یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
القول المعتبر فی الامام المنتظر
مؤلف: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
مقدمہ
آج ۱۸ ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا :
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ.
’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘
یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللہ عنہ تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی رضی اللہ عنہ کا منکر ہے وہ ولایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے۔ اِس عاجز نے محسوس کیا کہ اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رہتے ہیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب۔ سو یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ اندریں حالات میں نے ضروری سمجھا کہ مسئلۂ وِلایت و اِمامت پر دو رِسالے تالیف کروں : ایک بعنوان ’السَّیفُ الجَلِی عَلٰی مُنکِرِ وِلایةِ عَلیّ رضی الله عنه ‘ اور دوسرا بعنوان ’القولُ المُعتَبَر فِی الامام المُنتَظَر ‘۔ پہلے رسالہ کے ذریعے فاتحِ ولایت حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام کو واضح کروں اور دوسرے کے ذریعے خاتمِ ولایت حضرت امام مہدی علیہ السلام کا بیان کروں تاکہ جملہ شبہات کا اِزالہ ہو اور یہ حقیقت خواص و عوام سب تک پہنچ سکے کہ ولایتِ علی علیہ السلام اور ولایتِ مہدی علیہ السلام اہلِ سنت و جماعت کی معتبر کتبِ حدیث میں روایاتِ متواترہ سے ثابت ہے۔ میں نے پہلے رسالہ میں حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکیاون (۵۱) روایات پوری تحقیق و تخریج کے ساتھ درج کی ہیں۔ اِس عدد کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اِمسال اپنی عمر کے ۵۱ برس مکمل کئے ہیں، اس لئے حصولِ برکت اور اِکتساب خیر کے لئے عاجزانہ طور پر عددی نسبت کا وسیلہ اختیار کیا ہے تاکہ بارگاہِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں اِس حقیر کا نذرانہ شرفِ قبولیت پاسکے۔ (آمین)
اَب اِس مقدّمہ میں یہ نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدّسہ سے تین طرح کی وراثتیں جاری ہوئیں :
- خلافتِ باطنی کی روحانی وراثت
- خلافتِ ظاہری کی سیاسی وراثت
- خلافتِ دینی کی عمومی وراثت
- خلافتِ باطنی کی روحانی وراثت اہلِ بیتِ اطہار کے نفوس طیّبہ کو عطا ہوئی۔
- خلافتِ ظاہری کی سیاسی وراثت خلفاء راشدین کی ذوات مقدّسہ کو عطا ہوئی۔
- خلافتِ دینی کی عمومی وراثت بقیہ صحابہ و تابعین کو عطا ہوئی۔
خلافتِ باطنی نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے نہ صرف دینِ اسلام کے روحانی کمالات اور باطنی فیوضات کی حفاظت ہوئی بلکہ اس سے اُمّت میں ولایت و قطبیت اور مُصلحیت و مجدّدیت کے چشمے پھوٹے اور اُمّت اِسی واسطے سے روحانیتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیضاب ہوئی۔ خلافتِ ظاہری نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے غلبۂ دین حق اور نفاذِ اسلام کی عملی صورت وجود میں آئی اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمکّن اور زمینی اقتدار کا سلسلہ قائم ہوا۔ اِسی واسطے سے تاریخِ اِسلام میں مختلف ریاستیں اور سلطنتیں قائم ہوئیں اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نظامِ عالم کے طور پر دُنیا میں عملاً متعارف ہوئی۔
خلافتِ عمومی نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ سرچشمہ ہے جس سے اُمّت میں تعلیماتِ اسلام کا فروغ اور اعمالِ صالحہ کا تحقّق وجود میں آیا۔ اِس واسطے سے افرادِ اُمّت میں نہ صرف علم و تقویٰ کی حفاظت ہوئی بلکہ اخلاقِ اِسلامی کی عمومی ترویج و اشاعت جاری رہی، گویا :
پہلی قسم : خلافتِ ولایت قرارپائی
دوسری قسم : خلافتِ سلطنت قرار پائی
تیسری قسم : خلافتِ ہدایت قرار پائی
اس تقسیمِ وراثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مضمون کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اِن الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے :
پس وراث آنحضرت هم بسه قسم منقسم اندفوراثه الذين أخذوا الحکمة والعصمة والقطبية الباطينة، هم أهل بيته و خاصته و وراثه الذين أخذوا الحفظ و التلقين و القطبية الظاهرة الإرشادية، هم أصحابه الکبار کالخلفاء الأربعة و سائر العشرة، و وراثه الذين أخذوا العنايات الجزئية و التقوي و العلم، هم أصحابه الذين لحقوا بإحسان کأنس و أبي هريرة و غيرهم من المتأخرين، فهذه ثلاثة مراتب متفرعة من کمال خاتم الرسل صلی الله عليه وآله وسلم.
(شاه ولي الله محدث دهلوي، التفهيمات الالهٰيه، ۲ : ۸)
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے حاملین تین طرح کے ہیں : ایک وہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حکمت و عصمت اور قطبیتِ باطنی کا فیض حاصل کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور خواص ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حفظ و تلقین اور رشد و ہدایت سے متصف قطبیت ظاہری کا فیض حاصل کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کبار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جیسے خلفائے اربعہ اور عشرہ مبشرہ ہیں۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے انفرادی عنایات اور علم و تقویٰ کا فیض حاصل کیا، یہ وہ اصحاب ہیں جو احسان کے وصف سے متصف ہوئے، جیسے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر متاخرین۔ یہ تینوں مدارج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال ختمِ رسالت سے جاری ہوئے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ تقسیم غلبۂ حال اور خصوصی امتیاز کی نشاندہی کے لئے ہے، ورنہ ہر سہ اقسام میں سے کوئی بھی دوسری قسم کے خواص و کمالات سے کلیتاً خالی نہیں ہے، اُن میں سے ہر ایک کو دوسری قسم کے ساتھ کوئی نہ کوئی نسبت یا اشتراک حاصل ہے :
- سلطنت میں سیدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔
-ولایت میں سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔
- ہدایت میں جملہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء بلا فصل یعنی براہِ راست نائب ہوئے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ختمِ نبوت کے بعد فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائمی تسلسل کے لئے تین مستقل مطالع قائم ہو گئے :
- ایک مطلع سیاسی وراثت کے لئے
-دوسرا مطلع روحانی وراثت کے لئے
-تیسرا مطلع علمی و عملی وراثت کے لئے
- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی وراثت، خلافتِ راشدہ کے نام سے موسوم ہوئی۔
- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی وراثت، ولایت و امامت کے نام سے موسوم ہوئی۔
- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علمی و عملی وراثت، ہدایت و دیانت کے نام سے موسوم ہوئی۔
لہٰذا سیاسی وراثت کے فردِ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوئے، روحانی وراثت کے فردِ اوّل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہوئے اور علمی و عملی وراثت کے اوّلیں حاملین جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوئے۔ سو یہ سب وارثین و حاملین اپنے اپنے دائرہ میں بلا فصل خلفاء ہوئے، ایک کا دوسرے کے ساتھ کوئی تضاد یا تعارض نہیں ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان مناصب کی حقیقت بھی ایک دوسرے سے کئی اُمور میں مختلف ہے:
۱۔ خلافتِ ظاہری دین اسلام کا سیاسی منصب ہے۔
خلافتِ باطنی خالصتاً روحانی منصب ہے۔
۲۔ خلافتِ ظاہری انتخابی و شورائی امر ہے۔
خلافتِ باطنی محض وہبی و اجتبائی امر ہے۔
۳۔ خلیفۂ ظاہری کا تقرّر عوام کے چناؤ سے عمل میں آتا ہے۔
خلیفۂ باطنی کا تقرّر خدا کے چناؤ سے عمل میں آتا ہے۔
۴۔ خلیفۂ ظاہری منتخب ہوتا ہے۔
خلیفۂ باطنی منتجب ہوتا ہے۔
۵۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے خلیفۂ راشد سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا انتخاب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تجویز اور رائے عامہ کی اکثریتی تائید سے عمل میں آیا، مگر پہلے امامِ ولایت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں کسی کی تجویز مطلوب ہوئی نہ کسی کی تائید۔
۶۔ خلافت میں ’جمہوریت‘ مطلوب تھی، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان نہیں فرمایا۔ ولایت میں ’ماموریت‘ مقصود تھی، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی غدیر خُم کے مقام پر اس کا اعلان فرما دیا۔
۷۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّت کے لئے خلیفہ کا انتخاب عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا، مگر ولی کا انتخاب اللہ کی مرضی سے خود فرما دیا۔
۸۔ خلافت زمینی نظام کے سنوارنے کیلئے قائم ہوتی ہے۔
ولایت اُسے آسمانی نظام کے حسن سے نکھارنے کیلئے قائم ہوتی ہے۔
۹۔ خلافت افراد کو عادل بناتی ہے۔
ولایت افراد کو کامل بناتی ہے۔
۱۰۔ خلافت کا دائرہ فرش تک ہے۔
ولایت کا دائرہ عرش تک ہے۔
۱۱۔ خلافت تخت نشینی کے بغیر مؤثر نہیں ہوتی۔
ولایت تخت و سلطنت کے بغیر بھی مؤثر ہے۔
۱۲۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ خلافت اُمّت کے سپرد ہوئی۔
ولایت عترت کے سپرد ہوئی۔
لہٰذا اب خلافت سے مَفرّ ہے نہ وِلایت سے، کیونکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلافصل اِجماعِ صحابہ سے منعقد ہوئی اور تاریخ کی شہادتِ قطعی سے ثابت ہوئی اور حضرت مولا علی المرتضیٰص کی وِلایتِ بلافصل خود فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منعقد ہوئی اور احادیثِ متواترہ کی شہادتِ قطعی سے ثابت ہوئی۔ خلافت کا ثبوت اِجماعِ صحابہ ہے اور وِلایت کا ثبوت فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ جو خلافت کا اِنکار کرتا ہے وہ تاریخ اور اِجماع کا اِنکار کرتا ہے اور جو اِمامت و وِلایت کا اِنکار کرتا ہے وہ اِعلانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں instituti ٭ ns کی حقیقت کو سمجھ کر اُن میں تطبیق پیدا کی جائے نہ کہ تفریق۔
جان لینا چاہئے کہ جس طرح خلافتِ ظاہری، خلفاء راشدین سے شروع ہوئی اور اِس کا فیض حسبِ حال اُمت کے صالح حکام اور عادل امراء کو منتقل ہوتا چلا گیا، اُسی طرح خلافتِ باطنی بھی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی اور اس کا فیض حسبِ حال اَئمہ اَطہارِ اہل بیت اور اُمت کے اولیاء کاملین کو منتقل ہوتا چلاگیا۔ حضور فاتح و خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۔ ۔ ۔ مَن کنتُ مولاہُ فہٰذا علیٌّ مولاہُ (جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی مولا ہے)۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ علیٌّ ولیّکم مِن بَعدِی (میرے بعد تمہارا ولی علی ہے)۔ ۔ ۔ کے اعلانِ عام کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اُمت میں ولایت کا فاتحِ اَوّل قرار دے دیا۔
بابِ وِلایت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
۱۔ و فاتحِ اوّل ازین اُمت مرحومہ حضرت علی مرتضی است کرم اﷲ تعالیٰ وجھہ۔
(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۳)
’’اس اُمتِ مرحومہ میں (فاتح اَوّل) ولایت کا دروازہ سب سے پہلے کھولنے والے فرد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲۔ و سرِ حضرت امیر کرم اﷲ وجھہ در اولادِ کرام ایشان رضی اللہ عنہم سرایت کرد۔
(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۳)
’’حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا رازِ ولایت آپ کی اولاد کرام رضی اللہ عنہم میں سرایت کرگیا۔‘‘
۳۔ چنانکہ کسی از اولیاء امت نیست الا بخاندانِ حضرت مرتضیٰ رضی اللہ عنہ مرتبط است بوجہی از وجوہ۔
( شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، التفہیمات الالہٰیہ، ۱ : ۱۰۴)
’’چنانچہَ اولیائے اُمت میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندانِ اِمامت سے (اکستابِ ولایت کے لئے) وابستہ نہ ہو۔‘‘
۴۔ و از اُمتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوّل کسیکہ فاتحِ بابِ جذب شدہ است، و دراں جا قدم نہادہ است حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ، و لہٰذا سلاسلِ طُرُق بداں جانب راجع میشوند۔
(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ہمعات : ۶۰)
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں پہلا فرد جو ولایت کے (سب سے اعلیٰ و اقویٰ طریق) بابِ جذب کا فاتح بنا اور جس نے اِس مقامِ بلند پر (پہلا ) قدم رکھا وہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے، اِسی وجہ سے روحانیت و ولایت کے مختلف طریقوں کے سلاسِل آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘
۵۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
’’اب اُمت میں جسے بھی بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیضِ وِلایت نصیب ہوتا ہے وہ یا تو نسبتِ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے نصیب ہوتا ہے یا نسبتِ غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ عنہ سے، اس کے بغیر کوئی شخص مرتبۂ ولایت پر فائز نہیں ہوسکتا۔‘‘
(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ہمعات : ۶۲)
واضح رہے کہ نسبتِ غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ عنہ بھی نسبتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی کا ایک باب اور اِسی شمع کی ایک کرن ہے۔
۶۔ اِس نکتہ کو شاہ اسماعیل دہلوی نے بھی بصراحت یوں لکھا ہے :
’’حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے شیخین رضی اﷲ عنہما پر بھی ایک گو نہ فضیلت ثابت ہے اور وہ فضیلت آپ کے فرمانبرداروں کا زیادہ ہونا اور مقاماتِ وِلایت بلکہ قطبیت اور غوثیت اور ابدالیت اور انہی جیسے باقی خدمات ’’آپ کے زمانہ سے لیکر دُنیا کے ختم ہونے تک‘‘ آپ ہی کی وساطت سے ہونا ہے اور بادشاہوں کی بادشاہت اور امیروں کی امارت میں آپ کو وہ دخل ہے جو عالمِ ملکوت کی سیر کرنے والوں پر مخفی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ وِلایت کے اکثر سلسلے بھی جنابِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی کی طرف منسوب ہیں، پس قیامت کے دن بہت فرمانبرداروں کی وجہ سے جن میں اکثر بڑی بڑی شانوں والے اور عمدہ مرتبے والے ہونگے، حضرتِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا لشکر اِس رونق اور بزرگی سے دکھائی دے گا کہ اس مقام کا تماشہ دیکھنے والوں کے لئے یہ امر نہایت ہی تعجب کا باعث ہو گا۔‘‘
(شاہ اسماعیل دہلوی، صراطِ مستقیم : ۶۷)
یہ فیضِ وِلایت کہ اُمتِ محمدی میں جس کے منبع و سرچشمہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے اس میں سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنھما بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک کئے گئے ہیں، اور پھر اُن کی وساطت سے یہ سلسلۂ وِلایتِ کبریٰ اور غوثیتِ عظمیٰ اُن بارہ اَ ئمۂ اہلِ بیت میں ترتیب سے چلایا گیا جن کے آخری فرد سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہیں۔ جس طرح سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فاتحِ ولایت کے درجہ پر فائز ہوئے، اُسی طرح سیدنا امام مہدی علیہ السلام اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خاتمِ ولایت کے درجہ پر فائز ہونگے۔
۷۔ اس موضوع پر حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں :
و راہی است کہ بقربِ ولایت تعلق دارد : اقطاب و اوتاد و بدلا و نجباء و عامۂ اولیاء اﷲ، بہمین راہ واصل اندراہ سلوک عبارت ازین راہ است بلکہ جذبۂ متعارفہ، نیز داخل ہمین است و توسط و حیلولت درین راہ کائن است و پیشوای، و اصلان این راہ و سرگروہ اینھا و منبع فیض این بزرگواران : حضرت علی مرتضی است کرم اﷲ تعالے وجھہ الکریم، و این منصب عظیم الشان بایشان تعلق دارد درینمقام گوئیا ہر دو قدم مبارک آنسرور علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام برفرق مبارک اوست کرم اﷲ تعالی وجھہ حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ عنہم درینمقام با ایشان شریکند، انکارم کہ حضرت امیر قبل از نشاء ہ عنصرے نیز ملاذ این مقام بودہ اند، چنانچہ بعد از نشاءہ عنصرے و ہرکرا فیض و ہدایت ازین راہ میر سید بتوسط ایشان میر سید چہ ایشان نزد ن۔ قطہ منتھائے این راہ و مرکز این مقام بایشان تعلق دارد، و چون دورہ حضرت امیر تمام شُد این منصب عظیم القدر بحضرات حسنین ترتیبا مفوض و مسلم گشت، و بعد از ایشان بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب و التفصیل قرار گرفت و در اعصاراین بزرگواران و ہمچنیں بعد از ارتحال ایشان ہر کرا فیض و ہدایت میرسید بتوسط این بزرگواران بودہ و بحیلولۃ ایشانان ہرچند اقطاب و نجبای وقت بودہ باشند و ملاذ وملجاء ہمہ ایشان بودہ اند چہ اطراف را غیر از لحوق بمرکز چارہ نیست۔
(امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، ۳ : ۲۵۱، ۲۵۲، مکتوب نمبر : ۱۲۳)
’’اور ایک راہ وہ ہے جو قربِ وِلایت سے تعلق رکھتی ہے : اقطاب و اوتاد اور بدلا اور نجباء اور عام اولیاء اﷲ اِسی راہ سے واصل ہیں، اور راہِ سلوک اِسی راہ سے عبارت ہے، بلکہ متعارف جذبہ بھی اسی میں داخل ہے، اور اس راہ میں توسط ثابت ہے اور اس راہ کے واصلین کے پیشوا اور اُن کے سردار اور اُن کے بزرگوں کے منبعِ فیض حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں، اور یہ عظیم الشان منصب اُن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس راہ میں گویا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوںقدم مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مبارک سر پر ہیں اور حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اِس مقام میں اُن کے ساتھ شریک ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ اپنی جسدی پیدائش سے پہلے بھی اس مقام کے ملجا و ماویٰ تھے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ جسدی پیدائش کے بعد ہیں اور جسے بھی فیض و ہدایت اس راہ سے پہنچی ان کے ذریعے سے پہنچی، کیونکہ وہ اس راہ کے آخری نقطہ کے نزدیک ہیں اور اس مقام کا مرکز ان سے تعلق رکھتا ہے، اور جب حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا دور ختم ہوا تو یہ عظیم القدر منصب ترتیب وار حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو سپرد ہوا اور ان کے بعد وہی منصب ائمہ اثنا عشرہ میں سے ہر ایک کو ترتیب وار اور تفصیل سے تفویض ہوا، اور ان بزرگوں کے زمانہ میں اور اِسی طرح ان کے انتقال کے بعد جس کسی کو بھی فیض اور ہدایت پہنچی ہے انہی بزرگوں کے ذریعہ پہنچی ہے، اگرچہ اقطاب و نجبائے وقت ہی کیوں نہ ہوں اور سب کے ملجا و ماویٰ یہی بزرگ ہیں کیونکہ اطراف کو اپنے مرکز کے ساتھ الحاق کئے بغیرچارہ نہیں ہے۔‘‘
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام بھی کارِ ولایت میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں گے۔
(امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، ۳ : ۲۵۱، ۲۵۲، مکتوب نمبر : ۱۲۳)
خلاصۂِ کلام یہ ہوا کہ مقام غدیرِ خُم پر ولایت علی رضی اللہ عنہ کے مضمون پر مشتمل اعلانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حقیقت کو ابد الآباد تک کیلئے ثابت و ظاہر کردیا کہ ولایتِ علی رضی اللہ عنہ درحقیقت ولایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے۔ بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا، لہٰذا تا قیامت فیضِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجراء و تسلسل کیلئے باری تعالیٰ نے امت میں نئے دروازے اور راستے کھول دیئے جن میں کچھ کو مرتبۂ ظاہر سے نوازا گیا اور کچھ کو مرتبۂ باطن سے۔ مرتبۂ باطن کا حامل راستہ ’ولایت‘ قرار پایا، اور امتِ محمدی میں ولایت عظمیٰ کے حامل سب سے پہلے امامِ برحق۔ ۔ ۔ مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے۔ پھر ولایت کا سلسلۃ الذہب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلِ بیت اور آلِ اَطہار میں ائمہ اِثنا عشر (بارہ اِماموں) میں جاری کیا گیا۔ ہر چند اِن کے علاوہ بھی ہزارہا نفوسِ قدسیہ ہر زمانہ میں مرتبۂ ولایت سے بہرہ یاب ہوتے رہے، قطبیت و غوثیت کے اعلیٰ و ارفع مقامات پر فائز ہوتے رہے، اہل جہاں کو انوارِ ولایت سے منور کرتے رہے اور کروڑوں انسانوں کو ہر صدی میں ظلمت و ضلالت سے نکال کر نورِ باطن سے ہمکنار کرتے رہے، مگر ان سب کا فیض سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بارگاہِ ولایت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ماخوذ و مستفاد تھا۔ ولایت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی بھی بے نیاز اور آزاد نہ تھا۔ یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاآنکہ امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آخری امامِ برحق اور مرکزِ ولایت کا ظہور ہوگا۔ یہ سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہوں گے جو بارہویں امام بھی ہوں گے اور آخری خلیفہ بھی۔ اُن کی ذاتِ اَقدس میں ظاہر و باطن کے دونوں راستے جو پہلے جدا تھے مجتمع کر دیئے جائیں گے۔ یہ حاملِ وِلایت بھی ہوں گے اور وارثِ خلافت بھی، ولایت اور خلافت کے دونوں مرتبے اُن پر ختم کر دیئے جائیں گے۔ سو جو امام مہدی علیہ السلام کا منکر ہو گا وہ دین کی ظاہری اور باطنی دونوں خلافتوں کا منکر ہو گا۔
یہ مظہریتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انتہاء ہو گی، اس لئے اُن کا نام بھی ’محمد‘ ہو گا اور اُن کا ’خلق‘ بھی محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گا، تاکہ دُنیا کو معلوم ہو جائے کہ یہ ’امام‘ فیضانِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر و باطن دونوں وراثتوں کا امین ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو امام مہدی علیہ السلام کی تکذیب کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔‘‘
اُس وقت روئے زمین کے تمام اولیاء کا مرجع آپ علیہ السلام ہوں گے اور اُمتِ محمدی کا اِمام ہونے کے باعث سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے اور اس طرح اہلِ جہاں میں آپ علیہ السلام کی اِمامت کا اعلان فرمائیں گے۔
سو ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت مہدی الارض و السمائں۔ ۔ ۔ باپ اور بیٹا دونوں۔ ۔ ۔ اللہ کے ولی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی ہیں۔ انہیں تسلیم کرنا ہر صاحب ایمان پر واجب ہے۔
باری تعالیٰ ہمیں اِن عظیم منابعِ وِلایت سے اِکتسابِ فیض کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
یکے از غلامانِ اہل بیت محمدطاہر القادری
۱۸ ذی الحج، ۱۴۲۲ھ
فصل اول
حضرت مہدی علیہ السلام امام برحق اور بنو فاطمہ سے ہیں
۱ عن أم سلمة رضی اﷲ عنها زوج النبی صلی الله عليه وآله وسلم قالت : سمعتُ رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يذکر المهدي، فقال : هو حق و هو من بني فاطمة رضي اﷲ عنها
رواه الحاکم في المستدرک من طريق علي بن نفيل عن سعيد بن المسيب عن ام سلمة و سکت ايضا عنه الامام الذهبي و اورده النواب صديق حسن خان القنوجي في الاذاعة و قال صحيح
حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۷۱
اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (امام) مہدی کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی حق ہے۔ (یعنی ان کا ظہور برحق اور ثابت ہے) اور وہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔
۲. عن انس بن مالک رضي الله عنه قال سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول نحن ولد عبدالمطلب سادة اهل الجنة انا و حمزة و علي و جعفر و الحسن و الحسين و المهدي.
ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۸، رقم : ۴۰۸۷
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود فرماتے سنا ہے کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد اہلِ جنت کے سردار ہوں گے۔ یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی رضی اللہ عنہم اجمعین
۳. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت ذکررسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي و هو من ولد فاطمة.
حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۱، رقم : ۸۶۷۲
اُم المؤمنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کا تذکرہ فرمایا (اور اس میں فرمایا کہ) وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔
۴. عن عائشه رضي اﷲ عنها عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم : قال هو رجل من عترتي، يقاتل علي سنتي کما قاتلت أنا علي الوحي.
i نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۱، رقم : ۱۰۹۲
ii سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۷۴
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’مہدی میری عترت (اہل بیت) سے ہونگے، جو میری سنت (کے قیام) کیلئے جنگ کریں گے، جس طرح میں نے وحی الٰہی (کی اتباع) میں جنگ کی۔
۵. عن ابي امامة رضي الله عنه مرفوعا قال سيکون بينکم و بين الروم اربع هدن تقوم الرابعة علي يد رجل من آل هرقل يدوم سبع سنين قيل يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من امام الناس يومئذ قال من ولدي ابن اربعين سنة کان وجهه کوکب دري في خده الا يمن خال اسود عليه عباء تان قطوانيتان کأنه من رجال بني اسرائيل يملک عشر سنين يستخرج الکنوز و يفتح مدائن الشرک.
i طبراني، المعجم الکبير، ۸ : ۱۰۱، رقم : ۷۴۹۵
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۹
iii طبراني، المسند الشاميين، ۲ : ۴۱۰، رقم : ۱۶۰۰
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور روم کے درمیان چار مرتبہ صلح ہوگی۔ چوتھی صلح ایسے شخص کے ہاتھ پر ہوگی جو آل ھرقل سے ہوگا اور یہ صلح سات سال تک برابر قائم رہے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کا امام کون شخص ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص میری اولاد میں سے ہوگا جس کی عمر چالیس سال کی ہوگی۔ اس کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکدار، اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہوگا، اور دو قطوانی عبائیں پہنے ہوگا، بالکل ایسا معلوم ہوگا جیسا بنی اسرائیل کا شخص، وہ دس سال حکومت کرے گا، زمین سے خزانوں کو نکالے گا اور مشرکین کے شہروں کو فتح کرے گا۔
۶. عن ابن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ’’اسم المهدي محمد‘‘.
سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۷۳
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’(امام) مہدی کا نام محمد ہوگا‘‘
فصل دوم
امام مہدی علیہ السلام کا دورِخلافت آے بغیر قیامت بپا نہیں ہوگی.
۱. قال الامام الحافظ ابو عيسي محمد بن عيسي بن سورة الترمذي رحمة اﷲ تعالي في جامعه
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد ن القرشي نا ابي ناسفيان الثوري عن عاصم بن بهدلة عن زر عن عبداﷲ رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تذهب الدنيا حتي يملک العرب رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي و في الباب عن علي و ابي سعيد و ام سلمة و ابي هريرة رضي الله عنه
i ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۰
ii بزار، المسند، ۵ : ۲۰۴، رقم : ۱۸۰۳
iii حاکم، المستدرک، ۴ : ۴۸۸، رقم : ۸۳۶۴
امام حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسی بن سورۃ ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ میں فرماتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق (یعنی محمدہوگا)
۲. عن عبداﷲ رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يلي رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي قال عاصم و حدثنا ابو صالح عن ابي هريرة رضي الله عنه لو لم يبق من الدنيا الا يوما لطول اﷲ ذالک اليوم حتي يلي. هذا حديث حسن صحيح
i ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۱
ii احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۳۷۶، رقم : ۳۵۷۱
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میرے اہلِ بیت سے ایک شخص خلیفہ ہوگا جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اتنا دراز فرما دے گا یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدی علیہ السلام ) خلیفہ ہو جائے۔
۳. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول المهدي من عترتي من ولد فاطمة.
ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۴
ام المؤمنين حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہدی میری نسل اور فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) کی اولاد سے ہوگا۔
۴. عن ابي نضرة قال کنا عند جابر بن عبداﷲ رضي اﷲ عنهما فقال يوشک اهل الشام ان لا يجبي اليهم دينار ولا مدي قلنا من اين ذالک قال من قبل الروم ثم أسکت هنية ثم قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يکون في آخر امتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا قال قلت لابي نضرة و ابي العلاء أتريان انه عمر بن عبدالعزيز فقالا لا.
i مسلم، الصحيح، ۴ : ۲۲۳۴، رقم : ۲۹۱۳
ii احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۳۱۷، رقم : ۱۴۴۴۶
iii ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۷۵، رقم : ۶۶۸۲
ابو نضرۃ تابعي بيان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے کہ انہوں نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی غلہ، ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو مال لبالب بھر بھر کے دے گا، اور اسے شمار نہیں کرے گا۔
اس حدیث کے راوی الجریری کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ) ابو نضرہ اور ابو العلاء سے دریافت کیا۔ کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیثِ پاک میں مذکور خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا نہیں، یہ خلیفہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کے علاوہ ہوں گے۔
۵. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تقوم الساعة حتي تملأ الارض ظلما و جورا و عدوانا ثم يخرج من اهل بيتي من يملأها قسطا و عدلا.
قال ابو عبداﷲ رحمة اﷲ عليه صحيح علي شرطهما و وافقه الذهبي
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۶۹
ii هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۴۶۴، رقم : ۱۸۸۰
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ زمین ظلم و جور اور سرکشی سے بھر جائے گی، بعد ازاں میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (مہدی) پیدا ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (مطلب یہ ہے کہ خلیفہ مہدی کے ظہور سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)
۶. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسولا المهدي منا اهل البيت اشم الأنف اقني اجلي يملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما يعيش هکذا و بسط يساره و اصبعين من يمينه المسبحة والابهام و عقد ثلاثة.
قال ابو عبداﷲ الحاکم صحيح علي شرط مسلم
حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۰، رقم : ۸۶۷۰
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی میری نسل سے ہونگے۔ ان کی ناک ستواں و بلند اور پیشانی روشن اور نورانی ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جس طرح (اس سے پہلے وہ) ظلم و زیادتی سے بھر گئی ہوگی اور انگلیوں پرشمار کرکے بتایا کہ (وہ خلافت کے بعد) سات سال تک زندہ رہیں گے۔
۷. عن علي رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال لو لم يبق من الدهر الا يوم لبعث اﷲ رجلا من اهل بيتي يملأ هاعدلا کما ملئت جورا.
رجال هذا السند کلهم رجال الصحاح الستة غير فطر فانه من رواة البخاري والأربعة خلا مسلم.
i ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۳
ii ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۳، رقم : ۳۷۶۴۸
حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا (تو اللہ تعالیٰ اسی کو دراز فرما دے گا اور) میرے اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو پیدا فرمائے گا۔ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (ان سے پہلے) ظلم سے بھری ہوگی۔
فصل سوم
امام مہدی علیہ السلام زمین پر معاشی عدل کا وہ نظام نافذ فرمائیں گے کہ اہلِ ارض و سماء سب خوش ہوں گے
۱. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي مني اجلي الجبهة اقني الانف يملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا و يملک سبع سنين.
ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۵
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے (یعنی میری نسل سے ہوں گے) ان کا چہرہ خوب نورانی، چمک دار اور ناک ستواں و بلند ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح پہلے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ (مطلب یہ ہے کہ مہدی کی خلافت سے پہلے دنیا میں ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور عدل و انصاف کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔)
۲. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه ان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال تملأ الارض جورا و ظلما فيخرج رجل من عترتي فيملک سبعا او تسعا فيملأ الأرض عدلا و قسطا کما ملئت جورا و ظلما.
قال ابو عبداﷲ هذا حديث صحيح علي شرط مسلم ولم يخرجاه
i احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۷۰، رقم : ۱۱۶۸۳
ii الحاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۱، رقم : ۸۶۷۴
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (آخری زمانہ میں) زمین جور و ظلم سے بھر جائے گی تو میری اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا اور سات سال یا نو سال خلافت کرے گا (اور اپنے زمانۂ خلافت میں) زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ جورو ظلم سے بھر گئی ہوگی۔
۳. عن ابي سعيد رضي الله عنه قال ذکر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بلاء يصيب هذه الامة حتي لا يجد الرجل ملجأ يلجأ اليه من الظلم فيبعث اﷲ رجلا من عترتي و اهل بيتي فيملأ به الارض قسطا کما ملئت ظلما و جورا يرضي عنه ساکن السماء و ساکن الارض لاتدع السماء من قطرها شيئا الا صبته مدرارا ولا تدع الارض من ماء ها شيئا الا اخرجته حتي تتمني الاحياء الاموات يعيش في ذالک سبع سنين او ثمان سنين او تسع سنين.
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۱۲، رقم : ۸۴۳۸
ii معمربن راشد الازدي، الجامع، ۱۱ : ۳۷۱
iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۲۵۸، رقم : ۱۰۳۸
iv ابو عمر والداني، السنن الواده في الفتن، ۵ : ۱۰۴۹، رقم : ۵۶۴
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بڑی آزمائش کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پیش آنے والی ہے۔ ایک زمانے میں اتنا شدید ظلم ہوگا کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایک شخص کو پیدا فرمائے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے پھر ویسا ہی بھر دیگا جیسا وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ زمین اور آسمان کے رہنے والے سب ان سے راضی ہوں گے، آسمان اپنی تمام بارش موسلادھار برسائے گا اور زمین اپنی سب پیداوار نکال کر رکھ دے گی یہاں تک کہ زندہ لوگوں کو تمنا ہوگی کہ ان سے پہلے جو لوگ تنگی و ظلم کی حالت میں گذر گئے ہیں کاش وہ بھی اس سماں کو دیکھتے اسی برکت کے حال پر وہ سات یا آٹھ یا نو سال تک زندہ رہیں گے۔
۴. عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لو لم يبق من الدنيا إلا ليلة لطول اﷲ تلک ليلة حتي يملک رجل من أهل بيتي يواطي، اسمه اسمي وا سم أبيه اسم أبي، يملؤها قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً و جوراً، ويقسم المال بالسوية، ويجعل اﷲ الغني في قلوب هذه الأمة، فيمکث سبعا أو تسعا، ثم لا خير في عيش الحياة بعد المهدي.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۶۴
ii طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۱۳۳، رقم : ۱۰۲۱۶
iii طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۱۳۵، ۱۰۲۴
iv ابو عمرو الداني، السنن الوارده في الفتن، ۵ : ۱۰۵۵، رقم : ۵۷۲
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر دنیا (کے زمانہ) میں صرف ایک رات ہی باقی رہ گئی تو بھی اللہ رب العزت اس رات کو لمبا فرما دے گا یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جس کا نام میرے نام اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو انصاف اور عدل سے لبریز کر دیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور وہ مال کو برابر تقسیم کریں گے اور اللہ رب العزت اس امت کے دلوں میں غنا رکھ (پیدا فرما) دے گا۔ وہ سات یا نو سال (تشریف فرما) رہیں گے۔ پھر (امام ) مہدی کے (زمانے کے) بعد زندگی میں کوئی خیر (بھلائی) باقی نہیں رہے گی۔
فصل چہارم
تمام اولیاء و ابدال امام مہدی علیہ السلام کے دستِ اقدس پر بیعت کریں گے
۱. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يبايع رجل من امتي بين الرکن والمقام کعدة اهل بدر فياتيه عصب العراق و ابدال الشام.
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۴۷۸، رقم : ۸۳۲۸
ii ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۴۶۰، رقم : ۳۷۲۲۳
iii مناوي، فيض القدير، ۶ : ۲۷۷
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، میری امت کے ایک شخص (مہدی) سے رکنِ حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان اہلِ بدر کی تعداد کے مثل (یعنی ۳۱۳) افراد بیعتِ خلافت کریں گے۔ بعد ازاں اس امام کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال (بیعت کے لئے) آئیں گے :
۲. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها زوج النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هاربا الي مکة فياتيه ناس من اهل مکة فيخرجونه و هو کاره فيبايعونه بين الرکن والمقام و يبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مکة والمدينة فاذا رأي الناس ذالک اتاه ابدال الشام و عصائب اهل العراق فيبايعونه ثم ينشؤ رجل من قريش اخواله کلب فيبعث اليهم بعثا فيظهرون عليهم و ذالک کلب والخيبة لمن لم يشهد غنيمة کلب فيقسم المال و يعمل في الناس بسنة نبيها و يلقي الاسلام بجرانه الي الارض فيلبث سبع سنين ثم يتوفي و يصلي عليه المسلمون.
قال ابو داؤد و قال بعضهم عن هشام تسع سنين و قال بعضهم سبع سنين.
i ابوداؤد، سنن، ۴ : ۱۰۷، رقم : ۴۲۸۶
ii احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۳۱۶، رقم : ۲۶۷۳۱
iii حاکم، المستدرک، ۴ : ۴۷۸، رقم : ۸۳۲۸
iv ابن ابي شبيه، المصنف، ۷ : ۴۶۰، رقم : ۳۷۲۲۳
v ابويعلي، المسند، ۱۲ : ۳۶۹، رقم : ۶۹۴۰
vi طبراني، المعجم الکبير، ۲۳ : ۲۹۵، رقم : ۶۵۶
vii طبراني، المعجم الکبير، ۲۳ : ۳۸۹، رقم : ۹۳۰
viii طبراني، المعجم الکبير، ۲۳ : ۳۹۰، رقم : ۹۳۱
ix اسحاق بن راهويه، المسند، ۱ : ۱۷۰، رقم : ۱۴۱
x ابو عمرو الداني، السنن الوارده في الفتن، ۵ : ۱۰۸۴، رقم : ۵۹۵
حضرت ام سلمہ رضي اﷲ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب پر مدینہ کے مسلمانوں میں) اختلاف ہوگا ایک شخص (یعنی مہدی اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے نہ خلیفہ بنا دیں) مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے۔ مکہ کے کچھ لوگ (جو انہیں بحیثیت مہدی پہچان لیں گے) ان کے پاس آئیں گے اور انہیں (مکان) سے باہر نکال کر حجرِ اسود و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت (خلافت) کر لیں گے (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملکِ شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لئے روانہ ہوگا (جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا (اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آ کر آپ سے بیعتِ خلافت کریں گے۔
(جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملکِ شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لئے روانہ ہوگا (جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا (اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آ کر آپ سے بیعتِ خلافت کریں گے۔ بعد ازاں ایک قریشی النسل شخص (یعنی سفیانی) جس کی ننہال قبیلۂ کلب میں سے ہوگی خلیفۂ مہدی اور ان کے اعوان و انصار سے جنگ کے لئے ایک لشکر بھیجے گا۔ یہ لوگ اس حملہ آور لشکر پر غالب ہوں گے یہی (جنگ) کلب ہے۔ اور خسارہ ہے اس شخص کے لئے جو کلب سے حاصل شدہ غنیمت میں شریک نہ ہو (اس فتح و کامرانی کے بعد) خلیفہ مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلائیں گے اور اسلام مکمل طور پر زمین میں مستحکم ہو جائے گا (یعنی دنیا میں پورے طور پر اسلام کا رواج و غلبہ ہوگا) بحالتِ خلافت، (امام) مہدی دنیا میں سات سال اور دوسری روایات کے اعتبار سے نو سال رہ کر وفات پاجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔
۳. و عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت سمعت رسول اﷲ يقول يکون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من بني هاشم فياتي مکة فيستخرجه الناس من بيته و هو کاره فيبا يعوه بين الرکن والمقام فيتجهز اليه جيش من الشام حتي اذا کانوا بالبيداء خسف بهم فياتيه عصائب العراق وابدال الشام و ينشؤرجل بالشام و اخواله من کلب فيجهز اليه جيش فيهزمهم اﷲ فتکون الدائرة عليهم فذالک يوم کلب، الخائب من خاب من غنيمة کلب فيفتح الکنوز و يقسم الاموال و يلقي اللاسلام بجرانه الي الأرض فيعيشون بذالک سبع سنين او قال تسع.
i طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۳۵، رقم : ۱۱۵۳
ii طبراني، المعجم الاوسط، ۹ : ۱۷۶، رقم : ۹۴۵۹
iii ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۱۵۹، رقم : ۶۷۵۷
iv معمر بن راشد الازدي، الجامع، ۱۱ : ۳۷۱
اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا۔ (یعنی اس کی جگہ دوسرے خلیفہ کے انتخاب پر یہ صورتِ حال دیکھ کر) خاندان بنی ہاشم کا ایک شخص (اس خیال سے کہیں لوگ ان پر بارِ خلافت نہ ڈال دیں) مدینہ سے مکہ چلا جائے گا۔ (کچھ لوگ انہیں پہچان کر کہ یہی مہدی ہیں) انہیں گھر سے نکال کر باہر لائیں گے اور حجراسود و مقام ابراہیم کے درمیان زبردستی انکے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کر لیں گے (اُن کی بیعتِ خلافت کی خبر سن کر ایک لشکر مقابلہ کے لئے) شام سے اُن کی سمت روانہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جب مقام بیداء (مکہ و مدینہ کے درمیان میدان) میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کے بعد اُن کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال حاضر ہوں گے اور ایک شخص شام سے (سفیانی) نکلے گا جس کی ننہال قبیلۂ کلب میں ہوگی اور وہ اپنا لشکر خلیفۂ مہدی کے مقابلہ کے لئے روانہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سفیانی کے لشکر کو شکست سے دوچار فرما دے گا۔ یہی کلب کی جنگ ہے۔ پس وہ شخص خسارہ میں رہے گا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔ پھرخلیفہ مہدی خزانوں کو کھول دیں گے اور خوب اموال تقسیم کریں گے اور اسلام پورے طور پر دنیا میں تمام ہو جائے گا۔ لوگ اسی (عیش و راحت کے ساتھ) سات یا نو سال رہیں گے، (یعنی جب تک خلیفۂ مہدی حیات رہیں گے لوگوں میں فارغ البالی اور چین و سکون رہے گا۔)
۴. عن علي رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي منا اهل البيت يصلحه اﷲ تعالٰي في ليلة.
i ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۷، رقم : ۴۰۸۵
ii احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۸۴، رقم : ۶۴۵
iii ابو يعلي، المسند، ۱ : ۳۵۹، رقم : ۴۶۵
iv ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۳، رقم : ۳۷۶۴۴
v بزار، المسند، ۲ : ۲۴۳، رقم : ۶۴۴
vi ديلمي، الفردوس، ۴ : ۲۲۲، رقم : ۶۶۶۹
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (امام) مہدی میرے اہلِ بیت سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایک ہی رات میں صالح بنا دے گا (یعنی اپنی توفیق و ہدایت سے ایک ہی شب میں ولایت کے اس بلند مقام پر پہنچا دے گا جو اس کے لئے مطلوب ہوگا۔
فصل پنجم
امام مہدی علیہ السلام خلیفۃ اللہ علی الاطلاق ہوں گے
۱. عن ثوبان رضي الله عنه يقتتل ثمکنزکم ثلاثة کلهم ابن خليفة ثم لا يصير الي واحد منهم ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق فيقاتلونکم قتالا لم يقاتله قوم ثم ذکر شيأ فقال اذارأيتموه فبايعوه ولو حبوا علي الثلج فانه خليفة اﷲ المهدي
قال ابوعبداﷲ هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين و وافقه الذهبي
i ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۷، رقم : ۴۰۸۴ ii احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۲۷۷، رقم : ۲۲۴۴۱ iii حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۱۰، رقم : ۸۴۳۲ iv حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۴۷، رقم : ۸۵۳۱ v ديلمي، الفردوس، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۳۴۷۰ vi روياني، المسند، ۱ : ۴۱۷، رقم : ۶۳۷ vii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۱۱، رقم : ۸۹۶
حضرت ثوبان رضي اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے خزانہ کے پاس تین شخص جنگ کریں گے۔ یہ تینوں خلیفہ کے لڑکے ہوں گے۔ پھر بھی یہ خزانہ ان میں سے کسی کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہوں گے اور وہ تم سے اس شدت کے ساتھ جنگ کریں گے کہ اس سے پہلے کسی قوم نے اس قدر شدید جنگ نہ کی ہوگی (راوی حدیث یعنی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات بیان فرمائی (جس کو یہ سمجھ نہ سکے) یعنی پھر اللہ کے خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب تم لوگ انہیں دیکھنا تو ان سے بیعت کر لینا اگرچہ اس بیعت کے لئے برف پر گھسٹ کر آنا پڑے، بلا شبہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔ ضروری وضاحت
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری شرح بخاری ج ۱۳ ص ۸۱ پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ اس حدیث مذکور میں خزانہ سے مراد اگر وہ خزانہ ہے جس کا ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ’’یوشک الفرات ان یحسر عن کنز من ذھب‘‘ (۱)’’قریب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہو کر) سونے کا خزانہ ظاہر کر دیگا‘‘ تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعات ظہور مہدی کے وقت رونما ہوں گے۔
(۱) i بخاري، الصحيح، ۶ : ۲۶۰۵، رقم : ۶۷۰۲ ii مسلم، الصحيح، ۴ : ۲۲۱۹، رقم : ۲۸۹۴ iii ترمذي، الجامع الصحيح، ۴، ۶۹۸، رقم : ۲۵۶۹ iv ابو داؤد، السنن، ۴ : ۱۱۵، رقم : ۴۳۱۳
۲. عن حذيفة رضي الله عنه : قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’المهدي رجل من ولدي، لونه لون عربي، و جسمه جسم إسرائيلي، علي خده الأيمن خال کأنه کوکب دري، يملأ الأرض عدلا کما ملئت جوراً، يرضي في خلافته أهل الأرض و أهل السماء والطير في الجو.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۶۶ ii ديلمي، الفردوس، ۴ : ۲۲۱، رقم : ۶۶۶۷
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مھدی میری اولاد میں سے ہونگے۔ ان کا رنگ عربی اور ان کی جسمانی ساخت اسرائیلی ہوگی۔ انکے دائیں رخسار پر تل ہوگا گویا وہ نور افشاں ستارہ ہوں گے۔ وہ (مھدی) زمین کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی انکی خلافت پر اہلِ زمین اور اہلِ آسمان سب راضی ہوں گے اور فضا میں پرندے بھی راضی (خوش) ہونگے۔
۳. عن ابي سعيد رضي الله عنه عن النبي عليه الصلوة والسلام قال : يخرج في آخر الزمان خليفة يعطي الحق بغير عدد.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲، ۶۴
ii ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۳، رقم : ۳۷۶۴۰ iii ديلمي، الفردوس، ۵ : ۵۰۱، رقم : ۸۹۱۸ iv نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۵۷، رقم : ۱۰۳۲
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’آخری زمانے میں ایک خلیفہ (مھدی) تشریف لائیں گے جو بغیر حساب کے (لوگوں کو ان کا) حق عطا فرمائیں گے۔
فصل ششم
امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے دین کو پھر غلبہ و استحکام نصیب ہوگا
۱. عن ابي الطفيل عن محمد نبن الحنفية قال : کنا عند علي رضي الله عنه فسأله رجل عن المهدي فقال علي رضي الله عنه : هيهات ثم عقد بيده سبعا فقال : ذاک يخرج في آخر الزمان اذا قال الرجل اﷲ اﷲ قتل فيجمع اﷲ تعالٰي له قوما قزع کقزع السحاب يؤلف اﷲ قلوبهم لا يستوحشون الي احد ولا يفرحون باحد يدخل فيهم علي عدة اصحاب بدر لم يسبقهم الاولون ولا يدرکهم الاخرون و علي عدد اصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر قال ابن الحنفية : اتريده قلت : نعم قال : انه يخرج من بين هذين الخشبتين قلت لا جرم واﷲ لا اديمهما حتي اموت فمات بها يعني بمکة حرسها اﷲ تعالٰي.
قال ابو عبداﷲ الحاکم : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين ووافقه الذهبي
حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۹۶، رقم : ۸۶۵۹
حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ محمد بن الحنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہ نے کہا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے (امام) مہدی کے بارے میں پوچھا؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (بر بنائے لطف) فرمایا۔ دور ہو، پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مہدی کا ظہور آخر زمان میں ہوگا (اور بے دینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ) اللہ کے نام لینے والے کو قتل کر دیا جائے گا(ظہور مہدی کے وقت) اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو ان کے پاس اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرق ٹکڑوں کو مجتمع کر دیتا ہے اور ان میں یگانگت و الفت پیدا کر دے گا۔ یہ نہ تو کسی سے خوفزدہ ہوں گے اور نہ کسی کے انعام کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ ان کا باہمی ربط وضبط سب کے ساتھ یکساں ہوگا) خلیفہ مہدی کے پاس اکٹھا ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر (غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابۂ کرام) کی تعداد کے مطابق (یعنی ۳۱۳) ہوگی۔ اس جماعت کو ایک ایسی (خاص) فضیلت حاصل ہوگی جو ان سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی ہے نہ بعد والوں کو حاصل ہوگی۔ نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالوت کی تعداد کے برابر ہوگی۔ جنہوں نے طالوت کے ہمراہ نہر (اردن) کو عبور کیا تھا۔ حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہ نے مجمع سے پوچھا کیا تم اس جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ اور خواہش رکھتے ہو، میں نے کہا ہاں توانہوں نے (کعبہ شریف کے) دو ستونوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیفہ مہدی کا ظہور انہی کے درمیان ہوگا۔ اس پر حضرت ابوالطفیل نے فرمایا بخدا میں ان سے تاحیات جدا نہ ہوں گا۔ (راوی حدیث کہتے ہیں) چنانچہ حضرت ابوالطفیل کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔
۲. عن علي الهلالي رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال لفاطمة : ’’يا فاطمة والذي بعثني بالحق إن منهما. يعني من الحسن والحسين. مهدي هذه الأمة، إذا صارت الدنيا هرجا و مرجا و تظاهرت الفتن و تقطعت السبل و أغار بعضهم علي بعض فلا کبير يرحم صغيراً ولا صغير يوقر کبيراً بعث اﷲ عند ذلک منهما من يفتح حصون الضلالة و قلوبا غلفا، يقوم بالدين في آخر الزمان کما قمت في أول الزمان، و يملأ الأرض عدلا کما ملئت جوراً‘‘.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۶، ۶۷
ii طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۷، رقم : ۲۶۷۵
iii طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۳۲۸، رقم : ۶۵۴۰
iv هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۶۵
حضرت علی الھلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اﷲ عنہا سے ارشاد فرمایا ’’اے فاطمہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا بے شک ان دونوں یعنی حسن و حسین رضی اﷲ عنہما (کی اولاد) میں سے اس امت کے مہدی پیدا ہونگے۔ جب دنیا فتنہ و فساد کا شکار ہوجائیگی اور فتنوں کا ظہور ہوگا، اور راستے کٹ جائیں گے اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہونگے۔ کوئی بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا اور کوئی چھوٹا بڑے کی عزت نہیں کرے گا تو اللہ رب العزت اس وقت ان دونوں (حسن و حسین کی اولاد) میں سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے اور بند دلوں کو کھولیں گے اس امت کے آخری زمانے میں دین کو قائم کریں گے جس طرح میں نے (اس امت کے) ابتدائی زمانے میں قائم فرمایا ہے اور وہ زمین کو عدل سے بھردیں گے جس طرح پہلے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔
۳. عن أبي سعيد الخدري رضی الله عنه : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : ’’يخرج رجل من أهل بيتي يقول بسنتي، ينزل اﷲ له القطر من السماء، و تخرج له الأرض من برکتها، تملأ الأرض منه قسطا و عدلا کما ملئت جوراً و ظلماً، يعمل علي هذه الأمة سبع سنين، و ينزل بيت المقدس‘‘.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۲
ii طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۵، رقم : ۱۰۷۵
iii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۷
سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’میری اہل بیت میں سے ایک شخص ظاہر ہونگے جو میری سنت کی بات کریں گے، اللہ رب العزت ان کے لئے آسمان سے بارش برسائے گا اور زمین ان کیلئے اپنی برکات نکال دے گی (یعنی اپنے خزانے اگل دے گی)۔ زمین ان کے ذریعے عدل و انصاف سے بھر جائیگی جس طرح پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔ وہ اس امت پر سات سال تک حکومت کریں گے اور بیت المقدس میں نزول فرمائیں گے۔‘‘
۴. عن ابي هريرة رضي الله عنه قال : ’’حدثني خليلي أبو القاسما قال : لا يقوم الساعة حتي يخرج عليهم رجل من أهل بيتي، فيضربهم حتي يرجعوا إلي الحق، قلت : و کم يملک؟
قال : خمساً و اثنين‘‘.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۲
ii ابويعلي، المسند، ۱۲ : ۱۹، رقم : ۳۳۳۵
iii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۵
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ’’مجھے میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ میری اہل بیت سے ایک شخص ظاہر نہ ہونگے جو لوگوں کا مقابلہ کریں گے حتی کہ وہ حق کی طرف رجوع کرلیں گے‘‘ میں نے عرض کی۔ وہ کتنا عرصہ بادشاہ رہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ پانچ اور دو (یعنی سات سال)۔
۵. عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي خليفة يحثي المال في الناس حثيا لا يعده عدا ثم قال والذي نفسي بيده ليعودن.
رواه البزار و رجاله رجال الصحيح.
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۰۱، رقم : ۸۴۰۰
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۶
iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۶۲، رقم : ۱۰۵۵
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا۔ شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پر شمار کئے بغیرکثرت سے لوگوں میں عطیات تقسیم کریں گے) اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کرلے گا۔
فصل ہفتم
امام مہدی علیہ السلام کا دورِ حکومت معاشی خوشحالی اور عوام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اعتبار سے بے مثال ہوگا
۱. عن ابی سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : يخرج في آخر امتي المهدي يسقيه اﷲ الغيث و يخرج الارض نباتها و يعطي المال صحاحا و تکثر الماشية و تعظم الامة يعيش سبعا او ثمانيا يعني حججا.
قال ابو عبداﷲ هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه و وافقه الذهبي
حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۱، رقم : ۸۶۷۳
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے آخری دور میں مہدی پیدا ہونگے۔ اللہ تعالیٰ ان پر خوب بارش برسائے گا اور زمین اپنی پیداوار باہر نکال دے گی اور وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے۔ ان کے زمانۂ (خلافت) میں مویشیوں کی کثرت اور امت کی عظمت ہوگی (وہ خلافت کے بعد) سات سال یا آٹھ سال زندہ رہیں گے۔
۲. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ابشرکم بالمهدي يبعث في امتي علي اختلاف من الناس و زلزال فيملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما يرضي عنه ساکن السماء و ساکن الارض يقسم المال صحاحا، قال له رجل ما صحاحا؟ قال بالسوية بين الناس و يملأ اﷲ قلوب امة محمد صلي الله عليه وآله وسلم غني و يسعهم عدله حتي يأمر مناديا فينادي فيقول : من له في المال حاجة؟ فما يقوم من الناس الا رجل واحدفيقول له! ائت السدان يعني الخازن فقل له ان المهدي يامرک ان تعطيني مالا فيقول له احث فيحثي حتي اذا جعله في حجره و ائتزره ندم فيقول کنت اجشع امة محمد صلي الله عليه وآله وسلم نفسا او عجز عني ماوسعهم؟ قال فيرده فلا يقبل منه فيقال له انا لا نأخذ شيئا اعطيناه فيکون کذالک سبع سنين او ثمان سنين او تسع سنين ثم لا خير في العيش بعده اوقال ثم لا خير في الحياة بعده.
رواه الترمذي و غيره باختصار کثير و رواه احمد باسانيده و ابو يعلي باختصار کثير و رجالهما ثقات
i احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۳۷، رقم : ۱۱۳۴۴
ii احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۵۲، رقم : ۱۱۵۰۲
iii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۴
حضرت ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جومیری امت میں اختلاف و اضطراب کے زمانہ میں بھیجے جائیں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (ان سے پہلے) ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ زمین اور آسمان والے ان سے خوش ہوں گے۔ وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے (یعنی اپنی عطا میں وہ کسی سے امتیاز نہیں برتیں گے) اللہ تعالیٰ (اُن کے دورِ خلافت میں) میری امت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا۔ (اور بغیر امتیاز و ترجیح کے) اُن کا انصاف سب کو عام ہوگا وہ اپنے منادی کو حکم دیں گے کہ عام اعلان کردے کہ جسے مال کی حاجت ہو (وہ مہدی کے پاس آ جائے اس اعلان پر) مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا۔ مہدی اس سے فرمائیں گے، خازن کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمہیں حکم دیا ہے (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا) تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں (حسب تمنا) بھر لے چنانچہ وہ (حسب خواہش) دامن میں بھرلے گا اور خزانے سے باہر لائے گا تواسے (اپنے اس عمل پر) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں کہے گا کیا) امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا۔ میرے ہی لئے وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی و وافی ہے۔ (اس ندامت پر) وہ مال واپس کرنا چاہے گا۔ مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے۔ (امام) مہدی عدل و انصاف اور احسان و عطا کے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہیں گے۔ ان کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خیر (یعنی لطفِ زندگی باقی) نہیں (رہے گا)۔
۳. عن ابي هريرة رضي الله عنه قال ذکر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي قال ان قصر فسبع والاثمان والافتسع وليملأن الأرض قسطا کما ملئت ظلما و جورا
(۱) رواه البزار و رجاله ثقات
(۱) هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۶
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر ان کی مدت خلافت کم ہوئی تو سات برس ہوگی ورنہ آٹھ یا نوسال ہوگی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
۴. عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي خليفة يحثي المال في الناس حثيا لا يعده عدا ثم قال والذي نفسي بيده ليعودن
رواه البزار و رجاله رجال الصحيح.
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۰۱، رقم : ۸۴۰۰
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۶
iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۶۲، رقم : ۱۰۵۵
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا۔ شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پرشمار کئے بغیرکثرت سے لوگوں میں عطیات تقسیم کریں گے) اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کرلے گا۔)
۵. و عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي المهدي ان قصر فسبع والاثمان والا فتسع تنعم امتي فيها نعمة لم ينعموا مثلها يرسل السماء عليهم مدرارا ولا يدخر الارض شيئا من النبات والمال کدوس يقوم الرجل يقول يامهدي اعطني فيقول خذه.
i طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۳۱۱، رقم : ۵۴۰۶
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۷
حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ایک مہدی ہوگا (انکی مدت خلافت) اگر کم ہوئی تو سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ میری امت اُن کے زمانہ میں اس قدر خوش حال ہوگی کہ اتنی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسبِ ضرورت) موسلا دھار بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار کو اگا دے گی۔ ایک شخص کھڑا ہو کر مال کا سوال کرے گا تو مہدی کہیں گے (اپنی حسبِ خواہش خزانہ میں جا کر) خود لے لو۔
۶. عن ابي سيعد نالخدري صعن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي المهدي ان قصرفسبع والا فتسع تنعم امتي فيه نعمة لم ينعموا مثلها قط تؤتي الارض اکلها لاتدخرعنهم شيئا والمال يومئذ کدوس. يقوم الرجل يقول يا مهدي اعطني فيقول خذ.
i ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۶، رقم : ۴۰۸۳
ii حاکم، المستدرک، ۴ : ۶۰۱، رقم : ۸۶۷۵
iii ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۲، رقم : ۳۷۶۳۸
iv ابو عمر والداني، السنن الوارده في الفتن، ۵ : ۱۰۳۵، رقم : ۵۵۰
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی ہوگا جو کم سے کم سات سال ورنہ نو سال تک رہے گا۔ ان کے زمانے میں میری امت اتنی خوشحال ہوگی کہ اس سے قبل کبھی ایسی خوشحال نہ ہوئی ہوگی۔ زمین اپنی ہر قسم کی پیداوار ان کے لئے نکال کر رکھ دے گی اور کچھ بچا کر نہ رکھے گی اور مال اس زمانے میں کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہوگا حتی کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے۔ وہ فرمائیں گے (جتنا مرضی میں آئے) اٹھالے۔
۷. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال خشينا ان يکون بعد نبينا حدث فسألنا نبي اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال ان في امتي المهدي يخرج يعيش خمسا او سبعا او تسعا زيدنالشاک، قال قلنا و ما ذالک قال سنين قال فيجيئ اليه الرجل فيقول يا مهدي اعطني اعطني قال فيحثي له في ثوبه ما استطاع ان يحمله.
هذا حديث حسن
i ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۵۰۶، رقم : ۲۲۳۲
ii احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۲۱، رقم : ۱۱۱۷۹
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وقوع حوادث کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کیا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی ہوگا جو پانچ سات یا نو تک حکومت کرے گا (زید راوی حدیث کو ٹھیک مدت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا (اس عدد سے مراد) سال ہیں۔ ان کا زمانہ ایسی خیر و برکت کا ہوگا کہ ایک شخص ان سے آ کر سوال کرے گا اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے، مجھے کچھ دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ امام مہدی ہاتھ بھر بھر کر اس کو اتنا مال دے دیں گے جتنا وہ اٹھانے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔
فصل ہشتم
امام مہدی علیہ السلام کی ولایت و سلطنت انعاماتِ الٰہیہ کی کثرت کے لحاظ سے عدیم المثال ہوگی
۱. حدثنا عبداﷲ بن نمير ثنا موسي الجهني ثني عمر بن قيس الماصر ثني مجاهد ثني فلان رجل من اصحاب النبي صلي الله عليه وآله وسلم ان المهدي لا يخرج حتي تقتل النفس الزکية فاذا قتلت النفس الزکية غضب عليهم من في السماء ومن في الارض فاتي الناس المهدي فزفوه کما تزف العروس الي زوجها ليلة عرسها و هو يملأ الارض قسطا و عدلا ويخرج الارض نباتها و تمطر السماء مطرها وتنعم امتي في ولايته نعمة لم تنعمها قط.
ابن ابي شيبه، المصنف : ۷ : ۵۱۴ : رقم : ۳۷۶۵۳
امام مجاہد (مشہور تابعی) ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ’’نفس زکیہ‘‘ کے قتل کے بعد ہی خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ جس وقت نفس زکیہ قتل کردیے جائیں گے تو زمین و آسمان والے ان قاتلین پر غضب ناک ہوں گے۔ بعد ازاں لوگ (امام) مہدی کے پاس آئیں گے اور انہیں دلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کریں گے اور (امام) مہدی زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے۔ (ان کے زمانہ خلافت میں) زمین اپنی پیداوار کو اُگادے گی اور آسمان خوب برسے گا اور میری امت پر ان کی ولایت و سلطنت میں اس قدر نعمتیں نازل ہوں گی کہ اتنی نعمتوں سے اسے پہلے کبھی نہیں نوازا گیا ہوگا۔
ضروری وضاحت : ایک نفس زکیہ محمد بن عبداللہ بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہم ہیں جنہوں نے خلیفہ منصور عباسی کے خلاف ۲۴۵ھ میں خروج کیا تھا اور شہید ہوئے تھے۔ حدیث بالا میں مشہود ’’نفس زکیہ‘‘ سے مراد یہ نہیں ہیں بلکہ اس نام کے ایک اور بزرگ ہوں گے جو ظہور امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ سے قبل ہوں گے۔
۲. عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي المهدي ان قصر فسبع والافثمان والافتسع تنعم امتي فيه نعمة لم ينعموا مثلها يرسل اﷲ السماء عليهم مدرارا ولا تدخر الارض بشئ من النبات و المال کدوس يقوم الرجل فيقول يا مهدي اعطني فيقول خذه.
i طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۳۱۱، رقم :۵۴۰۶
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۷
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں (امام) مہدی ہونگے جن کا زمانہ اگر کم ہوا تو سات سال ورنہ آٹھ یا نوسال ہوگا مہدی کے زمانے میں میری امت اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوشحالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ اللہ رب العزت آسمان سے (حسب ضرورت) بارش نازل فرمائے گا اور زمین اپنی تمام پیداوار اگا دے گی۔ اور مال کھلیان کی طرح پڑا ہوگا۔ ایک آدمی اُٹھ کر عرض کرے گا اے مہدی مجھے عطا فرمائیں تو آ پ ارشاد فرمائیں گے (اپنی مرضی کے مطابق) لے لو۔
۳. عن علي رضي الله عنه قال : ’’قلت : يا رسول اﷲ أمنا آل محمد المهدي أم من غيرنا؟ فقال : لا، بل منا، يختم اﷲ به الدين کما فتح بنا، و بنا ينقذون من الفتنة کما أنقذوا من الشرک، وبنا يؤلف اﷲ بين قلوبهم بعد عداوة الفتنة کما ألف بين قلوبهم بعد عداوة الشرک، و بنا يصبحون بعد عداوة الفتنة إخوانا کما أصبحوا بعد عداوة الشرک إخواناً في دينهم‘‘
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۱
ii طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۵۶، رقم : ۱۵۷
iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۰، رقم : ۱۰۸۹
iv نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۱، رقم : ۱۰۹۰
v هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۷۱
حضرت علي رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا۔ میں نے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا (امام) مہدی ہم آل محمد میں سے ہوں گے یا ہمارے علاوہ کسی اور سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں، بلکہ وہ ہم ہی میں سے ہونگے۔ اللہ رب العزت ان پر (سلطنت) دین اسی طرح ختم فرمائے گا جیسے ہم سے آغاز فرمایا ہے اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو فتنہ سے بچایا جائیگا جس طرح انہیں شرک سے نجات عطا فرمائی گئی ہے اور ہمارے ذریعے ہی اللہ انکے دلوں میں فتنہ کی عداوت کے بعد محبت و الفت پیدا فرمائیگا۔ جس طرح اللہ نے شرک کی عداوت کے بعد انکے دلوں میں (ہمارے ذریعے) الفت پیدا فرمائی اور ہمارے ذریعے ہی فتنہ (وفساد) کی عداوت کے بعد لوگ آپس میں بھائی بھائی ہو جائیں گے، جس طرح وہ شرک کی عداوت کے بعد اس دین میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔
فصل نہمم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے
۱. عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : کيف انتم اذا نزل ابن مريم فيکم و امامکم منکم.
i بخاري، الصحيح، ۳ : ۱۲۷۲، رقم : ۳۲۶۵
ii مسلم، الصحيح، ۱ : ۱۳۶، رقم : ۱۵۵
iii ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۲۱۳، رقم : ۶۸۰۲
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کا اس وقت ( خوشی سے) کیا حال ہوگا۔ جب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔
تشریح : مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے اور امام خود عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہوں گے، بلکہ اُمّت کا ایک فرد یعنی خلیفہ مہدی ہوں گے چنانچہ حافظ ابن حجر بحوالہ مناقب الشافعی از امام ابو الحسین آبری لکھتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک نماز خلیفہ مہدی کی اقتداء میں ادا کریں گے۔
(فتح الباري، ج ۶، رضي الله عنه ۴۹۳)
۲. عن جابر بن عبداﷲ الانصاري رضي الله عنه قال سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول لا تزال طائفة من امتي يقاتلون علي الحق ظاهرين الي يوم القيمة قال و ينزل عيسي ابن مريم عليه السلام فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا، ان بعضکم علي بعض امراء تکرمة اﷲ هذه الامة.
i مسلم، الصحيح، ۱ : ۱۳۷، رقم : ۱۵۶
ii ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۲۳۱، رقم : ۶۸۱۹
iii ابن منده، الايمان، ۱ : ۵۱۷، رقم : ۴۱۸
iv ابن جارود، المنتقي، ۱ : ۲۵۷، رقم : ۱۰۳۱
v بيهقي، السنن الکبریٰ، ۹ : ۱۸۰
vi ابو عوانه، المسند، ۱ : ۹۹، رقم : ۳۱۷
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ایک جماعت قیام حق کے لیے کامیاب جنگ قیامت تک کرتی رہے گی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان مبارک کلمات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’آخر میں(حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر، ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے اس کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے (اس وقت) میں امامت نہیں کروں گا۔ تمہارا بعض، بعض پر امیر ہے‘‘ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرما دیں گے اس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا کی ہے۔)
۳. عن جابر رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يخرج الدجال في خفة من الدين و ذکر الدجال ثم قال ثم ينزل عيسي ابن مريم عليه السلام فينادي من السحر فيقول يا ايها الناس ما يمنعکم ان تخرجوا الي هذا الکذاب الخبيث فيقولون هذا رجل جني فينطلقون فاذا هم بعيسي ابن مريم عليه السلام فتقام الصلوة فيقال له تقدم يا روح اﷲ فيقول ليتقدم امامکم فليصل بکم فاذا صلوا صلوة الصبح خرجوا اليه قال فحين يراه الکذاب ينماث کما ينماث الملح في الماء.
(رواه الحاکم في المستدرک و قال هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه وقال الشيخ الذهبي في تلخيصه هو علي شرط مسلم)
i احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۴۴۴، رقم : ۱۴۹۹۷
ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۴۴۴
حضرت جابر رضي اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین کے کمزور ہوجانے کی حالت میں دجال نکلے گا اور دجال سے متعلق تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا بعدازاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے اور بوقت سحر (یعنی صبح صادق سے پہلے) آواز دیں گے کہ اے مسلمانو! تمہیں اس جھوٹے خبیث (دجال) سے مقابلہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ تو لوگ کہیں گے کہ یہ کوئی جناتی مخلوق ہے۔ پھر آگے بڑھ کر دیکھیں گے تو انہیں عیسیٰ علیہ السلام نظر آئیں گے۔ پھر نماز فجر کے لیے اقامت ہوگی تو ان کا امیر کہے گا اے روح اللہ! امامت کے واسطے آگے تشریف لائیے حضرت عیسٰی علیہ السلام فرمائیں گے ’’تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے‘‘ (اور اس وقت کے امام سیدنا مہدی ہوں گے)۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوجائیں گے تو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں) دجال سے مقابلہ کے لیے نکلیں گے۔ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو (خوف کے مارے) نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلنے لگے گا۔
۴. عن ابي امامة الباهلي رضي الله عنه مرفوعا فقالت ام شريک بنت ابي العکر يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فاين العرب يومئذ؟ قال هم يومئذ قليل و جلهم ببيت المقدس وامامهم رجل صالح قد تقدم يصلي بهم الصبح اذ نزل عليهم ابن مريم الصبح فرجع ذلک الامام ينکص يمشي القهقري ليتقدم عيسي ابن مريم يصلي بالناس فيضع عيسي يده بين کتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لک اقيمت فيصلي بهم امامهم.
اسناده قوي و اما في الحديث و امامهم رجل صالح فالمراد به المهدي کما جاء التصريح به
ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۱، رقم : ۴۰۷۷
حضرت ابو امامہ رضي اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں جس میں ہے کہ ایک صحابیہ ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرب اس وقت کہاں ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ اہل عرب دین کی حمایت میں مقابلے کے لیے کیوں سامنے نہیں آئیں گے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثر بیت المقدس (یعنی شام) میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح (مہدی) ہوگا جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا۔ اچانک (حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسی وقت (آسمان سے) اتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں۔ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام امام کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے تو انکے امام (مہدی) لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔
۵. عن عثمان بن ابي العاص رضي الله عنه مرفوعا و ينزل عيسي ابن مريم عليه السلام عند صلوة الفجر فيقول له الناس ياروح اﷲ تقدم فصل بنا فيقول انکم معاشر امة محمد امراء بعضکم علي بعض فتقدم انت فصل بنا فيتقدم الامير فيصلي بهم.
i حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۲۴، رقم : ۸۴۷۳
ii طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۶۰، رقم : ۸۳۹۲
حضرت عثمان بن ابو العاص رضي اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’(حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نماز فجر کے وقت (آسمان سے) اتریں گے تو لوگ ان سے عرض کریں گے۔ اے روح اللہ آگے تشریف لائیے، اور ہمیں نماز پڑھائیے، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ’’تم امت محمدیہ کے لوگ ہو۔ اس امت کا بعض بعض پر امیر ہے پس آپ ہی آگے بڑھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں‘‘ تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا۔
۶. عن عبد اﷲ بن عمرو رضي الله عنه قال المهدي الذي ينزل عليه عيسي ابن مريم و يصلي خلفه عيسي.
i نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۳، رقم : ۱۱۰۳
ii سيوطي، الحاوي للفتاوی، ۲ : ۷۸
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام امام مہدی کے بعد نازل ہوں گے اوران کے پیچھے (ایک) نماز ادا فرمائیں گے۔
۷. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم منا الذي يصلي عيسي ابن مريم خلفه.
i محمد بن ابي بکر الدمشقي، المنار المنيف، ۱ : ۱۴۷، رقم : ۳۷
ii سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۴
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی امت میں سے ایک شخص ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نماز ادا فرمائیں گے۔
۸. عن حذيفة رضی الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يلتفت المهدي و قد نزل عيسي ابن مريم کانما يقطر من شعره الماء فيقول المهدي تقدم صل بالناس فيقول عيسي عليه السلام انما اقيمت الصلوة لک فيصلی خلف رجل من ولدي.
سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۸۱
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اترچکے ہوں گے ان کو دیکھ کر یوں معلوم ہوگا گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے اس وقت امام مہدی ان کی طرف مخاطب ہوکر عرض کریں گے تشریف لائیے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے۔ وہ فرمائیں گے اس نماز کی اقامت تو آپ کیلئے ہوچکی ہے اس لئے نماز تو آپ ہی پڑھائیں چنانچہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یہ نماز میری اولاد میں سے ایک شخص کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔
۹. عن ابن سيرين قال المهدي من هذه الامة و هو الذي يؤم عيسي ابن مريم عليهما السلام.
i ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۵۱۳، رقم : ۳۷۶۴۹ ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۳، رقم : ۱۱۰۷
ابن سیرین سے روایت ہے کہ (امام) مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی امامت سرانجام دیں گے۔
فصل دہم
امام مہدی علیہ السلام کی اطاعت واجب اور تکذیب کفر ہوگی
۱. عن شهر بن حوشب رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : في المحرم ينادي من السماء : ألا إن صفوة اﷲ فلان، فاسمعوا له وأطيعوا، في سنة الصوت والمعمة.
i نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۲۲۶، رقم : ۶۳۰
ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۳۸، رقم : ۹۸۰
iii سيوطي، الحاوي للفتاوی، ۲ : ۷۶
حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’محرم (کے مہینے) میں آواز دینے والا آسمان سے آواز دے گا۔ خبردار (آگاہ ہوجاؤ) بیشک فلاں بندہ اللہ رب العزت کا چنا ہوا (منتخب کردہ) شخص ہے۔ پس تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔
۲. عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدي فقد کفر.
سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۷۳
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے دجال (کے آنے) کا انکار کیا یقیناً اس نے کفر (کا ارتکاب) کیا۔ اور جس نے (امام) مہدی (کے تشریف لانے) کا انکار کیا یقیناً اس نے (بھی) کفر کیا۔
۳. عن ابن عمررضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : يخرج المهدي و علي رأسه عمامة، فيأتي مناد ينادي : هذا المهدي خليفة اﷲ فاتبعوه.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۶۱
ii طبراني، مسند الشاميين، ۲ : ۷۱، رقم : ۹۳۷
iii ديلمي، الفردوس، ۵ : ۵۱۰، رقم : ۸۹۲۰
حضرت عبداللہ بن عمر رضي اﷲ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (امام) مہدی تشریف لائیں گے اور ان کے سر پر عمامہ ہوگا۔ پس ایک منادی یہ آواز بلند کرتے ہوئے آئے گا کہ یہ مہدی ہیں جو اللہ کے خلیفہ ہیں۔ سو تم ان کی اتباع و پیروی کرو۔
فصل یازدہم
امام آخرالزمانں، مہدی الارض والسماء ہوں گے اور ان کے لئے آسمانی و زمینی علامات کا ظہور ہوگا
۱. عن سلمان بن عيسي قال : بلغني أنه علی يدي المهدي يظهر تابوت السکينة من بحيرة طبرية حتي يحمل فيوضع بين يديه ببيت مقدس، فإذ نظرت إليه اليهود أسلمت إلا قليلا منهم.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۸۳
ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۶۰، رقم : ۱۰۵۰
حضرت سلمان بن عیسیٰ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ بحیرہ طبریہ سے (امام) مھدی کے ذریعے تابوت سکینہ ظاہر ہوگا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس میں آپ کے سامنے اسے اٹھا کر رکھ دیا جائیگا۔ جب یہود اس (تابوت) کو دیکھیں گے تو چند لوگوں کے سوا تمام اسلام قبول کرلیں گے۔
۲. عن کعب رضي الله عنه قال : يطلع نجم من المشرق قبل خروج المهدي، له ذنب يضيء.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۸۲
ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۲۲۹ رقم : ۶۴۲
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ امام مھدی کے خروج (ظہور) سے پہلے جانبِ مشرق سے ایک ستارہ طلوع ہوگا جسکی چمکتی ہوئی دم ہوگی۔
۳. عن شريک رضي الله عنه قال : بلغني أنه قبل خروج المهدي ينکسف القمر في شهر رمضان مرتين.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۸۲
ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۲۲۹، رقم : ۶۴۲
حضرت شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ (امام) مھدی کے خروج (ظہور) سے پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں دو مرتبہ چاند گرھن ہوگا۔
۴. عن علي رضي الله عنه ، قال : إذا نادي مناد من السماء إن الحق في آل محمد فعند ذلک يظهر المهدي علي أفواه الناس، و يشربون حبه، ولا يکون لهم ذکر غيره.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۸
ii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۳۴، رقم : ۹۶۵
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ’’جب آسمان سے آواز دینے والا آواز دے گا کہ حق آل محمد میں ہے تو اس وقت لوگوں کی زبانوں پر (امام) مھدی کا ظہور ہوگا۔ اور لوگوں کو انکی محبت (اسطرح) پلا دی جائیگی کہ وہ انکے سوا کسی (اور) کا تذکرہ نہیں کریں گے۔
۵. عن ثوبان رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’إذا رأيتم الرايات السود قد أقبلت من خراسان فأتوها ولو حبوا علي الثلج، فإن فيها خليفة اﷲالمهدي‘‘
فصل دوازدہم
امام مہدی علیہ السلام روئے زمین پر بارھویں امام اور آخری خلیفۃ اللہ ہوں گے
۱. عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ يقول : لايزال هذا الدين قائماً حتي يکون عليکم اثنا عشر خليفة کلهم تجتمع عليه الامة. فسمعت کلاماً من النبي صلي الله عليه وآله وسلم لم افهمه، قلتُ لأبي : ما يقول؟ قال : کلهم من قريش.
ابو داؤد، السنن، ۴ : ۱۰۶، رقم : ۴۲۸۹
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’یہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلفاء ہونگے۔ ان تمام پر امت مجتمع ہوگی پھر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کچھ) گفتگو سنی جسے میں سمجھ نہ سکا۔ تو میں نے اپنے باپ سے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ارشاد فرما رہے ہیں میرے باپ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ’’وہ تمام (بارہ خلفاء) قریش سے ہونگے۔‘‘
۲. عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ يقول : لايزال هذا الدين عزيزا الي اثني عشر خليفة قال : فکبر الناس و ضجوا، ثم قال کلمة خفية قلت لابي : يا ابت ما قال؟ قال : کلهم من قريش.
ابوداؤد، السنن، ۴ : ۱۰۶، رقم : ۴۲۸۰ / ۴۲۸۱
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’یہ دین بارہ خلفاء کے آنے تک غالب رہے گا‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (اس پر) لوگوں نے (بلند آواز) سے ’’اللہ اکبر‘‘ کہا اور شور برپا ہوگیا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ آواز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا۔ میں نے اپنے باپ سے عرض کیا۔ اباجان! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ (انہوں نے بتایا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ’’وہ سب (بارہ خلفاء) قریش میں سے ہونگے‘‘۔
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ الحاوی للفتاویٰ میں ابوداؤد کی مذکورہ بالا روایات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
تنبيه : عقد أبو داود في سننه بابا في المهدي و أورد في صدره حديث جابر بن سمرة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لا يزال هذا الدين قائماً حتي يکون اثنا عشر خليفة کلهم تجتمع عليه الأمة‘‘ و في رواية ’’لا يزال هذا الدين عزيزًا إلي اثني عشر خليفة کلهم من قريش‘‘، فأشار بذلک إلي ماقاله العلماء إن المهدي أحد الاثني عشر.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۸۵
ii ابو داؤد، السنن، ۴ : ۱۰۶، رقم : ۴۲۷۹
امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں امام مہدی پر ایک باب باندھا ہے جس کے شروع میں رسول اللہ اسے حضرت جابر بن سمرہ کی روایت درج فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء ہونگے جن پر یہ امت مجتمع ہوگی‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے ’’یہ دین بارہ خلفاء تک غالب رہے گا۔ اور وہ تمام خلفاء قریش سے ہونگے‘‘
امام ابو داؤد نے گویا یہ باب باندھ کر علماء کے اس قول کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ امام مہدی ان بارہ خلفاء میں سے ایک ہیں۔
امام سیوطی نے اس سے واضح طور پر یہ استنباط فرمایا ہے کہ امام مھدی روئے زمین پر بارھویں اور آخری امام ہوں گے کیونکہ ابو داؤد، امام مھدی کے بارے باب کا آغاز ان دو احادیث سے کرکے پھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث لائے ہیں
عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : المهدي من عترتي من ولد فاطمة .
ابوداؤد، السنن، ۴، ۱۰۶، رقم : ۸۲۸۴
کہ ’’امام مہدی میری عترت اور اولاد فاطمہ سے ہوں گے‘‘ اور اس سے پہلے وہ حدیث بھی لائے ہیں جس میں ارشاد ہے کہ قیامت میں سے خواہ ایک ہی دن کیوں نہ بچ جائے اللہ رب العزت میری اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو بھیجے گا جو زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھر دی گئی تھی۔
۳. عن أبي سعيد رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : يکون عند انقطاع من الزمان و ظهور من الفتن رجل يقال له المهدي، يکون عطاؤه هنيئا.
سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۳
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخری زمانے میں جب بہت سے فتنے ظاہر ہونگے تو اس وقت ایک آدمی ہوگا جس کو ’’المھدی‘‘ کہا جائیگا۔ انکی عطائیں (بڑی) خوشگوار ہونگی۔
۴. عن الزهري قال : (اذا) التقي السفياني والمهدي للقتال يومئذ يسمع صوت من السماء : ألا إن أولياء اﷲ أصحاب فلان. يعني المهدي. وقالت أسماء بنت عميس : إن أمارة ذلک اليوم أن کفا من السماء مدلاة ينظر إليها الناس.
سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۷۶
امام الزھری سے روایت ہے آپ نے فرمایا جب سفیان (کا لشکر) اور امام مہدی علیہ السلام کا لشکر قتال کے لئے آمنے سامنے ہونگے۔ تو اس دن آسمان سے ایک آواز سنائی دے گی۔
خبردار! (آگاہ رہو) بیشک (امام) مہدی کے احباب ہی اللہ کے ولی اور دوست ہیں۔ اور اسماء بنت عمیس رضی اﷲ عنہا نے فرمایا اس دن کی علامت یہ ہوگی کہ آسمان سے لٹکا ہوا ہاتھ نظر آئیگا جس کو (تمام) لوگ دیکھیں گے۔
۵. عن علي رضي الله عنه قال : قلت : يا رسول اﷲ أمنا آل محمد المهدي أم من غيرنا؟ فقال : لا، بل منا، يختم اﷲ به الدين کما فتح بنا، و بنا ينقذون من الفتنة کما أنقذوا من الشرک، وبنا يؤلف اﷲ بين قلوبهم بعد عداوة الفتنة کما ألف بين قلوبهم بعد عداوة الشرک، و بنا يصبحون بعد عداوة الفتنة إخوانا کما أصبحوا بعد عداوة الشرک إخواناً في دينهم.
i سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۱
ii طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۵۶، رقم : ۱۵۷
iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۰، رقم : ۱۰۸۹
iv نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۷۱، رقم : ۱۰۹۰
v هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۷۱
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا۔ میں نے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا (امام) مھدی ہم آل محمد میں سے ہوں گے یا ہمارے علاوہ کسی اور سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں، بلکہ وہ ہم میں سے ہونگے۔ اللہ رب العزت ان پر (سلطنت) دین اسی طرح ختم فرمائے گا جیسے ہم سے آغاز فرمایا تھا۔ اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو فتنہ سے بچایا جائیگا جس طرح انہیں شرک (اور کفر) سے نجات عطا فرمائی گئی ہے اور ہمارے ذریعے ہی اللہ انکے دلوں میں فتنہ کی عداوت کے بعد (محبت اور) الفت پیدا فرمائیگا۔ جس طرح اللہ نے شرک کی عداوت کے بعد انکے دلوں میں (ہمارے ذریعے) الفت پیدا فرمائی اور ہمارے ذریعے ہی فتنہ (وفساد) کی عداوت کے بعد لوگ آپس میں بھائی بھائی ہو جائیں گے، جس طرح وہ شرک کی عداوت کے بعد اس دین میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔
۶. عن أرطاة قال : ثم يخرج رجل من أهل بيت النبي صلی الله عليه وآله وسلم مهدي حسن السيرة، يغزو مدينة قيصر، وهو آخر أمير من أمة محمد صلی الله علیه وآله وسلم ، ثم يخرج في زمانه الدجالُ و ينزل في زمانه عيسي ابن مريم.
i نعيم بن حماد، ۱ : ۴۰۲، ۴۰۸، رقم : ۱۲۱۴، ۱۲۳۴
ii سيوطي، الحاوي، للتفاوي، ۲ : ۸۰
حضرت ارطاۃ سے مروی ہے پھر اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسن سیرت کے پیکر ایک شخص (امام) مھدی کا ظہور ہوگا جو قیصر روم کے شہر میں جنگ کریں گے اور وہ امت محمدی علی صاحبھا الصلوٰت کے آخری امیر ہونگے۔ پھر انکے زمانہ میں دجال ظاہر ہوگا اور انکے زمانہ میں ہی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (آسمان سے) نازل ہوں گے۔
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الحاوی للفتاویٰ‘‘ میں امام منتطر (امام مہدی) کے ظہور کے وقت کے آثار و علامات درج فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ :
هذه الآثار کلها لخصتها من کتاب ’’الفتن‘‘ لنعيم بن حماد، وهو أحد الائمة الحفاظ، و أحد شيوخ البخاري.
سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۸۰
یہ تمام آثار و علامات ہیں جن کی تلخیص میں نے نعیم بن حماد کی کتاب ’’الفتن‘‘ سے کی ہے اور وہ (نعیم بن حماد) ائمہ حفاظ میں سے ہیں اور (امام) بخاری کے شیوخ (اساتذہ) میں سے ایک ہیں۔
۷. عن جابر رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يکون في آخر امتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا .
سيوطي، الحاوي للفتاویٰ، ۲ : ۶۰، ۶۱
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال لبالب بھر بھر کے دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔
۸. و عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال يکون في امتي خليفة يحثي المال في الناس حثيا لا يعده عدا ثم قال والذي نفسي بيده ليعودن.
رواه البزار و رجاله رجال الصحيح i حاکم، المستدرک، ۴ : ۵۰۱، رقم : ۸۴۰۰ ii هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۳۱۶ iii نعيم بن حماد، الفتن، ۱ : ۳۶۲، رقم : ۱۰۵۵
حضرت جابر رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا۔ اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کرلے گا۔)
۹. عن ابن مسعود رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لو لم يبق من الدنيا إلا ليلة لطول اﷲ تلک ليلة حتي يملک رجل من أهل بيتي يواطي، اسمه اسمي وا سم أبيه اسم أبي، يملؤها قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً و جوراً، ويقسم المال بالسوية، ويجعل اﷲ الغني في قلوب هذه الأمة، فيمکث سبعا أو تسعا، ثم لا خير في عيش الحياة بعد المهدي.
i سيوطي، الحاوي للفتاوي، ۲ : ۶۴
ii طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۱۳۳، رقم : ۱۰۲۱۶
iii طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۱۳۵، رقم : ۱۰۲۲۴
iv ابو عمرو الداني، السنن الوارده في الفتن، ۵ : ۱۰۵۵، رقم : ۵۷۲
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر دنیا (کے زمانہ) میں صرف ایک رات ہی باقی رہ گئی تو بھی اللہ رب العزت اس رات کو لمبا فرما دے گا یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جس کا نام میرے نام اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو انصاف اورعدل سے لبریز کردیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور وہ مال کو برابر تقسیم کریں گے اور اللہ رب العزت اس امت کے دلوں میں غنا پیدا فرما دے گا۔ وہ سات یا نو سال رہیں گے۔ پھر (امام) مہدی کے (زمانے کے) بعد زندگی میں کوئی خیر (یعنی لطف زندگی باقی) نہیں (رہے گا)۔
مآخذ و مراجع
۱۔ ابوداؤد، سلیمان بن الاشعث السجستانی الاذدی (م : ۲۷۵ھ)، السنن، بیروت : دارالفکر
۲۔ ابن ابی شیبہ، ابوبکر عبداللہ بن محمد الکوفی (م : ۲۳۵ھ)، المصنف، الریاض : مکتب الرشد، ۱۴۰۹ھ
۳۔ ابن ماجہ، محمد بن یزید ابو عبداللہ القزوینی (م : ۲۷۵ھ)، السنن، بیروت : دارالفکر
۴۔ ابن حبان، محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم التمیمی (م : ۳۵۴ھ)، الصحیح، بیروت : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۳ء
۵۔ ازدی، معمر بن راشد (م : ۱۵۱ھ)، الجامع، بیروت : مکتب الاسلامی، ۱۴۰۳ھ
۶۔ ابن راھویہ، اسحاق بن ابراہیم المروزی (م : ۲۳۸ھ)، المسند، مدینہ منورہ : مکتبۃ الایمان، ۱۹۹۵ء
۷۔ ابویعلیٰ، احمد بن علی الموصلی التمیمی (م : ۳۰۷ھ)، المسند، دمشق : دارالمامون للتراث، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴ء
۸۔ ابو عمرو الدانی، عثمان بن سعید المقرئی (م : ۴۴۴ھ)، السنن الواردۃ فی الفتن، الریاض : دارالعاصمہ، ۱۴۱۶ھ
۹۔ احمد بن حنبل، ابو عبداللہ الشیبانی (م : ۲۴۱ھ)، المسند، مصر : مؤسسہ قرطبہ
۱۰۔ ابن مندہ، محمد بن اسحاق بن یحیی (م : ۳۹۵ھ)، الایمان، بیروت، مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۶ھ
۱۱۔ ابن جارود، ابو محمد عبداللہ بن علی النیسابوری (م : ۳۰۷ھ)، المنتقیٰ، بیروت : موسسۃ الکتاب الثقافیہ، ۱۴۰۸ھ / ۱۹۸۸ء
۱۲۔ ابو عوانہ، یعقوب بن اسحاق الاسفرائینی (م : ۳۱۶)، المسند، بیروت : دارالمعرفہ، ۱۹۹۸ء
۱۳۔ امام ربانی مجدد الف ثانی، شیخ احمد سرہندی (م : ۱۱۳۴ھ)، مکتوبات، دہلی : مطبعہ مرتضوی، ۱۲۹۰ھ
۱۴۔ بخاری، ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل (م : ۲۵۶ھ)، الصحیح، بیروت : دار ابن کثیر، الیمامہ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۷
۱۵۔ بزار، ابوبکر احمد بن عمر و بن عبدالخالق (م : ۲۹۲ھ)، المسند، بیروت : مکتبہ المدینہ، ۱۴۰۹ھ
۱۶۔ بیہقی، ابوبکر، احمد بن الحسین بن علی بن موسیٰ (م : ۴۵۸ھ)، سنن البیہقی الکبریٰ، مکۃ المکرمۃ : مکتبۃ دار الباز، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴ء
۱۷۔ ترمذی، محمد بن عیسیٰ (م : ۳۷۹ھ)، الجامع الصحیح، بیروت : دار احیاء التراث العربی
۱۸۔ حاکم، ابو عبداللہ، محمد بن عبداللہ النیشابوری (م : ۴۰۵ھ)، المستدرک علی الصحیحین، بیروت : دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۰ء
۱۹۔ دیلمی، ابو شجاع شیرویہ بن شھر داربن شیرویہ الھمذانی (م : ۵۰۹ھ)، الفردوس بماثور الخطاب، بیروت : دارالکتب العلمیہ، ۱۹۸۶ء
۲۰۔ رویانی، ابوبکر محمد بن ہارون (م : ۳۰۷ھ)، المسند، قاہرہ : موسسۃقرطبۃ، ۱۴۱۶ھ
۲۱۔ سیوطی، جلال الدین (م : ۹۱۱ھ)، الحاوی للفتاویٰ، فیصل آباد
۲۲۔ شاہ ولی اللہ، محدث دہلوی (م : ۱۱۷۶ھ)، التفہیمات الالہٰیہ، حیدر آباد / پاکستان : مطبع حیدری، ۱۹۶۷ء
۲۳۔ شاہ ولی اللہ، محدث دہلوی (م : ۱۱۷۶ھ)، ھمعات، حیدر آباد، پاکستان : شاہ ولی اللہ اکیڈمی
۲۴۔ شاہ اسماعیل دہلوی (م : ۱۲۴۶ھ)، صراط مستقیم، دیوبند، انڈیا : کتب خانہ اشرفیہ
۲۵۔ طبرانی، ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب (م : ۳۶۰ھ) المعجم الکبیر، الموصل : مکتبۃ العلوم والحکم، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۳ء
۲۶۔ طبرانی، ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب (م : ۳۶۰ھ) مسند الشامیین، بیروت : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۵ھ
۲۷۔ طبرانی، ابو القاسم، سلیمان بن احمد (م : ۳۶۰ھ)، المعجم الاوسط، القاھرۃ دار الحرمین، ۱۴۱۵ھ
۲۸۔ ابن حجر عسقلانی، ابو الفضل احمد بن علی (م : ۸۵۲ھ)، فتح الباری، بیروت : دارالمعرفۃ، ۱۳۷۹ھ
۲۹۔ مسلم بن الحجاج، ابو الحسن القشیری النیشابوری (م : ۲۶۱ھ)، الصحیح، بیروت : دار احیاء التراث العربی۔
۳۰۔ مقدسی، ابو عبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد الحنبلی (م : ۶۴۳ھ)، الاحادیث المختارہ، مکہ المکرمہ : مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ، ۱۴۱۰ھ
۳۱۔ مناوی، عبدالرؤف (م : ۱۰۳۱ھ)، فیض القدیر، مصر : المکتبۃ التجاریہ الکبریٰ، ۱۳۵۶ھ
۳۲۔ محمد بن ابی بکر الدمشقی، ابو عبداللہ (م : ۷۵۱ھ)، المنار المنیف، حلب : مکتب المطبوعات الاسلامیہ، ۱۴۰۳ھ
۳۳۔ نعیم بن حماد، ابو عبداللہ المروزی (م : ۲۸۸ھ)، الفتن، القاہرہ : مکتبۃ التوحید، ۱۴۱۲ھ
۳۴۔ ہیثمی، علی بن ابی بکر (م : ۸۰۷ھ)، مجمع الزوائد، القاہرۃ / بیروت : دار الریان للتراث / دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ
۳۵۔ ہیثمی، علی بن ابی بکر (م : ۸۰۷ھ)، موارد الظمآن، بیروت : دارالکتب العلمیہ
فہرست
مقدمہ ۴
فصل اول ۱۳
حضرت مہدی علیہ السلام امام برحق اور بنو فاطمہ سے ہیں ۱۳
فصل دوم ۱۵
امام مہدی علیہ السلام کا دورِخلافت آے بغیر قیامت بپا نہیں ہوگی ۱۵
فصل سوم ۱۸
امام مہدی علیہ السلام زمین پر معاشی عدل کا وہ نظام نافذ فرمائیں گے کہ اہلِ ارض و سماء سب خوش ہوں گے ۱۸
فصل چہارم ۲۰
تمام اولیاء و ابدال امام مہدی علیہ السلام کے دستِ اقدس پر بیعت کریں گے ۲۰
فصل پنجم ۲۴
امام مہدی علیہ السلام خلیفۃ اللہ علی الاطلاق ہوں گے ۲۴
فصل ششم ۲۶
امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے دین کو پھر غلبہ و استحکام نصیب ہوگا ۲۶
فصل ہفتم ۲۹
امام مہدی علیہ السلام کا دورِ حکومت معاشی خوشحالی اور عوام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اعتبار سے بے مثال ہوگا ۲۹
فصل ہشتم ۳۳
امام مہدی علیہ السلام کی ولایت و سلطنت انعاماتِ الٰہیہ کی کثرت کے لحاظ سے عدیم المثال ہوگی ۳۳
فصل نہمم ۳۵
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے ۳۵
فصل دہم ۳۹
امام مہدی علیہ السلام کی اطاعت واجب اور تکذیب کفر ہوگی ۳۹
فصل یازدہم ۴۱
امام آخرالزمانں، مہدی الارض والسماء ہوں گے اور ان کے لئے آسمانی و زمینی علامات کا ظہور ہوگا ۴۱
فصل دوازدہم ۴۳
امام مہدی علیہ السلام روئے زمین پر بارھویں امام اور آخری خلیفۃ اللہ ہوں گے ۴۳
مآخذ و مراجع ۴۸