منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)
گروہ بندی رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
مصنف سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی (گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


نام کتاب: منارۂ ہدایت،جلد ۱

(سیرت رسول خدا(ص))

تالیف:

سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی

(گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )

ترجمہ: نثار احمد زین پوری

تطبیق اورتصحیح : قمر عباس آل حسن

نظر ثانی : سید محمد جابر جوراسی

پیشکش : ادارہ ترجمہ معاونت فرہنگی ،مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

ناشر : مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

طبع اول : ۱۴۲۹ھ ۲۰۰۸ئ

تعداد: ۳۰۰۰


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافوراور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی(ص) غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔اگرچہ رسول(ص) اسلام کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی،


پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کے سامنے پیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت پر ٹکی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینے کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت(ص)و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر(عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جس کو فاضل جلیل مولانا نثار احمد زین پوری صاحب نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

و السلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


عرض مؤلف

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للّٰه الّذی اعطیٰ کلّ شیئٍ خَلْقَه ثم هدیٰ ثم الصلوٰة و السلام علیٰ من اختارهم هداة لعباده لا سیِّما خاتم الانبیاء و سید الرسل و الاصفیاء ابی القاسم المصطفیٰ محمد و علیٰ آله المیامین النجباء

حمد ہے بس اس اللہ کے لئے جس نے انسان کو عقل و ارادہ جیسی قوت عطا کی ہے، عقل کے ذریعہ وہ حق کا سراغ لگاتا ہے ،اسے دیکھتا ہے اور اسے باطل سے جدا کر لیتا ہے وہ ارادہ کے وسیلہ سے اس چیز کو اختیار کرتا ہے جو اس کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کا باعث اور اس کے حق میں مفید ہوتی ہے ۔

بھلے برے کو پہچاننے والی عقل کو خدا نے اپنی مخلوق پر حجّت قرار دیا ہے اور اپنی ہدایت کے ذریعہ اس کی مدد کی ہے ، اس نے انسان کو وہ چیز سکھائی جس کا اسے علم نہیں تھا اور اس کے مناسب حال، کمال کی طرف اسکی ہدایت کی اور اسے اس غرض ومقصد سے آگاہ کیا جس کے لئے اسے پیدا کیا اور جس کے لئے وہ اس دنیا میں آیا ہے ۔

قرآن مجید نے اپنی صریح آیتوںکے ذریعہ ربّانی ہدایتوں کے مناروں، اس کے آفاق ، اس کے لوازم اور اس کے راستوں کو واضح کیا اور پھر ایک طرف تو ہمارے لئے اس کے علل و اسباب کو بیان کیا اور دوسری طرف اس کے نتائج پرسے پردہ ہٹایا۔

خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( قل انّ الهُدیٰ هو الهُدیٰ ) ( ۱ )

آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت، بس اللہ کی ہدایت ہے ۔

( و اللّٰه یهدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم ) ( ۲ )

اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت کردیتا ہے ۔

___________________

۱۔انعام : ۷۱۔

۲۔ بقرہ: ۲۱۳۔


( واللّٰه یقول الحقّ و هو یهدی السّبیل ) ( ۳ )

اور خدا حق ہی کہتا ہے اور وہی سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے ۔

( و من یعتصم باللّه فقد هدی الیٰ صراط مستقیم ) ( ۴ )

جو خدا سے وابستہ ہو جاتا ہے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ہو جاتی ہے ۔

( قل اللّٰه یهدی للحق افمن یهدی الیٰ الحق احقّ ان یتّبع امّن لا یهدی الّا ان یُهدیٰ فما لکم کیف تحکمون ) ( ۵ )

کہدیجئے کہ خدا حق کی ہدایت کرتا ہے سپس جو حق کی طرف ہدایت کرے وہ قابل اتباع ہے یاپھر وہ لائق اتباع ہے کہ جو ہدایت نہیں کرتا ہے ،بلکہ خود محتاجِ ہدایت ہے ؟تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟

( و یری الّذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربّک هو الحق و یهدی الیٰ صراط العزیز الحمید ) ( ۶ )

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس چیز کوحق سمجھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور وہی عزیز و حمید کے سیدھے راستہ کی ہدایت کرتی ہے ۔

____________________

۳۔ احزاب: ۴۔

۴۔آل عمران: ۲۱ ۔

۵۔یونس: ۳۵۔

۶۔ سبائ: ۶ ۔


( و من اضلّ ممّن اتّبع هواه بغیر هدی من اللّٰه ) ( ۱ )

اور اس سے بڑا گمراہ کون ہوگا جس نے خدا کی ہدایت سے سروکار رکھے بغیربس اپنی خواہش کی پیروی کی۔

ہدایت کا سرچشمہ صرف خدا ہے۔ اس کی ہدایت ، حقیقی ہدایت ہے وہی انسان کو صراط مستقیم اور حق کی راہ پر لگاتا ہے ۔

علم بھی انہیں حقائق کی تائید کرتا ہے اور علماء بھی انہیں کو تسلیم کرتے ہیں۔ بیشک خدا نے انسان کی فطرت میں یہ صفت ودیعت کر دی ہے کہ و ہ کمال و جمال کی طرف بڑھتا رہے ۔ پھر اس کمال کی طرف اس کی راہنمائی کی جو اس کے شایان شان ہے اس کو ایسی نعمتوں سے نوازا جن کے ذریعہ وہ کمال کے راستوں کو پہچان سکتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ہے :( وما خلقتُ الجنَّ و الانسَ الا لیعبدون ) ( ۲ ) میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔

واضح ہو کہ عبادت، معرفت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور معرفت و عبادت ہی ایسا راستہ ہے جو معراجِ کمال تک پہنچاتا ہے ۔

انسان کے اندر خدا نے غضب و شہوت جیسی دو طاقتیں رکھی ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ کمال کی طرف بڑھے لیکن اس پر غضب و شہوت غالب آسکتی ہے اور ان دونوں سے عشق و ہوس کی آگ بھڑک سکتی ہے اس لئے عقل اور معرفت کے دیگر اسباب کے علاوہ انسان کو ایسی چیز کی ضرورت ہے جو اس کی فکر و نظر کو محفوظ رکھ سکے اس پر خدا کی حجّت تمام ہو جائے اور اس کے لئے نعمت ہدایت کی تکمیل ہو جائے مختصر یہ کہ اس کے پاس ایسے تمام اسباب جمع ہو جائیں کہ جو اسے خیر و سعادت یا شر و بدبختی کا راستہ کامنتخب کرنے کااختیار دیدیں(کہ جس پر چاہے گامزن ہو جائے)۔

اس لئے ہدایت ربّانی کا تقاضاہوا کہ وحی اور خدا کے ان برگزیدہ ہادیوں کے ذریعہ عقل انسان کی مدد کی

____________________

۱۔قصص :۵۰۔

۲۔ذاریات: ۵۶۔


جائے کہ جن کے دوش پر بندوں کی ہدایت کی ذمہ داری ہے اور یہ کام معرفت کی تفصیلوں اور زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہبری ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے ۔

ہدایت ربانیہ کی مشعل آغاز تاریخ ہی سے انبیاء اور ان کے اوصیاء کے ہاتھ میں رہی ہے خدا نے اپنے بندوں کو ، ہادی و حجت، ہدایت کرنے والے مناروں اور نور درخشاںچمکتے نور کے بغیرنہیں چھوڑا ہے جیسا کہ عقلی دلیلوں کی تائید کرتے ہوئے وحی کی نصوص نے بیان کر دیا ہے : زمین حجتِ خدا سے اس لئے خالی نہیں رہ سکتی تاکہ خدا پر لوگوں کی حجّت تمام ہو جائے، بلکہ خدا کی حجّت خلق سے پہلے بھی تھی، خلق کے ساتھ بھی ہے اور خلق کے بعد بھی رہے گی اگر روئے زمین پر دو انسان رہیں گے تو ان میں سے ایک حجّت ہوگا۔ اس چیز کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے کہ جس سے شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی؛ ارشاد ہے:

( انما انت منذر و لکل قوم هاد ) ( ۱ )

آپ تو بس ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے ۔

انبیاء اور ان کے ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والے اوصیاء نے ہدایتوں کی ذمہ داری اپنے دوش پر لی تھی ان کی صلاحیتوں کاخلاصہ درج ذیل شقوں میں ہوتا ہے:

۱۔ وحی کو مکمل طور سے درک کریں اورپیغامِ رسالت کو گہرائی سے حاصل کریں، رسالت و پیغام کے حصول کے لئے صلاحیت کامل ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ رسولوں کا انتخاب خدا نے اپنے ہاتھ میںرکھا ہے۔ خدا وند عالم قرآن مجید میں فرمایا ہے:

( اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالته ) ( ۲ )

خد ابہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں قرار دے۔

( واللّٰه یجتبی من رسله من یشائ ) ( ۳ )

____________________

۱۔رعد:۷۔

۲۔انعام: ۱۲۴۔

۳۔ آل عمران ۱۷۹ ۔


اور خدا اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے ۔

۲۔ خدائی پیغام کو بندوں تک اور ان موجودات تک پہنچانا جن کی طرف انہیں مبعوث کیا گیا ہے اور صحیح پیغام اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ جب پیغام کو مکمل اور صحیح طریقہ سے حاصل کیاگیا ہو،وہ رسالت اور اسکے تقاضوں سے واقف ہو اور خطا و لغزش سے معصوم و محفوظ ہو۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:

( کان النّاس امة واحدة فبعث اللّٰه النبیین مبشّرین و انزل معهم الکتاب بالحق لیحکم بین النّاس فیما اختلفوا فیه ) ( ۱ )

سارے لوگ ایک امت تھے پس خدا نے بشارت دینے والے نبی بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کریں۔

۳۔الٰہی پیغام کی روشنی میں مومن امت کی تشکیل، اور رہبر و ہادی کی مدد کے لئے امت کو آمادہ کرناتاکہ رسالت کے مقاصد پورے ہو جائیں اور زندگی میں اس کے قوانین نافذ ہو جائیں، اس مشن کو قرآن مجید میں دو عنوان سے یاد کیا گیا ہے''تزکیہ و تعلیم'' خدا وند عالم فرماتا ہے:

( یزکّیهم و یعلّمهم الکتاب و الحکمة ) ( ۲ )

رسول(ص) ان کو پاک کرتا ہے انہیںکتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔

تزکیہ یعنی اس کمال کی طرف راہنمائی کرنا جو انسان کے شایان شان ہے، تربیت کے لئے ایسا نمونہ چاہئے کہ جس میں کمال کا ہر عنصر موجود ہو، چنانچہ خدا نے ایسا نمونہ بھی پیش کر دیا:

( لقد کان لکم فی رسول اللّٰه اسوة حسنة ) ( ۳ )

بیشک رسول(ص) میں تمہارے لئے اچھا نمونہ ہے ۔

____________________

۱۔بقرہ: ۲۱۳۔

۲۔ جمعہ: ۲ ۔

۳۔ احزاب:۲۱۔


۴۔اور اس پیغام کو اپنی معینہ مدت میں تحریف و تبدیلی اور زمانہ کی دست برد سے محفوظ رہنا چاہئے اس مشن کے لئے بھی نفسانی اور علمی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی نفسانی و علمی صلاحیت کو عصمت کہتے ہیں۔

۵۔ معنوی رسالت کے مقاصد کی تکمیل اور لوگوں کے نفسوں میں اخلاقی اقدار کے نفوذ و رسوخ کے لئے کام کیا جائے اور یہ ربّانی مسائل کے نفوذ کے ساتھ (خدائی حکم کے نفوذ ہی سے ہو سکتا ہے) یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب معاشرہ میں ایک سیاسی نظام کے تحت دین حنیف کے قوانین نافذ ہوں اور امت کے مسائل و معاملات کو ان قوانین کے مطابق رواج دیاجائے جو خدا نے انسان کے لئے معین کئے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے نفاذ کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو حکیم شجاع ، ثابت قدم، لوگوں کے مزاج اور معاشرہ کے طبقوں سے آشنا، فکری رجحان، سیاسی و سماجی دھارے سے آگاہ، نظم و نسق کے قانون اور زندگی کے طریقوں سے با خبر ہو، ایک عالمی اوردینی حکومت چلانے کے لئے مذکورہ صلاحیتوں کی ضرورت ہے ، چہ جائیکہ عصمت جو کہ ایک نفسانی کیفیت ہے۔ یہ قائد کو کجروی اور ایسا غلط کام کرنے سے باز رکھتی ہے کہ جس کا خود قیادت پر منفی اثر ہوتا ہے اوراس صورت میں امت اپنے رہبر کی اطاعت بھی نہیں کرتی ہے اوریہ چیز رسالت کے اغراض و مقاصد کے منافی ہے۔

گذشتہ انبیاء اور ان کے برگزیدہ اوصیاء دائمی ہدایت کے راستہ پر گامزن ہوئے اور تربیت کی دشوار راہوں کو اختیار کیا اور رسالت کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے ،الٰہی رسالت کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں انہوں نے ہر اس چیز کی قربانی دی کہ ایک سر فروش اپنے عقیدہ کے لئے جس کی قربانی دے سکتا ہے ، وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے موقف سے نہیں ہٹے اور چشم زدن کے لئے بھی بہانہ سے کام نہیں لیا چنانچہ ان کی صدیوں کی مسلسل کوشش و جانفشانی کے سلسلہ میں خدا نے محمد(ص) بن عبد اللہ کے سر پر ختم نبوت کا تاج رکھا عظیم رسالت اور ہر قسم کی ہدایت کی ذمہ داری ان ہی کے سپرد کر دی اور آپ(ص) سے کار رسالت کی تکمیل کی فرمائش کی چنانچہ آنحضرت (ص) نے اس پر خطر راہ میں حیرت انگیز قدم اٹھائے اور مختصر مدت میں انقلابی دعوت کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور یہ آپ(ص) کی دن رات کی کوشش و جانفشانی کا ثمرہ دو عرصوں کی دین ہے:


۱۔ بشر کے سامنے ایک ایسا مشن پیش کیا جو اپنے دامن میں دوام و بقا کی دولت لئے ہوئے تھا۔

۲۔ بشریت کو ایسی چیزوں سے مالا مال کیا جو اسے کجروی و انحراف سے محفوظ رکھیں۔

۳۔ایسی امت کی تشکیل کی جو اسلام پر ایمان رکھتی ہے، رسول(ص) کو اپنا قائد سمجھتی ہے اور شریعت کو اپنا ضابطۂ حیات تسلیم کرتی ہے ۔

۴۔ اسلامی حکومت بنائی،اورایسے سیاسی نظام کی تشکیل کی جو پرچم اسلام کو بلند کئے ہوئے ہے اور آسمانی قانون کو نافذ کرتا ہے ۔

۵۔ ربّانی قیادت کے لئے صاحب حکمت اور ایسا جانا پہچاناانسان پیش کیا جو رسول(ص) کی قیادت میں جلوہ گر ہوا۔

رسالت و مشن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ:

الف۔ ایسی قیادت کا سلسلہ جاری رہے جو رسالت کے احکام نافذ کر سکے اور اسے ان لوگوں سے بچا سکے جو اسے مٹانے کے لئے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔

ب۔ صحیح تربیت کا سلسلہ نسلوں تک جاری رہے اس کی ذمہ داری اس شخص پر ہو جو علمی اور نفسانی لحاظ سے انسان کامل ہو جو اخلاق و کردار میں رسول(ص) جیسا نمونہ ہو، جس کی حرکت و سکون میں رسالت کا عکس نظر آئے۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ خدائی منصوبہ تھا ۔ اس نے رسول(ص) پر یہ فرض کیا کہ رسول اپنے اہل بیت میں سے منتخب افراد کو تیار کریں اور ان کے نام اور کردار کو بیان کریں تاکہ وہ حکم خدا سے نبی(ص) کی تحریک اور خدائی ہدایت کی ذمہ داری کو قبول کر لیں رسالت الٰہیہ کو(جس کے لئے خدا نے دوام لکھدیا ہے-) جاہلوں کی تحریف سے اور خیانت کاروں کی دست برد سے بچائیں اور نسلوں کی تربیت اس شریعت کی رو سے کریں جس کی نشانیوں کو بیان کرنے اور ہر زمانہ میں جس کے اسرار و رموز کو واضح کرنے کی ذمہ داری اپنے دوش پرلی ہے یہاں تک کہ خدا انہیں زمین اور اس کی تمام چیزوںکا وارث بنا دے ۔


یہ خدائی اور الٰہی منصوبہ رسول(ص) کی اس حدیث سے واضح ہوتا ہے:

''انّی تارک فیکم الثّقلین ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ، کتاب اللّٰه و عترتی و انّهما لن یفترقا حتی یردا علّ الحوض''

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہے تو ہر گز گمراہ نہ ہوگے ایک خدا کی کتاب اور دوسرے میری عترت یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوںگے یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) پر پہنچیں گے۔

امت کی قیادت و رہبری کے لئے نبی(ص) نے حکمِ خدا سے جن لوگوں کا تعارف کرایا تھا ان میں ائمہ اہل بیت سب سے افضل ہیں۔

بیشک اہل بیت میں سے بارہ اماموں نے رسول(ص) کے بعد اسلام کے حقیقی راستہ کی نشاندہی کی ۔ ان کی زندگی کی مکمل تحقیق و مطالعہ سے خالص اسلام کی تحریک کی پوری تصویرسامنے آتی ہے اب اس کے نقوش امت میں گہرے ہو رہے ہیں حالانکہ رسول(ص) کی وفات کے بعد اس کا جوش و ولولہ ماند پڑ گیا تھا۔ ائمہ معصومین نے امت کی روشن فکری اور اس کی طاقت کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی اور شریعت و تحریک اور انقلاب رسول(ص) سے متعلق امت کے اندر بیداری پیدا کی حالانکہ وہ دنیا کی اس روش سے بھی نہیں ہٹے جو امت اور رہبر کے طرز عمل پر حاکم ہے۔

ائمہ معصومین کی پوری حیات اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی سنتِ رسول(ص) سے جدا نہیں ہوئے اور امت نے بھی ان سے اسی طرح استفادہ کیا جس طرح منارۂ ہدایت سے استفادہ کیا جاتا ہے یا جیسے اس چراغ سے استفادہ کیا جاتا ہے جس کو راستہ چلنے والوں کے لئے سر راہ رکھ دیا جاتا ہے پس وہ خدا اور اس کی رضا کی طرف راہنمائی کرنے والے، اس کے حکم پر ثابت و پابند ، اس کی محبت میں کامل اور اس کی ملاقات کے شوق میں گھلنے والے اور کمالِ انسانی کی چوٹیوں پر پہنچنے کے لئے سبقت لے جانے والے ہیں۔


ان کی زندگی جفا کاروں کی جفا سے اورا طاعتِ خدا میں صبر و جہاد سے معمور ہے ۔ احکام خدا کے نفاذ کے سلسلہ میں انہوں نے بے مثال ثابت قدمی اور استقلال کا ثبوت دیا اور پھر ذلت کی زندگی قبول نہ کرتے ہوئے عزت کی موت قبول کر لی یہاں تک کہ ایک عظیم جنگ اور جہاد اکبر کے بعدخدا سے جا ملے۔

مورخین اور صاحبان قلم ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں کو بیان نہیں کر سکتے اور یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہم نے ان کی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کر لیاہے ظاہر ہے کہ ہماری یہ کاوش بھی ان کی زندگی کے بعض درخشاں پہلوئوں ہی کو پیش کرے گی۔ ہم نے ان کی سیرت و کردار اور موقف کے انہیں گوشوں کو بیان کیا ہے جو مورخین نے تحریر کئے ہیں۔

ہاں ہم نے ان کے منابع و مصادر کا مطالعہ کیا ہے ۔امید ہے کہ خدا اس کے ذریعہ فائدہ پہنچائے گا وہی تو فیق دینے والا ہے۔

اہل بیت کی رسالتی تحریک خاتم النبیین رسول(ص) اسلام محمد بن عبد اللہ سے شروع ہوتی ہے اور خاتم الاوصیاء محمد بن حسن العسکری حضرت مہدی منتظر (خدا ان کے ظہور میں تعجیل کرے اور ان کے عدل سے زمین کو منورکرے)پر منتہی ہوتی ہے۔

یہ کتاب رسول مصطفیٰ حضرت محمد(ص) بن عبد اللہ کی حیات سے مخصوص ہے کہ جنہوں نے اپنی فردی اور اجتماعی زندگی کے ہر موڑ پر اور حالات کی سیاسی و اجتماعی پیچیدگی میں اسلام کے ہر پہلو کو مجسم کر دکھایا اور اسلام کے مثالی اقدار کی بنیادوں کو فکر و عقیدہ کی سطح پر بلند کیا اور اخلاق و کردار کے آفاق پر اونچا کیا۔

ہم یہاں جناب حجة الاسلام و المسلمین سید منذر الحکیم حفظہ اللہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی ہیئت تحریریہ اور ان تمام برادران کا شکریہ ادا کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں حصہ لیاہے ہم خداوند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس مجموعے کی تکمیل کی توفیق مرحمت فرمائی وہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے ۔

مجمع عالمی اھل البیت علیہم السلام

قم المقدسہ


پہلا باب

مقدمہ

سیرت و تاریخ کی تحقیق کے بارے میں قرآن کا نظریہ

پہلی فصل

خاتم النبیین (ص) ایک نظر میں

دوسری فصل

بشارت

تیسری فصل

خاتم النبیین (ص)کے اوصاف


مقدمہ

سیرت و تاریخ کی تحقیق کے بارے میں قرآن کا نظریہ

قرآن مجید نے انبیاء کی سیرت کو پیش کرنے پر خاص توجہ دی ہے ان کی سیرت کو پیش کرنے میں قرآن کا اپنا خاص اسلوب ہے ۔

ان برگزیدہ افراد کی سیرت کو پیش کرنے کے لحاظ سے قرآن مجید کا یہ اسلوب کچھ علمی اصولوں پر قائم ہے ۔

قرآن مجید لہجۂ ہدایت میں بات کرتا ہے ، جو انسان کی اس کے شایان شان کمال کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، اور تاریخی حوادث کے ایک مجموعہ کے لئے کچھ حقیقت پر مبنی مقاصد کو مد نظر رکھتا ہے ، یہ حوادث فردی و اجتماعی زندگی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ممکن ہے یہ علوم و معارف کے ان دروازوں کے لئے کلید بن جائیں جو انسان کے تکاملی سفر میں کام آتے ہیں۔

ان مقاصد تک پہنچنے کے لئے قرآن مجید نے وسیلے معین کئے ہیں چنانچہ وہ عقل اور صاحبان عقل کو مخاطَب قرار دیتا ہے اور انسان کے سامنے نئے آفاق کھول دیتا ہے،وہ فرماتا ہے:

۱۔( فاقصص القصص لعلهم یتفکرون ) ( ۱ )

آپ قصے بیان کر دیجئے ہو سکتا ہے یہ غور کریں۔

____________________

۱۔اعراف: ۱۷۶ ۔


۲۔( لقد کان فی قصصهم عبرة لاولی الالباب ) ( ۱ )

یقینا ان کے قصوں میں صاحبان عقل کے لئے عبرت ہے ۔

بیشک گذشتہ قوموں کی تاریخ اور راہبروں کی سیرت کے بارے میں غور کرکے عبرت حاصل کرنا چاہئے یہی دونوں تاریخ کے بارے میں قرآنی روش کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

واضح رہے کہ سارے مقاصد انہیں دونوں میں محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی دوسرے مقاصد ہیں جن کی طرف خدا کے اس قول میں اشارہ ہوا ہے:

( ما کان حدیثا یفتریٰ ولکنّ تصدیق الّذی بین یدیه و تفصیل کل شیء و هدی و رحمة لقومٍ یومنون ) ( ۲ )

یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو گڑھ لیا جائے قرآن گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اس میں مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

( وکلاً نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت به فواد و جائک فی هذه الحق و موعظة و ذکریٰ للمومنین ) ( ۳ )

ہم آپ سے پہلے رسولوں کے قصے بیان کرتے رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط رکھیں، اور ان قصوں میں حق، نصیحت اور مومنین کے لئے عبرت ہے ۔

انبیاء و مرسلین کی خبروں کو پیش کرنے اور ان کے واقعات کو بیان کرنے کے لئے ہر آیت میں چار مقاصد بیان ہوئے ہیں۔

____________________

۱۔ یوسف:۱۱۱۔

۲۔ یوسف:۱۱۱ ۔

۳۔ہود:۱۲۰۔


قرآن مجید اپنے منفرد تاریخی اسلوب میں مذکورہ چار اصولوں پر اعتماد کرتا ہے :

۱۔ حق

۲۔ علم

۳۔گردش زمانہ کا ادراک

۴۔ اس پر پورا تسلط

قرآن مجید جن تاریخی مظاہر اور ماضی و حال کے اجتماعی حوادث کو بیان کرتا ہے ان میں شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ قرآن نے ان کو حق اور علم کے ساتھ بیان کیا ہے ، خیال و خرافات کی بنیاد پر نہیں۔

خدا نے اس قول کے ذریعہ ان دونوں اصولوں کی تاکید کی ہے ،( ان هذا لهو القصص الحق... ) ( ۱ )

بیشک یہ برحق قصے ہیں۔

اور سورۂ اعراف کے آغاز میں فرماتا ہے :

( فلنقصّنّ علیهم بعلم وما کنا غائبین ) ( ۲ )

اس آیت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ ہم جن واقعات کو بیان کر رہے ہیں وہ ہمارے سامنے رونما ہوئے ہیں۔

ان تمام باتوں کے علاوہ واقعات کے تجزیہ و تحلیل اور اس سے بر آمد ہونے والے نتیجہ میں قرآن مجید کا ایک علمی نہج ہے ایک طرف تووہ تحقیق و استقراء پر اعتماد کرتا ہے دوسری طرف استدلال کا سہارا لیتا ہے ۔

جب قرآن مجید عام طریقہ سے انبیاء کی حیات کو پیش کرتا ہے تو انہیں ایک صف میں قرار دیتا ہے ، سب کو

____________________

۱۔ آل عمران: ۶۲۔

۲۔ اعراف:۷۔


ایک دوسرے کے برابر کھڑا کرتا ہے ، یہ اسلام کی عام روش ہے جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:( ان الدّین عند اللّه الاسلام ) ( ۱ )

پھر اولوالعزم انبیاء میں سے ہر ایک کی سیرت کی گہرائی میں جاتا ہے تاکہ ان کی سیرت کے ان پہلوئوں کو بیان کر دے جن میں وہ ایک دوسرے سے جدا ومنفرد ہیں اور ان کو پہلے والوں سے متصل کر دے اور ان کی سیرتوں سے ملحق ان حوادث کو پہچان لے جو حیات انسانی کے ساتھ جاری روش رسالت سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاریخی بحث کا فطری یہ خاصہ ہے ، اس میں تحریف ہو جاتی ہے ، کہیں ایہام و چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے کبھی تاریخی حقائق پر پردے ڈال دئے جاتے ہیں یا دھیرے دھیرے حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے اور پھر اتنی واضح ہو جاتی ہے کہ جس سے انسانی معاشرہ تغافل نہیں کر پاتا ہے اور حقائق سے آنکھیں بند کر کے آگے نہیں بڑھ پاتا ہے ۔

سورۂ یوسف کی ۱۱۱ویں آیت میںاسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا کہ تاریخی حقائق میں مبالغہ آرائی، افتراء اور بغیر علم کے بحث و تحقیق کا امکان ہے ، لیکن جس حق پر، پردہ ڈال دیا گیاہے وہ کسی نہ کسی زمانہ میں ضرور ظاہر ہوگا۔

یہاں سے قرآنی مکتب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کے جو یا انسان کو ایسے متعلقہ اسلحہ سے لیس کر دے جو مکمل طریقہ سے حقیقت کا انکشاف کر دے۔

یقینا قرآن نے ایسا محکم و ثابت نظر یہ پیش کیاہے کہ جس سے فکر انسانی کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکتی اس نظریہ کو محکمات اور امُّ الکتاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہی فکرِ انسانی کے لئے ثابت ،ناقابل تغیراور واضح حقائق ہیں؛ ان میں کسی شک و تردیدشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔

یہی محکم و ثابت حقائق فکر انسان کے لئے ہمیشہ وسیع زاوئیے اور بنیادی چیزیں پیش کرتے ہیں یہ حقائق ایسی چیزوں پر مشتمل ہیں کہ جو مادہ کی گرفت اور اس کی حد سے باہر ہیں۔ کیونکہ قرآن مبہم اورمتنازعہ پذیر

____________________

۱۔عمران:۱۹۔


پذیرچیزوں کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونے کو بھی جائز نہیں سمجھتا ہے ۔

قرآن مجید اپنے ذہین قاریوںکو دو ر استوں کی طرف ہدایت کرتا ہے ایک یہ کہ وہ مبہم اور متنازعہ چیزوں کے بارے میں کیا کرے تاکہ انسان ایسے واضح نتیجہ پر پہنچ جائے جو معیار قرار پائے دوسرے فکر انسانی کے سامنے آنے والی ہر چیز سے نمٹنے کے لئے ایک قاعدہ پیش کرتا ہے یہ اصل و قاعدہ ہر نئی چیز سے نمٹنے کے لئے جداگانہ صورت پیش کرتا ہے اور ذہنِ انسان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ پیش آنے والی چیز کے لحاظ سے وہ اپنا موقف اختیار کرے۔

خداوند عالم نے اس جانب اشارہ کرنے کے بعد کہ قرآن وہ فرقان ہے جسے اللہ نے اپنے امین رسول(ص) پر نازل فرمایا ہے ۔یہ ارشاد فرمایا ہے:

( هو الّذی انزل علیک الکتاب منه آیات محکمات هن امُّ الکتاب و أُخَرُ متشابهات فامّا الّذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة و ابتغاء تاویله وما یعلم تاویله اّلا اللّٰه و الرّاسخون فی العلم یقولون آمنا به کل من عند ربنا و ما یذکر الا اولوا الالباب ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا و هب لنا من لدنک رحمة انک انت الوهاب ) ( ۱ )

وہ خدا وہی ہے جس نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس کی آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہے اور کچھ متشابہہ ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ انہیں متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تاکہ فتنے بھڑکائیںاور من مانی تاویلیں کریں حالانکہ اس کی تاویل کا علم خدا اور ان لوگوں کو ہے جو علم میں رسوخ رکھتے ہیں وہ تو یہی کہتے ہیں: ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں یہ سب آیتیں تو خدا ہی کی طرف سے آئی ہیں، (لیکن)نصیحت تو صاحبان عقل ہی اخذ کرتے ہیں، پروردگارا ہم سب کو ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوںکو کج نہ ہونے دے اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا کر بیشک تو بڑا فیاّض ہے ۔

____________________

۱۔ آل عمران: ۷ و ۸۔


یقینا نفس کا کجی سے محفوظ ہونا، انسان کو فتنہ پر دازیوں سے بچاتا ہے اور یہیں سے انسان متشابہ آیتوں کا اتباع چھوڑ کر حقیقت کو قبول کر لیتا ہے بلکہ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیتا ہے ۔

انسان کی عقل ،بے دلیل اور غیر علمی تفسیر کے درمیان حائل ہو جاتی ہے بلکہ یہ عقل ہی ہے جو اسے محکم آیتوں اور ام الکتاب کی پابندی کرنے کی ہدایت کرتی ہے اور ایسا نقشہ کھینچتی ہے کہ جس سے کسی بھی صورت میںچشم پوشی نہیں کی جا سکتی ان حقائق اور محکم نشانیوں کی روشنی میں ہم کچھ ایسی آیتوں کا بھی مشاہدہ کرتے ہیںکہ جن سے تجاوز نہیں کیاجا سکتا۔

نفس کے آفاق فکر کے آفاق کو روشن کرتے ہیں تاکہ انسان اس چیز کے بارے میں غور کرے جو اس سے پہلے واضح اور آشکار نہیں تھی ۔ اس طرح وہ عقلمند انسان ، جو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکا ہے ، کجی سے محفوظ رہتا ہے ، اور متشابہہ آیتوں کی تفسیر و تحلیل میں عجلت سے کام نہیں لیتا ہے بلکہ ان کی تفسیر کے سلسلہ میں وہ ایک پڑھے لکھے انسان کا کردار ادا کرتا ہے اگر وہ حقیقت کشف کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو بھی وہ ان کا انکار نہیں کرتا اور نہ ان کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس چیز کو اس کے منبع کی طرف لوٹا دیتا ہے اور معاملہ کو اپنے پروردگار کے سپرد کر دیتا ہے کہ جس نے ان آیتوں کو نازل کیا ہے اور اپنی مطلوبہ شئی کو اسی سے سمجھنا چاہتاہے اور دعا کرتا ہے کہ مجھے ہمیشہ ہدایت و رحمت سے سرافراز فرما۔

یہی صحیح موقف ہے نصوص سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے یہ منطقی طریقہ ہے کیونکہ عقلمند انسان تحقیق و تحلیل میں عجلت سے کام نہیں لیتا ۔

یہ حقیقت ہم سورہ ہود کی پہلی ہی آیت :( الر،کتاب احکمت آیاته ثم فصلت من لدن حکیم خبیر ) .( ۱ ) ''الرا۔یہ آیات ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم ہیں پھر صاف صاف بیان بھی کی گئی ہیں ایک با خبر حکیم کی طرف سے''سے سمجھ چکے ہیں کہ تفصیل کی نوبت آیتوں کے محکم ہونے اور ان آیتوں کی تعیین کے بعد آتی ہے جو ام الکتاب ہیں اور بنیادی اصول ہیں چنانچہ سورۂ آل عمران کی ساتویں آیت

____________________

۱۔ہود:۱۔


( منه آیات محکمات هنّ امُّ الکتاب ) ( ۱ ) نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے ۔

سورۂ رعد کی ۳۹ ویں آیت اس نکتہ کو اور زیادہ روشن کر دیتی ہے ارشاد ہے:( یمحوا اللّه ما یشاء و یثبت و عنده امُّ الکتاب )

یعنی خدا جس چیز کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ثابت کرتا ہے کہ اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ ام الکتاب میں سے نہ کسی چیز کو محو کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم ہوتی ہے اس کے علاوہ حالات کے تحت ہر چیز سے محو و تغیر کا تعلق ہوتا ہے ۔

تاریخی واقعات کے بارے میں قرآن کا جو نظریہ و نہج ہے اس کی وضاحت کے لئے یہ آیتیں کافی ہیں، تفصیل کے بارے میں جو اختلاف ہے اس سے اصل حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور جو چیز تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے اس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ اس کی روشنی میں ہر اس چیز کو درست کیا جا سکتا ہے جو سیرت اور تاریخ اسلام یا اسلام سے پہلے کی ان تاریخوں میں وارد ہوئی ہے جو انبیاء اور ان کی امتوں سے متعلق ہیں، لیکن تاریخی حقائق سے کسی بھی صورت میں چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اورنہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے یہی تفسیر کی رد و قبول اور اس چیز کے غلط و صحیح ہونے کا معیار ہے جو تاریخ کی کتابوں میں مرقوم ہے ۔

چونکہ تاریخ میں حق و باطل یک جا ہو گئے ہیں لہذا تاریخ کے موضوع کی جانچ پرکھ کے لئے ایسے وسائل درکار ہیں جو مکمل حقیقت کے انکشاف میں ہماری مدد کریں۔

تاریخی حقائق (جن کی عقل و نقل نے تائید کی ہے) ہی تفسیر، تاویل ،فیصلے اورمذمت کا معیار ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے انبیاء اور ان کی امتوں کی سیرت و تاریخ کے سلسلہ میںاسی قانون پر عمل کیا ہے اور ہمارے سامنے ایسی واضح تصویر پیش کی ہے جس میں تمام انبیاء مشترک ہیں اور نبوت و اصطفا جوکہ نبی (ص) کی شخصیت سے پیدا ہوتے ہیں، اس کی اہلیت و استعداد کو معیار سمجھا گیا ہے کیونکہ خدا اسے خلق کی ہدایت کے لئے منتخب کرتا ہے اور وہ اوصاف یہ ہیں: کامل العقل ہو، ذی شعور ہو ، صلاح و صبر سے آراستہ ہواور شعورو بصیرت کے ساتھ خدا کا عبادت گذار ہو۔

____________________

۱۔آل عمران: ۷۔


خدا نے اپنے نبی(ص) کو مخاطب کرکے فرمایا ہے :

( قل انّی علیٰ بیّنة من ربّی... ) ( ۱ ) نیز فرمایا ہے :( قل هذه سبیلی ادعوا الیٰ اللّه علیٰ بصیرة انا و من اتبعنی... ) ( ۲ )

کہدیجئے! کہ میں اپنے رب کی واضح دلیل پر ہوں...اور کہدیجئے! کہ یہی میرا راستہ ہے میں اور میرا اتباع کرنے والے بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

یہ ہے قرآن کی منطق جو محکم و ثابت کا نقشہ پیش کرتی ہے ...پھر خدا یسے انسان کو کیسے نبی بنا سکتا ہے جو ادراک و شعور نہ رکھتا ہو؟ اور وہ کسی ایسے شخص کو اپنا نمائندہ کیسے بنا سکتا ہے جو اس کی آیتوں کو ملاحظہ کریں مگر اس سے مطمئن نہ ہوتے ہوں؟ہاں دوسرے اسے مطمئن کرتے ہوں؟! وہ خود نہیں جانتا کہ وہ نمائندہ ہے اور اسے نبوت کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہے وہ نہیں سمجھتا کہ وہ نبی ہے یا خدا کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے یا وہ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں شک کرتا ہے ۔ جوخود ہی بے بہرہ ہو وہ حقیقت ڈھونڈنے والوں کی کیا ہدایت کر ے گا۔ خدا وند عالم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( ...أفمن یهدی الیٰ الحق احقُّ ان یتّبع امّن لا یُهدیٰ الا یهدیٰ فما لکم کیف تحکمون ) ( ۳ )

تو پھر جو راہ حق کی نشاندہی کرتا ہے وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ جو بغیر نشاندہی کے خود راہ حق نہ دیکھ پاتا ہو پس تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسے فیصلے کر بیٹھتے ہو۔ انبیاء کی شخصیت سے متعلق قرآن کریم نے جو واضح صورت پیش کی ہے اور عقل کے محکمات کی بھی جسے تائیدحاصل ہے وہ ان تمام صورتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا معیار ہے کہ جو توریت و انجیل میں داخل کر دی گئی ہیں یا جو ان کتابوں میں نقل ہوئی ہیں کہ جن کو صحاح کا نام دیا جاتا ہے ۔ یا تاریخ کی وہ عام کتابیں کہ جن میں بعض انبیاء مثلا جناب ابراہیم، موسیٰ، عیسی ٰ یا محمد(ص) کے قصے بیان ہوئے ہیں ، خواہ اس صورت کے نقل کرنے والوںکی فہرست میں رسول(ص) کی ازواج ہوں یا کوئی صحابی یا رسول(ص) کے قریبی یا دور کے رشتہ دار ہوں۔

____________________

۱۔ انعام: ۵۷۔

۲۔یوسف:۱۰۸۔

۳۔ یونس :۳۵۔


پہلی فصل

خاتم النبیین(ص) ایک نظر میں

خاتم النبیین، سید المرسلین محمدبن عبد اللہ بن عبد المطلب، کی ولادت اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد ۷ ۱ ربیع الاول ۱ عام الفیل میں ہوئی، شیرخوارگی کا زمانہ بنی سعد میں گزرا پھر اپنی عمرکے چوتھے یا پانچویں سال اپنی والدہ کے پاس لوٹے، چھہ سال کے ہوئے تو والدہ کا انتقال ہو گیا۔ دادا نے اپنی کفالت میں لے لیا اور ان کی پرورش میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا دو سال تک آپ(ص) ان کی کفالت میں رہے پھر ان کا انتقال ہو گیا لیکن دادا نے اپنی وفات سے پہلے آپ کی پرورش و سرپرستی کی ذمہ داری آپ(ص) کے شفیق چچا حضرت ابوطالب (ص) کے سپرد کر دی تھی چنانچہ آپ(ص) شادی ہونے تک انہیں کے ساتھ رہے۔

بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ اثنائے راہ میں بحیرا نامی راہب سے ملاقات ہوئی۔ بحیرا نے آپ(ص) کو پہچان لیا اور ابوطالب سے کہا: دیکھو! ان کے سلسلہ میں خبردار رہنا کیونکہ یہودی انہیں قتل کرنا چاہیں گے۔

بائیس سال کے ہوئے تو معاہدۂ حلف الفضول میں شریک ہوئے آنحضرت(ص) اپنے اس اقدام پر فخر کیا کرتے تھے۔ خدیجہ کے مال سے تجارت کے لئے شام کا سفر کیا، عنفوان شباب میں پچیس سال کی عمر میں جناب خدیجہ سے عقد کیا اس سے قبل آپ صادق و امین کے لقب سے شہرت پا چکے تھے، چنانچہ جن قبیلوں میں حجر اسود کو نصب کرنے کے سلسلہ میں نزاع و جھگڑا تھاانہوں نے حجر اسود کو نصب کرنے کے لئے آپ کو منتخب کیا تاکہ کسی قبیلے کو اعتراض نہ ہو۔ پس آپ (ص)نے ایک انوکھا اور عمدہ طریقہ کا ر اپنایا جس سے تمام قبیلے خوش ہو گئے۔


چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے، خدا کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیاوہ اپنے معاملات میںگہری نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے انصار و مہاجرین میں سے جو لوگ مومن تھے انہیں جمع کیا۔

تین یا پانچ سال تک آپ لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد خدا نے آپ کو یہ حکم دیا کہ اپنے اقربا کوڈرائو! پھر یہ حکم دیا کہ اپنی رسالت کا اعلان کرو اور عام طور پر لوگوں کو علیٰ الاعلان اسلام کی دعوت دوتا کہ جو مسلمان ہونا چاہتا ہے وہ مسلمان ہو جائے۔

اسی زمانہ سے قریش نے آپ(ص) کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنا شروع کر دی اور لوگوں کو راہ خدا سے روکنے کے لئے یہ کوشش کرنے لگے کہ آپ کا پیغام عام نہ ہونے پائے۔ اس صورت حال کے پیش نظر رسول(ص)نے مکہ سے باہر اپنی دعوت کا ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا اور وہ یہ کہ جب حبشہ کے بادشاہ (نجاشی) نے مسلمانوں کو حبشہ میں خوش آمدید کہا تو رسول(ص) نے مسلمانوں کی کئی جماعتوں کو وہاں بھیجدیا جنہوں نے جعفر بن ابی طالب کی قیادت میں وہیں بود و باش اختیار کر لی اور ۷ ھ تک جعفر نے حبشہ نہیں چھوڑا۔

جب قریش ، نجاشی کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے میں ناکام رہے تو انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کیا اور آپ(ص) کے خلاف سماجی، اقتصادی اور سیاسی پابندی عائد کر دی، اس پابندی کا سلسلہ تین سال تک جاری رہا لیکن جب قریش رسول(ص)، ابوطالب اور تمام بنی ہاشم کو اپنے سامنے نہ جھکا سکے تو پابندی ختم کردی مگر جب رسول(ص) اوران کا خاندان کامیابی کے ساتھ محاصرے سے باہرنکلا تو بعثت کے دسویں سال انہیں ابوطالب اور جناب خدیجہ کا غم اٹھانا پڑا رسول(ص) کے لئے یہ دونوں حادثے جاں گسل تھے کیونکہ آپ(ص) ایک ہی سال میں دو بڑے مددگاروں سے محروم ہو گئے تھے ۔


بعض مورخین نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ معراج بھی اسی سال ہوئی تھی حالانکہ نبی(ص) اس عظیم غم میں مبتلا تھے اور نبی(ص) پر ذہنی دبائو تھا کیونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ قریش آپ کی رسالت کی راہ میں دشواریاںپیدا کر رہے ہیں لہذا خداوند عالم نے آپ (ص)پر آفاق کی راہیں روشن کر دیں اور آپ(ص) کو اپنی عظیم آیتیں دکھا ئیں چنانچہ معراج ،رسول(ص) اور تمام مومنوں کے لئے ایک عظیم برکت تھی۔نئے مرکز کی تلاش میں رسول(ص) نے طائف کی طرف ہجرت کی لیکن مکہ سے قریب ہونے اور اس کی آب و ہوا سے متاثر ہونے کے باوجود وہاں آپ(ص) کو کامیابی نہ ملی اور مکہ واپس آ گئے مطعم بن عدی کی ہمسائیگی اختیار کی اور موسم حج میں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے از سرنو سرگرم عمل ہوئے۔ ان لوگوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جو حج کرنے کی غرض سے مکہ یا تجارت کے لئے عکاظ کے بازار میں آتے تھے، اہل یثرب سے آپ(ص) کی ملاقات کے بعد خدا نے آپ کی کامیابی کے دروازے کھول دئیے چنانچہ یثرب میں نشر اسلام اور لوگوں کو خدا کی طرف بلانے کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ خدا نے آپ کو یہ خبر دی کہ قریش کے جوانوںنے آپ(ص) کے قتل کا منصوبہ بنا لیا ہے لہذا آپ(ص) نے بھی یثرب کی طرف ہجرت کا ارادہ کر لیا چنانچہ حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹایا اور تمام خطروں کے سایہ میں یثرب کی طرف ہجرت کر گئے ، یثرب والوں نے آپ (ص)کے استقبال کی پوری تیاریاں کر رکھی تھیں، ربیع الاول کے شروع میں آپ''قبا'' پہنچے آپ(ص) کی ہجرت اسلامی تاریخ کا نقطہ آغاز قرارپائی۔

پہلے سال میں آپ(ص) نے بتوں کو توڑ کر مسجد نبوی(ص) تعمیر کی اسے اپنی سرگرمی اور تبلیغ و حکومت کا مرکز قرار دیا، مہاجر ین و انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا تاکہ اس طرح ایک قومی و عوامی مرکز بن جائے جس پرنو تشکیل حکومت کی بنیاد یں قائم کی جا سکیں اس کے علاوہ ایک دستاویز مرتب کی جس میں قبیلوں کے ایک دوسرے سے روابط کے ضوابط تحریر کئے یہودیوں کے سربراہوں سے معاہدے کئے یہ اسلامی حکومت کے عام اصولوں پر مشتمل تھے۔


اس نو تشکیل اسلامی حکومت اور اس نئی اسلامی تحریک کو قریش کی پیدا کی ہوئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، قریش نے اسلامی تحریک و تبلیغ اور اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم محکم کر رکھا تھا اسی لئے مسلمانوں کے خلاف یکے بعد دیگرے جنگ کی آگ بھڑکائی گئی، نبی(ص) اور مسلمانوں کے لئے اپنا دفاع کرنا ضروری ہو گیا۔

اس نو تشکیل حکومت کے دفاع ہی میںسالہا سال گزر گئے پہلی جنگ ہجرت کے ساتویں مہینے میں آپ(ص) کے چچا جناب حمزہ کی قیادت میں ہوئی، ہجرت کے پہلے سال میں تین جنگیں ہوئیں، اس سال بہت سی آیتیں نازل ہوئیں تاکہ نبی(ص) کی حکومت اور امت کے لئے دائمی احکام مرتب ہوجائیں، اس طرح خاتم المرسلین اور آپکی نو تشکیل حکومت کے خلاف منافقوںکا منصوبہ ناکام ہو گیا اور یہودیوں کی سازش بے نقاب ہو گئی۔

رسول اور آپ کی حکومت کے خلاف قریش نے مدینہ کے باہر سے اور یہودیوں نے مدینہ کے اندر سے محاذ جنگ کھول دیا جس کی وجہ سے رسول(ص) کو ان سب پر نظر رکھنا پڑی چنانچہ دوسرے سال میں آٹھ غزوات اور سرایا ہوئے ان میں سے بدر کبریٰ بھی ہے جو رمضان المبارک میں ہوئی تھی۔ اس وقت ماہ رمضان کے روزے واجب ہو چکے تھے اور قبلہ بھی تبدیل ہوچکا تھا۔

اس سے امت مسلمہ اور اسلامی حکومت کوایک طرح کی خود مختاری نصیب ہوگئی تھی۔

دوسرے سال ایک طرف تو جنگ میں فتح ملی دوسری طرف سیاسی اور اجتماعی قوانین بنے،اہل قریش بدر میں شکست کھانے سے اور یہودی بنی قینقاع کی جلا وطنی سے آزمائے گئے بنی قینقاع یہودیوں پہلا وہ قبیلہ تھا جس نے بدر کبریٰ میںمسلمانوں کی فتح کے بعد رسول(ص) سے کئے ہوئے معاہدہ کو توڑ کر مدینہ کو وطن بنا لیا تھا تین سال تک مسلسل قریش باہر سے اسلام اور مسلمانوںکے خلاف فوج کشی کرتے رہے اور یہودی رسول(ص) سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے رہے چنانچہ یہ پانچ جنگیں، احد، بنی نضیر، خندق، بنی قریظہ اور جنگ مصطلق، رسول(ص) اور مسلمانوں کے لئے بہت گراں تھیں۔ جب مسلمان اچھی طرح آزما لئے گئے اور پانچویں سال خدا نے مختلف گروہوں اور یہود یوںکے جھگڑوں سے انہیں نجات عطا کی اور اس طرح خدا نے فتح مبین کا راستہ ہموار کر دیا اورکفار و مشرکین مسلمانوں کی شوکت کو مٹانے سے مایوس ہو گئے۔


صلح حدیبیہ کے بعد رسول(ص) نے ان قبیلوں سے معاہدہ کیا جو آپ(ص) کے ساتھ رہتے تھے اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ ان قبیلوںکے اتحاد کوشرک و الحاد کے مقابلہ میں طاقتور بنا دیا جائے۔ یہاں تک کہ ۸ھ میں خدانے آپ کو فتح مکہ سے سرفراز فرمایا۔ قریش کے سرکش افراد آپ کی سیاست و حکومت کے سامنے جھک گئے اور آپ نے جزیرة العرب کو شرک سے پاک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔

۹ھ میں مدینہ میں قبائل اور وفود کی آمد میں اضافہ ہو گیا لوگ جوق در جوق دین خدا میں داخل ہو رہے تھے۔

۱۰ ھ میں حجة الوداع کا واقعہ ہوا یہ آخری سال ہے جو آپ(ص) نے اپنی امت کے ساتھ گزارا اس میں آپ (ص) نے اپنی عالمی حکومت اور اپنی امت کو تمام امتوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔

اپنی اسلامی حکومت کے پایوں کو مضبوط کرنے کے بعد ۲۸، صفر ۱۱ھ کو وفات پائی اور اسلامی حکومت کے لئے معصوم قائد معین کیا جو آپ کا خلیفہ و جانشین اور آپ(ص) کی راہ پر چلنے والا ہے اور وہ ہیں علی بن ابی طالب یہ وہ رہبرکامل ہیں جن کی تربیت آغاز ولادت سے خود رسول(ص) نے کی ہے اور تا حیات ان کی نگرانی و سرپرستی کی چنانچہ حضرت علی نے بھی اپنی فکر و سیرت اور کردار میں اسلام کے اقدار کو مجسم کر دکھایا آپ نے ا طاعتِ رسول(ص) اور آنحضرت(ص) کے امر و نہی پر عمل کرنے کی اعلیٰ مثال قائم کی حقیقت تو یہ ہے کہ ولایت کبریٰ، وصایت نبویہ اور خلافت الٰہیہ کا نشان آپ ہی کو زیب دیتا ہے ، رسول(ص) نے ان کے وجود کی گہرائی میں اسلامی (رسالت)پیغام، انقلاب الٰہی اور حکومت نبوی(ص) کے نظام کی محبت کو راسخ کیا تاکہ آنحضرت(ص) کی عدم موجودگی میں علی حکم خدا سے رسول(ص) کے پہلے خلیفہ بن جائیں۔

رسول(ص) نے سخت حالات کے باوجود حضرت علی کو مسلمانوں کا ہادی و خلیفہ مقرر کرنے کے بعد اپنے پروردگار کی آواز پر لبیک کہا۔ اور اس طرح آپ(ص) نے طاعت خدا اور اس کے امر کے سامنے سراپا تسلیم ہونے میں اعلیٰ مثال قائم کی۔ حکمِ خدا کی بہترین طریقہ سے تبلیغ کی اور فصیح وبلیغ خطبہ کے ساتھ حجّت تمام کی ۔

یہ تھا خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبد اللہ کی شخصیت و حیات کا سرسری جائزہ۔ آئیے اب آپ کی شخصیت و حیات کا تفصیلی اعتبار سے جائزہ لیا جائے۔


دوسری فصل

بشارت

قرآن مجید نے صریح طور پر یہ بیان کیا ہے کہ بشریت کا تاریخی عہد انبیاء کی بعثت اور رسولوں کے آنے سے شروع ہوا۔ انبیاء اور رسولوں نے اپنی امتوں کو اعلیٰ حیات اور کامل ترین انسانی وجود کی طرف ہدایت کی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ معاشرۂ انسانی میں انبیاء کا نور و ظہور اسی وقت سے ہے جب سے بشریت کی تاریخ شروع ہوئی ہے ۔

خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( کان النّاس امة واحدة فبعث اللّٰه النّبیین مبشّرین و منذرین و انزل معهم الکتاب بالحق لیحکم بین النّاس فیمااختلفوا فیه وما اختلف فیه الا الّذین اوتوه من بعد ما جائتهم البینات بَغْیاً بینهم فهدی اللّٰه الذین آمنوا لما اختلفوا فیه من الحق باذنه واللّه یهدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم ) ( ۱ )

لوگ ایک ہی امت تھے، پس خدا نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے نبی بھیجے اور ان پر برحق کتاب نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان چیزوں کا فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں در حقیقت اختلاف انہیں لوگوں نے کیا جنہیں(نبی کے ذریعہ) کتاب دی گئی اور ان پر آیتیں واضح ہو گئی ہیں ایسا انہوں نے بغاوت کی وجہ سے کیا ہے تو خدا نے ایمان قبول کرنے والوں کو ہدایت دیدی چنانچہ انہوں نے

____________________

۱۔ بقرہ: ۲۱۳۔


اختلاف میں حکمِ خدا کو پا لیا اور خدا جس کو چاہتا ہے اسے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے ۔

خدا کی رحمت و حکمت کا یہ تقاضا ہوا تھاکہ اس نے انسانوں کے درمیان ایسے انبیاء بھیجے جن کے ہاتھوں میں ہدایت کا پرچم ہو اور وہ لوگوں کوخواہشات کے غار سے نکال کر عقل کی بلندی پر پہنچا دیں، اور جنگ و جدال(جو طاقت و غریزہ کی وجہ سے ہوتی ہیں) کی لت سے ہٹاکر نظام کی منطق پر پہنچا دیں جس کا سرچشمہ قانون ہے ، انبیاء کے ذریعہ انسان حیوانیت سے بلند ہوا اور اس نے یہ محسوس کیا کہ وہ عقل و روح کا پیکر ہے ۔ انبیاء نے انسان کے لئے ایک گھاٹ(حوض، چشمہ) کی نشاندہی کی جو زندگی کی وحدت سے بہت بلند ہے ۔

یہ ایسی وحدت ہے جو عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہے اس سے انسانی تعلقات کو وسعت ملتی ہے، یہ مادی روابط سے معنوی روابط کی طرف لے جاتی ہے ، عہد نبوت کے بعد سے انسانوں کے درمیان اختلافات کا سبب معنوی امور قرار پائے، دین و عقیدہ میں اختلاف ہوا، واضح رہے انبیاء کے لائے ہوئے دین کو لغو قرار نہیں دیا جا سکتابلکہ ان کا سلسلہ جاری رہے گا ان میں تنوع ہوتا رہیگا ہاں اس موضوع کا سرچشمہ غریزہ نہیں ہے بلکہ قانون کو قرار دیا گیا ہے۔ اور انسانی وحدت و ارتقاء اور ان کے تعاون کے لئے وہی قانون، مستقل دستور بن سکتا ہے جس کی دین نے ضمانت لی ہے۔( ۱ )

حضرت علی بن ابی طالب نے نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں (پیدائش عالم، تخلیق آدم اور زمین پر بسنے والے افرادکی تاریخ بیان کرنے کے بعد)اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تاریخ انسان اور کمال و ارتقاء کی طرف اس کے سفر کا محور انبیاء کی روشنی اور ان کی مسلسل بعثت ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید نے تاریخ کے ساتھ اپنے تعامل کے طریقہ میں اسکی وضاحت کی ہے :

ارشاد ہے:''...واصطفیٰ سبحانه من ولد (آدم) انبیائ، اخذ علیٰ الوحی میثاقهم ''

ان سے یہ عہد لیا تھا کہ جو وحی ان پر کی جائے گی وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں گے اور لوگوں کے لئے اسی چیز

____________________

۱۔ حرکة التاریخ عند الامام علی ص ۷۱۔ ۷۳۔


کو شریعت بنائیں گے جو وحی کے ذریعہ ان تک پہنچے گی۔

خدا نے اولادِ آدم میں سے بعض کو نبی بنایا اور ان سے یہ عہد لیا کہ وہ اس چیز کی تبلیغ کریں گے جس کی ان پرخدا کی طرف سے وحی ہو گی۔

تبلیغِ رسالت کے لئے ان سے عہد لیا یہ ان کے پاس امانت ہے کیونکہ بہت سے لوگوں نے خدا سے کئے ہوئے عہد میں رد و بدل کر دی تھی،یعنی میثاق فطرت کو بدل دیا تھا۔

جس کے نتیجہ میں وہ اس سے جاہل رہے اور اس کی مثال قرار دینے لگے۔ اور شیطان نے انہیں معرفتِ خدا کے راستہ سے ہٹا دیا اور انہیں اسکی عبادت سے بہکا دیا۔

خدا کے علاوہ انہوں نے دوسرے معبود بنا لئے تھے۔

لہذا خدا نے ان میں اپنے رسولوں کو بھیجا،ایک کے بعد ایک ان کے درمیان اپنے انبیاء بھیجے تاکہ وہ ان سے فطری میثاق کی ادائیگی کا تقاضا کریں اور انہیں خدا کی نعمت یاد دلائیں جس کو وہ بھلا چکے ہیں، اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حّجت تمام کریں،عقل کے دفینوں کو ان پر آشکار کریں اورانہیں پوشیدہ نشانیاں دکھائیں، آسمان کا شامیانہ دکھائیں، زمین کا بچھا ہوا فرش دکھائیں، ان کو فنا کرنے والی اجل سے آگاہ کریں، ان کو بوڑھا کرنے والے رنج و مشقت اور پے در پے رونما ہونے والے حوادث کی طرف متوجہ کریں۔

خدا وند عالم نے اپنی مخلوق کو'' نبیِ مرسل ''، ''کتاب منزل''، ضروری و لازمی حجّت اور واضح راستہ سے محروم نہیں کیا ہے ۔

رسولوں کی کم تعداد ان کی ہمت پر اثر انداز نہیں ہوتی تھی اور نہ جھٹلانے والوں کی کثرت سے وہ مرعوب ہوتے تھے۔جو پہلے آتا تھا اسے بعد والے کا نام بتا دیا جاتا تھا اور وہ اس کی بشارت دیتا تھا، یا اس کے آنے سے پہلے اس کاتعارف کر ایاجاتاتھا۔


اسی طرح صدیاں گذرگئیں، زمانے بیت گئے، باپ اسلاف میں اور بیٹے اخلاف کے زمرہ میں چلے گئے تو خدا نے اپنا وعدہ پورا کرنے اور سلسلۂ نبوت کی تکمیل کے لئے محمد (ص) کو رسول(ص) بنا کر بھیجا۔ انبیاء سے آپ (ص)کی نبوت کا عہد لیا جاچکا تھا۔ پہلے انبیاء کی کتابوں میں ان کی علامتیں بیان ہو چکی تھیں، ان کی ولادت پاک و پاکیزہ تھی اہل زمین مختلف مذہبوں میں بٹے ہوئے اور پریشان خیالیوں میں مبتلا تھے، پراگندہ گروہ تھے، ان میں سے بعض تو خدا کو اس کی مخلوق سے تشبیہ دیتے تھے بعض اس کے نام میں الحاد کرتے تھے( یعنی خدا کو ناروا صفات سے متصف کرتے تھے)یا اس کے غیر کو خدا مانتے تھے۔

پس رسول(ص) نے انہیں گمراہی سے نجات عطا کی ، ہدایت کے راستہ پر لگایا۔ انہیں جہالت و نادانی سے نکالا(اور علم سے آراستہ کیا) پھر خدا نے محمد(ص) کو اپنی ملاقات کے لئے منتخب کیا اور اس بات کو پسند فرمایا کہ انہیں دارِ دنیا سے اپنے پاس بلائے اور دنیا کی آزمائش سے نجات بخشے چنانچہ خدا نے آپ(ص) کو اٹھا لیا ، اور تمہارے درمیان انہوں نے وہی چیزیں چھوڑیں جو گذشتہ انبیاء نے اپنی امتوں کے درمیان چھوڑی تھیں، تمہیںواضح راستہ اور باقی رہنے والی نشانی کے بغیر حیران و پریشان نہیں چھوڑا ۔( ۱ )

بیشک گذشتہ انبیاء آنے والے انبیاء کی جو بشارت دیتے تھے اس سے موجودہ اور آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچتا رہا یہ چیز ان کی آنکھیں کھولتی ہے اور انہیں اس نبی کے استقبال کے لئے تیار کرتی ہے جس کی بشارت دی گئی ہے ۔ انہیں شک و شبہ سے نجات دلاتی ہے اور اطمینان و یقین کی دولت عطا کرتی ہے ۔

واضح رہے کہ جب انسان اپنی اصلاح سے مایوس ہو جاتا ہے تو وہ شر و خیانت کے طریقے سوچنے لگتا ہے ، اور اصلاح کرنے والے انبیاء کی آمد کی بشارت ان لوگوں کو حسرت و یاس سے نجات عطا کرتی ہے جو اصلاح کے منتظر ہوتے ہیں اور زندگی سے محبت کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ خیر و صلاح کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔

____________________

۱۔انبیاء نے اپنی امتوں کو ان چیزوں سے محروم نہیں رکھا ہے کہ جن کی انہیں ان کے مرنے کے بعد ضرورت پیش آ سکتی تھی اس سلسلہ میں جو چیز ان پر فرض تھی وہی محمد(ص) پر بھی فرض تھی چنانچہ آپ(ص) نے اپنی امت میں کتاب خدا چھوڑی ہے جس میں ان کے دین سے متعلق ہر چیز موجود ہے اسی طرح اپنے معصوم اہل بیت چھوڑے اور انہیں قرآن کا ہم پلہ قرار دیا، جیسا کہ حدیث ثقلین نے اس کی وضاحت کی ہے حدیث ثقلین متواتر ہے اور بہت سے محدثین نے اس کی روایت کی ہے۔


اپنے نبیوں کی بشارت سے مومنوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے کافروں کو اپنے کفر کے بارے میں شک ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ نبی(ص) کی دعوتِ حق کے مقابلہ میں کمزور ہو جاتے ہیں اور اس سے ان کے اسلام قبول کرنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور جب بشارتوں سے یقین و اعتماد پیدا ہو جاتا ہے تو پھر نبی(ص) سے معجزہ طلب کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے نیزبشارت دلوں میں اتر جاتی ہے اور اس سے یقین حاصل ہوتا ہے ، بشارت لوگوں کو غیر متوقع حوادث سے بچاتی ہے اوراس سے نبی(ص) کی دعوت لوگوں کے لئے اجنبی نہیں رہتی ہے ۔( ۱ )

واضح رہے کہ تمام انبیاء نے ایک ہی راستہ کی نشاندہی کی ہے، پہلے نے بعد والے کی بشارت دی ہے اور بعدمیں آنے والا پہلے والے پر ایمان لایا ہے ، سورۂ آل عمران کی آیت (۸۱) میں بشارت کے طریقہ کی وضاحت ہوئی ہے یہ ان مثالوں میںسے ایک ہے جن کوہم آئندہ پیش کریں گے۔

گذشتہ انبیاء نے محمد (ص)بن عبد اللہ کی رسالت کی بشارت دی

۱۔ قرآن مجید نے اس بات کو صریح طور پر بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے دعا کی صورت میں حضرت خاتم النبیین کی رسالت کی اس طرح بشارت دی ہے (مکہ مکرمہ میں خانہ خدا کی بنیادوں کو بلند کرنے، اپنے اور حضرت اسماعیل کے عمل کو قبول کرنے اور اپنی ذریت میں ایک گروہ کے مسلمان رہنے کی دعا کرنے کے بعد)( ربّنا وابعث فیهم رسولًا منهم یتلوا علیهم آیاتک و یعلّمهم الکتاب و الحکمة و یزکّیهم انک انت العزیز الحکیم ) ( ۲ )

پروردگار! ان میں انہیں میں سے رسول (ص) بھیجنا جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے بیشک تو عزت و حکمت والا ہے ۔

۲۔قرآن مجید نے اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ توریت کے عہد قدیم اور انجیل کے عہد جدید میں محمد(ص) کی

____________________

۱۔محمد فی القرآن ص ۳۶ و ۳۷۔

۲۔بقرہ: ۱۲۹۔


نبوت کی بشارتیں ہیں یہ دونوں عہد، نزولِ قرآن اور بعثتِ محمد(ص) کے وقت موجود تھے اگر ان دونوں عہدوں میں یہ بشارت نہ ہوتی تو ان کے ماننے والے اس بات کو جھٹلا دیتے۔

ارشاد ہے :

( الّذین یتّبعون الرّسول النّبی الامّی الّذی یجدونه مکتوباً عندهم فی التّوراة و الانجیل یأ مرهم بالمعروف و ینهاهم عن المنکر و یحّل لهم الطّیبات و یحرّم علیهم الخبائث و یضع عنهم اصرهم والاغلال التی کانت علیهم ) ( ۱ )

جو لوگ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکروہ اپنے پاس توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے پاک و صاف چیزوںکو حلال قرار دیتا ہے گندی چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان سے بارگراں اور پابندیوں کو اٹھا دیتا ہے ۔

سورہ صف کی چھٹی آیت اس بات کی صراحت کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ نے توریت کی صداقت کی تصریح کی ہے اور اپنے بعد آنے والے اس نبی کی رسالت کی بشارت دی ہے جس کا نام احمد ہوگا اور یہ بات آپ نے تمام بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمائی تھی صرف حواریوںکو مخاطب قرار نہیں دیا تھا۔

اہل کتاب ہمارے نبی(ص) کی آمد کے منتظر تھے

جس نبی کی بشارت دی جا چکی تھی ان سے پہلے آنے والے انبیاء نے ہمارے نبی کے عام اوصاف، بیان کرنے پرصرف اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اس کی ایسی علامتیں بھی بیان کر دی تھیںجن کے ذریعہ لوگ انہیں بخوبی پہچان سکتے تھے مثلاً ان کی جائے پیدائش، جائے ہجرت اور ان کی بعثت کے وقت کے خصوصیات ان کے جسمانی صفات اور کچھ ایسے حالات بیان کئے تھے جن کے ذریعہ آپ(ص) اپنے کرداراور اپنی شریعت میں دوسروں سے ممتاز تھے لہذا قرآن نے بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ اس

____________________

۱۔ اعراف: ۱۵۷۔


رسول (ص) کو کہ جس کی، دونوں قدیم و جدید، عہدوں میں بشارت دی گئی ہے ویسے ہی پہچانتے تھے جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں( ۱ ) بلکہ اس بشارت کی بنا پرانہوں نے عملی آثار بھی مرتب کر لئے تھے اور ان کی جائے ہجرت اور مرکزِ حکومت کا پتہ لگا لیا تھا اور اسی جگہ سکونت پذیر ہو گئے تھے۔( ۲ ) اور ان کی آمد کے سبب کافروں پر فتح پانے کے متمنی تھے اور اپنے رسول(ص) کی مدد سے اوس و خزرج (کے قبیلوں) کو ڈراتے تھے( ۳ ) ان کے علاوہ اور راہبوں کے ذریعہ یہ خبریں دوسرے لوگوں تک بھی پہنچ گئی تھیں جومدینہ میں عام ہوئیں اور مکہ تک پہنچ گئیں۔( ۴ ) آنحضرت (ص) کے اعلانِ رسالت کے بعد قریش کا ایک وفد اس لئے مدینہ کے یہود یوںکے پاس گیا تاکہ دعوائے نبوت کے صحیح ہونے کا پتہ لگائے اور ایسے معلومات حاصل کرے جن کے ذریعہ انہوں نے نبی کو آزمایا( ۵ ) ہے یا انہیں ان کی آمد کی خبر ہوئی ہے اور اس سے یہ واضح ہو جائے کہ ان کا دعویٰ سچا ہے ۔ بہت سے اہل کتاب اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ انہیں علامتوں کے پیش نظر کوئی معجزہ دیکھے بغیر آپ(ص) پر ایمان لے آئے تھے، یہ بشارتیں، توریت و انجیل کے بعض نسخوں میں آج تک پائی جاتی ہیں۔( ۶ ) آپ(ص) کی نبوت کی بشارتیں آپ(ص) کی ولادت سے پہلے اور بعثت سے قبل آپ کی حیات میں بھی بیان ہوتی رہتی تھیں ان بشارتوں اور خبروں میں سے بحیرا راہب وغیرہ کی بشارت ابتدائے بعثت ہی سے مشہور تھی۔( ۷ ) حضرت امیر المومنین علی نے بھی اپنے ایک خطبہ میں اس تاریخی حقیقت کی گواہی دی ہے:

____________________

۱۔انعام: ۲۔

۲۔ سیرت رسول اللہ ج۱ ص ۳۸ و ۳۹۔

۳۔بقرہ: ۸۹۔

۴۔ا شعة البیت النبوی(ص) ج۱ ص ۷۰ اس میں اغانی ج۱۶ ص ۷۵،تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۲ سے منقول ہے۔ حیات نبی الاسلام ص ۱۳ ،اس میں سیرت ابن ہشام ج۱ ص ۱۸۱۔

۵۔ ملاحظہ فرمائیں: سورۂ کہف کی شان نزول۔

۶۔ سیرت رسول اللہ و اہل بیتہ ج۱ ص ۳۹، انجیل یوحنا و اشعة البیت النبوی ج۱ ص ۷۰ اس میں توریت سے منقول ہے ۔

۷۔ بشارتوں کے سلسلہ میں سیرت نبوی اور تفسیر کی کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔


''...الیٰ ان بعث اللّٰه سبحانه محمّداً رسول اللّٰه، لا نجاز عدته و اتمام نبوته ماخوذاً علیٰ النبیین میثاقه مشهور ةً سیمائه...'' ( ۱ )

یہاں تک خدا نے وعدہ وفائی اور نبوت کی تکمیل کے لئے محمدرسول(ص) کو مبعوث کیا کہ جن کی نبوت پر انبیاء سے عہد لیا تھا اور جن کی علامتیں اور بشارتیں مشہور تھیں۔

ابن سعد کی کتاب طبقات میں عتیبہ کے غلام سہل سے روایت ہے کہ وہ اہل حریس میں سے ایک نصرانی تھا اوراپنی ماں اور چچا کے زیر سایہ یتیمی کی زندگی گزار رہا تھا وہ انجیل پڑھتا تھا...وہ کہتا ہے: میں نے اپنے چچا کی کتاب اٹھائی اور اسے پڑھنے لگا میری نظر سے ایک صفحہ گذرا کہ جس کی تحریر میں کوئی ربط معلوم نہ ہوا تو میں نے اپنے ہاتھ سے چھوکر دیکھا، راوی کہتا ہے : میں نے دیکھا کہ ایک صفحہ دوسرے سے چپک گیا ہے ۔ میں نے دونوںکو الگ کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں محمد(ص) کی تعریف و توصیف اس طرح مرقوم ہے :

آنحضرت (ص) نہ دراز قد ہوں گے نہ کوتاہ قد ہوں گے،گندم گوں رنگ ہو گا، بال گھنگرالے ہوں گے، دونوں شانوں کے درمیان مہر(نبوت) ہوگی بڑے سخی و فیاض ہوںگے، صدقہ نہیں لیں گے، گدھے اور اونٹ پر سوار ہونگے، بکری کا دودھ دوہیں گے، پیوند لگا کپڑا پہنیں گے اس لئے کہ جو ایسا کرتا ہے اس میں غرور و تکبر نہیں ہوتا ہے اور وہ اسماعیل کی ذریت سے ہوں گے، ان کا نام احمدہوگاسہل کہتے ہیں: جب میں یہاں تک محمد(ص) کا ذکر پڑھ چکا تو میرے چچا آئے انہوں نے جب اس صفحہ کو دیکھا جس کو میں پلٹ چکا تھا کہنے لگے : تم نے اس صفحہ کو کیوں پڑھا ؟! میں نے عرض کیا : اس میں نبی احمد کے صفات کا ذکر ہے انہوںنے کہا: وہ ابھی تک تو آئے نہیں!( ۲ )

____________________

۱۔نہج البلاغہ خطبۂ اولیٰ۔

۲۔ الطبقات الکبریٰ ج۱ ص ۳۶۳۔


تیسری فصل

خاتم النبیین(ص) کے اوصاف

۱۔ امی عالم

خاتم النبیین کا یہ امتیاز تھا کہ آپ(ص) نے کسی بشر سے پڑھنا اور لکھنا نہیں سیکھا تھا( ۱ ) اور نہ کسی علمی ماحول میں نشو و نما پائی تھی بلکہ آپ(ص) نے جاہلیت والے ماحول میں پرورش پائی تھی، قرآن کی بیان کی ہوئی اس حقیقت کی کسی نے تردید نہیں کی ہے ۔( ۲ ) اس قوم کی طرف آپ رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جو اپنی نری جاہلیت کے حوالہ سے مشہور اور علوم و معارف سے بہت دور تھی۔ اس زمانہ کو زمانۂ جاہلیت کا نام دیا گیاہے ۔ یقینا یہ نام اس عظیم الشان عالم نے دیا ہے جو علم و جہالت اور عقل و حماقت کی حقیقت سے کما حقہ با ٰخبر تھا۔

مزید بر آں وہ ایسی کتاب لائے تھے جو علم و ثقافت ، فکر و نظر کی دعوت دیتی ہے اور علوم و معارف کے بہت سے اقسام و اصناف پر مشتمل ہے ، آپ(ص) نے لوگوں کو نئے اسلوب سے کتاب و حکمت کی تعلیم دینا شروع کی( ۳ ) یہاں تک کہ ایک ایسی منفرد تہذیب کو وجود بخشا کہ جس نے اپنے علوم و معارف کے ذریعہ مشرق و مغرب کو متزلزل کر دیا اور اس کی ضو فشانی وتابناکی آج تک اسی طرح برقرار ہے۔

____________________

۱۔ نحل: ۱۰۳ ۔

۲۔عنکبوت: ۴۸۔

۳۔ جمعہ:۲۔


دنیا والوں کے لحاظ سے آپ(ص) امی تھے لیکن جاہلیت و نادانی اور بت پرستوں سے جنگ کرتے رہے انہیں استوار دین اور عالمی شریعت کے ساتھ بشریت کی طرف بھیجا گیا جووقت گزرنے کے ساتھ بشریت کوچیلنج کرتی چلی آ رہی ہے(لیکن ابھی تک کوئی اس کا جواب نہیں لا سکا ہے) بیشک آپ(ص) اپنے علم و معارف، حکیمانہ کلمات، عقلی و ثقافتی رجحان اور اپنی تربیت کے اسالیب کے لحاظ سے معجزہ ہیں۔

خدا وند عالم کا ارشاد ہے:

( فامنوا باللّٰه و رسوله النّبی الامّی الّذی یومن باللّٰه و کلماته و اتبعوه لعلّکم تهتدون ) پس تم خدا اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لائو جو کہ خدا اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا اتباع کرو،ہو سکتا ہے اس طرح تم ہدایت پا جائو۔( ۱ )

نیز فرماتا ہے:( و انزل اللّه علیک الکتاب و الحکمة و علّمک ما لم تکن تعلم و کان فضل اللّه علیک عظیما ) ( ۲ )

اور خدا نے تمہیں کتاب و حکمت سے نوازا اور تمہیں ان چیزوں کا علم دیا جن کو تم نہیں جانتے تھے اور یہ تم پر خدا کا بڑا کرم ہے ۔

اس وقت خدا نے ان پر وحی نازل کی اور انہیں کتاب و حکمت کے علم سے سر فراز کیا اور انہیں نور، سراج منیر، برہان، شاہد، رسول مبین ، امین خیر خواہ ناصح، بشارت دینے والا، یاد دلانے والا اور ڈرانے والا قرار دیا۔( ۳ )

خدا نے ان کے سینہ کو کشادہ کیا اور انہیں وحی قبول کرنے اور اس معاشرہ کی ہدایت کرنے کے لئے تیار کیا جو عصبیت اور جاہلیت والی انانیت میں غرق تھے تبلیغ و تربیت اور تعلیم کے میدان میں بشریت نے آپ کو عظیم الشان قائد پایا ہے ۔

____________________

۱۔ اعراف: ۱۵۸۔ ۲۔ نسائ: ۱۱۳۔

۳۔ مائدہ: ۱۵، احزاب: ۴۶، نسائ: ۱۷۴، فتح:۸، زخرف ۲۹، اعراف: ۶۸، غاشیہ ۲۱، اسرائ: ۱۰۵، مائدہ:۱۹۔


یہ ایک بہت بڑا انقلاب تھا کہ جاہلیت سے بھرا معاشرہ چند برسوں میں کتابِ ہدایت اور مشعل علم کا ایک طاقتور و امین نگہبان و محافظ بن گیا اور تحریف و تصحیف کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے،عزم محکم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوایہ اس دائمی کتاب اور اس رسول(ص) امی کا معجزہ ہے جو جاہلیت کے معاشرہ میں( خرافات اور اساطیر سے بہت دور تھا) اصل میں خدائی نورِ بصیرت آپ کے پورے وجود کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔

۲۔ مسلمِ اوّل

خالقِ کائنات ، سرچشمۂ وجود، خدا کے سامنے سر جھکانا ،اس کی عظیم قدرت اور اس کی حکمت کے نفاذ کے سامنے سراپا تسلیم ہونا نیز ایک، اکیلے اور بے نیاز معبود کی بندگی کا اقرار کرنا وہ منزل ہے جس سے ہر انسان کو گزرنا چاہئے تاکہ وہ خدائی انتخاب واصطفیٰ کے لائق بن جائے۔ قرآن مجید نے نبی کریم کے لئے اسی کی گواہی دی ہے۔ ارشاد ہے :

( قل انّنی هدانی ربّی الیٰ صراط مستقیم...و انا اوّل المسلمین ) ( ۱ )

آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے صراط مستقیم کی طرف میری ہدایت کی ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔

یہ تمغۂ کمال ہے جس کو اس بندۂ مسلم نے حاصل کیا ہے اور اس کی بندگی میں سب پر فوقیت لے گئے ہیں اس مثالی عبودیت کی جھلک آپ(ص) کے قول و فعل میں نظر آتی ہے ۔ فرماتے ہیں:

''قرة عین فی الصّلواة''( ۲ ) میری آنکھوںکی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔ آپ(ص) وقتِ نماز کا انتظار کرتے تھے، بارگاہ خدا میں پہنچنے کاآپ کو شدید اشتیاق رہتا تھا چنانچہ اپنے موذن بلال سے فرماتے تھے:ارحنا یا بلال( ۳ ) اے بلال ہمیں خوش کرو، آپ(ص) اپنے اہل و عیال سے گفتگو کرتے تھے وہ بھی آپ(ص) سے محو سخن

____________________

۱۔ انعام: ۱۶۱ تا ۱۶۳۔

۲۔ امالی طوسی ج۲ ص ۱۴۱ ۔

۳۔بحار الانوار ج۸۳ ص ۱۶۔


رہتے تھے لیکن جب نماز کا وقت آتا تو ایسا لگتا تھا جیسے وہ ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں ہیں۔( ۱ ) اور جب نماز پڑھتے تھے تو آپ(ص) کے سینہ اقدس سے ایسا زمزمہ بلند ہوتا تھا جیسے پتیلی میں کچھ پکنے کی آواز ہوتی ہے( ۲ ) اور خوفِ خدا میں اتنا روتے تھے کہ آپ کا مصلّٰی تر ہو جاتا تھا۔( ۳ ) اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آ جاتا تھا اورصحابہ آپ(ص) سے عرض کرتے تھے: آپ(ص) اتنی نمازیں پڑھتے ہیں جبکہ خدا نے آپ(ص) کے گذشتہ اور آئندہ کے سارے الزاموں کو معاف کر دیا ہے؟ آپ(ص) فرماتے تھے:

''أفلا أکون عبداً شکوراً'' ( ۴ )

کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟!

آپ پورے ماہ رجب و شعبان، اورہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔( ۵ ) رمضان آتا تو آپ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا اور نماز و دعامیں بہت گڑگڑاتے تھے۔( ۶ ) رمضان کے آخری دس دنوں میں تو آپ(ص) ازواج سے بھی پرہیز کرتے تھے شب بیداری کرتے تھے مختصر یہ کہ آپ اپنی پوری طاقت کو عبادت میں صرف کرتے تھے۔( ۷ ) دعا کے متعلق فرماتے:''الدعا مخ العبادة'' ( ۸ ) دعا عبادت کا لب لبا ب ہے۔''و سلاح المؤمن و عمود الدین و نور السمٰوات و الارض'' ( ۹ ) دعا مومن کا اسلحہ ہے ، دین کا ستون ہے اور زمین و آسمان کا نور ہے : آپ(ص) ہمیشہ خدا سے لو لگائے رہتے تھے، دعا اور تضرع کے ذریعہ خدا سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتے تھے۔ ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے دعا کرتے تھے، ہر روز خدا سے ستر مرتبہ استغفار کرتے تھے باوجود یکہ آپ(ص) معصوم تھے پھر بھی خدا کی بارگاہ میں ہر روز ستر بار توبہ کرتے

____________________

۱۔اخلاق النبی و آدابہ ص ۲۵۱ ۔ ۲۔ایضاً ص ۲۰۱۔ ۳۔ سنن النبی (ص) ص ۳۲۔

۴۔اخلاق النبی ص ۱۹۹ صحیح بخاری ج۱ ص ۳۸۱ ح ۱۰۷۸۔ ۵۔ وسائل الشیعة ج۴ ص ۳۰۹۔

۶۔ سنن النبی ص ۳۰۰۔ ۷۔ کافی ج۴ ص ۱۵۵ ۔

۸۔محجة البیضاء ج۲ ص ۲۸۲ ۔ ۹۔ایضاً: ج ۲ص۲۸۴ ۔


تھے( ۱ ) اور جب بیدار ہوتے تھے تو پہلے خدا کو سجدہ کرتے تھے( ۲ ) اور ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ خدا کی حمد کرتے اور کہتے تھے:الحمد للّٰه ربِّ العالمین کثیراً علیٰ کلّ حال ۔( ۳ ) قرآن خوانی تو آپ (ص)کا شغف اور محبوب مشغلہ تھا جب آپ(ص) نے عبادت میں بہت زیادہ جانفشانی کی تو جبریل نازل ہوئے اور آپ(ص) کی خدمت میں خدا کا پیغام پہنچایا:( طه، ما انزلنا علیک القرآن لتشقی ) ۔( ۴ )

طٰہ، ہم نے آپ(ص) پر اس لئے قرآن نازل نہیں کیا ہے کہ آپ خود کو مشقت میں ڈالیں۔

۳۔ خدا ہی پر بھروسہ

اپنے رسول (ص) کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے :( الیس اللّٰه بکاف عبده ) ( ۵ ) کیا اپنے بندہ کے لئے اللہ کافی نہیں ہے؟!

نیز فرماتا ہے:( و توکُلّ علیٰ العزیز الرّحیم الّذی یراک حین تقوم و تقلّبک فی السّاجدین ) ( ۶ )

اور غالب و رحیم خدا پر بھروسہ کیجئے جو آپ(ص) کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ(ص) قیام کرتے ہیں اور سجدہ کرنے والوں میں آپ(ص) کی نشست و برخاست بھی دیکھتا ہے۔

یقینا رسول(ص) اعظم خدا پر ایسے ہی توکل و اعتماد کرتے تھے جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشادگزرا ہے ۔

جابر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ذات الرقاع میں ہم رسول(ص) کے ہمراہ تھے ہم نے ایک سایہ دار درخت دیکھا اسے رسول(ص) کے لئے چھوڑ دیا۔ رسول(ص) نے اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی اور آرام کرنے لگے، ایک مشرک نے اس تلوار کو اٹھا لیا اور رسول(ص) سے کہنے لگا: آپ(ص) مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ(ص) نے فرمایا: نہیں اس

____________________

۱۔ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۱۷۔ ۲۔ ایضا ج ۱۶ ص ۲۵۳ ۔ ۳۔کافی ج۲ ص ۵۰۳۔

۴۔ طہ ۱۔۲ ۔

۵۔زمر:۳۶۔

۶۔شعرائ: ۲۱۷ تا ۲۱۹۔


نے کہا: اب آپ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ(ص) نے فرمایا: اللہ بچائے گا۔ یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر پڑی ، تلوار کو آنحضرت (ص) نے اٹھا لیا اور فرمایا: اب میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: مجھ پر احسان کیجئے، آپ(ص) نے فرمایا: کیا تم یہ گواہی نہیں دوگے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا : یہ گواہی تو میں نہیں دونگا لیکن میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ (ص)سے جنگ نہیں کرونگا اور ان لوگوںکا ساتھ نہیں دونگا جو آپ(ص) سے جنگ کرتے ہیں، آپ(ص) نے اس کا راستہ چھوڑ دیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں سب سے زیادہ نیک آدمی کے پاس سے آ رہا ہوں۔( ۱ )

۴۔شجاعت

خدا وند عالم کا ارشاد ہے :( الّذین یبلّغون رسالات اللّٰه و یخشونه ولا یخشون احداً الا اللّٰه ) ۔( ۲ ) جو لوگ خدا کے پیغاموں کو پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے(علی ابن ابی طالب کہ جن کے سامنے عرب کے سورمائوں کازہرہ آب ہو جاتا تھا )فرماتے ہیں: جب میدان کا رزار گرم ہوتا تھا اور دونوں طرف کی فوجیں ایک دوسرے سے گتھ جاتی تھیں تو اس وقت ہم رسول(ص) کے پاس پناہ لیتے تھے اور آپ دشمن کی فوج سے بہت زیادہ قریب ہوتے تھے۔( ۳ )

جنگ احد میں صحابہ آپ(ص) کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اس وقت آپ(ص) کی ثابت قدمی کی منظر کشی مقداد نے اس طرح کی ہے : اس ذات کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے نہیں دیکھا کہ رسول(ص) اپنی جگہ سے ایک بالشت بھی پیچھے ہٹے ہوںجبکہ دشمنوں کا سارا زور آپ(ص) کی طرف تھا آپ(ص) کے اصحاب میں ایک جماعت آپ(ص) کے پاس جمع ہوتی تھی تو دوسری متفرق ہو جاتی تھی میں نے بارہا دیکھا کہ آپ اپنی کمان سے تیر چلا رہے ہیں یا پتھرپھینک رہے ہیں یہاں تک کہ دونوں طرف سے پتھرائو شروع ہو گیا۔( ۴ )

____________________

۱۔ ریاض الصالحین (للنووی)ص۵ حدیث ۷۸، صحیح مسلم ج۴ ص ۴۶۵۔

۲۔احزا:ب ۳۹۔ ۳۔ فضائل الخمسہ من الصحاح الستة ج۱ ص ۱۳۸۔

۴۔ مغازی واقدی ج۱ ص ۲۳۹ و ۲۴۰۔


۵۔ بے مثال زہد

خدا وند عالم فرماتا ہے:( ولا تمدّنّ عینیک الیٰ ما متعنا به ازواجاً منهم زهرة الحیاة الدّنیا لنفتنهم فیه و رزق ربک خیر و ابقیٰ ) ( ۱ ) اور ہم نے ان میں سے بعض لوگوںکو دنیوی زندگی کی رونق سے مالامال کر دیا آپ اپنی نگاہ کو ان کی طرف ہرگز نہ ڈالیںاس لئے کہ اس کے ذریعہ ہم انہیں آزمائیں گے اور آپ کے پروردگار کا رزق اس سے کہیں بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ ابو امامہ نے رسول(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: مجھے میرے رب کا پیغام پہنچا کہ میں بطحائے مکہ کو تمہارے لئے سونے سے بھر دوں؟ میں نے عرض کی: نہیں معبود! میں ایک دن شکم سیر اور ایک دن بھوکا رہنا چاہتا ہوں، جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری بارگاہ میں تضرع و زاری کروں اور جب شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔( ۲ ) رسول(ص) اپنی چٹائی پر محو خواب ہوتے تھے اس سے آپ کے پہلو میں درد ہو گیا۔لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول(ص)! ہم آپ کے لئے فرش فراہم کر دیں فرمایا: دنیا (کی لذتوں) سے مجھے کیا واسطہ؟ میں تو دنیا میں اس سوار کی مانند ہوں کہ جس نے درخت کے سایہ میں تھوڑی دیر آرام کیا اور پھر روانہ ہو گیا۔( ۳ ) ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول(ص) کئی کئی دن بھوکے رہتے تھے، آپ(ص) کے اہل و عیال بھی اسی حال میں رہتے تھے وہ اکثر جو کی روٹی کھاتے تھے۔( ۴ ) عائشہ کہتی ہیں: آل محمد(ص) نے کبھی دن میں دو کھانے نہیں کھائے، مگر یہ کہ ایک کھانا خرما ہوتا تھا( ۵ ) نیز کہتی ہیں: رسول(ص) کی وفات کے وقت بھی آپ(ص) کی ایک بکری یہودی کے یہاں تیس سیر جو کے عوض گروی تھی۔( ۶ )

____________________

۱۔طٰہ: ۱۳۱۔

۲۔سنن ترمذی ج۴ ص ۵۱۸ح۲۳۷۷ ۔

۳۔سنن ترمذی ج۴ ص ۵۱۸ح۲۳۷۷۔

۴۔ سنن ترمذی ج۴ ص ۵۰۱حدیث ۲۳۶۰۔

۵۔ صحیح بخاری ج۵ ص ۲۳۷۱ حدیث ۶۰۹۰۔

۶۔صحیح بخار ج۳ ص ۱۰۶۸ ح ۲۷۵۹ ۔


انس بن مالک سے روایت ہے کہ فاطمہ زہرا آپ(ص) کی خدمت میں روٹی کا ایک ٹکڑا لائیں تو آپ(ص) نے فرمایا: اے فاطمہ!یہ ٹکڑا کیسا ہے ؟ عرض کی: یہ روٹی کا ٹکڑا ہے، میرا دل نہ مانا لہذا میں آپ کی خدمت میں لیکر حاضر ہوئی۔ فرمایا: تین دن کے بعد آج یہ پہلا لقمہ ہے جو تمہارے باپ کے منہ میں گیا ہے۔( ۱ )

قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم انس کے پاس تھے اور ان کے پاس ایک نانبائی تھا انہوں نے کہا: رسول(ص) نے جیتے جی نرم روٹی اور بھنی بکری نہیں کھائی۔( ۲ )

۶۔بردباری اور کرم

ابن عباس کہتے ہیں: رسول(ص) بڑے کریم و فیاّض تھے۔ ماہ رمضان میں زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ہر سال رمضان میںجبریل آپ(ص) سے ملاقات کرتے تھے اورجب جبریل آپ(ص) سے ملاقات کرتے تھے تو آپ(ص) کو نرم ہوا سے بھی زیادہ سخی پاتے تھے۔( ۳ ) جابر سے روایت ہے کہ رسول(ص) سے جب بھی کچھ مانگا گیا آپ(ص) نے انکار نہیں کیا۔( ۴ )

روایت ہے کہ رسول(ص) ایک کپڑے والے کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے چار درہم میں ایک قمیص خریدی ۔اس کو پہن کر بر آمد ہوئے تو انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے قمیص پہنا دیجئے اللہ آپ کو جنت کا لباس عطا کرے گا۔ آپ(ص) نے قمیص اتاری اور اسے پہنا دی، پھر دوکاندار کے پاس آئے اور اس سے چار درہم میں دوسری قمیص خریدی آپ(ص) کے پاس دو درہم باقی بچے دیکھا کہ راستہ میں ایک کنیز رو رہی ہے ۔ آپ(ص) نے اس سے دریافت کیا: کیوں رو رہی ہو؟ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول(ص)! میرے آقا نے مجھے دو درہم دئیے تھے کہ آٹا لے آئو وہ درہم گم ہو گئے دو درہم رسول(ص) نے اسے

____________________

۱۔ الطبقات الکبریٰ ابن سعد ج۱ ص ۴۰۰۔

۲۔ مسند احمد ج۳ص ۵۸۲ حدیث ۱۱۸۸۷۔

۳۔صحیح مسلم ج۴ ص ۴۸۱ حدیث ۳۳۰۸، مسند احمد ج ۱ ص ۵۹۸ حدیث ۳۴۱۵۔

۴۔سنن دارمی ج۱ ص ۳۴۔


دے دئے ۔ کنیز نے پھر عرض کی: میں ڈرتی ہوں کہ گھر والے کہیں مجھے ماریں نہ لہذا رسول(ص) اس کے ساتھ اس کے آقا کے گھر تشریف لے گئے ، باہر ہی سے سلام کیا، ان لوگوں نے رسول(ص) کی آواز پہچان لی لیکن کوئی جواب نہ آیا آپ(ص) نے پھر سلام کیا۔ پھر کوئی جواب نہ ملا آپ(ص) نے پھر سلام کیا تو ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا۔ آپ(ص) نے دریافت کیا تم نے میرا پہلا سلام نہیں سنا تھا؟ انہوںنے عرض کی: سنا تھا لیکن ہم چاہتے تھے آپ ہماری سلامتی کی زیادہ دعا کریں۔ ہمارے ماں باپ آپ(ص) پر قربان تشریف آوری کا باعث کیا ہے ؟ فرمایا: مجھے یہ خوف تھا کہ تم اس کنیز کو ماروگے۔ اس کے مالک نے کہا : آپ(ص) اس کے ساتھ تشریف لائے ہیںلہذامیں نے اسے راہ خدا میں آزاد کیا، رسول(ص) خدا نے انہیں دعائے خیردی اور انہیںجنت کی بشارت دی اور فرمایا:

لقد بارک اللّه فی العشرة کسا اللّه نبیه قمیصاً و رجلا من الانصار قمیصا و اعتق منها رقبة و احمد اللّه هو الّذی رزقنا هذا بقدرته ۔( ۱ )

یقینا خدا نے ان دس درہموں میں برکت عطا کی اس کے ذریعہ سے خدا نے اپنے نبی(ص) کو قمیص پہنائی ، اورایک آدمی کو انصار میں سے قمیص پہنائی اور اس دس درہم میں سے ایک کنیز کو آزاد کرایا میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ چیزیں عطا کیں۔

ماہ رمضان آتا تو آپ اسیروں کو رہا کر دیتے تھے اور ہر سائل کو عطا کرتے تھے۔( ۲ )

عائشہ کہتی ہیں: نبی(ص) اپنے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا انتقام نہیں لیتے تھے ہاں حرمت ِالٰہی کی پامالی کا انتقام لیتے تھے، اپنے ہاتھ سے آپ(ص) نے کبھی کسی کو نہیں مارا، اگر مارا تو راہ خدا میں مارا، آپ(ص) نے کسی سوالی کو محروم نہیں کیا، مگر یہ کہ اس نے گناہ کا سوال کیا ہو کیونکہ آپ(ص) معصوم تھے، گناہ سے بہت دور تھے۔( ۳ )

____________________

۱۔ المعجم الکبیر (طبرانی ) ج ۲ ۱ ص ۳۳۷، حدیث ۱۳۶۰۷۔

۲۔حیات النبی(ص) و سیرتہ ج۳ ص ۳۱۱۔

۳۔حیات النبی(ص) و سیرتہ ج۳ ص ۳۰۶۔


عبید بن عمر سے روایت ہے : اگر رسول(ص) کے پاس ایسے مجرم کو لایا جاتا تھاکہ جس پر حد نہیں ہوئی تھی تو آپ اسے معاف کر دیتے تھے۔( ۱ )

انس کہتے ہیں: میں نے دس سال تک رسول(ص) کی خدمت کی ہے لیکن کبھی آپ(ص) نے مجھ سے اف تک بھی نہیں کہا، اور میں جو کام بھی انجام دیتا تھا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا؟ اور جو کام میں نہیں کرتا تھا اس پر کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ انجام کیوں نہیں دیا؟( ۲ )

ایک اعرابی آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اپنی ردا کو اتنی شدت کے ساتھ کھینچا کہ اس کا ایک کونا آپ(ص) کی گردن پر لگا، اور کہنے لگا: اے محمد(ص)! مجھے مالِ خدا میں سے دئیے جانے کا حکم دیں، آپ(ص) نے اس کی طرف دیکھا تبسم کیااور اسے عطا کرنے کا حکم دیا۔ آپ(ص) نے زندگی بھر عفو و سخاوت سے کام لیا ہے...یہاں تک کہ اپنے چچا جناب حمزہ کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا...اس یہودی عورت کو بھی معاف کر دیا تھا جس نے آپ(ص) کی خدمت میں بکری کا زہر آلود گوشت پیش کیا تھا، ابو سفیان کو معاف کر دیا تھا اور جو اس کے گھر میں داخل ہو گیا تھااس کو بھی معاف کر دیا تھا۔ اور قریش کے ان لوگوں سے در گذر کیا تھا جو اپنے رب کے حکم سے رو گرداں تھے اور اس سے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ٹکرائے تھے...جس وقت آپ(ص) عزت و اقتدار کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اس وقت فرمایا تھا:

'' اللهم اهد قومی فانهم لا یعلمون...اذهبوا فانتم الطلقاء'' ( ۳ )

اے اللہ! میری قوم کی ہدایت فرما کیونکہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے...جائو تم سب آزاد ہو۔

''ولو کنت فظّا غلیظ القلب لا نفضّوا من حولک فاعف عنهم واستغفر لهم '' ( ۴ )

اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے بھاگ جاتے لہذا انہیں معاف کردو اور ان کے لئے استغفار کرو۔

____________________

۱۔ ایضا ج۳ ص ۳۰۷۔ ۲۔صحیح بخاری ج۵ ص ۲۲۶۰ حدیث ۵۷۳۸۔

۳۔محمد فی القرآن ص ۶۰ تا ۶۵ ۔ ۴۔آل عمران: ۱۵۹۔


خدا نے آپ کی رحم دلی اور شفقت و رافت کو اس طرح بیان کیا ہے :

( لقد جائکم رسول من انفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤوف رحیم ) ( ۱ )

یقینا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول(ص) آیا ہے جس پر تمہاری مصیبت شاق ہوتی ہے اور تمہاری ہدایت میں رغبت رکھتا ہے اور مومنوں پر شفیق و رحیم ہے ۔

۷۔حیا و انکساری

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول(ص) کو پردہ نشیں کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا تھی آپ(ص) اگرکسی چیز سے نفرت کرتے تھے تو اس کا اندازہ آپ(ص) کے چہرہ سے ہو جاتا تھا۔( ۲ )

حضرت علی سے روایت ہے : جب رسول(ص) سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تھااور آپ اسے پورا کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو فرماتے تھے: ہاں اور اگر اسے انجام دینے کا قصد نہیں رکھتے تھے تو خاموش رہتے تھے، لیکن آپ(ص) کسی چیز کے بارے میںنہیں! نہیں کہتے تھے۔( ۳ ) یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا:

''اٰکلُ کما یاکل العبد و اَجلسُ کما یجلس العبد فانما انا عبد'' ( ۴ )

میں غلام کی طرح کھاتا ہوں اور غلام کی طرح بیٹھتا ہوں کیونکہ میں بھی ایک بندہ ہی ہوں۔ آپ(ص) کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ آپ(ص) بچوں کو بھی سلام کرتے تھے۔( ۵ ) نبی (ص) ایک شخص سے ہمکلام ہوئے تووہ شخص آپ کے رعب سے تھرتھر کانپنے لگا۔ آپ(ص) نے فرمایا:

____________________

۱۔توبہ: ۱۲۸ ۔

۲۔ صحیح بخاری ج۳ ص ۱۳۰۶ حدیث ۳۳۶۹۔

۳۔مجمع الزوائد ج۹ ص ۱۳ ۔

۴۔ الطبقات ( لابن سعد) ج۱ ص ۳۷، مجمع الزوائد ج۹ ص ۱۹۔

۵۔حیات النبی و سیرتہ ج۳ ص ۳۱۳، اس میں ابن سعد کے حوالے سے منقول ہے ۔


''هوّن علیک فانی لست بملک انما انا ابن امرأة تاکل القدید'' ( ۱ )

گھبرائو نہیں! میں بادشاہ نہیںہوں میں تو اس خاتون کا بیٹا ہوںجو رو کھی سوکھی روٹی کھاتی تھی ۔

ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول(ص)عصا ٹیکتے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، ہم ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا:

''لا تقوموا کما تقوم الاعاجم یعظم بعضهم بعضاً'' ( ۲ )

ایسے مت کھڑے ہو اکرو جیسے عجم والے ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔

اپنے اصحاب سے آپ(ص) مذاق کرتے تھے لیکن حق کے علاوہ کوئی بات نہیں کہتے تھے( ۳ ) ، مسجد بنانے( ۴ ) اور خندق کھدوانے( ۵ ) میں آپ(ص) بھی اپنے اصحاب کے ساتھ کام کرتے تھے باوجودیکہ آپ عقلمند ترین انسان تھے پھر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے تھے۔( ۶ )

آپ فرمایا کرتے تھے:'' اللهم احیینی مسکیناً وتوفّنی مسکیناً و احشر نی فی زمرة المساکین و ان اشقیٰ الاشقیاء من اجتمع علیه فقر الدنیا و عذاب الاخرة'' ( ۷ )

اے اللہ! مجھے مسکین کی زندگی اور مسکین کی موت دینا اور مسکینوںکے ساتھ محشور کرنا اور بلا شبہ بد قسمت ترین شخص وہ ہے جو دنیا کے فقر اور آخرت کے عذاب کا ایک ساتھ شکار ہو۔

یہ تھیں آپ(ص) کی شخصیت کی بعض خوبیاں اور صفتیں، آپ کے فرد ی و اجتماعی سلوک کی چند جھلکیاں، آپ(ص) کی انتظامی ، سیاسی، عسکری، اقتصادی اوراسیروں، قیدیوں سے متعلق بہت سی خوبیاں ایسی ہیں جن کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں آپ(ص) کی تاسی کی جائے ،ان سے درس لیا جائے ۔ہم انہیں آنے والی فصلوں میں بیان کریں گے۔

____________________

۱۔سنن ابن ماجہ ج۲ ص ۱۱۰۱ حدیث ۳۳۱۲۔ ۲۔سنن ابی دائود ج۴ ص۳۵۸ حدیث ۵۲۳۰۔

۳۔سنن ترمذی ج۴ ص ۳۰۴، حدیث ۱۹۹۰۔ ۴۔مسند احمد ج۳ ص ۸۰۔

۵۔طبقات ، ابن سعد ج۱ ص ۲۴۰۔ ۶۔الدر المنثور ج۲ ص ۳۵۹، مواہب اللدنیہ ج۲ ص ۳۳۱۔

۷۔سنن ترمذی ج۴ ص ۴۹۹ حدیث ۲۳۵۲۔


دوسرا باب

پہلی فصل

ولادت و پرورش کا عہد

دوسری فصل

شباب و جوانی کا دور

تیسری فصل

شادی سے بعثت تک


پہلی فصل

ولادت و پرورش

۱۔ بت پرست معاشرہ کی جھلکیاں

بعثت نبوی سے قبل جزیرة العرب کے معاشرہ میں ظلم و فساد کا دور دورہ تھا۔ وہاں کے لوگوں کا کوئی متحدہ محاذ و بلاک نہیں تھا اور ان کی اجتماعی و ثقافتی خصوصیتیں، جو کہ صحرائی ماحول کی پیداوار تھیں، ان کی زوال پذیر حالت کو روکنے کے لئے کافی نہیں تھیں ، تباہی کے آثار جزیرة العرب کے معاشرہ میں نمایاں ہو چکے تھے اور ان کے درمیان جو معاہدے ہوتے تھے اس کی ایک اجتماعی خصوصیت تھی لیکن اس کے تعدد سے یہ بات عیاں ہے کہ ان کے معاشرہ میں مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔

نہ ہی اس معاشرہ میں ہمیں کوئی ایسی اصلاحی و انقلابی تحریک نظر آتی ہے جس کو تاریخ نے بیان کیا ہو جواس معاشرہ میں ابھری ہو اوراس نے انہیں بہتر و خوش حال زندگی کی طرف دعوت دی ہو ہاں پراگندہ حالت میںبعض لوگوں کی تحریک ضرور تھی جسے اجتماعی ظلم و تعدی کا رد عمل ہی کہا جا سکتا ہے اس کے بانی جزیرة العرب کے بہت کم لوگ تھے اور یہ تحریک نہ تو ایک نظر یہ کے حد تک پہنچ سکی اور نہ ہی معاشرہ میں کوئی انقلاب برپاکر سکی( ۱ ) معاشرۂ قریش میں خلفشاراور اختلاف کو ہم خانۂ کعبہ کی تعمیر نو کے سلسلہ میں دیکھ چکے ہیں حالانکہ اس وقت قریش عرب کے قبائل میں سب سے زیادہ معزز اور متحد تھے۔ اس معاشرہ کی تباہی اور

____________________

۱۔ السیرة النبویة ج۱ ص ۲۲۵۔


شکست و ریخت کو ہم جزیرہ نما ئے عرب میں مقیم یہودیوں کی دھمکیوں سے بھی ثابت کر سکتے ہیں یہاں کے

یہودجزیرہ نما عرب کے لوگوں سے کہا کرتے تھے بشریت کو نجات دلانے والا آسمانی شریعت کے ساتھ عنقریب ظہور کرے گا، نیز کہتے تھے: ایک نبی(ص) ظہور کرے گا جو تمہارے بتوں کو توڑ دے گا۔( ۱ )

۲۔رسول(ص) کے آباء واجداد کا ایمان

رسول(ص) نے ایسے موحد گھرانے میں ولادت و پرورش پائی جو کہ بلند اخلاق اور اعلیٰ اقدار کا حامل تھا۔ آپ(ص) کے جد عبد المطلب کے ایمان کا علم توہمیں ان کی اس دعا سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے اس وقت کی تھی جب حبشی ابرہہ نے خانۂ کعبہ مسمار کرنے کے لئے چڑھائی کی تھی۔ اس وقت کعبہ کی حفاظت کے لئے عبدالمطلب نے کسی بت سے التجا نہیں کی تھی بلکہ خدائے واحد پر توکل کیا تھا۔( ۲ )

بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ عبد المطلب پیشین گوئیوں کے ذریعہ نبی(ص) کی عظمت اور ان کے مستقبل سے واقف تھے چنانچہ انہوں نے رسول(ص) کا واسطہ دے کر اس وقت بارش کی دعا کی تھی جب رسول(ص) کی عمر بہت کم تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رزق و نعمت دینے والے خدا کے نزدیک ان(محمد(ص)) کی بڑی منزلت ہے ۔( ۳ ) عبد المطلب کے مومن ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ انہوں نے آپ کے بچپنے میں ام ایمن سے فرمایا کہ خبردار ان (محمد(ص))سے غافل نہ ہونا۔( ۴ )

یہی حال آپ کے چچا جناب ابو طالب کا ہے تبلیغ رسالت کے پیش نظر وہ بھی تا حیات، رسول(ص) کی حفاظت و پشت پناہی کرتے رہے اس سلسلہ میں انہوں نے قریش کے بائیکاٹ اورشعب ابو طالب می گھیرائو اور ان کی دوسری اذیتوں کو برداشت کیا۔ اس حقیقت کو ہم ابو طالب کے بارے میں نقل ہونے والی روایتوں میں

____________________

۱۔بحار الانوار ج۱۵، ص ۲۳۱، السیرة النبویة ج۱ ص ۲۱۱، البقرة : ۸۹۔

۲۔سیرة النبویة ج۱ ص ۴۳۔۶۲، تاریخ کامل ج۱ ص ۲۶۰، بحار الانوار ج۵ ص ۱۳۰۔

۳۔سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۸۲، الملل و النحل شہرستانی ج۲ ص ۲۴۸۔

۴۔سیرة زینی دحلان جو کہ سیرة حلبیہ کے حاشیہ برچھپی ہے : ج۱ ص ۶۴، تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۰۔


دیکھتے ہیں کہ وہ رسول(ص) کی حفاظت کا کتنا خیال رکھتے تھے۔( ۱ )

ہاں بعض (ضعیف) روایتوں میں رسول(ص) کے والدین کی طرف شرک اور بت پرستی کی نسبت دی گئی ہے ،لیکن ان کے ایمان کی دلیل رسول(ص) کا یہ قول ہے:

''لم ازل انقل من اصلاب الطاهرین الیٰ ارحام الطاهرات'' ۔

میں پاک و پاکیزہ صلبوں سے پاک و پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا۔

اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ(ص) کے آباء و اجداد اور مائیں ہر شرک و رجس سے پاک تھیں۔

۳۔ ولادتِ رسول(ص)

عیسائیت نے انسانی معاشرہ میں نہ تو نفوذ ہی پیدا کیا تھا اور نہ ہی اس کے ایسے کارنامے ہیں کہ جن کا ذکر کیا جاسکے اس کے نتیجہ میں دنیا میں گمراہی و انحراف پھیل گیا تھا لوگ حیرتوں اور فتنوں کی گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے جاہلوں کی جاہلیت نے ان کوبے وقعت کر دیاتھا، روم کی حالت بھی اپنے حریف ملک ایران کی حالت سے کچھ کم بدتر نہیں تھی اور جزیرة العرب کی حالت ان دونوں سے بہتر نہیں تھی ہر ایک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوا تھا۔

اس وقت کی انسانی حیات کے ایک المناک گوشہ کو قرآن مجید نے نہایت ہی فصیح و بلیغ انداز میں بیان کیا ہے اور اسی طرح اہل بیت نبوت کے سید و سردار علی ابن ابی طالب نے اپنے متعدد خطبوں میں ان کی افسوسناک حالت کو بیان فرمایا ہے۔ جس معاشرہ میں نبی(ص) کو مبعوث کیا گیا تھا اس کی حالت کو آپ نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

___________________

۱۔ السیرة النبویہ ج۱ ص ۹۷۹، تاریخ ابن عساکر ج۱ ص ۶۹، مجمع البیان ج۷ ص ۳۷، مستدرک حاکم ج۲ ص ۶۲۳، طبقات الکبریٰ ج۱، ص ۱۶۸، سیرة حلبیہ ج۱ ص۱۸۹، اصول کافی ج۱ ص ۴۴۸، الغدیر ج۷ ص ۳۴۵۔


ارسله علیٰ حین فترة من الرسل و طول هجعة من الامم و اعتزام من الفتن و انتشار من الامور و تلظّ من الحروب و الدنیا کاسفة النور، ظاهرة الغرور علیٰ حین اصفرار من و رقها و ایاس من ثمرها و اغورار من مائها، قد د رست منائر الهدیٰ و ظهرت اعلام الردیٰ فهی متجهمة لاهلها، عابسة فی وجه طالبها ثمرها الفتنة و طعامها الجیفة و شعارها الخوف و دثارها السیف ( ۱ )

اللہ نے اپنے رسول(ص) کو اس وقت بھیجا جب رسولوںکی آمد کا سلسلہ منقطع ہو چکا تھا، امتیں عرصۂ دراز سے خواب غفلت میں پڑی ہوئی تھیں فتنے سر اٹھا رہے تھے، تمام چیزوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے، دنیا کی رونق ختم ہو چکی تھی ، اس کی فریب کاریاںکھلی ہوئی تھیں، اس کے پتے زرد ہو گئے تھے اور پھلوں سے نا امیدی ہو چکی تھی، پانی زمین میں تہ نشیں ہو چکا تھا۔ ہدایت کے نشان مٹ گئے تھے، ہلاکت و پستی کے پرچم کھلے ہوئے تھے، دنیا اپنے باشندوں کے سامنے تیور چڑھائے ہوئے کھڑی تھی، اس کا پھل فتنہ تھا، اس کی خوراک مردار تھی اس کے اندر کا لباس خوف اور ظاہری لباس تلوار تھی۔

بشریت ایسے ہی سخت و دشوار حالات سے دو چار تھی کہ نور الٰہی چمکا اور خدا کے بندوں اور روئے زمین پر بسنے والوں کو بہترین زندگی اور ابدی سعادت کی بشارت دی اور سر زمین حجاز ۱ عام الفیل مطابق ۵۷۰ئکو ماہ ربیع الاوّل میں بابرکت ہو گئی، جیسا کہ اکثر مورخین و محدثین نے لکھا ہے۔

آپ کے روزِ ولادت کو اہل بیت نے بیان کیا ہے واضح ہے کہ گھر کی بات گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں آنحضرت(ص) نے ۱۷ ربیع الاول بروز جمعہ طلوع فجر کے بعد ولادت پائی، مذہب امامیہ کے درمیان یہی قول مشہور ہے لیکن عامہ کا نظریہ یہ ہے کہ آپ(ص) کی ولادت۱۲ ربیع الاول دو شنبہ کے روز ہوئی۔( ۲ )

____________________

۱۔ نہج البلاغہ خطبہ۸۹۔

۲۔ ملاحظہ ہو امتاع الاسماع۔


تاریخ و حدیث کی معتبر کتابوں میں وہ عجیب و غریب حوادث بیان ہوئے ہیں جو آپ کی ولادت کے دن رونما ہوئے تھے مثلا: فارس کے آتشکدہ کی آگ بجھ گئی، شدید زلزلہ آیا کہ جس سے عیسائیوں اور یہودیوں کے گرجا و کلیسا منہدم ہو گئے ہر وہ چیز اپنی جگہ سے اکھڑ گئی جس کی پرستش کی جاتی تھی اور خانہ کعبہ میں نصب ہوئے بت منہ کے بل گر پڑے کا ہنوںاور ساحروں کے اعداد و شمار اور حساب و کتاب بے کار ہوگئے، کچھ ایسے ستارے طلوع ہوئے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے جب آپ(ص) پیدا ہوئے تو آپ کی زبان پر''اللّٰه اکبر، و الحمد للّٰه کثیرا، و سبحان اللّٰه بکرة و اصیلا'' تھا۔( ۱ )

نبی(ص) نے اپنے دو ناموں ، محمد(ص) واحمد، سے شہرت پائی، قرآن مجید نے دونوں کا ذکر کیا ہے مورخین نے لکھا ہے کہ آپ(ص) کے جد عبد المطلب نے آپ کا نام محمد(ص) رکھا تھا اور جب ان سے محمد کی وجہ تسمیہ معلوم کی گئی تو انہوں نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں کہ آسمان اور زمین پران کی تعریف کی جائے( ۲ ) آپ کے جد سے پہلے آپ کی والدہ نے آپ کا نام احمد رکھا تھا۔

اسی نام کی بشارت حضرت عیسیٰ کی زبانی انجیل میں دی گئی ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اسکو بیان کیا ہے اور علمائے اہل کتاب نے اس کی تصدیق کی ہے ، خداوند عالم نے اسے اس طرح نقل کیا ہے :

''مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد '' ۔( ۳ )

اور میں تمہیں اپنے بعد ایک رسول(ص) کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہوگا۔

اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے کہ ایک شخص دو نام، دو القاب اور دو کنیتوں سے پہچانا جائے جزیرة العرب و غیرہ میں ایسا ہوتاآیاہے ۔

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۸، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۹۲۔

۲۔ سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۲۸۔

۳۔ صف: ۶، ملاحظہ ہو سیرة حلبیہ ج۱ ص ۷۹۔


۴۔ مبارک رضاعت

حضرت محمد(ص) کی ساری ذمہ داری ان کے جد عبد المطلب کے سپرد ہو گئی تھی کہ جو عین شباب کے عالم میں اپنے چہیتے بیٹے جناب عبد اللہ سے محروم ہو گئے تھے، اس لئے آپ کے جد عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی ذمہ داری ابو لہب کی کنیز ثویبہ کے سپرد کر دی تاکہ آپ کو بنی سعد کے پاس بادیہ میں بھیج دیا جائے اور وہاں کے صاف و شفاف ماحول میں نشو نماپائیں اور ان وبائوں سے دور رہکر-جو کہ اہل مکہ کے بچوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی تھیں۔ بادیہ نشین لوگوں کے بچوں کے ساتھ پرورش پائیں، جیسا کہ اہل مکہ کے شرفاء کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچے دودھ پلانے کے لئے دودھ پلانے والیوں کو دیدیا کرتے تھے اور دودھ پلانے کے سلسلہ میں قبیلۂ بنی سعد کی عورتیں مشہور تھیں، وہ مکہ کے مضافات اور حرم کے نواح میں رہتی تھیں دودھ پینے والے بچے لینے کے لئے ان کی عورتیں سال میں ایک مرتبہ مکہ آتی تھیں جس سال نبی(ص) نے ولادت پائی تھی اس سال بہت سی عورتیں آئی تھیں کیونکہ یہ قحط کا سال تھااس لئے انہیں مکہ کے شرفاء سے مدد لینا تھی۔

بعض مورخین کا خیال ہے کہ ان دودھ پلانے والیوں میں سے کسی نے بھی محمد(ص) کو نہ لیا کیونکہ آپ(ص) یتیم تھے، قریب تھا کہ ان کاقافلہ واپس چلا جائے، حلیمہ بنت ابی ذویب سعدیہ کے علاوہ ہر عورت کو بچہ مل گیا تھا، دوسری دودھ پلانے والیوں کی مانند پہلے حلیمہ نے بھی آپ(ص) کو لینے سے انکار کر دیا تھا لیکن جب انہیں کو ئی بچہ نہ ملا تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا: خدا کی قسم! میں اس یتیم کے گھر جائونگی اور اسی کو لائونگی، ان کے شوہر نے رضامندی کا اظہار کیا تو وہ عبدالمطلب کے گھر واپس آئیں اور محمد(ص) کو گود میں لیا ، گود لیتے ہی ان کا پورا وجود اس امید سے معمور ہو گیا کہ اس بچہ کے ذریعہ انہیں بہت سی خیر و برکت ملے گی۔( ۱ )

مورخین کا یہ خیال ہاشمی گھرانے کی عظمت اور رسول(ص) کے جد، کہ جو اپنے جود و کرم اور مفلس و محتاجوں کی مدد کرنے کے حوالے سے مشہور تھے ۔

مزید بر آں بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آنحضرت(ص) کے پدر بزرگوار کا انتقال آپ(ص) کی ولادت کے کئی مہینے

____________________

۱۔ سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۴۶۔


کے بعد ہوا تھا( ۱ ) مورخین نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ آپ(ص) نے حلیمہ کے پستان کے علاوہ کسی کے پستان کو منہ نہیں لگایا تھا۔( ۲ ) حلیمہ کہتی ہیں: عبد المطلب نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں بنی سعد کی عورت ہوں انہوں نے کہا: تمہارا کیا نام ہے؟ میں نے کہا : حلیمہ اس پر عبد المطلب مسکرائے اور فرمایا: مبارک ہو مبارک سعد وحلم ایسی دو خصلتیں ہیں کہ جن میں زمانہ کی بھلائی اور ابدی عزت ہے ۔( ۳ )

عبد المطلب کے یتیم کو لینے کے سلسلہ میں حلیمہ کو جو خیر و برکت کی امید ہوئی تھی اس میں انہیں خسارہ نہیں ہوا مروی ہے کہ حلیمہ کے پستان میں دودھ نہیں تھا لیکن جب محمد(ص) نے منھ لگایا تو ان کے پستان میں دودھ بھر گیا ۔

حلیمہ کہتی ہیں: ہم نے اپنے مال و متاع میں اسی وقت سے خیر و برکت محسوس کی ہے جب سے رسول(ص) کو پرورش کے لئے لیا یہاں تک کہ قحط و غربت کے بعد ہم مالدار ہو گئے۔( ۴ )

عبد المطلب کا پوتا حلیمہ اور ان کے شوہر کی گود میں چلا گیا اور تقریبا ۵ سال تک وہیں رہا دو سال کے بعد حلیمہ انہیں لے کر واپس آئیں لیکن اب تو حلیمہ آپ کے وجود میں خیر و برکت محسوس کر چکی ہیں اور آپ کو دو بارہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہیں دوسری طرف آپ(ص) کی والدہ امراض اور وباء سے بچانے کی خاطر آپ(ص) کومکہ سے دور رکھنا چاہتی ہیں لہذا حلیمہ خوشی خوشی رسول(ص) کو اپنے ساتھ لیکر واپس لوٹ گئیں۔

روایت ہے کہ حلیمہ دوبارہ آپ کو اس وقت مکہ واپس لائیں جب انہیں آپ(ص) کی جان خطرہ میں نظر آئی کیونکہ حلیمہ نے نصاریٰ کی اس جماعت کو دیکھا تھا جو حبشہ سے حجاز آئی تھی اس نے محمد(ص) میں نبی موعود کی علامتیں دیکھیں تو اصرار کیا کہ ہم انہیں اپنے ساتھ حبشہ لے جانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی پرورش کا شرف حاصل کریں۔( ۵ )

____________________

۱۔ الصحیح من سیرة النبی الاعظم (ص) ج۱ ص ۸۱، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۸۱۔

۲۔ بحار الانوار ج۱۵ ص ۳۴۲۔ ۳۔سیرة حلیبہ ج۱ ص ۱۴۷۔

۴۔بحار الانوار ج۱۵ ص ۳۴۵، المناقب ابن شہر آشوب ج۱ ص ۲۴، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۴۹۔

۵۔ السیرة النبویة ج۱ ص ۱۶۷، بحار الانوار ج۱۵ ص ۱۰۵، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۵۵۔


۵۔ نبی (ص) کے واسطہ سے بارش

مورخین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ رسول(ص) کے واسطہ سے آپ کی حیات میں متعدد بار بارش ہو ئی ہے ۔آپ کی شیر خوارگی کے زمانہ میں آپ کے جد اور آپ کے چچا ابو طالب کی زندگی میں ، پہلی بار اس وقت آپ کے واسطہ سے بارش ہو ئی تھی جس وقت اہل مکہ شدید قحط میں مبتلا تھے، دو سال سے بارش نہیں ہوئی تھی، جناب عبد المطلب نے اپنے بیٹے ابو طالب کو حکم دیا کہ ان کے پوتے حضرت محمد(ص) کو لائیں حالانکہ وہ اس وقت شیر خوار تھے چنانچہ ابوطالب انہیں لائے، اور دادا کی گود میں دیدیا، عبد المطلب انہیں لئے ہوئے خانۂ کعبہ گئے اور انہیں آسمان کی طرف بلند کرکے عرض کی: بار الٰہا! اس بچہ کے حق کا واسطہ، اسی جملہ کو باربار کہتے اور دعا کرتے رہے کہ ہمیں موسلادھار بارش کے ذریعہ سیراب کر کچھ دیر نہ گذری تھی کہ آسمان پر گھٹا چھا گئی اور اتنی شدید بارش ہوئی کہ لوگوں کو مسجدالحرام کے منہدم ہونے کا خوف لاحق ہو گیا۔( ۱ )

دوبارہ آپ کے وسیلہ سے اس وقت بارش ہوئی جب آپ(ص) کا بچپناتھا جناب عبد المطلب آپ(ص) کو لیکر کوہ ابو قبیس پرگئے قریش کے دوسرے نمایاں افراد بھی ان کے ہمراہ تھے تاکہ نبی(ص) کی برکت سے دعا مستجاب ہو جائے۔ اس واقعہ کی طرف جناب ابو طالب نے اس طرح اشارہ کیا ہے :

ابو نا شفیع الناس حین سقوابه

من الغیث رجاس العشیر بکور

و نحن-سنین المحل-قام شفیعنا

بمکة یدعو و المیاه تغور( ۲ )

مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ قریش نے ابو طالب سے التماس کی کہ ہمارے لئے بارش کی دعا کریں تو ابو طالب ، نبی(ص) کو مسجد الحرام کے پاس لائے، اس وقت آپ کا چہرہ سورج کی طرح دمک رہا تھا، ابو طالب نے نبی(ص) کے واسطہ سے بارش کے لئے دعا کی تو آسمان پر بادل چھا گئے اورموسلا دھار بارش ہوئی اس صورت حال کودیکھ کر سب لوگ خوش ہو گئے۔ اس کرامت کا ذکر ابو طالب نے اس وقت کیا تھا جب قریش

____________________

۱۔الملل و النحل ج۲ ص ۲۴۸، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۸۲ و ۱۸۳۔ ۲۔سیرة حلبیہ ج۱ ص ۳۳۱۔


نے نبی(ص) اور ان کی رسالت سے دشمنی کی حد کر دی تھی، کہتے ہیں:

و ابیض یستسقیٰ الغمام بوجهه

ربیع الیتامی عصمة للارامل

تلوذ به الهلاک من آل هاشم

فهم عنده فی نعمة و فواضل( ۱ )

سفید رنگ سردار جس کے چہرہ سے بادل برسایا جاتاہے، جو یتیموں کا فریاد رس اور بیوائوں کا محافظ ہے یہ وہ ذات ہے جس کے سایہ میں آل ہاشم کے مجبور لوگ پناہ لیتے ہیں اور اس کے تصدق میں نعمت پاتے ہیں۔

ان تمام باتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ رسول خدا کے دونوں کفیل خالص مومن تھے اور دونوں خدا پر ایمان رکھتے تھے ان کی عزت و افتخار ، توحید اور اللہ پر ایمان کے لئے اتنا کافی ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول(ص) نے اس گھر میں پرورش پائی تھی جوعقیدۂ توحید سے معمور تھا۔

۶۔ اپنی والدہ آمنہ کے ساتھ

آپ(ص) کے والد کا سایہ تو پہلے ہی اٹھ چکا تھا والدہ کی محبت و شفقت سے بھی آپ(ص) تا دیربہرہ یاب نہ رہ سکے، والدہ کو یہ امید تھی کہ عبد اللہ کا یتیم ان کی حیات میں جوان ہوگا اور شوہر کی جدائی کے بعد بیٹا سہارا بنے گا۔ مگر موت نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی، حلیمہ سعدیہ سے روایت ہے کہ وہ نبی(ص) کو ان کے گھر لے کر آئیں اس وقت نبی(ص) کی عمر پانچ سال ہو چکی تھی، آپ کی والدہ آمنہ یہ چاہتی تھیں کہ محمد(ص) کو ساتھ لیکر اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کو جائیں اور اس سفرمیں محمد(ص) یثرب میں بنی نجار میں سے اپنے ماموں کو بھی دیکھ لیں لیکن اس سفر میں رسول(ص) کو ایک اور غم ہوا، آپ اپنے پدر بزرگوار کی قبر کی زیارت کرکے واپس آ رہے تھے کہ مقام ''ابوائ'' میں آپ(ص) کی والدہ کا انتقال ہو گیا گویا عہد طفلی میں آنحضرت (ص) کے قلب میں دو غموں کا اجماع ہو گیا آپ کی شخصیت کی تکمیل کے لئے یہ خدائی منصوبہ تھا۔

جناب ام ایمن نے ان کے قافلہ کو مکہ پہنچایا، یہ نبی(ص) کے ساتھ رہیں یہاں تک کہ آپ(ص) کو آپ(ص) کے

____________________

۱۔سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۹۰، البدایہ و النہایة ج۳ ص ۵۲، بحار الانوار ج۸ ص ۲۔


جد عبد المطلب کے سپرد کیا عبد المطلب اپنے پوتے سے بہت محبت کرتے تھے۔( ۱ )

۷۔ اپنے جد عبد المطلب کے ساتھ

محمد(ص) نے عبد المطلب کے دل میں جو مقام و مرتبہ حاصل کر لیا تھا وہ ان کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کسی کو حاصل نہیں تھا حالانکہ وہ بطحاء و مکہ کے سردار تھے، روایت ہے کہ ایک مرتبہ عبد المطلب خانہ ٔ کعبہ کے چبوترے پر چادر بچھائے ہوئے بیٹھے تھے ،یہ چادرمخصوص آپ کے لئے بچھائی جاتی تھی اس وقت آپ کے چاروں طرف قریش کے سر بر آوردہ سردار اور ان کے بیٹے بیٹھے تھے، عبد المطلب کی نظر اپنے پوتے، محمد(ص) پر پڑی، آپ نے حکم دیا کہ محمد(ص) کے لئے راستہ چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس پہنچ گئے آپ نے انہیں اس خاص چادرپر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔( ۲ ) قریش کے سردار کی یہ خاص عنایت اس لئے تھی تاکہ قریش کے دلوں میں ان کی بلندی راسخ ہو جائے اوروہ آپ کے خلق عظیم سے متاثر تھے ہی ۔

قرآن مجید نے آپ کے اس دورِ یتیمی کا ذکر کیا ہے جس سے آپ(ص) اپنے پروردگار کی نگہبانی کے ساتھ گذرے ہیں ارشاد ہے :''الم یجدک یتیماً فآویٰ '' کیاہم نے آپ کو یتیم پایا تو آپ کو پناہ نہیں دی، یتیمی کا دور انسان کی شخصیت اور اس کی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے ، اس سے انسان کے اندر خود اعتمادی، پختگی، مشکلات و مصائب پر صبر کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے خدا وند عالم نے اپنے نبی (ص) کو اس طرح تیار کیا کہ آپ(ص) مستقبل میں پیش آنے والی مشکلوں کو برداشت کرنے اور اس رسالت کبریٰ کا بار اٹھانے پر آمادہ ہو جائیں جس سے آپ(ص) کا کمال نکھرے گا اور آپ(ص) کی شخصیت میں پختگی آئے گی۔ اس حقیقت کی طرف رسول(ص) نے اس طرح اشارہ فرمایا ہے:

''ادبنی ربی فاحسن تا دیبی'' ( ۳ )

میرے پروردگار نے مجھے ادب سکھایاپس میں نے بہترین تربیت پائی۔

____________________

۱۔ سیرة حلبیہ ج۱ ص ۱۰۵۔

۲۔السیرة النبویة ج۱ ص ۱۶۸۔

۳۔ مجمع البیان ج۵ ص ۳۳۳ ملاحظہ ہو تفسیر سورة قلم۔


ابھی نبی(ص) آٹھ سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ(ص) اپنے جد بزرگوار عبد المطلب، کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے عبد المطلب کی موت سے آپ کو جو صدمہ ہوا تھا وہ آپ کی مادر گرامی کی موت سے کم نہیں تھا آپ(ص) پر شدید رقت طاری تھی ، جنازہ کے پیچھے پیچھے قبر تک روتے ہوئے گئے تا حیات عبد المطلب کو یاد کرتے رہے کہ وہ آپ(ص) کے بہترین نگہبان تھے وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ نبی ہیں روایت ہے کہ ایک شخص یہ چاہتا تھا کہ عبد المطلب آپ سے نظر پھیر لیں ۔ آپ نے اس سے فرمایا: میرے بیٹے کے بارے میں کچھ نہ کہو اس کے پاس تو فرشتہ آتا ہے ۔( ۱ )

____________________

۱۔ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۰۔


دوسری فصل

شباب و جوانی کا زمانہ

۱۔ نبی(ص) ابوطالب کی کفالت میں

نبی(ص)، حضرت ابو طالب کی کفالت میں آنے سے پہلے حضرت عبد المطلب کی حفاظت وکفالت میں رہے عبد المطلب جانتے تھے کہ ابو طالب بہترین طریقہ سے اپنے بھتیجے کی حفاظت و کفالت کریں گے اگر چہ وہ نادار ہیں لیکن اپنے بھائیوں سے زیادہ شریف و نجیب ہیں اور قریش انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ حضرت ابوطالب جناب عبد اللہ کے پدری و مادری بھائی ہیں لہذا وہ محمد(ص) سے زیادہ محبت کریں گے۔

اس ذمہ داری کو حضرت ابو طالب نے خندہ پیشانی اور افتخار کے ساتھ قبول کر لیا، اس سلسلہ میں ابو طالب کی زوجہ جناب فاطمہ بنت اسد بھی ان کی معاون تھیں، یہ میاں بیوی پہلے محمد(ص) کو کھانا کھلاتے تھے اور پھر اپنی اولاد کو کھلاتے تھے، پہلے محمد (ص)کو کپڑا پہناتے تھے پھر اپنے بچوں کو کپڑا پہناتے تھے، اس چیز کو رسول(ص) نے فاطمہ بنت اسد کے انتقال کے وقت اس طرح بیان فرمایا: ''الیوم ماتت امی '' میری ماں کا انتقال آج ہواہے۔ اور انہیں اپنے کرتے کا کفن دیا اور پہلے خود ان کی قبر میں لیٹے۔

حضرت عبد المطلب کی وفات کے بعد رسول(ص) کی حفاظت کی ذمہ داری جناب ابو طالب کے دوش پر آ گئی تھی چنانچہ انہوں نے آنحضرت (ص) کے بچپنے ہی سے اپنی جان و عظمت سے آنحضرت (ص) کی حفاظت کی تا حیات آپ کا دفاع کیا اپنے ہاتھ اور زبان سے


آپ(ص) کی نصرت کی یہاں تک کہ محمد(ص) جوان ہو گئے اور نبوت سے سرفراز ہو گئے۔( ۱ )

۲۔ شام کی طرف پہلا سفر

قریش کی یہ عادت تھی کہ وہ سال میں ایک بار تجارت کے لئے شام کا سفر کرتے تھے کیونکہ ان کی کمائی کا یہ ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ ابو طالب نے بھی شام کے سفر کا ارادہ کیا لیکن محمد(ص) کو اس لئے سفر میں ساتھ لے جانے کے بارے میں نہیں سوچا تھاکہ سفر میں بہت سی صعوبتیں پیش آئیں گی اور صحرائوں سے گذرنا پڑے گا۔ مگر روانگی کے وقت جب ابو طالب نے یہ دیکھا کہ ان کا بھتیجا ساتھ چلنے پر مصر ہے اور اپنے چچا کے فراق میں رو رہا ہے تو انہیں اپنا یہ ارادہ بدلنا پڑا، مختصر یہ کہ آنحضرت (ص) نے شام کا پہلا سفر اپنے چچا جناب ابو طالب کے ساتھ کیا۔ اس سفر میںآپ(ص) صحرائوں سے گذرے اور سفر کے مزاج کو سمجھ گئے اور قافلوں کے راستوں سے واقف ہو گئے۔

اسی سفر میں محمد(ص) کو بحیرا نامی راہب نے دیکھا، آپ(ص) سے ملاقات کی، آپ(ص) کے اندر اس خاتم النبیین کے اوصاف ملاحظہ کئے جس کی آمد کی بشارت جناب عیسیٰ نے دی تھی یہ بشارت توریت و انجیل اوردیگر ان کتابوں میں بھی نقل ہوئی تھی جن میں خاتم النبیین کے ظہور کی بشارت دی گئی تھی۔ بحیرا نے آپ(ص) کے چچا ابوطالب(ص) سے کہا کہ ان کو لیکر آپ واپس مکہ چلے جائیں اور انہیں یہودیوں سے بچائیں کہیں وہ انہیں قتل نہ کر دیں( ۲ ) اس پر جناب ابو طالب اپنے بھتیجے محمد(ص) کو لیکر مکہ واپس آ گئے۔

۳۔ بکریوں کی پاسبانی

ائمہ اہل بیت سے ایسی کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ رسول(ص) نے بچپنے میں بکریاں چرائی تھیں۔ ہاں امام صادق سے ایک ایسی حدیث نقل ہوئی ہے کہ جس میں تمام انبیاء کے بکریاں

____________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۳۵، تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۴۔

۲۔سیرت ابن ہشام ج۱ ص ۱۹۴، الصحیح من سیرة النبی ج۱ ص ۹۱، ۹۴۔


چرانے اور گلہ بانی کا فلسفہ بیان ہوا ہے ۔ ارشاد ہے :''ما بعث الله نبیاً قط حتی یسترعیه الغنم یعلمه بذالک رعیه للناس'' خدا نے کسی نبی کو اس وقت تک نبی نہیں بنایا جب تک کہ اس نے بکریوں کے گلہ کی پاسبانی نہیں کی، اصل میں اس طرح اسے لوگوں کی پاسبانی اور انہیں قابومیںکرنے کا طریقہ معلوم ہوجاتا ہے ۔

اسی طرح امام صادق نے کھیتی اورگلہ بانی کا فلسفہ بھی بیان فرمایا ہے :ان اللّه عزّ و جلّ احبّ لانبیائه من الاعمال: الحرث و الرعی لئلا یکرهوا شیئا من قطر السماء ۔( ۱ )

بیشک خدا وند عالم نے اپنے انبیاء کے لئے زراعت اور پاسبانی کو پسند فرمایا تاکہ وہ آسمان کے نیچے کی کسی بھی چیز سے کراہت نہ کریںنیز آپ ہی سے روایت ہے :انّ رسول اللّه ما کان اجیرا لا حدٍ قط ( ۲ ) رسول(ص) نے ہر گز کسی کی نوکر ی نہیں کی۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت (ص) نے اجرت پر اہل مکہ کی بکریاں نہیں چرائیں جیسا کہ بعض مورخین نے صحیح بخاری کی ایک حدیث کی بنا پر یہ لکھدیا کہ آپ(ص) نے اہل مکہ کی بکریاں چرائی تھیں۔( ۳ )

جب یہ ثابت ہو گیا کہ آنحضرت (ص) نے بچپنے اور جوانی میں(اپنی) بکریاں چرائی تھیں تو اب ہمارے لئے اس حدیث کی علت بیان کرنا آسان ہو گیا جو ہم نے امام صادق سے نقل کی ہے اور وہ یہ کہ ان سر گرمیوں کے ذریعہ خدا آپ(ص) کو کمال کے اس مرتبہ پر پہنچنے کاا ہل بنا رہا تھا جس کو خود خدا نے اس طرح بیان کیا ہے :( انک لعلیٰ خلق عظیم ) ( ۴ ) بیشک آپ خلقِ عظیم کے درجہ پر فائز ہیں، یہی وہ کمال ہے جس نے آپ(ص) کے اندر خدائی رسالت کے بار کو اٹھانے کی استعداد پیدا کی تھی۔ رسالت الٰہیہ لوگوں کی پاسبانی، ان کی تربیت اور ان کی ہدایت و ارشاد کے سلسلہ میں پیش آنے والی دشواریوں کا تقاضا کرتی ہے۔

____________________

۱۔علل الشرائع ص ۲۳ سفینة البحار مادہ نبا۔

۲۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۱، البدایة و النہایة ج۲ ص ۲۹۶۔

۳۔ صحیح بخاری کتاب الاجارہ باب ۳۰۳ حدیث ۴۹۹۔

۴۔ قلم: ۴۔


۴۔ حرب الفجار

عرب میں کچھ ایسی جنگیں بھی ہوتی تھیں جن میں وہ حرمت والے مہینوں کی حرمت کو حلال سمجھ لیتے تھے ان جنگوں کو حرب الفجار کے اسم سے موسوم کیا جاتا تھا۔( ۱ )

بعض مورخین کا خیال ہے کہ ایسی جنگیں رسول(ص) نے بھی دیکھی ہیں اور ایک طرح سے آپ(ص) ان میں شریک بھی ہوئے ہیں لیکن بعض محققین نے درج ذیل چند اسباب کی بنا پر اس میں شک کیا ہے :

۱۔ جیسے جیسے رسول(ص) کی عمر بڑھتی تھی اسی تناسب سے آپ کی شخصیت نکھرتی جاتی تھی ، تمام بنی ہاشم کی طرح آپ کی شجاعت بھی مشہور تھی لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ بنی ہاشم نے ظلم و فساد والی جنگ میں شرکت کی ہے ۔روایت ہے کہ بنی ہاشم نے ایسی جنگوں میں شرکت نہیں کی، کیونکہ ابو طالب نے صاف کہہ دیا تھا کہ ان جنگوں میںمیرے خاندان میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہوگا( ۲ ) ان جنگوں میں ظلم و زیادتی قطع رحمی ہوتی ہے اور حرمت والے مہینوں کو حلال سمجھ لیا جاتا ہے لہذا میرے خاندان میں سے کوئی بھی ان میں شریک نہیں ہوگا۔ اسی طرح اس زمانہ کے قریش و کنانہ کے سردار عبد اللہ بن جدعان اور حرب بن امیہ نے یہ اعلان کر دیا ہم اس معاملہ میں شریک نہیںہونگے جس میں بنی ہاشم شریک نہیں ہونگے ۔( ۳ )

۲۔ جوروایات ان جنگوں میں نبی(ص) کے کردار کو بیان کرتی ہیں ان میں اختلاف ہے ، بعض صرف یہ بیان کرتی ہیں کہ ان جنگوں میں رسول(ص) کا کام اپنے چچائوں کیلئے، تیروں کو جمع کرنا اور انکے دشمنوںپر برسانا اور اپنے چچائوں کے مال کی حفاظت کرنا تھا۔( ۴ ) دوسری روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ ان جنگوں میں آپ(ص) نے تیر وغیرہ چلائے ہیں۔( ۵ ) تیسری روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپ(ص) نے ابو براء پر سنان سے حملہ کیا اور

____________________

۱۔موسوعة التاریخ الاسلامی ج۱ ص ۳۰۱ تا ۳۰۵ بحوالہ اغانی ج۱۹ ص ۷۴۔۸۰۔

۲۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۵۔ ۳۔ ایضاً: ج۲ ص ۱۵۔

۴۔موسوعة التاریخ الاسلامی ج۱ ص ۳۰۴۔

۵۔ السیرة النبویة زینی دحلان ج۱ ص ۲۵۱، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۲۷۔


اسے گرا دیا حالانکہ اس وقت آپ(ص) کا بچپنا تھا۔( ۱ ) لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ عرب اپنے بچوں کو جنگوں میں شریک ہونے کی اجازت دیتے تھے یا نہیں؟( ۲ )

۵۔حلف الفضول

حرب الفجار کے بعد قریش کو اپنی کمزوری اور انتشار کا احساس ہوا اور انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ہم قوی و معزز تھے اب کہیں عرب کے حملہ کا نشانہ نہ بن جائیں لہذا زبیر بن عبد المطلب نے حلف الفضول کی طرف دعوت دی، اس دعوت کے نتیجہ میں بنی ہاشم ، بنی زہرہ، بنی تمیم اور بنی اسد ،عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں جمع ہوئے اور عہد و پیمان کرنے والوں نے آبِ زمزم میں ہاتھ ڈال کر عہد کیا کہ مظلوم کی مدد کریں گے، زندگی کے اصولوں کی از سر نو بنا رکھیں گے اور لوگوں کوبرائیوں سے روکیں گے۔( ۳ ) زمانۂ جاہلیت میں یہ عظیم ترین عہد تھا۔ اس عہد و پیمان میں حضرت محمد(ص) بھی شریک تھے اس وقت آپ(ص) کی عمر بیس سال سے کچھ زیادہ تھی۔( ۴ )

اس عہد و پیمان کی تعریف آپ(ص) نبی ہونے کے بعد بھی اس طرح کرتے تھے :ما احب ان لی بحلف حضرته فی دار ابن جدعان حمر النعم ولو دعیت به فی الاسلام لا جبت ۔( ۵ ) مجھے وہ عہد و پیمان سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے جو ابن جدعان کے گھر میں ہوا تھا اگر اس کو اسلام میں شامل کرنے کے لئے کہا جاتا تو میں ضرور قبول کر لیتا۔

حلف الفضول کی وجہ تسمیہ کے بارے میں ایک قول یہ ہے : چونکہ اس عہد و پیمان میں تین آدمی ایسے شریک تھے جن کے نام ''الفضل'' سے مشتق تھے اسلئے اسے حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس عہد و پیمان کے سبب کے بارے میں روایت ہے کہ ماہِ ذی قعدہ میں بنی زبید یا بنی اسد بن خزیمہ کا ایک شخص کچھ سامانِ تجارت

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۶۔ ۲۔الصحیح فی السیرت ج۱ ص ۹۵۔

۳۔البدایة النہایة ج۳ ص ۲۹۳، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴ص ۱۲۹ و ۲۸۳۔

۴۔تاریخ یعقوبی ج۱ ص ۱۷۔ ۵۔ سیرت ابن ہشام ج۱ ص ۱۴۲۔


کے ساتھ مکہ آیا۔ عاص بن وائل نے اس سے کچھ سامان خرید لیا لیکن اس کی قیمت ادا نہ کی۔ زبید ی نے قریش والوں سے مدد طلب کی قریش والوں نے عاص بن وائل کے خلاف اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا اور اسے ڈانٹا پھٹکارا تو زبیدی نے کوہ ابو قبیس پر چڑھکر فریاد کی اس کی فریاد سن کر زبیر بن عبد المطلب نے لوگوں کو بلایا، انہیں لوگوں سے ''حلف الفضول'' جماعت کی تشکیل ہوئی، یہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے اور اس سے زبیدی کا ساما ن لیکر اسے واپس لوٹا دیا۔( ۱ )

خدیجہ کے مال سے تجارت

اپنے عظیم اخلاق، بلند ہمتی، امانت داری اور صداقت کی وجہ سے محمد(ص) کی شخصیت مکہ کے معاشرہ میں نکھرتی اور ابھرتی جا رہی تھی ، خود بخود لوگوں کے دل آپ(ص) کی طرف جھکتے تھے، کیوں نہ ہو کہ آپ(ص) کا تعلق پاک نسل سے تھا لیکن جس خاندان میں آپ(ص) زندگی گزار رہے تھے، اس کے سرپرست ابو طالب، مفلس و نادار تھے انہوں نے مجبوراً اپنے بھتیجے سے یہ کہا (جس کی عمر اس وقت پچیس سال تھی )کہ آپ خدیجہ بنت خویلد کے مال سے مضاربہ کی صورت میں تجارت کریں۔ ابو طالب جناب خدیجہ کے پاس گئے، ان سے اپنا منصوبہ بتایا انہوں نے فوراً قبول کر لیا اور اس سے بہت خوش ہوئیں کیونکہ وہ محمد(ص) کی شخصیت سے واقف تھیں، خدیجہ نے اپنے تجارتی شرکاء سے دگنا حصہ آپ کے لئے مقرر کیا۔( ۲ )

محمد(ص) شام کی طرف روانہ ہو گئے اس سفر میں خدیجہ کا غلام میسرہ آپ کے ساتھ تھا ، اس سفرکے دوران محمد(ص) نے اپنے حسن و جمال اور محبت و مہربانی کی وجہ سے میسرہ کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اپنی امانتداری ، تدبر و ہوشیاری کی بنا پر آپ سے بہت نفع اٹھایا۔ اس سفر میں آپ سے بعض واضح کرامات بھی ظاہر ہوئے، جب قافلہ مکہ واپس آیا تو میسرہ نے جو کچھ سفر میں دیکھا اور سناتھا( ۳ ) وہ خدیجہ سے بیان کیا اس سے خدیجہ نے آپ(ص) کو

____________________

۱۔سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۳۲، البدایة و النہایة ج۲ ص ۲۹۱۔

۲۔ بحار الانوار ج۱۶ ص ۲۲، کشف الغمہ ج۲ ۱۳۴، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۳۲۔

۳۔البدایة و النہایة ج۲ ص ۲۹۶، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۳۶۔


اور زیادہ اہمیت دی اور ان کے دل میں آپ(ص) کا اشتیاق پیدا ہوا۔

بعض مورخین نے یہ خیال کیا ہے کہ اس تجارت کے لئے خدیجہ نے آپ(ص) کو ملازم کے عنوان سے بھیجا تھاچنانچہ یعقوبی، جن کی تاریخ قدیم ترین و معتمد ترین مصدر وماخذ سمجھی جاتی ہے لکھتے ہیں: لوگ کہتے ہیں خدیجہ نے آپ(ص) کو ملازم کے عنوان سے بھیجا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ(ص) ہرگز کسی کے ملازم نہیں رہے۔( ۱ )

امام حسن عسکری سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوارامام علی نقی سے روایت کی ہے : رسول(ص) خدا خدیجہ بنت خویلد کے مال سے مضاربہ کی صورت میں تجارت کے لئے شام کا سفر کرتے تھے۔( ۲ )

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۱۔

۲۔ بحار الانوار ج۱۷ ص ۳۰۸۔


تیسری فصل

شادی سے بعثت تک

۱۔ شادی مبارک

حضرت محمد(ص) کی شخصیت کے لئے جوہر شخصیت سے بلند تھی، ایسی عورت سے شادی کرنا ضروری تھا جس کا مزاج آپ(ص) کے مزاج سے ہم آہنگ ہو اور وہ آپ(ص) کے اغراض و مقاصد سے متفق ہوتا کہ وہ آپ کے ساتھ راہِ جہاد و عمل کو طے کرے دشواریوں اور مشکلوں میں صبر کرے، اس زمانہ میں ایسی کوئی عورت نہیں تھی جو محمد(ص) کے لئے مناسب ہو، اس مہم کے لئے جناب خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں تھا، خدا نے چاہا تو خدیجہ کا دل محمد(ص) کی طرف مائل اور آپ(ص) کی عظیم شخصیت کا گرویدہ ہو گیا، حسن و جمال، عزت و شرافت اور مال کے لحاظ سے خدیجہ قریش کی تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی تھیں، زمانہ جاہلیت میں ، انہیں ، طاہرہ اور سیدہ کہا جاتا تھا، ان کی قوم کا ہر مرد ان سے شادی کرنا چاہتا تھا۔

قریش کے بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے آپ کے پیغام آئے اور اس سلسلہ میں انہوں نے بہت زیادہ مال خرچ کیا( ۱ ) لیکن خدیجہ نے سب کے پیغامات کو ٹھکرا دیا وہ عاقلہ تھیں۔ ہر چیز کو سمجھتی تھیں، لہذاانہوں نے اپنے لئے آنحضرت(ص) ہی کو پسند کیا، کیونکہ خدیجہ آپ میں شرافت، اخلاق، بہترین عادات و خصلت اور بلند اقدار کا مشاہدہ کر چکی تھیں لہذا انہوں نے آپ(ص) کی دہلیز عظمت پر اترنا اور خود کو آپ(ص) کی نذر کرنا ہی بہتر سمجھا۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۱۶ ص ۲۲۔


بہت سے تاریخی نصوص سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ آپ(ص) سے شادی کی پیشکش خود جناب خدیجہ ہی نے کی تھی اس کے بعد ابو طالب اور قریش میں سے بعض افرادرشتہ لے کر ان کے خاندان والوں کے پاس گئے تھے اس وقت خدیجہ کے بزرگ اور ولی ان کے چچا عمرو بن اسد تھے( ۱ ) یہ واقعہ بعثتِ نبی(ص) سے پندرہ سال قبل کا ہے ۔

جناب ابو طالب نے اس وقت جو خطبہ پڑھا تھا اس کا ایک اقتباس یہ ہے:

''الحمد لرب هذا البیت الذی جعلنا من زرع ابراهیم و ذریة اسماعیل و انزلنا حرماً آمناً و جعلنا الحکام علیٰ الناس و بارک لنا فی بلدنا الذی نحن فیه...''

ساری تعریف اس گھر -خانہ کعبہ-کے رب کے لئے ہے جس نے ہمیں ابراہیم کی نسل اور اسماعیل کی ذریت قرار دیا اور ہمیں محفوظ حرم میں اتارا، ہمیں لوگوں پر حاکم بنایااور ہمیں ہمارے اس شہر میں برکت عطا کی کہ جس میں ہم زندگی گزارتے ہیں...

میرے اس بیٹے کا قریش کے جس مرد سے بھی موازنہ و تقابل کیا جائیگا تو یہ اس سے بلند ثابت ہوگا اور جسے بھی اس کے مقابلہ میں لایا جائیگا یہ اس سے عظیم قرار پائیگا۔کائنات میں کوئی بھی اس کا ہم پلّہ نہیں ہے اگر چہ اس کے پاس مال کم ہے ، لیکن مال کی وقعت ہی کیا ہے یہ تو آتاجاتارہتا ہے ، ڈھل جانے والا سایہ ہے ، یہ خدیجہ سے شادی کرنا چاہتا ہے اور خدیجہ بھی اس کی طرف مائل ہے ۔ ہم خدیجہ کی خواستگاری کے لئے اسی کے ایماء پر تمہارے پاس آئے ہیں رہی مہر کی بات تو وہ میں اپنے مال سے ادا کرونگا خواہ نقد ہو یا ادھار،...میرے بھتیجے اور ربِّ کعبہ کی بڑی عظمت ہے (کعبہ کے رب کی قسم میرے بھتیجے کی بڑی عظمت ہے)، ان کا دین مشہور اور ان کی رائے کامل ہے ۔( ۲ )

____________________

۱۔ سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۳۷۔

۲۔کافی ج۵ ص ۳۷۴، بحار الانوار ج۱۶ ص ۵، اس میں کشاف و ربیع الابرار سے منقول ہے نیز ملاحظہ ہو سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۳۹، تاریخ یعقوبی ج۱ ص ۲۰، الاوائل از ابو ہلال ج۱ ص ۱۶۲۔


اس پر خدیجہ نے فرمایا: ان کا مہر میں اپنے مال سے ادا کروںگی، بعض لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ تعجب ہے عورتوں پر مردوں کا مہر ہے ، یہ بات سن کر ابو طالب کو غصہ آ گیا کہا : ہاں اگر مرد میرے بھتیجے جیسے ہونگے تو ان کی عظمت اس سے زیادہ ہے ان کو مہر ادا کیا جائے گا اور اگر مرد تم جیسے ہونگے تو ان سے زیادہ مہر لیکر شادی کی جائیگی۔

بعض معتبر کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدیجہ کا مہر خود رسول(ص) نے ادا کیا تھااور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کہ آنحضرت(ص) نے ابو طالب کے ذریعہ مہردلایا ہو، ابو طالب کے خطبہ سے ہم کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے دل میں رسول(ص) کی کتنی عظمت تھی اور بنی ہاشم کی کیا قدر و منزلت تھی۔

جناب خدیجہ؛رسول(ص)کے ساتھ شادی سے پہلے

جناب خدیجہ ایک بلند اخلاق خاتون، دین ابراہیم کی طرف مائل اورشریف و معزز خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد جناب خویلد تھے جنہوں نے یمن کے بادشاہ سے اس وقت مقابلہ کیا تھا جب وہ حجر اسود کو یمن لے جانا چاہتا تھا انہوں نے اپنے دین و عقیدہ کی حفاظت میں یمن کے بادشاہ کی طاقت اور کثیر فوج کی بھی پروا نہیں کی تھی اور جناب خدیجہ کے دادا -اسد بن عبد العزیٰ- حلف الفضول نامی جماعت کے نمایاں رکن تھے یہ جماعت مظلوموں کی حمایت کے لئے تشکیل پائی تھی۔ اس جماعت کی اہمیت کے پیش نظر اس میں رسول(ص) شریک ہوئے تھے اور اس کے اعلیٰ اقدار کی تائید کی۔( ۱ )

جنابِ خدیجہ کی شادی سے پہلے کے تفصیلی حالات ہمیں تاریخ میں نہیں ملتے ہیں، بعض مورخین نے تو یہاں تک لکھدیا کہ آنحضرت(ص) سے قبل خدیجہ کی دو اشخاص سے شادی ہوئی تھی اور ان سے اولاد بھی ہوئی تھی، وہ دو اشخاص، عتیق بن عائد مخزومی اورابو ھالہ تمیمی ہیں۔( ۲ ) جبکہ دوسری معتبر کتابوں میں یہ روایت ہے کہ جب رسول(ص) نے جناب خدیجہ سے شادی کی تھی اس وقت آپ کنواری تھیں اور زینب و رقیہ جناب خدیجہ کی بہن

____________________

۱۔ السیرة النبویة ج۱ ص ۱۴۱۔

۲۔ اختلاف روایات کے بارے میں۔ اصابہ ج۳ ص ۶۱۱، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۴۰، اسد الغابہ ج۵ ص ۷۱و ص ۱۲۱ ملاحظہ فرمائیں۔


ہالہ کی بیٹیاں تھیں ان کی والدہ کے انتقال کے بعد جناب خدیجہ نے انہیں گود لے لیا تھا۔( ۱ )

رسول(ص) سے شادی کے وقت جناب خدیجہ کی عمر کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے بعض نے یہ لکھا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ۲۵ سال تھی بعض نے یہ تحریر کیا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ۲۸ سال تھی، کچھ نے ۳۰، بعض نے ۳۵ اور بعض نے ۴۰ سال تحریر کی ہے۔( ۲ )

۲۔ حجر اسود کو نصب کرنا

عرب کے نزدیک خانہ کعبہ کی بہت بڑی منزلت تھی وہ لوگ اس کی حرمت و اہمیت کے قائل تھے وہ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کا حج کرتے تھے۔ بعثت رسول(ص) سے پانچ سال پہلے سیلاب کے سبب خانۂ کعبہ منہدم ہو گیا تھا قریش نے جمع ہو کر خانۂ کعبہ کی تعمیرنو اور اس کی تو سیع کا منصوبہ بنایا اور یہ طے کیاکہ یہ کام قریش اور دیگر اہل مکہ کی نگرانی میں ہوگا چنانچہ جب بنیاد یں بلند ہوکرحجر اسود کی جگہ تک پہنچیں تو ان میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ حجر اسود کو کون نصب کرے گا ہر قبیلہ یہی چاہتا تھا کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا شرف اسے حاصل ہو، اس بات پر ان کے درمیان تلوار یں کھینچ گئیں ہر حلیف اپنے حلیف سے مل گیا، خانۂ کعبہ کی تعمیر کا کام بھی بند ہو گیا، وہ لوگ ایک بار پھر مسجد میں جمع ہوئے باہم مشورہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ سب سے پہلے جو شخص اس اجتماع میں داخل ہوگا وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا نیز انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ فیصلہ کرنے والے کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے چنانچہ سب سے پہلے اس اجتماع میں محمد بن عبد اللہ داخل ہوئے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ امین ہیں، ہم ان سے راضی ہیں، رسول(ص) نے اس جھگڑے کونمٹانے کے لئے حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور فرمایا: ہر قبیلہ اس کا ایک ایک کونا پکڑے پھر فرمایا کہ سب مل کر اٹھائیں سب نے یکبارگی اٹھایا اور جب حجر اسود اپنی جگہ پر پہنچ گیا تو رسول(ص) نے اپنے ہاتھوں سے نصب کیا اس کے بعد

____________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۱۵۹، اعلام الھدایة ج۳ ، الصحیح من سیرت النبی(ص) الاعظم ج۱ص ۱۲۱ و ۱۲۶۔

۲۔ سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۴۰، البدایة و النھایة ج۲ ص ۲۹۵، بحار الانوار ج۱۶ ص ۱۲سیرت مغلطائی ص ۱۲، الصحیح من سیرت النبی الاعظم، ج۱ ،ص ۱۲۶۔


خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی۔( ۱ )

مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی رسول(ص) کو حکم بناتے تھے کیونکہ آپ(ص) لوگوں کو فریب نہیں دیتے تھے۔( ۲ )

یقینا آپ(ص) کے اس عمل کا ان قبیلے والوں کے دل پر بہت گہرا اثر ہوا، اجتماعی حیثیت حاصل کرنے کے لئے رسول(ص) نے اپنی حیات کا عظیم سرمایہ خرچ کیا اور انوکھا کردار ادا کیا اور ان کی توجہ کو اپنی قیادت کی صلاحیت اور انتظامی لیاقت کی طرف مبذول کیا اور بلند بینی، عقلمندی و تجربہ اور امانت داری کے ذریعہ ان کا اعتماد حاصل کیا۔

۳۔ حضرت علی کی ولادت اور نبی(ص) کے زیر دامن پرورش

حضرت محمد(ص) اور حضرت علی کے درمیان جو محبت و الفت تھی، اسے خاندانی محبت میں محدود نہیں کیا جا سکتا آپ دونوں کے درمیان فکری اور روحانی لگائو تھا۔ فاطمہ بنت اسد ابھی اس بچہ کو لیکر نکلنے نہیں پائی تھیں کہ جو عین خانۂ کعبہ میں پیدا ہوا ہے( ۳ ) خودرسول(ص) ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور علی کو ان سے لے لیتے ہیں انہیں سینہ سے لگاتے ہیں( ۴ ) حضرت علی کے لئے یہ آپ(ص) کی عنایت و اہتمام کی ابتداء ہے ۔

یہ مولود اپنے والدین اور اپنے چچا زاد بھائی حضرت محمد(ص) کی گود میں پروان چڑھا، رسول(ص) جناب خدیجہ سے شادی کے بعد اکثر اپنے چچا ابو طالب کے گھر جایا کرتے اور مولود کو اپنی محبت وشفقت سے سرشار کرتے تھے، لوریاں دے کر سلاتے ، اپنے سینہ پر لٹاتے، اور جب یہ سو جاتے توان کی گہوارہ جنبانی کرتے تھے،

____________________

۱۔ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹، سیرت ابن ہشام ج۱ ص ۲۰۴، البدایة النہایة ج۲ ص ۳۰۰، تاریخ طبری ج۲ ص ۳۷۔

۲۔ سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۴۵۔

۳۔حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں: یہ بات متواتر حدیث ثابت ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جوف کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں، مستدرک علی الصحیحین ج۳ ص ۴۸۳۔

۴۔الفصول المہمة ابن صباغ ص ۱۳۔


نگہداری و پاسبانی کا یہ سلسلہ عرصۂ دراز تک جاری رہا اس لطف و محبت نے حضرت علی کے کردار و شعور پر اتنا اثر کیا کہ اس کا اظہار آپ کے کلام و زبان سے بھی ہو ا۔ چنانچہ رسول(ص) سے آپ(ص) کوجو شدید قربت تھی اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔

''قد علمتم موضعی من رسول اللّه بالقرابة القریبة و المنزلة الخصیصة، وضعنی فی حجره و انا ولید یضمنی الیٰ صدره و یکنفنی فی فراشه و یمسّنی جسده و یشمّنی عرفه و کان یمضغ الشیء ثم یلقمنیه وما وجد لی کذبة فی قول ولا خطلة فی فعل، ولقد کنت اتبعه اتباع الفصیل اثر امه یرفع لی فی کل یوم من اخلاقه علما و یامرنی بالا قتداء به'' ( ۱ )

یہ بات تو تم سبھی جانتے ہو کہ قریبی قرابتداری اور مخصوص قدر و منزلت کے سبب رسول(ص) کے نزدیک میرا کیا مرتبہ تھا۔ رسول(ص)نے مجھے بچپنے ہی میں گود لے لیا تھا، آپ(ص) مجھے سینہ سے لگاتے اور اپنے بستر پر اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم کو مجھ سے مس کرتے تھے اور مجھے اپنی خوشبو سنگھاتے تھے۔ کسی چیز کو آپ(ص) پہلے چباتے تھے اور پھر لقمہ بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے، آپ(ص) نے نہ تو میری کسی بات کو خلاف واقعہ پایا اور نہ میرے کسی کام میں کوئی لغزش دیکھی ، میں آپ(ص) کے پیچھے اس طرح چلتا تھا جس طرح اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے ، آپ ہر روز میرے لئے اپنے اخلاق کا پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیتے تھے۔

جب قریش مالی بحران کا شکار ہوئے تو حضرت محمد(ص) اپنے چچا جناب حمزہ اور عباس کے پاس گئے اور ان سے یہ خواہش کی کہ جناب ابو طالب کا بارتقسیم کر لیا جائے چنانچہ طالب کو عباس اور جعفر کو حمزہ اپنے گھر لے گئے ، عقیل کو جناب ابو طالب نے اپنے پاس ہی رکھا، حضرت علی کو محمد(ص)لے گئے اور انہیں مخاطب کرکے فرمایا:''قد اخترت من اختار اللّٰه لی علیکم علیا'' ۔( ۲ )

____________________

۱۔نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ۱۹۲۔

۲۔مقاتل الطالبین ص ۳۶، تاریخ کامل ج۱ ص ۳۷۔


میں نے اسی کو منتخب کیا ہے جس کو خدا نے میرے لئے منتخب فرمایا ہے اور علی کو تم پر منتخب کیا ہے اس طرح علی اپنے ابن عم کے گھر اور ان کی سرپرستی میں چلے گئے، آپ کی شخصیت نکھرنے لگی، آپ نبی(ص) کی آخری سانس تک ان سے جدا نہیں ہوئے۔ رسول(ص) خدا نے علی کے بارے میں جواہتمام کیا تھا اس کی علت کوفقط مالی و اقتصادی بحران میں محدود نہیں کیا جا سکتا، اس سے ہماری سمجھ میںیہ بات آتی ہے کہ رسول(ص) نے حضرت علی کی تربیت و سرپرستی اس لئے کی تھی تاکہ آپ رسول(ص) کی اس شریعت کوبچائیں جس کے لئے خدا نے اپنی مخلوق میں سے سب سے بہترین فرد کو اور اپنے بندوں میں سب سے اعلیٰ وبرگزیدہ ذات کو منتخب کیاتھا۔

اسی طرح خدا نے حضرت علی کے لئے یہ پسند فرمایا تھا کہ آپ عہد طفلی سے ہی آغوش ِ رسول(ص) میں زندگی گزاریں اور آنحضرت(ص) کی محبت و شفقت سے بہرہ ور ہوں رسول(ص) کے اخلاق و عادات کو اپنائیں، یہ تو ایک طرف دوسری طرف رسول(ص) نے علی کے ساتھ اپنے محبوب فرزند جیسا سلوک روا رکھاعلی ہر وقت رسول(ص) کے ساتھ ساتھ رہے، ہر انقلاب و حادثہ میں آنحضرت (ص) کے رفیق رہے کیونکہ رسول(ص) آپ کو چھوڑتے ہی نہیں تھے۔( ۱ )

ہمارے سامنے تاریخ نے حضرت علی کی جو سیرت پیش کی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی نے رسول(ص) کی زیر نگرانی پیغام رسانی کے میدان میں بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعدجو مہارت حاصل کر لی تھی اور علی کے لئے رسول(ص) نے روحی و نفسی تربیت کاجو خاص اہتمام کیا تھا اس کے سبب علی ،رسول(ص) کے بعد سیاسی ،فکری اور علمی مرجعیت و محور کا استحقاق پیدا کر چکے تھے چہ جائیکہ سیاسی مرجعیت۔

۴۔ بعثت سے قبل رسول(ص) کی شخصیت

حضرت محمد(ص) کا نام جزیرہ نما عرب میں اس وقت روشن ہو ا جب اس معاشرہ میں خلفشار و پراگندگی کے آثار ہر طرف رونما ہو رہے تھے اور حضرت محمد(ص) کی شخصیت روز بروز ابھرتی اور نکھرتی جا رہی تھی۔

____________________

۱۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲، شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج۴ ص ۳۱۵۔


کردار و کمال اور اخلاق کے میدان میں آپ کی شخصیت مسلم ہو چکی تھی ایک طرف خاندانی شرافت وفضیلت اور پاکیزہ ولادت ، دوسری طرف غیبی امداد اور خدائی نگرانی و صلاح(عصمت) ہے جو آپ(ص) کو ہر گناہ اوربرائی سے بچاتی ہے۔

آپ(ص) کے ساتھ سب سے زیادہ حضرت علی بن ابی طالب رہتے تھے، وہی سب سے زیادہ آپ کی معرفت رکھتے تھے، رسول(ص) کے بارے میں جو علی نے بیان کیا اس سے سچا کسی کا کلام نہیں ہو سکتا۔ فرماتے ہیں:

''ولقد قرن اللّہ بہ من لدن ان کان فطیما اعظم ملک من ملائکتہ یسلک بہ طرق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیلہ و نہارہ''۔( ۱ )

خدا نے آپ(ص) کی دودھ بڑھائی کے زمانہ ہی سے ایک عظیم فرشتہ آپ(ص) کے ساتھ مقرر کر دیا تھا، وہ آپ(ص) کو رات، دن اعلیٰ خصلتوں اور پاکیزہ سیرتوں پر چلاتا تھا۔

رسول(ص) کے بارے میں روایت ہے کہ آپ(ص) بچپن ہی سے بتوں کونگاہ تنفّرسے دیکھتے تھے جب آپ(ص) نے اپنے چچا جناب ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر کیا تھا اس میں آپ(ص) نے بتوںکو کوئی اہمیت دینے سے انکار کر دیا تھا۔( ۲ )

بیشک محمد(ص) نے اپنی ذات و شخصیت کی تعمیر کے لئے ایک خاص نہج اختیار کیا تھا جس نے آپ(ص) کی حیات کو معنویت اور بلند اقدار سے معمور کیا آپ(ص) کسی پر بار نہیں بنے اور کام سے دست کش نہیں ہوئے نوجوانی کے زمانہ میں اپنی بکریاں چرائیں( ۳ ) ، عنفوان شباب میں تجارت کے لئے سفر کیا( ۴ ) دوسری طرف ہم آپ میں انسانیت کا حسن و جمال کمزوروں اور ناداروں سے محبت و ہمدردی کا جلوہ دیکھتے ہیں زید بن حارثہ کے

____________________

۱۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ ۔

۲۔السیرة النبویة ج۱ ص ۱۸۲، الطبقات الکبریٰ ج۱ ص ۱۵۴۔

۳۔سیرت حلبیہ ج۱ ص ۱۲۵، سفینة البحار مادہ نباء ، السیرة النبویہ ج۱ ص ۱۶۶۔

۴۔ بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲ ، کشف الغمہ ج۲ ص ۱۳، تاریخ کامل ج۲ ص ۲۴۔


ساتھ آپ کا سلوک اس کا بہترین ثبوت ہے۔

زید نے اپنے باپ کے پاس جانے سے انکار کر دیا تھا اور حضرت محمد(ص) کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی۔( ۱ )

حضرت محمد(ص) بعثت سے پہلے عہدِجوانی میں بھی ایک عقلمند، فاضل و رشید تھے، جزیرہ نما عرب کے جاہلی معاشرہ میں آپ(ص) انسانی و اجتماعی اقدار کے حامل تھے۔ اپنی مثالی شخصیت کے لحاظ سے آپ(ص) معاشرۂ انسانی پر جوفوقیت رکھتے تھے، اس کی گواہی خود قرآن مجید نے اس طرح دی ہے : انّک لعلیٰ خلق عظیم۔( ۲ ) یقینا آپ(ص) خلق عظیم پر فائز ہیں۔

____________________

۱۔ الاصابہ ج۱ ص ۵۴۵، اسد الغابہ ج۲ ص ۲۲۵ ۔

۲۔ قلم:۴۔


تیسرا باب

پہلی فصل

بعثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی

دوسری فصل

عہدِ مکہ میںکاروان رسالت کے مراحل

تیسری فصل

نبی(ص) کے بارے میں بنی ہاشم اور جناب ابو طالب کا موقف

چوتھی فصل

خوشحالی کا زمانہ ہجرت تک


پہلی فصل

بعثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی

قرآنی نصوص ایسی قدیم تاریخی نصوص ہیں جو نہایت صحیح اور دقیق ہیں نیز عہد رسالت کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اور علمی طریقۂ کار کی رو سے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم عصر نبی کے واقعات کے بارے میں صرف قرآنی آیات و نصوص پر ہی بھروسہ کریں اور ان سے آگے نہ بڑھیں کیونکہ آنحضرت(ص) کی بعثت کے ساتھ ہی نزول آیات کا سلسلہ شروع ہوا اور آپ کی وفات تک جاری رہا۔

جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ جو تاریخی روایتیں حدیث و سیرت کی کتابوں میں درج ہیں ان کی تدوین حوادث کے عہدِ وقوع کے بعد ہو ئی ہے اور ان میں جھوٹ اورآمیزش کا امکان ہے تو یہ بات منطقی اور فطری ہے کہ ہم ان روایتوں کو قرآن و سنت اور عقل کے میزان پر پرکھیں پھر جو روایتیںان کے موافق ہوں انہیں قبول کر لیں اور جوان کے مخالف ہوں ان کو رد کر دیں۔

واضح رہے کہ نبوت خدائی نمائندگی اور الٰہی منصب ہے یہ عہدہ اسی کی طرف سے ملتا ہے تاکہ نبی ضروری ہدایت کے ذریعہ بشریت کی مدد کرے۔ اس منصب کے لئے خدا اپنے بندوں میں سے اسی کو منتخب کرتا ہے جو مثالی خصوصیتوں سے سرشار ہوتا ہے ۔ یہی خصوصیتیں آپ(ص) کو ان مہموں کو سر کرنے پر قادر بنا دیتی ہیں جو آپ(ص) سے مطلوب تھیں۔

نبی کا خدا کی طرف سے منتخب ہونا ضروری ہے تاکہ وہ رسالت اور اس کے مقاصد کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اس کو صحیح انداز میں سمجھا سکے اور تبلیغ و بیان ، دفاع و تحفظ کے میدان میں ناتواں ثابت نہ ہو جو امور اس کے ذمہ ہوتے ہیں، ان کی انجام دہی کے لئے علم و بصیرت ، نفس کا صحیح سالم ہونا، ضمیر کا درست ہونا، صبر و پائیداری ، شجاعت و حلم، انابت، بندگیٔ خدا ، خوفِ خدا، اخلاص عمل، گناہوں اور خطا و لغزش سے محفوظ رہنا، صراط مستقیم پر تائید الٰہی سے ثابت رہنا درکار ہے ، پھر خاتم النبیین کو ئی انوکھے اور کم پایہ کے رسول نہیں تھے بلکہ وہ تمام انبیاء سے زیادہ عظیم اور کامل تھے، آپ(ص) کے اندر گذشتہ انبیاء کے سارے صفاتِ کمال موجود تھے اور خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔


یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے اور طبیعتوں کا اقتضا بھی یہی ہے کہ خدائی ذمہ داری کے حامل کے اندر اسے قبول کر نے اور اسے نافذ کرنے کی صلاحیت و استعداد ہونا چاہے ۔ اس صورت میں خاتم النبیین کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اندر ہر وہ صلاحیت ہونا چاہئے جس کے ذریعہ اس خدائی ذمہ داری کو پورا کیا جا سکے اور اس خدائی مہم کو سر کرنے کے لئے ان خصوصیتوں کو بعثت سے پہلے ہی فراہم ہونا چاہئے، قرآن مجید بھی اسی کی تائید کرتا ہے ارشاد ہے :

۱۔( کذالک یوحی الیک والیٰ الذین من قبلک، اللّٰه العزیزالحکیم ) ( ۱ )

عزت و حکمت والا خدا اسی طرح آپ(ص) کی طرف وحی کرتا ہے جیسے آپ سے پہلے والوں پر وحی بھیجتا تھا۔

۲۔( وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیهم من اهل القری ) ( ۲ )

ہم نے آپ(ص) سے پہلے انہیں مردوں کو رسول(ص) مقرر کیا جو آباد ی میں رہتے تھے اور ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے۔

۳۔( وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیه انه لا الٰه الا انا فاعبدون ) ( ۳ )

اور ہم نے آپ(ص) سے پہلے کوئی رسول(ص) نہیں بھیجا مگر اس پر وحی کرتے رہے کہ میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے پس تم سب میری عبادت کرو۔

____________________

۱۔شوریٰ:۳۔

۲۔یوسف: ۱۰۹۔

۳۔ انبیائ: ۲۵۔


۴۔( وجعلنا هم ائمة یهدون بامرنا و اوحینا الیهم فعل الخیرات و اقام الصلٰوة و ایتاء الزکاة وکانوا لنا عابدین ) ( ۱ )

ہم نے انہیں امام بنا یا وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں، ہم نے ان پر نیک کام کرنے، نماز قائم کرنے، اور زکات دینے کی وحی کی ہے اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے۔

پس وحی کا سرچشمہ خدا ہے اور خدا ہی رسولوں کی طرف توحید کی نشانیوں اور اپنی عبادت کے طریقوں کی وحی کرتا ہے اور انہیں ائمہ قرار دیتا ہے وہ اس کے حکم سے شریعت کی اس تفصیل کے ساتھ جو کہ ان کے پاس وحی کے ذریعہ پہنچی ہے لوگوں کو نیک کام انجام دینے، نماز قائم کرنے اور زکات دینے کی ہدایت کرتے ہیں عبادت میںیہی غیروں کے لئے نمونہ ہیں اور یہی خدا کے اسلام کا زندہ مرقع ہیں۔

حضرت خاتم الانبیاء کے بارے میں خدا وند عالم بطور خاص فرماتا ہے :

۱۔( وکذالک اوحینا الیک قرآناً عربیاً لتنذر ام القریٰ و من حولها و تنذر یوم الجمع لا ریب فیه... ) ( ۲ )

اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ اور اس کے مضافات میں رہنے والوں کو ڈرائیں اور روز حشر سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

۲۔( شرع لکم من الدین ما وصی به نوحاً و الذی اوحینا الیک وما وصینا به ابراهیم و موسیٰ و عیسیٰ و ان اقیمو الدین ولا تتفرقوا فیه کبر علیٰ المشرکین ما تدعوهم الیه اللّه یجتبی الیه من یشاء و یهدی الیه من ینیب (۳) ...فلذلک فادع و استقم کما امرت ولا تتبع اهوائهم و قل آمنت بما انزل اللّه من کتاب و امرت لا عدل بینکم اللّه

____________________

۱۔ انبیائ:۷۳ ۔

۲۔ شوریٰ: ۷۔

۳۔شوریٰ ۱۳۔


ربنا و ربکم لنا اعمالنا و لکم اعمالکم لا حجة بیننا و بینکم اللّه یجمع بیننا و الیه المصیر ) ۔( ۱ )

اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نوح کو نصیحت کی تھی اور تمہاری طرف بھی اس کی وحی کی ہے ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ کو بھی اسی کی نصیحت کی تھی کہ وہ دین قائم کریںاور تفرقہ کا شکار نہ ہوں مشرکوں کو وہ بات بہت ناگوارہے جس کی تم انہیں دعوت دے رہے ہو اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کے لئے چن لیتا ہے اور جو اس سے لو لگاتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے...لہذا آپ اسی کے لئے دعوت دیں اور اس طرح استقامت سے کام لیں جیسا کہ آپ (ص) کو حکم دیا گیا ہے ، ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں، ، اور یہ کہیں کہ میرا ایمان اس کتاب پر ہے جو خدا نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہمارا اور تمہارا رب ہے ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے اللہ ہم سب کو ایک دن جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہوگی۔

۳۔( اللّه الذی انزل الکتاب بالحق و المیزان ) ۔( ۲ )

اللہ ہی وہ ہے جس نے کتاب و میزان کو حق کے ساتھ نازل کیا۔

۴۔( ام یقولون افتریٰ علیٰ اللّه کذباًفان یشاء اللّه یختم علیٰ قلبک و یمح اللّه الباطل و یحق الحق بکلماته انه علیم بذات الصدور ) ( ۳ )

کیا ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رسول(ص)، اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتا ہے حالانکہ خدا چاہے تو تمہارے دل پر بھی مہر لگا دے اور اللہ باطل کو محو کرتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ ثابت کر دیتا ہے ۔ بیشک وہ دلوں کے راز کو جانتا ہے ۔

____________________

۱۔شوریٰ۱۵۔

۲۔شوریٰ ۱۷ ۔

۳۔ شوریٰ۲۴ ۔


۵۔( وما کان لبشر ان یکلمه الله الا و حیاً او من و رای حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنه ما یشاء انه علیّ حکیم و کذالک اوحینا الیک ر وحاً من امرنا ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ولکن جعلنٰهُ نورا نهدی من نشاء من عبادنا و انک لتهدی الیٰ صراط مستقیم ) ( ۱ )

اور کسی انسان کے لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا اس سے کلام کرے مگر یہ کہ وہ وحی کر ے یا پردے کے پیچھے سے بات کرے یا کسی فرشتے کو نمائندہ بنا کر بھیج دے اور پھر وہ اس کی اجازت سے جو وہ چاہتا ہے وہ وحی پہنچا دے یقینا اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف (قرآن) روح کی وحی کی ہے اور آپ کو معلوم نہیں تھا کہ کتاب اور ایمان کیا ہے لیکن ہم نے اسے ایک نور قرار دیا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیدیتے ہیں یقینا آپ لوگوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرتے ہیں۔

جن لوگوں نے بعثت سے پہلے رسول(ص) کے ساتھ زندگی گذاری ہے بلکہ جو وفات تک آپ کے ساتھ رہے ہیں انہوں نے بھی رسول(ص) کی بعثت سے پہلے اور بعثت کے وقت کی صحیح اور واضح تصویر کشی نہیں کی ہے ، سب سے مضبوط و محکم نص وہ ہے جو آپ کی آغوش کے پالے ابن عم اور وصی نے بیان کی ہے وہ آپ(ص) سے بعثت سے پہلے بھی جدا نہیں رہے ، آپ(ص) کی وفات تک آپ کے ساتھ رہے۔ اس شخصیت کی تصویر کشی میں انہوں نے پوری امانت داری اور دقتِ نظر سے کام لیا ہے بعثت سے پہلے زمانہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

ولقد قرن اللّه به من لدن ان کان فطیما اعظم ملک من ملائکته یسلک به طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیله و نهاره لقد کنت اتبعه اتباع الفصیل اثر امه یرفع لی کل یوم من اخلاقه علماً و قد کان یجاور کل سنة بحراء فاراه ولا یراه غیری ۔( ۲ )

____________________

۱۔شوریٰ ۵۱،۵۲۔

۲۔ نہج البلاغہ خبطۂ قاصعہ ۲۹۲ ۔


اور خدا وند عالم نے ، ان کی دودھ بڑھائی کے زمانہ ہی سے ، ایک عظیم فرشتے کو ان کے ساتھ لگا دیا تھا وہ آپ کو رات دن اعلیٰ خصلتوں اور پاکیزہ سیرتوں پر چلاتا تھا اور میں اس طرح آپ کا اتباع کرتا تھا جس طرح اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے آپ(ص) ہر روز میرے لئے اپنے اخلاق کا پرچم بلند کرتے تھے اور ہر سال آپ(ص) کچھ مدت کے لئے غار حراء میں قیام کرتے تھے وہاں انہیں میرے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھتا تھا۔

آپ کا یہ قول خدا وند عالم کے اس قول:( انک لعلیٰ خلق عظیم ) ( ۱ ) کے موافق ہے ۔ یہ آیت ابتداء بعثت میں نازل ہوئی تھی، واضح رہے خُلق ایک نفسانی ملکہ ہے نفس کے اندر راسخ ہوتا ہے، مرورِ زمانہ سے پیدا نہیں ہوتا۔آپ(ص) کے خُلقِ عظیم کے ساتھ خدا نے آپ(ص) کی توصیف کی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ(ص) بعثت سے پہلے ہی خلقِ عظیم سے متصف تھے۔

آپ(ص) کے نواسے حضرت امام جعفرصادق کی حدیث سے آپ(ص) کی شخصیت کی وہ خوبیاں روشن ہو جاتی ہیں جو قبلِ بعثت بھی آپ(ص) کے اندر پائی جاتی تھیں۔ فرماتے ہیں:

'' ان اللّه عزّ وجلّ ادب نبیه فاحسن ادبه فلما اکمل له الادب قال :( انک لعلیٰ خلق عظیم ) ثم فوّض الیه امر الدین والا مة لیسوس عباده'' ( ۲ )

خدا نے اپنے نبی کو ادب و اخلاق سے آراستہ کیا چنانچہ آپ (ص) کااخلاق بہترین ہو گیا جب آپ کا اخلاق و ادب کامل ہو گیاتو فرمایا: بیشک آپ اخلاق کے بلند درجہ پر فائز ہیں پھر دین و امت کی زمام ان کے سپرد کی تاکہ اس کے بندوں کی قیادت کریں۔

خلق عظیم ان تمام مکارم کو اپنے اندر لئے ہے جن کی تفسیر رسول(ص) سے منقول حدیث میں بیان ہوئی ہے ۔

''انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق'' مجھے تو بس مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے پس جو مکارم سے تہی دامن ہو، وہ مکارم اخلاق کی کیسے تعلیم دے سکتا ہے؟! ماننا پڑے گا کہ رسول(ص) نے بعثت سے

____________________

۱۔قلم:۴۔

۲۔اصول کافی ج۲ ص ۶۶ ج۴۔


پہلے ہی تمام مکارم حاصل کر لئے تھے تاکہ آپ کے لئے خلق عظیم کی صفت صحیح اور منطقی قرار پائے۔

بعثت سے پہلے رسول کی شخصیت مثالی، موزوں، معتدل مزاج ،روشن خیال اور مکارم اخلاق، اعلیٰ صفات اور شائستہ افعال کے حوالہ سے مشہور تھی۔

قرآن مجید کی وہ آیتیں جو کہ رسالی و پیغامی وحی اور رسول(ص) کی وحی فہمی کی طرف اشارہ کرتی ہیں ان سے واضح ہوتاہے کہ رسول باطمانیت اور صاحب ثبات و استقلال تھے اور خدا کی طرف سے آپ کے قلب پر جو امر و نہی ہوتی تھی آپ اسے تہہ دل سے قبول کرتے تھے ملاحظہ فرمائیں سورۂ شوریٰ کی وہ آیتیں جو ہم پہلے نقل کر چکے ہیں نیز درج ذیل آیتیں ملاحظہ ہوں:

۱۔( و النجم اذا هوی، ما ضل صاحبکم وما غویٰ، وما ینطق عن الهویٰ، ان هو الا وحی یوحیٰ، علمه شدید القویٰ، ذو مرة فاستویٰ،و هو بالافق الاعلیٰ، ثم دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ، فاوحیٰ الیٰ عبده ما اوحیٰ، ما کذب الفواد ما رأیٰ ) ( ۱ )

قسم ہے ستارے کی جب وہ ٹوٹا، تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا نہ بہکا اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے اس کا کلام تووہ وحی ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے ۔وہ اسے نہایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے ۔حسن و جمال والا سیدھا کھڑا ہوا جبکہ وہ بلند ترین افق پر تھا پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا، یہاں تک کہ دوکمان یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا پھر خدا نے اپنے بندہ پر جو چاہا وحی کی دل نے اس بات کو جھٹلایا نہیںجو دیکھا۔

۲۔( قل انی علیٰ بینة من ربی ) ( ۲ )

کہہ دو کہ میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی نشانی رکھتا ہوں۔

۳۔( قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی ) ( ۳ )

کہ دو کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں لیکن میرے اوپر وحی ہوتی رہتی ہے ۔

____________________

۱۔ النجم: ۱ تا ۱۱ ۔

۲۔ انعام: ۵۷۔

۳۔ کہف:۱۱۰۔


۴۔( قل انما انذرکم بالوحی ) ( ۱ )

کہہ دو کہ میں تو تمہیں وحی کے ذریعہ ڈراتاہوں۔

۵۔( قل انما یوحیٰ ال انما الٰهکم الٰه واحد ) ( ۲ )

کہہ دو کہ بس میرے اوپر وحی ہوتی رہتی ہے ۔ تمہارا خد ابس ایک ہے ۔

۶۔( ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیه و قل رب زدنی علماً ) ( ۳ )

اور آپ وحی تمام ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں عجلت سے کام نہ لیا کریں اور یہ کہا کریں پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما۔

۷۔( و ان اهتدیت فبما یوحیٰ ) ( ۴ )

اگر میں نے ہدایت حاصل کر لی ہے تو یہ میرے رب کی وحی کا نتیجہ ہے۔

۸۔( قل هذه سبیلی ادعوا الیٰ اللّه علیٰ بصیرة انا و من اتبعنی ) ( ۵ )

کہہ دو کہ میرا یہی راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف بلاتا ہوں اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے ۔

جب آپ پر قرآن مجید کی ان آیتوں کا مفہوم واضح ہو گیا تو اب آپ حدیث و تاریخ کے بعض ماخذ و مصادر کا مطالعہ فرما سکتے ہیں تاکہ ان کے محکم و متشابہات سے واقف ہو جائیں۔ امام احمد کہتے ہیں: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا اور کہا: ہم سے معمر نے بیان کیا اور انہوں نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ عائشہ نے کہا:

____________________

۱۔ انبیاء :۴۵ ۔

۲۔ انبیائ: ۱۰۸ ۔

۳۔ طہ: ۱۱۴۔

۴۔یوسف:۱۰۸۔

۵۔ سبائ:۵۰۔


سب سے پہلے رسول(ص) پر جو وحی ہوئی تھی وہ از راہ رویا ئے صادقہ تھی۔

آپ غار حراء میںگوشہ نشیں ہو جاتے اور وہیں عبادت کرتے تھے پھر جناب خدیجہ کے پاس لوٹ آتے تھے پھر ایسا ہی کرتے تھے یہاں تک کہ غار حراء میں آپ پروحی نازل ہوئی۔

مذکورہ روایت میں کوئی چیز قابل گرفت نہیں ہے سوائے اس کے کہ جب آپ(ص) پر وحی نازل ہوئی تو عائشہ موجود نہیں تھیں اور روایت میں اس بات کی وضاحت و تصریح نہیں ہے کہ یہ معلومات انہیں کہاں سے فراہم ہوئی ہیںبراہ راست انہوں نے رسول(ص) سے روایت نہیں کی ہے لیکن روایت میں کچھ تعجب خیز چیزیں بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پھر خدیجہ انہیں اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی کے پاس لے گئیں زمانۂ جاہلیت میں وہ نصرانی تھے۔ عربی میں کتاب لکھتے تھے، انہوں نے انجیل کو عربی میں لکھا تھا وہ بہت ضعیف تھے، نابینا ہو گئے تھے جناب خدیجہ نے ان سے کہا: ابن عم اپنے بھتیجے سے بھی تو کچھ سنئے ورقہ نے کہا: بھتیجے! تمہیں کیا دکھائی دیتا ہے ، رسول(ص) نے جو دیکھاتھا بیان کیا۔ ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس(فرشتہ)ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوا تھا۔اے کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکالے گی۔ رسول(ص) نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں۔ کوئی شخص ایسی چیز نہیں لایا جیسی آپ لائے ہیں اگر میں اس زمانہ میں رہا تو میں ایک پشت پناہ کی حیثیت سے آپ کی مدد کروںگا۔

ورقہ بن نوفل مسلمان نہیں ہوا جبکہ وہ جانتا تھا کہ رسول(ص) کن حالات سے دوچار ہونگے اور یہ بھی جانتا تھا کہ آپ(ص) نبی(ص) ہیںلیکن صاحب رسالت و دعوت کے لئے بات واضح نہیں تھی اور انہیں اپنی رسالت کا علم نہیں تھا حالانکہ ورقہ اس بات سے مطمئن تھے کہ آپ(ص) نبی ہیں، اور قرآن نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ رسول(ص) اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہیں۔ اکثر آیتوں میں بھی یہی بیان ہوا ہے کہ لوگوں کے ہادی رسول ہی ہیں اور وہی واضح دلیل رکھتے ہیں اگر اس کے برعکس ہو تو صحیح نہیں ہے ۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ورقہ نبی(ص) کی رسالت کو پہلے ہی سے جانتے تھے اور اسی لئے انہوں نے آپ کو اطمینان دلایا تھا۔


یہ ہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر اہل کتاب کو آپ(ص) کی رسالت سے چشم پوشی کرنے کا راستہ مل گیا کیونکہ وہ یہ کہتے ہیںکہ-تمہاری اس نص کے بموجب- تمہارے نبی اپنے رسول(ص) ہونے سے مطمئن نہیں تھے بلکہ ورقہ، جو کہ مسیحی تھے، کے اطمینان دلانے سے مطمئن ہوئے تھے،ان میں سے بعض نے تو، اس روایت کا سہارا لیتے ہوئے جو کہ حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے اور مورخین کے درمیان مشہورہے یہاں تک کہہ دیا کہ ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ )ان قسیسوں میں سے ایک تھے جن کو ورقہ نے تعلیم و تربیت دی تھی۔ یہ عظیم رخنہ عقل ، قرآن اور سنت سے دور رہنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔

جو شخص قرآن کی نظر میں انبیاء کی شخصیت کا علم رکھتا ہے اور قرآنی منطق سے آگاہ ہے کیا وہ اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے ؟ وہ اس حدیث کے مضمون کو محض اس لئے کیسے صحیح تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ حدیث زوجہ رسول(ص) عائشہ سے منسوب ہے؟!

اس روایت کے علاوہ تاریخ طبری میں ایک حدیث اور نقل ہوئی ہے جو قباحت میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے مضمون ہی میں شک ہوتا ہے؛ یہاں کہا گیا ہے: رسول(ص) محو خواب تھے کہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور سورة علق کی ابتدائی آیتیں آپ کو تعلیم کیں اس کے بعد روایت کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے اور خود رسول(ص) کی زبانی منقول ہے۔ پس میں نیند سے بیدار ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میرے صفحۂ دل پر کتاب لکھ دی گئی ہے ۔ پھر فرماتے ہیں: میری نظر میں شاعر یا مجنون سے بدتر کوئی اور نہیں تھا، میں انہیں ایک نظر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ نیز فرمایا: میں شاعر و مجنون سے بہت دور رہتا تھا۔ ان کے بارے میں قریش مجھ سے ہرگز گفتگو نہیں کرتے تھے۔ میں پہاڑ کی بلندی پر چڑھ گیا میں چاہتا تھا کہ وہاں سے خود کو گرا کر خودکشی کر لوں تاکہ نفس کو آرام مل جائے چنانچہ میں اسی ارادہ سے نکلا اور جب پہاڑ پر پہنچا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی وہ یہ تھی: اے محمد! تم اللہ کے رسول(ص) ہو اور میں جبرئیل ہوں۔( ۱ )

____________________

۱۔ تاریخ طبری ج۲ ص ۲۰۱تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم طبع دار سویدان بیروت۔


نبی (ص) کے ذہنی خلفشار اور خوف کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ آپ(ص) نے خود کشی کا ارادہ کر لیا تو خدا نے چاہا کہ آپ(ص) کو نبی(ص) ؛ لوگوں کی ہدایت کرنے والا اور انہیں حق کی طرف بلانے والا بنا دے ۔ کیا روایت کا مضمون آپ کی عظمت و شوکت کے مطابق ہے؟!

ہم کو چاہئے کہ نصوص کو قرآن و عقل نیز سنت کے محکمات پر پرکھیں تاکہ تاریخ سے معتبر اور موثق چیزیں اخذ کریں اور ان چیزوں کو چھوڑ دیںجو علمی تنقید کے سامنے ثابت نہیں رہ سکتیں۔

جب ہم کتاب خدا کی صریح آیتوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد ان روایتوں کو دیکھتے ہیں جو حدیث و سیرت کی کتابوں میں آپ پر پہلی بار وحی نازل ہونے سے متعلق ہیں تو وہ نصوص قرآن کے خلاف نظر آتی ہیں، اس سے ہمیں اطمینان ہوجاتاہے کہ روایتوںمیں اسرائیلیات شامل ہو گئے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ مذکورہ روایتوں کا اس روایت سے موازنہ کریں جس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل کیا ہے یہ حدیث وحی کے حصول کی آمادگی اور اس سے متعلق امداد اور رسول(ص) کی شخصیت و کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

حضرت امام علی نقی سے روایت ہے :

اللہ کے رسول(ص) نے جب تجارت کے لئے شام جانا بند کر دیا اور جو کچھ تجارت کی وجہ سے نفع ہوا تھا اسے خیرات کر دیاتو اس کے بعدہر صبح کوکوہ حراء کی چوٹی پر تشریف لے جاتے اور وہاں سے خدا کی رحمت کے آثار، اس کی رحمت کے کرشمے اور اس کی حکمت کی بوقلمونیاں دیکھتے ، آسمان کے آفاق اور زمین کے اطراف پر نظر ڈالتے، سمندروں کو دیکھتے ان سے عبرت و معرفت حاصل کرتے اور اس طرح خدا کی عبادت کرتے جیسے عبادت کا حق ہے ۔ جب آپ پورے چالیس سال کے ہو گئے تو خدانے آپ(ص) کے قلب کو دیکھا، تو اسے تمام قلوب سے افضل زیادہ روشن ومنور زیادہ مطیع و خاشع اور خضوع کرنے والا پایا تو آسمان کے دروازوں کو کھول دیا تاکہ محمد(ص) انہیں دیکھیں، ملائکہ کو اجازت دیدی وہ نازل ہونے لگے


محمد(ص) انہیں دیکھنے لگے، رحمت کو حکم ملا تو وہ ساقِ عرش سے محمد(ص) کے سروپیشانی پر نچھاور ہونے لگی ، روح الامین، طاوس ملائکہ کو دیکھا وہ آپ(ص) پر نازل ہوئے اور آپ کا شانہ پکڑ کر ہلایا اور کہا:

اے محمد! پڑھو! فرمایا: کیا پڑھوں؟! کہا: اے محمد(ص)!

( اقرأ باسم ربک الّذی خلق خلق الانسان من علق، اقرأ و ربّک الاکرم الّذی علّم بالقلم علّم الانسان ما لم یعلم ) ( ۱ )

اپنے رب کے نام سے پڑھو، جس نے پیدا کیا ہے ، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھو کہ تمہارا پروردگار بڑی شان والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی۔ اس نے انسان کو اس چیز کی تعلیم دی جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

پھر جبرئیل نے آپ پر وحی کی جو کہ ان پر خدا نے کی تھی اور اس کے بعد پرواز کر گئے۔

محمد(ص) پہاڑ سے اترآئے لیکن خدا کی عظمت و جلالت کی وجہ سے آپ(ص) پر غشی اور حرارت و کپکپی کی سی کیفیت طاری تھی، آپ(ص) کواس بات کا شدید خوف تھا کہ اس سلسلہ میں قریش آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ(ص) کو مجنون کہیں گے (معاذ اللہ) یہ کہیں گے کہ ان پر شیطان سوار ہو گیا ہے ۔ حالانکہ آپ(ص) خداکی مخلوق میں سب سے زیادہ عقلمند اور مخلوقات میں سب سے بلند و بالا تھے۔ آپ(ص) کی نظر میں شیطان اور مجنونوںکے افعال و اقوال نہایت ہی قابل نفرت تھے، پس خدا نے چاہا کہ آپ کا سینہ کشادہ اور دل جری ہو جائے تو خدا نے پہاڑوں، چٹانوں اورسنگریزوں کو گویائی عطا کر دی چنانچہ آپ جس چیز کے پاس سے گزرتے تھے وہ آپ سے اس طرح مخاطب ہوتی تھی:

''السّلام علیک یا محمد السّلام علیک یا ولیّ اللّه، السّلام علیک یا رسول اللّه''

اے محمد! آپ پر سلام ہو اے اللہ کے ولی آپ پر سلام، اے اللہ کے رسول آپ پر سلام، بشارت ہو کہ خدا نے آپ کو فضیلت دی ہے ، جمال و زینت بخشی ہے اور اولین و آخرین سب پر فوقیت و برتری دی ہے آپ(ص)

____________________

۱۔ العلق:۱۔۵۔


اس بات سے نہ ڈریں کہ قریش آپ کو مجنون کہیں گے اورکہیں گے کہ آپ دین سے ہٹ گئے ہیں کیونکہ با فضیلت وہی ہے جس کو خدا فضیلت دے، کریم و سر فراز وہی ہے جس کو خدا سر فرازی عطا کرے پس آپ قریش اور عرب کے سر کشوں کی تکذیب سے خوف نہ کھائیں، عنقریب آپ کا رب آپ(ص) کو انتہائی بلندیوں پر پہنچا دے گا اور اعلیٰ مراتب پر فائز کرے گا اور آپ(ص) کے وصی حضرت علی کے سبب آپ(ص) کے چاہنے والوں کو خوش کرے گا اور عنقریب آپ کے بابِ حکمت علی بن ابی طالب کے ذریعہ آپ کے علوم کو پوری دنیا میں پھیلا دے گا۔ جلدہی وہ آپ کو ایک بیٹی فاطمہ عطا کرے گااس کے بطن اور صلب علی سے اہل جنت کے سردار حسن و حسین کو پیدا کرے گا آپ کے دین کو دنیا میں پھیلا دے گا ، آپ کے اور آپ کے بھائی کے دوستوں کے اجر کو عظیم قراردے گا، آپ(ص) کے ہاتھ میں لوائے حمد دے گا آپ اسے اپنے بھائی علی کو عطا کر یں گے چنانچہ ہر نبی صدیق اور شہید اس کے نیچے ہوگا۔ اور علی ان سب کو جنت کی طرف لے جائیںگے۔( ۱ )

جب ہم اس روایت اور طبری کی روایت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں دونوں کے لحاظ سے رسول(ص) کی ابتدائے بعثت اور بعثت کے بعد کی زندگی میں واضح فرق نظر آتا ہے ، طبری کی روایت کے لحاظ سے بعثت سے پہلے آپ کی زندگی اضطرابی و بے چینی و بے یقینی کی زندگی ہے -ظاہر ہے کہ اضطراب وبے چینی کا سبب نادانی ہوتی ہے -جبکہ بحار الانوار کی روایت کی رو سے آپ کی زندگی میں ابتدا ہی سے اطمینان و سکون اور علم نظر آتا ہے۔ آپ کی زندگی کی یہی تصویر، قرآن و حدیث اور تاریخ کے محکمات و معیارکے مطابق ہے ۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۱۸ ص ۲۰۷ و ۲۰۸۔


دوسری فصل

مکہ کی زندگی میں تحریک رسالت کے مراحل

۱۔ ایمانی خلیوں کی ساخت

پہلی وحی کے نازل ہونے کے بعد، قرآنی آیتیں بتدریج آ پ پر نازل ہونے لگیں، شروع میںسورۂ مزمل کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں تو رسول(ص) نے اسلامی رسالت کی نشر و اشاعت اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے لئے درج ذیل اقدامات کا ارادہ کیا، آپ(ص) کے لئے ضروری تھا کہ پیش آنے والی مشکلوں اور دشواریوں سے نمٹنے کے لئے خود کو آمادہ کر یں اور عزم بالجزم کے ساتھ کام کریں۔

سب سے پہلے آپ نے اپنے گھر والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ جناب خدیجہ کا رسول(ص) کی تائید کرنا تو فطری بات تھی کیونکہ انہوں نے آپ(ص) کے ساتھ ایک طویل عمر گزاری تھی اور آپ(ص) کے اندر اخلاق کی بلندیوں اور روح کی پاکیزگی و بلند پروازی کا مشاہدہ کیا تھا۔

اپنے چچا زاد بھای علی بن ابی طالب کو دعوت اسلام دینے میں بھی آپ(ص) کو زحمت نہیں کرنی پڑی کیونکہ ان کے سینہ میں طیب و طاہر دل تھا۔ علی نے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی تھی چنانچہ انہوں نے فوراً نبی(ص) کی تصدیق کی اس طرح آپ مسلم ِ اول قرار پائے۔( ۱ )

پھر رسول(ص) کے لئے حضرت علی کاا نتخاب بالکل صحیح تھا کیونکہ ان میں طاعت و فرمانبرداری کا جو ہر بھی تھا اور

____________________

۱۔ السیرة النبویہ، ابن ہشام ج۱ص ۲۴۵، باب علی بن ابی طالب۔


وہ قوی و شجاع بھی تھے اور رسول(ص) کو ایک مددگار و پشت پناہ کی شدید ضرورت تھی، حضرت علی تبلیغِ رسالت میں شروع ہی سے ایک پشت پناہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ رسالت کی چشم بینا اور تبلیغ کی زبان گویا تھے۔

سب سے پہلے آپ ہی نے اسلام ظاہر کیا کہ آپ رسول(ص) کے ساتھ غار حراء کی تنہائی میںبھی رہتے تھے، آپ کے بعد جناب خدیجہ ایمان لائیں اور سب سے پہلے انہیں دونوں نے خدا کی وحدانیت کا اقرار کرکے رسول(ص) کے ساتھ نماز پڑھی یہ دونوں بھی رسول(ص) کے مانند، شرک و ضلالت کی طاقتوں کیلئے( ۱ ) رکاوٹ تھے ان کے بعد زید بن حارثہ مسلمان ہوئے یہ نیک لوگوں کی جماعت تھی اور یہ وہ افراد تھے جن سے اسلامی معاشرہ وجود میں آیا۔

۲۔ مکی عہد کے ادوار

رسول(ص) کی تبلیغ کم سے کم تین ادوار سے گزری ہے تب جاکے پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل کے حالات فراہم ہوئے وہ ادوار درج ذیل ہیں:

۱۔ پہلے دور میں اسلامی رسالت کا مرکز و پائے تخت بنایا بعض لوگوں نے اس دور کو مخفیانہ تبلیغ، یا دعوتِ خاص کے عنوان سے بھی یاد کیا ہے ۔

۲۔ دوسرے دور میں آپ(ص) نے محدود پیمانہ پر قرابتداروں کو اسلام کی دعوت دی اور محدود طریقہ سے بت پرستوں سے مقابلہ کیا۔

۳۔ اس دور میں آپ(ص) نے عام طریقہ سے جنگ کی۔

۳۔اوّلین مرکز کی فراہمی کا دور

جب خداوند عالم نے اپنے نبی(ص) کو یہ حکم دیا کہ قیام کریں اور لوگوں کو ڈرائیں( ۲ ) تو آپ(ص) نے لوگوں کو اسلام

____________________

۱۔ اسد الغابہ ج۴ ص ۱۸، حلیة الاولیائ، ج۱ ص۶۶، شرح بن ابی الحدید ج۳ ص ۲۵۶، مستدرک الحاکم ج۳ ص ۱۱۲۔

۲۔سورۂ مدثر کی ابتدائی آیتیں۔


قبول کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ایک ایسی با ایمان جماعت بنانے کی کوشش کی جو معاشرہ کی ہدایت کے لئے مشعل بن جائے۔ اس طرح تقریباً تین سال گذر گئے۔ رسالی و پیغامی تحریک، خطرات و مشکلات میںلپٹی ہوئی تھی لیکن رو بہ استحکام و تکامل پذیر تھی۔ اس مرحلہ میں رسول(ص) کا طرز تبلیغ یہ تھا کہ آپ نے اپنے پیرئوں کو ان کے پہلے رجحان جغرافائی اعتبار سے مختلف قسم کے اختیارات ان کے سپرد کئے تاکہ آپ کی رسالت وسعت پذیر ہو اور جہاں تک ممکن ہو سکے معاشرہ میں اس کو فروغ دیا جائے۔بعثت کے ابتدائی زمانہ میں کچلے ہوئے افراد اور ناداروں نے آپ کی دعوت اسلام کو قبول کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام اعلیٰ زندگی اور امن و امان کا پیغام لایا تھا۔ شرفاء میں ان لوگوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا کہ جو پاکیزہ سرشت اور عقل سلیم کے حامل تھے۔

جابر و سرکش قریش اس پیغام کی ہمہ گیری اور وسعت پذیری کا اندازہ نہیں کر سکے بلکہ انہوں نے یہ خیال کیاکہ یہ تحریک دیرپا نہیں ہے، چند دنوں کے بعد مٹ جائے گی لہذا انہوں نے اس تحریک کو اس کے ابتدائی زمانے ہی میں مٹانے کے سلسلہ میں کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔

رسول(ص) نے اسی مختصر وقت میں اپنے اوپر ایمان لانے والوں میں کچھ کو فعال بنایا اور اس پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی تاکہ یہ پیغام دوسرے لوگوں تک پہنچ جائے، یہ لوگ اپنے اسلام کے بارے میں بڑے حساس اور اپنے ایمان پر یقین رکھنے والے تھے انہوں نے شرک کے اس من گھڑت عقیدہ و طریقہ کو ٹھکرا دیا تھا جس پر ان کے آباء و اجداد تھے اور ان کے اندر ایسی صلاحیت و طاقت پیدا ہو گئی تھی کہ یہ رسالت کے آثار کوعلیٰ الاعلان اپنا سکتے تھے۔

روایت ہے کہ اس عہد میں نماز عصر کے وقت رسول(ص) اور ان کے اصحاب مختلف گروہوں میں چلے جاتے تھے اکیلے اور دو، دو کرکے نماز پڑھتے تھے۔


چنانچہ ایک مرتبہ دو مسلمان مکہ کے ایک خاندان کے درمیان نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین کے دوا فراد نے انہیں اس سلسلہ میںطعن و تشنیع کی ، نتیجہ میں مار پیٹ ہوئی اور یہ دونوںواپس لوٹ آئے۔( ۱ )

اس کے بعد آئے دن مشرکوں سے ایسے ٹکرائو ہونے لگے تو سلسلہ عبادت کو جاری رکھنے کے لئے رسول(ص) چھپ کر اور قریش کی نظر سے بچ کر عبادت کرنے لگے اس زمانہ میں زید بن ارقم کا گھر مسلمانوں کے لئے بہترین پناہ گاہ تھا۔( ۲ )

۴۔ پہلا مقابلہ اور قرابتداروں کو ڈران

جب جزیرہ نما عرب کے اطراف میں اسلام کی خبر عام ہوگئی اور جب ایک مومن گروہ روحی استقلال کا مالک و حامل ہو گیااور اپنے روحی استحکام کے لحاظ سے معرکہ میں اترنے کا اہل بن گیا تو اسلام کی دعوت کو مرحلۂ اعلان میں داخل ہونے کی منزل تھی اور اس مرحلہ کا پہلا قدم اپنے قرابتداروںکو ڈرانا تھا کیونکہ اس معاشرہ پر قبائلی رسم و رواج کی چھاپ تھی لہٰذا بہتر یہی تھا کہ دوسروں کو ڈرانے سے پہلے اپنے قبیلے والوں کو ڈرائیں پس خدا کا حکم نازل ہوا۔

( وانذر عشیرتک الاقربین ) ( ۳ ) اے رسول(ص)!اپنے قرابتداروںکو ڈرائو، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت (ص) نے اپنے خاندان والوں کو بلایا اور ان کے سامنے رسالت اور مقصد نیز مستقبل میں رسالت کی وضاحت فرمائی ان لوگوں میں وہ بھی شامل تھا جس سے خیر کی امید اور ایمان کی پوری توقع تھی، جب ابو لہب نے کھڑے ہو کر کھلم کھلا اپنی دشمنی کا اظہار کیا تو ابو طالب نبی(ص) کی پشت پناہی اور ان کی رسالت کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔

روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول(ص) نے حضرت علی سے فرمایا کہ کھانے کا بند و بست کرو، کھانا تیار ہو گیا تو آپ(ص) نے اپنے خاندان والوں کو دعوت دی، یہ چالیس اشخاص تھے۔ رسول(ص) نے ابھی اپنی

____________________

۱۔ انساب الاشراف ج۱ ص۱۱۷، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۴۵۶۔

۲۔ سیرت حلبیہ ج۱ ، اسد الغابہج۴ ص ۴۴۔

۳۔شعرائ: ۲۱۴۔


گفتگو شروع ہی کی تھی کہ آپ(ص) کے چچا عبد العزیٰ-ابولہب-نے آپ کی گفتگو کا سلسلہ منقطع کر دیا اور آپ (ص) کو تبلیغ کرنے اور ڈرانے سے روکا۔ رسول(ص) کا مقصد پورا نہ ہو سکا دعوت میں آنے والے چلے گئے دوسرے دن رسول(ص) نے پھر حضرت علی کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور اپنے خاندان والوں کو دعوت دی، جب وہ کھانا کھا چکے تو آپ(ص) نے انہیں مخاطب کرکے فرمایا:

''یا بنی عبد المطلب انی وا اللهِ ما اعلم شاباًفی العرب جاء قومه بافضل مما جئتکم به انی جئتکم بخیر الدنیا والأخرة و قد امرنی اللّه عزّ و جلّ ان ادعوکم الیه فایکم یؤمن بی و یؤازرنی علیٰ هذا الامر علیٰ ان یکون اخی و وصی و خلیفتی فیکم؟''

اے عبد المطلب کے بیٹو! خدا کی قسم مجھے عرب میں کوئی ایسا جوان نظر نہیں آتا جو اپنی قوم کے لئے اس سے بہتر پیغام لایا ہو جو میںتمہارے لئے لایا ہوں، میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی نیکیاں لایا ہوں خدا نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی طرف بلائوں اب یہ بتائو کہ اس سلسلہ میں تم میں سے میری مدد کون کرے گا؟ تاکہ وہ تمہارے درمیان میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ بن جائے۔

آپ(ص) کی بات کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا صرف علی ابن ابی طالب یہ کہتے ہوئے اٹھے: ''انا یا رسول اللّہ اکون وزیرک علیٰ ما بعثک اللّہ'' اے اللہ کے رسول(ص) جس چیز پر خدانے آپ کو مبعوث کیا ہے میںاس میں آپ کا وزیر ہوں۔ رسول(ص) نے فرمایا: بیٹھ جائو! اور پھر آنحضرت (ص) نے وہی جملہ دہرایا اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا علی نے آپ کی آواز پر لبیک کہا اور آپ کی مدد و پشت پناہی کا اعلان کیا تو رسول(ص) نے اپنے خاندان کے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا:''ان هذا اخی و وصی و خلیفتی فیکم ( او علیکم) فاسمعوا له و اطیعوا'' بے شک یہ میر ابھائی ہے اور تمہارے درمیان یہ میرا وصی و خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، اس کے بعد سارے حاضرین اٹھ گئے


اورمذاق اڑاتے ہوئے ابو طالب کو مخاطب کرکے کہنے لگے: تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔( ۱ )

۵۔ دعوت عام

پہلے مرحلہ میں رسول(ص) نے بہت احتیاط سے کام لیا اور براہ راست مشرکوں اور بت پرستوں کے مقابلہ میں آنے سے پرہیز کرتے رہے اسی طرح مسلمانوںنے بھی احتیاط سے کام لیا کیونکہ اس سے خود آپ کے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے خطرہ بڑھ جاتا۔

جب آپ (ص) نے بنی ہاشم کو نئے دین کی طرف بلایا تو عرب قبائل میں اس کو بہت اہمیت دی گئی، اس سے ان پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ محمد(ص) نے جس نبوت کا اعلان کیا ہے اور جس پر بعض لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ بر حق و سچی ہے ۔

بعثت کے پانچ یا تین سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد خدا کی طرف سے آپ کو یہ حکم ہواکہ رسالت الٰہیہ کا کھل کے اعلان کریںاور تمام لوگوں کو خدا سے ڈرائیںتاکہ دعوت اسلام عام ہو جائے اور چند افراد میں محدود نہ رہے ، ابھی تک خفیہ طریقہ سے دعوت دی جاتی تھی اب علیٰ الاعلان دعوت دی جائے۔ لہذا آپ(ص) نے تمام لوگوں کو اسلام قبول کرنے اور ایک اکیلے خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی ۔ خدا نے درج ذیل آیت میں اپنے نبی(ص) سے یہ وعدہ کیا کہ دشمنوں اور مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم تمہیں استوار و ثابت قدم رکھیں گے چنانچہ ارشاد ہے :

( فاصدع بما تؤمروا عرض عن المشرکین، انا کفیناک المستهزئین ) ( ۲ )

جس چیز کا آپ کو حکم دیا جا رہا ے اسے کھل کے بیان کیجئے اور مشرکین کی قطعاًپروانہ کیجئے آپ کامذاق اڑانے والوں کے لئے ہم کافی ہیں۔

____________________

۱۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مرقوم ہے سب کی عبارتیں ملتی جلتی ہیں، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۰۴، سیرة حلبیہ ج۱ ص ۴۶۰ شرح نہج البلاغہ ج۱۳ ص۲۱۰، حیات محمد ص ۱۰۴، مولفہ محمد حسین ہیکل طبع اول۔

۲۔ حجر: ۹۴ و ۹۵۔


رسول(ص) نے حکم خدا کے تحت اور عزم بالجزم کے ساتھ علیٰ الاعلان تبلیغ شروع کی ، شرک و شر پسند طاقتوں کو چیلنج کیا، کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور قریش کو آواز دی وہ آپ(ص) کے پاس آئے تو فرمایا:

''ارائیتکم ان اخبرتک ان العدو مصبحکم او ممسیکم ما کنتم تصدقوننی'' ( ۱ )

اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے تمہارے دشمن نے پڑائو ڈال رکھا ہے جو صبح ہوتے ہی تم پر ٹوٹ پڑے گا تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟

انہوں نے کہا: ہاں! تو آپ(ص) نے فرمایا: فانی نذیر لکم بین ید عذاب شدید، آگاہ ہو جائو میں تمہیں شدید عذاب سے ڈراتاہوں۔ یہ سن کر ابو لہب کھڑا ہوا تاکہ آنحضرت(ص) کی باتوں کی تردید کرے کہنے لگا: وائے ہوتم پر کیا تم نے ہمیں یہی کہنے کے لئے بلایا ہے؟ اس وقت خدا کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی:( تبت یدا ابی لهب وتب ) ( ۲ ) ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے۔

یہ بہت بڑا خطرہ تھا جس نے قریش کو پریشان کر دیا تھا، کیونکہ یہ ان کے تمام معتقدات کے خلاف کھلا چیلنج تھا اور انہیں رسول(ص) کے حکم کی مخالفت سے ہوشیار کر دیا گیا تھا۔ نئے دین کا معاملہ اہل مکہ کے لئے واضح ہو گیا بلکہ پورے خطۂ عرب میں آشکار ہو گیا اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ اب انسانیت کی ڈگر میں حقیقی انقلاب رونما ہونے والا ہے اب آسمانی دستورات کے مطابق انسانیت کے اقدار، معیار اور اجتماعی حیثیت بلند ہو گی۔ شر اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائیگا، شرک و تمرد اور سرکشی کے پیشوائوں سے مقابلہ، حقیقی مقابلہ تھا، اس میں اتفاق و اشتراک کے پہلو نہیں تھے۔

اسی عہد میں کچھ عرب اور کچھ غیر عرب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، اس طرح مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی تھی اور قریش اس نو خیز تحریک کو محدود نہیں کر پارہے تھے کیونکہ مومنوں کا تعلق مختلف قبائل سے تھا، اس لئے قریش نے ابتداء میں صلح آمیز رویہ اپنایا، ابو طالب نے انہیں شائستہ طریقہ سے سمجھایا اور وہ واپس لوٹ گئے۔( ۳ )

____________________

۱۔ المناقب ج۱ ص ۴۶، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۰۳۔ ۲۔ السد ،۱

۳۔سیرة ابن ہشام ج۱ ص ۲۶۴ و ۲۶۵، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۰۶۔


تیسری فصل

رسول(ص) کے بارے میں بنی ہاشم کا موقف

ابو طالب رسول(ص) اور رسالت کا دفاع کرتے ہیں

رسول(ص) تبلیغ رسالت سے دست بردار نہیں ہوئے بلکہ آپ کی فعالیت وکا رکردگی میں وسعت پیدا ہو گئی، آپ کا اتباع کرنے والے مومنوں کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوا، لوگوں کی نظر میں یہ نیا دین پر کشش بن گیا، اس سے قریش چراغ پا ہو گئے اور اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لئے شازشیں کرنے لگے وہ پھر ابو طالب کی خدمت میں آئے اور ایک بار پھر انہوں نے لالچ دی کہ وہ رسول(ص) کو تبلیغ رسالت سے دست بردار ہو جانے اور اپنا دین چھوڑ نے پر راضی کریں، جب اس سے کام نہ چلا تو انہوں نے آپ کو دھمکیاں دیں اور کہنے لگے: اے ابو طالب! ہمارے درمیان آپ کا بڑا مرتبہ ہے عظیم قدر و منزلت ہے ہم نے آپ سے یہ گزارش کی تھی کہ اپنے بھتیجے کو روکئے لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا ، خدا کی قسم! اب ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے آباء و اجداد کو برا کہا جائے، ہمیں بے وقوف کہا جائے اور ہمارے خدائوں کو برا کہا جائے، آپ انہیں ان باتوں سے منع کریں یا ہمیں اور انہیں چھوڑ دیں یاوہ نہیں یاہم نہیں۔

بنی ہاشم کے سید و سردارجناب ابو طالب قریش کے محکم ارادہ کو سمجھ گئے اور یہ محسوس کیا کہ وہ میرے بھتیجے اور ان کی رسالت کو مٹا دینا چاہتے ہیں لہذا انہوں نے ایک یہ کوشش کی کہ رسول(ص) نرم رویہ اختیار کریں تاکہ قریش کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے لیکن رسول(ص) نے فرمایا: میں حکمِ خدا پر عمل کرتے ہوئے تبلیغ رسالت کرتا رہوںگا خواہ حالات کتنے ہی سنگین ہو جائیں خواہ انجام کچھ بھی ہو۔


''یا عم واللّٰه لو وضعوا الشَّمس فی یمینی و القمر فی شمالی علیٰ ان اترک هذا الامر حتی یظهره اللّٰه او اهلک فیه ما ترکته''

اے چچا خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں اور چاہیں کہ میں تبلیغ رسالت چھوڑ دوں تو میں اسے نہیں چھوڑونگا یہاں تک کہ خدا اسے کا میابی سے ہمکنار کرے یا اس میں میری جان ہی چلی جائے۔

پھر آپ(ص) کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ(ص) چلنے کے لئے کھڑے ہوئے اس صورت حال سے ابو طالب کا دل بھر آیا ، کیونکہ وہ اپنے بھتیجے کی صداقت و سچائی کو جانتے تھے ان پر ایمان رکھتے تھے، لہذا بھتیجے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:''اذهب یابن اخی فقل ما احببت فواللّٰه لا اسلمک لشیء ابدا'' بیٹے جائو! اور جیسے تمہارا دل چاہے تبلیغ کرو خدا کی قسم! میں کسی بھی چیز کے عوض تمہیں ان کے حوالے نہیں کروںگا۔

قریش اپنی سرکشی و گمراہی سے باز نہیں آئے پھر ابو طالب کے پاس گئے اور انہیں رسول(ص) کو چھوڑ نے پر اکسانا چاہا کہنے لگے: اے ابو طالب!یہ عمارہ بن ولید قریش کا حسین و جمیل جوان ہے اسے آپ لے لیجئے یہ آپ کی مدد کرے گا۔ اسے آپ اپنا بیٹا سمجھئے اور اپنے بھتیجے کو ہمارے سپرد کر دیجئے کہ جس نے آپ کی قوم میں تفرقہ پیدا کر دیا ہے ، اور انہیں بیوقوف بتاتا ہے ہم اسے قتل کر دیں گے۔ اس طرح آپ کو مرد کے بدلے مرد مل جائیگا ابو طالب نے ان کی اس ظالمانہ پیشکش کوٹھکرا دیا۔ فرمایا: تم نے بہت بری پیشکش کی ہے تم مجھے اپنا فرزند دے رہے ہو تاکہ میں تمہارے لئے اس کی پرورش کروں اور اس کے عوض میں اپنا بیٹا تمہیں دیدوں تاکہ تم اسے قتل کردو، خدا کی قسم !یہ کبھی نہ ہوگا-ابو طالب کا یہ جواب سن کرمطعم کہنے لگا:ابو طالب ! خدا کی قسم آپ کی قوم نے انصاف کی بات کہی ہے اور ان مکروہ باتوں سے بچنا چاہا ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں، اصل خطرہ یہ ہے کہ وہ آپ کے خلاف کوئی اقدام نہ کر بیٹھیں، ابو طالب(ص) نے مطعم کوجو اب دیا خدا کی قسم! تم لوگوں نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے


بلکہ تم نے مجھے چھوڑ نے اور مجھ پر کامیاب ہونے کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: اب آپ جو چاہیں سو کریں۔( ۱ )

ابو طالب کی ان باتوں سے قریش کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ ابو طالب کو اس بات پر راضی نہیں کرپائیں گے کہ وہ رسول(ص) کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں، دوسری طرف جب ابو طالب نے قریش کی نیت خراب دیکھی تو انہوں نے ان سے بچنے کی تدبیر سوچی تاکہ بھتیجے پر آنچ نہ آئے اور ان کی رسالت کی تبلیغ متاثر نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے بنی ہاشم اور اولادِ عبد المطلب سے فرمایا کہ محمد(ص) سے خبردار رہنا دیکھو ان پرآنچ نہ آئے ، ابو طالب کی اس بات پر ابولہب کے علاوہ سب نے لبیک کہا ابو طالب نے بنی ہاشم کے اس موقف کو بہت سراہا، بنی(ص) کی حفاظت و حمایت کرنے کے سلسلہ میں انہیں شجاعت دلائی۔( ۲ )

قریش کا موقف

بعثت کے چار سال پورے ہو گئے کہ اس عرصہ میں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں نازل ہو چکی تھیں ان میں عظمتِ توحید اور خدا کی وحدانیت کی طرف دعوت، اعجاز بلاغت اور مخالفوں کے لئے دھمکیاںتھیں یہ آیتیںمومنوںکے دلوں میں راسخ اور ان کی زبان پر جاری تھیں، دور و نزدیک سے لوگ انہیں سننے کے لئے آتے تھے۔

تبلیغ ِ رسالت کو روکنے کے لئے قریش نے ابھی تک جتنے حربے استعمال کئے تھے وہ سب ناکام ہو چکے تھے، انہوں نے رسول(ص) کو سلطنت و بادشاہت کی لالچ دینے، بے پناہ مال سے نوازنے ، اپنا سردار بنانے کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے تبلیغِ رسالت کو روکنے کے لئے متعدد حربے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ فصیح و بلیغ کلام کا دلوں پر گہر ا اثر ہوتا ہے اس لئے قریش نے پہلا قدم تویہ اٹھایا کہ رسول(ص) کو عام لوگوں سے نہ ملنے دیا جائے، اس طرح وہ ان کے سامنے اسلام پیش نہیں کر سکیں گے ۔ اور جو لوگ مکہ میں آتے ہیں انہیں قرآن کی آیتیں نہ سننے دی جائیں، اس کے علاوہ انہوںنے آپ(ص)

____________________

۱۔ تاریخ طبری ج۲ ص ۴۰۹، سیرت نبویہ ج۱ ص ۲۸۶۔

۲۔ تاریخ طبری ج۲ ص ۴۱۰، سیرت حلبیہ ج۱ ص ۲۶۹۔


کے دعوائے نبوت کے صحیح ہونے میں شک پیدا کرنے کی کوشش کی، وہ یہ سمجھے تھے کہ رسول(ص) پر یہ حالت مرض کی بنا پر طاری ہوتی ہے لہذا اس کا علاج کرایا جائے، رسول(ص) نے انہیں ایسا جواب دیا جس میں ان کے لئے سراسر بھلائی، عزت و شرف اور نجات تھی۔ فرمایا:''کلمة واحدة تقولونها تدین لکمبها العرب و تؤدی الیکم بها العجم الجزیة...'' وہ ایک بات کہہ دو جس کے ذریعہ عرب تمہارے قریب آجائیں گے اور اسی سبب غیر عرب تمہیں جزیہ دیں گے...آپ کی اس بات سے وہ ہکا بکا رہ گئے انہوں نے یہ سمجھا یہی آخری حربہ ہے ، کہنے لگے: ہاں خدا آپ کا بھلا کرے۔

آپ(ص) نے فرمایاکہہ دو:''لاالٰه الا اللّه...'' اس دو ٹوک جواب نے انہیں رسوا کر دیا چنانچہ وہ ناک بھوں چڑھاکر اٹھ گئے۔ اور کہنے لگے: ''اجعل الالٰھة الٰھاً واحداً ان ھذا لشیء عجاب '' کیا انہوں نے سارے خدائوں کو ایک خدا قرار دیدیا ہے یہ تو عجیب بات ہے ۔( ۱ )

اب قریش نے یہ طے کیا کہ وہ رسول(ص) اور ان کا اتباع کرنے والوں کی اہانت کریں گے، جن کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے ، وہ ان کی دعوت کو اپنے اندر راسخ کر رہے ہیں، چنانچہ ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل آپ(ص) کے دروازہ پر کانٹے ڈالدیتی تھی کیونکہ آپکا گھر اس کے گھر کے پاس ہی تھا( ۲ ) ابوجہل آپ(ص) کو پریشان کرتا تھا، آپ(ص) کو برا کہتا تھا۔ لیکن خدا ظالموںکی گھات میں ہے جب آنحضرت(ص) کے چچا جناب حمزہ کو یہ معلوم ہوا کہ ابو جہل نے رسول(ص) کی شان میں گستاخی کی ہے تو انہوں نے قریش کے سربرآوردہ لوگوں کے سامنے ابو جہل کو اس کی گستاخی کا جواب دیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اوران کے مجمع کو دھمکی دی کہ اب تم رسول(ص) کو پریشان کر کے دکھانا۔( ۳ )

____________________

۱۔ سیرت حلبیہ ج۱ ص ۳۰۳، تاریخ، طبری ج۲ ص ۴۰۹۔

۲۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۸۰۔

۳۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۱۳، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۱۶۔


کفر عقل کی بات نہیں سنتا

قریش نے یہ سوچا کہ ہم چالاکیوں کے باوجود محمد(ص) کو تبلیغ رسالت سے باز نہیں رکھ سکے، اور وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ لوگ اسلام کی طرف آپ(ص) کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں تو اس وقت قریش کے سربرآوردہ افراد کے سامنے عتبہ بن ربیعہ نے یہ بات رکھی کہ میں محمد(ص) کے پاس جاتا ہوں اور انہیں دعوت اسلام سے باز رکھنے کے سلسلہ میں گفتگو کرتا ہوں۔ عتبہ آنحضرت (ص) کے پاس گیا ۔اس وقت آپ مسجد الحرام میں تنہا بیٹھے تھے، عتبہ نے پہلے تو آپ(ص) کی تعریف کی اور قریش میں جو آپ(ص) کی قدر و منزلت تھی اسے سراہا پھر آپ(ص) کے سامنے اپنا مدعابیان کیا نبی(ص) خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔ عتبہ نے کہا: بھتیجے اگر تم اس طرح (نئے دین کی تبلیغ کے ذریعہ) مال جمع کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کر دیں گے کہ ہم میں سے اتنا مال کسی کے پاس نہ ہوگا اور اگر اس سے تمہارا مقصد عزت و شرف حاصل کرنا ہے تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور تمہارے کسی حکم کی مخالفت نہیں کریں گے اور اگرتمہیں بادشاہت چاہئے تو ہم تم کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور اگرتم کوئی ایسی چیز دکھائی دیتی ہے کہ جس سے خودکو نہیں بچا سکتے تو ہم اپنا مال خرچ کرکے تمہاراعلاج کرادیں یہاں تک کہ تم اس سے شفاپا جائو۔ جب عتبہ کی بات ختم ہو گئی تو رسول(ص) نے فرمایا: اے ابو ولید! کیاتمہاری بات پوری ہو گئی؟ اس نے کہا: ہاں! آپ(ص) نے فرمایا تو اب میری سنو! پھر آپ(ص) نے خدا وند عالم کے اس قول کی تلاوت کی:

( حم تنزیل من الرحمن الرحیم ، کتاب فصّلت آیاته قراناً عربیاً لقوم یعلمون،بشیراً و نذیراً فاعرض اکثرهم فهم لا یسمعون، قالوا قلوبنا فی اکنّة مما تدعوننا الیه ) ( ۱ )

حم۔ یہ رحمن رحیم خدا کی نازل کی ہوئی ہے ۔ اس کتاب کی آیتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں یہ سمجھنے والی قوم کے لئے عربی کا قرآن ہے ۔ اس قرآن کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر نازل کیا گیا ہے لیکن اکثریت نے اس سے رو گردانی کی ہے۔ کیا وہ کچھ سنتے ہی نہیں ہیں اور کہتے ہیںکہ ہمارے دل ان

____________________

۱۔ فصلت ۴۱ آیت ۱ تا ۵۔


باتوں سے پردے میں ہیں جن کی تم دعوت دے رہے ہو۔

رسول(ص) آیتیں پڑھتے رہے عتبہ سنتا رہا اس نے اپنے ہاتھ پشت کی طرف کئے اور ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا، سجدہ کی آیت آئی تو رسول (ص) نے سجدہ کیا پھر فرمایا: اے ابو ولید جو تم نے سنا سو سنا اب تم جانو۔

عتبہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اپنی قوم کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: خدا کی قسم !میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ آج تک ایسا کلام نہیں سنا تھا۔ خدا کی قسم! نہ وہ کلام نہ شعر ہے ۔ نہ سحر ہے اور نہ کہانت ہے ۔ اے قریش والو! میری پیروی کرو اور اسے میرے اوپر چھوڑ دو اور اس کی تبلیغ رسالت اور اس شخص کو درگذر کرو۔

لیکن یہ مردہ دل لوگ اس بات کو کہاں قبول کرنے والے تھے۔ کہنے لگے اے ابو ولید خدا کی قسم! محمد(ص) نے تم پر اپنی زبان سے جادو کر دیا ہے ۔ عتبہ نے کہا: ان کے بارے میں یہ میری رائے ہے اب تم جو چاہو کرو۔( ۱ )

سحر کی تہمت

قریش نے اپنے اتحاد کو برقرار رکھنے اور تبلیغ رسالت سے ٹکرانے والے اپنے محاذ کو محفوظ رکھنے اور لوگوں میں رسول(ص) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنے کا منصوبہ اس وقت بنایا جبکہ حج کا زمانہ قریب تھا۔ قریش نے ایسا حربہ استعمال کرنے کے بارے میں غور کیا کہ جس سے ان کی بت پرستی بھی متاثر نہ ہو اور رسول(ص) کے کردار کو - معاذ اللہ-داغدار بنا دیا جائے لہذا وہ سن رسیدہ و جہاں دیدہ ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے لیکن ان کے درمیان اس سلسلہ میں اختلاف ہو گیا کہ رسول(ص) پر کیا تہمت لگائی جائے کسی نے کہا: کاہن کہا جائے ، کسی نے کہا: مجنون کہا جائے کسی نے کہا: شاعرکہا جائے کسی نے کہا جادوگر کسی نے کہا: وسوسہ کا مریض کہا جائے جب کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو انہوں نے ولید سے مشورہ کیا اس نے کہا:

خدا کی قسم! ان کے کلام میں چاشنی و شیرینی ہے ۔ ان کے کلام کی اصل مٹھاس اور اس کی فرع چنے ہوئے پھل کی مانند ہے اور ان چیزوں کو تم بھی تسلیم کرتے ہو تہمتوں سے بہتر ہے کہ تم یہ کہو کہ وہ ساحر و جادوگرہیں،

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۲۹۳۔


ان کے پاس ایسا جادو ہے کہ جس سے یہ باپ بیٹے میں، بھای بھائی اور میاں بیوی میں جدائی ڈال دیتے ہیں ۔ ولید کی یہ بات سن کر قریش وہاں سے چلے گئے اور لوگوں کے درمیان اس ناروا تہمت کا پروپیگنڈہ کرنے لگے۔( ۱ )

اذیت و آزار

رسول(ص) اور حق کے طرف داروں کوتبلیغ رسالت سے روکنے میں کفار و مشرکین اسی طرح ناکام رہے جیسے ان کی عقلیں توحید اور ایمان کو سمجھنے میں ناکام رہی تھیں، تبلیغ رسالت کو روکنے میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی لیکن انہیں اس کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آیا کہ وہ خدا کی وحدانیت اور محمد (ص) کی رسالت پر عقیدہ رکھنے والوں کو اذیت و آزار پہنچائیں اور سنگدلانہ موقف اختیار کریں چنانچہ ہر قبیلہ نے ان لوگوں کو دل کھول کر ستانا شروع کر دیا جولوگ مسلمان ہو گئے تھے۔ انہیں قید کر دیا، زد و کوب کیا، نہ کھانا دیا نہ پانی ، ان کی یہ کوشش اس لئے تھی تاکہ مسلمان اپنے دین اور خدا کی رسالت کا انکار کر دیں۔

امیہ بن خلف ٹھیک دو پہر کے وقت جناب بلال کو مکہ کی تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا ہے تاکہ انہیں عبرت آموز سزادے سکے۔ عمر بن خطاب نے اپنی کنیز کو اس لئے زد و کوب کیا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسے مارتے مارتے عاجز ہو گئے تو کہنے لگے میں نے تجھے اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ میں تھک گیا ہوں۔ قبیلہ مخزوم عمار یاسر اور ان کے ماں، باپ کو مکہ کی شدید گرمی میں کھینچ لائے، ادھر سے رسول(ص) کا گزر ہوا تو فرمایا:صبراً آل یاسر موعدکم الجنة ۔ یاسر کے خاندان والو! صبر سے کام لو تمہاری وعدہ گاہ جنت ہے ان لوگوں نے ان مظلوموں کو اتنی سخت سزا دی کہ جناب عمار کی والدہ سمیہ شہید ہو گئیں( ۲ ) ، عالم اسلام میں یہ پہلی شہید عورت تھیں ۔

اگر ہم رسول(ص)، رسالت اور پیروانِ رسول(ص) سے قریش کے ٹکرانے کے عام طریقوں کو بیان کرناچاہیں تو خلاصہ کے طور پر انہیں اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۱۷و ص ۳۲۰۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۱۷ تا ص ۳۲۰ ۔


۱۔ نبی(ص) کا مضحکہ اڑانا اور لوگوں کی نظر میں آپ(ص) کی شان گھٹانا ان کے لئے آسان طریقہ تھا اس کام میں ولید بن مغیرہ-خالد کا باپ-عقبہ بن ابی معیط، حکم بن عاص بن امیہ اور ابو جہل پیش پیش تھے لیکن خدا ئی طاقت نے ان کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ قرآن کہتا ہے:

( انا کفیناک المستهزئین (۱) ولقد استهزیٔ برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منهم ما کانوا به یستهزئون ) ( ۲ )

آپ(ص) کا مذاق اڑانے والوں کے لئے ہم کافی ہیں۔ آپ(ص) سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے ، نتیجہ میں وہ مذاق، مذاق اڑانے والوں ہی کے گلے پڑ گیا۔

۲۔ نبی(ص) کی اہانت، تاکہ آپ(ص) کمزور ہو جائیں، روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مرتبہ آپ پر گندگی اور کوڑا ڈالدیا اس پر آپ(ص) کے چچا جناب ابوطالب کو بہت غصہ آیا اور قریش کو ان کی اس حرکت کا جواب دیا اور ابو جہل کی حرکت کا جواب جناب حمزہ بن عبد المطلب نے دیا۔

۳۔ آپ(ص) کو اپنا بادشاہ وہ سردار بنانے اور آپ(ص) کو کافی مال و دولت دینے کی پیشکش کی۔

۴۔ جھوٹی تہمتیں لگائیں:

جھوٹا، جادوگر مجنون اور شاعر و کاہن کہا۔ ان تمام باتوں کو قرآن نے بیان کیا ہے ۔

۵۔ قرآن مجید میں شک کیا، رسول(ص) پر یہ تہمت لگائی کہ آپ(ص) خدا پر بہتان باندھتے ہیںکہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے تو قرآن نے انہیں چیلنج کیا کہ اس کا جواب لے آئو۔ واضح رہے کہ رسول(ص) نے اپنی عمر کا بڑا حصہ انہیں کے درمیان گزارا تھا۔ قریش نے جن چیزوں کی نسبت آپ کی طرف دی تھی وہ آپ(ص) میں دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔

۶۔ آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے والے مومنوں کو ستانا اور قتل کرنا۔

۷۔ اقتصادی و سماجی بائیکاٹ۔

____________________

۱۔ حجر: ۹۵۔

۲۔حجر: ۹۴ و ۹۵۔


۸۔ رسالتمآب(ص) کے قتل کا منصوبہ( ۱ )

نبی (ص) نے وہ طریقہ اختیار فرمایا جس سے رسالت اور اس کے مقاصد کی تکمیل ہوتی تھی۔

حبشہ کی طرف ہجرت

علیٰ الاعلان تبلیغ رسالت کے دو سال بعد رسول(ص) نے یہ محسوس فرمایا کہ آپ(ص) مسلمانوں کو ان مصائب و آلام سے نہیں بچا سکتے جو قریش کے سرکش اور بت پرستوں کے سرداروں کی طرف سے ڈھائے جاتے ہیں۔

مستضعف و کمزور مسلمانوں کے حق میں مشرکین اور ان کے سرداروںکا رویہ بہت سخت ہو گیا تھا لہذا رسول(ص) نے ظلم کا نشانہ بننے والے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم لوگ حبشہ چلے جائو۔

ظلم سے کچلے ہوئے مسلمانوں کو آپ سکون و آرام حاصل کرنے کی غرض سے حبشہ بھیجنا چاہتے تھے تاکہ واپس آنے کے بعد وہ اسلامی رسالت و تبلیغ میں سرگرم ہو جائیں یا جزیرہ نما عرب سے باہر قریش پردبائو ڈالیں اور ان سے جنگ کرنے کے لئے ایک نیا محاذ قائم کریں ، اور ممکن ہے اس زمانہ میںخدا کوئی دوسری صورت پیدا کر دے۔ رسول(ص) نے ہجرت کرنے والوں کو یہ خبر دی تھی حبشہ کا بادشاہ عادل ہے اس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا قبول کر لیا چنانچہ ان میں سے بعض لوگ خفیہ طریقہ سے ساحل کی طرف روانہ ہو گئے قریش نے ان کا تعاقب کیا لیکن وہ سمندر پا رجا چکے تھے؛ اس کے بعد بھی مسلمان تنہا یا اپنے خاندان کے ساتھ حبشہ جاتے رہے یہاں تک کہ حبشہ میں ان کی تعداد بچوں سے قطع نظر اسّی سے زیادہ ہو گئی، لہذا رسول(ص) نے جعفر بن ابی طالب کو ان کا امیر مقرر کر دیا۔( ۲ )

حبشہ کو ہجرت کے لئے منتخب کرنا یقینا رسول(ص) کے قائدانہ اقدامات میں سے بہترین اقدام تھا۔ رسول(ص) سے ایک حدیث مروی ہے جس میں آپ(ص) نے حبشہ کے بادشاہ کی تعریف کی ہے ۔ پھر وہاں کا سفر کشتیوں کے ذریعہ ہو گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نصرانیت سے اچھے مذہبی روابط استوارکرنا چاہتا ہے۔

____________________

۱۔ انفال:۳۰۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۲۱، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۹، بحار الانوار ج۱۸ ص ۴۱۲۔


مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرنے سے قریش کو بہت دکھ ہوا، ہجرت کے نتیجہ سے انہیں خوف لاحق ہوا انہوں نے یہ خیال کیا کہ اسلامی تبلیغ کرنے والوں کو کہیں وہاں امان نہ مل جائے لہذا قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا اور نجاشی کے لئے ان کے ہاتھ تحفے بھیجے، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ نجاشی انہیں اپنے ملک سے نکال دے اور ان کے سپرد کر دے قریش کے ان دونوں نمائندوں نے نجاشی کے بعض سپہ سالاروں سے بھی ملاقات کی اور ان سے رسم و راہ پیدا کی اور ان سے یہ گزارش کی کہ مسلمانوں کو واپس لو ٹانے میں آپ لوگ ہماری مدد کر یں چنانچہ انہوں نے بھی ان کی سفارش کی مگر نجاشی نے ان کے مطالبہ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ جب تک میں تمہاری اس تہمت کے بارے میں خود مسلمانوںسے یہ معلوم نہیں کرلونگاگا کہ انہوں نے کیسا نیا دین بنا لیا ہے اس وقت تک انہیں واپس نہیں لوٹا ئوںگا۔

مسلمانوں کی بادشاہ سے اس ملاقات میں خدا کی رحمت ان کے شامل حال رہی جعفر بن ابی طالب نے ایسے دلچسپ انداز میں دین کے بارے میں گفتگو کی کہ جو نجاشی کے دل میں اتر گئی اس کے نتیجہ میں وہ مسلمانوں کی اور زیادہ حمایت کرنے لگا۔ جعفر بن ابی طالب کی یہ گفتگو قریش کے نمائندوں کے سروں پر بجلی بن کر گری۔ ان کے تحفے بھی ان کے کسی کام نہ آ سکے اپنے موقف میں نجاشی کے سامنے ذلیل ہو گئے اور مسلمان اپنے مسلک و موقف میں سرخ رو اور سربلند ہو گئے ان کی حجّت مضبوط تھی جس سے اس تربیت کی عظمت کا پتہ چلتا تھا جو رسول(ص) نے انسان کو فکر و اعتقاد اور کردار کے لحاظ سے بلند کرنے کے لئے کی تھی چنانچہ جب قریش کے وفد نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں قرآن کا نظر یہ بیان کرکے فتنہ بھڑکانے کی کوشش کی تو اس کا مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ بلکہ جب نجاشی نے جعفر بن ابی طالب سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں قرآن کا نظریہ معلوم کیا تو انہوں نے حضرت عیسیٰ کے متعلق قرآن کی آیتوں کی تلاوت کی نجاشی نے ان آیتوں کو سن کر کہا: جائو تم لوگ امان میں ہو۔( ۱ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۳۵، تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۹۔


جب قریش کا وفدناکام حبشہ سے واپس لوٹ آیا تو انہیں اپنی کوششوں کے رائیگاں جانے کا یقین ہو گیا اب انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ مکہ کے مسلمانوں کا کھانا پانی بند کر دیں گے اور اجتماعی امور میں ان کا بائیکاٹ کریں گے اس سے ابو طالب اور بنی ہاشم نبی (ص) کی امداد سے دست بردار ہو جائیںگے۔

مقاطعہ اور بنی ہاشم

جب ابو طالب نے قریش کی ہر پیشکش کو مسترد کر دیا اور یہ اعلان کر دیا کہ میں رسول(ص) کی حمایت کر ونگا چاہے انجام کچھ بھی ہو تو قریش نے ایک دستاویز لکھی جس میں بنی ہاشم کے ساتھ خرید و فروخت، نشست و برخاست اور بیاہ شادی نہ کی جانے کی بات تھی۔

یہ دستاویز قریش کے چالیس سرداروں کی طرف سے تحریر کی گئی تھی۔

جناب ابو طالب اپنے بھتیجے، بنی ہاشم اور اولادِ مطلب کو لے کر غار میں جانے پر تیار ہو گئے اور فرمایا: جب تک ہم میں سے ایک بھی زندہ ہے اس وقت تک رسول(ص) پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ابو لہب قریش کے پاس چلا گیا اور اولاد مطلب کے خلاف ان کی مدد کی ان لوگوں میں سے ہر ایک غار میں داخل ہو گیا خواہ وہ مومن تھا یا کافر۔( ۱ )

اس زمانہ میں اگر کوئی شخص ترس کھا کر عصبیت کی بنا پر بنی ہاشم کی مدد کرنا چاہتا تھا تو وہ قریش سے چھپا کر ہی کوئی چیز ان تک پہنچا تا تھا۔ اس زمانہ میں بنی ہاشم اور رسول(ص) نے بہت سختی برداشت کی ، بھوک ، تنہائی اور نفسیاتی جنگ جیسی تکلیف دہ سختیاں تھیں خدا نے قریش کی اس دستاویز پرجس کو انہوں نے خانہ کعبہ میں لٹکا رکھا تھا دیمک کو مسلط کر دیا چنانچہ دیمک نے باسمک اللھم کو چھوڑ کر ساری عبارت کو کھا لیا۔

خدا نے اپنے نبی (ص) کو خبر دی کہ دستاویز کو دیمک نے کھا لیا، رسول(ص) نے اپنے چچا ابو طالب سے بتایا۔ جناب ابو طالب رسول(ص) کو لیکر مسجد الحرام میں آئے قریش نے انہیں دیکھ کر یہ خیال کیا کہ ابو طالب اب

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۵۰، اعیان الشیعہ ج۱ ص ۲۳۵۔


رسالت کے بارے میں اپنے موقف سے ہٹ گئے ہیں لہذا اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالے کرنے کے لئے آ رہے ہیں، لیکن ابو طالب نے ان سے فرمایا: میرے اس بھتیجے نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ خدا نے تمہاری دستاویز پر دیمک کو مسلط کر دیا ہے اور اس نے اللہ کے نام کے علاوہ ساری دستاویز کو کھا لیا ہے اگر یہ قول سچا ہے تو تم اپنے غلط فیصلہ سے دست بردار ہو جائو اور اگر یہ (معاذ اللہ) جھوٹا ہے تو میں اسے تمہارے سپرد کر دونگا....انہوں نے کہا: تم نے ہمارے ساتھ انصاف کیا۔ انہوں نے دستاویز کو کھولا تو اسے ویسا ہی پایا جیسا کہ رسول(ص) نے خبر دی تھی شرم و حیا سے ان کے سر جھک گئے۔( ۱ )

یہ بھی روایت ہے کہ قریش میں سے کچھ بزرگوں اور نوجوانوں نے بنی ہاشم سے اس قطع تعلقی پر ان کی مذمت کی اور غارمیں ان پر گزرنے والی مصیبتوں کو دیکھ کر انہوں نے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دینے اور بائیکاٹ کو ختم کرنے کا عہد کیا انہوںنے اس دستاویز کو کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اسے دیمک نے کھا لیا ہے۔( ۲ )

عام الحزن

بعثت کے دسویں سال قریش شعب ابی طالب سے باہر آئے اب وہ اور زیادہ سخت ، تجربہ سے مالا مال اور اپنے اس مقصد کی طرف بڑھنے میں اور زیادہ سخت ہو گئے تھے کہ جس کو انہوں نے جان سے عزیز سمجھ رکھا تھا اور یہ طے کر رکھا تھا کہ ہر مشکل سے گزر جائیں گے لیکن اس مقصد کو نہیں چھوڑ یں گے۔ اس اقتصادی پابندی کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت شہرت ملی، اسلام جزیرہ نما عرب کے گوشہ گوشہ میں مشہور ہو گیا، رسول(ص) کے سامنے بہت سی دشواریاں تھیں ان میں سے ایک یہ بھی دشواری تھی کہ مکہ سے باہر دوسرے علاقوں میں اپنے مقاصد کو سمجھایا جائے ،اور دوسرے علاقوں میں محفوظ مراکز قائم کئے جائیں تاکہ وہاںسے اسلام کی تحریک آگے بڑھ سکے۔

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص۲۱، طبقات ابن سعد ج۱ ص ۱۷۳، سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۷۷۔

۲۔سیرت نبویہ ج۱ ص۳۷۵ تاریخ طبری ج۲ ص ۴۲۳۔


جب ابو طالب کا انتقال ہو گیا تومکہ میں اسلام کی تبلیغ کی راہ میں بہت زیادہ دشوار یاں پیش آئیں کیونکہ رسول(ص) اور رسالت کا طاقتور محافظ اور رسالت کا وہ نگہبان اٹھ گیا تھا جس کی اجتماعی حیثیت تھی ان کے بعد رسول(ص) کا سہارا ام المومنین جناب خدیجہ تھیں ان کابھی انتقال ہوگیا چونکہ ان دونوں حوادث کی وجہ سے تبلیغ کی راہ شدید طور پر متاثر ہوئی تھی لہذا رسول(ص) نے اس سال کا نام''عام الحزن'' یعنی غم کا سال رکھا۔

''مازالت قریش کاعة منی حتی مات ابو طالب'' ( ۱ )

جب تک ابو طالب زندہ تھے قریش میرے قریب نہیں آتے تھے۔

رسول(ص) کے خلاف قریش کی جرأت اس وقت سے زیادہ بڑھ گئی تھی جب قریش میں سے کسی نے رسول(ص) کے سر پر اثنائے راہ میں خاک ڈال دی تھی۔ جناب فاطمہ(ص) نے روتے ہوئے اس مٹی کو صاف کیا۔ آنحضرت (ص)نے فرمایا:

''یا بنیة لا تبکی فان الله مانع اباک'' ( ۱ )

بیٹی رؤئو نہیں بیشک خدا تمہارے باپ کی حفاظت کرے گا۔

معراج

اسی عہد میں رسول(ص) کو معراج ہوئی تاکہ رسول(ص) مقاومت کے طویل راستہ کو طے کر سکیں اور آپ(ص) کی گذشتہ محنت و ثابت قدمی کی قدر کی جاسکے اور شرک و ضلالت کی طاقتوں کی طرف سے جو آپ(ص) نے تکلیفیں اٹھائی تھیں ان کا بھی مداویٰ ہو جائے۔ لہذا خدا آپ(ص) کو آسمانوں کی بلندیوں پر لے گیا تاکہ آپ(ص) کو وسیع کائنات میں اپنے ملک کی عظمت دکھائے اور اپنی خلقت کے اسرار سے آگاہ کرے اور نیک و بد انسان کی سر گذشت سے مطلع کرے۔

یہ رسول(ص) کے اصحاب کا امتحان بھی تھا کہ وہ اس تصور و نظریہ کو کس حد تک برداشت کر سکتے ہیں کہ جس کے

____________________

۱۔ کشف الغمہ ج۱ ص ۶۱، مستدرک حاکم ج۲ ص ۶۲۲۔


تحت و اپنے رسول(ص) وقائد کے دوش بدوش ہو کر اس لئے لڑ رہے ہیں تاکہ پیغامِ خدا لوگوں تک پہنچ جائے اور صالح و نیک انسان وجود میں آجائے یقینا یہ آپ(ص) کے ان اصحاب کے لئے سخت امتحان تھا جن کے نفس کمزور تھے۔

قریش معراج کے بلند معنی و مفہوم کو نہیں سمجھ سکے چنانچہ جب رسول(ص) نے انہیں معراج کا واقعہ بتایا تو وہ معراج کی مادی صورت ، اس کے ممکن ہونے اور اس کی دلیلوں کے بارے میں سوال کرنے لگے کسی نے کہا: قافلہ ایک مہینے میں شام سے لو ٹتا ہے اور ایک مہینہ میں شام جاتا ہے ۔ اور محمد ایک رات میں گئے بھی اور لوٹ بھی آئے؟! رسول(ص) نے ان کے سامنے مسجد اقصی کی تعریف و توصیف بیان کی اور یہ بتایا کہ آپ(ص) کا گزر ایک قافلہ والوں کی طرف سے ہوا جو اپنے گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہے تھے ان کے سامان سفر میں پانی کا ظرف تھا جو کھلا تھا آپ(ص) نے اسے ڈھانک دیا۔

انہوں نے دوسرے قافلہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ(ص) نے فرمایا: میں اس کے پاس سے تنعیم میں گذرا تھا، آپ(ص) نے انہیں اس قافلہ کے اسباب اور ہیئت کے بارے میں بھی بتایا، نیز فرمایا: تمہاری طرف ایک قافلہ آ رہا ہے جو صبح تک پہنچ جائے گا۔ چنانچہ جس چیز کی آپ(ص) نے خبر دی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔( ۲ )

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۱۶، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۲۶۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۳۹۶۔


چوتھی فصل

کشائش و خوشحالی ہجرت تک

طائف والوں نے اسلامی رسالت کو قبول نہیں کیا( ۱ )

رسول(ص) کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اب قریش کی ایذا رسانیوں میں روز بروز اضافہ ہوگا اور رسالت کو ختم کرنے کے لئے مشرکین کی کوششیں موقوف نہیں ہوںگی۔ ابو طالب کی رحلت سے آپ کا امن و امان ختم ہو چکا تھا دوسری طرف اسلامی رسالت کی نشر و اشاعت وسیع پیمانہ پر ہونا چاہئے تھی ۔ جس وقت رسول(ص)، اسلام کے مبلغین کی تربیت کر رہے تھے اسی وقت ایک ایسا مرکز قائم کرنے کے لئے بھی غور کر رہے تھے کہ جس میں استقلال و خود مختاری کے نقوش واضح ہوں اور معاشرہ کا نظام ایسا ہو کہ جس میں فرد اپنی زندگی بھی گزارے اور خدا کے ساتھ اپنی صنف کے دوسرے افراد سے بھی اس کا رابطہ رہے تاکہ رفتہ رفتہ آسمانی قوانین کے مطابق اسلامی و انسانی تہذیب قائم ہو جائے۔ اس مرکز کی تشکیل کے لئے آپ(ص) کی نظر طائف پر پڑی جہاں قریش کے بعد عرب کاسب سے بڑا قبیلہ ''ثقیف'' آباد تھا۔ جب آپ(ص) تنہا، یا زید بن حارثہ یا علی بن ابی طالب کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے( ۲ ) اور قبیلۂ ثقیف کے بعض شرفاء و سرداروں سے گفتگو کی اور انہیں خدا کی طرف بلایا اور ان کے سامنے وہ چیز بیان کی جس کے لئے آپ (ص) کو نبی (ص) بنا کر بھیجا گیا تھا کہ آپ(ص) کی تبلیغ میں وہ مدد کریں اور آپ(ص) کو قریش وغیرہ سے بچائیں توانہوں نے آپ(ص) کی یہ بات تسلیم نہ کی

____________________

۱۔ آپ(ص) نے بعثت کے دسویں سال طائف کا سفر کیا تھا۔

۲۔نہج بلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۴ ص ۲۷ ۱ ص ج۱۴ ص ۹۷۔


بلکہ آپ(ص) کا مذاق اڑاتے ہوئے ان میں سے کسی نے کہا: اگر خدا نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تو میں خانہ کعبہ کا پردہ پھاڑ ڈالوںگا دو سرے نے کہا: اگرآپ خدا کی طرف سے رسول(ص) ہیں تو میں آپ سے ہرگز کلام نہیں کروںگا کیونکہ اس صورت میں آپ کی بات کا جواب دینا خطرہ سے خالی نہیں ہے ہاں اگر آپ(ص) نے خدا پر بہتان باندھا ہے تو میرے لئے ضروری نہیں کہ آپ(ص) سے گفتگو کروں تیسرے نے کہا: کیا خدااس سے عاجز تھا کہ تمہارے علاوہ کسی اور کو بھیج دیتا۔( ۱ )

اس سوکھے اور سپاٹ جواب کو سن کر رسول(ص) ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے یہ کہا: تمہارے اور میرے درمیان جو بھی گفتگو ہوئی ہے اس کو کسی اور سے بیان نہ کرنا کیونکہ آپ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ یہ واقعہ قریش کو معلوم ہواورآپ(ص) کے خلاف ان کی جرأت بڑھ جائے ۔ لیکن ثقیف کے سرداروں نے آپ(ص) کی اس بات کو قبول نہ کیا بلکہ اپ(ص) کے خلاف اپنے لڑکوں اور غلاموں کو اکسایا تو وہ آپ(ص) کوبر بھلا کہنے لگے آپ(ص) کو ڈھیلے پتھر مارنے لگے، آپ(ص) کے پیچھے شور مچانے لگے۔ ان لوگوں نے اتنا پتھرائو کیا تھا کہ آپ کا جو قدم بھی پڑتا تھا وہ پتھر پر پڑتا تھا۔ بہت سے تماشائی اکھٹا ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ(ص) کو ربیعہ کے بیٹوں، عتبہ و شیبہ کے باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا، وہ دونوں باغ میں موجود تھے، انہوں نے ان لوگوں کو بھگایا، آپ کے دو نوںپیروں سے خون بہہ رہا تھا آپ انگور کی بیل کے سایہ میں بیٹھ گئے اور اس طرح شکوہ کیا:

''الّلهم الیک اشکو ضعف قوّتی و قلّة حیلت و هوان علیٰ الناس یا ارحم الرحمین انت رب المستضعفین و انت رب الیٰ من تکلن؟ الیٰ بعید یتجهمن ام الیٰ عدو ملکته امری؟ ان لم یکن بک غضب علّ فلا ابال ولکن عافیتک هی اوسع''

اے اللہ! میں اپنی ناتوانی، بے سرو سامانی اور اپنے تئیں لوگوں کی اہانت کی تجھ سے فریاد کرتا ہوں،اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے! عاجز و در ماندہ لوگوں کا مالک تو ہی ہے ۔ میرا مالک بھی تو ہی ہے ، مجھے کس پر چھوڑا ہے کیا اس بندے پر جو مجھ پر تیوری چڑھائے؟ یا اس دشمن پر جو میرے کام پر

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۰، بحار الانوار ج۱۹ ص ۶ و ۱۷ اور ص ۲۲، اعلام الوریٰ ج۱ ص ۱۳۳۔


پردسترسی رکھتا ہے؟ لیکن جب مجھ پرتیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ تیری عطا کی ہوئی عافیت میرے لئے بہت وسیع ہے ۔

رسول(ص) ابھی خدا کی بارگاہ میں اسی طرح شکوہ کناںتھے کہ ایک نصرانی آپ(ص) کی طرف متوجہ ہوا اس نے آپ میں نبوت کی علامتیں دیکھیں۔( ۱ )

جب رسول(ص) قبیلۂ ثقیف کی نجات و بھلائی سے مایوس ہو کر طائف سے مکہ کی طرف واپس لوٹ رہے تھے اس وقت آپ کو اس بات پر بہت افسوس تھا کہ کسی نے بھی ان کی بات نہ مانی، مکہ و طائف کے درمیان آپ نخلہ میں ٹھہرے، رات میں جب نماز میں مشغول تھے، اس وقت آپ کے پاس سے جناتوں کا گذرہوا، انہوں نے قرآن سنا آپ نماز پڑھ چکے تو وہ اپنی قوم میں واپس آئے وہ خود رسول(ص) پر ایمان لا چکے تھے اب انہوں نے اپنی قوم والوں کو ڈرایا، خداوند عالم نے ان کے اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے:

( واذا صرفنا الیک نفراً من الجن یستمعون القرآن...و یجرکم من عذاب الیم ) ( ۲ )

اور جب ہم نے جنوںمیں سے ایک گروہ کو آپ کی طرف پلٹایا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں لہذا جب وہ حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموشی سے سنو پھر جب تلاوت تمام ہو گی تو فوراً اپنی قوم کی طرف پلٹ کر ڈرانے والے بن کر آگئے ،کہنے لگے اے قوم والو! ہم نے آیات کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے یہ اپنی سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور حق و انصاف اور سیدھے راستے کی جانب ہدایت کرنے والی ہے ،قوم والو! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی آواز پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے ۔

____________________

۱۔طبری ج۲ ص ۴۲۶، انساب الاشراف ج۱ ص ۲۲۷، تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۳۶، سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۰۔

۲۔طبری ج۲ ص ۳۴۶، سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۶۳، الطبقات الکبریٰ ص ۳۱۲، ملاحظہ ہو سورۂ احقاف: ۲۹ تا ۳۱۔


مکہ میں راہ رسالت میں رکاوٹیں

رسول(ص) کی تحریک ایک ترقی پذیر و تعمیری جہاد تھا۔ آپ کا قول و فعل اورحسن معاشرت؛ فطرت سلیم اور بلند اخلاق کا پتہ دیتا تھا آپ نفوس میں حق کو اجاگر کرتے تھے تاکہ انہیں زندہ کر سکیں اور انہیں فضائل کی طرف بلاتے تھے تاکہ بشریت ان سے آراستہ ہو سکے یہی وجہ ہے کہ قریش کی ایذا رسانیوں ،ان کی سنگدلی اور طائف والوں کے ظلم و ستم کے باوجود رسول(ص) مایوس نہیں ہوئے بلکہ لوگوں کو دین خدا کی طرف دعوت دیتے رہے۔ خصوصاً عمرہ وحج کے زمانہ میں کیونکہ اس وقت تبلیغ کا بہترین موقعہ ملتا تھاآپ قبائل کی قیام گاہ پر جاتے اور ان سب کو دینِ خدا قبول کرنے کی دعوت دیتے اور فرماتے تھے:

''یا بنی فلان انی رسول الله الیکم یا مرکم ان تتعبدوا الیه ولا تشرکوا به شیئاً و ان تومنوا بی و تصدقونی و تمنعونی حتی ابین عن الله ما بعثنی به'' ۔( ۱ )

اے فلاں خاندان والو! مجھے تمہاری طرف رسول(ص) بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ خدا تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو، میرے اوپر ایمان لائو، میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کرتے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے سامنے اس چیز کو کھول کر بیان کر دوں جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے ۔

رسول(ص) نے قبیلوں سے ملاقات کرنے کا سلسلہ جاری رکھا بعض نے سنگدلی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور بعض نے معذرت کر لی ،کچھ لوگوں کے اندر آپ(ص) نے اسلام کی طرف سیاسی رجحان پایا وہ اسلام کے ذریعہ حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے اسی کے مطابق کوشش کرنا شروع کی لیکن رسول(ص) نے سختی سے ان کو ٹھکرا دیا اور انہیں موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا رسول(ص) نے فرمایا:''الامر الیٰ اللّٰه یضعه حیث یشاء'' یہ معاملہ خدا کے ہاتھ ہے وہ جہاں چاہتا ہے قرار دیتا ہے۔( ۲ )

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۳، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۲۹، انساب الاشراف ج۱ ص ۲۳۷۔

۲۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۴ تاریخ طبری ج۲ ص ۴۳۱۔


اکثر ابو لہب رسول(ص) کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپ(ص) کی متابعت کرنے سے منع کرتا تھا اور کہتا تھا: اے فلاں خاندان والو! یہ تو بس تمہیں لات و عزی کو ٹھکرانے اور بدعت و ضلالت کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے پس تم اس کی اطاعت نہ کرنا اور اس کی بات نہ سننا۔( ۱ )

دوسری طرف ام جمیل عورتوں کے بیچ میں کھڑی ہوتی اور رسول(ص) اور آپ(ص) کی تبلیغ کا مذاق اڑاتی تاکہ عورتیں آپ(ص) کی متابعت نہ کریں۔

نبی(ص) قبائل کو اسلامی رسالت کے ذریعہ مطمئن نہیں کر سکتے تھے کیونکہ قریش کو دوسرے قبائل کے درمیان دینی اعتبار سے فوقیت حاصل تھی اور خانۂ کعبہ کی خدمت و دربانی بھی قریش ہی کے پاس تھی اور جزیرہ نما عرب کی تجارت و اقتصاد کا مرکزبھی مکہ ہی تھاپھر جن قبائل کو رسول(ص) نے اسلام کی دعوت دی تھی قریش سے ان کے تعلقات اور معاہدے بھی تھے ان کے لئے ان معاہدوں اور پابندیوںکو توڑنا بہت مشکل تھا۔ پس اسلام قبول کرنے میں لوگوں کا متردد ہونا یقینی تھا اس کے باوجود قریش کو رسول(ص) کی تحریک اور آپ کی تبلیغ رسالت سے خوف لاحق تھا لہذا انہوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ ممکن ہے بت پرستوں کی عقلیں اس کو قبول کر لیں انہوں نے بالاتفاق لوگوں کے درمیان یہ پروپیگنڈہ کرنا شروع کیاکہ محمد اپنے بیان کے ذریعہ جادو کر دیتا ہے اور مرد سے عورت کو بھائی کو بھائی سے جدا کر دیتا ہے لیکن جب لوگ رسول(ص) سے ملاقات کرتے اور ان پر رسول(ص) و رسالت کی عظمت آشکار ہوتی تھی تو قریش کا یہ پروپیگنڈہ ناکام ثابت ہوتا تھا۔( ۱ )

عقبۂ اولیٰ کی بیعت

تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں رسول(ص) نے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا بلکہ آپ (ص)مکہ میں آنے والے ہر اس شخص کو دعوت اسلام دیتے تھے جس میں بھلائی و بہتری دیکھتے یا اس کا اثر و نفوذ محسوس کرتے تھے۔ مدینہ میں دو قوی ترین قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان مدتوں سے سیاسی و فوجی معرکہ آرائی چلی آ رہی تھی یہود اپنی خباثت و مکاری سے اس ماحول میں ان کی جنگ کو مستقل ہوا دیتے تھے تاکہ اسلامی قانون کا نفاذ نہ ہو سکے۔

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۲۷۰۔


یثرب سے جو لوگ حلیف بنا کراپنی طاقت بڑھانے کے لئے مکہ آتے تھے ان میں سے بعض سے رسول(ص) نے ملاقات کی اور دیکھتے ہی دیکھتے رسالت کا اثر اور نبوّت کی صداقت ان کے نفوس میں جا گزیں ہو گئی۔ ایک ملاقات میں رسول(ص) نے بنی عفراء کی ایک جماعت سے گفتگو کی یہ جماعت خزرج سے منسوب تھی ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کی تو ان کی آنکھوں اور دلوں میں مزید آیتوں کے سننے کا اشتیاق پایا...رسول(ص) کی گفتگو سے وہ سمجھ گئے کہ یہ وہی نبی(ص) ہے کہ جس کا ذکر یہود ،مشرکین سے نزاع کے وقت انہیں ڈرانے کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ایک نبی کی بعثت ہو گی اور اس کا زمانہ قریب ہے ہم اس کا اتباع کریں گے اورپھر ہم تمہیں ارم و عاد والوں کی طرح قتل کریں گے۔( ۱ )

ان چھہ اشخاص نے اسی وقت اپنے اسلام کا اعلان کر دیا،رسول(ص) کی خدمت میںعرض کی: ہم نے اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ ا ہے کہ کسی قوم میں اتنی عداوت و دشمنی نہیں ہے جتنی ان کے درمیان ہے امید ہے کہ خدا آپ(ص) کے ذریعہ ان کے درمیان صلح کرادے۔ ہم ان کے سامنے اسلام پیش کریں گے اور انہیں آپ(ص) کے دین کی طرف بلائیں گے اس دین کی طرف جو آپ(ص) نے ہم سے قبول کرایا ہے ۔

اس کے بعد وہ یثرب کی طرف لوٹے ؛ نبی(ص) اور رسالت کے بارے میںآپس میں گفتگو کرتے ہوئے اور آنے والی امن و امان کی زندگی سے متعلق اظہار خیال کرنے لگے ان کے درمیان دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا پیغام پھیل گیا، یثرب میں کوئی گھر ایسا نہیں بچا جس میں رسول کا ذکر نہ پہنچا ہو۔( ۲ )

دن گزرتے دیر نہیں لگتی پھر گیارہویں بعثت کو جب حج کا زمانہ آ گیا یثرب سے اوس و خزرج کا ایک وفد آیا جو بارہ افراد پر مشتمل تھا ان میں چھہ افراد وہ تھے جو عقبہ اولیٰ میں خفیہ طریقہ سے رسول(ص) سے ملاقات کرکے اسلام قبول کر چکے تھے-عقبہ وہ جگہ ہے جہاں سے یثرب والے مکہ پہنچتے ہیں-اس مرتبہ ان لوگوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم نے اس بات پر رسول(ص) کی بیعت کر لی ہے کہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہیں دیں گے چوری نہیں

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۸، بحار الانوار ج۱۹ ص ۲۵۔

۲۔ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۳۷ و ص۳۸، سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۲۹، بحار الانوار ج۱۹ ص ۲۳۔


کریں گے۔ زنا نہیں کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے اوراز خود گڑھی ہوئی باتوں کے ذریعہ بہتان نہیں باندھیںگے اور نیک کاموں میں آپ(ص) کی نافرمانی نہیں کریں گے۔( ۱ )

رسول(ص) ان پر اس سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالنا چاہتے تھے ان کے ساتھ آپ(ص) نے جوان مسلمان مصعب بن عمیر کو یثرب بھیجا تاکہ وہ ان کے درمیان عقائد کی تبلیغ کریں۔ عقبۂ اولیٰ کی بیعت اسی پر تمام ہوئی۔

عقبۂ ثانیہ

مصعب یثرب کے گلی کوچوں میں اور ان کے مجامع میں قرآن کی آیتوں کی تلاوت کرتے تھے، قرآن کے ذریعہ ان کے دلوں اور عقلوں کو جھنجھوڑتے رہے یہاں تک کہ بہت سے لوگ رسالت اسلامیہ پر ایمان لے آئیے۔

اسلام نے لوگوں کے دلوں میں رسول(ص) سے ملنے کا بڑا اشتیاق پیدا کر دیا انہوں نے والہانہ انداز میں رسول(ص)سے گزارش کی کہ آپ(ص) ہمارے یہاں تشریف لائیں۔

بعثت کے بارہویں سال جب حج کا زمانہ آیا تو یثرب سے حاجیوں کے قافلہ چلے ان میں ۷۳ مسلمان مرد اور دو عورتیں بھی تھیں رسول(ص) نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ آپ(ص) ان سے عقبہ میں ایام تشریق میں رات کے وقت ملاقات کریں گے؛ یثرب کے مسلمان اس وقت تک اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھے۔

جب تین حصہ رات گذر گئی اور آنکھوں سے نیند اچٹ گئی تو مسلمان چھپ کراپنے خیموں سے نکلے اور رسول(ص) کے انتظار میں جمع ہو گئے رسول(ص) آئے آپ(ص) کے ساتھ آپ(ص) کے اہل بیت (ص) میں سے بھی کچھ لوگ تھے، سب جمع ہو گئے، ان لوگوں نے گفتگو شروع کی، پھر رسول(ص) نے گفتگو کا آغاز کیا، قرآن مجید کی چند آیتوں کی تلاوت کی اس کے بعد انہیں خدا کی طرف بلایا اور اسلام کی ترغیب دلائی۔

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۳۳، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۳۶۔


اس بار اسلام کے ہر پہلو، اس کے احکام اور جنگ و صلح کے بارے میں صریح طور پر بیعت ہوئی؛ رسول(ص) نے فرمایا:

''ابایعکم علیٰ ان تمنعونی مما تمنعون منه نسائکم و ابنائکم''

میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اس پر ان لوگوں نے رسول(ص) کی بیعت کی۔

اس موقعہ پر یثرب کے مسلمانوں کی طرف سے خدشہ کا اظہار ہوا، ابو الہیثم ابن تیہان نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول(ص)! ہمارے اور یہودیوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں اگرہم انہیں توڑ دیں تو کیا ایسا کرنے سے ہم گناہگار ہونگے اور اگر خدا آپ(ص) کو کامیاب کر دے توکیاآپ اپنی قوم کی طرف پلٹ جائیں گے ؟اس پر رسول(ص) مسکرائے اور فرمایا:''بل الدم الدم و الهدم الهدم احارب من حاربتم و اسالم من سالمتم'' ( ۱ ) بلکہ خون کا بدلہ خون اور مباح کئے ہوئے خون کا عوض مباح ہے ۔ میں اس سے جنگ کرونگا جس سے تم جنگ کروگے میں اس سے صلح کرونگا جس سے تم صلح کروگے۔

اس کے بعد رسول(ص) نے فرمایا: تم میں سے بارہ افراد میرے پاس آئیں تاکہ وہ اپنی قوم میں میرے نمائندے قرار پائیں چنانچہ ان میں سے نو افراد خزرج میں سے اور تین اوس میں سے نکلے ان سے رسول(ص) نے فرمایا:

''انتم علیٰ قومکم بما فیهم کفلاء ککفالة الحواریین لعیسیٰ بن مریم و انا کفیل علیٰ قوم'' ۔( ۲ )

تم اپنی قوم کے درمیان ان کے معاملات کے ایسے ہی ذمہ دار و ضامن ہو جیسے حضرت عیسیٰ کے حواری ضامن و ذمہ دار تھے اور میں اپنی قوم کا ذمہ دار ہوں۔

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۳۸، تاریخ طبری ج۲ ص ۴۴۱، مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۱۸۱۔

۲۔ تاریخ طبری ج۲ ص ۴۴۲، سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۴۳، مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۱۸۲۔


رسول(ص) نے ہرکام کے لئے حکیمانہ راہنمائی پختہ اور عمدہ تدبیر ، گہری سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لیا اور اس مقصد کی طرف رسالت کو لیکر بڑھے جس کی وحی ِ الٰہی نے تائید کی تھی اور بیعت کرنے والوں سے فرمایا کہ تم اپنی قیام گاہ کی طرف لوٹ جائو مشرکین سے نہ ٹکرانا کہ خدا نے قتال و خونریزی کا حکم نہیں دیا۔

قریش نے جب یہ محسوس کیا کہ یثرب کے مسلمان نبی(ص) کی مدد کر رہے ہیں توانہوں نے اسے اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھا اور وہ غیظ وغضب میں آپے سے باہر ہو گئے اور چاہا کہ نبی(ص) اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو جائیں لیکن عقبہ کے اجتماع میں جناب حمزہ و علی پاسبان و محافظ تھے لہذا قریش ناکام واپس لوٹ گئے۔( ۱ )

ہجرت کی تیاری

قریش غفلت سے بیدار ہو چکے تھے جبکہ مسلمانوں میں کامیابی کی امید جاگ اٹھی تھی جس کی وجہ سے مشرکوں کی طرف سے ایذا رسانی میں بھی اضافہ ہو گیا اور قریش نے مسلمانوں کے ساتھ سخت و سنگدلی کا رویہ اختیار کیا ان پر شدید ظلم کئے اور یہ کوشش کی کہ مسلمانوں کا شیراز ہ بننے سے پہلے ہی ان کا صفایاکر دیں،مسلمانوں نے رسول(ص) سے اس ظالمانہ سلوک کی شکایت کی اور آنحضرت سے مکہ چھوڑنے کے لئے اجازت چاہی آپ(ص) نے ان سے چند روز کی مہلت طلب کی پھر فرمایا:''لقد اخبرت بدار هجرتکم و هی یثرب فمن اراد الخروج فلیخرج الیها'' ( ۲ ) مجھے تمہارے جس دار ہجرت کی خبر دی گئی ہے وہ مدینہ ہے پس جو تم میںسے مکہ چھوڑنا چاہتا ہے وہ مدینہ چلا جائے۔

دوسری روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے :''ان اللّٰه قد جعل لکم دارا تامنون بها و اخوانا'' ( ۳ ) بیشک خدا نے تمہارے لئے ایک جگہ مقرر کر دی ہے جہاں تم امن و اخوت کی زندگی گزار وگے۔

بعض مسلمانوں نے خفیہ طریقہ سے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تاکہ قریش کو شک نہ ہو۔

____________________

۱۔ تفسیر قمی ج۱ ص۲۷۲۔

۲۔ الطبقات الکبریٰ ج۱ ص۲۲۶۔

۳۔مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۱۸۲، السیرة النبویہ ج۱ ص ۴۶۸۔


ہو۔ رفتہ رفتہ مکہ کے راستوں ، گھروں اور اجتماع میں رسول(ص) کے اصحاب کم نظر آنے لگے خود رسول(ص)، حکم خدا کے منتظر تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمان صحیح و سالم ہجرت کر جائیں۔ ادھر قریش کو بھی رسول(ص) کے عزم کا علم ہو گیا لہذا انہوں نے مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کرہجرت کرنے سے روکنے کی سعی کی اور مدینہ میں جاکر مسلمانوں کو لالچ و دھمکی کے ذریعہ مکہ لوٹانے کی کوشش کی۔

قریش مکہ میں امن برقرار رکھنا چاہتے تھے اسی وجہ سے مسلمان مہاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ قید میں ڈال دیتے تھے سزا دیتے تھے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان جنگ ہو جائے گی۔

ہاں قریش یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ رسول(ص) کی مدینہ ہجرت سے مسلمانوں کی بڑی طاقت بن جائے گی اور جب آپ(ص) ان سے ملحق ہو جائیں گے تو چونکہ آپ ثابت قدمی حسن رائے، قوت و شجاعت میں مشہور ہیں، اس لئے اس وقت مشرکین عام طور سے اور قریش خاص طور سے مصیبتوں میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

قریش کے سرداروں نے اپنے سامنے عظیم خطرے سے نمٹنے کے لئے دار الندوہ میں جلدی سے ایک جلسہ کیا، اس میں مختلف رائیں سامنے آئیں ایک رائے یہ تھی کہ محمد کو قید کر دیاجائے، ان کے پیروں میں زنجیر ڈال دی جائے یا انہیں مکہ سے دور صحرا ء میں جلا وطن کر دیا جائے لیکن رسول(ص) کو قتل کرنے اور ان کے خون کو قبائل میں اس طرح تقسیم کرنے والی رائے سب کو پسند آئی، کہ بنی ہاشم انتقام نہ لے سکیں( ۱ ) کیونکہ اگر انہوں نے رسول(ص) کو قتل کر دیا ہوتاتوابتداء ہی میں اسلامی رسالت کا خاتمہ ہو جاتا۔

رسول(ص) کو خدا کا حکم ہوا کہ یثرب-مدینہ-ہجرت کر جائیں اس حکم کا رسول(ص) کوبڑی شدت سے انتظار تھاتاکہ اس سر زمین پر پہنچ جائیں جہاں آپ (ص)تقوے اور آسمانی قوانین کے مطابق ایک حکومت قائم کر سکیں اور ایک صالح انسانی معاشرہ کی تشکیل کر سکیں۔

جب مشرکوں نے قتل رسول(ص) کا منصوبہ بنا کر اسے آخری شکل دیدی تو امینِ وحی جبریل رسول(ص) پر نازل ہوئے

____________________

۱۔ السیرة النبویہ ج۱ ص ۴۸۰، الطبقات الکبری ج۱ ص ۲۲۷، تفسیر العیاشی ج۲ ص ۵۴۔


اور آپ(ص) کو مشرکوں کی اس سازش کی خبر دی جو انہوں نے آپ کے خلاف بنا رکھی تھی اور آپ کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی :

( و اذ یمکربک الذی کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک و یمکرون و یمکر اللّه و اللّه خیر الماکرین ) ( ۱ )

اور اے رسول(ص)! آپ(ص) اس وقت کو یاد کریں جب کفار آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا شہر بدر کرنے کی تدبیر کر رہے تھے اور اسی کے ساتھ خدا بھی ان کی تدبیروں کے خلاف بند و بست کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے ۔

چونکہ رسول(ص) کو مکمل یقین تھا کہ خدا آپ(ص) کی حفاظت کرے گا اور غیبی امداد آپ(ص) کے شاملِ حال ہو گی اس لئے آپ اپنی تحریک میں عجلت سے کام نہیں لے رہے تھے اور نہ ہی جلد بازی میں قدم اٹھا رہے تھے بلکہ آپ بہت سوچ سمجھ کر اور نہایت ہی احتیاط کے ساتھ قدم اٹھاتے تھے۔

ہجرت سے پہلے مہاجرین کے درمیان مواخات

ہجرت سے پہلے مہاجرین کے درمیان اخوت قائم کی گئی تاکہ ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آجائے کہ جس کے ا فراد اسلام کے مفاد اور اعلاء کلمة اللہ کے لئے ایک جسم کے اعضاء کی مانند ایک دوسرے سے تعاون کریں کیونکہ مسلمانوں کے سامنے بڑی مشکلیں آنے والی تھیںجن سے گزرنے کے لئے ایک دوسرے کاتعاون اور ایک دوسرے کی مددضروری تھی ۔

رسول(ص) نے گویا اس طرح اپنی ہجرت کا آغاز کیا کہ مہاجرین کے درمیان ایمانی اور خدائی رشتہ کی بنا پر اخوت قائم کی اور مالی مدد کرنے میں بھی انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا اس طرح وہ نفسی نفسی کو چھوڑ کرایک مضبوط ومحکم معاشرہ تشکیل دیں چنانچہ رسول(ص) نے ابو بکر کو عمر کا، حمزہ کو زید بن حارثہ کا، زبیر کو ابن مسعود کا اور

____________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ج۱ ص ۱۸۲ تا ۱۸۳، انفال:۸،۳۔


عبید بن حارث کو بلال کا بھائی بنا دیا۔

اور علی کوخود اپنا بھائی بنایا اور حضرت علی سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں تمہارا بھائی بن جائوں؟ حضرت علی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص) میں اس سے خوش ہوں۔ اس وقت آپ نے فرمایا: اے علی تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔( ۱ )

____________________

۱۔ سیرت حلبیہ ج۲ ص ۲۰، مستدرک حاکم ج۳ ص ۱۴۔


چوتھا باب

پہلی فصل

اوّلین اسلامی حکومت کی تشکیل

دوسری فصل

نئی حکومت کا دفاع

تیسری فصل

مشرک طاقتوں کا اتحاد اور خدائی جواب


پہلی فصل

اوّلین اسلامی حکومت کی تشکیل

۱۔ مدینہ کی طرف ہجرت

رسالت کی تحریک کی تکمیل اور نبوت کے خدائی اغراض و مقاصد کی تشکیل کے لئے ضروری تھا کہ معاشرہ کے افراد کی مدد کی جائے اور انہیں عقیدہ کے یقین مطلق سے سرشار کر دیا جائے تاکہ عقیدے کے سامنے وہ خودکو بھول جانے اور ہلاکتوں سے بچتے ہوئے ہمیشہ قربانی دینے کے لئے تیار رہیں ۔

ان افراد میں علی بن ابی طالب ایک فولادی انسان تھے کہ جن سے رسول(ص) نے فرمایا تھا: اے علی ! قریش نے میرے خلاف سازش کی ہے وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اورمجھ پر میرے رب کی طرف سے وحی ہوئی ہے کہ میں ایک قوم کی طرف ہجرت کر جائوں، پس تم میرے بسترپر سوجائو اور میری سبز چادر اوڑھ لو تاکہ تمہارے سونے سے انہیں یہ نہ معلوم ہو کہ میں چلا گیا، بتائو تم کیا کہو گے اور کیا کروگے؟

حضرت علی نے فرمایا: اے اللہ کے رسول(ص) کیا میرے سوجانے سے آپ محفوظ رہیں گے؟

رسول(ص) نے فرمایا: ہاں جب اللہ کے رسول(ص) نے علی کو اپنے محفوظ و سلامت رہنے کی خبر دی تو علی خوش ہوئے، مسکرائے ،شکرِ خدا کرنے کے لئے سجدہ میں گئے اور پھر فرمایا: میری بصارت و سماعت اور دل آپ پر قربان جو آپ(ص) کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گذریے ۔( ۱ )

____________________

۱۔ ملاحظہ فرمائیں احقاق الحق ج۳ ص ۳۳ تا ۴۵ تعلیقہ مرعشی نجفی، اس سے تاریخی حادثہ اور علما اہل سنت کے نزدیک حضرت علی کا موقف واضح ہو جائے گا نیز ملاحظہ ہو مسند امام احمد ج۱ ص ۳۳۱ طبع اولیٰ مصر، تفسیر طبری ج۹ ص ۱۴۰، طبع میمینہ مصر، مستدرک حاکم ج۳ ص ۴، طبع حیدر آباد دکن۔


رسول(ص) اپنے بستر پر حضرت علی کو لٹا کر نصف شب میں رحمت و حصارِ ایزدی کے سایہ میں ان مشرکوں کو چیرتے ہوئے نکل گئے جو آپ(ص) کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔

جب صبح کے وقت خدا کے دشمن خون آشام شمشیر برہنہ لئے ہوئے رسول(ص) کے گھر میں داخل ہوئے تو ان کی ساری تمنائیں خاک میں مل گئیں۔ ان کے چہروں سے دشمنی کے آثار نمایاں تھے۔ خالد بن ولید ان میں پیش پیش تھا۔ حضرت علی بے نظیر شجاعت کے ساتھ اپنے بستر سے اٹھے تو خانۂ رسول(ص) میں داخل ہونے والے الٹے پائوں لوٹے وہ حیرت و دہشت میں ڈوب گئے ، وہ دیکھ رہے تھے کہ خدا نے ان کی کوششوں کو ناکام کر کے اپنے نبی(ص) کو بچا لیا ہے۔

قریش نے اپنی ضائع شدہ ہیبت کو پلٹانے کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا تاکہ محمد(ص) ہاتھ آجائیں ۔ چنانچہ انہوں نے جاسوس چھوڑے، آپ(ص) کی تلاش میں انہوں نے عام اور غیر معروف راستوں کو چھان ڈالا یہاں تک کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ جو بھی محمد (ص) کو زندہ یا مردہ لائے گا اسے سو اونٹ انعام دئیے جائیںگے۔ ایک ماہر راہنما نے آپ(ص) کے نقش قدم کو ڈھونڈکر انہیں غار ثور تک پہنچا دیا-رسول(ص) ابوبکر کے ساتھ اسی غار میں چھپے ہوئے تھے- اس کے بعد اسے آپ(ص) کے نقش قدم نظر نہ آئے تو اس نے کہا: محمد اور ان کے ساتھی یہاں سے آگے نہیں بڑھے، یا تو آسمان پر پہنچ گئے یا زمین میں اتر گئے۔

ادھر غار میں ابوبکر پر شدید خوف طاری تھا وہ قریش کی یہ آواز سن رہے تھے: اے محمد! نکلو ابو بکر ان کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ رہے تھے اور رسول(ص) انہیں سمجھا رہے تھے:( لا تحزن ان اللّٰه معنا ) ڈرو نہیں خدا ہمارے ساتھ ہے ۔

قریش واپس لوٹ گئے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ محمد (ص) غار میں موجود ہیں کیونکہ انہوں نے غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا اور کبوتر کا آشیانہ دیکھا تھا کہ جس میں اس نے انڈے دے رکھے تھے۔

شام کے وقت حضرت علی اور ہند بن ابی ہالہ نے آپ(ص) سے ملاقات کی ۔ انہیں معلوم تھا کہ آپ(ص) فلاں غار میں ہیں رسول(ص) نے حضرت علی سے کچھ ایسی چیزوں کی نشاندہی فرمائی جن کی حفاظت آپ(ص) کے ذمہ تھی اور جو امانتیں آپ(ص) کے پاس تھیں ان کو ادا کرنے کا حکم دیا-


عرب کی امانتیں رسول(ص) ہی کے پاس رکھی جاتی تھیںاوران کو یہ حکم دیا کہ اپنے اور خواتین خاندان کے لئے سواریاں خریدیں اور میرے پاس آجائیںپھراطمینان کے ساتھ فرمایا:''انّهم لن یصلوا من الآن الیک یا علی بامرتکرهه حتی تقدم علی فاد امانتی علیٰ اعین الناس ظاهرا ثم انی مستخلفک علی فاطمة ابنتی و مستخلف رب علیکما و مستحفظه فیکما'' ۔( ۱ )

اے علی وہ اس وقت تک تمہارے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہیں کریں گے یہاں تک کہ تم میرے پاس پہنچ جائوگے۔ اے علی ! لوگوں کی امانتوں کو سب کے سامنے واپس کرنا میں تمہیں اپنی بیٹی فاطمہ کا محافظ و نگہبان اور تم دونوں کا محافظ و نگہبان خدا کو قرار دیتا ہوں۔

تین روز کے بعد رسول(ص) کو یہ اطمینان ہو گیا کہ لوگ آپ(ص) کو ڈھونڈنے سے مایوس ہو گئے ہیںتو غار سے باہر نکلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہو ئے اور خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی تکان کی پروانہ کی۔

جب آپ قبا کے علاقہ میں پہنچے تو وہاں حضرت علی بن ابی طالب اورخواتین خاندان کی آمد کے انتظار میںچند دن گذارے تاکہ سب ایک ساتھ یثرب میں داخل ہوں جس وقت رسول(ص) کے ساتھی آپ(ص) کو قبا میں چھوڑ کر یثرب پہونچے تو اس وقت یثرب میں نبی (ص) کی آمد کی وجہ سے خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔

حضرت علی راستہ کی مشقت و خطرات سے تھک کر نبی (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول(ص) نے آپ کو گلے سے لگایا اور آپ کی حالت دیکھ کر رونے لگے۔( ۲ ) اصل میں قریش کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ علی خواتین کو لیکر جا رہے ہیں تو انہوں نے ان کا تعاقب کیا تھا جس سے خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔

چند روز رسول(ص) خدا نے قبا ہی میں قیام کیا، سب سے پہلا کام آپ(ص) نے یہ کیا کہ بتوں کو توڑا( ۳ ) پھر مسجد تعمیر

____________________

۱۔ اعیان الشیعہ ج۱ ص ۲۳۷۔

۲۔ تاریخ کامل ج۲ ص ۱۰۶۔

۳۔ البدء والتاریخ ج۴ ص ۱۷۶ تا ص۱۷۷۔


کی۔ اس کے بعد جمعہ کے روز آپ وہاں سے روانہ ہو ئے وادی رانوناء میں پہنچے تو نماز ظہر کا وقت ہو گیا عالم اسلام میں یہ سب سے پہلی نماز جمعہ تھی۔ یثرب کے مسلمان اپنے اسلحوں اور آرائش کے ساتھ رسول(ص) کے استقبال کے لئے نکلے آپ(ص) کی سوار ی کو اپنے حلقہ میں لے لیا ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ رسول(ص) اس کے علاقہ میں داخل ہوں اور اس ذات گرامی کی پہلے وہ زیارت کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے اور جس سے وہ محبت کر تا ہے ۔( ۱ )

جس مسلمان کے گھر کی طرف سے رسول(ص) کا گزر ہوتا تھا وہی آپ(ص) کے ناقہ کی مہار پکڑ لیتا تھا اور اپنے یہاں قیام کرنے کی درخواست کرتا تھا لیکن رسول(ص) مسکراتے ہوئے ہر ایک سے یہی فرماتے تھے میرے ناقہ کا راستہ چھوڑ دو یہ خود مامور ہے ۔ آخر میں آپ کا ناقہ ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے اس سر زمین پر بیٹھا جو بنی نجار کے دو یتیموں کی تھی ابو ایوب انصاری کی زوجہ نے رسول(ص) کے اسباب سفر کو اپنے گھر میں رکھ لیا۔ رسول(ص) انہیں کے گھر میں رہے یہاں تک کہ مسجد نبوی(ص) اور آپ(ص) کے گھرکی تعمیر مکمل ہو گئی۔( ۲ )

یثرب کا نام بدل کر رسول(ص) نے طیبہ رکھا آپ(ص) کی ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء آغازسمجھا جاتا ہے۔( ۳ )

۲۔ مسجد کی تعمیر

یقینا رسول(ص) مسلمانوں کے ساتھ اس انفرادیت کے دائرہ سے نکل گئے اور مدینہ پہنچنے پر آپ(ص) نے ایک ایسی حکومت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جوآسمانی قوانین اور شریعت اسلامیہ کے حکم کے مطابق چلے اور جس کے نتیجہ میں اسلامی تہذیب وجود میں آجائے جواس حکومت کے بعد پوری انسانیت کوفیضیاب کرے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل میں اس سے پہلے کا نظام بہت بڑی رکاوٹ تھا جزیرہ نما عرب کے معاشرہ پر یہی

____________________

۱۔رسول(ص) ۱۲ ربیع الاول کو مدینہ میں وارد ہوئے۔

۲۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۹۴۔

۳۔مقدمۂ ابن خلدون ص ۲۸۳ تاج العروس ج۲ ص ۸۵۔


غالب تھا دوسری طرف مسلمانوں کی کمزوری کا صحیح معنوں میں علاج بھی ضروری تھا۔ مسجد کی تعمیر اس لئے بھی ضروری تھی تاکہ مسجد سے متعددا ہم سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے اور یہ اس مرکزی خود مختار کمیٹی کا مرکز قرار پائے جس کے ذریعہ حکومت کے امور انجام پذیر ہونا ہیں۔ مسجد کے لئے زمین کا تعین ہو گیا مسجد کے تعمیری کاموں کو مسلمانوں نے بڑے شوق و ہمت سے انجام دیا۔ اور اپنے نمونہ و اسوہ اور کاموں کے ذریعہ مسلمانوں کی طاقت کو حرکت میں لانے والا رسول(ص) خود مسجد کے تعمیری کاموں کو انجام دینے میں شریک تھا وہ خود پتھر اٹھا کر لاتے تھے ایک بار آپ(ص) ایک پتھر اٹھائے ہوئے لا رہے تھے کہ اسید بن حضیر نے دیکھ لیا عرض کی؛ اے اللہ کے رسول(ص) ! یہ پتھر آپ(ص) مجھے دے دیجئے میں لے جائونگا آپ(ص) نے فرمایا: نہیں۔ تم دوسرا اٹھا لائو۔ مسجد کے ساتھ ہی رسول(ص) اور آپ(ص) کے اہل بیت کا گھر بھی بن گیا۔ آپ(ص) کا گھر پُرتکلف نہیں تھا بلکہ ان کی زندگی کی مانند سادہ تھا۔ اس موقع پر رسول(ص) نے ان ناداروں کو فراموش نہیں کیا کہ جن کا کوئی گھر نہیں تھا اور انہوں نے آپ(ص) کے پاس پناہ لے رکھی تھی بلکہ مسجد کے ایک گوشہ میں ان کے لئے بھی ایک مکان بنا دیا۔( ۱ )

اس طرح مسجد مسلمانوں کے انفرادی و اجتماعی اور عبادی حیات بخش امور کی انجام دہی کا مرکز بن گئی۔

۳۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات

نئی حکومت کی تشکیل اور پہلے نظام کو ختم کرنے کے لئے کسی قبیلہ سے تعرض کئے بغیر ایک اور قدم اٹھایا جس سے آپسی محبت اور ایمان کی حرارت وجود میں آئی آپسی محبت اور حرارتِ ایمان مسلمانوں سے وجود میں آئی تھی پس رسول(ص) نے خاندانی اور خونی رشتہ سے آگے بڑھکر عقیدہ اور دین کو لوگوں کے رابطہ کی بنیاد قرار دیا اور فرمایا:'' تاخوا فی الله اخوین اخوین '' تم راہِ خدا میں بھائی بھائی بن جائو۔ پھر آپ(ص) نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:''هذا اخی'' ( ۲ ) یہ میرے بھائی ہیں، اس طرح انصار میں سے ہر ایک

____________________

۱۔بحا ر الانوار ج۱۹ ص ۱۱۲، سیرت نبویہ ج۱ ص ۴۹۶۔

۲۔ سیرت نبوی ج۱ ص ۵۰۴۔


نے مہاجرین میں سے ایک ایک کو اپنا بھائی بنا لیا اور اسے امور زندگی میں اپنا شریک بنا لیا اس طرح مدینہ نے اپنی تاریخ کا صفحہ پلٹ دیا کیونکہ ابھی تک مدینہ میں اوس و خزرج کے درمیان جنگ ہوتی رہتی تھی جسے یہود اپنی خباثت اور منافقت سے ہوا دیتے رہتے تھے، اب دنیا میں ترقی پذیرحیات انسانی کے عہد نوکا آغاز ہوا اور وہ اس طرح کہ رسول(ص) نے امت کی بقا اور اس کی ایمانی سرگرمی کا بیج بو دیا۔

مسلمانوں کے بھائی بھائی بننے کے نتائج

اقتصادی پہلو

۱۔ مہاجرین کی عائلی زندگی کو اقتصادی لحاظ سے بہتر بنایا تاکہ وہ اپنی طبعی زندگی کو جاری رکھ سکیں۔

۲۔ فقر و ناداری کو ختم کرنے کے لئے طبقاتی امتیازات کو ختم کیا۔

۳۔ غیر شرعی و ناجائز دولت سے دور رہتے ہوئے اقتصادی استقلال کے لئے کوشش کی تاکہ سود خور یہودیوں کے ہاتھ کٹ جائیں۔

۴۔آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا۔ کھیتی کے ساتھ تجارتی میدان میں سر گرم عمل رہنا اور مہاجرین و انصار کے افکار اور ان کی کوششوں کے سایہ میں مدینہ کے حالات کے مطابق بھر پور فائدہ اٹھانا۔

اجتماعی پہلو

۱۔معاشرہ میں موجود ہلاکت خیز اجتماعی امراض کو ختم کیا اور پہلے سے چلے آ رہے لڑائی جھگڑوں کی جگہ محبت و مودت کی روح پھونکی تاکہ تمام فاصلے اور رخنے ختم ہو جائیں اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور آئندہ کے مراحل میں اسلام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جا سکے۔

۲۔پہلے نظام کو لغو کرکے اس کی جگہ روز مرہ کے معاملات میں اسلامی نظام و اقدار کو نافذ کیا ۔

۳۔ مسلمانوں کو باطنی طور پر آمادہ کیا اور اسلامی رسالت کی نشر و اشاعت کے لئے انہیں ایثار وقربانی کی تربیت دی۔


سیاسی پہلو

۱۔مسلمانوں کا ایک ایسا متحدہ محاذ قائم کیا جو رسول(ص) و رسالت کے احکام پر ایک فرد کی طرح لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتا رہے وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب مختلف سمتوں سے مخالفت اور سازشوں کا سلسلہ جاری تھا ۔

۲۔انصار و مہاجرین کے درمیان تنظیمی علوم و اخبار، استقامت و ثبات کے وسائل، ایمانی تجربہ اور تحرک کے طریقوں کی ترویج کی کیونکہ انصار، مہاجرین کے تجربوں اور ان آزمائشوں سے واقف نہیں تھے جن کا انہیں سامنا نہیں ہوا تھا۔

۳۔ حکومت کی تشکیل اور اس کے ادارتی دھانچے کے لئے پہلے قدم کے طور پر افراد کی تعلیم و تربیت کی۔

۴۔مسلمانوں میں اسلام کے اقدار کے مطابق نسلی و خاندانی حمیت سے الگ رہتے ہوئے اپنے اندر دفاع کی روح پھونکی۔

۴۔معاہدۂ مدینہ

مسلمانوں کو جنگ و جدال کی حالت سے نکال کر تعمیری اور شریعت اسلامیہ کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری تھا کہ امن و سکون کی فضا قائم ہو -خواہ یہ امن و سکون نسبی ہی ہو-اس لئے خلفشار و نزاع ،عام لوگوں میں انتشار کا سبب تھا۔

یثرب میں بہت سی طاقتیں مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے در پے تھیں، اقتصادی اور سیاسی جوڑ توڑ کے لحاظ سے یہودی بہت مضبوط تھے اگر چہ ان کی تعداد قابل اعتناء نہیں تھی۔ دوسری طاقت مشرکوں کی تھی اگر چہ رسول(ص) اور مہاجرین کے آجانے سے ان کی طاقت کم ہو گئی تھی لیکن ان کا بالکل صفایا نہیں ہوا تھا لہذا نبی(ص) نے ان سے شائستہ طریقہ سے مقابلہ کیا۔

نبی(ص) کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ آپ منافقوں پر نظر رکھیں۔

مدینہ کے باہر قریش اور دوسرے مشرک قبیلے نئے اسلامی نظام کے لئے حقیقی خطرہ بنے ہوئے تھے رسول(ص) کے لئے لازمی تھا کہ آپ(ص) ان سے مقابلہ اور ان کے شر کو دفع کرنے کے لئے تیار رہیں۔


یہاں رسول(ص) کی عظمت اور متعدد طاقتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے آپ کی سیاسی بصیرت آشکار ہوئی۔ اسی کے ساتھ آپ(ص) دوسروں کے ساتھ نیکی سے پیش آئے اور انہیں امن سلامتی، صلح و آشتی کی دعوت دی۔

ایک ایسی حکومت کی تشکیل کے لئے آپ(ص) نے یہودیوںسے صلح و تعاون کا معاہدہ کیا جس کے مدار المہام آپ(ص) ہی تھے اورآپ ہی کے ذریعہ انسانی حقوق ہر ایک کو مساوی طور پر ملتے تھے۔

اس معاہدہ کو اس حکومتِ اسلامی کی تشکیل کا اولین دستور کہا جا سکتا ہے جو پہلے شہر مدینہ میں قائم ہوئی اورپھر عرب معاشرہ میں پھیل گئی اس کے بعدپوری دنیا میں نافذ ہوگئی۔ یہ معاہدہ درج ذیل اہم چیزوں پر مشتمل تھا:

۱۔مسلمان معاشرہ کی تشکیل اور ہر مسلمان کو اس کی قوت ارتقاء کا احساس دلایا۔

۲۔حکومت پر دبائو کو کم کرنے کے لئے پہلے معاشرے میں اصلاح کر کے اور اس کی بعض اجتماعی سرگرمیوں میں شرکت اور کچھ مسائل کے حل کے لئے اس سے مدد لے کر اسے باقی رکھا۔

۳۔ عقیدہ کی آزادی، یہودیوں کو اپنے دین و مذہب پر باقی رہنے اور تہوار منانے کی اجازت ہے وہ نئی اسلامی حکومت میں اقلیت کے عنوان سے رہیں گے۔

۴۔ مدینہ کو جائے امن قرار دیا جائے گا اور وہاں امن و امان بر قرار رکھا جائے گا۔ مدینہ میں قتل و خونریزی جائز نہیں ہوگی۔

۵۔ اسلامی حکومت و نظام کی زمام اور لڑائی جھگڑوںکے فیصلوں کا اختیار صرف رسول (ص) کو ہوگا۔

۶۔ سیاسی سوسائٹی کی توسیع، وہ اس طرح کہ مسلمان اور یہودی ایک سیاسی نظام کے تحت زندگی گذاریں گے اور دونوں اس نظام کا دفاع کریں گے۔

۷۔ مسلمان معاشرہ کے افراد کے درمیان تعاون کے جذبہ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ وہ ہر قسم کے بحران سے محفوظ رہے۔


۵۔مدینہ میں قیام اور نفاق

رسول(ص) نے مسلمان معاشرہ کی تشکیل کو اہمیت دی اور ہر مسلمان پر ہجرت کو واجب قرار دیا سوائے معذورافراد کے۔ یہ اس لئے کیا تھا تاکہ تمام طاقتوں اور صلاحتیوں کو مدینہ میں جمع کر لیا جائے۔

اس عہدِ نو میں مدینہ امن و امان کی زندگی سے مالا مال تھا۔ مسلمانوں کی ساری طاقتوں کے یکجا ہو جانے سے وہ ساری طاقتیں خوف زدہ تھیں جنہوں نے پہلے رسول(ص) کی دعوت کا انکار کر دیا تھا اور اس دعوت کا عقیدہ رکھنے والوں کو دھمکی دی تھی آج ایسا نظام بن گیا جو انسان کوفضائل و کمالات کی طرف بڑھانے والا تھا۔ اب انہیں تبلیغِ رسالت سے کوئی بھی نہیں روک سکتاتھا، چنانچہ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، بعض اسلامی رسالت سے دور رہے یا آپ(ص) سے مصالحت کر لی۔

دوسری طرف رسول،(ص) منافقین کی تحریک اور یہود کی کینہ توزی پر مبنی ان ریشہ دوانیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ جس کے ذریعے وہ مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کرکے اسلام کے نئے نظام کو برباد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ مدینہ کے ہر گھر میں اسلام داخل ہو گیا( ۱ ) اور اجتماعی نظام اسلام کے حکم اور رسول(ص) کی قیادت کے تحت آگیا۔ اسی زمانہ میں زکات، روزہ، حدود کے احکام فرض ہوئے اسی طرح نماز کے لئے اذان و اقامت کا حکم آیا۔ اس سے پہلے رسول(ص) نے ایک منادی کو مقرر کر رکھا تھا جو نماز کے وقت ندا دیتا تھا۔ رسول(ص) پر وحی نازل ہوئی کہ انہیں اذان کے کلمات تعلیم دیجئے( ۲ ) رسول(ص) نے جناب بلال کو بلایا اور انہیں اذان کی تعلیم دی۔

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۵۰۰۔

۲۔کافی ج۱ ص ۸۳، تہذیب الاحکام ج۱ ص ۲۱۵۔


۶۔ تحویلِ قبلہ

جب تک رسول(ص) مکہ میں تھے تو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے ہجرت کے بعد بھی آپ(ص) سترہ ماہ تک بیت المقدس ہی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس کے بعد خدا نے آپ(ص) کو یہ حکم دیا کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں۔

دین اسلام سے یہودیوں کی دشمنی اور زیادہ بڑھ گئی وہ رسول(ص) اور رسالت کا مذاق اڑانے لگے پہلے تو وہ یہ فخر کرتے تھے کہ مسلمان یہودیوں کے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں، اس سے رسول(ص) کو تکلیف ہوتی تھی لہذا تحویلِ قبلہ کے سلسلہ میں رسول(ص) کو وحی کا انتظار تھا ایک رات کا واقعہ ہے کہ رسول(ص) گھر سے نکلے اور آسمان کی وسعتوں کا جائزہ لیتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی،ظہر کا وقت آ یا تو آپ(ص) مسجد بنی سالم میں نمازِ ظہرمیں مصروف ہوئے دو رکعت پڑھ چکے تھے کہ جبریل نازل ہوئے اور آپ کے دونوں شانوں کو پکڑ کر کعبہ کی طرف موڑ دیا اور آپ(ص) کو خدا کا یہ قول سنایا:

( قد نریٰ تقلب وجهک فی السّماء فلنولّینّک قبلةً ترضاها فولِّ وجهک شطر المسجد الحرام ) ( ۱ )

ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی توجہ آسمان کی طرف ہے تو ہم آپ کا رخ اس قبلہ کی طرف موڑ دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں لہذا اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ لیجئے ۔

تحویل قبلہ ایک لحاظ سے مسلمانوں کا بھی امتحان تھا تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ حکم رسول(ص) کی کس حد تک اطاعت کرتے ہیں اوردوسری طرف یہودیوں کے عناد و استہزاء کے لئے چیلنج تھا اور ان کے مکرکا جواب تھا اور ایک مسلمان کے لئے یہ نیا راستہ تھا۔

____________________

۱۔بقرہ:۱۴۴۔


۷۔ فوجی کاروایوں کی ابتدائ

طاقت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کی جاتی ہے اور اسی کے وسیلہ سے ان کی قیاد ت کی جاتی ہے ۔ انہیں حالات میں -جب رسول(ص) مدینہ میںمقیم ہو گئے تو-آپ(ص) نے اور مسلمانوں نے یہ طے کیا کہ جزیرہ نما عرب بلکہ اس کے باہر کی طاقتوں -جیسے روم و فارس-کو یہ جتا دیا جائے کہ تبلیغِ رسالت اور آسمانی قوانین کے مطابق ایک تہذیب قائم کرنے کے لئے جد و جہد کا سلسلہ جاری رہے گا ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی دوسرا اس کام کو انجام نہیں دے سکتا تھا کیونکہ ان کا ایک محکم عقیدہ تھا اور ان کی ایک آزاد فکر تھی وہ حق و عدل کے طالب تھے وہ امن و امان قائم کرنے والے اور صاحب شمشیر و مرد میدان تھے۔

رسول(ص) کو یہ اندیشہ تھا کہ قریش اور آپ(ص) سے عداوت رکھنے والے ،مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے خواہ کچھ مدت کے بعد ہی کریں۔ چنانچہ آپ(ص) نے عقبہ ثانیہ کی بیعت میں انصار سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر قریش ظلم و تعدی کریں یا رسول(ص) اور مسلمانوں پر چڑھائی کریں تو تمہیں میری مدد کرنا ہوگی۔ مکہ میںمسلمانوں کی ملکیت ضبط کر لی گئی تھی اور ان کے گھروںکو لوٹ لیا گیا تھا۔رسول(ص) اور مسلمانوں-خصوصاً مہاجرین-کی یہی خواہش تھی کہ قریش اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہو جائیں یا کم از کم انہیں ان کی گمراہی پر نہ چلنے دیا جائے۔

اسی بنا پر رسول(ص) نے چھوٹے چھوٹے دستے بھیجے تاکہ وہ اپنی خود مختاری(مستقل وجود)اور کسی کی تا بعداری نہ کرنے کا اعلان کریں جب ہم ان دستوں کے افراد کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے وہ صرف ساٹھ آدمی تھے اور سب مہاجر تھے ان میں وہ انصار شامل نہیں تھے جنہوں نے رسول(ص) کی مدد اورآپ(ص) کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے بیعت کی تھی، یہ لوگ جنگ کے طلبگار بھی نہیں تھے یہ دستے صرف قریش پر اقتصادی دبائو ڈالنے کا وسیلہ تھے( ۱ ) ہو سکتا ہے اس طرح وہ کھلے کان اور دل سے حق کی آواز سن لیں یا مسلمانوں سے صلح کرلیں اور ان سے چھیڑچھاڑ نہ کریں تاکہ دوسرے علاقوں میں بھی اسلام پھیل جائے۔ اسی کے ساتھ یہود

____________________

۱۔ اس لئے کہ(قریش کے پاس) پیسہ تجارت کے ذریعہ آتا تھا اوران قافلوں کے ذریعے جس کی آمدو رفت مکہ ، شام اور یمن سے ہوتی تھی۔


و منافقین کو طاقت ِ اسلام اور مسلمانوں کی ہیبت سے آگاہ کرنا بھی ضروری تھا۔

ہجرت کے سات ماہ بعد پہلا دستہ روانہ ہوا، اس میں تیس مرد شامل تھے اور اس کی قیادت رسول(ص) کے چچا جناب حمزہ کر رہے تھے۔ اس کے بعد دوسرا دستہ عبیدہ بن حارث کی سر کردگی میں روانہ ہوا، تیسرا دستہ سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں روانہ ہوا۔

۲ھ میں رسول(ص) قریش کے قافلہ کو روکنے کے لئے ایک دستہ کے ساتھ روانہ ہوئے لیکن ابواء و بواط کی طرف آپ(ص) کے سفر سے طرفین میں ٹکرائونہیں ہوا۔ اسی لئے آپ(ص) نے ذو العشیرۂ بنی مدلج اور ان کے حلیفوں سے بھی صلح کا معاہدہ کیا۔

رسول(ص) اپنے اوپر اعتماد کو محفوظ رکھنے اور ظلم و تعدی کرنے والوں کو درس عبرت دینے کے لئے چلے کیونکہ کرز بن جابر فہری مدینہ کے اطراف سے (اہل مدینہ کے) اونٹ اور مویشی پکڑکر لے گیا تھا ۔رسول(ص) نے زید بن حارثہ کو مدینہ میں چھوڑا اور خود اس کے تعاقب میں نکلے۔( ۱ )

رسول(ص) نے اپنی فوجی تحریک سے یہ واضح کر دیا کہ دین کے لئے جہاد کیا جاتا ہے عصبیت و خون خواہی کے لئے نہیں۔آپ نے حرمت والے مہینوں کے احترام کو ملحوظ رکھا اور صلح و آشتی کے روایات کو محترم سمجھا۔

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۱ ص ۵۹۸ ، مغازی ج۱ ص ۱۱و ۱۲۔


دوسری فصل

نئی حکومت کے نظام کا دفاع

۱۔ غزوۂ بدر

جنگ کے بارے میں حکمِ خدا کے نازل ہونے سے امت مسلمہ کفر و ضلالت سے ٹکرائو والے مرحلہ سے نکل کر دوسرے مرحلہ میں داخل ہو گئی اور مسلمانوں کے دلوں میں اپنے ان حقوق کو واپس لینے کا جذبہ پیدا ہوا جو غصب کر لئے گئے تھے، ان حقوق کو قریش نے صرف اس لئے غصب کر لیا تھا کہ یہ لوگ خدائے واحد پر ایمان لے آئے تھے۔

غزوہ ذو العشیرہ میں نبی (ص) قریش کے اس قافلہ کی گھات میں تھے جو شام جا رہا تھا اس وقت آپ (ص) معمولی ، ہلکے پھلکے اسلحے اور مختصر تعداد کے ساتھ نکلے تھے، امید یہی تھی کہ اس قافلہ سے ٹکرائو ہوگا جس میں اکثرتجّار مکّہ تھے۔ رسول(ص) کا یہ اقدام مخفیانہ نہیں تھا لہذا اس کی خبر مکہ پہنچ گئی اور وہاں سے قافلہ کے سربراہ ابو سفیان تک پہنچی چنانچہ اس نے اپنا راستہ بدل دیا تا کہ مسلمانوں کے ہاتھ نہ لگے ادھر قریش اپنے مال کے تحفظ اور مسلمانوں کی عداوت میں مکہ سے نکل پڑے مگر ان کے بزرگوں نے غور و فکر سے کام لیا اور یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کے لئے نہیں جائیں گے خصوصاً یہ ارادہ اس وقت بالکل ترک کر دیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ابو سفیان اپنے تجارتی قافلہ سمیت بچ نکلا ہے ۔

قریش تقریباً ایک ہزار سپاہیوں اور بھاری اسلحہ کے ساتھ نکلے تھے جس سے ان کا مقصدتکبر اور عربوں کے درمیان اپنی حیثیت کا اظہار واضح تھا، ان کی نصرت کے لئے کچھ دوسرے قبیلے بھی جمع ہو گئے تھے جو مسلمانوں سے اس لئے جنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ مسلمان یہ سمجھ لیں کہ وہ تنہا نہیں ہیںکیونکہ قریش عزت پانے کے بعد ابھی تک ذلیل نہیں ہوئے تھے۔


اس بات سے رسول(ص) کے بعض افراد نے اس وقت پر دہ اٹھایا جب قریش سے پہلی بار ان کا مقابلہ ہوا۔( ۱ )

قریش بدر کے کنوئوں سے کچھ فاصلہ پراترے اور جنگ کے لئے اپنی صفوں کو مرتب کیا ۔مسلمان ان سے پہلے کنو ئوں پر پہنچ چکے تھے۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی خدا نے مسلمانوں کی فتح کے اسباب فراہم کر دئیے تھے۔ ان کے لئے میدان قتال میں پہنچنا آسان ہو گیا تھا۔ ان کے دلوں میں سکون و اطمینان ڈال دیا تھا اور ان سے یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ خدا انہیں ان کے دشمنوں پر فتح دے گااور دینِ حق کو غلبہ عطا کرے گا۔

باوجودیکہ مسلمانوںکو یہ توقع نہیں تھی کہ قریش ان سے مقابلہ کے لئے آئیں گے لیکن جب قافلہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور جنگ کی نوبت آ گئی تو رسول(ص) نے مہاجرین و انصار کی نیتوںکو آزمانا چاہا اور فرمایا:''اشیروا عل ایّها النّاس'' ۔

اے لوگو!تم مجھے مشور ہ دو!

اس پر بعض مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے کچھ ایسی باتیں کہیں جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے سے ڈر رہے ہیں۔ اس کے بعد مقداد بن عمرو کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ(ص) حکم خدا پر عمل کیجئے ہم آپ (ص)کے ساتھ ہیں؛ ہم آپ(ص) سے ویسے نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہا تھا:( فاذهب انت و ربک فقاتلا انا ها هنا قاعدون ) ( ۲ ) آپ اور آپ کا رب جائیں اور جنگ کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔

بلکہ ہم تو آپ(ص) سے یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ(ص) کے ساتھ ہو کر جنگ کریں گے اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ(ص) ہمیں سمندر کے کنارے بھی لے جائیں گے تب بھی ہم جائیں گے۔

____________________

۱۔ ملاحظہ فرمائیں : مغازی واقدی ج۱ ص ۴۸، سیرت حلبیہ ج۲ ص ۱۶۰، بحار الانوار ج۱۹ ص ۲۱۷۔

۲۔ انفال : ۷ تا ۱۶۔


اس کے بارے میں رسول(ص) نے نیک جذبات کا اظہار کیا پھر آپ(ص) نے وہی جملہ''اشیروا علی ایها الناس'' دہرایااس جملہ سے آپ انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے کیونکہ عقبۂ اولیٰ میں انہوں نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ وہ آپ کا دفاع کریں گے۔

اس پر سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور کہا: تمام انصار کی طرف سے میں جواب دیتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول(ص)! گویا آپ کی مراد ہم ہیں؟ رسول(ص) نے فرمایا: ہاں، سعد بن معاذ نے کہا: ہم آپ(ص) پر ایمان لائے ہیں، ہم نے آپ(ص) کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ جو آپ(ص) لائے ہیں وہ بر حق ہے ، ہم نے آپ(ص) سے یہ عہد و میثاق کیا ہے کہ ہم آپ(ص) کی بات سنیں گے اورا طاعت کریں گے ۔تو پھر آپ جوارادہ کر چکے ہیں اس پر عمل کیجئے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ(ص) ہمیں اس دریا میں کودنے کا حکم دیں گے اورآپ (ص) اس میں داخل ہونگے تو ہم بلاتامل داخل ہو جائیں گے۔ ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اور ہم دشمن سے مقابلہ کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتے ہیں، ہم جنگ میں صبر و تحمل سے کام لیں گے ۔ ہم اپنی جاں نثاری کے جوہر دکھا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں گے۔

اس کے بعد رسول(ص) نے فرمایا: خدا کی برکتوں کے ساتھ چلو کیونکہ خدا نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا ہے خدا کی قسم گویا میں اس قوم کو پسپا ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔( ۱ )

جب مسلمان جنگ کے لئے تیار ہو گئے اور ضروری تیاری میں مشغول ہوئے اور پڑائو کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب کیا، پانی فراہم کیا اور دشمنوں سے محاذ لینے کے لئے جگہ کا تعین کیاتورسول(ص) مستقل طور پر ان کے نفوس میں صبر و ثبات کی روح پھونک رہے تھے اور انہیں جنگ و جہاد کا شوق دلارہے تھے اور انہیں خدا کی طرف سے آنے والی مدد کی خبر دے رہے تھے اور خدا سے ان کی فتح کی دعا کر رہے تھے۔( ۲ )

مسلمان، رسول(ص) کو حلقہ میں لئیے ہوئے تھے وہ اپنے عقیدہ کے لئے بہترین طریقہ سے قربانی دینے کا اظہار کر رہے تھے انہیں یہی فکر تھی کہ اگر جنگ ہمارے خیال و تصورکے مطابق نہ ہو ئی تو اس وقت کیا طریقۂ کار

____________________

۱۔مغازی ج۱ ص ۴۸ و ۴۹۔

۲۔مغازی ج۱ ص ۵۰۔


اختیار کیا جائے گا، انہوں نے رسول(ص) کے لئے ایک مچان بنا یا کہ جس سے معرکہ کا معائنہ کریں۔ اطلاع فراہم کرنے والا گروہ، قریش کے حالات کا سراغ لگانے کے لئے نکلا اور رسول(ص) کے پاس ضروری اطلاعات لے کر آیا ۔اس گروہ نے قریش کے جنگجو افراد کی تعدادکا اندازہ ۹۵۰ سے ۱۰۰۰ تک لگایا۔( ۱ )

رسول(ص) نے مسلمانوں کی صفیں درست کیں اور بڑا علم حضرت علی بن ابی طالب کو عطا کیا اور قریش کی طرف بھیجانیز فرمایا کہ پہلے ان سے واپس پلٹ جانے کے لئے کہنا کہ ہم قتال و خونریزی کو پسند نہیں کرتے ہیں اس سے مشرکوںکے درمیان اختلاف ہو گیا بعض صلح و آشتی کے طرفدار تھے اور بعض سر کشی پر مصر تھے۔( ۲ )

رسول(ص) نے حکم دیا کہ مسلمان جنگ کی ابتداء نہ کریں اور آپ(ص) نے خدا سے اس طرح دعا کی :''اللهم ان تهلک هذه العصابة فلن تعبد بعد الیوم'' اے اللہ اگر آج یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں ہوگی ۔

قدیم جنگوں کی رسموں کے مطابق مشرکین کی صفوں سے عقبہ بن ربیعہ ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید نکلا اور کہا: ہمارے مقابلہ کے لئے قریش سے ہمارے ہی جیسا بھیجیں، چنانچہ رسول(ص) نے عبیدہ بن حارث، حمزہ بن عبد المطلب اور علی بن ابی طالب سے فرمایا:''یابنی هاشم قوموا فقاتلوا بحقِّکم الّذی بعث به نبیّکم اذ جاؤوا بباطلهم لیطفئوا نور اللّٰه''

اے بنی ہاشم اٹھو! اور اپنے اس حق کے ساتھ جنگ کرو جس کے ساتھ تمہارے نبی کو بھیجا گیا ہے اور وہ اپنے باطل کے ساتھ آئے ہیں تاکہ نورِ خدا کو خاموش کر دیں۔

قریش میں سے جو بھی مقابلہ میں آیا وہ مارا گیا ، دونوں لشکروں میں خونریزجنگ ہوئی، رسول(ص) مسلمانوں کو جنگ و جہاد پر ابھار رہے تھے۔ اس کے بعد آپ(ص) نے ایک مشت کنکریاں اٹھائیں اور''شاهت الوجوه'' کہتے ہوئے قریش کی طرف پھینک دیں۔

____________________

۱۔انفال: ۶۵۔

۲۔مغازی ج۱ ص ۶۱، بحار الانوار ج۱۹ ص ۲۵۲۔


اس سے قریش کو شکست ہوئی اور جب جنگ کے بعد مشرکین کی لاشوں کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا تو رسول(ص) اس پر کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک ایک کا نام لیکر فرمایا:'' هل وجدتم ماوعدکم ربکم حقاً؟ فانی وجدت ما وعدن رب حقاً'' ۔

کیا تم نے اس چیز کو بر حق پایا جس کا تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا؟ میں نے تو اس چیز کو بر حق پایا ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ بعض مسلمانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول(ص)! آپ(ص) ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ آپ(ص) نے فرمایا: یہ ایسے ہی سن رہے ہیں جیسے تم سنتے ہو لیکن انہیں جواب سے روک دیا گیا ہے ۔( ۱ )

جنگ کے نتائج

جنگ بدر کے عظیم نتائج سامنے آئے مشرکین ذلت و نقصان اٹھا کر مکہ کی طرف فرار کر گئے۔ ان کے ستر آدمی قتل ہوئے ستر قید ہوئے اور بہت سا مال مسلمانوں کو غنیمت میں ملا، غنیمت تقسیم کرنے کے سلسلہ میں فتح یاب مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہو ا تو رسول(ص) نے سارے مال کو جمع کرنے کا حکم دیا تاکہ اس کے بارے میں آپ(ص) غور کریں۔ سورۂ انفال میں مال غنیمت اور خمس کے احکام کے سلسلہ میں حکم خدا نازل ہوا پس رسول(ص) نے ہر غازی کو مساوی طور پر حصہ دیا۔( ۲ )

اسیروں کے بارے میں آپ(ص) نے یہ اعلان کیاکہ اسیروں میں جو بھی مسلمانوں کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے گا وہ اس کا فدیہ قرار پائے گا اس طرح اسلامی عقیدہ کی بلندی ، علم حاصل کرنے کے سلسلہ میں اس کی ترغیب اور انسان کو مہذب بنانے کا اظہار بھی ہو گیا۔ باقی اسیروں میں سے ہر ایک کی آزادی کے لئے چار ہزار درہم کا فدیہ مقرر کیا اس حکم میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو رسول(ص) سے کسی طرح کی قرابت رکھتے تھے۔ چنانچہ جب زینب-ربیبہ رسول(ص)-نے اپنے شوہر ابو العاص کے فدیہ کے لئے اپنا گلو بند بھیجا تو رسول(ص)

____________________

۱۔اعلام الوریٰ ج۱ ص ۱۷۱، سیرت نبویہ ج۱ ص ۶۳۸۔

۲۔ مغازی ج۱ ص ۱۰۷، سیرت نبویہ ج۱ ص ۶۴۲۔


نے اس گلوبند کو دیکھا اور اپنی زوجہ خدیجہ کو یاد کرکے رونے لگے پھر مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ''اگر مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا یہ مال واپس کر دو، مسلمانوں نے ایسا ہی کیا''( ۱ )

نبیِ رحمت کی اس خواہش کو پورا کرنا مسلمانوں کے لئے کتنا آسان تھا ابو العاص دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا تاکہ زینب کو مدینہ بھیجے کیونکہ اس نے رسول(ص) سے وعدہ کیا تھا۔ اس کھلی فتح کی خوشخبری مدینہ پہنچی تو یہودیوں اورمنافقین کے دل خوف سے دہلنے لگے انہوں نے اس خبر کو جھٹلانے کی کوشش کی حالانکہ اس وقت مسلمان فرحت و مسرت سے جھوم رہے تھے اور فتحیاب قائد، اللہ کے رسول(ص) کے استقبال کیلئے، نکل پڑے تھے۔

اہل مکہ پر غم و الم کی گھٹا چھا گئی پوری فضا میں سوگ کی کیفیت طاری تھی ، مشرکین غم و الم سے چلا رہے تھے، مکہ کے گھروںمیں کہرام بپا تھا۔ اس جنگ کے بارے میں قرآن کی آیتیں صریح نص کی حیثیت رکھتی ہیں، یہ آیتیں اور اس جنگ کے واقعات کی تفصیل اورامت مسلمہ کے لئے خدائی امداد کو بیان کرتی ہیں یہ امت نشر و تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اپنے رب کی مخلص تھی( ۲ ) ۔ حضرت علی ابن ابی طالب نے اس جنگ میںدفاع کے لئے سر فروشانہ کردار ادا کیا۔ اپنے مد مقابل ولید بن عتبہ کو قتل کیا پھر اپنے چچا جناب حمزہ اور عبیدہ بن حارث کے مد مقابل شیبہ و عتبہ کے قتل میں ان کی مدد کی۔ شیخ مفید کی روایت کے مطابق اس جنگ میں حضرت علی نے چھتیس ۳۶ آدمیوں کو قتل کیا تھا( ۳ ) اور باقی کے قتل میں بھی آپ شریک تھے؛ ابن اسحاق کہتے ہیں: جنگِ بدر میں اکثر مشرکین علی کے ہاتھوں سے قتل ہوئے تھے۔( ۴ ) اس شکست کی وجہ سے قریش مجبور ہوئے کہ وہ اپنی تجارت کا راستہ بدلیں اور شام سے عراق کی طرف جائیں کیونکہ مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی تھی جزیرةالعرب کے معاشرہ کی تشکیل پر اس کا اثر ضروری تھا جو بالتدریج

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۶۵۲ بحار ج۱۹ ص ۳۴۸۔

۲۔ انفال ۹،۱۱،۱۲،۴۲،۴۴، ال عمران ۱۳، ۱۲۳،۱۲۷۔

۳۔ ارشاد مفید ۳۹و ۴۰۔

۴۔ مناقب ج۳ ص ۱۲۰۔


ظاہر ہو رہا تھا ، قبیلوں کے درمیان سے قریش کی ہیبت کم ہو رہی تھی اور رسول(ص) سے مسلمانوں کے تعلقات میں پختگی آ رہی تھی۔

۲۔ فاطمہ زہرا کی شادی

قلبِ رسول(ص) میں فاطمہ زہرا کی بڑی قدر و منزلت تھی کیونکہ آپ(ص) کو ان سے تسلی ملتی تھی پھر وہ جناب خدیجہ کی تنہا یاد گار تھیں، رسالت کے امور ،اس سلسلہ کے رنج و غم میں فاطمہ (ص) آپ(ص) کی شریک تھیںوہ آپ(ص) کے اکثر بوجھ کوہلکا کر دیتی تھیں اسی لئے آپ(ص) نے فرمایا تھا:''انها ام ابیها...''

جب فاطمہ (ص) زہرا خانۂ نبوت میں مرحلۂ بلوغ کو پہنچیں نبوت و رسالت کے سایہ میں پروان چڑھیں تو قریش میں سے صاحب فضل و شرف ، مال داراور اسلام میں سبقت رکھنے والوں کی طرف سے ان کے پیغام آئے لیکن نبی (ص) نے بحسن و خوبی ان کو یہ کہہ کر رد کر دیاکہ اس کے بارے میں خدا کے فیصلہ کا منتظر ہوں یا فرماتے تھے کہ آسمانی حکم کا انتظار ہے۔( ۱ )

جب علی بن ابی طالب نے فاطمہ کا پیغام دیا تو رسول(ص) خوش ہو گئے اور فرمایا:

''ابشّرک یا علی فان اللّٰه عزّ و جلّ قد زوجّکها فی السّماء من قبل ان ازوجکها فی الارض، و قد هبط علّ من قبل ان تاتینی ملک من السماء فقال: یا محمّد ان اللّه - عزّ وجلّ-اطلع الیٰ الارض اطلاعة فاختارک من خلقه فبعثک برسالته، ثم اطّلع الیٰ الارض ثانیة فاختار لک منها اخاً وزیراً و صاحباً و ختناً فزوّجه ابنتک فاطمة، و قد احتفلت بذلک ملائکة السّمائ یا محمّد ان اللّه - عز و جل-امرنی ان آمرک ان تزوج علیاً ف الارض فاطمة، و تبشرهما بغلامین زکیین نجیبین طاهرین خیرین فاضلین فی الدنیا و الآخرة'' ( ۲ )

____________________

۱۔حیات النبی و سیرتہ ج ۱ص۳۰۹۔

۲۔کشف الغمة: ج۱ص۳۵۶-۳۵۸۔


اے علی !میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ خدا نے اس کے ساتھ تمہارا نکاح آسمان پر اس سے پہلے کردیا تھا کہ میں زمین پر اس کے ساتھ تمہارا نکاح کروں، تمہارے آنے سے پہلے مجھ پر آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے کہا: اے محمد(ص)! خدا نے زمین کو دیکھا اور اپنی مخلوق میں سے آپ(ص) کو منتخب کیا اور آپ(ص) کو اپنا رسول(ص) مقرر کیا۔ پھر دوبارہ زمین پر نظر ڈالی تو آپ کے بھائی، وزیر، جا نشین اور داماد کو منتخب کیا پس تم اپنی بیٹی فاطمہ کو ان کی زوجیت میں دیدو، اس موقعہ پر آسمان کے فرشتوں نے جشن مسرت منایا ۔ اے محمد(ص)! بیشک مجھے خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ آپ زمین پر علی کا نکاح فاطمہ سے کر دیں۔ اور ان دونوں کودو بیٹوں کی بشارت دے دیں جو دنیا و آخرت میں زکی، نجیب، طاہر، خیر اورصاحب فضل وشرف ہوںگے۔

مہاجرین و انصار کے مجمع میںآپ(ص) نے عقد نکاح پڑھا، مختصر سا مہر لیا تاکہ امت کے لئے سنت قرارپائے اور وہ اس کا اتباع کریں۔ جناب فاطمہ زہرا کا جہیز رسول(ص) کے سامنے رکھا گیا، جس میں زیادہ برتن مٹی کے تھے، تو آپ(ص) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے آپ نے فرمایا:''الّلهمّ بارِکْ لاهل بیت جُلَّ آنیتهم من الخزف'' ۔( ۱ )

اے اللہ! ان گھر والوں کو برکت عطا کر کہ جن کے مختصر برتن مٹی کے ہیں۔ رسول(ص) نے اپنی بیٹی کی شادی کے ہر کام کو بہت زیادہ اہمیت دی جیسا کہ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے جو آپ(ص) نے دولہا و دلہن کے حق میں ان کے زفاف کے دن کی تھی :''اللّهمّ اجمع شملهما و الّف بین قلبیهما و اجعلهما و ذریتهما من ورثة جنة النعیم و ارزقهما ذریة طاهرة طیبة مبارکة و اجعل فی ذریتهما البرکة و اجعلهم ائمة یهدون بامرک الیٰ طاعتک و یامرون بما رضیت''

اے اللہ ان کے بکھرے ہوئے کاموںکومجتمع کر ان دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دے اور ان کی ذریت کو جنت نعیم کا وارث قرار دے اور انہیں طیب و طاہر اور مبارک ذریت عطا کر، ان کی

____________________

۱۔کشف الغمہ ج۱ ص ۳۵۹۔


ذریت میں برکت عطا کر اور انہیں ائمہ قرار دے جو تیرے حکم سے تیری اطاعت کی طرف ہدایت کریں اور اس چیز کا حکم دیں جس سے تو خوش ہو۔

نیز یہ دعا کی :''یا ربِّ انک لم تبعث نبیاً الا و قد جعلت له عترة اللّهم فاجعل عترت الهادیة من علی و فاطمة''

پروردگار! تونے کوئی نبی(ص) نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے لئے عترت قرار دیا ، میری عترت کو علی و فاطمہ (ص) کی نسل سے قرار دے اس کے بعد فرمایا:''طهر کما اللّٰه و نسلکما انا سلم لمن سالمکما و حرب لمن حاربکما ۔( ۱ )

خدا تم دونوںکو اور تمہاری نسل کو پاک رکھے۔ میں اس سے صلح کرونگاجس نے تم سے صلح کی اور اس سے جنگ کرونگا جس نے تم سے جنگ کی۔

۳۔یہود اور بنی قینقاع سے ٹکرائو

مدینہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے یہودی اپنے تئیں خطرہ محسوس کر رہے تھے، نیا نظام مضبوط و مستحکم ہو گیا۔امت مسلمہ اتنی طاقت بن گئی کہ حکومت کی زمام سنبھال سکتی ہے۔ بدر سے پہلے کا معاہدۂ صلح و امان کاضامن تھا جس کے سبب ٹکرائو اور تنائو نہیں ہوتا تھا لیکن مسلمانوں کی فتح کی وجہ سے یہودیوں کے دلوں میں دشمنی اور شر پیدا ہو گیا اور انہوں نے منافقانہ چال چلنا شروع کر دی، وہ مسلمانوں کی مذمت اور ان کے خلاف سازش کے جال بننے لگے اور نئے مذہب و نئی حکومت والے مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے لگے۔

ان کی خبریں رسول(ص) سے مخفی نہیں تھیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کے دلوں میں رسول(ص) اور اسلام کے دفاع کا جذبہ موجزن تھا چنانچہ جب سالم بن عمیر نے- جو کہ ایک فدائی مسلمان تھے-بنی عوف کے مشرک ابو عفک

____________________

۱۔کشف الغمہ ج۱ ص ۳۶۲، مناقب ال ابی طالب ج۳ ص ۳۵۵۔


کی زبان سے رسول(ص) کی برائی سنی تو وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور اسے قتل کر دیا۔( ۱ ) پھر ایسا ہی ایک واقعہ کینہ توز مشرکہ عورت عصماء بنت مروان کے ساتھ ہوا( ۲ ) اسی طرح مسلمانوں نے کعب بن اشرف کا قصہ بھی تمام کر دیا جو مسلمانوں کا مذاق اڑاتا تھااور ان کی قوانین کی بے عزتی کرتا تھا۔( ۳ ) یہودی باطل کی نشر و اشاعت ، جھوٹے پروپیگنڈے، مسلمانوں کی اہانت اور لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے سے باز نہیں آئے اس طرح انہوں نے رسول(ص) کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو توڑ دیا رسول(ص) نے چاہا کہ ان سے نجات حاصل کی جائے چنانچہ آپ(ص) بنی قینقاع کے پاس گئے انہیں نصیحت کی اور انہیںسازشوں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے بازار میں جمع تھے اس وقت رسول(ص) نے ان سے فرمایا:

''یا معشر الیهود احذروا! من اللّٰه مثل ما نزل بقریش من النقمة، و اسلموا فانّکم قد عرفتم انی رسول اللّه تجدون ذلک فی کتابکم و عهد اللّه الیکم'' ۔

اے یہودیو!خدا سے ڈرو! کہیں تم پر قریش جیسی مصیبت نازل نہ ہو جائے، اسلام قبول کر لو۔ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول(ص) ہوں یہ بات تم اپنی کتابوں میں دیکھتے ہو اور خدا نے تم سے اس کا عہد لیا ہے ۔

لیکن ان کا تکبر اور ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی کہنے لگے: اے محمد! قریش پر فتحیابی آپ کو دھوکہ نہ دے کیونکہ جس قوم پر آپ نے فتح پائی ہے وہ جاہل اور بے تجربہ تھی۔ خدا کی قسم! ہم فن حرب و ضرب سے واقف ہیںاگر آپ ہم سے جنگ کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم جیسے لوگوں سے آپ کا پالا نہیں پڑا ہے۔( ۴ )

یہودیوں کی رذالت اس وقت اور واضح ہو گئی جب انہوں نے ایک مسلمان عورت کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور اس کی بے حرمتی کی یہ بات اتنی بڑھی کہ ایک مسلمان اور یہودی مارا گیا۔ نتیجہ میں رسول(ص) مسلمانوں کے

____________________

۱۔ مغازی ج۱ ص ۱۷۴۔

۲۔ ایضاً ص ۱۷۲۔

۳۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۵۱۔

۴۔ مغازی ج۱ س ۱۷۶۔


ساتھ نکلے اور ۱۵ دن تک ان کے گھروں کا محاصرہ کئے رہے ۔ اس مدت میں نہ ان میں سے کوئی نکلا اور نہ کوئی ان کے پاس گیا آخر کار وہ سب رسول(ص) کے حکم کے سامنے جھک گئے اور مال و اسلحہ چھوڑ کر مدینہ سے چلے گئے اس طرح مدینہ شرپسندعناصر سے پاک ہو گیا اور شہر میں سیاسی امن و امان قائم ہو گیااسی کے ساتھ وہاں سے غیر مسلموں کا رسوخ ختم ہو گیا، کیونکہ وہ مسلمانوں کی طاقت، ان کے ادارتی نظم و نسق، ترقی اوراس اسلامی حکومت کے استقلال کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے جو کہ ایک حکیم و دانا کے دستورکے مطابق چل رہی تھی۔

۴۔ مسلمانوں کی فتح کے بعد قریش کا رد عمل

ابو سفیان نے قریش کے کچھ بہادروں کو جمع کیا اور انہیں مدینہ کی طرف لے گیا، ان کی غلط خواہشیں انہیں مسلمانوں سے جنگ اور قریش کی عظمت کو واپس لوٹانے پر اکسارہی تھیں جو کہ بدر میں ہاتھ سے چلی گئی تھی۔ مدینہ کے قریب انہیں زمین پر فساد برپا کیا اور پھر اس خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ کہیں مسلمانوں کی تلواریں نہ ٹوٹ پڑیں۔

نبی(ص) نے مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کا تعاقب کیا انہیں ان کے دین کی محبت ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ نئی حکومت کے اقتدار کا دفاع اور بد خواہوں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں...۔

مشرکین نے فرار کرنے میں ہر چیز سے مدد لی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے بوجھ (سویق) کو بھی پھینک دیا جو ان کے کھانے کے کام آ سکتا تھا وہ ستو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اسی لئے اس غزوہ کو غزوہ سویق کہا جاتا ہے۔ قریش نے ایک مرتبہ پھر رسوائی و ذلت کا منہ دیکھا اور جن قبیلوں تک اس واقعہ کی خبرپہنچی ان پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اسلام کی طاقت ایک منظم طاقت ہے اور اب ایک ناقابل انکار حقیقت ہے ۔ اس مرحلہ پر رسول(ص) کے لئے اہم کام یہ تھا کہ مدینہ میں مسلمان معاشرہ کے لئے امن و امان فراہم کریںاور ہر ممکنہ خطرہ کا سد باب کریں۔ بعض قبیلے اسلام قبول کرنے پر تیار نہیں تھے


اور اسلام کے دشمن تھے ابھی ان کی اس بات کی طرف ہدایت نہیں ہوئی تھی کہ وہ رسول(ص) کے ساتھ مناسب طریقہ سے پیش آئیں۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنے کی سازش کیا کرتے تھے اور جب نبی(ص) ان سے مقابلہ کے لئے نکلتے تھے تووہ بھاگ جاتے تھے۔

ایک فوجی دستہ جناب زید بن حارثہ کی قیادت میں روانہ ہوا رسول خدا(ص) نے ان سے یہ فرمایا کہ تم قریش کے اس راستہ کو روکو جس سے وہ عراق ہوتے ہوئے تجارت کے لئے جاتے ہیں۔ یہ دستہ اپنے مشن میں کامیاب ہوا۔

۵۔ جنگ احد( ۱ )

جنگ بدر کے بعد کا زمانہ قریش اور مشرکین کے لئے بہت سخت تھا۔ ادھر مدینہ میں رسول(ص) انسانی اصلاحات اور حکومت بنانے کی کوششوں میں منہمک تھے، اس سلسلہ میں مسلسل قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی تھیں جو انسان کے چال چلن اور اس کی زندگی کے قانون کی حیثیت رکھتی تھیں، رسول(ص) ان قوانین کی وضاحت کرتے، احکام نافذ کرتے اور خدا کی اطاعت کی طرف ہدایت کرتے تھے۔

مشرکین مکہ اور ان کے طرف داروں کی نظروں میں اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بہت سے اسباب تھے۔ وہ اپنے دامن سے بدر کی شکست کا دھبہ چھڑانے اور اپنے حسد کی آگ بجھانا چاہتے تھے اموی خاندان کے سردار اور بدر میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ابو سفیان نے انہیں بھڑکا رکھا تھا۔ دوسری طرف ان تاجروں کی طمع تھی کہ جن کی تجارت کے لئے کوئی محفوظ راستہ نہیں بچا تھا اس کے علاوہ جنگ کے دوسرے اسباب بھی تھے۔

یہ جنگ مسلمانوں کو کمزور کرنے اور تجارت کے لئے شام جانے والے راستہ کی حفاظت کی خاطر ایک کوشش تھی اصل چیز مکہ کو تسلط سے بچانا اور شرک کی نگہبانی کرنا تھی اس کے علاوہ مدینہ میں قریش کے پٹھو اوریہودیوں کی ریشہ دوانیاں بھی جنگ کو بھڑکانے کا سبب تھیں تاکہ مدینہ کو تاراج اور اسلام کو نیست و نابود کر دیا جائے۔

____________________

۱۔ جنگ احد ماہ شوال ۲ھ میں ہوئی۔


مکہ سے عباس بن عبد المطلب نے جناب رسول(ص) خدا کو یہ خبر دی کہ قریش جنگ کی تیاری اور اسلحہ و فوج کی جمع آ وری میں مشغول ہیں ان کے ساتھ دوسرے قبائل بھی ہیں انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے اور لوگوں کو قتال پر آمادہ کرنے کے لئے متعدد طریقے اختیار کئے ہیں چنانچہ ان کے ساتھ عورتیں بھی ہونگی۔

یہ خط خفیہ طریقہ سے رسول(ص) کے پاس پہنچ گیا لیکن رسول(ص) نے اس خبر سے مسلمانوں کو اس وقت تک مطلع نہیں کیا جب تک صحیح صورت حال معلوم نہیں ہوئی اور جنگ کے لئے ضروری تیاری نہیں ہوگئی۔

افواج شرک جب مدینہ کے قریب پہنچ گئیں تو رسول(ص) نے حباب بن منذر کو بھیجا تاکہ دشمن کے بارے میں اطلاع فراہم کریں- اس سے قبل آپ بنی فضالہ کے دو اشخاص ، انس و مونس کو بھیج چکے تھے-ان لوگوں نے جو خبر دی اور مشرکین کی فوجوں کے جو حالات بیان کئے وہ عباس کے خط کے مطابق تھے چنانچہ جن لوگوںنے رسول(ص)کو اس صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا ان میں سے کچھ مسلمانوںنے مشرکین کے شب خون مارنے کے خوف سے پہرہ دیا۔

رسول(ص) نے ، یہ اعلان کرنے کے بعد کہ قریش جنگ کرنے آئے ہیں، اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو ان کی مختلف رائیں سامنے آئیں بعض نے کہا کہ اہل ِمدینہ اپنے گھروں ہی میں رہیں ، بعض نے کہا: مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے، رسول(ص) کے لئے یہ کام دشوار نہیں تھا کہ آپ (ص) پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیں ،لیکن آپ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو ان کی ذمہ داری سے آگاہ کر دیں۔ پھر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ دشمن کا مقابلہ مدینہ سے باہر نکل کر کیا جائے۔ رسول(ص) نے نماز جماعت پڑھائی۔ خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر بر آمد ہوئے اس سے آپ کی امت کو شدید جھٹکا لگا ۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ رسول(ص) کو مدینہ سے باہر نکلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لہذا عرض کی: ہم آپ کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں جو آپ بہتر سمجھیں انجام دیں رسول(ص)نے فرمایا:ما ینبغی لنبی اذا لبس لا مته ان یضعها حتی یقاتل ( ۱ ) کسی بھی نبی(ص) کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ ہتھیار لگانے کے بعد جنگ سے پہلے ہتھیارر کھدے۔

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۲۳، مغازی ج۱ ص ۲۱۴۔


رسول(ص) ایک ہزار مسلمان سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے لئے نکلے اور مشرکین کے خلاف یہودیوں کی مدد لینے سے انکار کر دیا ، فرمایا:

''لا تستنصروا باهل الشرک علیٰ اهل الشرک'' ۔( ۱ )

مشرکوں سے مشرکوں کے خلاف مدد نہ لو۔

اس موقعہ پر منافقین اپنا کینہ و عداوت چھپا نہ سکے چنانچہ تین سو آدمیوں کے ساتھ عبد اللہ بن ابی رسول(ص) سے الگ ہو گیا اس طرح رسول(ص) کے ہمراہ سات سو آدمی باقی بچے جبکہ مشرکین کی تعداد تین ہزار سے زیادہ تھی۔( ۲ )

کوہِ احد کے پاس رسول(ص) نے ایک محکم منصوبہ تیار کیاتاکہ فتح یقینی ہو جائے، پھر آپ(ص) خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اورفرمایا:

''یا ایها الناس اوصیکم بما اوصانی اللّه فی کتابه من العمل بطاعته و التناهی عن محارمه ثم انکم الیوم بمنزل اجر و ذخر لمن ذکر الذی علیه ثم وطن نفسه علیٰ الصبر و الیقین و الجد و النشاط فان جهاد العدو شدید کریه، قلیل من یصبر علیه الا من عزّ اللّه رشده فان اللّه مع من اطاعه و ان الشیطان مع من عصاه، فافتحوا اعمالکم بالصبر علیٰ الجهاد و التمسوا بذالک ما وعدکم اللّه و علیکم بالّذی امرکم به فانی حریص علیٰ رشدکم فان الاختلاف و التنازع و التثبیط من امر العجز و الضعف مما لا یحب اللّه ولا یعطی علیه النصر ولا الظفر'' ۔

اے لوگو!میں تمہیں اسی چیز کی وصیت کرتا ہوں جس کی خدا نے مجھے اپنی کتاب میں وصیت کی ہے ، اس کی اطاعت کرو اور اس کی حرام کی ہوئی چیز سے باز رہو۔

دشمن کے ساتھ جہاد کرنا بہت دشوار ہے اس میں بہت کم لوگ ثابت قدم رہ پاتے ہیں، مگر یہ کہ خدا نے جس

____________________

۱۔ طبقات ابن سعد ج۲ ص ۳۹ ۔

۲۔ طبری ج۳ ص ۱۰۷۔


کی ہدایت و رہنمائی کا عزم کر لیا ہے، بیشک خدا اس کے ساتھ ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے اور جو اس کی نافرمانی کرتا ہے اس پر شیطان سوار رہتا ہے پس تم اپنے اعمال کا دروازہ جہاد پر صبر کے ذریعہ کھولو اور اس کے ذریعہ اس چیز کو حاصل کرو جس کا خدا نے تم سے وعدہ کیا ہے، تم اسی چیز کو انجام دو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ مجھے تمہاری ہدایت کی فکر ہے۔ بیشک اختلاف، نزاع، تفرقہ و پراگندگی، عجز و ضعف کی دلیل ہے جس کو خدا دوست نہیں رکھتا ہے اس کے ذریعہ فتح وظفر نہیں مل سکتی۔( ۱ )

مشرکوں نے جنگ کے لئے اپنی صفیں مرتب کیں، دیکھتے ہی دیکھتے گھمسان کا رن پڑا، لیکن تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ مشرکین کی فوجیں پیٹھ دکھا کر بھاگ گئیں، قریب تھا کہ ان کی عورتیں مسلمانوں کے ہاتھ اسیر ہو جائیں میدانِ معرکہ میں مسلمانوں کی فتح کے آثار نمایاں ہو گئے تھے کہ ان تیر اندازوں میں سے کہ جن کو رسول(ص) نے درّہ پر مقرر کیا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھاکہ تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک تمہارے پاس میرا دوسرا حکم نہ پہنچ جائے، خواہ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو، بعض کے دل میں شیطان نے وسوسہ پیدا کر دیا چنانچہ انہوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ دیا اور مال غنیمت کے پیچھے دوڑ پڑے ، نتیجہ میں خالد بن ولید کی سر کر دگی میں مشرکین کی فوجیں اسی درّے سے لوٹ آئیں جس کو چھوڑ نے سے رسول(ص) نے منع کیا تھا۔

اس سے مسلمانوں کے اوسان خطا ہو گئے، ان میں بھگدڑ مچ گئی اور شکست خوردہ قریش جنگ میں لوٹ آئے اور بہت سے مسلمان قتل ہو گئے اور مشرکوںنے قتل رسول(ص) کی افواہ پھیلا دی۔ اگر علی بن ابی طالب، حمزہ بن عبد المطلب، سہل بن حنیف نہ ہوتے تو مشرکین کی فوج رسول(ص) تک پہنچ جاتی کیونکہ میدان معرکہ میںمسلمانوںمیں سے بہت کم لوگ ثابت قدم رہے تھے، اکثریت بھاگ گئی تھی ان میں بڑے بڑے صحابہ بھی شامل تھے۔( ۲ )

بعض نے اسلام سے ہی برأت کی سوچ لی اور کہا کاش ہمارے پاس کوئی قاصد ہوتا جو عبد اللہ بن ابی ّکے

____________________

۱۔مغازی ج۱ ص۲۲۱۔

۲۔ مغازی ج۱ ص ۳۳۷، سیرت نبویہ ج۲ ص ۸۳، شرح نہج البلاغہ ۱۵ ص ۲۰۔


پاس چلا جاتا اور وہ ابو سفیان سے ہمارے لئے امان لے لیتا۔( ۱ )

اس جنگ میں رسول(ص) کے چچا جناب حمزہ بن عبد المطلب شہید ہو گئے رسول(ص) پر بھی حملے ہوئے نیچے کے چار دانت شہید ہو گئے، ہونٹ زخمی ہو گیا ، چہرہ پر خون بہنے لگا آپ(ص) اسے صاف کرتے تھے اور فرماتے تھے:

وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جس نے اپنے نبی (ص) کے چہرہ کو خون سے رنگین کر دیا ہے جبکہ وہ انہیں خدا کی طرف بلا رہا ہے ۔( ۲ )

رسول(ص) جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ(ص) کی کمان ٹوٹ گئی۔ ابی بن خلف پر حملہ کرکے آپ نے اسے زخمی کر دیا وہ آپ(ص)کو قتل کرنا چاہتا تھا اسی زخم میں ابی مر گیا۔ اس جنگ میںحضرت علی نے بے نظیر بہادری کا ثبوت دیا۔ جو گروہ بھی آنحضرت (ص) کی طرف بڑھتا تھا علی اسی کو بھگادیتے اور اپنی تلوار سے خوف زدہ کر دیتے تھے۔ یہ حال دیکھ کر جبریل نازل ہوئے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص) ! یہ ہے مواسات-یعنی محبت و رفاقت کی انتہا-۔رسول(ص) نے فرمایا: وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں جبریل نے کہا: میں آپ دونوں سے ہوں۔ لوگوں نے اس وقت یہ آواز سنی :

لا سیف الا ذو الفقار

ولا فتیٰ الا علی( ۳ )

ذو الفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں اور علی کے علاوہ کوئی جوان نہیں۔

مسلمانوں میں سے جو لوگ باقی رہ گئے تھے رسول(ص) ان کے ساتھ پہاڑ کی طرف چلے گئے ، جنگ بند ہو گئی ، تو ابو سفیان آیا اور مسلمانوں کا مذاق و مضحکہ اڑاتے ہوئے کہنے لگا: ''اعل ھبل'' ہبل بلند رہا۔ رسول(ص) نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کفر کو منہ توڑ جواب دیا جائے ۔ میدان جنگ میں شکست کھانے کے باوجود عقیدہ میں استحکام رہنا چاہئے۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۲۰، سورۂ آل عمران کی آیات ۱۲۱ سے۱۸۰ تک میں اس جنگ کی وضاحت موجود ہے ۔

۲۔ تاریخ طبری ج۳ ص ۱۱۷، بحار الانوار ج۲۰ ص ۱۰۲۔

۳۔ تاریخ طبری ج۳ ص ۱۱۶، مجمع الزوائد ج۶ ص ۱۱۴، بحار الانوار ج ۲۰ ص ۷۱۔


اس کے بعد کافر ابو سفیان نے جب یہ نعرہ لگایا:''نحن لنا العزی ولا عزی لکم'' -یعنی ہمارے پاس عزیٰ نام کا بت ہے ،تمہارے پاس عزی نہیں ہے-رسول(ص) نے مسلمانوں سے فرمایا: تم اس کے جواب میں یہ نعرہ لگائو:''اللّه مولٰنا ولا مولیٰ لکم'' ( ۱ ) اللہ ہمارا مولا ہے اورتمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے ۔

مشرکین مکہ لوٹ گئے نبی (ص) مسلمانوں کے ساتھ اپنے مقتولین کو دفن کرنے میں مشغول ہوئے، قریش نے کتنا دلخراش و دردناک منظر چھوڑا تھا انہوں نے شہیدوں کی لاشوںکو مثلہ کر دیا تھا اور جب رسول(ص) نے وادی کے بیچ میںاپنے چچا جناب حمزہ بن عبد المطلب کو دیکھا، کہ جن کا جگر نکال لیا گیا تھا اور درندگی و دشمنی میں ان کی لاش کو مثلہ کر دیا گیا تھا، تو آپ(ص) کو بہت دکھ ہوا۔ فرمایا:''ما وقفت موقفاً قط اغیظ الی من هذا '' اس سے زیادہ دردناک منظر میں نے نہیں دیکھا تھاآج مجھے جتنا غم ہوا ہے اتنا زندگی میں کبھی نہیںہوا۔

اس جنگ میں اگر چہ مسلمانوںکا کافی جانی نقصان ہوا تھا لیکن یہ چیز توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کودولت اسلام رکھنے والوں کو اسلام اور حکومت اسلامی کے دفاع سے باز نہیں رکھ سکتی تھی۔ دوسرے دن جب مسلمان مدینہ واپس لوٹ آئے تو رسول(ص) نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے آمادہ ہونے کا حکم دیا تاکہ دشمن کا تعاقب کریںاور اس کی تلاش میں نکلیں، اسے بھگائیں اور صرف وہی لوگ گھروں سے نکلیںجو جنگ میں شریک ہوئے تھے چنانچہ مسلمانوںکے پاس جو کچھ تھا اسی کے ساتھ حمراء الاسد کی طرف روانہ ہو گئے دشمن کو مرعوب کرنے کے لئے رسول(ص) نے یہ نیا طریقہ اختیار کیا اور دشمن پر خوف طاری ہو گیا وہ سر پر پائوں رکھ کر مکہ کی طرف بھاگ گیا( ۲ ) رسول(ص) اور مسلمان مدینہ واپس لوٹ آئے یقینا اس طرح انہیں بہت سی معنوی اور روحانی طاقتیں واپس مل گئیں۔

۶۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش

جس معاشرہ پر تلوار و غلبہ کے زور پر حکومت ہوتی ہو اس کے لحاظ سے یہ بات طبیعی تھی کہ احد میں مسلمانوں

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۹۴۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۱۰۲ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۴۹۔


کی پسپائی کے بعد مشرکین ان پر جری ہو جائیں۔ لیکن رسول(ص) آگاہ اور ہر انقلاب و تغیر سے واقف تھے ، دل و جان سے رسالت کی حفاظت کرتے تھے حکومت کی تشکیل اور اس کی محافظت میں کوشاں رہتے تھے ، خبر اور نیتوں سے مطلع رہتے تھے اور قبل اس کے کہ مشرک اپنے مقصد میں کامیاب ہوں، ان کے منصوبوںکو ناکام کر دیتے تھے۔ بنی سلمہ کا ایک دستہ نکلا اور مدینہ میں بنی اسد کے مکر کو ناکام کیا اور یہ دستہ اپنی مہم میں کامیاب رہا اسی طرح مسلمانوںنے مشرکوں کے مدینہ پر حملہ کو بھی ناکام بنا دیا۔

مشرکین کی ایک جماعت مسلمانوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو گئی قبیلۂ ''عضل و قارہ'' کے کچھ لوگ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہمارے یہاں ایسے افراد کو بھیجئے جو ہمیں دین کے احکام سکھائیں رسول(ص) نے رسالت اسلامیہ کی نشر و اشاعت کی غرض سے کچھ لوگوں کو ان کے ساتھ روانہ کر دیا مسلمان مبلغین کو ان لوگوںنے: ماء الرجیع پر قتل کر ڈالا، ان مسلمانوںکے قتل کی خبر پہنچنے سے پہلے ہی ابو براء عامری نے رسول(ص) سے التماس کی کہ کچھ مبلغین اہل نجد کے لئے بھیج دیجئے جبکہ پہلے انہوںنے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا رسول(ص) نے فرمایا: ''انی اخشیٰ علیہم اھل نجد...''مجھے اہل نجد کی طرف سے ان کی جان کا خطرہ ہے ۔ ابو براء نے عرض کی: ڈرئیے نہیں میں ان کوپناہ دینے والا اوران کا ضامن ہوں، پناہ دینے والے کا اعتبار ہونا چاہیے اس اعتبار کی اتنی اہمیت ہے کہ جزیرة العرب میں اسے نسب کے برابرسمجھا جاتا ہے، اس کی بات سن کر رسول(ص) مطمئن ہو گئے اور تبلیغ کے لئے ایک وفد روانہ کر دیا لیکن اس وفد کے ساتھ بھی دھوکا کیا گیا، عمر بن طفیل اور بنی سلیم کے قبیلوں نے ان پر زیادتی کی اور ''بئر معونہ'' کے علاقہ میں انہیں قتل کر دیا گیا، چنانچہ عمرو بن امیہ کے علاوہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچا، اسے انہوں نے چھوڑ دیا تھا رسول(ص) کے پاس وہی اس حادثہ کی خبر لے کر آئے لیکن عمرو بن امیہ نے راستہ میں دو آدمیوں کو یہ سوچ کر قتل کر ڈالا کہ یہ عامری ہیں، رسول(ص) کو اس کا دکھ ہوا اور عمرو سے فرمایا: تم نے بہت برا کیا، دو آدمیوں کو قتل کر دیا، ان کے لئے میری طرف سے امان تھی وہ میری پناہ میں تھے میں ضروران کی دیت ادا کروںگا۔( ۱ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۳ ص ۱۹۳ تا ص ۱۹۵۔


۷۔ غزوۂ بنی نضیر( ۱ )

مسلمانوں پر پے در پے مصائب پڑ رہے تھے یہاں تک منافقین اور یہودیوںپر بھی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ مسلمانوں کی ہیبت ختم ہو گئی ہے رسول(ص) نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کے تحت بنی نضیر کے یہودیوں سے معاملات صحیح رکھنے کا ارادہ کیا اور ان دونوں مقتولوں کی دیت دینے میں ان سے مدد طلب کی۔ اسی اثناء میں یہودیوں نے آپ(ص) کو اپنے محلہ میں دیکھا آپ(ص) کے ساتھ کچھ مسلمان بھی تھے انہوںنے آپ(ص) کو خوش آمدید کہا ان کا ارادہ نیک نہیں تھا انہوں نے کہا تشریف رکھئے تاکہ آپ(ص) کا مطالبہ پورا کر دیا جائے۔ آپ ان کے گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ یہودیوں نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سوچا کہ پتھر گرا کر آپ(ص) کو قتل کر دیں۔ اتنے میں آپ(ص) پر وحی نازل ہوئی او ر آپ(ص) کو ان کے منصوبہ سے خبر دار کیا آپ(ص) صحابہ کو وہیں چھوڑکر ان کے درمیان سے نکل آئے۔ اس صورت حال سے بنی نضیر کو پریشانی لاحق ہوئی انہیں اس بات پر حیرت ہوئی اوراپنی کارستانی پر بہت پشیمان ہوئے۔ وہاں سے صحابہ بھی جلدی سے مسجد میں رسول(ص) کے پاس پہنچ گئے، تاکہ آپ(ص) کے لوٹنے کا راز معلوم ہو جائے۔ رسول(ص) نے فرمایا:''همّت الیهود بالغدر بی فاخبرنی اللّه بذالک فقمت'' ۔( ۲ )

یہودیوں نے مجھے دھوکے سے نقصان پہنچا نا چاہا لیکن میرے خدا نے مجھے آگاہ کر دیا۔

چونکہ یہودیوں نے رسول(ص) سے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیا تھا اس لئے خدا نے ان کے خون کو مباح کر دیا۔ انہوںنے دھوکا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لہذا مدینہ سے جلا وطنی کے علاوہ ان کے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھامنافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی وغیرہ نے بنی نضیر سے کہا: تم رسول(ص) کے حکم کو تسلیم نہ کرو بلکہ ان کا مقابلہ کرو، میں اور میری جماعت تمہاری مدد کرے گی تمہیں تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔ بنی نضیر اپنے قلعوں میں رسول(ص) کے حکم کو ماننے یا نہ ماننے کے سلسلہ میں متردد تھے۔

____________________

۱۔غزوۂ بنینضیر ماہ ربیع الاول ۴ھ میںہوا۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۵۷، متاع الاسماع ج۱ ص ۱۸۷۔


رسول(ص) کو منافقین کی ریشہ دوانیوں کی خبر ہوئی توآپ(ص) نے مدینہ میں ابن ام مکتوم کو چھوڑ ااور بنی نضیر کا محاصرہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپر انداختہ ہو جائیں اور ذلت کے ساتھ صرف اتنا مال و اسباب لیکر مدینہ سے چلے جائیں جتنا ان کے اونٹ لے جا سکیں۔( ۱ )

مسلمانوں کو بہت سا مال و اسلحہ غنیمت میں ملا، رسول(ص) نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ یہ مال غنیمت مہاجرین کو دیدئے جائیں تاکہ انہیں اقتصادی خود مختاری حاصل ہو جائے اور انصار میں سے سہل بن دجانہ اور ان کے والد دجانہ کو بھی دیدیا جائے -یہ دونوں انصار میں زیادہ غریب تھے۔ چنانچہ نبی (ص) نے اس غنیمت میں سے ان کو بھی عطا کیا۔( ۲ )

۸۔احد کے بعد فوجی حملے

مدینہ کی فضا سازگاراور پر امن ہو گئی لیکن منافقین اپنی غداریوں کے انکشاف کی وجہ سے پریشان تھے اور انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ آنے والے زمانہ میں ان کی خبر لی جائے گی، اسی دوران رسول(ص) کو یہ اطلاع ملی کہ بنی غطفان مدینہ پر چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں لہذا رسول(ص) اور مسلمانوں نے ان کے مقابلہ میںجانے کے لئے جلدی کی جب دشمن سے ان کا سامنا ہوا تو دیکھا کہ وہ مقابلہ کے لئے پوری طرح تیار ہے یہ بھی تیار ہو گئے جس سے دونوں ایک دوسرے سے مرعوب ہو گئے، اور جنگ و قتال کی نوبت نہیں آئی، اس غزوہ میں رسول(ص) نے نمازِ خوف پڑھی تھی تاکہ مسلمانوں کو یہ سکھایا جائے کہ دشمن سے چند لمحوں کے لئے بھی غفلت نہیں کی جا سکتی ۔ مختصر یہ کہ مسلمان بغیر جنگ کئے مدینہ واپس آ گئے( ۳ ) اس غزوہ کو، ذات الرقاع بھی کہتے ہیں۔

بدرِ موعد(بدر الصغریٰ)

مسلمانوں کی تنگی کا زمانہ تیزی سے گذر رہا تھا۔ اب انہیں فن حرب و ضرب- یعنی جنگی امور-میں کافی

____________________

۱۔ سورۂ حشر میں بنی نضیر کی جلا وطنی بیان ہوئی ہے ۔

۲۔ ارشاد ص ۷۴۔

۳۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۰۴۔


مہارت ہو گئی تھی ان کے لئے شریعت کے احکام نازل ہو رہے تھے، ان کے تعلقات میں شائستگی آ رہی تھی، ان کی زندگی کے امور منظم ہو رہے تھے ثبات و پختگی کے لحاظ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو رہا تھا، دین ِاسلام اور ملت اسلامیہ کی حفاظت کے سلسلہ میں ثابت قدمی، قربانی، فداکاری اور اخلاص کے بہت سے قابل قدر نمونے سامنے آچکے تھے۔ قریب تھا کہ جنگ احد کی خفت کے آثار محو ہو جائیں لیکن اب اس دھمکی کا وقت آ گیا تھا جو کفر کے سر غنا ابو سفیان نے جنگ احد میں اس طرح دی تھی: ہماری اور تمہاری وعدہ گاہ بدر ہے ، اس جملہ سے اس کی مراد بدر میں ہلاک ہونے والے مشرکین کا انتقام لینا تھا۔ رسول(ص) اپنے اصحاب میں سے پندرہ سو سپاہیوں کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور بدر میں آٹھ دن تک خیمہ زن رہے مگر مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے مشرکین کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں نہ یہ کہ وہ مقابلہ کے لئے نہیں نکلے بلکہ جب انہیں رسول(ص) کے عزم و ارادہ کا علم ہوا تو ان پر شدید خوف طاری ہو گیا اس بنا پر ابو سفیان مجبورا ًوعدہ گاہ کی طرف روانہ ہوا لیکن یہ بہانہ بنا کر واپس لوٹ گیا کہ قحط و خشکی نے فوجی تیاری کو متاثر کیا ہے اس اقدام سے ایک طرف قریش کے دامن پر شکست و بزدلی کا داغ لگ گیا اور دوسری طرف مسلمانوںکے حوصلے و معنویت میں اضافہ ہوا، اس طرح انہوں نے اپنی عافیت و سر گرمی کو دوبارہ حاصل کر لیا۔

تھوڑے ہی عرصہ کے بعد رسول(ص) کو یہ خبر ملی کہ دو مة الجندل کے باشندوںنے راہزنی شروع کر دی ہے اور وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ان سے مقابلہ کیلئے رسول(ص) ایک ہزار مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہوئے، دشمن کو جب یہ اطلاع ملی کہ رسول(ص) مقابلہ کے لئے آ رہے ہیں تو اس نے فرار ہی میں عافیت سمجھی چنانچہ وہ بہت سا مال چھوڑ گیا جو جنگ و قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔( ۱ )

۹۔ غزوۂ بنی مصطلق اور نفاق کی ریشہ دوانیاں

اس کے بعدکچھ نئی خبریں گشت کرنے لگیں معلوم یہ ہوا کہ حارث بن ابی ضرار-بنی مصطلق کا سردار-مدینہ پر فوج کشی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ رسول(ص) نے-جیسا کہ آپ(ص) کی عادت تھی-پہلے خبر کی تحقیق کرائی جب اس

____________________

۱۔سیرت نبویہ ، ابن کثیر ج۳ ص ۱۷۷، الطبقات الکبریٰ ج۲ ص ۶۲۔


کی صداقت کا علم ہوا تو آپ(ص) نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے جمع کیا وہ دشمن سے مقابلہ کے لئے نکلے''المریسیع'' کے مقام پر لشکر اسلام کا اس سے مقابلہ ہوا۔ گھمسان کا رن پڑا لیکن جب مشرکین کے دس آدمی مارے گئے تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا اور بنی مصطلق کی بہت سی عورتیں اسیر ہوئیں ان میں حارث کی بیٹی جو یریہ بھی تھی ، رسول(ص) نے اسے آزاد کرنے کے بعد اس سے عقد کر لیا اس رشتہ کے اکرام و احترام میں مسلمانوں نے سارے اسیروں کو آزاد کر دیا۔( ۱ ) اس جنگ میں قریب تھا کہ مہاجرین و انصار کے درمیان پہلی کی بنا پرفتنہ بپا ہو جائے رسول(ص) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا:''دعوها فانها فتنة'' ( ۲ ) جانے دو یہ فتنہ ہے ، منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی نے فتنہ بپا کرنے اور اختلاف ڈالنے کی کوشش کی اور اہل مدینہ کو مخاطب کرکے کہنے لگا: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال دیں گے۔ اگر رسول عبد اللہ بن ابی کے قتل کے سلسلہ میں عمر بن خطاب کی رائے کو یہ کہہ کر رد نہ کرتے ، کہ جانے دو:ائے عمر لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں اور دوسری طرف( ۳ ) جلدی سے مدینہ واپس جانے کا حکم نہ دیا ہوتا تو وہ اپنی نفاق پروری اور فتنہ پردازی میں کامیاب ہو جاتا۔ رسول(ص) نے راستہ بھر مسلمانوں کوآرام کرنے کی بھی اجازت نہیں دی رات دن مسلمانوں کے ساتھ چلتے ہی رہے جب آپ نے انہیں آرام کی اجازت دی تو شدید تکان کی وجہ سے لوگ سوتے ہی رہے ان کو بات کرنے اور بال کی کھال نکالنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ مدینہ کے دروازہ پرعبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی نے رسول(ص) سے گزارش کی کہ اس کے باپ کو کوئی مسلمان قتل نہ کرے ہو سکتا ہے اس سے اس کی رگ،حمیت پھڑک اٹھے اور باپ کے خون کا انتقام لینے پر آمادہ ہو جائے لہذا وہ اپنے ہاتھ سے اپنے باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے ، نبی(ص) نے فرمایا: ''بل نترفق بہ نحن صحبتہ ما بقی معنا''ہم اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے اور جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے ، ہم اس رفاقت کی قدر کریں گے ۔

____________________

۱۔ تاریخ طبری ج۳ ص ۲۰۴، امتاع الاسماع ج۱ ص ۱۹۵۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۱ ص ۲۹۰۔

۳۔ امتاع الاسماع ج۱ ص ۲۰۲۔


اس کے بعدعبد اللہ ابن ابی کا بیٹا دروازہ پر کھڑا ہو گیا تاکہ اپنے باپ کو رسول(ص) کی اجازت کے بغیر مدینہ میں داخل نہ ہونے دے۔( ۱ ) اسی موقع پر سورۂ منافقون نازل ہوا تاکہ ان کی غداری و مکاری طشت از بام ہو جائے۔

۱۰۔رسوم جاہلیت کی مخالفت

ایک دن نبی (ص) اپنی فیاض طبیعت اور انسانیت کی محبت سے لبریز دل کے ساتھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:''یامن حضر اشهدوا ان زیداً هذا ابنی'' ( ۲ ) حاضرین گواہ رہنا یہ زید میرا بیٹا ہے اس طرح زید غلامی سے آزاد ہو کر محبوب خدا کے بیٹے بن گئے اور ابتدائے بعثت میں رسول(ص) پر سچے دل سے ایمان لائے۔ اسی طرح زمانہ گزرتا رہا یہاں تک کہ زید رسول(ص) کی سر پرستی میں بالغ اور بڑے ہو گئے تو مصلح اعظم رسول(ص) اکرم نے زید کی شادی کے لئے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش کو منتخب کیا۔ زینب نے یہ بات پسند نہ کی کہ وہ اپنی سماجی و اجتماعی حیثیت اور عالی نسبی سے نیچے اتر کر اس شخص سے شادی کریں جو کہ پہلے غلام تھا لیکن ان کے سچے ایمان نے انہیں خدا کا حکم تسلیم کرنے پرمجبور کیاکیونکہ خدا فرماتا ہے :

( وما کان لمومن ولا مومنة اذا قضی اللّه و رسوله امراً ان یکون لهم الخیرة فی امرهم ) ( ۳ )

اور جب خدا اور اس کا رسول(ص) کسی امر کا فیصلہ کر دیں تو پھر کسی مومن مرد اورمومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے امرمیں خود مختار بن جائے۔

اس طرح رسول(ص) نے جاہلیت کی فرسودہ رسم پر خط بطلان کھینچ دیا اور دائمی رسالت کے اقدار کو بروئے کار لا کر بہترین مثال قائم کر دی ۔ لیکن تہذیب کے اختلاف اور طبیعتوں کے فرق کی وجہ سے یہ رشتہ کامیاب

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۹۲ ۔

۲۔ احزاب : ۳۶۔

۳۔ اسد الغابہ ج۲ ص ۲۳۵، استیعاب مادہ زید۔


ثابت نہ ہوا۔ پھر معاشرہ میں کچھ جاہلیت کی بو تھی ، دونوں کے درمیان جو اختلافات ہو گئے تھے انہیں رفع کرنے کے لئے رسول(ص) نے کوشش کی تاکہ معاملہ کے تمام راستے بند نہ ہو جائیں چنانچہ زید سے فرمایا: اپنی زوجہ کو رکھ لو اور خدا سے ڈرو ! مگر زینب بنت جحش سے زید کا شکوہ بڑھتا ہی گیا نتیجہ میں طلاق ہو گئی۔

عرب میں یہ رسم ہو گئی تھی کہ وہ متبنیٰ(جس کو پالا ہے )کو بھی اپنا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اس رسم کو باطل قرار دینے کے لئے خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا:

( وما جعل ادعیائکم ابنائکم ذلکم قولکم بافواهکم و اللّٰه یقول الحق و هو یهدی السبیل) (۱)

اور خدا نے تمہاری منھ بولی اولاد کو تمہارا بیٹا نہیں قرار دیا ہے یہ تمہاری زبانی باتیں ہیں خدا تو بس حق کہتا ہے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے ۔

ہاں وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ خدا نے اس رسم کو باطل قرار دینے کے لئے اپنے نبی (ص) کو حکم دیا کہ ۔ زید کے طلاق دینے اور عدت کے ختم ہونے کے بعد آپ(ص) زینب بنت جحش سے نکاح کر لیں۔ اس سلسلہ میں کچھ آیتیں نازل ہوئیں جن میں نبی (ص) کو اس بات پر ابھارا گیا کہ آپ جاہلیت کی اس رسم کو باطل کریں۔ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ پوری جرأت و شجاعت کے ساتھ خدا کے احکام کو نافذ کریں۔( ۲ )

____________________

۱۔ احزاب:۴۔

۲۔ احزاب: ۳۷، تا ۴۰، تفسیر المیزان ج۱۶ ص ۲۹۰ ، مفاتیح الغیب ج۲۵ ص ۲۱۲، روح المعانی ج۲۲ ص ۲۳۔


تیسری فصل

مشرک طاقتوں کا اتحاد اور خدائی طاقت کی طرف سے جواب

جنگ خندق میں مشرک کی طاقتوں کا اتحاد

۵ھ ختم ہوا چاہتا ہے، پورا سال بحران اور فوجی کاروائیوں میں گذرا ، مسلمان ان حالات سے گذر گئے ان جنگوں کا مقصد نئی اسلامی حکومت کے نظام کا دفاع کرنا اور مدینہ میں امن و امان قائم کرنا تھا۔ دین اور اسلامی حکومت کی دشمنی میں رونما ہونے والے حوادث و واقعات کے مختلف پہلو اوران کی جداگانہ نوعیت تھی ان چیزوں سے اور اپنی یکجہتی و اتحاد کے ذریعہ یہودیوں نے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لہذاانہوں نے دشمنی کی آگ بھڑکانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ جزیرة العرب سے اسلام کا نام و نشان مٹ جائے چنانچہ جب مشرکین نے ان یہودیوں سے یہ معلوم کیا کہ دین اسلام افضل ہے یا شرک؟ تو انہوںنے کہا: بت پرستی دین اسلام سے بہتر ے( ۱ ) اس طرح وہ مشرک قبیلوں کو جمع کرنے، انہیں جنگ پر اکسانے اور حکومت اسلامی کے پائے تخت مدینہ کی طرف روانہ کرنے میں کامیاب ہو گئے؛ دیکھتے ہی دیکھے یہ خبر معتبر و موثق لوگوں کے ذریعہ رسول(ص) تک پہنچ گئی جو کہ ہر سیاسی تحریک کواچھی طرح سمجھتے تھے اوربہت زیادہ بیدار و تیز بیں تھے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے رسول(ص) نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا، مشورہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مدینہ کے میدانی رقبہ میں خندق کھود دی جائے، رسول(ص) نے مسلمانوں کے درمیان کام تقسیم کر دیا ،

____________________

۱۔ جیسا کہ سورۂ نساء آیت ۵۱ میں بیان ہوا ہے ۔


خندق کھودنے میں آپ بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک تھے اور انہیں اس طرح ابھارتے تھے:

''لا عیش الا عیش الآخرة اللهم اغفر للانصار و المهاجرة'' ۔( ۱ )

زندگی تو بس آخرت ہی کی ہے اے اللہ انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔

اگر چہ اس کام میں مخلص مسلمانوں نے ہمت و ثابت قدمی کا اظہار کیا تھا لیکن کام چور اور منافقین نے اس موقعہ پر بھی اپنا ہاتھ دکھا دیا۔

مختصر یہ کہ دس ہزار سے زیادہ فوجیوں پر مشتمل مشرکین کے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا لیکن خندق کی وجہ سے وہ باہر ہی رہے ۔ اس دفاعی طریقہ کار کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ وہ اس سے واقف نہیں تھے۔ رسول(ص) تین ہزار سپاہیوں کے ساتھ نکلے اور سلع پہاڑ کے دامن میں پڑائو ڈالا۔ اور کسی بھی اتفاقی صورت حال سے نمٹنے کے لئے لوگوں میںذمہ داری اور کام تقسیم کر دئیے۔

مشرکین کی فوجیں تقریباً ایک مہینے تک مدینہ کا محاصرہ کئے رہیں مگر مدینہ میں داخل نہیں ہو سکیں یہ مسلمانوں کے لئے بہترین جگہ تھی۔ ان کے پاس ایک ہی سورما تھا اور وہ تھے علی بن ابی طالب جب علی بن ابی طالب عرب کے سب سے بڑے سورما عمرو بن عبد ودسے مقابلہ کے لئے نکلے اور کوئی مسلمان اس کے مقابلہ میں جانے کے لئے تیار نہ ہوا تو رسول(ص) نے حضرت علی کی شان میں فرمایا:

''برز الایمان کله الیٰ الشرک کله'' ( ۲ )

آج کل ایمان کل شرک کے مقابلہ میں جا رہا ہے ۔

مشرکین نے بنی قریظہ کے یہودیوں سے مدد مانگی حالانکہ انہوںنے رسول(ص) سے یہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہونگے، رسول(ص) کو یہود کے جنگ میں شریک ہونے اورمسلمانوں

____________________

۱۔ البدایة و النہایة ، ابن کثیر ، ج۴ ص ۹۶، مغازی ج۱ ص ۴۵۳۔

۲۔ احزاب: ۱۲تا ۲۰۔


مسلمانوں کے خلاف داخلی محاذ کھولنے کا یقین ہو گیا لہذا آپ(ص) نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو ان کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس خبر کی تحقیق کریں انہوںنے بتایا کہ خبر صحیح ہے اس پر رسول(ص) نے تکبیر کہی :''اللہ اکبر ابشروا یا معاشر المسلمین بالفتح''،( ۱ ) اللہ بزرگ و برتر ہے اور اے مسلمانو! تمہیں فتح مبارک ہو۔

مسلمانوں کے مشکلات

محاصرہ کے دوران مسلمان یقینا بہت سی مشکلوں سے دوچار ہوئے تھے ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

۱۔ کھانے کی اشیاء کی قلت تھی بلکہ مسلمانوں پر بھوک کے سائے منڈلانے لگے تھے۔( ۱ )

۲۔موسم بہت سخت تھا، سردی کی طویل راتوں میںشدید ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔

۳۔منافقوںنے مسلمانوںکی صفوں میں نفسیاتی جنگ بھڑکادی تھی وہ انہیںجنگ میں جانے سے روکنا چاہتے تھے اور اس سلسلہ میں ثابت قدم رہنے سے انہیں ڈراتے تھے ۔

۴۔ محاصرہ کے زمانہ میںمسلمان اس خوف سے سو نہیں سکتے تھے کہ حملہ نہ ہو جائے، اس سے وہ جسمانی طور پر کمزور ہو گئے تھے اس کے علاوہ مشرکین کی فوجوں کے مقابلہ میں ان کی تعداد بھی کم تھی۔

۵۔ بنی قریظہ کی غداری، اس سے مسلمانوں کے لئے داخلی خطرہ پیدا ہو گیاتھا اورچونکہ ان کے اہل و عیال مدینہ میں تھے اس لئے وہ ان کی طرف سے فکر مند تھے۔

دشمن کی شکست

مشرکین کی فوجوں کے مقاصد مختلف تھے، یہودی تو یہ چاہتے تھے کہ مدینہ میں ان کا جو اثر و رسوخ تھا وہ واپس مل جائے جبکہ قریش کو رسول(ص) اور آپ(ص) کی رسالت ہی سے عداوت تھی، غطفان،فزارہ وغیرہ کو خیبر کی

____________________

۱۔المغازی ج۱ ص ۴۵۶، بحار الانوار ج۲۰ ص ۲۲۲۔

۲۔مغازی ج۲ ص ۴۵۶،۴۷۵، ۴۸۹۔


پیداوار کی طمع تھی ، یہودیوں نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ دوسری طرف محاصرہ کی مدت درازہونے کی وجہ سے مشرکین فوجیںبھی اکتا گئی تھیں وہ مسلمانوں کے طرز تحفظ اور ان کی ایجاد سے بھی محو حیرت تھیں، اس وقت مشرکین کی فوجوں اور یہودیوں کی حالت کو نعیم بن مسعود نے اسلام قبول کرنے کے بعد بیان کیا تھا وہ خدمت رسول(ص) میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ(ص) جو چاہیں مجھے حکم دیں: رسول(ص) نے فرمایا: ہمارے درمیان تم ایک ہی آدمی ہو لہذا جہاں تک تم سے ہو سکے انہیں جنگ میں پسپا ہوجانے کی ترکیب کرنا کیونکہ جنگ ایک دھوکا ہے ۔

خدا کی طرف سے مشرکین کی فوجوں کو شدید آندھی نے آ لیا جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور ان کی دیگوں کو الٹ دیا، اس صورت حال کو دیکھ کر قریش پر خوف و ہراس طاری ہو گیا ابو سفیان نے قریش سے کہا بھاگ چلو چنانچہ وہ جتنا سامان لے جا سکتے تھے اپنے ساتھ لے گئے ان کے ساتھ دوسرے قبیلے بھی کوچ کر گئے صبح تک ان میں سے کوئی باقی نہ بچا۔

( و کفٰی اللّه المومنین القتال ) ( ۱ )

غزوۂ بنی قریظہ اور مدینہ سے یہودیوں کا صفایا

جنگ خندق کے دوران قریظہ کے یہودیوں نے اپنے دل میں چھپی ہوئی اسلام دشمنی کو آشکار کر دیا اگر مشرکین فوجوں کو خدا نے ذلیل و رسوا نہ کیا ہوتا تو بنی قریظہ کے یہودیوں نے مسلمانوں کی پشت میں چھرا بھونک دیا ہوتاتھا اب رسول(ص) کے لئے ضروری تھا کہ ان کی خیانت کا علاج کریں ۔ لہذا رسول(ص) نے قبل اس کے کہ مسلمان آرام کریں، یہ حکم دیا کہ مسلمان یہودیوں کے قلعوں کا محاصرہ کریں، اس سے نئی فوجی کاروائی کی اہمیت کو بھی ثابت کرنا تھا چنانچہ منادی نے مسلمانوں کو ندا دی جو مطیع سامع ہے اسے چاہئے کہ نمازِ عصر بنی قریظہ میں پڑھے۔( ۲ )

____________________

۱۔ اس موقعہ پر سورة احزاب نازل ہوا جس میں جنگ خندق کی تفصیل بیان ہوئی ہے ۔

۲۔ طبری ج۳ ص ۱۷۹۔


رسول(ص) نے پرچم حضرت علی کو عطا کیا مسلمان بھوک و بیداری اور تکان کے ستائے ہوئے تھے اس کے باوجود وہ حضرت علی کی قیادت میں روانہ ہو گئے...یہودیوں نے جب یہ دیکھا کہ رسول(ص) مسلمانوں کے ساتھ ان کا محاصرہ کر رہے ہیں تو ان پر خوف و دہشت طاری ہو گئی اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ نبی (ص) جنگ کئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

یہودیوں نے ابو لبابہ بن عبد المنذر کو بلایا-وہ ان کے حلیفوں میں سے ایک تھاتاکہ اس سلسلہ میں اس سے مشورہ کریں لیکن جب اس نے ان سے وہ بات بتائی جو ان کے سامنے آنے والی تھی تو چھوٹے بڑے یہودی رونے لگے( ۱ ) اور یہ پیشکش کی کہ انہیں ان کی گذشتہ خیانت کی سزا نہ دی جائے بلکہ وہ مدینہ چھوڑ کر چلے جائیں گے رسول(ص) نے ان کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول(ص) کے حکم کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔

اوس نے رسول(ص) کی خدمت میں یہودیوں کی سفارش کی توآپ(ص) نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اپنے اور تمہارے حلیف-یہودیوں کے درمیان تمہیںمیں سے ایک شخص کو حکم بنا دوں؟ انہوں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول(ص) ہمیں یہ منظور ہے ۔ رسول(ص) نے فرمایا: ان -یہودیوں-سے کہہ دو کہ اوس میں سے جس کوچاہیں منتخب کر لیں چنانچہ یہودیوںنے سعد بن معاذ کواپنا حکم منتخب کیا۔( ۲ ) یہ یہودیوں کی بد قسمتی تھی کیونکہ جب مشرکین کی فوجوںنے مدینہ کا محاصرہ کیا تھا اس وقت سعد بن معاذ یہودیوں کے پاس گئے تھے اور ان سے یہ خواہش کی تھی کہ تم غیر جانب دار رہنا لیکن یہودیوںنے ان کی بات نہیں مانی تھی۔ اس وقت سعد بن معاذزخمی تھے۔ انہیں اٹھا کر رسول(ص) کی خدمت میں لایا گیا رسول(ص) نے ان کا استقبال کیا اور موجود لوگوں سے فرمایا کہ اپنے سردار کا استقبال اور ان کی تعظیم کرو انہوںنے بھی استقبال کیا اس کے بعد سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں ، بچوں کو قید کر لیا جائے اور ان کے اموال کو مسلمانوں

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۳۷۔

۲۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۳۹، ارشاد ص ۵۰۔


کے درمیان تقسیم کر دیا جائے ۔ رسول(ص) نے فرمایا: ان کے بارے میں تم نے وہی فیصلہ کیا ہے جو خدا نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے ۔( ۱ )

پھر رسول(ص) نے بنی قریظہ کا مال خمس نکالنے کے بعد مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی مسلمانوں کے سپرد کردیا، سواروں کو تین حصے اور پیادوں کو ایک حصہ دیا، خمس زید بن حارثہ کو عطا کیا اور یہ حکم دیا کہ اس سے گھوڑا، اسلحہ اور جنگ میں کام آنے والی دوسری چیزیں خریدلو تاکہ آئندہ مہم میں کام آئے۔( ۲ )

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۴۰، مغازی ج۲ ص ۵۱۰۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۴۱۔


پانچواں باب

پہلی فصل

فتح کا مرحلہ

دوسری فصل

اسلام کی تبلیغ جزیرة العرب سے باہر

تیسری فصل

جزیرة العرب سے بت پرستی کا خاتمہ

چوتھی فصل

حیات رسول(ص) کے آخری ایام

پانچویں فصل

اسلامی رسالت کے آثار

چھٹی فصل

خاتم الانبیاء (ص) کی میراث


پہلی فصل

فتح کا مرحلہ

۱۔ صلح حدیبیہ

ہجرت کا چھٹا سال ختم ہونے والا ہے ۔ مسلمانوںکا یہ سال مسلسل جہاد اور دفاع میں گذرا ہے ، مسلمانوں نے اسلامی رسالت کی نشر و اشاعت ، انسان سازی ، اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور اسلامی تہذیب کی داغ بیل ڈالنے کے لئے بہت جانفشانی کی ہے ۔ جزیرة العرب کا ہر شخص اس دین کی عظمت سے واقف ہو گیا ہے اور یہ جانتاہے کہ اسے مٹانا آسان کام نہیں ہے ۔سیاسی و فوجی اعتبار سے قریش جیسی عظیم طاقت-یہود اور دوسرے مشرکین سے جنگ میں الجھنا بھی اسلام کی نشر و اشاعت اوراس کے مقاصد میں کامیابی کو نہیں روک سکا ۔

خانۂ کعبہ کسی ایک کی ملکیت نہیں تھا اور نہ کسی مذہب سے مخصوص تھا نہ خاص عقیدہ رکھنے والوں سے متعلق تھا ہاں اس میں کچھ بت و صنم رکھے ہوئے تھے ان کے ماننے والے ان کی زیارت کرتے تھے۔ مگر قریش کے سر کشوںکو یہ ضد تھی کہ رسول اور مسلمانوں کو حج نہیں کرنے دیں گے ۔

اس زمانہ میں رسول(ص) نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اسلام کے خلاف قریش کا جو موقف تھا اب اس میں پہلی سی شدت نہیں رہی ہے لہذا آپ(ص) نے مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ عمرہ کے دوران اسلام کی طرف دعوت دی جا ئے ، اسلامی عقائد کی وضاحت کی جا ئے اور یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام خانۂ کعبہ کو مقدس و محترم سمجھتا ہے ۔ اس مرحلہ میںرسول(ص) دفاعی صورت سے نکل کر حملہ و ہجوم کی صورت میں آنا چاہتے تھے۔


رسول(ص) اور آپ(ص) کے اصحاب نے دشوار راستہ سے سفر کیا۔ پھر حدیبیہ نامی ہموار زمین پر پہنچے تو رسول(ص) کاناقہ بیٹھ گیا آپ(ص) نے فرمایا:''ماهذا لها عادة ولکن حبسها حابس الفیل بمکة'' ۔( ۱ ) اس کی یہ عادت نہیں ہے لیکن اسے اسی ذات نے بٹھایا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا۔ پھر آپ(ص) نے مسلمانوں کو سواریوں سے اترنے کا حکم دیا اور فرمایا:''لاتدعونی قریش الیوم الیٰ خطة یسالوننی فیها صلة الرحم الا اعطیهم ایاها'' ۔( ۲ )

اگر آج قریش مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کریں گے تو میں اسے ضرور پورا کر دوںگا۔ مگر قریش مسلمانوںکی گھات ہی میںرہے اوران کے سواروںنے مسلمانوں کا راستہ روک دیا اس کے بعد قبیلۂ خزاعہ کے کچھ افراد پر مشتمل ایک وفد رسول(ص) کی خدمت میں روانہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ نبی(ص) کی آمد کا مقصد کیا ہے اس وفد کی سربراہی بدیل بن ورقاء کر رہا تھاان لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکیں۔ یہ وفد واپس آیا اور قریش کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ نبی (ص) کا مقصد خیر سگالی اور عمرہ بجالانا ہے لیکن قریش نے اس کی بات پر کان نہ دھرے بلکہ حلیس کی سرکردگی میں ایک اور وفد روانہ کیا۔ جب رسول(ص) نے اس وفد کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: یہ خدا پرست قوم سے تعلق رکھتا ہے ، چنانچہ حلیس قربانی کے اونٹوں کو دیکھتے ہی رسول(ص) سے ملاقات کئے بغیر واپس چلا گیا تاکہ قریش کو اس بات سے مطمئن کر ے کہ رسول(ص) اور مسلمان عمرہ کرنے آئے ہیں۔ مگر قریش ان کی بات سے بھی مطمئن نہ ہوئے اور مسعود بن عروہ ثقفی کو بھیجا اس نے دیکھا کہ مسلمان رسول(ص) کے وضو کے پانی کا قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے بلکہ اسے حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت کر رہے ہیں وہ قریش کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے قریش کے لوگو! میں نے کسریٰ کو اس کے ملک(ایران)میں اور قیصر کو اس کے ملک(روم)میں اور نجاشی کو اس کے ملک حبشہ میں دیکھا ہے خدا کی قسم !میں نے کسی بادشاہ کو اپنی قوم میں اتنا معزز نہیں پایا جتنے معزز اپنے اصحاب میں محمد ہیں، میں نے ان کے پاس ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کسی بھی طرح ان سے جدا نہیں

____________________

۱۔بحار الانوار ج۲۰ص ۲۲۹ ۔

۲۔طبری ج۳ ص ۲۱۶۔


ہونگے۔ اب تم غور کرو۔( ۱ )

رسول(ص) نے حرمت کے مہینوں کے احترام میںمسلمانوں سے یہ فرمایا تھا کہ اپنے اس عبادی سفر میں اپنے ساتھ اسلحہ نہ لے جانا ہاںمسافر جیسا اسلحہ اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو۔ اسی طرح مدینہ کے آس پاس بسنے والے قبائل سے یہ فرمایا: اس سفر میں تم بھی مسلمانوں کے ساتھ چلو، حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھے، تاکہ دنیا کو یہ بتا دیں کہ دوسری طاقتوں سے اسلام کے روابط جنگ کی بنیاد پر ہی استوار نہیں ہیں۔

رسول(ص) نے -کم سے کم-چودہ سو مسلمان سپاہی جمع کئے اور قربانی کیلئے ستر اونٹ بھیجے۔ قریش کو بھی یہ خبر ہو گئی کہ رسول(ص) اور مسلمان عمرہ کی غرض سے روانہ ہو چکے ہیں، اس سے قریش میں بے چینی بڑھ گئی۔ ان کے سامنے دو ہی راستے تھے یا تو مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دیدیں ، کہ اس سے مسلمانوں کی آرزو پوری ہو جائیگی وہ خانہ ٔ کعبہ کی زیارت کر لیں گے اور وہ اپنے خاندان والوں سے ملاقات کر لیں گے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔ یا قریش مسلمانوں کومکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں، لیکن اس سے قریش کی وضعداری کو دھچکا لگے گا اور دوسری قومیں انہیں اس بات پر ملامت کریں گی کہ تم نے ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کیا جو مناسک عمرہ بجالانا اور کعبہ کی تعظیم کرنا چاہتے تھے۔

قریش نے سرکشی اور مخاصمت کا راستہ اختیار کیا، رسول(ص) اور مسلمانوں سے مقابلہ کے لئے خالد بن ولید کی سرکردگی میں دو سو سواربھیجے جبکہ رسول(ص) احرام کی حالت میں نکلے تھے نہ کہ جنگ کرنے کی غرض سے اس صورت حال کو دیکھ کر آنحضرت (ص) نے فرمایا:

''یا ویح قریش لقد اکلتهم الحرب ماذا علیهم لو خلوا بینی و بین العرب فان هم اصابونی کان الذی ارادوا و ان اظهرنی الله علیهم دخلوا فی الاسلام وافرین وان لم یفعلوا قاتلوا بهم قوة فما تظن قریش؟ فوالله لا ازال اجاهد علیٰ الذی بعثنی اللّٰه به حتی یظهره اللّٰه او تنفرد هذه السالفة''

____________________

۱۔ مغازی ج۲ ص ۵۹۸۔


افسوس ہے قریش کے اوپر کہ جنگ نے انہیں تباہ کر دیا، اگر وہ مجھے دوسرے اعراب کے درمیان چھوڑ دیتے اور وہ مجھ پر کامیاب ہو جاتے تو ان کا مقصد پورا ہو جاتا اوراگر میں ان پر فتحیاب ہوتا تو یا وہ اسلام قبول کرتے یا اپنی محفوظ طاقت کے ساتھ مجھ سے جنگ کرتے لیکن نہ جانے قریش کیا سمجھے ہیں؟ خدا کی قسم میں اس اسلام کے لئے ہمیشہ جنگ کرتارہونگا جس کے لئے خدا نے مجھے بھیجا ہے یہاں تک کہ خدا مجھے کامیاب کرے ، میں اس راہ میں اپنی جان دے دوں۔

پھر آپ(ص) نے جنگ سے احتراز کرتے ہوئے قریش کے سواروں سے بچ کر نکلنے کا حکم دیا۔ اس راستہ پر چلنے سے قریش کے سواروں کے ہاتھ ایک بہانہ آجاتا۔ اس کے بعد رسول(ص) نے خراش بن امیہ خزاعی کو قریش سے گفتگو کے لئے روانہ کیا لیکن قریش نے ان کے اونٹ کو پے کر دیا قریب تھا کہ انہیں قتل کر دیتے، قریش نے کسی رواداری اور امان کا لحاظ نہیں کیا۔ کچھ دیر نہ گذری تھی کہ قریش نے پچاس آدمیوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی کہ تم مسلمانوں کے اطراف میں گردش کرتے رہو اور ممکن ہو تو ان میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کرلو، حالانکہ یہ چیز صلح کے منافی تھی اس کے باوجود ان کا وہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے بر عکس مسلمانوں نے انہیں گرفتار کر لیا،لیکن رسول(ص) نے انہیں معاف کر دیا اور اپنی صلح پسندی کو ظاہر و ثابت کر دیا۔( ۱ )

آنحضرت (ص) نے سوچا کہ قریش کے پاس دوسرا نمائندہ بھیجا جائے، حضرت علی بن ابی طالب کو نمائندہ بنا کر نہیں بھیج سکتے تھے کیونکہ اسلام سے دفاع کے سلسلہ میں ہونے والی جنگوں میں علی نے عرب کے سورمائوں کو قتل کیا تھالہذا اس مہم کو سر کرنے کے لئے عمر بن خطاب سے فرمایا لیکن انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ قریش انہیں قتل کر دیں گے حالانکہ عمر نے قریش میں سے کسی ایک آدمی کو بھی قتل نہیں کیا تھا پھر بھی انہوں نے رسول(ص) سے یہ درخواست کی کہ عثمان بن عفان کو بھیج دیجئے( ۲ ) کیونکہ وہ اموی ہیں اور ابو سفیان سے ان کی قرابت بھی ہے ۔ عثمان نے لوٹنے میں تاخیر کی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کر دیا گیا۔ اس سے مکہ میں داخل ہونے

____________________

۱۔ تاریخ طبری ج۳ ص ۲۲۳ ۔

۲۔ سیرت نبیویہ ج۲ ص ۳۱۵۔


کی جو مصالحت آمیز کوششیں ہوئی تھیں وہ سب ناکام ہو گئیں۔ رسول(ص) نے دیکھا کہ جنگ کی تیاری بھی نہیں ہے اسی موقعہ پر بیعت رضوان ہوئی ، آنحضرت (ص) ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے اور اصحاب نے اس بات پر آپ(ص) کی بیعت کی کہ جو بھی ہوگا ہم ثابت قدمی و استقامت سے کام لیں گے۔ عثمان کے واپس آنے سے مسلمانوں کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور قریش نے رسول(ص) سے گفتگو کے لئے سہیل بن عمرو کو بھیجا۔

صلح کے شرائط

صلح کے شرائط کے سلسلہ میں سہیل چونکہ سخت تھا اس لئے قریب تھا کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں مگرآخر میں درج ذیل شرائط صلح پر فریقین متفق ہو گئے:

۱۔ فریقین عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، اس عرصہ میں لوگ امان میں رہیں گے اور کوئی کسی پر حملہ نہیں کرے گا۔

۲۔ اگر قریش میں سے کوئی شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد(ص) کے پاس آئیگا تو اسے واپس لوٹایا جائیگا لیکن اگر کوئی شخص محمد (ص) کی طرف سے قریش کے پاس آئیگا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

۳۔ جو شخص محمد کے معاہدہ میں شامل ہونا چاہے وہ اس میں شامل ہو سکتا ہے اور جو قریش کے معاہدہ میں داخل ہونا چاہئے وہ اس میں داخل ہو سکتا ہے ۔

۴۔ اس سال محمد اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ واپس جائیں گے مکہ میں داخل نہیں ہونگے ہاں آئندہ سال مکہ میں داخل ہونگے اور تین دن تک قیام کریں گے ،اس وقت ان کے پاس صرف مسافر کا اسلحہ تلوار ہوگی کو بھی نیام میں رکھیں گے۔( ۱ )

۵۔ کسی پر یہ دبائو نہیں ڈالا جائیگا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے اور مسلمان مکہ میں آزادی کے ساتھ علی الاعلان خدا کی عبادت کریں گے، مکہ میں اسلام ظاہر و آشکار ہوگا نہ کوئی کسی کو اذیت دے گا اور نہ برا کہے گا۔( ۲ )

____________________

۱۔سیرت حلبیہ ج۳ ص۲۱۔

۲۔بحار الانوارج۲۰ص۳۵۲۔


۶۔چوری اور خیانت کا ارتکاب نہیں کیا جائیگا بلکہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے اموال کو محترم سمجھے گا۔( ۱ )

۷۔قریش محمد(ص) اور ان کے اصحاب پر کوئی پابندی عائد نہیں کریں گے۔( ۲ )

بعض مسلمان صلح کے شرائط سے راضی نہیں ہوئے چنانچہ انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ نبی (ص) قریش سے ڈرگئے ہیں آپ(ص) پر اعتراض کیا وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ نبی (ص) خدا کی طرف سے خیر پر ہیں اور اسی رسالت اور اس کے عظیم فوائد کو مستقبل سے آگاہ نظر سے دیکھتے ہیں رسول(ص) نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:''انا عبد اللّٰه و رسوله لن اخالف امره و لن یضیعنی'' میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول(ص) ہوں میں اس کے حکم کے خلاف نہیں کرونگا اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ رسول(ص) نے انہیں شرائط کو برقرار رکھا جو مسلمانوں کو پسند نہیں تھے۔ ابو جندل کو قریش کے حوالے کرنے سے( ۳ ) کشیدگی پیدا ہو گئی، بعض تونفسیاتی الجھن میں مبتلا ہو گئے۔

لیکن یہ صلح ،ان لوگوں کے نظریہ کے بر خلاف جو صلح کے شرائط کا دوسرا مفہوم سمجھ رہے تھے، مسلمانوں کے لئے کھلی اور عظیم فتح تھی کیونکہ صلح کے شرائط تھوڑی ہی مدت کے بعد مسلمانوں کے حق میں ہو گئے تھے ۔

جب آپ(ص) مدینہ واپس آ رہے تھے اس وقت قرآن مجید کی کچھ آیتیں نازل ہوئیں( ۴ ) جن سے بت پرستوں کے سردار سے کی گئی صلح کے حقیقی پہلو آشکار ہوئے اور مستقبلِ قریب میں مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔

____________________

۱۔مجمع البیان ج۹ ص ۱۱۷۔

۲۔ بحار الانوار ج۲۰ ص ۳۵۲۔

۳۔ سیرت حلبیہ ج۳ ص ۲۱، سیرت نبویہ ج۲ ص ۲۵۲۔

۴۔ فتح ۱،۱۸،۲۸۔


صلح کے نتائج

۱۔ قریش نے مسلمانوں کے نظام کو ایک فوجی ، منظم سیاسی اور نئی حکومت کے عنوان سے تسلیم کر لیا۔

۲۔ مشرکوں اور منافقوں کے دل میں رعب بیٹھ گیا، ان کی طاقت گھٹ گئی اور ان میں مقابلہ کی طاقت نہ رہی۔

۳۔صلح و آرام کے اس زمانہ میں اسلام کی نشر و اشاعت کی فرصت ملی جس کے نتیجہ میں بہت سے قبیلے اسلام میں داخل ہو گئے؛ رسول(ص) کی اسلامی رسالت کے آغاز ہی سے یہ آرزو تھی کہ قریش آپ کو اتنی مہلت و فرصت دیدیں کہ جسمیں آپ(ص) آزادی کے ساتھ اپنا راستہ طے کر سکیں اور اطمینان کے ساتھ آپ لوگوں کے سامنے اسلام کی وضاحت کر سکیں۔

۴۔ مسلمانوںکو قریش کی طرف سے سکون مل گیا تو یہودیوں اور دوسرے دشمنوں سے مقابلہ کے لئے ہمہ تن تیار ہوئے۔

۵۔قریش سے صلح کے بعد ان کے حلیفوں کے لئے یہ آسان ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کے موقف کو سمجھیں اور ان کے پاس آئیں۔

۶۔ صلح ہو جانے سے نبی(ص) کو یہ موقع ملا کہ آپ(ص)دیگر ممالک کے بادشاہوں اورسربراہوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں اور غزوہ موتہ کی تیاری کریں تاکہ جزیرةالعرب سے باہر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔

۷۔ صلح کی وجہ سے آنے والے مرحلے میں فتحِ مکہ کا راستہ ہموار ہو گیا ،مکہ اس زمانہ میں بت پرستی کا اڈہ تھا۔

۲۔اسلامی رسالت کی توسیع

زمانہ ٔماضی میں قریش اسلام کو نیست و نابود کرنا چاہتے تھے یہی وجہ تھی کہ رسول(ص) اور مسلمان دفاعی جنگوں، اپنی حفاظت اور اسلامی حکومت اور اس کے معاشرہ کی تشکیل میں چند سال تک مشغول رہے ۔


اس عہد میں آپ (ص) اپنی آسمانی عالمی اور تمام ادیان کو ختم کرنے والی رسالت کی آزادی کے ساتھ تبلیغ نہ کر سکے تھے لیکن صلح حدیبیہ کے صلح نامہ پر دستخط ہو جانے کے بعد رسول(ص) قریش کی طرف سے مطمئن ہو گئے اور اس صلح سے رسول(ص) کو یہ موقع مل گیا کہ آپ(ص) جزیرة العرب کے اطراف میں بسنے والی بڑی طاقتوں اور خطۂ عرب کے سرداروں کے پاس اپنے نمائندے بھیجیں تاکہ وہ ان کے سامنے الٰہی قوانین کو بیان کریں اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیں۔

روایت ہے کہ آپ(ص) نے اپنے اصحاب کے در میان فرمایا:

''ایها النّاس ان اللّٰه قد بعثنی رحمة و کافة فلا تختلفوا علّ کما اختلف الحواریون علیٰ عیسیٰ بن مریم'' ۔

اے لوگو! مجھے خدا نے رحمت بنا کر بھیجا ہے پس مجھ سے اس طرح اختلاف نہ کرو جس طرح حواریوں نے عیسیٰ سے کیا تھا اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص) حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ فرمایا:

''دعاهم الیٰ الذی دعوتکم الیه فاَما من بعثه مبعثا قریباً ترضی و سلّم و اما من بعثه مبعثا بعیداً فکره وجهه و تثاقل'' ۔( ۱ )

حضرت عیسیٰ نے انہیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف میں نے تمہیں دعوت دی ہے جس کو انہوں نے قریب کی ذمہ داری سپرد کی تھی وہ تو خوش ہو گیا اور اس ذمہ داری کوتسلیم کر لیا اور جس کے سپرد دور کی ذمہ داری کی تھی وہ ناخوش رہا اور اسے بوجھ محسوس ہوا۔

ہدایت و دعوت کے نمائندے رسول(ص) کے امر کو دنیا کے مختلف گوشوں میں لے گئے۔( ۲ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۶۰۶، طبقات الکبریٰ ج۱ ص ۲۶۴۔

۲۔اسلام کی دعوت کے سلسلہ میں رسول(ص) نے بادشاہوں کو جو خطوط روانہ کئے تھے علماء اسلام نے ان کی تعداد ۱۸۵ بیان کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: مکاتیب الرسول(ص)، از علی بن حسین احمدی۔


۳۔ جنگ خیبر( ۱ )

اپنی حقیقی جد و جہد، اعلیٰ تجربہ ، بے مثال شجاعت اور تائید الٰہی کے سبب رسول(ص) نے مسلمانوں کو آزاد خیالی ، ثبات و نیکی کے بام عروج پر پہنچا دیا، ان کے اندر صبر اور ایک دوسرے سے ربط و ضبط کی روح پھونک دی...اس طرح رسول(ص) نے اپنے قرب و جوار کے سرداروں کے پاس خطوط اور نمائندے بھیج کر جزیرة العرب سے باہر بھی لوگوں تک اپنی آسمانی رسالت پہنچا دی۔

رسول(ص) اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ آپ(ص) کے اس اقدام کے مختلف رد عمل ہونگے ان میں سے بعض مدینہ میں موجود یہو دو منافقین ، جن کی خیانتوں اور غداریوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ،کی مدد سے مدینہ پر فوجی حملے ہوںگے ۔

خیبر یہودیوں کا مضبوط قلعہ اور عظیم مرکز تھا لہذا رسول(ص) نے یہ طے کیا کہ اس باقی رہ جانے والے سرطان کا صفایا کر دیا جائے چنانچہ حدیبیہ سے لوٹنے کے کچھ دنوں کے بعد سولہ سو افراد پر مشتمل مسلمانوں کا ایک لشکر تیار کیا اور یہ تاکید فرمائی کہ غنیمت کے لالچ میں ہمارے ساتھ کوئی نہ آئے ۔ فرمایا:''لا یخرجن معنا الا راغب فی الجهاد'' ( ۲ ) ہمارے ساتھ وہی آئے جو شوقِ جہاد رکھتا ہو۔

رسول(ص) نے کچھ لوگوں کو یہودیوں کے حلیفوں کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں ان کی مدد کرنے سے روکیں تاکہ مزید جنگ و خونریزی نہ ہو مسلمانوں نے بہت جلد یہودیوں کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا ۔ علی بن ابی طالب ان میں سب سے پیش پیش تھے آپ ہی کے دست مبارک میں پرچم رسول(ص) تھا۔

یہودی اپنے مضبوط قلعوں میں جا چھپے اس کے بعد کچھ معرکے ہوئے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے بعض اہم مقامات پر قبضہ کر لیا، لیکن جنگ نے شدت اختیار کر لی اور محاصرہ کا زمانہ طویل ہو گیا۔ مسلمانوں کے سامنے خوراک کا مسئلہ آ گیا اور مسلمان مکروہ چیزیں کھانے کے لئے مجبور ہو گئے۔

____________________

۱۔ جنگ خیبر ماہ جمادی الاخریٰ ۷ھ میں ہوئی ، ملاحظہ ہو طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۷۷۔

۲۔طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۰۶۔


رسول(ص) نے بعض صحابہ کو علم دیا کہ انہیں کے ہاتھ پر فتح ہو جائے لیکن وہ میدان سے بھاگ آئے جب مسلمان عاجزآگئے تو رسول(ص) نے فرمایا:

''لاعطینّ الرّایة غداً رجلاً یحب اللّه و رسوله و یحبه اللّه و رسوله کراراً غیرا فرار لا یرجع حتی یفتح اللّه علیٰ یدیه'' ( ۱ )

میں کل اس مرد کو علم دونگا جو خد اور رسول(ص) سے محبت رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اس سے محبت رکھتے ہیں وہ بڑھ بڑھ کے حملہ کرے گا، میدان سے نہیں بھاگے گا، وہ اسی وقت میدان سے پلٹے گا جب خدا اس کے دونوں ہاتھوں پر فتح عطا کرے گا۔

دوسرے روز رسول(ص) نے علی کو بلایا اور آپ کو علم عطا کیا اور آپ ہی کے ہاتھ پر فتح ہوئی ، رسول(ص) اور سارے مسلمان خوش ہو گئے اور جب باقی یہودسپر انداختہ ہو گئے تو رسول(ص) نے اس بات پر صلح کر لی کہ وہ آپ کو اپنے باغوں اور کھیتوں کا نصف محصول بطور جزیہ دیا کریں گے ظاہر ہے فتح کے بعد وہ باغات اور کھیت رسول(ص) کی ملکیت بن گئے تھے۔ خیبر کے یہودیوں کے ساتھ رسول(ص) نے بنی نضیر، بنی قینقاع اور بنی قریظہ جیسا سلوک نہیں کیا کیونکہ مدینہ میں یہودیوں کی کوئی خاص حیثیت نہیں رہ گئی تھی ۔

۴۔ آپ(ص) کے قتل کی کوشش

ایک گروہ نے خفیہ طریقہ سے رسول(ص) کے قتل کا منصوبہ بنا لیا تاکہ وہ اپنی دشمنی کی آگ کو بجھائیں اور چھپے ہوئے کینہ کو تسکین دے سکیں لہذا-سلام بن مشکم یہودی کی زوجہ- زینب بنت حارث نے رسول(ص) کی خدمت میں بھنی ہوئی بکری ہدیہ کی جس میں اس نے زہر ملا دیا تھا اور چونکہ وہ جانتی تھی کہ رسول(ص) کو ران کا گوشت پسند تھا لہذا اس میں زیادہ زہر ملایاتھا۔

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۳۷، صحیح مسلم ج۱۵ ص ۱۷۶ و ۱۷۷، فضائل الصحاب ج۲ ص ۶۰۳، مسند امام احمد ج۳ ص ۳۸۴، مواہب اللّدنیہ ج۱ ص ۲۸۳، استیعاب ج۳ ص ۲۰۳، کنز العمال ج۱۳ ص ۱۲۳۔


آنحضرت(ص) کے سامنے یہ بھنی بکری پیش کی گئی اور آپ(ص) نے اس کی اگلی ران اٹھائی اور ایک بوٹی چبائی لیکن اسے نگلا نہیں، بلکہ تھوک دیا جبکہ بشر بن براء بن معرور بوٹی نگلتے ہی مر گیا۔

یہودی عورت نے اپنے اس جرم کا یہ کہہ کر اعتراف کر لیا کہ میں آپ(ص) کا امتحان لینا چاہتی تھی کہ آپ(ص) بنی ہیں یا نہیں رسول(ص) نے اسے معاف کر دیا اور جو مرد اس سازش میں شریک تھے ان سے رسول(ص) نے کوئی تعرض نہ کیا۔( ۱ )

۵۔ اہل فدک کی خود سپردگی

حق و عدالت کے دبدبے سے خیانت کاری کے مرکز تباہ ہو گئے جب خدا نے رسول(ص) کو خیبر میں فتح عطا کی تو اس کے بعد خدانے فدک والوں کے دلوں میں آپ کا رعب پیدا کر دیا چنانچہ انہوںنے رسول(ص) کی خدمت میں ایک وفد روانہ کیا تاکہ وہ رسول(ص) سے اس بات پر صلح کرے کہ اہل فدک اسلامی حکومت کے زیر سایہ اطاعت کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور اس کے عوض وہ فدک کا نصف محصول ادا کیاکریں گے، ان کی پیشکش کو رسول(ص) نے قبول کر لیا۔

اس طرح فدک ، قرآن کے حکم کے بموجب خاص رسول(ص) کی ملکیت قرار پایا کیونکہ اس سلسلہ میں نہ گھوڑے دوڑائے گئے اور نہ اسلحہ استعمال ہوا بلکہ انہوں نے دھمکی اور جنگ کے بغیرہی اپنی خود سپردگی کا اعلان کیا تھا۔ لہذا رسول(ص) نے فدک اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہرائ(ص) کو ہبہ کر دیا۔( ۲ )

جزیرة العرب کی سر زمین خیانت کاروں کے ٹھکانوں سے پاک ہو گئی اورمسلمانوں کو یہودیوں کے فتنوں سے نجات مل گئی ،یہودیوںنے ہتھیار ڈال دئیے اور اسلامی حکومت و قوانین کے سامنے سر جھکا دیا ۔

جس روز خیبر فتح ہوا اسی دن جناب جعفر بن ابی طالب حبشہ سے واپس آئے تو رسول(ص) نے ان کا استقبال کی

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۳۷، مغازی ج۲ ص ۶۷۷۔

۲۔ مجمع البیان ج۳ ص۴۱۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶، ص ۲۶۸، الدرالمنثور ج۴ ص ۱۷۷۔


ان کی پیشانی کو چوما اور فرمایا:''بایهما اسر بفتح خیبر او بقدوم جعفر '' ( ۱ )

میں کس چیز کی زیادہ خوشی منائوں، فتح خیبر کی یا جعفر بن ابی طالب کی آمد کی ؟

۶۔ عمرة القضا

آرام و سکون کا زمانہ گذرتارہا لیکن رسول(ص) اور مسلمان اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کی سعیٔ پیہم میں مشغول رہے ، فتحِ خیبر کے بعد تبلیغی یا تادیبی مہموں کے علاوہ کوئی فوجی معرکہ نہیں ہوا۔

صلح حدیبیہ کو ایک سال گذر گیا، طرفین نے جن چیزوں پر اتفاق کیا تھا، ان کے پابند رہے اب وہ وقت آ گیا کہ رسول(ص) اور مسلمان خانۂ خد ا کی زیارت کے لئے جائیں۔ لہذا رسول(ص) کے منادی نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان عمرة القضا کی ادائیگی کے لئے تیاری کریں چنانچہ دو ہزار مسلمان رسول(ص) کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے پاس تلوارکے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔ وہ بھی نیام میں تھی لیکن رسول(ص) اپنی فراست سے مشرکوں کی غداری کو محسوس کر چکے تھے۔

اس لئے آپ(ص) نے ایک گروہ کو اس وقت مسلح ہونے کا حکم دیا-جب آپ ظہران سے گذرے-تاکہ یہ گروہ اتفاقی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار رہے۔

جب رسول(ص) ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ (ص) نے اور اصحاب نے احرام باندھا۔ آپ(ص) کے ساتھ قربانی کے جانور تھے، ایک دستہ آپ نے آگے روانہ کر دیا تھا اس دستہ میں تقریباً سو آدمی تھے جس کی قیادت محمد بن مسلمہ کر رہے تھے ۔ مکہ کے سردار اور ان کے تابع افراد یہ سوچ کر مکہ کے اطراف میں واقع پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے کہ وہ نبی (ص) اور ان کے اصحاب کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے ، لیکن رسول(ص) کا جلال اور ان مسلمانوں کی ہیبت، جو کہ رسول(ص) کو اپنے حلقہ میں لئے ہوئے تلبیہ کہہ رہے تھے ، ایسی تھی کہ جس سے مکہ والوں کی آنکھیں کھلی رہ گئیں وہ حیرت واستعجاب میں نبی (ص) کو دیکھتے ہی رہ گئے حالانکہ رسول(ص) اور مسلمان حج کے اعمال انجام دے رہے تھے۔

____________________

۱۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۰۸، سنن الکبریٰ بیہقی ج۷ ص۱۰۱، سیرت نبویہ ابن کثیر ج۳ ص ۳۹۸۔


رسول(ص) اپنی سواری پر سوار خانۂ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ آپ(ص) کی سواری کی مہار عبد اللہ بن رواحہ پکڑے ہوئے تھے، رسول(ص) نے یہ حکم دیا کہ مسلمان بلند آواز سے یہ نعرہ بلند کریں۔

''لا اله الا اللّه وحده، صدق وعد ه و نصر عبده و اعز جنده و هزم الاحزاب وحده'' ۔

سوائے اللہ کے کوئی خدا نہیں ہے وہ یکتا ہے ،اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندے کی مدد کی ،اپنی فوج کی مدد کی ہے اور سپاہ دشمن کو شکست دی ہے ،وہ یکتا ہے ۔

پھر کیا تھا مکہ کی فضائوں میں یہ آواز گو نجنے لگی خوف سے مشرکوں کا زہرہ آب ہونے لگا اور خدا کی طرف سے نبی (ص) کو ملنے والی فتح پر وہ پیچ و تاب کھانے لگے یہ وہی رسول(ص) ہے جس کو انہوں نے سات سال قبل وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مسلمانوں نے رسول(ص) کی معیت میں عمرہ کے مناسک انجام دئیے۔ قریش اسلام اور مسلمانوں کی طاقت کو مان گئے اور انہیں اس شخص کی دروغ گوئی کا یقین ہو گیا جس نے، انہیں یہ خبر دی تھی کہ رسول(ص) اور ان کے اصحاب مدینہ ہجرت کر جانے کی وجہ سے بہت تنگی و پریشانی میں ہیں۔ بلال خانۂ کعبہ پر گئے اور نما زظہر کے لئے اذان دیتے ہوئے ندا ئے توحید بلند کی جو کہ روحانی مسرت کا سبب ہے اس سے کفر کے سرداروں کو مزید افسوس ہوااس وقت پورا مکہ مسلمانوں کے قبضہ میں تھا۔

مہاجرین اپنے بھائی انصار کے ساتھ مکہ میں پھیل گئے تاکہ اپنے ان گھروں کو دیکھیں جن کو راہ خدا میں چھوڑنا پڑا تھا اور طولانی فراق کے بعد اپنے اہل و عیال سے ملاقات کریں۔

تین روز تک مسلمان مکہ میں رہے اور پھرقریش سے کئے ہوئے اس معاہدہ کے بموجب ، مکہ چھوڑ دیا، رسول(ص) نے قریش سے یہ فرمایا کہ وہ میمونہ سے عقد کے رسوم یہیں ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن قریش نے اس کو قبول نہ کیا کیونکہ یہ خوف تھا کہ اگر رسول(ص) مکہ میں زیادہ دن ٹھہریں گے تو اس سے اسلام کی طاقت میں اضافہ ہو گا او رمکہ میں اسلام کو مقبولیت ملے گی۔

ابو رافع کو رسول(ص) نے مکہ میں چھوڑ دیا تاکہ وہ سرشام آپ(ص) کی زوجۂ میمونہ، کو لے کر آئیں کیونکہ مسلمانوںکونمازِظہر سے پہلے مکہ چھوڑنا تھا۔( ۱ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۷۲۔


دوسری فصل

جزیرة العرب سے باہراسلام کی توسیع

۱۔جنگ موتہ( ۱ )

رسول(ص) نے یہ عزم کر لیا تھا کہ جزیرة العرب کے شمال میں امن و امان کی فضا قائم کریں گے، اور اس علاقہ کے باشندوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور اس طرح شام تک جائیں گے ۔ آپ(ص) نے حارث بن عمیر ازدی کو حارث بن ابی شمر غسانی کے پاس بھیجا، شرحبیل بن عمرو غسانی نے ان کا راستہ روکا اور قتل کر دیا۔

اسی اثنا میں رسول(ص) نے مسلمانوں کا ایک اور دستہ اسلام کی تبلیغ کے لئے روانہ کیا، ملکِ شام کے علاقہ ذات الصلاح کے لوگوں نے ان پر ظلم کیا اور انہیں قتل کر ڈالا، ان کے قتل کی خبر رسول(ص) کو ملی،اس سانحہ کو سن کر رسول(ص) کو بہت افسوس ہوا، پھر آپ(ص) نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان سے انتقام کے لئے نکلیں آپ (ص) کے فرمان پرتین ہزار سپاہیوں کا لشکر تیار ہو گیا تو آپ(ص) نے فرمایا: اس کے سپہ سالار علی الترتیب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور بعد میں عبد اللہ بن رواحہ ہونگے پھر آپ(ص) نے ان کے درمیان خطبہ دیا:

''اغزوا بسم اللّه...ادعوهم الیٰ الدّخول فی الاسلام...فان فعلوا فاقبلوا منهم و اکقفوا عنهم...و الا فقاتلوا عدو الله و عدوکم بالشام و ستجدون فیها رجالا فی الصوامع معتزلین الناس، فلا تعرضوا لهم، و ستجدون آخرین للشیطان فی رؤوسهم مفاحص

____________________

۱۔ جنگ موتہ ماہ جمادی الاول ۸ھ میں ہوئی۔


فاقلعوها بالسیوف ولا تقتلن امراة ولا صغیراً ولامر ضعاً ولا کبیراً فانیا لا تغرفن نخلا ولا تقطعن شجراً ولا تهدموا بیتاً'' ( ۱ )

پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا...اگر انہوں نے قبول کر لیا تو ان پر حملہ نہ کرنا انہیں مسلمان سمجھنا اور اگر انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو تم اپنے اور خدا کے دشمن سے شام میں جنگ کرنا اور دیکھو تمہیں کلیسائوں میں کچھ لوگ گوشہ نشین ملیں گے ان سے کچھ نہ کہنا۔

اور کچھ لوگ ایسے ملیں گے جو شیطان کے چیلے ہونگے ان کے سرمنڈھے ہونگے انہیں تلواروں سے صحیح کرنا اور دیکھو عورتوں، دودھ پیتے بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، کھجور کو برباد نہ کرنا اور کسی درخت کو نہ کاٹنا اور کسی گھر کو منہدم نہ کرنا۔

اس لشکر کو وداع کرنے کے لئے رسول(ص) بھی ان کے ساتھ چلے اور ثنیة الوداع تک ان کے ساتھ گئے مسلمانوں کا یہ لشکر جب ''مشارق'' کے مقام پر پہنچا تو وہاں کثیر تعدادمیں روم کی فوج دیکھی، جس میں دو لاکھ جنگجو شامل تھے۔ مسلمان موتہ کی طرف پیچھے ہٹے اور وہاں دشمن سے مقابلہ کیلئے، تیار ہوئے مختلف اسباب کی بنا پر مسلمانوں کا لشکر پسپا ہو گیا اور نتیجہ میں تینوں سپہ سالار شہید ہو گئے اس جنگ میں مسلمانوں کی شکست کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ اس دور افتادہ علاقہ میں جنگ کر رہے تھے جہاں امداد کا پہنچنا مشکل تھا۔ پھر یہ روم والوںپر حملہ آور ہوئے تھے اوروہ اپنی کثیر تعداد کے ساتھ دفاعی جنگ لڑ رہے تھے ،دونوں لشکروں کی جنگی معلومات میں بہت زیادہ فرق تھا، روم کی فوج ایک منظم و مستحکم فوج تھی جو جنگی مشق کرتی رہتی تھی، دوسری طرف مسلمانوں کی تعداداوران کے جنگی معلومات بہت کم تھی،یہ جمعیت نئی نئی وجود میں آئی تھی۔( ۲ )

جعفر بن ابی طالب کی شہادت کی خبر سن کر رسول(ص) بہت غم زدہ ہوئے اور آپ(ص) پرشدید رقت طاری ہوئی

____________________

۱۔ مغازی ج۲ ص ۷۵۸ ، سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۷۴۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۸۱۔


تعزیت اور اظہار ہمدردی کے لئے ان کے گھر تشریف لے گئے اسی طرح زید بن حارثہ کے مارے جانے کا بھی بہت صدمہ ہوا۔( ۱ )

۲۔ فتح مکہ

جنگ موتہ کے بعد علاقہ کی طاقتوں کے مختلف قسم کے رد عمل ظاہر ہوئے، مسلمانوں کے پسپا ہونے اور شام میں داخل نہ ہونے سے روم کو بہت خوشی تھی۔

قریش بھی بہت خوش تھے، مسلمانوں کے خلاف ان کی جرأت بڑھ گئی تھی چنانچہ وہ معاہدہ ٔامان کو ختم کرکے صلح حدیبیہ کو توڑ نے کی کوشش کرنے لگے انہوںنے قبیلۂ بنی بکر کو قبیلۂ بنی خزاعہ کے خلاف اکسایا جبکہ صلح حدیبیہ کے بعد قبیلۂ بنی بکر قریش کا حلیف بن گیا تھا اور خزاعہ رسول(ص) کا حلیف بن گیا تھااور اسلحہ وغیرہ سے اس کی مدد کی جس کے نتیجہ میں قبیلۂ بکر نے قبیلۂ خزاعہ پر ظلم کیا اور اس کے بہت سے لوگوںکو قتل کر دیا حالانکہ وہ اپنے شہروں میں امن کی زندگی گزار رہے تھے اور بعض تو ان میں سے اس وقت عبادت میں مشغول تھے انہوںنے رسول(ص) سے فریاد کی اور مدد طلب کی۔ عمرو بن سالم نے رسول(ص) کے سامنے کھڑے ہو کر جب آپ(ص) مسجد میں تشریف فرما تھے نقض عہد کے بارے میں کچھ اشعار پڑھے، جس سے رسول(ص) بہت متاثر ہوئے اور فرمایا:''نُصِرتَ یا عمرو بن سالم'' اے سالم کے بیٹے عمرو تمہاری مدد کی جائیگی۔

قریش کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں اپنی غلط حرکت کا احساس ہو گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے انہیں خوف لاحق ہوا اس صورت حال کے بارے میں انہوں نے آپس میں مشورہ کیا تو یہ طے پایا کہ ابو سفیان کو مدینہ بھیجا جائے تاکہ وہ صلح کی تجدید کرے اور رسول(ص) سے مدتِ صلح بڑھانے کی درخواست کرے۔

لیکن رسول(ص) نے ابو سفیان کی باتوں پر توجہ نہ کی بلکہ اس سے یہ فرمایا: اے ابو سفیان کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں رسول(ص) نے فرمایا: ہم اپنی صلح اور اس کی مدت پر قائم ہیں۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۲۱ ص ۵۴، مغازی ج۲ ص ۷۶۶، سیرت حلبیہ ج۳ ص ۶۸۔


اس سے ابوسفیان کا دل مطمئن نہ ہوا اور اس کو سکون حاصل نہیں ہوا بلکہ اس نے رسول(ص) سے عہد لینے اور امان طلب کرنے کی کوشش کی لہذا وہ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنے لگا کہ جو نبی (ص) سے یہ کام کرا دے مگرہر ایک نے واسطہ بننے سے انکار کر دیااور اس کی باتوں کی طرف اعتنا نہ کی۔ جب اسے کوئی چارہ کا ر نظر نہ آیا تو وہ ناکام مکہ واپس لوٹ گیا مشرک طاقتوں کے معاملات پیچیدہ ہو گئے تھے۔ حالات بدل گئے تھے اب رسول(ص) بڑھتی ہوئی طاقت اور راسخ ایمان کے سبب مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہونا چاہتے تھے مشرکین مکہ کی پیمان شکنی نے اس کا جواز پیدا کر دیااور قریش اپنی جان و مال کے لئے امان طلب کرنا چاہتے تھے۔ مکہ پر اقتدار و تسلط کا مطلب یہ تھا کہ پورا جزیرةالعرب اسلام کے زیر تسلط آ جائے۔

رسول(ص) نے یہ اعلان کر دیا کہ سب لوگ دشمن سے جنگ کے لئے تیار ہوجا ئیں چنانچہ مسلمانوں کے گروہ آپ(ص) کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر خدمت ہو نے لگے دس ہزار کا لشکر فراہم ہو گیا رسول(ص) نے چند مخصوص افراد ہی سے اپنا مقصد بیان کیا تھا آپ(ص) خدا سے یہ دعا کر رہے تھے۔

''اللهم خذ العیون و الاخبار من قریش حتی نباغتها فی بلادها'' ( ۱ )

اے اللہ قریش کی آنکھوں اور ان کے سراغ رساں لوگوں کو ناکام کر دے یہاں تک کہ ہم ان کے شہر میں ان کے سروں پر پہنچ جائیں۔

ظاہر ہے کہ رسول(ص) کم مدت میں بغیر کسی خونریزی کے پائیدار کا میابی چاہتے تھے اسی لئے آپ(ص) نے خفیہ طریقہ اختیار کیا تھا لیکن اس کی خبر ایسے شخص کو مل گئی جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھتا تھا چنانچہ اس نے اس سلسلہ میں قریش کو ایک خط لکھ دیا اور ایک عورت کے بدست روانہ کر دیا وحی کے ذریعہ رسول(ص) کو اس کی خبر ہو گئی آپ(ص) نے حضرت علی اور زبیر کو حکم دیا کہ اس عورت تک پہنچو اور اس سے خط واپس لو حضرت علی بن ابی طالب نے رسول(ص) پرراسخ ایمان کے سبب اس عورت سے خط واپس لے لیا۔( ۲ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۳ ص ۳۹۷، مغازی ج۲ ص ۷۹۶۔

۲۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۳۹۸۔


رسول(ص) نے وہ خط لیتے ہی مسلمانوں کو مسجد میں جمع کیا تاکہ ایک طرف ان کی ہمت بڑھا ئیں اور دوسری طرف انہیں خیانت سے ڈرائیں اور ان پر یہ بات ظاہر کر دیں کہ خدا کی رضا کے لئے اپنے جذبات کو کچلنے کی کتنی اہمیت ہے ۔ مسلمان اس خط کے بھیجنے والے حاطب بن ابی بلتعہ کا دفاع کرنے لگے کیونکہ اس نے خدا کی قسم کھا کے یہ کہا تھا کہ خط بھیجنے سے اس کا مقصد خیانت نہیں تھا ، لیکن اس کی اس حرکت پر عمر بن خطاب کو بہت زیادہ غصہ آیا اور رسول(ص) سے عرض کی : اگر اجازت ہو تو میں اسے ابھی قتل کردوں رسول(ص) نے فرمایا:

''وما یدریک یا عمر لعل الله اطلع علیٰ اهل بدر و قال لهم اعملوا ما شئتم خلفه غفرت لکم'' ( ۱ )

اے عمر تمہیں کیا خبر؟ ہو سکتا ہے خدا نے بدر والوں پر نظر کی ہو اور ان سے یہ فرمایا ہو کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے ۔

فوج اسلام کی مکہ کی طرف روانگی

دس رمضان المبارک کو فوج اسلام مکہ کی طرف روانہ ہوئی جب''کدید'' کے مقام پر پہنچی تو رسول(ص) نے پانی طلب کیا اور مسلمانوں کے سامنے آپ(ص) نے پانی پیا، مسلمانوں کو بھی آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا لیکن ان میں سے بعض لوگوں نے رسول(ص) کی نافرمانی کرتے ہوئے روزہ نہ توڑا، ان کی اس نافرمانی پر رسول(ص) غضبناک ہوئے اور فرمایا:''اولٰئک العصاة'' یہ نافرمان ہیں پھرانہیں روزہ توڑنے کا حکم دیا۔( ۲ ) جب رسول(ص) ظہران کے نزدیک پہنچے تو آپ(ص) نے مسلمانوں کو صحراء میں منتشر ہونے اور ہر ایک کو آگ روشن کرنے کا حکم دیا، اس طرح ڈرائونی رات روشن ہو گئی اور قریش کی ہر طاقت کو مسلمانوں کا عظیم لشکر نظر آیا جس کے سامنے قریش کی ساری طاقتیں سر نگوں ہو گئیں، اس کو دیکھ کر عباس بن عبد المطلب پریشان ہوئے

____________________

۱۔ امتاع الاسماع ج۱ ص ۳۶۳، مغازی ج۲ ص ۷۹۸، لیکن محدثین نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے ملاحظہ ہو سیرة المصطفیٰ ، ص ۵۹۲۔

۲۔ وسائل الشیعة ج۷ ص ۱۲۴، سیرت حلبیہ ج۳ ص ۲۹۰، مغازی ج۲ ص ۸۰۲، صحیح مسلم ج۳ ص ۱۴۱ و ۱۴۲، کتاب الصیام باب جواز الصوم و الفطر فی شہر رمضان للمسافر فی غیر معصیة، دار الفکر، بیروت۔


یہ آخری مہاجر تھے جو رسول(ص) سے جحفہ میں ملحق ہوئے -لہذا وہ کوئی ایسا ذریعہ تلاش کرنے لگے جس سے وہ قریش تک یہ پیغام پہنچا سکیں کہ وہ مکہ میں لشکر اسلام کے داخل ہونے سے پہلے فرمانبردار ہو کر آجائیں۔

اچانک عباس نے ابو سفیان کی آواز سنی جو مکہ کی بلندیوں سے اس عظیم لشکر کو دیکھ کر تعجب سے بدیل بن ورقاء سے بات کر رہا تھا اور جب عباس نے ابو سفیان سے یہ بتایا کہ رسول(ص) اپنے لشکر سے مکہ فتح کرنے کے لئے آئے ہیں تو وہ خوف سے کانپنے لگا ۔ اسے اس کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آیا کہ وہ عباس کے ساتھ رسول(ص) کی خدمت حاضر ہو کران سے امان حاصل کر لے ۔

یہ صاحب خلق عظیم اور عفو و بخشش کے بحر بیکراںسے نہیں ہو سکتا تھا کہ اپنے چچا کے ساتھ آنے والے ابو سفیان کے لئے باریابی کی اجازت دینے میں بخل کریں چنانچہ فرمایا: آپ جائیے ہم نے اسے امان دی، کل صبح اسے ہمارے پاس لائیے گا۔

ابو سفیان کا سپر انداختہ ہونا

جب ابو سفیان رسول(ص) کے سامنے آیا تو اس سے آپ(ص) نے یہ فرمایا:''ویحک یا ابا سفیان الم یان لک ان تعلم ان لاالٰه الا اللّه'' اے ابوسفیان وائے ہو تیرے اوپر کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا بیشک تو یہ جان لے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ؟ ابو سفیان نے کہا:میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان ہوں آپ کتنے بردبار، کریم اور صلۂ رحمی کرنے والے ہیں! خدا کی قسم میرا یہ گمان تھا کہ اگر خدا کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو وہ مجھے بے نیاز کر دیتا۔ پھر رسول(ص) نے فرمایا: اے ابو سفیان! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم یہ اقرار کرو کہ میں اللہ کا رسول(ص) ہوں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کتنے بردبار، کریم اور صلۂ رحمی کرنے والے ہیں! خدا کی قسم اس سلسلہ میں ابھی تک میرے دل میں کچھ شک ہے ۔( ۱ )

عباس نے اس موقعہ پر ابو سفیان پر اسلام قبول کرنے کے سلسلہ میں زور دیتے ہوئے کہا : وائے ہو تیرے

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۳ ص ۴۰، مجمع البیان ج۱۰ ص ۵۵۴۔


اوپر، قبل اس کے کہ تجھے قتل کر دیا جائے یہ گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد(ص) اس کے رسول (ص) ہیں۔ پس ابو سفیان نے قتل کے خوف سے خدا کی وحدانیت اور محمد(ص) کی رسالت کی گواہی دی اور مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔

ابو سفیان کے اسلام لانے کے بعد مشرکین کے دوسرے سردار بھی اسی طرح اسلام لے آئے لیکن رسول(ص) نے اس غرض سے کہ قریش خونریزی کے بغیر اسلام قبول کر لیں، ان پر نفسیاتی دبائو ڈالا۔ عباس سے فرمایا: اے عباس ا سے کسی تنگ وادی میں لے جائو، جہاں سے یہ فوجوں کو دیکھے۔

رسول(ص) نے اطمینان کی فضا پیدا کرنے اور اسلام و رسول اعظم کی مہربانی و رحم دلی پر اعتماد قائم کرنے نیز ابو سفیان کی عزت نفس کو باقی رکھنے کی غرض سے فرمایا:

جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اس کے لئے امان ہے جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا وہ امان میں ہے ، جو مسجد میں داخل ہو جائیگا وہ امان میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے گا وہ امان میں ہے ۔

اس تنگ وادی کے سامنے سے خدائی فوجیں گذرنے لگیں جو دستہ گذرتا تھا عباس اس کا تعارف کراتے تھے کہ یہ فلاں کا دستہ ہے وہ فلاںکا دستہ ہے اس سے ابو سفیان پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ اس نے عباس سے کہا: اے ابو الفضل خدا کی قسم تمہارا بھتیجہ بہت بڑا بادشاہ بن گیا، عباس نے جواب دیا: یہ بادشاہت نہیں ہے یہ نبوت ہے ۔ ان کے جواب میںابوسفیان نے تردد کیا ۔ اس کے بعد اہل مکہ کو ڈرانے اور رسول(ص) کی طرف سے ملنے والی امان کا اعلان کرنے کے لئے ابو سفیان مکہ چلا گیا۔( ۱ )

مکہ میں داخلہ

رسول(ص) نے اپنی فوج کے لئے مکہ میں داخل ہونے سے متعلق کچھ احکام صادر فرمائے اورہر دستہ کے لئے راستہ معین کر دیا نیزیہ تاکید فرمائی کہ جنگ سے پرہیز کریں ہاں اگر کوئی بر سر پیکار ہو جائے تو اس کاجواب

____________________

۱۔ مغازی از واقدی ج۲ ص ۸۱۶، سیرت نبویہ ج۳ ص ۴۷۔


دیا جائے، چند مشرکین کا خون ہر حال میں مباح قرار دیا، خواہ وہ کعبہ کے پردہ ہی سے لٹکے ہوئے ہوں کیونکہ وہ اسلام اور رسول(ص) کے سخت ترین دشمن تھے۔

جب مکہ کے درو دیوار پرآپ (ص) کی نظر پڑی تو آنکھوں میں اشک بھر آئے، اسلامی فوجیں چاروں طرف سے فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئیں فتح و نصرت نے اس کی شان دوبالا کر دی تھی اور رسول(ص) کو خدانے جو نعمت و عزت عطا کی تھی اس کے شکریہ کی خاطر رسول(ص) سر جھکائے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے کیونکہ اعلائے کلمةاللہ کے لئے آپ (ص) کی بے پناہ جانفشانیوں کے بعد ام القریٰ نے آپ(ص) کی رسالت و حکومت کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔

اہلِ مکہ کے شدید اصرار کے باوجود نبی (ص) نے کسی کے گھر میں مہمان ہونا قبول نہیں کیا تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد آپ(ص) نے غسل کیا اور سواری پر سوار ہوئے۔ تکبیر کہی تو سارے مسلمانوں نے تکبیر کہی، دشت و جبل میں نعرۂ تکبیر کی آواز گونجنے لگی-جہاں اسلام اور اس کی فتح سے خوف زدہ ہو کر شرک کے سرغنہ جا چھپے تھے-خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ(ص) نے اس میں موجود ہر بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:( قل جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل کان زهوقا ) کہو ،حق آیا باطل گیا باطل کو تو جانا ہی تھا اس سے ہر بت منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔

رسول(ص) نے حضرت علی سے فرمایا: تم بیٹھ جائو تاکہ میں تمہارے دوش پر سوار ہو کر بتوںکو توڑ دوں لیکن حضرت علی اپنے دوش پر نبی (ص) کا بار نہ اٹھا سکے تو حضرت علی بن ابی طالب دوش رسول(ص) پر سوار ہوئے اور بتوں کو توڑ ڈالا ۔ پھر رسول(ص) نے خانۂ کعبہ کی کلید طلب کی، دروازے کھولے، اندر داخل ہوئے اور اس میں موجود ہر قسم کی تصویر کو مٹا دیا۔ اس کے بعد خانۂ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر فتحِ عظیم کے بارے میں ایک جمِّ غفیر کے سامنے خطبہ دیا ، فرمایا:


''لا الٰه الا اللّٰه وحده لا شریک له، صدق وعده، و نصر عبده، و هزم الاحزاب وحده، الا کل ماثره اودم او مال یدعی فهو تحت قدمی هاتین الا سدانة البیت و سقایة الحاج...'' ۔

اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے سارے لشکروں کو شکست دی، ہر وہ فضیلت یا خون یا مال کہ جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے میرے قدموں کے نیچے ہے ، سوائے خانۂ کعبہ کی کلید برداروی اور حاجیوں کو سیراب کرنے کی فضیلت...۔

پھر فرمایا:'' یا معاشر قریش ان اللّٰه قد اذهب عنکم نخوة الجاهلیة وتعظمها بالآباء النّاس من آدم و آدم من تراب...'' ( ۱ )

اے گروہ قریش! خدا نے تمہارے درمیان سے جاہلیت کی نخوت کو ختم کر دیا ہے وہ اپنے آباء و اجداد پر فخر کرتے تھے یا د رکھو سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔

( یا ایها النّاس انا خلقناکم من ذکرٍ و انثیٰ و جعلناکم شعوباً و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللّٰه اتقاکم ان اللّٰه علیم خبیر )

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد و عورت سے پیدا کیاہے اور پھر تمہارے گروہ اور قبیلے بنا دیئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک خدا کی نظر میں تم میں سے وہی محترم ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔( ۲ )

پھر فرمایا: اے گروہِ قریش تم کیا سوچتے ہو میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟

انہوں نے کہا: آپ مہربان بھائی اور مہربان بھائی کے فرزند ہیں۔ آپ(ص) نے فرمایا:''اذهبوا انتم طلقائ'' ( ۳ ) جائو تم آزاد ہو۔

____________________

۱۔ مسند احمدج۱ ص ۱۵۱، فرائد السمطین ج۱ ص ۴۹، کنز العمال ج۱۳ ص۱۷۱، سیرت حلبیہ ج۳ ص ۸۶۔

۲۔حجرات:۱۳۔

۳۔ بحار الانوار ج۲۱، ص ۱۰۶، سیرت نبویہ ج۲ ص ۴۱۲۔


اس کے بعد بلال نے خانۂ کعبہ کی چھت پر جاکر اذان ظہر دی سارے مسلمانوں نے اس فتح کے بعد مسجد الحرام میں رسول(ص) کی امامت میں نماز پڑھی ، مشرکین حیرت سے کھڑے منہ تک رہے تھے، سرتاپا خوف و استعجاب میں ڈوبے ہوئے تھے، اہل مکہ کے ساتھ رسول(ص) کا یہ سلوک دیکھ کر انصار کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں رسول(ص) دوبارہ مکہ آباد نہ کریں ، ان کے ذہنوںمیں اور بہت سے خیالات گردش کر رہے تھے، رسول(ص) بارگاہ معبود میں دست بدعا تھے، انصار کے دل کی کیفیت سے بھی آگاہ تھے، انہیں مخاطب کر تے ہوئے فرمایا:''معاذ اللّٰه المحیا محیاکم و الممات مماتکم'' ایسا نہیں ہوگا میری موت و حیات تمہاری موت و حیات کے ساتھ ہے ، اسلام کا مرکز مدینہ ہی رہے گا۔

اس کے بعد مکہ والے رسول(ص) سے بیعت کے لئے بڑھے، پہلے مردوںنے بیعت کی ۔ بعض مسلمانوں نے ان لوگوں کی بھی رسول(ص) سے سفارش کی جن کا خون مباح کر دیا گیا تھا، رسول(ص) نے انہیںمعاف کر دیا۔

پھر عورتیں بیعت کے لئے آئیں -ان کی بیعت کے لئے آپ(ص) نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ ایک پانی سے لبریز ظرف میں پہلے آپ(ص) ہاتھ ڈال کر نکالتے تھے پھر عورت اس میں ہاتھ ڈالتی تھی- ان سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ کسی بھی چیز کو خدا کا شریک نہیں قراردیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور اپنے ہاتھوں پیروں کے ذریعہ گناہ نہیں کریںگی اور بہتان نہیں باندھیں گی اور امر بالمعروف میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔( ۱ )

رسول(ص) اس وقت غضبناک ہوئے جب آپ(ص) کے حلیف خزاعہ نے مشرکین کے ایک آدمی پر زیادتی کی اور اسے قتل کر دیا، آپ(ص) کھڑے ہوئے ایک خطبہ ارشاد فرمایا:

''یا ایّها النّاس ان الله حرم مکة یوم خلق السمٰوات و الارض فهی حرام الیٰ یوم القیامة لا یحل لامریٔ یؤمن باللّٰه و الیوم الآخر ان یسفک دماً او یعضد فیها شجراً'' ۔( ۲ )

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۲۱، ص ۱۱۳ ، سورۂ ممتحنہ :۱۲۔

۲۔ سنن ابن ماجہ حدیث ۳۱۰۹، کنز العمال ح ۳۴۶۸۲، در منثور ج۱ ص ۱۲۲۔


اے لوگو! بیشک خدا نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا اسی روز مکہ کو حرم قراردیدیا تھا اور وہ قیامت تک حرم ہی رہے گا اور جو شخص خدا و آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اس میں خونریزی کرے یا اس میں کوئی درخت کاٹے۔

پھر فرمایا:''من قال لکم ان رسول اللّه قد قاتل فیها فقولوا ان اللّه قد احلها لرسوله و لم یحللها لکم یا معاشرخزاعه''

اور اگر کوئی کہے کہ رسول اللہ(ص) نے اس شہر میں جنگ کی ہے تو اس سے کہو کہ خدا نے اپنے رسول کے لئے جنگ حلال کی تھی اور تمہارے لئے جنگ حلال نہیں کی ہے اے بنی خزاعہ!

رسول(ص) نے اہل مکہ اور اس کے باشندوںکے بارے میں جس محبت و مہربانی ،عفو و در گذر اور مکہ کی سر زمین کی تقدیس اور اس کی حرمت کے متعلق جو اقدام کئے تھے وہ قریش کو بہت پسند آئے، لہذا ان کے دل آپ(ص) کی طرف جھکے اورانہوں نے بطیب الخاطر اسلام قبول کرلیا۔

جب پورا علاقہ مسلمان ہو گیا تو رسول(ص) نے مکہ اور اس کے مضافات میں بعض دستے روانہ کئے تاکہ وہ باقی ماندہ بتوں کو توڑ ڈالیں اور مشرکین کے معبدوں کو منہدم کر دیں لیکن خالد بن ولید نے اپنے چچا کے قصاص میں بنی جذیمہ کے بہت سے لوگوں کو قتل کر ڈالا حالانکہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے۔( ۱ ) جب رسول (ص) کو اس سانحہ کی خبر ملی تو آپ(ص) بہت غضبناک ہوئے اور حضرت علی کو حکم دیا کہ ان مقتولوں کی دیت ادا کریں پھرآپ(ص) قبلہ رو کھڑے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا اور عرض کی:''اللّهم انّی ابرء الیک مما صنع خالد بن الولید'' اے اللہ جو کچھ خالد بن ولید نے کیا ہے میں اس سے بری ہوں، اس سے بنی جذیمہ کے دلوںکو اطمینان ہو گیا۔( ۲ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۴۲۰، خصال ص ۵۶۲، امالی طوسی ص ۳۱۸۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۴۸۔


۳۔ جنگ حنین او ر طائف کا محاصرہ( ۱ )

فاتح کی حیثیت سے رسول(ص) کو مکہ میں پندرہ روز گزر گئے شرک کی مدتِ دراز کے بعد توحید کا یہ عہدِ جدید تھا مسلمان مسرت میں جھوم رہے تھے، ام القریٰ میں امن و امان کی حکمرانی تھی اچانک رسول(ص) کو یہ خبر ملی کہ ہوازن و ثقیف دونوں قبیلوںنے اسلام سے جنگ کرنے کی تیاری کر لی ہے ان کا خیال ہے اس کام کو انجام دیدیں گے جسے شرک و نفاق کی ساری طاقتیں متحد ہو کر انجام نہ دے سکیں یعنی یہ دونوں قبیلے-معاذ اللہ- اسلام کو نابود کر دیں گے؟! رسول(ص) نے ان سے نمٹنے کا عزم کیا لیکن آپ(ص) نے اپنی عادت کے مطابق پہلے مکہ میں امور کی دیکھ بھال کا انتظام کیا نماز پڑھانے اور امور کا نظم و نسق عتاب بن اسید کے سپرد کیا لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور انہیں احکام اسلام سکھانے کے لئے معاذ بن جبل کو معین کیا اس کے بعد بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ روانہ ہوئے، اتنی بڑی فوج مسلمانوں نے نہیں دیکھی تھی اس سے انہیں غرور ہو گیا یہاں تک ابو بکر کی زبان پر یہ جملہ آگیا : اگر بنی شیبان بھی ہم سے مقابلہ کریں گے تو آج ہم اپنی قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہونگے۔( ۲ )

ہوازن و ثقیف میں اتحاد تھاوہ جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے اہل و عیال کو بھی اپنے ہمراہ لائے تھے اور لشکر اسلام کو کچلنے کے لئے گھات میں بیٹھ گئے تھے۔لشکر اسلام کے مہراول دستے جب کمین گاہ کے اطراف میں پہنچے توانہوں نے انہیں فرار کرنے پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ دشمن کے اسلحہ سے ڈر کر باقی مسلمان بھی ثابت قدم نہ رہ سکے، بنی ہاشم میں سے صرف نو افراد رسول(ص) کے ساتھ باقی بچے تھے دسویں ایمن-ام ایمن کے بیٹے- تھے۔ یہ صورت حال دیکھ کر منافقین مارے خوشی کے اچھل پڑے۔ ابو سفیان طعن و تشنیع کرتا ہوا نکلا اور کہنے لگا۔ یہ لوگ جب تک سمندر کے کنارے تک نہیں پہنچیں گے اس وقت تک دم نہیں لیں گے ۔ کسی نے کہا: کیا آج سحر باطل نہیں ہو گیا؟ کسی نے اس پریشان حالی میں رسول(ص) کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔( ۳ )

____________________

۱۔ جنگ حنین ماہ شوال ۸ھ میں ہوئی ۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۵۰، مغازی ج۲ ص ۸۸۹۔

۳۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۴۴۳، مغازی ج۳ ص ۹۹۔


رسول(ص) نے اپنے چچا عباس سے فرمایا کہ بلندی پر جاکر شکست خوردہ اور بھاگے ہوئے انصار و مہاجرین کو اس طرح آواز دیں:'' یا اصحاب سورة البقره، یا اهل بیعة الشجرة الی این تفرون؟ هذا رسول اللّه!''

اے سورۂ بقرہ والو! اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ یہ اللہ کے رسول(ص) ہیں ۔

اس سے وہ لوگ غفلت کے بعد ہوش میں آگئے، پراگندگی کے بعد میدان کار زار پھر گرم کیا، اسلام اور رسول(ص) کا دفاع کرنے کے بارے میں جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے کی طرف لوٹ آئے جب رسول(ص) نے ان کی جنگ دیکھی تو فرمایا:''الآن حمی الوطیس انا النبی لا کذب انا ابن المطلب'' ہاں اب جنگ اپنے شباب پر آئی ہے ، میں خدا کا نبی (ص) ہوں جھوٹ نہیں ہے ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ پس خدا نے مسلمانوں کے دلوں کو سکون بخشااور اپنی مدد سے ان کی تائید کی جس کے نتیجے میں کفر کے گروہ شکست کھا کر بھاگ گئے ، لشکر اسلام نے ان میں سے چھہ ہزار کو اسیر کیااور بہت سا مال غنیمت پایا۔( ۱ )

رسول(ص) نے فرمایا: مال غنیمت کی حفاظت اور اسیروں کی نگہبانی کی جائے۔ دشمن فرار کرکے اوطاس، نخلہ اور طائف تک پہنچ گیا۔

یہ رسول(ص) کے اخلاق کی بلندی ، رحم دلی اور عفو ہی تھا کہ آپ(ص) نے ام سلیم سے فرمایا:''یا ام سلیم قد کفی اللّه، عافیة اللّه اوسع'' خدا کافی ہے اور اس کی عافیت بہت زیادہ وسیع ہے ۔

دوسری جگہ رسول(ص) اس وقت غضبناک ہوئے جب آپ(ص) کو یہ خبر ملی کہ بعض مسلمان مشرکین کی ذریت کو تہ تیغ کر رہے ہیں فرمایا:''ما بال اقوام ذهب بهم القتل حتی بلغ الذریة الا لا نقتل الذریة'' ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے اب وہ بچوں تک کو قتل کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم بچوںکو قتل نہیں کرتے ہیں۔ اسید بن حضیر نے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص)! کیایہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ فرمایا:

____________________

۱۔ اس سلسلہ میں سورۂ توبہ کی کچھ آیتیں نازل ہوئی تھیں جو کہ خدا کی تائید و نصرت کی وضاحت کر رہی ہیں۔


''اولیس خیارکم اولاد المشرکین ، کل نسمة تولد علیٰ الفطرة حتی یعرب عنها لسانها و ابواها یهودانها او ینصرانها'' ( ۱ ) کیا تمہارے بہترین افراد مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ ہر انسان فطرت-اسلام- پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔

مسلمانوں کے فوجی دستے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے طائف تک پہنچ گئے اور تقریبا پچیس دین تک ان کا محاصرہ کئے رہے ، وہ بھی دیواروں کے پیچھے سے مسلمانوں پر تیر بارانی کرتے تھے اس کے بعد رسول(ص) بہت سی وجوہ کی بنا پر طائف سے لوٹ آئے۔

جب جعرانہ -جہاں اسیروں اور مال غنیمت کو جمع کیا گیا تھا-پہنچے تو قبیلۂ ہوازن کے بعض لوگوں نے خدمت رسول(ص) میں معافی کے لئے التماس کی، کہنے لگے: اے اللہ کے رسول(ص)! ان اسیروں میں بعض آپ(ص) کی پھوپھیاں اور بعض خالائیں ہیں جنہوں نے آپ(ص) کو گود کھلایا ہے -ایک روایت کے مطابق رسول(ص) کو رضاعت کے لئے قبیلہ بنی سعد کے سپرد کیا گیا تھا جو کہ ہوازن کی شاخ تھی-اگر ہم حارث بن ابی شمر یا نعمان بن المنذر سے انتا اصرار کرتے تو ہمیں ان کے عفو و مہربانی کی امید ہوتی۔ آپ(ص) سے توان سے زیادہ امید ہے ۔ اس گفتگو کے بعد رسول(ص) نے ان سے یہ فرمایا: ایک چیز اختیار کریں ۔ یا مال واپس لے لیں یا قیدیوں کو چھڑا لیں۔ انہوں نے قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔ پھر رسول(ص) نے فرمایا:''اما ما کان لی ولبن عبد المطلب فهو لکم '' جو میرا اور بنی عبد المطلب کا حصہ ہے وہ تمہارا ہے جب مسلمانوںنے رسول (ص) کا عفو و کرم دیکھا تو انہوںنے بھی اپنا اپنا حصہ رسول(ص) کے سپرد کر دیا۔( ۲ )

رسول(ص) نے اپنی حکمت بالغہ اور درایت سے تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نیز جنگ کی آگ کو خاموش کرنے کی خاطر سب کو معاف کر دیا یہاں تک کہ اس جنگ کو بھڑکانے والا مالک بن حارث بھی اگر مسلمان ہو کر آپ کے پاس آجائے تو اسے بخش دیا جائیگا۔ چنانچہ ارشاد ہے :

____________________

۱۔ امتاع الاسماع ج۱ ص ۴۰۹۔

۲۔سید المرسلین ج۲ ص ۵۳، مغازی ج۳ ص ۹۴۹-۹۵۳۔


''اخبروا مالکاً انّه ان اتانی مسلماً رددت علیه اهله و ماله واعطیته مائة من الابل و سرعان ما اسلم مالک'' ( ۱ )

مالک کو خبر کرو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آئیگا تو اس کے اہل و عیال اور مال و دولت اسے واپس مل جائیں گے اور مزیداسے سو اونٹ دئیے جائینگے۔ اس کے نتیجہ میں مالک نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

مال غنیمت کی تقسیم

مسلمان رسول(ص) کی خدمت میں آئے اور مال غنیمت تقسیم کرنے کے لئے اصرار کرنے لگے ،انہوں نے اس سلسلہ میں اتنی شدت اختیار کی کہ آپ(ص) کی ردا تک اچک لے گئے آپ(ص) نے فرمایا:

''ردوا علی ردائی فو اللّٰه لو کان لکم بعدد شجر تهامة نعماً لقسمته علیکم، ثم ما الفیتمونی بخیلاً ولا جباناً ولا کذاباً'' ۔

میری ردا واپس کر دو، خدا کی قسم اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی تمہارا مال ہوتا تو بھی میں اسے تقسیم کر دیتا پھر تم مجھ پر بخل، بزدلی اور جھوٹ کا الزام نہیں لگا سکتے تھے۔

اس کے بعد آپ(ص) اٹھے، اپنے اونٹ کے کوہان کے کچھ بال لئے اور اپنی انگلیوں میں لیکر بلند کیا اورفرمایا:

''ایها النّاس و اللّه مالی فی فیئکم ولا هذه الوبرة الا الخمس ، و الخمس مردود علیکم'' ۔

اے لوگو! اس مال غنیمت میں میرا حصہ اس اونٹ کے بال کے برابر بھی نہیں ہے سوائے خمس کے اور وہ پانچواں حصہ بھی تمہیں دے دیا گیا ہے ۔ پھر آپ نے یہ حکم دیا کہ جو چیز بھی غنیمت میں ہاتھ آئی ہے اسے واپس لوٹایا جائے تاکہ انصاف کے ساتھ تقسیم ہو سکے۔

____________________

۱۔ مغازی ج۳ ص ۹۵۴ و ص ۹۵۵۔


رسول(ص) نے مولفة القلوب ، ابو سفیان، معاویہ بن ابو سفیان، حکیم بن حزام، حارث بن حارث، سہیل بن عمرو،حویطب بن عبد العزی اور صفوان بن امیہ وغیرہ سے شروع کیا، یہ کفر و شرک کے وہ سرغنہ تھے جو آپ (ص) کے سخت ترین دشمن اور کل تک آپ(ص) سے جنگ کرتے تھے۔ اس کے بعد اپنا حق خمس بھی انہیں میں تقسیم کر دیا رسول(ص) کے اس عمل سے بعض مسلمانوں کے دل میں غصہ وحمیت بھڑک اٹھی کیونکہ وہ رسول(ص) کے مقاصد اور اسلام کی مصلحتوں سے واقف نہیں تھے ، یہ غصہ میں اتنے آپے سے باہر ہوئے کہ ان میں سے ایک نے تو یہ تک کہہ دیا کہ میں آپ(ص) کو عادل نہیں پاتا ہوں۔ اس پر رسول(ص) نے فرمایا: ''ویحک اذا لم یکن العد ل عندی فعند من یکون'' وائے ہو تمہارے اوپر اگر میں عدل نہیں کرونگا تو کون عدل کرے گا؟ عمر بن خطاب چاہتے تھے کہ اسے قتل کر دیں لیکن رسول(ص) نے انہیں اجازت نہیں دی فرمایا:''دعوه فانه سیکون له شیعة یتعمقون فی الدین حتی یخرجوا منه کما یخرج السهم من رمیته'' ۔( ۱ )

جانے دو عنقریب اس کے پیرو ہونگے جو دین کے بارے میں بہت بحث کیا کریں گے او ردین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح کمان سے تیر نکل جاتا ہے ۔

انصار کا اعتراض

سعد بن عبادہ نے یہ مناسب سمجھا کہ رسول(ص) کو انصار کی یہ بات ''کہ رسول(ص) اپنی قوم سے مل گئے اور اپنے اصحاب کو بھول گئے'' بتا دی جائے جو ان کے درمیان گشت کر رہی ہے ۔ سعد نے انصار کو جمع کیا رسول(ص) کریم تشریف لائے تاکہ ان سے گفتگو کریں، پس آپ(ص) نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

''یا معشر الانصار ما مقالة بلغتنی عنکم وجِدَةً وجد تموها ف انفسکم؟ ! الم آتکم ضُلّالاً فهداکم اللّه و عالة فاغناکم اللّه و اعدائً فالّف اللّه بین قلوبکم؟ قالوا: بلیٰ اللّه و

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۴۹۶، مغازی ج۳ ص ۹۴۸۔


رسوله أمّنُّ و افضل ، ثم قال: الا تجیبون یا معشر الانصار؟ قالواو ماذا نجیبک یا رسول اللّه؟ قال: اما و اللّه لو شئتم قلتم فصدقتم: اتیتنا مکذباً فصدقناک و مخذولاً فنصرناک و طریداً فآویناک و عائلاً فآسیناک وجدتم ف انفسکم یا معشر الانصار ان یذهب النّاس بالشاة و البعیر و ترجعوا برسول اللّه الیٰ رحالکم؟ و الذی نفس محمد بیده لولا الهجرة لکنت امر ئاً من الانصار ولو سلک النّاس شعباً و سلکت الانصار شعباً لسلکت شعب الانصار''

اے گروہ انصار! مجھ تک تمہاری وہ بات پہنچی ہے جو تم اپنے دلوں میں محسوس کر رہے ہو ۔ کیا تم پہلے گمراہ نہیں تھے ، خدا نے تمہیں-ہمارے ذریعہ-ہدایت دی، تم نادار و مفلس تھے خدا نے تمہیں ہماری بدولت مالا مال کیا۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے خدا نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی۔ کیا ایسا نہیں ہے ؟ انصار نے کہا: خدا و رسول(ص) کا احسان سب سے بڑھ کر ہے۔ پھر فرمایا: اے گروہ انصار کیا تم مجھے جواب نہیں دوگے؟ انہوںنے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص)! ہم آپ(ص) کو کس طرح جواب دیں؟ آپ(ص) نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم اس طرح کہتے تو سچ ہوتا کہ لوگوں نے آپ(ص) کو جھٹلایا اور ہم نے اپ(ص) کی تصدیق کی ، لوگوں نے آپ(ص) کو چھوڑ دیا تو ہم نے آپ(ص) کی مدد کی لوگوںنے آپ(ص) کو وطن سے نکال دیا تو ہم نے آپ(ص) کو پناہ دی، آپ مفلس تھے ہم نے آپ(ص) کی مال سے مدد کی اے گروہِ انصار! تم اپنے دلوں میں دنیا کی جس چیز کی محبت محسوس کرتے ہو اس کے ذریعہ میں نے کچھ لوگوں کی تالیف قلب کی ہے تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں اور تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے اے گروہ انصار کیاتمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ لوگ اونٹ اور بکریوں کے ساتھ اپنے گھر جائیں اور تم اللہ کے رسول(ص) کے ساتھ اپنے گھر جائو؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد(ص) کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی میں سے ہوتا اگر لوگ کسی قبیلہ کا انتخاب کرتے اور انصار بھی کسی قبیلہ کا انتخاب کرتے تو میں انصار کے قبیلہ کو اختیار کرتا۔

ان جملوںنے ان کے دلوں میں جذبات و شعور کو بیدار کر دیا اور وہ یہ سمجھ گئے کہ رسول(ص) کے بارے میں ان کا خیال صحیح نہیں تھا یہ سوچ کر وہ رونے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول(ص) ہم اسی تقسیم پر راضی ہیں۔


ماہِ ذی الحجہ میں رسول(ص) اپنے ساتھیوں کے ساتھ جعرانہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، عمرہ بجالائے احرام کھولا، عتاب بن اسید اور ان کے ساتھ معاذ بن جبل کو مکہ میں اپنا نمائندہ مقرر کیا جو مہاجرین و انصارآپ کے ساتھ تھے ان کے ہمراہ آپ(ص)مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔( ۱ )

۴۔ جنگ تبوک( ۲ )

اسلامی حکومت ایک مستقل نظام کی صورت میں سامنے آئی اس کے سامنے بہت سے چیلنج تھے اس کی سرحدوں اور زمینوں کی حفاظت کرنا مسلمانوںکا فریضہ تھا تاکہ زمین کے گوشہ گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچ جائے۔

رسول(ص) نے مملکتِ اسلامیہ کے تمام مسلمانوںسے یہ فرمایا کہ روم سے جنگ کے لئے تیاری کرو، کیونکہ روم کے بارے میں مسلسل یہ خبریں مل رہی تھیں کہ وہ جزیرہ نمائے عرب پر حملہ کرکے دین اسلام اور اس کی حکومت کونیست و نابود کرنے کے لئے تیاری کر رہا ہے۔ اتفاق سے اس سال بارش نہیں ہوئی، جس کے نتیجہ میںپیداوار کم ہوئی اور شدید گرمی پڑ ی، اس صورت میں دشمن کی اس فوج سے مقابلہ کے لئے نکلنا بہت دشوار تھا جو تجربہ کار قوی اور کثیر تھی چنانچہ جن لوگوں میں روحانیت کم تھی اور جن کے نفس کمزور تھے وہ پیچھے ہٹ گئے اور ایک بار پھر نفاق کھل کرسامنے آ گیا تاکہ ارادوںمیں ضعف آجائے اور اسلام کو چھوڑ دیا جائے۔

بعض تو اس لئے لشکر اسلام میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ وہ دنیا کو بہت دوست رکھتے تھے، بعض شدید گرمی کو بہانہ بنا کر پیچھے ہٹ گئے کچھ اپنے ضعف اور رسول(ص) کے کم وسائل کی وجہ سے آپ(ص) کے ساتھ نہیں گئے، حالانکہ راہ خدا میں جہاد کے لئے سچے مومنین نے اپنا مال بھی خرچ کیا تھا۔

رسول (ص) کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ منافقین ایک یہودی کے گھر میں جمع ہوتے ہیں اور لوگوں کو جنگ میں

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۴۹۸، مغازی ج۳ ص ۹۵۷۔

۲۔ جنگ تبوک ماہ رجب ۹ھ میں ہوئی ۔


شریک ہونے سے روکتے ہیں، انہیں ڈراتے ہیں، رسول(ص) نے دور اندیشی اورسختی کے ساتھ اس معاملہ کو بھی حل کیا۔ ان کے پاس ایسے شخص کو بھیجا جس نے انہیں اسی گھر میں جلا دیا تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو جائے۔

خدا نے کچھ آیتیں نازل کی ہیں جو منافقین کی گھناونی سازشوںکو آشکار کرتی ہیں اور جنگ سے جی چرانے والوں کو جھنجھوڑتی ہیں اور کمزور لوگوں کو معذور قرار دیتی ہیں مسلمانوں کی فوج میں کم سے کم تیس ہزار سپاہی تھے-روانگی سے قبل رسول(ص) نے مدینہ میں حضرت علی بن ابی طالب کو اپنا خلیفہ مقرر کیا کیونکہ آپ(ص) جانتے تھے کہ علی تجربہ کار بہترین تدبیر کرنے والے اور پختہ یقین کے حامل ہیں۔ رسول(ص) کو یہ خوف تھا کہ منافقین مدینہ میں تخریب کاریاں کریں گے اس لئے فرمایا: ''یا علی ان المدینة لا تصلح الا بی او بک''۔( ۱ ) اے علی ! مدینہ کی اصلاح میرے یا تمہارے بغیر نہیں ہو سکتی۔

نبی (ص) کی نظر میں علی کی منزلت

جب منافقین او ردل کے کھوٹے لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ علی بن ابی طالب مدینہ میں ہی رہیں گے تو انہوں نے بہت سی افواہیں پھیلائیں کہنے لگے رسول (ص) انہیں اپنے لئے درد سر سمجھتے ہیں اس لئے یہاں چھوڑ گئے ہیں، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ خالی ہو جائے تاکہ پھر وہ حسب منشا جوچاہیںسو کریں ان کی یہ باتیں سن کر حضرت علی نے رسول(ص) سے ملحق ہونے کے لئے جلدی کی چنانچہ مدینہ کے قریب ہی آنحضرت (ص) کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول(ص) منافقین کا یہ گمان ہے کہ آپ(ص) مجھے اپنے لئے وبال جان سمجھتے ہیں اسی لئے مجھے آپ (ص) نے مدینہ میں چھوڑا ہے ۔

فرمایا:''کذبوا ولکننی خلفتک لما ترکت ورائ فاخلفنی فی اهلی و اهلک افلا ترضیٰ یا علی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسیٰ الّا انّه لا نبی بعدی'' ( ۲ )

____________________

۱۔ ارشاد مفید ج۱ ص ۱۱۵، انساب الاشراف ج۱ ص ۹۴ و ۹۵، کنز العمال ج۱۱ باب فضائل علی۔

۲۔ امتاع الاسماع ج۱ ص ۴۴۹، صحیح بخاری ج۳ ص ۱۳۵، حدیث۳۵۰۳، صحیح مسلم ج۵ ص ۲۳، حدیث ۲۴۰۴، سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۴۲، حدیث ۱۱۵، مسند احمد ج۱ ص ۲۸۴، حدیث ۱۵۰۸۔


وہ جھوٹے ہیں ،میں نے تمہیںاپنا جانشین بنایا ہے تاکہ تم اپنے اور میرے اہل خانہ میں میرے جانشین رہو، اے علی ! کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے بس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

مسلمانوں کی فوج دشوار و طویل راستہ طے کرتی چلی جا رہی تھی اس جنگ میں رسول(ص) نے گذشتہ جنگوں کے بر خلاف مقصد و ہدف کی وضاحت فرمادی تھی ، جو لوگ مدینہ سے آپ(ص) کے ساتھ چلے تھے ان کی ایک جماعت نے راستہ کے بارے میں آپ(ص) سے اختلاف کیا تو آپ(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا:''دعوه فان یکن به خیر سیلحقه اللّه بکم و ان یکن غیر ذالک فقد اراحکم اللّٰه منه''

انہیں جانے دو اگر ان کا ارادہ نیک ہے تو خدا انہیں تم سے ملحق کر دے گا اور اگر کوئی دوسرا ارادہ ہے توخدا نے تمہیں ان سے نجات دیدی۔

رسول(ص) تیزی سے منزل مقصود کی طرف بڑھ رہے تھے جب آپ(ص) حضرت صالح کی قوم کے ٹیلوں کے پاس سے گذرے تو اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:''لا تدخلوا بیوت الذین ظلموا اِلّا و انتم باکون خوفاً ان یصیبکم ما اصابهم' ' ظلم کرنے والوں کے گھروں میں داخل نہ ہونا مگر روتے ہوئے اور اس خوف کے ساتھ(داخل ہونا)کہ جو افتاد ان پر پڑی تھی وہ تم پرنہ پڑے'' اور انہیں اس علاقہ کا پانی استعمال کرنے سے منع کیا اور انہیں سخت موسم سے آگاہ کیا نیزاس جنگ میں کھانے پانی اور دیگر اشیاء کی قلت سے متنبہ کیا، اسی لئے اس لشکر کو ''جیش العسرة'' کہتے ہیں۔

مسلمانوں کو روم کی فوج نہیں ملی کیونکہ وہ پراگندہ ہو چکی تھی۔ اس موقعہ پر رسول(ص) نے اصحاب سے یہ مشورہ کیا کہ دشمن کا تعاقب کیا جائے یا مدینہ واپس چلا جائے اصحاب نے عرض کی: اگر آپ کو چلنے کا حکم دیاگیا ہے تو چلئے رسول(ص) نے فرمایا:''لو امرت به ما استشرتکم فیه'' اگر مجھے حکم دیا گیا ہوتا تو میں تم سے مشورہ نہ کرتا( ۱ ) پھر آپ(ص) نے مدینہ لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

____________________

۱۔المغازی ج۳ ص۱۰۱۹ ۔


رسول(ص) جزیرہ عرب کے شمالی علاقہ کے سرداروں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے یہ معاہدہ کیا کہ طرفین میں سے کوئی بھی کسی پر حملہ و زیادتی نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد رسول(ص) نے خالد بن ولید کو دومة الجندل کی طرف بھیجا کیونکہ وہاں کے سرداروں سے یہ خوف تھا کہ وہ دوسرے حملہ میں کہیں روم کا ساتھ نہ دیں مختصر یہ کہ مسلمانوں نے وہاں کے حاکم کو گرفتار کر لیا اور بہت سا مال غنیمت ساتھ لائے۔( ۱ )

رسول(ص) کے قتل کی کوشش

مقام تبوک میں دس بارہ روز گزارنے کے بعد رسول(ص) اور مسلمان مدینہ کی طرف واپس لوٹے جن لوگوں کا خدا اور اس کے رسول(ص) پر ایمان نہیں تھا ان کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ کیا اور انہوں نے رسول(ص) کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ جب آپ(ص) کا ناقہ ان کے پاس سے گذرے گا تو اسے بھڑکا دیں گے تاکہ آپ(ص) کو گھاٹی میں گرا دے۔

جب یہ لشکر-مدینہ و شام کے درمیان-مقام عقبہ پر پہنچا تو رسول(ص) نے یہ فرمایا:''من شاء منکم ان یاخذ بطن الوادی فانه اوسع لکم'' جو تم میں سے وادی کے بیچ سے جانا چاہتا ہے وہاں سے چلا جائے کہ وہ تمہارے لئے زیادہ کشادہ ہے ۔ چنانچہ لوگوں نے وادی کا راستہ اختیار کیا اور آپ(ص) عقبہ والے راستہ پر چلتے رہے، حذیفہ بن یمان آپ(ص) کے ناقہ کی مہارپکڑے ہوئے تھے اور عمار یاسر اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے، رسول(ص) نے چاند کی روشنی میں کچھ سواروں کو دیکھا جو اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے اور پیچھے سے آہستہ آہستہ ناقہ کی طرف بڑھ رہے تھے، یہ دیکھ کر رسول(ص) کو غیظ آگیا آپ(ص) نے انہیں پھٹکارا اور حذیفہ سے فرمایا: ان کی سواریوں کے منہ پر مارو ! اس سے ان پر رعب طاری ہو گیا اور وہ یہ سمجھ گئے کہ رسول(ص) کو ہمارے دل کی حالت کا علم ہو گیا اور ہماری سازش بے نقاب ہو گئی لہذا وہ دیکھتے ہی دیکھتے عقبہ سے بھاگ گئے تاکہ لوگوں میں گم ہو جائیں اور ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

____________________

۱۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۶۶ بحار الانوارج۲۱ص۲۴۶۔


حذیفہ نے رسول(ص) سے درخواست کی کہ کسی کو ان کے تعاقب میں بھیج کر انہیں قتل کرا دیجئے کیونکہ انہوں نے ان کی سواریوں کو پہچان لیا تھا لیکن رسول(ص) رحمت نے انہیں معاف کر دیا اور ان کے معاملہ کو خدا پر چھوڑ دیا۔( ۱ )

جنگ تبوک کے نتائج

۱۔مسلمان ایک بڑی منظم طاقت بن کر ابھرے، ایسی قوت جو مضبوط عقیدہ کے حامل کو ملتی ہے، اس سے مضافات کی حکومتوں اور دیگر ادیان کو خوف لاحق ہوا یقینا اسلامی شہروں سے باہر، اور ان کے اندر کی طاقتوں کے لئے یہ حقیقی خطرہ تھاجس سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو نہ چھیڑیں۔

۲۔ مسلمانوں نے شمال کے علاقے کے سرداروں سے معاہدہ کرکے اس علاقہ کو محفوظ بنا لیا تھا۔

۳۔ اسلحہ و تعداد کے لحاظ سے بڑی فوج تیار کرکے مسلمانوں نے اپنی طاقت سے استفادہ کیا، تنظیم و آمادگی کے بارے میں ان کی معلومات میں اضافہ ہوا، تبوک کی طرف یہ سفر میدان مبارزہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے مرادف تھا تاکہ آئندہ اس سے استفادہ کریں۔

۴۔ غزوہ تبوک مسلمانوں کی روحانیت و معنویت کا امتحان اور منافقین کو مسلمانوں سے جدا کرنے کے لئے تھا۔

۵۔ مسجد ضرار

یقینارسول(ص) آسان شریعت اور دینِ توحید لائے تھے، خدائی دستورات کے مطابق صالح اور صحیح سالم معاشرہ وجود میں لانے کے لئے ، سر فروشانہ طریقہ سے کوشاں تھے، انسان کو شرک کی نجاست، شیطانی وسوسوں ،نفسیاتی بیماریوں سے نجات دلانے کے لئے ،آپ(ص) نے بہت رنج و غم اٹھائے اور آپ کومتعدد جنگیں لڑنا پڑیں۔

____________________

۱۔ مغازی ج۳ ص۱۰۴۲، مجمع البیان ج۳ ص ۴۶، بحار الانوار ج۲۱ ص ۲۴۷۔


بعض منافقین کے دل میں بغض وحسد کی چنگاری بھڑک اٹھی اور انہوں نے مسجد ''قبا'' کے مقابلہ میں ایک مسجد بنا ڈالی اور یہ ظاہر کیا کہ اس میں، ضرورت مند بارش وغیرہ کی راتوں میں نماز پڑھا کریںگے وہ رسول(ص) کی خدمت میں آئے اور یہ درخواست کی کہ اس مسجد میں نماز پڑھئے اس سے ان کا مقصد اپنے عمل پر شریعت کی مہرلگوانا تھا، چونکہ رسول(ص) تبوک کی طرف روانگی کیلئے، تیاری کررہے تھے اس لئے ان کی درخواست منظور کرنے میں آپ(ص) نے تاخیر کی ، جب تبوک سے واپس تشریف لائے تو خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھئے گا، کیونکہ اس سے مسلمان میں تفرقہ پڑجائیگا اور امت کو نقصان پہنچے گا کتنا فرق ہے ان دو مسجدوںکے درمیان جن میں سے ایک کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی ہے اور دوسری مسلمانوںکو نقصان پہنچا نے کے لئے بنائی گئی ہے اسی بنا پر رسول(ص) نے اسے منہدم کرنے کا حکم دیدیا۔( ۱ )

۶۔ وفود کا سال

جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کا اقتدار مسلم ہو گیا، رسول(ص) قوت اور جنگ کا سہارا مجبوری میں ڈرانے کے بعد لیتے تھے مسلمانوں کی اکثر جنگیں دفاعی تھیں، شرک کی طاقتیں حق کو نہیں سمجھتی تھیں وہ طاقت کے استعمال اور ڈرانے دھمکانے سے ہی راہ راست پہ آئی تھیں۔

جب مسلمان اپنی حکومت کے پائے تخت-مدینہ منورہ-واپس لوٹ آئے تو رسول(ص) نے کچھ دستے روانہ کئے تاکہ وہ شہروں کو شرک و بت پرستی کے مرکزوں سے پاک کریں۔

مسلمانوں کی طاقت اور ان کی پے در پے فتح سے جزیرہ نما عرب کے سردار اسلام کی ندا کھلے کانوں سن رہے تھے اور اس کے مقاصد و ہدایت کو بخوبی سمجھ رہے تھے لہذا ان کے وفود مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ رسول(ص) کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کریں، اس لئے اس سال کو ''عام الوفود'' کہتے ہیں۔( ۲ ) رسول(ص) ان ک

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲۰ ص ۵۳۰، بحار الانوار ج۲۰ ص ۲۵۳۔

۲۔ سیرت نبویہ، ابن ہشام: ہجرت کے نویں سال میں اس کا ذکر کیا ہے اور اسے سنة الوفود کے نام سے یاد کیا ہے ۔


استقبال کرتے تھے ان کے ساتھ نیکی کرتے تھے اور ان کے پاس ایسے شخص کو بھیجتے تھے جو انہیں قرآن اور شریعت اسلام کے فرائض کی تعلیم دیتا تھا۔

قبیلۂ ثقیف کا اسلام لانا

خدائی فتح و نصرت نے ہر شخص پر یہ فرض کر دیا کہ وہ اپنے امور کے بارے میں غور کرے اور اسلام کے سلسلہ میں اپنی عقل کو حاکم بنائے۔ یہ رسول(ص) کی حکمتِ بالغہ تھی کہ جب طائف والوں نے اپنے شہر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا تو رسول(ص) نے فتح طائف کے لئے مہلت دیدی تھی اور آج وہ خود اپنے وفود بھیج رہے ہیں تاکہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کریں جبکہ پہلے انہوں نے شدید دشمنی اور مخالفت کی تھی اور اپنے سردار، عروہ بن مسعود ثقفی کو اس جرم میں قتل کر دیا تھا کہ وہ خود اسلام قبول کرکے ان کے پاس گیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔

رسول(ص) نے ثقفی وفد کو خوش آمدید کہا، مسجد نبوی کے ایک گوشہ میں ان کے لئے ایک خیمہ نصب کر دیااور ان کی میزبانی کے فرائض خالد بن سعید کے سپرد کئے۔ اس کے بعد انہوں نے رسول(ص) سے چند شرطوں کے ساتھ اسلام قبول کرنے کے سلسلہ میں گفتگو کی وہ شرطیں یہ تھیں: کچھ زمانہ تک ان کے قبیلے کا بت نہ توڑا جائے، آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ خالص توحید کے علاوہ اور کوئی چیز قبول نہیں ہے ان لوگوں نے رفتہ رفتہ اپنی شرطیں ختم کر دیں بعد میں انہوں نے یہ کہا: ہم اسلام قبول کر لیں گے لیکن ہمیں اس بات سے معاف رکھا جائے کہ اپنے بت خود توڑیں اسی طرح یہ شرط بھی رکھی کہ ہمیں نماز سے معاف رکھا جائے رسول(ص) نے فرمایا:''لا خیر فی دین لا صلٰوة فیه'' اس دین کا کیا فائدہ جس میں نماز نہیں۔ مختصر یہ کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ وفد ایک مدت تک رسول(ص) کے ساتھ رہا اور احکام دین کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس کے بعد رسول(ص) نے طائف کے بت توڑنے کیلئے، ابو سفیان بن حرب اور مغیرہ بن شعبہ کو بھیجا۔( ۱ )

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص ۵۳۷، سیرت حلبیہ ج۳ ص ۲۱۶ ۔


۷۔ فرزندِ رسول(ص) ، حضرت ابراہیم کی وفات

اسلام کی کامیابی اورپیغامِ رسالت کی توسیع سے رسول(ص) بہت خوش تھے، لوگ دین خدا میں گروہ درگروہ داخل ہو رہے تھے لیکن جب آپ(ص) کے فرزند جناب ابراہیم دوسرے سال میں داخل ہوئے تو وہ بیمار ہو گئے ان کی والدہ جناب ماریہ نے دیکھا کہ وہ مریض ہیں اور کسی بھی چیز سے انہیں افاقہ نہیں ہو رہا ہے تورسول(ص) کو خبر دی گئی کہ بیٹا احتضار کی حالت میں ہے ، آپ(ص) تشریف لائے دیکھا کہ ابراہیم اپنی ماں کی آغوش میں جاں بلب ہیں، رسول(ص) نے انہیں لے لیا اور فرمایا:

''یا ابراهیم انا لن نغنی عنک من اللّه شیئاً انا بک لمحزونون تبکی العین و یحزن القلب ولا نقول ما یسخط الرب ولولا انه وعد صادق و موعود جامع فان الآخر منا یتبع الاول لوجدنا علیک یا ابراهیم وجدا ً شدیداً ما وجدناه'' ۔( ۱ )

اے ابراہیم ہم تمہارے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے ، تمہارے غم میں ہماری آنکھیں اشکبار اور دل غم زدہ ہیں لیکن ہم ایسی بات ہر گز نہیں کہتے جو خدا کے غضب کا سبب ہو اگر خدا کا سچا وعدہ نہ ہوتا تو اے ابراہیم ہم تیرے فراق میں اس سے زیادہ گریہ کرتے اور بہت زیادہ غمگین ہوتے، اور ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔

رسول(ص) کے چہرہ اقدس پر غم و الم کے آثار ظاہر ہو گئے، تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول(ص)! کیا آپ(ص) نے ہمیں ایسی باتوں سے نہیں روکا ہے تو آپ نے فرمایا:

''ما عن الحزن نهیت و لکنی نهیت عن خمش الوجوه و شق الجیوب ورنة الشیطان'' ۔( ۲ )

____________________

۱۔ سیرت حلبیہ ج۳ ص ۳۱۱، بحار الانوار ج۲۲ ص ۱۵۷۔

۲۔سیرت حلبیہ ج۳ ص ۳۱۱۔


میں نے تمہیں عزیزوں کا غم منانے سے نہیں روکا ہے ہاں چہرے پر طمانچے مارنے، گریبان چاک کرنے اور شیطان کی طرح چیخنے چلّانے سے منع کیا ہے ۔

ایک روایت یہ ہے کہ آپ(ص) نے یہ فرمایا:

''انما هذا رحمة و من لا یرحم لا یرحم'' ( ۱ )

یہ تو بس رحمت ہے اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

خدا کی نظر میں نبی (ص) کی بڑی منزلت ہے اور آپ(ص) نے کتنے ہی معجزات دکھائے ہیں جن کے سبب لوگ آپ(ص) پر ایمان لائے ہیں لیکن جب آپ(ص) کے فرزند جناب ابراہیم کی وفات کے روز سورج کو گہن لگا تو بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ ان کی موت کے باعث سورج کو گہن لگا ہے ۔

رسول(ص) نے اس گمان کی نفی فرمائی اور اس خوف سے کہ کہیں یہ سنت نہ بن جائے اور جاہل اس کے معتقد نہ ہو جائیں فوراً فرمایا:

''ایها النّاس ان الشمس و القمر آیتان من آیات اللّه لا یکسفان لموت احد ولا لحیاته'' ۔( ۲ )

اے لوگو! چاند سورج خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ان کو کسی کی موت و حیات پر گہن نہیں لگتا ہے ۔

____________________

۱۔بحار الانوار ج۲۲ ص ۱۵۱۔

۲۔تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۸۷۔


تیسری فصل

جزیرہ نما عرب سے بت پرستی کا صفای

۱۔ مشرکین سے اعلانِ برائت

جب جزیرہ نما عرب میں اسلامی عقیدے اور شریعتِ سہلہ کا فروغ ہو گیا اور بہت سے لوگوں نے اسے قبول کر لیا تو وہاں شرک و بت پرستی پر چند ہی لوگ قائم رہے وہاں صریح طور پر ایہ اعلان کرنا ضروری تھا کہ عبادی و سیاسی مناسک میں شرک و بت پرستی کا مظاہرہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اب وقت آ گیا تھا کہ اسلامی حکومت ہر جگہ اپنے نعروں اور شعار کا اعلان کرے، نرمی اور تالیف قلوب کا زمانہ ختم ہو چکا تھا گذشتہ دور اس بات کا مقتضی تھاکہ اب اس کی ضرورت نہیں تھی۔

اس اعلان کے لئے رسول(ص) نے زمانہ کے لحاظ سے قربانی کا دن اور جگہ کے اعتبار سے منیٰ( ۱ ) کو منتخب کیا اور ابوبکر کو سورۂ توبہ( ۲ ) کی ابتدائی آیتیں پڑھنے کے لئے مقرر کیا گیا۔یہ آیتیں اسی سلسلہ میں نازل ہوئی تھیں ان کے ضمن میں تمام مشرکین سے صریح طور پر برائت کا اعلان تھا، برائت کی شقیں درج ذیل ہیں:

۱۔ کافر جنت میں نہیں جائیگا۔

۲۔ برہنہ حالت میں کسی کو خانہ کعبہ کا طواف نہیں کرنے دیا جائیگا۔( یہ جاہلیت کی رسم تھی)

۳۔ اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج نہیں کرنے دیا جائے گا۔

____________________

۱۔دس ذی الحجہ ۹ھ۔

۲۔سورۂ توبہ ۱۔۱۳۔


۴۔ جس کا رسول(ص) سے معاہدہ ہے وہ اپنی مدت پر ختم ہو جائیگا لیکن جس کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اس کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے اس کے بعد دار الاسلام میں اگر مشرک پایاجائیگا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اسی اثنا میں رسول(ص) پر وحی نازل ہوئی:''انّه لا یؤدِّی عنک الا انت او رجل منک'' اس پیغام کو آپ(ص) یا وہ شخص پہنچا سکتا ہے جو آپ(ص) سے ہو۔ پس آنحضرت (ص) نے حضرت علی کو طلب کیا اور فرمایا: عضباء ناقہ پر سوار ہو کر ابو بکر کے پاس جائو اور ان سے وہ پیغام لے لو اور اسے تم لوگوں تک پہنچائو۔( ۱ )

علی بن ابی طالب حاجیوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور ہمت و جرأت کے ساتھ خدا کے بیان (پیغام)کو پڑھا ہر چیز کو واضح طور سے بیان کیا، لوگوں نے اسے کھڑے ہو کربہت توجہ اور خاموشی کے ساتھ سنا مشرکین پر اس اعلان کا یہ اثر ہوا کہ وہ فرمانبردار ہو کر رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔

۲۔ نصارائے نجران سے مباہلہ

نصارائے نجران کو رسول(ص) نے خط لکھ کر اسلام کی طرف دعوت دی، ان کے سردار اور صاحبان حل و عقد اس خط کے بارے میں غور و فکر کرنے کے لئے جمع ہوئے لیکن کسی خاص و قطعی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے کیونکہ ان کے پاس ایسی تعلیمات کا علم تھا جو جناب عیسیٰ کے بعد ایک نبی (ص) کی آمد کی تاکید کرتے تھے اور محمد(ص) کے معجزات و افعال اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ آپ نبی (ص) ہیں۔ اس لئے انہوں نے یہ طے کیا کہ نبی (ص) کے پاس ایک وفد بھیجا جائے جو ان سے گفتگو کرے۔

یہ وفد رسول(ص) کے پاس پہنچا لیکن رسول(ص) نے ان کے ظاہر کو دیکھ کر انہیں کوئی اہمیت نہ دی یہ بھی بت پرستوں کی وضع قطع میں تھے۔ حر یرو دیبا کی ردا ڈالے ہوئے، سونا پہنے ہوئے اور گردنوں میں صلیب لٹکائے ہوئے تھے، دوسرے دن انہوں نے اپنی وضع قطع بدلی اور پھر حاضر ِ خدمت ہوئے تو رسول(ص) نے انہیں خوش آمدید کہا، ان کا احترام کیا اور انہیں ان کے مذہبی امور بجالانے کی سہولت فراہم کی۔( ۲ )

____________________

۱۔الکافی ۱/۳۲۶، الارشاد ۳۷، الواقدی ۳/۱۰۷۷، خصائص النسائی ۲۰، صحیح ترمذی۲/۱۸۳، مسند احمد ۳/۳۸۳، فضائل الخمسہ من الصحاح الستة۲/۳۴۳۔

۲۔سیرت حلبیہ ج۳ ص ۲۱۱، سیرتِ نبویہ ج۱ ص ۵۷۴۔


اس کے بعد ان کے سامنے اسلام پیش کیا، قرآن مجید کی کچھ آیتوں کی تلاوت کی لیکن انہوں نے قبول نہ کیا بہت زیادہ بحث و مباحثہ ہوا آخر کار رسول(ص) نے فرمایا کہ اب میں تم سے مباہلہ کرونگا یہ بات آپ(ص) نے حکم خدا سے کہی تھی اگلے روز مباہلہ کرنے پر اتفاق ہو گیا۔

حکم خدا کی اطاعت میں ان سے مباہلہ کے لئے رسول(ص) اس طرح بر آمد ہوئے کہ حسین کو(گود میں) اٹھائے اور حسن کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ(ص) کے پیچھے آپ(ص) کی بیٹی فاطمہ اور ان کے بعد آپ(ص) کے ابن عم علی بن ابی طالب تھے اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح ہے :

( فمن حاجک فیه من بعد ما جاء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم و نسائنا و نسائکم و انفسنا و انفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنة اللّه علیٰ الکاذبین ) ( ۱ )

جب تمہارے پاس علم آ چکا تو اگر کوئی شخص اس سلسلہ میں تم سے حجّت کرے تو تم ان سے یہ کہدو کہ تم اپنے بیٹوں کو لائو ہم اپنے بیٹوں کو لائیں تم اپنی عورتوں کو لائو ہم اپنی عورتوں کو لائیں تم اپنے مردوں کو لائو ہم اپنے مردوں کو لائیں پھر مباہلہ کریںاور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

ان کے علاوہ رسول(ص) نے مسلمانوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ نہیں لیا۔یہ مباہلہ آپ(ص) نے اس لئے کیا تھا تاکہ آپ(ص) کی نبوت و رسالت کی صداقت سب پر ثابت ہو جائے۔ اس موقعہ پر نجران کے اسقف نے کہا: اے قوم نصاریٰ! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ خدا سے یہ دعا کریں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو خدا اسے اس کی جگہ سے ہٹا دے گا۔ پس ان سے مباہلہ مت کرو، ورنہ ہلاک ہو جائو گے اور روئے زمین پر کوئی نصرانی باقی نہیں بچے گا۔

جب نصارای نجران نے رسول(ص) اور آپ(ص) کے اہل بیت( ان پر خدا کا درود ہو)سے مباہلہ کرنے سے انکار کیا تو آپ(ص) نے فرمایا:

''اما اذا ابیتم المباهلة فاسلموا یکن لکم ما للمسلمین و علیکم ما علیٰ المسلمین'' ۔

____________________

۱۔ آل عمران:۶۱۔


جب تم نے مباہلہ سے انکار کر دیا ہے تو اسلام قبول کرو اس طرح تم نفع و ضرر میں مسلمانوں کے شریک ہو جائو گے، لیکن انہوں نے یہ بات بھی قبول نہ کی تو رسول(ص) نے فرمایا:''انی انا جزکم القتال'' میں تم سے جنگ کرونگا، انہوںنے کہا: ہم عرب سے جنگ نہیں کر سکتے ہاں ہم آپ(ص) سے اس بات پر صلح کرتے ہیں کہ اگر آپ(ص) ہم سے جنگ نہیں کریں گے اور ہمیں ہمارے دین سے نہیں پلٹائیں گے توہم ہر سال آپ(ص) کودو ہزار حلے ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں دیا کریں گے اور لوہے کی تیس زرہیں دیا کریں گے۔ رسول(ص) نے اس پر ان سے صلح کر لی۔

''و الّذی نفسی بیده ان الهلاک قد تدلی علٰی اهل نجران، ولولاعنوا لمسخوا قردة وخنازیر ولا ضطرم علیهم الوادی ناراً، ولأُ ستاصِلَ نجران و اهله حتی الطیر علیٰ رؤوس الشجر، ولما حال الحول علیٰ النصاری کلهم حتی یهلکوا فرجعوا الیٰ بلادهم دون ان یسلموا'' ( ۱ )

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ہلاکت اہل نجران سے قریب آ چکی تھی ( عذاب ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا) اگر وہ لعنت کرتے تو وہ بندر اورسور کی صورت میں مسخ ہو جاتے اور پوری وادی آگ برساتی اور اہل نجران مع اہل یہاں تک کہ درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے بھی ہلاک ہو جاتے، ایک سال کے اندر سارے نصاریٰ ہلاک ہو جاتے، وہ اسلام لائے بغیر اپنے شہروں کو لوٹ گئے۔

روایت ہے کہ نصاریٰ کے سرداروں میں سے سید اور عاقب اپنے اسلام کا اعلان کرنے کے لئے تھوڑی ہی دیر بعد رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔( ۲ )

____________________

۱۔ تفسیر کبیر''رازی'' ج۸ ص ۸۵۔

۲۔طبقات الکبریٰ ج۱ ص ۳۵۷۔


۳۔حجة الوداع

رسول(ص) ساری انسانیت کے لئے بہترین نمونہ تھے، آپ(ص)خدا کی آیتوں کو اس طرح پہنچاتے تھے کہ ان کی تفسیر اور ان کے احکام واضح طور سے بیان کرتے تھے سارے مسلمان آپ(ص) کے قول و فعل کی اقتدا کرتے تھے- ہجرت کے دسویں سال ماہ ذی القعدہ میں رسول(ص) نے فریضہ حج کی ادائیگی کا قصد کیا-اس سے قبل آپ(ص) نے حج نہیں کیا تھا، اس حج کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ مسلمان حج کے احکام سے آگاہ ہو جائیں چنانچہ ہزاروںمسلمان مدینہ آ گئے اور نبی (ص) کے ساتھ حج پر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ ان مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ ہو گئی، ان میں اہل مدینہ ، بادیہ نشین اور دیگر قبائل کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ کل تک ایک دوسرے کی جان کے دشمن ، جاہل اور کافر تھے لیکن آج انہیں سچی محبت، اسلامی اخوت نے رسول(ص) کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے ایک جگہ جمع کردیا ہے ، اس سفر میں رسول(ص) نے اپنی تمام ازواج اور اپنی بیٹی فاطمہ زہرا(ص) کو ساتھ لیا، فاطمہ (ص) کے شوہر علی بن ابی طالب کو رسول(ص) نے ایک مہم سر کرنے کے لئے بھیجا تھا، وہ اس سفر میں آپ(ص) کے ساتھ نہیں تھے، ابو دجانہ انصاری کو مدینہ کا عامل مقرر کیا۔

مقام ذو الحلیفہ پر آپ(ص) نے احرام باندھا دو سفید کپڑے پہنے، احرام کے وقت تلبیہ کہی''لبیک الّلهم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد و النعمة لک و الملک ، لبیک لا شریک لک لبیک'' ۔

چوتھی ذی الحجہ کو رسول(ص) مکہ پہنچے، تلبیہ کہنا بند کر دیا خدا کی حمد و ثنا اور شکر بجالائے، حجر اسود کو چوما، سات مرتبہ طواف کیا۔ مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور حاجیوں کو اس طرح مخاطب کیا:''من لم یسق منکم هدیا فلیحل و لیجعلها عمره و من ساق منکم هدیا فلیقم علیٰ احرامه'' تم میں سے جس شخص نے قربانی کا جانور نہیں بھیجا ہے اسے احرام کھول دینا چاہئے اور اسے عمرہ قرار دنیا چاہئے اور جس نے قربانی کا جانور بھیجا ہے اسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہئے۔

بعض مسلمانوں نے رسول(ص) کے اس فرمان پر عمل نہیں کیا انہوںنے یہ خیال کیا کہ ہمیں وہی کام انجام دینا چاہئے جو رسول(ص) نے انجام دیا ہے اور آپ(ص) نے احرام نہیں کھولا۔ ان کی اس حرکت پر رسول(ص) ناراض ہوئے۔


اور فرمایا:

''لوکنت استقبلت من امری ما استدبرت لفعلت کما امرتکم'' ( ۱ )

اگر ماضی کی طرح مستقبل مجھ پر روشن ہوتا تو میں بھی وہی کام کرتا جس کا تم کو حکم دیا ہے ۔

حضرت علی بن ابی طالب یمن سے واپسی پر مکہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ وہاں خدمت رسول(ص) میں حاضر ہو جائیں آپ(ص) نے قربانی کے لئے ۳۴ جانور ساتھ لئے، مکہ کے قریب پہنچے تو آپ(ص) نے شہر میں داخل ہونے کے لئے اپنے دستہ پر کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور خدمت نبی(ص) میں پہنچے، یمن میں آپ کی عظیم کامیابی کی خبر سن کر اور آپ کو دیکھ کر رسول(ص) بہت مسرور ہوئے اور فرمایا:

جائیے طواف کیجئے اور اپنے ساتھیوں کی طرح مکہ میںداخل ہو جایئے، آپ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول(ص)! جس نیت سے آپ(ص) نے احرام باندھا ہے میں نے بھی اسی نیت سے باندھا ہے ۔ نیز عرض کی: میں نے احرام باندھتے وقت یہ کہا تھا اے اللہ میں اس نیت کے ساتھ احرام باندھتا ہوں جس نیت سے تیرے بندے، تیرے نبی(ص) اور تیرے رسول(ص) محمد(ص) نے احرام باندھا ہے، اس کے بعد رسول(ص) نے حضرت علی سے فرمایا: اپنے دستہ میں واپس جائیے اور ان لوگوں کے ساتھ مکہ آئیے۔ جب آپ کے ساتھی خدمت رسول(ص) میں پہنچے تو انہوں نے آنحضرت(ص) سے آپ کی شکایت کی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے حضرت علی کی عدم موجودگی میں بیت المال میں غلط طریقہ سے جو تصرف کیا تھا اسے آپ نے قبول نہیں کیا تھا۔ ان کی شکایت کا آنحضرت(ص) نے یہ جواب دیا:

''ایها النّاس لا تشکوا علیاً فو اللّه انه لا خشن فی ذات الله من ان یشتکی'' ۔( ۲ )

اے لوگو! علی کی شکایت نہ کرو کیونکہ وہ حکمِ خدا نافذ کرنے میں کسی کی شکایت کی پروا نہیں کرتے ہیں۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۲۱ ص ۳۱۹۔

۲۔سیرة نبویہ ج ۲ص۶۰۳، بحار الانوارج ۲۱ص۳۵۸۔


۹ ذی الحجہ کو رسول(ص) مسلمانوں کے ساتھ عرفات کی طرف روانہ ہوئے اور غروب آفتاب تک وہیں رہے۔ تاریکی چھا جانے کے بعد اپنے ناقہ پر سوار ہوئے اور مزدلفہ پہنچے وہاں رات کا ایک حصہ گذرا اور طلوع فجر تک مشعر الحرام میں رہے ، دسویں ذی الحجہ کو منیٰ کا رخ کیا۔ وہاں کنکریاں ماریں قربانی کی اورسر منڈوایا اس کے بعد حج کے باقی اعمال بجالانے کے لئے مکہ چلے گئے۔

اس حج کو حجة الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں رسول(ص) نے مسلمانوں کو وداع کیا ، اسی میں آپ(ص) نے یہ خبر دی کہ آپ(ص) کی وفات کا زمانہ قریب ہے ، اس حج کو ''حجة البلاغ'' بھی کہتے ہیں کیونکہ اس حج میں آپ(ص) نے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے سلسلہ میں خدا کی طرف سے نازل ہونے والے حکم کی بھی تبلیغ کی تھی، اس کو حجة الاسلام بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ رسول(ص) کا پہلا حج تھا کہ جس میں آپ(ص) نے حج کے اعمال سے متعلق اسلام کے دائمی احکام بیان فرمائے تھے۔

حجة الوداع میں رسول(ص) کا خطبہ

روایت ہے کہ رسول(ص) نے ایک جامع خطبہ دیا خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

'' یا ایها النّاس اسمعوا منی ابین لکم فانی لا ادری لعلی لا القاکم بعد عامی هذا فی موقفی هذا ایها النّاس ان دمائکم و اموالکم علیکم حرام الیٰ ان تلقوا ربکم کحرمة یومکم هذا فی شهرکم هذا فی بلد کم هذا الاهل بلغت؟ الّلهم اشهد فمن کانت عنده امانة فلیؤدها الیٰ الذی ائتمنه و ان ربا الجاهلیة موضوع، و ان اول رباً ابدأ به ربا عم العباس بن عبد المطلب ان مآثر الجاهلیة موضوعة غیر السدانة و السقایة، و العمد قود و شبه العمد ما قتل بالعصا و الحجر ففیه مائة بعیر فمن زاد فهو من اهل الجهالیة


ایها النّاس ان الشیطان قد یئس ان یعبد فی ارضکم هذه و لکنه رض ان یطاع فیما سویٰ ذلک مما تحتقرون من اعمالکم

ایها النّاس انما النسء زیادة ف الکفر یضل به الذین کفروا یحلونه عاماً و یحرمونه عاماً لیواطئوا عدة ما حرم الله و ان الزمان استدار کهیئته یوم خلق الله السموات و الارض و ان عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهراً ف کتاب الله یوم خلق السماوات والارض، منها اربعة حرم، ثلاثة متوالیات وواحد فرد:

ذو القعدة و ذو الحجة و المحرم و رجب الذ بین جمادی و شعبان الا هل بلغت؟ الّلهم اشهد

ایها النّاس ان لنسائکم علیکم حقاً و ان لکم علیهن حقاً لکم علیهن ان لا یوطئن فرشکم غیر کم ولا یدخلن احداً تکرهونه بیوتکم الا باذنکم ولا یأتین بفاحشة، فان فعلن فان اللّه قد اذن لکم ان تعضلوهن و تهجروهن ف المضاجع و تضربوهن ضرباً غیر مبرح، فان انتهین و اطعنکم فعلیکم رزقهن و کسوتهن بالمعروف، و انما النساء عندکم عوار لا یملکن لانفسهن شیئاً، اخذتموهن بامانة اللّه و استحللتم فروجهن بکلمة اللّه فاتقوا اللّه ف النساء و استوصوا بهن خیراً

ایها النّاس انما المؤمنون اخوة فلا یحل لا مرئٍ مال اخیه الا عن طیب نفس الا هل بلغت؟ الّلهم اشهد فلا ترجعوا بعد کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض؛ فانی قد ترکت فیکم ما ان اخذتم به لن تضلوا کتاب اللّه و عترت اهل بیت الا هل بلغت ؟ اللهم اشهد

ایها النّاس ان ربکم واحد، و ان اباکم واحد، کلکم لآدم، و آدم من تراب، اکرمکم عند اللّه اتقاکم، لیس لعرب علی عجم فضل الا بالتقوی، الا هل بلغت؟ قالوا نعمقال(ص): فلیبلغ الشاهد منکم الغائب( ۱ )

____________________

۱۔بحار الانوار ج ۲۱، ص ۴۰۵۔


ایها النّاس ان اللّه قد قسم لکل وارث نصیبه من المیراث ولا یجوز لوارث وصیة ف اکثر من الثلث، و الولد للفراش و للعاهر الحجر، من ادع الیٰ غیر ابیه او تولی غیر موالیه فعلیه لعنة اللّه و الملائکة و النّاس اجمعین ، لا یقبل اللّه منه صرفاً ولا عدلاً... و السلام علیکم و رحمة اللّه ۔( ۱ )

اے لوگو! میری بات سنو تاکہ تمہارے سامنے یہ واضح کر دوں مجھے لگتا ہے کہ اس سال کے بعد اس جگہ تم لوگوں سے شاید میری ملاقات نہ ہو۔ اے لوگو! تمہارا خون اور تمہاری عزت تمہارے لئے مرتے دم تک اسی طرح محترم ہے جیسے تمہارے اس شہر میں آج کا دن محترم ہے۔ کیا میں نے بخوبی تم تک الٰہی پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس اگر کسی کے پاس کوئی امانت ہو تو اسے اس شخص کے پاس پہنچا دے جس نے امانت رکھی تھی، زمانہ جاہلیت کا ہر سود باطل ہے سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کے سود کو لغو قرار دیتا ہوں اور جو خون زمانۂ جاہلیت میں بہایا گیا تھا اس کا انتقام و قصاص وغیرہ بھی باطل ہے اور سب سے پہلے میںعامر بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کی سزا کو لغو قرار دیتا ہوں اور خانۂ کعبہ کی دربانی و کلید برداری اور حاجیوں کو سیراب کرنے کے علاوہ کوئی کام باعثِ افتخار نہیں ہے جان بوجھ کر قتل کرنے اور عمداً شبہ کی وجہ سے لاٹھی یا پتھر سے مار ڈالنے کی دیت سو اونٹ ہیں اس سے زیادہ کا تعلق اہل جاہلیت سے ہے ۔

اے لوگو! شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا کہ تمہاری اس سر زمین پر اس کی پوجا ہوگی لیکن وہ اس بات سے خوش ہے کہ تم بعض اعمال کو اہمیت نہیں دیتے ہو۔

اے لوگو!نسی یعنی مہینوںکو آگے پیچھے کرنا- کفر میں اضافہ کا سبب ہے ان کے ذریعہ کافر گمراہ ہوتے ہیں، کسی سال وہ اس ماہ کو حرمت کا مہینہ قرار دیدیتے ہیں اور کسی سال اسی ماہ میں جنگ و خونریزی کو حلال سمجھ لیتے ہیں اس سے ان کا مقصدان مہینوں کے حساب کو برابر کرنا ہوتا ہے۔ حالانکہ ان کو خدا نے حرام کیا ہے ،

___________________

۱۔العقد الفرید ج۴ ص ۵۷، الطبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۸۴، الخصال: ص ۴۸۷، بحار الانوار ص۲۱ ص ۴۰۵، تاریخ کی دوسری کتابوں میں بھی کچھ اختلاف کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔


بیشک زمانہ گردش کرتاہے اسی روز سے جس دن خدا نے زمین و آسمانوںکو پیدا کیا تھا اور جیساکہ خداکی کتاب میں لکھاہے زمین و آسمان کی پیدائش کے دن ہی سے خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے ، ان میں سے چار، ذی القعدہ، ذی الحجة اور، محرم ، تین پے در پے حرمت کے ہیں رجب کا ایک مہینہ جدا ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے ۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہنا۔

اے لوگو! بیشک تمہاری عورتوںپر تمہارا حق ہے اور اسی طرح تمہاری عورتوں کا تم پر بھی حق ہے ، ان کے اوپر تمہار ا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری اجازت کے بغیر ان لوگوںکو داخل نہ ہونے دیں جن کو تم پسند نہیں کرتے اور ناشائستہ حرکت(زنا) نہ کریں پس اگر وہ ایسا کریں تو خدا نے تمہیں حق دیا ہے کہ ان پر سختی کر و اور ان کے پاس سونا ترک کر دو (اور اگر پھر بھی نہ مانیں تو) انہیں مارو! لیکن گہری چوٹ نہ آنے پائے، پھر اگر وہ باز آجائیں اور تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو تمہارے اوپر فرض ہے کہ انہیں معمول کے مطابق روٹی کپڑا دو۔ عورتیں تمہارے پاس امانت ہیں وہ اپنے اوپر اختیار نہیں رکھتی ہیں تم نے انہیں خدائی امانت کے عنوان سے اپنے اختیار میںلیاہے اور کتاب خدا کے مطابق انہیں اپنے لئے حلال کیا ہے۔ پس ان کے بارے میں خدا سے ڈرو! اور ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔

اے لوگو! مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا کسی شخص پر اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ خوش ہو، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہنا۔ دیکھو میرے بعد کفر کی طرف نہ پلٹ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو، کیونکہ میں نے تمہارے درمیان جو چیز چھوڑی ہے اگر تم اس سے وابستہ رہو گے تو ہر گز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے کتاب خد ااور میری عترت وہی میرے اہل بیت ہیںکیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہنا ۔

اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے ، اور تمہارا باپ ایک ہے ، تم سب آدم سے ہو اور آدم مٹی سے ہیں اور خدا کے نزدیک تم میں سے وہی زیادہ مکرم ہے جو زیادہ پر ہیزگار و متقی ہے ، عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوے کے ساتھ، کیا میںنے پیغام پہنچا دیا؟ سب نے کہا: ہاں، پھر فرمایا: جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں جو یہاںموجودنہیں ہیں۔


اے لوگو! میراث میںاللہ نے ہر وارث کے حصہ کومعین کر دیا ہے اور کوئی شخص ایک تہائی مال سے زیادہ کے بارے میں وصیت نہیں کر سکتا اور بچہ اس کا ہے جس کی بیوی ہے ،ز نا کار کے لئے پتھر ہے جو شخص خود کو اپنے والد کے علاوہ غیر کی طرف منسوب کرے؛ اورغلام خود کو مولا کے علاوہ کسی دوسرے سے وابستہ کرے تو اس پر خدا اوراس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، خدا ایسے لوگوں کی توبہ اور فدیہ قبول نہیں کرتا ہے۔ سلام اور خدا کی رحمت ہو تم پر۔

۴۔ وصی کا تعین( ۱ )

مسلمانوں نے اپنا حج اکبر مکمل کیا وہ پروانہ کی طرح نبی (ص) کے ساتھ ساتھ تھے۔ اپنے مناسک آپ(ص) سے سیکھ رہے تھے، رسول(ص) نے مدینہ کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کیا، جب حاجیوں کا عظیم قافلہ غدیر خم کے قریب مقام ''رابغ'' میں پہنچا تو امر خدا کی تبلیغ کے لئے وحی نازل ہوئی، واضح رہے کہ حاجیوں کے قافلے یہیں سے متفرق ہو کر اپنے اپنے شہروںکی طرف روانہ ہوتے تھے۔

( یا ایّها الرّسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک و ان لم تفعل فما بلّغت رسالته و اللّه یعصمک من النّاس ) ( ۲ )

اے رسول! اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ(ص) پر نازل کیا جا چکا ہے اور اگر اس پیغام کو نہ پہنچایا تو گویا آپ(ص) نے رسالت کی تبلیغ ہی نہیں کی خدا آپ(ص) کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

یقینا یہ خدائی خطاب و پیغام ایک اہم چیز کا حامل تھا اور اس سے زیادہ اہم کون سی تبلیغ ہوگی کہ جس کے بارے میںرسول(ص) سے یہ کہاگیا ہے کہ اسے انجام دیں ، جس کو ابھی تک انجام نہیں دیا ہے؟ جبکہ خدا کا رسول(ص)

____________________

۱۔مزید معلومات کے لئے علامہ امینی کی ''الغدیر'' جلداول کا مطالعہ فرمائیں۔

۲۔ سورۂ مائدہ ۶۷۔


تقریبا تیئس سال سے لوگوں کو دین خدا کی طرف دعوت دے رہا تھا اور خدا کی آیتوں کی تبلیغ کر رہا تھا اور اس کے احکام کی تعلیم دے رہا تھا اور اس سال میں آپ(ص) نے جو تکلیف اور زحمت برداشت کی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے کہ یہ کہا جائے:

( فما بلّغت رسالته)

اس موقعہ پر رسول(ص) نے یہ احکام صادر فرمائے: قافلوں کو روک دیا جائے تاکہ پیچھے رہ جانے والے آجائیں، اس روز اتنی شدید گرمی تھی کہ لوگ سروں اور پیروں پر کپڑا لپیٹنے پر مجبور تھے، اس جگہ پر رسول(ص) ان کے سامنے تبلیغ رسالت کو مکمل کرنااور آسمانی پیغام کی تلقین کرنا چاہتے تھے۔ خدا کی حکمت کا یہی تقاضا تھا ایسے سخت موسم اور ایسے تپتے صحرا میں تبلیغ کی تکمیل ہو،تاکہ امت کو ہمیشہ یاد رہے مرورِ زمانہ کے ساتھ ان کے ذہنوں میں اس واقعہ کی یاد تازہ رہے ۔ امت مسلمہ اس کو یاد رکھے۔

اسباب سفر کو جمع کیا گیا، اس سے منبر بنایا گیا اور مسلمانوںکو نماز پڑھانے کے بعد رسول(ص)منبر پر تشریف لے گئے ، خداوند عالم کی حمد و ثنا کی ، پھر اتنی بلند آواز میں، کہ جس کو سب سن لیں، فرمایا:

''یا ایّها النّاس یوشک ان ادعی فاجیب و انی مسؤول و انتم مسؤولون فما انتم قائلون؟ قالوا: نشهد انّک بلّغت و نصحت و جاهدت فجزاک اللّه خیراً قال (ص) الستم تشهدون ان لا الٰه الا اللّه و ان محمّداً، عبده و رسوله و ان جنته حق و ان الساعة آتیة لا ریب فیها و ان اللّه یبعث من فی القبور؟ قالوا: بلیٰ نشهد بذالک قال (ص) الّلهمّ اشهد ثم قال (ص) فانّی فرطکم علیٰ الحوض و انتم واردون علّ الحوض و ان عرضه ما بین صنعاء و بصریٰ فیه اقداح عدد النجوم من فضة فانظروا کیف تخلّفونی فی الثقلین

فنادیٰ مناد وما الثقلان یا رسول اللّه؟ قال(ص) : الثقل الاکبر کتاب اللّه طرف بید اللّه عزّ و جلّ و طرف بایدیکم فتمسکوا به لا تضلّوا والآخر الاصغر عترت و انّ الّلطیف الخبیر نبّأن انّهما لن یفترقا حتی یردا علّ الحوض فسألت ذلک لهما رب فلا تقدموهما فتهلکوا ولا تقصروا عنهما فتهلکوا''


اے لوگو!عنقریب مجھے دعوت دی جائے گی اور میں اسے قبول کرونگا دیکھو مجھ سے بھی سوال کیا جائیگا اور تم سے بھی باز پرس ہوگی بتائو کہ تم کیا جواب دوگے؟ انہوں نے کہا: ہم یہ گواہی دیں گے کہ آپ(ص) نے تبلیغ کی، نصیحت کی اور جہاد کیا خدا آپ(ص) کو جزائے خیر عطا کرے، پھر آپ(ص) نے فرمایا: کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے ہو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد(ص) اس کے بندے اور اس کے رسول(ص) ہیں، اور جنت حق ہے، قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور خدا قبروں سے مردوں کو اٹھائے گا؟ سب نے کہا: ہاں! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں اس کے بعد آپ(ص) نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہونچون گا تمہارا حوض کوثرپر انتظار کرونگا اور تم میرے پاس حوض کوثرپر پہنچوگے وہ اتنا چوڑا ہے جتنا صنعاء و بصریٰ کے درمیان کا فاصلہ ہے ، اس پر چاندی کے اتنے جام رکھے ہوئے ہیں جتنے آسمان کے ستارے ہیں۔ دیکھتا ہوں تم میرے بعد ثقلین سے کیسے پیش آتے ہو۔

کسی دریافت کرنے والے نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول(ص)! ثقلین کیا ہے؟ فرمایا: ثقل اکبر کتاب خدا ہے جس کا ایک سرا دستِ خدا میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے ، اس سے وابستہ رہوگے تو گمراہ نہ ہوگے، اور ثقل اصغر میری عترت ہے اور لطیف و خبیر خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض(کوثر) پر میرے پاس وارد ہونگے اور میں نے خدا سے ان کے لئے ہی سوال کیا ہے ۔ دیکھو!ان سے آگے نہ بڑھ جانا ورنہ ہلاک ہو جائو گے اور ان سے پیچھے نہ رہ جانا ورنہ تباہ ہو جائوگے۔

اس کے بعدآپ(ص) نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ کر اتنا بلند کیا کہ آپ(ص) کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی جب تمام لوگوں نے علی کو دیکھ لیا تو فرمایا:

''ایّها النّاس من اولیٰ النّاس بالمومنین من انفسهم؟ قالوا: اللّه و رسوله اعلم قال(ص) انّ اللّه مولای و انا مولیٰ المومنین و انا اولیٰ بهم من انفسهم فمن کنت مولاه فعلی مولاه یقولها ثلاث مرات


ثم قال (ص) الّلهم وال من والاه و عاد من عاداه و احب من احبه و ابغض من ابغضه و انصر من نصره و اخذل من خذله و ادر الحق معه حیث ما دار، الا فلیبلغ الشاهد الغائب''

اے لوگو! مومنوں پر خود ان کے نفسوں سے زیادہ کون حق تصرف رکھتا ہے ؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا: خدا اور اس کا رسول(ص) بہتر جانتا ہے ۔ آپ(ص) نے فرمایا: خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور ان پر میں خود ان کے نفسوں سے زیادہ تصرف کا حق رکھتا ہوں، بس جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں، یہ جملہ آپ(ص) نے تین بار دہرایا۔

ا سکے بعد فرمایا:اے اللہ جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ ، جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکھے تو اس سے دشمنی کر ، اس کی نصرت کرنے والے کی نصرت فرما اور جو اس سے الگ ہو جائے اسے چھوڑ دے، اور جدھر یہ جائے حق کو بھی ادھر موڑ دے، جو لوگ حاضر ہیں ان کو چاہئے کہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاںموجود نہیں ہیں۔

حاضر ین ابھی وہاں سے متفرق نہیں ہوئے تھے کہ جبریل امین وحی لیکر نازل ہوئے:

( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلاما ً دیناً ) ( ۱ ) آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔

اس کے بعد رسول (ص) نے ،دین کی تکمیل ، نعمت کے اتمام اپنی رسالت اوراپنے بعد علی کے ولی ہونے سے خدا کے راضی ہونے پر تکبیر کہی ۔

''اللّه اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی و الولایة لعلی بعدی'' ۔

____________________

۱۔ مائدہ: ۳۔


پھر آنحضرت (ص) نے یہ حکم دیا کہ علی کے لئے ایک خیمہ نصب کیا جائے اور مسلمان گروہ در گروہ اس خیمہ میں جائیں اورعلی کو امیر المومنین کہہ کر سلام کریں چنانچہ سارے مسلمانوںنے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد آپ(ص) نے اپنی ازواج اور دوسری عورتوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا۔

حضرت علی کو خلافت کی مبارک باد دینے میں ابوبکر و عمر پیش پیش تھے ان میں سے ہر ایک یہی کہتا تھا:

''بخٍ بخٍ لک یابن ابی طالب اصبحت و امسیت مولای و مولیٰ کل مومن و مومنة'' ۔( ۲ )

اے ابو طالب کے فرزند مبارک ہو آپ نے اس حال میں صبح و شام کی ہے آپ ہمارے اور ہر مومن و مومنہ کے مولا ہو گئے ہیں۔

۵۔نبوت کے جھوٹے دعویدار

غدیر خم کے مقام سے حاجیوں کا مجمع عراق، شام اور یمن کی طرف روانہ ہو گیا اور رسول(ص) نے مدینہ کا رخ کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ رسول(ص)کے بعد ان کی آغوش کے پلے ہوئے علی بن ابی طالب کے خلیفہ و جانشین ہونے کی خبر تھی تاکہ نہج نبوی کے مطابق اسلامی تبلیغ و دعوت کا سلسلہ جاری رہے اور امت قائد اول کی رحلت کے بعد دشوار راستوں سے گزر جائے۔ رسول(ص) نے علی کی خلافت کا اعلان غدیر کے تاریخی دن میں ہی نہیں کیا تھا بلکہ روز اول ہی سے آپ(ص) علی کے بارے میں یہ فرماتے چلے آ رہے تھے، وہ میرے خیرخواہ و زیر، غمگسار بھائی، میرے قوت بازو ہیں اور خلیفہ ہیں تمام لوگوں پر واجب ہے کہ نبی (ص) کے بعد آپ کی اطاعت و اتباع کریں اور انہیں اپنا قائد و زعیم سمجھیں۔

جب دین کا اقتدار مسلم ہو گیا اور مدینہ میں اس کا مرکز بن گیا تو پھر بعض لوگوںکا دین سے خارج ہونا یا نبی (ص)

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ج۳ ص ۱۱۲، مسند احمد ج۴ ص ۲۸۱، البدایہ و النہایہ ج۵ ص ،۲۱۳، الغدیر ج۱ ص ۴۳، ص ۱۶۵،۱۹۶، ص۲۱۵، ۲۳۰، ص ۲۳۸، ص ۲۷۶، ص ۲۸۳، ۲۸۵، ص ۲۹۷، ص ۲۷۹، ص ۳۹۳، ص ۴۰۲ جزء ۱۱ ص ۱۳۱۔


کی لائی ہوئی چیزوں سے بعض افراد کا مرتد ہونا یا مدینہ سے بہت دور ایسے افراد کا پایا جانا جو اپنی امیدوں اور بے جا خواہشات کو دین کے پیرایہ میں پورا کرنا چاہتے تھے، کوئی بہت اہم بات نہیں تھی۔

یہی وجہ تھی کہ مسیلمہ نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا اور اس نے رسول(ص) کو خط کے ضمن میں یہ لکھا کہ اسے بھی مبعوث کیا گیا ہے اس نے آپ(ص) سے یہ درخواست بھی کی کہ زمین کی بادشاہت میں آپ(ص) اس کے شریک ہو جائیں ، رسول(ص) نے اس کے خط کا مضمون دیکھا اور خط لانے والوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

''لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما لا نکما اسلمتما من قبل و قبلتما برسالتی فلم اتبعتما هذا الاحمق و ترکتما دینکما؟''

اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تم دونوں کی گردنیں مار دیتا کیونکہ تم دونوں پہلے اسلام لائے ہواور میری رسالت کو قبول کیاہے اس کے بعد تم دونوں نے اس احمق کا اتباع کیا اور اپنا دین چھوڑ دیا؟

پھر آپ(ص) نے ایک خط کے ذریعہ مسیلمہ کذاب کی، تردید کی اس خط میں یہ تحریر کیا:

''بسم اللّه الرحمٰن الرحیم، من محمد رسول اللّه الیٰ مسیلمة الکذاب، السلام علیٰ من اتبع الهدی اما بعد فان الارض للّه یورثها من یشاء من عباده و العاقبة للمتقین'' ۔( ۱ )

شروع کرتا ہوں رحمان و رحیم خدا کے نام سے ، یہ خط اللہ کے رسول محمد(ص) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے ، سلام ہو ہدایت کا اتباع کرنے والے پر، پھر واضح ہو کہ زمین خدا کی ہے ، اپنے بندوں میں سے وہ جس کو چاہے گا اس کو وارث بنائے گا اور عاقبت و انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔

مختصر یہ کہ اسود عنسی، مسیلمہ اور طلحہ ایسے دجالوں کی چلائی ہوئی ارتداد کی تحریکوں کو کچلنے میں مسلمان کامیاب ہو گئے۔

____________________

۱۔سیرت نبویہ ج۲ ص ۶۰۰۔


۶۔ روم سے جنگ کے لئے فوج کی عام بھرتی(۱)

رسول(ص) اسلامی حکومت کی شمالی سرحدوں کو بہت اہمیت دیتے تھے کیونکہ اس طرف روم کی منظم اور عظیم لشکر والی حکومت تھی۔ اسلامی حکومت کو فارس کی حکومت سے کوئی اندیشہ نہیں تھا،کیونکہ اس کی تباہی کے آثار رونما ہو چکے تھے، پھر اس کا کوئی روحانی عقیدہ بھی نہیں تھاکہ جس کا وہ روم کے مسیحیوںکی طرح دفاع کرتے، لہذا نئے اسلامی نظام کے لئے روم ہی خطرہ تھا خاص طور سے ان لوگوں کی طرف سے خطرہ تھا جن کو اسلامی حکومت سے ان کی فتنہ پردازیوں اور نفاق پروری کی بنا پر نکال دیا گیا تھا اور وہ شام چلے گئے تھے بعد میں کچھ اور لوگ ان سے ملحق ہو گئے تھے پھر وہاں نصارائے نجران کا وجود ایک سیاسی وسیلہ تھا جو روم کو ان کی مدد پر اکساتا تھا۔

اس کے باوجودحالات ایسے نہیں تھے کہ جن کی بنا پر اتنا اہتمام کیا جاتا کہ جتنا رسول(ص) نے ایک عظیم لشکر بنانے میں کیا ہے ، اس میں آپ(ص) نے علی اور ان کے بعض مخلصین کے علاوہ بڑے بڑے صحابیوں کو شامل کیا، اس سے رسول(ص) کا مقصد سیاسی فضا کو ایسے عناصر سے پاک کرنا تھا جو علی بن ابی طالب کی طرف قیادت کی منتقلی میں حائل ہو سکتے تھے، تاکہ آپ(ص) کے بعد علی خلیفہ بن جائیں اصل میں رسول(ص) اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لئے حضرت کی مرجعیت اور ان کی صلاحیتوںکو مسلسل بیان کرتے تھے آپ(ص)نے یہ محسوس کیا کہ علی کی خلافت سے بعض صحابہ خوش نہیں ہیں، یہ بات غدیر میں حضرت علی کی بیعت کے بعد آپ(ص) نے اچھی طرح محسوس کر لی تھی لہذا رسول(ص) نے مدینہ کو سیاسی کشیدگی سے پاک کرنے کا عزم کیا تاکہ آپ(ص)کے بعد اسلامی حکومت کی زمام کسی بھی ٹکرائو اور جھگڑے کے بغیر حضرت علی کے ہاتھ میں پہنچ جائے چنانچہ رسول(ص) نے پرچم بنایا اور اسامہ بن زید کے سپرد کر دیا-یہ جوان سپہ سالار تھے جن کو رسول(ص) نے منصوب کیا تھااور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کو ان کا تابع کیا اور اسامہ سے فرمایا:

____________________

۱۔رسول(ص) نے اسامہ کو ماہ صفر ۱۱ھ میں علم دیا تھا۔


''سر الیٰ موضع قتل ابیک فاوطئهم الخیل فقد ولیتک هذا الجیش فاغز صباحاً علی اهل ابنی '' ۔

اپنے باپ کی قتل گاہ کی طرف جائو، لشکر کو جمع کرو، میں نے تمہیں اس لشکر کا امیر مقرر کیا ہے اور صبح کے وقت اہل ابنی پر حملہ کرنا۔ لیکن جذبۂ تمرد و سرکشی ، اقتدار کی ہوس اورنظم و ضبط کی کمی کی وجہ سے بعض لوگوں نے نبی (ص) کے حکم کو تسلیم نہیں کیا شاید انہیں رسول(ص) کے مقاصد کا علم ہو گیا تھا اسی لئے انہوں نے ''الجرف'' چھاونی میں جمع فوج کی روانگی میں تاخیر کی ان کی تساہلی کی خبر رسول(ص) تک پہنچی تو آپ(ص) غضبناک ہوئے اور گھر سے نکل آئے-اس وقت آپ مخملی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور بخار کی شدت کی وجہ سے آپ(ص) کی پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی-مسجد میں پہنچ کر منبر پر تشریف لے گئے خدا کی حمد و ثنا کی اور اس کے بعد فرمایا:

''ایّها النّاس فما مقالة بلغتنی عن بعضکم فی تامیری اسامة، ولئن طعنتم فی امارتی اسامة لقد طعنتم فی امارتی اباه من قبله و ایم اللّه ان کان للامارة لخلیقا وان ابنه من بعده لخلیق الامارة و ان کان لمن احب النّاس الَیَّ و انّهما لمخیلان لکلِّ خیر و استوصوا به خیر فانه من خیارکم '' ۔( ۱ )

اے لوگو! تم میں سے بعض کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ میر ااسامہ کو سپہ سالار بنانا انہیں گراں گزرا ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم نے ان کے باپ زید کو سپہ سالار بنانے پر بھی تنقید کی تھی، خدا کی قسم وہ بھی اس منصب کا اہل تھا اور اس کا بیٹا بھی اس کی اہلیت رکھتا ہے ، میں اس سے بہت محبت رکھتا ہوں یہ دونوں ہی ہر نیکی و بھلائی کے مستحق ہیں اس کے بارے میں دوسروں سے نیکی کی سفارش کرو کہ وہ تمہارے نیک و شریف افراد ہیں۔

رسول(ص) کو شدید بخار تھا لیکن جیش اسامہ کو بھیجنے میںآپ کو اس کی پروا نہیں تھی فرماتے تھے:''انفدوا جیش اسامة'' ( ۲ ) اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو۔ آپ(ص) کے اصحاب میں سے جو بھی آپ(ص) کی عیادت کے لئے جاتا تھ

____________________

۱۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۱۹۰، طبع دار الفکر۔

۲۔ ایضاً۔


اسی سے یہ فرماتے تھے:''جهزوا جیش اسامة لعن الله من تخلف عنه'' ( ۱ ) اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو، لشکرِ اسامہ سے روگردانی کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو۔

کسی نے لشکر گاہ میں یہ خبر پہنچا دی کہ آنحضرت (ص) کی طبیعت زیادہ ناساز ہے اس لئے اسامہ عیادت کے لئے خدمتِ رسول(ص) میں آئے تو رسول(ص) نے انہیں اس مقصد کی طرف روانہ ہونے کی تاکید کی جس کی منصوبہ بندی آپ(ص) نے پہلے ہی کر دی تھی۔

اسامہ فوراً اپنے لشکر میں واپس آ گئے اور لشکروالوں کو روانہ ہونے پر ابھارنے لگے لیکن خلافت کی ہوس رکھنے والے اور پس و پیش سے کام لینے والوں نے یہ کہہ کر کہ نبی(ص) حالت احتضار میں ہیں لشکر کو روانہ نہیں ہونے دیا باوجودیکہ رسول(ص) نے لشکر کو روانہ کرنے کی تاکید فرمائی تھی اور اس بات پر زور دیا تھاکہ لشکر اسامہ کی جو ذمہ داری ہے اس میں کسی قسم کے تردد سے کام نہ لیا جائے۔

____________________

۱۔الملل و النحل ج۱ ص ۲۳۔


چوتھی فصل

رسول(ص) کی زندگی کے آخری ایام

۱۔وصیت لکھنے میں حائل ہونا

شدید بخار اور نہایت ہی تکلیف کے باوجود، رسول(ص)، علی اور فضل بن عباس کا سہارا لیکر لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے گھر سے مسجد میں آئے تاکہ ان مفاد پرستوں کے منصوبوںکو ناکام بنا سکیں جنہوں نے خلافت و قیادت کو غصب کرنے کے لئے سازش کی تھی، اس مقصد میں کامیابی ہی کے لئے ان لوگوں نے بھی نہایت ہی ہوشیاری سے رسول(ص) کے حکم سے روگردانی کی تھی جب رسول(ص) نے انہیں لشکرِ اسامہ کے ساتھ جانے کا حکم دیا تھا۔ نماز پڑھانے کے بعد رسول(ص) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

''ایّها النّاس سعرت النّار و اقبلت الفتن کقطع الّلیل المظلم، و انّی و اللّٰه ما تمسکون علی بشیء انی لم احل الا ما احل الله ولم احرم الا ما حرم اللّٰه'' ( ۱ )

اے لوگو! فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور وہ کالی رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھے چلے آ رہے ہیں۔

میں نے اسی چیز کو حلال قرار دیا ہے جس کو خدا نے حلال کیا ہے اور میں نے اسی چیز کو حرام قرار دیا ہے جس کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔

یہ آپ(ص) کی طرف سے ایک اور تنبیہ تھی کہ یہ لوگ آپ(ص) کے حکم کی نافرمانی نہ کریں اگر چہ ان کی نیتوں سے یہ

____________________

۱۔ سیرت نبویہ ج۲ ص۹۵۴، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۱۵۔


بات آشکار تھی کہ یہ لوگ امت اسلامیہ کو مصائب میں مبتلا کریں گے خصوصاًجب جاہل افراداس کے سربراہ و خلیفہ بن جائیں گے۔

رسول(ص) کے مرض میں شدت پیدا ہو گئی، صحابہ بھی آپ(ص) کے گھر میں جمع ہو گئے انہیں لوگوں میں وہ اشخاص بھی شامل ہو گئے جنہوںنے لشکر اسامہ سے روگردانی کی تھی۔ آنحضرت (ص) نے انہیں لعنت و ملامت کی تو انہوں نے کھوکھلے قسم کے عذر بیان کئے، اس موقعہ پر رسول(ص) نے امت کو ہلاکت و تباہی سے بچانے کے لئے دوسرے طریقہ سے کوشش کی فرمایا:

''ایتونی بدواة و صحیفة اکتب لکم کتاباً لا تضلون بعده'' ۔

مجھے کاغذ و دوات دیدو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں جس سے تم گمراہ نہ ہو۔

عمربن خطاب نے کہا: رسول(ص) پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ، ہمارے لئے خدا کی کتاب کافی ہے ۔( ۱ ) اس طرح اختلاف و جھگڑا ہو گیا، پردہ کے پیچھے سے رسول(ص) کی ازواج نے کہا: اللہ کا رسول(ص) جو مانگ رہا ہے وہ انہیں دیدو، اس پر عمر نے کہا: چپ ہو جائو تمہاری مثال حضرت یوسف کی بیویوں کی سی ہے جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو تم آنسو بہاتی ہوں اور جب صحت یاب ہو جاتے تو تم ان کے سر چڑھ جاتی ہو۔ رسول(ص) نے فرمایا: وہ تم سے بہتر ہیں۔( ۲ )

پھر فرمایا:''قوموا عنی لا ینبغی عندی التنازع'' میرے پاس سے اٹھ جائو میرے سامنے جھگڑا کرنا مناسب نہیںہے ۔

رسول (ص) کے اس نوشتہ کی امت کو شدید ضرورت تھی چنانچہ جب ابن عباس اس واقعہ کو یاد کر لیتے تھے تو افسوس کے ساتھ کہتے تھے: سب سے بڑا المیہ اور مصیبت یہ ہے کہ اللہ کے رسول (ص) کو نوشتہ نہیں لکھنے دیا گیا۔( ۳ )

____________________

۱۔ صحیح بخاری کتاب العلم باب کتابة العلم و کتاب الجہاد، باب جوائز الوفد۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۴، کنز العمال ج۳ ص۱۳۸۔

۳۔ صحیح بخاری کتاب العلم ج۱ ص۲۲ و ج۲ ص ۱۴، الملل و النحل ج۲ ص ۲۲، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۴۔


جب آپ کے پاس صحابہ میںاختلاف ہو گیا تو آپ(ص) نے نوشتہ لکھنے پر اصرار نہیں کیا، پھر یہ بھی خوف تھا کہ اس کے بعد ان کی سرکشی اور بڑھ جائیگی اور اس کا نتیجہ اس سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ رسول(ص) نے ان کی نیتوں کو سمجھ لیا تھا چنانچہ جب صحابہ نے قلم و دوات کی بات دہرائی تو اپ(ص) نے فرمایا:''ابعد الذی قلتم'' کیا تمہاری گستاخی کے بعد بھی( ۱ ) پھر آپ نے انہیں تین وصیتیں فرمائیں لیکن تاریخ کی کتابوںمیں ان میں سے دو ہی نقل ہوئی ہیں وہ یہ ہیںکہ مشرکین کو جزیرہ نما عرب سے نکال دیا جائے اور وفود بھیجے جائیں جیسا کہ آپ بھیجتے تھے۔

علامہ سید محسن امین عاملی نے اس پر اس طرح حاشیہ لگایا ہے : جوشخص بھی غور کرے گا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ محدثین نے اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کیا ہے ، فراموشی کی وجہ سے نہیں چھوڑا ہے ۔ سیاست نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اسے بیان نہ کریں وہ وصیت یہ تھی کہ رسول(ص) نے ان سے دوات و کاغذ طلب کیا تھا تاکہ ان کے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں۔( ۲ )

۲۔ فاطمہ زہرا باپ کی خدمت میں

رنجیدہ اور غم سے نڈھال فاطمہ زہرا آئیں، اپنے والد کو حسرت سے دیکھنے لگیںکہ وہ عنقریب اپنے رب سے جا ملیں گے، دل شکستہ حال میں باپ کے پاس بیٹھ گئیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر یہ شعر ہے :

و ابیض یستسقی الغمام بوجهه + ثمال الیتامیٰ عصمة الارامل

نورانی چہرہ جس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کا نگہبان ہے ۔

اسی وقت رسول(ص) نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور آہستہ سے فرمایا: بیٹی یہ تمہارے چچا ابو طالب کا شعر ہے ، اس وقت یہ نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:

____________________

۱۔ بحار الانوار ص ۴۶۹ ج۲۲۔

۲۔اعیان الشیعة ج۱ ص ۲۹۴، صحیح بخاری باب مرض النبی (ص)۔


( وما محمّد الّا رسول قد خلت من قبله الرّسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم و من ینقلب علیٰ عقبیه فلن یضر اللّه شیئا و سیجزی اللّه الشاکرین ) ۔( ۱ )

اور محمد(ص) توبس رسول(ص) ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول(ص) گزر چکے ہیں پھر اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے؟ یاد رکھو جو بھی ایسا کرے گا تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا شکر گذاروںکو عنقریب جزا دے گا۔

اس طرح رسول(ص) اپنی بیٹی فاطمہ (ص) کو ان افسوسناک حوادث کے لئے تیار کرنا چاہتے تھے جو عنقریب رونما ہونے والے تھے یقینا یہ چیز حضرت ابو طالب کے قول سے زیادہ بہتر تھی۔

اس کے بعد نبی (ص) کریم نے اپنی بیٹی کو قریب آنے کا اشارہ کیا تاکہ آپ(ص) سے کچھ گفتگو کریں، فاطمہ (ص) زہرا جھک کر سننے لگیں، آنحضرت (ص) نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگیں، پھر آپ(ص) نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرانے لگیں، صورت حال سے بعض حاضرین کے اندر تجسس پیدا ہو گیا، انہوںنے فاطمہ زہرا سے دریافت کیا آپ(ص) کے رونے اور پھر مسکرانے کا کیا راز ہے ؟ آپ(ص) نے فرمایا؛ میں رسول(ص) کے راز کو افشا نہیں کروںگی۔

لیکن جب رسول(ص)کی وفات کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا:''اخبرنی رسول اللّه (ص) انّه قد حضر اجله و انه یقبض فی وجعه هذا فبکیت ثم اخبرنی انّی اوّل اهله لحوقاً به فضحکت'' ۔( ۲ )

مجھے رسول(ص) نے یہ خبر دی تھی کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور اسی مرض میں آپ (ص) دنیا سے اٹھ جائیں

____________________

۱۔ آل عمران: ۱۴۴۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۷، تاریخ کامل ج۲ ص ۲۱۹۔


گے تویہ سن کر میں رونے لگی پھر مجھے یہ خبر دی کہ ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوںگی تو میں مسکرائی۔

۳۔رسول(ص) کے آخری لمحاتِ حیات

علی رسول (ص) کے ساتھ ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک انسان کے ساتھ سایہ رہتا ہے ، زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپ ان کے ساتھ ہی تھے آنحضرت (ص) انہیں تعلیم دیتے اپنا راز بتاتے اور وصیت کرتے تھے۔ آخری وقت میں رسول(ص) نے فرمایا: میرے بھای کو میرے پاس بلائو، علی کو رسول(ص) نے کہیں کام سے بھیجا تھا، بعض مسلمان آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن رسول(ص) نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی کچھ دیر بعد علی بھی آ گئے تو رسول(ص) نے فرمایا: مجھ سے قریب ہو جائو، علی آپ(ص) سے قریب ہو گئے آنحضرت (ص) علی کے سہارے بیٹھ گئے اور ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آپ(ص) پر احتضار کے آثار ظاہر ہو گئے اور رسول(ص)نے حضرت علی کی گود میں وفات پائی، اس بات کو خود حضرت علی نے اپنے ایک مشہور خطبہ میں بیان فرمایا ہے ۔( ۱ )

۴۔ وفات ودفن رسول(ص)

آخری وقت میں رسول(ص) کے پاس علی ابن ابیطالب ، بنی ہاشم اور ازواج کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، آپ(ص) کے فراق میں آپ(ص) کے گھر سے بلند ہونے والی آہ و بکا کی آواز سے آپ(ص) کی وفات کی خبر سب کو ہو گئی تھی ، سرور کائنات (ص)کے غم میں دل پاش پاش تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ بھر میں آپ کی وفات کی خبر پھیل گئی۔ سبھی پر غم و الم کی کیفیت طاری تھی اگرچہ رسول(ص) نے اس حادثہ کے لئے انہیں آمادہ کر دیا تھا اور متعدد بار اپنے انتقال کی خبر دے چکے تھے اور امت کو یہ وصیت کر چکے تھے کہ وہ آپ(ص) کے بعد آپ(ص) کے خلیفہ علی بن ابی طالب کی اطاعت کرے۔ یقینا آپ(ص) کی وفات ایک بہت بڑاسانحہ تھا جس سے مسلمانوں کے دل دہل گئے تھے مدینہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی، رسول(ص) کے گھر کے اطراف میں جمع افراد عمر بن خطاب کی بات

____________________

۱۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۷۔


سے حیرت زدہ تھے وہ تلوار سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہہ رہے تھے: منافقین میں سے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اللہ کا رسول(ص) مر گیا۔ خدا کی قسم! وہ مرے نہیں ہیں ہاں وہ موسیٰ بن عمران کی طرح اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔( ۱ )

اگر چہ موسیٰ کی غیبت اور محمد(ص) کی وفات میں کوئی مماثلت نہیں ہے لیکن اس مماثلت و مشابہت پر عمر کے اصرار سے خود ان کے کردار سے پردہ ہٹتا ہے ۔

عمر آرام سے نہیں بیٹھے یہاں تک کہ ابوبکر آئے اور رسول(ص) کے گھر میں داخل ہو ئے اور رسول(ص) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور تیزی سے باہر نکلے اورکہنے لگے: اے لوگو! سنو جو محمد کی پرستش کرتا ہے وہ جان لے کہ محمد مر گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئیگی۔ پھر یہ آیت پڑھی:( وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ) اس سے عمر کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ گویا وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں تھے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت ہے ؟( ۲ )

اس کے بعد ابو بکر اور عمر بن خطاب اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ گئے انہیں یہ خبر ملی تھی کہ سقیفہ میں ایک ہنگامی جلسہ ہو رہا ہے جس میں رسول(ص) کی وفات کے بعد خلافت کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔ یہ لوگ حضرت علی بن ابی طالب کا منصوب ہونا بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ انہوںنے خلیفہ کے عنوان سے علی کی بیعت کی تھی ، ان لوگوںنے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عمل کو رسول(ص) کے جنازہ کی بے حرمتی تصور کیا جائے گا۔

علی بن ابی طالب اور آپ(ص) کے اہل بیت رسول(ص) کے جنازہ کی تجہیز و تدفین کے امور میں مشغول تھے، علی نے آپ(ص) کی قمیص اتارے بغیر غسل دیا، عباس بن عبد المطلب اور ان کے بیٹے فضل نے مدد کی ، غسل دیتے وقت علی فرماتے تھے:''بابی انت و امی ما اطیبک حیاً و میتاً'' ( ۳ ) میرے ماں باپ آپ پر قربان

____________________

۱۔تاریخ کامل ج ۲ ص ۳۲۳، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۶۶، سیرت نبویہ، زینی دحلان ، ج۲ ص ۳۰۶۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص۵۳ و ۵۶۔

۳۔ سیرت نبویہ ، ابن کثیر ج۴ ص ۵۱۸۔


آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور مرنے کے بعد بھی طیب و طاہر ہیں۔

پھر آپ(ص) کے جسد اقدس کو ایک تخت پر لٹا دیا ۔ علی نے فرمایا:'' ان رسول الله (ص) امامنا حیاً و میتاً فلید خل علیه فوج بعد فوج فیصلون علیه بغیر امام و ینصرفون'' ۔

بے شک اللہ کا رسول(ص) زندگی میں بھی ہمارا امام ہے اور مرنے کے بعد بھی لہذا دستہ دستہ بغیر امام کے نماز جناہ پڑھیںاور لوٹ جائیں، چنانچہ سب سے پہلے آپ(ص) کی نماز جنازہ حضرت علی اور بنی ہاشم نے پڑھی اور ان کے بعد انصار نے پڑھی۔( ۱ )

اس کے بعد علی رسول(ص) کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا:''سلام علیک ایها النبی ورحمة اللّه و برکاته، الّلهم انّا نشهد ان قد بلغ ما انزل الیه و نصح لامته و جاهد فی سبیل اللّه حتّی اعز اللّه دینه و تمت کلمته الّلهم فاجعلنا ممن یتبع ما انزل اللّه الیه و ثبتنا بعده و اجمع بیننا و بینه'' ۔

سلام اور خدا کی رحمت و برکات ہوں آپ(ص) پر اے نبی (ص) ، اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوںنے ہر اس چیز کی تبلیغ کی جو تونے ان پر نازل کی ، اپنی امت کو نصیحت کی اور راہِ خدا میں جہاد کیا یہاں تک کہ خدا نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کی بات پوری ہو گئی۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو تونے ان (ص) پر نازل کی ہیں اور ان کے بعد ہمیں ثابت قدم رکھ ہمیں اور انہیں یکجا کر دے۔ اس پر لوگوں نے آمین کہا۔ پھر دوسرے مردوںنے ان کے بعد عورتوں نے اور سب کے بعد لڑکوںنے آپ(ص) کے جنازہ پر نماز پڑھی۔( ۲ )

آپ(ص) کی قبر اسی حجرہ میں تیار کی گئی جس میں آپ(ص) نے وفات پائی تھی۔ جب حضرت علی نے آپ (ص) کو قبر

____________________

۱۔ ارشاد ج۱ ص ۱۸۷، اعیان الشیعة ج۱ ص ۲۹۵۔

۲۔ طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۹۱۔


میںاتارنا چاہا تو دیوار کے پیچھے سے انصار نے ندا دی۔ اے علی ! ہم آپ کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں رسول(ص) کے بارے میں ہمارا جو حق ہے آج وہ حق ہاتھ سے جا رہا ہے اس کام میں ہم میں سے بھی کسی کو شریک کر لیجئے تاکہ رسول(ص) کے امور دفن میں ہم بھی شریک ہو جائیں حضرت علی نے فرمایا: اوس بن خولی شریک ہو جائیں یہ بنی عوف سے تھے اور بدری تھے۔

علی قبر میں اترے ، رسول(ص) کے چہرہ کو کھولا، آپ(ص)کے رخسار کو خاک پر رکھا اور قبر کو بند کر دیا۔رسول(ص) کے دفن اور نمازِ جنازہ میں وہ صحابہ شریک نہیں ہوئے جو سقیفہ چلے گئے تھے۔

اے اللہ کے رسول(ص) ! آپ پر سلام ہو جس دن آپ(ص) پیدا ہوئے ، جس دن وفات پائی اور جس دن زندہ اٹھائے جائیں گے۔


پانچویں فصل

اسلامی رسالت کے بعض نقوش

رسول (ص) کس چیز کے ساتھ مبعوث کئے گئے؟( ۱ )

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) کو خاتم الانبیاء اور ان سے پہلے والے مرسلین کی شریعت کو منسوخ کرنے والا بنا کر اس وقت مبعوث کیا جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ منقطع ہو چکا تھا اس وقت مشرق سے مغرب تک خرافات و احمقانہ باتوں کا رواج تھا۔ بدعتیں ، برائیاں اور بت پرستی کا دور تھا۔ اس وقت آپ (ص)کو تمام کالے ، گورے عرب و عجم کے تمام لوگوں کی طرف نبی (ص) بنا کر بھیجا۔

رسول(ص) دنیا کے سامنے آئے دنیا والوں کو اس ایک خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی جو خالق، رازق اور ہر امر کا مختار ہے ، نفع و ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے، اور ملک میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے اور نہ ہی کمزوری کی بنا پر کوئی اس کا سرپرست ہے اور نہ کوئی اس کی بیوی ہے ، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ، کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے۔

خدا نے آپ(ص) کو اس لئے بھیجا تاکہ آپ(ص) لوگوں کو اس خدا کی عبادت کا حکم دیں جو ایک ہے اوروحدہ لا شریک ہے اور بتوں کی پوجا کو باطل قرار دیں کہ جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ ، نہ کچھ سمجھتے ہیں نہ کچھ سنتے ہیں، نہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں نہ اپنے غیر کا، مکارم اخلاق کی تکمیل اور صفات حسنہ پر ابھارنے کے لئے بھیجا، آپ ہر نیکی کا حکم دینے والے اور ہر برائی سے روکنے والے تھے۔

____________________

۱۔ یہ بحث سید محسن الامین عاملی نے اپنی کتاب اعیان الشیعة میں سیرت نبی (ص) کے ذیل میں کی ہے۔


شریعت اسلامی کی عظمت و آسانی

بعض لوگ''لاالٰه الا اللّه ، محمد رسول اللّه'' کہنے، نماز پڑھنے، زکات دینے، ماہ رمضان کا روزہ رکھنے، خانۂ کعبہ کا حج کرنے اور اسلام کے احکام کی پابندی کو کافی سمجھتے ہیں۔ اور سوچتے ہیں کہ مسلمانوں کے نفع و ضرر میں شامل ہونے کے لئے ان دو کلموں''لاالٰه الا اللّه محمد رسول اللّه'' کا کہنا کافی ہے ۔

اسلامی قوانین کا امتیاز

آپ کواس لئے مبعوث کیا گیا تاکہ آپ(ص) تمام مخلوقات کے درمیان مساوی طور پر حقوق تقسیم کریں اور یہ بتائیں کہ کوئی کسی سے بہتر نہیں ہے مگر یہ کہ پرہیزگار ہو،آپ(ص) کو مومنین کے درمیان اخوت قائم کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے برابر قرار دینے کے لئے بھیجاگیا، ان سب کا خون برابر ہے اور اگر ان میں سے کسی چھوٹے نے کسی کو پناہ دیدی تو سب کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کریں اور اسلام میں داخل ہونے والے کے لئے عام معافی ہے ۔

آپ نے واضح اور روشن شریعت، عدل پر مبنی قانون جو آپ کو خدا کی طرف سے ملا تھا، دنیا کے سامنے پیش کیا، یہ قانون ان کے عبادی اور تجارتی ومعاملات سے متعلق احکام کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے بلکہ دنیا و آخرت میں انسان کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے وہ سب اس میں موجود ہے ۔ یہ عبادی، اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی قانون ہے ، اس نے ایسی کسی چیز کو نظرانداز نہیں کیا ہے جو بشر کی زندگی میں رونما ہو سکتی ہے یا جس کی انسان کو ضرورت ہو سکتی ہے ، پس جو واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے یا جو حادثہ رونما ہوتا ہے مسلمانوں کے پاس شریعت اسلامیہ میں اس کا ایک قانون و حکم موجود ہوتاہے ، جس سے رجوع کیا جا تا ہے ۔

دین اسلام کی عبادتیں محض عبادت ہی نہیں ہے بلکہ ان کے جسمانی، اجتماعی اور سیاسی فوائد بھی ہیں، مثلاً طہارت سے پاکیزگی کا فائدہ ملتا ہے ، اور نماز ایک روحانی و معنوی جسمانی ورزش ہے ، نماز جماعت اور حج میں اجتماعی اور سیاسی فوائد ہیں، روزہ میں صحت و تندرستی کے ایسے فوائد ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ مختصر یہ کہ اسلامی احکام کے ظاہری فوائد کو بھی شمار کرنا دشوار ہے چہ جائیکہ اس کے مخفی فوائد کو بیان کیاجائے۔


اس دین کی بہت سی خوبیاں ہیں، اس کے احکام عقل کے مطابق ہیں،یہ آسان ہے ، اس میں تنگی و سختی نہیں ہے اور چونکہ یہ اظہار شہادتین کو کافی سمجھتا ہے اور اس میں بلندی دور اندیشی اور جد و جہد کی تعلیم ہے اس لئے لوگ گروہ در گروہ اس میں داخل ہوتے ہیں اور دنیا کے اکثر ممالک پر اس کے ماننے والوں کی حکومت ہے اس کانور مشرق و مغرب میں چمک رہا ہے روئے زمین پر بسنے والے اکثر ممتاز ممالک اس کے پرچم کے نیچے آ گئے ہیں اور اکثر قومیں لسانی اور نسلی اختلاف کے باوجود اس کے قریب آ گئی ہیں۔

زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ وہ شخص جو مکہ سے خفیہ طور پر نکلا، جس کے اصحاب کو سزا دی جاتی تھی، جنہیں ذلیل سمجھا جاتا تھا، جنہیں ان کے دین سے روکا جاتا تھا نتیجہ میں کبھی وہ مخفی طریقہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرتے اور کبھی چپکے سے مدینہ چلے جاتے تھے، وہی اپنے انہیں اصحاب کے ساتھ عمرہ قضا یعنی مکہ میں علیٰ الاعلان داخل ہوتا ہے اور قریش نہ اسے پیچھے ڈھکیل سکتے ہیں اور نہ داخل ہونے سے روک سکتے ہیں پھر تھوڑے ہی دن بعد اہل مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے اور بغیر کسی خونریزی کے اہل مکہ پر تسلط پاتا ہے، اس کے بعد وہ طوعاً و کرہاً، اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور عرب کے سردار اپنی زمام اطاعت آپ(ص) کے اختیار میں دینے کے لئے آپ(ص) کی خدمت میں وفد بھیجتے ہیں حالانکہ اس فتح سے پہلے اتنی طاقت ہو گئی تھی کہ آپ(ص) نے دنیا کے بادشاہوں ، قیصر و کسریٰ وغیرہ کے پاس اپنے سفیر روانہ کئے تھے اور انہیں اسلام کی دعوت دی تھی خصوصاً ملک قیصر کو جو کہ بہت دور تھا۔ الغرض تمام ادیان پر ان کا دین غالب آ گیا جیسا کہ ان کے رب نے وعدہ کیا تھا جس کا ذکر سورۂ نصر اور فتح و غیرہ میں موجود ہے اور تاریخ کی کتابوں سے بھی ہمیںیہی معلوم ہوتا ہے ۔

تلوار اور طاقت سے یہ دین نہیں پھیلا ہے جیسا کہ بعض دشمنوں کا خیال ہے بلکہ حکمِ خدا( ادعُ الیٰ سبیل ربک بالحکمة و الموعظة الحسنة و جادلهم بالتی هی احسن ) ۔( ۱ )

حکمت اور بہترین نصیحتوں کے ذریعہ انہیں اپنے رب کے راستہ کی طرف بلایئے اور ان سے شائستہ طریقہ سے بحث کیجئے۔

____________________

۱۔ النحل:۱۲۵۔


اہل مکہ اور تمام اعراب سے آپ(ص) نے جنگ نہیں کی بلکہ انہوں نے آپ(ص) سے جنگ کی تھی انہوں نے آپ(ص) کے قتل اور آپ(ص) کو وطن سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا حالانکہ آپ(ص) نے اہل کتاب کو ان کے دین ہی پر باقی رکھااور اسلام قبول کرنے کے لئے ان پر جبر نہیں کیا۔

قرآن مجید

جس وقت خدا نے آپ(ص) کو نبوت سے سر فراز کیا اسی وقت آپ(ص) پر قرآن نازل کیا جو واضح ہے اور عربی میں ہے باطل اس میں کسی بھی طرف سے داخل نہیں ہو سکتا، اسی کے ذریعہ رسول(ص) نے(عرب کے) بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء کو عاجز کیا اور اسی کے ذریعہ انہیں چیلنج کیا لیکن وہ اس کا جواب نہیں لا سکے جبکہ وہ عرب کے سب سے بڑے فصیح تھے بلکہ فصاحت و بلاغت انہیں پر منتہی ہوتی تھی اس کتابِ عزیز میں، جو کہ حکمت اور علم والے (خدا) کی طرف سے نازل ہوئی ہے ، دین کے احکام، گذشتہ لوگوں کے حالات ، تہذیب و اخلاق، عدل کا حکم ، ظلم سے ممانعت اور ہر چیز کا واضح بیان ہے ۔ اور جو چیز اسے دوسری آسمانی کتابوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں اس کی تلاوت ہوتی رہے گی اور اس کی تازگی اپنی جگہ باقی رہے گی۔ اپنے بیان سے یہ لوگوں کو حیرت زدہ کرتی رہے گی اس کی تلاوت سے طبیعتیں نہیں تھکیں گی خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور اس کا زمانہ پر انا اور فرسودہ نہیں ہوگا۔

یقینا قرآن معجزہ ہے ، اس کے ذریعہ آپ(ص) نے جاہلوں کی جاہلیت کے گھپ اندھرے میں علمی و ثقافتی انقلاب پیدا کیا ااور اپنی تحریک کی بنیاد مضبوط علمی پایوں پر استوار کی، لوگوں کو علم حاصل کرنے پر اکسایا اور اسے ، انسان کے شایان شان کمال کی طرف بڑھنے کا اوّلین سبب قرار دیا۔ انسان کوغور و فکر اور تجربہ کے حصول پر ابھارا ، طبیعت کے ظواہر کی تحقیق اور اس میں غور کرنے کی ترغیب دی تاکہ وہ اس کے قوانین اور اس کی سنتوں کو کشف کر سکے اور انسان کے لئے ہر اس علم کا حاصل کرنا واجب قرار دیا کہ جس پر انسان کی اجتماعی زندگی کا دار مدار ہو ، نظری علوم، کلام، فلسفہ، تاریخ اور فقہ و اخلاق، کو اہمیت دی، تقلید اورظن و گمان کی پیروی سے روکااور دلیل و برہان سے تمسک کرنے کا حکم دیا۔


اسی طرح قرآن مجید نے کوشش، جدو جہد اور نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی ترغیب دی، سستی اورکاہلی سے روکا، اتحاد کی دعوت دی اختلاف ، قومی فخرومباحات اور خاندانی تعصب سے منع کیا۔

خلق، تکوین و تشریع، ذمہ داری و زمام داری اور جزاء و سزا میں اسلام نے عدل کو بنیاد قرار دیا ہے اور سب سے پہلے اسلام نے یہ آواز بلند کی کہ خدا کے قانون اور اس کی شریعت کے سامنے سارے انسان مساوی ہیں ۔ طبقہ بندی اور نسلی امتیاز کو لغو قرار دیا اور معنوی چیز تقوے اور نیکی میں سبقت کرنے کو خدا کے نزدیک فضیلت کا معیار مقرر کیا جبکہ انسانی معاشرہ میں اس فضیلت کو بھی طبقات کے امتیاز کا سبب نہیں گردانا۔

امن و امان قائم رکھنے، جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے اسلام نے بہت زور دیا ہے اور عدل و امان کے لئے زمین ہموار کرنے کے بعد اگر کوئی امن شکنی کرے گا تو اس کیلئے، سخت سزا مقرر کی ہے ، اس اجتماعی مرض کے علاج کے لئے سزا کو آخری دوا قرار دیا ہے وہ بھی ایسی سزا جو انسان کی حریت سے ہم آہنگ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کے قضا و فیصلہ کا دارمدار عدل و امن اور جائز حقوق کے اثبات پر ہے اور اس کے لئے پوری ضمانت لی ہے ۔

اسلام نے بدن و نفس کی صحت کو محفوظ رکھنے پر بہت زور دیا ہے اور اپنے تمام قوانین کو اس اصل کے مطابق رکھا ہے کیونکہ حیات میں یہ اہمیت کی حامل ہے۔


شریعت اسلامیہ میں واجب اور حرام

شریعت اسلامیہ میں واجب و حرام فطری بنیاد اور ایسے امور پر مرتکز ہے جو انسان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے اور اسے کمال و حق کے نور کی ہدایت کرنے کے لئے آیا ہے ، انسانیت کو اگر کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے کہ جس پر بشری کمال موقوف ہو تو شریعت اسلامیہ میں اس چیز کو انسان پر واجب قرار دیا گیا ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے راستے بتائے گئے ہیں اور ہر اس چیز کو حرام کیا گیا ہے جو انسان کوحقیقی سعادت سے دور کرتی ہے اور بد بختی کے غار میں گرانے والے ہر راستے کو بند کر دیا گیا ہے ۔

اور جن چیزوں سے شریعت کے اصولوں میں رخنہ نہیں پڑتا ہے اور جو چیزیںبشری کمال کی راہ میں مانع نہیں ہیں اور دنیوی زندگی کی لذتوں اور زینتوں کا باعث ہیں انہیں مباح کیا گیا ہے ۔ اور جو چیز انسان کے لئے مضر ہوتی ہے اسے حرام کر دیا جاتا ہے جس کا امتثال انسان کے لئے ضروری ہوتا ہے اسے اس پر واجب کر دیا جاتا ہے ان تمام باتوں کے باوجود شریعت نے مکارم اخلاق کو بنیادی مقاصد سمجھا ہے جن کا ایک پاکیزہ سلسلہ ہے اور عقلمند انسان کے لئے اس دنیا کی زندگی میں جن کو حاصل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ وہ اس دنیا میں سعادت اور نیک بختی تک پہنچ جائیں اور انہیں کے ذریعہ انسان آخرت کی ابدی، دنیا میں زندہ رہے۔

عورت کا اسلام نے خاص خیال رکھا ہے اسے خاندان کا بنیادی رکن اور ازدواجی زندگی میں سعادت و نیک بختی کا سبب قرار دیا ہے اور اس کے لئے ایسے حقوق اور فرائض معین کئے ہیں جو اس کی عزت و کرامت اور اس کے بچوں کی کامیابی اور انسانی معاشرہ کی سعادت کی ضامن ہیں۔

مختصر یہ کہ اسلام نے ایسی کسی بھی چیز کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے کہ جو انسانی معاشرہ کی ترقی میں کام آ سکتی تھی۔


چھٹی فصل

میراث خاتم المرسلین(ص)

خدا وند عالم فرماتا ہے :

( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم یتلوا علیهم آیاته و یزکّیهم و یعلّمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) ( ۱ )

خدا وہ ہے جس نے امّیوں میں خود انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگر چہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔

یقینا خاتم الانبیاء حضرت محمد (ص) کی بعثت کے عظیم فوائد تاریخ اسلام کے ذریعہ آشکار ہو چکے ہیں آپ(ص) کی نبوت سے یہ درج ذیل امور روشن ہوئے ہیں:

۱۔ آپ(ص) کی خدائی رسالت عام تھی آپ(ص) نے بشریت تک اسے پہنچایا۔

۲۔ امت مسلمہ تمام قوموں کے لئے مشعل رسالت اٹھائے ہوئے ہے۔

۳۔ اسلامی حکومت ایک منفرد الٰہی نظام اور خود مختار سیاست والا نظام ہے ۔

۴۔ معصوم قائد و رہبر رسول(ص) کے خلیفہ ہیں اور بہترین طریقہ سے آپ(ص) کی نمائندگی کرتے ہیں۔

____________________

۱۔ سورۂ جمعہ :۲۔


جب ہم بطورِ خاص رسول(ص) کی اس میراث کو دیکھتے ہیں جوکہ سنی ہوئی، لکھی ہوئی اور تدوین شدہ ہے تو ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کے دو حصے کریں کیونکہ ہم نے رسول(ص) کی میراث کی تعریف اس طرح کی ہے : ہر وہ چیز جو رسول(ص) نے امت اسلامیہ اور بشریت کے سامنے پیش کی ہے خواہ وہ پڑھی جانے والی ہو یا سنی جانے والی ہو، اسے میراث رسول(ص) کہتے ہیں اس لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ قرآن مجید

۲۔ حدیث شریف-سنت

یہ دونوں نعمتیں آسمانی فیض ہیں جو رسول(ص) کے واسطہ سے انسان تک پہنچی ہیں ، خدا نے وحی کے ذریعہ ان دونوں کو قلبِ محمد(ص) پر اتارا جو کہ اپنی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں ہیں۔

قرآن مجید اول تو اس لحاظ سے بھی ممتاز ہے کہ اس کا اصل کلام اور اس کا مضمون دونوں ہی خدا کی طرف سے ہے پس یہ الٰہی کلام معجزہ ہے اور اسی طرح اس کا مضمون بھی معجزہ ہے ، اس کی جمع آوری اور تدوین -جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہو چکا ہے-رسول(ص) ہی کے زمانہ میں مکمل ہو چکی تھا اور یہ کلام تواتر کے ساتھ بغیر کسی تحریف کے ہم تک پہنچا ہے ۔

ایسے تاریخی ثبوت کی کمی نہیں ہے کہ جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نصِ قرآنی کی تدوین عہد رسول(ص) ہی میں ہو چکی تھی۔ ہم یہاں قرآنی اور غیر قرآنی ثبوت پیش کرتے ہیں۔

۱۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :( و قالوا اساطیر الاولین اکتتبها فهی تملی علیه بکرة و اصیلًا ) ( ۱ )

وہ کہتے ہیںکہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں جن کو لکھوا لیا ہے، صبح و شام یہی ان کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔

____________________

۱۔ فرقان: ۵۔


۲۔حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں:

''ما نزلت علیٰ رسول اللّه (ص) آیة من القرآن الا اقرانیها واملاها علّ فکتبتها بخطی و علّمنی تاویلها و تفسیرها ناسخها و منسوخها و محکمها و متشابهها و خاصها و عامها و دعا اللّه ان یعطینی فهمها و حفظها، فما نسیت من کتاب اللّه و علماً املا ه علّ و کتبته منذ دعا لی بمادعا'' ( ۱ )

رسول(ص) پر قرآن کی جو آیت بھی نازل ہوتی تھی آپ(ص) اسے مجھے پڑھاتے اور اس کا املا کراتے تھے اور میں اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا آپ مجھے اس کی تاویل ، تفسیر، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ،خاص و عام کی تعلیم دیتے تھے اورآپ نے خدا سے یہ دعا کی کہ خدا مجھے اسے سمجھنے اور حفظ کرنے کی صلاحیت مرحمت کرے چنانچہ جب سے رسول(ص) نے خدا سے میرے لئے دعا کی ہے اس وقت سے میں قرآن کی آیت اور ان کے لکھوائے ہوئے علم کو نہیں بھولا ہوں۔

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول(ص) نے پورے قرآن کی تبلیغ کی ہے- پورا قرآن پہنچایا ہے -آج مسلمانوں کے پاس جو قرآن ہے یہ وہی قرآن ہے جو رسول(ص) کے عہد میں متداول تھا اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوئی ہے ۔

رہی سنت اور حدیث نبی(ص) تووہ کلام بشری ہے اور اس کامضمون خدا کا ہے اپنی کامل فصاحت کے سبب یہ ممتاز ہے ۔ اس میں رسول(ص) کی عظمت ، عصمت اور آپ(ص) کا کمال جلوہ گر ہے ۔

یہیں سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید اس قانون کا پہلا مصدر اوراولین سر چشمہ ہے کہ بشر کو زندگی میں جس کی ضرورت پیش آسکتی ہے خدا وند عالم فرماتا ہے:

( قل ان هدی اللّه هو الهدیٰ و لئن اتبعت اهوائهم بعد الّذی جائک من العلم مالک

____________________

۱۔ کافی ج۱ ص ۶۲ و ۶۳، کتاب فضل العلم باب اختلاف الحدیث۔


من اللّه من ولی ولا نصیر ) ( ۱ )

کہہ دیجئے کہ ہدایت تو بس پروردگار ہی کی ہدایت ہے اور اگر آپ(ص) علم آنے کے بعد ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے تو پھر خدا کی طرف سے بچانے کے لئے نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ مددگار۔

قرآن مجید ، حدیث و سنت نبی(ص) کو خدائی قوانین کے لئے دوسرا سر چشمہ قرار دیتا ہے ، یعنی سنت نبی (ص) قرآن کے بعد اس اعتبار سے قانون خدا کا سر چشمہ ہے کہ رسول(ص) قرآن کے مفسر ہیں، اسوۂ حسنہ ہیں جس کی اقتداء کی جاتی ہے لوگوں کو چاہئے کہ آپ(ص) کے احکام پر عمل کریں اور جس چیز سے روکیں اس سے باز رہیں۔( ۲ )

مگر افسوس عہد رسول(ص) کے بعد اور اوائل کے خلفاء کے زمانہ میں سنت نبی بہت سخت حالات سے گذری ہے ابو بکر و عمر نے حدیث رسول(ص) کی تدوین پر پابندی لگا دی تھی اور جو حدیثیں بعض صحابہ نے جمع کر لی تھیں انہیں ان دونوںنے یہ کہہ کر نذرِ آتش کر دیا تھا کہ تدوین حدیث اور اس کے اہتمام سے لوگ رفتہ رفتہ قرآن سے غافل ہو جائیں گے، یا حدیث و قرآن میں التباس کی وجہ سے قرآن ضائع ہو جائیگا۔

لیکن اہل بیت ، ان کے شیعوں اور بہت سے مسلمانوں نے قرآن مجید سے درس لیتے ہوئے حدیث کا ویسا ہی احترام کیا جیسا کہ اس کا حق تھاچنانچہ انہوںنے اسے حفظ کرنے زبانی بیان کرنے اور حکومت کی طرف سے تدوین پر پابندی کے باوجود اس کی تدوین کا اہتمام کیا، حدیث کی تدوین پر پابندی کا سبب جو بیان کیاجاتا ہے حقیقت میں وہ اصل سبب نہیں ہے کیونکہ بعد والے علماء اور خلفاء نے اس پر پابندی کی مخالفت کی اور تدوین حدیث کی ترغیب دلائی۔

سب سے پہلے جس نے تدوینِ حدیث کا کام شروع کیا اور اسے اہمیت دی وہ رسول(ص) کی آغوش کے پروردہ آپ(ص) کے وصی، علی بن ابی طالب ہیں جو خود فرماتے ہیں:

''و قد کنت ادخل علیٰ رسول اللّه کل یوم دخلة فیخلینی فیها ادور معه حیثما دار ۔

____________________

۱۔بقرہ: ۱۲۰ ۔

۲۔نحل:۴۴، احزاب:۲۱ ، حشر:۷۔


وقد علم اصحاب رسول الله(ص) انه لم یصنع ذلک باحد من النّاس غیری...و کنت اذا سألته اجابنی و اذا سکتّ وفنیت مسائلی ابدأنی، فما نزلت علیٰ رسول اللّه آیة من القرآن الا اقرانیها و املاها علیّ فکتبتها بخطی و علّمنی تاویلها و تفسیرها... و ما ترک شیئاً علّمه اللّٰه من حلال ولا حرام ولا امر ولا نهی کان او یکون منزلاً علیٰ احد قبله من طاعة او معصیة الا علمنیها و حفظته فلم انس حرفاً واحداً...'' ( ۱ )

میں ہر روزایک مرتبہ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اس وقت آپ(ص) صرف مجھے اپنے پاس رکھتے تھے، چنانچہ جہاں وہ جاتے میں بھی وہیں جاتا تھا، رسول(ص) کے اصحاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیںکہ رسول(ص) نے میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا...جب میں آپ(ص) سے سوال کرتا تھا تو آپ(ص) مجھے جواب دیتے تھے اور جب میرا سوال ختم ہو جاتا تھا اور میں خاموش ہو جاتا تھا تو آپ(ص) اپنی طرف سے سلسلہ کا آغاز کرتے تھے ، رسول(ص) پر جو آیت نازل ہوتی تھی اس کی تعلیم آپ(ص) مجھے دیتے تھے اور مجھے اس کا املا کراتے تھے اور میں اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیتا تھا اور مجھے اس کی تاویل و تفسیر کی تعلیم دیتے تھے... حلال و حرام امر و نہی اور جو ہو چکاہے یا ہوگا یا آپ(ص) سے پہلے کسی پر اطاعت و معصیت کے بارے میں نازل ہونے والی چیز کا جو علم خدا نے آپ کوعطا کیا تھاوہ سب آپ(ص) نے مجھے سکھایا اور میں نے اسے یاد کر لیا اور اس میںسے میں ایک حرف بھی نہیں بھولا ہوں۔

حضرت علی نے رسول(ص) کے املا کو ایک کتاب میں جمع کیا ہے جس کانام جامعہ یا صحیفہ ہے۔

ابوعباس نجاشی ، متوفی-۴۵۰ھ-کہتے ہیں: ہمیں محمد بن جعفر-نحوی تمیمی نے جو نجاشی کے شیخ تھے- عذافر صیرفی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: میں حکم بن عتیبہ کے ساتھ ابو جعفر-امام محمد باقر -کی خدمت میں حاضر تھا اس نے ابو جعفر سے سوال کیا وہ ان کی بہت تعظیم و عزت کرتا تھا لیکن کسی چیز کے بارے میں دونوں میں اختلاف ہو گیا تو ابو جعفر نے فرمایا: بیٹا! ذرا میرے جد حضرت علی کی کتاب نکالو:

____________________

۱۔ بصائر الدرجات: ۱۹۸، کافی ج۱ ص ۶۲و ۶۳۔


انہوں نے کتاب نکالی وہ عظیم کتاب لپٹی ہوئی تھی، ابو جعفر اسے لیکر دیکھنے لگے یہاں تک کہ اس مسئلہ کو نکال لیا اور فرمایا: یہ حضرت علی کی تحریر اور رسول(ص) کا املا ہے پھر حکم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا؛ اے ابو محمد، سلمہ اور ابو المقدام تم ادھر ادھر جہاں چاہو چلے جائو خدا کی قسم تمہیں کسی قوم کے پاس اس سے بہتر علم نہیں ملے گا ان پر جبریل نازل ہوتے تھے۔( ۱ )

ابراہیم بن ہاشم نے امام محمد باقر کی طرف نسبت دیتے ہوئے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:'' فی کتاب علی کل شیء یحتاج الیہ حتی ارش الخدش''۔( ۲ )

حضرت علی کی کتاب میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ضرورت پڑ سکتی ہے یہاں تک خراش کا جرمانہ بھی لکھا ہوا ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے علی کا جامعہ یا صحیفہ آپ کی دوسری تدوین ہے جو کھال پر لکھا ہوا ہے ، اس کا طول ستر ہاتھ ہے ۔

ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوںنے امام جعفر صادق سے کچھ دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا:''ان عندنا الجامعة ، صحیفة طولها سبعون ذراعاً بذراع رسول اللّه و املائه فلق فیه و خط علی، بیمینه فیها کل حلال و حرام و کل شیء یحتاج الیه النّاس حتی الارش فی الخدش'' ۔( ۳ )

ہمارے پاس جامعہ ہے ، یہ ایک صحیفہ ہے جس کا طول ، رسول(ص) کے ہاتھ کے لحاظ سے، ستّر ہاتھ ہے، یہ رسول نے املا لکھوایا ہے اورعلی نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ۔اس میں حلال و حرام کی تفصیل اور ہر اس چیز کاحکم و بیان ہے جس کی لوگوں کو ضرورت پڑ سکتی ہے یہاں تک کہ اس میںایک معمولی خراش کی دیت بھی لکھی ہوئی ہے ۔

____________________

۱۔ تاریخ التشریع الاسلامی ص ۳۱۔

۲۔ ایضاً ص ۳۲۔

۳۔ ایضاًص۳۳۔


یہ ہے سنت کے سلسلہ میں اہل بیت کا موقف۔

لیکن شیخین کے عہدِ خلافت میں حکومت کے موقف سے بہت ہی منفی آثار مترتب ہوئے کیونکہ سو سال تک تدوین سنت سے متعلق کوئی کام نہیں ہو سکا اس موقف کی وجہ سے بہت سی حدیثیں ضائع ہو گئیں اور مسلمانوں کے ثقافتی اسناد و مصادر میں اسرائیلیات داخل ہو گئے اور قیاس و استحسان کا دروازہ پوری طرح کھل گیا اور وہ بھی تشریع و قانون کے مصدروں میں سے ایک مصدر شمار ہونے لگا بلکہ بعض لوگوں نے تو اسے سنت نبوی پر مقدم کیا ہے کیونکہ بہت سے نصوص علمی تنقید کی رو سے صحیح نہیںمعلوم ہوتے تھے لیکن اس سے اہل سنت کے نزدیک رسول(ص) کی صحیح حدیثیں بھی مخدوش ہو گئیں چنانچہ وہ حدیثیں زمانۂ مستقبل میں اس چیز کو بھی پورا نہیں کر سکیں جس کی امت کو احتیاج تھی۔

لیکن اہل بیت نے اس تباہ کن رجحان کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا اور سنت نبوی (ص) کو مومنین کے نزدیک ضائع نہیں ہونے دیا انہوں نے اپنی امامت و خلافت کے اقتضاء کے مطابق اس کی توجیہ کی کیونکہ زمام دار منصوص امام و خلیفہ ہی ہوتا ہے اور وہی شریعت اور اس کی نصوص کو ضائع ہونے سے بچا تاہے ۔

سنت نبوی کی تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنت کے ان مصادر کا مطالعہ کرے جو اہل بیت اور ان کا اتباع کرنے والوں کے پاس ہیں کیونکہ گھر کی بات گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں۔

اہل بیت کے پاس جو سنت ہے وہ عقیدے ، فقہ اور اخلاق و تربیت کے تمام ابواب پر حاوی ہے اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ضرورت بشریت کو زندگی میں پڑ سکتی ہے۔

اس حقیقت کی تصریح رسول(ص) کے نواسہ حضرت امام جعفر صادق نے اس طرح کی ہے : ''ما من شیء الا و فیہ کتاب او سنة''۔( ۱ )

کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں حکم موجود نہ ہو۔

____________________

۱۔ الکافی ج۱ ص۴۸۔


سید المرسلین (ص) کی علمی میراث کے چند نمونے

۱۔ عقل و علم

۱۔رسول(ص) نے عقل کو بہت زیادہ اہمت دی ہے ، آپ(ص) نے اس کو پہچنوایا اور زندگی میں اس کے اثر و کردار کو بھی بیان کیا ہے یعنی ذمہ داری وفرائض، کام اور اس کی جزاء کی وضاحت کی ہے اسی طرح ان اسباب کو بھی بیان کیا ہے جن سے عقل میں رشد و تکامل پیدا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں:

''ان العقل عقال من الجهل،و النفس مثل اخبث الدواب، فان لم یعقل حارت، فالعقل عقال من الجهل، و ان اللّه خلق العقل، فقال له: اقبل فاقبل، و قال له : ادبر فادبر، فقال له الله تبارک و تعالیٰ: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقاً اعظم منک ولا اطوع منک، بک ابدی و اعید، لک الثواب و علیک العقاب''

فتشعب من العقل الحلم و من الحلم العلم، و من العلم الرشد، و من الرشد العفاف، و من العفاف الصیانة، و من الصیانة الحیائ، ومن الحیاء الرزانة و من الرزانة المداومة علیٰ الخیر، و کراهیة الشر، و من کراهیة الشر طاعة الناصح

فهذه عشرة اصناف من انواع الخیر، و لکل واحد من هذه العشرة الاصناف عشرة انواع...''( ۱ )

____________________

۱۔ تحف العقول باب مواعظ النبی و حکمہ۔


عقل جہالت و نادانی کے لئے زنجیر ہے اور نفس پلید ترین جانور کے مانند ہے اگر اسے باندھا نہیں جائے گا تووہ بے قابو ہو جائے گا، لہذا عقل نادانی کے لئے زنجیر ہے ۔ بیشک خدا نے عقل کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا: آگے بڑھ تووہ آگے بڑھی، کہا: پیچھے ہٹ وہ پیچھے ہٹ گئی تو خدا وند عالم نے فرمایا: میں اپنی عزت وجلال کی قسم کھاتا ہوں کہ میںنے تجھ سے عظیم اور تجھ سے زیادہ اطاعت گذار کوئی مخلوق پیدا نہیں کی ہے ۔ تجھ سے ابتداکی ہے اور تیرے ہی ذریعہ لوٹائوںگا۔ تیرے لئے ثواب دیا ہے او رتیری مخالفت کی وجہ سے عذاب کیا جائے گا۔

پھر عقل سے بردباری و جود میں آئی اور برد باری سے علم پیدا ہوا اور علم سے رشدو ہدایت و حق جوئی نے جنم لیا اور رشد سے پاک دامنی پیدا ہوئی اور عفت و پاکدامنی سے صیانت -بچائو اور تحفظ کا جذبہ ابھرا، صیانت سے حیا پیدا ہوئی اور حیاء سے سنجیدگی اور وقار نے وجود پایا، سنجیدگی سے نیک کام پر مداومت کرنے اور شر سے نفرت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا اور شر سے کراہت کرنے سے ناصح کی ا طاعت کا شوق پیدا ہوا۔

چنانچہ خیر و نیکی کی یہ دس قسمیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی دس قسمیں اور دس صنفیں ہیں...

۲۔رسول(ص) نے زندگی میں علم کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے اس کی اہمیت بتائی ہے اور تمام کمالات کے مقابلہ میں اس کی قدر و قیمت پر زور دیا ہے :

''طلب العلم فریضه علیٰ کل مسلم، فاطلبوا العلم من مظانه، و اقتبسوه من اهله ، فان تعلیمه للّه حسنة، و طلبه عبادة، و المذاکرة به تسبیح، و العمل به جهاد، و تعلیمه من لا یعلمه صدقة، و بذله لاهله قربة الیٰ اللّٰه تعالیٰ؛ لانه معالم الحلال و الحرام، و منار سبل الجنة، و المؤنس فی الوحشة، و الصاحب فی الغربة و الوحدة، و المحدث فی الخلوة، و الدلیل علی السراء و الضرائ، و السلاح علیٰ الاعداء ، و الزین عند الاخلائ یرفع اللّه به اقواماً، فیجعلهم فی الخیر قادة، تقتبس آثار هم، و یهتدی بفعالهم، و ینتهی الیٰ رایهم، و ترغب الملائکة فی خلتهم ۔


باجنحتها تمسحهم، و فی صلاتها تبارک علیهم یستغفر لهم کل رطب و یابس، حتی حیتان البحر و هوامه، و سباع البر و انعامه ان العلم حیاة القلوب من الجهل، و ضیاء الابصار من الظلمة، و قوة الابدان من الضعف یبلغ بالعبد منازل الاخیار، و مجالس الابرار، والدرجات العلی فی الدنیا والآخرة الذکر فیه یعدل بالصیام، و مدارسته بالقیام به یطاع الرب ، و به توصل الارحام، و به یعرف الحلال و الحرام العلم امام العمل و العمل تابعه یلهمه السعداء ، و یحرمه الاشقیائ، فطوبی لمن لم یحرمه اللّٰه منه حظه

و صفة العاقل ان یحلم عمّن جهل علیه، و یتجاوز عمّن ظلمه، و یتواضع لمن هو دونه، و یسابق من فوقه ف طلب البر و اذا اراد ان یتکلم تدبّر، فان کان خیراً تکلم فغنم، و ان کان شرّاً سکت فسلم، و اذا عرضت له فتنة استعصم بالله، و امسک یده و لسانه، و اذا رأی فضیلة انتهز بها لا یفارقه الحیائ، و لا یبدو منه الحرص، فتلک عشر خصال یعرف بها العاقل

و صفة الجاهل ان یظلم من خالطه و یتعدی علیٰ من هو دونه، و یتطاول علیٰ من هو فوقه کلامه بغیر تدبر، ان تکلم اثم، و ان سکت سها، و ان عرضت له فتنة سارع الیها فاردته، و ان راء فضیلة اعرض عنها و ابطأ عنها لا یخاف ذنوبه القدیمة، ولا یرتدع فیما بق من عمره من الذنوب یتوانی عن البرّ و یبطیٔ عنه، غیر مکترث لما فاته من ذلک او ضیّعه ، فتلک عشر خصال من صفة الجاهل الذ حُرِم العقل''( ۱ )

علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے پس علم کو اس کی جگہ سے حاصل کرو اور صاحب علم ہی سے علم حاصل کرو، کیونکہ خدا کے لئے تعلیم دینا نیکی ہے اور اس کا طلب کرنا عبادت ہے ۔ علمی بحث و مباحثہ تسبیح ہے اور اس پر عمل کرنا جہاد ہے اور نہ جاننے والے کو علم سکھانا صدقہ ہے اور اہل کے لئے اس سے خرچ کرنا تقرب خدا ک

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۱ص۱۷۱ طبع موسسة الوفائ، تحف العقول: ۲۸ طبع موسسہ النشر الاسلامی۔


باعث ہے ، کیونکہ اس سے حلال و حرام کی پہچان ہوتی ہے ۔ یہ جنت کے راستہ کا منارہ ہے ، وحشت میں مونس ومددگار ہے ، غربت و سفر میں رفیق و ساتھی ہے اور تنہائی میں دل بہلانے والا ہے ،خوشحالی و مصیبت میں رہنماہے ، دشمن کے خلاف ہتھیار ہے ،دوستوں کی نظر میں زینت ہے ، اس کے ذریعہ خدا نے قوموںکو بلند کیا ہے انہیں نیکی کا راہنما قرار دیا ہے ان کے آثار کو جمع کیا جاتا ہے اور افعال سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے ان کی رایوں سے آگے نہیں بڑھا جاتا، ملائکہ ان سے دوستی کا اشتیاق رکھتے ہیں اور اپنے پروں سے انہیں مس کرتے ہیں اور اپنی نماز میں ان کے لئے برکت کی دعا کرتے ہیں، ہر خشک و تر ان کے لئے استغفار کرتا ہے یہاں تک کہ دریا کی مچھلیاں اور اس کے جانور اورخشکی کے درندے اور چوپائے بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ علم دلوں کی زندگی، آنکھوں کا نور اور بدن کی قوت ہے علم بندے کو اخیار کی منزلوں، ابرار کی مجالس اور دنیا وآخرت کے بلند درجات پر پہنچا دیتا ہے ۔ اس میں ذکر، روزہ کے برابر ہے اور ایک دوسرے کو پڑھکر سنانا قیام کے مانند ہے ، اس کے ذریعہ خدا کی اطاعت کی جاتی ہے صلۂ رحمی کی جاتی ہے ، اس کے وسیلہ سے حلال و حرام کی معرفت ہوتی ہے ، علم عمل کا امام ہے اور وہ اس کا تابع ہے ، اس سے نیک بخت لوگوں کو نوازا جاتا ہے ، بدبختوں کو اس سے محروم کیا جاتا ہے ، پس خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس کو خدا نے اس سے محروم نہیں کیا۔

عاقل کی صفت یہ ہے کہ وہ جہالت سے پیش آنے والے کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہے اور جو اس پر ظلم کرتا ہے وہ اس سے در گزر کرتا ہے ، اپنے سے چھوٹے کے ساتھ انکساری سے پیش آتا ہے اور نیکی کرنے میں اپنے سے بڑے پر سبقت لے جاتا ہے ۔ جب لب کشائی کرنا چاہتا ہے تو سوچ لیتا ہے اگر اس میں بھلائی ہوتی ہے تو بولتا ہے اور فائدہ اٹھاتا ہے اور اگر بولنے میں کوئی برائی محسوس کرتا ہے تو خاموش رہتاہے اورغلطیوں سے محفوظ رہتا ہے جب اس کے سامنے کوئی امتحانی منزل آتی ہے تو وہ خدا سے لو لگاتا ہے اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں پر قابو رکھتا ہے، کوئی فضیلت دیکھتا ہے تو اسے سمیٹ لیتا ہے ، حیا سے دست کش نہیںہوتا، حرص اس میں دیکھنے میں نہیں آتی پس یہ دس خصلتیں ہیں جن کے ذریعہ عاقل پہچانا جاتا ہے ۔


جاہل کی صفت یہ ہے کہ جو اس سے گھل مل جاتا ہے یہ اس پر ظلم کرتا ہے ، اپنے سے چھوٹے پر زیادتی کرتا ہے ، اپنے بڑے کی نافرمانی کرتا ہے ، اس کے ساتھ گستاخی سے پیش آتا ہے، اسکی بات بے تکی ہوتی ہے، بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور چپ رہتا ہے تو غافل ہو جاتا ہے ۔ اگر فتنہ کے روبرو ہوتا ہے تو اس کی طرف دوڑ پڑتاہے اور اسی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے ، اگر کہیں کوئی فضیلت نظر آتی ہے تو اس سے روگردانی کرتا ہے۔ اس کی طرف بڑھنے میں سستی کرتا ہے ، وہ اپنے پہلے گناہوں سے نہیں ڈرتا ہے اور باقی ماندہ عمر میں گناہ ترک نہیں کرتا نیک کام کی انجام دہی میں سستی کرتا ہے اور جو نیکی اس سے چھوٹ گئی یا ضائع ہو گئی ہے اس کی پروا نہیں کرتا ۔ یہ صفت اس جاہل کی ہے جو عقل سے محروم ہے ۔

۲۔ تشریع کے مصادر

۳۔یقینا اللہ کے رسول(ص) نے تمام لوگوں کے لئے حقیقی سعادت و کامیابی کے راستہ کی نشاندہی کی ہے سعادت کے حصول کی ضمانت لی ہے بشرطیکہ وہ ان تعلیمات پر عمل کریں جو آپ(ص) نے ان کے سامنے بیان کی ہیں۔ رسول(ص) کی نظر میں سعادت و کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ انسان دو بنیادی اصولوں سے تمسک کرے اوریہ اصول ایک دوسرے کے بغیر کسی کو بے نیاز نہیں کریں گے یہ ثقلین ہیں۔ رسول(ص) کا ارشاد ہے:

ایها النّاس ! انی فرطکم، و انتم واردون علیّ الحوض، الا و انّی سائلکم عن الثقلین، فانظروا: کیف تخلفونی فیهما؟ فان اللطیف الخبیر نبأنی: انهما لن یفترقا حتی یلقیانی، و سالت ربی ذلک فاعطانیه، الا و انی قد ترکتهما فیکم: کتاب الله و عترتی اهل بیتی، لا تسبقوهم فتفرقوا ولا تقصروا عنهم فتهلکوا، ولا تعلموهم، فانهم اعلم منکم

ایهالناس! لا الفینکم بعدی کفاراً!، یضرب بعضکم رقاب بعض، فتلقونی فی کتیبة عمجریٰ السیل الجرار

الا و ان علی بن ابی طالب اخی و وصیی، یقاتل بعدی علی تاویل القرآن ، کما قاتلت علی تنزیله''


اے لوگو!میں تم سے پہلے جانے والا ہوں اور تم میرے پاس حوض(کوثر) پر پہنچو گے اور میں تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کرونگا کہ میرے بعد تم نے ان دونوںکے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟ مجھے لطیف و خبیر نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات کریں گے، میںنے اپنے رب سے اس کا سوال کیا تو اس نے مجھے عطا کر دیا، دیکھو: ان دونوں کو میں تمہارے درمیان چھوڑ ے جا رہا ہوں ( وہ ہیں) کتاب خدا اور میرے اہل بیت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا تم میں تفرقہ پڑ جائیگا اور ان سے پیچھے نہ رہ جانا ورنہ ہلاک ہو جاوگے اور انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔

اے لوگو! دیکھو! میرے بعدکافر نہ ہو جانااس طرح سے کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو تم مجھے ایک بڑے لشکر میں پائوگے ۔

آگاہ ہو جائو! علی بن ابی طالب میرے بھائی اور میرے وصی ہیں، وہ میرے بعد تاویل قرآن کے لئے ویسے ہی جنگ کریں گے جیسے میں نے اس کے نازل ہونے کے سلسلہ میں جنگ کی تھی۔

قرآن اور اس کا ممتا زکردار

۴۔ رسول(ص) نے زندگی میں قرآن کے کردار اور اس سے مکمل تمسک کرنے کی قیمت کو واضح کرتے ہوئے اس کی عظمت کو بیان کیا ہے اور پوری بشریت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے :

''ایها النّاس : انکم فی دار هدنة و انتم علیٰ ظهر سفر، و السیر بکم سریع، فقد رأیتم اللیل و النهار، و الشمس و القمر، یبلیان کل جدید، و یقربان کل بعید، و یاتیان بکل وعد و وعید ، فاعدوا الجهاز لبعد المجاز انها دار بلاء و ابتلائ، و انقطاع و فناء ، فاذا التبست علیکم الامور کقطع اللیل المظلم، فعلیکم بالقرآن، فانه شافع مشفع، و ماحل مصدق من جعله امامه قاده الیٰ الجنة، و من جعله خلفه ساقه الیٰ النار، و من جعله الدلیل یدله علیٰ السبیل ۔


و هو کتاب فیه تفصیل، وبیان و تحصیل هو الفصل لیس بالهزل، و له ظهر و بطن، فظاهره حکم الله، و باطنه علم الله تعالیٰ، فظاهره انیق، و باطنه عمیق،له تخوم، و علیٰ تخومه تخوم، لا تحصی عجائبه ، ولا تبلی غرائبه ، مصابیح الهدی، و منار الحکمة، و دلیل علیٰ المعرفة لمن عرف الصفة، فلیجل جالٍ بصره، و لیبلغ الصفة نظره، ینج من عطب، و یتخلص من نشب؛ فان التفکر حیاة قلب البصیر، کما یمشی المستنیر فی الظلمات بالنور، فعلیکم بحسن التخلص، و قلة التربص ۔''( ۱ )

اے لوگو! تم ابھی راحت کے گھر میں ہو، ابھی تم سفر میں ہو، تم کو تیزی سے لے جایا جا رہا ہے، تم نے رات ، دن اور چاند ، سورج کو دیکھا ہے یہ ہر نئے کو پرانا کر رہے ہیں اور ہر دور کو نزدیک کر رہے ہیں اور جس چیز کا وعدہ کیا جا چکا تھا اسے سامنے لا رہے ہیں ، تم اپنا اسباب تیار رکھو یہ منزل فنا ہے ، اس کا سلسلہ منقطع ہو جائیگا جب تم پر کالی رات کے ٹکڑوںکی طرح امور مشتبہ ہو جائیں گے اس وقت تم قرآن سے تمسک کرنا کیونکہ وہ شفاعت کرنے والا ہے اور اس کی شفاعت قبول کی جائیگی اوراس کی شکایت بھی قبول کی جائے گی جو اسے اپنے آگے رکھتا ہے وہ اسے جنت کی طرف لے جاتا ہے اور جو اسے پسِ پشت قرار دیتا ہے وہ اسے جہنم میں پہنچا دیتا ہے اور جو اسے راہنما بناتا ہے تو وہ اسے سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے ۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ جس میں تفصیل ہے واضح بیان اور علوم و معارف کا حصول ہے یہ قول فیصل ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔ اس کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے ، اس کا ظاہر تو حکم ِ خدا ہے اور اس کا باطن علم خدا ہے ، اس کا ظاہر عمدہ و خوبصورت ہے اور اس کا باطن عمیق ہے، اس میں رموز ہیں بلکہ رموز در رموز ہیں اس کے عجائب کو شمار نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے غرائب کہنہ و فرسودہ نہیں ہو سکتے ہیں اس کی ہدایت کے چراغ اور حکمت کے منارے ہیں اور جو اس کے صفات کی معرفت رکھتا ہے اس کے لئے دلیلِ معرفت ہے، راہرو کو چاہئے کہ اپنی آنکھ کو اس سے منورکرے اور اس کے اوصاف تک اپنی نظر پہنچائے تاکہ ہلاکت سے نجات اور جہالت سے رہائی پائے،

____________________

۱۔تفسیر العیاشی ج۱ ص ۲۔۳، کنز العمال ج۲ ص ۲۸۸، الحدیث ۴۰۲۷۔


بیشک فکر و نظر دل کی بصارت ہے جیسا کہ روشنی کاطالب تاریکی میں روشنی لیکر چلتا ہے ، تمہارے لئے ضروری ہے کہ ہر پستی سے نجات حاصل کرو اور توقعات کو کم رکھو۔

اہل بیت دین کے ارکان ہیں

۵۔ رسول(ص) نے ثقل کبیر، اہل بیت رسول (ص)-علی اور ان کے بارہ فرزندوں کو- مختلف طریقوں سے پہچنوایا ، اپنے آخری خطبہ میں فرمایا:

''یا معشر المهاجرین و الانصار! و من حضرنی فی یومی هذا ، و فی ساعتی هذه، من الجن و الانس فلیبلغ شاهدکم الغائب: الا قد خلفت فیکم کتاب الله فیه النور، وا لهدی، و البیان، ما فرّط الله فیه من شیء ، حجة اللّه لی علیکم و خلفت فیکم العلم الاکبر، علم الدین ، و نور الهدی، وصیی: علی بن ابی طالب، الا و هو حبل اللّه، فاعتصموا به جمیعاً ، ولا تفرقوا عنه، ( و اذکروا نعمت اللّه علیکم اذ کنتم اعدائً فالّف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمته اخواناً ) ( ۱ )

ایها النّاس ! هذا علی بن ابی طالب، کنز اللّه، الیوم وما بعد الیوم، من احبه و تولاه الیوم و ما بعد الیوم ، فقد اوفی بما عاهد علیه، و ادی ما وجب علیه، و من عاداه الیوم وما بعد الیوم ، جاء یوم القیامة اعمی و اصم، لا حجة له عند اللّه

ایها الناس! لا تاتونی غداً بالدنیا، تزفونها زفاً، و یأ تی اهل بیتی شعثاء غبرائ، مقهورین مظلومین ، تسیل دماؤهم امامکم، و بیعات الضلالة و الشوری للجهالة فی رقابکم

الا و ان هذا الامر له اصحاب و آیات، قد سمّا هم اللّه فی کتابه، و عرفتکم ، و بلغتکم ما ارسلت به الیکم، ولکنی اراکم قوماً تجهلون لا ترجعن بعدی کفاراً مرتدین،

____________________

۱۔ آل عمران:۱۰۳۔


متاولین للکتاب علیٰ غیر معرفة، و تبتدعون السنة بالهوی؛ لان کل سنّة وحدیث و کلام خالف القرآن فهو ردّ و باطل

القرآن امام هدی، و له قائد یهدی الیه، و یدعو الیه بالحکمة و الموعظة الحسنة و هو ولیّ الامر بعدی، ووارث علمی و حکمتی ، و سری و علانیتی، و ما ورثه النبیون من قبلی، وانا وارث و مورث، فلا یکذّبنّکم انفسکم

ایّها النّاس! اللّه اللّه فی اهل بیتی؛ فانهم ارکان الدین ، و مصابیح الظلم ، و معدن العلم؛ علی اخی، و وارثی، و وزیری، و امینی، و القائم بامری، و الموفی بعهدی علیٰ سنتی اول النّاس بی ایماناً، و آخرهم عهداً عند الموت، و اوسطهم لی لقاء اً یوم القیامة، فلیبلّغ شاهدکم غائبکم الا و من امّ قوماً و من ام قوماً امامة عمیاء ، و فی الامة من هو اعلم فقد کفر

ایّها النّاس! و من کانت له قبلی تبعة فیما انا، و من کانت له عدة، فلیات فیها علی بن ابی طالب، فانه ضامن لذلک کلّه، حتی لا یبقی لاحد علیّ تباعة''( ۱ )

اے گروہِ مہاجرین و انصار جوبھی آج اس وقت میرے سامنے موجود ہے ، مجھے دیکھ رہا ہے اسے چاہئے غائب لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دے۔ آگاہ ہو جائو میں نے تمہارے درمیان خدا کی کتاب چھوڑی ہے، جس میں نور ، ہدایت اور بیان ہے ، اس میں خدا نے کسی چیز کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے ۔ یہ تمہارے اوپر خدا کی حجّت ہے اور میں نے تمہارے درمیان علمِ اکبر، علم دین ، نورِ ہدایت اور اپنا وصی، علی بن ابی طالب کو چھوڑا ہے ، اچھی طرح سمجھ لو کہ وہ حبل اللہ یعنی خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں سب مل کر ان کا دامن تھام لو انہیں چھوڑکر پراگندہ نہ ہو جانا۔ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جس سے اس نے تمہیں نوازا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دی تو اس کی نعمت کے سبب تم ایک دوسرے کے

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۲۲ ص ۴۸۴ ، ۴۸۷۔


بھائی بن گئے۔

اے لوگو! یہ علی بن ابی طالب آج اور بعد کے لئے خدا کا ذخیرہ ہیں جو شخص آج اور بعد میں ان سے محبت کرے گا اور ان کی پیروی کرے گا تو وہ اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کرے گا اور اپنے فرض کو انجام دے گا اور جس شخص نے آج اور آج کے بعد ان سے عداوت رکھی وہ قیامت کے دن اندھا اور بہرہ اٹھے گا اور خدا پر اس کی کوئی حجّت نہیںہوگی اور وہ خدا کے سامنے کوئی عذر نہیں پیش کر سکے گا۔

اے لوگو! تم کل-روز قیامت- میرے پاس اس طرح نہ آنا کہ تم مال دنیا سے لدئے ہوئے ہو اور میرے اہل بیت کی غربت کی وجہ سے یہ حالت ہو کہ ان کے بال گرد سے اٹے ہوئے ہوں، مظلوم و ستم دیدہ ہوں اور تمہارے ہاتھوں سے ان کا خون ٹپک رہا ہو۔ یاد رکھو کہ گمراہی و ضلالت کی بیعت اور جاہلوں کی شوریٰ کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ اس خلافت کے اہل موجود ہیں وہی خدا کی نشانیاں ہیں خدا نے اپنی کتاب میں ان کی پہچان بتا دی ہے اور میں نے ان کا تعارف کرا دیا ہے میں نے تم تک وہ پیغام پہنچا دیا ہے جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا تھا، اس کے باوجود میں تمہیں جاہل و نادان ہی دیکھ رہا ہوں۔ خبردار میرے بعد تم کافر و مرتد نہ ہوجانا اور علم و معرفت کے بغیر قرآن کی تاویل نہ کرنا اور میری سنت کو اپنی خواہش کے مطابق نہ ڈھال لینا کیونکہ ہر بدعت اور ہر وہ کام جو قرآن کے خلاف ہوتا ہے وہ باطل ہے۔

اس میں شک نہیں کہ قرآن ہدایت کا امام ہے لیکن اس کے لئے ایک قائد ناطق کی ضرورت ہے جو اس کی طرف ہدایت کرے اور حکمت و بہترین نصیحت کے ساتھ اس کی طرف بلائے اور وہ ہے میرے بعد ولیِ امر، وہی میرے علم و حکمت کا حقدار اورمیرے اسرار کا وارث اور انبیاء کی میراث کا حامل ہے دیکھو! میں بھی وارث ہوں اور میرے بھی وارث ہیں، تمہارے نفس کہیں تمہیں دھوکا نہ دیں۔


اے لوگو! میرے اہل بیت کے بارے میں خدا سے ڈرو! خدا سے ڈرو! دیکھو یہ دین کے ارکان و ستون ، تاریکی کے چراغ اور علم کا سر چشمہ ہیں ، علی میرے بھائی، میرے وارث، میرے وزیر، میرے امین اور میرے امور کو انجام دینے والے اور میری سنت کے مطابق میرے وعدہ کو پورا کرنے والے ہیں سب سے پہلے اپنے اسلام و ایمان کا اظہار کرنے والے ہیں،یہ دمِ آخر تک میرے ساتھ رہیں گے اور روز قیامت مجھ سے ملاقات کرنے والوں میں اوسط ہیں۔ تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ میرا یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں جواس وقت یہاں موجود نہیں ہیں یاد رکھو کہ اگر کسی نے اندھے پن میں کسی کو اپنا امام بنا لیا اور وہ جانتا تھا کہ قوم میں اس سے بہتر آدمی موجود ہے تو وہ کافر ہو گیا۔

اے لوگو! اگر کسی کے پاس میری دستاویز ہے کہ جس میں، میں ضامن ہوں یا کسی سے میرا وعدہ ہے تو وہ علی بن ابی طالب کے پاس جائے وہ میرے تمام امور کے ضامن ہیں وہ میرے ذمہ کسی کاکچھ باقی نہیں رہنے دیںگے۔


۳۔ اسلامی عقیدے کے اصول

خالق کی توصیف نہیں کی جا سکتی

بیشک خالق کی توصیف اسی چیز کے ذریعہ کی جا سکتی ہے جس سے اس نے خود کو متصف کیا ہے اور اس خالق کی توصیف کیسے کی جا سکتی ہے جس نے حواس کو عاجز کر رکھا ہے کہ وہ اس کا ادراک کریں اور وہم و خیال اسے پا سکیں اور خیالات اس کو محدود کر سکیں اور آنکھیں اسے دیکھ سکیں؟ وہ اس چیز سے بلند تر ہے کہ جس سے توصیف کرنے والے اس کی توصیف کرتے ہیں، وہ قریب ہوتے ہوئے دور ہے اور دور ہوتے ہوئے قریب ہے وہ کیفیت کا خالق ہے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کیفیت رکھتا ہے، وہ اَین(کہاں)َ کو وجود میں لانے والا ہے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے لئے اَینَ ہے وہ کیفیت و اَینیت سے بلند ہے وہ ایک ہے ، بے نیاز ہے جیسا کہ اس نے خود کو اس سے متصف کیا ہے ۔ توصیف کرنے والے اس کے اوصاف تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کی اولاد ہے اورکوئی بھی اس کا کفو و ہمسر نہیں ہے۔

توحید کے شرائط

بندہ ''لا الٰہ الا اللہ'' کہتا ہے تو اسے چاہئے کہ دل سے اس کی تصدیق کرے اس کی عظمت کا اعتراف کرے، اس عقیدہ سے لذت محسوس کرے اس کی حرمت کا خیال رکھے اگر''لا الٰہ الا اللہ'' اور اس کی عظمت کا اعتراف نہیں کرے گا تو بدعتی ہے اور اگر اس عقیدہ میں لذت نہیں محسوس کرے گا تو ریاکار ہے اوراگر اس کی حرمت کا خیال نہیں رکھے گا تو فاسق ہے ۔( ۱ )

____________________

۱۔بحار الانوار ج۲ ص ۹۴، الکفایة، ابو المفضل شیبانی نے احمد بن مطرق بن سوار سے انہوں نے مغیرہ بن محمد بن مہلب سے انہوں نے عبد الغفار بن کثیر سے انہوں نے ابراہیم بن حمید سے انہوں نے ابو ہاشم سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہاایک یہودی رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا نام نعثل تھا اس نے کہا: اے محمد! میں آپ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کرونگا اس کی وجہ سے میں ایک زمانہ سے پریشان ہوں اگر آپ نے ان کا جواب دیدیا تو میں اسلام قبول کرلوںگا۔ آپ(ص) نے فرمایا: اے ابو عمار جو چاہو پوچھ لو اس نے کہا: آپ اپنے رب کا تعارف کرائیں تو آپ(ص) نے بہترین انداز میں توصیف الٰہی بیان کی مگر وہ ایمان نہ لایا۔


رحمتِ خدا

بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ایک بڑا عبادت گزار اور دوسرا گناہگار ۔ ایک روز عبادت گزارنے گناہگار سے کہا: کم گناہ کیا کرو۔ اس نے کہا: یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے ، یہاں تک کہ ایک روز عابد نے اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا اس بنا پر اسے بڑا افسوس ہوا، اور کہنے لگا: بس کرو! اس نے جواب دیا: یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے ۔ کیا تم کو میرا نگراں بنا کر بھیجاگیا ہے ؟ عابد نے کہا: خدا کی قسم خدا تمہیں معاف نہیں کرے گا اور نہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ خدا نے دونوں کی طرف ایک فرشتہ بھیجا اس نے دونوں کی روحوں کو قبض کیا دونوں خدا کی بارگاہ میں پہنچ گئے گناہگار سے کہا گیا تم جنت میں چلے جائو، اور عابد سے ارشاد ہوا کیا تم میرے بندے کو میری رحمت سے محروم کر سکتے ہو؟ عرض کیا: نہیں؛ ارشاد ہوا: اسے جہنم میں لے جائو۔

نہ جبر نہ اختیار

جبراً خدا کی اطاعت نہیں کی جاتی، اوراگر اس کی معصیت کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ وہ مغلوب ہو گیا ہے اور اپنی مملکت کے لوگوںکو اس نے بیکار نہیں چھوڑا ہے ۔ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر بندوں کو قدرت دی ہے اور اس چیز کا مالک ہے جس کا انہیں مالک بنایا ہے پھر اگر بندے اس کی اطاعت کریں تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور نہ اس سے انہیں کوئی روک سکتا ہے اور اگر لوگ اس کی معصیت کریں تو وہ انہیں معصیت سے روک سکتا ہے لیکن اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جو خدا اور اس کے فعل کے درمیان حائل ہو جائے اور وہ اس کام کو انجام دے جس کو وہ چاہتا تھا اور وہ اس کے فعل پر مجبو ر جائے۔( ۱ )

____________________

۱۔بحار الانوار ج۷۷ ص ۱۴۰۔


خاتمیت

۲۔ بیشک خدا کی اطاعت زبردستی نہیں کی جاتی اور نافرمانی سے وہ مغلوب نہیں ہوتا ہے اور بندوں کی سر پرستی سے دست بردار نہیں ہوتا ہے ، خدا ان تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے جن چیزوں پر بندوں کو قدرت دی ہے اور جو چیز ان کی ملکیت میں دیدی تھی وہ اس کا مالک ہے ۔ اگر سارے بندے مسلسل اس کی عبادت کرتے رہیں تو اس میں کوئی مانع نہیں ہوگا اور اگر اس کی نافرمانی کریں گے تو وہ انہیں نافرمانی سے باز رکھ سکتا ہے اور انہیں اس کی انجام دہی سے روک سکتا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کے اور اس کے کام کے درمیان حائل ہو جائے اور اسے کام انجام نہ دینے دے بلکہ خود اسے انجام دے۔

چھہ چیزوں میں مجھے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے ، مجھے جوامع الکلم عطا ہوئے ہیں۔ رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ، غنا ئم کو میرے لئے حلال کیا گیا ہے اور زمین کو میرے لئے جائے سجدہ اور طہارت کاذریعہ قرار دیا گیا ہے ، مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے اور مجھ پر انبیاء کے سلسلہ کو ختم کیا گیا ہے۔( ۱ )

خدا نے مجھے برگزیدہ کیا ہے

خدا وند عالم نے اولاد ابراہیم میں سے جناب اسماعیل کو منتخب کیا اور اولادِ اسماعیل میں سے بنی کنانہ کو چنا اور بنی کنانہ میں سے قریش کا انتخاب کیا اور قریش میں بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھے برگزیدہ کیا۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:( لقد جائکم رسول من انفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤوف الرحیم ) ( ۲ )

یقینا تمہارے پاس وہ رسول(ص) آیا ہے جو تمہیں میں سے ہے اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہے وہ تمہاری ہدایت کی حرص رکھتا ہے اور مومنوں پر مہربان و رحیم ہے ۔

____________________

۱۔بحار الانوارج۱۶ص۳۲۴۔

۲۔کلمة رسول الاعظم ص ۳۵، بحار الانوار ج۱۶ ص ۳۲۳۔


میری مثال بادل کی سی ہے

میرے رب نے مجھے ویسے ہی مبعوث کیا ہے جیسے کسی سرزمین پر برسنے والا بادل کہ اس زمین کا پاک و صاف حصہ پانی کو جذب کر لیتا ہے جس کے نتیجہ میں ہریالی اگ آتی ہے اور اس کا ایک حصہ ایسا ہوتا ہے کہ جس میں روئیدگی نہیں ہوتی وہ پانی روک لیتا ہے اس کے ذریعہ خدا لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ اس سے پانی پیتے ہیں اور کھیتیوں کو سیراب کرتے ہیں اور کچھ حصہ وہ ہوتا ہے اس پر بارش ہوتی ہے لیکن نہ اس پر سبزہ اُگتا ہے اور نہ وہ پانی کو روکتا ہے ۔ بالکل یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے دین خدا کو سمجھا اور جو میںخدا کی طرف سے لایا ہوں اسے تسلیم کیا وہ خود بھی صاحب علم ہو گیا اور دوسروں کو بھی سکھا دیا اور جو اس کے ذریعہ سے سر بلند نہیںہوا در اصل اس نے خدا کی اس ہدایت کو قبول نہیں کیا جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے ۔( ۱ )

رسول(ص) کے بعد امام

اے عمار میرے بعد مصیبت آئیگی یہاں تک کہ لوگوں میں تلوار کھنچ جائیگی وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔ وہ ایک دوسرے سے نفرت کریں گے پس جب تم ایسے حالات دیکھو تو تم اس اصلع یعنی علی بن ابی طالب کے ساتھ ہو جانا ،چاہے سارے لوگ کسی وادی کو طے کریں اور علی تنہا دوسری وادی کو اختیار کریں تم لوگوں کو چھوڑ کر علی والی وادی کو اختیار کرنا۔

اے عمار! علی تمہیں ہدایت سے نہیں ہٹائیں گے اور پستی میں نہیں گرائیں گے ۔

اے عمار! علی کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے ۔

اے عمار! جس نے میری اس جانشینی کے سلسلہ میں میری وفات کے بعد علی پر ظلم کیا تو گویا اس نے میری نبوت کا انکار کر دیا اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کی نبوت کو قبول نہیں کیا۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ج۱ ص ۱۸۴۔


حضرت علی کی فضیلت

اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تمہارے بارے میں بعض لوگ وہی کہنے لگیں گے جو عیسیٰ کے بارے میں نصاریٰ کہتے ہیں تو آج میں تمہارے بارے میں ایک بات کہتا اور پھر ان میں سے جو بھی سر بر آوردہ گزرتا وہ تمہاری خاکِ پاکو برکت کے لئے ضرور اٹھاتا۔

رسول(ص) کے بعد ائمہ

میرے بعد میری عترت سے اتنے ہی امام ہونگے جتنے بنی اسرائیل کے نقباء اور عیسی کے حواری تھے پھر جو شخص ان سے محبت کرے گا وہ مومن ہے اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ منافق ہے ، خدا کی خلقت میں یہ اس کی حجت ہیں اور اسکی مخلوق میں اس کی نشانیاں ہیں۔

ائمہ حق

اے علی ! تم میرے بعد امام و خلیفہ ہو اور مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھتے ہو اور تمہارے بعد تمہارے بیٹے حسن مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور حسن کے بعد حسین مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور حسین کے بعد ان کے بیٹے علی بن الحسین مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے بعد ان کے فرزند محمد مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے اُٹھ جانے کے بعد ان کے پسر جعفر مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے بعد ان کے بیٹے موسیٰ مومنوںکی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے بعد ان کے فرزند علی مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے۔ ان کے بعد ان کے پسر محمد مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے ان کے بعد ان کے بیٹے علی مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے بعد ان کے فرزند حسن مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے اور ان کے بعد ان کے لخت جگر قائم مہدی مومنوں کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھیں گے۔ ان کے ہاتھ پر خدا مشرق و مغرب کو فتح کرے گا، یہی ائمہ حق اور صداقت کی زبان ہیں۔ جوان کی مدد کرے گا اس کی مدد کی جائے گی اور جو ان کو چھوڑ دے گا اسے چھوڑ دیا جائے گا۔


رسول(ص) نے حضرت مہدی کی بشارت دی

احمد نے رسول(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: قیامت برپا نہیں ہوگی یہاں تک کہ زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی پھر میری عترت میںسے ایک شخص قیام کرے گا جو اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا..۔( ۱ )

عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جنگ خیبر میں رسول(ص) نے حضرت علی کو علم دیا اور خدا نے ان کے ذریعہ سے فتح نصیب کی۔ پھر غدیر خم میں لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ علی ہر مومن و مومنہ کے مولا ہیں، پوری حدیث بیان کی اور علی و فاطمہ اورحسن و حسین کے فضائل بیان کئے پھر فرمایا: مجھے جبریل نے خبر دی ہے کہ میرے بعد ان پر ظلم کیا جائے گا او ران کے قائم کے ظہور تک ان پر ظلم ہوتا رہے گا پھر ان کا بول بالا ہوگا امت ان کی محبت پر جمع ہو جائیگی، ان کے دشمن کم ہونگے اور ان سے نفرت کرنے والا ذلیل ہوگا اور ان کی مدح کرنے والوںکی کثرت ہو گی اور یہ اس وقت ہوگا جب شہروں کے حالات بدل جائیں گے، خدا کے بندوں کو کمزور کر دیا جائے گا اور کشائش سے لوگ مایوس ہو جائیں گے اس وقت میرے بیٹے قائم مہدی کا ایک قوم میں ظہور ہوگا کہ جن کے ذریعہ خدا حق کو ظاہرو کامیاب کرے گا اور ان کی تلواروں سے باطل کو مٹا دے گا-سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا-اے لوگو! میں تمہیں کشائش کی بشارت دیتا ہوں، کیونکہ خدا کا وعدہ حق ہے اس کے خلاف نہیں ہو سکتا اور اس کے فیصلہ کو ٹالا نہیں جا سکتا وہ حکیم و خبیر ہے بیشک خدا کی نصرت قریب ہے ۔( ۲ )

ام سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول(ص) کو فرماتے ہوئے سنا۔

مہدی ، میری عترت سے اور اولادِ فاطمہ سے ہوںگے۔( ۳ )

____________________

۱۔مسند احمد ج۳ ص ۴۲۵، حدیث ۱۰۹۲۰۔

۲۔ ینابیع المودة ص ۴۴۰۔

۳۔ ینابیع المودة ص ۴۳۰، سنن ابی دائود ج۴ ص ۸۷۔


حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : رسول(ص) نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور قیامت تک کے حالات بیان کئے پھر فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہے گا تو خدا اس دن کو طولانی کر دے گا یہاں تک کہ خدا میری اولاد میں سے اس شخص کو بھیجے گا کہ جس کا نام میرے نام پر ہوگا۔

یہ سن کر سلمان اٹھے اور عرض کی اے اللہ کے رسول(ص)! وہ آپ(ص) کے کس بیٹے کی نسل سے ہوںگے؟آپ(ص) نے حسین کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا میرے اس بیٹے کی نسل سے۔( ۱ )

____________________

۱۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان، حافظ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن محمد نوفلی ص ۱۲۹۔


۴۔رسول(ص) کی میراث میںاسلامی تشریع کے اصول

الف۔ اسلام کے خصوصیات

۱۔'' الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیه''

۱۔اسلام غالب ہے ، سر بلند ہے اس پر کوئی غالب نہیں ہو سکتا۔

۲۔''الاسلام یجُبُّ ما قبله''

۲۔ اسلام اپنے سے پہلے کے عمل اور گناہ کو ختم کرتا ہے ۔

۳۔''الناس فی سعةٍ ما لم یعلموا''

۳۔لوگوں کے لئے اس وقت تک گنجائش ہے جب تک کہ نہیں جانتے۔

۴۔''رفع عن امت الخطأ والنسیان وما استکرهوا علیه''

۴۔ میری امت کی خطا و نسیان اور مکرہ (زبردستی کئے جانے والے) کو معاف رکھا گیا ہے ۔

۵۔''رفع القلم عن ثلاثة: الصبی و المجنون و النائم''

۵۔ تین آدمیوں ، بچے ، مجنون اور سوئے ہوئے سے قلمِ تکلیف اٹھا لیا گیا ہے ۔

ب۔ علم اور علماء کی ذمہ داری

۱۔''من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتةً جاهلیة''

۱۔ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے ، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔

۲۔''من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعده من النار''

۲۔ جو شخص علم کے بغیر قرآن کے بارے میں لب کشائی کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔


۳۔''من سئل عن علم فکتمه الجمه الله بلجامٍ من نار''

۳۔ جس شخص سے علم طلب کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے تو خدا س کے منہ پر آگ کی لگام چڑھا دے گا۔

۴۔'' من افتیٰ بما لا یعلم لعنته ملائکة السماء و الارض''

۴۔ جو شخص ایسی چیز کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ جس کو نہیں جانتا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

۵۔'' کل مفتٍ ضامن''

۵۔ ہر فتوی دینے والا ضامن ہے ۔

۶۔'' کل بدعة ضلالة و کل ضلالة سببها الیٰ النار''

۶۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے ۔

۷۔''من یرد الله به خیراً یفقهه فی الدین''

۷۔ جس شخص کو خدا خیر دینا چاہتا ہے اسے علم دین سے نواز دیتا ہے ۔

۸۔''تعلموا الفرائض و علموها النّاس فانها نصف العلم''

۸۔ فرائض (واجبات) کا علم حاصل کرو اور دوسروں کو اس کی تعلیم دو کہ یہ نصف علم ہے ۔

۹۔'' اذا اتاکم عنی حدیث فاعرضوه علیٰ کتاب الله فما وافقه فاقبلوه وما خالفه فاضربوا به عرض الحائط''

۹۔ جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث آئے تو اسے کتابِ خدا کے معیار پر پرکھو اگر قرآن کے موافق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر اس کے خلاف ہے تو دیوار پر دے مارو۔

۱۰۔'' اذا ظهرت البدعة فلیظهرالعالم علمه فمن لم یفعل فعلیه لعنة الله''

۱۰۔ جب بدعت ظاہر ہو تو عالم کو چاہئے کہ اپنا علم ظاہر کرے پھر جو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے۔


ج۔ اسلامی طرز زندگی کے عام قواعد

۱۔''لا رهبانیة فی الاسلام''

۱۔ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے ۔

۲۔'' لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق''

۲۔ خالق کی معصیت کرکے مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ۔

۳۔''لا دین لمن لا تقیة له''

۳۔جس کے پاس تقیہ نہیں ہے اس کے پاس دین نہیں ہے ۔

۴۔''لا خیر فی النوافل اذا اضرت بالفرائض''

۴۔ ان نوافل کا کوئی فائدہ نہیں ہے جن سے واجبات متاثر ہوتے ہیں۔

۵۔''فی کل امر مشکل القرعة''

۵۔ ہر مشکل کام کے لئے قرعہ ہے۔

۶۔''انما الاعمال بالنیات''

۶۔ اعمال کی قدر و قیمت نیتوں کے مطابق ہے۔

۷۔'' نیة المرء ابلغ من عمله''

۷۔ انسان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔


۸۔'' افضل الاعمال احمزها''

۸۔ بہترین عمل وہی ہے جو دشوار ہوتا ہے ۔

۹۔''من دان بدین قوم لزمه حکمهم''

۹۔ جو شخص کسی قوم کا دین اختیار کرتا ہے اس پر اسی کا حکم لگتا ہے ۔

۱۰۔'' من سن سنة حسنة کان له اجرها و اجر العامل بها الیٰ یوم القیامة و من سن سنة سیئة کان علیه وزرها و وزر العامل بها الیٰ یوم القیامة''

۱۰۔ جس شخص نے نیک طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا اجر ملے گا اور جو شخص بھی قیامت تک اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی اس شخص کوملے گا اور جس نے کوئی غلط طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا عذاب ملے گا اور جو بھی قیامت تک اس پر عمل کرے گا اس کا عذاب بھی اسی(ایجاد کرنے والے) کو ملے گا۔

د۔فیصلے کے عام خطوط

۱۔''اذا اجتهد الحاکم فأخطأ فله اجر و ان اصاب فله اجران''

۱۔اگر حاکم کی پوری کوشش کے باوجود اس سے غلطی ہو جائے تو اسے خدا کی طرف سے ایک اجر ملے گا اور اگر غلطی نہ ہو تو دو اجر ملیں گے۔

۲۔''اقرار العقلاء علیٰ انفسهم جائز''

۲۔ عقلاء کا اپنے خلاف اقرار کرنا جائز ہے ۔

۳۔'' البینة علیٰ المدعی و الیمین علیٰ من انکر''

۳۔ مدعی کے ذمہ بینہ (گواہ) اور منکر کے لئے قسم ہے ۔

۴۔''لا یمین الا بالله''

۴۔ خدا کی قسم کے علاوہ اور کوئی قسم نہیں ہے ۔


۵۔''ادرؤا الحدود بالشبهات''

۵۔ شبہات کے ذریعہ حدود ختم کرو۔

۶۔'' من قتل دون ما له فهو شهید''

۶۔ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو وہ شہید ہے ۔

۷۔''علیٰ الید ما اخذت حتی تؤدّی''

۷۔ جو چیز لی ہے اس کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ ادا کر دی جائے۔

۸۔''لا یؤاخذ الرجل بجریرة ابنه، ولا ابن بجریرة ابیه''

۸۔بیٹے کے گنا ہ میں باپ نہیں پکڑا جائے گا اور باپ کے گناہ میں بیٹا نہیںگرفتار کیا جائے گا۔

۹۔''الناس مسلطون علیٰ اموالهم''

۹۔ لوگوں کا اپنی دولت پر حق ہے۔

۱۰۔''جنایة العجماوات جبار''

۱۰۔بے زبانوں (حیوانوں اور بے جان چیزوں) کی اذیت و آزار جبر طبعی ہے۔


ھ۔ عبادات اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ

۱۔''ان عمود الدین الصلاة''

۱۔ نماز دین کا ستون ہے ۔

۲۔''خذوا عنی مناسککم''

۲۔ مجھ سے اپنی عبادتوں کا طریقہ سیکھو۔

۳۔''صلوا کما رایتمونی اصلی''

۳۔ اس طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

۴۔''زکوا اموالکم تقبل صلاتکم''

۴۔ اپنے مال کی زکات دے دو تمہاری نماز قبول ہو جائے گی۔

۵۔''زکاة الفطرة علیٰ کل ذکر و انثیٰ''

۵۔ فطرہ ہر مرد و عورت پر واجب ہے ۔

۶۔''جعلت لی الارض مسجداً و ترابها طهوراً''

۶۔ زمین کو میرے لئے جائے سجدہ اور اس کی خاک کو ذریعہ ٔطہارت قرار دیا گیا ہے ۔

۷۔''جنبوا مساجدکم بیعکم و شرائکم و خصوماتکم''

۷۔ اپنی مسجدوں کو اپنی خرید و فروخت اور جھگڑوں سے پاک رکھو۔

۸۔'' سیاحة امتی الصوم''

۸۔ روزہ میری امت کی سیاحت ہے ۔


۹۔'' کل معروف صدقة''

۹۔ ہر نیکی صدقہ ہے ۔

۱۰۔''افضل الجهاد کلمة حقٍ بین یدی سلطان جائر''

۱۰۔ سب سے بڑا جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے ۔

و۔ خاندانی نظام کے اصول

۱۔''النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی''

۱۔ نکاح میری سنت ہے ، جو اس سے روگردانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔

۲۔''تناکحوا تناسلوا فانی اباهی بکم الامم یوم القیامة''

۲۔ نکاح کرو، نسلیں بڑھائو کیونکہ روز قیامت میں تمہاری (کثرت کی) وجہ سے تمام امتوں پر فخر کروںگا۔

۳۔''تزوجوا ولا تطلقوا فان الطلاق یهتز منه عرش الرحمن''

۳۔ شادیاں کرو، طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے رحمن خدا کا عرش ہل جاتا ہے ۔

۴۔''تخیروا لنطفکم، فانکحوا الأکفاء و انکحوا الیهم''

۴۔ اپنے نطفوں کے لئے نیک و شائستہ عورتوں کا انتخاب کرو پس کفو کا کفو سے نکاح کرو۔

۵۔''الولد للفراش و للعاهر الحجر''

۵۔ بچہ اصل شوہر کا ہے اور زنا کار کے لئے پتھر ہے ۔

۶۔''جهاد المرأة حسن التبعل لزوجها''

۶۔شوہرکے ساتھ بہترین رویہ ہی عورت کا جہاد ہے ۔


۷۔''لیس علیٰ النساء جمعة ولا جماعة ولا اذان ولا اقامة ولا عیادة مریض ولا هرولة بین الصفا و المروة ولا جهاد ولا استلام الحجر ولا تولی القضاء ولا الحلق''

۷۔ عورت کے لئے نماز جمعہ و جماعت میں جانا اور اذان و اقامت کہنا، بیمار کی عیادت، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ،حجر اسود کو چھونا، سر منڈانا، جہاد کرنا ضروری نہیں ہے ۔

۸۔'' المتلاعنان لا یجتمعان ابدا''

۸۔ایک دوسرے پر لعنت کرنے والے کبھی یک جا نہیں ہو سکتے۔

۹۔''قذف المحصنة یحبط عمل مئة سنة''

۹۔محصنہ و پاک دامن عورت پر تہمت لگا نے سے سو سال کے اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔''الرضاع ما انبت اللحم و شد العظم''

۱۰۔ رضاعت یہ ہے کہ اس سے گوشت بڑھے اور ہڈی مضبوط ہو جائے۔

۱۱۔''علموا اولادکم السباحة و الرمی''

۱۱۔ اپنی اولادکو تیرا کی اور تیر اندازی سکھائو۔

۱۲۔'' من کان عنده صبی فلیتصاب له''

۱۲۔ جس کے یہاں بچہ ہے اسے اس سے محبت کرنا چاہئے۔


ز۔نظام اقتصاد اسلامی کی چند شقیں

۱۔'' العبادة سبعة اجزاء افضلها طلب الحلال''

۱۔ عبادت کے سات جزء ہیں، طلبِ حلال ان میں سب سے افضل ہے۔

۲۔''الفقه ثم المتجر''

۲۔ پہلے فقہ ہے بعد میں تجار ت۔

۳۔'' ملعون من القیٰ کله علیٰ الناس''

۳۔ ملعون ہے وہ شخص جو دوسروں پر اپنا بار ڈالتا ہے ۔

۴۔''ابدا بمن تعول''

۴۔ محتاج کو پہلے دو۔

۵۔''اعطوا الاجیر اجره قبل ان یجف عرقه''

۵۔ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دیدو۔

۶۔''علیٰ کل ذی کبد حرّی اجر''

۶۔ ہر مشقت اٹھانے والا اجر کا مستحق ہے ۔

۷۔'' المسلمون عند شروطهم''

۷۔ مسلمان اپنی شروط کے پابند ہیں۔

۸۔'' المسلم احق بما له اینما وجده''

۸۔ مسلمان اپنے مال کے زیادہ حقدار ہیں خواہ وہ کہیں بھی ملے۔


۹۔''الوقوف علیٰ حسب ما یوقفها اهلها''

۹۔جس کا جو موقف ہے اسے اسی پر رہنے دو۔

۱۰۔''لا یحل ما ل امریٔ مسلمٍ الا عن طیب نفسٍ منه''

۱۰۔مسلمان کا مال اس کی خوشی و اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے ۔

۱۱۔''الکفن ثم الدین ثم الوصیة ثم المیراث''

۱۱۔ پہلے کفن، پھر قرض۔ اس کے بعد وصیت اور پھر میراث۔

۱۲۔'' الصلح جائز بین المسلمین الا ما احل حراماً او حرم حلالاً''

۱۲۔ مسلمانوں کے درمیان صلح ہونا صحیح ہے مگر یہ کہ کسی نے حرام کو حلال سمجھ لیا ہو اور حلال کو حرام قرار دیدیا ہو۔

۱۳۔'' مطل الموسر المسلم ظلم للمسلم''

۱۳۔ مال دار مسلمان کا ٹال مٹول کرنا مسلمان پر ظلم ہے ۔

۱۴۔'' البائعان بالخیار ما داما فی المجلس''

۱۴۔ جب خریدو فروخت کرنے والے اس جگہ موجود ہیں جہاں معاملہ ہوا ہے اس وقت دونوں کو معاملہ توڑنے کا اختیار ہے ۔

۱۵۔''شر المکاسب الربا''

۱۵۔بدترین کمائی سود ہے۔

۱۶۔''لا ینتفع من المیتة باهابٍ ولا عصب''

۱۶۔ مردار کو نہ تو ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے ملکیت میں دیا جا سکتاہے۔


ح۔ اجتماعی زندگی کے کچھ اصول

۱۔''قتال المؤمن کفر و اکل لحمه معصیة''

۱۔ مومن سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس کا گوشت کھانا(اس کی غیبت کرنا)معصیت ہے ۔

۲۔''حرمة المؤمن میتاً کحرمته حیاً''

۲۔ مرجانے والا مومن ویسا ہی محترم ہے جیسا زندگی میں محترم تھا۔

۳۔''کرامة المیت تعجیله فی التجهیز''

۳۔ میت کی عظمت میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے غسل و کفن اور دفن وغیرہ میں عجلت کی جائے۔

۴۔''المومنون اخوة تتکافأ دماؤهم و یسعیٰ بذمتهم ادناهم و هم ید علیٰ من سواهم''

۴۔ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ان سب کا خون برابر ہے اور اگر ان میں سے چھوٹا بھی امان دیدے تو سب اسے محترم سمجھیں گے اور غیر کے مقابلہ میں وہ ایک ہیں۔

۵۔''الولاء للعتق''

۵۔ولاء اس کے لئے ہے جس نے آزاد کیا ہے ۔

۶۔''الولاء لحمة کلحمة النسب''

۶۔ ولاء ایک قسم کا خونی رشتہ ہے جیسے نسب ہو تا ہے ۔

۷۔''سباب المؤمن فسوق''

۷۔ مومن پر سب و شتم کرنا فسق ہے ۔


۸۔''کل مسکر حرام''

۸۔ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔

۹۔''ما اسکر کثیرة فالجرعة من حرام''

۹۔ جس چیز کی زیادتی سے نشہ ہوتا ہے اس کا گھونٹ پینا حرام ہے ۔

۱۰۔''عذاب القبر من النمیمة و الغیبة و الکذب''

۱۰۔ نکتہ چینی، غیبت اور جھوٹ، عذاب قبر کا باعث ہے ۔

۱۱۔''لا غیبة لفاسق''

۱۱۔ فاسق کے عیوب کو بیان کرنا غیبت نہیں ہے ۔

۱۲۔''حرم لباس الذهب علیٰ ذکور امتی و حل لاناثهم''

۱۲۔ میری امت کے مردوں پرسونے کا لباس حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہے ۔


۵۔ میراث رسول (ص) کچھ حکمت آمیز کلمات

۱۔''انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق''

۱۔مجھے تو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے ۔

۲۔''انا مدینة العلم و علیّ بابها''

۲۔میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں۔

۳۔''احب الاعمال الیٰ الله ادومها و ان قل''

۳۔ خدا کی نظر میں وہ اعمال زیادہ محبوب ہیں جن کا دوام زیادہ ہے خواہ وہ کم ہی ہوں۔

۴۔''اذا عمل احدکم عملاً فلیتقن''

۴۔ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام انجام دے تواسے چاہئے کہ محکم واحسن طریقہ سے انجام دے۔

۵۔'' الایمان نصفان: نصف فی الصبر و نصف فی الشکر''

۵۔ ایمان کے دو حصے ہیں: نصف صبر اور نصف شکر۔

۶۔'' استعینوا علیٰ امورکم بالکتمان''

۶۔ اپنے امور کی حفاظت میں، زبان بندی سے مدد لو۔

۷۔''الامانة تجلب الرزق و الخیانة تجلب الفقر''

۷۔ امانت داری سے روزی اور خیانت کاری سے تنگ دستی آتی ہے ۔

۸۔'' الایدی ثلاثة: سائلة و منفقة و ممسکة، فخیر الایادی المنفقة''

۸۔ ہاتھ تین قسم کے ہیں: مانگنے والا، خرچ کرنے والااورروکنے والا ،بہترین ہاتھ خرچ کرنے والا ہے ۔

۹۔''اذا ساد القوم فاسقهم وکان زعیم القوم اذلهم و اکرم الرجل الفاسق فلینظر البلائ''


۹۔ جب قوم کا سردار فاسق ہو اور ان کالیڈر ذلیل ہو اور اس کا احترام کی جاتا ہوتو لوگوں کو بلا نازل ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔

۱۰۔''اعجل الشر عقوبة البغی''

۱۰۔جس بدی کی بہت جلد سزا ملتی ہے وہ ظلم و زیادتی ہے۔

۱۱۔''الا ان شرار امتی الذین یکرمون مخافة شرهم الا و من اکرمه النّاس اتقاء شره فلیس منی''

۱۱۔ آگاہ ہو جائو کہ میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جن کی عزت ان کے شر سے بچنے کے لئے کی جاتی ہے ۔ جان لو کہ جس شخص کے شر سے بچنے کے لئے لوگ اس کی عزت کرتے ہوں اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

۱۲۔''بالبر یستعبد الحر''

۱۲۔ نیکی سے آزادشخص کو غلام بنایا جاتا ہے ۔

۱۳۔'' بشروا ولا تنفروا''

۱۳۔(لوگوں کو) خوش کرو متنفر نہ کرو۔

۱۴۔''بادر باربع قبل اربع: شبابک قبل هرمک و صحتک قبل سقمک و غناک قبل فقرک و حیاتک قبل موتک''

۱۴۔ چار چیزوں سے پہلے چار چیزوں سے فائدہ حاصل کرلو۔ اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی جوانی سے ، اپنی بیماری سے قبل اپنی تندرستی سے، اپنی ناداری سے قبل اپنی بے نیازی سے اور اپنی موت سے پہلے اپنی زندگی سے ۔

۱۵۔'' ثلاث من مکارم الاخلاق فی الدنیا و الآخرة: ان تعفو عمن ظلمک و تصل من قطعک و تحلم علٰ من جهل علیک''

۱۵۔ تین چیزیں دنیاو آخرت میں مکارم اخلاق میں شمار ہوتی ہیں:

جس نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اسے معاف کر دو، جس نے تمہیں محروم کیا ہے اس کے ساتھ صلۂ رحم کرو اور جس نے تمہارے ساتھ جہالت آمیز سلوک کیا ہے اس سے کچھ نہ کہو۔


۱۶۔'' ثلاث تخرق الحجب و تنتهی الیٰ ما بین یدی اللّه: صریر اقلام العلماء و وطیٔ المجاهدین و صوت مغازل المحصنات''

۱۶۔ تین چیزیں پردوں کو چاک کر دیتی ہیں اور بارگاہ خدا تک پہنچتی ہیں ، علماء کے قلم کی آواز،(میدانِ جہاد میں) مجاہدین کی دوڑ دھوپ اور شادی شدہ عورتوں کے چرخہ کاتنے کی آواز۔

۱۷۔''ثلاث تقسی القلب: استماع اللهو، و طلب الصید و اتیان باب السلطان''

۱۷۔تین چیزوں سے دل سخت ہوتا ہے : گانا سننا، شکار کا پیچھا کرنا اور بادشاہ کے دروازہ پر جانا۔

۱۸۔''جبلت القلوب علیٰ: حب من احسن الیها، وبغض من اساء الیها''

۱۸۔ دلوں کی جبلت یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ نیک سلوک کرنے والے سے محبت اور بد سلوکی کرنے والے سے نفرت کرے۔

۱۹۔'' حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا''

۱۹۔ اپنے نفسوں کا حساب کرو قبل اس کے تم سے حساب لیا جائے۔

۲۰۔''حب الدنیا رأس کل خطیئة''

۲۰۔ ہر خطا کی جڑ دنیا کی محبت ہے ۔

۲۱۔''الحکمة ضالة المومن راس الحکمة مخافة اللّه''

۲۱۔ حکمت مومن کاگمشدہ سرمایہ ہے ۔ حکمت کی معراج خوف خدا ہے ۔

۲۲۔''حفت الجنة بالمکاره و حفت النار بالشهوات''

۲۲۔ جنت سختیوں میں اور دوزخ شہوتوں میں لپٹی ہوئی ہے ۔

۲۳۔'' حسنوا اخلاقکم و الطفوا بجیرانکم و اکرموا نسائکم تدخلوا الجنة بغیر حساب، داووا امراضکم بالصدقة''

۲۳۔ اپنے اخلاق کو اچھا بنائو ، اپنے ہمسایوں کے ساتھ مہربانی کرو اور اپنی عورتوں کی عزت کر وتو بے حساب جنت میں داخل ہو گے، اپنے بیماروں کا صدقہ کے ذریعہ سے علاج کرو۔


۲۴۔''رأس العقل بعد الایمان باللّٰه مداراة النّاس فی غیر ترک حق''

۲۴۔ خدا پر ایمان لانے کے بعد عقل کا کمال یہ ہے کہ حق کو چھوڑ ے بغیر لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔

۲۵۔''سادة النّاس فی الدنیا الاسخیائ، سادة النّاس فی الآخرة الاتقیاء السعید من وعظ بغیره''

۲۵۔ دنیا میں لوگوں کے سردار اہل سخاوت ہیں اور آخرت میں لوگوں کے سردار اتقیاء ہیں اور نیک وہ ہے جو اپنے غیر سے نصیحت حاصل کرے ۔

۲۶۔''شر النّاس من باع آخرته بدنیاه، و شر من ذلک من باع آخرته بدنیا غیره''

۲۶۔ بدترین انسان وہ ہے جو اپنی آخرت کو اپنی دنیا کے عوض بیچ دے اور اس سے بدتر وہ شخص ہے جو اپنی آخرت کو غیر کی دنیا کے عوض بیچ دے۔

۲۷۔''طوبیٰ لمن شغله عیبه عن عیوب الناس''

۲۷۔ خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس کے عیوب اسے دوسروں کی عیب جوئی سے غافل رکھتے ہیں۔

۲۸۔''علیک بالجماعة فان الذئب یاخذ القاصیة''

۲۸۔ تمہارے لئے ضروری ہے کہ جماعت کے ساتھ رہو اس لئے کہ گلہ سے بچھڑ جانے والی بکری کو بھیڑیا اچک لیتا ہے ۔

۲۹۔''علیکم بالاقتصاد فما افتقر قوم اقتصدوا''

۲۹۔تمہارے لئے لازم ہے کہ میانہ روی اختیار کرو اس لئے کہ وہ قوم کبھی مفلس و نادار نہیں ہوئی جس نے میانہ روی اختیار کی۔


۳۰۔''عجبت لمن یحتمی من الطعام مخافة الدائ، کیف لا یحتمی من الذنوب مخافة النار''

۳۰۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے کہ جو بیماری کے خوف سے کھانے میں احتیاط کرتا ہے لیکن جہنم کے خوف سے گناہوں سے نہیں بچتا ۔

۳۱۔''عز المؤمن استغناؤه عن الناس''

۳۱۔ مومن کی عزت اس میں ہے کہ وہ لوگوں سے بے نیاز رہے ۔

۳۲۔''عد من لا یعودک، و اهد لمن لم یهد الیک''

۳۲۔ جس نے تمہاری عیادت نہیں کی اس کی عیادت کرو اور جس نے تمہیں ہدیہ نہیں دیا اسے ہدیہ دو۔

۳۳۔''الغنی غنی النفس''

۳۳۔صحیح معنی میں بے نیاز وہی ہے جو اپنے نفس سے بے نیاز ہو۔

۳۴۔''کن عالماً او متعلماً او مستمعاً او محباً، ولا تکن الخامس فتهلک''

۳۴۔عالم یا طالب یا (عذر سے ) سننے والے یا (ان تینوں کے ) چاہنے والے بن جائو اگر ان کے پانچویں بنوگے تو ہلاک ہو جائو گے ۔

۳۵۔''لا مال اعود من العقل''

۳۵۔ عقل سے زیادہ نفع بخش کوئی مال نہیں ہے ۔

۳۶۔''لا فقر اشد من الجهل''

۳۶۔ جہالت سے بڑی مفلسی و ناداری کوئی چیز نہیں ہے ۔

۳۷۔''لا عقل کالتدبیر''

۳۷۔ تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے ۔


۳۸۔''لیس منا من غش مسلماً او ضره او ما کره''

۳۸۔ جس نے مسلمان کو دھوکا دیا یا اس کو نقصان پہنچایا یا اس کے ساتھ مکر کیا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

۳۹۔''من المروءة اصلاح المال''

۳۹۔ مال کی اصلاح بھی جوانمردی ہے ۔

۴۰۔''من احب عمل قوم اشرک معهم فی عملهم''

۴۰۔ جو شخص کسی قوم کے عمل کو پسند کرتا ہے وہ اس کے عمل میں شریک ہوتا ہے ۔

۴۱۔''من احب قوماً حشر معهم''

۴۱۔ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ محشور ہوگا۔

۴۲۔''من عمل بما علم ورثه الله ما لم یعلم''

۴۲۔ جو شخص اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے خدا اسے اس چیز کا وارث بنا دیتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

۴۳۔''من اعان ظالماً علیٰ ظلمه سلطه الله علیه''

۴۳۔ جو شخص ظلم میں ظالم کی مدد کرتا ہے خدا اس پر ظالم کو مسلط کر دیتا ہے ۔

۴۴۔''من یصلح ما بینه و بین الله یصلح الله ما بینه و بین الناس''

۴۴۔ جو شخص ان چیزوں کی اصلاح کر تا ہے جو اس کے اور خدا کے درمیان ہیں تو خدا اس کے اور لوگوں کے درمیان کی چیزوں کی اصلاح کرتا ہے ۔

۴۵۔''من لا یرحم لا یرحم''

۴۵۔ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

۴۶۔''من غش غُشّ''

۴۶۔ جو دھوکا دیتا ہے وہ دھوکا کھاتا ہے ۔


۴۷۔''من تساویٰ یوماه فهو مغبون''

۴۷۔ جس شخص کے دو دن یکساں گذریں وہ گھاٹے میں ہے۔

۴۸۔''ما عال من اقتصد''

۴۸۔ میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی تنگ دست نہیں ہوتا ۔

۴۹۔'' المؤمن من امن النّاس من یده و لسانه''

۴۹۔ مومن تو بس وہی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہتے ہیں۔

۵۰۔'' المسلم من سلم النّاس من اذاه''

۵۰۔ مسلمان وہ ہے جس کی اذیتوں سے لوگ محفوظ و سالم رہتے ہیں۔

۵۱۔''المجالس بالامانة''

۵۱۔مجالس کا اعتبار امانتداری کے ساتھ ہے ۔

۵۲۔''المسلم مرآة لاخیه المسلم''

۵۲۔ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے آئینہ ہے ۔

۵۳۔''المسلم اخو المسلم لا یظلمه ولا یثلمه''

۵۳۔ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ستاتا ہے ۔

۵۴۔''المستشار موتمن''

۵۴۔ جس سے مشورہ لیا جاتا ئے وہ امانت دار ہونا چاہئے ۔

۵۵۔''ما هلک امرؤ عرف قدر نفسه''

۵۵۔جو اپنی قدر و منزلت جانتا ہے وہ ہلاک نہیں ہوتا ۔


۵۶۔''من تفاقر افتقر''

۵۶۔ جوغربت کا اظہار کرتا ہے وہ غریب ہوجاتا ہے ۔

۵۷۔''من عمل علیٰ غیر علم کان ما یفسد اکثر ما یصلح''

۵۷۔ جس نے علم کے بغیر عمل کیا اس نے فائدہ سے زیادہ نقصان اٹھایا۔

۵۸۔''من اذاع فاحشةً کان کمبدها''

۵۸۔ جس شخص نے زنا کی خبر کو عام کیا گویا اس نے خود زنا کیا۔

۵۹۔''و من عیر مومناً بشیء لم یمت حتی یرکبه''

۵۹۔جس شخص نے کسی مومن پر کسی چیز کی تہمت لگائی وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک خود اس کا مرتکب نہیں ہوگا۔

۶۰۔''من عد غداً من اجله فقد اساء صحبة الموت' '

۶۰۔ جو شخص آنے والے کل کو اپنی عمر کا جز سمجھتا ہے گویا وہ موت پر یقین نہیں رکھتا ۔

۶۱۔''من ارضیٰ سلطاناً بما یسخط الله خرج من دین الله''

۶۱۔ جس شخص نے خدا کو ناراض کرکے کسی بادشاہ کو خوش کیا وہ دین خدا سے نکل گیا۔

۶۲۔''مداراة النّاس نصف الایمان و الرفق بهم نصف العیش''

۶۲۔لوگوں کی خاطرمدارات کرنا نصف ایمان ہے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا نصف زندگی ہے۔

۶۳۔'' یسروا ولا تعسروا''

۶۳۔ آسانی فراہم کرو دشواری نہیں۔

۶۴۔''یطبَّع المؤمن علیٰ کل خصلة ولا یطبع علیٰ الکذب ولا علیٰ الخیانة''

۶۴۔ مومن میں ہر خصلت ہو سکتی ہے لیکن جھوٹ اور خیانت نہیںہو سکتی ۔


۶۔ آپ (ص) کی چند دعائیں

الف۔ یہ دعاآپ ماہ رمضان میں پڑھتے تھے:

''الّلهم ادخل علیٰ اهل القبور السّرور،الّلهم اغن کل فقیر، الّلهم اشبع کل جائع، الّلهم اکس کل عریان، الّلهم اقض دین کل مدین، الّلهم فرِّج عن کل مکروب، الّلهم رد کل غریب، الّلهم فُکِّ کل اسیر، الّلهم اصلح کل فاسد من امور المسلمین، الّلهم اشف کل مریض، الّلهم سد فقرنا بغناک، الّلهم غیرِّ سوء حالنا بحسن حالک، الّلهم اقضِ عنِّا الدِّین و اَغنِنا من الفقر انَّک علیٰ کل شیء قدیر'' ۔

اے اللہ! اہل قبر کو شاد و مسرور فرما۔ اے اللہ! ہرمفلس و نادار کو مالامال کر دے، اے اللہ! ہر بھوکے کو شکم سیر کر ، اے اللہ! ہر برہنہ کو لباس عطا کر ، اے اللہ! ہر مقروض کا قرض ادا کرا ، اے اللہ! ہر رنجیدہ و پریشان کو آسودہ گی و کشائش عطا کر، اے اللہ! ہر مسافر کو وطن لوٹا ، اے اللہ! ہر قیدی کو رہائی دلا،اے اللہ! مسلمانوں کے خراب امور کی اصلاح کر، اے اللہ! مریض کو شفا عطا کر، اے اللہ! اپنی بے نیازی سے ہماری ناداری کا سد باب کر، اے اللہ! اپنے بہترین حالات کے ذریعہ سے ہمارے برے حالات کو بدل دے، اے اللہ! ہمارا قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے نجات دلا کر غنی کر دے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

ب۔یہ دعا آپ(ص) نے جنگ بدر میں پڑھی تھی:

''الّلهم انت ثقتی فی کل کرب، و انت رجائی فی کل شدة، و انت لی فی کل امر نزل بی ثقة و عده، کم من کرب یضعف عنه الفؤاد و تقل فیه الحیلة، و یخذل فیه القریب ، و یشمت به العدو، و تعیینی فیه الامور، انزلته بک و شکوته الیک راغباً فیه الیک عمن سواک ففرجته و کشفته عنی و کفیتنیه، فانت ولی کل نعمة، و صاحب کل حاجة، و منتهٰی کل رغبة، فلک الحمد کثیراً ولک المن فاضلاً'' ۔


اے اللہ! ہر رنج و پریشانی میں توہی میرا سہارا ہے ، ہر سختی میں تو ہی میری امید ہے اور جو مصیبت مجھ پر پڑتی ہے اس میں تو ہی میری پناہ گاہ ہے ، کتنے ہی رنج و غم ایسے ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں اور تدبیر ساتھ نہیں دیتی ، ایسے حالات میں قریب والے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، دشمن طعنہ زنی کرتے ہیں، اس موقعہ پر میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں اور سب کو چھوڑ کر تجھ سے لو لگاتا ہوں۔ تونے غم سے نجات دی اور کشائش عطا فرمائی، اے معبود !ہر نعمت تیری ہی ہے ، ہر حاجت تجھ ہی سے بیان کی جا سکتی ہے، ہر آرزو کی انتہا تو ہے۔ بے پناہ حمد تیرے لئے ہے اور احسان کا سر چشمہ تو ہے ۔

ج۔ جنگ خندق کے دن آپ(ص) نے یہ دعا پڑھی تھی:

''یا صریخ المکروبین و یا مجیب دعوة المضطرین اکشف عنِّی همِّی و غمِّی و کربی فانک تعلم حالی و حال اصحابی فاکفنی حول عدو فانه لا یکشف ذلک غیرک'' ۔

اے غم زدہ و رنجیدہ لوگوں کے فریاد رس!اے مضطر و پریشان حال لوگوں کی دعا قبول کرنے والے! میرے رنج و غم اور کرب کو برطرف کر دے بیشک تو میری اور میرے اصحاب کی حالت سے بخوبی واقف ہے پس میرے دشمن کے خلاف میری مدد فرما بیشک تیرے علاوہ کوئی بھی اس مشکل کو حل نہیں کر سکتا ۔

د۔ آپ(ص) نے اپنے اصحاب کو دشمن کے شر سے بچنے کے لئے درج ذیل دعا تعلیم کی ۔

سید بن طائوس نے اس دعا کو اس طرح نقل کیا ہے :

''یا سامع کلِّ صوت، یا محیی النُّفُوس بعد الموت، یا من لا یعجل لانَّه لا یخاف الفوت، یا دائم الثبات، یا مخرج النبات یا محیی العظام الرمیم الدارسات بسم اللّه، اعتصمت باللّه و توکلت علیٰ الحی الذی لا یموت ، و رمیت کل من یؤذینی بلا حول ولا قوة الا باللّه العلی العظیم'' ۔


اے ہر آواز کو سننے والے! اے انسانوں کو مرنے کے بعد زندہ کرنے والے! اے وہ جو کسی کام میں اس لئے عجلت نہیں کرتا اس لئے کہ اسے اس کام کے چھوٹنے کا خوف نہیں ہے ، اے ہمیشہ سے قائم، اے وہ جو اشجار نبات ، پیڑ پودوںکو اگانے والے! اے بوسیدہ ہڈیوںکو زندہ کرنے والے!اس اللہ کے نام سے تمسک کرتا ہوں اور اس زندہ پر توکل کرتا ہوں جس کو کبھی موت نہیں آئے گی، میں بلند و برتر خدا کے وسیلہ سے جس کے علاوہ کوئی طاقت نہیں ہے ، ہر اس شخص کو پست کرتا ہوں جو مجھے اذیت دیتا ہے۔

ھ۔آپ(ص) کی وہ دعا جو آپ(ص) نے حضرت علی بن ابی طالب کو قرض کی ادائیگی کے لئے تعلیم دی تھی:

''اللهم اغننی بحلالک عن حرامک و بفضلک عمن سواک'' ۔

اے اللہ مجھے اپنی حلال چیزوں کے ذریعہ اپنی حرام کی ہوئی چیزوں سے بے نیاز کر دے اور اپنے فضل وکرم سے اپنے غیر سے بے نیاز کر دے۔

و۔ درج ذیل دعا آپ(ص) اس وقت پڑھتے تھے جب آپ(ص) کے سامنے دستر خوان لگایا جاتا تھا:

''سبحانک الّلهم ما احسن ما تبتلینا، سبحانک الّلهم ما اکثر ما تعطینا، سبحانک الّلهم ما اکثر ما تعافینا، الّلهم اوسع علینا و علیٰ فقراء المومنین و المسلمین '' ۔( ۱ )

اے اللہ! تو پاک اور لائق تسبیح ہے ، تونے ہمیں کتنی اچھی نعمتیں عطا کی ہیں ۔

اے اللہ! تو پاک و پاکیزہ ہے تونے ہمیں کتنی زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے ۔

اے اللہ !تو پاک و پاکیزہ ہے تونے ہمیں کتنی عافیت عطا کی ہے ۔

اے اللہ !ہمیں اورتمام مومنین و مسلمین میں سے جو نادارہیں ان کی نعمتوں میں وسعت عطا کر۔

آخر میں ہماری دعا یہ ہے کہ ساری تعریف اس خدا کے لئے ہے جو عالمین کا رب ہے ۔

____________________

۱۔ اعیان الشیعہ ،ج۱،ص ۳۰۶۔


فہرست

حرف اول ۳

عرض مؤلف ۶

پہلا باب ۱۵

مقدمہ ۱۶

پہلی فصل ۲۴

خاتم النبیین(ص) ایک نظر میں ۲۴

دوسری فصل ۲۹

بشارت ۲۹

گذشتہ انبیاء نے محمد (ص)بن عبد اللہ کی رسالت کی بشارت دی ۳۳

اہل کتاب ہمارے نبی(ص) کی آمد کے منتظر تھے ۳۴

تیسری فصل ۳۷

خاتم النبیین(ص) کے اوصاف ۳۷

۱۔ امی عالم ۳۷

۲۔ مسلمِ اوّل ۳۹

۳۔ خدا ہی پر بھروسہ ۴۱

۴۔شجاعت ۴۲

۵۔ بے مثال زہد ۴۳

۶۔بردباری اور کرم ۴۴

۷۔حیا و انکساری ۴۷

دوسرا باب ۴۹


پہلی فصل ۵۰

ولادت و پرورش ۵۰

۱۔ بت پرست معاشرہ کی جھلکیاں ۵۰

۲۔رسول(ص) کے آباء واجداد کا ایمان ۵۱

۴۔ مبارک رضاعت ۵۵

۵۔ نبی (ص) کے واسطہ سے بارش ۵۷

۶۔ اپنی والدہ آمنہ کے ساتھ ۵۸

۷۔ اپنے جد عبد المطلب کے ساتھ ۵۹

دوسری فصل ۶۱

شباب و جوانی کا زمانہ ۶۱

۱۔ نبی(ص) ابوطالب کی کفالت میں ۶۱

۲۔ شام کی طرف پہلا سفر ۶۲

۳۔ بکریوں کی پاسبانی ۶۲

۴۔ حرب الفجار ۶۴

۵۔حلف الفضول ۶۵

خدیجہ کے مال سے تجارت ۶۶

تیسری فصل ۶۸

شادی سے بعثت تک ۶۸

۱۔ شادی مبارک ۶۸

جناب خدیجہ؛رسول(ص)کے ساتھ شادی سے پہلے ۷۰

۲۔ حجر اسود کو نصب کرنا ۷۱


۳۔ حضرت علی کی ولادت اور نبی(ص) کے زیر دامن پرورش ۷۲

۴۔ بعثت سے قبل رسول(ص) کی شخصیت ۷۴

تیسرا باب ۷۷

پہلی فصل ۷۸

بعثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی ۷۸

دوسری فصل ۹۱

مکہ کی زندگی میں تحریک رسالت کے مراحل ۹۱

۱۔ ایمانی خلیوں کی ساخت ۹۱

۲۔ مکی عہد کے ادوار ۹۲

۳۔اوّلین مرکز کی فراہمی کا دور ۹۲

۴۔ پہلا مقابلہ اور قرابتداروں کو ڈران ۹۴

۵۔ دعوت عام ۹۶

تیسری فصل ۹۸

رسول(ص) کے بارے میں بنی ہاشم کا موقف ۹۸

ابو طالب رسول(ص) اور رسالت کا دفاع کرتے ہیں ۹۸

قریش کا موقف ۱۰۰

کفر عقل کی بات نہیں سنتا ۱۰۲

سحر کی تہمت ۱۰۳

اذیت و آزار ۱۰۴

حبشہ کی طرف ہجرت ۱۰۶

مقاطعہ اور بنی ہاشم ۱۰۸


عام الحزن ۱۰۹

معراج ۱۱۰

چوتھی فصل ۱۱۲

کشائش و خوشحالی ہجرت تک ۱۱۲

طائف والوں نے اسلامی رسالت کو قبول نہیں کیا( ۱ ) ۱۱۲

مکہ میں راہ رسالت میں رکاوٹیں ۱۱۵

عقبۂ اولیٰ کی بیعت ۱۱۶

عقبۂ ثانیہ ۱۱۸

ہجرت کی تیاری ۱۲۰

ہجرت سے پہلے مہاجرین کے درمیان مواخات ۱۲۲

چوتھا باب ۱۲۴

پہلی فصل ۱۲۵

اوّلین اسلامی حکومت کی تشکیل ۱۲۵

۱۔ مدینہ کی طرف ہجرت ۱۲۵

۲۔ مسجد کی تعمیر ۱۲۸

۳۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ۱۲۹

مسلمانوں کے بھائی بھائی بننے کے نتائج ۱۳۰

اقتصادی پہلو ۱۳۰

اجتماعی پہلو ۱۳۰

سیاسی پہلو ۱۳۱

۴۔معاہدۂ مدینہ ۱۳۱


۵۔مدینہ میں قیام اور نفاق ۱۳۳

۶۔ تحویلِ قبلہ ۱۳۴

۷۔ فوجی کاروایوں کی ابتدائ ۱۳۵

دوسری فصل ۱۳۷

نئی حکومت کے نظام کا دفاع ۱۳۷

۱۔ غزوۂ بدر ۱۳۷

جنگ کے نتائج ۱۴۱

۲۔ فاطمہ زہرا کی شادی ۱۴۳

۳۔یہود اور بنی قینقاع سے ٹکرائو ۱۴۵

۴۔ مسلمانوں کی فتح کے بعد قریش کا رد عمل ۱۴۷

۵۔ جنگ احد( ۱ ) ۱۴۸

۶۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش ۱۵۳

۷۔ غزوۂ بنی نضیر( ۱ ) ۱۵۵

۸۔احد کے بعد فوجی حملے ۱۵۶

بدرِ موعد(بدر الصغریٰ) ۱۵۶

۹۔ غزوۂ بنی مصطلق اور نفاق کی ریشہ دوانیاں ۱۵۷

۱۰۔رسوم جاہلیت کی مخالفت ۱۵۹

تیسری فصل ۱۶۱

مشرک طاقتوں کا اتحاد اور خدائی طاقت کی طرف سے جواب ۱۶۱

جنگ خندق میں مشرک کی طاقتوں کا اتحاد ۱۶۱

مسلمانوں کے مشکلات ۱۶۳


دشمن کی شکست ۱۶۳

غزوۂ بنی قریظہ اور مدینہ سے یہودیوں کا صفایا ۱۶۴

پانچواں باب ۱۶۷

پہلی فصل ۱۶۸

فتح کا مرحلہ ۱۶۸

۱۔ صلح حدیبیہ ۱۶۸

صلح کے شرائط ۱۷۲

صلح کے نتائج ۱۷۴

۳۔ جنگ خیبر( ۱ ) ۱۷۶

۴۔ آپ(ص) کے قتل کی کوشش ۱۷۷

۶۔ عمرة القضا ۱۷۹

دوسری فصل ۱۸۱

جزیرة العرب سے باہراسلام کی توسیع ۱۸۱

۱۔جنگ موتہ( ۱ ) ۱۸۱

۲۔ فتح مکہ ۱۸۳

فوج اسلام کی مکہ کی طرف روانگی ۱۸۵

ابو سفیان کا سپر انداختہ ہونا ۱۸۶

مکہ میں داخلہ ۱۸۷

۳۔ جنگ حنین او ر طائف کا محاصرہ( ۱ ) ۱۹۲

مال غنیمت کی تقسیم ۱۹۵

انصار کا اعتراض ۱۹۶


۴۔ جنگ تبوک( ۲ ) ۱۹۸

نبی (ص) کی نظر میں علی کی منزلت ۱۹۹

رسول(ص) کے قتل کی کوشش ۲۰۱

جنگ تبوک کے نتائج ۲۰۲

۶۔ وفود کا سال ۲۰۳

قبیلۂ ثقیف کا اسلام لانا ۲۰۴

۷۔ فرزندِ رسول(ص) ، حضرت ابراہیم کی وفات ۲۰۵

تیسری فصل ۲۰۷

جزیرہ نما عرب سے بت پرستی کا صفای ۲۰۷

۱۔ مشرکین سے اعلانِ برائت ۲۰۷

۲۔ نصارائے نجران سے مباہلہ ۲۰۸

۳۔حجة الوداع ۲۱۱

حجة الوداع میں رسول(ص) کا خطبہ ۲۱۳

۴۔ وصی کا تعین( ۱ ) ۲۱۷

۵۔نبوت کے جھوٹے دعویدار ۲۲۱

۶۔ روم سے جنگ کے لئے فوج کی عام بھرتی(۱) ۲۲۳

چوتھی فصل ۲۲۶

رسول(ص) کی زندگی کے آخری ایام ۲۲۶

۱۔وصیت لکھنے میں حائل ہونا ۲۲۶

۲۔ فاطمہ زہرا باپ کی خدمت میں ۲۲۸

۳۔رسول(ص) کے آخری لمحاتِ حیات ۲۳۰


۴۔ وفات ودفن رسول(ص) ۲۳۰

پانچویں فصل ۲۳۴

اسلامی رسالت کے بعض نقوش ۲۳۴

رسول (ص) کس چیز کے ساتھ مبعوث کئے گئے؟( ۱ ) ۲۳۴

شریعت اسلامی کی عظمت و آسانی ۲۳۵

اسلامی قوانین کا امتیاز ۲۳۵

قرآن مجید ۲۳۷

شریعت اسلامیہ میں واجب اور حرام ۲۳۹

چھٹی فصل ۲۴۰

میراث خاتم المرسلین(ص) ۲۴۰

سید المرسلین (ص) کی علمی میراث کے چند نمونے ۲۴۷

۱۔ عقل و علم ۲۴۷

۲۔ تشریع کے مصادر ۲۵۱

قرآن اور اس کا ممتا زکردار ۲۵۲

اہل بیت دین کے ارکان ہیں ۲۵۴

۳۔ اسلامی عقیدے کے اصول ۲۵۸

خالق کی توصیف نہیں کی جا سکتی ۲۵۸

توحید کے شرائط ۲۵۸

رحمتِ خدا ۲۵۹

نہ جبر نہ اختیار ۲۵۹

خاتمیت ۲۶۰


خدا نے مجھے برگزیدہ کیا ہے ۲۶۰

میری مثال بادل کی سی ہے ۲۶۱

رسول(ص) کے بعد امام ۲۶۱

حضرت علی کی فضیلت ۲۶۲

ائمہ حق ۲۶۲

رسول(ص) نے حضرت مہدی کی بشارت دی ۲۶۳

۴۔رسول(ص) کی میراث میںاسلامی تشریع کے اصول ۲۶۵

الف۔ اسلام کے خصوصیات ۲۶۵

ب۔ علم اور علماء کی ذمہ داری ۲۶۵

ج۔ اسلامی طرز زندگی کے عام قواعد ۲۶۷

د۔فیصلے کے عام خطوط ۲۶۸

ھ۔ عبادات اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ ۲۷۰

و۔ خاندانی نظام کے اصول ۲۷۱

ز۔نظام اقتصاد اسلامی کی چند شقیں ۲۷۳

ح۔ اجتماعی زندگی کے کچھ اصول ۲۷۵

۵۔ میراث رسول (ص) کچھ حکمت آمیز کلمات ۲۷۷

۶۔ آپ (ص) کی چند دعائیں ۲۸۵

الف۔ یہ دعاآپ ماہ رمضان میں پڑھتے تھے: ۲۸۵

ب۔یہ دعا آپ(ص) نے جنگ بدر میں پڑھی تھی: ۲۸۵

ج۔ جنگ خندق کے دن آپ(ص) نے یہ دعا پڑھی تھی: ۲۸۶

د۔ آپ(ص) نے اپنے اصحاب کو دشمن کے شر سے بچنے کے لئے درج ذیل دعا تعلیم کی ۔ ۲۸۶