآله اثناعشرخلیفةکلهم من قریش "( یعنی یقینا رسول خدا صلعم کے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے اور بخاری نے تین سلسلوں سے، مسلم نے نو سلسلوں، ترمذی نے ایک سلسلے سے اور حمیدی نے تین سلسلوں سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا، میرے بعد خلیفہ اور امام بارہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے اور ان میں سے بعض روایتوں میں ہےکلهم من بنی هاشم (یعنی یہ سب بنی ہاشم ہوں گے، یہاں تک کہ ص446 میں لکھتے ہیں کہ بعض محققین علماء ( یعنی علماۓ اہلسنت) نے کہا کہ رسول اللہ(ص) کے بعد بارہ خلفاء کی امامت پر دلالت کرنے والی حدیثیں بکثرت طرق کے ساتھ مشہور ہیں جن سے انسان کو پتہ چلتا ہے کہ اپنے خلفاء کی تعداد معین کر کے رسول اللہ(ص) نے اپنے اہلبیت اور عترت میں سے بارہ اماموں کو مراد لیا ہے اور ان احادیث کو اںحضرت(ص) کےبعد ہونے والے خلفاۓ صحابہ سے مطابق کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ پیغمبر(ص) نے بارہ کا عدد معین فرمایا ہے( اور یہ صرف چار ہی تھے) سلاطین بنی امیہ پر بھی ان کا انطباق نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ بارہ نفر سے زیادہ تھے (یعنی تیرہ تھے) علاوہ اس کے وہ سوا عمرابن عبدالعزیز کے سب کے سب ظالم تھے( عمرابن عبدالعزیز کا ظلم ثابت کرنے کے لئے بھی اسی قدر کافی ہے کہ اس نے خلافت غصب کی اور امام وقت علیہ السلام کو خانہ نشین بنایا مولف) اور وہ بنی ہاشم میں سے بھی نہیں تھے جیسا کہ آں حضرت(ص) کا ارشاد ہے"کلهم من بنی هاشم" ترجمہ گذر چکا) اور شاہان بنی عباس پر بھی اطلاق نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے کہیں زائد تھی (یعنی پینتیس ہوۓ ہیں) اور انہوں نے عترت رسول کے حق میں ہدایت خداوندی کی بھی قطعا کوئی رعایت نہیں کی، جیسا کہ سورہ ( شوری و آیت 22 میں ارشاد ہے"قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى" (یعنی اے رسول اللہ کہہ دو کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی اجر نہیں چاہتا سوا اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور حدیث کسائ بھی۔
پس لازمی طور پر رسول خدا(ص) سے مروی ان تمام اخبار و احادیث کو عترت رسول اور اہل بیت طاہرین(ع) میں سے بارہ اماموں پر حمل کرنا ہوگا( جیسا کہ فرقیہ امامیہ اثنا عشریہ کا عقیدہ ہے۔
" لانّهم كانوا اعلم اهل زمانهم و اجلّهم و اورعهم و اتقاهم و اعلاهم نسبا و افضلهم حسبا و اكرمهم عند اللَّه و كان علومهم من آبائهم متّصلا بجدّهم و بالوراثة و اللّدنيّة كذا عرفهم اهل العلم و التحقيق و التّوفيق "
یعنی اس لئے کہ یہ حضرات اپنے اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے زیادہ عالم جلیل القدر، متقی و پرہیزگار، نسب میں بالاتر، فضائل و کمالات میں افضل اور اللہ کے نزدیک بزرگ وبرتر تھے، اور ان کے علوم ان کو اپنے آباؤ اجداد سے پہنچے ہیں جن کا سلسلہ ان کے جد(رسول اللہ) سے ملا ہوا ہے۔ یہ علوم کے وارث بھی ہیں اور عالم علم لدنی بھی ارباب علم و تحقیق اور صاحبان کشف و توفیق نے انبزرگواروں کی تعریف اسی طریقے سے کی ہے اور اس عقیدے کی تائید کہ اپنے بعد خلفاء کی تعداد معین کرنے سے پیغمبر(ص) کی مراد آپ کی عترت واہلبیت میں سے دوازدہ امام تھے، حدیث ثقلین بھی کررہی ہے(جو فریقین شیعہ و سنی کے روایات صحیحہ کے مطابق حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہے) جس میں آں حضرت(ص) نے فرمایا:
" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَبَداً"
یعنی حقیقتا میں تمہارے درمیان دو نفیس وبزرگ چیزیں چھوڑتا ہوں، خدا کی کتاب اور ا پنی عترت یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرےپاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں اگر تم لوگ ان دونوں سے تمسک رکھو گے تو پھر کبھی قطعا گمراہ نہ ہوگے۔
نیز اور بہت سی حدیثیں جو اس کتاب میں درج کی گئی ہیں اسی مطلب کی موئد ہیں( ینابیع المعودۃ کا حوالہ تمام ہوا12)
یہ تھا علماۓ عامہ و اہل تسنن کے عقائد ونظریات کا مختصر سا اظہار تا کہ لوگ آپ کےسامنے حقیقت کو مشتبہ نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ شیعہ رافضی ہیں اور غلو کرتے ہیں، بلکہ آپ حضرات سمجھ لیجئے کہ علم اور انصاف اگر دونوں مل جائیں تو شیعہ ہو یا سنی نتیجے میں سب کو یہی پاکیزہ نظریات قائم کرنا پڑیں گے۔ علاوہ ان اخبار کثیرہ کے جو ان حضرات آئمہ اثنا عشر سلام اللہ علیہم اجمعین کے منصب امامت کے ثبوت میں نقل کئے ہیں خود ان کے خالص نظریات بھی آپ کی رہنمائی کریں گے، جس سے حضرات حاضرین بزم اور اسی طرح ان حضرات کو جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں معلوم ہوجاۓ گا کہ شیعہ قوم قرآن مجید کے حک اور رسول خدا کے فرمان سے عترت واہلبیت پیغمبر(ص) میں سے آئمہ اثنا عشر کی اطاعت و پیروی کرتی ہے اور ان ذوات مقدسہ کے اسماۓ گرامی، بارہ کی تعداد اور ان کےبلندصفات شیعوں ہی کے اخبار و احادیث میں تواتر کے ساتھ منقول نہیں ہیں بلکہ بڑے بڑے علماۓ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں بھی مختلف مقامات پر کثرت سے درج کئے گئے ہیں۔
جاہلانہ عادت اور تعصب اختیار حق سے مانع ہے
البتہ ہمارے اور علماۓ عامہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ حضرات اخبار و احادیث کو نقل کرتے ہیں جو آیتیں اس جلیل القدر خاندان کی شان میں نازل ہوئی ہیں ان کو اور ان کی تفسیر کو درج کرتے ہیں اور ان پر اظہار بھی کرتے ہیں لیکن عادت کے ماتحت
بغیر دلیل و برہان کے اپنے اسلاف کی پیروی کئے جاتے ہیں۔
اور بعض کو تعصب زبان سے تصدیق نہیں کرنے دیتا۔ لہذا بے محل نہ ہوگا کہا جاۓ کہ ان کاعلمی عروج و ارتقاء باکل بے نتیجہ رہا۔ اور عادت وتعصب کا جذبہ ان کی قوت عاقلہ پر غالب آگیا بلکہ کبھی کبھیتو رسول خدا صلعم سے منقول حدیثوں کی ایسی بار وتاویلیں کرتے ہیں جو برودت میں برف سے بھی بدرجہا بڑھی ہوئی ہوتی ہیں اور جن کو دیکھ کر صاحبان عل و تحقیق حیرت میں پڑجاتے ہیں۔
طلب حق میں جاحظ کا بیان
اگر حقیقت اور واقعیت سے تعصب و عناد کا پردہ ہٹا دیا جاۓ تو علم وعقل اور اںصاف کی رہنمائی میں( باوجود تعصب کے حق واضح اور آشکار نظر آۓ گا۔ چنانچہ صاحب کتاب البیان والتبیین ابوعثمان عمرو بن بحر جاحظ بصری معتزلی متوفی سنہ255 جو اہل سنتکے علماۓ محققین اور اعیان متعصبین متقدمین میں سے ہیں) انہیں حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور خواجہ بزرگ حنفی نے ینابیع المودۃ باب52 میں ان کے بعض کلمات کو درج کیا ہے۔ کہتے ہیں:
" ان الخصومات نقصت العقول السلیمةوافسدت الاخلاق الحسنةمن المنازعةفی فضل اهل البیت علی غیرهم فالواجب علیناطلب الحق واتباعةوطلب مرادالله فی کتابه وترکالتعصب والهوی وطرح تقلید السلف والاساتید والاٰباء"
یعنی در حقیقت اہل بیت کے اوپر دوسروں کو فضیلت دینے میں نزاع کرنے کی وجہ سے خصومتوں نے سلیم عقلوں کو ناقص اور اچھے اخلاق کو فاسد بنادیا ہے۔ پس ہم پر طلبحق اور اس کا اتباع، قرآن مجید میں خدا کی مراد معلوم کرنا۔ تعصب اور ہواۓ نفسانی کوترک کرنا اور اپنے اسلاف و اساتذہ و آباؤ اجداد کیتقلید سے دور رہنا واجب ہے۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ باوجودیکہ ایسے نظریات بے اختیار ان کے قلم سے جاری ہوتے رہتے ہیں پھر بھی عادت اور تعصب ان کے علم و عقل پر غالب ہے اور اپنے اسلاف کی پیروی میں حقیقت کے برخلاف راستہ اختیار کر کے ارباب عقل کو حیرت اورتعجب کا موقع دیتے ہیں اپنی عادت اور تعصب و عناد کے زیر اثر نزاع و مخاصمت پر آمادہ رہتے ہیں ہواۓ نفسانی کی بنا پر ناحق دوسروں کو اہل بیت طہارت پر مقدم کرکے نصوص قرآنی اور احادیث معتبرہ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور بغیر کسی مضبوط دلیل و برہان کے آنکھ بند کر کے اسلاف کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔
مثلا محض جہالت اور تعصب کی بناء پر ابوحنیفہ یا مالک یا دوسرے فقہاء اور عالم نما اشخاص کی پیروی تو کرتے ہیں جو صرف قیاس و راۓ کے حامل اور علم سے بے بہرہ تھے لیکن فقیہہاہل بیت طہارت(ع) حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔ حالانکہ خود حضرت اہلتسنن کے اکابر علماء جیسے ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اللہ کے نمایندگان خاص یعنی اہل بیت عصمت وطہارت کے خرمن علم و دانش کے خوشہ چین تھے( جیسا کہ اسی کتاب میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے)
شیعوں کا مںصفانہ اقرار
لیکن ہم شیعہ چونکہ خداۓ قادر و یکتا سے ڈرتے ہیں اور موت و روز قیامت پر یقین رکھتے ہیں لہذا جب ہم دلائل و براہین دیکھتے ہیں جن کو اکابر علماۓ اہل سنت والجماعت نے بھی اپنی معتبرکتابوں میں درج کیا ہے تو عادت اور جانبداری پر غالب آکے جو کچھ رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا ہے اور جو کچھ خدا نے حکم دیا ہے قلب وزبان سے اس کا اقرار اعتراف کرتے ہیں نیز اسی کتاب مقدس اور عترت طاہرہ کی پیروی کرتے ہیں جس کو آں حضرت(ص) نے ہمارے سپرد کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ اسیذریعے سے ہم سعادت ابدی پر فائز ہوں گے، کیونکہ رسول اللہ(ص) نے ابدی سعادت اور ںجات اسی جلیل القدر خاندان کی محبت اور متابعت میں اقرار دی ہے چنانچہ حافظ ابن عقدہ احمد بن محمد کوفی ہمدانی جو علماۓ عامہ میں سے ہیں اپنے علماۓ مشائخ سے اور وہ عبدالقیس سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، میں نے بصرہ میں ابوایوب اںصاری سے ایک مفصل حدیث سنی، یہاں تک کہ انہوں نے کہا، میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ فرمایا، میں نے شب معراج ساق عرش پر نظر کی تودیکھا ہوا ہے"لا إله إلّا اللّه محمّد رسول اللّه- صلّى اللّه عليه و آله- أيّده بعليّ و نصرتهبه "(یعنی نہیں ہے کوئی معبود سوا للہ کے، محمد اللہ کے رسول ہیں جن کی تائید ونصرت میں نے علی کے ذریعے کی ہے، اس کے بعد لکھا ہوا تھا" الحسن والحسین وعلی و علی وعلی ومحمد و محمدوجعفر و موسی والحسن والحجہ " ( یعنی حسن وحسین، تین علی، و محمد، جعفر، موسی، حسن اور حضرت حجۃ۔) میں نے عرض کیا خداوندا یہ کون ہیں؟ وحی ہوئی یہ تمہارےبعدتمہارے اوصیاء ہیں"فطوبى لمحبّهم و الويل لمبغضهم" ( یعنی بہشت ہے ان کے دوستوں کے لئے اور جنہم ہے ان کے دشمنوں کے لئے۔( اس موقع پر میں نے نواب صاحب سے مخاطب ہو کے کہا جناب نواب صاحب! آپ کے کل رات والے اشکال کا جواب ہوگیا اور آپ مطمئن ہوگئے یا ابھی اور اضافہ کروں؟)
نواب: ہم آپ کے انتہائی ممنون ہیں کہ ہم نے پورا پورا فیض حاصل کیا اور روشن ضمیر لوگوں کے دلوں میں اب کوئی شبہ اور اشکال باقی نہیں ہے۔ خدا آپ کو اور ہم کو جزاۓ خیر عطا فرماۓ۔ سب نے مل کے آمین کہی اور خود میں نے بھی پورےخلوص کے ساتھ آمین کہی کیونکہ میں صرف خداۓ تعالی ہی سے اجر اور جزا کی امید رکھتا ہوں کہ محمد وآل محمد سلام اللہ علیہم اجمعین ک طفیل میں ہم پر لطف و عنایت کی نظر فرماۓ اور امید ہے کہ جس طرح آج تک ہم کو اپنے بے شمار مراحم و الطاف سے فیض یاب رکھا ہے اسی طرح روز قیامت تک رہے گا۔
بقیہ تقریر کا خلاصہ
اس کے بعد سلطان الواعظین مدظلہم نے مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے اور آپس میں لڑائیوں اور شیعوں کے خلاف نفرت و بدگمانی پھیلانے والوں کی رشیہ دوانیوں سے بچنے اور ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس اہم اخلاقی تعلیم کو قبول کرنے سے کسی ہوشمند اور سلیم الطبع انسان کو انکار نہیں ہوسکتا لہذا بنظر اختصار تفصیل کو نظر انداز کر کے ترجمے کو تمام کرتا ہوں اور بارگاہ مجیب الدعوات
میں دست بدعا ہوں کہ بطفیل محمد و آل محمد علیہم الصلوۃ والسلام میری اس دینی خدمت کو شرف قبولیت عطا فرماۓ، مولف و ناشر اور خاکسار مترجم کو اجر جزیل عنایت فرماۓ اور ہمارے برادران اسلامی کو توفیق کرامت عطا فرماۓ کہ اس حقیقت نما کتاب کو ٹھنڈے دل سے پڑھیں اور غور کریں۔
این دعا از من و از جملہ جہان آیین بادوَ السَّلامُ عَلى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى .
ادم الحجاج والزائر ین عاصی محمد باقر الباقری الجوراسی عفی عنہ
قصبہ جوراس۔ ضلع بارہ بنکی۔ ( یو۔ پی)
وہ کتابیں جن سے حوالے دے گئے
قرآن مجید۔نہج البلاغہ۔
تفسیر کبیر مفاتیح الغیب، امام فخرالدین رازی، تفسیر کشاف جار اللہ زمخشری، تفسیر انوار لتنزیل، قاضی بیضاوی، تفسیر اتقان جلال الدین سیوطی، تفسیر درالمنثور، جلال الدین سیوطی۔ تفسیر نظام الدین نیشاپوری۔ تفسیر رموز لاکنوز امام عبدالرزاق الرسعی۔ تفسیر کبیر محمد بن جریر الطبری۔ تفسیر کشف البیان، امام احمد ثعلبی، تفسیر القرآن ، فاضل نیشاپوری ۔ تفسیر اسباب المنزول، واحدی۔ تفسیر نزول القرآن۔ حافظ ابونعیم اصفہانی، تفسیر کشف البیان، امام احمد ثعلبی، تفسیر عرائب القرآن، فاضل نیشاپوری تفسیر اسباب المنزول ، واحدی، تفسیر نزول القرآن، حافظ ابونعیم اصفہانی، تفسیر شواہد التنزیل، حاکم ابوالقاسم حسکانی، تفسیر التبصرہ کواشی، تفسیر مانزل من القرآن فی علی، حافظ ابوبکر شیرازی، تفسیر روح المعانی سید شہاب الدین آلوسی۔ تفسیر فتح القدیر ، قاضی شوکانی، اثبات الوصیہ علی بن الحسین مسعودی، الامامۃ والسیاسۃ ، محمد بن مسلم بن قتیبہ اسد الغابہ، ابن اثیر جزری۔ استیعاب ، حافظ ابن عبدالبر قرطبی احیاء العلوم، امام غزالی، امالی حافظ ابو عبداللہ۔ اربعین۔ سید جمال الدین شیرازی، اوسط ، طبرانی، اعتقادات، محمد بن مومن شیرازی۔ اسنی المطالب، محمد حوت بیروتی۔ اسعاف الراغبین محمد علی الصبان المعری، ابطال الباطل قاضی روز بہان شیرازی۔ احیاء المیت بفضائل اہل البیت ، جلال الدین سیوطی۔ اربعین طوال ، محدث شام۔ اخبار الزمان، مسعودی ازالہ الخفاء۔ جلال الدین سیوطی، اوسط مسعودی۔ ارشاد الساری، شہاب الدین قسطلانی، الف باء ابو الحاج اندلسی، اسنی المطالب ، محمد بن محمد جزری، اصابہ، ابن حجر عسقلانی، احادیث المتواترہ مقبلی، بعیتہ الوعاظ فی طبقات اللغویین،جلال الدین سیوطی،بحر الاسانید، حافظ ابومحمد سمرقندی، تاریخ المدینہ علامہ سمہودی، تاریخ الخلفاء، جلال الدین سیوطی، تاریخ بغداد، ابوبکر خطیب بغدادی، تاریخ الامم و الملوک طبری، تاریخ کبیر، ابن کثیر دمشقی، تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن خلکان، تاریخ یعقوبی، تاریخ ۔ اعثم کوفی، تاریخ۔ نکارستان ،تاریخ بلادزی، تاریخ، واقدی، تاریخ حافظ ابرو۔ تاریخ، روضتہ الصفا، محمد خاوند شاہ۔ تاریخ ابوالفداء ۔ تاریخ ابن مردویہ۔ کامل التاریخ ۔ ابن اثیر تلخیص الستدرک ، مذہبی۔ تذکرہ الموضوعات، مقدسی، تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی تہذیب الاسماء واللغات، یحی بن شرف النودی۔ تاویل مختلف الحدیث۔ ابن قتیبہ دینوری توضیح الدلائل علی ترجیح الفضائل ، سید شہاب الدین۔ تذکرہ خواص الامہ سبط ابن جوزی۔ تذکرۃ الحفاظ، ذہبی، جواہر المفضیہ فی طبقات الحنفیہ ، عبدالقادر قریشی ۔ جمع بین الصحیحین ، حمیدی، جمع بین الصحاح الستہ، عبدی، جامع الاصول، ابن اثیر جزری، جامع الصغیر، وجمع الجوامع ، سیوطی ۔ جواہر العقیدین، نورالدین سمہودی۔ حلیتہ الاولیاء۔ حافظ ابونعیم
اصفہانی۔ حیاۃ الحیوان، دمیری ،خصایص العلوی، امام نسائی خصائص العلویہ ابوالفتح نطتری، خصایص الکبری، سیوطی، خطط ، مقریزی درالمنظم، ابن طلحہ حلبی، دلائل النبوۃ، حافظ ابوبکر بیہقی، ذخیرۃ المعاد، عبدالقادر عجیلی، ذخائر لعقبی، امام الحرم حلبی، رسالۃ الاظہار المتناثرہفی الاحادیث المتواترہ، سیوطی ، ریاض النضرہ۔ محب الدین طبری، ریاض المنضرہ الذہبی۔ روضتہ المناظرفی اخبار الادائل والاواخر و ربیعر الابرار ذمخشری، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد، ابن القیم۔ الزینیہ ، ابوحاتم رازی ۔زین الفتی۔ شرح سورہ ہل اتی ، و سنن و دلائل بہیقی سنن، ابن ماجہ قزوینی، سفر السعادات ، فیروز آبادی، سیرۃ الحلبیہ ، علی ابن برہان الدین شافعی سر العالمین، امام غزالی ۔ سیرۃ النبویہ ابو محمد عبدالملک بن ہشام، سبل الہدی ولرشاد، محمد بن یوسف شامی، سراج المنیر ، شرح جامع الصغیر و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید شرح دیوان ، میبدی۔ شرف النبی، خرگوشی، شرح عقایدنسفی، ملا سعد تفتازانی ۔ شرح التجرید ۔ مولوی علی قوشجی ۔ شرح صحیح بخاری، کرمانی،شرح صحیح مسلم، نودی شرح الشفاء قاضی عیاض، شرح المقاصد، فاضل تفتازانی۔ شرح المواقف سید علی شریف جرجانی، شرح الدائرۃ ، صلاح الدین ۔ شفا الصدور، ابن سبع مغربی، شرف المصطفی، حافظ ابوسعید ، شرف الموئد، شیخ یوسف بنہانی بیرونی ۔ صحیح بخاری ، صحیح مسلم، صحیح ترمذی، صحیح ابوداؤد، صحیح ابن عقدہ، صواعق محرقہ، ابن حجر مکی، طبقات ، محمد بن سعد،طبقات الکبیر،واقدی، طرق الحکمۃ ابن قیم جوزیہ، طبقات المشائخ ۔ عبدالرحمن سلمی، عقد الفرید، ابن عبدویہ ، عروۃ الوثقی، علائ الدولہ، عمدۃ القاری، بدرالدین حنفی، الغدیر، حافظ ابو حاتم رازی، فصول المہمہ ، ابن صباغ مالکی، فرائد السمطین، شیخ الاسلام حموینی الفصل فی الملل و الںحل، ابن حزم اندلسی، فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، فرقتہ الناجیہ، قطیفی فصل الخطاب، خواجہ پارسا، فردوس الاخبار، ابن شیرویہ ، فیض القدیر، عبدالرؤف المنادی، فضائل العترۃ الطاہرہ، ابوالسعادات ، فواید المجموعتہ فی الاحادیث الموضوعہ، قاضی محمد شوکانی۔ قرۃ العینین جلال الدین سیوطی، قاموس اللغہ،فیروزآبادی، کنزالاعمال، محمد بن جریر طبری، کنوز الدقائق ، منادی مصری، کنزالعمال ،مولوی علی متقی ہندی، کنز البراہین، خضری، کفایت الطالب، محمد گنجی شافعی، کشف الغیوب ، قطب الدین شیرازی، کشفہ اللغمہ ، قاضی روزبہان، کوکب منیز شرح جامع الصغیر شمس الدین علقمی، کتاب الامتاع فی احکام السماع ، جعفر بن ثعلب شافعی۔ کتاب الدرایہ فی حدیث الولایہ، ابوسعید سجستانی، کتاب الغرر، ابن خزانہ، کتاب الامر، محمد بن ادریس شافعی ، کتاب الاسلام فی العم والآباء سید الانام، علامہ سید محمد بن سید رسول بزرنجی، کتاب الموافقہ ، ابن السمان، کتاب الاتحاف یجب الاشراف، شبرادی شافعی، کتاب الولایہ، ابن عقدہ حافظی، الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ، سیوطی، لسان المیزان، ابن حجر عسقلانی، مودۃ القربی، میر سید علی ہمدانی، مطالب السئوال محمد بن طلحہ شافعی، مسند الہمام احمد ابن حنبل، مستدرک ، حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری،ملل و نحل ، شہرستانی، مناقب ، خطیب خوارزمی، مناقب ابن مغازلی شافعی، مروج الذہب ، مسعودی، مواقف ، قاضی عبدالرحمن لاسچی شافعی، مرقاۃ شرح بر مشکوۃ ، ملا علی قاری ہروی ،معالم العترۃ النبوۃ، حافظ عبدالعزیز، مفتاح النجا، شیخ محمد بدخشانی،معجم البلدان یاقوت حموی، المجاس، نصر بن محمد سمرقندی، مصابیح السنہ، حسین بن مسعود بغوی، الموضوعات، ابوالفرج ابنجوزی، مرج البحرین، ابوالفرج اصفہانی،معجم الکبیر، سلیمان بن احمد طبرانی المنظم، ابن جوزی، المخ الملکیہ، ابن حجر، منحول فی علم الاصول ابوحامد غزالی،
منہاج الاصول، قاضی بیضاوی ، مہناج السنہ، ابن تیمیہ، میزان الاعتدال ، ذہبی، معرفتہالصحابہ حافظ ابونعیم اصفہانی، مقتل الحسین، خطیب خوارزمی، مجمع الزوائد، حافظ علی ہیثیم، مقاصد الحسنہ، شمس الدین سخاوی، محاضرات تاریخ الامم السلامیہ شیخ محمد حضرمی نہایت اللغہ ، ابن اثیر، صلاح الدین صفدی، ہدایت لمرتاب، حاج احمد آفندی، ہدایت السعدائ، شہاب الدین دولت آبادی، ہدایہ ، برہان الدین حنفی۔
تفسیر علی بن ابراہیم قمی، مجمع البحرین، شیخ فخرالدین طریحی ۔ اصول کافی، محمد بن یعقوب کلینی، تاریخ حبیب السیر غیاث الدین خواند میر، عیون اخبار الرضا، صدوق ابن بابویہ قمی، تاریخ روضہ لصفانا مری، رضاقلی خان، ہدایت بحر الانساب، سید محمد عمیدی الدین نجفی، سفارت نامہ خوارزم، ہدایت ، احتجاج ، احمد بن علی طبری، مصباح المتہجد شیخ طوسی، تاریخ ؟؟؟ العجم، فرصت الددولہ شیرازی، عمدۃ المطالب فیک انساب آل ابی طالب و ہزار مزار شیرازی، دائرۃ المعارف قرن نوزدہم فرانس ، تمدن العرب، ڈاکٹر گوسادلولون فرانسیی الابطال، مسٹر کارلائل انگلستانی سیاستہ الحسینیہ، ڈاکٹر جوزف فرانسیسی ۔ دیوان لاناٹور۔کامیل ۔ فلاماریون فرانسیسی ۔ مرگ و اسرار۔فلامادیون۔
فقط
بالخیر
فہرست
شروع حصہ دوم2
آٹھویں نشست 2
شب جمعہ یکم شعبان المعظم سنہ1345ھ 2
اسلام اور ایمان میں فرق 3
مراتب ایمان 4
اہل سنت قرآنی قواعد کے خلاف شیعوں کو مطعون کرتے ہیں 6
شیعہ علی(ع) اور اہلبیت(ع) کی پیروی کیوں کرتے ہیں اور ائمہ اربعہ کی تقلید کیوں نہیں کرتے 7
بحکم رسول(ص) امت کو عترت کا اتباع کرنا چاہیئے7
انسان کو اندھی تقلید مناسب نہیں 11
انسان کو علم و عقل کا پیرو ہونا چاہئیے12
پیغمبر(ص) نے خلفا کی تعداد بارہ بتائی ہے 13
امام جعفر صادق علیہ السلام کے مراتب 15
مذہب جعفری کا ظہور16
عظیم درد دل اور عترت سے بے اعتنائی18
تاثر بالائے تاثر19
شیعہ صحابہ اور ازواج رسول(ص) پر طعن کیوں کرتے ہیں؟20
صحابہ پر طعن و ایراد موجب کفر نہیں 21
صحابہ کے نیک و بد اعمال رسول اللہ(ص) کے پیش نظر تھے25
واقعہ عقبہ اور قتل رسول(ص) کا ارادہ28
پیغمبر(ص) نے جھوٹوں کی پیروی کا حکم نہیں دیا ہے 29
سقیفہ میں اصحاب کی مخالفت 29
ابوبکر و عمر سے سعد بن عبادہ کی مخالفت 30
بصرے میں علی علیہ السلامسے طلحہ و زبیر کا مقابلہ30
معاویہ اور عمرو عاص علی علیہ السلام کو سب و شتم کرتے تھے30
اصحابی کالنجوم کے اسناد ضعیف ہیں 31
صحابہ معصوم نہیں تھے32
خفیہ جلسے میں دس(10) نفر صحابہ کی شراب نوشی33
صحابہ کی عہد شکنی35
قرآن میں صادقین سے مراد محمد(ص) و علی(ع) ہیں 35
حدیث غدیر اور اس کی نوعیت 36
علمائے عامہ میں سے حدیث غدیر کے معتبر راوی 38
طبری، ابن عقدہ اور ابن حداد39
عمر کو جبرئیل کی نصیحت 40
اقتدائے اصحاب کی حدیث غیر معتبر ہے 41
بعض صحابہ ہوائے نفس کے تابع اور حق سے منحرف ہوگئے41
صحابہ کی عہد شکنی پر امام غزالی کا قول 42
سرّ العالمین امام غزالی کی کتاب ہے 44
ابن عقدہ کی حالت 44
طبری کی موت 45
امام نسائی کا قتل 45
لفظ مولیٰ میں اشکال 46
اولی بہ تصرف کے معنی اور آیہ بلغ47
غدیر خم میں 48
آیہ اکملت لکم دینکم48
مولی کے معنی میں سبط ابن جوزی کا عقیدہ50
مولیٰ کے معنی میں 51
ابن طلحہ شافعی کا نظریّہ51
رحبہ میں حدیث غدیر سے علی(ع) کا احتجاج 52
چوتھا قرینہ53
الست اولی بکم من انفسکم53
رسول اللہ(ص) کے سامنے حسان کے اشعار55
صحابہ کی وعدہ شکنی57
احد حنین اور حدیبہ میں صحابہ کی عہد شکنی57
اںصاف سے فیصلہ کرنا چاہئیے58
حدیبیہ میں صحابہ کا فرار59
خدا جانتا ہے کہ میں کٹ حجتی نہیں کرتا61
حقیقت فدک اور اس کا غصب 62
آیہ و آت ذا القربیٰ حقہ کا نزول 62
حدیث لا نورث سے استدلال اور اس کا جواب 63
حدیث لا نورث کے رد میں جناب فاطمہ(ع) کے دلائل 65
ابوبکر سے علی(ع) کا احتجاج 67
بالائے منبر ابوبکر کی بدکلامی اور علی(ع) و فاطمہ(ع) کو گالی دینا68
منصفانہ فیصلہ ضروری ہے 68
ابوبکر کی باتوں پر ابن ابی الحدید کا تعجب 69
علی(ع) کو ایذا دینا پیغمبر(ص) کو ایذا دینا ہے 70
علی(ع) کو دشنام دینا پیغمبر(ص) کو دشنام دینا ہے 71
علی(ع) باب علم وحکمت ہیں 72
وصایت کے بارے میں روایتیں 73
وقتِ وفات رسول(ص) کا سر مبارک سینہ امیرالمومنین(ع) کے اوپر تھا77
امر وصایت کی تحقیق 78
وصیت سے متعلق بعض صحابہ کے اشعار78
فرمان وصیت کی طرف اشارہ79
حکم رسول(ص) کی اطاعت واجب ہے 81
پیغمبر(ص) کو وصیت سے روکنا81
پیغمبر(ص) کو وصیت سے باز رکھنے پر ابن عباس(رض) کا گریہ82
حدیث منع وصیت کے ماخذ83
تعصب آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے 84
علمائے عامہ کا اعتراف کہ لفظ ہذیان کہنے والے کو معرفتِ رسول(ص) نہ تھی85
پیغمبر(ص) کے روبرو اسلام کے اندر پہلا فتنہ85
عذر گناہ بدتر از گناہ87
عمر کے قول پر قطب الدین شیرازی کا اعتراض 89
ابوبکر کو مرتے دم وصیت لکھنے سے نہ روکنا90
مصیبت عظیم وقت آخر اہانت رسول(ص) اور ممانعت ہدایت 91
چھ مہینے کا بچہ جننے والی عورت کے حق میں علی(ع) کا حکم93
ابوبکر کا فاطمہ(ع) کو فدک واپس کرنا اور عمر کا مانع ہونا94
خلفاءکا اولاد فاطمہ(ع) کو فدک لوٹانا95
عمر ابن عبدالعزیز کا فدک واپس کرنا95
عبداللہ مہدی، اور مامون عباسی کا نسل فاطمہ(ع) کو فدک واپس دینا96
فدک کے عطیہ ہونے کا ثبوت 97
مخالفین کا قول کہ ابوبکر نے آیہ شہادت پر عمل کیا اور اس کا جواب 98
قابض و متصرف سے گواہ مانگنا خلافِ شرع تھا98
خزیمہ ذوالشہادتین 99
فاطمہ(ع) کے گواہوں کی تردید99
صادقین سے محمد(ص) و علی(ع) مراد ہیں 100
علی(ع) افضل صدیقین ہیں 101
علی(ع) حق اور قرآن کے ساتھ ہیں 103
علی(ع) کی اطاعت خدا و رسول(ص) کی اطاعت ہے 104
عدل و اںصاف سے فیصلہ کیجئے105
جابر(رض) کا واقعہ اور ان کو مال عطا کرنا باعث عبرت ہے 106
آیہتطہیر کی شانِ نزول میں اشکال 108
جواب اشکال اور اس کا ثبوت کہ آیت ازواج کے حق میں نہیں ہے 108
ازواج رسول اہل بیت(ع) میں داخل نہیں 109
اخبار عامہ اس بارے میں کہ آیت تطہیر پنجتن کی شان میں آئی ہے 110
حریرہ فاطمہ(ع) کے بارے میں ام سلمہ (رض) اور نزول آیہ تطہیر111
عترتِ رسول(ص) پر خمس کی بندش 112
خدا نے علی(ع) کو پیغمبر(ص) کا شاہد قرار دیا ہے 114
علی علیہ السلام کا دردِ دل 115
علی(ع) کو اذیت دینے والوں کی مذمت میں احادیث 116
فاطمہ (ع) مرتے دم تک ابوبکر و عمر سے خوش نہیں تھیں 118
فاطمہ(ع) کی اذیت خدا و رسول(ص) کی اذیت ہے 119
دختر ابوجہل کے لیے پیغام دینے کا جواب 120
عہد معاویہ کی حدیث سازی اور ابو جعفر اسکافی کا بیان 122
غضب فاطمہ(ع) کے دینی ہونے میں اشکال اور اس کا جواب 123
فاطمہ(ع) کے قلب و جوارح ایمان سے مملو تھے124
فاطمہ(ع) کا غصہ دینی تھا124
فاطمہ(ع) کا سکوت رضا مندی کی دلیل نہیں تھا125
علی(ع) کو اپنی خلافت میں عمل کی آزادی نہیں تھی125
ابوبکر اور عمر کی عیادت فاطمہ(ع)128
فاطمہ(ع) کو شب میں دفن کیا130
فاطمہ(ع) کا درد دل قیامت تک رلائے گا130
نویں نشست 132
شب شنبہ 2 شعبان المعظم سنہ1345 ہجری 132
شیعوں پر اعتراض کہ عائشہ کو زنا کاری کی نسبت دیتے ہیں اور اس کا جواب 133
قضیہ افک اور تہمت زنا سے عائشہ کی بریت 134
شوہر و زوجہ نیکی اور بدی میں ایک دوسرے کے مثل نہیں 134
نوح(ع) و لوط(ع) کی بیویاں جہنم میں اور فرعون کی زوجہ جنت میں جائیگی135
نوح(ع) و لوط(ع) کی بیویوں کی خیانت کا مطلب 137
آیہ مبارکہ کے معنی137
حالات عائشہ کی طرف اشارہ138
پیغمبر(ص) کو عائشہ کی ایذا رسانی139
سودہ زوجہ رسول(ص) کی گفتگو141
علی علیہ السلام سے عائشہ کی مخالفت اور جنگ 141
فضائل علی(ع) شمار سے باہر ہیں 142
علی(ع) کے فضائل و مناقب میں روایتیں 143
علی(ع) کی دوستی ایمان اور آپ(ع) کی دشمنی کفر و نفاق ہے 144
عائشہ کے حکم سے بصرے میں صحابہ اور بے گناہ مومنین کا قتل عام148
امام حسن(ع)کو پیغمبر(ص) کے پاس دفن کرنے سے عائشہ کی ممانعت 149
شہادت امیرالمومنین (ع) پر عائشہ کا سجدہ اور اظہار مسرت 150
عثمان کی نسبت عائشہ کے متضاد فقرے 151
عائشہ کو ام سلمہ کی نصیحتیں 153
عائشہ کو فضائل علی علیہ السلام کی یاد دہانی153
خلفائے ثلاثہ کی تعیین میں اختلاف ان کی خلافت باطل ہونے کی دلیل ہے 155
بطلان اجماع پر دوسرے دلائل 155
مجلس شوری پر اعتراض 157
عبد الرحمن ابن عوف کی حکمیت پر اعتراض 157
حضرت امیرالمومنین کی منزلت پر بدترین ظلم158
خلافت علی(ع) خدا و رسول(ص) کی طرف سے منصوص تھی159
علی(ع) کی خلافت اجماع سے قریب تر تھی160
علی(ع) دوسرے تمام خلفاء سے ممتاز تھے161
چوٹی کے فضائل وکمالات کیا ہیں؟162
علی علیہ السلام کا پاکیزہ نسب 163
علی(ع) کی نورانی خلقت اور پیغمبر(ص) کےساتھ آپ کی شرکت 164
علی علیہ السلام کا نسبِ جسمانی165
اس اشکال کا جواب کہ ابراہیم کا باپ آزر تھا166
پیغمبر(ص) کے آبائو امہات مشرک نہیں بلکہ سب مومن تھے168
ایمان ابوطالب میں اختلاف 170
ایمان ابوطالب(ع) پر اجماع شیعہ170
حدیث ضحضاح اور اس کا جواب 171
حدیث ضحضاح کی مجہولیت 172
ایمان ابوطالب(ع) پر دلائل 172
مدح ابوطالب میں ابن ابی الحدید کے اشعار174
ابوطالب(ع) کے اشعار ان کے اسلام کی دلیل ہے 174
آخری وقت ابوطالب(ع) کا اقرار وحدانیت 177
ابتدائے بعثت میں ابوطالب(ع) سے پیغمبر(ص)کی گفتگو178
بعثت ابراہیم(ع) اور آزر سے آپ کی گفتگو178
محمد ابن ابی بکر علی(ع) کے پیرو تھے اس لیے خال المومنین نہیں کہلائے 181
معاویہ وحی کے نہیں بلکہ خطوط کے کاتب تھے182
معاویہ کے کفر و لعن پر دلائل 183
معاویہ و یزید کی لعن پر آیات و اخبار کی دلالت 183
معاویہ کے حکم سے خاص خاص مومنین کا قتل 184
معاویہ کے حکم سے بسر بن ارطاۃکے ہاتھوں تیس(30)ہزار مومنین کا قتل 185
امیرالمومنین (ع) پر سب وشتم اور آپ کی مذمت میں حدیثیں گھڑنے کےلیے معاویہ کا حکم186
علی(ع) کا دشمن کافر ہے 188
اصحاب رسول(ص) میں اچھے برے سبھی تھے189
ایمان ابوطالب(ع) پرمزید دلائل 193
جعفر طیار(ع) کا باپ کے حکم سے ایمان لانا194
عباس(رض)کا اسلام پوشیدہ تھا!197
ابوطالب(ع) نے اپنا ایمان کس لیے چھپایا198
سنی درحقیقت رافضی اور شیعہ اہل سنت ہیں 199
حلت متعہ پر دلائل 201
حلیت متعہ پر روایات اہل سنت 202
اکابر صحابہ و تابعین اور امام مالک کا حکم کہ متعہ منسوخ نہیں 204
ممتوعہ عورت میں زوجیت کے سارے آثار موجود ہیں 205
عہد رسول(ص) میں منسوخ نہ ہونے کے دلائل!206
مجتہد احکام میں الٹ پھیر کرسکتا ہے 209
ممانعت متعہ سے آوارگی پھیلی211
علی(ع) کا مولد خانہ کعبہ تھا213
عالم غیب سے علی(ع) کا نام اور ایمان ا بوطالب(ع) پر ایک اور دلیل 215
نام خدا و رسول(ص) کے بعد عرش پر علی(ع) کا نام درج ہے 216
نام علی(ع) کے لئے ابوطالب(ع) پر لوح کا نزول 219
علی(ع) کا نام اذان و اقامت کا جزئ نہیں ہے 220
علی علیہ السلام کا زہد و تقویٰ 221
عبداللہ بن رافع کی روایت 221
سوید بن غفلہ کی روایت 222
علی علیہ السلام کا حلوا نہ کھانا223
علی علیہ السلام کا لباس 223
معاویہ سے ضرار کی گفتگو224
زہد کے لئے علی علیہ السلام کو پیغمبر(ص) کی بشارت 225
خدا و رسول(ص) نے علی(ع) کو امام المتقین فرمایا226
حقیقت پسند منصفانہ فیصلہ کریں 229
تنہائی کی وجہ سے انبیائ(ع) کا سکوت اور گوشہنشینی231
امر خلافت میں ہارون(ع) سے علی(ع) کی مشابہت 232
وفاتِ رسول(ص) کے بعد خدا کے لئے علی(ع) کا صبر وسکوت 234
وفات رسول(ص) کے بعد خاموشی کی مصلحت پر علی(ع) کے بیانات 235
خطبہ شقشقیہ238
خطبہ شقشقیہ میں اشکال اور اس کا جواب 239
سید رضیؒ کے حالات 240
خطبہ شقشقیہ سید رضیؒ کی ولادت سے پہلے درج کتب تھا240
دسویں نشست 242
شب یک شنبہ سوم شعبان المعظم سنہ1345 ہجری 242
عمر کے علمی درجے پر سوال اور اس کا جواب 242
وفاتِ پیغمبر(ص) سے عمر کا انکار246
پانچ اشخاص کی سنگساری کا حکم اور حضرت علی(ع) کی تنبیہ247
علی علیہ السلام کا علم وفضل اور منصب قضاوت 249
تیممّ کےبارے میں اشتباہ اور غلط حکم251
تمام علوم ہتھیلی کی طرح علی(ع) کے سامنے تھے253
حضرت علی(ع) کی طرف سے معاویہ کا دفاع 253
اپنے عجز اور علی(ع) کی مشکل کشائی کے لئے عمر کا اعتراف 254
علی(ع) منصب خلافت کے لئے اولیٰ و احق تھے256
انصاف سے فیصلہ ہونا چاہیئے257
راہزن اور زوؔار کی مِثل 258
دین کا اندھا سودا نہ کرنا چاہیئے259
میں نے اپنا مذہب تحقیق کے ذریعے قبول کیا ہے 260
اطاعت علی(ع) کے لئے پیغمبر(ص) کا حکم261
علماۓ اہلِ سنت ہم سے ہم آہنگی نہیں چاہتے263
خاک پر سجدہ کرنےسے اختلاف 263
تاثر کے ساتھ اعلان حقیقت 264
پانی نہ ہو تو غسل و وضو کے بدلے تیمم کرنا چاہیئے265
ابوحنیفہ کا فتویٰ کہ مسافر کو پانی نہ ملے تو نبیذ سے غسل و وضو کرے 266
وضو میں نص کے خلاف پاؤں دھونے کا فتویٰ 269
نص صریح کے خلاف موزے پر مسح کرنے کا فتویٰ 270
نص صریح کے خلاف عمامے پر مسخ کرنے کا حکم271
خاص توجہ اور منصفانہ فیصلے کی ضرورت ہے 271
شیعہ خاک کربلا پر سجدہ کرنا واجب نہیں سمجھتے273
شیعوں کا سجدہ گاہیں ساتھ رکھنا273
خاکِ کربلا پر سجدہ کرنے کا سبب 274
خاک کربلا کے خصوصیات اور پیغمبر(ص) کے ارشادات 274
علمائ اہلِ سنت کا عمل تعجب خیز ہے 277
تبلیغ سورہ برائت میں ابوبکر کی معزول اور علی(ع) کا تقرر278
ابوبکر کی معزولی اور علی(ع) کے تقرر کا ظاہری سبب 279
پیغمبر(ص) کا علی(ع) کو عہدہ قضاوتپریمنبھیجنا281
پیغمبر(ص) کے بعد علی(ع) امت کے ہادی تھے281
دشمنوں کی سازشیں اور مجازی و حقیقی سیاست میں فرق 282
امیرالمومنین(ع) کے دورِ خلافت میں انقلاب کے اسباب 283
جمل و صفین اور نہروان کے لئے پیغمبر(ص) کی پشین گوئی285
علم غیب سواۓ خدا کے کوئی نہیں جانتا288
انبیائ(ص) و اوصیائ(ع) کو علم غیب خدا کی طرف سے ملتا ہے 289
علم کی دو قسمین ہیں، ذاتی اور عرضی290
انبیائ(ص) و اوصیائ(ع) کے علمِ غیب پر قرآنی دلائل 292
سچے ذرائع سے علمِ غیب کے مدعی جھوٹے ہیں 293
انبیائ(ع) و اصیائ(ع) عالم غیب تھے294
ائمہ طاہرین(ع) خلفاۓ برحق اور عالمِ غیب تھے296
حدیث مدینہ کے ناقلین و روات 297
منجملہ اکابر علماۓ اہل سنت 298
حدیث کی توضیح303
علی علیہ السلام عالم غیب تھے304
علی(ع) قرآن کے ظاہر و باطن سے آگاہ تھے305
پیغمبر(ص) نے سینہ علی(ع) میں علم ک ہزار باب کھولے305
علی(ع) کو علمِ رسول(ص) کی تفویض 308
جفر جامعہ اور اس کی کیفیت 309
عہد نامہ ماموں امام رضا(ع)کا اپنی موت کی خبر دینا312
جبرئیل کا وصی رسول(ص) کے لئے ایک مہر کی ہوئی کتاب لانا314
علی علیہ السلام کی نداۓ سلونی اور اخبار اہلِ سنت 317
سنان ابن انس کو قاتلِ امام حسین(ع) بتانا321
علمداری حبیب بن عمار کی خبر321
معاویہ کے غلبےاور مظالم کی خبر322
قتل ذوالثدیہ کی پیشین گوئی324
اپنی شہادت اور ابن ملجم کی خبر325
علی علیہ السلام کی اعلمیت و افضلیت 326
بقول پیغمبر(ص) علی(ع) اعلم امت تھے329
ہیئت جدید کے مطابق فضائی کرات کی خبر333
فرانسیسی مستشرق موسیوژئن سے گفتگو334
یورپ میں تمدن اسلام کی تاثیر پر گوسٹاولوبوں کا بیان 335
ہارون کی طرف سے شارلِمان کو مسلمانوں کی بنائی ہوئی گھڑی کا تحفہ336
جملہ علوم حضرت علی(ع) تک منتہی ہوتے ہیں 339
علی(ع) کے علمی مدارج کے لئے ابن ابی الحدید کا اعتراف 340
ولادت امام حسین(ع) اور تہنیت ملائکہ کی خبر341
منصفانہ فیصلہ342
قبول تشیع میں نواب کے بیانات 343
چھ افراد اہلِ تسنن کا قبول ت تشیع345
عید میلاد حسینی(ع)347
آغازِ بیان 350
مجازی اور حقیقی آزادی 350
خدا اور رسول(ص) اور اولی الامر کی اطاعت واجب ہے 351
اولی الامر کے معنی میں اہل سنت کا عقیدہ351
صاحبانِ امر کی تین قسمیں 352
جناب موسی(ع) کے چنے ہوۓ بنی اسرائیل نا اہل ٹھہرے 352
انسان صالح و کامل امیر کے انتخاب پر قادر نہیں 353
سلاطین و امراء اولی الامر نہیں ہوتے 353
ہربادشاہ اقتدار کی وجہ سے صاحب امر نہیں ہوجاتا354
اولی الامر کو منجانب اللہ منصوب و منصوص ہونا چاہیئے355
طرق عامہ سے آئمہ کے لئے اخبارِ عصمت 359
عترت و اہلِ بیت(ع) کا علم360
اسماۓ آئمہ قرآن میں کیوں نہیں آۓ 361
جواب اشکال 361
قرآن میں نماز کے رکعات و اجزاء کا تذکرہ نہیں 362
اولی الامر سے علی(ع) اور آئمہ اہل بیت مراد ہیں 363
آئمہ اثنا عشر کے اسماء اور تعداد366
پیغمبر(ص) کے بعد خلفائ کی تعداد بارہ ہے 369
جاہلانہ عادت اور تعصب اختیار حق سے مانع ہے 371
طلب حق میں جاحظ کا بیان 372
شیعوں کا مںصفانہ اقرار373
بقیہ تقریر کا خلاصہ373
وہ کتابیں جن سے حوالے دے گئے374