فاطمه زهراءاسلام كي مثالي خاتون
گروہ بندی فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
مصنف آيت اللہ ابراہيم اميني
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : فاطمہ زہراء (س) اسلام کی مثالی خاتون

مولف : آیہ اللہ ابراہیم امینی

مترجم : اختر عباس

کتابت : صغیر حسن خاں ہندی

ناشر : انصاریان پبلیشر، خیابان صفائیہ، جنب مدرسہ امیرالمومنین (ع) - قم - اسلامی جمہوری ایران

تعداد : ۳۰۰۰

تاریخ اشاعات : جون سنہ ۱۹۹۱

اشاعات : بار دوم


انتساب

پروردگارا تیرے سوا شہید کے حقیقی مرتبے سے کوئی واقف نہیں کہ انہوں نے اپنی ستی کو تیری راہ میں قربان کردیا، ان کا انسانیت پر عظیم احسان ہے کہ جس کا صحیح عوض تو ہی دے سکتا ہے_

خداوندا اگر اس معمولی کوشش کا تیرے نزدیک کوئی ثواب ہو تو میں اسے اسلام کے پاکیزہ شہداء اور بالاخص ایران کے انقلاب اسلامی کے شہداء اور انقلاب کے عظیم رہبر حضرت آیت اللہ العظمی نائب امام زمان آقا خمینی کے ایثارگر رفقا کو ہدیہ کرتا ہوں اور یہ معمولی ہدیہ پیش کرتے ہوئے امیدوار ہوں کہ وہ پروردگار کے سامنے نگاہ لطف کریں گے، معذرت خواہ_

مولّف

مترجم کی تمنا بھی وہی ہے جو کہ مولّف کی ہے_

مترجم


پیش لفظ

جن لوگوں کو تاریخ سے لگاؤ رہا ہے اور جنہوں نے اپنی عمر کا کچھ حصّہ مردوں اور مشہور عورتوں کے حالات زندگی کے مطالعہ میں صرف کیا ہے_ ہوسکتا ہے کہ اس میں ان کے مختلف اغراض ہوں_

بعض لوگوں کی تاریخی کتابوں کے مطالعے سے غرض وقت کا کاٹنا ہوتا ہے اور وہ فراغت کا وقت تاریخی کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتے ہیں وہ تاریخ اس غرض سے پڑھتے ہیں کہ وقت گزاری کے ساتھ تعجب آور اور جاذب نظر کہانیاں یادکریں اور پھر انہیں دوستوں کی محفل میں آب و تاب سے بیان کریں لیکن ایک گروہ کی غرض تاریخ کے مطالعے سے اس سے بالاتر اور قیمتی ہوا کرتی ہے_ وہ بزرگوں کے حالات کا اس غرض سے مطالعہ کرتے ہیں کہ اس سے زندگی کا درس حاصل کریں، وہ تاریخ میں ان کی عظمت اور کامیابی کا راز معلوم کرتے ہیں تا کہ ان کے اعمال او رافعال کو اپنی زندگی کے لئے مشعل راہ قرار دیں اسی طرح قوموں کی اور افراد کی شکست اور انحطاط کے عوامل و اسباب معلوم کرتے ہیں تا کہ خود ان میں گرفتار نہ ہوں اور اپنے معاشرے کو اس سے محفوظ رکھیں، اسی طرح جو عظیم پیغمبروں کے مفصل حالات اور آئمہ اطہار(ع) اور دوسرے دینی افراد کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں دو قسم کے ہوتے ہیں_

ایک گروہ کا مقصد سوائے وقت گزاری اور مشغول رہنے کے اور کچھ نہیں ہوتا وہ پیغمبروں اور اماموں کے مناقب اس لئے پڑھتے ہیں کہ تعجب اور قصّے حفظ کریں اور


ان کا مجالس میں تذکرہ اور ساتھ ساتھ وقت بھی کٹتا جائے وہ عجیب و غریب واقعات کے پڑھنے سے لذت اندوز ہوتے ہیں اور تذکرہ اہل بیت کے مراثی اور فضائل کے سننے کے ثواب پرہی قناعت کرتے ہیں_

لیکن دوسرا گروہ ایک ایسے انسانوں کا ہے جو اللہ تعالی کی برگزیدہ ہستیوں کے حالات کا مطالعہ اس غرض کے لئے کرتے ہیں تا کہ ان کی عظمت او رمحبوبیت کے راز کو معلوم کریں اور ان کی زندگی اور روش کے راستے ''جو در حقیقت دین کا صراط مستقیم ہے'' حاصل کریں اور ان کے اعمال اور کردار سے زندگی کا درس حاصل کریں_

افسوس اس بات پر ہے کہ اکثر لوگ جو آئمہ علیہم السلام کی تاریخ کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں_

غالباً پیغمبروں اور آئمہ اطہار کے مناقب کی کتابیں تعجب خیز بلکہ بسا اوقات مبالغہ آمیز واقعات سے مملو پائی جاتی ہیں_ لیکن ان کی اجتماعی اور سیاسی اور اخلاقی زندگی کو اور ان کی رفتار اور کردار اور گفتار کو بطور اختصار بیان کردیا جاتا ہے، ہر ایک مسلمان نے پیغمبر اور ہر ایک امام کی کئی او رتعجب انگیز داستانیں تو یاد کر رکھی ہوں گی لیکن ان کی اجتماعی زندگی اور ان کے انفرادی اعمال و کردار اور ان کا ظالموں اور اسلام دشمن حکومت کے برتاؤ سے مطلع تک نہ ہوں گے_

اس کتاب کے لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کی زندگی کے دوسرے پہلو کی تحقیق کی جائے اور اسے مورد تجزیہ اور تحلیل قرار دیا جائے اسی وجہ سے اگر بعض مناقب یا قصے یہاں ذکر نہیں کئے گئے تو اس پر اعتراض نہ کیا جائے، کیوں کہ اصلی غرض یہ ہے کہ آنحضرت کی شخصیت کو زندگی اور اخلاق اور رفتار کے لحاظ سے واضح کیا جائے_

افسوس ہوتا ہے کہ اس بزرگوار کی زندگی اس قدر مبہم رکھی گئی ہے کہ جس کا ذکر


اسلام کے ابتدائی مدارک میں بہت کم ملتا ہے_ آپ کی زندگی کو ابہام میں رکھنے کی کئی ایک وجوہ ہیں_

پہلی وجہ: آپ کی زندگی مختصر تھی اور اٹھارہ سال سے متجاوز نہ تھی آپ کی آدھی زندگی بلوغ سے پہلے کی بہت زیادہ مورد توجہ قرار نہیں پائی ، بلوغ سے موت تک کا فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا_

دوسری وجہ: چونکہ آپ کا تعلق صنف نازک سے تھا اور آپ کی اکثر زندگی گھر کی چہار دیواری کے اندر بیت کئی لہذا بہت تھوڑے لوگ تھے جو آپ کی داخل زندگی کے صحیح طور پر واقف تھے_

تیسری وجہ: اس زمانے کے لوگوں کے افکار اتنے بلند نہ تھے کہ وہ پیغمبر اسلام(ص) کی دختر جو اسلام کی مثالی خاتون تھی کی قدر و قیمت کے اتنے قائل ہوتے کہ ان کی زندگی کے جزئیات کو محفوظ کر لینے کو اہمیت دیتے_

بہرحال گرچہ آپ کی زندگی کے جزئیات کو کامل طور پر اور آپ کے رفتار و کردار پر جو اسلام کی خاتون کا نمونہ تھے، مکمل طور پر محفوظ نہیں کیا گیا لیکن ہم نے اس مقدار پر جو اس وقت تاریخ میں موجود ہیں ان سے آپ کی شخصیت کا تجزیہ کر کے بیان کیا ہے_ اسی لئے بعض اوقات مجبور ہوکر بعض معمولی تاریخ نویسوں کے حوالے اور نقل پر اکتفا کر کے نتیجہ اخذ کیا ہے اور اسے مورد تجزیہ اور تحلیل قرار دیا ہے_

مثالی خاتون

اسلام نے عورتوں کے حقوق اور ترقی کے لئے خاص احکام اور قوانین وضع کئے ہیں ایک دستور ہے کہ جس سے اسلام کی شائستہ خاتون اور اس کی اسلامی تربیت کے آثار اور نتائج کو دیکھا جاسکتا ہے یہ ہے کہ صدر اسلام کی ان خاتون کی زندگی کو کامل طور پر معلوم کیا جائے کہ جن کی تربیت وحی کے مالک نے کی ہو اور ان کی زندگی کے


تمام جزئیات کا دقیق نظر سے مطالعہ کیا جائے_

حضرت زہراء (ع) تمام اسلامی خواتین میں درجہ اول پر فائز ہیں کیونکہ صرف یہی وہ ایک خاتون ہیں کہ جن کا باپ معصوم ہے اور شوہر معصوم اور خود بھی معصوم ہیں آپ کی زندگی اور تربیت کا ماحول عصمت و طہارت کا ماحول تھا، آپ(ع) کا عہد طفلی اس ذات کے زیر سایہ گزرا جس کی تربیت بلاواسطہ پروردگار عالم نے کی تھی_

امور خانہ داری اور بچوں کی پرورش کا زمانہ اسلام کی دوسری عظیم شخصیت یعنی علی بن ابی طالب علیہ السلام کے گھر میں گزارا اسی زمانے میں آپ نے دو معصوم ''امام حسن اور امام حسین علیہم السلام'' کی تربیت فرمائی اور دو جرات مند و شیر دل اور فداکاربیٹیوں جناب زینب اور جناب ام کلثوم کو اسلامی معاشرہ کے سپرد کیا_ ایسے گھر میں واضح طور سے احکام اسلامی اور تہذیب اسلامی کی رواج کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں اسلام کی پاکیزہ او رمثالی خاتون کو تلاش کیا جاسکتا ہے_

ہماری روش:

لکھنے و ا لے کئی قسم کے ہوتے ہیں_

ایک گروہ ہے کہ جو ان مطالب کو معتبر اور پر ارزش شمار کرتا ہے جو اہلسنت کی کتابوں اور مدارک میں موجود ہوں اور ان مطالب کو کہ جو صرف شیعوں کی کتابوں میں پائے جاتے ہوں نقل کرنے سے بالکل پرہیز کرتا ہے بلکہ ان کو بری نگاہ سے دیکھتا ہے_

ایک گروہ، وہ ہے جو صرف ان مطالب کو صحیح اور معتبر قرار دیتا ہے جو شیعوں کی کتابوں میں موجود ہوں اور ان مطالب کے نقل کرنے سے گریز کرتا ہے جو صرف اہل سنت کی کتابوں میں پائے جاتے ہوں_

لیکن ہماری نگاہ میں دونوں افراط اور تفریط میں مبتلا ہیں_ بہت سے حقائق کو


نظرانداز کرجاتے ہیں، چونکہ وہ صرف اہلسنت کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، ایسے حقائق بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں جو شیعوں کی کتابوں میں موجود نہیں ہوتے اور شیعوں کی کتابوں میں ایسے حقائق بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں جو اہلسنت کی کتابوں میں موجود نہیں ہوتے، شیعوں نے بھی کتابیں لکھی ہیں اور بہت سے مطالب کو آئمہ طاہرین(ع) اور پیغمبر(ص) کے اہل بیت(ع) سے چونکہ یہی حضرات علم کے لئے مرجع بتلائے گئے ہیں'' نقل کیا ہے_

زمانہ کے لحاظ سے شیعہ مولف سنّی مؤلفین سے مقدم ہیں یہ انصاف سے دور نظر آتا ہے کہ بعض سنّی مؤلفین، شیعوں کی کتابوں اور مدارک سے قطع نظر کرتے ہوئے ان مطالب کے نقل سے گریز کریں جو سنّی کتابوں اور ماخذ میں نہ پائے جاتے ہوں یہ حضرات حد سے زیادہ اہلسنت کی کتابوں کے متعلق حسن ظن رکھتے ہیں_ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کتابوں کے تمام لکھنے والے حقیقت کے عاشق اور ہر قسم کے تعصب سے خالی ہیں اور مبراء تھے اور انہوں نے تمام حقائق او رواقعات کو لکھ ہی دیا ہے، جب ان کتابوں میں کوئی مطلب نہ پایا جاتا ہو تو وہ لازماً مطلب بے بنیاد ہوگا حالانکہ ایسی سوچ صحیح نہیں ہے کیونکہ جو شخص بھی غیر جانبدار ہو کر اہلسنت کی کتابوں اور مدارک کا وقت سے مطالعہ کرے بلکہ ایک ہی کتاب کی متعدد طباعت دیکھ لے تو اس کا یہ حسن ظن اور خوشبینی بے بنیاد نظر آئے گا_ اور اس طرح نظر نہیں آئے گا کہ تمام لکھنے والے تعصب اور خود غرضی سے خالی تھے_

بنابراین، ہم نے اس کتاب میں اہل سنت کی کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے اور شیعوں کی کتابوں اور مدارک سے بھی، بعض ایسے مطالب کہ جن کے نقل کرنے سے سنی مؤلفین نے احتراز کیا ے یابطور اجمال اور اشارہ کے نقل کیا ہے ہم نے انہیں شیعوں کی کتابوں اور مدارک سے نقل کیا ہے_

ابراہیم امینی


حصّہ اوّل

ولادت سے ازدواج تک


ہر انسان کی شخصیت ایک حد تک اس کے خاندان او راپنے ماں، باپ کے اخلاق اور جس ماحول میں وہ نشو و نما پاتا ہے اس سے اس کی زندگی وابستہ ہوا کرتی ہے، ماں، باپ ہی ہوتے ہیں کہ جو کسی انسان کی شخصیت کی داغ بیل ڈالتے ہیں اور اسے اپنے روحی قالب اور اخلاق میں ڈھال کر معاشرہ کے سپرد کرتے ہیں کہ در حقیقت کہا جاسکتا ہے کہ ہر ایک فرزند اپنے ماں باپ کے اسوہ کا پورا آئینہ دار ہوتا ہے_

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے باپ کی تعریف و توصیف وضاحت اور تشریح کی محتاج نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) کا فوق العادہ شخصیت کا مالک ہونا اور آپ کی عظمت روحی اور پسندیدہ اخلاق اور بلند ہمت اور فداکاری کسی مسلمان فرد پر بلکہ کسی بھی با اطلاع انسان پر مخفی نہیں ہے آپ کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خداوند عالم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محمد(ص) آپ تو خلق عظیم کے مالک ہیں_

اگر ہم یہاں پیغمبر اسلام(ص) کی تعریف اور توصیف اور اخلاق کا ذکر کرنا شروع کردیں تو اصل مطلب سے دور ہٹ جائیں گے_

فاطمہ (ع) کی ماں

آپ کی والدہ ماجدہ جناب خدیجہ بنت خویلد تھیں، جناب خدیجہ


قریش کے ایک شریف او رمعزز خاندان میں پیدا ہوئی اور اسی ماحول میں پرورش پائی_ آپ کے خاندان کے سارے افراد دانشمند اور اہل علم تھے اور وہ خانہ کعبہ کی حمایت کرنے والوں میں شمار ہوتے تھے_

جس زمانے میں یمن کے بادشاہ تبّع نامی نے حجر اسود کو خانہ کعبہ سے اکھاڑ کر یمن لے جانے کا ارادہ کیا تھا تو جناب خدیجہ کے والد ہی تھے جو ان کے دفاع کے لئے کھڑے ہوئے تھے اور آپ کی فداکاری اور مبارزہ کے نتیجے میں تبّع نے اپنے ارادے کو ترک کردیا اور حجر اسود سے معترض نہ ہوا_(۱)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب خدیجہ کے خاندان والے صاحب فکر، گہری سوچ کے مالک اور جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے گرویدہ تھے_

خدیجہ کی تجارت

گرچہ تاریخ نے جناب خدیجہ کی زندگی کے جزئیات محفوظ نہیں کہے لیکن جو کچھ بعض تاریخوں سے ملتا ہے اس سے آپ کی شخصیت واضح ہوجاتی ہے_

ملتا ہے کہ جناب خدیجہ نے جوانی کی ابتداء میں عتیق بن عامر نامی شخص سے شادی کی لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد عتیق فوت ہوگیا اور جناب خدیجہ کے لئے بہت زیادہ ماں و دولت چھوڑ گیا_ آپ نے ایک مدت تک شوہر نہیں کیا لیکن بنی تمیم کے ایک بڑے آدمی ہند بن بناس سے آپ نے بعد میں شادی کرلی، لیکن یہ مند بھی جوانی کے عالم میں فوت ہوگیا اور جناب خدیجہ کے لئے کافی ثروت چھوڑ گیا_

ایک ایسی بات کہ جس سے جناب خدیجہ کی بزرگی اور بلند ہمتی اور آزادی اور

____________________

۱) الروض الانف_ ج ۲ _ ص ۲۱۳_


استقلال نفس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ جناب خدیجہ کو پہلے شوہر اور دوسرے شوہر سے جو بے پناہ دولت ملی تھی اسے آپ نے یوں ہی روک نہیں رکھا تھا اور نہ ہی اسے ربا، اور سود پر اٹھا دیا تھا کہ جو اس زمانے میں مروج اور عام کار و ربار شمار ہوتا تھا بلکہ آپ نے اسے تجازت میں لگا دیا اور اس کے لئے آپ نے دیانت دار افراد کو ملازم رکھا اور ان کے ذریعہ سے تجارت کرنی شروع کردی_ آپ نے جائز تجازت کے ذریعے بہت زیادہ دولت کمائی، لکھا ہے کہ ہزاروں اونٹ آپ کے نوکروں کے ہاتھوں میں تھے کہ جن سے وہ مصر، شام، حبشہ میں تجارت کرتے تھے_(۱)

ابن ہشام لکھتے ہیں کہ جناب خدیجہ ایک شریف اور مالدار عورت تھیں وہ ایسی سرمایہ دار تھیں کہ جو تجارت کیا کرتی تھیں، بہت سے افراد ان کے یہاں ملازمت کرتے تھے، جو آپ کے لئے تجارت کیا کرتے تھے_(۲)

یہ واضح رہے کہ اتنے بڑے کار و بار کو چلانا اور وہ بھی اس زمانے میں اور بالخصوص جریرہ العرب میں کوئی معمولی کام نہ تھا اور وہ بھی ایک عورت کے لئے اور اس زمانے میں جب کہ عورتیں تمام اجتماعی حقوق سے محروم تھیں اور بہت سنگدل مرد اپنی بے گناہ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے، لامحالہ یہ بزرگوار عورت ایک غیرعادی ذہن اور شخصیت اور استقلال نفسانی کی مالک ہونی چاہیئے کہ جس کے پاس کافی معلومات ہوں گے تا کہ وہ اتنی بڑی وسیع و عریض تجارت کو چلاسکے_

____________________

۱) بحار الانوار_ ۱۶_ ص ۲۲_

۲) سیرة بن ہشام_ ج۱ _ ص ۱۹۹_


مستقل مزاج عورت

جناب خدیجہ کی روشنی زندگی کا برجستہ نکتہ آپ کا جناب رسول خدا(ص) سے ازدواج کا قصّہ ہے، جب آپ کے پہلے اور دوسرے شوہر وفات پاگئے تو آپ میں ایک مستقل مزاجی اور مخصوص قسم کی آزادی پیدا ہوگئی، آپ عاقل ترین اور رشید ترین مردوں سے جو تجارت میں ماہر تھے شادی کرنے پر بھی حاضر نہیں ہوتی تھیں حالانکہ آپ سے شادی کرنے کے خواشمندوں میں خاندانی لحاظ سے نجیب اور بہت زیادہ سرمایہ دار ہوتے تھے اور اس بات پر تیار تھے کہ آپ کے لئے بہت زیادہ گراں مہر ادا کر کے بھی شادی کرلیں لیکن آپ بہت سختی سے شادی کی مخالفت کیا کرتی تھیں_ لیکن دلچسپ و جاذب نظر نکتہ یہ ہے کہ یہی خدیجہ جو اشراف عرب اور سرمایہ داروں سے شادی کرنے پر تیار نہ ہوتی تھیں، کمال شوق اور فراخ دلی سے جناب محمد(ص) کے ساتھ جو یتیم اور تہی دست تھے شادی کرلیتی ہیں_

جناب خدیجہ ان عورتوں میں سے نہ تھی کہ جس کا چاہنے والا کوئی نہ ہو بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے خواستگار بڑی شخصیت کے مالک اور معزز لوگ تھے بلکہ بادشاہ اور سرمایہ دار آپ کے پاس شادی کرنے کی خواہش لے کر آتے اور آپ ان سے شادی کرنے پر راضی نہ ہوتی تھیں، لیکن پیغمبر اسلام علیہ اسلام کے ساتھ ازدواج کرنے پر نہ فقط راضی ہوئیں بلکہ خود انہوں نے بہت زیادہ اصرار اور علاقہ مندی سے اس کی پیش کش کی اور حق مہر کو بھی اپنے مال سے ہی قرار دیا جاب کہ یہی چیز آپ کے لئے استہزاء اور سرزنش کا باعث بھی بنی_

جب کہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ عورتیں اکثر مال اور زندگی کی آرائشے اور تجملات سے بہت


زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کی انتہائی خواہش ہوتی ہے کہ مال دار اور آبرومند شوہر انہیں نصیب ہوتا کہ اس کے گھر میں آرام اور عیش اور نوش کی زندگی کی بسر کریں تو یہ چیز واضح ہوجاتی ہے کہ جناب خدیجہ شادی کرنے میں کوئی اعلی فکر اور سوچ رکھتی تھیں اور کسی غیر معمولی برجستہ شوہر کے انتظار میں تھیں، معلوم ہوتا ہے کہ جناب خدیجہ مال دار شوہر نہیں چاہتی تھیں بلکہ وہ کسی روحانی لحاظ سے برجستہ شخصیت کی تلاش میں تھیں کہ جو اس جہاں کو بدبختی اور جہالت کے گرداب سے نجابت دینے والا ہو_

تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ جناب خدیجہ نے بعض دانشمندوں سے سن رکھا تھا کہ جناب محمد (ص) پیغمبر آخرالزمان ہوں گے اور آپ کو اس مطلب سے عقیدت بھی ہوچکی تھی جب آپ نے جناب محمد(ص) کو اپنی تجارت کا امین منتخب کیا اور شاید ایسا بھی امتحان لینے کے لئے کیا ہو تا کہ دانشمندوں کی پیش گوئی کو اس ذریعے سے آزما سکیں تو اپنے غلام میرہ کو تجارت کے سفر کا ناظر قرار دیا اور اس غلام نے آکر اس سفر کے دوران جنا ب محمد(ص) کے واقعات اور حوادث عجیبہ کو جناب خدیجہ کے سامنے نقل کیا تب اس نجیب اور شریف عورت نے اپنی مطلوب کو گمشدہ شخصیت اور متاع کو پالیا تھا اسی لئے جناب خدیجہ نے خود آنحضور(ص) کے سامنے اظہار کردیا کہ اے محمد(ص) میں نے تجھے شریف اور امین اور خوش خلق اور سچا پایا ہے میری خواہش ہے کہ میں آپ سے شادی کروں_

جناب محمد(ص) نے اس واقعہ کا ذکر اپنے چچاوں سے کیا وہ خواستگاری کی غرض سے جناب خدیجہ کے چچا کے پاس گئے اور اپنے مقصد کا ایک خطبے کے درمیان اظہار کیا، جناب خدیجہ کے چچا ایک دانشمند انسان تھے چاہتے تھے کہ اس کا جواب دیں، لیکن اچھی طرح بات نہ کرسکے تو خود جناب خدیجہ فرط شوق سے فصیح زبان سے


گویا ہوئیں اور کہا اے چچا گرچہ آپ گفتگو کرنے میں مجھ سے سزاوارتر ہیں لیکن آپ مجھ سے زیادہ صاحب اختیار نہیں ہیں اس کے بعد کہنے لگیں:

اے محمد(ص) میں اپنی تزویج آپ سے کر رہی ہوں اور اپنا حق مہر میں نے اپنے ماں میں قرار دیا ہے آپ اپنے چچا سے کہہ دیں کہ عروسی کے ولیمہ کے لئے اونٹ ذبح کریں _(۱)

تاریخ کہتی ہے کہ جناب خدیجہ نے اپنے چچازاد بھائی ورقہ ابن نوفل کو واسطہ قرار دیا تا کہ وہ آپ کی شادی جناب محمد(ص) سے کرادیں_ جب ورقہ نے جناب خدیجہ کو یہ بشارت سنائی کہ میں نے جناب محمد(ص) اور ان کے رشتہ داروں کو آپ سے شادی کرنے پر راضی کرلیا ہے تو جناب خدیجہ نے اس کی اس بہت بڑی خدمت پر اسے ایک خلعت عطا کیا کہ جس کی قیمت پانچ سوا شرفی تھی_

جب جناب محمد(ص) آپ کے گھر سے باہر نکلنے لگے تو جناب خدیجہ نے عرض کی کہ میرا گھر آپ کا گھر ہے اور میں آپ کی کنیز ہوں، آپ جس وقت چاہیں اس گھر میں تشریف لائیں _(۲)

پیغمبر علیہ السلام کے لئے یہ شادی بہت اہمیت کے حال تھی کیونکہ ایک طرف تو آپ خود فقیر اور خالی ہاتھ تھے ، اسی وجہ سے، اور دوسری بعض وجوہ سے آپ بچپن سال کی عمر تک شادی نہ کرسکے تھے، اور دوسری طرف آپ کے پاس کوئی گھر نہ تھا اور تنہا تھا اور تنہائی کا آپ کو احساس ہوا کرتا تھا، اس مبارک شادی سے آپ کا فقر دور ہوگیا اور آپ کو ایک بہترین مشیر و غمگسار بھی مل گیا_

____________________

۱) تذکرة الخواص_ ص ۲۰۲_ بحارالانوار _ ج۱۶ ص ۱۴_

۲) بحارالانوار_ ج ۱۶_ ص ۶۵_


فداکار عورت

جی ہاں جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور جناب خدیجہ نے باصفا اور گرم زندگی کی بنیاد ڈالی_

پہلی عورت جو جناب رسول خدا(ص) پر ایمان لائیں جناب خدیجہ تھیں، اس باعظمت خاتون نے تمام مال اور بے حساب ثروت کو بغیر کسی قید اور شرط کے جناب رسولخدا(ص) کے اختیار میں دے دیا، جناب خدیجہ ان کوتاہ فکر عورتوں میں سے نہ تھیں جو معمولی مال اور استقلال کے دیکھنے سے اپنے شوہر کی پر واہ نہیں کرتیں اور اپنے مال کو شوہر پر خرچ کرنے سے دریغ کرتی ہیں_ جناب خدیجہ پیغمبر علیہ السلام کے عالی مقصد سے باخبر تھیں اور آپ سے عقیدت بھی رکھتی تھیں لہذا اپنے تمام مال کو آنحضرت(ص) کے اختیار میں دے دیا اور کہا کہ آپ جس طرح مصلحت دیکھیں اس کو خدا کے دین کی ترویج اور اشاعت میں خرچ کریں_

ہشام نے لکھا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) کو جناب خدیجہ سے بہت زیادہ محبت تھی آور آپ ان کااحترام کرتے تھے اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیتے تھے وہ اور رشید اور روشن فکر خاتون آپ کے لئے ایک اچھا وزیر اور مشیر تھیں پہلی عورت جو آپ پر ایمان لائیں جناب خدیجہ تھیں، جب تک آپ زندہ رہیں جناب رسول خدا(ص) نے دوسری شادی نہیں کی_(۱)

جناب رسول خدا(ص) فرمایا کرتے تھے کہ جناب خدیجہ اس امت کی عورتوں میں سے بہترین عورت ہیں_(۲)

____________________

۱ ), ۲) تذکرة الخواص سبط ابن جوزی_ چھاپ نجف ۱۳۸۲_ ص ۳۰۲_


جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ جناب پیغمبر علیہ السلام جناب خدیجہ کا اتنی اچھائی سے ذکر کرتے تھے کہ ایک دن میں نے عرض کر ہی دیا کہ یا رسول اللہ (ص) خدیجہ ایک بوڑھی عورت تھیں اللہ تعالی نے اس سے بہتر آپ کو عطا کی ہے_ پیغمبر اسلام(ص) غضبناک ہوئے اور فرمایا خدا کی قسم اللہ نے اس سے بہتر مجھے عطا نہیں کی، خدیجہ اس وقت ایمان لائیں جب دوسرے کفر پر تھے، اس نے میری اس وقت تصدیق کی جب دوسرے میری تکذیب کرتے تھے اس نے بلاعوض اپنا مال میرے اختیار میں دے د یا جب کہ میرے مجھے محروم رکھتے تھے، خدا نے میری نسل اس سے چلائی _ __جناب عائشےہ کہتی ہیں کہ میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اس کے بعد خدیجہ کی کوئی بر ائی نہیں کروں گی _(۱)

روایات میں وارد ہوا ہے کہ جب جبرئیل پیغمبر(ص) پر نازل ہوتے تھے تو عوض کرتے تھے کہ خدا کا پیغام جناب خدیجہ کو پہنچا دیجئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ بہت خوبصورت قصر بہشت میں تمہارے لئے بنایا گیا ہے_(۲)

اسلام کا پہلا خانوادہ

اسلام میں پہلا گھر اور کنبہ کہ جس کی بنیاد پڑی وہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور خدیجہ کا گھر تھا، اس گھر کا خانوادہ تین افراد پر مشتمل تھا_ جناب رسول خدا(ص) ، جناب خدیجہ اور حضرت علی علیہ السلام، یہ گھر انقلاب اسلامی کہ جو عالمی انقلاب کامرکز تھا اس پر بہت زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی تھی اس کے وظائف بہت زیادہ سخت تھے کیونکہ اسے کفر اور بت پرستی سے نبرد آزما ہونا تھا_

____________________

۱) تذکرة الخواص_ ص ۳۰۳_

۲) تذکرة الخواص_ ص ۳۰۲_


توحید کے دین کو دنیا میں پھیلانا تھا، تمام عالم میں ایک گھر سے سوا اور کوئی اسلامی گھر موجود نہ تھا، لیکن توحید کی پہلی چھاونی کے فداکار سپاہیوں کا مصمم یہ ارادہ تھا کہ دینا (والوں) کے دلوں کو فتح کر کے ان پر عقیدہ توحید کا پرچم لہرائیں گے_ یہ طاقتور چھاؤنی ہر قسم سے لیس اور مسلح تھی، جناب رسول خدا(ص) ان کے سردار تھے کہ جن کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے محمد (ص) تو خلق عظیم کا مالک ہے _(۱)

آپ جناب خدیجہ کو بہت چاہتے تھے اور ان کااحترام کرتے تھے، یہاں تک کہ ان سہیلیوں کو معزز سمجھتے تھے_

انس کہتے ہیں کہ جب کبھی آپ(ص) کے لئے ہدیہ لایا جاتا تھا تو آپ(ص) فرماتے کہ اسے فلاں عورت کے گھر لے جاؤ کیونکہ وہ جناب خدیجہ کی سہیلی تھیں_(۲)

اس گھر کی داخلی مدیر اور سردار جناب خدیجہ تھیں وہ جناب رسول خدا(ص) کے مقصد اور مقدس ہدف پر پورا ایمان رکھتی تھیں اور اس مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے کسی بھی کوشش و فداکاری سے دریغ نہیں کرتی تھیں_ اپنی تمام دولت کو جناب رسول خدا(ص) کے اختیار میں دے رکھا تھا اور عرض کیا تھا کہ یہ گھر اور اس کا تمام مال آپ کا ہے اور میں آپ کی کنیز اور خدمت گزار ہوں مصیبت کے وقت جناب رسول خدا(ص) کو تسلی دیا کرتیں، اور ہدف تک پہنچنے کی امید دلایا کرتیں، اگر کفار آپ کو آزار اور تکالیف پہنچاتے اور آپ گھر میں داخل ہوتے تو آپ(ص) جناب خدیجہ کی محبت اور شفقت کی وجہ سے تمام پریشانیوں کو فراموش کردیتے تھے، سخت حوادث او رمشکلات میں اس باہوش اور رشید خاتون سے مشورہ کیا کرتے تھے_

____________________

۱) سورہ قلم آیت ۴_

۲) سفینة البحار_ ج ۱_ ص ۳۸۰_


جی ہاں اس مہر و محبت کے ماحول کے بعد پیغمبر(ص) کا ارادہ مستحکم ہوجاتا تھا، اس قسم کے فداکار ماں باپ کے باصفا گھر اور گرم خانوادگی میں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا متولد ہوئیں_

آسمانی دستور

ایک دن جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابطح میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ خداوند عالم نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ چالیس دن رات آپ جناب خدیجہ سے علیحدگی اختیار کرلیں اور عبادت اور تہجد میں مشغول رہیں، پیغمبر اسلام(ص) اللہ تعالی کے حکم کے مطابق چالیس دن تک جناب خدیجہ کے گھر نہ گئے اور اس مدت میں رات کو نماز اور عبادت میں مشغول رہتے تھے اور دن میں روزے رکھتے تھے_

آپ(ص) نے عمار کے توسط سے جناب خدیجہ کو پیغام بھیجا کہ اے معزز خاتون میرا تم سے کنارہ کشی کرنا کسی دشمنی اور کدورت کی وجہ سے نہیں ہے تم پہلے کی طرح میرے نزدیک معزز اور محترم ہو بلکہ اس علیحدگی اور کنارہ گیری میں پروردگار کے حکم کی پیروی کر رہا ہوں، خدا مصالح سے آگاہ ہے اے خدیجہ تم بزرگوار خاتون ہو اللہ تعالی ہر روز کئی مرتبہ تیرے وجود سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، رات کو گھر کا دروازہ بند کر کے اپنے بستر پر آرام کیا کرو میں اللہ کے حکم کا منتظر ہوں میں اس مدت میں فاطمہ بنت اسد کے گھر رہوں گا_

جناب خدیجہ پیغمبر اسلام(ص) کی ہدایات کے مطالق عمل کرتیں، لیکن اس مدت میں اپنے محبوب کی جدائی میں غمگین رہتے ہوئے رویا کرتیں_

جب اسی طرح چالیس دن مکمل ہوگئے تو اللہ تعالی کی طرف سے فرشتہ نازل ہوا


اور بہشت سے غذا لایا او رعرض کی آج رات اس بہشتی غذا کو تناول کیجئے_ رسول خدا(ص) نے اس روحانی اور بہشتی غذا سے ا فطار کیا جب آپ نماز اور عبادت کے لئے کھڑے ہوئے تو جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کی اے رسول اکرم (ص) آج رات مستحبی نماز کو رہنے دیجئے اور جناب خدیجہ کے پاس تشریف لے جایئےیونکہ اللہ تعالی نے ارادہ کر رکھا ہے کہ آپ صلب سے ایک پاکیزہ بچہ خلق فرمائے_

پیغمبر اکرم(ص) جلدی میں جناب خدیجہ کے گھر کی طرف روانہ ہوے_ جناب خدیجہ فرماتی ہیں کہ اس رات بھی میں حسب معمول دروازہ بند کر کے اپنے بستر پر آرام کر رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھٹکھٹائے ، پیغمبر علیہ السلام کی دلنشین آواز میرے کانوں میں آئی کہ آپ فرما رہے تھے کہ دروازہ کھولو، میں محمد(ص) ہوں، میں نے جلدی سے دروازہ کھولا آپ خندہ پیشانی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نور باپ کے صلب سے ماں کے رحم میں منتقل ہوا _(۱)

حمل کا زمانہ

جناب خدیجہ میں آ ہستہ آہستہ حاملہ ہونے کے آثار نمودار ہونے لگے اور خدیجہ کو تنہائی کے درد و رنج سے نجات مل گئی اور آپ اس بچے سے جو آپ کے شکم مبارک میں تھا مانوس رہنے لگیں_

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب سے جناب خدیجہ نے جناب رسولخدا(ص)

____________________

۱) بحارالانوار_ ج ۱۶ ص ۷۸_


سے شادی کی تھی تب سے مکہ ک ی عورتوں نے آ پ سے روابط آمد و رفت اور سلام و دعا ختم کردیئے تھے اور ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ آپ کے گھر میں کوئی بھی عورت نہ آنے پائے مکہ ک ی بڑی شخصیت کی مالک خواتین نے جناب خدیجہ کو تنہا چھوڑ کر آپ سے الفت و محبت کو ختم کردی تھی اسی وجہ سے آپ اندوہناک اور غمناک رہتی تھیں اور آہستہ آہستہ آپ تنہائی کے غم سے نجات مل گئی تھی اور آپ اس بچے سے جو آپ کے شکم مبارک میں تھا مانوس رہنے لگیں تھیں اور اسی سے راز و نیاز کر کے خوش وخرم رہتی تھیں_

جناب جبرئیل حضرت محمد(ص) اور جناب خدیجہ کو بشارت دینے کے لئے نازل ہوئے او رکہا یا رسول اللہ وہ بچہ کہ جو جناب خدیجہ کے شکم مبارک میں ہے وہ ایک با عظمت لڑکی ہے کہ جس سے تیری نسل قائم رہے گی اور وہ دین کے ان پیشواؤں اور اماموں کی کہ جو وحی کے خاتمے کے بعد تیرے جانشین ہوں گے ماں ہوگی_ جناب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالی کی اس بشارت کو جناب خدیجہ سے بیان کیا اور اس خبر سے جو دل کو خوش کرنے والی تھی آپ کو خشنود کیا_(۱)

جی ہاں وہ خدیجہ کہ جس نے توحید اور خداپرستی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا اور ہر قسم کی محرومی اور سختی کو برداشت کر نے پر تیار ہوگئی تھیں اور اپنی بے پناہ دولت کو اسی مقدس غرض کے لئے وق کر رکھا تھا اپنے دوست اور غمگسار چھوڑ چکی تھیں، جناب محمد(ص) اور ان کے بزرگ مقدس ہدف کو سوائے اللہ کے ہر چیز پر ترجیح دیتی تھیں، جب آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مبارک زبان سے

____________________

۱) دلائل الامامہ_ ص ۸_


اس قسم کی بشارت سنی کہ جس سے اللہ تعالی نے اسے قسم کی بڑی سعادت سے نوازا کہ جس سے دین کے معصوم پیشوا پیدا ہوں گے تو آپ کا دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا_ اور آپ کی فداکاری کی حس کو اس سے زیادہ تحریک ملی اور اپنے خدا اور اس بچے سے جو ان کے شکم مبارک میں تھا مانوس رہنے لگیں_

ولادت فاطمہ (ع)

جناب خدیجہ کی حاملگی کی مدت ختم ہوئی اور ولادت کا وقت آپہنچا، جناب خدیجہ دردز ہ میں تڑپ رہی تھیں اسی دوران کسی کو اپنی سابقہ سہیلیوں اور قریش کی عورتوں کے پاس روانہ کیا اور پیغام دیا کہ پرانے کینہ کو فراموشی کردو اور اس خطرناک موقع پر میری فریاد رسی کرو اور بچے کی ولادت میں میری مدد کو آو، تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص روتے ہوئے جناب خدیجہ کے پاس واپس آیا اور کہا کہ جس کے گھر کا دروازہ میں نے کھٹکھٹایا اس نے مجھے اندر نہیں آنے دیا اور تمہای خواہش کو رد کرتے ہوئے سب نے یک زبان کہا کہ خدیجہ سے کہہ دو کہ تم نے ہماری نصیحت قبول نہ کی تھی اور ہمای مرضی کے خلاف ایک فقیر یتیم سے شادی کرلی تھی اس لئے نہ ہم تمہارے گھر آسکتے ہیں اور نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں_

جب جناب خدیجہ نے کینہ پرور عورتوں کا یہ زبانی زخم لگانے والا پیغام سنا تو تمام سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنے خالق دو جہان خدا کی طرف متوجہ ہوگئیں اس وقت اللہ کے فرشتے اور جنت کی حوریں اور آسمانی عورتوں آپ کی مدد کے لئے آئیں اور آپ اللہ تعالی کی غیبی مدد سے بہرہ ور ہوئیں اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جو آسمانی نبوت کا چمکتا ہوا ستارہ تھا اس جہاں میں قدم رکھا اور اپنے نور ولایت سے مشرق و مغرب کو روشن


اور منور کردیا _(۱)

پیدائشے کی تاریخ

جناب فاطمہ (ع) کی پیدائشے کی تاریخ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے لیکن علماء شیعہ کے درمیان مشہور ہے کہ آپ جمعہ کے د ن بیس جمادی الثانی بعثت کے بعد پانچویں سال میں پیدا ہوئیں_

اگر چہ اکثر سنی علماء نے آپ کی پیدائشے کو بعثت کے پہلے بتلایا ہے جنانچہ عبدالرحمن بن جوزی تذکرة الخواص کے ص ۳۰۶ پر رقمطراز ہے کہ تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) اس سال متولد ہوئیں کہ جس سال قریش مسجدالحرام کی تعمیر میں مشغول تھے یعنی بعثت سے پانچ سال پہلے_

محمدبن یوسف حنفی نے اپنی کتاب درالسمطین کے ص ۱۷۵ پر لکھا ہے کہ فاطمہ (ع) اس سال متولد ہوئیں کہ جس سال قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مشغول تھے اور اس وقت پیغمبر علیہ السلام کا سن مبارک پنتیس سال کا تھا_

ابوالفرج مقاتل الطالبین کے ص ۳۰ پر لکھتے ہیں کہ فاطمہ (ع) بعثت سے پہلے اس سال متولد ہوئیں کہ جس سال خانہ کعبہ تعمیر ہوا_

مجلسی نے بحارالانوار کی جلد ۴۳ کے ص ۲۱۳ پر لکھا ہے کہ ایک دن عبداللہ بن حسن خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے دربار میں گئے کہ جہاں پہلے سے اس دربار میں کلبی بھی موجود تھا ہشام نے عبداللہ سے کہا کہ فاطمہ (ع) کی کتنی عمر تھی؟ عبداللہ نے اس کے جواب میں کہا تیس سال، ہشام نے یہی سوال بعینہ کلبی سے کیا تو اس نے جواب میں کہا،

____________________

۱) دلائل الامامہ_ ص ۵_ بحارالانوار_ ج ۴۳ _ ص ۲ اور ج ۱۶_ ص ۸۰_


پنتیس سال_ ہشام جناب عبداللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ آپ نے کلبی کی بات سنی؟ کلبی کی معلومات نسب کے بارے میں خاصی ہیں___ جناب عبداللہ نے جواب دیا اے امیرالمومنین میری ماں کا حال آپ مجھ سے پوچھیں اور کلبی کی ماں کے حالات اس سے لیکن شیعہ علماء کی اکثریت نے جیسے ابن شہر آشوب نے جلد ۳ کے ص ۳۹۷ پر کلینی نے کافی کی جلد ۱ کے ص ۱۴۹ پر، محدث قمی نے منتہی الامال کی جلد ۱ کے ص ۹۷پر، محمدتقی سپہر نے ناسخ التواریخ کے ص ۱۷ پر، علی ابن عیسی نے کشف الغمہ کی جلد ۲ کے ص ۷۵پر، طبری نے دلائل الامامة کے ص ۱۰ پر، فیض کاشانی نے وافی کے جلد۱ کے ص ۱۷۳ پر ان تمام علماء اور دوسرے دیگر علماء نے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) بعثت کے پانچ سال بعد متولدئیں ان علماء کا مدرک و دلیل وہ روایات ہیں جوانہوں نے آئمہ اطہار سے نقل کی ہیں_

ابوبصیر نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا بیس جمادی الثانی کو جب کہ پیغمبر اکرم(ص) کی پنتالیس سلا کی عمر مبارک تھی اس دنیا میں تشریف لائیں، آٹھ سال تک باپ کے ساتھ مکہ میں رہیں، دس سال تک باپ کے ساتھ مدینہ میں زندگی گزاری باپ کے بعد پچہتر دن زندہ رہیں اور تین جمادی الثانی گیارہ ہجری کو وفات پاگئیں_

لیکن قارئین پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ آپ کی وفات کا تین جمادی الثانی کو ہونا آپ کا پیغمبر(ص) کے بعد پچھتر دن زندہ رہنے کے ساتھ درست قرار نہیں پاتا بلکہ پیغمبر(ص) کے بعد ۹۵ دن زندہ رہنا معلوم ہوتا ہے لہذا ہوسکتا ہے کہ سبعین عربی میںکہ جس کے معنی ستر کے ہیں لفظ تسعین سے کہ جس کے معنی نوے کے ہیں اشتباہ میں نقل کیا گیا ہو_

حبیب سجستانی کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جناب فاطمہ (ع) دختر پیغمبر اسلام(ص) ، رسول اللہ (ص) کی بعثت کے پانچ سال بعد متولد ہوئیں اور


آپ کی وفات کے وقت اٹھارہ سال پچہتر دن عمر مبارک کے گزرچکے تھے، یہ اصول کافی کی جلد ۱ ص ۴۵۷ پر موجود ہے_ ایک روایت کے مطابق آپ کی شادی نو سال کی عمر میں کی گئی_

سعید بن مسیب نے کہا ہے کہ میں نے زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ پیغمبر علیہ السلام نے جناب فاطمہ (ع) کی شادی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کس سن میں کی تھی آپ(ع) نے فرمایا ہجرت کے ایک سال بعد، اس وقت ہجرت فاطمہ (ع) نو سال کی تھیں، یہ روضہ کافی طبع نجف اشرف ۱۳۸۵ ہجری کے ص ۲۸۱ پر موجود ہے_

اس قسم کی احادیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) رسول خدا(ص) کی بعثت کے بعد متولد ہوئیں_ صاحب کشف الغمہ___ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں دو متضاد چیزوں کو جمع کردیا ہے کیونکہ انہوں نے نقل کیا کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جناب فاطمہ (ع) رسول اللہ(ص) کی بعثت کے پانچ سال بعد متولد اور وہ دہ سال تھا کہ جس میں قریش خانہ کعبہ تعمیر کرنے میں مشغول تھے اور آپ کی عمر وفات کے وقت اٹھارہ سال پچھتر دن تھی_ یہ کشف ا لغمہ کی جلد ۲ ص ۷۵ پر موجود ہے_

آپ خود ملاحظہ کر رہے ہیں کہ اس حدیث میں واضح تناقض موجود ہے کیوں کہ ایک طرف تو اس میں یہ کہا گیا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) رسول کی بعثت کے پانچ سال بعد متولد ہوئیں اور وفات کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال و پچھتر دن تھی اور دوسری طرف اسی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ کی ولادت کے وقت قریش خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے_ یہ دونوں مطلب جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ خانہ کعبہ کی تعمیر اور تجدید پیغمبر علیہ السلام کی بعثت کے پانچ سال پہلے ہوئی تھی نہ بعثت کے بعد_

بہرحال اس حدیث میں اشتباہ ہوا ہے لفظ قبل البعثہ کو بعد البعثہ نقل کیا گیا ہے یا ''قریش تنبی البیت'' یعنی قریش خانہ کی تعمیر کر رہے تھے کہ جملہ راوی نے اپنی طرف


سے اضافہ کردیا ہے کہ جسے امام علیہ السلام نے نہیں فرمایا ہوگا_ کعفمی نے مصباح میں لکھا ہے کہ فاطمہ (ع) جمعہ کے دن بیس جمادی الثانی بعثت کے دوسرے سال دنیا میں تشریف لائیں یہ بحار الانوار جلد ۴۳ کے ص ۹ پر بھی موجود ہے_

ان اقوال کے نقل کرنے سے یہ واضح ہوگیا کہ علماء اسلام کے درمیان جناب فاطمہ (ع) کی ولادت کے سلسلے میں بہت زیادہ اختلاف ہے لیکن چونکہ اہلبیت کے افراد آپ کی ولادت بعثت کے پانچ سال بعد مانتے ہیں لہذا ان کا قول سنی تاریخ نویسوں پر مقدم ہوگا_ کیونکہ آئمہ اطہار اور پیغمبر کے اہلبیت اور حضرت زہرا(ع) کی اولاد دوسروں کی نسبت اپنی والدہ کے سن اور عمر مبارک سے زیادہ باخبر ہیں_

اگر کوئی یہاں یہ اعتراض اٹھائے کہ جناب خدیجہ نے بعثت کے دسویں سال میں وفات پائی ہے اور اس وقت آپ کی عمر پینسٹھ سال تھی لہذا جناب فاطمہ (ع) کی ولادت اگر بعثت کے پانچ سال بعد مانی جائے تو لازم آئے گا کہ جناب خدیجہ انسٹھ سال کی عمر میں جناب فاطمہ (ع) سے حاملہ ہوئی ہوں جو قابل قبول نہیں ہے، کیا اس عمر میں حاملہ ہونا تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

اس اعتراض کا جواب دیا جاسکتا ہے، پہلے تو یہ کہ یہ قطعی ن ہیں کہ آپ کی عمر وفات کے وقت پینسٹھ سال کی تھی بلکہ ابن عباس کے قول کے مطابق آپ کی عمر جناب فاطمہ (ع) سے حاملہ ہونے کے وقت اڑتالیس سال کی بنتی ہے کیونکہ این عباس نے فرمایا ہے کہ جناب خدیجہ نے اٹھائیس سال کی عمر میں جناب رسول خدا(ص) کے ساتھ شادی کی تھی جیسے کشف الغمہ کی جلد۲ کے ص ۱۳۹ پر مرقوم ہے، ابن عباس کا قول دوسروں پر مقدم ہے کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) کے رشتہ دار ہیں اور آپ کے داخلی ا مور کو دوسروں کی بہ نسبت بہتر جانتے ہیں_

اس روایت کی روسے جناب خدیجہ جناب رسول خدا کی بعثت کے وقت


تینتالیس سال کی عمر میں ہوں گی اور جب جناب فاطمہ (ع) کا تولد پانچویں بعثت میں ہو تو جناب خدیجہ کی عمر اس وقت اڑتالیس سال کی ہوگی کہ جس میں عورت کا حاملہ ہونا عا دی ہوا کرتا ہے_

اگر ہم ابن عباس کے قول کو تسلیم نہ کریں تب بھی جواب دیا جاسکتا ہے کہ اگر جناب خدیجہ نے جیسے کہ مشہور ہے چالیس سال کی عمر میں جناب رسول خدا(ص) کے ساتھ شادی کی تھی اور آپ کی عمر جناب فاطمہ (ع) سے حاملہ ہونے کے وقت انسٹھ سال کی ہو گی تو بھی یہ عمر قریش کی عورتوں کے لئے حاملہ ہونے کی عادت کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ تمام فقہاء نے لکھا ہے کہ قریش کی عورتوں ساٹھ سال تک صاحب عادت رہتی ہیں اور اس وقت تک حاملہ ہوسکتی ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ جناب خدیجہ قریش خاندان کی ایک اعلی فرد تھیں_

اگر چہ یہ ٹھیک ہے کہ عورت کا اس سن میں حاملہ ہونا بہت نادر اور کم ہوا کرتا ہے لیکن___ محال نہیں ہے بلکہ اس کی مثال اس دنیا میں بھی موجود ہے، جیسے ایک عورت کہ جس کا نام اکرم موسوی تھا، بندر عباس کے سرخون نامی جگہ پر اس نے توام دو بچے جنے اور اس کی عمر اس وقت پینسٹھ سال کی تھی اور اس کے شوہر کی عمر چوہتر سال تھی_

روزنامہ اطلاعات کو ایک ڈاکٹر نے بتلایا کہ ہمیں پیدائشے کی عمر کی ڈاکٹری لحاظ سے جو کم سے کم عمر بتلائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ عورت چار سال اور ساتھ مہینے کی حاملہ ہوئی ہے اور سب سے زیادہ عمر کی ماں اس دنیا میں سرسٹھ سال کی ہوچکی ہے_ یہ مطلب ایران کے اخبار اطلاعات کے ۲۸ بہمن ۱۳۵۱ شمسی میں موجود ہے_

ایک عورت جس کا نام شوشنا ہے جو اصفہان کی رہنے والی تھی چھیاسٹھ سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور ایک لڑکے کو جنم دیا اس کے شوہر یحیی نامی نے اخبار نویسوں کو بتلایا کہ میرے اس عورت سے آٹھ بچے ہیں چار لڑکے اور چار لڑکیاں، سب سے چھوٹا


پچیس سال کا ہے اور سب بڑا لڑکا پچاس سال کا ہے _ اسے اخبار اطلاعات نے ۲۰ اردیبہشت ۱۳۵۱، شمسی کے پرچے میں نقل کیا ہے_

اس کے بعد کیا مانع ہوسکتا ہے کہ جناب خدیجہ بھی انہیں کمیاب اور نادر افراد میں سے ایک ہوں کہ جو اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہیں_

آخر میں ایک اور نکتہ طرف متوجہ ہونا بھی ضروری ہے کہ جو اختلاف جناب فاطمہ زہرا(ع) کی ولادت کے سال میں موجود ہے اس کا اثر آپ(ع) کی عمر پر بھی پڑے گا اور آپ کی عمر میں شادی اور وفات کے وقت میں بھی قہراً اختلاف ہوجائے گا اسی واسطے اگر آپ کی پیدائشے بعثت کے پانچ سال پہلے تسلیم کی جائے تو آپ کی عمر شادی کے وقت تقریباً اٹھارہ سال اور وفات کے وقت اٹھائیس سال ہوگی اور اگر آپ کی پیدائشے بعثت کے پانچ سال بعد مانی جائے تو پھر آپ کی عمر شادی کے وقت نو سال اور وفات کے و قت اٹھارہ سال کی ہوگی_

جناب رسول خدا(ص) اور جناب خدیجہ کی آرزو

خلقت کے اسرار میں سے ایک راز یہ ہے کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اور لڑکا ہوتا تا کہ اسے اپنی حسب منشاء تربیت کرے اور اپنی یادگار چھوڑ جائے_ انسان فرزند کو اپنے وجود کا باقی رہنا شمار کرتا ہے اور مرنے کے وقت آپ کو فناء اور ختم ہوجانا نہیں جانتا، لیکن وہ آدمی جس کا کوئی فرزند نہ ہو تو وہ اپنی زندگی کو مختصر اور موت کے آپہنچنے سے اپنے آپ کو ختم سمجھتا ہے شاید پیدائشے کو یوں سلسلہ نسل انسانی کی بقاء کا وسیلہ قرار دیا گیا ہوتا کہ نسل انسانی نابودی اور منقرض ہوجانے سے محفوظ رہ جائے_

جی ہاں پیغمبر(ص) اور جناب خدیجہ بھی اس قسم کی تمنا رکھتے تھے، وہ خدیجہ جو خداپرستی


اور بشریت کی نجات کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتی تھیں اور پیغمبر کے مقدس ہدف کو آگے بڑھانے میں مال اور دولت اور رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی قطع تعلقی سے گریز نہ کرتی تھی، بغیر کسی قید و شرط کے جناب رسول خدا(ص) کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کرچکی تھیں یقینا ان کی بھی یہ خواہش ہوگی کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے صاحب فرزند ہوں تا کہ وہ دین اسلام کا حامی اور اس کی اشاعت اور ترویج میں اور اسے آنحضرت کے عالی ہدف تک پہنچانے میں کوشاں ہو_

پیغمبر اسلام(ص) جانتے تھے کہ انسان کے لئے موت یقینی ہے آپ تھوڑی اور مختصر مدت میں اتنے بڑے ہدف کو بطور کامل جاری نہیں کرسکتے اور تمام جہان کے بشر کو گمراہی کے گرداب سے نہیں نکال سکتے فطری بات ہے کہ آپ کا دل بھی چاہتا ہو گا کہ ایسے ایثار کرنے والے افراد جو ان کی اپنی نسل سے ہوں موجود ہو جائیں_

جناب محمد مصطفی (ص) اور جناب خدیجہ اس قسم کی ضرور تمنا اور خواہش رکھتے ہوں گے ، لیکن افسوس کہ جو لڑکے آپ کے پیدا ہوئے تھے کہ جنہیں عبداللہ اور قاسم کے نام سے موسوم کیا گیا تھا وہ بچپن ہی میں فوت ہوگئے جتنا دکھ جناب رسول خدا(ص) اور جناب خدیجہ کو ان کی وفات سے ہوا تھا اتنا ہی ان کے دشمن خوش اور شاد ہوئے تھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلام (ص) کی نسل کو ختم ہوتا دیکھ رہے تھے، کبھی دشمن آپ کو ابتر یعنی لاولد کے نام سے پکارتے تھے_

جب آپ کے فرزند عبداللہ فوت ہوئے تو عاص بن وائل بجائے اس کے کہ آپ کو آپ کے فرزند کی موت پر تسلی دیتا مجمع عام میں آپ کو ابتر اور لاولد کہتا تھا اور کہتا تھا کہ جب محمد(ص) مرجائیں گے تو ان کا کوئی وارث نہ ہوگا_ وہ زبان کے زخم سے جناب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم


اور جناب خدیجہ کا دل زخمی کیا کرتا تھا_(۱)

کوثر

خداوند عالم نے پیغمبر اکرم(ص) کو بشارت دی کہ ہم آپ کو خیر کثیر عطا کریں گے_ اللہ تعالی نے دشمنوں کے جواب میں سورہ کوثر کو نازل فرمایا اور اس میں فرمایا کہ اے محمد(ص) ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا پس تم خدا کے لئے نماز پڑھو اور قربانی دو، آپ کا دشمن ہی لاولد ہے نہ کہ آپ_(۲)

پیغمبر اسلام(ص) کو یقین تھا کہ اللہ کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہوتا مجھ سے پاکیزہ نسل اور اولاد وجود میں آئے گا جو تمام جہان کی نیکیوں کا سرچشمہ اور منبع ہوگی_ جب اللہ تعالی کا وعدہ پورا ہوا اور جناب فاطمہ زہرا(ع) دنیا میں تشریف لائیں اور آپ کے نور ولایت سے جہان روشن ہوا تو جناب رسول خدا(ص) کو اطلاع دی گئی کہ خداوند عالم نے جناب خدیجہ کو ایک لڑکی عنایت فرمائی ہے، آپ کا دل اس بشارت سے خوشی اور شادمانی سے لبریز ہوگیا، آپ لڑکی___ ہونے سے نہ صرف غمگین نہ ہوئے بلکہ اس وسیلے سے آپ کا دل مطمئن ہوگیا اور اللہ تعالی کی خوشخبری کے آثار کا مشاہدہ فرمانے لگے_

جی ہاں پیغمبر اکرم(ص) ان کوتاہ فکر اور جاہلیت کے زمانے کے ان نادانوں میں سے نہ تھے جو لڑکی کے وجود پر شرمندہ ہوتے تھے، او رغصے کو فرو کرنے کے لئے اس کی بے گناہ ماں کو گالیاں اور ظلم کا نشانہ بناتے تھے لوگوں

____________________

۱) سیرہ ابن ہشام_ ج ۲ _ ص ۳۴_ تفسیر جوامع الجامع_ مولفہ طبرسی_ ص ۵۲۹_

۲) سورہ کوثر_


سے منھ چھپانے تھے _(۱)

پیغمبر اسلام(ص) اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ لوگوں کے غلط رسم و رواج اور بیہودہ افکار ''کہ جس کی وجہ سے عورتوں کی قدر و قیمت کے قائل نہ تھے اور انہیں معاشرے کافر و حساب نہ کرتے تھے اور بے گناہ لڑکیوں کو زندہ در گور کردیتے تھے'' سے مقابلہ اور مبارزہ کریں اور لوگوں کو بتادیں کہ عورت بھی معاشرہ کی حساس فرد ہے اس پر بہت بڑا وظیفہ اور مسئولیت عائد ہوتی ہے وہ بھی معاشرہ کی عظمت اور ترقی کے لئے کوشش کرے اور ان وظائف کو جو اس کی خلقت کی مناسب سے اس پر عائد کئے گئے بجالائے_

جی ہاں اللہ تعالی نے عملی طور سے عالم کی عورت کی قدر و قیمت سمجھائی ہے_ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) کی ذریت اور پاک نسل کو ایک لڑکی میں قرار دیا اور اس طرح مقدر فرمایا کہ امام اور دین اسلام کے رہبر اور پیشوا تمام کے تمام جناب فاطمہ اطہر کی نسل سے وجود میں آئیں اللہ تعالی نے اس طرح ان نادان لوگوں کے منھ پر جو لڑکی کو اپنی اولاد شمار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے وجود کو موجب عار اور رننگ سمجھتے تھے مضبوط طمانچہ مارا_

ماں کا دودھ

جب جناب فاطمہ زہرا(ع) کو ایک پارچہ میں لیپٹ کر جناب خدیجہ کے دامن میں رکھا گیا تو آپ بہت خوش ہوئیں اور اپنے پستانوں کو اس تازہ مولود کے چھوٹے سے منھ میں دے کر اپنے عمدہ اور بہترین دودھ سے سیراب کیا اور یہ ایک

____________________

۱) سورہ نحل آیتہ ۵۸_


ایسا رویہ تھا کہ جس سے جناب فاطمہ (ع) نے اچھی طرح نمو اور رشد پایا_(۱)

جی ہاں جناب خدیجہ ان خودپسند اور نادان عورتوں میں سے نہ تھیں کہ جو بغیر کسی عذر اور بہانے کے اپنے نو مولود کو ماں کے دودھ سے (کہ جسے اللہ تعالی نے مہیا کیا ہے) محروم کردیتی ہیں_ جناب خدیجہ کو خود علم تھا یا پیغمبر اسلام(ص) سے سن رکھا تھا کہ بچوں کی غذا اور صحت کے لئے کوئی غذا بھی ماں کے دودھ کے برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ ماں کا دودھ ہی اس کے ہاضمہ کی مشیزی اور اس کے خاص مزاج کے لئے کاملاً مناسب اور سازگار ہوا کرتا ہے جو بچے میں اللہ نے ودیعت کر رکھی ہے، بچہ نو مہینے تک ماں کے رحم میں ماں کی غذا اور ہوا اور خون میں شریک رہتا ہے اور بلاواسطہ ماں سے رزق حاصل کرتا ہے اسی لئے ماں کے دودھ کے اجزائے ترکیبی بچے کے مزاج سے کاملاً مناسب ہوتے ہیں اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں کسی قسم کی ملاوٹ کا شائبہ نہیں ہوسکتا اور اس میں زچگی کے جراثیم جو بیماری کا موجب ہوسکتے ہیں نہیں ہوا کرتے _(۲)

جناب خدیجہ کو علم تھا کہ ماں کا پر محبت دامن او رمہر مادری اور بچے کا ماں کے پستانوں سے دودھ پینا کون سے نقوش بچے کی آئندہ زندگی پر چھوڑتے ہیں سعادت او رنیک بختی میں کتنے قابل توجہ اثرات نقش بناتے ہیں اسی لئے آپ نے یہ اختیار کیا کہ جناب فاطمہ زہرا(ع) کو اپنی آغوش محبت میں پرورش اور تربیت کرے اور اپنے پاک دودھ ''جو شرافت، نجابت، علم، فضیلت، بردباری، فداکاری، شجاعت کا منبع اور سرچشمہ ہے'' سے غذا دے_ سچ ہے مگر جناب خدیجہ کے دودھ کے علاوہ

____________________

۱) دلائل الامامہ_ ص ۹_

۲) وافی_ ج ۲_ ص ۲۰۷_


کوئی اور دودھ اس قسم کا پاک عنصر اور شجاعت اور مزاج معرفت کی تربیت کرسکتا تھا کہ باغ نبوت کے پر برکت میوہ کو ثمردار بنادیا؟

دودھ پینے کا زمانہ

جناب فاطمہ زہرا(ع) کے دودھ پینے کا زمانہ اور آپ کا بچپن بہت خطرناک ماحول اور اسلام کے انقلابی زمانے میں گزرا کہ جس نے بلاشک آپ کی حساس روح پر بہت شاندار اثرات چھوڑے اس واسطے کہ دانشمندوں کے ایک گروہ کے نزدیک یہ مطلب پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ بچے کی تربیت کا ماحول اور محیط اور اس کے ماں باپ کے افکار اس کی روح اور شخصیت پر کاملاً اثر انداز ہوتے ہیں اسی لئے ہم مجبور ہیں کہ ابتداء اسلام کے اوضاع او رحوادث کا بطور اجمال ذکر کریں تا کہ قارئین فوق العادہ اوضاع اور بحرانی دور کو ملاحظہ کرسکیں کہ جس میں پیغمبر اسلام(ص) کی دختر گرامی قدر نے نشو و نما اور تربیت حاصل کی ہے_

پیغمبر اسلام(ص) چالیس سال کی عمر میں پیغمبری کے لئے مبعوث بر رسالت ہوئے ابتدا دعوت میں آپ کو بہت مشکلات اور خطرناک اور سخت حوادث کا سامنا کرنا پڑا آپ نے یک و تنہا عالم کفر اور بت پرستی سے مقابلہ کیا آپ نے کئی سال تک خفیہ تبلیغ کی اور دشمنوں کے خوف سے اپنی دعوت اور تبلیغ کو علی الاعلان کرنے کی جرات نہ کرسکتے تھے بعد میں آپ کو خداوند عالم سے حکم ملاکہ لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی کھلی دعوت دو اور مشرکین کی پرواہ مت کرو اور ان سے مت ڈرو _(۱)

پیغمبر اکرم(ص) نے اللہ تعالی کے اس حکم کے بعد اپنی دعوت کو عام کردیا اور اجتماع عام

____________________

۱) سورہ حجر آیت ۹۴_


میں لوگوں کو اسلام کے مقدس آئین کی طرف دعوت دینی شروع کی دن بدن مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا_

جب پیغمبر اکرم(ص) کی تبلیغ علی الاعلان ہونے لگی تو دشمنوں کے آزار و اذیت میں بھی شدت آگئی، وہ مسلمان کو شکنجے کرتے اور ان پر ظلم و ستم ڈھاتے بعض مسلمانوں کو حجاز کے سورج کی تپتی دھوپ میں ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بہت بھاری پتھر رکھ دیتے اور بعض مسلمانوں کو قتل کردیتے تھے_

مسلمانوں پر اتنا سخت عذاب اور سختی کی گئی کہ وہ بہت تنگ آچکے تھے اور مجبور ہوگئے تھے کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرجائیں چنانچہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے جناب رسول خدا سے اجازت لی اور حبشہ کی طرف روانہ ہوگیا_(۱)

جب کفار اپنی سختی اور ظلم اور آزار و اذیت سے اسلام کی پیشرفت اور وسعت کو نہ روک سکے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں تکالیف کو برداشت کرلیتے ہیں لیکن اسلام کے عقیدے سے دست بردار نہیں ہوتے تو انہوں نے ایک مشاورتی اجتماع کیا اور تمام نے انفاق سے طے کیا کہ جناب محمد(ص) کو قتل کردیا جائے_

جب جناب ابوطالب(ع) کو ان کے خطرناک منصوبے کا علم ہوا تو آپ نے جناب رسول خدا(ص) کی جان کی حفاظت کی مختصر یہ کہ بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ ایک درہ میں کہ جس کا نام شعب ابوطالب ہے منتقل ہوگئے_

جناب ابوطالب(ع) اور باقی تمام بنی ہاشم جناب رسول خدا(ص) کی جان کی حفاظت کرتے تھے_ جناب حمزہ جو رسول خدا(ص) کے چچا تھے رات بھر تلوار کھینچے آپ کی حفاظت

____________________

۱) سیرہ ابن ہشام_ ج ۱ ص ۲۴۴_ تاریخ کامل ج ۲_ ص ۵۱_


کیا کرتے تھے، آپ(ص) کے دشمن پیغمبر خدا(ص) کے قتل کرنے سے ناامید ہوگئے تو انہوں نے شعب ابوطالب میں نظر بند افراد پر اقتصادی باؤ ڈالنا شروع کردیا ا ور ان سے خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی_ مسلمانوں تین سال تک اس درہ میں قید رہے اس میں بھوک اور تکالیف اور سخت جلادینے والی گرمی برداشت کرتے رہے اور مختصر خوارک پر جو انہیں چوری چھپے حاصل ہوتی تھی گزر اوقات کرتے رہے اور بسا اوقات بچوں کی بھوک سے فریادیں بلند ہوجایا کرتی تھیں_

جناب فاطمہ زہرا(ع) اس قسم کے خطرناک ماحول اور وحشت ناک و محیط اور اس قسم کے بحرانی حالات میں دنیا میں آئیں اور اس قسم کے حالات میں تربیت پائی، جناب خدیجہ کبری نے اس قسم کے حالات اور شرائط میں اپنے پیارے نو مولود کو دودھ پلایا کافی مدت جناب زہرا(ع) کے دودھ پینے کی اسی درے میں گزری اور اسی جگہ آپ کا دودھ بھی چھڑایا گیا، آپ نے اسی جلانے والے ریگستان میں راہ چلنا سیکھا جب آپ نے بولنا سیکھا تو بچوں کا بھوک سے آہ و فغاں کرنا اسی جگہ سنا اسی گھٹے ہوئے ماحول میں غذا کے قحط کو دیکھا جب آپ آدھی رات کو جاگ اٹھتیں تو دیکھتیں کہ آپ کے رشتہ دار برہنہ شمشیر لئے ہوئے آپ کے باپ کی حفاظت کر رہے ہیں_

تین سال تک جناب زہرا(ع) نے اس جلادینے والی وادی کے سوا اور کچھ نہ دیکھا اور خارجی دنیا سے بے خبر رہیں_

جناب زہرا(ع) کی عمر پانچ سال کی تھی جب پیغمبر اکرم(ص) اور بنی ہاشم کو اس درے ''شعب ابوطالب'' سے نجات ملی اور یہ سب اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے، نئی زندگی کے نظارے اور آزادی کی نعمت اور کھانے پینے میں وسعت اور اپنے مکان میں رہنا جناب زہرا(ع) کے لئے نئے ماحول کی حیثیت رکھتا تھا اور آپ کے لئے باعث مسرت تھا_


ماں کی وفات

افسوس صد افسوس کہ جناب فاطمہ (ع) کے خوشی کے دن زیادہ دیر تک نہ رہ سکے آپ نے آزاد ما حول میں سانس لینا چاہا تھا کہ آپ کی مہربان ماں جناب خدیجہ کا انتقال ہوگیا_

ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ پیغمبر(ص) اور آپ کے اصحاب شعب کی قید سے آزاد ہوئے تھے کہ جناب خدیجہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں _(۱)

اس جانگداز حادثہ نے کس قدر جناب فاطمہ (ع) کے دل پر اثر کیا اور آپ کے امید کے پودہ کو پمردہ کردیا اور آپ کی روح کو شدید صدمہ پہنچا، جناب فاطمہ ز ہرا(ع) ایسے ناقبل برداشت حادثہ کا ہرگز احتمال بھی نہ دیتی تھیں_

نتیجہ

بچپن کے غیر معمولی واقعات اور تلخ حوادث نے بغیر کسی شک و شبہ کے جناب زہرا(ع) کی حساس روح پر اثر چھوڑا اور آپ کی آئندہ زندگی اور نفسیات اور افعال کا ربط نہیں واقعات سے مرتبط ہے جو آپ کو بچپن میں پیش آئے اور آپ کی شخصیت نے اسی سرچشمہ سے آغاز کیا، مندرجہ ذیل اثرات انہیں واقعات سے بطور نتیجہ اخذ کئے جاسکتے ہیں_

۱_ جو شخص اس قسم کے پمردہ ماحول میں نشو و نما پائے اور زندگی کے آغاز میں ہی اتنے پڑے واقعات سے دوچار ہو تو لامحالہ وہ افسردہ خاطر اور غمگین ہی رہا کرتا ہوگا

____________________

۱) مناقب ابن شہر آشوب_ ج۱_ ص ۱۷۴_


اسی لئے جناب فاطمہ (ع) کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ ہمیشہ محزون اور غمگین رہا کرتی تھیں_

۲_ جو شخص اس قسم کے بحرانی ماحول میں پروان چڑھا ہو، یہاں تک کہ دودھ پینے اور بچپن کی عمر قید خانے میں گزاری ہو اور جب سے آپ نے اپنے آپ کو پہچاننا شروع کیا ہو اپنے آپ کو قید خانے میں دیکھے اور یہ دیکھے کہ اس کے ماں باپ کس فداکاری اور ایثار سے اپنے ہدف اور مقصد کا دفاع کر رہے ہیں اور اپنے مقصد تک رسائی کے لئے ہر سختی اور تکلیف کو برداشت کرلیتے ہیں لیکن اپنے مقصد کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے تو لامحالہ اس قسم کی شخصیت سخت جان، مبارز اور صاحب مقصد ہی ابھر کر سامنے آئے گی اور اپنے مقصد تک رسائی کے لئے قید اور تکالیف اور مظالم کی پرواہ نہیں کرے گی اور میدان نہیں چھوڑے گی_

۳_ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دیکھ رہی تھیں کہ اس کے ماں باپ دین کی اشاعت اور خداپرستی کے لئے کتنے مصائب اور تکالیف برداشت کر رہے ہیں، انسانیت کی نجات اور ہدایت کے لئے کتنی قربانیاں دے رہے ہیں آپ کو مسلمان سے یہی امید ہوگی کہ وہ اس کی وفات کے بعد ان کی قدر کریں اور آپ کے ہدف اور مقصد کو آگے بڑھانے میں سعی اور کوشش سے کام لیں اور جو راستہ آپ ان کے لئے معین کرگئے اس سے منحرف نہ ہوں_

ماں کی وفات کے بعد

بعثت کے دسویں سال بہت تھوڑے فاصلے پر جناب ابوطالب اور جناب خدیجہ کی یکے بعد دیگرے وفات ہوجاتی ہے_(۱)

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب_ ج۱_ ص ۱۷۴_


ان دو غم انگیز واقعات نے جناب پیغمبر خدا(ص) کی روح کو صدمہ پہنچایا اور آپ نے اس سال کا نام عام الحزن رکھا_(۱)

کیونکہ ایک طرف تو آپ کا ایک غم گسار اور داخلی و خارجی امور میں مشیر اور آپ کی اولاد کی ماں جناب خدیجہ کا انتقال ہوجاتا ہے اور دوسری طرف آپ کا ایک بہت بڑا حامی اور مددگار اور مدافع جناب ابوطالب اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جس سے آپ کی یکدم داخلی اور خارجی اوضاع دگرگوں ہوجاتی ہیں_

ان دو حامیوں کے فوت ہوجانے سے دشمنوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور اس طرح آپ کو تکالیف دینا شروع کردیں کبھی آپ کو پتھر مارتے اور کبھی آپ کے سر و صورت پر خاک ڈالتے اور کبھی برا بھلا کہتے او رکبھی آپ کے جسم مبارک کو زخمی کرتے اکثر اوقات آپ غمگین اور پمردہ گھر میں داخل ہوتے اور اپنی بیٹی سے ملاقات کرتے، جب کہ جناب فاطمہ (ع) اپنی ماں کے فراق میں مرجھائے ہوئے چہرے سے اشکبار ہوتیں، جناب فاطمہ (ع) جب کبھی گھر سے باہر جاتیں تو ناگوار حوادث سے دوچار ہوتیں کبھی دیکھتیں کہ لوگ آپ کے باپ کو اذیت دے رہے ہیں اور آپ کو برا بھلاکہہ رہے ہیں_ ایک دن دیکھا کہ دشمن مسجدالحرام میں بیٹھے آپ کے والد کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں_ روتے ہوئے گھر واپس آئیں اور دشمنوں کے منصوبے سے باپ کو آگاہ کیا_(۲)

ایک دن مشرکین میں سے ایک آدمی نے جناب رسول خدا (ص) کو گلی میں دیکھا تو کوڑا کرکٹ اٹھا کر آپ کے چہرے اور سر پر ڈال دیا_ پیغمبر(ص) نے اسے کچھ نہ کہا اور گھر چلے

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب_ ج ۱_ ص ۱۷۴_

۲) مناقب شہر ابن آشوب_ ج۱_ ص ۷۱_


گئے_ آپ کی دختر جناب فاطمہ (ع) جلدی سے آئیں اور پانی لاکر اشک بار آنکھوں سے آپ کے سر مبارک کو دھویا_ پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا: بیٹی روو مت، مطمئن رہو خدا تیرے باپ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا، اور کامیابی عطا فرمائے گا_(۱)

ایک دن پیغمبر خدا(ص) مسجد میں نماز میں مشغول تھے، مشرکین کا ایک گروہ آپ کا مذاق اڑا رہا تھا اور آپ کو اذیت دینا چاہتا تھا، ان مشرکین میں سے ایک نے اونٹ ذبح کیا تھا، اس کی اوجھڑی اٹھاکر ''جو کثافت اور خون سے پر تھی'' آپ کی پشت مبارک پر جب آپ سجدے میں تھے ڈال دیا_ جناب فاطمہ (ع) اس وقت مسجد میں موجود تھیں جب آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کو بہت قلق ہوا اور آپ کی پشت مبارک سے اوجھڑی کو ہٹا کر دور پھینک دیا_ پیغمبر اسلام(ص) نے سجدہ سے سر اٹھایا اور نماز کے بعد اس گروہ پر نفرین کی_(۲)

جی ہاں جناب زہرا(ع) نے اپنے بچپن میں اس قسم کے ناگوار واقعات دیکھے اور اپنے باپ کی ان میں مدد کی، اور اپنے کے لئے مادری سلوک کیا کرتی تھیں_

جناب خدیجہ کے انتقال کے بعد بہت سے گھر کے کام کاج کی ذمہ داری جناب فاطمہ (ع) کے کندھے پر آن پڑی تھی_ کیونکہ یہ توحید کا وہ پہلا گھر تھا جس کا سردار مرچکا تھا، اس گھر میں جناب فاطمہ (ع) کے علاوہ اور کوئی مددگار موجود نہ تھا، تاریخ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس زمانے میں پیغمبر خدا(ص) کے گھر کی حالت کیسی رہی اور ان کی زندگی کس طرح گزری_ لیکن بصیرت کی آنکھوں سے اس گھر کی رقت بار حالت کو دیکھا جاسکتا ہے_

____________________

۱) تاریخ طبری_ ج ۲_ ص ۳۴۴_

۲)مناقب شہر ابن آشوب_ ج۱_ ص ۶۰_


پیغمبر اسلام(ص) نے جناب خدیجہ کے بعد سورہ سے شادی کرلی_ اس کے علاوہ اور کئی عورتیں تھیں_ جو تمام کی تمام جناب فاطمہ (ع) سے اظہار محبت کیا کرتی تھیں، لیکن پھر بھی ایک یتیم بچے کے لئے بہت سخت گزرتا ہے جب وہ اپنی ماں کی جگہ کو خالی دیکھے اور اس کی جگہ کسی اور عورت کو رہتا دیکھے_ سوکن خواہ کتنی ہی مہربان اور اچھی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ محبت اور خالص شفقت جو ماں کی طرف سے ہوتی ہے وہ اس بچے کو نہیں دے سکتی_ صرف ماں ہی ہے کہ جو ناز و نعمت، شفقت و محبت سے بچے کے دل کو تسکین دے سکتی ہے_

جناب فاطمہ (ع) کو جس شدت سے محرومی کا احساس ہو رہا تھا اسی شدت سے پیغمبر(ص) بھی آپ سے اظہار محبت فرماتے تھے، کیونکہ پیغمبر خدا(ص) جانتے تھے کہ فاطمہ (ع) کو ماں کی کمی کا احساس ہے اور اس کمی کو پورا ہوتا چاہیئے، اس وجہ سے اور دوسری کئی وجوہ کی بناء پر روایت میں وارد ہوا کہ پیغمبر(ص) جب تک اپنی بیٹی کو نہ چوم لیتے رات کو نہیں سوتے تھے_(۱)

یہ تھوڑے سے آٹھ سال کے واقعات ہیں جو پیغمبر(ص) کی بیٹی جناب فاطمہ (ع) پر مکہ معظمہ میں وارد ہوئے ہیں_

واضح رہے اگر چہ اس قسم کے واقعات اور حوادث جو کسی بچے کی روح پر وارد ہوں تو اس کے اعصاب کو مختل کردیتے ہیں اور اس کی فکر صلاحیت اور جسمی قوت کو کم کردینے کے لئے کافی ہوا کرتے ہیں لیکن اس قسم کا حکم ہر ایک انسان کے لئے کرنا صحیح نہیں ہے_

کیونکہ یہی ناگوار واقعات اور دائمی گرفتاریاں اور متصل مبارزہ ممتاز اور شائستہ انسانوں کی روح کو تقویت پہنچاتے ہیں اور اس کی اندرونی استعداد اور پوشیدہ

____________________

۱) کشف الغمہ_ ج۲_ ص ۹۳_


صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے مشکلات کے مقابلے کے لئے ثابت قدم بنا دیتے ہیں_ جب تک پتھر پر غیر معمولی حرارت معدن میں وارد نہ ہو وہ خالص اور بیش بہا قیمت سونا بن کر نہیں نکلتا_

جی ہاں جناب زہرہ(ع) کی زندگی کے دوران خطرناک حوادث اور بحرانی اوضاع نے آنجناب کی روح کو نہ صرف ضعیف نہیں کیا بلکہ الٹا اپنے وجود کے گوہر کو صیقل کر کے تابناک و درخشان بنادیا اور آپ کو ہر قسم کے حالات سے مبارزہ کرنے کے لئے آمادہ اور طاقتور بنادیا تھا_

فاطمہ (ع) مدینہ کی طرف

پیغمبر خدا(ص) بعثت کے تیرھویں سال جان کے خطرے کی وجہ سے مجبور ہوگئے کہ مکہ کو چھوڑ د یں اور مدینہ کی طرف ہجرت کرجائیں_ چنانچہ آپ نے جاتے وقت حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (ع) کو خداحافظ کہا اور حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ لوگوں کی امانتیں واپس کر کے میری دختر فاطمہ (ع) اور اپنی ماں فاطمہ بنت اسد اور چچا حمزہ کی بیٹی فاطمہ کو اور دوسری مستورات کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف جلد از جلد چلے آنا، میں تمہارا انتظار کروں گا آپ(ص) نے یہ فرمایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے_

حضرت علی (ع) بھی پیغمبر کے دستور کے مطابق جناب فاطمہ (ع) اور دوسری مستورات کو سوار کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے_ راستہ میں ابو واقد اونٹوں کو چلانے والے_ اونٹوں کو تیزی کے ساتھ چلا رہے تھے_ حضرت علی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کرو اور اونٹوں کو آہستہ چلاؤ، کیونکہ عورتیں کمزور ہوا کرتی ہیں جو سختی کو برداشت نہیں کرسکتیں، ابو واقد نے عرض کی کہ میں دشمنوں سے ڈرتا ہوں کوئی ہمارا تعاقب نہ کر رہا ہو جو ہم تک آپہنچے حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا پیغمبر(ص) نے مجھ


فرمایا کے تجھے دشمن کی طرف سے کوئی اذیت نہ پہنچے گی_

جب آپ ''ضجنان'' کے قریب پہنچے تو آٹھ سوار پیچھے سے آئے حضرت علی علیہ السلام نے عورتوں کو محفوظ اور امن کی جگہ کردیا اور تلوار لے کر ان دشمنوں پر حملہ کردیا اور ان کو پراگندہ و متفق کردیا پھر عورتوں کو سوار کیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے_ پیغمبر اسلام(ص) جب ''قبا'' پہنچے تو وہاں بارہ دن تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام جناب فاطمہ (ع) اور دوسری مستورات کو لے کر آنحضرت کی خدمت با برکت سورہ سے شادی کی اور جناب فاطمہ (ع) کو ان کے گھر لے گئے اس کے بعد آپ نے جناب ام سلمہ سے نکاح کیا اور جناب فاطمہ (ع) کو ان کے سپرد کیا تا کہ آپ ان کی سرپرستی اور نگاہ داری کریں جناب ام سلمہ کہتی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو میرے سپرد کیا تا کہ میں ان کی تربیت میں کوشش کروں، میں بھی آپ کی تربیت اور راہنمائی میں کوتاہی نہیں کرتی تھی لیکن خدا کی قسم آپ مجھ سے زیادہ با ادب اور سمجھدار تھیں_(۲)

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب_ ج ۱_ ص۱۷۵، ۱۸۳_

۲) دلائل الامامہ_ ص ۱۱_


حصّہ دوم

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی


جناب فاطمہ (ع) پیغمبر خدا(ص) کی لڑکی اور اپنے زمانے کی ممتاز خواتین سے تھیں قریش کے اصل اور شریف خاندان سے آپ کے والدین تھے_ جمال ظاہری اور روحانی کمالات اور اخلاق آپ نے اپنے ماں باپ سے ورثہ میں پایا تھا، آپ انسانی کمالات کے اعلی ترین کمالات سے مزین تھیں آپ کے والد کی شخصیت دن بدن لوگوں کی نگاہوں میں بلند ہو رہی تھی آپ کی قدرت اور عظمت بڑھ رہی تھی اس لئے آپ کی دختر نیک اختر کی ذات بزرگان قریش اور باعظمت شخصیات اور ثروت مند حضرات کی نگاہوں میں مورد توجہ قرار پاچکی تھی_ تاریخ میں ہے کہ اکثر اوقات بزرگان آپ کی خواستگاری کرتے رہتے تھے لیکن پیغمبر اسلام(ص) بالکل پسند نہیں فرماتے تھے، آنحضرت ان لوگوں سے اس طرح پیش آتے تھے کہ انہیں معلوم ہوجاتا تھا کہ پیغمبر اسلام نے ناراض ہیں_(۱)

جناب رسول خدا(ص) نے فاطمہ (ع) کو علی (ع) کے لئے مخصوص کردیا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ حضرت علی (ع) کی طرف سے اس کی پیشکش کی جائے_(۲)

____________________

۱) کشف الغمہ_ ج ۱_ ص ۲۵۳_

۲) کشف الغمہ_ ج۱_ ص ۳۵۴_


پیغمبر اسلام(ص) خداوند عالم کی طرف سے مامور تھے کہ نور کا عقد نور سے کریں _(۱)

لکھا ہے کہ جناب ابوبکر بھی خواستگاروں میں سے ایک تھے، ایک دن وہ اسی غرض سے جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سے وصلت کروں، کیا ممکن ہے کہ فاطمہ (ع) کا عقد آپ مجھ سے کردیں؟ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ فاطمہ (ع) ابھی کمسن ہے اور اس کے لئے شوہر کی تعیین خدا کے ہاتھ میں ہے میں اللہ کے حکم کا منتظر ہوں_ جناب ابوبکر مایوس ہوکر واپس لوٹے راستے میں ان کی ملاقات جناب عمر سے ہوگئی تو اپنے واقعہ کو ان سے بیان کیا جناب عمر نے ان سے کہا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے تمہارے مطالبے کو رد کردیا ہے_ اور آپ (ص) نہیں چاہتے تھے کہ اپنی دختر تجھے دیں_

جناب عمر بھی ایک دن جناب فاطمہ (ع) کی خواستگاری کی غرض سے پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مدعیان بیان کیا_ پیغمبر خدا(ص) نے انھیں بھی یہی جواب دیا کہ فاطمہ (ع) کمسن ہے اور اس کے شوہر کا معین کرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے، کئی دفعہ ان دونوں صاحبان نے خواستگاری کی درخواست کی جو قبول نہیں کی گئی_

عبدالرحمن بن عوف او رجناب عثمان بن عفان جو دونوں بہت بڑے سرمایہ دار تھے پیغمبر اسلام(ص) کے پاس خواستگاری کے لئے حاضر ہوئے، عبدالرحمن نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) اگر فاطمہ (ع) کی شادی مجھ سے کردیں تو میں سو سیاہ اونٹ آبی چشم کہ جن پر مصری کتان کے کپڑوں سے بارلادا گیا ہو اور دس ہزار دینار بھی حق مہر دینے کے لئے حاضر ہوں جناب عثمان نے عرض کیا کہ میں بھی حاضر ہوں کہ اتنا ہی مہر ادا کروں اور مجھے عبدالرحمن پر ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ میں اس سے پہلے ایمان لایا ہوں_

پیغمبر اسلام(ص) ان کی گفتگو سے سخت غضبناک ہوئے اور انہیں یہ سمجھانے کے لئے

____________________

۱) دلائل الامامہ_ ص ۱۹_


کہ میںمال سے محبت نہیں رکھتا آپ نے ایک مٹھی سنگریزوں کی بھرلی اور عبدالرحمن کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا کہ تم خیال کرتے ہو کہ میں مال کا پرستار ہوں اور اپنی ثروت و دولت سے مجھ پر فخر و مباہات کرنا چاہتے ہو کو مال و دولت کے دباؤ سے میں فاطمہ (ع) کا عقد تجھ سے کردوں گا_(۱)

حضرت علی (ع) کی پیشکش

اصحاب پیغمبر(ص) نے اجمالاً محسوس کرلیا تھا کہ پیغمبر خدا(ص) کا دل چاہتا ہے کہ فاطمہ (ع) کا عقد علی (ع) سے کردیں لیکن حضرت علی (ع) کی طرف سے اس کی پیشکش نہیں ہو رہی تھی ایک دن جناب عمر اور ابوبکر اور سعدبن معاذ و ایک گروہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مختلف موضوعات پر بحث کر رہے تھے اسی دوران جناب فاطمہ (ع) کا ذکر بھی آگیا، ابوبکر نے کہا کہ کافی عرصہ سے عرب کے اعیان اور اشراف فاطمہ (ع) کی خواستگاری کر رہے ہیں لیکن پیغمبر (ص) نے کسی بھی درخواست کو قبول نہیں فرمایا اور ان کے جواب میں یہی فرماتے تھے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا شوہر معین کرنا خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے_

ابھی تک علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف سے فاطمہ (ع) کی خواستگاری نہیں کی گئی میں گمان کرتا ہوں کہ علی علیہ السلام کی طرف سے اس اقدام نے کرنے کی وجہ ان کی تہی دست ہونا ہے میرے سامنے یہ مطلب واضح ہے کہ خدا اور پیغمبر(ص) نے فاطمہ (ع) کو حضرت علی (ع) کے لئے معین کر رکھا ہے_

اس کے بعد ابوبکر نے جناب عمر اور سعد سے کہا اگر تم آمادہ ہو تو ہم مل کر علی (ع) کے پاس چلیں اور ان کے سامنے اس موضوع کو پیش کریں اور اگر وہ شادی کرنے کی

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب_ ج۲_ ص ۳۴۵_ تذکرة الخواص_ ص۳۰۶_


طرف مائل ہوں اور تہی دست ہونے کی بنیاد پر وہ شادی نہ کر رہے ہوں تو ہم ان کی مدد کریں سعد بن معاذ نے اس پیشکش کو بسر و چشم قبول کیا اور ابوبکر کو اس کام میں تشویق دلائی_

سلمان فارسی کہتے ہیں کہ جناب عمر او رابوبکر اور سعد بن معاذ اسی غرض سے مسجد سے باہر آئے اور حضرات علی علیہ السلام کی جستجو میں چلے گئے لیکن آپ کو انہوں نے گھر پہ نہ پایا اور معلوم ہوا کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں اونٹ کے ذریعے ڈول کھینچ کر خرمے کے درختوں کو پانی دے رہے ہیں یہ لوگ اس طرف گئے_ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ کہاں سے آرہے ہیں اور میرے پاس کس غرض سے آئے ہو؟ ابوبکر نے کہا اے علی (ع) تم کمالات کے لحاظ سے ہر ایک سے بالاتر ہو ہم سب آپ کے مقا اور وہ علاقہ جو رسول خدا(ص) کو تم سے ہے اس سے آگاہ ہیں، بزرگان اور اشراف قریش حضرت فاطمہ (ع) کی خواستگاری کے لئے جاچکے ہیں، لیکن تمام لوگوں کی باتوں کو پیغمبر اکرم(ص) نے رد فرمایا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) کا شوہر معین کرنا خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے ہم گمان کرتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو آپ کے لئے مخصوص کیا ہے دوسرا اور کوئی بھی شخص اس سعادت پر افتخار کی صلاحیت نہیں رکھتا ہیں یہ خبر نہیں ہوسکی کہ آپ اس اقدام میں کیوں کوتاہی کر رہے ہیں؟

حضرت علی علیہ السلام نے جب ابوبکر کی یہ گفتگو سنی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے اور فرمایا اے ابوبکر تم نے میرے احساسات اور اندرونی خواہشات کو ابھارا ہے اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جس سے میں غافل تھا_ خدا کی قسم تمام دنیا حضرت فاطمہ (ع) کی خواستگار ہے اور میں بھی علاقہ مند ہوں جو چیز مجھے اس اقدام سے روکے ہوئے ہے وہ ہے فقط میرا خالی ہاتھ ہونا_ ابوبکر نے کہا یا علی (ع) آپ یہ بات نہ کریں کیونکہ پیغمبر خدا(ص) کی نگاہ میں دنیا اور مال دنیا کی کوئی قیمت نہیں ہے میری رائے ہے کہ جتنی جلدی


ہوسکے آپ اس کام میں اقدام کریں اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خواستگاری کی درخواست دیں_(۱)

اندرونی جذبہ بیدار ہوتا ہے

حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام(ص) کے گھر ہی پلے اور جوان ہوئے تھے، آپ(ص) جناب فاطمہ (ع) کو اچھی طرح پہچانتے تھے اور آپ کے اخلاق اور نفسیات سے پوری طرح آگاہ تھے، دونوں پیغمبر خدا(ص) اور جناب خدیجہ کے تربیت یافتہ تھے اور ایک ہی گھر میں جوان ہوئے تھے_(۲)

حضرت علی علیہ السلام جانتے تھے کہ حضرت فاطمہ (ع) جیسی عورت اور نہیں مل سکے گی آپ تمام کمالات اور فضائل سے آراستہ ہیں اور آپ انہیں تہہ دل سے چاہتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ہمیشہ مناسب وقت ہاتھ نہیں آیا کرتا لیکن اسلام کی بحرانی کیفیت اور مسلمانوں کی اقتصادی زبوں حالی نے علی کو اس دلی خواہش سے روک رکھا تھا اور آپ میں سوائے ازدواج کے تمام افکار موجود تھے_

حضرت علی (ع) نے ابوبکر کی پیش کش پر تھوڑا سا غور کیا اور اس معاملے کے تمام اطر اف اور جوانب پر غور کیا ایک طرف آپ کا خالی ہاتھ ہونا اور اپنی اور تمام مسلمانوں کی اقتصادی زبوں حالی اور عمومی گرفتاری دیکھ رہے تھے اور دوسری طرف یہ بھی جان چکے تھے کہ آپ کے ازدواج کا وقت آپہنچا ہے کیونکہ آپ کی عمر تقریباً اکیس سال یا اس سے زیادہ ہوچکی تھی_(۲)

____________________

۱) بحارالانوار_ ج۴۳_ ص ۱۲۵_

۲) مناقب شہر ابن آشوب_ ج۲_ ص ۱۸۰_

۳) ذخائر عقبی _ ص ۲۶_


انہیں اس عمر میں ازدواج کرنا ہی چاہیئےور فاطمہ (ع) جیسا اور رشتہ بھی نہیں مل سکے گا اگر یہ سنہرا وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر اس کا تدارک نہیں کیا جاسکے گا_

علی (ع) خواستگاری کے لئے جاتے ہیں

جناب ابوبکر کی پیشکش نے حضرت علی علیہ السلام کی روح کو اس طرح بیدار کردیا تھا کہ آپ کا اندرونی جذبہ محبت شعلہ ور ہو اور آپ سے پھر اس کام کو آخر تک پہنچانا ممکن نہ ہوسکا کہ جس میں آپ مشغول تھے، آپ نے اونٹ کو اس کام سے علیحدہ کیا اور گھر واپس آگئے آپ نے غسل کیا اور ایک صاف ستھری عبا پہنی اور جوتے پہن کر جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے_

پیغمبر اکرم(ص) اس وقت جناب ام سلمہ کے گھر تشریف فرما تھے_ حضرت علی علیہ السلام جناب ام سلمہ کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، پیغمبر اکرم(ص) نے جناب ام سلمہ سے فرمایا کہ دروازہ کھولو دروازہ کھٹکھٹا نے والا وہ شخص ہے کہ جس کو خدا اور رسول(ص) دوست رکھتے ہیں اور وہ خدا اور اس کے رسول (ص) کو دوست رکھتا ہے_ ام سلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کہ یہ کون ہے کہ جسے آپ نے بغیر دیکھے ہوئے اس قسم کا فیصلہ ان کے حق میں کردیا ہے؟

آپ(ص) نے فرمای اے امّ سلمہ چپ رہو یہ ایک بہادر اور شجاع انسان ہے جو میرا چچازاد بھائی ہے اور سب لوگوں سے زیادہ میرے نزدیک محبوب ہے جناب ام سلمہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور گھر کا دروازہ کھول دیا، حضرت علی (ع) گھر میں داخل ہوئے اور سلام کیا اور پیغمبر خدا(ص) کے سامنے بیٹھ گئے اور شرم کی وجہ سے سر نیچے کئے ہوئے تھے اور اپنے ارادے کو ظاہر نہ کرسکے، تھوڑی دیر تک دونوں چپ رہے اور آخر الامر پیغمبر اسلام(ص) نے


اس سکوت کو توڑا اور ___ فرمایا یا علی گو یا کسی کام کے لئے میرے پاس آئے ہو کہ جس کے اظہار کرنے سے شرم کر رہے ہو؟ بغیر کسی ہچکچا ہٹ کے اپنی حاجت کو بیان کرو اور مطمئن ہو جاؤ کہ تمہاری خواہش قبول کی جائے گی_

حضرت علی (ع) نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ کے گھر میں جو ان ہوا ہوں اور آپ کے لطف و کرم سے ہی مستفید رہا ہوں آپ نے میری تربیت میں ماں اور باپ سے بھی زیادہ کوشش فرمائی ہے اور آپ کے وجود مبارک کی برکت سے میں نے ہدایت پائی ہے یا رسول اللہ خدا کی قسم میری دنیا و آخرت کی پونجی آپ ہیں اب وہ وقت آپہنچا ہے کہ اپنے لئے کسی رفیقہ حیات کا انتخاب کروں اور خانوادگی زندگی کو تشکیل دوں تا کہ اس سے مانوس رہوں اور اپنی تکالیف کو اس کی وجہ سے کم کرسکوں، اگر آپ مصلحت دیکھیں تو اپنی دختر جناب فاطمہ (ع) کو میرے عقد میں دے دیں کہ جس سے مجھے ایک بہت بڑی سعادت نصیب ہوگی_

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس قسم کی پیشکش کے منتظر تھے آپ کا چہرہ انور خوشی اور سرور سے جگمگا اٹھا اور فرمایا کہ صبر کرو میں فاطمہ (ع) سے اس کی اجازت لے لوں_ پیغمبر اسلام(ص) جناب فاطمہ(ص) کے پاس تشریف لے گئے او فرمایا تم کو بہتر جانتی ہو وہ خواستگای کے لئے آپے ہیں آیا تم اجازت دیتی ہو کہ میں تمہارا ان سے عقد کردوں؟ جناب فاطمہ (ع) شرم کی وجہ سے ساکت رہیں اور کچھ نو بولیں_ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آنجناب کے سکوت کو رضایت کی علامت قرار دیا _(۱)

____________________

۱) بحار الانوار_ ج ۴۳_ ص ۱۲۷_ ذخائر العقبی _ ص ۲۹_


موافقت

پیغمبر خدا(ص) اجازت لینے کے بعد حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور مسکرات ہوئے فرمایا یا علی (ع) شادی کے لئے تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت علی (ع) نے جواب دیا یا رسول اللہ (ص) میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، آپ میری حالت سے پوری طرح آگاہ ہیں میری تمام دولت ایک تلوار اور ایک زرہ اور ایک اونٹ ہے آپ نے فرمایا کہ تم ایک جنگجو سپاہی اور جہاد کرنے والے ہو بغیر تلوار کے خدا کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تلوار تمہاری پہلی کھینچ کر اپنی اور اپنے گھر کی اقتصادی اور مالی حالت سنوار سکو اور مسافرت میں اس پر سامان لاد سکو صرف ایک چیز ہے کہ جس سے صرف نظر کرسکتے ہو اور وہ ہے تمہاری زرہ میں بھی تم پر سختی نہیں کرتا اور اسی زرہ پر اکتفا کرتا ہوں، یا علی اب جب کہ معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کیا چاہتے ہو تمہیں ایک بشارت دوں اور ایک راز سے آگاہ کروں؟

حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ بر قربان ہوں آپ ہمیشہ خوش زبان اور نیک خواہ رہے ہیں_ آپ نے فرمایا کہ قبل اس کے کہ تم میرے پاس آؤ جبرئیل نازل ہوئے اور کہا اے محمد(ص) اللہ تعالی نے تجھے بندوں سے منتخب کیا ہے اور رسالت کے لئے چنا ہے_ علی (ع) کو منتخب کیا اور انہیں تمہارا بھائی اور وزیر قرار دیا ہے تمہیں اپنی دختر کا ا ن سے نکاح کردینا چاہیئے ان کے ازدواج کی محفل عالم بالا میں فرشتوں کے حضور ترتیب دی جاچکی ہے خداوند عالم دو پاکیزہ نجیب طیب و طاہر اور نیک فرزند انہیں عطا کرے گا_ اے علی (ع) ابھی جبرئیل واپس نہیں گئے تھے کہ تم نے میرے گھر کا دروازہ آن کھٹکھٹایا ہے_

____________________

۱) بحارالانوار_ ج۴۳_ ص ۱۲۷_


خطبہ عقد

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے علی (ع) تم جلدی سے مسجد میں جاوں میں بھی تمہارے پیچھے آرہا ہوں تا کہ تمام لوگوں کے سامنے عقد کی تقریب اور خطبہ عقد بجالاؤ، علی (ع) خوش اور مسرورمسجد روانہ ہوگئے_ جناب ابوبکر او رعمر سے راستے میں ملاقات ہوگئی تمام واقعہ سے ان کو آگاہ کیا اور کہا کہ رسول خدا(ص) نے اپنی دختر مجھ سے تزویج کردی ہے اور ابھی میرے پیچھے آرہے ہیں تا کہ لوگوں کے سامنے عقد کے مراسم انجام دیں_

پیغمبر خدا(ص) جب کہ آپ کا چہرہ خوشی اور شادمانی سے چمک رہا تھا مسجد میں تشریف لے گئے او رخدا کی حمد و ثناء کے بعدفرمایا: اے لوگو آگاہ رہو کہ جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے ہیں اور خداوند عالم کی طرف سے پیغام لائے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ (ع) کے ازدواج کے مراسم عالم بالا میں فرشتوں کے حضور منعقد کئے جاچکے ہیں اور حکم دیا ہے کہ زمین پر بھی یہ مراسم انجام دیئے جائیں میں تم کو گواہ قرار دیتا ہوں، آپ اس کے بعد بیٹھ گئے اور حضرت علی (ع) سے فرمایا اٹھو اور خطبہ پڑھو_

حضرت علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں خداوند عالم کا اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہوں اور ایسی گواہی دیتا ہوں جو اس ذات کو پسند ہو کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں اور ایسا درود ہو جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جو آپ کے مقام اور درجہ کو بالاتر کردے_ لوگو میرے اور فاطمہ (ع) کے ازدواج سے اللہ راضی ہے اور اس کا حکم دیا ہے لوگو رسول خدا(ص) نے فاطمہ (ع) کا عقد مجھ سے کردیا ہے اور میری زرہ کو بطور مہر قبول فرمایا ہے آپ ان سے پوچھ لیں اور گواہ ہوجائیں_


مسلمانوں نے پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ(ص) آپ نے فاطمہ (ع) کا عقد علی علیہ السلام سے کردیا ہے؟ رسول خدا(ص) نے جواب میں فرمایا ہاں_ تمام حاضرین نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ خدا اس ازدواج کو تمہارے لئے مبارک قرار دے اور تم دونوں کے درمیان محبت اور الفت پیدا کردے_

جلسہ عقد ختم ہوا تو پیغمبر (ص) گھر واپس لوٹ آئے اور عورتوں کو حکم دیا کہ فاطمہ (ع) کے لئے خوشی اور مسرت کا جشن برپا کریں(۱) عقد کے مراسم پہلی یا چھٹی ذی الحجہ(۲) دوسری یا تیسری ہجری(۳) کو انجام پایا_

داماد کا انتخاب

اسلام مسلمانوں سے کہتا ہے کہ اگر کوئی جوان تمہاری لڑکی کی خواستگاری کے لئے آئے تو تم اس کی تمام چیزوں سے پہلے دینی اور اخلاقی حالت کا جائزہ لو با ایمان اور پاک دامن اور خوش اخلاق ہو تو اس سے رشتہ کردو_ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ ازدواج کے لئے مال اور ثروت کو معیار نہیں بنانا چاہیئے_ اسلام کہتا ہے کہ مال و ثروت ہی انسان کو صرف خوش بخت نہیں بناتا، داماد کے فضائل اور کمالات نفسانی اور دینی جذبہ مال اور ثروت پر برتری رکھتا ہے، کیوں کہ باایمان اور خوش رفتار اگر چہ فقیر اور تہی دست

____________________

۱) اس قسمت کے مطالب اور مضامین کو ان کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے، کشف الغمہ_ ج۱ ص ۲۵۳ و ۷ ۲۵_ مناقب ابن شہر آشوب ج ۲_ ذخائر العقبی _ تذکرة الخواص_ دلائل الامامہ مناقب خوارزمی ص ۲۴۷_ بحار الانوار_ ج ۴۳ ص ۹۲و ۱۴۵_

۲) مناقب شہر ابن آشوب ج ۳ ص ۳۴۹_

۳) بحار الانوار_ ج ۴۳ _ ص ۶ و ۷_


ہی کیوں نہ ہو وہ اس عیاش اور ہوسباز اور لاابالی سرمایہ دار سے جو گھر کی آسائشے کے اسباب فراہم کرتا ہے کئی درجہ بہتر ہے_

پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا ہے جب کوئی تمہاری لڑکی کی خواستگاری کے لئے آتے تو اگر تمہیں اس کا اخلاق اور دین _ پسند ہو تو اس سے رشتہ کردو اور اس کو منفی جواب نہ دو اور اگر تمہاری شادیوں کا معیار اس کے خلاف ہو تو نہ تمہارے لئے بہت زیادہ مصائب کا موجب ہوگا_(۱)

پیغمبر(ص) نے یہ مطلب صرف لوگوں کو بتلایا ہی نہیں بلکہ خود بھی اس پر عمل کیا_ آپ نے حضرت علی (ع) کے فضائل اور کمالات اور اخلاق کو دیکھ کر انہیں عبدالرحمن اور عثمان جیسے سرمایہ داروں پر ترجیح دی اور ان(ع) کے فقیر اور تہی دست ہونے کے نقض اور عیب شمار نہ کیا_

حضرت زہرا علیہا السلام کا مہر

۱_ ایک زرہ کہ جس کی قیمت چارسو یا چارسو اسی یا پانچ سو درہم تھی_

۲_ یمنی کتان کا ایک جوڑا_

۳_ ایک گوسفند کی کھال رنگی ہوئی _(۲)

____________________

۱) مناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص ۲۵۱_

۲) وافی کتاب النکاح ص ۱۵_


عملی سبق

اسلام زیادہ مہر کو ملت کے لئے مصلحت نہیں دیکھتا اور سفارش کرتا ہے کہ اگر داماد کے دین اور اخلاق کو تم نے پسند کرلیا ہے تو پھر مہر میں سختی سے کام نہ لو اور تھوڑے مہر پر قناعت کرلو_

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں میری امت کی بہترین عورتیں وہ ہیں جو خوبصورت اور کم مہر والی ہوں_(۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ عورت کی برائی اس میں ہے کہ اس کا مہر بہت زیادہ ہو_(۲)

اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ زیادہ مہر زندگی کو لوگوں پر سخت کردیتا ہے اور بہت زیادہ مشکلات کا ملت کے لئے موجب ہوتا ہے_ مہر میں آسانی کر کے جواوں کو ازدواج زندگی کی طرف مائل کرنا چاہیئےا کہ ہزاروں اجتماعی مفاسد اور روحی امراض سے روکا جاسکے_ زیادہ مہر داماد کی زندگی کو ابتدا ہی میں متزلزل کردیتا ہے اور میاں بیوی کی محبت پر بھی بر اثر ڈالتا ہے (میاں بیوی کی محبت میں خلوص پیدا نہیں ہونے دیتا) جوانوں کو شادی کی طرف سے بے رغبت کردیتا ہے_ پیغمبر اسلام (ص) لوگوں کو خود عمل کر کے سمجھا رہے ہیں کہ زیادہ مہر اسلامی معاشرے کے لئے واقعاً مصلحت نہیں رکھتا اسی لئے تو آپ نے اپنی عزیزترین بیٹی کا معمول مہر پر جیسا کہ بیان کیا گیا حضرت علی (ع) سے نکاح کردیا یہاں تک کہ کوئی چیز بطور قرض بھی علی (ع) کے ذمّہ نہیں سونپی_

____________________

۱) وافی کتاب النکاح_ ص ۱۵_

۲) وافی کتاب النکاح_ ص ۱۵_


حضرت زہرا علیہا السلام کا جہیز

پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا ابھی اٹھو ارو اس زرہ کو جو تم نے حضرت زہرا (ع) کے لئے مہر قرار دی ہے، بازار میں جا کر فروخت کردو اور اس کی قیمت میرے پاس لے آؤ تا کہ میں تمہارے لئے جہیز اور گھر کے اسباب مہیا کروں_

چنانچہ حضرت علی علیہ السلام نے زرہ کو بازار میں لے جا کر فروخت کردیا، مختلف روایات میں اس کی قیمت چار سو سے لے کر پانچ سو درہم تک بتائی گئی ہے_ واضح رہے کہ بعض روایات کی بنا پر جناب عثمان نے آپ کی زرہ خریدی اور بعد میں حضرت علی (ع) کو ہدیہ کردی_(۱)

حضرت علی علیہ السلام زرہ کی قیمت لے کر پیغمبر خدا(ص) کی خدمت میں پیش کی، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب ابوبکر، سلمان فارسی اور بلال کو بلوایا اور کچھ درہم انہیں دے کر فرمایا کہ اس مقدار سے جناب فاطمہ (ع) کے لوازمات اور اسباب زندگی خرید کر لاؤ اور اس سے کچھ درہم اسماء کو دیئے اور فرمایا کہ اس سے عطر اور خوشبو مہیا کرو او رجو درہم باقی بچے وہ جناب ام سلمہ کے پاس رکھ دیئے گئے_

ابوبکر کہتے ہیں کہ جب میں نے درہم کو گنا تو سترسٹھ درہم تھے اور اس سے میں نے یہ اسباب اور لوازمات خریدے_

۱_ ایک سفید قمیص_

۲_ ایک بڑی چادر سر ڈھانپنے کے لئے (یعنی برقعہ)_

____________________

۱) بحار الانوار_ ج ۴۳_ ص ۱۳۰_


۳_ ایک سیاہ خیبری حلہ_

۴_ ایک چار پائی جو کھجور کے لیف سے نبی ہوئی تھی_

۵_ دو عدد توشک ، گدے کہ ایک میں گوسفند کی پشم بھری گئی اور دوسری میں کجھور کے پتے بھرے گئے_

۶_ چار عدد تکیہ جو گوسفند کے چمڑے سے بنائے گئے تھے کہ جن کو اذخر نامی خوشبودار گھاس سے بھرا گیا تھا_

۷_ ایک عدد چٹائی ہجری نامی_

۸_ ایک عدد دستی چکی_

۹_ ایک تانبہ کا پیالہ_ _ پانی بھر نے کے لئے ایک عدد چمڑے کی مشک_ _ کپڑا دھونے کے لئے ایک عدد تھال_ _ دودھ کے لئے ایک عدد پیالہ_ _ پانی پینے کا ایک عدد برتن _ _ ایک پشمی پردہ_ _ ایک عدد لوٹا_ _ ایک عدد کٹی ا برتن جسے صراحی (سبو) کہا جاتا ہے_ _ فرش کرتے کے لئے ایک عدد چمڑا_ _ ایک عدد کوزے_ _ ایک عدد عبا_(۱)

جب جناب زہرا (ع) کا جہیز جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے لے

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب _ ج ۲ ص ۳۵۳ و کشف الغمہ_ ج ۱ ص ۳۵۹_


آئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا اے خدا اس شادی کو مبارک کر کہ جس کے اکثر برتن مٹی کے ہیں_

مسلمانوں کے لئے درس

جناب زہرا علیہا السلام اور حضرت علی علیہ السلام کی شادی اسلامی نمونہ کا سب سے اہم اور احساس ترین شادی ہوسکتی ہے کیونکہ جناب زہر ا علیہا السلام کے والد جزیزة العرب کی بہت بڑی شخصیت بلکہ جہان اسلام کی اہم شخصیت اور برگزیدہ پیغمبر تھے_لڑکی کی بھی بہترین او رعاقل ترین اور تربیت شدہ اور باکمال تھی اور نبائے بشریت کی چار عورتوں میں سے ایک ہیں اور داماد بھی حسب و نسب کے لحاظ سے عرب کے معزز خاندان سے تھے، علم اور کمال اور شجاعت کے لحاظ سے تمام مردوں پر برتری رکھتے ہیں آپ رسول خدا(ص) کے جانشین اور وزیر اور مشیر ہیں اور لشکر اسلام کے سپہ سالار ہیں، اس قسم کی شادی کو خاص اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہونا چاہیئے تھا لیکن جیسا آپ ملاحظہ کرچکے ہیں یہ تقریب بہت سادی سے انجام پذیر ہوئی اسلام کی مثالی خاتون کا جہیز جو مہیا کیا گیا وہ آپ ملاحظہ کرچکے ہیں اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہی مختصر جہیز بھی خود حضرت زہرا علیہا السلام کے حق مہر سے خریدا گیا یوں نہیں کیا گیا کہ حق مہر کو محفوظ کرلیا گیا ہو اور لڑکی کے باپ نے ہزاروں مصائب اور دوسرے اپنی لڑکی کے لئے جہیز اپنی جیب سے مہیا کیا ہو_

پیغمبر خدا(ص) جیسے بھی ہوتا اگر چہ فرض ہی لے کر کیوں نہ ہوتا یوں کرسکتے تھے کہ بہت آبرومندانہ جہیز اس زمانے کے معمول کے مطابق اپنی اکلوتی عزیزترین بیٹی کے لئے مہیا کرتے اور یوں کہتے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں مجھے اپنی شان کا خیال رکھنا ضروری ہے میری بیٹی دنیا کہ بہترین عورتوں میں سے ایک عورت ہے اس کی عظمت اور عزت کا احترام


کیا جانا چاہیئے اور اس کی خوشحالی کے اسباب فراہم کرنے چاہئیں میرے داماد کے خدمات او رجہاد کسی پر مخفی نہیں اس کا احترام اور اس کے زحمات کی قد ردانی اس کی آبرو کے لحاظ سے بہترین وسائل اور اسباب مہیا کر کے مجھے کرنی چاہیئے_

لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جہیز میں مقابلہ اور زیادتی کے ضرر اور مفاسد کا معاشرہ میں علم تھا اور آپ کو علم تھا کہ اگر مسلمان اس مصیبت میں گرفتار ہوگئے تو انہیں عمومی فقر اور اقتصادی دیو الیہ اور کثرت طلاق اور جوانوں کا شادی کرنے کا رجحان کم ہوجائے گا اور روز بروز بے زن جوانوں اور بے شوہر لڑکیوں کی زیادتی اور جرائم اور جنایات کی کثرت مختلف قسم کے فحشا اور اعصابی بیماریوں کا وجود میں آنا جیسے مصائب میں گرفتار ہونا پڑے گا اسی لئے اس مثالی شادی کہ جس کے منتظمین اسلام کی پہلی اور دوسری شخصیت تھیں کمال سادگی سے عمل میں لائی گئی، تا کہ یہ ملت اسلامیہ اور مسلمانوں کے زمام داروں کے لئے عمل درس واقع ہو_

حضرت علی علیہ السلام بھی ان کوتاہ فکر جوانوں میں سے نہ تھے کہ جو مال اور دولٹ کے اکٹھے کرنے کے لئے شادی کرتے ہیں کہ اگر جہیز میں کچھ کمی ہو تو ہر روز اپنی بیوی کے لئے درد سر بنے رہتے ہیں اور اسے بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور اعتراضات سے ازدواجی زندگی کو متزلزل کردیتے ہیں اور زندگی باصفا اور گرم کو بے محل طفلانہ بہانوں سے انس ا ور محبت کے گھر کو اختیار قید خانے میں تبدیل کردیتے ہیں حضرت علی علیہ السلام ملت اسلامی کے امام و پیشوا تھے اور چاہتے تھے کہ اس قسم کے غلط افکار سے مبارزہ کیا جائے مال اور دولت آپ کی نگاہ میں کچھ قیمت نہ رکھتے تھے_


حضرت علی (ع) کے گھر کا اثاثہ

حضرت علی علیہ السلام نے مندرجہ ذیل اسباب حجلہ عروسی کے لئے مہیا کر رکھے تھے_

۱_ ایک لکڑی کی جس پر کپڑے اور پانی کی مشک ٹانگی جاسکے_

۲_ گوسفند کی کھال_

۳_ ایک عدد تکیہ_

۴_ ایک عدد مشک_

۵_ ایک عدد آٹے کی چھلنی_(۱)

عروسی کے متعلق گفتگو

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک مہینہ تقریباً گزر گیا اور میں حیا کرتا تھا کہ پیغمبر (ص) سے جناب فاطمہ (ع) کے بارے میں تذکرہ کروں لیکن جب بھی تنہائی ہوتی تو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ، یا علی کتنی نیک اور زیبا تم کو رفیقہ حیات نصیب ہوئی ہے، جو دنیا کی عورتوں سے افضل ہے ایک دن میرے بھائی عقیل میرے پاس آئے اور کہا:

بھائی جان ہم آپ کی شادی سے بہت خوش حال ہیں، کیوں رسول خدا(ص) سے خواہش کرتے کہ فاطمہ (ع) کو آپ کے گھر روانہ کریں؟ تا کہ آپ کی شادی کی خوشی سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں، میں نے جواب دیا میں بہت چاہتا ہوں کہ رخصتی کرلاؤں لیکن پیغمبر اسلام(ص)

____________________

۱) بحار الانوار_ ج ۴۳_ ص ۱۱۴_


سے شر م کرتا ہوں عقیل نے کہا تمہیں خدا کی قسم ابھی میرے ساتھ آؤ تا کہ پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میںچلیں

_

حضرت علی (ع) جناب عقیل کے ساتھ رسول خدا(ص) کے گھر کی طرف روانہ ہوئے استے میں جناب ام ایمن سے ملاقات ہوگئی ان سے واقعہ کو بیان کیا تو جناب ام ایمن نے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے میں رسول خدا(ص) سے اس بارے میں گفتگو کروں گی، کیونکہ اس قسم کے معاملے میں عورتوں کی گفتگو زیادہ موثر ہوا کرتی ہے، جب ام ایمن اور دوسری عورتیں اصل معاملہ سے مطلع ہوئیں تو تمام کی تمام پیغمبر (ص) کی خدمت میں مشرف ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ(ص) ہمارے ماں باپ آپ پر قربان جائیں_ ہم ایک ایسے موضوع کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہیں کہ اگر جناب خدیجہ زندہ ہوتیں تو بہت زیادہ خوشحال ہوتیں_ جناب پیغمبر خدا(ص) نے جب خدیجہ کا نام سنا تو آپ کے آنسو نکل آئے اور فرمایا کہ خدیجہ کہاں اور خدیجہ جیسا کون، جب لوگ مجھے جھٹلانے تھے تو خدیجہ میری تصدیق کرتی تھیں_ دین خدا کی ترویج کی خاطر اپنا تمام مال میرے اختیار دے رکھا تھا_ خدیجہ وہ عورت تھی کہ جن کے متعلق اللہ تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی کہ خدیجہ کو بشارت دوں کہ خدا اس کو بہشت میں زمرد کا بنا ہوا گھر عطا فرمائے گا_

ام سلمہ نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ جتنا بھی خدیجہ کے متعلق فرمائیں وہ درست ہے خدا ہم کو ان کے ساتھ محشور فرمائے، یا رسول اللہ(ص) آپ کے بھائی اور چچازاد بھائی چاہتے ہیں کہ اپنی بیوی اپنے گھر نے جائیں_ آپ(ص) نے فرمایا وہ خود اس بارے میں مجھ سے کیوں بات نہیں کرتے؟ عرض کہ وہ حیا کرتے ہیں، جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ام ایمن سے فرمایا کہ ابھی علی (ع) کو میرے پاس حاضر کرو_


جب حضرت علی (ع) آپ کی خدمت میں مشرف ہوئے تو فرمایا اے علی چاہتے ہو کہ اپنی بیوی اپنے گھر لے جاؤ؟ آپ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ(ص) آپ نے فرمایا کہ خدا مبارکے کرے، آج رات یا کل رات رخصتی کے اسباب فراہم کردوں گا_

اس کے بعد آپ نے عورتوں سے فرمایا کہ فاطمہ (ع) کو زینت کرو اور خوشبوں لگاؤ اور ایک کمرہ میں فرش بچھا دو تا کہ اس کی رخصتی کے آداب بجالاؤں _(۱)

رخصتی کا جشن

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ عروسی میں ولیمہ دیا جائے اور میں دوست رکھتا ہوں کہ میری امت شادیوں میں ولیمہ دیا کرے_ سعد اس مجلس میں موجود تھے، انہوں نے عرض کی کہ ایک گوسفند میں آپ کو اس جشن کے لئے دیتا ہوں، دوسرے اصحاب نے بھی حسب استطاعت اس میں مدد کی جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بلال سے فرمایا ایک گوسفند لے آو اور حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ اس حیوان کو ذبح کرو، آپ نے دس درہم بھی انہیں دیئے اور فرمایا اس سے کچھ گھی، خرما، کشک لے آو اور روٹی بھی مہیا کرو اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ جسے چاہتے ہو کھانا کھانے کی دعوت دے دو_ حضرت علی علیہ السلام نے اصحاب کے ایک بہت بڑے گروہ کو دعوت دی_ گوشت پکایا گیا اور گھی اور خرما اور کشک کے ذریعے غذا حاضر کی گئی_

چونکہ مہمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور پذیرائی کے اسباب تھوڑے تھے تو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ مہمان دس، دس ہو کر اندر آئیں اور کھانا

____________________

۱) بحار الانوار_ ج ۴۳_ ص ۱۳۰ و ۱۳۲_


کھائیں_ اس جشن میں جناب عباس اور حضرت حمزہ اور حضرت علی (ع) اور جناب عقیل مہمانوں کی پذیرائی کر رہے تھے، دسترخوان بچھایا گیا اور اصحاب دس، دس ہو کر اندر آتے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے دست مبارک سے غذا نکالتے اور مہمانوں کے سامنے رکھتے، جب سیر ہو جاتے تو باہر چلے جاتے اور دوسرے دس آدمی اندر آجاتے اس طرح سے بہت زیادہ لوگوں نے کھانا کھایا اور جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دست مبارک کی برکت سے تمام لوگ سیرہوگئے اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ جو غذا بچ رہی ہے وہ فقرا اور مساکین کے گھروں کو ''جو ولیمہ میں حاضر نہ ہوسکتے تھے'' پہنچائی جائے اور حکم دیا کہ ایک برتن میں حضرت زہرا(ع) اور حضرت علی علیہ السلام کے لئے غذا رکھی جائے _(۱)

حجلہ کی طر ف

پیغمبر خدا(ص) کی عورتوں نے جناب فاطمہ (ع) کو آراستہ کیا آپ کو عطر اور خوشبو لگائی، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (ع) کو بلایا اور اپنے دائیں جانب بٹھایا اور جناب فاطمہ (ع) کو اپنے بائیں جانب بٹھایا، اس کے بعد دونوں کو اپنے سینے سے لگایا اور دونوں کی پیشانی کو بوسہ دیا دلہن کا ہاتھ پکڑا اور داماد کے ہاتھ میں دیا اور حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ فاطمہ (ع) اچھی رفیقہ حیات ہے اور جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا کہ علی (ع) بہترین شوہر ہیں_

اس کے بعد عورتوں کو حکم دیا کہ دولھا، دلھن کو خوشی اور جوش و خروش سے حجلہ کی طر ف لے جائیں لیکن اس قسم کا کوئی کلام نہ کریں کہ جس سے اللہ ناراض ہوتا ہو

____________________

۱) بحارالانوار_ ج ۴۳ ص ۱۳۲ و ۱۳۷ و ۱۱۴و ۱۰۶_


پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عورتوں نے جوش و خروش سے اللہ اکبر کہتے ہوئے فاطمہ (ع) اور علی (ع) کو حجلہ تک پہنچایا رسول خدا(ص) بھی اس کے پیچھے آپہنچے اور حجلہ میں وارد ہوگئے اور حکم دیا کہ پانی کا برتن حاضر کیا جائے تھوڑا سا پانی لے کر آپ نے جناب فاطمہ (ع) کے جسم پر چھڑ کا اور حکم دیا کہ باقی پانی سے وضو کریں اور منھ دھوئیں اس کے بعد ایک اور پانی کا برتن منگوایا اور اسے کچھ پانی حضرت علی علیہ السلام کے جسم پر چھڑکا اورحکم دیا کہ باقی پانی سے وضو کریں اور منھ دھوئیں اس کے بعد آپ نے دلھن اور داماد کا بوسہ لیا اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا_ اے خدا_ اس شادی کو مبارک فرما اور ان سے پاک و پاکیزہ نسل وجود میں آئے_

جب آپ نے چاہا کہ حجلہ سے باہر جائیں تو جناب فاطمہ (ع) نے آپ کا دامن پکڑلیا اور رونا شروع کردیا، آپ نے فرمایا میری پیاری بیٹی، میں نے بردبار تریں اور دانشمندترین انسان سے تیری شادی کی ہے_

اس کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور حجلہ کے درواز پر آکر دروازے کے عتبے کو پکڑ کر فرمایا کہ خدا تمہیں اور تمہاری نسل کو پاک و پاکیزہ قرار دے، میں تمہارے دوستوں کا دوست ہوں اور تمہارے دشمنوں کا دشمن، اب رخصت ہوتا ہوں اور تمہیں خداوند عالم کے سپرد کرتا ہوں_ حجلے کے دروازے کو بند کیا اور عورتوں سے فرمایا کہ سب اپنے گھروں کو چلی جائیں اور یہاں کوئی بھی نہ رہے_ تمام عورتیں چلی گئیں_

جب پیغمبر اسلام(ص) نے باہر جانا چاہا تو دیکھا کہ ایک عورت وہاں باقی ہے پوچھا تم کون ہو مگر میں نے نہیں کہا کہ سب چلی جاؤ_

اس نے عرض کی میں اسماء ہوں، آپ نے توفرمایا کہ سب چلی جاؤ لیکن میں جانے سے معذور ہوں کیونکہ جب جناب خدیجہ اس جہان سے کوچ فرما رہی تھیں تو میں نے دیکھا


کہ وہ رور رہی ہیں، میں نے عرض کیا آپ بھی روتی ہیں؟ حالانکہ تم دنیا کہ عورتوں سے بہترین عورت ہو، اور رسول خدا(ص) کی بیوی ہو، اللہ تعالی نے تجھے بہشت کا وعدہ دیا ہے_ آپ نے کہا میں اس لئے رو رہی ہوں کہ جانتا ہوں لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ شب زفاف اس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو جو اس کی محرم راز ہو اور اس کی ضروریات کو پورا کرے، میں دنیا سے جارہی ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ فاطمہ (ع) شب زفاف کوئی محرم نہ رکھتی ہوگی اور اس کا کوئی مدد گار نہ ہوگا اس وقت میںنے خدیجہ سے عرض کیا گہ اگر کیا کہ اگر میں فاطمہ (ع) کے شب زفاف تک زندہ رہی تو تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں اس کے پاس رہوں گی اور اس سے مادری سلوک آپ کے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا تجھے خدا کی قسم تم اسی غرض سے یہاں رہ گئی ہو؟ عرض کیا ہاں_ پیغمبر(ص) نے فرمایا تم اپنے ودعدہ پر عمل کرو_(۱)

____________________

۱) بعض روایات کی بنا پر جب چو تھے دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جناب فاطمہ (ع) کے گھر گئے تو آپ(ص) (ص) نے اسماء سے ملاقات کی، بہرحال یہ داستان اسماء بہت سے تاریخ نویسوں نے لکھی ہے اور اس میں نسبت بھی اسماء بنت عمیس کی طرف اس واقعہ کی دی ہے، لیکن اگر یہ واقعہ صحیح ہو تو وہ عورت اسماء بنت عمیس نہیں ہوسکتیں کیونکہ اس وقت اسماء جناب جعفر طیار کی زوجہ تھیں اور آپ کے ساتھ حبشہ میں موجود تھیں جناب فاطمہ (ع) کی شادی کے وقت مدینہ میں موجود نہ تھیں مدینہ میں آپ خیبر کے فتح ہونے کے بعد آئیں، لہذا وہ عورت جو جناب فاطمہ (ع) کے پاس شب زفاف میں رہیں وہ یا اسماء بنت یزید بن سکن انصاری یا سلمی جو اسماء بنت عمیس کی بہن تھیں ہوگی_ بہرحال صاحب کشف الغمہ لکھتے ہیں اس عورت کے نام میں مورخین کو اشتباہ ہوا ہے_


فاطمہ کا دیدار

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زفاف کی رات کی صبح کو دودھ برتن میں لئے ہوئے جناب فاطمہ (ع) کے حجلہ میں گئے اور وہ برتن جناب فاطمہ (ع) کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا تمہارا باپ تم پر قربان ہو اس کو پیئو، اس کے بعد حضرت علی (ع) سے فرمایا تمہارے چچا کہ بیٹا تم پر قربان ہو تم بھی پیئو_(۱)

حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا بیوی کیس تھی؟ عرض کیا اللہ کی بندگی میں بہترین مددگار_ جناب فاطمہ (ع) سے پوچھا کہ شوہر کیسے تھے؟ عرض کیا بہترین شوہر_(۲)

پیغمبر(ص) اس کے بعد چار دن تک جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف نہیں لے گئے اور جب چو تھے دن جناب فاطمہ (ع) کے حجلہ میں تشریف لے گئے تو آپ سے خلوت میں پوچھا، تیرا شوہر کیسا ہے؟ عرض کی ا بّا جان مردوں میں سے بہترین شوہر اللہ نے مجھے عطا کیا، لیکن قریش کی عورتیں میرے دیدار کے لئے آئیں تو بجائے مبارک باد دینے کے میرے دل پر غم کی گرہ چھوڑ گئیں اور کہنے لگیں تمہارے باپ نے تمہارا نکاح ایک فقیر و تہی دست انسان سے کیا ہے، حالانکہ مال دار اور ثروت مندمرد تمہارے خواستگار تھے_ جناب رسول خدا(ص) نے اپنی بیٹی کی تسلی دی اور فرمایا اے نور چشم تمہارے باپ اور شوہر فقیر نہیں ہیں خدا کی قسم زمین کے خزانے کی چاہیاں میرے سامنے پیش کی گئیں لیکن میں نے اخروی نعمات کو دنیا کے مال اور ثروت پر ترجیح دی، عزیزم میں نے تیرے لئے ایک ایسا شوہر منتخب کیا ہے جس نے

____________________

۱) کشف الغمہ_ ج ۷ ص ۹۹_

۲) بحارالانوار_ ج ۴۳ ص ۱۱۷_


تمام لوگوں سے پہلے اسلام کا اظہار کیا اور جو علم و حلم اور عقل کے لحاظ سے تمام لوگوں پر برتری رکھتا ہے_ خداوند عالم نے تمام لوگوں سے مجھے اور تیرے شوہر کو چنا ہے_ بہت بہترین شوہر والی ہو اس کی قدر کو سمجھو اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو_ اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا کہ اپنی بیوی کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا، تمہیں معلوم ہونا چاہیئےہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے جو شخص اسے اذیت دے گا وہ مجھے اذیت دے گا اور جو اسے خوشنود کرلے گا، وہ مجھے خوشنود کرے گا، میں تم سے رخصت ہوتا ہوں اور میں تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں_(۱)

علامہ مجلسی علیہ الرحمة نے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ (ع) کا عقد ماہ مبارک میں ہوا، پہلی یا چھ ذی الحجہ کو آپ کی رخصتی ہوئی _(۲)

حضرت علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے تھوڑی مدت اپنے گھر میں جو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا زندگی بسر کی، لیکن یہ فاصلہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر دشوار تھا ایک دن آپ جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اپنے

____________________

۱) جو مطالب حضرت علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی میں ذکر ہوئے ہیں انہیں ان کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے_ کشف الغمہ ج ۱_ مناقب شہر ابن آشوب ج۳_ تذکرة الخواص_ ذخائر العقبی _ دلائل الامامة_ سیرة ابن ہشام_ مناقب خوارزمی ینابیع المودة_ بحارالانوار، ج ۴۳_ ناسخ التواریخ جلد حضرت فاطمہ زہرا(ع) _ اعلام الوری مجمع الزوائر، ج ۹_

۲) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۱۳۶_


نزدیک بلالوں، آپ نے عرض کی حادثہ بن نعمان سے بات کیجئے کہ وہ اپنا مکان ہمیں دے دے، آپ نے فرمایا حادثہ بن نعمان اپنی منازل ہماے لئے خالی کر کے خود بہت دور چلاگیا ہے، اب مجھے اس سے شرم آتی ہے_ جناب حارث کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ جناب رسول خدا کی خدمت میں مشرف ہوا اور عرض کی یا رسو ل اللہ(ص) میں اور میرا مال آپ کے اختیار میں ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ فاطمہ (ع) کو میرے گھر منتقل کردیں_ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو حارثہ کے مکان میں منتقل کردیا_(۱)

____________________

۱) طبقات ابن سعد، ج ۸ بخش ۱ ص ۱۴_


حصّہ سوم

فاطمہ (ع) علی (ع) کے گھر میں


جناب فاطمہ (ع) باپ کے گھر سے شوہر کے گھر منتقل ہوگئیں لیکن خیال نہ کیجئے کہ کسی اجنبی کے گھر گئی ہیں گرچہ آپ مرکز نبوت سے باہر چلی گئی ہیں لیکن مرکز ولایت میں پہنچ گئیں_ اسلام کے سپہ سالار فوج کے کمانڈر جنگ کے وزیر اور خصوصی مشیر اسلام کی پہلی شخصیت کے گھر وارد ہوئی ہیں اس مرکز میں آنے سے بہت سخت وظائف آپ کے کندھے پر آن پڑے ہیں، اب رسمی ذمہ داریاں بھی آپ پر عائد ہوگئیں_ یہاں رہ کر آپ کو اسلام کی خواتین کے لئے ازدواجی زندگی، امور خانہ داری، بچوں کی تربیت کا عملی طور پر درس دینا ہے، خواتین اسلام کو فداکاری، صداقت، محبت لازمی طور پر درس دینا ہوگا آپ کو اس طرح زندگی گزارنا ہے جو مسلمان عورتوں کے لئے ایک نمونہ بن جائے کہ عالم کی خواتین آپ کے وجود کے آئینے میں اسلام کی نورانیت اور حقیقت کو دیکھ سکیں_

امور خانہ داری

پہلا گھر کہ جس کے دونوں رکن میاں اور بیوی گناہوں سے پاک اور معصوم انسانیت کے فضائل اور کمالات سے مزین ہیں وہ حضرت علی (ع) اور جناب فاطمہ (ع) کا گھر تھا_ حضرت علی (ع) ایک اسلامی مرد کا مل نمونہ تھے اور حضرت زہرا (ع)


ایک مسلمان عورت کا کامل نمونہ تھیں_

علی ابن ابی طالب نے بچپن سے جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دامن میں اور آپ کی زیر نگرانی تربیت پائی تھی_ کمالات اور فضائل اور بہترین اور اعلی ترین اسلامی اخلاق کے مالک تھے، جناب زہرا(ع) نے بھی اپنے باپ کے دامن میں تربیت پائی تھی اور آپ اسلامی اخلاق سے پوری طرح آگاہ تھیں_ آپ لوگوں کے کان بچپن سے قرآن سے مانوس تھے_ رات دن ا ور کبھی کبھار قرآن کی آواز خودپیغمبر (ص) کے دہن مبارک سے سنا کرتے تھے_ غیبی اخبار اور روحی سے آگاہ تھے اسلام کے حقائق اور معارف کو اس کے اصلی منبع اور سرچشمہ سے دریافت کرتے تھے اسلام کا عملی نمونہ پیغمبر اسلام(ص) کے وجودی آئینہ میں دیکھا کرتے تھے اسی بناء پر گھر یلو زندگی کا اعلی ترین نمونہ اس گھر سے دریافت کیا جاسکتا ہے_

علی (ع) اور فاطمہ (ع) کا گھر واقعاً محبت اور صمیمیت کا با صفا محور تھا_ میاں بیوی کمال صداقت سے ایک دوسرے کی مداد اور معاونت کر رہے تھے گھر یلوکاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے_ بیاہ کے ابتدائی دنوں میں پیغمبر (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ آپ گھر کے کام کاج ہم میں تقسیم کردیں_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا گھر کے اندرونی کام فاطمہ انجام دیں گی اور بیرونی کام علی (ع) کے ذمہ ہوں گے فاطمہ (ع) فرماتی ہیں کہ میں اس تقسیم سے بہت خوش ہوئی کہ گھر کے بیرونی کام میرے ذمہ نہیں گئے _(۱)

جی ہاں فاطمہ (ع) وحی کی تربیت یافتہ تھیں اور جانتی تھیں کہ گھر ایک اسلام کا بہت بڑا مورچہ ہے ، اگر عورت کے ہاتھ سے یہ مورچہ نکل گیا اور خرید و فروخت کے

____________________

۱) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۸۱_


لئے گھر سے باہر نکل پڑی تو پھر وہ امور خانہ داری کے وظائف اور اولاد کی تربیت اچھی طرح انجام نہیں دے سکے گی یہی وجہ تھی کہ آپ اس تقسیم سے خوش ہوگئیں کہ گھر کے مشکل اور سخت کام علی (ع) کے سپرد کئے گئے ہیں_

اسلام کی بے مثال پہلی شخصیت کی بیٹی کام کرنے کو عارنہ سمجھتی تھی اور گھر کے مشکل کاموں کی بجا آوری سے نہیں کتراتی تھیں، آپ نے اس حد تک گھر کے کاموں میں زحمت اٹھائی کہ خود حضرت علی علیہ السلام آپ کے بارے میں یاد کرتے تھے اور آپ کی خدمات کو سراہا کرتے تھے آپ نے اپنے ایک دوست سے فرمایا تھا کہ چاہتے ہو کہ میں اپنے او رفاطمہ (ع) کے متعلق تمہیں بتلاؤں_

اتنا میرے گھر پانی بھی کر لائی ہیں کہ آپ کے کندھے پر مشک کا نشان پڑ گیا تھا اور اتنی آپ نے چکی پیسی کہ آپ کے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے تھے، اتنا آپ نے گھر کی صفائی اور پاکیزگی اور روٹی پکانے میں زحمت اٹھائی ہے کہ آپ کا بساس میلا ہوجانا تھا_ آپ پر کام کرنا بہت سخت ہوچکا تھا میں نے آپ سے کہا تھا کتنا بہتر ہوگا کہ اگر آپ پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہو کر حالات کاآپ(ص) سے تذکرہ کریں شادی کوئی کنیز آپ کے لئے مہیا کردیں_ تا کہ وہ آپ کی امور خانہ داری میں مدد کرسکے_

جناب فاطمہ (ع) پیغمبر(ص) کی خدمت میں گئیں لیکن اصحاب کی ایک جماعت کو محو گفتگو دیکھ کر واپس لوٹ آئیں اور شرم کے مارے آپ سے کوئی بات نہ کی_ پیغمبر(ص) نے محسوس کرلیا تھا کہ فاطمہ (ع) کسی کام کی غرض سے آئی تھیں، لہذا آپ(ص) دوسرے دن ہمارے گھر خود تشریف لے آئے اور اسلام کیا ہم نے جواب سلام دیا آپ ہمارے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا بیٹی فاطمہ (ع) کس لئے میرے پاس آئی تھیں؟ جناب فاطمہ (ع) نے اپنی حاجت کے بیان کرنے میں شرم محسوس کی حضرت علی (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) ، فاطمہ (ع) اس قدر پانی بھر کر لائیں ہیں کہ مشک کے بند کے داغ آپ کے سینے پر پڑچکے ہیں اتنی آپ نے


چکی چلائی ہے کہ آپ کے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے ہیں اتنا آپ نے اپنے گھر کی صفائی کے لئے جھاڑو دیئے ہیں کہ آپ کا لباس غبار آلود اور میلا ہوچکا ہے اور اتنا آپ ن خوراک اور غذا پکائی ہے کہ آپ کا لباس کثیف ہوگیا ہے_ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی خدمت میں جائیں شاید کوئی کنیز اور مددگار آپ انہیں عطا فرما دیں_

پیغمبر(ص) نے فرمایا بیٹی فاطمہ (ع) کیا تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جو کنیز سے بہتر؟ جب سونا چاہو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو_ یہ ذکر ایک سو سے زیادہ نہیں_ لیکن اس نے نامہ عمل میں ایک ہزار حسنہ لکھا جاتا ہے_ فاطمہ (ع) ، اگر اس ذکر کو ہر روز صبح پڑھو تو خداوند تیرے دنیاا ور آخرت کے کاموں کی اصلاح کردے گا_ فاطمہ (ع) نے جواب میں کہا ابا جان میں خدا اور اس کے رسول سے راضی ہوگئی _(۱)

ایک دوسری حدیث میں اس طرح آیا ہے کہ فاطمہ (ع) نے اپنے حالات اپنے با با سے بیان کئے اور آپ(ص) سے ایک لونڈی کا تقاضا کیا_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا_ فاطمہ (ع) خدا کی قسم چار سو آدمی فقیر اس وقت مسجد میں رہ رہے ہیں کہ جن کے پاس نہ خوراک ہے اور نہ ہی لباس مجھے خوف ہے کہ اگر تمہارے پاس لونڈی ہوئی تو گھر میں خدمت کرنے کا جو اجر و ثواب ہے وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا_ مجھے خوف ہے کہ علی ابن ابی طالب قیامت کے دن تم سے اپنے حق کا مطالبہ کریں اس کے بعد آپ نے تسبیح زہرا(ع) آپ کو بتلائی_ امیرالمومنین نے فرمایا کہ دنیا کی طلب کے لئے پیغمبر(ص) کے پاس گئی تھیں لیکن آخرت کا ثواب ہمیں نصیب ہوگیا_(۲)

____________________

۱) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۸۲_ ۱۳۴_

۲) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۸۵_


ایک دن پیغمبر(ص) جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف لے گئے دیکھا کہ علی (ع) اور فاطمہ (ع) چکی چلانے میں مشغول ہیں آپ نے پوچھا تم میں سے کون تھک چکا ہے؟ حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی کہ فاطمہ (ع) ، چنانچہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جناب فاطمہ (ع) کی جگہ بیٹھ گئے اور حضرت علی کی چکی چلانے میں مدد کی_(۱)

جناب جابر کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ص) نے دیکھا کہ جناب فاطمہ (ع) معمولی قیمت کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور اپنے ہاتھ سے چکی چلاتی ہیں اور بچوں کو گود میں لئے ہوئے دودھ پلاتی ہیں یہ منظر دیکھ کر آپ کے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا میری پیاری بیٹی دنیا کی سختی اور تلخی کو برداشت کرو تا کہ آخرت کی نعمتوں سے سرشار ہوسکو آپ نے عرض کیا، یا رسول اللہ(ص) میں اللہ تعالی کی ان نعمتوں پر شکر گزار ہوں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا قیامت کے دن اتنا تجھے عطا کرے گا کہ تو راضی ہوجائے _(۲)

اما م جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت علی (ع) لکڑیاں اور گھ کا پانی مہیا کرتے تھے اور گھر کی صفائی کرتے تھے اور جناب فاطمہ (ع) چکی پیستی تھیں اور آٹا گوندھتی اور روٹی پکاتی تھیں_(۳)

ایک دن جناب بلال خلاف معمول مسجد میں صبح کی نماز میں دیر سے پہنچے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی آپ نے عرض کیا_ جب میں مسجد آرہا تھا تو جناب فاطمہ (ع) کے گھر سے گزرا میں نے دیکھا کہ آپ چکی پیس رہی ہیں اور

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۵۰_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۸۶_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۵۱_


بچے رو رہے ہیں، میں نے عرض کی اے پیغمبر کی بیٹی ان دو کاموں میں سے ایک میرے سپرد کردیں تا کہ میں آپ کی مدد کروں، آپ نے فرمایا بچوں کو بہلانا مجھے اچھا آتا ہے اگر تم چاہتے ہو تو چکی چلا کر میری مدد کر و میں نے چکی کا چلانا اپنے ذمہ لے لیا اسی لئے مسجد میں دیر سے آیا ہوں_ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تو نے فاطمہ (ع) پر رحم کیا ہے خدا تم پر رحم کرے_(۱)

شوہر کے ہمراہ

جناب فاطمہ (ع) کسی عام آدمی کے گھر زندگی نہیں گزار رہی تھیں بلکہ وہ اسلام کی دوسری شخصیت، جو اسلام کے سپہ سالار اور بہادر اور قوی اور پیغمبر(ص) کے خصوصی وزیر اور مشیر تھے ، کے گھر میں زندگی گزار رہی تھیں اسلام اور اپنے شوہر کے حساس مقام کو اچھی طرح سمجھتی تھیں اور جانتی تھیں کہ اگر علی کی تلوار نہ ہو تو اسلام کی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکتی ، جناب فاطمہ (ع) اسلام کے بحرانی اور بہت حساس مواقع کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام کے گھر زندگی گزار رہی تھیں اسلام کا لشکر ہر وقت تیار رہتا تھا، ہر سال میں کئی لڑائیاں ہو جاتی تھیں_ حضرت علی (ع) ان تمام یا اکثر جنگوں میں شریک ہوا کرتے تھے_

جناب زہرا(ع) اپنی سخت اور حساس ذمہ داری سے باخبر تھیں اور اس سے بھی بطور کامل مطلع تھی کہ عورت کا مرد کے مزاج پر کیا اثر ہوتا ہے، جانتی تھیں کہ عورت اس قسم کا نفوذ اور قدرت رکھتی کے کہ جس طرف چاہے مرد کو پھیر سکتی ہے اور یہ بھی جانتی تھیں کہ مرد کی ترقی یا تنزلی اور سعادت اور بدبختی کتنی عورت کی رفتار اور مزاج

____________________

۱) ذخائر العقبی ، ص ۵۱_


سے وابستہ ہے اور یہ بھی جانتی تھیں کہ گھر مرد کے لئے مورچہ اور آسائشے کا مرکز ہے مرد مبارز کے میدان اور حوادث زندگی اور ان کے مشکلات سے روبرو ہو کر تھکا ماندا گھر ہی آکر پناہ لیتا ہے تاکہ تازہ طاقت حاص کرے اور اپنے وظائف کی انجام دہی کے لئے اپنے آپ کو دوبارہ آمادہ کرسکے_ اس مہم آسائشےگاہ کی ذمہ دایاں عورت کو سونپی گئی ہیں_ اسی لئے اسلام نے ازدواجی زندگی کو جہاد کے برابر قرار دیا ہے_ امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ عورت کا جہاد یہ ہے کہ وہ اچھی طرح شوہر کی خدمت کرے _(۱)

جناب فاطمہ (ع) جانتی تھیں اسلام کا بہادر اور طاقتور سپہ سالار جنگ کے میدان میں اس وقت فاتح ہوسکتا ہے جب وہ گھر کے داخلی امور سے بے فکر اور اپنی رفیقہ حیات کی مہربانیوں اور تشویقات سے مطمئن ہو، اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اسلام کا فداکار سپہ سالار علی (ع) جب جنگ سے تھکا ماندا میدان سے گھر آتا تھا تو اپنی ہمسر کی مہربانیوں اور نوازشات اور پیار بھری باتوں سے کاملاً نوازا جاتا تھا_ آپ ان کے جسم کے زخموں پر مرہم پٹی کرتی تھیں ان کے خون آلود لباس کو دھوتی تھیں اور جنگ کے حالات ان سے سنانے کو کہتی تھیں_

جناب زہرا معظمہ ان تمام کاموں کو خود انجام دیتی تھیں یہاں تک کہ کبھی اپنے باپ کے خون آلود کپڑے بھی خود ہی دھویا کرتی تھیں، ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم احد کی جنگ سے واپس آئے تو آپ نے اپنی تلوار جناب زہرا کو دی اور فرمایا کہ اس کا خون بھی دھودو_(۲)

____________________

۱) وافی کتاب نکاح ص ۱۱۴_

۲) سیرہ ابن ہشام، جلد ۳ ص ۱۰۶_


جناب زہرا(ع) اپنے شوہر کو آفرین اور شاباش دے کر شوق دلایا کرتی تھیں آپ اور کی فداکاری و بہادری کی داد دیا کرتی تھی اس طرح آپ حضرت علی (ع) کی حوصلہ افزائی اور اپ کو اگلی جنگ کے لئے تیار کرتی تھیں_ اپنی بے ریا محبت سے تھکے ماندے علی (ع) کو سکون مہیا کرتی تھیں خود حضرت علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب میں گھر واپس آتا تھا اور جناب زہرا (ع) کو دیکھتا تھا تو میرے تمام غم و اندوہ ختم ہوجایا کرتے تھے _(۱)

جناب فاطمہ (ع) کبھی بھی حضرت علی (ع) کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی تھیں اور کبھی بھی حضرت علی علیہ السلام کو غضبناک نہیں کرتی تھیں کیونکہ جانتی تھیں کہ اسلام کہتا ہے کہ جو عورت شوہر کو غضب ناک کرے خداوند اس کی نماز اور روزے کو قبول نہیں کرتا جب تک اپنے شوہر کو راضی نہ کرے_(۲)

جناب فاطمہ (ع) نے حضرت علی (ع) کے گھر بھی جھوٹ نہیں بولا اور خیانت نہیں کی اور کبھی آپ کے حکم کی مخالفت نہیں کی حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا کہ جس سے فاطمہ (ع) غضبناک ہوئی ہوں، اور فاطمہ (ع) نے بھی کبھی مجھے غضبناک نہیں کیا _(۳)

حضرت علی علیہ السلام نے جناب زہرا(ع) کے آخری وداع میں اس کا اعتراف کیا ہے، کیونکہ جناب زہرا(ع) نے اپنے آخری وقت میں علی (ع) سے کہا تھا اے ا بن عم آپ نے مجھے کبھی دروغ گو اور خائن نہیں پایا جب سے آپ نے میرے سامنے زندگی شروع کی ہے میں نے آپ کے احکام کی مخالفت نہیں کی، علی (ع) نے فرمایا اے رسول خدا(ص) کی دختر

____________________

۱) مناقب خوارزمی، ص ۲۵۶_

۲) وافی کتاب نکاح، ص ۱۱۴_

۳) مناقب خوارزمی، ص ۲۵۶_


معاذاللہ تم نے گھر میں مجھ سے برا سلوک کیا ہو کیونکہ تیری اللہ کی معرفت اور پرہیز گاری اور نیکوکاری اور خدا ترسی اس حد تک تھی کہ اس پر ایراد اور اعتراض نہیں کیا جاسکتا تھا، میری محترم رفیقہ حیات مجھ پر تیری جدائی اور مفارقت بہت سخت ہے لیکن موت سے کسی کو مفر نہیں_(۱)

چونکہ حضرت علی (ع) کی فکر داخلی امو ر سے کاملا آزاد تھی اور اپنی بیوی کی تشویق سے بھی بہرہ مند تھے اسی لئے آپ کے لئے وہ تمام کامیا بیان ممکن ہوسکیں_

لیکن یہ خیال کبھی یہ کیجئے کہ حضرت علی (ع) ابن ابی طالب ان خود پسند اور خود خواہ مردون میں سے تھے کہ ہزاروں توقع اپنی سے تو رکھتے ہوں لیکن اپنے لئے کسی مسئولیت یا ذمہ داری کے قائل نہ ہوں اور اپنے آپ کو عورت کا حاکم مطلق سمجھتے ہوں اور عورت کو زر خرید غلام بلکہ اس سے بھی پست تر خیال کرتے ہوں ایسا بالکل نہ تھا حضرت علی (ع) اسی حالت میں جب میدان جنگ میں تلوار چلا ہے ہوتے تھے تو جانتے تھے کہ ان کی بیوی بھی اسلام کے داخلی مورچہ ''گھر'' میں جہاد میں مشغول ہے ان کی غیر حاضری میں تمام داخلی امور اور خارجی امور کی ذمہ داری جناب فاطمہ (ع) پر ہے کھانا پکاتی تھیں لباس دھوتی تھیں، بچوں کی نگاہ داری کرتی تھیں اور اولاد کی ترتیت میں سخت محنت کرتی تھیں_ جنگ کے زمانے میں سختی او رقحط کے دور میں غذا اور دیگر زندگی کے اسباب مہیا کرنے میں کوشش کرتی تھیں، جنگ او رحوادث کی ناراحت کنندہ خبر سن کر ناراحت ہوتیں اور انتظار کی سختی برداشت کرتی تھیں_

خلاصہ گھر کے نظم و ضبط کو برقرار رکھتیں جو کہ ایک مملک چلانے سے آسان نہیں ہوا کرتا، حضرت علی (ع) کو احساس تھا کہ داخلی سپاہی کو بھی دلجوئی اور محبت اور تشویق کی

____________________

۱) بحارالانوار ، ج ۴۳ص ۱۹۱_


ضرورت ہوتی ہے اسی لئے جب بھی آپ گھر میں تشریف لاتے تو آپ گھر کے حالات او رجناب زہرا(ع) کی محنت او رمشقت کی احوال پرسی کرتے تھے اور اس تھکی ماندی شخصیت کو سرا ہتے اور اس کے پمردہ دل کو اپنی مہربانیوں اور دل نواز باتوں کے ذریعہ سکون مہیا کرتے، زندگی سختی اور فقر اور تہی دستی کے لئے ڈھارس بندھاتے اور زندگی کے کاموں کو بجالانے اور زندگی کے کاموں میں آپ کی ہمت افزائی کرتے تھے_ علی (ع) جانتے تھے کہ جتنا مرد عورت کے اظہار محبت اور خلوص اور قدردانی کا محتاج ہے اتنا عورت بھی اس کی محتاج ہے یہ دونوںاسلام کا نمونہ تھے اور اپنے وظائف پر عمل کرتے اور عالم اسلام کے لئے اپنے اخلاق کا نمونہ بنے رہے_

کیا جناب رسول خدا(ص) نے زفاف کی رات علی (ع) سے نہیں فرمایا تھا کہ تمہاری بیوی جہاں کی عورتوں سے بہتر ہے، اور جناب زہرا(ع) ، سے فرمایا تھا کہ تمہارا شوہر علی (ع) جہان کے مردوں سے بہتر ہے _(۱)

کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہیں فرمایا تھا کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو فاطمہ (ع) کا کوئی کفو اور لائق شوہر موجود نہیں تھا_(۲)

جناب فاطمہ (ع) نے اپنے والد بزگوار سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے محسن او رمہربان ہوں_(۳)

کیا خود حضرت علی علیہ السلام نے زفاف کی صبح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی

____________________

۱) بحارالانوار، ج ۴۳ص ۱۳۲_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۸_

۲) دلائل الامامہ، ص ۷_


خدمت میں عرض کیا تھا کہ فاطمہ (ع) اللہ کی اطاعت میں میری بہترین مددگار اور یاور ہے _(۱)

بچوں کی تعلیم و تربیت

جناب زہرا ء کی ذمہ داریوں میں سے سب سے زیادہ سخت ذمہ داری اولاد کی تربیت تھی_ آپ کے پانچ بچے ہوئے، جناب امام حسن(ع) اور امام حسین (ع) اور جناب زینب خاتوں اور جناب ام کلثوم اور پانچوں فرزند کا نام محسن تھا جو ساقط کردیا گیا، آپ کے دو لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ ہیں آپ کی اولاد عام لوگوں کی اولاد کی طرح نہ تھی بلکہ یوں ہی مقدر ہوچکا تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) کی نسل مبارک جناب فاطمہ (ع) سے چلے_

جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمایا کرتے تھے باقی پیغمبروں کی ذریت ان کے صلب سے ہے لیکن میری نسل علی (ع) کے صلب سے مقرر ہوئی ہے میں فاطمہ (ع) کی اولاد کا باپ ہوں_(۲)

خدا نے مقرر فرمایا ہے کہ دین کے پیشوا اور رسول خدا(ص) کے خلفاء جناب زہرا(ع) کی پاک نسل سے ہوں لہذا جناب زہرا(ع) کی سب سے زیادہ سخت ذمہ داری اولاد کی تربیت تھی_

تربیت اولاد ایک مختصر جملہ ہے لیکن یہ لفظ بہت مہم اور وسیع المعنی ہے شاید کسی کے ذہن میں آئے کہ اولاد کی تربیت صرف اور صرف باپ کا ان کے لئے لوازم زندگی

____________________

۱) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۱۱۷_

۲) مناقب ابن شہر آشوب، ج ۳ص ۲۸۷_


فراہم کرنا ہی نہیں اور ماں ان کے لئے خشک و ترسے غذا مہیا کردے اور لباس دھو دے اور بس اس کے علاوہ اور کوئی بھی ذمہ داری اولاد کی ان پر عائد نہیں ہوتی لیکن معلوم ہونا چاہیئےہ اسلام اسی حد تک اولاد کی تربیت میں اکتفا نہیں کرتا بلکہ ماں باپ کو ان کے بہت بڑے وظیفہ کا مسئول قرار دیتا ہے_

اسلام بچے کی بعد میں بننے والی شخصیت کو ماں باپ کی پرورش او رتربیت اور ان کی نگہداری کے مرہون منت سمجھتا ہے ماں باپ کے تمام حرکات او رسکنات اور افعال و کردار بچے کی لطیف اور حساس روح پر اثرانداز ہوتے ہیں، ہر بچہ ماں باپ کے رفتار اور سلوک کی کیفیت کا نمائندہ ہوتا ہے_ ماں باپ کا وظیفہ ہے کہ بہت زیادہ احتیاط سے بچے کے مستقبل کے مراقب او رمواظب ہوں تا کہ بے گناہ بچہ کہ جس کی نہاد اچھائی خلق ہوئی ہے فاسد اور بدبخت نہ ہوجائے_

جناب زہرا(ع) نے خود دامن وحی میں تربیت پائی تھی او راسلامی تربیت سے نا آشنا او رغافل نہ تھیں_ یہ جانتی تھیں کہ کس طرح ماں کا دودھ اور اس کے معصوم بچے کے لبوں پر بوسے لے کر اس کے تمام حرکات اور سکنات اعمال اور گفتار اس کی حساس روح پر اثرانداز ہوا کرتے ہیں_ جانتی تھیں کہ مجھے امام کی تربیت کرتا ہے اور معاشرہ اسلامی کو ایک ایسا نمونہ دینا ہے جو روح اسلام کا آئینہ دار اور حقیقت کا معرف ہوگا، معارف اور حقائق ان کے وجود میں جلوہ گر ہوں اور یہ کام کوئی آسانی کا م نہ تھا_

جناب فاطمہ (ع) جانتی تھیں کہ مجھے اس حسین (ع) کی تربیت کرنا ہے کہ جو اسلام کی ضرورت کے وقت اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان دین اسلام کے دفاع اور ظلم سے مبارزہ کر کے فداکر سکے اور اپنے عزیزوں کے پاک خون سے اسلام کے درخت کو سیراب کردے_ جانتی تھیں کہ انھیں ایسی لڑکیاں زینب او رام کلثوم تربیت


کرنی ہیں جو اپنے پر جوش خطبوں اور تقریروں سے بنی امیہ کی ظلم و ستم کی حکومت کو رسوا اور مفتضح کردیں اور ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنادے_ فاطمہ (ع) زہرا گھریلو یونیورسٹی میں زینب کو فداکاری اور شجاعت اور یزید کے ظلم سے مرعوب نہ ہونے کا دس دے رہی تھیں تا کہ اپنی شعلہ بیانی سے دوست اور دشمن کو رلائے اور اپنے بھائی کی مظلومیت اور بنو امیہ کی بیدادگی اور ظلم سے مرعوب نہ ہونے کا درس دے رہی تھیں، جانتی تھیں کہ ایک متحمل مزاج فرزند امام حسن جیسا تربیت کرنا ہے تا کہ اسلام کے حساس موقع پر اپنے جگر کا خون پیتا رہے اور اسلام کے منافع اور اساسی انقلاب کے لئے زمین ہموار کرنے کے لئے ساکت رہے اور شام کے حاکم سے صلح کر کے عالم کو بتلا دے کہ اسلام جب تک ممکن ہو صلح کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے اور اس طرح کر کے حاکم شام کی عوام فریبی اور دغل بازی کو ظاہر کردے، غیر معمولی نمونے جو اس اعجازآمیز مکتب سے نکلے ہیں وہ حضرت زہرا (ع) کی غیر معمولی طاقت اور عظمت روحی کے ظاہر کر نے کے لئے کافی ہیں_

جی ہاں حضرت زہرا (ع) کوتاہ فکر عورتوں سے نہ تھیں کہ جو گھر کے ماحول اور محیط کو معمولی شمار کرتے ہوئے بلند پرواز کرتی ہیں_ حضرت زہرا(ع) کے گھر کے ماحول کو بہت بڑا اور حساس خیال کرتی تھیں اسے انسان سازی کا ایک بہت بڑا کارخانہ اور فوجی تمرین اور فداکاری کی ایک اہم یونیورسٹی شمار کرتی تھیں اور جانتی تھیں کہ اس درسگاہ کے تربیت شدہ کو جو درس دیا جائے گا وہ نہیں معاشرہ کے بہت بڑے میدان میں ظاہر کرنا ہوگا، جو یہاں ٹریننگ لیں گے اس پر انہیں مستقبل میں عمل کرنا ہوگا، جناب زہرا (ع) عورت ہونے میں احساس کمتری میں مبتلا نہ تھیں اور عورت کے مقام اور مرتبے کو اہم اور اعلی جانتی تھیں اور اس قسم کی بھاری


استعداد اپنے میں دیکھ رہی تھیں کہ کارخانہ خلقت نے ان پر اس قسم کی بھاری اور مہم ذمہ داری ڈال دی ہے اور اس قسم کی اہم مسئولیت اس کے سپرد کردی ہے_

تربیت کی اعلی درسگاہ

حضرت زہرا(ع) کے گھر میں بچوں کی ایک اسلامی تربیت اور اعلی درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی یہ درسگاہ اسلام کی دوسری شخصیت اور اسلام کی خاتون اول کی مدد سے یعنی علی (ع) اور فاطمہ زہرا (ع) کی مدد سے چلائی جارہی تھی اور اسلام کی پہلی شخصیت یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیرنگرانی چل رہی تھی_اس میں تربیت کے قواعد اور پروگرام بلاواسطہ پرودگار جہان کی طرف سے نازل ہوتے تھے، تربیت کے بہترین پروگرام اس میںجاری کئے جاتے تھے اور بہترین افراد کو تربیت دی گئی تھی میں یہاں اس مطلب کے اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ اس عالی پروگرام کے جزئیات ہمارے لئے بیان نہیں کئے گئے، کیوں کہ اول تو اس زمانے کے مسلمان اتنی فکری رشد نہیں رکھتے تھے کہ وہ تربیتی امور کی اہمیت کے قائل ہوں اور اس کی قدر کریں اور پیغمبر اور علی (ع) اور فاطمہ علیہم السلام کی گفتار اور رفتار کو جو وہ بجالائے تھے محفوظ کر لیتے اور دوسروں کے لئے روایت کرتے دوسرے بچوں کی تربیت کا اکثر لائحہ عمل گھر کے اندر جاری کیا جاتا تھا کہ جو دوسروں سے اندرونی اوضاع غالباً پوشیدہ رہتے تھے_

لیکن اس کے باوجود اجمالی طور سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تربیت کا لائحہ عمل وہی تھا جو قرآن کریم اور احادیث پیغمبر(ص) اور احادیث آئمہ اطہار میں وارد ہوا ہے اور پھر جو تھوڑی بہت جزئیات نقل کی گئی ہیں اس سے ایک حد تک ان کی تربیت


کی طرف راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے_

یہ بھی واضح رہے کہ میں نہیں چاہتا ہوں کہ مفصول طور پر اصول تربیت پر بحث کروں کیوں کہ یہاں اس بحث کے لئے گنجائشے نہیں ہے_ لیکن ان میں سے کچھ اصول تربیت کو جو حضرت زہرا(ع) کی اولاد کی تربیت میں استعمال کئے گئے ہیں اور ہمارے لئے نقل ہوئے ہیں اختصار کے طور پر یہاں بیان کرتا ہوں_

پہلا درس

محبت

شاید اکثر لوگ یہ خیال کریں کے بچے کی تربیت کا آغاز اس وقت سے ہونا چاہیئے جب اچھائی اور برائی کو بچہ درک کرنے لگے اور اس سے پہلے بچے کی تربیت کرنا موثر نہ ہوگی، کیوں کہ اس سے پہلے بچہ خارجی عوامل سے متاثر نہیں ہوتا لیکن یہ خیال درست نہیں ہے کیوں کہ فن تربیت کے دانشمندوں کی تصدیق کے مطابق بچے کی پرورش اور تربیت کا آغاز اس کی پیدائشے سے ہی شروع کردینا چاہیئے، دودھ پلانے کی کیفیت اور ماں باپ کے واقعات اور رفتار نو مولود کی پرورش میں ایک حد تک موثر واقع ہوتے ہیں اور اس کی مستقبل کی شخصیت اسی وقت سے شروع جاتی ہے_

فن تربیت اور نفسیات کے ماہرین کے نزدیک یہ مطلب یا یہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ بچے بچپن کے زمانے سے ہی محبت اور شفقت کے محتاج ہوتے ہیں_ بچہ چاہتا ہے کہ اس کے ماں باپ اسے حد سے زیادہ دوست رکھیں


اور اس کے ساتھ شفقت کا اظہار کریں بچے کو اس کی زیادہ فکر نہیں ہوتی کہ وہ قصر میں زندگی گزار رہا ہے یا خیمے میں اس کا لباس بہت اعلی اور نفیس ہے یا نہیں، لیکن اسے اس موضوع سے زیادہ توجہ ہوتی ہے کہ اس سے محبت کی جاتی ہے یا نہیں، بچے کے اس اندورنی احساس کو سوائے محبت کے اظہار اور شفقت کے اور کوئی چیز ختم نہیں کرسکتی، بچے کی مستقبل کی شخصیت اور اخلاق کا سرچشمہ اس سے محبت کا اظہار ہے یہی ماں کی گرم گود اور باپ کی مخلصانہ نوازش بچے میں بشر دوستی کی حس اور ہم جنس سے علاقہ مندی پیدا کرتی ہے_ یہی بچے سے بے ریاء نوازش بچے کو تنہائی کے خوف اور ضعف سے نجات دیتی ہے اور اسے زندگی کا امیدوار بناتی ہے، یہی خالص پیار و محبت بچے کی روح میں اچھی اخلاق اور حسن ظن کی آمیرش کرتی ہے اور اسے اجتماعی زندگی اور ایک دوسرے سے تعاون و ہمکاری کی طرف ہدایت کرتی ہے اور گوشہ نشینی اور گمنامی سے نجات دیتی ہے انہیں نوازشات کے واسطے سے بچے میں اپنی شخصیت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو دوستی کے لائق سمجھتا ہے_

جس بچے میں محبت کی کمی کا احساس ہو وہ عام طور سے ڈرپوک، شرمیلا ضعیف، بدگمان، گوشہ نشین، بے علاقہ، پمردہ اور مریض ہوا کرتا ہے، اور کبھی ممکن ہے کہ اس کے رد عمل کے اظہار کے لئے اور اپنی بے نیازی کو بتلانے کے لئے مجرمانہ افعال کے بجالانے میں ہاتھ ڈال دے جیسے جنایت، چوری، قتل و غیرہ تا کہ اس وسیلہ سے اس معاشرہ سے انتقام لے سکے جو اسے دوست نہیں رکھتا اور اس سے بے نیازی کا مظاہرہ کرسکے_

پس بچے سے محبت اور شفقت اس کی ضروریات میں شمار ہوتی ہیں اور اس


کی پرورش میں محبت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے_

اس چیز کا درس حضرت زہرا(ع) کے گھر میں کامل طور سے دیا جاتا تھا اور پیغمبر اکرم(ص) یہ جناب فاطمہ (ع) کو یاد دلاتے تھے_

روایت میں آیا ہے کہ جب امام حسن (ع) متولد ہوئے تو آپ کو زرد کپڑے میں لپیٹ کر پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ نو مولود کو زرد کپڑے میں نہ لپیٹا کرو؟ اس کے بعد امام حسن (ع) کے زرد کپڑے کو اتار پھینکا اور انہیں سفید کپڑے میں لپیٹا اور بغل میں لیا او رانہیں بوسہ دینا شروع کیا، یہی کام آپ نے امام حسین علیہ السلام کی پیدائشے وقت بھی انجام دیا_(۱)

روایت میں آیا ہے کہ ایک دن جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز جماعت میں مشغول تھے آپ جب سجدے میں جاتے تو امام حسین (ع) آپ کی پشت مبارک پر سوار ہوجاتے اور پاؤں کو حرکت دینے اور جب سجد سے سر اٹھاتے تو امام حسین علیہ السلام کو پشت سے ہٹاکر زمین پر بٹھا دیتے اور جب آپ دوبارہ سجدے میں جاتے تو امام حسین علیہ و آلہ و سلم انہیں ہٹا دیتے، پیغمبر اکرم(ص) نے اسی کیفیت سے نماز پوری کی، ایک یہودی جو یہ کیفیت دیکھ رہا تھا اس نے عرض کی کہ بچوں کے ساتھ آپ کا جو برتاؤ ہے اس کو ہم پسند نہیں کرتے_ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ اگر تم بھی خدا اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہوتے تو تم بھی بچوں کے ساتھ ایسی ہی نرمی سے پیش آتے وہ یہودی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

____________________

۱) بحارالانوار، ج ۴۳ ص ۲۴۰_


کے اس رویہ کی وجہ سے مسلمان ہوگیا_(۱)

ایک دن پیغمبر(ص) جناب امام حسن (ع) کو بوسہ اور پیار کر رہے تھے کہ اقرع بن حابس نے عرض کی کہ میرے دس فرزند ہیں لیکن میں نے ابھی تک کسی کو بھی بوسہ نہیں دیا_ پیغمبر (ص) غضبناک ہوئے اور فرمایا کہ اگر خدا نے تیرے دل سے محبت کو لے لیا ہے تو میں کیا میں کیا کروں؟ جو شخص بھی بچوں پر ترحم نہ کرے اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم سے نہیں ہے _(۲)

ایک دن جناب رسول خدا(ص) کا جناب فاطمہ (ع) کے گھر سے گزر ہوا آپ نے امام حسین علیہ السلام کے رونے کی آواز سنی آپ نے جناب فاطمہ (ع) کو آواز دی اور فرمایا کیا تم کو معلوم نہیں کہ حسین (ع) کو رونا مجھے اذیت دیتا ہے_(۳)

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو اپنے کندھے پر سوار کیا تھا راستے میں کبھی امام حسن علیہ السلام کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی امام حسین علیہ السلام کا، ایک آدمی نے عرض کی_ یا رسول اللہ(ص) آپ ان دو بچوں کو دوست رکھتے ہیں آپ نے فرمایا_ ہاں، جو شخص حسن (ع) اور حسین (ع) کو دوست رکھے وہ میرا دوست ہے اور جو شخص ان سے دشمنی کرے وہ میرا دشمن ہے _(۴)

پیغمبر اسلام(ص) کبھی جناب فاطمہ (ع) سے فرماتے تھے، حسن اور حسین کو میرے پاس لاؤ

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۹۶_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۲_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ص ۲۹۵_

۴) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۱_


اور جب آپ ان کو حضور کی خدمتم یں لے جاتیں تو رسول اکرم(ص) ان کو سینے سے لگاتے اورپھول کی طرح ان کو سونگھتے _(۱)

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حسن(ع) اور حسین(ع) کے لبوں کو اس طرح چوستے دیکھا ہے جیسے خرما کو چوسا جاتا ہے_(۲)

دوسرا درس

شخصیت

نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ بچے کی تربیت کرنے والے کو بچے کی شخصیت کی پرورش کرنی چاہیئے اور بچے کو خود اعتماد کا درس دینا چاہیئے_ یعنی اس میں اعتماد نفس اجاگر کیا جائے تا کہ اسے بڑی شخصیت اور بڑا آدمی بنایا جاسکے_

اگر بچے کی تربیت کرتے والا بچے کا احترام نہ کرے اور اسے حقیر شمار کرے اور اس کی شخصیت کو ٹھیس پہنچاتا رہے تو خودبخود وہ بچہ ڈرپوک اور احساس کمری کا شکار ہوجائے گا اور اپنے آپ کو بے قیمت اور حقیر جاننے لگے گا_ اور جب جوان ہوگا تو اپنے آپ کو اس لائق ہی نہیں سمجھے گا کہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے_ اس قسم کا آدمی معاشرہ میں بے اثر ہوگا اور اپنے آپ کو بہت آسانی سے پست کاموں کے لئے حاضر کردے گا_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۹۹_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۴_


بخلاف اگر اپنے آپ کو صاحب شخصیت اور با وقار سمجھتا ہو تو پھر وہ پست کاموں کے لئے تیار نہ ہوگا اورذلت وخواری کے زیر بار نہ ہوگا_ اس قسم کی نفسیاتی کیفیت ایک حد تک ماں باپ کی روحی کیفیت اور خاندانی تربیت سے وابستہ ہوا کرتی ہے_

نفسیات کے ماہر بچے کی تربیت کے لئے تربیت کرنے والوں سے سفارش کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض یہ مطالب ہیں_

اول: بچے سے محبت اور نوازش کااظہار کرتا ہم اسے پہلے درس میں بیان کرچکے ہیں اور ہم نے ذکر کیا تھا کہ جناب امام حسن(ع) اور جناب امام حسین(ع) ماں باپ اور حضرات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بہت زیادہ محبت سے بہرہ ور تھے_

دوم: بچے کی اچھی صفات کا ذکر کیا جائے اور اس کی اپنے دوستوں کے سامنے تعریف اورتوصیف کی جائے اور اسے نفس کی بزرگی کا درس دیا جائے_

جناب رسول خدا(ص) نے کئی دفعہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے بارے میں فرمایا کہ یہ جوانان جنت کے بہترین افراد سے ہیں اور ان کا باپ ان سے بھی بہتر ہے_(۱)

پیغمبر اکرم(ص) نے امام حسین اور امام حسین علیہما السلام سے فرمایا کہ تم خدا کے ریحان ہو_(۲)

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳_ ص ۲۶۴_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ج_ ص۲۸۱_


جناب ابوبکر کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منبر پر تشریف فرماتھے اور جناب امام حسن (ع) آپ کے پہلوں میں بیٹھے ہوئے تھے جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی جناب امام حسن علیہ السلام کی طرف اور فرماتے تھے کہ حسن (ع) سید وسردار ہے_ شاید اس کی برکت سے میری امت میں صلح واقع ہو_(۱)

جابر کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی پشت پر سوار ہیں اور آپ گھٹنوں اور ہاتھوں پر چل رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تمہاری سواری بہترین ہے اورتم بہترین سوار ہو_(۲)

یعلی عامری کہتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، آپ نے اپنے ہاتھ بڑھائے تا کہ آپ کو پکڑلیں جناب امام حسین علیہ السلام اس طرف اور اس طرف بھاگتے تھے_ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہنستے ہوئے امام حسین علیہ السلام کو بغل میں لے لیا اور اس وقت اپنا ایک ہاتھ امام حسین علیہ السلام کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا ہاتھ گردن کے پیچھے رکھا اور اپنے دہن مبارک کو امام حسین(ع) کے لبوں پر رکھ کر بوسہ دیا اور فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں_ جو شخص اسے دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳، ص ۲۰۵_

۲) بحار الانوار،ج ۴۳_ ص ۲۸۵_


حسین (ع) میری بیٹی کا فرزند ہے_(۱)

حضرت علی بن ابی طالب امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) سے فرمایا کرتے تھے کہ تم، لوگوں کے پیشوا اور جوانان جنت کے سردار ہو اور معصوم ہو خدا اس پر لعنت کرے جو تم سے دشمنی کرے_(۲)

جناب فاطمہ (ع) ایک دن امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کو جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدمت میں لائیںاور عرض کی یا رسول اللہ(ص) حسن (ع) اور حسین آپ کے فرزند ہیں ان کو کچھ عطا فرمایئےرسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنی سیادت و ہیبت حسن کو بخشی، اور اپنی شجاعت اور سخاوت حسین (ع) کو دی_

سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میںنے امام حسین (ع) کو دیکھا کہ آپ پیغمبر(ص) کے زانو پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ ان کو بوسہ دے رہیں اور فرماتے ہیں کہ تم سردار اورسردار زادہ ہو امام اور امام کے فرزند اور ماموں کے باپ ہو تم حجت ہو اور حجت کے فرزند اور نوحجتوں کے باپ ہو کہ آخری حجت امام مہدی قائم ہوں گے_(۳)

جی ہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب زہرا(ع) کی اولاد کی تربیت میں کوشش کرتے تھے جناب زہراء اور حضرت علی بھی اسی لائحہ عمل پرآپ کی متابعت کرتے تھے کبھی بھی انہوں نے بچوں کو حقیر نہیں سمجھا اور ان کی شخصیت کو دوسروں کے

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۷۱_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۶۵_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۹۵_


سامنے ہلکاپھلکا بنا کر پیش نہیں کیا، اور ان کے روح اور نفس پر اس قسم کی ضرب نہیں لگائی یہی وجہ تھی کہ آپ کے یہاں سید و سردار نے تربیت پائی_

روایت میںآیا ہے کہ ایک آدمی نے ایک گناہ کا ارتکاب کیا کہ جس کی اسے سزا ملنی تھی اس نے اپنے آپ کو جناب رسول خدا(ص) سے مخفی رکھا یہاں تک کہ ایک دن راستے میں امام حسن (ع) اورامام حسین (ع) سے اس کی ملاقات ہوگئی ان دونوں کو کندھے پر بیٹھایا اور جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور عرض کی یا رسول اللہ(ص) میں حسن (ع) اور حسین (ع) کو شفیع اورواسطہ قرار دیتا ہوں پیغمبر اکرم(ص) ہنس دیئے اورفرمایا میںنے تمہیں معاف کردیا اس کے بعد امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) سے فرمایا کہ میں نے تمہاری سفارش اور شفاعت قبول کرلی ہے _(۱)

یہی عظمت نفس اور بزرگی تھی کہ امام حسین علیہ السلام اپنی مختصر فوج سے یزید کے بے شمار لشکر کے سامنے ڈٹ گئے اور مردانہ وار جنگ کی لیکن ذلت اور خواری کو برداشت نہ کیا آپ فرماتے تھے میں غلاموں کی طرح بھاگوں گا نہیں اور ذلت اور خواری کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کروں گا _(۲)

اسی تربیت کی برکت تھی کہ زینب کبری ان تمام مصائب کے باوجود یزید کے ظلم و ستم کے سامنے حواس باختہ نہ ہوئیں اور اس سے مرعوب نہ ہوئیں اور پرجوش خطابت سے کوفہ اور شام کو منقلب کر گئیں اور یزید کی ظالم اور خونخوار حکوت کو ذلیل اور خوار کر کے رکھ دیا_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۳۱۸_

۲) مقتل ابن مختف، ص ۴۶_


تیسرا درس

ایمان اورتقوی

نفسیات کے ماہرین کے درمیان یہ بحث ہے کہ بچوں کے لئے دینی تعلیمات اور تربیت کس وقت سے شروع کی جائے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ بچہ جب تک بالغ اوررشید نہ ہو وہ عقائد اورافکار دینی کو سمجھنے کی استعداد نہیں رکھتا اور بالغ ہوتے تک اسے دینی امور کی تربیت نہیں دینی چاہیئے_ لیکن ایک دوسرے گروہ کاعقیدہ یہ ہے کہ بچے بھی اس کی استعداد رکھتے ہیں اور انہیں دینی تربیت دی جانی چاہیئےربیت کرنے والے دینی مطالب اور مذہبی موضوعات کو سادہ اور آسان کر کے انہیں سمجھائیں اور تلقین کریں اور انہیں دینی امور اور اعمال کو جو آسان ہیں بجالانے پر تشویق دلائیں تا کہ ان کے کان ان دینی مطالب سے آشنا ہوں اور وہ دینی اعمال اورافکار پرنشو و نما پاسکیں_ اسلام اسی دوسرے نظریئے کی تائید کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ بچوں کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کی تاکید کریں _(۱)

پیغمبر اسلام(ص) نے دینی امور کی تلقین حضرت زہرا(ع) کے گھر بچپن اور رضایت کے زمانے سے جاری کردی تھی_ جب امام حسن علیہ السلام دنیا میں آئے اور انہیں رسول خدا(ص) کی خدمت میں لے گئے تو آپ نے انہیں بوسہ دیا اوردائیں کان میں

____________________

۱) شافی ج ۲ ص ۱۴۹_


اذان اور بائیں کان میں اقامت اور امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پربھی یہی عمل انجام دیا(۱) _

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ایک دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھنا چاہتے تھے امام حسین علیہ السلام بھی آپ کے پہلو میں کھڑے ہوگئے جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیر کہی توجناب امام حسین علیہ السلام نہ کہہ سکے رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے سات مرتبہ تکبیرکی تکرار کی یہاں تک کہ امام حسین (ع) نے بھی تکبیر کہہ دی _(۲)

جناب رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دینی تلقین کو اس طرح موثر جانتے تھے کہ تولد کے آغاز سے ہی آپ نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے کانوں میں اذان اور اقامت کہی تا کہ اولاد کی تربیت کرنے والوں کے لئے درس ہوجائے یہی وجہ تھی کہ جناب فاطمہ (ع) جب امام حسن (ع) کو کھلایا کرتیں اورانہیں ہاتھوں پرا ٹھا کر اوپر اور نیچے کرتیں تو اس وقت یہ جملے پڑھتیں اے حسن(ع) تو باپ کی طرح ہوتا حق سے دفاع کرنا اور اللہ کی عبادتکرنا اوران افراد سے جو کینہ پرور اور دشمن ہوں دوستی نہ کرنا_(۳)

جناب فاطمہ زہرا، بچوں کے ساتھ کھیل میں بھی انہیں شجاعت اور دفاع حق اور عبادت الہی کا درس دیتی تھیں اور انہیں مختصر جملوں میں چار حساس مطالبہ بچے کویاد دلا رہی ہیں، یعنی باپ کی طرح بہادر بننا اوراللہ کی عبادت کرنا اور

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۴۱_

۲) بحار الانوار ، ج ۴۳ ص ۲۰۷_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۶_


حق سے دفاع کرنااوران اشخاص سے دوستی نہ کرنا جو کینہ پرور اور دشمن ہوں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مالی تقوی اورناپاک غذا کے موارد میں اپنی اسخت مراقبت فرماتے تھے کہ ابوہریرہ نے نقل کیا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں کچھ خرما کی مقدار زکوة کے مال سے موجود تھی آپ نے اسے فقراء کے درمیان تقسیم کردیا جب آپ تقسیم سے فارغ ہوئے اور امام حسن (ع) کو کندھے پر بیٹھا کر چلنے لگے تو آپ نے دیکھا کہ خرما کا ایک دانہ امام حسن(ع) کے منھ میں ہے_ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ امام حسن علیہ السلام کے منھ میں ڈال کر فرمایا طخ طخ بیٹا حسن (ع) کیا تمہیں علم نہیں کہ آل محمد(ص) صدقہ نہیں کھاتے _(۱)

حالانکہ امام حسن (ع) بچے اور نابالغ تھے کہ جس پرکوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی چونکہ پیغمبر(ص) جانتے تھے کہ ناپاک غذا بچے کی روح پر اثر انداز ہوتی ہے لہذا اسے نکال دینے کا حکم فرمای قاعدتاً بچے کو بچپن سے معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ کھانے کے معاملہ میں مطلقاً آزاد نہیں ہے بلکہ وہ حرام اور، حلال کا پابند ہے اس کے علاوہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اس عمل سے حسن علیہ السلام کی شخصیت اور بزرگی منش ہونے کی تقویت کی اور فرمایا زکوة بیچاروں کا حق ہے اور تمہارے لئے سزاوار نہیں کہ ایسے مال سے استفادہ کرو، حضرت فاطمہ زہرا(ع) کی اولاد میں شرافت، طبع اور ذاتی لحاظ سے بڑا ہونا اس قدر نافذ تھا کہ جناب ام کلثوم نے ویسے ہی کوفہ میں عمل کر دکھایا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے جد نے انجام دیا تھا_

مسلم نے کہا کہ جس دن امام حسین علیہ السلام کے اہلبیت قید ہوکر کوفہ میں

____________________

۱) ینابیع المودہ ص ۴۷_ بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۳۰۵_


لائے گئے تھے تو لوگوں میںاہلبیت کے بچوں پرترحم اوررقت طاری ہوئی اور انہوں نے روٹیاں، خرمے، اخروٹ بطور صدقہ ان پر ڈالنی شروع کیں اور ان سے کہتے تھے کہ دعا کرنا ہمارے بچے تمہاری طرح نہ ہوں_

جناب زہرا(ع) کی باغیرت دختر اور آغوش وحی کی تربیت یافتہ جناب ام کلثوم روٹیاں اور خرمے اور اخروٹ بچوں کے ہاتھوں اور منھ سے لے کر دور پھینک دیتیں اور بلند آواز سے فرماتیں ہم اہلبیت پرصدقہ حرام ہے _(۱)

اگر چہ امام حسین (ع) کے بچے مکلف نہ تھے لیکن شرافت طبع اور بزرگواری کا اقتضا یہ تھا کہ اس قسم کی غذا سے حتی کہ اس موقع پربھی اس سے اجتناب کیا جائے تا کہ بزرگی نفس اور شرافت اور پاکدامنی سے تربیت دیئے جائیں_

چوتھا درس

نظم اوردوسروں کے حقوق کی مراعات

ایک اہم مطلب جو ماں باپاور دوسرے بچوں کی تربیت کرنے والوں کے لئے مورد توجہ ہونا چاہیئےہ یہ ہے کہ وہ بچے پرنگاہ رکھیں کہ وہ اپنے حق سے تجاوز نہ کرے اور دوسروں کے حق کا احترام کرے بچے کو منظم اور با ضبط ہونا چاہیئے زندگی میں نظم اور ضبط کا برقرار رکھنا اسے سمجھایا جائے اس کی اس طرح تربیت کی

____________________

۱) مقتل ابی مختف، ص ۹۰_


جائے کہ اپنے حق کے لینے سے عاجز نہ ہو اوردوسروں کے حق کو پا مال نہ کرے، البتہ اس صفت کی بنیاد گھر اور ماں باپ کو رکھنی ہوگی، ماں باپ کو اپنی تمام اولاد کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا چاہیئے کسی ایک کو دوسرے پر مقدم نہ کریں، لڑکے اور لڑکی کے درمیان، چھوٹے اور بڑے کے درمیان، خوبصورت اور بدصورت کے درمیان، ذہین او رکم ذہن کے درمیان فرق نہ کریں یہاں تک کہ محبت کے ظاہر کرنے کے وقت بھی ایک جیسا سلوک کریں تا کہ ان میں حسد اور کینہ کی حس پیدا نہ ہو اور مراکش اور متجاوز نہ نکل آئیں_

اگر بچہ دیکھے کہ گھر میں تمام افراد کے درمیان حقوق کی پوری طرح رعایت کی جاتی ہے تو وہ سمجھ جائے گا کہ جامعہ اور معاشرہ میں بھی ایک دوسرے کے حقوق کی پوری طرح رعایت نہ ہوئی تو اس میںسرکشی اور تجاوز کی عادت تقویت پکڑے گی اگر کوئی بچہ کسی تربیت وار چیز کے خرید نے یا کسی جگہ با تربیت سوار ہونے میں یا کلاس کے کمرے میں باترتیب جانے یا نکلنے میں اس ترتیب اور نظم کا خیال نہ کرے اور دوسروں کے حق کو پا مال کرے اور اس کے ماں باپ اور تربیت کرنے والے افراد اس کے اس عمل میںتشویق کریں تو انہوں نے اس معصوم بچے کے حق میں خیانت کی کیونکہ وہ بچپن سے یہی سمجھے گا کہ دوسروں پر تعدی اور تجاوز بلا وجہ تقدم ایک قسم کی چالاکی اور ہنر ہے_ یہی بچہ جوان ہو کر جب معاشرہ میں وارد ہوگا یا کسی کام کی بجا آوری کا ذمہ دار بنا جائے گا تو اس کی ساری کوشش دوسروں کے حقوق کو تلف اور پائمال کرنا ہوگی اور اپنے ذاتی منافع کے علاوہ اس کا کوئی ہدف نہ ہوگا اس صفت کا درس حضرت زہرا کے گھر میں کامل طور ''اتنی وقت کے ساتھ کہ معمولی سے معمولی ضابطہ کی بھی مراعات کی جات تھی'' دیا جاتا تھا_

مثال کے طور پر حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم


ہمارے گھر آرام کر رہے تھے، امام حسن (ع) نے پانی مانگا جناب رسول خدا(ص) اٹھے تھوڑا دودھ برتن میں دودہ کر جناب امام حسن (ع) کو دیا کہ اتنے میں امام حسین علیہ السلام بھی اٹھے اور چاہا کہ دودھ کا برتن امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ سے لیں لیکن پیغمبر(ص) نے امام حسین علیہ السلام کو اس کے لینے سے روک دیا، جناب فاطمہ زہرا یہ منظر دیکھ رہی تھیں، عرض کیا یا رسول اللہ(ص) گویا آپ امام حسن (ع) کو زیادہ دوست رکھتے ہیں؟ آپ(ص) نے جواب دیا کہ بات یہ نہیںہے بلکہ اس کے روکنے کی وجہ یہ ہے کہ امام حسن (ع) کو تقدم حاصل ہے اس نے حسین (ع) سے پہلے پانی مانگا تھا لہذا نوبت کی مراعات ہونی چاہیئے _(۱)

پانچواں درس

ورزش اور کھیل کود

تربیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کہ کھیل کود کی اس کی مرضی کے مطابق آزادی دینی چاہیئے بلکہ اس کے لئے کھیل کود اور سیر و سیاحت کے پورے اسباب فراہم کرنے ہیں آج کل متمدن معاشرے میں یہ موضوع قابل توجہ قرار دیا جاتا ہے اور پرائمری، ہڈل اور ہائی اسکول اور کالجوں میں کھیل اور تفریح کے مختلف وسائل بچوں اور جوانوں کی عمر کے مطابق فراہم کئے جاتے ہیں اور انہیں مل کرکھیلنے اور ورزش کرنے کی تشویق دلاتے ہیں،

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۳_


گویا وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کھیلنا جیسے بدن کے رشد کرنے کے لئے ضروری ہے ویسے ہی یہ ان کی روح کی تربیت کے لئے بھی بہت تاثیر رکھتا ہے_

بعض لوگ بچوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بڑوں کی طرح زندگی گزاریں اوراپنے لئے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ انہیں طفلانہ کھیل گود سے روکے رکھیں اور اگر کوئی بچہ کھیل کود میں مشغول ہو تو اسے بے ادب بچہ قرار دیتے ہیں اوراگر چپ چاپ سر جھکائے اورکھیل گود سے دور ایک گوشہ میں بیٹھا رہنے والا ہو تو اسے شاباشی دیتے ہیں اور اسے با ادب بچہ سمجھتے ہیں_ لیکن نفسیات کے ماہر اس عقیدے کوغلط اور بے جا قرار دیتے ہیں ان کاعقیدہ ہے کہ بچے کو کھیلنا چاہیئے_ اور اگر بچہ نہ کھیلے تو یہ اس کے جسمی اور روحی بیمار ہونے کی علامت ہے_ البتہ ماں باپ کو یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ بچہ وہ کھیل کود انجام نہ دے جو اس کے لئے ضرر کا موجب ہو اور دوسروں کے لئے مسرت کے اسباب فراہم کرتا ہو_

ماں باپ صرف بچہ کو کھیل کودکے لئے آزادی ہی نہ دیں بلکہ خود بھی بیکاری کے وقت بچے کے ساتھ کھیلیں، کیوں کہ ماں باپ کا یہ عمل بچے کے لئے لذت بخش ہوتا ہے اوروہ اسے اپنے لئے محبت کی علامت قرار دیتا ہے_

رسول خدا(ص) جناب امام حسن اور امام حسین کے ساتھ کھیلتے تھے_ ابوہریرہ نے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول خد ا (ص) کو دیکھا کہ وہ حسن (ع) اور حسین (ع) کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور ان کے پاؤں کو اپنے سینے پر رکھے ہوئے فرما رہے تھے، فاطمہ (ع) کے نور چشم اور چڑھو، حسن (ع) اور حسین (ع) اوپر چڑھتے یہاں تک کہ ان کے پاؤں آپ


کے سینے تک جا پہنچے آپ اپنے لبوں پر رکھ کر بوسہ دیتے اور فرماتے خدایا میں حسن(ع) اور حسین(ع) کو دوست رکھتا ہوں(۱) _

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ جناب حسن(ع) اور حسین(ع) پیغمبر(ص) کے سامنے کشتی کرتے تھے_ پیغمبر(ص) امام حسن (ع) کو فرماتے شاباش حسن (ع) شاباش حسن (ع) _ جناب فاطمہ (ع) عرض کرتیں یا رسول اللہ(ص) حسن (ع) باوجودیکہ حسین (ع) سے بڑا ہے آپ انہیں حسین (ع) کے خلاف شاباش اور تشویق دلا رہے ہیں_

آپ(ص) نے جواب دیا کہ حسین (ع) باوجودیکہ حسن (ع) سے چھوٹے ہیں لیکن شجاعت اور طاقت میں زیادہ ہیں اور پھر جناب جبرئیل حسین(ع) کو تشویق اورشاباش دے رہے ہیں _(۲)

جابر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول خدا(ص) پاؤں اور ہاتھوں پر چل رہے ہیں اور آپ کی پشت پر حسن (ع) اور حسین سوار ہیں اور فرما رہے تھے تمہارا اونٹ سب سے بہتر اونٹ ہے اور تم بہترین سوار ہو_(۲)

امام رضا علیہ السلام نے اپنے اجداد سے روایت کی ہے کہ جناب حسن (ع) اور حسین (ع) کافی رات تک جناب رسول خدا(ص) کے گھر میں کھیلتے رہتے تھے جناب رسولخدا اس کے بعد ان سے فرماتے کہ اب اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ جب آپ گھر سے باہر نکلنے تو بجلی چمکتی اورراستہ روشن ہوجاتا اور اپنے گھر تک جا پہنچے_ اور پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ اس اللہ کا شکر کہ جس نے ہم اہلبیت کو معظم قرار دیا ہے_(۴)

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۷_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۶۵_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۸۵_

۴) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۶۶_


حصّہ چہارم

فضائل حضرت زہرا(ع)


پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے کہ بہترین عورتیں چار ہیں، مریم دختر عمران، فاطمہ (ع) دختر محمد(ص) ، خدیجہ بنت خویلد، آسیہ زوجہ فرعون _(۱)

پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ بہشت کی عورتوں میں سے بہترین عورت فاطمہ (ع) ہیں_(۲)

جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی، عرش سے اللہ کا منادی ندا دے گا، لوگو اپنی آنکھیں بند کر لو تا کہ فاطمہ (ع) پل صراط سے گزر جائیں_(۳)

پیغمبر (ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا کہ خدا تیرے واسطے سے غضب کرتا ہے اور تیری خوشنودی کے ذریعہ خوشنود ہوتا ہے _(۴)

جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ میںنے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۷۶_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۷۶_

۳) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۳، ذخائز العقبی ، ص ۴۸_

۴) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۴_ سدالغابہ، ج ۵ ص ۵۳۲_


کسی کو جناب فاطمہ (ع) سے زیادہ سچا نہیں دیکھا_(۱)

امام محمد باقر(ع) نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم، اللہ نے فاطمہ (ع) کو علم کے وسیلہ سے فساد اور برائیوں سے محفوظ رکھا ہے _(۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے جناب فاطمہ (ع) اللہ تعالی کے یہاں نوناموں سے یاد کی جاتی ہے_ فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکیہ، رضیہ، مرضیہ، محدثہ، زہرا، فاطمہ (ع) کے نام رکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ برائیوں اور فساد سے محفوظ اور معصوم ہیں، اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو فاطمہ (ع) کا کوئی ہمسر نہ ہوتا_(۳)

جناب امام محمد باقر(ع) سے پوچھا گیا کہ جناب فاطمہ (ع) کا نام زہراء کیوں رکھا گیا؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ خدا نے آپ کو اپنی عظمت کے نور سے پیدا کیا ہے آپ کے نور سے زمین اور آسمان اتنے روشن ہوئے کہ ملائکہ اس نور سے متاثر ہوئے اور وہ اللہ کے لئے سجدہ میںگر گئے اور عرض کی خدایا یہ کس کا نور ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میری عظمت کے نور سے ایک شعلہ ہے کہ جسے میں نے پیدا کیا ہے اور اسے آسمان پر سکونت دی ہے اسے پیغمبروں میں سے بہترین پیغمبر(ص) کے صلب سے پیدا کروں گا اور اسی نور سے دین کے امام اور پیشوا پیدا کروں گا تا کہ لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کریں وہ پیغمبر(ص) کے جانشین اور خلیفہ ہوں گے_(۴)

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۹_ ذخائر العقبی ، ص ۴۴_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۹_

۳) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۹_

۴) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۰_


پیغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا بیٹی خداوند عالم نے دینا کی طرف پہلی دفعہ توجہ اورمجھے تمام مردوں پرچنا، دوسری مرتبہ اس کی طرف توجہ کی تو تمہارے شوہر علی(ع) کو تمام لوگوں پر چنا، تیسری مرتبہ اس کی طرف توجہ کی تو تمہیں تمام عالم کی عورتوں پر برتری اور فضیلت دی، چوتھی مرتبہ توجہ کی تو حسن (ع) اور حسین (ع) کو جنت کے جوانوں پر امتیاز دیا _(۱)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بہشت چہار عورتوں کے دیکھنے کی مشتاق ہے ، پہلے مریم دختر عمران، دوسری آسیہ فرعون کی بیوی ، تیسری خدیجہ دختر خویلد ، چہوتھی فاطمہ (ع) دختر محمد (ص) _(۲)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے اس کی اذیت میری اذیت ہے اور اس کی خوشنودی میری خوشنودی ہے _(۳)

پیغمبر(ص) نے اس حالت میں جب کے فاطمہ (ع) ہاتھ پکڑے ہوئے تھے فرمایا جو شخص اسی پہچانتا ہے تو وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ یہ فاطمہ(ع) پیغمبر (ص) کی دختر ہے اور میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور میرا دل اور روح ہے جو شخص اسے ذیت دے گا اس نے مجھے اذیت دی ہے اور جوشخص مجھے اذیت دے گا اس نے خدا کو اذیت دی ہے _(۴)

جناب ام سلمہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شباہت پیغمبر اسلام (ص) سے

____________________

ا_ کشف الغمہ، ج ۲ ص ا۹_

۲_ کشف الغمہ ، ج ۲ ص ۹۲_

۳_ کشف الغمہ ، ج ۲ ص ۹۳_

۴_ کشف الغمہ ، ج ۲ ص ۹۲ اور الفصول المہمہ مولفہ ابن صباغ نجف ، ص ۲۸ا_


جناب فاطمہ (ع) کو تھی(ا) _

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (ع) انسانوں کی شکل میں جنت کی حور ہیں _(۲)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ فاطمہ (ع) سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی_(۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (ع) کا نام فاطمہ (ع) اس لئے رکھا گیا ہے کہ لوگوں کو آپ کی حقیقت کے درک کرنے کی قدرت نہیں ہے _(۴)

پیغمبر(ص) فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے اور علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن و حسین کو ایک نور سے پیدا کیا ہے_(۵)

ابن عباس فرماتے ہیںکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ وہ کلمات کہ جو اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بتلائے اور ان کی وجہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی وہ کیا تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جناب آدم نے خدا کو محمد(ص) اور علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) کے حق کی قسم دی اسی وجہ سے آپ کی توبہ قبول ہوئی _(۶)

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۷_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۵۳_

۳) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۴۳ ص ۴۴_

۴) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۶۵_

۵) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۱_

۶) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۱_


پیغمبر(ص) نے فرمایا اگر علی نہ ہو تے تو جناب فاطمہ (ع) کا کوئی ہمسر نہ ہوتا _(۱)

پیغمبر(ص) فرماتے ہیں کہ جب میں معراج پر گیا تو بہشت کی سیر کی میں نے جناب فاطمہ (ع) کا محل دیکھا جس میں ستر قصر تھے کہ جو لولو اور مرجان سے بنانے گئے تھے_(۲)

پیغمبر(ص) نے فاطمہ (ع) سے فرمایا تھا کہ جانتی ہو کہ کیوں تیرا نام فاطمہ (ع) رکھا گیا ہے؟ حضرت علی (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ (ص) کیوں فاطمہ (ع) نام رکھا گیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا چوں کہ آپ اور اس کے پیروکار دوزخ کی آگ سے امان میںہیں _(۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فاطمہ (ع) کو زیادہ بوسہ دیا کرتے تھے ایک روز جناب عائشےہ نے اعتراض کہ پیغمبر اسلام(ص) نے اس کے جواب میں فرمایا جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میں بہشت میں داخل ہوا، جبرئیل مجھے طوبی کے درخت کے نزدیک لے گئے اور اس کا میوہ مجھے دیا میں نے اس کو کھایا تو اس سے نطفہ وجود میں آیا، جب میں زمین پر آیا اور جناب خدیجہ(ع) سے ہمبستر ہوا تو اس سے جناب فاطمہ (ع) کا حمل ٹھہرا یہی وجہ ہے کہ جب میں فاطمہ (ع) کو بوسہ دیتا ہوں تو درخت طوبی کی خوشبو میرے شام میں پہنچتی ہے _(۴)

ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن علی (ع) اورفاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) پیغمبر(ص) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے توپیغمبر(ص) نے فرمایا اے خدا مجھے علم ہے کہ یہ میرے اہلبیت

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۸_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۷۶_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۴_ کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۹_

۴) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۶_


ہیں اور میرے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں ان کے دوستوں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھ ان کی مدد کرنے والوں کی مدد فرما انہیں تمام برائیوں سے پاک رکھ اور تمام گناہوں سے محفوظ رکھ روح القدس کے ذریعے ان کی تائید فرما اس کے بعد آپ نے فرمایا، یا علی (ع) تم اس امت کے امام اور میرے جانشین ہو اور مومنین کو بہشت کی طرف ہدایت کرنے والے ہو، گویا میں اپنی بیٹی کو دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے دن ایک نورانی سواری پرسوارہے کہ جس کے دائیں جانب ستر ہزار فرشتے اور بائیں جانب ستر ہزار فرشتے اس کے آگے ستر ہزار فرشتے اور اس کے نیچے ستر ہزار فرشتے چل رہے ہیں اور تم میری امت کی عورتوں کو بہشت میں لئے جا رہی ہو پس جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے خانہ کعبہ کا حج بجالائے اور اپنے مال کو زکوة ادا کرے اوراپنے شوہر کی اطاعت کرے اور علی ابن ابیطالب کو دوست رکھتی ہو وہ جناب فاطمہ (ع) کی شفاعت سے بہشت میں داخل ہوگی، فاطمہ (ع) دنیا کی عورتوں میں سے بہترین عورت ہے_

عرض کیا گیا یا رسول اللہ (ص) فاطمہ (ع) اپنے زمانے کی عورتوں سے بہترین ہے؟ آپ نے فرمایا وہ تو جناب مریم ہیں کہ جو اپنے زمانے کی عورتوں سے بہتر ہیں، میری بیٹی فاطمہ (ع) تو پچھلی اور ا گلی عورتوں سے بہتر ہے، جب محراب عبادت میں کھڑی ہوتی ہے تو اللہ تعالی کے ستر ہزار مقرب فرشتے اسے سلام کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں اے فاطمہ (ع) اللہ نے تجھے چنا ہے اور پاکیزہ کیا ہے اور تمام عالم کی عورتوں پرتجھے برتری دی ہے_

اس کے بعد آپ علی (ع) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا یاعلی (ع) ، فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور میری آنکھوں کا نور اور دل کا میوہ ہے جو بھی اسے تکلیف دے


اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے اسے خشنود کیااس نے مجھے خوشنود کیا فاطمہ (ع) پہلی شخصیت ہیں جو مجھ سے ملاقات کریں گی میرے بعد اس سے نیکی کرنا، حسن (ع) اور حسین (ع) میرے فرزند ہیں اور میرے پھول ہیں اور جنت کے جوانوں سے بہتر ہیں انہیں بھی آپ آنکھ اور کان کی طرح محرّم شمار کریں_

اس کے بعد آپ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا اے میرے خدا تو گواہ رہنا کہ میں ان کے دوستون کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے دشمنوں کو دشمن رکھتا ہوں_(۱)

فاطمہ (ع) کا علم و دانش

عمار کہتے ہیں ایک دن حضرت علی (ع) گھر میں داخل ہوئے تو جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا یا علی (ع) آپ میرے نزدیک آئیں تا کہ میں آپ کوگزشتہ اور آئندہ کے حالات بتلاؤں، حضرت علی (ع) ، فاطمہ (ع) کی اس گفتگو سے حیرت میں پڑ گئے اور پیغمبر (ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور سلام کیا اور آپ کے نزدیک جا بیٹھے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپ بات شروع کریں گے یا میں کچھ کہوں؟ حضرت علی (ع) نے عرض کی کہ میں آپ کے فرمان سے استفادہ کرنے کو دوست رکھتا ہوں_ پیغمبر(ص) نے فرمایا گویا آپ سے فاطمہ (ع) نے یہ کہا ہے اور اسی وجہ سے تم نے میری طرف مراجعت کی ہے_ حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) کیا فاطمہ (ع) کا نور بھی ہمارے نور سے ہے_ پیغمبر(ص) نے فرمایا کیا آپ کو علم نہیں ہے؟ حضرت علی (ع) یہ بات

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۴_


سن کر سجدہ شکر میں گر گئے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا_

اس کے بعد جناب فاطمہ (ع) کے پاس لوٹ آئے_ حضرت فاطمہ (ع) نے فرمایا یا علی (ع) گویا میرے بابا کے پاس گئے تھے اور آپ(ص) نے یہ فرمایا؟ آپ نے فرمایا ہاں اے دختر پیغمبر (ص) _ فاطمہ (ع) نے فرمایا ، اے ابوالحسن (ع) خداوند عالم نے میرے نور کو پیدا کیا اور وہ اللہ تعالی کی تسبیح کرتا تھا اس وقت اللہ تعالی نے اس نور کو بہشت کے ایک درخت میں ودیعت رکھ دیا میرے والد بہشت میں داخل ہوئے تو اللہ تعالی نے آپ کو حکم یا کہ اس درخت کامیوہ تناول کریں، میرے والد نے اس درخت کے میوے تنال فرمائے اسی ذریعہ سے میرا تور آپ(ص) کے صلب میں منتقل ہوگیا اورمیرے بابا کے صلب سے میری ماں کے رحم میں وارد ہوا_ یا علی (ع) میں اسی نور سے ہوں اور گزشتہ اور آئندہ کے حالات اور واقعات کو اس نور کے ذریعہ پالیتی ہوں_ یا ابالحسن، مومن نور کے واسطے سے خدا کو دیکھتا ہے_(۱)

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت فاطمہ (ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوئی اور عرض کی کہ میری ماں عاجز ہے اسے نماز کے بارے میں بعض مشکل مسائل در پیش ہیںمجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میںآپ سے سوال کروں، اس نے مسئلہ پیش کیا اور جناب فاطمہ (ع) نے اس کا جواب دیا اس عورت نے دوسری دفعہ دوسرا مسئلہ پوچھا جناب فاطمہ (ع) نے اس کا بھی جواب دیا، اس عورت نے تیسری دفعہ پھر تیسرا مسئلہ پوچھا اور اسی طرح آپ سے دس مسئلے پوچھے اور حضرت زہرا (ع) نے سب کے جواب دیئے اس کے بعد وہ عورت

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۴_


زیادہ سوال کرنے کی وجہ سے شرمسار ہوئی اور عرض کی، دختر رسول(ص) اب اور میں مزاحم نہیں ہوتی آپ تھک گئی ہیں، جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا شرم نہ کر جو بھی سوال ہو پوچھو تا کہ میں اس کا جواب دوں_ میں تیرے سوالوں سے نہیں تھکتی بلکہ کمال محبت سے جوال دوں گی اگر کسی کو زیادہ بوجھ چھت تک اٹھا کرلے جانے کے لئے اجرت پر لیا جائے اور وہ اس کے عوض ایک لاکھ دینار اجرت لے تو کیا وہ بارے کے اٹھانے سے تھکے گا؟ اس عورت نے جواب دیا نہیں، کیوں کہ اس نے اس بار کے اٹھانے کی زیادہ مزدورں وصول کی ہے حضرت فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ خدا ہر ایک مسئلے کے جواب میں اتنا ثواب عنایت فرماتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے کہ زمین اور آسمان کو مروارید سے پر کر دیا جائے تو کیااس کے باوجود میںمسئلے کے جواب دینے میں تھکوں گی_

میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ فرما رہے تھے کہ میرے شیعوں کے علماء قیامت میں محشور ہوں گے اور خدا ان کے علم کی مقدار اور لوگوں کو ہدایت اور ارشاد کرنے میں کوشش اور جد و جہد کے مطابق خلعت اور ثواب عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک کو دس لاکھ حلے نور کے عطا فرمائے گا اور اس کے بعد حق کامنادی ندا دے گا، اے وہ لوگو کو جنہوں نے آل محمد(ص) کے یتیموں کی کفالت کی ہے، اور اس زمانے میں کہ ان کے امام کا سلسلہ ان سے منقطع ہوچکا تھا یہ لوگ تمہارے شاگرد تھے اور وہ یتیم ہیں کہ جو تمہاری کفالت کے ماتحت اپنی دینداری پر باقی رہے ہیں اور ارشاد اورہدایت کرتے رہے ہیں، جتنی مقدار انہوں نے تمہارے علوم سے استفادہ کیا ہے ان کو بھی خلعت دو اس وقت میری امت کے علماء اپنے پیروکاروں


کو خلعت عطا فرمائیں گے، پھر وہ پیروکار اور شاگرد اپنے شاگروں کو خلعت دیں گے، جب لوگوں میں خلعت تقسیم ہوچکے گی تو اللہ کی طرف سے دستور دیا جائے گا جو خلعت علماء نے تقسیم کی ہیں ان کو مکمل کیا جائے یہاں تک کہ سابقہ تعداد کے برابر ہوجائے، پھر دستور ملے گا کہ اسے دوبرابر کردو اور اس طرح ان کے پیروکاروں کو بھی اسی طرح دو_

اس وقت جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا: اے کنیز خدا اس خلعت کا ایک دھاگا ہزار درجہ اس چیز سے بہتر ہوگا جس پر سورج چمکتا ہے اس لئے کہ دنیاوی امور مصیبت اور کدورت سے آلودہ ہوتے ہیں، لیکن اخروی نعمات میںکوئی نقص اور عیب نہیں ہوتا _(۱)

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو عورتیں کہ ان میں سے ایک مومن اور دوسری معاند اور دشمن تھی، ایک دینی مطلب میں آپس میں اختلاف رکھتی تھیں اس اختلاف کے حل کرنے کے لئے جناب فاطمہ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے مطلب کو بتلایا چونکہ حق مومن عورت کے ساتھ تھا تو حضرت فاطمہ (ع) نے اپنی گفتگو اور دلائل اور برہان سے اس کی تائید کی اور اس ذریعے سے اس پر فتح مند کردیا اور وہ مومن عورت اس کامیابی سے خوشحال ہوگئی_ جناب فاطمہ (ع) نے اس مومن عورت سے فرمایا کہ اللہ تعالی کے فرشتے تجھ سے زیادہ خوشحال ہوئے ہیں اور شیطان اور اس کے پیروکاروں پرغم و اندوہ اس سے زیادہ ہوا ہے جو اس معاند اوردشمن عورت پر وارد ہوا ہے_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۲ ص ۳_


اس وقت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا اس وجہ سے خدا نے فرشتوں سے فرمایا ہے کہ اس خدمت کے عوض جو فاطمہ (ع) نے اس مومن عورت کے لئے انجام دی ہے، بہشت اور بہشتی نعمتوں کو اس سے جو پہلے سے مقرر تھیں کئی ہزار گناہ مقرر کردیا جائے اور یہی روش اور سنت اس عالم کے بارے میں بھی جاری کی جاتی ہے جو اپنے علم سے کسی مومن کو کسی معاند پر فتح دلاتا ہے اور اس کے ثواب کو اللہ تعالی کئی کئی ہزار برابر مقرر کردیتا ہے_(۱)

فاطمہ (ع) کا ایمان اور عبادت

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ (ع) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالی کا ایمان فاطمہ (ع) کے دل کی گہرائیوں اور روح کے اندر اتنا نفوذ کر چکا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کے لئے اپنے آپ کو ہر ایک چیز سے مستغنی کرلیتی ہیں _(۲)

امام حسن علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میری والدہ شب جمعہ صبح تک اللہ تعالی کی عبادت میںمشغول رہتی تھیں اور متواتر رکوع اور سجود بجالاتی تھیں یہاں تک کہ صبح نمودار ہوجاتی میں نے سنا کہ آپ مومنین کے لئے نام بنام دعا کر رہی ہیں لیکن وہ اپنے لئے دعا نہیں کرتی تھیں میں نے عرض کی امّاں جان: کیوں اپنے لئے دعا نہیں کرتیں؟ آپ(ع) نے

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۲ ص ۸_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۴۶_


فرمایا پہلے ہمسائے اور پھر خود _(۱)

امام حسن علیہ السلام فرماتے تھے کہ جناب فاطمہ زہرا(ع) تمام لوگوں سے زیادہ عبادت کرنے والی تھیں اللہ تعالی کی عبادت میں اتنا کھڑی رہتیں کہ ان کے پاؤں ورم کرجاتے _(۲)

پیغمبر اکرم(ص) فرماتے تھے کہ میری بیٹی فاطمہ عالم کی عورتوں سے بہترین عورت ہیں، میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، میری آنکھوں کا نور، دل کا میوہ اور میری روح رواں ہیں، انسان کی شکل میںحور ہیں، جب عبادت کے لئے محراب میں کھڑی ہوتیں تو آپ کا نور فرشتوں میں چمکتا تھا، خداوند عالم نے ملائکہ کوخطاب کیا کہ میری کنیز کو دیکھو میرے مقابل نماز کے لئے کھڑی ہے اور اس کے اعضاء میرے خوف سے لرز رہے ہیں اور میری عبادت میں فرق ہے، ملائکہ گواہ ہو میں نے فاطمہ (ع) کے پیروکاروں کو دوزخ کی اگ سے مامون قرار دے دیا ہے _(۳)

البتہ جو شخص قرآن کے نزول کے مرکز میں پیدا ہو اور روحی کے دامن میں رشد پایا اورغور کیا ہو اور دن رات اس کے کان قرآن کی آواز سے آشنا ہوں اور محمد(ع) جیسے باپ کی تربیت میں رہا ہو کہ آنجناب اس قدر اللہ تعالی کی عبادت کرتے کہ آپ کے پائے مبارک ورم کرجاتے تھے اور علی جیسے شوہر کے گھر رہی ہو تو اسے اہل زمان کے افراد سے عابدترین انسان ہونا

____________________

۱) کشف الغمہ،ج ۲ ص ۱۴ و دلائل الامامہ، ص ۵۲_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص۷۶_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۷۲_


ہی چاہیئےسے عبادت میںاتنا بلند مقام رکھنا چاہیئے اور ایمان اس کی روح کی گہرائیوں میں سماجاتا چاہیئے_

بابرکت ہار

جابربن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن عصر کی نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ پڑھی آپ کے اصحاب آپ کے ارد گرد بیٹھے تھے، اچانک ایک آدمی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا لباس پرانا اور پھٹا ہوا اور سخت بڑھا پے کی وجہ سے اپنی جگہ پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی مزاج پرسی کی، یا رسول اللہ(ص) میں ایک بھوکا آدمی ہوں مجھے سیر کیجئے ننگاہوں مجھے لباس عنایت فرمایئےور خالی ہاتھ ہوں مجھے کچھ عنایت فرمایئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سر دست تو میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میںتجھے ایک جگہ کی راہنمائی کرتا ہوں شاید وہاں تیری حاجت پوری ہوجائے_ اس شخص کے گھر جا کہ جو خداوند اور رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور رسول اسے دوست رکھتے ہیں جا میری بیٹی فاطمہ (ع) کے گھر کہ شاید تجھے وہ کوئی چیز عنایت فرما دے آپ اس کے بعد بلال سے فرمایا کہ اسے فاطمہ (ع) کا گھر کھلا آؤ_

جناب بلال اس بوڑھے کے ساتھ جناب فاطمہ (ع) کے گھر گئے، بوڑھے نے عرض کی سلام ہو میرا خانوادہ اہلبیت پر کہ جو فرشتوں کے نازل ہونے کا مرکز ہے جناب فاطمہ (ع) نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ تم کون ہو؟ اس نے عرض کیا کہ میں ایک فقیر ہوں، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں گیا تھا انہوں نے


مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اے دختر پیغمبر(ص) بھوکا ہوں سیر کیجئے، برہنہ ہوں لباس مجھے پہنایئےفقیر ہوں کوئی چیز عنایت فرمایئےجناب فاطمہ جاتی تھیں کہ گھر میں کوئی غذا موجود نہیں ہے ایک گوسفند کی کھال ہے کہ جو امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے فرش کے لئے تھی اسے دی اس نے عرض کی یہ چمڑے کی کھال میری زندگی کی اصلاح کہاں کرسکتی ہے_ جناب فاطمہ (ع) نے ایک ہار جو آپ کے چچا کی لڑکی نے بطور ہدیہ دیا تھا اس فقیر کو دے دیا اور فرمایا اسے فروخت کر کے اپنی زندگی کی اصلاح کرلے_

وہ بوڑھا آدمی پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں لوٹ آیا اور تمام قصہ بیان کیا، آپ رودیئےور فرمایا کہ اس ہار کو فروخت کر ڈالوتا کہ میری بیٹی کے عطیے کی برکت سے خدا تیری کشائشے کردے_

عمار یاسر نے جناب رسول خدا(ص) سے اجازت لی کہ اس ہار کو خرید لوں اس بوڑھے سے پوچھا کہ اسے کتنے میں فروخت کروگے؟ اس نے کہا کہ اتنی قیمت پر کہ روٹی اور گوشت سے میرا پیٹ سیر ہوجائے ایک یمانی چادر جسم کے ڈھانپے کے لئے ہوجائے کہ جس میں نماز پڑھوں اور ایک دینار کہ میں اپنے گھر اور اہل و عیال کے پاس جاسکوں_

عمار نے کہا میں اس ہار کو بیس دینار اور دو سو درہم اور ایک برد یمانی اور ایک سواری کا حیوان اور روٹی اور گوشت کے عوض خریدتا ہوں اس بوڑھے نے ہار جناب عمار کو فروخت کردیا اور معاوضہ لے لیا اور پیغمبر(ص) کی خدمت میں لوٹ آیا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے پوچھا کہ تمہاری حاجت پوری ہوئی، اس نے عرض کی ہاں، میں جناب فا طمہ (ع) کی بخشش کی بدولت بے نیاز ہوگیا ہوں کہ خداوند عالم اس کے عوض جناب فاطمہ (ع)


کو ایسی چیز دے کہ نہ آنکھ دیکھی ہو اور نہ کان نے سنی ہو_

جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اصحاب سے فرمایا کہ خداوند عالم نے اسی دنیا میں اس قسم کی چیز جناب فاطمہ (ع) کو عطا کردی ہے کیونکہ اسے مجھ جیسا باپ اور علی جیسا شوہر اور حسن (ع) اور حسین (ع) جیسے فرزند عنایت فرمائے ہیں، جب عزرائیل فاطمہ (ع) کی روح قبض کرے گا اور اس سے قبر میں سوال کرے گا کہ تیرا پیغمبر کون ہے؟ تو جواب دے گی میرا باپ، اور اگر پوچھے گاتیرا امام کون ہے تو جواب دے گی میرا شوہر علی بن ابیطالب(ع) ، خداوند عالم نے ملائکہ کی ایک جماعت کی ڈیوٹی لگادی ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد ہمیشہ ان پراور ان کے والد اور شوہر پر درود بھیجتے رہیں_ خبردار ہو جو شخص میرے مرنے کے بعد میری زیارت کوآئے تو وہ اس کے مانند ہے کہ وہ میری زندگی میں زیارت کو آیا ہے اور جو شخص فاطمہ (ع) کی زیارت کو جائے اس کے مثل ہے کہ اس نے میری زیارت کی_

جناب عمار نے وہ ہار لیا اور اسے خوشبو لگائی اور یمانی کپڑے میں لپیٹ کر اپنے غلام کو دیا اور کہا کہ اسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لے جاکر حاضر کرو میں نے تجھے بھی آنجناب کو بخش دیا ہے_ جب وہ غلام جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میںگیا تو حضرت نے وہ ہار مع غلام کے جناب فاطمہ علیہا السلام کو بخش دیا_ جناب فاطمہ علیہا السلام نے وہ ہار لیا اور اس غلام کو آزاد کردیا_ جب غلام آزاد ہوا تو ہنسنے لگا جب اس سے ہنسنے کی علت پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ اس ہار کی برکت پر مجھے تعجب ہوا ہے کیونکہ اس نے بھوکے کو سیر کیا ہے، برہنہ کو کپڑا پہنایا، فقیر کو غنی


کردیا، غلام کو آزاد کردیا اور پھر وہ اپنے مالک کے پاس لوٹ گیا _(۱)

پیغمبر(ص) کی فاطمہ (ع) سے محبت اوران کا احترام

جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) بات کرنے میں تمام لوگوں کی نسبت پیغمبر(ص) سے زیادہ شباہت رکھتی تھی، جب آپ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس جاتیں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کا ہاتھ پکڑتے اوراسے بوسہ دیتے اورجناب فاطمہ (ع) کو اپنی جگہ بٹھاتے اور جب رسول خدا(ص) جناب فاطمہ (ع) کے پاس جاتے تو آپ والد کے احترام کے لئے کھڑی ہوجاتیں اور آپ کے ہاتھ چومتیں اور اپنی جگہ آپ کوبٹھلاتیں _(۲)

ایک دن جناب عائشےہ نے دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جناب فاطمہ (ع) کو بوسہ دے رہے ہیں تو عرض کیا یا رسول اللہ(ص) اب بھی آپ فاطمہ (ع) کو چومتے میں کتنا فاطمہ (ع) کو دوست رکھتا ہوں تو تیری محبت بھی اس کے ساتھ زیادہ ہوجاتی، فاطمہ (ع) یہ انسان کی شکل وصورت میں حور ہیں، جب بھی میں بہشت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو اسے بوسہ د یتا ہوں _(۳)

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۵۶_

۲) کشف ا لغمہ، ج ۲ ص ۷۹_

۳) کشف الغمہ، ج ۲ص ۸۵_


علی بن ابیطالب نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا یا رسول اللہ(ص) مجھے زیادہ دوست رکھتے ہیں یا فاطمہ (ع) کو؟ تو آپ نے فرمایا تم عزیزترین ہو اور فاطمہ محبوت تر(۱) _

جناب فاطمہ (ع) فرماتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کر:

( لاتجعلوا دعا الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا )

یعنی پیغمبر کو اپنی طرح آواز نہ دیا کرو_ تو میں اس کے بعد اباجان کے لفظ سے آپ کو خطاب نہ کرتی تھی اور یا رسول اللہ(ص) کہا کرتی تھی، کئی دفعہ میں نے آپ کو اسی سے آواز دی تو آپ نے میرا جواب نہ دیا اور اس کے بعد فرمایا بیٹی فاطمہ (ع) یہ آیت تمہارے اورتمہاری اولاد کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، یہ آیت قریش کے متکبر افراد کے لئے نازل ہوئی ہے، تم مجھے ابّا کہہ کر پکارا کرو کیونکہ یہ لفظ میرے دل کو زندہ کرتا ہے اور پروردگار عالم کو خشنود کرتا ہے(۲) _

جناب عائشےہ سے سوال کیا گیا کہ پیغمبر(ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو آپ نے کہا کہ فاطمہ (ع) ، اس کے بعد پوچھا گیا کہ مردوں میں سے زیادہ محبوب کون تھا تو آپ نے کہا فاطمہ (ع) کے شوہر علی (ع) _(۳)

جب تک پیغمبر(ص) فاطمہ (ع) کو چوم نہ لیتے سویا نہیں کرتے تھے(۴) _

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۸_

۲) بیت الاحزان، ص ۱۰_

۳) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۸_

۴) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۳_


پیغمبر(ص) جب سفر کو جاتے تھے تو آخری آدمی جسے وداع فرماتے تھے فاطمہ (ع) ہوتیں اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو پہلا شخص جس کی ملاقات کو جلدی جاتے فاطمہ (ع) ہوتیں(۱) _

پیغمبر(ص) فرماتے تھے کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے جو اسے خوشنود کرے گا اس نے مجھے خوشنود کیا، اور جو شخص اسے اذیت دے گا اس نے مجھے اذیت دی سب سے عزیزترین میرے نزدیک فاطمہ (ع) ہیں(۲) _

اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول خدا(ص) حد سے زیادہ اور معمول اور متعارف سے بڑھ کر جناب فاطمہ (ع) سے محبت کا اظہار اس حد تک کرتے تھے کہ بسا اوقات اعتراض کئے جاتے تھے البتہ ہر باپ کو طبعی طور پر اولاد سے محبت ہوتی ہے لیکن جب محبت اورتعلق معمول سے تجاوز کرجائے تو اس کی کوئی خاص وجہ اور علت ''جو فطری محبت کے علاوہ ہو، ہونی چاہیئے، ممکن ہے حد سے زیادہ محبت کا اظہار جہالت اور کوتاہ فکری کی وجہ سے ہو لیکن اس علت کی پیغمبر(ص) کی ذات کی طرف نسبت نہیں دی جاسکتی،کیونکہ اللہ تعالی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق فرماتا ہے:( انک العلی خلق عظیم ) (۳) _ ''یعنی خلق عظیم کے مالک ہو_

پیغمبر(ص) کے تمام کا وحی الہی کے ماتحت ہوا کرتے تھے اللہ تعالی فرماتا ہے( ان هو الا وحيٌ یوحی ) (۴) _

____________________

۱) دخائر العقیی ، ص ۳۷_

۲) مناقب ابن شہر آشوب، ج ۳ ص ۳۳۲_

۳) سورہ قلم آیت ۴_

۴) سورہ نجم آیت ۴_


بس خدا کے رسول کا ان تمام غیر عادی محبت کے اظہار میں کوئی اور منشا اور غرض ہونی چاہیئے_

جناب رسول خدا(ص) نے اپی بیٹی فاطمہ (ع) کے مقام و مرتبت کو خود مشخص کیا تھا اور آپ ان کے رتبے کو اچھی طرح پہچانتے تھے_ جی ہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جانتے تھے کہ فاطمہ (ع) ولایت اور امامت کی تولید کامرکز اور دین کے پیشواؤں کی ماں ہیں، اسلام کی نمونہ اور مثال اور ہر گناہ سے معصوم ہیں_ حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بھی آپ کے بلند مقام کو درک نہیں کرسکتا_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جانتے تھے کہ فاطمہ (ع) کا نور آسمان کے فرشتوں کو روشنی دینے والا ہے، بہشت کی خوشبو کو فاطمہ (ع) سے استشمام کرتے تھے یہی علت تھی کہ آپ حد سے زیادہ فاطمہ (ع) سے اظہار محبت فرمایا کرتے تھے_

فاطمہ (ع) اور علی (ع) کی سخت زندگی

ایک زمانہ میں حضرت علی (ع) کی زندگی بہت سخت گزر رہی تھی_ جناب فاطمہ (ع) اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ام ایمن سے فرمایا گویا زہرا(ع) دروازے پرہے دروازہ کھولو_ دیکھو کون ہے، جب انہوں نے گھر کا دروازہ کھولا تو جناب فاطمہ علیہا السلام گھر کے اندر داخل ہوئیں سلام کیا اور باپ کی خدمت میں بیٹھ گئیں، جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بیٹی فاطمہ (ع) تم اس وقت پہلے کبھی ہمارے گھر نہیں آیا کرتی تھیں کیا ہوا ہے؟ آپ نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) ملائکہ کی غذا کیا ہے، آپ نے فرمایا اللہ تعالی


کی حمد_ عرض کیا، اباجان ہماری غذا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا خدا کی قسم ایک مہینہ ہونے کو ہے کہ آل محمد(ص) کے گھر میں آگ نہیں جلائی گئی_ میری آنکھوں کانور، آگے آؤ میں تمہیں وہ پانچ کلمات بتلاتا ہوں جو جبرئیل نے مجھے تعلیم دیئے ہیں_

''یا رب الاولین وَ الآخرین یا ذالقوة المتین

و یا ارحم المساکین و یا ارحم الراحمین''

جناب فاطمہ (ع) نے یہ دعا یاد کی اور گھر لوٹ آئیں، حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا کہاں گئی تھیں؟ جواب دیا دنیا طلب کرنے گئی تھی لیکن آخرت کے لئے دستور لے کر آئی ہوں_ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا آج سب سے بہتر دن تھا(۱) _

ایک دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ (ع) کی عیادت کی اور آپ کے احوال پوچھے تو آپ نے عرض کیا اباجان بیمار ہوں اور اس سے بدتر یہ کہ گھر میں کوئی چیز موجود نہیں جو کھاؤں، آپ نے فرمایا کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں کہ دنیا کی عورتوں سے بہترہو(۲) _

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک دن جناب فاطمہ (ع) نے جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جو آتا ہے وہ فقراء میں تقسیم کردیتے ہیں پیغمبر(ص) نے فرمایا: بیٹی فاطمہ (ع) خبردار میرے بھائی اور چچازاد علی (ع) کوناراحت نہ کرنا

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۵۲_

۲) در رالسمطین، ص ۱۷۹_


کیوں کہ علی (ع) کاغضب میرا غضب ہے اورمیرا غضب خدا کا غضب ہے(۱) _

اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ ایک دن رسول خدا(ص) جناب فاطمہ (ع) کے گھر گئے دیکھا کہ حسن(ع) اور حسین(ع) گھر میں موجود نہیں ہیں ان کی حالت پوچھی، جناب فاطمہ (ع) نے عرض کی، آج ہمارے گھر میںکھانے کے لئے کچھ موجود نہ تھا، علی (ع) نے جب باہر جانا چاہا فرمایا کہ میںحسن (ع) و حسین (ع) کو اپنے ساتھ باہر لے جاتا ہوں تا کہ یہاں روئیں نہ اور تم سے غذا کا مطالبہ نہ کریں_ ان کواٹھایا اور فلاںیہودی کے پاس چلے گئے_ جناب رسول خدا(ص) علی کی تلاش میں باہر گئے اور انہیں یہودی کے باغ میں ڈول کھینچتے دیکھا اور دیکھا کہ حسن (ع) اور حسین (ع) کھیل میں مشغول ہیں اور ان کے سامنے تھوڑی مقدار خرما کی بھی موجود ہے_ پیغمبر(ص) نے علی (ع) سے فرمایا کہ دن گرم ہونے سے پہلے حسن (ع) و حسین (ع) کو گھر لوٹانا نہیںچاہتے؟ آپ نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) جب میںگھر سے باہر آیا تھا تو ہمارے گھر کوئی غذا موجود نہ تھی آپ تھوڑ ا توقف کریں تا کہ میںکچھ خرما جناب فاطمہ (ع) کے لئے مہیا کروں_ میں نے اس یہودی سے ہر ڈول کے کھینچنے پر ایک خرما مقرر کیا ہے_ جب کچھ خرمے مہیا ہوگئے انہیں آپ نے اپنے دامن میں ڈالا اور حسن (ع) اور حسین (ع) کواٹھایا اور گھر واپس لوٹ آئے(۲) _

ایک دن پیغمبر(ص) فاطمہ (ع) کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ (ع) گلوبند پہنے ہوئے ہیں، آپ نے فاطمہ (ع) سے روگردانی کی اور چلے گئے، جناب فاطمہ (ع) آپ کی روگردانی

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۹_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۸۳_


کی علت کو بھانپ گئیں، ہارا تارا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر کردیا آپ نے فرمایا فاطمہ (ع) تم مجھ سے ہو_ اس کے بعد ایک غریب آدمی آیا تو آپ نے وہ ہار اس کو عطا کردیا اور فرمایا کہ جو شخص ہمارا خون بہائے اورمیرے اہل بیت کے بارے میں مجھے اذیت دے خداوند عالم اس پر غضب کرے گا(۱) _

اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں جناب فاطمہ (ع) کی خدمت میں بیٹھی تھی کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہاں آئے، آپ نے فاطمہ (ع) کی گردن میں سونے کا ہار دیکھا آپ نے فرمایا فاطمہ (ع) لوگوں کے اس کہنے پر کہ فاطمہ (ع) رسول(ص) کی دختر ہے مغرور نہ ہونا جب کہ تم اس حالت میں ہو کہ ظالموں کا لباس تمہارے جسم پرہو_ جناب زہراء نے فوراً ہار کو اتارا اور فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید کر آزاد کردیا، پیغمبر(ص) آپ کے اس کام سے بہت خوش ہوئے(۲) _

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عادت یہ تھی کہ جب سفر کو جاتے تو آخری آدمی کہ جس سے وداع کرتے وہ فاطمہ (ع) ہوتیں اور جب سفر سے واپس آتے تھے تو پہلا انسان جس کا آپ دیدار کرتے تھے وہ فاطمہ (ع) ہوتیں، آپ ایک سفر سے جب جناب فاطمہ (ع) کے گھر آئے تو دیکھا حضرت حسن (ع) اور حضرت حسین (ع) کے ہاتھوں میں چاندی کا دست بند ہے اور ایک پردہ بھی لٹکا ہوا ہے آپ نے اسے تھوڑی دیر تک دیکھا اور اپنی عادت کے خلاف

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۵۲_

۲) نظم در رالسمطین ص ۱۷۹_


جناب زہرا(ع) کے گھر نہ ٹھہرے اور فوراً واپس لوٹ گئے، جناب فاطمہ (ع) غمگین ہوئیں اوراس واقعہ کی علت سمجھ گئیں، پردہ اتار اورحضرت حسن (ع) اور حضرت حسین (ع) کے ہاتھ سے دست بند بھی اتارا، اور یہ کسی ذریعہ سے جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں روانہ کردیا_ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کی آنکھوں کو بوسہ دیا اور آپ کو نوازش دی اور دس بند کو مسجد میں حوفقراء رہتے تھے ان میں تقسیم کردیا اور پردے کے ٹکڑے کر کے مختلف برہنہ انسانوں کودیئے تا کہ وہ ستر عورت کرسکیں اس کے بعد جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ خدا فاطمہ (ع) پر رحمت کرے اور اسے بہشتی لباس پہنائے اور بہشتی زینت اسے عطا کرے(۱) _

عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ میں ایک دن جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ جناب فاطمہ (ع) زہراء وہاں تشریف لے آئیں_ جب رسول خدا کی نگاہ آپ کے چہرے پر پڑی جو بھوک سے زرد ہوچکا تھا اور اس پر خون کے موجود ہونے کے آثار نہیں نظر آرہے تھے تو انہوں نے اپنے پاس بلایا اور اپنا دست مبارک جناب فاطمہ (ع) کے سینے پر رکھا اور فرمایا اے وہ خدا جو بھوکوں کو سیر کرتا ہے اور ضعیفوں کو بلند کرتا ہے، فاطمہ (ع) محمد(ص) کی دختر کو بھوکا نہ رکھ_ عمران کہتا ہے کہ پیغمبر(ص) کی دعا کی برکت سے جناب فاطمہ (ع) کے چہرے کی زردی ختم ہوگئی، اور آپ کے چہرے پرخون دوڑے کے آثار

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۸۳_

۲) نظم در رالسمطین، ص ۱۹۱_


عملی دعوت

روایات اور تواریخ یہ گواہی دے رہی ہیں کہ اہلبیت کی فرد اول یعنی پیغمبر اسلام(ص) اور اسلام کی دوسری شخصیت علی بن ابیطالب(ع) اور اسلام کی پہلی خاتون فاطمہ زہراء (ع) کی زندگی بہت سادہ بلکہ بہت سختی اور مشقت سے گزرتی تھی، اور اس پر بہت زیادہ تعجب بھی نہیں کیا جانا چاہیئےیوں کہ اس زمانے میں تمام مسلمانوں کی عمومی زندگی اچھی نہ تھی_

اکثر مسلمان فقیر اور معاشرے سے محروم افراد ہوا کرتے تھے وہ گروہ کہ جن کی ایک حد تک زندگی بری نہ تھی دشمنوں کے خوف سے مجبور ہوگئے تھے اور اپنی تمام پونجی اور گھر بار مکہ چھوڑکر مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے، مدینہ میں بھی اکثریت فقراء کی تھی اور جو چند آدمی جن کی وضع کسی حدتک اچھی تھی وہ بھی مجبور تھے کہ ان مسلمانوں سے جو مکہ چھوڑکر ہجرت کر آئے تھے ہمدرد ی اور مالی مواسات بجالائیں اور اپنی قدرت کے مطابق ان کی مدد اور مساعدت کریں اور دوسری طرف وہ زمانہ اسلام کا بحرانی زمانہ تھا مسلمان ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہتے تھے اور اکثر اوقات جنگ اور دفاع میں مشغول رہتے تھے اسی وجہ سے اپنی اقتصادی اوضاع کو قوی نہیںکرسکتے تھے_

ان حالات میں کیا پیغمبر(ص) اور علی (ع) اور فاطمہ (ع) کے لئے مناسب اور ممکن تھا کہ وہ اپنے لئے اچھی زندگی فراہم کریں اور فقراء اور بیچاروں سے ہمدردی نہ کریں اگر چہ پیغمبر(ص) اور حضرت علی (ع) خود کام کیا کرتے تھے اور اسی ذریعہ سے


ان کے پاس مشروع اورجائز دولت بھی اکھٹی ہوجاتی تھی اور جنگ کی غنیمت سے بھی انہیں حصہ ملتا تھا اور اگر چاہتے تو اچھی زندگی گزار سکتے تھے، لیکن کیا یہ ممکن تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے داماد اور ان کی بیٹی تو آرام سے زندگی گزاریں لیکن مدینہ کے فقراء کی فریادیں بلند ہوں، کیا یہ مناسب تھا کہ پیغمبر(ص) کی دختر تو گھر پر پردے لٹکائے رکھے اور مسلمانوں کی ایک جماعت کے پاس سترعورت کے لئے کپڑے تک موجود نہ ہوں، کیا یہ ہوسکتا تھا کہ حسن (ع) اور حسین (ع) توہاتھوں میں چاندی کے دست بند پہنے ہوئے ہوں اور مسلمانوں کے بچوں کی بھوک سے فضاء میں آوازیں بلند ہو رہی ہوں_

قاعدتاً اگر اسلام کا پہلا شخص اور اہلبیت گرامی دوسرے مسلمانوں سے مواسات نہ کرتے تو کیا ممکن ہوتا کہ مسلمانوں کے مستضعف گروہ کو صدر اسلام میں کہ جو ابھی اچھی طرح پیغمبری اور وحی کے معنی کو درک نہیں کرتے تھے اور ان کی عقلیں صرف ان کی آنکھوں تک محدود تھی حاضر کیا جاتا کہ وہ میدان جہاد میں فداکاری کریں اور اپنی جان کو قربان کریں؟ اسلام کی پیشرفت اور اس کے معنوی نفوذ کی ایک علت یہ بھی تھی کہ جو آنحضرت سے سنتے تھے اسے عملی طور سے بھی رفتار و گفتار اور زندگی فردی اور خانوادے کی زندگی میںمشاہدہ بھی کرتے تھے اسی عملی دعوت کی وجہ سے وہ اسلام اور جانبازی کی طرف مائل ہوا کرتے تھے لیکن

حضرت زہراء کی عصمت

لغت میں لفظ معصوم کے معنی محفوظ اور ممنوع کے ہیں_ اصطلاح میں معصوم اس شخص کو کہاجاتا ہے جو غلطی اور اشتباہ اور گناہوں سے امان میں ہو اور محفوظ ہو معصوم اسے کہتے ہیں کہ اس کی بصیرت


کی آنکھ ایسی ہو کہ عالم کے حقائق کا مشاہدہ کر رہی ہو اور اس ارتباط اور اتصال کی وجہ سے جو اسے عالم ملکوت سے ہے اور غیبی تائیدات سے گناہ اور نافرمانی نہ کرے اور اس کے وجود مقدس میں غلطی اور اشتباہ اور سرکشی اور عصیاں گزر نہ کرسکے_ عصمت کا بلند و بالا رتبہ اور مقام دلائل عقلی اور نقلی اور براہین سے پیغمبروں کے لئے تو ثابت ہوچکا ہے_

شیعہ امامیہ کاعقیدہ ہے کہ ہمارے پیغمبر(ص) کے حقیقی جانشین و خلفاء اور بارہ اماموں کو بھی معصوم ہونا چاہیئےور ان کے پاس ان بزرگوں کی عصمت کے لئے دلائل اور براہین بھی موجود ہیں_ اگر ہم ان کا ذکر یہاں شروع کردیں تو اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے_

شیعہ امامیہ پیغمبروں کی عصمت کے علاوہ حضرت زہرا (ع) کو بھی گناہوں اور نافرمانی سے معصوم جانتے ہیں اور آپ کی عصمت کے ثبوت کے لئے بہت سی دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں_ بعض کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے_

پہلی دلیل اس آیت کے تمسک کر کے آپ کی عصمت کو ثابت کیاجاسکتا ہے_

( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا ) (۱)

آیت کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے_ ''خدا چاہتا ہے کہ ناپاکی اور آلودگی کو تم اہلبیت سے دور کردے اورکاملاً تمہیں پاکیزہ اور طاہر کردے_

شیعہ اور سنی نے بہت زیادہ احادیث نقل کی ہے جو دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت پیغمبر(ص) اور علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے_

____________________

۱) سورہ احزاب آیت ۲۴_


جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ ایک دن جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے کندھے پر سیاہ پشم کا بنا ہوا کپڑا ڈالے گھر س باہر نکلے اس کے بعد حسن اور حسین (ع) اور فاطمہ (ع) اور علی (ع) کو اس کپڑے اور چادر کے درمیان لیا اور فرمایا:

انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت الخ (۱)

جناب ام سلمہ فرماتی ہیں ایک دن جناب فاطمہ (ع) ایک ظرف میں حریر (ایک کا حلوہ ہے) لے کر جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ علی (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) کو بھی بلاؤ، جب یہ تمام حضرات رسول (ص) کی خدمت میں حاضر ہویئےور غذا کھا نے میں مشغول ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کے بعد پیغمبر(ص) نے خیبری چادر ان کے سرپر ڈالی اور تین مرتبہ فرمایا کہ اے میرے خدا یہ میرے اہل بیت ہیں، آلودگی کو ان سے زائل کردے اورپاکیزہ بنادے(۲) _

عمر ابن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ یہ آیت''انما یريد الله'' جناب ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی، پس پیغمبر اکرم(ص) نے علی (ع) اورفاطمہ اور حسن اور حسین علیہم السلام کو اپنے پاس بلایا اور چادر ان کے سرپر ڈالی اور فرمایا، اے میرے خدا، یہ میرے اہلبیت ہیں آلودگی کو ان سے زائل کردے اور ان کو اس طرح پاک و پاکیزہ فرما جو حق ہے جناب ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) میں بھی ان کے ساتھ ہوں یعنی اہلبیت میں داخل ہوں آپ نے جواب دیا کہ تم بھی اچھائی پر ہو(۳) _

____________________

۱) ینابیع المودہ، ص ۱۲۴_ درالمنثور، ج ۵ ص ۱۹۸_

۲) ینابیع المودہ، ص ۱۲۵ و درالمنثور، ج ۵ ص ۱۹۸_

۳) ینابیع المودہ، ص ۱۲۵_


واثلہ ابن اسقع کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر(ص) جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف لے گئے علی (ع) اور فاطمہ (ع) کو سامنے بٹھایا اور حسن (ع) اور حسین (ع) کو زانو پر، اس کے بعد ان کے سروں پر چادر ڈال کر فرمایا، اے میرے خدا، یہ میرے اہلبیت ہیں آلودگی کو ان سے زائل کردے(۱) _

خلاصہ رسول خدا(ص) کے اصحاب کی ایک جماعت جیسے جناب عائشےہ، ام سلمہ، معقل بن یسار، ابی الحمرائ، انس بن مالک، سعد ابن ابی وقاص، واثلہ ابن اسقعہ، حسن ابن علی، علی بن ابیطالب، ابوسعید خدری، زینب، ابن عباس اور ان کے علاوہ ایک اور جماعت نے اسی سے ملتی جلتی روایات اس آیت کی شان نزول میں نقل کی ہیں_ شیعہ اور سنی علماء جیسے جلال الدین سیوطی نے درالمنثور میں اور سلیمان بن ابراہیم قندوزی نے ینابیع المودة اور دوسرے سنی علماء نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے_

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر(ص) اس آیت کے نازل ہوئے کے بعد متعدد مقامات پر اور ان میں سے خود جناب فاطمہ (ع) اور جناب ام سلمہ کے گھر اپنی عبا علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) کے سرپر ڈالتے اور اس آیت کی تلاوت فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے خدا جو اشخاص میری عبا کے نیچے موجود ہیں یہی میرے اہلبیت ہیں، آلودگی کو ان سے دور فرما، رسول خدا(ص) اس قسم کا عمل اس لئے انجام دیتے تھے تا کہ اہلبیت (ع) کی شناخت ہوجائے اور یہ موضوع پایہ ثبوت کو پہنچ جائے یہاں تک کہ چھ ماہ اوربعض روایات کی بنا پرسات اور بعض دوسری روایت کی بناپر آٹھ مہینہ تک آپ کی یہ عادت تھی

____________________

۱)ینابیع المودہ، ص ۱۲۵ و درالمنثور ج ۵ ص ۱۹۹_


کہ آپ صبح کے وقت جب نماز کے لئے جاتے اور حضرت فاطمہ علیہا السلام کے گھر سے گزرتے تو ٹہرجاتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے(۱) _

رسول خدا(ص) ان موارد اورمواقع پر اپنی چادر علی (ع) اور فاطمہ (ع) اورحسن (ع) اور حسین (ع) علیہم السلام کے سر پر ڈالتے اور یہی آیت تلاوت فرماتے تا کہ اس سے غلط مطلب لینے کی کسی کو گنجائشے نہ رہے کہ کوئی دعوی کرے کہ میں بھی اہلبیت کا مصداق اور فرد ہوں، آپ اس مطلب کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ جب ام سلمہ نے عبا کے اندر داخل ہونا چاہا تو آپ نے چادر ان کے ہاتھ سے کھینچ لی اور فرمایا کہ تم نیکی پر ہو_ ایک زمانے تک صبح کے وقت آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تو فاطمہ (ع) کے گھر میں رہنے والوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیت تلاوت فرماتے تا کہ لوگ سن لیں اور اس کے بعد انکار نہ کرسکیں_ علی (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) بھی متعدد مقامات پر اور صحابہ کے روبرو فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے حق میںنازل ہوئی ہے_ اور کسی وقت بھی اس کا کسی نے انکار نہیں کیا_

اس آیت کے مطابق خداوند عالم فرماتا ہے کہ خدا نے ارادہ کیا کہ تم اہلبیت کو آلودگی اور رجس سے منزہ قرار دے_ اس رجس سے مراد ظاہری نجاست نہیں ہے کیونکہ اس کا دور کرنا اہلبیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمان مکلف ہیں کہ وہ اپنے آپ سے ظاہری نجاست کو دور رکھیں اور اس سے پرہیز کریں، اس کے علاوہ اگر ظاہری نجاست مراد ہوتی تو اس کے لئے اتنے اہتمام اور تکلف کی ضرور نہ تھی اور نہ ہی پیغمبر کو دعا

____________________

۱) کشف الغمہ،ج ۲ ص ۸۳، و در المنثور ج ۵ ص ۱۹۹، و فصول المتمہ ص ۸_


کی ضرورت تھی_ مطلب اتنا مہم نہیں تھا کہ ام سلمہ اس کا مصداق ہونے کی خواہش کرتیں اور رسول خدا اس سے مانع ہوتے اس سے معلوم ہوجائے گا کہ مراد اس آیت میں ظاہری نجاست اور آلودگی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اور مقصود باطنی آلودگی یعنی گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے، لہذا اس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا نے چاہا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ اہلبیت گناہ سے پاکیزہ ہوں اور اس ارادہ سے مراد بھی ارادہ تشریعی نہیں ہے، یعنی یوں نہیں کہا جاسکتا کہ خداتعالی نے اہلبیت سے_ طلب کیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو گناہ اورمعصیت سے پاک کریں کیونکہ ایسا ارادہ بھی اہلبیت کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا، کیوں کہ خداوند عالم تمام لوگوں سے یہی چاہتا ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں بلکہ اس ارادے سے مراد اس آیت میں تکوینی ارادہ ہے یعنی خدا نے اس طرح مقدر کردیا ہے کہ اہلبیت کا دامن معصیت اور گناہ سے پاک اور منزہ ہو حالانکہ تمام بشر مختار ہیں کہ وہ علم اور ارادے سے گناہوں کو ترک کریں_

پیغمبر(ص) نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے یعنی گناہوں سے معصوم ہونا_ ابن عباس نے رسول خدا(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مخلوق کی دو قسم کی ہیں اور مجھے بہترین قسم میں قرار دیا ہے کیوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:

( اصحاب الیمین ما اصحاب الیمین و اصحاب الشمال ما اصحاب الشمال ) _

میںاصحاب یمین سے اوران سے بہترین میں سے ہوں، اس کے بعد اللہ تعالی نے ان کی تین قسمیں کی ہیں اور مجھے ان میں سے بہترین قسم میں قرار دیا ہے_ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:


( فاصحاب المیمنة ما اصحاب المیمنة و اصحاب المشئمة ما اصحاب المشئمة و السابقون السابقون )

میں سابقین میں سے ہوں اور ان سے بہترین ہوں_ پھر ان تین قسموں کو قبیلوں میں تقسیم کیا_ اور مجھے بہترین میں قرار دیا_ جیسے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

( و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند الله اتقاکم )

پس میں حضرت آدم(ع) کی اولاد میں سے پرہیزگاروں اورمعظم ترین لوگوں میں سے ہوں، لیکن اس پرمیں فخر نہیں کرتا پھر اللہ تعالی نے ان قبائل کو خاندانوں میں تقسیم کیا ہے، اور مجھے بہترین خاندان میں قرار دیا ہے_ جیسے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیراً )

پس میں اور میرے اہلبیت گناہوں اورمعصیت سے معصوم ہیں(۱) _

اعتراض

کہا گیا ہے کہ یہ آیت عصمت پر دلالت نہیں کرتی کیوں کہ اس سے پہلی آیت اور اس سے بعد کی آیات تمام کی تمام پیغمبر(ص) کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور انہی کوخطاب کیا گیا ہے_

اس قرینے کے لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت بھی پیغمبر(ص) کی ازدواج

____________________

۱) درالمنثور، ج ۱ ص ۱۹۹_


کی شان میں نازل ہوئی ہے اور وہی اس آیت میں اس کی مخاطب ہیں اور اگر اس آیت کی دلالت عصمت پر مان لی جائے تو پھر کہنا پڑے گا کہ پیغمبر(ص) کی ازدواج گناہوں سے معصوم ہیں حالانکہ اس مطلب کو کسی نے نہیں کہا اور نہ ہی یہ مطلب کہا جاسکتا ہے لہذا کہنا ہوگا کہ اصلاً یہ آیت عصمت پر دلالت ہی نہیں کرتی نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازدواج کے مورد میں اور نہ ہی اہلبیت کے مورد میں_

اعتراض کا جواب

علامہ سید عبدالحسین شرف الدین نے اس اشکال کونقل کر کے اس کا جواب دیا ہے_ ہم یہاں وہ جواب نقل کر رہے ہیں_

پہلا جواب:

یہ ہے کہ جو احتمال اعتراض میں دیا گیا ہے وہ نص اور صریح روایات کے خلاف ہے اور یہ ایک ایسا اجتہاد ہے کہ جو نصوص اور روایات کے خلاف ہے کیوں کہ روایات حد تواتر تک موجود ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرات علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت انہیں سے مخصوص ہے_ یہان تک کہ جب جناب ام سلمہ نے چاہا کہ چادر کے اندر داخل ہوجائیں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں سختی سے روک دیا_

دوسرا جواب:

اگر یہ آیت پیغمبر(ص) کی ازواج کے حق میں نازل ہوتی تو پھر


چاہیئےھا کہ صیغہ مونث حاضر کا استعمال کیا جاتا اور یوں آیت ہوتی انما یرید اللہ لیذہب عنکم کی جگہ عنکنَّ ہوتا اور جمع مذکر کا صیغہ جو موجودہ آیت میں ہے نہ لایا جاتا_

تیسرا جواب:

عربی فصیح زبان میںعربوں کے درمیان یہ عام رواج ہے کہ وہ ایک مطلب کے درمیان جملہ معترضہ لایا کرتے ہیں، لہذا کیا حرج ہے کہ اللہ تعالی نے اس آیت کو جو اہلبیت سے مخصوص ہے ازواج پیغمبر(ص) کے ذکر کے درمیان ذکرکردیا ہو تا کہ اہلبیت کے موضوع کی اہمیت واضح ہوجائے اور اس نکتہ کی طرف توجہ دلانی ہو کہ چونکہ پیغمبر(ص) کے اہلبیت گناہوں سے معصوم ہیں کسی کو اس مقام کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے یہاں تک کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات بھی اس مقام کے حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتیں_

چوتھا جواب:

باوجودیکہ قرآن مجید میںتحریف واقع نہیں ہوئی اور قرآن مجید کی آیات میں کمی زیادتی نہیں ہوئی لیکن یہ مطلب تمام کے نزدیک مسلم نہیں کہ قرآن کی تدوین اور جمع کرنے کے وقت ان تمام آیات اور سورتوں کو بعینہ ویسے ہی رکھا گیا ہے جس ترتیب سے نازل ہوئی تھیں مثلاً کوئی بعید نہیں کہ اس آیت کو جو اہلبیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ایک علیحدہ جگہ نازل ہوئی ہو لیکن قرآن جمع کرنے کے وقت اس کو ان آیات کے درمیان رکھ دیا ہو جو پیغمبر(ص) کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہیں(۱) _

____________________

۱) کتاب کلمة الغراء فی تفصیل الزہرائ_ مولفہ سید عبدالحسین شرف الدین، ص ۲۱۲_


دوسری دلیل

جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا تھا کہ فاطمہ (ع) خدا تیرے غضبناک ہونے پرغضبناک ہوتا ہے اور تیری خوشنودی پر خوشنود ہوتا ہے(۱) _

اس حدیث کو شیعہ اور سنیوں نے نقل کیا ہے اور اس حدیث کو دونوں قبول کرتے ہیں، اس حدیث کے مطابق جس جگہ فاطمہ (ع) غضبناک ہوں گی خدا بھی غضبناک ہوگا اور فاطمہ (ع) خوشنود ہوگی تو خدا بھی راضی اور خوشنود ہوگا اور یہ امر مسلم ہے کہ خدا واقع اور حق کے مطابق راضی اور غضبناک ہوتا ہے اور کبھی بھی برے یا خلاف حق کام کرنے پر راضی اور خوشنود نہیں ہوتا اگر چہ دوسرے اس پر راضی اور خوشنود ہی کیوں نہ ہوں اور کبھی بھی اچھے کاموں اور حق کے مطابق اعمال پر غضب ناک نہیں ہوتا، اگر چہ دوسرے لوگ اس پر غضبناک ہی کیوں نہ ہوتے ہوں، ان دو چیزوں کا لازمہ یہ ہوگا کہ جناب فاطمہ (ع) گناہ اور خطا سے معصوم ہوں، کیوں کہ اگر معصوم ہوئیں تو آپ کا غضب اور رضا شریعت کے میزان کے مطابق ہوگی اور کبھی بھی اللہ تعالی کی رضا کے خلاف راضی نہ ہوں گی اور کبھی بھی نیک اور حق کاموں سے غضبناک نہ ہوں گی اس صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر فاطمہ (ع) غضب کرے تو خدا غضب کرتا ہے اور اگر وہ خوشنود ہو ت و خدا خوشنود ہوتا ہے_

بخلاف اگر گناہ اور خطا آپ کے حق میں جائز قرار دیا جائے تو بطور کلی یہ

____________________

۱) ینابیع المودہ، ص ۲۰۳ اور مجمع الزوائد، ج ۹ ص ۲۰۳_


نہیں کہا جاسکتا کہ فاطمہ (ع) کے غضب سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور ان کی خوشنودی سے خدا خوشنود ہوتا ہے، اس مطلب کو ایک مثال دیگر واضح کردوں فرض کریں کہ حضرت فاطمہ (ع) معصوم نہ ہوں اور ان کے حق میں اشتباہ اور خطا ممکن ہو تو اس صورت میں ممکن ہے کہ آپ اشتباہ یا خواہشات نفسانی کی وجہ سے حق اور واقع کے خلاف کسی سے کوئی چیز طلب کریں اور اس کی وجہ سے ان میں نزاع اور کشمکش کی نوبت پہنچ جائے اور آپ کامد مقابل اس مقابلے پر جو آپ کر رہی ہیں راضی نہ ہو اور آپ کو مغلوب کردے تو ممکن ہے کہ آپ اس صورت میں غضب ناک ہوجائیں اور عدم رضایت کا اظہار کردیں تو کیا اس فرض اور صورت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ چونکہ فاطمہ (ع) اس شخص پر غضبناک ہیں لہذا اللہ بھی اس پر غضبناک ہے گر چہ حق اسی مد مقابل کے ساتھ ہے_ ایسا بالکل نہیںہوسکتا اور نہ ہی ایسے برے کام کو اللہ کی طرف نسبت دی جائیگی ہے_

ایک دوسری روایت سے بھی جناب فاطمہ (ع) کی عصمت کوثابت کیا جاسکتا ہے کہ جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے جو بھی اسے غضبناک کرے اس نے مجھے غضبناک کیا(۱) _

یہ حدیث بھی شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہے اور تمام مسلمان اس حدیث کو حتی کہ جناب عمر اور ابوبکر بھی صحیح تسلیم کرتے ہیں_ سابقہ بیان کو جب اس حدیث کے پیرایہ میں دیکھا جاتا ہے تو اس سے بھی حضرت زہرا(ع) کی عصمت پر دلالت ہوجاتی ہے_ کیونکہ پیغمبر(ص) گناہ اور خطا اور خواہشات نفسانی سے معصوم ہیں

____________________

۱) صحیح بخاری، ج ۲ ص ۳۰۲_


آپ اس کام پہ غضبناک ہوتے ہیں جو اللہ تعالی کے نزدیک مبغوض ہوتا ہے اور اس چیز سے راضی ہوتے ہیں کہ جس پر اللہ تعالی راضی ہوتا ہے اس صورت میں کہاجاسکتا ہے کہ فاطمہ (ع) معصوم اور گناہ اور خطا کا احتمال ان کے حق میں جائز نہیں_

ایک اور دلیل جو حضرت زہرا(ع) کی عصمت کو ثابت کرتی ہے، وہ حدیث ہے جو امام صادق (ع) نے نقل فرمائی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا نام زہراء اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ کے وجود میں شر اور برائی کو کوئی راستہ نہیں ہے(۱) _

عورت جناب زہراء (ع) کی نظر میں

علی ابن ابی طالب (ع) فرماتے ہیں کہ میں ایک دن ایک جماعت کے ساتھ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ عورت کی مصلحت کس میں ہے؟ آپ کو کوئی صحیح جواب نہ دے سکا، جب اصحاب چلے گئے اور میں بھی گھر گیا تو میں نے پیغمبر(ص) کے سوال کو جناب فاطمہ (ع) کے سامنے پیش کیا_ جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ میں اس کا جواب جانتی ہوں، عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ اجنبی مرد کو نہ دیکھے اور اسے اجنبی مرد نہ دیکھے_ میں جب جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی کہ آپ کے سوال

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۹_


کے جواب میںجناب فاطمہ (ع) نے یہ فرمایا ہے_ پیغمبر(ص) نے آپ کے اس جواب سے تعجب کیا اور فرمایا کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے(۱) _

اس میں کوئی شک نہیں کہ دین مقدس اسلام نے عورتوں کی ترقی اور پیشرفت کے لئے بلند قدم اٹھائے ہیں اور ان کے حقوق کو پورا کرنے کے لئے ان کے لئے عادلانہ قوانین اور احکام وضع کئے ہیں، اسلام نے عورت کو علم حاصل کرنے کی آزادی دے رکھی ہے اس کے مال اور کام کا محترم قرار دیا ہے، اجتماعی قوانین وضع کرتے وقت عورتوں کے واقعی منافع اورمصالح کی پوری طرح مراعات کی ہے_

لیکن یہ بات قابل بحث ہے کہ آیا عورت کی مصلحت اجتماع اورمعاشرے میں اجنبی مردوں کے ساتھ مخلوط رہنے میں ہے یا عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ بھی مردوں کی طرح عمومی مجالس اورمحافل میں بیگانوں کے ساتھ گھل مل کر پھرتی رہے؟ کیا یہ مطلب واقعاً عورتوں کے فائدے میں ہے کہ وہ زینت کر کے بغیر کسی بند و بار کے مردوں کی مجالس میں شریک ہو اور اپنے آپ کو انظار عمومی میں قرار دے؟ کیا یہ عورتوں کے لئے مصلحت ہے کہ وہ بیگانوں کے لئے آنکھ مچولی کرنے کا موقع فراہم کرنے اور مردوں کے لئے امکانات فراہم کرے کہ وہ اس سے دیدنی لذت اورمفت کی لذت حاصل کرتے رہیں؟ کیا یہ عورتوں کی منفعت میںہے کہ کسی پابندی کو اپنے لئے جائز قرار نہ دیں اور پوری طرح اجنبی مردوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور آزادانہ طور سے ایک دوسرے کو دیکھیں؟ کیا عورتوں کی مصلحت اسی میں ہے کہ وہ گھر سے اس طرح نکلے کہ

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۹۲_


اس کاتعاقب اجنبی لوگوں کی نگاہیں کر رہی ہوں_

یا نہ بلکہ عورتوں کی مصلحت معاشرے میں اس میں ہے کہ اپنے آپ کو مستور کر کے سادہ طریقے سے گھر سے باہر آئیں اور اجنبی مردوں کے لئے زینت ظاہر نہ کریں نہ خود بیگانوں کودیکھیں اور نہ کوئی بیگانہ انہیں دیکھے_

آیا پہلی کیفیت میں تمام عورتوں کی مصلحت ہے اور وہ ان کے منافع کو بہتر طور پرمحفوظ کرسکتی ہے یا دوسری کیفیت میں؟ آیا پہلی کیفیت عورتوں کی روح اور ترقی اور پیشرفت کے بہتر اسباب فراہم کرسکتی ہے یا دوسری کیفیت ؟ پیغمبر اسلام(ص) نے اس مہم اوراجتماع اور معاشرے کے اساسی مسئلہ کواپنے اصحاب کے افکار عمومی کے سامنے پیش کیااور ان کی اس میں رائے طلب کی لیکن اصحاب میں سے کوئی بھی اس کا پسندیدہ جواب نہ دے سکا، جواب اس کی اطلاع حضرت زہراء (ع) کو ئی تو آپ نے اس مشکل موضوع میں اس طرح اپنا نظریہ بیان کیا کہ عورتوں کی معاشرے میں مصلحت اس میں ہے کہ نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھیں اور نہ اجنبی مرد انہیں دیکھیں_ وہ زہراء (ع) جو وحی اور ولایت کے گھر میں تربیت پاچکی تھی اس کا اتنا ٹھوس اور قیمتی جواب دیا اوراجتماعی موضوع میں سے ایک حساس اور مہم موضوع میں اپنے نظریئے اورعقیدے کااظہار کیا کہ جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تعجب کیا اور فرمایا کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کاٹکڑا ہے_

اگر انسان اپنے ناپختہ احساسات کو دور رکھ کر غیر جانبدارانہ اس مسئلے میں سوچے اور اس کے نتائج اور عواقب پر خوب غور اور فکر کرے تو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ جو جواب جناب فاطمہ (ع) نے دیا ہے وہ بہترین دستورالعمل ہوسکتا ہے جو عورتوں کے منافع کا ضامن ہو_ اور اس کے مقام اور رتبے کو


معاشرے میںمحفوظ کردے گا کیونکہ اگر عورتیں گھر سے اس طرح نکلیں اور اجنبیوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھیں کہ مرد ان سے ہر قسم کی تمتعات حاصل کرسکیں اور عورتیں ہر جگہ مردوں کے لئے آنکھ مچولی کے اسباب فراہم کریں تو پھر جوان دیر سے شادی کریں گے اور وہ زندگی اور ازدواج کے زیربار نہیں ہوں گے، ہر روز لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد میں جو بے شوہر ہوں گی اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ علاوہ ازین کہ معاشرے کے لئے مضر ہے اور ماں، باپ کے لئے مشکلات اور محذورات کا موجب ہے خود عام عورتوں کے اجتماع کے لئے بھی موجب ضرر ہوگا، اور اگرعورتیں اپنی خوبصورتی کو تمام نگاہوں کے لئے عام قرار دے دیں اور اجنبیوں میں دلربائی کرتی رہیں تو ایک بہت بڑے گروہ کا دل اپنے ساتھ لئے پھریں گی اور چونکہ مرد محرومیت سے دوچار ہوں گے اوران تک دست رسی اور وصال بغیر قید اور شرط کے حاصل نہ کرسگیں گے قہراً ان میںنفسیاتی بیماریاں اور ضعف اعصاب اورخودکشی اور زندگی سے مایوسی عام ہوجائے گی_

اس کا نتیجہ بلاواسطہ خود عورتوں کی طرف لوٹے گا، یہی عام لطف نگاہ ہے کہ بعض مرد مختلف قسم کے حیلے اور فریب کرتے ہیں اورمعصوم اور سادہ لوح لڑکیوں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان کی عفت و آبرو کے سرمایہ کو برباد کردیتے ہیں اور انہیں فساد اور بدبختی اورتباہی کی وادی میں ڈھکیل دیتے ہیں_

جب شوہردار عورت دیکھے کہ اس کا شوہر دوسری عورتوں کے ساتھ آتا جاتا ہے، اورعمومی مجالس اورمحافل میں ان سے ارتباط رکھتا ہے توغالباً عورت کی غیرت کی حس اسے اکساتی ہے کہ اس میں بدگمانی اور سو ظن پیدا


ہوجائے اور وہ بات بات پراعتراض شروع کردے، بے جہت باصفا اور گرم زندگی کو سرد اور متزلزل بنا کر رکھ دے گی اور نتیجہ،جدائی اور طلاق کی صورت بس ظاہر ہوگا یا اسی ناگوار حالت میں گھر کے سخت قیدخانے میں زندگی گزارتے رہے گی اور قید خانے کی مدت کے خاتمہ کا انتظار کرنے میں زندگی کے دن شمار کرتی رہے گی اورمیاں، بیوی دو سپاہیوں کی طرح ایک دوسرے کی مراقبت میں لگے رہیں گے_

اگر مرد اجنبی عورتوں کو آزاد نہ دیکھ سکتا ہو تو قہراً ان میں ایسی عورتیں دیکھ لے گا جو اس کی بیوی سے خوبصورت اور جاذب نظر ہوں گی اور بسا اوقات زبان کے زخم اورسرزنش سے اپنی بیوی کے لئے ناراحتی کے اسباب فراہم کرے گا اور مختلف اعتراضات اور بہانوں سے باصفا اور گرم زندگی کوجلانے والی جہنم میں تبدیل کردے گا_

جس مرد کوآزاد فکری سے کسب و کار اور اقتصادی فعالیت میںمشغول ہونا چاہیئے،جب آنے جانے میں یا کام کی جگہ نیم عرباں اور آرائشے کی ہوئی عورتوں سے ملے گا تو قہراً غریزہ جنسی سے مغلوب ہوجائے گا اور اپنے دل کو کسی دل رباء کے سپرد کردے گا، ایسا آدمی کبھی آزاد فکری سب کسب و کار میں یا تحصیل علم میں مشغول نہیں ہوسکتا اور اقتصادی فعالیت میںپیچھے رہ جائے گا اس قسم کے ضرر میں خود عورتیں بھی شریک ہوں گی_ اور یہ ضرر ان پر بھی وارد ہوگا_

اگر عورت پردہ نشین ہو تو وہ اپنی قدر اور قیمت کو بہتر مرد کے دل میں جاگزین کرسکتی ہے اور عورتوں کے عمومی منافع کو معاشرے میںحفظ کرسکتی ہے اور اجتماعی کے نفع کے لئے قدم اٹھاسکتی ہے_

اسلام چونکہ عورت کو اجتماع اور معاشرے کا ایک اہم جز و جانتا


ہے اور اس کی رفتار اور سلوک کومعاشرے میں موثر جانتا ہے، لہذا اس سے یہ بڑا وظیفہ طلب کیا گیا ہے کہ وہ پردے کے ذریعے فساد اور انحراف کے عوامل سے جلوگیری کرے اورملت کی ترقی اورعمومی صحت اور بہداشت کو برقرار رکھنے میں مدد کرے_ اس لئے اسلام کی نمونہ اور مثالی خاتون نے جو وحی کے گھر کی تربیت یافتہ تھی، عورتوں کے معاشرے کے متعلق اس قسم کے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ عورتوں کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ اس طرح سے زندگی بسر کریں کہ نہ انہیں اجنبی مرد دیکھ سکیں اور نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھ سکیں_


حصّہ پنجم

جناب فاطمہ (ع) باپ کے بعد


پیغمبر اسلام(ص) نے سنہ ہجری کو تمام مسلمانوں کو حج بجالانے کی دعوت دی اور آپ آخری دفعہ مکہ مشرف ہوئے آپ نے مسلمانوں کو حج کے اعمال اور مراسم بتلائے اور واپسی پر جب آپ غدیر خم پہنچے تو وہاں ٹھہرگئے اور مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لے گئے اور علی ابن ابیطالب (ع) کو اپنا جانشین اور خلیفہ معین فرمایا اس کے بعد مسلمانوں نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی اور اپنے اپنے شہروں کو واپس چلے گئے اور رسول خدا(ص) بھی مدینہ واپس لوٹ آئے، آپ سفر کی مراجعت کے بعد مریض ہوگئے آپ کی حالت دگرگوںہوتی گئی، آپ کے احوال سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ کی وفات کا وقت آگیا ہے_ کبھی کبھار کسی مناسبت سے اپنے اہل بیت کی سفارش فرمایا کرتے تھے، کبھی جنت البقیع کے قبرستان جاتے اورمردوں کے لئے طلب مغفرت کرتے_

جناب فاطمہ (ع) نے حجة الوداع کے بعد خواب دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں قرآن ہے اور اچانک وہ ان کے ہاتھ سے گرا_ اورغائب ہوگیا_ آپ وحشت زدہ جاگ اٹھیں اور اپنے خواب کواپنے والد کے سامنے نقل کیا، جناب رسول خدا(ص)


نے فرمایا،میری آنکھوں کی نور ہیں وہ قرآن ہوں کہ جس کو تم نے خواب میںدیکھا ہے، انہیں دنوں میں نگاہوں سے غائب ہوجاؤں گا(۱) _

آپ پر آہستہ آہستہ بیماری کے آثار ظاہر ہونے لگے_ آپ نے ایک لشکر جناب اسامہ کی سپہ سالاری میں مرتب کیا اورفرمایا کہ تم روم کی طرف روانہ ہوجاؤ، آپ نے چند آدمیوںکے خصوصیت سے نام لئے اورفرمایا کہ یہ لوگ اس جنگ میں ضرور شریک ہوں آپ کی اس سے غرض یہ تھی کہ مدینہ میں کوئی منافق نہ رہے اور خلافت اعلی کا مسئلہ کسی کی مدافعت اور مخالفت کے بغیر حضرت علی (ع) کے حق میں طے ہوجائے_ رسول خدا(ص) کی بیماری میں شدت آگئی اور گھر میں صاحب فراش ہوگئے_ پیغمبر(ص) کی بیماری نے جناب فاطمہ (ع) کو وحشت اور اضطراب میں ڈال دیا، کبھی آپ باپ کے زرد چہرے اور ان کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھتیں اور رودیتیں اور کبھی باپ کی صحت اور سلامتی کے لئے دعا کرتیں اور کہتیں خدایا میرے والد نے ہزاروں رنج اور مشقت سے اسلام کے درخت کا پودا لگایا ہے اور ابھی ثمر آور ہوا ہی ہے اور فتح و نصرت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں_

مجھے امید ہوگئی تھی کہ میرے والد کے واسطے سے دین اسلام غالب ہوجائے گا اور کفر اور بت پرستی، ظلم اور ستم ختم ہوجائیں گے لیکن صد افسوس کے میرے باپ کی حالت اچھی نہیں_ خدایا تجھ سے ان کی شفا اور صحت چاہتی ہوں_

پیغمبر(ص) کی حالت شدیدتر ہوگئی اور بیماری کی شدت سے بیہوش ہوگئے

____________________

۱) ریاحین الشریعة، ج ۱ ص ۲۳۹_


جب ہوش میں آئے اور دیکھا جناب ابوبکر اور عمر اور ایک گروہ کہ جن کو اسامہ کے لشکر میں شریک ہوتا تھا شریک نہیں ہوئے اور مدینہ میں رہ گئے ہیں آپ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اسامہ کے لشکر میں شریک ہوجاؤ؟ ہر ایک نے اپنے جواب میں کوئی عذر اور بہانہ تراشا، لیکن پیغمبر(ص) کو ان کے خطرناک عزائم اور ہدف کا علم ہوچکا تھا اور جانتے تھے کہ یہ حضرات خلافت کے حاصل کرنے کی غرض سے مدینہ میں رہ گئے ہیں_

اس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کاغذ اور دوات لاؤ تا کہ میں وصیت لکھ دوں حاضرین میں سے بعض نے چاہا کہ آپ کے حکم پر عمل کیا جائے لیکن حضرت عمر نے کہا_ کہ آپ پر بیماری کا غلبہ ہے، ہذیان کہہ رہے ہیں لہذا قلم و قرطاس دینے کی ضرورت نہیں ہے(۱) _

جناب زہراء (ع) یہ واقعات دیکھ رہی تھیں آور آپ کا غم اور اندوہ زیادہ ہو رہا تھا اپنے آپ سے کہتی تھیں کہ ابھی سے لوگوں میں اختلاف اور دوروئی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں_ میرے باپ کے کام اور حکم اللہ کی وحی سے سرچشمہ لیتے ہیں اور آپ ملت کے مصالح اور منافع کو مد نظر رکھتے ہیں پس کیوں لوگ آپ کے فرمان سے روگرانی کرنے لگے ہیں، گویا مستقبل بہت خطرناک نظر آرہا ہے گویا لوگوں نے مصمّم ارادہ کرلیا ہے کہ میرے والد کی زحمات کو پائمال کردیں_

تعجب اور تبسم

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حالت سخت ہوگئی آپ نے

____________________

۱) الکامل فی التاریخ، ج ۲ ص ۲۱۷ و صحیح بخاری، ج ۳ ص ۱۲۵۹_


اپنا سر مبارک حضرت علی (ع) کے زانو پر رکھا اور بے ہوش ہوگئے، حضرت زہراء (ع) اپنے باپ کے نازنین چہرے کو دیکھتیں اور رونے لگتیں اور فرماتیں_ آہ، میرے باپ کی برکت سے رحمت کی بارش ہوا کرتی تھی آپ یتیموں کی خبر لینے والے اور بیواؤں کے لئے پناہ گاہ تھے_ آپ کے رونے کی آواز پیغمبر(ص) کے کانوں تک پہنچی آپ نے آنکھیں کھولیں اور نحیف آواز میں فرمایا بیٹی یہ آیت پڑھو_

''و ما محمد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اور قتل انقلبتم علی اعقابکم''(۱)

موت سے گریز نہیں جیسے سابقہ پیغمبر(ص) مرگئے ہیں میں بھی مروں گا کیوں ملت اسلامی میرے ہدف کا پیچھا نہیں کرتی اور اس کے ختم کرنے اور لوٹ جانے کا قصد رکھتی ہے_

اس گفتگو کے سننے سے حضرت زہراء (ع) کے رونے میں شدت پیدا ہوگئی رسول خدا کی حالت اپنی بیٹی کو روتے اور پریشان دیکھ دگرگوں ہوگئی_ آپ نے انہیں تسلی دینا چاہی مگر کیا آپ کو آسانی سے آرام میں لایا جاسکتا تھا؟ اچانک آپ کی فکر میں ایک چیز آئی، جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا میرے پاس آؤ جب جناب فاطمہ (ع) اپنا چہرہ اپنے باپ کے نزدیک لے گئیں تو آپ نے جناب فاطمہ (ع) کے کان میں کچھ کہا_ حاضرین نے دیکھا کہ جناب فاطمہ (ع) کا چہرہ روشن ہوگیا اور آپ مسکرانے لگیں، اس بے جا ہنسی اور تبسم پر حاضرین نے تعجب کیا تبسم کی علت آپ سے دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ جب تک میرے باپ

____________________

۱) سورہ آل عمران، آیت ص ۱۴۴_


زندہ ہیں میں یہ راز فاش نہیں کروں گی آپ نے آن جناب کے فوت ہونے کے بعد اس راز سے پردہ اٹھایا اور فرمایا کہ میرے باپ نے میرے کان میں یہ فرمایا تھا کہ فاطمہ (ع) تمہاری موت نزدیک ہے تو پہلی فرد ہوگی جو مجھ سے ملحق ہوگی(۱) _

انس نے کہا ہے کہ اس زمانے میں جب پیغمبر(ص) بیمار تھے جناب فاطمہ (ع) نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کا ہاتھ پکڑا اور باپ کے گھر آئیں اپنے آپ کو پیغمبر(ص) کے جسم مبارک پر گرادیا اور پیغمبر(ص) کے سینے سے لگ کر رونے لگیں_ پیغمبر(ص) نے فرمایا، فاطمہ (ع) روو مت، میری موت پر منھ پر طمانچے نہ مارتا، بالوں کو پریشان نہ کرنا، میرے لئے رونے اور نوحہ سرائی کی مجلس منعقد کرنا اس کے بعد پیغمبر خدا(ص) کے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا اے میرے خدا میں اپنے اہلبیت کو تیرے اور مومنین کے سپرد کرتا ہوں(۲) _

راز کی پرستش

امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہے کہ پیغمبر(ص) نے اپنی زندگی کی آخری رات حضرات علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کی دعوت کی اور گھر کا دروازہ بند کردیا اور انہیں کے ساتھ تنہائی میں رہے جناب فاطمہ (ع) کو اپنے پاس بلایا اور کافی وقت تک آپ کے کان میں کچھ فرماتے رہے چونکہ آپ کی

____________________

۱) الکامل فی التاریخ، ج ۲ ص ۲۱۹ و بحار الانوار، ج ۲۲ ص ۴۷۰_ ارشاد مفید، ص ۸۸ طبقات ابن سعد، ج ۲ قسمت دوم ص ۳۹، ۴۰_ صحیح مسلم، ج ۴ ص ۱۰۹۵_

۲_ بحار الانوار، ص ۲۲ ص ۴۶۰_


گفتگو طویل ہوگئی تھی اس لئے حضرت علی (ع) اور حضرت حسن (ع) اور حضرت حسین (ع) وہاں سے چلے آئے تھے اور دروازے پر آکھڑے ہوئے تھے اور لوگ دروازے کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے_ پیغمبر(ص) کی ازواج حضرت علی (ع) کو دیکھ رہی تھیں_ جناب عائشےہ نے حضرت علی (ع) سے کہا کہ کیوں پیغمبر(ص) نے آپ کو اس وقت وہاں سے باہر نکال دیا ہے اور فاطمہ (ع) کے ساتھ تنہائی میں ہیں آپ نے جواب دیا میں جانتا ہوں کس غرض کے لئے اپنی بیٹی سے خلوت فرمائی ہے اور کون سے راز انہیں بتلا رہے ہیں؟ تمہارے والد اور ان کے ساتھیوں کے کاموں کے متعلق گفتگو فرما رہے ہیں_ جناب عائشےہ ساکت ہوگئیں_

حضرت علی (ع) نے فرمایا بہت زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ جناب فاطمہ (ع) نے مجھے بلایا جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ پیغمبر(ص) کی حالت خطرناک ہے تو میں اپنے آنسؤں پر قابو نہ رکھا سکا_ جناب پیغمبر(ص) نے فرمایا یا علی (ع) کیوں روتے ہو فراق اور جدائی کا وقت آپہنچا ہے تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں اور پروردگار کی طرف جا رہا ہوں، میرا غم اور اندوہ تمہارے اور زہراء (ع) کے واسطے ہے اس لئے کہ لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہارے حقوق کو پائمال کریں اور تم پر ظلم ڈھائیں، تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں خدا میری امانت قبول فرمائے گا_

یا علی (ع) چند ایک اسرار میں نے فاطمہ (ع) کو بتلائے ہیں وہ تمہیں بتلائیں گی میرے دستورات پر عمل کرنا اور یہ جان لو کہ فاطمہ (ع) سچی ہے اس کے بعد پیغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو بغل میں لیا آپ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا، بیٹی فاطمہ (ع) تیرا باپ قربان جائے اس وقت زہراء (ع) کے رونے کی صدا بلند ہوگئی_ پیغمبر (ص) نے فرمایا خدا ظالموں سے تمہارا انتقام لے گا_ وای ہو ظالموں پر_ اس کے بعد آپ نے رونا شروع کردیا_


حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ پیغمبر(ص) کے آنسو بارش کی طرح جاری تھے آپ کی ریش مبارک تر ہوگئی اور آپ اس حالت میں فاطمہ (ع) سے جدا نہ ہوئے تھے، اور آپ نے سر مبارک میرے سینے پر رکھے ہوئے تھے اور حسن (ع) اور حسین (ع) آپ کے پاؤں کا بوسہ لے رہے تھے اور چیخ چیخ کر رو رہے تھے، میں ملائکہ کے رونے کی آوازیں سنی رہا تھا_ یقینا اس قسم کے اہم موقع پر جناب جبرئیل نے بھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑا ہوگا_ جناب فاطمہ (ع) اس طرح رو رہی تھیں کہ زمین اور آسمان آپ کے لئے گریہ کر رہے تھے پیغمبر(ص) نے اس کے بعد فرمایا بیٹی فاطمہ (ع) ، خدا تمہارا میری جگہ خلیفہ ہے اور وہ بہترین خلیفہ ہے_ عزیزم مت رو کیونکہ تمہارے رونے سے عرش خدا اور ملائکہ اور زمین اور آسمان گریا کناں ہیں_ خدا کی قسم ، جب تک میں بہشت میں داخل نہ ہوں گا کوئی بھی بہشت میں داخل نہ ہوگا اور تم پہلی شخصیت ہوگی جو میرے بعد بہترین لباس کے ساتھ، بہشت میں داخل ہوگی اللہ تعالی کی تکریم تمہیں مبارک ہو، خدا کی قسم تم بہشتی عورتوں میں سے بزرگ ہو_ خدا کی قسم دوزخ اس طرح فریاد کرے گی کہ جس کی آواز سے ملائکہ اور انبیاء آواز دیں گے، پروردگار کی طرف سے خطاب ہوگا کہ چپ ہوجاؤ، جب تک فاطمہ (ع) جناب محمد(ص) کی دختر بہشت کی طرف جارہی ہے، بخدا یہ اس حالت میں ہوگا کہ حسن (ع) تیرے دائیں جانب چل رہے ہوں گے اور حسین (ع) بائیں جانب اور تم بہشت میں داخل ہوگی، بہشت کے اوپر والے طبقے سے محشر کا نظارہ کروگی، جب کہ محمد(ص) کا پرچم حضرت علی (ع) کے ہاتھ میں ہوگا_ خدا کی قسم اس وقت اللہ تعالی تمہارے حق کا دشمن سے مطالبہ کرے گا اس وقت جن لوگوں نے تمہارا حق غصب کیا ہوگا اور تمہاری دوستی کو چھوڑ دیا ہوگا_ پشیمان ہوں گے میں جتنا بھی کہتا رہوں گا خدایا میری امت


کی داد کو پہنچو، میرے جواب میں کہا جائے گا تمہارے بعد انہوں نے دستورات اور قوانین کو تبدیل کیا ہے اس لئے وہ دوزخ کے مستحق ٹھہرے ہیں(۱) _

فاطمہ (ع) باپ کے بعد

اس حالت میں کہ پیغمبر(ص) کا سر مبارک حضرت علی (ع) کے زانو پر تھا اور جناب فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسین (ع) ، پیغمبر(ص) کے نازنین چہرے کو دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے کہ آپ کی حق بین آنکھ بند ہوگئی اور حق گو زبان خاموش ہوگئی اور آپ کی روح عالم ابدی کی طرف پرواز کرگئی، پیغمبر(ص) کی اچانک اور غیرمنتظرہ موت سے جہان کا غم اور اندوہ حضرت فاطمہ (ع) پر آپڑا وہ فاطمہ (ع) کہ جس نے اپنی عمر غم اور غصّہ اور گرفتاری میں کاٹی تھی صرف ایک چیز سے دل خوش تھیں اور وہ تھا ان کے والد کا وجود مبارک_ اس جانگداز حادثہ کے پیش آنے سے آپ کی امیدوں اور آرزؤں کا محل یکدم زمیں پر آگرا_ اسی حالت میں آپ باپ کی کمرشکن موت میں گریہ و زاری اور نوحہ سرائی کر رہی تھیں، اور حضرت علی (ع) آپ کے دفن کے مقدمات کفن اور دفن میں مشغول تھے اچانک یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں اجتماع کیا ہے تا کہ پیغمبر(ص) کے جانشین کو مقرر کریں زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ دوسری خبر آملی کہ انہوں نے جناب ابوبکر کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین اور خلیفہ منتخب کرلیا ہے_

گریہ و بکا اور غم و غصہ کے اس بحرانی وقت میں اتنی بڑی خبر نے حضرت فاطمہ (ع)

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۲۲ ص ۴۹۰_


اور حضرت علی (ع) کے مغز کو تکان دی اور ان کے تھکے ماندے اعصاب کو دوبارہ کوٹ کر رکھ دیا_ سبحان اللہ _ کیا میرے باپ نے حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر نہیں کیا؟ کیا دعوت ذوالعشیرہ سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک کئی مرتبہ حضرت علی (ع) کی خدمت کی سفارش نہیں کرتے رہے؟ کیا چند مہینہ پہلے ایک بہت بڑے اجتماع میں غدیر خم کے مقام پر انہیں خلیفہ معین نہیں فرمایا تھا؟ کیا میرے شوہر علی (ع) کے جہاد اور فداکاری کا انکار کیا جاسکتا ہے؟ کیا علی (ع) کی علمی منزلت کا کوئی شخص انکار کرسکتا ہے؟ مگر میرے باپ نے علی (ع) کو بچپن سے اپنی تربیت اور تعلیم میں نہیں رکھا تھا؟ خدایا اسلام کا انجام کیا ہوگا؟ اسلام کو ایسے رہبر کی ضرورت ہے جو مقام عصمت پر فائز ہو اور لغزش اور انحراف سے دوچار نہ ہو_ آہ_ مسلمان کس خطرناک راستے پر چل پڑے ہیں؟

اے میرے خدا میرے باپ نے اسلام کے لئے کتنی زحمت برداشت کی ہے، میرے شوہر نے کتنی فداکاری اور قربانی دی ہے؟ میدان جنگ میں سخت ترین اور خطرناک ترین حالت میں اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالا؟ میں ان کی زخمی بدن اور خون آلودہ لباس سے باخبر ہوں_ خدایا ہم نے کتنی مصیبتیں اور زحمات دیکھی ہیں_ فاقہ کاٹے ہیں وطن سے بے وطن ہوئے_ یہ سب کچھ توحید اور خداپرستی کے لئے تھا، مظلوموں کے دفاع کے لئے تھا اور ظالموں کے ظلم کا مبارزہ اور مقابلہ تھا_ مگر ان مسلمانوں کو علم نہیں کہ اگر علی (ع) مسلمانوں کا خلیفہ ہو تو وہ اپنی عصمت اور علوم کے مقام سے جو انہیں میرے باپ کے ورثہ میں ملے ہیں مسلمانوں کے اجتماع اور معاشرے کی بہترین طریقے سے رہبری کرے گا اور میرے باپ کے مقدس ہدف اور غرض کو آگے بڑھائے گا اور جو اسلام کو سعادت اور کمال کی


طرف لے جائے گا_

جی ہاں یہ اور اس قسم کے دوسرے افکار جناب زہراء (ع) کے ذہن اور اعصاب پر فشار وارد کرتے تھے اور اس بہادر اور شجاع بی بی کے صبر اور تحمل کی طاقت کو ختم کردیا تھا_

حضرت زہراء (ع) کے تین مبارزے

اگر ہم سقیفہ کی طولانی اور وسیع کہانی اور جناب ابوبکر کے انتخاب کے بارے میں بحث شروع کردیں تو ہم اصل مطلب سے ہٹ جائیں گے اور بات بہت طویل ہوجائے گی، لیکن مختصر رودادیوں ہے کہ جب حضرت علی (ع) اور فاطمہ (ع) جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دفن اور کفن سے فارغ ہوگئے تو وہ ایک تمام شدہ کام کے روبرو ہوئے انہوں نے دیکھا کہ جناب ابوبکر خلافت کے لئے منصوب کئے جاچکے ہیں اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے ان کی بیعت بھی کرلی ہے_

اس حالت میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے ان طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کرنا چاہیئے تھا_

پہلا: یہ کہ حضرت علی (ع) ایک سخت قدم اٹھائیں اور رسماً جناب ابوبکر کی حکومت کے خلاف اقدام کریں اور لوگوں کو ان کے خلاف بھڑ کائیں اور برانگیختہ کریں_

دوسرا: جب وہ دیکھ چکے کہ کام ختم ہوچکا ہے تو اپنے شخصی مفاد اور مستقبل کی زندگی کے لئے جناب ابوبکر کی بیعت کرلیں اس صورت میں آپ کے شخصی منافع


بھی محفوظ ہوجائیں گے اور حکومت کے نزدیک قابل احترام میں قرار پائیں گے، لیکن دونوں طریقوں میں سے کوئی بھی طریقہ حضرت علی کے لئے ممکن نہ تھا کیونکہ اگر چاہتے کہ کھلم کھلا حکومت سے ٹکر لیں اور میدان مبارزہ میں وارد ہوجائیں تو ان کا یہ اقدام اسلام کے لئے ضرر رسائل ہوتا اور اسلام کے وہ دشمن جو کمین گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے موقع سے فائدہ اٹھاتے اور ممکن تھا کہ ''اسلام جو ابھی جوان ہوا ہے'' کلی طور پر ختم کردیا جاتا اسی لئے حضرت علی (ع) نے اسلام کے اعلی اور ارفع منافع کو ترجیح دی اور سخت کاروائی کرنے سے گریز گیا_

آپ کے دوسرے طریقے پر عمل کرنے میں بھی مصلحت نہ تھی کیونکہ جانتے تھے کہ اگر ابتداء ہی سے جناب ابوبکر کی بیعت کرلیں تو اس کی وجہ سے لوگوں اور جناب ابوبکر کی کاروائی جو انجام پاچکی تھی اس کا تائید ہوجائے گی اور پیغمبر(ص) کی خلافت اور امامت کا مسئلہ اپنے حقیقی محور سے منحرف ہو جائے اور پیغمبر(ص) اور ان کی اپنی تمام تر زحمات اور فداکاریاں بالکل ختم ہوکر رہ جائیں گی_ اس کے علاوہ جو کام بھی جناب ابوبکر اور عمر اپنے دور خلافت میں انجام دیں گے وہ پیغمبر(ص) اور دین کے حساب میں شمار کئے جائیں گے حالانکہ وہ دونوں معصوم نہیں ہیں اور ان سے خلاف شرع اعمال کا صادر ہونا بعید نہیں_

تیسرا: جب آپ نے پہلے اور دوسرے طریقے میں مصلحت نہ دیکھی تو سوائے ایک معتدل روش کے انتخاب کے اور کوئی چارہ کار نہ تھا_ حضرت علی (ع) اور فاطمہ (ع) نے ارادہ کیا کہ ایک وسیع اور عاقلانہ مبارزہ اور اقدام کیا جائے تا کہ اسلام کو ختم ہونے اور متغیر ہونے سے نجات دلاسکیں گرچہ اس عاقلانہ اقدام کا نتیجہ مستقبل بعید میں ہی ظاہر ہوگا آپ کے اس اقدام اور مبارزے کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے_


پہلا مرحلہ:

حضرت علی (ع) اور جناب فاطمہ (ع) امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کا ہاتھ پکڑتے اور رات کے وقت مدینہ کے بڑے لوگوں کے گھر جاتے اور انہیں اپنی مدد کے لئے دعوت دیتے_ پیغمبر اکرم(ص) کے وصایا اور سفارشات کا تذکرہ کرتے(۱) _

جناب فاطمہ (ع) فرماتیں، لوگو کیا میرے باپ نے حضرت علی (ع) کو خلافت کے لئے معین نہیں فرمایا؟ کیا ان کی فداکاریوں کو فراموش کرگئے ہو؟ اگر میرے والد کے دستورات پر عمل کرو اور علی (ع) کو رہبری کے لئے معین کردو تو تم میرے والد کے ہدف پر عمل کروگے اور وہ تمہیں اچھی طرح ہدایت کریں گے_ لوگو مگر میرے باپ نے نہیں فرمایا تھا کہ میں تم سے رخصت ہو رہا ہوں لیکن دو چیزیں تمہارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں اگر ان سے تمسک رکھوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک اللہ کی کتاب دوسرے میرے اہلبیت (ع) _ لوگو کیا یہ مناسب ہے کہ ہمیں تنہا چھوڑ دو اور ہماری مدد سے ہاتھ کھینچ لو حضرت علی (ع) اور فاطمہ (ع) مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اپنی مدد کے لئے دعوت دیتے تھے کہ شاید وہ اپنے کرتوت پر پشیمان ہوجائیں اور خلافت کو اس کے اصلی مرکز طرف لوٹا دیں_

اس رویے سے بہت تھوڑا گروہ اس تبلیغ سے متاثر ہوا اور مدد کرنے کا وعدہ کیا، لیکن ان تھوڑے سے آدمیوں نے بھی اپنے وعدہ پر عمل نہیں کیا

____________________

۱) الامامہ والسیاستہ، ج ۱ ص ۱۲ _


اور انہوں نے حکومت کی مخالفت کی جرات نہیں کی_

حضرت علی (ع) اور فاطمہ (ع) بغیر شور و غل اور تظاہر کے جناب ابوبکر_ سے اپنی مخالفت ظاہر کرتے تھے اور انہوں نے ملّت اسلامی کو ایک حد تک بیدار بھی کیا اور اسی رویے سے مسلمانوں کا ایک گروہ باطنی طور سے ان کا ہم عقیدہ ہوگیا_ لیکن صرف یہی نتیجہ معتدل اقدام سے برآمد ہوا اور اس سے زیادہ کوئی اور نتیجہ نہ نکل سکا_

دوسرا مرحلہ:

حضرت علی (ع) نے مصمم ارادہ کرلیا کہ وہ جناب ابوبکر کی بیعت نہیں کریں گے تا کہ اس رویہ سے جناب ابوبکر کی انتخابی حکومت سے اپنی مخالفت ظاہر کرسکیں اور عملی طور سے تمام جہاں کو سمجھا دیں کہ علی (ع) ابن ابیطالب اور ان کا خاندان جو پیغمبر اسلام کے نزدیکی ہیں جناب ابوبکر کی خلافت سے ناراض ہیں تو معلوم ہوجائے گا کہ اس خلافت کی بنیاد اسلام کے مذاق کے خلاف ہے، حضرت زہراء (ع) نے بھی حضرت علی کے اس نظریئےی تائید کی اور ارادہ کرلیا کہ احتمالی خطرات اور حوادث کے ظاہر ہونے میں اپنے شوہر کی حتمی مدد کریں گی اور عملی لحاظ سے جہان کو سمجھائیں گی کہ میں پیغمبر اسلام(ص) کی دختر جناب ابوبکر کی خلافت کے موافق نہیں ہوں، لہذا حضرت علی (ع) اس غرض کی تکمیل کے لئے گھر میں گوشہ نشین ہوگئے اور قرآن مجید کے جمع کرنے میں مشغول ہوگئے اور یہ ایک قسم کا منفی مبارزہ تھا جو آپ نے شروع کیا تھا_

چند دن اسی حالت میں گزر گئے، ایک دن جناب عمر نے جناب ابوبکر سے اظہار کیا کہ تم لوگوں نے سوائے علی (ع) اور ان کے رشتہ داروں کے تمہاری


بیعت کرلی ہے، لیکن تمہاری حکومت کا استحکام بغیر علی (ع) کی بیعت کے ممکن نہیں ہے، علی (ع) کو حاضر کیا جائے اور انہیں بیعت پر مجبور کیا جائے، حضرات ابوبکر نے جناب عمر کی اس رائے کو پسند کیا اور قنفذ سے کہا کہ علی (ع) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول (ص) کے خلیفہ چاہتے ہیں کہ تم بیعت کے لئے مسجد میں حاضر ہوجاؤ_

قنفذ کئی بار حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور گئے لیکن حضرت علی (ع) نے جناب ابوبکر کے پاس آنے سے انکار کردیا_ جناب عمر خشمناک ہوئے اور خالد بن ولید اور قنفذ اور ایک گروہ کے ساتھ حضرت زہراء (ع) کے گھر کی طرف روانہ ہوئے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا یا علی (ع) دروازہ کھولو_ فاطمہ (ع) سر پر پٹی باندھے اور بیماری کی حالت میں دروازے کے پیچھے آئیں اور فرمایا_ اے عمر ہم سے تمہیں کیا کام ہے؟ تم ہمیں اپنی حالت پر کیوں نہیں رہنے دیتے؟ جناب عمر نے زور سے آواز دی کہ دروازہ کھولو ورنہ گھر میں آگ لگا دوں گا(۱) _

جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا اے عمر خدا سے نہیں ڈرتے، میرے گھر میں داخل ہونا چاہتے ہو؟ آپ کی گفتگو سے عمر اپنے ارادے سے منحرف نہ ہوئے، جب جناب عمر نے دیکھا کہ دروازہ نہیں کھولتے تو حکم دیا کہ لکڑیاں لے آؤتا کہ میں گھر کو آگ لگادوں(۲) _

دروازہ کھل گیا جناب عمر نے گھر کے اندر داخل ہونا چاہا، حضرت زہراء (ع)

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، الحدید، ج ۲ ص ۵۶ اور، ج ۶ ص ۴۸_

۲) اثبات الوصیتہ، ص ۱۱۰_ بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۷_ الامامہ السیاسہ، ج ۱ ص ۱۲_


نے جب دروازہ کھلا دیکھا اور خطرے کو نزدیک پایا تو مردانہ وار جناب عمر کے سامنے آکر مانع ہوئیں(۱) _

____________________

۱) سنی شیعہ تاریخ اور مدارک اس پر متفق ہیں کہ جناب ابوبکر کے سپاہیوں نے حضرت زہراء (ع) کے گھر پر حملہ کردیا اور جناب عمر نے لکڑیاں طلب کی اور گھرواروں کو گھر جلادینے کی دھمکی دی بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جناب عمر سے کہا گیا کہ اس گھر میں فاطمہ (ع) موجود ہیں آپ نے جواب دیا کہ اگر بیعت کے لئے حاضر نہ ہوں گے تو میں اس گھر کو آگ لگادوں گا گرچہ اس میں فاطمہ (ع) ہی موجود ہوں_ جیسے کہ یہ مطلب ابوالفداء ابن ابی الحدید ابن قیتبہ نے امامہ و السیاسہ میں، انساب الاشرف یعقوبی اور دوسروں نے گھر پر حملہ کرنے اور جلانے کی دھمکی کو تحریر کیا ہے، خود حضرت ابوبکر نے اپنی موت کے وقت حضرت زہراء (ع) گے گھر پر حملے پر ندامت کا اظہار کیا ہے_

چنانچہ ابن ابی الحدید جلد ۲ ص ۴۶ پر اور ج ۱۲ ص ۱۹۴ پر لکھتے ہیں کہ جس وقت جناب زینب پیغمبر کی(۱) لڑکی مکہ سے مدینہ آرہی تھیں تو راستے میں دشمنوں نے اس پر حملہ کردیا اور حصار بن الود نے آک کے کجا دے پر حملہ کردیا اور نیزے سے آپ کو تحدید کردیا اور حصار بن الود نے آپ کے کجا دے پر حملہ کردیا اور نیزے سے آپ کو تحدید کی اس وجہ سے جناب زینب کا بچہ سقط ہوگیا، رسول اللہ(ص) اس مطلب سے اس قدر ناراحت ہوئے کہ آپ نے فتح مکہ کے دن ہبار کے خون کو مباح قرار دے دیا_ اس کے بعد ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ میں نے یہ واقعہ نقیب ابی جعفر کے سامنے پڑھا تو اس نے کہ کہ جب رسول خدا(ص) نے ہبار کے خون مباح کردیا تھا تو معلوم

۱) ضعیف روایات کی بناء پر مولّف نے حاشیہ لگایا ہے ورنہ رسول (ص) کی بیٹی فقط جناب فاطمہ (ع) ہیں کے علاوہ کوئی بیٹی تاریخ سے اگر ثابت ہے تو ضعیف روایات کی رو ہے_


اور یہ آواز بلند گریہ و بکا اور شیون کرنا شروع کردیا تا کہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور حضرت علی (ع) کا دفاع کریں_ زہراء (ع) کے استغاثے اور گریہ و بکا نے صرف ان لوگوں پر اثر نہیں کیا بلکہ انہوں نے تلوار کا دستہ _ آپ کے پہلو پر مارا اور تازیانے سے آپ کے بازو کو بھی سیاہ کردیا تا کہ آپ اپنا ہاتھ علی (ع) کے ہاتھ سے م ہٹالیں(۱) _

آخر الامر حضرت علی (ع) کو گرفتار کرلیا گیا اور آپ کو مسجد کی طرف لے گئے جناب زہراء (ع) علی (ع) کی جان کو خطرے میںدیکھ رہی تھیں، مردانہ اور اٹھیں اور حضرت علی (ع) کے دامن کو مضبوطی سے پکڑلیا اور کہا کہ میں اپنے شوہر کو نہ جانے دوں گی _ قنفذ نے دیکھا کہ زہرا (ع) اپنے ہاتھ سے علی (ع) کو نہیں چھوڑتیں تو اس نے اتنے تازیانے آپ کے ہاتھ پر مارے کہ آپ کا بازو ورم کرگیا(۲) _

حضرت زہرا (ع) سلام اللہ علیہا اس جمیعت میں دیوار اور دروازے کے درمیان ہوگئیں اور آپ پر دروازے کے ذریعہ اتنا زور پڑا کہ آپ کے پہلو کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ بچہ جو آپ کے شکم مبارک

ہوتا ہے کہ رسول خدا(ص) زندہ ہوتے تو اس شخص کے خون کو جس نے فاطمہ (ع) کو تحدید کی تھی کہ جس سے فاطمہ (ع) کا بچہ ساقط ہوگیا تھا مباح کردیتے_ اہلسنت کی کتابیں تہدید کے بعد کے واقعات کے بیان کرنے میں ساکت ہیں، لیکن شیعوں کی تواریخ اور احادیث نے بیان کیا ہے کہ بالاخر آپ کے گھر کے دروازے کو آگ لگادی گئی اور پیغمبر(ص) کی دختر کو اتنا زد و کوب کیا گیا کہ بچہ ساکت ہوگیا

''مولف''

____________________

۱) بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۹۷_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۸_


میں تھا ساقط ہوگیا(۱) _

حضرت علی (ع) کو پکڑا اور مسجد کی طرف لے گئے_ جب جناب فاطمہ (ع) سنبھلیں تو دیکھا کہ علی (ع) کو مسجد لے گئے ہیں فوراً اپنی جگہ سے ا ٹھیں چونکہ حضرت علی (ع) کی جان کو خطرے میں دیکھ رہی تھیں اور ان کا دفاع کرنا چاہتی تھیں لہذا نحیف جسم پہلو شکستہ کے باوجود گھر سے باہر نکلیں اور بنی ہاشم کی مستورات کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوگئیں دیکھا کہ علی (ع) کو پکڑے ہوئے ہیں آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا میرے چچازاد سے ہاتھ اٹھالو ور خدا کی قسم اپنے سر کے بال پریشان کردوں گی اور پیغمبر اسلام(ص) کا پیراہن سر پر رکھ کر اللہ تعالی کی درگاہ میں نالہ کروں گی اور تم پر نفرین اور بدعا کروں گی_ اس کے بعد جناب ابوبکر کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا کیا تم نے میرے شوہر کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور میرے بچوں کو یتیم کرنا چاہتے ہو اگر تم نے انہیں نہ چھوڑا تو اپنے بال پریشان کردوں گی اور پیغمبر(ص) کی قبر پر اللہ کی درگاہ میں استغاثہ کروں گی یہ کہا اور جناب حسن (ع) اور جناب حسین (ع) کا ہاتھ پکڑا اور رسول خدا(ص) کی قبر کی طرف روانہ ہوگئیں آپ نے ارادہ کرلیا تھا کہ اس جمعیت پر نفرین کریں اور اپنے دل ہلادینے والے گریہ سے حکومت کو الٹ کر رکھ دیں_

حضرت علی (ع) نے دیکھا کہ وضع بہت خطرناک ہے اور کسی صورت میں ممکن نہیں کہ حضرت زہرا (ع) کو اپنے ارادے سے روکا جائے تو آپ نے سلمان فارسی سے فرمایا کہ پیغمبر(ص) کی دختر کے پاس جاؤ اور انہیں بددعا کرنے سے منع کردو_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۸_


جناب سلمان جناب زہرا (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے پیغمبر(ص) کی دختر آپ کے والد دنیا کے لئے رحمت تھے آپ ان پر نفرین نہ کیجئے_

جناب زہرا (ع) نے فرمایا، اے سلمان مجھے چھوڑ دو میں ان متجاوزین سے دادخواہی کروں_ سلمان نے عرض کیا کہ مجھے حضرت علی (ع) نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ اپنے گھر لوٹ جائیں، جب حضرت زہرا (ع) نے حضرت علی (ع) کا حکم دریافت کیا تو آپ نے کہا جب انہوں نے حکم دیا ہے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتی ہوں اور صبر کا آغاز کروں گی_ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت علی (ع) کا ہاتھ پکڑ اور گھر لوٹ آئیں(۱) _

مختصر مبارزہ

حضرت زہرا (ع) کے زمانہ جہاد اور مبارزہ کی مدت گرچہ تھوڑی اور آپ کی حیات کا زمانہ بہت ہی مختصر تھا، لیکن آپ کی حیات بعض جہات سے بہت اہم اور قابل توجہ تھی_

پہلے: جب حضرت زہرا (ع) نے دیکھا کہ حکومت کے حامیوں نے حضرت علی (ع) کو گرفتار کرنے کے لئے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا ہے تو آپ عام عورتوں کی روش سے ہٹ کر جو معمولاً ایسے مواقع میں کنارہ گیری کرلیتی ہیں گھر کے دروازے کے پیچھے آگئیں اور استقامت کا مظاہرہ کیا_

دوسرے: جب دروازہ کھول لیا گیا تب بھی جناب فاطمہ (ع) وہاں سے نہ ہٹیں

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۴۷ و روضہ کافی، ص ۱۹۹_


بلکہ اپنے آپ کو میدان کارزار میں بر قرار رکھا اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئیں اتنی مضبوطی سے کھڑی رہیں کہ تلوار کے نیام سے آپ کے پہلو کو مارا گیا اور تازیانے سے آپ کے بازو سیاہ کردیئےئے_

تیسرے: جب علی (ع) گرفتار کرلئے گئے اور چاہتے تھے کہ آپ کو وہاں سے لے جائیں تب بھی آپ میدان میں آگئیں اور علی (ع) کے دامن کو پکڑلیا اور وہاں سے لے جانے میں مانع ہوئیں اور جب تک آپ کا بازو تازیانے سے سیاہ نہ کردیا گیا آپ نے اپنے ہاتھ سے دامن نہ چھوڑا_

چوتھے: جناب فاطمہ (ع) نے اپنا آخری مورچہ گھر کو بنایا اور گھر میں آکر علی (ع) کو باہر لے جانے سے ممانعت کی، اس مورچہ میں اتنی پائیداری سے کام لیا کہ دروازے اور دیوار کے درمیان آپ کا پہلو ٹوٹ گیا اور بچہ ساقط ہوگیا_

اس مرحلہ کے بعد آپ نے سوچا کہ چونکہ میرا یہ مبارزہ گھر کے اندر واقع ہوا ہے شاید اس کی خبر باہر نہ ہوئی ہو لہذا ضروری ہوگیا ہے کہ مجمع عام گریہ و بکا اور آہ و زاری شروع کردی اور جب تمام طریقوں سے نا امید ہوگئیں تو مصمم ارادہ کرلیا کہ ان لوگوں پر نفرین اور بد دعا کریں، لیکن حضرت علی (ع) کے پیغام پہنچنے پر ہی آپ کے حکم کی اطاعت کی اور واپس گھر لوٹ آئیں_

جی ہاں حضر ت زہرا (ع) نے مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ آخری لحظہ اور قدرت تک علی (ع) سے دفاع کرتی رہوں گی اور یہ سوچا تھا کہ جب میدان مبارزہ میں وارد ہوگئی ہوں تو مجھے اس سے کامیاب اور فتحیاب ہوکر نکلنا ہوگا اور حضرت علی (ع) کو بیعت کے لئے لے جانے میں ممانعت کرنی ہوگی، اس طرح عمل کر کے


اپنے شوہر کے نظریئے اور عمل اور رفتار کی تائید کروں گی اور جناب ابوبکر کی خلافت سے اپنی ناراضگی کا اظہار کروں گی اور اگر مجھے مارا پیٹا گیا تب بھی شکستہ پہلو اور سیاہ شدہ بازو اور ساقط شدہ بچے کے باوجود جناب ابوبکر کی خلافت کو بدنام اور رسوا کردوں ی اور اپنے عمل سے جہان کو سمجھاؤں گی کہ حق کی حکومت سے روگردانی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ اپنی حکومت کو دوام دینے کے لئے پیغمبر (ص) کی دختر کا پہلو توڑنے اور رسول خدا(ص) کے فرزند کو ماں کے پیٹ میں شہید کرنے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں اور ابھی سے تمام عالم کے مسلمانوں کی بتلا دینا چاہتی ہوں کہ بیداری اور ہوش میں آجاؤ کہ انتخابی حکومت کا ایک زندہ اور واضح فاسد نمونہ یہ ہو رہا ہے_

البتہ جناب فاطمہ (ع) زہراء (ع) نبوت اور ولایت کے مکتب کی تربیت شدہ تھیں، فداکاری اور شجاعت کا درس ان دو گھروں میں پڑھا تھا اپنے پہلو کے شکستہ ہونے اور مار پیٹ کھانے سے نہ ڈریں اور اپنے ہدف کے دفاع کے معاملے میں کسی بھی طاقت کے استعمال کی پرواہ نہ کی_

تیسرا مرحلہ فدک(۱)

جب سے جناب ابوبکر نے مسلمانوں کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیا اور تخت خلافت پر بیٹھے اسی وقت سے ارادہ کرلیا تھا کہ فدک کو جناب فاطمہ (ع) سے واپس لے لوں، فدک ایک علاقہ

____________________

۱) فدک کا موضوع اور اس میں حضرت فاطمہ (ع) کا ادعا مفصل اور عمیق اس کتاب کے آخر میں بیان کیا گیا ہے_


ہے جو مدینے سے چند فرسخ پر واقع ہے، اس میں کئی ایک باغ اور بستان ہیں اور علاقہ قدیم زمانے میں بہت زیادہ آباد تھا اور یہودیوں کے ہاتھ میں تھا، جب اس علاقے کے مالکوں نے اسلام کی طاقت اور پیشرفت کو جنگ خیبر میں مشاہدہ کیا تو ایک آدمی کو رسول خدا(ص) کی خدمت میں روانہ کیا اور آپ سے صلح کی پیش کش کی پیغمبر اسلام(ص) نے ان کی صلح کو قبول کرلیا اور بغیر لڑائی کے صلح کا عہدنامہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اس قرار داد کی روسے فدک آدھی زمین جناب رسول خدا(ص) کے اختیار میں دے دی گئی اور یہ خالص رسول(ص) کا مال ہوگیا(۱) _

کیونکہ اسلامی قانون کی رو سے جو زمین بغیر جنگ کے حاصل اور فتح ہو وہ خالص رسول خدا(ص) کی ہوا کرتی ہے اور باقی مسلمانوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہوا کرتا_

فدک کی زمینیں پیغمبر(ص) کی ملکیت اور اختیار میں آگئی تھیں آپ اس کے منافع کو بنی ہاشم اور مدینہ کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کیا کرتے تھے اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی_''وات ذا القربی حقه'' (۲) _ اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر(ص) نے اللہ تعالی کے دستور اور حکم کے مطابق فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا اس باب میں پیغمبر(ص) سے کافی روایات وارد ہوئی ہیں نمونے کے طور پر چند _ یہ ہیں_

ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت''وات ذاالقربی حقه'' نازل

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۰_

۲) سورہ اسراء آیت ص ۲۶_


ہوئی تو پیغمبر(ص) نے فاطمہ (ع) سے فرمایا کہ فدک تمہارا مال ہے(۱) _

عطیہ کہتے ہیں کہ جب آیت''و آت ذاالقربی حقه'' نازل ہوئی تو پیغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو بلایا اور فدک انہیں بخش دیا(۲) _

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں فدک فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا(۳) _

فدک کا علاقہ معمولی اور کم قیمت نہ تھا بلکہ آباد علاقہ تھا اور اس کی کافی آمدنی تھی ہر سال تقریباً چوبیس ہزار یا ستر ہزار دینار اس سے آمدنی ہوا کرتی تھی(۴) _

اس کے ثبوت کے لئے دو چیزوں کو ذکر کیا جاسکتا ہے یعنی فدک کا علاقہ وسیع اور بیش قیمت تھا اسے دو چیزوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے_

پہلی: جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ زہراء (ع) کے جواب ہیں، جب آپ نے فدک کا مطالبہ کیا تھا تو فرمایا تھا کہ فدک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مال نہ تھا بلکہ یہ عام مسلمانوں کے اموال میں سے ایک مال تھا کہ پیغمبر اسلام(ص) اس کے ذریعے جنگی آدمیوں کو جنگ کے لئے روانہ کرتے تھے اور اس آمدنی کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے(۵) _

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۲ اور تفسیر در منثور، ج ۴ ص ۱۷۷_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۲

۳) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۲ اور کتاب در منثور، ج ۴ ص ۱۷۷ ور غایة المرام ص ۳۲۳ میں اس موضوع کی احادیث کا مطالعہ کیجئے_

۴) سفینة البحار، ج ۲ ص ۲۵۱_

۵) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۶_


دوسرے: جب معاویہ خلیفہ ہوا تو اس نے فدک مروان ابن حکم اور عمر بن عثمان اور اپنے فرزند یزید کے درمیان مستقیم کردیا(۱) _

ان دونوں سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فدک ایک پر قیمت اور زرخیز علاقہ تھا کہ جس کے متعلق جناب ابوبکر نے فرمایا کہ رسول خدا اس کی آمدنی سے لوگوں کو جنگ کے لئے روانہ کرتے تھے، اور خدا کی راہ میںخرچ کیا کرتے تھے_

اگر فدک معمولی ملکیت ہوتا تو معاویہ اسے اپنے فرزند اور دوسرے آدمیوں کے درمیان تقسیم نہ کرتا_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فدک کبوں فاطمہ (ع) کو بخشا

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کے مطالعے سے یہ امر بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آپ ثروت اور مال کے شیدائی نہ تھے اور مال کو ذخیرہ کرنا اور جمع رکھنے کی کوشش نہیں کیا کرتھے اپنے مال کو اپنے ہدف یعنی خداپرستی کے لئے خرچ کردیا کرتے تھے، مگر یہی پیغمبر(ص) نہ تھے کہ جناب خدیجہ کی بے حد اور بے حساب دولت کو اسی ہدف اور راستے میں خرچ کر رہے تھے اور خود اور آپ کے داماد اور لڑکی کمال سختی اور مضیقہ میں زندگی بسر کرتے تھے

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج۱۶ ص ۲۱۶_


کبھی بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے شکم مبارک پر پتھر باندھا کرتے تھے_ پیغمبر(ص) ان آدمیوں میں نہ تھے کہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اولاد کے لئے مال، دولت حاصل کرتے مگر یہی پیغمبر(ص) نہ تھے کہ جو نہیں چاہتے تھے کہ ان کی لڑکی اپنے گھر کے لئے ایک پشمی پردہ لٹکائے رکھے اور حسن (ع) اور حسین (ع) کو چاندی کا دستبند پہنائیں_ اور خود گردن میں ہار پہنے رکھے_

سوچنے کی بات ہے اپنی زندگی اور بیٹی کی داخلی زندگی میں اتنا سخت گیر ہونے کے باوجود کس علت کی بناء پر اتنے بڑے علاقے اور باقیمت مال کو فاطمہ (ع) کے لئے بخش دیا تھا؟ آپ کا یہ غیر معمولی کام بے جہت اور بے علت نہ تھا اس واقعہ کی یوں علت بیان کی جاسکتی ہے کہ پیغمبر(ص) اللہ تعالی کی طرف سے مامور تھے کہ علی (ع) کو اپنا جانشین اور خلیفہ معین کریں اور یہ بھی جانتے تھے کہ لوگ اتنی آسانی سے آپ کی رہبری اور حکومت کو قبول نہیں کریں گے اور آپ کی خلافت کے لئے رکاوٹیں ڈالیں گے اور یہ بھی جانتے تھے کہ عرب کے بہت زیادہ گھرانے اور خاندان حضرت علی (ع) کی طرف سے بغض و کدورت رکھتے ہیں کیوں کہ علی (ع) شمشیر زن مرد تھے اور بہت تھوڑے گھر ایسے تھے کہ جن میں کا ایک یا ایک سے زائد آدمی زمانہ کفر میں علی (ع) کے ہاتھوں قتل نہ ہوا ہو___ پیغمبر(ص) کو علم تھا کہ خلافت اور مملکت کے چلانے کے لئے مال اور دولت کی ضرورت ہوتی ہے ان حالات اور شرائط میں قوری کا جمع ہوجانا مشکل کام ہوگا_ پیغمبر(ص) جانتے تھے کہ اگر علی (ع) فقراء اور بیچاروں کی مدد اور اعانت کرسکے اور ان کی معاشی احتیاجات برطرف کرسکے تو دلوں کا بغض اور کدورت ایک حد تک کم ہوجائے گا اور آپ کی طرف دل مائل ہوجائیں گے_


یہی وجہ تھی کہ آنحضرت نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا_ در حقیقت یہ مستقبل کے حقیقی خلیفہ کے اختیار میں دے دیا تھا تا کہ اس کی زیادہ آمدنی فقراء اور مساکین کے درمیان تقسیم کریں شاید کینے اور پرانی کدروتیں لوگ بھول جائیں اور حضرت علی (ع) کی طرف متوجہ ہوجائیں، خلافت کے آغاز میں اس کی بحرانی حالت میں اس مال سے استفادہ کریں اور خدا اور رسول (ص) کے ہدف کی ترقی اور پیشرفت میں اس سے بہرہ برداری کریں_ در حقیقت پیغمبر اسلام(ص) نے اس ذریعے سے خلافت کی اقتصادی مدد کی تھی_

فدک جناب رسول خدا(ص) کی زندگی میں جناب زہرا(ع) کے تصرف اور قبضے میں تھا آپ قوت لایموت یعنی معمولی مقدار اپنے لئے لیتیں اور باقی کو خدا کی راہ میں خرچ کردیتیں اور فقراء کے درمیان تقسیم کردیتیں_

جب جناب ابوبکر نے مسلمانوں کی حکوت پر قبضہ کیا اور تخت خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے مصمم ارادہ کرلیا کہ فدک آنجناب سے واپس لے لیں، چنانچہ انہوں نے حکم د یا کہ جناب فاطمہ (ع) کے کارکنوں اور عمال اور مزارعین کو نکال دیا جائے اور ان کی جگہ حکومت کے کارکن نصب کردیئے جائیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا(۱) _

فدک لینے کے اسباب

فدک لینے کے لئے دو اصلی عوامل قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ جن کے بعد جناب ابوبکر نے مصمم ارادہ

____________________

۱) تفسیر نورالثقلین، ج ۴ ص ۲۷۲_


کرلیا تھا کہ فدک جناب فاطمہ (ع) سے واپس لے لیا جائے_

پہلا عامل: تاریخ کے مطالعے سے یہ مطلب روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جناب عائشےہ دو چیزوں سے ہمیشہ رنجیدہ خاطر رہتی تھی_ پہلی: چونکہ پیغمبر اسلام(ص) جناب خدیجہ سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور ان کا کبھی کبھار نیکی سے ذکر کیا کرتے تھے، اس وجہ سے جناب عائشےہ کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی تھی اور بسا اوقات اعتراض بھی کردیتی تھیں اور کہتی تھیں خدیجہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھیں آپ ان کی اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں_ پیغمبر(ص) جواب دیا کرتے تھے، خدیجہ جیسا کون ہوسکتا ہے؟ پہلی عورت تھیں جو مجھ پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال میرے اختیار میں دے دیا، میرے تمام کاموں میں میری یار و مددگار تھیں خداوند عالم نے میری نسل کو اس کی اولاد سے قرار دیا ہے(۱) _

جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ میں نے خدیجہ جتنا کسی عورت سے بھی رشک نہیں کیا حالانکہ آپ میری شادی سے تین سال پہلے فوت ہوچکی تھیں کیونکہ رسول خدا(ص) ان کی بہت زیادہ تعریف کرتے تھے، خداوند عالم نے رسول خدا(ص) کو حکم دے رکھا تھا کہ خدیجہ کو بشارت دے دیں کہ بہشت میں ان کے لئے ایک قصر تیار کیا جاچکا ہے، بسا اوقات رسول خدا(ص) کوئی گوسفند ذبح کرتے تو اس کا گوشت جناب خدیجہ کے سہیلیوں کے گھر بھی بھیج دیتے تھے(۲) _

____________________

۱) تذکرة الخواص، ص ۳۰۳ و مجمع الزوائد، ج ۹ ص ۲۲۴_

۲) صحیح مسلم ج ۲ ص ۱۸۸۸_


جناب امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب رسول خدا(ص) گھر میں آئے تو دیکھا کہ جناب عائشےہ حضرت زہراء کے سامنے کھڑی قیل و قال کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں اے خدیجہ کی بیٹی تو گمان کرتی ہے کہ تیری ماں مجھ سے افضل تھی، اسے مجھ پر کیا فضیلت تھی؟ وہ بھی میری طرح کی ایک عورت تھی جناب رسول خدا(ص) نے جناب عائشےہ کی گفتگو سن لی اور جب جناب فاطمہ (ع) کی نگاہ باپ پر پڑی تو آپ نے رونا شروع کردیا_ پیغمبر نے فرمایا فاطمہ (ع) کیوں روتی ہو؟ عرض کیا کہ جناب عائشےہ نے میری ماں کی توہین کی ہے رسول خد ا(ص) خشمناک ہوئے اور فرمایا: عائشےہ ساکت ہوجاؤ، خداوند عالم نے محبت کرنے والی بچہ دار عورتوں کو مبارک قرار دیا ہے_ جناب خدیجہ سے میری نسل چلی، لیکن خداوند عالم نے تمہیں بانجھ قرار دیا(۱) _

دوسرا عامل: پیغمبر اکرم(ص) حد سے زیادہ جناب فاطمہ (ع) سے محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے آپ کے اس اظہار محبت نے جناب عائشےہ کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا کر رکھی تھی کہ جس کی وجہ سے وہ عذاب میں مبتلا رہتی تھیں کیونکہ عورت کی فطرت میں ہے کہ اسے اپنی سوکن کی اولاد پسند نہیں آتی اور عائشےہ کبھی اتنی سخت ناراحت ہوتیں کہ پیغمبر(ص) پر بھی اعتراض فرما دیتیں اور کہتیں کہ اب جب کہ فاطمہ (ع) کی شادی ہوچکی ہے آپ پھر بھی اس کا بوسہ لیتے ہیں_ پیغمبر(ص) اس کے جواب میں فرماتے ہیں تم فاطمہ (ع) کے مقام اور مرتبے سے بے خبر ہو ورنہ ایسی بات نہ کرتیں(۲) _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۱۶ ص ۳_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۸۵_


آپ جناب فاطمہ (ع) کی جتنی زیادہ تعری کرتے اتناہی جناب عائشےہ کی اندرونی کیفیت دگرگوں ہوتی اور اعتراض کرنا شروع کردیتیں_

ایک دن جناب ابوبکر پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے تھے کہ آپ نے جناب عائشےہ کی آواز اور چیخنے کو سنا کہ رسول خدا(ص) سے کہہ رہی ہیں کہ خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ آپ علی (ع) اور فاطمہ (ع) کو میرے اور میرے باپ سے زیادہ دوست رکھتے ہیں، جناب ابوبکر اندر آئے اور جناب عائشےہ سے کہا کیوں پیغمبر(ص) سے بلند آواز سے بات کر رہی ہو(۱) _

ان دو باتوں کے علاوہ اتفاق سے جناب عائشےہ بے اولاد اور بانجھ بھی تھیں اور پیغمبر(ص) کی نسل جناب فاطمہ (ع) سے وجود میں آئی یہ مطلب بھی جناب عائشےہ کو رنج پہنچاتا تھا، بنابرایں جناب عائشےہ کے دل میں کدورت اور خاص زنانہ کیفیت کا موجود ہوجانا فطری تھا اور آپ کبھی اپنے والد جناب ابوبکر کے پاس جاتیں اور جناب عائشےہ کے دل میں کدورت اور خاص زنانہ کیفیت کا موجود ہوجانا فطری تھا اور آپ کبھی اپنے والد جناب ابوبکر کے پاس جاتیں اور جناب فاطمہ (ع) کی شکایت کرتیں ہوسکتا ہے کہ جناب ابوبکر بھی دل سے جناب فاطمہ (ع) کے حق میں بہت زیادہ خوش نہ رہتے ہوں اور منتظر ہوں کہ کبھی اپنی اس کیفیت کو بجھانے کے لئے جناب فاطمہ (ع) سے انتقام لیں_

جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وفات پاچکے تو جناب فاطمہ (ع) رویا کرتیں اور فرماتیں کتنے برے دن آگئے ہیں جناب ابوبکر فرماتے کہ ابھی برے دن اور آگے ہیں(۲) _

____________________

۱) مجمع الزواید، ج ۹ ص ۲۰۱_

۲) ارشاد شیخ مفید، ص ۹۰_


دوسرا مطلب: جناب عمر اور ابوبکر سوچتے تھے کہ حضرت علی (ع) کے ذاتی کمالات اور فضائل اور علم و دانش کا مقام قابل انکار نہیں اور پھر پیغمبر(ص) کی سفارشات بھی ان کی نسبت بہت معروف اور مشہور ہیں پیغمبر (ص) کے داماد اور چچازاد بھائی ہیں اگر ان کی مالی اور اقتصادی حالت اچھی ہوئی اور ان کے ہاتھوں میں دوپیہ بھی ہوا تو ممکن ہے کہ ایک گروہ ان کا مددگار ہو جائے اور پھر وہ خلافت کے لئے خطرے کا موجب بن جائے یہ ایک نکتہ تھا کہ جس کا ذکر جناب عمر نے جناب ابوبکر سے کیا اور جناب ابوبکر سے کہا کہ لوگ دنیا کے بندے ہوا کرتے ہیں اور دنیا کے سوا ان کا کوئی ہدف نہیں ہوتا تم خمس اور غنائم کو علی (ع) سے لے لو اور فدک بھی ان کے ہاتھ سے نکال لو جب ان کے چاہنے والے انہیں خالی ہاتھ دیکھیں گے تو انہیں چھوڑ دیں گے اور تیری طرف مائل ہوجائیں گے(۱) _

جی ہاں یہ دو مطلب مہم عامل اور سبب تھے کہ جناب ابوبکر نے مصمم ارادہ کرلیا کہ فدک کو مصادرہ کر کے واپس لے لیں اور حکم دیا کہ فاطمہ (ع) کے عمال اور کارکنوں کا باہر کیا جائے اور اسے اپنے عمال کے تصرف میں دے دیا_

جناب زہراء (ع) کا رد عمل

جب جناب فاطمہ (ع) کو اطلاع ملی کہ آپ کے کارکنوں کو فدک سے نکال دیاگیا ہے تو آپ بہت غمگین ہوئیں اور

____________________

۱) ناسخ التواریخ جلد زہرائ، ص ۱۲۳_


اپنے آپ کو ایک نئی مشکل اور مصیبت میں دیکھا کیونکہ حکومت کا نقشہ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (ع) پر مخفی نہ تھا اور ان کے اصلی اقدام کی غرض و غایت سے بھی بے خبر نہ تھے_

اس موقع پر جناب فاطمہ (ع) کو ان دو راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرنا تھے_

پہلا راستہ یہ تھا کہ جناب ابوبکر کے سامنے ساکت ہوجائیں اور اپنے شروع اور جائز حق سے چشم پوشی کرلیں اور کہیں کہ ہمیں تو دنیا کے مال و متاع سے کوئی محبت اور علاقہ نہیں چھوڑو فدک بھی جناب ابوبکر لے جائیں اس کے ساتھ یہ بھی اس کے لئے ہوسکتا ہے کہ وہ جناب خلیفہ کو خوش کرنے کی غرض سے پیغام دالواتیں کہ تم میرے ولی امر ہو میں ناچیز فدک کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں_

دوسرا راستہ یہ تھا کہ اپنی پوری قدرت سے رکھتی ہیں اپنے حق کا دفاع کریں_

پہلا راستہ اختیار کرنا حضرت زہراء (ع) کے لئے ممکن نہ تھا کیونکہ وہ حکومت کے پوشیدہ منصوبے سے بے خبر نہ تھیں جانتی تھیں کہ وہ اقتصادی دباؤ اور آمدنی کے ذریعے قطع کردینے سے اسلام کے حقیقی خلیفہ حضرت علی (ع) کے اثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہمیشہ کے لئے حضرت علی (ع) کا ہاتھ حکومت سے کوتاہ ہوجائے اور وہ کسی قسم کا خلافت کے خلاف اقدام کرنے سے مایوس ہوجائیں اور یہ بھی جانتی تھیں کہ فدک کو زور سے لے لینے سے علی (ع) کے گھر کا دروازہ بند کرنا چاہتے تھے_

جناب فاطمہ (ع) نے سوچا کہ اب بہت اچھی فرصت اور مدرک ہاتھ آگیا ہے اس وسیلہ سے جناب ابوبکر کی انتخابی خلافت سے مبارزہ کر کے


اسے بدنام اور رسوا کیا جائے اور عمومی افکار کو بیدار کیا جائے اور اس قسم کی فرصت ہمیشہ ہاتھ نہیں آیا کرتی_

حضرت فاطمہ (ع) نے سوچا کہ اگر میں جناب ابوبکر کے دباؤ میں آجاوں اور اپنے مسلم حق سے دفاع نہ کروں تو جناب ابوبکر کی حکومت دوسروں پر غلط دباؤ ڈالنے کی عادی ہوجائے گی اور پھر لوگوں کے حقوق کی مراعات نہ ہوسکے گی_

جناب فاطمہ (ع) نے فکر کی کہ اگر میں نے اپنے حق کا دفاع نہ کیا تو لوگ خیال کریں گے اپنے حق سے صرف نظر کرنا اور ظلم و ستم کے زیر بار ہونا اچھا کام ہے_

جناب فاطمہ (ع) نے سوچا اگر میں نے ابوبکر کو بدنام نہ کیا تو دوسرے خلفاء کے درمیان عوام فریبی رواج پاجائے گی_

حضرت فاطمہ (ع) نے فکر کی کہ پیغمبر(ص) کی دختر ہوکر اپنے صحیح حق سے صرف نظر کرلوں تو مسلمانوں خیال کریں گے کہ عورت تمام اجتماعی حقوق سے محروم ہے اور اسے حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے حق کے احقاق کے لئے مبارزہ کرے_

حضرت فاطمہ (ع) نے سوچا کہ میں جو وحی کے دامن اور ولایت کے گھر کی تربیت یافتہ ہوں اور میں اسلام کی خواتین کے لئے نمونہ ہوں اور مجھے ایک اسلام کی تربیت یافتہ سمجھا جاتا ہے میرے اعمال اور رفتار کو ایک اسلام کی نمونہ عورت کی رفتار اور اعمال جانا جاتا ہے اگر میں اس مقام میں سستی کروں اور اپنے حق کے لینے میں عاجزی کا اظہار کروں تو پھر اسلام میں عورت عضو معطل سمجھی جائے گی_


جی ہاں یہ اور اس قسم کے دیگر عمدہ افکار تھے جو جناب فاطمہ (ع) کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ پہلا راستہ اختیار کرتیں یہی وجہ تھی کہ آپ نے ارادہ کرلیا تھا کہ توانائی اور قدرت کی حد تک اپنے حق سے دفاع کریں گی_

البتہ یہ کام بہت زیادہ سہل اور آسان نہ تھا کیوں کہ ایک عورت کا مقابلہ جناب خلیفہ ابوبکر سے بہت زیادہ خطرناک تھا اور وہ اس فاطمہ (ع) نای عورت کا کہ جو پہلے سے پہلو شکستہ بازو سیاہ شدہ اور جنین ساقط شدہ تھیں، ان میں سے ہر ایک حادثہ اور واقعہ عورت کے لئے کافی تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے زبردست انسانوں سے مرعوب ہوجائے_

لیکن فاطمہ (ع) نے فداکاری اور شجاعت اور بردباری اور استقامت کی عادت اپنے والد رسول خدا(ص) اور مال خدیجہ کبری سے وراثت میں پائی تھی اور انہوں نے مبارزت اسلامی کے مرکز میں تربیت پائی تھی انہوں نے ان فداکاروں اور قربانی دینے والوں کے گھر میں زندگی گزاری تھی کہ جہاں کئی دفعہ وہ شوہر کے خون آلود کپڑے دھوچکی تھیں اور ان کے زخمی بدن کی مرہم پٹی کرچکی تھیں وہ ان جزئی حوادث سے خوف نہیں کھاتی تھیں اور جناب ابوبکر کی حکومت سے مرعوب نہیں ہوتی تھیں_

جناب زہراء (ع) نے اپنے مبارزے کو کئی ایک مراحل میں انجام دیا_

بحث اور استدلال

جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پاس گئیں اور فرمایا کہ تم نے کیوں میرے کارکنوں کو میری ملکیت سے باہر


نکال دیا ہے؟ میرے باپ نے اپنی زندگی میں فدک مجھے ہبہ کردیا تھا جناب ابوبکر نے جواب دیا اگر چہ میں جانتا ہوں کہ تم جھوٹ نہیں بولتیں لیکن پھر بھی اپنے دعوے کے ثبوت کے لئے گواہ لے آؤ_ جناب زہراء (ع) جناب ام ایمن اور حضرت علی (ع) کو گواہ کے طور پر لے گئیں، جناب ام ایمن نے جناب ابوبکر سے کہ تجھ خدا کی قسم دیتی ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا(ص) نے میرے بارے میںفرمایا ہے کہ ام ایمن بہشتی ہیں، جناب ابوبکر نے جواب دیا، یہ میں جانتا ہوں اس وقت جناب ام ایمن نے فرمایا میں گواہی دیتی ہوں کہ جب یہ آیت ''و آت ذی القربی حقہ'' نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے فدک فاطمہ (ع) کو دے دیا تھا_

حضرت علی علیہ السلام نے بھی اس قسم کی گواہی دی جناب ابوبکر مجبور ہوگئے کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کو لوٹا دیں لہذا ایک تحریر ایک کے متعلق لکھی اور وہ حضرت زہراء (ع) کو دے دی_

اچانک اسی وقت جناب عمر آگئے اور مطلب دریافت کیا جناب ابوبکر نے جواب دیا کہ چونکہ جناب فاطمہ (ع) فدک کا دعوی کر رہی تھیں اور اس پر گواہ بھی پیش کردیئےیں لہذا میں نے فدک انہیں واپس کردیا ہے جناب عمر نے وہ تحریر زہراء کے ہاتھ سے لی اور اس پر لعاب دہن ڈالا اور پھر اسے پھاڑ ڈالا_ جناب ابوبکر نے بھی جناب عمر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آپ علی (ع) کے علاوہ کوئی اور آدمی گواہ لے آئیں یا ایم ایمن کے علاوہ کوئی دوسری عورت بھی گواہی دے جناب فاطمہ (ع) روتی ہوئی جناب ابوبکر کے گھر سے باہر چلے گئیں_

ایک اور روایت کی بناء پر جناب عمر اور عبدالرحمن نے گواہی دی


کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فدک کی آمدنی کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے(۱) _

ایک دن حضرت علی (ع) جناب ابوبکر کے پاس گئے اور فرمایا کہ کیوں فدک کو جو جناب رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو دیاتھا ان سے لے لیا ہے؟ آپ نے جواب دیاانہیں اپنے دعوی پر گواہ لے آنے چاہئیں اور چونکہ ان کے گواہ ناقص تھے جو قبول نہیں کئے گئے_ حضرت علی (ع) نے فرمایا اے ابوبکر، کیا تم ہمارے بارے میں اس کے خلاف حکم کرتے ہو جو تمام مسلمانوں کے لئے ہوا کرتا ہے_ جناب ابوبکر نے کہا کہ نہیں_ حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ اب میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ اگر کچھ مال کسی کے ہاتھ میں ہو اور میں دعوی کروں کہ وہ میرا مال ہے اور فیصلہ کرانے کے لئے جناب کے پاس آئیں تو آپ کس سے گواہ کا مطالبہ کریں گے؟ جناب ابوبکر نے کہا کہ آپ سے گواہ طلب کروں گا کیوں کہ مال کسی دوسرے کے تصرف میں موجود ہے، آپ نے فرمایا پھر تم نے کیوں جناب فاطمہ (ع) سے گواہ لانے کا مطالبہ کیا ہے در انحالیکہ فدک آپ(ص) کی ملکیت اور تصرف میں موجود ہے، جناب ابوبکر نے سوکت کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا لیکن جناب عمر نے کہایا علی ایسی باتین چھوڑو(۲) _

اگر انصاف سے دیکھا جائے تو اس فیصلے مین حق حضرت زہراء کے

____________________

۱) احتجاج طبرسی، ج ۱ ص ۱۲۱، اور کشف الغمہ ج ۲ ص ۱۰۴_ اور شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۷۴_

۲) احتجاج طبرسی، ج ۱ ص ۱۲۱_ کشف الغمہ ج ۲ ص ۱۰۴_


ساتھ ہے کیونکہ فدک آپ کے قبضے میں تھا اسی لئے تو حضرت علی (ع) نے اپنے ایک خط میں لکھا ہے_ جی ہاں دنیا کے اموال سے فدک ہمارے اختیار میں تھا لیکن ایک جماعت نے اس پر بھی بخل کیا اور ایک دوسرا گروہ اس پر راضی تھا(۱) _

قضاوت کے قواعد اور قانون کے لحاظ سے حضرت زہراء (ع) سے گواہوں کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیئے تھا بلکہ دوسری طرف جو ابوبکر تھے انہیں گواہ لانے چاہیئے تھے، لیکن جناب ابوبکر نے فیصلے کے اس مسلم قانون کی مخالفت کی، حضرت زہراء (ع) اس مبارزے میں کامیاب ہوگوئیں اور اپنی حقانیت کو مضبوط دلیل و برہان اور منطق سے ثابت کردیا اور حضرت ابوبکر مجبور ہوگئے کہ وہ فدک کے واپس کردینے کا دستور بھی لکھ دیں یہ اور بات ہے کہ جناب عمر آپہنچے اور طاقت کی منطق کو میدان میں لائے اور لکھی ہوئی تحریر کو پھاڑ دیا اور گواہوں کے ناقص ہونے کا اس میں بہانا بنایا_

پھر بھی استدلال

ایک دن جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پاس گئیں اور باپ کی وراثت کے متعلق بحث اور احتجاج کیا آپ نے فرمایا اے ابوبکر، میرے باپ کا ارث مجھے کیوں نہیں دیتے ہو؟ جناب ابوبکر نے جواب دیا کہ پیغمبر(ص) ارث نہیں چھوڑتے_

____________________

۱) نہج البلاغہ، ج ۳ ص ۴۵_


آپ نے فرمایا مگر خداوند عالم قرآن میں نہیں فرماتا:

''و ورث سلیمان داؤد'' (۱)

کیا جناب سلیمان جناب داؤد کے وارث نہیں بنے؟ جناب ابوبکر غضبناک ہوئے اور کہا تم سے کہا کہ پیغمبر میراث نہیں چھوڑتے ، جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کیا زکریا نبی نے خدا سے عرض نہیں کیا تھا_

''فهب لی من لدنک وَلیاً یرثنی وَ یرث من آل یعقوب'' (۲)

جناب ابوبکر نے پھر بھی وہی جواب دیا کہ پیغمبر ارث نہیں چھوڑتے جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا:

''یوصیکم الله فی اولادکم للذکر حظ الانثیین'' (۳)

کیا میں رسول اللہ (ص) کی اولاد نہیں ہوں؟ چونکہ جناب ابوبکر حضرت زہراء (ع) کے محکم دلائل کا سامنا کر رہے تھے اور اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ اسی سابقہ کلام کی تکرار کریں اور کہیں کہ کیا میں نے نہیں کہا کہ پیغمبر ارث نہیں چھوڑتے_

جناب ابوبکر نے اپنی روش اور غیر شرعی عمل کے لئے ایک حدیث نقل کی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ہم پیغمبر ارث نہیں چھوڑتے_ جناب عائشےہ اور حفصہ نے بھی

____________________

۱) سورہ نحل آیت ۱۶_

۲) سورہ مریم آیت ۶_

۳) سورہ نساء آیت ۱۱_


جناب ابوبکر کی اس حدیث کی تائید کردی ((ص) )_

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس مباحثے میں بھی حضرت زہراء (ع) غالب آئیں اور دلائی و برہان سے ثابت کردیا کہ وہ حدیث جس کا تم دعوی کر رہے ہو وہ صریح قرآنی نصوص کے خلاف ہے اور جو حدیث بھی قرآن کی صریح نص کے خلاف ہو وہ معتبر نہیں ہوا کرتی جناب ابوبکر مغلوب ہوئے اور آپ کے پاس اس کے سوا کوئی علاج نہ تھا کہ جناب فاطمہ (ع) کے جواب میں اسی سابقہ جواب کی تکرار کریں_

یہاں پر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہی جناب عائشےہ جنہوں نے اس جگہ اپنے باپ کی بیان کردہ وضعی حدیث کی تائید کی ہے جناب عثمان کی خلافت کے زمانے میں ان کے پاس گئیں اور پیغمبر (ص) کی وراثت کا ادعا کیا_ جناب عثمان نے جواب دیا کیا تم نے گواہی نہیں دی تھی کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ ہم پیغمبر ارث نہیں چھوڑتے؟ اور اسی سے تم نے جناب فاطمہ (ع) کو وراثت سے محروم کردیا تھا، اب کیسے آپ خود رسول (ص) کی وراثت کا مطالبہ کر رہی ہیں(۲) _

خلیفہ سے وضاحت کا مطالبہ

جناب زہراء (ع) پہلے مرحلہ میں کامیاب ہوئیں اور اپنی منطق اور برہان سے اپنے مد مقابل کو محکوم

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ س ۱۰۴_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۵_


کردیا قرآن مجید کی آیات سے اپنی حقانیت کو ثابت کیا اور اپنے مد مقابل کو اپنے استدلال سے ناتواں بنادیا، آپ نے دیکھا کہ _ مد مقابل اپنی روش کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ہر قسم کے عمل کو بجالانے کے لئے حتی کہ حدیث بناکر پیش کرنے کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور دلیل و برہان کے مقابلے میں قوت اور طاقت کا سہارا ڈھونڈتا ہے_

آپ نے تعجب کیا اور کہا عجیب انہوں نے میرے شوہر کی خلافت پر قبضہ کرلیا ہے_ یہ آیات قرآن کے مقابل کیوں سر تسلیم خم نہیں کرتے؟ کیوں اسلام کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں؟ کیوں جناب ابوبکر تو مجھے تحریر لکھ کر دیتے ہیں لیکن جناب عمر اسے پھاڑ ڈالتے ہیں؟ اے میرے خدا یہ کسی قسم کی حکومت ہے اور یہ کسی قضاوت ہے؟ تعجب در تعجب: جناب ابوبکر رسول خدا(ص) کی جگہ بیٹھتے ہیں، لیکن حدیث از خود بناتے ہیں تا کہ میرے حق کو پائمال کریں؟ ایسے افراد دین اور قرآن کے حامی ہوسکتے ہیں؟ مجھے فدک اور غیر فدک سے دلچسپی نہیں لیکن اس قسم کے اعمال کو بھی تحمل نہیں کرسکتی بالکل چپ نہ رہوں گی اور مجھے چاہیئے کہ تما لوگوں کے سامنے خلیفہ سے وضاحت طلب کروں اور اپنی حقانیت کو ثابت کروں اور لوگوں کو بتلادوں کہ جس خلیفہ کا تم نے انتخاب کیا ہے اس میں صلاحیت نہیں کہ قرآن اور اسلام کے دستور پر عمل کرے اپنی مرضی سے جو کام چاہتا ہے انجام دیتا ہے_ جی ہان مسجد جاؤں گی اور لوگوں کے سامنے تقریر کروں گی_

یہ خبر بجلی کی طرح مدینہ میں پھیل گئی اور ایک بم کی طرح پورے شہر کو ہلاک رکھ دیا، فاطمہ (ع) جو کہ پیغمبر(ص) کی نشانی ہیں چاہتی ہیں کہ تقریر کریں؟ لیکن


کس موضوع پر تقریر ہوگی؟ اور خلیفہ اس پر کیا رد عمل ظاہر کرے گا؟ چلیں آپ کی تاریخی تقریر کو سنیں_

مہاجر اور انصار کی جمعیت کا مسجد میں ہجوم ہوگیا، بنی ہاشم کی عورتیں جناب زہراء (ع) کے گھر گئیں اور اسلام کی بزرگ خاتون کو گھر سے باہر لائیں، بنی ہاشم کی عورتیں آپ کو گھیرے میں لئے ہوئے تھیں، بہت عظمت اور جلال کے ساتھ آپ چلیں، پیغمبر(ص) کی طرح قدم اٹھا رہی تھیں، جب مسجد میں داخل ہوئیں تو پردہ آپ کے سامنے لٹکا دیاگیا، باپ کی جدائی اور ناگوار حوادث نے جناب فاطمہ (ع) کو منقلب کردیا کہ آپ کے جگر سے آہ و نالہ بلند ہوا اور اس جلا دینے والی آواز نے مجمع پر بھی اثر کیا اور لوگ بلند آواز سے رونے لگے_

آپ تھوڑی دیر کے لئے ساکت رہیں تا کہ لوگ آرام میں آجائیں اس کے بعد آپ نے گفتگو شروع کی، اس کے بعد پھر ایک دفعہ لوگوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں آپ پھر خاموش ہوگئیں یہاں تک کہ لوگ اچھی طرح ساکت ہوگئے اس وقت آپ نے کلام کا آغاز کیا اور فرمایا:

جناب فاطمہ (ع) کی دہلا اور جلادینے والی تقریر

میں خدا کی اس کی نعمتوں پر ستائشے اور حمد بجالاتی ہوں اور اس کی توفیقات پر شکر ادا کرتی ہوں اس کی بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا بجالاتی ہوں وہ نعمتیں کہ جن کی کوئی انتہانہیں اور نہیں ہوسکتا کہ


ان کی تلافی اور تدارک کیا جاسکے ان کی انتہا کاتصور کرنا ممکن نہیں، خدا ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کو جانیں اور ان کا شکریہ ادا کریں تا کہ اللہ تعالی نعمتوں کو اور زیادہ کرے_ خدا ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کو جانیں اور ان کا شکرہ ادا کریں تا کہ اللہ تعالی مقامی نعمتوں کو اور زیادہ کرے_ خدا نے ہم سے حمد و ثنا کو طلب کیا ہے تا کہ وہ اپنی نعمتوں کو ہمارے لئے زیادہ کرے_

میں خدا کی توحید اور یگانگی گواہی دیتی ہوں توحید کا وہ کلمہ کہ اخلاص کو اس کی روح اور حقیقت قرار دیا گیا ہے اور دل میں اس کی گواہی دے تا کہ اس سے نظر و فکر روشن ہو، وہ خدا کہ جس کو آنکھ کے ذریعے دیکھا نہیں جاسکتا اور زبان کے ذریعے اس کی وصف اور توصیف نہیں کی جاسکتی وہ کس طرح کا ہے یہ وہم نہیں آسکتا_ عالم کو عدم سے پیدا کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے میں وہ محتاج نہ تھا اپنی مشیئت کے مطابق خلق کیا ہے_ جہان کے پیا کرنے میں اسے اپنے کسی فائدے کے حاصل کرنے کا قصد نہ تھا_ جہان کو پیدا کیا تا کہ اپنی حکمت اور علم کو ثابت کرے اور اپنی اطاعت کی یاد دہانی کرے، اور اپنی قدرت کا اظہار کرے، اور بندوں کو عبادت کے لئے برانگیختہ کرے، اور اپنی دعوت کو وسعت دے، اپنی اطاعت کے لئے جزاء مقرر کی اور نافرمانی کے لئے سزا معین فرمائی_ تا کہ اپنے بندوں کو عذاب سے نجات دے اور بہشت کی طرف لے جائے_

میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے والد محمد(ص) اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں، پیغمبری کے لئے بھیجنے سے پہلے اللہ نے ان کو چنا اور قبل


اس کے کہ اسے پیدا کرے ان کا نام محمّد(ص) رکھا اور بعثت سے پہلے ان کا انتخاب اس وقت کیا جب کہ مخلوقات عالم غیب میں پنہاں اور چھپی ہوئی تھی اور عدم کی سرحد سے ملی ہوئی تھی، چونکہ اللہ تعالی ہر شئی کے مستقبل سے باخبر ہے اور حوادث دہر سے مطلع ہے اور ان کے مقدرات کے موارد اور مواقع سے آگاہ ہے ، خدا نے محمّد(ص) کو مبعوث کیا تا کہ اپنے امر کو آخر تک پہنچائے اور اپنے حکم کو جاری کردے، اور اپنے مقصد کو عملی قرار دے_ لوگ دین میں تفرق تھے اور کفر و جہالت کی آگ میں جل رہے تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے اور خداوند عالم کے دستورات کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے_

پس حضرت محمّد(ص) کے وجود مبارک سے تاریکیاں چھٹ گئیں اور جہالت اور نادانی دلوں سے دور ہوگئی، سرگردانی اور تحیر کے پردے آنکھوں سے ہٹا دیئے گئے میرے باپ لوگوں کی ہدایت کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کو گمراہی سے نجات دلائی اور نابینا کو بینا کیا اور دین اسلام کی طرف راہنمائی فرمائی اور سیدھے راستے کی طرف دعوت دی، اس وقت خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کی مہربانی اور اس کے اختیار اور رغبت سے اس کی روح قبض فرمائی_ اب میرے باپ اس دنیا کی سختیوں سے آرام میں ہیں اور آخرت کے عالم میں اللہ تعالی کے فرشتوں اور پروردگار کی رضایت کے ساتھ اللہ تعالی کے قرب میں زندگی بسر کر رہے ہیں، امین اور وحی کے لئے چتے ہوئے پیغمبر پر درود ہو_

آپ نے اس کے بعد مجمع کو خطاب کیا اور فرمایا لوگو تم اللہ تعالی


کے امر اور نہی کے نمائندے اور نبوت کے دین اور علوم کے حامل تمہیں اپنے اوپر امین ہونا چاہیئےم ہو جن کو باقی اقوام تک دین کی تبلیغ کرنی ہے تم میں پیغمبر(ص) کا حقیقی جانشین موجود ہے اللہ تعالی نے تم سے پہلے عہد و پیمان اور چمکنے والانور ہے اس کی چشم بصیرت روش اور رتبے کے آرزومند ہیں اس کی پیروی کرنا انسان کو بہشت رضوان کی طرف ہدایت کرتا ہے اس کی باتوں کو سننا نجات کا سبب ہوتا ہے اس کے وجود کی برکت سے اللہ تعالی کے نورانی دلائل اور حجت کو دریافت کیا جاسکتا ہے اس کے وسیلے سے واجبات و محرمات اور مستحبات و مباح اور شریعت کے قوانین کو حاصل کیا جاسکتا ہے_

اللہ تعالی نے ایمان کو شرک سے پاک ہونے کا وسیلہ قرار دیا ہے___ اللہ نے نماز واجب کی تا کہ تکبر سے روکاجائے_ زکوة کو وسعت رزق اور تہذیب نفس کے لئے واجب قرار دیا_ روزے کو بندے کے اخلاص کے اثبات کے لئے واجب کیا_ حج کو واجب کرنے سے دین کی بنیاد کو استوار کیا، عدالت کو زندگی کے نظم اور دلوں کی نزدیکی کے لئے ضروری قرار دیا، اہلبیت کی اطاعت کو ملت اسلامی کے نظم کے لئے واجب قرار دیا اور امامت کے ذریعے اختلاف و افتراق کا سد باب کیا_ امر بالمعروف کو عمومی مصلحت کے ماتحت واجب قرار دیا، ماں باپ کے ساتھ نیکی کو ان کے غضب سے مانع قرار دیا، اجل کے موخر ہونے اور نفوس کی زیادتی کے لئے صلہ رحمی کا دستور دیا_


قتل نفس کو روکنے کے لئے قصاص کو واجب قرار دیا_ نذر کے پورا کرنے کو گناہوں گا آمرزش کا سبب بنایا_ پلیدی سے محفوظ رہنے کی غرض سے شراب خوری پر پابندی لگائی، بہتان اور زنا کی نسبت دینے کی لغت سے روکا، چوری نہ کرنے کو پاکی اور عفت کا سبب بتایا_ اللہ تعالی کے ساتھ شرک، کو اخلاص کے ماتحت ممنوع قرار دیا_

لوگو تقوی اور پرہیزگاری کو اپناؤ اور اسلام کی حفاظت کرو اور اللہ تعالی کے اوامر و نواحی کی اطاعت کرو، صرف علماء اور دانشمندی خدا سے ڈرتے ہیں_

اس کے بعد آپ نے فرمایا، لوگو میرے باپ محمد(ص) تھے اب میں تمہیں ابتداء سے آخر تک کے واقعات اور امور سے آگاہ کرتی ہوں تمہیں علم ہونا چاہیئےہ میں جھوٹ نہیں بولتی اور گناہ کا ارتکاب نہیں کرتی_

لوگو اللہ تعالی نے تمہارے لئے پیغمبر(ص) جو تم میں سے تھا بھیجا ہے تمہاری تکلیف سے اسے تکلیف ہوتی تھی اور وہ تم سے محبت کرتے تھے اور مومنین کے حق میں مہربان اور دل سوز تھے_

لوگو وہ پیغمبر میرے باپ تھے نہ تمہاری عورت کے باپ، میرے شوہر کے چچازاد بھائی تھے نہ تمہارے مردوں کے بھائی، کتنی عمدہ محمّد(ص) سے نسبت ہے_ جناب محمد(ص) نے اپنی رسالت کو انجام دیا اور مشرکوں کی راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان کی پشت پر سخت ضرب وارد کی ان کا گلا پکڑا اور دانائی اور نصیحت سے خدا کی طرف دعوت دی، بتوں کو توڑا اور ان کے سروں کو سرنگوں کیا کفار نے شکست کھائی اور شکست کھا کر


بھاگے تاریکیاں دور ہوگئیں اور حق واضح ہوگیا، دین کے رہبر کی زبان گویا ہوئی اور شیاطین خاموش ہوگئے، نفاق کے پیروکار ہلاک ہوئے کفر اور اختلاف کے رشتے ٹوٹ گئے گروہ اہلبیت کی وجہ سے شہادت کا کلمہ جاری کیا، جب کہ تم دوزخ کے کنارے کھڑے تھے اور وہ ظالموں کا تر اور لذیذ لقمہ بن چکے تھے اور آگ کی تلاش کرنے والوں کے لئے مناسب شعلہ تھے_ تم قبائل کے پاؤں کے نیچے ذلیل تھے گندا پانی پیتے تھے اور حیوانات کے چمڑوں اور درختوں کے پتوں سے غذا کھاتے تھے دوسروں کے ہمیشہ ذلیل و خوار تھے اور اردگرد کے قبائل سے خوف و ہراس میں زندگی بسر کرتے تھے_

ان تمام بدبختیوں کے بعد خدا نے محمد(ص) کے وجود کی برکت سے تمہیں نجات دی حالانکہ میرے باپ کو عربوں میں سے بہادر اور عرب کے بھیڑیوں اور اہل کتاب کے سرکشوں سے واسطہ تھا لیکن جتنا وہ جنگ کی آگ کو بھڑکاتے تھے خدا سے خاموش کردیتا تھا، جب کوئی شیاطین میں سے سر اٹھاتا یا مشرکوں میں سے کوئی بھی کھولتا تو محمد(ص) اپنے بھائی علی (ع) کو ان کے گلے میں اتار دیتے اور حضرت علی (ع) ان کے سر اور مغز کو اپنی طاقت سے پائمال کردیتے اور جب تک ان کی روشن کی ہوئی آگ کو اپنی تلوار سے خاموش نہ کردیتے جنگ کے میدان سے واپس نہ لوٹتے اللہ کی رضا کے لئے ان تمام سختیوں کا تحمل کرتے تھے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتے تھے، اللہ کے رسول کے نزدیک تھے_ علی (ع) خدا دوست تھے، ہمیشہ جہاد کے لئے آمادہ تھے، وہ تبلیغ اور جہاد کرتے تھے اور تم اس حالت میں آرام اور خوشی میں خوش و خرم زندگی گزار


رہے تھے اور کسی خبر کے منتظر اور فرصت میں رہتے تھے دشمن کے ساتھ لڑائی لڑنے سے ا جتناب کرتے تھے اور جنگ کے وقت فرار کرجاتے تھے_

جب خدا نے اپنے پیغمبر کو دوسرے پیغمبروں کی جگہ کی طرف منتقل کیا تو تمہارے اندرونی کینے اور دوروئی ظاہر ہوگئی دین کا لباس کہنہ ہوگیا اور گمراہ لوگ باتیں کرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھایا اور باطل کا اونٹ آواز دیتے لگا اور اپنی دم ہلانے لگا اور شیطان نے اپنا سرکمین گاہ سے باہر نکالا اور تمہیں اس نے اپنی طرف دعوت دی اور تم نے بغیر سوچے اس کی دعوت قبول کرلی اور اس کا احترام کیا تمہیں اس نے ابھارا اور تم حرکت میں آگئے اس نے تمہیں غضبناک ہونے کا حکم دیا اور تم غضبناک ہوگئے_

لوگو وہ اونٹ جو تم میں سے نہیں تھا تم نے اسے با علامت بناکر اس جگہ بیٹھایا جو اس کی جگہ نہیں تھی، حالانکہ ابھی پیغمبر(ص) کی موت کو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھی تک ہمارے دل کے زخم بھرے نہیں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھی پیغمبر(ص) کو دفن بھی نہیں کیا تھا کہ تم نے فتنے کے خوف کے بہانے سے خلافت پر قبضہ کرلیا، لیکن خبردار رہو کہ تم فتنے میں داخل ہوچکے ہو اور دوزخ نے کافروں کا احاطہ کر رکھا ہے_ افسوس تمہیں کیا ہوگیا ہے اور کہاں چلے جارہے ہو؟ حالانکہ اللہ کی کتاب تمہارے درمیان موجود ہے اور اس کے احکام واضح اور اس کے اوامر و نواہی ظاہر ہیں تم نے قرآن کی مخالفت کی اور اسے پس پشت ڈال دیا، کیا تمہارا ارادہ ہے کہ قرآن سے اعراض اور روگردانی


کرلو؟ یا قرآن کے علاوہ کسی اور ذریعے سے قضاوت اور فیصلے کرتا چاہتے تو؟ لیکن تم کو علم ہونا چاہیئے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اختیار کرے گا وہ قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا، اتنا صبر بھی نہ کرسکے کہ وہ فتنے کی آگ کو خاموش کرے اور اس کی قیادت آسان ہوجائے بلکہ آگ کو تم نے روشن کیا اور شیطان کی دعوت کو قبول کرلیا اور دین کے چراغ اور سنت رسول خدا(ص) کے خاموش کرنے میں مشغول ہوگئے ہو_ کام کو الٹا ظاہر کرتے ہو اور پیغمبر(ص) کے اہلبیت کے ساتھ مکر و فریب کرتے ہو، تمہارے کام اس چھری کے زخم اور نیزے کے زخم کی مانند ہیں جو پیٹ کے اندر واقع ہوئے ہوں_

کیا تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ ہم پیغمبر(ص) سے میراث نہیں لے سکتے، کیا تم جاہلیت کے قوانین کی طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانکہ اسلام کے قانون تمام قوانین سے بہتر ہیں، کیا تمہیں علم نہیں کہ میں رسول خدا(ص) کی بیٹی ہوں کیوں نہیں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب کی طرح یہ روشن ہے_ مسلمانوں کیا یہ درست ہے کہ میں اپنے باپ کی میراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبکر آیا خدا کی کتاب میں تو لکھا ہے کہ تم اپنے باپ سے میراث لو اور میں اپنے باپ کی میراث سے محروم رہوں؟ کیا خدا قرآن میں نہیں کہتا کہ سلیمان داود کے وارث ہوئے_

''ورث سلیمان داؤد''

کیا قرآن میں یحیی علیہ السلام کا قول نقل نہیں ہوا کہ خدا سے انہوں نے عرض کی پروردگار مجھے فرزند عنایت فرما تا کہ وہ میرا وارث


قرار پائے او آل یعقوب کا بھی وارث ہو_

کیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا کہ بعض رشتہ دار بعض دوسروں کے وارث ہوتے ہیں؟ کیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا کہ اللہ نے حکم دیا کہ لڑکے، لڑکیوں سے دوگنا ارث لیں؟ کیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا کہ تم پر مقرر کردیا کہ جب تمہارا کوئی موت کے نزدیک ہو تو وہ ماں، باپ اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے کیونکہ پرہیزگاروں کے لئے ایسا کرنا عدالت کا مقتضی ہے_

کیا تم گمان کرتے ہو کہ میں باپ سے نسبت نہیں رکھتی؟ کیا ارث والی آیات تمہارے لئے مخصوص ہیں اور میرے والد ان سے خارج ہیں یا اس دلیل سے مجھے میراث سے محروم کرتے ہو جو دو مذہب کے ایک دوسرے سے میراث نہیں لے سکتے؟ کیا میں اور میرا باپ ایک دین پر نہ تھے؟ آیا تم میرے باپ اور میرے چچازاد علی (ع) سے قرآن کو بہتر سمجھتے ہو؟

اے ابوبکر فدک اور خلافت تسلیم شدہ تمہیں مبارک ہو، لیکن قیامت کے دن تم سے ملاقات کروں گی کہ جب حکم اور قضاوت کرنا خدا کے ہاتھ میں ہوگا اور محمد(ص) بہترین پیشوا ہیں_

اے قحافہ کے بیٹھے، میرا تیرے ساتھ وعدہ قیامت کا دن ہے کہ جس دن بیہودہ لوگوں کا نقصان واضح ہوجائے گا اور پھر پشیمان ہونا فائدہ نہ دے گا بہت جلد اللہ تعالی کے عذاب کو دیکھ لوگے آپ اس کے بعد انصار کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:

اے ملت کے مددگار جوانو اور اسلام کی مدد کرنے والو کیوں حق


کے ثابت کرنے میں سستی کر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت میں ہو؟ کیا میرے والد نے نہیں فرمایا کہ کسی کا احترام اس کی اولاد میں بھی محفوظ ہوتا ہے یعنی اس کے احترام کی وجہ سے اس کی اولاد کا احترام کیا کرو؟ کتنا جلدی فتنہ برپا کیا ہے تم نے؟ اور کتنی جلدی ہوی اور ہوس میں مبتلا ہوگئے ہو؟ تم اس ظلم کے ہٹانے میں جو مجھ پر ہوا ہے قدرت رکھتے ہو اور میرے مدعا اور خواستہ کے برلانے پر طاقت رکھتے ہو_ کیا کہتے ہو کہ محمد(ص) مرگئے؟ جی ہاں لیکن یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے کہ ہر روز اس کا شگاف بڑھ رہا ہے اور اس کا خلل زیادہ ہو رہا ہے_ آنجناب(ص) کی غیبت سے زمین تاریک ہوگئی ہے سورج اور چاند بے رونق ہوگئے ہیں آپ کی مصیبت پر ستارے تتربتر ہوگئے ہیں، امیدیں ٹوٹ گئیں، پہاڑ متزلزل اور ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں پیغمبر(ص) کے احترام کی رعایت نہیں کی گئی، قسم خدا کی یہ ایک بہت بڑی مصیبت تھی کہ جس کی مثال ابھی تگ دیکھی نہیں گئی اللہ کی کتاب جو صبح اور شام کو پڑھی جا رہی ہے آپ کی اس مصیبت کی خبر دیتی ہے کہ پیغمبر(ص) بھی عام لوگوں کی طرح مریں گے، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ محمد(ص) بھی گزشتہ پیغمبروں کی طرح ہیں، اگر آپ(ص) مرے یا قتل کئے گئے تو تم دین سے پھر جاوگے، جو بھی دین سے خارج ہوگا وہ اللہ پر کوئی نقصان وارد نہیں کرتا خدا شکر ادا کرنے والوں کو جزا عنایت کرتا ہے(۱) _

اے فرزندان قبلہ: آیا یہ مناسب ہے کہ میں باپ کی میراث سے محروم

____________________

۱) سورہ آل عمران_


رہوں جب کہ تم یہ دیکھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور یہاں موجود ہو میری پکار تم تک پہنچ چکی ہے اور تمام واقعہ سے مطلع ہو، تمہاری تعداد زیادہ ہے اور تم طاقت ور اور اسلحہ بدست ہو، میرے استغاثہ کی آواز تم تک پہنچتی ہے لیکن تم اس پر لبیک نہیں کہتے میری فریاد کو سنتے ہو لیکن میری فریاد رسی نہیں کرتے تم بہادری میں معروف اور نیکی اور خیر سے موصوف ہو، خود نخبہ ہو اور نخبہ کی اولاد ہو تم ہم اہلبیت کے لئے منتخب ہوئے ہو، عربوں کے ساتھ تم نے جنگیں کیں سختیوں کو برداشت کیا، قبائل سے لڑے ہو، بہادروں سے پنجہ آزمائی کی ہے جب ہم اٹھ کھڑے ہوتے تھے تم بھی اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم حکم دیتے تھے تم اطاعت کرتے تھے اسلام نے رونق پائی اور غنائم زیادہ ہوئے اور مشرکین تسلیم ہوگئے اور ان کا جھوٹا وقار اور جوش ختم ہوگیا اور دین کا نظام مستحکم ہوگیا_

اے انصار متحیر ہوکر کہاں جارہے ہو؟ حقائق کے معلوم ہو جانے کے بعد انہیں کیوں چھپانے ہو؟ کیوں ایمان لے آنے کے بعد مشرک ہوئے ہو؟ برا حال ہو ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے ایمان اور عہد اور پیمان کو توڑا ڈالا ہو اور ارادہ کیا ہو کہ رسول خدا(ص) کو شہر _ بدر کریں اور ان سے جنگ کا آغاز کریں کیا منافقین سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ تمہیں تو صرف خدا سے ڈرنا چاہیئے تھا_ لوگو میں گویا دیکھ رہی کہ تم پستی کی طرف جارہے ہو، اس آدمی کو جو حکومت کرنے کا اہل ہے اسے دور ہٹا رہے ہو اور تم گوشہ میں بیٹھ کر عیش اور نوش


میں مشغول ہوگئے ہو زندگی اور جہاد کے وسیع میدان سے قرار کر کے راحت طلبی کے چھوٹے محیط میں چلے گئے ہو، جو کچھ تمہارے اندر تھا اسے تم نے ظاہر کردیا ہے اور جو کچھ پی چکے تھے اسے اگل دیا ہے لیکن آگاہ رہو اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کافر ہوجائیں تو خدا تمہارا محتاج نہیں ہے_

اے لوگو جو کچھ مجھے کہنا چاہیئے تھا میں نے کہہ دیا ہے حالانکہ میں جانتی ہوں کہ تم میری مدد نہیں کروگے_ تمہارے منصوبے مجھ سے مخفی نہیں، لیکن کیا کروں دل میں ایک درد تھا کہ جس کو میں نے بہت ناراحتی کے باوجود ظاہر کردیا ہے تا کہ تم پر حجت تمام ہوجائے_ اب فدک اور خلافت کو خوب مضبوطی سے پکڑے رکھو لیکن تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس میں مشکلات اور دشواریاں موجود ہیں اور اس کا ننگ و عار ہمیشہ کے لئے تمہارے دامن پہ باقی رہ جائے گا، اللہ تعالی کا خشم اور غصہ اس پر مزید ہوگا اور اس کی جزا جہنم کی آگ ہوگی اللہ تعالی تمہارے کردار سے آگاہ ہے، بہت جلد ستم گار اپنے اعمال کے نتائج دیکھ لیں گے_ لوگو میں تمہارے اس نبی کی بیٹی ہوں کہ جو تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتا تھا_ جو کچھ کرسکتے ہو اسے انجام دو ہم بھی تم سے انتقام لیں گے تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں(۱) _

____________________

۱) احتجاج طبرسی، طبع نجف ۱۳۸۶ ھ ج ۱ ۱۳۱_۱۴۱ _ شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۱_ کتاب بلاغات النسائ، تالیف احمد بن طاہر، متولد ۲۰۴ ہجری ص ۱۲_ کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۶_


خلیفہ کا ردّ عمل

حضرت زہرا (ع) نے اپنے آتشین بیان کو ہزاروں کے مجمع میں جناب ابوبکر کے سامنے کمال شجاعت سے بیان کیا اور اپنی مدلل اور مضبوط تقریر میں جناب ابوبکر سے فدک لینے کی وضاحت طلب کی اور ان کے ناجائز قبضے کو ظاہر کیا اور جو حقیقی خلیفہ تھے ان کے کمالات اور فضائل کو بیان فرمایا_

لوگ بہت سخت پریشان ہوئے اور اکثر لوگوں کے افکار جناب زہراء (ع) کے حق میں ہوگئے_ جناب ابوبکر بہت کشمکش__ _ میں گھر گئے تھے، اگر وہ عام لوگوں کے افکار کے مطابق فیصلہ دیں اور فدک جناب زہراء (ع) کو واپس لوٹا یں تو ان کے لئے دو مشکلیں تھیں_

ایک: انہوں نے سوچاگہ اگر حضرت زہراء (ع) اس معاملے میں کامیاب ہوگئیں اور ان کی بات تسلیم کرلی گئی تو ''انہیں اس کا ڈر ہوا کہ'' کل پھر آئیں گی اور خلافت اپنے شوہر کو دے دینے کا مطالبہ کریں گی اور پھر پر جوش تقریر سے اس کا آغاز کریں گے_

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ میں نے علی بن فاروقی سے جو مدرسہ غربیہ بغداد کے استاد تھے عرض کی آیا جناب فاطمہ (ع) اپنے دعوے میں سچی تھیں یا نہ، انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ جناب ابوبکر انہیں سچا جانتے تھے ان کو فدک واپس کیوں نہ کیا؟ استاد ہنسے اور ایک عمدہ جواب دیا اور کہا اگر اس دن فدک فاطمہ (ع) کو واپس کردیتے تو دوسرے دن وہ واپس آتیں اور خلافت کا اپنے شوہر کے لئے مطالبہ کردیتیں اور جناب ابوبکر


کو خلافت کے مقام سے معزول قرار دے دیتیں کیونکہ جب پہلے سچی قرار پاگئیں تو اب ان کے لئے کوئی عذر پیش کرنا ممکن نہ رہتا(۱) _

دوسرے: اگر جناب ابوبکر جناب فاطمہ (ع) کی تصدیق کردیتے تو انہیں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑتا اس طرح سے خلافت کے آغاز میں ہی اعتراض کرنے والوں کا دروازہ کھل جاتا اور اس قسم کا خطرہ حکومت اور خلافت کے لئے قابل تحمل نہیں ہوا کرتا_

بہرحال جناب ابوبکر اس وقت ایسے نظر نہیں آرہے تھے کہ وہ اتنی جلدی میدان چھوڑ جائیں گے البتہ انہوں نے اس قسم کے واقعات کے رونما ہونے کی پہلے سے پیشین گوئی کر رکھی تھی آپ نے سوچا اس وقت جب کہ موجودہ حالات میں ملت کے عمومی افکار کو جناب زہراء (ع) نے اپنی تقری سے مسخر کرلیا ہے یہ مصلحت نہیں کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے لیکن اس کے باوجود اس کا جواب دیا جانا چاہیئے اور عمومی افکار کو ٹھنڈا کیا جائے، بس کتنا___ اچھا ہے کہ وہی سابقہ پروگرام دھرایا جائے اور عوام کو غفلت میں رکھا جائے اور دین اور قوانین کے اجراء کے نام سے جناب فاطمہ (ع) کو چپ کرایا جائے اور اپنی تقصیر کو ثابت کیا جائے، جناب ابوبکر نے سوچا کہ دین کی حمایت اور ظاہری دین سے دلسوزی کے اظہار سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعے ہر چیز کو یہاں تک کہ خود دین کو بھی نظرانداز کرایا جاسکتا ہے_ جی ہاں دین سے ہمدردی کے مظاہرے سے دین کے ساتھ دنیا میں مقابلہ کیا جاتا ہے_

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۸۴_


جناب ابوبکر کا جواب

رسول اللہ (ص) کی بیٹی کے قوی اور منطقی اور مدلل دلائل کے مقابلے میں جناب ابوبکر نے ایک خاص رویہ اختیار کیا اور کہا کہ اے رسول خدا(ص) کی دختر آپ کے باپ مومنین پر مہربان اور رحیم اور بلاشک محمّد(ص) آپ کے باپ ہیں اور کسی عورت کے باپ نہیں اور آپ کے شوہر کے بھائی ہیں اور علی (ع) کو تمام لوگوں پر ترجیح دیا کرتے تھے، جو شخص آپ کو دوست رکھے گا وہی نجات پائے گا اور جو شخص آپ سے دشمنی کرے گا وہ خسارے میں رہے گا، آپ پیغمبر(ص) کی عترت ہیں، آپ نے ہمیں خیر و صلاح اور بہشت کی طرف ہدایت کی ہے، اے عورتوں میں سے بہترین عورت اور بہتر پیغمبر(ص) کی دختر، آپ کی عظمت اور آپ کی صداقت اور فضیلت اور عقل کسی پر مخفی نہیں ہے_ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آپ کو آپ کے حق سے محروم کرے، لیکن خدا کی قسم میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان سے تجاوز نہیں کرتا جو کام بھی انجام دیتا ہوں آپ کے والد کی اجازت سے انجام دیتا ہوں قافلہ کا سردار تو قافلے سے جھوٹ نہیں بولتا خدا کی قسم میں نے آپ کے والد سے سنا ہے کہ فرما رہے تھے کہ ہم پیغمبر(ص) سوائے علم و دانش اور نبوت کے گھر اور جائیدار و وراثت میں نہیں چھوڑتے جو مال ہمارا باقی رہ جائے وہ مسلمانوں کے خلیفہ کے اختیار میں ہوگا، میں فدک کی آمدنی سے اسلحہ خریدتا ہوں اور کفار سے جنگ کرونگا، مبادا آپ کو خیال ہو کہ میں نے تنہا فدک پر قبضہ کیا ہے بلکہ اس اقدام میں تمام مسلمان میرے


موافق اور شریک ہیں، البتہ میرا ذاتی مال آپ کے اختیار میں ہے جتنا چاہیں لے لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں، کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے والد کے دستورات کی مخالفت کروں؟

جناب فاطمہ (ع) کاجواب

جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوبکر کی اس تقریر کا جواب دیا_ سبحان اللہ، میرے باپ قرآن مجید سے روگردانی نہیں کرسکتے اور اسلام کے احکام کی مخالفت نہیں کرتے کیا تم نے اجماع کرلیا ہے کہ خلاف واقع عمل کرو اور پھر اسے میرے باپ کی طرف نسبت دو؟ تمہارا یہ کام اس کام سے ملتا جلتا ہے جو تم نے میرے والد کی زندگی میں انجام دیا_ کیا خدا نے جناب زکریا کا قول قرآن میں نقل نہیں کیا جو خدا سے عرض کر رہے تھے،

فهب لی یرثنی و یرث من آل یعقوب (۱) _

خدایا مجھے ایسا فرزند دے جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث ہو_ کیا قرآن میں یہ نہیں ہے_

ورث سلیمان داؤد (۲) _

سلیمان داؤد کے وارث ہوئے_ کیا قرآن میں وراثت کے احکام موجود نہیں ہیں؟ کیوں نہیں، یہ تمام مطالب قرآن میں موجود ہیں اور تمہیں بھی اس

____________________

۱) سورہ مریم آیت۶_

۲) سورہ نمل آیت ۱۶_


کی اطلاع ہے لیکن تمہارا ارادہ عمل نہ کرنے کا ہے اور میرے لئے بھی سواے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں_

جناب ابوبکر نے اس کا جواب دیا کہ خدا رسول (ص) اور تم سچ کہتی ہو، لیکن یہ تمام مسلمان میرے اور اپ کے درمیان فیصلہ کریں گے کیونکہ انہوں نے مجھے خلافت کی کرسی پر بٹھایا ہے اور میں نے ان کی رائے پر فدک لیا ہے(۱) _

جناب ابوبکر نے ظاہرسازی اور عوام کو خوش کرنے والی تقریر کر کے ایک حد تک عوام کے احساسات اور افکار کو ٹھنڈا کردیا اور عمومی افکار کو اپنی طررف متوجہ کرلیا_

جناب خلیفہ کا ردّ عمل

مجلس در ہم برہم ہوگئی لیکن پھر بھی اس مطلب کی سر و صدا خاموش نہ ہوئی اور اصحاب کے درمیان جناب زہراء (ع) کی تقریر کے موضوع پر گفتگو شروع ہوگئی اور اس حد تک یہ مطلب موضوع بحث ہوگیا کہ جناب ابوبکر مجبور ہوگئے کہ ملت سے تہدید اور تطمیع سے پیش آئیں_

لکھا ہے کہ جناب زہراء (ع) کی تقریر نے مدینہ کو جو سلطنت اسلامی کا دارالخلافة تک منقلب کردیا_ لوگوں کے اعتراض اور گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں لوگ اتنا روئے کہ اس سے پہلے اتنا کبھی نہ روئے تھے_

____________________

۱) احتجاج طبرسی، ج ۱ ص ۱۴۱_


جناب ابوبکر نے جناب عمر سے کہا تم نے فدک فاطمہ (ع) کو دے دینے سے مجھے کیوں روکا اور مجھے اس قسم کی مشکل میں ڈال دیا؟ اب بھی اچھا ہے کہ ہم فدک کو واپس کردیں اور اپنے آپ کو پریشانی میں نہ ڈالیں_

جناب عمر نے جواب دیا _ فدک کے واپس کردینے میں مصلحت نہیں اور یہ تم جان لو کہ میں تیرا خیرخواہ اور ہمدرد ہوں_ جناب ابوبکر نے کہا کہ لوگوں کے احساسات جو ابھرچکے ہیں ان سے کیسے نپٹا جائے انہوں نے جواب دیا کہ یہ احساسات وقتی اور عارضی ہیں اور یہ بادل کے ٹکڑے کے مانند ہیں_ تم نماز پڑھو، زکوة دو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، مسلمانوں کے بیت المال میں اضافہ کرو اور صلہ رحمی بجالاؤ تا کہ خدا تیرے گناہوں کو معاف کردے، اس واسطے کہ خدا قرآن میں فرماتا ہے، نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں_ حضرت ابوبکر نے اپنا ہاتھ جناب عمر کے کندھے پر رکھا اور کہا شاباش تم نے کتنی مشکل کو حل کردیا ہے_

اس کے بعد انہوں نے لوگوں کو مسجد میں بلایا اور ممبر پر جاکر اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد کہا، لوگو یہ آوازیں اور کام کیا ہیں ہر کہنے والا آرزو رکھتا ہے، یہ خواہشیں رسول(ص) کے زمانے میں کب تھیں؟ جس نے سنا ہو کہے اس طرح نہیں ہے بلکہ یہ اس کا مطالبہ اس لومڑی جیسے ہے کہ جس کی گواہ اس کی دم تھی_

اگر میں کہنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں اور اگر کہوں تو بہت اسرار واضح کردوں، لیکن جب تک انہیں مجھ سے کوئی کام نہیں میں ساکت رہوں گا، اب لڑی سے مدد لے رہے ہیں اور عورتوں کو ابھار رہے ہیں_


اے رسول خدا(ص) کے اصحاب مجھے بعض نادانوں کی داستان پہنچی ہے حالانکہ تم اس کے سزاوار ہو کہ رسول خدا(ص) کے دستور کی پیروی کرو تم نے رسول(ص) کو جگہ دی تھی اور مدد کی تھی اسی لئے سزاوار ہے کہ تم رسول خدا(ص) کے دستور سے انحراف نہ کرو_ اس کے باوجود کل آنا اور اپنے وظائف اور حقوق لے جانا اور جان لو کہ میں کسی کے راز کو فاش نہیں کروں گا اور ہاتھ اور زبان سے کسی کو اذیت نہیں دوں گا مگر اسے جو سزا کا مستحق ہوگا(۱) _

جناب ام سلمہ(ع) کی حمایت

اس وقت جناب امّ سلمہ (ع) نے اپنا سر گھر سے باہر نکالا اور کہا اے ابوبکر، آیا یہ گفتگو اس عورت کے متعلق کر رہے ہو جسے فاطمہ (ع) کہتے ہیں اور جو انسانوں کی شکل میں حور ہے، اس نے پیغمبر(ص) کے دامن میں پرورش پائی اور فرشتوں سے مصافحہ کرتی تھی، اور پاکیزہ گود میں پرورش پائی ہے اور بہترین ماحول میں ہوش سنبھالا ہے_ آیا گمان کرتے ہو کہ رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو ارث سے محروم کیا ہے، لیکن خود اس کو نہیں بتلایا؟ حالانکہ خدا پیغمبر(ص) کو حکم دیتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں کو انذاز کرو اور ڈراؤ یا تم احتمال دیتے ہو کہ پیغمبر(ص) نے تو اسے بتلایا ہو لیکن وہ اس کے باوجود وراثت کا مطالبہ کر رہی ہو، حالانکہ وہ عالم کی عورتوں سے بہترہے اور بہترین جوانوں کی ماں ہے

____________________

۱) دلائل الامامہ، ص ۳۸_


اور جناب مریم کے ہم پایہ ہے اور اس کا باپ خاتم پیغمبران ہے، خدا کی قسم رسول خدا(ص) فاطمہ (ع) کی گرمی اور سردی سے حفاظت کیا کرتے تھے اور سوتے وقت اپنا دایاں ہاتھ فاطمہ (ع) کے نیچے اور بایاں ہاتھ اس کے جسم پر رکھتے کرتے تھے، ذرا نرم ہوجاؤ اور آہستہ رونیؤ، ابھی تو رسول خدا(ص) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جلد ہی تم خدا کے حضور وارد ہوگے اور اپنے کئے کا نتیجہ دیکھو گے_ جناب امّ سلمہ نے جناب فاطمہ (ع) کی حمایت کی لیکن انہیں ایک سال تک حقوق سے محروم کردیا گیا(۱) _

قطع کلامی

جناب زہراء (ع) نے ارادہ کرلیا کہ اس کے باوجود بھی اپنے مبارزے کو باقی رکھیں، اپنے اس پروگرام کے لئے انہوں نے قطع کلام کرنے کا فیصلہ کرلیا اور رسمی طور پر جناب ابوبکر کے متعلق اعلان کر دیا کہ اگر تم میرا فدک واپس نہیں کروگے تو میں تم سے جب تک زندہ ہوں گفتگو اور کلام نہیں کروں گی_ آپ کا جہاں کہیں بھی جناب ابوبکر سے آمنا سامنا ہوجاتا تو اپنا منھ پھیر لیتیں اور ان سے کلام نہ کرتی تھیں(۲) _

مگر جناب فاطمہ (ع) ایک عام فرد نہ تھیں کہ اگر انہوں نے اپنے خلیفہ سے قطع کلامی کی تو وہ چندان اہمیت نہ رکھتی ہو؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزیز بیٹی رسول خدا(ص) کی حد سے زیادہ محبت کسی پر پوشیدہ نہ

____________________

۱) دلائل الامامہ، ص ۳۹_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۳_ شرح ابن ابی الحدید، ج ۶ ص ۴۶_


تھی _ آپ وہ ہے کہ جس کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے _ جو اسی اذیت دے اس نے مجھے اذیت دی ہے _(ا)

اور آپ فرماتے ہیں کہ فاطمہ (ع) ان عورتوں میں سے ہیں کہ جن کے دیدار کے لئے بہشت مشتاق ہے _(۲)

جی ہاں پیغمبر (ص) اور خدا کی محبوب خاتون نے جناب ابو بکر سے قطع کلامی کا مبارزہ کررہا ہے آپ ان سے بات نہیں کرتیں آہستہ آہستہ لوگوں میں شائع اور مشہور ہوگیا کہ پیغمبر(ص) کی دختر جناب ابوبکر سے رتھی ہوئی ہے اور ان پر خشمناک ہے _ مدینہ کے باہر بھی لوگ اس موضوع سے باخبر ہوچکے تھے تمام لوگ ایک دوسرے سے سؤال کرتے تھے کہ جنا ب فاطمہ (ع) کیوں خلیفہ کے ساتھ بات نہیں کرتیں ؟ ضرور اس کی وجہ وہی فدک کا زبردستی لے لینا ہوگا _ فاطمہ (ع) جھوٹ نہیں بولتیں اور اللہ تعالی کی مرضی کے خلاف کسی پر غضبناک نہیں ہوتیں کیونکہ پیغمبر خدا (ص) نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کی اگر فاطمہ (ع) غضب کرے تو خدا غضب کرتا ہے _

____________________

ا_ صحیح مسلم ، ج ۳ ص ۰۳ا_

۲_ کشف الغمہ ، ج ۲ ص ۹۲_

۳_ کشف الغمہ ، ج ۲ ص ۸۴_


اس طرح ملت اسلامی کے احساسات روزبروز وسیع سے وسیع تر ہو رہے تھے اور خلافت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا تھا_ خلافت کے کارکن یہ تو کرسکتے تھے کہ جناب فاطمہ (ع) کے قطع روابط سے چشم پوشی کرلیتے جتنی انہوں نے کوشش کی کہ شاید وہ صلح کرادیں ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا_ فاطمہ (ع) اپنے ارادے پر ڈٹی ہوئی تھیں اور اپنے منفی مبارزے کو ترک کرنے پر راضی نہ ہوتی تھیں_

جب جناب فاطمہ (ع) بیمار ہوئیں تو جناب ابوبکر نے کئی دفعہ جناب فاطمہ (ع) سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن اسے رد کردیا گیا، ایک دن جناب ابوبکر نے اس موضوع کو حضرت علی (ع) کے سامنے پیش کیا اور آپ سے خواہش کی آپ جناب فاطمہ (ع) کی عیادت کا وسیلہ فراہم کریں اور آپ سے ملاقات کی اجازت حاصل کریں_ حضرت علی علیہ السلام جناب فاطمہ (ع) کے پاس گئے اور فرمایا اے دختر رسول(ص) جناب عمر اور ابوبکر نے ملاقات کی اجازت چاہی ہے آپ اجازت دیتی ہیں کہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں، جناب زہرا (ع) حضرت علی (ع) کے مشکلات سے آگاہ تھیں آپ نے جواب دیا، گھر آپ کا ہے اور میں آپ کے اختیار میں ہوں جس طرح آپ مصلحت دیکھیں عمل کریں یہ فرمایا اور اپنے اوپر چادران لی اور اپنے منھ کو دیوار کی طرف کردیا_

جناب ابوبکر اور عمر گھر میں داخل ہوئے اور سلام کیا اور عرض کی اے پیغمبر(ص) کی دختر ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں آپ سے خواہش کرتے ہیں کہ آپ ہم سے راضی ہوجائیں آپ نے فرمایا کہ میں ایک بات تم سے پوچھتی ہوں اس کا مجھے جواب دو، انہوں نے عرض کی فرمایئےآپ نے فرمایا تمہیں خدا کی قسم دیتی ہوں___ کہ آیا تم نے میرے باپ سے یہ سنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ


فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے جو اسے اذیت دے اس نے مجھے اذیت دی ہے انہوں نے عرض کیا ہاں ہم نے یہ بات آپ کے والدسے سنی ہے اس وقت آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا اے میرے خدا گواہ رہ کہ ان دو آدمیوں نے مجھے اذیت دی ہے ان کی شکایت تیری ذات اور تیرے پیغمبر(ص) سے کرتی ہوں میں_ ہرگز راضی نہ ہوں گی یہاں تک کہ اپنے بابا سے جاملوں اور وہ اذیتیں جو انہوں نے مجھے دی ہیں ان سے بیان کروں تا کہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں جناب ابوبکر جناب زہرا (ع) کی یہ بات سننے کے بعد بہت غمگین اور مضطرب ہوئے لیکن جناب عمر نے کہا اے رسول (ص) کے خلیفہ، ایک عورت کی گفتگو سے ناراحت ہو رہے ہو(۱) _

یہاں پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ بات آسکتی ہے کہ وہ کہیں کہ گرچہ جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) سے فدک لے کر اچھا کام نہیں کیا تھا لیکن جب وہ پشیمانی اور ندامت کا اظہار کر رہے ہیں تو اب مناسب یہی تھا کہ ان کا عذر قبول کرلیا جاتا لیکن اس نکتہ سے غافل نہیں رہتا چاہیئے کہ حضرت زہرا (ع) کے مبارزے کی اصلی علت اور وجہ خلافت تھی فدک کا زبردستی لے لینا اس کے ذیل میں آتا تھا اور خلافت کا غصب کرنا ایسی چیز نہ تھی کہ جسے معاف کیا جاسکتا ہو اور اس سے چشم پوشی کی جاسکتی ہو اور پھر جناب زہراء (ع) جانتی تھیں کہ حضرت ابوبکر یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں تا کہ اس اقدام سے عوام کو دھوکہ میں رکھا جاسکے اور وہ اپنے کردار پر نادم اور پشیمان نہ تھے کیونکہ ندامت کا طریقہ عقلا کے لحاظ سے یہ تھا کہ وہ حکم دیتے کہ فدک کو فوراً جناب فاطمہ (ع) کے حوالے

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۸_


کردو اور اس کے بعد آپ آتے اور معاف کردینے کی خواہش کرتے اور کہتے کہ ہم اپنے اس اقدام پر پشیمان اور نادم ہوچکے ہیں تو اس بات کو صداقت پر محمول کیا جاسکتا تھا_

شب میں تدفین

جناب زہراء (ع) اپنے ہدف اور مقصد میں اس قدر استقامت رکھتی تھیں کہ اس کے لئے اپنی زندگی کی آخری گھڑی میں بھی مبارزہ کرتی گئیں بلکہ اپنے مبارزہ کا دامن قیامت تک پھیلا گئیں پڑھنے والوں کو تعجب ہوگا کہ کسی شخص کے لئے کیسے ممکن ہوگا کہ وہ اپنے مبارزہ اور مقابلے کو موت کے بعد بھی باقی رکھے، لیکن فاطمہ (ع) کہ جس نے وحی کے گھر میں تربیت حاصل کی تھی ایک ایسا منصوبہ بتایا تا کہ ان کا مبارزہ اور مقابلہ موت کے وقت تک ختم نہ ہوجائے_ جناب زہراء (ع) نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنے شوہر علی (ع) کو بلایا اور وصیت کی اے علی (ع) مجھے رات کو غسل دیتا اور رات کو کفن دینا اور مخفی طور پر دفن کرنا_ میں راضی نہیں ہوں کہ جن لوگوں نے میرا پہلو زخمی کیا ہے جس سے میرا بچہ ساقط ہوا اور میرے مال پر قبضہ کرلیا ہے وہ میرے جنازے کی تشیع کریں_ میری قبر کو بھی چھپاکر رکھنا_ حضرت علی (ع) نے بھی جناب زہراء (ع) کی وصیت کے مطابق آپ کو رات میں دفن کیا اور آپ کی قبر کو ہموار کردیا اور چالیس قبریں نئی بنائیں کہ کہیں آپ کی قبر پہچانی نہ جائے(۱) _

حضرت زہراء (ع) نے اس منصوبے اور نقشے سے اپنے حریف پر آخری وار

____________________

۱) دلائل الامامہ_ مناقب ابن شہر آشوب، ج ۳ ص ۳۶۳_


کیا اور ایک زندہ اور مضبوط سند اپنی مظلومیت اور حکومت کی زبردستی کے لئے ہمیشہ کے لئے باقی چھوڑ گئیں_

کیونکہ ہر مسلمان یہ چاہے گا کہ اسے علم ہو کہ پیغمبر اسلام(ص) کی عزیز بیٹی کی قبر کہاں ہے جب اسے معلوم ہوگا کہ اس کی قبر معلوم نہیں ہے تو پوچھے گا کیوں؟ جواب سنے گا خود جناب زہرا (ع) نے وصیت کی تھی کہ اس کی قبر مخفی رکھی جائے_ اس وقت اسے قبر کے مخفی ہونے کی علت معلوم ہوجائے گی اور سمجھ لے گا کہ آپ وقت کی خلافت سے ناراض تھیں اور آپ کا جنازہ اس محیط خفیہ آور میں دفن ہوا اس وقت سوچے گا کہ ہوسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) کی دختر ان فضائل اورکمالات کے باوجود اپنے باپ کے خلیفہ سے ناراض ہوں اور پھر اس کی خلافت بھی درست اور صحیح ہو؟ یہ چیز ممکن نہیں پس معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خلافت پیغمبر(ص) اور ان کے خاندان کے نظریئے کے خلاف واقع ہوئی تھی جو کسی طرح بھی صحیح قرار نہیں دی جاسکتی_

نتیجہ

گرچہ جناب ابوبکر جناب زہراء (ع) کے دلائل اور مبارزات کے سامنے ڈٹے رہے اور حاضر نہ ہوئے کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کو واپس کردیں لیکن انہی حضرت زہراء (ع) نے انہیں مبارزات کے ذریعے عالم اسلام پر خلافت اور حکومت کی زیادتیوں اور اپنی حقانیت کو ثابت کردیا_ یہی فدک خلافت کے لئے ایک بم اور مثل استخوان کے ثابت ہوا جوان کے گلے میں پھنس کررہ گیا بہت مدت تک وہ حکومت کا نقطہ ضعف اور ایک اہم پروپیگنڈا اس کے خلاف شمار ہوتا ر ہا کے حل سے عاجز تھے_ کبھی سادات کی موافقت


حاصل کرنے کے لئے فدک ان کو دے دیا جاتا تھا اور کبھی ان سے خشمناک ہوتے تھے تو واپس لے لیا جاتا تھا_ جب معاویہ کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو اس نے فدک ک ایک تہائی مروان کو اور ایک تہائی عمر بن عثمان کو اور ایک تہائی اپنے بیٹے یزید کو بخش دیا_ مروان کی خلافت کے زمانے میں پورا فدک اس کے اختیار میں تھا اور اس نے اسے اپنے بیٹے عبدالعزیز کو دے دیا عبدالعزیز نے اسے اپنے بیٹے عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا اور جب عمر بن عبدالعزیز خلافت پر متمکن ہوا تو فدک کو جناب حسن بن حسن یا علی بن الحسین کو واپس کردیا_

عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے دوران فدک جناب فاطمہ (ع) کی اولاد کے ہاتھ میں رہا اور جب یزید بن عاتکہ کو حاکم بنایاگیا تو اس نے فدک جناب فاطمہ (ع) کی اولاد سے لے لیا اور پھر بنی مروان کے قبضے میں دے دیا، یہ ان کے پاس رہا یہاں تک کہ خلافت ان کے ہاتھ سے نکل گئی_ جب صفّاح خلافت پر قابض ہوا تو اس نے فدک جناب عبداللہ بن حسن کو دے دیا اور جب ابوجعفر عباسی اولاد حسن پر غضبناک ہوا تو فدک ان سے واپس لے لیا اس کے بعد پھر مہدی عباسی نے فدک فاطمہ (ع) کی اولاد کو واپس کردیا، اس کے بعد موسی بن مہدی اور ہارون نے اسے واپس لے لیا اور اس کے پاس مامون کے حاکم بننے تک رہا اور اس نے پھر فاطمہ (ع) کی اولاد کو واپس کردیا_

ایک دن مامون قضاوت کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک خط اسے دیا گیا، جب اس نے اسے پڑھا تو رود یا اس کے بعد کہا کہ فاطمہ (ع) کا وکیل کون ہے اور کہاں ہے؟ ایک بوڑھا آدمی اٹھا اور اس کے نزدیک گیا_ مامون نے فدک کے بارے میں اس سے مباحثہ شروع کردیا وہ بوڑھا اس پر غالب آیا_ تو


مامون نے حکم دیا کہ فدک کو قبالہ کی صورت میں لکھ کر اسے دے دیا جائے اس کے بعد یہ فاطمہ (ع) کی اولاد کے پاس متوکل کے زمانے تک رہا اس نے فدک کو عبداللہ بن عمر بازیار کو دے دیا_

فدک میں خرما کے گیارہ درخت ایسے تھے کہ جنہیں خود رسول اللہ (ص) نے لگایا تھا فاطمہ (ع) کی اولاد ان د رختوں سے خرمالے کرحج کے موقع پر حاجیوں کو ہدیہ دیتیں اور حاجی ان کے عوض ان کی اچھی خاصی مدد کردیتے اور ان کے پاس اس ذریعہ سے اچھا خاصہ مال اکٹھا ہوجاتا_ عبداللہ بن عمر بازیار نے بشر ان بن ابی امیہ ثقفی کو بھیجا اور ان درختوں کو کٹوادیا(۱) _

جناب فاطمہ (ع) کے مبارزات کا ہی نتیجہ تھا کہ جناب عمر باوجود اس سختی کے جو اس کے وجود میں تھی، جناب فاطمہ (ع) کو صدقات مدینہ بلکہ جو بھی جناب فاطمہ (ع) کے ادّعا میں داخل تھے انہیں واپس کردیئےھے(۲) _

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۶_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۰_


حصہ ششم

جناب فاطمہ موت کے نزدیک


جناب فاطمہ (ع) باپ کی وفات کے بعد چند مہینے سے زیادہ زندہ نہیں رہیں، اور اسی طرح تھوڑی مدت میں بھی اتنا روئیں کہ آپ کو زیادہ رونے والوں میں سے ایک قرار دیا گیا آپ کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا گیا(۱) _

جناب زہرا (ع) کے رونے کے مختلف عوامل اور سبب تھے سب سے زیادہ اہم سبب کہ جو آپ کی غیور اور احساس روح کو ناراحت کرتا تھا وہ یہ تھا کہ آپ دیکھ رہی تھیں کہ اسلام کی جوان ملت اپنے حقیقی اور صحیح راستے سے ہٹ گئی ہے اور ایک ایسے راستے پر گامزن ہوگئی ہے کہ بدبختی اور تفرقے اس کا حتمی انجام ہے_

چونکہ حضرت زہرا (ع) نے اسلام کی ترقی، سریع اور پیشرفت کو دیکھا تھا آپ کو توقع تھی کہ اسی طرح اسلام ترقی کرے گا اور تھوڑی سی مدت میں کفر اور بت پرستی کو ختم کرکے رکھ دے گا اور ستم کا قلع قمع کردے گا، لیکن خلافت کے اصلی محور سے ہٹنے کی غیر متوقع صورت حال نے آپ کی امیدوں کے محل کو یکدم گرادیا_

____________________

۱) طبقات ابن سعد، ج ۲ ص ۸۵_


ایک دن جناب ام سلمہ جناب فاطمہ (ع) کے پاس آئیں اور عرض کی اے پیغمبر(ص) کی دختر آج رات صبح تک کیئے گزری؟ آپ نے فرمایا کہ غم و اندوہ میں کٹی_ بابا مجھ سے جدا ہوگئے اور شوہر کی خلافت لے لی گئی اللہ اور رسول (ص) کے دستور کے خلاف امامت اور خلافت کو علی سے چھپناگیا کیوں کہ لوگوں کو علی (ع) سے کینہ تھا چوں کہ وہ ان لوگوں کے آباء و اجداد کو بدر کی جنگ میں قتل کرچکے تھے(۱) _

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) نے ایک دن اپنے باپ کی قمیص مجھ سے طلب کی جب میں نے ان کی قمیص انہیں دی تو اسے ا؟ نے سونگھا اور رونا شروع کردیا اور اتنا روئیں کہ آپ بیہوش ہوگئیں میں نے جب یہ حالت دیکھی تو میں نے آپ کی قمیص ان سے چھپادی(۲) _

روایت میں ہے کہ جب پیغمبر(ص) وفات پاگئے تو بلال نے جو آپ کے مخصوص موذن تھے اذان دینی بند کردی تھی ایک دن جناب فاطمہ (ع) نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپ کے موذن کی اذان سنو_ بلال نے جناب فاطمہ (ع) کے حکم پر اذان دینی شروع کی اور اللہ اکبر کہا، جناب فاطمہ (ع) کو اپنے باپ کے زمانے کی یا آگئی اور رونے پر قابو نہ پاسکیں اور جب بلال نے اشہد ان محمداً رسول اللہ کہا تو جناب فاطمہ (ع) نے باپ کے نام سننے پر ایک چیخ ماری اور غش کرگئیں_ بلال کو خبر دی گئی کہ آذان دینا بند کردو کیونکہ فاطمہ (ع) بیہوش ہوگئیں ہیں_ بلال نے آذان روک دی جب جناب فاطمہ (ع) کو ہوش آیا تو بلال سے کہا کہ اذان کو پورا کرو انہوں نے عرض کی کہ آپ اگر اجازت دیں

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۵۶_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۷۵_


تو باقی اذان نہ کہوں کیوں کہ مجھے آپ کے بے ہوش ہونے کا خوف ہے(۱) _

جناب فاطمہ (ع) اتنا روئیں کہ آپ کے رونے سے ہمسائے تنگ آگئے وہ حضرت علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہمارا سلام جناب فاطمہ (ع) کو پہنچادیں اور ان سے کہیں کہ یا رات کو روئیں اور دن کو آرام کریں یا دن کو روئیں اور رات کو آرام کریں کیونکہ آپ کے رونے ہمارا آرام ختم کردیا ہے جناب فاطمہ (ع) نے ان کے جواب میں فرمایا کہ میری عمر ختم ہونے کو ہے میں زیادہ دنوں تک تم میں موجود نہ رہوں گی_ آپ دن میں امام حسن (ع) اور حسین (ع) کا ہاتھ پکڑتیں اور جناب رسول خدا (ص) کی قبر پر چلی جاتیں اور وہاں رویا کرتیں اور اپنے بیٹوں سے کہتیں میرے پیارو یہ تہارے نانا کی قبر ہے کہ جو تمہیں کندھے پر اٹھایا کرتے تھے اور تمہیں دوست رکھتے تھے اس کے بعد آپ بقیع کے قبرستان میں شہداء کی قبر پر جاتیں اور صدر اسلام کے سپاہیوں پر گریہ کرتیں حضرت علی (ع) نے آپ کے آرام کے لئے بقیع میں سائبان بنادیا تھا کہ جسے بعد میں بیت الحزن کے نام سے پکارا جانے لگا(۲) _

انس کہتا ہے کہ جب ہم پیغمبر (ص) کے دفن سے فارغ ہوچکے اور گھر واپس لوٹ آئے تو جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا اے انس کس طرح راضی ہوئے کہ پیغمبر(ص) کے بدن پر مٹی ڈالو(۳) _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۵۷_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۷۷_

۳) اسد الغابة ابن اثیر، ج ۵ ص ۵۲۴_ طبقات ابن سعد ج ۲ رقم ۲ ص ۸۳_


محمود بن بسید کہتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) اپنے والد کی وفات کے بعد جناب حمزہ کی قبر پر گریہ کرتی تھیں ایک دن میرا گزر احد کے شہدا سے ہوا تو میں نے فاطمہ (ع) کو دیکھا کہ جناب حمزہ کی قبر پر بہت سخت گریہ کر رہی ہیں میں نے صبر کیا یہاں تک کہ آپ نے توقف کیا، میں سامنے گیا اور سلام کیا اور عرض کی اے میری سردار آپ نے اپنے اس جانگداز گریہ سے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے حق پہنچتا ہے کہ اس طرح کا گریہ کروں کیونکہ میں نے کیسا مہربان باپ اور پیغمبروں میں بہترین پیغمبر اپنے ہاتھ سے کھودیا ہے، کتنا آپ کی زیارت کا مجھ میں شوق موجود ہے_ میں نے عرض کی اے میری سردار میں دوست رکھتا ہوں کہ آپ سے ایک مسئلہ پوچھوں آپ نے فرمایا کہ پوچھو_ میں نے عرض کیا رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں حضرت علی (ع) کی امامت کی تصریح کردی تھی آپ نے فرمایا تعجب ہے_ کیا تم نے غدیر کا واقعہ بھلادیا ہے؟ میں نے عرض کی کہ غدیر کا واقعہ تو میں جانتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں یہ معلوم کروں کہ جناب رسول خدا(ص) نے اس بارے میں آپ سے کیا فرمایا ہے_ آپ نے فرمایا خدا گواہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میرے بعد علی (ع) میرا خلیفہ اور امام ہے اگر اس کی اطلاعت کی تو ہدایت پاؤگے اور اگر اس کی مخالفت کی تو قیامت کے دن تک تم میں اختلاف موجود رہے گا(۱) _

____________________

۱) ریاحین الشریعہ، ج ۱ ص ۲۵۰_


فاطمہ (ع) بیماری کے بستر پر جناب امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب قنفذ کی ان ضربات سے جو اس نے جناب فاطمہ (ع) کے نازنین جسم پر لگائی تھیں آپ کے بچے کا اسقاط ہوگیا اور اسی وجہ _ سے آپ ہمیشہ بیمار اور ضعیف رہیں یہاں تک کہ آپ بالکل بستر سے لگ گئیں(۱) _

حضرت علی (ع) اور جناب اسماء بنت عمیس آپ کی تیمارداری کیا کرتے تھے(۲) _

ایک دن انصار اور مہاجرین کی عورتوں کی ایک جماعت آپ کی مزاج پرسی کے لئے حاضر ہوئی اور عرض کی اے رسول خدا(ص) کی دختر آپ کی حالت کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا قسم خدا کی میں دنیا سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی تمہارے مردوں سے جب ان کا امتحان کرچکی ہوں تو دلگیر ہوں اور انہیں دور پھینک دیا ہے اور ان کے ہاتھ سے ملول خاطر ہوں_ ان کی متزلزل رائے اور سست عقیدہ اور ان کی بے حالی پر اف ہو_ کتنا برا انہوں نے کام انجام دیا ہے اور غضب الہی کے مستحق بنے ہیں؟ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہیں_ ہم نے خلافت اور امامت کو ان کے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے_ لیکن اس کا عار اور ننگ ان کے دامن پر ہمیشہ رہے گا، ظلم کرنے والوں پر ذلت اور خواری ہوا کرتی ہے ان کی حالت پر افسوس اور روائے ہو_ کس طرح انہوں نے حضرت علی (ع) سے خلافت کو چھینا ہے خدا کی قسم ان کا علی (ع) سے دور ہٹنا اس کے

____________________

۱) دلائل امامہ ص ۴۵_ بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۷۰ ۱_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۱۱_


علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ حضرت علی (ع) کی کاٹنے والی تلوار اور بہادری اور خدا کی راہ میں سخت حملے کرنے سے خوش نہ تھے_

خدا کی قسم اگر خلافت علی (ع) کے ہاتھ سے نہ لی ہوتی اور علی (ع) ان کی حکومت کی زمام اپنے ہاتھ میں لے لیتے تو وہ بہت آسانی سے انہیں خوش بختی اور سعادت کی طرف ہدایت کرتے اور بہت جلد ریاست طلب کا متقی اور سچے کا جھوٹے سے امتیاز ہوجاتا بہت جلد ظالم اپنے اعمال کی سزا پالیتا، ان لوگوں کا کام بہت زیادہ تعجب آور ہے، ایسا کیوں کیا انہوں نے؟ کس دلیل پر انہوں نے اعتماد اور تکیہ کیا ہے؟ کون سی رسی سے تمسک کیا ہے؟ اور کس خاندان کے خلاف انہوں نے اقدام کیا ہے؟ علی (ع) کی جگہ کس کا انتخاب کیا ہے؟ خدا کی قسم علی (ع) کی جگہ اتنی لیاقت والے کو نہیں لائے؟ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے اچھا کام کیا ہے، حالانکہ انہوں نے غیر معقول کام انجام دیا ہے_ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ انہوں نے اصلاح کی جگہ فساد اور فتنے کو ایجاد کیا ہے_ آیا وہ شخص جو لوگوں کو ہدایت کی طرف لے جائے رہبری کے لئے بہتر ہے یا وہ شخص جو ابھی ہدایت پانے کا دوسروں کی طرف محتاج ہو تم کس طرح فیصلہ دیتی ہو؟ خدا کی قسم ان کے کردار اور آئندہ آنے والے حالات کا نتیجہ بعد میں ظاہر ہوگا لیکن تمہیں معلومم ہونا چاہیئے کہ سوائے تازہ خون اور قتل کرنے والے زہر کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا_

اس وقت ظلم کرنے والوں کا نقصان میں ہونا ظاہر ہوجائے گا_ اب تم ناگوار واقعات کے لئے تیار ہوجاؤ اور کاٹنے والی تلواروں اور دائمی گڑبڑ اور ڈکٹیٹر شپ کا انتظار کرو_ تمہارے بیت المال کو لوٹیں گے اور تمہارے منافع کو اپنی جیب میں ڈالیں گے تمہاری حالت پر افسوس_ اس


طرح کیوں ہوگئے ہو؟ تمہیں علم نہیں کہ کس خطرناک راستے پر چل پڑے ہو؟ نتائج سے نا واقف ہو؟ کیا ہم تم کو ہدایت پر مجبور کرسکتے ہیں جب کہ تم ہدایت کی طرف جانے کو پسند نہیں کرتے(۱) _

زیادہ غم و اندوہ

جناب زہراء (ع) کی بیماری اور کمزوری کی وجہ صرف سابقہ بیماری ہی نہ تھی بلکہ غم اور افکار اور زیادہ پریشانیاں بھی آپ پر بہت زیادہ روحانی فشار کا موجب بنی ہوئی تھیں جب بھی آپ اپنے چھوٹے سے کمرے میں چمڑے کے فرش پر گھاس سے پر کئے ہوئے سرہانہ پر تکیہ کر کے سو رہی ہوتی تھیں تو آپ پر مختلف قسم کے افکار ہجوم کرتے_ آہ کس طرح لوگوں نے میرے باپ کی وصیت پر عمل نہیں کیا اور میرے شوہر سے خلافت کو لے لیا؟ خلافت کے لے لینے کے آثار اور خطرناک نتائح قیامت تک باقی رہیں گے_ جو خلافت ملت پر زبردستی اور حیلہ بازی سے مسلط کی جائے اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا_ مسلمانوں کی ترقی اور پیشرفت کی علت ان کا اتحاد اور اتفاق تھا وہ کتنا بڑا سرمایہ اور طاقت ان سے چھن گیا ہے؟ ان میں اندرونی اختلاف پیدا کردیئے گئے ہیں_ اسلام کے اقتدار کی تنہا جو طاقت تھی وہ پراگندگی اور اختلاف میں تبدیل کردی گئی ہے_ اسلام کو انہوں نے کمزوری اور پراگندگی اور ذلت

____________________

۱) احتجاج طبرسی، ج ۱ ص ۱۴۷_ بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۶۱_ شرح ابن ابی الحدید ج ۱۶ ص ۲۳۳_ بلاغات النساء ص ۱۹_


کے راستے پر ڈال دیا ہے_

آہ کیا میں رسول(ص) کی عزیز وہی فاطمہ (ع) نہیں ہوں جو اب بیماری کے بستر پر پڑی ہوئی ہوں اور اسی امت کے ضربات سے درود کرب سے نالاں ہوں اور موت کا مشاہدہ کر رہی ہوں؟ پس پیغمبر(ص) کی وہ تمام سفارشیں کہاں گئیں؟ خدایا علی (ع) اس بہادری اور شجاعت کے باوجود کہ جو ان میں میں دیکھتی ہوں کس طرح گرفتار اور مجبور ہوگئے ہیں کہ اسلام کے مصالح کی حفاظت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اپنے صحیح حق کے جانے پر سکوت کو اختیار کر بیٹھے؟ آہ میری موت نزدیک ہوگئی اور جوانی کے عالم میں اس دنیا سے جارہی ہوں اور دنیا کے غم اور غصے سے نجات حاصل کر رہی ہوں لیکن اپنے یتیم بچوں کا کیا کروں؟ حسن (ع) اور حسین (ع) ، زینب اور کلثوم بے سرپرست اور یتیم ہوجائیں گے ، آہ کتنی مصیبت میرے ان جگر گوشوں پر وارد ہوں گی میں نے ک ئی دفعہ اپنے باپ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ تیرے حسن (ع) کو زہر دے دیں گے اور حسین (ع) کو تلوار سے قتل کردیں گے ابھی سے اس پیشین گوئی کی علامتیں ظاہر ہونے لگی ہیں_

آپ کبھی اپنے چھوٹے سے حسین (ع) کو گود میں لے کر ان کی گردن کا بوسہ لیتیں اور ان کے مصائب پر آنسو بہاتیں اور کبھی آپ اپنے حسن (ع) کو سینے سے لگالیتیں اور ان کے معصوم لبوں پر بوسہ دیتیں اور کبھی زینب و کلثوم پر وارد ہونے والی مصیبتیں اور واقعات کو یاد کرتیں اور ان کے لئے گریہ کرتیں_

جی ہاں اس قسم کے پریشان کرنے والے افکار جناب زہراء (ع) کو تکلیف اور رنج دیتے تھے اور آپ دن بدن کمزور اور ضعیف ہوتی جا رہی تھیں_

ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) وفات کے وقت رو


رہی تھیں حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ آپ کے مستقبل کے واقعات اور مصائب پر رو رہی ہوں_ حضرت علی (ع) نے فرمایا آپ نہ روئیں، قسم خدا کی اس قسم کے واقعات میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے(۱) _

ناپسندیدہ عیادت

مسلمانوں کی عورتیں اور پیغمبر(ص) کی رشتہ دار عورتوں اور پیغمبر(ص) کے خاص اصحاب کبھی نہ کبھی جناب فاطمہ (ع) کی احوال پرسی اور عیادت کرتے تھے لیکن جناب عمر اور ابوبکر آپ کی عیادت سے روکے گئے تھے کیوں کہ جناب زہراء (ع) نے پہلے سے ارادہ کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ قطع کلام رکھیں گی اس لئے آپ انہیں عیادت اور ملاقات کی اجازت نہ دیتی تھیں آہستہ آہستہ اراکین خلافت میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں جناب فاطمہ (ع) فوت نہ ہوجائیں اور وقت کے خلیفہ سے ناراض رہ کر انتقال کر گئیں تو یہ قیامت تک ان کے دامن پر ننگ اور رعار کا دہبہ لگ جائے گا اسی لئے وہ عمومی افکار کے دباؤ میں تھے اور مجبور تھے کہ کسی طرح جناب فاطمہ (ع) کی عبادت کریں لہذا حضرت علی (ع) سے انہوں نے با اصرار تقاضہ کیا کہ ان کی ملاقات کے اسباب فراہم کریں _ حضرت علی (ع) جناب فاطمہ (ع) کے پاس آئے اور فرمایا اے دختر رسول (ص) ان دو آدمیوں نے آپ کی عیادت کرنے کی آپ سے اجازت چاہی ہے_ آپ کی اس میں کیا رائے ہے؟

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۱۸_


حضرت زہرا ء (ع) حضرت علی (ع) کی حالت سے بخوبی واقف تھیں آپ نے عرض کیا گھر آپ کا ہے اور میں آپ کے اختیار میں ہوں آپ جس طرح مصلحت دیکھیں اس پر عمل کریں؟ آپ نے یہ کہا اور اپنے سر کے اوپر چادر اوڑھ لی اور دیوار کی طرف منھ کرلیا، دونوں آدمی اندر آئے اور اسلام کیا اور احوال پرسی کی اور عرض کیا کہ ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں، آپ ہم سے راضی ہوجائیں_ جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ میں ایک چیز تم سے پوچھنا چاہتی ہوں اس کا جواب دو، انہوں نے عرض کی کہ فرمایئےآپ نے فرمایا کہ تمہیں خدا کی قسم دیتی ہوں کہ آیا تم نے رسول خدا(ص) سے یہ سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ فاطمہ (ع) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو اسے اذیت دے گا اس نے مجھے اذیت دی ہے، انہوں نے عرض کی ہاں ہم نے یہ حدیث آپ کے والد سی سنی ہے_ آپ نے اس کے بعد اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا اے میرے خدا تو گواہ رہنا کہ انہوں نے مجھے اذیت دی ہے، ان کی شکایت تجھ سے اور تیرے رسول (ص) سے کروں گی، نہیں میں ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گی یہاں تک کہ والد سے ملاقات کروں، تمہارے کردار اور رفتار کو ان سے بیان کروں گی تا کہ وہ(ع) ہمارے درمیان قضاوت کریں(۱) _

فاطمہ (ع) کی وصیت

جناب زہراء (ع) کی بیماری تقریباً چالیس دن تک

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۸_


طول پکڑگئی لیکن ہر روز آپ کی حالت سخت تر ہوتی جا رہی تھی اور آپ کی بیماری میں شدت آتی جارہی تھی_ آپ نے ایک دن حضرت علی (ع) سے کہا اے ابن عم ___ میں موت کے آثار اور علامتیں اپنے آپ میں مشاہدہ کر رہی ہوں مجھے گمان ہے کہ میں عنقریب اپنے والد سے ملاقات کروں میں آپ کو وصیت کرنا چاہتی ہوں_ حضرت علی (ع) جناب فاطمہ (ع) کے بستر کے قریب آبیٹھے اور کمرہ کو خالی کردایا اور فرمایا اے دختر پیغمبر (ص) جو کچھ آپ کا دل چاہتا ہے وصیت کیجئے اور یقین کیجئے کہ میں آپ کی وصیت پر عمل کروں گا_ آپ کی وصیت کی انجام دہی کو اپنے ذاتی کاموں پر مقدم کروں گا_ حضرت علی (ع) نے جناب زہراء (ع) کے افسردہ چہرے اور حلقے پڑی ہوئی آنکھوں پر نگاہ کی اور رودیئے، جناب فاطمہ (ع) نے پلٹ کر اپنی ان آنکھوں سے حضرت علی (ع) کے غمناک اور پمردہ مہربان چہرے کو دیکھا اور کہا اے ابن عم میں نے آج تک آپ کے گھر میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی خیانت کی ہے اور نہ کبھی آپ کے احکام اور دستورات کو پس پشت ڈالا ہے_

حضرت علی (ع) نے فرمایا آپ کو اللہ تعالی کی معرفت اور آپ کا تقوی اتنا قوی اور عالی ہے کہ آپ کے بارے میں اس کا احتمال تک نہیں دیا جاسکتا خدا کی قسم آپ کی جدائی اور فراق مجھ پر بہت سخت ہے لیکن موت کے سامنے کسی کا چارہ نہیں_ خدا کی قسم تم نے میرے مصائب تازہ کردیئے ہیں، تمہاری بے وقت موت میرے لئے ایک دردناک حادثہ ہے_ ''انا للہ و انا الیہ راجعون'' یہ مصیبت کتنی ناگوار اور دردناک ہے؟ خدا کی قسم اس ہلاک کردینے والی مصیبت کو میں کبھی نہیں فراموش کروں گا _ کوئی چیز اس مصیبت سے تسلی بخش نہیں ہوسکتی، اس


وقت دونو بزرگوار رو رہے تھے(۱) _

جناب زہراء (ع) نے اپنے مختصر جملوں میں اپنی زندگی کے برنامے کو سمودیا اپنی صداقت کے مقام اور پاکدامنی اور شوہر کی اطاعت کو اپنے شوہر سے بیان کیا حضرت علی (ع) نے بھی آپ کے علمی عظمت اور پرہیزگاری و صداقت اور دوستی و زحمات کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بے پنا محبت اور لگاؤ کو آپ کی نسبت ظاہر کیا، اس وقت عواطف اور احساسات پھر سے دونوں زن و شوہر ہیں ''جو اسلام کے نمونہ اور مثال تھے'' اس طرح ابھرے کہ دونوںاپنے رونے پر قابو نہ پاسکے اور کافی وقت تک دونوں روتے رہے اور اپنی مختصر سی ازدواجی زندگی پر جو محبت و صفا اور مہر و صداقت سے پر تھی گریہ کرتے رہے اور ایک دوسرے کو غیر معمولی زحمات اور گرفتاریوں اور مصائب پر روتے رہے تا کہ یہی آنکھوں کے آنسو ان کی اندرونی آگ جو ان کے جسم کو جلا دینے کے نزدیک تھی ٹھنڈا کرسکیں_

جب آپ کا گریہ ختم ہوا حضرت علی (ع) نے جناب فاطمہ (ع) کا سر مبارک اپنے زانو پر رکھا اور فرمایا، اے پیغمبر(ص) کی عزیز دختر جو آپ کا دل چاہتا ہے وصیت کریں اور مطمئن رہین کہ میں آپ کی وصیتوں سے تخلف نہ کروں گا جناب فاطمہ (ع) نے یہ وصیتیں کیں_

۱_ مرد بغیر عورت کے زندگی نہیں بسر کرسکتا اور آپ بھی مجبور ہیں کہ شادی کریں میری خواہش ہے کہ آپ میرے بعد امامہ سے شادی کیجئے_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۱_


گا، کیونکہ یہ میرے بچوں پر زیادہ مہربان ہے(۱) _

۲_ میرے بچے میرے بعد یتیم ہوجائیں گے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ان کو سخت لہجہ سے نہ پکارنا، ان کی دلجوئی کے لئے ایک رات ان کے پاس رہنا ایک رات اپنی بیوی کے پاس(۲) _

۳_ میرا اس طرح اور کیفیت کا تابوت بناناتا کہ میرا جنازہ اٹھاتے وقت میرا جسم ظاہر نہ ہو پھر آپ نے اس تابوت کی کیفیت بیان کی(۳) _

۴_ مجھے رات کو غسل دینا اور کفن پہنانا اور دفن کرنا اور ان آدمیوں کو اجازت نہ دینا جنہوں نے میرا حق غصب کیا ہے اور مجھے اذیت اور آزار دیا ہے کہ وہ میر نماز جنازہ یا تشیع میں حاضر ہوں(۴) _

۵_ رسول خدا کی بیویوں میں سے ہر ایک کو بارہ وقیہ (گندم کا وزن) دینا _

۶_ بنی ہاشم کی ہر ایک عورت کو بھی بارہ وقیہ دینا_

۷_ امامہ کو بھی کچھ دینا(۵) _

۸_ ذی الحسنی نامی باغ اور ساقیہ اور دلال اور غراف اور ہیشم اور ام ابراہیم نامی باغات جو سات عدد بنتے ہیں میرے بعد آپ کے اختیار میں ہوں گے اور آپ کے بعد حسن (ع) اور حسن (ع) کے بعد حسین (ع) اور حسین (ع) کے بعد ان کے بڑے لڑکے کے اختیار میں ہوں گے اس وصیت کے لکھنے والے

____________________

۱) مناقب ابن شہر آشوب، ج ۳ ص ۳۶۲_

۲) بحار الانوارء ج ۴۳ ص ۱۷۸_

۳،۴) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۲_

۵) دلائل الامامہ ص ۴۲_


علی (ع) اور گواہ مقداد اور زبیر تھے(۱) _

ابن عباس نے روایت کی ہے کہ یہ تحریری وصیت بھی آنحضرت(ص) سے ہاتھ لگی ہے_

بسم اللہ الرحمن الرحیم_ یہ وصیت نامہ فاطمہ (ع) پیغمبر(ص) کی دختر کا ہے میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد(ص) خدا کے رسول ہیں_ بہشت و دوزخ حق ہیں، قیامت کے واقع ہونے میں شک نہیں ہے_ خدا مردوں کو زندہ کرے گا، اے علی (ع) خدا نے مجھے آپ کا ہمسر قرار دیا ہے تا کہ دنیا اور آخرت میں اکٹھے رہیں، میرا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے، اے علی (ع) رات کو مجھے غسل و کفن دینا اور حنوط کرنا اور دفن کرنا اور کسی کو خبر نہ کرنا اب میں آپ سے وداع ہوتی ہوں، میرا سلام میری تمام اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہوگی پہنچا دینا(۲)

آپ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں

جناب فاطمہ (ع) کی بیماری شدید ہوگئی اور آپ کی حالت خطرناک ہوگئی حضرت علی (ع) ضروری کاموں کے علاوہ آپ کے بستر سے جدا نہ ہوتے تھے_ جناب اسماء بنت عمیس آپ کی تیمار داری کیا کرتی تھیں_ جناب امام حسن اور امام حسین اور زینب و ام کلثوم ماں کی یہ حالت دیکھ کر آپ سے

____________________

۱) دلائل الامامہ، ص ۴۲_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۲۱۴_


بہت کم جدا ہوا کرتے تھے، جناب فاطمہ (ع) کبھی مرض کی شدت سے بیہوش ہوجایا کرتی تھیں، کبھی آنکھیں کھولتیں اور اپنے عزیز فرزندوں پر حسرت کی نگاہ ڈالتیں_

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) نے احتضار کے وقت آنکھیں کھولیں اور ایک تند نگاہ اطراف پر ڈالی اور فرمایا السلام علیک یا رسول اللہ (ص) اے میرے اللہ مجھے اپنے پیغمبر(ص) کے ساتھ محشور کر خدایا مجھے اپنی بہشت اور اپنے جوار میں سکونت عنایت فرما اس وقت حاضرین سے فرمایا اب فرشتگان خدا اور جبرئیل موجود ہیں میرے بابا بھی حاضر ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں کہ میرے پاس جلدی آو کہ یہاں تمہارے لئے بہتر ہے(۱) _

حضرت علی (ع) نے فرمایا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) نے مجھ سے وفات کی رات فرمایا کہ اے ابن عم ابھی جبرئیل مجھے اسلام کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور کہہ رہے ہیں کہ خدا بعد از سلام فرماتا ہے کہ عنقریب تم بہشت میں والد سے ملاقات کروگی اس کے بعد آپ نے فرمایا و علیکم السلام_ اس کے بعد مجھ سے فرمایا اے ابن عم ابھی میکائیل نازل ہوئے اور اللہ کی طرف سے پیغام لائے اس کے بعد فرمایا و علیکم السلام_ اس وقت آپ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا ابن عم خدا کی قسم عزرائیل آگئے ہیں اور میری روح قبض کرنے کے لئے آئے ہیں، اس وقت عزرائیل سے فرمایا کہ میری روح قبض کرلو لیکن نرمی سے_ آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں فرمایا خدایا تیری طرف آوں نہ آ گ کی طرف، یہ کلمات آپ نے فرمائے اور اپنی نازنین آنکھوں کو بند کرلیا اور

____________________

۱) دلائل الامامہ ص ۴۴_


اور جان کو خالق جان کے سپرد کردیا_

اسماء بنت عمیس نے جناب زہراء (ع) کی وفات کا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ جب جناب فاطمہ (ع) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے والد کی وفات کے وقت جبرئیل (ع) کچھ کا فور لے کرئے تھے آپ (ص) نے اسے تین حصّوں میں تقسیم کردیا تھا، ایک حصّہ اپنے لئے رکھا تھا ایک حصّہ حضرت علی (ع) کے لئے اور ایک حصّہ مجھے دیا تھا اور میں نے اسے فلاں جگہ رکھا ہے اب مجھے اس کی ضرورت ہے اسے لے آؤ_ جناب اسماء وہ کافور لے آئیں_ آپ نے اس کے بعد_ آپ نے غسل کیا اور وضو کیا اور اسماء سے فرمایا میرے نماز کے کپڑے لے آؤ اور خوشبو بھی لے آؤ_

جناب اسماء نے لباس حاضر کیا آپ نے وہ لباس پہنا اور خوشبو لگائی اور قبلہ رخ ہو کر اپنے بستر پر لیٹ گئیں اور اسماء سے فرمایا کہ آرام کرتی ہوں تھوڑی دیر___ بعد مجھے آواز دینا اگر میں نے جواب نہ دیا تو سمجھ لینا کہ میں دنیا سے رخصت ہوگئی ہوں اور علی (ع) کو بہت جلدی اطلاع دے دینا، اسماء کہتی ہیں کہ میں تھوڑی دیر صبر کیا اور پھر میں کمرے کے دروازے پر آئی جناب فاطمہ (ع) کو آواز دی لیکن جواب نہ سنا تب میں نے لباس کو آپ کے چہرے سے ہٹایا تو دیکھا آپ د نیا سے گزر گئی ہیں_ میں آپ کے جنازے پر گرگئی آپ کو بوسہ دیا اور روئی اچانک امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) وارد ہوگئے اپنی والدہ کی حالت پوچھی اور کہا کہ اس وقت ہماری ماں کے سونے کا وقت نہیں ہے میں نے عرض کی اے میرے عزیز و تمہاری ماں دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں_


امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) ماں کے جنازے پر گرگئے بوسہ دیتے اور روتے جاتے، امام حسن (ع) کہتے تھے اماں مجھ سے بات کیجئے، امام حسین (ع) کہتے تھے اماں جان میں تیرا حسین (ع) ہوں قبل اس کے میری روح پرواز کرجائے مجھ سے بات کیئجے، جناب زہرا (ع) کے یتیم مسجد کی طرف دوڑے تا کہ باپ کو ماں کی موت کی خبردیں، جب جناب زہراء (ع) کی موت کی خبر علی (ع) کی ملی تو آپ نے شدت غم اور اندوہ سے بیتاب ہوکر فرمایا_ پیغمبر(ص) کی دختر آپ میرے لئے سکون کا باعث تھیں، اب آپ کے بعد کس سے سکون حاصل کروں گا؟(۱)

آپ کا دفن اور تشیع جنازہ

جناب زہراء (ع) کے گھر سے رونے کی آواز بلند ہوئی اہل مدینہ کو علم ہوگیا اور تمام شہر سے رونے اور گریہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں لوگوں نے حضرت علی (ع) کے گھر کا رخ کیا، حضرت علی (ع) بیٹھے ہوئے تھے جناب امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) آپ کے اردگرد بیٹھے گریہ کر رہے تھے_ جناب ام کلثوم روتی اور فرماتی تھیں یا رسول اللہ (ص) گویا آپ ہمارے پاس سے چلے گئے لوگ گھر کے باہر اجتماع کئے ہوئے تھے اور وہ حضرت زہراء (ع) کے جنازے کے باہر آنے کے منتظر تھے، اچانک جناب ابوذر گھر سے باہر نکلے اور کہا لوگو چلے جاؤ کیونکہ جنازے کی تشیع میں دیر کردی گئی ہے(۲) _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۸۶_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۲_


جناب ابوبکر اور عمر نے حضرت علی (ع) کو تعزیب دی اور عرض کیا یا اباالحسن مبادا ہم سے پہلے جناب فاطمہ (ع) پر نماز پڑھیں(۱) _

لیکن حضرت علی (ع) نے اسماء کے ساتھ مل کر اسی رات جناب زہراء (ع) کو غسل و کفن دیا، جناب زہرا کے چھوٹے چھوٹے بچے جنازے کے اردگرد گریہ کر رہے تھے، جب آپ غسل و کفن سے فارغ ہوگئے تو آواز دی اے حسن (ع) و حسین (ع) اے زینب و ام کلثوم آو ماں کو وداع کرو کہ پھر ان کو نہ دیکھ سکو گے، جناب زہراء (ع) کے یتیم، ماں کے نازنین جنازے پر گرے اور بوسہ دیا اور روئے_ حضرت علی (ع) نے ان کو جنازے سے ہٹایا(۲) _

جنازے پر نماز پڑھی اور جناز اٹھایا، جناب عباس، فضل، مقداد، سلمان، ابوذر، عمار، حسن (ع) اور حسین (ع) ، عقیل، بریدہ، حذیفہ، ابن مسعود جنازے کی تشیع میں شریک ہوئے(۳) _

جب تمام آنکھیں ہو رہی تھیں اندھیرے میں جنازے کو آہستہ آہستہ اور خاموشی کے ساتھ قبر کی طرف لے گئے تا کہ منافقین کو علم نہ ہوجائے اور دفن کرنے سے روک نہ دیں، جنازے کو قبر کے کنارے زمین پر رکھا گیا_ امیرالمومنین حضرت علی (ع) نے خود اپنی بیوی کے نازنین جسم کو اٹھایا اور قبر میں رکھ دیا اور قبر کو فوراً بند کردیا(۴) _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۹_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۷۹_

۳) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۸۳_

۴) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۸۳_


حضرت علی (ع) جناب زہراء (ع) کی قبر پر

جناب زہراء (ع) کے دفن کو مخفی اور بہت سرعت سے انجام دیا گیا تا کہ دشمنوں کو اطلاع نہ ہو اور وہ _ آپ کے دفن میں مانع نہ ہوں لیکن جب حضرت علی (ع) جناب زہراء (ع) کے دفن سے فارغ ہوئے آپ پر بہت زیادہ غم و اندوہ نے غلبہ کیا آپ نے فرمایا اے خدا کس طرح میں نے پیغمبر (ص) کی نشانی کو زمین میں دفن کیا ہے، کتنی مہربان بیوی، باصفا، پاکدامن اور فداکار کو اپنے ہاتھ سے دے بیٹھا ہوں خدایا اس نے میرا دفاع کرنے میں کتنے مصائب برداشت کئے ہیں کتنی میرے گھر میں زحمت اٹھائی ہے_ آہ زہراء (ع) کا اندرونی درد افسوس ان کے ٹوٹے ہوئے پہلو پر اور ان کے ورم کئے ہوئے بازو پر ان کے ساقط شدہ بچے پر، اے میرے خدا میری امید تھی کہ آخری زندگی تک اس مہربان بیوی کے ساتھ گزاروں گا لیکن افسوس اور صد افسوس کو موت نے ہمارے درمیان جدائی ڈال دی ہے_ آہ میں زہراء (ع) کے یتیم چھوٹے بچوں کا کیا کروں؟

رات کے اندھیرے میں آپ جناب رسول خدا (ص) کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی سلام ہو آپ پر اے رسول خدا (ص) میری طرف سے اور آپ کی پیاری دختر کی طرف سے جو ابھی آپ کی خدمت میں پہنچنے والی ہے اور آپ کے جوار میں دفن ہوئی ہے اور سب سے پہلے آپ سے جاملی ہے، یا رسول اللہ میرا صبر ختم ہوگیا ہے لیکن اس کے سوا چارہ بھی نہیں ہے، جیسے آپ کی مصیبت پر صبر کیا ہے زہراء کے فراق پر بھی صبر کروں گا


یا رسول اللہ (ص) آپ کی روح میرے دامن میں قبض کی گئی میں آپ کی آنکھوں کو بند کرتا تھا میں تھا کہ جس نے آپ کے جسم مبارک کو قبر میں التارا ہاں صبر کروں گا اور پڑھوں گا انا للہ و انا الیہ راجعون، یا رسول اللہ وہ امانت جو آپ نے میرے سپرد کی تھی اب آپ (ص) کے پاس لوٹ گئی ہے_ زہراء (ع) میرے ہاتھ سے چھینی گئی ہے، آسمان اور زمین کی رونق ختم ہوگئی ہے، یا رسول اللہ (ص) میرے غم کی کوئی انتہا نہیں رہی میری آنکھوں سے نیند اڑ گئی ہے میرا غم و اندوہ ختم نہ ہوگا مگر جب کہ میں مروں گا اور آپ (ص) کے پاس پہنچوں گا یہ ایسے غم اور مصائب ہیں جو دل کے زخموں سے پیدا ہوئے ہیں، ہماری باصفا گھریلو زندگی کتنی جلدی لٹ گئی ہیں اپنے دل کے درد کو خدا سے بیان کرتا ہوں_

یا رسول اللہ (ص) آپ کی دختر آپ کو خبر دے گی کہ آپ کی امت نے اتفاق کر کے خلافت کو مجھ سے چھیں لیا اور زہراء (ع) کے حق پر قبضہ کرلیا_ یا رسول اللہ (ص) حالات اور اوضاع کو اصرار سے جناب فاطمہ (ع) سے پوچھنا کیوں کہ ان کے دل میں بہت زیادہ درد موجود ہے جو یہاں ظاہر یہ کرسکیں لیکن آپ سے وہ بیان کریں گی، تا کہ خدا ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان قضاوت کرے_ یا رسول اللہ(ص) آپ کو وداع کرتا ہوں اس لئے نہیں کہ آپ (ص) کی قبر پر بیٹھنے سے تھک گیا ہوں اور آپ سے رخصت ہوتا ہوں، اس لئے نہیں کہ یہاں ملول خاطر ہوگیا ہوں اور اگر آپ (ص) کی قبر پر بیٹھا رہوں تو اس لئے نہیں کہ اللہ تعالی کے اس وعدے پر ''جو صبر کرنے والوں کو دیا گیا ہے'' یقین نہیں رکھتا پھر بھی صبر کرنا تمام چیزوں سے بہتر ہے_


یا رسول اللہ (ص) اگر دشمنوں کی شماتت کا خوف نہ ہوتا تو آپ (ص) کی قبر پر بیٹھا رہتا اور اس مصیبت عظمی پر روتا رہتا، یا رسول اللہ (ص) ہمارے حالات ایسے تھے کہ ہم مجبور تھے کہ آپ کی بیٹی کو مخفی طور سے رات کی تاریکی میں دفن کریں_ اس کا حق لے لیا گیا اور اسے میراث سے محروم رکھا گیا، یا رسول اللہ (ص) میں اپنے اندرونی درد کو خدا کے سامنے پیش کرتا ہوں اور اس دردناک مصیبت پر آپ (ص) کو تسلیت پیش کرتا ہوں آپ(ص) پر اور اپنی مہربانی بیوی پر میرا درد رہو(۱) _

حضرت علی (ع) نے دشمنوں کے خوف سے جناب زہراء (ع) کی قبر مبارک کو ہموار کردیا اور سات یا چالیس تازہ قبریں مختلف جگہ پر بنادیں تا کہ حقیقی قبر نہ پہچانی جاسکے(۲) _

اس کے بعد آپ اپنے گھر واپس لوٹ آئے، جناب ابوبکر اور عمر اور دوسرے مسلمان دوسری صبح کو تشیع جنازہ کے لئے حضرت علی (ع) کے گھر کی طرف روانہ ہوئے، لیکن مقداد نے اطلاع دی کہ جناب فاطمہ (ع) کو کل رات دفن کردیا گیا ہے جناب عمر نے جناب ابوبکر سے کہا ہیں نے نہیں کہا تھا کہ وہ ایسا ہی کریں گے؟ جناب عباس نے اس وقت کہا کہ خود جناب فاطمہ (ع) نے وصیت کی تھی کہ مجھے رات کو دفن کردیا جائے اور ہم نے آپ(ع) کی وصیت کے مطابق عمل کیا ہے_ جناب عمر نے کہا، کہ بنی ہاشم کی دشمنی اور حسد ختم ہونے والا نہیں میں فاطمہ (ع) کی قبر کو کھودونگا

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۲_

۲) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۸۳_


اور اس پر نماز پڑھوں گا_

حضرت علی (ع) نے فرمایا اے عمر خدا کی قسم اگر تم ایسا کروگے تو میں تیرا خون تلوار سے بہادوں گا ہرگز اجازت نہیں دوں گا کہ فاطمہ (ع) کے جنازے کو قبر سے باہر نکالاجائے_ جناب عمر نے حالت کو خطرناک پھانپ لیا اور اپنے اس ارادے سے منحرف ہوگئے(۱) _

وفات کی تاریخ

بظاہر اس امر میں شک کی گنجائشے نہیں کہ جناب زہراء (ع) کی وفات گیا رہ ہجری کو ہوئی ہے کیونکہ پیغمبر (ص) دس ہجری کو حجة الوداع کے سفر پر تشریف لے گئے اور گیارہویں ہجری کے ابتدا میں آپ نے وفات پائی مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ جناب فاطمہ (ع) آپ ے بعد ایک سال سے کم زندہ رہیں، لیکن آپ کی وفات کے دن اور مہینے میں بہت زیادہ اختلاف ہے_

دلائل الامامہ کے مولّف اور کفعی نے مصباح یں اور سید نے اقبال م یں اور محدّث قمی نے منتہی الامال میں آپ نے وفات پائی مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ جناب فاطمہ (ع) آپ کے بعد ایک سال سے کم زندہ رہیں، لیکن آپ کی وفات کے دن اور مہینے میں بہت زیادہ اختلاف ہے_

لائل الامامہ کے مولّف اور کفعی نے مصباح میں اور سید نے اقبال م یں اور محدّث قمی نے منتہی الامال میں آپ کی وفات تیسری جمادی الثانی کو بتلائی ہے_

ابن شہر آشوب نے مناقب میں آپ کی وفات تیرہ ربیع الثانی کو بتلائی ہے_

ابن شہر آشوب نے مناقب میں آپ کی وفات تیرہ ربیع الثانی میں بتائی ہے_

ابن جوزی نے تذکرة الخواص میں اور طبری نے اپنی تاریخ میں

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۹۹_


فرمایا ہے کہ جناب زہراء (ع) نے تیسرے رمضان المبارک کو وفات پائی مجلسی نے بحار الانوار میں بھی یہ محمد بن عمر سے نقل کیا ہے_

مجلسی نے ___ بحار الانوار میںمحمد بن میثم سے نقل کیا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) کی وفات بیس جمادی الثانی کو ہوئی_

محمد تقی سپہر نے ناسخ التواریخ میں ستائیس جمادی الاوّل کو آپ کی وفات بتلائی ہے_

یہ اتنا بڑا اختلاف اس لئے پیدا ہوا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت زہرا (ع) باپ کے بعد کتنے دن زندہ رہیں_ / دن: کلینی نے کافی ہیں اور دلائل الامامہ کے مولّف نے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) پیغمبر (ص) کے بعد پچہتر دن زندہ رہی ہیں_ سید مرتضی نے عیون المعجزات میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اس قول کی دلیل وہ روایت ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس بارے میں وارد ہوئی ہے امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) ، پیغمبر (ص) کے بعد پچہتر دن زندہ رہیں_ /دن : ابن شہر آشوب نے مناقب میں لکھا ہے کہ فاطمہ (ع) باپ کے بعد بہتر دن زندہ رہیں_

۳ مہینے: ابوالفرج نے مقاتل الطالبین میں لکھا ہے کہ جناب زہرا (ع) کی زندگی میں پیغمبر (ص) کے بعد اختلاف ہے، لیکن آٹھ مہینہ سے زیادہ اور چالیس دن سے کمتر نہ تھی، لیکن صحیح قول وہی ہے کہ جو جعفر صادق علیہ السلام

____________________

۱) اصول کافی، ج ۱ ص ۲۴۱_


سے روایت ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ حضرت زہرا ء (ع) رسول خدا (ص) کے بعد تین مہینے زندہ رہیں(۱) _ اس قول کو صاحب کشف الغمہ نے دولابی سے اور ابن جوزی نے عمر ابن دینار سے بھی نقل کیا ہے_ دن: مجلسی نے بحار الانوار میں جناب فضّہ سے جو جناب زہراء (ع) کی کنیز تھیں اور کتاب روضة الواعظین میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ حضرت زہرا (ع) باپ کے بعد چالیس دن زندہ رہی ہیں شہر ابن آشوب نے مناقب میں اسی قول کو قربانی سے نقل کیا ہے_

۶ مہینے: مجلسی نے بحار الانوار میں امام محمد باقر (ع) سے روایت کی ہے کہ حضرت زہراء (ع) باپ کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں، کشف الغمہ میں اسی قول کو ابی شہاب اور زہری اور عائشےہ اور عروہ بن زبیر سے نقل کیا ہے_ ابن جوزی نے تذکرة الخواص میں ایک قول چھ مہینے سے دس دن کم کا نقل کیا ہے_

۴ مہینے: ابن شہر آشوب نے مناقب میں چہار مہینے کا قول نقل کیا ہے_ دن: امام محمد باقر (ع) سے روایت کی گئی ہے کہ آپ زندہ فرمایا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) باپ کے بعد پنچانوے دن زندہ رہیں_ دن: ابن جوزی نے تذکرة الخواص میں امام جعفر صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) باپ کے بعد ستّر دن زندہ رہیں_

۲ مہینے، ۸ مہینے اور ۱۰۰ دن: مجلسی نے بحار الانوار میں دو مہینے اور آٹھ مہینے اور سو دن کا قول بھی نقل کیا ہے_

____________________

۱) مقاتل الطالبین، ص ۳۱


پیغمبر (ص) کی وفات کی تاریخ میں بھی اختلاف ہے شیعہ علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ آپ کی وفات اٹھائیس صفر کو ہوئی لیکن اہل سنت کے اکثر علماء نے آپ کی وفات کو بارہ ربیع الاوّل کہی ہے اور دوسری ربیع الاوّل بھی گہی گئی ہے_

حضرت زہراء (ع) کا والد کی وفات کے بعد زندہ رہنے میں تیرہ قول ہیں اور جب ان کو جناب رسول خدا (ص) کی وفات کے اقوال کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو پھر جناب فاطمہ (ع) کی وفات میں دن اور مہینے کے لحاظ سے بہت کافی احتمال ہوجائیں گے یعنی تیرہ کو جب تین سے ضرب دیں گے تو حاصل ضرب انتالیس اقوال ہوجائیں گے، لیکن محققین پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اس معالے میں آئمہ علیہم السلام کے اقوال اور آراء ہی دوسرے اقوال پر مقدم ہوں گے کیوں کہ حضرت زہراء (ع) کی اولاد دوسروں کی نسبت اپنی ماں کی وفات سے بہتر طور باخبر تھی_ لیکن جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے خود آئمہ علیہم السلام کی روایات اس باب میں مختلف وارد ہوئی ہیں اس لئے کہ روایات میں پچہتر دن اور پنچانوے دن اور ستر دن اور تین مہینے اور چھ مہینے بھی وارد ہوئے ہیں_

اگر پیغمبر (ص) کی وفات کو اٹھائیس صفر تسلیم کرلیں اور پھر پچہتر دن کی روایت کا لحاظ کریں تو آپ (ع) کی وفات اس لحاظ سے ۱۳/ اور ۱۵/ جمادی الاوّل کو ہی محتمل ہوگی اور اگر پنچانوے دن کی روایت کا لحاظ کریں تو پھر تیسری یا پانچویں جمادی الثانی کو آنحضرت کی وفات ممکن ہوگی_

اسی طرح آپ خود حساب کرسکتے ہیں اور جو احتمال بن سکتے ہیں انہیں معلوم کرسکتے ہیں_

جناب زہراء (ع) کی عمر کے بارے میں بھی ۱۸، ۲۸، ۲۹، ۳۰، ۳۵ سال


جیسے اختلافات موجود ہیں اور چونکہ پہلے ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں لہذا یہاں دوبارہ تکرار کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہیتی_

جناب فاطمہ (ع) کی قبر مبارک

ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ خود جناب فاطمہ (ع) نے ارادہ کیا تھا کہ آپ کی قبر مخفی رہے اسی لئے حضرت علی (ع) نے آپ (ص) کو رات کی تاریکی میں دفن کیا اور آپ کی قبر کو زمین سے ہموار کردیا اور چالیس تازہ قبروں کی صورت بنادی تا کہ دشمن اشتباہ میں رہیں اور آپ کی حقیقی قبر کی جگہ معلوم نہ کرسکیں گرچہ خود حضرت علی (ع) اور ان کی اولاد اور خاص اصحاب اور رشتہ دار آپ کی قبر کی جگہ جانتے تھے_ لیکن انہیں جناب زہراء (ع) کی شفارش تھی کہ قبر کو مخفی رکھیں لہذا ان میں سے کوئی بھی حاضر نہ ہوتا تھا کہ آپ (ع) کی قبر کی نشاندہی کرتا یہاں تک کہ ایسے قرائن اور آثار بھی نہیں چھوڑے گئے کہ جس سے آپ کی قبر معلوم کی جاسکے_ آئمہ طاہرین یقینی طور سے آپ کی قبر سے آگاہ تھے لیکن انہیں بھی اس کی اجازت نہ تھی کہ وہ اس راز الہی کو فاش اور ظاہر کریں لیکن اس کے باوجود اہل تحقیق نے اس کی جستجو میں کمی نہیں کی اور ہمیشہ اس میں بحث و گفتگو کرتے رہے لہذا بعض قرائن اور امارات سے آپ کے دفن کی جگہ کو انہوں نے بتلایا ہے_

۱_ بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ جناب پیغمبر (ص) کے روضہ میں ہی دفن ہیں_ مجلسی نے محمد بن ہمام سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے جناب فاطمہ (ع) کو رسول (ص) کے روضہ میں دفن کیا ہے لیکن قبر کے آثار کو بالکل


مٹادیا_ نیز مجلسی نے جناب فضہ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے کہا کہ جناب فاطمہ (ع) کی نماز جنازہ روضہ رسول میں پڑھی گئی اور آپ کو رسول (ص) کے روضہ میں ہی دفن کردیا گیا_

شیخ طوسی نے فرمایا ہے کہ بظاہر جناب فاطمہ (ع) کو جناب رسول خدا (ص) کے روضہ میں ی اپنے گھر میں دفن کیا گیا ہے اس احتمال کے لئے مزید دلیل جولائی جاسکتی ہے وہ وہ روایت ہے کہ جو رسول خدا (ص) سے نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میری قبر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے(۱) _

دوسری دلیل یہ ہے کہ لکھا ہے کہ حضرت علی (ع) نے روضہ پیغمبر پر فاطمہ (ع) کی نماز پڑھی اور اس کے بعد پیغمبر کو مخاطب کیا اور فرمایا میرا اور آپ کی دختر کا آپ پر سلام ہو جو آپ کے جوار میں دفن ہے_

۲_ مجلسی نے ابن بابویہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ بات صحیح ہے کہ جناب فاطمہ (ع) کو اپنے گھر میں دفن کیا تھا اور جب بنی امیہ نے مسجد نبوی کی توسیع کی تو جناب فاطمہ (ع) کی قبر مسجد میں آگئی_ مجلسی نے محمد ابن ابی نصر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے جناب ابوالحسن (ع) سے پوچھا کہ جناب فاطمہ (ع) کی قبر کہاں ہے تو آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر میں مدفون ہیں اور بعد میں مسجد میں آگئی ہیں جب مسجد کی توسیع کی گئی _

۳_ صاحب کشف الغمہ لکھتے ہیں کہ مشہور یہی ہے کہ جناب فاطمہ (ع) کو بقیع میں دفن کیا گیا_ سید مرتضی نے بھی عیون المعجزات میں یہی قول اختیار کیا ہے

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۴۳ ص ۱۸۵_


ابن جوزی لکھتے ہیں کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) بقیع میں مدفون ہیں یہ مطلب شاید اس لئے سمجھا گیا ہو کہ حضرت علی (ع) نے چالیس تازہ قبریں بقیع میں بنائی تھیں اور جب بعض نے ان قبروں میں جناب فاطمہ (ع) کے جنازے کو نکالنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی (ع) خشمناک اور غصّے میں آگئے تھے اور انہیں قتل کرنے کی دھمکی بھی دے دی تھی پس معلوم ہوتا ہے کہ ان قبروں میں سے ایک قبر جناب زہراء (ع) کی تھی_

۴_ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بعض نے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) کو عقیل کے گھر کے قریب دفن کیا گیا تھا آپ کی قبر سے راستے تک سات ذرع کا فاصلہ ہے_ عبداللہ بن جعفر نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب فاطمہ (ع) کی قبر عقیل کے گھر کے قریب واقع ہے_ ان چار احتمالات میں سے پہلا اور دوسرا احتمال ترجیح رکھتا ہے_


حصّہ ہفتم

حضرت زہراء (ع) کا جناب ابوبکر سے اختلاف اور اس کی تحقیق


واقعہ فدک اور جناب زہراء (ع) کا جناب ابوبکر سے اختلاف و نزاع صدر اسلام سے لے کر آج تک ہمیشہ علماء اور دانشمندوں کے درمیان مورد بحث و تحقیق رہا ہے_ اس موضوع پر بہت زیادہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں ان تمام مباحث کا ذکر کرنا جب کہ اس کتاب کی غرض جناب فاطمہ (ع) کی زنگی کے ان واقعات کی تشریح کرنے ہے جو لوگوں کے لئے عملی درس ہوں، بہت زیادہ مناسبت نہیں رکھتا اور اہم پہلے سادہ اور مختصر طور پر اس کی طرف اشارہ بھی کرچکے ہیں لیکن پڑھے لکھے لوگ ایک سطح کی معلومات نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض حضرات محقق ہوا کرتے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ اس حساس اور مہم موضوع پر جو صدر اسلام سے مورد بحث رہا ہے زیادہ تحقیق اور دقت کی جانی چاہیئے اور اس واقعہ کو علمی لحاظ سے مورد بحث اور تحقیقی لحاظ سے ہونا چاہیئے لہذا اہم اس حصے کو سابقہ بحث کی بہ نسبت تفصیل سے بحث کرنے کے لئے اس موضوع میں وارد ہو رہے ہیں تا کہ اس موضوع پر زیادہ بحث کی جائے_


اختلاف اور نزاع کا موضوع

جو لوگ اس بحث میں وارد ہوئے ہیں اکثر نے صرف فدک کے اطراف میں بحث کی ہے کہ گویا نزاع اور اختلاف کا موضوع صرف فدک میں منحصر ہے اسی وجہ سے یہاں پر کافی اشکالات اور ابہام پیدا ہوگئے ہیں لیکن جب اصلی مدارک کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اختلاف کا موضوع صرف فدک میں منحصر نہیں ہے بلکہ بعض دوسرے امور میں بھی اختلاف اور نزاع موجود ہے _ مثلاً:

جناب عائشےہ نے نقل کیا ہے کہ فاطمہ (ع) نے کسی کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا، جناب فاطمہ (ع) نے اس وقت کئی چیزوں کا مطالبہ کیا تھا_ اول: پیغمبر (ص) کے وہ اموال جو مدینہ میں موجود تھے_ دوم: فدک_ سوم: خیبر کا باقیماندہ خمس_ جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) کو جواب بھجوایا کہ پیغمبر (ص) نے فرمایا ہے کہ ہم میراث نہیں چھوڑتے جو کچھ ہم سے باقی رہ جائے وہ صدقہ ہوگا اور آل محمد بھی اس سے ارتزاق کرسکیں گے_

خدا کی قسم میں رسول خدا(ص) کے صدقات کو تغییر نہیں دوں گا اور اس کے مطابق_ عمل کروں گا_ جناب ابوبکر تیار نہ ہوئے کہ کوئی چیز جناب فاطمہ کو دیں اسی لئے جناب فاطمہ (ع) ان پر غضبناک ہوئیں اور آپ نے کنارہ کشی اختیار کرلی اور وفات تک ان سے گفتگو اور کلام نہ کیا(۱) _

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۷_


ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوبکر کو پیغام دیا کہ کیا تم رسول خدا (ص) کے وارث یا ان کے رشتہ دار اور اہل ہو؟ جناب ابوبکر نے جواب دیا کہ وارث ان کے اہل اور رشتہ دار ہیں جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ پس رسول خدا (ص) کا حصہ غنیمت سے کہاں گیا؟ جناب ابوبکر نے کہا کہ میں نے آپ کے والد سے سنا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا ہے کہ خدا نے پیغمبر (ص) کے لئے طعمہ (خوارک) قرار دیا ہے اور جب اللہ ان کی روح قبض کرلیتا ہے تو وہ مال ان کے خلیفہ کے لئے قرار دے دیتا ہے میں آپ کے والد کا خلیفہ ہوں مجھے چاہیئے کہ اس مال کو مسلمانوں کی طرف لوٹا دوں(۱) _

عروہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ (ع) کا اختلاف اور نزاع جناب ابوبکر سے فدک اور ذوی القربی کے حصّے کے مطالبے کے سلسلے میں تھا لیکن جناب ابوبکر نے انہیں کچھ بھی نہ دیا اور ان کو خدا کے اموال کا جز و قرار دے دیا(۲) _

جناب حسن بن علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) اور بنی ہاشم کو ذوی القربی کے سہم اور حصے سے محروم کردیا اور اسے سبیل اللہ کا حصہ قرار دے کر ان سے جہاد کے لئے اسلحہ اور اونٹ اور خچر خریدتے تھے(۳) _

ان مطالب سے معلوم ہوجائے گا کہ حضرت فاطمہ (ع) فدک کے علاوہ بعض دوسرے موضوعات میں جیسے رسول خدا کے ان اموال میں جو مدینے

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۹_

۲) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۳۱_

۳) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۳۱_


میں تھے اور خبیر کے خمس سے جو باقی رہ گیا تھا اور غنائم سے رسول خدا(ص) کے سہم اور ذوی القربی کے سہم میں بھی جناب ابوبکر کے ساتھ نزاع رکھتی تھیں لیکن بعد میں یہ مختلف موضوع خلط ملط کردیئے گئے کہ جن کی وجہ سے جناب فاطمہ (ع) کے اختلاف اور نزاع میں ابہامات اور اشکالات رونما ہوگئے حقیقت اور اصل مذہب کے واضح اور روشن ہوجانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام موارد نزاع کو ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا کیا جائے اور ہر ایک میں علیحدہ بحث اور تحقیق کی جائے_

پیغمبر (ص) کے شخصی اموال

پیغمبر (ص) کی کچھ چیزیں اور مال ایسے تھے جو آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھے اور آپ ہی اس کے مالک تھے جیسے مکان اور اس کا وہ کمرے کہ جس میں آپ (ص) اور آپ(ص) کی ازواج رہتی تھیں آپ کی شخصی لباس اور گھر کے اسباب جیسے فرش اور برتن و غیرہ، تلوار، زرہ، نیزہ، سواری کے حیوانات جیسے گھوڑا، اونٹ، خچر اور وہ حیوان جو دودھ دیتے تھے جیسے گوسفند اور گائے و غیرہ_ ان تمام چیزوں کے پیغمبر اسلام مالک تھے اور یہ چیزیں احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ درج ہیں(۱) _

بظاہر اس میں کوئی شک نہ ہوگا کہ یہ تمام چیزیں آپ کی ملک تھیں اور آپ کی وفا کے بعد یہ اموال آپ کے ورثا کی طرف منتقل ہوگئے_

____________________

۱) مناقب شہر ابن آشوب، ج ۱ ص ۱۶۸ _ کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۲۲_


حسن بن علی و شاء کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ کیا رسول خدا(ص) نے فدک کے علاوہ بھی کوئی مال چھوڑ تھا؟ تو آپ نے فرمایا، ہاں، مدینہ میں چند باغ تھے جو وقف تھے اور چھ گھوڑے تین عدد ناقہ کہ جن کے نام عضباء اور صہبا، اور دیباج تھے، دو عدد خچر جن کا نام شہبا، اور دلدل تھا، ایک عدد گدھا بنام یعفور، دو عدد دودھ دینے والی گوسفند، چالیس اونٹیاں دودھ دینے والی، ایک تلوار ذوالفقار نامی، ایک زرہ بنا م ذات الفصول عمامہ بنام سحاب، دو عدد عبا، کئی چمڑے کے تکئے_ پیغمبر(ص) یہ چیزیں رکھتے تھے آپ کے بعد یہ تمام چیزیں جناب فاطمہ (ع) کی طرف سوائے زرہ، شمشیر، عمامہ اور انگوٹھی کے منتقل ہوگئیں تلوار، زرہ، عمامہ اور انگوٹھی حضرت علی (ع) کو دیئے گئے(۱) _

پیغمبر(ص) کے وارث آپ کی ازواج او رجناب فاطمہ زہراء (ع) تھیں_ تاریخ میں اس کا ذکر نہیں آیا کہ پیغمبر (ص) کے ان اموال کو ان کے ورثا میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن بظاہر اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے امکانات آپ کی ازواج ہی کو دے دیئے گئے تھے کہ جن میں وہ آپ کے بعد رہتی رہیں، بعض نے یہ کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زندگی میں یہ مکانات اپنی ازواج کو بخش دیئے تھے اور اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے_

''و قرن فی بیوتکن وَلا تبرّجن تبرّج

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۲۲_


الجاهلیة الاولی '' (۱)

گہا گیا ہے کہ خداوند عالم نے اس آیت میں حکم دیا ہے کہ اپنے گھروں میں رہتی رہو اور جاہلیت کے دور کی طرح باہر نہ نکلو_ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھر ان کے تھے تب تو اس میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے ورنہ حکم اس طرح دیا جاتا کہ تم پیغمبر(ص) کے گھروں میں رہتی ہو، لیکن اہل تحقیق پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ یہ آیت اس مطلب کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کیوں کہ اس طرح کی نسبت دے دینا عرفی گفتگو میں زیادہ ہوا کرتی ہے اور صرف کسی چیز کا کسی طرف منسوب کردینا اس کے مالک ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا_ مرد کی ملک کو اس کی بیوی اور اولاد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے تمہارا گھر، تمہارا باغ، تمہارا فرش، تمہارے برتن حالانکہ ان تمام کا اصلی مالک ان کا باپ یا شوہر مرد ہوا کرتا ہے_ کسی چیز کو منسوب کرنے کے لئے معمولی سی مناسبت بھی کافی ہوا کرتی ہے جیسے کرائے پر مکان لے لینا یا اس میں رہ لینے سے بھی کہاجاتا ہے تمہارا گھر، چونکہ پیغمبر(ص) نے ہر ایک بیوی کے لئے ایک ایک کمرہ مخصوص کر رکھا تھا اس لئے کہا جاتا تھا جناب عائشےہ کا گھر یا جناب ام سلمہ کا گھر یا جناب زینب کا گھر یا جناب ام حبیبہ کا گھر لہذا اس آیت سے یہ مستفاد نہیں ہوگا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے یہ مکانات ان کو بخش دیئے تھے_ اس کے علاوہ اور کوئی بھی دلیل موجود نہیں جو یہ بتلائے کہ یہ مکان ان کی ملک میں تھا، لہذا کہنا پڑے گا کہ ازدواج نے یا تو مکانات اپنے ارث کے حصے کے طور پر لے رکھے تھے یا اصحاب نے پیغمبر(ص) کے احترام

____________________

۱) سورہ احزاب آیت ۳۳_


میں انہیں وہیں رہنے دیا جہاں وہ پیغمبر(ص) کی زندگی میں رہ رہیں تھی_ جناب فاطمہ (ع) ان مکانوں کے ورثاء میں سے ایک تھیں آپ نے بھی اسی لحاظ سے اپنے حق کا ان سے مطالبہ نہیں کیا اور انہی کو اپنا حصہ تا حیات دیئےکھا_ خلاصہ اس میں کسی کو شک نہیں کرنا چاہیئے کہ رسول خدا(ص) نے اس قسم کے اموال بھی چھوڑے ہیں جو ور ثاء کی طرف منتقل ہوئے اور ان کو قانون وراثت اور آیات وراثت شامل ہوئیں_

فدک

مدینہ کے اطراف میں ایک علاقہ ہے کہ جس کا نام فدک ہے مدینہ سے وہاں تک دودن کا راستہ ہے_ یہ علاقہ زمانہ قدیم میں بہت آباد اور سرسبز اور درختوں سے پر تھا_ معجم البلدان والے لکھتے ہیں کہ اس علاقہ میں خرمے کے بہت درخت تھے اور اس میں پانی کے چشمے تھے کہ جس سے پانی ابلتا تھا ہم نے پہلے بھی ثابت کیا ہے کہ فدک کوئی معمولی اور بے ارزش علاقہ نہ تھا بلکہ آباد اور قابل توجہ تھا_

یہ علاقہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھا جب ۷ سنہ ہجری کو خیبر کا علاقہ فتح ہوگیا تو فدک کے یہودیوں نے اس سے مرعوب ہوکر کسی آدمی کو پیغمبر(ص) کے پاس روانہ کیا اور آپ سے صلح کرنے کی خواہش کی_

ایک اور روایت میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے محیصہ بن مسعود کو ان یہودیوں کے پاس بھیجا اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے اسلام قبول نہ کیا البتہ صلح کرنے کی خواہش کا اظہار کیا_ جناب رسول خدا(ص) نے ان کی خواہش کو قبول فرمایا اور ان سے ایک صلح نامہ


تحریر کیا اس صلح کی وجہ سے فدک کے یہودی اسلام کی حفاظت اور حمایت میں آگئے_

صاحب فتوح البلدان لکھتے ہیں کہ یہودیوں نے اس صلح میں فدک کی آدھی زمین پیغمبر(ص) کے حوالے کردی، معجم البلدان میں لکھتے ہیں کہ فدک کے تمام باغات اور اموال اور زمین کا نصف پیغمبر(ص) کو دے دیا_

تاریخ گواہ ہے کہ اس صلح کی قرارداد کی رو سے جو فدک کے یہودیوں اور پیغمبر(ص) کے درمیان قرار پائی تھی تمام آراضی اور باغات اور اموال کا آدھا یہودیوں نے پیغمبر(ص) کو دے دیا، یعنی یہ مال خالص پیغمبر(ص) کی ذات کا ہوگیا کیونکہ جیسا کہ آپ ملاحظہ کرچکے ہیں یہ علاقہ بغیر جنگ کئے پیغمبر(ص) کے ہاتھ آیا ہے اسلام کے قانون کی رو سے جو علاقہ بھی بغیر جنگ کئے فتح ہوجائے وہ رسول(ص) کا خالص مال ہوا کرتا ہے_

یہ قانون اسلام کے مسلمہ قانون میں سے ایک ہے اور قرآن مجید بھی یہی حکم دیتا ہے_ جیسے خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وما افاء الله علی رسوله منهم فما اوجفتم علیه من ذل: و لارکاب و لکن الله یسلط رسله علی من یشاء و الله علی کل شیء قدیر، ما افاء الله علی رسوله من اهل القوی فلله و للرسول '' (۱) _

یعنی وہ مال کہ جو خدا نے اپنے پیغمبر(ص) کے لئے عائد کردیا ہے اور تم نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو

____________________

۱) سورہ حشر آیت ۶_


جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے او رخدا تمام چیزوں پر قادر ہے_ یہ اموال اللہ اور اس کے پیغمبر کے لئے مخصوص ہیں_

لہذا اس میں کسی کو شک نہیں ہونا کہ فدک پیغمبر(ص) کے خالص اموال سے ایک تھا یہ بغیر لڑائی کے پیغمبر(ص) کو ملا تھا اور پیغمبر(ص) اس کے خرچ کرنے میں تمام اختیارات رکھتے تھے آپ حق رکھتے تھے کہ جس جگہ بھی مصلحت دیکھیں فدک کے مال کو خرچ کریں آپ اس مال سے حکومت کا ارادہ کرنے میں بھی خرچ کرتے تھے اور اگر کبھی اسلام کے اعلی مصالح اور حکومت اسلامی کے مصالح اقتضا کرتے تو آپ کو حق تھا کہ فدک میں سے کچھ حصہ کسی کو بخش دیں تا کہ وہ اس کے منافع اور آمدنی سے فائدہ اٹھاتا رہے، آپ کو حق تھا کہ فدک کے آباد کرنے کے عوض کسی کو بلاعوض یا معاوضہ پر بھی دے دیں اور آپ یہ بھی کرسکتے تھے کہ کسی کی اسلامی خدمات کے عوض اس سے کچھ مال اسے بخش دیں، اور یہ بھی کرسکتے تھے کہ فدک کی آمدنی سے کچھ حکومت اسلامی اور عمومی ضروریات پر خرچ کردیں اور یہ بھی حق رکھتے تھے کہ اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات کے لئے فدک کا کچھ حصہ مخصوص قرار دے دیں_ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے فدک کو اپنے اور اپنے خاندان کے معاش اور ضروریات زندگی کے لئے مخصوص کر رکھا تھا آپ نے فدک کی بعض غیر آباد زمین کو اپنے دست مبارک سے آباد کیا اور اس میں خرمے کے درخت لگائے_

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جب متوکل عباسی نے فدک عبداللہ بن عمر بازیار کو بخش دیا تو اس میں اس وقت تک گیارہ خرمے کے وہ درخت موجود تھے جو جناب رسول خدا(ص) نے اپنے دست مبارک سے اس میں لگائے تھے_


جب کبھی فدک جناب فاطمہ (ع) کی اولاد کے ہاتھ میں آجاتا تھا تو وہ ان درختوں کے خرمے حاجیوں کو ہدیہ دیا کرتے تھے اور حاجی حضرات تبرّک کے طور پر لے کر ان پر کافی احسان کیا کرتے تھے_ جب یہی عبداللہ فدک پر مسلط ہوا تو اس نے بشر ان بن امیہ کو حکم دیا کہ وہ تمام درخت کاٹ دے جب وہ درخت کاٹے گئے اور کاٹنے والا بصرہ لوٹ آیا تو اسے فالج ہوگیا تھا_(۱)

پیغمبر(ص) کی عادت یہ تھی کہ فدک کی آمدنی سے اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات کے مطابق لے لیتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا وہ بنی ہا شم کے فقراء اور ابن سبیل کو دے دیا کرتے تھے اور بنی ہاشم کے فقراء کی شادی کرانے کے اسباب بھی اسی سے مہیا کرتے تھے_

فدک جناب فاطمہ (ع) کے پاس

سب سے زیادہ مہم نزاع اور اختلاف جو جناب فاطمہ (ع) او رجناب ابوبکر کے درمیان پیا ہوا وہ فدک کا معاملہ تھا، حضرت فاطمہ (ع) مدعی تھیں کہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں فدک انہیں بخش دیا تھا لیکن جناب ابوبکر اس کا انکار کرتے تھے، ابتداء میں تو جھگڑا ایک عادی امر شمار ہوتا تھا لیکن بعد میں اس نے تاریخ کے ایک اہم واقعہ اور حساس حادثہ کی صورت اختیار کرلی کہ جس کے آثار اور تنائج جامعہ اسلامی کے سالوں تک دامن گیر ہوگئے اور اب بھی ہیں

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۷_


اس نزاع میں جو بھی حق ہے وہ اچھی طرح واضح اور روشن ہوجائے لہذا چند مطالب کی تحقیق ضروری ہے_

پہلا مطلب: کیا پیغمبر(ص) :کو دولت او رحکومت کے اموال اپنی بیٹی کو بخش دینے کا حق تھا یا نہیں_ (واضح رہے کہ بعض علماء کا نظریہ یہ ہے کہ انفال اور فی اور خمس و غیرہ قسم کے اموال حکومت اسلامی کے مال شمار ہوتے ہیں اور حاکم اسلامی صرف اس پر کنٹرول کرتا ہے یہ اس کا ذاتی مال نہیں ہوتا، اسی نظریئے کے صاحب کتاب بھی معلوم ہوتے ہیں گرچہ یہ نظریہ شیعہ علماء کی اکثریت کے نزدیک غلط ہے اور خود آئمہ طاہرین کے اقدام سے بھی یہ نظریہ غلط ثابت ہوتا ہے اور قرآن مجید کے ظواہر سے بھی اسی نظریئے کی تردید ہوتی ہے کیونکہ ان تمام سے ان اموال کا پیغمبر(ص) اور امام کا شخصی اور ذاتی مال ہونا معلوم ہوتا ہے نہ منصب اور حکومت کا لیکن صاحب کتاب اپنے نظریئے کے مطابق فدک کے قبضئے کو حل کر رہے ہیں ''مترجم''')

ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ غنائم اور دوسرے حکومت کے خزانے تمام مسلمانوں کے ہوتے ہیں اور حکومت کی زمین کو حکومت کی ملکیت میں ہی رہنا چاہیئے، لیکن ان کی آمدنی کو عام ملت کے منافع اور مصالح پر خرچ کرنا چاہیئے لہذا پیغمبر(ص) کے لئے جوہر خطا اور لغزش سے معصوم تھے ممکن ہی نہ تھا کہ وہ فدک کو جو خالص آپ کا ملک تھا اپنی بیٹی زہراء کو بخش دیتے_

لیکن اس اعتراض کا جواب اس طر ح دیا جاسکتا ہے کہ انفال اور اموال حکومت کی بحث ایک بہت وسیع و عریض بحث ہے کہ جو ان اوراق میں تفصیل کے ساتھ تو بیان نہیں کی جاسکتی، لیکن اسے مختصر اور نتیجہ اخذ کرنے کے


لئے یہاں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ فدک بھی غنائم اور عمومی اموال میں ایک تھا اور اس کا تعلق نبوت اور امامت کے منصب سے تھا یعنی اسلامی حاکم شرع سے تعلق رکھتا تھا لیکن پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ان اموال میں سے تھا جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا اور نصوص اسلامی کے مطابق اور پیغمبر(ص) کی سیرت کے لحاظ سے اس قسم کے اموال جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئیں یہ پیغمبر(ص) کے خالص مال شمار ہوتے ہیں البتہ خالص اموال کو بھی یہ کہا جائے کہ آپ کا شخص مال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا تعلق بھی حاکم اسلامی اور حکومت سے ہوتا ہے تب بھی اس قسم کے مال کا ان عمومی اموال سے جو دولت اور حکومت سے متعلق ہوتے ہیں بہت فرق ہوا کرتا ہے، کیونکہ اس قسم کے مال کا اختیار پیغمبر(ص) کے ہاتھ میں ہے اور آپ اس قسم کے اموال میں تصرف کرنے میں محدود نہیں ہوا کرتے بلکہ آپ کو اس قم کے اموال میں بہت وسیع اختیارات حاصل ہوا کرتے ہیں اور اس کے خرچ کرنے میں آپ اپنی مصلحت اندیی اور صواب دید کے پابند اور مختار ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر عمومی مصلحت اس کا تقاضا کرے تو آپ اس کا کچھ حصہ ایک شخص کو یا کئی افراد کو دے بھی سکتے ہیں تا کہ وہ اس منافع سے بہرہ مند ہوں_ اس قسم کے تصرفات کرنا اسلام میں کوئی اجنبی اور پہلا تصرف نہیں ہوگا بلکہ رسول خدا (ص) نے اپنی آراضی خالص سے کئی اشخاص کو چند زمین کے قطعات دیئے تھے کہ جس اصطلاح میں اقطاع کہا جاتا ہے_

بلاذری نے لکھا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمین کے چند قطعات___ بنی نضیر اور جناب ابوبکر اور جناب عبدالرحمان بن عوف اور جناب ابو دجانہ و غیرہ کو عنایت فرما


دیئے تھے(۱) _

ایک جگہ اور اسی بلاذری نے لکھا ہے کہ رسول خدا (ص) نے بنی نضیر کی زمینوں میں سے ایک قطعہ زمین کا مع خرمے کے درخت کے زبیر ابن عوام کو دے دیا تھا(۲) _

بلاذری لکھتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے زمین کا ایک قطعہ کہ جس میں پہاڑ اور معدن تھا جناب بلال کو دے دیا(۳) _

بلاذری لکھتے ہیں کے رسول خدا(ص) نے زمین کے چار قطعے علی ابن ابی طالب(ع) کو عنایت فرما دیا دیئے تھے(۴) _

پس اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے کہ حاکم شرع اسلامی کو حق پہنچتا ہے کہ زمین خالص سے کچھ مقدار کسی معین آدمی کو بخش دے تا کہ وہ اس کے منافع سے استفادہ کرسکے_ پیغمبر(ص) نے بھی بعض افراد کے حق میں ایسا عمل انجام دیا ہے_ حضرت علی (ع) او رجناب ابوبکر اور جناب عمر اور جناب عثمان اس قسم کی بخشش سے نوازے گئے تھے_

بنابرین قوانین شرع اور اسلام کے لحاظ سے کوئی مانع موجود نہیں کہ رسول خدا(ص) فدک کی آراضی کو جناب زہراء (ع) کو بخش دیں، صرف اتنا مطلب رہ جائے گا کہ آیا جناب رسول خدا(ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخشا بھی تھا یا نہیں، تو اس کے اثبات کے لئے وہ اخبار اور روایات جو ہم تک پیغمبر(ص) کی پہنچی ہیں کافی ہیں کہ آپ

____________________

۱) فتوح البلدان، ص ۲۱_

۲) فتوح البلدان، ص ۳۴_

۳، ۴) فتوح البلدان، ص ۲۷


نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا، نمونے کے طور پر ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ''وات ذالقربی حقہ'' نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا کہ فدک تمہارا مال ہے(۱) _

عطیہ نے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت ''وات ذالقربی حقہ'' نازل ہوئی تو جناب رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) کو اپنے پاس بلایا اور فدک آپ کو دے دیا(۲) _

علی (ع) بن حسین (ع) بن علی (ع) بن ابی طالب (ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو دے دیا تھا(۳) _

جناب امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ جب یہ آیت ''وَ ات ذالقربی حقہ'' نازل ہوئی تو پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ مسکین تو میں جانتا ہوں یہ ''ذالقربی '' کون ہیں؟ جبرئیل نے عرض کی یہ آپ کے اقرباء ہیں پس رسول خدا(ص) نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) اور جناب فاطمہ (ع) کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے دستور اور حکم دیا ہے کہ میں تمہارا حق دوں اسی لئے فدک تم کو دیتا ہوں(۴) _

ابان بن تغلب نے کہا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں عرض کی کہ آیا رسول خدا(ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو دیا تھا؟ آپ (ع) نے فرمایا کہ فدک تو خدا کی طرف سے جناب فاطمہ (ع) کے لئے معین ہوا تھا(۵) _

امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا کہ جناب فاطمہ (ع) حضرت ابوبکر کے پاس آئیں

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۲_ در منثور، ج ۴ ص ۱۷۷_

۲،۳) کشف الغمہ ج ۲ ص ۱۰۲_

۴، ۵) تفسیر عیاشی ج ۲ ص ۲۷۰_


اور ان سے فدک کا مطالبہ کیا_

جناب ابوبکر نے کہا اپنے مدعا کے لئے گواہ لاؤ، جناب ام ایمن گواہی کے لئے حاضر ہوئیں تو ابوبکر نے ان سے کہا کہ کس چیز گواہی دیتی ہو انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ جبرئیل جناب رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیی فرماتا ہے ''وَ ات ذالقربی حقہ'' پیغمبر(ص) نے جبرئیل سے فرمایا کہ خدا سے سوال کرو کہ ذی القربی کون ہیں؟ جبرئیل نے عرض کی کہ فاطمہ (ع) ذوالقربی ہیں پس رسول خا(ص) نے فدک کو دے دیا(۱) _

ابن عباس نے روایت کی ہے کہ جب آیت ''وَ ات ذالقربی حقہ'' نازل ہوئی، جناب رسول خدا(ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو دے دیا(۲) _

اس قسم کی روایات سے جو اس آیت کی شان نزول میں وارد ہوئی ہیں مستفاد ہوتا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) اللہ تعالی کی طرف سے مامور تھے کہ فدک کو بعنوان ذوالقربی فاطمہ (ع) زہراء (ع) کے اختیار میں دے دیں تا کہ اس ذریعے سے حضرت علی (ع) کی اقتصادی حالت ''کہ جس نے اسلام کے راستے میں _ جہاد اور فداکاری کی ہے '' مضبوط رہے _

ممکن ہے کہ کوئی یہ اعتراض کرے کہ ذالقربی والی آیت کہ جس کا ذکر ان احادیث میں ہوا ہے سورہ اسراء کی آیت ہے اور سورہ اسراء کو مکی سورہ میں شمار کیا جاتا ہے حالانکہ فدک تو مدینے میں اور خیبر کی فتح کے بعد دیا گیا تھا لیکن اس کے جواب میں دو مطلب میں سے ایک کو اختیار کیا جائے گا اور کہا جائے

____________________

۱) تفسیر عیاشی، ج ۲ ص ۲۸۷_

۲) در منثور، ج ۴ ص ۱۷۷_


گا گر چہ سورہ اسری مکی ہے مگر پانچ آیتیں اس کی مدینہ میں نازل ہوئی ہیں_

آیت''و لا تقتلوا النفس' ' اور آیت''و لا تقربوا الزنا'' اور آیت ''اولئک الذین یدعون '' اور آیت''اقم الصلوة'' اور آیت''ذی القربی ''(۱) _

دوسرا جواب یہ ہے کہ ذی القربی کا حق تو مکہ میں تشریع ہوچکا تھا لیکن اس پر عمل ہجرت کے بعد کرایا گیا _

فدک کے دینے کا طریقہ

ممکن ہے کہ جناب رسول خدا (ص) نے فدک فاطمہ (ع) کو دو طریقوں میں سے ایک سے دیا ہو_ پہلا فدک کی آراضی کو آپ کا شخصی مال قرار دے دیا ہو_ دوسرا یہ کہ اسے علی (ع) اور فاطمہ (ع) کے___ خانوادے پر جو مسلمانوں کی رہبری اور امامت کا__ _ گھر تھا وقف کردیا ہو کہ یہ بھی ایک دائمی صدقہ اور وقف ہوجو کہ ان کے اختیار میں ___س دے دیا ہو_

اخبار اور احادیث کا ظاہر پہلے طریقے کی تائید کرتا ہے، لیکن دوسرا طریقہ بھی بعید قرار نہیں دیاگیا بلکہ بعض روایات میں اس پر نص بھی موجود ہے جیسے ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا آپ نے فرمایا کہ پیغمبر(ص) نے فدک وقف کیا اور پھر آپ ذی القربی کے مطابق وہ آپ(ع) کے اختیار میں دے دیا میں نے عرض کی کہ رسول خدا(ص) نے

____________________

۱) تفسیر المیزان تالیف استاد بزرگ علامہ طباطبائی ج ۱۳ ص ۲_


فدک فاطمہ (ع) کو دے دیا آپ نے فرمایا بلکہ خدا نے وہ فاطمہ (ع) کو دیا(۱) _

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول(ص) نے فاطمہ (ع) کو فدک بطور قطعہ دیا(۲) _

ام ہانی نے روایت کی ہے کہ جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ جب تو مرے گا تو تیرا وارث کون ہوگا؟ جناب ابوبکر نے کہا میری آل و اولاد، جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا پس تم کس طرح رسول اللہ کے ہمارے سوا وارث ہوگئے ہو، جناب ابوبکر نے کہا، اے رسول کی بیٹی خدا کی قسم میں رسول اللہ (ص) کا سونے، چاندی و غیرہ کا وارث نہیں ہوا ہوں_ جناب فاطمہ (ع) نے کہا ہمارا خیبر کا حصہ اور صدقہ فدک کہاں گیا؟ انہوں نے کہا اے بنت رسول (ص) میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ تو ایک طمعہ تھا جو اللہ نے مجھے دیا تھا جب میرا انتقال ہوجائے تو یہ مسلمانوں کا ہوگا(۳) _

جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق (ع) تصریح فرماتے ہیں کہ فدک وقف تھا، دوسری حدیث میں امام زین العابدین نے اسے قطعہ سے تعبیر کیا ہے کہ جس کے معنی صرف منافع کا اسلامی او رحکومتی زمین سے حاصل کرنا ہوتا ہے، احتجاج میں حضرت زہراء (ع) نے ابوبکر سے بعنوان صدقہ کے تعبیر کیا ہے_

ایک اور حدیث میں جو پہلے گزرچکی ہے امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ رسول خدا (ص) نے حسن (ع) و حسین (ع) اور فاطمہ (ع) کو بلایا اور فدک انہیں دے دیا_

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۹۶ ص ۲۱۳_

۲) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۲_

۳) فتوح البلدان، ص ۴۴_


اس قسم کی احادیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فدک کو خانوادہ فاطمہ (ع) و علی (ع) پر جو ولایت اور رہبری کا خانوادہ تھا اور اس کے منافع کو انہیں کے ساتھ مخصوص کردیا تھا_

''لیکن جن روایات میں وقف و غیرہ کی تعبیر آئی ہے وہ ان روایات کے مقابل کہ جن میں بخش دینا آیا ہے بہت معمولی بلکہ ضعیف بھی شمار کی جاتی ہیں لہذا صحیح نظریہ یہی ہے کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کی شخصی اور ذاتی ملک تھا جو بعد میں ان کی اولاد کا ارث تھا_ صاحب کتاب اس قسم کی کوشش صرف ایک غرض کے ماتحت فرما رہے ہیں اور یہ غرض اہل علم پر کہ جنہوں نے نہج البلاغہ کی موجودہ زمانے میں جو شرح کی گئی ہے کا مطالعہ کیا ہے مخفی نہیں ہے لیکن شارح بھی حق پر نہیں ہے اور ان کی تصحیح کی کوشش بھی درست نہیں ہے '' مترجم

فدک کے واقعہ میں قضاوت

دیکھنا یہ چاہیئے کہ اس واقعہ میں حق جناب زہراء (ع) کے ساتھ ہے یا جناب ابوبکر کے ساتھ؟ مورخین اور محدثین نے لکھا ہے کہ جناب رسول خدا (ص) کی وفات کے دس دن بعد جناب ابوبکر نے اپنے آدمی بھیجے اور فدک پر قبضہ کرلیا(۱) _

جب اس کی اطلاع جناب فاطمہ (ع) کو ہوئی تو آپ جناب ابوبکر کے پاس آئیں اور فرمایا کہ کیوں تیرے آدمیوں نے میرے فدک پر قبضہ کیا ہے؟ حکم دو کہ وہ فدک مجھے واپس کردیں، جناب ابوبکر نے کہا_ اے پیغمبر(ص) کی بیٹی آپ کے

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۶۳_


والد نے درہم اور دینار میراث میں نہیں چھوڑٹے آپ نے خود فرمایا ہے کہ پیغمبر(ص) ارث نہیں چھوڑا کرتے، جناب فاطمہ (ع) نے کہا کہ میرے بابا نے فدک اپنی زندگی میں مجھے بحش دیا تھا_ جناب ابوبکر نے کہا کہ آپ کو اپنے اس مدعا پر گواہ لانے چاہئیں پس علی (ع) ابن ابی طالب اور جناب امّ ایمن حاضر ہوء اور گواہی دی کہ رسول خدا(ص) نے فدک فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا، لیکن جناب عمر اور عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول خدا (ص) فدک کی آمدنی کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے پس ابوبکر نے کہا اے رسول(ص) کی بیٹی تم سچ کہتی ہو اور علی (ع) اور امّ ایمن بھی سچ کہتے ہیں اور عمر اور عبدالرحمن بھی سچ کہتے ہیں اس واسطے کہ آپ کا مال آپ کے والد تھا_ رسول خدا (ص) آپ کا آذوقہ فدک کی آمدنی سے دیا کرتے تھے اور باقی کو تقسیم کردیتے تھے اور راہ خدا میں صرف کیا کرتے تھے(۱) _

بلاذری کہتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پا س گئیں اور فرمایا کہ فدک میرے والد نے میرے سپرد کیا تھا وہ کیوں نہیں؟ جناب ابوبکر سنے گواہوں کا مضالبہ کیا پس علی ابن ابی طالب اور جناب ام ایمن حاضر ہوئے اور گواہی دی جناب ابوبکر نے کہا تمہارے گواہوں کا نصاب ناقص ہے چاہیئے کہ دو مرد گواہی یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں(۲)

علی ابن ابی طالب (ع) فرماتے ہیں کہ فا طمہ (ع) ابوبکر کے پاس گئیں اور فرمایا کہ میرے والد نے فدک میرے سپرد کیا تھا علی (ع) اور امّ ایمن نے گواہی بھی دی تم کیوں

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۶_

۲) فتوح البلدان، ص ۴۴_


مجھے میرے حق سے محروم کرتے ہو_

جناب ابوبکر نے فرمایا کہ آپ سوائے حق کے اور کچھ نہیں فرماتیں فدک آپ کو دیتا ہوں پس فدک کو جناب فاطمہ (ع) کے لئے تحریر کردیا اور قبالہ آپ کے ہاتھ میں دے دیا جناب فاطمہ (ع) نے وہ خط لیا اور باہر آگئیں راستے میں جناب عمر نے آپ کو دیکھا اور پوچھا کہ کہاں سے آرہی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر کے یہاں گئی تھی اور میں نے کہا کہ میرے والد نے فدک مجھے بخشا تھا اور ام ایمن نے گواہی دی تھی لہذا انہوں نے فدک مجھے واپس کردیا ہے اور یہ اس کی تحریر ہے جناب عمر نے وہ تحریر لی اور جناب ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ تم نے فدک تحریر کرکے فاطمہ (ع) کو واپس کردیا ہے؟ انہوں نے کہا ہان، عمر نے کہا کہ علی (ع) نے اپنے نفع کے لئے گواہی دی ہے اور امّ ایمن ایک عورت ہے اس کے بعد اس تحریر کو پھاڑ ڈالا(۱) _

جناب فاطمہ (ع) نے ابوبکر سے کہا کہ امّ ایمن گواہی دیتی ہے کہ رسول خدا(ص) نے فدک مجھے بخش دیا تھا_ ابوبکر نے کہا اے دختر رسول (ص) ، خدا کی قسم میرے نزدیک رسول خدا(ص) سے زیادہ محبوب کوئی بھی نہیں ہے جب آپ وفات پاگئے تو میرا دل چاہتا تھا کہ آسمان زمین پر گرپڑے، خدا کی قسم عائشےہ فقیر ہو تو بہتر ہے کہ تم محتاج ہو_ کیا آپ خیال کرتی ہیں کہ میں سرخ و سفید کا حق تو ادا کرتا ہوں لیکن آپ کو آپ کے حق سے محروم کرتا ہوں؟ فدک پیغمبر(ص) کا شخصی مال نہ تھا بلکہ مسلمانوں کا عمومی مال تھا آپ کے والد اس کی آمدنی سے فوج تیار کرتے تھے اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے، جب آپ(ص) دنیا سے چلے گئے تو اس

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ص ۱۶ ص ۲۷۴_


کی تولیت اور سرپرستی میرے ہاتھ میں آئی ہے(۱) _

اس قسم کی گفتگو جناب فاطمہ (ع) اور جناب ابوبکر کے درمیان ہوئی لیکن جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) کی بات تسلیم نہیں کی اور جناب زہراء (ع) کو ان کے حق سے محروم کردیا_

اہل علم و دانش اور منصف مزاج لوگوں پر مخفی نہیں کہ جناب ابوبکر کا عمل اور کردار قضاوت اور شہادت کے قوانین کے خلاف تھا اور آپ پر کئی جہات سے اعتراض وارد کئے جاسکتے ہیں_

پہلا اعتراض:

فدک جناب زہراء (ع) کے قبضہ میں تھا تصرف میں تھا اس میں آپ سے گواہوں کا مطالبہ شریعت اسلامی کے قانوں کے خلاف تھا اس قسم کے موضوع میں جس کے قبضے میں مال ہو اس کا قول بغیر کسی گواہ اور بین ہ کے قبول کرنا ہوتا ہے، اصل مطلب ک ی ذی الید کا قول بغیر گواہوں کے قبول ہوتا ہے، یہ فقہی کتب میں مسلم اور قابل تردید نہیں ہے باقی رہا کہ جناب فاطمہ (ع) ذی الید اور فدک پر قابض تھیں یہ کئی طریقے سے ثابت کیا جاسکتا ہے_

اول: جیسا کہ پہلے نقل ہوچکا ہے ابوسعید خدری، عطیہ اور کئی دوسرے افراد نے گواہی دی تھی کہ رسول خدا (ص) نے اس آیت کے مطابق ''وَ ات ذالقربی حقہ'' فدک جناب فاطمہ (ع) کو دے دیا تھا، روایت میں اعطی کا لفظ وارد ہوا ہے بلکہ اس پر نص ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں فدک حتمی طور پر جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا اور وہ آپ کے قبضہ اور تصرف میں تھا_

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۴_


دوسرے: حضرت علی (ع) نے تصریح فرمائی ہے کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کے تصرف اور قبضے میں تھا جیسا کہ آپ نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے کہ ہاں ہمارے پاس اس میں سے کہ جس پر آسمان سایہ فگن ہے صرف فدک تھا، ایک گروہ نے اس پر بخل کیا اور دوسرا گروہ راضی ہوگیا اور اللہ ہی بہترین قضاوت کرنے والا ہے(۱) _

تیسرے: امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ جب جناب ابوبکر نے حکم دیا کہ فدک سے جناب فاطمہ (ع) کے آدمیوں اور کام کرنے والوں کو نکال دیا جائے تو حضرت علی (ع) ان کے پا س گئے اور فرمایا اے ابوبکر، اس جائداد کو کہ جو رسول خدا (ص) نے فاطمہ (ع) کو بخش دی تھی اور ایک مدت تک جناب فاطمہ (ع) کا نمائندہ پر قابض رہا آپ نے کیوں لے لی ہے؟(۲) _

رسول خدا(ص) کا فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دینا اور جناب فاطمہ (ع) کا اس پر قابض ہونا یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، اسی لئے جب عبداللہ بن ہارون الرشید کو مامون کی طرف سے حکم ملا کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کی اولاد کو واپس کردیا جائے تو اس نے ایک خط میں مدینہ کے حاکم کو لکھا کہ رسول خدا (ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو دیا تھا اور یہ بات آل رسول (ص) میں واضح اور معروف ہے اور کسی کو اس بارے میں شک نہیں ہے اب امیرالمومنین (مامون) نے مصلحت اسی میں دیکھی ہے کہ فدک فاطمہ (ع) کے وارثوں کو واپس کردیا جائے(۳) _

ان شواہد اور قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک جناب رسول خدا(ص) کے

____________________

۱) نہج البلاغہ باب المختار من الکتاب، کتاب ۴۵_

۲) نورالثقلین، ج ۴ ص ۲۷۲_

۳) فتوح البلدان، ص ۴۶_


زمانے میں حضرت علی (ع) اور جناب فاطمہ (ع) کے قبضے میں تھا اس قسم کے موضوع میں گواہوں کا طلب کرنا اسلامی قضا اور شہادت کے قانوں کے خلاف ہے_

دوسرا اعتراض:

جناب ابوبکر اس نزاع میں جانتے تھے کہ حق جناب فاطمہ (ع) کے ساتھ اور خود_ انہیں جناب زہراء (ع) کی صداقت اور راست گوئی کا نہ صرف____ اعتراف تھا بلکہ تمام مسلمان اس کا اعتراف کرتے تھے کوئی بھی مسلمان آپ کے بارے میں جھوٹ اور افتراء کا احتمال نہ دیتا تھا کیوں کہ آپ اہل کساء میں سے ایک فرد تھیں کہ جن کے حق میں آیت تطہیر نازل ہوئی ہے کہ جس میں خداوند عالم نے آپ کی عصمت اور پاکیزگی کی تصدیق کی ہے_

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو یہ مطلب کتاب قضا اور شہادت میں ثابت ہے کہ اموال اور دیوں کے معاملے میں اگر قاضی کو واقعہ کا علم ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرسکتا ہے او روہ گواہ اور بینہ کا محتاج نہ ہوگا، بنابراین جناب ابوبکر جب جانتے تھے کہ حضرت زہراء (ع) ، سچی ہیں اور رسول خدا(ص) نے فدک انہیں عطا کیا ہے تو آپ کو چاہیئے تھا کہ فوراً جناب زہراء (ع) کی بات تسلیم کرلیتے اور آپ سے گواہوں کا مطالبہ نہ کرتے_

جی ہاں مطلب تو یوں ہی ہے کہ جناب ابوبکر جانتے تھے کہ حق حضرت زہراء (ع) کے ساتھ ہے اور رسول خدا(ص) نے فدک میں انہیں دے دیا ہے شاید ابوبکر پیغمبر(ص) کے اس عمل سے ناراض تھے اسی لئے جناب فاطمہ (ع) کے جواب میں کہا کہ یہ مال پیغمبر اسلام کا نہ تھا بلکہ یہ مسلمانوں کا مال تھا کہ جس سے پیغمبر (ص) فوج تیار کرتے تھے اور جب آپ فوت ہوگئے تو اب


میں اس مال کا متولی ہوں جیسے کہ پیغمبر(ص) متولی تھے(۱) _

ایک اور جگہ جناب ابوبکر نے اپنے آپ کو دوبڑے خطروں میں دیکھا ایک طرف جناب زہراء (ع) مدعی تھیں کہ رسول خدا(ص) نے فدک انہیں بخشا ہے اور اپنے اس مدعا کے لئے دو گواہ علی (ع) اور ام ایمن کو حاضر کیا اور جناب ابوبکر جانتے تھے کہ حق جناب زہراء (ع) کے ساتھ ہے اور انہیں اور ان کے گواہوں کو نہیں چھٹلا سکتے تھے اور دوسری طرف سیاست وقت کے لحاظ سے جناب عمر اور عبدالرحمن کو بھی نہیں جھٹلاسکتے تھے تو آپ نے ایک عمدہ چال سے جناب عمر کے قول کو ترجیح دی اور تمام گواہوں کے اقوال کی تصدیق کردی اور ان کے اقوال میں جمع کی راہ نکالی اور فرمایا کہ اے دختر رسول (ص) آپ سچی ہیں علی (ع) سچے ہیں اور ام ایمن سچی ہیں اور جناب عمر اور عبدالرحمن بھی سچے ہیں، اس لئے کہ جناب رسول خدا(ص) فدک سے آپ کے آذوقہ کی مقدار نکال کر باقی کو تقسیم کردیتے تھے اور اسے خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور آپ اس مال میں کیا کریں گی؟ جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ وہی کروں گی جو میرے والد کرتے تھے، جناب ابوبکر نے کہا کہ میں قسم کھا کر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی وہی کروں گا جو آپ کے والد کیا کرتے تھے(۲) _

ایک طرف تو جناب ابوبکر جناب زہراء (ع) کے اس ادعا ''کہ فدک میرا مال ہے'' کی تصدیق کرتے ہیں اور حضرت علی (ع) اور ام ایمن کی گواہوں کی بھی تصدیق کرتے ہیں اور دوسری طرف جناب عمر اور عبدالرحمن کے قول کی

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۴_

۲) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۶_


بھی انہوں نے کہا کہ رسول خدا فدک کو مسلمانوں میں تقسیم کردیتے تھے تصدیق کرتے ہیں اور اس وقت اپنے اجتہاد کے مطابق ان اقوال (توافق) جمع کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کا مال آپ کے والد کا مال تھا کہ جس سے آپ کا آذوقہ لے لیتے تھے اور باقی کو مسلمانوں میں تقسیم کردیتے تھے اور خدا کی راہ میں خرچ کردیتے تھے اس کے بعد جناب ابوبکر جناب فاطمہ (ع) سے پوچھتے ہیں کہ اگر فدک آپ کو دے دیا جائے تو آپ کیا کریں گی، آپ نے فرمایا کہ میں اپنے والد کی طرح خرچ کروں گی تو فوراً جناب ابوبکر نے قسم کھا کر جواب دیا کہ میں بھی وہی کروں گا جو آپ کے والد کیا کرتے تھے اور میں آپ(ص) کی سیرت سے تجاوز نہ کروں گا_

لیکن کوئی نہ تھا کہ جناب ابوبکر سے سوال کرتا کہ جب آپ مانتے ہیں کہ فدک جناب زہراء (ع) کی ملک ہے اور آپ جناب فاطمہ (ع) اور ان کے گواہوں کی تصدیق بھی کر رہے ہیں تو پھر ان کی ملکیت ان کو واپس کیوں نہیں کردیتے؟ جناب عمر اور عبدالرحمن کی گواہوں صرف یہی بتلانی ہے کہ پیغمبر(ص) فدک کو مسلمانوں میں تقسیم کردیتے تھے، اس سے جناب زہراء (ع) کی ملکیت کی نفی تو نہیں ہوتی کیونکہ پیغمبر(ص) جناب زہراء (ع) کی طرف سے ماذون تھے کہ فدک کی زائد آمدنی کو راہ خدا میں خرچ کردیں، لیکن اس قسم کی اجازت جناب فاطمہ (ع) نے ابوبکر کو تو نہیں دے رکھی تھی بلکہ اس کی اجازت ہی نہیں دی تو پھر ابوبکر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ فرمائیں کہ میں بھی آپ کے والد کی سیرت سے تجاوز نہ کروں گا، مالک تو کہتا ہے کہ میری ملکیت مجھے واپس کردو اور آپ اس سے انکار کر کے وعدہ کرتے ہیں کہ میں بھی آپ کے والد کی طرح عمل کروں گا، سبحان اللہ اور آفرین اس قضاوت اور فیصلے پر_


تیسرا اعتراض:

فرض کیجئے کہ جناب ابوبکر حضرت زہراء (ع) کے گواہوں کے نصاب کو ناقص سمجھتے تھے اور ان کی حقانیت پر یقین بھی نہیں رکھتے تھے تو پھر بھی ان کا وظیفہ تھا کہ حضرت زہراء (ع) سے قسم کھانے کا مطالبہ کرتے اور ایک گواہ اور قسم کے ساتھ قضاوت کرتے کیوں کہ کتاب قضا اور شہادت میں یہ مطلب پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ ام وال اور دیون کے واقعات میں قاضی ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر حکم لگا سکتا ہے، روایت میں موجود ہے کہ رسول خدا (ص) ایک گواہ کے ساتھ قسم ملا کر قضاوت اور فیصلہ کردیا کرتے تھے(۱) _

چوتھا اعتراض:

اگر ہم ان سابقہ تمام اعتراضات سے صرف نظر کرلیں تو اس نزاع میں جناب فاطمہ (ع) مدعی تھیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فدک انہیں بخش دیا ہے اور جناب ابوبکر منکر تھے اور کتب فقہی میں یہ مطلب مسلم ہے کہ اگر مدعی کا ثبوت ناقص ہو تو قاضی کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ مدعی کو اطلاع دے کہ تمہارے گواہ ناقص ہیں اور تمہیں حق پہنچتا ہے کہ تم منکر سے قسم اٹھانے کا مطالبہ کرو، لہذا جناب ابوبکر پر لازم تھا کہ وہ جناب زہراء (ع) کو تذکر دیتے کہ چونکہ آپ کے گواہ ناقص ہیں اگر آپ چاہیں تو چونکہ میں منکر ہوں آپ مجھ سے قسم اٹھوا سکتی ہیں، لیکن جناب ابوبکر نے قضاوت کے اس قانون کو بھی نظرانداز کیا اور صرف گواہ کے ناقص ہونے کے ادعا کو نزاع کے خاتمہ کا اعلان کر کے رد کردیا_

____________________

۱) مجمع الزوائد، ج ۳ ص ۲۰۲ _


پانچواں اعتراض:

اگر فرض کرلیں کہ جناب زہراء (ع) کی حقانیت اس جگھڑے میں جناب ابوبکر کے نزدیک ثابت نہیں ہوسکی تھی لیکن پھر بھی فدک کی آراضی حکومت اسلامی کے مال میں تھی، مسلمانوں کے حاکم اور خلیفہ کو حق پہنچتا تھا کہ وہ عمومی مصلحت کا خیال کرتے، جب کہ آپ اپنے کو مسلمانوں کا خلیفہ تصور کرتے تھے، فدک کو بعنوان اقطاع جناب فاطمہ (ع) دختر پیغمبر(ص) کو دے دیتے اور اس عمل سے ایک بہت بڑا اختلاف جو سالہا سال تک مسلمانوں کے درمیان چلنے والا تھا اس کے تلخ نتائج کا سد باب کردیتے_

کیا رسول خدا(ص) نے بنی نضیر کی زمینیں جناب ابوبکر اور عبدالرحمن بن عوف اور ابو دجانہ کو نہیں دے دی تھیں(۱) _

کیا بنی نضیر کی زمین مع درختوں کے زبیر بن عوام کو پیغمبر(ص) اسلام نے نہیں دے دی تھیں(۲) _

کیا معاویہ نے اسی فدک کا تہائی حصہ کے عنوان سے مروان بن الحکم اور ایک تہائی جناب عمر بن عثمان کو اور ایک تہائی اپنے بیٹے یزید کو نہیں دے دیا تھا(۳) _

کیا یہ بہتر نہ تھا کہ جناب ابوبکر بھی اسی طرح دختر پیغمبر(ص) کو دے دیتے اور اتنے بڑے خطرے اور نزاع کو ختم کردیتے؟

____________________

۱) فتوح البلدان، ص ۳۱_

۲) فتوح البلدان، ص ۳۴_

۳) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۶_


چھٹا اعتراض:

اصلاً جناب ابوبکر کا اس نزاع میں فیصلہ اور قضاوت کرنا ہی ازروئے قانون قضاء اسلام درست نہ تھا کیونکہ جناب زہراء (ع) اس واقعہ میں مدعی تھیں اور جناب ابوبکر منکر تھے، اس قسم کے موارد میں یہ فیصلہ کسی تیسر آدمی سے _ کرانا چاہیئے تھا، جیسے کہ پیغمبر(ص) اور حضرت علی (ع) اپنے نزاعات میں اپنے علاوہ کسی اور قاضی سے فیصلہ کرایا کرتے تھے یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جناب ابوبکر خود ہی منکر ہوں او رخود ہی قاضی بن کر اپنے مخالف سے گواہ طلب کریں اور اپنی پسند کا فیصلہ اور قضاوت خود ہی کرلیں_

ان تمام مطالب سے یہ امر مستفاد ہوتا ہے کہ فدک کے معاملے میں حق جناب زہراء (ع) کے ساتھ تھا اور جناب ابوبکر نے عدل اور انصاف کے راستے سے عدول کر کے ان کے حق میں تعدی اور تجاوز سے کام لیا تھا_

رسول خدا (ص) کے مدینہ میں اموال

بنی نضیر یہودیوں کی زمینیں رسول خدا (ص) کا خالص مال تھا، کیونکہ بغیر جنگ کے فتح ہوئی تھیں اس قسم کے مال میں پیغمبر اسلام (ص) کو پورا اختیار تھا کہ جس طرح مصلحت دیکھیں انہیں مصرف میں لائیں، چنانچہ آپ نے بنی نضیر سے منقول اموال جو لئے تھے وہ تو مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیئےور کچھ زمین اپنے لئے مخصوص کرلی اور حضرت علی (ع) کو حکم دیا کہ اس پر تصرف کریں اور بعد میں اسی زمین کو وقف کردیا اور موقوفات میں داخل قرار دیا اپنی زندگی میں اس کے متولی خود آپ تھے آپ کی وفات کے بعد اس کی تولیت حضرت علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور ان کی اولاد کے سپرد کی(۱)

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۲۰ ص ۱۷۳_


یہودیوں کے علماء میں سے مخیرق نامی ایک عالم _ مسلمانوں ہوگئے انہوں نے اپنا مال جناب رسول خدا (ص) کو بخش دیا ان کے اموال میں سے سات باغ تھے کہ جن کے یہ نام تھے_ مشیب، صافیہ، دلال، حسنی، برقہ، اعوف، مشربہ ام ابراہیم یہ تمام اس نے جناب رسول خدا (ص) کو ہبہ کردیئےھے آپ(ص) نے بھی انہیں وقف کردیا تھا(۱) _

بزنطی کہتے ہیں کہ میں نے سات زرعی زمینوں کے متعلق ''جو جناب فاطمہ (ع) کی تھیں'' امام رضا (ع) سے سوال کیا _ آپ نے فرمایا یہ رسول خدا(ص) نے وقف کی تھیں کہ جو بعد میں حضرت زہراء (ع) کو ملی تھیں، پیغمبر اسلام (ص) اپنی ضروریات بھر ان میں سے لیا کرتے تھے جب آپ نے وفات پائی تو جناب عباس نے ان کے بارے میں حضرت فاطمہ (ع) سے نزاع کیا، حضرت علی (ع) اور دوسروں نے گواہی دی کہ یہ وقفی املاک ہیں وہ زرعی زمینیں اس نام کی تھیں دلال، اعوف حسنی، صافیہ، مشربہ ام ابراہیم، مشیب، برقہ(۲) _

حلبی اور محمد بن مسلم نے امام جعفر صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ ہم نے رسول خدا (ص) اور فاطمہ زہراء (ع) کے صدقات اور اوقاف کے متعلق سوال کیا تو آپ (ع) نے فرمایا کہ وہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کا مال تھا(۳) _

ابومریم کہتا ہے کہ میں نے رسول خدا(ص) اور حضرت علی (ع) کے صدقات اور اوقاف کے متعلق امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا کہ وہ

____________________

۱) فتوح البلدان، ص ۳۱_ سیرة ابن ہشام، ج ۲ ص ۵ ۱۶_

۲) بحار الانوار، ج ۲۲ ص ۲۹۶_

۳) بحار الانوار، ج ۲۲ ص ۲۶۶_


ہمارے لئے حلال ہے جناب فاطمہ (ع) کے صدقات بنی ہاشم اور بنی المطلب کا مال تھا(۱) _

جناب رسول خدا(ص) نے ان املاک کو جو مدینہ کے اطراف میں تھے وقف کردیا تھا اور ان کی تولیت حضرت فاطمہ (ع) اور حضرت علی (ع) کے سپرد کردی تھی_ یہ املاک بھی ایک مورد تھا کہ جس میں حضرت زہراء (ع) کا جناب ابوبکر سے جھگڑا ہوا تھا_

بظاہر حضرت زہراء (ع) اس جھگڑے میں کامیاب ہوگئیں اور مدینہ کے صدقات اور اوقاف کو آپ نے ان سے لے لیا، اس کی دلیل اور قرینہ یہ ہے کہ آپ نے موت کے وقت ان کی تولیت کی علی (ع) اور اپنی اولاد کے لئے وصیت کی تھی، لیکن مجلسی نے نقل کیا ہے کہ جناب ابوبکر نے بالکل کوئی چیز بھی جناب فاطمہ (ع) کو واپس نہیں کی البتہ جب جناب عمر خلافت کے مقام پر پہنچے تو آپ نے مدینہ کے صدقات اور اوقاف حضرت علی (ع) اور عباس کو واپس کردیئےلیکن خیبر اور فدک واپس نہ کئے اور کہا کہ یہ رسول خدا(ص) کے لازمی اور ناگہانی امور کے لئے وقف ہیں_

مدینہ کے اوقاف اور صدقات حضرت علی (ع) کے قبضے میں تھے اس بارے میں جناب عباس نے حضرت علی (ع) سے نزاع کیا لیکن اس میں حضرت علی کامیاب ہوگئے لہذا آپ کے بعد یہ حضرت امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ میں آیا اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کے بعد جناب عبداللہ بن حسن (ع) کے ہاتھ میں تھے یہاں تک کہ بنی عباس خلافت پر پہنچے تو انہوں نے یہ صدقات بنی ہاشم سے واپس لے لئے(۲) _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۲۲ ص ۲۹۷_

۲) بحار الانوار، ج ۴۲ ص ۳۰۰_


خیبر کے خمس کا بقایا

۷ ہجری کو اسلام کی سپاہ نے خیبر کو فتح کیا اس کے فتح کرنے میں جنگ اور جہاد کیا گیا اسی وجہ سے یہودیوں کا مال اور اراضی مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوئی_

رسول خدا(ص) نے قانون اسلام کے مطابق غنائم خیبر کو تقسیم کیا، آپ نے منقولہ اموال کو پانچ حصّوں میں تقسیم کیا چار حصّے فوج میں تقسیم کردیئےور ایک حصہ خمس کا ان مصارف کے لئے مخصوص کیا کہ جسے قرآن معین کرتا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے :

( و اعلموا انما غنمتم من شیئً فان لله خمسه و للرسول و لذی القربی و الیتامی و المساکین و ابن السبیل ) (۱)

یعنی جان لو کہ جو بھی تم غنیمت لو اس کا خمس خدا اور پیغمبر(ص) اور پیغمبر(ص) کے رشتہ دار اور ذوی القربی اور اس کے یتیم اور تنگ دست اور ابن سبیل کے لئے ہے_ اس آیت اور دیگر احادیث کے رو سے غنیمت کا خمس چھ جگہ خرچ کیا جاتا ہے اور صرف اسی جگہ خرچ کرنا ہوگا_

جناب رسول خدا (ص) خمس کو علیحدہ رکھ دیتے تھے اور بنی ہاشم کے ذوالقربی اور یتیموں اور فقیروں اور ابن سبیل کی ضروریات زندگی پورا کیا کرتے تھے اور باقی کو اپنے ذاتی مصارف او رخدائی کاموں پر خرچ کیا کرتے

____________________

۱) سورہ انفال آیت ۴۱_


تھے آپ نے خیبر کے خمس کو بھی انہیں مصارف کے لئے علیحدہ رکھ چھوڑا تھا اس کی کچھ مقدار کو آپ نے اپنی بیویوں میں تقسیم کردیا تھا مثلاً جناب عائشےہ کو خرما اور گندم اور جو کے دو وسق وزن عنایت فرمائے_ کچ مقدار اپنے رشتہ داروں اور ذوی القربی میں تقسیم کیا مثلاً دو وسق سو وزن جناب فاطمہ (ع) کو اور ایک سو وسق حضرت علی (ع) کو عطا فرمائے(۱) _

اور خیبر کی زمین کو دو حصوں میں تقسیم کی ایک حصہ زمین کا ان مصارف کے لئے جو حکومت کو در پیش ہوا کرتے ہیں مخصوص کردیا اور دوسرا حصہ مسلمانوں اور افواج اسلام کی ضروریات زندگی کے لئے مخصوص کردیا اور پھر ان تمام زمینوں کو یہودیوں کو اس شرط پر واپس کردیا کہ وہ اس میں کاشت کریں اور اس کی آمدنی کا ایک معین حصّہ پیغمبر(ص) کو دیا کریں_ آپ اس حصہ کو وہیں خرچ کرتے تھے کہ جسے خداوند عالم نے معین کیا(۲) _

جب رسول خدا (ص) کی وفات ہوگئی تو جناب ابوبکر نے خیبر کے تمام موجود غنائم پر قبضہ کرلیا، یہاں تک کہ وہ خمس جو خدا اور اس کے رسول (ص) اور بنی ہاشم کے ذوی القربی اور یتیموں، مسکینوں اور ابن سبیل کا حصہ تھا اس پر بھی قبضہ کرلیا_ اور بنی ہاشم کو خمس سے محروم کردیا_

حسن بن محمد بن علی (ع) ابن ابیطالب کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے ذوی القربی کا سہم جناب فاطمہ (ع) اور دوسرے بنی ہاشم کو نہیں دیا اور اس کو کار خیر میں جیسے اسلحہ اور زرہ و غیرہ کی خریداری پر خرچ کرتے تھے(۳) _

____________________

۱) سیرہ ابن ہشام، ج ۳ ص ۳۶۵، ص ۳۷۱_

۲) فتوح البلدان، ص ۲۶ تا ۴۲_

۳) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۳۱_


عروہ کہتے ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) حضرت ابوبکر کے پاس گئیں اور فدک اور سہم ذی القربی کا ان سے مطالبہ کیا_ جناب ابوبکر نے انہیں کوئی چیز نہ دی اور اسے اللہ کے اموال میں داخل کردیا(۱) _

الحاصل یہ موضوع بھی ان موارد میں سے ایک ہے کہ جس میں جناب فاطمہ (ع) کا جناب ابوبکر سے جھگڑا و مورد نزاع قرار پایا کہ آپ کبھی اسے خیبر کے عنوان سے اور کبھی اسے سہم ذی القربی کے عنوان سے جناب ابوبکر سے مطالبہ کیا کرتی تھیں_

اس مورد میں بھی حق جناب فاطمہ زہراء (ع) کے ساتھ ہے کیونکہ قرآن شریف کے مطابق خمس ان خاص موارد میں صرف ہوتا ہے کہ جو قرآن مجید میں مذکور ہیں اور ضروری ہے کہ بنی ہاشم کے ذوی القربی اور یتیموں اور فقیروں اور ابن سبیل کو دیا جائے_ یہ کوئی وراثت نہیں کہ اس کا یوں جواب دیا جائے کہ پیغمبر(ص) ارث نہیں چھوڑتے، جناب فاطمہ (ع) ابوبکر سے فرماتی تھیں کہ خداوند عالم نے قرآن میں ایک سہم خمس کا ذوی القربی کے لئے مخصوص کیا ہے اور چاہیئے کہ یہ اسی مورد میں صرف ہو آپ تو ذوی القربی میں داخل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے مصداق ہیں آپ نے یہ ہمارا حق کیوں لے رکھا ہے_

انس بن مالک کہتے ہیں کہ فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پاس گئیں اور فرمایا کہ تم خود جانتے ہو کہ تم نے اہلبیت کے ساتھ زیادتی کی ہے اور ہمیں رسول خدا (ص) کے صدقات اور غنائم کے سہم ذوی القربی سے کہ جسے قرآن نے معین کیا ہے محروم کردیا ہے خداوند عالم فرماتا ہے''و اعلموا انما غنمتم من شیء الخ'' جناب ابوبکر نے

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۱۳۱_


جواب دیا کہ میرے ماں باپ آپ پر اور آپ کے والد پر قربان جائیں اس رسول (ص) کی دختر میں اللہ کتاب اور رسول (ص) کے حق اور ان کے قرابت داروں کے حق کا پیرو ہوں، جس کتاب کو آپ پڑھتی ہیں میں بھی پڑھتا ہوں لیکن میری نگاہ میں یہ نہیں آیا کہ خمس کا ایک پورا حصہ تمہیں دے دوں_

جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ آیا خمس کا یہ حصہ تیرے اور تیرے رشتہ داروں کے لئے ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس کی کچھ مقدار تمہیں دونگا اور باقی کو مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کروں گا جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا حکم تو اس طرح نہیں ہے_ جناب ابوبکر نے کہا کہ اللہ تعالی کا حکم یوں ہی ہے(۱) _

رسول خدا کی وراثت

جناب فاطمہ (ع) کا جناب ابوبکر سے ایک نزاع اور اختلاف رسول خدا (ص) کی وراثت کے بارے میں تھا_ تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد جناب ابوبکر کے پاس گئیں اور اپنے والد کی وراثت کا ان سے مطالبہ کیا، جناب ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) کو وراثت کے عنوان سے کچھ بھی نہ دیا اور یہ عذر پیش کیا کہ پیغمبر (ص) میراث نہیں چھوڑتے اور جو کچھ وہ مال چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور اس مطلب کے لئے انہوں نے ایک حدیث بھی بیان کی کہ جس کے راوی وہ خود ہیں اور کہا کہ میں نے آپ کے والد سے سنا ہے کہ ہم پیغمبر (ص) سونا، چاندی، زمین اور ملک اور گھر بار میراث میں نہیں چھوڑتے بلکہ ہماری وراثت ایمان اور حکمت

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۳۰_


اور علم و دانش اور شریعت ہے_ میں اس موضوع میں پیغمبر(ص) کے دستور اور ان کی مصلحت کے مطابق کام کروں گا(۱) _

جناب فاطمہ (ع) نے حضرت ابوبکر کی اس بات کو تسلیم نہ کیا اور اس کی تردید قرآن مجید کی کئی آیات سے تمسک کر کے کی ہمیں اس موضوع میں ذرا زیادہ بحث کرنی چاہئے تا کہ وراثت کا مسئلہ زیادہ واضح اور روشن ہوجائے_

قرآن میں وراثت

قرآن کریم میں وراثت کا مطلق قانون وارد ہوا ہے_ خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اللہ تمہیں اولاد کے بارے میں سفارش کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ لڑکی کے دو برابر ہے(۲) _

یہ آیت اور قرآن کی دوسری آیات جو میراث کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان میں کلیت اور عمومیت ہے اور وہ تمام لوگوں کو شامل ہیں اور پیغمبروں کو بھی یہی آیات شامل ہیں_ پیغمبر (ص) بھی ان نصوص کلیہ کی بناء پر میراث چھوڑنے والے سے میراث حاصل کریں گے اور ان کے اپنے اموال بھی ان کے وارثوں کو ملیں گے انہیں نصوص کلیہ کی بناء پر ہمارے رسول (ص) کے اموال اور ترکے کو ان کے وارثوں کی طرف منتقل ہونا چاہیئے، البتہ اس قانون توارث کے عموم اور کلیت میں کسی قسم کا شک نہیں کرنا چاہیئے لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا کوئی قطعی دلیل ہے جو پیغمبروں کو اس کلی اور عمومی قانون وراثت سے خارج اور مستثنی قرار دے رہا ہے ؟

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۴_

۲) سورہ نساء آیت ۱۱_


جناب ابوبکر کی حدیث

حضرت زہراء (ع) کے مقابلے میں جناب ابوبکر دعوی کرتے تھے کہ تمام پیغمبر (ص) وراثت کے کلی قوانین سے مستثنی اور خارج ہیں اور وہ میراث نہیں چھوڑتے اپنے اس ادعا کے لئے جناب ابوبکر نے ایک حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس کے راوی خود آپ ہیں اور یہ روایت کتابوں میں مختلف عبارات سے نقل ہوئی ہے:

''قال ابوبکر لفاطمة فانی سمعت رسول الله یقول انا معاشر الانبیاء لانورث ذهبا و لا فضّة و لا ارضا و لا دار او لکنا نورث الایمان و الحکمة و العلم و السنة فقد عملت بما امرنی و نصحت له '' (۱)

یعنی ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) سے کہا کہ میں نے رسول خدا (ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ہم پیغمبر (ص) سونا، چاندی، زمین، مکان ارث میں نہیں چھوڑتے ہمارا ارث ایمان، حکمت، دانش، شریعت ہوا کرتا ہے میں رسول خدا (ص) کے دستور پر عمل کرتا ہوں اور ان کی مصلحت کے مطابق عمل کرتا ہوں_

دوسری جگہ روایت اس طرح ہے کہ جناب عائشےہ فرماتی ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) نے کسی کو ابوبکر کے پاس بھیجا کہ آپ ان سے رسول خدا (ص) کی میراث طلب کرتی تھیں اور آپ وہ چیزیں طلب کرتی تھیں جو رسول اللہ نے مدینہ میں چھوڑی تھیں_

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۴_


اور فدک اور جو خیبر کا خمس بچا ہوا تھا، جناب ابوبکر نے کہا رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے کہ ہم میراث نہیں چھوڑتے جو چھوڑجاتے ہیں وہ صدقہ (یعنی وقف) ہوتا ہے، آل محمد(ص) تو اس سے صرف کھاسکتے ہیں(۱) _

ایک اور حدیث میں ہے کہ جب جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوبکر سے گفتگو کی تو جناب ابوبکر رودیئےور کہا کہ اے دختر رسول اللہ (ص) آپ کے والد نے نہ دینا اور نہ درہم چھوڑا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے(۲) _

ایک اور حدیث یوں ہے کہ جناب ام ہانی کہتی ہیں کہ جناب فاطمہ نے جناب ابوبکر سے کہا کہ جب تو مرے گا تو تیرا وارث کون ہوگا اس نے جواب دیا کہ میری اولاد اور اہل، آپ نے فرمایا پھر تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تو رسول اللہ کا وارث بن بیٹھا ہے اور ہم نہیں؟ اس نے کہا اے دختر رسول (ص) آپ کے والد نے گھر، مال اور سونا اور چاندی وراثت میں نہیں چھوڑی، جب جناب فاطمہ (ع) نے کہا کہ ہمارا وہ حصہ جو اللہ نے ہمارے لئے قرار دیا ہے اور ہمارا فئی تمہارے ہاتھ میں ہے؟ جناب ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (ص) سے سنا ہے کہ یہ ایک طعمہ ہے کہ جس سے اللہ نے ہم اہلبیت کو کھانے کے لئے دیا ہے، جب میں مرجاؤں تو یہ مسلمانوں کے لئے ہوجائے گا(۳) _

ایک اور روایت یوں ہے کہ جناب فاطمہ (ع) حضرت ابوبکر کے پاس گئیں اور

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۱۱۷_

۲)شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۱۱۶_

۳) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۱۱۸_


فرمایا کہ میری میراث رسول اللہ (ص) سے جو بنتی ہے وہ مجھے دو_ جناب ابوبکر نے کہا کہ انبیاء ارث نہیں چھوڑتے جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ (یعنی وقف) ہوتا ہے(۱) _

جناب ابوبکر نے اس قسم کی حدیث سے استدلال کر کے جناب فاطمہ (ع) کو والد کی میراث سے محروم کردیا لیکن یہ حدیث کئی لحاظ سے حجت نہیں کہ جس سے استدلال کیا جاسکے_

قرآن کی مخالفت

یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے کیونکہ قرآن میں تصریح کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ پیغمبر(ص) بھی دوسرے مردوں کی طرح میراث چھوڑتے ہیں اور جیسا کہ آئمہ طاہرین نے فرمایا ہے کہ جو حدیث قرآن کی مخالف ہو وہ معتبر نہیں ہوا کرتی اسے دیوار پر دے مارو، ان آیات میں سے کہ جو انبیاء کے ارث چھوڑنے کو بتلاتی ہیں ایک یہ ہے:

''ذکر رحمة ربک عبده ذکر یا اذ نادی ربه خفیا خفیا'' تا ''فهب لی من لدنک ولیاً یرثنی و یرث من آل یعقوب و اجعله رب رضیاً'' (۲) _

لکھا ہے کہ جناب زکریا کے چچازاد بھائی بہت برے لوگ تھے اگر جناب زکریا کے فرزند پیدا نہ ہوتا تو آپ کا تمام مال چچازاد بھائیوں کو ملنا آپ کو ڈر

____________________

۱) کشف الغمہ، ج ۲ ص ۱۰۳_

۲) سورہ مریم آیت ۴_


تھا کہ میری میراث چچازاد بھائیوں کو مل گئی تو اس مال کو برائیوں اور گناہ پر خرچ کریں گے اسی لئے اللہ تعالی سے دعا مانگی تھی کہ خدایا مجھے اپنے وارث چچازاد بھائیوں سے خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے، خداوندا مجھے ایک فرزند عطا فرما جو میرا وارث بنے، خداوند عالم نے آنجناب کی دعا قبول فرمائی اور خدا نے جناب یحیی کو انہیں عطا کیا_ اس آیت سے اچھی واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر(ص) بھی دوسرے لوگوں کی طرف میراث چھوڑتے ہیں ورنہ حضرت زکریا کی دعا اور خواہش بے معنی ہوتی_

یہاں یہ کہا گیا ہے کہ شاید جناب زکریا کی وراثت علم و دانش ہو نہ مال و ثروت، اور انہوں نے اللہ تعالی سے خواہش کی ہو کہ انہیں فرزند عنایت فرمائے کہ جو ان کے علوم کا وارث ہو اور دین کی ترویج کی کوشش کرے، لیکن تھوڑاسا غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ احتمال درست نہیں ہے اس لئے کہ وراثت کا لفظ مال کی وراثت میں ظہور رکھتا ہے نہ علم کی وراثت میں اور جب تک اس کے خلاف کوئی قرینہ موجود نہ ہو اسے وراثت مال پر ہی محمول کیا جائے گا_ دوسرے اگر تو وراثت سے مراد مال کی وراثت ہو تو جناب زکریا کا خوف یا محل ہے اور اگر مراد وراثت سے علمی وراثت ہو تو پھر اس آیت کے معنی کسی طرح درست نہیں قرار پاتے کیوں کہ اگر مراد علمی وراثت سے علمی کتابیں ہیں تو یہ در حقیقت مالی وراثت ہوجائے گی اس لئے کہ کتابوں کا شمار اموال میں ہوتا ہے نہ علم میں اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت زکریا کو اس کا خوف تھا کہ علوم اور معارف اور قوانین شریعت ان کے چچازاد بھائیوں کے ہاتھ میں چلے گئے تو وہ اس سے غلط فائدہ اٹھائیں گے تو بھی جناب زکریا کا یہ خوف درست نہ تھا کیوں کہ جناب زکریا کا وظیفہ یہ تھا کہ


قوانین اور احکام شریعت کو عام لوگوں کے سپرد کریں اور ان کے چچازاد بھائی بھی عموم ملّت میں شامل ہوں گے اور پھر اگر جناب زکریا کے فرزند بھی ہوجاتا تب بھی آپ کے چچازاد بھائی قوانین کے عالم ہونے کی وجہ سے غلط فائدہ ا ٹھا سکتے تھے اور اگر جناب زکریا کو اس کا خوف تھا کہ وہ مخصوص علوم جو انبیاء کے ہوتے ہیں وہ ان کے چچازاد بھائیوں کے ہاتھوں میں نہ چلے جائیں اور وہ اس سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں تو بھی آنجناب کا یہ خوف بلا وجہ تھا کیون کہ وہ مخصوص علوم آپ ہی کے اختیار میں تھے اور بات آپ کی قدرت میں تھی کہ ان علوم کی اپنے چچازاد بھائیوں کو اطلاع ہی نہ کریں تا کہ وہ اسرار آپ ہی کے پاس محفوظ رہیں اور آپ جانتے تھے کہ خداوند عالم نبوت کے علوم کا مالک بدکار لوگوں کو نہیں بتاتا_ بہرحال وراثت سے علمی وراثت مراد ہو تو جناب زکریا کا خوف اور ڈر معقول نہ ہوتا اور بلاوجہ ہوتا_

ممکن ہے یہاں کوئی یہ کہے کہ جناب زکریا کو خوف اور ڈر اس وجہ سے تھا کہ آپ کے چچازاد بھائی برے آدمی اور خدا کے دین اور دیانت کے دشمن تھے آپ کے بعد اس کے دین کو بدلنے کے درپے ہوتے اور آپ کی زحمات کو ختم کر کے رکھ دیتے لہذا جناب زکریا نے خدا سے دعا کی کہ مجھے ایک ایسا فرزند عنایت فرما کہ جو مقام نبوت تک پہنچے اور خدا کے دین کے لئے کوشش کرے اور اسے باقی رکھے پس اس آیت میں وراثت سے مراد علم اورحکمت کی وراثت ہوگی نہ مال اور ثروت کی_

لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ جناب زکریا جانتے تھے کہ خدا کبھی بھی زمین کو پیغمبر یا امام کے وجود سے خالی نہیں رکھتا، لہذا یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ جناب زکریا کو اس جہت سے خوف اور ڈر تھا کہ شاید خداوند عالم


دین اور شریعت کو بغیر کسی حامی کے چھوڑ دے اور اگر جناب زکریا ایسا فرزند چاہتے تھے کہ جو پیغمبر اور دین کا حامی ہو تو آپ کو اس طرح نہ کہنا چاہیئے کہ خدایا مجھے ایسا فرزند عنایت فرما جو میری وراثت کے مالک ہو اور اسے صالح قرار دے_ بلکہ ان کو اس صورت میں اس طرح دعا کرنی چاہیئے تھی کہ خدایا مجھے خوف ہے کہ میرے بعد دین کی اساس کو ختم کردیا جائے گا میں تجھ سے تمنا کرتا ہوں کہ میرے بعد دین کی حمایت کے لئے ایک پیغمبر بھیجنا اور میں دوست رکھتا ہوں کہ وہ پیغمبر میری اولاد سے ہو اور مجھے ایک فرزند عنایت فرما جو پیغمبر ہو اور پھر اگر میراث سے مراد علم کی میراث ہو تو پھر دعا میں اس جملے کی کیا ضرورت تھی خدا اسے محبوب اور پسندیدہ قرار دے کیونکہ جناب زکریا جانتے تھے کہ خداوند عالم غیر صالح اور غیر اہل افراد کو پیغمبری کے لئے منتخب نہیں کرے گا تو پھر اس جملے

''خدایا میرے فرزند کو پسندیدہ اور صالح قرار دے'' کی ضرورت ہی نہ تھی_ اس پوری گفتگو سے یہ مطلب واضح ہوگیا ہ کہ جناب یحیی کی میراث جناب زکریا سے مال کی میراث تھی نہ کہ علم کی اور یہی آیت اس مطلب پر کہ پیغمبر(ص) بھی دوسرے لوگوں کی طرح میراث لینے ہیں اور میراث چھوڑتے ہیں بہت اچھی طرح دلالت کر رہی ہے لہذا جو حدیث ابوبکر نے اپنے استدلال کے لئے بیان کی وہ قرآن کے مخالف ہوگی اور حدیث شناسی کے علم میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ جو حدیث قرآن مجید کے مخالف ہو وہ قابل قبول نہیں ہوا کرتی اور اسے دیوار پر دے مارنا چاہیئے اسی لئے تو جناب زہراء (ع) نے ''جو قوانین اور احکام شریعت اور حدیث شناسی اور تفسیر قرآن کو اپنے والد اور شوہر سے حاصل کرچکی تھیں'' اس حدیث کے رد کرنے کے لئے اسی سابقہ آیت کو اس کے مقابلے میں پڑھا اور بتلایا کہ یہ حدیث اس آیت کی مخالف ہے کہ جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا_


ایک اور آیت کہ جس سے استدلال کیا گیا ہے کہ پیغمبر(ص) بھی میراث لیتے ور میراث چھوڑتے ہیں یہ آیت ہے ''و ورث سلیمان داؤد''(۱) _

اس آیت میں خداوند عالم___ سلیمان کے بارے میں فرماتے ہے کہ آپ جناب داؤد کے وارث ہوئے اور کلمہ وارث کا ظہور مال کی وراثت میں ہے جب تک اس کے خلاف کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو تب تک اس سے مراد مال کی وراثت ہی ہوگی_ اسی لئے تو حضرت زہراء (ع) نے ابوبکر کے مقابلے میں اس آیت سے استدلال کیا جب کہ حضرت زہراء (ع) قرآن کے نازل ہونے والے گھر میں تربیت پاچکی تھی_

ایک اشکال

اگر جناب ابوبکر کی نقل شدہ حدیث صحیح ہوتی تو ضروری تھا کہ رسول خدا(ص) کے تمام اموال کو لے لیا جاتا لہذا وارثوں کو آپ کے لباس، زرہ، تلوار، سواری کے حیوانات، دودھ دینے والے حیوانات، گھر کے اساس سے بھی محروم کردیا جاتا اور انہیں بھی بیت المال کا جزو قرار دے دیا جاتا حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ جناب رسول خدا (ص) کے اس قسم کے اموال ان کے وارثوں کے پاس ہی رہے اور کوئی تاریخ بھی گواہی نہیں دیتی اور کسی مورخ نے نہیں لکھا کہ جناب ابوبکر نے رسول خدا (ص) کا لباس، تلوار، زرہ، فرش، برتن و غیرہ اموال عمومی میں شامل کر کے ضبط کر لئے ہوں بلکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ آپ کے مکان کے کمرے آپ کی بیویوں کے پاس ہی رہے اور اس کے علاوہ جو باقی مذکورہ

____________________

۱) سورہ نحل آیت ۱۶_


مال تھا آپ کے ورثاء میں تقسیم کردیا گیا_ یہ بات بھی ایک دلیل ہے کہ جناب ابوبکر کی حدیث ضعیف تھی اور معلوم ہوتا ہے کہ خود جناب ابوبکر کو بھی اپنی بیان کردہ حدیث کے متعلق اعتبار نہ تھا کیونکہ اگر وہ حدیث ان کے نزدیک درست ہوتی تو پھر رسول خدا (ص) کے اموال میں فرق نہ کرتے_

جب کہ جناب ابوبکر مدعی تھے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ میں میراث نہیں چھوڑتا میرا مال صدقہ ہوتا ہے اسی لئے تو پیغمبر(ص) کی بیٹی اور اسلام کی مثالی خاتون کو رنجیدہ خاطر بھی کردیا تو پھر کیوں پیغمبر (ص) کے حجروں کو آپ کی ازواج سے واپس نہ لیا؟ اور پھر کیوں دوسرے مذکورہ اموال کا مطالبہ نہ کیا ؟

ایک اور اشکال

اگر یہ بات درست ہوتی کہ پیغمبر میراث نہیں چھوڑتے تو ضروری تھا کہ پیغمبر(ص) اس مسئلے کو حضرت زہراء (ع) اور حضرت علی (ع) سے ضرور بیان فرماتے اور فرماتے کہ میرا مال اور جو کچھ چھوڑ جاؤں یہ عمومی صدقہ ہوگا اور وراثت کے عنوان سے تمہیں نہیں مل سکتا خبردار میرے بعد میراث کا مطالبہ نہ کرنا اور اختلاف اور نزاع کا سبب نہ بننا_ کیا رسول خدا(ص) کو علم نہ تھا کہ وراثت کے کلی قانون اور عمومی قاعدے کے ماتحت میرے وارث میرے مال کو تقسیم کرنا چاہیں گے اور ان کے درمیان اور خلیفہ وقت کے درمیان نزاع اور جھگڑا رونما ہوجائے گا؟ یا رسول اللہ (ص) کو اس بات کا علم نہ تھا لیکن آپ نے احکام کی تبلیغ میں کوتاہی کی ہوگی؟ ہم تو اس قسم کی بات پیغمبر(ص) کے حق میں باور نہیں کرسکتے_

بعض نے کہا ہے کہ رسول خدا(ص) پر اپنے ورثاء کو یہ مطلب بیان کرنا ضروری


نہ تھا بلکہ صرف اتنا کافی تھا کہ اس مسئلے کو اپنے خلیفہ جناب ابوبکر جو مسلمانوں کے امام تھے بتلادیں اور خلیفہ پر ضروری ہے کہ وہ احکام الہی کو نافذ کرے چنانچہ پیغمبر(ص) نے جناب ابوبکر کو یہ مسئلہ بتلادیا تھا لیکن یہ فرمائشے بھی درست معلوم نہیں ہوتی ___ اوّل تو یہ کہ جناب ابوبکر پیغمبر(ص) کے زمانے میں آپ کے خلیفہ معین نہیں ہوئے تھے کہ کہا جاسکے کہ پیغمبر(ص) نے انہیں اس کا حکم اور دستور دے دیا تھا دوسرے میراث کے مسئلہ کا تعلق پہلے اور بالذات آپ کے ورثاء سے تھا انہیں وراثت میں اپنا وظیفہ معلوم ہونا چاہیئے تھا تا کہ حق کے خلاف میراث کا مطالبہ نہ کریں اور امت میں اختلاف اور جدائی کے اسباب فراہم نہ کریں_

آیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت علی (ع) جو مدینہ علم کا دروازہ اور جناب فاطمہ (ع) جو نبوت اور ولایت کے گھر کی تربیت یافتہ تھیں ایک اس قسم کے مہم مسئلے سے کہ جس کا تعلق ان کی ذات سے تھا بے خبر تھیں، لیکن جناب ابوبکر کہ جو بعض اوقات عام اور عادی مسائل کو بھی نہ جانتے تھے اس وراثت کے مسئلے کا حکم جانتے ہوں؟ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ جناب فاطمہ (ع) اس مسئلے کا حکم تو جانتی تھیں لیکن اپنی عصمت اور طہارت کے باوجود اپنے والد کے دستور اور حکم کے خلاف جناب ابوبکر سے میراث کا مطالبہ کر رہی تھیں؟ کیا حضرت علی (ع) کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ مسئلہ تو جانتے تھے لیکن اس مقام زہد اور تقوی اور عصمت و طہارت کے باوجود اور اس کے باوجود کہ آپ ہمیشہ قوانین اسلام کے اجراء میں بہت زیادہ علاقمندی ظاہر کرتے تھے پھر بھی اپنی بیوی کو پیغمبر(ص) کے بیان کردہ مسئلہ کے خلاف اجازت دے رہے ہیں کہ وہ جائیں اور وراثت کا جناب ابوبکر سے مطالبہ کریں اور پھر مسجد میں وہ مفصل عوام الناس کے سامنے خطاب کریں؟ ہم گمان نہیں کرتے کہ کوئی بھی با انصاف انسان اس قسم کے مطالب کا یقین کرے گا_


ایک اور اشکال

جناب ابوبکر نے مرتے وقت وصیت کی کہ اسے پیغمبر(ص) کے حجرے میں دفن کیا جائے اور اس بارے میں اپنی بیٹی جناب عائشےہ سے اجازت لی؟ اگر وہ حدیث جو پیغمبر(ص) کی وراثت کی نفی کرتی ہو درست ہو تو پیغمبر(ص) کا یہ حجرہ مسلمانوں کا عمومی مال ہوگا تو پھر جناب ابوبکر کو تمام مسلمانوں سے دفن کی اجازت لینا چاہیئے تھی؟

تنبیہہ

جو اموال پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تصرف اور قبضے میں تھے وہ دو قسم کے تھے_

پہلی قسم :

یہ وہ مال تھا کہ جس کا تعلق ملت اسلامی سے ہوتا ہے اور بیت المال کا عمومی مال شمار ہوتا ہے جس کو یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ یہ حکومت کا مال ہے رسول خدا(ص) چونکہ مسلمانوں کے حاکم تھے آپ اس قسم کے مال میں تصرف کیا کرتے تھے اور اسے تمام مسلمانوں کے مصالح اور مفاد کے لئے خرچ کیا کرتے تھے ایسا مال نبوت اور امامت اور حکومت اسلامی کا مال ہوتا ہے ایسے مال ہیں قانون وراثت جاری نہیں ہوتا بلکہ اس منصب دار کی موت کے بعد اس کے جانشین شرعی کی طرف بطور منصب منتقل ہوجاتا ہے_

حضرت زہراء (ع) نے اس قسم کے اموال میں وراثت کا مطالبہ نہیں کیا تھا اور اگر کبھی آپ نے اس قسم کے مال میں بطور اشارہ بھی مطالبہ کیا ہو تو وہ اس لئے تھا


کہ آپ جناب ابوبکر کی حکوت کو قانونی اور رسمی حکومت تسلیم نہیں کرتی تھیں بلکہ اپنے شوہر حضرت علی (ع) کو قانونی اور شرعی خلیفہ جانتی تھیں تو گویا آپ اس قسم کے مال کا مطالبہ کر کے اپنے شوہر کی خلافت کا دفاع کرتی تھیں اور جناب ابوبکر کی حدیث کو اگر بالفرض تسلیم بھی کرلیں تو وہ بھی اس قسم کے مال کی وراثت کی نفی کر رہی ہے نہ پیغمبر(ص) کے ہر قسم کے مال کو شامل ہے_

دوسری قسم:

وہ مال تھا جو آپ کا شخصی اور ذاتی مال تھا کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) بھی تو انسانوں کے افراد میں سے ایک فرد تھے کہ جنہیں مالکیت کا حق تھا آپ بھی کسب اور تجارت اور دوسرے جائز ذرائع سے مال کمانے تھے ایسا مال آپ کی شخصی ملکیت ہوجاتا تھا، ایسے مال پر ملکیت کے تمام قوانین اور احکام یہاں تک کہ وراثت کے قوانین بھی مرتب ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں آپ بلاشک اور تردید اس قسم کے اموال رکھتے تھے اور آپ کو بھی غنیمت میں سے حصہ ملتا تھا اس قسم کے مال میں رسول خدا(ص) اور دوسرے مسلمان برابر اور مساوی ہیں اس پر اسلام کے تمام احکام یہاں تک کہ وراثت کے احکام بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح مرتب ہوتے ہیں_ جناب زہراء (ع) نے ایسے اموال کی وراثت کا جناب ابوبکر سے مطالبہ کیا تھا_

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے کسی کو جناب ابوبکر کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وارث ہو یا ان کے اہلبیت؟ جناب ابوبکر نے جواب دیا کہ ان کے اہلبیت_ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا پس رسول خدا(ص)


کا حصہ کہاں گیا(۱) _

اس قسم کے مال میں جناب رسول خدا(ص) کو جناب ابوبکر کے ساتھ کوئی فرق نہ تھا، جناب ابوبکر باوجودیکہ اپنے آپ کو رسول خدا(ص) کا خلیفہ جانتے تھے وہ بھی اپنے شخصی اموال میں تصرف کیا کرتے تھے اور اسے اپنے بعد اپنے وارثوںکی ملک جانتے تھے پس ابوبکر پر ضروری تھا کہ رسول خدا (ص) کے شخصی مال کو بھی آپ کے وارثوں کی ملک جانتے؟ اسی لئے تو جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا تھا کہ تیری بیٹیاں تو تم سے وراثت لیں لیکن رسول خدا(ص) کی بیٹی اپنے باپ سے وراثت نہ لے؟ جناب ابوبکر نے بھی جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی ہے یعنی ان کی بیٹی اپنے باپ سے وراثت نہ لے(۲) _

ختم شد

الحمدلله علی اتمامه و صلی الله علی محمد و آله

____________________

۱) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۹_

۲) شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ص ۲۱۹_


فہرست

انتساب ۴

پیش لفظ ۵

مثالی خاتون ۷

ہماری روش: ۸

حصّہ اوّل ۱۰

ولادت سے ازدواج تک ۱۰

فاطمہ (ع) کی ماں ۱۱

خدیجہ کی تجارت ۱۲

مستقل مزاج عورت ۱۴

فداکار عورت ۱۷

اسلام کا پہلا خانوادہ ۱۸

آسمانی دستور ۲۰

حمل کا زمانہ ۲۱

ولادت فاطمہ (ع) ۲۳

پیدائشے کی تاریخ ۲۴

جناب رسول خدا(ص) اور جناب خدیجہ کی آرزو ۲۹

کوثر ۳۱

ماں کا دودھ ۳۲

دودھ پینے کا زمانہ ۳۴

ماں کی وفات ۳۷


نتیجہ ۳۷

ماں کی وفات کے بعد ۳۸

فاطمہ (ع) مدینہ کی طرف ۴۲

حصّہ دوم ۴۴

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی ۴۴

حضرت علی (ع) کی پیشکش ۴۷

اندرونی جذبہ بیدار ہوتا ہے ۴۹

علی (ع) خواستگاری کے لئے جاتے ہیں ۵۰

موافقت ۵۲

خطبہ عقد ۵۳

داماد کا انتخاب ۵۴

حضرت زہرا علیہا السلام کا مہر ۵۵

عملی سبق ۵۶

حضرت زہرا علیہا السلام کا جہیز ۵۷

مسلمانوں کے لئے درس ۵۹

حضرت علی (ع) کے گھر کا اثاثہ ۶۱

عروسی کے متعلق گفتگو ۶۱

رخصتی کا جشن ۶۳

حجلہ کی طر ف ۶۴

فاطمہ کا دیدار ۶۷

حصّہ سوم ۷۰


فاطمہ (ع) علی (ع) کے گھر میں ۷۰

امور خانہ داری ۷۱

شوہر کے ہمراہ ۷۶

بچوں کی تعلیم و تربیت ۸۱

تربیت کی اعلی درسگاہ ۸۴

پہلا درس ۸۵

محبت ۸۵

دوسرا درس ۸۹

شخصیت ۸۹

تیسرا درس ۹۴

ایمان اورتقوی ۹۴

چوتھا درس ۹۷

نظم اوردوسروں کے حقوق کی مراعات ۹۷

پانچواں درس ۹۹

ورزش اور کھیل کود ۹۹

حصّہ چہارم ۱۰۲

فضائل حضرت زہرا(ع) ۱۰۲

فاطمہ (ع) کا علم و دانش ۱۰۹

فاطمہ (ع) کا ایمان اور عبادت ۱۱۳

بابرکت ہار ۱۱۵

پیغمبر(ص) کی فاطمہ (ع) سے محبت اوران کا احترام ۱۱۸


فاطمہ (ع) اور علی (ع) کی سخت زندگی ۱۲۱

عملی دعوت ۱۲۶

حضرت زہراء کی عصمت ۱۲۷

اعتراض ۱۳۳

اعتراض کا جواب ۱۳۴

پہلا جواب: ۱۳۴

دوسرا جواب: ۱۳۴

تیسرا جواب: ۱۳۵

چوتھا جواب: ۱۳۵

دوسری دلیل ۱۳۶

عورت جناب زہراء (ع) کی نظر میں ۱۳۸

حصّہ پنجم ۱۴۴

جناب فاطمہ (ع) باپ کے بعد ۱۴۴

تعجب اور تبسم ۱۴۷

راز کی پرستش ۱۴۹

فاطمہ (ع) باپ کے بعد ۱۵۲

حضرت زہراء (ع) کے تین مبارزے ۱۵۴

پہلا مرحلہ: ۱۵۶

دوسرا مرحلہ: ۱۵۷

مختصر مبارزہ ۱۶۲

تیسرا مرحلہ فدک(۱) ۱۶۴


رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فدک کبوں فاطمہ (ع) کو بخشا ۱۶۷

فدک لینے کے اسباب ۱۶۹

جناب زہراء (ع) کا رد عمل ۱۷۳

بحث اور استدلال ۱۷۶

پھر بھی استدلال ۱۷۹

خلیفہ سے وضاحت کا مطالبہ ۱۸۱

جناب فاطمہ (ع) کی دہلا اور جلادینے والی تقریر ۱۸۳

خلیفہ کا ردّ عمل ۱۹۵

جناب ابوبکر کا جواب ۱۹۷

جناب فاطمہ (ع) کاجواب ۱۹۸

جناب خلیفہ کا ردّ عمل ۱۹۹

جناب ام سلمہ(ع) کی حمایت ۲۰۱

قطع کلامی ۲۰۲

شب میں تدفین ۲۰۶

نتیجہ ۲۰۷

حصہ ششم ۲۱۰

جناب فاطمہ موت کے نزدیک ۲۱۰

زیادہ غم و اندوہ ۲۱۷

ناپسندیدہ عیادت ۲۱۹

فاطمہ (ع) کی وصیت ۲۲۰

آپ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ۲۲۴


آپ کا دفن اور تشیع جنازہ ۲۲۷

حضرت علی (ع) جناب زہراء (ع) کی قبر پر ۲۲۹

وفات کی تاریخ ۲۳۲

جناب فاطمہ (ع) کی قبر مبارک ۲۳۶

حصّہ ہفتم ۲۳۹

حضرت زہراء (ع) کا جناب ابوبکر سے اختلاف اور اس کی تحقیق ۲۳۹

اختلاف اور نزاع کا موضوع ۲۴۱

پیغمبر (ص) کے شخصی اموال ۲۴۳

فدک ۲۴۶

فدک جناب فاطمہ (ع) کے پاس ۲۴۹

فدک کے واقعہ میں قضاوت ۲۵۷

پہلا اعتراض: ۲۶۰

دوسرا اعتراض: ۲۶۲

تیسرا اعتراض: ۲۶۵

چوتھا اعتراض: ۲۶۵

پانچواں اعتراض: ۲۶۶

چھٹا اعتراض: ۲۶۷

رسول خدا (ص) کے مدینہ میں اموال ۲۶۷

خیبر کے خمس کا بقایا ۲۷۰

رسول خدا کی وراثت ۲۷۳

قرآن میں وراثت ۲۷۴


جناب ابوبکر کی حدیث ۲۷۵

قرآن کی مخالفت ۲۷۷

ایک اشکال ۲۸۱

ایک اور اشکال ۲۸۲

ایک اور اشکال ۲۸۴

تنبیہہ ۲۸۴

پہلی قسم : ۲۸۴

دوسری قسم: ۲۸۵