انتظار کا صحیح مفہوم
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف آیت اللہ محمد مہدی آصفی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


انتظار کا صحیح مفہوم

آیة اللہ محمد مہدی آصفی مدظلہ العالی

ترجمہ:مولاناسید کمیل اصغر زیدی


حرف اوّل

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہو تا ہے تو کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیض یاب ہو تی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کر نوں سے سبزی حاصل کر تے ہیں غنچے اور کلیاںرنگ و نکھار پیدا کر لےتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ وراہ اجالوں سے پر نور ہو جاتے ہیں ۔

چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیّاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا ،دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت وقابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ ومو سس سرو رکائناتغار حرا سے مشعل حق لےکر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی ایک دنیا کو چشمہ حق وحقیقت سے سیراب کر دیا، آپ کے تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل، فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقاء بشریت کی ضرورت تھا۔اس لئے تیئیس برس کے مختصر سے عرصے میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پرحکمران ایران وروم کی قدیم تہذیبیں اسلامی اقدار کے سامنے ماند پڑ گئیں، وہ تہذیبی اصنام صرف جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذاہب عقل وآگاہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کر لیا ۔


اگر چہ رسول اسلام کی یہ گراں بہا میراث کو جس کی اہلبیت اور ان کے پیرو وں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے ،وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور نا قدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہو کر اپنی عمومی افادیت کو عام کر نے سے مرحوم کر دی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہلبیت نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا، چودہ سو سال کے عرصہ میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماا ور دانشور دنیاء اسلام کوپیش کئے جنہوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری ونظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے ہر دور اور زمانہ میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے۔

خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگا ہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت کی طرف اٹھی اور گڑی ہو ئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کیلئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ نے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کر نے کے لے بے چین وبےتاب ہے۔یہ زمانہ علمی و فکری مقابلہ کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر واشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کر نے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گاوہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا ۔

مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام (عالمی اہلبیت کونسل)نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہلبیت عصمت و طہارت کے پیروو ں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھا یا ہے کہ اس نورانی تحریک میں بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے۔


موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہو سکے۔ہمیں یقین ہے، عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہلبیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علم بر دار خاندان نبوت و رسالت کی جاوداں میراث، اپنے صحیح خد وخال میں دنیا تک پہنچا دی جائے تو اخلاق و انسانیت کی دشمن ،انانیت کی شکار، سامراجی خونخواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اورعصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو، امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر کی عالمی حکومت کے استقبا ل کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے ۔

ہم اس راہ میںتمام علمی و تحقیقی کو ششوں کیلئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مو لفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمت گار تصور کر تے ہیں ۔زیر نظر کتاب ،مکتب اہلبیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے آیة اللہ محمد مہدی آصفیمدظلہ العالی کی گراں قدر کتاب الانتظار الموجہ کو فاضل جلیل مولاناسید کمیل اصغر زیدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم ان تمام حضرات کے شکر گذار اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں۔اس منزل میں ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کر تے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھا ئی ہے خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکر ام

مدیر امور ثقا فت :مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام


مقدمہ

اللہ تعالیٰ کے نیک بندے زمین کی اس وراثت کے منتظر ہیں جس کا وعدہ خدا نے اپنے بندوں سے اس آیہ کریمہ میں کیا ہے:( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) (۱) ” اور ہم نے زبور کے بعد ذکر میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے ۔“

اسی کے مانند رسول اللہ نے ان سے یہ وعدہ فرمایا ہے:”اٴُبشرکم بالمهدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس وزلازل فیملاٴ الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً(۲)

”میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میر ی امت کے درمیا ن اس وقت بھیجا جائے گا جب لوگوں کے درمیا ن اختلاف اور بے ثباتی کی کیفیت ہوگی،اور وہ زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جورسے بھری ہوگی۔“

بعض لوگ اسی خیال میں مگن ہیں کہ انتظار کا مطلب تلخ حقیقت سے فراراور مستقبل کے خواب دیکھنا ہے کہ جب ظلم وجور سے بھری ہوئی دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی۔

____________________

(۱)انبیاء/۱۰۵

(۲)مسند احمد بن حنبل ،ج/۳،ص/۳۹۳،ح/۱۰۷۴۶


اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ زمانہ یقینا آئے گاکیو نکہ خداوند عالم نے اس کا وعدہ فرمایا ہے ، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے،بلکہ اختلاف اس بارے میں ہے کہ انتظار کا انداز کیا ہوناچاہئے ؟کیونکہ انتظار کا مطلب آئندہ پیش آنے والے مشکلات سے فرار یا ان کی تبدیلی کے خواب دیکھنا اور اسی خواب کو کافی سمجھ لینا نہیں ہے ۔

بلکہ یہ ایک ایسا انتظار ہے جس میں نقل وحرکت او ر تبدیلی کے درمیان اعضائے جسمانی جیسا رابطہ پایا جاتا ہے یا یہ ایسا انتظار ہے جس میں جد وجہد کے ذریعہ اسے اس حقیقت میں تبدیل کر دیا جائے گاکہ جس کے بعد زمین پر اللہ کے نیک بندوں کی وراثت مسلم ہو جائے گی۔

مولف محترم نے اپنے انداز فکر کے اعتبار سے انتظار کے بارے میں تحقیق کی ہے فاضل مولف کا نظریہ ہے کہ”انتظار اور حرکت کے درمیان اعضائے بدن جیسا مضبوط رابطہ پا یا جاتا ہے کیونکہ انتظار کا نتیجہ حرکت ہے اور وہ اس کا محافظ ونگہبان ہے“اس کے بعد یہ گفتگو مزید آگے بڑھتی ہے تو اس میں یہ موضوعات سامنے آتے ہیں:غیر دینی مکاتب فکر میں انتظار کا عقیدہ، مسئلہ انتظار لا مذہب مکاتب فکر کی روشنی میں ،انتظار کے بارے میں اسلام سے پہلے موجود ادیان کا نظریہ،مسئلہ انتظار اہل سنت کی نظر میں ،احادیث انتظار ، شیعہ امامیہ کی نظرمیں ، انتظار اور اس کی تہذیبی (سماجی )قدرو قیمت کیا ہے؟،انقلاب سنن الٰہیہ اور غیبی امدادوں کا کرداد،روایتوں میں ظہور کی تیاری کرنے والی جماعتوں کا تذکرہ، راہ ہموارکرنے والوں کے امتیازات اور خصوصیات،ظہور کی تیاری کا طریقہ،زمین ہموار کئے جانے کا طریقہ (ظہو ر کی تیاری کے لئے مختلف چیلنچ)،رایتوں میں جماعت انصار کا تذکرہ،طالقان کے جوان مرد،امام کے جوان اصحاب،امام کے انصار کی تعداد،امام کے انصارکے صفات”انتظار “کے دوران ہماری ذمہ داریاں،شکوہ ودعا،بامقصد انتظار (معقول انتظار)،مسئلہ انتظار کی صحیح وضاحت،منتظر کون ،ہم یا امام؟ انتظار کی قدر وقیمت ، دوڑ دھوپ اور انتظار کا آپسی رابطہ،تحریکی عمل،تحریکی عمل کا ٹیکس،تحریک ایک فریضہ،انسانی کمزوری،تباہی سے محفوظ رہنے کا طریقہ۔


مولف محترم نے پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ :انتظار کس کو ہے ؟ہمیں یا امام کو ؟ اور پھر جواب دیتے ہیں:کہ انتظار دونوں کو ہے امام کو ہماری جد وجہد ،قیام،استقامت اور ہمارے جہاد کا اتنظار ہے۔نہ کہ بیکار اور معطل بیٹھے رہنے کا ۔اور اسی سے انتظار کی عظیم قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ہو تا ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول خدا نے آگا ہ کیا ہے:” افضل اعمال امتی الانتظار“”میر ی امت کا سب سے اہم عمل انتظار کرنا ہے۔“

اسی بنا پر محقق بصیر نے تحریک حرکت اور انتظار کے با ہمی رابطے کے بارے میں گفتگو کو آگے بڑھا یا ہے،اور آپ کا نظریہ ہے کہ قرآن مجید نے تحریک وحرکت کو اہم فریضہ قرار دیا ہے اور مسلمانوں کومتوجہ کیا ہے کہ اپنے حالات خود تبدیل کریں۔شرک کانام ونشان مٹا کر اس کی جگہ توحیدکا پرچم لہرائیں ،تبلیغ دین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کودور کریں ۔ اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے کہ جب انسان خود اپنے کو تباہی وبربادی اور تنزلی کے اسباب سے محفوظ رکھے۔

مولف محترم نے انسان کی حفاظت کرنے والے ان اسباب کی وضاحت بھی کی ہے اور وہ اسباب صبر ونماز سے استمداد،ولایت ومحبت ،میراث ،انتظار اور آرزوہیں۔

اس طرح مولف محقق نے نہایت سادہ الفاظ میں منطقی دلائل کے ذریعہ یہ واضح کر دیا ہے کہ قافلہ توحید کے طولانی اور پر مشقت سفر کے لئے انتظار ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

مرکز غدیر الدراسات الاسلامیہ


انتظار اورحرکت کا باہمی رابطہ

مسئلہ انتظار کی وضاحت

بعض لوگ”انتظار “کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ”انتظار“ سماج اور تاریخ کے کمزور اور دوکچلے ہوئے لوگوں کی محرومیوں کی دین ہے اور انتظاردر اصل موجودہ مشکلات ومصائب سے بچنے کے لئے ایسے مستقبل کے تصور میں غرق ہوجانا ہے جس میں تمام محرومین اپنے حقوق اور اپنی کھوئی ہوئی شان وشوکت کو دوبارہ حاصل کرلیں گے ایسا تصور در حقیقت ”بیداری میں خواب“دیکھنے یا ”حقائق سے خیالات کی دنیا کی طرف فرارکرنے کے “ مانند ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انتظار کی اس تاویل او روضاحت کا علم سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے آئیے انتظار کی تاریخ کو انسانیت کے مشہور ومعروف ادیان کے وسیع وعریض میدانوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے ۔

انتظار لا مذہب مکاتب فکر کی روشنی میں

انتظار کا تعلق فقط مذہبی مکاتب فکر سے نہیں ہے بلکہ انتظار کا دائرہ مارکسزم جیسے بے دین مکاتب فکر تک پھیلا ہوا ہے چنانچہ برٹرانڈراسل کا بیان ہے:”انتظارکا تعلق صرف مذاہب سے نہیں ہے بلکہ غیر مذہبی مکاتب فکربھی ایسی شخصیت کے منتظر میں جو عدل وانصاف کا پرچم لہرا کر دنیا کو نجات دے سکے ۔“

انتظار کے بارے میں راسل نے جوکہا ہے :انتظار کا وہی مفہوم عیسائیوں کے یہاں بھی پایا جا تا ہے اسی طرح”ٹولسٹائے“کے نزدیک بھی انتظار کا مفہوم وہی ہے جو عیسائیوں کے یہاں ہے البتہ اس روسی مفکر کے یہاں اس مسئلہ کو پیش کرنے کا انداز عیسائیوں سے قدرے مختلف ہے۔


انتظار کے بارے میں ما قبل اسلام موجود ادیان کا نظریہ

کتاب مقدس کے عہد قدیم میں ہمیں یہ ملتا ہے :”اشراراور ظالموں کی موجودگی سے آزردہ خاطر نہ ہو کیونکہ ظالموں کا سلسلہ عنقریب ہی ختم ہو جائے گا اور عدل الٰہی کے منتظر زمین کے وارث ومالک بن جائیں گے اور قابل لعنت افراد پراکندہ ہو جائیں گے اور نیک بندے ہی زمین کے مالک ہوں گے اور دنیا کے آخری دورتک وہی آبادرہیں گے۔“(۱)

کتاب مقدس نے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اسی کا تذکرہ قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) (۲) ” اور ہم نے زبور کے بعد ذکر میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے ۔“

انتظار اہل سنت کی نظر میں

صرف شیعوں کوہی دنیا کو ظلم وجور سے ”نجات دینے والے مہدی“کاانتظار

____________________

(۱)کتاب مقدس،سفر مزامیر داود مزمور/۳۷

(۲)انبیاء/۱۰۵


نہیں ہے بلکہ شیعی احادیث کی طرح اہل سنت کے یہاں بھی اس سلسلہ میں بکثرت اتنی صحیح احادیث موجود ہیں جن کے بعد کسی شک وشبہہ کا امکان باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

آٹھویں صدی ہجری کے معروف سنی عالم اور کتاب ”العِبَر“کے مقدمہ کے مولف عبد الرحمٰن بن خلدون کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیے:”یا د رکھو کہ ہر دور کے مسلمانوں کے درمیان یہ بات مشہوررہی ہے کہ آخری زمانہ میں اہل بیت کی ایک فرد کا ظہور ضروری ہے جودین کی حمایت کر ے گااور عدل وانصاف کو ظاہر کر ے گا ،مسلمان اس کی پیروی کریں گے ،تمام اسلامی ممالک کے اوپراس کا تسلط قائم ہوگا ،اس کا نام”مہدی“ہوگا۔اور دجال کا خروج یا قیامت کے دوسرے آثار جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے اور وہ دجال کو قتل کر دیں گے یا یہ کہ حضرت عیسیٰ ان کے ساتھ نازل ہو کر دجال کو قتل کرنے میں ان کی مدد کریں گے اور پھر حضرت عیسیٰ حضرت مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔“(۱)

مدینہ اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ عبد المحسن العباد کہتے ہیں:” حرم کے المناک واقعہ سے بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں انہیں سوالات کی وضاحت کے لئے بعض علما ء نے ریڈیو اور دیگرذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ رسول خدا سے منقول روایتیں صحیح ہیں ،ان علماء میں شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز (صدر ارادہ تعلیم وتبلیغ)نے اپنے بعض رسائل اور کتابچوں میں اس مسئلہ کو رسول اللہ کی صحیح اور مستفیض احادیث سے ثابت کیا ہے ، ان علماء میں مسجد نبوی کے امام شیخ عبد العزیز بن صالح بھی شامل ہیں۔ “

____________________

(۱)مقدمہ ابن خلدون،ص/۳۱۱


اس کے بعد شیخ محسن العباد تحریر کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ رسالہ اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے تحریر کیا ہے کہ مہدی آخر الزمان کے خروج پر صحیح روایات دلالت کرتی ہیں اور شاذ ونادرافراد کے علاوہ تقریباً سبھی علمائے اہل سنت اس کے قائل ہیں۔“(۱)

آیہ کریمہ :( وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلاَتَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِی هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ ) (۲) کے بارے میں ابن حجر الہیتمی نے یہ تحریر کیا ہے:کہ مقاتل اور ان کا اتباع کرنے والے مفسرین کا یہ بیان ہے کہ:”یہ آیت مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“آئندہ ایسی احادیث بیان کی جائیں گی جن میں یہ صراحت موجود ہے کہ مہدی“ کا تعلق اہل بیت ٪ نبوت سے ہے۔اور اس بنا پر ------ آیہ کریمہ نسل فاطمہ و علی رضی اللہ عنہما میں برکت پرصراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے اور یہ کہ خداوندعالم انہیں کثیر وطیب اولاد عطا کرے گا اور ان کی نسل کو حکمت کی کنجی اور رحمت کی معدن قرار دے گااور اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم نے جنا ب فاطمہ =اور ان کی ذریت کے لئے شیطان رجیم سے محفوظ رہنے کے لئے پناہ طلب کی تھی اور یہی دعا آپ نے حضرت علی کے لئے بھی کی تھی۔(۳)

عصر حاضر کے شیخ الحدیث اور عالم ”شیخ ناصر الدین البانی“”التمدن الاسلامی “ نامی رسالہ میں تحریر کرتے ہیں:

” z جہاں تک مسئلہ مہدی کا سوال ہے تو یاد رکھو کہ ان کے ظہور کے بارے میں بکثرت معتبر

____________________

(۱)رسالہ الجامعة الاسلامیہ شمارہ ،۴۵

(۲)زخرف /۶۱

(۳)صواعق محرقہ،ابن حجر،ج/۱،ص/۲۴۰


احادیث پائی جاتی ہیں ان احادیث میں سے کثیر روایات کی سند صحیح ہے اور میں اس مقام پر ا ن کے چند نمونے پیش کر رہا ہوں ۔“پھر انہوں نے کچھ حدیثوں کا تذکرہ کیا ہے۔

احادیث انتظار،شیعہ امامیہ کی نظرمیں

اثنا عشری شیعوں کے یہاں انتظار کے بارے میں بکثرت روایات بحدتواتر موجود ہیں اور ان میں اکثرکی سند صحیح ہے۔اور بعض علمائے کرام نے ان احادیث کو نہایت علمی انداز میں جمع کیا ہے۔جن میں شیخ لطف اللہ صافی کی کتاب ’منتخب الاثر “اور شیخ علی کورانی کی کتاب ”موسوعة الامام المهدی “ اہم اور قابل ذکرہیں۔(۱)

سر دست ان احادیث کوپیش کر نامقصود نہیں ہے کیونکہ ہماری گفتگو کا موضوع امام مہدی کے بارے میں منقول احادیث کے بارے میں تحقیق اور سند یا دلالت کے اعتبار سے ان کا جائزہ لینا نہیں ہے بلکہ اس رسالہ میں ہمیں دوسرے موضوع کے بارے میں گفتگو کرنا ہے خداوندعالم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مقصد میں کامیاب کرے امام مہدی سے متعلق احادیث پر گفتگو کو ہم اس موضوع سے متعلق حدیث کی مفصل کتابوں پر ہی چھوڑتے ہیں کیونکہ ہم فی الحال جس موضوع کے بارے میں گفتگو کریں گے وہ انتظار اور اس کی تہذیبی قدرو قیمت ہے:

انتظار ایک اسلامی اصطلاح ہے جو ہمارے تہذیبی اقدار کا حصہ ہے:انتظار کے اس مفہوم پر مخصوص تہذیبی و ثقافتی انداز فکر سامنے آتا ہے کیونکہ کبھی لوگ انتظار کا غلط اور منفی

____________________

(۱)معجم احادیث امام مہدی ،تالیف :ادارہ معارف اسلامی کی علمی کمیٹی :زیر نظر شیخ علی کورانی ،ناشر:موسسہ معارف اسلامی ،طبع اول ( ۱۴۱۱ ئھ )قم


مفہوم مراد لیتے ہیں جس سے ا نتظار بے حس وحرکت ،ساکت وجامد پڑے رہنے کے معنی بیان کرنے یا تاخیر والتواء میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اور کبھی اس کا صحیح اور مثبت مفہوم میں استعمال ہوتاہے جس سے یہ انسانی زندگی میں جو ش وجذبہ اور شوق وولولہ کا ذریعہ قرار پاتا ہے۔

اس لئے مسئلہ انتظار کے صحیح مفہوم کی باقاعدہ وضاحت ضروری ہے ،اور اس کتابچہ کی تالیف کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔

انتظار ایک کلچر ہے جو ہماری ذہنی نشوونما ، اندازفکر ،طرز زندگی اور مستقبل میں دخیل ہے یہی کلچر حال اور مستقبل سے متعلق ہماری سیاسی منصوبہ بندیوں میں بھی موثر ہے۔

ہماری قومی تہذیب اور ثقافتی زندگی میں انتظار کی جڑیں ۱۱۹۰/ سال پرانی ہیں کیونکہ غیبت صغریٰ ۳۲۹ ئھ میں اختتام پذیر ہوگئی تھی۔

اس طویل عرصہ میں انتظارنے ہمارے سیاسی شعور اور انقلابی طرز فکرمیں موثرکردارادا کیاہے،اور بالفرض اگرہم اپنی سیاسی اور انقلابی تاریخ کو ”مفہوم انتظار“سے الگ کرنے کی کوشش کریں تو پھر اس تاریخ کی شکل وصورت ہی کچھ اور ہوگی۔

چنانچہ جو افرادبھی دعائے ندبہ پڑھتے ہیں (جیسا کہ عام طور سے مومنین کرام ہرجمعہ اس کی تلاوت کرتے ہیں)اس سے مومنین کے قلوب،عقل وشعوراور انداز فکر ونظرپر ابھرنے والے انتظار کے گہرے نقوش کا خود بخود اندازہ ہو جائے گا۔


انتظار کی قسمیں

نجات دینے والے انتظار کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم :ایسا نجات دہندہ انتظار جسے مقدم یاموخر کرنامصیبت زدہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے کسی ڈوبنے والے انسان کو انتظار ہو کہ کوئی شخص ساحل سے آکر اسے ڈوبنے سے بچانے والاہے اسی لئے اس کی نظر یں ساحل پر لگی رہتی ہیں،لیکن یہ طے شدہ ہے کہ ڈوبنے والے کے لئے اپنے نجات دہندہ کی رفتار تیز کرنا توممکن نہیں ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ نجات دہندہ کودیکھنے کے بعد ڈوبنے والے کے اندر نجات کے لئے ایک نیا عزم وحوصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے قلب ودماغ پر چھائے ہوئے مایوسی کے بادلوں کو چیرکر زندگی کی آرزوا ورتمنا اس کی آنکھوں میں زندگی کی نئی روشنی اور چمک پیدا کر دیتی ہے۔

قطعی طور پر ”امید“سے انسان کو مقابلہ اوراستقامت کا عزم وحوصلہ ملتا ہے اسی لئے ڈوبنے والا نجات دہندہ کے پہنچنے تک ہاتھ پیر مارنے کی بھر پور کوشش کرتا رہتاہے۔چنانچہ اس انسان کی صورت حال اس وقت عجیب دیدنی ہوتی ہے کہ جب وہ ہمت ہار جاتاہے یا جب مقاومت کرتا ہے۔کیونکہ اس کے ہمت ہار جانے کے بعد کوئی بھی اسے اس بھنور سے باہر نہیں نکال سکتا اور نہ ہی اس کی ڈوبتی ہو ئی کشتی کو ساحل نجات تک پہنچا سکتا ہے۔اور کبھی کبھی تو یہ شکست کسی فرد یا جماعت تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے ملک یاسیاسی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جیسا کہ ہم نے ماضی قریب میں سوویت یونین کا زوال دیکھا ہے جو ایک سپر پاور ملک تھا۔


جب انسان ثابت قدمی کامظاہرہ کرتا ہے تو خداوندعالم ایسے بندہ کو اس راہ میں ڈٹے رہنے کاعزم وحوصلہ عطا کردیتاہے تو کوئی چیز بھی اس کے قدموں کو نہیں ہلا سکتی اور نہ ہی اس کے آہنی ارادوں میں کوئی تزلزل پیدا ہو سکتا ہے۔بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ گوشت اور پوست سے بنا ہوا یہ انسان عزم وہمت کا ایک ہمالیہ ثابت ہوتا ہے اوربڑے سے بڑے مصائب کے بالمقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کی یہ استقامت خداوندعالم کاعطیہ ہوتی ہے۔اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اس استقامت کی اصل بنیاد ”امید وآرزو“ہی ہے ان دونوں باتوں کے درمیان رابطہ کے سلسلہ میں کسی شک وشبہہ کی گنجائش نہیں ہے:

ایک تو یہ کہ انتظار سے ”آرزو اورامید “کی کرن پیدا ہو تی ہے اور انسانی زندگی پر مایوسی کے چھائے ہوئے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ آرزو اور امید سے انسان کو ثبات قدم کا عزم وحوصلہ ملتا ہے۔

دوسری قسم : یہ ہے کہ انسان کے پاس اس کے بارے میں خود فیصلہ کرنے بلکہ اس میں اصلاح وترمیم کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔جیسے بیماری سے شفا یاب ہونا ،یا کسی تعمیری ،تجارتی ،یا علمی منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ،دشمن پر فتحیاب ہونا،فقیری سے نجات پانا وغیرہ کہ یہاں بھی ایک طرح کا انتظار ہی ہے اور ان تمام امور میںعجلت یا تاخیر خودانسان کے اختیار میں ہے۔

انسان کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بیماری سے جلد ی شفایاب ہوجائے یا اس میں تاخیر کر دے یا شفا حاصل ہی نہ کرے،یا یہ کہ کسی تجارتی وتعمیری اور علمی منصوبہ کو جلد سے جلد مکمل کر لے یا اسے دیر تک معطل رکھے یا مثلاً دولت وثروت یا دشمن پر فتح حاصل کرے یا ان کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔


اس انتظار کاانداز گذشتہ انتظار سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اسے جس چیز کا انتظار ہے اس کو حاصل کرنے میں جلدی یا تاخیر حتی کہ اس سے صرف نظر کرنا خود انسان کے اختیار میں ہے۔

اس طرح انتظار کی دوسری قسم میں انسان کے اندر ”آرزو“اور ”استقامت“ کے علاوہ ”تحریک حرکت اور جد وجہد“بھی پیدا ہو تی ہے۔اس طرح ”تحریک حرکت“انتظار کی صرف اسی قسم کالازمہ ہے۔کیونکہ جب کسی انسان یہ معلوم ہو جائے کہ اسے نجات اور کامیابی اسی وقت مل سکتی ہے جب وہ جد وجہداور دوڑ دھوپ کرے تو وہ ایسا ضرورکرے گا چنانچہ اس یقین کے بعد اس کی زندگی کا نقشہ یکسر تبدیل ہو جاتاہے اور وہ لگن کے ساتھ باقاعدہ محنت ومشقت شروع کر دیتا ہے جب کہ اس کی زندگی میں پہلے ان چیزوں کا نام ونشان نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ انتظار کی پہلی قسم میں ”امیدوآرزو “اور ”استقامت“کے علاوہ انسان کے بس میں کچھ نہیں ہوتا لیکن انتظار کی دوسری قسم میں آرزو اور استقامت کے علاوہ اس کے اندر عزم وحوصلہ اور جوش وجذبہ (تحریک وحرکت)بھی پیدا ہو جاتاہے۔

۱ ۔ انسان کے دل میں آرزو پیدا ہوتی ہے تو وہ حال کے دریچوں سے اپنے مستقل کودیکھنے کی کوشش کرتا ہے دو طرح کے افراد ہوتے ہیں کچھ وہ ہوتے ہیں جو صرف اپنی موجودہ مشکلات کی عینک سے خدا ،کائنات اور لوگوں کو دیکھتے ہےں اور کچھ وہ جو ان تمام چیزوں کو ماضی،حال اور مستقل کے آئینے میں دیکھتے ہیں ان دونوں افراد کے درمیان بہت نمایاں فرق پایا جاتا ہے ۔کیونکہ پہلے طرز نگاہ میں دھندھلاپن ،تاریکی اور منفی رخ پایاجاتا ہے جب کہ دوسرا طرز نگاہ ان چیزوں قطعاً مبراہے۔

۲ ۔ استقامت کی بنا پرانسان جووجہد سے کام لیتا ہے اور مدد پہنچنے تک مسلسل تباہی و بربادی یا تنزلی کے مقابل ڈٹا رہتا ہے اور جس انسان کو مدد پہنچنے کی امیدنہیں ہوتی اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اوروہ خود ہی گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔

۳ ۔ جد وجہد اور حرکت سے کامیابی ، نجات طاقت واستغناء اور خود کفائی وخود اعتمادی حاصل ہوتی ہے ۔ایسی صفات کے حصول کے لئے جد وجہد کو”تحریکی انتظار “کہا جاتا ہے اور یہ انتظارکی سب سے اعلیٰ قسم ہے لہٰذا اس وقت ہم انتظار کی اسی قسم کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔


تبدیلی کے اسباب

اس انتظار کی بنا پر بندے خداوندعالم سے یہ توقع اور امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے معاملات کو اس طرح تبدیل کر دے کہ برائی کی جگہ بھلائی ،فقیری وناداری کی جگہ مال ودولت کی فراوانی ،عاجزی ولاچاری کی جگہ قدرت وطاقت اور ناکامی کی جگہ کامیابی اس کا مقدر بن جائے اور یہ صحیح اور معقول توقع بھی ہے کیونکہ انسان ضعف وناتوانی ،ناداری وجہالت اور برائیوں کا پتلہ ہے۔

اور وہ صرف خدا کی ذات ہے جس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حالات کو تبدیل کر سکتا ہے اور خدا سے ایسی توقع رکھنے میں بندوں کے لئے کوئی حرج بھی نہیں ہے البتہ اس تبدیلی کے لئے یہ شرط ضرور ہے کہ انسان ان حالات اوراسباب کو بھی فراہم کرنے کی کوشش کرے جن کی فراہمی کا حکم خدا نے د یاہے تبدیلی خدا وند عالم کی جانب سے ہوگی ہے۔اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے لیکن اس کے لئے طے شدہ اور معین اسباب بہر حال ضروری ہیں لہٰذا جب تک انسان ان اسباب کا سہارا نہ لے خداوندعالم کی جانب سے اس تبدیلی کی توقع رکھنا بھی صحیح نہیں ہے لہٰذا ان انسا ن حالات واسباب کو تبدیل کرنے کے لئے پہل خود کرنا چاہئے تاکہ خداوندعالم بھی اس کے امور میں تبدیلی پیدا کردے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری اقتصادی اورفوجی کمزوری، تعلیمی پسماندگی ،بدانتظامی کی اصل بنیاد جہالت ،سستی،کاہلی اور نا توانی کے علاوہ نیز جرات وہمت اور شجاعت کا فقدان ہے۔

لہٰذا اگر ہم”خود اپنے اندر“ تبدیلی پیدا کر لیں تو بے شک خدا بھی ہمارے حالات تبدیل کردے گا اور اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ خداوندعالم تن تنہا ہمارے حالات تبدیل کر سکتا ہے۔

اور اس میں بھی کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ جب تک ہم اپنے حالات تبدیل نہیں کریں گے خداوند عالم بھی ہمارے حالات کی اصلاح نہیں کرے گا۔اور یہ ایسے حقائق ہیں جن میں کسی قسم کے شک وشبہہ کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔مختصر یہ ہے کہ خدا کی طرف سے حالات میں تبدیلی کا انتظار صحیح اور حق بجانب ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے ساتھ انسان کی جانب سے جد وجہد،سعی وعمل بھی ضرور ی ہے ،اور اسی کو دوسرے الفاظ میں تحریکی انتظار کہا جاتا ہے۔


انتظارجد وجہد مسلسل یا تعطل؟

اگرت ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انتظار کسی ایسے غیر متوقع حادثہ کا منفی انداز سے مشاہدہ کر لینے کا نام ہے جس میں ہمار اکوئی منفی یا مثبت کردار نہ ہو۔بالکل ایسے ہی جیسے ہم چاند یا سورج گرہن کا مشاہدہ کر لیتے ہیں تو یہ ہماری غلط فہمی ہے ،انتظار کے صحیح معنی ”حرکت‘پیہم‘ ”سعی مسلسل“”جد وجہد“اور ”عمل“کرنے کے ہیں جس کی تفصیل انشا ء اللہ عنقریب ہی پیش کی جائے گی۔

ظہور میں تاخیر کی وجہ ؟

اس سوال کاصحیح جواب تلاش کے لئے انتظار کے صحیح معنی سمجھناضروری ہیں کہ ظہور حرکت وعمل کا نام ہے یاتعطل اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کا نام ہے؟

پہلانظریہ

اگر امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کے ظہور اور آپ کے عالمی انقلاب میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک دنیا ظلم وجور سے نہیں بھری ہے تو پھر انتظارکا مطلب تعطل اور حالات کا مشاہدہ کرنا ہیں۔ حالانکہ اسلام کا واضح حکم ہے کہ ہم دنیا میں ظلم وجور کو بڑھاوا نہیں دے سکتے ہیں۔

اس نظریہ کے مطابق ہمیں ظلم وجور کا مقابلہ نہیں کرناچاہئے کیونکہ اس سے غیبت کا زمانہ اور طولانی ہو جائے گا اس طرح ہم اپنی سیاسی سماجی اور عسکری زندگی میں ہاتھ پرہاتھ رکھے ہوئے خاموش تماشائی بنے رہیں۔تاکہ ظلم وجور کااضافہ ہوتا رہے اور جب زمین ظلم وجور سے بھر جائے تو امام زمانہ (عجل)ظہور فرما کر ظالموں کا تختہ الٹ دیں اور مظلوموں کی دستگیری فرمائیں۔


دوسرا نظریہ

اگر ظہور میں تاخیر کی وجہ ایسے انصار کی قلت ہے جو روئے زمین پرامام کے ظہور کے لئے حالات سازگار کریں اور آپ کے ظہور کے شایان شان سماج تشکیل دیں جو آپ کے ظہور کے بعد آپ کی حکومت اور انقلاب میں آپ کا ہاتھ بٹائیں تو صورتحال بالکل تبدیل ہو جائے گی اور پھر روئے زمین پر حق کی حکومت قائم کرنے کے لئے جد وجہد،ذہنی وفکری آمادگی،افرادسازی امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی ضرورت ہوگی تاکہ امام (عجل)ظہور فرماسکیں۔اس صورت میں ظہور کا مطلب خاموش تماشائی بنے رہنانہ ہوگابلکہ اس سے ”تحریک او رعمل“نیز روئے زمین پر حق کی حکومت قائم کرنے کے لئے”جہاد “ مراد ہوگا اور اس کے بعد ہی امام کے عالمی ظہورکے لئے حالات فراہم ہو سکتے ہیں۔

انتظار ظہور امام کے معنی اگر ”تعطل“اور بے کاری کے لئے جائیں تو یہ منفی معنی ہیں اور اگر انتظار ”حرکت“اور جد وجہد ہو تو یہ مثبت اور معقول معنی ہیں اور دونوں معنی میں بہت زیادہ فرق ہے ۔اب ہم اس مسئلہ کا صحیح جواب تلاش کرنے کے لئے اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

پہلے نظریہ کا تجزیہ

اس نظریہ کے بارے میں چند اعتراضات قابل توجہ ہیں:

۱ ۔ دنیا کے ظلم وجورسے بھر جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ روئے زمین پر توحید اور عدل وانصاف کا نام ونشان نہ رہ جائے اور کوئی علاقہ ایسا نہ رہ جائے جس پر خدا کی عبادت نہ ہوتی ہو۔کیونکہ یہ بات محال اور سنت الٰہی کے بر خلاف ہے۔

بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حق وباطل کے درمیان جو دائمی کشمکش جاری ہے اس میں حق پر باطل کا غلبہ ہو جائے گا۔


۲ ۔ حق کے اوپر باطل کا موجودہ دور سے زیادہ غلبہ بھی ناممکن ہے کیونکہ اس وقت ظلم روئے زمین پراپنی بد ترین شکل اور مقدار میں موجود ہے جیسے سربیائی درندوں کے ہاتھوں بوسنیا کے مسلمان جس ظلم وتشدد کا شکار ہوئے ہیں اس کی نظیر تاریخ ظلم وتشدد میں کم ہی نظر آتی ہے ۔اس ظلم وتشدداور قتل عام کے دوران تو بسا اوقات نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سربیائی ظالموں نے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے ان کی کوکھ میں پروان چڑھنے والے بچوں کو شکم سے باہر نکال کر پھینک دیا، چھوٹے چھوٹے بچوں کے سر قلم کرکے ما ں باپ اور گھر والوں کے سامنے ان سے فٹبال کھیلا گیا۔

چیچنیا میںروسیوں نے مسلمان بچوں کو زندہ ذبح کر کے ان کا گوشت سوروں کو کھلایا،اسی طرح مشرق وسطی کے مسلمانوں پر کمیونسٹوں نے اپنی کمیونسٹ حکومت کے دوران جو ظلم ڈھائے ہیں ان کو سن کر ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یا اسرائیل کی جیلوں میں مسلمانوں کو جس وحشیانہ انداز سے تکلیفیں دی جاتی ہیں انہیں الفاظ کے ذریعہ بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔اور ان تمام مظالم سے کہیں زیادہ عراق میں صدامی جلادوں کے ذریعہ جو مظالم ہوئے یا ہو رہے ہیں، جس طرح مومنین کی نسل کشی کی گئی ان کا صفایاکیا گیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے ،یہ دل کو دہلانے والے ایسے حقائق ہیں جن کی توصیف سے الفاظ بھی بے بس ہیں ۔


میراخیال ہے کہ اس وقت دنیا کے تقریباً ہر گوشے میں مسلمانوں کے خلاف ظلم وتشدد کا جو سلسلہ جاری ہے یہ ایک ایسی ڈراونی اور خوفناک صورت حال ہے جو ظلم وجور سے بھی تجاوز کر چکی ہے بلکہ ”زمین کے ظلم وجور سے بھر جانے“سے مزید کی نشاندہی کرتی ہے ۔ بلکہ یہ تو دنیا کی موجودہ قوموں اور مادیت میں گرفتار انسانیت کے مردہ ضمیر ہونے اورانسانیت کے سوتے خشک ہو جانے کی علامت ہے۔اور ضمیروں کا مردہ ہونا یا انسانیت کے سوتے خشک ہو جانا خطرے کی ایک ایسی گھنٹی ہے جو تہذیب وتمدن اور تاریخ انسانیت کو مسلسل پستی وبربادی کی طرف لے جاتی ہے اور اس منزل تک پہنچا تی ہے جسے قرآن مجید نے ”امتوں کی ہلاکت وتباہی“ کا نام دیا ہے۔

ضمیر انسان کی انتہائی اہم اور بنیادی ضرورتوںمیں شامل ہے اور جس طرح انسان ”امن وسکون “ ، ”دواوعلاج“کھانے پانی ،”سیاسی نظام“ اور علم کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح ضمیر کے بغیر بھی اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے ۔لہٰذا جب بھی ضمیر کا حیات بخش چشمہ خشک ہو جائے تو پھر تہذیب وتمدن کا خاتمہ ایک فطری بات ہے اور جب اس کا خاتمہ ہو جائے گا تو پھر تبدیلی ،جانشینی اور وراثت کا قانون اپنا کام کرے گا۔اور یہی وہ وقت ہوگا جب امام زمانہ (عجل)کی ہمہ گیر اور عالمی حکومت قائم ہوگی۔

۳ ۔ امام زمانہ (عجل)کی غیبت کی بنیادی وجہ شر وفساد اور ظلم وجور کی کثرت ہے اور اگر یہ سب نہ ہوتا تو آپ ہماری نظروں سے غائب نہ ہوتے آخر یہی ظلم وجور امام زمانہ (عجل)کے ظہور کاسبب کیسے بن سکتا ہے؟


۴ ۔ لوگوں کی توقع کے برخلاف ظالم ،سیاسی ،فوجی اور اقتصادی ادارے آہستہ آہستہ تباہ وبرباد ہو رہے ہیں جس کا مشاہدہ دنیا میں ہر جگہ کیا جا سکتا ہے ۔جیسا کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے کہ چند مہینوں کے اندر ہی سوویت یونین کا شیرازہ منتشر ہوگیا یہ نظام کھوکھلی عمارت کی طرح ہو گیا تھا اور اسے باقی رکھنا یا انہدام سے بچانا کسی کے بس میں نہیںتھا ۔

اور اب تبدیلی کی اسی ہوا کا رخ امریکہ کے خلاف ہے اسی وجہ سے اس کے اقتصادیات ،امن وامان اور اخلاقی اقدار اور شان وشوکت کو زبر دست جھٹکے لگ رہے ہیں جب کہ اسے سپر پاور کہا جاتا ہے۔

بے شک اس موجودہ جاہلی نظام کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اوریہی اس کی تباہی وبربادی کی گھنٹی بھی ہے ۔ایسے میں یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ اس نظام خونخواری، درندگی وبے رحمی میں اور اضافہ ہوگا۔

۵ ۔ غیبت سے متعلق روایات میں :”یملاٴ الاٴرض عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً “ (زمین کوعدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہو گی ) آیا ہے نہ کہ”بعد ان ملئت ظلما وجوراً“(ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد ۔)

لہٰذا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امام زمانہ(عجل)اس بات کے منتظر ہیں کہ دنیا میں اس وقت جو ظلم وجور پھیلا ہوا ہے اس میں مزید اضافہ ہو جائے بلکہ ان روایات کے معنی یہ ہیں کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے اور ظلم وفساد کا خاتمہ کر یں گے اور ظلم وفسادکا دنیا سے اس طرح صفایا ہو جائے گا جےسے وہ اس سے قبل ظلم وجور سے چھلک رہی تھی۔


اعمش نے ابی وائل سے یہ روایت نقل کی ہے کہ امیر المومنین نے امام مہدی کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے:

یخرج علی حین غفلة من الناس واقامة من الحق واظهار من الجور،یفرح لخروجه اهل السماء وسکانها ویملاٴ الارض عدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً ۔“(۱)

” وہ اس وقت ظاہر ہوگاجب لوگ اقامہ حق کے سلسلہ میں خواب غفلت میں پڑے ہوں گے ظلم و جور عام ہوگااس کے ظہور سے اہل آسمان اور اس کے ساکنین میںخوشی کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔“

دوسری روایت میں ہے:”یملاٴ الاٴرض عدلاً وقسطا،کما ملئت ظلماً وجوراً(۲) زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔“

میرے خیال میں ”یملا الارض ظلماً وجورا“کے معنی یہ ہیں کہ ظلم وجور اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ ہر طرف سے لوگوں کی چیخ وپکاراورفریاد شروع ہو جائے گی ۔ظلم کے چہرے سے نقاب ہٹ جائے گاجس کے باعث وہ لوگوں کی نگاہوں میں خوبصورت جلوہ گرہوتا ہے بہ الفا ظ دیگر ظلم کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور ان تمام نظاموں کا شیرازہ بکھر جائے گا جنہیں لوگ بظاہر اچھا سمجھتے ہیں۔اور اس وسیع وعریض تباہی وبربادی کے بعد لوگوں کو ایسے الٰہی نظام کی تلاش وجستجو ہوگی جو انہیں تباہی وبربادی سے نجات دے سکے۔ اور انہیں ایسے الٰہی قائدو رہنما کی تلاش رہے گی جو ان کے ہاتھ تھام کر انہیں ان کے خدا تک پہنچا دے۔اس طرح کی تباہیاں دنیا میں یکے بعد دیگرے شروع ہوچکی ہیں ان تباہیوں میںسودیت یونین کی تباہی سر فہرست ہے اور آخری چند برسو ں میں امریکہ کو جو جھٹکے لگ رہے ہیں ان تمام باتوں سے خود بخود الٰہی نظام اور خدائی نجات دہندہ کی

____________________

(۱)بحار الانوار،ج/۵۱،ص/۱۲۰

(۲)منتخب الاثر ،ص/۱۶۲


طرف توجہ مبذول ہو جاتی ہے۔

ظہور میں تاخیر کی وجہ کے بارے میں پہلے نظریہ کے بارے میں یہ مختصر سا تنقید ی جائزہ تھا اور اب دوسری رائے کے بارے میں گفتگو کا آغاز کر تے ہیں۔

دوسرے نظریہ کا کل دار ومدار امام زمانہ کے ظہورمیں تاخیر کا باعث بننے والے اسباب کی شناخت پر ہے۔ان اسباب میں سر فہرست بقدر کافی انصار کا نہ ہونا ہے اور دوسرے یہ کہ امام کے انصار بننے والوں کے اندر لازمی لیاقت وصلاحیت (کیفیت) موجود نہیں ہے کیونکہ امام زمانہ کی حکومت ہمہ گیروآفاقی حکومت ہے جس میں قیادت اورکمزور، محروم و مستضعف لوگوں کے ہاتھ میں ہوگی :

( وَنُرِیدُ اٴَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاٴَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اٴَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِینَ ) (۱)

مستضعف اور محروم مومنین اس سلطنت اور مال ودولت کے وارث قرار پائیں گے جس پر اس سے پہلے کافروں اور ظالموں کا قبضہ ہوگا۔( ونجعلهم ائمّةً و نجعلهم الوارثین ) اور روئے زمین پر ان کی حکومت قائم ہو جائے گی( وَنُمَکِّنَ لَهُمْ فِی الْاٴَرْضِ ) (۲) اس مرحلہ میں امام زمانہ -زمین کو شرک اور ظلم کی گندگی سے پاک وصاف کردیں گے ۔”یملاٴ الاٴرض عدلاً کما ملئت ظلماً وجورا “اور ان کا نام ونشان باقی نہ رہ جائے گا جیساکہ متعدد روایات میں ہے زمین کے مشرق ومغرب میں کوئی ایسی جگہ باقی نہیں رہ جائے گی جہاںصدائے ”لا الٰه الا اللّٰه “نہ پہنچے۔

____________________

(۱)قصص/۵

(۲)قصص/۶


اس ہمہ گیر انقلاب وحکومت کامحور ”توحید“اور ”عدل“ہوگا لہٰذا ایسے انقلاب کے لئے وسیع تیاری کی ضرورت ہے اور کیفیت وکمیت دونوں اعتبار سے اعلیٰ سے اعلیٰ تیاری درکارہے ورنہ اس قسم کی تیاری اور راہ ہموار کئے بغیر ایسا ہمہ گیر انقلاب ممکن نہیں ہے اور سنت الٰہیہ کی تاریخ یہی ہے۔

آفاقی انقلاب میں سنت الٰہی اور غیبی امداد کاکردار

ظالموں ،کافروں اور لوگوں کی گردنوں پر مسلط جاہلی حکومتوں اور نظاموں کے مقابلہ میں ایسا انقلاب غیبی امدا داور خدا وندعالم کی تائید کے بغیر کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہو سکتاچنانچہ روایات میں اس الٰہی امداداور اس کے انداز کا واضح تذکرہ موجود ہے۔

البتہ الٰہی امدا دتصویر کا صرف ایک رخ ہے جب کہ اس کا دوسرا رخ تاریخ میں ایسے ہمہ گیر انقلاب کے آغاز، نشوونما اور اس کے تکمیل تک پہنچنے میں الٰہی سنتوں کیا کردار ہے؟اور الٰہی سنتوں میں کوئی تغیر وتبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

( سُنَّةَ اللهِ فِی الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِیلًا ) (۱)

سنت الٰہی اورامدادکے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔اس انقلاب کی حیثیت اور اہمیت وہی ہے جو رسول اللہ کی دعوت توحید کی حیثیت اور اہمیت تھی ،کیونکہ آنحضرت نے جو تحریک شروع کی تھی اس کا مقصد لوگوں کو توحید کے راستہ پر لگانا تھا یہی وجہ تھی کہ اس تحریک کو ہر مرحلہ پر غیبی تائید اورا مداد الٰہی حاصل رہی۔حتی کہ خداوندعالم نے بہادری کا

____________________

(۱)احزاب/۶۲


نشان لئے ہوئے صف بستہ ملائکہ ،ہوااور نہ دکھائی دینے والے لشکر نیزدشمن کے دل میں رعب ودبدبہ کے ذریعہ آپ کی نصرت کی ہے لیکن اس کے باوجود خداوندعالم نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا ہے کہ اس دائمی معرکہ آرائی کے لئے آپ خود بھی قوت وطاقت اور افراد فراہم کریں :( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) (۱)

اور یہ معرکہ تاریخ او ر سماج میں قائم الٰہی سنتوں کے مطابق پورا ہوا جس کی وجہ سے کبھی رسول اللہکو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی اور کبھی کبھی اس کے برعکس آپ کے لشکر کو ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا ۔آپ اس معرکہ آرائی میں فوج ،مال اور اسلحوں کا باقاعدہ استعمال کرتے تھے اورباقاعدہ جنگی حکمت عملی تیارکرتے تھے اور جنگ کے نئے نئے طریقوں کا اچانک استعمال کر کے دشمن کو حیرت زدہ کردیتے تھے اسی طرح وقت اور جگہ کے اعتبار سے بھی دشمن کو غیر متوقع ہنگامی صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔بلا شبہہ خدا نے اپنے رسول کی مدد کی لیکن ان تمام چیز وں اور خدا کی طرف سے اپنے رسول کی غیبی نصرت وامداد کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور یہ ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں۔

آپ کے فرزند کا عالمی انقلاب آپ کی دعوت توحید اورانقلاب سے جدا نہیں ہے جس کی قیادت آپ نے خداوندعالم کے حکم سے کی تھی۔

وہ الٰہی سنیتیں جن کاوجوداس عالمی انقلاب کے لئے ضروری ہے ان میں سے ایک، ظہور امام سے پہلے اس ظہورکی تیاری اور اس کے لئے زمین ہموار کرنا ہے اور جب آپ کا ظہور ہوتو اس وقت ناصروں و مددگاروں کا وجوداور آپ کی نصرت اس میں شامل ہے۔کیونکہ جب تک ایسی تیاری نہ ہوگی اور اس کے لئے زمین ہموارنہیں ہوگی تب تک

____________________

(۱)انفال/۶۰


تاریخ انسانیت کا اتنا عظیم انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔

لہٰذا اب ہم ان دونوں قسموں کی روایتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں سے پہلی قسم ”ظہور کی تیاری اور اس کی راہ ہموار“کرنے کے بارے میں اور دوسرے قسم کی روایات ”انصار اور نصرت“کے بارے میں ہیں اور اس کے بعد ان کے بارے میں غوروفکر کریں گے ،انشاء اللہ ۔

پہلی قسم کی روایتیں ظہور امام کی راہ ہموار کرنے والوں کے بارے میں ہیں اور یہ وہ جماعت ہے کہ جو ظہور امام کے لئے اقوام عالم اور کائنات کو آپ کی عالمی حکومت کے لئے تیار کرے گی۔لہٰذا یہ جماعت فطری طور پر امام کے ظہور سے پہلے ہوگی۔

جب کہ دوسری قسم کی روایات ”انصار “ کے بارے میں ہیں او ریہ وہ جماعت ہے جن کو ساتھ لے کر امام قیام فرمائیں گے اور ان کے ہمراہ ظالموں کے خلاف انقلاب برپا کریں گے اس طرح ہمارے سامنے دو قسم کی جماعتیں ہیں:

(۱) ظہور کی”راہ ہموار کرنے والوں کی جماعت“جو ظہور امام کے لئے حالات استوار کریں گے۔

(۲) ” انصار کی جماعت“جن لوگوں کے ساتھ امام قیام فرمائیں گے اور ان ہی کے تعاون سے ظالموں کے خلاف انقلاب برپا کریں گے ۔اب ہم ان دونوں قسم کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

روایات میں ظہور کی راہ ہموارکرنے والی جماعت کا تذکرہ

شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر کے یہاں ایسی روایات بکثرت موجود ہیں جن میں امام کے ظہور کی راہ ہموار کرنے والی جماعتوں کا تذکرہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان روایتوں میں صراحت کے ساتھ ان جماعتوں کے علاقوں کا تذکرہ بھی موجود ہے جن میں سے کچھ اہم علاقے یہ ہیں:مشرق وخراسان(بظاہر مشرق سے مراد خراسان ہی ہے) قم ، رے،یمن،اب ان جماعتوں اور ان کے علاقوں کی نشاندہی کرنے والی روایات ملاحظہ فرمائیں:


۱ ۔مشرق میں ظہور کی راہ ہموار کرنے والی جماعت

حاکم نے مستدرک میں عبداللہ بن مسعو د سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے:رسول خدا ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا اور لبوں پر تبسم موجود تھا۔اس وقت ہم نے آپ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا آپ نے ہمیں اس کا جواب دیا اوراگر ہم خاموش نہیں ہوتے تو آپ خود گفتگو شروع کر دیتے تھے یہاں تک کہ بنی ہاشم کے کچھ بچے ہمارے سامنے سے گذرے جن کے درمیان حسن اور حسین بھی تھے جب آنحضرت کی نگاہ ان دونوں پڑی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے اور ہم نے کہا:یا رسول اللہ کیا بات ہے ہم آپ کے چہرہ سے ناگواری کا مشاہدہ کر رہے ہیں؟

تو آپ نے فرمایا:”انّا اٴهل بیت اختار اللّٰه لنا الآخرةعلیٰ الدنیا، وانّه سیلقیٰ اٴهل بیتی من بعدی تطریداًوتشریداًفی البلاد حتیٰ ترتفع رایات سودفی المشرق،فیساٴلون الحقّ لایعطونه،ثمّ یساٴلونه فلایعطونه،ثمّ یساٴلونه فلایعطونه فیقاتلون فینصرون،فمن اٴدرکه منکم ومن اٴعقابکم فلیاٴت امام اٴهل بیتی ولوحبواًعلیٰ الثلج ،فانّها رایات هدیٰ، یدفعونها الیٰ رجل من اٴهل بیتی(۱)

____________________

(۱)مستدرک صحیحین،ج/۴،ص/۴۶۴


”ہم اہل بیت کے لئے خدا وندعالم نے دنیا کے بجائے آخرت کومنتخب کیا ہے میرے بعد میرے اہل بیت کو جلا وطن اور شہر بدر کیاجائے گا یہاں تک کہ مشرق میں سیاہ پر چم بلند ہوجائیں گے اور وہ حق کا مطالبہ کریں گے لیکن ان کا مطالبہ پورا نہ ہوگا وہ پھر مطالبہ کریں گے مگر پھر نامراد رہیں گے پھر مطالبہ کریں گے مگر ان کا حق ادا نہیں کیا جائے گا۔تب وہ جنگ کریں گے۔ تو ان کی نصرت کی جائے گی۔لہٰذا تم لوگوں یا تمہاری نسل میں جو کوئی اس وقت موجودرہے وہ میرے اہل بیت٪ میں آنے والے امام کا ساتھ دے چاہے برف پر گھسٹتے ہوئے آنا پڑے کیونکہ یہ ہدایت کے پر چم ہوں گے اور وہ انہیں میرے اہل بیت میں موجود شخص کے حوالے کر دیں گے۔“

امام جعفر صادق -سے روایت :”کاٴنی بقوم قدخرجوابالمشرق یطلبون الحقّ فلایعطونه ثمّ یطلبونه فاذاراٴ واذلک وضعواسیوفهم علیٰ عواتقهم فیعطون ماشاو وافلایقبلونه حتیّٰ یقوموا ولایدفعونهاالّا الیٰ صاحبکم (ای الامام المهدی)قتلاهم شهداء(۱)

”گویا کہ میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جومشرق کی جانب سے خروج کرے گی وہ حق کا مطالبہ کر یں گے اور انہیں حق نہیں ملے گا وہ پھر مطالبہ کریں گے مگر نہ ملے گا۔جب وہ یہ صورتحال دیکھیں گے تو اپنی تلواروں کو اپنے کاندھوں پر رکھ لیں گے تب تو وہ جس چیز کا مطالبہ کریں گے وہ انہیں دےد یا جائے گالیکن وہ اسے قبول نہیں کریں گے بلکہ اٹھ کھڑے ہوں گے،اور وہ اسے تمہارے آقا(امام مہدی ) کے علاوہ کسی اور کے حوالے نہیں کریں گے ان کے متقولین شہیدواقع ہوں گے“

____________________

(۱)بحارالانوار،ج/۵۲،ص/۲۴۳،اس حدیث میں تلواروں سے اسلحہ مراد ہے۔


۲ ۔خراسان میں راہ ہموار کرنے والے

جناب محمد حنفیہ سے روایت ہے لیکن بظاہر یہ روایت مولائے کائنات سے منقول ہے:”ثمّ تخرج رایة من خراسان یهزمون اٴصحاب السفیانی حتیّ تنزل بیت المقدس توطیء للمهدی سلطانه(۱)

”پھر خراسان سے ایک پر چم ظاہر ہو گا، یہ لوگ سفیان کے ساتھیوں کو شکست دے دیں گے۔یہاں تک کہ یہ لوگ بیت المقدس تک پہنچ جائیں گے اور مہدی کی حکومت کے لئے زمین ہموارکریں گے۔“

۳ ۔”قم “اور ”رے“ میں زمین ہموار کرنے والے

علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں روایت نقل کی ہے:”رجل من قم ید عوالناس الیٰ الحق یجتمع معه قوم قلوبهم کزبرالحدید،لاتزلّهم الریاح العواصف ، لایملّون من الحرب ولایجبنون و علیٰ اللّٰه یتوکّلون والعاقبة للمتقین ‘ ‘(۲)

”قم والوں میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا۔اس کے گرد ایک قوم جمع ہوجائے گی۔ان کے دل آہنی چٹانوں کی طرح مضبوط ہوں گے انہیں بڑی سے بڑی آندھی نہیں ہلاپائے گی وہ جنگ سے ملول خاطر نہ ہوں گے ان کے اندربزدلی کا نام ونشان بھی نہ ہوگا،اور ان کا اعتماد خدا پر ہوگا،اور انجام (عاقبت) متقین کے لئے ہے۔“

____________________

(۱)عصر الظہوار/۲۰۶

(۲)بحارالانوار،ج/۶۰،ص/۲۱۶


۴ ۔یمن میں زمین ہموار کرنے والے

امام کے ظہور سے پہلے یمن کی قیادت کے بارے میں امام محمد باقر -نے یہ ارشاد فرمایا:ان پر چموں کے درمیان یمانی کے پرچم سے زیادہ برحق کوئی پرچم نہ ہوگا،وہ ہدایت کا پر چم ہے کیونکہ وہ تمہارے آقاکی طرف دعوت دے گا۔(۱)

راہ ہموارکرنے والوں کے خصوصیات

۱ ۔سیسہ پلائی ہوئی جماعت

سب سے پہلے ان جماعتوں کی جس خصوصیت پرنظر پڑتی ہے وہ ان کی قوت وصلابت ،صلاحیت واستحکام ہے۔اس مضبوط جماعت کے افراد،نہایت تجربہ کار اور مشاق ہوں گے اور زمین کو امام کے ظہور کے لئے آمادہ کریں گے اور تن تنہا زمین پر قابض طاغوتوں کا مقابلہ کریں گے جیسا کہ جناب شیخ کلینی کی روایت کے مطابق امام جعفر صادق - نے آیہ:( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اٴُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِید ) (۲) کی تفسیر اسی جماعت سے کی ہے۔جب کہ روایت نے ان کی یہی عجیب وغریب صفت بیان کی ہے”قلوبھم کزبر الحدید لاتزلھم الریاح العواصف“ان کے دل آ ہنی چٹانوں کی مانند ہوں گے جنہیں تیزو تند ہوائیں نہ ہلاسکیں گی۔

بیشک وہ دل ایسے ہیں جب کہ دلوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ نرم ہوتے ہیں لیکن ان کے دل طاغوتوں اور ظالموں کے مقابلہ میں آ ہنی چٹان کی طرح مضبوط ہوجائیں گے جو نہ

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ،ج/۵۲،ص/۲۳۲

(۲)الاسراء/۵


نرم پڑیں گے اور نہ ہی پگھل سکیں گے لہٰذا استحکام اور مضبوطی ان جماعتوں کی خصوصیات میں شامل ہے جن کو خدا وندعالم عالمی انقلاب اور دنیاکو تبدیل کرنے کی ذمہ داری عطا کرے گاا سی طرح جس جماعت کو خدا وندعالم عظیم تاریخ کا رخ موڑنے اور لوگوں کو ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف منتقل کرنے کے لئے منتخب کرتاہے ان کی تمام خصوصیات اس جماعت میںموجود ہوں گی۔

۲ ۔چیلنج بننے والی جماعت

اس جماعت کامشن”عالمی نظام کو چیلنج کرنااور اس کے خلاف بغاوت اورسرکشی ہے۔اور کسی کو کیا معلوم کے یہ عالمی نظام کیسا ہوگااور یہ اتنی عظیم خدمت کے لئے کیسے آمادہ ہوگااور اسے صحیح رخ پر کون لگائے گا اور اس کے لئے دنیا کے مختلف علاقوں میں طاقتوں اور حکمت عملی تیارکرنے والے اہم مراکز کی حفاظت کون کرے گا ؟یہ بیحد نازک اور نہایت سخت ذمہ داری ہے جسے وہ پوری دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے اپنے کاندھوں پراٹھائیں گے اور اس کا تعلق کسی خاص علاقہ یا ملک سے نہیں ہوگا۔

یہ نظام مختلف قسم کے سیاسی ،اقتصادی ،عسکری اور اطلاعاتی تعادل وتواز ن برقراررکھنے والے مختلف اداروں اور حکومت چلانے والے نظاموں سے جڑے ہوئے نظاموں اور ان نظاموں کے درمیان مختلف قسم کے سرخ ہرے اور پیلے خطوط (حدود) ہوں گے میرا خیال یہ ہے:ایک دوسرے سے مربوط جڑے ہوئے ان اداروں اور نظاموں میں عالمی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کی عظیم طاقت اور صلاحیت موجود ہوگی بالکل اسی طرح جیسے ایک چھوٹی گاڑی(لوہے کا ایک بٹن یاہتھوڑا بڑی بڑی عمارتوں کو منہدم کرنے میں استعمال ہوتا ہے )یعنی انسان معمولی اشاروں سے بڑے بڑے کام انجام دے گا یہی وجہ ہے کہ عالمی نظام سوویت یو نین کے نظام کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی ہر ایک کے لئے قابل احترام ہے


کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنی ظرفیت کے مطابق اس سے استفادہ کر رہا ہے۔جب کہ ظہور کی راہ ہموار کرنے والے ان جوانوں کی جماعت اس نظام کی بساط لپیٹ دے گی۔یہ لوگ ان حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کے نظم وضبط تعادل اور شان و شوکت کا جنازہ نکال دیں گے اور ان جوانوں کے اوپر ان لوگوں کا کچھ بس نہیں چلے گا نہ وہ انہیں برداشت کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں دور کر سکیں گے کیونکہ ان تمام حکومتوں اور ان سے متعلق اداروں اور مشینریوں کا کل زور اور شان وشوکت اپنے جیسے اداروں اور مشینریوں کے مقابلہ میں دکھائی دیتی ہے اور ان کے پاس سب سے بڑا اسلحہ قتل کرنا اور جیل میں ڈال دینا یا طرح طرح کے شکنجے دینایا جلاوطن کر دینا ہے۔

جبکہ ان جوانوں کو ان چیزوں کا ذرہ برابر خوف نہیں ہے۔جیسا کہ روایت میں ان کی یہ صفت سے بیان کی گئی ہے:”لاتزلّهم الریاح العواصف،لایملّون من الحرب ولایجبنون وعلی اللّٰه یتوکّلون والعاقبة للمتقین ‘”انہیں تندوتیز ہوائیں ان کی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں یہ جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ہوں گے اور نہ بزدل ہیں ،اللہ پر توکل رکھنے والے اور عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔“

یہ طے ہے کہ جو بزدل نہ ہو اور جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ہوتا ہو اور اسے تیز وتند ہوا ئیں اس کی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں،یہی ان کی اصل طاقت اور ان کا امتیاز ہے کہ ان کے یہاں بزدلی کا نام ونشان نہ ہوگا اور اسی صفت سے سپر پاورکہے جانے والے ممالک کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوجائے گی۔


امریکہ میں جب کبھی صدارت کا انتخاب ہوتا ہے تو عوام کے جوش وجذبہ کو بڑھا نے کے لئے صدارت کے امیدوار ٹی وی مکالمہ میں شرکت کرتے ہیں ایسا ہی ایک مباحثہ ومکالمہ امریکہ کے سابق صدر کا ر ٹر اور ان کے مدمقابل امیدوار کے درمیان ہوا تھا ۔ جس میں مخالف امیدوار نے کارٹرسے یہ سوال کیا تھاکہ بیروت میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کواٹر پر حملہ اور دھماکہ کے باعث امریکہ کی ساکھ کوزبردست نقصان پہنچا ہے اور امریکہ کے صدر ہونے کی بنا پر آپ براہ راست اس نقصان کے ذمہ دارہیں۔تو اس وقت کے امریکی صدر کار ٹر نے اس کاجواب یہ دیا:تم ہی بتاو میں اس شخص کے مقابلہ میں کیا کر سکتا ہوں جو موت کے منہ میں کودنے کے لئے تیار ہو؟ہمارے بس میں زیادہ سے زیادہ اتنا ہے کہ ہم لوگوں کو خوفزدہ کرکے ایسے واقعات سے دور رکھیں ۔لیکن جو شخص ایسا دھماکہ کرنے کے لئے خود موت کے منہ میں کودنے کے لئے تیار ہو تو ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں؟آپ ہی بتائیے کہ اگر اس وقت میری جگہ آپ ہوتے توکیا کرتے ؟

مختصر یہ کہ عراق،ایران،افغانستان ،لبنان ،فلسطین ،الجزائز ،مصر ،سوڈان اور اب بوسنیا میں سپر پاور اور بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنے والی جماعتوں کے نمونے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

ان جماعتوں کی عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بہادر، ظالموں اور جلادوں نیز سپر پاور کو برا بھلا کہتے ہیں جب کہ وہ ان کے قبضہ میں ہیں یا ان کی حکومت میں ان ہی کے زیر نظر رہتے ہیں اور ان کو طرح طرح کی سزائیں اور شکنجے دئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کام سے باز نہیں آتے اور نہ ہی ان کے سامنے جھکتے ہیں نہ کراہتے ہیں اور نہ کسی قسم کی آہ وفریاد کرتے ہیں بلکہ ان کا ایک بہادرجسے خدا جانے وہ کس کس طرح سے تکلیفیں پہنچا رہے تھے اور اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے:تمہارے دل میں یہ حسرت باقی چھوڑ جاو ں گا کہ تم صرف ایک بار ہی سہی میرے کراہنے ،رونے یا آہ وفریاد کی آواز سن لو!


۳ ۔عالمی رد عمل

جیسا کہ روایتوں میں بھی اشارہ موجود ہے کہ عالمی پیمانے پر اس جماعت کی مخالفت میں غصہ اور ناراضگی کا رد عمل سامنے آئے گا کیونکہ یہ جماعت ان کے کاروبار اور نظام حیات میں واقعاً اتھل پتھل کرکے کھلبلی مچا دے گا۔جس سے ان کا ناراض ہونا لازمی ہے۔

جناب ابان بن تغلب نے امام جعفر صادق -سے یہ روایت نقل کی ہے : ”اذا ظهرت رایة الحق لعنها اهل الشرق واهل الغرب،اٴتدری لم ذٰلک؟قلت: لا،قال:للذی یلقی الناس من اٴهل بیته قبل ظهوره(۱)

”جب حق کا پرچم ظاہر ہوگا تواس پر مشرق اور مغرب والے لعنت کریں گے (برا بھلا کہیں گے) کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہوگا ؟میں نے عرض کی نہیں ۔

توآپ نے فرمایا : ظہور سے قبل اہل بیت کی طرف سے لوگوں کوجن (حالات)کا سامنا کرنا پڑے گا۔“

اور یہ طے شدہ ہے کہ ظہور سے پہلے ان کے اہل بیت سے مراد وہی افراد ہوں گے جو ظہور کی راہ ہموار کریں گے اور عالمی حکومتوں کی ناک میں دم کرکے ان کا جینا دوبھر کر دیں گے۔

شیخ کلینی نے اپنی کتاب (روضہ )الکافی میں خداوندعالم کے اس قول :

( بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِید ) (۲) کی تفسیر کے سلسلہ میں امام جعفر صادق -کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

قال:قوم یبعثهم اللّٰه قبل خروج القائم فلایدعون لآل محمد مبغضاً الاَّقتلوه

____________________

(۱)بحار الانوار،/۵۲،ص/۶۳

(۲)اسراء/۵


امام جعفر صادق -نے فرمایا :”اس سے مراد وہ قوم ہے جسے خداوندعالم قائم کے ظہو ر سے پہلے بھیجے گا ،اور وہ آل محمد سے کشیدگی اختیار کرنے اور دور رہنے والے کو نہیں بلائیں گے مگر یہ کہ اسے قتل کر دیں گے۔“

تیاری کی منصوبہ بندی

امام زمانہ کے انقلاب کے لئے زمین کو آمادہ کرنا بے حد وسیع وعریض اور اہم مرحلہ ہے اوراس مرحلہ کوسر کرنے کے لئے مومنین کی یہ جماعت دنیا کے ظالموں ،استکباری اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے اٹھ کھڑی ہوگی جب کہ تمام طاغوتی طاقتیں اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر ان کے مقابلہ میں ایک وسیع وعریض متحدہ سیاسی پلیٹ فارم تیارکرلیں گی اور اس پلیٹ فارم کے قبضہ میں ہر طرح کے مال ودولت ،حکومتی اور سیاسی ہتھکنڈے ،فوجی طاقت اورذرائع ابلاغ،روابط اور نظم ونسق جیسے طاقت وقوت کے وسائل ہوں گے۔

یہ تمام وسائل اسلامی بیداری کو نیست ونابود اور ناکام بنانے کے لئے استعمال کئے جائیں گے ۔لہٰذا جو جماعتیں دنیا کو امام کے ظہور کے لئے آمادہ کرنے کا منصوبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوں گی ان کے پاس بھی اسی قسم کے آلات ووسائل موجود ہونا ضروری ہیں بلکہ اس کے علاوہ ان کے پاس ایمانی جذبہ اور جہادی تربیت اور سیاسی شعور بھی تا حد کافی ہونا ضروری ہے کیونکہ تیاری کے اس منصوبہ کے دو حصہ ہوں گے:


پہلا حصہ

ایمانی جذبہ اور جہادی تربیت نیز سیاسی شعور ،یہ چیزیں ان کے مد مقابل کے یہاں مفقود ہوں گی۔

دوسرا حصہ

وہ تمام سیاسی ،فوجی، اقتصادی ،انتظامی اورمیڈیا اور ذرائع ابلاغ کے وسائل کی فراہمی جوایسے معرکہ کے لئے ضروری ہیں۔

اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ جو مومن جماعت دنیا کو امام کے ظہور کے لئے تیار کرے گی اس کے لئے ان تمام چیزوں اورقوتوں کی فراہمی ضروری ہے چاہے وہ اس میں اپنے مدمقابل عالمی اتحاد کی برابری نہ کر سکے نیز یہ بھی طے ہے کہ ایک سیاسی نظام اور باقاعدہ کسی حکومت کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہے۔اوروہ حکومت جس کی بشارت احادیث میں کثرت کے ساتھ دی گئی ہے وہ ظہور کی تیاری کرنے والی جماعت کی ہی حکومت ہوگی اس کے بغیر امام کے ظہور کے فطری اسباب فراہم نہ ہوں گے لہٰذا اس کا وجود امام کے ظہور سے پہلے یقینی ہے اور یہ بھی طے ہے اس قسم کی قدرت حاصل کر نے کے لئے واقعاًجد وجہدکی ضرورت ہے اور صرف تماشائی بنے رہنے یا” انتظار“ سے کام چلنے والا نہیں ہے۔

روایات میں انصار کا تذکرہ

ظہور امام کی تیاری کرنے والی جماعت انصار کی جماعت سے پہلے ہوگی اور اس جماعت کے افرادگذشتہ جماعت کے شاگرد ہوں گے اور یہ لوگ ان سے مختلف خصوصیات اورممتاز صفات کے حامل ہوں گے۔

اس مقام پر ہم اس جماعت کے بارے میں وارد ہونے والی روایتوں میں سے صرف ایک روایت کو بطور نمونہ ذکر کر رہے ہیں یہ روایات شیعہ اور سنی دونوں طرق سے مروی ہیں اس روایت میں ”طالقان “کے جوانوں کا تذکرہ ہے:


طالقان کے جوان مرد

متقی ہندی نے ”کنزالعمال “میں ،سیوطی نے اپنی کتاب”حاوی“میں امام مہدی کے ان انصار کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے جن کا تعلق ”طالقان “ سے ہوگا :

ویحاً للطالقان فان للّٰه عزّوجلّ بها کنوزاً لیست من ذهب ولافضة، ولکن بها رجال عرفوا اللّه حق معرفته وهم اٴنصار المهدی(۱)

”قابل رشک ہے طالقان کیونکہ بے شک وہاں خداوندعالم کے ایسے خزانے ہیں جو نہ سونا ہے اور نہ چاندی بلکہ وہ ایسے مردہیں جن کے پاس خداوندعالم کی کامل معرفت ہے یہی کامل المعرفت افراد مہدی کے انصار ہیں۔“

ینابیع المودة قندوزی میں ہے:”بخٍ بخٍ للطالقان(۲)

علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں یہ روایت نقل کی ہے:

کنزبالطالقان ما هوبذهب ولا فضة ،رایة تنشر مذ طویت،ورجال قلوبهم زبر الحدید لایشوبها شک فی ذات اللّٰه اشد من الجمر ،لو حملواعلیٰ الجبال لاٴزالوها ،لایقصدون برایاتهم بلدة الاَّخربوها کاٴنّ خیولهم العقبان، یتمسحون بسرج الامام یطلبون بذٰلک البرکة ویحفون به ویقونة باٴ نفسهم فی الحروب،یبیتون قیاماً علیٰ اٴطرافهم ویصبحون علیٰ خیولهم“رهبان باللیل لیوث بالنهار،هم اطوع من الامة لسیدها، کالمصابیح فی قلوبهم القنادیل وهم من خشیته مشفقون ،

____________________

(۱)کنزالعمال،/۷،ص/۲۶

(۲)ینابیع المودة،ص/۴۴۹


یدعون بالشهادة ویتمنون اٴن یقتلوا فی سبیل اللّه شعارهم:یا لثارات الحسین،اذا ساروایسیر الرعب اٴمامهم مسیرة شهر،یمشون الیٰ المولیٰ ارسالاً،بهم ینصر الله امام الحق

”طالقان میں ایسا خزانہ ہے جو سونا اور چاندی نہیں ہے اور ایک ایسا پرچم ہے جسے جب سے لپیٹا گیا ہے وہ کھلا نہیں ہے اور ایسے مرد میداں ہیں کہ ان کے دل آہنی چٹان کے مانند ہیں، جن کے اندر ذات خدا کے بارے میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ، یہ پتھروں سے زیادہ مضبوط ہیں،اگریہ پہاڑوں پر (حملہ کر دیں )تو اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ اپنے پرچم کوکسی شہر کی طرف لے کر نہیں بڑھیں گے مگر یہ کہ اسے ویران کر ڈالیں گے ۔گویا ان کے گھوڑے پر ندوں کی طرح ہوں گے ،امام کی زین کو مسح کر کے وہ اس سے برکت حاصل کریں گے اور جنگ میں اس سے انہیں طاقت وقوت ملے گی،رات بھر خدا کی عبادت میں جاگ کر گذارنے والے اورصبح ہونے پر اپنے گھوڑوں پر سوار ہونے والے ہیں ۔

راتوں کو راہب (صفت)دن میں شیرنر ،اپنے آقا کے لئے کنیز سے زیادہ فرمانبردار ،چراغوں کی طرح ،جیسے ان کے دلوں میں قندیلیں روشن ہوں ،خداوندعالم کی خشیت سے خائف ،انہیں شہادت کے لئے دعوت دی جائے گی ،ان کی تمنا راہ خدامیں شہید ہونا ہے ان کا نعرہ” یا لثارات الحسین“جب وہ آگے بڑھیں گے تو ان کا رعب ودبدبہ ان سے ایک مہینہ کے فاصلہ پر آگے آگے چلے گا،اپنے مولیٰ کی طرف بڑھیں گے ان کے ذریعہ خداوندعالم امام حق کی نصرت کرے گا۔“(۱)

____________________

(۱)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۳۰۷


امام کے اصحاب جوان ہوں گے

روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام کے اکثر اصحاب بھر پور جوان ہوں گے اور

ان میں بوڑھے اور ضعیف افراد بالکل نادر ونایاب ہوں گے۔

علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں یہ روایت نقل کی ہے :”اٴصحاب المهدی شباب لاکهول فیهم الّا کمثل کحل العین(۱) ” مہدی کے اصحاب جوان ہوں گے ان کے درمیان کوئی بوڑھانہ ہوگا مگر اتنی ہی تعداد (مقدار )میں جتنا آنکھ میں سرمہ ہوتا ہے۔“

امام کے انصار کی تعداد

علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں یہ روایت کی ہے:”فیجمع اللّٰه علیه اصحابه،هم ثلاثمئة وثلاثة عشر رجلاً ویجمعهم علیه علیٰ غیر میعاد فیبایعونه بین الرکن والمقام، ومعه عهد من رسول اللّٰه قد توارثتة الابناء عن الآباء(۲)

” خداوندعالم ان کے گرد ان کے اصحاب کو جمع کر دے گا ان کی تعدا د ۳۱۳ ہوگی اور خداوندعالم انہیں کسی میعاد کے بغیر جمع کردے گا ،پھروہ رکن ومقام کے درمیان اس کی بیعت کریں گے آپ کے ہمراہ رسول خدا کاوہ عہد ہوگا جو اولاد کو اپنے آباء واجداد سے میراث میں ملتا ہے۔“

____________________

(۱)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۳۳۴

(۲)بحار الانوار،ج/۵۲،ص/۲۳۸،۲۳۹


اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رکن ومقام کے درمیان جو تعداد امام کی بیعت کرے گی یہی لشکرِ امام کے سپہ سالاروں کی تعداد بھی ہوگی ۔

امام کے انصار کے صفات

سب سے پہلے ہم تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس دور میں جو زبان استعمال ہوسکتی تھی وہ رمزی اور علامتی زبان ہے جس میں تلواروں سے مراد اسلحہ اور گھوڑوں سے مرادجنگی سواری ہے بالکل اسی طرح جیسے ”رھبان باللیل لیوث بالنھار “(راہبان شب اور دن کو شیرنر) بھی ایک طرح کی مجازی تعبیر ہے جس سے رات میں کثرت عبادت وتہجد اور دن کے وقت جرات وہمت مراد ہے۔

جو شخص روایتوں کے لب ولہجہ سے مانوس ہو اس کے لئے اس قسم کے جملات عام بات ہیں۔اب ہم روایتوں کے مضامین پر غور وفکر کرکے امام کے انصار کی صفات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

۱ ۔ایسے خزانے جن کے اندر نہ سونا ہوگا نہ چاندی

امام کے انصار” خزانے “ہیں اور خزانہ پوشیدہ دولت کو کہا جاتا ہے ،جو کبھی انسان کے گھر میں ہی ہوتا ہے،کبھی اس کے قدموں کے نیچے (زمین میں) ہوتا ہے ،کبھی گھر کے آس پاس یا شہر کے اطراف میں ہوتاہے لیکن انسان کو اس کا علم نہیں ہوتا ہے اسی طرح امام کے انصار بھی چھپا ہوا خزانہ ہیں لہٰذا عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ہمارے گھر کے اندر یا پڑوس میں یا شہر میں موجود ہو اور ہم اسے نہ پہچانتے ہوں بلکہ بسا اوقات اسے حقیر بھی سمجھتے ہوں اورایسے لوگوں کی نظروں میں بھی وہ حقیر ہوں جن کی نظر میں وہ گہرائی نہ ہوجس سے انہیں اس خزانہ کا علم نہ ہو سکے گا۔


بے شک یہ بصیرت ویقین،خدا سے قلبی رابطہ، شجاعت،جرات اور ذات خدا میں اپنے کو غرق کر دینا ان کے اندرایسے خصوصیات اچانک اور یک بہ یک پیدا نہیں جائیں گے بلکہ یہ صفات ان جوانوں کے نفوس میں پہلے سے موجود ہوں گے مگریہ خصوصیات لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوں گے ،بالکل اسی طرح جیسے لوگوں کی نگاہوں سے خزانہ پوشیدہ رہتا ہے۔

۲ ۔طاقت وقوت

خداوندعالم نے اپنے صالح بندوں ابراہیم واسحاق ویعقوب کی تعریف اس انداز سے کی ہے:

( وَاذْکُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ اٴُوْلِی الْاٴَیْدِی وَالْاٴَبْصَارِ إِنَّا اٴَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِ وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنْ الْمُصْطَفَیْنَ الْاٴَخْیَار ) (۱) کسی بھی شخص کی تعریف کی یہ بہترین مثال ہے۔

بے شک بصیرت کے لئے قوت وطاقت ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر بصیرت ضائع ہو جائے گی اور اس پر جمودطاری ہو جائے گا اور بصیرت صرف مضبوط اور مستحکم ایمان والے مومن کے اندر ہی پیدا ہو سکتی ہے لہٰذا اگر مومن کمزور ہوا تو اس کی بصیرت بھی ختم ہو جائے گی قوت کے لئے بھی بصیرت ضروری ہے کیونکہ بصیرت کے بغیر طاقت ،ہٹ دھرمی ،دشمنی اور تکبر میں تبدیل ہو جاتی ہے اور خداوندوعالم نے جناب ابراہیم واسحاق یعقوب کی یوں تعریف کی ہے”اولیٰ الایدی والابصار“ہمارے بندے صاحبان قوت بھی تھے اور صاحبان بصیرت بھی۔

____________________

(۱)سورہ ص/ ۴۵۔۴۷


ابھی آپ نے جو روایات ملاحظہ فرمائیں ان میں یہ اشارہ موجود ہے کہ امام مہدی کے انصار صا حب قوت بھی ہوں گے ا ور اہل بصیرت بھی ۔

۳ ۔شعور اور بصیرت

روایت میں امام کے انصار کے شعور اور بصیرت کا تذکرہ نہایت حسین انداز سے کیا گیا ہے ۔”کالمصابیح کان فی قلوبھم القنادیل“”چراغوں کی مانند جیسے ان کے دلوں میں قندیلیں روشن ہوں۔“بھلا یہ ممکن ہے کہ تاریکی چراغ کو توڑ ڈالے ؟ہاں یہ تو ممکن ہے کہ اندھیرا چاروں طرف سے چراغ کو گھیر لے لیکن وہ اسے گل نہیں سکتا ہے۔

چاہے جتنی زیادہ تاریکی پھیل جائے اورفتنوں کا راج ہو مگر امام زمانہ کے انصار کے دلوں میں شک وشبہہ کا گذر نہ ہوگا اسی لئے وہ شک وشبہہ کا شکار نہ ہوں گے نہ ہی واپس پلٹیں گے اورنہ ہی راستہ چلتے وقت اپنے پیچھے مڑکر دیکھیں گے ان کی اس صفت کے لئے روایت میں یہ جملہ ہے ”لا یشوبھا شک فی ذات اللہ“ذات خدا کے بارے میں ان کے یہاں شک کی آمیزش بھی نہ ہوگی چنانچہ شک کی آمیزش کا مطلب شک اور یقین کا مجموعہ ہے ۔ بعض اوقات شک یقین کو پارہ پارہ کر دیتا ہے اور شک کو شکست دینے والے یقین کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔اس صورت حال سے اکثر مومنین دوچار ہوتے رہتے ہیں لیکن امام کے انصار ایسے ہوں گے کہ ان کے یقین میں شک کی آمیزش بھی نہ ہوگی ایسا خالص یقین ہوگا جہاں دور دور تک شک کا شائبہ بھی نہ ہوگا۔

۴ ۔ عزم محکم

اس بصیرت کے نتیجے میں ان کے اندر ایسا مضبوط عزم وحوصلہ پیداہو جائے گا جس میں کسی قسم کا شک وترددیا بازگشت کا سوال نہ ہوگا۔ان کی اس استحکام کو روایت میں ”الجمر“کہا گیا ہے جو ایک شاندار مثال ہے کیونکہ شعلہ جب تک روشن رہتا ہے وہ چیز کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے اور روایت کے الفاظ یہ ہیں ”اشد من الجمر“کہ وہ شعلے سے زیادہ شدید ہوں گے یہ ان کے عزم وحوصلہ کے استحکام کے بہترین مثال ہے۔


ہمیں نہیں معلوم کہ خداوندعالم نے طالقان کے جوانوں کے اندر شعور وآگہی ،عزم ویقین اور قدرت وطاقت کی کون سی طاقت ودیعت فرمادی ہے؟کیونکہ اس روایت میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ عام طور سے سننے میں نہیں آتے ہیں گویا کہ یہ حدیث ان کی محبت اور شدت عشق کی ترجمانی کر رہی ہے:”زبرالحدید،کالمصابیح ،کاٴنَّ فی قلوبهم القنادیل،اشد من الجمر، رهبان باللیل لیوث بالنهار

گویا کہ الفاظ کے دامن میں جتنی وسعت تھی حدیث نے ان جوانوں کے شعور وآگہی ، قوت وبصیرت اورعزم وحوصلہ کے نفوذ کی عکاسی کے لئے زبان وبیان کی تمام توانائیوں کو صرف کر دیا ہے۔

۵ ۔قوت وطاقت

روایت میں طالقان کے جوانوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اتنے زیادہ طاقتور ہوں گے کہ اپنے زمانے میں جن جوانوں کوجانتے ہیں ان کے یہاں ایسی شجاعت کا کوئی نام ونشان نہیں ملتا ذرا اس جملہ پر غور کیجئے:”کاٴنَّ قلوبهم زبر الحدید “گویا کہ ان کے دل آہنی چٹان ہیں۔

کیا آپ نے دیکھا ہے کہ کوئی شخص ہاتھ میں لوہے کا ٹکڑا لے کر اسے پگھلا دے اسے توڑدے یا نرم کر دے؟اس کے بعد ارشاد ہوتاہے:اگر یہ پہاڑ پر حملہ کر دیں تو اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیں گے ،اپنے پرچموں کے ساتھ کسی شہر کارخ نہیں کریں گے مگر یہ کہ اسے ویران کرکے رکھ دیں گے گویا کہ وہ ہوا پر اڑنے والے اپنے گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔“

ان عجیب وغریب تعبیروں سے ان کی عظیم قدر ت وطاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ طاقت دنیا پر قابض ظالموں اور جابروں کے پاس موجود نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ صرف عزم وارادہ اور یقین کی طاقت ہے۔


۶ ۔موت کی آرزو اور شوق شہادت

یدعون بالشهادة ویتمنون اٴن یقتلوا فی سبیل اللّٰه “بے شک موت نوے اور سوسال کے ضعیف العمر اور بوڑھے افراد کو بھی خوفزدہ کر دیتی ہے جب کہ ان کے پاس دنیا کی کوئی لذت اور خواہشات باقی نہیں رہ جاتی ہیں۔

میرا خیال یہ ہے کہ جس موت کے نام سے بڑے بوڑھے لرزجاتے ہیں یہ جوان عنفوان شباب سے ہی اس کے عاشق اور دیوانے ہوں گے اور شہادت کی محبت دوچیزوں سے پیدا ہو تی ہے اور انسانی زندگی میں اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیںشہادت کی محبت کی وجہ دنیا سے چشم پوشی اور خدا سے وابستگی اوراسی کی طرف رخ کر لیناہے ۔لہٰذا جب انسان اپنے دل میں پائی جانے والی دنیا کی محبت سے نبردآزما ہے اور اس سے بالکل قطع تعلق کر لیتا ہے اور اس کے فریب میں نہیں آتا تو اس راستہ کی پہلی منزل طے ہوجاتی ہے اور یہ منز ل دوسری منزل سے بے حد دشوار ہے۔جب کہ اس کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کے دل میںخدا کی محبت جاگزیں ہو جائے انسان اس کے ذکر اور محبت کا ہی دلدادہ بن جائے اور ایسے دل کامالک انسان اپنے قلب بلکہ پورے وجود کے ساتھ خدا کی طرف رخ کر لیتاہے جس کے بعد ایسے افراد کی نظر میں دنیا کی کسی چیزکی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی


یہ لوگ دوسروں کے ساتھ دنیامیں زندگی گذارتے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ بازاروں اور اجتماعات میں دکھائی دیتے ہیں مگر یہ قلبی اعتبار سے دنیا سے غائب رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ”حاضرغائب“کہا جا سکتا ہے یہ موت کے عاشق ہوتے ہیں موت سے محبت کرتے ہیں جب کہ اکثر لوگ موت کے نام ہی سے لرزجاتے ہیں ،یہ شہادت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس میں انہیں اپنے رب سے ملاقات کا سامان نظر آتاہے اور ان کے دل میں شہادت راہ خدا کا ایسا ہی شوق ہوتا ہے جیسے عام لوگوں کو دنیا کی رنگینیوں کا شوق ہوتا ہے بلکہ ان کا شوق شہادت لوگو ں کے شوق دنیا سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو ان کی معرفت رکھتے ہوں ،خاص طور سے اہل مغرب تو ان کی معرفت اور انہیں سمجھنے سے ہی قاصر ہیں اہل مغرب کبھی انہیں خودکشی کرنے والا کہتے ہیں حالانکہ خود کشی کرنے والا اسے کہا جاتا ہے جو دنیا سے آزردہ خاطر ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں جب کہ ان جوانوں کے سامنے دنیا کے راستے بالکل کھلے ہوتے ہیں دنیا ان کے ساتھ دل لگی کرے گی اور وہ اپنی تمام زینتوں اور آرائشوں کے ساتھ ان کے سروں پر سایہ فگن ہوتی ہے انھیں اپنے فریب میں پھنسانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے تو پھر وہ دنیا سے کس طرح آزردہ خاطر ہو سکتے ہیں جب کہ ان کے سامنے دروازے بند نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس سے منہ پھیر لیں گے کیونکہ ان کے دل میں خدا کی ملاقات کاشوق ہوگا۔اہل مغرب کبھی ان لوگوں کو دہشت گر دکہتے ہیں جب کہ یہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ دہشت گردی سے نہیں ڈرتے ہیں تو یہ حقیقت سے قریب تر ہے۔


مختصر یہ کہ یہ دونوں چیزیں خدا کی راہ میں شہادت کی بنیاد ہیں لیکن جو چیز شہادت کی محبت سے پیدا ہو تی ہے وہ عزم وارادہ اور قوت وطاقت ہے کیونکہ موت کا وہ خواہشمند انسان جو اپنے کودنیا سے آزاد کر سکتا ہے اس کے اندر وہ عزم وحوصلہ پایا جاتا ہے جو دوسروں کے یہاں یکسر مفقود ہوتا ہے۔

اور اس عزم وارادہ سے ان لوگوں کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا جو مادی وسائل پر بھروسہ کرنے والے ہیں۔

۷ ۔متوازن شخصیت

”رھبان باللیل لیوث بالنھار“اس جماعت کی ایک واضح صفت اور علامت یہ ہے کہ یہ لوگ متوازن شخصیت کے مالک ہوں گے اور یہی ان کی قوت اور نفوذ کا راز ہے ،یعنی دنیاو آخرت اور قوت و بصیرت کے درمیان توازن قائم رکھنا اور خداوندعالم اسی توازن اوراعتدال قائم کرنے کو پسند کرتا ہے اور افراط وتفریط یا دائیں بائیں جھکاو کو ناپسند کرتا ہے جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:( وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلاَتَنسَ نَصِیبَکَ مِنْ الدُّنْیَا ) (۱)

”اور جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جاو ۔“

یا خداوندعالم نے ہمیں اس دعاکی تعلیم دی :( رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً ) (۲)

____________________

(۱)قصص /۷۷

(۲)بقرہ/۲۰۱


”پروردگار ہمیں دنیا اور آخرت میں نیکی عطافرما۔“

دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلاَتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلَی عُنُقِکَ وَلاَتَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًاً ) (۳)

”اور خبردارنہ اپنے ہاتھوں کو گردنوں سے بندھا ہوا قرار دواور نہ بالکل پھیلا دو کہ (آخرت میں )قابل ملامت اور خالی ہاتھ بیٹھے رہ جاو ۔“

اسی توازن اوراعتدال میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اللہ کی عبودیت وبندگی اور مومنین کے سامنے انکساری اور کافرین کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی مستحکم دیوار دکھائی دے :( اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ ) (۴)

”مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صا حب قوت ہوگی۔“

اسی توازن واعتدال میں یہ بھی شامل ہے کہ خدا پرتوکل اورمستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ محنت ومشقت اور جہد مسلسل کے درمیان توازن قائم رکھے جیسا کہ امیر المومنین نے خطبہ ہمام میں متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے اس توازن واعتدال کو اس انداز سے بیان فرمایا ہے:”فمن علامة اٴحدهم اٴنک تری له قوة فی دین ،و حزماً فی لین ،وعلماً فی حلم،وقصداً فی غنی،وتجمّلاً فی فاقة،وصبراً فی شدّة،یعمل الاٴعمال الصالحة وهو علیٰ وجل ،یبیت حذراًویصبح فرحاً،یمزج الحلم بالعلم،والقول بالعمل،فی الزلازل وقور،وفی الرخاء شکور،نفسه منه فی عناء والناس منه فی راحة(۱)

____________________

(۳)اسراء/۲۹

(۴)مائدہ/۵۴

(۱)نہج البلاغہ ،اقتباس از خطبہ متقین ،ج/۲،ص/۱۶۴،شرح محمد عبدہ


”ان کی ایک علامت یہ بھی ہے ان کے پاس دین میں قوت، نرمی میں شدت احتیاط،یقین میں ایمان، علم کے بارے میں طمع، حلم کی منزل میں علم ،مالداری میںمیانہ روی،فاقہ میں خودداری، سختیوں میں صبر،وہ نیک اعمال بھی انجام دیتے ہیں تو لرزتے ہوئے انجام دیتے ہیں،خوف زدہ عالم میںرات کرتے ہیں فرح و سرورمیں صبح،یہ حلم کو علم سے اور قول کو عمل سے ملا ئے ہوئے ہیں، زلزلوں میں باوقار ۔ دشواریوں میں صابر ۔ آسانیوں میں شکر گزار ۔دشمن پر ظلم نہیں کرتے ہیں۔ان کا اپنا نفس ہمیشہ رنج میں رہتا ہے اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہتے ہےں۔“

یہ اعتدال، امام کے انصار کی واضح صفت اور پہچان ہے۔

۸ ۔رھبان باللیل لیوث بالنھار

اس توازن کی طرف روایت کا یہ جملہ اشارہ کر رہا ہے”رھبا ن باللیل لیوث بالنھار“ ”راہبان شب اور دن میں شیر نر “۔واضح رہے کہ دن اور رات انسان کی شخصیت سازی میں دو الگ الگ کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان دونوں کے ملنے کے بعد ہی ان کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ دونوں ہی ایک مبلغ اور مجاہد مومن کی شخصیت کے لئے بنیادی اعتبار سے ضروری ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر رات کی عبادتیں نہ ہوں گی تو انسان دن میں مشکلات کامقابلہ نہیں کر سکے گا۔اور اس کے اندرخاردارراستوں پرسفرجاری رکھنے کی طاقت پیدانہیں ہوگی اور اگر یہ دن کی جد وجہد نہ ہوگی تو پھر رات بھی قائم باللیل کے لئے سماج میں دین الٰہی کی تبلیغ کے راستے میں مانع ہو جائے گی۔

اور اس طرح انسان دنیاوی زندگی کے دوسرے مرحلہ یعنی عبادت الٰہی کے بعد اپنی زندگی کے اہم حصہ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا جس کا نام بندگی خدا کی طرف دعوت دیناہے۔


قرآن مجید میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دین خدا کی تبلیغ میں نماز شب اہم کردار ادا کرتی ہے تبلیغ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی رسول اکرم پر سورہ مزمل نازل ہوا تھا جس میں پروردگار عالم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ دن کے بھاری اور مشقت آور کاموں کوانجام دینے کے لئے اپنے نفس کو رات کی عبادتوں کے ذریعہ تیار کریں جیسا کہ ارشادہوتا ہے:

( یَااٴَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمْ اللَّیْلَ إِلاَّ قَلِیلاً نِصْفَهُ اٴَوْ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیلاً اٴَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَرَتِّلْ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیلا إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیْلِ هِیَ اٴَشَدُّ وَطْئًا وَاٴَقْوَمُ قِیلاً إِنَّ لَکَ فِی اَلنَّهَارِ سَبْحًا طَوِیلا ) (۱)

”اے میرے چادر لپیٹنے والے ،رات کو اٹھو مگر ذرا کم ،آدھی رات یااس سے بھی کچھ کم کردو،یا کچھ زیادہ کردواور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو،ہم عنقریب

تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں،بے شک رات کا اٹھنا نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر خدا کا بہترین وقت ہے ،بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سے مشغولیات ہیں۔“

اس آیت میں”ناشئة اللیل “(رات کا اٹھنا )کی جو تعبیر استعمال ہوئی ہے یہ انتہائی دقیق اور پر معنی ہے کیونکہ جو انسان اہم اور مشکل کاموں کے لئے اپنے کو تیار کرتا ہے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتا ہے وہی دن کے طاقت فرسا کاموں کو انجام دے سکتا ہے۔

اورخطبہ متقین میں امیر المومنین - نے جناب ہمام کے لئے متقین کی زندگی کے ان دونوں حصوں یعنی رات اور دن کی توصیف اس انداز سے کی ہے:

اٴما اللّیل فصافون اٴقدامهم ،تالین لاجزاء القرآن یرتلونه ترتیلاً،

____________________

(۱)مزمل/۱تا۷


یحزّنون به اٴنفسهم و یستثیرون به دواء دائهم،فاذا مروا بآیة تشویق رکنوا الیها طمعاً وتطلّعت نفوسهم الیها شوقاً،وظنوا انهانصب اٴعینهم،واذا مروابآیة فیها تخویف اٴصغوا الیها مسامع قلوبهم اما النهار فحلماء علماء اٴبرار اٴتقیاء قد براهم الخوف بری القداح ،ینظر الیهم الناظر فیحسبهم مرضی وما بالقوم من مرض

”راتوں کے وقت مصلے پر کھڑے رہتے ہیں۔خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن کرتے رہتے ہیں ۔اپنے نفس کو محزون رکھتے ہیں اور اسی طرح اپنی بیماری دل کا علاج کرتے ہیں۔جب کسی آیت تر غیب سے گذرتے ہیںتو دل کے کانوں کو اس کی طرف یوں مصروف کر دیتے ہیں جیسے جہنم کے شعلوں کی آواز اوروہاں کی چیخ پکار مسلسل ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ اس کے بعد دن کے وقت تک یہ بردبارعلما ء اور دانشمند۔نیک کردار اور پر ہیز گار ہوتے ہیں جیسے انھیں تیر انداز کے تیر کی طرح خوف خدا نے تراشا ہو دیکھنے والا انھیں دیکھ کر بیمار تصور کرتا ہے حالا نکہ یہ بیمار نہیں ہیں۔ “

بے شک رات اور دن انسانی زندگی کے دو حصے ہیں جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے رہتے ہیں رات کے کچھ لوگ اور مخصوص حصے ہوتے ہیں،اسی طرح دن کے حصے اور اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں ۔جو دن والے افراد ہوتے ہیں وہ رات کے حصے سے محروم رہ جاتے ہیں اور جو اہل شب ہیں انہیں دن کے حصے خدا کی طرف تبلیغ،اقامہ حق، اور لوگوں کو بندگی خدا کی طرف دعوت دینے سے مانع ہو جاتے ہیں لیکن امام زمانہ کے ساتھی اہل شب بھی ہوں گے اور مردان روز بھی ہوں گے جنہیں خداوندعالم دن اور رات دونوں کے حصوں سے مالا مال کرے گا ۔

سمة العبید من الخشوع علیهم

للّٰه ان ضمّتهم الاٴسحار

فاذا ترجّلت الضحیٰ شهدت لهم

بیض القواضب انّهم اٴحرار


اگر ان لوگوں کے پاس رات کی دولت نہ ہو تو یہ تن تنہا زمین پر قابض طاغوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اگر یہ اہل روز نہ ہوں تو زمین کوشرک کی گندگی سے پاک کرکے اس پر توحید الٰہی او رعدل کا پرچم نہیں لہرا سکتے ۔اور اگر یہ اہل شب نہ ہوں گے تو غرور کا شکار ہو کر صراط مستقیم سے بہک جائیں گے۔

دو مرحلے یا دو جماعتیں

ہمارے سامنے دو جماعتیں موجود ہیں:ایک ہم عصر جماعت ہے جس نے مارکسی اشتراکیت اور سرماداری نیز کمےونزم کی شکست اور ان کا جنازہ نکلتے ہوئے دیکھا ہے اس سے زمین امام زمانہ کے ظہور کے لئے تیار ہو رہی ہے ”یہ ظہورکے لئے تیاری کرنے والی جماعت ہے“اور دوسرا گروہ”انصار“کا ہے ۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صرف دو جماعتیں ہیں یا تاریخ کے دو مرحلے ہیں؟مجھے نہیں معلوم۔لیکن بعید نظر آتاہے کہ یہ عظیم اقدام ایک ہم عصرجماعت کے ذریعہ پورا ہو جائے۔

انتظار کے دوران ہماری ذمہ داریاں

اس وقت ہم انتظار کے دور سے گذر رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام کا سب سے طویل دور ہو تو پھر اس کے دوران ہمارے واجبات اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ئندہ صفحات میں ہم ان ہی ذمہ داریوں کا مختصر ساخاکہ پیش کررہے ہیں:


۱) شعور اوربیداری

شعور وگہی کی چند قسمیں ہیں:

۱ ۔شعور توحید : پوری کائنات کا خالق اللہ ہے دنیا کی ہر چیز اسی کے حکم کی تابع ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور زمین وسمان کی ہرچیزاسی کے سامنے مسخرہے کسی شی کا اپنے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ سورہ اعراف کی ۵۴ ویں یت میں ارشاد ہے:”اور فتاب وماہتاب اور ستارے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں اسی کے لئے خلق بھی ہے اور امر بھی اس کی ذات نہایت ہی با برکت ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے۔“

۲ ۔سیاسی گھٹن کے دوران وعدہ الٰہی کا شعور:افسوس اور لاچاری کی فضانیزگھٹن کے سخت ترین ماحول میں بھی انسان خداوندعالم کے اس قول پر یقین واذعان رکھے اگر چہ ایسے گھٹن کے عالم میں وعدہ الٰہی پر یقین بہت سخت کام ہے :( وَلاَتَهِنُوا وَلاَتَحْزَنُوا وَاٴَنْتُمْ الْاٴَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) .(۱) ” خبردار سستی نہ کرنا ،مصائب پر محزون نہ ہونا،اگر تم صاحب ایمان ہوتو سر بلند ی تمہارے ہی لئے ہے۔“

یا خداوندعالم کا یہ قول ہے :( وَنُرِیدُ اٴَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاٴَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اٴَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِینَ وَنُمَکِّنَ لَهُمْ فِی الْاٴَرْض ) (۲) ” اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنا ئیں اور زمین کا وارث قرار دے دیں،اور انہیں روئے زمین کا اقتدار دیں ۔“

____________________

(۱)ل عمران/۱۳۹

(۲)قصص/۵۔۶


دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے :

( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) (۱) ” اور ہم نے ذکر کے بعد زبورمیں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔“یا خداوندعالم کا یہ قول:( لَاٴَغْلِبَنَّ اٴَنَا وَرُسُلِی ) (۲) ” بیشک میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔‘ ‘ یاارشاد ہوتا ہے:( وَلَیَنصُرَنَّ اللهُ مَنْ یَنصُرُه ) (۳) ” اور اللہ اپنے مددگار وں کی یقینا مدد کرے گا۔“

۳ ۔روئے زمین پر مسلمانوں کی حکومت کاشعور:یہ بشریت کی قیادت یعنی امامت کی گواہی ہوگی چنانچہ خداوندعالم کا ارشادہے: ( وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اٴُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَهِیدًا ) (۴) ” ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اور پیغمبر تمہارے اعمال کے گواہ رہیں۔“

۴ ۔حیات بشری میں اس دین کے عملی ہونے کاشعور:تبلیغ کے ذریعہ فتنہ وفساداور موانع کے خاتمہ کاجذبہ جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:( وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لاَتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ لِلَّه ) (۵) ” اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک سارا فتنہ ختم نہ ہوجائے اور دین صرف اللہ کا رہ جائے۔“

____________________

(۱)انبیاء/۱۰۵

(۲)مجادلہ/۲۱

(۳)حج /۴۰

(۴)بقرہ/۱۴۳

(۵)بقرہ/۱۹۳


۵ ۔تاریخ اور سماج پر حاکم سنت الٰہیہ کا شعور :اور ان سنتوں کے ضمن میں تیاری، تمہید اور حرکت و عمل کی ضرورت نیز ان کی خلاف ورزی کا محال ہونا اسی لئے خدا وندعالم نے مسلمانوں کو اس فیصلہ کن جنگ کی تیاری کا حکم دیا ہے:( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّة ) (۱)

۲) امید ورزو

اگر بندہ خدا وندعالم کی قوت وطاقت ، سلطنت اور وعدوں سے لولگائے تو نہ یہ امید فنا ہو سکتی ہے اور نہ ہی ایسا امید وار ناکام ونامراد ہو سکتاہے اور اس رزو اور امید کے سہارے ہی ایک مسلمان اپنی رسی کو خداکی رسی اور اپنی طاقت کو خدا ئی طاقت میں ضم کر دیتاہے اور جو شخص اپنی رسی کو خدائی رسی سے باندھ لے تو پھر اس کی قوت وطاقت اور سلطنت ختم نہیں ہوسکتی ہے۔

۳) استقامت

رزو کا نتیجہ استقامت وپائیداری ہے:بالکل اسی طرح جیسے کوئی ڈوبتا ہو ا انسان بچانے والے کسی فرد کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو پھر پانی کی موجوں کا مقابلہ شروع کر دیتاہے اور اس مقابلہ کے لئے اس کے اعضائے بدن اورعضلات کے اندر ناقابل تصور حد تک قوت اور طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔

۴) حرکت

حرکت کا ہی دوسرا نام امربالمعروف اور نہی عن المنکر نیز خدا کی طرف دعوت دینا ظہور امام اور پ کی عالمی حکومت کے لئے حالات فراہم کرنا نیز ایسی مومن جماعت کو

____________________

(۱)انفال/۶۰


مادہ اور تیار کرنے کانام ہے جو شعور وادراک ایمان وتقویٰ اور نظم وضبط اور قوت وطاقت کے میدان میں امام کی مددکی اہل ہو اور اس کے اندر پ کے ظہورکی تیاری کرنے کی صلاحیت موجود ہو جیسا کہ ل عمران کی ۱۰۴ ویں یت میں اشارہ موجود ہے:”اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے،نیکیوں کاحکم دے،برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔“

۵) ظہور امام کے لئے دعا

اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ عمل اور تحریک نیز امربالمعروف ونہی عن المنکر کے ساتھ ظہور کی دعاکرنا ظہور امام کے قریب ہونے کا ایک بہتر ین ذریعہ ہے۔جیسا کہ ظہور امام کے سلسلہ میں کثرت کے ساتھ دعا ئیں واردہوئی ہیں نیزروایتوں میں انتظار کا ثواب بھی بیان کیا گیا ہے ان ہی میں سے ایک یہ دعا بھی ہے جوعام طور سے مومنین کی زبانوں پر رہت ی ہے:”اللّهم کن لولیک الحجّة ابن الحسن،صلواتک علیه وعلیٰ بائه فی هذه الساعة وفی کلّ ساعة،ولیّاًوحافظاً،وقائداًوناصراً ودلیلاً وعیناً،حتّیٰ تسکنه اٴرضک طوعاًوتمتعه فیها طویلاً(۱)

خدایااپنے ولی حضرت حجةبن الحسن پرتیرا سلام و درود ان پر اور ان کے بائے طاہرین پر، ان کے لیے اس ساعت میں اورہر سا عت میں سر پرست محافظ پیشوا ، مدد گار رہنما اور نگراں ہو جا،تا کہ انہیں اپنی زمین میں سکون کے ساتھ سکونت عطا کر اور انہیں ایک طویل مدت تک راحت عنا یت فرما۔

____________________

(۱) مفاتیح الجنان اعمال شب۲۳ رمضان


شکوہ ودعا

امام زمانہ -سے منقول دعائے افتتاح میں ہم یہ شکوہ کرتے ہیں اور پھر ہماری زبان پر یہ شیریں جملات جاتے ہیں:”اللّهم انّانشکوااِلیک فقد نبیّنا، وغیبة ولیّنا،وکثرة عدوّنا،وقلة عددنا،وشدّه الفتن بنا،وتظاهر الزمان علینا اللّهم انّا نرغب الیک فی دولة کریمة تعزبهاالا سلام واٴهله وتذلّ بها النّفاق واٴهله وتجعلنا فیها من الدعاة الیٰ طاعتک والقادة الی سبیلک،وترزقنابهاکرامة الدنیا والآخرة(۱)

”خدا یا!ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اس با عظمت حکومت کا جس سے اسلام اور اہل اسلام کوعزت ملے اور نفاق اور اہل نفاق کوذلت نصیب ہو ہمیں اس حکومت میں اپنی اطاعت کا طر فداراور اپنے راستے کا قا ئدبنا دے اور اس کے ذریعہ ہمیں دنیا اور اخرت کی کرامت عنا یت فرماخدایا !ہم تجھ سے فریاد کرتے ہیں کہ نبی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں،امام پردہ غیب میں ہیں ۔دشمنوں کی کثرت ہے اور ہماری تعداد کی قلت ہے ۔فتنوں کا زور ہے اور زمانہ نے ہمارے خلاف اتحاد کر لیا ہے۔ً“

معقول انتظار

اس طرح انتظار کی دوقسمیں ہیں:بامقصداور معقول انتظار دوسرے بے مقصداور غیر معقول انتظار اس دوسرے انتظار کامطلب نہایت سادگی کے ساتھ ظہور کی علامتوں کی طرف نکھیں لگاکر بیٹھ جاناہے۔ہم سمانی چنگھاڑ،زمین کادھنس جانا،سفیانی خروج،

____________________

(۱)مفاتیح الجنان، دعائے افتتاح


دجال جیسی علامتوں کے منکر نہیں ہےں اور اس سلسلہ میں کتابوں میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں مگر اب تک صحیح علمی طریقے سے ان کے سلسلہ اسناد کی تحقیق وتفتیش نہیں ہوسکی ہے۔اگر چہ میں ماضی میں بھی باقاعدہ طور سے ان میں سے بعض روایتوں کی صحت کا پرزور موافق رہاہوں،لیکن ان بعض روایات کی پر زورتاکید کے باوجود اسی وقت سے میں مسئلہ انتظار سے متعلق”خاموش تماشائی“بنے رہنے کا بھی مخالف رہاہوں ،اور میرا خیال ہے کہ یہ طریقہ کا ر امت کو مسئلہ انتظار کے سلسلہ میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے کنارہ کش اور انتظار کے صحیح مفہوم سے منحرف کر دے گا۔

اس کے برخلاف انتظار کی پہلی قسم یعنی ”بامقصد انتظار“میں تحریک ، امربالمعروف ونہی عن المنکر خدا اور جہاد کی طرف دعوت سبھی شامل ہیں نیز یہی امام کے ظہور کی سب سے بڑی علامت اور سب سے بہترین ذریعہ ہے کیونکہ مسئلہ ظہور کا تعلق بھی تاریخ انسانیت پرحاکم الٰہی سنتوں سے ہے اور یہ سنتیں جد وجہد ،تحریک عمل کے بغیر جاری نہیں رہ سکتیں۔ صحیح روایات میں مذکورہ علامتیں اجمالی انداز سے ذکر ہوئی ہیں اورمیرا خیال ہے کہ ان کا کوئی خاص وقت معین نہیں کیا گیا ہے بلکہ جولوگ ظہور کا وقت معین کرتے ہیں روایات میں ان کی تکذیب صراحت کے ساتھ کی گئی ہے۔

عبدالرحمن بن کثیر کا بیان ہے:جب امام جعفر صادق -کے پاس مہزم ئے ہم اس وقت پ کی خدمت میں تھے۔تو انہوں نے امام کی خدمت میں عرض کی:ذراہمیں اس امر کے بارے میں کچھ بتادیں جس کے ہم منتظر ہیں!کہ یہ کب سامنے ئے گا؟تو پ نے فرمایا:”یامهزم،کذب الوقاتون وهلک المستعجلون(۱)

____________________

(۱)الزام الناصب،ج/۱،ص/۲۶۰


”اس کا وقت معین کرنے والے اور اس سلسلہ میں جلد بازی سے کام لینے والے ہلاک ہوگئے۔“

فضیل بن یسار نے امام محمدباقر -سے سوال کیا:کیا اس امر کا کوئی وقت معین ہے؟۔تو پ نے فرمایا:”کذب الوقّاتون(۱) وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔

توکیا ان علامتوں سے ظہور امام کے وقت کا دقیق اندازہ لگایا جا سکتا ہے؟ حقیقت تویہ ہے کہ ان کا تعلق بھی ہمارے اعمال سے ہے،یہ صحیح ہے کہ زمین کا دھنس جانا یا سمانی چنگھاڑ ظہور کی علامت ہے لیکن ہمارے اعمال کی بنا پر ان میںعجلت یا تاخیر ہوسکتی ہے اور یہی فکرظہور کی ضروری وضاحت اور تاویل میں شامل ہے اوریہی ”بامقصد انتظار“ ہے۔

مفہوم انتظار کی تصحیح

ہمارے زمانے میں ظہور امام کے بارے میں بحث و گفتگو کا بازار اتنا گرم ہے کہ جس کی مثال مجھے ،ماضی قریب یا بعید میں کسی جگہ نظر نہیں آتی اس طرح مسئلہ ”انتظار“ اس دور کے اہم مسائل میں سر فہرست دکھائی دیتا ہے ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عوام الناس کے سامنے یہ مسئلہ صحیح انداز سے پیش نہیں کیا گیا ہے اسی لئے ہمارے جوان امام زمانہ کے ظہور اور اس کی علامتوں کو کتابوں کے اندر تلاش کرتے ہیں جب کہ میرے خیال میں یہ طریقہ کار صحیح نہیں ہے بلکہ اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ ہم ظہور امام اور آپ کی عالمی حکومت کو اپنی سیاسی اور سماجی زندگی کے اندر تلاش کریں ۔

بے شک کتابوں کے اوراق میں ظہور امام کی اتنی علامتیں نہیں مل سکتی جتنی علامتیں

____________________

(۱)الزام الناصب،ج/۱،ص/۲۶۰


ہمیں اپنی معاصرسیاسی اور تہذیبی صورتحال نیز ہماری بیداری وشعور ،استقامت ،وحدت کلمہ سیاسی انسجام واتحاد ،قربانیوں اور تحریکی سیاسی اورذرائع ابلاغ میں مل سکتی ہیں۔

ہمارے جوانوں نے ظہور امام کی علامتوں کو تلاش کرنے کے لئے کتابوں کی ورق گردانی کا کر جو راستہ اختیار کیا ہے یہ بالکل منفی اور غلط انداز فکر ہے لہٰذا مثبت انداز سے انتظار کا صحیح مفہوم بیان کرنا اور لوگوں کو اس کے صحیح اورمثبت انداز سے آگاہ کر نا ہمارا فریضہ ہے۔

انتظار کے ان دونوں مفاہیم کا واضح فرق یہ ہے کہ انتظار کے بارے میں پہلا تصور انتظار کے سلسلہ میں انسان کے کردار کو منفی بنادیتا ہے جب کہ دوسرا تصورانسان کے اندر ظہور امام سے متعلق مثبت ،پر تحرک رخ پیدا کرکے اسے ہماری موجودہ سیاسی ،انقلابی صورتحال اور مسائل و مشکلات سے جوڑ دیتا ہے۔

معمر بن خلاد نے امام ابو الحسن سے اس آیہ کریمہ( الم اٴَحَسِبَ النَّاسُ اٴَنْ یُتْرَکُوا اٴَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَیُفْتَنُونَ ) (۱) کی تفسیر میں یہ نقل کیا ہے:کہ امام نے ارشاد فرمایا:”یفتنون کما یفتن الذهب “”انہیں اسی طرح پرکھا جائے گا جیسے سونے کو پرکھا جاتا ہے“ پھر آپ نے فرمایا”یخلصون کما یخلص الذهب(۲) ” انہیں اسی طرح خالص بنا دیا جائے گا جیسے سونے کو خالص بناتے ہیں “

منصور صیقل بیان کرتے ہیں کہ میں اورہمارے مومن بھائی حارث بن مغیرہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور امام جعفر صادق -ہماری باتیں سن رہے تھے تو آپ نے ہمیں مخاطب کرکے فرمایا ”فی اٴی شیء اٴنتم ها هنا؟هیهات لا واللّٰه لا یکون ما

____________________

(۱)عنکبوت /۱۔۲

(۲)الزام الناصب،ج/۱،ص/۲۶۱


تمدّون الیه اٴعینکم حتی تمیزوا “تم یہ کیسی گفتگو کر رہے ہو؟بہت بعید ہے خدا کی قسم جس چیز پر تمہاری نظریں لگی ہوئی ہیں یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم ایک دوسرے سے ممتاز نہ کر دئیے جاو ۔

امام جعفر صادق -نے منصور سے فرمایا:”یامنصوران هٰذاالاٴمرلا یاٴتیکم الّا بعد اٴیاس،لاوالله حتیٰ تمیزوا،لا والله حتیٰ یشقیٰ من یشقیٰ ویسعد من یسعد(۱)

”اے منصور ،یہ امر مایوسی کے بعد ہی تمہارے سامنے آئے گا،خدا کی قسم جب تک ایک دوسرے سے ممتاز نہ کر دئیے جائیں ،نہیں خداکی قسم ،بلکہ جسے شقی وبد بخت ہونا ہے وہ شقی وبدبخت اور جسے خوش قسمت ہونا ہے وہ خوش قسمت اور سعادت مند نہ ہو جائے۔“

اس طرح امام زمانہ کے ظہور کا تعلق کتابوں میں مذکور علامات سے کہیں زیادہ ہمارے عمل ،باطن، امتحان ،جد وجہد اور سعادت وشقاوت سے ہے اور اس بارے میں عمیق انداز سے غوروفکر کرنا اور اسے ثابت کرنا ہمارا فریضہ ہے۔

منتظر کون ،ہم یا امام ؟

اس انداز فکر کے مطابق یہ مسئلہ بالکل بر عکس ہے کہ ہم امام کے منتظر نہیں بلکہ امام ہماری جدوجہد،سعی وحرکت،استقامت اور جہادکے منتظر ہیں !

لہٰذا اگر امام کے ظہور کا تعلق ہماری سیاسی اور سماجی نقل وحرکت اورجدوجہد سے ہے تو پھر اس کو ہم ہی واقعیت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

____________________

(۱)الکافی،ج/۱،ص/۳۷۰،ح/۳


یا دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیاجائے کہ ہمارے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ ہم اپنے کردار وعمل ،جد وجہد،وحدت کلمہ،انسجام واتحاد،ایثار وقربانی اور امر بالمعروف کے ذریعہ امام کے ظہور کی راہ ہموار کردیں ۔اور ہمارے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اسے ایک دوسرے کے سر ڈال کر میدان عمل سے غیر حاضررہ کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے اس میں تاخیر کردیں۔

انتظار کی قدر وقیمت

در حقیقت یہ با مقصد اور مثبت انتظار ہی اُس عظیم قدر وقیمت کا حقدارہے جس سے نصوص اور روایات نے نوازاہے ۔

جیسا کہ رسول خدا سے منقول ہے :”اٴفضل اٴعمال اٴمتی الانتظار “ ”میری امت کا سب سے بہترین عمل انتظارہے۔“(۱)

آپ ہی سے یہ قول بھی منقول ہے:”انتظار الفرج عبادة “”ظہور کا انتظار عبادت ہے۔“یا آپ نے فرمایا:”المنتظر لاٴمرنا کالمتشحّط بدمه(۲) ” ہمارے امرکا انتظار کرنے والا اپنے خون سے نہانے والے کی طرح ہے۔“

مختصر یہ کہ روایات میں مذکور انتظار کی اس قدر وقیمت کا تعلق انتظار کے اس صحیح اور مثبت معنی ومفہوم سے ہے اور انتظار کے غلط اور منفی معنی ”معطل اور خاموش تماشائی بنے رہنے“سے اس کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

____________________

(۱)الزام الناصب،ج/۱،ص/۴۶۹

(۲)اکمال الدین وتمام النعمة،ص/۶۴۵


حرکت اور انتظار کا رابطہ

حرکت اور انتظار کے درمیان تقابلی رابطہ

حرکت اور انتظار کے ربط کے سلسلہ میں ہم پہلے گفتگو کر چکے ہیں اور انشاء اللہ اب ہم یہ بیان کر یں گے کہ انتظار کے ساتھ حرکت کا کیا ربط ہے؟

تحریکی عمل

تحریکی عمل ایک تعمیری اور تخریبی مہم کا نام ہے اس لئے اسے مسلسل مزاحمت اور مشکلات اور پریشانیوں کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتاہے اگر یہ تحریک صرف تعمیری ہوتی اور تخریب سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوتا تو پھر اس کی راہ میں اتنی زحمتیں اور پریشانیاں نہ ہوتیںدر اصل یہ تخریبی کارروائی موجود ہ سیاسی نظام کے خلاف ہوتی ہے اور ہر سیاسی نظام سے کچھ افراد وابستہ ہوتے ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اور وہی اس کادفاع بھی کرتے ہیں۔اور توحید کی طرف دعوت بھی بعینہ ایسی ہی تحریک تھی اسی بنا پر اس دعوت کے ساتھ ”جنگ وجہاد“دونوں شامل ہیں جےسا کہ خدا وند عالم ارشاد ہے:( وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لاَتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلَّه ) (۱)

____________________

(۱)انفال/۳۹


اوریہ ممکن نہیں ہے کہ یہ تحریک فتنوں کا خاتمہ کئے بغیر اور دنیا ئے شرک کے مفاد پرست اہل سیاست کے بچھائے ہوئے جال کو پارہ پارہ کئے بغیرلوگوں کے درمیان اپنا اثر ورسوخ قائم کرلے۔اوریہ بھی طے ہے کہ جنگ و جہاد کے بغیر صرف زبانی تبلیغ سے ان فتنوں کا ازالہ ممکن نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ توحید کا پرچم سیاست اور سماج سے خالی کسی میدان میں نصب نہیں ہوگا ،بلکہ اسے توشرک آلود مقامات پر لہرانا ہے لہٰذا جب تک شرک کاخاتمہ نہ ہوجائے اس وقت تک خدائی تبلیغ کا استحکام ممکن نہیں ہے۔

تحریکی عمل کا تاوان

اسی بنا پرمشرکانہ قیادت ورہبری توحیدی تحریک کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ کھڑی کر تی ہے اور خدا کی طرف دعوت دینے والوں کے راستے میں کبھی فتنہ وفساد کو ہوا دیتی ہیں تو کبھی بارودی سرنگیں بچھا کر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں لہٰذا توحید کی طرف دعوت دینے کا مطلب ان تمام فتنوں کا ازالہ،اور ان تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر دنیا ئے شرک کے چیلنج کاجواب دینا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ ان دونوں چیزوں (چیلنج اور مقابلہ)کی وجہ سے خدا کی طرف دعوت دینے والوں کو اپنی جان ،مال اور اولاد ہر طرح کی قربانی پیش کرنا ہوتی ہے اور اس کے لئے انہیں جان توڑکوشش کرنے کے علاوہ بے شمار نقصانات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

تحریک ایک فریضہ

ان ہی اسباب کی بنا پر قرآن مجید نے تحریک اورجد وجہدپر بے حد زور دیا ہے اور خاص تاکید کی ہے اگر توحیدی تحریک میں اتنی زحمتوں اور مشقتوں کا سامنا نہ ہوتا تو پھر اس قدرتاکید کی کوئی ضرورت نہیں تھی جیسا کہ خدا وندعالم کا ارشاد ہے:


( وقومواللّٰه قانتین ) (۱)

( وَاٴْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنْ الْمُنکَرِ ) (۲)

( فَاسْتَقِمْ کَمَا اٴُمِرْت ) (۳)

( ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ ) (۴)

( اقْرَاٴْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ ) (۵)

( جَاهِدْ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ ) (۶)

( وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ ) (۷)

( انفرواخفافًاوثقالاً وجاهد وا باٴموالکم واٴنفسکم فی سبیل اللّٰه ) مسلمانو! تم ہلکے ہو یا بھاری گھر سے نکل پڑو اور راہ خدا میں اپنے اموال اور نفوس سے جہاد کرو۔(۸)

( وَاقْتُلُوهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ) اور مشرکین کو جہاں پاو قتل کر دو(۹)

( وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ الله ) اور تم بھی ان سے راہ خدا میں جہاد کرو۔(۱۰)

____________________

(۱) اور اللہ کی بارگاہ میں خشوع وخضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاو ۔بقرہ/۲۳۸ (۲) نیکیوں کاحکم دو برائیوں سے منع کرو۔ لقمان/۱۷

(۳) لہٰذا آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت سے کام لیں۔ہود/۱۱۲ (۴) آپ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دیں۔ نحل/۱۲۵

(۵) اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پےدا کےا ہے ۔علق/۱ (۶) پےغمبر! کفار و منافقےن سے جہاد کےجئے ۔توبہ/۷۳

(۷) اور انہوں نے راہ خدا مےں جہاد کےا۔بقرہ/۲۱۸ (۸)توبہ/۴۱

(۹)بقرہ/۱۹۱ (۱۰)بقرہ/۱۹۰


( وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لاَتَکُونَ فِتْنَةٌ ) اور تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے۔(۱)

دو ٹوک اور صریح آیات کریمہ میں ایسے لب ولہجہ میں حرکت وتبدیلی کا حکم شرک کے مقامات پر توحید کا پر چم لہرانے اور دعوت تو حید کی راہ سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے ہے۔

انسانی کمزوری

انسان اس قسم کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصرہے اوراپنے اندر ان تمام مشکلات اورمصائب کامقابلہ کرنے کی قوت وطاقت نہیں پایا کیونکہ توحید اور شرک

کے درمیان لڑائی بے حد خوں ریز اور شدید ہوتی ہے اس لئے عام انسان اس قسم کے محاذ پر تن تنہا اورمومنین کی تھوڑی سی تعداد کے ساتھ دشمن کے مقابلہ سے کتراتاہے ۔

عموماً لوگ پہلو تہی میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں مگر یہ کہ خداوندعالم اسے اس پہلوتہی اور فکر عافیت سے محفوظ رکھے ۔ خدا کی راہ میں اٹھ کھڑے ہونے والوں کی راہ میں یہ سب سے پہلی رکاوٹ آتی ہے اور پھر یہی کمزوری طاغوت اور اس کے ساتھیوں کے مقابلہ میںخوف اور بزدلی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے یا اس سے جہد مسلسل کے بجائے تھکن کا احساس ہوتا ہے کبھی انھیں مقابلہ جاری رکھنے میں مایوسی کے آثارنظر آتے ہیں کبھی عافیت اور راحت وآسائش کو ترجیح دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ منزل کو پا لینے والوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو ہمت ہار کر راستہ میں ہی بیٹھے رہ گئے۔

____________________

(۱)انفال/۳۹


تباہی سے محفوظ رہنے کے طریقے

اس مقام پر ان اسباب وعوامل کاتذکرہ بھی ضروری ہے کہ جن کے ذریعہ ہم اس پر نشیب وفراز راستے پر پھسلنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور وہ ہمیں شیطان اور ہمارے نفس کی کمزوری سے بچا سکتے ہیں اگرچہ باعمل افراد کی زندگی میں محفوظ رکھنے اور بچانے والے اسباب ووسائل بے شمار ہیں لیکن اس مقام پر ہم ان میں سے صرف چار چیزوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جنہیں قرآن مجید نے ذکر کیاہے:

۱ ۔صبر اور نماز سے استعانت

۲ ۔ولاء(آپسی میل محبت اور اتحاد)

۳ ۔تاریخی میراث

۴ ۔انتظار

ذیل میں ان وسائل کی مختصر وضاحت پیش کی جارہی ہے:

۱ ۔صبر اور نماز سے استعانت

خدا وندعالم کا ارشاد ہے:( وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ ) ”صبر اور نماز کے ذریعہ مددمانگو۔“(۱)

دوسرے مقام پر ارشادہوتا ہے:( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ) (۲) ” ایمان والو!صبر اور نماز کے ذریعہ مددمانگوبیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“

____________________

(۱)بقرہ/۴۵

(۲)بقرہ/۱۵۳


جب رسول اکرم مشرکین کے ساتھ ایک خونریزجنگ میں مصروف جہاد تھے تو اس لڑائی کے درمیان خدا وندعالم نے سورہ ہود کے ذریعہ رسول خداکے دل کو تقویت عطا فرمائی اور ان کے سامنے توحید کے طولانی سفر کا قصہ بھی بیان کردیااور اس کے تذکرہ کے بعد خداوندعالم نے پیغمبراکرم سے خطاب فرمایا:( فَاسْتَقِمْ کَمَا اٴُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلاَتَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ وَلاَتَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ ثُمَّ لاَتُنصَرُونَ وَاٴَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِینَ وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) (۱)

”لہٰذاآپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت سے کام لیں اور وہ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کرلی ہے اور کوئی کسی طرح کی زیادتی نہ کرے کہ خداسب کے اعمال کو خوب دیکھنے والاہے اور خبردار تم لوگ ظالموں کی طرف جھکاو اختیار نہ کرنا کہ جہنم کی آگ تمہیں چھولے گی اور خداکے علاوہ کوئی تمہارا سرپرست نہ ہوگا اورتمہاری مددبھی نہیں کی جائے گی،اور پیغمبرآپ دن کے دونوں حصوں میں اوررات گئے نماز قائم کریں نیکیاں برائیوں کو ختم کر دینے والی ہیں اور یہ ذکر خدا کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے اور آپ صبر سے کام لیں کہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتاہے۔“

صبر، الٰہی سنتوں میں حتمی اور ثابت سنت ہے اورمعرکہ الٰہی سنتوں کے مطابق سر ہوتے ہیں۔لہٰذاجوشخص کسی معرکہ میں فتح حاصل کرناچاہتاہے اس کے لئے ان الٰہی سنتوں کی شناخت ان پرثابت قدمی ضروری ہے اور سنت الٰہی کی راہ میں جودشواری ،زحمت یا

____________________

(۱)ہود/۱۱۲۔۱۱۵


رکاوٹ آئے اس کا تحمل کرنا بھی ضروری ہے اور میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے او ر قوت وطاقت یاسیاست اور پروپیگنڈے کے میدان میں اس کے برابر وسائل مہیا کرنایہ سبھی چیزیں صبر کا حصہ ہیں۔

صبر کے یہ معنی ہرگزنہیں ہیں کہ انسان اپنے دشمن کوبرداشت کرتارہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹارہے اور اس کے مقابلہ میں پسپائی یا روگردانی اختیار نہ کرے بلکہ اس کا منہ توڑجواب دے کر خود اسے پسپاہونے پر مجبور کر دے اور یہی صبر کے صحیح اور مثبت معنی ہیں۔

نماز یادخدااورذکرالٰہی کی علامت ہے نماز کے ذریعہ خدا سے رابطہ مضبوط ہوتاہے لہٰذاجنگ اور معرکہ آرائی کے درمیان ایک مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مددطلب کرنااور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرتے رہنا بیحدضروری ہے نیز وہ خدا سے طاقت اور عزم وحوصلہ کی دعابھی کرتے رہنا چاہئے اور اپنی رسی کو خدا کی رسی سے باندھ لے چنانچہ جب انسان میدان جنگ میں اپنی رسی کی گرہ خدا کی رسی میں لگالے (خدا سے وابستہ ہو کر خود کو اس کے حوالہ کردے)تو پھر اسے نہ خوف ہوگااور نہ اس کے اندربزدلی پیدا ہوگی اور نہ وہ ناتوانی و کمزوری کا احساس کرے گا۔ اور نماز وصبر کے معنی یہی ہیں۔

۲ ۔ولاء

( ان هٰذه امتکم اٴمة واحدة )

تمام مسلمان ایک لڑی میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہیں،ان میں ہر ایک سے دوسرے کا تعلق ہے اوراسلامی اخوت ومحبت کے رشتہ نے انہیں ایک دوسرے سے ایسے جوڑ رکھاہے جیسے بدن کے اعضاء ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اخوت ومحبت کا رشتہ ”ولاء“سے تعلق رکھتاہے ۔جس طرح اللہ ،اس کے رسول اور ائمہ کو تمام مسلمانوں پر ولایت حاصل ہے کم وبیش ایسی ہی قرابت وولایت مومنین کو ایک دوسرے کے سلسلہ میں حاصل ہے۔


یہی وہ قرابت ومحبت ہے جس نے پوری امت مسلمہ کو ایک دھاگے میں پرو کر ایک دوسرے سے اس طرح جوڑدیا ہے کہ وہ ایک منظم ہار کی طرح دکھائی دیتے ہیں اس کی طرف قرآن مجید کی اس آیت میں ارشاد موجود ہے:( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍٍ ) (۱)

”مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“

اس دوستی کے نتیجہ میں ان کے درمیان آپسی محبت ،ایک دوسرے کی امداد ، کفالت ، تعاون،صلح وصفائی اور وعظ ونصیحت کی فضاہموارہوتی ہے۔

اور جس قوم کے درمیان اتنے مضبوط اور مستحکم تعلقات استوار ہوئے ہوں وہ قوم جنگ کے میدان میں بالکل ٹھوس اور مضبوط ہوتی ہے اور اسی مقصد کے لئے خداوندعالم ان رشتوں کو اور مضبوط کر دیتا ہے یہاں تک کہ پوری امت کا اتحاد ایک خاندان کے اتحاد سے زیادہ قوی ہو جاتا ہے۔

اورپھر جب اس امت کا مشن میدان میں رہ کر دشمنوں سے مقابلہ اورمعرکہ آرائی ہے تو اس کے لئے اندرسے بے حد مضبوط اور مستحکم اور ٹھوس ہونا بھی ضروری ہے ۔

اسی وقت وہ اپنے اوپر ہونے والے کمرشکن حملوں کا منہ توڑجواب دے سکتی ہے اور یہ کام آپسی ولایت ،اتحاد ،اخود ومحبت سے ہی ممکن ہے کہ ان سے تمام مسلمانوں کے ہاتھ

____________________

(۱)توبہ/۷۱


مضبوط ہوتے ہیں اورانہیں ایک دوسرے کی پشت پناہی حاصل رہتی ہے اس کے بغیر یہ قوم اس طولانی معرکہ آرائی میں کفرونفاق کے سامنے بالکل نہیں ٹھہر سکتی ہے۔ متحد قوم اللہ تعالیٰ کی رسی سے وابستہ ہوتی ہے اور گویاکہ کفرکے مقابل یہ ایک آہنی چٹان ،ایک وجود،ایک خاندان اور ایک ہی جماعت ہے :( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا ) (۱) ” اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو۔“

اس آیہ کریمہ میں خدا وندعالم نے پہلے تو ان لوگوں کو میدان جنگ میں خداکی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کا حکم دیا ہے اور دوسرے یہ کہ حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم سب کے لئے ہے نہ کہ چند افراد کے لئے ۔

کیونکہ جنگ کا مطلب ہی یہ ہوتاہے کہ اس میں طرفین میں سے ہر ایک اپنی پوری طاقت وقوت صرف کردیتاہے اور اس امت کی قوت وطاقت کا راز دوچیزیں ہیں: ”اللہ کی رسی سے مضبوط وابستگی “اور” اتحاد واجتماع“

۳ ۔تاریخی میراث

اس قوم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ میدان جنگ میں اپنے بزرگوں کی تاریخ کو بھی اپنے پیش نظر رکھے کیونکہ اپنی گذشتہ تاریخ اور اس کی مضبوط اور گہری بنیادوں کی معرفت سے راہ خدا کی طرف دعوت دینے والوں اور اس کے دین کے مبلغین کے اندر اپنے دشمنوں کے سامنے بیحد قوت وطاقت اورمتانت واستحکام پیدا ہوتاہے کیونکہ تاریخ کی اس عظیم تحریک کی جڑیں خشک یاناقص نہیں ہیں بلکہ اس کی جڑیں تو جناب آدم سے جناب

____________________

(۱)آل عمران/۱۰۳


نوح و ابراہیم اور رسول خداتک ہر تاریخ کی گہرائیوں میں نظر آتی ہیں ۔اور جو تحریک اندرسے اتنی گہری اور تاریخی حیثیت کی حامل ہو اور اس نے مشرکین کی من مانی اور ان کے مکروفریب کے مقابلہ میں برس ہا برس تک استقامت وپائیدار ی کا مظاہرہ کیا ہووہی معرکہ آرائی میں ان کا مقابلہ کرنے کی حقدار ہے۔ بیشک وحدت پرست امت روئے زمین پر ایک ایسا درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں ثابت واستواراور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔

( اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اٴَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ تُؤْتِی اٴُکُلَهَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ) (۱)

”کیاتم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے،یہ شجرہر زمانہ میں حکم خداسے پھل دیتارہتاہے اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتاہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں۔ “

اسی طرح شرک بھی ایک متحدہ محاذاور ایک ہی خاندان کی مانند ہے مگر یہ خاندان ایسا ناقص ہے جس کا ڈیل ڈول زمین کے اوپر تودکھائی دیتاہے مگر اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے ۔لہٰذا توحید خدا کی طرف دعوت دینے والی جماعت کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ تاریخ کے اور اق میں جس نقطہ سے ان کا رشتہ جڑاہوا ہے وہ اس کا گہرائی سے جائزہ لیں

____________________

(۱)ابراہیم/۲۵۔۲۴


اور صادقین ،صالحین ،اہل رکوع وسجود،اہل ذکر اور مبلغین راہ خداسے اپنے رابطہ کو مستحکم سے مستحکم تربنائیں۔

اسی عظیم میراث کی بنا پر ہم امام حسین -کی خدمت میں سلام وتحیت کا نذرانہ پیش کرتے ہیں جو انہیں اپنے آباء واجد اد یعنی حضرت آدم ،نوح،ابراہیم اور رسول خدا سے میراث میں ملی تھی اوراسی لئے ہم زیارت میں انہیں یہ کہہ کر سلام کرتے ہیں:

السّلاٰم علیک یٰاوٰارث آدم صفوة اللّه،السّلاٰم علیک یٰاوٰارث نوحٍ نبیّ اللّٰه،السّلاٰم علیک یٰاوٰارث ابراهیم خلیل اللّٰه

”اے آدم صفی اللہ کے وارث آپ پر سلام ہو،اے نوح نبی اللہ کے وارث آپ پر ہماراسلام ہو،اے خلیل خداابراہیم کے وارث آپ پر ہماراسلام ہو۔ “

لہٰذا معرکہ آرائی کے میدان میں یہ بے حد ضروری ہے کہ انسان ماضی کے ان گہرے رشتوں کو نظر میں رکھے اور ان کی طرف متوجہ رہے کیونکہ اس کے ذریعہ خطرناک سے خطرناک مقابلوں میں محفوظ رہ سکتاہے اور ان سے اسے پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے۔

۴ ۔انتظاراور آرزو

انتظار انسان کومتحرک اورفعال بنانے کا چوتھا سبب ہے کیونکہ انتظار سے انسان کے دل میں امید و آرزو پیدا ہوتی ہے اور آرزو پیدا ہونے کی وجہ سے اسے استقامت اور متحرک رہنے کی قدرت وطاقت نصیب ہوتی ہے جس کی مثال ڈوبتے ہوئے انسان کے ذیل میں پہلے ہی گذرچکی ہے۔

”زمین صالحین کی میراث ہے “یا”امامت مستضعف مومنین کاحق ہے“ اور ”عاقبت متقین کے لئے ہے“ ان تمام باتوں پر ایمان کی وجہ سے نیک کرداراورصالح ومتقی افراد کو


ایسی قوت وطاقت اورایسی خوداعتمادی حاصل ہوتی ہے کہ ہر طرح کے معرکہ میں ان کے قدم جمے رہتے ہیں اور سخت سے سخت اور دشوار ترین حالات میں وہ ظالموں اور جابروں کو چیلنج کر سکتے ہیں اور یہی ایمان ان کو خطرناک مواقع پر پسپائی ،ہزیمت اوراحساس کمتر ی کا شکار نہیں ہونے دیتا۔

اسی لئے قرآن نے اس حقیقت پر زور دیا ہے :( وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ ) (۱)

قرآن روئے زمین پر صالحین کی وراثت کے بارے میں اسی طرح پر زورانداز سے بیان کرتا ہے جس طرح اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے زبورمیں اس کا تذکرہ فرمایاہے:( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) (۲) ” اور ہم نے ذکرکے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔“

اس تاریخی حقیقت کی اہمیت کی بنا پر مومنین کے اذہان میں اسے راسخ کرنے کی ضرورت اور اسلامی عقلاء کی جانب سے بنیادی حقیقت حاصل ہونے کی وجہ سے خدا وندعالم نے اسے ذکر کے ساتھ ساتھ زبور میں بھی تحریری شکل میں محفوظ کر دیا ہے۔ دنیا کے کمزور اوردبے کچلے لوگ خداکے احکام پر عمل پیراہوں گے اور اس کی دعوت کے مطابق چلیں گے اورایمان وعمل صالح کے جوہر سے آراستہ ہوں گے تو اس وقت اس خدائی فیصلہ کا آشکار ہوناحتمی ویقینی ہے۔

____________________

(۱)اعراف/۱۲۸

(۲)انبیاء /۱۰۵


خدا وندعالم کاارشاد ہے: ( وَنُرِیدُ اٴَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاٴَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اٴَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِینَ) ”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کر یں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں اور انہیں کوروئے زمین کا اقتدار دیں ۔“

یہ دونوں آیتیں اگرچہ جناب موسیٰ -،فرعون اور ہامان کے قصہ کے ذیل میں ذکرہوئی ہیں لیکن کمزوروں کی امامت ورہبری کے بارے میں ارادہ الٰہیہ بالکل مطلق ہے اور اس کے لئے کسی قسم کی کوئی قید نہیں ہے ۔ہاں!البتہ اگرکوئی قید ہے وہ تو صرف وہی ہے جس کی طرف خدا وندعالم نے مومنین کرام کو دعوت دی ہے یعنی” ایمان “،”عمل صالح“ یہی وجہ ہے کہ خدا وندعالم نے کمزورمومنین سے جو یہ وعدہ کیا ہے اس سے انہیں قوت وطاقت اور اعتماد ملتاہے اور ان کے مشکل حالات ومصائب کو برداشت کرنے کی قوت تحمل اور استقامت کامادہ پیدا ہوجاتاہے ،اور انہیں وادی پر خار بھی گلزار نظر آتی ہے اور وہ میدان جنگ میں بھی اپنے ہمالیائی مظاہروں کی داد وتحسین حاصل کرتے ہیں اور اس دوران ان کا انداز بالکل ویسا ہی ہوتاہے جیسے ایک ڈوبتے ہوئے آدمی کو بچانے والے نجات غریق کا انتظار رہتاہے اسی لئے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مجاہدین کا جذبہ جہاد کچھ اور مہمیز ہوجاتاہے اور عین لڑائی کے دوران بھی فرعون وہامان کے مقابلہ میںخدا کے رسول جناب موسیٰ بن عمران -اپنی قوم بنی اسرائیل کے ساتھ قدم جمائے ہوئے نظر آتے ہیں یہ صرف وعدہ الٰہی اور انتظار فرج اور خدا وندعالم کی نصرت ومدد کے انتظار کا جوہر اور کرشمہ ہے۔

____________________

(۲)قصص/۵۔۶


ذراسورہ اعراف کی ان آیتوں پر غور فرمائیں:

( قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ اسْتَعِینُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْاٴَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ قَالُوا اٴُوذِینَا مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَاٴْتِیَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَی رَبُّکُمْ اٴَنْ یُهْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَیَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ) (۱)

”موسیٰ نے اپنی قوم سے کہااللہ سے مددمانگو اور صبر کرو،زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کوچاہتاہے وارث بناتاہے اور انجام کار بہرحال صاحبان تقویٰ کے لئے ہے ،قوم نے کہا ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے گئے موسیٰ نے جواب دیا عنقریب تمہارا پر وردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اورتمہیں زمین میں اس کا جانشین بنادے گا اور پھر دیکھے گا کہ تمہارا طرزعمل کیسا ہوتاہے۔“

ان آیتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جناب موسیٰ - کی پوری کوشش یہ تھی کہ میدان جنگ میں دشمن سے روبروہونے کے بعد بنی اسرائیل کو خدا کی طرف سے پرامیداور وعدہ الٰہی پر اعتماد اور مشکلات سے نجات کا آرزو مند بنائے رکھیں اور ان کے دلوں میں اس عظیم خدائی فرمان کو راسخ کردیں :

( قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ اسْتَعِینُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْاٴَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِه )

عجیب بات یہ ہے کہ جناب موسیٰ - نے وعدہ الٰہی کی بنیاد پر ”صبر “ اور ”انتطار “کو ایک دوسرے سے مربوط قرار دیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

____________________

(۱)اعراف/۱۲۸۔۱۲۹


( وَاصْبِرُوا إِنَّ الْاٴَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ”صبر سے کام لو،زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتاہے وارث بناتاہے۔“ جبکہ بنی اسرائیل کی یہ کوشش تھی کہ وہ اپنے نبی کے دھیان کو مستقبل کے انتظار کے بجائے یہ کہہ کر اپنی موجودہ تلخیوں کی طرف متوجہ کریں:”قَالُوا اٴُوذِینَا مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَاٴْتِیَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا “”ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے ہیں اور تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے گئے ۔“چنانچہ جناب موسیٰ نے ان کی طرف دوبارہ رخ کر کے انہیں اسی انداز سے بآواز بلند یہ اطمینان دلایاکہ وعدہ الٰہی کا انتظار کریں ،اور حالات سازگار ہونے تک وہ صورتحال پر صبر کرتے رہیں:( قَالَ عَسَی رَبُّکُمْ اٴَنْ یُهْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَیَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ) ”موسیٰ نے جواب دیا:” عنقریب تمہارا پر وردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اورتمہیں زمین میں اس کا جانشین بنادے گا اور پھر دیکھے گا کہ تمہارا طرزعمل کیسا ہوتاہے۔“

اسی طرح خدا وندعالم بھی یہی چاہتاہے کہ یہ امت ”وارثت“اور”انتظار“کی تہذیب سے آراستہ ہوجائے یعنی ابنیاء وصالحین کی وراثت اور حالات کی سازگار ی اور صالحین کے متعلق وعدہ الٰہی کا انتظار۔ توحیدی تحریک میں ایک جانب ” وراثت“ اور دوسری جانب”انتظار“ساتھ ساتھ چلتے ہیں بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ”وراثت“و”انتظار“توحید کے دشوار گذار اور طولانی سفر میں دواہم وسیلہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کی ان دونوں تہذیبوں ”وراثت“اور ”انتظار“سے اپنے دامن تہذیب وتمدن کو آراستہ وپیراستہ کریں۔


منابع و مآخذ

بحارالانوار، علامہ مجلسی

اکمال الدین وتمام النعمة،شیخ صدوق

الزام الناصب

رسالہ الجامعة الاسلامیہ شمارہ ، ۴۵

صواعق محرقہ،ابن حجر

ا صول کافی، شیخ کلینی

کتاب مقدس،سفر مزامیر داود مزمور/ ۳۷

معجم احادیث امام مہدی ،تالیف :ادارہ معارف اسلامی کی علمی کمیٹی :زیر نظر شیخ علی کورانی ،ناشر:موسسہ معارف اسلامی ،طبع اول ( ۱۴۱۱ ئھ ) قم

مسند احمد بن حنبل

مقدمہ ابن خلدون

منتخب الاثر ،صافی گلپائےگانی

مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی

مستدرک صحیحین،حاکم نیشاپوری

عصر الظہور، علی کورانی

کنزالعمال، علی متقی ہندی

نہج البلاغہ

ینابیع المودة، سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی


فہرست

حرف اوّل ۴

مقدمہ ۷

انتظار اورحرکت کا باہمی رابطہ ۱۰

مسئلہ انتظار کی وضاحت ۱۰

انتظار لا مذہب مکاتب فکر کی روشنی میں ۱۰

انتظار کے بارے میں ما قبل اسلام موجود ادیان کا نظریہ ۱۱

انتظار اہل سنت کی نظر میں ۱۱

احادیث انتظار،شیعہ امامیہ کی نظرمیں ۱۴

انتظار کی قسمیں ۱۶

تبدیلی کے اسباب ۱۹

انتظارجد وجہد مسلسل یا تعطل؟ ۲۰

ظہور میں تاخیر کی وجہ ؟ ۲۰

پہلانظریہ ۲۰

دوسرا نظریہ ۲۱

پہلے نظریہ کا تجزیہ ۲۱

آفاقی انقلاب میں سنت الٰہی اور غیبی امداد کاکردار ۲۷

روایات میں ظہور کی راہ ہموارکرنے والی جماعت کا تذکرہ ۲۹

۱ ۔مشرق میں ظہور کی راہ ہموار کرنے والی جماعت ۳۰

۲ ۔خراسان میں راہ ہموار کرنے والے ۳۲

۳ ۔”قم “اور ”رے“ میں زمین ہموار کرنے والے ۳۲


۴ ۔یمن میں زمین ہموار کرنے والے ۳۳

راہ ہموارکرنے والوں کے خصوصیات ۳۳

۱ ۔سیسہ پلائی ہوئی جماعت ۳۳

۲ ۔چیلنج بننے والی جماعت ۳۴

۳ ۔عالمی رد عمل ۳۷

تیاری کی منصوبہ بندی ۳۸

پہلا حصہ ۳۹

دوسرا حصہ ۳۹

روایات میں انصار کا تذکرہ ۳۹

طالقان کے جوان مرد ۴۰

امام کے اصحاب جوان ہوں گے ۴۲

امام کے انصار کی تعداد ۴۲

امام کے انصار کے صفات ۴۳

۱ ۔ایسے خزانے جن کے اندر نہ سونا ہوگا نہ چاندی ۴۳

۲ ۔طاقت وقوت ۴۴

۳ ۔شعور اور بصیرت ۴۵

۴ ۔ عزم محکم ۴۵

۵ ۔قوت وطاقت ۴۶

۶ ۔موت کی آرزو اور شوق شہادت ۴۷

۷ ۔متوازن شخصیت ۴۹

۸ ۔رھبان باللیل لیوث بالنھار ۵۱


دو مرحلے یا دو جماعتیں ۵۴

انتظار کے دوران ہماری ذمہ داریاں ۵۴

۱) شعور اوربیداری ۵۵

۲) امید ورزو ۵۷

۳) استقامت ۵۷

۴) حرکت ۵۷

۵) ظہور امام کے لئے دعا ۵۸

شکوہ ودعا ۵۹

معقول انتظار ۵۹

مفہوم انتظار کی تصحیح ۶۱

منتظر کون ،ہم یا امام ؟ ۶۳

انتظار کی قدر وقیمت ۶۴

حرکت اور انتظار کا رابطہ ۶۵

تحریکی عمل ۶۵

تحریکی عمل کا تاوان ۶۶

تحریک ایک فریضہ ۶۶

انسانی کمزوری ۶۸

تباہی سے محفوظ رہنے کے طریقے ۶۹

۱ ۔صبر اور نماز سے استعانت ۶۹

۲ ۔ولاء ۷۱

۳ ۔تاریخی میراث ۷۳


۴ ۔انتظاراور آرزو ۷۵

منابع و مآخذ ۸۰