الصحیح من سیرة النبی الاعظمصلىاللهعليهوآلهوسلم
دوسری جلد
مؤلف: جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)
مترجم:
معارف اسلام پبلشرز
مؤلف: علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)
مترجم:معارف اسلام پبلشرز
ناشر:نور مطاف
جلد: دوسری
اشاعت:دوم
تاریخ اشاعت:شوال المکرم ۱۴۲۵ ھ _ق
تعداد: ۲۰۰۰
Web : www.maaref-foundation.com
E-mail: info@maaref-foundation.com
جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہیں _
بسم الله الرحمن الرحیم
و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین
و لکم فی رسول الله اسوة حسنة
مقدمہ
عالم خلقت میں برترین اور کامل ترین طرز زندگی کا نمونہ بوستان زندگی کے وہ گل ہیں جن کی سیرت پورے عالم کیلئے پیروی کابہترین نمونہ ہے _ اس گلستان میں سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز اور درخشندہ ہستی پیغمبر اکرم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات مبارکہ ہے کہ پیروی اور اطاعت کیلئے ان سے زیادہ بہتر ہستی پوری کائنات میں نہیں مل سکتی _
یہ کتاب'' الصحیح من سیرة النبی الاعظم '' ، علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ) کی قیمتی اور گراں بہا تالیف ہے جس میں ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت طیبہ کو بیان کیا گیاہے_
اس کتاب میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤںپر تحقیقی گفتگو کی گئی ہے اور انہیں دقیق و منصفانہ تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ خود غرضی، تنگ نظری اور محدود فکری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر تحقیق کے روشن و منور مقام پر لاکر منظر عام میں پیش کیا گیا ہے _ علامہ موصوف کی یہ کتاب اہل تحقیق حضرات کیلئے باعث حیرت و دلچسپی واقع ہوئی ہے اور ان کی جانب سے علامہ کی اس کاوش کی تعریف و توصیف کی گئی ہے اور یہ کتاب عالم اسلام میں بہت مقبول ہوئی ہے _
معارف اسلام پبلشرز خداوند متعال کا شکرگزار ہے کہ اپنے اصل فرائض (یعنی اردو زبان جاننے والوں کی ضروریات کے مطابق،اخلاق ، عقائد، فقہ، تفسیر، تاریخ اور سیرت جیسے اہم اور ضروری موضوعات پر مختلف کتابوں کے ترجمہ اور نشرو اشاعت کے فرائض)کو انجام دیتے ہوئے، ایک طولانی انتظار کے بعد اللہ تعالی کی توفیق سے اس کتاب '' الصحیح من سیرة النبی الاعظم'' کی دوسری جلد کو اہل تحقیق و مطالعہ اور حق کے متلاشی افراد کی خدمت میں پیش کررہاہے _ امید ہے کہ یہ کوشش خداوند متعال کی بارگاہ اور ولی خدا امام زمانہ حضرت حجة ابن الحسن العسکری (عج) کے نزدیک مقبول قرار پائے_
آخر میں اس نکتہ کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے کہ یہ ترجمہ عربی متن کی آخری چاپ کے ساتھ کاملا مطابقت رکھتاہے اور اس کے مطالب وموضوعات کی ترتیب میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اور منابع کی تکمیل کی گئی ہے اس ترجمہ میں ان کا مکمل خیال رکھا گیا ہے لہذا ہم ان تمام فاضل شخصیات اور محققین محترم کے تہ دل سے شکرگزار ہیں جنہوں نے اسکے ترجمے، تصحیح ، نظر ثانی اور بالخصوص مطابقت والے طاقت فرسا کام کو انجام دیا ہم خداوند عالم سے اپنے اور ان کے لئے مزید توفیقات اور امداد کے طالب ہیں_
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
معارف اسلام پبلشرز
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله رب العالمین، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین، ایاک نعبد
و ایاک نستعین، اهدنا الصراط المستقیم
والصلاة والسلام علی محمد المصطفی، خاتم الأنبیاء والمرسلین،
وآله الکرام البرزة الطیبین الطاهرین
واللعنة علی أعدائهم أجمعین، من الأولین والآخرین ، الی یوم الدین و بعد
چند اہم نکات
ہم اپنی اس تحقیق و تالیف کو محترم قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں لہذا چند اہم نکات کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں_
۱ _ اکثر و بیشتر ، بنیادی طور پر ہم نے اپنی اس کتاب میں قدماء کی تالیفات کو پیش نظر رکھا اور ان کی جانب رجوع کیا ہے_ ہم عصر مؤلفین کی کتابوں کی جانب کم رجوع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کتابیںصرف مطالب اور ابواب کی ترتیب میں فرق کے ساتھ عموماً اسلاف کے مطالب کا تکرار ہیں ، اور پھر اسلاف کے مطالب ہی کی توجیہ اور اس پر گفتگو کی گئی ہے _ انہوں نے اپنی ساری کوششوں کو اس بات میں صرف کیا ہے کہ حسین عبارتوں اور پر کشش کلمات کے ذریعہ اسلاف کے لکھے ہوئے مطالب کی تایید اور اسی پر تاکید کی جائے اور ان مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں انہوں نے کوئی غور و فکر ہی نہیں کیا اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی تحقیق انجام نہیں دی _یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے قارئین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا اسلاف کے یہ مطالب جو انہوں نے حسین اور عمدہ عبارتوں میں بیان کئے ہیں وحی الہی ہیں جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائشے نہیں _
چاہے یہ مطالب جتنا بھی آپس میں متضاد و متناقض ہوں پھر بھی ان سب کو جمع کرنا انہوں نے ضروری سمجھا اور اس کیلئے ایسی توجیہات تراشی ہیں جنہیں عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی انسان کا ضمیر اسے قبول کرتاہے _ اس کے علاوہ اسلاف کے جن مطالب کی وہ توجیہ نہیں کر سکے یا کسی طرح ان کی متضاد باتوں کو جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں وہاں انہوں نے خاموشی اختیار کی اور یہ اعتراف کیا ہے کہ یہاں حقیقت حال کو سمجھنے سے وہ عاجز و قاصر ہیں اور یہ ایمان کی انتہائی کمزوری ہے _
۲ _اس کتاب میں ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ ان تمام مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں تحقیق کریں جن کے تاریخ اسلام اور سیرت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم ہونے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن یہ تحقیق ہماری اس مختصر تصنیف کے مطابق کی گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بقدر امکان قارئین کو اس تاریخی دور کے حقائق سے تقریباً نزدیک کردیا جائے جو انتہائی نازک اور حساس واقعات سے پر نظر آتاہے_ یہ وہ دور ہے جو بنیادی طور پر ہمیشہ اہل دنیا، نفس پرست و منفعت طلب افراد اور متعصب لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت کا حامل رہاہے _
بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ تاریخ انسانیت کا سب سے اہم ترین اور خطرناک ترین دور گزرا ہے کیونکہ اس دور نے نہ فقط انسانی معاشرے کی غلط بنیادوں اور تمام انسانوں کی جاہلانہ اقدار و رسومات کی اصلاح کی بلکہ بنی نوع انسان کی تاریخ کو یکسر بدل کر ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا_ اگر چہ اس دور کی تاریخ کو رقم کرنے کیلئے حقیقتاً انتہائی زحمت و مشقت کی ضرورت ہے لیکن اس کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر (خصوصاً اس صورت میں کہ تمام جوانب سے بحث کامل نہیں )ہم نے اس کام کو انجام دینے کی سعی و کوشش کی ہے اگر چہ ناقص ہی سہی البتہ_ ہماری یہ کوشش و کاوش ، اہم تاریخی و اقعات اور حوادث کو گہرائی کے ساتھمکمل طور پر تحقیقی انداز میں سمجھنے کی جانب پہلا قدم اور سنگ میل ہے _
۳ _ اس کتاب میں مکمل طور پر تمام پہلوں سے بحث کرنے کی روش میں ممکن ہے کبھی قارئین نقائص پائیں اور نشیب و فراز کا مشاہدہ کریں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب ایک طولانی عرصہ میں ترتیب دی گئی ہے اور اس اثناء میں انسان کی بہت ساری مصروفیات مانع ہوجاتی ہیں کہ وہ اپنے وقت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے کام کو کامل ، افضل اور بے مثال طریقہ سے انجام دے سکے _ طبیعی ہے، کہ طولانی مدت میں انسان پر عارض ہونے والے مختلف حالات واضح طور پر انسان کی تحریر پر اثر انداز ہونے کا باعث بنتے ہیں اور نتیجتاً اس کی جانب سے پیش کئے جانے والے مطالب اور ان کے بیان کرنے کی روش میں تھوڑا سا تفاوت پایا جائے _
۴ _ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ تاریخ اسلام نے بہت سے ایسے واقعات نقل کئے ہیں جنہیں ہوا و ہوس کی پیروی کرنے والوں اور سیاسی و مذہبی مفاد پرستوں نے اپنا کھلونا بنالیا _ اہل کتاب اور دیگر افراد کی جانب سے بھی بعض جھوٹے ، باطل اور من گھرٹ قصے شامل کردئے گئے اور پھر گناہ گار اور دشمن عناصر کی جانب سے تاریخ میں تحریف اور تبدیلی کی کوششیں کی گئی ہیں جن کی بناپر بعض اوقات حقائق تک پہنچنا،ناممکن نہ سہی تو حد درجہ دشوار ضرور ہوجاتاہے _ لہذا ہم نے مندرجہ ذیل نکات اور اصولوں کو اپنانا ضروری سمجھا_
الف: خاص قسم کی تالیفات اور مؤلفین پر انحصار کرنا کبھی کبھی سبب بنتاہے کہ قارئین ان نصوص کے بارے میں مطلع نہ ہوسکیں جو یہاں وہاں مختلف منابع میں پھیلی ہوئی ہیں اور حقائق سے پردہ اٹھاسکتی ہیں اور ایک حد تک تحریف سے بچ کر ہم تک پہنچی ہیں _کیونکہ تحریف گر سیاست دانوں نے ان میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا اور مذہبی تعصب رکھنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نظر نہ آیا اور وہ روایات ہم تک پہنچ گئیں اور حقیقت کے متلاشی اور حق شناسی کے عاشق( جو اگر چہ بہت کم ہیں لیکن وہ )متعصبین کے شر و سازش او رپیشہ ور بلوائیوں کے غضب و شرارت سے محفوظ و مامون رہ کر ان روایات سے استفادہ کرسکتے ہیں _
ب : ان حالات میںہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ روایتوں کی اسناد سے بحث اور نتیجتاً ان کو قبول یا رد کرنے کے سلسلہ میں ایک خاص معیار پر اعتماد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بہت ہی کم روایات پر اکتفا کیا جائے جو بہت کلی اور اجمالی مطالب اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجمالی سیرت مبارکہ کے تصور کیلئے بھی ناکافی ہیں چہ جائیکہ وہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات کی تفصیلات کو بیان کرسکیں _ جبکہ ہم بہت سی ایسی نصوص دیکھتے ہیں جو صحیح ہیں لیکن وہ سند قبول کرنے کی بیان کردہ شرائط پہ پوری نہیں اترتیں_
اس کے علاوہ تحقیق کرنے والا شخص اگر ان محدود روایات پر اکتفاء کرے تو آزادانہ تحقیق نہیں کرسکتا اور نہ ہی آزادی کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچ سکتاہے _اس کے (زمانے ، حالات اور مختلف سیاسی اور فکری خطوط کو سمجھنے کے لئے طویل مشقوں کے بعد حاصل ہونے والے ) عمیق ادراک و فہم کو ہر قسم کی مؤثر فعالیت سے کنارہ کشی کرنا پڑے گی جو تاریخی حقائق کو سمجھنے اور منکشف کرنے کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ حقائق ،ابہام کے سیاہ پردوں میں چھپ نہ جائیں_ اس کے علاوہ رجالی بحث کرنے کیلئے ایک شخص کو ایسی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کیلئے ضروری ہوجائے گا کہ وہ ان پر غلبہ پائے تب وہ سندی بحث کرسکتا ہے کہ کون سی بحث و سند ارباب فکر اور اساطین علم کے نزدیک مقبول و معقول ہے _
ان مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل وہ معیار و ضوابط ہیں جنہیں قبول یا رد کرنے کے میزان کے طور پر پیش
کیا گیا ہے جن میں سے بعض کی بنیاد ان کے اپنے محدود عقائد ہیں _ان میں بہت ساری ابحاث ایسی ہیں جو اگر انسان کے کسی نتیجے تک پہنچنے سے مانع نہ بھی ہوں تو کم از کم انسان کیلئے بے انتہا مشقت اور طویل وقت کے صرف کرنے کا باعث بنتی ہیں_
بعض لوگوں کی طرف سے تو یہ اصرار ہوتاہے کہ بس ان کے محدود نظریات کے مطابق راہ اختیار کی جائے (خصوصاً عقائد کے مسئلہ میں )چاہے ان کے نظریات حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ نہ بھی ہوں _ اس قسم کے افراد کے بارے میں ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ خداوند متعال ہوا پرستی ، تعصب اور شخصی و گروہی منافع کے پیچھے دوڑنے کی صفت سے نجات عطا فرمائے_
اسی وجہ سے ہم نے یہاں اگر سندی بحث کی بھی ہے تو وہ اس مقبول و معروف قاعدہ کی بناپر ہے : '' الزموہم بما الزموا بہ انفسہم'' یعنی مد مقابل کو اسی چیز کے ذریعہ قائل کرو جس کا وہ خود پابند و قائل ہے _ یا پھر ان بعض طریقوں کے ذریعہ بحث کی ہے جنہیں تمام نہیں تو اکثر فرقے اور گروہ قبول کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان ایسے نتائج تک پہنچ جاتاہے جو سب کے نزدیک قابل قبول ہیں، چاہے ان کو قبول کرنے کی دلیل میں مختلف زمانوں میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا رہاہو_
ج: ہم نے اسلام کے بنیادی اصولوں ، قرآن کریم اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اخلاق حسنہ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت سے کچھ ایسے اصولوں کو حاصل کیا ہے جو روایات کے قبول اور رد کرنے کا معیار ہیں اور انہی کے ذریعہ نقل کی جانے والی اکثر روایات کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کس قدر ان مسلم اور بنیادی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ تمام شخصیات کی سیرت، ان کے اخلاق ، ان کے نظریات اور ان کے موقف کو سمجھا جاسکتاہے_
د: اس کے علاوہ ہم نے تاریخی بحث کے مختلف وسائل اور طریقوں سے استفادہ کیا ہے جن کیلئے بہت تمرین و ممارست کی ضرورت ہوتی ہے جیسے نصوص کے تعارض میں بحث کرنا _ یا دقیق تاریخی محاسبات کی روشنی میں تاریخی اعتبار سے کسی واقعہ کے ممکن ہونے کی بحث کرنا اور دیگر وہ طریقے جن سے ہم نے تاریخی ابحاث میں استفادہ کیا ہے اور ہمارے قارئین مطالعہ کے دوران ان کی طرف متوجہ ہوجائیں گے_
۵_ مجموعی طور پر مسلمانوں نے تاریخ اسلام کی تدوین میں بہت اہتمام کیا ہے اور دیگر اقوام وامتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی _ بہر حال تمام نقائص اور وارد ہونے والے اعتراضات کے باوجود حق یہ ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی تاریخ کو رقم کیا اور اسے مستغنی کردیا ہے _
تاریخی واقعات کے تمام جوانب اور پہلوؤں سے بحث کرنا ایک مشکل کام ہی نہیں بلکہ ہمارے لئے ناممکن تھا،
لہذا ہم نے تاریخ کو رقم کرنے میں ان جوانب سے بحث کی ہے جس کے ذریعہ انسان پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآله کی حیات طیبہ کو تقریباً سمجھ سکتاہے اور اس بارے میں حقائق سے آشنا ہوسکتاہے_
۶ _ قارئین محترم کیلئے یہ واضح ہوجائے گا کہ ہم نے اپنی اس کتاب میں جتنے کم سے کم حوالوں ،شواہد ،دلائل اور ان کے منابع کی ضرورت تھی اسی پر اکتفا کیا ہے اگر چہ کتاب کے مطالب و حقائق کی تایید اور ان پر تاکید کیلئے اور بھی زیادہ حوالوں اور شواہد کا اضافہ کیا جاسکتا تھا_
۷_ ہم نے جس نکتہ سے استفادہ کیا یا جس دلیل سے استدلال کیا اسے اس کے قائل ، لکھنے والے یا نقل کرنے والے کی طرف منسوب کیا ہے اس کے علاوہ وہ نکات یا افکار جن کے کوئی منابع ذکر نہیں کئے گئے وہ ہماری اپنی فکر اور ہمارے اپنے نکات ہیں _
۸_ آخر میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بعض مواقع پر جب فکری نشاط حاصل رہی تو ہم نے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے بعض واقعات میں ان کی تفسیر یا ان پر تنقید و اعتراضات سے گریز نہیں کیا ، اگر چہ اکثر اوقات ہماری بحث اس جہت سے کامل نہ رہی کیونکہ اکثر اوقات اختصار کے ساتھ اس بحث کو سمیٹ لیا گیا لیکن پھر بھی وہمقامات جہاں اس جہت سے کچھ گفتگو کی گئی ہے قارئین محترم کیلئے باعث تسکین و رضایت ہوں گے جیسا کہ خود لکھنے والے کیلئے ثابت ہوئے ہیں_ اب کتاب کے قاری کو حق حاصل ہے کہ ان استدلالی ابحاث کو پڑھنے کے بعد چاہے اس کی حمایت میں اور چاہے تو اس کی مخالفت میں قضاوت کرے اور اگر اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اس کتاب کی گہرائی، دقت اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کرے _
ہمارے ان عرائض کے اختتام پر قارئین محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنی آراء و مشوروں اور تنقید و اعتراضات سے آگاہ کرکے شکریہ کا موقع دیں گے_
والحمد لله والصلاة والسلام علی عباده الذین
اصطفی محمد و آله الطیبین الطاهرین
والسلام
جعفر مرتضی حسینی عاملی
تیسرا باب
اعلان نبوت سے لے کر وفات ابوطالب تک
پہلی فصل : ہجرت حبشہ تک
دوسری فصل : ہجرت حبشہ اور اس سے مربوط امور
تیسری فصل : شعب ابوطالب تک کے حالات
چوتھی فصل : شعب ابوطالب میں
پانچویں فصل : ابوطالب مؤمن قریش
پہلی فصل
ہجرت حبشہ تک
مقدمہ:
اسلام قبول کرنے والوں کا تذکرہ اور بعثت کے بعد کے حالات کو بیان کرنے سے پہلے دو اہم باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں_
پہلی بات تو یہ کہ اسلام کے اہداف اوردنیاوی زندگی کے حوالے سے اس کے مقاصد کیا ہیں، اور دوسری یہ کہ کسی بھی دعوت کا طبیعی طریقہ کار کیسا ہونا چاہیئے اور اس کی ابتدا کہاں سے ہونی چاہیئے؟
اسلام کے اہداف و مقاصد
سب سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ اسلام کا اصل مقصد فقط قیام عدل (اگرچہ اس کے وسیع تر مفہوم کے تناظر میں ہی سہی) نہیں_ کیونکہ اگر مقصد صرف یہی ہو_ تو پھر دین و عقیدے کی راہ میں جہاد کرنے اور جان کی قربانی دینے کا حکم بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایک انسان تو اپنی جان گنوائے جبکہ دوسرے لوگ زندگی اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں_ علاوہ ازیں خدا کے نزدیک ایثار اور ایثار کرنے والے کے محبوب اور پسندیدہ ہونے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی _ جس طرح ارشاد خداوندی ہے:( و یؤثرون علی انفسهم و لو کان بهم خصاصة ) (۱)
کیونکہ اگر فقط عدل مقصود و مطلوب ہو تو پھر ایثار کی کوئی گنجائشے نہیں رہتی _نیز کینہ و حسد سے پرہیز کا حکم
___________________
۱_ سورہ حشر آیت ۹_
بھی غیرمعقول ہو کر رہ جائے گا _ اس کے علاوہ بھی کئی اور مثالیں ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ خلاصہ یہ کہ مذکورہ و غیرمذکورہ احکام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام کا ہدف صرف قیام عدل میں محدود نہیں بلکہ اس سے بھی اعلی ،اہم اور مقدس ہدف ہے_
اسلام کا حقیقی ہدف انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ زمین پر خلافت الہی کے منصب کی اہلیت پیدا کرے تا کہ خدا اس کے متعلق یہ دعوی کرسکے_
( و اذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة ) (۱)
واضح ہو کہ عدل اور دیگر معنوی مقامات اور کمالات اس اعلی اور مقدس ترین ہدف تک پہنچنے کے وسائل اور مراحل میں سے ہیں، یہ ہدف حقیقی عدل سمیت تمام انسانی کمالات و فضائل اور مکمل خوش بختی و کامرانی کا حامل ہے_
یہ ہے اسلام کا بنیادی ہدف جس کے حصول کی تگ و دو کی جاتی ہے_
اس بات کی واضح ترین دلیل درج ذیل آیت ہے جو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذمہ داریوں میں پیام الہی کو لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دینے اور ان کے تزکیہ و تطہیر کی ذمہ داریوں کو بیان کرتی ہے:( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم، یتلو علیهم آیاته، و یزکیهم، و یعلمهم الکتاب و الحکمة، و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۲)
یہ ارشاد بھی قابل غور ہے:
( ما یرید الله لیجعل علیکم من حرج، و لکن یرید لیطهرکم، و لیتم نعمته علیکم، لعلکم تشکرون ) (۳)
___________________
۱_ سورہ بقرہ آیت ۳۰_
۲_سورہ جمعہ، آیت ۲_
۳_سورہ مائدہ، آیت ۶_
خدا تمہیں کسی بے جا سختی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ کرے اور تم لوگوں پر اپنی نعمتوں کو کامل کرے تاکہ تم شکرگزار بنو_
آیات قرآنی کی طرف رجوع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت ساری آیات مذکورہ حقیقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں_ بنابرایں مزید دلائل و شواہد اور توضیح و تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی_
وزیر اور وصی کی ضرورت
جب ہمیں اسلام کے اصلی مقصد کا علم ہوگیا ہے تو ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ یہ مقصد نہایت ہی مشکل اور کٹھن ہے_ اس لئے کہ ابتداء ہی میں یہ ہدف اشخاص کی ذات سے ہی متصادم ہے _ کیونکہ اس مقصد کے تحقق کے لئے افراد کے عزائز اور نفسانی خواہشات پر غلبہ پانا ضروری ہے تاکہ مثالی انسان کی شخصیت تعمیر ہوسکے_ اسی طرح معاشرے کی معاشرتی ، سیاسی اور دیگر اصولوں کی بنیادی تبدیلیوں کا ہدف ہے_ تا کہ شرکی جڑیں اکھاڑ پھینکے اور انحراف کے تمام عوامل و اسباب کو ختم کرڈالے _ اور اس کے بدلے میں خیر ، برکت ، نیکی اور خوشبختی کے تناور درخت اگائے_
جی ہاں یہی تو نہایت مشکل ہدف ہے اور اس سے بڑھ کر مشکل کوئی چیز نہیں _ اس لئے کہ اس کے تحقق اور دوام کے لئے اس وقت تک سخت اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے جب تک انسان اپنے اندر وہ تبدیلیاں نہ پالے جس کے لئے خدا نے اسے خلق کیا ہے تا کہ یہ تبدیلیاں اس کی بقاء ، سعادت اور سکون کی عامل بنیں_اور خدا نے بھی انسان کو ان خواہشات پر قابو پانے اور انہیں ہدف مند کرنے کے وسائل فراہم کئے ہیں_ لیکن بسا اوقات یہ وسائل ان خواہشات پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیںاور جب تک ان کے درمیان جنگ جاری ہے انحراف کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں_ اور چونکہ طول زمانہ میں انسان کے وجود کے ساتھ جنگ بھی جاری رہے گی _ اس لئے انحراف اور بھٹکنے کا خطرہ بھی دائمی رہے گا پس انبیاء کو عقل کو مسحور کردینے والی آیتوں کی تلاوت اور اسلامی احکام کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور تزکیہ کی مہم پر توجہ دینے ،
انسانی اور اخلاقی فضائل کو انسان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھرنے اور پھر اس کی تطبیق اور اس دائمی کشمکش کی نگرانی کرنے کی ضرورت رہے گی _انہی باتوں سے نبی کے وزیر ، وصی ، مددگار ، بھائی اور حامی کی ضرورت واضح ہوتی ہے _ پس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کی جانب سے خلافت پر حضرت علیعليهالسلام کی تنصیب ،راہ جہاد اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں ایک عقلمندانہ فیصلہ تھا _ پس دعوت ذوالعشیرة اور اس میں حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی ، وزیر اور خلیفہ کے عنوان سے حضرت علیعليهالسلام کی تنصیب کا واقعہ ان بہت زیادہ واقعات میں سے ایک ہے جن میں اس امر خلافت پر قوت اور شدت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے_ دعوت ذوالعشیرة کا واقعہ کچھ یوں ہے:
دعوت ذوالعشیرہ
بعثت کے ابتدائی تین سالوں کے بعد ایک اہم، جدید اورکٹھنمرحلہ کا آغاز ہوا اور وہ تھا اسلام کی طرف اعلانیہ دعوت کا مرحلہ_
پہلے پہل نسبتاً ایک محدود دائرے سے اس کی ابتدا ہوئی کیونکہ خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی_ (وانذر عشیرتک الاقربین)(۱) یعنی اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو (کفر و گمراہی کے عذاب سے) ڈراؤ_
مؤرخین کے بقول ( الفاظ تاریخ طبری کے ہیں) جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام کو بلاکر کھانا تیار کرنے اور بنی عبدالمطلب کو دعوت دینے کا حکم دیا تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے ساتھ گفتگو کرکے حکم الہی کو ان تک پہنچاسکیں_
پس حضرت علیعليهالسلام نے ایک صاع (تقریباً تین کلو) آٹے کی روٹیاں تیار کرائیں اور بکرے کی ایک ران بھی پکالی نیز دودھ کا کاسہ بھی بھر کر رکھ دیا_ بعدازاں انہیں دعوت دی حالانکہ اس وقت ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی جن میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا ابوطالب، حمزہ، عباس اور ابولہب بھی شامل تھے_ حضرت علیعليهالسلام کا
___________________
۱_ سورہ شعرائ، آیت ۲۱۴_
بیان ہے کہ انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن کھانا جوں کا توں رہا صرف انگلیوں کے نشان دکھائی دے رہے تھے_ قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے وہ کھانا جو میں نے ان کیلئے تیار کیا وہ سارے کا سارا ان میں سے ایک آدمی کھا سکتا تھا_ اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں دودھ پلانے کا حکم دیا_ میں دودھ کا برتن لیکر ان کے پاس آیا انہوں نے جی بھر کر پیا_ خدا کی قسم وہ سارا دودھ ان میں سے اکیلا آدمی پی سکتا تھا_ اس کے بعد جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے گفتگو کرنی چاہی تو ابولہب نے پہل کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے ساتھی نے تم پر کیسا سخت جادو کردیا_ یہ سن کر وہ لوگ متفرق ہوگئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ان سے گفتگو نہ کرسکے_
دوسرے دن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام کو حسب سابق دعوت دینے کا حکم دیا_ چنانچہ جب لوگ کھا پی کر فارغ ہوگئے تو حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا:'' اے آل عبدالمطلب خدا کی قسم جہاں تک مجھے علم ہے عرب کا کوئی جوان آج تک اپنی قوم کیلئے کوئی ایسا تحفہ لیکر نہیں آیا جس قسم کا تحفہ میں لایا ہوں_ میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کا تحفہ لیکر آیا ہوں خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں_ اب تم میں سے کوئی ہے جو اس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین قرار پائے''_ یہ سن کر سب چپ ہوگئے حضرت علیعليهالسلام نے عرض کیا: ''اے اللہ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں اس امر میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہاتھ بٹاؤں گا''_ (حضرت علیعليهالسلام کہتے ہیں کہ) یہ سن کر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ''بے شک یہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے، پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو''_
حضرت علیعليهالسلام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ ہنستے ہوئے اور جناب ابوطالب سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ لو اب اس نے تجھے حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو_ بعض روایات میں صریحاً بیان ہوا ہے کہ جب حضرت علیعليهالسلام نے اٹھ کر جواب دیا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ کو بٹھا دیا اور اپنی بات کا تکرار کیا_ حضرت علیعليهالسلام نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا_ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پھر آپ کو بٹھا دیا اور حاضرین کے سامنے تیسری بار اپنی بات دہرائی_ لیکن سوائے علیعليهالسلام کے کسی نے بھی جواب نہ دیا_ اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے_
اسکافی کی تصریح کے مطابق آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''یہ ہے میرا بھائی، میرا وصی اور میرے بعد میرا جانشین''_ یہ سن کر حاضرین نے ابوطالب سے کہا:'' لو اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تو اسے تمہارے اوپر حاکم بنادیا ہے''_(۱)
اندھا تعصّب
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ میں تو اس حدیث کو مذکورہ بالا انداز میں بیان کیا ہے_ لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ بعد میں وہ پشیمان ہوا کیونکہ اس نے اپنی تفسیر میں مذکورہ حدیث کو متن و سند کی رو سے مکمل طور پر اور حرف بہ حرف نقل کیا ہے البتہ ایک عبارت میں تحریف کی ہے اور اسے یوں ذکر کیا ہے:
( فایکم یوازرنی علی هذا الامر، علی ان یکون اخی، وکذاوکذا ) (۲)
___________________
۱_ اس واقعہ کے سلسلہ میں مراجعہ ہو، تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۳، مختصر التاریخ ابوالفدء ج ۲ ص ۱۴ (دار الفکر بیروت)، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۳۷۲ و ص ۴۲۱ و کنز العمال طبع دوم ج ۱۵ ص ۱۱۶_۱۱۷ و ۱۱۳ و ۱۳۰ از ابن اسحاق و ابن جریرجبکہ احمد، ابن ابوحاتم، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی نے الدلائل میں اور تاریخ ابن عساکر میں اسے صحیح ہے ،تاریخ ابن عساکر نیز زندگی نامہ امام علی (بتحقیق محمودی) ج۱، ص ۸۷_۸۸، شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۴۴ از اسکافی، حیات محمد ( ھیکل) طبع اول ص ۲۸۶ و کامل ابن اثیر ج ۲ ص ۶۲،۶۳، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۸۶، مسند احمد ج ۱ ص ۱۵۹ نیز رجوع کریں کفایة الطالب ص ۲۰۵ از ثعلبی، منھاج السنة ج ۳ ص ۸۰ از بغوی و ابن ابی حاتم و واحدی و ثعلبی و ابن جریر نیز مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۱ و فرائد السمطین بہ تحقیق محمودی ج ۱ ص ۸۶ و اثبات الوصیة (از مسعودی) ص ۱۱۵ و ص ۱۱۶ والسیرة النبویة ابن کثیر ج ۱ ص ۴۶۰،۴۵۹، الغدیر ج ۲ ص ۲۷۸،۲۸۴ بعض مذکورہ کتب سے اور انباء نجباء الابناء ص ۴۶،۴۷ سے نیز شرح الشفا_ (خفاجی) ج ۳ ص ۳۷ و تفسیر خازن ج ص ۳۹۰ و کتاب سلیم بن قیس وغیرہ اور خصائص نسائی ص ۸۶ حدیث ۶۳ نیز رجوع کریں بحارالانوار ج ۳۸ و درمنثور ج ۵ ص ۹۷ از منابع کنز العمال لیکن اس نے اس میں تحریف کی ہے نیز مجمع الزوائد ج ۸ ص ۳۰۲ کچھ کمی کے ساتھ و ینابیع المودة ص ۱۰۵ و غایت المرام ص ۳۲۰ ابن بطریق کی کتاب و العمدة و تفسیر ثعالبی و تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۰ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۵۰و۳۵۱_
۲_تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ _
''تم میں سے کون اس امر میں میرا مددگار ہوگا تاکہ وہ میرا بھائی اوروغیرہ وغیرہ ہو یہاں تک کہ فرما یا یہ میرا بھائی وغیرہ وغیرہ ہے''_*
ابن کثیر شامی نے بھی یہاں طبری کی تقلید کی ہے چنانچہ اس نے اس حدیث کو تاریخ طبری کی بجائے تفسیر طبری سے نقل کیا ہے حالانکہ تاریخ لکھتے وقت اس نے تاریخ طبری پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنی تاریخ کا ماخذ قرار دیا ہے_(۱)
اسی طرح محمد حسین ھیکل (مصری) نے بھی ''حیات محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم '' نامی کتاب کے پہلے ایڈیشن کے صفحہ ۱۰۴ پر تاریخ طبری سے مذکورہ حدیث نقل کی ہے لیکن دوسرے ایڈیشن مطبوعہ (۱۳۵۴ ھ) کے صفحہ ۱۳۹ میں ''و خلیفتی فیکم'' کے الفاظ حذف کردیئے اور ''و یکون اخی و وصیی'' لکھنے پر اکتفا کیا ہے_ یہ کام اس نے پانچ سو جنیة (مصری کرنسی) کی وصولی یا اس کتاب کے ایک ہزار نسخوں کی خریداری کے عوض انجام دیا_(۲)
ابن تیمیہ اور حدیث الدار(۳)
ادھر ابن تیمیہ نے بھی سید الاوصیاء امیرالمومنین حضرت علیعليهالسلام کے فضائل کو جھٹلانے کے سلسلے میں اپنی عادت کے مطابق حدیث دار کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے_ ابن تیمیہ نے اس حدیث پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے_
___________________
۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۵۱ نیز البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۰ والسیرة النبویة از ابن کثیر ج ۱ ص ۴۵۹_
خلاصہ یہ کہ طبری نے اپنی تفسیر میں ''وصیی وخلیفتی فیکم'' کے الفاظ کو حذف کر کے انکی جگہ کذا وکذا کے مبہم الفاظ لکھ کر تحریف میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے_ (مترجم)
۲_ رجوع کریں: فلسفة التوحید و الولایة ص ۱۷۹ و ص ۱۳۲ و سیرة المصطفی ص ۱۳۱ و۱۳۰_
۳_ دعوت ذوالعشیرہ والی روایتیں حدیث الدار اور حدیث انذار کے نام سے بھی معروف ہیں لیکن اردو میں یہ واقعہ دعوت ذوالعشیرہ سے ہی معروف ہے (مترجم)_
۱) طبری کی روایت کے سلسلہ سند میں ابومریم کوفی بھی ہے جس کے متروک ہونے پر سب کا اتفاق ہے_ احمد نے کہا ہے کہ ''وہ ثقہ نہیں''_ ابن مدینی نے اس پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے_
۲) روایت کے مطابق حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عبدالمطلب کی اولاد کو جمع کیا جس کی تعداد چالیس تھی حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آل عبدالمطلب کے مردوں کی تعداد اس قدر زیادہ نہ تھی_
۳) روایت کا یہ بیان کہ ان میں سے ایک شخص اکیلا ہی ایک پورا بکرا کھا جاتا اور اکیلا ہی ایک فُرق(۱) دودھ پی جاتا تھا جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ بنی ہاشم میں کوئی شخص ایک بکرا ہڑپ کرنے یا ایک فرق دودھ پی جانے میں معروف نہ تھا_
۴) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت میں مثبت جواب دینے کا مطلب یہ نہ تھا کہ جواب دینے والا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصی اور خلیفہ بن جاتا کیونکہ تمام مومنین نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہی اس امر میں آپ کی مدد کی نیز اسلام کی راہ میں جان و مال کی قربانی بھی دی علاوہ براں اگر چالیس یا ان میں سے کچھ افراد اکٹھے مثبت جواب دیتے تو کیا وہ سب کے سب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلیفہ بن جاتے؟
۵) جناب حمزہ، جعفر اور عبیدہ ابن حرث نے بھی حضرت علیعليهالسلام کی طرح مثبت جواب دیا تھا بلکہ جناب حمزہ نے تو مومنین کی تعداد چالیس ہونے سے پہلے اسلام قبول کیا تھا_(۲)
ابن تیمیہ کے اعتراضات کا جواب
ابن تیمیہ کے اعتراضات حقیقت سے دور اور سب کے سب بے بنیاد ہیں کیونکہ
___________________
۱_ فرق ایک پیمانہ ہے تین صاع یعنی تقریباً نوکلو_
۲_ منہاج السنة ج ۴ ص ۸۱،۸۳_
پہلے اعتراض کا جواب
ابومریم کے بارے میں اس کے اعتراض کا جواب ابن عدی کا یہ قول ہے کہ ''میں نے ابن عقدہ کو ابومریم کی تعریف و تمجید کرتے سنا اور اس نے اس کی انتہا درجے کی تعریف بیان کی ہے''_(۱) شعبہ نے بھی اس کو سراہا ہے_(۲) ذہبی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ صاحب علم تھا اور علم رجال میں دسترس رکھتا تھا_(۳) ان باتوں کے علاوہ بعض حضرات نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ابومریم کو غیرمعتبر قرار دینے کی وجہ اس کا شیعہ ہونا ہے جبکہ واضح ہے کہ یہ بات اس کے خلاف نہیں جاتی کیونکہ اصحاب صحاح خصوصاً بخاری اور مسلم نے دسیوں اہل تشیع (شیعوں) سے احادیث نقل کی ہیں_(۴) ان تمام چیزوں سے قطع نظر ، متقی ہندی نے طبری سے نقل کیا ہے کہ اس نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے_(۵) اسی طرح اسکافی معتزلی نے بھی اسے صحیح جانا ہے_(۶) اور خفاجی نے بھی شرح الشفا میں اس حدیث کی صحت کو قبول کیا ہے_(۷) احمد بن حنبل نے اس حدیث کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس کے تمام افراد صحاح ستہ کے غیرمتنازعہ افراد ہیںاس سند کے راوی یہ ہیں: شریک، اعمش، منہال، عباد اور حضرت علیعليهالسلام _(۸) اگر مذکورہ اعتراض کو تسلیم کر بھی لیں پھر بھی اس حدیث کی اسناد مستفیضہ ہیں(۹) اور یہ اسناد ایک
___________________
۱_ الغدیر ج ۲ ص ۲۸۰ و لسان المیزان ج ۴ ص ۴۳ کی طرف رجوع کریں_
۲_ لسان المیزان ج ۴ ص ۴۲_
۳،۴_ میزان الاعتدال ذہبی ج ۲ ص ۶۴۰،۶۴۱ و لسان المیزان ج ۳ ص ۴۲ _
۵_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۱۳_
۶_ شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۴۴ کی جانب رجوع کریں_
۷_ الغدیر ج ۲ ص ۲۸ کی طرف رجوع کریں_
۸_ الغدیر و نیز مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۱ کی طرف رجوع کریں_
۹_ علم حدیث میں مستفیض اور استفاضہ ایک اصطلاح ہے جس کا معنی راویوں کی ایسی کثرت ہے (یعنی روایت کو کثیر راویوں نے نقل کیا ہو) جس سے یہ اطمینان ہوجائے کہ روایت سچی ہے ، لیکن اس کا درجہ حدیث متواتر سے قدرے کم ہے _ (مترجم)
دوسرے کی تقویت کرتی ہیں_ بنابریں کسی ایک سند میں کسی راوی کے ضعف سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا_
اس سے بھی زیادہ عجیب بات بعض لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ کتب حدیث میں اس واقعہ کے بعد مسئلہ خلافت کا تذکرہ نہیں ہوا ہے، کیونکہ جو شخص مذکورہ بالا مآخذ کی طرف رجوع کرے گا وہ جان لے گا کہ مسئلہ خلافت کا تذکرہ دسیوں منابع اور مسانید میں ہوچکا ہے_
رہی ابوحاتم کی روایت تو اسکے سلسلہ سند پر اس وجہ سے اعتراض ہوا ہے کہ اس میں عبداللہ بن عبدالقدوس موجود ہے جسے دار قطنی نے ضعیف قرار دیا ہے نسائی کا کہنا ہے ''وہ ثقہ نہیں ہے'' اور ابن معین کہتا ہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں وہ تو خبیث رافضی ہے_
ان باتوں کے جواب میں شیخ مظفر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالقدوس پر ان لوگوں کا اعتراض غلط ہے اور تقریب نامی کتاب میں ابن حجر کے اس قول '' انہ صدوق ( وہ راستگو ہیں ) '' سے متصادم ہے ادھر تہذیب التھذیب میں محمدبن عیسی کا قول درج ہے کہ وہ ثقہ ہیں_ نیز ابن حبان نے بھی اسے ثقات میں شمار کیا ہے_بخاری کا کہنا ہے'' حقیقت میں وہ راستگو ضرور ہے لیکن ضعیف القول افراد سے حدیث نقل کرتا ہے''_ علاوہ ازیں وہ سنن ترمذی کے راویوں میں بھی شامل ہے_
پس انہی مذکورہ افراد کی تعریف ہی مقدم ہے کیونکہ اختلاف مذہب کی بنا پر ایک دوسرے کی مخالفت قابل اعتبار نہیں_ ہاں اگر ایک مخالف دوسرے کی تعریف کرے تو مقبول ہے_ ظاہر ہے ان لوگوں نے تشیع کے جرم میں اس پر مذکورہ الزامات لگائے ہیں_ اگرچہ ہم اسے شیعہ راویوں میں سے شمار نہیں کرتے_
لیکن ابن عدی کا بیان ہے کہ عموماً اہلسنت حضرات فضائل اہلبیتعليهالسلام کے بارے میں احادیث نقل نہیں کیاکرتے اور شاید اس (عبداللہ بن عبدالقدوس) پر ان کے الزامات کا راز بھی یہی ہو_(۱)
___________________
۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۲۳۴_
دوسرے اعتراض کا جواب
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ''عبد'' کا اضافہ راویوں نے کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ بعض روایات میں صریحاً بیان ہوا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بنی ہاشم کو دعوت دی_(۱) کچھ اور روایات میں یوں ذکر ہوا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام بنی عبدالمطلب کو اور بنی مطلب کے بعض افراد کو دعوت دی(۲) بنابرایں شاید راوی نے غلط فہمی سے مطلب کی جگہ عبدالمطلب لکھ دیا ہے_ اس قسم کی غلطیاں اکثردیکھنے میں آتی ہیں_ اس بیان کی روشنی میں واضح ہوا کہ مذکورہ اعتراض اصل واقعہ (جو متفق علیہ ہے) کے جھٹلانے کا باعث نہیں بن سکتا_ جب حضرت عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے اور اس وقت ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر بھی ساٹھ سال کے قریب تھی پھر جب ان کی اولاد کو بھی ساتھ ملالیں تو کیسے چالیس تک نہیں پہنچیںگے ؟ بلکہ وہ تو اس سے بھی بہت زیادہ ہوجائیں گے پس اس تعداد کو بعید جاننے کی کیا وجہ ہے؟
تیسرے اعتراض کا جواب
شیخ مظفر نے اس کا جواب یوں دیا ہے_ ''کھانے پینے میں ان کا مشہور نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حقیقت میں بھی وہ ایسے نہ تھے بلکہ ان کا ایسا ہونا عین ممکن ہے اور اگر ہم تسلیم کرلیں کہ وہ اس حد تک نہ کھاتے تھے تو پھر مذکورہ بات سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ راوی نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس معجزے کو بیان کرنے میں مبالغہ سے کام لیا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھیڑ کی ایک ران سے ان سب کو سیر کیا اور دودھ کے ایک برتن سے انہیں سیراب کیا''_(۳)
___________________
۱_ السیرة النبویة از ابن کثیر ج ۱ ص ۴۵۹ از ابن ابی حاتم نیز البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۰ اور رجوع کریں کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۱۳، مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۳، تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۵۰، ابن عساکر، زندگی نامہ امام علی بہ تحقیق المحمودی ج ۱ ص ۸۷ و اثبات الوصیة (مسعودی) ص ۱۱۵ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۷ اور مسند البزار خطی نسخہ در کتابخانہ مراد نمبر ۵۷۸_
۲_ الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۶۲_
۳_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۲۳۵ _
چوتھے اعتراض کا جواب
شیخ مظفر فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض بھی درست نہیں کیونکہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مذکورہ بیان استحقاق خلافت کیلئے علت تامہ کی حیثیت نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس بات کا دعوی کیا تھا_ اگر ایسی بات ہوتی تو پھر آپ کے رشتہ داروں کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس کے مستحق ٹھہرتے_ بلکہ آپ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے رشتہ داروں کو خبردار کریں کیونکہ آپ کی حمایت و نصرت کیلئے یہی لوگ زیادہ مناسب تھے_ بنابرایں یہ مقام فقط انہی کیلئے مختص ہوا_
نیز آپ کا مقصد ابتدا میں ہی یہ بتا دینا تھا کہ یہ مقام علیعليهالسلام کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بخوبی علم تھا کہ نبی کی دعوت پر لبیک کہنے اور آپ کی مدد کرنے والا علیعليهالسلام کے سوا کوئی نہ ہوگا_ بنابرایں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا یہ طرز عمل لوگوں کے اوپر اتمام حجت کرتے ہوئے حضرت علیعليهالسلام کی امامت کے اثبات کےلئے تھا_ اگر بالفرض آپ کی دعوت پر دوسرے افراد بھی لبیک کہتے تو آپ ان لوگوں کے درمیان میں سے زیادہ مناسب فرد کا انتخاب فرماتے_(۱)
محقق جلیل سید مہدی روحانی نے شیخ مظفر کے مذکورہ بیان کی یوں وضاحت کی ہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خطاب سب کیلئے تھا لیکن آپ ان لوگوں کی فطری عادتوں، خصلتوں اور طبیعتوں کے پیش نظر جانتے تھے کہ سوائے علیعليهالسلام کے ان میں سے کوئی بھی ہامی نہیں بھرے گا_ مزید یہ کہ خدا نے بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس امر کی اطلاع دی تھی_ قول مصنف: اس حقیقت کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے ہم سید ابن طاؤوس کی زبانی بحارالانوار سے نقل کریں گے_ بحار میں''ماذا قال النبی یوم الانذار'' (نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعوت ذوالعشیرہ کے دن کیا فرمایا) کے عنوان سے اس کا تذکرہ ہوا ہے_
وہاں پر ہم نے یہ عرض کیا ہے کہ یہی روایت قرآن کی آیت سے ہم آہنگ ہے_ کیونکہ اسحدیث میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''خدا نے کسی بھی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے قریبوںمیں سے کسی کو اس کا بھائی وزیر، وصی اور وارث قرار دیا ہے_ یقینا اس نے گذشتہ انبیا کی طرح میرے لئے بھی ایک وزیر مقرر کیا ہے''_
___________________
۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۲۳۶_
پھرفرمایا:'' اللہ کی قسم اس نے مجھے اس بات کی خبر دی ہے اور اس کا نام بھی مجھے بتادیا ہے لیکن اس اللہ کا حکم یہ ہے کہ میں تمہیں دعوت دے کر نصیحت کروں اور اس مسئلے کو تمہارے سامنے پیش کروں تاکہ آئندہ تمہارے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور حجت تمام ہوجائے''_(۱)
محقق روحانی نے اس بات کا بھی احتمال دیا ہے کہ شاید حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد یہ ہو کہ اس خطاب کے نتیجے میں کوئی ایک فرد جواب دیدے_ اسی لئے ان سے فرمایا ''تم میں کون ہے جو میرا ہاتھ بٹائے'' بنابرایں سب سے پہلے لبیک کہنے والا ہی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وعدے کا مستحق ٹھہرتا_ ایک سے زیادہ افراد کا جواب دینا بہت بعید ہے اور عرف عام میں اس احتمال کی کوئی وقعت نہیں_ بالخصوص یہ اعتراض اس وقت ہوسکتا ہے جب ایک سے زیادہ افراد باہم جواب دیتے حالانکہ یہ تو اور بھی بعید تھا_
اس پر مزید یہ کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کو علم تھا کہ ان میں سے سوائے ایک فرد کے کوئی بھی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا_
البتہ بعض بزرگان کا کہنا ہے کہ رسول کی مدد سے مراد چند امور میں ہاتھ بٹانا ہوہی نہیں سکتا _ کیونکہ تمام اصحاب اپنے مرتبے کے اختلاف کے باوجود بھی رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے پس یہاں پر نصرت سے مراد تمام امور اور حالات میں مدد کرنا ہے_ اور دین میں مکمل مدد صبر اور علم کے بلند مرتبہ اور درجہ عصمت تک بلندی روح کی متقاضی ہے _ جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف مذکورہ صفات کا حامل ہی امامت کا مستحق ہوسکتا ہے _ کوئی اور شخص مثلا ظالم آدمی نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا فرماتا ہے '' لا ینال عہدی الظالمین'' میرا عہدہ ظالموں کو نہیں مل سکتا_ اور ایسا شخص صرف علیعليهالسلام ہی ہوسکتا ہے_
قول مصنف : حضرت علیعليهالسلام کی امامت اور خلافت نبی کی طر ف سے بھی نہیں بلکہ خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے تا کہ مانگی گئی اور ترغیب دی گئی مدد کا نتیجہ بنے_ حالانکہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم جانتے تھے کہ علیعليهالسلام کے سوا اور کوئی جواب دینے والا نہیں ہے_ پس دعوت ذوالعشیرہ کا ماجرا ا تمام حجت کے لئے تھا تا کہ کوئی بہانہ بھی باقی نہ رہے پس جناب مظفر صاحب کی بات ہی بہتر اور حقیقت کے قریب ہے_
___________________
۱_ بحارالانوار ج ۱۸ ص ۲۱۵،۲۱۶ نے سعد السعود ص ۱۰۶ سے نقل کیا ہے_
پانچویں اور آخری اعتراض کا جواب
یہ آخری اعتراض تو کسی صورت میں بھی درست نہیں کیونکہ اولاً: جناب حمزہعليهالسلام کا قبول اسلام اس وقت مانع بن سکتا ہے جب یہ آیہ انذار کے نزول سے قبل واقع ہوا ہو اور ہم تو اس کا احتمال بھی نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کا یقین کریں_
کیونکہ جناب حمزہعليهالسلام کے قبول اسلام کی کیفیت میں منقول روایات کی رو سے صریحاً نہیں تو بظاہر یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آپ اعلانیہ دعوت اسلام کے بعد اس وقت مسلمان ہوئے جب قریش کھل کر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت پر اتر آئےتھے اور حضرت ابوطالب کے ساتھ ان کے مذاکرات بھی ہوچکے تھے_
ثانیاً: اگر ہم مذکورہ بات کو تسلیم بھی کرلیں(۱) تو ممکن ہے دعوت ذوالعشیرہ کا واقعہ خفیہ دعوت کے دوران اورجناب حمزہ کے قبول اسلام سے پہلے پیش آیا ہو_ البتہ یہ اس صورت میں ممکن ہے جب حضرت حمزہ کا قبول اسلام بعثت کے دوسرے سال واقع ہوا ہو اورجناب حمزہ اور ابوجہل کے درمیان پیش آنے والا واقعہ ایک حد تک دعوت اسلام کو آشکار کرنے کا باعث بنا ہو_ اور قریش نے خفیہ دعوت کے دوران ہی نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہو_ رہا مسئلہ دوسرے مسلمانوں کا تو ان کے ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روابط مخصوص طرز پر تھے اور ان کے قبول اسلام کے بارے میں رازداری برتی جاتی تھی_ ہماری بات کی تائید اس آیت (فاصدع بما تو مر) سے ہوتی ہےکیونکہ اسی آیت کے باعث اسلام کی خفیہ دعوت نے اعلانیہ دعوت کی شکل اختیار کرلی اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دعوت ذوالعشیرہ کا واقعہ اس سے پہلے کا ہے_
ثالثاً: اگر حضرت حمزہ اس وقت اسلام لابھی چکے ہوتے تو ان کی مثال حضرت ابوطالب جیسی تھی اور ان دونوں نے اپنے آپ کو اس دعوت کا مطلوب و مقصود ہی نہ سمجھا تھا (یعنی ان دونوں کو علم تھا کہ اس دعوت سے ہم مراد نہیں ہیں) خصوصاً جب وہ دیکھ رہے تھے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ان کا زندہ رہنا نہایت مشکل ہے_ کیونکہ حضرت حمزہ تقریباً حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہم عمر تھے اور حضرت ابوطالبعليهالسلام تو نہایت عمر رسیدہ تھے اور حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات تک
___________________
۱_ کہ جناب حمزہعليهالسلام نے خفیہ دعوت اسلام کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا _ (مترجم)
ان کے زندہ رہنے کی توقع نہ تھی_ بنابرایں اس بات کی گنجائشے نہ تھی کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جانشین بننے کیلئے پیش کرتا_
خلاصہ یہ کہ ابن تیمیہ کے سارے اعتراضات بے حقیقت سراب کی مانند ہیں یا اس راکھ کی طرح ہیں جسے تند و تیز ہوا اڑا کر لے جائے_
واقعہ انذار اور چند اہم نکات
الف_ غیر معتبر روایتیں
ابن تیمیہ نے اس قسم کی احادیث کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے جو نہ صرف حضرت علیعليهالسلام اور اہل بیت کو منظر سے ہٹا دیتی ہیں بلکہ عمومی طور پر بنی ہاشم کو بھی نظروں سے اوجھل کردیتی ہیں_ مثال کے طور پر بخاری اور مسلم و غیرہ کی وہ روایات جو کہتی ہیں کہ جب آیہ( و انذر عشیرتک الاقربین ) اتری تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے قریش کو جمع کیا، جب سب جمع ہوگئے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمومی اور خصوصی دعوت دے کر فرمایا:'' اے بنی کعب بن لوی اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنی مرة بن کعب اپنے آپ کو عذاب آتش سے بچاؤ، اے بنی ہاشم آتش الہی سے بچو، اے بنی عبدالمطلب عذاب آتش سے بچو_ اور اے فاطمہ بنت محمد آتش الہی سے اپنے آپ کو بچاؤ''_(۱) آخر روایت تک_
ایک اور روایت میں ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بنی ہاشم کو جمع کیا، مردوں کو دروازے کے سامنے بٹھایا اور عورتوں کو گھر کے اندر بٹھایا پھر بنی ہاشم سے بات چیت کی_ اس کے بعد اپنے گھر والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' اے عائشہ بنت ابوبکر اے حفصہ بنت عمر اے ام سلمہ اے فاطمہ بنت محمد اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی چچی ام
___________________
۱_ رجوع کریں: منھاج السنة ج ۴ ص ۸۳ و درالمنثور ج ۵ ص ۹۵ اور ۹۶ از احمد، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت عائشہ ، انس، عروہ بن زبیر، براء اور قتادہ سے نقل کیا ہے نیز تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۸۷_
زبیر رضائے الہی کے بدلے اپنی جانوں کا سودا کرواور اپنی نجات کیلئے جدوجہد کرو_ میں خدا کی جانب سے تمہارے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتا''_ یہ سن کر حضرت عائشہ رو پڑی اور کہا (اس کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور حضرت عائشہ کے درمیان گفتگو کا تذکرہ ہے)_(۱)
ان کے علاوہ دیگر روایات بھی منقول ہیں جن میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے قریش کو دعوت دینے اور ان کو ڈرانے کا تذکرہ موجود ہے_ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایات درست نہیں ہوسکتیں کیونکہ:_
۱) جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اس وقت تک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی _
۲) حضرت عائشےہ،(۲) حضرت حفصہ اور ام سلمہ سے اس وقت تک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی شادی ہی نہیں ہوئی تھی اور نہ وہ آپ کے اہل میں شامل تھیں ان تینوں سے آپ کی شادی کئی سال بعد مدینے میں ہوئی_
۳) یہ روایات ان احادیث کے منافی ہیں جن کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریش کو اس وقت دعوت اسلام دی جب (فاصدع بما تو مر ...) والی آیت نازل ہوئی_ اور '' و انذر عشیرتک الاقربین'' والی آیت کے نزول پر قریش کو دعوت نہیں دی تھی_
۴) یہ روایات خود قرآن کی آیت( انذر عشیرتک الاقربین ) کی بھی مخالف ہیں کیونکہ یہ آیت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہ تو تمام قبیلہ والوں کو دعوت کا حکم دیتی ہے اور نہ ہی تمام لوگوں کو بلکہ صرف اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیتی ہے _ظاہر ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریبی رشتہ دار یا تو بنی ہاشم ہوسکتے ہیں یا بنی عبدالمطلب اور بنی مطلب_
___________________
۱_ درالمنثور ج۵ ص ۹۶ از طبرانی و ابن مردویہ از ابی امامہ_ یہ روایات دیگر متعدد منابع میں بھی موجود ہیں خصوصاً جن مآخذ کا ذکر ہم نے اس بحث کی ابتدا میں کیا تھا_
۲_ عجیب بات تو یہ ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے حضرت عائشہ بعثت کے پانچویں سال پیدا ہوئیں اور دعوت ذوالعشیرہ کا واقعہ بھی اسی سال کی بات ہے یوں وہ صریحاً تضاد گوئی کے شکار ہوئے ہیں_ اگرچہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ بعثت سے کئی سال قبل پیدا ہوئیں جس کی طرف اشارہ ہوگا_ انشاء اللہ تعالی_
واقعہ انذار کے کئی بار واقع ہونے کا قول بھی اس ا شکال کو دور نہیں کرسکتا_ کیونکہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ یہ واقعہ مذکورہ آیت کے نزول کے ساتھ ہی پیش آیا_
ان باتوں کے علاوہ یہ روایات اسناد کے لحاظ سے بھی قابل اعتراض ہیں کیونکہ ان احادیث کے راویوں میں سے کوئی بھی مورخین کے بقول دعوت ذوالعشیرہ کے وقت موجود نہ تھا_
ب_ '' خلیفتی فی اھلی ''سے کیا مراد ہے؟
شیخ مظفر کے بقول یہ بات واضح ہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے''خلیفتی فیکم'' یا''خلیفتی فی اهلی'' فرمانے پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیک وقت دو ایسے خلیفے نہیں ہوسکتے جن میں سے ایک خاص ہو دوسرا عام بلکہ جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خلیفہ خاص ہوگا وہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خلیفہ عام بھی ہوگا_
یہاں پر صحیح ترین عبارت''من بعدی'' ہی ہوسکتی ہے (جیساکہ دیگر روایات میں بھی موجود ہے) یا پھر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ''فیکم'' پر مشتمل ارشاد میں آپ کے حقیقی مخاطب ایمان لانے والے لوگ تھے_
رہا بعض لوگوں کا یہ دعوی کہ''خلیفتی فی اهلی'' یا''فیکم'' سے مراد وہ شخص ہے جو ان کے دنیاوی امور کا ذمہ دار ہو تو یہ بات تاریخی حقیقت نہیںرکھتی_ کیونکہ واضح ہے کہ حضرت علیعليهالسلام کسی ہاشمی کے دنیاوی امور کے ذمہ دار نہیں تھے_ اگر کوئی یہ کہے کہ مراد فقط حضرت حسنینعليهالسلام اور حضرت فاطمہعليهالسلام ہیں تو اس کا جواب بھی واضح ہے_ کیونکہ جناب حسنینعليهالسلام ( حتی کہ ان کی والدہ بھی )اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے مزید یہ کہ وہ خلافت کی بنیاد پر ان کے کفیل نہیں تھے بلکہ وہ ویسے ہی ان تینوں کے نفقہکے ذمہ دار تھے_ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے اخراجات آپ کے ذمہ نہ تھے اور نہ ہی آپ نے عملاً اس کام کو انجام دیا_(۱)
___________________
۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۲۳۹ کی طرف رجوع کریں _
ج_ فقط رشتہ داروں کی دعوت کیوں؟
واضح سی بات ہے کہ نزدیکی رشتہ داروں کی دعوت آپ کے مشن کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور آپ کے پیغام کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ تھی_ کیونکہ اصلاح کی ابتدا ہمیشہ اندر سے ہونی چاہیئے تاکہ اپنے اہل خاندان اور قبیلہ کی حمایت حاصل کرنے کے بعد دوسروں کی جانب اطمینان، ثابت قدمی اور عزم راسخ کے ساتھ رخ کیا جا ئے_
علاوہ ازیں ان کو دعوت دیکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم باہمی روابط اور جذبوںکے حوالے سے قوت و ضعف کے اندرونی عوامل کو پرکھ سکتے تھے اور مستقبل میں حاصل ہونے والی حمایت کا اندازہ لگا کر اس کی روشنی میں اپنے اقدامات اور پالیسیوں کی حدود کو معین فرما سکتے تھے_
یہ بھی بتاتے چلیں کہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریبی رشتہ داروں سے دعوت اسلام کا آغاز کیا اور اس مرحلہ میں بھی کسی کو کوئی امتیاز اور خصوصیت دینے پر تیار نہیں تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اعتماد بہ نفس رکھتے ہیں اور اپنے دعوے کے صحیح ہونے پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پورا یقین ہے _ کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے سب سے پیارے افراد کے لئے یہ بھلائی چاہتے ہیں کہ وہ ان مؤمنین کی صف میں شامل ہوجائیں جو اس دین کی راہ میں سب سے بڑی قربانی دینے پر بھی تیار ہیں_ اور ہم نے دیکھا کہ واقعہ مباہلہ میں نصاری اس بات کا ادراک کرتے ہوئے مباہلہ کئے بنا واپس لوٹ گئےیہ بھی پیش نظر رہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے جس میں باہمی تعلقات کی بنیاد ''قبیلہ'' تھی_ بنابریں چونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بنیادی اور تقدیرساز اقدامات کرنا چاہتے تھے اور اس بات پر بھی ذاتی طور پر راضی نہ تھے کہ اپنے موقف کی حمایت یا اپنے اہداف کے حصول میں قبیلہ پرستی شامل ہو جائے، لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ رشتہ داروں کے معاملے میں ایک واضح موقف اپناتے اور انہیں مکمل آزادی اور صدق دل کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو واضح طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتے_ تاکہ اس سلسلے میں معاشرے میں رائج کسی بھی قسم کے خاندانی و قبائلی تعلقات کے دباؤ سے کام نہ لیا جائے کیونکہ یہ اسلام کی نظر میں صحیح نہیں تھا_
یہیں سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ مختلف حالات کا سامنا کرنے اور ان کاحل پیش کرنے کے بارے میں اسلام کی روش کیا ہے_ اسلام نہیں چاہتا کہ اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کیلئے لوگوں کی سادگی اور جہالت سے فائدہ اٹھائے_ یہاں تک کہ ان غلط رسوم و عادات سے بھی جنہیں لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنایا ہو_
اسلام وسیلے کو ہدف کا ایک حصہ سمجھتا ہے_ بنابرایں وسیلے کو ہدف سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے_ جس طرح ہدف مقدس ہے اسی طرح وسیلہ کا بھی مقدس اور پاک ہونا ضروری ہے_ خدا ہمیں اسلام کی ہدایت پر چلنے اور اس کی تعلیمات سے متمسک رہنے کی توفیق عنایت فرمائے_
خدا ہی امیدوں کا بہترین مرکز ہے اور طلب حوائج کیلئے سب سے زیادہ صاحب بخشش ہستی ہے_ بہرحال شیخ بطحاء ابوطالب کی طرف سے تعاون اور مدد کے بھرپور وعدے کے بعد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس جلسہ سے نکلے_ کیونکہ ابوطالبعليهالسلام نے جب ابولہب کے نامعقول اور غیرانسانی موقف کو دیکھا تو فرمایا: ''اے پست انسان ،اللہ کی قسم ہم ضرور ان کی مدد کریں گے_ (پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کہا) اے بھتیجے جب تم اپنے رب کی طرف دعوت دینا چاہو تو ہمیں پکارو ہم مسلح ہو کر تمہاری مدد کریں گے''_(۱)
د_ علیعليهالسلام اور واقعہ انذار
ہم نے مشاہدہ کیا کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعوت ذوالعشیرہ کے دن چالیس افراد کی میزبانی کے فرائض سنبھالنے کیلئے حضرت علیعليهالسلام کا انتخاب کیا اور حکم دیا کہ کھانا تیار کر کے انہیں بلائیں اس لئے کہ حضرت علیعليهالسلام آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کے گھر میں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کے ساتھ ہوتے تھے_حالانکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم جناب خدیجہ سے بھی کھانا تیار کرنے کو کہہ سکتے تھے کیونکہ بظاہر یہ دعوت رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر میں ہوئی نیز اس کام کیلئے دیگر لوگ بھی موجود تھے جو حضرت علیعليهالسلام سے زیادہ مشہور تھے، مثلاً حضرت ابوطالبعليهالسلام یا حضرت جعفر جو عمر کے لحاظ سے حضرت علیعليهالسلام سے بڑے تھے اور ان کے علاوہ دوسرے افراد جن کی شخصیت اور نفوذ سے استفادہ کرسکتے_
___________________
۱_ تاریخ یعقوبی، ج ۲ ص ۲۷،۲۸_
جی ہاں حضرت علیعليهالسلام کا انتخاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بذات خود فرمایا تھا_کیونکہ حضرت علیعليهالسلام اس وقت عمر کے لحاظ سے اگر چہ چھوٹے تھے، لیکن درحقیقت عقل کے لحاظ سے بڑے تھے_ آپ عظیم خصوصیات اور لیاقتوں کے مالک، نیز روحانی و معنوی بزرگی کے حامل تھے_ آپ کے اہداف و مقاصد عظیم تھے_ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حاضرین میں آپ ہی واحد فرد تھے جس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد و نصرت کا اعلان کیا_ ساتھ ساتھ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم نے بھی اس دن علیعليهالسلام کے کردار کی بناء پر آپ کو اپنا بھائی، وصی اور خلیفہ ہونے کا اہل سمجھا _یہ وہ مقام تھا جس تک کوئی رسائی حاصل نہ کرسکتا تھا بلکہ ایک دن کے لئے بھی اس کے حصول کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا _
لیکن حضرت علیعليهالسلام نے کمسنی کے باوجود اس مقام کوپالیا اور باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی آغوش میں پرورش پائی_ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ کی کفالت و تربیت کی تھی_ وہ آپ کو کھانا ٹھنڈا کر کے کھلاتے اور علیعليهالسلام آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خوشبو سونگھتے تھے_ حضرت علیعليهالسلام حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نقش قدم پر اس طرح چلتے جس طرح اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ کو بیٹے کی طرح چاہتے تھے_(۱)
( و ذلک فضل الله یؤتیه من یشاء و الله ذوالفضل العظیم ) _
ھ_ ابولہب کا موقف
ابولہب نے دعوت اسلام کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا اور اندازہ کرلیا تھا کہ اب یہ تحریک سنجیدگی کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے _ وہ ایک نیا معجزہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا_ اس سے قبل بھی وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے
___________________
۱_ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے حضرت علیعليهالسلام کی کفالت کے باعث شیخ الابطح ابوطالبعليهالسلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا( جیساکہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں )کیونکہ جناب عبداللہ اور جناب ابوطالب اپنے باقی بھائیوں کے برخلاف ایک ہی ماں سے پیدا ہوئے تھے_ ادھر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پرورش ابوطالبعليهالسلام نے کی تھی_ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم فاطمہ بنت اسد کو ماں کہہ کر پکارتے تھے حضرت ابوطالب اور ان کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا بڑا خیال رکھتے تھے اسی طرح رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علیعليهالسلام کی عمروں میں تفاوت کو مدنظر رکھتے ہوئے ( یہ کہا جاسکتاہے کہ ) حضرت علیعليهالسلام بھی رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے_
متعدد معجزات و کرامات کا مشاہدہ کرچکا تھا اور آج بھی اس نے دیکھا کہ کس طرح گوشت کی ایک ران اور دودھ کا ایک برتن چالیس افراد کیلئے کافی ثابت ہوا_
ابولہب اس دین کی حقیقت اور اہداف کو سمجھ رہا تھا جس کی جانب حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہدایت فرمارہے تھے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک ان امتیازات کی کوئی حیثیت نہیں جو طاقت، ظلم و عدوان اور ناجائز طریقوں سے حاصل ہوئے ہوں_ بنابرایں وہ اپنی غیرمعقول سوچ کے مطابق یہ ضروری سمجھتا تھا کہ اس دین کے مقابلے پر اتر آئے اور ہر ممکنہ طریقے سے اس دین کو اس کے اہداف تک پہنچنے سے روکے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو موقع سے فائدہ اٹھانے کی مہلت نہ دے تاکہ یوں ایک طرف سے وہ اپنے مفادات کو بچائے، اور دوسری جانب سے اپنے سینے میںکینے اور حسد کی بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرسکے_ اس کینے کی کوئی وجہ اور بنیاد نہ تھی سوائے اس کے کہ وہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات میں صفات جمیلہ اور اخلاق کریمہ کا مشاہدہ کرتا تھا_ ظاہر ہے اس کی نظر میں اس سے بڑا جرم اور کیا ہوسکتا تھا_
ابولہب نے عملی طور پر اس کینہ و حسد کا ثبوت دیا_ اس نے کھانے والے معجزے کو (جسے سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا) غلط رنگ دیا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر جادو کا الزام لگاتے ہوئے کہا: ''تمہارے ساتھی نے تم پر بڑا سخت جادو کر دکھایا''_ یہ سن کر وہ لوگ اس دن چلے گئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنے دل کی بات نہ کرسکے_ یہاں تک کہ دوسرا دن آیا اور حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حکم الہی کو ان تک پہنچانے اور اتمام حجت کرنے میں کامیاب ہوئے جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے_
و_ پہلے انذار پھر
واقعہ انذار کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو خدا کی جانب سے حکم ہوا تھا کہ آپ پہلے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو ڈرائیں چنانچہ ارشاد ہوا: (وانذر عشیرتک الاقربین)(۱)
___________________
۱_ سورہ شعرائ، آیت ۲۱۴_
اوردوسرے لوگوں کے معاملے میں بھی یہی صورت حال تھی_ چنانچہ سورہ مدثر میں (جو بعثت کے اوائل میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے) اللہ نے اپنے پیارے نبی سے فرمایا: (قم فانذر) اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اٹھو اور لوگوں کو (عذاب الہی سے) ڈراؤ_(۱) _
ایسا کیوں ہے ؟ حالانکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ لوگوں کیلئے مبشر و نذیر (خوشخبری دینے اور ڈرانے والے) کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے جس طرح خود قرآن ، ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی_ اس کی علت واضح ہے کیونکہ لوگ ابتدائے بعثت میں کافر تھے اور ظلم و انحراف کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے_ بنابریں پہلے ان کو ڈرانے کی ضرورت تھی تاکہ وہ اس خطرناک صورتحال کی طرف متوجہ ہوں جس میں وہ زندگی گزار رہے تھے اور ان خوفناک و تباہ کن نتائج سے باخبر ہوں جو مذکورہ صورتحال کے نتیجے میں پیش آتے ہیں_ عذاب کی جانب ان کی توجہ ، غفلت سے بیدار ہونے اور اس خطرناک صورتحال سے نکلنے کے لئے عملی قدم اٹھانے کے لئے مؤثر ہوسکتی تھی_
اس کے بعد انفرادی و اجتماعی سطح پر معاشرے کو غلط آداب و رسوم اور خرابیوں سے نجات دلانے اور اجنبی اوربے سور افراد سے پاک کرنے کا مرحلہ آتا_ اس کے ساتھ ساتھ صحیح انسانی جذبات، باہمی روابط اور سب سے بڑھ کر فکری و تہذیبی سطح پر اسلامی معاشرے کو صاف اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی باری آتی_ پھر اس اسلامی معاشرے کو کائنات، زندگی اور طاقتور ہوتے ہوئے بھی کمزور انسان کے حقیقی مفہوم سے آگاہ کرنے کا موقع ملتا اور انسان کی باطنی تعلیم و تربیت و اصلاح کیلئے قدم اٹھایا جاسکتا،جو نبی، امام اور مبلغین حق کی ذمہ داری ہے،چنانچہ کتاب کے اس حصّہ کے شروع میں ہم نے اس آیت قرآنی کی طرف اشارہ کیا:( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم یتلوعلیهم آیاته ویزکیهم ویعلمهم الکتاب والحکمة ) یعنی اللہ ہی نے مکہ والوں میں ،انہی میں سے ایک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتا اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی باتیں سکھاتا ہے_
___________________
۱_ سورہ مدثر/۲_
اسلام کے طریقہ تبلیغ کے بارے میں جو کچھ ہم نے عرض کیا وہ درحقیقت ہر اس دعوت یا تحریک کا فطری تقاضا ہے جو بنیادی اصلاح اور مشکلات زندگی کو حل کرنے کی طالب ہو_
ز_روز انذار رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا فرمان :
بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''اے اولاد عبدالمطلب میں خدا کی جانب سے تمہیں ڈرانے آیا ہوں میں وہ چیز لے کر آیا ہوں جسے اب تک کوئی عرب لیکر نہیں آیا اگر میری اطاعت کرو گے تو ہدایت، فلاح اور نجات پاؤگے آج کے اس کھانے کے بارے میں مجھے خدا کی جانب سے حکم ہوا تھا_ پس میں نے اسے تمہارے لئے تیار کیا جیساکہ حضرت عیسیعليهالسلام نے اپنی قوم کیلئے کھانے کا بندوبست کیا تھا _اس کے بعد اگر تم میں سے کسی نے کفران کیا تو خداوند عالم اس کو ایسے شدید عذاب میں مبتلاکرے گا کہ پورے عالم میں کسی اور کو مبتلا نہ کیا ہوگا پس خدا سے ڈرو اور میری بات سنو_
اے بنی عبدالمطلب جان لو کہ خدا نے کسی نبی کو بغیر کسی بھائی، وزیر، وصی اور وارث کے مبعوث نہیں کیا_ بتحقیق اس نے میرے لئے بھی کسی کو وصی قرار دیا ہے جس طرح مجھ سے پہلے والے انبیاء کیلئے قرار دیا تھا_ بے شک اللہ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا ہے اور مجھ پر یہ حکم نازل کیا ہے( وانذر عشیرتک الاقربین ) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص لوگوں کو خدا کا خوف دلاؤ_
خدا کی قسم اس نے مجھے اپنے وصی اور وزیر کی خبر دی ہے اور اس فرد کا نام بھی بتا دیا ہے لیکن میں تمہیں دعوت دیتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں_ نیز تمہیں اس عہدے کی پیشکشکرتا ہوں تاکہ بعد میں تمہارے لئے کوئی بہانہ نہ ر ہے، تم لوگ میرے رشتہ دار اور میرے قبیلہ والے ہو _پس تم میں سے کون ہے جو اس امرکی طرف پیش قدمی کرے تاکہ وہ خدا کی راہ میں میرا بھائی میرا وزیر اور مددگار بنے''_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا یہ کلام کتاب کی اس فصل کی ابتدا میں مذکور عبارت سے ہم آہنگ ہے_(۱) اور یہ تصریح شاید اس جیسے عظیم موقف
___________________
۱_ بحار الانوار ج۱۸ص ۲۱۵،۲۱۶ نے ابن طاووس کی کتاب سعد السعود ص ۱۰۶ سے نقل کیا ہے_
سے بھی مکمل ہم آہنگ ہے_ اسی طرح یہ الفاظ آیت میں حکم انذارسے بھی پوری طرح مرتبط ہیںکیونکہ ہر تحریک کا پہلا قدم ''انذار'' ہی ہوتا ہے جس طرح کہ ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر کی ہے_
ح_ بشارت و انذار
عظیم محقق شہید شیخ مرتضی مطہری کہتے ہیں: ''جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی فرد کو کسی کام پر آمادہ کرے تو اس کے دو طریقے ہیں ایک بشارت و حوصلہ افزائی اور اس کام کے فوائد کو بیان کرنا اور دوسرا اس کام کے ترک کرنے پر جو برے نتائج ہیں ان سے ڈرانا''_
اسی لئے کہا گیا ہے کہ انذار پیچھے سے حیوان کو ہانکنے کی طرح اور بشارت و تشویق آگے سے کھینچنے کی طرح ہے_
قرآن و اسلام کی نظر میں انسان ان دونوں باتوں کا ایک ساتھ محتاج ہے_ ان میں سے فقط ایک کافی نہیں بلکہ اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ بشارت اور تشویق کے پلڑے کو انذاز و تخویف کے پلڑے پر بھاری ہونا چاہئے اسی لئے قرآن کی اکثر آیات میں بشارت کو انذار پر مقدم کیاگیا ہے_
چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بھی معاذ بن جبل کو یمن بھیجتے وقت فرمایا ''یسر ولاتعسر وبشر ولاتنفر'' (آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرو نہ کہ کاموں کو مشکل بنانے کی نیز لوگوں کو راضی رکھنے کی کوشش کرو نہ کہ دور کرنے کی)_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہاں انذار و تخویف کی نفی نہیں کی بلکہ یہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حکمت عملی کا حصہ تھا _ہاں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تشویق کے پہلو کو زیادہ اہمیت دی کیونکہ اس پہلو سے اسلام کی معنویت اور خوبیوں کا بہتر ادراک ہوسکتا تھا_
علاوہ بریں اس طرح لوگوں کا قبول اسلام مکمل رضا و رغبت کے ساتھ عمل میں آتا_ رہا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ''لاتنفر'' فرمانا تو اس کی وجہ واضح ہے کیونکہ انسان کی روح نہایت لطیفہے اور بہت جلد ردعمل کا اظہار کرتی ہے_ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں اس وقت عبادت کرنے کا حکم دیا ہے جب دلی رغبت موجود ہو_
دباؤ یا ناقابل برداشت امور پر زبردستی کی صورت میں نفس اس چیز کو قبول نہیں کرتا_ سہولت اور آسانی پر مبنی اسلامی شریعت میں اس کی بہت ساری مثالیں مل سکتی ہیں_(۱)
مذکورہ بیانات کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اپنے رشتہ داروں کو جو دعوت دی تھی اس میں آپ نے ہر چند ابتدا تخویف و انذار سے کی تھی لیکن کیوں تشویق کے پہلوکو بھی مدنظر رکھا اور فرمایا :'' جو میری کی مدد کرے گا وہ میرےبعد میرا خلیفہ ہوگا'' اور یہ ذکرکیاکہ میں دنیا و آخرت کی جملہ خوبیاں لے کر ان کے پاس آیا ہوں_ اس لئے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ طرز عمل ان لوگوں کی اندرونی خواہشات اور رغبتوں سے ہم آہنگ تھا_ اور یہ پیشکش اس ذات کی جانب سے تھی جسے کسی بھی صورت میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا_
ط_ میرا بھائی اور میرا وصی
یہاں پر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ ارشاد کہ وہ شخص میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ ہوگا، بھی قابل توجہ ہے کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے یہ الفاظ اس الفت و محبت کی شدت کو خوب واضح کرتے ہیں جو آپ کی حمایت ونصرت کرنے والے فرد سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تھی _ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اپنا بھائی قرار دیا گویا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اس شخص کی نسبت حاکم و محکوم اور بڑے اور چھوٹے مرتبے والے کی سی نہ تھی بلکہ ان دونوں کا باہمی تعلق دو ہم مرتبہ انسانوں کا اور تعمیری مقاصد میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر مبنی تھا_ جس طرح ایک بھائی کا تعلق دوسرے بھائی سے ہوتا ہے محبت اعتماد اور خلوص سے لبریز_
فاصدع بما تؤمر
جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے قریبی رشتہ داروں پر اتمام حجت کرچکے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت کا مسئلہ مکہ میں معروف ہوچکا تو قریش نے مسئلے کی سنگینی اور اس کے جوانب کا ادراک کرتے ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مذاق اڑانے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
___________________
۱_ رجوع کریں: روزنامہ جمہوری اسلامی (فارسی) شمارہ ۲۵۴سال ۱۳۵۹ ہجری شمسی_ مقالات مطہریا_
کے اوپر تہمتیں لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا_ تا کہ عام لوگوں کے سامنے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مرتبے کو گھٹائیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت کو مخدوش کریں، حالانکہ ابھی تک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے انہیں اپنی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت نہیں دی تھی قریش کے اس رویے کی وجہ حسد، کینہ اور مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ خطرات کے علاوہ اورکچھ نہ تھا_
قریش کے تمسخرنے طبیعی طور پر اورخاص کر قبول اسلام کی جانب عوامی رغبت پر اپنا زبردست اثر دکھایا_ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم اس امر سے سخت فکرمند ہوئے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اپنی دعوت کے پھیلاؤ اور اپنے مشن کی راہ میں زبردست رکاوٹ سمجھا _چنانچہ خدا نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا کہ اپنی دعوت کو ظاہر کریں اور کھل کر قریش سے خداپر ایمان لانے کا مطالبہ کریں_ اس کی ساتھ ہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پکا وعدہ کیا کہ وہ مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پوری مدد کرے گا_ بنابریں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ضروری تھا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم انہیں اہمیت نہ دیتے اور انہیں نظر انداز کردیتے ،حکم خدا یہ تھا:( فاصدع بما تؤمر و اعرض عن المشرکین انا کفیناک المستهزئین ) (۱) یعنی اے رسول جس چیزکا آپ کو حکم ہوا ہے اس کا بر ملا اظہار کریں اور مشرکین کو نظر انداز کردیں ہم مسخرہ کرنے والوں کے شرسے آ پ کو بچائیں گے_
اللہ تعالی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے واضح کیا کہ مستقبل میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا لائحہ عمل کیا ہوگا چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم ہوا کہ حسن سلوک کو اپنائیں ،مشرکین کے معاملے کواہمیت نہ دیں، پریشان نہ ہوں اور ان کی باتوں سے دل گیر بھی نہ ہوں_ ان کا انجام اس خدا کے ہاتھ میں ہے جو ہر چھوٹی بڑی چیز سے آگاہ ہے_
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم خداوندی کی تعمیل کی ، اپنی تبلیغ کو آشکار کیا اور سارے لوگوں کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی_ کہتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک پتھر پرکھڑے ہوکر فرمایا: ''اے گروہ قریش و عرب میں تمہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوں میں تمہیں مصنوعی خداؤں اور بتوں کے چھوڑنے کا حکم دیتا ہوں _میری بات مانو ،اگر ایسا کرو گے تو پورے عرب کے
___________________
۱_ سورہ حجر، آیت ۹۴،۹۵_
مالک بن جاؤ گے اور عجم بھی تمہارے مطیع ہونگے نیز جنت میں بھی تمہاری بادشاہی ہوگی''_ لیکن قریش نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مذاق اڑایا اور وہ کہنے لگے کہ محمد بن عبداللہ مجنون ہوگیا ہے البتہ حضرت ابوطالب کی سماجی حیثیت کے پیش نظر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہ کرسکے_(۱)
یہ بھی منقول ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم صفاکی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو پکارا جب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا:''اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تمہارا منتظر ہے تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟''_ وہ بولے:'' کیوں نہیں ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم میں کوئی بدی نہیں دیکھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں سنا تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں تمہیں شدید عذاب سے ڈراتا ہوں ...'' اس پر ابولہب نے کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا ''تیرا سارا دن بربادی میں گزرے، کیا اتنی سی بات کیلئے لوگوں کو اکٹھا کیا تھا؟'' یہ سن کر سارے لوگ متفرق ہوگئے اور اس پر سورہ( تبت یدا ابی لهب ) نازل ہوئی_(۲)
ناکام مذاکرات
ابن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بحکم خدا اپنی قوم کے سامنے علی الاعلان ًاسلام کو پیش کیا تو اس وقت لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دور ہوئے نہ آپ کی مخالفت کی_ لیکنجب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے معبودوں کی برائی بیان کی تو اس وقت انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف متحد ہوگئے سوائے ان لوگوں کے کہ جن کواللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے ان سے بچایا_ یہ لوگ کم بھی تھے اور بے بس بھی_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کرتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کا دفاع کیا اور پیغمبراکرم بلاروک ٹوک اعلانیہ حکم الہی بجالاتے رہے_
___________________
۱_ تفسیر نور الثقلین ج۳ص۳۴کہ تفسیر قمی سے نقل کیا ہے_
۲_ اس حدیث کو مفسرین نے نقل کیا ہے اور سیوطی نے در منثور میں، نیز غیر شیعہ مورخین نے بھی واقعہ انذار کے ضمن میں نقل کیا ہے لیکن ہم واضح کرچکے ہیں کہ آیہ انذار میں سارے رشتہ دار مراد نہیں بلکہ فقط قریبی رشتہ دار ہی منظور ہیں_ بنابریں یہ روایت مذکورہ ارشاد الہی (فاصدع بما تو مر) کے ساتھ ہی سازگار معلوم ہوتی ہے_
جب قریش نے یہ دیکھا کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی مخالفت کے باوجود باز نہیں آتے، ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں رکتے اور آپ کے چچا حضرت ابوطالب بھی آپ کی حمایت کرتے ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قریش کے حوالے کرنے سے گریزاں ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطالب کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی_ یہ مذاکرات (ا بن اسحاق وغیرہ کے خیال میں) تین مراحل سے گزرے اور سب کے سب بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے_
پہلا مرحلہ:
قریش کے چند سر کردہ افراد (جن کے ناموں کا مورخین نے ذکر کیا ہے) حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور کہا :''اے ابوطالب آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے ہمارے دین کی برائی بیان کی ہے_ ہمارے نظریات کو باطل اور ہمارے آباء و اجداد کو گمراہ قرار دیا ہے پس یاتو آپ خود اس کو روکیں یا ہمارے اور اس کے درمیان حائل نہ ہوں کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ( نظریاتیلحاظ سے) اس کے مخالف ہیں_ یوں ہم اس سے آپ کو بھی بچائیں گے''_ حضرت ابوطالبعليهالسلام نے ان سے نرم گفتگو کی اور اچھے طریقے سے انہیں ٹال دیا چنانچہ وہ چلے گئے_
دوسرا مرحلہ:
جب مشرکین نے دیکھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے دین کی ترویج وتبلیغ میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان معاملہ بگڑنے لگا ہے_ لوگوں میں دشمنی اور اختلاف پیدا ہوچکا ہے اور قریش کے در میان کثرت سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا ہے تو وہ حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے بھتیجے کو ان کے آباء و اجداد کو برا بھلا کہنے ، ان کے نظریات کو باطل ٹھہرانے اور ان کے خداؤں کو بُرا کہنے سے نہیں روکیں گے تو وہ ان دونوں کے مقابلے پر اترآئیں گے اور ان سے جنگ
کریں گے یہاں تک کہ کوئی ایک فریق ہلاک ہوجائے_ اس دھمکی کے بعد وہ چلے گئے_
حضرت ابوطالب نے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بات کی اطلاع دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اور ان کے اوپر رحم کھائیں اور ناقابل برداشت بوجھ نہ ڈالیں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سوچاکہ چچا کا ارادہ بدل چکا ہے اور وہ آپ کی نصرت و حمایت کی طاقت نہیں رکھتے چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' اے چچا خدا کی قسم اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تاکہ میں اس امر سے دست بردار ہوجاؤں پھر بھی میں ہرگز باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ خدا اپنے دین کوغالب کر دے یا میں اس دین کی راہ میں قتل ہوجاؤں'' یہ دیکھ کر حضرت ابوطالب نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کا وعدہ کیا_
تیسرا مرحلہ:
اس دفعہ قریش نے حضرت ابوطالب کویہ پیشکش کی کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی جگہ عمارة بن ولید کو اپنا بیٹا بنالیں اور نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو( جن کے بارے میں قریش کا خیال تھا کہ انہوں نے ابوطالب اور ان کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی تھی، مشرکین میں اختلاف ڈالا تھا اور ان کی آرزوؤں کو پامال کیا تھا) ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کریں_ تو اس طرح سے آدمی کا بدلہ آدمی سے ہوجائے گا _
حضرت ابوطالب نے کہا:'' خدا کی قسم تم نے میرے ساتھ نہایت برا سودا کرنے کا ارادہ کیا ہے_ تم چاہتے ہو کہ اپنا بیٹاپلنے کے لئے میرے حوالے کرو اوراس کے بدلے میں میں اپنا بیٹا قتل ہونے کے لئے تمہارے حوالے کردوں _خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوسکتا''_
یہ سن کر مطعم بن عدی نے کہا:'' اے ابوطالب اللہ کی قسم تیری قوم نے تیرے ساتھ انصاف کیا ہے انہوں نے اس چیز (افتراق و انتشار) سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جوتجھے بھی نا پسند ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تو ان کی کوئی بات قبول نہیں کرنا چاہتا''_ حضرت ابوطالب نے کہا:'' واللہ انہوں نے تومیرے ساتھ نا انصافی کی ہے لیکن تونے مجھے بے یار ومددگار بنانے اور لوگوں کو میرے مقابلے میں لاکھڑا
کرنے کا ارادہ کیا ہے_ پس تیری جو مرضی ہو وہ کر کے دیکھ لے''_ حضرت ابوطالب کی اس بات کے بعد معاملہ بگڑ گیا مخالفت کا بازار گرم ہوگیا اور لوگوں نے کھلم کھلا دشمنی شروع کردی_
ممکن ہے کہ یہ مراحل اسی ترتیب سے واقع ہوئے ہوں اور ممکن ہے کہ یہ ترتیب نہ رہی ہو_ بہرحال ہم نے جو کچھ کہا وہ ہمارے نزدیک بلا کم و کاست حالات و واقعات کے(۱) طبیعی سفر کی ایک تصویر کشی تھی البتہ اس گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے سے قبل درج ذیل نکات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں_
الف: اس ناکامی کے بعد
ہم نے ملاحظہ کیا کہ مشرکین مکہ نے شروع شروع میں یہ کوشش کی کہ وہ حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ساتھ نہ الجھیں_ چنانچہ انہوں نے خود حضرت ابوطالب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے موقف سے ہٹائیں اور اس چیز کا خاتمہ کریں جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور خطرات کا سرچشمہ سمجھتے تھے_ انہوں نے ابوطالب کو بھڑکانے اور انہیں اپنے بھتیجے کے خلاف یہ سمجھاکر اکسانے کی کوشش کی کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پیغام ان کے مفادات کے منافی اور دیگر لوگوں کے علاوہ خود حضرت ابوطالب کی ہمدردی و شفقت کو زک پہنچانے کے مترادف ہے_
اس بناپر طبیعی تھا کہ خود حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے کی سرگرمیاں محدود کرتے_ اور قریش کو اس مسئلے سے نجات دلاتے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوطالب نے ان کی بے سروپا باتوں کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی ذات اور مفادات کو درپیش خطرات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو وہ دھمکی دینے پر اترآئے _ اس کے بعد انہوں نے مکروفریب اور دھوکے کی سیاست اپنائی( جیساکہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو برائے قتل ان کے حوالے کرنے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بدلے عمارة بن ولید کو بطورفرزند، حضرت ابوطالب کے حوالے کرنے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے)اس واقعے نے ان کے دلوں میں پوشیدہ مقصد کو بھی ظاہر کر دیا _ نیز حضرت ابوطالب اور
___________________
۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج۱ ص۲۸۲،۲۸۶نیز البدء والتاریخ ج۴ص ۴۷،۱۴۹ نیز تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۵،۶۸_
دیگر لوگوں کیلئے واضح ہوا کہ ان کا مقصد دین حق کومٹانے اور نورالہی کو بجھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ اس امرنے حضرت ابوطالب کو دین حق اور پیغمبراسلام کی حمایت پر مزید کمربستہ کر دیا_
ب: قریش کی ہٹ دھرمی کا راز
مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی اور نور الہی کو بجھانے کی کوششوں کا راز درج ذیل امور میں مضمر معلوم ہوتا ہے:
۱)قریش ،مکہ اور دوسرے مقامات کے غریبوں، غلاموں اور کمزوروں سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے کام لیتے تھے_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے آکران بیچارے لوگوں کے اندر ایک تازہ روح پھونکی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انسانی عظمت اور حریت کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش شروع کی اورساتھ ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی دستگیری کرتے اور مسائل و مشکلات زندگی میں ان کے مددگار ہوتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی حقیقت خودان کیلئے آشکارکرتے تھے اور اسلامی تعلیمات سے ان کو بہرہ ور فرماتے تھے _ان تعلیمات کی ابتدائی باتوں میں سے ایک، ان ظالموں کے تسلط اور ظلم سے رہائی کی ضرورت کا مسئلہ بھی تھا_
۲)کفار مکہ، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی تبلیغ اور اس کے مقاصد کو دیکھ کر یہ اندازہ کرچکے تھے کہ وہ اس دین کے زیر سایہ اپنے ناجائز امتیازات کو برقرار نہیں رکھ سکتے جنہیں ان ظالموں نے اپنے لئے مخصوص کررکھا تھا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ انہیں رد کر ر ہے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تاکید فرماتے تھے کہ خدا کی عدالت میں سب لوگ مساوی ہیں اس کے علاوہ یہ مشرکین، دین اسلام کے سائے تلے اپنی غیراخلاقی اور غیر انسانی اطوار کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اسلام مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا تھا اور یہ لوگ اپنے رسوم کے زبردست پابند تھے حتی کہ اپنے ان معبودوں کی عبادت سے بھی زیادہ پابند رسوم تھے جن کی نگہبانی کے وہ دعویدار تھے_ چنانچہ ایک دفعہ ایک عرب نے بھوک لگنے پر اپنے اس خدا کو کھالیا جسے اس نے کھجوروں سے تیار کیاہوا تھا_
۳)تیسرے سبب کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے( وقالوا ان نتبع الهدی معک نتخطف من ارضنا ) (۱) یعنی اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو اپنی سرزمین سے اچک لئے جائیں گے،
بالفاظ دیگر انہوں نے اسلام قبول نہ کرنے کیلئے یہ بہانہ تراشا کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو مشرکین عرب ان کے ایمان لانے اور بتوں کو ٹھکرانے کی وجہ سے ناراض ہوجائیں گے_
قرآن نے اس کا جواب یوں دیا ہے( اولم نمکن لهم حرما آمنا يُجبی الیه ثمرات کل شی رزقا من لدنا ) (۲) کیا ہم نے انہیں امن کے مقام حرم مکہ میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بناپر چلے آر ہے ہیں_
بنابرایں اس خوف کی کوئی وجہ نہ تھی نیز اس خوف کے بہانے شرک پر باقی رہنے سے بھی خطرہ ٹل نہیں سکتا تھا کیونکہ کتنی ہی بستیوں کو خدانے ہلاک کرڈالا تھا جن کے مکین نعمتوں کی کثرت کے باعث بہک گئے پھر ان گھروں میں رہنے والا کوئی نہ رہا بلکہ یہی بات دنیا میں ان کی ہلاکت کی وجہ بنی کیونکہ اگر ان تمام امکانات اور مادی وسائل کو صحیح راہوں پر چلانے والے اور حال و مستقبل کے لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ مند بنانے والے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہ ہوں تو یہی چیزیں باہمی اختلافات، ظلم و استبداد اور معاشرتی و قومی بربادی والے دیگر انحرافات کا باعث بنتی ہیں_
ہر چیز کا اختیار خداکے دست قدرت میں ہے_ جو کوئی بھی اس کی نافرمانی کرتاہے وہ اپنی ذات کو دنیوی اور اخروی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے پھر خدانے ان کیلئے قارون کی مثال بھی دی جس کے پاس اس قدر خزانے تھے جن کی چابیاں اٹھانے سے ایک طاقتورجماعت بھی عاجز تھی_ لیکن جب اس نے ہٹ دھرمی تکبر اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا اور احکام الہی کی مخالفت کی تو خدانے اسے گھر سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا_
متعلقہ سورہ کی آیات میں عجیب نکتے اور لطیف معانی پوشیدہ ہیں جو مستقل اور عمیق مطالعے کے محتاج ہیں لیکن یہاں اس کی گنجائشے نہیں یہاں ہم اسی اجمال اور اشارے پر اکتفا کرتے ہیں، خداوند عالم توفیق عطا کرنے اور مدد کرنے والا ہے_
___________________
۱ و ۲ _سورہ قصص، آیت ۵۷_
مذاکرات کی ناکامی کے بعد
مذاکرات کی ناکامی کے بعدحضرت ابوطالب سمجھ گئے تھےکہ اب معاملہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور مشرکین سے کھلی جنگ کا مرحلہ قریب ہے لہذا حضرت ابوطالب نے حفظ ماتقدم کے طورپر بنی ہاشم اور بنی مطلّب سب کو جمع کیا اور ان کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حمایت و حفاظت کرنے کی دعوت دی تو ابولہب ملعون کے سوا انہوں نے مثبت جواب دیااور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کیلئے آمادہ ہوگئے _
خدانے بھی اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی اور مشرکین آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ہاں وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر کہہ کرپکارتے ر ہے لیکن قرآن ان لوگوں کو جھٹلاتا رہا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم راہ حق پرقائم ر ہے مشرکین کی افتراپردازیاں آپ کو خفیہ و اعلانیہ دعوت حق دینے سے کبھی نہ روک سکیں_
درحقیقت جب مشرکین نے دیکھا کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات کو ضرر پہنچانے کا نتیجہ مسلح جھڑپ ہوگا جس کیلئے وہ آمادہ نہ تھے اور خاص کر بنی ہاشم کے روابط اور قبائل کے ساتھ ان کے معاہدوں مثلاً مطیبین کے معاہدہ اور جناب عبدالمطلب کے ساتھ مکہ کے نواح میں رہنے والے قبیلہ خزاعہ کے معاہدے کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ بھی یقیننہ تھا کہ اس جھڑپ کا نتیجہ ان کے حق میں نکلے گا_ بلکہ اگر یہ جنگ چھڑتی تو ممکن تھا کہ اس سے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا موقع ملتا_(۱) توان تمام باتوں کے پیش نظر مشرکین نے بہتر یہ سمجھا کہ جنگ سے بچا جائے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کمزور بنانے اور اس کی تبلیغ کا مقابلہ کرنے کیلئے دیگر طریقوں سے کام لیا جائے_
چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین:
الف : لوگوں کو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملنے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی آیات قرآن سننے سے منع کرتے تھے جیساکہ
___________________
۱_ بعض محققین کا خیال ہے کہ شاید حضرت ابوطالب نے کبھی نرمی اور کبھی سختی برتنے کی روش اسلئے اختیار کی تاکہ اس قسم کی ایک جنگ چھڑ جائے جس سے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنا پیغام پھیلانے کا بہتر موقع مل جائے_
ارشاد الہی ہے:( وهم ینهون عنه وینا وْنَ عنه ) (۱) یعنی وہ قرآن سے دوسروں کو منع کرتے تھے اور خود بھی دوری اختیار کرتے تھے_ نیزفرمایا:( وقال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوافیه لعلکم تغلبون ) (۲) یعنی کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ شاید اس طرح ان پر غالب آسکو_
ب: حضور کا مذاق اڑانے اور آپ پر بے بنیاد تہمتیں لگانے کی روش اختیار کئے ہوئے تھے تاکہ وہ:
۱_ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات پر دباؤ ڈال سکیں کیونکہ ان کے گمان باطل میں شاید آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نفسیاتی طورپر شکست کھاجائیں گے اور احساس کمتری و حقارت کاشکار ہوکر اپنے مشن سے ہاتھ اٹھا لیں گے_
۲_نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مرتبے کو گھٹاکر نیز آپ کی شخصیت کو مسخ کر کے کمزور ارادے کے مالک افراد کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین میں داخل ہونے سے روکیں _اسی مقصد کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بیوقوف لوگوں کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کواذیت پہنچائیں اورآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھٹلائیں _بسا اوقات قریش کے رو سا بھی اس قسم کے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کسی غلام کو حکم دیا کہ وہ حیوان کی اوجھڑی اور گوبر حالت نماز میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر ڈال دے چنانچہ غلام نے اسے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کاندھوں پر پھینک دیا _اس بات سے حضرت ابوطالب غضبناک ہوئے اور آ کر وہ گندگی مشرکین کی مونچھوں پر مل دی _اس طرح خدا نے ان کے اوپر رعب طاری کر دیا_ مشرکین آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر مٹی اور بکری کی بچہ دانی وغیرہ بھی ڈالتے تھے_
ان باتوں نے لوگوں کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دور رکھنے اور انہیں قبول اسلام سے روکنے میں کچھ حد تک اپنا اثردکھایا یہاں تک کہ عروة بن زبیر اور دوسروں کاکہنا ہے کہ مشرکین حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کو ناپسند کرتے تھے، وہ اپنے زیر دست افراد کو آپ کے خلاف اکساتے تھے یوں عام لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دوری اختیار کرگئے_(۳)
___________________
۱_سورہ انعام، آیت ۲۶_
۲_ سورہ فصلت، آیت ۲۶_
۳_تاریخ طبری، ج ۲ ص ۶۸_
مکہ کے ستم دیدہ مسلمان
مذکورہ باتوں کے علاوہ مشرکین نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان اصحاب سے انتقام لینے کی ٹھانی جو مختلف قبائل میں زندگی گزارتے تھے _چنانچہ ہر قبیلے نے اپنے اندر موجود مسلمانوں کو ستانے، انہیں اپنے دین سے دوبارہ پلٹانے، قیدکرنے، مارنے پیٹنے، بھوکا رکھنے، مکہ کی تپتی زمینوں پر سزا دینے، نیزدیگر ظالمانہ اور وحشیانہ طریقوں سے ان کو اذیت دینے کا سلسلہ شروع کیا_
ذکر مظلوم :
مشرکین نے کئی مسلمانوں پر ستم کیا _ عمر بن خطاب نے بھی قبیلہ بنی عدی کی شاخ بنی مؤمل کی ایک مسلمان لڑکی پر تشدد کیا_ وہ اسے مارتا رہا اور جب وہ مار مار ہلکان ہوگیا تو بولا '' میں تمہیں صرف تھکاوٹ سے تنگ آکر چھوڑ رہا ہوں''(۱) _ شاید قبیلہ بنی مؤمل نے عمر بن خطاب کو اپنے قبیلے کی لڑکی پر تشدد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی وگرنہ معاشرے میں اس کی اتنی حیثیت ہی نہیں تھی کہ اسے اس جیسے کام کی کھل چھٹی دے دی جاتی _ اسی طرح مشرکین نے خباب بن الارت ، ام شریک ، مصعب بن عمیر اور دیگر لوگوں پر بھی تشدد کیا جن کے نام اور واقعات کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے_
انہی لوگوں نے ہمارے لئے توحید اور عقیدے کی خاطر استقامت اور جہاد کی عمدہ مثال پیش کی ہے_ حالانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ارادہ الہی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو مشرکوں کو اس تشدد سے باز رکھ سکے _ پھر بھی انہوں نے اپنے اسلام کے بل بوتے پر اس پوری دنیا کو چیلنج کیا ہوا تھا جو اپنی تمام تر توانائیوں سمیت ان کے مقابلے پر اتر آئی تھی _ اور اسی چیز میں ہی ان کی عظمت اور خصوصیت پوشیدہ تھی _
___________________
۱_ سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۱ ، سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۰۰ اور ملاحظہ ہو: السیرة النبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۳ اور المحبر ص ۱۸۴_
حضرت ابوبکر نے کن کو آزاد کیا؟
راہ خدامیں اذیت پانے والوں میں بلال حبشی اور عامر بن فہیرہ بھی تھے، کہتے ہیں کہ ان کو حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا اور انہیں حضرت ابوبکر کی وجہ سے نجات حاصل ہوئی_ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے کیونکہ:
اولا: اسکافی نے کہا ہے'' بلال اور عامربن فہیرہ کو خود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے آزاد کیاہے''_ اور اسے واقدی اور ابن اسحاق نے بھی نقل کیا ہے_(۱)
علاوہ ازیں ابن شہر آشوب نے بلال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں آزاد شدگان میں شمار کیا ہے_(۲)
ثانیا: اس بارے میں وہ خود متضاد روایتیں ذکر کرتے ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی ربط ہی نہیں بنتا_
اس سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہم حضرت ابوبکر کی طرف سے اداکی جانے والی قیمت میں اختلاف کا ہی ذکر کریں چنانچہ ایک روایت کہتی ہے حضرت ابوبکر نے اس کی قیمت میں اپنا ایک غلام دے دیا جو (بلال) سے زیادہ مضبوط تھا_
دوسری روایت کہتی ہے کہ اس کی قیمت کے طورپر ایک غلام، اس کی بیوی اور بیٹی کے علاوہ دو سو دینار بھی دیئے_
تیسری روایت کی رو سے سات اوقیہ(۳) سونے میں خریدا_
چوتھی روایت کے مطابق نو اوقیہ میں_
___________________
۱_ شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ اور قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۹۶ و ج ۲ ص ۲۳۸ کی طرف رجوع کریں_
۲_المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۷۱_
۳_ اوقیہ رطل کا بارہواں حصہ جو چو تھائی چھٹانک تک ہوتا ہے_ (المنجد، مترجم)_
پانچویں روایت کے مطابق پانچ اوقیہ کے بدلے اور چھٹی روایت کے مطابق ایک رطل(۱) سونے کے عوض خریدا_
ساتویں روایت کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر نے اسے اپنے غلام قسطاس کے بدلے خریدا جو دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں، غلاموں اور مویشیوں کا مالک تھا_
آٹھویں روایت کی رو سے اس کی قیمت ایک کمبل اور دس اوقیہ چاندی تھی علاوہ بریں اس مسئلے میں مزید اختلاف موجود ہے(۲) _
ثالثا :کہتے ہیں کہ اسی مناسبت سے( فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسره للیسری ) (۳) والی آیات حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہو ئیں(۴) حالانکہ:
۱_ اسکافی نے اسے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک قول کے مطابق یہ آیات مصعب ابن عمیر کے بارے میں اتری ہیں_(۵)
۲_ علاوہ برآں ابن عباس وغیرہ بلکہ خودرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے مروی احادیث میں اس آیت کی تفسیر کو عام قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی فردسے مختص نہیں سمجھا گیا، شیعوں کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علیعليهالسلام کے حق میں نازل ہوئی، حلبی نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ حضرت علیعليهالسلام کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے احسان چکا دیا تھا اور وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ہاں آپ کا تربیت پانا تھا جبکہ آیات یہ کہتی ہیں کہ اس پرکسی کاکوئی احسان نہیں جس کا چکانا ضروری ہو_ رازی نے بھی یہی اعتراض کیا ہے_(۶)
___________________
۱_ رطل، ایک وزن مساوی ۱۲ اوقیہ کے ہے_ (المنجد، مترجم)_
۲_ گذشتہ اختلافات کے معاملہ میں مراجعہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۲۹۸ و ۲۹۹ ، قاموس الرجال ج ۱ ص ۲۱۶ ، سیر اعلام النبلاء ج۱ ص ۳۵۳، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۰ ، حلیة الاولیاء ج۱ ص ۱۴۸ اور بہت سے دیگر منابع
۳_ سورہ لیل، آیت ۵،۷_
۴_ درمنثور ء ۶ ص ۳۵۸،۳۹۰ کئی کتب سے ماخوذ نیز السیرة الحلبیة ہ ج ۱ ص ۲۹۹ اور شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ بہ نقل از جاحظ اور عثمانیہ ص ۲۵ _
۵_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ ص ۲۷۳_
۶_ السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹_
لیکن رازی اور حلبی یہ نہیں جانتے کہ یہاںمرادکچھ اورہے یعنی خدا اس صاحب تقوی شخص کی صفت بیان نہیں کررہا بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ مال جو وہ خرچ کررہا ہے اسلئے خرچ نہیں کر رہا کہ کسی شخص کی طرف سے اس کی جزا ملے بلکہ وہ فقط اور فقط خدا کی مرضی کیلئے خرچ کررہا ہے _
۳_ ابن حاتم کے بیان کے مطابق یہ سورہ سمرة بن جندب کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک درخت کھجور کا مالک تھا اس درخت کی شاخ ایک نادار شخص کے گھر میں تھی_ جب سمرة کھجور چننے درخت پر چڑھتا تو گاہے کچھ دانے گرپڑتے اور نادار شخص کے بچے وہ اٹھالیتے _یہ دیکھ کر سمرة درخت سے اترتا اور ان کے ہاتھوں سے دانے چھین لیتا اوراگر وہ منہ میں ڈال لیتے تو اپنی انگلی ڈال کر کھجور باہر نکال لیتا _پس نادار شخص نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس اس کی شکایت کی _اس کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی سمرة سے ملاقات ہوئی ،آپ نے اس سے کہا کہ وہ اس درخت کو جنت کے ایک درخت کے بدلے فروخت کر دے_ سمرة بولامجھے بہت کچھ ملا ہوا ہے میں خرما کے بہت سارے درختوں کا مالک ہوں ان میں سے کسی کا پھل اس درخت کے پھل سے زیادہ مجھے پسند نہیں_
ایک اورشخص جس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور سمرة کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس آیا اورعرض کیا کہ اگر میں اس درخت کو حاصل کروں توآپ مجھے وہی چیز عنایت کریں گے جس کا آپ نے سمرة سے وعدہ فرمایا تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ٹھیک ہے یہ سن کر وہ چلا گیا اور درخت کے مالک سے ملا _پھر خرما کے چالیس درختوں کے بدلے اس نے سمرة سے وہ درخت خرید لیا_ پھر نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس گیا اور درخت آپ کو ہدیہ کر دیا_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مالک مکان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اب یہ درخت تمہارا اور تمہارے گھروالوں کا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:( واللیل اذا یغشی ) (۱)
اسی لئے سیوطی نے سورہ اللیل کے بارے میں کہا ہے کہ قول معروف کے مطابق یہ سورہ مکی ہے نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدنی ہے کیونکہ اس کے سبب نزول میں خرما کے درخت کا واقعہ منقول ہے جیساکہ ہم نے اسباب نزول کے بارے میں ذکر کیا ہے_(۲)
___________________
۱_ درالمنثور ج ۶ ص ۳۵۷ از ابن ابی حاتم از ابن عباس اور تفسیر برہان ج ۴ ص ۴۷۰ از علی ابن ابراہیم ، در منشور سے منقول بات سے کچھ اختلاف کے ساتھ_
۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۴_
یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ منقول واقعہ ان آیات کے ساتھ متناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت کہتی ہے، کسی نے راہ خدا میں مال دیکر تقوی اختیار کیا لیکن کسی نے بخل سے کام لیا اور لاپروائی اختیار کی_
ہاں اگر ان کا عقیدہ یہ ہو کہ بخل کرنے والے سے مراد (نعوذ باللہ ) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ تھے تو اور بات ہے جبکہ یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مال کے فقدان کی صورت میں آپ پر بخل صادق نہیں آتا، نیز خود یہ لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے_ یا پھر بخلکرنے والے سے مراد جناب عباس تھے جن کے بارے میں روایات کہتی ہیں کہ اس نے جاکر بلال کو خریدا اور ابوبکر کے پاس بھیجا پھر انہوں نے بلال کو آزاد کیا_
۴_ حدیث غار میں ہم حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کریں گے کہ قرآن میں آل ابوبکر کے بارے میں کوئی آیت نازل ہی نہیں ہوئی_ ہاں حضرت عائشہ کا عذر نازل ہوا یعنی سورہ نور میں حدیث افک (تہمت) سے متعلق آیات اور حضرت عائشہ کی اپنے متعلق صفائی بھی نازل ہوئی_ لیکن درحقیقت وہ آیت بھی حضرت عائشہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی جیساکہ ہم نے اپنی کتاب حدیث الافک میں اس کا تذکرہ کیا ہے_
رابعاً: یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے یہ کیونکر فرمایا کہ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے کیونکہ ایک طرف تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ قول ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر سے بلال کو مشترکہ طور پر خریدنے کا تقاضا کیا تو ابوبکر نے بتایا کہ اس نے بلال کو آزاد کر دیا ہے_(۱) وہ ان دو اقوال کے درمیان کیسے ہماہنگی پیدا کرسکتے ہیں؟ علاوہ برایں کیا حضرت خدیجہ (س) کے اموال آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اختیار میں نہ تھے؟ کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مکہ کے مسلمانوں پر یہ اموال خرچ نہ کرتے تھے؟ جیساکہ اسماء بنت عمیس کو حضرت عمرنے ہجرت کے شرف سے محروم رہنے کا طعنہ دیا تو اس نے جواب میں کہا: ''بے شک وہ اور اس کے دیگر مسلمان ساتھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ تھے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بھوکوں کو سیر کراتے اور جاہلوں کو علم سکھاتے تھے'' اس واقعے کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ اپنے مقام پرہوگا_
___________________
۱_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۶۵_
رہا اس بات کا احتمال کہ بلال والا واقعہ ہجرت سے قبل کے آخری سالوں میں واقع ہوا ہے تو اسے مورخین قبول نہیں کرتے کیونکہ نووی کہتے ہیں '' وہ اعلان نبوت کی ابتدا میں مسلمان ہوئے وہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والوں میں سے تھے''_(۱) مگر یہ کہا جائے کہ بلال مسلمان تو بہت پہلے ہوگئے تھے لیکن کچھ سال بعد انہیں خرید کر آزاد کیا گیا تھا_
ان ساری باتوں کے علاوہ یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ حضرت بلال کو حضرت عباس نے خرید کر حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے آزاد کیا_(۲) بعض دیگر روایات کہتی ہیں کہ حضرت بلال کو حضرت ابوبکر نے بذات خود خرید کر آزاد کیا_ نیز ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو کہتی کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی وفات ہوئی تو حضرت بلال نے ابوبکر سے کہا ''اگر تم نے مجھے اپنے لئے خریدا تھا تو اپنا غلام بنائے رکھو اور اگر رضائے الہی کیلئے خریدا تھا تو پھر مجھے آزاد کردو''_
اس روایت کی رو سے تو وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تک حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو آزاد نہیں کیا تھا_ رہی حضرت عباس کے حضرت بلال کو خریدنے کی بات تو یہاں ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت عباس نے اگر بلال کو اپنے لئے خریدا تھا تو انہوں نے خود حضرت بلال کو آزاد کیوں نہیں کیا؟ اور اگرحضرت عباس نے حضرت ابوبکر کے لئے خریدا تھا تو وہ حضرت ابوبکر کے وکیل کب بنے تھے؟ اور اس قسم کے کاموں میں کب سے دلچسپی لینے لگے تھے؟ جبکہ انہی لوگوں کے بقول حضرت عباس نے فتح مکہ کے سال یا جنگ بدر میں اسلام قبول کیا تھا_
بعض لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ حضرت عباس نے امیة بن خلف سے بات کی پھر حضرت ابوبکرنے آکر حضرت بلال کو خریدلیا_(۳) یہ تو نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے _ زمانے کا دستور نرالا ہوتاہے_
گذشتہ نکات کے علاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ خود حضرت ابوبکر کے معاشی
___________________
۱_تہذیب الاسماء و اللغات ج ۱ ص ۱۳۶_
۲_سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_
۳_ سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_
حالات اس بات کی اجازت کب دیتے تھے کہ وہ کئی سو دینار دے سکتے؟ چہ جائیکہ ان کاایک غلام دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں اور مویشیوں وغیرہ کا بھی مالک ہو( اگرچہ ہم فرض بھی کرلیں کہ اس دور میں عربوں کے غلام مال و دولت کے مالک بھی بن سکتے تھے) کیونکہ حضرت ابوبکر تاجر نہ تھے بلکہ چھوٹے بچوں کے استاد تھے پس ان کے پاس ہزاروں یاکم از کم سینکڑوں درہم و دینار کہاں سے آگئے تھے کہ جس سے سات یا نو افرادکو خرید کر آزاد کرتے_ غار والے واقعہ پر بحث کے دوران ہم انشاء اللہ حضرت ابوبکر کی مال و دولت کے بارے میں بھی اشارہ کریں گے_
بعض لوگوں نے تو حضرت ابوبکر سے منسوب غلاموں میں سے کئی ایک کے وجود میں ہی شک کیا ہے بالخصوص زنیرہ وغیرہ کے بارے میں_ جس کے متعلق سہیلی نے کہا ہے کہ عورتوں میں زنیرہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا_(۱)
سید حسنی کہتے ہیں: ''قریش ایمان لانے والوں کو سزائیں دیتے تھے تاکہ اسلام نہ پھیلے _وہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہرقسم کا قیمتی اور نفیس مال دینے پر آمادہ تھے تاکہ وہ اپنے مشن سے دست بردار ہوجائیں _اس صورت میں قریش حضرت ابوبکر کے حق میں اپنے غلاموں سے کیسے دست بردار ہوسکتے تھے؟ اور ان کو سزا دیئے بغیر اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ سکتے تھے''(۲) مگریہ کہاجائے کہ مال و دولت سے قریش کی محبت اور ساتھ ساتھ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان کی مایوسی کے سبب انہوں نے ایسا کیا (جیساکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے)_
کیا حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کیں؟
مؤرخین کہتے ہیں کہ اسلام کی راہ میں حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کی ہیں_ کیونکہ جب ابوبکر اور طلحہ بن عبداللہ تیمی نے اسلام قبول کیا تو عمر بن عثمان نے دونوں کو پکڑکر ایک رسی میں ایک ساتھ باندھ دیا اور نوفل بن خویلد نے ان پر تشدد کرکے انہیں دین سے پھیرنے کی کوشش کی_ اسی لئے ابوبکر اور طلحہ کو'' قرینین ''
___________________
۱_ الروض الانف ج ۲ ص ۷۸_
۲_سیرة المصطفی ص ۱۴۹_
کہا جاتا ہے _ البتہ بعض مؤرخین کے مطابق انہیں باندھ کر ان پر تشدد کرنے والا صرف نوفل ہی ہے جبکہ اس دوران عمر بن عثمان کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا(۱) اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ :
۱_ وہ خود ہی کہتے ہیں'' خدانے حضرت ابوبکر کی حفاظت اس کی قوم کے ذریعہ سے کی ''(۲) اور یہ ان کے اس قول '' حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں اٹھائیں'' کے بالکل متضاد ہے_ اسی طرح ابن دغنہ کے اس قول ''اسے قوم سے نکال دیا گیا'' سے بھی متناقض ہے_
۲_ سیرت کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس قبیلہ سے بھی کوئی شخص اسلام لاتا تو صرف وہی قبیلہ اس پر تشدد کرتا تھا_ دوسرے قبیلہ والوں کو اس پر تشدد کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی_
۳_ اسکافی نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ یہ تشدد صرف غلاموں یا کرائے کے غنڈوں کے ذریعہ سے ہوتا اور اس شخص پر ہوتا جس کی حمایت کرنے والا کوئی خاندان نہیں ہوتا تھا_(۳) اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر بڑے قابل اطاعت سردار اور بزرگ تھے_(۴) جس کے منتظر بزرگان قریش بھی رہتے تھے اور اس کی عدم موجودگی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرتے تھے_ حتی کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معاملے میں بھی (جیسا کہ ابوبکر کے اسلام لانے والے واقعہ میں گذر چکا ہے) اسی کے پاس کوئی قطعی فیصلہ کرنے آئے تھے_ ان کی تعریفوں کے مطابق وہ بلند پایہ شخصیت ، بزرگ سردار اور قریش کے محترم رئیس تھے_(۵) پھر جناب ابوبکر اس گروہ سے کیسے ستائے گئے جو ان کے قبیلے سے بھی
___________________
۱_ اس بارے میں ملاحضہ ہو : العثمانیہ جاحظ ص ۲۷و ۲۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۳، سیرة ابن ہشام ج ۱ ص ۳۰۱، نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۳۰، البدایہ و النہایہ ج ۲ ص ۲۹ ، بیہقی اور مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۶۹ اور البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۲_
۲_ البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۸ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۸۴ حاکم نے بھی اور ذہبی نے بھی اس کی تلخیص کے حاشیہ میں اس قول کو صحیح جانا ہے ، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۹، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۱، سنن احمد ، سنن ابن ماجہ ، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۶، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۶از کنز العمال ج ۷ ص ۱۴از ابن ابی شیبہ اور طبقات الکبری ابن سعد مطبوعہ صادر ج ۳ ص ۲۳۳_
۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵_ ۴_ ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۳ اور سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۲۷۳_ ۵_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۳ اور البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶_
نہ تھے؟ اور اس کی قوم نے اپنے سردار اور بلند پایہ شخصیت کو ایسے کیسے چھوڑدیا کہ وہ لوگ اس کی توہین کرتے رہیں؟اور ابن ہشام و غیرہ کے مطابق :'' اپنی قوم کا مونس ، محبت کرنے والا اور نرم خو تھا '' حتی کہ وہ کہتا ہے ''اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جاکر کئی ایک امور کے لئے اس کی حمایت حاصل کرتے(۱) اور ابن دغنہ کے زعم میں : '' ایسے شخص کو کیونکر نکالا جاسکتا ہے؟ کیا تم ایسے شخص کو نکال باہر کر رہے جو گمنامی کا طالب ہے ، صلہ رحمی کرتاہے ، دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے ، مہمان نوا ز اور زمانے کی مصیبتوں پر دوسروں کا مدد گار ہے؟''(۲) _
توجہ : یہ ا لفاظ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو وقت بعثت حضرت خدیجہ نے حضور کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دلجوئی کے لئے کہے تھے_ ان الفاظ کو ابن دغنہ نے جناب ابوبکر کے ہجرت حبشہ کے وقت اس کے حق میں کہے ہیں جن کا سقم آئندہ معلوم ہوگا _یہاں بس پڑھتے جائیں ، سنتے جائیں اور پیش آیند پر تعجب بھی کرتے جائیں_ سنتا جاشرماتاجا _
پہلانکتہ : کیا حضرت ابوبکر قبیلہ کے سردار تھے؟
گذشتہ تمام باتیں ہم نے صرف ان کی باتوں کے اختلاف اور تناقض کو بیان کرنے کے لئے ذکر کی ہیں_ کیونکہ اگر ایک بات صحیح ہے تو دوسری صحیح نہیں ہے_ وگرنہ ہمیں ابوبکر کے عظیم سردار اور قابل اطاعت بزرگ ہونے میں شک ہے ، کیونکہ :
۱_ حضرت ابوبکر جب ابوسفیان کے ساتھ حج کوگئے تو (وقت تلبیہ) اس نے اپنی آواز ابوسفیان کی آواز سے اونچی رکھی ، ابوقحافہ نے اس سے کہا :'' ابوبکر اپنی آواز ابن حرب کی آواز سے دھیمی رکھو'' جس پر ابوبکر نے کہا :'' اے ابوقحافہ خدا نے اسلام میں وہ گھر بنائے ہیں جو پہلے نہیں بنے تھے اور وہ گھر ڈھادیئےیں جو زمانہ جاہلیت میں بنے ہوئے تھے_ اور ابوسفیان کا گھر بھی ڈھائے جانے والے گھروں میں سے ہے''_(۳)
۲_ جب ابوبکر کی بیعت کی جا رہی تھی تو ابوسفیان چلا اٹھا: '' امر خلافت کے لئے قریش کا سب سے پست
___________________
۱_ سیرہ ابن ہشام ج ۱ ص ۳۶۷ اور سیرہ نبویہ ابن کثیر ص ۴۳۷_
۲_ سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۱۰۳ اور اس بارے میں مزید منابع کا ذکر ہجرت ابوبکر کی بحث کی دوران ہوگا ان شاء اللہ _
۳_ ملاحظہ ہو : النزاع و التخاصم مقریزی ص ۱۹ اور اسی ماخذ سے ذکر کرتے ہوئے الغدیر ج ۳ ص ۳۵۳_
گھرانہ تم پر غالب آگیا ہے'' اور حاکم کی عبارت میںیوں آبا ہے '' اس امر خلافت کا کیا ہوگا جو قریش کے سب سے کم مرتبہ اور ذلیل شخص یعنی ابوبکر کے پاس آیا ہے''(۱) جبکہ بلاذری کی عبارت یوں ہے: ''ابوسفیان نے حضرت علیعليهالسلام کے پاس آکر کہا ہے '' یا علیعليهالسلام تم لوگوں نے قریش کے ذلیل ترین قبیلے کے آدمی کی بیعت کی ہے''(۲)
۳_ شاعر عوف بن عطیہ کا کہنا ہے:
و اما الا لامان بنوعدی ---- و تیم حین تزد حم الامور
فلا تشهد بهم فتیان حرب ---- و لکن ادن من حلیب و عیر
اذا رهنوا رماحهم بزبد ---- فان رماح تیم لا تضیر(۳)
اور قبیلہ بنی عدی اور تیم تو مشکلات کی بھیڑ میں واویلا کرنے والے پست اور بے صبرے ہیں_ انہیں کوئی جنگجو نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ایک جماعت اور قافلے سے بھی مغلوب ہونے والے ہیں_ انہیں مکھن (چکنی چپڑی باتوں) کے بدلے میں نیزے گروی رکھ لینے چاہئیں کیونکہ اب ان کے نیزے کسی کام کے نہیں ہیں_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو : المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۵۱ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۷۸ از ابن عساکرو ابواحمد دہقان ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۳۲۶، تاریخ طبری ج ۲ ص ۹۴۴، النزاع و التخاصم ص ۱۹ اور کنز العمال ج ۵ ص ۳۸۳و ۳۸۵از ابن عساکروابواحمد دہقان_
۲_ انساب الاشراف بلاذری (حصہ حیات طیبہ) ص ۵۸۸ _(اسی طرح منہاج الراعہ شرح نہج البلاغہ حبیب اللہ خوئی کے ترجمہ اردو ج ۳ ص ۵۰ پر جناب ابوبکر کے خاندانی پس منظر کے ذکر کے بعد آیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر مسند اقتدار پر فائز ہوئے تو ابوسفیان نے ان کا خاندانی پس منظر یاد کرکے حضرت علیعليهالسلام سے کہا:'' ارضیتم یا بنی عبد مناف ان یلی علیکم تیمی رذل'' اے بنی عبد مناف کیا تم ایک رذیل تیمی کی حکومت پر راضی ہوچکے ہو؟ ''حاکم نیشاپوری اور ان حجر نے لکھا ہے کہ جب ابوقحافہ نے اپنے بیٹے کی حکومت کا سناتو کہا : '' کیا بنی عبدمناف اور بنی مغیرہ میرے بیٹے کی حکومت پر راضی ہوگئے؟ '' لوگوں نے بتایا : '' جی ہاں'' تو اس وقت اس نے کہا تھا :'' اللهم لا واضع لما رفعت و لا رافع لما وضعت '' خدایا جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست نہیں کرسکتا اور جسے تو پست کرے اسے کوئی بلندی نہیں دے سکتا_ اگر چہ کہ ابوسفیان کی باتیں نیک نیتی کی بناپر نہیں تھیں لیکن اس سے دو باتوں کا علم ہوتا ہے : ۱_ حضرت ابوبکر نہ صرف قبیلہ کے رئیس نہیں تھے بلکہ ان کا خاندانی پس منظر بھی کچھ قابل ذکر نہیں ہے اس لئے تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت ابوبکر کی دولت سے اپنے نبی کو مالامال کردیا تھا_۲_ حضرت علیعليهالسلام ہر لحاظ سے خلافت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زیادہ حقدار تھے _ اسی لئے ابوسفیان صرف حضرت علیعليهالسلام کے پاس آیا تا کہ وہ حق دار ہونے کی بنا پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ابوسفیان اپنے مقاصد حاصل کرے گا لیکن حضرت علیعليهالسلام نے اس کے ارادے بھانپ لئے تھے اور مناسب جواب دیا تھا _ از مترجم)_ ۳_ طبقات الشعراء ابن سلام ص ۳۸_
دوسرا نکتہ :
دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں :'' ابوبکر اظہار اسلام کرنے والا پہلا شخص ہے جس کی قوم نے اس کی حمایت کی'' یا'' جس پر اسے اتنا ماراگیا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا ''(۱) تو ان لوگوں کی مذکور باتوں کو بہت ساری گذشتہ باتیں بھی جھٹلاتی ہیں اور یہاں پر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوت اسلام کے اعلان کرنے والی سب سے پہلی شخصیت رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات والا صفات تھی جناب ابوبکر نہیں تھے_ اور مذکورہ بات تو ان متضاد باتوں کے علاوہ ہے جو یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا تھا ، کبھی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کیا تھا اور یہاں پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے ایسا کیا تھا؟ (حافظہ کہاںگیا؟)
اسی طرح ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ ابوبکر کا اظہار اسلام اس وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچ گئی تھی اور حضور کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرماتھے_ جبکہ ہم پہلے یہ بتاچکے ہیں کہ ابوبکر تو اس وقت تک بھی اسلام نہیں لائے تھے کیونکہ وہ پچاس سے زیادہ افراد کے اسلام لانے کے بعد مسلمان ہوئے تھے_ مگر یہ کہا جائے کہ اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد اسلام لانے والوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچنے کے بعد ابوبکر مسلمان ہوا تھا_ لیکن یہ بات بھی روایت کی اس تصریح کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتی جس میں آیاہے کہ ابوبکر کا مسلمان ہونا جناب حمزہ کے اسلام لانے کے دن تھا جس وقت نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرما تھے_
اسلام میں سب سے پہلی شہادت
قریش کے ہاتھوں آل یاسرکو سخت ترین سزائیں دی گئیں نتیجتاً حضرت عمار کی ماں حضرت سمیہ، فرعون قریش ابوجہل (لعنة اللہ علیہ) کے ہاتھوں شہید ہوگئیں وہ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی سب سے پہلی
___________________
۱_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۹ تا ۴۴۹ ، البدایہ و النہایة ج ۳ ص ۳۰ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۹۴ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۲۲ از تاریخ الخمیس و الریاض النضرہ ج ۱ ص ۴۶_
ہستی ہیں_(۱) حضرت سمیہ کے بعد حضرت یاسر (رحمة اللہ علیہ) شہید ہوئے_البتہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے پہلے شہید حضرت حارث ابن ابوہالہ ہیں_ وہ اس طرح کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسجد الحرام میں کھڑے ہو کر فرمایا: '' اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تاکہ نجات پاؤ ''یہ سن کر قریش آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ٹوٹ پڑے، سب سے پہلے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فریاد رسی کیلئے پہنچنے والا یہی حارث تھا اس نے قریش پر حملہ کرکے انہیں آپ کے پاس سے ہٹایا جبکہ قریش نے حارث کارخ کیا اور اسے قتل کر دیا_(۲)
لیکن یہ واقعہ درست نہیں کیونکہ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا) خدانے حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ذریعے اپنے نبی کی حفاظت کی، چنانچہ قریش آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بال بھی بیکا کرنے کی جر ات نہ کرسکے_اسی طرح بنی ہاشم کے دوسرے ایمان لانے والوں کی حالت ہے کیونکہ وہ لوگ حضرت جعفر (رض) حضرت علیعليهالسلام اور دیگر افراد پر بھی حضرت ابوطالب کے مقام کی وجہ سے تشدد نہیں کرسکے_
علاوہ برایں مورخین کا تقریبا ًاتفاق ہے کہ اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہادت حضرت سمیہ اور اس کے شوہر حضرت یاسر کو نصیب ہوئی مزید یہ کہ اعلانیہ تبلیغ کی کیفیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مذکورہ باتوں کے صریحاً منافی ہے (عنوان '' فاصدع بما تؤمر'' کا مطالعہ فرمائیں)_
یہاں ہمارے خیال کے مطابق اس واقعے کو گھڑنے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت خدیجہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے سے قبل ایک یا ایک سے زیادہ بار شادی کی تھی اور ان دونوں سے ان کی اولاد ہوئی لیکن قبل ازیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ان کی شادی کی بحث میں اس کا ذکر ہوچکا ہے جو مذکورہ بالا بات کو مشکوک ظاہر کرتی ہے_
عمار بن یاسر
بنی مخزوم نے عمار بن یاسر کوبھی زبردست اذیتیں پہنچائیں یہاں تک کہ وہ قریش کی من پسند بات کہنے پر
___________________
۱ _ الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج ۴ ص ۳۳۰ و ۳۳۱ و ۳۳۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۳۴ و ۳۳۵، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۵، اسد الغابہ ج۵ ص ۴۸۱ اور تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۸_
۲_ نور القبس ص ۲۷۵ از شرقی ابن قطامی، الاصابة ج ۱ ص ۲۹۳ از کلبی، ابن حزم اور عسکری نیز الاوائل ج ۱ ص ۳۱۱،۳۱۲_
مجبور ہوئے اور یوں انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا_ اس کے بعد وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا '' یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ جب تک میں نے مجبور ہوکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا'' _ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''اے عمار تیری قلبی کیفیت کیسی ہے؟'' عرض کیا ''یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ میرا دل تو ایمان سے لبریز ہے''_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''پس کوئی حرج نہیں بلکہ اگر وہ دوبارہ تمہیں مجبور کریں توتم پھر وہی کہو جو وہ چاہیں_ بے شک خدانے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے( الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان ) مگرجس پر جبر کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو_(۱)
تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں
۱_حضرت عمار کا قصہ اور اس کے بارے میں آیات کا نزول، جان ومال کا خوف در پیش ہونے کی صورت میں تقیہ کے جواز کی دلیل ہے_
۲_علاوہ ازیں خدا کا یہ ارشاد بھی جواز تقیہ کی دلیل ہے( ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شی الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) یعنی جو بھی ایسا کرے (یعنی کفار کو اپنا ولی بنائے) اس کاخدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں_(۳)
۳_نیز یہ آیت بھی تقیہ کو ثابت کرتی ہے( قال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله ) (۴) یعنی آل فرعون کے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا کہا: ''کیا تم ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ خدائے واحد کا اقرار کرتا ہے''_ اس آیت کو منسوخ قرار دینا غلط اور بے دلیل ہے بلکہ اس کا منسوخ نہ ہونا ثابت ہے، جیساکہ جناب
___________________
۱_ سورہ نحل، آیت ۱۰۶ ، رجوع کریں: حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۰، تفسیر طبری ج ۴ ص ۱۱۲ اور حاشیہ پر تفسیر نیشاپوری اور بہت سی دیگر کتب_
۲_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_ ۳_ تقیہ کے متعلق مزید مطالعہ کے لئے: احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۹ ، تقویة الایمان ص ۳۸ ، صحیح بخاری مطبوعہ میمنہ ج ۴ ص ۱۲۸ اور دیگر متعلقہ کتب ۴_ سورہ غافر، آیت ۲۸_
یعقوب کلینی نے عبداللہ بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ سلیمان نے کہا:'' میں نے ابوجعفر (امام باقرعليهالسلام ) سے سنا جبکہ آپ کے پاس عثمان اعمی نامی ایک بصری بیٹھا تھا ، جب اس نے کہا کہ حسن بصری کا قول ہے ''جو لوگ علم کو چھپاتے ہیں ان کے شکم کی ہوا سے اہل جہنم کواذیت ہوگی''_ تو آپ نے فرمایا:''اس صورت میں تو مومن آل فرعون تباہ ہوجائے گا، جب سے خدانے حضرت نوحعليهالسلام کو مبعوث کیا علم مستور چلا آرہا ہے _حسن دائیں بائیں جس قدر چاہے پھرے خدا کی قسم علم سوائے یہاں کے کہیں اور پایا نہ جائے گا''_(۱) مذکورہ آیت سے امامعليهالسلام کا استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے منسوخ نہ ہونے پرعلماء کا اتفاق تھا_رہی سنت نبوی تو اس سے ہم درج ذیل دلائل کا ذکر کریں گے_
سنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں تقیہ
۱_ جناب ابوذرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے کہ حضور کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' عنقریب تمہارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو نماز کا حلیہ بگاڑدیں گے_ اگر تم ان کے زمانے میں رہے تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھتے رہو لیکن ان کے ساتھ بھی بطور نافلہ نماز پڑھ لیا کرو ...''(۲) اور اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث(۳)
۲) مسیلمہ کذاب کے پاس دو آدمی لائے گئے اس نے ایک سے کہا :''کیاتم جانتے ہو کہ میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ہوں''_ اس نے جواب دیا: '' اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ''_مسیلمہ نے اسے قتل کردیا پھر دوسرے سے کہا تو اس نے جواب دیا:'' تم اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم دونوں اللہ کے نبی ہو ''_یہ سن کر مسلیمہ نے اسے چھوڑ دیا_ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' پہلا شخص اپنے عزم ویقین پر قائم رہا لیکن دوسرے نے اس راہ کو اختیار کیا جس کی خدا نے اجازت دی ہے پس اس پر کوئی عقاب نہیں''_(۴)
___________________
۱_ اصول کافی ص ۴۰،۴۱ (منشورات المکتبة الاسلامیة )نیز وسائل جلد ۱۸ص ۸_
۲_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۵۹_
۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۶۰، ۱۶۸_
۴_ محاضرات الادباء ، راغب اصفہانی ج ۴ص ۴۰۸اور ۴۰۹ ، احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۱۰ اور سعد السعود ص ۱۳۷_
۳) سہمی نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے روایت کی ہے''لا دین لمن لا ثقة له'' (۱) بظاہر یہاں لفظ ثقہ کی بجائے لفظ تقیہ مناسب اور درست ہے یعنی جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین نہیں رکھتا جیساکہ شیعوں کی اہل بیتعليهالسلام سے مروی روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں(۲) _
۴) حضرت عمار یاسر کا معروف واقعہ اور حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عمار سے فرمانا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی گذشتہ عمل کا تکرار کرو یہ بات احادیث وتفسیر کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور اسی مناسبت سے آیت( من کفر بالله بعد ایمانه ، الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۳) نازل ہوئی تھی_
۵) نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بذات خود تقیہ فرمانا کیونکہ آپ تین یا پانچ سالوں تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے جو سب کے نزدیک مسلمہ اور اجماعی ہے اور کسی کیلئے شک کی گنجائشے نہیں اگر چہ کہ ہم نے وہاں بتایا تھا کہ حقیقت امر صرف یہی نہیں تھا_
۶) اسلام کفار کو بعض حالات میں اجازت دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا قتل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں_ واضح ہے کہ یہ بھی تقیہ کی ترغیب ہے کیونکہ اس قسم کے حالات میں قبول اسلام جان کی حفاظت کیلئے ہی ہوسکتا ہے پختہ عقیدہ کی بناپر نہیں_اسلامی معاشرے میں اس امید کے ساتھ منافقین کو رہنے کی اجازت دینا اور ان کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے مطابق سلوک کرنا کہ وہ اسلام کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان مستحکم ہوجائے گا بھی اسی طرح ہے _
۷) فتح خیبر کے موقع پر حجاج بن علاط نے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا :'' مکہ میں میرا کچھ مال اور رشتہ دار ہیں اور میں انہیں وہاں سے لے آنا چاہتا ہوں _ پس اگر مجھے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو برا بھلا کہنا بھی پڑا تو کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت ہوگی؟'' تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے اجازت دے دی کہ جو کچھ کہے کہہ سکتا ہے(۴)
___________________
۱_ تاریخ جرجان ص ۲۰۱ _
۲_ ملاحظہ ہو : کافی (اصول) ج۲ ص ۲۱۷ مطبوعہ آخندی، وسائل الشیعہ ج۱۱ ص ۴۶۵اور میزان الحکمت ج۱۰ ص ۶۶۶ و ۶۶۷_
۳_ سورہ نمل آیت ۱۰۶اور ملاحظہ ہو فتح الباری ج۱۲ ص ۲۷۷ و ۲۷۸_
۴_ دراسات فی الکافی و الصحیح ص ۳۳۸ از سیرہ حلبیہ_
تاریخ سے مثالیں
۱) ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا: ''کیا میں حکام کو زکوة دوں''؟ ابن عمر نے کہا : ''اسے فقراء اورمساکین کے حوالے کرو'' راوی کہتا ہے کہ پس حسن نے مجھ سے کہا : ''کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ جب ابن عمر خوف محسوس نہیں کرتا، تو کہتا ہے زکوة فقیروں اور مسکینوں کو دو''_(۱)
۲) علماء نے دعوی کیا ہے کہ انس بن مالک نے رکوع سے قبل قنوت والی حدیث کو اپنے زمانے کے بعض حکام سے تقیہ کی بناپر روایت کیا ہے(۲)
۳) عباس بن حسن نے اپنے محرروں اور خاص ندیموں سے مکتفی کے مرنے کے بعد خلافت کے اہل آدمی کے متعلق مشورہ لیا تو ابن فرات نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ہر کسی سے علیحدگی میں مشورہ کرے تا کہ اس کی صحیح رائے معلوم ہوسکے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں ہوسکتا ہے تقیہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے پیش نہ کرسکا ہو اور دوسروں کا ساتھ دیا ہو اس بات پر اس نے کہا : ''سچ کہتے ہو'' _ پھر اس نے ویسا ہی کیا جیسا ابن فرات نے کہا تھا(۳)
۴) بیعت عقبہ میں جناب رسول خدا اور جناب حمزہ نے تقیہ فرمایا تھا جس کے متعلق روایتیں علیحدہ فصل میں بیان ہوں گی_
۵) ایوب سے مروی ہے کہ میں جب بھی حسن سے زکوة کے بارے میں سوال کرتاتو کبھی وہ یہ کہتا حکام کو دے دو اور کبھی کہتا ان کو نہ دو_ مگر یہ کہا جائے کہ حسن کی جانب سے یہ تردید اس بارے میں شرعی مسئلہ کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے تھی(۴)
۶) محمد بن حنفیہ کے ایک خطبے میں یوں بیان ہوا ہے، امت سے جدا نہ ہونا ان لوگوں (بنی امیہ) سے تقیہ کے ذریعے سے بچتے رہو ، اور ان سے جنگ نہ کرو،راوی نے کہا :''ان سے تقیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟'' کہا :''جب وہ بلائیں تو ان کے پاس حاضری دینا_یوں خدا تجھ سے نیز تیرے خون اور تیرے دین سے ان
___________________
۱_ المصنف عبدالرزاق ج ۴ص ۴۸ _
۲_ ملاحظہ ہو : المحلی ج۴ ص ۱۴۱_ ۳_ الوزراء صابی ص ۱۳۰_
۴_ مصدر سابق_
کے شر کو دور رکھے گا اور تجھے خدا کے مال سے حصہ بھی ملے گا جس کے تم زیادہ حقدار ہو ''_(۱)
۷) مالک سے محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ خروج کرنے کے بارے میں سوال ہوا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ابوجعفر المنصور کی بیعت بھی کررکھی ہے مالک نے کہا :'' تم نے مجبوراً بیعت کی تھی اور جسے مجبور کیا جائے اسکی قسم (بیعت) کی کوئی حیثیت نہیں''(۲)
۸) قرطبی نے شافعی اور کوفیوں سے نقل کیا ہے کہ قتل کا خطرہ ہونے کی صورت میں تقیہ جائزہے_ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے_(۳)
۹) حذیفہ کی روایت ہے کہ ہم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں تھے_ انہوں نے فرمایا: '' مجھے گن کربتاؤ اسلام کے کتنے ارکان ہیں؟'' حذیفہ کا کہنا ہے کہ ہم نے عرض کیا :'' یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہماری طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہے؟ جبکہ ہم ابھی بھی چھ سوسے سات سو کے درمیان ہیں'' تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' تمہیں کیا خبر کل کلاں تم آزمائشے میں مبتلا ہوجاؤ'' حذیفہ کہتا ہے کہ بعد میں ہم ایسی سخت آزمائشے میں مبتلا ہوئے کہ حتی کہ ہم میں سے ہر کوئی چھپ کر نماز پڑھتا تھا_(۴) یہی حذیفہ حضرت علیعليهالسلام کی بیعت کے صرف چالیس دن بعد فوت ہوا اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس بیعت سے قبل پچھلے دور میں مؤمنین سخت دباؤ کا شکار تھے_ جو لوگ شرعی حکومت پر قابض تھے وہ دین اور دینداروں کے خلاف اپنے دل میں پرانا کینہ رکھتے تھے اور جس چیز کا تھوڑا سا تعلق بھی دین کے ساتھ ہوتا تھا اس کا مذاق اڑایا کرتے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرتے تھے_
۱۰) تمام اہل حدیث اور ان کے بڑے بڑے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے قرآن کے مخلوق ہونے کی تصدیق کی حالانکہ وہ اس کے قدیم ہونے کے قائل تھے فقط امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے انکار کیا(۵) بلکہ امام احمد نے بھی تقیہ کیا چنانچہ جب وہ پھندے کے پاس پہنچا تو کہا : ''میں کوئی بات زبان پر نہ
___________________
۱_ طبقات ابن سعد ج ۵ص ۷۰ _ ۲_ مقاتل الطالبین ص ۲۸۳نیز طبری ج ۳ص ۲۰۰ مطبوعہ یورپ_
۳_ تفسیر قرطبی ج ۱۰ص ۱۸۱ _ ۴_ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۱ _ صحیح بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ج ۲ ص ۱۱۶و مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۴_
۵_ تجارب الامم مطبوعہ ہمراہ العیون و الحدائق ص ۴۶۵ _
لاؤںگا'' نیز جب حاکم وقت نے اس سے کہا:'' قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہو'' تو جواب دیا: '' قرآن کلام الہی ہے'' پوچھا گیا ''کیا قرآن مخلوق ہے''؟ جواب دیا: ''میں بس اتنا کہتا ہوں کہ اللہ کا کلام ہے''_(۱) بلکہ یعقوبی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب امام احمد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بولے : '' میں ایک انسان ہوں جس نے کچھ علم حاصل تو کیا ہے لیکن اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے '' _اس مناظرے اور چند کوڑے کھانے کے بعد اسحق بن ابراہیم مناظرے کے لئے دوبارہ آیا اور اس سے کہا : '' اب کچھ باقی رہ گیا ہے جسے تو نہ جانتاہو؟''کہا : '' ہاں باقی ہے'' _ کہا : ' ' پس یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں تو نہیں جانتا_ حالانکہ امیر المؤمنین (حاکم وقت) نے تجھے اچھی طرح سکھا دیا ہے '' _ کہا : '' پھر میں بھی امیرالمؤمنین کے فرمان کا قائل ہوگیا ہوں '' پوچھا: '' قرآ ن کے مخلوق ہونے کے متعلق ؟'' کہا : '' جی ہاں خلق قرآن کے متعلق '' کہا : ''پھر یا د رکھنا'' پھر اسے آزاد کرکے گھر کو جانے دیا(۲) _
حالانکہ امام احمد خودکہتے ہیں کہ جو فقط یہ کہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور مزید کچھ نہ کہے تو وہ واقفی اور ملعون ہے_(۳)
خوارج کے مقابلے میں ابن زبیر نے بھی تقیہ سے کام لیا(۴) اسی طرح شعبی اور مطرف بن عبداللہ نے حجاج سے تقیہ کیا اور عرباض بن ساریہ اور مؤمن الطاق نے بھی خوارج سے اور صعصعہ بن صوحان نے معاویہ سے تقیہ کیا(۵)
خلق قرآن کے مسئلے میں اسماعیل بن حماد اور ابن مدینی نے بھی تقیہ کیا، ابن مدینی قاضی ابو داؤد معتزلی کی مجلس میں حاضر رہتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھتا تھا_ نیز احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب کی حمایت کرتا تھا_(۶)
۱۱_ مدینہ پر بسربن ابی ارطاة کے غارتگرانہ حملہ کے موقع پر جابربن عبداللہ انصاری نے ام المومنین
___________________
۱_ تاریخ طبری ج ۷ص ۲۰۱نیز آثار جاحظ ص ۲۷۴و مذکرات الرمانی ص ۴۷_
۲_ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۴۷۲_ ۳_ بحوث مع اھل السنة و السلفیہ ص ۱۲۲،۱۲۳ از الرد علی الجھمیة (ابن حنبل) در کتاب الدومی ص۲۸ _
۴_ ملاحظہ ہو العقد الفرید ابن عبدربہ ج۲ ص ۳۹۳_ ۵_ العقد الفرید ج ۲ ص ۴۶۴ و ص ۴۶۵ اور ملاحظہ ہو : بہج الصباغہ ج ۷ ص ۱۲۱_
۶_ رجوع کریں لسان المیزان ج ۱ص ۳۳۹اور ۴۰۰متن اور حاشیہ ملاحظہ ہو_
حضرت ام سلمہ کی خدمت میں شکایت کی :'' مجھے قتل ہونے کا خوف ہے اور یہ بیعت ایک گمراہ شخص کی بیعت ہے اس موقع پر میں کیا کروں''؟ تو انہوں نے فرمایا : '' اس صورت میں تم اس کی بیعت کرلو کیونکہ اصحاب کہف کو بھی اسی تقیہ نے صلیب پہننے اور دوسرے شہریوں کے ساتھ عید کی محفلوں میں شریک ہونے پر مجبور کردیا تھا''(۱)
۱۲_ حضرت امام حسنعليهالسلام کے مسموم ہونے کے بعد جب اہل کوفہ نے حضرت امام حسینعليهالسلام سے معاویہ کے خلاف قیام کرنے کا مطالبہ کیا تو آپعليهالسلام نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا_ البتہ اس معاملے میں آپ کے اور بھی اہداف تھے جو معاویہ کے خلاف پوری زندگی قیام نہ کرنے کے اپنے شہید بھائی کے موقف کے ہماہنگ تھے_ اس بارے میں ملاحظہ فرمائیں اخبار الطوال ص ۲۲۰تا۲۲۲_
۱۳_ حسن بصری کا قول ہے کہ تقیہ روز قیامت تک ہے_(۲)
۱۴_ بخاری کا کہنا ہے:'' جب کسی آدی کو اپنے ساتھی کے قتل و غیرہ کا ڈر ہو اور اس کے متعلق یہ قسم کھائے کہ یہ میرا بھائی ہے _ تو اس پر کوئی بھی حد یا قصاص و غیرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ظالم کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہا ہو تا ہے_ ظالم شخص اسے چھوڑکر قسم کھانے والے کے ساتھ جھگڑتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں کہتا_ اسی طرح اگر اس سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم شراب پیو ، مردار کھاؤ ، اپنا غلام بیچو، قرض کا اقرار کرو یا کوئی چیز تحفہ دویا کوئی معاملہ ختم کردو و گر نہ تمہارے باپ یا تمہارے مسلمان بھائی کو قتل کردیں گے تو اسے ان چیزوں کے ارتکاب کی اجازت ہے ...'' یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :'' نخعی کا قول ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہے تو قسم اٹھانے والے کی نیت پر منحصر ہے اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہے تو پھر اس کی نیت پر منحصر ہوگا ''(۳)
۱۵_ یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ کا حضرت علیعليهالسلام کے متعلق عیب جوئی کے بارے میں یہ دعوی ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرتا تھا کیونکہ صعصعہ سے کہتا ہے:'' یہ بادشاہ ہمارے سروں پر مسلط ہوچکا ہے اور ہمیں لوگوں کے سامنے آپعليهالسلام کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں بھی اکثر اوقات اس کی پیروی کرتے ہوئے ان لوگوں
___________________
۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹۸_ ۲) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ مطبوعہ المیمنیہ_
۳) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ ، صحیح بخاری کی '' کتاب الاکراہ'' کا مطالعہ بہت مفید ہوگا کیونکہ اس میں تقیہ کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں_
کے شر سے دور رہنے کے لئے بطور تقیہ ایسی بات کہنی پڑتی ہے _ اگر تم حضرتعليهالسلام کی فضیلت بیان کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے ساتھیوں کے درمیان اور اپنے گھروں میں چھپ کر کرو ...''(۱)
۱۶_ ابن سلام کہتا ہے :'' رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے نماز کو وقت پر پڑھنے کا اور پھر بطور نافلہ ان حکام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا جو نماز کو تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں''(۲)
۱۷_ خدری نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علیعليهالسلام کے متعلق اپنے موقف میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا_ تا کہ بنی امیہ سے اس کی جان بچی رہے اور اس نے آیت( ادفع بالتی هی احسن السیئة ) سے استدلال کیا ہے(۳) اسی طرح بیاضی کی '' الصراط المستقیم'' ج ۳ ص ۲۷ تا ۷۳ میں ایسے کوئی واقعات ذکر ہوئے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں_
بہرحال اس مسئلے کی تحقیق کیلئے کافی وقت کی ضرورت ہے یہاں جتنا عرض کیا گیا ہے شاید کافی ہو_
تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت
تقیہ کا جواز اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع اور لچک دار دین ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برا ہوسکتا ہے_ اگر اسلام خشک اور غیرلچک دار ہوتا یااس میں نئے حالات وواقعات سے ہم آہنگ ہونے کی گنجائشے نہ ہوتی تو لازمی طورپر نت نئے واقعات سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا _بنابریں خدانے تقیہ کو جائز قرار دیکر مشکل اور سنگین حالات میں اپنے مشن کی حفاظت اس مشن کے پاسبان (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ) کی حفاظت کے ذریعے کی_ اس کی بہترین مثال خفیہ تبلیغ کا وہ دور ہے جس میں حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب، بعثت کے ابتدائی دور سے گزرے_
جب دین کے لئے قربانی دینے کا نہ صرف کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ دین کے ایک وفادار سپاہی کو ضائع کرنے
___________________
۱_ تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۱۲_
۲_ تہذیب تاریخ دمش ج ۶ ص ۲۰۵_
۳_ سلیم بن قیس ص ۵۳ مطبوعہ مؤسسہ البعثة قم ایران_
کی وجہ سے الٹا دین کا نقصان بھی ہو تو تب دین اسلام کے پاسبانوں کی حفاظت کے لئے دین میں لچک کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے _ یوں بہت سے موقعوں پر اسلام کی حفاظت اس کے ان وفادار اور نیک سپاہیوں کی حفاظت کے زیر سایہ ہوتی ہے جوبوقت ضرورت اس کی راہ میں قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیں پس تقیہ کا اصول انہی لوگوں کی حفاظت کیلئے وضع ہوا ہے_
رہے دوسرے لوگ جنہیں اپنے سواکسی چیزکی فکر ہی نہیں ہوتی تو، تقیہ کے قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی ان کیلئے مساوی ہے تقیہ اسلام کے محافظین کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ اس طریقے سے خود اسلام کی حفاظت ہوسکے تقیہ نفاق یا شکست کا نام نہیں کیونکہ اسلام کے یہ محافظین تو ہمیشہ قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیںاور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ کے دورمیں خاموش رہنے والے حسینعليهالسلام وہی حسینعليهالسلام تھے جنہوں نے یزید کے خلاف اس نعرے کے ساتھ قیام کیا:
ان کان دین محمد لم یستقم
الا بقتلی فیا سیوف خذینی
یعنی اگر دین محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اصلاح میرے خون کے بغیر نہیں ہوسکتی ، تو اے تلوارو آؤ اور مجھے چھلنی کر دو_
پس جس طرح یہاں ان کا قیام دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھا بالکل اسی طرح وہاں ان کی خاموشی بھی فقط دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھی_ اس نکتے کے بارے میں ہم نے حلف الفضول کے واقعے میں گفتگو کی ہے_
یوں واضح ہوا کہ جب حق کی حفاظت کیلئے قربانی کی ضرورت ہوتو اسلام اس کو لازم قراردیتا ہے اوراس سے پہلوتہی کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتتا_
علاوہ برایں اگر اسلام کے قوانین خشک اورغیر لچک دار ہوں توبہت سے لوگ اس کو خیر باد کہہ دیں گے بلکہ اس کی طرف بالکل رخ ہی نہیں کریں گے_ وحشی وغیرہ کے قبول اسلام کے بارے میں ہم بیان کریں گے کہ بعض لوگ اسلئے مسلمان ہوتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل نہیں کرتے _
بنابریں واضح ہے کہ اسلام کے اندر موجود اس نرمی اور لچک کی یہتوجیہ صحیح نہیں ہے کہ یہ قانون دین میں
دی گئی ایک سہولت ہے تاکہ بعض لوگوں کیلئے قبول اسلام کوآسان بنایاجاسکے بلکہ اسے تو اسلام ومسلمین کی حفاظت کا باعث سمجھنا چاہئے بشرطیکہ اس سے اسلام کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو بلکہ ترک تقیہ کی صورت میں قوت اور وسائل کابے جا ضیاع ہوتا ہو اور یہی امر تقیہ اور نفاق کے درمیان فرق کا معیار ہے لیکن بعض لوگ تقیہ کو جائز سمجھنے والوں پر نفاق جیسے ناجائزاور ظالمانہ الزام لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں_
ایک دفعہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس قبیلہ ثقیف کے افراد آئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے درخواست کی کہ کچھ مدت کیلئے ان کو بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے نیز ان پر نماز فرض نہ کی جائے (کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گراں سمجھتے تھے) اس کے علاوہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے کا حکم نہ دیاجائے تو اسی معیار کی بناپریہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضورنے آخری بات تو مان لی لیکن پہلی دو باتوں کو رد کردیا_(۱) اسی طرح انہوں نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ انہیں زنا، شراب سود اور ترک نماز کی اجازت دی جائے(۲) انہیں بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے رد کردیااور اس بات کا لحاظ نہ کیا کہ یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اسلام کو تقویت ملے گی اور دشمن کمزور ہوں گے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے سال ہا سال بتوں کی پوجا کی تھی مزید ایک سال تک بت پرستی کی مہلت کیوں نہ دی؟ جس کے نتیجے میں وہ اسلام سے آشنا اور قریب ترہوجاتے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کا مطالبہ ٹھکرادیا حتی کہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ نے ان کو اس بات کی اجازت نہ دی، کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر جائز وناجائز وسیلے سے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قائل نہ تھے، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم وسیلے کو بھی ہدف کاایک حصہ سمجھتے تھے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں_
___________________
۱_ یہاں سے پتہ چلا کہ ''جبلہ ابن ایھم'' سے قصاص لینے پر اصرار میں عمر کی پالیسی کامیاب نہ تھی_ کیونکہ وہ تازہ مسلمان ہوا تھا اور اپنی قوم کا حاکم تھا_ اس نے ابھی اسلام کی عظمت اور ممتاز خوبیوں کو نہیں سمجھا تھا_ حضرت عمر کو چاہئے تھا کہ وہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلے کو کسی آسان تر طریقے سے حل کرتے_
۲_ سیرہ نبویہ دحلان ( حاشیہ سیرہ حلبیہ پر مطبوع) ج۳ ص ۱۱ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۲۳۶ ، تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵ تا ۱۳۷ اور ترک نماز کے متعلق ملاحظہ ہو : الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۲۸۴ ، اسی طرح سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۴ ص ۱۸۵ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۴ ص ۵۶ اور البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۳۰_
لیکن اس کے مقابل اگر کوئی بالفرض آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بے حرمتی کرتا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم معاف کردیتے تھے بشرطیکہ اسے یہ احساس ہوجاتا کہ اس نے گناہ کیا ہے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اس سے درگذر کیاہے_ لیکن اگر وہ شخص اپنے غلط عمل کو صحیح سمجھتا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی صورت میں بھی اسے معاف نہیں فرماتے_
خلاصہ(۱) یہ کہ جب مسلمان کمزور ہوں تو پھر انہیں دشمنوں کے ساتھ سخت لڑائی لڑنے کاحق نہیں جس میں وہ خود ہلاک ہوجائیں یاان کے ختم ہونے سے عقیدہحق بھی ختم ہوجائے کیونکہ دین اور نظریات وعقائد کو اس قسم کے مقابلے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ کبھی کبھی الٹا نقصان پہنچتا ہے _ نیز اگرحق کا دفاع ایسی قربانی دینے سے پرہیز پر موقوف ہو جو حق کے مٹنے کا باعث ہو، عقل وفکر سے بیگانہ ہو یا وحشیانہ طرز عمل کے ساتھ ہو، نیز ایک نظریاتی جنگ کیلئے مطلوبہ شرائط سے خالی ہو تو پھر اس قربانی سے احتراز کرنا چاہیئے_
یہ بات اسلام کی عظمت، جامعیت اور حقائق زندگی کے ساتھ اس کی ہماہنگی کی ایک اور دلیل ہے_
___________________
۱_ یہ خلاصہ علامہ سید محمد حسین فضل اللہ کے فرمودات سے ماخوذ ہے _ مراجعہ ہو: مفاہیم الاسلامیہ عامہ حصہ ۸ ص ۱۲۷_
دوسری فصل
ہجرت حبشہ اور اس سے متعلقہ بحث
راہ حل کی تلاش:
قریش نے ان مسلمانوں کو ستانے کا سلسلہ جاری رکھا جن کی حمایت کرنے والا کوئی قبیلہ نہ تھا_ مسلمانوں کیلئے یونہی بیٹھے رہنا ممکن نہ تھا_ان ستم زدہ لوگوں کیلئے ایک ایسی سرزمین کی ضرورت تھی جو ان کی امیدوں کا مرکزہوتی، ان کو مشکلات کامقابلہ کرنے میں مدد دیتی اور جہاں وہ مشرکین کی طرف سے قسم قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے زیادہ قابل بن سکتے_ یوں وہ ان مشرکین کا مقابلہ کرسکتے تھے جنہوں نے اپنے خداؤں سے ما فوق خدا اور اپنی حاکمیت سے برتر حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا_ نیز اطاعت وتسلیم کے بجائے ہٹ دھرمی اور عناد کی روش اپنائی تھی_
دوسری طرف سے اس پر مشقت و پرآلام صورتحال پر باقی رہنے کی صورت میں قبول اسلام کی جانب لوگوں کی رغبت میں کمی آجاتی کیونکہ اسلام قبول کرنے کا نتیجہ خوف، دہشت اور تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا_
تیسرا پہلو یہ کہ قریش کے تکبر اور ان کی خود پسندانہ طاقت پر کم از کم نفسیاتی طور پر ایسی کاری ضرب لگانے کی ضرورت تھی ، کہ وہ سمجھ جا ئیں کہ دین کا مسئلہ ان کے تصورات اور ان کی طاقت کی حدود سے مافوق چیز ہے اور ان کو زیادہ سنجیدہ ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے_
ان حقائق کے پیش نظر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا_ ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال ہوئی لیکن حاکم نیشابوری کے مطابق ہجرت حبشہ جناب ابوطالب کی وفات کے بعد ہوئی(۱)
___________________
۱_ مستدرک حاکم ج۲ص ۶۲۲_
حالانکہ جناب ابوطالب کی وفات بعثت کے دسویں سال ہوئی _ شاید وہ ایک اور ہجرت کے متعلق بتانا چاہتے ہوں جسے کچھ مسلمانوں نے اس موقع پر انجام دیا یا شاید کچھ لوگ صلح کے متعلق سن کر واپس پلٹے ہوں اور اچانک برعکس صورت حال دیکھ کر دوبارہ ہجرت کرگئے ہوں _ لیکن ہمارے پاس ایسے کوئی قرائن بھی نہیں ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہوں کہ یہ واقعہ وفات جناب ابوطالب کے بعد پیش آیا_
حبشہ کے انتخاب کی وجہ
ہجرت کیلئے حبشہ کا انتخاب کیوں ہوا؟ اس رازکی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے یوں اشارہ فرمایا ''یقینا وہاں ایک ایسا بادشاہ موجود ہے جس کی حکومت کے زیر سایہ کسی پر ظلم نہیں ہوتا''_ حبشہ سچائی کی سرزمین ہے اور وہ (بادشاہ) مانگنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے_ اس انتخاب کی علت بالفاظ دیگر یہ تھی کہ:
۱) اس صورت میں قریش پر ضروری ہوجاتا کہ وہ اپنے اقتدار، بت پرستی اور انحرافی افکار کے لئے خطرہ سمجھنے والے دین پر اول و آخر اپنے مکمل تسلط اور اختیار کو باقی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں_
۲) قریش کو تجارتی اور اقتصادی روابط کے سبب روم اور شام میں اثر و رسوخ حاصل تھا ،بنابریں ان سرزمینوں کی طرف ہجرت کرنے کی صورت میں قریش کیلئے مسلمانوں کو لوٹانا یاکم از کم آزار پہنچانا آسان ہوجاتا_ خصوصا اس حالت میں جب ان ملکوں کے حکمران کسی قسم کے اخلاقی یا انسانی اصولوں کے پابند نہ تھے اور ان کو ظلم وستم سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہ تھی خاص کر ان مسلمانوں کے اوپر جن کا دین ان کے ذاتی مفادات اور اقتدار کیلئے خطرہ اور چیلنج تھا_
رہا یمن یا دوسرے عرب قبائل کا مسئلہ تو وہ ظالم اور جابر ایرانی بادشاہوں کے زیر تسلط تھے_ کہتے ہیں کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بعض قبائل کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حمایت چاہی تو انہوں نے قبول کیا لیکن کسری نے قبول نہ کیا_واضح رہے کہ کسری کے ہاں پناہ تلاش کرناملک روم میں پناہ ڈھونڈنے سے کم خطر ناک نہ تھا_ بالخصوص اس حالت میں جب کہ کسری دیکھ رہا تھا کہ یہ عرب شخص جلدہی اس کے ملک سے قریب علاقے میں خروج کرے گا اور اس کی دعوت اس کے ملک میں بھی سرایت کرجائے گی_
نیز یہ دعوت اپنے لئے تراشے گئے ناجائز امتیازی حقوق پر اثر انداز ہوگی( جیساکہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشن اوراہداف سے ظاہر تھا) _اس کے علاوہ وہ طبیعة عربوں کو حقیر سمجھتا تھا اور ان کیلئے کسی عزت واحترام کا قائل نہ تھا_
۳) قریش کو مختلف عرب قبائل کے اندر کافی اثر و نفوذ حاصل تھا حتی ان قبائل کے درمیان بھی جو ایران وروم کے زیر اثر تھے جیساکہ اس کتاب کے اوائل میں مذکوربعض معروضات سے واضح ہے_
۴)مذکورہ باتوں کے علاوہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حبشہ میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا_ ان حقائق کے پیش نظر ہم ہجرت کیلئے حبشہ کے انتخاب کی وجہ سمجھ سکتے ہیں_ حبشہ کا علاقہ ایران، روم اور قریش کے اثر و رسوخ سے خارج تھا _قریش وہاں گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار ہوکر نہیں پہنچ سکتے تھے قریش بحری جنگ سے بھی نا آشنا تھے_ بنابریں مسلمانوں نے (جو قریش کی طاقت و جبروت کے سامنے کمزور تھے ) ہجرت کیلئے حبشہ کی راہ لی
آخر میں ہم ارض حبشہ کے بارے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کے ارشاد (حبشہ صدق وصفا کی سرزمین ہے) سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حبشہ میں بعض قبیلے فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اور صدق وخلوص سے میل جول رکھتے تھے_ پس اس مسلمان مہاجر گروہ کا وہاں ان لوگوں کے ساتھ آسودگی کے ساتھ رہنا اور میل جول رکھنا ممکن تھا، خاص طور پر جب یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ اس مملکت میں وہ انحرافات اور غلط افکار وعقائدنہیں پائے جاتے تھے جو روم اور ایران میں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ممالک غیر انسانی نظریات وافکار اور منحرف عقائد وادیان سے کافی حد تک آلودہ ہوچکے تھے لیکن حبشہ کی سرزمین ان آلودگیوں سے دور تھی _
اس لئے کہ وہاں نت نئے دین نہیں ابھرتے تھے اور نہ ہی وہاں روم اور ایران کی مقدار میں دانشمند اور فلاسفر تھے اس لئے وہ دوسرے ممالک کی بہ نسبت فطرت اور حق سے زیادہ قریب تھی لیکن فطرت کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک کسی بھی انحراف سے خالی ہیں _ کیونکہ وہاں انحرافات کا وجود بھی طبیعی امر ہے جبکہ یہ کہنا کہ وہاں فطرت کا راج ہے بالکل اس طرح ہے جیسے یہ کہا جائے کہ فلاں شہر کے لوگ مؤمن ہیں ،
بہادر ہیں یا سخی ہیں _ کیونکہ یہ بات اس شہر میں کافروں، منافقوں ، بزدلوں یابخیلوں کے وجود سے مانع نہیں ہے _ اور واضح سی بات ہے کہ اگر مسلمان کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کرتے جہاں فطرت کی بالادستی نہ ہوتی اور وہاں کا فرمانروا ظلم سے پرہیز نہ کرتا تو وہاں بھی ان کے لئے زندگی مشکل ہوجاتی اور ان کی ہجرت کا کوئی زیادہ فائدہ اور بہتر اثر نہ ہوتا_
حبشہ کا سفر
مسلمانوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی، حضرت ام سلمہ سے منقول ایک روایت کے مطابق وہ مختلف گروہوں کی شکل میں وہاں گئے(۱) کہتے ہیں کہ پہلے دس مردوں اور چارعورتوں نے عثمان بن مظعون کی سرکردگی میں ہجرت کی(۲) اس کے بعد دیگر مسلمان بھی چلے گئے یہاں تک کہ بچوں کے علاوہ کل بیاسی مرداور اگر حضرت عمار یاسر بھی ان میں شامل ہوں تو تراسی مرد اور انیس عورتیں حبشہ پہنچ گئے_
لیکن ہم صرف ایک ہی مرتبہ کی ہجرت کے قائل ہیں جس میںسب نے حضرت جعفر بن ابوطالب کی سرکردگی میں حبشہ کی طرف ایک ساتھ ہجرت کی تھی _اس قافلے میں حضرت جعفر طیارعليهالسلام کے علاوہ بنی ہاشم میں سے کوئی نہ تھا _البتہ ممکن ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت احتیاط کے پیش نظر افراد مختلف گروہوں کی شکل میں خارج ہوئے ہوں لیکن ہجرت ایک ہی مرتبہ ہوئی تھی کیونکہ شاہ حبشہ کے نام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کاخط بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے جسے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمروبن امیہ الضمری کے ساتھ روانہ کیا تھا ، اس خط میں مکتوب ہے:
'' البتہ میں نے آپ کی طرف اپنے چچا زاد بھائی جعفر بن ابوطالب کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے
___________________
۱_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۲ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۰ ازالصفوة و المنتہی_
۲_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۵، سیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۵، البدایہ و النہایة ج ۳ص ۶۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۱ص ۳۲۴ (جس میں کہا گیا ہے کہ ابن محدث نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کی تصریح کی ہے) نیز تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۸۸_
ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہنچ جائیں تو ان کو وہاں ٹھہرانا ...''(۱)
یہی بات ابوموسی سے مروی روایت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جعفربن ابوطالب کے ہمراہ نجاشی کے ملک کی طرف چلے جائیں_(۲) اگرچہ خود ابو موسی کی ہجرت مشکوک ہے جس کا تذکرہ آئندہ ہوگا_
جعفر سردار مہاجرین :
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت جعفر طیار کی حبشہ کی طرف ہجرت قریش کی جانب سے سختیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے نہیں تھی_ کیونکہ قریش حضرت ابوطالبعليهالسلام کی شان و شوکت سے ڈرتے تھے اور بنی ہاشم اور خاص کر ان کا لحاظ کرتے تھے_ حضرت جعفر کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے صرف مہاجرین کا سردار اور ان کا سرپرست بنا کر بھیجاتھا تا کہ وہ انہیں اس نئے معاشرے میں جذب ہوجانے سے بچاسکے، جس طرح کہ ابن جحش کی صورتحال تھی کہ وہ حبشہ میں نصرانی ہوگیا تھا_
حبشہ کا پہلا مہاجر
کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی اور نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس بارے میں فرمایاکہ وہ حضرت لوطعليهالسلام کے بعد پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کی_(۳) یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سب سے پہلے خارج ہوئے_(۴)
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۳، بحارالانوار ج ۱۸ص ۴۱۸، اعلام الوری ص ۴۵_۴۶از قصص الانبیاء_
۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۰ نے ابو نعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے اور سیرت نبویہ (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۱ _
۳_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از ابن اسحاق، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص۲۸۹ _
۴_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۴، نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از بیہقی نیر السیرة الحلبیة ج ۱ ص۲۲۳ _
لیکن ہمیں اس بارے میں شک ہے کیونکہ اگر مراد یہ ہو کہ وہ گھروالوں کے ساتھ ہجرت کرنے والے پہلے آدمی تھے تویہ بات واضح رہے کہ سب سے پہلے اپنے گھروالوں کے ساتھ ابوسلمہ نے ہجرت کی تھی جیساکہ نقل ہوا ہے_(۱) اور اگر مراد یہ ہو کہ وہ بذات خود سب سے پہلے خارج ہوئے تو عرض ہے کہ خود انہی نقل کرنے والوںکے بقول سب سے پہلے خارج ہونے والے شخص حاطب بن عمر تھے(۲) یا سلیط بن عمرو(۳) نیز ابوسلمہ کے بارے میں بھی اسی قسم کا قول موجود ہے_
ابوموسی نے حبشہ کی جانب ہجرت نہیں کی
امام احمد نے (حسن و غیرہ کی سند کے ساتھ) اوردوسروں نے بھی روایت کی ہے کہ ابوموسی اشعری حبشہ کی طرف پہلی بار ہجرت کرنے والوں میں شامل ہے_(۴) لیکن بظاہر یہ بات یا تو غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا راوی نے عمداً غلط بیانی کی ہے کیونکہ ابوموسی ہجرت کے ساتویں سال مدینے میں مسلمان ہوا تھا_ کہتے ہیں کہ وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کے پاس جانے کیلئے نکلے لیکن ان کی کشتی نے انہیں حبشہ پہنچادیا اور وہ حبشہ کے مہاجرین کے ساتھ ساتویں ہجری میں مدینہ آئے(۵) اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ہجرت مدینہ کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس مکہ آنے کیلئے چلتے اور پندرہ سال حبشہ میں ٹھہرتے بظاہر ابوموسی اشعری مہاجرین حبشہ کے ساتھ واپسی کے راستے میںآن ملے تھے کیونکہ عسقلانی نے کہا ہے : '' اس کی کشتی جناب
___________________
۱_ الاصابة ج ۲ص ۳۳۵نیز رجوع کریں ج ۴ص ۴۵۹اور ۴۵۸نیز الاستیعاب (حاشیہ الاصابہ پر) ج ۲ص ۳۳۸از مصعب الزبیری و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲واسد الغابة ج ۳ص ۱۹۶از ابی عمر و ابن منزہ اور السیرة الحلبیہ ج ۱ص ۳۲۳ _
۲_ الاصابة ج ۱ ص ۳۰۱ اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲۳_
۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳ _
۴_ رجوع کریں: سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۷، ۶۹، ۷۰ نے ابن اسحاق، احمد اور ابونعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے_ السیرة النبویة( ابن کثیر) ج ۲ص ۷اور ص ۹، فتح الباری ج۷ص ۱۴۳، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴ از طبرانی اور نیز حلیة الاولیاء ج ۱ ص۱۱۴ _
۵_ رجوع کریں السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۴اور البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۱_
جعفر بن ابوطالب کی کشتی سے ملی اور وہ سب اکٹھے آئے''(۱)
مہاجرین کے ساتھ عمر کا رویہ
کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہجرت حبشہ کی تیاری میں مصروف تھے تو حضرت عمر نے ان کو دیکھا یوں ان کا دل پسیجا اور وہ محزون ہوئے(۲) لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ وہ لوگ تو خاموشی سے چھپ کر نکلے تھے_ ان میں سے بعض پیدل تھے اور بعض سواریہاں تک کہ ساحل سمندر تک پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایک کشتی دیکھی اور جلدی سے اس میں سوار ہوگئے_ ادھر قریش ان کے تعاقب میں ساحل تک پہنچے لیکن وہاں کسی کو نہیں پایا_(۳) اس کے علاوہ حضرت عمرکی وہ سخت گیری اور قساوت بھی ملحوظ رہے جس کی نسبت (ہجرت حبشہ سے قبل اور ہجرت حبشہ کے بعد) ان کی طرف دی جاتی ہے اور یہ بات مذکورہ بالاقول کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے_
حضرت ابوبکر نے ہجرت نہیں کی
کہتے ہیں کہ جب مکے میں بچے ہوئے مسلمانوں پر سختیوں میں اضافہ ہوا اور حضرت ابوبکر کیلئے مکے میں زیادہ تکالیف کے سبب جینا دوبھر ہوگیا، تو وہ وہاں سے نکل گئے اور حبشہ کی راہ لی اس وقت بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور تھے_ جب وہ ''برک الغماد'' کے مقام پر پہنچے (جو مکہ سے پانچ دن کے فاصلے پر یمن کی جانب واقع ہے) تو قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی ،یہ لوگ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ
___________________
۱_ الاصابہ ج۲ ص ۳۵۹_
۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹از ابن اسحاق، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴، مستدرک الحاکم ج ۳ص ۵۸، الطبرانی اور السیرة الحلبیہج ۱ص ۳۲۳اور ۳۲۴ _
۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۸۸اور ۲۸۹از المنتقی، الطبری ج ۲ص ۶۹البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۴۹و اعلام الوری ص ۴۳ ویعقوبی ج ۲ص ۲۹اور ابن قیم کی زاد المعاد ج ۲ص ۴۴_
کے حلیف تھے_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟'' وہ بولے :''میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے چنانچہ میرا ارادہ ہے کہ میں دنیا میں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کروں''_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر تم جیسوں کو نکالانہیں کرتے، تم محروموں کی مدد کرتے ہو''_ یہاں تک کہ کہا:'' اب لوٹ جاؤ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں'' یوں حضرت ابوبکر ابن دغنہ کے ساتھ واپس ہوئے، ابن دغنہ نے رات کو قریش کے بزرگوں کے ہاں جاکر بتایا کہ اس نے حضرت ابوبکر کو پناہ دی ہے قریش نے اس شرط کے ساتھ اسے قبول کیا کہ وہ اپنے رب کی اعلانیہ عبادت نہ کریں بلکہ اپنے گھر میں عبادت کیا کریں_
لیکن حضرت ابوبکر نے کچھ عرصے بعد بنی جمح کے ہاں اپنے پڑوس میں ایک مسجد تعمیر کی وہاں وہ نمازیں پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کی تلاوت سننے کیلئے جمع ہوتے تھے حتی کہ ازدحام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے اوپر گر پڑتے تھے_ حضرت ابوبکر کی آواز سریلی اور ان کا چہرہ خوبصورت تھا_مشرکین نے ابن دغنہ سے اس مسئلے میں استفسار کیا چنانچہ ابن دغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور امان کی شرائط کو نبھانے کا مطالبہ کیا لیکن حضرت ابوبکر نے اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا_(۱)
ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ اس سے قطع نظر کہ :
ا_ جناب ابوبکر کو قوم سے نکال دیئے جانے کا مطلب ان کی ہجرت نہیں ہے لیکن ان کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتاہے_
۲_ یہ روایت فقط حضرت عائشہ سے مروی ہے اور خود یہ ایک عجیب بات ہے اسلئے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھیں لہذا ان امور کی تمام جزئیات کو درک نہیں کرسکتی تھیں لیکن اگر ہم فرض
___________________
۱_ رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۷،۱۲۸، و سیرت ابن ہشام ج۲ص ۱۲،۱۳، شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ص ۲۶۷، المصنف ج ۵ص ۳۸۵،۳۸۶، البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۴،۹۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۱۹و ۳۲۰میں مذکور ہے کہ یہ بعثت کے تیرہویں سال کا واقعہ ہے_ نیز رجوع کریں حیات الصحابہ جلد ۱ص ۲۷۶،۲۷۷نے بخاری ص ۵۵۲سے نقل کیا ہے_
بھی کرلیں کہ ان کی عمر ان کی بیان کردہ مقدار سے کافی زیادہ تھی (جیساکہ ہم آگے چل کر اشارہ کریں گے) لیکن یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے حدیث نقل کی ہے _ اور یہ دعوی کہ کسی صحابی کی مرسل روایت اس کے کمزور ہونے کا سبب نہیں ہے کیونکہ ایک صحابی دوسرے صحابی سے نقل کرتاہے اور تمام صحابہ عادل ہیں بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ ان سب کی عدالت کے متعلق ہم نے اپنی کتاب '' دراسات و بحوث فی التاریخ والاسلام '' کی دوسری جلد میں '' صحابہ کتاب و سنت کی نظر میں'' کے تحت عنوان ثابت کیا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے اور یہ دعوی بھی صحیح نہیں ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی سے ہی نقل کرتاہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ ایک صحابی کسی غیر صحابی سے بھی روایت نقل کرے ، جس طرح کہ ابوہریرہ نے کعب الاحبار سے نقل کیا ہے(۱)
بہر حال اگر ان تمام چیزوں سے چشم پوشی کر بھی لیں تو پھر بھی درج ذیل نکات قابل غور ہیں:
پہلانکتہ: روایت صریحاً کہتی ہے کہ ابن دغنہ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ کا حلیف تھا اس صورت میں اس نے حضرت ابوبکر کو قریش کی مخالفت میں پناہ دی جبکہ کوئی حلیف اس قسم کی پناہ نہیں دیتا جیساکہ ان لوگوںکے بقول اخنس بن شریق نے ایسا کرنے سے انکار کیا تھا جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مکہ میں داخل ہونے کیلئے اس سے پناہ مانگی تھی_(۲)
دوسرانکتہ: ابن دغنہ کی امان کو رد کرنے کے بعد قریش نے حضرت ابوبکر کو اذیت کیوں نہیں دی یا مکہ سے کیوں نہیں نکالا _اگر کوئی یہ کہے کہ اس کے قبیلے والوں کی حمایت کے سبب ایسا نہیں ہوسکا تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ حمایت پہلے کیوں نہیں ہوئی اور اگر حضرت ابوبکر سے تعرض نہ کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ ابن دغنہ نے قریش کو ہجرت ابوبکر کی تعریف کر کے رام کرلیا تھا ، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قبل ہی تعریف
___________________
۱_ ملاحظہ ہو : شیخ محمود ابوریہ کی کتاب شیخ المضیرہ، سید شرف الدین کی کتاب ابوہریرہ اور ملاحظہ ہو کعب الاحبار کا تعارف سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۴۹۰ و غیرہ میں_
۲_ اعلام الوری ص ۵۵، البحار ج ۱۹ص ۷از قمی، سیرة ابن ہشام ج ۲ص ۲۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۳۷، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۶۰، السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۴۲اور بہجة المحافل ج ۱ ص۱۲۶ _
کے ذریعہ ایسا کیوں نہ ہوا؟ تاکہ حضرت ابوبکر کو پناہ ڈھونڈنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی_
تیسرانکتہ: اسکافی نے اس واقعے کے دعویدار جاحظ کے دعوی کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ بنی جمح عثمان بن مظعون کو کیسے ستا سکتے تھے؟ حالانکہ وہ ان کے ہاں صاحب سطوت وجلالت تھے_ اور ابوبکر کو کیسے آزاد چھوڑ سکتے تھے تاکہ وہ مسجد بنائے اور اس میں وہ امور انجام دے جن کاتم لوگوں نے ذکر کیا ہے، جبکہ خود تم ہی لوگوں نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہم نے اس وقت تک اعلانیہ نماز نہیں پڑھی جب تک حضرت عمرنے اسلام قبول نہ کیا اور یہ جو تعمیر مسجد کی بات کرتے ہو وہ حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے پہلے کی ہے_
رہا حضرت ابوبکر کی خوش الحانی اور خوبروئی کے بارے میں تمہارا بیان تو یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ واقدی اور دوسروں نے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک عرب کو دیکھا جس کی داڑھی کم تھی اس کا چہرہ پچکا ہوا تھا آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں پشت کا کبڑا تھااور اپنی تہبند سنبھال نہیں سکتا تھا اسے دیکھ کر حضرت عائشہ نے کہا میں نے اس شخص سے زیادہ حضرت ابوبکر کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا _میرے خیال میں یہاں حضرت عائشہ نے حضرت ابوبکر کی کوئی اچھی صفت بیان نہیں کی_(۱)
اسکافی کے بیان کی تصدیق مقدسی کی اس بات سے ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ انہیں چہرے کی وجاہت کے باعث عتیق کہتے تھے_ اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ اس کی رنگت سفید تھی، لب سرخ تھے بدن کمزور تھاداڑھی ہلکی تھی چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی پیشانی اور ہاتھ کی رگیں ابھری ہوئی اور کمر جھکی ہوئی تھی اپنا تہبند نہیں سنبھال سکتے تھے اور اسے ڈھیلا چھوڑتے تھے جبکہ وہ مالدار لوگوں میں سے تھے حضرت ابوبکر کے بارے میں اسی قسم کی باتیں اور لوگوں نے بھی نقل کی ہیں_(۲) اور یہ بات تو ان کے اس قول کے علاوہ ہے کہ ابوبکر کو عتیق کا لقب رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان '' ہذا عتیق من النار'' ( یہ جہنم سے
___________________
۱_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج ۱۳ص ۲۶۸از اسکافی_
۲_ البدء و التاریخ ج ۵ص ۷۶،۷۷، تاریخ الخمیس ج ۲ص ۱۹۹اور تاریخ طبری ج ۲ص ۶۱۵
آزاد شدہ ہے) کی وجہ سے ملا _ جبکہ اس سے پہلے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا(۱) اور یہ بات خوبصورتی کی وجہ سے عتیق کہلانے والی بات کی منافی ہے_
چوتھانکتہ: روایت نے صریحا کہا ہے کہ حضرت ابوبکر نے بنی جمح میں ایک مسجد تیار کی لیکن انہی روایت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد، مسجد قبا ہے_(۲) وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عمار نے اسلام کی سب سے پہلی مسجد بنائی_(۳)
بعض لوگوں نے اس کا جواب یوں دینے کی کوشش کی ہے کہ قبا مدینے میں بننے والی پہلی مسجدہے اور عمار نے سب سے پہلے ایک عام مسجد بنائی(۴) لیکن جواب دینے والا یہ بھول گیا کہ مذکورہ قول ( مسجد قبا کے اسلام کی پہلی مسجد ہونے) سے پہلی بات (حضرت ابوبکر کے نبی جمع میں مسجد بنانے )کی نفی ہوتی ہے اور اس قول سے کہ سب سے پہلی مسجد عمار نے بنائی دوسری بات (مسجد قبا کے اسلام کی پہلی مسجد ہونے) کی نفی ہوتی ہے جیساکہ وہاں صریحا کہا گیا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے گھر میں ایک مسجد بنائی جس میں وہ عبادت کیا کرتے تھے_(۵)
پانچواں نکتہ: حضرت ابوبکر کو بنی جمح میں مسجد بنانے کی کھلی چھٹی کیسے ملی؟ بنی جمح والوں نے اس خطرے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ تیمیوںنے حضرت ابوبکر کی ان عظیم خصوصیات کا کیونکر ادراک نہ کیا اور انہیں (ان کے بقول) ابن دغنہ نے سمجھ لیا تھا؟ کیا صرف ابن دغنہ نے ان صفات کا ادراک کیا؟ نیز قریش نے حضرت ابوبکر کی ان صفات کا لحاظ کیوں نہیں کیا جن کا انہوں نے بعد میں اعتراف کیا اور کیوں حضرت ابوبکر کو نکل جانے دیا؟ بلکہ ان کو اذیتیں ہی کیوں دیں_
___________________
۱_ کشف الاستار عن مسند البزار ج ۳ ص ۱۶۳ در مجمع الزوائد ج ۹ ص ۴۰_
۲_ وفاء الوفاء ج ۱ص ۲۵۰اورالسیرة الحلبیة ج ۲ص ۵۵ _
۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ص ۵۵، طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۷۸،۱۷۹، تاریخ ابن کثیر ج ۷ص ۳۱۱اور الغدیر ج ۹ص ۲۰ _
۴_ سیرة الحلبیہ ج ۲ص ۵۵، وفاء الوفاء ج ۱ص ۲۵۰ _
۵_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۷۸اور البدایة و النہایة ج ۷ص ۳۱۱ اور ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۵۵ کیونکہ اس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ یہ مسجد، بنانے والے کے ساتھ مخصوص تھی_
عثمان بن مظعون کی فضیلت کی چوری
ہمیں ظن قوی حاصل ہے کہ بعض لوگوں نے عثمان بن مظعون کی فضیلت کو حضرت ابوبکر کیلئے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ مورخین کے بقول جب عثمان بن مظعون ہجرت حبشہ کے دوماہ بعد وہاں سے لوٹنے والوں کے ساتھ لوٹے تو خلاف توقع یہ مشاہدہ کیا کہ مشرکین اوررسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا مسئلہ جوں کاتوں ہے تو وہ ولیدبن مغیرہ کی امان میں داخل مکہ ہوئے_
لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو مصائب وتکالیف میں مبتلا دیکھاجبکہ خود انہیں امان حاصل تھی تو یہ بات ان پر شاق گزری _بنابریں وہ ولید کے پاس گئے اور اس کی امان میں رہنے سے انکار کردیا_ ولید نے کہا:''اے بھتیجے کیا تجھے میری قوم کے کسی فردنے ستایا ہے؟ ''بولے:'' نہیں بلکہ میں ترجیح دیتا ہوں کہ خدا کی پناہ میں رہوں اور اس کے سوا کسی سے پناہ نہ مانگوں ''_ولیدنے کہا پس مسجدجاؤ اور میری پناہ سے نکلنے کا اعلانیہ اظہار کرو جس طرح میں نے تجھے اعلانیہ پناہ دی ہے''_چنانچہ وہ اس کے ساتھ مسجد گئے اور مسجد میں اس کی امان سے نکل جانے کا اعلان کیا_(۱)
قریش کی مایوسانہ کوشش
جب قریش ہجرت حبشہ کے سبب لگنے والے اچانک دھچکے سے کچھ سنبھل گئے اور دیکھا کہ مسلمان حبشہ میں بس گئے ہیں اور وہاں امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں،(۲) تو انہوں نے سازش کی اور یہ فیصلہ کیا کہ دو آدمی مہاجرین کو لوٹانے کیلئے روانہ کئے جائیں _اس سلسلے میں ان کی نظر انتخاب عمرو بن عاص پرپڑی اور بقولے عمارہ بن ولیدبھی منتخب ہوا _چنانچہ قریش نے ان دونوں کو نجاشی اور اس کے سرداروں کیلئے تحائف کے ساتھ حبشہ بھیجا (راستے میں عمارہ اور عمرو کے درمیان ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جو عمرو بن عاص کی بیوی
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۲اس واقعے کا ذکر تاریخ کی متعدد بنیادی کتابوں میں ہوا ہے بنابرین تعداد کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے_
۲_ سیرت مغلطای ص ۲۲ _
اور عمارہ کے درمیان عاشقی سے مربوط ہے عمرو نے مناسب موقع پر عمارہ کو پھنسانے کیلئے وقتی طور پر چشم پوشی کرلی) ان دونوں نے نجاشی کے پاس یہ دعوی کیا کہ ہمارے کچھ سر پھرے جوانوں نے تمہاری سرزمین میں پناہ لی ہے انہوں نے اپنے آبائی دین کو خیر باد کہہ دیا ہے اور تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں _وہ ایک جدید اور خودساختہ دین کے پیرو بن گئے ہیں جو تمہارے دین کے مطابق ہے نہ ہمارے_ ہمیں ان کی قوم کے بزرگوں نے (جن میں ان کے باپ، چچے اور اہل قبیلہ شامل ہیں) تمہاری خدمت میں بھیجا ہے تاکہ تم ان لوگوں کو واپس بھیج دو_
نجاشی نے عمرو اور عمارہ کے مدعا کے بارے میں تحقیق کرنے سے پہلے مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا _چنانچہ مسلمان حاضر کئے گئے اور نجاشی نے ان سے سوالات کئے_ اس کے جواب میں جناب جعفر بن ابوطالبعليهالسلام نے فرمایا:''اے بادشاہ ہم جاہل اور بت پرست تھے، مردار کھاتے تھے، بدکاریوں میں مشغول رہتے تھے، قطع رحم کرتے تھے، ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، اور کمزوروں کے حقوق کو پامال کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ایک شخص کورسول بناکر بھیجا _ہم اس کے نسب، اس کی صداقت، امانت اور پاکدامنی سے خوب آگاہ ہیں_اس نے ہمیں خدا کی طرف بلایا تاکہ ہم اس کی وحدانیت کا اقرار کریں، اس کی عبادت کریں، اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور جن پتھروں اور بتوں کی پوجا ہم اور ہمارے آباء واجداد کرتے تھے انہیں ترک کریں_
اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے، ہمسائے کے ساتھ نیکی کرنے اور حرام چیزوں اور خونریزی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا _اس نے ہمیں بدکاری کرنے، جھوٹ بولنے ، یتیموں کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر ناروا الزام لگانے سے منع کیا اور حکم دیاکہ ہم خدائے واحد کی عبادت کریں، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نماز، زکواة اور روزہ کا بھی حکم دیا ''_(۱)
___________________
۱_ مختلف منابع میں زکوة اور روزے کا ذکر ہوا ہے_ رجوع کریں سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۰ و السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ ص ۲۱، الکامل ابن کثیر ج ۲ص ۸۰ (اس نے زکوة کا ذکر نہیں کیا)، نیز اعلام الوری ص ۴۴ (روزہ کے ذکر کے بغیر)، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۹۰، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۳۴۰ (بقیہ مآخذ کا ذکر نماز اور زکوة کے مدینے میں واجب ہونے کی بحث کے دوران ہوگا_ غزوہ بدر کے ذکر سے پہلے)_
اس کے بعد حضرت جعفرعليهالسلام نے نجاشی کے دربار میں سورہ کہف کی بعض آیات کی تلاوت کی جنہیں سن کر نجاشی روپڑا یہاں تک کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی _نیز وہاں موجود پادری بھی روئے ،اس کے بعد نجاشی نے کہا:'' بے شکیہ کلام اور وہ کلام جوعیسیعليهالسلام لے آئے دونوں ایک ہی نورانی سرچشمہ سے پھوٹے ہیں_ تم دونوں چلے جاؤ خدا کی قسم میں انہیں تمہارے حوالے نہیں کروں گا''_
دوسرے دن عمرو نجاشی کے پاس یہ بتانے گیا کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق عیسیعليهالسلام بن مریم انسان ہیں_ نجاشی نے مسلمانوں کو بلاکر پوچھا تو حضرت جعفرعليهالسلام نے اس سے کہا: '' ہم عیسیعليهالسلام کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کہا ہے ،وہ بندہ خدا ہیں اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ، اس کی روح اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے خدانے پاکدامن مریم کو عطاکیا''_ یہ سن کر نجاشی نے کہا خدا کی قسم عیسیعليهالسلام کا مقام اس سے زیادہ نہ تھا جو تم نے بیان کیا بادشاہ کی بات کو درباریوں اور امراء نے نا پسند کیا،لیکن نجاشی نے کہا :''اگرچہ یہ بات تم لوگوں کو پسند نہ آئے''_ پھر (مسلمانوں سے) کہا :'' جاؤ تمہیں امان حاصل ہے جس نے تمہاری برائی بیان کی وہ خسارے میں رہا''_ یہ بات اس نے تین بار دہرائی پھر بولا :''میں سونے کے ایک پہاڑ کے بدلے بھی تم میں سے کسی ایک کو ستانا قبول نہیں کروں گا''_ اس کے بعد نجاشی نے قریش کے تحائف واپس کردیئے_
نوٹ: کچھ لوگ اس روایت کے جعلی ہونے کا احتمال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں روزے کا ذکرہے حالانکہ روزہ مدینہ میں واجب ہوا_(۱)
لیکن یہ احتمال باطل ہے کیونکہ روزہ، اور زکواة وغیرہ کا حکم مکہ میں ہی نازل ہوا انشاء اللہ ہجرت کے بعد کے واقعات میں اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے اور ثابت کریں گے کہ مذکورہ نظریہ (کہ روزہ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا) باطل ہے لہذا فی الحال اس مسئلے پر بحث نہیں چھیڑتے کیونکہ مورخین اس کا تذکرہ وہاں کرتے ہیں_
___________________
۱_ فجر الاسلام( احمد امین) ص ۷۶_
محقق محترم روحانی صاحب کانظریہ ہے کہ احمد امین اور اس کے ہم خیال افراد کی بے بنیاد تحقیقات کا اصلی مقصداس پہلو کو مشکوک کرنا ہے جس سے حضرت جعفرعليهالسلام کی مردانگی، جرا ت، حکمت، عقل اور ہوش کا اظہار ہوتا ہے_
اس قسم کی نا انصافی حضرت جعفرعليهالسلام کے بارے میں دوسرے مقام پر بھی ہوئی ہے یعنی جنگ موتہ میں سپہ سالار ہونے کے بارے میں _کچھ لوگوں کو اس بات سے نہایت دلچسپی ہے کہ حضرت جعفر کی بجائے زید بن حارثہ کو لشکر اسلام کا پہلا سپہ سالار ثابت کرسکیں_
وجہ صرف یہ ہے کہ حضرت جعفرعليهالسلام حضرت علیعليهالسلام کے بھائی ہیں، اس سلسلے میں ہماری کتاب ''دراسات وبحوث فی التاریخ والاسلام''کی جلداول میں اس مقالے کی طرف رجوع کریں جس کا موضوع ہے جنگ موتہ کا پہلا سپہ سالار کون تھا؟_
قریش اور مستقبل کے منصوبے
حقیقت یہ ہے کہ ہجرت حبشہ قریش کیلئے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی جس نے ان کے اوسان خطا کردیئے اور ان کے وجود کو ہلاکر رکھ دیا_ لہذا انہوں نے خطرات کی روک تھام کیلئے کوششیں کیں، چنانچہ قریش نے مسلمانوں کا پیچھا کیا تاکہ انہیں حبشہ سے لوٹاکر اپنے زیر تسلط رکھیں، لیکن پانی سر سے گزرچکا تھا_ جب قریش نے محسوس کیا کہ حالات ان کے قابوسے باہر ہو رہے ہیں تو ان کواپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوئی_ اس کی وجوہات درج ذیل تھیں:
۱) انہوں نے دیکھا کہ مختلف قبائل میں موجود مسلمانوں کو سزائیں دینے کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا بلکہ اس سے الٹا اندرونی اختلافات اور خانہ جنگی کو ہوا لگنے کا احتمال ہے_
یہ بات قریش کی شہرت وعزت کیلئے سخت خطرناک تھی_ نیز ہر قبیلہ اس بات پر بھی راضی نہ تھا کہ وہ اپنے اندر موجود مسلمانوں کاصفایا کرے کیونکہ وہ قبائلی طرزفکر رکھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلے کرتے چلے
آرہے تھے،یہاں تک کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ کے مشن کی مخالفت پر اتفاق کے باوجود بھی قبائلی طرزفکر مذکورہ امرکی راہ میں رکاوٹ بنا رہا_ اس قبائلی طرز تفکر کی یہی مثال کافی ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر قبیلے کے مسلمانوں کو وہی قبیلہ سزادے گا ،کوئی دوسرا قبیلہ مداخلت نہیں کرے گا_
۲) قریش دیکھ رہے تھے کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت ایک عالم گیر پیغام بن کر اُبھر رہی ہے جو مکہ وحجاز کے لوگوں سے مختص نہیں اور مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت فقط سزاؤں سے فرار کرنے کی غرض سے نہ تھی کیونکہ ہجرت کرنے والوں میں بہت سے افراد ایسے تھے جن کو اذیتیں نہیں دی گئی تھیں اور ایک خاص بات یہ تھی کہ مہاجرین مکہ کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے_اس لئے وہ خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے حاصل ہونے والے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے کیونکہ ہر ایک کے لئے واضح ہوگیا تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کا مرجانا اسلام کے خاتمہ کی نشانی نہیں ہے_
۳) قریش یہ بھی مشاہدہ کررہے تھے کہ مسلمانوں کے اس طرح ہجرت کرنے اور انکے تسلط سے خارج ہونے کے نتیجے میں ان کو مستقبل قریب میں ایک ہمہ گیر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اوران کے مفادات کو سخت خطرہ لاحق ہوگا_ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوذر نے تن تنہا قریش کا ناطقہ بندکردیا تھا جب وہ عسفان نامی مقام پر قافلوں کی گزرگاہ پر بیٹھے رہتے اور وہاں سے گزرنے والے کاروانوں کوروکے رکھتے (اور سمجھاتے تھے) یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم رسول اللہ نہ کہہ دیتے_ حضرت ابوذر جنگ احد کے بعد تک اسی روش پر قائم رہے جب حضرت ابوذر نے قریش کے ساتھ اس قدر سختی کی جبکہ وہ جانتے تھے کہ قریش کیلئے ان سے نپٹنا آسان تر تھا کیونکہ وہ قریش کی سرزمین کے اندر موجود تھے _نیز حضرت ابوذر کی جلد گرفتاری اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی بھی آسان تھی اسلئے کہ وہ قریش کے دوستوں اور تابعداروں کے درمیان موجود تھے_ علاوہ برایں حضرت ابوذر ان لوگوں کی نظر میں ایک اجنبی اور انتہا پسند شخص تھے _خلاصہ یہ کہ جب ایک حضرت ابوذر کے سامنے ان کی یہ حالت تھی تو پھر ان مسلمانوں کا (جن کا تعلق خود قریش سے تھا) ان کے تسلط اور اثر ونفوذ سے دور حبشہ میں امن وسکون کے ساتھ رہنا قریش اور ان کے مفادات کیلئے
نہایت خطرناک تھا_ یہ حقیقت قریش کو صبر وحوصلے اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرتی تھی، خصوصاً ان حالات میں جبکہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليهالسلام کی حمایت اور ابولہب ملعون کے علاوہ دیگر ہاشمیوں کی حمایت کی بنا پر وہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کاخاتمہ کرنے یا ان کو خاموش کرنے کی تدبیر نہ کرپاتے تھے_
لہذا انہوں نے نجاشی کے پاس اپنے دو نمائندے بھیجے تاکہ وہ مہاجرین کو واپس بھیج دے لیکن انہیں ناکامی اور سیہ روئی کے ساتھ واپس ہونا پڑا _اس کے بعد قریش نے باقی ماندہ مسلمانوں پر نئے سرے سے مظالم ڈھانے کا سلسلہ شروع کیا_انہوں نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستانے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مذاق اڑانے کیلئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ساحر ومجنون اور کاہن ہونے کی تہمت لگائی نیز مختلف قسم کے نفسیاتی حربوں سے کام لینے لگے_
نجاشی کے خلاف بغاوت
حبشہ میں مسلمانوں کی موجودگی نجاشی کیلئے کئی ایک مشکلات کا سبب بنی، کیونکہ اہل حبشہ نے اس پریہ الزام لگایا کہ وہ ان کے دین سے خارج ہوگیا ہے_ یوں اس کے خلاف بغاوت ہوئی لیکن نجاشی اپنی فہم وفراست کے باعث بغاوت کی آگ بجھانے میں کامیاب رہا اور مسلمان اس کے پاس نہایت امن وسکون کی زندگی گزارتے رہے ،یہاں تک کہ وہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ چلے گئے (جس کا آگے چل کر تذکرہ ہوگا)_
محمد بن اسحاق نے امام جعفر صادقعليهالسلام سے اور انہوں نے اپنے والد گرامیعليهالسلام سے نقل کیا ہے کہ حبشہ والوں نے مل کر نجاشی سے کہا کہ تم ہمارے دین سے نکل گئے ہو اس طرح انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی_ نجاشی نے حضرت جعفر اور دیگر مہاجرین کیلئے کشتیوں کا بندوبست کیا اور کہا :'' ان میں سوار ہوجاؤ اور بدستور یہیں رہو اگر مجھے شکست ہوئی تو جہاں چاہو چلے جاؤ لیکن اگر مجھے کامیابی ہوئی تو یہیں رہو'' اس کے بعد وہ باغیوں کے پاس گیا اور ان سے بحث کی ،نتیجتاً وہ متفرق ہوکر چلے گئے_(۱)
___________________
۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۵و البدایة و النہایة ج۳ص ۷۷و سیرت حلبی ج ۲ص ۲۰۲_
یہ واقعہ قریش کی طرف سے عمرو اور عمارہ کو حبشہ بھیجنے سے پہلے کا ہے کیونکہ نجاشی نے ان دونوں سے کہا تھا، خداکی قسم اس (اللہ ) نے مجھے حکومت واپس کردی لیکن مجھ سے اس کے بدلے کچھ نہیں لیا_ اس نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی پس میں اس کے بارے میں لوگوں کی بات کیونکرمانوں؟ ان کے تحائف واپس کردو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں اور تم دونوں میری سرزمین سے نکل جاؤ پس وہ دونوں بے آبرو اور ناکام ہوکر واپس لوٹے_(۱)
بعض مہاجرین کی واپسی
حبشہ میں مسلمانوں کو خبر ملی کہ مکہ میں وقتی طورپر صلح ہوگئی ہے _ادھر مسلمانوں نے یہ بھی دیکھاکہ ان کے باعث نجاشی کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے_ چنانچہ بعض مسلمانوں نے دو یا تین ماہ بعد مکہ واپسی کی ٹھانی اورتیس سے زیادہ افراد واپس ہوئے جنمیں سے عثمان بن مظعون کو ولید بن مغیرہ نے پناہ دی _ حضرت عثمان کی طرف سے ولید کی پناہ سے نکل جانے اور امان الہی پر اکتفا کرنے کا واقعہ گزرچکا ہے_
حبشہ سے بعض مسلمانوں کی واپسی کی وجہ صرف یہی تھی نہ افسانہ غرانیق جسے اسلام دشمنوں نے گھڑا ہے اورہم اس پر بحث کرنے والے ہیں_
غرانیق کا افسانہ(۲)
اس خودساختہ کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے دوماہ بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے مشرکین کے ساتھ ایک نشست رکھی_ اتنے میں خداکی طرف سے سورہ نجم نازل ہوئی ،آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی تلاوت شروع کی یہاں
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۵از ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۲ _
۲_ غرانیق غرنوق کی جمع ہے یعنی آبی پرندے چونکہ پرندے بہت بلندی پر پرواز کرتے ہیں اسلئے بتوں کو ان سے تشبیہہ دی گئی ہے تاکہ بتوں کی عظمت ظاہر ہو نیز غرنوق سفید اور خوبصورت جوانوں کو بھی کہتے ہیں_
تک کہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس آیت پر پہنچے( افرا یتم اللات والعزی ومناة الثالثة الاخری ) تو شیطان نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دل میں دوباتیں ڈالیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں باتوں کو وحی الہی سمجھتے ہوئے زبان پر جاری کردیا_وہ دو جملے یہ ہیں( تلک الغرانیق العلی وان شفاعتهن لترتجی ) یعنی یہ بلند مرتبہ غرانیق ہیں جن کی شفاعت مقبول ہے_ اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بقیہ آیات پڑھیں جب سجدے والی آیت پر پہنچے توآپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سجدہ کیا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مسلمانوں اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا لیکن ولیدبن مغیرہ نے بڑھاپے یا بقولے تکبر کی بناء پر سجدہ نہ کیا_ اس نے کچھ مٹی اٹھاکر اپنی پیشانی کے قریب کی اور اس پر سجدہ کیا_ ایک قول کی بنا پر یہ شخص سعید بن عاص تھا نیز کہا گیا ہے کہ وہ دونوں تھے،ایک اور قول کی رو سے وہ شخص امیہ بن خلف تھا ،ابولہب اور مطلّب کے بارے میں بھی اقوال موجود ہیں_
بخاری نے مسلمانوں کے ساتھ جنوں اور انسانوں کے سجدے کا بھی ذکر کیا ہے_جب یہ خبر مکہ میں پھیلی تو مشرکین نے خوشی منائی یہاں تک کہ بقولے انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کوکاندھوں پر اٹھاکر پورے مکے کا چکرلگایا_
جب رات ہوئی تو حضرت جبریل آئے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مذکورہ سورہ دہرایا اوران دوجملوں کو بھی پڑھا حضرت جبریل نے ان کی نفی کی اور کہا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خداسے وہ چیز منسوب کی ہے جو اس نے نہیں فرمائی اس وقت خدانے یہ آیت نازل کی( وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره واذا لاتخذوک خلیلا ولولا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شیئا قلیلا اذا لاذقناک ضعف الحیاة وضعف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیرا ) یعنی یہ لوگ کوشاں تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہماری وحی سے ہٹاکر دوسری باتوں کے افتراء پر آمادہ کریں وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دوستی گھڑلیتے اگر ہماری توفیق خاص نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ضرور ہوتے پھر ہم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دنیا کی زندگی اور موت دونوں مرحلوں پر دوھرا مزا چکھاتے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگارنہ پاتے_
اس افسانے کی صحت پر درج ذیل آیت سے استدلال کیا گیا ہے (اور دعوی کیا گیا ہے کہ آیت اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہے)_
ارشاد رب العزت ہے:
( وما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبيّ الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیته فینسخ الله مایلقی الشیطان ثم یحکم الله آیاته والله علیم حکیم لیجعل مایلقی الشیطان فتنة للذین فی قلوبهم مرض ) یعنی اور ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پہلے کوئی رسول یا نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزؤوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی لیکن خدانے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹوں کو دور کردیا اور اپنی آیات کو مستحکم بنادیا ،وہ نہایت جاننے والا اور صاحب حکمت ہے تاکہ وہ شیطانی القاء کو امتحان قراردے ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے_
بعض حضرات کے نزدیک اس واقعے کی بعض اسانید درست ہیں_(۱)
کہتے ہیں کہ جب حبشہ میں مسلمان مہاجرین نے یہ سنا کہ مکہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان موافقت اور صلح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ واپس مکہ آگئے لیکن دیکھا کہ صورت حال برعکسہے _ لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ روایت جھوٹی اور جعلی ہے بہت سے علماء اس نظریئے میں ہمارے ہم خیال ہیں_
جب محمد بن اسحاق سے اس بارے میں سوال ہوا تو اس نے جواب دیا اس کو زندیقوں نے گھڑا ہے_ موصوف نے اس کی رد میں ایک الگ کتاب بھی لکھی ہے_(۲)
قاضی عبدالجبار نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہے ،اس قسم کی احادیث ملحدین کی سازش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوسکتیں_(۳)
___________________
۱_ رجوع کریں: الدر المنثور ج ۴ص ۱۹۴، ص ۳۶۶اور ص ۳۶۸، السیرة الحلبیة ج۱ص ۳۲۵اور ۳۲۶، تفسیر طبری ج ۱۷ص ۱۳۱اور ۱۳۴، فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳اور بخاری نے بھی اصل واقعے کی طرف ایک سے زیادہ بار اشارہ کیا ہے نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۰میں بھی مذکور ہے_ سیوطی نے در منثور میں بعض اسانید کی صحت کی تصریح کی ہے_ رجوع کریں لباب النقول اور تفسیر طبری_ مختلف تفاسیر میں بھی یہ واقعہ موجود ہے (مذکورہ آیت کی تفسیر کے ضمن میں) بنابریں مآخذ کی تعداد بیان کرنے کی ضرورت نہیں_
۲_ رجوع کریں البحر المحیط ( ابی حیان) ج ۶ص ۳۸۱ _
۳_ تنزیہ القرآن عن المطاعن ص ۲۴۳ _
ابوحیان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی کتاب کو اس قصے کے ذکر سے پاک رکھا ہے_(۱)
بیضاوی نے اس کی اسناد پر اعتراض کرتے ہوئے اسے رد کیا ہے نیز بیہقی، نووی، رازی، نسفی، ابن عربی اور سید مرتضی کا بھی یہی نظریہ ہے_ تفسیر خازن میں لکھا ہے صاحبان علم نے اس واقعے کوبے بنیاد قرار دیا ہے_(۲)
عیاض کہتے ہیں کہ معتبراحادیث نقل کرنے والوں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی ثقہ نے اسے درست اور مدلل سندکے ساتھ نقل کیا ہے _ اس قسم کی روایات سے دلچسپی ان مفسرین اور مورخین کو ہے جو ہر قسم کی ضعیف روایت سے بھی شغف رکھتے ہیں اور کتابوں سے ہر صحیح وسقیم روایت کو نقل کرتے ہیں_
قاضی بکربن علاء مالکی نے سچ کہا ہے کہ لوگ بعض ہوا پرست مفسروںکے ہاتھوں پھنس گئے اور ملحدین بھی اسی سے چمٹ گئے حالانکہ اس حدیث کے راوی ضعیف اور اس کی اسناد مبہم و منقطع ہیں، نیز اس کے کلمات میں بھی تضاد ہے_(۳)
ہم اس بات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ:
۱) سعید بن جبیر کی سند کے علاوہ اس واقعے کی تمام اسناد یا تو ضعیف ہیں یا منقطع ہیں_(۴) سعید کی روایت بھی مرسل ہے اور اکثر محدثین کے نزدیک مرسل کا شمار بھی ضعیف احادیث میں ہی ہوتا ہے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ راوی نے اسے غیر ثقہ افراد سے نقل کیا ہو_(۵)
علاوہ برایں اگر ہم حدیث مرسل سے استدلال کو صحیح قرار دے بھی دیں تو اس کا فائدہ فقط فرعی مسائل میںہوگا اعتقادی امور میں نہیں_ جبکہ یہاں ہماری بحث اعتقادی مسئلے میں ہے جسں میں قطعی دلیل کی
___________________
۱_ تفسیر البحر المحیط ج ۲ص ۳۸۱ _
۲_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۹۱، الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۳۰، الرحلة المدرسیة ص ۳۸، فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ اور تفسیر رازی ج ۲۳ص ۵۰ _
۳_ الشفاء ج ۲ص ۱۲۶، مطبوعہ عثمانیہ اور المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۵۳_
۴_ فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ _
۵_ رجوع کریں مقدمہ ابن صلاح ص ۲۶ _
ضرورت ہے_ ان باتوں سے قطع نظر اس قصے کے اسناد کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اسناد یا کسی تابعی پر ختم ہوتی ہیں یا ایسے صحابی پر جواس واقعہ کے بعد پیدا ہوا ہے اگر ہم اس حدیث کے سلسلے کو متصل بھی قرار دیں تب بھی اس حدیث کو رد کرنے اور اس کے جعلی اور جھوٹی ہونے پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ عقل سلیم کے خلاف ہے اوریہ اعتراض قسطلانی، عسقلانی اور ان لوگوں پر وارد ہوتا ہے جنہوں نے اسے صحیح گردانا ہے اور کثرت اسناد کے بہانے اسے معتبر سمجھا ہے_(۱)
۲) مضامین کا اختلاف_ سجدہ نہ کرنے والے کے بارے میں اختلاف کا ذکر تو پہلے گزرچکا ہے یہاں ہم مزید اختلافات اور تضادات کی طرف اشارہ کریں گے; مثلاً کبھی کہا گیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حالت نماز میں مذکورہ جملے ادا کئے اور کبھی کہا گیا ہےکہ قریش کی مجلس میں، نیز اس میں بھی اختلاف ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان الفاظ پر فقط غور کیا یا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان پر جاری بھی ہوئے؟ نیز اختلاف ہے کہ شیطان نے ان کو خبردی تھی ، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ایسا فرمایا، یا یہ کہ مشرکین نے اسے پڑھا_
علاوہ ازیں کبھی کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پڑھتے وقت اس طرف متوجہ بھی تھے اور کبھی یہ کہ آپ شام تک متوجہ ہی نہیں ہوئے_ کلاعی نے تو یہ کہا ہے کہ حقیقت حال اتنی جلدی منکشف نہ ہوئی بلکہ بات اس وقت واضح ہوئی جب حبشہ میں مسلمانوں کو خبر ملی کہ مکہ میں مسلمانوں کو امان حاصل ہوگئی ہے چنانچہ حبشہ سے مسلمان واپس آگئے پھر شیطان کی طرف سے القاء شدہ جملوں کے منسوخ ہونے کے بارے میں آیت اتری اور جب خدانے اپنا حکم واضح کیا تو مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ سخت کرلیا_(۲) اسلئے کہتے ہیں: دروغگو را حافظہ نباشد_
۳) اس افسانے سے نہ صرف سہو و خطا سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معصوم ہونے کی نفی ہوتی ہے( خصوصاً تبلیغ کے بارے میں) جس پر امت کا اجماع ہے اور قطعی دلائل قائم ہیں بلکہ اس افسانے سے (نعوذ باللہ ) پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارتدادبھی لازم آتا ہے_ خدا ہمیں اس قسم کے گمراہ کن نظریات سے بچائے_
___________________
۱_ فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۶اور سیرت مغلطای ص ۲۴از المواہب اللدنیة ج۱ ص ۵۳_
۲_ رجوع کریں: الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۲/۳۵۳_
۴)یہ واقعہ اس آیت کے منافی ہے( ان عبادی لیس لک علیهم سلطان ) (۱) یعنی اے شیطان تجھے میرے برگزیدہ بندوں پر تسلط حاصل نہ ہوگا _نیز اس آیت سے بھی متصادم ہے( انه لیس له سلطان علی الذین آمنوا وعلی ربهم یتوکلون ) (۲) یعنی شیطان کو ان پر تسلط حاصل نہ ہوگا جوایمان لے آئے اور جو اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں_ ہاں اگر وہ لوگ یہ فرض کرلیں کہ نعوذ باللہ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے برگزیدہ بندوں میں شامل نہیں اور نہ ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں میں، تویہ اور بات ہے، اور ایسا کہنا ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے کے سوا اور کیاہوسکتا ہے؟ جیساکہ صاف ظاہر ہے_
۵) کلاعی صریحاً کہتا ہے کہ جب نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سورہ کے آخر تک پہنچے تو مسلمانوں اور مشرکین سب نے سجدہ کیا اور مسلمانوں نے مشرکین کے سجدے پر تعجب کیا کیونکہ مسلمانوں نے اس چیز کو نہیں سنا تھا جسے شیطان نے مشرکین کی زبان پر جاری کیا تھا حالانکہ خود کلاعی چند سطر قبل صریحاًیہ کہتا ہے کہ شیطان نے ان کلمات کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان پر جاری کیا(۳) اس واضح تناقض کے علاوہ یہ سوال پیش آتا ہے کہ مشرکین نے وہ بات کیونکر سنی جو شیطان نے نعوذ باللہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان پر جاری کی تھی جبکہ مسلمانوں نے نہیں سنی؟ حالانکہ وہ بھی ان کے ساتھ تھے پھر تو لازمی طورپر مسلمانوں کی نسبت کافررسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے قریب تر ہوئے ؟ _
۵) ساری مذکورہ آیات ممکن ہی نہیں کہ ان روایات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہوں کیونکہ:
الف:سورہ نجم کی آیات میں خدانے مشرکین کے بتوں (لات، منات، عزی) کے بارے میں کہا ہے( ان هی اسماء سمیتموها انتم وآباء کم ما انزل الله بها من سلطان ان یتبعون الا الظن وما تهوی الانفس ولقد جائهم من ربهم الهدی ) (۴) یعنی یہ نام توصرف تم اور تمہارے آباء نے رکھے ہیں
___________________
۱_ سورہ اسراء آیت ۶۵_
۲_ سورہ نمل آیت ۹۹_
۳_ رجوع کریں: الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۲_
۴_ سورہ نجم آیت ۲۳_
خدانے اس کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی درحقیقت وہ تو بس ظن وگمان اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں جبکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے ہاں ہدایت آچکی ہے_
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کی اس قدر تند لہجے میں مذمت پر کیوں راضی ہوئے اور پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات سے خوش ہوکر سربسجودبھی ہوگئے؟ انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام میں اس واضح تضاد کوکیوں محسوس نہیں کیا یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور بات یہاں تک آن پہنچی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اٹھاکر پورے مکہ میں یہ کہتے ہوئے چکر لگایا کہ یہ بنی عبد مناف کا نبی ہے_
دوسرا سوال یہ ہے کہ خود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اس واضح تضاد کو کیوں نہ سمجھ سکے اور رات تک غافل رہے یہاں تک کہ جبریل آئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس تضاد سے آگاہ کیا؟ کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس دوران (نعوذ باللہ) غائب دماغ رہے تھے یا (نعوذ باللہ ) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذہن کام نہیں کر رہا تھا؟_
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ اسی سورہ نجم کی اس آیت سے منافات نہیں رکھتا جس میں قسم اٹھانے کے بعد فرمایا گیا ہے( وما ینطق عن الهوی ان هو الاوحی یوحی ) یعنی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گفتگو خواہشات کے تابع نہیں بلکہ نازل شدہ وحی ہوتی ہے_ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ اس صورت میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی خواہش کے مطابق بات کریں بلکہ شیطان کی طرف سے القاء شدہ جملوں کو خدا کی طرف سے نازل شدہ آیات کے طور پر دہرائیں؟ جبکہ فرمان الہی ہے:( ولو تقوّل علینا بعض الاقاویل لاخذنا منه بالیمین ثم لقطعنا منه الوتین ) (۱) (اگر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتاتو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑلیتے اور پھر اس کی گردن اڑادیتے) پس خدا نے مذکورہ جملوں کے گھڑنے پرکوئی اقدام کیوں نہیں کیا(۲) اگر یہ آیت سورہ نجم کے بعد اتری ہو تو پھر بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ آیت ایک قاعدہ کلیہ اور قانون بیان کر رہی ہے نہ یہ کہ ایک خارجی واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہو اور بس_
___________________
۱_ سورہ الحاقّہ آیت ۴۴_۴۶_
۲_ یہ اس صورت میں ہے کہ آیت میں تقوّل سے مراد صرف جان بوجھ کر جھوٹ بولنا نہ ہو کیونکہ آیت میں تقول کا لفظ آیا ہے اور تقول کا مطلب ہے کہ جان بوجھ کر کوئی بات گھڑی جائے_
ب: رہی آیہ تمنّی تو وہ سورہ حج میںہے جو سب کے نزدیک مدنی ہے _بالخصوص اس میں لوگوں کیلئے اعلان حج ،نیز جنگ وجہاد کا حکم ہوا ہے، مسجد حرام کا راستہ روکنے کا بھی تذکرہ ہوا ہے اور یہ ساری باتیں ہجرت کے بعد کی ہیں _کچھ احکام تو ہجرت کے کئی سال بعد کے بھی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ ابن عباس، قتادہ اور ابن زبیر وغیرہ نے بھی اسے مدنی قرار دیا ہے _
اگر یہ مدنی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غرانیق والے افسانے کے سالہا سال بعد یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ غرانیق کا واقعہ بعثت کے پانچویں سال سے منسوب ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تسلی دینے میں سالہا سال تک تاخیر فرمائے؟
علاوہ ازیں آیت کا مفہوم بھی اس واقعے کے ساتھ بالکل ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ تمنّی کا مطلب کسی مرغوب اور پسندیدہ امر کی خواہش ہے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم گرامی فقط اسی چیز کی خواہش کرسکتے ہیں جو ایک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیثیت سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذمہ داریوں کے مناسب ہو_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم جیسے انسانوں کی سب سے بڑی خواہش حق وہدایت کی ترویج اور باطل کی سرکوبی ہوتی ہے_ شیطان اپنی گمراہی کے باعث لوگوں کے دلوں میں ایسے وسوسے ڈالتا ہے جو اس نیک خواہش کو دھندلاکر دکھاتاہے ،یوں جن کے دلوں میں مرض ہو وہ اس آزمائشے میں گرفتار ہو جاتے ہیں جیساکہ شیطان نے امت موسیعليهالسلام کے دلوں میں وسوسہ ڈالا، لیکن خدا ہدایت کے نور سے شیطانی وسوسوں کو دور کرتا ہے اور عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے حق کو واضح کرتا ہے_
اور اگر ان لوگوں کے بقول تمنا سے مراد تلاوت لی جائے تو تمنی کا یہ معنی بہت نادر، خلاف قاعدہ اور انوکھا ہوگا جو وضع لغوی کے بھی مخالف ہوگااور ظاہر لفظ کے بھی _ آخر کس نے اب تک '' تمنا'' کا معنی '' پڑھنا'' کیا ہے؟ ہمیں تو کوئی شک نہیں کہ اس خیالی واقعہ کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لئے اس آیت کی مذکورہ تفسیر گھڑی گئی ہے _ اور اسی طرح حسان بن ثابت سے منقول شعر(۱) بھی اسی مقصد کے لئے گھڑا گیا ہے _
___________________
۱_ تنزیہ الانبیاء کے ص ۱۰۷ میں حسان سے یہ شعر منسوب ہے :
تمنی کتاب الله اوّل لیلة و آخره لاقی حمام المقادر
جبکہ ممکن ہے کہ یہاں تمنی سے مراد محبت اور شوق ہو_
اور تاریخ کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں _ اور اگر تمنا کا معنی تلاوت بھی لے لیں تو اس آیت کا مطلب وہی ہوگا جو سید مرتضی نے فرمایاہے_
سید مرتضی فرماتے ہیں کہ اگر مراد تلاوت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی قوم کیلئے آیات کی تلاوت کی تو قوم نے ان میں تحریف کی اور کمی بیشی کے مرتکب ہوئے_ جس طرح یہودی اپنے نبی پر جھوٹ باندھتے ہوئے اس امر کے مرتکب ہوئے تھے اس صورت میں اسے شیطان کی طرف منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ درحقیقت دلوں میں وسوسہ ڈالنے والا وہی شیطان ہے لیکن خدا اس وسوسے کو اپنی دلیلوں کے ذریعے زائل اور باطل کردیتا ہے_(۱)
ج: سورہ اسرا کی آیات( وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره ) کے بارے میں ان لوگوں کا یہ دعوی کہ یہ آیات غرانیق کے مسئلے میں نازل ہوئیں تو یہ بھی غیرمعقول قول ہے کیو نکہ ان آیا ت کا اس واقعے سے کوئی ربط نہیں بلکہ ان کے درمیان منافات ہے پس ان آیات کا شان نزول مذکورہ واقعہ کیسے ہوسکتا ہے؟
آیات کہتی ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کی طرف مائل نہیں ہوئے بلکہ اس امر کے قریب بھی نہیں ہوئے اور اللہ نے ان کو ثابت قدم رکھا نیزاگران کی طرف مائل ہوتے تو خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سزادیتا جبکہ غرانیق کاافسانہ کہتا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نہ صرف مائل ہوئے بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبول بھی کیا اور (نعوذ باللہ ) خدا پر جھوٹ باندھا اور جو بات خدا کی طرف سے نہ تھی اسے قرآن میں داخل کرلیا_
آیت کا مقصود تو یہ ہے کہ مشرکین نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے انہوں نے حضرت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوطالب کے ساتھ متعدد مذاکرات بھی کئے _پس بعید نہیںکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کو کچھ مہلت دینے کا سوچاہو تاکہ غور کریں اور باطل کو چھوڑ دیں پس یہ آیت نازل ہوئی تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر واضح کردے کہ ان کو مہلت دینے میں مصلحت نہیں بلکہ مصلحت سختی کرنے میں ہے_
ان تمام دلائل سے قطع نظر وہ کہتے ہیں کہ سورہ اسرا کی مذکورہ آیات بنی ثقیف کے بارے میں اس وقت
___________________
۱_ تنزیہ الانبیاء ص ۱۰۷ ، ۱۰۸_
اتریں جب انہوں نے قبول اسلام کیلئے ایسی شرائط پیش کیں جو ان کے مقام کو بلند کریں_ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیات قریش کے بارے میں اتریں جب انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو حجر اسود مس کرنے سے روکا_ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئیں جب انہوں نے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مطالبہ کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم شام چلے جائیں_(۱) قاضی بیضاوی نے یہی آرا ء بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے_
۶) آخری نکتہ یہ ہے کہ مشرکین نے خدا کا قول (فاسجدوا للہ واعبدوا) سن کر کیونکر سجدہ کیا؟ جبکہ وہ اللہ تعالی کیلئے سجدہ کرنے کے قائل نہیں تھے، چنانچہ ارشاد باری ہے( اذا قیل لهم اسجدو للرحمان قالوا وما الرحمان ا نسجد لما تأمرنا وزادهم نفورا ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کیلئے سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمان کیا چیزہے؟ کیا ہم اس چیز کیلئے سجدہ کریں جسکا تو ہمیں حکم دیتا ہے؟ اسطرح انکی نفرت میں مزید اضافہ ہوتا ہے_
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ منظر دیکھ کر کسی مسلمان کا ایمان متزلزل کیوں نہیں ہوا؟ یاوہ دین سے خارج کیوں نہیں ہوا جبکہ وہ دیکھ رہا ہو کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ (نعوذ باللہ ) اصنام کی تعریف کر رہے ہیں اور ان کی شفاعت کو مقبول قرار دے رہے ہیں؟(۲)
مسئلے کی حقیقت
یہاں مسئلے کی حقیقت کچھ یوں معلوم ہوتی ہے (جیساکہ نقل ہوا ہے) کہ جب حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم قرآن کی تلاوت کرتے تو کفار فضول اور غلط باتوں کا سلسلہ شروع کردیتے تاکہ کوئی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات سننے نہ پائے سورہ فصّلت کی آیت ۲۶میں ارشاد ہے:( و قال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوا فیه لعلکم تغلبون ) یعنی کفار آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور شور مچاؤ شایداس طرح سے غالب آسکو_ پس جب
___________________
۱_ رجوع کریں: سیرہ حلبی ج۱ص ۳۲۶نیز الدر المنثور و تفسیر خازن اور تفسیر کی دیگر کتب میں بھی مرقوم ہے_
۲_ رجوع ہو حاشیہ الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۳_۳۵۴_
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سورہ نجم کی تلاو ت کی اور اس مقام( افرایتم اللات و العزی و مناة ثالثة اخری ) پرپہنچے تومشرکین نے حسب معمول مداخلت کرتے ہوئے کہا( تلک الغرانیق العلی ) _(۱)
ہاں اس کے بعدجب کرایہ کے قصہ پردازوں اور کینہ توزوں کی باری آئی تو انہوں نے اپنے شیطانی مفادات کے پیش نظر اس میں مزید پیوند کاری کرتے ہوئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی عصمت کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایااور قرآن میں موجود ہر چیز میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس حدتک جاہل ثابت کرسکیں کہ گویا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم واضح تضادات کو بھی نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ نعوذ باللہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم شیطان کے آگے بھی بے بس تھے، شیطانی وغیر شیطانی امور میں تمیز نہیں کرپاتے تھے_
لیکن ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان باتوں کے مقابلے میں یہی لوگ کہتے ہیں کہ شیطان حضرت عمر کی آہٹ سے بھی ڈرتا تھا(۲) نیز یہ کہ جب سے حضرت عمر مسلمان ہوئے ،شیطان کا ان سے جب بھی سامنا ہوتا تھا تو شیطان منہ کے بل گر پڑتا تھا(۳) یا یہ کہ جس وادی سے حضرت عمر گزرتے تھے شیطان وہاں سے کترا کرنکل جاتا تھا(۴) گویا ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی طرح نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھی ایک شیطان تھا جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اثر انداز ہوتا رہتا تھا_ ان سارے مسائل پر پہلے بحث ہوچکی ہے_
اس کے بعد اسلام دشمن متعصب مستشرقین کی باری آئی انہوں نے ان بے بنیاد باتوں اور افسانوں سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اعتراضات کا نشانہ بنایا_(۵)
___________________
۱_ سیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۸ اور تنزیہ الانبیاء ص ۱۰۷نیز رجوع کریں حاشیہ الاکتفاء (کلاعی) ج۱ص ۳۵۴از سہیلی_ کلبی نے کتاب الاصنام میں نقل کیا ہے کہ قریش یہ جملے اپنے بتوں کی تعریف میں جو کعبہ کے اردگرد رکھے گئے تھے ادا کرتے تھے_
۲_ الریاض النضرہ ج ۲ ص ۱۰۳_
۳_ عمدة القاری ج ۱۶ ص۱۹۶ اور ملاحظہ ہو تاریخ عمر ص ۶۲_
۴_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۱۵ اور اسی کے قریب قریب واقعہ تاریخ عمر ص ۳۵ نیز ص ۶۲ ، الغدیر ج ۸ ص ۹۴ ، مسند احمد ج ۱ ص ۱۷۱، ص ۱۸۲، ص۱۸۷ صحیح بخاری ج۲ ص ۴۴و ص ۱۸۸ اور عمدة القاری ج ۱۶ ص ۱۹۶_
۵_ رجوع ہو تاریخ الشعوب الاسلامیة ص ۳۴از بروکلمان اور کتاب الاسلام ص ۳۵/۳۶ (الفریڈ ھیوم)_
لیکن اللہ نے ان کی کوششوں کوناکام بنادیا(۱) یوں وہ اپنے مکر وفریب کے جال میں خود پھنس کررہ گئے کیونکہ حق صبح کی طرح روشن اور شرافت ونجابت وپاکیزگی اور عصمت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سورج کی طرح تابناک ہے_
___________________
۱_ قابل ذکر ہے کہ سلمان رشدی نے بھی استعماری طاقتوں کی پشت پناہی اور سازش کے سائے میں رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حق میں تاریخی بے ادبی کرتے ہوئے شیطانی آیات نامی کتاب لکھی_ اس کتاب میں ان بے بنیاد روایات اور افسانوں سے بھی مدد لی گئی ، تمام باطل قوتیں حق کو مسخ کرنے کیلئے متحد ہوئیں لیکن علیعليهالسلام کے لال روح اللہ خمینی بت شکن کے ایک جملے نے عصر حاضر کے شیاطین کے مکر و فریب کو خاک میں ملا دیا _( مترجم)
تیسری فصل
شعب ا بوطالب تک کے حالات
حضرت حمزہعليهالسلام کے قبول اسلام کی تاریخ میں اختلاف
کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے بعثت کے دوسرے سال اسلام قبول کیا، کبھی یہ کہتے ہیں کہ ارقم کے گھر میں حضوراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تشریف فرما ہونے کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ دونوں باتیں آپس میں منافات رکھتی ہیں کیونکہ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں ارقم کے گھر تشریف لے گئے تھے_ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ عمر سے تین روز قبل مسلمان ہوئے جبکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ارقم کے گھر سے نکلے_ اور اس میں بھی واضح تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں صرف ایک ماہ کیلئے حضرت ارقم کے گھر میں رہے (جیساکہ کہا گیا ہے ...اور آئندہ اس کا بھی ذکرہوگاکہ حضرت عمر حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے کئی سال بعد اسلام لائے)_
حضرت حمزہ کا قبول اسلام
ابن ہشام اور دوسروں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا یعنی بعثت کے تقریبا چھٹے سال_ ہم بھی اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو (جیساکہ مقدسی کہتا ہے) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی_ یہ بات مشرکین پر گراں گزری چنانچہ انہوں نے عداوت اوردوری اختیار کرنے کے بجائے دوسری راہ اختیار کی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مال و انعام کی لالچ دینے لگے_
انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حسین لڑکیوں سے شادیوں کی بھی پیشکش کی_(۱) یہ پیشکش ہجرت حبشہ کے بعد کی بات ہے جیساکہ سیرت ابن ہشام سے ظاہر ہے _نیز حضرت حمزہ اعلانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد مسلمان ہوئے جب حضرت ابوطالب اور قریش کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد قریش نے دشمنی اور ایذا رسانی کا راستہ اپنایا_
بہرحال حضرت حمزہ کا قبول اسلام ایک سنگ میل کی صورت اختیار کرگیا جس کے بارے میں قریش نے سوچا بھی نہ تھا _اس واقعے سے حالات کی کایا پلٹ گئی اور قریش کی قوت پرکاری ضرب لگی_ ان کے خطرات میں اضافہ ہوا اوران کی سرکشی ومنہ زوری کو لگام لگ گئی(۲) _
ایک دفعہ ابوجہل کوہ صفا کے پاس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے نزدیک سے گزرا ،اس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذیت دی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو برا بھلا کہا ، نیز اسلام کی عیب جوئی اور امر رسالت کی برائی کرتے ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان میں گستاخی کی_ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے کوئی بات نہیں کی_
حضرت حمزہعليهالسلام شکاری تھے شکار سے لوٹتے تو پہلے خانہ کعبہ جاکر طواف کیا کرتے اور وہاں موجود افراد سے سلام وکلام کرتے اور پھر گھر لوٹتے تھے_ اس دفعہ حضرت حمزہعليهالسلام شکار سے لوٹے ہی تھے کہ ایک عورت نے ابوجہل کی طرف سے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بے ادبی کے بارے میں انہیں بتایا_ حضرت حمزہ غضبناک ہوکر سیدھے مسجد الحرام آئے تو انہوں نے ابوجہل کو لوگوں کے ساتھ بیٹھے پایا _وہ اس کی طرف بڑھے ، جب قریب پہنچے تو اپنی کمان اٹھائی اور زور سے اس کے سر پردے ماری جس سے ابوجہل کا سر پھٹ گیا _پھر انہوں نے کہا اے ابوجہل کیاتم اس شخص کی ملامت کرتے ہو؟ لو میں اس کے دین پرہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے، اگر تم میں طاقت ہے تو آؤ میرا مقابلہ کرو_ان باتوں سے قبل ابوجہل نے ان کے سامنے عاجزی دکھائی اور گڑ گڑانے لگا لیکن انہوں نے قبول نہ کیا _بنی مخزوم کے افراد ابوجہل کی حمایت کیلئے کھڑے ہوگئے اور حضرت حمزہ سے کہا:'' ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے'' _حضرت حمزہ نے کہا: '' کیوں
___________________
۱_ البدء و التاریخ ج۴ص ۱۴۸_۱۴۹ اور یہی بات سیرت ابن ہشام سے بھی ظاہر ہے جس نے حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا ذکر کرنے کے بعد ان امور کا بھی تذکرہ کیا ہے_
۲_ ملاحظہ ہو : کنز العمال ج ۱۴ ص ۴۸ ابن عساکر اور بیہقی کی الدلائل النبوة سے_
نہ بدلوں میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں_اور ان کا قول حق ہے_ خدا کی قسم میں اس دین سے بازنہیں آؤں گا اگر تم سچے ہوتو مجھے روک کر دیکھو''_
ابوجہل نے کہا: '' ابوعمارہ (حمزہ) کومت چھیڑو کیونکہ واقعاً میں نے اس کے بھتیجے کو ناروا گالی دی تھی''_ مقدسی کہتا ہے کہ جب حضرت حمزہ مسلمان ہوئے تو اس سے اسلام اور مسلمانوں کی حیثیت مضبوط ہوئی(۱) اور نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہایت خوشی ہوئی_
قریش نے دیکھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قوت پکڑ گئے ہیں، بنابریں آپ کو گالی گلوچ دینے سے باز آگئے_ حضرت حمزہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے عرض کیا: '' بھتیجے اپنے دین کا کھلم کھلا پرچار کرو، خدا کی قسم مجھے یہ منظور نہیں کہ میں اپنے سابقہ دین پر باقی رہوں خواہ مجھے پوری دنیا ہی کیوں نہ مل جائے''(۲) _ حضرت حمزہ کو قریش کے تمام جوانوں پر برتری حاصل تھی اور وہ سب سے زیادہ غیور تھے_(۳)
حمزہ کا قبول اسلام جذباتی فیصلہ نہ تھا
بظاہربلکہ حقیقت میں بھی انہوں نے اسلام کو معرفت کے ساتھ قبول کیا تھا _کیونکہ آپ کے مذکورہ قول (کہ میرے لئے واضح ہوگیا ہے کہ وہ اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور ان کا قول حق ہے) سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فقط جذبات سے مغلوب ہوکر اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے اقوال وکردار کے قریبی مشاہدے کی بنا پر پہلے سے ہی اطمینان حاصل کرلیا تھا_
ان کا یہ کہنا کہ کیا تم اس کو برا بھلا کہتے ہو جبکہ میں بھی اس کے دین پر ہوں اس بات کا واضح طور پرشاہد ہے کہ وہ پہلے سے ہی اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن حالات کے پیش نظراسے پوشیدہ رکھ رہے تھے تاکہ یوں وہ مسلمانوں اوراسلام کی بہتر حمایت کرسکیں ،کیونکہ مسلمان قریش کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور
___________________
۱_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۹۸_
۲_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲و ص ۷۳اور السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۱۲_
۳_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲_
کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہیں مزید روحانی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ مشرکین کے مقابلے میں ان مشکل حالات سے عہدہ بر آہوسکتے_
ابوجہل نے بزدلی کیوں دکھائی؟
یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ مشرکین کاسرغنہ ابوجہل اس دن اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ موجود تھا اور انہوں نے اس کی حمایت کیلئے آمادگی بھی ظاہرکی تھی لیکن اس کے باوجود ابوجہل نے خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے شیر کا سامنا کرنے میں عاجزی اوربزدلی دکھائی_ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت حمزہ کی مردانگی، قوت، غیرت اور شجاعت سے آگاہ تھا_وہ حضرت حمزہ کے عزم وارادے اور عقیدے کی راہ میں جذبہ قربانی کا مشاہدہ کررہا تھا_
دوسری طرف سے اسے تو فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے دشمنی تھی اوراس کی وجہ حب دنیا اور اپنے مفادات کی حفاظت تھی اور وہ موت کا طلبکار نہ تھا ،بلکہ موت سے بچنا چاہتا تھا _وہ موت کو اپنے لئے سب سے بڑا خسارہ سمجھتا تھا لیکن حضرت حمزہ دین کی راہ میں موت کو کامیابی گردانتے تھے ،پس ان کیلئے کوئی وجہ نہ تھی کہ موت سے ڈرتے یا اسے شہد کی طرح شیرین نہ سمجھتے_
تیسری وجہ یہ تھی کہ ابوجہل، بنی ہاشم کامقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ بنی ھاشم کے درمیان اس کے بہت سے حامی موجود تھے_ اگر وہ ان کے ساتھ لڑتا توخاندان اور قبائلی تعصب کے نتیجے میں ان لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا جو اس کے ہم خیال اور ہم عقیدہ تھے_ بنی ہاشم قبائلی طرزفکر کی بنا پر حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ نہیں چھوڑسکتے تھے اگرچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے دین پر نہ تھے، عربوں کی سماجی ومعاشرتی پالیسیاں بھی اسی طرزفکر کی تابع ہوتی تھیں _چنانچہ ابولہب کے علاوہ باقی بنی ہاشم نے حضرت ابوطالب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت اور حفاظت کریں گے_بلکہ ان حالات میں اگر ابوجہل حضرت حمزہ کے خلاف کوئی اقدام کرتا تو اس سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم - کو تقویت ملتی اور
بہت سے بنی ہاشم، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کرتے یا قومی جذبہ کے تحت دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے اور یہ بات ابوجہل کو کسی صورت گوارا نہ تھی_
ان تمام حالات اور نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے اللہ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر (حمزہ) کے مقابلے میں ذلت آمیز خاموشی میں ہی عافیت جانی_
خلاصہ یہ کہ دنیوی زندگی سے ابوجہل کی محبت یا اس کی بزدلی وغیرہ (جس کے باعث وہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور بنی ہاشم کی مخالفت کو مضر سمجھتا تھا) کے نتیجے میں اس نے ذلت وپستی پر مبنی موقف اپنایا _یوں اللہ نے باطل کا سرنیچاکیا اور حق کا سر اونچا_
عَبَسَ وَ تَوَلّی ؟
مورخین نے فسانہ غرانیق کے بعد ایک اور واقعے کا تذکرہ کیا ہے جس کے بارے میں '' عبس وتولی'' والی سورت نازل ہوئی یہ سورت، سورہ نجم کے بعد نازل ہوئی ہے_
اس قصے کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قریش کے بعض رؤساکے ساتھ مصروف گفتگوتھے _یہ لوگ صاحبان مال وجاہ تھے_ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم آیا وہ نابینا تھا اس نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے قرآن کی آیت سننی چاہی اورعرض کیا: '' یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مجھے وہ چیزیں سکھایئےواللہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سکھائی ہیں ''رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس سے بے رخی کی اور ترشروئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے رخ موڑ لیا _آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی بات کو نا پسند کرتے ہوئے ان رؤسا کی طرف متوجہ ہوئے جن کو مسلمان بنانے کا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو شوق تھا _اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں:( عبس وتولی ان جائه الاعمی_ و ما یدریک لعله یزکی_ او یذکر فتنفعه الذکری_ اما من استغنی_ فانت له تصدی و اما من جائک یسعی_ و هو یخشی_ فانت عنه تلهی _) (سورہ عبس، آیت ۱_۱۰)
یعنی اس نے منہ بسور لیا اور پیٹھ پھیرلی کہ ان کے پاس ایک نابینا آگیا اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ نفس ہوتا یا نصیحت حاصل کرلیتا تو نصیحت اس کے کام آتی لیکن جو مستغنی بنا بیٹھا ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پرکوئی ذمہ داری نہیں ہے اگروہ پاکیزگی اختیار نہ کرے لیکن جو شخص آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس دوڑ کرآیا ہے اور خوف الہی بھی رکھتا ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے بے رخی کرتے ہیں_
ایک روایت میں ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کا آنا پسند نہ آیا اور سوچا کہ یہ قریشی خیال کریں گے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیروکار اندھے، غلام اور بیچارے لوگ ہی ہیں ،پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منہ بسور لیا
حَكَمْ سے منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے کسی فقیر یا غریب سے منہ نہیں موڑا اور کسی امیر کو اہمیت نہیں دی_ ابن زید نے کہا ہے اگر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ وحی کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو ضرور چھپاتے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں نازل ہوئی_(۱) پس ابن زید نے اس واقعے کی شدت قباحت کی بناپر رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی توصیف کی ہے کہ رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس واقعہ کے بہت زیادہ قبیح ہونے کے باوجود بھی اسے نہیں چھپایا ہے _
غیرشیعہ مفسرین ومحدثین کامذکورہ واقعے کے متعلق بنیادی طور پراتفاق ہے_ لیکن ہمارے نزدیک یہ ایک جعلی کہانی ہے جس کا صحیح ہونا ممکن نہیں_ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
الف: اسناد کا ضعیف ہونا، کیونکہ تمام اسانید کی انتہاء یا تو عائشےہ، انس اور ابن عباس پرہوتی ہے جن میں سے کسی نے اس واقعے کا اپنی آنکھ سے خود مشاہدہ نہیں کیا کیونکہ اس وقت یا تو وہ بچے تھے یا ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے _(۲) یا ابومالک(۳) حکم ابن زید، ضحاک، مجاہد اور قتادہ پر منتہی ہوتی ہیں حالانکہ یہ سب تابعی ہیں _بنابریں روایت مقطوعہ ہے اور اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے_
___________________
۱_ رجوع کریں: مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷المیزان از مجمع و تفسیر ابن کثیر ج ۴ص ۴۷۰ از ترمذی و ابویعلی، حیات الصحابہ ج ۲ص ۵۲۰تفسیر طبری ج ۳۰ص ۳۳_۳۴ و در منثور ج ۶ص ۳۱۴_۳۱۵ نیز دیگر غیر شیعی تفاسیر_ ان تمام تفاسیر میں اس حوالے سے آپ مختلف روایات کا مشاہدہ کریں گے_ بطور مثال آخر الذکر کا مطالعہ کریں_
۲_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _ ۳_ بظاہر اس سے مراد ابومالک الاشجعی ہیں جو تفسیر و روایت میں مشہور اور تابعی ہیں _
ب:عبارات والفاظ کا اختلاف(۱) یہاں تک کہ ایک ہی راوی سے منقول الفاظ میں اختلاف ہے چنانچہ ایک روایت میں حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس مشرکین کے رؤسا میں سے ایک شخص حاضر تھا_
دوسری روایت میں حضرت عائشہ ہی سے مروی ہے کہ عتبہ اور شیبہ حاضر تھے_
تیسری روایت میں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس مجلس میں قریش کے کئی بزرگان موجود تھے جن میں ابوجہل اور عتبہ ابن ربیعہ وغیرہ تھے_
نیز ابن عباس سے منقول ایک روایت میں ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام ، عتبہ، اپنے چچا عباس اور ابوجہل کے ساتھ مصروف گفتگو تھے لیکن ابن عباس ہی سے منسوب تفسیر میں مذکور ہے کہ وہ افراد عباس، امیہ بن خلف، صفوان بن امیہ اور ...تھے_قتادہ سے کبھی امیہ ابن خلف کانام نقل ہوا ہے اورکبھی ابی ابن خلف کا_
بقول مجاہد قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار موجود تھا_ دوسری روایت میں مجاہد سے منقول ہے کہ عتبہ ابن ربیعہ اور امیہ ابن خلف موجود تھے_
ان باتوں کے علاوہ خود روایات میں بھی اختلاف ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا؟ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے الفاظ کیاتھے؟ اور ابن ام مکتوم کے الفاظ کیاتھے؟ یہاں ہم اسی قدر گفتگو پر اکتفا کرتے ہیں_ جو مزید تحقیق کا طالب ہو وہ متعلقہ کتابوں کا مطالعہ اور موازنہ کرے_
ج:مذکورہ آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کا آیت میں تذکرہ ہوا ہے اس کی عادت، اور طبیعت ہی یہ تھی کہ وہ امیروں پر توجہ دیتا تھا اگرچہ کافرہی کیوں نہ ہوں اور فقیروں کی اصلاح پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا اگرچہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اس قسم کی صفات وعادات کے مالک نہ تھے_
___________________
۱_ الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸_۱۵۹_
نیز فقیروں کے ساتھ ترشروئی اور بے اعتنائی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عادات میں شامل نہ تھیں اگرچہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیونکر اپنے چاہنے والوں اور مومنین کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے؟(۱) جبکہ اللہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کے بارے میں فرمایا ہے:( بالمومنین رؤوف رحیم ) (۲)
بلکہ آپ کی عادت ہی یہ تھی کہ فقیروں کے ساتھ مل بیٹھتے اور ان پر توجہ دیتے_ یہاں تک کہ یہ بات اشراف قریش کو پسند نہ آئی اور ان پر شاق گزری _ قریش کے بعض بزرگوں نے توحضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مطالبہ کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان غریبوں کو دورہٹادیں تاکہ اشراف آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کریں_ یہ سن کر عمرنے ان بیچاروں کو دور کرنے کا اشارہ کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( ولاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ) (۳) یعنی ان لوگوں کو دورنہ ہٹاؤ جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی مرضی کے طالب رہتے ہیں_
نیز خداوند نے اس سورہ سے قبل نازل ہونے والے سورہ قلم میں اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی توصیف میں فرمایا ہے کہ ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خُلق عظیم کے مرتبے پر فائز ہیں''_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیونکر مذکورہ عمل کے مرتکب ہوسکتے تھے جو اس آیت کے منافی ہو اور جس پر خدا کی طرف سے (نعوذ باللہ ) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملامت ومذمت ہو؟ کیا خدا (نعوذ باللہ ) اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اخلاق سے بے خبر تھا؟ یا یہ کہ باخبر ہونے کے باوجود کسی مصلحت کے تحت ایسا فرمایا _خدا ہمیں گمراہی سے بچائے، آمین_
د:مذکورہ آیات میں ارشاد ہوا ہے:( وما علیک الا یزکی ) یعنی اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے توتم پر کوئی ذمہ داری نہیں _یہ خطاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے نہیں ہوسکتا کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تو لوگوں کی ہدایت اور ان کو
___________________
۱_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸، المیزان ج ۲۰ص ۲۰۳، تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹، مجمع البیان ج ۱ص ۴۳۷_
۲_ سورہ توبہ، آیت ۱۲۸_
۳_ رجوع کریں: الدر المنثور ج ۳ص ۱۲_۱۳ بظاہر یہ آیت ہجرت حبشہ سے قبل اتری کیونکہ راویوں میں ابن مسعود بھی ہے یا مہاجرین تک صلح کی افواہ پہنچنے اور ان کی مکہ واپسی کے بعد اتری_ یاد رہے کہ اس مقام پر حضرت عمر کا تذکرہ غلط ہے کیونکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے_ وہ ہجرت مدینہ سے کچھ مدت پہلے ہی مسلمان ہوئے، جس کا ذکر آئندہ ہوگا_
پاکیزہ کرنے کیلئے ہی مبعوث ہوئے تھے، پھر یہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذمہ داری کیوں نہ ہو؟ بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اصلی ذمہ داری ہی یہی تھی_ ارشاد الہی ہے( هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم یتلو علیهم آیاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة ) (۱) یعنی خدا نے ہی امیوں کے درمیان، انہی میں سے ایک کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بنا کر بھیجا جو ان کیلئے آیات الہی پڑھ کرسناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور کتاب وحکمت سکھاتا ہے_ بنابریں کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کواس بات کی ترغیب دے کہ لوگوں کے ایمان سے بے رغبت ہوجائیں؟(۲)
ھ:آیہ انذار( وانذر عشیرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ) (۳) (جو سورہ عبس سے دوسال قبل نازل ہوئی ہے) میں ارشاد ہوا ہے ''اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئےور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اتباع کرنے والے مومنین کے سامنے اپنے کندھوں کو جھکایئے_ تو کیا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بھول گئے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مومنین کے آگے شانے جھکانے کا حکم ہوا تھا؟ اگر ایسا ہو تو پھراس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اور بھی بہت ساری باتوں کو نہ بھولے ہوں؟ اور اگر بھولے نہیں تو پھراس صریحی حکم کی عمداً مخالفت کیوں فرمائی؟(۴)
و: آیت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ آیت میں مخاطب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ذات ہے _بلکہ خداوند عالم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو اس شخص کے متعلق خبر دی ہے جس نے( عبس و تولی ان جاء ه الاعمی ) اندھے کے آنے کی وجہ سے ترشروئی اختیار کرکے منہ پھیر لیا _ پھر خدا نے اس منہ بنانے والے کو مخاطب ہوکر کہا :( و ما یدریک لعله یزکی ) تمہیں کیا پتہ ہوسکتاہے کہ وہ پاکیزہ دل ہو_
ز:علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے کہ ترجیح وعدم ترجیح کا معیار، امیری یا فقیری نہیں بلکہ اعمال صالحہ، اخلاق
___________________
۱_ سورہ بقرة آیت ۱۲۹
۲_ تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹
۳_ سورہ شعراء آیت ۲۱۴و ۲۱۵
۴_ المیزان ج ۲۰ ص ۳۰۳
حسنہ اور صفات عالیہ کی موجودگی یا عدم موجودگی ہے اور یہ ایک عقلی حکم ہے جس کی تائید دین حنیف نے کی ہے پھر حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس حکم کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں اور کیونکر ایک کافر کو اس کے مال وجاہ کی بنا پر کسی مومن پر ترجیح دے سکتے ہیں؟ کیا اسلام نے اس سے منع نہیں کیا؟ کیا عقل اور ضمیر کے نزدیک یہ عمل غیرمنطقی اور قبیح نہیں ہے؟(۱)
اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسلئے ایسا کیا تھا کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان مشرکین سے ایمان کی توقع رکھتے تھے_ یوں دین کو تقویت مل جاتی اور یہ مستحسن کام ہے کیونکہ دین کی راہ میں انجام پایا ہے_تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات قرآن کی آیات صریحہ کے خلاف ہے_ آیات کی رو سے مذکورہ فرد کی مذمت اسلئے ہوئی ہے کیونکہ وہ اس امیر پر اس کی امارت کے باعث توجہ دے رہا تھا اور اس فقیر سے اس کی فقیری کے باعث بے توجہی برت رہا تھا_
نیز اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر لازم تھا کہ قرآن اس کے جذبہ دینی اور وظیفہ شناسی کو سراہتا نہ یہ کہ اس کی مذمت وتوبیخ کرتا_
بالآخر ہم یہ اشارہ کرتے چلیں کہ بعض لوگوں نے کہا ہے: ''ممکن ہے یہ کہا جائے کہ آیت میں خطاب کلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا جب بھی کسی فقیر کو دیکھتے تو منہ بسورکر رخ پھیر لیتے'' اس کا جواب یہ ہے کہ :
۱_ یہ قول اس بات کے مخالف ہوجائے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک دفعہ پیش آیا اور اس کا تکرار نہیں ہوا_
۲_ اگر تمام ناداروں سے منہ پھیر لینے کا ذکر مقصود ہے تو پھر اندھے کا ذکر کیوں آیا ہے ؟
۳_ کیا یہ صحیح ہے کہ یہ فعل رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی عادت میں شامل ہو؟
___________________
۱_ المیزان ج۲۰ ص ۳۰۴ کی طرف رجوع کریں_
جرم کسی اورکا:
مذکورہ باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ ان آیات میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام نہیں بلکہ کوئی اور شخص مراد ہے اور اس حقیقت کی تائید حضرت امام صادقعليهالسلام سے منقول اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ، عبداللہ ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو فرماتے تھے مرحبا مرحبا خدا کی قسم کہ اللہ کبھی بھی تیرے بارے میں میری ملامت نہیں کرے گا _آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے ساتھ لطف ومہربانی اور احسان فرماتے تھے یہاں تک کہ وہ اسی لئے کثرت شرمندگی کی بنا پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا تھا_(۱)
اس بیان سے اس شخص کی مذمت کاپہلو نکلتا ہے جو ابن ام مکتوم کے معاملے میں مذکورہ مخالفت کا مرتکب ہوا تھا اور اس احتمال کی مکمل نفی ہوجاتی ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ایسا فعل سرزد ہوا ہو جو قابل سرزنش ہو_ اگر خدا نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سرزنش کی ہوتی تو یہ نفی بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے_
لیکن خیانت کاروں کے ہاتھوں اس بات میں تحریف ہوئی ہے اور انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے تھے، مرحبا اس کیلئے جس کے بارے میں خدانے میری ملامت کی، رجوع کریں درالمنثور اور دیگر کتب تفسیر کی طرف، لیکن حقیقت وہی ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے_
ایک سوال کا جواب
سوال: جب مذکورہ آیت میں مقصود کوئی اور ہو تو پھر خدانے (فانت لہ تصدی) (آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں) نیز (فانت عنہ تلہی) (آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے بے رخی کررہے ہیں)کیوں کہا؟_ ان دو عبارتوں سے یہی ظاہر ہے کہ ایک شخص کی طرف توجہ اور دوسرے سے بے رخی کرنے والا شخص جس کا ذکر آیت میں ہوا ہے،دینی جذبے سے سرشار تھا اور اسی جذبے کے پیش نظر اس نے ایک طرف توجہ دی اور دوسری طرف بے رخی اختیار کی_
___________________
۱_ تفسیر البرہان ج۳ ص ۴۲۸ تفسیر نور الثقلین ج/ ۵ ص ۵۰۹ مجمع البیان ج۱۰ ص ۴۳۷_
جواب: آیات میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کہ مذکورہ توجہ خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے تھی_ ممکن ہے کہ اس توجہ کی وجہ کوئی دنیوی مقصد ہو مثلا لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا یا عزت حاصل کرنا وغیرہ_ رہی بات ارشاد الہی کی کہ (لعلہ یزکی) (شاید وہ پاکیزگی اختیار کرلے) تو اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کام اس مخاطب کے ہاتھوں انجام پائے بلکہ ممکن ہے اس مجلس میں حاضر کسی اور کے ہاتھوں یہ کام مکمل ہو مثلا رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم یا کسی اور کے ذریعے_
اس کے علاوہ اگر ہم فرض کریں کہ وہ شخص تبلیغ دین کی غرض سے ان امیروں کی طرف توجہ دے رہا تھاتب بھی یہ بات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بارے میں نہیں کیونکہ تبلیغ رسول خدا کے ساتھ مخصوص نہیں چنانچہ ان لوگوں کے بقول آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علاوہ ایک اور شخص بھی اس تبلیغ پر توجہ دیتا تھا چنانچہ اس کے ذریعے کچھ لوگ مسلمان ہوئے (بشرطیکہ یہ بات درست ہو)_
درست روایت
یہاں صحیح روایت وہ معلوم ہوتی ہے جو حضرت امام صادقعليهالسلام سے مروی ہے_ اس حدیث کے مطابق یہ آیات ایک اموی کے بارے میں نازل ہوئیں جو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس حاضر تھا_ اتنے میں ابن ام مکتوم آیا، اموی نے اسے گنداسمجھتے ہوئے تیوری چڑھائی اور سمٹ کر بیٹھ گیا نیز اس سے منہ پھیر لیا پس ان آیات میں خدانے اس کا قصہ بیان کیا اور اس کی مذمت کی_(۱)
واضح رہے کہ شروع میں آیات کا خطاب اس شخص کی طرف نہ تھا بلکہ خدا نے اس کے بارے میں غائب کا صیغہ استعمال کیا اور فرمایا اس نے منہ بسورا اور رخ پھیر لیا کیونکہ اس کے پاس ایک نابینا آیا پھر اچانک اسے مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے (وما یدریک) (یعنی تجھے کیا معلوم ...)_
لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ شروع میں خدا نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مخاطب ہو (اس شخص کے بارے میں) اورپھر
___________________
۱_ مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷و تفسیر البرہان ج ۲ص ۴۲۸و تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۹ _
خطاب کا رخ خود اس شخص کی طرف پھیردیاہو لیکن پہلا احتمال ذوق سلیم کی رو سے مناسب تر اور لطیف تر معلوم ہوتا ہے_
جناب عثمان پر الزام
بعض روایات میں عثمان پر الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ ابن ام مکتوم اور حضرت عثمان کے درمیان واقع ہوا_(۱)
لیکن ہم اسے مشکوک سمجھتے ہیں کیونکہ حضرت عثمان نے دیگر مہاجرین کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی تھی پھر کیونکر مکے میں یہ واقعہ پیش آسکتا تھا؟ ممکن ہے اس کا جواب یہ دیاجائے کہ بقولے تیس سے زیادہ مہاجر دو ماہ بعد حبشہ سے واپس لوٹے (جن کا ذکر ہوچکا ہے) ان میں حضرت عثمان بھی تھے_(۲)
بہرحال حضرت عثمان یا بنی امیہ کے کسی فرد پر الزام، معصوم نبی پر الزام کے مقابلے میں آسان سی بات ہے_(۳) کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے اس قسم کے افعال کسی صورت میں بھی سرزد نہیں ہوسکتے لیکن بعض لوگ معصوم نبی پر اس قسم کی تہمت لگانے کو رواسمجھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اس قسم کے الزامات سے پاک ومنزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں_
___________________
۱_ تفسیر قمی ج ۲ص ۴۰۵، تفسیر البرہان ج ۴ص ۴۲۷، تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۸
۲_ سیرت ابن ہشام ج ۲ص ۳
۳_ ہم حضرت عثمان کی بعض صفات کو اس آیت کے مطابق بھی پاتے ہیں جیساکہ عثمان اور عمار کے قصے سے ظاہرہوتا ہے جب مدینے میں مسجد کی تعمیر جاری تھی تو اس دوران حضرت عمار حضرت علیعليهالسلام کے رجز کو حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرنے کیلئے دہرا رہے تھے_ رجز یہ تھا:
لایستوی من یعمر المساجدا
یدا ب فیھا قائما و قاعداً
و من یری عن التراب حائدا
اس واقعہ کا ذکر آئندہ ہوگا _ انشاء اللہ
دشمنان دین کا اس مسئلے سے سوء استفادہ
یہاں اس بات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض متعصب عیسائیوں نے عبس وتولی والے قصے کی آڑمیں ہمارے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی ہے_(۱) لیکن اللہ اپنے نور کو کامل کرتا ہے اگرچہ ان کافروں کو ناگوار گزرے ہم بھی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ جعلی اور باطل چیزیں ہیں جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے _
مزید دروغ گوئیاں
انہی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس آئے اورآپ کو عمار، صہیب، بلال اور خباب جیسے غریب مسلمانوں کے پاس تشریف فرما دیکھا_ تو ان کو حقیر سمجھا اور خلوت میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کہا:'' عرب کے وفود آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں _ پس جب وہ آجائیں تو ان کو یہاں سے اٹھادیں'' آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ٹھیک ہے_
انہوں نے کہا اس بات کا تحریری طور پر وعدہ کریں، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کاغذ مانگا اور حضرت علیعليهالسلام سے لکھنے کیلئے کہا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( و لاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة و العشی یریدون وجهه ما علیک من حسابهم من ...) (۲) یعنی جولوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اسی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے دور نہ کیجئے گا_ پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ کاغذ دور پھینک دیا انہیں بلایا اور انہی کے ساتھ بیٹھ گئے_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عادت ہی یہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے جب بھی اٹھنا چاہتے تو خود اٹھ جاتے اور انہیں وہیں بیٹھا ہوا چھوڑ دیتے_ اس سلسلے میں خدا نے یہ آیت نازل کی( واصبر
___________________
۱_ رجوع کریں: الھدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _
۲_ سورہ الانعام، آیت ۵۲ _
نفسک مع الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ولا تعد عیناک عنهم ) (۱) (اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کر جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں، خبردار کہ تمہاری آنکھیں ان کی طرف سے پھرنے نہ پائیں) اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے ساتھ اس وقت تک بیٹھے رہتے تھے جب تک وہ خود پہلے اٹھ نہ جاتے، بعض روایات میں ہے کہ ان کا مقصود ابوذر وسلمان تھے_(۲)
ان بے بنیاد باتوں کی نفی عبداللہ ابن ام مکتوم کے واقعے میں مذکور بیانات سے ہی ہو جاتی ہے_ لہذا یہاں ہم تکرار کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، علاوہ ازیں کئی ایک روایات کے مطابق پوری سورہ انعام مکے میں بیک وقت نازل ہوئی_(۳)
اس صورت میں یہ آیات کیونکر مذکورہ مناسبت سے مدینہ میں اتریں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ پوری سورت کا ایک ساتھ اترنا اس بات کے منافی نہیں کہ مذکورہ آیات اس خاص مناسبت سے اتری ہوں تویہ بات بھی نا قابل قبول ہے کیونکہ پوری سورت ہجرت سے قبل (لیکن انصار کے قبول اسلام کے بعد) ایک ساتھ اتری، جب یہ سورت اتری تو اسماء بنت یزید انصاریہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی(۴) جبکہ فرض یہ ہے کہ آیت مدینے میں نازل ہوئی_
اس کے علاوہ عبس وتولی والا واقعہ ہی اس بات کے اثبات کیلئے کافی ہے کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس قسم کے کاموں سے باز رہتے خصوصاً اس صورت میں کہ اگر کوئی غیر معصوم شخص بھی ایسے عمل کا ارتکاب کرے تو اس کی مذمت کی جاتی ہے_
___________________
۱_ سورہ کہف آیت ۲۸_
۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ص۱۴۶_۳۴۵، و مجمع البیان ج ۴ ص ۳۰۵ ،۳۰۶_ و البدایة و النہایة ج ۶ ص ۵۶و کنز العمال ج ۱ص ۲۴۵و ج۷ص ۴۶ابن ابی شیبہ و ابن عساکرسے نیز الدر المنثور (مذکورہ آیات کی تفسیر میں متعدد مآخذ سے)_
۳_ رجوع کریں: المیزان ج ۷ص ۱۱۰ _
۴_ الدر المنثور ج ۳ ص ۲۲_
یہاں ہم اس بات کابھی اضافہ کرتے ہیں کہ سلمان تو مدینے میں مسلمان ہوئے نیز ابوذر بھی مسلمان ہونے کے فوراً بعد پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جدا ہوکر عسفان میں مکہ والوں کے قافلوں کی گزرگاہ پر رہنے لگے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_
بظاہر مشرکین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس نہیں بٹھائیں، اس سلسلے میں انہوں نے حضرت ابوطالب سے بھی بات کی اور حضرت عمر نے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کا اشارہ کیا( جیساکہ نقل ہوا ہے)_ پس سورہ انعام کی یہ آیات ان لوگوں کے ردمیں نازل ہوئیں _
ان آیات میں اس بات کا تذکرہ نہیں کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی رائے کو قبول کیاہو جیساکہ مذکورہ روایات کا دعوی ہے _یہاں ہم روایات کے درمیان موجوداختلاف، ان کے کمزور پہلوؤں اوران لوگوں کے باطل خیالات کو بیان کرنے سے احتراز کرتے ہیں اور ابن ام مکتوم کے واقعے میں جو کچھ عرض کیا ہے، اسی پر اکتفا کرتے ہیں_البتہ یہ اضافہ بھی کرتے چلیں کہ آیت '' ولا تطرد الذین یدعون ربہم ...'' کا ظاہر پر یہی بتاتا ہے کہ یہ ڈانٹ ان لوگوں پر پڑی ہے جن سے یہ کام سرزد ہوا ہے اور '' ما علیک من حسابہم من شی ...'' کے قرینہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے مہربانی اور لطف فرماتے ہوئے اپنی نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان لوگوں سے علیحدہ رکھا ہے _
حضرت عمر بن خطاب کا قبول اسلام
کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے تین روز بعد بعثت کے چھٹے سال حضرت عمر مسلمان ہوئے_ وہ اپنی تلوار لیکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعض اصحاب کی تلاش میں نکلے تھے جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی_ وہ کوہ صفا کے قریب ارقم کے گھر میں جمع تھے_ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت حمزہ اور حضرت علیعليهالسلام بھی تھے جو حبشہ نہیں گئے تھے_ راستے میں نعیم بن عبداللہ سے حضرت عمر کی ملاقات ہوئی اس کے پوچھنے پر
حضرت عمر نے بتایا کہ وہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنا چاہتے ہیں
نعیم نے سمجھایا کہ اگر وہ ایسا کرے تو بنی عبد مناف کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا_ نیز یہ بھی بتایا کہ تمہارے بہنوئی اور بہن نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے_ یہ سن کر حضرت عمر ان کی طرف چل پڑے وہاں پر حضرت خباب بن ارت ،ان کو سورہ طہ کی تعلیم دے رہے تھے_ جب حضرت عمر کی آہٹ سنائی دی تو حضرت خباب ایک کوٹھڑی میں چھپ گئے اور فاطمہ بنت خطاب نے صحیفے کو اپنی ران کے نیچے چھپالیا_
حضرت عمر گھرمیں داخل ہوئے اور مختصر سی گفتگو کے بعد اپنے بہنوئی پر ٹوٹ پڑے اور بہن کا سر زخمی کردیا_ اس وقت حضرت عمر کی بہن نے بتادیا کہ وہ دونوں مسلمان ہوچکے ہیں وہ جو چاہے کرے_ حضرت عمرنے جب اپنی بہن کو خون آلود دیکھا تو اپنے طرز عمل پر پشیمان ہوئے اور نوشتہ قرآن کو طلب کیا ،لیکن اس نے نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت عمرنے اپنے خداؤں کی قسم کھائی کہ وہ اسے واپس کردے گا _اس وقت ان کی بہن نے کہا تم مشرک اور نجس ہو نیز تم غسل جنابت بھی نہیں کرتے ہو جبکہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں _یہ سن کر حضرت عمر اٹھے اور غسل (یا وضو) کیاپھر اس نوشتہ کی ابتداء سے کچھ حصہ پڑھا اور (حضرت عمر کو لکھنا پڑھنا آتا تھا) پڑھنے کے بعد اسے پسند کیا _اتنے میں حضرت خباب نے آکر یہ خبردی کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے حق میں دعاکی ہے کہ خدا یا اس کے یا ابوجہل کے ذریعے اسلام کی تقویت فرما_
حضرت عمرنے کہا کہ وہ انہیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس لے جائیں تاکہ اسلام قبول کرسکیں_ چنانچہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف نکلے، دروازہ کھٹکھٹایا، ایک شخص نے دروازے کے شگاف سے باہر نگاہ کی_جب عمر کو تلوار سجائے دیکھا تو سہم کر واپس ہوا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو خبردی_
یہ سن کر حضرت حمزہ نے کہا اسے آنے دو اگر وہ بھلائی کی تلاش میں آیا ہے تو ہم بخل نہیں کریں گے لیکن اگر وہ برے ارادے سے آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کاکام تمام کردیں گے_ یوں انہیں اجازت ملی اور وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف آئے اور کمرے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کی_ حضرت عمرنے کہا کہ وہ تو مسلمان ہونے کیلئے آیا ہے_ یہ سن کر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تکبیر بلندکی اور مسلمانوں نے بھی ایسی تکبیر کہی جسے مسجد الحرام میں
بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سن لیا_
اس کے بعد حضرت عمرنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے درخواست کی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم باہر نکل کر اعلانیہ اپنا کام شروع کریں_ حضرت عمر کہتے ہیں ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دوصفوں کے درمیان باہرنکالا ایک صف میں حضرت حمزہ تھے اور دوسری صف میں میں تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر غبار تھا جس طرح پسنے والے آٹے کا غبار ہوتا ہے _پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے، میں نے قریش پر نظر کی وہ اتنے دل شکستہ ہوئے کہ اس قدر پہلے کبھی نہ ہوئے تھے_ اس دن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت عمر کو فاروق کالقب دیا_
ایک اور روایت کے مطابق قریش نے مل کر مشورہ کیا کہ کون حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرے، حضرت عمر نے کہا یہ کام میں کروں گا پھر وہ اپنی تلوارگردن میں لٹکائے نکل پڑے کہ راستے میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے ملاقات ہوگئی_ ان کے درمیان لے دے ہوئی یہاں تک کہ دونوں نے اپنی تلواریں سونت لیں_ اتنے میں حضرت سعد نے حضرت عمر کو اس کی بہن کے مسلمان ہونے کی خبر سنائی_
تیسری روایت کی رو سے مسلمان باہر نکلے حضرت عمر ان کے آگے آگے یہ کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ _جب قریش نے حضرت عمر سے ان کے پیچھے موجود افراد کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی کہ اگر ان میں سے کسی نے کوئی غلط حرکت کی تو وہ تلوار سے حملہ کریں گے _ پھر وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے آگے ہوئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم طواف فرمارہے تھے اور عمر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاطت کررہے تھے پھر حضوراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظہراعلانیہ طور پر پڑھی_
چوتھی روایت میں ہے کہ جن دنوں مسلمانوں پر بہت زیادہ تشدد ہو رہا تھا تو حضرت عمر مسلمان ہوئے اور وہ اپنے خالو ابوجہل کے پاس گئے (جیسا کہ ابن ہشام کہتا ہے البتہ ابن جوزی کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ عمر کا خالو ابوجہل نہیں بلکہ عاص بن ہاشم تھا ) حضرت عمرنے اسے خبردی کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں یہ سن کراس نے دروازہ بندکردیا حضرت عمر قریش کے دوسرے سردار کے پاس گئے تو وہاں بھی یہی ہوا _ حضرت عمرنے سوچا یہ بات مناسب نہیں کہ دوسرے مسلمانوں پرتشدد ہو لیکن مجھے کوئی نہ مارے، چنانچہ انہوں نے
ایسے شخص کا پتہ پوچھا جو سب سے زیادہ بات پھیلانے والاہو لوگوں نے اس شخص کی نشاندہی کی_ حضرت عمر نے اسے اپنے مسلمان ہونے کی خبردی_ اس شخص نے قریش کے درمیان اس بات کا اعلان کیا یہ سن کر لوگ حضرت عمرکو مارنے کیلئے اٹھے لیکن ان کے خالو نے انہیں امان دے دی یوں لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا_
لیکن حضرت عمر نے اس کی امان میں رہنے سے انکار کیا کیونکہ دوسرے مسلمانوں کو مارپڑ رہی تھی اوران کو نہیں_ راوی کہتا ہے کہ نتیجتاً حضرت عمر بھی مار کھاتے رہے یہاں تک کہ خدانے اپنے دین کو ظاہر کردیا_
پانچویں روایت کے مطابق طواف کرتے وقت حضرت عمر سے ابوجہل نے کہا : ''فلان شخص کا خیال ہے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے'' _ حضرت عمر نے کلمہ دین پڑھا تو یہ سن کر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے _ حضرت عمر، عتبہ ابن ربیعہ کوپچھاڑ کر مارنے لگے_ پھر اپنی دونوں انگلیوں کو اس کی آنکھوں میں ڈال دیا_ عتبہ چیخنے لگا تو لوگ بکھر گئے اور حضرت عمر بھی اٹھ کھڑے ہوئے_ یہ دیکھ کر سوائے بزرگوں کے کوئی ان کی طرف بڑھنے کی جرا ت نہ کرسکا اور حضرت حمزہ لوگوں کو وہاں سے ہٹانے لگے_
چھٹی روایت کی رو سے وہ قبول اسلام سے قبل شراب نوشی کیا کرتے تھے_ایک رات وہ اپنی پسندیدہ محفل کی طرف نکل پڑے لیکن وہاں کسی کو نہ پایا_ شراب فروش کو ڈھونڈا لیکن وہ بھی نہ مل سکا _پھر طواف کرنے گئے تو دیکھا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز پڑھ رہے ہیں_ حضرت عمر کا دل چاہا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات سنے چنانچہ وہ کعبے کے پردے کی آڑ میں بیٹھ کر سننے لگے، یوں اسلام ان کے دل میں داخل ہوا_ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا وہاں سے اٹھے اور اپنے گھر جو قطاء کے نام سے معروف تھا، کی طرف چلے تو راستے میں حضرت عمر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جا ملے اوراظہار اسلام کر کے اپنے گھر کی راہ لی_
''العمدہ''کے مطابق کہتے ہیں کہ حضرت عمر تینتیس ۳۳ مردوں اور چھ عورتوں کے قبول اسلام کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے_ ابن مسیب نے کہا ہے کہ چالیس مردوں اور دس عورتوں کے بعد حضرت عمر مسلمان ہوئے_ عبداللہ بن ثعلبہ کا بیان ہے پینتالیس ۴۵ مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد ایسا ہوا _ یہ بھی
کہا گیا ہے کہ حضرت عمر چالیسویں مسلمان تھے _ پھر حضرت عمرکے قبول اسلام کے بعد یہ آیت اتری (یایہا النبی حسبک اللہ و من اتبعک من المومنین)(۱) یعنی اے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کیلئے بس خدا اور جو مومنین آپ کے تابع فرمان ہیں کافی ہیں_(۲)
مزید تمغے
بعض افراد کا کہنا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے قبل یوں دعا کی تھی: ''اے اللہ اسلام کی تقویت فرما ،عمر ابن خطاب کے ذریعے''_ ایک اور جگہ یوں نقل ہوا ہے: ''خدا اسلام کی مدد فرما (یاتقویت فرما) ابوالحکم بن ہشام کے ذریعے یا عمر ابن خطاب کے ذریعے'' _ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بدھ کے روز یہ دعا کی اور حضرت عمر جمعرات کے دن مسلمان ہوئے_
ابن عمر سے مروی ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام نے فرمایا :''خدایا ابوجہل یا عمر بن خطاب میں سے تیرے نزدیک جو زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کی تقویت فرما''_ ابن عمر کہتا ہے خداکے نزدیک عمرزیادہ عزیز تھے_ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر کا قبول اسلام ، اسلام کی فتح تھی، ان کی ہجرت اسلام کی نصرت تھی اور ان کی حکومت خدا کی رحمت تھی _جب وہ مسلمان ہوئے تو قریش سے لڑتے رہے یہاں تک کہ مسلمانوں
___________________
۱_ سورہ انفال، آیت ۶۴ _
۲_ رجوع کریں: الاوائل (عسکری) ج ۱ص ۲۲۱_۲۲۲نیز الثقات (ابن حبان) ص ۷۲_۷۵ البدء و التاریخ ج ۵ص ۸۸_۹۰مجمع الزوائد ج ۹ص ۶۱از بزار و طبرانی تاریخ طبری ۲۳ہجری کے حالات میں، طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۹۱، عمدة القاری ( عینی) ج ۸ص ۶۸، سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۶_۳۷۴، تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۵_۲۹۷، تاریخ عمر بن خطاب(ابن جوزی)ص ۲۳_۳۵، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۱ اور ۷۵_۸۰ _نیز السیرة الحلبیة ج۱ص ۳۲۹_۳۳۵، السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۳۲_۱۳۷، المصنف (حافظ) ج ۵ص ۳۲۷_۳۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۱۸۲_۱۸۳، اسباب انزول (واحدی)، حیاة الصحابة ج ۱ص ۲۷۴_۲۷۶ و الاتقان ج ۱ص ۱۵اور الدر المنثور ج ۳ص ۲۰۰ کشف الاستار از مسند البزار ج۳ ص ۱۶۹ تا ۱۷۲ اور لباب النقول مطبوعہ دار احیاء العلوم ص ۱۱۳،ان کے علاوہ دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۴ تا ۹ مطبوعہ دار النصر للطباعة اور دیگر کتب تاریخ اور حدیث کی طرف رجوع کریں_
نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی_(۱)
ان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کہاگیا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ ترمذی نے ان میں سے بعض روایات کو صحیح مانتے ہوئے بھی ان تمام روایات پر تعجب کا اظہار کیا ہے _
ہم حضرت عمرکے قبول اسلام سے مربوط تمام مذکورہ بالا باتوں اور روایات کو بھی شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ باتیں بالکل بے بنیاد ہیں _ اس بات کی توضیح کیلئے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱_ عمر کب مسلمان ہوئے؟
گذشتہ روایات کی رو سے وہ حمزہ بن عبد المطلب کے قبول اسلام کے تین دن بعد مسلمان ہوئے_ عمر کا قبول اسلام اس بات کا سبب بنا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ارقم کے گھرسے باہر نکلیں ، یعنی جب مسلمانوں کی تعداد چالیس یا اس کے لگ بھگ ہوگئی_
یہاں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں:
الف: وہ خود ہی کہتے ہیں کہ ارقم کے گھر سے نکلنے کا واقعہ بعثت کے تیسرے سال کا ہے جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا، جبکہ اہلسنت کہتے ہیں کہ حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے_
ب: ان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا چنانچہ جب مسلمان کوچ کی
___________________
۱_ ان روایات کے بارے میں رجوع کریں: البدء و التاریخ ج ۵ص ۸۸، سیرت مغلطای ص ۲۳و منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ص ۴۷۰از طبرانی، احمد، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی، ترمذی، نسائی از عمر، خباب، ابن مسعود، الاوائل ج ۱ص ۲۲۱، طبقات ابن سعد ج ۳حصہ اول ص ۱۹۱_۱۹۳ و جامع ترمذی مطبوعہ ہند ج ۴ص ۳۱۴_۳۱۵، دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۷ نیز تحفہ الاحوذی ج ۴ص ۳۱۴ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹و البخاری مطبوعة میمنیة، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص۳۲۵، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۱ ص۲۷۱ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۳۰تاریخ اسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۲و تاریخ الخمیس و سیرت ابن ہشام و سیرت دحلان و مسند احمد و سیرت المصطفی و طبرانی در الکبیر و الاوسط و مشکاة_ نیز دیگر کتب تاریخ اور حدیث_
تیاری کررہے تھے تو حضرت عمر کا دل بھر آیا یہاں تک کہ مسلمانوں نے امید ظاہر کی کہ حضرت عمر مسلمان ہوجائے گا اور ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے جبکہ ارقم کے گھر سے نکلنے کا واقعہ اس سے پہلے یعنی بعثت کے تیسرے سال وقوع پذیر ہوا_
ج:حضرت عمر مسلمانوں کو ستانے میں مشرکین کے ساتھ تھے اور یہ بات ارقم کے گھر سے نکلنے اور اعلانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد کی بات ہے ،بلکہ ہم تو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بعثت کے چھٹے سال تک بھی مسلمان نہیں ہوئے تھے کیونکہ:
اولًا: یہی لوگ خود کہتے ہیں کہ حضرت عمر نماز ظہر کے فرض ہونے کے بعد مسلمان ہوئے چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت عمر کی مدد سے نماز ظہر اعلانیہ پڑھی (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے) جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں کہ نماز ظہر واقعہ معراج (جو خود ان کے نزدیک بعثت کے بارہویں یا تیرہویں سال پیش آیا) کے دوران واجب ہوئی_ بنابریں ان کی باتوں میں تضاد ہے_ بعض لوگوں نے اس کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ یہاں مراد نماز صبح ہے_(۱) لیکن یہ توجیہہ غلط ہے کیونکہ لفظ ''ظہر'' ، ''صبح'' کے لئے استعمال نہیں ہوتا اور اگر ان کی مراد یہ ہو کہ رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی صبح کی نماز سورج کے ابھرنے تک مؤخر کر کے پڑھتے تھے تو یہ توجیہ بھی نامعقول ہے کیونکہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی نماز میں کسی عذر شرعی کے بغیر کیسے تاخیر کرسکتے تھے؟
ثانیاً: عبداللہ بن عمر صریحاً کہتا ہے کہ جب اس کے والد مسلمان ہوئے تو اس وقت اس کی عمر چھ سال تھی_(۲) بعض حضرات کا خیال ہے کہ وہ پانچ سال کا تھا_(۳)
اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر کے قبول اسلام کے وقت عبداللہ بن عمر گھرکی چھت پر موجود تھااس نے دیکھا کہ لوگوں نے اس کے باپ کے خلاف ہنگامہ کر رکھا ہے ادر اسے گھر میں محصور کردیا ہے_ اتنے میں
___________________
۱_ سیرت حلبی ج ۱ص ۳۳۵ _
۲_ تاریخ عمر بن خطاب از ابن جوزی ص ۱۹و طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۹۳ (حصہ اول) و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۱۸۲_
۳_ فتح الباری ج ۷ص ۱۳۵ _
عاص بن وائل نے آکر ان کو منتشر کردیا_ اس وقت ابن عمرنے اپنے باپ سے بعض چیزوں کے متعلق استفسار کیا جس کا ذکر آگے آئےگا_
نیز ابن عمر کہتا ہے کہ جب اس کا باپ مسلمان ہوا تو اس نے باپ کی نگرانی شروع کی کہ وہ کیا کرتا ہے، کہتا ہے اس وقت میرے لڑکپن کا دور تھا اور میں جو کچھ دیکھتا اسے سمجھتا بھی تھا_(۱) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عمر ان دنوں باشعور اور سمجھدار تھا_ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمرنے بعثت کے نویں سال اسلام قبول کیا جیساکہ بعض لوگوں کا خیال بھی ہے_(۲) کیونکہ ابن عمر بعثت کے تیسرے سال پیدا ہوا تھا ہجرت کے پانچویں سال جب جنگ خندق ہوئی تو ابن عمر کی زندگی کے پندرہ سال گزر چکے تھے چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے (بنابرمشہور) اس کو جنگ میں شرکت کی اجازت دی(۳) بلکہ ابن شہاب کے مطابق تو حفصہ اور عبداللہ ابن عمر اپنے باپ عمر سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور جب ان کا باپ عمر مسلمان ہوا تو اس وقت عبدا للہ کی عمر سات سال کے لگ بھگ تھی(۴) اس بات کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر بعثت کے دسویں سال مسلمان ہوئے _ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے قدرے پہلے تک مسلمان نہیں ہوئے تھے_ اس کی دلیل درج ذیل امور ہیں:
الف: یہ کہ انہیں خبر ملی کہ ان کی بہن مردار نہیں کھاتی_(۵)
واضح ہے کہ مردار کھانے کی مخالفت سورہ انعام میں ہوئی ہے جو مکہ میں ایک ساتھ نازل ہوئی_ اس وقت قبیلہ اوس کی ایک عورت (اسماء بنت یزید) نے بعض روایات کی بنا پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی(۶) واضح رہے کہ قبیلہ اوس اور مدینہ والوں نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طائف کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۱و تاریخ الاسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۵و سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۳_۳۷۴ _
۲_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۳۹البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲و مروج الذہب مطبوعہ دار الاندلس بیروت ج ۲ص ۳۲۱_
۳_ سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۲۰۹، تہذیب الکمال ج ۱۵ ص ۳۴۰ ، الاصابہ ج ۲ ص ۳۴۷، اسی کے حاشیہ پر الاستیعاب ج ۲ ص ۳۴۲ اور باقی منابع کے لئے ملاحظہ ہو ہماری کتاب '' سلمان الفارسی فی مواجہة التحدی'' (سلمان فارسی چیلنجوں کے مقابلے میں )ص ۲۴_
۴_ سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۲۰۹_ ۵_ المصنف ( حافظ عبد الرزاق) ج ۵ص ۳۲۶ _ ۶_ الدر المنثور ج ۳ص ۲از طبرانی اور ابن مردویہ_
کیا تھا اور ان کی عورتیں پہلی بیعت عقبہ کے بعد مکہ آئی تھیں_
ب:بعض لوگوں نے اس بات کو حقیقت سے قریب تر سمجھا ہے کہ حضرت عمر نے ہجرت حبشہ کے بعد چالیس یا پینتالیس افراد کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام قبول کیا(۱) اس کی تائید یوں ہوتی ہے کہ بعثت کے پانچویں سال حبشہ جانیوالے افراد کی تعداد اسّی ۸۰ مردوں سے زیادہ تھی اور ان کے بقول حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پینتالیس مسلمان ہونے والے افراد لازمی طور پر ہجرت کرنے والے ان اسّی افراد کے علاوہ ہونے چاہئیں_اگرچہ ابن جوزی نے حضرت عمر سے قبل مسلمان ہونے والوں کو شمار کیا ہے اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کی تعداد بیشتر بتائی ہے_(۲)
نیز اس امر کی تائیدان روایات سے بھی ہوتی ہے جن کے مطابق حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے اور یہ کہ حبشہ جانے والوں کو دیکھ کر ان کا دل پسیجا یہاں تک کہ مسلمانوں کو حضرت عمر کے مسلمان ہونے کی امید بندھی_
جب صورت حال یہ ہے تو واضح ہواکہ (جیساکہ مدینہ میں مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات کی بحث میں آگے چل کر ذکر ہوگا) اس وقت مہاجرین کی تعداد پینتالیس یا اس کے لگ بھگ تھی(۳) یعنی ہجرت حبشہ کے بعد مسلمان ہونے والے صرف یہی پینتالیس کے قریب افراد تھے _ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمر ہجرت مدینہ سے کچھ ہی پہلے اسلام لائے تھے اور اس کے بعد ہجرت کی تھی اور شاید اسی لئے مکہ میں وہ مشرکین کی ایذا رسانی سے بچے رہے_
ج:حضرت عمر کے قبول اسلام کے حوالے سے روایات میں ذکر ہوا ہے کہ ایک دفعہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بلند
___________________
۱_ الثقات از ابن حسان ج ۱ ص ۷۳، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۸۰، البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۸_
۲_ تاریخ عمر بن خطاب از ابن جوزی ص ۲۸_۲۹_
۳_ اگرچہ ابن ہشام نے ہجرت کرنے والوں کی تعداد ستر کے قریب بتائی ہے لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جن لوگوں میں بھائی چارہ قائم کیا ان کی تعداد ایک سے زیادہ اسناد کے ساتھ منقول ہے اور یہ امر غیرقابل قبول ہے کہ حضور نے کسی صحابی کا بھائی چارہ دوسرے کے ساتھ قائم نہ کیا ہو_
آواز سے نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمرآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریب آئے اور سنا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ آیات پڑھ رہے ہیں( وما کنت تتلو من قبله من کتاب ولاتخطه بیمینک الظالمون ) (۱) واضح ہے کہ یہ دو آیتیں سورہ عنکبوت کی ہیں جو یاتو مکہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے یا آخری سے پہلی سورت_(۲) پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ہجرت کے قریب قریب مسلمان ہوئے تھے_
د:بخاری نے صحیح بخاری میں نافع سے روایت کی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عمر اپنے باپ حضرت عمر سے پہلے مسلمان ہوا _نافع نے اس کی یوں تاویل کی ہے کہ ابن عمرنے بیعت شجرہ کے موقع پرحضرت عمر سے پہلے بیعت کی تھی اسلئے لوگ کہتے ہیں کہ ابن عمر نے حضرت عمر سے پہلے اسلام قبول کیا_(۳)
لیکن ہم نافع سے سوال کرتے ہیں کہ کیا لوگ عربی زبان نہ جانتے تھے؟اگر جانتے تھے تو پھر انہوں نے یہ کہنے کی بجائے کہ ابن عمر نے اپنے باپ سے پہلے بیعت کی تھی کیونکر یہ کہا کہ وہ اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوا _نیز کیا ان میں کوئی اتنا بھی نہ جانتا تھا کہ بیعت کرنا اور چیز ہے ، اسلام قبول کرنا اور چیز ہے_ پس بیعت سے مراد قبول اسلام کیسے ہوسکتا ہے؟
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگ جو کہتے تھے وہی درست ہے، یعنی یہ کہ ابن عمر دس سال کی عمر میں ہجرت سے کچھ پہلے مسلمان ہوااور اس کے بعد اس کے باپ مسلمان ہوئے اور مدینہ کی طرف ہجرت کی_
۲_ حضرت عمر کو فاروق کس نے کہا؟
گذشتہ روایات میں ہم نے پڑھا کہ جب حضرت عمر مسلمان ہوئے تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کو فاروق کا لقب دیا _ لیکن ہماری نظر میں یہ بات نہایت مشکوک ہے کیونکہ زہری کہتا ہے ''ہمیں خبر ملی ہے کہ اہل کتاب
___________________
۱_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۵ص ۳۲۶نیز حضرت عمر کے قبول اسلام کے بارے میں ذکرشدہ مآخذ کی طرف رجوع کریں_
۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۰_۱۱_
۳_ صحیح بخاری (مطبوعہ مشکول) ج ۵ص ۱۶۳ _
نے پہلے پہل حضرت عمر کو الفاروق کہہ کرپکارا _ مسلمانوں نے یہ لفظ ان سے لیا ہے اور ہمیں کوئی ایسی روایت نہیں ملی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس قسم کا لقب دیا ہو''(۱) جبکہ فاروق کا لقب انہیں ایام خلافت میں ملا تھا(۲)
۳_ کیا حضرت عمر کو پڑھنا آتا تھا؟
روایات میں مذکور ہے کہ حضرت عمر کو پڑھنا آتا تھا اور انہوں نے صحیفہ قرآنی کو خود پڑھا تھا_
ہمارے نزدیک تو یہ بات بھی مشکوک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کو نہ پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا خصوصاً شروع شروع میں_ زندگی کے آخری ایام میں لکھنا پڑھنا سیکھ گئے ہوں تویہ اور بات ہے_ اس کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: بعض حضرات نے صریحاً کہا ہے کہ خباب بن ارت نے انہیں نوشتہ قرآنی پڑھ کر سنایا تھا_(۳) پس اگر وہ پڑھ سکتے تو معاملے کی سچائی اور حقیقت جاننے کے لئے اسے خود کیوں نہیں پڑھا_
دوسری وجہ: حافظ عبدالرزاق نے( ان لوگوں کے بقول) صحیح سند کے ساتھ مذکورہ واقعے کو نقل کیا ہے لیکن اس نے کہا ہے کہ حضرت عمرنے (اپنی بہن کے گھر میں) شانے کی ہڈی (جس پر قرآن کی آیات مرقوم تھیں) تلاش کی اور جب وہ مل گئی تو حضرت عمرنے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ تو وہ کھانا نہیں کھاتی جو میں کھاتا ہوں_ پھر اس ہڈی سے اپنی بہن کو مارا اور اس کے سر کو دوجگہوں سے زخمی کردیا _ پھر وہ ہڈی لیکر نکلے اور کسی سے پڑھوایا_ حضرت عمر ان پڑھ تھے _جب وہ نوشتہ انہیں پڑھ کرسنایا گیا تو ان کا دل دہل گیا_(۴) اس بات کی تائید عیاض ابن ابوموسی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ عمر بن خطاب نے ابوموسی سے کہا:
___________________
۱_ تاریخ عمر ابن خطاب ( ابن جوزی )ص ۳۰، طبقات ابن سعد ج ۳حصہ اول ص ۱۹۳، البدایة و النہایة ج ۷ص ۱۳۳، تاریخ طبری ج ۳ص ۲۶۷سنہ۲۳ہجری کے واقعات اور ذیل المذیل ج ۸از تاریخ طبری_
۲_ ملاحظہ ہو: طبقات الشعراء (ابن سلام ) ۴۴_
۳_ تاریخ ابن خلدون ج۲ص ۹ _
۴_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۵ص ۳۲۶_
''اپنے محرر کو بلاؤ تاکہ وہ ہمیں شام سے پہنچنے والے چند خطوط پڑھ کر سنائے''_ ابوموسی نے کہا : ''وہ مسجد میں داخل نہیں ہوتا'' عمرنے پوچھا : ''کیا وہ مجنب ہے؟ ''جواب ملا : ''نہیں بلکہ وہ تو نصرانی ہے'' _ پس حضرت عمر نے اپنا ہاتھ اٹھاکر اس کی ران پر مارا ،قریب تھا کہ ران کی ہڈی ٹوٹ جاتی_(۱)
ممکن ہے کوئی یہ جواب دے کہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی خلفاء کبھی کبھی اپنے عہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے بذات خود نہیں پڑھتے تھے ، یا یہ کہ وہ خطوط عربی میں نہیں لکھے گئے تھے_ لیکن بظاہر یہ تکلفات بعد کی پیداوار ہیں _علاوہ برایں شامیوں کی زبان ہمیشہ عربی رہی ہے اور یہ بعید بات ہے کہ انہوں نے عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں خطوط لکھے ہوں_
مذکورہ بات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر عالمانہ ذہنیت کے مالک نہ تھے_ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے بارہ سال میں سورہ بقرہ یادکیا_ جب یاد کرلیا تو حیوان کی قربانی دی_(۲)
بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت حفضہ سے کہا کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کلالہ کا حکم معلوم کرے اور حضرت حفصہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چند تحریروں کی صورت میں انہیں املا کر دیا_ پھر فرمایا: '' عمر نے تجھے اس کا حکم دیا ہے ؟میرا تو یہ خیال ہے کہ وہ اسے نہیں سمجھ پائے گا_(۳)
بہت سے لوگوں کی روایت کے مطابق نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمر کے روبرو یہی بات کہی_(۴)
ہاں ممکن ہے حضرت عمرنے مشقت اٹھاکر نئے سرے سے لکھنا پڑھنا سیکھا ہو جیساکہ بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر کہاکرتے تھے اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کیا ہے تو آیہ رجم کو اپنے ہاتھ سے لکھتے
___________________
۱_ عیون الاخبار (ابن قتیبة) ج ۱ ص ۴۳، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۱ از ابن ابی حاتم و بیہقی در شعب الایمان اور حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۸۵ از تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۶۸_
۲_ تاریخ عمر از ابن جوزی ص ۱۶۵، الدر المنثور ج ۱ص ۲۱از خطیب نیز البیہقی در شعب الایمان و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۶۶، الغدیر ج ۶ص ۱۹۶از مآخذ مذکور و از تفسیر قرطبی ج ۱ ص۳۴ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۲۸۰ از تنویر الحوالک ج ۲ ص ۶۸_
۳_ المصنف ( حافظ عبد الرزاق) ج ۱۰ص ۳۰۵ _
۴_ رجوع کریں: الغدیر ج ۶ص ۱۱۶ (ایک سے زیادہ مآخذ سے منقول) اور ص ۱۲۸ _
بہر حال معاملہ جو بھی ہو لیکن خلیفہ ثانی کے پڑھے لکھے ہونے کے متعلق شک کرنے والے ہم پہلے آدمی نہیں ہیں بلکہ یہ موضوع تو پہلی صدی ہجری سے ہی معرکة الآراء رہا ہے یہی زہری کہتاہے کہ '' ہم عمر بن عبدالعزیز ( جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا _ پھر اس کے بعد عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ مدینہ کا گورنر بنا تھا) کے پاس بیٹھے اس موضوع کے متعلق بحث کررہے تھے تو اس نے کہا :'' اگر ان لوگوں کے پاس اس بارے میں کوئی خبر ہے تو میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا عمر لکھنا جانتا تھا؟'' عروة نے کہا : '' ہاں جانتا تھا'' اس نے پوچھا : '' تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ ''عروہ نے کہا : '' عمر کا یہ کہنا کہ اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن مجید میں اضافہ کیا ہے تو میں آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے قرآن میں لکھتا اس کی دلیل ہے'' _ عبداللہ کہتاہے : '' کیا عروہ نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ اسے یہ حدیث کس نے بتائی ہے ؟ ''میں نے کہا : '' نہیں'' عبیداللہ کہتاہے: '' عروة کی مثال اس مچھر کی طرح ہے جو خون تو چوستاہے مگر اپنا نشان کہیں نہیں چھوڑتا ہماری حدیثیں چوری کرتاہے لیکن ہمیں چھپا دیتاہے'' یعنی حدیث میں نے بیان کی ہے_
نکتہ :
جب یہ بات مشکوک یا ثابت ہوجائے کہ حضرت عمر پڑھے لکھے نہیں تھے تو لا محالہ ان کا یہ قول بھی مشکوک ہوجائے گا کہ وہ کاتب وحی تھے_ اور شاید یہ بھی ان تمغوں میں سے ہے جنہیں حضرت عمر کے ان وفاداروں نے گھڑا ہے جنہیں حضرت عمر کی اس فضیلت سے محرومی بہت گراں گزری ہے _ مزید یہ کہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناب عمر نے ابوموسی کی ران پر اس زور سے مارا کہ اس کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا صرف اس لئے
___________________
۱_ حلیة الاولیاء ج ۹ص ۳۴از کنز العمال ج ۵ص ۵۰از ابن سعد، سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم_
۲_ کنز العمال ج ۶ ص ۲۹۵_
کہ اس نے نصرانی محرر رکھا ہوا تھا_ جبکہ وہ لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ خود حضرت عمر کا اپنا ایک نصرانی غلام تھا جو آخری دم تک مسلمان نہیں ہوا تھا _ وہ اسے اسلام لانے کی پیشکش کرتے لیکن وہ انکار کرتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمر کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نصرانی غلام کو آزاد کردیا(۱) _ خلیفہ ثانی کے موقف میں یہ کتنا تضاد ہے ؟ اور اس کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے ؟ صرف یہ کہ ابوموسی پر اس کا اعتراض اس کے منصبی لحاظ سے صرف اس بناپر تھا کہ مسلمانوں کے داخلی امور میں ایک نصرانی سے کام لیتا تھا_ اور یہ کام مسلمانوں کی خدمت غیر مسلم سے کرانے والا مسئلہ بھی نہیں (کیونکہ حساس مسئلہ تھا_ جبکہ خلیفہ وقت کے پاس ایک نصرانی گھر کا بھیدی تھا _از مترجم)
۴_ کیا واقعی حضرت عمر اسلام کی سربلندی کا باعث بنے ہیں؟
منقول ہے کہ حضرت عمر کی برکت سے اسلام کو تقویت یا سربلندی ملی اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے خدا سے دعا مانگی تھی کہ وہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو سربلندی اور تقویت عطا کرے ...بلکہ بعض روایتوں کے مطابق تو وہ زمانہ جاہلیت میں بھی زور آور تھے _ کیونکہ جب انہوں نے ابوبکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کا ہمدرد اور مونس ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے کہا :''میرا تو تیری حمایت کرنے کا ارادہ تھا اور تو میرے متعلق یہ کہہ رہا ہے _ اس لئے کہ تو جاہلیت میں تو زور آور تھا لیکن اسلام میں بزدل ہے ...''(۲) ہمارے نزدیک یہ بات نہ فقط مشکوک ہےبلکہ بے بنیاد ہے اور اس کی وجوہات یہ ہیں:
___________________
۱_ حلیة الاولیاء ج۹ ص ۳۴ از کنز العمال ج۵ ص ۵۰ از ابن سعد، سعید بن منصور ، ابن منذر ، ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم، طبقات الکبری ج۶ ص ۱۰۹ ، التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۱۰۲ ، نظام الحکم فی الشریعة والتاریخ والحیاة الدستوریہ ص ۵۸ از تاریخ عمر ( ابن جوزی) ص ۸۷ و ص ۱۴۸ _
۲_ کنز العمال ج۶ ص ۲۹۵_
الف: جب شیخ ابطح حضرت ابوطالب ،خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر حضرت حمزہ(جنہوں نے مشرکین کے سرغنہ ابوجہل کا سر پھوڑا تھا )اور بنی ہاشم کے دیگر صاحبان عزت وشرف افراد کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ ان سے اسلام کو عزت وتقویت ملی تو پھر حضرت عمر اسلام کی تقویت اور عزت کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟ جو خود ایک معمولی خادم(۱) کی حیثیت سے شام کے سفر میں ولید بن عقبہ کے ساتھ گئے تھے_(۲) وہ عمر جن کے قبیلے میں کوئی قابل ذکر بزرگ یا رئیس نہ تھا_(۳)
وہ عمر جنہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے ساتھ گزرنے والی پوری زندگی میں شجاعت ومردانگی کی کوئی ایک مثال بھی قائم نہیں کی_ ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت عمرنے نہ ہی کوئی لڑائی لڑی، نہ کسی جنگ میں کوئی جرا ت مندانہ اقدام کیا، جبکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے دور میں بہت سی جنگیں ہوئیں _
بلکہ اس کے برعکس ہم تو کئی جنگوں میں حضرت عمر کو میدان جنگ سے فرار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں_ مثال کے طور پر جنگ احد، جنگ حنین اور جنگ خیبر میں _جیساکہ سیرت نگاروں، تاریخ نویسوں اور محدثین کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذکر کیا ہے_ آئندہ اس کا تذکرہ ہوگا انشاء اللہ _
زمخشری نے یہاں ایک عجیب لطیفے کی بات نقل کی ہے اور وہ یہ کہ انس بن مدرکہ نے ایام جاہلیت میں قریش کے ایک گلے پر ڈاکہ ڈالا اور اس کو لے کر چلتا بنا _اپنی خلافت کے دوران حضرت عمرنے اس سے کہا :''ہم نے اس رات تمہارا تعاقب کیا تھا اگر ہمارے ہاتھ لگ جاتے تو تمہاری خیر نہیں تھی'' اس نے جواب دیا:''اس صورت میں آج آپ، لوگوں کے خلیفہ نہ ہوتے''_(۴)
جی ہاں اسلام کی سرافرازی اور تقویت حضرت عمر کے ذریعے کیسے ہوسکتی تھی؟ کیونکہ نہ توانہیں بذات خود کوئی حیثیت حاصل تھی، نہ ہی اپنے قبیلے کی وجہ سے کوئی عزت تھی اور نہ ہی وہ اتنے بہادر تھے کہ لوگ ان سے ڈرتے_
___________________
۱_ رجوع کریں: اقرب الموارد لفظ ''عسف''_اور''عسیف '' کا ایک اور معنی کرایہ کامزدور یا غنڈہ بھی ہے _
۲_ المنمق ( ابن حبیب) مطبوعہ ھند صفحہ ۱۴۷اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۲ص ۱۸۳_
۳_ المنمق ص ۱۴۷ _
۴_ ربیع الابرار ج ۱ص ۷۰۷ _
ب: چاہے ہم اس بات کے قائل ہوں کہ حضرت عمر شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے واقعہ سے پہلے مسلمان ہوئے یا یہ کہیں کہ اس واقعہ کے بعد مسلمان ہوئے ، پھر بھی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ حالات جوں کے توں رہے کیونکہ اگر ہم حضرت عمر کے قبول اسلام سے پہلے اور اس کے بعد دعوت اسلام کے تدریجی سفرکو ملاحظہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے قبول اسلام کے بعد کوئی زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا_ ایک طرف سے مشرکین نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور بنی ہاشم کو شعب ابوطالب میں محصور کردیا ، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرنے کے قریب ہوگئے _ان کے مرد درخت ببول کے پتے کھاتے تھے اور ان کے بچے بھوک سے بلبلا تے تھے_
ادھر مشرکین نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو قتل کرنے کی سازش کی اور وفات ابوطالب کے بعد جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سفر طائف سے لوٹے تو بہت مشکل سے شہر مکہ میں داخل ہوسکے_ ان سخت حالات میں عمر نے کہیں بھی کسی قسم کا حل پیش کرنے میں مدد نہیں کی _ان باتوں کے علاوہ ابولہب نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو ستانے کیلئے مسلسل اذیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا_
ج: امام بخاری نے صحیح بخاری اور دیگر کتب میں عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ جب عمر ڈرکے مارے گھرمیں محصور تھے، اس وقت عاص بن وائل ان کے پاس آیا اور اس نے پوچھا'' تمہاراکیا حال ہے؟'' وہ بولے :''تمہاری قوم کا کیا پتہ ہے اگر مسلمان ہوجاؤں تووہ مجھے قتل کردیں '' _وہ بولا :'' جب میں نے تجھے امان دے دی ہے تو وہ تجھے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے'' _حضرت عمر کہتے ہیں:''جب اس نے یہ کہا تو مجھے سکون حاصل ہوا اور میں ایمان لایا'' _ اس کے بعد اس نے ذکر کیا ہے کہ عاص نے کس طرح لوگوں کو حضرت عمر سے دور رکھا _ذہبی نے حضرت عمر کے اس قول ''مجھے اس کی قوت وجبروت سے حیرت ہوئی ...''کا بھی اضافہ کیا ہے _(۱)
___________________
۱_ رجوع کریں: صحیح بخاری ج ۵ص ۶۰_۶۱مطبوعہ مشکول (اس میں دو روایتیں مذکور ہیں) نیز تاریخ الاسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۴، نسب قریش از مصعب زبیری ص ۴۰۹تاریخ عمر از ابن جوزی ص ۲۶و السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۳۲، سیرت نبویہ (دحلان) ج ۱ص ۱۳۵، سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۴،ر البدایة و النہایة ص ۸۲ اور دلائل النبوة (بیہقی) مطبوعہ دار النصر ج ۲ ص۹_
پس جس شخص کو لوگ قتل کی دھمکی دیں اور وہ ڈرکے مارے گھرمیں دبک کر بیٹھ جائے وہ صاحب عزت وجبروت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسلام کو اس کے طفیل قوت وحیثیت حاصل ہوسکتی ہے_ البتہ اسلام کے صدقے خود انہیں عزت ومقام حاصل ہوا (جس کا آگے چل کر ذکر کریں گے) ان باتوں کے علاوہ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ ابوجہل نے حضرت عمر کوپناہ دی تھی(۱) بنابرایں مناسب یہ تھا کہ ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اس شخص کے ذریعے دین کی تقویت و عزت کیلئے دعا کرتے جس نے عمر کو پناہ دی تھی اور جس کے جبروت سے لوگ حیرت زدہ تھے، گھر کے کونے میں چھپنے والے خوفزذہ حضرت عمر کے ذریعے نہیں_
د:عجیب بات تو یہ ہے کہ جن دو افراد کے حق میں اہلسنت کی روایات کے مطابق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے دعا کی ان میں سے ایک کا سر حضرت حمزہ نے اپنی کمان سے بڑی طرح پھوڑ دیا ، وہ بھی اس کے طرفداروں کے عین سامنے اور وہ بات کرنے کی بھی جرا ت نہ کرسکا _پھر وہ جنگ بدر میںہی ( جو مشرکین کے ساتھ پہلی جنگ تھی)، مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیااور دوسرا شخص بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی توقعات کے خلاف نکلا_یعنی خدانے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی دعا اس کے حق میں قبول نہیں فرمائی،کیونکہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے اسلام کی کوئی تقویت نہیں ہوئی_ جبکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ فرمایا کرتے تھے : ''میں نے اپنے رب سے کوئی دعا نہیں کی مگر یہ کہ خدانے اسے قبول کرلیا''(۲) لیکن یہاں توبات ہی برعکس ہے، کیونکہ عبدالرزاق کہتا ہے کہ جب حضرت عمرنے اپنے اسلام کو ظاہر کیا تو مشرکین سیخ پا ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت کوسخت اذیتیں دیں_(۳)
ھ: یہاں نعیم بن عبداللہ النحام عدوی اور عمر بن خطاب عدوی کے درمیان موازنہ فائدے سے خالی نہیں ہے_ نعیم حضرت عمر سے قبل مسلمان ہوا اور اپنے ایمان کو چھپاتا رہا_ اس کی قوم نے اسے ہجرت کرنے سے روکا کیونکہ بنی عدی کے یتیموں اور بیواؤں پر مال خرچ کرنے کی بنا پر اسے قوم کے درمیان عزت و شرف
___________________
۱_ تاریخ عمر(ابن جوزی) ص ۲۴ و ۲۵ اور ملاحظہ ہو: کشف الاستار ج۳ ص ۱۷۱ اور مجمع الزوائد ج۹ ص ۶۴ البتہ یہاں ذکر ہوا ہے کہ اس کے ماموں نے اسے پناہ دی تھی اور ابن اسحاق کہتاہے کہ یہاں ان کے ماموں سے مراد'' ابوجہل'' ہے _ لیکن ابن جوزی اس بات سے قانع نہیں ہوئے _ پس مراجعہ فرمائیں_
۲_ رجوع کریں: حالات زندگی حضرت علیعليهالسلام از تاریخ عساکر با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۷۵_۲۷۶ (حاشیہ کے ساتھ) اور ۲۷۸، فرائد السمطین باب ۴۳حدیث ۱۷۲، کنز العمال ج ۱۵ص ۱۵۵طبع دوم از ابن جریر (جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے)، ابن ابی عاصم اور طبرانی در الاوسط نیز ابن شاھین در السنة اور ریاض النضرة ج ۲ص ۲۱۳_ ۳_ رجوع کریں المصنف (عبدالرزاق) ج۵ص۳۲۸_
حاصل تھا چنانچہ انہوں نے کہا :''آپ ہمارے ہاں ہی ٹھہر یئےور جس دین کی چاہیں پیروی کرتے رہیں خدا کی قسم کوئی شخص بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر یہ کہ پہلے ہماری جانیں چلی جائیں''_(۱)
عروہ نے نعیم کے گھرانے کے بارے میں کہا ہے کہ بنی عدی کے کسی فردنے اس گھرانے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا(۲) یعنی اس کے مقام و منزلت کے پیش نظر انہوں نے کچھ نہیں کہا _ادھر حضرت عمر کو دیکھئے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حدیبیہ میں انہیں مکہ بھیجنا چاہا تاکہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے رؤسائے قریش کو ایک پیغام پہنچائے _یہ پیغام اس کام سے متعلق تھا جس کیلئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم آئے تھے _ لیکن عمرنے انکار کیا اور کہا:''میں قریش سے جانی خطرہ محسوس کرتا ہوں اور مکے میں بنی عدی کا کوئی فرد ایسا نہیں جو میری حمایت و حفاظت کرے''_ پھر اس نے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عثمان بن عفان کو بھیجنے کیلئے اشارہ کیا_(۳)
و:ابن عمرنے نعیم النحام کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو نعیم نے اسے ٹھکرادیا اور کہا :''میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ میرا گوشت مٹی میں مل جائے'' پھر اس کی شادی نعمان بن عدی بن نضلہ سے کردی_(۴)
ز:دوران خلا فت شام کے دورے پر جاتے ہوئے جب حضرت عمر نے اپنے موزے اتار کر کاندھے پر رکھے اور اپنی اونٹنی کی مہار تھام کر پانی میں داخل ہوئے تو ابو عبیدہ نے اعتراض کیا_ حضرت عمرنے جواب دیا:'' ہم ذلیل ترین قوم کے افراد تھے لیکن خدانے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت دی پس جب ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کے ذریعے عزت طلب کریں گے تو خدابھی ہمیں ذلیل کردے گا''_(۵) حضرت عمر سے منقول ایک اور عبارت یوں ہے ''ہم وہ لوگ ہیں جنہیں خدانے اسلام کی برکت سے حیثیت بخشی ہے ، پس ہم کسی اور چیز کے ذریعے عزت و حیثیت طلب نہیں کریں گے''_(۶)
___________________
۱_ اسدالغابة ج ۲ص ۳۳نیز رجوع کریں: نسب قریش ( مصعب) ص ۳۸۰_ ۲_ نسب قریش (مصعب) ص ۳۸۱ _
۳_ البدایة و النہایة ج۴ ص ۱۶۷از ابن اسحاق، حیات صحابہ ج ۲ص_ ۳۹۷_۳۹۸از کنز العمال ج ۱ ص ۸۴، ۵۶ و ج ۵ص ۲۸۸از ابن ابی شیبہ، رویانی، ابن عساکر اور ابویعلی، طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۴۶۱اور سنن البیہقی ج ۹ص ۲۲۱ _ ۴_ نسب قریش ( مصعب) ص ۳۸۰ _
۵_ مستدرک حاکم: ج ۱ص ۶۱اور اس کی تلخیص (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ جس نے بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق اسے صحیح قرار دیا ہے_
۶_ مستدرک حاکم ج ۱ص ۶۲ _
ح:فتح مکہ کے موقع پرجب ابوسفیان جھنڈوں کا جائزہ لے رہا تھا اور اس کی نظر حضرت عمر پر پڑی جو ایک جماعت کے سا تھ تھے تو اس نے عباس سے پوچھا :'' اے ابوالفضل یہ متکلم کون ہے؟'' وہ بولے:'' عمر بن خطاب ہے''_ ابوسفیان نے کہا:'' خدا کی قسم بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت وحیثیت ملی ہے''_عباس نے کہا :''اے ابوسفیان خدا جس کا مرتبہ بلندکرنا چاہے کرتا ہے، عمر کو خدا نے اسلام کی بدولت عزت بخشی ہے''_(۱)
۵_ حضرت عمر کا غسل جنابت
اہلسنت کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی بہن نے ان کو غسل کرنے کیلئے کہا تاکہ وہ نوشتہ قرآنی کو چھوسکیں حالانکہ قرآن کو چھونے کیلئے مشرک کا غسل عبث ہے ،کیونکہ ان میں اصل مانع شرک تھا نہ جنابت ،اسی لئے ان کی بہن نے کہا تھا کہ تم مشرک اور نجس ہو اور قرآن کو پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں_(۲)
رہا غسل جنابت تو کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی غسل جنابت کیا کرتے تھے(۳) پھر حضرت عمر کی بہن نے ان سے یہ کیونکر کہا کہ تم غسل جنابت نہیں کرتے ہو_ ہاں اگر عام لوگوں کے برخلاف حضرت عمر کی عادت ہی غسل جنابت نہ کرنا تھی تویہ اور بات ہے _مشرکین کے غسل جنابت کرنے پر ایک دلیل یہ ہے کہ ابوسفیان نے جنگ بدر سے شکست کھاکر لوٹنے کے بعد قسم کھائی تھی کہ وہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ جنگ کرنے سے قبل غسل جنابت نہیں کرے گا _واضح رہے کہ جنگ سویق ابوسفیان نے اپنی مذکورہ قسم کو نبھانے کیلئے لڑی تھی(۴) اس بات کا ہم آگے چل کر تذکرہ کریں گے
___________________
۱_ مغازی الواقدی ج ۲ص ۸۲۱اور کنز العمال ج ۵ص ۲۹۵از ابن عساکر اور واقدی_
۲_ الثقات ج ۱ص ۷۴نیز رجوع کریں مذکورہ روایت کے مآخذ کی جانب_
۳_ سیرت حلبی ج ۱ص ۳۲۹ از دمیری اور سہیلی، دمیری نے کہا ہے یہ ابراہیم و اسماعیل کے دین کی یادگار ہے نیز کہا ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کفار ایام جاہلیت میں غسل جنابت کرتے تھے اور اپنے مردوں کو بھی دھوتے تھے ان کو کفن بھی دیتے تھے نیز ان کیلئے دعا بھی کرتے تھے_
۴_ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۴۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۵۴۰ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۴۱۰ ، السیرة الحلبیہ ج ۲ ص ۲۱۱ ، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۳۹، السیرة النبویہ ( دحلان، سیرہ حلبیہ کے حاشیہ پر مطبوع) ج۲ ص ۵ بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲ اور تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص۱۷۵_
۶_ حضرت عمر کا قبول اسلام اور نزول آیت؟
کہتے ہیں کہ( یا یها النبی حسبک الله ومن اتبعک من المؤمنین ) والی آیت حضرت عمر کے قبول اسلام کی مناسبت سے اتری_ یعنی اس وقت جب اس نے تینتالیس افراد کے بعد قبول اسلام کیا(۱) لیکن اس قول کی مخالفت کلبی سے مروی اس روایت سے ہوتی ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے متعلق مدینہ میں نازل ہوئی(۲) واقدی سے منقول ہے کہ یہ آیت بنی قریظہ اور بنی نظیر کے بارے میں اتری ہے_(۳) یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ یہ سورہ انفال کی آیت ہے جو مکی نہیں، مدنی ہے زہری سے بھی مروی ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی(۴) _
اس کے علاوہ مذکورہ آیت سے قبل کی آیات جنگ وجہاد سے متعلق ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاد کا حکم مدینے میں نازل ہوا تھا اسی لئے یہ آیت ان آیات کے ساتھ مکمل طور پر ہماہنگ ہے_ قارئین ان آیات میں غوروفکر فرمائیں_اس آیت کامدنی ہونا اس لحاظ سے بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مدینے میں ہی اسلام کو قوت وشوکت اور مومنین کو عزت حاصل ہوئی_
آخری نکات
آخر میں ہم درج ذیل امور کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ:
۱) حضرت عمر کے قبول اسلام سے مربوط روایات کا مطالعہ کرنے والا اس حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان مکمل تضاد موجود ہے_
___________________
۱_ الدرالمنثور ج ۳ ص ۲۰۰ از طبرانی ، ابو شیخ و ابن مردویہ نیز ملاحظہ ہوں وہ احادیث جنہیں بزار _ ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا گیا ہے _
۲_ مجمع البیان ج ۴ص ۵۵۷ _
۳_ شیخ طوسی کی کتاب التبیان ج ۵ص ۱۵۲ _
۴_ الدرالمنثور ج ۳ ص ۲۰۰ از ابن اسحاق و ابن ابی حاتم_
۲) ان میں سے ایک روایت کے مطابق عمر کی نعیم النحام یا سعد سے ملاقات اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی نعیم نے عمر کو اس کی بہن اور بہنوئی کے مسلمان ہونے سے آگاہ کیا اور اسے ان دونوں کے خلاف اکسایا_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سعد مسلمان تھا او رنعیم عمر سے پہلے پوشیدہ طور پر مسلمان ہوچکا تھا تو پھر وہ عمر کو اس کی بہن اور بہنوئی کے خلاف کیونکر اکساتاہے ؟ اگر کوئی یہ کہے کہ نعیم کو حضرت عمر سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا_ اسلئے اس نے مذکورہ فعل انجام دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس تو حضرت حمزہ اور حضرت علیعليهالسلام جیسے پورے چالیس بہادر مرد موجود تھے اس کے باوجود بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے _ لیکن نعیم کو ان دونئے مسلمانوں کے بارے میں حضرت عمر کا خوف محسوس نہیں ہوا جبکہ ان کی مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا اور نہ ان کے پاس کوئی موجود تھا_
۳) رہا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے عمر کے قبول اسلام کے بعداعلانیہ نماز پڑھی تو اس کے جواب میں ہم انہی لوگوں کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ سب سے پہلے علی الاعلان نماز پڑھنے والاابن مسعود تھا_ نیز ابن مسعود کے علاوہ دیگر حضرات کے بارے میں بھی اس قسم کی بات کرتے ہیں_
نتیجہ بحث
مذکورہ عرائض کی روشنی میں عرض ہے کہ جو شخص حضرت عمر کے قبول اسلام کی روایات کا مطالعہ کرے گا وہ بآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ درحقیقت وہ حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے واقعے کی پردہ پوشی کی کوششیں ہیں ،وہ حمزہ جس کی وجہ سے اسلام کو حقیقی طور پر شان وشوکت نصیب ہوئی اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو زبردست سروراور خوشی حاصل ہوئی _یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ مذکورہ روایات میں حضرت عمر کا موازنہ حضرت حمزہ سے بار بار کرتے ہیں اور ان دونوں کو مساوی حیثیت دیتے ہیں بلکہ حضرت عمر کو ایک حدتک ترجیح بھی دیتے ہیں_
اسی طرح ان لوگوں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ امان کو رد کرنے کے بارے میں عثمان بن مظعون کی فضیلت حضرت عمر کے نام منتقل کرسکیں_ بلکہ ہم بعض روایات میں دیکھتے ہیں کہ شام کے اہل کتاب نے
حضرت عمر کو خوشخبری دی تھی کہ اس نئے دین کی لگام مستقبل میں ان کے ہاتھ آجائے گی(۱) جس طرح انہوں نے بصری میں حضرت ابوبکر کو بھی اسی قسم کی خوشخبری سنائی(۲) _نیز خود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو بھی خوشخبری دی تھی(۳) _ انہوں نے حضرت عمر کے اندر ان علامات کا مشاہدہ کیا تھا جن سے ان کے دعوی کی تقویت ہوتی تھی، جس طرح اس سے قبل حضرت ابوبکر میں ان کا مشاہدہ کیا تھاادھر حضرت عمر کا اسلام قبول کرنا تھا اور ادھر ان لوگوں کی پوری کوشش اس بات پر مبذول رہی کہ حضرت عمر کیلئے فضائل اور کرامات وضع کریں_فتبارک الله احسن الخالقین _
ابن عرفة نے کہا ہے:'' صحابہ کے اکثر فضائل بنی امیہ کے دور میں گھڑے گئے ہیں تاکہ بنی ہاشم کے مقام کو گھٹا سکیں''_چنانچہ معاویہ نے لوگوں کو خلفائے ثلاثہ کی شان میں احادیث وضع کرنے کا حکم دیا تھا ،جس کا بعد میں تذکرہ ہوگا_یہاں ہم مذکورہ عرائض پر اکتفا کرتے ہیں اور حقیقت اور ہدایت کے متلاشیوں کیلئے اسے کافی سمجھتے ہیں_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: الریاض النضرة ج ۲ ص ۳۱۹_
۲_ ملاحظہ ہو: السیرة الحلبیہ ج ۱ ص ۲۷۴ ، ۲۷۵ و ص ۱۸۶ اور الریاض النضرة ج۱ ص ۲۲۱_
۳_ ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد میں آغاز وحی کی روایات کے تحت عنوان اس واقعہ میں ورقہ بن نوفل کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا تھا اور اس کے سقم کو بھی ثابت کیا تھا _ پس وہاں مراجعہ فرمائیں_
چو تھی فصل
شعب ابوطالب میں
بائیکاٹ:
جب قریش نے مکہ میں نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھیوں کی، نیز حبشہ میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی عزت و حیثیت دیکھی، اس کے علاوہ قبائل میں اسلام کے پھیلاؤ کا عمل دیکھا(۱) اور یہ بھی محسوس کیا کہ اسلام کے مقابلے میں ان کی ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں ، تو انہیں ایک نئے تجربے کی سوجھی اور وہ تھا ابوطالب اور بنی ہاشم کا اقتصادی ومعاشرتی بائیکاٹ، تاکہ اس طرح یاتو وہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیتے یا( ان کے خیال خام میں) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خود اپنی دعوت سے دست بردار ہوجاتے یا بصورت دیگر وہ سب بھوک اور بے کسی کے عالم میں راہی ملک عدم ہوتے _یوں کسی ایک فرد کے اوپر ذمہ داری بھی نہ آتی جو ایک ایسی خانہ جنگی کا باعث بن سکتی تھی جس کے برے نتائج کا کوئی شخص اندازہ نہیں لگا سکتا تھا_
مختصر یہ کہ انہوں نے ایک عہدنامہ لکھا، جس میں سب نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ شادی بیاہ کا رشتہ قائم نہیں کریں گے، خرید وفروش نہیں کریں گے، اور کوئی عمل ان کے ساتھ مل کر انجام نہیں دیں گے مگر یہ کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیں_
اس عہدنامے پر قریش کے چالیس رؤسا نے دستخط کئے اور اپنی مہریں بھی لگائیں_ اسے انہوں نے ایک عرصے تک کعبے میں آویزاں رکھا (کہتے ہیں انہیں اس کی چوری کا خطرہ محسوس ہوا اسلئے اسے ابوجہل کی ماں کے گھر منتقل کیا)_(۲)
___________________
۱_ سیرت مغلطای ص ۲۳نیز سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۵اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۷از مواھب اللدنیة کی طرف رجوع کریں_
۲_ بحارالانوار کی جلد ۱۹ص ۱۶پر الخرائج و الجرائح سے اسی طرح نقل ہوا ہے یہاں اس بات کی تحقیق کی زیادہ ضرورت نہیں_
یہ واقعہ بنابر مشہور بعثت کے ساتویں سال پیش آیا اور ایک قول کی بنا پر چھٹے سال _اس معاہدے کے نتیجے میں بنی ہاشم شعب ابوطالب(۱) میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ مطلب بن عبدمناف کا خاندان تھا سوائے ابولہب کے_(۲)
بعثت کے دسویں سال تک وہ اسی تنگ درے میں محصور رہے اور قریش نے ان کے اردگرد پہرے دار بٹھا دیئے تاکہ کوئی ان تک کھانے پینے کا سامان نہ پہنچاسکے_
یہ مسلمان حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کے اموال سے خرچ کرتے رہے، یہاں تک کہ ان اموال کا خاتمہ ہوا اور مسلمان درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوئے _ان کے بچے بھوک سے بلبلاتے تھے_ مشرکین درے کے اس طرف ان کی آوازیں سنتے اور اس بارے میں تبادلہ خیال بھی کرتے تھے_ کچھ لوگ اس سے خوش ہوتے اور کچھ لوگ اسے باعث ننگ و عار قرار دیتے تھے_
کہاجاتا ہے کہ بعض مشرکین مسلمانوں کے ساتھ احسان و مہربانی کا ثبوت بھی دیتے تھے، غالباً وہ حضرات جن کا ان مسلمانوں کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ تھا_ مثال کے طور پر ابوالعاص بن ربیع اور حکیم بن حزام وغیرہ_ (اگرچہ یہ بات ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں جس کا بعد میں ذکر ہوگا انشاء اللہ )_
مسلمان فقط عمرہ کے ایام (ماہ رجب)اور حج کے ایام (ماہ ذی الحجہ) میں باہر نکلتے تھے_ اس دوران وہ نہایت مشکل سے خرید وفروخت کرتے تھے کیونکہ مشرکین قبل از وقت مکہ آنے والوں سے مل لیتے اور چیزوں کی منہ مانگی قیمت دینے کی لالچ دیتے تھے بشرطیکہ وہ اسے مسلمانوں کے ہاتھ نہ بیچیں ابولہب اس معاملے میں پیش پیش تھا_ وہ تاجروں کو اکساتا تھا کہ وہ چیزیں مہنگی بیچیں تاکہ مسلمان خریداری نہ کرسکیں _نیز ابولہب ان کواضافی قیمت ادا کرنے کی ضمانت دیتا تھا_ بلکہ مشرکین دھمکی دیتے تھے کہ مسلمانوں کے ساتھ سودا
___________________
۱_ جو شہر مکہ کے قریب ایک تنگ اور چھوٹا درہ ہے اس درے میں چند گھر اور خستہ حال سائبان موجودہیں_ (مترجم)
۲_ کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حارث بھی مسلمانوں کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل نہیں ہوا لیکن یہ قول غیرمعروف ہے_ اکثر حضرات نے فقط ابولہب ملعون کو مستثنی قرار دیا ہے یہاں ہمیں اس امر کی تحقیق سے غرض نہیں_
کرنے والوں کے اموال چھین لئے جائیں گے_وہ مسلمانوں کے ساتھ لیں دین کیلئے مکہ آنے والوں کو ڈراتے تھے_ خلاصہ یہ کہ قریش نے بازاروں کے دروازے ان پر بند کر دیئے اور کھانے پینے کی اشیاء کا جہاں کوئی سودا ہوتا قریش پہلے پہنچ جاتے ان کا مقصد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا خون بہانا تھا_(۱)
مصیبت کا یہ دور دو یا تین سالوں تک جاری رہا_ اس دوران حضرت علیعليهالسلام مکہ سے چھپ چھپا کر سامان خوردونوش ان تک پہنچاتے تھے، اگرچہ یہ خطرہ تھا کہ اگر آپ ان کے ہاتھوں لگ جاتے تو وہ آپ پر رحم نہ کرتے جیساکہ اسکافی وغیرہ نے بیان کیا ہے_(۲)
حضرت ابوطالبعليهالسلام کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر شب خون کا خطرہ محسوس ہوتا تھا اسلئے جب لوگ سونے لگتے اور حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی اپنے بستر پر سوجاتے یہاں تک کہ شعب ابوطالب میں موجود لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرلیتے تو سب کے سوجانے کے بعد حضرت ابوطالبعليهالسلام آکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو جگاتے اور آپ کی جگہ اپنے نور چشم حضرت علیعليهالسلام کو سلاتے تھے_(۳)
اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت علیعليهالسلام سے مخاطب ہوکر کچھ شعر کہے ہیں جو کتابوں میں مذکور ہیں ان کی طرف رجوع کریں_
خدیجہعليهالسلام کی دولت اور علیعليهالسلام کی تلوار
معروف ہے کہ اسلام علیعليهالسلام کی تلوار اور خدیجہعليهالسلام کی دولت سے پھیلا_ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کیامراد ہے؟ کیا یہ کہ حضرت خدیجہعليهالسلام لوگوں کو مسلمان ہونے کیلئے رشوت دیتی تھیں؟ کیا تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴ _
۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶ _
۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶و ج ۱۴ص ۶۵نیز الغدیر ج ۷ص ۳۵۷_۳۵۸از کتاب الحجة ( ابن معد)، ابن کثیر نے اسے البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴میں نام کا ذکر کئے بغیر نقل کیا ہے نیز تیسیر المطالب ص ۴۹ _
آپ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اسلام کیلئے لوگوں سے روابط استوار کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے مالی مدد بھی فرماتے تھے _اس کی بہترین دلیل جنگ حنین میں مال غنیمت کی تقسیم ہے_ (جس کا بعد میں تذکرہ ہوگا) اس کے علاوہ اسلامی قوانین کے اندر مؤلفة القلوب کے حصے سے کون بے خبرہے؟_
اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ طرز عمل کا مطلب یہ نہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ لوگ قبول اسلام کیلئے رشوت لیتے تھے_ بلکہ اسلام تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رہیں _نیز ہر قسم کے تعصب یا نفسیاتی، سیاسی اور معاشرتی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر اس کی طرف نگاہ کریں_
بنابریں ان کو دیا جانے والا مال مذکورہ موہوم رکاوٹوں کو اکثر موقعوں پر ہٹانے اور انہیں اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رکھنے، نیز اسلام کے اہداف وخصوصیات سے آشنا کرنے میں مدد دیتا تھا تاکہ نتیجتاً وہ اسلام کی حفاظت اور اس کے عظیم اہداف کے سامنے قلبی اور فکری طور پر سر تسلیم خم کریں_
چنانچہ ان میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے ان کو مال ودولت اور ہر قسم کی ان مراعات سے محروم کردیا ہے ، جن کو وہ فطری طور پر چاہتے تھے _بنابریں طبیعی بات ہے کہ وہ پوشیدہ طور پراپنے مفادات کے لئے مضر، اس گھٹن کی فضا سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے _لیکن جب ان کی مالی اعانت کی جائے اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اسلام مال ودولت کا دشمن نہیں، جیساکہ ارشاد ربانی ہے( قل من حرم زینة الله التی اخرج لعباده والطیبات من الرزق ) یعنی اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کہہ دیجئے، کس نے اللہ کی حلال کردہ زینتوں اور پاک روزیوں کو حرام قرار دیا ہے_ نتیجتاً وہ سمجھ جائیں گے کہ اسلام کا مقصد انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا، نیز مال، طاقت، حسن اور اقتدار وغیرہ کی بجائے انسانیت کو حقیقی معیار قرار دیناہے اور اسی پیمانے پر نظام زندگی کو استوار کرنا ہے تاکہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں منزل سعادت تک پہنچ سکے_
حضرت خدیجہ کے اموال کے حوالے سے واضح ہے کہ یہ اموال لوگوں کو مسلمان بنانے کیلئے بطور رشوت نہیں دیئے جاتے تھے اور نہ ہی مؤلفة القلوب کیلئے تھے _حضرت خدیجہعليهالسلام کے مال سے تو بس ان مسلمانوں
کیلئے قوت لایموت کا بندوبست ہوتا تھا جو اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں عظیم ترین مصائب ومشکلات جھیل رہے تھے_ اورجن کا مقابلہ کرنے کیلئے قریش ہر قسم کے غیر اخلاقی وغیر انسانی حربوں حتی کہ انہیں فقر وفاقے پر مجبور کرنے کے حربے سے کام لے رہے تھے _ یہ ہے وہ حقیقت جس کی بنا پر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ اسلام حضرت خدیجہعليهالسلام کے مال اور حضرت علیعليهالسلام کی تلوار سے کامیاب ہوا_
یہ واضح ہے کہ بنی ہاشم کے بائیکاٹ کے دوران حضرت خدیجہ کی دولت صرف بھوکوںکو زندہ رکھنے والے اناج اور برہنہ کو لباس فراہم کرنے میں خرچ ہوئی _دیگر امور میں ان اموال سے چندان، استفادہ نہیں ہوا کیونکہ وہ غالباً خرید وفروش سے معذور تھے_
آخر میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ مکہ میں اموال کی جس قدر بھی کثرت ہوتی لیکن پھر بھی اس کے وسائل محدود تھے کیونکہ مکہ کوئی غیرمعمولی یابہت بڑا شہر نہ تھا _ البتہ بستی یا گاؤں کے مقابلے میں بڑا تھا، اسی لئے قرآن نے اسے ام القری (بستیوں کی ماں یعنی مرکزی بستی) کا نام دیا ہے _بنابریں اس قسم کے چھوٹے شہروں کے مالی وسائل بھی محدود ہی ہوتے ہیں_
مسلمانوں کے متعلق حکیم بن حزام کے جذبات
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ابن اسحاق وغیرہ کی روایت کے مطابق حکیم بن حزام بھی مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں چھپ چھپاکر سامان خورد ونوش بھیجا کرتا تھا(۱) لیکن ہم اس بات کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے، کیونکہ حکیم بن حزام ان افراد میں سے تھا جسے شب ہجرت قریش نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو قتل کرنے کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا تھا(۲) اور موقع کے انتظار میں انہوں نے تمام رات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے دروازے پر گذاردی لیکن خدانے ان کی چال اپنے پر پلٹا دی _ مزید یہ کہ یہی حکیم بن حزام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے عہد میں مدینہ پہنچنے والی
___________________
۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۹ نیز سیرت کی دیگر کتب کی طرف_
۲_ بحار الانوارج ۱۹ ص ۳۱ و مجمع البیان ج ۴ ص ۵۳۷ _
تمام اشیائے خورد ونوش کی ذخیرہ اندوزی کیاکرتا تھا تاکہ بعد میں مہنگے داموں فروخت کرے(۱) اور اسی کا شمار مؤلفہ القلوب افراد میں ہوتا ہے(۲) _ ظاہر ہے اس قسم کی ذہنیت والا انسان اس قدر سخی نہیں ہوسکتا،خاص کران حالات میں جبکہ مسلمانوں کی مدد کا عمل قریش کی دشمنی مول لینے اور اپنی جان خطرے میں ڈال دینے کا باعث بھی ہو _ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ مذکور عمل انجام دینے میں بھی اس کا مقصد منافع لینا اور دولت جمع کرناہو یعنی ممکن ہے کہ اس نے مال کی محبت میں کھانے کی اشیاء کے عوض مسلمانوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرنے کیلئے ایسا کیا ہو_ بالفاظ دیگر وہ مال کی محبت میں جان سے بے پروا ہو کر ہر مشکل میں آسانی سے کودنے کیلئے آمادہ ہوگیا ہو_ مزید یہکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس کے اور بعض دوسرے لوگوں کے تحائف کو متعدد موقعوں پر قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا کیونکہ وہ مشرک تھے (اس کابعد میں ذکر ہوگا)_ پس یہ کیونکر معقول ہے کہ پہلے اس کو قبول کرلیں اور بعد میں قبول نہ کریں؟مگر یہ دعوی کیا جائے کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو نہیں بلکہ شعب ابی طالب میں محصور بنی ہاشم کے بچوں اور ان کی عورتوں کو ہدیہدیتا تھا اور وہ تو قبول کر لیتے تھے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قبول نہیں فرماتے تھے_
ان ساری باتوں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ابوالعاص بن ربیع کے بارے میں مذکوریہ قول بھی قابل قبول اور قابل اطمینان نہیں ہے ،کہ وہ بھی حکیم بن حزام کی طرح ان دنوں مسلمانوں کی مدد کرتا تھا_
ہم بعید نہیں جانتے کہ حکیم بن حزام کے حق میں مذکورہ فضیلت گھڑنے میں زبیریوں کاہاتھ ہو خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ زبیر نے امیرالمؤمنین علیعليهالسلام کی بیعت میں لیت ولعل سے کام لیا تھا_ نیز وہ ایک متعصب عثمانی تھا_(۳) خانہ کعبہ میں ولادت امیرالمؤمنین اور کیفیت وحی کے بارے میں جھوٹی باتیں گھڑنے کے ذکر میں بھی ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا_
___________________
۱_ دعائم الاسلام ج ۲ ص ۳۵ ، توحید صدوق ص ۳۸۹ ، وسائل ج ۱۲ ص ۳۱۶ ، کافی ج ۵ ص ۱۶۵، التھذیب طوسی ج ۷ ص ۱۶۰ ، من لا یحضرہ الفقیہ ج ۳ ص ۲۶۶ مطبوعہ جامعة المدرسین و الاستبصار ج ۳ ص ۱۵
۲_ نسب قریش ص ۲۳۱ _
۳_ قاموس الرجال ج۳ص ۳۸۷ _
شق القمر
شق القمر کا واقعہ بعثت کے آٹھویں سال پیش آیا جبکہ مسلمان شعب ابوطالب میں محصور تھے_(۱)
بہت ساری روایات میں مذکور ہے کہ قریش نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے معجزہ طلب کیا چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خدا سے دعا کی تو چاند کے دو حصے ہوگئے، اور انہوں نے اس کا نظارہ کیا ،پھر دونوں حصے آپس میں مل گئے_
یہ دیکھ کر قریش نے کہا کہ یہ ایک جادو ہے پس آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ) یعنی قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا_ یہ لوگ اگر اللہ کی کوئی نشانی دیکھیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سلسلہ وار جادو ہے_
ایک روایت میں ہے کہ کفار نے کہا :''ٹھہرو دیکھتے ہیں کہ مسافرین کیا خبر لاتے ہیں کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم سارے لوگوں پر جادو نہیں کرسکتا ''_جب مسافرین آگئے تو کفارنے ان سے استفسار کیا جس پر انہوں نے جواب دیا: ''ہاں ہم نے بھی یہ منظر دیکھا ہے ''پس یہ آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر ) (۲)
سید شریف سے شرح المواقف میں اورابن سبکی سے شرح المختصر میں نقل ہوا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے اور اہلسنت کے ہاں اس کے متواتر ہونے میں شک کی کوئی گنجائشے نہیں ہے_(۳)
رہا غیرسنیوں کے نزدیک تو علامہ محقق السید طباطبائی کہتے ہیں شق القمر کے واقعے کا شیعہ روایات میں آئمہ اہلبیتعليهالسلام سے بکثرت ذکر ہوا ہے_ شیعہ علماء اور محدثین کے نزدیک یہ واقعہ مسلمہ ہے_(۴) لیکن بہرحال اس مسئلے کو ضروریات دین میں شامل کرنا ممکن نہیں، جیساکہ بعض علماء نے اس جانب اشارہ کیا ہے_(۵)
___________________
۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۲و ۶۴ _
۲_ الدر المنثور ج ۶ص ۱۳۳از ابن جریر، ابن منذر، ابن مردویہ، دلائل ابونعیم اور دلائل بیہقی نیز مناقب آل ابوطالب ج ۱ص ۱۲۲ _
۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_ ۴_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۶۱ نیز رجوع ہو بحارالانوار ج ۱۷ ص ۳۴۸_۳۵۹ باب المعجزات السماویة_
۵_ رجوع کریں: فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۷۵کی طرف_
ایک اعتراض اور اس کا جواب
علامہ طباطبائی کہتے ہیں یہاں ایک اعتراض ہوا ہے ،وہ یہ کہ لوگوں کے مطالبے پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی طرف سے معجزے کا اظہار اس آیت کے منافی ہے( وما منعنا ان نرسل بالایات الا ان کذب بها الا ولون وآتینا ثمود الناقة مبصرة فظلموا بها وما نرسل بالایات الا تخویفا ) (۱) یعنی ہمارے لئے اپنی نشانیاں دکھانے سے فقط یہ بات مانع ہے کہ پہلے والوں نے اس کی تکذیب کی_ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی عطا کی جو ہماری قدرت کوروشن کرنے والی تھی لیکن ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم تو نشانیوں کو فقط ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں_
اس آیت کا مفہوم یا تو یہ ہے کہ ہم اس امت کی طرف معجزے بھیجتے ہی نہیں کیونکہ گذشتہ امتوں نے ان کی تکذیب کی اور چونکہ اس امت کے لوگوں کی طبیعت بھی ان کی طرح ہے لہذا وہ بھی ان معجزوں کی تکذیب کریں گے_ اس صورت میں چونکہ معجزہ ان کیلئے بے فائدہ ہے اسلئے ہم معجزے نہیں دکھاتے _یا مفہوم یہ ہوگاکہ ہم معجزے اسلئے نہیں بھیجتے کیونکہ جب ہم نے گذشتہ لوگوں کو معجزے دکھائے تو انہوں نے جھٹلایا نتیجتاً عذاب الہی کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے، پس اگر ہم ان لوگوں کو بھی معجزہ دکھائیں تو یہ بھی اس کو جھٹلاکر عذاب کا شکار ہوں گے، لیکن ہم ان کو عذاب دینے میں جلدی کرنا نہیں چاہتے_ بہرحال مفہوم جو بھی ہو نتیجہ یہ ہے کہ سابقہ امتوں کیلئے جس طرح معجزے بھیجے جاتے تھے اس امت کیلئے نہیں بھیجے جائیں گے_
البتہ یہ فیصلہ ان معجزوں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے مطالبے پر دکھائے جائیں نہ ان معجزوں کے بارے میں جن سے رسالت کی تائید ہوتی ہو مثال کے طور پر خود قرآن بھی ایک معجزہ ہے اور اس سے رسالت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تائید ہوتی ہے_ نیز عصائے موسیعليهالسلام یا ید موسیعليهالسلام یا حضرت عیسیعليهالسلام کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا وغیرہ _علاوہ بر ایں وہ معجزے جو خدا کی طرف سے بطور لطف نازل ہوئے وہ بھی اس سے مستثنی ہیںجس طرح رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ظاہر ہونے والے وہ معجزات جو لوگوں کی در خواست پر نہیںدکھائے گئے_
___________________
۱_ سورہ اسرائ، آیت ۵۹_
اس کے بعد علامہ طباطبائی نے خود اس اعتراض کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ معجزہ شق القمر کی تکذیب کا تقاضا یہ تھا کہ ان پر عذاب نازل ہوتا کیونکہ یہ معجزہ ان کی درخواست پر ظاہر ہوا ،لیکن خدا تمام اہل زمین کو( جن کی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھیجا گیاتھا ) کیسے ہلاک کرسکتا تھا ؟جبکہ ان سب پر ابھی اتمام حجت نہیں ہوا تھا جسے وہ جھٹلاکر مستحق عذاب ہوتے بلکہ مکہ میں رہنے والے بعض افراد پر یہ حجت تمام ہوئی تھی کیونکہ یہ معجزہ ہجرت سے پانچ سال قبل دکھایا گیا تھا_
نیز مکہ اور اس کے آس پاس رہنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کرنا بھی مقصود خداوندی نہ تھا کیونکہ ان میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی چنانچہ ارشاد الہی ہے( ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات لم تعلموهم ان تطئوهم فتصیبکم منهم معرة بغیر علم لیدخل الله فی رحمته من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منهم عذاباً الیماً ) (۱)
یعنی اگر با ایمان مرداور عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں تمہارے ہاتھوں ان کی پامالی کا بھی خطرہ تھا ،اس طرح تمہیں لا علمی کی بنا پر نقصان پہنچتا (تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا روکا اسلئے) تاکہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اگر یہ لوگ الگ الگ ہوجاتے تو ہم کفار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے_حالانکہ اس وقت مشرکین مسلمانوں سے جدا نہیں ہوئے تھے_
نیز رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی موجودگی میں بھی ان کفار پر عذاب نازل نہیں ہوسکتا تھا جیساکہ ارشاد باری ہے( وما کان الله لیعذبهم وانت فیهم ) (۲) یعنی جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں تو خدا ان پر عذاب نازل نہ کرے گا_
اور یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ خدا مسلمانوں کو چھوڑ کر فقط کافروں پر عذاب نازل کرتا جبکہ کفار کی ایک کثیر تعداد بعثت کے آٹھویں سال سے لے کر ہجرت کے آٹھویں سال تک مسلمان ہوچکی تھی اوربعد ازاں فتح مکہ کے وقت تو عام لوگ بھی مسلمان ہوگئے_
___________________
۱_ سورہ فتح، آیت ۲۵_
۲_ سورہ انفال، آیت ۳۳_
اس مسئلے میں اسلام کے نزدیک لوگوں کا بظاہر اسلام قبول کرلیناہی کافی ہے _اس کے علاوہ تمام اہل مکہ یا آس پاس کے لوگ اسلام سے عناد رکھنے والے یا جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والے نہ تھے_ یہ صفت تو فقط قریش کے سرداروںکی تھی، جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا مذاق اڑاتے اور مؤمنین پر تشدد کرتے تھے_ جن آیات میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو مسجدالحرام جانے سے روکنے اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے جرم میں کافروں کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے مقابلے میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکنے(۱) اور عذاب الہی کامز اچکھنے کی دھمکی دی گئی تھی تو ان آیات نے جنگ بدر میں حقیقت کا روپ دھارلیا اور بہت سے کفار واصل جہنم ہوئے_
پس قرآن کی مذکورہ آیت( وما منعنا ان نرسل بالآیات ) سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کے درمیان موجود ہوں خدا معجزے نہیں دکھاتا _رہا معجزہ دکھا کر عذاب کو مؤخر کرنا یہاں تک کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو خدا کے مذکورہ کلام میں اس کا کوئی ذکر نہیں_ ادھر اللہ تعالی کا ارشاد ہے( وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً قل سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولاً ) (۲) یعنی ''کفار بولے ہم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم زمین سے ہمارے لئے چشمے جاری کردیں کہہ دیجئے میں تو بس ایک بشرہوں جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بنا کر بھیجا گیا ہے''اور یہ ارشاد اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ خدا معجزات کے ذریعے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت ونصرت نہیں فرمائے گا یامعجزے کا اظہار بالکل نہ ہوگا ،وگرنہ تمام انبیاء بھی انسان ہی تھے_پس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک بشر ہونے کے ناطے بذات خود اس امر پر قادر نہیں بلکہ ساری قدرت خدا کی ہے اور درحقیقت اسی کے حکم سے معجزات رونما ہوتے ہیں_(۳)
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ( وما نرسل بالایات الا تخویفا ) والی آیت کا مقصد شاید یہ ہو کہ ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کی بنیاد ناقہ ثمود یا معجزات موسیعليهالسلام کی طرح کے معجزوں پر استوار نہیں بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کی بنیاد
___________________
۱_ سورہ بنی اسرائیل ۷۶اور سورہ انفال ۳۵_
۲_ سورہ بنی اسرائیل ۹۳ _
۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_۶۴_
حضرت ابراہیمعليهالسلام کی دعوت کی طرح بنیادی طور پر عقلی دلائل قائم کر کے اذہان کو مطمئن کرنے پر مبنی ہے_ لیکن واضح رہے کہ یہ بات اس امر کے منافی نہیں کہ بعض مقامات پر (جہاں عقلی براہین و دلائل کارگرنہ ہوں) معجزات کا اظہار کیاجائے_
شق القمر، مؤرخین اور عام لوگ
معجزہ شق القمر پر یہ اعتراض ہوا ہے کہ اگر حقیقتاً چاندکے دوٹکڑے ہوئے ہوتے تو تمام لوگ اسے دیکھ لیتے اور مغرب کی رصدگاہوں میں اس کا ریکارڈ ہوتا کیونکہ چاند کا دونیم ہونا عجیب ترین آسمانی معجزہ ہوتا_ بہرحال اس قسم کے معجزے کو سننے اور نقل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی_
اس اعتراض کے درج ذیل جوابات دیئے گئے ہیں_
الف: ممکن ہے کہ لوگ اس واقعے سے غافل رہے ہوں کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ ہر آسمانی یا زمینی حادثے کا لوگوں کو ضرور علم ہونا چاہیئے یا ان کے ریکارڈ میں اس قسم کے واقعات کو موجود ہونا چاہئے اور نسل در نسل لوگوں کے پاس ان کا علم ہونا چاہیئے_(۱)
محقق توانا علامہ شیخ ناصر مکام شیرازی نے اس مسئلے کی مزیدوضاحت کی ہے ان کے بیان کی رو سے درج ذیل نکات قابل ملاحظہ ہیں_
۱) چاند کا دونیم ہونا زمین کے اس نصف حصے کیلئے قابل دید تھا جہاں رات تھی نہ کہ دوسرے نصف حصے کیلئے جہاں دن تھا_
۲) اس نصف حصے میں بھی جہاں رات ہوتی ہے اکثر لوگ اجرام فلکی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے خصوصاً آدھی رات کے بعد تو سب سو جاتے ہیں اور تقریباً کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا_
___________________
۱_ تفسیر المیزان، ج ۱۹ ص ۶۴_
۳)ممکن ہے اس وقت بعض مقامات پر بادل چھائے ہوئے ہوں جس کی وجہ سے چاند کا دیکھنا ممکن نہ رہاہو_
۴) آسمانی حادثات و واقعات لوگوں کی توجہ اس وقت جذب کرتے ہیں جب ان کے ساتھ کوئی آواز (مثلا گھن گرج وغیرہ) بھی سنائی دے یا غیر معمولی علامات( مثلا سورج گرہن کی صورت میں نسبتاً کافی دیر تک سورج کی روشنی کا مدہم پڑ جانا )بھی ہمراہ ہوں_
۵) علاوہ براین پہلے زمانوں کے لوگ آسمانی حادثات پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے_
۶) اس زمانے میں ذرایع ابلاغ نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی کہ دنیا کے ایک حصے کی خبر فوراً دوسرے حصے میں پہنچ جاتی اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہوجاتی_
۷) ہمارے ہاں موجود تاریخ بہت ہی ناقص ہے کیونکہ گذشتہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں میں کتنے ہی عظیم حادثات گذرے ہوں گے، زلزلے اور سیلاب آئے ہوں گے جن سے بہت سی اقوام کی تباہی ہوئی ہوگی لیکن آج تاریخ میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا_ بطور مثال زرتشت جس کا ظہور ایک عظیم حکومت کے دامن میں ہوا اور جس نے تاریخ عالم میں مختلف اقوام وملل پر زبردست اثر چھوڑا ، ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا کہاں مرا اور کہاں دفن ہوا بلکہ بعض لوگوں کوتو اس بات میں بھی شک ہے کہ اس کا وجود حقیقی تھا یا افسانوی_ بنابرایں ظاہر ہے کہ اگر سارے لوگوں نے شق القمر کا مشاہدہ نہ کیا ہو یا تاریخ میں یہ واقعہ واضح طور پر ثبت نہ ہو سکاہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں_(۱)
ب:عرب یا غیرعرب علاقوں میں فلکیاتی حالات کا جائزہ لینے کیلئے رصدگاہیں موجود نہ تھیں_ مشرق ومغرب میں اگر رصدگاہیں موجود تھیں تو شاید روم اور یونان وغیرہ میں تھیں اگرچہ ہمارے نزدیک اس دور میں رصدگاہ کی موجودگی بھی ثابت نہیں _اس کے علاوہ مغرب کی سرزمین جہاں ان امور پر توجہ دی جاتی تھی،اور مکہ کے درمیان اختلاف افق کی بنا پر وقت کا بہت زیادہ فرق تھا بعض روایات کی بنا پر معجزے کے وقت چاند مکمل تھا اور طلوع کے وقت تھوڑی دیر کیلئے شق ہونے کے بعد پھر جڑگیا _ظاہر ہے اس کے بعد جب
___________________
۱_ فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۹۴_
مغرب میں چاند طلوع ہوا ہوگا تو اس وقت اس کے دونوں حصے ملے ہوئے تھے_(۱)
چاند کاشق ہوکر جڑنا، سائنسی نقطہ نظر سے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سائنسی نقطہ نظر سے اجرام فلکی کاشق ہونا ممکن ہے؟ یہ اس وقت ممکن ہے جب دونوں حصوں کے درمیان جاذبیت برقرار نہ رہے اور جب کشش ہی نہ رہے تو دوبارہ جڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا_جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ قدرت خداوندی سے یہ خارق العادہ کام محال نہیں ہیں اور علامہ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ ماہرین فلکیات کے بقول اجرام فلکی میں خاص وجوہات کی بنا پر توڑپھوڑ کا عمل بہت زیادہ واقع ہوا ہے مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ:
۱) سورج کے گرد تقریباً پانچ ہزار چھوٹے بڑے اجسام گردش کررہے ہیں_
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اجسام کسی ایسے سیارے کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جو مریخ اور مشتری کے مداروں کے درمیان موجود تھا _پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر دھماکے سے پھٹ کر تباہ ہوگیا اور مختلف حجم کے ٹکڑوں کی شکل میں سورج کے گرد مختلف مداروں میں بکھر گیا_
۲) ماہرین کہتے ہیں کہ شہاب ثاقب حیرت انگیز رفتار سے سورج کے گرد گھومنے والے پتھر کے نسبتاًچھوٹے ٹکڑے ہیں _ کبھی کبھی وہ زمین کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو زمین ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے_ یوں جب وہ زمین کی فضاؤں سے رگڑکھاتے ہیں تو شعلوں میں تبدیل ہوکر نیست و نابود ہوجاتے ہیں _ ماہرین کے بقول یہ بھی کسی ایسے ستارے کے ٹکڑے ہیں جو دھماکے کے بعد ان ٹکڑوں کی شکل میں تقسم ہوگیا_
۳)لاپلس ( LAPLACE ) کے نظریئے کے مطابق نظام شمسی بھی ایک ہی جسم تھا_ پھر کسی نامعلوم سبب کی بناء پر وہ پھٹ گیا اور موجودہ شکل اختیار کرلی_ بنابریں کسی زبردست علت کے نتیجے میں چاند کے بھی دو ٹکڑے ہوسکتے ہیں اور وہ علت ہے خدا کی قدرت و طاقت_ کیونکہ جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خدا سے دعا
___________________
۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۴،۶۵_
کی تو اس نے قبول کرلی_
یہ دعوی تو کوئی بھی نہیں کرتا کہ چاند بغیر کسی سبب کے شق ہوا _رہا اس کا دوبارہ جڑجانا تو اس سلسلے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ہر بڑے سیارے میں کشش ہوتی ہے اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج اپنے گرد گھومنے والے بہت سے ٹکڑوں کواپنی طرف جذب کر لیتا ہے ،جس پر یہ اجسام ٹکراؤ اور ر گڑ کے نتیجے میں شعلے کی شکل اختیار کر کے تباہ ہوجاتے ہیں_
پس جب چاند کے دونوں حصے ایک دوسرے کے قریب ہوں اور وہ قوت جوان دونوں کی باہمی کشش کی راہ میں حائل تھی اٹھ جائے تو یہ دونوں ٹکرے ایک دوسرے کو کیوں نہ اپنی طرف کھینچیں تاکہ پھر پہلے والی حالت پر واپس آجائیں؟ عقلی طور پر اس میں کونسی رکاوٹ ہے؟(۱)
علامہ طباطبائی نے اس سوال (کہ بغیر جاذبیت کے کیسے جڑ سکتے ہیں) کا مختصر الفاظ میں یوں جواب دیا ہے کہ عقل کے نزدیک یہ امر محال نہیں (بلکہ ممکن ہے)_ رہا یہ سوال کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوا کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ امر جدائی کے بعد دوبارہ جڑجانے سے مانع ہے تو پھر شروع میں ہی اس کے دوٹکروں میں بٹ جانے سے بھی مانع ہونا چاہئے_ لیکن جب شق ہونا ممکن ہوا تو دوبارہ ان کامل جانا بھی ممکن ہے_ نیز ہماری بحث ہی غیر معمولی امر یعنی (معجزے) کے رونما ہونے میں ہے _(۲)
شق القمر پر قرآنی آیت کی دلالت
بعض لوگ یہ احتمال دیتے ہیں کہ قرآنی آیت( اقتربت الساعة وانشق القمر ) مستقبل کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور یہ بتا رہی ہے کہ چاند کا شق ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے ،جس طرح تکویر شمس (سورج کی شعاعوں کا زائل ہوجانا) اور انکدار نجوم (ستاروں کا ٹوٹ کر بکھرنا) بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے_
___________________
۱_ ہمہ باید بدانند ص ۸۴ تا ۹۰_
۲_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۵ _
علامہ محقق شیخ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب دیا ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے:
الف:قول الہی: (وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر) سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کے کچھ مخالفین خدا کی نشانیوں اور معجزات پر ایمان نہیں لائے _جب بھی کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے تو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اسے جادو قرار دیتے ہیں_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ شق القمر کے مسئلے میں بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کافروں نے یہی روش اپنائی تھی_(جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلے رونما ہوچکا ہے _مترجم)
ب:لفظ (انشق) فعل ماضی ہے ماضی کے الفاظ مستقبل پر دلالت نہیں کرتے مگر کو ئی قرینہ موجود ہو اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں بلکہ قرینہ اس کے برعکس ہے _چنانچہ رازی کہتا ہے تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس لفظ سے یہی مراد ہے کہ چاند کا شق ہونا واقع ہوچکا ہے_ نیز معتبر روایات بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں _(۱)
اگرچہ طبرسی اور ابن شہر آشوب نے عطاء حسن اور بلخی کو مستثنی قرار دیا ہے_(۲) اور طبرسی کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے _لہذا اس مسئلے میں بعض لوگوں کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا_(۳)
اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآن میں جملہ( اقتربت الساعة ) کے فوراً بعد( انشق القمر ) کا جملہ مذکور ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں کا زمانہ مشترک ہے (یعنی روز قیامت)_ تو اس کاجواب یہ ہے کہ قرآن کی بہت ساری آیات میں صریحاً کہا گیا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پس غفلت کیسی؟ فرمایا ہے( اقترب للناس حسابهم وهم فی غفلة معرضون ) (۴) یعنی لوگوں کیلئے حساب کی گھڑی آگئی ہے لیکن وہ غفلت کا شکار ہوکر کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں_ یہاں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے
___________________
۱_ تفسیر رازی ج ۲۹ص ۲۸_
۲_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶و مناقب آل ابیطالب ج ۱ص ۱۲۲ _
۳_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶ _
۴_ سورہ الانبیائ، آیت_ ۱
منقول ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی دوانگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:'' میری بعثت اور قیامت کی مثال یوں ہے''_(۱) ظاہر ہے کہ یہ بات مجموعی دنیاوی زندگی کو مدنظر رکھ کر کہی گئی ہے جو بہت طولانی ہے_ جسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور قیامت کا درمیانی عرصہ کچھ بھی نہیں _بنابریں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت نزدیک آگئی ہے اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعے یہ معجزہ ظاہر ہوا لیکن یہ خودسرمشرکین ایمان نہیں لاتے اور اس کی تصدیق کرنے کی بجائے کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے_(۲)
لیکن ایک محقق کا کہنا ہے( ان یروا آیة ) والی آیت جملہ شرطیہ ہے، اس میں مذکورہ امر کے واقع ہوجانے کا تذکرہ نہیں _نیز جملہ( انشق القمر ) کی مثال اس آیت کی طرح ہے( آتی امر الله فلا تستعجلوه ) حکم الہی آیاہی چاہتا ہے لہذا جلد بازی نہ کرو _ یہاں ماضی کا جملہ ہے حالانکہ ابھی امر الہی واقع نہیں ہوا اسی لئے اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ جلد بازی نہ کرو _یہی حال ہے قول الہی( وانشق القمر ) کا کیونکہ اس کے بعد کہا گیا ہے( وان یروا ) _ یہاں یہ کہنا مقصودہے کہ اگر ایسا امر واقع ہوا تو ان کی کیا حالت ہوگی_ رہا اجماع جس کا طبرسی نے وعوی کیا ہے تو وہ حجت نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ اجماع اس آیت سے غلط استنباط کی بناء پر وجود میں آیا ہو_
یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ اگر شق القمر کے واقع ہونے پر معتبر احادیث گواہی نہ دے چکی ہوتیں تو پھر مذکورہ احتمال کی کسی حدتک گنجائشے تھی_
افسانے
لوگوں نے شق القمر کے واقعے سے بہت سارے افسانے اور بے بنیاد قصے گھڑ لئے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوگیا کہ چاند کا ایک ٹکڑا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی آستین سے ہوکر گزرگیا_
___________________
۱_ مفتاح کنوز السنة ص ۲۲۷کہ بخاری، مسلم، ابن ماجہ، طیاسی، احمد، ترمذی اور دارمی سے نقل کیا ہے_
۲_ آیت کی دلالت سے متعلق ہماری مذکورہ معروضات کے سلسلے میں آپ رجوع کریں فارسی کتاب ''ہمہ باید بدانند'' ص ۷۶_۸۰_
علامہ ناصر مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ احادیث وتفسیر کی کتابوں میں خواہ شیعوں کی ہوں یا سنیوں کی، اس قول کا نام ونشان بھی نہیں ملتا_
بعض روایات میں اس مسئلے کی جزئیات اور تفصیلات کا ذکر ہوا ہے لیکن ہم ان پر تحقیق کرنے میں کوئی بڑا فائدہ یا نتیجہ نہیں پاتے _بنابریں ہم زیادہ اہم اور مفید مسئلے کا رخ کرتے ہیں_
عہد نامے کی منسوخی
تقریبا تین سال بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کو بتایا کہ دیمک نے مشرکین کے عہدنامے میں ظلم اور قطع رحمی سے متعلق الفاظ کو کھالیا ہے اور سوائے اسماء الہی کے کوئی چیز باقی نہیں رہی_ ایک اور روایت کے مطابق دیمک نے اللہ کے تمام ناموں کو کھالیا لیکن ظلم وشر اور قطع رحمی سے متعلق حصّے کو چھوڑ دیا_(۱)
چنانچہ حضرت ابوطالب بنی ہاشم کے ہمراہ اس درے سے خارج ہوئے اور شہر مکہ لوٹ آئے_
یہ دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ بھوک نے ان کو نکلنے پر مجبور کردیا ہے_ قریش نے کہا:'' اے ابوطالب اب وقت آگیا ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ مصالحت کرلو'' _حضرت ابوطالب نے فرمایا:'' میں تمہارے پاس ایک اچھی تجویز لیکر آیاہوں ،اپنا عہدنامہ منگواؤ شاید اس میں ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کی کوئی راہ موجود ہو''_ قریش اسے لے آئے اور دیکھا کہ اس پر ان کی مہریں اب بھی موجود ہیں حضرت ابوطالب نے کہا:'' کیا اس معاہدہ پر تمہیں کوئی اعتراض ہے؟'' بولے نہیں_
ابوطالبعليهالسلام نے کہا:'' میرے بھتیجے نے (جس نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا) مجھے خبر دی ہے کہ خدا کے
___________________
۱_ کبھی کہا جاتا ہے کہ معاہدے کی منسوخی تک قریش کا اپنی عداوت پر باقی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیمک نے صرف اللہ کے نام کو مٹایا تھا اور قطع رحمی کی مانند دیگر مواد کو باقی رکھا تھا لیکن اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دیمک کا خدا کے نام کو کھا جانا بہت بعید بات ہے شاید مشرکین عہدنامے کے محو ہوچکنے کے باوجود بھی اس کے مضمون پر عمل کرتے رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اسے دوبارہ لکھا ہو_ اس پر یہ اشکال کیا گیا ہے کہ دیمک نے خدا کا نام اس کی حرمت باقی رکھنے کیلئے چاٹا ہو تاکہ اس ظالمانہ عہدنامے میں اس کا پاک نام باقی نہ رہے_ اور یہ اظہار حق کیلئے مطلوب ایک مثبت معجزہ تھا_ اس سے کسی قسم کی اہانت کا پہلو نہیں نکلتا_
حکم سے دیمک نے اس عہدنامے سے گناہ اور قطع رحمی سے مربوط الفاظ کو کھا لیا ہے اور فقط اللہ کے ناموں کو باقی چھوڑا ہے_ اگر اس کی بات صحیح نکلے تو تمہیں ہمارے اوپر ظلم کرنے سے دست بردار ہونا چاہیئے اور اگر جھوٹ نکلے تو ہم اسے تمہارے حوالے کردیں گے تاکہ تم اسے قتل کرسکو''_
یہ سن کر لوگ پکار اٹھے:'' اے ابوطالب بتحقیق آپ نے ہمارے ساتھ انصاف والی بات کی''_ اس کے بعد وہ عہدنامہ کولائے تو اسے ویساہی پایا جیسارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے خبر دی تھی_ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے تکبیر کی آواز بلند کی اور کفار کے چہروں کارنگ فق ہوگیا_حضرت ابوطالب بولے:'' دیکھ لیا کہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا حقدار ہے؟''
اس دن ان کے بہت سے افراد نے اسلام قبول کرلیا لیکن مشرکین پھر بھی قانع نہ ہوئے اور انہوں نے عہدنامے کے مضمون کے مطابق سابقہ روش جاری رکھی،یہاں تک کہ بعض مشرکین اس عہدنامے کو توڑنے کے درپے ہوئے ان لوگوں میں ان افراد کا ذکر ہوا ہے_ ہشام بن عمروبن ربیعہ، زہیر بن امیہ بن مغیرہ، مطعم بن عدی، ابوالبختری بن ہشام، زمعة بن اسود_
یہ سارے حضرات بنی ہاشم اور بنی مطلب سے کوئی نہ کوئی قرابت رکھتے تھے_ ابوجہل نے ان کی مخالفت کی، لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی چنانچہ وہ عہدنامہ پھاڑ دیا گیا اور اس پر عمل درآمدختم ہوگیا _یوں بنی ہاشم شعب ابوطالب سے نکل آئے_(۱)
ابوطالب عقلمندی اور ایمان کا پیکر
ہجرت سے قبل کے واقعات کا مطالعہ کرنے والا شخص دسیوں مقامات پر حضرت ابوطالب کی ہوشیاری وتجربہ کاری کا مشاہدہ کرتا ہے_
___________________
۱_ اس بارے میں ملاحظہ ہو : السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۴۴ ، السیرة النبویہ (ابن ہشام) ج ۲ ص ۱۶ ، دلائل النبوة مطبوعہ دار الکتب ج ۲ ص ۳۱۲، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۸۸ السیرة النبویہ (دحلان) ج۱ص ۱۳۷ و ۱۳۸ مطبوعہ دار المعرفة ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۱ اور البدایة والنہایة ج۳ ص ۸۵ و ۸۶_
بہترین مثال مذکورہ بالا واقعہ ہے_ ہم نے مشاہدہ کیاکہ حضرت ابوطالب نے کفار سے عہدنامہ لانے کا مطالبہ کیا اورساتھ ہی یہ اشارہ بھی کیا کہ شاید اس میں صلح کیلئے کوئی راہ نکل آئے_
ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عہدنامہ سب لوگوں کے سامنے کھولاجائے تاکہ سب اسے دیکھ لیں اور آئندہ پیش آنے والے عظیم واقعے کیلئے آمادہ ہوسکیں _نیز ایک منطقی حل پیش کرنے کیلئے فضا ہموار ہوجائے تاکہ بعد میں قریش کیلئے اس کو قبول کرنا اور اس پر قائم رہنا شاق نہ ہو، بالخصوص اس صورت میں جب وہ ان سے کوئی وعدہ لینے یا ان کو عرب معاشرے میں رائج اخلاقی اقدار کے مطابق قول و قرار، شرافت و نجابت اور احترام ذات وغیرہ کے پابند بنانے میں کامیاب ہوتے_ انہیں اس میں بڑی حدتک کامیابی ہوئی یہاں تک کہ لوگ پکار اٹھے ''اے ابوطالب تو نے ہمارے ساتھ منصفانہ بات کی ہے_''
مذکورہ عبارات سے ایک اور حقیقت کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو بجائے خود اہمیت اور نتائج کی حامل ہے اور جو یہ بتاتی ہے کہ حضرت ابوطالب کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی سچائی، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشن کی درستی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیغام کی حقانیت پرکس قدر اعتماد تھا اور یہ کہ جب دوسرے لوگ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ساحر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے تو انہیں دکھ ہوتا تھا_ ان کی نظر میں یہ ایک کھلم کھلا بہتان تھا_ اسی لئے انہوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا تاکہ اس سے فائدہ اٹھاکر کفار کے خیالات و نظریات کو باطل قرار دیں چنانچہ انہوں نے کہا :'' کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا زیادہ حقدار ہے؟ ''اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد نامے والا معجزہ دیکھنے کے بعد مکہ کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا_
قبیلہ پرستی اور اس کے اثرات
گذشتہ صفحات میں ہم نے ملاحظہ کیاکہ قبیلہ پرستی نے ایک حدتک ان حادثات کی روک تھام میں مدد کی جن سے دعوت اسلامی کے مستقبل اور اس کی کامیابی پر برا اثر پڑ سکتا تھا_ مثال کے طور پر عہدنامے کو منسوخ کرنے والے افراد کی کوشش میں بھی یہی جذبہ کارفرما تھا، لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جدوجہد میں ابولہب کہیں دکھائی نہیں دیتا نیز حضرت خدیجہ کے چچازاد حکیم بن حزام بھی نظر نہیں آتے جس کے بارے
میں روایات کا دعوی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں کھانے کاسامان بھیجا کرتے تھے _ اس کے علاوہ ابوالعاص بن ربیع اموی کا بھی کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آیا جس کے بارے میں وہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے ساتھ قرابت کو سراہا (انشاء اللہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ حضرت علیعليهالسلام کی شادی والے افسانے میں اس کا مزید ذکر ہوگا)_ ان کوششوں کی وجہ بالواسطہ طریقے سے حضرت علیعليهالسلام کے مقام کو گھٹانا ہے جو ان کے نزدیک فقط ملامت اور سرزنش کے حقدار ہیں_ وہ علیعليهالسلام جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شعب ابوطالب میں شہر مکہ سے کھانے کا سامان پہنچاتے تھے اور اگر وہ کفار کے ہاتھ لگ جاتے تو وہ انہیں قتل کردیتے_ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا)_
عہد نامے کی منسوخی کے بعد
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دین کی ترویج میں بدستور مصروف رہے_ قریش بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے_ نیز وہ ہر ممکنہ ذریعے سے کوشش کرتے تھے کہ لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس نہ آئیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتیں نہ سنیں، لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے صبروتحمل کا راستہ اپناتے ہوئے ہر قسم کی سستی یا کندی سے احتراز کیا، یوں قریش کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے_
اس سلسلے میں بہت سے حادثات و واقعات پیش آئے، ان سب کو بیان کرنے کیلئے کافی وقت درکا رہے لہذا اس موضوع کو چھوڑکر دوسرے موضوعات کا رخ کئے بغیر چارہ نہیں اگرچہ اس موضوع کو ناتمام چھوڑنا ہمارے اوپر گران ہے_
حبشہ سے ایک وفد کی آمد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے باہر سے پہنچنے والا پہلا وفد حبشہ کے عیسائیوں کا تھا_ بقولے ان کا تعلق نجران سے تھا ابن اسحاق وغیرہ کے بقول یہ وفد بیس افراد پر مشتمل تھا _ان کی تعداد کے
بارے میں اور اقوال بھی ہیں_ اس وفد کی قیادت حضرت جعفر بن ابوطالبعليهالسلام کر رہے تھے_(۱)
ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد الحرام میں پایا_ انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتگو کی اور سوالات کئے _اس وقت قریش کے کچھ حضرات کعبہ کے گرد محفل جمائے بیٹھے تھے_ پھر جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے_ اس کے بعد جب یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو ابوجہل نے انہیں روکا اور اپنا دین چھوڑنے پر انہیں خوب برا بھلا کہا لیکن انہوں نے جواباً کہا سلام علیکم ،ہم تمہاری نادانی کا جواب نادانی سے نہیں دیں گے_ ہمارے لئے ہمارا راستہ مبارک ہو اور تمہارے لئے تمہارا، ہم کسی امر کو اپنے لئے سودمند پائیں تو اس میں کوتاہی نہیں کرتے ،اس وقت آیت نازل ہوئی_( الذین آتیناهم الکتاب من قبله هم به یؤمنون واذا سمعو اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) (۲) یعنی جن لوگوں کو ہم نے اس سے قبل کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ فضول گوئی سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے اپنے اعمال_ پس تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے_
یہ واقعہ واضح طور پر قریش کی ہٹ دھرمی، ان کے اہداف اور منصوبوں پر ایک کاری ضرب تھا خاص کر اس وجہ سے کہ وہ وفد حبشہ سے آیا تھا اور وہ بھی حضرت جعفرعليهالسلام کی قیادت میں _اس کا مطلب یہ تھا کہ قریش کی دسترس سے خارج سرزمینوں میں بھی اسلام نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا_
نیز یہ واقعہ قریش کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا تاکہ وہ پانی کے سر سے گزر جانے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں لیکن کیسے اور کیونکر؟ جبکہ حضرت ابوطالب کی سرکردگی میں بنی ہاشم اور بنی مطلب حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت و حمایت پر کمربستہ تھے _بنابریں ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مناسب وقت کا انتظار_
___________________
۱_ فقہ السیرة ص ۱۲۶میں بوطی نے یہی کہا ہے نیز مجمع البیان ج ۷ ص ۲۸۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت جعفرعليهالسلام فتح خیبر کے سال آخری بار وہاں سے لوٹے تو یہ لوگ بھی انکے ساتھ آئے_
۲_ سورہ قصص، آیت ۵۲ تا ۵۵، حدیث کیلئے سیرہ ابن ہشام ج ۲ص ۳۲اور ان آیات کی تفسیر میں ابن کثیر، قرطبی اور نیشاپوری کی تفاسیر کی طرف رجوع کریں_ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲_
جناب ابوطالبعليهالسلام کی پالیسیاں
شیخ الابطح ابوطالب کی ذات وہ ذات تھی جس نے اپنی زبان اور ہاتھ سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی حمایت و نصرت اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بچپن سے لیکر اب تک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نگرانی کی تھی_ حضرت ابوطالبعليهالسلام نے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت و نصرت اور تبلیغ دین کے دائرے کو وسعت دینے کیلئے زبردست مصائب اور عظیم مشکلات کا مقابلہ کیا_
یہی حضرت ابوطالب تھے جو حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی تمام اولاد پر ترجیح دیتے تھے_ جب بُصری (شام) میں ایک یہودی بحیرا نے انہیں خبر دی کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہودیوں سے خطرہ ہے تو وہ انہیں بنفس نفیس مکہ واپس لے آئے _یہ حضرت ابوطالب ہی تھے جو قریش کی عداوت مول لینے، بھوک اور فقر کو جھیلنے ،نیز معاشرتی بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہوئے_ انہوں نے شعب ابوطالب میں بچوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ،بلکہ درختوں کے پتے کھانے پر بھی مجبورہوئے _انہوں نے صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ(ہر خشک و تر کو برباد کردینے والی) ایک تباہ کن جنگ کیلئے تو تیار ہیں لیکن حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کفار کے حوالے کرنے یا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تبلیغ دین سے روکنے یا کم ازکم تبلیغ چھوڑنے کا مطالبہ تک کرنے کیلئے آمادہ نہیں _یہ حضرت ابوطالبعليهالسلام ہی تھے جنہوں نے قریش کے فرعون اور ظالم سرداروں سے ٹکرلی_
جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے سر پرقریش نے اونٹ کی اوجھڑی ڈالی تھی تو انہوں نے تلوار سونت لی اور حضرت حمزہ کو حکم دیا کہ اسے ہٹائیں پھر قریش کی طرف بڑھے انہوں نے جناب ابوطالبعليهالسلام کے چہرے پرخطرے کی علامات دیکھیں_ پھر انہوں نے حمزہ کو حکم دیا کہ وہ اس گندگی کو ان کے چہروں اور داڑھیوں پر ایک ایک کر کے مل دیں چنانچہ حضرت حمزہ نے ایسا ہی کیا_(۱)
ایک اور روایت کے مطابق حضرت ابوطالب نے اپنے افراد کو بلایا اور ان کو مسلح ہونے کا حکم دیا جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہاں سے کھسکنے کا ارادہ کیا_ انہوں نے ان سے کہا کعبہ کی قسم تم میں سے جو بھی اٹھے گا تلوار سے اس کی خبر لوں گا _اس کے بعد نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بے ادبی کرنے والے کی ناک پر مار کر اسے
___________________
۱_ الکافی مطبوعہ مکتبة الصدوق ج۱ ص ۴۴۹ ، منیة الراغب ص ۷۵ ، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۲۹۱ و ۲۹۲ والسیرة النبویہ (دحلان، مطبوع حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج۱ ص ۲۰۲ و ۲۰۸ و ۲۳۱ اور بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۰۹_
خون آلود کردیا _(یہ شخص ابن زبعری تھا )_نیز اوجھڑی کی گندگی اور خون کو ان سب کی داڑھیوں پر مل دیا_(۱)
ادھر شعب ابوطالب میں بھی وہی تھے جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی بنفس نفیس حفاظت کرتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے اور اپنے نور چشم علیعليهالسلام کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی جگہ سلاتے تھے تاکہ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم محفوظ رہیں،چاہے علیعليهالسلام کو گزند پہنچے(۲) _وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا دفاع کرنے کیلئے قریش کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی برتتے تھے نیز جذبات کو زندہ کرنے مصائب کو دور کرنے خداکے نام کو سربلند کرنے اس کے دین کو پھیلانے اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کیلئے سیاسی اشعار بھی کہتے تھے_
ایک دفعہ انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو کہیں نہ پایا تو بنی ہاشم کو جمع کر کے مسلح کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو قریش کے ایک ایک سرغنہ کے پاس بھیجیں تاکہ اگر یہ ثابت ہو کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کچھ ہوا ہے تو یہ افراد ان کا کام تمام کردیں_(۳) انہوں نے یہ سب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت، اسلام کی حمایت اور دین کی سربلندی کیلئے کیا_
واضح ہے کہ حضرت ابوطالبعليهالسلام کے جملہ کارناموں اور آپ کی عظیم قربانیوں کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت اور مستقل کام کی ضرورت ہے _یہاں تو ہم اجمالی اشارے پرہی اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ اعتراف کرتے ہیں، کہ ہم ان کا حق ادا نہیں کرسکے_ اس اختصار کی غرض یہ ہے کہ سیرت نبویہ کے دیگر پہلوؤں پر بھی بحث کا موقع مل سکے_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: الغدیر ج۷ ص ۳۸۸ و ۳۵۹ و ج ۸ ص ۳ تا ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۷۳ (دونوں کتابوں میں کئی منابع سے ماخوذ ہے) ثمرات الاوراق ص ۲۸۵ و ۲۸۶ ، نزھة المجالس ج ۲ ص ۱۲۲ ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۴۰۵ و ۴۰۶ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۴ و ۲۵_
۲ _ المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۶۴و ۶۵ ،ا سنی المطالب ص ۲۱ ( اس نے علیعليهالسلام کا نام ذکر نہیں کیا ) اسی طرح سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۴۲ اور ملاحظہ ہو: البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۸۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر ) ج ۲ ص ۴۴ ، دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۱۲ ، تاریخ الاسلام ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۴۱ ، الغدیر ج۷ ص ۳۶۳ و ۳۵۷ و ج۸ ص ۳ و ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۹۴_
۳ _ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۶ ، ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۷۱ ، منیة الراغب ص ۷۵ و ۷۶ اور الغدیر ج ۲ ص ۴۹ و ۳۵۰ و ۳۵۱_
ابوطالبعليهالسلام کی قربانیاں
مذکورہ بالا معروضات سے معلوم ہوا کہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليهالسلام آمادہ تھے کہ:
۱) اپنی قوم کے درمیان حاصل مقام و مرتبے کو خیرباد کہہ کر اہل مکہ بلکہ پوری دنیا کی دشمنی مول لیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ معاشرتی بائیکاٹ کو برداشت کیا لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہ آئے_
۲) نہ صرف فقر وفاقے اور معاشی بائیکاٹ برداشت کرنے پر راضی ہوں بلکہ اپنے پاس موجود دولت اور ہر چیز راہ خدا میں پیش کردیں_
۳)بوقت ضرورت ایک تباہ کن جنگ میں کود پڑیں جو بنی ہاشم اور ان کے دشمنوں کی بربادی پر منتج ہوسکتی تھی
۴) انہوں نے سب سے چھوٹے نور چشم حضرت علیعليهالسلام کو راہ خدا میں قربانی کیلئے پیش کیا، اور دوسرے بیٹے حضرت جعفرعليهالسلام جنہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرلیا_
۵) حضرت ابوطالبعليهالسلام اپنی زبان اور ہاتھ دونوں سے مصروف جہاد رہے اور ہر قسم کے مادی ومعنوی وسائل کو استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا _ہر قسم کی تکالیف و مشکلات سے بے پروا ہوکر حتی المقدور دین محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت و حمایت میں مصروف رہے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوطالب نے جو کچھ کیا وہ ممکن ہے جذبات یا نسلی و خاندانی تعصب کا نتیجہ ہو یا بالفاظ دیگر آپ کی فطری محبت کا تقاضا ہو؟_(۱)
لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک طرف حضرت ابوطالبعليهالسلام کے ایمان پر قطعی دلائل خاص کر ان کے اشعار و غیرہ اور حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم اور دیگر ائمہ کی ان کے متعلق احادیث موجود ہیں اور دوسری طرف جس طرح حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے بھتیجے تھے اس طرح حضرت علیعليهالسلام ان کے بیٹے تھے اگر رشتہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا تو وہ کیونکر بیٹے کو بھتیجے پر قربان کرتے؟ وہ بھی اپنی مرضی سے نیز اس کے انجام کے بارے میں غوروفکر اور تا مل و تدبر کے بعد؟ انہیں بھتیجے کی بجائے بیٹے کا قتل ہوجانا کیونکر منظور ہوا؟ کیا یہ معقول ہے
___________________
۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ص ۳۹۴ _
کہ اپنے بیٹے اور جگر گوشے کے مقابلے میں بھتیجے کی محبت فطری طور پر بیشتر ہو؟
اسی طرح اگر قومی یا خاندانی تعصب کارفرما ہوتا تو پھر ابولہب لعنة اللہ علیہ نے اس جذبے کے تحت وہ موقف کیوں اختیارنہیں کیا جو حضرت ابوطالب نے اختیار کیا اور حضرت ابوطالب کی طرح رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حمایت کیوں نہیں کی؟ نیز اپنے بیٹے، اپنی حیثیت اور دیگر چیزوں کی قربانی کیوں نہیں پیش کی؟ بلکہ ہم نے تو اس کے برعکس دیکھا کہ ابولہب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا سخت ترین دشمن، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت میں پیش پیش اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذیت دینے میں سب سے آگے تھا_
رہے بنی ہاشم کے دیگر افراد تو اگرچہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل ہوئے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے انکی قربانیاں ابوطالب کی قربانیوں کا دسواں حصہ بھی نہ تھیں_ نیز ان کا یہ اقدام بھی حضرت ابوطالب کے اثر و نفوذ اور اصرار کا مرہون منت تھا_
یوں واضح ہوا کہ مرد مسلمان کا دینی جذبہ قومی یا خاندانی جذبات کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے_ اسی لئے ہم تاریخ میں بعض مسلمانوں کو واضح طور پر یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ راہ خدا میں اپنے آباء اور اولاد کو قتل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں_ چنانچہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی) کو قتل کرنے کی اجازت مانگی(۱) _ نیز جنگ صفین میں بھائی نے بھائی کو نہ چھوڑا جب تک کہ امیرالمؤمنینعليهالسلام نے چھوڑنے کی اجازت نہ دی(۲) _ان کے علاوہ بھی تاریخ اسلام میں متعدد مثالیں ملتی ہیں_
ان باتوں سے قطع نظر اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت ابوطالب کا موقف دنیوی اغراض پر مبنی ہوتا تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بجائے بھتیجے کو قربان کرتے _نیز بھتیجے کو اپنے خاندان پر قربان کرتے _نہ کہ خاندان کو ایک بھتیجے پر _کیونکہ دنیا کا معقول طریقہ یہی ہوتاہے جیساکہ خلیفہ مامون نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا اور ام ہادی نے اپنے بیٹے کو زہر دیا _لیکن حضرت ابوطالب نے تو ہر چیز کو بھتیجے پر قربان کردیا اور یہ دنیوی مفادات کے حصول کا منطقی اور معقول طریقہ ہرگز نہیں ہوسکتا_
___________________
۱_ تفسیر صافی ج۵ ص ۱۸۰ ، السیرة الحلبیہ ج۲ ص ۶۴ ، الدرالمنثور ج۶ ،ص ۲۴ از عبد بن حمید و ابن منذر اور الاصابہ ج۲ ص ۳۳۶_
۲_ صفین (المنقری) ص ۲۷۱ و ۲۷۲_
اسی طرح اگر بات قبائلی تعصب کی ہوتی تو اس تعصب کا اثر قبیلے کے مفادات کے دائرے میں ہوتا_ لیکن اگر یہی تعصب اس قبیلے کی بربادی نیز اس کے مفادات یا مستقبل کو خطرات میں جھونکنے اور تباہ کرنے کا باعث بنتا تو پھر اس تعصب کی کوئی گنجائشے نہ ہوتی اور نہ عقلاء کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ ہوتا_
مختصر یہ کہ ہم حضرت ابوطالبعليهالسلام کی مذکورہ پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پالیسیاں عقیدے اور ایمان راسخ کی بنیادوں پر استوار تھیں جن کے باعث انسان کے اندر قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے_
خدا کا سلام ہو آپپر اے ابوطالبعليهالسلام اے عظیم انسانوں کے باپ اے حق اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے کاروان کے سالار خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں_
عام الحزن
بعثت کے دسویں سال بطل جلیل حضرت ابوطالب علیہ الصلاة والسلام کی رحلت ہوئی_ آپ کی وفات سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامی سے محروم ہوگئے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین کا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مشن کا ناصر و محافظ تھا (جیساکہ پہلے عرض کرچکے ہیں)_
اس حادثے کے مختصر عرصے بعد بقولے تین دن بعد اور ایک قول کے مطابق ایک ماہ(۱) بعدام المؤمنین حضرت خدیجہ (صلوات اللہ وسلامہ علیہا) نے بھی جنت کی راہ لی_ وہ مرتبے کے لحاظ سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی ازواج میں سب سے افضل ہیں_
نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اخلاقی برتاؤ اور سیرت کے حوالے سے سب سے زیادہ باکمال تھیں_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی ایک بیوی( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد کرتی تھیں حالانکہ اس نے حضرت خدیجہعليهالسلام کے ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر میں زندگی نہیں گزاری تھی کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت خدیجہ کی رحلت کے بہت عرصہ بعد
___________________
۱_ السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۳۴۶ ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۲ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۲۷ اورا لتنبیہ و الاشراف ص ۲۰۰_
اس سے شادی کی تھی_(۱)
دین اسلام کی راہ میں حضرت ابوطالبعليهالسلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عظیم خدمات کا اندازہ اس حقیقت سے ہوسکتا ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا(۲) یعنی غم واندوہ کا سال_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں سے جدائی کو پوری امت کیلئے مصیبت اور سانحہ قرار دیا_
چنانچہ فرمایا:'' اس امت پر دو مصیبتیں باہم ٹوٹ پڑیں اور میں فیصلہ نہیں کرسکتا ان میں سے کونسی مصیبت میرے لئے دوسری مصیبت کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی''(۳) _ یہ بات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں کی جدائی کے غم سے متا ثر ہوکر فرمائی_
محبت وعداوت، دونوں خداکی رضاکیلئے
واضح ہے کہ ان دونوں ہستیوں سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت اور ان دونوں کی جدائی میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حزن وغم نہ ذاتی مفادات ومصالح کے پیش نظر تھا اور نہ ہی خاندانی محبت وجذبے کی بنا پر بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت فقط اور فقط رضائے الہی کیلئے تھی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی بھی شخص کو اتنی ہی اہمیت دیتے ،اس کی جدائی میں اتنے ہی غمگین ہوتے اور اس سے اسی قدر روحانی و جذباتی لگاؤ رکھتے جس قدر اس شخص کا رابطہ خدا سے ہوتا ،جس قدر وہ اللہ سے نزدیک اور اس کی راہ میں فداکاری کے جذبے کا حامل ہوتا_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابوطالبعليهالسلام اور حضرت خدیجہعليهالسلام کیلئے اس وجہ سے غمگین نہ ہوئے تھے کہ خدیجہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ تھیں یا ابوطالب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا تھے وگرنہ ابولہب بھی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چچا تھا _بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان
___________________
۱_ البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) ج ۳ ص ۱۲۷ و ۱۲۸ ، السیرة النبویہ(ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۳ تا ۱۳۵ ، صحیح بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ ، عائشہ (عسکری) ص ۴۶ اور اس کے بعد اور اس کے بعض منابع ہم نے آنے والی فصل '' بیعت عقبہ تک '' میں عائشہ کے حسن و جمال کے ذکر میں بیان کیا ہے_
۲_ سیرت مغلطای ص ۲۶، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۱ ، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۵۶ ، السیرة النبویہ (دحلان ) ج ۱ ص ۱۳۹ ص ۲۱ مطبوعہ دار المعرفہ اور اسنی المطالب ص ۲۱_
۳_تاریخ یعقوبی ج ۲ص ۳۵ _
دونوں کی قوت ایمانی، دین میں پائیداری اور اسلام کی راہ میں فداکاری کو محسوس کرلیا تھا_ اور یہی تو اسلام کا بنیادی اصول ہے جس کی خدانے یوں نشاندہی کی ہے( لاتجد قوماً یومنون بالله و الیوم الآخر یوادون من حاد الله و رسوله و لو کانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشیرتهم ) (۱) یعنی جولوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں_ کیا شرک سے زیادہ کوئی دشمنی اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہوسکتی ہے؟ وہی شرک جس کے بارے میں خدانے فرمایا ہے:( ان الشرک لظلم عظیم ) یعنی شرک سب سے بڑا ظلم ہے_
نیز فرمایا ہے:( ان الله لایغفر ان یشرک به و یغفر ما دون ذلک ) یعنی یہ کہ خدا شرک کے علاوہ دیگر گناہوں کو معاف کردیتا ہے_
خداکی رضا کیلئے محبت کرنے اور اس کی رضا کیلئے بغض رکھنے کے بارے میں آیات و احادیث حد سے زیادہ ہیں اور ان کے ذکر کی گنجائشے نہیں_ اسی معیار کے پیش نظر خداوند تعالی نے حضرت نوحعليهالسلام سے انکے بیٹے کے متعلق فرمایا:( انه لیس من اهلک انه عمل غیرصالح ) (۲) یعنی اس کا تیرے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اسکا تو غیرصالح عمل ہے_ اسی طرح حضرت ابراہیمعليهالسلام کا قول قرآن مجید میں ہے کہ( من تبعنی فانه منی ) (۳) جو میری پیروی کرے گا وہ میرے خاندان سے ہوگا_
نیز اسی بنا پر سلمان فارسی کا شمار اہلبیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ہوا_
ابوفراس کہتا ہے:
کانت مودة سلمان لهم رحما
ولم تکن بین نوح و ابنه رحم
یعنی اہلبیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے محبت کے باعث سلمان ان کے گھرانے کا ایک فرد بن گیا جبکہ اس کے برعکس نوحعليهالسلام اور ان کے بیٹے کے درمیان قرابت نہیں رہی_
___________________
۱_ سورہ مجادلہ، آیت ۲۲ _ ۲_ سورہ ہود آیت ۴۶_ ۳_ سورہ ابراہیم آیت ۳۶_
پانچویں فصل
ابوطالبعليهالسلام مؤمن قریش
ایمان ابوطالبعليهالسلام
آخر میں ایک ایسے موضوع پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس پر مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہا ہے_
اہلبیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے شیعہ حضرت ابوطالبعليهالسلام کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_(۱) یہ بھی مروی ہے کہ وہ اوصیاء میں سے تھے(۲) اور ان کا نور قیامت کے دن پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آئمہعليهالسلام اور حضرت فاطمہعليهالسلام زہرا کے نورکے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(۳) _
اگرچہ ہمیں ان احادیث کی صحت پر اطمینان حاصل نہیں لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی رسالت پر حضرت ابوطالبعليهالسلام کا ایمان نیز خدا کے اوامر ونواہی کے آگے ان کا سر تسلیم خم رہنا روز روشن کی طرح واضح ہے_
اہلبیت معصومینعليهالسلام سے منقول بہت ساری احادیث آپ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں_ علماء نے ان احادیث کو الگ کتابوں کی شکل میں جمع کیا ہے_ تازہ ترین کتابوں میں سے ایک جناب شیخ طبسی کی کتاب ''منیة الراغب فی ایمان ابیطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں کے مقابلے میں گھر کے اسرار کو زیادہ جانتے ہیںاورابن اثیر کہتے ہیں کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بیتعليهالسلام کے بقول)حضر ت ابوطالبعليهالسلام کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا تھا_(۴)
___________________
۱_ روضة الواعظین ص ۱۳۸، اوائل المقالات ص ۱۳، الطرائف از ابن طاؤس ص ۲۹۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۱۶۵، بحارالانوار ج ۳۵ص ۱۳۸، الغدیر ج ۷ص ۳۸۴کتب مذکورہ سے، التبیان ج ۲ص ۳۹۸، الحجة از ابن معد ص ۱۳اور مجمع البیان ج ۲ص ۲۸۷ _
۲_ الغدیر ج ۷ ص ۳۸۹_
۳_ الغدیر ج۷ ص ۳۸۷ کئی ایک منابع سے_
۴_ بحارالانوار ج ۳ص ۱۳۹اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۹_
ان باتوں کے علاوہ بھی ان کے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہیں _ان کے ایمان کے اثبات میں شیعوں اور سنیوں دونوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں _کچھ حضرات نے ان کتابوں کی تعداد تیس تک بتائی ہے_ان کتابوں میں سے ایک استاد عبداللہ الخنیزی کی کتاب (ابوطالب مومن قریش) ہے_ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں قریب تھا کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے _کیونکہ سعودی عرب کے وہابی، اس کتاب کی تالیف کے جرم میں ان کے پروانہ قتل کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں تھے لیکن خدانے اپنی رحمت سے انہیں نوازا _یوں وہ ان کے شرسے نجات پاگئے_
یہ ان متعددابحاث کے علاوہ ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں_ یہاں ہم علامہ امینی کی کتاب الغدیر کی جلد ۷ اور ۸میں مذکور بیان کے تذکرے پر اکتفا کریں گے_
علامہ امینی رحمة اللہ علیہ نے اہل سنت کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی حضرات نے اس بات کے اثبات میں کتابیں لکھی اور بحثیں کی ہیں_ مثال کے طور پر برزنجی نے اسنی المطالب (ص ۶_ ۱۰) میں، الاجھوری، اسکافی، ابوالقاسم بلخی اور ابن وحشی نے شہاب الاخبار کی شرح میں، تلمسانی نے حاشیہ شفاء میں، شعرانی، سبط ابن جوزی، قرطبی، سبکی، ابوطاہر اور سیوطی وغیرہ نے اس مسئلے پر بحث کی ہے_ بلکہ ابن وحشی، الاجہوری اور تلمسانی وغیرہ نے تو یہ فیصلہ دیا ہے کہ جو حضرت ابوطالب سے کینہ رکھے وہ کافر ہے اور جو ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرے وہ بھی کافر ہے_(۱)
ایمان ابوطالبعليهالسلام پر دلائل
حضرت ابوطالب کو مومن ماننے والوں نے کئی ایک امور سے استدلال کیا ہے مثلا:
۱) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور آئمہ معصومینعليهالسلام سے منقول وہ احادیث جو ایمان ابوطالبعليهالسلام پر دلالت کرتی ہیں اور واضح ہے کہ اس قسم کے امور میں یہی ہستیاں تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ باخبر ہیں _
___________________
۱_ رجوع کریں: الغدیر ج ۷ص ۳۸۲اور ۳۸۳اور دوسری کتب_
۲)جیساکہ گذر چکا ہے کہ ان کی جانب سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حمایت و نصرت اور عظیم مشکلات و مصائب میں ان کی استقامت، اپنی معاشرتی حیثیت و مقام کی قربانی یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو بھی قربانی کیلئے پیش کرنا اور ایک ایسی جنگ کیلئے ان کی آمادگی جو ہر خشک و تر کو نابود کردے_ یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ اگر وہ نعوذ باللہ کافر ہوتے تو کیونکر ان سب باتوں کو برداشت کرتے؟ کیا وجہ ہے کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت میں حضرت ابوطالبعليهالسلام کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان کے بارے میں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبیخ کا ایک لفظ بھی نہیں سن پاتے_
رہا یہ احتمال کہ حضرت ابوطالب مزید جاہ ومقام کی لالچ میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کرتے تھے تو یہ احتمال ہی غلط ہے کیونکہ وہ نہایت عمر رسیدہ ہوچکے تھے چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر اسی سال سے کہیں زیادہ تھی_ ادھر حضرت ابوطالبعليهالسلام قوم کے نزدیک اپنی اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیثیت سے بھی باخبر تھے انہیں یہ امید نہیں تھی کہ اس مقام کے حصول تک وہ زندہ رہیں گے جیساکہ گردوپیش کے حالات و قرائن سے وہ اس امر کا بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے_
۳) سبط ابن جوزی نے حضرت ابوطالب کے ایمان پر یوں استدلال کیا ہے، (جیساکہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علیعليهالسلام کے باپ کافر ہوتے تو معاویہ اور اس کے حامی نیز زبیری خاندان اور ان کے طرفدار اور علیعليهالسلام کے باقی دشمن اس بات پر ان کی شماتت کرتے، حالانکہ علیعليهالسلام ان لوگوں کو ان کے آباء اور ماؤں کے کافر ہونے نیز نسب کی پستی کا طعنہ دیتے تھے_(۱)
۴) خود حضرت ابوطالب کے بہت سارے صریح کلمات اور بیانات ان کے ایمان کو ثابت کرتے ہیں_ یہاں ہم بطور نمونہ ان کے چند اشعار نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کے بارے میں ابن ابی الحدید معتزلی نے یوں کہا ہے کہ مجموعی طور پریہ سارے اشعار تو اترکے ساتھ ثابت ہیں_(۲)
___________________
۱_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۲۷۲_۲۷۳ مطبوعہ سنہ ۱۳۹۸ ھ از تذکرة الخواص_
۲_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ص ۷۸اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۶۵_
یہاں ہم ان کی صلب سے پیدا ہونے والے بارہ اماموں کی تعداد کے عین مطابق ان کے بارہ اشعار تبرکاً پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:
۱_ألم تعلموا انا وجدنا محمداً ---- نبیاً کموسی خط فی اول الکتب
کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے موسیعليهالسلام کی طرح محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی خدا کا نبی پایا ہے؟ یہ امر تمام کتابوں کی ابتداء میں مذکورہے_
۲_نبی اتاه الوحی من عند ربه---- ومن قال لا یقرع بها سن نادم
وہ ایسے نبی ہیں جن کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے جو اس کا منکر ہو وہ ندامت کے دانت پیستارہ جائے گا_
۳_یا شاهد الله عل فاشهد
إنی علی دین النب احمد
من ضل فی الحق فانی مهتد
اے شاہد خدا میرے بارے میں گواہ رہ کہ میں احمد مرسل کے دین پر ہوں،
اگر کوئی حق کے بارے میں گمراہی کا شکار ہوا تو مجھے کیا میں تو ہدایت یافتہ ہوں_
۴_انت الرسول رسول الله نعلمه---- علیک نزل من ذی العزة الکتب
ہم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اللہ کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سمجھتے ہیں صاحب عزت ہستی کی طرف سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر کتابیں نازل ہوئی ہیں_
۵_انت النبی محمد---- قرم اغر مسود
آپ اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں جو نورانی سید اور سردار ہیں_
۶_او تومنوا بکتاب منزل عجب---- علی نبی کموسی او کذی النون
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہونے والی اس عجیب کتاب پر ایمان لے آؤ ،کہ یہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم موسیعليهالسلام اور یونسعليهالسلام کی مانند ہیں_
۷_وظْلم نبی جاء یدعوا الی الهدی---- وا مر ا تی من عند ذی العرش قیم
جو نبی ہدایت کی طرف بلانے آیا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش کی طرف سے آنے والی گراں بہا چیز کی طرف لوگوں کو بلانے آیا تھا_
۸_
لقد اکرم الله النبی محمدا---- فاکرم خلق الله فی الناس احمد
اللہ نے اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تعظیم سے نوازا لہذا سب سے زیادہ با عزت ہستی احمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں_
۹_
وخیر بنی هاشم احمد---- رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الاله علی فترة
بنی ہاشم میں سب سے افضل، احمد ہیں وہ زمانہ فترت (جاہلیت)(۱) میں اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں_
۱۰_
والله لااخذل النبی ولا---- یخذله من بنی ذوحسب
اللہ کی قسم نہ میں نبی کو بے یار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہی میرے شریف ونجیب بیٹے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں_
۱۱_
أتعلم ملک الحبش ان محمدا---- نبیا کموسی والمسیح ابن مریم
اتی بالهدی مثل الذی اتیا به---- فکل بامر الله یهدی ویعصم
وانکم تتلونه فی کتابکم---- بصدق حدیث لاحدیث الترجم
فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا---- فان طریق الحق لیس بمظلم
(نجاشی کو دعوت اسلام دیتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی مثال حضرت موسیعليهالسلام ور حضرت عیسیعليهالسلام کی طرح ہے_ ان دونوں کی طرح وہ بھی ہدایت کا پیغام لیکر آئے _ وہ سب بحکم خدا ہدایت کرتے ہیں اور (ہمیں شر سے) بچاتے ہیں_ تم لوگ اپنی کتاب میں اس کے بارے میں پڑھتے ہو شک وابہام کے ساتھ نہیں بلکہ صدق دل کے ساتھ_ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ کیونکہ حق کا راستہ تاریک نہیں_
___________________
۱_ دو نبیوں کی بعثت کے درمیانی زمانے کو فترت کہتے ہیں یہاں مراد عیسیعليهالسلام کے بعد کا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہلیت بھی کہا جاتا ہے_
۱۲_
فصبراً ابایعلی علی دین احمد---- وکن مظهراً للدین وفقت صابرا
وحط من اتی بالحق من عند ربه----- بصدق وعزم ولا تکن حمز کافرا
فقد سرنی ان قلت انک مومن---- فکن لرسول الله فی الله ناصرا
وباد قریشا فی الذی قد اتیته---- جهارا وقل ما کان احمد ساحرا
(اپنے بیٹے حمزہ سے مخاطب ہوکر :)اے ابویعلی (حمزہ) دین احمد پر ثابت قدم رہ اور اس کا اظہار کر خدا تجھے توفیق صبر عطا کرے گا_
اے حمزہ جو شخص اپنے رب کی جانب سے حق کے ساتھ آیا ہے اسکی حفاظت صدق دل اور عزم راسخ کے ساتھ کرو، کہیں کافر نہ ہوجانا_
اگر تم اپنے ایمان کا اقرار کرو تو یہ میرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہی کیلئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی مدد کر _
قریش کے سامنے اپنے عقیدے کا کھل کر اظہار کرو اور کہو کہ احمد جادو گر نہیں_
حضرت ابوطالب کے وہ اشعار جو ان کے ایمان پر دلالت کرتے ہیں زیادہ ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ ان کے علاوہ دیگر باتوں کے تذکرے کا بھی موقع فراہم ہو جو اس موضوع کے حوالے سے کہی گئی ہیں یا کہی جاسکتی ہیں_
۵)ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی علی ابن یحیی بطریق رحمة اللہ علیہ کہا کرتے تھے اگر نبوت کی طاقت اور پوشیدہ حقیقت کارفرما نہ ہوتی تو حضرت ابوطالب جیسے قریش کے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصیت اپنے اس بھتیجے کی تعریف وتمجید نہ کرتے جو نوجوان تھا، ان کی گودمیں پلا تھا ،ایک یتیم تھا جس کی انہوں نے پرورش کی تھی اوران کے بیٹے کی حیثیت رکھتا تھا اورا ن کی تعریف میں یوں رطب اللسان نہ ہوتے_
وتلقوا ربیع الابطحین محمدا
علی ربوة فی را س عنقاء عیطل
وتا وی الیه هاشم ان هاشما
عرانین کعب آخر بعد ا ول
اور تم لوگ دیکھو گے کہ سرزمین حجاز کی بہار (حضرت) محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم بلند و بالا اونچی گردن والے اونٹ پر نہایت نمایاں طور سے بیٹھے ہوں گے اور ان کے ارد گردہر طرف ہاشمی جوان ہوں گے کیونکہ اول سے آخر تک بنی ہاشمعليهالسلام کے تمام افراد نہایت عالی وقار سید و سردار ہیں_
اور یہ اشعار نہ کہتے:
وابیض یستسقی الغمام بوجهه---- ثمال الیتامی عصمة للارامل
یطیف به الهلاک من آل هاشم---- فهم عنده فی نعمة و فواضل
درخشندہ چہرے والا جس کے رخ زیبا کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہگاہ اور بیواؤں کا والی و وارث ہے_ بنی ہاشم کے ستم رسیدہ افراد اسی کی پناہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے لئے (درحقیقت اللہ کی ) ایک بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_
کسی ما تحت اور تابع شخص کی تعریف میں اس قسم کے اشعار نہیں کہے جاسکتے _اس طرح کی مدح سرائی تو بادشاہوں اور عظیم شخصیات کی ہوتی ہے _جب آپ اس حقیقت کا تصور کریں کہ یہ اشعار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان میں ایک صاحب عزت اور عظیم شخصیت یعنی ابوطالبعليهالسلام نے کہے ہیں جبکہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم جوان تھے اور قریش کے شرسے بچنے کیلئے حضرت ابوطالبعليهالسلام کی پناہ میں تھے، حضرت ابوطالب نے ہی بچپن سے آپ کی پرورش کی تھی لڑکپن کا دور آیا تو اپنے کاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ رکھا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابوطالب کے مال سے کھاتے پیتے تھے اوران کے گھر میں رہتے تھے ، تب آپ کو نبوت کی حیثیت اورعظیم مقام ومرتبے کا ضروراندازہ ہوگا_(۱)
اس طرح کا مذکورہ بالا قصیدہ لامیہ(۲) جس میں انہوںنے یہ کہا تھاوابیض یستسقی الغمام بوجهه (جو بہت طویل ہے) بنی ہاشم اپنے بچوں کو یہ قصیدہ یاد کراتے تھے(۳) اس میں بہت سے ایسے
___________________
۱_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۳و ماذا فی التاریخ ج ۳ ص ۱۹۶_۱۹۷ (از اول الذکر) _
۲_ یعنی وہ قصیدہ جس کے آخر میں لام کا تکرار ہوتا ہے_ (مترجم) _
۳_ مقاتل الطالبیین ص ۳۹۶ _
نکات نہاں ہیں جن سے ان کے ایمان کی صداقت کا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن کثیر اور دیگر حضرات نے اس کا تذکرہ کیا ہے_
۶)ہم نے مشاہدہ کیا کہ جوحضرت ابوطالبعليهالسلام بادشاہ حبشہ کو دعوت اسلام دے رہے ہیں_ وہی اپنے بیٹے حضرت جعفر کو بلاکر حکم دیتے ہیں کہ اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ نماز کی صف میں شامل ہوجائے_(۱) انہوں نے اپنی زوجہ فاطمہ بنت اسد کو اسلام کی دعوت دی(۲) اور حضرت حمزہ کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی اور ان کے مسلمان ہونے پر خوشی کا اظہار کیا_ یہی حال اپنے نور چشم امیرالمؤمنین علیعليهالسلام کے بارے میں بھی تھا اور مختلف موقعوں پر ان کے کلام اور ان کے طرزعمل کی تحقیق سے مزید نکات ہاتھ آتے ہیں_
۷) حضرت ابوطابعليهالسلام نے اپنی وصیت میں یہ تصریح کردی تھی کہ '' میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے معاملہ میں دشمنیوں کے ڈ رسے تقیہ اختیار کئے ہوئے تھا اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعلیمات کو میرا دل تو قبول کرتا تھا لیکن زبان سے انکار جاری ہوتا ''(۳) _ اور انہوں نے قریش کو رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت اسلام پر لبیک کہنے اور فرمانبرداری کرنے کی بھی وصیت کی تھی کہ اسی میں ہی ان کی کامیابی اور سعادت ہے(۴)
۸)نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم بار بار خدا سے حضرت ابوطالبعليهالسلام کیلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران کی وفات سے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم بے تاب ہوئے_(۵)
واضح ہے کہ کسی غیرمسلم کیلئے طلب رحمت نہیں ہوسکتی_ اسی لئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سفانہ بنت حاتم طائی سے فرمایا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس کیلئے خدا سے طلب مغفرت کرتے''_(۶)
___________________
۱_ رجوع کریں: الاوائل از ابی ہلال عسکری ج ۱ ص ۱۵۴، روضة الواعظین ص ۱۴۰اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۶۹ ، السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۲۶۹ ، اسنی المطالب ص ۱۷ ، الاصابہ ج۴ ص ۱۱۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۲۸۷ اور الغدیر ج۷ ص ۳۵۷_ ۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۳ص ۲۷۲_
۳_ قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت عمر کے کرتو توں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ ان کا دل برا نہیں تھا صرف زبان کے برے تھے اور اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے جبکہ حضرت ابوطالب کے معاملے میں ان کے تقیہ کے پیش نظر کئے ہوئے زبانی انکار کو بہانہ بناتے ہوئے انہیں کافر سمجھتے ہیں (از مترجم) ۴_ الروض الانف ج ۲ ص ۱۷۱ ، ثمرات الاوراق ص ۹۴ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۰تا ۳۰۱، سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۳۵۲، بحار ج ۳۵ص ۱۰۷ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۶ مختلف منابع سے_ ۵_ تذکرة الخواص ص ۸_ ۶_ السیرة الحلبیة ج ۳ص ۲۰۵ _
یہ لوگ زید بن عمرو ابن نفیل (عمر بن خطاب کے چچازاد بھائی) اس کے بیٹے سعید ابن زید، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نیز ابوسفیان (جو ہمیشہ منافقین کیلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد کے حالات میں ہم اس کے کچھ صریح بیانات اور اقدامات کا تذکرہ کریں گے) وغیرہ کے بارے میں کیونکرمسلمان ہونے کا فتوی دیتے ہیں؟ یہاں تک کہ یہ لوگ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیہ ابن صلت کے بارے میں فرمایا: ''قریب تھا کہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے مسلمان ہوجاتا''_(۱)
شافعی ،صفوان بن امیہ کے بارے میں کہتے ہیںکہ اس کے مسلمان ہونے میں گویا شک کی گنجائشے نہیں ہے کیونکہ جب اس نے جنگ حنین کے دن کسی کوکہتے سنا کہ قبیلہ ھوازن کو فتح حاصل ہوئی اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم قتل ہوگئے تو اس نے کہا تھا :''تیری زبان جل جائے واللہ قریش کا خدا میرے نزدیک ھوازن کے خدا سے زیادہ محبوب ہے''_
ملاحظہ کریں یہ لوگ ان سارے افراد کو کیونکر مسلمان مانتے ہیں جبکہ انہوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھابھی تو قبول نہیں کیا یا یہ کہ ظاہراً مسلمان ہوئے لیکن دل کے اندر کفر کو چھپائے رکھا؟ اس کے بر عکس وہ اس ابوطالب کو کافر قرار دیتے ہیں جو کئی بار اپنے اقوال واعمال کے ذریعے خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت و رسالت کا صریحاً اعلان کرتے رہے امویوں اور ان کے چیلوں کا کہناہے کہ اس شخص کے متعلق دلیلیں جتنی بھی زیادہ ہوجائیں پھر بھی اس شخص کو ہم مؤمن نہیں مانیں گے چاہے خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کیوں نہ کہیں _ پس زمانہ جاہلیت کے طاغوتوں اور سرکشوں کے نقش قدم پر چلنے والے اموی اور ان کے چیلے کتنے برے لوگ ہیں_
واضح ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا علم چار چیزوں سے ہوتا ہے_
(الف) اس کی عملی پالیسیوں سے اور یہ بھی واضح ہے کہ حضرت ابوطالب کی عملی پالیسیاں دین اسلام کے بارے میں ان کے اخلاص اور جذبہ فداکاری کی اس قدر واضح دلیل ہے کہ اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں_
(ب) شہادتین کے زبانی اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالبعليهالسلام کے ان متعدد اشعار کی طرف اشارہ کافی ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر کہے_
___________________
۱_ صحیح مسلم ج ۷ص ۴۸_۴۹ نیز الاغانی مطبوعہ ساسی ج ۳ص ۱۹۰ اور التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۲۱۳ _
(ج) اس شخص کے بارے میں نمونہ اسلام اور کارواں سالار حق یعنی نبی اعظمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب کے بارے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا محبت آمیز اور پسندیدہ موقف بھی مکمل طور پر ثابت ہے_
(د) اس کے قریبی ذرائع سے ، مثال کے طور پر اس کے گھر والوں اور اس کے ساتھ رہنے والوں کے توسط سے، اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے کہ وہ (اہلبیت) حضرت ابوطالب کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_
بلکہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب علیہ السلام کو کافر قرار دیتے ہیں جب وہ ان کی عملی پالیسیوں کا انکار نہ کرسکے، اور نہ ان کے صریح بیانات کو رد کرسکے تو انہوں نے ایک مبہم جملے کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ دل سے مطیع اور فرمانبردار نہ تھے_(۱)
یہ سب اوٹ پٹانگ اور خیالی باتیں ہیں جو حق وحقیقت پر بہتان باندھنے کہ سوا کچھ نہیں تاکہ یوں ان روایات کو صحیح قرار دے سکیں جو انہوں نے مغیرة بن شعبہ اور اس جیسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل کی ہیں_ آئندہ صفحات میں ان کی بے بنیاد دلیلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_
حضرت ابوطالب علیہ السلام کے احسانات کا معمولی سا حق ادا کرنے کی غرض سے یہاں ہم ان کے ایمان کی بعض دلیلیں جو زیادہ تر غیر شیعہ مآخذ سے لی گئی ہیں بیان کرتے ہیں اور دیگر متعدد دلائل کا تذکرہ نہیں کرتے کیونکہ چند مثالوں سے زیادہ بیان کرنے کی گنجائشے نہیں_
پہلی دلیل: عباس نے کہا:'' اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ابوطالب کیلئے کس چیز کی آرزو کرتے ہیں؟'' فرمایا:'' میں ان کیلئے خدا سے تمام اچھی چیزوں کی آرزو کرتا ہوں''_(۲)
___________________
۱_ سیرت دحلان ج ۱ص ۴۴_۴۷ اور الاصابة ج ۴ص ۱۱۶_۱۹۹ کی طرف رجوع کریں _
۲_ الاذکیاء ص ۱۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۵۱اور ۱۵۹_
دوسری دلیل: حضرت ابوبکر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابینا تھا) کو لے کر فتح مکہ کے دن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں آئے تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا:'' اس بوڑھے کو اپنے گھر چھوڑ آتے تاکہ ہم اس کے پاس جاتے'' _حضرت ابوبکر نے کہا:'' میں نے چاہا کہ اللہ اسے اجر دے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بہ نسبت ابوطالب کے مسلمان ہونے پر زیادہ خوشی ہوئی تھی ،خدا کرے کہ اس سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے''_(۱)
اگرچہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ جملے کہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہایت عمدہ بحث کی ہے اور ہم بھی اس مسئلے میں ان کے ہم خیال ہیں_
تیسری دلیل: ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ متعدد سندوں کے ساتھ( جن میں سے بعض عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے اور بعض حضرت ابوبکر ابن ابوقحافہ سے منقول ہیں) مروی ہے کہ حضرت ابوطالب نے اپنی موت سے پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا اقرار کیا_(۲)
چوتھی دلیل: نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوطالب علیہ السلام کیلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا کی یہاں تک کہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ والوں کیلئے بارش کی دعا کی اور بارش ہوئی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوطالب کو یاد کیا اور منبر پر بیٹھ کر ان کیلئے مغفرت طلب کی(۳) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے جنازے میں شرکت کی حالانکہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق مشرکین کے جنازے میں شرکت حرام ہے_ نیز یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ
___________________
۱_ مجمع الزوائد ج ۶ص ۱۷۴الطبرانی اور بزار سے نقل کیا ہے حیاة الصحابہ ج ۲ص ۳۴۴المجمع سے، الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۹_
۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۲۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۳ سے نقل کیا ہے، سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۸۷، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، عیون الاثر ج ۱ ص ۱۳۱، المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۳۷۲ و السیرة النبویة (از دحلان حاشیہ کے ساتھ) ج ۱ ص ۸۹، اسنی المطالب ص ۲۰، دلائل النبوة (بیہقی)، تاریخ ابوالفداء ج ۱ص ۱۲۰ اور کشف الغمة ( شعرانی) ج ۲ ص ۱۴۴_
۳_ مراجعہ ہو : عیون الانباء ص ۷۰۵_
نے حضرت علیعليهالسلام کو حکم دیا کہ وہ ابوطالب کو غسل و کفن دیں اور دفن کریں_(۱) ہاں ان کو نماز جنازہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا کیونکہ نماز جنازہ اس وقت تک فرض نہیں ہوئی تھی_ اسلئے کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ(س) کی وفات ہوئی تو حضرت نے ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی حالانکہ آپ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں_
پانچویں دلیل: جب حضرت ابوطالبعليهالسلام کی وفات ہوئی تو ان کے فرزند حضرت علیعليهالسلام نے یہ مرثیہ کہا:
اباطالب عصمة المستجیر
وغیث المحول ونور الظلم
لقد هد فقدک اهل الحفاظ
فصلی علیک ولی النعم
ولقاک ربک رضوانه
فقدکنت للطهر من خیرعم(۲)
اے ابوطالب اے پناہ ڈھونڈنے والوں کی جائے پناہ اے خشک زمینوں کیلئے باران رحمت اور تاریکیوں کو روشن کرنے والے نور تیری جدائی نے (اسلام کی) حمایت کرنے والوں کو نڈھال کر کے رکھ دیا_ نعمتوں کے مالک (خدا) کی رحمتیں آپعليهالسلام پر نازل ہوں خدانے آپ کو اپنی خوشنودی سے ہمکنار کردیا_ آپعليهالسلام نبی پاکصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بہترین چچا تھے_
چھٹی دلیل: امیرالمومنین علیعليهالسلام نے معاویہ کوایک طویل خط لکھا جس میں مذکور ہے کہ نہ امیہ، ہاشم کی مانند ہے، نہ حرب عبدالمطلب کے مساوی اور نہ ابوسفیان ابوطالب کے برابر، نہ آزاد شدہ غلام ہجرت کرنے
___________________
۱_ رجوع کریں (ان تمام باتوں کے بارے میں) تذکرة الخواص ص ۸، شرح نہح البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۸۱، سیرت حلبی ج ۱ ص ۱۴۷، المصنف ج ۶ ص ۳۸ السیرة النبویة ( دحلان) ج۱ ص ۸۷، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۵و طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۷۸، تاریخ بغداد ( خطیب) ج۳ ص ۱۲۶ اور ج ۱۳ ص ۱۹۶، تاریخ ابن کثیر ج ۳ ص ۱۲۵ و الطرائف (ابن طاؤس) ص ۳۰۵ از حنبلی در نہایة الطلب نیز البحار ج ۳۵ ص ۱۵۱ و التعظیم و المنة ص ۷ و لسان المیزان ج ۱ ص ۴۱، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، الغدیر ج ۷ ص ۳۷۲ و ۳۷۴ و ۳۷۵از مذکورہ کتب اور شرح شواہد مغنی (سیوطی) ص ۱۳۶اعلام النبوة (ماوردی) ص ۷۷ و بدائع الصنائع ج۱ ص ۲۸۳ و عمدة القاری ج ۳ ص ۴۳۵ و اسنی الطالب ص ۱۵ و ۲۱ و ۳۵ و طلبة الطالب ص ۴۳، دلائل النبوة ( بیہقی) ا ور برزنجی، ابن خزیمہ، ابوداؤد اور ابن عساکر_ ۲_ تذکرة الخواص ص ۹_
والے کا ہم پلہ ہے اور نہ ہی خودساختہ نسب والا صحیح النسب انسان کے برابر_(۱)
اگر حضرت ابوطالب کافر ہوتے اور ابوسفیان مسلمان تو حضرت علیعليهالسلام کسی کافر کو ایک مسلمان پر کیسے ترجیح دے سکتے تھے؟ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ابوسفیان وہ ہے جس نے کہا تھا کہ اسے معلوم نہیں جنت کیا ہے اور جہنم کیا ہے (اس کا ذکر جنگ احد کے حالات کے آخر میں ہوگا)_ یہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنینعليهالسلام معاویہ کے مجہول النسب ہونے کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں_ بہرحال اس بحث کا مقام الگ ہے_
ساتویں دلیل: پیغمبر خدا سے منقول ہے کہ آپ نےصلىاللهعليهوآلهوسلم فرمایا:''اذا کان یوم القیامة شفعت لابی وامی وعمی ابیطالب واخ لی کان فی الجاهلیة'' (۲) یعنی قیامت کے دن میں اپنے والدین، اپنے چچا ابوطالب اور اپنے اس بھائی کی شفاعت کروں گا جو ایام جاہلیت میں زندہ تھا_
آٹھویں دلیل: نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ خدا نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جبرئیل کی زبانی بتایا''حرمت النار علی صلب انزلک و بطن حملک وحجر کفلک اما الصلب فعبد الله و اما البطن فآمنه و اما الحجر فعمه یعنی اباطالب و فاطمه بنت اسد'' یعنی خدانے آتش کو حرام کیا ہے اس صلب پر جس نے تجھے اتارا اور اس بطن پر جس میں تو رہا اور اس دامن پر جس میں تونے پرورش پائی،(۳) یہاں صلب سے مراد حضرت عبداللہ ہیں بطن سے مراد حضرت آمنہ ہیں اور دامن یا گود سے مراد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا حضرت ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد ہیں_ یہی مضمون مختصر فرق کے ساتھ دیگر روایات میں بھی موجود ہے_
___________________
۱_ وقعة صفین نصر بن مزاحم ص ۴۷۱ ، الفتوح ابن اعثم ج ۳ ص ۲۶۰ ، نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج ۳ ص ۱۸، خط ۱۷ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۵ ص ۱۱۷ ، الامامة و السیاسة ج ۱ ص ۱۱۸، الغدیر ج ۳ ص ۲۵۴ ، مذکورہ کتب سے و از ربیع الابرار زمخشری باب ۶۶ و مروج الذہب ج ۲ ص ۶۲ اور ملاحظہ ہو الفتوح ابن اعثم ج ۳ ص ۲۶۰ و مناقب خوارزمی حنفی ص ۱۸۰_
۲_ ذخائر العقبی ص ۷ مکمل طور پر الفوائد رازی سے ، الدرج المنیفہ سیوطی ص ۸ ، مسالک الحنفاء ص ۱۴ از ابن النعیم و غیرہ اور مذکور ہے کہ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ، تفسیر قمی ج ۱ ص ۳۸۰ ، تفسیر برہان ج ۲ ص ۳۵۸ ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۳۲_
۳_ اصول کافی ج ۱ ص ۳۷۱ ، بحار ج ۳۵ ص ۱۰۹ ، التعظیم و المنة سیوطی ص ۲۷ اور ملاحظہ ہو ، روضة الواعظین ص ۱۳۹ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ ص ۶۷، الغدیر ج ۷ ص ۳۷۸ مذکورہ کتب سے و از کتاب الحجة (ابن معد) ص ۸و تفسیر ابوالفتوح ج ۴ ص ۲۱۰
نویں دلیل: حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ایمان ابوطالبعليهالسلام کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:'' تعجب کی بات ہے خدا نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل کیا کہ کوئی مسلمان عورت کسی کافر کے حبالہ عقد میں باقی نہ رہے اور فاطمہ بنت اسد اسلام کی اولین عورتوں میں سے ہیں وہ حضرت ابوطالب کی موت تک ان کے عقد میں رہیں؟''_(۱)
البتہ کافر عورتوں کے ساتھ ازدواجی رابطہ باقی رکھنے سے منع کرنے والی آیت کے مدینہ میں نزول سے مذکورہ روایت کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچتی اور نہ وہ اس روایت کے بطلان کا باعث ہے کیونکہ ممکن ہے کہ قرآنی آیت کے نزول سے قبل ہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی مذکورہ امر سے ممانعت ہوئی ہو_ رہا بعض مسلمانوں کا اس حکم پر (اس زمانے میں) عمل نہ کرنا تو ممکن ہے کہ بعض مخصوص حالات کے تحت وہ اس امر پر مجبور ہوئے ہوں_
دسویں دلیل: بعض لوگوں نے حضرت ابوطالبعليهالسلام کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خط کے ذریعے امام علی ابن موسی الرضاعليهالسلام سے سوال کیا تو انہوں نے جواب میں لکھا( و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدی ویتبع غیر سبل المومنین ) (سورہ نساء آیت ۱۱۵) یعنی جو شخص راہ ہدایت کے واضح ہونے کے بعد بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے سے ہٹ کر کسی اور راہ پر چلے ..._ اس کے بعد فرمایا: ''اگر تم حضرت ابوطالب کے ایمان کا اعتراف نہ کرو تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا''_(۲)
گیارہویںدلیل: جنگ جمل کے موقع پر جب جناب محمد بن حنیفہ نے اہل بصرہ کے ایک آدمی پر قابو پایا تو اسی کا کہناہے کہ جب میں نے اس پر قابو پالیا تو اس نے کہا : '' میں ابوطالب کے دین پر ہوں '' پس جب میں نے اس کی مراد سمجھ لی تو اسے چھوڑ دیا(۳)
بارہویںدلیل: غزوہ بدر کے ذکر میں عنقریب آئے گا کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے شہید بدر عبیدہ بن حارث سے اپنے چچا ابوطالب کے متعلق چھوٹے سے طعنے کو بھی برداشت نہیں کیا _ حتی کہ اس کا یہ کہنا بھی برداشت نہیں ہوا کہ ابوطالب نے جو یہ کہا ہے:
___________________
۱،۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۸، الغدیر ج ۷ ص ۳۸۱ اور ۳۹۴ نے کراجکی ص ۸۵ سے اور کتاب الحجة (ابن معد) ص ۲۴،۱۶ سے و الدرجات الرفیعہ و البحار اور ضیاء العالمین سے نقل کیا ہے اور امام سجادعليهالسلام کی حدیث کے تواتر کا دعوی بھی کیا گیا ہے_ ۳_ طبقات ابن سعد ج۵ ص ۶۸ مطبوعہ لیدن_
کذبتم و بیت الله بیدی محمد---- و لما نطاعن دونه ونناضل
و نسلمه حتی نصرع دونه ---- و نذهل عن ابنائنا و الحلائل
خدا کی قسم کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ چھوڑ دیں ( بلکہ ہم تو ان کی حمایت میں ) تم سے نیزوں اور تلواروں کے ذریعہ سے مقابلہ کریں گے _
تو ہم لوگ ا س سے کہیں بہتر ہیں _ پس جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس جیسے طعنے پر بھی غضبناک ہوسکتے ہیں تو کیا آپ کے خیال میں اپنے چچا کے متعلق مشرک کا حکم لگاکر خوش ہوں گے ؟ اور انہیں دوزخ کے ایک کنارے پر ٹھہرائیں گے جس کی آگ سے ان کا بھیجہ ابل رہا ہوگا؟ یہ بے انصافی کہاں تک رہے گی؟
یہاں ہم انہی مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں جو حضرت ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں مزید تحقیق کے متلاشی متعلقہ کتب کی طرف رجوع کریں_
بے بنیاد دلائل
حضرت ابوطالب علیہ السلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھنے والوں نے بے بنیاد دلائل اور روایات کا سہارا لیا ہے_ یہاں ہم ان میں سے چند ایک کی طرف جو زیادہ اہمیت کی حامل ہیں اشارہ کرتے ہیں_
۱_ حدیث ضحضاح
ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا ابوطالبعليهالسلام کا ذکر ہوا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: شاید ان کو میری شفاعت روز قیامت فائدہ دے اور آگ کے ایک ضحضاح ( کنارے) میں رکھا جائے جہاں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ ایک اور روایت کے مطابق حضرت عباس نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے چچا سے بے نیاز نہ تھے واللہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کرتے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خاطر غضبناک ہوتے تھے فرمایا:'' وہ آگ کے ایک حوض میں ہیں اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے
سب سے نچلے حصے میں ہوتے''_(۱)
اس حوالے سے ہم درج ذیل عرائض پیش کرتے ہیں_
(الف) علامہ امینی نے الغدیر (ج ۸ ص ۲۳_۲۴) میں اور خنیزی نے ''ابوطالب مومن قریش'' نامی کتاب میں اس روایت کی اسناد سے بحث کی ہے_ ان دونوں حضرات نے اس روایت کے کمزور اور بے بنیاد ہونے، نیز اس کے الفاظ وعبارات کے درمیان تضاد کو واضح طور پر ثابت کیا ہے_
(ب) جب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ابوطالبعليهالسلام کو فائدہ پہنچاتے ہوئے جہنم کے آخری حصے سے انہیں نکال کر گوشہ آتش تک لے آسکتے ہیں تو پھر تھوڑی سی مہربانی اور کرتے ہوئے ان کو اس کنارے سے ہی باہر کیوں نہیں نکال لاتے؟ اس کے علاوہ چونکہ اس وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ زندہ تھے اور قیامت برپانہیں ہوئی تھی اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں شفاعت ہوسکتی ہے؟
(ج) یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ابوطالبعليهالسلام کو موت کے وقت کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، جاری کرنے کیلئے کہا تاکہ اس طرح بروز قیامت انہیں آپ کی شفاعت نصیب ہو لیکن ابوطالب نے ایسا نہیں کیا _یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کلمہ کے بغیر کسی قسم کی شفاعت نہیں ہوسکتی،(۲) پھر کیونکر ابوطالبعليهالسلام کی شفاعت ممکن ہوئی (اگرچہ ایک حد تک ہی سہی) حالانکہ ان لوگوں کے بقول انہوں نے کلمہ شہادت زبان پر جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے شفاعت ممکن ہوسکتی_
نیز کیایہی لوگ روایت نہیں کرتے کہ مشرک کی شفاعت نہیں ہوسکتی؟ پھر کیونکر اس مشرک کی شفاعت
___________________
۱_ صحیح بخاری مطبوعہ سن ۱۳۰۹ ج ۲ ص ۲۰۹ اور ج ۴ ص ۵۴، المصنف ج ۶ ص ۴۱، النسب الاشرف (بہ تحقیق محمودی) ج ۲ ص ۲۹_۳۰، صحیح مسلم کتاب الایمان، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹مسند احمد ج ۱ ص ۲۰۶ و ۲۰۷ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۵، الغدیر ج ۸ص ۲۳ کہ بعض مذکورہ کتب اور عیون الاثر ج ۱ص ۱۳۲ سے نقل کیا ہے اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۶_
۲_ الترغیب و الترھیب ج ۴ ص ۴۳۳ از احمد (دو صحیح سندوں کے ساتھ) از بزاز اور طبری (مختلف اسانید کے ساتھ جن میں سے ایک اچھی ہے) اور ابن حبان (اپنی صحیح میں) نیز رجوع ہو الغدیر ج ۲ ص ۲۵ _
ہوئی اور وہ اس کے سبب جہنم کے آخری طبقے سے نکال کر آتش کے کنارے میں منتقل کئے گئے_(۱)
(د) ابن ابی الحدید معتزلی نے مذہب امامیہ اور مذہب زیدیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کہنا ہے حدیث ضحضاح ( کنارہ آتش والی حدیث) کو تمام لوگ صرف ایک ہی فرد سے نقل کرتے ہیں اور وہ ہے مغیرہ بن شعبہ حالانکہ بنی ہاشم خصوصاً حضرت علیعليهالسلام سے اس کا بغض و عناد ہر خاص و عام کو معلوم ہے_ نیز اس کی داستان اور اس کا فاسق ہونا کسی سے مخفی نہیں_(۲)
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (غیرشیعہ حضرات) اس روایت کو مغیرہ کے علاوہ دیگر افراد سے بھی نقل کرتے ہیں جیساکہ بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے_ پس ممکن ہے کہ مغیرہ کے علاوہ دیگر افراد سے نقل کرنے کا عمل بعد کی پیداوار ہو کیونکہ یہ معقول نہیں کہ شیعہ حضرات ان پر بے جا طور پر مذکورہ اعتراض کریں جبکہ معتزلی نے شیعوں کے اعتراض کے آگے خاموشی اختیار کرلی ہے گویا اس نے بھی یہی احتمال دیا تھا جو ہم نے دیا ہے ، وگرنہ وہ اس اعتراض کا جواب دے سکتے تو ضرور دیتے_
(ہ) امام باقرعلیہ السلام سے لوگوں کے اس قول (کہ ابوطالبعليهالسلام آگ کے گوشے میں ہیں) کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:'' اگر ابوطالبعليهالسلام کا ایمان ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالاجائے اور لوگوں کاایمان دوسرے پلڑے میں تو بے شک ابوطالبعليهالسلام کے ایمان کا پلڑا بھاری ہوگا''_ پھر فرمایا:'' کیا تمہیں نہیں معلوم کہ امیرالمومنین علیعليهالسلام اپنی زندگی میں حضرت عبداللہ ، ان کے بیٹے اور حضرت ابوطالب کی نیابت میں حج بجالانے کا حکم دیا کرتے تھے اور انہوں نے ان کی طرف سے حج بجالانے کی وصیت کی''_(۳)
___________________
۱_ مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۳۳۶اور تلخیص مستدرک (ذہبی) (ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے) المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، الغدیر ج ۸ ص ۲۴ از مستدرک مواھب لدنیہ اور از کنز العمال ج ۷ ص ۱۲۸ سے نقل کیا ہے شرح المواہب (زرقانی) ج ۱ ص ۲۹۱ کشف الغمة (شعرانی) ج ۲ ص ۱۲۴ اور تاریخ ابوالفداء ج ۱ ص ۱۲۰_
۲_شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۷۰و بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۱۲ _
۳_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، الدرجات الرفیعة ص ۴۹، بحار ج ۳۵ص ۱۱۲، الغدیر ج ۸ص ۳۸۰_۳۹۰ (ان دونوں اور السید کی کتاب الحجة کے ص ۱۸سے) از طریق شیخ الطائفة ازصدوق اور ضیاء العالمین (مصنف فتونی) _
(و) کوفہ کے مضافات (رحبہ) میں جب علیعليهالسلام سے پوچھا گیا کہ کیا آپعليهالسلام کے والد عذاب جہنم میں مبتلا ہوں گے یا نہیں ؟ تو آپعليهالسلام نے اس آدمی سے فرمایا:'' خاموش تیری زبان جلے_ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بر حق نبی بناکر بھیجنے والی ذات کی قسم اگر میرے والد روئے زمین کے تمام گناہگاروں کی بھی شفاعت کریں تو خدا ان سب کو معاف کردے_ واہ باپ تو جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو اور بیٹا ہوقسیم النار والجنة'' ؟ (جنت و دوزخ تقسیم کرنے والے بیٹے کی موجودگی میں باپ دوزخ میں جلے؟ معاذ اللہ )(۱)
(ز) روایات ضحضاح میں اختلاف و تناقض ملاحظہ فرمایئے ایک روایت تو یہ کہتی ہے کہ شاید میری شفاعت کام کرجائے اور قیامت کے دن دوزخ کے کنارے پر ٹھہرائے جائیں _ جبکہ دوسری روایت یقین کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ ابھی دوزخ کے کنارے پر موجود ہیں _ ملاحظہ فرمائیں_
۲_ عقیل اور ارث ابوطالبعليهالسلام
کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب کی وراثت عقیل نے پائی نہ کہ علیعليهالسلام اور جعفرعليهالسلام نے اور اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ابوطالبعليهالسلام مشرک تھے اور یہ دونوں مسلمان تھے پس ان دونوں فریقوں کے دین مختلف ٹھہرے اور دو مختلف ادیان کے پیروکار ایک دوسرے سے وراثت نہیں پاتے_(۲) ان کی یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں_
(الف) یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ جعفرعليهالسلام اور علیعليهالسلام نے وراثت نہیں پائی_
(ب) ان کا یہ کہنا کہ دو مختلف ادیان کو ماننے والے ایک دوسرے سے وراثت نہیں پاسکتے درست ہے اور ہم بھی اس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ لفظ توارث باب تفاعل سے ہے _باب تفاعل کام کیلئے دو طرف کے ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ہم بھی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان توارث (دونوں طرف سے ایک دوسرے سے وراثت پانے) کے قائل نہیں_
___________________
۱_ بحار الانوار ج ۵ ۳ ص ۱۱۰ اور کنز الفوائد ص۸۰ مطبوعہ حجریہ_
۲_ المصنف ج ۶ص ۱۵اور ج ۱۰ ص ۳۴۴ اور اس کی جلد ششم کے حاشیے میں بخاری (ج ۴ ص ۲۹۳) سے مروی ہے نیز طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹ _
لفظ توارث کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عمل دو طرفہ ہو جس طرح تضارب (ایک دوسرے سے کو مارنا) جو بغیر طرفین کے نہیں ہوسکتا_ بنابریں مکتب اہلبیت کا نظریہ ہی درست ہے یعنی یہ کہ مسلمان کافر سے وراثت پاسکتا ہے لیکن کافر مسلمان سے نہیں_(۱)
(ج) حضرت عمر سے منقول ہے کہ ہم مشرکین سے وراثت پاتے ہیں لیکن وہ ہم سے نہیں_(۲) نیز بہت سے فقہاء نے فتوی دیا ہے کہ مرتد کی میراث مسلمانوں کو ملتی ہے اور ہم ان سے وراثت پاتے ہیں لیکن وہ ہم سے نہیں_(۳)
(د) وہ لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب کے وقت و فات تک میراث ابھی فرض ہی نہیں ہوئی تھی اور معاملہ وصیت کے ساتھ چلتا تھا_ تو اس بناپر ہوسکتاہے کہ جناب ابوطالبعليهالسلام نے عقیل کے ساتھ محبت کی وجہ سے اس کے نام وصیت کی ہو(۴) _
۳_ وھم ینہون عنہ، ویناون عنہ
ابوطالب پر اعتراض کرنے والوں نے ذکر کیا ہے کہ آیت( وهم ینهون عنه و یناون عنه ) ابوطالبعليهالسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے حضرت ابوطالب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستانے سے لوگوں کو منع کرتے تھے لیکن خود دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے_(۵) جبکہ ہم کہتے ہیں کہ :
۱_ خنیزی نے اس روایت کی سند پر جو اعتراضات کئے ہیں وہ کافی ہیں لہذا اس کی سند پر ہم بحث نہیں کرنا چاہتے(۶)
___________________
۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۹ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۱۰ ص ۳۳۹ اور ج ۶ ص ۱۰۶ _
۳_ المصنف ج ۶ ص ۱۰۴_۱۰۷ اور ۱۰۵ اور ج ۱۰ ص ۳۳۸_۳۴۱_ ۴_ مراجعہ ہو: اسنی المطالب ص ۶۲_
۵_ الاصابة ج ۴ ص ۱۱۵، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۲۷، طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۷۸ حصہ اول بھجة المحافل ج ۱ ص ۱۱۶ انساب الاشراف بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۶، الغدیر ج۸ ص۳ میں مذکورہ افراد اور تفسیر خازن ج۲ ص۱۱ سے نیز تفسیر ابن جزی ج۲ ص۶، نیز طبری اور کشاف سے نقل کیا گیا ہے اور دلائل النبویة (بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۴۰ و ۳۴۱_
۶_ کتاب ابوطالب مومن قریش ص ۳۰۵_۳۰۶_
۲_ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیت کسی لحاظ سے ابوطالبعليهالسلام پر منطبق نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالی نے اس سے قبل ارشاد فرمایا ہے:( و ان یروا کل آیة لا یومنوا بها حتی اذا جائوک یجادلونک یقول الذین کفروا ان هذا الا اساطیر الاولین و هم ینهون عنه ) (۱) یعنی اور اگر وہ تمام تر معجزے دیکھ لیں تو بھی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاںتک کہ جب وہ تمہارے پاس آئیں گے تو تم سے بھی جھگڑا کریں گے اور وہ لوگ جو کافر ہوگئے کہیں گے، یہ نہیں مگر پہلوں کی کہانیاں اور وہ اس سے روکتے ہیں
اس آیت میں جمع کی ضمائر مثلاً'' هم'' اور''ینهون و ینأون '' کے فاعل کی ضمیر جمع انکی طرف لوٹ رہی ہے جن کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے اور وہ ایسے مشرک ہیں جو ہر آیت اور معجزے کو دیکھنے کے باوجود اس پر ایمان نہیں لاتے اور ان معجزات کے بارے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے جھگڑا کرتے ہیں اور اپنے عناد کی وجہ سے اس معجزے کو گذشتہ لوگوں کا افسانہ قرار دیتے ہیں_ ان کی ہٹ دہرمی کی حد اتنی ہی نہیں بلکہ وہ اس سے بھی آگے قدم بڑھاتے ہوئے لوگوں کو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتیں سننے سے روکتے ہیں جس طرح کہ وہ خود بھی ان سے دور رہتے ہیں
ان میں سے کوئی بات بھی حضرت ابوطالبعليهالسلام پر پوری نہیں اترتی، وہ ابوطالبعليهالسلام جوہمیشہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت پر حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اپنے ہاتھ اور زبان کے ساتھ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تائید کرتے بلکہ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس دین کے دائرے میں آنے کی دعوت دیتے اور خود بھی اس دین پر ڈٹے رہے اور اس سلسلے میں ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا ،جس طرح کہ ان کی بیوی، حمزہعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام ، حضرت علیعليهالسلام اور بادشاہ حبشہ کی بھی یہی صورت حال تھی_
مفسرین نے بھی اس آیت سے عموم ہی سمجھا ہے اور اس سے سب کفار مراد لئے ہیں اور اس کا یہ معنی کیا ہے کہ وہ لوگ کفار کو روکتے تھے اور اتباع رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منع کرتے تھے اور خود بھی اس سے دور رہتے تھے ...ابن عباس، حسن، قتادہ، ابی معاذ، ضحاک، ابن الحنفیہ، السدی، مجاہد الجبائی اور ابن جبیر سے بھی
___________________
۱_ سورہ انعام، آیت ۲۵_۲۶_
یہی تفسیرتفسیر مروی ہے_(۱)
۳_علامہ امینی فرماتے ہیں مذکورہ روایت کہتی ہے کہ سورہ انعام کی آیت( وهم ینهون عنه و یناون عنه ) حضرت ابوطالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی_ دوسری روایت کہتی ہے کہ آیت( انک لا تهدی من اجبت ) بھی ان کی وفات کے وقت نازل ہوئی جبکہ قرآن کی یہ آیت سورہ قصص کی ہے، جس کی تمام آیات ایک ساتھ نازل ہوئیں اور سورہ قصص پانچ سورتوں کے فاصلے کے ساتھ سورہ انعام سے قبل نازل ہوئی_(۲) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیت حضرت ابوطالب کی وفات کے کافی عرصے بعد نازل ہوئی_
بنابر ایں ان لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ آیت وفات ابوطالبعليهالسلام کے وقت نازل ہوئی کیونکر معقول ہو سکتا ہے؟
۴_ مشرک کیلئے طلب مغفرت سے منع کرنے والی آیت
بخاری، مسلم اور دیگر محدثین نے ابن مسیب سے اور اس نے اپنے باپ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے وفات ابوطالبعليهالسلام کے وقت ان سے لا الہ الا اللہ کہنے کی خواہش کی تاکہ اس کے ذریعے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے نزدیک ان کی مغفرت کیلئے دلیل قائم کرسکیں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے ابوطالبعليهالسلام سے کہا:'' کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑنا چاہتے ہیں؟ ''رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ابوطالبعليهالسلام کو کلمہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور وہ دونوں مذکورہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالبعليهالسلام نے آخری جملہ یہ کہا (عبدالمطلب کے دین پر ہوں) اور لا الہ الا اللہ کہنے سے احتراز کیا_
یہ دیکھ کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا : ''خدا کی قسم جب تک خدا کی طرف سے ممانعت نہ ہو آپ کیلئے طلب
___________________
۱_ رجوع کریں: مجمع البیان ج ۷ ص ۳۵، ۳۶، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۲۷، الغدیر ج ۸ ص ۳ درالمنثور ج ۳ ص ۸_۹، ان سب نے تمام یا بعض مطالب کو قرطبی، طبری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید اور ابن مردویہ سے نقل کیا ہے_ قرطبی ج ۶ ص ۴۰۶ _
۲_ الدر المنثور ج ۲ص ۳ ،تفسیر شوکانی ج ۳، ص ۹۱_۹۲، تفسیر ابن کثیر ج ۲ص ۱۲۲اور الغدیر ج۸ ص ۵ نے نقل کیا ہے از افراد مذکور و از تفسیر قرطبی ج ۶ص ۳۸۶ و۳۸۳ ،ان سب نے نقل کیا ہے از ابی عبید و ابن منذر و طبرانی و ابن مردویہ و نحاس
مغفرت کرتا رہوں گا''_ اس مناسبت سے یہ آیت اتری( ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ما تبین لهم انهم اصحاب الجحیم ) (۱) یعنی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مومنین کیلئے روا نہیں کہ وہ مشرکین کیلئے مغفرت طلب کریں اگرچہ وہ ان کے قرابت دارہوں بعد اس کے کہ ان کا جہنمی ہونا واضح ہوجائے، نیز خدا نے ابوطالبعليهالسلام کے بارے میں یہ آیت اتاری( انک لاتهدی من احببت ولکن الله یهدی من یشائ ) (۲) یعنی اے رسول آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر اس شخص کی ہدایت نہیں کرسکتے جسے آپ چاہیں بلکہ خدا جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے_
ہم نہ تو اس مقطوعہ روایت کی سندوں پر بحث کرنا چاہتے ہیں(۳) اور نہ ابن مسیب جیسے لوگوں پر جن کی حضرت علیعليهالسلام سے دشمنی واضح ہے اور بعض لوگوں نے تواس کی تصریح کی ہے_(۴) البتہ درج ذیل امور کی طرف اشارہ کریں گے_
۱) وہ آیت جو (مشرکین کیلئے) طلب استغفار سے منع کرتی ہے سورہ توبہ کی ہے اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ سورت مدینہ میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اترنے والی آخری سورتوں میں سے ایک ہے بلکہ بعض حضرات نے یہ دعوی کیا ہے کہ آخری سورہ یہی ہے_(۵) یہ بات غیرمعقول ہے کہ یہ آیت دس سال سے زیادہ عرصے تک تنہا پڑی رہی ہو پھر جب سورت توبہ نازل ہوئی تو اس میں شامل کر دی گئی ہو کیونکہ قرآنی آیات کسی سورہ کے ساتھ اس صورت میں ملحق ہوتی ہیں جبکہ وہ سورت اس سے قبل نازل ہوچکی ہو_اور یہ بات قرآن کی لمبی سورتوں سے متعلق ہے نہ کہ دیگر سورتوں سے جس کی تمام آیات ایک ساتھ اترتی تھیں_
___________________
۱_ سورہ توبہ، آیت ۱۱۳_
۲_ سورہ قصص آیت ۵۶روایت بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹کی ج ۳ص ۱۱۱وغیرہ میں
۳_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۳۱۳_۳۴۰اور انساب الاشراف بہ تحقیق محمودی ج ۲ص ۲۵اور ۲۶ نیز دلائل النبوة (بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۴۲ و ۳۴۳_
۴_ الغارات (ثقفی) ج ۲ص ۵۶۹
۵_ الغدیر ج ۸ص ۱۰، ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۱از بخاری، کشاف، بیضاوی، تفسیر ابن کثیر، الاتقان، ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن الضریس، ابن منذر، نحاس، ابوالشیخ اور ابن مردویہ_
بنابریں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اس قدر طویل عرصے تک ابوطالبعليهالسلام کیلئے طلب مغفرت و رحمت کرتے رہے حالانکہ یہ عمل کافر سے محبت کا واضح ترین نمونہ ہے اور خدا نے سورہ توبہ کے نزول سے قبل ہی متعدد آیات میں کفار کی محبت سے منع کیا تھا جیساکہ اس آیت میں فرماتا ہے:( لا تجد قوماً یومنون بالله والیوم الآخر یوادون من حاد الله ورسوله ولو کانوا آبائهم اَو ابنا هم اواخوانهم اوعشیرتهم ) (۱) یعنی اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں_
نیز فرمایا ہے:( یایها الذین آمنوا لا تتخذوا الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ) (۲) یعنی اے مومنوا مومنین کے بجائے کافروں کو اپنا دوست اور حامی نہ سمجھو_
یا یہ فرمایا ہے:( الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندهم العزة ) (۳) یعنی جو لوگ مومنین کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں کیا وہ عزت ان کے ہاں ڈھونڈتے ہیں؟
نیز فرمایا:( لایتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ) (۴) یعنی مومنین کو چاہیئے کہ وہ مومنوں کے بجائے کافروں کو اپنا دوست اور ہمدرد نہ بنائیں_
انکے علاوہ اور بھی آیات موجود ہیں جن کے بارے میں تحقیق کی یہاں گنجائشے نہیں_
۲)خدانے سورہ منافقین میں جو بنابر مشہور ہجرت کے چھٹے سال میں سورہ توبہ سے پہلے، نیز غزوہ بنی مصطلق سے قبل نازل ہوئی فرمایا ہے:( سواء علیهم استغفرت لهم ام لم تستغفرلهم لن یغفر الله لهم ) یعنی کہ آپ ان کیلئے خواہ طلب مغفرت کریں یا نہ کریں(ایک ہی بات ہے) خدا ان کو کبھی نہیں
___________________
۱_ سورہ مجادلہ ۲۲نیز یہ سورہ توبہ سے سات سورتوں کے فاصلے پر پہلے نازل ہوئی (جیساکہ الاتقان ج ۱ص ۱۱تفسیر ابن کثیر ج۴ص ۳۲۹فتح القدیر ج ۵ص ۱۸۶اور الغدیر ج ۸ص ۱۰میں ان سے اور تفسیر آلوسی ج ۲۸و ۳۷سے منقول ہے) ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، بیہقی، ابونعیم وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ سورہ بدر یا احد میں نازل ہوئی_
۲_ سورہ نساء آیت ۱۴۴ _ ۳_ سورہ نساء آیت ۱۳۹_ ۴_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_
بخشے گا_
پس جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ علم تھا کہ خدا کافروں کو ہرگز نہ بخشے گا خواہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کیلئے استغفارکریں یا نہ کریں ، تو پھرآپ خواہ مخواہ کی زحمت کیوں کرتے؟ حالانکہ واضح سی بات ہے کہ یہ امر عقلاء کے نزدیک معقول نہیں_
۳)ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صاف صاف فرمایا:''اللهم لاتجعل لفاجر او لفاسق عندی نعمة'' (۱) یعنی اے خدا کسی فاسق یا فاجر کیلئے میرے پاس کوئی نعمت اور احسان قرار نہ دے_
نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکیم بن حزام کا تحفہ اس کے کافر ہونے کی بنا پر واپس کردیا تھا_ عبیداللہ کہتا ہے میرا خیال ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تھا: ''ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے لیکن اگر تم چاہو توقیمت کی ادائیگی کے ساتھ قبول کریں گے''_(۲)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عامر بن طفیل کا تحفہ بھی قبول نہیں فرمایا تھا کیونکہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا_اس کے علاوہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ملاعب الاسنہ ( بوڑھوں کا مذاق اڑانے والوں )کا ہدیہ بھی رد کردیا تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا_(۳)
عیاض مجاشعی سے منقول ہے کہ اس نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس کوئی تحفہ بھیجا لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے لینے سے
___________________
۱_ رجوع کریں ابوطالب مومن قریش (خنیزی)
۲_ مستدرک الحاکم ج ۳ص ۴۸۴اور تلخیص مستدرک (ذہبی) اس صفحے کے حاشیہ پر_ ان دونوں نے اس روایت کو صحیح گردانا ہے_ نیز کنز العمال ج۶ص ۵۷و ۵۹از احمد، طبرانی الحاکم اور سعید بن منصور ، حیات صحابہ ج۲ ص ۲۵۸ و ۲۵۹ ، ۲۶۰ از کنزالعمال و از مجمع الزوائد ج۸ ص ۲۷۸ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۶_ یہاں پر ملاحظہ ہو کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وقت ہجرت جناب ابوبکر سے بھی صرف قیمت دے کر اونٹ لئے تھے_
۳_ کنز العمال ج ۳ص ۱۷۰طبع اول از ابن عساکر طبع ثانی ج ۶ص ۵۷از طبرانی، المصنف (عبدالرزاق) ج ۱ص ۴۴۶و ۴۴۷ اورحاشیہ میں مغازی اور ابن عقبہ سے منقول ہے اور مجمع البیان ج۱ ص ۳۵۳_
انکار کیا اور فرمایا مجھے کافروں کے عطیات سے منع کیا گیا ہے_(۱)
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کفار کے تحائف کا قبول کرنا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دل میں ان کیلئے محبت واحترام کا گوشہ پیدا کرنے کا باعث نہ ہو_
۴)صحیح سند کے ساتھ حضرت علیعليهالسلام سے مروی ہے (جیساکہ علامہ امینی نے ذکر کیا ہے )کہ انہو ں نے سنا ایک شخص اپنے والدین کیلئے طلب مغفرت کررہا ہے جبکہ وہ دونوں مشرک تھے، حضرت علیعليهالسلام نے یہ بات پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو سنائی تو مذکورہ آیت اتری_(۲)
ایک روایت کی رو سے مسلمانوں نے کہا کیا ہم اپنے آباء کیلئے طلب مغفرت نہ کریں؟ اس کے جواب میں مذکورہ آیت نازل ہوئی_(۳)
ایک اور روایت کے مطابق جب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے اللہ سے اپنی والدہ کیلئے طلب مغفرت کی اجازت چاہی تو خدانے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اجازت نہ دی اور یہ آیت اتری پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی قبر پر جانے کی اجازت مانگی تو اس کی اجازت مل گئی_(۴)
___________________
۱_ کنز العمال ج ۶ص ۵۷و ۵۹ابوداؤد اور ترمذی سے، احمد او ر طیالسی اور بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے_ نیز رجوع کریں کنزالعمال ج ۶ص ۵۷ و ۵۹میں عمران بن حصین سے مروی روایت کی طرف نیز المنصف (عبد الرزاق) ج ۱۰ص ۴۴۷اور اس کے حاشیے میں ج ۲ص ۳۸۹اس نے ابوداؤد احمد اور ترمذی سے روایت کی ہے او ر ملاحظہ ہو الوسائل ج۱۲ ص ۲۱۶ از کافی اور المعجم الصغیر ج۱ ص ۹_
۲_ الغدیر ج ۸ص ۱۲نیز دیگر مآخذ از طیالسی، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوشیخ، ابن مردویہ، حاکم (جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے)، بیہقی (در شعب الایمان)، ضیاء (المختارة میں)، الاتقان، اسباب النزول، تفسیر ابن کثیر، کشاف، اعیان الشیعة، اسنی المطالب ص ۱۸ (دحلان)، ابوطالب مومن قریش، شیخ الابطح اور مسند احمد ج ۱ص ۱۳۰_۱۳۱_
۳_ مجمع البیان ج ۵ ص ۷۶ از حسن، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹۳، ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۸ از مجمع البیان اور تفسیرابن کثیر سے اور الاعیان ج ۳۹ ص ۱۵۸ و ۱۵۹میں ابن عباس اور حسن سے، کشاف، ج ۲ ص ۲۴۶_
۴_ تفسیر طبری ج ۱۱ص ۳۱و الدر المنثور ج ۳ ص ۲۸۳ و ارشاد الساری ج ۷ ص ۲۸۲ اور ۱۵۸ از صحیح مسلم، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹۴، مسند احمد، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، کشاف ج ۲ ص ۴۹ اور ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۹ _
یہاں اگرچہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اس آخری روایت کا صحیح ہونا بہت بعید ہے کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی والدہ مومنہ تھیں جیساکہ ہم حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آباء کے ایمان کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہ روایت گزشتہ روایات کے منافی ہے_ شاید راویوں نے اپنی صوابدید کے مطابق عمداً یا سہواً اس آیت کو حضرت آمنہ پر منطبق کیا ہے لیکن صحیح روایت امیرالمؤمنین علیعليهالسلام سے مروی مذکورہ بالا روایت ہی ہے وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اپنی والدہ کیلئے استغفار کرنا بھول جاتے؟ یہ ان باتوں کے علاوہ ہے جن کا ذکر گزرچکا ہے_
۵)(انک لا تہدی من اجبت) والی آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ احد کے دن اتری جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا دندان مبارک شہید ہوا اور چہرہ مبارک پر زخم آیا_ اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تھا خدایا میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نادان ہیں پس خدانے یہ آیت نازل کی (انک لا تہدی من احببت ...)(۱)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خواہش تھی کہ وہ مسلمان ہوجائے کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے_(۲)
۶)جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ چاہتے تھے کہ حضرت ابوطالب ایمان لے آئیں تو یقیناً یہی بات خدا بھی چاہتا تھا کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی ایسے امر کو پسند نہیں فرماتے جو خدا کو ناپسند ہو_ رہا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ایک وحشی کا قبول اسلام پسند نہ تھا لیکن وہ ایمان لے آیا تو یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ امر خدا اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درمیان اختلاف اور تضاد کی علامت ہے یعنی یہ کہ ان دونوں میں توافق نہ ہو_ لیکن اگر توافق موجود ہو تو پھر یہ کیسے
___________________
۱_ ابوطالب مومن قریش ۳۶۸ از اعیان الشیعة ج ۳۹ ص ۲۵۹، الحجة ص ۳۹ اس روایت کے بعض مآخذ کا ذکر جنگ احد کے بیان میں ہوگا نیز ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۱۹۸ از استیعاب_
۲_ ابوطالب مؤمن قریش ص ۳۶۹از شیخ الابطح ص ۶۹_
ممکن ہے کہ اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ایک شخص کے ایمان کو ناپسند کریں؟(۱)
۷) '' انک لا تھدی من احبیت ...'' والی آیت جناب ابوطالبعليهالسلام کے ایمان سے مانع نہیں ہے کیونکہ جس طرح روایات دلالت کرتی ہیں خدا نے جناب ابوطالبعليهالسلام کا مؤمن ہوناپسند کیا ہے اور یہ آیت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کویہ بتانا چاہتی ہے کہ صرف آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت ہی کسی شخص کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ خدا کی مرضی بھی ساتھ ہونی چاہیئے_
آخر میں یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ گذشتہ معروضات کی رو سے جناب عبدالمطلب نہ کافر تھے نہ مشرک بلکہ وہ مؤمن اور دین حنیف کے پیروکار تھے بلکہ مسعودی نے تو اپنی ایک کتاب میں صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اسلام پر مرے_(۲) پس حضرت ابوطالب کا یہ کہنا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ان کے کفر پر دلالت نہیں کرتا_ اگر بالفرض انہوں نے ایسا کہا بھی ہو تو پھر اس کی وجہ لازماً یہی ہوسکتی ہے کہ وہ قریش کو اس وقت کی بعض مصلحتوں کی بناپر بے خبر رکھنا چاہتے تھے_
باقیماندہ دلائل
یہ تھے ابوطالبعليهالسلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھنے والوں کے اہم دلائل لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ دلائل صحیح اور عالمانہ تحقیق کے آگے نہیں ٹھہرسکتے _ان دلائل کے علاوہ بعض روایات باقی ہیں جن سے ممکن ہے کہ مذکورہ مطلب (کفر ابوطالب) پر استدلال کیا جائے حالانکہ ان روایات میں کوئی ایسا نکتہ نہیں جو اس بات کو ثابت کرسکے_ ہم نہایت اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق:
___________________
۱_ رجوع کریں حاشیہ کتاب انساب الاشراف جلد ۲ کے صفحہ ۲۸پر_
۲_ الروض الانف ج ۲ص ۱۷۰_۱۷۱_
۱) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے وسوسے سے رہائی کے بارے میں ابوبکر سے فرمایا ہے کہ تمہیں چاہ یے کہ وسوسے سے نجات کیلئے وہ جملہ پڑھو جس کے پڑھنے کا میں نے اپنے چچا کو حکم دیا تو انہوں نے نہیں پڑھا یعنی: لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ کی شہادت(۱) _ عمر سے مروی ہے کہ وہ کلمہ تقوی جس کی تاکید رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوطالب کو ان کی موت کے وقت کی کلمہ شہادت ہے(۲)
لیکن واضح رہے کہ بعض لوگ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے اس بارے میں سوال کرتے تھے ا ور اسے اپنی زبان پر جاری بھی کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وسوسے کا شکار تھے_ مگر یہ کہ اس سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد شہادتین کا تکرار اور کثرت تلفظ لیا جائے_ جیساکہ یہ روایت ایک معتبر سندکے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں آیا ہے کہ سعد اور عثمان کے درمیان اختلاف ہوا_ حضرت عمرنے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور کہا کہ حضرت یونسعليهالسلام کی دعا یہ تھی (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین) لیکن اس نے ابوطالبعليهالسلام کا ذکر نہیں کیا_(۳)
۲)جب ابوقحافہ نے مسلمان ہونے کیلئے بیعت کا ہاتھ بڑھایا تو حضرت ابوبکر روئے، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے پوچھا :''کیوں روتے ہو؟'' بولے:'' اس خیال سے روتا ہوں کہ کاش اس کے بدلے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کا ہاتھ ہوتا جو بیعت کر کے مسلمان ہوتا اور یوں اللہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی''_(۴) لیکن یہی روایت قبل ازیں مختلف مآخذ سے ایک اور انداز سے بیان ہوچکی ہے جس سے ابوطالبعليهالسلام کے
___________________
۱_ حیاة الصحابة ج ۲ ص ۵۴۰ و ۵۴۱ و کنز العمال ج ۱ ص ۲۵۹_۲۶۱ از ابی یعلی و البوصیری (زواید میں) اور طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۳۱۲ سے _
۲_ مجمع الزواید ج ۱ ص ۱۵ و کنز العمال ج ۱ ص ۲۶۲ و ۶۳ از ابی یعلی و ابن خزیمہ و ابن حبان و بیہقی وغیرہ جن کی تعداد زیادہ ہے_
۳_ مجمع الزوائد ج ۷ ص ۶۸ از احمد (اس سند کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ابراہیم بن محمد بن سعد کے جو ثقہ ہے) اور حیاة الصحابة میں احمد، ترمذی اور الکنز ج ۱ ص ۲۹۸ میں ابی یعلی اور طبرانی سے_ طبرانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے_
۴_ الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور الحاکم (جس نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، بخاری و مسلم کے معیار کے مطابق) از عمر بن شبہ، ابویعلی، ابوبشر سمویہ (در فوائد) و نصب الرایة ج ۶ ص ۲۸۱ و ۲۸۲ (بعض مآخذ سے جن کا ذکر حاشیہ میں ہوا ہے) المصنف ج ۶ ص ۳۹ اور اس کے حاشیہ میں نقل ہوا ہے از ابن ابی شیبہ ج ۴ ص ۱۴۲ اور ۹۵، ابوداؤد ص ۴۵۸ اور مسند احمد ج ۱ ص ۱۳۱ _
ایمان کی تائید ہوتی ہے_ لہذا اس کا اعادہ نہیں کرتے_ بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ جب ابوقحافہ مسلمان ہوا تو حضرت ابوبکر کو اس کے قبول اسلام کا پتہ ہی نہ چلا یہاں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کو خوشخبری دی_(۱)
بنابر این حضرت ابوبکر نے مذکورہ بات اس وقت جب ان کے باپ نے بیعت کیلئے ہاتھ بڑھایاکیسے کہی؟
۳)ایک روایت میں مذکور ہے جب حضرت ابوطالبعليهالسلام کی وفات ہوئی تو حضرت علیعليهالسلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بوڑھا اور گمراہ چچا چل بسا_
ایک اور روایت کے مطابق حضرت علیعليهالسلام نے ابوطالبعليهالسلام کے غسل و کفن کے بارے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے آپ کو حکم دیا یہ کام کسی اور کے ذمے ڈال دیں_(۲)
جبکہ امام احمد نے بھی اپنی مسند میں اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن اس میں لکھا ہے آپ کا بوڑھا چچا وفات پاچکا ہے اس میں گمراہ کا لفظ نہیں آیا_(۳) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے (نعوذ باللہ) ایک مشرک کو غسل دینے کا حکم کیسے دیا ؟ اوریہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عقیل اور طالب کو جو مشرک تھے غسل دینے کا حکم دینے کی بجائے علیعليهالسلام کو کیوں حکم دیا؟ پھر یہ بات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غمگین ہونے، ابوطالبعليهالسلام کیلئے طلب مغفرت و رحمت کرنے، ان کے جنازے کو کندھا دینے اور جنازے کے ساتھ چلنے سے کیسے ہماہنگ ہوسکتی ہے؟ جبکہ یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم مشرک کے جنازے کے ساتھ چلنے کو جائز نہیں سمجھتے؟(۴)
___________________
۱_ المحاسن والمساوی جلد ۱ صفحہ ۵۷_
۲_ المصنف ج ۶ص ۳۹ نیز ملاحظہ ہو: کنز العمال ج۱۷ ص ۳۲ و ۳۳ ، نصب الرایہ ج۲ ص ۲۸۱ و ۲۸۲ اور اسی کے حاشیہ میں مختلف منابع سے مذکور احادیث_
۳_ مسند الامام احمد ج۱ ص ۱۲۹ اور ۳۵ ۱و انساب الاشراف بہ تحقیق المحمودی ج ۲ ص ۲۴ اس میں مذکور ہے کہ آپ نے انکو بذات خود حکم دیا تو انہوں نے انہیں دفن کردیا_
۴_ اس بحث کی ابتدا میں بعض مآخذ کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ مشرک کے جنازے میں شرکت جائز نہیں ہے_ رجوع کریں سنن بیہقی وغیرہ جیسی کتب احادیث کی طرف_
اس کے علاوہ کیا یہ درست ہوسکتاہے کہ حضرت علیعليهالسلام نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حکم ماننے سے انکار کیا ہو یہاں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان سے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ کام کسی اور کے ذمے لگادو؟ کیا حضرت علیعليهالسلام اس قسم کی باغیانہ ذہنیت رکھتے تھے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا_
اس کے علاوہ یہ لوگ متعدد مآخذ سے منقول اس حقیقت کے بارے میں کیا جواب دیں گے جن کے مطابق حضرت علیعليهالسلام نے خود بہ نفس نفیس ابوطالبعليهالسلام کو غسل دیا، دفن کیا اور ان کو غسل دینے کے بعد غسل مس میت کیا جو کسی بھی مسلمان میت کو چھونے پر واجب ہوتا ہے؟(۱)
پس جب یہ واضح ہوگیا کہ ابوطالب سچے مسلمان تھے تو پھر مدینی جیسے افراد کی یا وہ گوئی پرجو نہ عقل کے مطابق ہے نہ شرع کے، کان دھرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ لوگ چاپلوسی اور نیکی کے دکھا وے کے ذریعے کوئی نتیجہ حاصل نہیں کرسکتے جیسا کہ مدینی کہتا ہے کہ میری آرزو تھی کہ ابوطالبعليهالسلام مسلمان ہوتے یوں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو خوشی حاصل ہوتی اگرچہ اس کے بدلے مجھے کافر ہونا پڑتا_(۲)
ابوطالبعليهالسلام نے اپنا ایمان کیوں چھپایا؟
اگر ہم دعوت اسلامی کے تدریجی سفر اورابوطالبعليهالسلام کے طرز عمل کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے پہل ہوبہو مومن آل فرعون کی طرح اپنا ایمان چھپاتے تھے_ ان کی روش یہ رہی کہ کبھی اس کو ظاہر کرتے اور کبھی مخفی رکھتے یہاں تک کہ بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور ہوئے اس کے بعد انہوں نے اسے زیادہ ظاہر کرنا شروع کیا_
امام صادقعليهالسلام سے منقول ہے کہ حضرت ابوطالبعليهالسلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے جنہوں نے اپنا ایمان چھپایا اور شرک کا دکھاوا کیا پس خدانے ان کو دگنا اجر عنایت کیا_(۳)
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ۳۰ ۲_ عیون الاخبار ج ۱ص ۲۶۳ (ابن قتیبہ) _
۳_ امالی صدوق ص ۵۵۱، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۰، اصول کافی ج ۱ ص ۳۷۳، روضة الواعظین ص ۱۳۹، بحار الانوار ج ۳۵ ص ۱۱۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۸۵_۳۹۰ از مآخذ مذکور، الحجة (ابن معد) ص ۱۷اور ۱۱۵، تفسیر ابی الفتوح ج ۴ ص ۲۱۲، الدرجات الرفیعة اور ضیاء العالمین_
شعبی نے ذکر سندکے بغیر امیرالمؤمنین حضرت علیعليهالسلام سے نقل کیا ہے کہ واللہ ابوطالب بن عبدالمطلب بن عبد مناف مسلمان اور مومن تھے اور اس خوف سے اپنا ایمان چھپاتے تھے کہ قریش بنی ہاشم کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں_ ابن عباس سے بھی اسی طرح کی بات مروی ہے_(۱) اسکی تائید میں اور بھی متعدد احادیث موجود ہیںجنکے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_(۲)
لیکن ایک اور روایت کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو شاید حقیقت سے قریب تر ہو_ اسے شریف نسابہ علوی (معروف بہ موضح) نے اپنی اسناد کے ساتھ یوں بیان کیا ہے جب ابوطالبعليهالسلام کی وفات ہوئی تو اس وقت مردوں پر نماز نہیں پڑھی جاتی تھی پس نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی اور حضرت خدیجہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی _بس اتنا ہوا کہ حضرت ابوطالب کا جنازہ گزرا جبکہ حضرت علیعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام اور حمزہعليهالسلام بیٹھے ہوئے تھے_(۳) تب وہ کھڑے ہوگئے اور جنازے کی مشایعت کی پھر ان کیلئے مغفرت کی دعا کی_
پس بعض لوگوں نے کہا ہم اپنے مشرک مردوں اور رشتہ داروں کیلئے دعا کرتے ہیں_ (لوگوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت ابوطالب کی حالت شرک میں وفات ہوئی اسلئے کہ وہ ایمان کو چھپاتے تھے) چنانچہ خدا نے اس آیت میں حضرت ابوطالب کو شرک سے منزہ ،نیز اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مذکورہ تین ہستیوں کو خطاسے بری قرار دیا ہے( ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین و لوکانوا اولی قربی ) یعنی نبی اور مومنین کیلئے روانہیں کہ وہ مشرکین کیلئے طلب مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہوں_
پس جو بھی حضرت ابوطالب کو نعوذ باللہ کافر سمجھے تو گویا اس نے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خطا کار ٹھہرایا حالانکہ خدانے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقوال و افعال کو خطاسے منزہ قرار دیا ہے_(۴)
___________________
۱_ امالی صدوق ص ۵۵۰، الغدیر ج ۸ ص ۳۸۸ از کتاب الحجة ص ۲۴، ۹۴، ۱۱۵ _
۲_ رجوع کریں الغدیر ج ۷ ص ۳۸۸_۳۹۰ از الفصول و المختارة ص ۸۰، اکمال الدین ص ۱۰۳ اور کتاب الحجة (ابن معد) از ابوالفرج اصفہانی_
۳_ حضرت جعفر حبشہ گئے ہوئے تھے پس یا تو وہ مختصر مدت کیلئے وہاں سے لوٹنے کے بعد پھر واپس ہوئے تھے یا راوی نے اپنی طرف سے عمداً یا سہواً ایسی بات لکھ دی ہے_
۴_ الغدیر ج ۷ص ۳۹۹ از کتاب الحجة (ابن معد) ص ۱۶۸_
ایمان ابوطالبعليهالسلام کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟
ہم جرا ت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابوطالبعليهالسلام کا اپنے ایمان کو مخفی رکھنا اسلام کی ایک شدید ضرورت تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دعوت اسلامی کو ایک ایسے بااثر فرد کی ضرورت تھی جو اس دعوت کیپشت پناہی اور اس کے علمبردار کی محافظت کرتا بشرطیکہ وہخود غیر جانبدار ہوتا تاکہ اس کی بات میں وزن ہو _یوں اسلامی دعوت اپنی حرکت و کارکردگی کو غیر مؤثر بنانے والے ایک بہت بڑے دباؤ کا سامنا کئے بغیر اپنی راہ پر چل نکلتی_
ابن کثیر وغیرہ نے کہا ہے اگر ابوطالبعليهالسلام مسلمان ہوجاتے (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان تھے لیکن اس حقیقت کو چھپاتے تھے) تو مشرکین قریش کے پاس ان کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور نہ ان کی بات میں وزن ہوتا _نیز نہ ان پر آپ کی ہیبت باقی رہتی اور نہ وہ ان کا احترام ملحوظ رکھتے بلکہ ان کے خلاف ان میں جسارت پیدا ہوتی اور اپنے دست و زبان سے ان کی مخالفت کرتے_(۱)
ابوطالبعليهالسلام پر تہمت کیوں؟
شاید حضرت ابوطالب کا واحد جرم یہ ہو کہ وہ امیرالمومنین حضرت علیعليهالسلام کے والد تھے_ درحقیقت اس قسم کی ناروا تہمتوں کا اصلی ہدف حضرت ابوطالبعليهالسلام نہیں بلکہ ان کے بیٹے حضرت علیعليهالسلام ہیں جوامویوں، زبیریوں اور دشمنان اسلام کی آنکھوں کا کانٹا تھے _ان لوگوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ حضرت علیعليهالسلام سے مربوط ہر کام میں عیب نکالیں یہاں تک کہ نوبت ان کے بھائی جعفر اور ان کے والد ابوطالبعليهالسلام تک بھی جا پہنچی _بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان کے حق میں مختلف فرقوں کے نزدیک صحیح سند کے ساتھ ثابت کوئی فضیلت ایسی نہیں جس کی نظیر خلفاء ثلاثہ کیلئے بھی بیان نہ کی گئی ہو (البتہ ضعیف اسناد کے ساتھ) تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں اور برہان کامل بھی اس کی ہی ہے_
ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر ابوسفیان یا حضرت علیعليهالسلام کے دیگر دشمنوں کے آباء و اجداد میں سے کسی
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۱ نیز رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ ص ۴۶_
ایک نے بھی ابوطالبعليهالسلام جیسی خدمات کا دسواں حصہ انجام دیا ہوتا تو اس کی خوب تعریفیں ہوتیں اور اسے زبردست خراج تحسین پیش کیاجاتا _اس کی شان میں احادیث کے ڈھیر لگ جاتے_ نیز دنیوی و اخروی لحاظ سے اس کی کرامتوں اور شفاعتوں کا زبردست چرچاہوتا بلکہ ہر زمانے اور ہر مقام پر ان چیزوں میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا_
عجیب بات تو یہ ہے کہ معاویہ کا باپ ابوسفیان جس نے حضرت عثمان (کے خلیفہ بننے کے بعد ان )کی محفل میں یہ کہا: '' یہ حکومت تیم اور عدی سے ہوتے ہوئے اب تم تک آئی ہے اسے اپنے درمیان گیند کی طرح لڑھکا تے رہو اور بنی امیہ کو اس حکومت کے ستون بناؤ ، کیونکہ یہ تو صرف حکومت کا کھیل ہے_ قسم ہے اس کی جس کی ابوسفیان قسم کھاتا ہے نہ جنت کی کوئی حقیقت ہے نہ جہنم کی''(۱) وہ تو ان کی نظر میں مؤمن متقی عادل اور معصوم ٹھہرا لیکن حضرت ابوطالب (بہ الفاظ دیگر حضرت علیعليهالسلام کے والد) کافر و مشرک ٹھہرے اور جہنم کے ایک حوض میں ان کا ٹھکانہ ہو جس کی آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے اور جس کی حرارت سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ (نعوذ باللہ من ذلک) آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
ابولہب اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت؟
مذکورہ بالا معروضات کے بعداس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے جس کا بعض لوگ اس مقام پر ذکر کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ابوطالبعليهالسلام کی وفات کے بعد ابولہب نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا _ قریش نے از راہ حیلہ ابولہب سے کہا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کہتا ہے کہ تمہارا باپ عبدالمطلب جہنمی ہے_ ابولہب نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے جو جواب دیا وہ ان لوگوں کے قول کے مطابق تھا پس ابولہب نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا پھر زندگی بھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دشمنی اختیار کی_(۲)
___________________
۱_ النزاع و التخاصم ص ۲۰ عجیب بات یہ بھی ہے کہ معاویہ جس کے باپ کے نظریات او پر مذکور ہوچکے ہیں اور بیٹا یزید جو یہ کہتا ہو کہ ''لعبت ہاشم بالملک فلا خبر جاء و لا وحی نزل'' بنی ہاشم نے حکومت کا کھیل کھیلا وگرنہ حقیقت میں نہ تو کوئی خبر آئی ہے نبوت کی اور نہ ہی کوئی وحی اتری ہے _ یہ سب کے سب اور ان کے ماننے والے تو پکے مسلمان لیکن ابوطالب اورانہیں مسلمان ماننے والے ؟ از مترجم _
۲_ بطور مثال رجوع کریں : البدایة والنہایة ج۳ ص ۴۳ از ابن جوزی اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۲_
ہمیں یقین ہے کہ یہ واقعہ جھوٹا ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں_
پہلی وجہ: یہ ہے کہ ابولہب کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ دس سالہ دشمنی کے دوران کیونکر علم نہ ہوا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اسلام کا نقطہ نظر حالت شرک میں مرنے والے ہر شخص کے بارے میں یہی ہے کہ وہ جہنمی ہوتا ہے؟ پھر وہ اتنی مد ت تک کس بنا پر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقابلہ کرتا رہا؟
نیز اس نے حضرت ابوطالبعليهالسلام کی زندگی میں حضوراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کیوں دشمنی کی اور ان کی وفات کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت اور نصرت پر کیوں اتر آیا؟ وہ بتائیں کہ ابوطالبعليهالسلام نے ابولہب کی روش کیوں نہیں اپنائی اورابولہب نے حضرت ابوطالبعليهالسلام کی روش کیوں اختیار نہیں کی؟
دوسری وجہ: ہم پہلے ہی بیان کرچکے کہ عبدالمطلب مشرک نہیں تھے بلکہ سچے مؤمن تھے_
یہ روایت کیوں گھڑی گئی؟
اس روایت کو جعل کرنے کی وجہ شاید یہ تاثر دینا ہو کہ حضرت ابوطالب کی حمایت خاندانی جذبے، نسلی تعصب یا بھتیجے کے ساتھ فطری محبت کی بنا پر تھی_ لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سے قبل ابولہب کا خاندانی تعصب اور جذبہ کہاں تھا؟ یا بھتیجے کے ساتھ اس کی فطری محبت کہاں گئی ہوئی تھی؟ خاص کر اس وقت جب قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابوطالب میں محاصرہ کررکھا تھا اور وہ بھوک کی وجہ سے قریب المرگ ہوگئے تھے؟
نیز اس کے بعد بھی اس کا قومی اور خاندانی جذبہ کہاں چلاگیا؟ ابولہب ہی تھا جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستانے اور لوگوں کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دور رکھنے کیلئے جگہ جگہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا تعاقب کرتا تھا _حضرت ابوطالبعليهالسلام کی قربانیوں کے ذکر میں ہم نے اس بارے میں بعض عرائض پیش کئے تھے، لہذا ان کا اعادہ مناسب نہیں_
چوتھا باب
ہجرت طائف تک
پہلی فصل : ہجرت طائف
دوسری فصل : بیعت عقبہ تک کے حالات
تیسری فصل : بیعت عقبہ
پہلی فصل
ہجرت طائف
نئی جد وجہد کی ضرورت
حضرت ابوطالبعليهالسلام کی وفات کے باعث پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک ایسے طاقتور مددگار سے محروم ہوگئے جس نے اپنے ہاتھ، اپنی زبان، اپنے اشعار، اپنی اولاد، اپنے رشتہ داروں اور تمام وسائل کے ساتھ آنحضرتعليهالسلام کی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آسمانی مشن کی حمایت کی_ اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے اپنی حیثیت، دولت اور معاشرتی روابط کو بھی داؤ پر لگا دیا (جیساکہ بیان کیا چکا ہے)_
قریش کا یہ خیال تھا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عزم و عمل اپنے حامی وناصر کی موت کے بعد کمزور پڑجائے گا _چنانچہ ابوطالبعليهالسلام کی وفات کے بعد قریش نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مختلف قسم کی اذیتیں پہنچائیں_ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عظیم المرتبت چچا کی زندگی میں اس قسم کی اذیتیں پہنچانے سے عاجز تھے_ لیکن اب ان کو موقع ملاکہ وہ اپنے اندرونی کینے کا اظہار کریں اور دل کی بھڑاس نکالیں، اس شخص کے خلاف جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور مسائل کی بنیاد سمجھتے تھے_
حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی یہی محسوس کیا کہ اسلام کو زبردست دباؤکا سامنا ہے جو اس دین کی ترویج اور لوگوں کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے_ کیونکہ مسلمان دیکھتے تھے کہ قبول اسلام کا نتیجہ ایذا رسانی وتعذیب یا اہانت وتحقیر کے سوا کچھ نہیں نکل رہا_ بلکہ اب تک جو کچھ ہاتھ آچکا تھا اور جس امر کے حصول کیلئے خطرات ومشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے زبردست جدوجہد کی گئی تھی وہ بھی ایسے خطرات کی نذر ہوسکتا تھا جن کا کامیاب مقابلہ شاید آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بس کی بات نہ ہوتی_
ان حالات کے پیش نظر ایک نئی جدوجہد کی ضرورت تھی جو دعوت اسلامی کیلئے مہمیز ثابت ہوتی نیز اس کو مزید جاندار کرنے اور متوقع خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ طاقتور بناتی_
پس جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کامکہ میں بیٹھے رہنا دعوت اسلامی کیلئے جمود کا باعث ٹھہرا اگرچہ اس دعوت کے وجودکیلئے باعث خطر نہ بھی ہوتا تو واضح ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فطری طور پر ایک ایسی جگہ تلاش کرتے جہاں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم قریش کی ایذا رسانیوں اور سازشوں سے دوررہتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں اور دعوت الی اللہ کا سلسلہ جاری رکھ سکتے اور وہ مسلمان جو قریش کے ہاتھوں قسم قسم کی اذیتوں اور تکالیف میں مبتلا تھے سکون کاسانس لے سکتے، قبل اس کے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے یا پے درپے مشکلات اور دباؤکے باعث ہتھیار ڈال دیتے_ ان وجوہات اوران کے علاوہ دیگر اسباب کی بنا پر آنحضرتعليهالسلام نے طائف کی طرف ہجرت فرمائی_
ہجرت طائف
جب خدانے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکہ سے نکلنے کی اجازت دی (کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حامی ومددگار ابوطالبعليهالسلام اس دنیا سے جاچکا تھا) تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم طائف کی طرف نکل پڑے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ (مختلف اقوال کی رو سے) حضرت امام علیعليهالسلام (۱) یا زید بن حارثہ یا دونوں تھے(۲) یہ واقعہ بعثت کے دسویں سال کا ہے جبکہ ماہ شوال کے چند دن ابھی باقی تھے_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم طائف میں دس دن رہے_ ایک قول کی بناپر ایک ماہ رہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہاں کے سرکردہ لوگوں میں سے ہر ایک کے ساتھ ملاقات کر کے گفتگو فرمائی لیکن کسی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مثبت جواب نہ دیا_ انہیں اپنی نوجوان نسل کے بارے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے خطرہ محسوس ہوا _چنانچہ انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وہاں سے نکل جانے کیلئے کہا_ ادھر اوباشوں کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف اکسایا جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے راستے میں دوقطاریں بناکر بیٹھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر پتھربرسانے لگے_ حضرت علیعليهالسلام آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دفاع کررہے تھے یہاں تک کہ حضرت علیعليهالسلام یازید بن حارثہ کا سر زخمی ہوگیا_
___________________
۱_ سیرة المصطفی ص ۲۲۱_۲۲۲اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۹۷از شیعہ_
۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۴ص ۱۲۷از مدائنی اور سیرت مصطفی ص ۲۲۱_۲۲۲_
کہتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ربیعہ کے بیٹوں(عتبہ، اور شیبہ) کے باغ میں پناہ لی اور اس باغ کے ایک کونے میں بیٹھ گئے_ ربیعہ کے بیٹوں نے جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تکلیف میں مبتلا دیکھا تو ان کے جذبات بیدار ہوئے_ انہوں نے اپنے غلام ''عداس'' کو جو نینوا کا باشندہ اور نصرانی تھا، انگوروں کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں بھیجا_ اس نے انگور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے رکھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ''بسم اللہ الرحمن الرحیم'' کہا_ عداس کویہ دیکھ کر (کہ اس علاقے میں کوئی خدا کا نام لیوا بھی موجود ہے) تعجب ہوا پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور اس کے درمیان گفتگو ہوئی جس میں عداس مسلمان ہوا_ ربیعہ کے ایک بیٹے نے دوسرے سے کہا تیرے غلام کو اس نے تیرا مخالف بنادیا_
اس کے بعد پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام مکہ لوٹے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نت نئی اذیتیں دینے کے درپے ہوگئے لیکن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر قسم کی متوقع مشکلات کا مقابلہ کرنے کےلئے عزم صمیم کے ساتھ آمادہ تھے _چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے ساتھی حضرت علیعليهالسلام یا حضرت زید سے فرمایا بتحقیق اللہ ان (مشکلات) سے نکلنے اور نجات حاصل کرنے کی کوئی سبیل نکالے گا_ بے شک وہ اپنے دین کا ناصر اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فتح عطاکرنے والا ہے_
اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اخنس بن شریق سے کہا کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکہ میں داخل ہونے کیلئے اپنی امان میں لے، لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ قریش کاحلیف ہے اور کوئی حلیف (اپنے دوسرے حلیف کے مخالفین کو) پناہ نہیں دے سکتا_(۱)
اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سہیل بن عمرو سے امان مانگی لیکن اس نے بھی اس بہانے انکار کیا کہ اس کا تعلق بنی عامر سے ہے اور وہ بنی کعب کے مخالفین کو پناہ نہیں دے سکتا_ آخر کار آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں داخل مکہ ہوئے_ مطعم اور اس کے افراد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کیلئے مسلح ہوگئے_ ادھر قریش نے اس کی امان قبول کرلی_
___________________
۱_ ہجرت ابوبکر اور ابن دغنہ کی پناہ میں ان کی مکہ میں واپسی کا واقعہ ذکر کرتے وقت اس کے حوالہ جات گزر چکے ہیں_
کہتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ پہنچنے کے پہلے ہی دن اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کیا لیکن کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی امان میں کچھ مدت تک باقی رہے_
یہ ہے مختصر طور پر وہ واقعہ جسے مورخین نے ہجرت طائف اور وہاں سے واپسی کے متعلق بیان کیا ہے_
مزید ہجرتیں
یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے چچا حضرت ابوطالب کی رحلت کے بعد حضرت علیعليهالسلام کو لیکر بنی صعصعہ کے ہاں چلے گئے لیکن انہوں نے مثبت جواب نہ دیا_ یوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دس دن مکہ سے باہر رہے_ اس کے علاوہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام اور حضرت ابوبکر کے ساتھ بنی شیبان کے ہاں بھی ہجرت اختیار کی_ اس دفعہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرہ دن مکہ سے باہر رہے لیکن وہاں سے بھی کسی قسم کی مدد حاصل نہ کرسکے_(۱)
یہاں ہم توقف کرتے ہیں تاکہ مذکورہ بالا باتوں سے مربوط بعض ایسے نکات کی وضاحت کریں جو ہماری دانست میں ایک حدتک اہمیت کے حامل ہیں_ یہ نکات درج ذیل ہیں:
۱_ عداس کا قصہ
رہا عداس کا مذکورہ کردار اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس کے لائے ہوئے انگور کو تناول فرمانا تو یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے جس کی درج ذیل وجوہات ہیں:
(الف) پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی مشرک کے تحفے کو قبول نہیں کرتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو منظور نہ تھا کہ مشرک کا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر کوئی احسان ہو جس کے بدلے میں وہ آپ کے احسان کا مستحق بنے_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیونکر ربیعہ کے مشرک بیٹوں کا ہدیہ قبول فرمایا؟ اور کیسے راضی ہوئے کہ ان کا احسان اٹھائیں؟صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عداس کا ہدیہ قبول فرمایا تھا اور یہ نہیں جانتے تھے کہ اسے ان لوگوں نے بھیجا ہے _
___________________
۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۴ص ۱۲۶ _
(ب) مذکورہ روایت صاف کہتی ہے کہ عداس مسلمان ہوا حالانکہ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم طائف سے غمگین ومحزون واپس آئے اور کسی مرد یا عورت نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت قبول نہ کی(۲) مگر یہ کہا جائے کہ ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ کسی آزاد شخص نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آواز پر لبیک نہیں کہا یا یہ کہ طائف والوں میں سے کسی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات نہیں مانی_ رہا عداس، تو وہ نینوا کا با شندہ تھا_
(ج) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے تقریبا دس سال گزرگئے تھے_ اس دعوت کی شہرت مکہ سے نکل کر دیگر شہروں اور سرزمینوں میں بھی پہنچ چکی تھی_ یوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پیغام زبان زد خاص وعام ہوچکے تھے_ پھر عداس کو طائف میں خدا کا نام سن کر تعجب کیسے ہوا جبکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو طائف آئے ہوئے دس دن یا ایک ماہ کا عرصہ بھی گزرچکا تھا؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کو بغیر کسی سستی یاتھکاوٹ کے مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے تھے_ کیا یہ معقول ہے کہ اس پورے عرصے میں عداس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم یا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کا تذکرہ ہی نہ سنا ہو، نہ طائف میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی موجودگی کے دوران اور نہ ہی اس پورے علاقے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تبلیغ شروع ہونے کے بعد سے اب تک؟
وحی کی ابتداء سے مربوط روایت کی بحث کے دوران ہم نے عداس کے بارے میں تھوڑی گفتگو کی تھی، لہذا دوبارہ بحث کرنے سے گریز کرتے ہیں_
۲_کسی کی پناہ میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا داخل مکہ ہونا:
کہتے ہیں کہ اخنس بن شریق اور سہیل بن عمرو نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو دخول مکہ کیلئے پناہ دینے سے انکار کیا_ اخنس نے یہ بہانہ کیا کہ وہ قریش کا حلیف ہے اور حلیف اپنے ہم عہد کے کسی مخالف کو پناہ نہیں دے سکتے(۲) پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں داخل مکہ ہوئے_ ہمارے نزدیک یہ بات بھی مشکوک ہے کیونکہ:
___________________
۱_ رجوع کریں: طبقات ابن سعد ج ۱قسم اول ص ۱۴۲_
۲_ حبشہ کی طرف حضرت ابوبکر کی ہجرت کے باب میں اس کے حوالہ جات ملاحظہ کریں_
(الف) ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ کسی مشرک کا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر کوئی حق ہو جس کیلئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کا شکر گزار ہونا پڑے_
(ب) وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم جواپنی زندگی کے پچاس سال عربوں کے درمیان گزار چکے تھے اس پوری مدت میں یہ کیسے نہ جان سکے کہ کوئی حلیف (دوسرے حلیف کے مخالف) کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اور یہ کہ بنی عامر بنی کعب کے کسی مخالف کو پناہ نہیں دے سکتے تھے_
(ج) کیا یہ عمل یعنی مشرکین کی پناہ لینا ظالموں اور کافروں کی طرف میلان نہیں؟ جبکہ خدا فرماتا ہے:(ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم ) یعنی اپنے دین کے پیروکاروں کے علاوہ کسی کو نہ مانو_
نیز فرماتا ہے:( ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ) (۱) یعنی ظالموں کی طرف میلان نہ رکھو وگرنہ آگ کا مزہ چکھنا پڑے گا_
(د) ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون ولید بن مغیرہ کی امان سے نکل گیا تاکہ اپنے دیگر بھائیوں کی دلجوئی کرسکے توکیا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اس لحاظ سے عثمان بن مظعون کے برابر بھی نہ تھے؟ اور کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ان اذیتوں اور سختیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ تھا جو قریش آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہنچانے والے تھے؟ یہ تو سچ مچ ایک عجیب بات ہے_
نیز جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی امان کو رد کردیا تو قریش کی ایذا رسانیوں کا خوف کہاں گیا؟خاص کر اس صورت میں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تو پہلے ہی دن ان کی پناہ سے نکل گئے تھے_
اگر کوئی یہ کہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل ہوجانے کا خطرہ تھا اسلئے ان لوگوں سے پناہ طلب کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو معلوم تھا کہ قریش ایسا نہیں کرسکتے اور ایسا کرنا ان حالات میں خود ان کے مفادات کے برخلاف تھا خصوصاًاس صورت میں کہ یہ کام اعلانیہ طور پر انجام پاتا_
ان ساری باتوں کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر بنی ہاشم اس وقت کہاں گئے تھے؟ وہ اپنے سید
___________________
۱_ سورہ ہود، آیت ۱۱۳_
وسردار کی حمایت کیلئے کیوں کھڑے نہ ہوئے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو دوسروں سے مدد لینی پڑی؟ آخر خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر (حضرت حمزہ) کہاں تھے_ جس نے ابوجہل کی خبر لی تھی (جیساکہ ذکر ہوچکا ہے)؟
۳_ جنوں کے ایک گروہ کا قبول اسلام
مورخین کہتے ہیں کہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم طائف سے مکہ واپس آرہے تھے تو بعض جنوں سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملاقات ہوئی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا تو وہ ایمان لے آئے پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور انہیں اسلام کی بشارت دی اور عذاب الہی سے ڈرایا_ پس خدا نے اس واقعے کا ذکر قرآن میں یوں کیا: (قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا یہدی الی الرشد ...)_
لیکن بظاہر جنوںکے قبول اسلام کا واقعہ بعثت کے ابتدائی دنوں کا ہے کیونکہ روایت کہتی ہے کہ جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت ہوئی تو جنوں کیلئے آسمانوں سے خبریں چرانے کا راستہ بند ہوگیاکیونکہ اب ان کو آسمانی شہابوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا_ تب انہوں نے سوچا کہ اس کی وجہ زمین میں واقع ہونے والا کوئی غیر معمولی واقعہ ہوگا_ پس وہ زمین کی طرف لوٹے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت ہوچکی ہے_ تب انہوں نے قرآن کو سنا اور ایمان لے آئے پس یہ آیت اتری_(۱)
ایک اور روایت میں ہے کہ ابلیس نے اپنے لشکر کو بغرض تحقیق بھیجا جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت کی خبر لیکر اس کی طرف پلٹے_(۲)
___________________
۱_ رجوع کریں: در المنثور ج ۶ ص ۲۷۰_۲۷۵ بخاری، مسلم، عبد بن حمید، احمد، ترمذی، نسائی، حاکم، ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ، ابونعیم، بیہقی اور دیگران سے اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۳_۳۰۴ اور کہا گیا ہے کہ سورہ احقاف کی آیات طائف سے واپس آتے ہوئے اسی مناسبت سے نازل ہوئیں لیکن درالمنثور ج ۶ ص ۴۵ مسلم، احمد، ترمذی اور عبد بن حمید و دیگران کے حوالے سے اسے رد کیا گیا ہے _
۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۴ _
ابن کثیر کا عقیدہ بھی ہمارے اس قول کے مطابق ہے کہ یہ واقعہ بعثت کے ابتدائی دنوں کا ہے_(۱) اس بات کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ بعض روایات کے مطابق جس رات جنوں نے اسلام قبول کیا ابن مسعود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھے(۲) جبکہ ابن مسعود مہاجرین حبشہ میں سے ایک ہیں، بنابریں یہ واقعہ لازمی طور پر ہجرت حبشہ سے قبل کا ہونا چاہی ے یعنی بعثت کے پانچویں سال سے پہلے کا_
۴_ طائف اور آس پاس والوں سے روابط
طائف والوں کا اہل مکہ اور آس پاس والوں سے اقتصادی رابطہ تھا کیونکہ اہل طائف مکہ اور دیگر علاقوں کو پھل برآمد کرتے تھے_
بنابر این وہ اپنے مستقبل کو اقتصادی اور معاشرتی طور پر دوسروں کے ساتھ منسلک دیکھتے تھے_ اس بات کے پیش نظر طائف والوں کو ان لوگوں کے ساتھ نزدیکی تعلقات اور روابط استوار رکھنے اور ان کی خوشنودی و رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ان کو آس پاس والوں خاص کراہل مکہ (جو ان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی تھا) کی طرف سے معاشرتی دباؤ یااقتصای بائیکاٹ کاسامنا نہ کرنا پڑے (جیساکہ بنی ہاشم کو سامنا کرنا پڑا)_
محقق روحانی نے اس نکتے کا اضافہ کیا ہے کہ مکہ والوں کے ہاں ایک بُت تھا جسے عزی کہتے تھے_ اس بت کے مخصوص خادم تھے_ اہل عرب اس بت کی زیارت کرتے تھے،(۳) بنابریں اہل مکہ کو عربوں کے درمیان ایک قسم کی دینی مرکزیت حاصل تھی، جس کی وہ سختی سے حفاظت کرتے تھے_
یہاں سے ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ اہل طائف نے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ سختی کیوں برتی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جلد سے جلد نکال دینے کے در پے کیوں ہوئے؟
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۳مواھب اللدنیة سے _
۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۴ _
۳_ الاصنام (کلبی)ص۱۶ ، حاشیہ سیرہ حلبیہ پر السیرة النبویہ و حلان ج ۳ ص ۱۱ اور تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵_
۵_ اسلام دین فطرت
ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ طائف والوں کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت سے اپنی نوجوان نسل کیلئے خطرہ محسوس ہوا_ باوجود اس کے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کے درمیان نہایت مختصر وقت کیلئے ٹھہرے تھے_ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام صاف ستھرے اذہان کو آسانی اور سہولت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے_ نیز یہ کہ اسلام فطرت سلیم (جو منحرف نظریات و عقائد سے آلودہ نہ ہوئی ہو نیز ذاتی مفادات اور نسلی تعصبات وغیرہ سے متا ثر نہ ہوئی ہو) کے ساتھ سازگار اور ہم آہنگ ہے_
اسلام صاف اذہان کو آسانی سے متا ثر کیوں نہ کرے جبکہ اس کی بنیادیں واضح عقلی دلائل وبراہین پر استوار ہیں_وہ فطرت کے ساتھ سازگار ہے_ نیززندہ ضمیروں کا ترجمان ہے_ یہی وجہ تھی کہ طائف والے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کو رد کرنے یا ان پر بحث کرنے سے عاجز تھے_ اس کے بدلے انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وہاں سے نکل جانے کیلئے کہا_ انہوں نے کوشش کی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حقیقت ان لوگوں کے سامنے مسخ کی جائے، جنہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات سنی تھی_ اس مقصد کیلئے انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف غیر منطقی ہتھکنڈے استعمال کئے جن کی پہلی امتیازی علامت توہین اور ایذا رسانی تھی اور دوسری علامت توہین آمیز تمسخر یا استہزاء تھا_
۶_ کیا یہ ایک ناکام سفر تھا؟
کبھی یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ اس بے ثمر ہجرت کا فوری اور وقتی فائدہ کیا تھا؟ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ لازمی بات ہے کہ اس حادثے نے ان لوگوں کے اذہان پر (جن سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ملاقات اور بات کی) کسی نہ کسی قسم کے مثبت اثرات چھوڑے اور بعد میں ان کے مطلوبہ نتائج سامنے آئے_ اس ہجرت نے واضح طور پر مستقبل میں جب اسلام کابول بالاہوا اور اہل طائف کو اپنے ہمسایوں بالخصوص قریش سے معاشرتی و اقتصادی دباؤ کا خطرہ نہ رہا تو بنی ثقیف کے قبول اسلام کی راہ ہموار کی_
اس کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ قریش نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں افواہیں پھیلاتے تھے کہ (نعوذ بااللہ ) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر وغیرہ ہیں لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے براہ راست ملتے اور لوگ بچشم خود حقیقت حال کا مشاہدہ کرتے، نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت اور صفات کا نزدیک سے مشاہدہ کرتے تو ہر قسم کے پروپیگنڈوں اور جھوٹی افواہوں کا اثر ختم ہوجاتا تھا_ یوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپکے مشن پر ایمان لے آنانہایت آسان اور سہل ہوجاتا تھا نیز اس میں مزید قوت، گہرائی اور مضبوطی پیدا ہوتی تھی_
دوسری فصل
بیعت عقبہ تک کے حالات
قحط
پھر بھوک کا سخت بحران آیا_ یہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بد دعا کا اثر تھا_ بات یہاں تک پہنچی کہ لوگ علھز (خشک خون)(۱) اور حیوانوں کی کھالیں کھانے پر مجبورہوئے نیز ہڈیوں کو جلاکر کھانے لگے_ مرے ہوئے کتے، مردار اور قبروں سے مردوں کو نکال کر کھا گئے_ عورتوں نے اپنے بچے کھائے_ لوگوں کی حالت یہ تھی کہ انہیں اپنے اور آسمان کے درمیان دھوئیں کی طرح کی دھند لاہٹ نظر آتی تھی چنانچہ لوگ اپنی ہی مشکلات میں پھنس کر رہ گئے_ یوں نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فرصت ملی (اگرچہ مختصر مدت کیلئے ہی سہی) کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دین اور مشن کی راہ میں لوگوں کو دعوت دینے اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر جدوجہد کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں_
بعثت کا گیارہواں سال آیا تو ابوسفیان نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آکر عرض کیا:'' اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تم خود صلہ رحمی کا پیغام لیکر آئے تھے_ ادھر تمہاری قوم بھوک سے مر رہی ہے پس اللہ سے ان کیلئے دعا کرو''_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی اور خدا نے انہیں قحط سے نجات دی چنانچہ فرمایا_( انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون ) (۲) یعنی ہم تھوڑی دیر کیلئے عذاب کو ہٹالیتے ہیں لیکن تم پھر اپنی سابقہ روش پر لوٹ جاؤگے_
یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ابوسفیان کا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف رجوع کرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشرکین آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیغام کی حقانیت و صداقت سے آگاہ تھے لیکن ہٹ دھرمی، تکبر،
___________________
۱_ علھز: خشک خون جسے اونٹ کے بالوں کے ساتھ کوٹ کر قحط کے ایام میں کھا لیتے تھے_
۲_ سورہ دخان آیت ۱۵رجوع کریں: البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۵۷، تفسیر البرہان نے مناقب ابن شھر آشوب ج ۴ص ۱۶۰ سے _
جاہ طلبی اور اپنی خودساختہ، و ظالمانہ امتیازی حیثیت کو بچانے کی خاطر اس کا انکار کرتے تھے_
دوسری طرف ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ابوسفیان کی درخواست کو قبول کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ ابوسفیان کی بیان کردہ صلہ رحمی نہ تھی کیونکہ درحقیقت اسلام ہی تمام انسانوں کے درمیان باہمی رشتے اور صلے کی بنیاد ہے اور اسی بنا پر ان کے درمیان بھائی چارہ قائم ہوتا ہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوسفیان کی درخواست اس لئے قبول کی تاکہ اس کو اپنے مشن کی حقانیت کی ایک اور دلیل دکھادیں_ نیز اس پر اور اس کے دیگر ہم خیال افراد پر اتمام حجت کریں تاکہ ہلاک ہونے والے دلیل کے ساتھ ہلاک ہوں اور زندہ رہنے والے بھی دلیل کے ساتھ زندہ رہیں_
اس کے ساتھ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان لوگوں کو جو (علم وحقیقت کی کوئی) روشنی سے دور زندگی گزار رہے تھے اور بڑے بڑے دنیوی مفادات کے چکر میں پھنسے ہوئے نہ تھے ایک اورموقع دینا چاہتے تھے تاکہ وہ دشمنوں کی پیدا کردہ فضا سے آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ غوروفکر کریں_
نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے قبائل کو دعوت اسلام
نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم حج کے ایام میں فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے مختلف قبیلوں کو ایک ایک کر کے اسلام قبول کرنے نیز اس کی تبلیغ و ترویج اور حفاظت و حمایت کرنے کی دعوت دیتے تھے بلکہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کسی بھی مشہور یا صاحب شرف آدمی کی آمدکی خبر ملتی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے ملتے اور اسے اسلام کی دعوت دیتے لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چچا ابولہب ہر جگہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پیچھا کرتا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کو ٹوکتا اور لوگوں سے کہتا کہ وہ آپ کی بات قبول کریں نہ اطاعت کریں_ علاوہ ازیں وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پرمجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر وغیرہ ہونے کی تہمت بھی لگاتا تھا_
لوگ غالباً قریش کے اثر ونفوذ اور طاقت کے خوف سے یا مکہ میں اپنے اقتصادی مفادات کی حفاظت کے پیش نظر( خصوصاً حج کے ایام اور بازار عکاظ میں )قریش کی باتوں پر کان دھرتے تھے_
ادھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ناکام بنانے کیلئے ابولہب کی ذاتی کوششوں نے بھی انتہائی منفی اثرات دکھائے کیونکہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چچا تھا اور دوسروں سے زیادہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں با خبر تھا_
آخر کار پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوششیں رنگ لائیں کیونکہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کے ظہور اور پھیلاؤ نیز قریش کے مقابلے میں آپ کی پے درپے کامیابیوں بالخصوص فتح مکہ کے نتیجے میں قریش کی شان وشوکت ختم ہوگئی_ ان کا کمال زوال میں بدلنے لگا اور ان کے اثر ونفوذ کو زبردست دھچکا لگا تو مختلف علاقوں سے عرب وفود یکے بعد دیگرے مدینہ پہنچنے لگے تاکہ وہ اپنی دوستی اور حمایت کا اعلان کریں_ ہاں یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ قریش کی دشمنی کے خطرے سے آسودہ خاطر ہوچکے تھے نیز قریش کے بے جادعووں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا اثرزائل ہوچکا تھا_اس کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے ایام حج میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کی تھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے سامنے اپنا دین پیش کیا تھا تو انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نزدیک سے پہچانا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اندر عقل کی برتری دیکھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روش کو معقول اور درست پایا_
ایک اور نکتہ جس کی طرف اشارہ ضروری ہے یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی جدوجہد اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قبائل کے سامنے اسلام کو پیش کرنا نیز اس کی راہ میں متعدد بار ہجرت فرمانا اس طرزفکر کے منافی ہے کہ دین کی دعوت دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور کسی قسم کی جدوجہد نہ کرے_ بلکہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس کے پاس جائیں اور اپنی ضروریات و احتیاجات کے بارے میں اس سے سوال کریں_
بنی عامر بن صعصعہ اور نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت
یہاں ہم ایک اہم قصے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں_ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مختلف قبائل کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے_
واقعہ کچھ یوں ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بنی عامر کے پاس آئے اور ان کواللہ کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا_ بنی عامر کے ایک شخص نے( جس کا نام بیحرہ بن فراس تھا )ان لوگوں سے کہا:'' اللہ
کی قسم اگر قریش اس جوان کو میرے حوالے کرتے تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا''_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا:'' اگر ہم تمہاری بیعت کریں پھر خدا تمہیںاپنے دشمنوں پر غالب کردے تو کیا تمہارے بعد حکومت ہماری ہوگی؟''
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''حکومت خدا کی ہے جسے وہ چاہے عطا کرتا ہے''_
بیحرہ نے کہا:'' تو کیا ہم تمہارے واسطے ویسے ہی اپنی گردنوں کو عربوں (کے حملوں) کانشانہ قرار دیں؟ پھر جب خدا تم کو غالب کردے تو حکومت دوسروں کو مل جائے؟ ہمیں تمہارے دین کی کوئی ضرورت نہیں''_
یوں انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا_ جب لوگ واپس چلے گئے تو بنی عامر اپنے ایک بزرگ کے پاس آئے _اس نے ان سے پوچھا کہ ایام حج میں ان کے ساتھ کیا پیش آیا؟ وہ بولے: ''ہمارے پاس قریش کا ایک جوان آیا یعنی بنی عبدالمطلب کا ایک فرد جو اپنے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نبی سمجھتا ہے آیا اور ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کی حمایت کریں اس کا ساتھ دیں اور اسے مکہ سے نکال کر اپنے علاقے میں لے آئیں''_
یہ سن کر اس بزرگ نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام لیا اور کہا:'' اے عامر کے بیٹوکیا اس کی تلافی ہوسکتی ہے؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے اسماعیل کی اولاد میں سے کسی نے نبوت کا جھوٹادعوی نہیں کیا، اس کا دعوی سچا ہے_ بتاؤ اس وقت تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟''(۱)
اس قسم کا واقعہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور بنی کندہ کے درمیان بھی پیش آیا جیساکہ ابونعیم نے دلائل النبوہ میں ذکر کیا ہے_(۲)
یہاں ہم درج ذیل امور کی طرف اشارہ کرتے چلیں:
___________________
۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۶۶، الثقات ابن حبان ج ۱ ص ۸۹_۹۱، بہجة المحافل ج ۱ ص ۱۲۸، حیاة محمد از ہیکل ص ۱۵۲، سیرة النبویة (دحلان) ج ۱ ص ۱۴۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۳، الروض الانف ج ۱ ص ۱۸۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۳۹_۱۴۰ اور دلائل النبوة ابونعیم سے ص ۱۰۰ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۷۸ ، ۷۹_
۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۴۰ _
۱_ حکومت فقط خداکی
(الف) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_
لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بس سے باہر تھا_
(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور شیعیان اہلبیتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_
۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری
بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_
ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_
بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_
ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_
۳_ دین وسیاست
بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_
اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_
اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں رد کردیا تھا_
ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_
۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج
گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :
(الف) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_
(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_
حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شادی
کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت
ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_
ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_
بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_
البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _
۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر
کہتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)
لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_
___________________
۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _
۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_
(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)
بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_
(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)
اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی
___________________
۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _
۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _
۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_
پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)
(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)
ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)
ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_
بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_
خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_
جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ
اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے
___________________
۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_
۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_
مطابق شادی کریں_ پس نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)
اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:
(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مشکل حل کردی_
(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_
(ج) نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_
(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان
___________________
۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_
کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)
ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_
حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت
(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)
حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:
(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _
(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_
(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت
___________________
۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_
۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_
ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)
(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_
(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی
___________________
۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_
۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_
خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_
اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_
ذیل میں ہم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_
۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_
ایک دن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر
___________________
۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)
عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)
مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟
۲_ زینب بنت جحش
حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)
مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_
___________________
۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_
۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _
۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_
۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_
حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)
۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ
حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)
امام باقرعليهالسلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)
حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب
___________________
۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _
۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _
۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _
۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_
میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)
۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب
ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)
۵_ جویریہ بنت حارث
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل
___________________
۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _
۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _
۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_
۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_
موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)
۶_ ماریہ قبطیہ
حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)
امام باقرعليهالسلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دلچسپی سے
___________________
۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _
۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _
۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _
۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_
سے آگاہ تھے_(۱)
ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_
۷_ سودہ بنت زمعہ
حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)
نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)
۸_ اسماء بنت نعمان
حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کہا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)
___________________
۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_
۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_
۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_
۹_ ملیکہ بنت کعب
وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)
۱۰_ ام شریک
اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)
۱۱_ شراف بنت خلیفہ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)
___________________
۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_
۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _
۱۲_ حفصہ بن عمر
بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _
نتیجہ
یہ تھا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_
ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_
رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_
یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_
کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_
اور اس کے بعد
ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی حضرت علیعليهالسلام اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)
یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_
___________________
۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_
ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_
مدینے میں دخول اسلام
مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)
اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
___________________
۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _
نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_
اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سلام کیا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_
ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_
اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی
مسلمان ہوا(۱)
نبوت کے گیارہویں سال نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایام حج ہی میں قبائل کو دعوت اسلام دینے اور ان سے مدد طلب کرنے کیلئے نکلے_ پس عقبہ (ایک گھاٹی) میں قبیلہ خزرج کے ایک گروہ سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملاقات ہوئی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور قرآن پڑھ کر سنایا_یوں وہ مسلمان ہوئے اور ان کی تعداد چھ تھی،جو یہ افراد ہیں: اسعد بن زرارہ، جابر بن عبداللہ، عوف بن حارث، رافع بن مالک اور عامر کے دوبیٹے عقبہ و قطبہ_ایک قول کی بنا پر وہ آٹھ تھے_ان کی تعداد اس کے علاوہ بھی بتائی گئی ہے (نیز ان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے اور مذکورہ افراد کی جگہ دیگر افراد کا نام بیان ہوا ہے_بہرحال اس بات کی تحقیق کی یہاں گنجائشے نہیں)_
خلاصہ یہ کہ یہ حضرات اپنی قوم و قبیلے کے پاس مدینہ لوٹ گئے، انہیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بارے میں بتایا اور اسلام کی دعوت دی_اس کے بعد بعثت کے بارہویں سال یعنی ہجرت سے صرف ایک سال پہلے عقبہ کی دوسری بیعت ہوئی(۲) _
اس گفتگو کو جاری رکھنے سے پہلے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرتے چلیں:
۱_ اہل کتاب کی پیشگوئیاں
گزشتہ معروضات سے معلوم ہوا کہ اہل مدینہ یہودیوں کی زبانی یہ سنتے آئے تھے کہ عنقریب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ظہور ہونے والا ہے_یہ بات اس نئے دین کو قبول کرنے کیلئے ان میں نفسیاتی طور پر آمادگی پیدا ہونے کا باعث بنی_
۲_ اوس وخزرج کے اختلافات
اوس وخزرج کے درمیان خونریز جنگیں ہوئی تھیں آخری جنگ، جنگ بعاث تھی جس میں اوس کو فتح ہوئی تھی اس وقت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور بنی ہاشم شعب ابیطالب میں محصور تھے_ یوں اوس وخزرج کی دشمنی نہایت زوروں
___________________
۱_ بحار ج ۱۹ص ۹و اعلام الوری ص ۵۷علی بن ابراہیم سے _
۲_ بحار ج ۱۹ ص ۹ اور اعلام الوری ص ۵۷ از علی بن ابراہیم_
پرتھی_ کہتے ہیں کہ وہ دن رات ہتھیاربند رہتے تھے_(۱) بالفاظ دیگر وہ اپنے محدود مالی وسائل کے ساتھ شدید ترین حالات میں ممکنہ حد تک نبرد آزماتھے_
فطری بات ہے کہ وہ اس بحرانی حالت سے نکلنے کیلئے فرصت کی تلاش میں تھے اور قطع شدہ روابط کی بحالی کے منتظر تھے جیساکہ اسعد بن زرارہ نے (چند سطر قبل) اس کی تصویر کشی کی_ یہ وہی اسعد ہے جو قبیلہ اوس کے خلاف عتبہ بن ربیعہ کو حلیف بنانے کیلئے آیا تھا_
بنابریں اہل مدینہ ظلم وانحراف کا مزہ چکھ چکے تھے اور کسی نجات دہندہ کے متلاشی تھے_ چنانچہ انہوں نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کوہی اپنا حقیقی نجات دہندہ پایا جوان کے پاس اسلام کی آسان شریعت لے کرآیا تھا_ چنانچہ انہوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے کہا:'' ہم اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہونے والی گفتگو سنائیں گے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف ہمارے مائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو باہمی دشمنی کی حالت میں چھوڑ آئے ہیں_ ہم عربوں کے کسی زندہ گروہ کے درمیان اس قدر دشمنی نہیں دیکھتے جس قدر ان کے درمیان پاتے ہیں_ ہم ان کے پاس وہ باتیں لے کر لوٹیں گے جو ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنی ہیں_ شاید خدا ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے طفیل ان کے درمیان صلح اور باہمی الفت پیدا ہوجائے''_(۲)
۳_ اسلام کی سہل وآسان تعلیمات
اسلام کی تعلیمات صاف ستھری ،فطرت کے ساتھ سازگار،ہر قسم کی پیچیدگی و ابہام سے پاک اور سہل وآسان ہیں_ ان تعلیمات کی حقانیت کو جاننے کیلئے گہرے غوروفکر یا اس کے اہداف کو سمجھنے کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے نتائج سے باخبر ہونے کیلئے کہانت اورغیب گوئی کی حاجت ہے_
___________________
۱_ بحار ج ۱۹ ص ۸ ، ۹ ، ۱۰ نیز اعلام الوری ص ۵۵_
۲_ الثقات ابن حبان ج ۱ص ۹۰_۹۱_
اس لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل مدینہ اسلام کے اہداف اور اصولوں کا تذکرہ سنتے ہی ایمان لے آئے ہیں_ جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مدینہ والوں کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ تھا جن کا اہل مکہ کو سامنا تھا تو مذکورہ حقیقت زیادہ واضح ہوتی ہے_ (کیونکہ مکہ والے اسلام کو اپنے ذاتی مفادات، خودساختہ وظالمانہ امتیازات نیز اپنی خواہشات اور انحرافی روش کیلئے خطرہ تصور کرتے تھے جیساکہ ہم نے کئی مرتبہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے)_
مدینہ والوں نے یہودیوں کی پیش گوئیوں کے علاوہ شروع ہی سے یہ دیکھ لیا تھا کہ اسلامی تعلیمات ہی ان کی نجات و ہدایت اور موت کی بجائے زندگی عطا کرنے کی ضامن ہیں _نیز یہی تعلیمات ہی فطرت اور عقل سلیم کے موافق ہیں، خواہ عقائد اور قوانین کے لحاظ سے ہوں یا معاشرتی اور سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے _چنانچہ انہوں نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے آپ کی دعوت کے بارے میں سوال کیاتو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میری دعوت یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوں_ میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دو، والدین کے ساتھ احسان کرواور تنگدستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو_ ہم ہی تم کو اور ان کو روزی دیتے ہیں، بدکاری کے قریب نہ جاؤ_ نہ علانیة اور نہ چھپ کر_ کسی کو ناحق قتل نہ کرو مگر یہ کہ تمہیں اس کا حق حاصل ہو_ یہ وہ نصیحتیں ہیں جواللہ نے تمہارے لئے کی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو اور یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائیں مگر اس طریقہ سے جو سب سے بہتر ہو_ناپ تول میں انصاف سے کام لو، ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے_ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کو مدنظر رکھو اگرچہ وہ تمہارے رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہواور عہد الہی کو پورا کرو_ یہ خدا کی نصیحتیں ہیں تمہارے لئے تاکہ انہیں یاد رکھو''_(۱)
انہی خصوصیات کی بناپر وہ اسلام کے گرویدہ اور اس دین کی راہ میں قریش اور عربوں کے خلاف برسر پیکار ہوگئے_
___________________
۱_ سورہ ّانعام، آیت ۱۵۱_۱۵۲_
۴_ اہل مدینہ اور اہل مکہ
بت پرستی (مدینہ والوں )کادین ، ان کی اندرونی مشکلات اور اختلافات کو حل کرنے سے عاجز رہا یہاں تک کہ ان مشکلات کی مدت کو بھی کم نہ کرسکا_ نہ ہی بت پرستی کے سبب اہل مدینہ کو معاشرتی یا اقتصادی یا دیگر حوالوں سے امتیازی حیثیت مل سکی_ اسی لئے بت پرستی کی بنیادیں ضعیف اور کمزورپڑتی گئیں_ عقل سلیم اورفطرت کے ساتھ اس کی مخالفت نے اس ضعف اور کمزوری میں مزید اضافہ کیا_ پھر خدا کی طرف بلانے والے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا زمانہ ظہور قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں نے مذکورہ کمزوریوں کو اور زیادہ کردیا_
یہ مشرکین مکہ کی حالت کے بالکل برعکس تھا وہ بت پرستی کے ذریعے سماجی اورسیاسی طور پر فائدہ حاصل کر رہے تھے_ انہوں نے اپنے آپ کو اس سرزمین کے دیگر قبائل اور جماعتوں کے اجتماع کا مرکز بنالیا تھا_ مکہ والوں نے اپنے لئے ناجائز مراعات اور امتیازات کی بنیادوں کو مستحکم کرلیا تھا_ وہ حق اور انسانیت کی خدمت کے نام پر ان ناجائز مراعات سے دست بردار ہونے کیلئے آمادہ نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے ذاتی مفادات، انحرافی اعمال اور ناجائز مراعات کے اوپر انسانیت اور حق کو قربان کر رہے تھے_
علاوہ ازیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئےس کا ہم اسلام کی کامیابی اور ترویج کے اسباب کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں _یہاں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عظیم شخصیت، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بلند اخلاق، قریش اورعرب کے بہترین گھرانے سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تعلق (نیز بعض لوگوں کے نظریئےے مطابق آپ کی والدہ، آمنہ بنت وہب کے واسطے سے بنی نجار اور خزرجیوں سے قریبی رشتہ داری)(۱) وغیرہ نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت پر لبیک کہنے اور اسلام کی راہ میں قربانی دینے میں اہم کردار ادا کیا_
___________________
۱_ البتہ یہ ایسا دعوی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ صرف رشتہ داری مذکورہ باتوں کا باعث نہیں بن سکتی_
تیسری فصل
بیعت عقبہ
عقبہ کی پہلی بیعت
کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہونے والے یہ حضرات مدینہ پہنچے تو انہوں نے اہل مدینہ کے پاس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ذکر کیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی_ یہ بات ان کے درمیان پھیلی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انصار کے ہر گھر میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا_
جب دوسرا سال یعنی بعثت کا بارہواں سال ہوا تو بارہ آدمی مکہ آئے جن میں سے دو کا تعلق قبیلہ اوس سے اور باقیوں کا خزرج سے تھا_ انہوں نے عقبہ کے مقام پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ملاقات کی اور عورتوں والی بیعت کی( یعنی وہ بیعت جس میں جنگ کا تذکرہ نہ ہو )_بالفاظ دیگر انہوں نے اس بات کی بیعت کی کہ وہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہیں دیں گے، چوری اور زنانہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل کرنے سے احتراز کریں گے، اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان گھڑکے نہ لائیں گے، کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کریں گے_ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کی جزا جنت ہوگی اور اگر عہدشکنی کریں تو ان کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہوگا تاکہ اگر وہ چا ہے تو ان کو مبتلائے عذاب کرے اور اگر چا ہے تو بخش دے_
جب وہ مدینہ لوٹے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیر کو بھیجا تاکہ وہ انہیں قرآن اوراسلام کی تعلیم دے اور ان میں دین سے آشنائی پیدا کرے_ لوگ مصعب کو مقری کے نام سے یاد کرتے تھے_حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابن ام مکتوم کو بھی مدینہ بھیجا(۱) جیساکہ نقل ہوا ہے_ حضرت مصعب نے مدینہ میں پہلی بار
___________________
۱_ سیرت نبویہ دحلان ج ۱ص ۱۵۱_۱۵۲ا ور السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۹ اس میں ہے کہ واقدی نے بیان کیا ہے کہ ابن ام مکتوم بدر کے کچھ عرصہ بعد مدینہ آیا، ابن قتیبہ کے کلام میں وہ بدر کے ۲ سال بعد مدینہ ہجرت کرکے آیا_ اس کے بعد حلبی نے ان اقوال کو جمع کرنے کی غرض سے یہ احتمال دیا ہے کہ وہ پہلے اہل مدینہ کو پڑھاتا تھا پھر مکہ واپس آگیا اور اس آمدورفت کے بعد وہ بدر کے بعد دوبارہ ہجرت کرگیا یہ ایک قابل قبول احتمال ہے_
نماز جمعہ قائم کی_
حضرت مصعب اور ان کے دیگر مسلمان ساتھی تبلیغ اسلام میں کامیاب رہے اور حضرت سعد بن معاذ مسلمان ہوگئے جو اپنے قبیلے بنی عمیر بن عبدالاشہل کے قبول اسلام کا باعث تھے_ چنانچہ وہ مصعب کے ہاتھوں قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کے پاس گئے اور ان سے کہا: ''اے بنی عبدالاشہل تم اپنے درمیان میری حیثیت کو کیسے پاتے ہو''؟
وہ بولے:'' تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے ہم سے بہتر ہے، تم اورتمہارا حکم ہماری بہ نسبت زیادہ با برکت ہے''_
یہ سن کر سعدنے کہا: ''پھر جب تک تم لوگ اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان نہ لے آؤ ، میںتمہارے مردوں اور عورتوں کے ساتھ گفتگو حرام سمجھوں گا''_
راوی کہتا ہے قسم ہے اللہ کی، بنی عبد الاشہل کے کسی گھرمیں نہ کوئی مرد ایسا رہا نہ عورت جو شام ہونے سے پہلے ہی مسلمان نہ ہوگیا ہو(۱) _وہ سب ایک ہی دن میں مسلمان ہوئے( سوائے عمرو بن ثابت کے جنہوں نے جنگ احد تک اسلام قبول نہ کیا،اس کے بعد مسلمان ہوئے_ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہونے کے فوراً بعدکوئی سجدہ کرنے (نماز پڑھنے) سے پہلے شہید ہوگئے مصعب بن عمیر لوگوں کو بدستور اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ انصار کے مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کرلیا سوائے قبیلہ اوس کے بعض لوگوں کے، جواپنے ایک سردار کی متابعت میں مسلمان نہیں ہوئے تھے_ یہ سردار ہجرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدمسلمان ہوا_(۲)
یہ تھا مورخین کا بیان، لیکن ہم چند جگہوں پر اظہار نظر کرنا چاہتے ہیں_
___________________
۱_ ان تمام باتوں کے لئے ملاحظہ ہو: سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۷۹ ، ۸۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۴ ، تاریخ الامم و الملوک (طبری) ج۲ ص ۹۰ اور السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴_
۲_ السیرہ النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ص۹۰ ، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۷۹ ، ۸۰ نیز سیرہ حلبیہ ج۲ حاشیہ ص ۱۴_
سعد بن معاذ کی اپنی قوم کو دعوت
خدا کی طرف دعوت دینے کا حکم فقط انبیاء اور اوصیاء کے ساتھ مختص نہیں بلکہ یہ حکم ہر مکلف کو(اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق) شامل ہے_ یہ ان امور میں سے ہے جن کا عقل سلیم حکم دیتی ہے اور ہر مکلف پر ان کو لازم قرار دیتی ہے_ یہ کام شرعی اجازت کا بھی محتاج نہیں_ کیونکہ عقل سلیم اس بات کا باآسانی ادراک کرتی ہے کہ واجبات کا ترک کرنا، برائیوں کا مرتکب ہونا نیز افکار و اعتقادات اور کردار کا انحراف، موجودہ اور آئندہ نسلوں کیلئے عظیم نقصان کا باعث ہیں _اسی لئے صحیح طرزفکر اختیار کرنے، برائیوں سے اجتناب کرنے اور نیک کاموں کو انجام دینے کی دعوت دینے کا حکم دیتی ہے_
خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے حضرت سعد کی بے چینی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے_ چنانچہ بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ سعد اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنی گمراہی پر برقرار رہیں تو وہ ان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کردیں گے _
اس موقف کی عظمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس دور میں ایک عرب شخص کی تقدیر اور خوش بختی کس حد تک قبیلے کے ساتھ مربوط تھی نیز فرد اور قبیلے کے درمیان کس قدر ربط تھا_
قرآن بھی عقل و فطرت کے اسی حکم کی تائید کرتا ہے_ اسی لئے قرآن دینی فہم و بصیرت رکھنے والے ہر فرد پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف دعوت دے_ ارشاد الہی ہے( قل هذه سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرة انا ومن اتبعنی ) (۱) یعنی کہہ دیجئے میرا راستہ تو یہ ہے_ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں_ میں خود بھی عقل وبصیرت کے ساتھ اپنا راستہ دیکھ رہاہوں اور میرے ساتھی بھی_
اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ جو لوگ حق کو پہچان لیتے ہیں اور ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتے ہیں وہ بے اختیار کوشش کرتے میں کہ دوسرے لوگ بھی حق کی طرف آئیں، اس پر ایمان لے آئیں، اس سے استفادہ کریں اور اس کی شیرینی کو چکھ کر لطف اندوز ہوں_
___________________
۱_ سورہ یوسف، آیت ۱۰۸_
اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جنہیں اپنے شیعوں کی فکر تھی_ (وہی شیعہ جو امت اسلامی کے برگزیدہ بندے ہیں اوراموی اور اس کے بعد عباسی حکومتوں کے دور میں مختلف قسم کے مظالم و مصائب کا شکار رہے ) اس بات پر بے چینی کا اظہار فرما رہے ہیں کے شیعہ ان حالات کی نزاکت اور خطرات کو مدنظر نہیں رکھتے آپ مسئلہ امامت کے اظہار کیلئے ان کی بے چینی دیکھ رہے تھے_ یہ بے چینی ایمان کی مٹھاس اور تبلیغ کلمہ حق کی ضرورت سے ان کی آشنائی کا نتیجہ تھی_
امام سجادعليهالسلام فرماتے ہیں، میں ترجیح دیتا ہوں کہ شیعوں کے درمیان موجود دو خصلتوں کو محو کرنے کے بدلے میرے بازو کا گوشت کاٹ لیاجائے _وہ دو خصلتیں یہ ہیں، جلدبازی اور راز داری کی کمی_(۱)
بیعت
اس بیعت کا متن واضح طور پر اسلامی معاشرے کی بنیادی باتوں اور اہم اصولوں کو شامل ہے _یہ بیعت نظریاتی وعملی دونوں پہلوؤں کی حامل ہے _رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے باہمی روابط سے متعلق معینہ ذمہ داریاں ان پر ڈالیں_ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے ان سے عہدوپیمان لیا تاکہ وہ اس کی مخالفت کو زبان کے احترام وتقدس کے منافی سمجھیں_ یہ عہدوپیمان بیعت کے نام سے عمل میں آیا جو ان کی طرف سے مذکورہ اصولوں پر کاربند رہنے کا مقدس وعدہ اور عہدوپیمان تھا_
لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس عہد کو توڑنے، بد عہدی کرنے اور دھوکہ دینے والے کیلئے کوئی سخت سزا معین نہیں کی کیونکہ حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ بات ان میں سے ہر ایک کے ضمیر پر چھوڑ دی_ ساتھ ساتھ ان کو نظریاتی اصولوں کی رسی سے بھی باندھ دیا_ نیز خطا کی صورت میں توبہ و اصلاح کی گنجائشے بھی رکھی تاکہ اگر کوئی شخص خلاف ورزی کرے تو اصلاح سے ناامید نہ ہوجائے بلکہ اس کی امیدباقی رہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا انجام خدا کے سپرد کردیا تاکہ وہ جسے چا ہے سزا دے اور جسے چا ہے بخش دے_
___________________
۱_ سفینة البحار ج ۱ ص ۷۳۳ اور بحار ج ۷۵ ص ۶۹و ۷۲ خصال سے ج ۱ ص ۲۴ کافی ج ۲ ص ۲۲۱ _
نماز جمعہ
اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ مصعب بن عمیر نے ہجرت سے قبل مدینے میں مسلمانوں کیلئے نماز جمعہ قائم کی(۱) بسااوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سورہ جمعہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی_ پس مصعب نے جمعہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نماز جمعہ کیونکر پڑھائی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ ''جمّع'' (جس کا استعمال مصعب والی روایت میں ہوا تھا) سے مراد شاید یہ ہو کہ: اس نے نماز جماعت پڑھائی_ لیکن اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ اس لفظ (جمع) سے مراد یہ ہے کہ اس نے نماز جمعہ پڑھائی تو اس کے باوجود سورہ جمعہ میں خدا کا یہ ارشاد( یا ایها الذین آمنوا اذا نودی للصلاة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر الله ) (۲) یعنی اے مومنو جب جمعہ کے دن نماز کیلئے ندا دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو، جمعہ قائم کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قائم شدہ نماز جمعہ کی طرف تیزی سے بڑھنے کا حکم دیتا ہے_ بنابریں ممکن ہے نماز جمعہ، سورہ جمعہ کے نزول سے قبل مکہ میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی واجب ہوئی ہو لیکن وہاں اس کا قیام ممکن نہ ہوا ہو_ یا یہ کہ خفیہ طور پر نماز ہوتی رہی ہو لیکن اس کی خبر ہم تک نہ پہنچی ہو_
اس بات کی تائید اس ارشاد الہی سے ہوتی ہے( واذا را وا تجارة او لهوا انفضوا الیها و ترکوک قائما قل ما عند الله خیر من اللهو ومن التجارة ) (۳) یعنی جب انہوں نے تجارت یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا_ ان سے کہو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے_ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز جمعہ اس سے قبل واجب ہوچکی تھی اور یہ کہ ان لوگوں کا رویہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کے ساتھ کیسا تھا_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۹ و تعلیقہ مغنی ( مطبوعہ حاشیہ سنن دارقطنی ) ج۲ ص ۵ از طبرانی، کتاب '' الکبیر '' و ''الاوسط'' میں_
۲_ سورہ جمعہ، آیت ۹_
۳_سورہ جمعہ، آیت ۱۱_
اس دعوت کی تائید دارقطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن عباس سے منقول ہے_ وہ کہتے ہیں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت سے پہلے جمعہ کی اجازت دی لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مکہ میں جمعہ قائم نہ کرسکے پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مصعب بن عمیر کو یوں خط لکھا: اما بعد جس دن یہودی لوگ بلند آواز سے زبور پڑھتے ہیں اس دن تم اپنی عورتوں اور بچوں کو جمع کرلو، جمعہ کے دن زوال کے وقت جب دن ڈھلنا شروع ہوجائے تو دو رکعت نماز، تقرب الہی کی نیت سے پڑھو_ابن عباس نے کہا مصعب وہ پہلا شخص تھا جس نے نماز جمعہ قائم کی یہاں تک کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ آئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی زوال کے بعد نماز جمعہ پڑھی اور اسے آشکار کیا_(۱)
کچھ روایات کی رو سے سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے والا اسعد بن زرارہ ہے_(۲)
عقبہ کی دوسری بیعت
مصعب بن عمیر مدینہ سے مکہ لوٹے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں اپنی جدوجہد کے نتائج پیش کئے چنانچہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس امر سے زبردست مسرت ہوئی_(۳)
بعثت کے تیرہویں سال حج کے ایام میں اہل مدینہ کاایک بہت بڑا گروہ حج کیلئے آیا جن کی تعداد پانچ سو بھی بتائی جاتی ہے_(۴) ان میں مشرکین بھی تھے اور ایسے مسلمان بھی جو مشرک زائرین سے اپنا ایمان چھپا کر آئے تھے_
ان میں سے بعض مسلمانوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ملاقات کی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایام تشریق کی درمیانی رات عقبہ کے مقام پر (عام لوگوں کے سوجانے کے بعد) ان سے ملاقات کا وعدہ فرمایا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو حکم دیا
___________________
۱_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸دار قطن سے و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲_
۲_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸ ابوداود ، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی، عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر سے ، وفاء الوفا ج۱ ص ۲۳۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۹ و ص ۹ اور سنن دارقطنی ج ۲ ص ۵ ، ۶ اور سنن دار قطنی پر مغنی کا حاشیہ ص ۵ ( جو سنن کے ساتھ ہی مطبوع ہے )_
۳_ بحار ج ۱۹ص ۱۲میں ہے کہ معصب نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس رپورٹ لکھ بھیجی اعلام الوری ص ۵۹ میں بھی اسی طرح ہے_
۴_ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اوّل۱ ص ۱۴۹ _
کہ وہ سونے والوں کو نہ جگائیں اور غیرحاضر افراد کا انتظار نہ کریں_یہاں سے ہمیں بیعت کیلئے اس خاص وقت کے انتخاب کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ان کا راز فاش بھی ہوجاتا تو چونکہ وہ حج کرچکے تھے اور شہر سے باہر نکل چکے تھے لہذا (قریش کیلئے) ان پر مؤثر طریقے سے دباؤ ڈالنے کی گنجائشے نہیں تھی_ نیز حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس حکم کہ نہ تو وہ سوئے ہوئے لوگوں کو جگائیں اور نہ غیر حاضر افراد کا انتظار کریں کی علت بھی معلوم ہوجاتی ہے_ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے لوگ ان کی غیرمعمولی حرکات کا مشاہدہ نہ کریں اور ان کا راز فاش نہ ہوجائے_
چنانچہ اس رات وہ لوگ اپنے کاروانوں کے ہمراہ سوگئے جب رات کا تہائی حصہ گزرچکا تو یکے بعد دیگرے چھپ چھپاکر اپنی وعدہ گاہ کی طرف سرکنے لگے_ یوں کسی کو بھی ان کے چلے جانے کا احساس نہ ہو سکا_ یہاں تک کہ وہ درے میں گھاٹی کے پاس جمع ہوگئے_ ان میں ستریاتہتر مرد تھے اور دو عورتیں تھیں_
اس مقام پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے ان کی ملاقات اس گھر میں ہوئی جس میں آپ تشریف فرماتھے_ یعنی حضرت عبدالمطلب کے گھرمیں_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ حضرت حمزہعليهالسلام ، حضرت علیعليهالسلام اورآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا عباس تھے_(۱)
مدینہ سے آئے ہوئے ان لوگوں نے اس بات پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کی کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھرانے کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں_ نیز یہ کہ وہ ان کو پناہ دیں گے اوران کی مدد کریں گے _سستی کی حالت ہویاچستی کی، ہر صورت میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات پر لبیک کہیں گے اور اطاعت کریں گے_ خوشحالی و تنگدستی دونوں صورتوں میں مال خرچ کریں گے_ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے ، خدا کیلئے بات کریں گے اور اس سلسلے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیںگے_ (ان باتوں کے نتیجے میں) عجم ان کا فرمانبردار ہوگا اور وہ حکمرانی کیا کریں گے _
___________________
۱_ اعلام الوری ص ۵۹، تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۳، بحار ج ۱۹ ص ۱۲_۱۳ و ۴۷، قصص الانبیاء سے، سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۱۶سیرت نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۵۲_
مالک نے عبادہ بن صامت سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : '' ہم نے ان باتوں پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی بیعت کی کہ ہم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ حالات سخت ہوں یا سازگار، خواہ طبیعت میں سستی ہو یا چستی نیز یہ کہ امر (حکومت) میں اس کے اہل سے جھگڑا نہ کریں گے_ ہر جگہ حق کی بات پر (یا حق کے ساتھ) قیام کریں گے اور خدا کے معاملے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیں گے''_(۱) سیوطی کہتا ہیں کہ لفظ امر سے اس کی مراد حکومت و سلطنت ہے_(۲)
عباس ابن نضلہ نے خصوصاً رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے قول ''عجم تمہارے زیرنگیں ہوں گے اور تم بادشاہی کیا کروگے'' سے مسئلے کی نزاکت کو سمجھا_ اور یہ جان لیا کہ وہ مکہ یا جزیرة العرب کے مشرکین سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ٹکرلینے کا اقدام کر رہے ہیں_ چنانچہ اس نے چاہا کہ وہ ان لوگوں سے مزید اطمینان حاصل کرے اور بیعت کرنے والوں کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں اور کسی دن یہ نہ کہیں کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ بات یہاں تک پہنچے گی تو ہم بیعت نہ کرتے_ اس لئے اس نے کہا: '' اے اوس اور خزرج والو کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اس اقدام کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو عرب و عجم اور دنیا کے تمام حکمرانوں کے ساتھ اعلان جنگ ہے_ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جب تم پر مصیبت ٹوٹ پڑے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مد د سے دست بردار ہوجاؤگے تو پھر انہیں دھوکہ نہ دو_ کیونکہ اپنی قوم کی مخالفت کے باوجود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو عزت و تحفظ حاصل ہے''_
یہ سن کر جابر کے باپ عبداللہ بن حزام، اسعد بن زرارہ اور ابوالھیثم بن تیھان نے کہا :''تم کہاں سے بات کرنے والے آگئے؟'' پھر کہا:'' اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارا خون اور ہماری جانیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے حاضر ہیں_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اور اپنے رب کے حق میں جو بھی شرط رکھنا چاہیں رکھیں''(۳) _
___________________
۱_ الموطاء تنویر الحوالک کے طبع کے ساتھ ج ۲ ص ۴ ، سیر اعلام النبلاء ج۲ ص ۷ ، مسند احمد ج۵ ص ۳۱۴ و ۳۱۶ ، سنن نسائی ج۷ ص ۱۳۸ ، ۱۳۹ ، صحیح بخاری ج۴ ص ۱۵۶، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۴ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۹۷ ، دلائل النبوة (بیہقی) ج۲ ص ۴۵۲ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۲۰۴ او رصحیح مسلم ج ۶ ص ۱۶ و ۱۷ _
۲_ تنویر الحوالک ج ۲ ص ۴ _
۳_ ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج۱۹ ص ۱۲ و ۱۳ از اعلام الوری ، دلائل النبوہ ( بیہقی)ج۲ ص ۴۵۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۱۸ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۲ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۲۰۱ نیز سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۷_
یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اسعد بن زرارہ نے بیعت عقبہ کے وقت کہا:'' اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ہر دعوت لوگوں کیلئے سخت اور دشوار تھی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اپنے دین کو چھوڑ کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دین اپنائیں یہ ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے اس مسئلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات مان لی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اپنی باہمی حمایتوں اور قرابتوں کو (خواہ وہ قریبی ہوں یا دور کی) قطع کردیں یہ بھی ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات پر لبیک کہا_ نیز ان حالات میں جبکہ ہم عزت و حفاظت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم ایک ایسے اجنبی کی قیادت کو تسلیم کریں جسے اس کی قوم نے تنہا چھوڑ دیا تھا اور اس کے چچاؤں نے اسے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا_ یہ بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات تسلیم کرلی ...''_(۱)
علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عباس بن عبد المطلب بیعت عقبہ کے وقت موجود تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے حق میں مزید اطمینان اور ضمانت حاصل کرلیں چنانچہ عباس نے کہا:'' اے خزرج والو ہمارے نزدیک محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جو مقام ہے وہ تمہیں معلوم ہے_ ہم نے اسے اپنی قوم سے جو ہمارے ہم مذہب ہیں محفوظ رکھا ہے_ بنابریں وہ اپنی قوم کے درمیان معزز ہے اور اپنے شہر میں خوب محفوظ ہے لیکن وہ صرف تمہارے پاس پناہ لینا اور صرف تم سے ملحق ہونا چاہتا ہے_ اگر تمہارا ارادہ یہ ہے، کہ جس مقصد کیلئے ان کو دعوت دے رہے ہو اس میں اپنے قول پر عمل کروگے اور مخالفین کے مقابلے میں ان کی حفاظت کروگے تو پھر اس ذمہ داری کو اٹھاؤ_ لیکن اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ انہیں وہاں لے جانے کے بعد دشمن کے حوالے کر کے الگ ہوجاؤگے تو ابھی سے ان کو چھوڑ دینا بہتر ہے کیونکہ وہ یہاں اپنی قوم اور شہر میں بہرحال محفوظ و معزز ہیں''_
ایک اور روایت کے مطابق عباس نے ان سے کہا:'' محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے پس اگر تم صبر و استقلال، قوت، جنگی مہارت اور پورے عرب جو ایک ہی کمان سے تمہارے خلاف تیر
___________________
۱_ حیاة الصحابةج ۱ ص ۸۸ دلائل النبوة ابونعیم ص ۱۰۵سے_
چلائیں گے یعنی متحد ہوکر تم سے لٹریں گے، ان کے ساتھ تنہا ٹکر لینے کی قدرت رکھتے ہو تو خوب سوچ لو اور آپس میں مشورہ کرو''_
انہوں نے اس کا جو جواب دیا اس کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ پھر نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ بارہ نقیب چن کر دیں جو کفیل، ضامن اور اپنی قوم کی ضمانت دیں چنانچہ انہوں نے نو نقیب قبیلہ خزرج سے اور تین قبیلہ اوس سے چنے_ یوں یہ حضرات اپنی قوم کے ضامن اور نقیب قرار پائے_
ادھر قریش کو اس اجتماع کا پتہ چلا چنانچہ وہ مشتعل ہوئے اور مسلح ہوکر پہنچ گئے_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کی آوازسن کر انصار کو وہاں سے چلے جانے کیلئے کہاتو انہوں نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنی تلواروں کے ساتھ ان کی خبر لیں تو ایسا ہی کریں گے''_ فرمایا: '' مجھے اس بات کا حکم نہیں ہوا اور خدا نے مجھے ان کے ساتھ جنگ کی اجازت نہیں دی''_ وہ بولے:'' اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا پھر کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے ساتھ چلیں گے؟ ''فرمایا:'' امر الہی کا انتظار کرو''_
قریش والے سب کے سب مسلح ہوکر آگئے ادھر حضرت حمزہ تلوار لیکر نکلے انکے ساتھ حضرت علیعليهالسلام تھے_ جب مشرکین کی نظر حضرت حمزہعليهالسلام پر پڑی تو بولے : '' یہاںکس لئے جمع ہوئے ہو''؟
حضرت حمزہ نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم مسلمانوں اور اسلام کی حفاظت کے پیش نظراز راہ تقیہ فرمایا:'' ہم کہاں جمع ہوئے، یہاں توکوئی نہیں_ خدا کی قسم جو کوئی اس گھاٹی سے گزرے گا تلوار سے اس کی خبرلوں گا''_
یہ دیکھ کر وہ لوٹ گئے اور صبح کے وقت عبداللہ بن ابی کے پاس جاکر کہا:'' ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہاری قوم نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے کیلئے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کی ہے_ خدا کی قسم کسی عرب قبیلے کے ساتھ جنگ ہمارے لئے اس قدر ناپسند نہیں جس قدر تمہارے ساتھہے''_
عبداللہ نے قسم کھائی کہ انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا نہ وہ اس بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے اپنے اقدام سے مطلع کیا ہے_ قریش نے اس کی تصدیق کی_ یوں انصار وہاں سے چلے گئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ مکہ لوٹ آئے_
لیکن بعد میں قریش والوں کو اس واقعے کی صحت کا یقین حاصل ہوگیا_ چنانچہ وہ انصار کی تلاش میں نکلے نتیجتاً وہ سعد بن عبادہ اور منذر بن عمیر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، منذرنے تو ان کو بے بس کر دیا لیکن سعد کو انہوں نے پکڑ کر سزا دی اس بات کی خبر جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کوملی چنانچہ ان دونوں نے آکر اسے چھڑایا کیونکہ وہ ان دونوں کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا اور اسے لوگوں کی دست درازی سے محفوظ رکھتا تھا_(۱)
اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے سے پہلے ہم بعض نکات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں_ سب سے پہلے جس نکتے کی وضاحت کریں گے وہ یہ ہے:
بیعت عقبہ میں عباس کا کردار
بعض روایات کی رو سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے چچا عباس بیعت عقبہ میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھے_ اور ان کے علاوہ کوئی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نہ تھا_ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ عباس اگرچہ اس وقت مشرک تھے لیکن وہ اپنے بھتیجے کو درپیش مسئلے میں حاضررہ کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کام کوپکا کرنا چاہتے تھے ہم اس سلسلے میں ابن عباس سے منسوب قول نقل کرچکے ہیں_
لیکن ہماری نظر میں یہ مسئلہ مشکوک ہے کیونکہ:
(الف) عباس سے منسوب کلام میں واضح طور پر نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دی گئی ہے_ عباس کے مذکورہ کلام سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی تقویت نہیں ہوتی جیساکہ ان لوگوں کا دعوی ہے خاص کر عباس کا یہ کہنا اگر پورے عرب (جو ایک ہی کمان سے تمہاری طرف تیر اندازی کریں گے) سے اکیلے ٹکر لینے کی طاقت رکھتے ہو ...اس بات کو واضح کرتا ہے_
___________________
۱_ ان تمام واقعات کے سلسلے میں جس تاریخی یا حدیثی کتاب کا چاہیں مطالعہ فرماسکتے ہیں ، بطور مثال : بحار الانوار ج ۱۹ ص ۱۲ و ۱۳، اعلام الوری ص ۵۷ ، تفسیر قمی ج۱ ص ۲۷۲، ۲۷۳ ، تاریخ الخمیس ج۱ ۳۱۸ ، ۳۱۹ دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۴۵۰ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۵۸ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۱۹۳ تا ۲۱۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۷ اور اس سے ماقبل و ما بعد نیز سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ اور ماقبل و ما بعد و دیگر کتب_
(ب) عباس کے کلام میں خلاف حقیقت نکات موجودہیں خصوصاً ان کا یہ کہنا کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے کیونکہ اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ انصار کے علاوہ دیگر سب لوگوں نے گویا بنی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی موافقت کی تھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت پر آمادہ ہوئے تھے لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی حمایت کو ٹھکرا دیا تھا حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے_ البتہ صرف بنی شیبان بن ثعلبہ عربوں کے مقابلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت پر راضی ہوئے تھے لیکن ایرانیوں کے مقابلے میں نہیں_ ظاہر ہے کہ ''الناس کلہم'' سے مراد فقط بنی شیبان نہیں ہوسکتے_ رہا یہ احتمال کہ شاید اس سے مراد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے رشتہ دارہوں تو جیساکہ ملاحظہ ہوا کہ یہ بات مذکورہ تعبیر ''الناس کلہم'' (یعنی سارے لوگ) کے ساتھ سازگار نہیں_ اگر کوئی یہ احتمال دے کہ شاید عباس کی عبارت ''ابی محمد ًالناس'' (محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سارے لوگوں کی بات ٹھکرادی )کی بجائے ''ابی محمداً الناس'' (لوگوں نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات نہ مانی) تھی_ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس احتمال کی صحت پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہمارے سامنے موجود الفاظ اس کے برعکس ہیں_
(ج) اس وقت تک مدینے کی طرف ہجرت کی بات ہی نہیں چلی تھی اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو مسلمانوں کے دارہجرت کی نشاندہی نہ کی گئی تھی اور نہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں کچھ بتایا تھا_ پھر عباس کو کیسے پتہ چلا کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں؟ کیا اس سلسلے میں عباس پر کوئی وحی اتری تھی؟ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی_ ہاں ہم خود عباس کی زبانی ان کا یہ قول پڑھتے ہیں'' محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تو بس تمہارے پاس پناہ لینے اور تم سے ملحق ہونے کا ارادہ کیا ہے''_ پھرکہتے ہیں ''اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنے پاس لے جانے کے بعد اس کو دشمن کے حوالے کر کے خود الگ ہوجاؤ گے تو پھر ابھی سے اس کا ساتھ نہ دو ...''
(د) عباس نے جو کچھ کہا وہ تو فقط ایک مسلمان اور پکا مومن ہی کہہ سکتا ہے اور عباس تو ابھی تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ جنگ بدر تک کفر پر باقی رہے اور بدر میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ جنگ کرنے آئے البتہ مجبوری کے تحت_ پھر وہ مسلمان ہوئے جس کا آئندہ ذکر ہوگا بلکہ آگے چل کر عرض کریں گے کہ وہ فتح مکہ تک مسلمان نہیں ہوئے تھے _
یہاں ہم اس احتمال کو ترجیح دیتے یں کہ جس شخص نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے حق میں بیعت کی گرہ مضبوط کرنے کیلئے بات کی تھی وہ عباس بن نضلہ انصاری تھا(۱) نہ کہ عباس بن عبدالمطلب_ اس لئے کہ ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ ان دونوں سے منسوب اور منقول جملوں میںبہت حد تک قدر شباہت موجود ہے_
پس شاید راوی کو عباس بن عبدالمطلب اور عباس بن نضلہ کے درمیان ناموں کی شباہت کے باعث اشتباہ ہوا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی عباس نے مخصوص مفادات کے پیش نظراپنے جدامجد کیلئے ایک بڑی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو وغیرہ وغیرہ_
حضرت ابوبکر عقبہ میں
بعض خلاف مشہور روایات کے مطابق حضرت ابوبکر عقبہ میں موجود تھے اور عباس نے ان کو درے کے دھانے پر رکھا تھا_
ہم اس قول کے بطلان کو ثابت کرنے کیلئے زیادہ گفتگو نہیں کریں گے کیونکہ دیگر روایات صاف صاف کہتی ہیں کہ وہاں سوائے ان افراد کے جن کا ہم نے ذکر کیا یعنی حضرت حمزہ، حضرت علیعليهالسلام اور عباس، کے علاوہ اور کوئی موجود نہ تھا حالانکہ خود مؤخر الذکر کی موجودگی بھی مشکوک ہے اور یہ کہ جب قریش کو اس اجتماع کاعلم ہوا تو طیش میں آئے پھر جب وہ مسلح ہوکر پہنچے تو حضرت حمزہ اور حضرت علیعليهالسلام درے کے دھانے تک آئے تھے_ گذشتہ بیانات کی روشنی میں یہ واقعہ اس اجتماع کے آخری لمحات میں پیش آیا_
حضرت حمزہ اور حضرت علیعليهالسلام عقبہ میں
بیعت عقبہ کے موقع پر حضرت حمزہ اور حضرت علیعليهالسلام کی موجودگی کے بارے میں جو کچھ نقل ہوا ہے اس کی تائید عبدالمطلب کے گھر میں ہی اس اجتماع کے انعقاد سے ہوتی ہے_ خصوصاً وہاں تو ان دونوں کی ضرورت بھی تھی تاکہ وہ قریش اور اس کی خود پسندی اور جبر وتعدی کے مقابلے میں اس حیرت انگیز اور مردانہ کارکردگی
___________________
۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۷۱، بحار ج ۱۹، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۱۷، السیرة النبویة دحلان ج ۱ ص ۱۵۳ _
کا مظاہرہ کرتے_ قریش کو درے میں داخل ہونے سے روکتے اور اس اجتماع کے شرکاء کو وہاں سے کھسک جانے کا موقع دیتے_(۱) چنانچہ جب قریش اس کے بعد درے میں داخل ہوئے تو وہاں کسی کو نہ پایا_ نتیجتاً وہ عبداللہ بن ابی کے پاس شکایت لے گئے لیکن اس نے انکار کیا_ پس اگر ان دونوں کی وہ کارکردگی نہ ہوتی تو حالات کوئی اور شکل اختیار کرلیتے اور مسلمان ایک نہایت خطرناک مصیبت میں پھنس جاتے_
عجیب بات یہ ہے کہ ہم بعض ایسی روایات بھی دیکھتے ہیں جن میں حضرت علیعليهالسلام نیز اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر یعنی حمزہعليهالسلام کی موجودگی کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ یہی روایات قریش کے اکٹھے ہونے اور ان کے مشتعل ہونے کا تذکرہ کرتی ہیں لیکن درے کی طرف قریش کی یورش اور حضرت حمزہعليهالسلام و حضرت علیعليهالسلام کی طرف سے مدافعت کے بارے میں خاموش ہیں_ یہ روایات قریش کی طرف سے عبداللہ بن ابی سے ملاقات، مسلمانوں کے تعاقب اور سعد بن عبادہ کی گرفتاری نیز مذکورہ واقعے کے آخر تک نقل کرنے پرہی اکتفا کرتی ہیں_
یہ لوگ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ وہ قریش جنہیں شرکاء اجتماع کے جانے کے بعدجب اس اجتماع کا علم ہوا تھا تو انہوں نے مشتعل ہوکر عبداللہ بن ابی سے ملاقات کی اور اس نے انکار کیا پھر جب حاجیوں کے جانے کے بعد قریش کو اس واقعے کا یقین ہوگیا تو انہوں نے مسلمانوں کا پیچھا کر کے ان کو پالیا اورسعد بن عبادہ کو اذیتیں دیں تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس جائے اجتماع پر دھاوا بولنے اور انصار کو نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے سے چشم پوشی کرتے ،کیونکہ اس اقدام سے قریش کو اپنی عذر خواہی کیلئے ایک اچھا بہانہ مل سکتا تھا_ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قریش یہاں توخاموشی اختیار کرلیں لیکن وہاں غیظ و غضب اورسخت گیری کا مظاہرہ کریں_
بہرحال ہم اس ٹولے کے ہاتھوں معمولی دنیوی مفادات کی خاطر حق اور دین کے خلاف اس قسم کی بہت
___________________
۱_ بعض حضرات یہ احتمال دیتے ہیں کہ سارے قریش نہیں بلکہ ان کے معدودے سر پھروں نے گھاٹی میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور حضرت حمزہعليهالسلام و حضرت علیعليهالسلام نے ان کا راستہ روکا تھا لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ سارے قریشی جمع ہوئے ہوں لیکن حضرت حمزہعليهالسلام اور حضرت علیعليهالسلام نے مسلمانوں کے چلے جانے تک ان کا راستہ روکے رکھا ہو_
ساری خیانتوں کا مشاہدہ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں_ یہ ضرب المثل کس قدر سچی ہے کہ ''لامر ما جدع قصیر انفہ'' (قصیر نامی شخص نے کسی کام کے واسطے اپنی ہی ناک کاٹ دی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ حصول غرض کی خاطر ہرقسم کا وسیلہ استعمال کرتے ہیں)_
ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ فقط دو افراد کا قریش کے مقابلے میں کھڑے ہوکر ان کو پیچھے ہٹا دینا کیسے ممکن ہے؟ جبکہ ان کا غیظ و غصب نقطہ عروج پر تھا_
اس کا جواب یہ ہے کہ قریش کی سازش کا جواب دینے کیلئے ایک شخص بھی کافی تھا_ وہ اس طرح کہ ایک یا دو آدمی درے کے دھانے پر کھڑے ہوجاتے (جہاں سے فقط چند افراد یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کا گزرنا ہی ممکن تھا) یوں پہلی ٹولی کو پسپا کر کے باقیوں کو بھی پیچھے ہٹایا جاسکتا تھا چنانچہ عمرو بن عبدود (جو حضرت علیعليهالسلام کے ہاتھوں قتل ہوا) کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ہزار شہسواروں کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی تھا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے درے کے دھانے پر کھڑے ہوکر ہزار سواروں کو اس میں داخل ہونے سے روکا تھا کیونکہ جگہ کی تنگی کے باعث ہزار آدمی ایک ساتھ داخل نہیں ہوسکتے تھے_
ملاقات کو خفیہ رکھنے کی وجہ
اس ملاقات کو خفیہ رکھنے پر خاص توجہ دی گئی یہاں تک کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ کاروانوں میں سوئے ہوئے تھے ان کو بھی کوئی بھنک نہ پڑسکی اور انہیں اپنے ساتھیوں کی عدم موجودگی کا احساس بھی نہ ہوا_ یہی حال اس اجتماع کے وقت، مقام اور طریقہ کار کا بھی تھا_ حالانکہ یہ ایک نسبتاً بڑا اجتماع تھا اور یہ باتیں ان مسلمانوں کی آگاہی، بیداری اور حسن تدبیر کی عمدہ مثال اور مضبوط دلیل ہیں_
علاوہ برایں یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب مسلمان ظالم اور جابر طاقتوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اس وقت مخفیانہ طرز عمل اپنانا شکست اور پسپائی نہیں_یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تقیہ (جس کے معتقد شیعہ اور اہلبیت معصومینصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور جس کا قرآن نے حکم دیا ہے نیز جو
فطرت اور عقل سلیم کا بھی تقاضا ہے) ہی حالات کے مقابلے میں آگاہانہ اور لچک دار روش اپنا نے کا صحیح طریقہ کارہے_ یہ اس صورت میں ہے کہ جب اہل باطل مادی طور پرطاقتورہوں اور اہل حق اپنا دفاع کرنے پر قادر نہ ہوں_
بیعت کی شرائط
یہاں ہم اس بات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے انہیں اسلام کی تبلیغ اور حفاظت کی راہ میں آئندہ پیش آنے والی مشکلات اور سختیوں کے بارے میں خبردار کیا تاکہ وہ لوگ شروع سے ہی آگاہ رہیں اور بغیر کسی ابہام یا شک کے آگاہی و بیداری کے ساتھ اقدام کریں تاکہ کل ان کیلئے اس قسم کے بہانے کی کوئی گنجائشے نہ رہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کے حالات اس قدر سنگین صورت اختیار کرجائیں گے_
حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کے وہم و گمان سے مکمل طور پر اس بات کونکال باہر کرنا چاہتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خدا نخواستہ ان کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا ہو_ نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ان میں سے ہر ایک کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سبز باغ دکھا کر کسی کو بھی پھنسانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی خوبصورت خوابوں اور امیدوں کی خیالی دنیا میں بسانا چاہتے ہیں کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک وسیلہ ہدف کا ہی ایک حصہ تھااگرچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی مدد کے سخت محتاج تھے بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تو اپنی دعوت کے پورے عرصے میں ان لوگوں کے سوا کسی قوم کو اپنا حامی نہیں پایا تھا_
نقیبوں کی کیا ضرورت تھی؟
وعدے اور عہد کی پابندی عربوں کی طبیعت میں شامل تھی ہر قبیلہ اپنے کسی فرد یا حلیف کے عہد وپیمان کو پورا کرنے کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا تھا_
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے ایمان لانے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کرنے پر بیعت لی (جیساکہ بیان ہوچکا ہے) تو آپ نے ایک محدود پیمانے پر ان کو (اس بیعت کا) پابند بنانے کا ارادہ فرمایا
تاکہ مستقبل میں کچھ ایسے ذمہ دار افراد موجود ہوں جن سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کا مطالبہ کرسکیں_ ان وعدوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری انہی نقیبوں پر آتی تھی اور انہی سے مذکورہ مطالبہ کیا جاسکتا تھا_ کیونکہ یہی لوگ اپنی اور اپنی قوم کی مرضی سے ان کے ضامن بنے تھے_
لیکن اگر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ان امور کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے تو ممکن تھا کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں سے جان چھڑاتا اور نتائج کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو ان سے بری سمجھتا اور یہ خیال کرتا کہ انفرادی حیثیت سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی_
لیکن جب بعض افراد ضامن بن گئے (جن کا تعلق مختلف قبائل سے تھا) تو ذمہ داریوں کا دائرہ بھی معین اور مشخص ہوگیا اور یہ بات ممکن ہوگئی کہ ضرورت کے موقع پر بالخصوص جنگ یا دفاع کی صورت میں ان سے عہد کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکے_
یوں اس مسئلے کو لوگوں کی انفرادی خواہشات بلکہ اس سے بھی اہم مسئلہ یعنی اجتماعی مسائل میں افراتفری اور بے نظمی سے نجات مل گئی_ یوں انفرادی و اجتماعی سطح پر معاشرے کو بنانے اور منظم کرنے کا مرحلہ شروع ہوا_
مشرکین کا ردعمل
ہم یہاں مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین نے عقبہ کی دوسری بیعت کے مسئلے کو زبردست اہمیت دی_ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ والوں کو داخلی کمزوری اور اوس اور خزرج کے درمیان خانہ جنگیوں کے باعث پیدا شدہ خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جنگ کی دھمکی دی_
جی ہاں قریش نے ان کو جنگ کی دھمکی دی حالانکہ اس قسم کی جنگ ان کیلئے زبردست اقتصادی نقصانات کا باعث بنتی کیونکہ شام (جو قریش کیلئے بہترین تجارتی منڈی تھا) کی طرف ان کے تجارتی قافلے مدینہ کے راستے سے گزرتے تھے_ اس کا مطلب یہ تھا کہ مشرکین کو اس بیعت سے زبردست خطرہ لاحق ہوگیا تھا جس
کے باعث وہ دعوت اسلامی کو قبول کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ اپنے دوستانہ روابط کو بھی قربان کرنے پر مجبور ہوچکے تھے اگرچہ وہ اہل مدینہ ہی کیوں نہ ہوں جن کے ساتھ جنگ سے وہ زبردست کتراتے تھے_ چنانچہ عبداللہ بن ابی سے اس سلسلے میں ان کی گفتگو کا ذکر پہلے ہوچکا ہے_ یہاں سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مکہ ہیں رہنے والے مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں کس طرح پس رہے تھے_
خلافت کے اہل افراد کی مخالفت
جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بیعت کے متن میں اہل مدینہ کیلئے جو شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ مدینہ والے مسئلہ خلافت میں اس کے اہل سے نزاع نہیں کریں گے_
بیعت کے متن میں اس شرط کا رکھنا فتح و شکست کے نقطہ نظر سے اسلام کیلئے تقدیر ساز تھا اور اس شرط کو نبھانے سے انکار کی صورت میں پوری بیعت سے نکل جانے کا خطرہ تھا چنانچہ بنی عامر کے مسئلے میں یہی ہوا تھا (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے)_ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی نظر میں(جن کا نظریہ اسلام کے حقیقی نظریات کاترجمان تھا)، نہایت اہمیت کا حامل تھا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس بارے میں کسی قسم کی رو رعایت کیلئے ہرگز آمادہ نہ تھے اگرچہ عظیم ترین خطرات سے دوچار ہی کیوں نہ ہوں_ بالفاظ دیگر مسئلہ خلافت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اختیار میں نہ تھا بلکہ خدا کے اختیار میں تھا تاکہ جسے مناسب سمجھتا خلافت سے سرفراز کرتا_ یہ وہ امر تھا جس کو پہنچائے بغیر تبلیغ رسالت بے معنی ہوکررہ جاتی_
اس کے علاوہ ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ابتدا سے ہی ایک خاص اور معینہ ہدف کیلئے راستہ ہموار کررہے تھے وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک طرف سے تو لوگوں کو حکومت و خلافت کے مستحق معینہ افراد سے نزاع نہ کرنے کا حکم دیں لیکن دوسری طرف سے اس مخصوص خلیفہ کی نشاندہی بھول جائیں_
یہاں اس واقعے کی کڑی کوپہلے ذکر شدہ دعوت ذوالعشیرہ، (جب حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الہی سے ڈراتے وقت مذکورہ شخص کی نشاندہی کی تھی) کے واقعے سے ملانااور پھر اس واقعے کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم
کی ان پالیسیوں، بیانات اور اشارات خصوصاً غدیر کے واقعہ کے ساتھ جوڑنا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر بعد میں ہوگا_
ابھی تک جنگ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا
ایک اور نکتہ کی طرف بھی توجہ ضرور رہے وہ یہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عقبہ میں جمع ہونے والوں کو تلواروں کے ساتھ قریش کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس اقدام کا مطلب اس دین اور اس کے مومن طرف داروں کا خاتمہ تھا_ خصوصاً ان کی قلت اور ایام حج کے پیش نظر جب لوگ ہر طرف سے مکہ میں جمع ہوئے تھے اور وہ سب قریش کے طریقہ و مسلک و مزاج پرتھے نیز دینی، نظریاتی اور فکری نقطہ نظر سے قریش کے تابع تھے_ یہاں تک کہ ان کے مفادات بھی قریش سے وابستہ تھے_ ان حالات میں انصار کیلئے اپنے دشمنوں پر خود ان کے علاقے میں فتح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا_
قریش کی نظر میں مدینہ کی بڑی اہمیت تھی خاص کر اس لحاظ سے کہ مدینہ شام کی طرف جانے والے قریش کے تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ تھی_ اسی وجہ سے انہوں نے سعد بن عبادہ کو رہا کیا تھا لیکن یہی قریش انصارکے اس موقف پر خاموش نہ رہ سکتے تھے یوں قریش کے سامنے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہتا کہ تمام حاجیوں حتی مدینہ کے مشرکین کی موجودگی میں انصار پرفیصلہ کن اور مہلک وار کرتے کیونکہ جنگ کرنے کی صورت میں انصار متجاوز محسوب ہوتے اور قریش کیلئے اپنی صوابدید کے مطابق مناسب کیفیت اور کمیت کے ساتھ اس تجاوز کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا_
پانچواں باب
مکہ سے مدینہ تک
پہلی فصل : ہجرت مدینہ کا آ غاز
دوسری فصل : ہجرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
تیسری فصل : قبا کی جانب
چوتھی فصل : مدینہ تک
پہلی فصل
ہجرت مدینہ کا آغاز
وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے _
آئمہ معصومینعليهالسلام سے منقول ہے کہ ''حب الوطن من الایمان''(۱) یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے_ پہلی نظر میں اس جملے کا کوئی درست اور قابل قبول مفہوم بنتا نظر نہیں آتا کیونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کیونکر ایمان کا حصہ قرارپائے؟ کیا اس خاک کو جس پر انسان کی ولادت ہوئی اور جس کی فضاؤں میں اس نے زندگی گزاری ہے صرف خاک ہونے کے ناطے اس قدر اہمیت اور احترام حاصل ہے کہ اس کی محبت ایمان کا حصہ قرار پائے؟ خواہ جغرافیائی طور پر اس کی حالت کتنی ہی بدتر کیوں نہ ہو؟ کیا اس محبت کے فقدان کی صورت میں انسان کا ایمان ناقص اور مطلوبہ اثرات سے عاری ہوگا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمیں یہ نکتہ ملحوظ خاطر رکھناہوگا کہ اسلام کی نظر میں اہمیت کی حامل اس محبت سے مراد ایسی اندھی محبت نہیں ہوسکتی جس کا کوئی مقصد یا فائدہ نہ ہو یا اسلام کی مخالف سمت میں ہو بلکہ اس سے مراد ایسی محبت ہے جو اسلام کے عظیم اہداف سے ہم آہنگ ہو_ نیز حقیقی ایمان اور دینی بنیادوں پر استوار ہو_ اس قسم کی محبت ہی ایمان کا حصہ ہوسکتی ہے_
علاوہ براین وطن (جس کی محبت کو ایمان قرار دیا جارہا ہے) سے مراد وہ جگہ بھی نہیں جہاں انسان کی پیدائشے واقع ہو بلکہ اس سے مراد وہ عظیم اسلامی وطن ہے جس کی حفاظت دین اور انسانیت کی حفاظت شمار ہوتی ہو کیونکہ یہ دین کی تقویت اور اعلاء کلمة اللہ کا باعث ہے_
نیز یہی وطن اسلام کی طاقت کا مرکز ہے کیونکہ وہ امن و سکون کی آماجگاہ، نیز فکری و روحانی اور مادی
___________________
۱_ سفینة البحار ج ۲ ص ۶۶۸_
تربیت گاہ ہے اور پھر یہیں سے بہتر اور مثالی مراحل کی طرف انتقال کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن اس وطن سے دوری اور استقلال اورسکون کے فقدان کی صورت میں (تعمیری) قوتیں ضائع ہوجاتی ہیں کیونکہ وہاں انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے مستقبل کے بارے میں غوروفکر کی فرصت ہی نہیں ملتی اور اگر اس کا موقع مل بھی جائے تو مرکزیت جو منظم اور ٹھوس پیشرفت نیز استحکام اور عمل پیہم کا موقع فراہم کرتی ہے، کے فقدان کے باعث وہ اپنے فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا_
خلاصہ یہ کہ وطن، دین اور حق کے دفاع نیز برگزیدہ وبلند اہداف تکے پہنچنے کا وسیلہ ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ بنابریں اصل چیز دین اور انسان ہیں _رہا وطن اوردیگر چیزیں توان کو دین وانسانیت کی خدمت کا وسیلہ سمجھنا چاہیئے_
پس جو شخص اسلام کی حفاظت یا اس سے محبت کے پیش نظر اپنے وطن کی محافظت یا اس سے محبت کرتا ہے اسے ایمان کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے_
لیکن اگر وطن شرک وکفر وانحراف اور انحطاط انسانیت کی سر زمین ہو تو اس قسم کے وطن کی حفاظت یا اس سے محبت درحقیقت شرک کی تقویت اور حفاطت ہوگی_ اور اس محبت کا تعلق کفر وشرک سے ہوگا نہ کہ ایمان اور اسلام سے_
اس لئے قرآن اور اسلام نے ان لوگوں کو جو بلاد شرک میں رہتے ہوں (اوران کا وہاں رہنا دین وایمان کی کمزوری کا باعث ہو) حکم دیا کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے بلاد ایمان واسلام کی طرف چلے جائیں جہاں وہ اپنے دین نیز تخلیقی صلاحتیوں سے مالا مال عظیم انسانیت کی خاطرخواہ اور مؤثر حفاظت کرسکیں_ ارشاد الہی ہے( ان الذین توفاهم الملائکة ظالمی انفسهم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض الله واسعة فتهاجروا فیها فا ولئک ما واهم جهنم وسائت مصیرا ) (۱)
___________________
۱_ سورہ نساء آیت ۹۷ _
یعنی فرشتے جن لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اوران سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے، وہ کہیں گے ہم زمین میں کمزور اور مجبور تھے_ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی تاکہ تم اس میں ہجرت کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے_
بلکہ اگرکسی انسان کا وطن جہاں وہ پیداہوا ہو دین حق کے مقابلے پر اور نور الہی کو بجھانے کی کوشش میں ہو تو اس کو برباد کرنا ہر ایک کے اوپر لازم ہے_ یہاں تک کہ خود اس شخص پر بھی، جس کی وہاں ولادت ہوئی ہو اور زندگی گزری ہو_(۱)
بنابریں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور اصحاب کی مکہ سے مدینہ کو ہجرت فطرت انسانی، عقل سلیم اور صحیح طرزفکر کے تقاضوں کے عین مطابق تھی_ کیونکہ صحیح فکر کے سامنے اچھے اور بلند اہداف ہوتے ہیں نیز اس کی نظر میں ہر چیز کی قدر وقیمت اتنی ہی ہوتی ہے جس قدر ان اہداف کے ساتھ سازگار اور ان تک رسائی میں مددگار ثابت ہو_
آیئےب ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ہجرت کن حالات میں، کن اسباب کی بناپر، اور کس طرح ہوئی؟
ہجرت مدینہ کے اسباب
مکہ سے مدینہ ہجرت کے اسباب بیان کرتے ہوئے ہم درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں:
۱_ مکہ دعوت اسلامی کیلئے مناسب جگہ نہ تھی_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کیلئے مکے میں کامیابی کی جتنی گنجائشے تھی وہ حاصل ہو چکی تھی اور اب اس بات کی امید نہیں تھی کہ مزید لوگ کم ازکم مستقبل قریب میں، اس نئے دین کو اپنائیں گے_
___________________
۱_ علامہ محقق شیخ علی احمدی کا خیال ہے کہ معصومین کے قول ''حب الوطن من الایمان'' کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اپنے وطن سے محبت ہو وہ اس وطن کو انحرافات سے نجات دینے، اس کی مشکلات کو دور کرنے اور وہاں کے معاشرے کو حق و ایمان اور اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کیلئے کوشاں ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے_
جب تک لوگوں کے قبول اسلام کے باعث اس کی تقویت واعانت کی امید تھی مصائب ومشکلات کو برداشت کرنے کی معقول وجہ موجود تھی_لیکن اب مکہ اپنا سب کچھ دے چکا تھا_
مومن جوانوں اور مستضعفین کی کافی تعداد اسلام قبول کرچکی تھی_ لہذا اب مکہ میں وہی لوگ رہ گئے تھے جو اطاعت خدا کیلئے سد راہ تھے_ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے اور اس کے پھیلاؤ کو روک رہے تھے_ ان حالات میں مزید وہاں ٹھہرنا نہ صرف بے دلیل ہوتا بلکہ اسلامی دعوت کے ساتھ خیانت اور اس کے خلاف جنگ میں مدد اور اس کی شکست کا باعث ہوتا_ خاص کر ان حالات میں جبکہ قریش راہ خدا سے لوگوں کو روکنے اور نور الہی کو بجھانے کیلئے اپنی قوتوں کو مجتمع کر رہے تھے حالانکہ خدا کو بس یہ منظور تھا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ مشرکین کو یہ بات نا پسند ہو_
جی ہاں اب یہ بات ناگزیر ہوگئی تھی کہ ایک نئے مرکز کی طرف منتقل ہواجائے، جہاں سکون واطمینان کے ساتھ مشرکین کے دباؤ اور ان کے زیر تسلط اور زیر اثر علاقوں سے دور رہ کر زبانی اور عملی طور پر آزادی کے ساتھ تبلیغ دین کرنے کی ضمانت فراہم ہو_
ادھر ہم مشاہدہ کرچکے ہیں کہ مشرکین رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے_ وہ مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے بلکہ اس نئے دین میں داخل ہونے والے ہر شخص کو سزائیں دیتے اور جن لوگوں کے مسلمان ہونے کا خطرہ ہوتا انہیں ڈراتے تھے_
۲_اسلام اور اس کے داعی اور نمائندہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے کسی محدود کامیابی پر اکتفا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اسلام پوری انسانیت کا دین تھا، ارشاد الہی ہے( وما ارسلناک الا کافة للناس ) (۱) ہم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تمام انسانوں کیلئے (بشیر ونذیر بناکر) بھیجا ہے _
واضح ہے کہ اب تک جو کامیابیاں نصیب ہو چکی تھیں وہ اسلام کی تعلیمات کو عملًا نافذ کرنے اور اس کے سارے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ناکافی تھیں خصوصاً لوگوں کے معاشرتی واجتماعی مسائل وغیرہ کے حل
___________________
۱_ سورہ سبا آیت ۲۸ _
سے متعلق پہلوؤں کے نقطہ نظرسے کہ (قانون اور نظام کی موجودگی میں)جن کو نافذ کرنے کیلئے طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے_
ادھر بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی ذات کو تو دشمنوں کے شرسے بچانے کی ضمانت دے سکتے تھے لیکن وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب اور اس نئے آسمانی دین میں داخل ہونے والوں کی حفاظت کے ضامن نہیں بن سکتے تھے ،خاص کراس صورت میں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بوقت ضرورت اسلامی تعلیمات کے فروغ کو ان پر ضروری قرار دینے کی کوشش فرماتے_ کیونکہ اس صورت میں تو وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی معمولی سی حمایت بھی نہ کرپاتے_
حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے بعد تو حالات نے خودرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے خلاف بھی خوفناک شکل اختیار کرلی تھی جیساکہ ہم ملاحظہ کرچکے اورآئندہ بھی ملاحظہ کریں گے_
۳_دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مسلمان سالہاسال سے آزار اور مظالم کو سہتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ کچھ مسلمان اپنے دین کی حفاطت کے پیش نظر مکہ سے بھاگ کر دوسرے علاقوں میں چلے گئے
جو مسلمان مکہ میں باقی رہے قریش ان کو گمراہ کرنے کیلئے ظلم و زبردستی اور دھوکہ و فریب کے مختلف حربے استعمال کرتے رہے اور یہ مسلمان ان کا سامنا کرتے رہے_
اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر (حمزہعليهالسلام ) نیز بعض دوسرے معدود مسلمانوں ( جنہیں اپنے قبیلوں کی حمایت حاصل تھی)(۱) کے علاوہ باقی مسلمان غالباًغریب اور بے چارے لوگ تھے جن کیلئے سختیوں پر صبر وتحمل کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا _اگر یہ لوگ آلام و مشکلات کا یونہی سامنا کرتے رہتے اور امیدکی کوئی کرن بھی نظر نہ آتی تو پھر خواہ ان کا ایمان کتنا ہی قوی کیوں نہ ہوتا، فطری بات تھی کہ ان حالات میں وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے، اس قسم کی زندگی سے اکتا جاتے اور زودگزر خواہشات ان پر غلبہ پا لیتیںیوں وہ خود بھی ہلاک ہوجاتے اور
___________________
۱_ حتی کہ یہ لوگ بھی نفسیاتی اور روحانی کرب و آزار نیز تلخ اجتماعی منافرت سے محفوظ نہ تھے بسا اوقات یہ حالت بعض مسلمانوں کیلئے (شعور و آگاہی اور تیزبینی میں دوسروں سے ممتاز ہونے کی وجہ سے) جسمانی ایذا رسانی سے بھی سخت بات تھی_
دوسروں کو بھی ہلاک کرتے، کیونکہ مصائب و مشکلات کے ساتھ پوری زندگی گزارنا ان کے بس کی بات نہ تھی چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب جنگ احد میں یہ افواہ پھیلی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا شہید ہوچکے ہیں تو بعض لوگ دوبارہ مشرک ہوجانے کی سوچنے لگے اور مشرکین کے ساتھ صلح کا راستہ، ڈھونڈنے لگے_ اس بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی_
( وما محمد الا رسول قدخلت من قبله الرسل ا فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب منکم علی عقبیه فلن یضرالله شیئا، وسیجزی الله الشاکرین )
یعنی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تو بس اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ان سے پہلے بھی متعدد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم گزرچکے ہیں توکیا اگران کی موت واقع ہو یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں پھرجاؤگے؟ یاد رکھوتم میں سے جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا_البتہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو جزائے خیر دے گا_(۱)
۴_قریش آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو قتل کرنے کی ایک ایسی راہ موجود ہے جس میں بنی ہاشم کے سامنے ان پر کوئی واضح ذمہ داری عائدنہیں ہوگی بالفاظ دیگر بنی ہاشم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خون کا مطالبہ نہ کرسکیں گے کیونکہ ان کے منصوبے کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دس آدمی ملکر قتل کرتے جن کا تعلق مختلف قبائل سے ہوتا_ یوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کاخون بہت سے قبائل کے درمیان تقسیم ہوجاتا کیونکہ بنی ہاشم ان سب کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے_ اگر بنی ہاشم ان سب سے لڑتے تو خود مصیبت میں پھنس جاتے_ لیکن اگر دیہ (یا خون بہا) قبول کرلیتے تو یہ قریش کیلئے اور بھی اچھا ہوتا_ پس جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قتل ہوجاتے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیروکاروں کو ختم کرنا بہت آسان ہوجاتا اور قریش کو کوئی خاص پریشانی پیش نہ آتی بلکہ اگر مسلمانوں کو یونہی چھوڑ دیتے تب بھی وہ خود بخود ختم ہوجاتے_
یہ تھا قریش کا خیال اور منصوبہ، یاد رہے کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اگرچہ خدا کا لطف و کرم تھا اور اس کی توجہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پرتھی لیکن بدیہی بات ہے کہ اگر قریش اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے تو خواہ ان کو
___________________
۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۴۴ _
کامیابی ہوتی یا ناکامی نتیجتاً بنی ہاشم اور قریش کے روابط نہایت کشیدہ ہوجاتے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے مکہ میں رہنے کی صورت میں حالات بدترہوجاتے_ ادھر خدا کا قانون یہ رہا ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے جبری طور پر نہیں روکتا_ ہاں جب دین اور انسانیت کی حفاظت کیلئے نبی کی حفاظت ضروری ہو تو اس صورت میں اللہ کی عنایات نبی کے شامل حال ہوتی ہیں اور دشمن اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے عاجز رہتے ہیں_
خلاصہ یہ کہ ان حالات میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کیلئے مکہ سے نکل کر کسی ایسے پرامن مقام کی طرف جانا ضروری ہوگیا تھا جہاں وہ زیادہ بہتراور جامع صورت میں اپنی دعوت کو پھیلانے اور اپنے مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرسکتے_
مدینہ کے انتخاب کی وجہ
رہا یہ سوال کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے دوسرے مقامات مثلاً حبشہ وغیرہ کو چھوڑ کر مدینہ کو کس بنا پر اپنی ہجرت اور اپنی دعوت کا مرکز منتخب کیا؟
اس سوال کے جواب میں کئی ایک اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے _یہاں ان میں سے درج ذیل کا تذکرہ کرتے ہیں:
۱_مکے کو لوگوں کے ہاں ایک خاص روحانی مقام حاصل تھا _بنابریں مکے پر تسلط حاصل ہوئے بغیر، نیز بت پرستوں کے اثر ونفوذ کوختم کر کے اس کی جگہ اسلام کی قوت کو جاگزین کئے بغیر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام کوششیں رائیگاں جاتیں_ کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کو مکے کی اسی قدر ضرورت تھی جس قدر مکے کو اس دعوت کی_
اسلئے مکے سے قریب ہی ایسے مقام کا انتخاب ضروری تھا جہاں سے بوقت ضرورت مکے پر اقتصادی وسیاسی بلکہ فوجی دباؤ بھی ڈالاجاسکتا ہو کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکے پر تسلط حاصل کرنے کی ضرورت تھی_
ادھرمدینہ ہی وہ مناسب جگہ تھی جہاں اس مطلوبہ دباؤ کے سارے لوازمات موجود تھے_ مدینہ اہل مکہ کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرسکتا تھا_کیونکہ مدینہ مکہ کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ تھا، اور قریش کا گزارہ بھی بنیادی طور پرتجارت پرہی تھا_
چنانچہ پہلے بیان ہوچکا کہ مشرکین قریش نے بیعت عقبہ کے وقت عبداللہ بن ابی سے کہا تھا ''ہماری ناپسندیدہ ترین جنگ جو چھڑ سکتی ہے وہ تم لوگوں سے ہی ہے''_
نیز اس بات کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے کہ جب قریش نے بیعت عقبہ کے بعد سعد بن عبادہ کو پکڑکر سزادی تو حارث بن حرب اور جبیر ابن مطعم نے آکر نجات دی_ کیونکہ وہ ان کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا_
واضح ہے کہ جب اکیلے حضرت ابوذر کے ہاتھوں قریش کی جو شامت آئی سوآئی تو پھر اہل مدینہ کی طرف سے مستقبل میں ان کی جو شامت آتی وہ زیادہ شدید اور دور رس اثرات کی حامل ہوتی_
۲_ان بیانات کی روشنی میں ہم پر واضح ہوا کہ مدینے کی طرف ہجرت کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا کیونکہ اگر طائف کی طرف ہجرت کی جاتی تو کوئی فائدہ نہ ہوتا چنانچہ ہم دیکھ چکے کہ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہاں ہجرت کی تواہل طائف نے منفی جواب دیا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل طائف کے خیال میں مکہ والے ان پر اقتصادی دباؤ ڈال سکتے تھے اور مکہ والوں کو ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی جس قدر انہیں اہل مکہ کی_ نیز آئندہ (کم از کم مستقبل قریب میں) ان کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سیاسی طور پر اہل مکہ کی متابعت کرتے اور ان کے زیر تسلط رہتے_ رہے عرب کے دیگر قبائل تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم آزما چکے تھے کہ وہ لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت قبول کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کیلئے آمادہ نہ تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں اگرنقصان دہ نہیں پایا تھا تو کم از کم اس نتیجے پر ضرور پہنچے تھے کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کسی کام نہیں آسکتے_
ادھر یمن، فارس، روم اور شام کے علاقوں پر نظر کریں تو وہ ان دو بڑی سلطنتوں کے آگے سر تسلیم خم تھے جن سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کو سوائے مشکلات اور عظیم خطرات کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا_
ہم نے اس کتاب کے باب اول کے اواخر میں اسلام کی اشاعت اور کامیابی کے اسباب کا ذکر کرتے
ہوئے اس سلسلے میں کچھ بحث کی تھی_ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے کسری کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے اپنا ایلچی بھیجا تھا تو اس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کے خلاف ایک خطرناک کاروائی کرنے کی کوشش کی تھی_ رہی حبشہ کی بات توواضح ہے کہ حبشہ ایسا ملک نہیں تھا جو اقتصادی، سیاسی اور عسکری نقطہ نظر سے (بلکہ فکری وسماجی حوالے سے بھی) ایک عالمگیر اور جامع انقلاب کی قیادت کرسکتا_
لہذا صرف اور صرف مدینہ ہی باقی رہ جاتا تھا_ چنانچہ ہجرت کیلئے اسی سر زمین کا انتخاب ہوا_
۳_مذکورہ اسباب کے علاوہ مدینہ زرعی نقطہ نظر سے مکے کی نسبت زیادہ خود کفیل تھا_ بالفاظ دیگر اگر ان کو کسی قسم کے تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا (اگرچہ مکہ والے ایسا نہیں کرسکتے تھے) تو وہ اغیار کی خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کئے بغیر اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا گزارہ کر سکتے تھے اگرچہ بمشکل ہی سہی_
زرعی پہلو کے علاوہ دیگر پہلوؤں سے بھی مدینے کو ترجیح حاصل تھی_ نیز پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کی دعوت کیلئے وسیع فعالیت اور ہمہ گیر جد وجہد کی ضرورت تھی کیونکہ یہ عالمی سطح پر ایک جامع انقلاب کی قیادت کرنے والی تھی_ علاوہ بریں اس دعوت کو داخلی طور پر اقتصادی استحکام کی ضرورت تھی تاکہ اس کی بدولت اس دعوت کے علمبرداروں کو اپنے دین کی اشاعت اور اپنے مشن کے پھیلاؤ کی جدوجہد کا موقع میسر ہوسکتا_
۴_چونکہ حج اسلام کے اہم ترین احکام میں سے ایک تھا بنابریں جب تک مکے پر بت پرستوں کا تسلط رہتا حج کی افادیت جاتی رہتی_ نیز عرب قبائل کے درمیان قریش کا وسیع اثر ونفوذ باقی رہتااوران قبائل کے دلوں میں مشرکین مکہ کو ایک قسم کا تقدس بھی حاصل رہتا_ بنابریں مکے کوان کے ہاتھوں سے چھڑانا ضروری تھا تاکہ لوگوں کے نزدیک ان کو جو روحانی مقام حاصل تھا اس کاخاتمہ ہوجاتا اور اس نئے دین کیلئے لوگوں کے دلوں کے دروازے پوری طرح کھل جاتے اورمسلمان کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل آزادی کے ساتھ اس عظیم دینی فریضے کو ادا کرسکتے_
اس بات کی دلیل طبرانی وغیرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ذی الجوشن ضبابی کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اس وقت تک اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے کعبے پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا
غلبہ نہ دیکھ لے_ ایک اور روایت میں مرقوم ہے کہ اس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا:''میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھٹلایا اور نکال باہر کیا نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مقابلہ کیا_ اب میں دیکھتا ہوں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا کرتے ہیں_ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان پر فتح حاصل ہوئی تو میں مسلمان ہوجاؤں گا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کروں گا، لیکن اگر انہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پرغلبہ حاصل ہوا تو پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت نہیں کرونگا''_(۱)
علاوہ ازیں مکہ سے قریب ترین اور مناسب جگہ مدینہ تھی_ مدینہ اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی افرادی قوت کابھی حامل تھا_ اورمکے والوں کے خلاف اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دینے پر قادر تھا_ مکے کے قریبی علاقوں میں سے مدینے کے علاوہ کوئی بھی علاقہ ان خصوصیات کا حامل نہ تھا_
۵_گذشتہ معروضات کے علاوہ مدینہ والے اصل میں یمن کے تارکین وطن تھے اور یمن قدیم زمانے کی ابتدائی تہذیب وتمدن کاکچھ حد تک حامل رہا تھا_ بنابریں وہ عرب نہیں تھے کہ ان کے دل قساوت سے لبریز ہوتے_ نیز قریش کی طرح اس علاقے میں ان کیلئے اقتدار یابڑے مفادات کا مسئلہ بھی در پیش نہ تھا_ نہ ہی وہ کسی خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں زندگی گزارتے تھے جس طرح قریش والے عدنانیوں کے درمیان اپنی خاندانی حیثیت، مکہ کی سرداری اور بیت اللہ کے متولی ہونے کے باعث ایک خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں رہ رہے تھے_
ان باتوں کے ساتھ ساتھ عدنانیوں اور قحطانیوں کے درمیان واضح اختلاف کا مسئلہ بھی تھا_ قحطان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو دشمنوں کے حوالے کرنے کیلئے (دینی یا نظریاتی جذبات سے قطع نظر) آمادہ نہیں ہوسکتے تھے_ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کی وفات کے بعد بھی اس اختلاف کے آثار دیکھنے میں آتے ہیں اسی بنا پر حضرت عمرنے بیت المال کی تقسیم میں عدنانیوں کو قحطانیوں پر ترجیح دی_ اس بات نے امویوں کیلئے اس روش سے استفادہ کرنے نیز یمنیوں اور قیسیوں کے درمیان فتنوں کی آگ بھڑکانے کا راستہ ہموار کیا_
___________________
۱_ مجمع الزوائد ج ۲ ص ۶۸ یہاں یوں مذکور ہے، اسے عبداللہ بن احمد اور اس کے والد نے نقل کیا ہے لیکن اس کا متن ذکر نہیں کیا_ طبرانی سے بھی اسے نقل کیا ہے_ (ان دونوں کے راوی بخاری کے راوی ہیں) نیز ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے_
جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی نظر میں اولاد اسماعیل کو اولاد اسحاق پر کوئی ترجیح حاصل نہ تھی_ (بہرحال یہ اس بحث کا مقام نہیں)_
۶_پھراہل مدینہ نے انحراف وگمراہی کا مزہ نہایت اچھی طرح سے چکھا تھا_ جنگوں نے ان کو تباہ وبرباد کر ڈالا تھا_ وہ مستقل طور پر خوف ودہشت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے_ یہاں تک کہ وہ شب وروز مسلح رہتے تھے اور اپنے بدن سے اسلحوں کوجدا نہ کرتے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_ یہ بھی بیان ہوچکا کہ خزرج والے قریش کو اپنا حلیف بنانے کیلئے مکہ بھی گئے تھے لیکن قریش نے ان کی بات نہ مانی_ اہل مدینہ اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اس گھٹن کی فضا سے نکلیں_ یہاں تک کہ اسعد بن زرارہ نے اس امر پر اپنے غم وافسوس کا اظہار کیا _چنانچہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے یوں عرض کیا:'' ہمارا تعلق یثرب کے قبیلہ خزرج سے ہے_ ہمارے اور اوسی بھائیوں کے درمیان تعلقات منقطع ہیں_اگر اللہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعے ان تعلقات کو بحال کردیتا ہے تو کیا ہی اچھی بات ہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے زیادہ صاحب عزت اور کوئی نہیں ''_ (ان باتوں کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے) _
اس کے علاوہ مدینے میں اسلام کے پہنچنے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کی حفاظت اور اعانت ضروری تھی تاکہ اس دین کی حمایت اور اعلاء کلمہ حق کا سلسلہ جاری رکھ سکتے_
۷_آخری نکتہ یہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ظہور کا زمانہ قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں کے باعث سارے لوگ اس دین کو قبول کرنے کیلئے آمادہ تھے_ لیکن ان کو مناسب فرصت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی_ان حالات میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا انہیں کیسے نظر انداز کرسکتے تھے_ اور ان کیلئے قبول اسلام کا موقع فراہم کرنے سے کیسے چشم پوشی کرسکتے تھے جبکہ اہل یثرب بیعت عقبہ کر کے خود ہی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو مدینہ آنے کی دعوت دے رہے تھے_
یہ تھے وہ نکات جن کی طرف فرصت کی کمی کے سبب صرف اشارہ کرناہی ہم نے کافی سمجھا_
مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کا قیام
چونکہ ہجرت کی وجہ سے مسلمانوں کو بظاہر بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کیلئے اعلی سطح پر ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کی ضرورت تھی بنابریں ہجرت کی تیاری کے طورپر مواخات (بھائی چارے) کا اقدام عمل میں آیا، جس کا مقصد انسانی روابط کو مصلحتوں اور مفادات کی سطح سے بلند کر کے ایک ایسے برادرانہ رابطے کی شکل دینا تھا جو خدا پر ایمان کی بنیادوں پر استوار ہو_
تاکہ اس کی بدولت مسلمانوں کے باہمی تعلقات حقیقت سے قریب تر، منظم تر اور نفسیاتی رجحانات سے دورتر ہوں جو بسااوقات مدد کرنے والے یا مدد لینے والے کے ذہن میں ایسے خیالات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جن سے روابط میں (کم از کم نفسیاتی طور پر) پیچیدگی پیدا ہوتی ہے_
بہرحال رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مہاجرین کے در میان حق اور ہمدری کی بنیادوں پر بھائی چارہ قائم کیا_آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے در میان، حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے د ر میان، حضرت زبیر اور حضرت ابن مسعود کے درمیان حضرت عبادة بن حارث اور حضرت بلال کے درمیان، حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے درمیان، حضرت ابوعبیدہ اور حضرت سالم (غلام ابوحذیفہ) کے درمیان، حضرت سعید بن زید اور حضرت طلحہ کے درمیان اور حضرت علیعليهالسلام اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور حضرت علیعليهالسلام سے فرمایا: ''اے علیعليهالسلام کیا تم نہیں چاہتے کہ میںتمہارا بھائی قرار پاؤں؟'' عرض کیا :''کیوں نہیں اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں تو راضی ہوں''_ فرمایا:'' پس تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی''_(۱) (اس دوران عثمان کے حبشہ میں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جیساکہ ہجرت کے بعد والے مواخات کی بحث میں اس کا تذکرہ ہوگا انشاء اللہ ) _
ہم انشاء اللہ جلدہی بتائیں گے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان
___________________
۱_ سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۲۰ نیز دحلان کی سیرت نبویہ ج ۱ ص ۱۵۵ از استیعاب نیز تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۳، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۴ اور تلخیص مستدرک ذہبی_
بھائی چارہ قائم کیا تھا_ وہاں ہم حدیث مواخات کے بعض مآخذ کابھی ذکر کریں گے نیز ابن تیمیہ وغیرہ کی طرف سے حدیث مواخات کے انکار اور اس کے جواب کا بھی تذکرہ کریں گے_ اس کے علاوہ حدیث مواخات پراپنی صوا بدید کے مطابق مناسب تبصرہ بھی کریں گے انشاء اللہ _
مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کا آغاز
کہتے ہیں کہ عقبہ کی دوسری بیعت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین ماہ پہلے ہوئی تھی_ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عقبہ کی پہلی بیعت مدینہ والوں سے لی تو چونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب مشرکین کی ایذاء رسانیوں کے باعث مکہ میں ٹھہرنے اور ان کے مظالم کو برداشت کرنے پر قادر نہ تھے_ بنابریں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ا نہیں مدینہ جانے کی اجازت دی_
لیکن خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مکے میں ہی حکم خدا کے منتظر رہے_ یوں مسلمان مختلف ٹولیوں کی شکل میں خارج ہوئے_ یہاں تک کہ خدانے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی ہجرت کی اجازت دی (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_
بے مثال نمونہ:
یہاں اس حقیقت کو ملاحظہ کرنا ضروری ہے کہ حقیقی مسلمانوں نے اپنے وطن( جس میں ان کی پرورش ہوئی اور زندگی گزری )اور دنیا کے تمام مال ومتاع (جو انہیں حاصل ہوا) نیز اپنے معاشرتی و خاندانی رشتوں کو انہوں نے کس طرح قربان کردیا اور دین کے بدلے تمام لوگوں (یہاں تک کہ اپنے باپ بھائیوں اور بیٹوں) کے ساتھ دشمنی مول لی_ یوں وہ اپنے ہدف، اپنے دین اور اپنے عقیدے کی راہ میں وطن سے نکلے اور ایسے مستقبل کی طرف بڑھے جس کے بارے میں ان کو علم تھا کہ وہ خطرات اور حادثات سے بھر پور ہوگا_ یہ بے مثال اور حیرت انگیز نمونہ ہمیں ہجرت میں دکھائی دیتا ہے_ خواہ ہجرت مدینہ ہو یا ہجرت حبشہ_
عمر ابن خطاب کی ہجرت
ایک چیز جس کی طرف یہاں ہماری توجہ مبذول ہوتی ہے وہ حضرت عمر ابن خطاب کے قبول اسلام کی کیفیت سے متعلق کہی گئی بات ہے_ چنانچہ بعض لوگ حضرت علیعليهالسلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:''جہاں تک میں جانتا ہوں تمام مہاجرین نے چھپ کر ہجرت کی سوائے عمر بن خطاب کے_ کیونکہ جب حضرت عمر نے ہجرت کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی تلوار گلے میں لٹکائی_ اور کمان دوش پر ڈالی اپنے ہاتھوں میں چند تیر اٹھائے ایک نوک دار ڈنڈا بھی ساتھ لیا_ کعبہ کی طرف چل پڑے قریش کی ایک جماعت کعبہ کے احاطے میں بیٹھی تھی پھرحضرت عمر نے کعبہ کا سات بارطواف کیااور مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھی _اس کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور کہا_ خدا بگاڑدے ان چہروں کو_ خدا ان ناکوں کو خاک میں ملا دے _ (یعنی ان کو ذلیل وخوار کرے گا) پس جویہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس کے سوگ میں روئے یا اس کا فرزند یتیم ہوجائے_ یا اس کی بیوی بیوہ ہوجائے_ تو اس وادی کے اس پار میرے سامنے آئے''_ پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ '' کوئی بھی عمر کے پیچھے نہیں گیا اور اس نے اپنا سفر جاری رکھا''_(۱)
ہمیں یقین حاصل ہے کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کیونکہ حضرت عمر اس قسم کی شجاعت کے مالک نہ تھے _ اس کی دلیل درج ذیل امور ہیں:
۱_حضرت عمر کے قبول اسلام کے متعلق بخاری وغیرہ سے نقل کیا جاچکا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ڈرکے مارے اپنے گھر میں چھپے رہے_ یہاں تک کہ عاص بن وائل آیا اور انہیں امان دی _اس کے بعد حضرت عمر اپنے گھر سے نکلے_
۲_جنگوں میں حضرت عمر کا عام طور پر جوبزدلانہ رویہ رہا اس کے پیش نظر اس قسم کی باتوں کی تصدیق کرنے کی جرا ت ہم میں پیدا نہیں ہوسکتی_ چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اور مسلمانوں کو بزدلی پر
___________________
۱_ منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ ص ۳۸۷ از ابن عساکر، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۱_ ۲ اور نور الابصار ص ۱۵ میں بھی اس کی جانب اشارہ کیا گیا ہے نیز کنز العمال ج۱۴ ص ۲۲۱ و ۲۲۲ از ابن عساکر_
اکسانے والی ایسی گھٹیا بات کی جسے سن کر نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چہرہ اقدس سے غصہ کے آثار ظاہر ہوئے_ جنگ احد میں وہ بھاگ گئے، حنین میں بھی بھاگ گئے حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطرہ در پیش ہے_ لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور فقط اپنی جان بچانے کی سوچی_ادھر خیبر میں ان کا فرار تو اور بھی باعث تعجب ہے کیونکہ وہاں ان کے ساتھ ان کا بچاؤ کرنے والے بھی تھے_ رہا غزوہ خندق تو وہاں وہ عمرو بن عبدود کے مقابلے پرنکلنے کی جرا ت ہی نہ کرسکے_ادھر جنگ احدمیں جب نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا_ کون ہے جو اس تلوار کو لے اوراس کا حق ادا کرے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے وہ تلوار مانگی لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں کو نہ دی بلکہ اسے ابودجانہ کے حوالے فرمایا_ ان کے علاوہ اور بھی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _ان میں سے بعض واقعات کی طرف ہم آئندہ صفحات میں اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_
عجیب بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان تینوں نے کسی ایک شخص کو بھی ( میدان جنگ میں ) قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے (دو بدو) جنگ کی ہے ، اور اس بارے میں مذکور واقعات کو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ صحیح نہیں ہیں_ اسی طرح انہوں نے راہ خدا میں کوئی بھی زخم نہیں کھا یا حتی کہ ان کی انگلیوں سے بھی خون کے قطرے تک نہیں ٹپکے جبکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بزرگ صحابہ نے راہ خدا میں مصیبتیں بھی اٹھائیں اور شہید بھی ہوئے_ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنوںمیں تو بہادر بنتے تھے لیکنبوقت جنگ ہرگز بہادر نہیں تھے_
۳_ہم قبل ازیں اشارہ کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے سال وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا پیغام لے کر مکہ والوں کے پاس جانے کی ہمت نہ کرسکے اور بہانہ یہ بنایا کہ اگراس کو ایذاء دی گئی تو بنی عدی اس کی مدد نہیں کریں گے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص مذکورہ کارکردگی اوربہادری کا حامل رہا ہو اسے بنی عدی یا کسی اور کی ضرورت ہی کیاتھی؟
۴_فتح مکہ کے دوران ابوسفیان اور عباس مسلمانوں کے جھنڈوں کا جائزہ لے رہے تھے انہوں نے
حضرت عمر کو گزرتے دیکھا جبکہ ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی اس وقت ابوسفیان نے عباس سے کہا: '' اے ابوالفضل یہ کون ہے جو بات کر رہا ہے؟ ''عباس نے جواب دیا :''یہ عمر بن خطاب ہے''_ابوسفیان بولا : ''واللہ بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت مل گئی''_ عباس بولا :''اے ابوسفیان اللہ جس کسی کا مقام جس طریقے سے چا ہے بلند کردیتا ہے اور عمر بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے جس کا مقام اسلام کی بدولت بلند ہوا ہے''_(۱)
۵_یہ لوگ اسی بات پر متفق ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سارے لوگوں سے زیادہ شجاع تھے_ بلکہ (جلدہی ذکر ہوگا کہ) ان میں سے بعض حضرات نے اس بات کا دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابوبکر تمام صحابہ سے زیادہ شجاع تھے( جبکہ بعدمیں ہم یہ دیکھیں گے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے) ہجرت کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ غار میں چھپ گئے اور حضرت ابوبکر ڈرکے مارے روتے رہے حالانکہ وہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھے جن کی حفاظت اور حمایت کی ذمہ داری خدانے لے رکھی تھی_اور اس بات کے ثبوت میں بہت سے معجزات بھی دیکھنے میں آئے ہیں_ خدانے بھی قرآن میں حضرت ابوبکر کے حزن وغم کا ذکر کیا ہے جبکہ حضرت ابوبکر کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے بعد سب سے زیادہ بہادر شخص تھے_ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ دو تو ڈریں لیکن حضرت عمر نہ ڈریں؟
پھر حضرت عمر نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دفاع کرتے ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکہ سے مدینہ کیوں نہیں پہنچایا؟
نیز حضرت عمرنے یہ کیسے گوارا کرلیا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اس قدرمشکلات اور مصیبتیں جھیلتے رہیں یہاں تک کہ بعد میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خود ہی مشکلات کے گرداب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے بلکہ حضرت عمر میں اتنی شجاعت اور طاقت تھی تو پھر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہجرت کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اس سورما کو چاہیئےتھا کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت وحفاظت کرتا اور قریش کی ایذاء رسانیوں سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو محفوظ رکھتا_
ان باتوں کے علاوہ ہم نہیں سمجھ سکے کہ تاریخ نے حضرت حمزہ کے بارے میں اس قسم کے مردانہ اقدام کا
___________________
۱_ مغازی الواقدی ج ۲ ص ۸۲۱ و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۹۵ از ابن عساکر اور واقدی_
ذکر کیوں نہیں کیا جبکہ حضرت حمزہعليهالسلام اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر تھے_ انہوں نے ہی ابوجہل کا سر پھوڑا تھا اور مسلمانوں کو ان کے قبول اسلام سے سرفرازی حاصل ہوئی تھی_
نیز کیا وجہ تھی کہ حضرت عمر نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اوربنی ہاشم کو شعب ابیطالب میں چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے قریب المرگ ہوگئے تھے اور کوئی شخص ان تک کھانے کا سامان پہنچانے کی جرا ت نہ کرتا تھا جبکہ مذکورہ لوگوں کے نزدیک حضرت عمر شعب ابوطالب کے محاصرے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے( اگرچہ ہم قبل ازین قطعی طور پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے مسلمان ہوئے تھے)_
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی معقول اور قابل قبول جواب ان لوگوں کے پاس موجود نہیں_
حقیقت
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دھمکی امیرالمومنین علیعليهالسلام نے اس وقت دی تھی جب وہ ہجرت کر رہے تھے اورضجنان کے مقام پر ان کی سات مشرکین سے مڈبھیڑ ہوگئی تھی_ اس قصے کا تفصیلی ذکر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کے بعد امیرالمومنین علیعليهالسلام کی ہجرت کے بیان میں ہوگا_ لیکن حضرت علیعليهالسلام کے دشمن ان کی یہ فضیلت برداشت نہ کرسکے خاص کراس حقیقت کے بعد کہ وہ اپنی یہ شجاعت شب ہجرت بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سوکر ثابت کرچکے تھے_
وہ حضرت علیعليهالسلام کے بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونے کا انکار تو نہیں کرسکے اس لئے اپنی عادت کے مطابق انہوں نے آپعليهالسلام کی دوسری فضیلت پرڈاکہ ڈال کر کسی اورکی طرف اس کی نسبت دے دی_ غار والے واقعے میں حضرت ابوبکرکی شان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_ بلکہ وہ تو سوائے اس کے کسی بات پر راضی نہ ہوئے کہ حضرت عمر کی فضیلت خود حضرت علیعليهالسلام کی زبانی بیان کی جائے جیساکہ ہمیں اس قسم کے موقعوں پر ان کے اس وطیرہ کا باربار مشاہدہ کرنے کی عادت ہوچکی ہے_ کیونکہ یہ طریقہ دلوں پر زیادہ اثر
کرتا ہے_ شکوک وشبہات سے دورتراورزیادہ قابل قبول ہوتا ہے_
لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے( نقذف بالحق علی الباطل فیدمغه فاذا هو زاهق ) (۱) یعنی ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں یوں باطل ذلیل ہوکر نابود ہوجاتا ہے_ چنانچہ ایساہی ہوا_
ہجرت مدینہ کا راز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور یہ امر خود آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کا مقدمہ تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا :''خداوند عالم نے تمہارے لئے غم خوار بھائیوں اور امن وسکون سے رہنے کیلئے گھروں کا بندو بست کیا ہے''_ پس مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی _کچھ چھپ چھپا کرچلے گئے اور کچھ اعلانیہ_ انہوں نے اس مقصد کیلئے اپنے وطن، اپنے تعلقات اور بہت سوں نے مال و دولت اور معاشرتی حیثیت کی قربانی دی_ یہ سب کچھ انہوں نے اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں انجام دیا_
بالفاظ دیگر دین اور نظریے کی حیثیت ہر چیز سے زیادہ اہم اور بالاتر ہے_ پس وطن، مال اور جاہ و مقام وغیرہ کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب دین کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ دین حق کی حفاظت میں ہی وطن، مال اور دیگر چیزوں کی حفاظت کاراز پوشیدہ ہے _اگر دین حق محفوظ نہ رہے تو ہر چیز اگر ایک مصیبت یا بہت سے موقعوں پر انسان کیلئے خطرناک نہیں تو کم از کم زوال پذیر ضرور ہوجاتی ہے_
قریش اور ہجرت
ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے ہجرت اور اس کے مقابلے میں قریش کی پالیسی سے متعلق تھوڑی سی گفتگو کی تھی_ چنانچہ یہاں اس کا اعادہ نہیں کرتے_یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قریش نے ہجرت
___________________
۱_ سورہ انبیاء آیت ۱۸_
حبشہ کی اس قدرسخت مخالفت کی تھی یہاں تک کہ مسلمانوں کوارض حبشہ سے واپس لانے کی کوشش کی تو پھر ہجرت مدینہ کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہوگا ؟جبکہ انہیں مسلمانوںکی اس ہجرت میں اپنے مفادات، اپنے وجوداوراپنے مستقبل کیلئے زبردست خطرات نظر آرہے تھے_
چنانچہ قریش نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے کی کوشش کی_ اگر کوئی مسلمان ان کے ہاتھ لگتا تو وہ اس کو قید کرتے اسے اپنے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش اور اس کے خلاف ظلم وتشددکے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے_ لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی_ دوسری طرف قریش اکثر مسلمانوں کا صفایاکرنے سے بھی اپنے آپ کو عاجز پاتے تھے کیونکہ اکثر مہاجرین کا تعلق مکی قبائل سے تھا اور ان میں سے کسی کا بھی قتل خود قریش کے درمیان خانہ جنگی کا باعث بن جاتا اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ کام کسی صورت میں بھی قریش کے مفادمیں نہ تھا_
ہمارے ان عرائض کی تائید ابوسلمہ کے واقعے سے ہوتی ہے چنانچہ جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ وہاں سے نکلا تو بنی مغیرہ کے بعض مردوں نے اس کا رخ کیا اور اس کی بیوی کو چھین لیا کیونکہ اس کی بیوی کا تعلق ان کے قبیلے سے تھا_ اس بات کے نتیجے میں ابوسلمہ کا قبیلہ بنی عبدالاسد جوش میں آگیا اور انہوں نے سلمہ (ابوسلمہ کے بیٹے) کو اس کی ماں سے چھین لیا_ یہ واقعہ تاریخ اور رجال کی کتابوں میں معروف ہے_(۱)
قریش اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ اس بڑی ہجرت کے بعد خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی اس لئے ہجرت کرجائیں گے تاکہ وہاں زیادہ وسیع اور گہری بنیادوں پر مکمل آزادی کے ساتھ قیادت و رہبری اور ہدایت کا عمل انجام دے سکیں اور مدینہ والے بھی تمام تر وسائل کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کریں گے_ بنابر ایں انہیں سوائے اس بات کے کسی اور چیز کی فکر نہ تھی کہ ہر ممکنہ طریقے اور حیلے سے اس عمل کا راستہ روکا جائے_
___________________
۱_ البدایة ج ۳ ص ۱۶۹، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۱۲ اور السیرة النبویة ابن کثیر ج ۲ ص ۲۱۵ ، ۲۱۶_
دوسری فصل
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت
سازش:
قریش کے رؤسا''دار الندوة'' میں جمع ہوئے_ اس اجتماع میں بنی عبد الشمس، بنی نوفل، بنی عبدالدار، بنی جمح، بنی سہیم، بنی اسد، اور بنی مخزوم وغیرہ کے رؤسا موجود تھے_انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی مجلس میں کوئی تہامی شامل نہ ہو کیونکہ تہامیوں کی ہمدردیاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں_(۱)
انہوں نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ان کے درمیان ہاشمیوں یا ان سے مربوط افراد کا کوئی جاسوس موجود نہ ہو_(۲)
روایات کے مطابق ابلیس بھی نجدی شیخ کی صورت میں ان کے درمیان موجود تھا(۳) _ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے_ بعض شرکاء نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لوہے میں جکڑ کر قید کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کو یہ خطرہ نظر آیا کہ کہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مددگار آپ کو چھڑا نہ لیں_ پھر یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وطن سے نکال کر کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے لیکن اس میں یہ خامی دیکھی کہ اس سے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے دین کی اشاعت میں مدد مل سکتی ہے_ آخر کار ابوجہل یا شیطان کی تجویز کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ ہر قبیلے سے ایک مضبوط اور باہمت جوان چن لیا جائے جو اپنی قوم میں شریف النسب، صحیح النسب اور ممتاز ہو_ ان میں سے ہر ایک کوایک ایک شمشیر آبدار تھمائی جائے تاکہ وہ اپنی تلواریں لیکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہوں اور مل کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کریں_ اس طرح آپصلىاللهعليهوآلهوسلم قتل ہوجائیں گے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خون کی ذمہ داری سارے قبائل میں تقسیم ہوجائے گی _ کیونکہ بنی عبد مناف ان سب قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے نتیجتاً وہ دیت قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جو تمام قبائل مل کر انہیں دیں گے اور یوں معاملہ صاف ہوجائے گا_
___________________
۱،۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۱ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۵ نیز رجوع کریں نور الابصار ص ۱۵_
۳_ تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۶۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۵ نیز تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۱ و ۳۲۲_
واضح ہے کہ ان دس افراد کیلئے جو شرائط رکھی گئیں تھیں ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے کو اس امرمیں تنہا نہ چھوڑے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ امر قریش پر ضرب لگانے کیلئے بنی ہاشم کی قوت میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا خواہ وہ ضربت کتنی ہی محدود پیمانے پر کیوں نہ ہوتی_
اس کے علاوہ یہ شرائط اس بات کا باعث بنتیں کہ اس جرم کے ارتکاب کیلئے آمادہ ہونے والے زیادہ اطمینان اور شجاعت کے ساتھ اس خطرناک مہم کو انجام دیتے جس میں شک وتردید اور بزدلی کی کوئی گنجائشے باقی نہ رہتی_
بہرحال خدانے وحی کے ذریعے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس سازش سے باخبر کیا اور یہ آیت نازل فرمائی: (واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ واللہ خیرالماکرین)(۱) یعنی جب کافروں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف سازش کی تاکہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قید کریں یا قتل کریں یا نکال باہر کریںتو وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے_ خدائی مکر کسی دوسرے کی چال کو پوشیدہ طریقہ سے ناکام بنانے والی تدبیر کا نام ہے_
علیعليهالسلام کی نیند اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت:
مورخین کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو قریش نے منتخب کیا تھا وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے دروازے پر جمع ہوئے یعنی بعض روایات کی بنا پر عبد المطلب کے دروازے پر جمع ہوئے(۲) اور گھات لگا کر بیٹھ گئے اور آپکے سونے کا انتظار کرنے لگے وہ افراد یہ تھے: حکم ابن ابی العاص، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، امیہ بن خلف، زمعة بن اسود، ابولہب، ابوجہل، ابوالغیطلہ، طعمہ بن عدی، ابی ابن خلف، خالد بن ولید، عتبہ، شیبہ، حکیم بن حزام، اور حجاج کے بیٹے نبیہ و منبہ_(۳)
___________________
۱_ سورہ انفال آیت ۳۰ _
۲_ بحار ج ۱۹ ص ۷۳ از الخرائج والجرائح
۳_ ان کے ناموں کا ذکر السیرة الحلبیة ج ۲ و بحارالانوار ج ۱۹ ص ۷۲ و ۳۱ اور مجمع البیان وغیرہ میں کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر ہوا ہے _
یوں قریش نے اپنے ان پندرہ قبائل میں سے دس یا پندرہ افراد بلکہ اس سے بیشتر کا انتخاب کیا (بنابر اختلاف اقوال) تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوایک ساتھ وار کر کے قتل کر دیں_ ایک ضعیف قول کی بنا پر ان کی تعداد سوتھی(۱) لیکن ہماری نظر میں یہ روایت حقیقت سے دور ہے کیونکہ دیگر روایات کی مخالف ہے_
خلاصہ یہ کہ وہ جمع ہوگئے اور اللہ نے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان کے مکر سے آگاہ فرمایا_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علیعليهالسلام کو قریش کے منصوبے سے آگاہ فرمانے کے بعد حکم دیا کہ وہ رات کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پر سو جائیں_ حضرت علیعليهالسلام نے عرض کیا ''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میرے وہاں سونے سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان بچ جائے گی''_
فرمایا ہاں_ یہ سن کر حضرت علیعليهالسلام خوشی سے مسکرائے اور زمین پر سجدہ ریز ہوگئے تاکہ اللہ کا شکرادا کریں_ یوں وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بستر پر سوگئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حضرمی چادر اوڑھ لی_ اس کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ رات کے پہلے حصے میں خارج ہوئے جبکہ قریش کے افراد گھر کے اردگرد گھات لگائے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منتظر بیٹھے تھے_
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ آیت پڑھتے ہوئے نکلے( وجعلنا من بین ایدیهم سدا ومن خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لایبصرون ) (۲) یعنی ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے اب انہیں کچھ نہیں سوجھتا_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دست مبارک میں ایک مشت مٹی تھی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ مٹی ان کے سروں پر پھینک دی_ اور ان کے درمیان سے گزرگئے_ اور انہیں احساس تک نہ ہوا پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غار ثور کی راہ لی_
ادھر امیرالمؤمنینعليهالسلام سوئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر آئے اور کہا :''اے اللہ کے رسول''_ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سونے والے اللہ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں حضرت علیعليهالسلام نے ان سے فرمایا :''رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ چاہ میمونہ کی طرف
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۸۰ اور نور الابصار ص ۱۵
۲_ سورہ ی س آیت ۹ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۰_۸۱
چلے گئے ہیں پس ان کی خدمت میں پہنچ جاؤ''_ چنانچہ حضرت ابوبکر چلے گئے اور حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے _(۱)
کہتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت علیعليهالسلام کو پتھر مارنے شروع کئے جس طرح وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو مارتے تھے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم درد سے تڑپتے اور پیچ وتاب کھاتے رہے_ آپ نے اپنے سر کو کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اورصبح تک اس سے باہر نہ نکالا_ پھر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے_ جب حضرت علیعليهالسلام نے ان کو تلوار سونتے اپنی طرف آتے
___________________
۱_ آخری جملوں کیلئے رجوع کریں مناقب خوارزمی حنفی ص ۷۳ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۳۳ و تلخیص مستدرک (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، مسند احمد ج ۱ ص ۳۲۱ و تذکرة الخواص (سبط ابن جوزی) ص ۳۴، شواہدالتنزیل ج ۱ ص ۹۹_۱۰۰،۱۰۱، تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰، تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۰۷ ابن صباغ مالکی کی کتاب فصول المہمة ص ۳۰، و نسائی کی خصائص امیرالمومنین مطبوعہ نجف ص ۶۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵ مجمع الزوائد ج ۹ _ص ۱۲۰ از احمد (اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ایک راوی کے جو ثقہ ہے و از طبرانی درکبیر و اوسط_ بحار ج ۱۹ ص ۷۸_۹۳ از طبری و احمد، عیاشی اور کفایة الطالب، فضائل الخمسة ج ۱ ص ۲۳۱، ذخائر العقبی ص ۸۷ اور کفایة الطالب ص ۲۴۳ اس کتاب میں مذکور ہے کہ ابن عساکر نے اسے اربعین طوال میں ذکر کیا ہے_
نیز رجوع کریں : الامام علی بن ابیطالب در تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق المحمودی ج ۱ ص ۱۸۶ و ۱۹۰ محمودی نے اسے اپنے حاشیے میں احمد بن حنبل کی کتاب الفضائل (حدیث نمبر ۲۹۱) نیز غایة المرام (ص ۶۶) سے طبرانی ج ۳ (ورق نمبر ۱۶۸ ب) کے واسطے سے نقل کیا ہے علاوہ بریں کفایة الطالب کے حاشیے میں ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۳ سے نقل ہوا ہے_ رہے آخری جملے تو وہ احادیث و تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہیں_
بحار ج ۱۹ ص ۶۱ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱ میں مذکور ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوبکر اور ہند بن ہالہ کو حکم دیا کہ وہ غار کے راستے میں ایک معینہ مقام پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا انتظار کریں_ اور بحار ج ۱۹ ص ۷۳ میں الخرائج و الجرائح سے منقول ہے حضور روانہ ہوئے جبکہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہیں دیکھ رہے تھے_ پھر حضرت ابوبکر کو دیکھا جو رات کے وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلاش میں نکلے تھے_ وہ قریش کے منصوبے سے آگاہ ہوچکے تھے چنانچہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابوبکر کو اپنے ساتھ غار کی طرف لے گئے_
اگر اس بات کو صحیح تسلیم کرلیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان کے منصوبے سے کیوں آگاہ نہیں کیا؟ مگر یہ کہ کہا جائے وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اطلاع دینے آئے تھے_ اس سے بھی اہم سوال یہ کہ قریش نے حضرت ابوبکر کو اپنے منصوبے سے کیونکر آگاہ کیا جبکہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ معمولی سے روابط رکھنے والے سے بھی اس کو چھپانے کی زبردست کوشش کرتے تھے جبکہ دیار بکری وغیرہ کا صریح بیان اس سے قبل گزر چکا ہے_
دیکھا جبکہ خالد بن ولید آگے آگے تھا تو حضرت علیعليهالسلام اس پرجھپٹ پڑے اور اس کے ہاتھ پر مارا خالد بچھڑے کی طرح اوپر نیچے چھلانگیں لگانے اور اونٹ کی طرح بلبلانے لگا_
آپعليهالسلام نے اس کی تلوار چھین لی اورمشرکین پر حملہ آور ہوئے_ مشرکین چوپایوں کی طرح خوفزدہ ہو کر گھرسے باہر بھاگ نکلے_ پھر انہوں نے غورسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو حضرت علیعليهالسلام ہیں_ وہ بولے'' کیا تم علیعليهالسلام ہو؟''_ انہوں نے فرمایا:'' ہاں میں علیعليهالسلام ہوں'' مشرکین نے کہا: ''ہمیں تم سے کوئی غرض نہ تھی_ یہ بتاؤ کہ تمہارا ساتھی کہاں گیا؟'' فرمایا :''مجھے کوئی خبر نہیں''_(۱)
قریش پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلاش میں
قریش نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئےور وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تعاقب میںسخت جان اور تا بعدار سواریوں پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے_ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قدموں کے نشانات دیکھتے گئے_ یہاں تک کہ کھوجی (جو قدموں کے نشانات معلوم کرنے کا ماہر ہوتا ہے) اس جگہ پہنچا جہاں ابوبکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملحق ہوئے تھے_ اس نے مشرکین کو بتایا کہ وہ جس شخص کو تلاش کر رہے ہیں یہاں سے ایک اور شخص بھی اس کے ساتھ ہوگیا ہے_ بہرحال وہ قدموں کے نشانات دیکھتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے لیکن اللہ نے انہیں لوٹا دیا کیونکہ مکڑی نے غار کے دھانے پر جالا بن لیا تھا_ اور ایک جنگلی کبوترنے غار کے اندر داخل ہونے کے راستے میں ہی انڈے دے دیئے تھے اور اسی طرح کی دوسری باتیں جو تاریخ میں مذکورہیں_ چنانچہ ان لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ یہ غار متروکہ ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوا وگرنہ مکڑی کا جالاکٹ جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے، اور جنگلی کبوتر بھی غار کے دھانے پر بسیرا نہ کرتا(۲) _
ادھر امیرالمؤمنینعليهالسلام نے رات تک انتظار فرمایااور پھر رات کی تاریکی میں ہند ابن ابی ہالہ کو ساتھ لیکر چلے گئے یہاں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس غار میں داخل ہوگئے_ پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ہند کو حکم دیا کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
___________________
۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۲_۸۳_
۲_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۸ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۷ اور البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۱ و ۱۸۲_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھی کیلئے دو اونٹ خرید کرلائے_
اس وقت حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں نے اپنے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے دو سواریوں کا بندوبست کر رکھا ہے آپ انہیں ساتھ لیکر یثرب کا سفر کیجئے''_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' قیمت اداکئے بغیرمجھے ان دونوں کی ضرورت ہے نہ ان میں سے ایک کی''_
ابوبکر نے عرض کیا :''پس آپ قیمت دیکر ان کو لیجئے''_
آپ کے حکم سے حضرت علیعليهالسلام نے حضرت ابوبکر کو قیمت ادا کردی(۱) _
اس کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت علیعليهالسلام کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذمہ داریاں نبھانے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امانتیں ادا کرنے کی نصیحت کی کیونکہ قریش اور حج کے ایام میں مکہ آنے والے عرب حجاج اپنا مال و متاع رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس بطور امانت رکھتے تھے_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام مکے میں پکار پکار کر یہ اعلان کریں ''جس کسی کی کوئی امانت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس ہو وہ آکر ہم سے وصول کرے''_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس وقت یعنی جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا تعاقب ختم ہوچکا تو حضرت علیعليهالسلام سے فرمایا:''یا علیعليهالسلام وہ لوگ آپ کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہ کرپائیں گے جو آپ کو ناپسند ہویہاں تک کہ آپ میرے پاس پہنچ جائیں گے_ پس میری امانتیں کھلے عام ادا کرو، میں اپنی بیٹی فاطمہ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں اور آپ دونوں کواللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دونوں کی حفاظت کا طلبگار ہوں''_
ہجرت کا خرچہ
پھر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپعليهالسلام کو حکم دیا کہ اپنے اور فواطم (فاطمہ کی جمع ہے) یعنی فاطمہ زہراعليهالسلام ، فاطمہ بنت اسد (مادر حضرت علیعليهالسلام ) اور فاطمہ بنت زبیر جن کا ذکر ہجرت علیعليهالسلام کے بیان میں ہوگااور ان کے علاوہ بنی ہاشم کے ان افراد کیلئے جو ہجرت کا عزم رکھتے ہوںسواریاں خرید لیں_
___________________
۱_ بحارالانوار ج۱۹ ص ۶۲ ، امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ ، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حضرت ابوبکر سے قیمت ادا کئے بغیر سواریوں کا نہ لینے کا واقعہ سیرت النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر لکھی جانے والی تقریباً تمام کتابوں میں ملے گا_ نیز مراجعہ ہو : وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷_
ابو عبیدہ کا بیان ہے: میں نے ابوعبداللہ (یعنی ابن ابی رافع) سے کہا کیا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اس قدر خرچ کرنے پر قادر تھے؟
اس نے جواب دیا میرا باپ مجھ سے یہی بات (جو تونے بتائی) نقل کیا کرتا تھا اور میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا_ میرے باپ نے جواباً کہا_ تو پھر حضرت خدیجہ (س) کا مال کہاں چلاگیا_ میرے باپ نے کہا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایاہے : ''خدیجہ کے مال نے مجھے جتنا فائدہ پہنچایا ہے کسی اور مال نے نہیں پہنچایا'' رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ حضرت خدیجہ کے مال سے لوگوں کا قرض ادا کرتے اور قیدیوں کو چھڑاتے تھے، ضعیفوں کی مدد کرتے تھے، سختیوں کے وقت خرچ کرتے تھے، مکہ میں اپنے فقیر اصحاب کو سہارا دیتے تھے اور ہجرت کا ارادہ رکھنے والوں کی بھی اعانت فرماتے تھے(۱) _
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ تین دن غار کے اندر گزارنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_(۲)
امیرالمؤمنینعليهالسلام نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بستر پر جورات گزاری اس کا تذکرہ آپعليهالسلام نے یوں کیا ہے_
وقیت بنفسی خیر من وطا الحصا---- ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر
محمد لما خاف ان یمکروا به---- فوقاه ربی ذوالجلال من المکر
وبت اراعیهم متی ینشروننی---- وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر
وبات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الله فی الغار آمنا---- هناک وفی حفظ الاله وفی ستر
اقام ثلاثا ثم زمت قلائص---- قلا ئص یفرین الحصا ایما یفری
اشعار کاترجمہ:
میں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اس شخص کی حفاظت کی جوزمین پر چلنے والوں اور کعبہ و حجر اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا_ جب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دشمنوں کی چال سے خطرہ محسوس ہوا تو خدانے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان کے مکر سے محفوظ رکھا_ میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے قتل کر دیں گے_ میں نے
___________________
۱ _ لیکن اسی روایت کو خواہشات نفسانی کے پیروکاروں نے روایت کرکے حضرت خدیجہ کے نام کو حضرت ابوبکر کے نام سے بدل دیا ہے تا کہ اس کے لئے ایک فضیلت ثابت کرسکیں جس کی کوئی بھی روایت، نص اور کوئی حقیقت تایید نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس ،واقعات اس کے برخلاف دلالت کرتے ہیں_
۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱_۸۲ و البحار ج ۱۹ ص ۶۱_۶۲_
اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے غار میں امن وسکون کے ساتھ اور خدا کی پناہ میں رات گزاری، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غار میں تین دن گزارے پھر جوان اونٹوں پر سفر شروع ہوا_ یہ اونٹ ریگزاروں کو اس طرح طے کر رہے تھے جو دیکھنے کے قابل تھا_
جذبہ قربانی کے بے مثال نمونے
علامہ سید ہاشم معروف الحسنی کہتے ہیں ''جان نثاری وقربانی کی تاریخ کا عمدہ ترین قصہ یہیں سے شروع ہوتا ہے_ ٹھیک ہے کہ بہادر اور سورما لوگ دشمن کے سامنے جنگوں میں ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے ہاں موجود اسلحے اور سامان جنگ کے ساتھ اپنے حامیوں اور مدد گاروں کے جھرمٹ میں لڑتے ہیں_ کبھی میدان جنگ ہی ان کو ثابت قدم رہنے پر مجبور کرتا ہے، اور وہ بھی اکیلے نہیں، لیکن کسی انسان کا اپنی مرضی اور خوشی سے کسی اسلحے یا سامان کے بغیر موت کے مقابلے میں یوں جانا گویا وہ کسی نرم ونازک بدن والی خوبرو عورت سے معانقہ کیلئے نکلا ہو اور ایسے بستر پر سونا جو خطرات میں گھرا ہوا ہو_ حالانکہ ایمان، خدا پر توکل اوراپنے رہبر کی سلامتی کی آرزو کے علاوہ اس کے ہمراہ کچھ بھی نہ ہوجیساکہ حضرت علیعليهالسلام کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپعليهالسلام کے ابن عم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ کو اپنے بستر پر رات گزارنے کیلئے کہا تاکہ وہ خود قریش کی سازشوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ وہ بات ہے جس کی مثال بہادری اور مردانگی کی تاریخ میں نہیں ملتی اور عقیدہ و ایمان کی راہ میں لڑی جانے والی جنگوں میں کسی نے اس کا ثبوت نہیں دیا_ پھر کہتے ہیں کہ شب ہجرت علیعليهالسلام کا سونا پہلا واقعہ نہ تھا_ شعب ابوطالب میں محاصرے کے دوران بھی ابوطالبعليهالسلام علیعليهالسلام کو بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلایا کرتے تھے تاکہ اگر کوئی قاتلانہ اقدام ہو تو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بجائے علیعليهالسلام کو نقصان ہو_ انہوں نے اس کام سے کبھی بھی گریز نہ کیا بلکہ وہ برضا و رغبت ایسا کرتے تھے_(۱)
___________________
۱_ سیرت المصطفی ص ۲۵۲_۲۵۰_
بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونا اور مسئلہ خلافت
یہاں تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا ناصبی اور علیعليهالسلام و محبان علیعليهالسلام کا دشمن ہونا مشہور ہے، یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شب ہجرت حضرت علیعليهالسلام کا بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونا ان کی خلافت کا واضح اشارہ ہے_ چنانچہ وہ کہتا ہے:
''شب ہجرت حضرت علیعليهالسلام کے اس اقدام کو بعد میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دیکھنے والے کو اس بات کے واضح اشارات ملتے ہیں کہ اس رات جس منصوبے پر عمل ہوا وہ حضرت علیعليهالسلام کے حوالے سے کوئی اتفاقی یا عارضی بات نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے خاص آثار ونتائج کی حامل حکمت کارفرما تھی_ بنابریں ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ:
کیا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا اس رات حضرت علیعليهالسلام کو اپنی شخصیت کے روپ میں پیش کرنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علیعليهالسلام کے درمیان ایک قسم کی یگانگت موجود ہے جو ان دونوں کے درمیان موجود رشتہ داری والی یگانگت سے ما وراء ہے_ کیا ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بعد حضرت علیعليهالسلام ہی وہ ہستی ہیں جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسند پر بیٹھنے کے لئے آمادگی رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ ہی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی نمائندگی کرنے والے اور آپ کے قائم مقام ہیں_ میرا خیال ہے کہ کسی نے ہم سے قبل مذکورہ واقعے کا اس زاویے سے جائزہ نہیں لیا یہاں تک کہ حضرت علیعليهالسلام کے شیعوں نے بھی اس نکتے کو ہماری طرح نہیں سمجھا'' _(۱)
قریش اور علیعليهالسلام :
۱_آخر میں ہم اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قریش نے حضرت علیعليهالسلام پر اپنے چچا زاد بھائی کی جگہ بتانے کے سلسلے میں زورنہیں دیا اور اصرار سے کام نہیں لیا، اس کی وجہ بس یہی تھی کہ وہ اس کام کو
___________________
۱_ عبدالکریم خطیب کی کتاب علی ابن ابیطالب ص ۱۰۵ کی طرف رجوع کریں _
بے فائدہ سمجھتے تھے کیونکہ جو شخص اس حدتک مخلص ہو اوراس طرح کی بے مثال اور تاریخی قربانی دے وہ ان کے سامنے ہرگز اپناراز فاش نہیں کرسکتا تھا _اس راز کی حفاظت کیلئے تو اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا_ اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیعليهالسلام کو چھوڑ دیا اور مایوسی کے عالم میں وہاں سے چلے گئے_(۱)
۲_پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں علیعليهالسلام کا طرزعمل انسانیت کااعلی ترین نمونہ تھا_انہوں نے لوگوں کو اخلاص وقربانی کے مفہوم اورایمان کی حقیقت سے روشناس کرایاکیونکہ وہ اپنی شہادت کو ہر صورت میں قطعی دیکھ رہے تھے_ ان کے خیال میں وہ یا تو اس لئے قتل ہوجاتے کیونکہ مشرکین انہیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سمجھ رہے تھے یا پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ، (جنہوں نے قریش کے باطل نظریات کو جھٹلایا تھا، ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی تھی اور ان کی صفوں کو پراکندہ کر دیا تھا) کو بچانے کے جرم میں بطور انتقام قتل کردیئے جاتے_ قریش اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ علیعليهالسلام کو کس قدر چاہتے ہیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہاں ان کا کیا مقام ہے_ ان کا قتل حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچازاد بھائی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جان نچھاور کرنے والے مخلص انسان کا قتل تھا_(۲) اور حقیقت کے واضح ہونے کے بعد ان کا حضرت علیعليهالسلام کو چھوڑ دینا یا تو خوف کے سبب تھا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ حضرتعليهالسلام نے خالد بن ولید کا کیا حشر کیا تھا _ اور یا اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پہلے اپنے اصلی اور اہم دشمن کا کام تمام کردیں، ان کو ختم کرنے کے لئے ابھی وقت بہت ہے_
قریش اور شب ہجرت علیعليهالسلام کا کارنامہ
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''ہجرت کی رات حضرت علیعليهالسلام نے قریش کو جو کھلا چیلنج دیا اور ان کو جس طرح ذلیل کیا، نیز اس کے بعد تین دن تک جس طرح ان کے درمیان چلتے پھرتے رہے ،اس داغ کو قریش کبھی بھی نہ بھلا سکتے تھے_
___________________
۱_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین مصنفہ محمد صادق صدر ص ۱۰۶_۱۰۵_
۲_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین ص ۱۰۷ اور ۱۰۸ _
اگر اس دن ان کو قتل کرنے میں قریش کو ایسے فتنے کا خطرہ محسوس نہ ہوتا جو ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیتا اور دوسری طرف سے وہ یہ دیکھ لیتے کہ اس طرح وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں اپنے مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسکیں گے تو وہ انہیں قتل کر کے ضرور دل کی بھڑاس نکال لیتے _یوں وہاں قریش ان سے دست بردار ہوئے لیکن بعد میں ان کا حساب چکانے کیلئے روز شماری کرنے لگے''_(۱)
جی ہاں درحقیقت یہ ایک سخت حساب تھا جو حضرت علیعليهالسلام کو چکانا تھا_ خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ انہوں نے بعد میں ان کے بزرگوں اور سرداروں کو خاک مذلت میں ملادیا تھا اور اپنے چچازاد بھائی کے شمشیرزن بازو کی حیثیت سے بوقت ضرورت کبھی یہاں اور کبھی وہاں متکبر اور جابر لوگوں پر کاری ضرب لگاتے رہے تھے_ قریش نے حضرت علیعليهالسلام سے مذکورہ سخت حساب چکانے کا سلسلہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے فوراً بعدہی شروع کردیا، یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غسل وکفن اور دفن سے بھی پہلے_
موازنہ
امیرالمومنینعليهالسلام کے بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رات گزارنے کے نتیجے میں قریش نے یہ موقع گنوادیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جو سازش تیار کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی_ اس کے علاوہ اس عمل سے دین اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور کلمہ حق کو فروغ حاصل ہوا_
اس واقعے کا ذبح اسماعیل علیہ السلام پر قیاس کرنا صحیح بات نہیں ہے کیونکہ حضرت اسماعیلعليهالسلام نے تو ایک مہربان اور شفیق باپ کے آگے سرتسلیم خم کیا لیکن حضرت علیعليهالسلام نے اپنی جان ان دشمنوں کے حوالے کردی جو ان پر رحم نہ کرتے اور جن کے دل کی بھڑاس ان کا خون بہائے بغیر نہیں نکل سکتی تھی_ نیز ان کا غصّہ جان لیوا شماتت، سخت ترین تشدد اور ایذاء رسانی کے بغیر نہ نکل سکتا تھا_
اسکافی نے جاحظ کی تصنیف عثمانیہ کے جواب میں اس واقعے پر تبصرہ کیا ہے_ (اس کا کلام شرح نہج
___________________
۱_ علی ابن ابیطالب (از عبدالکریم خطیب) ص ۱۰۶ _
البلاغہ معتزلی کی تیرہویں جلد میں مرقوم ہے)_ وہاں رجوع کریں اگر ہم اس نکتے کی تشریح کرنے بیٹھیں تو ہماری بحث طولانی ہوجائے گی_
ارادہ الہی
کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کچھ اس طرح سے فرماتا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ غار میں چھپنے پر مجبور نہ ہوتے اور نہ حضرت علیعليهالسلام کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پر سونا پڑتا_ وہ یوں کہ اللہ اپنی قدرت کی واضح نشانیوں اور حیرت انگیز معجزات کے ذریعے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرتا_
اس کا جواب منفی ہے کیونکہ خدا کی منشا یہ ہے کہ سارے امور حسب معمول اور طبیعی اسباب کے مطابق انجام پائیں (ہاں انسان کی طاقت سے باہر معاملات میں اس کی رہنمائی اور عنایات شامل حال ہوں) تاکہ یہ ہم سب کیلئے بھی نمونہ عمل اور مفید درس ثابت ہوں_ ہم بھی دین وعقیدے کی راہ میں جدوجہد کریں اور آسمانی معجزات کے منتظر نہ رہیں_ اسی صورت میں اللہ کا وعدہ (لینصرن اللہ من ینصرہ) اور( ان تنصروا الله ینصرکم ) عملی شکل اختیار کرے گا_
مصلحت اندیشی اور حقیقت
مشرکین مکہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہوئے وہ یہ کہ ایک طرف تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو جھٹلاتے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر تہمتیں لگاتے تھے یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مجنون، ساحر، شاعر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے_ لیکن دوسری طرف اپنے اموال اور اپنی امانات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سپرد کرتے تھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو معتمد اور امین سمجھتے تھے یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے چچازاد بھائی (علیعليهالسلام ) کو مکہ چھوڑ جانے پر مجبور ہوئے کہ وہ تین دن تک اعلان عام کرتے رہیں تا کہ لوگ آکر اپنی امانتیں واپس لے جائیں_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت پر ان کا ایمان نہ لانا ہٹ دھرمی اور تکبر و عناد کے باعث تھا، نہ اس لئے کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیغام کو دلی طور پر غلط سمجھتے تھے ارشاد
الہی ہے:( وجحدوا بها واستیقنتها انفسهم ) (۱) _
یعنی انہوں نے آیات الہی کا انکار کیا جبکہ قلبی طورپراس کو مانتے تھے_ بالفاظ دیگر وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی دعوت کے اس لئے منکر تھے کہ وہ بزعم خود اس طرح سے اپنے ذاتی مفادات اور مستقبل کی حفاظت کرنا چاہتے تھے یا اس لئے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرنے کے خواہشمند تھے یا اپنی امتیازی حیثیت اور مراعات کی حفاظت کے طالب تھے یا حسد اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایسا کررہے تھے_
حضرت علیعليهالسلام کو ان حساس اور خطرناک حالات میں لوگوں کی امانتیں لوٹانے کیلئے مکے میں چھوڑ جانا ایک ایسے انسان کامل کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جو اپنے اصولوں پر کاربند اور اپنے نظریات کا پاسبان ہو _ایسا کامل انسان جو خدا کے معین کردہ راستے سے بال برابر بھی منحرف نہ ہوتا ہو اور بہانوں کی تلاش میں نہ پھرتا ہو_ بلکہ وہ اپنے عظیم اصولوں اور مقاصد کیلئے جیتا ہو اور اصولوں کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ قرار نہ دیتا ہو_
ہاں وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو امین کہہ کر پکارتے تھے اور یہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی واضح ترین صفات میں سے ایک صفت تھی حتی بعثت سے پہلے بھی_ یہی امین ہیں جو اب ان کی امانتیں واپس کررہے ہیں جبکہ وہ ان کے خون کے درپے ہیں لیکن یہ بات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھنے سے نہیں روکتی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے_ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی امانتیں واپس نہ کرتے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پورا پورا بہانہ حاصل تھا_
ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عظیم صفت کی کوئی خاص اہمیت اہلسنت کی احادیث کے اندر دیکھنے میں نہیں آتی حالانکہ یہ صفت (حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امانتداری) انسانیت کی بنیاد ہے_ بالکل اسی طرح جس طرح رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی وفات کے بعد سے احادیث ''حکمت'' خلفاء کی خواہش پر عمداً محو کی گئیں_ وگرنہ وہ چیز کہاں گئی جس کے بارے میں خدانے سات آیتوں میں یہ خبردی ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذمہ داری لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینا ہے_ ہم جانتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کو کتاب کی تعلیم دی جس کی خدانے حفاظت کی اور اب تک باقی
___________________
۱_ سورہ نمل آیت ۱۴
ہے_( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ) (۱) یعنی ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں_
لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ حکمت کہاں گئی جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امت کو سکھائی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ علماء و محدثین کے نزدیک ان میں سے فقط تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ احادیث رہ گئی ہیں وہ بھی فقہ احکام، اخلاق اور حکمت سب کے بشمول(۲) _ ان میں سے کتنی احادیث فقط حکمت سے مربوط ہیں اس کا حشر آپ کے سامنے ہے_
البتہ ہم آئمہ معصومینعليهالسلام کی احادیث میں کثیر مقدار میں حکمت کی باتیں پاتے ہیں_ ان کی ایک بڑی تعداد امانت اور صداقت کے متعلق ہے_ انہوں نے امانت کو عملی اخلاق کا بنیادی محور قرار دیا ہے اور اسے زبردست اہمیت دی ہے_
زمین اور عقیدہ
ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام کی نظر میں انسان کا حقیقی مقصد زمین نہیں بلکہ خود اسلام ہے کیونکہ جب کسی سرزمین پرزندگی گزارنا اور اس کی حفاظت کرنا ذلت وخواری، محرومیت اور عظیم دینی اہداف (جو انسان کی سعادت کا باعث ہیں) کے پورا نہ ہونے کا باعث بنے تو بہتری، اصلاح، مستقبل کی تعمیر اور حقیقی سعادت وعزت کے حصول کے پیش نظر اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہیئے_ پس پہلے تو خود انسان اور پھر تمام باقی چیزیں اسلام کی خاطر اور اس کی خدمت کیلئے ہیں_
درس ہجرت
ہجرت کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مسلمانوں پرایک دوسرے کی مدد واجب ہے_ نیز نسلی تعصبات
___________________
۱_ سورہ حجر آیت ۹ _
۲_ مناقب شافعی ج۱ ص ۴۱۹ نیز عن الوحی المحمدی ص ۲۴۳_
سے مکمل طور پر مبرا ہوکر اغیار کے مقابلے میں متحد ہونا بھی ضروری ہے_ اور یہ کہ ان کے باہمی تعاون والفت اور آپس کی رحمدلی و ہمدردی کی بنیاد دین اور عقیدہ ہو نہ کہ نسلی و خاندانی تعلقات یا مفادات پر مبنی روابط وغیرہ_
علاوہ ازیں واقعہ ہجرت ہمیں حسن تدبیر، باریک بینی اور صحیح منصوبہ بندی کا بھی درس دیتا ہے جسے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے پیش نظر رکھاکیونکہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں کو کسی نے آکر یہ خبر دی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم گھرسے نکل گئے ہیں تو اس وقت جس چیزنے ان کو حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بستر پر موجودگی کے بارے میں مطمئن رکھا وہ علیعليهالسلام کا بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رات گزارنا تھا_(۱)
ابوطالبعليهالسلام اور حدیث غار
بعض روایات میں مذکور ہے کہ جب قریش نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے خلاف سازش کی تو ابوطالب علیہ السلام نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا:'' آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو علم ہے کہ انہوں نے کیا سازش کی ہے؟'' آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا:'' وہ چاہتے ہیں کہ مجھے قید کریں یا قتل کریں یا وطن سے نکال باہر کریں''_ حضرت ابوطالبعليهالسلام نے عرض کیا ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کس نے خبردی؟ ''فرمایا: ''میرے رب نے''_ حضرت ابوطالبعليهالسلام بولے: ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا رب سب سے بہترین رب ہے''_(۲)
لیکن واضح ہے کہ یہ روایت درست نہیں ہوسکتی کیونکہ قریش کی سازش ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے عقبہ کی دوسری بیعت کے بعد ہوئی تھی یعنی بعثت کے تیر ہویں سال_ حالانکہ حضرت ابوطالبعليهالسلام بعثت کے دسویں سال وفات پاچکے تھے یعنی شعب ابیطالب سے مسلمانوں کے خارج ہونے کے بعد_
___________________
۱_ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ _
۲_ درمنثور ج ۳ ص ۲۷۹ نے سنید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ سے نقل کیا ہے _
آیت غار
خداوند عالم نے فرمایا( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه الذین کفروا ثانی اثنین اذهما فی الغار اذ یقول لصاحبه لاتحزن ان الله معنا فانزل الله سکینته علیه وایده بجنود لم تروها وجعل کلمة الذین کفروا السفلی وکلمة الله هی العلیا والله عزیز حکیم ) (۱)
یعنی تم نے اگر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد نہ کی تو کوئی پروا نہیں_ اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے، جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ جب وہ دومیں سے دوسرا تھا، دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا'' غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے''_ پس اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جوتم کو نظر نہ آتے تھے اوراس نے کا فروں کا بول نیچا کردیا اور اللہ کا تو بول بالاہی ہے اور اللہ زبردست دانا و بینا ہے_
کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر حضرت ابوبکر کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے_
(الف) آیت نے حضرت ابوبکر کو ''ثانی اثنین'' (دو میں سے دوسرا) کے الفاظ سے یاد کیا ہے بنابریں حضرت ابوبکر فضیلت کے لحاظ سے دو افراد میں سے ایک ٹھہرے اور اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت ابوبکر حضرت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کے قرین قرار پائیں_
(ب) آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھی قرار پائے_ اس عظیم موقعے پر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھی بن جانا بہت بڑا اعزاز ہے_
(ج) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا، خدا ہمارے ساتھ ہے_ یعنی اللہ کی نصرت اور اس کا نظر کرم ان دونوں پر ہے_ بنابریں جو شخص اللہ کی طرف سے ہونے والی مدد میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا شریک ٹھہرے اس کا شمار عظیم ترین لوگوں میں ہوگا_
___________________
۱_ سورہ توبہ آیت ۴۰ _
(د) اللہ تعالی نے فرمایا ''اور اللہ نے اس پر سکون قلب نازل کیا''_ پس یہ سکون قلب جس پر نازل ہوا وہ حضرت ابوبکر تھے اس لئے کہ اس کی ضرورت ابوبکر کو تھی( کیونکہ ان کا دل گھبرا گیا تھا) نہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تو علم تھا ہی کہ اللہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو محفوظ رکھے گا_(۱)
لیکن یہ ساری باتیں نادرست ہیں کیونکہ:
الف: حضرت عائشہ کہتی ہیں_ خدانے ہمارے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس کے کہ اس نے میرے عذر کا ذکر کیا_(۲)
ہماری تحقیق کی رو سے ثابت ہوا ہے کہ حضرت عائشہ کے عذر کے بارے میں بھی کسی آیت کا اترنا صحیح نہیں ہوسکتا جیساکہ ہم نے اپنی کتاب ''حدیث الافک'' میں ذکر کیا ہے_
ب: حضرت ابوبکر کے بارے میں ثانی اثنین ''کہنے سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ان الفاظ میں عدد بیان کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں دوسرا فرد کوئی بچہ یا جاہل یا مؤمن یا فاسق وغیرہ بھی ہوسکتا ہے_ نیز واضح ہے کہ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار فقط تقوی ہے نہ کہ عدد میں دوسرے نمبر پر قرار پانا_ جیساکہ فرمایا ہے( ان اکرمکم عند الله اتقاکم ) یعنی تم میں سب سے زیادہ صاحب عزت، اللہ کے ہاں وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو_
شیخ مظفر (رحمة اللہ علیہ) اضافہ کرتے ہیں کہ اگر دو کا بیان فضیلت و شرف کے نقطہ نظر سے ہو تو پھر حضرت ابوبکر کا مقام پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام سے بھی زیادہ ہوگا_ کیونکہ آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پہلے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم دوسرے (ثانی) ہیں_(۳)
___________________
۱_ رجوع ہو ، دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴ و ۴۰۵ _
۲_ بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ ج ۳ ص ۱۲۱ و تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۵۹ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۱ و الدر المنثور ج ۶ ص ۴۱ نیز ملاحظہ ہو الغدیر ج۸ ص ۲۴۷_
۳_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴_
ج:علاوہ بریں یہ بات بھی واضح ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کس قدر سخت حالات سے دوچار تھے اور یہ کہ اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت یا حمایت کرنے والا کوئی نہ تھا_ رہا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھی تو وہ نہ صرف یہ کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت نہیں کر رہا تھا بلکہ پریشانی اور خوف و ہراس کے باعث آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے ایک سنگین بوجھ بن چکا تھا_ بنابریں وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بوجھ ہلکا کرنے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اعانت کرنے کی بجائے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے دلجوئی کا محتاج تھا_ کم ازکم یہ بات تو مسلم ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حمایت و حفاظت اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو درپیش مشقتوں میں تخفیف کے سلسلے میں حضرت ابوبکر نے کچھ بھی نہ کیا، ہاں اس نے تعداد میں اضافہ کیا یوں ایک کی بجائے دو افراد ہوگئے_
د: رہا حضرت ابوبکر کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مصاحب قرار دینا تو اس میں بھی فضیلت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتاکیونکہ مصاحبت سے تو فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ وہ دونوں باہم اور ایک مقام پر جمع تھے اور یہ امر عالم وجاہل، صغیر وکبیر، مومن وغیر مومن وغیرہ کے درمیان بھی واقع ہوسکتا ہے_ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:( وما صاحبکم بمجنون ) (۱) یعنی اے اہل مکہ، تمہارا ساتھی مجنون نہیں ہے_ نیز فرمایا ہے( قال له صاحبه وهو یحاوره اکفرت بالذی خلقک ) (۲) یعنی اس کے ساتھی نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے پیدا کیا_
بنابریں مصاحبت برائے مصاحبت کوئی فضیلت نہیں رکھتی_
ھ: ادھر خدا کا قول (ان اللہ معنا) حضرت ابوبکر کو تسلی دینے کیلئے آیا تھا تاکہ ان کاحزن جاتا رہے_ یوں حضرت ابوبکر کو بتایا جارہا ہے کہ خداوند عالم انہیں مشرکین کی نظروں سے محفوظ رکھے گا_ اس میں فضیلت کا کوئی پہلو موجود نہیں_ بلکہ اس میں یہ خبردی جارہی ہے کہ اللہ ان کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ یعنی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر حضرت ابوبکر کی بھی حفاظت کرے گا_یہ بالکل اس آیت کی طرح ہے'' و ما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم '' یعنی جب تک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں خدا انہیں
___________________
۱_ سورہ تکویر آیت ۲۲ _
۲_ سورہ کہف آیت ۳۷ _
عذاب میں مبتلاء نہیں کرے گا _ پس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی وجہ سے یا کسی مومن کی موجودگی سے عذاب الہی سے مشرکین کی نجات ان کی فضیلت کا باعث نہیں بنتی _
و: مورخین کے بقول حضرت ابوبکر محزون ہوئے تھے جبکہ وہ خدا کی واضح نشانیاں اور ایسے صریح معجزات دیکھ چکے تھے جن سے انسان کو یقین ہوجاتاہے کہ اللہ اپنے نبی کی حفاظت کرے گا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ حضرت ابوبکر کو معلوم تھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قریش کے (شمشیر زنوں کے) درمیان سے گزرکر نکلے تھے لیکن وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہیں دیکھ سکے تھے_ نیز غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا بنانا اور کبوتر کا انڈے دے کر بیٹھ جانا بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا_ اس کے علاوہ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا مثال کے طور پر یہ کہ حضورعليهالسلام فرمایا کرتے تھے ''کہ اللہ جلد ہی ان کے ہاتھوں قیصر وکسری کے خزانوں کے دروازے کھول دے گا_ اپنے دین کو غالب کرے گا_ اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرے گا'' بنابریں ان حالات میں ان کا محزون ہونا اور اللہ کی مدد پر بھروسہ نہ کرنا جبکہ وہ خداکی جانب سے اس قدر معجزات کا مشاہدہ کرچکے تھے، ایک غیر پسندیدہ اور ممنوع عمل ہونا چاہیئے اور ممنوعیت بھی مولی ہونے کے اعتبار سے(۱) ہونی چاہیئے یعنی جناب کا رونا ناجائز تھا_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک اللہ کی جلالت وعظمت کا احساس ان کے دل میں راسخ نہیں ہوا تھا_
کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میرا حزن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی علی ابن ابیطالب کے بارے میں ہے کہ کہیں ان کو کچھ ہوانہ ہو''_ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' خدا ہمارے ساتھ ہے''_(۲)
ز: رہا یہ دعوی کہ خدا کی نصرت ان دونوں کے شامل حال ہوئی تھی لہذا وہ اس مدد میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حصہ دار تھے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے تو یہ بھی غلط ہے اور قرآن کی آیت صریحاً اس بات کی نفی کرتی ہے کیونکہ آیت نے تو اللہ کی مدد کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مختص قرار دیا ہے (شاید اس لئے کہ اللہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کفار کے شر سے نجات دی)_
___________________
۱_ نہی مولوی وہ ہے جس کی مخالفت باعث عقاب ہو (مترجم) _
۲_ کراجکی کی کتاب کنز الفوائد ص ۲۰۵ _
چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه ) یعنی اگر تم لوگوں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد نہ کی تو کوئی بات نہیں، اللہ اس کی مدد کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ یہاں ضمیر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف پلٹتی ہے_ بنابریں اللہ کی مدد فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ مختص ہوئی ہے_ ابوبکر تو بس طفیلی کی حیثیت رکھتے تھے_اللہ کی مدد کا حضرت ابوبکر کے شامل حال ہونا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ایک مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے تھا_ اور یہ بات حضرت ابوبکر کی کسی فضیلت کو ثابت نہیں کرتی_(۱) بالفاظ دیگر اللہ کا حضرت ابوبکر کی حفاظت کرنا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر تھا، جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں_
ح: نزول سکینہ (اطمینان قلبی) کے بارے میں بھی ان کا یہ دعوی باطل ہے کہ سکون حضرت ابوبکر پر نازل ہوا تھا_ حقیقت یہ ہے کہ سکینہ (سکون قلب) کا نزول فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر ہوا کیونکہ اس سے قبل اور اس کے بعد کی ساری ضمیریں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی طرف پلٹتی ہیں اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے_( تنصروہ، نصرہ، یقول، اخرجہ، لصاحبہ، ایدہ کے الفاظ میں)_ بنابریں ایک ضمیر کا کسی اور کی طرف پلٹنا خلاف ظاہر ہے اور قرینہ قطعیہ کا طالب ہے_
جاحظ کا بیان اور اس پر تبصرہ
جاحظ اور دوسروں نے مذکورہ باتوں پر تنقیدکی ہے_(۲) اور کہا ہے: ''کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو اطمینان قلبی کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کا نزول آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ہوتا''_ گویا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس بات کے بہانے، لفظ کو اس کے ظاہری مفہوم سے جدا کریں_
لیکن ان کا دعوی غلط ہے کیونکہ:
الف: خدانے سورہ توبہ کی آیت ۲۶ میں جنگ حنین کے بارے میں فرمایا ہے:( ثم انزل الله سکینته
___________________
۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۵ _
۲_ العثمانیة ص ۱۰۷ _
علی رسوله وعلی المؤمنین ) یعنی اللہ نے اپنا سکینہ (اطمینان قلبی) اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مومنین پر نازل کیا_ نیز سورہ فتح کی آیت ۲۶ میں ارشاد فرمایا ہے_( فانزل الله سکینته علی رسوله و علی المؤمنین ) یعنی پس اللہ نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مومنین پر سکینہ نازل کیا_
اسی طرح اللہ نے مومنین پرنزول سکینہ کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے:( هوالذی انزل السکینة فی قلوب المومنین لیزدادوا ایماناً ) (۱) یعنی اللہ ہی ہے کہ جس نے مومنین کے دلوں میں اطمینان نازل کیا تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو_
نیز یہ بھی فرمایا:( فعلم ما فی قلوبهم فانزل السکینة علیهم واثابهم فتحا قریبا ) (۲) یعنی اللہ نے ان کے دل کی بات جان لی پس ان پر اطمینان قلبی نازل کیا اور ان کو بطور انعام قریبی فتح عنایت کی_
بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کو سکون کی نعمت سے محروم کرنے کا راز کیا تھا؟ حالانکہ خدانے یہاں اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور دیگر مقامات پر نبی کریم اور مومنین پر اسے نازل فرمایا ہے؟ میری عرض یہ ہے کہ شاید اس کاجواب یوں دیا جائے کہ یہاں فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس کا نزول کافی تھا کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نجات میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہم سفر کی بھی نجات تھی لیکن یہ ایک کمزور جواب ہے کیونکہ ''سکینہ'' اطمینان قلب کا موجب ہے اور پریشانی کے زائل ہونے کا باعث ہے_ نجات پانے اور بچ جانے سے اس کا کوئی سروکار نہیں_ یوں مذکورہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جاتا ہے_
ب: سکینہ (اطمینان قلب) اللہ کی ایک نعمت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ نزول نعمت کے وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی ضد (نعمت کے فقدان) سے متصف ہوں_ اسی لئے ایک نعمت کے بعد دوسری نعمت نازل ہوتی ہے_
ج: انہیں کہاں سے علم حاصل ہوا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو نزول سکینہ کی ضرورت نہ تھی؟ جبکہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی_بنابریں یہ آیت بھی جنگ حنین کے بارے میں اترنے والی آیت کی طرح ''سکینہ'' کیلئے یہ اعلان کر رہی ہے کہ شدید خطرہ اب ٹل چکا ہے_
___________________
۱_ سورہ فتح آیت ۴ _
۲_ سورہ فتح آیت ۱۸ _
نیز رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ حضرت ابوبکر کے حزن، خوف و ہراس اور رونے کی وجہ کچھ اور ہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اگرچہ یہ جانتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آخر کار اس خطرے سے نجات مل جائے گی لیکن حضرت ابوبکر کی روش مشکلات اور مسائل پیدا کرے گی اور وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے ان مقاصد اور اہداف تک پہنچنے میں تاخیر کا باعث بنیں گے جن کا مرحلہ ابھی دور تھا_
د: علامہ طباطبائی کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت سے قبل اللہ کی طرف سے ان حالات میں اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کا ذکر ہوا ہے جبکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کوئی فرد ایسا نہ تھا جو آپ کی مدد کرسکتا_ اس مدد کی ایک صورت نزول سکینہ اور خدائی لشکروں کے ذریعے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تقویت تھی_لفظ (اذ) کا تین بار تکرار اس بات کی دلیل ہے_ ان میں سے ہرایک پہلے والے کی کسی نہ کسی صورت میں توضیح کرتا ہے_ یہ لفظ اس مقام پر کبھی نصرت الہی کا وقت بیان کرنے کیلئے، کبھی آپ کی حالت بیان کرنے کیلئے اورکبھی اس حالت کا وقت بیان کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے_ بنابریں خدائی لشکروں کے ذریعے اس شخص کی تائید کی گئی جس پر سکون کا نزول ہوا تھا_(۱)
محقق محترم سید مہدی روحانی کہتے ہیں: ''چونکہ حضرت ابوبکر نے غم نہ کھانے اور خوف نہ کرنے کے بارے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کی، اس لئے سکینہ کا نزول فقط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر ہوا_ اور ابوبکر (اطمینان قلبی سے) محروم ہی رہے_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر اللہ کے اس فضل وکرم کے اہل ہی نہ تھے''_
شیخ مفید کا بیان اور اس کا جواب
شیخ مفید اور دیگر افراد کہتے ہیں کہ اگر حضرت ابوبکر کا حزن اطاعت خدا کیلئے تھا تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اطاعت الہی سے منع کریں_ بنابریں ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ مذکورہ عمل حرام تھا، اسی لئے
___________________
۱_ تفسیر المیزان ج ۹ ص ۲۸۰ مطبوعہ بیروت_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس سے منع کیا_(۱)
حلبی وغیرہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ خدانے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا ہے (ولایحزنک قولہم) ان لوگوں کی باتوں سے محزون نہ ہو، یہاں خدا کے نبی کو حزن و پریشانی سے منع کرنا بس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دلجوئی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خوشخبری دینے کیلئے تھا_ بالکل یہی حال نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ابوبکر کو منع کرنے کا تھا_(۲)
ہمارے خیال میں حلبی کا جواب غیر مناسب ہے_ اسکی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کا حزن اور اللہ کی مدد پر ان کاشک کوئی مستحسن اور قابل تعریف امر نہ تھا جسکی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا(ان اللہ معنا) کہنا اشارہ کر رہا ہے_ ان کو تو اللہ کی طرف سے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کا یقین حاصل ہوناچاہیئے تھا کیونکہ وہ ان واضح معجزات اور صریح نشانیوں کو دیکھ چکے تھے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اللہ اپنے نبی کو جلد ہی مشرکین کے شر سے نجات دے گا_
بنابریں یہ کہنا درست نہیں کہ یہ آیت ان کی تعریف و تمجید میں نازل ہوئی_ پس اس سے اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد لینا چاہیئے کیونکہ ظاہری معنی سے ہٹ کر کسی اور معنی میں استعمال کیلئے قرینے کی ضرورت ہوتی ہے_ بلکہ ہم نے جو کچھ عرض کیا وہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہی ظاہری معنی ہی مراد ہے_
حضرت ابوبکر کے حزن کو نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حزن کے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا_ جس کی طرف اللہ نے یوں اشارہ کیا ہے_( ولایحزنک قولهم ) یعنی ان کی باتیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دلگیر و محزون نہ کریں_ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا تو بس اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ آپ اپنی قوم کی ہٹ دھرمی اور کفر وطغیان کے باعث اپنی دعوت اور دین اسلام کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹوں کا مشاہدہ کرتے تھے لہذا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت موسیعليهالسلام کو خدا کی جانب سے جو ممانعت ہوئی ہے وہ نہی تحریمی نہیں ہے بلکہ اس نہی کا مقصد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دلجوئی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بات کی بشارت دینا ہے کہ دین اسلام کو جلد فتح نصیب ہوگی نیز یہ بتاناہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دشمنوں کی
___________________
۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنین علیعليهالسلام ص ۱۱۹ و کنز الفوائد کراجکی ص ۲۰۳_
۲_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۸_
بات پر توجہ نہ دیں اور ان کا غم نہ کھائیں کیونکہ وہ اس کے لائق نہیں ہیں_ لہذا یہاں نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حزن وغم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایمان کی گہرائی اور فنا فی اللہ ہونے کی علامت ہے_ اس حزن کا قیاس اس شخص کے حزن پر نہیں کیا جاسکتا جو فقط اپنی ذات کیلئے محزون ہوتا ہو_
قرآن کی آیات ہمارے عرائض پر صریحاً دلالت کرتی ہیں چنانچہ ایک آیت کہتی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی قوم کو کفر کی طرف لپکتے دیکھ کر محزون ہوتے تھے_ ارشادہوتا ہے( ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر ) (۱) یعنی کفر کی طرف سبقت کرنے والوں کو دیکھ کر آپ غمگین نہ ہوں_
اور دوسری آیت کہتی ہے کہ آپ کا حزن ان کی طرف سے اپنی تکذیب کے باعث تھا فرمایا ہے( قدنعلم انه لیحزنک الذی یقولون فانهم لایکذبونک ) (۲) یعنی ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں سے محزون ہوتے ہیں_
نیز ارشاد ہے:( ومن کفر فلا یحزنک کفره ) (۳) یعنی جو کافر ہوجائے اس کے کفر سے محزون نہ ہوں_ایک اور آیت یہ کہتی ہے کہ آپ اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو پوجتے تھے_ چنانچہ ارشاد ہوا( فلا یحزنک قولهم انا نعلم ما یسرون وما یعلنون ) (۴) اس کے علاوہ دیگر آیات بھی موجود ہیں جو صاحب نظر افراد سے پوشیدہ نہیں_
خلاصہ یہ کہ ان آیات کی مثال اس آیت کی طرح ہے_( فلا تذهب نفسک علیهم حسرات ) (۵) یعنی ان لوگوں پر افسوس کرتے کرتے خواہ مخواہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان نہ گھلے_
ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اگر ہم حضرت ابوبکر کے حزن کی علت کو نہ بھی جان سکیں تب بھی ان کے حزن کو معصوم نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حزن کی طرح قرار نہیں دے سکتے بلکہ ہمیں تو نہی الہی کے
___________________
۱_ سورہ آل عمران ۱۷۶ و سورہ مائدہ ۴۱ _
۲_ سورہ انعام آیت ۳۳ _ ۳_ سورہ لقمان آیت ۲۳ _
۴_ سورہ ی س آیت ۷۶ _ ۵_ سورہ فاطر آیت ۸ _
ظاہری معنی کوہی لینا چاہیئے یعنی ''حرمت حزن'' کیونکہ ظاہری معنی سے صرف نظر کرنے کیلئے قرینے اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے_
ایک جواب طلب سوال
آیات ومعجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جب حضرت ابوبکر محزون ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور صاحب یقین صابروں کا اجر حاصل کرنے کیلئے صبر نہ کرسکے تو پھر اگر انہیں اس رات امیرالمومنینعليهالسلام کی جگہ بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونا پڑتا تو پتہ نہیں ان کا کیا حال ہوتا؟ کیا وہ ان مشکل لمحات میں قریش کے مکر کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیتے اور ان کی طاقت وجبروت کے آگے ہتھیار نہ ڈال دیتے، یوں حالات بالکل پیچھے کی طرف پلٹ جاتے_
یہ سوال خود بخود سامنے آیا ہے اور شاید اس کا کم از کم مستقبل قریب میں شافی جواب ہرگز نہ مل سکے_
سوال دیگر: کیا اس کے بعد ہم اس دعوے کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اصحاب میں سب سے زیادہ شجاع تھے؟
غزوہ بدر کی بحث کے دوران اس (دو سرے) سوال سے مربوط بعض پہلوؤں کا ذکر آئے گا انشاء اللہ تعالی_ لہذا اس بحث کو وہاں پر موقوف کرتے ہیں_
نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محافظت کی سخت مہم
لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا یہ قول کس حد تک صحیح ہے کہ غار کی طرف جاتے ہوئے حضرت ابوبکر کبھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے آگے چلنے لگ جاتے تھے کبھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیچھے، نیز کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے عرض کیا:'' اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم جب مجھے دشمن کے گھات کا خطرہ یاد آتا ہے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آگے ہوجاتا ہوں اور جب ان کے تعاقب کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پیچھے چلا جاتا ہوں پھر کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلنے لگتا ہوں مجھے آپ کے بارے میں (دشمن کا) خطرہ محسوس
ہوتا ہے''_(۱)
یہ کلام نادرست ہے کیونکہ (ان معجزات الہیہ کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جنہیں اس روایت کے راویوں نے ہی نقل کیا ہے) حضرت ابوبکر کا محزون ہونا اور خوف کھانا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام کی کدورت خاطر کا باعث بنا یہاں تک کہ آپ خدا کی طرف سے نزول سکینہ کے محتاج ہوئے_
اس بات سے قطع نظر، دشمن کی طرف سے گھات کا خوف معقول نہیں کیونکہ قریش مطمئن تھے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کے محاصرے میں ہیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے مکر وفریب سے بچ کرہرگز نہیں نکل سکتے پھر حضرت ابوبکر کے پاس کونسا اسلحہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنی یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی کسی طرح حفاظت کرتے؟
ان باتوں کے ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کرتا چلوں کہ حضرت ابوبکر احد، حنین اور خیبر میں بھاگ گئے تھے_ جس کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ مشاہدہ کریں گے_ ان کے علاوہ حضرت ابوبکر کی جانب سے کسی شجاعانہ اقدام کا کوئی نام ونشان دکھائی نہیں دیتا_البتہ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ در اصل جناب ابوبکر دائیں بائیں اور آگے پیچھے اس لئے پھرتے تھے کہ انہیں دلی اطمینان اور مقام امن کی تلاش تھی جو انہیں تو نہیں مل سکی لیکن واقعہ کو تحریف کرکے دوسرے رخ کے ساتھ پیش کیا گیا_
حضرت ابوبکر کی پرزور حمایت کا راز
ہمیں تو تقریباً یقین حاصل ہے کہ ان کوششوں کا مقصد حضرت ابوبکر کی شان میں اس فضیلت کی کمی کو پوری کرنا ہے جو بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونے کی وجہ سے حضرت علیعليهالسلام کو حاصل ہوئی اور جس پر اللہ تعالی نے فرشتوں سے اظہارمباہات کیا تھا_ جیساکہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالی_
من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله :
روایت ہے کہ اللہ تعالی نے جبرئیلعليهالسلام اور میکائیلعليهالسلام سے کہا میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۴ _
دیا_ اور ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ قرار دی اب تم دونوں میں سے کون ہے جو اپنے ساتھی کو اپنے اوپر ترجیح دے تاکہ وہ زیادہ زندہ رہے؟ جواباً ان دونوں نے زندہ رہنے، کی خواہش کی_ اس وقت پروردگارعالم نے ان سے فرمایا کیا تم دونوں علی ابن ابیطالبعليهالسلام جیسے نہیں بن سکتے؟ میں نے اس کے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا_ پس وہ اس پر اپنی جان قربان کرنے کیلئے اس کے بستر پر سوگیا اور اس کی زندگی کو اپنی زندگی پر ترجیح دی ہے اب تم دونوں زمین پر اترجاؤ اور دشمنوں سے اس کی حفاظت کرو_ چنانچہ وہ دونوں زمین پر اترآئے_ جبرئیلعليهالسلام ان کے سرکی جانب اور میکائیل ان کے پیروں کی طرف، جبرئیلعليهالسلام یہ پکار رہے تھے ''شاباش ہو آپ جیسے افراد پر یا علیعليهالسلام ابن ابیطالب _اللہ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر ومباہات کرتا ہے_ اس وقت اللہ کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی:
( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ، والله رؤوف بالعباد ) (۱)
___________________
۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ اور روایت کیلئے رجوع کریں اسد الغابة ج ۴ ص ۲۵ و المستجاد (تنوخی) ص ۱۰ و ثمرات الاوراق ص ۳۰۳ و تفسیر البرہان ج ۱ ص ۲۰۷ و احیاء العلوم ج ۳ ص ۲۵۸ و تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۹ و کفایة الطالب ص ۲۳۹ و شواہد التنزیل ج ۱ _ص ۹۷ و نور الابصار ص ۸۶ و فصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۱ و تذکرة الخواص ص ۳۵ از ثعلبی و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ اور ۳۲۶، بحار ج ۱۹ ص ۳۹ و ۶۴ اور ۸۰ ثعلبی سے کنز الفوائد سے نیز از فضائل احمد ص ۱۲۴_۱۲۵، از الروضة ص ۱۱۹، المناقب خوارزمی ص ۷۴، ینابیع المودّة ص ۹۲ از ابن عقبہ ، نیز حبیب السیر ج۲ ص ۱۱ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ تاریخ اور سیرت کی اکثر کتابوں میں مذکور ہے _ التفسیر الکبیر ج۵ ص ۲۰۴ ، الجامع لاحکام القرآن ج۳ ص ۲۱ ، سیرت حلبی ج۳ ص ۱۶۸ ، سیرہ نبویہ دحلان ج۱ ص ۱۵۹ ، فرائد السمطین ج۱ ص ۳۳۰ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص۴ نیز اسی کے حاشیہ پر تلخیص مستدرک ذہبی بالکل اسی صفحہ پر ، مسند احمد ج۱ ص ۳۳۱ ، دلائل الصدق ج۲ ص ۸۱ _ ۸۲ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۶۰ ، اللوامع ج۲ ص ۳۷۶ ، ۳۷۵ ، ۳۷۷ از مجمع البیان ، المبانی، ابونعیم ،ثعلبی و غیرہ و از البحر المحیط ج۲ ص ۱۱۸ نیز معارج النبوة ج۱ ص ۴ و مدارج النبوة ص ۷۹ ، روح المعانی ج۲ ص ۷۳ از امامیہ و دیگر افراد، نیز از مرآة المؤمنین ص ۴۵ ، امتاع الاسماع ص ۳۸ ، مقاصد الطالب ص ۷ و سیلة النجاة ص ۷۸ ، المنتقی کا زرونی ص ۷۹ مخطوط و دیگر معروف و غیر معروف کتب_ اور امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۴ سے نقل کیا ہے_ ابن شہر آشوب کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو ثعلبی نے نیز ابن عاقب نے ملحمہ میں، ابوالسعادات نے فضائل عشرہ میں اور غزالی نے احیاء العلوم اور کیمیاء السعادة میں (عمار سے) روایت کیا ہے علاوہ ازیں ابن بابویہ، ابن شاذان، کلینی، طوسی، ابن عقدہ، برقی، ابن فیاض، عبدلی، صفوانی اور ثقفی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس، ابورافع اور ھند ابن ابوھالہ سے روایت کیا ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۲ ص ۴۸ ( گذشتہ بعض منابع سے )نیز نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۹ (از سلفی) محمودی نے شواہد تنزیل کے حاشیہ میں، مذکورہ مآخذ میں سے نیز ابوالفتوح رازی (ج ۲ ص ۱۵۲) و غایة المرام باب ۴۵ ص ۳۴۶ سے نقل کیا ہے اسی طرح سیرت مغلطای ص ۳۱، المستطرف اور کنوز الحقائق ص ۳۱ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے_
لوگوں میں و ہ بھی ہے جو رضائے الہی کی طلب میں اپنی جان کا سودا کرتا ہے_ ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے_
اسکافی کہتے ہیں کہ: تمام مفسرین نے روایت کی ہے کہ( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) والی آیت شب ہجرت حضرت علیعليهالسلام کے بستر (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ) پر سونے کے بارے میں اتری ہے_(۱)
جھوٹے کامنہ کالا
یہیں سے فضل ابن روزبہان کے اس جھوٹ کا بھی پول کھل جاتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت زبیر اور مقداد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کو اس لئے مکہ بھیجا تھا کہ وہ خبیب بن عدی کو پھانسی کے تختے سے اتاریں_ اس تختے کے اردگرد چالیس مشرکین موجود تھے لیکن ان دونوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے اتارا چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی_
اس بات کی تکذیب اسکافی کے مذکورہ بالا بیان کے علاوہ ان مآخذ سے بھی ہوتی ہے جن کا ذکر اس آیت کے حضرت علیعليهالسلام کی شان میں اترنے کے بیان میں ہوا ہے_
شیخ مظفر فرماتے ہیں کہ مفسرین نے اس بات (فضل کی بات ) کا ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ سیوطی رازی اور کشاف نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ رازی نے اپنی تفسیر میں ان کے تمام اقوال کو جمع کیا ہے اور سیوطی نے ان کی تمام روایات کو_
الاستیعاب میں ''خبیب'' کے حالات زندگی میں مذکور ہے کہ جس شخص کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے (خبیب) کی لاش اتارنے کیلئے بھیجا وہ عمر بن امیہ ضمری تھے_(۲) اس پرمزید تحقیق آئندہ بیان ہوگی_
___________________
۱_ رجوع کریں شرح نہج البلاغة ج ۱۳ ص ۲۶۲ _
۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۸۲ _
ابن تیمیہ کیا کہتا ہے:
ابن تیمیہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان میں اس آیت کے نزول سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدثین اور سیرت نگاروں کا اس کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے اس کے علاوہ حضرت علیعليهالسلام کو صادق (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ) کے اس قول سے ''کہ ان کی طرف سے تجھے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی'' اطمینان قلبی حاصل ہوگیا تھا_ بنابریں جان کی قربانی یا فداکاری کا مسئلہ ہی در پیش نہ تھا_ یہ آیت سورہ بقرہ میں مذکور ہے جس کے مدنی ہونے پر سب کا اتفاق ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ یہ آیت صہیب کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے ہجرت کی_(۱)
ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ:
الف: اگر حضرت علیعليهالسلام کی بہ نسبت یہ آیت مدنی ہے تو صہیب کے متعلق بھی تو یہ آیت مدنی ہے_ بات تو ایک ہی ہے_
ب: اسکافی معتزلی نے جاحظ کے دعوے ''کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے علیعليهالسلام سے فرمایا (تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی'' کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے یہ واضح طورپر جھوٹ اور جعلی حدیث ہے جوبات معروف ہے اور منقول بھی_ وہ یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام سے فرمایا :''میرے بسترپر سوجاؤاور میری حضرمی چادر اوڑھ لو_ آئندہ یہ لوگ (مشرکین) مجھے نہ پاسکیں گے_ اور میرا بستر نہ دیکھ سکیں گے شاید یہ لوگ تمہیں دیکھ کر صبح تک مطمئن ہوجائیں_ پس جب صبح ہوجائے تو میری امانت کی ادائیگی کے پیچھے چلے جانا''_
جاحظ نے جوبات کی ہے اسے کسی نے نقل نہیں کیا فقط ابوبکر اصم (بہرے) نے اسے گھڑا ہے اور جاحظ نے اس سے اخذ کیا ہے جبکہ اس کی کوئی بنیادہے ہی نہیں_
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _
اگر (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے منسوب) یہ بات صحیح ہوتی تو حضرت علیعليهالسلام کو مشرکین کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچتی_ حالانکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ انہیں مارا گیا اور انہیں پہچاننے سے قبل ان کی طرف پتھر پھینکے گئے، یہاں تک کہ وہ درد سے پیچ وتاب کھاتے رہے اور انہوں نے ان سے کہا ہم نے تمہارا پیچ وتاب کھانا دیکھا_(۱)
اسکے علاوہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت علیعليهالسلام سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پر رات گزارنے کے بعد غار میں ملاقات کے دوران امانتوں کو واپس کرنے اور مکہ میں اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو اس وقت فرمایا تھا کہ ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور یہ اطمینان دلایا تھا کہ تمہارا یوں اعلان کرنا مشکلات اور مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنے گا_
ج: ہماری بات کی دلیل یہ ہے کہ:
۱) اگر ابن تیمیہ کی بات درست ہوتی تو پھر ان کا اپنے اس اقدام پر فخر کرنے کا کیامطلب رہ جاتا ہے؟ چنانچہ روایت ہے کہ جب حضرت عائشہ نے اپنے باپ اور غارمیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ ان کی مصاحبت پر فخرکیا تو عبداللہ بن شداد بن الہاد نے کہا:'' تیرا علی بن ابیطالبعليهالسلام سے کیا مقابلہ جو تلواروں کے سائے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی جگہ پر سوگئے''_ یہ سن کر حضرت عائشہ خاموش ہوگئی اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا_(۲)
۲) حضرت انس سے منقول ہے کہ حضرت علیعليهالسلام نے اپنے نفس کو قتل ہونے کیلئے آمادہ کرلیا تھا_(۳)
۳) بلکہ علیعليهالسلام نے خود اس بات کی تصریح فرمائی اور ان اشعار کے ذریعے ہرقسم کے شبہات دور کردیئے جن کا تذکرہ ہوچکا ہے انہوں نے فرمایا تھا:
وقیت بنفسی خیر من وطئی الثری
میں نے اپنی جان پیش کر کے اس شخص کو بچایا جو اس زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر تھا_
___________________
۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۶۳ _
۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۶۲ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۵۶ (از امالی)
۳_ امالی شیخ طوسی اور بحارالانوار
نیز یہ بھی فرمایا_
وبت اراعیهم متی یثبتوننی
وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر
وبات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الله فی الغار آمنا
هناک وفی حفظ الاله وفی ستر(۱)
میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے گرفتار کرتے ہیں_ میں نے اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا ادھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے غار میں امن وسکون سے اور اللہ کی پناہ میں چھپ کر رات گزاری_
د:امام علیعليهالسلام ہی سے نقل ہوا ہے کہ ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے اور اپنی جان کے بدلے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کا حکم دیا_ پس میں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت میں اس کام کی طرف شتاب کیا_ میں اندر سے خوش تھا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بدلے میں قتل ہو جاؤں گا_ یوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے سفر پر نکل پڑے اور میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پرسوگیا_ قریش کے مرد اس یقین کے ساتھ کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو قتل کریں گے_ جب گھر میں داخل ہوئے جہاں میں موجود تھا _میرا اور ان کا آمنا سامنا ہواتو میں نے اپنی تلوار سے ان کی خبرلی اور جس طرح میں نے ان سے اپنا دفاع کیا اسے اللہ اور لوگ بخوبی جانتے ہیں''_ پھر انہوں اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' کیا میرا بیان درست نہیں؟'' وہ بولے ''کیوں نہیں اے امیرالمومنینعليهالسلام ''_(۲)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے علیعليهالسلام کو مارا اور کچھ دیر قید رکھا اور پھر چھوڑ دیا_(۳)
ابن تیمیہ کا یہ دعوی کہ جبرئیل کی طرف سے ان کی حفاظت اور اس بارے میں نزول آیت والی روایت تمام محدثین اور سیرت نگاروں کے نزدیک جھوٹی ہے،یہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن تیمیہ کے
___________________
۱_ نور الابصار ص ۸۶، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۱۰۲، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۴، تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے پر، نیز امالی شیخ ج ۲ ص ۸۳ تذکرة الخواص ص ۳۵ و فرائد السمطین ج ۱ ص ۳۳۰ و مناقب خوارزمی ص ۷۴_۷۵ و فصول المہمة (ابن صباغ) ص ۳۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۶۳ اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ نیز اس شعر کے منابع بھی بہت زیادہ ہیں جن کی جستجو کی گنجائشے نہیں ہے_
۲_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۴۵ میں، خصال ج ۲ ص ۱۴_۱۵ سے نقل ہوا ہے _
۳_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ _
علاوہ کسی نے بھی اس روایت کو نہیں جھٹلایا ہے _بنابریں اس نے ان لوگوں کی طرف ایسی بات کی نسبت دی ہے جن کا خود ان کو علم نہیں اور وہ اس سے بری ہیں بلکہ حاکم اور ذہبی کی طرف سے اس روایت کو صحیح قرار دینے کی بات آپ پہلے پڑھ چکے ہیں_ اس کے علاوہ ایسے بہت سے لوگوں کا بھی ذکر ہوچکا ہے جنہوں نے بڑے بڑے علماء اور حفاظ سے اس روایت کو بغیر کسی ردوکد کے نقل کیا ہے لیکن ممکن ہے کہ ابن تیمیہ کے شیطان نے اس پر وحی کی ہو کہ وہ ان لوگوں کی طرف ایسی چیز منسوب کرے جس سے وہ بری ہیں_
ھ: حلبی نے ابن تیمیہ کے اعتراض کا یوں جواب دیا ہے_''اس نے امتاع میں یہ نہیں بتایا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت علیعليهالسلام سے مذکورہ بات کہی تھی_ بنابریں ان کا نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنا تو واضح ہے اور دوسری طرف سے یہ ممکن ہے کہ مذکورہ آیت ایک دفعہ حضرت علیعليهالسلام کے حق میں اور ایک دفعہ حضرت صہیب کے بارے میں اتری ہواس صورت میں حضرت علیعليهالسلام کے بارے میں لفظ شراء سے مراد بیچنا ہوگا یعنی انہوں نے اپنی جان نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان کے بدلے بیچ دی اور حضرت صہیب کے بارے میں اس لفظ سے مراد ''خریدنا'' ہوگا_ صہیب نے مال دے کر اپنی جان خرید لی_ رہا اس آیت کا مکی ہونا تو یہ بات سورہ بقرہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں کیونکہ سورتوں کا مکی یا مدنی ہونا آیات کی اکثریت کے پیش نظر ہوتا ہے_(۱)
لیکن حلبی کے اس جواب کی بعض باتیں قابل تنقید ہیں کیونکہ لفظ شراء ''کو ایک دفعہ بیچنے'' کے معنی میں اور ایک دفعہ خریدنے کے معنی میں استعمال کرناقابل قبول نہیں کیونکہ لفظ مشترک کے ایک سے زیادہ معانی میں استعمال کا موجب بنتا ہے جبکہ علماء کی ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے_ علاوہ ازیں صہیب کو اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے دوسروں پر کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوتی_ کیونکہ بہت سے مہاجرین ہجرت کے باعث اپنے اموال سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے_ وہ ان کو مشرکین کے پاس چھوڑ کر راہ خدا میں مکہ سے نکل گئے تھے_
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _
صہیب کا واقعہ اور ہمارا نقطہ نظر
نقل کرتے ہیں کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے غار کی طرف حرکت کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابوبکر کو دو یا تین بار صہیب کے پاس بھیجا_ انہوں نے صہیب کو نماز پڑھتے پایا چنانچہ انہیں اچھا نہ لگا کہ وہ نماز توڑ دیں_ جب واقعہ ہوچکا تو صہیب حضرت ابوبکر کے گھر آئے اور اپنے دونوں بھائیوں (ابوبکر اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ) کے بارے میں پوچھا_ چنانچہ انہیں واقعے کے بارے میں بتایا گیا_ نتیجتاً وہ اکیلے ہی ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے لیکن مشرکین نے انہیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے اپنا مال ومتاع ان کے حوالے کردیا_ جب قباء کے مقام پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ مل گئے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا صہیب فائدے میں رہا صہیب فائدے میں رہا_ یا فرمایا اس کی تجارت سود مند رہی چنانچہ خداوند عالم نے یہ آیت اتاری( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) (۱)
اس روایت کے الفاظ مختلف ہیں جیساکہ تفسیر درمنثور اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے _یہاں اتنا کہناہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکین نے صہیب کو سزا دینے کیلئے پکڑ لیا_ اور صہیب نے کہا میں ایک بے ضرربوڑھا آدمی ہوں خواہ میرا تعلق تم سے ہو یا تمہارے غیر سے_ کیا تم میرا مال لیکر مجھے اپنے دین کے معاملے میں آزاد نہیں چھوڑ سکتے؟ نتیجتاً انہوں نے ایسا ہی کیا_(۲)
ایک اور روایت نے اس کا تذکرہ اس واقعے کی طرح کیا ہے جو حضرت علیعليهالسلام کے ساتھ ہجرت کے وقت پیش آیا یعنی جب مشرکین انکی دھمکی سے ڈر کر واپس چلے گئے تھے_(۳)
___________________
۱_ الاصابة ج ۲ (صہیب کے ذکر میں)، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۳ و ۲۴، الدر المنثور ج ۱ ص ۲۰۴ از ابن سعد، ابن ابی اسامہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم و ابونعیم '' الحلیة '' میں اسی طرح ابن عساکر، ابن جریر، طبرانی، حاکم، بیہقی در الدلائل اور ابن ابی خیثمہ سے (عبارات میںکچھ اختلاف ہے) _
۲_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _
۳_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _
لیکن یہ قصہ صحیح نہیں کیونکہ:
۱) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ان حالات میں صہیب کے پاس تین بار حضرت ابوبکر کو بھیجنا معقول بات نہیں خصوصاً ان حالات میں جبکہ انہی کے بقول مشرکین رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ حضرت ابوبکرکو بھی تلاش کررہے تھے اور انہیں تلاش کرنے والے کیلئے سو اونٹوں کاانعام مقرر کیا تھا(۱) _( اگرچہ ہماری نظر میں یہ بھی درست نہیں جیساکہ آپ آئندہ صفحات میں مشاہدہ کریں گے) لیکن بہرحال اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ قریش کی کوشش اس لئے تھی کہ حضرت ابوبکر کے ذریعے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا سراغ لگایا جائے_
۲) حالت نماز میں صہیب کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا پیغام پہنچانے سے ان کی نماز کیوں ٹوٹتی کیونکہ حضرت ابوبکر کیلئے یہ ممکن تھا کہ اپنی بات صہیب سے کہتے اور ان کی نماز توڑے بغیر لوٹتے یا ایک دو منٹ ٹھہر کر اس کا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر لیتے_ پھر اس قسم کا اتفاق نہایت ہی کم ہوتا ہے_لہذا کیسے ہوسکتاہے کہ وہ دو یا تین بار آئیں اور صہیب پھر بھی مشغول نماز ہوں_
۳) کیا وجہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے صہیب کو تو اہمیت دی لیکن دوسرے بے چارے مسلمانوں کو نظر انداز کردیا؟ (جن کے اوپر قریش ہرقسم کا تشدد روا رکھتے تھے) اور ان کے پاس تین بار تو کیا ایک بار بھی کسی کو نہ بھیجا؟ کیا یہ بات امت کے بارے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عادلانہ رویہ اور عطوفت ومہربانی سے ہم آہنگ ہے؟ ہاں مگر یہ کہا جائے کہ شاید صہیب کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر مشرکین کی کڑی نظر تھی یا یہ کہ صہیب دوسروں سے زیادہ گرفتار بلا تھے یا اسی طرح کے دیگر احتمالات جن کی طرف بعض لوگوں نے اشارہ کیا ہے_
۴) ہم بعض ایسی روایات بھی پاتے ہیں جن کے مطابق حضرت ابوبکر نے (نہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے) صہیب سے کہا تھا اے صہیب تیری تجارت سود مند رہی(۱) جیساکہ ابن ہشام نے بھی اس واقعے کو ذکر کیا ہے لیکن اس نے نزول آیت کا تذکرہ نہیں کیا_(۲)
___________________
۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۹ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ اور ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۸_
۲_ مجمع البیان ج ۶ ص ۳۶۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۳۵، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۴ نیز ملاحظہ ہو صفین (منقری) ص ۳۲۵__
۳_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۱ _
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)
۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_
۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_
۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليهالسلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)
۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_
یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_
___________________
۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _
۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _
۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _
یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليهالسلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليهالسلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليهالسلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليهالسلام کے دشمن فائدے میں رہے_
ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليهالسلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليهالسلام بستر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا غار میں تھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟
ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_
ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ
___________________
۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _
''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جبرئیلعليهالسلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليهالسلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)
لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:
الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_
کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)
تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)
چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_
ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليهالسلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_
۱) امام علیعليهالسلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _
۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_
۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_
نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)
بظاہر حضرت علیعليهالسلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليهالسلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليهالسلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_
۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليهالسلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)
۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_
اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ
___________________
۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليهالسلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_
۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _
۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_
سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)
بنابریں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_
۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليهالسلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليهالسلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے
___________________
۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليهالسلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليهالسلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_
۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _
۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_
لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_
۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو علیعليهالسلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_
۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت علیعليهالسلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)
۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليهالسلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)
۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت علیعليهالسلام کو صدیق کانام دیا_(۴)
___________________
۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليهالسلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی
۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _
۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_
۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _
۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليهالسلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)
۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليهالسلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)
۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليهالسلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليهالسلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)
۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليهالسلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)
یعنی حضرت علیعليهالسلام ہی صدیق اکبر ہیں_
گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليهالسلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_
علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں
___________________
۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _
۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_
۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليهالسلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_
۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _
کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_
یہ القاب کب وضع ہوئے؟
بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليهالسلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_
دو سواریاں
کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_
۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_
پھر جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پیش کیں لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:
۱) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟
۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليهالسلام نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_
حقیقت حال
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليهالسلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_
___________________
۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_
۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _
۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليهالسلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليهالسلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_
ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_
خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج
کہتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _
یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:
۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)
۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليهالسلام کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليهالسلام نے ان کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟
۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليهالسلام آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_
۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں
___________________
۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_
۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_
کہ کھوجی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_
ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)
قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش
کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_
اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)
___________________
۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_
۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_
۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_
یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليهالسلام تھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حضرت علیعليهالسلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليهالسلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_
تا صبح انتظار کیوں
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)
یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں
___________________
۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_
عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _
حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات
کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)
یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_
___________________
۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_
۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_
۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_
ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں اور میرا مال کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)
یا یہ کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _
حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_
۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_
۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_
۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_
۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_
ترمذی میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_
۱_ عامر بن فہیرہ
ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_
۲_ نابینا ابوقحافہ
جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_
الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس
___________________
۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_
نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_
ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟
ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليهالسلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟
۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے
رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_
اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی
___________________
۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _
درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_
مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليهالسلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)
ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليهالسلام ہی نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)
بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليهالسلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليهالسلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليهالسلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)
یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)
___________________
۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_
۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _
۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليهالسلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__
۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _
۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _
۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _
ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)
یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)
حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث
حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليهالسلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)
علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے
___________________
۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _
۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _
۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _
۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _
ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟
سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_
۵_ حضرت ابوبکر کی دولت
حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:
الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:
۱_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليهالسلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_
___________________
۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_
۲_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس حضرت خدیجہعليهالسلام بلکہ حضرت ابوطالبعليهالسلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليهالسلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)
۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_
۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_
___________________
۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليهالسلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_
۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_
ہجرت مدینہ کے بعد تو حضرت ابوبکر اپنے مال کے معاملے میں سخت بخیل ہوگئے تھے_ ان کے پاس اس وقت پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم تھے جیساکہ بعض لوگ نقل کرتے ہیں_ حضرت ابوبکرہرکسی کے ساتھ بخل کرتے تھے یہاں تک کہ اپنی بیٹی اسماء کے ساتھ بھی جو مدینہ آنے کے بعد فقر اور مشکلات کا سخت شکار تھی_ یہاں تک کہ وہ ایک گھرمیں خدمت کرتی تھی، وہاں کے گھوڑے کی دیکھ بھا ل کرتی اور اونٹ کیلئے گٹھلیاں کوٹتی ،اس کو دانہ پانی کھلاتی اوردوتہائی فرسخ(۱) کے فاصلے سے گٹھلیوں کو اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھی_ آخر کار حضرت ابوبکر نے اس کیلئے ایک نوکر بھیج دیا جس نے گھوڑے کی دیکھ بال کا کام سنبھال لیا جیساکہ وہ خود کہتی ہے_(۲)
اس کے علاوہ خود پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام بھی کئی سال تک مشکلات اور تنگی کا شکار رہے بالخصوص جنگ خیبر سے پہلے_ یہاں تک کہ بسا اوقات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دو یا تین دن تک فاقے کرتے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے شکم اطہر پر پتھربھی باندھتے تھے_(۳) انصار باہمی مشورے سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے کھانے کا بند وبست کرتے تھے_ اس وقت حضرت ابوبکر کے وہ ہزاروں درہم اور اموال کہاں گئے تھے جوغزوہ تبوک تک باقی تھے_کیونکہ ان لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ اس وقت وہ اپنی تمام دولت ( چار ہزار درہم) کے ساتھ حاضر ہوئے_(۴)
ب: مذکورہ باتیں اس صورت میں تھیں کہ ان لوگوں کے نزدیک ''منّت'' سے مراد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر مال خرچ کرنا ہو_ لیکن اگر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر منت سے مراد اللہ کی راہ میں انفاق ہو تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہمیں تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ تاریخی شواہد تو اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر نے
___________________
۱_ یعنی تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے سے (از مترجم)
۲_ حدیث الافک ص ۱۵۲ _
۳_ حضرت عائشہ نے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر والوں کی جو حالت بیان کی ہے اس سے انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے _ رجوع کریں طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ دوم ص ۱۲۰و ص ۱۱۲ سے ص ۱۲۰ تک_
۴_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۴۲۹ از ابن عساکر ج ۱ ص ۱۱۰ _
اپنے مال کے معاملے میں اس قدر کنجوسی برتی کہ واقعہ ''نجوی'' میں دو درھم بھی صدقہ دینے پر آمادہ نہ ہوئے اور سوائے امیرالمومنین علیعليهالسلام کے کسی نے یہ اقدام نہ کیا یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری جس میں اللہ تعالی نے اصحاب کے رونے کی مذمت و ملامت کی، ارشاد ہوا( ا اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا وتاب الله علیکم ) (۱) یعنی کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ) سر گوشی کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے_ اب اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا تو ..._ اگر حضرت ابوبکر دو درہموں کا صدقہ دیتے تو ان لوگوں کی صف میں شامل نہ ہوتے جن کی اللہ نے ملامت کی(بلکہ اور جعلی فضائل کوچھوڑ کر اسی پر مباہات کرتے اور حضرت علیعليهالسلام سے برتری کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے _ از مترجم)_
ج: مذکورہ باتوں سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی کیلئے مال خرچ کرنے کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا پر احسان جتلانے کا کوئی معنی نہیں بنتا (جیساکہ مذکورہ روایت سے اس کا شائبہ ملتا ہے) چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے بھی اس بات کی خبردی ہے_ بلکہ منت تو در اصل اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ان پر ہے_
خدا نے احسان جتلانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے( لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ) (۲) یعنی احسان جتلاکر یا آزار دے کر اپنے صدقات کو رائیگاں نہ کرو، نیز فرمایا( ولاتمنن تستکثر ) (۳) یعنی اور احسان نہ جتلاؤ زیادہ حاصل کرنے کیلئے، اس لئے یہ بات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اس منّت پر، منت کرنے والے کی تعریف کریں خاص کر یہ کہیں کہ اس نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے، سارے لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کیا ہے_
___________________
۱_ سورہ مجادلہ آیت ۱۳ نیز رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۲۰، الاوائل ج ۱ ص ۲۹۷ و حاشیة تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۵ اور ۳۷ (جو بہت سے مآخذ سے منقول ہے) کی طرف _
۲_ سورہ بقرہ آیت ۲۶۴ _
۳_ سورہ مدثر آیت ۶ _
ایک اہم اشارہ
انہی وجوہات کی بنا پر بظاہر جب نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، حضرت ابوبکر کو راہ خدا میں اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آنے ،غار میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رہنے ،خطرات جھیلنے اور خوف اعداء سے محزون و پریشان ہونے اور اس قسم کے دیگر طعنے دینے سے نہ روک سکے تو لوگوں کو حضرت ابوبکر کی اس حالت سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوئے ،شاید وہ اس طرح اپنے بعض کاموں سے دستبردار ہوجاتے_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجبور ہوکر آخری اقدام کے طور پر یہ طریقہ کار اختیار کیا جو تعلیم و تربیت کے اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے_ خصوصاً پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام پر اس قسم کااحسان فقط حضرت ابوبکر نے نہیں کیا تھا کیونکہ سارے مہاجرین اپنے اموال اپنا وطن، اپنی سرزمین چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے_ سب نے مشکلات وخطرات کا مقابلہ کیا تھا_ ان میں سے بہت سوں نے سخت ترین قسم کی ایذا رسانیوں اور سزاؤں کا سامنا کیا تھا_ غار میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت کے بارے میں واضح رہے کہ امیرالمومنین کو در پیش خطرہ ان کو در پیش خطرے سے کہیں زیادہ تھا_ بنابریں یہ احسان حضرت ابوبکر کا حصہ کیوں بن جائے؟ یہاں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کو اپنا سب سے بڑا محسن قرار دیں؟
د: طوسی اور مفیدکے بقول ابتدا میں حضرت ابوبکربچوں کے معلم تھے_ پھر درزی کا کام کرنے لگے_ بیت المال سے ان کا حصہ دوسرے مسلمانوں کے برابر تھا اسی لئے وہ انصار کی مدد کے محتاج ہوئے ان کے والد شکاری تھے پھر اپنا پیٹ بھرنے اور بدن چھپانے کیلئے ابن جدعان(۱) کے دسترخوان پر مکھیاں اڑانے اور لوگوں کو بلانے کا کام کرنے لگے_(۲) ان حالات میں فطری بات ہے کہ حضرت ابوبکر پانچ ہزار درہم کے کیسے
___________________
۱_ ابن جد عان کے متعلق بظاہر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ ایک مالدار یہودی آدمی تھا_ (از مترجم)
۲_ تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۸ دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۳۰ و الافصاح ص ۱۳۵ اور الغدیر ج ۸ ص ۵۱_ محقق سید مہدی روحانی نے ابوبکر کے معلم ہونے کو درست نہیں سمجھا کیونکہ بچوں کو مکتب میں جمع کر کے پڑھانے کی رسم بعد میں نکلی ہے اور ایام جاہلیت میں مکہ کے اندر یہ رسم نہ تھی نیز وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ معلم تھے تو ان کے شاگرد کون تھے؟ اس مکہ کے اندر چند معدود افراد کے علاوہ پڑھے لکھے افراد کیوں نہیں پائے جاتے تھے_ جیساکہ کتاب کی ابتدا میں اس کا ذکر ہوچکا ہے_بلکہ جرجی زیدان نے اپنی کتاب تاریخ تمدن میں لکھا ہے کہ حضور کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت کے وقت پورے مکہ میں صرف سات پڑھے لکھے آدمی تھے_
مالک ہوسکتے تھے، چالیس ہزار درہم یا دینار تو دور کی بات ہے کیونکہ اس قسم کی دولت یا تجارت سے حاصل ہوتی ہے یا زراعت سے، حضرت ابوبکر اس طرح کے پیشوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے، بنابریں بعض لوگ کیسے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا شمار قریش کے رؤسا، مالداروں اور صاحبان جاہ ومقام میں سے ہوتا تھا؟ اگر ان کی یہ حالت تھی تو پھر اپنی بیٹی (اسمائ) کی خبر کیوں نہ لی اور خاص کر اپنے باپ کو ابن جدعان کے پاس کیوں رہنے دیا؟_
ھ: جب امیرالمومنینعليهالسلام نے تھوڑا سا مال بطور صدقہ دیا (جیساکہ آپ نے یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا کھلا کر اس کا ثبوت دیا) تو اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری:
( ویطعمون الطعام علی حبه مسکینا ویتیما واسیرا انما نطعمکم ) (۱) اور جب انہوں نے اپنی انگوٹھی بطور صدقہ دی تو یہ آیت نازل ہوئی( انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة ویوتون الزکاة وهم راکعون ) (۲) نیز جب انہوں نے ایک درہم چھپاکر
___________________
۱_ سورہ انسان (دھر) آیت ۸ اور روایات کے منابع یہ ہیں : المناقب (خوارزمی) ص ۱۸۹ ، ۱۹۵ ، ریاض النضرةج۳ ص ۲۰۸ و ۲۰۹ ، التفسیر الکبیر ج۳۰ ص ۲۳۴ _۲۴۴ از واحدی و الزمخشری ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر مطبوع،) ج۲۹ ص ۱۱۲، ۱۱۳، کشاف ج۴ ص ۶۷۰،نوادرالاصول ص ۶۴ ، ۶۵ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۹ ص ۱۳۱ از نقاش ، ثعلبی، قشیری و دیگر مفسرین، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۹ ، تفسیر نورالثقلین ج۵ ص۴۶۹_۴۷۷ از امالی شیخ صدوق، قمی ، طبرسی و ابن شہر آشوب ، ذخائر العقبی ص ۸۹ وسائل الشیعہ ج۱۶ ص ۱۹۰ ، فرائد السمطین ج۲ ص ۵۴ تا ۵۶ ، مجمع البیان ج۱۰ ص۴۰۴ ، ۴۰۵ ، المناقب ( ابن مغازلی) ص ۲۷۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۷۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱، اور اسدالغابہ ج۵ ص ۵۳۰ ، ۵۳۱ اور دیگر کثیر منابع_
۲_ سورہ مائدہ آیت ۵۵ اور حدیث کے مآخذ یہ ہیں : الکشاف ج۱ ص ۶۴۹ ، اسباب النزول ص ۱۱۳ ، تفسیر المنار ج۶ ص ۴۴۲ نیز کہا ہے کہ کئی طریقوں سے روایت کی گئی ہے ، تفسیر نورالثقلین ج ۱ ص ۵۳۳ و ۳۳۷ از الکافی ، احتجاج ، خصال، تفسیر قمی اور امالی شیخ صدوق، تفسیر الکبیر ج۱۲ ص ۲۶، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۳ ، ۲۹۴ از ابوشیخ، ابن مردویہ ، طبرانی، ابن ابی حاتم، ابن عساکر ، ابن جریر و ابونعیم و غیرہ ، فتح القدیر ج۲ ص۵۳خطیب کی کتاب المتفق و المفترق سے ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۲۲۱ ، شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۷۳ _ ۱۸۴ کنز العمال ج۱۵ ص ۱۴۶ ، الفصول المہمہ ( ابن صباغ) ص ۱۰۸ ، تذکرة الخواص ص ۱۵ ، المناقب خوارزمی ص ۱۸۶ ، ۱۸۷ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۲۰۸ ، ذخائر العقبی ص ۱۰۲ از واقدی و ابو الفرج ابن جوزی اور وسائل الشیعہ ج۶ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵ و دیگر منابع _
اور ایک درہم اعلانیہ نیز ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو صدقہ دیا تو اللہ تعالی نے یوں توصیف فرمائی( الذین ینفقون اموالهم باللیل و النهار سرا وعلانیة فلهم اجرهم عند ربهم ) (۱) اسی طرح آیہ نجوی پر بھی سوائے حضرت علیعليهالسلام کے کسی اور نے عمل پیراہو کر نہیں دکھایا(۲) _
ان ساری باتوں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت ابوبکر نے چالیس ہزار درہم یا دینار راہ خدا میں خرچ کئے ہوتے اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ان کا اتنا بڑا احسان ہوتا کہ جس کا بدلہ خدا ہی دیتا یہاں تک کہ کسی کے مال نے حضرت ابوبکر کے مال کی مانند آپ کو فائدہ نہ پہنچایا ہوتا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا قرآن میں اس کا ذکر ہی نہ کرے اور تاریخ یا حدیث کی کتابوں میں کم از کم اس کا ایک نمونہ بھی ایسا دکھائی نہ دے جو قابل اثبات ہو؟ کیا مورخین اور محدثین نے حضرت ابوبکر کے فضائل سے عمداً چشم پوشی کی؟ اگر ہاں تو پھر اس
___________________
۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۷۴ روایات ان کتابوں میں موجود ہیں : الکشاف ج۱ ص ۳۱۹ ، تفسیر المنار ج۳ ص ۹۲ از عبدالرزاق و ابن جریر وغیرہ ، التفسیر الکبیر ج۷ ص ۸۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۳۴۷ ، تفسیر قرآن العظیم ج۱ ص ۳۲۶ از ابن جریر ، ابن مردویہ و ابن ابی حاتم، فتح القدیر ج ۱ ص ۲۹۴ از عبد الرزاق ، عبد بن حمید و ابن منذر، طبرانی اور ابن عساکر و غیرہ ، الدرالمنثور ج۱ ص ۳۶۳ ، لباب النقول ص ۵۰ مطبوعہ دار احیاء العلوم، اسباب النزول ص ۵۰ ، تفسیر نورالثقلین ج۱ ص ۳۴۱ از عیاشی والفصول المہمہ (ابن صباغ) ص ۱۰۷ ، نظم درر السمطین ص ۹۰ ، ذخائر العقبی ص ۸۸ ، تفسیر البرہان ج۴ ص ۴۱۲ ، المناقب ابن مغازلی ص ۲۸۰ ، ینابیع المودة ص ۹۲ ، روضة الواعظین ص ۳۸۳ و ۱۰۵ او ر شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱_
۲_ ملاحظہ ہو: المناقب خوارزمی ص ۱۹۶ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۱۸۰ ، الصواع المحرقہ ص ۱۲۹ ا زواقدی ، نظم در ر السمطین ص ۹۰، ۹۱ ، تفسیر القرآن العظیم ج۴ ص ۳۲۷، ۳۲۶، جامع البیان ج۲۸ ص ۱۴ ، ۱۵ ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر) ج۲۸ ص ۲۴ ، ۲۵ ، کفایة الطالب ص ۱۳۶ ، ۱۳۷ ، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۴۲۸ ، مستدرک حاکم ج۲ ص ۴۸۲ ، تلخیص مستدرک ( ذہبی ، مطبوعہ حاشیہ مستدرک) ج۲ ص ۶۷۳، ۶۷۵، لباب التاویل ج۴ ص ۲۲۴، مدارک التنزیل( مطبوعہ حاشیہ لباب التاویل) ج۴ ص ۲۲۴، اسباب النزول ص ۲۳۵، شواہد التنزیل ج۲ ص ۲۳۱ _۲۴۰، الدر المنثور ج۶ ص ۱۸۵ ، از ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، حاکم( جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ) ، سعید بن منصور و ابن راہویہ، فتح القدیر ج۵ ص ۱۹۱ ، التفسیر الکبیر ج۲۹ ص ۲۷۱ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۷ ص ۳۰۲ ، الکشاف ج۴ ص ۴۹۴ ، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۸ ، احقاق الحق ( حصہ ملحقات) ج۳ ص ۱۲۹ تا ۴۰ ۱ و ج۱۴ ص ۲۰۰ ، ۲۱۷ و ج۲۰ ص ۱۸۱ ، ۱۹۲ مذکورہ بعض مآخذ سے نیز دیگر کثیر منابع سے اور اعلام الوری ص ۱۸۸ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جگہ کی کمی کے پیش نظر اس حدیث اور گذشتہ تین روایات کے اکثر منابع و مآخذ ذکر نہیں کئے گئے وگرنہ مذکورہ منابع سے کہیں زیادہ کتب میں یہ روایات ملتی ہیں_
سلسلے میں حضرت علیعليهالسلام کے فضائل سے چشم پوشی کیوں نہیں کی؟
کیا حکمرانوں، بادشاہوں، ان کے ما تحتوں اور بڑے علماء نے حضرت ابوبکر پر ظلم کرتے ہوئے لوگوں کو ان کے فضائل بیان کرنے یا نقل کرنے سے روکا؟ (جس طرح حضرت علیعليهالسلام پر ظلم کیا تھا؟) البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرنے مکہ میں مجبور اور ستم دیدہ غلاموں کو آزاد کیا تھا لیکن ہم عرض کرچکے کہ اس کا اثبات ناممکن ہے_ چنانچہ اسکافی معتزلی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیمت اس زمانے میں سو درہم بھی نہ تھی (بشرطیکہ روایت کی صحت کو تسلیم کرلیاجائے) _
کیا خدا کی عدالت کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت علیعليهالسلام کے صدقات کا (کم ہونے کے باوجود) قرآن اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی ذکر ہو لیکن حضرت ابوبکر کے عطیات کا کئی ہزار کی حد تک پہنچنے کے باوجود، تذکرہ نہ ہو؟ کیا یہ عدل ہے؟ منزہ ہے وہ اللہ جو بادشاہ بھی ہے، حق بھی اور عدل مبین بھی، جس کے ہاں کسی پر ذرہ بھر بلکہ اس سے بھی کم ظلم نہیں ہوتا_
اب کیا یہ کہنا صحیح نہیںہوگا کہ حضرت ابوبکر کے عطیات خالص خدا کی رضا کیلئے نہ تھے؟ اور اگر یہ سب ان کے فطری جود وسخاوت کا نتیجہ تھا ا ور اسی لئے اللہ نے ان کو نظر انداز فرمایا تھا تو پھر کم از کم خدا اسی خصلت کی ہی تعریف فرماتا اور اگر ان کے عطیات کی کوئی قدر وقیمت ہی نہ تھی تو پھر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے کیونکر فرمایا کہ اللہ بہت جلد اس کی جزا عنایت کرے گا؟ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی مفید، قانع کنندہ اور قابل قبول جواب آپ کو نہیں ملے گا_
ان ساری باتوں سے قطع نظر حضرت ابوبکر کی مالداری کا ذکر فقط ان کی بیٹی حضرت عائشہ سے منقول ہے( جیساکہ شیخ مفید علیہ الرحمةنے کہا ہے )اوراس کے راویوں میں شعبی جیسے افراد بھی موجود ہیں جو رضائے بنی امیہ کے حصول کی خاطر تعصب اور اپنی دروغ گوئی اور افترا پردازی کے باعث معروف اور مشہور ہیں_(۱)
___________________
۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنینعليهالسلام ص ۱۳۱_۱۳۳ _
ماہر چوروں کا تذکرہ
یہاں روتوں کو ہنسانے والی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض کے بقول چور جب حضرت ابوبکر کے چار سوا ونٹ اور چالیس غلاموں کو چوری کر کے لے گئے اور نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ا نہیں غمگین دیکھا تو ان سے اس کا سبب پوچھا _ جب انہوں نے چوری کا واقعہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتایا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا:''(اچھا یہ بات ہے) میں سمجھا تھا کہ تم سے کوئی نماز قضا ہوگئی ہے ...''(۱) لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان ماہر چوروں نے غلاموں اوراونٹوں کی اتنی بڑی مقدار کو کہاں چھپایا تھا؟ پھر ان میں سے ایک غلام نے بھی وہاں سے بھاگ کر جناب ابوبکر کو خبر دار نہیں کیا ؟ پھر کیسے ہوا کہ اس دور کی تاریخ کے سب سے بڑے قافلے کے چلنے کی آواز نے مکہ اور مدینہ کے کسی فرد کو بھی نہیں جگایا؟ پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابوبکر کے پاس اتنی زیادہ ثروت کہاں سے آگئی؟ پھر وہ جزیرة العرب کے سب سے زیادہ متمول آدمی کے طور پر چاردانگ عالم میں مشہور کیوں نہیں ہوئے؟ آخر کار ہمیں یہ پتا بھی نہیں چل سکا کہ جناب ابوبکر مسروقہ چیزوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوسکے یا نہیں؟
حضرت ابوبکر کی دولت سے مربوط اقوال پر آخری تبصرہ
ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی دولت مندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسے خرچ کرنے کے بارے میں جو اقوال موجود ہیں وہ خلیفہ اول کے حامیوں کے شدید رد عمل کا نتیجہ ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف سے تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قیمت اداکئے بغیر ان کی پیش کردہ سواری کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں(۲) اور دوسری طرف سے حضرت علی،عليهالسلام آپعليهالسلام کے عطیات اور شب ہجرت اور دیگر مقامات پر آپعليهالسلام کی
___________________
۱_ نزہة المجالس ج ۱ ص ۱۱۶_
۲_ صحیح بخاری مطبوعہ مشکولی ج ۵ ص ۷۵ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۴ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۱ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اول ص ۱۵۳ البدایة والنہایة ج ۳ ص ۱۸۴_۱۸۸ مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۵ الکامل ابن اثیر اور دیگر بہت سارے مآخذ کے علاوہ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۲ کی طرف رجوع کریں _
قربانیوں کے بارے میں قرآن کی آیتیں اتر رہی ہیں_
بنابریں ضروری تھا کہ وہ حضرت ابوبکر کیلئے عظیم فضائل اور قربانیاں ثابت کرنے کی جد وجہد کرتے_
اس کے بعد یہ لوگ سواری والے واقعے کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنی جان اوراپنے مال کے ساتھ راہ خدا میں ہجرت کرنا چاہتے تھے_(۱)
لیکن جب وہ ہجرت کے واقعات میں زاد راہ والی چمڑے کی تھیلی، پکی ہوئی بکری اور گوسفند کے دودھ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس تاویل کو بھول جاتے ہیں اور اپنی گفتار کے اندر موجود واضح تضاد سے غافل ہوجاتے ہیں کہ ایک طرف تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اپنی جان اور فقط اپنے مال کے ساتھ ہجرت کا ارادہ فرمائیں اور دوسری طرف آپصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابوبکر کی طرف سے دیئے گئے مال، زاد راہ اور دودھ وغیرہ سے استفادہ کریں_
جی ہاں اگر (نعوذ باللہ )رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے افعال واقوال میں تضاد نظر آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ حضرت ابوبکر کی فضیلت میں کمی یا فضائل سے ان کی محرومی کا باعث نہ بنے_
دروغ پردازی اور جعل سازی
حقیقت یہ ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے اموال کے بارے میں فرمایا تھا ''ما نفعنی مال قط مثل ما نفعنی مال خدیجة '' (مجھے کسی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا خدیجہ کے مال نے) جیساکہ ذکر ہوچکا ہے_ لیکن اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں تبدیل کردیا گیا ہے_ اس کو مختلف شکلوں اور عبارتوں میں ڈھالاگیا ہے جو ایک ہی مقصد کی حامل اور ایک ہی واضح ہدف کی غماز ہیں اور وہ ہے حضرت ابوبکر کیلئے فضیلت تراشی اور بس_ دیگر بہت ساری ان روایات کی مانند جن کا ذکر ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امیرالمومنین حضرت علیعليهالسلام کے فضائل کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے معتقدین کی وضع کردہ ہیں جیساکہ تحقیق اور موازنہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کیلئے واضح ہے_
___________________
۱_ فتح الباری ج ۷ باب الہجرة ص ۱۸۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲ _
ابوبکر اور دیدار الہی
حضرت انس سے مروی ہے کہ جب حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم غار سے خارج ہوئے تو حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رکاب تھام لی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ان کی طرف نظر کی اور فرمایا :''اے ابوبکر تجھے خوشخبری نہ دوں؟'' بولے :''کیوں نہیں میرے ماں باپ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قربان جائیں''_ فرمایا: ''بیشک خدا روز قیامت تمام لوگوں کے سامنے اپنا دیدار عام کرائے گا لیکن تمہارے لئے بطور خاص اپنی تجلی دکھائے گا''_(۱) یہاں پہلے تو ہم نہیں سمجھے کہ اس تجلی سے کیا مراد ہے_ مگر یہ کہ مذہب مجسّمہ (جو ایک گمراہ مذہب ہے) کی رو سے اس کا معنی کیا جائے_ اس کے علاوہ فیروز آبادی نے اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں گھڑی گئی مشہور و معروف جعلی احادیث میں شمار کیا ہے جن کا باطل ہونا عقل سلیم کے نزدیک بدیہی اور واضح امر ہے_ خطیب نے نقلی علوم کے ماہرین کے نزدیک اس کے جعلی ہونے کی تصدیق کی ہے_ اس کے علاوہ ذہبی، عجلونی، ابن عدی، سیوطی، عسقلانی اور قاری وغیرہ نے بھی اس کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کا فیصلہ دیا ہے_(۲)
فضائل کے بارے میں ایک اہم یاددہانی
مدائنی کہتے ہیں معاویہ نے ہر جگہ اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ کی شہادت قبول نہ کی جائے_ نیز یہ بھی لکھا :''اپنے درمیان عثمان کے طرفداروں، دوستوں اور چاہنے والوں کو تلاش کرو، جو اس کے فضائل ومناقب بیان کریں ان کی مجالس میں حاضری دو، انہیں اپنے قریب لاؤ، ان کا احترام ملحوظ رکھو اور ان میں سے ہر کسی کی روایتوں کے ساتھ اس کا نام نیز اس کے باپ اور خاندان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دو'' چنانچہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی حد کردی کیونکہ معاویہ
___________________
۱_ الغدیر ج۵ ص ۳۰۱ _ ۳۰۲ اور دیگر مآخذ اگلے حاشیہ میں ذکر ہوں گے نیز ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۱_
۲_ تاریخ خطیب بغدادی ج ۲ ص ۲۸۸ اور ج ۱۲ ص ۱۹ و کشف الخفاء ج ۲ ص ۴۱۹ اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۱۴۸، لسان المیزان ج ۲ ص ۶۴ میزان الاعتدال ج ۲ ص ۲۱، ۲۳۲ اور ۲۶۹ اور جلد سوم ص ۳۳۶ اور الغدیر ج ۵ ص ۳۰۲ جو مذکورہ مآخذ کے علاوہ اسنی المطالب ص ۶۳ سے ماخوذ ہے_
ان کو انعام و اکرام عطیات، وظائف اور خلعتوں سے نوازتا تھا خواہ وہ عرب ہوں یا غیر غرب_ یوں ہر شہر میں یہ کام عام ہوگیا اور لوگ دنیوی مال و مقام حاصل کرنے کیلئے اس کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگ گئے_ معاویہ کا کوئی عامل ایسا نہ تھا جس کے پاس کوئی شخص آکر حضرت عثمان کی شان میں کوئی فضیلت یا منقبت بیان کرتا مگر یہ کہ وہ اس کا، اس کے رشتہ داروں، اور اس کی بیوی کا نام فہرست میں شامل کرلیتا_ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتارہا_
پھر معاویہ نے اپنے عمال کو لکھا کہ اب حضرت عثمان کی شان میں احادیث کی شہرت ہر شہر اور ہر جگہ پہنچ چکی ہے_ لہذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو صحابہ اور خلیفہ اول وخلیفہ دوم کے فضائل بیان کرنے کی دعوت دو_ ابوتراب علیعليهالسلام کے بارے میں مسلمانوں کے پاس موجود ایک ایک روایت کے مقابلے میں صحابہ کے دس فضائل میرے پاس لے آؤ کیونکہ یہ بات مجھے بہت زیادہ پسند ہے اور میری آنکھوں کیلئے زیادہ ٹھنڈک کا باعث ہے، نیز یہ عمل حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی بہ نسبت ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیلوں کے مقابلہ میں بہتراور سخت تر ثابت ہوگا _
معاویہ کے خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے_ یوں صحابہ کی شان میں جعلی احادیث کا تانتا بندھ گیا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی_ لوگ اس قسم کی روایتیں نقل کرنے میں کوشاں ہوگئے_ یہاں تک کہ منبروں پر ان کا ذکر ہونے لگا_ قرآن پڑھانے والوں تک بھی یہ احادیث پہنچائی گئیں_انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو وسیع پیمانے پر یہ احادیث سکھائیں_ چنانچہ انہوں نے قرآن کی طرح ان کو سیکھ لیا اور دوسروں کیلئے نقل کیا_
یہاں تک کہ انہوں نے عورتوں، لڑکیوں، اور نوکروں تک کو بھی یہ احادیث سکھا دیں اور اس کام میں عرصہ دراز تک مشغول رہے_
پھر اس نے تمام شہروں میں اپنے عاملوں کے نام ایک ہی مضمون پر مشتمل فرمان لکھا_ ''جس شخص کے خلاف یہ شہادت ملے کہ وہ حضرت علیعليهالسلام اور اس کے اہلبیت سے محبت کرتا ہے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ لو_ اس کا وظیفہ اور روزی بند کردو''_ اس کے بعد ایک اور خط اس کے ساتھ یوں لکھا ''جن لوگوں پر تم ان (علیعليهالسلام
اور ان کی اہلبیت) کے ساتھ محبت کا الزام لگاچکے ہو_ان کو عبرت ناک سزائیں دو اور ان کے گھروں کو منہدم کرادو'' اس کے نتیجے میں عراق والوں پر سب سے زیادہ مصیبت ٹوٹ پڑی خصوصاً کوفہ میں_ یہاں تک کہ جب کسی شیعہ کے پاس اس کا قابل وثوق آدمی آتا اور اس کے گھر میں داخل ہوتا تاکہ اسے راز کی کوئی بات بتائے تو وہ اس کے غلاموں اور نوکروں سے بھی خوف محسوس کرتا تھا اور اس وقت تک اس کے ساتھ بات نہ کرتا جب تک اسے راز محفوظ رکھنے کی قسمیں نہ دے لیتا_ یوں کثیر تعداد میں جھوٹی احادیث اور بہتانوں کا سلسلہ پھیل گیا_ علمائ، قاضی اور والی ان پر عمل کرتے تھے _ اس کام میں سب سے زیادہ ضعیف الایمان اور ریا کار قاری مبتلا ہوئے جو خضوع اور خشوع کا دکھلاوا کرتے تھے اور جھوٹی احادیث گھڑتے تاکہ حکمرانوں سے فائدہ لے سکیں اور ان کی مجالس کی قربت نصیب ہوسکے_ نیز مال و جائیداد اور مرتبہ و مقام حاصل کرسکیں_ نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ جھوٹی احادیث دیندار لوگوں تک بھی پہنچیں جو جھوٹ اور بہتان کو جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن انہوں نے صحیح سمجھ کر ان کو قبول کیا اور نقل بھی کیا، اگر ان کو علم ہوتا کہ یہ جھوٹی ہیں تو وہ ان کو نقل نہ کرتے اور نہ مانتے_ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی اور فتنہ وبلا میں مزیداضافہ ہوگیا ..._(۱)
انگشت خونین
ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر غار کے اندر سوراخوں کو بند کرنے لگے_ اس اثنا میں ان کی انگلی زخمی ہوئی اوراس سے خون نکلنے لگا_ وہ اپنی انگلی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ انگلی سے مخاطب ہوکر یہ کہہ رہے تھے_
ما انت الا اصبع دمیت
وفی سبیل الله مالقیت(۲)
___________________
۱_النصایح الکافیہ ص ۷۲_۷۳ از مدائنی و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۱ ص ۴۴_
۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۲۲ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۸۰ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵_۳۶_
تو سوائے ایک خونین انگلی کے کچھ بھی نہیں _ یہ تکلیف تجھے خدا کی راہ میں جھیلنی پڑی ہے_
یہ روایت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن رواحہ کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو انہوں نے اپنی انگلی زخمی ہونے پر جنگ موتہ میں کہے تھے_(۱) البتہ صحیحین میں جندب ابن سفیان سے منقول ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے یہ شعر کسی مجلس میں یا غار میں اپنی انگلی کے زخمی ہونے پر پڑھا_(۲)
بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابوبکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملحق ہوئے تو اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ شعر کہا کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ سمجھا کہ وہ مشرکین میں سے کوئی ہے چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی رفتار بڑھالی نتیجتاً ایک پتھر سے ٹکرا کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا انگوٹھا زخمی ہوگیا_(۳) ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دمیت اور لقیتکے الفاظ، ان دونوں کی یاء کو زبر دیکراورتاء کو ساکن کر کے ادا کئے ہوں تاکہ شعر نہ رہے کیونکہ آپ شعر نہیں کہتے تھے اور شعر کہنا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے مناسب بھی نہیں تھا_ بعض مآخذ میں مذکور ہے کہ یہ شعر ولید بن ولید بن مغیرہ نے اس وقت کہا جب مشرکین سے جان چھڑانے کیلئے ہجرت کی تھی یا اس وقت جب وہ ہشام بن عاص اور عباس بن ربیعہ کو چھڑانے کیلئے گیا تھا_(۴) ایک قول کی رو سے یہ شعر ابودجانہ نے جنگ احد میں کہا_(۵)
یوں واضح ہوا کہ حقیقت سے قریب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ الفاظ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ادا کئے تھے لیکن اس کی جھوٹی نسبت حضرت ابوبکر کی طرف دی گئی تاکہ (حکمران طبقہ کا) قرب حاصل کیا جاسکے اور بس ظاہر ہے یہ بات نہ کسی کمزور کو موٹا بنا سکتی ہے اور نہ کسی بھوکے کو سیر کرسکتی ہے (یعنی کسی کام کی نہیں)_
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۹ اور ۳۶ _
۲_ صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۸۱ اور ۱۸۲ صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۹ مطبوعہ المیمنیة و حیات الصحابة ج ۱ ص ۵۱۸ _
۳_ ملاحظہ ہو بحار ج ۱۹ ص ۹۳ از مسند احمد و تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۶ از ابن جوزی_
۴_ نسب قریش (مصعب زبیری) ص ۳۲۴ والمصنف (عبدالزراق) ج ۲ ص ۴۴۷ و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۲۰ _
۵_ البدء و التاریخ ج ۴ ص ۲۰۲ _
حضرت ابوبکر کے اہم فضائل
قابل توجہ اور عجیب نکتہ یہ ہے کہ صرف غار میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی مصاحبت اور عمرکے لحاظ سے بزرگی کو سقیفہ کے دن حضرت ابوبکر کے استحقاق خلافت کو ثابت کرنے کیلئے بنیادی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا نہ کہ کسی اور چیز کو_ چنانچہ حضرت عمرنے سقیفہ کے دن کہا''کون ہے جو ان تین صفات کا حامل ہو_ غار میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا واحد ساتھی ہو ،جب وہ محزون ہوئے تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے کہا غم مت کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے''_
حضرت عمرنے مزید کہا کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خلافت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو غار میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا واحد ساتھی تھا، ابوبکر سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور عمر رسیدہ بھی_عام بیعت کے دن حضرت عمرنے کہا ''ابوبکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا ساتھی ہے اور غار میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ان کے سوا کوئی نہ تھا_ تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کا وہ سب سے زیادہ حقدار ہے_ پس اٹھو اور انکی بیعت کرو''_(۱)
حضرت سلمان سے منقول ہے''اصبتم ذا السن فیکم ولکنکم اخطاتم اهلبیت نبیکم ...'' یعنی تم لوگوں نے عمر رسیدہ شخص کو تو پالیا لیکن اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آل سے منحرف ہوگئے_
جب یہودیوں نے حضرت ابوبکر سے اپنے ساتھی (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ) کا تعارف کرانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بولے :''اے قوم یہودمیں اپنی ان دو انگلیوں کی طرح غار میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ رہا تھا''_ حضرت عثمان سے مروی ہے ''ابوبکر صدیق (ہمارے خیال میں اس لفظ کا اضافہ بھی راویوں نے مذکورہ وجوہات کی بنا پر کیا ہے) لوگوں میں اس امر کا سب سے زیادہ حقدار ہے، وہ صدیق ہے ، رسول کا یار غار اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھی ہے ''_ابوعبیدہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے_
حضرت علیعليهالسلام اور زبیر سے منقول ہے ''الغار وشرفہ وکبرہ وصلاتہ بالناس'' یعنی غار، ان کا شرف،
___________________
۱_ ان نصوص کیلئے رجوع ہو مجمع الزوائد ج ۵ ص ۱۸۲ از طبرانی (اس کے راوی ثقہ ہیں) بعض ابن ماجہ سے ہیں سیرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۱۱، البدایة و النہایة ج ۵ ص ۲۴۸ از بخاری نیز السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۵۹، شرح نہج البلاغة معتزلی ۶ ص ۸، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۳۸ و الغدیر ج ۷ ص ۹۲ مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے اور الریاض النضرة ج ۱ ص ۱۶۲_۱۶۶ سے_
ان کا عمر رسیدہ ہونا اور لوگوں کیلئے ان کا نماز پڑھانا_(۱)
آخر میں عسقلانی یہ کہتا ہے کہ یہ تھے ابوبکر کے وہ چیدہ چیدہ فضائل جن کی بدولت وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خلافت کے مستحق ٹھہرے اسی لئے عمر بن خطاب نے کہا ''ابوبکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھی اور یار غار ہیں وہ سارے مسلمانوں میں تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں''_
جب حضرت ابوبکر کے سب سے بڑے فضائل یہی تھے جن کی بناپر وہ مستحق خلافت ٹھہرے اور یہ لوگ ان کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ پاسکے (جبکہ وہ انصارکے مقابلے میں مشکل ترین بحران سے دوچار تھے اور انہیں ایک ایک تنکے کے سہارے کی بھی ضرورت تھی) تو پھر حضرت علیعليهالسلام اور ان کے عظیم فضائل (جو روز روشن کی طرح واضح تھے) کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا ان کے مقابلے میں وہ کوئی قابل قبول دلیل قائم کرسکتے ہیں؟ اور کیا ان کے پاس رعب و دبدبے، دہشت اور طاقت کی زبان استعمال کرنے کے علاوہ کوئی جواب موجود ہے؟
پس جب فضیلت تراشی میں مدعی اس فضیلت کو بھی ثابت کرنے سے عاجز رہا اورخالی ہاتھ رہ گیا، یہاں تک کہ بلال کو ان پر ترجیح دی جانے لگی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ حضرت بلال اس کی تردید پر مجبور ہوئے (شاید تاریخ اس کی وجہ بیان نہ کرسکی) اور کہا تم مجھے ان پر ترجیح کیسے دیتے ہو جبکہ میں ان کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں_(۲) تو اب حضرت ابوبکر کی آبرو اور حیثیت کی حفاظت کیلئے کیا رہ جاتا ہے؟
ہم اس سوال کا جواب نکتہ دان اور منصف قاری پر چھوڑتے ہیں_
___________________
۱_ مذکورہ تمام باتوں یا اس کے بعض حصوں کیلئے رجوع کریں شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۶ ص ۸ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۶۶ و سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۵۳ یہ مسئلہ الغدیر ج ۵ ص ۳۶۹ ج۷ ص ۹۲ اور ج ۱۰ ص ۷ میں مکمل یا جزوی طور پر درج ذیل مآخذ سے منقول ہے: مسند احمد ج ۱ ص ۳۵ ،طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۲۸ و نہایہ ابن اثیر ج ۳ ص ۲۴۷ و صفہ الصفوة ج ۱ ص ۹۷ و السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۸۶ الصواعق المحرقہ ص۷ سے، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱ ص ۱۳۱ اور ج ۲ ص ۱۷، الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۹۵ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۴۰ ازطرابلسی (فضائل صحابہ میں) نیز منقول ہے الکنز ج ۳ ص ۱۳۹، ۱۳۶ اور ۱۴۰ سے از ابن ابی شیبہ، ابن عساکر ، ابن شاہین، ابن جریر، ابن سعد اور احمد ،اس کے تمام راوی صحاح والے راوی ہیں_
۲_ الغدیر ج ۱۰ ص ۱۳ از تاریخ ابن عساکر ج ۲ ص ۳۱۴ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۳ ص ۳۱۷_
حضرت عثمان اور واقعہ غار
ابن مندہ نے ایک بے بنیاد سند کے ساتھ اسماء بنت ابوبکر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا''جب میرا باپ غار میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ساتھ تھا تو میں اس کیلئے کھانا لے گئی تھی اس وقت حضرت عثمان نے آنحضرتعليهالسلام سے اذن ہجرت مانگا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی''_(۱) لیکن یہ بات واضح ہے کہ حضرت عثمان نے واقعہ غار سے آٹھ سال پہلے حبشہ کو ہجرت کی تھی_ اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں غار سے مراد غار ثور نہیں بلکہ کوئی اور غار ہے تو اس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات دلیل کی محتاج ہے اور ہم تاریخ میں کوئی ایسی دلیل نہیں پاتے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی اور غار میں داخل ہوئے ہوں اور اس میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ایک مدت تک رہے ہوں_ ان باتوں سے قطع نظر پہلے گزر چکا ہے کہ اسماء کا ان دونوں کیلئے غار میں کھانا پہنچانے والی بات ہی بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت علیعليهالسلام ہی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے غار میں کھانا لے کر جاتے تھے_
یوم غار اور یوم غدیر
ابن عماد وغیرہ نے کہا ہے کہ شیعہ حضرات کئی صدیوں سے عاشورا کے دن اپنے آپ کو پیٹنے اور رونے دھونے نیز عید غدیر کے دن قبے بنانے، زیب و زینت کرنے اور دیگر مراسم کے ذریعے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتے آئے ہیں_ اس کے نتیجے میں متعصب سنی طیش میں آئے اور انہوں نے یوم غدیر کے مقابلے میں ٹھیک آٹھ دن بعد یعنی ۲۶ ذی الحجہ کو یوم غار منانے کی بنیاد رکھی اوریہ فرض کرلیا کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوبکر اس تاریخ کو غار میں پنہاں ہوئے تھے_ حالانکہ یہ بات جہالت اور غلطی پر مبنی ہے کیونکہ غار والے ایام کا تعلق قطعی طور پر ماہ صفر اور ربیع الاول کی ابتدا سے ہے''_(۲)
___________________
۱_ کنز العمال ج۲۲ ص ۲۰۸ از ابن عساکر اور الاصابة ج ۴ ص ۳۰۴ _
۲_ شذرات الذہب ج ۳ ص ۱۳۰ و الامام الصادق و المذاھب الاربعة ج ۱ ص ۹۴ و بحوث مع اہل السنة و السلیفة ص ۱۴۵ و المنتظم (ابن جوزی) ج ۷ ص ۲۰۶ ، البدایہ والنہایہ ج۱۱ ص ۳۲۵ ، الخطط المقریزیہ ج۱ ص ۳۸۹ ، الکامل فی التاریخ ج۹ص ۱۵۵ ، نہایة الارب (نویری) ج۱ ص ۱۸۵ ، ذیل تجارب الامم (ابوشجاع) ج۳ ص ۳۳۹ ، ۳۴۰ و تاریخ الاسلام ذہبی (واقعات سال ۳۸۱_ ۴۰۰ ) ص ۲۵_
یہاں یہ کہنا چاہ یے کہ مذکورہ بات عداوت و جہالت سے عبارت تھی جس نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تھا اور بصیرت زائل کردی تھی کیا یوم غار (جس میں حضرت ابوبکر نے اپنی کمزوری اور بے یقینی کو ظاہر کردیا اور ہر ایک کو معلوم ہوگیا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے بغیر قیمت کی ادائیگی کے ان کا اونٹ قبول نہیں کیا تھا) یوم غدیر کی مانند ہوسکتا ہے (جس دن خدانے اہلبیت کو ثقلین میں سے ایک قرار دیا جن سے تمسک کرنے والا ہرگزگمراہ نہیں ہوسکتا اور علیعليهالسلام کو مومنین کا مولا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ان کا امام قرار دیا) ان کے علاوہ دیگر نکات کو محققین اور بڑے بڑے محدثین نے نقل کیا ہے_
حدیث غار کے بارے میں آخری تبصرہ
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
من کان یخلق ما یقول
فحیلتی فیه قلیلة
جو اپنی طرف سے بنا بناکر باتیں کرتا ہے بس اس کے مقابلے میں کوئی چارہ کار نہیں _
واقعہ غار کے بارے میں بعض لوگوں کی ساختہ وپرداختہ اور پسندیدہ جعلی روایات پر ہم نے جو تبصرہ کیا ہے ،یہاں ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں_ محترم قارئین نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہم نے مذکورہ نصوص کے مآخذ کا زیادہ ذکر نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ ہم نے دیکھا کہ یہ نصوص تاریخ اور حدیث کی مختلف کتابوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور محترم قارئین کو ان کی تلاش و تحقیق کی صورت میں زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی، جس قدر ہم نے عرض کیا شاید قارئین کرام اسی کو کافی سمجھیںگے_
امید ہے کہ مذکورہ عرائض قارئین کو ان بہت ساری باتوں کے بے بنیاد ہونے سے باخبر کریں گے جن کا ہم نے یہاں تذکرہ نہیں کیا، کیونکہ ان کا کذب وبطلان واضح ہے_ اب باری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر آگین سیرت کے ذکر کی طرف دوبارہ پلٹنے کی_ تو آیئےل کے سیرت طیبہصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مطالعہ کرتے ہیں_
تیسری فصل
قباکی جانب
مدینہ کی راہ میں
حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ''جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو چونکہ قریش نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گرفتاری پر سواونٹوں کا انعام رکھا تھا اس لئے سراقہ بن جشعم بھی حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلاش میں نکلا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس پہنچ گیا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعا فرمائی ''اے خدا جس طریقے سے تو چا ہے، مجھے سراقہ کے شر سے بچا ''_نتیجتاًسراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے جس سے اس کی ٹانگ دوھری ہوگئی اور وہ مشکل میں پڑگیا اس نے کہا اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ''اگر تمہیں یقین ہوکہ میرے گھوڑے کی ٹانگوں پر جو مصیبت آئی ہے وہ تیری طرف سے ہے تو خدا سے دعا کرو کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑ دے_ مجھے جان کی قسم (اس صورت میں) اگر تم لوگوں کو میری طرف سے کوئی نیکی نہ پہنچی تو کم از کم کوئی بدی بھی نہیں پہنچے گی''_ چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے دعاکی اور اللہ نے اس کے گھوڑے کو آزاد کردیا لیکن وہ دوبارہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا تعاقب کرنے لگا_ یہاں تک کہ تین بار اس واقعے کا تکرار ہوا جب تیسری بار اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رہا ہوئیں تو اس نے کہا:'' اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ رہا میرا اونٹ جس پر میرا غلام سوار ہے اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سواری یا دودھ کی ضرورت پڑے تو اس سے استفادہ کر لینا اور یہ رہا بطور نشانی اورعلامت میرے ترکش کا ایک تیر_ اب میں لوٹتا ہوں اور آپ کے تعاقب سے دوسروں کو روکتا ہوں''_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' مجھے تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں''_
نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے سراقہ کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ شاید یہ دلیل ہوکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں چاہتے تھے کہ کسی مشرک کا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر کوئی حق ہواور اس بات کی تائید کرنے والی بعض روایات کا ذکر گزرچکا ہے_اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ام معبد کے خیمے تک پہنچ گئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم وہاں
اتر گئے اور اس عورت کے پاس مہمان بننے کی خواہش کی وہ بولی میرے پاس کچھ بھی موجود نہیں ہے_ اتنے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی نظر ایک بکری پر پڑی جوکسی تکلیف کے باعث باقی چوپایوں کے ساتھ نہ جاسکی تھی_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کیا اس کو دوہنے کی اجازت ہے؟ وہ بولی ہاں، لیکن اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا تو وہ تمام بھیڑ بکریوں سے زیادہ موٹی تازی ہوگئی پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا ہاتھ اس کے تھن پر پھیرا تو اس کے تھن حیرت انگیز طریقے سے بڑھ گئے اور دودھ سے لبریز ہوگئے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک برتن مانگ کر دودھ دوہا_ یوں سب نے اتنا دودھ پیا کہ سیر ہوگئے_
پھر ام معبد نے اپنا بیٹا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور پیش کیا جو گوشت کے ایک لوتھڑے کے مانند تھا_ وہ نہ تو بات کرسکتا تھا اور نہ اٹھ سکتا تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک کجھور اٹھا کر چبایا اور اس کے منہ میں ڈال دیا_ وہ فوراً اٹھ کر چلنے اور باتیں کرنے لگا_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کجھور کی گٹھلی زمین میں دبادی تو اسی وقت ایک درخت بن گئی اور تازہ کجھور اس سے لٹکنے لگیں_ پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے آس پاس کی طرف اشارہ کیا تو وہ زمین چرا گاہ بن گئی_
اس کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اس درخت نے پھل نہیں دیا_ جب حضرت علیعليهالسلام شہید ہوئے تو وہ سوکھ گیااور پھر جب امام حسینعليهالسلام شہید کئے گئے تو اس سے خون بہنے لگا_(۱)
جب ابومعبد واپس آیا اور وہاں کا منظر دیکھا تو اس کی علت پوچھی_ ام معبد بولی قریش کا ایک مرد میرے ہاں سے گزرا ہے اس کے حالات اور واقعات اس قسم کے تھے (ام معبد نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جو توصیف کی وہ مشہور و معروف ہے)_ یہ سن کر ابومعبد نے جان لیا کہ وہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں_ چنانچہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس گیا اور اپنے گھرانے کے ساتھ مسلمان ہوگیا_(۲)
___________________
۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۳۵ از ربیع الابرار _
۲_ ام معبد کا واقعہ مورخین کے درمیان مشہور و معروف ہے_ مذکورہ عبارت ابتدا سے لے کر یہاں تک بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۵_۷۶ سے نقل ہوئی ہے_ جو الخرائج و الجرائح سے لی گئی ہے نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۴، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۱ ص ۲۷۹ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۹ _ ۵۰ و دیگر منابع و مآخذ_
مشکلات کے بعد معجزات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی واضح کرامات اور روشن معجزات کے سامنے مذکورہ معجزات کی اتنی زیادہ اہمیت نہیں کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اشرف المخلوقات تھے اور خدا کے نزدیک تا روز قیامت اولین وآخرین کے مقابلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقام سب سے زیادہ معزز و مکرم تھا_
دوسری طرف سے ہجرت کی دشواریوں کے فوراً بعد ان کرامات کا ظہور اس حقیقت کی تائید کرتا ہے (جس کا ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں اور وہ یہ) کہ ہجرت کا عمل معجزانہ طریقے سے بھی انجام پاسکتا تھا لیکن اللہ کی منشا بس یہی ہے کہ سارے امور عام اسباب کے تحت انجام پذیر ہوں تاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکلات زندگی سے نبرد آزما ہونے اور دعوت الی اللہ کی سنگین ذمہ داریوں کو( تمام تر سختیوں، مصائب اور کٹھن مراحل میں)بطور احسن نبھانے کے حوالے سے ہر شخص کیلئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ قرار پائیں_ علاوہ ازیں یہ امر انسان کی تربیت اور اس کو تدریجاً معاشرے کا ایک فعال، تعمیری اور مفید عنصر بنانے کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے تاکہ وہ انسان فقط طفیلی یا دوسرے کے رحم وکرم پرہی اکتفا کرنے والا نہ بنا رہے _ان کے علاوہ دیگر فوائد ونتائج بھی ہیں جنہیں گزشتہ عرائض کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے_
امیرالمؤمنینعليهالسلام کی ہجرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر ہجرت جاری رکھا یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ کے قریب پہنچے_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سب سے پہلے قبا میں عمرو بن عوف کے گھر تشریف لے گئے_ حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مدینہ میں داخل ہونے کی درخواست کی اور اس پر اصرار کیا_ لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا:'' میں داخل مدینہ نہیں ہوں گا جب تک میری ماں کا بیٹا اور میرا بھائی نیز میری بیٹی( یعنی حضرت علیعليهالسلام اور حضرت فاطمہعليهالسلام ) پہنچ نہ جائیں''_(۱)
___________________
۱_ الفصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۵ (یہاں نام لئے بغیر ذکر ہوا ہے) امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ نیز اعلام الوری ص ۶۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴، ۱۰۶، ۱۱۵، ۱۱۶ و ۷۵ اور ۷۶ و ج۲۲ ص ۳۶۶ از الخرائج و الجرائح_
جب شام ہوئی تو حضرت ابوبکر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جدا ہوئے اور مدینہ میں داخل ہوکر کسی انصاری کے ہاں چلے گئے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ قبا کے مقام پر ہی کلثوم بن ہدم کے ہاں تشریف فرما رہے_(۱)
پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے بھائی حضرت علیعليهالسلام کو ایک خط لکھا اور انہیں جلدسے جلد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف آنے کا حکم دیا_ یہ خط آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوواقد لیثی کے ہاتھ ارسال فرمایا_
جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا خط حضرت علیعليهالسلام کو ملا تو آپعليهالسلام سفر ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے اور اپنے ساتھ (مکہ میں) موجود بے چارے اور ضعیف مسلمانوں کو اس کی اطلاع دی اور حکم دیا کہ وہ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ جلدی سے ذی طوی کی طرف حرکت کریں_ امیرالمومنین حضرت علیعليهالسلام حضرت فاطمہ بنت الرسول، اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کو ساتھ لیکر نکلے_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے آزاد کر دہ غلام ایمن بن ام ایمن اور ابوواقد بھی ان کے ساتھ ہولئے_ ابوواقد جانوروں کو ہانک رہے تھے_ اس نے جب ان سواریوں کے ساتھ تندی برتی تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کو نرمی کا حکم دیا_ اس نے تعاقب کے خوف کا عذر پیش کیا امیرالمؤمنینعليهالسلام نے فرمایا اطمینان رکھو، بتحقیق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مجھ سے فرمایا ہے (یعنی غار سے روانگی کے وقت ، جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے) ''اے علیعليهالسلام اس کے بعد یہ لوگ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے''_
ضجنان کے قریب تعاقب کرنے والے ان تک پہنچ گئے جن کی تعداد سات تھی اور وہ نقاب پہنے ہوئے تھے_ آٹھواں آدمی حارث بن امیہ کا آزاد کردہ غلام جناح تھا_
حضرت علیعليهالسلام نے عورتوں کو اتارا اورتلوار سونت کر ان لوگوں کے پاس آئے ان لوگوں نے انہیں واپس چلنے کیلئے کہا انہوں نے فرمایا: ''اگر میں ایسا نہ کروں تو؟'' وہ بولے :''تمہیں مجبوراً چلنا پڑے گا وگرنہ تمہیں سرکے بالوں سے پکڑ کرلے جائیں گے اور یہ تمہارے لئے موت سے بھی بدتر ہوگا''_
پھر وہ سوار حملہ کرنے کیلئے سواریوں کی طرف بڑھے لیکن حضرت علیعليهالسلام ان کے اور سواریوں کے درمیان
___________________
۱_ اعلام الوری ص ۶۶ اور بحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ از اعلام الوری_
حائل ہوگئے اتنے میں جناح نے اپنی تلوار سے وار کیا لیکن حضرت علیعليهالسلام نے پہلو بچا کر اس کا وار ضائع کردیا پھرآپعليهالسلام نے اس کے کندھے پروار کیا، تلوار تیزی سے اترتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پشت تک جاپہنچی اس کے بعد حضرت علیعليهالسلام درج ذیل رجز پڑھتے ہوئے اپنی تلوار کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے_
خلوا سبیل الجاهد المجاهد
آلیت لا اعبد غیر الواحد
اس زحمت کش مجاہد کا راستہ نہ روکو میں نے خدائے واحد کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے_
یہ دیکھ کر وہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اور کہنے لگے :''اے فرزند ابوطالب ہماری طرف سے بے فکر ہوجاؤ''_ انہوں نے فرمایا:'' میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس یثرب جارہاہوں_ جس کی یہ خواہش ہو کہ میں اس کے گوشت کے ٹکڑے کروں یا اس کا خون بہادوں تو وہ میرے پیچھے آئے یا میرے نزدیک آنے کی کوشش کرے''_پھر حضرت علیعليهالسلام اپنے دونوں ساتھیوں (ایمن اور ابوواقد) کے پاس آئے اور فرمایا:'' اپنی سواریوں کو آزاد چھوڑ دو''_ اس کے بعد وہ بے فکر ہو کر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ ضجنان پہنچ گئے_ وہاں انہوں نے تقریباً ایک دن اور ایک رات استراحت فرمائی بعض کمزور اور بے چارے مومنین وہاں پہنچ کر حضرت علیعليهالسلام سے مل گئے ان میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی آزاد کردہ کنیز ام ایمن بھی تھیں_ اس رات انہوں نے کھڑے ہو کر بیٹھ کراور پہلوؤں کے بل لیٹ کر اللہ کی عبادت کی یہاں تک کہ جب صبح ہوگئی تو حضرت علیعليهالسلام نے ان کے ساتھ نماز فجر پڑھی _اس کے بعد ان کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کیا اور ہرمنزل پر اس عمل کا اعادہ کرتے گئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے_ ان کی آمد سے قبل ہی ان کی شان میں یوں وحی نازل ہوئی_( الذین یذکرون الله قیاما وقعودا وعلی جنوبهم ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلا فاستجاب لهم ربهم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی ) (۱) یعنی جولوگ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر اور پہلوؤں کے بل خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت میں غور کرتے
___________________
۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۹۱_۱۹۵ _
اور کہتے ہیں خدایا تونے ان کو بے مقصد خلق نہیں کیا پس خدا نے ان کے جواب میں فرمایا: تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت_
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علیعليهالسلام کی آمد کی خبر ملی تو فرمایا :''علیعليهالسلام کو میرے پاس بلاؤ''عرض کیا گیا :''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ چلنے پر قادر نہیں ہیں ''_یہ سن کر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم خود ان کے پاس آئے اور انہیں اپنے سینے سے لگایا_ جب ان کے سوجے ہوئے پیروں پر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر پڑی تو شفقت کی بنا پر گریہ فرمایاکیونکہ ان کے قدموں سے خون ٹپک رہا تھا_ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علیعليهالسلام سے فرمایا:'' اے علیعليهالسلام تم ایمان کے لحاظ سے اس امت کے سب سے پہلے مومن ہو اور اللہ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف ہجرت کرنے والے سب سے پہلے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے ملحق ہونے والے سب سے آخری فرد ہو_ مجھے قسم ہے اس کی جس کے اختیار میں میری جان ہے تجھ سے محبت نہیں کرے گا مگروہ جو مومن ہوگا اور اس کا ایمان آزمایا جاچکا ہوگا اور تجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگروہ جو منافق یا کافر ہوگا''_(۱)
بنابریں یہ واضح ہوا کہ کھلم کھلا ہجرت کرنے اور ہجرت سے روکنے والوں کو قتل کی دھمکی دینے والے شخص علی ابن ابیطالب تھے نہ کہ عمرابن خطاب_ حضرت عمر کی طرف اس بات کی نسبت کے غلط ہونے سے متعلق تھوڑی سی بحث پہلے گزر چکی ہے_ یہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ امیرالمومنینعليهالسلام کے دیگر بہت سے فضائل کی طرح ان کی اس فضیلت کو بھی دوسروں سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے_
تبع اول کا خط
بعض لوگ کہتے ہیں کہ تبع اول آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت سے سینکڑوں سال قبل آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لاچکا تھا_یہ واقعہ طویل ہے اور ہم اس کے ذکر سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کی صحت کے بارے میں اطمینان حاصل نہیں ہے البتہ قرطبی اور ابن حجت حموی نے (قرطبی سے) ثمرات الاوراق (ص ۲۹۰_ ۲۹۱) میں
___________________
۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_۸۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴ _ ۶۷، ۸۳ اور ۸۵ تفسیر برہان ج ۱ ص ۳۳۲_۳۳۳ از الشیبانی (در نہج البیان) الاختصاص (شیخ مفید) المناقب (ابن شہر آشوب) ج ۱ ص ۱۸۳_۱۸۴، اعلام الوری ۱۹۰ اور امتاع الاسماع (مقریزی) ج ۱ ص ۴۸ _
اس کا تذکرہ کیا ہے جو حضرات تحقیق کے طالب ہوں وہ ادھر رجوع کریں_
حضرت ابوبکر معروف بزرگ؟
بعض جگہوں میں ذکر ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ایک ہی سواری پر سوار تھے اور یہ کہ حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ایک غیر معروف نوجوان تھے_ لوگ حضرت ابوبکر سے ملاقات کرتے اور پھر ان سے پوچھتے تھے کہ اے ابوبکر یہ تیرے آگے کون ہے؟ احمد کے الفاظ ہیں'' یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟'' وہ جواباً کہتے تھے :''یہ مجھے راستہ دکھاتا ہے''_ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کو سفر کے راستے سے آگاہ کرتے ہیں حالانکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم راہ حق دکھانے والے ہیں_
تمہید میں مذکور ہے کہ ''رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سواری پر حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھے تھے اور جب لوگ حضرت ابوبکر سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے پیچھے کون ہے؟ ''
قسطلانی نے صاف الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں سے روانگی یعنی قباسے مدینے کو روانگی کے وقت کا ہے_
ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ ''جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ تشریف لائے اور مسلمانوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا استقبال کیاتو اس وقت حضرت ابوبکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم بیٹھ گئے_ اس وقت حضرت ابوبکر بوڑھے تھے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم جوان_ جن لوگوں نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہیں دیکھا تھا ہ حضرت ابوبکر کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سمجھ کر ان کے پاس آتے تو وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا تعارف کراتے تھے یہاں تک کہ جب سورج کی شعاعیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر پڑنے لگیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کردیا تب جاکر لوگوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہچانا_(۱)
___________________
۱_ ان ساری باتوں یا بعض باتوں کیلئے رجوع کریں ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴ ، سیرت حلبی ج۲ ص ۴۱ ، صحیح بخاری مطبوعہ مشکول باب ہجرت ج۶ ص ۵۳ و سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۷ ، مسند احمد ج۳ ص ۲۸۷ ، المواہب اللدنیة ج۱ ص ۸۶ ، عیون الاخبار (ابن قتیبہ) ج۲ ص ۲۰۲ والمعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ (مذکورہ مآخذ میں سے متعدد کتب نیز الریاض النضرة ج۱ ص ۷۸ _ ۸۰ اور طبقات ابن سعد ج۲ ص۲۲۲ سے منقول)_
لیکن یہ باتیں درست نہیں ہوسکتیں کیونکہ:
الف: یہ امر قابل قبول نہیں کہ حضرت ابوبکر معروف تھے لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا غیر معروف_ کیونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم مکے آنے والے مختلف قبائل سے سالہا سال تک ملاقاتیں کرتے رہے تھے_ یوں آپ کا ذکر ہر جگہ پھیل چکا تھا اور اہل مدینہ کے اسّی سے زیادہ افراد صرف تین ماہ قبل آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کرچکے تھے پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر تو جانی پہچانی شخصیت ٹھہریں لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا غیر معروف؟(۱) اس کے علاوہ حضرت ابوبکر تو قبا پہنچتے ہی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے جدا ہوکر مدینہ چلے گئے تھے اور مدینہ پہنچنے تک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نہیں رہے تھے_
ب: اہل مدینہ نہایت بے صبری سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آمد کے منتظر تھے اور جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تشریف لائے تو تقریباً پانچ سو سواروں(۲) نے حرّہ کے اس طرف آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا استقبال کیا تھا_ اس وقت عورتیں بچے اور جوان اس طرح کا ترانہ الاپ رہے تھے_
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
ثنیات وداع سے آج ہمارے لئے چودہویں کا چاند نکل آیا ہے_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم قبا میں چند روز لوگوں سے ملتے رہے تھے پھر کیا یہ ممکن ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم (بقول قسطلانی) ، قبا سے مدینہ تشریف لاتے وقت غیر معروف ہوجائیں(۳) ؟ _
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ میں داخل تو ہوئے ہوں لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ قبا یا مدینہ کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر اس وقت حضرت علیعليهالسلام کہاں چلے گئے تھے؟ کیا اہل مدینہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیدار کے لئے جتھوں کی صوت میں یا اکیلے قبا نہیں آئے تھے؟ پھر انجان لوگوں کو جاننے والوں نے کیوں نہیں بتا یا اور چپ کیوں سادھ گئے؟
___________________
۱_ الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ کی طرف رجوع کریں_
۲_ الثقات ( ابن حیان) ج۱ ص ۱۳۱ و دلائل النبوة ج۲ ص ۲۳۳ وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۵۵ از تاریخ صغیر (بخاری) و سیرت حلبی ج۲ ص ۵۲ و سیرت نبویہ (دحلان) حاشیہ حلبیہ ج۱ ص ۳۲۵ اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۶_
۳_ ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴_
ج: رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا ابوبکر سے دوسال اور چند ماہ بڑے تھے کیونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے اور حضرت ابوبکر بھی اپنی خلافت کے آخر میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی عمر کو پہنچ چکے تھے (جیساکہ ان کا دعوی ہے) کیونکہ ان کی عمر وفات کے وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی عمر کے برابر یعنی ترسٹھ سال ہوچکی تھی_(۱)
بنابریں یہ کیسے معقول ہوسکتا ہے کہ وہ تو عمر رسیدہ بزرگ ہوں لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا جوان؟ ہماری ان معروضات کی روشنی میں یزید بن اصم (جو دوسری صدی ہجری میں تہتر سال کی عمر میں مرے) سے مروی اس قول کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے حضرت ابوبکر سے فرمایا'' میری عمر زیادہ ہوگی یا تمہاری؟'' انہوں نے جواب دیا ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بزرگی اور عزت وشرف مجھ سے زیادہ ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مجھ سے بہتر ہیں لیکن میں عمر میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بڑاہوں''_(۲)
یہ بہانہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بر خلاف حضرت ابوبکر کے چہرے اور داڑھی میں بڑھاپے کے آثار زیادہ نمایاں تھے_(۳) یا یہ کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اس لئے لوگ ان کو ملک شام جانے آنے کی وجہ سے پہچان چکے تھے_ درست نہیں کیونکہ بالوں کا سفید ہونا یا نہ ہونا بڑھاپے اور جوانی کو نہیں چھپا سکتا _حتی کہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ''ما ھذا الغلام بین یدیک؟'' (یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟) غور کیجئے ایک ایسے مرد کو جس کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوچکی ہو ''لڑکا'' کہنا کس قدر ستم ظریفی ہے؟
___________________
۱_ المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ جس میں اس بات کے متفق علیہ ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ، اسدالغابة ج ۳ ص ۲۲۳، مرآة الجنان ج ۱ ص ۶۵ و ص ۶۹ ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۶۰، الاصابہ ج ۲ ص ۳۴۱ تا ۳۴۴ الغدیر ج۷ ص ۲۷۱ جس میں مذکورہ مآخذ کے علاوہ درج ذیل مآخذ سے بھی نقل ہوا ہے _ الکامل ابن اثیر ج۱ ص ۱۸۵ اور ج ۲ ص ۱۷۶ عیون الاثر ج ۱ ص ۴۳ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۳۹۶ الطبری ج ۲ ص ۱۲۵ اور ج ۴ ص ۴۷ الاستیعاب ج ۱ ص ۳۳۵ جس میں کہا گیا ہے کہ اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ وفات کے وقت ان کی عمر ۶۳ سال تھی و سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۰۵_
۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۷۰ از الاستیعاب ج ۲ ص ۲۲۶ الریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۷ تاریخ الخلفاء ص ۷۲ خلیفة بن خیاط، احمد بن حنبل اور ابن عساکر سے_
۳_ فتح الباری ج۷ ص ۱۹۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۶۰ ،۲۶۱ _
اسکے علاوہ ابن عباس نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ، آپ تو بوڑھے ہوگئے، فرمایا مجھے سورہ ہود اور سورہ واقعہ نے بوڑھا کردیا محدثین نے ابن مسعود اور ابن ابی جحیفہ سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے کہ لوگوں نے کہا ''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تو بوڑھے ہوگئے ہیں''_ فرمایا:'' مجھے ہود اور اس کے ساتھ والی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے''_(۱) واضح ہے کہ مذکورہ سورتیں مکی ہیں_ مذکورہ روایات کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے نے وقت سے پہلے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو آلیا_ اسی لئے لوگ اس کے بارے میں سوال کر رہے تھے_(۲)
رہا یہ کہنا کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اور شام آیا جایا کرتے تھے تو اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ایام جاہلیت میں وہ بچوں کو پڑھاتے تھے اور اس کے بعد درزی کا کام کرنے لگے_ علاوہ ازیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ بھی تو شام کا سفر کیا کرتے تھے اور خصوصاً آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قریش اور عربوں کے درمیان حاصل بزرگی و سیادت اور اہل مدینہ کے ساتھ رشتہ داری کی بناپرلوگوں کے درمیان آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پہچان بدرجہ اولی اور زیادہ ہونی چاہئے_
ان ساری باتوں کے علاوہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سالہا سال تک مکہ آنے والے قبائل کے ساتھ بنفس نفیس ملاقاتیں بھی کرتے رہے تھے_
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت کا تعارف کراتی تھیں _ چنانچہ ام معبد نے اپنے شوہر سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صفات کا تذکرہ کیا تو اس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کوپہچان لیا_ رہے حضرت ابوبکر تو ان کی صفات کا تذکرہ حضرت عائشہ وغیرہ کی زبانی اس کتاب میں پہلے گزر چکا ہے_آخر کار ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور حضرت ابوبکر ایک ہی ناقہ کے سوار کیسے ہوگئے؟ حالانکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دو اونٹ تھے یعنی ہر کسی کے پاس اپنی سواری تھی_
___________________
۱_ مستدرک الحاکم ج۲ ص ۳۴۳ و تلخیص مستدرک ذہبی ( اسی صفحے کے حاشیہ میں) نیز اللمع (ابو نصر) ص ۲۸۰ و تفسیر ابن کثیر ج۲ ص ۴۳۵ و الغدیر ج۷ ص ۳۶۱ مذکورہ مآخذ اور تفسیر قرطبی ج۷ ص ۱ و تفسیر الخازن ج۲ ص ۳۳۵ نیز جامع الحافظ ترمذی و نواد ر الاصول(حکیم ترمذی) ابویعلی، طبرانی اور ابن ابی شیبہ سے _
۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۶۱_
علامہ امینی رحمة اللہ علیہ کا نقطہ نظر
علامہ امینی (قدس سرہ) کا نظریہ یہ ہے کہ ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مجھ سے بزرگ ہیں لیکن میں آپ سے زیادہ عمر رسیدہ ہوں'' والی بات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اور سعید بن یربوع المخزومی کے درمیان پیش آئی ہے سعید ۵۴ ہجری میں ایک سوبیس سال کی عمر میں چل بسے تھے_
ان کا یہ بھی خیال ہے کہ سقیفہ کے دن اپنے مخالفین کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کی دلیل ان کی بزرگسالی تھی_ بنابریں ان کے چاہنے والوں نے اس دعوے کی تائید ان کے مذکورہ جعلی قول سے کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے مقابلے میں عمر رسیدہ لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ ہیں اور یہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ایک غیر معروف جوان بلکہ ایک لڑکے تھے اور حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے_(۱)
مکہ میں منافقت کا کھیل
ہجرت کے بعد کے حالات کا ذکر چھیڑنے سے پہلے مکی زندگی سے مربوط ایک مسئلے کی طرف اشارہ اور اس کے بعض ظاہری پہلوؤں پر اظہار نظر مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ اس مسئلے کا ہجرت کے بعد مدنی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے_ وہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہجرت سے قبل مسلمان ہونے والے مکیوں میں منافقین بھی تھے جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور تھا یا نہیں ؟
اور کیا مکے کی فضا اس قسم کے افراد کو جو بظاہر اسلام قبول کریں اور اندر سے کافر ہی رہیں، وجود میں لانے کیلئے سازگار تھی یا نہیں؟
اس سلسلے میں علامہ طباطبائی کا حاصل کلام یہ ہے_
ممکن ہے کوئی کہے کہ نہیں مکے میں منافقین کا کوئی وجود نہ تھا کیونکہ وہاں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور مسلمانوں کو طاقت اور اثرونفوذ حاصل ہی نہ تھاکہ جس کے باعث لوگ ان سے مرعوب اور خائف ہوتے یا ان سے کسی
___________________
۱_ الغدیر ج ۷ ص ۲۷۱_
قسم کے مادی یا روحانی فائدے کی امید رکھتے _پس وہ کیونکر ان کے قرب کے متلاشی ہوتے اور اپنی باطنی کیفیت کے برعکس ایمان کا اظہار کرتے؟
بلکہ مسلمان تو مکے میں کمزور مظلوم اور ستمدیدہ تھے_ بنابریں ہونا تو یہ چاہ ے تھا کہ قریش کے رؤسا اور بزرگان کے مقابلے میں (خواہ خوف کی بنا پر ہو یا امید ورغبت کی بنا پر) مسلمانوںکی جانب سے اندرونی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی نہ اس کے برعکس _
اس کے برعکس مدنی زندگی میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی پوزیشن مستحکم ہوچکی تھی مسلمانوں کا اثر ونفوذ واضح ہوچکا تھا اور وہ اپنی حفاظت یا اپنا دفاع کرنے کی طاقت حاصل کرچکے تھے_ مدینہ کے ہر گھر میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعوان و انصار اور پیروکار موجود تھے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوامر کی متابعت اور اپنی ہر قیمتی اور نفیس چیز کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم پر قربان کرتے تھے_ رہے باقی ماندہ مٹھی بھر لوگ تو وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اعلانیہ مخالفت کا دم خم نہ رکھتے تھے_ چنانچہ انہوں نے اپنی خیریت اسی میں جانی کہ بظاہر مسلمان ہوجائیں اور باطناً کافر ہی رہیں تاکہ جب بھی موقع ملے مسلمانوں کے ساتھ مکر وفریب اور سازش وحیلہ گری سے کام لے سکیں_
خلاصہ یہ کہ اس انداز میں بعض لوگوں نے ابتدائی مسلمانوں کے درمیان منافقوں کی عدم موجودگی پر استدلال کیا ہے_ لیکن یہ استدلال جیساکہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں بے بنیاد ہے_
کیونکہ مکے میں بھی منافقت کی وجوہات موجود تھیں _اور اس کام کیلئے وہاں کے ماحول میں بھی گنجائشے موجود تھی_ ان میں سے بعض اسباب کا ہم یہاں تذکرہ کرتے ہیں:
(الف): منافقت کے اسباب فقط وہی نہیں جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے یعنی صاحب اقتدار کا خوف یا اس سے وابستہ امید اور لالچ کیونکہ ہم مختلف معاشروں میں مختلف قسم کے لوگوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو خوبصورت نعروں پر، ہر قسم کی دعوت پر لبیک کہنے کیلئے آمادہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کی امیدوں اور آرزوؤں کے ساتھ سازگار ہو، ان کی خواہشات کی برآوری کی امید دلاتی ہو اور اس میں ان کی رغبتوں کا سامان ہو_ پس وہ اس کی حمایت کرتے ہیں اگرچہ وہ ظالم ترین طاقتوں کے زیرسایہ ہی کیوں نہ ہوں اور
خود، ان کی حالت انتہائی کمزور اور ضعیف کیوں نہ ہو_ یوں وہ اس کی خاطر اپنے وجود کو بہت سے خطرات میں جھونک دیتے ہیں نیز مشکلات اور سختیوں کو جھیلتے ہیں فقط اس امید میں کہ شاید کسی دن ان کی امیدوں کی کلی کھل جائے اور ان کے اہداف حاصل ہوجائیں جن کے خواب وہ دیکھا کرتے ہیں ،مثال کے طور پر حصول اقتدار اور حصول ثروت وجاہ ومقام وغیرہ_
جی ہاں وہ یہ سب کر گزرتے ہیں اگرچہ وہ اکثر وبیشتر اس دعوت پر فقط اتنا ہی ایمان رکھتے ہیں جتنا ان کے مذکورہ بالا اہداف واغراض کے حصول کیلئے ضروری ہو اور واضح ہے کہ اس قسم کا لالچی منافق دعوت کی کامیابی کی صورت میں اس دعوت کیلئے بدترین دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر اسے یہ احساس ہو کہ دعوت اس کی تمام آرزؤوں کو پورا نہیں کرسکتی (اگرچہ کسی مصلحت کے تحت ہی سہی) تو وہ منحرف اور خائن ہوجاتا ہے(۱) اس کے علاوہ وہ اس دعوت کو انحراف کی طرف لے جانے نیز اسے سابقہ روش اور راہ مستقیم سے ہٹاکر ان غلط راہوں کی طرف لے جانے پر زیادہ قادر ہوتا ہے جن راہوں کی تاریکی اور ظلمت سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی خواہشات تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے_ پھر ان کاموں کی توجیہہ کے سارے بہانے بھی اسی کے پاس ہی ہوتے ہیں خواہ اس کی توجیہات کتنی ہی کمزور اور بے بنیاد کیوں نہ ہوں_
لیکن اگر دعوت کو ناکامی کا سامنا ہو تو وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرچکنے کی صورت میں اپنے ہم خیال لوگوں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ان لوگوں کے ساتھ تو بس مذاق کر رہے تھے_ بقول قرآن (اناکنامعکم انمانحن مستھزؤون) ان باتوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مدینے میں اگر منافقت عام طور پر حفاظتی مقاصد یا مخصوص مفادات وروابط کے بچاؤ کے پیش نظر تھی تو مکہ والی منافقت اسلام ومسلمین کیلئے یقیناً زیادہ خطرناک، زیادہ نقصان دہ اور زیادہ پریشان کن ہوگی جیساکہ ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں_
___________________
۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _
خلاصہ یہ کہ اس بات کا قوی احتمال ہے کہ مکہ میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے بعض پیروکار اسلام کے مخلص نہیں تھے بلکہ ان کو فقط اپنی ذات سے غرض تھی_اس بات کی تائید اس حقیقت کو خاص کرملاحظہ کرنے سے ہوتی ہے کہ اسلام نے اپنی دعوت کے روز اول سے ہی قطعی وعدوں کا اعلان کیا تھا کہ اس کے علمبردار بہت جلد زمین کے حکمراں اور قیصر وکسری کے خزانوں کے مالک بن جائیں گے_(۱)
چنانچہ جب عفیف کندی نے عباس بن عبدالمطلب سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ، علیعليهالسلام اور خدیجہعليهالسلام کی نماز کے بارے میں پوچھا تو عباس نے جواب دیا:'' یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں_ اس کا دعوی ہے کہ خدانے اسے بھیجا ہے اور قیصر و کسری کے خزانے بہت جلد اس کے ہاتھ لگ جائیں گے''_ عفیف افسوس کرتا تھا کہ وہ اس دن مسلمان کیوں نہ ہوا تاکہ وہ علیعليهالسلام کے بعد مسلمانوں میں دوسرے نمبر پر ہوتا_(۲)
نیز جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا حضرت ابوطالبعليهالسلام نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے قوم کی شکایت کا سبب پوچھا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں ان کو ایک کلمے (یعنی مقصد) پر متحد کرناچاہتا ہوں جس کے نتیجے میں عرب ان کے مطیع اور عجم ان کے خراج گزار بن جائیں_(۳)
اسی طرح یہ بھی منقول ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بکر بن وائل سے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے سلسلے میں فرمایا: ''اور تم خدا سے یہ عہد کروگے کہ اگر تم زندہ رہو تو ان (عجم)کے گھروں میں داخل ہوگے ان کی عورتوں سے نکاح کروگے اور ان کے بیٹوں کو غلام بنالوگے''_
شیبان بن ثعلبہ سے بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تقریباً اسی قسم کی بات اس وقت کی جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے قریبی رشتہ
___________________
۱_ المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _
۲_ ذخائر العقبی ص ۵۹، دلائل النبوة ج ۱ ص ۴۱۶، لسان المیزان ج ۱ ص ۳۹۵ ابویعلی اورخصائص نسائی سے، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۵۷ مطبوعہ صادر اور تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۷ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۳ _
۳_ سنن بیہقی ج ۹ ص ۸۸ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۳۲ حاکم اور ذہبی نے تلخیص میں اسے صحیح قرار دیا ہے نیز تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۲۸ و حیات الصحابہ ج ۱ ص ۳۳ کہ ترمذی نیز تفسیر طبری، احمد، نسائی اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے_
داروں کو عذاب الہی سے ڈرایا_(۱)
اس نکتے کی خوب وضاحت اس بات سے ہوتی ہے جو قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ کے ایک فرد نے اس وقت کہی جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کو دعوت اسلام دینے آئے تھے_ اس نے کہا ''اللہ کی قسم اگر یہ قریشی جوان میرے ہاتھ آتا تو میں اس کے ذریعے عرب کو ہڑپ کرجاتا'' اس کے بعض مآخذ کا پہلے تذکرہ ہوچکا ہے_
مختصر یہ کہ جب مذکورہ منافقت کا مقصد ذاتی اغراض کیلئے اس دعوت کے قبول کرنے کو آلہ کار قرار دینا ہو تو (اس منافق کیلئے) سوائے اس کے چارہ نہیں کہ وہ اس دعوت کی وہاں تک حفاظت کرے جہاں تک وہ اپنے مفادات ومقاصد کی حفاطت پر مجبور ہو، یعنی جب تک وہ اس دعوت کے ذریعے اپنی آرزؤوں کی تکمیل اور اپنے مقاصد تک رسائی کی امید رکھتا ہوگا تب تک وہ اس دعوت اورتحریک کی حفاظت کرے گا_
یہیں سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ضروری نہیں منافق اس دعوت (جس پر وہ ایمان نہیں رکھتا) کے خلاف مکروسازش کرنے اور اس کو خراب وبرباد کرنے کی کوشش کرے بلکہ بسا اوقات اس کا پورا لگاؤ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس کیلئے مال و متاع اور جاہ و حشمت کی قربانی دیتا ہے ہاں اس صورت میں کہ بعد میں اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی اسے توقع ہو_ لیکن جان کی قربانی نہیں دیتا اس حقیقت کا مشاہدہ مکے کے بعض مسلمانوں کی حالت سے بخوبی ہوتا ہے جو دعوت اسلامی کی حمایت اس وقت تک کرتے رہے جب تک موت سے روبرو نہ ہونا پڑا لیکن جب موت کا مرحلہ پیش آیا تو وہ جنگوں سے بھاگ جاتے، پیٹھ پھیرتے اور نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے تھے_ اس نکتے کا مشاہدہ بہت سے موقعوں پر ہوتا ہے البتہ بعض اوقات اس قسم کے لوگوں میں سے بعض کے اوپر بتدریج جذبہ دینی غالب آتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ منزل اطمینان کو پہنچ جاتے ہیں بعد میں ہم غزوہ احد پر بحث کے دوران اس جانب انشاء اللہ اشارہ کریں گے_ بحث کا نتیجہ یہ نکلاکہ :
(الف):بعض لوگوں کا بنیادی ہدف اور ان کا معیار ذاتی مفاد ہوتا ہے_ بنابریں جب تک دین کے ذریعے
___________________
۱_ رجوع کریں : الثقات ج ۱ ص ۸۸، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۱۴۰، ۱۴۲ اور ۱۴۵ کہ دلائل النبوة (ابن نعیم) حاکم اور بیہقی سے نقل کیا ہے_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۷۲ و ۸۰ از البدایة و النہایة اور کنز العمال ج ۱ ص ۲۷۷ سے منقول ہے_
ان کے مفادات حاصل ہوتے رہیں وہ بھی اس دین کا ساتھ دیتے ہیں لیکن جونہی وہ دین کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ اور ان کیلئے باعث خطر سمجھتے ہیں تو پھر وہ اس کے خلاف مکر وسازش اور اسے تباہ وبرباد کرنے کیلئے کسی قسم کی سعی وکوشش سے دریغ نہیں کرتے اور ہر قسم کا وسیلہ اپناتے ہیں_
(ب): دوسرے سبب کی طرف علامہ طباطبائی نے یوں اشارہ کیا ہے کہ یہ بات ممکن ہے کہ کوئی شخص ابتدائے بعثت میں ایمان لے آئے پھر وہ کسی ایسے امر سے روبرو ہو جس کے باعث اس کاایمان متزلزل ہو، وہ دین میں شک کرے اور مرتد ہوجائے لیکن اس کی نظر میں اہمیت کے حامل بعض مفادات مثال کے طور پر دشمنوں کی شماتت سے بچاؤ یا خاندانی، قبائلی اور تجارتی روابط کی حفاظت یا نسلی تعصب اور غیرت وغیرہ جن کے باعث سارے یا کچھ مسلمانوں سے رابطہ ضروری ہو یا کسی خاص قسم کے جاہ ومقام یا اس سے مربوط کسی اور مسئلے کی بنا پر اس کی پردہ پوشی کرتا ہو_(۱)
بسا اوقات ہم تاریخ میں ایسے افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس امر میں اکثر شک کیا کرتے تھے اور یوں وہ مذکورہ حقیقت کی تائید کرتے ہیں_ یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر وہ ایسے شک کا شکار ہوئے جس کا شکار مسلمان ہونے کے بعد کبھی بھی نہ ہوئے تھے_(۲)
ادھر غزوہ احد میں جب انہوں نے سنا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم شہید ہوگئے تو وہ معرکہ جنگ سے فرار اختیار کرگئے اور ان میں سے بعض تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی طرف (دوستی کا) ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ وہ ہماری قوم کے ہی افراد اور ہمار ے چچازاد بھائی ہیں_(۳)
(ج): مسلمانوں کی مکی زندگی کے دوران منافقوں کی موجودگی پر دلالت کرنے والی بعض آیات کی طرف علامہ طباطبائی نے بھی اشارہ کیا ہے مثال کے طور پر خداوند متعال کا یہ ارشاد:( لیقول الذین فی
___________________
۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _
۲_ مغازی واقدی ج ۲ ص ۶۰۷ _
۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۲۷ جنگ احد کے واقعے میں اس سلسلے میں مزید گفتگو مآخذ کے ذکر کے ساتھ ہوگی_
قلوبهم مرض والکافرون ما ذا اراد الله بهذا مثلاً ) (۱) یعنی تاکہ دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب مثال سے کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ یہ آیت ایک مکی سورہ کی ہے_
نیز اللہ تعالی کا یہ ارشاد( ومن الناس من یقول آمنا بالله فاذا اوذی فی الله جعل فتنة الناس کعذاب الله ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم اولیس الله باعلم بما فی صدور العالمین ولیعلمن الله الذین آمنوا ولیعلمن المنافقین ) (۲)
یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے لیکن جب راہ خدا میں اسے تکلیف دی گئی تو اس نے لوگوں کی طرف سے ڈالی ہوئی آزمائشے کو عذاب الہی کے برابر قرار دیا_ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا ہم تو تمہارے ساتھ تھے کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں_ اللہ تو ضروریہ جانتا ہے کہ ایمان والے کون ہیں اور منافق کون؟_
یاد رہے کہ سورہ عنکبوت بھی مکی ہے_ یہ آیت راہ خدا میں ایذاء رسانی اور آزمائشے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے یہ باتیں مکہ کی ہیں نہ کہ مدینہ کی_ اس آیت میں اللہ کا یہ فرمان (ولئن جاء نصر من ربک) یعنی اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی اس آیت کے مدنی ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ فتح ونصرت کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں_
یہاں اس نکتے کا اضافہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس آیت میں بطور عام مستقبل کے منافقین کی بھی تصویر کشی فرما رہا ہے_
اس کے بعدعلامہ طباطبائی کہتے ہیں: ''اس بات کا احتمال کہ شاید فتنہ (آزمائشے) سے مراد ہجرت کے بعدمکہ میں مسلمانوں کو پیش آنے والی مشکلات ہوں تو اس کی گنجائشے ہے کیونکہ ہجرت کے بعد مکہ میں ستائے جانے والے لوگ ہجرت سے قبل رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر ایمان لاچکے تھے اگرچہ انہیں بعد میں اذیت دی گئی''_(۳)
___________________
۱_ سورہ مدثر آیت ۳۱ _
۲_ سورہ عنکبوت، آیت ۱۱_
۳_ تفسیر المیزان ج ۲۰ ص ۹۰_۹۱_
مذکورہ باتوں پر ایک اہم تبصرہ
علامہ طباطبائی آخر میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ ''ہم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی وفات کے وقت تک منافقین کا کوئی نہ کوئی تذکرہ سنتے رہتے ہیں_ ان میں سے تقریباً اسّی افراد تبوک میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو چھوڑ گئے_ ادھر عبداللہ بن ابی، جنگ احد میں تین سو افراد کے ساتھ جدا ہوگیا تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد ان منافقین کا بلا واسطہ ذکر ختم ہوگیا اور اسلام و مسلمین کے خلاف ان کی سازشوں، مکاریوں اور حیلوں کے بارے میں کوئی بات سننے میں نہیں آئی_ کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے ساتھ ہی یہ سارے منافقین عادل، متقی، پرہیزگار اور انسان کامل بن گئے؟
اگر یہی بات ہو تو کیا ان کے درمیان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی موجودگی ان کے مومن ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھی؟ جبکہ اللہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو رحمة للعالمین بناکر بھیجا تھا؟ (ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ان غلط باتوں سے جو نزول بلا اور غضب کا باعث ہوں) یا یہ کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی رحلت کے ساتھ ہی یہ منافقین بھی (جن کی تعداد سینکڑوں بتائی جاتی ہے) مرگئے؟ کیا بات ہے کہ تاریخ اس سلسلے میں ہمیں کچھ نہیں بتاتی؟
یا نہیں بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ان منافقین کو حکومت کے اندر وہ چیز ملی جو ان کی نفسانی خواہشات سے ہم آہنگ نیز ان کے ہوا و ہوس اور مفادات کے ساتھ سازگار تھی؟ یا اس کی کوئی اور وجہ اور حقیقت تھی؟'' یہ فلسفہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا_ شاید ہوشیار اور زیرک لوگ اس کو سمجھتے ہوں_
چوتھی فصل
مدینہ تک
آغاز:
مدینہ پہنچنے کے بعد اسلامی معاشرہ کی تشکیل، حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کرنے کا کام شروع ہوا_ یوں اسلامی دعوت انفردای اصلاح کے مرحلے سے نکل کر معاشرتی اصلاح، اسلامی عقائد واحکام کے عملی نفاذ اور پوری دنیا سے جاہلیت کے تمام آثار کو مٹانے کے مرحلے میں داخل ہوئی_
اگر ہم اس سلسلے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اقدامات کا تذکرہ کریں تو اس مختصر کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ممکن نہ ہوگا_ نیز ہم آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عطرآگین سیرت کے بنیادی واقعات پر بحث کرنے سے رہ جائیں گے_ اس بناپر ہم یہ کام دوسروں کیلئے چھوڑتے ہیں اور ان چیزوں کے اجمالی بیان پر اکتفا کرتے ہیں جو کسی محقق کیلئے ضروری ہوتی ہیں_ ہم جزئیات اور تفصیلات فقط اسی حد تک بیان کریں گے جو ہماری نظر میں ضروری اور معقول ہوں_
اہل مدینہ کے گیت اور(معاذ اللہ) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا رقص؟
کہتے ہیں کہ اہل مدینہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی آمد سے اتنے خوش ہوئے کہ اس قدر کسی اور سے خوش نہیں ہوئے تھے_ حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ جب حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ پہنچے تو عورتیں اور لڑکیاں یہ گیت گارہی تھیں:
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
ما دعا لله داع
ایها المبعوث فینا
جئت بالامر المطاع
آج ثنیات وداع نامی جگہ سے چودہویں کا چاند طلوع ہوا_
جب تک کوئی دعا کرنے والا دعا گو موجود ہے ہم پر خدا کا شکر لازم ہے_
اے وہ جو ہماری طرف بھیجا گیا ہے تیرا پیغام واجب الاطاعت ہے_
تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دائیں طرف مڑے اور قبا میں پہنچ کر اتر گئے_(۱)
ایک روایت کی رو سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اپنی آستینوں کے ساتھ ناچنے لگے ( معاذ اللہ)_(۲)
قبا میں چند دن ٹھہرنے کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم شہر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_ اس وقت بنی نجار کی
عورتیں دف بجا بجاکر گارہی تھیں_
نحن نساء من بنی النجار
یا حبذا محمد من جار
ہم بنی نجارکی عورتیں ہیں، خوش نصیب ہیں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے پڑوسی بن گئے_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان سے فرمایا: ''کیا آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں؟ ''وہ بولیں:'' ہاں اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم '' آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' اللہ کی قسم میں بھی تم سے محبت رکھتا ہوں''_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا_(۳) حلبی کہتا ''ہے یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شادی کے علاوہ دیگر موقعوں پر بھی دف (ڈھولکی) کے ساتھ گانا سننا جائز ہے''_(۴) ابن کثیر نے صحیحین کی آئندہ آنے والے روایتوں سے استدلال کیا ہے کہ شادیوں اور مسافروں کی آمد کے موقع پر گانا بجانا جائز ہے_(۵)
___________________
۱_ تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۴۱_۳۴۲ از الریاض النضرة ، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۴، و دلائل النبوةبیہقی ج ۲ ص ۲۳۳، و وفاء الوفاء سمہودی ج ۱ ص ۲۴۴ و ج ۴ ص۱۱۷۲ و ۲۶۲ و فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴_
۲_ نہج الحق الموجود فی دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹، (یعنی حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم اپنی آستینوں کو نعوذ باللہ تھرکانے لگے _ از مترجم) فضل بن روز بہان نے بھی اس پراعتراض نہیں کیا بلکہ وہ اس کی توجیہ اور تاویل پیش کرنے لگے( گویا وہ اسے بالکل قبول کرتے ہیں)_
۳_ وفاء الوفاء ج ۱ ص ۲۶۳ ، فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴ و دلائل النبوة بیہقی ج ۲ ص ۲۳۴ و ۲۳۵ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۴۱ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۶۱ اور البدایة و النہایةج ۳ ص ۲۰۰ _ ۴_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۴۱ _ ۵_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_
لیکن یہ باتیں غلط ہیں:
جسکی وجوہات کچھ یوں ہیں:
(الف): ثنیات الوداع کا محل وقوع مدینے کی جانب نہیں بلکہ شام کی جانب ہے اور مکہ سے مدینہ کی طرف آنے والے کو نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہاں سے اس کا گزر ہوتا ہے مگر یہ کہ کوئی شام کا رخ کرے(۱) بلکہ سمہودی کے بقول ''میں نے مکہ کی جانب کسی سفر میں ثنیات الوداع کا تذکرہ نہیں دیکھا_(۲)
''جن لوگوں نے اسے مکے کی جانب قرار دیا ہے بظاہر ان کی دلیل ان عورتوں کا مذکورہ جملہ ہے جو ہجرت کے موقع پر کہا گیا''_(۳) ثنیة الوداع کے شام اور خیبر کی جانب واقع ہونے کی تائید تبوک کی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے تشریف لے جانے اور وہاں سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لوٹنے سے ہوتی ہے_ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خیبر اور شام سے لوٹے موتہ، غزوہ عالیہ اور غزوہ غابہ کی طرف گئے، نیز اسب مضمر (وہ گھوڑا جسے گھڑ دوڑ میں شرکت سے پہلے دبلا اور بدن کا چھریرا بنانے کیلئے ایک مدت تک باندھ کر رکھتے ہیں) کی مدت کے بارے میں گھڑ دوڑ والی حدیث میں مذکورہ بات سے بھی اس امرکی تائید ہوتی ہے_(۴)
سمہودی نے مذکورہ بات کو صحیح قرار دینے کی کوشش اس طرح کی ہے کہ ان لوگوں کے بقول قبا سے مدینہ آتے وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ انصار کے گھروں سے گزرے یہاں تک کہ بنی ساعدہ کے گھروں سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا گزر ہوا جو شام کی جانب واقع ہے پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم شہر مدینہ میں داخل نہیں ہوئے مگر اسی طرف سے_(۵)
___________________
۱_ زاد المعاد ج ۳ ص ۱۰ اور رجوع کریں وفاء الوفاء سمہوری ج ۴ ص ۱۱۷۰ نیز التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۰_
۲_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_
۳_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_
۴_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۶۸و ۱۱۷۲ و ۱۱۶۹ اور ج۳ ص ۸۵۷ و۸۵۸ از بخاری ، ابن ابی شیبہ ، طبرانی اوسط میں ، ابویعلی ، ابن حبان ، ابن اسحاق ،ابن سعد اور بیہقی و غیرہ نیز ملاحظہ ہو حیاة الصحابہ ج۱ ص ۶۰۳ و ۲۰۷ اور السنن الکبری ج۹ ص ۱۷۵ و ۸۵_
۵_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۰_
یہ بات قابل تعجب ہے کیونکہ بنی ساعدہ کے گھروں سے گزرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینے سے ان کی جانب سے داخل ہوئے کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم قبا کی جانب سے داخل ہوئے ہوں اور پھر اونٹنی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو انصار کے گھروں کے درمیان پھرایا ہو_ (جیساکہ اس نے صریحاً بیان کیا ہے) یہاں تک کہ وہ بنی ساعدہ کے گھروں تک پہنچی ہو_
سمہودی کے اس احتمال کی نفی''طلع البدر علینا'' والی روایت میں ان کے اس صریحی بیان سے ہوتی ہے کہ اہل مدینہ نے اس شعر کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا استقبال کیا پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے ساتھ دائیں طرف قبا کی جانب مڑے جیساکہ بیان ہوچکا ہے، بنابریں یہ شعر مکہ سے مدینہ تشریف آوری کے موقع پر کہا گیا نہ کہ قبا سے مدینہ آمد پر_
ان ساری باتوں کی روشنی میں حقیقت یہ ہے کہ مدینہ والوں نے اس شعر کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا استقبال مکہ سے تشریف آوری کے موقعے پر نہیں بلکہ تبوک سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آمد کے موقع پر کیا_
(ب): حلبی کا اس روایت کی بنیاد پر گانے بجانے کو جائز قرار دینا قابل تعجب امر ہے کیونکہ روایت فقط اتنا کہتی ہے کہ انہوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آمد پر شعر پڑھا _ اس میں کوئی حرام چیز تو داخل نہیں تھی اور شعر پڑھنا کوئی کار حرام نہیں ہے بلکہ روایت میں ان اشعار کو لے میںپڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے_ اسی لئے ان کے کسی عالم کا بیان ہے کہ ''حرام اور غلط موسیقی کے حامیوں کا اس (طلع البدر والی روایت) کو دلیل بناکر ہر قسم کی موسیقی کو جائز قرار دینا بالکل اسی طرح ہے جس طرح انگور اور (نشے سے خالی )انگور کے پانی کے حلال ہونے کو دلیل بناکر (اس سے تیار شدہ) نشہ آور شراب کو بھی حلال قرار دیا جائے_ اس قسم کا قیاس ان لوگوں کے قیاس کی مانند ہے جو کہتے تھے کہ تجارت اور ربا ایک جیسے ہیں''_(۱)
اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ نامحرم عورت کی آواز کو سننا حرام ہے تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ حرمت کا یہ حکم اس وقت نازل ہوچکا تھا کیونکہ اسلام کے اکثر احکام تدریجاً نازل ہوئے جیساکہ شراب کے بارے
___________________
۱_ زاد المعاد (ابن قیم) ج ۳ ص ۱۷_۱۸_
میں بھی یہی کہا گیا ہے_ علاوہ برایں ان اشعار کو پڑھنے والیوں میں کسی ایسے فرد کے موجود ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں جس کی آواز کا سننا حرام تھا_
اگر ہم ان کی ساری باتیں تسلیم کرلیں پھر بھی اس بات کا احتمال ہے کہ ان حالات میں ان لوگوں کو منع کرنا یا ان کو حکم شرعی سے آگاہ کرنا ممکن نہ تھا_ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کا سکوت کسی مصلحت کے پیش نظر تھا بنابریں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سکوت سے ان کے عمل کی تائید پر استدلال نہیں کیا جاسکتا_
(ج): رہا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا (نعوذ باللہ ) اپنی آستینوں کو نچانا تو یہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان کے منافی ہے جیساکہ فضل بن روزبہان نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے_(۱)
شیخ مظفر کہتے ہیں ''یہ عمل واضح بے وقوفی اور بے حیائی ہے اور ایک رہبر کیلئے بہت بڑا عیب ہے_ نیز ان حالات میں حیا و مروت کے تقاضوں کی زبردست خلاف ورزی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کے سخت منافی ہے (کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد لوگوں کی ہدایت، ان کو نقائص اور احمقانہ اعمال سے نجات دلانا اور آخرت کی یاد دلانا تھا)''_(۲)
ان سب باتوں کے علاوہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے واضح طور پر ہر قسم کے لہو ولعب، گانے بجانے اور رقص سے منع فرمایا ہے جیساکہ ہم اس کا جلد تذکرہ کریں گے_
مذکورہ باتوں کی روشنی میں ایک اور روایت (جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے استقبال کے وقت بنی ساعدہ کی عورتوں کے گانے اور دف بجانے سے متعلق ہے) کے ذریعے ان کے استدلال کی کمزوری بھی معلوم ہوجاتی ہے_
یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ غنا اور رقص کے جواز پر ان کے سارے دلائل کو پیش کرنے کے بعد ان پر بحث کی جائے اور پھر اس مسئلے میں قول حق کو بعض دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے_
___________________
۱_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _
۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _
حلّیت غنا کے دلائل
گانے بجانے اور رقص کرنے کی حلیت پر مذکورہ باتوں کے علاوہ درج ذیل امور سے استدلال کیا گیا ہے:
۱_حلبی نے ابوبشیر سے نقل کیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور حضرت ابوبکر حبشیوں کے پاس سے گزرے جبکہ کھیل اور رقص میں مصروف تھے اور کہہ رہے تھے: ''یا ایہا الضیف المعرج طارقاً'' (اے رات کے وقت آنے والے مہمان)_
(حلبی) کہتا ہے: ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں منع نہیں کیا اور ہمارے فقہاء نے رقص کے جواز پر اسی سے استدلال کیا ہے جو اشکال سے خالی ہے کیونکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے سامنے دف کے ساتھ یا اس کے بغیر خوبصورت آوازوں کے ساتھ اشعار گائے جانے کے بارے میں صحیح اور متواتر اخبار موجود ہیں_ انہی روایات کی رو سے ہمارے فقیہوں نے دف بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے اگرچہ گھونگھرؤوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوں''_(۱)
۲_ برید ہ سے مروی ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کسی جنگ کیلئے شہر سے خارج ہوئے_ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم واپس تشریف لائے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آئی اور بولی:'' میں نے نذرکی ہے کہ اگر اللہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو صحیح وسالم واپس لوٹائے تو میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے دف بجاؤں گی اور گاؤں گی'' آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' اگر تونے نذر کی تھی تو پھر دف بجاؤ وگرنہ نہیں''_ چنانچہ وہ دف بجانے لگی اس دوران حضرت ابوبکر آئے اس کے بعد حضرت علیعليهالسلام آئے جبکہ وہ دف بجا رہی تھی پھر حضرت عثمان آئے جبکہ ابھی وہ کنیز دف بجانے میں مشغول تھی اس کے بعد حضرت عمر داخل ہوئے پس اس کنیز نے دف کو اپنے سرین کے نیچے رکھا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی_ چنانچہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے وہ گارہی تھی حالانکہ میں بیٹھا ہوا تھا پھر ابوبکر آیا
___________________
۱_ سیرت حلبی ج۲ ص۶۲_
جبکہ وہ بدستور گاتی رہی تھی ...''_(۱)
۳_حضرت جابر سے منقول ہے حضرت ابوبکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں پہنچے اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس دف بجایا جارہا تھا وہ بیٹھ گئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا عمل دیکھ کر کچھ نہ کہا_ پھر حضرت عمر آئے جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے عمر کی آواز سنی تو اس کام سے روکا جب وہ دونوں چلے گئے تو حضرت عائشہ بولیں :''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا عمر کے آنے سے حلال چیز حرام بن گئی؟ ''آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' اے عائشہ ہر کسی کے ساتھ آزادانہ روش نہیں اپنائی جاسکتی''_(۲)
۴_بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا میرے پاس تشریف لائے اس وقت میرے پاس دو کنیزیں ایک طرب انگیز گیت گارہی تھیں_ (مسلم کے بقول وہ دونوں گا بھی رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا رخ پھیر لیا_ اتنے میں حضرت ابوبکر آئے اور مجھے ڈانٹ کر کہا:'' شیطان کی بانسری اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے ہاں؟''
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے ان کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' ان دونوں کو چھوڑ دو''_ مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''اے ابوبکر ان کو کچھ نہ کہو کیونکہ یہ عید کے ایام ہیں''_(۳)
بعض روایات میں مزید (جیساکہ بخاری میں ہے) مذکور ہے کہ وہ دونوں صرف گانے والیاں نہیں تھیں_
___________________
۱_ اسدالغابة ج۴ ص ۶۴ ، نوادرالاصول ( از حکیم ترمذی) ص ۵۸ و مسند احمد ج۵ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ ( کچھ اختلاف کے ساتھ) نیز دلائل الصدق ج۱ ص ۲۹۱ _ ۳۹۰ از ترمذی ج۲ ص ۲۹۳ جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے _ نیز بغوی نے بھی المصابیح میں اسے صحیح گرداناہے _ نیز رجوع کریں الغدیر ج۸ ص ۶۴ _۶۵ سیرت حلبی ج ۲ ص ۶۲ سنن بیہقی ج۱۰ ص ۷۷ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱_
۲_ نیل الاوطار ج ۸ ص۲۷۱ و نوادر الاصول ( حکیم الترمذی) ص ۱۳۸ ، و الغدیر ج ۸ ص ۶۴ _۶۵ از مشکاة المصابیح ص ۵۵ اور گذشتہ بعض منابع سے_
۳_ صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۱۱ ط المیمنیہ،و صحیح مسلم ج ۳ ص ۲۲ ط مشکول، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۱_۶۲ وحاشیہ ارشاد الساری ج ۴ ص ۱۹۵_۱۹۷ و لائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹ و سنن البیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴، و اللمع لابی نصرص ۲۷۴_ و البدایة و النہایة ج ۱ ص۲۷۶ و المدخل لابن الحاج ج ۳ ص ۱۰۹ و المصنف ج ۱۱ ص ۴ نیز تہذیب تاریخ دمشق ج۲ ص ۴۱۲_
۵_ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے حضرت عائشہ کو ایک حبشی عورت کا ناچ دیکھنے کی دعوت دی_ چنانچہ حضرت عائشہ آئیں اور اپنی ٹھوڑی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے کندھے پر رکھ کر دیکھنے لگیں_ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم نے اسے فرمایا:'' کیا ابھی جی نہیں بھرا؟ ابھی سیر نہیں ہوئی؟ اب بھی جی نہیں بھرا ؟''وہ کہتی تھیں:'' نہیں ''تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک اپنے مقام کا اندازہ لگالے_ اتنے میں حضرت عمر آنکلے پس لوگ وہاں سے متفرق ہوگئے اس وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا: ''میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں''_(۱)
۶_ ابن عباس سے مروی ہےکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کےاصحاب خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور ایک کنیز سارنگی کے ساتھ یہ گارہی تھی_هل علی ویحکم
ان لهوت من حرج
وائے ہو تم پر اگر میں دل بہلانے والا کام کروں تو کیااس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا مسکرائے اور بولے:'' انشاء اللہ کوئی حرج نہیں''_(۲)
۷_ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ جب اسے دلہن بناکر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس بھیجا گیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے پاس آئے اور بیٹھ گئے_ اس وقت چھوٹی لڑکیاں دف بجاتی ہوئی بدر میں قتل ہونے والے اپنے آباء پربین کر رہی تھیں_ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا ''ہمارے درمیان وہ نبی بیٹھا ہوا ہے جو آئندہ کے حالات سے با خبر ہے'' آپ نے فرمایا:'' یوں نہ کہو بلکہ پہلے جو کچھ کہہ رہی تھیں وہی کہو''_(۳)
۸_ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس چند کنیزیں گانے اور کھیلنے میں مشغول تھیں اتنے میں عمر آئے اور اذن چاہا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان عورتوں کو خاموش کرایا اور عمر کی حاجت پوری کردی، پس وہ چلے گئے_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جس کی آمد پر
___________________
۱_ دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۰، التاج الجامع (للاصول) ج ۳ ص ۳۱۴ و الغدیر ج ۸ ص ۶۵ از صحیح ترمذی ج ۲ ص ۲۹۴ (ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے) واز مصابیح السنة ج ۲ ص ۲۷۱ از مشکاة المصابیح ص ۵۵۰ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۸ سے حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۷۶۰_۷۶۱ اور منتخب کنز العمال ج ۴ ص ۳۹۳ از ابن عساکر و ابن عدی اور مشکات ص ۲۷۲ از شیخین_ ۲_ السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۶۱ ، التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱ _۱۳۲ از عقد الفرید و غیرہ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۴ ص ۱۳۶_ ۳_البخاری فتح الباری کے حاشیہ کے ساتھ ج۷ ص ۲۴۴_
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان (کنیزوں) کو خاموش رہنے کا حکم دیاتھا اور اس کے چلے جانے کے بعد دوبارہ گانا شروع کرنے کیلئے کہا تھا_ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواباً فرمایا:'' یہ وہ شخص ہے جو فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''_(۱)
۹_ ایک روایت یہ کہتی ہے کہ ایک عورت عائشہ کے پاس آئی_ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عائشہ اسے پہچانتی ہو؟'' وہ بولیں :''نہیں اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا''_ فرمایا :''یہ فلان قبیلے کی گلو کارہ ہے_ کیا تم اس سے گانا سننا چاہتی ہو؟''وہ بولیں:'' ہاں''_ پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کو ایک گول طشتری تھمادی، چنانچہ اس نے عائشہ کیلئے ایک گیت گایا_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' شیطان نے اس کی ناک کی دونوں سوراخوں میں پھونک ماری ہے''_(۲) ابن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس حضرت ابوبکر آئے تب بھی ایک لڑکی دف بجاتی رہی پھر حضرت عمر آئے تب بھی وہ بجاتی رہی لیکن جب حضرت عثمان آئے تو تب وہ چپ ہورہی(۳) شاعر نیل (محمد حافظ ابراہیم) اپنے دیوان میں خلیفہ ثانی کے فضائل گنتے ہوئے کہتا ہے:
ا خاف حتی الذراری فی ملاعبها ---- وراع حتی الغوانی فی ملاهیها
اریت تلک التی لله قد نذرت ---- انشوده لرسول الله تهدیها
ققالت : نذرت لئن عاد النبی لنا ---- من غزوة لعلی دفی اغنیها
ویممت حضره الهادی و قد ملات ---- نوار طلعته ارجاء و ادیها
و استاذنت ومشت بالدف واندفعت ---- تشجی بالحانها ماشاء مشجیها
و المصطفی و ابوبکر بجانبه ---- لا ینکران علیها ما اغانیها
حتی اذا لاح عن بعد لها عمر ---- خارت قواها وکاد الخوف یردیها
و خبات دفها فی ثوبها فرقا ---- منه ووّدت لون الارض تطوّیها
قد کان علم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم الله یؤنسها---- فجاء بطش ابی حفص یخشیها
فقال مهبط وحی الله مبتسما ---- و فی ابتسامته معنی یواسیها
قد فر شیطانها لما رای عمرا ---- ان الشیاطین تخشی باس مخزیها
___________________
۱_ نہج الحق (دلائل الصدق کے ضمن میں) ج۱ ص ۴۰۲ از غزالی_
۲_ مسند احمد ج۳ ص ۴۴۹_
۳_ مسند احمد ج۴ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ اس سے حضرت عمر کی ہیبت کی نفی لیکن حضرت عثمان کا رعب ثابت ہوتاہے _ مترجم
اس نے اپنے بچوں تک کو کھیلوں کے مقامات پر ڈرایا_ اور گانے والیوں پر اور لہو و لعب کی جگہوں پر دہشت طاری کرادی_
کیا تونے اس عورت کا ذکر سنا ہے جس نے خدا کی خوشنودی کیلئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ایک گیت سنانے کی نذر کی تھی_
اس عورت نے کہا میں نے نذر کی تھی کہ اگر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ سے واپس آئے تو میں دف بجا کر گاؤں گی_
وہ کنیز رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس گئی جبکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نور نے پوری وادی کو منور کر رکھا تھا_
اس نے اجازت لی اور دف لےکرچلی پھر اپنی طربناک آواز کا جادو جگانا شروع کیا_
مصطفی اور ابوبکر اسکے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اس کو گانے سے منع نہ کیا_
یہاں تک کہ جب اسے دور سے عمر نظر آیا تو اس کی قوت ماند پڑنے لگی اور قریب تھا کہ خوف سے ہلاک ہوجاتی_
اس نے ڈر کے مارے اپنی ڈفلی کپڑے کے اندر چھپالی اور یہ تمنا کی کہ کاش زمین اس کو اپنے اندر چھپا لیتی_
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدااپنی دانش کی بنا پر اس کے مونس تھے لیکن ابوحفضہ (عمر) کی سخت گیری نے اسے وحشت زدہ کردیا_
وحی کے جائے نزول (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا) نے مسکرا کر فرمایا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسکراہٹ میں اس کیلئے تسلی کا سامان تھا_
اس کنیز پر مسلط شیطان نے جب عمر کو دیکھا تو بھاگ گیا_ شیاطین اپنے کو ذلیل کرنے والی طاقت سے ڈرتے ہیں_
یہ وہ قابل ذکر دلائل تھے جن کے ذریعے ان لوگوں نے گانے بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے
ہمارے خیال میں یہ ساری باتیں ان کے مدعا کو ثابت کرنے کیلئے کسی کام بھی نہیں آسکتیں_
حلیت غنا کے دلائل کا جواب
اگر ہم مذکورہ احادیث کے ضعف کو بیان کرنا چاہیں تو ضروری ہے کہ ان کے اسناد سے چشم پوشی کریں وگرنہ بات لمبی ہوجائیگی اور ممکن ہے کچھ لوگ یہ سوچتے ہوں کہ صحاح ستہ میں موجود اسناد پر تنقید کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں، خاص کر بخاری اور مسلم میں جبکہ گذشتہ احادیث میں سے بعض ان کتب میں موجود ہیں_
ہمارے نزدیک اگرچہ یہ خیال باطل ہے_ اس موضوع پر علماء خاص کر شیخ محمود ابوریہ نے اپنی کتاب ''اضواء علی السنة المحمدیہ'' میں اور اسی طرح دیگر افراد نے بھی گفتگو کی ہے(۱) لیکن اس کے باوجود ہم ان احادیث کی اسناد سے بحث نہیں کرتے (تا کہ ان لوگوں کی دلجوئی ہو اور ان کے جذبات کا احترام عمل میں آئے) بلکہ ان احادیث کے متن سے بحث کرتے ہوئے درج ذیل عرائض پیش کرتے ہیں:
(الف): مذکورہ روایات میں سے بعض کے متون میں زبردست اختلاف ہے خاص کر روایت نمبر۲ اور روایت نمبر۴ جو صحیح بخاری وصحیح مسلم اور دیگر کتب سے مروی ہیں_
(ب): یہ روایات غنا کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ اس کی حلیت پر، بطور مثال: _
۱_روایت نمبر۲ میں حضور کا فرمان ''ان الشیطان لیخاف او لیفرق منک یا عمر'' (اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے) گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتا ہے_ کیونکہ اگر غنا (گانا بجانا) حلال ہوتا (خاص کر نذر کی صورت میں) تو یہ بات درست نہ ہوتی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ اس عمل کی مذمت کرتے اور اسے شیطانی عمل قرار دیتے_
۲_ روایت نمبر ۳ بھی عائشہ کی طرف سے اعتراض اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی جانب سے جواب کے پیش نظر حرمت پر دلالت کر رہی ہے_
___________________
۱_ ملاحظہ ہو: اضواء علی السنتہ المحمدیہ ، العتب الجمیل اور الغدیر و غیرہ_
۳_چوتھی روایت میں اسے شیطانی بانسری قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل حرام اور ناپسندیدہ تھا بنابریں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کیونکر ایسے امر کے مرتکب ہوئے؟
روزبہان نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم خدا سمجھانے کیلئے ایسا کیا_
لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم زبانی طور پر حکم خدا بتادیتے تو کافی بھی ہوتا اور آسان بھی_ علاوہ اس کے اگر مذکورہ بات درست ہوتی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم عام لوگوں کے سامنے یہ کام انجام دیتے نہ کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اکیلے ہی سنتے_ پھر جو عمل عقلاء کے نزدیک شیطانی بانسری قرار پائے وہ کیسے حلال ہوسکتا ہے؟
۴_ پانچویں روایت کی رو سے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے دیکھ رہا ہوں''_ پس جب یہ کام شیطانوں کے جمع ہونے کا باعث ہو تو پھر اسے حرام ہونا چاہی ے نہ کہ حلال_
۵_ آٹھویں روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے فرمایا: ''یہ شخص فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''یاد رہے کہ جو کام حلال یا مکروہ ہو وہ باطل و فضول نہیں کہلایا جاسکتا_
۶_ آخری روایت میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے مغنیہ کے بارے میں فرمایا:''شیطان نے اس کی ناک کے دونوں سوراخوں میں پھونکا ہے''_ یہ بات بھی حرمت پر دلالت کرتی ہے_
(ج): ہم یہ سوال کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کیسا شیطان تھا جو عمر سے خوف کھاتا تھا لیکن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے نہیں؟ نیز جس کام کے بارے میں شیطان عمر سے ڈرے اس عمل کی نذر کیسے درست ہوسکتی ہے؟ جبکہ نذر میں یہ شرط ہے کہ جس چیز کی نذر کی جارہی ہے وہ خدا کی اطاعت اور پسندیدہ عمل محسوب ہو یا کم از کم نا پسندیدہ چیز نہ ہو جیساکہ بیہقی اور ترمذی جیسی حدیث کی کتابوں میں نذرسے متعلقہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے_
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداتو فضول اور باطل باتیں سننے کو ترجیح دیں لیکن حضرت عمر فضولیات سے پرہیز کریں؟ یہاں پر حضرت عمر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ سے بھی زیادہ با اصول کیسے بن گئے_؟
نیز یہ کیونکر ممکن ہے کہ شیطان تو اس مغنیہ کی ناک میں پھونکے لیکن دوسری طرف سے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ عائشہ کو
اس کے گیت سننے کی دعوت دیں؟ کیا کوئی بھی صاحب عقل شخص اس قسم کے متضاد اعمال بجالا سکتا ہے؟ چہ جائیکہ معصوم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف اس کی نسبت دی جائے_ علاوہ برآن یہ کیسے معقول ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اپنے بعض اعمال کو بعض لوگوں (عمر) سے چھپائیں اور اس عمل سے اس شخص کے باخبر ہونے کو اپنے لئے باعث ہتک حرمت سمجھیں لیکن کچھ لوگوں سے اس کو نہ چھپائیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عمل، قبیح یا کم از کم غیر پسندیدہ اور نا مناسب تھا؟
ایک روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر گانے بجانے سے منع کرتے ہیں لیکن دوسری روایت میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ عمر اس امر سے منع کرتے ہیں_
(د): آپصلىاللهعليهوآلهوسلم عائشہ کو حبشیوں کا رقص دیکھنے کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں جبکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چہرہ ان کے چہرے سے ملاہواہو؟ اور ساتھ ہی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے یہ بھی کہہ رہے ہوں:'' اے بنی ارفدہ اپنا خیال رکھنا ''_(۱) کیا یہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیا (جو معروف ہے )کے منافی نہیں ؟ یہاں تک کہ روایات کے مطابق آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پردہ نشین دوشیزاؤں سے بھی زیادہ باحیا تھے_ کیا مذکورہ عمل اس شخص کو زیب دیتا ہے جو حیا کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہو اور جس کی مسکراہٹ ہی اس کا خندہ تھی؟ کیا یہ عمل اس بات کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی زوجات کو اندھے کی طرف دیکھنے سے منع فرماتے تھے؟ چنانچہ آپ نے اپنی دو بیویوں سے فرمایاتھا:'' کیا تم دونوں بھی اندھی ہو اور اس کو نہیں دیکھ رہی ہو؟''(۲)
(ھ): دف بجانے اور بدر کے مقتولین پر رونے کے درمیان کونسی مناسبت ہے؟ نیز کیا نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا سکوت (اگر فی الواقع آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ساکت رہے ہوں) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رضا مندی پر دلالت کرتا ہے؟ خاص کر ان حالات میں کہ ان کاموں سے منع کرنے کیلئے تدریجی طریقہ کار کی ضرورت ہو_
اگر کوئی یہ کہے کہ مذکورہ افعال کے مرتکب افراد آپ کے احکام کی اطاعت کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا تو مسلمان ہونا بھی ثابت نہیں ہے_
___________________
۱_ بخاری مطبوعہ میمنیہ ج ۱ ص ۱۱۱ _
۲_ رجوع ہو بطرف مسند احمد ج ۶ ص ۲۹۶ و طبقات ابن سعد و مصابیح بغوی مطبوعہ دار المعرفہ ج۲ ص ۴۰۸ ، الجامع الصحیح ج۵ ص ۱۰۲ اور سنن ابوداؤد ج۴ ص ۶۳ ، ۶۴_
(و): چھٹی اور آخری عرض یہ کہ گانے بجانے کی حرمت پر بہت ساری روایات صریح انداز میں دلالت کرتی ہیں_ یہ روایات یقینی طور پر متواتر ہیں_یہاں ہم ان روایات میں سے درج ذیل روایتوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں_
۱_ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے ''میری امت میں ضرور ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب، ریشم اور معازف (بینڈباجوں) کو حلال سمجھیں گے''_(۱)
۲_ حضرت انس سے مروی مرفوع حدیث (وہ حدیث جس کے راویوں کا ذکرنہ ہو) میں مذکور ہے ''دو آوازیں لعنت اور گناہ کا باعث ہیں ان دونوں سے منع کرتا ہوں ایک بانسری کی آواز اور دوسری طرب انگیز نغمے یا مصیبت کے وقت شیطانی آواز''_
عبدالرحمان بن عوف سے مروی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' میں نے دو احمقانہ اور گناہ آلود آوازوں سے منع کیا ہے ایک لہو ولعب والے نغمے اور شیطانی بانسریوں کی آواز سے اوردوسری مصیبت کے وقت نکالی جانے والی آواز سے'' حسن سے بھی اسی قسم کے الفاظ نقل ہوئے ہیں_(۲)
۳_عمر بن خطاب سے مروی ہے'' گانے والی کنیز کی مزدوری حرام ہے اس کا گانا حرام ہے اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے اس کی قیمت کتے کی قیمت جیسی ہے اورکتے کی قیمت حرام ہے''_(۳)
۴_ ابن عباس سے منقول ہے'' دف بجانا حرام ہے، باجے حرام ہیں، ڈگڈگی (یا ڈھولکی) حرام ہے اور بانسری بھی حرام ہے''_(۴)
___________________
۱_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۱ اور صحیح بخاری و الغدیر ج ۱۸ ص ۷۰ از بخاری از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ مولف کا کہنا ہے کہ اسے احمد، ابن ماجہ و ابونعیم اور ابوداؤد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے کسی نے اس پر اشکال نہیں کیا بعض لوگوں نے تو اس کو صحیح قرار دیا ہے_
۲_ المصنف ج ۱۱ ص ۶ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۸ و تفسیر شوکانی ج ۴ ص ۲۳۶ و الدر المنثور ج ۵ ص ۱۶۰ والغدیر ج ۸ ص ۶۹ جس نے مذکورہ مآخذ سے سوائے پہلے ماخذ کے نقل کیا_ نیز از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۳ نقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۸ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳۰ _
۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ اور الغدیر ج ۸ ص ۶۹_۷۰ از طبرانی و ارشاد الساری_
۴_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ _
۵_ ابن عباس، انس اور ابوامامہ سے ایک حدیث مرفوع نقل ہوئی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:'' اس امت کے اوپر زمین میں دھنسنے ،پتھر برسنے اور مسخ ہونے کی بلائیں نازل ہوں گی_ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیوں سے استفادہ کریں گے اور باجے بجائیں گے''_(۱)
۶_ انس اور ابوامامہ سے مروی حدیث مرفوع کہتی ہے ''اللہ نے مجھے کائنات کیلئے باعث رحمت بناکر، نیز باجوں بانسریوں اور ایام جاہلیت کے آثار کو مٹانے کیلئے بھیجا ہے''_(۲)
۷_ابوہریرہ سے مروی حدیث مرفوع میں مذکور ہے ''آخری زمانے میں کچھ لوگ بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ ہوجائیں گے''_ لوگوں نے اس کی علت پوچھی تو فرمایا:'' وہ باجوں، ڈھولکیوں اور گانے والیوں سے سروکار رکھیں گے''_
اس قسم کی بات عبدالرحمان بن سابط، غازی بن ربیعہ، صالح بن خالد، انس بن ابی امامہ اور عمران بن حصین سے بھی مروی ہے_(۳)
۸_ ترمذی نے حضرت علیعليهالسلام سے (بطریق مرفوع)حدیث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نقل کیا ہے کہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہوگی تو اس پر بلائیں نازل ہوں گی (ان کے ذکر میں فرمایا) جب وہ گانے والیوں اور باجوں سے بھی سروکار رکھیں گے_
یہی بات ابوہریرہ سے بھی مروی ہے_(۴)
۹_ صفوان بن امیہ سے منقول ہے کہ ہم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے پاس تھے اتنے میں عمر بن قرہ آیا اور عرض کیا:
___________________
۱_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ وا لغدیر ج ۸ ص ۷۰ از در منثور و از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ اسے طبرانی، احمد اورابن ابی الدنیانے نقل کیا ہے_
۲_ جامع بیان العلم ج ۱ ص ۱۵۳ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۲ و در منثور ج ۲ ص ۳۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۰_۷۱ مذکورہ مآخذ سے _
۳_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ اسے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن عدی، حاکم، بیہقی، داود اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے نیز رجوع ہو المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ _
۴_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ از المدخل ونقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۹ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳ _
''اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدانے میری قسمت میں شقاوت لکھ دی ہے اسی لئے میں روزی کما نہیں سکتا مگر اپنے ہاتھوں سے ڈھولکی بجاکر_ بنابریں مجھے اجازت دیجئے کہ میں بے حیائی والے کا موں سے ہٹ کر گانے بجانے کا کام کروں''_آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں تجھے اجازت نہیں دیتا_ اس کام میں نہ عزت ہے نہ شرافت_ اے دشمن خدا تم جھوٹ بولتے ہو_ اللہ نے تجھے پاکیزہ روزی عطا کی ہے لیکن تونے رزق حلال کاراستہ چھوڑ کرحرام روزی کی راہ اپنائی ہے_ خبر دار جو دوبارہ یہ بات کہی تو میں تجھے المناک سزا دوںگا''_(۱)
حلبی نے اس روایت پر یوں تبصرہ کیا ہے:'' مگر یہ کہاجائے کہ یہ نہی (بشرطیکہ صحیح ہو) اس شخص کیلئے ہے جو ڈھولکی بجانے کو پیشہ بنالے_ اس صورت میں یہ عمل مکروہ ہے_ رہا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ فرمانا کہ''تم نے راہ حرام کو اختیار کیا'' تو یہ جملہ اس کام کی قباحت کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی کیلئے ہے''_(۲)
لیکن حلبی یہ بھول گئے کہ اگر اس کام کو پیشہ بنانا فقط مکروہ ہوتا تو پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کو المناک سزا دینے کی دھمکی کیوں دیتے؟ اور اسے دشمن خدا کیوں قرار دیتے؟
اس کے علاوہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حرام کو ''طیب'' (پاکیزہ وحلال) کے مقابلے میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حرام سے مراد وہی ''خبیث'' ہے جو قرآن کی اس صریح آیت کے مطابق حرام قرار دی گئی ہے( ویحل لهم الطیبات ویحرم علیهم الخبائث ) (۳) یعنی وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کیلئے حلال اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے_
۱۰_ابوامامہ سے مروی ہے گانے والیوں کو نہ بیچو اور نہ ہی خریدو، اور نہ ان کو تعلیم دو، ان کی تجارت میں کوئی خوبی نہیں_ ان کی قیمت حرام ہے اس قسم کے امور کے بارے میںیہ آیت نازل کی گئی ہے( ومن الناس من یشتری ) (۴)
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۳ از ابن ابی شیبہ_
۲_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۲ _
۳_ سورہ اعراف آیت ۱۵۷_
۴_سورہ لقمان، آیت ۶_
ایک اور عبارت میںآیا ہے ''گانے والیوں کو تعلیم دینا جائز نہیں اور نہ ہی ان کو بیچنا_ ان کی قیمتیں حرام ہیں_ قرآن کی یہ(مذکورہ) آیت اسی قسم کی چیزوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ...''_(۱)
۱۱_ عائشہ سے مروی ایک حدیث مرفوع کہتی ہے'' خدائے تعالی نے گانے والی کنیزوں، ان کی خریدوفروخت اور قیمت کو حرام قرار دیا ہے _نیز ان کو تعلیم دینا اور ان کو سننا بھی حرام ہے''_ پھرآپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ آیت پڑھی (ومن الناس من یشتری لھوالحدیث)(۲)
۱۲_ابن مسعود سے خدا کے اس قول (ومن الناس من یشتری لہوالحدیث) کے بارے میں سوال ہوا تو جواب دیا:'' اللہ کی قسم، اس سے مراد غنا (گانا بجانا) ہے''_ ایک اور عبارت یوں کہتی ہے ''واللہ اس سے مراد غنا ہے قسم ہے اس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں'' _ اور اس کو تین بار دہرایا_
جابر سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد غنا اور اس کا سننا ہے_
علاوہ ان کے ابن عباس ابن عمر، عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد، مکحول، عمرو بن شعیب، میمون بن مہران، قتادہ، نخعی، عطائ، علی ابن بذیمہ، اور حسن نے بھی اس آیت کا مقصود غنا ہی کو قرار دیا ہے_(۳)
___________________
۱_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و تفسیر شوکانی ج ص ۲۳۴ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۲ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ (مذکورہ مآخذ) اور تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۱ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۳۶ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ و ترمذی کتاب ۱۲ باب ۵۱ سے ماخوذ _انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ درج ذیل محدثین نے بھی اس کو نقل کیا ہے_ سعید بن منصور، احمد، ابن ماجة، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبة ، ابن مردویہ ،طبرانی و ابن ابی دنیا_
۲_ الدرالمنثور ج ۴ ص ۲۲۸ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ از در منثور از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ _
۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۱۲۲ و ۲۲۳ و ۲۲۵ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۱۱ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹_۴۰ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۱ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹_۱۶۰ و فتح القدیر ج ۴ ص ۳۴ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۱۶۳ و الغدیر ج ۸ ص ۶۸ مذکورہ مآخذ سے نیز تفسیر قرطبی ج۱۴ ص ۵۱_۵۳ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۴۶ نیز اس کے حاشیے پر تفسیر نسفی ج ۳ ص ۴۶۰ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۷ وغیرہ سے نیز اسے نقل کیا ہے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، بیہقی (شعب ایمان میں) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ و فاریابی اور ابن عساکر نے _
۱۳_ابلیس سے خدا کے خطاب (واستفززمن استطعت منہم بصوتک)(۱) (یعنی تو جس جس کو اپنی آواز سے پھسلاسکتا ہے پھسلا لے) کے متعلق_ ابن عباس اورمجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد غنا، بانسری اور لہو ہے_(۲)
۱۴_حسن بصری نے یزید کی برائیاں گنتے ہوئے کہا ہے ''وہ اکثر اوقات نشے اور شراب نوشی میں مبتلا رہتا تھا، ریشم پہنتا تھا اور طنبورے (ستار) بجاتا تھا''_(۳)
اہل مدینہ یزید کی جن باتوں کی مذمت کرتے تھے ان میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ وہ شراب پیتا ہے، طنبور بجاتا ہے، گانے والے اس کے پاس سازبجاتے رہتے ہیں_(۴)
۱۵_ابن عباس نے قول خدا ''و انتم سامدون'' کے بارے میں کہا ہے کہ سامدون سے مراد حمیریوں کے لہجے میں گانا ہے_(۵)
۱۶_ جابر نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ ابلیس ہی سب سے پہلے رویا دھویا اور سب سے پہلے غنا کا مرتکب ہوا_(۶)
۱۷_حضرت علیعليهالسلام نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ گانے بجانے والے مرد اور عورت کی کمائی حرام ہے_ زنا کرنے والی عورت کی آمدنی حرام ہے اور خدا کا حق ہے کہ وہ حرام سے اگنے والے گوشت کو جنت میں داخل نہ کرے_(۷)
___________________
۱_ سورہ اسراء آیت ۶۴ _
۲_ فتح القدیر ج ۳ ص ۲۴۱ و تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۸۱ تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۹، الغدیر ج ۸ ص ۸۹ ان سے اور تفسیر قرطبی ج ۱۰ ص ۲۸۸ سے و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیرالخازن ج ۳ ص ۱۷۸ اور اس کے حاشیے میں تفسیر نسفی ج ۳ ص ۱۷۸ و تفسیر ابن جزی کلبی ج ۲ ص ۱۷۵ و تفسیر آلوسی ج ۱۵ ص ۱۱۱ _
۳_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۲۵ از تاریخ ابن عساکر ج ۵ ص ۴۱۲ و تاریخ طبری ج ۶ ص ۱۵۷ و تاریخ ابن اثیر ج ۴ ص ۲۰۹ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۱۳۰ و محاضرات الراغب ج ۲ ص ۲۱۴ و النجوم الزہرة ج ۱ ص ۱۴۱ _
۴_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۵۵ از تاریخ طبری ج ۷ ص ۴ و الکامل ابن اثیر ج ۴ ص ۴۵ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۲۱۶ و فتح الباری ج ۱۳ ص ۵۹ _
۵،۶،۷_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷ _
۱۸_حضرت علیعليهالسلام نے روایت کی ہے کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دف بجانے، طبل بجانے اور بانسری بجانے سے منع فرمایا ہے_(۱)
یہاں ہم نے جتنا عرض کیا کافی معلوم ہوتا ہے جو حضرات مزید تحقیق کے خواہشمند ہوں وہ ان مآخذ کی طرف رجوع کریں جن کا ہم نے حاشیے میں ذکر کیا ہے_(۲)
غنا کے بارے میں علماء کے نظریات
الغدیر میں مذکور ہے کہ حنفیوں کے امام نے غنا کو حرام قرار دیا ہے_ یہی حکم کوفہ کے علماء (یعنی سفیان، حماد، ابراہیم، شعبی اور عکرمہ) کا بھی ہے_
مالک نے بھی غنا سے منع کیا ہے اور اسے ان عیوب میں شمار کیا ہے جس سے عیب کی حامل کنیز کا سودا فسخ ہوسکتا ہے_ یہی نظریہ سارے اہل مدینہ کا ہے سوائے ابراہیم بن سعد کے_
حنبلیوں کی ایک جماعت سے بھی حرمت کا قول نقل ہوا ہے_ عبداللہ بن احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ اس نے اپنے باپ سے غنا کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا''غنا دلوں میں نفاق پیدا کرتا ہے مجھے یہ
___________________
۱_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷
۲_ ابن الحاج کی کتاب المدخل ج ۳ ص ۹۶ سے ۱۱۵ تک و تفسیر طبری ج ۲۸ ص ۴۸ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ۲۶۳ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۲۸ و ج ۵ ص ۱۱۵ و تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۹۶ و ج ۶ ص ۲۶۰ و الفائق زمخشری ج ۱ ص ۳۰۵ و الدر المنثور ج ۲ ص ۳۱۷_۳۲۴ و ج ۵ ص ۱۵۹ و الغدیر ۸ ص ۶۴ اور اس سے آگے (مذکورہ مآخذ سے) نیز قرطبی ج ۷ ص ۱۲۲ و ج ۱۴ ص ۵۳_۵۴ و الکشاف ج ۲ ص ۲۱۱ و تفسیر آلوسی ج ۷ ص ۷۲ و ج ۲۱ ص ۶۸ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۴ و بہجة النفوس (ابن ابی حجرہ) ج ۲ ص ۷۴ و تاریخ البخاری ج ۴ حصہ اول ص ۲۳۴ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و ۲۴۸ و نہایة ابن اثیر ج ۲ ص ۹۵ و تفسیر خازن ج ۳ ص ۴۶۰ و ج ۴ ص ۲۱۲ و نسفی (اس کتاب کے حاشیے پر) ج ۳ ص ۴۶۰ سے نیز اسے نقل کیا ہے سعید بن منصور، عبد بن حمید، عبدالرزاق، فریابی، ابوعبید، ابن ابی الدنیا، ابن مردویہ، ابوالشیخ، بزار، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے_ رہا ابن زبیر کا یہ قول کہ میں نے مہاجرینتمام کو ترنم کے ساتھ گاتے سنا ہے اس کے متعلق ملاحظہ ہو: المصنف ج۱ ص ۵ ، ۶ نیز سنن بیہقی ج۱۰ ص ۲۲۵_ تو اس سے مراد غنا نہیں بلکہ ترنم کے ساتھ شعر پڑھنا ہے جیساکہ ابن الحاج نے ج ۳ ص ۹۸ و ۱۰۸ میں ذکر کیا ہے_
ناپسندہے'' پھر مالک کا یہ قول نقل کیا کہ اسے فقط فاسق لوگ انجام دیتے ہیں_
مزنی جیسے مذہب شافعی سے آگاہ شافعیوں کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ حرمت کے قائل تھے_ ان لوگوں نے حلیت کے قائل افراد پر اعتراض کیا ہے مثلاً قاضی ابوطیب نے غنا کی مذمت اور ممانعت کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کی ہے_ ابوبکر طرطوشی نے بھی غناپر ایک کتاب لکھی ہے_ طبری کے علاوہ شیخ ابواسحاق نے'' التنبیہ'' نامی کتاب میں اسے حرام قرار دیا ہے_ محاسبی، نحاس اور قفال نے اسے صریحاً حرام قرار دیا ہے_ نیز قاسم بن محمد، ضحاک، ولید بن یزید، عمر بن عبدالعزیز اور دیگر بے شمار علماء نے اس سے منع کیا ہے_
ابن صلاح نے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں کے اہل حل وعقد کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے_
طبری نے کہا ہے کہ مختلف شہروں کے رہنے والے اس کی کراہت اور ممنوعیت پر متفق الخیال ہیں سوائے ابراہیم ابن سعد اور عبداللہ عنبری کے، مذکورہ باتوں کیلئے رجوع ہو الغدیر ج ۸ ص ۷۲_۷۴ اور المدخل (از ابن الحاج) ج ۳ صفحہ ۹۶ تا ۱۱۵ کے طرف_ اس میں مزید باتیں بھی درج ہیں جن کا ہم نے اختصار کی وجہ سے ذکر نہیں کیا_ جو مزید جستجو کا طالب ہو وہ اس کی طرف رجوع کرے_
غنا اہل کتاب کے نزدیک
چونکہ غنا کا اسلامی تعلیمات سے کوئی رابطہ نہیں اس لئے یہ سوال ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کہاں سے بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ اس کی حلیت اور اس پر مداومت کی تاکید کرنے لگ گئے؟ بلکہ بات یہاں تک پہنچی کہ یہ مسئلہ صوفیوں کی امتیازی علامت بن گیا جیساکہ سب کو معلوم ہے_ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو اہل کتاب سے اخذکیا ہے_
چنانچہ ابن کثیرعمران کی بہن مریم ( حضرت موسیعليهالسلام کے دور میں زندگی بسر کرتی تھی) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:''مریم کا اس دن جو کہ ان کے نزدیک سب سے بڑی عید کا دن تھا دف بجانا اس
بات کی دلیل ہے کہ عید کے دن دف بجانا ہمارے دین سے پہلے جائز تھا''_(۱)
اس کے بعد ابن کثیر نے مریم والی اس روایت سے استنباط کرتے ہوئے عیدوں اور مسافروں کی واپسی کے مواقع پر جواز کا فتوی دیا ہے_
جعل سازی کا راز
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام اور اسلام کی طرف مذکورہ باتوں کی نسبت دینے کی وجہ درج ذیل امور ہوسکتے ہیں_
۱_ حضرت عائشہ اور حضرت عمر غنا اور موسیقی کو پسند کرتے اور سنتے تھے_
حضرت عائشہ کے بارے میں تو بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ وہ اس کام کی حوصلہ افزائی کرتی اور کہتی تھیں''فاقدروا قدر الجاریة الحدیثة السن، الحریصة علی اللهو'' (۲) یعنی اس نوجوان لونڈی کی قدر کرو جو گانے کی شوقین ہو_
نیز انہوں نے ایک گویے (مرد) کو اجازت دی کہ وہ بعض کمسن لونڈیوں کیلئے گائے البتہ بعد میں انہوں نے اس کو نکال دینے کا حکم دیا تھا_(۳) ادھر خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے بارے میں ابن منظور نے کہا ہے ''بتحقیق عمرنے بادیہ نشینوں کے غنا کی اجازت دی تھی''_(۴) خواّت بن جبیر نے حضرت عمرسے گانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دی_ چنانچہ خواّت نے گانا شروع کیا اور حضرت عمر نے کہا:'' آفرین اے خوات، آفرین اے خوات''_(۵)
___________________
۱_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_
۲_ عبد الرزاق کی کتاب المصنف ج ۱۰ ص ۴۶۵ صحیح بخاری مطبوعہ مشکول ج ۹ ص ۲۲۳ و ۲۷۰ و حیات الصحابة ج ۲ ص ۷۶۱ از مشکاہ ص ۳۷۲ از شیخین (بخاری و مسلم) و دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳ _
۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ _
۴_ لسان العرب ج ۱۵ ص ۱۳۷ لفظ غنا کی بحث میں _
۵_ الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _
نیز انہوں نے یہ بات سنی کہ رباح بن مغترف گاتا ہے چنانچہ انہوں نے اس کی تحقیق کی تو لوگوں نے اس کے بارے میں اطلاع دی، حضرت عمر بولے :''اگر تم یہ کام کرنا چاہتے ہو تو تمہیں چاہیئے کہ ضرار بن خطاب کے اشعار پر توجہ دو''_ قریب قریب یہی بات خوات کے ساتھ بھی کہی_(۱)
علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ عمر اپنے راستے پر جا رہے تھے اس دوران انہوں نے کچھ گایا پھر کہا کہ''جب میں نے گایا تو تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں ٹوکا؟''_(۲)
شوکانی اور عینی نے عمر اور عثمان کو ان لوگوں میں سے قرار دیا ہے جنہوں نے غنا کو جائز قرار دیا ہے_(۳)
نیز حضرت عمرنے زید بن سلم اور عاصم عمر سے دوبارہ گانے کیلئے کہا اور اظہار نظر بھی فرمایا جیساکہ ابن قتیبہ نے ذکر کیا ہے_(۴)
بنابریں گذشتہ روایات میں سے اکثر میں حضرت عمر کے ساتھ اس بات کی جعلی نسبت (کہ وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے گھر میں گانے والیوں کو منع کرتا تھا) دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان (عمر) کے بارے میں معروف بات کو مشکوک بنا دیا جائے یا یہ کہ غنا سے ان کو جو واسطہ رہا تھا اس کی قباحت میں کمی کی جاسکے کیونکہ جب لوگ یہ دیکھ لیں کہ رسول اعظمصلىاللهعليهوآلهوسلم توخود غنا سنتے تھے، اپنے گھر میں شیطانی آلات (بانسری وغیرہ) رکھتے اور لہویات سننے سے شغف رکھتے تھے تو اس کے بعد کوئی اور شخص ان اعمال کا مرتکب ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت محسوس نہ ہو_
۲_ مذکورہ روایات (جو غنا کی حلیت کو ثابت کرنا چاہتی ہیں) کی اکثریت کا مقصد حضرت عائشہ کے کردار کو بیان کرنا ہے یہاں تک کہ ان روایات کی رو سے جب وہ حبشیوں کا رقص دیکھ رہی تھیں تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ
___________________
۱_ نسب قریش (مصعب) ص ۴۴۸ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از سنن بیہقی واز استیعاب ج ۱ ص ۸۶ و ۱۷۰ و از الاصابة ج ۱ ص ۵۰۲ و ۴۵۷ و ج ۸ ص ۲۰۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ و تاریخ ابن عساکر ج ۷ ص ۳۵ نیز الاصابہ ج۲ ص ۲۰۹_
۲_ الغدیر ج ۸ ص ۸۰ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _
۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۶ و الغدیر ج ۷ ص ۷۸ از نیل الاوطار و از عمدة القاری در شرح صحیح بخاری ج ۵ ص ۱۶۰ _
۴_ عیون الاخبار ج ۱ ص ۳۲۲ _
ان سے فرما رہے تھے کہ کیاابھی تم سیر نہیں ہوئی؟ اور وہ کہتی تھیں ''نہیں''_ تاکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے نزدیک اپنا مقام دیکھ لیں_ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک (خفیہ) ہاتھ اس کوشش میں مصروف تھاکہ حضرت عائشہ کیلئے فضائل تراشے اور یہ ثابت کرے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ان کی پسند کا خیال رکھتے اور ان سے محبت کرتے تھے_ علاوہ بر این ان روایات میں اس بات کے واضح اشارے ملتے ہیں کہ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کیلئے فضائل ثابت کرنے نیز اسلام سے ان کے تمسک اور ان کی جانب سے اسلام کی حمایت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگرچہ اس مقصد کے حصول کیلئے نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عزت وشرف اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عفت وپاکیزگی کو داغدار بنانے کی ضرورت کیوں نہ پڑے_
۳_ ہم امویوں اور عباسیوں کو بھی نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹی احادیث وضع کرنے کے عمل سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے_ کیونکہ ان کے درمیان ایسے لوگ موجود تھے جو ان کے ہر فعل کو شریعت اور قداست کا لباس پہنانے کی کوشش میں رہتے تھے_چنانچہ غیاث ابن ابراہیم اور ابوالبختری کے ساتھ مہدی عباسی کا قصہ ہمارے سامنے ہے جب وہ مہدی کے پاس پہنچا تو اسے کبوتربازی میں مشغول پایا_ اس نے یہ حدیث بیان کی ''لاسبق الا فی خف او نصل او حافر'' یعنی شرط لگانا جائز نہیں مگر ٹاپوں والے حیوانات (مثلا اونٹ) کی دوڑ یا تیر اندازی یا کھروں والے حیوانات (مثلا گھوڑے وغیرہ) کی دوڑ میں پھر اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے کہا ''اوجناح'' (یعنی اڑنے والے پرندوں میں بھی جائز ہے) تاکہ یوں مہدی کے شوق کی تسکین ہو_ چنانچہ مہدی نے اسے پیسوں کی ایک تھیلی دیئے جانے کا حکم دیا_ جب وہ نکل گیا تو مہدی نے کہا :''میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری پشت ایک کذاب کی پشت ہے''_(۱)
ہم تاریخ وادب کی کتابوں میں گانے بجانے اور لہو ولعب پر اموی اور عباسی خلفاء کی توجہ کے بارے میں عجیب وغریب باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں_وہ گانے والوں کو دسیوں سینکڑوںبلکہ ہزاروں گنابڑے انعامات
___________________
۱_ الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة (مصنفہ قاری) ص ۴۶۹ و اللئالی المصنوعة ج۲ ص۴۷۰ و الموضوعات (ابن جوزی) ج ۱ ص ۴۲ و لسان المیزان ج ۴ ص ۴۲۲ و میزان الاعتدال ج ۳ ص ۳۳۸ والمجروحون ج۱ ص ۶۶ ، تاریخ الخلفاء ص ۲۷۵ نیز المنار المنیف ص ۱۰۷_
دیتے تھے_(۱) یہاں تک کہ اسحاق موصلی (جو موسیقی دانوں کا استاد تھا) نے کہا:'' اگرہادی زندہ رہتا تو ہم اپنےگھروں کی دیواریں سونے اور چاندی سے بناتے''_(۲)
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا قبا میں نزول
کہتے ہیں کہ اس پرشکوہ استقبال کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ ، قبا کی جانب چلے اور قبیلہ عمرو بن طوف میں کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_
اس دن حضرت ابوبکر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شہر میں داخل ہونے پر بہت اصرار کیا لیکن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انکار فرمایا اور بتایا کہ جب تک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کا بیٹا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا برادر دینی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھرانے میں آپ کے نزدیک، سب سے عزیز ہستی (جس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بقول اپنی جان کے بدلے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان بچائی تھی) نہ پہنچے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم وہاں سے کوچ نہیں کریں گے_ یہ سن کر حضرت ابوبکر کی طبیعت ہی مکدر ہوگئی اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جدا ہو کراس رات شہر مدینہ میں داخل ہوئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا وہیں امیرالمومنین علیعليهالسلام کے منتظر رہے یہاں تک کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فواطم (فاطمہ کی جمع _ یعنی فاطمہ زہراعليهالسلام ، فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب )اور ام ایمن(۳) کے ساتھ نیمہ ربیع الاول کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں پہنچ گئے(۴) اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_(۵)
___________________
۱_ ربیع الابرار ج ۱ ص ۶۷۵ جس میں مذکور ہے کہ اس نے ابراہیم موصل کو بہترین موسیقی کے انعام میں ایک لاکھ،درہم دیئے اس سلسلے میں ابوالفرج نے اپنی کتاب الاغانی میں جن موارد کا ذکر کیا ہے اس کا مطالعہ کافی ثابت ہوگا_
۲_ حیاة الامام الرضا السیاسیة (از مولف کتاب ہذا) ص ۱۱۸ از الاغانی مطبوعہ دار الکتب قاھرہ ج ۵ ص ۱۶۳_
۳_ البحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ و ۱۱۵،۱۱۶ و ۷۵،۷۶ و ۶۴ از روضة الکافی ص ۳۴۰ و اعلام الوری ص ۶۶ و الخرائج و الجرائح نیز رجوع ہو الفصول المھمة (ابن صباغ مالکی )ص ۳۵ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_
۴_ امتاع الاسماع ص ۴۸ _
۵_ البحار ج ۱۹ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۹۷ _
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گھر والوں کے ساتھ آنے والے زید بن حارثہ اور ابورافع تھے_ حلبی نے اس اختلاف کو یوں دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ نے قباسے جو خط علیعليهالسلام کے نام لکھا تھا وہ شاید ان دونوں کے ہاتھ ارسال فرمایا تھا_ پھر یہ دونوں علیعليهالسلام کے ساتھ ہمسفر ہوئے اور آپ کے ہمراہ واپس آئے_(۱)
یوں بعض لوگوں نے گھرانے کے ساتھ سفر کو ان دونوں کے ساتھ نسبت دے کر امیرالمؤمنینصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عظیم کارنامے اور ان دونوں کو بچانے میں آپ کے کردار کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے_ تاکہ دل کے اندر پوشیدہ غرض (کینے) کی تسکین ہو_
مسجد قبا کی تعمیر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبا میں قیام کے دوران مسجد قبا کی بنیاد رکھی جو معروف ہے_ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت عمار یاسر نے فکری اور عملی طور پر پہل کی تھی_(۲)
مسجد قبا ہی وہ مسجد ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری (لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ)(۳) یعنی جو مسجد روزاول سے ہی تقوی کی بنیادوں پر قائم ہوگئی وہ اس بات کیلئے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کیلئے) کھڑے ہو_ غزوہ تبوک کی بحث میں ہم انشاء اللہ اس کا ذکر کریں گے_
اس مقام پر احجار الخلافہ یعنی (خلافت کے پتھروں) والی روایت کا تذکرہ ہوتا ہے_ نیز مسجد مدینہ کی تعمیر کے سلسلے میں بھی اس کا تذکرہ کرتے ہیں_ بنابریں اس حدیث پر وہاں بحث کریںگے_
___________________
۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۳ _
۲_ وفاء الوفاء ج ۱ ص ۲۵۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۵ از ابن ہشام وغیرہ وغیرہ_
۳_ سورہ توبہ، آیت ۱۰۸ _
مسجد قبا اسلام کی پہلی مسجد ہے_ اس بات کی تصریح ابن جوزی وغیرہ نے کی ہے_(۱)
حبشہ کی جانب حضرت ابوبکر کی ہجرت اورابن دغنہ کے توسط سے آپ کی واپسی کے ذکر میں اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر کو اسلام کی سب سے پہلی مسجد کا بانی قرار دینا صحیح نہیں_ چنانچہ وہاں رجوع ہو_
بظاہر کچھ عورتوں نے بھی مسجد قبا کی تعمیر میں حصہ لیا تھا چنانچہ ابن ابی اوفی سے منقول ہے کہ جب اس کی بیوی کی وفات ہوئی تو وہ کہنے لگا:'' لوگو اس کا جنازہ اٹھاؤ اوررغبت سے اٹھاؤ کیونکہ یہ اور اس کے غلام رات کے وقت تقوی کی بنیادوں پر تعمیر ہونے والی مسجد کے پتھر اٹھاتے تھے اور ہم دن کے وقت دو دو پتھر اٹھاتے تھے''_(۲)
اس کے علاوہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد قبا کی تعمیر امیرالمومنینعليهالسلام کی آمد کے بعد شروع ہوئی چنانچہ منقول ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ اونٹنی پر سوار ہوکر چکر لگائیں تاکہ اونٹنی کے چکر کو دیکھ کر مسجد کی حدود معین کی جائیں_ لیکن اونٹنی نے حرکت نہ کی پھر حضرت عمر کو حکم دیا لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا_ تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علیعليهالسلام کو حکم دیا تو اونٹنی نے حرکت کی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لیکر چکر لگایا_ اور جہاں تک اس نے چکر لگایا اسی کے مطابق مسجد کی بنیادیں رکھی گئیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا اس اونٹنی کو خدا کی طرف سے (اس کام کا) حکم دیا گیا تھا_(۳)
قبا میں نماز جمعہ
کہتے ہیں کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبا میں یا قبا سے مدینہ کے راستے میں نماز جمعہ اداکی_(۴)
___________________
۱_ وفاء الوفاء ج ۱ ص ۲۵۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۵ نیز ملاحظہ ہو التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۷۶_
۲_ مجمع الزوائد ج ۲ ص ۱۰ از بزار و حیات الصحابة ج ۳ ص ۱۱۲ از بزار_
۳_ وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۵۱ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۸ نیز تاریخ جرجان ص ۱۴۴ (البتہ عبارت میں غلطی ہے )_
۴_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۹ اور تاریخ المدینہ ( ابن شبہ) ج۱ ص ۶۸_
بلکہ کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ جمعہ کی نماز مکہ میں فرض ہوئی تھی لیکن مسلمانوں نے وہاں نماز جمعہ نہیں پڑھی کیونکہ وہ اس پر قادر نہ تھے(۱) _ شاید ابن غرس نے اسی نکتے کو پیش نظر رکھ کر یہ کہا ہے کہ مکہ میں جمعہ کی نماز قائم ہی نہیں ہوئی تھی_(۲) بلکہ مدینہ کے ابتدائی ایام میں بھی نماز جمعہ کا قیام شاید شک سے خالی نہ ہو کیونکہ سورہ جمعہ ہجرت کے کئی سال بعد نازل ہوئی_ بلکہ یہ قرآن کی سب سے آخری سورتوں میں سے ایک ہے_(۳)
لیکن مذکورہ بات کو بنیاد بناکر ایسا شک کرنے کی گنجائشے نہیں کیونکہ سورہ جمعہ کا مقصد نماز جمعہ کو اہمیت دینے کا حکم دینا ہے_ یہ اس بات کا غماز ہے کہ نماز جمعہ کا حکم اس سے قبل نازل ہو چکا تھا_ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی نماز جمعہ کا حکم دیا گیا_یعنی سورہ جمعہ میں یہ کہا جارہا ہے کہ جو نماز جمعہ قائم ہو رہی ہے تم اس کی طرف جلدی کرو _ پس اس میں اصل نماز کی ادائیگی فرض نہیں کی جارہی بلکہ پہلے سے فرض کی گئی نماز کی طرف بلایا جارہاہے_معلوم ہوتا ہے کہ نماز تو پہلے سے فرض تھی لیکن بعض مسلمان اس کی ادائیگی میں سستی کرتے تھے_ اور شاید انہی سست لوگوں کو (نماز جمعہ ترک کرنے کی وجہ سے) رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے ان کے گھر جلانے کی دھمکی دی تھی(۴) _
یہاں ایک اعتراض باقی رہ گیا اور وہ یہ کہ قبا میں نماز جمعہ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے دوران سفر جمعہ کی نماز پڑھی (حالانکہ نماز جمعہ مسافر کیلئے ساقط ہوتی ہے)_
لیکن یہ اعتراض بے محل ہے کیونکہ ممکن ہے اس زمانے میں قبا مدینہ سے بہت نزدیک ہو_ اور فاصلے کی کمی کے باعث مدینہ کے محلوں میں اس کا شمار ہوتا ہو_ بنابریں جو شخص قبا پہنچ گیا گویا وہ مدینہ پہنچ گیا اور مسافر نہیں رہا_اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے یہ جانتے ہوئے کہ حضرت علیعليهالسلام اور مخدّرات کے ساتھ
___________________
۱_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۹ و ص ۱۲ و ص ۵۹_
۲_ الاتقان ج۱ ص ۳۷ و السیرة الحلبیة ج۲ ص ۵۹_
۳_ الاتقان ج۱ ص ۱۳ و ۱۱_
۴_ یہ واقعہ اپنے منابع اور مآخذ کے ساتھ غزوہ بنی نضیر کے واقعہ میں القرار والحصار کے تحت عنوان ذکر ہوگا_
آنے میں دس دن سے زیادہ لگ سکتے ہیں ، حضرت علیعليهالسلام کے آنے تک قبا میں قیام کا ارادہ کر رکھا ہو_ اور مؤرخین نے بھی لکھا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبا میں پندرہ دن قیام فرمایا ہے_(۱) بیعت عقبہ کی فصل میں اس بارے میں کچھ بیان کر چکے ہیں اس کا بھی مطالعہ فرمائیں_
یہاں اس کتاب کی دوسری جلد کا اختتام ہوتا ہے اس کے بعد تیسری جلد کی باری ہوگی_
(انشاء اللہ تعالی)
___________________
۱_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۱۰۶از اعلام الوری ، سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۵۵ از بخاری اورملاحظہ ہو ص ۵۹ اور مسلم سے منقول ہے : آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چودہ دن قیام فرمایا اور دیگر اقوال بھی ہیں''_
فہرست
مقدمہ ۵
چند اہم نکات ۷
تیسرا باب ۱۳
اعلان نبوت سے لے کر وفات ابوطالب تک ۱۳
پہلی فصل ۱۴
ہجرت حبشہ تک ۱۴
مقدمہ: ۱۵
اسلام کے اہداف و مقاصد ۱۵
وزیر اور وصی کی ضرورت ۱۷
دعوت ذوالعشیرہ ۱۸
اندھا تعصّب ۲۰
ابن تیمیہ اور حدیث الدار(۳) ۲۱
ابن تیمیہ کے اعتراضات کا جواب ۲۲
پہلے اعتراض کا جواب ۲۳
دوسرے اعتراض کا جواب ۲۵
تیسرے اعتراض کا جواب ۲۵
چوتھے اعتراض کا جواب ۲۶
پانچویں اور آخری اعتراض کا جواب ۲۸
واقعہ انذار اور چند اہم نکات ۲۹
الف_ غیر معتبر روایتیں ۲۹
ب_ '' خلیفتی فی اھلی ''سے کیا مراد ہے؟ ۳۱
ج_ فقط رشتہ داروں کی دعوت کیوں؟ ۳۲
د_ علی عليهالسلام اور واقعہ انذار ۳۳
ھ_ ابولہب کا موقف ۳۴
و_ پہلے انذار پھر ۳۵
ز_روز انذار رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا فرمان : ۳۷
ح_ بشارت و انذار ۳۸
ط_ میرا بھائی اور میرا وصی ۳۹
فاصدع بما تؤمر ۳۹
ناکام مذاکرات ۴۱
پہلا مرحلہ: ۴۲
دوسرا مرحلہ: ۴۲
تیسرا مرحلہ: ۴۳
الف: اس ناکامی کے بعد ۴۴
ب: قریش کی ہٹ دھرمی کا راز ۴۵
مذاکرات کی ناکامی کے بعد ۴۷
چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین: ۴۷
مکہ کے ستم دیدہ مسلمان ۴۹
ذکر مظلوم : ۴۹
حضرت ابوبکر نے کن کو آزاد کیا؟ ۵۰
کیا حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کیں؟ ۵۵
پہلانکتہ : کیا حضرت ابوبکر قبیلہ کے سردار تھے؟ ۵۷
دوسرا نکتہ : ۵۹
اسلام میں سب سے پہلی شہادت ۵۹
عمار بن یاسر ۶۰
تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں ۶۱
سنت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم میں تقیہ ۶۲
تاریخ سے مثالیں ۶۴
تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت ۶۸
دوسری فصل ۷۲
ہجرت حبشہ اور اس سے متعلقہ بحث ۷۲
راہ حل کی تلاش: ۷۳
حبشہ کے انتخاب کی وجہ ۷۴
حبشہ کا سفر ۷۶
جعفر سردار مہاجرین : ۷۷
حبشہ کا پہلا مہاجر ۷۷
ابوموسی نے حبشہ کی جانب ہجرت نہیں کی ۷۸
مہاجرین کے ساتھ عمر کا رویہ ۷۹
حضرت ابوبکر نے ہجرت نہیں کی ۷۹
عثمان بن مظعون کی فضیلت کی چوری ۸۴
قریش کی مایوسانہ کوشش ۸۴
قریش اور مستقبل کے منصوبے ۸۷
نجاشی کے خلاف بغاوت ۸۹
بعض مہاجرین کی واپسی ۹۰
غرانیق کا افسانہ(۲) ۹۰
مسئلے کی حقیقت ۹۹
تیسری فصل ۱۰۲
شعب ا بوطالب تک کے حالات ۱۰۲
حضرت حمزہ عليهالسلام کے قبول اسلام کی تاریخ میں اختلاف ۱۰۳
حضرت حمزہ کا قبول اسلام ۱۰۳
حمزہ کا قبول اسلام جذباتی فیصلہ نہ تھا ۱۰۵
ابوجہل نے بزدلی کیوں دکھائی؟ ۱۰۶
عَبَسَ وَ تَوَلّی ؟ ۱۰۷
جرم کسی اورکا: ۱۱۳
ایک سوال کا جواب ۱۱۳
درست روایت ۱۱۴
جناب عثمان پر الزام ۱۱۵
دشمنان دین کا اس مسئلے سے سوء استفادہ ۱۱۶
مزید دروغ گوئیاں ۱۱۶
حضرت عمر بن خطاب کا قبول اسلام ۱۱۸
مزید تمغے ۱۲۲
۱_ عمر کب مسلمان ہوئے؟ ۱۲۳
۲_ حضرت عمر کو فاروق کس نے کہا؟ ۱۲۷
۳_ کیا حضرت عمر کو پڑھنا آتا تھا؟ ۱۲۸
۴_ کیا واقعی حضرت عمر اسلام کی سربلندی کا باعث بنے ہیں؟ ۱۳۱
۵_ حضرت عمر کا غسل جنابت ۱۳۶
۶_ حضرت عمر کا قبول اسلام اور نزول آیت؟ ۱۳۷
آخری نکات ۱۳۷
نتیجہ بحث ۱۳۸
چو تھی فصل ۱۴۰
شعب ابوطالب میں ۱۴۰
بائیکاٹ: ۱۴۱
خدیجہ عليهالسلام کی دولت اور علی عليهالسلام کی تلوار ۱۴۳
مسلمانوں کے متعلق حکیم بن حزام کے جذبات ۱۴۵
شق القمر ۱۴۷
ایک اعتراض اور اس کا جواب ۱۴۸
شق القمر، مؤرخین اور عام لوگ ۱۵۱
چاند کاشق ہوکر جڑنا، سائنسی نقطہ نظر سے ۱۵۳
شق القمر پر قرآنی آیت کی دلالت ۱۵۴
افسانے ۱۵۶
عہد نامے کی منسوخی ۱۵۷
ابوطالب عقلمندی اور ایمان کا پیکر ۱۵۸
قبیلہ پرستی اور اس کے اثرات ۱۵۹
عہد نامے کی منسوخی کے بعد ۱۶۰
حبشہ سے ایک وفد کی آمد ۱۶۰
جناب ابوطالب عليهالسلام کی پالیسیاں ۱۶۲
ابوطالب عليهالسلام کی قربانیاں ۱۶۴
عام الحزن ۱۶۶
محبت وعداوت، دونوں خداکی رضاکیلئے ۱۶۷
پانچویں فصل ۱۶۹
ابوطالب عليهالسلام مؤمن قریش ۱۶۹
ایمان ابوطالب عليهالسلام ۱۷۰
ایمان ابوطالب عليهالسلام پر دلائل ۱۷۱
بے بنیاد دلائل ۱۸۴
۱_ حدیث ضحضاح ۱۸۴
۲_ عقیل اور ارث ابوطالب عليهالسلام ۱۸۷
۳_ وھم ینہون عنہ، ویناون عنہ ۱۸۸
۴_ مشرک کیلئے طلب مغفرت سے منع کرنے والی آیت ۱۹۰
باقیماندہ دلائل ۱۹۶
ابوطالب عليهالسلام نے اپنا ایمان کیوں چھپایا؟ ۱۹۹
ایمان ابوطالب عليهالسلام کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟ ۲۰۱
ابوطالب عليهالسلام پر تہمت کیوں؟ ۲۰۱
ابولہب اور پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت؟ ۲۰۲
یہ روایت کیوں گھڑی گئی؟ ۲۰۳
چوتھا باب ۲۰۴
ہجرت طائف تک ۲۰۴
پہلی فصل ۲۰۵
ہجرت طائف ۲۰۵
نئی جد وجہد کی ضرورت ۲۰۶
ہجرت طائف ۲۰۷
مزید ہجرتیں ۲۰۹
۱_ عداس کا قصہ ۲۰۹
۲_کسی کی پناہ میں آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کا داخل مکہ ہونا: ۲۱۰
۳_ جنوں کے ایک گروہ کا قبول اسلام ۲۱۲
۴_ طائف اور آس پاس والوں سے روابط ۲۱۳
۵_ اسلام دین فطرت ۲۱۴
۶_ کیا یہ ایک ناکام سفر تھا؟ ۲۱۴
دوسری فصل ۲۱۶
بیعت عقبہ تک کے حالات ۲۱۶
قحط ۲۱۷
نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے قبائل کو دعوت اسلام ۲۱۸
بنی عامر بن صعصعہ اور نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت ۲۱۹
۱_ حکومت فقط خداکی ۲۲۱
۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری ۲۲۱
۳_ دین وسیاست ۲۲۲
۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج ۲۲۳
حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شادی ۲۲۳
۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر ۲۲۴
جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ ۲۲۶
حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت ۲۲۸
(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق) ۲۲۸
۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام ۲۳۰
۲_ زینب بنت جحش ۲۳۱
۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ ۲۳۲
۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب ۲۳۳
۵_ جویریہ بنت حارث ۲۳۳
۶_ ماریہ قبطیہ ۲۳۴
۷_ سودہ بنت زمعہ ۲۳۵
۸_ اسماء بنت نعمان ۲۳۵
۹_ ملیکہ بنت کعب ۲۳۶
۱۰_ ام شریک ۲۳۶
۱۱_ شراف بنت خلیفہ ۲۳۶
۱۲_ حفصہ بن عمر ۲۳۷
نتیجہ ۲۳۷
مدینے میں دخول اسلام ۲۳۹
۱_ اہل کتاب کی پیشگوئیاں ۲۴۱
۲_ اوس وخزرج کے اختلافات ۲۴۱
۳_ اسلام کی سہل وآسان تعلیمات ۲۴۲
۴_ اہل مدینہ اور اہل مکہ ۲۴۴
تیسری فصل ۲۴۵
بیعت عقبہ ۲۴۵
عقبہ کی پہلی بیعت ۲۴۶
سعد بن معاذ کی اپنی قوم کو دعوت ۲۴۸
بیعت ۲۴۹
نماز جمعہ ۲۵۰
عقبہ کی دوسری بیعت ۲۵۱
بیعت عقبہ میں عباس کا کردار ۲۵۶
حضرت ابوبکر عقبہ میں ۲۵۸
حضرت حمزہ اور حضرت علی عليهالسلام عقبہ میں ۲۵۸
ملاقات کو خفیہ رکھنے کی وجہ ۲۶۰
بیعت کی شرائط ۲۶۱
نقیبوں کی کیا ضرورت تھی؟ ۲۶۱
مشرکین کا ردعمل ۲۶۲
خلافت کے اہل افراد کی مخالفت ۲۶۳
ابھی تک جنگ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ۲۶۴
پانچواں باب ۲۶۵
مکہ سے مدینہ تک ۲۶۵
پہلی فصل ۲۶۶
ہجرت مدینہ کا آغاز ۲۶۶
ہجرت مدینہ کے اسباب ۲۶۹
مدینہ کے انتخاب کی وجہ ۲۷۳
مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کا قیام ۲۷۸
مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کا آغاز ۲۷۹
بے مثال نمونہ: ۲۷۹
عمر ابن خطاب کی ہجرت ۲۸۰
حقیقت ۲۸۳
ہجرت مدینہ کا راز ۲۸۴
قریش اور ہجرت ۲۸۴
دوسری فصل ۲۸۶
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت ۲۸۶
سازش: ۲۸۷
علی عليهالسلام کی نیند اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت: ۲۸۸
قریش پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلاش میں ۲۹۱
ہجرت کا خرچہ ۲۹۲
جذبہ قربانی کے بے مثال نمونے ۲۹۴
بستر رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونا اور مسئلہ خلافت ۲۹۵
قریش اور علی عليهالسلام : ۲۹۵
قریش اور شب ہجرت علی عليهالسلام کا کارنامہ ۲۹۶
موازنہ ۲۹۷
ارادہ الہی ۲۹۸
مصلحت اندیشی اور حقیقت ۲۹۸
زمین اور عقیدہ ۳۰۰
درس ہجرت ۳۰۰
ابوطالب عليهالسلام اور حدیث غار ۳۰۱
آیت غار ۳۰۲
جاحظ کا بیان اور اس پر تبصرہ ۳۰۶
شیخ مفید کا بیان اور اس کا جواب ۳۰۸
ایک جواب طلب سوال ۳۱۱
نبی کریم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی محافظت کی سخت مہم ۳۱۱
حضرت ابوبکر کی پرزور حمایت کا راز ۳۱۲
جھوٹے کامنہ کالا ۳۱۴
صہیب کا واقعہ اور ہمارا نقطہ نظر ۳۱۹
ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟ ۳۲۲
یہ القاب کب وضع ہوئے؟ ۳۲۸
دو سواریاں ۳۲۸
حقیقت حال ۳۲۹
خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج ۳۳۰
قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش ۳۳۱
تا صبح انتظار کیوں ۳۳۲
حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات ۳۳۳
۱_ عامر بن فہیرہ ۳۳۵
۲_ نابینا ابوقحافہ ۳۳۵
۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے ۳۳۶
حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث ۳۳۸
۵_ حضرت ابوبکر کی دولت ۳۳۹
ایک اہم اشارہ ۳۴۳
ماہر چوروں کا تذکرہ ۳۴۷
حضرت ابوبکر کی دولت سے مربوط اقوال پر آخری تبصرہ ۳۴۷
دروغ پردازی اور جعل سازی ۳۴۸
ابوبکر اور دیدار الہی ۳۴۹
فضائل کے بارے میں ایک اہم یاددہانی ۳۴۹
انگشت خونین ۳۵۱
حضرت ابوبکر کے اہم فضائل ۳۵۳
حضرت عثمان اور واقعہ غار ۳۵۵
یوم غار اور یوم غدیر ۳۵۵
حدیث غار کے بارے میں آخری تبصرہ ۳۵۶
تیسری فصل ۳۵۷
قباکی جانب ۳۵۷
مدینہ کی راہ میں ۳۵۸
مشکلات کے بعد معجزات ۳۶۰
امیرالمؤمنین عليهالسلام کی ہجرت ۳۶۰
تبع اول کا خط ۳۶۳
حضرت ابوبکر معروف بزرگ؟ ۳۶۴
علامہ امینی رحمة اللہ علیہ کا نقطہ نظر ۳۶۸
مکہ میں منافقت کا کھیل ۳۶۸
مذکورہ باتوں پر ایک اہم تبصرہ ۳۷۵
چوتھی فصل ۳۷۶
مدینہ تک ۳۷۶
آغاز: ۳۷۷
اہل مدینہ کے گیت اور(معاذ اللہ) رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا رقص؟ ۳۷۷
حلّیت غنا کے دلائل ۳۸۲
حلیت غنا کے دلائل کا جواب ۳۸۷
غنا کے بارے میں علماء کے نظریات ۳۹۵
غنا اہل کتاب کے نزدیک ۳۹۶
جعل سازی کا راز ۳۹۷
رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کا قبا میں نزول ۴۰۰
مسجد قبا کی تعمیر ۴۰۱
قبا میں نماز جمعہ ۴۰۲
فہرست ۴۰۵