یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
امام زین العابدین (ع)کی زندگی
( ایک تحقیقی مطالعہ )
رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ
امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات اقدس کو موضوع سخن قرار دینا اور آپ کی سیرت طیبہ پر قلم اٹھانا نہایت ہی دشوار امر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عظیم امام کی معرفت و آشنائی سے متعلق مآخذ و مصادر بہت ہی ناقص اور نا مساعد ہیں ۔
اکثر محققوں اور سیرت نگاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ یہ عظیم ہستی محض ایک گوشہ نشین عابد و زاہد جیسی زندگی گزارتی رہی جس کو سیاست میں ذرہ برابر دلچسپی اور دخل نہ تھا ۔ بعض تاریخ نویسوں او ر سیرت نگاروں نے تو اس چیز کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور وہ حضرات جنھوں نے صاف صاف وضاحت کے ساتھ یہ بات نہیں کہی انھوں نے بھی امام علیہ السلام کی زندگی سے جو نتائج اخذ کئے ہیں اس سے مختلف نہیں ہیں چنانچہ حضرت (ع) کو دیئے جانے والے القاب اور حضرت (ع) کے سلسلہ میں استعمال کی جانے والی تعبیرات سے یہ بات بہ آسانی درک کی جا سکتی ہے ۔
بعض لوگوں نے اس عظیم ہستی کو ”بیمار “کے لقب سے یاد کیا ہے جب کہ آپ کی بیماری واقعہ عاشورہ کے ان ہی چند دنوں تک محدود تھی اس کے بعد اس کا سلسلہ باقی نہ رہا ،تقریبا سب ہی لوگ اپنی عمر کے ایک حصہ میں بیمار پڑجاتے ہیں ،اگر چہ امام زین العابدین علیہ السلام کی اس بیماری میں الٰہی حکمت و مصلحت بھی کارفرما تھی در اصل پروردگارعالم کو ان دنوں خدا کی راہ میں جہاد و دفاع کی ذمہ داری ،آپ پر سے اٹھالینا مقصود تھا تا کہ آئندہ (شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد )امانت و امامت کا عظیم بار اپنے کاندھوں پر لے سکیں اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد چونتیس یا پینتیس برس تک زندہ رہ کر نہایت ہی سخت اور پر آشوب دور طے کرسکیں ۔
اگر آپ امام زین العابدین (ع) کی سوانح حیات کا مطالعہ کریں تو ہمارے دیگر ائمہ کی طرح یہاں بھی ایک سے ایک نئے نئے قابل توجہ حادثات کا ایک سلسلہ نظر آئے گا لیکن ،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ ان تمام واقعات کو اگر یکجا کر بھی لیں تب بھی امام علیہ السلام کی سیرت طیبہ کا سمجھ لینا آپ کے لئے آسان نہ ہوگا ۔
کسی کی سیرت کو صحیح معنوں میں سمجھنا یا سمجھانا اسی وقت ممکن ہے جب اس شخصیت کے اصول اور بنیادی موقف کو اچھی طرح درک کرلیا جائے اور پھر اس کی روشنی میں اس کی جزئیات زندگی سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔اصل میں جب بنیادی موقف کی وضاحت ہوجاتی ہے جزئیات بھی بے زبان نہیں رہتے ،خود بخود معنی پیدا کرلیتے ہیں ۔اس کے برخلاف اگر اصولی موقف ہم پر واضح نہیں ہوسکے ہیں یا کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے ہیں تو جزئی واقعات بھی یا تو بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں یا پھر ان کو غلط معنی پہنانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور یہ صرف امام زین العابدین (ع) یا ہمارے دیگر ائمہ طاہرین (ع) سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ اصول ہر شخص کی زندگی کے تجزیہ کے وقت پیش آسکتا ہے ۔
امام سجاد (ع) کے سلسلہ میں نمونہ کے طور پر ،محمد بن شہاب زہری کے نام حضرت (ع) کا خط پیش کیا جاسکتا ہے جو آپ کی زندگی کا ایک حادثہ ہے یہ وہ خط ہے جو خاندان نبوت و رسالت کی ایک عظیم فرد کی طرف سے اس دور کے مشہور و معروف دانشور کو لکھا گیا ہے اب اس سلسلہ میں مختلف انداز سے اظہار رائے کی گنجائش ہے ممکن ہے یہ خط کسی اساسی نوعیت کے حامل وسیع سیاسی مبارز کا ایک حصہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے برے کاموں سے روکنے کی ایک سیدھی سادی نصیحت یا محض ایک شخصیت کا دوسری شخصیت پر کیا جانے والا اسی قسم کا ایک اعتراض ہو جس قسم کے اعتراضات دو شخصیتوں یا کئی شخصیتوں کے مابین تاریخ میں کثرت سے نظر آتے ہیں ۔ظاہر ہے دیگر حادثات وواقعات سے چشم پوشی کرکے صرف اس واقعہ سے کسی صحیح نتیجہ تک کبھی بھی نہیں پہنچا جاسکتا ۔میں اس نکتہ پر زور دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہم ان جزئی واقعات کو امام علیہ السلام کے اصولی وبنیادی موقف سے علیحدہ کرکے مطالعہ کرنا چاہیں تو امام سجا علیہ السلام کی سوانح زندگی ہم پر روشن نہیں ہوسکتی ۔لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم امام علیہ السلام کے اصولی اور اساسی موقف سے آگاہی حاصل کریں ۔
چنانچہ ہماری سب سے پہلی بحث امام زین العابدین علیہ السلام کے بنیادی موقف سے متعلق ہے اور اس کے لئے خود امام علیہ السلام کی زندگی ،آپ کے کلمات نیز دیگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کی پاکیزہ سیرت وزندگی سے خوشہ چینی کرتے ہوئے بڑی ہی باریک بینی کے ساتھ نکات درک کرکے بحث کرنا ہوگی۔
حادثات زندگی میں ائمہ علیہم السلام کا بنیادی موقف
جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ۴۰ ء ہجری میں امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد سے کبھی پیغمبر اسلام (ص) کے اہل بیت علیہم السلام اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ فقط گھر میں بیٹھے اپنے ادراک کے مطابق احکامات الٰہیہ کی تشریح وتفسیر کرتے رہیں بلکہ صلح کے آغاز ہی سے تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام کا بنیادی موقف اور منصوبہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے طرز فکر کے مطابق حکومت اسلامی کے لئے راہیں ہموار کریں چنانچہ یہ فکر خود امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی اور کلام میں بطور احسن ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔
امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کرلی تو بہت سے ناعاقبت اندیش کم فہم افراد نے حضرت علیہ السلام کو مختلف عنوان سے ہدف بنالیا اور اس سلسلہ میں آپ کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کی گئی کبھی تو آپ (ع) کو مومنین کی ذلت ورسوائی کا باعث گردانا گیا اور کبھی یہ کہا گیا: ”آپ نے معاویہ کے مقابلہ پر آمادہ جوش وخروش سے معمور مومنین کی جماعت کوذلیل وخوار کردیا معاویہ کے سامنے ان کا سر جھک گیا “۔بعض اوقات احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ذرا نرم وشائستہ انداز میں بھی یہی بات دہرائی گئی ۔
امام علیہ السلام ان تمام اعتراضوں اور زبان درازیوںکے جواب میں انھیں مخاطب کرکے ایک ایسا جامع و مانع جملہ ارشاد فرماتے تھے جو شاید حضرت کے کلام میں سب سے زیادہ فصیح و بلیغ اور بہتر ہو ۔ آپ (ع) کہا کرتے تھے کہ : ما تدری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الیٰ حین“ تمھیں کیا خبر شائد یہ تمھارے لئے ایک آزمائش اور معاویہ کے لئے ایک عارضی سرمایہ ہو ۔ اصل میں یہ جملہ قرآن کریم سے اقتباس کیا گیا ہے۔
اس جملہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت کو مستقبل کا انتظار ہے اور وہ مستقبل اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ امام علیہ السلام کے نظر یہ کے مطابق حق سے منحرف موجودہ ناقابل قبول حکومت برطرف کی جائے اور اس جگہ آپ کی پسندیدہ حکومت قائم کی جائے جبھی تو آپ ان لوگوں سے فرماتے ہیں کہ تم فلسفہ صلح سے واقفیت نہیں رکھتے تمھیں کیا معلوم کہ اسی میں مصلحت مضمر ہے ۔
آغاز صلح میں ہی عمائدین شیعہ میں سے دو شخصیتیں ،مسیب بن نجیہ اور سلیمان بن صردخزاعی چند مسلمانوں کے ہمراہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئیں اور عرض کیا:ہمارے پاس خراسان وعراق وغیرہ کی خاصی طاقت موجود ہے اور ہم اسے آپ کی اختیار میں دینے کے لئے تیار ہیں اور معاویہ کا شام تک تعاقب کرنے کے لئے حاضر ہیں ۔حضرت علیہ السلام نے ان کو تنہائی میں گفتگو کے لئے طلب کیا اور کچھ بات چیت کی ،جب وہ وہاں سے باہر نکلے تو ان کے چہرے پر طمانیت کے آثار ہویدا تھے ۔انھوں نے اپنے فوجی دستوں کو رخصت کردیا حتی کہ ساتھ آنے والوں کو بھی کوئی واضح جواب نہ دیا۔
طہٰ حسین کا خیال ہے” در اصل اسی ملاقات میں شیعوں کی تحریک جہاد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا۔“یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ،ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ،مشورے ہوئے اور اسی وقت شیعوں کی ایک عظیم تنظیم کی بنا رکھ دی گئی۔
چنانچہ خود امام (ع) کے حالات زندگی اور مقدس ارشادات سے بھی واضح طور پر یہی مفہوم نکلتا ہے ۔اگر چہ یہ زمانہ اس قسم کی تحریک اور سیاسی جدوجہد کے لئے سازگار نہ تھا ۔لوگوں میں سیاسی شعور بے حد کم اور دشمن کے پروپیگنڈوں نیز مالی دادووہش کا بازار گرم تھا ۔دشمن جن طریقوں سے فائدہ اٹھا رہاتھا ،امام علیہ السلام اختیار نہیں کرسکتے تھے۔مثال کے طور پر بے حساب پیسہ خرچ کرنا اور معاشرہ کے چھٹے ہوئے بد قماش افراد کو اپنے گرد اکٹھا کرلینا امام علیہ السلام کے لئے ممکن نہ تھا۔ظاہر ہے دشمن کا ہاتھ کھلا ہوا تھا اور امام کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔آپ اخلاق وشریعت کے خلاف کوئی کام انجام نہ دے سکے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ امام حسن علیہ الصلوٰۃ و السلام کا کام نہایت ہی عمیق ،دیر پا اور بنیادی قسم کا تھا ۔دس برس تک حضرت (ع) اسی ماحول میں زندگی بسر کرتے رہے ۔ لوگوں کو اپنے قرب کیا اور انھیں تربیت دی ۔کچھ لوگوں نے مختلف گوشہ و کنار میں جام شہادت نوش کرکے معاویہ کی حکومت سے کھل کر مقابلہ کیا اور نتیجہ کے طور پر اس کی مشینری کو کافی کمزور بنایا ۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کا زمانہ آیا تو آپ (ع) نے بھی اسی روش پر کام کرتے ہوئے مدینہ ،مکہ نیز دیگر مقامات پر اس تحریک کو آگے بڑھایا ۔ یہاں تک کہ معاویہ دنیا سے چلا گیا ،اور کربلا کا حادثہ رو نما ہو ا ۔اگر چہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کربلا کا حادثہ اسلام کے مستقبل کے لئے نہایت ہی مفید اور ثمر آور ثابت ہوا لیکن وقتی طور پر وہ مقصد جس کے لئے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو شاں تھے کچھ دنوں کے لئے اس میں تاخیر ہو گئی کیوں کہ اس حادثہ نے دنیائے اسلام کو رعب و حشت میں مبتلا کر دیا تھا ۔امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے قریبی رفقاء کو تہ تیغ کر دیا گیا او ر دشمن کو تسلط و غلبہ حاصل ہو گیا ۔ اگر اقدام امام حسین علیہ السلام اس شکل میں نہ ہوتا اور یہ تحریک طبیعی طور پر جاری رہتی تو یہ بات بعید از امکان نہیں کہ مستقبل قریب میں جد و جہد کچھ ایسا رخ اختیار کر لیتی کہ حکومت کی باگ ڈور شیعوں کے ہاتھ میں آجاتی ۔البتہ یہاں اس گفتگو کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ معاذ اللہ ،امام حسین علیہ السلام کو انقلاب برپا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔بلکہ اس وقت حالات نے کروٹ ہی کچھ ایسی بدلی تھی کہ حسینی(ع) انقلاب ناگزیر ہو گیا تھا ،اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اسلام کی بقا کے لئے حسینی(ع) انقلاب بے حد ضروری تھا ، لیکن اگر یکا یک حالات یہ رخ اختیار نہ کر لئے ہوتے اور امام حسین علیہ السلام اس حادثہ میں شہید نہ ہوئے ہوتے تو شاید جلد ہی مستقبل سے متعلق امام حسن علیہ السلام کا منصوبہ بار آور ہو جاتا ۔
چنانچہ یہاں میں ایک روایت نقل کر رہا ہوں جس سے اس بیان کی واضح تائید ہو تی ہے ۔اصول کافی میں ابو حمزہ ثمالی کی ایک روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں نقل کی گئی ہے :
”سمعت ابا جعفر علیه السلام یقول : یا ثابت ،ان اللّٰه تبارک و تعالیٰ قد کان وقت هٰذا الامر فی السبعین “
”ھٰذاالامر “سے مراد حکومت و ولایت اہلیت علیہم السلام ہے کیوں کہ روایت میںہے ، اگر تمام مقامات پر نہ کہا جائے تو اکثر و بیشتر مقامات پر جہاں جہاں بھی ھٰذا الامر کی تعبیر استعمال ہوئی ہے اس سے مقصود اہلبیت علیہم السلام کی حکومت و ولایت ہی ہے اگر چہ بعض موارد میں یہ کلمہ ،تحریک اور اقدام کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور وہاں حکومت مراد نہیں ہے ۔ بہر حال ھٰذ الامر ، یہ موضوع ۔ کو ن سا موضوع ؟وہی جو شیعیان آل محمد (ص) کے درمیان رائج و مرسوم رہا ہے اور جس کے بارہ میں برسوں گفتگو ہوتی رہی ہے جس کی تکمیل کی آرزو اور منصوبہ سازی کی جاتی رہی ہے ۔
امام محمد باقر علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں : خدا وند عالم اس امر ( یعنی حکومت اہلبیت(ع) ) کے لئے ۷۰ ئہجری معین کر چکا تھا ،اور یہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے دس سال بعد کی تاریخ ہے ۔
امام اس کے بعد فرماتے ہیں :
”فلما ان قتل الحسین صلوات اللّٰه علیه اشتد غضب اللّٰه تعالیٰ علیٰ اهل الارض فاخره الیٰ اربعین ومائة “
جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا ، اہل زمین پر خدا وند عالم کے غضب میں شدت پیدا ہو گئی اور وہ ( تاسیس حکومت کا ) وقت ۴۰ ۱ ئہجری تک کے لئے آگے بڑھادیا گیا ۔
یہ تاریخ ( ۱۴۰ ئہجری ) امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت سے آٹھ سال قبل کی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانح حیات کی ذیل میں ہم ۱۴۰ ئہجری کی اہمیت کے بارہ میں تفصیلی بحث کریں گے ،اس سلسلہ میں میرا خیال یہی ہے کہ وہ ولی امر جس کے ذریعہ ایک انقلابی اقدام کے تحت اہلبیت (ع) کا حق واپس ملنا تھا امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہی ذات مبارک ہونی چاہئے تھی مگر اس وقت بنو عباس نے خود خواہی عجلت پسندی ،دنیا پرستی اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہوئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا اور فرصت بھی اہلبیت (ع) کے ہاتھ سے چھین لی گئی اور وعدہ الٰہی پھر کسی اور وقت کے لئے ٹل گیا۔
روایت کے آخری فقرے یہ ہیں :
”فحدثناکم فاضعتم الحدیث و کشفتم حجاب الستر ( ایک دوسرے نسخہ میں قناع الستر ہے) ولم یجعل اللّٰه له بعد ذالک وقتا عندنا ، و یمحوا اللّٰه مایشاء و یثبت و عنده ام الکتاب “
یعنی ہم نے تم لوگوں کو اس واقعہ سے مطلع کیا اور تم نے اس کو نشر کر دیا بات پردہ راز میں نہ رکھ سکے ،عوام میں نہ کہا جانے والاراز افشا کر دیا ۔ لہٰذا اب خدا وند عالم نے اس امر کے لئے کوئی دوسرا وقت معین طور پر قرار نہیں دیا ہے خدا وند عالم اوقات کو محو کر دیا کرتا ہے جس چیز کی چاہتا ہے نفی کر دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت کر دکھاتا ہے ۔ اور یہ بات نا قابل تردید مسلمات اسلام میں سے ہے کہ مستقبل کے سلسلہ میں جو بات خدا کی جانب سے حتمی قرار دی جا چکی ہے وہ نظر و قدرت الٰہی میں تغیر پذیر نہیں ہے ۔
ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں :
”حدثت بذالک ابا عبدالله (ع) فقال کان کذالک “(۱)
میں نے روایت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیان کی جس کو سن کر امام (ع) نے فرمایا: ہاں واقعا اسی طرح ہے ۔
اس قسم کی روایتیں بہت ہیں لیکن مذکورہ روایت ان سب میں واضح اور روشن ہے ۔
حکومت اسلامی کی تشکیل ائمہ (ع)کا بنیادی ہدف رہا ہے
اسلامی حکومت کی تشکیل تمام ائمہ کا مقصد و ہدف رہا ہے ، وہ ہمیشہ اسی راہ پر گامزن رہے ہر ایک نے وقت اور حالات کے تحت اس راہ میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔چنانچہ جب کربلا کا حادثہ رونما ہو ااور سید الشہداء امام حسین علیہ الصلوٰة و السلام شہید کر دیئے گئے نیز بیماری کی حالت میں ہی امام سجاد علیہ السلام کو اسیر بنا لیا گیا تو حقیقتا اسی وقت سے امام سجاد علیہ السلام کی ذمہ داریوں کا آغاز ہو گیا ۔ اب تک مستقبل ( حکومت اسلامی کی تشکیل ) کی جو ذمہ داری امام حسن علیہ السلام اورپھر امام حسین علیہ السلام کے کاندھوں پر تھی وہ امر امام زین العابدین علیہ السلام کے سپرد کر دیا گیا اب آپ (ع) کی ذمہ داری تھی کہ اس مہم کو آگے بڑھائیں اور پھر آپ (ع) کے بعد دوسرے ائمہ طاہرین علیہم السلام اپنے اپنے دور میں اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کی پوری زندگی کا اسی روشنی میں جائز ہ لیں ۔ اس بنیادی مقصد اور اصل موقف کو تلاش کریں ہمیں بلا کسی شک و شبہ کے یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ امام زین العابدین علیہ السلام بھی اسی الٰہی مقصد کی تکمیل میں کوشاں تھے جس کے لئے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام سعی و کوشش فرما رہے تھے ۔
امام زین العابدین (ع) کی زندگی کا ایک مجموعی خاکہ
امام زین العابدین علیہ السلام نے ۶۱ ئھ میں عاشور کے دن امامت کی عظیم ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر سنبھال لیں اور ۹۴ ء ہجری میں آپ کو زہر سے شہید کر دیا گیا ۔اس پورے عرصے میں آپ (ع) اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کوشاں رہے اب آپ مذکورہ نقطہ نگاہ کی روشنی میں حضرت(ع) کی جزئیات زندگی کا جائزہ لیجئے کہ آپ (ع) اس ذیل میں کن مراحل سے گزرتے رہے کیا طریقہ کار اپنائے اور پھر کس حد تک کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔
وہ تمام ارشادات جو آپ (ع) کے دہن مبارک سے جاری ہوئے ، وہ اعمال جو آپ(ع) نے انجام دیئے وہ دعائیں جو لب مبارک تک آئیں وہ مناجاتیں اور راز و نیاز کی باتیں جو آج صحیفہ کاملہ کی شکل میں موجود ہےں ان سب کی امام (ع) کے اسی بنیادی موقف کی روشنی میں تفسیر و تعبیر کی جانی چاہئے چنانچہ اس پور دور امامت میں مختلف موقعوں پر حضرت (ع) کے موقف اور فیصلوں کو بھی اسی عنوان سے دیکھنا چاہئے مثال کے طور پر ------------ :
۱ ۔ اسیری کے دوران کوفہ میں عبید اللہ ابن زیاد اور پھر شام میں یزید پلید کے مقابلہ میں آپ (ع) کا موقف جو شجاعت و فداکاری سے بھرا ہوا تھا ۔
۲ ۔ مسرف بن عقبہ کے مقابلہ میں -- جس کو یزید نے اپنی حکومت کے تیسرے سال مدینہ رسول (ص) کی تباہی اور اموال مسلمین کی غارت گری پر مامور کیا تھا -- امام (ع) کا موقف نہایت ہی نرم تھا ۔
۳ ۔ عبد الملک بن مروان جس کو خلفائے بنو امیہ میں طاقتور ترین اور چالاک ترین خلیفہ شمار کیا جاتا ہے ، اس کے مقابلہ میں امام (ع) کا موقف کبھی تو بہت ہی سخت اور کبھی بہت ہی نرم نظر آتا ہے -------
اسی طرح --------
۴ ۔ عمر بن عبد العزیز کے ساتھ آپ کا برتاؤ
۵ ۔ اپنے اصحاب اور رفقاء کے ساتھ آپ (ع) کا سلوک اور دوستانہ نصیحتیں اور
۶ ۔ ظالم و جابر حکومت اور اس کے عملے سے وابستہ درباری علماء کے ساتھ امام علیہ السلام کا رویہ؟
ان تمام موقفوں اور اقدامات کا بڑی باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے میں تو اسی نتیجہ پر بہنچا ہوں کہ اگر اس بنیادی موقف کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام جزئیات و حوادث کا جائزہ لیا جائے تو بڑے ہی معنی خیز حقائق سامنے آئیں گے ۔چنانچہ اگر اسی زاویہ سے امام کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو عظیم ہستی ایک ایسا انسان نظر آئے گی جو اس روئے زمین پر خدا وند وحدہ لا شریک کی حکومت قائم کرنے اور اسلام کو اس کی اصل شکل میں نافذ کرنے کو ہی اپنا مقدس مقصد سمجھتے ہوئے اپنی تمام ترکوشش و کاوش بروئے کار لاتا رہا ہے اور جس نے پختہ ترین اور کار آمد ترین کا رگردگی سے بہرہ مند ہوکر نہ صرف یہ کہ اسلامی قافلہ کو اس پر اگندگی اور پریشاں حالی سے نجات دلائی ہے جو واقعہ عاشور کے بعد دنیا ئے اسلام پر مسلط ہو چکی تھی بلکہ قابل دید حد تک اس کو آگے بھی بڑھایا ہے ۔ دو اہم اور بنیادی فریضے جو ہمارے تمام ائمہ علیہم السلام کو سونپے گئے تھے ( ہم ابھی ان کی طرف اشارہ کریں گے ) ان کو امام سجاد علیہ السلام نے بڑی خوش اسلوبی سے جامہ عمل پہنایا ہے ۔ آپ (ع) پوری سیاسی بصیرت اور شجاعت و شہامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت ہی احتیاط اور باریک بینی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے یہاں تک کہ تقریبا ۳۵ سال کی انتھک جد و جہد اور الٰہی نمایندگی کی عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد آپ (ع) سرفراز و سر بلند اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور اپنے بعد امامت و ولایت کا عظیم بار اپنے فرزندو جانشین امام محمد باقر علیہ السلام کے سپرد فرمادیئے۔
چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کو منصب امامت اور حکومت اسلامی کی تشکیل کی ذمہ داریوں کا سونپا جانا روایات میں بڑے ہی واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔ ایک روایت کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور محمد بن علی (ع) یعنی امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
” یہ صندوق اور یہ اسلحہ سنبھالو یہ تمھارے ہاتھوں میں امانت ہے “
اور جب صندوق کھولا گیا تو اس میں قرآن اور کتاب تھی۔
میرے خیال میں اسلحہ سے ، انقلابی قیادت و رہبری کی طرف اشارہ ،اور قرآن و کتاب ، اسلامی افکار و نظریات کی علامت ہے اور یہ چیزیں امام (ع) نے اپنے بعد آنے والے امام کی تحویل میں دے کر نہایت ہی اطمینان و سکون کے ساتھ آگاہ و بیدار انسانوں اور خدا وند عالم کی نظر میں سر فراز وسرخ رواس دنیا کو خیر باد کہا ہے ۔
یہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک مجموعی خاکہ ہے اب اگر ہم تمام جزئیات زندگی کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیں تو صورت حال کو پہلے سے مشخص کر لینا چاہئے ۔
حضرت (ع) کی حیات مبارکہ میں ایک مختصر سا دور وہ بھی ہے جس کو منارہ زندگی سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا ۔ میں چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے اسی کا ذکر کروں اور پھر امام کی معمول کے تحت عادی زندگی ، اس زمانہ کے حالات و کو ائف اور ان کے تقاضوں کی تشریح کروں گا۔
در اصل امام علیہ السلام کی زندگی کاوہ مختصر اور تاریخ ساز دور ، معرکہ کربلا کے بعد آپ (ع) کی اسیری کازمانہ ہے جومدت کے اعتبار سے مختصرلیکن واقعات وحالات کے اعتبارنہایت ہی ہیجان اور وسبق آموز ہے جہاںاسیری کے بعد بھی آپ کا موقف بہت ہی سخت اور مزاحمت آمیز رہتاہے ۔بیما راورقید ہونے کے باوجودکسی عظیم مردمجاہد کے ماننداپنے قول وفعل کے ذریعہ شجاعت و دلیری کے بہترین نمونہ پیش کئے ہیں ۔اس دوران امام کا طرز عمل حضرت (ع) کی بقیہ عام زندگی سے -- جیسا کہ آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے -- بالکل مختلف نظر آتا ہے ۔ امام علیہ السلام کی زندگی کے اصلی دور میں آپ (ع) کی حکمت عملی مستحکم بنیاد پرپڑے ہی جچے تلے انداز میں نرم روی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھنا ہے حتی کہ بعض وقت عبد الملک بن مروان کے ساتھ نہ صرف ایک محفل میں بیٹھے ہوئے نظر آئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ آپ (ع) کا رویہ بھی نرم نظر آتا ہے جب کہ اس مختصر مدت ( ایام اسیری ) میں امام (ع) کے اقدامات بالکل کسی پر جوش انقلابی کے مانند نظر آتے ہیں جس کے لئے کوئی معمولی سی بات بھی برداشت کر لینا ممکن نہیں ہے لوگوں کے سامنے بلکہ پھرے مجمع میں بھی مغرور و بااقتدار دشمن کا دندان شکن جواب دینے میں کسی طرح کا تامل نہیں کرتے ۔
کوفہ کا درندہ صفت خونخوار حاکم ، عبد اللہ ابن زیاد جس کی تلوار سے خون ٹپک رہا ہے جو فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ السلام اور ان کے اعوان و انصار کا خون بہا کر مست و مغرور اور کامیابی کے نشہ میں بالکل چور ہے اس کے مقابلہ میں حضرت (ع) ایسا بے باک اور سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں کہ ابن زیاد آپ (ع) کے قتل کا حکم جاری کر دیتا ہے چنانچہ اگر جناب زینب سلام اللہ علیہا ڈھال کے مانند آپ (ع) کے سامنے آکر یہ نہ کہتیں کہ میں اپنے جیتے جی ایسا ہرگز نہ ہونے دوں گی اور ایک عورت کے قتل کا مسئلہ درپیش نہ آتا نیز یہ کہ قیدی کے طور پر دربار شام میں حاضر کرنا مقصود نہ ہوتا تو عجب نہیں ابن زیاد امام زین العابدین علیہ السلام کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگین کر لیتا۔
بازار کوفہ میں آپ (ع) اپنی پھوپھی جناب زینت (ع)اوراپنی بہن جناب سکینہ کے ساتھ ہم صدا ہو کر تقریر کرتے ہیں لوگوں میں جوش و خروش پیدا کرتے ہیں اور حقیقتوں کا انکشاف کر دیتے ہیں ۔
اسی طرح شام میں چاہے وہ یزید کا دربار ہو یا مسجد میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم ، بڑے ہی واضح الفاظ میں دشمن کی سازشوںسے پردہ اٹھاکر حقائق کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں چنانچہ حضرت (ع) کے ان تمام خطبوں اور تقریروں میں اہلبیت (ع)کی حقانیت ، خلافت کے سلسلہ میں ان کا استحقاق اور موجودہ حکومت کے جرائم اور ظلم و زیادتی کا پردہ چاک کرتے ہوئے نہایت ہی تلخ اور درشت لب و لہجہ میں غافل و ناآگاہ عوام کو جھنجوڑنے اور بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
یہاں ان خطبوں کو نقل کرکے امام (ع) کے فقروں کی گہرائی پیش کرنے کی گنجائش نظر نہیں آتی کیوں کہ یہ خود ایک مستقل کام ہے اور اگر کوئی شخص ان خطبوں کی تشریح و تفسیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک ایک لفظ کی تحقیق اور چھان بین کرے ۔ یہ ہے امام (ع) کی اسارت اور قید و بند کی زندگی جو جرات و ہمت اورشجاعت و دلاوری سے معمور نظر آتی ہے ۔
رہائی کے بعد
ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جن کے پیش نظر امام علیہ السلام کے موقف میں ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی کہ اب قید سے چھوٹ کر آپ نہایت ہی نرم روی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں تقیہ سے کام لیتے ہیں ۔ اپنے تیز و تند انقلابی اقدامات پر دعا اور نرم روی کا پردہ ڈال دیتے ہیں تمام امور بڑی خاموشی کے ساتھ انجام دیتے ہیں جب کہ قید و بند کے عالم میں آپ نے ایسے دلیرانہ عزائم کا اظہار اور مخاصمت آمیز اقدام فرمایا ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک استثنا ئی دور تھا یہاں جناب امام سجاد علیہ السلام کو فرائض امامت کی ادائیگی اور حکومت الٰہی و اسلامی کی تشکیل کے لئے مواقع فراہمی کے ساتھ ہی ساتھ عاشور کو بہنے والے بے گناہوں کے خون کی ترجمانی بھی کرنی تھی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں حضرت سجاد علیہ السلام کے دہن میں ان کی اپنی زبان نہ تھی بلکہ شمشیر سے خاموش کر دی جانے والی حسین (ع) کی زبان اس وقت کوفہ و شام کی منزلوں سے گزر نے والے اس انقلابی جوان کو ودیعت کر دی گئی تھی ۔
چنانچہ اگر اس منزل میں امام زین العابدین علیہ السلام خاموش رہ جاتے اور اس جرات و ہمت اور جواں مردی و بیباکی کے ساتھ حقائق کی وضاحت کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ کر دیئے ہوتے تو آئندہ آپ (ع) کے مقاصد کی تکمیل کی تمام راہیں مسدود ہو کر رہ جاتیں کیوں کہ یہ امام حسین علیہ السلام کا جوش مارتا ہوا خون ہی تھا جس نے نہ صرف آپ (ع) کے لئے میدان ہموار کر دیا بلکہ تاریخ تشیع میں جتنی بھی انقلابی تحریکیں برپا ہوئی ہیں ان سب میں خون حسین علیہ السلام کی گرمی شامل نظر آتی ہے چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام سب سے پہلے لوگوں کو موجودہ صورت حال سے خبر دار کر دینا ضروری سمجھتے ہیںتاکہ آئندہ اپنے اسی عمل کے پر تو میں بنیادی و اصولی ،عمیق و متین طولانی مخالفتوں کا سلسلہ شروع کر سکیں اور ظاہر ہے تیز و تند زبان استعمال کئے بغیر لوگوں کو متنبہ اور ہوشیار کرنا ممکن نہ ہوتا ۔
اس قید و بند کے سفر میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار جناب زینت سلام اللہ علیہا کے کردار سے بالکل ہم آہنگ ہے دونوں کا مقصد حسینی انقلاب اور پیغامات کی تبلیغ و اشاعت ہے اگر لوگ اس بات سے واقف ہو جائیں کہ حسین علیہ السلام قتل کر دیئے گئے ،کیوں قتل کر دیئے گئے؟ اور کس طرح قتل کئے گئے تو آئندہ اسلام اور اہلبیت علیہم السلام کی دعوت ایک نیا رنگ اختیار کر لے گی لیکن اگر عوام ان حقیقتوں سے ناواقف رہ گئے تو انداز کچھ اور ہوگا۔
لہٰذ ا معاشرہ میں ان حقائق کو عام کر دینے اور صحیح طور پر حسینی (ع) انقلاب کو پہچنوانے کے لئے اپنا تمام سرمایہ بروئے کا ر لاکر جہاں تک ممکن ہو سکے اس کام کو انجام دینا ضروری تھا ۔ چنانچہ حضرت سید سجاد علیہ السلام کا وجود بھی جناب سکینہ (ع) ،جناب فاطمہ صغریٰ (ع) ، خود جناب زینب سلام اللہ علیہا بلکہ ایک ایک قیدی کے مانند ( اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے) اپنے اندر ایک پیغام لئے ہوئے ہے ۔ ضروری تھا کہ یہ تمام انقلابی قوتیں مجتمع ہو کر غربت و بیکسی میں بہا دیئے جانے والے حسینی (ع) خون کی سرخی کربلا سے لے کر مدینہ تک تمام بڑے بڑے اسلامی مراکز میں پھیلادیں ۔
جس وقت امام سجاد علیہ السلام مدینہ میں وارد ہوں لوگوں کی بے چین و متجسس سوالی نگاہوں ، چہروں اور زبانوں کے جواب میں آپ (ع) ان کے سامنے حقائق بیان کریں اور یہ امام کی آئندہ مہم کا نقشہ اول ہے ۔اسی لئے ہم نے امام زین العابدین علیہ السلام کے اس مختصر دور حیات کو ایک استثنائی دور سے تعبیر کیا ہے ۔
اس مہم کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ (ع) مدینہ رسول (ص) میں ایک محترم شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں اور اپنا کا م پیغمبر اسلام (ص)کے گھر اور آپ (ع) کے حرم ( مسجد النبی (ص)) سے آغاز کرتے ہیں ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام کے آئندہ موقف اور طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کی حالت و کیفیت اور اس کے تقاضوں پر بھی ایک تحقیقی نظر ڈال لی جائے چنانچہ اس موضوع پر آگے روشنی ڈالیں گے ۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی تحریک کس طرح شروع کی ، آپ (ع) کا مقصد اور طریقہ کار کیا تھا ان تمام باتوں کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت کی حکمراں سیاسی مشینری سے بیزار و متنفر مخالفین کے مجموعی حالات اور بنی امیہ کے بارہ میں ان کے خیالات ساتھ ہی ساتھ اہلبیت کی کلی صورت حال پر ایک نظر ڈال لی جائے اور یہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک مستقل باب ہے چنانچہ اگر تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ممکن ہوئی تو امام علیہ السلام کی زندگی سے متعلق بہت سی مشکلات اور الجھنےں حل ہو جائیں گی ۔ اوربعد اس کے حضرت (ع) کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کی خصوصیات پر روشنی ڈالی جائے گی (البتہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس حد تک تفصیل میں جانا ہمارے لئے ممکن ہوگا)
ماحول
جب عاشور کا المناک حادثہ رو نما ہوا ،پوری اسلامی دنیا میں جہاں جہاں بھی یہ خبر پہنچی خصوصا عراق اور حجاز میں مقیم ائمہ علیہم السلام کے شیعوں اور طرفداروں میں ایک عجیب رعب و دحشت کی فضا پیدا ہو گئی کیوں کہ یہ محسوس کیا جانے لگا کہ یزیدی حکومت اپنی حاکمیت کو مسلط کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے حتیٰ اس کو عالم اسلام کی جانی پہچانی عظیم ،مقدس اور معتبر ترین ہستی فرزند رسول(ص)حسین ابن علی علیہما السلام کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے میں بھی کسی طرح کا کوئی دریغ نہیںہے ۔اور اس رعب و وحشت میں جس کے آثار کو فہ و مدینہ میں کچھ زیادہ ہی نمایاں تھے ، جو کچھ کمی رہ گئی تھی وہ بھی اس وقت پوری ہو گئی جب کچھ ہی عرصہ بعد بعض دوسرے لرزہ خیز حوادث رو نما ہوئے جن میں سر فہرست حادثہ ” حرہ“ ہے ۔
اہلبیت طاہرین علیہم السلام کے زیر اثر علاقوں یعنی حجاز (خصوصا مدینہ) اور عراق ( خصوصا کوفہ) میں بڑا ہی گھٹن کا ماحول پیدا ہو گیا تھا تعلقات و ارتباطات کافی کمزور ہو چکے تھے ۔ وہ لوگ جو ائمہ طاہرین علیہم السلام کے طرفدار تھے اور بنو امیہ کے خلافت و حکومت کے زبردست مخالفین میں شمار ہوتے تھے بڑی ہی کس مپرسی اور شک و شبہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ حضرت (ع) گزشتہ ائمہ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ارتدالناس بعد الحسین (ع)الا ثلاثة “
یعنی امام حسین علیہ السلام کے بعد تین افراد کے علاوہ سارے لوگ مرتد ہو گئے ، ایک روایت میں پانچ افراد اور بعض دوسری روایتوں میں سات افراد تک کا ذکر ملتا ہے ۔
ایک روایت جو خود امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے اور جس کے راوی ابو عمر مہدی ہیں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
”ما بمکة والمدینة عشرین رجلا یحبنا “(۲)
پورے مکہ و مدینہ میں بیس افراد بھی ایسے نہیں ہیں جو ہم سے محبت کرتے ہوں ۔
ہم نے یہ دونوں حدیثیں اس لئے نقل کی ہیں کہ اہلبیت طاہرین علیہم السلام اوران کے طرفداروں کے بارہ میں عالم اسلام کی مجموعی صورت حال کااندازہ لگایاجاسکے ۔دراصل اس وقت ایسی خوف وہراس کی فضاپیداہوگی تھی کہ ائمہ (ع)کے طرفدارمتفرق وپراگندہ مایوس ومرعوب زندگی گزاررہے تھے اور کسی طرح کی اجتماعی تحریک ممکن نہ تھی ۔ البتہ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مذکورہ بالا روایات میں ارشاد فرماتے ہیں :
”ثم ان الناس لحقوا و کثروا “
پھر آہستہ آہستہ لوگ اہل بیت علیہم السلام سے ملحق ہوتے گئے اور تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔
خفیہ تنظیمیں
اگر یہی مسئلہ جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے ذرا تفصیل کی ساتھ بیان کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ : کربلا کا عظیم سانحہ رو نما ہونے کے بعد اگر چہ لوگوں کی خاصی تعداد رعب و وحشت میں گرفتار ہو گئی تھی پھر بھی خوف و ہراس اتنا غالب نہ تھا کہ شیعیان اہلبیت علیہم السلام کی پوری تنظیم یکسر درہم برہم ہو کر رہ گئی ہو جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت اسیران کربلا کا لٹا ہو ا قافلہ کوفہ میں وارد ہوتا ہے کچھ ایسے واقعات رو نما ہوتے ہیں جو شیعہ تنظیموں کے وجود کا پتہ دیتے ہیں ۔
البتہ یہاں ہم نے جو شیعوں کی خفیہ تنظیم، کا لفظ استعمال کیا ہے اس سے یہ غلط فہمی نہیں پیدا ہونی چاہئے کہ یہاں ہماری مراد موجودہ زمانہ کی طرح سیاسی تنظیموں کی کوئی باقاعدہ منظم شکل ہے بلکہ ہمارا مقصد وہ اعتقادی روابط ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک مضبوط شکل دھاگے میں پرو دیتے ہیں اور پھر لوگوں میں جذبہ فدا کاری پیدا کرکے خفیہ سر گرمی پر اکساتی ہے اور نتیجہ کے طور پر انسانی ذہن میں ایک ہم فکر جماعت کا تصور پیدا ہو جاتا ہے ۔
ان ہی دنوں جب کہ پیغمبر اسلام (ص) کی ذریت کو فہ میں اسیر تھی ایک رات اسی جگہ جہاں ان کو قید رکھا گیا تھا ، ایک پتھر آکر گرا ، اہلبیت (ع) اس پتھر کی طرف متوجہ ہوئے دیکھا تو ایک کاغذ کا ٹکڑا اس کے ساتھ منسلک تھا جس پر کچھ اس طرح کی عبارت تحریر تھی ، کوفہ کے حاکم نے ایک شخص کو یزید کے پاس( شام ) روانہ کیا ہے تاکہ آپ کے حالات سے اس کو باخبر کرے نیز آئندہ کے بارہ میں اس کا فیصلہ معلوم کرے اب اگر کل رات تک (مثلا ) آپ کو تکبیر کی آواز سنائی دے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کویہیں قتل کر دینے کا فیصلہ ہوا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو سمجھئے گا کہ حالات کچھ بہتر ہیں ۔(۳)
جس وقت ہم یہ واقعہ سنتے ہیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم کے دوستوں یا ممبروں میں سے کوئی شخص ابن زیاد کے دربار میں موجود رہا ہوگا جس کو تمام حالات کی خبر تھی اور قید خانہ تک رسائی بھی رکھتا تھا حتی کہ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ قیدیوں کے سلسلہ میں کیا فیصلہ اور منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں اور صدائے تکبیر کے ذریعہ اہلبیت علیہم السلام کو حالات سے باخبر کر سکتا ہے ۔ چنانچہ اس شدت عمل کے ساتھ ساتھ جو وجود میں آچکی تھی اس طرح کی چیزیں بھی دیکھی جا سکتی تھیں ۔
اس طرح کی ایک مثال عبداللہ بن عفیف ازدی کی ہے جو ایک مرد نابینا ہیں اور اسیران کربلا کے کوفہ میں ورود کے موقع پر ہی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر انھیں بھی جام شہادت نوش کرنا پڑتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کے افراد کیا کوفہ اور کیا شام ہر جگہ مل جاتے ہیں جو قیدیوں کی حالت دیکھ کر ان سے محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور صرف آنسو بہانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی نسبت ملامت کے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں ( حتی کہ اس قسم کے واقعات دربار یزید اور ابن زیاد کی بزم میں پیش آتے رہے ہیں )
لہٰذا اگرچہ حادثہ کربلا کے بعد نہایت ہی شدید قسم کا خوف عوام و خواص پر طاری ہو چکا تھا پھر بھی ابھی اس نے وہ نوعیت اختیار نہیں کی تھی کہ شیعیان آل محمد (ص) کی تمام سر گرمیاں بالکل ہی مفلوج ہو گئی ہوں اور وہ ضعف و پراگندگی کا شکار ہو گئے ہوں لیکن کچھ ہی دنوں بعد ایک دوسرا حادثہ کچھ اس قسم کا رو نما ہوا جس نے ماحول میں کچھ اور گھٹن کا اضافہ کر دیا ۔ اور یہیں سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث ”ارتدالناس بعد الحسین (ع)“ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے امام علیہ السلام نے غالبا اسی حادثہ کے دوران یا اس کے بعد کے حالات کی طرف اشارہ فرمایا ہے یا ممکن ہے یہ بات اس درمیانی وقفہ سے متعلق ارشاد فرمائی ہو جو ان کے ما بین گزرا ہے۔
ان چند برسوں کے دوران -- اس عظیم حادثہ کے رو نما ہونے کے پہلے -- شیعہ اپنے امور کو منظم کرنے اور اپنے درمیان پہلی سی ہم آہنگی دوبارہ واپس لانے میں لگے ہوئے تھے ۔ اس مقام پر طبری اپنے تاثرات کا یوں اظہار کرتا ہے :”فلم یزل القوم فی جمع آلة الحرب والاستعداد للقتال “
یعنی وہ لوگ ( مراد گروہ شیعہ ) جنگی سازو سامان اکٹھا کرنے نیز خود کو جنگ کے لئے آمادہ کرنے میں لگے ہوئے تھے چپکے چپکے شیعوں اور غیر شیعوں کو حسین ابن علی علیہما السلام کے خون کا انتقام لینے پر تیار کر رہے تھے اور لوگ گروہ در گروہ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان میں شمولیت اختیار کر رہے تھے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا یہاں تک کہ یزید ابن معاویہ واصل جہنم ہو گیا ۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں با وجود اس کے کہ ماحول میں گھٹن اور سراسیمگی بہت زیادہ پائی جاتی تھی پھر بھی اس طرح کی سر گرمیاں اپنی جگہ پر جاری تھیں ( جیسا کہ طبری کی عبارت سے پتہ چلتا ہے ) اور شاید یہی وہ وجہ تھی جس کی بنیاد پر ” جہاد الشیعہ“ کا مولف اگر چہ شیعہ نہیں ہے اور امام زین العابدین علیہ السلام کے سلسلہ میں صحیح اور مطابق واقع نظریات نہیں رکھتا پھر بھی وہ اس حقیقت کو درک کر لیتا ہے اور اپنے احساسات کو ان الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ :
” گروہ شیعہ نے حسین (ع) کی شہادت کے بعد خود کو باقاعدہ تنظیم کی صورت میں منظم کر لیا ،ان کے اعتقادات اور سیاسی روابط انھیں آپس میں مربوط کرتے تھے ۔ ان کی جماعتیں اور قائد تھے ۔ اسی طرح وہ فوجی طاقت کے بھی مالک تھے چنانچہ توابین کی جماعت اس تنظیم کی سب سے پہلی مظہر ہے“
ان حقائق کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عاشور کے عظیم حادثہ کے زیر اثر اگر چہ بڑی حد تک شیعہ تنظیمیں ضعف و کمزور ی کا شکار ہو گئی تھیں پھر بھی اس دوران شیعہ تحریکیں اپنی ناتوانی کے باوجود مصروف عمل رہیں جس کے نتیجہ میں پہلے کی طرح دوبارہ خود کو منظم کرنے میں کامیاب ہو گئیں ۔یہاں تک کہ واقعہ حرہ پیش آیا ۔ اور میں سمجھتا ہوں واقعہ حرہ تاریخ تشیع میں نہایت اہم موڑ ہے ۔در اصل یہی وہ واقعہ ہے جس نے شیعہ تحریک پر بڑی کاری ضرب لگائی ہے ۔
واقعہ حرہ
حرہ کا حادثہ تقریبا ۶۳ ھئمیں پیش آیا ۔ مختصر طور پر اس حادثہ کی تفصیلات کچھ اس طرح ہےں کہ ۶۳ ئہجری میں بنو امیہ کا کم تجربہ نوجوان مدینہ کا حَکم مقرر ہوا اس نے خیال کیا کہ شیعیان مدینہ کا دل جیتنے کے لئے بہتر ہوگا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو شام جاکر یزید سے ملاقات کرنے کی دعوت دی جائے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا مدینہ کے چند سربرآوردہ افراد ، اصحاب نیز دیگر معزز ین سے منتخب کئے جس میں اکثریت امام زین العابدین علیہ السلام کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتی تھیں ان لوگوں کو شام جانے کی دعوت دی گئی کہ وہ جائیں اور یزید کے لطف و کرم دیکھ کر اس سے مانوس ہو جائیں اور اس طرح اختلافات میں کمی واقع ہو جائے ۔یہ لوگ شام گئے اور یزید سے ملاقات کی چند دن اس کے مہمان رہے ان لوگوں کی خوب پذیرائی کی گئی اور رخصت ہوتے وقت یزید نے ہر ایک کو کافی بڑی رقم ( تقریبا پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ درہم تک )سے نوازا لیکن ۔
جیسے ہی یہ لوگ مدینہ واپس پہنچے ، چوں کہ یزیدی در بار میں پیش آنے والے المیئے انھوں نے اپنی نظروں سے خود دیکھ لئے تھے لہٰذا خوب کھل کر یزید کو مورد تنقید قرار دیا اور نتیجہ بالکل ہی بر عکس ظاہر ہوا ان لوگوں نے یزید کی تعریف و توصیف کرنے کے بجائے ہر خاص و عام کو اس کے جرائم سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ۔ لوگوں سے کہا: یزید کو کس بنیاد پر خلیفہ تسلیم کیا جا سکتا ہے جب کہ شراب و کباب میں غرق رہنا اور کتوں سے کھیلنا اس کا بہترین مشغلہ ہے ۔ کوئی فسق و فجور ایسا نہیں ہے جو اس کے یہاں نہ پایا جاتا ہو ۔ لہٰذا ہم اس کو خلافت سے معزول کرتے ہیں ۔
عبداللہ بن حنظلہ(۴) جو مدینہ کی نمایاں اور محبوب شخصیتوں میں سے تھے یزید کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش تھے ان لوگوں نے یزید کو معزول کرکے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینی شروع کر دی۔
اس اقدام کا نتیجہ یزید کی طرف سے براہ راست رد عمل کی صورت میں ظاہر ہوا اس نے اپنے ایک تجربہ کار پیر فرتوت سردار ، مسلم بن عقبہ کو چند مخصوص لشکر یوں کے ساتھ مدینہ روانہ کیا کہ وہ اس فتنہ کو خاموش کر دے ۔ مسلم بن عقبہ مدینہ آیا اور چند روز تک اہل مدینہ کی قوت مقابلہ کو پست کرنے کے لئے شہر کا محاصرہ کئے رہا یہاں تک کہ ایک دن شہر میں داخل ہوا اور اس قدر قتل و غارت گری مچائی اور اس قدر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ اسلام میں وہ آپ اپنی مثال ہے ۔
اس نے مدینہ میں کچھ ایسا ہی قتل و غارت گری اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیاتھا کہ اس حادثہ کے بعد اس کا لقب ہی مسرف پڑگیا اور لوگ اس کو ” مسرف بن عقبہ “ کے نام سے پکارنے لگے ۔ حادثہ حرہ سے متعلق واقعات کی فہرست کا فی طویل ہے اور میں زیادہ تشریح میں جانا نہیں چاہتا صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ یہ واقعہ تمام مسلمانوں خصوصا اہلبیت علیہم السلام کے دوستوں اور ہمنواؤں میں بے پناہ خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بنا ، خاص طور پر مدینہ تقریبا خالی ہو گیا کچھ لوگ بھاگ گئے کچھ لوگ مار ڈالے گئے اہلبیت (ع) کے کچھ مخلص و ہمدرد مثال کے طور پر عبداللہ ابن حنظلہ جیسے لوگ شہید کر دیئے گئے اور ان کی جگہ خالی ہو گئی ۔ اس حادثہ کی خبر پوری اسلامی دنیا میں پھیل گئی اور سب سمجھ گئے کہ اس قسم کی ہر تحریک کا سد باب کرنے کے لئے حکومت پوری طرح آمادہ ہے اور کسی طرح کے اقدام کی اجازت دینے کو ہرگز تیار نہیںہے ۔
اس کے بعد ایک اور حادثہ -- جو مزید شیعوں کی سر کوبی اور ضعف کا سبب بنا -- جناب مختار ثقفی کی کوفہ میں شہادت اور پورے عالم اسلام پر عبد الملک بن مروان کے تسلط کی صورت میں ظاہر ہوا ۔
یزید کی موت کے بعد جو خلفاء آئے ہیں ان میں اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید ہے جو تین ماہ سے زیادہ حکومت نہ کر سکا ۔ اس کے بعد مروان بن حکم کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور تقریبا دو سال یا اس سے کچھ کم اس نے حکومت کی اور پھر خلافت کی باگ ڈور عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں آگئی جس کے لئے مورخین کا خیال ہے کہ وہ خلفا ئے بنو امیہ میںزیرک ترین خلیفہ رہا ہے ۔ چنانچہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ :
”کان عبد الملک اشد هم شکیبه و اقساهم عزیمه “
عبد الملک پورے عالم اسلام کو اپنی مٹھی میں جکڑ لینے میں کامیاب ہو گیا اور خوف و دہشت سے معمور عامرانہ حکومت قائم کر دی۔
حکومت پر مکمل تسلط حاصل کرنے کے لئے عبد الملک کے سامنے صرف ایک راہ تھی اور وہ یہ کہ اپنے تمام رقیبوں کا صفایا کر دے مختار جو شیعیت کی علامت تھے ، مصعب بن زبیر کے ہاتھوں پہلے ہی جام شہادت نوش فرما چکے تھے لیکن عبد الملک شیعہ تحریک کا نام و نشان مٹا ڈالنا چاہتا تھا اور اس نے یہی کیا بھی ۔اس کے دور میں عراق خصوصا کوفہ جو اس وقت شیعوں کا ایک گڑھ شمار کیا جاتا تھا ،مکمل جمود اور خاموشی کی نذر ہو گیا۔
بہر حال یہ حوادث کربلا کے عظیم سانحہ سے شروع ہوئے اور پھر یکے بعد دیگرے واقعہ حرہ میں اہل مدینہ کے قتل و غارت ، عراق میں تو ابین(۵) کی بیخ کنی ،جناب مختار ثقفی اور ابراہیم بن مالک اشتر نخعی نیز دیگر اکابرین شیعہ کی شہادت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کے حصول کی غرض سے ہر تحریک چاہے وہ مدنیہ ہو یا کوفہ( کیوں کہ اس وقت یہ دونوں شیعوں کے اہم ترین مراکز تھے ) کچل کر رکھ دی گئی ، شیعیت سے متعلق پورے عالم اسلام میں ایک عجیب خوف و ہراس پیدا ہوگیا ۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ائمہ طاہرین علیہم السلام سے وابستہ رہ گئے تھے اپنی زندگی نہایت ہی غربت و کس مپرسی میں بسر کر رہے تھے ۔
___________________
(۱)۔ اصول کافی کتاب الحجہ باب کراہیۃ التوقیت ۔روایت اول ج/۳ص/۱۹۰طبع بنیاد رسالت ،تہران
(۲)۔ بحار الانوار ج/۴۶ ص/۱۴۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج/۴ص/۱۰۴
(۳)۔ یہ واقعہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ الکامل میں نقل کیا ہے ۔
(۴)۔ حنظلہ ہی وہ نو جوان ہیں جو قبل اس کے کہ ان کی شب عروسی تمام ہو پیغمبر اسلام (ص) کی فوج میں آکر شامل ہو گئے اور میدان احد میں شہادت کا جام نوش فرمایا اور ملائکہ نے ان کو غسل دیا اسی لئے یہ حنظلہ غسیل الملائکہ کے نام سے معروف ہوئے ۔
(۵)۔ توبین کی تحریک واقعہ کربلا کا سب سے پہلا رد عمل ہے جو کوفہ میں ظاہر ہوا ۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بعض شیعوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے مواخذہ و عتاب کا مستحق قرار دیا کہ انھوں نے امام کی دعوت پر لبیک کیوں نہ کہی اور مدد کے لئے میدان میں نکلنے سے کیوں گریز کیا چنانچہ انھوں نے محسوس کیا اس گناہ سے اپنے دامن کو پاک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ امام کے دشمنوں او ر قاتلوں سے حضرت کے خون کا انتقام لیا جائے ، لہٰذا وہ لوگ کوفہ آئے اور اکابرین شیعہ میں سے پانچ افراد کو جمع کرکے ان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی اور نتیجہ کے طور پر سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں کھلے طور پر مسلحانہ تحریک کا آغاز کر دیا ۔ شب جمعہ ۲۵/ ربیع الثانی ۶۵ء ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک پر زیارت کے لئے جمع ہوئے اس طرح فریاد و گریہ کرنا شروع کیا کہ آج تک اس گریہ و زاری کی مثال نہیں ملتی ۔ اس کے بعد قبر امام کو وداع کہہ کر شامی حکومت سے نبرد آزما ئی کے لئے شام کا رخ کیا اور پھر لشکر بنو امیہ سے جم کر جنگ ہوئی اور سب کے سب مارے گئے ۔ توابین کی تحریک کاایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ با وجود اس کے کہ کوفہ میں تھے پھر بھی شام گئے اور بر سراقتدار حکومت سے جنگ کی تاکہ یہ ثابت کر دیں کہ امام حسین علیہ السلام کا قاتل کوئی ایک شخص یا چند اشخاص نہیں ہیں بلکہ یہ حکومت ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا ہے ۔
اس دور میں امام علیہ السلام کا موقف
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر امام زین العابدین علیہ السلام بھی بنو امیہ کے نظام حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہوتے تو وہ بھی علم بغاوت بلند کر دیتے یا کم از کم ( مثال کے طور پر ) عبد اللہ بن حنظلہ یا مختار ثقفی سے ملحق ہو جاتے یا یہ کہ آپ (ع) ان لوگوں کی رہبری قبول کر لیتے اور کھل کر مسلحانہ مقابلہ کرتے ۔ لیکن اگر اس دور کے حالات ہمارے پیش نظر ہوں جس میں امام سجاد علیہ السلام زندگی بسر کر رہے تھے تو ہمارے لئے سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ اس طرح کی فکر ائمہ علیہم السلام کے مقصد سے ( جسے ہم بعد میں بیان کریں گے ) قطعی میل نہیں کھاتی ۔
ان حالات میں اگر امام زین العابدین علیہ السلام یا ائمہ علیہم السلام میں سے کوئی بھی ہوتا اور کھل کے کسی مخالف تحریک میں شامل ہو جاتا یا تلوار لے کے سامنے آگیا ہوتا تو یقینی طور پر شیعیت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے کٹ جاتیں ۔اور پھر آئندہ کسی زمانہ میں مکتب اہلبیت علیہم السلام کے نشو نما اور ولایت و امامت کے قیام کی کوئی امید باقی نہ رہ جاتی سب کچھ ختم او ر نیست و نابود ہوکر رہ جاتا ۔
بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے کہ امام سجاد علیہ السلام مختار ثقفی کے معاملہ میں ان سے کھل کر کسی طرح کی ہم آہنگی کا اعلان نہیں کرتے اگر چہ بعض روایتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ (ع) کا مختار ثقفی سے مخفی طور پر رابطہ قائم تھا چنانچہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ امام نے علی الاعلان ان سے کبھی کسی طرح کا رابطہ نہ رکھا بلکہ بعض روایتیں تو کہتی ہیں کہ حضرت عام نشستوں میں مختار سے اپنی ناراضیگی کا اظہار بھی کرتے تھے اور یہ چیزبالکل فطری ہے ظاہر ہے آپ(ع) اس سلسلہ میں تقیہ سے کام لے رہے تھے تاکہ دشمن کو ان کے درمیان کسی خفیہ رابطہ کا شک بھی نہ ہونے پائے ۔
اگر مختار کو کامیابی نصیب ہو جاتی تو حکومت اہلبیت (ع)کے سپرد کر دیتے لیکن شکست کی صورت میں جیسا کہ ہوا ۔امام زین العابدین علیہ السلام اور مختار کے درمیان رابطہ کا علم ہو جانے کے بعد خود امام علیہ السلام اور آپ کے دوستوں اور ہمنواؤں کو بھی اس کی سخت قیمت چکانی پڑتی اور شاید شیعیت کا قلع و قمع ہو گیا ہوتا لہٰذا حضرت امام سجاد علیہ السلام ان سے کھل کر کسی طرح کا رابطہ بر قرار کرنا کسی طرح اپنے موقف کے لئے مفید نہیں سمجھتے ۔
روایت میں ہے جس وقت حرہ کے موقع پر مسلم ابن عقبہ مدینہ منورہ پہنچ رہا تھا کسی کو شک نہ تھا کہ سب سے پہلی شخصیت جو اس کے ظلم و جور کا نشانہ بنے گی وہ امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات مبارک ہے لیکن حضرت (ع) نے اپنی تدبیر و فراست سے کام لیتے ہوئے ایسی حکیمانہ روش اختیار کی کہ یہ بلا آپ (ع) سے دور ہو گئی چنانچہ امام (ع) کا وجود باقی رہا اور اس طرح شیعیت کا اصل محور اپنے مقام پر محفوظ رہ گیا ۔
البتہ وہ روایتیں جو بعض کتب منجملہ ان کے خود بحار الانوار میں بھی نقل کی گئی ہیں کہ امام علیہ السلام نے مسلم بن عقبہ کے سامنے اپنی حقارت و عاجزی کا اظہار فرمایا، اس کو بھی میں کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہیں ہوں بلکہ میری نظر میں یہ قطعی امام (ع) پر جھوٹ اور افترا باندھا گیا ہے کیوں کہ :۔
اولاً۔ یہ کہ ان میںسے کوئی روایت صحیح اسناد پر منتہی نہیں ہوتی ۔
ثانیاً۔ یہ کہ ان کے بالمقابل دوسری روایتیں موجود ہیں جو مضمون کے اعتبار سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کرتی ہےں۔
امام زین العابدین علیہ السلام اور مسلم بن عقبہ کی ملاقات کے ذیل میں متعدد روایتیں ملتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی لیکن چوں کہ ان میں سے بعض روایات ائمہ علیہم السلام کی شخصیت اور ان کے کردار سے زیادہ قریب ہیں لہٰذا ہم ان کو قبول کرتے ہیں اور طبیعی طور پر قبول کرتے ہیں پھر ان کے بالمقابل بہت سی دوسری روایتیں خود بخود غلط قرار پاجاتی ہیں اور میرے نزدیک ان کے غلط ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا ۔
بہر حال وہ اعمال جو بعض روایتوں میں بیان کئے گئے ہیں امام علیہ السلام سے بعید ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت (ع) نے مسلم بن عقبہ کے مقابلہ میں کسی معاندانہ رویہ کا اظہار نہیں ہونے دیا کیوں کہ اگر کوئی ایسا طریقہ کا ر آپ (ع) اپناتے تو قتل کر دیئے جاتے اور یہ چیز امام حسین علیہ السلام کی اس تحریک کے حق میں ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو سکتی تھی جس کو زندہ رکھنا امام سجاد علیہ السلام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تھا لہٰذا ضروری تھا کہ امام سجاد علیہ السلام زندہ رہیں اور اسی طرح جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت میں کہا گیا ہے ۔ رفتہ رفتہ لوگ آپ (ع) سے ملحق ہوتے رہیں اور ان کی تعداد بڑھتی رہے ۔ در اصل امام زین العابدین علیہ السلام کا کام ایسے سخت اور نا مساعد حالات میں شروع ہوتا ہے جس کا جاری رکھنا عام افراد کے لئے تقریبا ناممکن تھا۔
عبد الملک کا دور جس میں حضرت (ع) کی امامت کا بیشترین حصہ یعنی تقریبا ۳۰ ۔ ۳۲ سال گزرابڑا ہی دشوار دور تھا۔عبد الملک کی پوری مشینری مکمل طور پر آپ کی نگرانی پر لگی ہوئی تھی اس نے ایسے جاسوس مقرر کر رکھے تھے جو امام علیہ السلام کی زندگی کے ایک ایک پل حتی کہ خانگی اور خصوصی مسائل کی بھی خبر اس تک پہنچاتے رہتے تھے ۔
امام زین العابدین کے پاس ایک کنیز تھی جس کو آزاد کرنے کے بعد آپ نے اس سے شادی کرلی ۔یہ خبر عبدالملک کو معلوم ہوئی تو اس نے حضرت کے نام ایک خط روانہ کیا اور اس میں اس موضوع پر طنز و سرزنش کی وہ اس طرح باور کرانے کی کوشش کررہاتھا کہ ہم کوآپ کے تمام امور کی خبر ملتی رہتی ہے اور تمام معاملات زندگی کی خبر رکھتے ہیں اور ضمنی طور پر ہم خون اور ہم قبیلہ ہونے کی بنیاد پر بحث و مناظرہ بھی کرنا چاہتا تھا ۔وہ خط میں لکھتا ہے کہ آپ کا یہ کام قریش کی روش کے خلاف ہے اور آپ چونکہ قریش کی ہی ایک فرد ہیں لہٰذا آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔چنانچہ حضرت (ع) نے بھی اس کا جواب بہت ہی تندو سخت لب و لہجہ میں دیتے ہیں جو قابل توجہ ہے ۔آپ نے اپنے خط سے عبد الملک پر یہ واضح کردیا کہ تیرا نیم دوستی اور نیم دشمنی پر محمول یہ خط کسی طرح بھی میرے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔
یہ واقعہ اس دور کا ہے جب حضرت (ع) کسی حد تک اپنی جدو جہد کا آغاز کرچکے تھے ۔
امام علیہ السلام کے مقاصد
امام سجاد (ع) کن حالات میں کام کیا ہے یہ بات واضح ہوگئی ،تو امام علیہ السلام ایسے حالات میں اپنی تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اس منزل میں ائمہ علیہم السلام کے مقصد اور طریقہ کار کے سلسلہ میں مختصرطور پر اشارہ کردیناضروری سمجھتا ہوں اس کے بعد اس روش اور طریقہ کار کی روشنی میں امام (ع)کی جزئیات زندگی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا ۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جناب امام سجاد (ع)کا آخری مقصد ،اسلامی حکومت قائم کرنا ہے چنانچہ صادق آل محمد علیہ السلام کی اس روایت کے مطابق ،جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ،خداوند عالم کی طرف سے ۷۰ ئہجری ،اسلامی حکومت کی تاسیس کا سال قرار دیا گیاتھا مگر ۶۱ ء ہجری میں ہی امام حسین (ع) کی شہادت واقع ہوگئی جس کے نتیجہ میں یہ کام سن ۱۴۷ ۔ ۱۴۸ تک کے لئے موقوف کردیا گیا ۔
یہ چیز کامل طور پر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جناب امام سجاد (ع) نیز دیگر تمام ائمہ علیہم السلام کا آخری مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہی رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان حالات میں حکومت اسلامی کس طرح قائم ہو سکتی ہے ۔اس کے لئے چند چیزیں بہت ضروری ہیں ۔
۱ ۔ صحیح اسلامی طرز فکر ، جو واقعی طور پر ائمہ علیہم السلام کے پاس تھی ۔مدون و مرتب ہو اور درس و تبلیغ کے ذریعہ عام کی جائے کیوں کہ یہی طرز فکر ہے جس کو اسلامی حکومت کی بنیاد و اساس قرار دیا جا سکتا ہے ۔
اس حقیقت کے پیش نظر کہ مسلسل طور پر ایک لمبے عرصے تک اسلامی معاشرہ صحیح اسلامی طرز فکر سے دور ی اختیار کئے رہا بھلا کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ لوگوں کے ذہنوں پر اسلامی افکار کا نقش قائم کئے بغیر اسلامی نظریات پر مبنی ایک حکومت قائم کر دی جائے جب کہ ابھی حکومت کے حقیقی احکام کی تدوین و ترتیب بھی باقاعدہ عمل میں نہ آسکی ہو۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا عظیم ترین کارنامہ یہی ہے کہ آپ (ع) نے اسلام کے بنیادی افکار و نظریات توحید ، نبوت،انسان کی معنوی حیثیت ، خدا اور بندہ کے درمیان رابط نیز دیگر اہم موضوعات کو مدون و مرتب کر دیا ہے چنانچہ زبور آل محمد (ص) یعنی صحیفہ سجادیہ کی اہم ترین خصوصیت یہی ہے ۔ اگرآپ صحیفہ سجادیہ کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد اس زمانے کی عام اسلامی فکر کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ دونوں کے درمیان کتنا عمیق فاصلہ نظر آتا ہے ۔ جس وقت پورا عالم اسلام مادیت میں گرفتار اپنی مادی ضروریات و خواہشات کی تکمیل میں سر گردان و منہمک ہے ، خلیفہ وقت ( عبد الملک بن مروان) سے لے کر اس کے ارد گرد بیٹھنے والے علماء تک (مثال کے طور پر محمد بن شہاب زہری جیسے درباری علماء ، جن کا کا ذکر عنقریب آئے گا) سب کے سب مفاد پرستی و دنیا طلبی میں غرق نظر آتے ہیں ۔ امام سجاد علیہ السلام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کی اسلامی حمیت کو للکارتے ہیں :
” اولا حریدع هٰذه للماظة لا هلها“
آیا (تم میں) کوئی ایسا آزاد مرد نہیں ہے جو اس دریدہ دہن حریص کتے کا بچا کھچا اس کے اہل کے لئے چھوڑ دے ۔
یہاں اسلامی طرز فکر سے مراد ۔ معنویات کو اصل ہدف قرار دے کر صحیح اسلامی و معنوی بلندیوں تک پہنچنے کی جد و جہد کرنا اور انسان کا اپنے معبود نیز اس کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کے تئیں متوجہ رہنا ہے ۔ جب کہ اس کے بالمقابل وہ مادی طرز فکر ہے جس نے اس دور کے مسلمانوں کو اپنا شکار بنا رکھا تھا ۔
بہر حال صرف نمونہ کے طور پر ہم نے ایک بات یہاںذکر کردی ورنہ امام سجاد علیہ السلام نے اس طرح کے بے انتہا امور انجام دیئے ہےں جس کے نتیجہ میں صحیح اسلامی طرز فکر اپنے اصل خد و خال کے ساتھ اسلامی معاشرہ میں باقی رہ جائے اور اس کو امام زین العابدین علیہ السلام کا اولین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔
۲ ۔ اسلامی حکومت کی تشکیل کے لئے حقدار افراد کی طرف عوام کی رہنمائی کرنا ۔ ان حالات میں جب کہ دسیوں سال سے پیغمبر اسلام (ص) کی ذریت طاہرہ کے خلاف پروپیگنڈہ کا بازار گرم رہا ہو اور تقریبا پورا عالم اسلام اس شورو غوغا سے لبریز ہو ۔ پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے منسوب کرکے ایسی جعلی حدیثوں کا انبار لگا دیا ہو جو اہل بیت علیہم السلام کی تحریک کے سو فیصد خلاف ہوں حتیٰ کہ بعض حدیثوں میں اہل بیت علیہم السلام کو مورد سب ولعن قرار دے دیا گیا ہو ،اور یہ حدیثیں عوام کے درمیاں نشر بھی ہو چکی ہوں لوگوں کو اہلبیت(ع) کی صحیح معرفت اور ان کی معنوی حیثیت اور مقام کا علم ہی نہ ہو ۔تو بھلا بتایئے اہلبیت علیہم السلام کے ہاتھوں حکومت کی تشکیل کیسے ممکن ہو سکتی ہے ؟
اسی لئے امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک اہم ترین مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کے درمیان اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت کو واضح و آشکار کریں انھیں بتائیں کہ ولایت و امامت اور خلافت و حکومت ان کا حق ہے یہی حضرات پیغمبر ختمی مرتبت (ص) کے حقیقی جانشین ہیں ۔ساتھ ساتھ لوگوں کو اس مسئلہ کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا جائے چنانچہ اگر یہ مسئلہ اسلامی نظریات اور آئیڈیولو جی سے تعلق رکھتا ہے پھر بھی اس کا سیاست سے بڑا گہرا ربط ہے دوسرے لفظوں میں موجودہ سیاسی نظام کے خلاف ایک سیاسی تحریک ہے ۔
۳ ۔ امام سجاد علیہ السلام کی تیسری اہم ذمہ داری یہ تھی کہ ایک ایسی تنظیم تشکیل دی جائے جو آئندہ کے لئے ہر طرح کی سیاسی و اسلامی تحریک کا اصل محور قرار پا سکے لیکن ایک ایسے معاشرہ میں جہاں لوگ گھٹن ،فقر مالی ، و معنوی فشار کے زیر اثر افرا تفری اور پراگندگی کی زندگی گزار نے کے عادی ہو چکے ہوں حتٰی کہ خود شیعہ حضرات ایسے سخت دباؤ اور فشار میں مبتلا کر دیئے گئے ہوں کہ ان کی تنظیمیں درہم برہم ہو کر رہ گئی ہوں بھلا امام زین العابدین علیہ السلام کے لئے کس طرح ممکن تھا کہ تن تنہا یا اپنے چند گنے چنے نا منظم مخلصین کے ساتھ اپنا کام شروع کر سکیں؟
چنانچہ کسی تحریک کے آغاز سے پہلے امام کے لئے ضروری تھا کہ وہ شیعوں کو منظم کریں اور باقاعدہ ان کی تنظیمیں تشکیل دیں ۔اور یہ جہاں تک میری نظر ہے ، امیر المومنین علیہ السلام کے دور میں موجود تھی البتہ بعد میں کربلا کے المناک سانحہ ،مدینہ میں حرہ کے حادثہ اور کوفہ میں مختار کے واقعہ نے تقریبا ان کی بنیادیں متزلزل کرکے رکھ دی تھیں اب ضرورت تھی کہ ان کو دوبارہ منظم کرکے ان میں ایک نئی روح پھونک دی جائے ۔
مختصر یہ کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کو اپنی تحریک آگے بڑھانے کے لئے بنیادی نوعیت کے حامل تین اہم کام انجام دینے تھے ۔
اول۔ منزل من اللّٰہ ،صحیح اسلامی افکار و نظریات کی تدوین و تربیت ، جو ایک مدت سے تحریف یا فراموشی کی نذر کر دیئے گئے تھے ۔
دوم ۔ اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت اور خلافت و امامت و ولایت پر ان کے استحقاق کا اثبات ۔
سوم۔ شیعایان آل محمد (ص) کو ایک نقطہ پر جمع کرکے ان کی ایک باقاعدہ تنظیم کی تشکیل ۔
یہی وہ تین بنیادی کام ہیں جن کا ہمیں تفصیل سے جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ان میں سے کون سا کام امام سجاد علیہ السلام کے زمانہ انجام پایا ۔ اگر چہ ان تین امور کے علاوہ اور بھی بہت سے کام انجام پانے تھے مگر ان کو ضمنی و ثانوی حیثیت حاصل ہے ۔منجملہ اس کے کبھی کبھی خود امام علیہ السلام یا آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ ایسے اقدامات عمل میں آئیں یا ایسے افکار و خیالات پیش کئے جائیں جو اس گھٹن کے ماحول میں کسی حدتک تبدیلی لا سکیں۔
چنانچہ ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں مجمع عام میں امام (ع)کے ہمنوا یا خود امام علیہ السلام کچھ ایسے خیالات کا اظہار فرماتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد محض اس گھٹن کی فضا کو توڑ کر اس منجمد ماحول میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا پیدا کرنا تھا ( البتہ اس طرح کے واقعات بھی اس دور کے ہیں جب تحریک میں کچھ استحکام پیدا ہوچلا تھا ) ۔
بہر حال یہ وہ ضمنی اقدامات ہیں جس کے چند نمونے یا د دہانی کے طور پر آگے چل کر ہم پیش کریں گے ۔اسی طرح کا ایک اور ضمنی کام براہ راست موجودہ سیاسی مشینری یا اس کے لواحقین کے ساتھ معمولی طور پنجے نرم کرنا بھی ہے چنانچہ اس طرح کے قضیئے امام علیہ السلام اور عبد الملک بن مروان کے درمیان بار بار پیش آتے رہے ہیں اس کے علاوہ اسی ضمن میں حضرت (ع)اور عبدالملک سے وابستہ (محمدبن شہاب زہری جیسے ) منحر ف علماء کے درمیان پیش آنے والے معاملات بھی شامل ہیں ۔ امام علیہ السلام کے دوستوں اور خلفائے وقت کے مابین ہونے والی بعض معرکہ آرائیاں بھی اسی فہرست میں آتی ہیں ۔ اور ان سب کا ہدف و مقصد کسی حد تک اس حبس اور گھٹن کے ماحول سے لوگوں کو نجات دلانا تھا ۔ انشاء اللہ آگے ان جزئیات پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔
اگر کوئی شخص صرف اسی حد تک میرے تمام معروضات کو اچھی طرح درک کرلے تو ساری کی ساری اخلاقی روایات موعظانہ گفتگو اور پیغامات ، عارفانہ اور دعائیں نیز دیگر بے بہا اقوال و ارشادات جو امام چہارم علیہ السلام سے مروی ہیں یا امام علیہ السلام کی زندگی میں واقع ہوتے رہے ہیں خود بخود ایک معنی پیدا کر لیں گے یعنی وہ شخص اس بات کو محسوس کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ امام علیہ السلام کے تمام اقدامات و ارشادات ان ہی تینوں خطوط کے ارد گردگھومتے نظر آئیں گے جن کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے اور مجموعی طور پر ان تمام امور کا ایک ہی مقصد و ہدف یعنی ایک اسلامی حکومت کی تشکیل ہے ۔
البتہ یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ امام سجاد علیہ السلام کو ہر گز اس بات کی فکر اور جلدی نہیں تھی کہ مطلوبہ اسلامی حکومت خود آپ (ع) کے زمانے میں ہی تشکیل پاجائے بلکہ آپ (ع) جانتے تھے کہ یہ کام مستقبل قریب میں آپ (ع) کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھوں انجام پانا مقرر ہو چکا ہے ( جو آئندہ پیش آنے والے حادثات کی بنا پر دوبارہ معرض التوا میں پڑ گیا)
ہماری گزشتہ بحث اس منزل تک پہنچی تھی کہ اسلامی حکومت کی تشکیل ہمارے تمام ائمہ معصومین علیہم السلام منجملہ ان کے امام زین العابدین علیہ السلام کا بنیادی مقصد و ہدف تھا چنانچہ اس سلسلہ میں امام (ع) کی تین اہم ترین امور انجام دینے تھے کیوں کہ ان مقداماتی منزلوں کو طے کئے بغیر اسلامی حکومت کی تشکیل ممکن ہی نہیں تھی ۔
پہلا کام
لوگوں میں صحیح اسلامی طرز فکر پیدا کرنا تھا جو گزشتہ حاکمان جور کے ہاتھوں ایک مدت سے خود فراموشی یا تحریف کی نذر ہو چکا تھا چنانچہ اس کو اپنی اصلی و ابتدائی شکل و صورت میں واپس لانے کے لئے پورے اسلامی معاشرہ میں ہر خاص وعام کو جس حد تک بھی ممکن ہو سکے اور جہاں جہاں تک بھی امام (ع) کی تبلیغ و تعلیم کی آواز پہنچ سکے اسلامی اصول و حقائق سے آشنا کرنا بے حد ضروری تھا ۔
دوسرا کام
مسئلہ امامت کی حقیقت سے لوگوں کو واقف بنانا تھا یعنی عوام کے درمیان اسلامی حکومت یا اسلامی حاکمیت اور اسلامی حاکمیت کو قائم کرنے کے لئے مستحق و موزوں افراد کی نشان دہی کرنی تھی ۔ ان کو یہ بتانا تھا کہ اس وقت جو لوگ خلافت و حکومت پر براجمان ہیں حاکمان کفر و استبداد اور مربیان فسق و نفاق ہیں ۔ اور آج اسلامی معاشرہ میں عبدالملک بن مروان جیسوں کی حکومت ، وہ حاکمیت نہیں ہے جو اسلام اپنے معاشرہ کے لئے چاہتا ہے کیوں کہ جب تک عوام ان مسائل سے آگاہ و ہوشیار نہ ہوں گے اور اپنے آپ میں نہ آئیں گے رفتار زمانہ کے ہاتھوں ان پر جو بے حسی طاری ہوگئی ہے اس کے گرد و غبار جب تک ذہنوں سے صاف نہ ہو جائیں گے امام علیہ السلام کی نگاہ میں حاکمیت کا جو تصور ہے ان کے لئے کبھی قابل قبول نہ ہوگا ۔
تیسرا کام
ایک ایسی جماعت اور تنظیم تشکیل دینا جس سے وابستہ افراد دست امامت کے تربیت یافتہ مرکزی ارکان ہوں ۔
ان تینوں بنیادی کاموں کے انجام پاجانے کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلامی حکومت یا علوی نظام کے لئے زمین ہموار ہو چکی ہے ۔ البتہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں اور یہاں پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے برخلاف امام زین العابدین علیہ السلام کے پیش نظر یہ بات ہرگز نہیں تھی کہ خود ان کے زمانہ میں ہی یہ حاکمیت تبدیل ہو کر حکومت اسلامی قائم ہو جائے کیوں کہ معلوم تھا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانہ میں اس کے لئے زمین ہموار نہیں ہو سکے گی ۔ ظلم و زیادتی حبس اور گھٹن کا ماحول کچھ اتنا زیادہ تھا کہ محض ۳۰ سال کی مدت میں اس کا برطرف ہو جانا ممکن نہ تھا چنانچہ امام سجاد علیہ السلام مستقبل کے لئے زمین ہموار کر رہے تھے ۔حتٰی کہ ایسے بھی متعدد قرآئن ملتے ہیں جس کے مطابق امام محمد باقر علیہ السلام کا بھی اپنی زندگی کے دوران ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ خود اپنے دور میں ہی اسلامی حکومت تشکیل دے دیں یعنی ۶۱ ھئسے ۹۵ ھ ئتک جب کہ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی اور پھر ۹۵ ھء سے ۱۱۴ ھء تک جو امام محمد باقر علیہ السلام کا دور امامت ہے ان سے کوئی بھی خود اپنے زمانے میں ہی حکومت اسلامی تشکیل دے دینے کی فکر میں نہیں تھا لہٰذا ان کی نظر یں ایک مدت دراز کے بعد ظاہر ہونے والے نتائج پر تھیں چنانچہ جیسا کہ میں نے اشارتاً عرض کیا امام سجاد علیہ السلام کا طریقہ کار طویل المدت کے لئے تھا ۔
اب ہم امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات عالیہ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے معروضات کا ثبوت ،خود امام علیہ السلام کے اقوال میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ امام سجاد (ع)کی زندگی کے بارہ میں کوئی تحقیقی جائزہ پیش کرتے وقت ہمارے بنیادی مصادر و ماخذ خود امام علیہ السلام کے کلمات مبارکہ ہی ہونے چاہئیں ۔ اور یہی طریقہ و روش دیگر ائمہ علیہم السلام کے سلسلہ میں بھی ہم نے اختیار کیا ہے کیوں کہ ہماری نظر میں کسی بھی امام (ع) کی زندگی سے متعلق صحیح معرفت و آشنائی کے لئے خود اس امام (ع)کی زبان مبارک سے جاری ہونے والے بیانات یا روایتیں بہترین منبع و مدرک ہیں ۔لیکن ہم اس سے قبل بھی یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ ہم امام (ع) کے بیانات کو صرف اس وقت صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں جب موقف و مقصد ، راہ عمل اور تلاش و جستجو سے آشنا ہوں ور نہ ہم جوبھی تفسیر کریں گے وہ غلط ہوگی اور خود یہ آشنائی بھی ان کے کلمات کی برکت سے ہی حاصل ہوئی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ائمہ علیہم السلام کے کلمات سے کتنے صحیح نتائج اس سلسلہ میں ہم کو حاصل ہوں گے ۔
قبل اس کے کہ ہم اس بحث میں وارد ہوں ایک اہم نکتہ کی طرف بطور اختصار اشارہ کر دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ امام علیہ السلام چوں کہ انتہائی گھٹن کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ (ع) کے لئے ممکن نہیں تھا کہ کھل کر صریحی طور سے اپنے موقف اور نظر یات بیان کر سکیں لہٰذا آپ (ع)نے دعا اور موعظہ کو اپنے اظہار کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔دعا صحیفہ سجادیہ ،سے مربوط ہے جس کا ہم آئندہ ذکر کریں گے البتہ موعظہ کا تعلق ان اقوال و روایات سے ہے جو حضرت (ع) سے نقل ہوتی ہیں ۔ امام علیہ السلام کے زیادہ تر ارشادات یا شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ تمام کے تمام بیانات موعظہ کے لب و لہجہ میں ہیں ۔چنانچہ اسی موعظہ اور نصیحت کے ضمن میں وہ باتیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ، امام علیہ السلام نے بیان فرما دی ہیں ۔ جس وقت آپ ان بیانات کا نگاہ غائر سے مطالعہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ امام علیہ السلام نے کتنا حکیمانہ اور مدبرانہ طریقہ کار منتخب کیا ہے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امام علیہ السلام لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے ہیں لیکن اسی ضمن میں جوباتیں لوگوں کے ذہن میں بیٹھانا چاہتے ہیں غیر محسوس طور پر لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں اور یہ افکار و نظریات کے ابلاغ کا بہترین طریقہ ہے ۔
یہاں ہم امام علیہ السلام کے ان کلمات کی تحقیق و تشریح کرنا چاہتے ہیں جو کتاب” تحف العقول “ میں حضرت (ع) سے نقل کئے گئے ہیں ،اسی میں وہ مطالب جو امام سجاد علیہ السلام سے نقل ہوئے ہیں ہمیں چند نوعیت کے حامل نظر آتے ہیں جو ان ہی مذکورہ جہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
ان میں بعض بیانات وہ ہیں جن میں عام لوگوں سے خطاب ہے جیسا کہ خود بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے سننے اور پڑھنے والے امام علیہ السلام کے خاص الخاص افراد نہیں ہیں چنانچہ عام لوگوں سے خطاب کرتے وقت ہمیشہ قرآنی آیات سند کے طور پر پیش کی گئی ہیں کیوں کہ عوام الناس امام(ع) کو امام کی حیثیت سے نہیں پہچانتے وہ تو ہر بات کے لئے دلیل و استدلال چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ امام یا تو براہ راست آیات سے استدلال پیش کرتے ہیں یا آیات سے مدد لیتے ہیں ۔ اس روایت میں تقریبا پچاس یا اس سے بھی زائد موارد میں قرآنی آیات کا براہ راست یا استعارہ کے طور پر استعمال نظر آتا ہے ۔
لیکن بعد کے بیان میں جہاںجہاں مومنین سے خطاب ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ وہ امام کی معرفت رکھتے ہیں اور ان سے امام اپنی گفتگو کے دوران چوں کہ وہ امام کی بات قبول کرتے ہیں ،قرآن سے استدلال پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکرتے ۔ چنانچہ اگر شروع سے آخر تک جائزہ لیں تو قرآنی آیات بہت کم نظر آتی ہیں ۔
امام سے ایک مفصل روایت نقل کرتے ہوئے ” صاحب تحف العقول “ فرماتے ہیں :
”موعظته لسائر اصحابه و شیعته و تذکیره ا یاهم کل یوم جمعة “
یعنی یہ موعظہ اس لئے تھا کہ حضرت (ع) کے شیعہ اور حضرت (ع)کے دوست ہر جمعہ کے دن اپنو کے مجمع میں یا تنہا انفرادی طور پر اسے پڑھا کریں ۔ یہاں مخاطبین کا دائرہ کافی وسیع ہے اور یہ نکتہ خود اس تفصیلی روایت میں پائے جانے والے قرآئن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس روایت میں خطاب ایھا المومنین ایھا الاخوة یا اسی کے مثل کسی اور عنوان سے نہیں ہے بلکہ ایھا الناس ، سے خطاب ہے جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے جب کہ بعض دوسری روایتوں میں خود خطاب کا انداز مومنین سے خطاب ہونے کی نشان دہی کرتا ہے لہٰذا یہاں عمومی خطاب ہونا ثابت ہے ۔
اس کے علاوہ اس روایت میں موجودہ نظام کو صاف او ر صریحی انداز سے مورد مواخذہ و عتاب قرار دیئے جانے کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی صرف عقائد یا وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جن کا جاننا انسان کے لئے ضروری ہے دوسرے لفظوں میں محض اعتقاد ات و معارف اسلامی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا پورا خطاب موعظہ کے لب و لہجہ میں ہے جس کی ابتدا ان الفاظ میں ہوتی ہے:
” ایها الناس اتقوا اللّٰه و اعلموا انکم الیه راجعون “
گفتگوہی موعظہ سے شروع ہوتی ہے کہ اے لوگو ! تقوائے الٰہی اختیار کرو اور یا د رکھو کہ آخر خدا کو منھ دکھانا ہے ۔
اس کے بعد عقائد اسلامی کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمھارا فرض ہے کہ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کرو جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ تم اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے ہو گویا اس پیان کے ذیل میں لوگوں کے اندر اسلام کی صحیح شناخت کا جذبہ بیدار کر رہے ہیں ۔
اسی طرح ذرا دیکھئے کہ کتنے حسین انداز میں امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :
”الاوان اول مایسالا نک عن ربک الذی کنت تعبده “
اسی موعظانہ تقریر میں ذیل میں آگے بڑھ کر فرماتے ہیں : اس وقت سے ڈرو جب تم کو لوگ تن تنہا قبر کے حوالے کر دیں گے اور منکر و نکیر تمھارے پاس آئیں گے اور پہلی چیز جس کے بارہ میں تم سے سوال کریں گے ، تمھارے خدا سے متعلق ہوگی جس کی تم پر ستش و عبادت کرتے ہو یعنی سننے والوں کے ذہن میں توحید کا مفہوم اتار کر معرفت خدا کی لہر پیدا کر رہے ہیں ۔
”و عن نبیک الذی ارسل الیک “ اور تم سے اس نبی کے بارے میں سوال کریں گے جو تمھاری طرف بھیجا گیا تھا ۔
گویا مسئلہ نبوت اور حقیقت محمدی (ص)کے عرفان کا جذبہ زندہ کر رہے ہیں ۔
”و عن دینک الذی کنت تدین بہ “ اور اس دین کے بارے میں پوچھیں گے جس کی تم نے پیروی کی ہے ۔
”وعن کتابک الذی کنت تتلوہ “ اور تمھاری اس کتاب کے سلسلہ میں خبر لیں گے جس کی تم تلاوت کیا کرتے تھے ۔
اور پھر مذہب اسلام کے ان ہی بنیادی و اساسی مسائل و عقائد یعنی توحید ،نبوت ،قرآن اور دین کے ساتھ ہی ساتھ اپنے مد نظراصلی نکتہ کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کر دیتے ہیں ۔
”و عن امامک الذی کنت تتولاه “ اور اس امام کے بارہ میں بھی سوال ہوگا جس کی ولایت کا تم دم بھرتے رہے ہو ۔
یہاں امام علیہ السلام مسئلہ امامت کو واضح کر رہے ہیں در اصل اہمہ علیہم السلام کے یہاں مسئلہ امامت مسئلہ حکومت سے الگ نہیں ہے ائمہ کے نزدیک مسئلہ ولایت اور مسئلہ امامت میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ اگر چہ ممکن ہے ولی اور امام کے معنی آپس میں کچھ تفاوت رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں مسئلہ ----مسئلہ امامت ومسئلہ ولایت ----ائمہ کی زبان میں ایک ہیں اور ان سے ایک ہی معنی مراد ہیں اس جگہ حضرت (ع)اسی امام کے بارہ میں سوال کی بات کر رہے ہیں جو دینی طور پر لوگوں کی ہدایت و اگاہی کا بھی متکفل و ذمہ دار بنایا گیا ہے اور دنیوی اعتبار سے ان کے امور زندگی کا بھی نگراں اور ذمہ دار قرار دیا گیا ہے یعنی پیغمبر اسلام (ص) کا جانشین ۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں ،لوگ امام کا مطلب اچھی طرح سمجھنے لگے ہیں ۔ گزشتہ زمانہ میں عوام اس کا صحیح مفہوم درک کرنے سے قاصر تھے ۔ آج ہم جانتے ہیں امام یعنی معاشرہ کا رہبر و قائد ۔ امام یعنی وہ جس سے ہم دین بھی حاصل کرتے ہیں اور دنیا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی اطاعت ہم پر دینی امور میں بھی واجب ہے ار دنیوی معاملات میں بھی فرض ہے ۔
خوش قسمتی سے دور حاضر میں لفظ امام نے ہمارے ذہنوں میں اپنا صحیح مقام حاصل کر لیا ہے ورنہ آپ ملاحظہ فرمائیں صدیوں سے دنیا ئے تشیع میں یہ مسئلہ کتنی غلط فہمی کا شکار رہا ہے لوگ خیال کرنے لگے تھے کہ ایک شخص وہ ہے جو معاشرہ پر حکومت کر رہا ہے نظم زندگی سے متعلق امور اس کے ہاتھ میں ہیں بندش و آزادی سے لے کر جنگ و صلح تک سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے وہی مالیات ( ٹیکس) مقرر کرتا ہے اور وہی ہمارے اچھے اور برے کا مالک و ذمہ دار ہے اور اسی کے بالمقابل ایک شخص اور بھی ہے جس کا کام لوگوں کا دین درست کرنا ہے پہلے کو حاکم کہتے ہیں دوسرے کو غیبت کے زمانہ میں عالم اور قبل از غیبت امام کہتے ہیں یعنی ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں ایک امام کی منزل ہم وہی تصور کرنے لگے تھے جو غیبت امام کے زمانے میں ایک عالم دین کی ہوتی ہے ظاہر ہے یہ تصور قطعا غلط ہے ۔
در اصل امام، پیشوا اور ہادی کو کہتے ہیں جیسا کہ ہم صادق آل محمد علیہ السلام کے حالات زندگی کے ذیل میں اشارہ کر چکے ہیں کہ جس وقت امام منیٰ یا عرفات میں پہنچتے ہیں ایک مرتبہ یہ آواز بلند ارشاد فرماتے ہیں ۔
”یا ایها الناس ان رسول اللّٰه وهو الامام “
یعنی پیغمبر اسلام (ص) امام تھے ، امام اس کو کہتے ہیں جو لوگوں کے دین اور دنیا کا ذمہ دار ہوتا ہے ، چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کے دور میں بھی جس وقت اسلامی معاشرہ کی حکومت و فرمانروائی عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں تھی ،لوگ امام کا مفہوم غلط سمجھ بیٹھے تھے ۔معاشرہ کی امامت کا مطلب ہی لوگوں کے مسائل حیات نیز تمام بندش و آزادی کے نظام کی نگرانی و تحفظ کرنا ہے اور یہ امامت کا ایک بڑا ہی اہم شعبہ ہے ----یہ منصب اہل سے لے کر نااہلوں کے سپرد کر دیا گیا تھا ---- اور وہ نااہل خود کو امام سمجھتا بھی تھا وہی نہیں بلکہ عرصہ تک عوام بھی اس کو امام ہی سمجھا کرتے تھے ۔ چنانچہ لوگ عبد الملک سے پہلے مروان بن حکم اور اس سے پہلے یزید اور اس کے پیش رووں کو اسی طرح عبدالملک کے بعد اس کی جگہ پر آنے والے دوسرے لوگوں کو اپنا امام تصور کرتے رہے ان کو معاشرہ کا رہبر نیز لوگوں کے اجتماعی مسائل پر حاکم کے عنوان سے قبول کرتے تھے ۔ اور یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ چکی تھی۔
جس وقت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :قبر میں تم سے امامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام(ع) متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ جب نکیرین سوال کریں گے کہ آیا تم نے جس کو اپنا امام منتخب کیا تھا وہ واقعی امام تھا ؟ وہ شخص جو تم پر حکومت کر رہا تھا ، معاشرہ کی رہبری جس کے ہاتھ میں تم نے دے رکھی تھی کیا وہ حقیقتاً امام ہونے کا مستحق تھا؟ کیا وہ وہی شخص تھا جس کی امامت پر خدا راضی تھا ؟ اس کا کیا جواب دوگے ؟ یعنی اس طرح حضرت (ع) لوگوں کو اس مسئلہ کی نزاکت کا احساس دلا کر انھیں بیدار کر رہے تھے گویا بالکل غیر محسوس طور پر مسئلہ امامت جس کے سلسلہ میں بنو امیہ کی پوری مشینری کسی طرح کی کوئی بات سننے پر قطعی تیار نہ تھی امام علیہ السلام اس کو موعظہ میں ڈھال کر ایک عمومی خطاب کے ضمن میں پیش کر کے لوگوں کے ذہن و احساس کو زندہ وبیدار کر رہے تھے ۔ یہاں امام علیہ السلام کی روش اور طریقہ کار میں ٹھہراؤ پایا جاتا ہے کسی طرح کی عجلت نظر نہیں آتی ۔آگے چل کر جہاں امام (ع) نے ذرا سختی اور تیز ی سے کام لیا ہے ہم اس کا بھی ذکر کریں گے ۔
مختصر یہ کہ عوام الناس سے مربوط اپنے عمومی خطاب میں امام علیہ السلام موعظہ کی زبان میں اسلامی معارف منجملہ وہ حقائق جن پر حضرت (ع)کی خاص توجہ بھی ، لوگوں کے ذہنوں میں زندہ کر رہے ہیں آپ (ع)کی کوشش ہے کہ عوام ان چیزوں کو یاد رکھیں ۔اس قسم کے خطابات میں دو نکتے خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں ۔
اولاً یہ کہ عوام الناس سے کئے جانے والے یہ خطاب تعلیمی نقطہ نظر سے نہیں پیش کئے گئے ہیں بلکہ ان کی نوعیت تذکر و یاد دہانی کی ہے یعنی یہاں امام علیہ السلام بیٹھ کر عوام کے سامنے مسئلہ توحید کے دریچے کھولنے یا مسئلہ نبوت کی گھتیاں سلجھانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ محض تذکر و یاددہانی مقصود ہے ۔
مثلا مسئلہ نبوت کو لے لیجئے ۔ ظاہر ہے امام سجاد علیہ السلام جس معاشرہ اور جس زمانہ میں زندگی بسر کررہے تھے ابھی پیغمبر اسلام (ص) کو گزرے ہوئے اتنی زیادہ مدت نہیں ہوگئی تھی کہ مکمل طور اعتقادات اسلامی انحراف یاتحریف کا شکار ہوچکے ہوں اس زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ،اور ائمہ اطہار علیہم السلام میں سے ۔امیرالمومنین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کو دیکھنے والے بھی موجود تھے اور اجتماعی نظام کے اعتبار سے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی تھی کہ لوگ مسئلہ توحید ونبوت کے سلسلے میں یا مسئلہ معاد وقرآن کے بارے میں کسی بنیادی واصولی شک وشبہ اور تحریف سے دوچار ہوں۔ہاں یہ ضرور کہاجا سکتا ہے کہ اکثریت ان کو بھلا بیٹھی تھی ۔مادی زندگی اس بات کی موجب ہوئی کہ لوگ اسلام ،اسلامی ،اعتقادات اور ان کی عظمت واہمیت کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے ۔
معاشرہ میں دنیوی ومادی طمع نے اس شدت کے ساتھ لوگو ں کواپنا اسیر بنالیا تھا کہ اصلاًیہ فکر کہ انسانی زندگی میں معنویات وخیرات کے سلسلہ میں تقابل و موازنہ کا بھی کوئی میدان موجود ہے لوگوں کے ذہنوں سے بالکل نکل چکا تھا اور کسی کو اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوئی فکر نہ تھی اور اگر اس طرف کوئی قدم بڑھاتابھی تو اس میں ظاہر داری اور سطحیت کا عمل دخل ہوتا توحید کے وہ آثار و فواید جو پیغمبر اکرم (ص) کے دور میں یا اس سے متصل قریبی زمانہ میں لوگوں پر مرتب ہوتے تھے اور اس سلسلے میں وہ احساس و ادراک اور وہ ذمہ داری اب مفقود ہو چکی تھی لہٰذا فقط تذکر و یاد دہانی کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ادراک پیدا ہوجائے ورنہ دین میں ابھی کوئی ایسی تحریف نہیں ہوئی تھی جس کی تصحیح ضروری ہو اس کے برخلاف بعد کے زمانوں میں مثال کے طور پر امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کو لے لیجئے یہ بات اپنی حد سے آگے بڑھ چکی تھی اس وقت خود مسلمانوں کے درمیان بہت سے متکلمین یا دوسرے لفظوں میں بہت سے فلسفی اور منطقی پیدا ہو گئے تھے جو طرح طرح کے ناموں سے بڑی بڑی مسجدوں ۔ مسجد مدینہ ،مسجد شام ،حتیٰ کہ خود مسجد الحرام میں آکر بیٹھ جاتے تھے اور غلط افکار و عقائد کی باقاعدہ تعلیم و تدریس فرماتے تھے ۔
وہاں ابن ابی العوجا جیسے افراد بھی موجود تھے جو زندیقیت و دہریت ےعنی وجود خدا سے انکار کا درس دیا کرتے تھے اور اس پر استدلال بھی پیش کرتے تھے ےہی وجہ ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیانات کا ہم جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حضرت (ع)توحید و نبوت یا اسی کے مثل دوسرے مسائل باقاعدہ استدالال کے ساتھ بیان فرماتے ہیں ،ظاہر ہے دشمن کے استدلال کے خلاف استدلال کی ہی ضرورت ہوتی ہے ۔جب کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے بیانات میں یہ چیزیں نہیں ملتی ۔حضرت (ع) اسلامی مطالب پیش کرتے وقت منطقی استدلال عوام کے سامنے پیش نہیں کرتے بلکہ صرف تذکر و یاد دہانی کے طور پر اشار ہ کر دیتے ہیں ۔دیکھو !قبر میں تم سے توحید و نبوت کے سلسلہ میں سوالات کئے جائیں گے ۔آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ صرف ذہن کو ایک ٹہوکا دینے کے لئے ہے کہ انسان ان مسائل پر سوچنے کے لئے مجبور ہو جائے اور وہ چیزیں جو غفلت و فراموش کی نذر ہو چکی ہے ذہن دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے ،
خلاصہ بحث یہ کہ امام سجاد علیہ الصلوٰة و السلام کے دور میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ لوگ حتی کہ ارباب حکومت و سلطنت بھی ، اسلامی فکر و نظر سے کھل کر بغاوت و برگشتگی پر آمادہ ہو ں ہاں صرف ایک موقع مجھے نظر آیا اور اس کا اظہار یزید کے اس شعر سے ہوتا ہے جواس نے غرور ومستی میں ڈوب کر اس وقت پڑھا تھا جب خانوادہ رسول اکرم (ص) کو اسیر کرکے اس کے دربار میں پیش کیا گیا ۔وہ کہتا ہے :
لعبت هاشم باملک فلا
خبر جاء ولا وحی نزل
(معاذ اللہ)بنی ہاشم نے حکومت و سلطنت کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی یعنی اس کو دین و وحی سے کوئی مطلب نہ تھا -- چنانچہ اس مسئلہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یزید کی یہ ہرزہ سرائی ممکن ہے نشہ و مستی کے غلبہ کے سبب رہی ہو -- ورنہ حتیٰ کہ عبد الملک اور حجاج بن یوسف جیسوں میں بھی عقیدہ توحید یا عقیدہ نبوت سے کھل کر مخالفت کرنے کی جرات نہ تھی ۔عبد الملک بن مروان وہ شخص ہے جو اس کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتا تھا کہ اس کو لوگ قراء قرآن میں شمار کرتے تھے ۔ چنانچہ کہتے ہیں جس وقت اس کو خبر دی گئی کہ تم خلیفہ ہو گئے اور حکومت پر فائز ہوئے تو اس نے قرآن کو بوسہ دیا اور کہا:” ھٰذا فراق بینی و بینک “یعنی اب ہماری اور تمھاری ملاقات قیامت میں ہوگی ۔حقیقت بھی یہی تھی پھر اس کے بعد اس نے کبھی قرآن اٹھاکر نہ دیکھا ۔
حجاج بن یوسف کیسا ظالم تھا آپ نے سنا ہی ہوگا لیکن یقینا جتنا آپ نے سنا ہے وہ اس کے مظالم سے کہیں کم ہے ۔اس کے جیسا شخص بھی جب منبر سے خطبہ دیتا ہے تو لوگوں کو تقوائے الٰہی کی تلقین کرتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں جو کچھ ملتا ہے اس کا ماحصل عوام کو اسلامی افکار و نظریات کی طرف متوجہ اور خبر دار کرنا ہے تاکہ لوگوں کے فکری بہاؤ کو مادیت کے بجائے خدا ، اس کے دین اور قرآن کی طرف موڑ دیا جائے
ہم فکر جماعت کی تشکیل
بہر حال ،یہ امام علیہ السلام کے بیانات کی ایک قسم تھی ۔ دوسری قسم کے بیانات وہ ہیں جن میں امام زین العابدین علیہ السلام کے مخاطب کچھ مخصوص افراد ہیں اگر چہ یہ مشخص نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں سے خطاب ہے لیکن یہ کاملا طے ہے کہ آپ کا خطاب ایک ایسے گروہ سے ہے جو موجودہ حکومت سے بیزار اور اس کا مخالف ہے چاہے وہ جو لوگ بھی ہوں ۔اور شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ یہ وہی گروہ ہے جو امام علیہ السلام کی اطاعت اور حکومت اہلبیت (ع) پر یقین و اعتقاد رکھتا ہے ۔
کتاب” تحف العقول “میں خوش قسمتی سے امام علیہ السلام کے اس قسم کے بیانات کا ایک نمونہ موجود ہے ( ایک نمونہ اس لئے کہ جب ہم اس طرح کی دوسری کتابوں کی چھان بین کرتے ہیں تو ان میں بھی ایسے چند نمونوں کے سوا امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول کوئی اور چیز نہیں ملتی )پھر بھی انسان یہ محسوس کرسکتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں اس طرح کے بے انتہا نمونے پیش آئے ہوں گے مگر موجودہ حالات اور آپ (ع) کی حیات کے دوران پیش آنے والے طرح طرح کے حوادث گھٹن کی زندگی دشمنوں کے حملے ،اذیتیں ،اصحاب ائمہ کا قتل اور شہادت یہ سب اس بات کا باعث بنے کہ وہ گراں بہا آثار باقی نہ رہ سکے چنانچہ بہت ہی کم مقدار میں چیزیں ہمارے ہاتھ لگ سکی ہیں ۔
بہر حال امام علیہ السلام کا یہ بیان کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے :
”کفانا اللّٰه و ایاکم کید الظالمین و بغی الحاسد ین و بطش الجبارین “
خدا وند عالم ہم کو اور تم کو ظالموں کے مکر و فریب ،حاسدوں کی بغاوت و سر کشی اور جابروں کی جبر و زیادتی سے محفوظ و مامون رکھے ۔
خود خطاب کا انداز بتاتا ہے کہ امام علیہ السلام اور آپ کا مخاطب گروہ دونوں اس جہت میں شریک ہیں یعنی موجودہ حکومت و نظام کی طرف سے وہ سب کے سب خطرہ میں ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس جماعت کو لفظ مومنین یا اہلبیت کے محبین و ،مقربین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔چنانچہ اس انداز کے خطابات ”یا ایهاالموٴمنون “ سے شروع ہوتے ہیں ۔جب کہ پہلی نوعیت کے بیانات میں ”ایھا الناس“یا بعض موارد میں” یابن آدم “سے خطاب کیا گیا ہے اور یہاں ایھا المومنون ہے یعنی امام علیہ السلام کے خطاب میں اپنے مخاطبین کے صاحب ایمان ہونے کا اعتراف موجود ہے اور یہ وہ مومنین ہیں جو اہلبیت علیہم السلام اور ان کے افکار و نظر یات پر واقعی ایمان رکھتے تھے ۔
اس منزل میں جب امام علیہ السلام اپنے اصل مطلب پہ آتے ہیں تو آپ (ع)کی گفتگو بھی اس چیز کی واضح نشان دہی کرتی ہے کہ آپ (ع)کے مخاطب مومنین ۔یعنی اہلبیت علیہم السلام سے قربت رکھنے والے افراد ہیں ۔
”لا یفتننکم الطواغیت واتباعهم من اهل الرغبة فی الدنیا المائلون الیها ،المفتنون بها المقبلون علیها “
”یہ طاغوتی افراد اور ان کے مطیع و فرمانبردار جو دنیا کے حریص ،اس کے شیدائی ،اس پر فریفتہ و قربان اور اس کی طرف دوڑ نے والے لوگوں سے ہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں “
یہاں۔ مومنین سے خطاب کے وقت اصل لب و لہجہ میں ان کو شر سے محفوظ رہنے اور آئندہ ہم فکر ی کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ کیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے موجودہ طاغوتی نظام کے طرفداروں اور ائمہ کے ہمنواؤں کے درمیان اندر اندر جو شدید مخالفت اور مقابلہ آرائی جاری تھی اس کی وجہ سے ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں کو بڑی سخت محرومیت اور رنج و مصیبت جھیلنی پڑ رہی تھی ۔
چنانچہ امام علیہ السلام کے اس بیان میں اس نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مومنین کو اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا کی وقتی تڑک بھڑک اور جھوٹی نمائش کے چکر میں اگر آگئے تو اس کی قیمت کے طور پر تم کو اہل طاغوت سے ہاتھ ملانا پڑے گا ۔اور یہ انداز اور لب و لہجہ نہ صرف اس بیان میں بلکہ امام علیہ السلام سے منقول اور بھی بہت سے دوسرے مختصر اقوال و روایات میں آپ مشاہدہ فرماسکتے ہیں ۔اگر آپ ان کو دیکھیں تو محسوس کریں گے کہ امام علیہ السلام نے لوگوں کو دنیا سے پر ہیز کی دعوت دی ہے ۔
دنیا سے پرہیز سے کیا مطلب ہے ؟ یعنی لوگوں کو اس لہر سے محفوظ رکھیں جو انسان کو ناز و نعم میں غرق کر دیتی ہے اور اس کے دام میں گرفتار ہو کر انسان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اس کی انقلابی جد و جہد سرد پڑ جاتی ہے ۔اور یہ دعوت مومنین سے متعلق خطابات میں ملتی ہے عوام الناس سے خطاب کے دوران یہ انداز بہت کم نظر آتا ہے ۔عوام سے خطاب کے وقت ،جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں زیادہ تر جولب و لہجہ اپنایا گیا ہے وہ ہے کہ : لوگو، خدا کی طرف متوجہ رہو قبر و قیامت کا دھیان رکھو ،اپنے کو کل کے لئے آمادہ کر و یا اسی طرح کی دوسری باتیں۔
ان حقائق کی روشنی میں اگر کوئی سوال کرے کہ اس دوسرے قسم کے خطابات سے امام علیہ السلام کا مقصد کیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام ایک ہم فکر جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں امام (ع) چاہتے ہیں کہ کسی ضروری موقع کے لئے مومنین کا ایک گروہ رہے یہی وجہ ہے ان لوگوں کو اعلیٰ اقتدار کی ہوس اور جھوٹی مراعات کی چکا چوند سے محفوظ رکھیں اس دوسرے قسم کے بیان میں امام (ع) بار بار موجودہ حاکم نظام کا تذکرہ کرتے ہیں جب کہ گزشتہ قسم کے بیان میں یہ چیز اتنی وضاحت کے ساتھ نظر نہیں آتی یہاں امام سجاد علیہ السلام بڑے ہی سخت لب ولہجہ میں حکومتی مشینری کو مورد ملامت قرار دیتے ہوئے اس کو شیطان کا ہم پلہ بتاتے ہیں مثال کے طور پر فرماتے ہیں ۔
”وان الا مور الواردة علیکم فی کل یوم و لیلة من مظلمات الفتن و حوادث البدع و سنن الجور و بوائق الزمان “
تم لوگ جن امور سے ہر شب و روز دو چار رہتے ہو (یعنی) یہ ظلمت خیز فتنے نئی نئی بدعتیں ----وہ بدعتیں جو ظالم نظام کی اختراع ہیں ---- ظلم و جور پر مبنی سنتیں اور زمانہ بھر کی سختیاں ۔
”و هیبة السلطان “ یہ سلطنت کا خوف و ہراس ۔
”ووسوسة الشیطان “ اور شیطانی وسوسے ۔
یہاں امام علیہ السلام ذکر سلطان کے فورا بعد وسوسہ شیطان کا ذکر کر تے ہیں یعنی پوری صراحت کے ساتھ حاکم وقت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو شیطان کا دست راست قرار دیتے ہیں ۔گفتگو کے آخر میں امام (ع) ایک نہایت ہی عمدہ جملہ ارشاد فرماتے ہیں چوں کہ یہ جملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا ہم اسے یہاں نقل کر دینا چاہتے ہیں یہ جملہ اسی مطلب کی نشان دہی کرتا ہے جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کر چکے ہیں ۔امام (ع)فرماتے ہیں :
”لتثبط القلوب عن نیتها “
یہ حوادث جو انسانی زندگی میں شب و روز پیش آتے ہیں ۔خصوصا ایسے گھٹن کے ماحول میں دلوں کو ان کی نیت اور جہت سے موڑ دیتے ہیں ، جہاد کے شوق اور اس کے محرکات کو ختم کر دیتے ہیں ۔
-- ”وتذهلها عن موجود الهدیٰ“
موجودہ ہدایت کو یعنی وہ ہدایت جو موجودہ معاشرہ میں پائی جاتی ہے اس کی طرف سے ذہنوں کو غافل و برگشتہ کر دیتے ہیں ۔
”ومعرفة اهل الحق “
(اور انسان سے ) اہل حق کی معرفت سلب کرکے فراموشی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اہل حق کی یاد کو ان کے دلوں میں باقی نہیں رہنے دیتے ۔
امام علیہ السلام کے اس پورے بیان میں وہی اسلوب وانداز پایا جاتا ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا ہے یعنی لوگوں کو موعظہ و نصیحت کے انداز میں خبر دار کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے حوادث زندگی ان کو ان کی مجاہدانہ روش سے غافل بنا دیں اور انھیں ان کے راستہ سے منحرف کردیں اور دل و دماغ اس کی یاد سے خالی ہو جائے ۔ امام علیہ السلام کے ایسے متعدد بیانات ملتے ہیں جن میں سلطان و حاکم جور کا ذکر کیا گیا ہے ۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
”وایاکم و صحبة العاصین و معونة الظالمین “
ایسا نہ ہوکہ تم لوگ گناہ گاروں کی ہم نشینی اختیار کو لو اور ستم گروں کی مدد کرنے لگو۔یہاں گناہگاروں سے مراد کون لوگ ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو عبدالملک کے ظالمانہ نظام کا جز بن چکے ہیں ۔ امام علیہ السلام ان کی ہم نشینی سے منع کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگ ظالموں کی مدد کا ذریعہ بن جاؤ۔
اب ان حقائق کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر پر دہ تخیل پر اتار کر دیکھئے کہ حضرت کی کیسی شخصیت آپ کے ذہن میں ابھر کر سامنے آتی ہے آیا اب بھی وہی مظلوم و بے زبان کمزور و بیمار امام جو امور زندگانی سے کوئی مطلب نہیں رکھتا آپ کے ذہن میں آتاہے ؟! امام علیہ السلام اپنے کچھ مومن دوستوں طرفداروں اور بہی خواہوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کو ظالم حکام اور درباریوں کی قریب وہم نشینی نیز اپنی مقدس مہم اور جد و جہد سے غافل و بے پرواہ ہونے سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں اور ان کو اجازت نہیں دےتے کہ وہ اپنی مجاہدانہ سر گرمیوں سے منحرف ہو جائیں ۔ امام علیہ السلام ان کے ایمانی جذبات کو تر و تازہ اور زندہ و باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایک روز ان کا وجود اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں موثر ثابت ہو سکے ۔
فلسفہ امامت ،امام علیہ السلام کی نظر میں
منجملہ ان تمام چیزوں کے جو امام علیہ السلام کے بیا نا ت کے اس حصہ میں مجھے نہایت ہی اہم اور قابل توجہ نظر آئیں حضرت (ع)کے وہ ارشادات بھی ہیں جن میں اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ افراد کے گزشتہ تجربات کا آپ نے ذکر فرمایا --- بیان کے اس حصہ میں جناب امام سجاد (ع)لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :کیا تم لوگوں کو یاد ہے (یا تم کو اس بات کی خبر ہے )کہ گزشتہ ادوار میں ظالم و جابر حکمرانوں نے تم پر کیا کیا زیادتیاں کی ہیں --- یہاں ان مصیبتوں اور زیادتیوں کی طرف اشارہ مقصود ہے جو محبان اہل بیت (ع)کو معاویہ ،یزید اور مروان وغیرہ کے ہاتھوں اٹھانی پڑی ہیں چنانچہ امام علیہ السلام کا اشارہ واقعہ کربلا ،واقعہ حرہ ،حجر بن عدی اور رشید ہجری وغیرہ کی شہادت نیز ایسے بہت سے مشہور و معروف ،اہم ترین حادثوں کی طرف ہے جس کا اہل بیت (ع) کے مطیع و ہمنوا افراد گزشتہ زمانوں میں ایک طویل مدت سے تجربہ کرتے چلے آرہے تھے اور وہ واقعات ان کے ذہنوں میں ابھی موجود تھے ۔ امام علیہ السلام چاہتے ہیں کہ گزشتہ تجربات اور تلخ ترین یادوں کو تازہ کرکے لوگوں کے مجاہدانہ عزم و ارادہ میں مزید پختگی پیدا کریں ۔مندرجہ ذیل عبارت پر ذرا توجہ فرمایئے:
”فقد لعمری استدبرتم من الا مور الماضیة فی الایام الخالیة من فتن المتراکمة والانهماک فیها ماتستد لون به علی تجنب الغوة و “
میری جان کی قسم ،وہ گزشتہ واقعات جو تمھاری آنکھوں کے سامنے گزر چکے ہیں ---فتنوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جس میں ایک دنیا غرق نظر آتی تھی تم لوگوں کو ان حوادث و تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے --- اور ان کو اپنے لئے درس و استدلال بناتے ہوئے زمین پر فساد پرپا کرنے والے گمراہ اور بدعتی افراد سے دوری و اجتناب کر لینا چاہئے۔
یعنی تمھیں اس بات کا بخوبی تجربہ حاصل ہے کہ اہل بغی و فساد ۔یعنی یہی حکام جور ،جب تسلط حاصل کر لیں گے تو تمھارے ساتھ کس طرح پیش آئیں گے ۔گزشتہ تجربات کی روشنی میں تم جانتے ہو کہ تمھیں ان لوگوں سے دور رہنا چاہئے ،اور ان کے مقابلہ میں صف آرائی کرنی چاہئے ۔
امام علیہ السلام نے اپنے بیان میں مسئلہ امامت کو بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے ،مسئلہ امامت یعنی یہی خلافت و ولایت ،مسلمانوں پر حکومت کرنے اور نظام اسلامی کے نافذ کرنے کا مسئلہ ہے ،یہاں امام سجاد علیہ السلام مسئلہ امامت کتنے واضح انداز سے بیان کرتے ہیں جب کہ اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ اس قسم کے مسائل اس صراحت کے ساتھ عوام میں پیش نہیں کئے جا سکتے تھے امام (ع) فرماتے ہیں :
”فقد موا امراللّٰه وطاعته وطاعته من اوجب اللّٰه طاعته “
فرمان الٰہی اور اطاعت رب کو مقدم سمجھو اور اس کی اطاعت و پیروی اختیار کرو جس کی اطاعت و پیروی خدانے واجب قرار دی ہے ۔
امام علیہ السلام نے اس منزل میں امامت کی بنیاد اور فلسفہ کو شیعی نقطہ نظر سے پیش کیا ہے خدا کے بعد وہ کون سے لوگ ہیں جن کی اطاعت کی جانی چاہئے ؟ وہ جن کی اطاعت خدا نے واجب قرار دی ہے اگر لوگ اس وقت اس مسئلہ پر غور فکر سے کام لیتے تو بڑی آسانی سے یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ عبدالملک کی اطاعت واجب نہیں ہے کیوں کہ خدا کی طرف سے عبد الملک کی اطاعت واجب کئے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،عبد الملک کا اپنے تمام ظلم و جور اور بغی وفساد کی وجہ سے لائق اطاعت نہ ہونا ظاہر ہے ۔ یہاں پہلے تو امام علیہ السلام مسئلہ امامت بیان فرماتے ہیں اس کے بعد صرف ایک شبہ جو مخاطب کے ذہن میں باقی رہ جاتا ہے اس کا بھی ازالہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں :
”ولا تقدموا الا مور الواردة علیکم من طاعة الطواغیت و فتنة زهرة الدنیا بین یدی امراللّٰه و طاعته و طاعة اولی الامر منکم “
اور جو کچھ تم پر طاغوتوں ------عبد الملک وغیرہ ------ کی طرف سے عائد کیا جاتا ہے اس کو خدا کی اطاعت کے زمرہ میں رکھتے ہوئے خدا کی اطاعت اس کے رسول کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت پر مقدم قرار نہ دو ۔
اصل میں امام علیہ السلام نے اپنے بیان کے اس ٹکڑے میں بھی مسئلہ امامت بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے ۔
حضرت (ع) نے گزشتہ بیان میں بھی اور اس بیان میں بھی دو بنیادی اور اساسی مسائل پر توجہ دلائی ہے چنانچہ دونوں بیانات میں مذکورہ تین مراحل تبلیغ میں سے دو مرحلے یعنی لوگوں کے اسلامی افکار و عقائد کی یاد دہانی تاکہ لوگ عقائد اسلامی کا پاس و لحاظ کریں اور ان دینداری کا شوق پیدا ہو سکے اور اس کے بعد دوسرا مسئلہ ” ولایت امر“ یعنی نظام اسلامی میں حکومت و قیادت کا استحقاق واضح کرنا ہے ۔ امام علیہ السلام اس وقت لوگوں میں ان دونوں مسائل کو بیان کرتے ہیں اور درحقیقت اپنے مد نظر نظام علوی یعنی اسلامی و الٰہی نظام کی تبلیغ کرتے ہیں ۔
تنظیم کی ضرورت
امام علیہ السلام کے یہاں ایک تیسری نوعیت کے حامل بیانات بھی ملتے ہیں جوان دونوں سے بھی زیادہ توجہ کے مستحق ہیں ان بیانات میں حضرت (ع) کھلے طور پر لوگوں کو ایک اسلامی تنطیم کی تشکیل کی طرف متوجہ کرتے ہیں البتہ یہ بات ان ہی لوگوں کے درمیان ہوئی ہے جن کو امام (ع) کا اعتماد حاصل رہا ہے ورنہ اگر عام لوگوں کو اس قسم کی کسی جماعت کی تشکیل کی دعوت دی گئی ہوتی تو اس کا پردہ راز میں رہنا مشکل ہو جاتا اور حضرت (ع)کے لئے بڑی زحمت او رپریشانی کا سبب بن جاتا ۔خوش قسمتی سے ” تحف العقول “ میں اس نوعیت کے بیانات کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں ۔امام (ع) کا بیان یوں شروع ہوتا ہے ۔
”ان علامة الزاهدین فی الدنیا الراغبین فی الآخرة ترکهم کل خلیط و خلیل و رفضهم کل صاحب لایرید ما یریدون “
دنیا کے وہ زاہدین جو دنیا کے پیچھے نہیں بھاگتے اور اپنی دلچسپی آخرت پر مرکوز رکھتے ہیں ان کی پہچان اور علامت یہ ہے کہ ان کے جو دوست اور ساتھی ہم فکر و ہم عقیدہ بلکہ ہم دل اور ہم مشرب نہیں ہوتے ان کو ترک کردیتے ہیں ۔کیا یہ واضح طور ایک شیعی تنظیم کے تشکیل کی دعوت نہیں ہے ؟!
اس بیان سے لوگوں کویہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ جو ان کے مطالبات و خیالات سے اتفاق نہیں رکھتے اور جن کے احساس و جذبات بالکل مختلف ہیں جو حکومت حق یعنی علوی نظام نہیں چاہتے وہ ان سے کنارہ کش ہو کر ان کے لئے اجنبی اور بیگانہ بن جائیں ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے یہاں آمد و رفت اور تعلقات ختم کر لیں یہ تعلقات ویسے ہی ہوں جیسے پہلے تھے یعنی ان سے ملیں لیکن احتیاط کے ساتھ ۔
امام فرماتے ہیں وہ لوگ جو تمھاری فکر و عزائم سے متفق نہ ہوں یا ہدف و مقصد سے ہم آہنگی نہ رکھتے ہوں ان کے ساتھ تمھارے معاملات اور آمد و رفت کسی اجنبی اور بیگانے کے مانند ہونی چاہئے ان سے دوستانہ تعلقات ختم کر دینے چاہئے ۔
میں سمجھتا ہوں اس طرح کے مزید بیانات خود امام سجاد علیہ السلام کے یہاں نیز دیگر ائمہ علیہم السلام کے یہاں بھی مل جائیں گے بلکہ دیگر ائمہ علیہم السلام کے ارشادات میں یہ چیزیں زیادہ مل جائے گی جہاں تک خود میری نظر ہے اس طرح کے بیانات امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام نیزان کے بعد کے کم از کم تین چار ائمہ کے یہاں مجھے ملے ہیں حتی کہ امیر المومنین علیہ السلام کے فرمودات میں بھی منظم و مرتب اسلامی جماعت کی تشکیل کی طرف اشارے موجود ہیں ،البتہ یہاں اس تفصیل طلب موضوع پر زیادہ بحث کی کنجائش نہیںہے ۔
امام زین العابدین علیہ السلام کے کچھ بیانات و ارشادات ایسے بھی ہیں جن میں پیش کئے جانے والے مطالب کلی نوعیت کے حامل ہیں ان میں ان مخصوص پہلوؤں کو مورد بحث نہیں قرار دیا گیا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ۔مثال کے طور پر امام سجاد (ع) کا ایک رسالہ ،حقوق سے متعلق ہے جو در اصل آپ کا ایک نہایت ہی مفصل خط ہے اور ہماری اصطلاح میں اس کو ایک مستقل رسالہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ،جی ہاں !یہ کتاب جو رسالہ حقوق کے نام سے مشہور ہے حضرت (ع)کا ایک خط ہے جو آپ نے اپنے کسی محب کو لکھا ہے اور اس میں ایک دوسرے کے تئیں انسانی حقوق و ذمہ داری کا ذکر فرمایا ہے ،یقینا یہ ایک رسالہ سے کم نہیں ہے ۔امام علیہ السلام نے اس خط میں مختلف جہتوں سے لوگوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں ان کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔مثلا خدا کے حقوق ،اعضا ؤجوارح کے حقوق ،کان کے حقوق ،آنکھ کے حقوق ،زبان کے حقوق ،ہاتھ کے حقوق وغیرہ اسی طرح اسلامی معاشرہ پر حاکم فرمانروا کے عوام پر کیا حقوق ہیں ،عوام کے حاکم پر کیاحقوق ہیں ،دوستوں کے حقوق ،پڑسیوں کے حقوق ،اہل خاندان کے حقوق ------ اور ان تمام حقوق کااس عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس کا ایک اسلامی نظام میں زندگی بسر کرنے والے شخص کو پاس لحا ظ رکھنا ضروری ہے گویا امام علیہ السلام نے بڑے ہی نرم انداز میں حکومت سے مقابلہ آرائی یا آئندہ نظام کا حوالہ دئیے بغیر مستقبل میں قائم کئے جانے والے نظام کی بنیادوں کو بیان کردیا ہے کہ اگر ایک روز خود امام سجاد (ع)کے زمانہ حیات میں (جس کا اگر چہ احتمال نہیں پایا جاتا تھا ) یا آپ کے بعد آنے والے زمانہ میں اسلامی نظام حکومت قائم ہو جائے تو مسلمانوں کے ذہن ایک دوسرے کے تئیں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے پہلے سے مانوس رہیں ۔دوسرے لفظوں میں لوگوں کو آئندہ متوقع اسلامی حکومت کے اسلام سے آشنا بنادینا چاہتے ہیں ۔یہ بھی امام علیہ السلام کے بیانات کی ایک قسم ہے جو بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے ۔
ایک قسم وہ بھی ہے جس کا آپ صحیفہ سجادیہ میں مشاہدہ فرماتے ہیں ظاہر ہے صحیفہ سجادیہ سے متعلق کسی بحث کے لئے بڑی تفصیل و تشریح کی ضرورت ہے ۔مناسب یہی ہے کہ کوئی اس کتاب پر باقاعدہ کام کرے ۔صحیفہ سجادیہ دعاؤں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں ان تمام موضوعات کو مورد سخن قرار دیا گیا ہے جن کی طرف بیدار و ہوشمند زندگی میں انسان متوجہ ہوتا ہے ۔ان دعاؤں میں زیادہ تر انسان کے قلبی روابط اور معنوی ارتباطات پر تکیہ کیا گیا ہے اس میں بے شمار مناجاتیں اور دعائیں مختلف انداز سے معنوی ارتقا ء کی خواہش و آرزو سے مملو ہیں ۔امام علیہ السلام نے ان دعاؤں کے ضمن میں دعاؤں کی ہی زبان سے لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی زندگی کا ذوق و شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
دعا کے ذریعہ جو فائدہ اٹھائے جا سکتے ہیں ان میں ایک وہ بھی ہے جسے میں بارہا ذکر کر چکا ہوں کہ دعا لوگوں کے قلوب میں ایک صحیح و سالم محرک و رجحان پیدا کردیتی ہے جس وقت آپ کہتے ہیں :
”اللهم اجعل عواقب امورنا خیرا “
”خدایا ہمارا انجام بخیر فرما “
ظاہر ہے آپ کے دل میں اس وقت انجام کار کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور آپ عاقبت کی فکر میں لگ جاتے ہیں بعض وقت انسان اپنی عاقبت سے غافل رہ جاتا ہے اپنے حال میں مست زندگی گزارتا رہتا ہے اور اس بات کی فکر نہیں کرتا کہ عاقبت کا تصور انسانی سرنوشت کے تعین میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے ،جب دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے یک بیک ذہن اس طرف متوجہ ہوا اور انجام کار پر نظر رکھنے کا جذبہ بیدار ہوگیا ۔اور پھر آپ اس فکر میں پڑگئے کہ ایسے امور انجام دیں جو آپ (ع) کی عاقبت بہتربنا سکیں ویسے اس کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے یہ ایک دوسری بحث ہے ۔میں تو اس مثال کے ذریعہ صرف اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا کہ دعا کس طرح انسان کے اندر ایک صحیح اور سچا جذبہ بیدار کر دیتی ہے ۔صحیفہ سجادیہ(ع) ایک ایسی کتاب ہے جو شروع سے آخر تک دعاؤں کے جامہ میںایسے ہی اعلیٰ جذبات و افکار سے معمور ہے جن پر انسان اگر غور کرے تو صرف یہی صحیفہ سجادیہ ایک معاشرہ کی اصلاح اور بیداری کے لئے کافی ہے ۔
فی الحال اس بحث کو ہم یہیں ختم کرتے ہیں البتہ اس کے علاوہ بھی ایسی بہت چھوٹی چھوٹی رواتیں ہیں جو امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں جس کا ایک نمونہ ہم گزشتہ بحث کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولا حریدع هٰذه اللماظة لاهلها “
” لما ظلۃ “ یعنی کتے کا بچا ہوا کھانا ،ملاحظہ فرمایئے امام علیہ السلام کا یہ بیان کتنا اہم ہے ۔آیا ایک حریت پسند ایسا نہیں ہے جو کتّے کی بچی ہوئی غذا اس کے اہل کے لئے چھوڑدے !کتّے کی بچی ہوئی غذا کا کیا مطلب ہے ؟ یہی دنیوی آرائش ،اونچے اونچے محل ،شان و شوکت اور تڑک بھڑک ۔ وہ چیزیں جن کی طرف تمام کمزور دل افراد عبدالملک کے دور میں کھنچے چلے جارہے تھے ۔اسی چیز کو امام علیہ السلام نے لفظ لماظہ سے تعبیر کیا ہے ۔وہ تمام لوگ جو عبد الملک کی غلامی یا اس کے غلاموں کی غلامی میں مشغول تھے یا جو کچھ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا تھا اس سے راضی تھے ،ان سب کا مقصد یہی کتے کی بچی ہوئی غذا کا حاصل کرنا تھا امام علیہ السلام اسی لئے فرماتے ہیں کہ کتے کی بچی ہوئی غذا کے پیچھے نہ بھاگتے پھرو تاکہ مومنین کرام عبدالملک کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر اس کی طرف جذب نہ ہونے پائیں ۔
اس طرح کے نہایت ہی قابل توجہ انقلابی بیانات امام علیہ السلام کے ارشادات میں بہت ملتے ہیں جن کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ ذکر کریں گے ۔اسی فہرت میں حضرت علیہ السلام کے اشعار بھی شامل ہیں حضرت امام سجاد علیہ السلام نے اشعار بھی کہے ہیں اور ان اشعار کے مضامین بھی اسی قسم کے ہیں انشاء اللہ ہم آگے اس سلسلے میں روشنی ڈالیں گے ۔
درباری علماء پر امام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید
امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات اور طرز زندگی سے متعلق مسائل کی تشریح کرتے ہوئے ہم اپنی بحث کے اس موڑ پر آپہنچے ہیں جہاں زمین ایک ایسی عظیم اسلامی تحریک مہمیزکرنے کے لئے ہموار ہوچکی ہے ۔جس کا حکومت علوی اور حکومت اسلامی پرمنتہی ہوناممکن نظر آنے لگا ہے اس صورت حال کو بطور مختصر ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ امام علیہ السلام کے طریقہ و روش میں کچھ لوگوں کے لئے ( معارف اسلامی کا) بیان و وضاحت کچھ لوگوں کے لئے خود کو منظم و مرتب کرنے کی تلقین اور کچھ افراد وہ بھی تھے جن کے لئے عمل کی راہیں معین و مشخص ہو جاتی تھیں یعنی اب تک کے معروضات کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر کاجو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس کے تحت حضرت (ع) اپنے تیس ،پینتیس سال اس کوشش میں صرف کردیتے ہیں کہ عالم اسلام کے شدت کے ساتھ برگشتہ ماحول کو ایک ایسی سمت کی طرف لے جائیں کہ خود آپ (ع)کے لئے یا آپ (ع)کے جانشینوں کے لئے اس بنیادی ترین جد و جہد اور فعالیت کے لئے موقع فراہم ہو سکے جس کے تحت ایک اسلامی معاشرہ اور الٰہی حکومت قائم ہو سکے ۔چنانچہ اگر امام سجاد علیہ السلام کی ۲۵ سالہ سعی و کوشش ،ائمہ علیہم السلام کی زندگی سے جد اکر لی جائے تو ہرگز وہ صورت حال تصور نہیں کی جاسکتی جس کے نتیجہ میں امام صادق علیہ السلام کو اولا حکومت بنی امیہ اور پھر حکومت بنی عباس کے خلاف اتنی کھلی ہوئی واضح پالیسی اپنانے کا موقع ہاتھ آیا ۔
ایک اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لئے فکری و ذہنی طور پر زمین ہموار کرنا تمام چیزوں سے زیادہ لازم و ضروری ہے ۔اور یہ ذہنی و فکری آمدگی ،اس وقت کے ماحول اور حالات میں جس سے عالم اسلام دو چار تھا ،وہ کام تھا جو یقینا ایک طویل مدت کا طالب ہے اور یہی وہ کام ہے جو امام زین العابدین علیہ السلام نے تمام تر زحمت اور صعوبت و مصیبت کے باوجود اپنے ذمہ لیا تھا ۔
اس عظیم ذمہ داری کے دوش بدوش امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں ایک اور تلاش و جستجو جلوہ گر نظر آتی ہے جو در اصل سابق کی تیار کردہ زمین کو مزید ہموار کرنے کی طرف امام (ع) کے ایک اور اقدام کی مظہر ہے اس طرح کی کوششوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے اور بعض اوقات بے حد سخت شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کا ایک نمونہ امام علیہ السلام کا حکومت و قت سے وابستہ اور ان کے کار گزار محدثوں پر کڑی تنقید ہے ۔ موجو دہ بحث میں اسی نکتہ پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔
آئمہ علیہم السلام کی زندگی سے متعلق ولولہ انگیز ترین بحثوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرہ کی فکر و ثقافت کو رنگ عطا کرنے والے افراد یعنی علماء( ۱ ) و شعراء کے ساتھ ان بزرگواروں کا برتاؤ کیسا رہا ہے ؟ اصل میں عوام کی فکری و ذہنی تربیت و رہبری ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں تھی ،خلفاء بنی امیہ و بنی عباس معاشرہ کو جس رخ پر لے جانا پسند کرتے تھے یہ لوگ عوام کو اسی راہ پر لگا دیتے تھے گویا خلفاء کی اطاعت اور تسلیم کا ماحول پیدا کرنا ان ہی حضرات کا کام تھا چنانچہ ایسے افراد کے ساتھ کیا روش اور طرز اپنایا جائے دیگر ائمہ علیہم السلام کی طرح امام سجادعلیہ السلام کی زندگی کا بھی ایک بڑا ہی اہم اور قابل توجہ پہلو ہے۔
حدیث گڑھنا ظالموں کی ایک ضرورت
جیسا کہ ہم جانتے ہیں خلفائے ظلم و جور کے سامنے ،اسلام کا عقیدہ رکھنے والوں پر اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارا ہی نہیں تھا کہ وہ جو کچھ بھی انجام دینا چاہتے ہیں اس کی طرف لوگوں کے قلبی ایمان کو جذب کریں کیوں کہ اس وقت زمانہ صدر اسلام گزرے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لوگوں کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ و ایمان باقی تھا اگر لوگوں کو یقین پیدا ہو جاتا کہ یہ جو ظالم کی انھوں نے بیعت کی ہے درست نہیں ہے یا یہ خلیفہ رسول اللہ (ص) کی خلافت کے لائق نہیں ہے یقینا اپنے آپ کو ان کے حوالے نہ کرتے ۔اور اگر یہ بات ہم سب کے لئے قبول نہ کریں تو بھی اسلامی معاشرے میں یقینا ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے تھے جو پورے ایمان قلبی کے ساتھ خلفاء کے دربار کی غیر اسلامی صورت حال کو تحمل کر رہے تھے یعنی ان کا خیال تھا کہ یہی اسلامی شان ہے ۔یہی وجہ تھی کہ خلفائے جور نے اپنے دور کے زیادہ سے زیادہ دینی علماء اور محدثین کے خدمات سے استفادہ کیا اور ان لوگوں کو جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کے لئے آمادہ کیا اور پھر ان سے کہا کہ ان کی مرضی کے مطابق خود پیغمبر اسلام (ص) اور ان کے بزرگ اصحاب سے جعلی حدیثیں روایت کریں ۔
حدیث گڑھنے کے کچھ نمونے
اس سلسلہ میں مثالیں موجود ہیں جو انسان کو لرزا دیتی ہیں ،نمونہ کے طور پر ہم یہ حدیث نقل کرتے ہیں -:
معاویہ کے زمانہ میں ایک شخص کی کعب الاحبار( ۲ ) سے مڈبھیڑ ہو گئی ، کعب الاحبار چوں کہ معاویہ نیز دیگر شاہی امراء کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا تھا ،اس لئے اس شخص سے سوال کیا ۔کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟
اہل شام سے ہوں ۔
شاید تم ان لشکریوں میں سے ہو جن کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کتاب کے وارد بہشت ہوں گے !۔
وہ کون لوگ ہیں ؟
وہ سب اہل دمشق ہیں ۔
نہیں میں اہل دمشق نہیں ہوں ۔
پس شاید تو ان لشکریوں میں سے ہے کہ خدا جن کی طرف ہر روز دو بار نگاہ (لطف) کرتا ہے !!۔
وہ کون لوگ ہیں ؟
اہل فلسطین ۔
اگر وہ آدمی کہہ دیتا میں اہل فلسطین سے نہیں ہوں ،تو شاید کعب الاحبار ایک ایک کرکے بعلبک طرابلس اور شام کے بقیہ تمام شہروں کے ساکنین کے لئے حدیثیں نقل کرتا رہتا اور ثابت کر دیتا کہ یہ سب نہایت ہی صالح و شائستہ افراد ہیں ! سب کے سب اہل بہشت ہیں !!کعب الاحبار یہ حدیثیں یا تو شامی امراء کی خوشامد اور چاپلوسی میں گڑھا کرتا تھا تاکہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ انعام و مدد حاصل کرکے ان کا محبوب و مقرب بن سکے یا یہ کہ اس کے اس عمل کی جڑیں اس کی اسلام دشمنی میں تلاش کرنی پڑیں گی جس کا مقصد احادیث اسلامی خلط ملط کرکے اقوال پیغمبر اسلام (ص) کو مشتبہ اور ناقابل شناخت بنانا رہا ہوگا۔
تذکرہ اور رجال و حدیث کی کتابوں میں اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک اس امیر کی داستان ہے جو اپنے فرزند کو ایک مکتب میں داخل کرتا ہے اور وہاںمہتمم متکب اس کی پٹائی کر دیتا ہے ،لڑکا روتا دھوتا گھر پہنچ کر جب باپ کو اپنی پٹائی کی خبر دیتا ہے تو باپ غصہ میں بپھرا ہو ا کہتا ہے : ابھی جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس مہتمم مکتب کے خلاف ایک حدیث وضع کرو تاکہ مکتب کا مہتمم دوبارہ اس قسم کی غلطی کرنے کی جرات نہ کرے !!
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے لئے حدیث گڑھ لینا اس قدر آسان ہو چکا تھا کہ بچوں کی آنکھوں سے ڈھلنے والے آنسوؤں کے قطرے ،خود مہتمم مکتب یا اس کے وطن و شہر کے خلاف ایک حدیث ڈھالنے کے لئے کافی ہوتے تھے ،بہر صورت یہی حالات اس بات کا سبب بنے کہ دنیا ئے اسلام میں ہی اسلام سے برگشتہ ایک خود ساختہ مخلوط و مجعول ذہنیت اور تہذیب و ثقافت پھلنے پھولنے لگی ،اور اس غلط ذہنیت کو جنم دینے والے وہی علماء اور محدثین تھے جو اپنے زمانہ کے صاحبان اقتدار و منصب کے ہاتھوں بکے ہوئے تھے چنانچہ ،ایسے سخت ترین حالات میں اس گروہ سے ٹکر لینا بہت ہی اہم اور فیصلہ کن ہے ۔
____________________
(۱)۔یہاں علماء سے مراد اس زمانہ کے علمائے دین ہیں جن میں محدثین ،مفسرین قراء ، قاضی صاحبان اور زاہد منشی سب ہی شامل تھے ۔
(۲)۔کعب الاحبار ایک یہودی تھا جو دوسرے دور خلافت میں مسلمان ہو گیا ،اس کی بیان کردہ حدیثوں کے بارے میں بہت زیادہ شک و شبہ پایا جاتا ہے نہ صرف شیعوں کے درمیان بلکہ بہت سے اہل سنت حضرات بھی اس کی حدیثوں کے بارہ میں یہی گمان رکھتے ہیں البتہ بعض اہل سنت نے اس کو قبول بھی کیا ہے
محمد زہری کی چند جعلی حدیثیں
اب ہم اس کاایک نمونہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی سے نقل کرتے ہیں یہ نمونہ محمد بن شہاب زہری(۱) کے ساتھ حضرت (ع) کے طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے ۔
محمد بن شہاب زہری شروع میں امام سجاد علیہ السلام کے شاگردوں اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں میں نظر آتا ہے یعنی یہ وہ شخص ہے جس نے حضرت (ع)سے علوم حاصل کئے ہیں اور حضرت (ع)سے حدیثیں بھی نقل کی ہیں پھر بھی رفتہ رفتہ ---اپنے اندر پائے جانے والی جسارت کے باعث ----یہ شخص دربار خلافت سے قریب ہو تا گیا اور پھر ان درباری علماء محدثین کے زمرہ میں شامل ہو گیا جو ائمہ علیہم السلام کے بالمقابل، کھڑے کئے گئے تھے ۔
محمد بن شہاب زہری کی افتاد طبع سے مزید آشنائی پیدا کرنے کے لئے پہلے ہم اس کے بارہ میں چند حدیثیں نقل کرتے ہیں ۔
ان میں ایک حدیث وہ ہے جس میں وہ خود کہتا ہے ”کنا نکره کتابُ العلم حتی اکرهنا علیه هوٴ لاء الا مراء فرا ینا ان لا یمنعه احد من المسلمین “(۲) شروع میں علمی قلم نگار ی سے کام لینا ہمیں اچھا نہ لگتا تھا یہاں تک کہ امراء و حکام نے ہم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں قلم بند کردیں تاکہ کتاب کی صورت میں آجائے اس کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ کسی بھی مسلمان کو اس کام سے منع نہ کریں اور ہمیشہ علم و دانش سپر و قلم ہوتے رہیں ۔
اس گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک محدثین کے اس گروہ کے درمیان یہ دستور رواج نہیںپایا تھا کہ جو حدیثوں کو جانتے ہیں لکھ بھی ڈالیں ۔اسی طرح محمد بن شہاب زہری کا امراء کی خدمت میں ہونا اور ان کا اس کو اپنے علم و خواہش کے تحت حدیث قلمبند کرنے پر ابھارنا بھی اسی عبارت سے ثابت ہے ۔
ایک ” معمر “ نامی شخص کہتاہے :ہمارا خیال تھا کہ ہم نے زہری سے بہت زیادہ حدیثیں نقل کی ہیں یہاں تک کہ ولید مارا گیا ،ولید کے قتل ہوجانے کے بعد ہم نے دیکھا کہ دفتروں کا ایک انبار ہے جو چوپایوں پر لاد کر ولید کے خزانے سے باہر کیا جا رہا ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ : یہ سب زہری کا علم ہے ۔(۳) یعنی زہری نے ولید کی خواہش اورخوشامد میں اتنے دفاتر وکتب ،حدیثوں سے پر کر دیئے تھے کہ جب ولید کے خزانے سے ان کو نکالنے کی نوبت آئی تو چوپایوں پر بار کرنے کی احتیاج محسوس ہوئی ۔یہ دفاتر و کتب جو ولید کے حکم سے ایک شخص کے ذریعہ حدیثوں سے پر ہوئے ظاہر ہے ان میں کس طرح کی حدیثیں ہو سکتی ہیں ؟ بلا شبہ ان میں ایک حدیث بھی ولید کی مذمت اور اسے متنبہ کرنے والی نہیں مل سکتی بلکہ اس کے بر خلاف یہ وہ حدیثیں ہیں جن کے ذریعہ ولید اور ولید جیسوں کے کرتوتوں پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے ۔
ایک دوسری حدیث زہری کے بارہ میں ہے جو بلا شبہ اس دور سے مربوط ہے جب زہری دربار خلافت سے وابستگی اختیار کر چکا تھا یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے: ۔
”ان الزهری نسب الیٰ رسول اللّٰه (ص) انه قال : لا تشدالرجال الا الیٰ ثلاثة مساجد : المسجد الحرام و مسجد المدینة و المسجد الاقصیٰ و ان الصخرة التی وضع رسول اللّٰه قدمه علیها تقوم مقام الکعبة “(۴)
یعنی زہری نے رسول خدا (ص) کی طرف نسبت دی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے : صاحبان ایمان و تقدس سفر نہیں اختیار کرتے مگر یہ کہ تین مساجد ---- مسجد حرام ،مسجد مدینہ اور مسجد اقصیٰ ---- کی طرف اور وہ پتھر جس پر مسجد اقصیٰ میں ،رسول خدا (ص)اپنا قدم (مبارک) رکھا تھا اس (پتھر) کو کعبہ کی منزل حاصل ہے !!
حدیث کا یہی آخری ٹکڑا میری توجہ کا مرکز ہے جس میں مسجد اقصیٰ کے ایک پتھر کو کعبہ کا مقام عطا کرتے ہوئے اس کے لئے اسی شرف و اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو کعبہ کو حاصل ہے ۔
یہ حدیث اس زمانے کی ہے جب عبداللہ بن زبیر کعبہ پر مسلط تھے اور جب کبھی لوگوں کے دل میں حج (یا عمرہ) کے لئے جانے کی خواہش ہوتی وہ مجبور تھے کہ مکہ میں ---- ایک علاقہ جو عبداللہ ابن زبیر کے زیر نفوذ ہے ---- کچھ روز بسر کریں اور یہ عبد اللہ ابن زبیر کے لئے اپنے دشمنوں کے خلاف جن میں عبد الملک ابن مروان کا نام سر فہرست آتا ہے ،پروپیگنڈہ کا سنہرہ موقع ہوتا تھا چوں کہ عبد الملک کی کوشش تھی کہ عوام ان پر وپیگنڈوں سے متاثر نہ ہونے پائیں لہٰذا وہ ان کا مکہ جانا پسند نہ کرتا تھا چنانچہ اس نے اس کی بہترین اور آسان ترین راہ یہ دیکھی کہ ایک حدیث گڑھی جائے جس کے تحت مسجد اقصیٰ کو شرف و منزلت میں مکہ اور مدینہ کے برابر قرار دے دیا جائے حتی کہ وہ پتھر جو مسجد اقصیٰ میں ہے کعبہ کے برابر شرف ومنزلت کا حامل ہو !حالانکہ ہم جانتے ہیں اسلامی ثقافت و اصطلاح میں ،دنیا کا کوئی خطہ کعبہ کی قدر و منزلت کو نہیںپہنچ سکتا اور دنیا کا کوئی پتھر خانہ کعبہ کے پتھر ---- حجر اسود ---- کا مقام حاصل نہیں کر سکتا ۔ اس اعتبار سے اس حدیث کے گڑھنے کی حاجت اسی لئے پڑی کہ عوام کو خانہ کعبہ نیز مدینہ منورہ کی طرف سامان سفر باندھنے سے منصرف کرکے فلسطین کی طرف جانے پر ابھارا جائے کیوں کہ کعبہ کی طرح مدینہ بھی غالبا عبد الملک کے دربار کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا مرکز رہا ہوگا اس کے برخلاف فلسطین شام کا ہی ایک جزو تھا اور وہاں عبدالملک کو پورا تسلط اور نفوذ حاصل تھا ۔اب یہ جعلی حدیث عوام الناس پر کس حد تک اثر انداز ہوئی اس کو اور اق تاریخ میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا کبھی ایسا اتفاق رونما ہوا کہ لوگ مکہ جانے کے بجائے بیت المقدس کی طرف ” صخرہ“ کی زیارت کے لئے گئے ہوں یا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ؟ بہر حال اگر کبھی اس طرح کا اتفاق ہوا بھی تو اس کا اصل مجرم یا مجرمین میں سے ایک محمد بن شہاب زہری کو سمجھنا چاہئے جس نے اس طرح کی حدیث وضع کرکے عوام الناس کو ایسے شک و شبہ میں مبتلا کیا جب کہ اس کا مقصد محض عبد الملک بن مروان کے سیاسی مقاصد کو تقویت پہنچاناتھا۔
اب جب کہ محمد بن شہاب زہری در بار خلافت سے وابستہ ہو چکا تھا اس کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام یا خاندان علوی سے متعلق تنظیم کے خلاف حدیثیں گڑھنے میں بھلا کیا باک ہو سکتا تھا ۔چنانچہ اس سلسلہ میں مجھے دو حدیثیں سید عبد الحسین شرف الدین مرحوم کی کتاب ” اجوبۃ مسائل جار اللہ “ میں ملیں جن میں سے ایک روایت میں محمد بن شہاب دعویٰ کرتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام ”جبری “ تھے ! اور پیغمبر اسلام (ص) سے استناد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کی آیت ” وکان الانسان اکثر شیئی جدلا “ میں” انسان “ سے مراد امیر المومنین علیہ السلام ہیں ’(العیاذباللہ)۔
دوسری روایت میں نقل کرتا ہے کہ سید الشہدا ء جناب حمزہ نے (معاذاللہ) شراب پی تھی ۔یہ دونوںروایتیں برسر اقتدار سیاسی ٹولے بنو امیہ اور ان کے سربراہ عبد الملک بن مروان کو ائمہ ھدیٰ علیہم السلام کے مقابلہ میں تقویت و حمایت پہنچانے کے لئے گڑھی گئی ہیں تاکہ اس طرح خاندان پیغمبر اسلام (ص)کے اس سلسلۃ الذہب کو جو امویوں کے مقابلے میں ہمیشہ ثابت قدم رہا ہے مسلمانوں کی اعلیٰ ترین صف سے خارج کردیں اور ان کو اس طور پر پیش کریں کہ وہ احکام اسلام سے لگاؤ اور اس پر عمل کے لحاظ سے ایک متوسط درجہ کے قاصر و عاصی انسان یا بالکل ہی عوامی سطح کے حامل بلکہ اس سے بھی گئے گزرے افراد نظر آئیں ۔
یہ روایت دربار خلافت سے وابستگی کے دوران محمد بن شہاب زہری کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالتی ہے ،یقینا اگر زہری کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی فکری و سماجی پوزیشن کا مل طور پر مشخص ہو سکتی ہے میں یہاں اس کو رجال کی کتابوں کے حوالے کرتا ہوں جن میںاس کے حالات تفصیل کے ساتھ درج ہیں ۔
بہر حال !ایک ایسا شخص جو دربار خلافت میں بہت زیادہ تقرب و منزلت کا حامل ہے اور عوام کے افکار پر بھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ مسلط ہے ۔ ۱# یقینا اسلامی تحریک کے لئے ایک خطرناک وجود شمار کیا جائے گا اور اس کے سلسلے میں کوئی دنداں شکن پالیسی اختیار کرنا فطری سی بات ہے ۔
چنانچہ اس شخص کے مقابلہ میں امام سجاد علیہ الصلوٰۃ و السلام نہایت ہی سخت طریقہ کا ر کا انتخاب کرتے ہیں اور آپ (ع) کی یہ سخت گیری ایک خط میں منعکس نظر آتی ہے البتہ ممکن ہے کوئی فکرکرے کہ بھلا ایک خط کے ذریعہ کس حد تک حضرت (ع)کے طرز عمل کا تعین کیا جاسکتا ہے پھر بھی اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس خط کا لب و لہجہ خو دزہری کے سلسلہ میں بھی اور اس طرح بر سر اقتدار حکومتی مشینری کے خلاف بھی بہت ہی سخت اور شدید ہے اور یہ خط محمد بن شہاب تک محدودنہیں رہتا ،دوسروں کے ہاتھ میں بھی پڑتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک زبان سے دوسری زبان اور ایک منھ سے دوسرے منھ تک ہوتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دامن تاریخ پہ ثبت ہو کر تاریخ کا ایک جزوبن جاتا ہے اور آج تیرہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی ہم اس خط کے بارے میں بحث کررہے ہیں ---- ان امور پہ توجہ کرنے کے بعد ---- ہم بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خط زہری جیسے نام نہاد علماء کے شیطانی تقدس پر کیسی کاری ضرب وارد کرتا یقینا اس خط کا اصل مخاطب محمد بن شہاب زہری ہے لیکن یہ اپنی زد میں اس جیسے تمام ضمیر فروش افراد کو لئے ہوئے ہے ۔ظاہر ہے جس وقت یہ خط مسلمانوں ،خصوصا اس زمانے کے شیعوں کے ہاتھ آیا ہوگا اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچا ہوگا ان کے درمیان اس قسم کے درباری افراد کے لئے کیسی سخت بے اعتمادی پیدا ہوئی ہوگی ۔
اب ہم اس خط کے کچھ حصے نقل کرتے ہیں :
خط کی ابتدا ء ان الفاظ میں ہوتی ہے : ”کفانا اللّٰه و ایاک من الفتن ورحمک من النار “ خدا وند عالم ہمیں اور تمھیں فتنوں سے محفوظ رکھے اور تم پر آتش جہنم سے رحم کرے ۔دوسرے فقرے میں صرف اس کو مورد خطاب قرار دیا ہے کیوں کہ فتنوں سے دو چار ہونا سب کے لئے ہے اور ممکن ہے خود امام سجاد علیہ السلام بھی کسی اعتبار سے دوچار ہوں لیکن فتنہ میں غرق ہونا امام سجاد علیہ السلام کے لئے ناممکن ہے اس کے بر خلاف زہری فتنہ سے دو چار بلکہ فتنہ میں غرق ہے۔دوسری طرف آتش جہنم امام سجاد علیہ السلام کے قریب نہیں آسکتی لہٰذا حضرت (ع) اس کی نسبت محمد بن شہاب کی طرف دیتے ہیں خط کا آغاز ہی ایسے لب و لہجہ میں کیا جانا جو نہ صرف مخالفانہ بلکہ تحقیر آمیز بھی ہو زہری کے تئیں حضرت (ع)کے طرز عمل کی خود دلیل ہے ۔
اس کے بعد فرماتے ہیں : ”فقد اصبحت بحال ینبغی لمن عرفک بها ان یرحمک “تم اس منزل پر کھڑے ہو کہ جو شخص بھی تمھاری حالت کو سمجھ لے وہ تمھارے حال زار پر رحم کرے ۔غور فرمایئے کہ یہ کس شخصیت سے خطاب ہے ؟
یہ ایک ایسے شخص سے خطاب ہے جس پر لوگ غبطہ کرتے ہیں جس کا دربار حکومت میں بزرگ علمائے دین میں شمار ہوتا ہے ۔پھر بھی امام علیہ السلام اس کو اس قدر حقیر و ناتواں خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تو اس قابل ہے کہ جو لوگ تجھے اس حال میں دیکھیں ،تیرے حال پر رحم کریں ۔
اس کے بعد اس کو مختلف الٰہی نعمتوں سے نوازے جانے اور خدا کی جانب سے ہر طرح کی حجتیں تمام ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے امام (ع) کہتے ہیں ” ان تمام نعمتوں کے باوجود جو تجھے خدا کی جانب سے ملی ہیں کیا تو خدا کے حضور کہہ سکتا ہے کہ کسی طرح تونے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ یا نہیں “ پھر قرآن کی چند آیتوں کا ذکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : خدا وند عالم تیرے قصور و گناہ سے ہر گز راضی نہیں ہو سکتا کیوں کہ خدا وند عالم نے علماء پر فرض کیا ہے کہ وہ حقائق کو عوام الناس کے سامنے بیان کریں اور کتمان حق سے کام نہ لیں :” لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ“
اس تمہید کے بعد جس وقت امام خط کے اصل مطلب پر آتے ہیں تو محمد بن شہاب کے حق میں خط کا انداز اور بھی سخت ہو جاتا ہے :۔
”واعلم ان ادنی ما کتمت واخف ما احتملت ان انست و حشہ الظالم و سھلت لہ طریق العزبد نوک منہ حین دنوت و اجابتک لہ حین دعیت “
یاد رکھ! وہ معمولی ترین چیز جس کے سلسلہ میں تونے کتمان سے کام لیا ہے اور وہ سبک ترین بات جو تونے برداشت کی ہے یہ ہے کہ ظالموں کے لئے جو چیز و حشت ناک تھی اس کو تونے راحت و انسیت کا سامان بناکر ان کے لئے گمراہی کے راستے مزید ہموار کر دیئے ۔ اور یہ کام تونے محض ان کا تقرب حاصل ہوجانے کے لئے کیا چنانچہ انھوں نے تجھ کو جب بھی (کسی امر کی) دعوت دی تو تیار ہوگیا ۔
یہاں حضرت (ع) اس کی دربار حکومت و خلافت کے ساتھ قربت و وابستگی کو اس طرح اس کے سامنے پیش کرتے ہیں گویا سر پہ تازیانہ مار رہے ہوں۔:
”------ انک اخذ ت مالیس لک ممن اعطاک “
ان لوگوں سے جو کچھ تجھ کو حاصل ہوا وہ تیرا حق نہ تھا پھر بھی تونے لے لیا۔
”ودنوت ممن لم یرد علی احد حقاو لم ترد باطلاحین ادناک “
اور توایک ایسے شخص کے قریب ہو گیا جس نے کسی کا کوئی حق واپس نہ کی ( یعنی خلیفہ ستمگر) اور جب اس نے تجھ کو اپنی قربت میں جگہ دی تو تونے ایک بھی باطل اس سے دور نہ کیا ۔یعنی تو بہانہ نہیں بنا سکتا کہ میں اس لئے قریب ہوا تھا کہ احقاق حق اور البطال باطل کر سکوں کیوں کہ تو جس وقت سے اس کے ساتھ ہے کسی بھی امر باطل کا خاتمہ نہ کر سکا جب کہ اس کادربار سراسر باطل سے معمور ہے ۔
”واحببت من عاد اللّٰ ہ “ تونے دشمن خدا کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کر لیا ۔ اس تہدید نامہ میں امام (ع) کا وہ جملہ جو ذہن کو سب سے زیادہ جھنجھوڑتا ہے یہ ہے کہ امام فرماتے ہیں :۔
”او لیس بدعائه ایاک ----حین دعاک ---- جعلوک قطباً اداروابک رحی مظالمهم وجسر ایعبرون علیه الیٰ بلا یا هم و سلما الیٰ ضلالتهم د اعیا الیٰ غیهم سالکا سبیلهم یدخلون بک الشک علی العلماء و یقتا دون بک قلوب الجهال الیهم “
آیا ایسا نہیں ہے اور تو نہیں جانتا کہ انھوں نے جب تجھ کو خود سے قریب کر لیا تو تیرے وجود کو ایک ایسا قطب اور محور بنا دیا جس کے گرد مظالم کی چکی گردش کرتی رہے اور تجھ کو ایک ایسا پل قرار دے دیا جس سے ان کی تمام غلط کاریوں کے کاردان عبور کرتے رہتے ہیں ۔انھوں نے ایک ایسی سیڑھی تعمیر کر لی ہے جو انھیں ان کی ذلت و گمراہی تک پہنچنے میں سہارا دیتی ہے تو ان کی گمراہیوں کی طرف دعوت دینے والا اور ان ہی کی راہ پر چلنے والا بن گیا انھوں نے تیرے ذریعہ علماء میں شک و شبہ کی فضا پیدا کر دی اور جاہلوں کے قلوب اپنی جانب جذب کرلئے ۔یعنی تو علما کے اندر یہ شک و شبہ پیدا کرنے کا سبب بنا کہ کیا حرج ہے کہ ہم بھی دربار حکومت سے وابستہ ہو جائیں ؟ بلکہ بعض اس دھوکے میں آبھی گئے ( اس کے علاوہ ) تو اس بات کا بھی سبب بنا کہ جہلاء بڑے اطمینان کے ساتھ خلفا ء کی طرف مائل اور ان میں جذب ہوگئے ۔اس کے بعد حضرت (ع) فرماتے ہیں:
”فلم یبلغ اخص و زرئهم ولا اقوی اعوانهم الا دون ما بلغت من اصلاح فسادهم “
ان کے نزدیک ترین وزراء اور زبردست ترین احباب بھی ان کی اس طرح مدد نہ کر سکے جس طرح تونے ان کی برئیوں کو عوام کی نظروں میں اچھا بناکر پیش کرکے مدد کی ہے ۔
یہ خط لب ولہجہ کے اعتبار سے نہایت ہی سخت اور مضامین کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔امام زین العابدین علیہ السلام نے اس خط کے ذریعہ سیاسی قدرت و اقتدار اور اجتماعی زمام و اختیار کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی علمی و فکری اقتدار اور زمامداری کی لہر کو ذلیل و رسوا کر دیا اور وہ لوگ جو دربار کے ساتھ روابط استوار کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کی نیندیں اڑگئیں وہ معاشرہ میں ایک سوال بن کر رہ گئے ایک ایسا سوال جو ہمیشہ کے لئے اسلامی در و دیوار پہ ثبت ہو کر رہ گیا اس وقت کا معاشرہ بھی اس سوال سے دو چار تھا اور تاریخ کے ہر دور میں یہ سوال اپنی جگہ بر قرار رہے گا۔
میری نظر میں یہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت (ع) نے اپنی جد جہد محض ایک محدود طبقہ میں علمی و تربیتی تحریک پیدا کرنے تک محدود نہیں رکھی بلکہ سیاسی تحریک تک میں اس پیمانے پر حصہ لیتے رہے ہیں ۔ اس میدان میں امام علیہ السلام کی زندگی کا ایک اور رخ بھی ہے جو شعرو شاعری سے مربوط ہے اور انشاء اللہ اس پر آگے بحث ہو ہوگی ۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آیا یہ عظیم ہستی ارباب خلافت اور ان کی مشینری سے متعرض ہو ئی ہے یا نہیں؟
گزشتہ مباحث میں اس موضوع پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جا چکی ہے یہاں ذرا تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ہم اس پہلو کا جائزہ لینا چاہتے ہیں :
ائمہ علیہم السلام کی تحریک کے تیسرے مرحلہ کے آغاز کی حکمت عملی
جہاں تک امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا میں نے مطالعہ کیا ہے اور میری یادداشت کا سوال ہے مجھے حضرت (ع) کی زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہ مل سکا جہاں حکومت سے آپ (ع) نے اس طرح سے صریحی طور پر تعرض کیا ہو جیسا کہ دیگر ائمہ علیہم السلام مثلا بنی امیہ کے دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام یا بعد میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے یہاں نظر آتا ہے ۔اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیوں کہ ائمہ معصومین علیہم اسلام کی امامت اور سیاسی تحریک کے وہ چار ادوار جس کے تیسرے مرحلہ کا آغاز امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی سے ہوتا ہے اگر اسی مرحلہ میں خلافت سے تعرض کی تحریک شروع کردی جاتی تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ خطروں سے معمور ذمہ داریوں کا یہ کارواں ، اہل بیت علیہم السلام جس منزل تک لے جانا چاہتے تھے نہیں پہنچ سکتا تھا وہ گلستان اہلبیت (ع) جس کی تربیت و آبیاری امام سجاد علیہ السلام جیسے ماہرانہ صلاحیت کا حامل باغباں کر رہا تھا ،ابھی اتنا زیادہ مستحکم اور پائدار نہیں ہو سکتا تھا اس باغ میں ایسے نورس نونہال بھی موجود تھے جن میں طوفانی جھکڑوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ جیسا کہ ہم اس بحث کے آغاز میں اشارہ کر چکے ہیں ،امام علیہ السلام کے گردو پیش اہلبیت (ع) سے محبت و عقیدت رکھنے والے مومنین کی بہت ہی مختصر سی تعداد تھی اور اس زمانے میں ممکن نہیں تھا کہ اس قلیل تعداد کو جس کے کاندھوں پر شیعی تنظیم کو چلانے کی عظیم ذمہ داری بھی ہے ظالم تھپیڑوں کے حوالے کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتر جانے پر مجبور کر دیں ۔
اگر تشبیہ دینا چاہیں تو امام زین العابدین علیہ السلام کے دور کی مکہ میں پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت کے ابتدائی دور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے یعنی دعوت اسلام کے وہ چند ابتدائی سال جب علی الاعلان دعوت دینا بھی ممکن نہ تھا ۔اسی طرح شاید امام محمد باقر علیہ السلام کے دور کی پیغمبر (ص) کی مکی تبلیغ کے دوسرے دور اور پھر اس کے ادوار کی دعوت اسلام کے بعد کے ادوار سے تشبیہ غلط نہ ہوگی ۔ لہٰذا تعرض اور مڈ بھیڑ کی حکمت عملی ابھی صحیح طور پر انجام نہ پاتی۔
یقین جانئے اگر وہی تیز و تند حکمت عملی ،جو امام صادق علیہ السلام ،امام کاظم علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام کے بعض کلمات سے مترشح ہوتی ہے ،امام سجاد علیہ السلام بھی اپنا لیتے تو عبد الملک بن مروان جس کا اقتدار پورے اوج پر نظر آتا ہے ،بڑی آسانی کے ساتھ تعلیمات اہلبیت (ع) کی پوری بساط الٹ کر رکھ دیتا اور پھر کام ایک نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا اور یہ اقدام عاقلانہ نہ ہوتا ۔
اس کے باوجود امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات و اقوال میں ،جو غالبا آپ کی زندگی اور طویل دور امامت کے آخر ی دنوں سے مربوط ہیں ،کہیں کہیں حکومتی مشینری کے ساتھ تعرض و مخالفت کے اشارے بھی مل جاتے ہیں ۔(۵)
ائمہ علیہم السلام کی طرف سے مزاحمت کے چند نمونہ
ائمہ علیہم السلام کی تعرض آمیز روش کے جلوے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے جن میں سے ایک شکل تو وہی تھی جو محمد بن شہاب زہری کے نام امام زین العابدین علیہ السلام کے خط میں آپ نے ملاحظہ فرمائی ،ایک شکل معمولی دینی مسائل او ر اسلامی تعلیمات کے پردے میں اموی خلفاء کی وضع و سرشت اور حقیقت و بنیاد پر روشنی ڈال دینے کی تھی چنانچہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :
”ان بنی امیة اطلقوا للناس تعلیم الایمان ولم یطلقوا تعلیم الشرک لکی اذا حملوهم علیه لم یعرفوه “
یعنی بنی امیہ نے لوگوں کے لئے تعلیمات ایمانی کی راہیں کھلی چھوڑ رکھی تھیں ،لیکن حقیقت شرک سمجھنے کی راہیں بند کر دی ہیں کیوں کہ اگر عوام (مفہوم) شرک سے نا بلد رہے تو شرک ( کی حقیقت ) نہ سمجھ سکیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ بنی امیہ نے علماء اور متدین افراد منجملہ ان کے ائمہ معصومین علیہم السلام کو نماز ، روزہ ،حج زکوٰۃ نیز دیگر عبادات اور اسی طرح توحید و نبوت سے متعلق بحث و گفتگو کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی کہ وہ ان موارد میں احکام الٰہی بیان کریں لیکن ان کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ شرک کا مفہوم اور اس کے مصادیق نیز اسلامی معاشرے میں موجود اس کے جیسے جاگتے نمونوں کو موضوع بحث و تدریس قرار دیں اس لئے کہ اگر عوام الناس کو شرک سے متعلق ان معارف کا علم ہو گیا ،وہ مشرک چہروں کو پہچان لیں گے ،وہ فورا سمجھ جائیں گے کہ بنی امیہ جن اوصاف کے حامل ہیں اور جس کی طرف انھیں گھسیٹ لے جانا چاہتے ہیں ،در اصل شرک ہے ،وہ فورا پہچان لیں گے کہ عبد الملک بن مروان اور دیگر خلفا ئے بنو امیہ طاغوتی ہیں جنھوں نے خدا کے مقابل سر اٹھارکھا ہے گویا جس شخص نے بھی ان کی اطاعت اختیار کی در اصل اس نے شرک کے مجسموں کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کے درمیان شرک سے متعلق حقائق و معارف بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی ۔
جب ہم اسلام میں توحید کے موضوع پر بحث کرتے ہیں تو ہماری بحث کا ایک بڑا حصہ شرک اور مشرک کی شناخت سے مربوط ہے ۔ بت کسے کہتے ہیں اور کون بت پرست ہے ۔
علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ۴۸ ویں جلد میں بڑی اچھی بات کہی ہے وہ فرماتے ہیں :
”ان اٰیات الشرک ظاهر ها فی الاصنام الظاهرة و باطنها فی خلفاء الجور الذین اشرکوا مع ائمة الحق و نصبوا مکانهم “ (ج/ ۴۸ ص/ ۹۶ و ۹۷)
یعنی قران میں شرک کی جو آیتیں بیان کی گئی ہیں بظاہر ،ظاہر ی بتوں سے مربوط ہیں لیکن بباطن اگر تاویل کی جائے تو ان کے مصداق خلفائے جو ر ہیں جنھوں نے خلافت کے نام پر حکومت اسلامی کے ادعا اور اسلامی معاشرے پر حاکمیت کے حق میں خود کو ائمہ علیہم السلام کا شریک قرار دے لیا ، جب کہ ائمہ حق کے ساتھ یہ شرک خود خدا کے ساتھ شرک ہے کیوں کہ ائمہ حق خدا کے نمائندے ہیں ان کے دہن میں خدا کی زبان ہوتی ہے وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں اور چوں کہ خلفائے جور نے خود کو ان کی جگہ پر پہنچاکر دعوائے امامت میں ان کا شریک بنا دیا لہٰذا وہ سب طاغوتی بت ہیں اور جو شخص ان کی اطاعت اور تا سی اختیار کرے وہ در اصل مشرک ہو چکا ہے ۔
علامہ مجلسی اس کے بعد مزید توضیح پیش کی ہے ۔ چنانچہ یہ بیان کرتے ہوئے کہ قرآنی آیات پیغمبر اسلام (ص)کے دور سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر عصر اور ہر دور میں جاری و ساری ہیں وہ فرماتے ہیں :
”فهو یجری فی اقوام ترکوا طاعة ائمة الحق واتبعوا ائمة الجور “
یہ شرک کی تعبیر ،ان قوموں پر بھی صادق آتی ہے جنھوں نے ائمہ حق کی اطاعت سے انکار کرتے ہوئے ائمہ جور سے الحاق اور پیروی اختیار کر لی“
”لعدولهم عن لاٴدلة العقلیة و النقلیه و اتباعهم الا هو اء وعدولهم عن النصوص الجلیّة “
کیوں کہ ان لوگوں نے ان عقلی و نقلی دلائل سے ( جو مثال کے طور پر عبد الملک کی مسلمانوں پر حکومت و خلافت کی نفی کرتی ہیں) عدول اختیار کر لیا اور اپنی ہوا و ہوس کی پیروی شروع کر دی ۔روشن و واضح نصوص کو ٹھکرا دیا ۔لوگوں نے دیکھا حکام وقت سے ٹکر لینے کی نسبت یہ زندگی آرام دہ بھی ہے ۔ اور ہر طرح کی درد سری سے خالی بھی ،لہٰذا اسی راحت طلبی میں لگ گئے اور ائمہ جور کی پیری اختیار کر لی ۔لہٰذا وہ بھی مشرک قرار پاتے ہیں ۔
ان حالات میں ،اگر ائمہ علیہم السلام شرک کے بارے میں کچھ بیان کرنا چاہیں تو یہ دربار خلافت سے ایک طرح کا تعرض ہوگا اور یہ چیز امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی اور حضرت (ع) کے کلمات میں موجود ہے ۔
اس تعرض و مخالفت کا ایک اور نمونہ ہم امام علیہ السلام اور جابر و قدرت مند اموی حاکم عبدالملک کے درمیان ہونے والی بعض خط و کتابت میں مشاہدہ کرتے ہیں جس کے دو روشن نمونوں کی طرف یہاں اشارہ مقصود ہے ۔
۱ ۔ ایک دفعہ عبدالملک بن مروان نے امام سجاد علیہ السلام کو خط لکھا اور اس میں حضرت (ع) کو اپنی ہی آزاد کردہ کنیز کے ساتھ ازدواج کر لینے کے سلسلے میں مورد ملامت قرار دیا ۔ اصل میں حضرت (ع) کے پاس ایک کنیز تھی جس کو آپ نے پہلے آزاد کر دیا اس کے بعد اسی آزاد شدہ کنیز سے نکاح کر لیا ۔ عبد الملک نے خط لکھ کر امام (ع) کے اس عمل کو مورد شماتت قرار دیا ۔ظاہر ہے امام (ع) کا عمل نہ صرف انسانی بلکہ ہر اعتبار سے اسلامی تھا کیوں کہ ایک کنیز کو کنیز ی اور غلامی کی زنجیر سے آزاد ی دینا اور پھر عزت و شرافت کا تاج پہناکر اسی کنیز کو رشتہ ازدواج سے منسلک کر لینا یقینا انسانیت کا اعلیٰ شاہکار ہے ۔ اگر چہ عبد الملک کے خط لکھنے کا مقصد کچھ اور ہی تھا ،وہ امام کے اس مستحسن عمل کو تنقید کا نشانہ بنا کر حضرت (ع) کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ ہم آپ کے داخلی مسائل سے بھی آگاہی رکھتے ہیں گویا اس کے ضمن میں اصل مقصد حضرت(ع) کو ذاتی سرگرمیوں کے سلسلے میں متنبہ کرنا تھا ۔ امام سجاد علیہ السلام جواب میں ایک خط تحریر فرماتے ہیں جس میں مقدمہ کے طور پر لکھتے ہیں :یہ عمل کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں قرار دیا جا سکتا بزرگوں نے بھی اس طرح کا عمل انجام دیا ہے حتیٰ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے یہاں بھی اسی طرح کا عمل ملتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں میرے لئے کوئی ملامت نہیں ہے ۔
”فلا لوٴم علیٰ امری : مسلم انما اللوٴم لوٴم الجاهلیة “
یعنی ایک مسلمان کے لئے کسی طرح کی ذلت و خواری نہیں پائی جاتی ہاں ذلت و پستی تو وہی جہالت کی ذلت و پستی ہے ۔ عبد الملک کے لئے اس جملہ میں بڑا ہی لطیف طنز اور نصیحت مضمر ہے کتنے حسین انداز میں اسے اس کے آباء و اجداد کی حقیقت کی طرف متوجہ کر دیا گیا ہے کہ یہ تم ہو جس کا خاندان جاہل و مشرک اور دشمن خدا رہا ہے اور جن کے صفات تم کو وراثت میں حاصل ہوئے ہیں !!اگر شرم ہی کی بات ہے تو تم کو اپنی حقیقت پر شرم کرنی چاہئے میں نے تو ایک مسلمان عورت سے شادی کی ہے اس میں شرم کی کیا بات ہے ؟
جس وقت یہ خط عبد الملک کے پاس پہنچا ،سلیمان عبد الملک کا دوسرابیٹا ،باپ کے پاس موجود تھا ،خط پڑھا گیا تو اس نے بھی سنا اور امام (ع) کی طنز آمیز نصیحت کو باپ کی طرح اس نے بھی محسوس کیا ۔وہ باپ سے مخاطب ہوا اور کہا: اے امیر المومنین دیکھا ، علی ابن الحسین علیہ السلام نے آپ پر کس طرح مفاخرت کا اظہار کیا ہے ؟ وہ اس خط میں آپ کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا تو تمام مومن باللہ رہے ہیں اور تیرے باپ دادا کافر و مشرک رہے ہیں ۔ وہ باپ کو بھڑکانا چاہتا تھا تاکہ اس خط کے سلسلے میں عبد الملک کوئی سخت اقدام کرے لیکن عبد الملک بیٹے سے زیادہ سمجھ دار تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس نازک مسئلہ میں امام سجاد علیہ السلام سے الجھنا درست نہیں ہے لہٰذا اس نے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا: میرے بیٹے : کچھ نہ کہو ،تم نہیں جانتے یہ بنی ہاشم کی زبان ہے جو پتھر وں میں شگاف پیدا کر دیتی ہے ،یعنی ان کا استدلال ہمیشہ قوی اور لہجہ سخت ہوتاہے ۔
۲ ۔ دوسرا نمونہ امام علیہ السلام کا ایک دوسرا خط ہے جو عبد الملک کی ایک فرمائش رد کرنے کی بنا پر عبد الملک کی جانب سے تہدید و فہمائش کے جواب میں آپ (ع) نے تحریر فرمایا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں پیش آتا ہے ۔
عبد الملک کو معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام (ص) کی تلوار امام سجاد علیہ السلام کی تحویل میں ہے اور یہ ایک قابل توجہ چیز تھی کیوں کہ وہ نبی (ص) کی یاد گار اور فخر کا ذریعہ تھی ،اور اب اس کا امام سجاد علیہ السلام کی تحویل میں چھوڑ دینا عبد الملک کے لئے خطر ناک تھا کیوں کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی ۔لہٰذا اس نے جو خط امام سجاد علیہ السلام کو لکھا اس میں درخواست کی کہ حضرت تلوار اس کے لئے بھیج دیں اور ذیل میں یہ بھی تحریر کر دیا تھا کہ اگر آپ (ع) کو کوئی کام ہو تو میں حاضر ہوں آپ کا کام ہو جائے گا مطلب یہ تھا آپ کے اس ہبہ کا عوض میں دینے کو تیار ہوں ۔
امام علیہ السلام کا جواب انکار میں تھا لہٰذا دوبارہ اس نے ایک تہدید آمیز خط لکھا کہ اگر تلوار نہ بھیجی تو میں بیت المال سے آپ کا وظیفہ بند کردوں گا ۔(۶) امام اس دھمکی کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :
اما بعد ،خداوند عالم نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ اپنے پرہیز گا ربندوں کو جو چیز انھیں ناگوار ہے اس سے نجات عطا کرے گا اور جہاں سے وہ سوچ بھی نہ سکےں ایسی جگہ سے روزی بخشے گا اور قرآن میں ارشاد فرمادیا ہے:
”ان اللّٰه لا یحب کل خوان کفور “
”یقیناًخدا کسی نا شکرے خیانت کارکودوست نہیں رکھتا ۔“
اب دیکھو ہم دونوں میں سے کس پر یہ آیت منطبق ہوتی ہے ۔
ایک خلیفہ وقت کے مقابل میں یہ لہجہ بہت زیادہ سخت تھا،کیونکہ یہ خط جس کسی کے ہاتھ لگا وہ خود فیصلہ کرلے گا کہ امام اولاً:خود کو خائن اور نا شکرا نہیں سمجھتے ،ثانیاً:کوئی دوسرا شخص بھی اس عظیم ہستی کے بارے میں ایسا رکیک تصور نہیں رکھتا ،کیونکہ حضرت کا خاندان نبوت کے منتخب اور شائستہ ترین عظیم شخصیتوں میں شمار ہوتا تھا اور ہرگز اس آیت کے مستحق نہیں قرار دئے جا سکتے تھے چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کی نظر میں عبد الملک خائن اور ناشکرا ہے ۔
دیکھئے !کس شدیدانداز میں امام سجاد علیہ السلام عبد الملک کی دھمکی کا جواب دیتے ہیں اس سے حضرت (ع) کے فیصلہ کن عمل کی حدود کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔بہر حال یہ اموی سرکار کی نسبت امام کے مزاحمت آمیز طرز عمل کے دو روشن نمونے تھے ۔
۳ ۔ اگر اس میں کسی دوسرے نمونے کا اور اضافہ کرنا چاہیں تو یہاں وہ اشعار پیش کئے جا سکتے ہیں جو خود امام زین العابدین علیہ السلام سے یا آپ (ع) کے دوستوں سے نقل ہوئے ہیں یہ بھی اپنی مخالفت کے اظہار کا ایک انداز ہے کیوں کہ اگر ہم یہ مان کر چلیں کہ خود حضرت (ع) نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو بھی آپ کے قریبی افراد معترض رہے ہیں اور یہ خود ایک طرح سے امام کی مزاحمت میں شمار کیا جائے گا۔
فرزدق اور یحییٰ کے اعتراضات
اگر چہ حضرت (ع) کے اشعار فی الحال میں کہیں پیدا نہیں کر سکا ہوں پھر بھی حضرت (ع) کے اشعار کا ہونا قطعی ہے ۔ چند شعر حضرت (ع) کے ہیں جو بہت ہی تلخ اور انقلابی ہیں ۔ فرزدق کے اشعار بھی ایک دوسرا نمونہ ہیں ۔فرزدق کے واقعہ کو مورخین و محدثین دونوں نے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔
ہشام ، عبد الملک کا بیٹا ،اپنے دور خلافت سے قبل مکہ گیا ،طواف کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا چاہا ،کیوں کہ طواف میں حجر اسود کا استلام مستحب ہے حجر اسود کے قریب مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے ہزار کوشش کے باوجود خود کو حجر اسود کے قریب نہ پہنچا سکا حالانکہ وہ خلیفہ وقت کا فرزند ،ولی عہد ،رفیقوں اور محافظوں کے ایک پورے دستے کے ہمراہ حکومتی انتظام کے ساتھ آیا تھا ۔پھر بھی لوگوں نے اس کی حیثیت اور شاہی کرو فر کی پرواہ کئے بغیر اس کو دھکوں میں لے لیا ۔ یہ نازو نعم کا پروردہ ان افراد سے تو تھا نہیں کہ انسانوں کے ہجوم میں دھکے کھاتا ہوا حجر اسود کو بوسہ دے ۔چنانچہ حجر اسود کے استلام سے مایوس ہوکر مسجد الحرام کی ایک بلندی پر پہنچ گیا اور وہیں بیٹھ کر مجمع کا تماشہ کرنے کی ٹھہری ۔ اس کے ارد گرد بھی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی درمیان ایک شخص ،وقار و متانت کا مرقع ملکوتی زہد و ورع کے ساتھ طواف کرنے والوں کے درمیان ظاہر ہوا اور حجر اسود کی طرف قدم بڑھایا مجمع نے فطری طور پر اس کو راستہ دے دیا اور کسی قسم کی زحمت کے بغیر اس نے باطمینان حجر اسود کو استلام کیا ،بوسہ دیا اور پھر واپس ہو کر طواف میں مشغول ہو گیا۔
یہ منظر ہشام بن عبد الملک کے لئے نہایت ہی سخت تھا ،وہ خلیفہ وقت کا فرزند ارجمند !! اور کوئی اس کے احترام و ارجمندی کا قائل نہیںہے !اس کو مجمع کے مکّے اور لات سہکر واپس ہونا پڑجاتا ہے ۔استلام کرنے کے لئے اس کو راہ نہیں ملتی ! دوسری طرف ایک شخص آتا ہے جو بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو استلام کر لیتا ہے ۔آتش حسد سے لال ہو کر سوال کر بیٹھتا ہے ،یہ کون شخص ہے ؟ ارد گرد بیٹھے ہوئے افراد حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام کو اچھی طرح پہچانتے ہیں لیکن صرف اس لئے خاموش ہیں کہ کہیں ہشام ان کی طرف سے مشتبہ نہ ہو جائے کیوں کہ ہشام کے خاندان کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کے خاندان کے اختلاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ،ہمیشہ بنی امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف کی آگ روشن رہی ہے ۔ وہ یہ کہنے کی جرات نہ کر سکے کہ یہ شخص تیرے دشمن خاندان کا قائد ہے ،جس کے لئے لوگ اس قدر عقیدت و احترام کے قائل ہیں ۔ ظاہر ہے یہ بات ایک طرح سے ہشام کی اہانت میں شمار ہو تی ۔
مشہور شاعر فرزدق جو اہلبیت (ع)سے خلوص و محبت رکھتا تھا وہیں موجود تھا ،اس نے جب محسوس کیا کہ لوگ تجاہل سے کام لے رہے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم علی ابن الحسین علیہ السلام کو نہیں پہچانتے ،آگے بڑھا اور آواز دی : اے امیر !اگر اجازت دے تو میں اس شخص کا تعارف کرا دوں ؟ ہشام نے کہا: ہاںہاں بتاؤ کون ہے ؟ اس وقت فرزدق نے وہیں ایک برجستہ قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا جو شعرائے اہلبیت (ع) کے معروف ترین قصیدوں سے ہے اور شروع سے آخر تک امام زین العابدین علیہ السلام کی شاندار مدح سے معمور ہے مطلع یوں شروع ہوتا ہے ۔
هٰذا الذی تعرف البطحاء و طاٴ ته
والبیت یعرفه والحل و الحرم
اگر تم اس کو نہیں پہچانتے ہو ( تو نہ پہچانو) یہ وہ ہے کہ سر زمین بطحی اس کے قدموں کے نشان پہچانتی ہے یہ وہ شخص ہے کہ حل و حرم اس کو پہچانتے ۔اور پھر یہ وہ ہے ،زمزم و صفا جس کو پہچانتے ہیں یہ پیغمبر اسلام (ص) کا فرزند ہے یہ بہترین انسان کا فرزند ہے مدح کے موتی لٹانے پر آیا تو ایک قصیدہ غرار میں اس طرح امام سجاد علیہ السلام کے خصوصیات کا ذکر کر نا شروع کر دیا کہ ہر ہر مصرع ہشام کے سینے میں خنجر کی طرح چھبتا چلا گیا ۔اور اس کے بعد ہشام کے غضب کا نشانہ بھی بننا پڑا ،ہشام نے بزم سے نکال باہر کیا لیکن امام سجاد علیہ السلام نے اس کے لئے انعام کی تھیلی روانہ کی جس کو فرزدق نے اس معذرت کے ساتھ واپس کر دیا کہ : میں نے یہ اشعار خدا کی خوشنودی کے لئے کہے ہیں ،آپ (ع) سے پیسہ لینا نہیں چاہتا ۔
اس طرح کے انداز مزاحمت ،امام کے اصحاب کے یہاں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں جس کا ایک اور نمونہ یحیٰ بن ام الطویل کا طرز عمل ہے ۔البتہ یہ ذکر شعر و شاعری کے ضمن میں نہیں آتا ۔
یحیٰ بن ام الطویل بیت سے وابستہ نہایت ہی مخلص اور شجاع جوانوں میں سے ہے جس کا معمول یہ ہے کہ وہ کوفہ جاتا ہے لوگوں کو جمع کرتا ہے اور آواز دیتا ہے : اے لوگو( مخاطب حکومت بنی امیہ کے آگے پیچھے بھاگنے والے افراد ہیں ) ہم تمھارے ( اور تمھارے آقاؤں کے ) منکر ہیں جب تک تم لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے ،ہم تم کو قبول نہیں کر تے ۔اس گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو مشرک سمجھتا ہے اور ان کو کافر و مشرک کے الفاظ سے خطاب کرتا ہے ۔
بنی امیہ سرکار کا امام سجاد (ع)کے ساتھ تعرض
یہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک مختصر سا خاکہ ہے ۔البتہ یہاں پھر اشارہ کردوں کہ امام اپنے ۳۴ برس کے طویل دورامامت میں ،ارباب حکومت کے ساتھ کھل کر کبھی کوئی تعرض اور مخالفت نہ کی پھر بھی اپنی امامت کے اس عظیم دسترخوان کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہے اور تعلیم و تربیت کی ایمانی غذاؤں سے بہت سے مومن و مخلص افراد پیدا کئے دعوت اہلبیت (ع) کو وسعت حاصل ہوتی رہی اور یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے اموی سرکار حضرت (ع) کے سلسلے میں بد بین و فکر مند رہنے لگی یہاں تک کہ حضرت (ع) کی راہ میں رکاوٹ اور روک ٹوک بھی کی گئی اور کم از کم ایک مرتبہ حضرت (ع) کو طوق و زنجیر میں کس کر مدینہ سے شام بھی لے جایا گیا ۔حادثہ کربلا میں امام زین العابدین علیہ السلام کا طوق و زنجیر میں جگڑ کر شام لے جایا جانا مشہور ہے لیکن کربلا کی اسیری میں اگر حضرت (ع) کا گلو ئے مبارک نہ بھی جگڑ ا گیا ہو تو بھی اس موقع پر یہ بات یقینی ہے یعنی حضرت (ع) کو مدینہ سے اونٹ پر سوار کیا گیا اور طوق و زنجیر میں جگڑ کر شام لے جایا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے موارد پیش آئے جب آپ (ع) کو مخالفین کی طرف سے آزارو شکنجے کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار ولید بن عبد الملک (ملعون خدااس کو واصل جہنم کرے ) کے دور خلافت ۹۵ ھء میں خلافت بنی امیہ کے سرکار ی کارگزاروں کے ہاتھوں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔
____________________
(۱)۔ بعض نے اس کا نام محمد بن مسلم زہری بھی نقل کیا ہے یعنی اس کے باپ کا نام کبھی شہاب اور کبھی مسلم ملتا ہے شاید ایک اس کے باپ کا نام اور ایک اس کے باپ کا لقب رہا ہوگا۔
(۲)۔طبقات ابن سعد ،ج/۲ص/۳۶۔۱۳۵
(۳) ۔فاذا الدفاتر قد حملت علی الدواب من خزائنه و یقال هٰذا من علم الزهری
(۴)۔ تاریخ یعقوبی ج/۲ص/۸ ،نقل از کتاب ”دراسات من الصحیح و الکافی “
(۵)۔ یہاں اشارہ کر دوں کہ اس وقت میری بحث یزید اور خاندان ابو سفیان کی خلافت کے ساتھ امام کے طرز عمل سے نہیں ہے یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر پہلے ہی روشنی ڈال چکا ہوں ۔
(۶) ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تمام لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ ملتا تھا اور امام علیہ السلام بھی تمام افراد کی طرح معین وظیفہ لیتے تھے ۔
فہرست
حادثات زندگی میں ائمہ علیہم السلام کا بنیادی موقف ۵
حکومت اسلامی کی تشکیل ائمہ (ع)کا بنیادی ہدف رہا ہے ۹
امام زین العابدین (ع) کی زندگی کا ایک مجموعی خاکہ ۹
رہائی کے بعد ۱۳
ماحول ۱۵
خفیہ تنظیمیں ۱۶
واقعہ حرہ ۱۸
اس دور میں امام علیہ السلام کا موقف ۲۲
امام علیہ السلام کے مقاصد ۲۴
پہلا کام ۲۸
دوسرا کام ۲۸
تیسرا کام ۲۹
ہم فکر جماعت کی تشکیل ۳۶
فلسفہ امامت ،امام علیہ السلام کی نظر میں ۴۰
تنظیم کی ضرورت ۴۲
درباری علماء پر امام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید ۴۵
حدیث گڑھنا ظالموں کی ایک ضرورت ۴۶
حدیث گڑھنے کے کچھ نمونے ۴۷
محمد زہری کی چند جعلی حدیثیں ۴۹
ائمہ علیہم السلام کی طرف سے مزاحمت کے چند نمونہ ۵۶
فرزدق اور یحییٰ کے اعتراضات ۶۱
بنی امیہ سرکار کا امام سجاد (ع)کے ساتھ تعرض ۶۳