یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : گفتگو کا سلیقہ
مؤلف : ڈاکٹر عصام العماد
مترجم: مرزا محمد جواد
تصحیح: محمد کامل
نظر ثانی: سیدحمید الحسن
پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ
کمپوزنگ : ابو زینب
ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)
طبع اول : ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ ء
تعداد : ٣٠٠٠
مطبع : اعتماد
انتساب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس کتاب کو اپنے پدر بزرگوار علی یحییٰ العماد کی خدمت میں پیش کرتاہوں جن کے علم و دانش اور طریقۂ کار سے میں مالا مال ہوا. وہ پدر کہ جو خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقی مسلمان تھے جن کا طریقۂ کار قرآنی اصولوں پر استوار تھا جنھوں نے مسلمانوں کی مشکلات کو حل کرنے اورالٰہی آیات کے سایہ میں بچوں کی تربیت میں بے حد کوششیں کیں۔
عصام العماد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای ڈاکٹر عصام العماد کی گرانقدر کتاب گفتگوی بی ستیز کو فاضل جلیل مولانا مرزا محمد جواد نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
عرض ناشر
حقیقت میں عشق ایک ایساراستہ ہے جو عاشقان نور کواپنی طرف جذب کرکے انھیں حقیقت کی آغوش تک پہنچاتا ہے اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا سبب بنتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ راستہ سختیوں اور حساس پیچ و خم سے مملو ہے. اس راستہ پر چلنے والے صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے صبر کا پیمانہ وسیع اور فکر میں استقامت ہو. اس سخت و خوفناک سفر کو طے کرنے کے لئے ایک ایسے مرکب کا ہونا ضروری ہے جو حقیقت کا سفر کرنے والوں اور عاشقان نور کو مشکلات اور طوفان میں گرفتار ہونے سے بچائے۔
بے شک حقیقت جوئی کے اس پر خطر سفر میں (بالخصوص جہاں مذہب حق کی بات درپیش ہو) جذبات و احساسات کے بجائے عقل و خرد سے کام لینا ضروری ہے اورا س مقام پر گنجائش نہیں کہ ہم حق و حقیقت کے بارے میں کچھ کہہ سکیں چونکہ یہ کتاب خود حق و حقیقت کو پہچنوانے کے لئے ایک مفید نمونہ اور زندہ مثال ہے جس میں حقیقت جوئی کے پر پیچ و خم سفر کو پیش کیا گیا ہے۔ لہٰذا الگ سے اس موضوع پر بحث کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔
کسی بھی کتاب کے علمی معیار کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کے مصنف کی موضوع پر مہارت اور تجربہ کا اندازہ لگائیں، تو اس کتاب کی اہمیت دوچندان ہو جاتی ہے اور یہ دو خصوصیتیں (موضوع پر مہارت، تجربہ) اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید عصام میں بخوبی پائی جاتی ہیں۔
شیعہ اور اہل سنت کے لئے ڈاکٹر عصام ایک ایسے دانشور ہیں جوسالہا سال دینی علوم سے وابستہ تھے اور آپ نے حقیقت کی تلاش میں کافی تجربات بھی حاصل کئے۔
یہ وہی متعصب وہابی ہیں کہ جنھوں نے خود کو وہابیت کی ظلمتوں سے نجات دلا کر اپنے عقیدہ و فکر کو اہل بیت ٪ کے نورانی کارواں سے منسلک کرلیا ،گرچہ پہلے بھی سیادت کی بنا پر اس نورانی کارواں سے منسلک تھے۔
انھوں نے حقیقت جوئی کے اس سفر میں بے شمار تجربات حاصل کئے جن کی طرف قارئین محترم مطالعہ کے دوران متوجہ ہوں گے، ڈاکٹر عصام کا یہ طویل تجربہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔
یمن کا سنی معاشرہ آپ کو شہر صنعا کی مسجد میں امام جماعت اور ایک مدرس کی حیثیت سے جانتا تھا یہ وہی طالب علم تھے کہ جنھوں نے قاضی احمد سلامہ محمد بن اسماعیل عمرانی اور ڈاکٹر الوہاب دیلمی جیسے یمن کے بزرگ وہابی علماء کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا اور اس کے بعد فن حدیث میں ریاض کی ابن سعود ریاض کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور آہستہ آہستہ سعودی عرب کے بزرگ مفتی ابن باز کے نزدیک حاضر ہونے کی اجازت حاصل کی جن سے متاثر ہوکر آپ نے شیعیت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور آپ کا شمار شیعیت کے سخت ترین دشمنوںمیں ہونے لگا۔
لیکن پروردگار عالم مومنین کا سرپرست ہے اور انھیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف ہدایت کرتا ہے.(۱) اور خدا جس چیز کا ارادہ کرلے اسے انجام دیتا ہے.(۲) خدا کی طرف سے ہدایت و توفیق کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ان کا کٹر وھابی دل نرم ہونے لگا اور وہ چشمۂ حقیقت سے سیراب ہوئے. سب سے پہلے ڈاکٹر عصام عماد اہل سنت کے ان ضعیف اقوال کی طرف متوجہ ہوئے جو علم رجال میں جرح و تعدیل کی بحث سے مربوط ہیں اور اسی مقام پر آپ نے سنی علماء کے فکری انحراف کو بہت ہی قریب سے محسوس کیا. یہی وہ پہلا قدم تھا جسے ڈاکٹر عصام نے حق و حقیقت کی تلاش میں اٹھایا۔
اس مقام پر مصنف کے متعلق مزید گفتگو کی گنجائش نہیں چونکہ خود مصنف نے اس کتاب میں اپنے متعلق واقعات کو بیان کیا ہے مصنف کی اس کتاب اور دوسری کتابوں اور مناظروں کا مقصد مذہب امامیہ کے اعتقادات کو صحیح اور مناسب طور پر سنی حضرات سامنے پیش کرنا ہے تاکہ وہ بھی مذہب اہل بیت سے منسلک ہو کر تمام مسلمانوں میں اتحاد اورگفتگو کی راہ پیدا کریں، انشاء اللہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک دن مسلمانوں کا یہ آپسی اختلاف ختم ہو جائے گا (الہٰی آمین)
اب سوال یہ ہے کہ اس کتاب کو لکھنے میں جس روش کو مصنف نے انتخاب کیا ہے وہ کس حد تک قارئین کے لئے مؤثر واقع ہوگی؛ ہم معتقد ہیں کہ ڈاکٹر عصام العماد اس روش میں موفق اور کامیاب رہیہیں لہٰذاا قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنی نیک آراء سے ہم کو مستفیض فرمائیں۔
مؤسسہ معارف اسلامی کوثر
قم
____________________
(١) سورۂ بقرہ، آیت ٢٥٧
(٢) سورۂ حج، آیت ١٤
نوٹ: یہ عرض ناشر فارسی ترجمہ سے مربوط ہے۔
عرض مترجم(نسخۂ عربی)
بلاشک و شبہ ، امت اسلامی میں اتحاد ایک مطلوب امر ہے ابتدا ئے اسلام ہی سے، بلکہ دین اسلام کے اصلی متون، یعنی قرآن و احادیث میں بھی اتحاد کے لئے تاکید کی گئی ہے۔
لیکن زمانہ کے گذرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کلمات کی طرح، کلمۂ وحدت کے مفہوم میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ،یہاں تک کہ دور حاضر اس کے جو مفہوم مراد لیا جارہا ہے وہ اس کے ماضی کے معنی سے بالکل الگ اور بے گانہ ہے۔
جیسا کہ علم، امامت، خلافت، حکمت، زہد، جیسے کلمات میں بھی اس قسم کی تحریفات واقع ہوئی ہیں اور دور حاضر میں کلمۂ وحدت کو مندرجہ ذیل معانی میں استعمال کیا جاتا ہے:
١۔ وحدت یعنی مخالفین کے مقابلہ میں سکوت اختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کاعلمی مناظرہ نہ کیا جائے ۔
٢۔ وحدت یعنی تمام مذاہب حق پر ہیں۔
٣۔ وحدت یعنی اس بات پر عقیدہ ہو کہ روز قیامت نجات صرف اور صرف امامیہ مذہب سے مخصوص نہیں ۔
٤۔ وحدت یعنی بعض شیعی عقائد اور مذہبی متون میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
٥۔ وحدت یعنی مسلمانوں کے اختلاف کو اجتہادی سمجھا جائے۔
٦۔ وحدت یعنی تمام صحابہ کی تائید کی جائے۔
وحدت کے متعلق اہل تسنن کا نظریہ یہ ہے:
حق کسی مخصوص گروہ میں منحصر نہیں بلکہ تمام اسلامی فرقوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے ۔
اسی طرح روز قیامت، نجات بھی کسی خاص فرقہ سے مخصوص نہیں ،اور مسلمانوں میں تمام فکری اختلافات دینی نصوص میں مطلوب اور مورد تائید اجتہاد کا نتیجہ ہیں لہٰذا ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ ہم دیگر فرقوں کے آراء و عقائد باطل سمجھیں اور انھیں حقیقت سے بے خبر جانیں بلکہ جہاں جہاں اختلاف ہو وہاں سکوت اختیار کیا جائے۔
شیعوں کو بھی حق دیا جائے، انھیں فتنہ پرور نہ کہا جائے، اور نہ ہی ان سے نفرت و بیزاری کو دل نکال دیا جائے، کیونکہ یہ عمل شائستہ نہیں ، جبکہ ہمارے اور اہل تشیع کے درمیان اعتقادی اصول اور اکثر فقہی ارکان میں کسی بھی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، صرف اختلا ف امامت کے مصداق میں ہے شیعہ امامت کا انکار نہیں کرتے بلکہ ان کے پاس امامت اور خلافت کی (حقانیت) پر شرعی دلائل بھی موجود ہیں. اور اس زمانہ میں خلافت کے متعلق گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ، اور ہم سے کیا مطلب کہ انھوںنے ماضی میں کیا کارنامے انجام دیئے اور کن چیزوں کو ترک کیا۔
لیکن شیعوں کے نزدیک وحدت کے منصوص معانی یہ ہیں:
١۔ تمام مذاہب اور فرقوں کی پیروی کرنے والے آپس میں میل ملاپ کے ساتھ زندگی گزاریں۔
٢۔ ان کے اجتماعی روابط میں گشیدگی نہ ہو۔
٣۔ اعتقادات اور مذہبی سنتوں کی محافظت کے ساتھ تعصب کو ختم کیا جائے تاکہ اجتماعی زندگی میں فتنہ کے بجائے امنیت برقرار ہو۔
٤۔ کسی قسم کے لئے حساس پہلو کو اجاگر کرنے سے پرہیز کیا جائے ، جو شخص سماج کے دینی یا دنیاوی امور کے لئے نقصان دہ ہو۔
اور یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اس روش کے اختیار کرنے کا مقصد، کسی کو نقصان پہنچائے بغیر دین اسلام کی محافظت ہے. ہم اعتقادی اور مذہبی اختلافات کے ہوتے ہوئے کبھی اس بات کے لئے حاضر نہیں کہ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے میں تعصب اور فتنہ ایجاد کریں اورمبنائی اختلاف اور فتنہ و فساد، یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں. فتنہ سے اجتماعی روابط خراب ہوتے ہیں اور وہ فکری اختلاف جن کی بنیاد پوری طرح سے علمی اصول پر استوار ہوتی، ان سے کبھی اجتماعی روابط خراب نہیں ہوتے۔
٢۔ سب سے پہلی مرتبہ ڈاکٹر عصام العماد سے انٹرٹت کے ذریعہ میرا تعارف ہوا اور وھابی عثمان الخمیس سے آپ کے بعض مناظروں کا مطالعہ بھی کیا جس کے نتیجہ میں ، میں آپ کی روش کا شیفتہ و فریفتہ ہوگیا آپ کی گفتار میں ادب، لہجہ میں اطمینان، مناظرہ میں ایک خاص روش کی عکاسی کرتا ہے چند دن بعد اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ خود ڈاکٹر عصام عماد کچھ عرصہ پہلے ایک متعصب اور کٹر وہابی تھے اور کئی سال آپ نے یمن و سعودی عرب میں بڑھ چڑھ کر شیعیت کی مخالفت کی، لیکن خدا کی عنایت او ر اس کے فضل سے آپ شیعہ ہوگئے اور ہمیشہ آپ نے کوشش کی کہ بنحو احسن وہابی علماء سے مناظرہ و گفتگو کریں. جب میں اس بات سے آگاہ ہوا کہ ڈاکٹر عصام العماد نے وہابی علماء سے طریقۂ گفتگو کے متعلق بنام'' المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین''کتاب لکھی ہے تو میں نے ان سے اپنے کسی دوست کے ذریعہ ملاقات کی اور یہ کتاب ''گفتگو کا سلیقہ'' ان ہی چند ملاقاتوں کا نتیجہ ہے۔
٣۔ اس کتاب کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم وہابیوں سے روابط برقرار کرنے کا طریقہ جانیں اور انھیں زیادہ سے زیادہ شیعیت سے آگاہ کریں،تاکہ ان کے لئے راستہ ہموار ہو اور وہ اہلبیت ٪ کے شیعہ بن جائیں. مصنف نے ہمیشہ وہابیوں کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ مذہب اہلبیت (ع) سے آشنا ہوں اور وہ معتقد ہیں کہ بعض وہابی جو کہ نہ متعصب ہیں اور نہ ہی دشمنوں کے بہکانے پر بہکے ہیں، اگر انھیں حقیقت سے آگاہ کیا جائے تو ڈاکٹر عصام کی طرح وہ بھی حق کو قبول کریں گے۔
کلمۂ وحدت و تقریب سے مصنف کی مراد یہ ہے کہ اختلاف کو ختم کرتے ہوئے ہم سب آپسی سمجھوتے کی طرف قدم بڑھائیں، اس امید کے ساتھ کہ تمام عالم میں شیعیت کا پرچم لہرائے۔
حقیقت میں یہ کتاب ''رحلتی من الوہابیة الی الأثنیٰ عشریة'' کا خلاصہ ہے۔
٤۔ یہ کتاب ''المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین ''کا لفظی ترجمہ نہیں ، بلکہ ڈاکٹر عصام سے گفتگو کے بعد میں نے ترجمہ کے ساتھ اس کتاب کی تصحیح کا کام بھی شروع کیا، جس کے نتیجہ میں جو تبدیلیاں واقع ہوئیں وہ یہ ہیں:
١: تکراری مطالب کا حذف کرنا ٢: طولانی عبارتوں کا خلاصہ کرنا ٣: ایرانی ثقافت اور فارسی زبان سے ہماہنگی کو مدنظر رکھنا ٤: بلند و طولانی حاشیوں کو متن میں قرار دینا۔
٥۔ مصنف کے معنی و مراد کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب کلمات کا انتخاب کرنا، بطور مثال، مصنف نے جہاں کلمۂ وحدت یا تقریب سے استفادہ کیا ہے ان سے مشورہ کے بعد میں کلمۂ تفاہم یا ہمزیستی مسالمت آمیز کو استعمال کیاہے. اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مصنف نے اس کتاب میں شیعیت کو'' المذہب الاثنیٰ عشری'' کے نام سے یاد کیا ہے او راس کلمہ کے استعمال پر تاکید بھی کی، اور معتقد ہیں، کہ وہابیوں کے لئے یہ کلمہ حساس نہیں ، تشیع اور شیعیت، ایسے کلمات ہیں جن کا دائرہ معنی کے لحاظ سے بہت وسیع ہی ہے اور شیعہ، دوازدہ امامی کے علاوہ، دوسرے فرقوں کو بھی کہا جاتا ہے، جبکہ وہ تمام فرقے امامیہ کے نزدیک باطل ہیں۔
لیکن قارئین کی سہولت اور عبارت کی نزاکتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، میں نے تشیع ،شیعہ، امامیہ، شیعہ امامیہ اور شیعہ ٔ دوازدہ امامی جیسے تمام کلمات سے استفادہ کیاہے، لیکن یہ بات واضح رہے کہ ان تمام کلمات سے مراد صرف اور صرف مذہب اثنیٰ عشری اور شیعۂ دوازدہ امامی ہی ہیں۔
والسلام علی من اتبع الہدی
مصطفی اسکندری
قم
پیشگفتار
تمام تعریفیں خدا کے لئے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں، اسی کی بارگاہ سے مدد اور تمام گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، نفس کی برائیوں اور اپنی بدکرداری سے پناہ مانگتے ہیں، کیونکہ خدا ہی ہے کہ اگر اس نے کسی کی ہدایت کی تو وہ گمراہ نہ ہوگا اور اگر گمراہ کردے تو پھر ہدایت نہیں پاسکتا۔
گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ آلہ و سلم خدا کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔
(اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جو ڈرنے کا حق ہے اور خبردار اس وقت تک نہ مرنا جب تک مسلمان نہ ہوجاؤ)(۱)
(اے انسانوں اس پروردگار سے ڈرو کہ جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کا جوڑ ابھی اسی کی جنس سے پیداکیا ہے اور پھر دونوں سے بکثرت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے ہیں اور اس خدا سے بھی ڈرو جس کے ذریعہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابت داروں کی بے تعلقی سے بھی، اللہ تم سب
____________________
(١) سورۂ آل عمران، آیت ١٠٢
کے اعمال کا نگران ہے)(۱)
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تاکہ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کردے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے اور جو بھی خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی کے درجہ پر فائز ہوگا)(۲)
میرا اس بات پر عقیدہ ہے، کہ مسلمانوں میں وحدت اور آپسی قربت کے لئے ضروری ہے کہ ہماری گفتگو صحیح اور اس میں جذابیت پائی جائے، لیکن اگر آپسی گفتگو میں گذشتہ دو صفات نہ پائے جائیں اور گفتگو علمی اصول پر استوار نہ ہو، تو اس قسم کی گفتگو سے مسلمانوں میں وحدت کے بجائے، دوری میں اضافہ ہوگا۔مذاہب کے متعلق گفتگو میں کئی نکات پائے جاتے ہیں جنکی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔
گفتگوبحث و جدال سے خالی ہو کیونکہ اسلامی مذاہبمیں وحدت کی ایجادکا تنہا راستہ، یہی ہے کہ ہماری گفتگو میں نرمی پائی جائے تاکہ مسلمانوں کی مشکلات حل ہوں اور یہی ایک ایسا راستہ ہے کہ جو مسلمانوں کومتفرق ہونے سے بچاسکتا ہے درحقیقت اس کتاب میں پیروان مذاہب سے نامناسب طرز گفتگو کی اصلاح کی گئی ہے۔
مجھے وہابی علماء سے گفتگو کرنے میں ١٢ سال کا تجربہ حاصل ہے اور بالخصوص میرا وہابیت کے زمانہ کا تجربہ ( جب میں یمن میں تھا اور بزرگان وہابی علماء کے
____________________
(١) سورۂ نساء ، آیت ١
(٢) سورۂ احزاب، آیت ٧١۔ ٧٠
سامنے تحصیل علم کے لئے زانوئے ادب تہہ کیا کرتا تھا اور پھر سعودی عرب روانہ ہوکر وہاںایک متعصب وہابی بن گیا، جس کے نتیجہ میں ، میں نے شیعوں کی تکفیر میں ایک کتاب بنام ''الصلة بین الاثنی عشریة و فرق الغلاة''(۱) لکھا پھر جب وہابیت سے دستبردار ہوا تو حقائق و خصائص شیعہ اثناعشری کی وضاحت کے لئے ایک اور کتاب بنام ''رحلتی من الوہابیة الی الاثنی عشریة''(۲) تحریر کی، جس کے بعد میں یہ جانتاہوں کہ وہابی افراد سے کس طرح گفتگو کی جائے۔
وہابی افراد سے مناظرہ میں ضروری ہے کہ ہماری گفتگو میں مندرذیل خصوصیات پائی جائیں:
١۔ ضروری ہے کہ ہم وہابی شخص کواس بات کے لئے آمادہ کریں کہ ہماری گفتگو کا محورایک مذہبی موضوع نہیں ، بلکہ ایک آیت یا حدیث یا اس آیت و حدیث کے نکات میں سے ایک نکتہ ہوگا اور اس کی وجہ ان کی فکری توانائی کا قوی نہ ہونا ہے ایک ہی مرحلہ میں وہ امامیہ مذہب کے حقائق کو درک نہیں کرسکتے، اسی لئے ضروری ہے کہ قدم بہ قدم ایک آیت و حدیث کے بعد دوسری آیات و احادیث کی طرف رجوع کیا جائے اور مد ّمقابل کو ابتداہی میں اس روش سے آگاہ و آشنا کیا جائے، تاکہ وہ اس روش کی اہمیت کو جانتے ہوئے ، اپنی گفتگو میں اس پر توجہ دے۔
____________________
(١) شیعہ غلاة سے وابستہ ہیں.
(٢) میرا وہابیت سے امامیہ کی طرف کوچ کرنا.
قارئین کے لئے بھی یہ بات واضح ہے کہ تمام یونیورسٹیوں میں ایک کلی مسئلہ پر گفتگو نہیں کی جاتی، بلکہ ہمیشہ گفتگو کا محور کلی موضوع کاایک حصہ ہوتا ہے اور انھیں قسم کی تحقیقات مثمر ثمر ہوتی ہیں. اسی لئے ہم اس کتا ب میں مختصر و مفید موضوعات پر اس روش کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کریں گے تاکہ وہابی شیعیت کے حقائق کو درک کرسکیں۔
٢۔ ضروری ہے کہ ایک وہابی شخص سے مناظرہ کے دوران حدیث ثقلین کو گفتگو کا محور قرار دیا جائے، لیکن اگرہم نے فضائل حضرت علی ـ کے متعلق گفتگو کی، تو وہ بھی دیگر صحابہ کے کچھ فضائل نقل کریں گے، جس کے نتیجہ میں بحث مشکلات سے دوچار ہوگی۔اور اگر وہ حضرات دیگر اصحاب کے لئے بعض فضیلتوں کے قائل بھی ہوں، تو بھی انھیں کے نظریہ کے مطابق یہ فضائل ان اصحاب کی پیروی و اطاعت پر دلیل نہیں بن سکتے، جبکہ حدیث ثقلین ایک ایسی حدیث اور فضیلت ہے کہ جو واضح طور سے مولائے کائنات کی اطاعت پر دلالت کرتی ہے۔
اور اگر گفتگو کا محور قرآن ہو تو آیۂ ولایت کے بجائے آیۂ تطہیر کو انتخاب کیاجائے کیونکہ آیۂ تطہیر اور حدیث ثقلین میں عمیق ارتباط پایا جاتاہے اور جو اہل سنت آیۂ تطہیر اور واقعہ کساء کو نقل کرتے ہیں تو وہ حدیث ثقلین کو بھی انھیں سے مربوط جانتے ہیں اور کسی بھی مسلمان نے حدیث ثقلین کے حدیث کساء سے مرتبط ہونے کا انکار نہیں کیا ہے ، لہٰذا آیۂ تطہیر کے متعلق ہماری گفتگو، حدیث کساء و حدیث ثقلین تک راہنمائی کرتی ہے۔
وہابی افراد سے گفتگو کے لئے میرا، حدیث ثقلین کا انتخاب کرنااور اس انتخاب پر تاکید کی وجہ، خود پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس حدیث کواہمیت دینا ہے جیسا کہ خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ اگر امت ثقلین سے متمسک ہو جائے تو گمراہی سے بچ جائے گی اور آپ نے زندگی کے آخری لمحات تک ا س حدیث پر عمل کی تاکید کی جو کہ امت اسلامیہ کے لئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ایک امانت ہے تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ اسی حدیث ثقلین کی وجہ سے کتنے سنی اور وہابی افراد کی فکروں میں تبدیلی آئی ہے اور انھوں نے ہدایت کو قبول کیا ہے، لہٰذا میرا عقیدہ ہے کہ گفتگو کا آغاز حدیث ثقلین سے ہو. اور اگر عنوان و موضوع کچھ اور ہو تو گفتگو کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا.اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری اس گفتگو کا ہدف قابل اصلاح وہابیوں کی ہدایت ہے تاکہ وہ مذہب اہلبیت (ع) سے منسلک ہو کر اس کا اتباع کریں اور اس میں بھی کوئی تردید نہیں ،کہ ان میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کے لئے حق ثابت ہو جائے تو وہ اس کی پیروی کریں گے۔
مناظرہ میں کسی بھی وقت نہ میں نے مدّمقابل کے بارے میں سوء ظن کیا، اور نہ ہی اسے حق کا دشمن سمجھا ہے، میری نظر میں فقط وہ ایک بیمار ہے کہ جسے ایک اچھے اور ماہر طبیب کی ضرورت ہے، گفتگو کے دوران ہمیشہ میں اپنے ماضی پر نظر رکھتاہوں، کہ میں بھی ایک وہابی تھا لیکن بحمد اللہ میں نے حق کو جانااور اس کی پیروری کی اور اس حسن ظن کے ساتھ میں نے اس کتاب کو لکھا ہے لہٰذا دوسروں تک اپنے پیغام کو پہنچانے میں اس روش (حسن ظن) کو مؤثر جانتا ہوں۔
ان بارہ سالوں میں وہابیوں سے مناظرہ کے دوران طرفین کے تند و تیز حرکات سے بخوبی واقف ہوں، گرچہ شیعہ و سنی وشیعہ میں بحد معمول قدیم الایام سے اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ اختلاف آج کے شیعہ اور وہابی اختلاف جیسا نہیں تھا۔
اس دشمنی و عناد کا بیج محمد بن عبد الوہاب نے بویا کہ جس کے نتیجہ میں آج تک امت مسلمہ مشکلات میں گرفتار ہے اور دشمنان اسلام اس فرقہ سے سوء استفادہ کر رہے ہیں (تاکہ مسلمانوں میں ہرج و مرج پیدا کریں) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان ہرج و مرج کشیدگی اوراتحاد نہ ہونے سے دشمنان اسلام قوی ہوں گے، اسی لئے ضروری ہے کہ ہماری گفتگو علم و منطق سے آراستہ ہو ،تاکہ مباحث کی مشکلات کو ختم کرسکیں اور ہماری گفتگو مفید واقع ہو۔
ہم گفتگو میں کوشش کریں کہ بنی امیہ اور منافقین نے مسلمانوں کو اہلبیت (ع) سے دور رکھنے میں جو سازشیں رچی ہیں انھیں بیان کریں، تاکہ مسلمانوں کو ثقلین سے دوری کا احساس ہو شیعہ ہونے کے بعد میری یہ پوری کوشش رہی کہ مختلف مذاہب کے علماء سے گفتگو کے لئے ایک مناسب اور صحیح روش کو مدنظر رکھوں اوراگر اس روش پر عمل نہ ہو تو میرے عقید ے کے مطابق گفتگو کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔
جامعہ شناسی اور نفسیات کی رو سے، میں نے اپنی گفتگو میں تین اساسی چیزوں کو مد نظر رکھا ہے تینوں پر عمل اور اس کی ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
١۔ کلمات کے صحیح معنی بیان کئے جائیں چونکہ معمولاً مباحث میں طرفین ایک ہی کلمہ سے مختلف، بلکہ متضاد معانی کا ارادہ کرتے ہیں بطور مثال، عصمت یا تقیہ کی جو تفسیر وہابی علماء کرتے ہیں وہ امامیہ تفسیر سے بالکل الگ ہے۔
٢۔ ابتدائے کلام ہی سے وہابی شخص کو قبول کرنا ہوگا کہ وہ ایک اسلامی فرقہ سے مربوط فرد سے گفتگو کر رہا ہے، بالکل اہل سنت کی طرح کہ جو شیعیت کو اسلامی فرقہ جانتے ہیں۔
٣۔ لیکن اگر وہ شیعوں کو کفار کا خطاب دیں تو انھیں یہ جان لینا چاہیئے کہ انھوں نے تمام اہل سنت کی مخالفت کی او ران سے گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ( میں اپنے تمام معاملات کوخدا کے حوالے کرتا ہوں،کہ بے شک وہ تمام بندوںکے حالات کو خوب دیکھنے والا ہے)۔(۱)
عصام علی یحییٰ العماد
صنعاء ١٤١٢ ہجری
____________________
(١) سورۂ غافر ، آیت ٤٤
مذہب امامیہ کو وہابیت کے لئے کس طرح پیش کیا جائے!
میں نے کتاب'' رحلتی من الوہابیة الی الاثنی عشریة'' میں وہ دلائل پیش کئے ہیں جن کی بنا پر میں نے وہابیت کو ترک کیا. گرچہ اس وقت وہابیوں کی ایک مسجد میں امام جماعت اوراستاد کی حیثیت سے مشغول تھا اور اس کتاب میں میری کوشش ہے کہ فرقۂ امامیہ کے حقائق اور خصوصیات کو ایک وہابی شخص کے لئے اس طرح بیان کروںکہ جب وہ کسی امامیہ سے گفتگو کرے تواس کی فکری مشکلات برطرف ہوں ، گفتگو کے مثبت نتیجہ تک پہنچنے کے لئے ان مشکلات کا حل ہونا ضروری ہے۔
شخصی نظریہ کے مطابق ایک وہابی شخص ،امامیہ سے گفتگو کے دوران جن فکری مشکلات سے دوچار ہوتا ہے، انھیں ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مذہب امامیہ کو تین مرحلوں میں پیش کیا جائے اوران مراحل میں ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ورنہ اس کے افکار کی اصلاح بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ مذہب امامیہ کے حقائق سے آگاہ ہوسکتا ہے۔
وہابی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ ان تین مراحل اوران کی ترتیب پر توجہ نہ دینے کے نتیجہ میں مذہب امامیہ کے متعلق ان کی تحقیق اہل سنت حضرات کی تحقیقا ت سے الگ ہے، اوراسی بنا پر وہابی شیعیت کے متعلق جو فکر رکھتے ہیں وہ قدمائے اہل سنت سے جدا ہے۔
میں نے کسی بھی مقام پر ان دو موضوعات (وہابی سے صحیح طرز گفتگو، یا سنی اور وہابی علماء کا دوسرے فرقوں کے متعلق مختلف الآراء ہونا) کے متعلق علمی تحقیق نہیں دیکھی، لہٰذا اس کتاب کی روش، تحقیق کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے اور شیعوں کے بارے میں سنیوں اور وہابیوں کا مختلف آراء رکھنا بھی تحقیق کی روش میں اختلاف کا نتیجہ ہے ، وہابی شیعیت کے بارے میں جو تصورات رکھتے ہیں، یہ انکی غیر علمی روش کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے وہ شیعیت کے حقائق سے دور ہی نہیں ، بلکہ شیعوں کی طرف ناروا نسبتیں دیتے ہیں، شیعیت کے حقائق سے مطلع ہونے کے لئے ایک ایسی علمی تحقیق کی ضرورت ہے کہ جس میں شیعیت کے متعلق سنی اور وہابی نظریات کا آپس میں مقایسہ کیا جائے. اورایک محقق کہ (جس کا محور مذہب امامیہ کی تحقیقہے) کو چاہئے کہ وہ مذہب کے متعلق روش تحقیق کے درمیان فرق کا قائل ہو۔
ہم مذہب امامیہ کی خصوصیات کوبالترتیب تین مرحلوں میں بیان کریں گے اور اس ترتیب کے لئے پابندی لازم ہے تاکہ وہابیوںکی طرح مشکلات میں گرفتار نہ ہوں۔
حقائق اور مذہب امامیہ کی خصوصیات کی تین مرحلے:
پہلا مرحلہ: مذہب امامیہ کی وابستگی کے لحاظ سے معرفت۔
اس مرحلہ میں ان دلائل پر تحقیق ہوگی کہ جن کی بنیاد پر وہابی، شیعیت کے متعلق غلط فہمی میں گرفتار ہیں اور انھیں غالی کا خطاب دیتے ہیں۔
شیعیت کے متعلق اس غلط فہمی کے دو اسباب ہیں:
١۔ وہابیت کا مذہب امامیہ سے صحیح طور پر واقف نہ ہونا۔ ٢۔ اوران کے مطالعہ کی روش کا نادرست ہونا۔
اس پہلے سبب کے لئے بھی تین اسباب پائے جاتے ہیں:
الف: غلو کے معنی سے مطلع نہ ہونا. ب: شیعہ دوازدہ امامی کے معنیٰ نہ جاننا. ج: غلو اور غالیوں کے مقابلہ میں امامیہ کے موقف سے آگاہ نہ ہونا۔
دوسرے سبب کے لئے بھی دوا سباب ہیں:
الف: وہابیوں کا ایک خاص طرز تفکر ب: ان کا شیعوں کے مقابلہ میں اہل سنت سے جدا موقف رکھنا۔
اس مرحلہ کو طے کرنے کے بعد دوسرے مرحلہ میں واردہونگے۔
(دوسرا مرحلہ) مذہب امامیہ کی دقیق معرفت
اس مرحلہ میں چار مہم حقائق کی تحلیل کی جائے گی اور وہ حقائق یہ ہیں:
١۔مذہب امامیہ کی نظر میں الوہیت اور نبوت کی حقیقت۔
٢۔ مذہب امامیہ کے نزدیک شریعت و احکام کی حقیقت۔
٣۔ مذہب امامیہ میں بعض کلمات کے معانی کی حقیقت۔
٤۔ مذہب امامیہ کے اہداف کی حقیقت۔
اس مرحلہ میں غور و فکر کے بعد ہم تیسرے مرحلہ میں داخل ہوںگے۔
(تیسرا مرحلہ) مذہب امامیہ کی بنیادی معرفت
اس مرحلہ میں بھی چار اہم نکات کی تحلیل ہوگی۔
١۔ مذہب تشیع کے منابع. ٢۔ اس مذہب میں امامت کی حقیقت. ٣۔ مذہب امامیہ کی حقیقت ٤۔ اس مذہب کی ابتدا اور اس کے ظہور کی دلیلیں۔
اور جب قارئین ان تین مراحل کو طے کرلیں تو پھر ہم مذہب امامیہ کی خصوصیات کے متعلق تحقیق میں مشغول ہوں گے۔
(مذہب امامیہ کی خصوصیات)
گرچہ یہ خصوصیات دوسرے مرحلہ سے مربوط ہیں لیکن ہم نے جان بوجھ کر ان خصوصیات کو آخر میں بیان کیا ہے تاکہ ایک وہابی، انھیں آسانی کے ساتھ درک کرسکے، اور یہ تین خصوصیات یہ ہیں:
١۔ اہلبیت کے بارے میں امامیہ کا میانہ رو ہونا۔
٢۔ امام زمانہ کی غیبت مذہب امامیہ کی نظر میں ۔
مذہب امامیہ کو سمجھنے کے لئے ہم ان تمام مراحل کو طے کرنے پر مجبور ہیں، اوران مراحل میں ترتیب کا ہونا بے حد ضروری ہے. مذہب تشیع کی وضاحت کے لئے جس روش کو ہم نے انتخاب کیا ہے اسے ایک نقشہ کی صورت میں پیش کرتے ہیں تاکہ اس روش کے تمام مراحل قارئین کے لئے واضح ہو جائیں۔(۱)
____________________
(١) میں نے اس تحقیق کی روش کو وہابیوں کے لئے مرتب کیا ہے تاکہ انھیںمذہب تشیع کی کامل شناخت ہو جائے اور جب تک ایک وہابی کے لئے اہل تشیع کا غالی نہ ہونا ثابت نہ ہو جائے اور جب تک وہ الوہیت، نبوت ، دینی احکام، اور شیعی منابع سے باخبر نہ ہوں ؛تب تک اس کے لئے مشکل ہے کہ وہ امامت و غیبت امام زمانہ جیسے مباحث کو سمجھ سکیں. اور میں نے بھی وہابیت کو ترک کرنے کے آخری مراحل میں امامت و غیبت کے مسائل کی معرفت حاصل کی اور ان پر ایمان لایا اِن تمام باتوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے مباحث امامت و غیبت امام زمانہ کو اہمیت نہ دی۔
(١)
مذہب امامیہ کی معرفت
(٢)
مذہب امامیہ کی دقیق معرفت
مذہب امامیہ کی نظر میں الوہیت و نبوت کی حقیقت
مذہب امامیہ کے نزدیک شریعت اور دینی احکام کی حقیقت
مذہب امامیہ کے اہداف کی حقیقت
مذہب امامیہ میں بعض کلمات کے معنی کی حقیقت
(٣)
مذہب امامیہ کی بنیادی معرفت
الف: مذہب تشیع کے منابع
ب: امامت
ج: مذہب امامیہ کی حقیقت
د: اس مذہب کی ابتدا اور اس کے ظہور کی دلیلیں
نتیجہ
مذہب امامیہ کی خصوصیات
اس نقشہ میں یہ بات واضح ہے کہ بعد کے دونوں مراحل کی معرفت سے قبل، پہلے مرحلہ کی معرفت ضروری ہے تاکہ وہابی شیعوں کو غالی کا خطاب نہ دیں، اور اس نقشہ میں پہلے مرحلہ کا سب سے اوپر قرار پانا اس مرحلہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے لہٰذا اگر اس کو جابجا کردیا جائے تو پھر تحقیق کی روش میں خلل واقع ہوگا اوراسی طرح دوسرے اور تیسرے مرحلے بھی اہمیت کے حامل ہیں، اور انھیں یکے بعد دیگرے قرار دینا ضروری ہے ہر مرحلہ میں کچھ حقائق بیان کئے گئے ہیں، اور چونکہ مذہب امامیہ کے خصائص کوسمجھنا ،ان گذشتہ مراحل کو طے کرنے پر موقوف ہے اسی لئے ہم نے خصائص امامیہ کی بحث کو سب سے آخر میں قرار دیا ہے. ہم نے پہلے مرحلہ کے مطالب کو سب سے پہلے ذکر کیا، تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ مرحلہ آنے والے مراحل کے لئے مؤثر ہے. اور مذہب امامیہ میں حقیقت الوہیت و نبوت جیسی بحث کو دوسرے مرحلہ میں سب سے پہلے قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ دیگر تمام مباحث کا درک کرنا انھیں مباحث پرموقوف ہے۔
یاد رہے جیسا کہ صفحہ ٣٣ کے حاشیہ میں گذر چکا ہے کہ امامت و غیبت امام زمانہ کے مباحث کو ہم نے سب سے آخر میں قرار دیا ہے تاکہ ایک وہابی کے لئے ان مباحث کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
اس نقشہ میں عمودی خطوط تحقیق کے تمام مراحل میں محکم ارتباط کی عکاسی کرتے ہیں اور اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی، کہ ہر مرحلہ کا وجود گذشتہ مرحلہ پر موقوف ہے اور اس تحقیق میں ترتیب کا لحاظ ضروری ہے۔
ہر مرحلہ میں طبقات کا منسجم ہونا مذہب امامیہ کے حقائق و عقائد کے منسجم ہونے کی دلیل ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ محقق، مذہب امامیہ کے تمام حقائق کوایک مرتب و منسجم شکل میں پیش کرے اور ہر حقیقت و خصوصیت پر علٰیحدہ طور سے تحقیق نہ کی جائے، کیونکہ اس طرح کی تحقیق میں منسجم شکل کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور شایدوہابیوں نے شیعیت کی شناخت میں جو خطا کی ہے اس کا ایک سبب یہ ہو کہ انھوں نے مذہب امامیہ کے عقائد و حقائق پر الگ الگ بحث کی ہے. یہ نقشہ مباحث میں ترتیب و تسلسل کو بیان کرتا ہے. ہر مرحلہ، بعد والے مرحلہ کے لئے مقدمہ اور گذشتہ مباحث کا نتیجہ ہے اگر پہلے مرحلہ کو قبول کیا جائے، تو نتیجہ میں دوسرے مرحلہ کو قبول کرنا ضروری ہوگا. اور افقی خطوط کا مفہوم یہ ہے کہ ہر مرحلہ پر محقق کی دقیق نظر ہو، تاکہ ایک مرحلہ دوسرے مرحلہ میں مخلوط نہ ہونے پائے، اور ہر مرحلہ کے لئے ایک دقیق تحقیق کی ضرورت ہے، کیونکہ اگرپہلے مرحلہ میں ہماری تحقیق ناقص ہو تو پھر دوسرے مرحلہ کا صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہوگا. اس نقشہ کی نوک اوراس میں کشادگی بتلاتی ہے، کہ اگر تحقیق میں پہلا قدم غلط اٹھے (گرچہ اس کی لغزش کم ہی کیوں نہ ہو) تو آئندہ مراحل میں یہ خطا اور وسیع ہو جائے گی۔
اب ہم ان قارئین کی خدمت میں ان مراحل کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔
تصویر (١)
(١)
مذہب امامیہ کی
معرفت
حقیقت
حقیقت
واقعیت
واقعیت
الوہیت و پیامبری از
شریعت اور دینی احکام از
مذہب کے اہداف
بعض الفاظ کے معنی اس
امامیہ
امامیہ
امامیہ
مسلک میں
(٢)
مذہب امامیہ کی دقیق معرفت
مذہب تشیع کے منابع
اس مذہب میں امامت
مذہب امامیہ کی حقیقت
اس مذہب کے وجود میں آنے کی دلیلیں
(٣)
مذہب امامیہ کی بنیادی معرفت
نتیجہ
مذہب امامیہ کی خصوصیات
(پہلا مرحلہ)
مذہب تشیع کا غلو سے کوئی ربط نہیں
سب سے پہلے ایک غیر شیعی محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ شیعیت کے متعلق تحقیق سے پہلے اس مرحلہ پر کہ ''شیعہ غالی نہیں '' اپنی توجہ کو مرکوز کرے ، تاکہ شیعی حقائق اور امتیازات کی برعکس جلوہ نمائی سے محفوظ رکھ سکیں۔
اس اہم فصل میں ہم اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ اہل تشیع اور غالیوں کے درمیان مغایرت ہی نہیں ، بلکہ ایک عمیق شگاف ہے، ایسا شگاف جو مذہب امامیہ کے بلند و بالا اسلامی حقائق اور غالیوں کے پست عناوین الٰہی اور مجوسی فکر کے درمیان پایا جاتا ہے. (و لا تلبسوا الحق بالباطل ...)(۱)
اس مرحلہ میں ان نتائج سے بھی آگاہ ہوں گے جو شیعی افکار کو غالی افکار سے مخلوط کرنے کے سبب وجود میں آئے اور یہی طرز عمل (یعنی غیر مربوط افکار کو شیعیت سے منسوب کرنا) شیعیت کے متعلق ان کی غلط فہمی میں بے حد مؤثر ہے اور اس با اہمیت مرحلہ سے بطور کامل آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجوسی ، یہودی، اور مسیحی افکار کو شیعیت سے منسوب کرتے ہیں اوراس مذہب کے حقائق کو برعکس پیش کرتے ہیں۔
____________________
(١) سورۂ بقرہ، آیت ٤٢. حق کو باطل میں مخلوط نہ کرو.
اور میرا عقیدہ ہے کہ اہل تشیع کے حقائق کو سمجھنے سے پہلے ہم اس مرحلہ کو سمجھیں اوردرک کریں کہ شیعہ غالی نہیں ، ہم نے اس مرحلہ کا نام تشیع کی نسبی شناخت رکھا ہے تاکہ امامیہ کی خصوصیات پر گفتگو کرنے سے پہلے، ہم تشیع اور غالیوں کے درمیان فرق کے قائل ہوں۔
اس حصہ میں ان امور کے متعلق تفصیلی گفتگو ہوگی جو غالیوں سے مربوط ہیں، لیکن انھیں شیعیت سے بھی منسوب کیا جاتا ہے اوراس مرحلہ کا نام تشیع کی نسبی شناخت رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم مذہب امامیہ کے حقائق جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہیں انھیں مجوسی، یہودی، اور مسیحی کفر آمیز نظریوں سے دور رکھیں اور جب تک وہابی شیعوں کو غالی کا خطاب دینے سے باز نہیں آتے ، شیعہ کے متعلق ان کی تحقیق کی اصلاح ناممکن ہے. ہم نے اس فصل میں سب سے پہلے وہابیوں کی اس مشکل کو بیان کیا ہے اور میں نے اس مشکل کے وجود میں آنے کے اسباب پربھی ایک علمی تحقیق پیش کی ہے۔
قابل ذکر بات ہے کہ دور قدیم اور دورہ حاضر کے سنی علماء نے بحث کو خلط کرنے سے خود کودور رکھا، جس کے نتیجہ میں وہ مذہب امامیہ سے دفاع اور اس مشکل مباحث کو خلط کرنے میں گرفتار افراد سے ، ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔(۱)
____________________
(١) وہابیت جس مشکل میں گرفتار ہے اس کے متعلق علماء اہل سنت کے اقوال ہم بیان کریں گے.
شیعہ شناسی کے مختلف مطالعاتی طریقے
اس مقام پر اپنی گفتگو کو ختم کرنے سے پہلے دوبارہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ہماری اس روش تحقیق کے جو تین مراحل ہیں ان میں ترتیب کا لحاظ ضروری ہے تاکہ شیعیت کے بارے میں وہابی تحقیق کی اصلاح ہوسکے اور اہل سنت و وہابیت کی تحقیق کا اختلاف آشکار ہو جائے۔اگر شیعیت کے بارے میں وہابی اور سنی تحقیق کوایک دوسرے سے مقایسہ کریں تو سنی تحقیق کی کامیابی کا راز ، ان کا شیعہ اور غالی کے درمیان فرق جاننا ہے۔یہ مرحلہ بے انتہا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس مرحلہ میں ان غلط افکار کی اصلاح ہوگی، جنھیں وہابیوںنے مذہب تشیع سے منسوب کیاہے اور پھر خود وہابیوں کی اصلاح ہوگی، تاکہ وہ صحیح روش کے تحت مذہب تشیع کو پیش کریں، جس کے نتیجہ میں ان کے مطالعہ کا طور طریقہ ،علمی بنیاد پر استوار ہوگا اور چونکہ معاصر سنی علماء نے گذشتہ علماء کی پیروی کی اورانھیں خلط مباحث کے عواقب سے بطور کامل شناخت تھی اس لئے ان کے یہاںامامیہ کے حقائق کی تفسیر وہابی تفسیر سے جدا نظر آتی ہے. اور واضح طور پر انھوں نے شیعیت کے بارے میں وہابی تفسیر کو مستردکیا جانا ہے انھوں نے کچھ علمی معیار و قواعد قرار دیئے ہیں جن کا کسی بھی تفسیر اور تحقیق سے پہلے جانناایک وہابی شخص کے لئے لازم ہے۔
لہٰذا اس مرحلہ کا مطالعہ ضروری ہے تاک عام سنی وہابی نہ ہوجائیں اورخود وہابی اس مرحلہ میں جو شیعی حقائق میں بغیر دقت کے شیعہ مذہب کے خصوصیات سے واقف نہیں ہوسکتے۔ہم قارئین او روہابیوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس حصہ کا دقیق او رتفصیلی مطالعہ کریں تاکہ انھیں مطلوب نتیجہ حاصل ہو، کیونکہ مذہب امامیہ کے حقائق کی تفسیر میں تمام غلطیوں کا سرچشمہ، اس مرحلہ کا صحیح طور پر نہ سمجھنا ہے۔اس حصہ کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شیعہ شناسی سے مربوط مطالعات میں تبدیلی پیدا کریں اور اس روش کا انتخاب کریں جسے معاصر اور گذشتہ سنی علماء نے اختیار کیا ہے۔
میں نے زمانہ وہابیت میں شیعیت کی تکفیر میں ایک کتاب بنام ''الصلة بین الاثنی عشریة و فرق الغلاة'' لکھی (جس میں تشیع و غالیوں کو یکساں قرار دیا) جو شیعیت اور غالیوں کے درمیان فرق نہ جاننے، اور شیعہ شناسی میں فقط وہابی کتب سے مدد لینے کا نتیجہ ہے اسی لئے تشیع کی شناخت کے لئے میں نے اس اہم مرحلہ کو سب سے پہلے قرار دیا ہے. میں نے وہابیت کے زمانہ میں تمام جاہل افسانوں، صوفی، مجوسی اور بت پرستوں کے خود ساختہ خرافات اور غالی افکار کو شیعیت سے نسبت دی اور انھیں مذکورہ کتاب میں تفصیلی طور سے درج کیا ہے۔(۱)
____________________
(١)میں وہابیت کے زمانہ میں اس وہم کا شکار تھا کہ غالیوں میں جس قسم کا بھی غلواور شرک پایا جاتا ہے وہی شرک وغلو شیعیت میں بھی موجودہے لیکن بحمد اللہ شیعہ کتب (جس میں غلو شرک سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں) کا مطالعہ کرنے کے بعد ان دو فرقوں میں فرق واضح ہوا اور اس وہم کو میں نے کتاب (دیدگاہ شیعہ دربارۂ غلو و غالیان) میں ذکر کیا ہے۔
میں ہمیشہ یہ سمجھتا تھا کہ شیعوں کی طرف ان امور کا نسبت دینا صحیح ہے، لیکن جس وقت میں نے اس مرحلہ پر توجہ کی تو اپنی غلطی کا احساس ہوا اورا س خطا کی اصلاح کے نتیجہ میں میرے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوئی کہ ان باتوں میں جو شیعوں میں نہیں پائی جاتیں، لیکن ان کی طرف منسوب ہیں اور ان باتوں میں جوان میں پائی جاتی ہیں جبکہ ان کی طرف ان کی نسبت نہیں دی جاتی ، فرق پیدا کرسکو، لہٰذا میں نے مذکورہ کتاب کو طبع ہونے سے کچھ دن پہلے ہی جلا ڈالا۔
اس دوران میں معتقد تھا کہ شیعہ کو مجوسی ، یہودی یاصوفی کہا جاسکتا ہے(۱) لیکن اب میرا نظریہ بدل چکا ہے اوران عناوین کے مصداق شیعہ نہیں ، بلکہ غالی فرقے ہی ہیں، اس مرحلہ کو سمجھنے کے بعد، میں نے تحقیقات میں وہابی روش کوترک کر کے، معاصر اور گذشتہ سنی علماء کی روش کواختیار کیا، جس کے نتیجہ میں میرا یہ قدم شیعیت کے متعلق میرے نظریہ کو بدلنے میں مفید ثابت ہوا اور مجھے شیعیت اور غالیوں میں خلط مباحث سے چھٹکارا ملا۔
بلاشک و شبہہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں جن فکری مشکلات میں گرفتار تھا اس کی وجہ اس زمانے کے فکری حالات و اسباب تھے. میں نے اپنی پڑھائی یمن کے دارالحکومت شہر صنعاء کے ایک وہابی مدرسہ میں کامل کی، جن کا کام ہی اہل تشیع
____________________
(١) مصنف نے اس مقام پر کلمۂ عنوصیہ سے استفادہ کیاہے. گنوسیسم ایک صوفی فلسفی مکتب ہے جس میں خدا کی شناخت ، باطنی اور روحانی معرفت پر استوار ہے. اور یہ مکتب پہلی و دوسری عیسوی میں مشہور ہوا گویااس کلمہ سے مصنف کی مراد صوفی فرقے ہیں۔
کے بارے میں کتابیں چھاپنااور انھیں نشر کرنا تھا اور ان تمام کتابوں کے مصنفین وہ افراد تھے کہ جو شیعہ اور غالی کوایک جانتے تھے ، جس کے نتیجہ میں شیعہ اور غالی افکار کو ایک دوسرے میں مخلوط کرتے اور شرک آمیز افکار کو شیعیت سے منسوب کرتے تھے۔
ان کتابوں کا مجھ پر کافی اثر ہوا اور اس مدرسہ میں صرف انھیں کتابوں کو چھاپنے کی اجازت تھی کہ جنھیں وہابی روش پر لکھا جاتا اور وہ کتابیں جو شیعیت کی شناخت میں سنی روش پر لکھی جائیں ان کے نشر کرنے کی اجازت نہ تھی۔
کچھ مدت بعد مجھے فرصت ملی اور میں نے شیعیت کے متعلق سنی کتب کا مطالعہ کیاجس پر بے حدتعجب ہوا، کیونکہ میں نے ان کی روش تحقیق میں وہابیوں کی بہ نسبت بنیادی فرق پایا۔
اہل تسنن آگاہ ہیں کہ شیعہ کو غالی کے مساوی قرار دینا ایک بہت بڑی غلطی ہے اسی لئے انھوں نے شیعیت کے بارے میں وہابی تحقیق کو تنقیدکا نشانہ بنایاہے اوروہ معتقد ہیں کہ وہابی کتب کے ذریعہ ذرہ برابر شیعیت کے حقائق کونہیں سمجھا جاسکتا۔
دور حاضر کے سنی مصنف استاد حامد حنفی(۱) اس بارے میں فرماتے ہیں:
ایک طولانی مدت سے أئمہ (ع) کے عقائدکا بطور خاص اور شیعہ عقائد کا بطور عام ،ان کتب کے ذریعہ مطالعہ کر رہا تھا ،کہ جنھیں اس مذہب پر تنقید کرنے والوں نے تحریر کیا ہے، لیکن ان تمام کتابوں کا مطالعہ کرنے کے باوجود کسی بھی قسم کا ثمرہ
____________________
(١)آپ دانشگاہ ''عین شمس'' میں عربی ادبیات گروپ کے رئیس ہیں.
حاصل نہ ہوا اوران کتب میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو مجھے اس مذہب سے آشنا کرائے١
اہل سنت معتقد ہیں کہ وہابی اپنی غلطی سے آگاہ نہیں ہیں، جس کے نتیجہ میں وہ شیعہ اور غالی کے درمیان فرق نہیں جانتے، اس کے متعلق مصری سنی عالم دین انور جندی لکھتے ہیں:
کیا ہی اچھی اور مناسب ہے یہ بات کہ ایک محقق عاقلانہ طور پر شیعہ اور غالی میں (وہ کہ جن کے مقابل اہل تشیع نے سخت موقف اختیار کیا اور ان کی مکاریوں سے آگاہ کرتے رہے) فرق کا قائل ہو اور اس کی وضاحت کرے ٢
علی عبد الواحد وافی جو مصری دانشور ہیںنے بھی اس مشکل کی طرف یوں اشارہ کیا:
مصنفین کی ایک بڑی تعداد نے جعفری شیعہ کو دوسرے شیعہ فرقوں میں مخلوط کیاہے۔٣
اہل سنت کے معاصر امام محمد غزالی نے بھی وہابیوں کی مطالعاتی روش کی اصلاح میں کافی کوششیں کی ہے اور پوری توانائی کے ساتھ ان سنیوں کا مقابلہ کیا ،جنھوں نے وہابیت کی پیروی کی. اور وہ لوگ جو شیعہ اور غالی میں اختلاط کے شکار ہیں،ان کی اس مشکل کو حل کرنے میں کافی زحمتیں اٹھائیں۔
____________________
(١) فی سبیل الوحدة الاسلامیة، مرتضی الرضوی، ص ٤٥
(٢) الاسلام و حرکة التاریخ، ص٤٢١
(٣)بین الشیعہ واہل السنة، ص ١١
آپ اس موضوع کے متعلق یوں فرماتے ہیں:
بعض جھوٹے افراد جو شیعہ اور غالی کو ایک جانتے ہیں، نے یہ شایع کیا کہ شیعہ حضرت علی ـ اور سنی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیرو ہیں اور اہل تشیع علی کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بہ نسبت نبوت کے لئے لائق اور شائستہ جانتے ہیں. اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نبوت پر فائز ہونا ایک خطا ہے، جبکہ یہ مرتبہ علی کا تھا(۱) یہ سب باتیں شیعیت پر ناروا تہمتیں ہیں، جو صرف غالیوں پر ہی منطبق ہوتی ہیں۔
محمد غزالی نے ان سنی حضرات کی روش پر بھی تنقید کی ہے ،جنھوں نے وہابی روش کا اتباع کیا اور شیعہ اور غالی کے درمیان فرق کودرک نہیں کرسکے، اس کے متعلق فرماتے ہیں:
بعض سنی علماء نے جھوٹ اور حقیقت کو برعکس نمایاں کرنے کے لئے شیعوںکی طرف اس بات کی نسبت دی ہے کہ یہ قرآن کی آیات میں کمی واقع ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں(۲)
اور بعض اہل سنت متفکرین معتقد ہیں کہ وہابیوں نے شیعیت کے بارے میں تحقیق میں کافی تند اور سخت روش اختیار کی ہے، شیعہ اور غالی کو یکساں جانتے ہیں لہٰذا انھوں نے شیعہ شناسی میں خطا کی ہے۔
____________________
(١) رسالة التقریب ، شمارۂ ٣، سال اول شعبان ١٤١٤، ص ٢٥٠
(٢) لیس من الاسلام، ص ٤٨
مصری دانشور محمد فرماتے ہیں:
قدیم الایام سے سنی و شیعہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن وہابیوں نے اپنے افکار کے ذریعہ ان میں ایسا شگاف پیدا کیا جو اٹھارہویں صدی عیسوی کے بعد سنی و شیعی اختلافات میں بے حد موثر رہا. اور روز بروز ان کے اختلافات میں اضافہ ہوا. یہ سب وہابیت کے منفی فکر کے اثرات ہیں۔١
دوسرے سنی دانشور عبدالحلیم جندی فرماتے ہیں:
شیعوں کی طرف غالی افعال کی نسبت دی گئی اور اس طرز عمل نے دوسروں پر شیعیت کے متعلق منفی اثر چھوڑا اور ان باتوں کو شیعیت سے منسوب کیا گیا جن سے وہ خود بیزار ہیں مثلاً ان کا یہ کہنا کہ شیعیت کے یہاں امام ہی خدا ہیں جوکہ سراسر غلو اور کفر ہے اور شیعہ ان افکار سے بری ہیں۔٢
(ڈاکٹر طہ حسین فرماتے ہیں:)
شیعوں کے دشمنوں نے ، شیعوں سے ہر چیز کو منسوب کیاہے وہ صرف ان چیزوں پر اکتفا نہیں کرتے جو شیعوں کے بارے میں سنتے یا دیکھتے ہیں بلکہ اپنی طرف سے ان میں من مانا اضافہ کراضافہ کر لیتے ہیں جنھیں شیعہ سے سنا، یا ان میں پایا ہے، یہاں تک کہ ان تمام افعال کی نسبت اصحاب اہلبیت (ع) کی طرف دی جاتی
____________________
(١) الفکر الاسلامی فی تطورہ، ص ١٤٠.
(٢) الامام جعفر الصادق، ص٢٣٥.
ہے. ان افراد کی مثال ان چوروں جیسی ہے جو پہاڑ پر کمین کئے ہوتے ہیں یہ لوگ شیعی گفتار و کردار پر دقیق نظر رکھتے ہیں اورنامربوط مسائل، کہ جو شیعیت میں نہیں پائے جاتے ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔(۱)
ہم نے گذشتہ صفحات میں اشارہ کیا ہے کہ ڈاکٹر علی عبد الواحد وافی جو سنی دانشور ہیںنے اپنی کتاب ''بین الشیعہ و اہل السنہ'' میں وہابیوں کی خود ساختہ مشکلات پر گفتگو کی ہے اس کتاب میں وہابیوں نے جو شیعہ و سنی کے درمیان بے بنیاد پروپیگنڈے کئے ،اس کی رد میں فرماتے ہیں:
گرچہ ہمارے اور شیعوں کے درمیان بے حد اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود یہ اختلاف سند و اجتہاد کے دائرہ سے خارج نہیں ۔(۲)
''سنی محقق فہمی ہویدی'' بھی انھیں لوگوں میں سے ہیں کہ جنھوں نے درک کیا کہ وہابیوں کا شیعہ کی تکفیر میں اصرار، ان کا شیعہ اور غالی میں اختلاط کا نتیجہ ہے. آپ فرماتے ہیں:
شیعہ کو کافر کہنا وہابیت کے اصل ترین منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے۔٣
____________________
(١) علی و بنوہ، ص ٣٥
(٢) بین الشیعہ و اہل السنہ، البتہ ہم اس مطلب کی تائید نہیں کرتے اور اس نظریہ پر مفصل طور پر ہماری کتاب بازخوانی اندیشۂ تقریب میں نقد و رد کی گئی ہے. (مترجم فارسی)
(٣) ایران من الداخل، ص ٣٢٢.
تمام علماء معتقد ہیں کہ وہابیوں کی شیعہ شناسی مطالعاتی روش نے انھیں تشیع اور غالی کی مخلوط وادی تک لاکھڑا کیااورانھیں ایک عظیم گمراہی میں مبتلا کیا ہے. حتی بعض متفکرین معتقد ہیں کہ جس طرح وہابی شیعیت کو پیش کرتے ہیں اس میں اور اس کے حقائق کے درمیان بالکل تناقض پایا جاتا ہے اور شیعیت کی یہ تصویر کشی صرف اور صرف وہابیت پر صدق کرتی ہے، یہی مطلب ہم سالم بہنساوی کے نوشتوں میں پاتے ہیں آپ نے کتاب '' السنة المفتریٰ علیہا'' میں پوری طرح شیعہ شناسی میں وہابیوں کی جو مطالعاتی روش ہے اس پر بحث کی اور اس روش کی اصلاح کو لازم جانا ہے اور وہابیوں کے اہل سنت کی مطالعاتی روش سے جدا ہونے کو واضح طور پر بیان کیا ہے. اور وہابیوں میں رائج تمام بیہودہ و بے معنی باتوں کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے. وہ شیعیت پر اس تہمت کو ، کہ شیعہ دوسرے قرآن رکھتے ہیں، سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
جو قرآن اہل سنت کے درمیان ہے وہی قرآن تمام شیعہ مساجد اور گھروں میں پایا جاتا ہے،١ اور بے شمار سنی مذہب سے وابستہ متفکرین یہ جانتے ہیں کہ شیعوں کے بارے میں وہابی تصورات تمام یہودی ، مسیحی اور مغربی اسلام شناسوں کی کتب سے ماخوذ ہیں. اور طبیعی ہے کہ ان منابع پر اعتماد کے نتیجہ میں کوئی بھی شیعہ اور غالی میں اختلاط، جیسے مرض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
____________________
(١) السنة المفتریٰ علیہا، ص ٦
جندی مصری دانشور کی بھی یہی فکر ہے جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ہم نے ان کے قول پر روشنی ڈالی۔
حسن البناء (جو کہ مصر میں تحریک اسلامی کے رہبر ہیں) نے بھی بڑے ہی زور و شور کے ساتھ شیعہ شناسی میں وہابی روش کو بدلنے کی کوشش کی اور ان لوگوں سے مبارزہ کیا ،کہ جو شیعہ اور غالیوں میں مساوات کے قائل ہیں اوران کی خطا نے انھیں بے حد متحیر کیا، کیونکہ دنیا کے کتب خانے شیعہ دانشوروں کے علمی خزانوں سے لبریز ہیں۔(۱)
سنی مذہب سے وابستہ عباس محمود عقاد بھی وہابیوں کے اس انحراف کی طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ مصری معروف رائیٹر انیس منصور نے ان سے نقل کیا:
اگر اجل نے مجھے فرصت دی تو مذہب شیعہ کے لئے ایک منطقی تحقیق مرتب کروں گا، کیونکہ بے شمار بیہودہ باتوں کو شیعیت سے منسوب کرنے کی وجہ سے اکثر لوگ شیعیت کے واقعی چہرہ سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن اجل نے انھیں مہلت نہ دی۔(۲)
سنی مورخ، محمد کرد علی نے بھی ان فرقوں کا منہ توڑ جواب دیا ،جو شیعہ اور غالی کے درمیان فرق نہیں جانتے، فرماتے ہیں:
____________________
(١) ا س عبارت کو حسن البناء کے شاگرد استاد عمر تلمسانی اپنی کتاب ''ذکریات لا مذکورات'' میں صفحہ ٢٥٠ پر نقل کیا ہے.
(٢) لعلک تضحک، ص٢٠١.
بعض مصنفین کا یہ عقیدہ رکھنا بالکل غلط ہے کہ مذہب تشیع عبد اللہ بن سبا کی بدعتوں میں سے ایک بدعت اور یہ ان کی کم علمی کا نتیجہ ہے. اگر کوئی شیعیت میں عبداللہ بن سبا کی موقعیت کو جانے اوران کا عبداللہ بن سبا اور اس کے گفتار و کردار سے بیزاری اورتمام شیعی دانشوروں نے جس طرح اس کی بدگوئی کی ہے اسے دیکھے تو پھر انھیں معلوم ہوگا کہ ان کا یہ عقیدہ کس قدر بے بنیاد ہے۔(۱)
تحریک اخوان المسلمین کے رہبر عمر تلماسی، شیعہ اور غالی کو ایک جاننے والوں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
شیعہ فقہ نے اپنے بلند اور قدرت مند تفکر سے دنیائے اسلام کو مالا مال کیا ہے۔(۲)
دوسری طرف اہل سنت کے امام اور زمانہ کے فقیہ محمد ابو زھرہ وہابیوں کی اس روش سے سخت خوفزدہ ہیں اور وہابیوں نے جن شیعہ کلامی تعبیروں کی غلط تفسیر کی ہے انھیں آپ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور تقیہ کے متعلق (کہ جس کے شیعی معنی کو وہابیوں نے درک نہیں کیا) ثابت کیا ہے کہ تقیہ کے شیعی معنی قرآن سے ماخوذ ہیں، فرماتے ہیں:
تقیہ یعنی انسان جان کے خوف سے یا ایسے بلند و بالا اہداف تک پہنچنے کے لئے جن سے دین خدا کی خدمت مقصود ہو اپنے بعض عقائد کو پوشیدہ رکھے اور یہ معنی
____________________
(١) خطط الشام، ج٦، ص٢٥١.
(٢) مجلہ العالم الاسلامی، شمارہ ٩١.
خود قرآن میں پائے جاتے ہیں۔(۱)
خبردار صاحبان ایمان مومنین کو چھوڑ کر کفار کواپنا ولی اور سرپرست نہ بنائیں، کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیںاپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔(۲)
اور وہابیوں کے جواب میں ، کہ جوامام کے متعلق شیعہ اور غالی عقائد کو ایک سمجھتے ہیں، آپ اس طرح لکھتے ہیں:
مذہب امامیہ، امام کے مقام کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برابر نہیں جانتے۔(۳)
ازہر یونیورسٹی کے رئیس اور اہل سنت کے بزرگ پیشوا شیخ محمود شلتوت نے شیعہ شناسی میں قدمائے اہل سنت کی روش سے حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہابی مطالعاتی روش سے وسیع پیمانہ پر مبارزہ کیا ہے کیونکہ وہابی مذہب امامیہ کی شناخت اور انھیں غالی کے برابر قرار دینے میں سخت خطا میں گرفتار ہیں۔
آپ نے کافی کوششیں کیں تاکہ وہابی، سنی روش کی طرف پلٹ آئیں اور جواختلافات کے بیج وہابیوں نے شیعہ و سنی کے درمیان بوئے تھے انھیں نابود کیا
____________________
(١) الامام الصادق، ص٢٢.
(٢) سورۂ آل عمران، آیت ٢٨.
(٣) الامام الصادق، ص ١٥١.
جاسکے، لہٰذا وہابیوں نے آپ کی سخت مخالفت کی اور آپ پر سنیوں کو غالیوں سے نزدیک کرنے کی تہمت لگائی، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ شیخ محمد شلتوت وہابیوں کو یہ سمجھاناچاہتے تھے کہ جن باتوں کو وہ شیعیت سے منسوب کرتے ہیں وہ سبائیان و خطا بیان و بیانیان کے افکار و عقائد ہیں، کہ جنہیں شیعہ کافر جانتے ہیں اور آپ کا عقیدہ ہے کہ وہابی چونکہ شیعہ کو غالیوں کا ایک فرقہ تصور کرتے ہیں،اسی لئے شیعیت سے انحرافی عقائد کو منسوب کرتے ہیں۔
محمد شلتوت مجبور تھے کہ اپنے ہم عصر بعض سنیوں سے مبارزہ کریں (کہ جن پر وہابی رنگ چڑھ چکا تھا اور وہ قدمائے اہل سنت کی روش پر تنقید کرتے تھے) کیونکہ آپ کے نزدیک یہی لوگ سد راہ تھے کہ جن کی وجہ سے اہل تشیع و تسنن کو قریب کرنا امکان پذیر نہ تھا، وہ فرماتے ہیں کہ:
تقریب کے نام پر تنگ نظر افراد اور وہ لوگ جو نحس اہداف رکھتے ہیں (معمولاً ہرمعاشرہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں) جدال کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہ وہی لوگ ہیں جن کی بقا دوسرے لوگوں میں تفرقہ پیدا کرنے پر ہے او ریہ ایسے بیمار دل افراد ہیں، جن میں کسی بھی طرف رجحان نہیں پایا جاتا، بلکہ اپنے ھوا و ھوس کی پیروی کرتے ہیں۔
یہ کچھ ایسے خود فروش مصنفین ہیں جو تفرقہ پسند لوگوں کی خدمت کرتے ہیں او رجب بھی مسلمانوں میں تفرقہ کے خاتمہ اور اتحاد کے لئے تحریک چلائی گئی، تو یہ لوگ مستقیم و غیر مستقیم طور پر سد راہ بن جاتے ہیں۔(۱)
وہابی امامیہ اور غالیوں میں تفکیک نہ کرنے کی وجہ سے شیعوں کو رافضی کہتے ہیں در آنحالیکہ رافضی ایک عام عنوان ہے جو بے شمار فرقہ شناسی کتابوں میں غالی فرقوںپر منطبق ہوتا ہے اور سنیوں سے پہلے شیعہ انھیں کافر جانتے ہیں، لہٰذا انور جندی اس بارے میں کہتے ہیں: ''رافضی نہ سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ''۔(۲) تشیع اور غالی کو ایک جاننے میں جو مشکلات وجود میں آتی ہیں ان کی طرف علمائے اہل سنت نے اپنی سینکڑوں کتابوں میں اشارہ کیا ہے اس کتاب میں اتنی گنجائش نہیں کہ ہم ان تمام اقوال کو جمع کرسکیں۔ہم یہاں تک، یہ جان چکے ہیں کہ تشیع اور غالی کوایک تصور کرنا ایک ایسی سخت مشکل ہے، کہ جسے دشمنان اسلام نے مسلمانوں میں اتحاد ختم کرنے کے لئے پیش کیاہے اور محقق کے لئے اس مشکل کا سمجھنا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی چھپی ہوئی مشکل ہے جس پر دشمنان اسلام نے مکاری کے ساتھ پردہ ڈال کر اسے مسلمانوں کے سامنے پیش کیاہے، اس زمانہ میں بعض سادہ لوح سنیوں نے وہابیوں کی مکاریوں کودرک نہیں کیا اور ان کی فریب کاریوں کا شکار ہو کر اس مشکل (خلط
____________________
(١) مجلہ رسالة الاسلام
(٢) الاسلام و حرکة التاریخ، ص ٢٨.
مباحث) میں گرفتار ہوگئے لیکن اہل سنت کے متفکرین کی کوششوں سے آج یہ خطرہ ایک خاص گروہ میں منحصر ہوکر زائل ہو چکا ہے۔
قارئین یہ جان لیں کہ وہابی شیعوں کوغلو آمیز افکار کا حامل تصور کرتے ہیں، لیکن انھیں نہیں معلوم کہ شیعہ غلو جیسی مشکل میں گرفتار نہیں ، بلکہ یہ وہابی ہیں جو شیعیت کو نہ پہچاننے کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ امامیہ میں غلو کے اسباب ڈھونڈتے ہیں لیکن انھیں چاہئے کہ وہ خلط جیسی بیماری میں مبتلاہونے کے اسباب پر توجہ دیں۔
سنی معاصر محققین اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ وہابیوں کی یہ مشکلات گذشتہ سنی کتب پر صحیح تحقیق نہ کرنے کا نتیجہ ہیں. لہٰذا انھوں نے ان انحرافات کے عوامل پر تحقیق کی اور واضح کیا ہے کہ یہ شیعہ نہیں کہ جو غلو جیسی مشکل میں گرفتار ہیں، بلکہ یہ ایک باطل خیال ہے جس میں وہابی تشیع اور غلو میں فرق نہ کرپانے کے سبب مبتلا ہوئے ہیں۔
ایک وسیع تحقیق انجام دینے کے بعد میں اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ شیعہ شناسی کی مطالعاتی نہج تین روشوں ہی میں منحصر ہے:
١۔ وہابی گروہ کی روش. ٢۔ اہل سنت کے قدیم و جدید متفکرین کی روش. ٣۔ شیعہ دانشور وںکی روش۔
سب سے پہلے میں ہابی روش پر پابندتھا پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اہل سنت متفکرین کی روش سے آگاہ ہوا جس کے بعد شیعہ علماء کی روش کی طرف ہدایت حاصل ہوئی تب میں نے وہابی اور سنی روش میں غیر قابل انکار تضاد پایا. ان روشی اختلاف کے ہوتے ہوئے وہابی تمام نتائج کو صحیح نہیں کہا جاسکتا ہے. لیکن اگر وہابی روش میں تعارض اور تباین کو قبول کرلیں تو پھر منطق کے لحاظ سے دونوں روشیں باطل ہوں گی۔
جس کے نتیجہ میں شیعوں کے بارے میں نہ وہابی تحقیق قابل استفادہ ہوگی اور نہ ہی سنی تحقیق، جبکہ آئندہ مباحث میں یہ بات واضح ہوگی کہ وہابی تفسیر (کہ جس میں کوئی واقعیت ہے اور نہ حقیقت) سے زیادہ سنی تفسیر، امامیہ عقائد کی حقیقتوں کوواضح کرتی ہے ۔جب ہم وہابی مطالعات کے نتائج دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ عقائد کی صحیح تفسیر بیان کرنے سے کس قدر عاجز ہیں جس تشیع کے بار ے میں وہابی گفتگو کرتے ہیں اسے اہل سنت متفکرین تشیع ہی نہیں جانتے، اور شیعیت کی جو عجیب و غریبتصویر وہابی پیش کرتے ہیں وہ بالکل اس تصویر سے جدا ہے کہ جسے شیعہ اور سنی علماء نے پیش کیا ہے. شیعیت کی نظر میں مباحث الوہیت و نبوت اورمذہب امامیہ کے دیگر حقائق کا ادراک وہابیوں کے لے میسر نہیں ، کیونکہ وہ سخت انحراف فکری میں مبتلا ہیںاور وہ مذہب امامیہ اور غالیہ کو ایک جانتے ہیں، جبکہ اہل تشیع کا غالیوں سے دور دور تک کوئی ربط نہیں ، لہٰذا واضح ہے کہ ایسے حالات میں ایک وہابی کے لئے حیران و سرگردان رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بعض سادہ لوح سنی حضرات کے لئے وہابی نظریات قابل قبول ہیں اور وہ سنی متفکرین کو تمسخرآمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (جبکہ سنی اور وہابی دونوں شیعیت کے متعلق خاص نظر رکھتے ہیں) کیونکہ یہ لوگ اہل سنت اور وہابیوں کے درمیان شدید اختلاف سے بے خبر ہیں، لہٰذا وہابیوں کی فریب کاریوں میں مبتلاہوتے ہیں جبکہ یہ تمام مشکلات شیعیت سے آشنا نہ ہونے کا نتیجہ ہیں. جس طرح ١٨ ویںصدی عیسوی میں وہابیت کے وجود میں آنے سے اس مشکل نے شیعوں اور سنیوں میں اختلاف پیدا کیا، اسی طرح دور حاضر میں سنی اور وہابی اختلافات میں یہ مشکل تاثیر گذار ہوئی. اور جب تک یہ مشکل حل نہ ہو اہل سنت اور وہابیت کے درمیان اختلاف سمجھنا ممکن نہیں ۔
دور ماضی میں جن مسائل پر شیعوں اور وہابیوں میں اختلاف تھا دور حاضر میں وہی اختلاف سنی اور وہابی اختلاف میں تبدیل ہوچکا ہے اوراہل سنت نے اس بات کو پوری طرح واضح کردیا ہے کہ جن مسائل کی نسبت وہابی، شیعیت کی طرف دیتے ہیں وہ مذہب غلو اور غالیوں سے مربوط ہیں، جن کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں ،ا گرچہ وہابیوں کے اس کردار سے شیعہ اور سنی اختلاف میں شدت پیدا ہوئی، لیکن خود سنی اور وہابی میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ اور سنی مفکرین نے کئی مرتبہ اس مشکل کی طرف توجہ دلائی اور جب تک اس مشکل خلط کو حل نہ کیا جائے ان تین فرقوں میں آپسی تفاہم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ڈاکٹر ناصر قفاری جوایک انتہا پسند مصنف ہے اور شیعوں کو کافر کہتا ہے، نے امامیہ کے متعلق وہابیوں اور سنیوں کے د رمیان ایک مناظرہ پیش کیاہے کہ جو قابل توجہ ہے:مذہب امامیہ کے متعلق معاصر مصنفین کے نزاع نے مجھے اپنی طرف جذب کیا، مصنفین کا ایک گروہ (جن میں محب الدین خطیب، احسان الٰہی ظہیر ، ابراہیم جبہان شامل ہیں) شیعوں کو کافر کہتا ہے وہ معتقد ہے کہ غلو نے انھیں اسلامی حدود سے خارج کردیا ہے اور دوسرا گروہ (نشار، سلیمان دنیا، مصطفی شکعہ)، انھیں ایک میانہ رو اور ایک ایسا فرقہ تصور کرتا ہے، جن کا غالیوں سے کوئی تعلق نہیں ، اور بھنساوی جیسے کچھ لوگ ہیں جو شک و تردید میں مبتلا ہیں اور انھوں نے سنیوں سے ان مطالب کے بارے میں سوالات کئے ہیں، جنھیں محب الدین خطیب و احسان الٰہی ظہیر نے لکھا ہے. البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی اس قسم کے گرداب میں پھنس جائے تو حقیقت اس کے لئے مشتبہ یا ختم ہوجائے گی۔(۱) اور اس نزاع کی جڑ تک پہنچنے کے لئے میری کوششوں نے مجھے مجبور کیا، کہ ڈاکٹریٹ میں میری تھیسس ( Thesis ) کا موضوع ''وہابیوں کی مشکل کے بارے میں شیعوں اور غالیوں کے خلط کرنے سے متعلق'' ہو، اس تھیسس ( Thesis ) میں ، میں نے عرض کیا ہے کہ اس قسم کی مشکلات مطالعاتی روش میں اختلاف کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔
____________________
(١) اصول مذہب الشیعہ الامامیہ الاثنی عشریہ، ج١، ص١١۔ ١٠. کہ جسے میں نے ناصر قفاری کی رد میں لکھا ہے وہ جلد طبع سے آراستہ ہوگی۔
میرے نزدیک ایک طویل تحقیق کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہابیوں کے مطالعہ و تحقیق کی روش کے ذریعہ شیعیت کی شناخت ممکن نہیں ، اور خود وہابیوں اور اہل تسنن کے درمیان مذہب امامیہ کی شناخت میں گہرا اختلاف پایاجاتا ہے۔
مرحلۂ اول کے نتائج
مذہب تشیع کے بارے میں وہابی روش کے ذریعہ تحقیق کرنے کا مطلب تحقیق کے موضوع (شیعی حقائق) کی قربانی ہے اوران کی روش میں موضوع کے ساتھ اس طرح برتاؤ کیا جاتا ہے کہ گویا مکتب اہل بیت کے پیرو اپنے عقائد بیان کرنے میں کسی بھی قسم کی روش کے حامل نہیں ، لہٰذا اہلسنت اور وہابیوں کے اس جدال سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ ہم مکتب تشیع کے عقائد کو سمجھنے کے لئے خود مذہب امامیہ کی تفاسیر اور بیانات کی طرف رجوع کریں، جس طرح سالم بھنساوی کے اس روش کواختیار کرنے کو قفاری نے نقل کیا ہے۔
بھنساوی نے جب مفہوم تشیع میں احسان الٰہی ظہیر اور مصطفی شکعہ کے درمیان اختلاف پایا تو کشف حقیقت کے لئے مذہب امامیہ کے علماء کی طرف رجوع کیا اوران سے گفتگو کے نتائج کو کتا ب ''السنة المفتریٰ علیہا'' میں درج کیا ہے لہٰذا وہ متوجہ ہوئے کہ شیعہ حقائق کے بارے میں سنی مطالعاتی روش، واقعیت سے زیادہ نزدیک ہے۔
اس طرح جن بزرگ سنی مفکر ڈاکٹر حامد حنفی داؤد نے امامیہ افکار کو بیان کرنے میں وہابیوں کی مطالعاتی روش کو چھوڑ کر امامیہ روش اختیار کرنے پر اصرار کیا ہے. آپ علامہ مرحوم مظفر کی کتاب عقائد الامامیہ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:
وھابیوں کے انحراف کی دلیلیں
وہ لوگ جواس خیال میں ہیں کہ دشمنان شیعہ کے نوشتوں کے سہارے امامیہ عقائد اور شیعی تمدن سے آگاہ ہوں تو وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں، گرچہ وہ کثرت علم ، اور پوری طرح تسلط رکھتے ہوں اور ان کی روش میں تعصب نہ پایاجاتا ہو، افکار و نظریات کو نقل،یا ان میں تحقیق کرنے میں امین ہوں۔
میں نے أئمہ اہل بیت (ع) کے عقائد (بطور خاص) اور شیعی عقائد (بطور عام) کے مطالعہ اور تحقیق میں سالہا سال اس مذہب کے ناقدین اور مورخین کے نوشتوں کا مطالعہ کیا ہے ،لیکن قطعی طور پر یہ کہہ سکتاہوں کہ میں نے ان نوشتوں میں کوئی بھی قیمتی مطلب نہیں پایا اور اس مذہب (کہ جس کے پیرو دنیا میں پراکندہ ہیں) کے دقیق مطالب کو سمجھنے میں میری تمام کوششیں اور میرا سارا اشتیاق بے ثمر ہی ثابت نہیں ہوا، بلکہ مجھے شیعی نظریات سے دوری حاصل ہوئی، کیونکہ شیعوں کے مخالفین کی تحریروں پر اعتماد نے میری تحقیق کو ناحق اور عقیم بنادیا، لہٰذا حقیقت جوئی کے اس شوق نے مجھے مجبور کیا کہ شیعہ شناسی میں اپنی مطالعاتی روش کو از سر نو پھر سے شروع کروں اور میں نے ارادہ کرلیا کہ ا س مذہب تک خود انھیں کے محققین اور دانشوروں کے نوشتوں کے ذریعہ ہی رسائی حاصل کروں، کیونکہ کسی بھی مذہب کے دانشور، دشمنوں سے زیادہ اور بہتر اپنے عقائد کو جانتے ہیں، چاہے یہ دشمن ماہر خطیب اور توانا مصنفین ہی کیوں نہ ہوں۔
اس کے علاوہ علمی امانتداری (جو علمی تحقیق کا اہم رکن ہے اور میں نے اپنی تمام تحقیقات اور نوشتوں میں سب سے پہلے اس پر توجہ دی ہے) کا تقاضا ہے کہ انسان کسی بھی مطلب کو نقل کرنے میں پوری طرح دقت کرے اورایک محقق جو مطالب کے سمجھنے پر مسلط اور تیز بین ہو، بلاواسطہ شیعی منابع کی طرف رجوع کئے بغیر کس طرح ان مطالب کے متعلق مطمئن ہوسکتا ہے جنھیں شیعیت سے منسوب کیا جاتا ہے؟ اگر وہ بلاواسطہ منابع کی طرف رجوع نہ کرے، تو گویا اس نے اپنی تحقیق کو غیر علمی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔
انھیں تمام وجوہات نے مجھے مجبور کیا کہ میں شیعہ شناسی میں اپنے مطالعہ کو صرف اور صرف شیعہ کتب میں متمرکز کروں اور کسی بھی قسم کی کمی و زیادتی کے بغیر شیعہ عقائد کوانھیں کے تقریروں اورتحریروں سے اخذ کروں تاکہ شیعوں کے بارے میں قضاوت کرنے میں دوسروں نے غلطی کی ہے میں اس سے محفوظ رہ سکوں۔
اگر کوئی محقق حقائق کوان کے غیرحقیقی منابع سے اخذ کرنا چاہے تو اس کا یہ کام ظلم اور پوری طرح غیر علمی ہوگا، بالکل اس روش کی طرح کہ جسے شیعوں کے متعلق ڈاکٹر احمد امین مصری نے اپنے نوشتوں میں اختیار کیا ہے، انھوں نے محصلین اور فارغ التحصیل طلبہ کے لئے مذہب شیعہ کے بعض مطالب کو واضح کرنے میں انتہا پسندی سے کام لیتے ہوئے شیعیت کو اسلام میں یہودیت کی شکل اور عبد اللہ بن سبا کا ساختہ و پرداختہ قرار دیا ہے. یہ وہ تہمتیں ہیں جن کا بطلان ثابت و مسلم اور شیعوں کا ان سے بیزار ہونا واضح ہے. شیعہ علماء نے ان باتوں کی رد میں کئی کتابیں لکھی ہیں ،جن میں سے محمد حسین آل کاشف الغطاء ایک ہیں، جنھوں نے کتاب ''اصل الشیعہ و اصولھا'' میں اس امر کے متعلق ایک جامع تحقیق پیش کی ہے۔(۱)
اس مطلب کی مزید وضاحت کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں تاکہ خلط جیسی مشکل بخوبی آشکار ہو جائے۔
وہابی اپنے نوشتوں میں لکھتے ہیں کہ شیعہ معتقد ہیں کہ حضرت علی ـ بادلوں کے درمیان تشریف رکھتے ہیں اور شیعہ آپ کے فرزندوں کی ان کے قیام میں مدد نہیں کرتے جب تک کہ خود امام آسمان سے فریاد نہ کریں، کہ اس فرزند کی مدد کرو. لیکن واضح ہے کہ اس قسم کے عقائد کے حامل شیعہ نہیں ، بلکہ غالی ہی ہوسکتے ہیں۔
شیعہ علماء کے ذریعہ ان ہی کے علمی مرکز (شہر قم) میں مطالعہ اورتحقیق کے بعد متوجہ ہوا کہ خود شیعہ اس قسم کے عقائد و افکار سے بیزار ہیں اور (امام مہدی) کے متعلق وہی سب کچھ شیعوں کے یہاں ثابت ہے جو سنیوں کے نزدیک ثابت ہے، کہ امام مہدی (جن کا قیام سنی وشیعہ دونوں کے نزدیک مسلّم الثبوت ہے) قیام کریں گے، آسمان سے ا یک فرشتہ ان کا نام لے گا اور لوگوں کوان کی مدد کے لئے دعوت دے گا.لہذا اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ شناسی کے مطالعات میں وہابی کتب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
____________________
(١) مقدمہ کتاب عقائد الامامیہ ٣٣۔ ٢٠.
ہم نے جواہل سنت متفکرین کے اقوال پیش کئے ہیںان سے شیعہ شناسی میں وہابیوں کی شکست اور سنی و وہابی میں عمیق شگاف کی دلیل واضح ہوتی ہے اور وہ دلیل صرف اور صرف ان کا تشیع سے آگاہ نہ ہونا اور ان کا غالیوں میں خلط کرنا ہے۔
ا س مشکل کی وضاحت اور سنی متفکرین کے کلام کو تفصیلی طور پر پیش کرنے کا مقصد مندرجہ ذیل چند باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے:
١۔ یہ مشکل شیعہ و سنی اور سنی و وہابیوں کے درمیان اختلاف میں شدت پیدا کرنے کے لئے بے حد مؤثر ہے۔
٢۔ شیعہ شناسی میں وہابی مطالعہ کے انحراف اور شکست میں اس مشکل کا اہم رول ہے۔
٣۔ اس مشکل کے حل ہونے سے ان تین فرقوں میں اختلاف کم اور تفاہم میں زیادتی ہوگی۔
٤۔ اس مشکل کے خاتمہ سے مذہب امامیہ کا واقعی چہرہ آشکار ہوگا۔
الٰہی دین و مذہب کا سب سے بڑا خارجی دشمن وہ کفر آمیزالحادی و مادی افکار ہیں جو دین کے مخالف شبہات کو پیش کرتے ہیں۔
میری سمجھ کے مطابق، ہر مذہب کا داخلی دشمن (کہ جواس کے وجود اور ہویت کونابود کرتا ہے) اس مذہب کے حقائق کو شک و تردید کی گھٹاؤں میں چھپا دیتا ہے جس کے نتیجہ میں مذہب اوردینی حقائق کے غلط اور غیر واقعی معنی وجود میں آتے ہیں اور مذہب برعکس اور بد صورت شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بشریت دین سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ، لہٰذا تشیع اور غلو میں خلط کا مطلب حقائق کو شک و تردید کی گھٹاؤں میں چھپانا ہے۔
٥۔ اس بات کی دلیل بیان کرنا مقصود ہے کہ وہابی کس لئے شیعہ اور غالی میں خلط کا شکار ہیں اور یہ واضح ہے کہ اس خلط کی دلیل شیعہ اور غالی کو ایک سمجھنا ہے جب کہ خود شیعہ علماء ان کفر آمیز فرقوں سے بیزار ہیں۔
اب تک جن باتوں کو پیش کیا گیا وہ تشیع کی شناخت کے پہلے مرحلہ سے مربوط ہیں، تشیع کی شناخت کے مراحل میں سے سب سے پہلے مرحلے میں جو اہم مسئلہدرپیش ہے، وہ وہابیوں کی خلط اورانحراف کے اسباب کی پیدائش کا مسئلہ ہے۔
ا س موضوع کے لئے دوبنیادی اسباب یہ ہیں:
١۔ وہابیوں کا آگاہ نہ ہونا۔
٢۔ ان کی مطالعاتی روش۔
پہلی صورت کے وجود میں آنے کی بھی تین دلیلیں ہیں:
١۔ ان کا غلو کے معنی سے مطلع نہ ہونا۔
٢۔ اور تشیع کے معنی کی شناخت نہ ہونا۔
٣۔ غلو اور غالیوں کے ساتھ امامیہ کے موقف سے آگاہ نہ ہونا۔
دوسری صورت کے لئے بھی دودلیلیں ہیں:
١۔ وہابیوں کا طرز تفکر ۔
٢۔ شیعوں کے مقابل موقف اختیار کرنے میں ان کا سنی روش کا ترک کرنا۔
قارئین محترم توجہ فرمائیں کہ ہم ایک بے جان و بے روح تحقیق پیش کرنا نہیں چاہتے، بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ قارئین ان خطروں سے آگاہ رہیں تاکہ ان میں گرفتار نہ ہوجائیں۔
''مشکل خلط کے منفی آثار''
یہاں پر ہم وہابی فکر پر خلط کے تسلط کے نتیجہ میں جو منفی آثار رونماہوئے ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
١۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق حقیقت الوہیت و نبوت کے بارے میں ان کی غلط تفسیر۔
٢۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق حقیقت شریعت اور دینی احکام کی تفسیر میں ان کا خطا کرنا۔
٣۔ مذہب تشیع کے اہداف کی حقیقت میں ان کی غلط تفسیر۔
٤۔ بعض شیعی اصطلاحات کی صحیح تفسیر نہ کرنا ۔
٥۔ شیعہ منابع کی تفسیر میں ان کی خطا۔
٦۔ شیعہ عقیدہ میں حقیقت امامت کی تفسیر میں غلطی کرنا۔
٧۔ مذہب شیعہ کی پہچان کی تفسیر میں خطا کا ارتکاب کرنا ۔
٨۔ مذہب شیعہ کے وجود میں آنے کی صحیح تفصیل سے آگاہ نہ ہونا۔
ان آٹھ لغزشوں کے نتیجہ میں وہ ان سب سے بڑھ کر ایک اور خطا میں مبتلاہوئے اور وہ خطا مذہب شیعہ کی خصوصیات کے متعلق صحیح تفسیر کا نہ ہونا ہے جس کے نتیجہ میں مذہب شیعہ اور غالیوں کے خصوصیات کو آپس میں خلط کردیا ہے۔
ہم اس جگہ قارئین کی آسانی کے لئے دو تصاویر پیش کرتے ہیں تاکہ ان اشتباہات کا منفی اثر پوری طرح واضح ہو جائے۔
تصویر (٢)
وہابی تفکر میں انحراف کے اسباب
(١)
پہلا سبب
غلو کے معنی سے عدم واقفیت
(٢)
دوسرا سبب
تشیع کے معنی سے عدم واقفیت
(٣)
تیسرا سبب
غلو اور غالیوں سے متعلق
مذہب امامیہ کے موقف سے عدم آگاہی
(٤)
چوتھا سبب
وہابیوں کا طرز تفکر
(٥)
پانچواں سبب
شیعوں کے متعلق دیگر سنیوں
کی روش سے نکل جانا
تصویر نمبر (٢) میں ہم نے وہابی انحراف و خطا کی پیدائش اور اس کے وسیع ہونے کے ٥ اسباب تیر کی شکل میں بیان کئے ہیں کہ جنھوں نے وہابی فکر کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔
تصویر (٣)
مشکل خلط کے منفی آثار
وہابی عقل
(١)
شیعہ عقیدہ
کے مطابق حقیقت
الوہیت و نبوت کے
بارے میں ان کی غلط تفسیر۔
(٢)
شیعہ
عقیدہ کے
مطابق حقیقت
شریعت اور
دینی احکام کی
تفسیر میں ان
کا خطا کرنا۔
(٣)
مذہب
تشیع کے
اہداف کی
حقیقت میں
ان کی غلط تفسیر۔
(٤)
بعض
شیعی
اصطلاحات
کی صحیح تفسیر نہ کرنا ۔
(٥)
شیعہ
منابع کی
تفسیر میں
ان کی خطا۔
(٦)
شیعہ
عقیدہ میں
حقیقت امامت
کی تفسیر میں
غلطی کرنا۔
(٧)
مذہب
شیعہ کی
پہچان کی تفسیر
میں خطا کا ارتکاب
کرنا۔
(٨)
مذہب
شیعہ کے
وجود میں آنے
کی صحیح تفصیل
سے آگاہ نہ ہونا۔
ہم نے تصویر نمبر (٣) میں انھیں تیروں کا معکوس اثر بتلایا ہے تاکہ روشن کردیں کہ یہ ٨ اشتباہات انھیں ٥ اسباب کے حتمی نتیجے ہیں اور یہ فتنہ ایک وسیع دائرہ کو اپنی آگ میں لپیٹ لیتا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم وہابیوں میں خلط جیسی مشکل کے پیدا ہونے اور اس کے وسیع ہونے کے اسباب بیان کریں چند نکات کو ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
وھابیوں کے اشتباہات کا تاریخی پس منظر
١۔ وہابی فکری نظام میں تشیع اور غلو کو آپس میں مخلوط کرنا کسی مقدمہ کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا، بلکہ یہ فکر بے شمار عوامل کا نتیجہ ہے کہ جو گذر زمان کے ساتھ وجود میں آئی ہے اور علمی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تاریخی مشکلات (بعض اکتشافات کی طرح کہ جوایک لمحۂ فکریہ میں کشف ہوجاتے ہیں) ایک لمحہ میں پیدا نہیں ہوتے۔
٢۔ تاریخی مشکلات کے وجود میں آنے کے اسباب کو سمجھنا بے حد مشکل ہے اور یہ مشکلات کسی بیماری کی طرح نہیں کہ جس کا سبب آشکار ہو، لہٰذا قارئین متوجہ ہوں گے کہ بعض اسباب اس مشکل کے وجود کا سبب نہیں ،بلکہ اس کی وسعت کا سبب ہیں۔
٣۔ تاریخ کے مطالعہ اور اس میں تحقیق ہی کے ذریعہ اس بڑی مشکل (خلط) کے عوامل کو جانا جاسکتا ہے اسی لئے ہم نے شیعیت کے بارے میں وہابی تمام نوشتوں کی طرف رجوع کیا اور سالہا سال تحقیق و مطالعہ کے بعد اس مسئلہ کی تاریخی حیثیت سے آگاہ ہوئے، جس کے بعدہم نے اس کے وجود میں آنے کے اسباب کو مشخص کیا. اس تحقیق کے نتیجہ میں ہمارے لئے یہ بات واضح ہوگئی کہ وہابی فکری نظام کی اس مشکل کی جڑیں عثمانی دور سے متعلق ہیں، کہ جس دور میں وہابیت رونما ہوئی۔
عثمانی حکومت، قدرت حاصل کرنے کے لئے شیعہ صفوی حکومتوں سے شدت کے ساتھ جنگ میں مشغول تھی اس حکومت نے ایرانی شیعوں سے جنگ کے لئے انہیں کافر کہہ کر ان کا خون مباح قرار دیا، اس خبیث منصوبے نے ہندوستان میں بھی لوگوں کے درمیان رخنہ پیدا کیا اور شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ان باتوں سے متاثر ہو کر ایک کتاب بنام ''تحفۂ اثنا عشریہ'' لکھی، جسے عثمانی حکومت نے اہلسنت کے درمیان نشر کیا جس کے ذریعہ شیعوں و سنیوں میں اختلاف پیدا ہوا.یہ کتاب وہابی اہداف کو عملی جامہ پہنانے میں مؤثر واقع ہوئی اور مشکل خلط کی پیدائش میں بھی اس نے خاصا اثر چھوڑا۔
اس کتاب کی تاثیر محب الدین خطیب پر (جنھوں نے وہابی فکر کوپیش کیا ہے اور شیعہ شناسی میں ان کی کتابیں وہابی منابع کی حیثیت رکھتی ہیں) ان کی کتاب ''الخطوط العریضة فی دین الامامیہ'' (جو تحفۂ اثنا عشریہ کا خلاصہ ہے'' میں نمایاںہے۔
شیعہ شناسی کے میدان میں تحفۂ اثنا عشریہ کی روش نے وہابی مطالعات پر ہمیشہ کے لئے ایک منفی اثر چھوڑا،جسے احسان الٰہی ظہیر کے نوشتوں میں آسانی کے ساتھ محسوس کیا جاسکتاہے، گرچہ مورخین اس کتاب کے تالیفی زمانہ کے حالات سے آگاہ ہیں. تمام ہندوستانی مورخین نے کہا ہے کہ یہ کتاب ١٢ ہجری (جب کہ شیعیت کی طرفداری میں لکھنؤ کی حکومت، اودھ کے بادشاہوں اور اسی حلقہ میں اہل سنت کے طرفدار بادشاہوں کے درمیان سیاسی جنگ چھڑی تھی) میں منتشر ہوئی اور اس میں کوئی شک نہیں ،کہ ان حالات میں اس طرح کے فرقہ وارانہ نوشتہ، حکومتوں کو اپنے منحوس مقاصد و اہداف تک پہنچنے میں کافی مدد کرتے ہیں، اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کتب انھیں بادشاہوں کو ہدیہ کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔
محمود شکری آلوسی نے (جنھوں نے کتاب تحفۂ اثنا عشریہ کا خلاصہ کیا ہے) اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے:
اس کتاب کو زمین پر خدا کے جانشین اور دین کے احیاء میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نمائندہ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں. وہ کہ جو بطریقۂ احسن لوگوں کے حال کی رعایت کرتے ہیں اور دقیق منصوبہ بندی و عمیق بینش کے ساتھ امور کو منظم کرتے ہیں اور لوگوںکے امور اور ان کی حفاظت میں بہترین و مستحکم روش اختیار کرتے ہیں. اور حکومت کے صالح اور دانشور افراد پر خاص توجہ دے کر انھیں مورد لطف قرار دیتے ہیں .اور وہ امیر مومنان ہیں، جن کی اطاعت سب پر لازم ہے جو دریا و خشکی کے بادشاہ، سلطان ابن سلطان، جنگجو بادشاہ عبدالحمید خان ابن جنگجو، بادشاہ عبد المجیدخان ہیں، خدا یا! ان کی مدد فرما اور اپنے نام کی تجلیل کے لئے انھیں کامیابی عطافرما اوراپنے اور ان کے سیاہ دل دشمنوں کے فتنوں کونابود فرما اور اپنی شمشیر قہر و غلبہ کے ذریعہ ان میں تفرقہ ڈال دے ۔(۱)
____________________
(١) مختصرالتحفۂ الاثنا عشریہ، ص٣۔ ٢.
وہ مزید اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہتاہے:
آستانۂ عالی قدر میں اس کتاب کی پیشکش کا مقصد یہ ہے کہ عالی جناب اس کتاب پر کیمیائی نظر ڈال کر اسے قبول فرمائیں گے گویا اسی وقت میری آرزو پوری اور میرا عمل قابل قبول واقع ہوگا۔
اس کتاب کو میں نے ٩ حصوں میں منظم و مرتب کیا ہے، جس کا پہلا حصہ شیعہ فرقوں اوران کے احوال سے مخصوص ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ کتاب ایک خاص قسم کے سیاسی حالات میں منتشر ہوئی جس نے وہابی مطالعات اور فکری نظام پر ایسا اثر چھوڑا کہ ابھی تک وہ اس روش پر باقی ہیں اور اس کتاب کے مطالب کا سہارا لیتے ہوئے اہل سنت کے بزرگ علماء کی مخالفت کرتے ہیں.ہاں یہ کتاب سیاست کا نتیجہ ہے اور ہر وہ چیز کہ جو سیاست کے ذریعہ وجود میں آئے سیاست ہی سے ختم ہوسکتی ہے۔
عثمانی حکومت کی سیاست کا تقاضا تھا کہ وہ شیعہ مذہب کو غلط انداز میں پیش کرے، خصوصاً جس وقت ایرانی شیعہ حکومت کے توسط سے بغداد کا تختہ پلٹ گیاتو عثمانی حکومت نے اپنی موقعیت کو خطرہ میں پایا اور انھیں بخوبی اس بات کا علم تھا کہ اہل سنت شیعوں سے جنگ نہیں کرسکتے، مگر یہ کہ شیعوں کو غالی کہہ کر اسلام کے زمرہ سے خارج کرکے انہیں کافر کہا جائے۔
انھیں حالات کے پیش نظر عثمانی سیاست کے نتیجہ میں تشیع اور غالی میں خلط جیسی مشکل وجود میں آئی اور وہابیوں کے ہاتھوں (کہ جو عثمانی دور کے نوشتوں کا مطالعہ کرتے تھے) اس مشکل میں روزبروز اضافہ ہوتا گیا لیکن یہ تمام کتابیں نہ علمی تھیں اور نہ ہی تحلیلی، بلکہ صرف اور صرف ان میں تبلیغی پہلو پایاجاتا تھا. اور واضح ہے کہ غیر علمی تبلیغات کا مقصد علمی گفتگو کوترک کرتے ہوئے دشمن کے چہرہ کو بہر صورت برعکس اور غیر واقعی دکھلاناہوتا ہے۔
عثمانی حکومت کے خاتمہ پر اہل سنت کے بزرگ علماء نے شیعوں کے مقابلہ میں اپنی قدیم روش کو زندہ کرنے کی ضرورت کو پیش کیا، جبکہ یہ روش عثمانی دور میں ان کی کاوشوں کی وجہ سے ختم ہوچکی تھی۔
ازھر یونیورسٹی کے رئیس اور اہل سنت کے بزرگ عالم محمود شلتوت نے فتویٰ صادر کیا کہ شیعہ مذہب، اہل سنت کے چار مذاہب کی مانند ہے جسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔
جو کچھ ہم نے اس مقام پر بیان کیا ہے وہ وہابی نظر میں تشیع و غالی کے مساوی ہونے کا ایک مختصر تاریخی گوشہ ہے، لہٰذا محترم قارئین آئندہ مباحث میں اس بحث کی طرف توجہ دے سکتے ہیں۔
وہابیوں کی تشیع اور غلو میں خلط جیسی مشکل کے حل کے لئے ایک ایسی تحقیق کا منظم کرنا ضروری ہے جو بحث کے محور میں تفکیک پیدا کی جائے اورپھر ان تمام محوروں پر الگ الگ بحث کی جائے.اس بحث کے محور ہی غلو، امامیہ، امامیہ کا غلو سے ارتباط اور وہابیت جیسے موضوع ہیں. تیسرے محور میں دیکھنا ہوگا کہ آیا تشیع اور غلو میں مناسبت پائی جاتی ہے، یا ان کے درمیان ایک (نظریاتی) عمیق شگاف ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شیعہ اور غالی ایک دوسرے کے متعلق کیا نظریات رکھتے ہیں؟ چوتھے محور میں یہ تحقیق کرنا ہوگی کہ وہابی کس قدر شیعیت سے آگاہ ہیں؟ آیا وہابی شیعیت کی حقیقت سے باخبر ہیں؟ دیگر مسلمانوں کے مقابل وہابیوں کا رویہ کیاہے؟ وہابیوں نے غلو کی کیا تعریف کی ہے؟ اور شیعوں میں غلو کی تعریف کیا ہے؟ اہلسنت اور وہابیوں کے درمیان شیعوں کے مقابلہ میں موقف میں فرق کس جگہ سے پیدا ہوا ہے؟ وہابی طرز فکر کس چیز پر استوار ہے؟ اور شیعوں کے مقابل اس طرز تفکر نے وہابیون کے لئے کیا اثر چھوڑا ہے؟
ان چار محور پر تفحص کے بعد مشکل خلط کا دقیق ادراک میسر ہوگا یہ وہی مشکل ہے کہ جس نے مسلمانوں میں تفاہم اور اختلاف ختم کرنے میں دشواریاں پیدا کی ہیں، لہٰذا اس مشکل کو ختم کرنے کے لئے فکر کرنا بے حد ضروری ہے۔
وھابی مصنفین کی تقسیم بندی
٥۔ تشیع کے متعلق وہابی نوشتوں پر مفصل تفحص اور ان مصنفین کے نوشتوں کی تحقیق کے بعد کہ جو تشیع و غلو میں خلط کا شکار ہیں اس نتیجہ پر پہنچے کہ مصنفین کے چھ گروہ ہیں:
(پہلا) ایسا گروہ جنہوں نے ظالم حکمرانوں (کہ جوایرانی شیعہ حکومت سے جنگ میں مشغول تھے) کی خشنودی کے لئے کتاب لکھی، لہٰذا ان کی کتابوںمیں تبلیغاتی اور امنیتی ڈھانچہ پایا جاتا ہے۔
گویا یہ کتا ب شیعیت کی رد میں بیرونی کسی اطلاعاتی ادارہ (جو استعماری طاقتوں کی خدمت میں ہے) کی طرف سے منتشر ہوئی ہے اور سیاست کونمایاں کرتی ہے اور اس کا مذہب تشیع کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں مصنفین کے اس گروہ (کہ جو حقیقت میں درباری کاتب اور مولف ہیں) نے فتنۂ خلط کو ابھار نے میں کافی حصہ لیا ۔
(دوسرا) ایک سادہ گروہ کہ جو پہلے گروہ کے فریب کا شکار ہوا یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سادگی کے ساتھ درباری مصنفین کے نوشتوں پر اعتماد کیا، جس کے نتیجہ میں انھیں یقین ہوگیا کہ امامیہ مسلمان نہیں ، بلکہ غالی فرقہکی ایک شاخ ہیں۔
اور جب میں کتاب (ارتباط شیعہ اور غالیان) لکھ رہا تھا تو اسی گروہ میں شامل تھا۔
(تیسرا) یہ گروہ سادہ فکر تو نہیں تھا لیکن یہ لوگ دقت نظر بھی نہیں رکھتے تھے لہٰذا نادانستہ، خلط جیسے مرض میں مبتلا ہوگئے اور جو چیز یں غلو نہیں ہیں، انھیں غلو قرار دیا او رجو باتیں مذہب امامیہ میں نہیں تھیں، ان کو بغیر کسی برہان اور دلیل کے امامیہ سے منسوب کیا. یہ شیعہ کتب کا دقیق مطالعہ نہ کرنے کی بنا پر حقائق کو برعکس سمجھتے ہیں اور شرک و توحید میں خلط کرتے ہوئے شیعہ کو مشرک قرار دیتے ہیں۔
یہ لو گ شرک اکبر (جوانسان کواسلام سے خارج کرتاہے) اور شرک اصغر (جو بے شمار مسلمانوں میں پایا جاتا ہے لیکن انسان اسلام پر باقی رہتا ہے) اور کفر کے مراتب میں فرق نہیں جانتے، لہٰذا وہ کفر جو اسلام سے خارج ہونے کا سبب نہیں ہے اسے اس کفر، کہ جوانسان کواسلام سے خارج کرتا ہے، مشتبہ کردیتے ہیں اور جو فرقے ان کے مخالف ہیں انھیں ارتداد و کفر سے متہم کر کے اسلام سے خارج کردیتے ہیں۔
(چوتھا) ایسا گروہ جن کے مذہبی افکار حزبی افکار کی طرح ہیں کہ جو مخالف کی ہر بات کو محکوم کرتے ہیں اور دوسرے مذہب کے بارے میں بحث و تحقیق، حتی کسی طرح کی معمولی شناخت کے بغیر قضاوت کرتے ہیں اور تمام مخالفین پر خط بطلان کھینچتے ہیں یہ لوگ ہر مخالف آواز کو غلو تصور کرتے ہوئے انھیں رد کردیتے ہیں۔
(پانچواں) ایسا گروہ کہ جنھیں وہابیوں پر شیعوں کے اعتراضات برداشت نہیں اور اشکالات کا جواب دینے کے بجائے آنکھیں بند کئے ہوئے وہابیت کا دفاع کرتے ہیں، لہٰذا مجبور ہیں کہ بے شمار شیعہ و سنی مسلّمات سے انکار کریں۔
در حقیقت ان کا وہابیت سے تعصب آمیز دفاع انھیں منطقی اور عقلانی حالت سے نکال کر عاطفی موقف میں لاکھڑا کرتا ہے. شیعوں کے اعتراضات کا جواب دینے کے بجائے شیعیت کو متہم کرتے ہیں اور فرقہ شناسی کی کتابوں میں جن باتوں کی نسبت غالیوں کی طرف دی گئی ہے ان ہی باتوں کو شیعوں سے منسوب کرتے ہیں اس گروہ نے خلط جیسی بیماری کو بڑھانے میں کافی حصہ لیا ہے۔
جب وہابیوں نے شیعہ اور بعض سنیوں کی طرف سے قوی اور علمی اعتراضات کا سامنا کیا، تو چونکہ انھیں حل کرنے سے عاجز ہیں اور انھیں اپنی فکری کمزوری کا علم تھا، لہٰذا آنکھیں بند کر کے اپنی تمام طاقتوں کو وہابیت کے دفاع میں متمرکز کیا جن کا مقصد صرف اور صرف شیعہ حقائق کو برعکس دیکھانا تھا۔
ان کا ہدف اپنی دفاعی موقعیت کو مضبوط کرنا تھا لہٰذا انھوں نے اپنے مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی کام سے دریغ نہیں کیا. امامیہ کی تخریب کرنا ان کی دفاعی تدبیر ہے. انھیں مذہب تشیع کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا صرف اور صرف اس مذہب کی تحریف کر کے اپنی دفاعی دیواریں مضبوط کرنا چاہتے تھے۔
(چھٹا) شیعیت کی مخالفت میں مصنفین کا خطرناک ترین گروہ، وہ لوگ ہیں جنھوںنے خود کو وہابیوں کی صف میں قرار دیاہے جب کہ وہابی اور سنی دونوں ان سے بیزار ہیں. جب اہل سنت ان کی بدنیتی (یعنی قدرت، شہرت اور پیسہ حصول کی نیت ) سے آگاہ ہوئے توانھیں اپنی بزم سے دور کر دیا. پھر یہ لوگ وہابی گروہ سے جاملے تاکہ اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں۔
عبد اللہ علی قصیمی کا اسی گروہ میں شمار ہوتا ہے اس نے سعودی کا سفر کیا لیکن علمائے ازھر نے کسی اختلاف کی بنا پر اسے اپنی بزم سے نکال باہر کردیا پھر اس نے ایک کتاب بنام ''انقلاب وہابیت'' لکھی جس سے وہابی مسرور اور اہل سنت جواب دینے پر مجبور ہوئے، اس کے بعد اس نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ''اسلام اور بت پرستی کی لڑائی'' رکھا گیا اور اس کتا ب میں شیعوں کو بت پرست کا نام دیا گیا جس سے وہابی خوشحال ہوئے، لیکن ان کتابوں کے لکھنے کے بعد اس نے آشکار ا طور پر اپنے کفر کا اظہار کیااور الٰہی ادیان کا منکر ہوکر انبیاء کی توہین کی، لہٰذا وہابیوں نے بھی اسے نکال باہر کردیا، لیکن جو شیعیت کی برعکس تصویر اس نے پیش کی اس کا اثر آج تک باقی ہے۔
(٦) قرن اول اور اس سے کچھ پہلے رائج بعض کلمات میں جو ابہام تھا اس ابہام نے مشکل خلط کی اشاعت میں اپنا کافی اثر چھوڑا اس دوران لفظ تشیع کئی فرقوں کے لئے استعمال ہوتاتھا جن سے واقعی تشیع (امامیہ) بیزار تھے اس تاریک ماحول نے دشمنان امامیہ کے لئے زمینہ ہموار کیا تاکہ وہ شیعیت پر ثقافتی یلغار کریں اس طرح تشیع کو غالی کا نام دیتے ہوئے ان پر بے شمار جدید تہمتیں لگائی گئیں۔
اس مفہوم تشیع (کہ جو کئی فرقوں پر دلالت کرتاہے) اور مفہوم امامیہ (کہ جو صرف ایک فرقہ سے مخصوص ہے)، میں خلط کی وجہ سے غیر امامیہ کے غلط آراء و نظریات (جن پر عقیدہ رکھنا شیعہ و سنی کے نزدیک کفر ہے) امامیہ کی طرف منسوب کئے گئے۔
اور واضح ہے کہ اگر کلمات کے معانی اوران کے دائرہ مفہوم کو معین نہ کیا جائے، تو یہ کلمات سادہ لوح افراد اور سوء استفادہ کرنے والوں کا بازیچہ قرار پاتے ہیں۔
(٧) وہابیوں میں شیعہ اور غالی کو یکسان جاننے کی اشاعت کا ایک سبب، شیعہ نشین شہر کوفہ میں بعض غالیوں کا وجود ہے جو کہ پہلی ہجری میں وہاں زندگی بسر کر رہے تھے، تاریخ کے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ کافی کم تعداد میں تھے اور اس زمانے (حتی اس کے بعد) کے شیعہ معاشرے نے بھی ان کا بائیکاٹ کردیاتھا، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ان کی نسل ختم ہوگئی او راصولی طور پر جن مناطق میں لوگوں کے دلوں میں تشیع نے اپنے لئے جگہ بنائی، مذہب غلو کے پیرو، اس علاقہ کو ترک کرنے پر مجبور ہوئے. انشاء اللہ آئندہ مباحث میں اس مسئلہ پر وضاحت دی جائے گی۔
(٨) اہل بیت (ع) پر عباسی اور اموی حکومتوں نے شکنجہ، ڈرانے دھمکانے، اور قتل جیسی سیاست روا رکھی، جب کہ اہل بیت (ع) مسلمانوں میں بلند و بالا مقام کے حامل تھے، لہٰذا اگر ظالم بادشاہوں کے ذریعہ اس زمانے کے مظلوم شیعوں پر بھی چند برابر ظلم روا رکھا جائے اور انھیں طرح طرح کی کفر آمیز باتوں سے متہم کیاجائے تاکہ ان پر ظلم کا جواز پیدا ہوسکے مخصوصاً اس وقت کہ جب مظلوم دفاع پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
(وہ اسباب جن کی بنا پر وہابیت میں شیعہ و غالی کے درمیان خلط جیسا مرض وجود میں آیا اور اس کی اشاعت ہوئی )
ہم گذشتہ مباحث میں عرض کرچکے ہیں کہ اس افراطی تفکر کا پہلا سبب شیعوں سے وہابیوں کا آگاہ نہ ہونا ہے اور یہ آگاہی نہ رکھنا تین چیزوں سے مربوط ہے:
١۔ غلو کے معنی سے مطلع نہ ہونا۔
٢۔ تشیع کے معنی سے آگاہ نہ ہونا۔
٣۔ غلو اور غالیوں کے مقابلہ میں امامیہ کے رد عمل سے مطلع نہ ہونا۔
ہم اس کتاب میں صرف پہلے نکتہ کو تفصیلی طور پر بیان کریں گے بقیہ مطالب کودوسر ی کتاب بنام ''دیدگاہ امامیہ در بارۂ غلو و غالیان'' میں تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔
(غلو کے معنی سے آگاہ نہ ہونا)
غلو ایک ایسی چیز ہے کہ جسے تمام اسلامی مذاہب نے ردکیا ہے اور کسی بھی فرقے کے لئے غلو قابل قبول نہیں اور تمام مذاہب کی غلو کے مقابل اس قہر آمیز نظر کی دلیل قرآن اور سنت پیامبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا انتباہ ہے کیونکہ ہمیشہ ان دو منابع نے ہمیں متوجہ کیا کہ ادیان میں انحراف اسی غلو کی وجہ سے وجود میں آتاہے. غلو اور انحراف کا وجود ایک ساتھ ہے ،لہٰذا ہر انحراف میں ایک طرح کا غلو پایا جاتا ہے اور یہ بات تاریخی مسلمات میں سے ہے کہ وہ فرقے جن میں اسلامی رنگ پایا جاتا ہے لیکن وہ اسلامی حقیقت سے بہت دور ہیں ان کے اس انحراف کی وجہ غلو کی طرف تمایل ہے۔
اس مرحلہ میں نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت کی رو سے غلو اور اس کے خطرناک نتائج کو بیان کریںاور نہ ہی ہمارا مقصد غالی فرقے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد ان کی جڑیں اور ان پر مجوسی، یہودی، اورمسیحی اثرات کو بیان کرنا ہے اور ہماری تحقیق صرف اس موضوع کے متعلق ہوگی کہ جو ہمارے ہدف سے مرتبط ہے اور جس کے متعلق دوسرے مقامات پر تحقیق نہیں ہوئی. اور وہ موضوع وہابی تحقیق میں غلو کی تعریف ا وراس کا مفہومی مقام ہے۔
وہابیت کے ١٨٠٠ئ میں وجود میں آنے سے آج تک ان کے یہاں مفہوم غلو کی عجیب وغریب تعریف رائج ہے (کہ جس کا سنی اور امامیہ نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ) ایک ایسی تعریف جس کا انجام صرف اور صرف تمام مذاہب کو غلو سے متہم کرنا ہے مجھے پوری طرح یاد ہے کہ جب میں سعودی عرب کے ایک وہابی مدرسہ میں علم حاصل کر رہا تھا تو وہاں غلوکو ہماری اس طرح بیان کیا گیا کہ حتی تمام اہلسنت ( جو اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں) اس کلمہ کے غلط معنی کی زد میں آگئے، اور مذہب امامیہ کی تو بات ہی نہیں (وہ تو وہابیوں کی نظر میں غالی کہلاتے ہی ہیں)۔
اس تدریسی اور تبلیغی روش نے مجھ پر اور دیگر طلبہ پر بے حد غلط اثر چھوڑا ان غلط تبلیغات کا پہلا منفی اثر یہ تھا کہ ہم ان فرقوں کومشرک ، غالی، کافر فرقے جاننے لگے، جس کے نتیجہ میں نہ ان کے آراء اور عقائد کا مطالعہ کرتے، اور نہ ہی ان کے بارے میں تحقیق کی جاتی، بلکہ ان فرقوں کے علماء سے متنفر اور ان سے گفتگو کو بے اہمیت سمجھتے تھے۔
معاصر سنی دانشور یوسف قرضاوی اس افسوسناک حالت کی (کہ جو وہابی حسد اور کینوں سے وجود میں آئی) یوں تصویر کشی کرتے ہیں:
اسلامی آداب و رسوم کو برعکس بتلانے اور دینی علامتوں کو ختم کرنے اور مذہبی اقدار غلط انداز میں پیش کرنے سے دشمنان اسلام فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ انھیں کاموں میں بعض مسلمان مشغول ہیں۔
گذشتہ سال جب سعودی عرب گیا تو ایک افسوسناک حالت سے روبرو ہوا. کچھ ایسی کتابیں چھاپی گئی تھیں کہ جن کے ذریعہ علماء اور دانشوروں پر تہمت لگا کر ان پر لعن طعن بھیجی گئی تھی، ان کتابوں کے لکھنے والے افراد، سلفیہ (وہابیت کی بنیاد رکھنے والے) سے وابستہ تھے. ان لوگوں نے معاصر و گذشتہ تمام علماء پر تہمتیں لگا کر، ان پر سب و شتم کی، ہر ایک پر تنقید کی ، چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ ۔(۱)
معاصر سنی امام محمد غزالی نے بھی وہابی فکر کو نامانوس فہم قرار دیا ہے.(۲) وہ اسے اسلام کا سخت ترین دشمن سمجھتے ہیں: اسلامی رجحان کے بڑھاوے کو کئی طرف سے چیلنج کا سامنا ہے، جن میں سے ایک طرح کا چیلنج، مذہبی تفکر کا سخت قسم کی شدت پسندی کے لباس میں پایا جانا، جس سے حتی سچے گذشتہ سلفیین بھی بیزار ہیں۔(۳)
____________________
(١) الشیخ الغزالی کما عرفتہ رحلة نصف قرن، یوسف القرضاوی، ص ٢٦٣.
(٢) ہموم داعبہ ، محمد غزالی، ص١٥٢ (٣) سرّ تأخر العرب، محمد الغزالی، ص٥٢
وہابیوں کے لئے کیا اچھا ہوتا ،کہ وہ ان باتوں پر بھی توجہ دیتے اور اپنے فہم و ادراک کو غلو کے معنی تنقید اور اس کی تفسیر میں استعمال کرتے ، چونکہ جب تک انسان خود پر نقد نہ کرے تب تک کسی بھی مسئلہ میں تجدید نظر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ صحیح و غلط میں تمیز کرسکتا ہے۔
جن اہم نکتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے وہ یہ، کہ کلمۂ غلو دو جگہ استعمال ہوتا ہے ایک فقہ میں ، اور دوسرے علم حدیث میں ، اور غلو کے فقہی معنی انسان کو وادی کفر و ارتداد تک لے جاتے ہیں لیکن تاریخ اور حدیث میں لفظ غلو جن راویوں کے لئے استعمال ہوا اس معنی میں اور فقہی معنی میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔
شہرستانی اشعری لکھتے ہیں: غالی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پیشواؤں کے لئے افراط سے کام لیا اوران کے مقام کو حد سے زیادہ بلند قرار دیا یہاں تک کہ انھیں عبودیت سے خارج کر کے خدا کہنے لگے بعض وقت اپنے رہبروں کو خدا سے اور خدا کو رہبروں سے تشبیہ دیتے ہیں. ایک طرف سے افراط ،تو دوسری طرف سے تفریط کے شکار تھے اس قسم کی باتوں کا سرچشمہ، انسان میں خدا کا حلول جیسی فکر، تناسخ، اور یہود و نصاری کا کلام ہے۔(۱)
اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلو کہ جس کا نتیجہ کفر و ارتداد ہے اس کے دو اسباب ہیں:
____________________
(١) الملل و النحل
١۔ انسان کی الوہیت، اور انسان کو بڑھا کر مقام الوہیت تک پہنچانا۔
٢۔ خدا کے مقام کو گھٹا کر بشریت کے مقام تک لے آنا۔
ظاہر ہے کہ انسان میں خدا کا حلول یعنی خدا کے مقام کو گھٹا کر اسے بشریت کے مقام تک لے آنا ہے اورانسان کی ازلیت یعنی اسے مقام الوہیت تک بلند کرنا ہے.غالی فرقوں میں مختصر سی تحقیق کے بعد ان کے افکار میں ان دونوں رکنوں کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن جو غلو علم حدیث میں بیان ہوا ہے اور بعض راویوں کے لئے اس کا استعمال ہونا فقط اسلامی فرعی مسائل سے مربوط ہے اور اس کا اصلی مسئلہ سے نہ کوئی ربط ہے اور نہ ہی اس کا نتیجہ، ارتداد و کفر ہے. ان دو نکات میں جدائی نہ کرنے کے سبب وہابی ان خطاؤں میں مبتلا ہوئے۔
معاصر وہابی مصنف عبد الرحمن عبد اللہ زرعی اپنی کتاب رجال الشیعہ فی المیزان میں اس غلطی کا شکار ہوئے ہیں اور وہ ان دو نکات میں جدائی نہیں کرسکے. اگر اہل سنت کی ان کتابوں کا مطالعہ کیا جائے جوعلم رجال سے مخصوص ہیں تو معلوم ہوگا کہ کلمۂ غلو کوانھوں نے ان افراد کے لئے استعمال کیا کہ جن میں افضلیت صحابہ پر نظریاتی اختلاف ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوا کہ معاذ اللہ وہ ان افراد کو خدا کہنا چاہتے ہیں. آہستہ آہستہ غلو کے جو مفہوم اہل سنت کے یہاں رائج ہوئے، وہابی اس مفہوم سے دور ہوتے گئے اور اس کے حدود کو اتنا بڑھایا کہ اہل سنت بھی اس فتنہ میں مبتلاہوئے اور وہابی، شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کو غالی قرار دینے لگے اور انھوں نے تمام غیر وہابی فرقوں کو غلو کی تہمت میں لپیٹ لیا۔
(غلو کے مفہوم کو وسعت دینے کا انجام)
غلو کے مفہوم کو وسعت دینے کا واضح اثر وہابیوں کے اس کردار سے ظاہر ہوتاہے، کہ جسے وہ اپنے مخالفین کے ساتھ بعض اختلافی مسائل میں اپنائے ہوئے ہیں، چونکہ وہابی اپنے مخالفین پر غلو کی تہمت لگاتے ہیں اور بعض مسائل میں خود ساختہ فتنہ (غلو سے مقابلہ کے نام پر ) پیدا کرتے ہیں، لہٰذا ان فتنوں میں سے بعض کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔
١۔ خدا کی صفات خبریہ کے متعلق فتنہ برپا کرنا۔
وہابی ہر اس شخص پر غلو کی تہمت لگاتے ہیں جو خدا کی صفات خبریہ میں ان کا مخالف ہوں، لہٰذا انھوں نے سینکڑوں جلد کتا بیں شیعہ اور سنی دونوں کی رد میں لکھی ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک عظیم فتنہ پیدا ہوگیا۔
الٰہی صفات کے ذریعہ مسلمانوں میں اتحاد کے بجائے وہابیوں کی وجہ سے اختلاف وجود میں آیا. معاصر سنی دانشور محمد عادل عزیزہ نے وہابیوں کو یہ سمجھانے کی پوری کوشش کی ہے کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ غالی نہیں ہیں. اوراگر انھیں غالی فرض کرلیا جائے تو ابن کثیر دمشقی (کہ جو وہابیوں کے نزدیک ایک خاص احترام رکھتے ہیں) کو غالی کہنا ہوگا، کیونکہ انھوں نے بھی الٰہی صفات میں وہابی روش پر عمل نہیں کیا۔
تمام شیعہ اور سنی علمائ، الٰہی صفات سے مربوط آیتوں کی تاویل کرتے ہیں اور اسے غلو نہیں کہتے، اور نہ ہی غلو اور تاویل میں کسی قسم کا ربط پایا جاتا ہے، لہٰذا وہ وہابی روش پر سختی کے ساتھ تنقید کرتے ہیں۔
محمد عادل عزیزہ نے صفات الہی سے مربوط آیات کے بارے میں ابن کثیر دمشقی کے نظریہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں آپ اپنے ہدف کو یوں بیان کرتے ہیں:
اس کتاب کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف، کشیدگی اور کینہ کم ہوجائے، کیونکہ دور حاضر میں وہابیوں کی جانب سے بے شمار اہل سنت علماء پر (الہی صفات سے مربوط آیات میں ان کے نظریات کی وجہ سے) کفر اور دیگر تہمتیں لگائی جا رہی ہیں۔(۱)
ہر وہ شخص جواس کتاب کا مطالعہ کرے، اس کے لئے واضح ہو جائے گا کہ صفات الٰہی سے مربوط آیات میں آپ کی روش وہابیوں کی روش سے الگ ہے آپ اسی کتاب میں فرماتے ہیں:
یہ مختصر رسالہ کہ جس میں آیات صفات کے متعلق ابن کثیر سلفی کے متفرق کلمات پائے جاتے ہیں ایک آزاد فکر مسلمان کو کنٹرول کرسکتا ہے جس سے وہ جس شخص کا کلام ابن کثیر سے مشابہ ہو، اسے فوراً مرتد نہ کہنے لگے، کیونکہ خود ابن کثیر تمام لوگوں کے نزدیک علم، دقت اور سلامت جیسے صفات سے جانے جاتے ہیں۔
____________________
(١) عقیدہ الامام الحافظ ابن کثیر فی آیات الصفات، ص ٧
ابن کثیر نے ابن عباس سے آیہ : (یوم یکشف عن ساق) کی تفسیر پوچھی تو آپ نے جواب دیا، یعنی یکشف عن أمر عظیم.(۱) لہٰذا ہمارا سوال یہ ہے کہ کیوں صفات الٰہی کی آیات میں تاویل کرنے سے وہابی ہمیں غالی کہتے ہیں؟ جس کے سبب، اٹھارہویں صدی سے آج تک دونوں فرقوں پر ناروا تہمتیں لگائی جا رہی ہیں. بہت سارے شیعہ اور سنی دونوں کے اقوال سے اس المیہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دور حاضر سنی دانشور ڈاکٹر محسن عبد المجید اس سانحہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
موجودہ دور میں ہم نے ایک طرز تفکر کا مشاہدہ کیا کہ جس سے ظاہر تو یہ تھا کہ اس گروہ سے متعلق افراد کا کام اسلامی معاشرے میں عقیدہ کی اصلاح اور شرک جیسے ظواہر سے مقابلہ کرنا ہے، لیکن انھوں نے صفات الٰہی سے مربوط آیات میں بے نتیجہ بحث کے ذریعہ علمی مراکز کو پر کر رکھا ہے. یہی باتیں تھیں کہ جس کی وجہ سے میں نے ان آیات پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی۔(۲)
شروع ہی سے اس وہابی فتنہ نے بے شمار دانشوروں کو منحرف کیاہے معاصر سنی متفکر ڈاکٹر محمد عیاش کبیسی فرماتے ہیں:
____________________
(١) گذشتہ حوالہ، ص ٨
(٢) مقدمہ کتاب تفسیر آیات الصفات
اس وہابی فتنہ کی وجہ سے میں نے اپنے ڈاکٹریٹ کی تھیسس ( Thesis ) کا موضوع اسی بحث کو قرار دیا ہے تاکہ قرآن و حدیث میں صفات خبری کے متعلق تمام گذشتہ اور حاضر علماء کے اقوال کی تبیین کے ساتھ ساتھ، استقراء تام کرسکوں. یہ تحقیق ہمارے اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم آیات صفات کی تفسیر میں اختلاف کو قبول کریں اور اس اختلاف کو ایمان و کفر اور توحید و شرک کا معیار قرار نہ دیں۔(۱)
او رخود میرا بھی یہی نظریہ تھا کہ آیات صفات میں اگر کسی کا اعتقاد وہابیوں جیسا نہ ہو تو وہ گمراہ اور غالی ہے اور اپنے اس اعتقاد کو صحیح جانتا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت کہ جب ١٩٨٨ئ ابن سعود یونیورسٹی میں مشغول تحصیل علم تھا. تمام اہل سنت پر (کہ جن کی رائے وہابی نظر سے مخالف تھی) تنقید کرتاتھااور عبد الفتاح، ابو غدہ، محمد غزالی مصری، محمد علی صابونی، حسن البناء او رایسے دسیوں افراد جو آیات صفات میں وہابی نظریہ سے الگ نظریہ رکھتے تھے، ان سے بیزاری کا اظہار کرتا تھا. اور اب جب کہ وہابیت سے نجات پا چکا ہوں تو مجھے اس نظریہ کے انجام کا علم ہے. میں نے بارہا وہابیوں سے گفتگو کی اوراس گفتگو میں میرا طریقۂ کار یہ رہا کہ ان افراد کے کلام کو پیش کیا جائے جن سے وہابی مانوس ہیں کیونکہ براہ راست ان کے سامنے نہ شیعہ عالم شیخ طوسی کا نام لیا جاسکتاہے اور نہ ہی ان کا عقیدہ بیان کرنا ممکن ہے کیونکہ وہ شیخ طوسی کا نام سننے کی تاب نہیں رکھتے، لہٰذا سب سے پہلے ابن کثیر جیسے
____________________
(١) العقیدة الاسلامیہ فی القرآن و مناہج المتکلمین، ص ١٢٢
لوگوں کا عقیدہ بیان کیا جائے جس کے بعد شیخ طوسی کا کلام سننے کے لئے راستہ ہموار ہوگا، البتہ یہ روش ان وہابیوں کے لئے کارآمد ہے کہ جو متعصب نہیں ، بلکہ اپنے سادہ پن کی وجہ سے وہابی ہوگئے ہیں اور ہماری یہ گفتگو اسی قسم کے افراد کے لئے ہے .یہی وہ گروہ ہے کہ جس کا معالجہ ضروری ہے اور ہمیں ایک طبیب کے مانند ان کے ساتھ پیش آنا ہے تاکہ پوری سعی و کوشش کے ساتھ انھیں اس بیماری سے نجات دے سکیں۔
یہ وہ وہابی ہیں کہ جو غلط تعلیمات کے نتیجہ میں ہر مخالفآواز کو کفر اور غلو سمجھتے ہیں جب کہ انھیں اس بات کاعلم نہیں کہ یہ ان کے بیمار ذہن کے خود ساختہ خیالات اور اوہام ہیں۔
خود بندۂ حقیر بھی سالہا سال انھیں اوہام میں مبتلا رہا، سوچتا تھا کہ دوسرے تمام لوگ غلو میں گرفتار ہیں اور ہم ہی وہ ہیں کہ جنھوں نے نجات حاصل کی. میں نے خود کوایک طبیب تصور کیا، جو غلو میں گرفتار مریض کا علاج کرنا چاہتا ہے ۔
اس علاج کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ایک کتاب بنام ''الصلة الاثنی عشریہ و فرق الغلاة'' لکھی لیکن اس کی اشاعت سے کچھ ہی پہلے ایک غیرمتوقع واقعہ پیش آیا جس سے مجھے پتہ چلا کہ میں طبیب نہیں ، بلکہ بیمار ہوں اور خود مجھے علاج کی ضرورت ہے اور میرا علاج صرف امامیہ (کہ جنھیں غالی تصور کرتا تھا) کے ہاتھوں ہوسکتا ہے ،لہٰذا حالات برعکس ہوگئے، جو شخص آج تک خود کو مسیحا سمجھتا تھا آج وہی بیمار ہے۔
میری مثال اس ڈاکٹر جیسی تھی کہ جو سخت دماغی وائرس میں مبتلاہو اور تمام لوگوں کو کینسر میں مبتلا سمجھتا ہو لیکن جب یہی ڈاکٹر کینسر کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر کا مریض قرار پایا تو سمجھ میں آیا کہ خود یہی ڈاکٹر بیمار ہے جو دوسروں کو بیمار سمجھتا رہا ہے لہٰذا اب یہ (پہلا) ڈاکٹر ، ڈاکٹر نہیں رہا بلکہ بیمار کی حیثیت سے زیر علاج قرار پایا۔
اور آج اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ امامیہ غلو میں مبتلا نہیں بلکہ یہ وہابی ہیں کہ جو اس خطرناک مرض (تشیع اور غلو کو یکساں تصور کرنے) میں مبتلا ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ خود کو جتنا جلد ہوسکے اس مرض سے نجات دلائیں۔
کیونکہ میں اکثر وہابیوں کو سادہ لوح بیمار (نہ متعصب) فرض کرتا ہوں نہ ہٹ دھرم متعصب، لہٰذا میراان کے ساتھ ایک ڈاکٹر جیسا رویہ ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہوں کہ انھیں خلط جیسے مرض سے نجات دلاسکوں اور واضح ہے کہ یہ کام خوش اخلاقی کے بغیر ممکن نہیں ، (ولو کنت فظاً غلیظا القلب لا انفضوا من حولک)(۱)
نفسیاتی بیمار کا بدکلامی سے علاج نہیں کیا جاسکتا اور وحدت مسلمین کے معنی بھی یہی ہیں یعنی ایسی راہ کا انتخاب جس میں صلح و سلامتی کے ساتھ فریقین زندگی گزاریں اور تعصب کو برطرف کرتے ہوئے، آپسی تفاہم کے سایہ میں علمی گفتگو کی جائے، نہ یہ کہ ایک دوسرے کے افکار سے متاثر ہو کر اپنے عقائد سے دستبردار ہو جائیں۔
____________________
(١) سورۂ آل عمران، آیت ١٥٩ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے
٢۔ وہابیوں کا بعض اعتقادی مسائل میں غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں (جنھیں وہ اصول دین شمار کرتے ہیں اور ان کے یہاں کفر وایمان کا معیار ہیں) جب کہ ان کا شمار عقائد کے فرعی مسائل میں ہوتا ہے اور ان میں تحقیق و بحث کی گنجائش ہے۔
وہابیوں کے نزدیک فرعی اعتقادی مسائل اور اصول عقائد میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا لہٰذا اعتقادی مسائل میں جو بھی ان سے مخالف ہو اسے غالی کا نام دیتے ہوئے اسلام کے دائرہ سے خارج کرتے ہیں۔
وہابی تمام اعتقادی مسائل کو اصول دین میں شامل کرتے ہیں جب کہ اصول دین سے مربوط تمام مسائل اعتقادی ہیں لیکن ہر اعتقادی مسئلہ اصول دین میں شامل نہیں ہے. لہٰذا ان دونوں میں خلط صحیح نہیں وہابی اسی مطلب کو مدنظر رکھتے ہوئے شیعوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو محال سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے یہاں تمام اختلافات گویا اصول دین میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔
ناصر قفاری اپنی کتاب ''مسأ لة التقریب'' میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان دونوں مذاہب کے تفاہم کو غیر ممکن جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بے شمار مسائل کا شمار طرفین کے نزدیک ارکان میں نہیں ہوتا ہے۔(۱)
____________________
(١) فرعی اعتقادی مسائل کا جز ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وحدت کی خاطر ہم ان مسائل سے چشم پوشی کرلیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ جب ان کا شمار اصول دین ہی میں نہیں ، تو ان کے متعلق تحقیق یا انکار کرنا کفر ظاہری کا سبب نہیں بنتا۔
بلکہ یہ وہ مسائل ہیں کہ جنھیں سنی اصول دین میں شامل نہیں کرتے یا یہ ایسے فقہی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں کہ جن کا عقیدہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں محمد عبد الحلیم حامد جو وہابیوں کے نزدیک معتبر شخصیت ہیں، فرماتے ہیں:
اعتقادی مسائل کو اصولی مسائل کا نام دیناایک نئی ایجاد ہے، متکلمین اور بعض فقہاء نے دینی مسائل کودو قسموں یعنی اعتقادی اور عملی مسائل میں تقسیم کیا ہے، کیونکہ فقہی علمی مسائل اعتقادی مسائل کی فرع ہیں لہٰذا ان کا نام فروع (اصول کے مقابل) رکھا گیا اور یہی تعبیر اہل سنت کے یہاں گذر زمان کے ساتھ ساتھ رائج ہوگئی، لیکن اس کی اس وجہ تسمیہ کو بھلا دیا گیا اور جب اعتقادی مسائل پر اصول دین کا اطلاق ہوتا ہے تو عمل کے مقابل عقیدہ کی اہمیت کو گوشزد کرنا مقصود ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اعتقادی مسائل کے درمیان اعتقادی فروعات نہ پائے جائیں۔(۱)
آپ اس بحث کو ابن تیمیہ کے کلمات سے ماخوذ سمجھتے ہیں اوراس سلسلہ میں ان کا ایک طویل کلام نقل کرتے ہیں کہ اصول دین اور اعتقادی فرعی مسائل کو آپس میں مخلوط نہیں کرنا چاہئے۔
خدا کا شکر ہے کہ میں نے شیعہ سنی او روہابیوں میں اختلاف ختم کرنے میں بے شمار کوششیں کی ہیں، جبکہ روز بروز میرے اطمینان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ
____________________
(١) معاً علی طریق الدعوة، ص ١٣٧ ۔ ١٣٤ ۔
اس اختلاف کی آگ میں ایندھن کا کام کرنے والے خود وہابی ہیں. ان کی کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جس کا میں نے حوصلہ کے ساتھ مطالعہ نہ کیا ہو ان تمام کتابوں سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس فتنہ کی جڑ خلط جیسی مشکل ہے.ایک وہ خلط کہ جو شیعہ وغلو کے درمیان واقع ہوا اور دوسرا خلط وہابیوں کا اصول دین اور فرعی مسائل میں ہے ، چونکہ خلط میرے نزدیک ایک روحی اور فکری بیماری ہے (جس میں ، میں خود مبتلا تھا) لہٰذا میں نے اس کی پیدائش کے عوامل اوراس کے علاج کے ذرائع پر تحقیق کی ۔
اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان فتنہ اور قتل وغارت گری، احسان الٰہی ظہیر جیسے وہابی نوشتوں کے اثرات ہیں. اس فرقے کے ماننے والوں نے شیعوں (حتی غیر وہابی دوسرے تمام فرقوں کو) اور غالیوں کوایک دکھلانے کے لئے ہزارھا کتابیں او رمقالے لکھنے کے ساتھ انٹرویو بھی دیئے، حقیقت میں یہی لوگ خلط جیسی بیماری میں مبتلا ہیں اورانھوں نے ہی امامیہ ، سبائیہ، او رغالیوں میں خلط کیا ہے وہ شرک، اسلام، کفر اور ایمان، میں تمیز نہیں کرسکے، گویا پاک و صاف پانی کوخاک اور نجاست سے آلودہ کیا ہے. یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سادہ فکر و ہابیوں کو اس مہلک بیماری سے نجات دیں، لہذا یہ کتاب شیعوں اور وہابیوں کے درمیان صحیح طرز گفتگو کو پیش کرتی ہے۔
مثلاً جب ایک وہابی سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد انھیں وسیلہ قرار دینے کے متعلق گفتگو کرنی ہو تو سب سے پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ آیا یہ مسئلہ اصول دین سے مربوط ہے یا فروع دین سے؟ اگر وہ اسے اصول دین میں قرار نہ دیں تو اس موضوع کے بارے میں گفتگو کفر و شرک میں مبتلا ہونے اور اسلام سے خارج ہونے کا سبب نہیں ہوگی لیکن اگر انھوں نے اسے اصول دین میں قرار دیا تو انھیں بتلانا ہوگا کہ ان کے بزرگ علماء نے اعتقادی مسائل کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:
١۔ اصول. ٢۔ فروع. اور ہر اعتقادی مسئلہ اصول دین میں شامل نہیں او راہل سنت کے چار فرقوں میں سے کسی نے بھی اس مسئلہ کو اصول دین میں قرار نہیں دیا۔
لہٰذا ا س مقام پر اپنے مطلوب کو ثابت کرنے کے لئے ان افراد کے اقوال کو پیش کیا جاسکتا ہے جو وہابیوں کے نزدیک موثق و معتبر ہیں۔
شیخ حسن البناء اس بارے میں فرماتے ہیں:دعا اور توسل اگر مخلوقات کے ذریعہ ہو تو یہ ایک فرعی مسئلہ ہے اور قابل بحث و تحقیق بھی، یہ اعتقادی مسائلمیں شامل نہیں ہے.(۱) اور جب ان کے لئے یہ ثابت ہو جائے، کہ توسل ایک فرعی مسئلہ ہے تو اس وقت گویا ہم نے خود کو کفر و شرک جیسی تہمتوں سے نجات دے لی. کیونکہ ایک فرعی مسئلہ میں اختلاف سے کوئی بھی کافر نہیں ہو تا۔
معاصر سنی امام محمد غزالی توسل کے باب میں وہابی تہمتوں کو غیر معقول جانتے ہیں۔(۲)
____________________
(١) بیس اصولوں میں سے پانچویںاصل کہ جسے انھوں نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لئے مہیا کیا ہے
(٢) دستور الوحدة الثقافیہ بین المسلمین، ص ١٣٠
(٣) وہابی اعتقادی مسائل میں خبر واحد پر تکیہ کرتے ہیں اور جو بھی اس سلسلہ میں اخبار آحاد پر تکیہ نہ کرے اسے غلو سے متہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں میں شدید اختلاف پیدا ہوا ہے جو ایک جنگ سے مشابہ ہے ۔
قدیم الایام سے یہ بحث جنگ و جدال اور کفر و شرک سے متہم کئے بغیر مسلمانوں کے درمیان رائج تھی، لیکن وہابیوں نے بدعت و شرک کہہ کر اس مسئلہ کوایک تاریک فتنہ میں تبدیل کردیا۔
نمونہ کے طور پر قارئین؛ کتاب ''حجیة الآحاد فی العقیدہ و شبہات المخالفین'' (جس کے مصنف محمد بن عبد اللہ وہیبی ہیں) کی طرف رجوع کریں.(۱)
جو بھی وہابی کتب کا مطالعہ کرنے یاان کی مجالس میں شرکت کرنے والے کے لئے واضح ہو جائے گا کہ وہ اپنے تمام مخالفین (شیعہ یا سنی) کو غلو سے متہم کرتے ہیں۔ یہ ان سے اختلاف جزئی مسائل ہی میں کیوں نہ ہو، لہٰذا غلو کے مفہوم کی وسعت نے بے شمار مسلمانوں کو غالیوں کی فہرست میں لاکھڑا کیا ہے. حقیقت میں وہابیوں نے مفہوم غلو کی تخریب اور قرآن و سنت نے جو حدود اس کلمہ کے لئے معین کئے ہیںان کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے اس کلمہ کا ایک عجیب چہرہ پیش کیا ہے، کہ جو بے شمارشیعہ و سنی علماء کو منحرف اور غالی قرار دیتا ہے. دور حاضر میں وہابی قرآن و سنت سے مأخودبے شمار مسائل کو غلو قرار دیتے ہیں، اگر یہی حالت باقی رہی تو پھر اس کائنات
____________________
(١) صفحۂ ، ٤
میں ایک بھی معتدل شخص کہ جس کا اعتدال وہابی معیار کے مطابق ہو، نہیں پایا جاسکتا۔
وہابی یہ جان لیں کہ اعتقادی مسائل میں جو خبر واحد سے استفادہ نہ کرے وہ غالی اور اسلام ، ایمان کے دائرہ سے خارج نہیں ہوتا، کیونکہ کسی ایک اعتقادی مسئلہ میں خبر واحد کو رد کرنا کفر کا سبب نہیں بنتا۔
خود حضرت عائشہ اور عمر کہ جو وہابیوں کی آنکھوں کا نور ہیں نے بھی خبر واحد پر تکیہ نہیں کیا ہے۔
اہل سنت حضرات نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے حدیث نقل کی کہ اگر میت کے گھر والے میت پر روئیں تو وہ قبر میں عذاب میں مبتلا ہوگا۔
لیکن عائشہ نے اس حدیث کو رد کردیا. وہ خبر واحد کہ جس کے راوی میں تعدیل، خطا اور بھول جانے کا احتمال ہو کس طرح مسلمانوں کو متہم کرنے کا سبب قرار پاسکتی ہے؟ کس منطق کی بنیاد پرخبر واحد قبول نہ کرنے والوں کو غلو اور شرک جیسی صفات سے متصف کیا جاتا ہے؟ خود ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ : صحابۂ کرام نے بے شمار واحد خبروں کو رد کیا ہے جب کہ وہ اخبار اہل حدیث کے یہاں صحت کی حامل ہیں، وہابی جب اصول دین میں اخبار آحاد پر تکیہ کرنے پر مصر ہوں، تو بے شمار خطاؤں میں مبتلا ہوں گے جن میں سے ایک خطا یہی ہے کہ جن مسائل کا اسلام ہی سے کوئی تعلق نہیں انہیں اصول دین میں قرار دیتے ہیں۔
تکلیف کی بات تو یہ ہے کہ انھیں مسائل کو مبنا قرار دیتے ہوئے دوسروں کو اپنی تہمتوں کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کے ذریعہ شاذ و نادر اور نامعقول عقائد کو مرتب کرتے ہیں. اور جو بھی انھیں رد کردے اسے کافر قرار دیتے ہیں. وہابیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی یہ روش جمہور مسلمان کے نزدیک قابل قبول نہیں ۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں:
ابن قاسم و ابن وہب نے فرمایا: کہ ہمارے نزدیک اہل مدینہ کے قول پر عمل، خبر واحد پر عمل سے اقویٰ ہے۔(۱)
سنی پیشوا مالک نے بھی بے شمار اخبار آحاد کو رد کیا ہے کیونکہ یہ اخبار اہل مدینہ کی سیرت سے معارض تھیں، کیا وہابیوںکے یہاں ان باتوں کا کوئی جواب ہے؟
شیخ یوسف قرضاوی تحریر فرماتے ہیں کہ:
اس امر کے متعلق حنابلہ کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ خود احمد حنبل سے مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں لیکن میرے لئے یہ واضح ہوچکا ہے کہ اکثر اصولی حنبلی محققین کے نزدیک خبر واحد نہ یقین پیدا کرتی ہے اور نہ ہی اس کے ذریعہ علم حاصل ہوتا ہے. اس مطلب کو ابویعلی ابو الخطاب، ابن قدامہ، حتی ابن تیمیہ نے بھی ذکر کیا ہے۔(۲)
____________________
(١) ترتیب المدارک ، ص ٦٦
(٢) الشیخ الغزالی کما عرفتہ، رحلة نصف قرن ، ص ١٢٥
آیا وہابی اپنے امام ابن تیمیہ کے اس قول سے باخبرہیں؟ : یہ (امر) خبرواحد سے مربوط ہے ، لہٰذا کیونکر ممکن ہوگا کہ ہم خبر واحد پر اصول دین میں سے کسی اصل (جس پر ایمان کا دارومدار ہو) کی بنیاد رکھیں۔(۱)
شاطبی فرماتے ہیں:
اصول دین میں ظن کفایت نہیں کرتا، کیونکہ اس کے نقیض کے صحیح ہونے کا احتمال پایا جاتاہے لیکن فقہی فروع میں ظن پر عمل کیاجاسکتا ہے، کیونکہ اہل شریعت نے بھی اس پر عمل کیاہے، لہٰذا فقہی فروع کے علاوہ تمام جگہوں کے لئے ظن مذموم ہے اور دانشوروں کے نزدیک یہ نظریہ قابل قبول ہے۔(۳)
تمام اہل سنت کے نزدیک اعتقادی مسائل میں خبر واحد کو حجت قرار دینا صحیح نہیں ، کیونکہ ان اخبار کے ثبوت پر انھیں یقین نہیں ہے اور اس جمہور میں ، امام الحرمین، سعد، غزالی، ابن عبدالبر، ابن اثیر، صفی الدین بغدادی، ابن قدامہ، عبد العزیز بخاری، بن سبکی، صنعانی، ابن عبدالشکور شنقیطی او ر دیگر بے شمار افراد شامل ہیں۔
خطیب بغدادی نے فرمایا:
خبر واحد ان مسائل میں ، کہ جن میں قطع و یقین کاہونا ضروری ہے، قابل قبول نہیں ۔
____________________
(١) منہاج السنہ ، ص ١٣٣
(٢) الاعتصام ، ج ١، ص ٢٣٥
ابو اسحاق شیرازی فرماتے ہیں:
خبر واحد علم آور نہیں ہوتی۔(۱)
غزالی فرماتے ہیں:
خبر واحد علم آور نہیں ہوتی اور یہ ایک قطعی اور واضح بات ہے، لہٰذا ہم ہر بات کی تصدیق نہیں کرتے، کیونکہ جب دو اخبار آپس میں معارض ہوںاورہم ان کی تصدیق کرنا چاہیں تو گویا ہم نے ان اخبار کی تصدیق کی جو ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔(۲)
ابن عبد الشکور فرماتے ہیں:
علمائے علم اصول کے نزدیک غیر معصوم سے خبر واحد مطلقاً علم اور یقین آور نہیں ہوتی، چاہے اس خبر میں قرائن موجود ہوں یا نہ ہوں. اور اگر یہ مان لیا جائے کہ خبر واحد علم آور ہے اور دو عادل اشخاص دو متناقض خبریں پیش کریں تو ان کی تصدیق کے نتیجہ میں تناقض پیش آئے گا۔(۳)
عبد القاہر بغدادی تحریر فرماتے ہیں:
خبر واحد کی سند اگر صحیح ہو او ر متن میں کوئی ایسی بات نہ جو عقلی طور پر محال ہو، تو گرچہ خبر واحد علم آور نہیں ، لیکن اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔(۴)
____________________
(١) التبصرہ ، ص ٢٩٨ (٢) المستصفی ، ص ١٤٥
(٣) مسلم الثبوت بشرح فواتح الرحموت ، ج٢، ص ١٢٢۔ ١٢١
(٤) اصول الابن ، ص ١٢
بیہقی نے فرمایا:
اگر خبر واحد کے لئے قرآن و اجماع میں کوئی دلیل نہ پائی جائے، تو صفات الٰہی میں ہمارے علماء خبر واحد کے ذریعہ استدلال نہیں کرتے۔(۱)
فخر رازی لکھتے ہیں:
اصولیوں کے نزدیک خبر واحد سے مراد وہ خبر ہے جوعلم او ریقین آور نہیں ہوتی۔(۲)
اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
بعض لوگ ذات اور صفات الٰہی میں اخبار آحاد پر تکیہ کرتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں جب کہ ان اخبار اور قطع و یقین میں بہت فاصلہ ہے۔(۳)
مصری محمد غزالی بھی ان افراد کی پیروی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مجھے ازھر یونیورسٹی سے فارغ ہوئے پچاس سال ہو رہے ہیں اور کئی سال سے تدریس میں مشغول ہوں اس مدت میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اخبار آحاد ظن آور ہیں اور جب تک کہ اس سے محکم دلیل نہ پائی جائے، خبر واحد کو حکم شرعی کے لئے دلیل قرار دیا جاسکتا ہے لہٰذا خبر واحد کو یقین آور کہنا بیہودہ کلام ہوگا، جو عقل و نقل کی رو سے مردود ہے۔(۴)
____________________
(١) الاسماء و الصفات ، ص ٣٥٧
(٢) المعالم، ص ١٣٨ (٣) اساس التقدیس ،
(٤) السنة النبویہ بین اہل الفقہ و اہل الحدیث، ص ٧٤
اور دوسرے مقام پر محمد غزالی یوں فرماتے ہیں:
خبر واحد ظن آور ہے اور اس کا استعمال فروع دین میں ہوتا ہے اور میری اس بات پر تاکید ہے کہ خبر واحد کے ذریعہ صرف اور صرف ظن حاصل ہوسکتا ہے...
اس کے باوجود دور حاضر میں بعض لوگ اپنے اعتقادات کو ثابت کرنے کے لئے ان اخبار پر تکیہ کرتے ہیں اوراس کے منکر کو کافر کہتے ہیںاورخود ان کا یہ عمل ایک طرح سے غلو ہے۔(۱)
یوسف قرضاوی اس کے متعلق فرماتے ہیں:
اعتقادی امور کا یقین پر موقوف ہونا ضروری ہے اور اخبار آحاد (جو کہ صحیح السند ہیں) مفید یقین نہیں ہوتے، بلکہ خبر متواتر یقین آور ہے.پہلے امر کی تائید خداوند متعال نے قرآن مجید میں اس مقام پر کی ہے جہاں پر کفار کی مذمت میں فرماتا ہے : (و مالهم به من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لایغنی من الحق شیئًا )(۱) اوردوسرے امر کی تائید علمائے اصول کرتے ہیں، بہر صورت اعتقادات میں اخبار آحاد سے اس طرح کا استفادہ تمام مشہور علمی مراکز میں (مثلاً ازھر، زیتونہ، قرویین، دیوبند) میں رائج ہے۔(۲)
سید قطب نے فرمایا:
____________________
(١) دستور الوحدة الثقافیہ بین المسلمین ، ص ٦٨.
(٢) الشیخ الغزالی کما عرفتہ رحلة نصف قرن ، ١٢٤۔ ١٢٣
اعتقادی امور میں احادیث آحاد پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان امور میں ہم قرآن اور متواتر اخبار کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اعتقادی مسائل میں احادیث سے اس وقت استفادہ کیا جائے گا کہ جب وہ خبر متواتر ہو۔(۱)
محمود شلتوت فرماتے ہیں:
تمام علماء او ردانشوروں نے خبر واحد کے یقین آور نہ ہونے پر اتفاق کیاہے اور ان کی نظر میں اعتقادی مسئلہ میں اسے دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، حتی محققین نے ا س مطلب کو حتمی اورغیر قابل اختلاف قرار دیا ہے، یہ ایک اجماعی موضوع ہے جس میں کسی طرح کا کوئی اعترا ض نہیں اس طرح علمائے اہل سنت کے بے شمار اقوال پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے وہابیوں کے لئے پیش کیا، تاکہ وہ قانع ہوجائیں اور اپنے مخالف کو کافر اور مشرک نہ کہیں۔
یہاں تک ہم نے امامیہ کی شناخت میں وہابیوںکے انحراف کا پہلا سبب بیان کیا ہے وہابیوں کی گمراہی کا پہلا سبب ان کا غلو کے معنی سے آگاہ نہ ہونا ہے اور دوسرا سبب ان کا تشیع کے معنی سے آگاہ نہ ہونا ہے، جس کے متعلق میں نے بعد والی کتاب بنام ''موقف الاثنی عشریہ من الغلو و الغلاة'' میں مفصل طور پر گفتگو کی ہے اور تیسرا سبب غلو اور غالیوں کے مقابل امامیہ کے موقف سے آگاہ نہ ہونا ہے جسے اسی بعد والی کتاب میں قارئین ملاحظہ فرمائیں گے اس مقام پر اس سبب کی طرف مختصر اشارہ کرتے ہیں۔
____________________
(١) فی ظلال القرآن ، ج٦ ، ص ٤٠٠٨
غلو اور غالیوں کے متعلق مذہب امامیہ کا نظریہ
دیگر مذاہب کی بہ نسبت غلو او رغالیوں کے مقابل امامیہ کا سخت موقف ان کا ایک خاص امتیاز ہے اس مسئلہ میں مذاہب اسلامی میں سے کسی مذہب نے بھی امامیہ کی طرح سختی سے مخالفت نہیں کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امامیہ فکر کی بنیادوں (کہ جو قرآن و سنت صحیحہ سے ماخوذ ہیں) اور غالی تصورات میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ غلو کی طرف کسی قسم کا رجحان نہیں رکھتے، بلکہ اس کوشش میں ہیں کہ ان انحرافات کی اصلاح کی جائے اور جواس مشکل میں گرفتار ہیں انھیں نجات دی جائے۔
غالیوں کے لئے شیعہ موقف روز روشن کی طرح واضح ہے لہٰذا اس سے زیادہ توضیح دینا مناسب نہیں میں نے کئی غالیوں سے گفتگو کی اور بحمد اللہ مذہب امامیہ کی برکت سے انھوں نے کفر آمیز عقائد کو چھوڑ کر حقیقی اسلام کو اپنا لیا. لیکن وہابی مذہب امامیہ کے نظریات اوراس کے بنیادی تفکرات سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے تشیع اور غلو کو ایک قرار دیتے ہیں لہٰذا ان کی اصلاح کرنا اور ان کے لئے غلو کے مقابل شیعہ موقف کو (شیعہ منابع کے ذریعہ) واضح کرنا ضروری ہے۔
ان کا یہ جاننا ضروری ہے کہ امامیہ اور غالیوں میں فاصلہ ایک بدیہی اور واضح بات ہے البتہ اگر کوئی شبہ باقی رہ جائے تو اسے توضیح کے ذریعہ رفع کیاجاسکتا ہے، کیونکہ شیعہ ہر قدم قرآن اور سنت صحیحہ کے ساتھ ہیں. اب تک ہم نے اپنی مفصل بحث میں پانچ مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔
١۔ غالی تصورات کے متعلق مذہب امامیہ کے نظریات ۔
٢۔ غالی تشریعات کے متعلق مذہب امامیہ کے نظریات ۔
٣۔ غالی رؤساء کے متعلق مذہب امامیہ کے نظریات۔
٤۔ غالیوں کی روایات کے متعلق مذہب امامیہ کے نظریات ۔
٥۔ غالی کتب کے متعلق مذہب امامیہ کے نظریات۔
مسلمانوں کو غالیوں کے غلط افکار سے نجات دلانے میں مذہب تشیع نے کافی کوششیں کیں. غالیوں کے مقابل اس مذہب نے جس روش کو انتخاب کیا اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس روش نے سب سے پہلے اس کے انحرافی افکار کے دائرہ کو تنگ کرکے اس کا سد باب کردیا۔
الوہیت انسان، ایک ایسا اعتقادی مسئلہ تھا، کہ جس کا شیعوںنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہ باطل خیال، الوہیت و عبودیت میں تفریق نہ کرنے سے وجود میں آیا. معصومین ٪ نے سینکڑوں روایتوں میں انسان کے مقام و منزلت کو بیان کیا ہے اور پوری طرح گوشزد فرمایا کہ انسان چاہے جتنا کمال کی بلندیوں تک پہونچ جائے، پھر بھی محال ہے کہ عبودیت سے نکل کر خدا بن جائے۔
أئمہ معصومین ٪ کے یہ اقوال قرآن و صحیح السند احادیث بنوی سے ماخوذ ہیں. گویا یہ اقوال قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر ہیں. یہی وجہ ہے کہ ان اقوال میں قرآنی رنگ پایا جاتا ہے۔
ان تمام اقوال میں ماسوی اللہ کو عبد و مخلوق قرار دیا گیا ہے اورالوہیت کوذات باری تعالیٰ میں منحصر، چونکہ غالیوں نے اپنی تبلیغات کوالوہیت انسان یا أئمہ میں متمرکز کیا ہے، لہذ ا أئمہ (ع) نے بھی اپنی تعلیمات کو خدا کی بندگی اور عبودیت میں متمرکز کیا او رغالیوں کی اس بنیاد (الوہیت انسان) کو نابود کرنے کے لئے خدا کے مقابل عبودیت و بندگی ،خضوع و خشوع پر بے حد تاکید کی، تاکہ یہ باطل خیال پوری طرح نیست و نابود ہو جائے۔
غالیوں کی گمراہ فکر کو قلع قمع کرنے میں یہ روایات کافی موثر ثابت ہوئیں اور اس میں کوئی شک نہیں ، کہ ان روایات کو جمع، حفظ او رنشر کرنے میں شیعہ راویوں نے بے حد زحمتوں کا سامنا کیا اورانھیں روایتوں کی بنا پر شیعہ فقہاء نے غالی فرقوں کی تکفیر کی اوران کے مقابل سخت رد عمل اختیار کی، لیکن وہابی چونکہ شیعہ اور غالی کوایک ہی تصور کرتے ہیں، لہٰذا انھوں نے ان تمام روایات کو شیعیت کی مذمت پر حمل کیا اور جیسا کہ پہلے ہم عرض کرچکے ہیں، کہ یہ غلو کے مفہوم میں وسعت دیکر شیعہ اور عالی میں خلط کا نتیجہ ہے اب ہم قارئین کے لئے چند روایات کو پیش کرتے ہیں۔
١۔ امام جعفر صادق ـ اپنے اجداد کے ذریعہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: '' رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: مجھے میرے مقام سے اونچا نہ بناؤ، کیونکہ خدا نے مجھے پیغمبری سے پہلے اپنا بندہ قرار دیا ہے'' لہٰذا جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ،جو انسانیت کے بلند و بالا مقام پر فائز ہیں خود کو عبد خطاب کریں، تو پھرحتماً أئمہ (ع) بھی انھیں کی سیرت پر عمل کریں گے۔
٢۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں:
''ہمارے متعلق غلو سے پرہیز کرو اور ہمیں خدا کے تربیت یافتہ بندے جانو''. أئمہ (ع) کی عبودیت مکتب تشیع کا ایک اہم تعلیمی رکن ہے جب میں أئمہ (ع) کی روایات اور علمائے شیعہ کے اقوال میں مقایسہ کرتا ہوں تو ان میں پوری طرح مطابقت نظر آتی ہے۔
أئمہ (ع) کی عبودیت اس مذہب کی اصلی او ربنیادی حقیقت ہے کہ جواس مذہب او راس مذہب کی پیروی کرنے والوں سے جڑی ہوئی ہے. لہٰذا غلو کے لئے کوئی مجال نہیں کہ وہ اس مذہب میں خود نمائی کرے۔
تمام شیعہ امام رضا ـ کے اس قول پر کاملاً ایمان رکھتے ہیں:
جو بھی امیر المومنین کو عبودیت کی منزل سے اونچا کرتے ہوئے انھیں الہٰ قرار دے، تو اس کا شمار مغضوبین اور گمراہوں میں ہوگا آیا علی بن ابی طالب نے دوسروں کی طرح طعام اور پانی نوش نہیں فرمایا: آیا آپ نے شادی نہیں کی؟ آیا ان صفات کا حامل خدا ہوسکتا ہے؟ اگر ممکن ہو تو پھر ہم میں سے ہر ایک فرد خدا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شیعہ کتب میں اس طرح کی بے شمار روایات پائی جاتی ہیں اور شیعہ علماء نے بھی أئمہ کی روش کو اپنایا، جو بھی شیعہ معاشرہ میں رفت و آمد رکھتا ہواسے اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے یہ صرف نظریات نہیں ، جو شیعہ کتب میں درج ہوں، بلکہ شیعی سماج اور ان کے گوشت پوست و خون میں یہ تعلیمات پائی جاتی ہیں او ریہ تعلیمات ان کی حیات سے جدا نہیں ، بلکہ ان کے لئے مایۂ فخر و مباہات ہیں۔
یہاں تک ہم نے مذہب امامیہ او رغلو میں فرق کو بیان کرنے میں وہابیوں کے لئے شیعیت کی ایک مختصر سی تصویر پیش کی ہے اوراب ہم مذہب امامیہ کی تحلیلی شناخت کو پیش کرتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ
مذہب امامیہ کی تجزیاتی شناخت
مذہب امامیہ کو وہابیوں کے لئے پیش کرنے میں ہمارا دوسرا قدم، اس مذہب کے عقائد کو اچھی طرح تحلیل کر نا ہے، تاکہ ان کا ذہن غلط تحلیل اور عقائد میں مشغول نہ ہو اور وہ ہمیں غلو اور کفر سے متہم نہ کریں اور ان باتوں کو ہماری طرف منسوب نہ کریں جن کا مذہب امامیہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔
جن حقائق کی ہم تحلیل کرنا چاہتے ہیں وہ شیعہ معتبر کتب میں موجود ہیں البتہ ہم اس مقام پر وسیع تحلیل و گفتگو نہیں کرنا چاہتے انشاء اللہ دوسری کتاب میں ان امور کو انجام دیں گے ، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ مذہب امامیہ کے متعلق وہابیت کی قلمی روش یہ ہے کہ وہ تحلیل و تحقیق کئے بغیر تمام غالی عقائد و آراء کو (جنہیں خود شیعوں نے رد کیا ہے) شیعیت کی طرف منسوب کرتے ہیں، انھیں اپنی تہمتوں کا نشانہ بناتے ہیں، افسوس کی بات ہے کہ بعض معاصر سنی مصنفین نے بھی اس روش کو اختیار کیا ہے۔
البتہ محققین خوب جانتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کی شناخت کے لئے اس مذہب کے کتابوں کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے اور ان میں جو مطالب ہیں ان کی تحلیل و تجزیہ کے بعد ان کے بارے میں نظر دی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ احسان الٰہی ظہیر (جوکہ شیعوں کی تکفیر کرتا ہے) کی روش اور شیخ محمود شلتوت (کہ جوامامیہ کو ایک معتبر اسلامی مذہب جانتے ہیں) کی روش میں فرق آفتاب کی طرح روشن ہے، احسان الٰہی ظہیر نے امامیہ کی شناخت میں غیر معتبر اور غالی کتب کا مطالعہ کیا لیکن شیخ محمود شلتوت نے معتبر منابع میں تمام مطالب کا تجزیہ کیاہے۔
اس مرحلے ہم چار مہم مسائل کی تحلیل کریں گے:
١۔ امامیہ کے نزدیک الوہیت و نبوت کی حقیقت
یہ دو مسائل شیعی فکر میں کافی اہمیت رکھتے ہیں اور اگر امامیہ کتب کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی، کہ وہ توحید الوہیت و ربوبیت اور الوہیت و عبودیت سے مخصوص خصوصیات میں فرق کے قائل اور اس پر کتنی اہمیت دیتے ہیں. الوہیت صرف اور صرف ذات خدا کے لئے ہے اور غیر خدا سب کے سب عبد و مخلوق ہیں۔
مذہب امامیہ کے نزدیک اس مسئلہ (الوہیت و نبوت) کی اہمیت نے انھیں مجبور کیا کہ وہ غلو اور غالی اعتقادات کا سختی سے مقابلہ کریں، کیونکہ غالی مقام الوہیت و نبوت میں تفریق کے قائل نہیں ،ان دو میں اتحاد یا حلول کے قائل ہیں، لہٰذا اہل تشیع نے ان کی تکفیر اوران کے اعتقادات کی رد میں بے شمار کتابیں لکھیں ۔
اسی طرح مذہب امامیہ پوری طرح سے نصوص قرآنی پر استوار ہے، اور وہ پیغمبر اسلام کے آخری نبی اور تمام لوگوں پر ان کی برتری کے قائل ہیں جب کہ غالیوں کے یہاں یہ امر قابل قبول نہیں اور وہ دوسروں کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے افضل قرار دیتے ہیں۔
مذہب امامیہ کے پیرو معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم آخری نبی ہیں، جن کے بعد کوئی نبی نہیں اورجو بھی ختم نبوت کا قائل نہ ہو، وہ کافر ہے اس عقیدہ کی بنیاد قرآن کریم ہے۔
٢۔ امامیہ مذہب میں شریعتوں اور احکام کی حقیقت
ان حقائق کی شناخت کے لئے جس ترتیب کو ہم نے پیش کیا ہے اس کا لحاظ ضروری ہے کیونکہ جب تک پہلی حقیقت (حقیقت الوہیت و نبوت) سمجھ میں نہ آئے،دوسری حقیقت کو سمجھنا مشکل ہے۔
پہلی حقیقت میں فکری پہلو اوردوسری حقیقت میں عملی پہلو کی طرف اشارہ ہے پہلے مسئلہ میں عقل کی کارکردگی اوردوسرے مسئلہ میں عملی کارکردگی پر گفتگو ہے اور اگر پہلے مسئلہ پر ایمان لائیں تو دوسرے مسئلہ پر عمل کرنا ضروری ہوگا. پہلے مسئلہ میں جب ہم نے ثابت کردیا کہ جز اللہ کے کوئی معبود و خالق و مدبر نہیں اور تشریع فقط اسی کا کام ہے تودوسرے مسئلہ میں ہم کہیں گے اس تشریع کا قرآن اور کلام وحی سے استخراج ہونا ضروری ہے اور کیونکہ سنت پیغمبر بھی وحی سے متصل ہے لہٰذا سنت بھی تشریع کا منبع قرار پائے گی۔
اگر قارئین محترم، شیعہ فقہی کتب کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ ان کتب میں تمام احکام و فتاوی قرآن و صحیح سنت پر استوار ہیں اور وہ احکام کے ظاہری معنی پر عمل کرتے ہیں ا ور باطنی و تاویلی معانی سے پرہیز کرتے ہیں اور جو بھی احکام اسلام کی تاویل کے ذریعہ شریعت پر عمل نہ کرے اسے کافر قرار دیتے ہیں۔
اور معتقد ہیں کہ عقیدہ جتنا بھی اہم کیوں نہ ہو انسان کواحکام و شریعت پر عمل نہ کرنے سے بے نیاز نہیں کرتا۔
٣۔ مذہب امامیہ کے اہداف
کسی بھی مذہب کے اہداف کواس وقت تک نہیں جانا جاسکتا ،کہ جب تک اس مذہب کے اعتقادی افکار و نظریات کو نہ سمجھ لیا جائے، لیکن وہابی شیعہ عقائد اوران کے عمل پر تحقیق کئے بغیر ان کے اہداف کو درک کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک غیر ممکن بات ہے، کیونکہ انسان کے اعتقاداور عمل ہی کے ذریعہ اس کے اہداف تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
کسی بھی انسان کے اعتقادات اوراہداف میں جدائی ممکن نہیں ،لیکن وہابی یہ چاہتے ہیں کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کی شناخت کے بغیر خود ساختہ اہداف شیعیت سے منسوب کریں اور پھر انھیں رد کریں۔
٤۔ تشیع میں بعض رائج مفاہیم
یہ دیکھا گیا ہے کہ وہابیوں نے شیعوں کے یہاں رائج اصطلاحات کی برعکس تفسیرکو پیش کی ہے، کہ جسے حتی اہل سنت نے بھی اس طرح نہیں سمجھا ہے بدا، تقیہ، عصمت، مصحف، جیسے کلمات اس سرنوشت کا شکار رہے اور جب تک واضح طور سے یہ معانی بیان نہ ہوں، وہابیوں سے منطقی گفتگو کرنا ممکن نہیں ۔
ایسے بے شمار موارد پیش آئے جن میں لفظ تو ایک ہے، لیکن اس کی تفسیر میں امامیہ اور وہابیوں کے درمیان عمیق اختلاف پایا جاتا ہے، لہٰذا جب تک وہابی ان الفاظ سے اہل تشیع کے معنی کو نہ سمجھیں،ان سے گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
امامت اور غیبت کی حقیقت کا ان حقائق میں شمار ہوتا ہے جن کی تحلیل اور تجزیہ اسی مرحلہ کے لئے موزوں ہے، لیکن چونکہ اس مرحلہ میں وہابیوں کا ان مطالب کو درک کرنا مشکل ہے اسی لئے ہم نے اسے تیسرے مرحلہ میں بیان کیا ہے. اور اب ہم مذہب امامیہ کی بنیادی شناخت کو پیش کرتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ
مذہب امامیہ کی بنیادی شناخت
اس مرحلہ میں جن مسائل کا تجزیہ ہوگا ان کا مقام منطقی لحاظ سے دوسرے مرحلہ سے مربوط مسائل کی شناخت کے بعد ہے اگر الوہیت، نبوت، شریعت، اور شیعہ اہداف اوران کی اصطلاحات صحیح طور پر بیان ہو جائیں تو پھر نہ ہی امامیہ اور غلو کے منشا میں خلط واقع ہوگا اور نہ ہی شیعہ اور غالی منابع یکسان قرار دیئے جائیں گے اس مرحلہ میں تین چیزوں (شیعی منابع، شیعی تشخص، شیعیت کے وجود میں آنے کے اسباب) پر بحث و تحقیق ہوگی اور گرچہ امامت اور غیبت امام کے مباحث دوسرے مرحلہ سے مربوط ہیں لیکن ضرورت کی بنا پر ہم انھیں اسی مرحلہ میں پیش کرتے ہیں۔
١۔ امامیہ مذہب کے منابع
وہابی معتقد ہیں کہ شیعہ اعتقادات کی بنیاد مجوسی ، یہودی اور مسیحی افکار پر استوار ہیں، لیکن اگر وہ گذشتہ مراحل پر غور کرتے تو ان کے لئے واضح ہو جاتا ،کہ تمام شیعہ مبانی قرآن اور صحیح سنت سے ماخوذ ہیں اوریہی منابع اس مذہب کی بنیاد ہے۔
یہ تو وہابیوں کی عادت ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کے مفاہیم اور عقائد پر پوری طرح تحلیل کئے بغیر اس مذہب کے بارے میں غلط قضاوت کر بیٹھتے ہیں.اگر وہ شیعہ علمی وعملی آراء کو سمجھتے، اوران کے لئے واضح ہو جاتا، کہ یہ آراء قرآن و سنت میں منحصر ہیں، تووہ شیعہ کو مجوسی نہ کہتے، کیونکہ وہابی، شیعہ اور غالی کوایک ہی تصور کرتے ہیں، لہٰذا ان کے منابع کو بھی ایک ہی خیال کرتے ہیں اور جس طرح غالیوں کے انحراف کی اساس ،مجوسی، یہودی اور مسیحی افکار ہیں، شیعہ عقائد کو بھی انھیں پر حمل کرتے ہیں جب کہ ان دونوں کے درمیان کوسوں فاصلہ پایا جاتا ہے ۔
٢۔ مذہب تشیع میں امامت کی حقیقت
امامت کے متعلق (قرآن و حدیث سے) محکم دلائل پر توجہ دینے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ امامت خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ایک ایسی خاص نعمت ہے، جسے اپنے آخری پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ پہچنوایا.امامت شیعوں کا خود ساختہ مفہوم یا خاندان پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کا نتیجہ نہیں ، بلکہ أئمہ (ع) کی امامت کے بارے میں صدر اسلام ہی سے صحیح نصوص موجود ہیں اوراس امر کی ابتدا چوتھی صدی یا اس کے بعد نہیں ہوئی ہے۔
شیعہ اور سنی متفق ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بارہ افراد کو اپنا وصی اور خلیفہ قرار دیا اوراس سلسلہ میں احادیث کو بخاری، مسلم او ردوسرے محدثین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے. یہ تمام راوی چوتھی صدی سے پہلے تھے اور اس سے پہلے کہ بارہ امام آئیں یہ احادیث مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی تھیں اور انھیں احادیث کی بنا پر لوگ أئمہ (ع) کی امامت کی طرف مائل ہوئے، لہٰذا ظالم بادشاہوں نے پوری کوشش کی، کہ ان احادیث کو چھپا ئیں یاان میں تحریف و تاویل کریں، کیونکہ انھیں یقین تھا کہ ان احادیث کے ذریعہ ان کی سلطنت منہدم ہو جائے گی۔
ہم نے اپنی آئندہ کتاب ''رحلتی من الوہابیہ الی الاثنا عشریہ'' میں امامت کے لئے محکم دلائل پیش کئے ہیں،لیکن وہابی ان نصوص کو غالیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں، جب کہ وہ بھول رہے ہیں، کہ امامت کے متعلق نصوص، سنی معتبرکتابوں میں بھی پائے جاتے ہیںاور یہ نصوص شیعوںکی گڑھی ہوئی نہیں ہیں۔
وہابی ان احادیث (کہ جسے تمام مسلمان، اختلاف کے باوجود قبول کرتے ہیں) پر دقیق تحقیق کرنے سے عاجز ہیں اور انھوں نے امامیہ کتب میں مذکور محکم دلائل کی طرف رجوع نہیں کیا، لہٰذا دوبارہ جہل و نادانی کے ساتھ کہتے ہیں کہ امامت غالی اور مجوسیوں کی جعل کردہ چیز ہے۔
ہماری نظر میں شیعیت کی بلند پروازیں اور اس کی ترقی میں اہم کردار ''حدیث ثقلین'' اور ''حدیث بارہ امام'' کا ۔ یہ دو حدیثیں اس مذہب کے لئے دو پروں کی حیثیت رکھتی ہیں جو اسے بلند پروازی کی صلاحیت عطاکرتے ہیں۔ جب تک وہابی ان دو حدیثوں کودرک نہ کرلیں. مذہب امامیہ کے دوسرے حقائق کا ادارک ان کے لئے ممکن نہیں ۔
معروف وہابی مصنف ڈاکٹر محمد علی بار اپنی کتاب ''الامام علی الرضا و رسالتہ الطیبة'' میں حدیث ثقلین کے متعلق لکھتے ہیں:
مسلم نے اپنی کتاب میں زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میدان خم میں ، جو مکہ و مدینہ کے راستہ میں ہے، خطبہ ارشاد فرمایا اور حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا:
اے لوگو! میں ایک بشر ہوں اور جلد ہی خدا کی طرف سے ملک الموت آئے گا اور میں اس خدا کے حکم پر لبیک کہوں گا، لہٰذا تم لوگوں کے نزدیک دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جن میں سے ایک قرآن ہے کہ جو سرتا پا نور اور ہدایت ہے، پس اس سے منسلک رہو اور پھر آپ نے لوگوں کو قرآن سے منسلک رہنے کی رغبت دلائی، اور فرمایا: دوسرے میرے اہلبیت ہیں. خدا را! ان کا خیال رکھنا، او راس جملہ کی آپ نے تین مرتبہ تکرار کی۔
یہ حدیث سنن ترمذی میں زید بن ارقم سے منقول ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جار ہا ہوں اگر ان سے متمسک رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے ایک، دوسرے سے بہتر ہے. کتاب خدا جو آسمان سے کھینچی ہوئی رسی ہے اور میری عترت جو میرے اہل بیت ٪ ہیں. یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، یہاں تک کہ حوض کوثر پر وارد ہوں گے، سوچو! میرے بعد ان کے ساتھ تمہارا رویہ کیا ہوگا... تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس حدیث کو مسلم اور ترمذی نے نقل کیا اور حاکم نیشاپوری کے مستدرک او راحمد کے اپنی مسند میں اس روایت کو مورد قبول قرار دینے کے باوجود بے شمار معاصر علماء اس روایت سے بے خبر ہیں یا اپنے علم کا اظہار نہیں کرتے او رروایت کو کتاب اللہ و سنتی پیش کرتے ہیں. جب کہ یہ نقل (جو کہ موطأ مالک میں ہے) ضعیف اور منقطع السند ہے. اگر اس نقل کو پیش کرنا چاہیں تو حد اقل ہر دو روایتوں کوایک جگہ نقل کریں نہ یہ کہ ایک حدیث کو بیان کیا جائے اور دوسرے کو مخفی. انھوں نے اپنے اس عمل کے ذریعہ علم کو چھپایاہے او رعلم چھپانے والا خدا او ررسول کے غضب میں مبتلا ہوگا۔
علامہ محمد ناصر البانی ''سلسلة الاحادیث الصحیحة'' میں لکھتے ہیں:
حدیث عترت یعنی''یا ایها الناس انی قد ترکت فیکم ماان اخذتم به لن تضلوا کتاب الله و عترتی اهل بیتی ''ایک صحیح السند حدیث ہے کہ جسے مسلم نے اپنی صحیح١ ، طحاوی نے مشکل الآثار ٢، احمد ٣، و ابن ابی عاصم نے کتاب السنہ٤، طبرانی٥، نے یزید بن حیان تمیمی کے توسط سے بیان کیا ہے او ردوبارہ احمد٦، طبرانی٧، طحاوی نے علی بن ربیعہ سے نقل کیا، کہ جب میں نے زید بن ارقم کو دیکھا
____________________
(١) ج ٧ ، ١٢٣۔ ١٢٢
(٢) ج ٤، ص ٣٦٨.
(٣) ج٤، ص ٣٦٧۔ ٣٦٦
(٤) ص ١٥٥١ ۔ ١٥٥٠.
(٥) ص ٢٦.٥
(٦) ج ٤، ص ٣٧١
(٧) ص ٥٠٤٠
تو سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس قول کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ''انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی؟...'' زید نے مثبت جواب دیا۔
یہ روایت صحیح السند ہے کہ جسے دوسرے طرق سے بھی نقل کیا گیا ہے جن میں سے بعض طرق کو طبرانی١ اور بعض کو حاکم٢ نے ذکر کیا ہے اور طبرانی و ذہبی نے ان میں سے بعض طرق کو صحیح قرار دیا ہے، اور طبرانی سے دوسری حدیث بھی نقل ہوئی ہے جسے حدیث عطیہ عوفی کہا جاتا ہے اور وہ ابوسعید خدری سے منقول ہے:
''انی اوشک ان ادعی فاجیب. و انی ترکت فیکم ماان أخذتم لن تضلوا بعدی الثقلین احدهما اکبر من الآخر کتاب الله حبل محدود من السماء الی الارض و عترتی اهل بیتی الا انهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ''
اس حدیث کو احمد٣، ابن ابی عاصم٤، طبرانی٥، ا ور دیلمی٦، نے بھی نقل کیا ہے۔
دوسرے شواہد کو دار قطنی٧، حاکم٨، او رخطیب نے کتاب فقیہ٩، میں نقل کیاہے جن میں سے بعض کوذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
____________________
(١) ص ٤٩٦٩، ٤٩٧١، ٤٩٨٠، ٤٩٨٢ ، ٤٠٥٠
(٢)ج ٣، ص ١٠٩، یا ١٤٨ و ٥٣٣
(٣) ج٣، ص ١٤، و ١٧، و ٢٦ و ٥٩ (٤) ص ١٥٥٣ و ١٥٥٥
(٥) ص ٢٦٧٩۔ ٢٦٧٨ (٦) ج ١٢ ص ٤٥
(٧) ص ٥٢٩. (٨) ج ١، ص ٩٣ (٩) ٥٦ ١
البانی مزید لکھتے ہیں: جب میں نے قطر کا سفر کیا تو وہاں چند ڈاکٹروں سے میری ملاقات ہوئی ان میں سے ایک نے حدیث ثقلین کی تضعیف میں کتابچہ پیش کیا، جب میں نے اس کا مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ علم حدیث میں نو وارد ہیں، لہٰذا اس تحقیق میں جن دو نکات ضعف کی طرف میں نے اشارہ کیا وہ یہ ہیں:
١۔ انھوں نے اس حدیث کے منابع کی تلاش میں صرف بعض معمولی کتابوں کی طرف رجوع کیا تھا اوراس امر میں کوتاہی کی اور بے شمار طرق اور صحیح اسناد اور (قرائن و شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے) فراموش کیا۔
٢۔ محدثین کے کلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور اس حدیثی قاعدہ (ان الحدیث الضعیف یتقوی بکثرة الطرق)١ پر توجہ نہ کی جب کہ خود حدیث کے لئے بے شمار صحیح سندیں موجود ہیں. اس سے پہلے بھی مجھے اطلاع ملی کہ کویت میں کسی ڈاکٹر نے حدیث ثقلین کی تضعیف میں رسالہ لکھا ہے اور جب کویت سے ایک نامہ موصول ہوا جس میں مجھ پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ میں نے کیوں کر حدیث ثقلین کو جو کہ ضعیف السندہے اپنی کتاب صحیح الجامع الصغیر میں ذکر کیا ہے۔٢ اور اس حدیث کی تضعیف میں اس شخص نے اسی ڈاکٹر کے رسالہ سے استناد کیا اوراسی رسالہ کی وجہ سے میری باتیں ان کے لئے تعجب آور تھیں۔
____________________
(١) حدیث اگر ضعیف ہو تو کثرت طرق اسے ضعف سے خارج کرتے ہیں.
(٢) شمارۂ ٢٤٥٣۔ ٢٤٥٤۔ ٢٧٤٥و ٧٧٥٤
میں نے ان سے کہا: وہ خود اس مسئلہ پر تحقیق کریں تاکہ ڈاکٹر کی خطا ظاہر ہوسکے اور خود نامہ نگار کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے دیگر لوگوںہی کی طرح دوسروں کے نوشتوں پر تکیہ کرتے ہوئے ایک پختہ عالم اور نووارد شخص کے درمیان فرق کو مدنظر نہیں رکھا. بہرحال خدا رحم کرے۔١
البانی کے پورے کلام کو میں نے ذکر کیا تاکہ وہابی (کہ جو ہمیشہ حدیث ثقلین کی تضعیف میں ڈاکٹر علی احمد سالوس کی کتاب چھاپ کر اسے منتشر کرتے ہیں) جان لیں کہ اس شخص کوعلم حدیث و رجال سے کوئی اطلاع نہیں اور البانی کے اس کلام کا مقصد ڈاکٹر سالوس کی رد ہے۔
مذہب تشیع کا تشخص
جب تک کہ کسی مذہب کے فکری مضامین کا دقیق تجریہ نہ کیا جائے ا س وقت تک اس مذہب کی فکری ہویت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا. لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہابیوں نے غلط راستہ کا انتخاب کیا اور تشیع کے افکار کی تحلیل کئے بغیر انھیں مجوسی قرار دینے لگے،کیونکہ منطقی لحاظ سے تشیع کے تشخص پر تحقیق کی منزل اس مذہب کے حقائق کو جان لینے کے بعد قرار پاتی ہے. لہٰذا اس بحث کوہم نے اس مقام پر ذکر کیا ہے تعجب ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تشیع کا فکری تشخص اسلامی و عربی ہے، لیکن
____________________
(١) یہاں البانی کا کلام ختم ہوا
ان کا نژادی تشخص پوری طرح سے فارسی ہے. اور ہم محکم دلائل کے ذریعہ آئندہ مباحث میں ثابت کریں گے، کہ صدر اسلام میں تمام شیعہ عرب اور اکثر ایرانی، اہلسنت تھے یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں ان کی مدح سرائی کی کہ وہ اہل سنت کے پیرو ہیں. لیکن بعد میں ایرانیوں نے کچھ دلائل کی بنا پر تسنن کو ترک کر کے شیعیت اختیار کرلی۔
جب ہمارے لئے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک الوہیت و نبوت کی حقیقت قرآن و سنت سے ماخوذ اور ان کے فقہی احکام سوفیصد قرآن و سنت سے مطابقت رکھتے ہیں تو قرآن و مذہب امامیہ کے اہداف میں کوئی فرق نہیں ، او ریہ بھی جان چکے کہ ان کے علمی منابع قرآن و سنت ہیں اور جس امامت کو قرآن نے مطرح کیا ہے وہ اہل تشیع کی پیش کردہ امامت ہے تو اب حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی فکر اور شیعی فکر میں جدائی ناممکن ہے۔
اگر ہم گذشتہ تمام مراحل کو ترتیب کے ساتھ طے کریں تو مذکورہ نتیجہ تک پہنچنا آسان ہوگا لیکن اگر ان مراحل کو طے کئے بغیر شیعیت سے آگاہ ہونا چاہیں تو ممکن ہے کہ تشیع اور غلو میں خلط کا شکار ہو جائیں۔
مذہب کے وجود میں آنے کے اسباب
وہابی قائل ہیں کہ شیعہ او رغلو کا آغاز بیک وقت ہوا اس فکر کے دو اسباب ہیں:
١۔ ان کا ان دو مذاہب کے فکری عناصر سے بے خبر ہونا۔
٢۔ ایک منسجم فکری نظام پر قائم نہ ہونا۔
غالی تفکر نے آلودہ ماحول ، مجوسی افسانوں او ریہودی و مسیحی خرافات میں وجود پایا، لہٰذا غالی اور شیعی افکار (جو قرآن و سنت پر استوار ہیں) کو ایک قرار دینا مضحکہ خیز اور بیہودہ کوشش ہے۔
وہابیوں نے شیعیت سے مربوط اصل متون (حتی متون اہل سنت) کی تحقیق نہیں کی، لہٰذا جس شخص نے سب سے پہلی مرتبہ امیر المومنین حضرت علی کی ولایت کو پیش کیا، یعنی رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے غافل رہے اور سب سے پہلے غالی، یعنی عبداللہ بن سبا کو شیعیت کا موجد قرار دیا،یہی وجہ تھی کہ غلو اور تشیع کے ایک ہونے کا نظریہ وجود میں آیا۔
تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے پہلا فرد جس نے حضرت علی کوالٰہ و معبود قرار دیا عبداللہ ابن سبا ہے لیکن وہابیوں نے الٰہ کے لفظ میں تحریف کرتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ عبد اللہ بن سبا وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے حضرت علی کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصی قرار دیا اور اس طرح وہ شیعیت کی پیدائش کو عبد اللہ بن سبا سے منسوب کرتے ہیں۔
ہم نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ''رحلتی من الوہابیہ'' میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ خود اہلسنت قائل ہیں کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی کو بعنوان وصی پیش کیا ہے، اور یہ نادانی کی انتہا ہے، کہ وہابی الوہیت و وصایت میں خلط کریں۔
وصایت کہ جو قرآن وسنت پر استوار ہے، اورالوہیت علی کہ جو شرک آمیز افکار کا نتیجہ ہے، میں کوسوں فاصلہ پایا جاتا ہے ان تمام مشکلات کی وجہ یہ ہے کہ وہابی گروہ نے مذہب تشیع کی شناخت اور ان کے اعتقادات کی تحلیل میں غلط راستہ کا انتخاب کیا ہے اوران مراحل کو طے کرنے میں منطقی ترتیب کا لحاظ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ سنی و عاقل وہابی محققین ان انحرافات سے آگاہ ہوچکے ہیں۔
بے شمار سنی علماء نے عبد اللہ بن سبا سے وصایت کے انتساب کو شدت کے ساتھ رد کیا ہے. اور کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن سبا سے پہلے حضرت علی ، صحابہ کے درمیان وصی کی حیثیت سے معروف و مشہور تھے او رخود اہل سنت معترف ہیں کہ وہابیوں نے امامیہ کو داغدار بنانے کے لئے اس نظریہ کو پیش کیا ہے تاکہ جاہل افراد یہ تصور کریں کہ مذہب تشیع کی فکری بنیاد ( یعنی امامت اور وصایت علی کا مسئلہ) یہودی شخص نے رکھی ہے۔
تشیع کی پیدائش کے اسباب
مذہب تشیع میں امامت کی حقیقت پر مذکورہ مطالب میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ شیعوں کا بارہ اماموں سے متمسک ہونا قرآن و سنت کے محکم دلائل پر استوار ہے لہٰذا حقیقت امامت کی تحلیل سے پہلے شیعوں کی ولایت مداری کے اسباب پر گفتگو نہیں کی جاسکتی. اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ تشیع کا ولایت اوراہل بیت ٪ سے متمسک ہونا حدیث ثقلین، حدیث اثنیٰ عشر کے اتباع کا نتیجہ ہے اور اہلبیت سے تمسک، قرآن سے متمسک ہونے کے بعد ہے ،تو یہ کہنا پڑے گا کہ تشیع و غلو کی پیدائش کے اسباب میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے، جب کہ وہابی برعکس تصور کرتے ہیں اور اس کی وجہ ان کا خلط جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوناہے. لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کے پہلے مرحلہ کی طرف توجہ فرمائیں تاکہ اس مرض سے نجات پاسکیں۔
وہابیوں کے لئے مذہب امامیہ کی خصوصیات کو کس طرح پیش کریں؟
مذہب امامیہ کے حقائق کے متعلق گفتگو کے سلیقہ سے فارغ ہونے کے بعد اب ہم اس مذہب کی خصوصیات کو بیان کرنے کی روش پیش کرتے ہیں. لہٰذا اس مقام پرتین نکات کا بیان کرنا ضروری ہے۔
١۔ مذہب امامیہ کے خصائص کا سمجھنا اس مذہب کے حقائق کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم نے حقائق تشیع کو مقدم کیا۔
٢۔ کچھ خصوصیات ایسی ہیں کہ جنھیں تمام شیعہ و سنی علماء نے اسلام کے لئے ثابت قرار دیا ہے اور کچھ خصوصیات ایسی ہیں کہ جنھیں وہابیوں نے اسلام سے منسوب کیا ہے اور ان دو کے درمیان خلط ملط نے وہابیوں کو مشکل سے دوچار کیا بلکہ اسی مشکل کے سبب دیگر مذاہب کوانھوں نے متہم کیا ہے۔
٣۔ یہ بات واضح ہے کہ وہابی، امامیہ مذہب اور غالی خصائص میں فرق کے قائل نہیں ، لہٰذا بعض غالی خصوصیات کو شیعیت سے منسوب کرتے ہیں ہم نے اپنی کتاب ''رحلتی من الوہابیہ'' میں مذہب تشیع کی خصوصیات کو بیان کیا ہے اور اس مقام پر بالترتیب تین خصوصیات کو پیش کرتے ہیں:
١۔ اہل بیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نسبت امامیہ کا معتدل رویہ۔
٢۔ صحابہ کے متعلق ان کا حقیقت پسند ہونا۔
٣۔ امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت ۔
پہلی خصوصیت
امامیہ مذہب کی مہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ أئمہ (ع) کی بہ نسبت افراط و تفریط کے شکار نہیں ہیںاوران کا یہی رویہ میرے شیعہ ہونے میں بے حد مؤثر ثابت ہوا۔
وہابیت کے دوران میرا یہ تصور تھا کہ اہل سنت اہل بیت ٪ کے بارے میں معتدل نظریہ رکھتے ہیں، نہ افراط کے شکار ہیں اور نہ ہی تفریط کے، (جیساکہ وہ خود اپنے متعلق یہی فکر رکھتے ہیں) لیکن سنی عالم، ابن عقیل شافعی کی کتاب (العتب الجمیل علی اہل الجرح والتعدیل) اور اسی طرح محمد ابو زھرہ کی کتاب (الامام جعفر الصادق) کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اہلبیت کے متعلق ان کا نظریہ حقیقت سے دور او رغیر معتدل ہے. اور صرف مذہب تشیع ہے کہ جن کے یہاں اس مسئلہ میں نہ افراط ہے اور نہ ہی تفریط، مہم بات تو یہ ہے کہ گر چہ اہل سنت نے نواصب او رغلات کے نظریات (جو أئمہ (ع) کے حق میں افراط و تفریط کا شکار ہیں) کو رد کرتے ہوئے ان سے برائت کا اظہار کیا ہے، لیکن خود اہل بیت ٪ کے مقابل منفی موقف رکھتے ہیں۔
یعنی اہل بیت ٪ کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان پر ایمان رکھتے ہیں اوران سے متمسک رہنے کو واجب و ضروری جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان سے متمسک ہونا قرآن سے متمسک ہونا ہے لیکن ان تمام باتوں پر یقین رکھنے کے باوجود غیروں سے متمسک ہیں اورقول یا فعل کے ذریعہ أئمہ (ع) کی مخالفت کرتے ہیں ،لیکن اہل تشیع غلو سے بیزاری او راہل بیت ٪ سے بغیر کسی عداوت کے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وصیت پر عمل کرتے ہیں اوران سے متمسک ہو کر ان کے گفتار و کردار کی تصدیق کرتے ہیں۔
اہل بیت ع کے متعلق یہی نکتہ اہل سنت و شیعہ کی روشی اختلاف کا سبب ہے اس خاص نقطہ کی وجہ سے ان دو روشوں میں فرق پایا جاتا ہے جن میں کوئی اشتراک نہیں بحمد اللہ خدا کا لطف و کرم اور اس کی ہدایت ہے کہ ہم نے امامیہ روش کو انتخاب کیا اور وہابیت سے دستبردار ہوئے۔
دوسری خصوصیت
شیعوں کے یہاں صحابہ کے سلسلہ میں حقیقت پسند نظر پایا جاتاہے، کیونکہ وہ انھیں بشر جانتے ہیں اسی لئے تمام قوانین بشریت ان پر جاری کرتے ہیں لہٰذا دیگر تمام لوگوں کی طرح ان میں خطا کا امکان موجودہے۔
وہابیوں سے امید ہے کہ وہ میری اس بات کو عدالت صحابہ کی نقد قرار نہ دیں بلکہ حقیقت مطلب پر توجہ دیں کیونکہ وہابی اس عنوان سے وحشت زدہ ہیں اور اس کے متعلق کسی بھی قسم کی تنقید پیش نہیں کرتے، امید ہے کوئی عنوان دیئے بغیر اس مضمون پر نگاہ کی جائے۔
یہاں پر اس بات کو ذکر کرنا ضروری ہے کہ شیعوں کے نزدیک تمام صحابہ عادل نہیں ، بلکہ بعض صحابیوں کی عدالت ان کے نزدیک ثابت ہے مجھے پوری طرح تجربہ ہے کہ وہابی عنوان کو بے حد اہمیت دیتے ہیںاو ربعض اوقات عناوین ہی کی وجہ سے بحث کرنے لگتے ہیں. او رجب عنوان بدل جائے تو نزاع بھی ختم ہو جاتاہے یہی وجہ ہے کہ وہ بعض کتب کا مطالعہ ہی نہیں کرتے، لیکن اگر اس کتاب کا نام بدل دیا جائے، توآسانی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے ہیں. لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ان سے گفتگو کے دوران ہوشیا ر رہیں اور مناسب عناوین کا انتخاب کریں میں نے ٣٠٠ کیسٹیں (جس میں وہابیوں سے مناظرہ ہے) میں کوشش کی ہے، کہ لفظ شیعہ کے بجائے اثنیٰ عشریہ سے استفادہ کروں، کیونکہ وہ اس لفظ سے متنفر ہیںاور اثنیٰ عشریہ عنوان کے ذریعہ ان سے گفتگو میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔
اور حدیث ثقلین پیش کئے بغیر صحابہ کے متعلق گفتگو کرنا صحیح نہیں ، کیونکہ وہ صحابہ کی عدالت کے قائل ہیں، یہی وجہ ہے کہ حدیث ثقلین کا انکار کرتے ہیں لہٰذا جب حدیث ثقلین بیان کی جائے، تو خود بخود صحابہ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گاااور اسی طرح ،حدیث ثقلین سے پہلے حدیث غدیر کو بھی بیان نہ کیا جائے کیونکہ اس بحث کے نتیجہ میں صحابہ اور واقعہ سقیفہ سے متعلق مباحث پیش آئیں گے، کیونکہ وہابی واقعۂ غدیر اور صحابہ کے درمیان تلازم و ارتباط کے قائل ہیں. لہٰذا بے شمار وہابی حدیث غدیر کو سیاسی گفتگو قرار دیتے ہیں، جس کا وقت ان کی نظر میں گزر چکا ہے۔(۱)
لیکن حدیث ثقلین کے متعلق ان کی نظر کچھ او رہے اور وہ اسے اہل بیت ٪ کی مرجعیت کی دلیل جانتے ہیں کہ جو عصر حاضر کے لئے بھی ثابت ہے. میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ حدیث غدیر کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم گفتگو کے دوران فرد مقابل کے طرز تفکر کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کریں اور ہمارا ہدف بھی یہی ہے کہ ہم وہابی کو اس کی فکری مشکلات سے نجات دلائیں، لہٰذا چونکہحدیث ثقلین سے پہلے حدیث غدیر کا سمجھنا ایک وہابی کے لئے مشکل ہے، لہٰذا ہم حدیث غدیر کودوسرے مرحلہ میں بیان کریں۔
ہم نے مقدمۂ کتاب میں بھی عرض کیا ،کہ وہابیوں سے گفتگو کے دوران آیۂ تطہیر اور آیۂ مباہلہ کو آیۂ ولایت پر مقدم کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ آیۂ ولایت اور صحابہ میں تلازم و ارتباط کے قائل ہیں اور جب تک صحابہ کا مسئلہ حل نہ ہو حدیث غدیر کے سمجھنے سے عاجز ہیں، لیکن اگر حدیث غدیر سے پہلے آیۂ تطہیر اور حدیث ثقلین کو
____________________
(١) البتہ یہ قول کہ دور حاضر میں حدیث غدیر کے متعلق گفتگو کا کوئی ثمرہ نہیں ، پوری طرح سے یہ نظریہ مردود ہے جس کی طرف اہل سنت اور متأثر شیعہ نے اشارہ کیا ہے او رہم نے کتا ب ''بازخوانی اندیشہ تقریب'' میں اس کا جواب دیا ہے. ( اسکندری، مترجم فارسی)
بیان کیا جائے، تو وہابی فکر، حدیث غدیر، آیۂ ولایت اور صحابہ کے بارے میں غور و خوض کے لئے آمادہ ہوسکتی ہے۔
صحابہ کے لئے اہل سنت اور غالیوں کا رویہ افراط و تفریط کا شکار ہیں، ایسا نہیں کہ تمام صحابہ عادل ہوں اور یہ بھی نہیں کہ کوئی بھی ان میں سے عادل نہ ہو، بلکہ صرف شیعہ ہی صحابہ کے متعلق معتدل نظریہ رکھتے ہیں۔
تیسری خصوصیت
غیبت امام زمانہ ـ پر ایمان رکھنا شیعوں کی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جوانھیں دیگر مذاہب سے ممتاز کرتی ہے، انقطاع وحی اورنبوت کے اختتام کے بعد یہ وہی صاحب غیبت ہیں کہ جن کے توسط زمین و آسمان میں رابطہ قائم ہے۔
ہماری تلاش و کوشش ہے کہ اس حیات بخش عقیدہ کو ایک نئی شکل میں وہابیوں کے لئے پیش کریں تاکہ وہ اس کے عناوین واصطلاحات کو رد نہ کریں غیبت امام ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے بارے میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غیبت سے ٢٥٠ سال پہلے خبر دی او راسی وقت بے شمار مسلمان اس خبر پر ایمان لائے اور غیبت کے متعلق بے شمار احادیث جمع ہوئیں. یہاں تک کہ ان میں سے بعض احادیث کو بطور خاص جمع کیا گیا اس طرح ٢٥٠ سال بعد پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیشین گوئی محقق ہوئی اور لوگوں نے اس حقیقت کو نزدیک سے لمس کیا۔
ہم نے کتاب ''رحلتی من الوہابیہ'' کی آخری فصل میں ان احادیث کو بیا ن کیا ہے. جیسا کہ قارئین محترم جانتے ہیں غیبت امام کے مباحث اصل امامت کے ثبوت پر موقوف ہیں، کیونکہ امامت اصل ہے اور غیبت فرع اور غیبت کا مرحلہ حدیث ثقلین کے بعد ہے، کیونکہ حدیث ثقلین امامت سے مربوط ہے اور جب یہ دو مسائل حل ہو جائیں تو پھر غیبت کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
بہرحال اس منطقی ترتیب کا لحاظ ضروری ہے تاکہ وہابی مطالب کو بہتر سمجھ سکیں. ہم نے گذشتہ صفحات میں اشارہ کیا ،کہ یہ کتا ب ، ہماری مفصل کتاب (رحلتی من الوہابیہ الی الاثنی عشریہ) کے لئے مقدمہ ہے. لہٰذا اس کتا ب کے تین مرحلوں میں ہم نے اصل او رکلیدی مباحث کو ذکر کیا ہے جن پر تفصیلی تحقیق کتا ب ''رحلتی من الوہابیہ الی الاثنی عشریہ'' میں ذکر ہے تاکہ مذکورہ کتاب کے تمام مطالب واضح ہو جائیں۔
آخرین سخن
مستقبل شیعوں کے لئے
اگر ہم مذہب تشیع کو جذاب شکل میں پیش کریں تو چہ بسا وہ لوگ جنھوں نے اس مذہب پر ستم کیا ہے شیعہ ہو جائیں، کیونکہ اس مذہب اوراس کے حقائق و خصوصیات کو انھوں نے درک نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ا س مذہب سے مخالفت کرتے ہیں اور اس پر بے شمار تہمتیں لگاکر برائت کا اعلان کرتے ہیں. اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر وہابی امامیہ حقائق کو بخوبی سمجھ لیں تو وہابیت سے دستبردار ہوکر شیعہ مبلغ بن جائیں. وہابی متحیر ہیں کہ کس طرح شیعیت بے شمار دشمنوں کے ہوتے ہوئے ( جن کا مقصد ہی شیعیت کی نابودی ہے) دنیا کے تمام گوشوں میں نفوذپیدا کررہی ہے؟ اس ترقی کا راز مذہب امامیہ کے محکم و مضبوط افکار اور اسلامی حقائق کے سمجھنے میں ان کا معتدل رویہ ہے. وہابی یہ جانتے ہیں کہ مذہب امامیہ نے اپنے محکم افکار کے ذریعہ سینکڑوں سنیوں اور وہابیوں کو اپنی طرف جذب کیا ہے. اور کل تک جو شیعوں کے سرسخت دشمن تھے وہ آج اسی مذہب کا دفاع کرنے والے بن چکے ہیں۔
بہت کم مناطق (عربی یا غیر عربی) ایسے ہیں کہ جہاں شیعوں کا نفوذ نہ ہو اوروہابی یہ بھی جانتے ہیں کہ عنقریب دنیا کے اکثر مسلمان شیعہ ہوجائیں گے، کیونکہ شیعوں نے وہاں وہاں نفوذ پیدا کیا ہے جہاں جہاںانھیں امید بھی نہ تھی لہٰذا انھیں یقین ہے کہ مستقبل شیعوں کے ہاتھ میں ہوگا۔
دور حاضر کے وہابی مصنف علی سالوس لکھتے ہیں:دور حاضر میں مذہب امامیہ اسلام کا سب سے بڑا فرقہ ہے(۱) یہ وہ شخص ہے کہ جسے شیعیت سے سخت دشمنی تھی اور ہے۔ اگر ہم شیعیت کو بہترین شکل میں پیش کریں تو یہ بات یقینی ہے کہ گزر زمان کے ساتھ ساتھ وہابی شیعہ ہوں گے اور مستقبل شیعوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ایک او روہابی مصنف شیخ ربیع بن محمد سعودی لکھتے ہیں:
مصر سے چار یا پانچ سال کی دوری کے بعد جب میں قاہرہ پہنچا تو وہاں ایک نئی فکر کو محسوس کیا اور تعجب کی بات یہ تھی، کہ وہ افراد جوہم میں سے تھے آج اس نئی فکر کے پیرو ہیں. مشہور مصری علماء کے فرزند اور ہمارے ہم کلاس طلبہ جن کے متعلق ہم حسن ظن رکھتے تھے، سب کے سب آج اس نئی فکر (تشیع) کے پیرو ہیں(۲) اور میں نے بھی اسی قسم کے افراد کے لئے یہ کتاب لکھی تاکہ وہ جان لیں کہ شیعہ اور وہابی کے درمیان منطقی گفتگو محال نہیں ۔
____________________
(١) الشیعہ الاثنی عشریہ فی الاصول و الفروع، ج ١ ، ص ٢١
(٢) مقدمہ کتاب الشیعة الامامیة فی میزان الاسلام
حتی معروف و متعصب وہابی مصنف ڈاکٹر ناصر قفاری لکھتے ہیں:
بے شمار لوگ شیعہ ہوچکے ہیں. اور جو بھی کتاب ''عنوان المجد فی تاریخ البصرة و النجد'' کا مطالعہ کرے تو متحیر ہوگا کہ کس قدر قبایل شیعہ ہوچکے ہیں۔(۱)
اور پھر وہ شیعہ کو ایک بڑا عظیم فرقہ قرار دیتے ہیں جس قدر وہابی کتب کا مطالعہ کیا جائے اتناہی یقین ہوتا جائے گا کہ مستقبل شیعوں کے ہاتھ میں ہے. اور یہ بات واضح ہے کہ اس مذہب نے سنی اور وہابیوں کے درمیان قابل توجہ ترقی کی ہے۔
مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے استاد شیخ عبد اللہ عثمان اپنی کتاب، جو ابن تیمیہ کی ''کتا ب منہاج السنہ'' کا خلاصہ ہے، میں لکھتے ہیں:
تشیع نے تمام اسلامی مناطق کو فتح کرلیا ہے.١ خود یہ لوگ جانتے ہیں کہ عنقریب یہ شیعہ ہیں کہ جو وہابیوں کواپنی طرف مائل کرلیں گے۔
ایک اور وہابی مصنف محمد بن عبد الرحمن مغراوی ہیں یوں بشارت دیتے ہیں:میں مغرب کے جوانوں میں تشیع کے نفوذ سے خوفزدہ ہوں۔(۲)
مجدی محمد علی محمد لکھتے ہیں:
ایک سنی جوان جو شک و تردید کے طوفان میں مبتلا تھا نے مجھے دیکھا اس کے تحیر کا سبب اس کی شیعی افکار سے آگاہی تھی۔(۳)
____________________
(١) مقدمہ کتاب (اصول مذہب الشیعة الامامیة الاثنیٰ عشریة)
(٢) من سب الصحابة و معاویة فأمّہ ھاویہ ، ص ٤
(٣) انتصار الحق ، ص ١٤۔ ١١.
اور اس طرح کی سینکڑوں عبارتیں موجود ہیں. لہٰذا ضروری ہے کہ ہم مذہب امامیہ کو منطقی او رصحیح انداز میں پیش کر کے وہابیوں میں نفوذ پیدا کریں اور شیعیت کے حقائق اور خصوصیات کو صحیح طور پر بیان کریں اور مہم نکتہ یہ ہے کہ وہابیوں سے گفتگو کا آغاز شبہات کاجواب دینے کے بجائے حدیث ثقلین سے ہو، گرچہ ان شبہات کا جواب دینے سے پہلے ایک وہابی کو قانع کرنا ایک طاقت فرسا کام ہے. لیکن خدا اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور اسے تمام ادیان پر برتری عطا فرماتا ہے: (وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب بنائے)(۱) اورحقیقت بھی یہی ہے ۔
یمن کا سنی معاشرہ ڈاکٹر عصام العماد کو شہر صنعا کی مسجد میں امام جماعت اورایک مدرس کی حیثیت سے جانتا تھا یہ وہی طالب علم تھے کہ جنھوں نے قاضی سلامہ، محمد بن اسماعیل عمرانی، اور ڈاکٹر عبدالوہاب دیلمی جیسے بزرگ علماء کے سامنے زانوے ادب تہہ کئے. اور علم حدیث حاصل کرنے کے لئے ابن سعود یونیورسٹی ریاض میں داخلہ لیا اور مختصر سے عرصہ میں ابن باز (جو سعودی عرب کے عظیم مفتی ہیں) کے یہاں حاضر ہونے کی اجازت حاصل ہوئی جس کے بعد آپ نے افراط و تفریط کے ساتھ شیعیت کے مقابل موضع گیری کی اور آپ کا شمار سخت ترین دشمنوں میں ہونے لگا...
لیکن کسے معلوم تھا کہ وہی شخص ایک دن ہزاروں لوگوں کو شیعیت کی طرف جذب کرے گا اور عثمان الخمیس جیسے متعصب وہابی کے ساتھ مناظرہ انجام دے گا۔
بے شک خدا جو چاہے وہی ہوتا ہے۔
____________________
(١) سورۂ صف، آیت ٩
فہرست
انتساب ۴
حرف اول ۵
عرض ناشر ۷
عرض مترجم(نسخۂ عربی) ۹
پیشگفتار ۱۲
مذہب امامیہ کو وہابیت کے لئے کس طرح پیش کیا جائے! ۱۷
حقائق اور مذہب امامیہ کی خصوصیات کی تین مرحلے: ۱۸
پہلا مرحلہ: مذہب امامیہ کی وابستگی کے لحاظ سے معرفت۔ ۱۸
(دوسرا مرحلہ) مذہب امامیہ کی دقیق معرفت ۱۸
(تیسرا مرحلہ) مذہب امامیہ کی بنیادی معرفت ۱۸
(مذہب امامیہ کی خصوصیات) ۲۰
مذہب امامیہ کی خصوصیات ۲۱
تصویر (١) ۲۳
(پہلا مرحلہ) ۲۵
مذہب تشیع کا غلو سے کوئی ربط نہیں ۲۵
شیعہ شناسی کے مختلف مطالعاتی طریقے ۲۷
مرحلۂ اول کے نتائج ۴۱
وھابیوں کے انحراف کی دلیلیں ۴۱
''مشکل خلط کے منفی آثار'' ۴۶
تصویر (٢) ۴۷
وہابی تفکر میں انحراف کے اسباب ۴۷
تصویر (٣) ۴۸
مشکل خلط کے منفی آثار ۴۸
وھابیوں کے اشتباہات کا تاریخی پس منظر ۵۱
وھابی مصنفین کی تقسیم بندی ۵۴
(غلو کے معنی سے آگاہ نہ ہونا) ۵۷
(غلو کے مفہوم کو وسعت دینے کا انجام) ۶۰
١۔ خدا کی صفات خبریہ کے متعلق فتنہ برپا کرنا۔ ۶۰
غلو اور غالیوں کے متعلق مذہب امامیہ کا نظریہ ۷۸
دوسرا مرحلہ ۸۱
مذہب امامیہ کی تجزیاتی شناخت ۸۱
١۔ امامیہ کے نزدیک الوہیت و نبوت کی حقیقت ۸۱
٢۔ امامیہ مذہب میں شریعتوں اور احکام کی حقیقت ۸۲
٣۔ مذہب امامیہ کے اہداف ۸۲
٤۔ تشیع میں بعض رائج مفاہیم ۸۳
تیسرا مرحلہ ۸۴
مذہب امامیہ کی بنیادی شناخت ۸۴
١۔ امامیہ مذہب کے منابع ۸۴
٢۔ مذہب تشیع میں امامت کی حقیقت ۸۴
مذہب تشیع کا تشخص ۸۹
مذہب کے وجود میں آنے کے اسباب ۹۱
تشیع کی پیدائش کے اسباب ۹۲
وہابیوں کے لئے مذہب امامیہ کی خصوصیات کو کس طرح پیش کریں؟ ۹۲
پہلی خصوصیت ۹۳
دوسری خصوصیت ۹۳
تیسری خصوصیت ۹۵
آخرین سخن ۹۶
مستقبل شیعوں کے لئے ۹۶