یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
حکومت مہدی(علیہ السلام وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)
تقاضے۔امتیازات۔ ذمہ داریاں
تالیف: علامہ سید عاشورعلی( جبل عامل لبنان)
مترجم: السید افتخار حسین نقوی النجفی
ناشر : شریکة الحسین پبلی کیشنز
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نام کتاب : حکومت امام مہدی علیہ السلام
مولف : علامہ سیدعاشور علی (جبل عامل لبنان)
مترجم : السید افتخار حسین نقوی النجفی
ٹائٹل : ملک مشتاق حسین
کمپوزنگ : وسیم عباس اقدس،محمدتنویرحسین
ایڈیشن : اول
سال اشاعت : ۲۰۱۰ئ
تعداد :
قیمت :
ناشر : شریکة الحسین پبلی کیشنز
طابع : الاعتماد پرنٹرز،لاہور
اسٹاکسٹ
ض.... ایلیاءبکس مکان نمبر۸۵۳،مین فیض آباد روڈ I.۱۰.۴ اسلام آباد
(فون:۰۵۱-۴۴۴۹۳۴۲)
ض.... المصطفی پبلی کیشنز لاہور
بِسمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمط
اَللّٰهُمَّ کُن لِوَلِیِّکَ الحُجَّةِ بنِ الحَسَنِ
اے اﷲ تو اپنے ولی حضرت حجت ابن حسن عسکری
صَلَوَاتُکَ عَلَیهِ وَعَلٰی اٰبَائِه
(تیری صلوات ان پر اور ان کے آباءواجداد پر صبح و شام اور ہر آن ہو)
فِی هٰذِه السَّاعَةِ وَفِی کُلِ سَاعَةٍ
کا اس گھڑی میں اور ہر آن میں سرپرست و نگہبان
وَلِیّاً وّحَافِظاً وّقَائِدًا وّنَاصِراً وّدَلِیلاً وّعَیناً
حامی راہنما مددگار دیکھنے والی آنکھ اور سرپرست
حَتّٰی تُسکِنَه اَرضَکَ طَوعاً وّتُمَتِّعَهُ فِیهَا َطوِیلاً
بنا رہے یہانتک کہ تو اسے اپنی زمین میں اختیار کے ساتھ سکونت عطاء فرما اور یہ کہ تو اسے اپنی زمین میںلمبی مدت تک فائدہ پہنچا
نوٹ: یہ دعاءامام زمانہ(عجل) کی سلامتی کی نیت سے روزانہ پڑھیں۔
صلوات کاملہ
یاَرَبَّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ
اے محمد وآل محمد کے ربّ جلیل
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ
محمد اور آل محمد پر صلوات بھیج
وَعَجِّل فَرَجَ آلِ مَحَمَّدٍ
اور آل محمد کی گشائش (حکومت کے قیام) میں جلدی فرم
نوٹ
بعض عاملین کا تجربہ ہے کہ جو شخص روزانہ اس صلوات کو ۳۱۳ مرتبہ پڑھے گا
اسے امام زمانہ عج کی زیارت نصیب ہوگی
یہ صلوات حضرت جبرائیل نے جناب یوسف علیہ السلام کو
زندان میں تعلیم دی اور حضرت یوسف علیہ السلام
اس کا ورد کرتے تھے
حرف مترجم
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ِط
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّل فَرَجَهُم وَالعَن اَعدَائِهِم
میں اس کتاب کے اردو ترجمہ کو اس طاہرہ بی بی علیہ السلام کے نام ہدیہ کر رہا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری حجت بقیة اللہ کی اماں ہونے کا شرف بخشا۔ اس آرزو کے ساتھ کہ آپ معصومہ بی بی علیہ السلام مجھ خطاکار کے لئے اپنے عظیم بیٹے ولی اللہ الاعظم منجی بشریت کے حضور سفارش فرمائیں گی کہ مولا مجھ حقیر پر تقصیر کو اپنی نصرت کرنے والوں میں شامل رکھیں اور میرے لئے ایسے لمحات نصیب ہوں کہ میں آپ علیہ السلام کی عالمی عادلانہ الٰہی حکومت دیکھ سکوں اور ایسی حکومت کے قیام کے لئے جو میرے اوپر واجب ہے میں اسے ادا کر سکوں۔
اسی طرح میرے ماں باپ اور ہر وہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے وجود کے لئے وسیلہ بنایا اور ان کا خاتمہ ولایت اہل البیت علیہم السلام پر ہوا ان کی بخشش اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے سامان ہو جائے۔(آمین)
طالب دعا
احقر العباد
منتظرامام قائم(عج)
سیدافتخارحسین نقوی النجفی
۳۱ جنوری ۰۱۰۲ بمطابق ۶۲ محرم الحرام ۱۳۴۱ ھ
ابتدائیہ
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِه الطَّیِبِیّنَ الطَّاهرِی نَال مَعصُو مِینَ
مہدوی تحریک کا عالمی ہونا
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مسئلہ کوئی خاص قسم سے نہیں ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کا تعلق کسی خاص دین سے ہے اور نہ ہی کسی محدود فکر اور سوچ کی پیداوار ہے۔ مہدویت کا نظریہ عمومی ہے جس میں سارے انسان شریک ہیں اور تمام آسمانی ادیان کا اس پر ایمان ہے، اگرچہ صفات، شمائل، اسماءمیں اختلافات موجود ہیں، سب ادیان، مذاہب اور اقوام میں زمانی اور مکانی تبدیلیوں اور تغیرات کے متعلق اعلانات پائے جاتے ہیں، اسی بنیاد پر مہدوی تحریک عالمی تحریک ہے کسی ایک سے مخصوص نہیں ہے۔
مہدوی تحریک کا عالمی ہونا اس لحاظ سے نہیں کہ اس کی بنیاد پر سب کا اعتقاد ہے بلکہ یہ تحریک ابتداءسے انتہاءتک بنیادی عقیدہ سے لے کر اس کے ثمرات تک عالمی ہے یہ ایسی تحریک ہے جو کسی ایک جگہ سے خاص نہیں ہے بلکہ اس کی عدالت پورے کرہ ارضی اور تمام کے تمام چھ سات براعظموں کو مختلف اقوام و مال، مختلف زبانوں، مختلف تہذیبوں،مختلف عادات، بیداری اور عدم بیداری کے مختلف درجات ہر لحاظ سے سب کو امام مہدی علیہ السلام کی عدالت عنقریب اپنے سایے میں لے لے گی۔
مہدوی سوچ اور مہدوی نظریہ کا تعلق الٰہی عدالت کے نظریہ سے ہے اور یہ کہ شر جو ہے وہ خیر سے زیادہ طاقتوار نہیں ہے اور نہ ہی ظلم کو عدالت سے زیادہ بقاءاور دوام ہے اور نہ ہی بربادی آبادی سے افضل ہے۔عام انسان جو پڑھے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایک عدالت کا مکمل فہم ہے، عمومی طور پر انسان یہ دیکھتا اور جانتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مطلق عدل کا مالک ہے ، ظلم و زیادتی نہیں کرتا، وہ ایسا ہے جو مہلت تو دیتا ہے لیکن چھوڑتا نہیں ہے یہ عمومی سوچ ہے اگرچہ وہ انسان آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو، اخروی اور برزخی ثواب و عتاب کا قائل نہ بھی ہو تو بھی اس کی اللہ کے بارے یہی سوچ ہے۔
حضرت اماممہدی علیہ السلام پر ایمان فطرت کا تقاضا ہے
اسی بنیاد پر مہدوی فکر اور نظریہ پر ایمان فطری امر ہے کیونکہ ہر انسان جب اپنے اندر رجوع کرے تو وہ اپنے اندر خیر اور نور کے نقطہ کو موجودپاتا ہے اور یہ امید کی کرن ہے انسانیت کے وجود میں جن سے وہ باقی رہتا ہے۔
یہ نور جو ہر انسان کے اندرموجود ہے یہ نور الانوار(رب ذوالجلال و الاکرام)کی مخلوق ہے اگر اسے غذا دی جائے اور اس پر کام کیا جائے تو یہ ضرور بڑا ہوگا اور پھیلے گا اور ہر انسان کے اندر جو تاریکی موجود ہے اس پرچھا جائے گا اور انسان کے دل کو گھیر لے گا اس طرح وہ پاکیزہ دل والا، طاہر باطن والا بن جائے گا، وہی ذات ہے جو اسے تاریکیوں سے نکال کر نور میں لے آتی ہے اور یہ اس قانون کو پوری انسانیت پر اور سارے انسانوں پر لاگو کریں تو یہ امر ممکن ہے اور بات یہ ہے عدل کا قانون پورے عالم کو اپنے گھیرے میں لے لے گا اور یہ قانون اسلامی اور غیر اسلامی تمام ممالک میں پھیل جائے گا اور اس کا نفاذ ہو۔
انسانیت کے نجات دہندہ امام مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ہاتھوں سے اور ان کی قیادت میںہونا ہے اور یہ ضرورہو کررہے گا، ایسا ضرور ہوگا، ایساہوجانا ممکن ہے ناممکن نہیں ہے، عدل مطلق کا نفاذ جس کے بارے ہمیں وعدہ دیا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ عملی جامہ پہنے گا ایک امر ممکن ہے اور اسکے عملی ہوجانے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے ہر انسان کے دل میں جو نورانی نقطہ موجود ہے اوراس کے اندر جو خیر کا عنصر پایا جاتا ہے اور یہ ہر انسان میں ہے اس لئے ایساعمل ہونا ممکن ہے بس اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اس پر کام کیا جائے، اسے غذا دی جائے اسے پروان چڑھایا جائے تاکہ جو ظلم عام ہو چکا ہے اور جو تاریکی چھا گئی ہے چھٹ جائے گی اور نور عدل اس پر غالب آجائے گا۔
کائنات کی خلقت
کائنات کو عدل مطلق کی خاطر خلق کیا گیا ہے جو انسان کو اللہ کی کامل عبادت تک پہنچا دے گا سورة الذاریات آیت ۶۵ کہ:
( وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونَ )
”جنات اور انسانوں کی خلقت اللہ کی عبادت کی غرض سے ہوئی ہے“ اور عبادت ہی ہے جو انسان کو مطلق سعادت تک پہنچا دے گی۔
جس طرح اللہ تعالیٰ سورہ الانفال آیت ۴۲ میں فرماتا ہے:
( یَااَیُّهَالَّذِینَ اَمَنُوا استَجِیبُو اِللّٰهِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاکُم یُحیِیکُم )
” اے وہ لوگ جو ایمان لا چکے ہو، اللہ اور اللہ کے رسول کی بات کا جواب دو، جس سے وہ تمہیں ایسی بات کی دعوت دیں جو تمہیں زندہ کر دے گی توان کی اس بات کو مان لو، اس پر عمل کرو“۔
اور سورہ طہٰ کی آیت ۴۲۱ میں فرمایا:
( وَمَن اَعرَضَ عَنذِکرِی فَاِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکاً وَّنَحشُرُهُ یَومَ القِیٰمَةِ اَعمیٰ )
”اور جس نے میرے ذکر سے پہلو تہی کیا تو اس کے لئے تنگ روزگار ہے اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا محشور کریں گے“۔
سورہ النحل آیت ۷۹ میں فرمان ہے:
( وَمَن عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَکَرٍ مِن ذَکَرٍ اَو اُنثیٰ وَهُوَ مُومِن فَلَنُحیِیَنَّهُ حَیٰوةً طَیِّبَةً )
”اور جس شخص نے عمل صالح انجام دیا مرد ہویا عورت، جب کہ وہ مومن بھی ہو تو ہم اسے طیب اور پاکیزہ زندگی دیں گے“۔
عبادتی واجبات اور ذمہ داریاں ہی ہیں جو انسان کو زندگی دیتی ہیں تاکہ وہ اسے انسانی کمال تک پہنچا دیں اور سعادت دارین اس کے لئے حاصل ہو۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام انبیاء علیہ السلام کے عمل کی تکمیل ہیں
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اس عمل کو مکمل اور پورا کرنے والے ہیں جس کا آغاز انبیاءعلیہم السلام نے فرمایا، سورہ القصص آیت ۵ میں ہے :
( وَنُرِیدُ اَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوا فِی الاَر ضِ وَنَجعَلَهُم آئِمَّةً وَّنَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ )
”اور ہم نے یہ ارادہ کررکھا ہے کہ ان پر احسان کریں جنہیں کمزور بنادیا گیا ہے زمین میں، اور ہم ان کمزوروں کو زمین کا امام بنا دیں اور وارث بنائیں یعنی زمین پر ان کا حکم چلے اور وہی زمین کا صاحب اختیار و قدرت ہو“۔
حضرات انبیاءعلیم السلام کا کردار یہ رہا کہ وہ اقوام کو ظلم ، زیادتی، محرومیت کے گڑھوں سے باہر نکالیں اور انہیں ہلاکت سے بچائیں اور امام علیہ السلام اپنے زمانہ میں انبیاء علیہ السلام کے اسی ہدف کو عملی شکل دیں گے۔
ہم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں:
”این معزالاولیاءومذل الاعدائ، این جامع الکلم علی التقوی این باب الله الذی منه یوتی این وجه الله الذی الیه توجه الاولیاءاین السبب المتصل بین الارض والسماءاین صاحب یوم الفتح وناشررایات الهدی این مولف شمل الصلاح والرضا این الطالب بذحول االانبیاءوابنا الانبیاء، این الطالب بدم المقتول بکربلائ “
اولیاءکو عزت دینے والا اور سارے دشمنوں کو خوف سے دوچار کرنے والا کہاں ہے؟ تقویٰ کی بنیاد پر سب کو اکٹھا کرنے والا کہاں ہے؟اللہ تک جانے والا وہ دروازہ کہاں ہے جس سے خدا کے پاس جایا جاتا ہے؟ اللہ کا وہ وجہ اور رخ کریم کدھر ہے کہ جس کی جانب سارے اولیاءرخ کرتے ہیں؟ اور اسے اللہ تک جانے کا اپنا وسیلہ بناتے ہیں۔
زمین اور آسمان کے درمیان جووصل کرنے والا اور ربط اور تعلق دینے والا سبب ووسیلہ کہاں ہے؟فتح کے دن کا مالک کہاں ہے؟ ہدایت کے پرچموں کو پھیلانے والا کہاں ہے؟ اچھائی، خوشی اور بہتری کے تمام حالات کو یکجا کردینے والا کہاں ہے؟ انبیاء علیہ السلام اور فرزندان انبیاء علیہ السلام کے بہائے گئے خون ناحق کا بدلہ چکانے والا کہاں ہے؟
کربلا کے مقتول کے خون ناحق کا بدلہ لینے والاکہاں ہے، میری جان آپ علیہ السلام پر فدا ہو، آپ علیہ السلام انبیاء علیہ السلام ، آئمہ علیہ السلام اور اولیاءکی روش اور عمل کا تسلسل ہیں تاکہ عبادت تک پہنچا جا سکے۔
نظریہ مہدویت کا اثر
یہ مقالہ رہبر اسلام السید علی خامنہ کاہے جسے صاحب کتاب نے عنوان”الاعتقاد بالمہدی والتکامل المعنوی“سے لیاہے اس میں دو محور پر بات ہوئی۔
روحانی ارتباط اور تعلق جو ہے وہ کمال عطا کرتا ہے، پہلا محور اور نقطہ یہ ہے کہ ایک فرد کا تکامل انسان میںکیسے حاصل ہوتاہے؟ پس جوشخص مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آتاہے تو وہ روحانی کمال کے لئے جو وسائل درکار ہیں ان پر زیادہ دسترس حاصل کرلیتا ہے اللہ کے تقرب کےلئے اس کے پاس زیادہ ذرائع آجاتے ہیں کیونکہ وہ اس عقیدہ کی برکت سے روحانی طور پر الٰہی الطاف اور مہربانیوں اور کرم نوازیوں کے محور سے زیادہ مرتبط ہوگا۔باری تعالیٰ کی رحمت اترنے کے مرکز سے اس کا زیادہ تعلق ہوجاتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کوموجود پاتے ہیں جو معنوی اور روحانی مقامات طے کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے مناجات میںاور اپنے معنوی توسلات میں، اس عظیم امام سے توسل کرتے ہیں انہیں وسیلہ بناتے ہیں، اس امام کے ساتھ خودقلبی رابطہ اور روحانی توجہ ہی باری تعالیٰ کے عدل، قدرت اور رحمت کے لئے مظہر قرار پاتی ہے اور یہی چیز انسان کو روحانی کمال دے رہی ہے اوریہ سلسلہ اس کے روحانی ارتقاءکا وسیلہ اور سبب بن جاتا ہے۔یہ مسئلہ جو ہے بہت ہی وسیع افق رکھتا ہے کیونکہ جو شخص بھی اپنی روح اورقلب کے ذریعہ اس امام سے رابطہ رکھتا ہے تو وہ اس تعلق کے نتیجہ میں ضرور اپناحصہ پا لے گا ضروری بات یہ ہے کہ اس کا یہ ارتباط حقیقی ہو، زبانی جمع خرچ نہ ہو،جو ایسے مقام پر کوئی فائدہ نہیں دیتا اگر ایک انسان اپنے روح سے متوجہ ہو اور اپنے نفس کے اندر اس میدان کی پوری معرفت مہیا کرے تو وہ اپنا نصیب اس سے ضرور پا لے گا جیسا کہ بیان کیا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ یہ محور اور پہلو فردی میدان کی مثال ہے انسان کے شخصی اور فردی معنوی پہلو کا رخ ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اعتقاد اقوام کا ذخیرہ ہے
دوسرا محور
عمومی اجتماعی زندگی کا میدان اور جو کچھ انسان کے لئے ضرورت ہے، اقوام وملل کا انجام جس سے مربوط ہے اس کا میدان کون سا ہے یہ دوسرا نقطہ ہے اس میدان میں بھی مہدی علیہ السلام موعود کا عقیدہ آپ کے ظہور کا موضوع، آپ کی انتظار، آپ کے ذریعہ فتح،فرج یہ سب افکار اقوام وملل اور ساری عوام کے لئے قیمتی سرمایہ ہے اس سے بہت کچھ لیا جائے اور اس چشمہ سے سیراب ہواجائے۔
نجات کی امید اور ناامیدی کا اثر
آپ فرض کریں کہ سمندر میں ایک بیڑا ہے جسے بپھری ہوئی سمندری موجوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور سواریوں کا عقیدہ ساحل بارے نہیں ہے کسی کے خیال میں نہیں کہ امان کے لئے اس سمندر کا کوئی کنارہ موجود ہے ہزاروں میلوں کے فاصلہ پر اس قسم کے ساحل بارے کوئی تصور تک نہیں تھوڑے سے فاصلہ تک کے لئے غذا پانی موجود ہے بیڑے کو چلانے کے لئے بہت ہی تھوڑاسا،سامان بچ گیا ہے اور ایندھن ختم ہونے والا ہے، تو اس کشتی میں سواروں کا موقف کیا ہوگا؟ کیونکہ وہ یہ سوچیں گے کہ اس کشتی کو آگے لے جانے کے لئے سعی و کوشش کریں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ جب یہ محسوس کر لیتا ہے کہ اس کی ہلاکت یقینی ہے تو پھر وہ کسی قسم کی کوشش اور سعی کو بے فائدہ سمجھے گاکیونکہ اس حالت میں وہ ہر قسمی امید سے فارغ ہو چکا ہوتا ہے۔
ہاں: ایک بات جو اس قسم کے سواروں کے لئے ہے وہ یہ ہے کہ کشتی میں سوار ہر ایک شخص اپنی ذات میں گم ہو جائے خود کو مصروف کر لے، جو موت کو سکون سے نہیں چاہتا وہ آرام سے لیٹ جائے گا اور جو دوسروں پر زیادتی کرنے کا عادی ہے تو وہ دوسرے سے مال چھینے گا تاکہ زیادہ دیر تک زندہ رہ سکے اور اسی طرح کے اور مسائل میں وہ خود کو مصروف کر لیں گے۔
ایسی کشتی کے سواروں کے لئے ایک دوسری تصویر بھی ہے وہ یہ ہے کہ جس کشتی کے سواروں کو یقین ہے کہ نزدیک یادور ساحل آنے والاہے اور اس تک وہ پہنچ سکتے ہیں یہ ان کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس ساحل تک جانے کے لئے انہیں کتنی مشقت کرنا پڑے گی لیکن ان کو یہ یقین ضرور ہے کہ ساحل موجود ہے اور اس تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔
تو اس صورت میں کشتی میں سوار افراد کیا کریں گے؟ ظاہر ہے جو کچھ ان کے پاس طاقت ہے وہ اسے خرچ کریں گے پوری قوت اور طاقت کا استعمال کریں گے تاکہ پر امن کنارے تک پہنچ جائیں اگر اس کے لئے انہیں کچھ وقت انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ وہ نجات کےلئے ایک دوسرے کی مدد کریں گے، سعی و کوشش میں لگ جائیں گے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، فکری طور پر جسمانی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے ایک ہدف کے لئے کہ وہ ساحل مراد تک پہنچ جائیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ امیدکی کرن اگر موجود ہو گی تو اسی مقدار سے موت اپنا اثر وہاں سے اٹھائے گی اور وہ دل زندہ رہے گا، اس امید کے سہارے کیونکہ امید ہی تو ہے جو انسان کو حرکت دیتی ہے ، بلاتی ہے، اسے چست بناتی ہے، محنت و مشقت اس سے کرواتی ہے۔
اور وہ اس امید کے سہارے محنت کرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے زندگی کی کشتی امید کے سہارا پر چل رہی ہوتی ہے آپ فرض کریں کہ ایک قوم ہے جو ظلم کی چکی میں پس رہی ہے اور اس کے سامنے نجات حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کلی طور پر نجات کے راستہ سے ناامید ہے تو ایسی قوم ظلم کے سامنے سر جھکا دے گی اور ایسے کاموں میں لگ جائے گی جو بے مقصد ہوں گے، بغیر ہدف کے ہوں گے اوربے نتیجہ ہوں گے۔
لیکن اگر اس قوم کے دل میں امید کی کرن موجود ہو اور وہ یقین رکھے کہ اس کے سامنے ایک روشن مستقبل موجود ہے تو پھر یہ قوم کیا کرے گی؟طبیعی امر ہے کہ ایسی قوم جہاد کرے گی، عمل کرے گی، محنت کرے گی، اپنی جدو جہد کو منظم کرے گی، اپنی تحریک کے سامنے کی رکاوٹوں کو دور کرے گی ۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود بارے عقیدہ کا حیات بخش اثر
ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کی لمبی تاریخ ہے انسان نے اپنی اجتماعی زندگی میں اس لمبی تاریخ میں بہت ظلم سہے ہیں، مظلوموں پر ظالموں کا تسلط اور غلبہ رہا ہے، انسان کے راستہ پر ظالموں، ستمگروں نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، ظلم و ستم کی تندوتیز آندھیوں نے اس انسان کو تھپیڑے مار مار کے ادھ موا کر دیا ہے، اس کی مثال اس سمندری طوفان میں گھری ہوئی کشتی کی طرح ہے کہ جس میں سوار پریشان ہیں کہ سمندر کی تیز لہریں ان کی کشتی حیات کو ہر آن غرق کرنے پر تلی ہیں۔ لیکن انہیں ساحل پر پہنچنے کی امید ہے وہ ان ظالم لہروں کا مقابلہ کرتے ہیں جو اپنی تمام کوششوں کو مجتمع کرتے ہیں اور نجات کے ساحل تک پہنچنے کی ٹھان لیتے ہیں اورپھر آخرکار کامیاب ہوجاتے ہیں، اس امید پر کہ وہ کشتی میں زندہ رہتے ہیں یہ امید انسان کو زندہ رکھتی ہے جب آپ سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم سب انتظار کرو، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جن حالات میں آپ لوگ اس وقت گھرے ہوئے ہیں اور جو تکلیف دہ صورتحال اس وقت تمہارے لئے حاصل ہے جس سے تم سب دوچار ہو ظلم و ستم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے جنہوںنے تمہارے اوپرڈیرے ڈال رکھے ہیں یہ ہمیشہ اسی طرح نہیں رہیں گے بلکہ ایک دن ان سب کا خاتمہ ہوگا عدالت کی نورانی صبح طلوع ہو گی سارے ظالموں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مظلوموں کو ان کا حق ملے گا، تو آپ دیکھیں کہ اس انسان میں کس قدر جوش و ولولہ آتا ہے کس قدر اس میں آمادگی پیدا ہونی ہے اور وہ نجات کے دن کی خاطر جدوجہد کرتا ہے سارے رنج و الام کو بھول جاتا ہے اسی فکر اور سوچ سے اسے زندگی مل جاتی ہے یہ وہ اثر ہے جو امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے یہی وہ عقیدہ ہے امام حجت کے بارے مہدی موعود کے بارے کہ جس کی بنیاد پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد یکے بعد دیگرے ساری رکاوٹوں کو پھلانگتے چلے جا رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں عجیب و غریب موڑ آتے ہیں انسان کی فکر جواب دے جاتی ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام پر ایمان رکھنے والے انسان کے سامنے سارے چیلنجوں کا توڑ موجود ہے وہ ایک روشن مستقبل کے لئے سب کچھ کرنے پر تلا ہوا ہے وہ اس راہ میں مر مٹنے کے لئے تیار ہے اور اس راستہ کی ہر رکاوٹ کو وہ ہٹا دینا چاہتا ہے پس جہاں بھی یہ عقیدہ ہو گا یہ امید ہوگی اور اس نجات کی امید ہی سے زندگی کی کشتی جاری و ساری ہے اور ہر ظلم کے مقابلہ کے لئے جدوجہد کی جا رہی ہے۔(خطاب ۵۱ شعبان ۶۱۴۱)
اس کتاب کے مطالب اور اس کا اسلوب و روش
اس تمہید سے بات سامنے آ ہی گئی کہ بعد والی فصول اور باندھے گئے ابواب میں جو مطالب ذکر ہوں گے ان کا محور و مرکز یہی امور ہوں گے جن کی طرف اجمالی اشارہ کیا گیاہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا نظریہ فطری ہے
یہ اصول عالمی ہے اور اس فکر کی آخری حد مہدی علیہ السلام ہیں اور مہدویت کا نظریہ اور عقیدہ فطری ہے اس نظریہ کی عالمیت اورفطری ہونا ہی ہمیں ایسی ابحاث میںوارد کر دے گا جوان امور سے مربوط ہیں کیونکہ مہدوی تحریک کا عالمی ہونا ہمارے لئے یہ دروازہ کھول دے گا کہ ہم ان اہداف و اغراض کی وسعت بارے بات کریں جن کا انتظام امام مہدی علیہ السلام فرما رہے ہیں بلکہ اس بارے جو مشکلات ہیں، رکاوٹیں ہیں ان کے بارے بھی بات کی جائے وہ اس طرح کہ جب ہم تمام براعظموں پر ایک عالمی حکومت کے قیام کی بات کرتے ہیں جو فکر میں، زبان میں، ثقافت میں، سوچ میں، اہداف میں، علوم میں، تہذیب میں،مختلف ہیں تو یہ کیسے ہوگا؟یہ ایک ایسا کام ہے کہ جو انبیاءمیں سے کسی ایک نبی کی گردن میں نہ ڈالا گیا۔
دوسری جہت اس کی یہ ہے کہ وہ کون سا اسلوب اور طریقہ ہوگا جسے امام مہدی علیہ السلام اپنائیں گے کیونکہ سابقہ انبیاء علیہ السلام کا اسلوب اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلام کا جو اسلوب اور طریقہ تھا وہ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں کارآمد نہ ہو گا کیونکہ یہ زمانہ سائنسی ترقی کا زمانہ ہے، یہ وہ زمانہ ہے جس میں ساری جدوجہد نئی ایجادات اور نت نئے علمی نظریات پر لگائی جا رہی ہے جو کہ اس وقت معلوم و واضح ہے جس کے بارے تفصیل بعد میں آئے گی کہ امام علیہ السلام جو ہے اس کا قیاس عصری علوم سے اور دوسرے لوگوں کے پاس جو علم موجود ہے اس سے نہیں کیا جا سکتا نہ کیفیت میں اور نہ ہی کمیت میں اور یہ وہ بات ہو گی جو امام علیہ السلام کے اسلوب میں موثر ہو گی اور آپ علیہ السلام کی دعوت کا اسلوب جو ہے وہ ترقی یافتہ دنیا اور سائنسی دنیا پر اتنا اثر چھوڑے گاکہ سب علمی ترقیاں ان کے سامنے ماندپڑجائیںگی کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میںایک ایسا علمی انقلاب آئے گا کہ جس کا مشاہدہ علمی دنیا میں اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہوگا جو شخصیت اللہ کی کائنات کے بارے ۷۲ حروف کا علم رکھتا ہو گا جب کہ پورے عالم کے پاس اول سے لے کر آپ کے دور تک جتنے علوم ہیں وہ ۷۲ کے مقابلہ میں ایک حرف کے علوم ہوں گے یا دو حرف برابر علوم ہوں گے تو ایک ایسا علمی انقلاب ہو گا کہ جس کے بارے نہ کسی نے سوچا ہو گااور نہ کسی نے دیکھا ہو گا۔
سائنسی اور علمی ترقی کا توڑ
یہی بات اس کا جواب ہو گی کہ اس کائنات میں اتنے سارے ظالموں،ستمگروں کی موجودگی میں اور ان کے جدید ترین ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے کسی طور پوری زمین اور زمین کے سارے مشارق اور مغارب پر عدل الٰہی کی حکومت قائم کریں گے مزید برآں کہ امام معصوم ہیں اور آپ کے سامنے وہ سارے تجربات مختلف حکومتوں کے عروج و زوال ان کی ترقی و تنزلی بارے موجود ہوں گے جو آپ کو ان دو غیبتوں کے دوران حاصل ہوئے ہوں گے کیونکہ آپ اسی زمین اور ان لوگوں کے درمیان ہی اتنا عرصہ غیبت کے پردہ میں رہ رہے ہوں گے اور اس دوران میں آپ کا ان سب کے بارے علم آپ کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔
نئے ابواب، نئے عنوان آپ کے سامنے آئیں گے جو مختلف ہوں گے جو آپ کو امام کی حکومت سے محبت، امام کے عدل سے عشق اور امام کے علم کا انتظارکرنے والابنا دیں
پہلی فصل
قائم مہدی علیہ السلام کا شناسنامہ
خضرت امیرالمومنین علیہ السلامنے فرمایا ہے ”مہدی علیہ السلام ہم سے ہی ایک مرد ہو گاجو فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہے“۔(کنزالعمال حدیث ۵۷۶۹۳)
آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا”ہمارے مہدی علیہ السلام کی آمد سے تمام دغابازیاں ختم ہو جائیں گی ہر قسم کے دلائل ٹوٹ جائیں گے اور وہی قائم الائمہ ہیں امت کا نجات دھندہ وہی ہے، نورانی سلسلہ کا اختتام ان پر ہے وہی منتہی النور ہیں۔(نہج السعادة ج ۱ ص ۲۷۴)
آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا ہے”اس نے حکمت اور دانائی کی ڈھال کو پہن رکھا ہے اور حکمت و دانائی کو اس کی تمام شرائط سے لے رکھا ہے اللہ کی نمائندگیوں اور حجج سے آپ ہی اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی آخری اورباقی نمائندگی اور حجت ہیں اور آپ اللہ کے انبیاءکے خلفاءسے آخری خلیفہ ہیں۔(شرح نہج البلاغہ الابن ابی الحدید ج ۰۱ ص ۵۲)
ارشاد شیخ مفید میں آیا ہے”امام قائم علیہ السلام جو ہیں ابومحمد علیہ السلام کے بعد آئیں گے آپ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام بن حضرت امام علی النقی الہادی علیہ السلام کے فرزند ہیں جن کا رسول اللہ والا نام ہے (محمد) اور رسول اللہ کی کنیت سے آپ علیہ السلام کو پکارا جائے گا(ابوالقاسم)آپ علیہ السلام کے باپ نے اپنے پیچھے آپ علیہ السلام کے علاوہ ظاہری اور پوشیدہ کوئی دوسرا بیٹا نہیں چھوڑا آپ کی ولادت ۵۱ شعبان کی رات کو ہوئی ۵۵۲ ہجری قمری کا سال تھا۔
آپ علیہ السلام کی والدہ ام ولد(کنیز) ہیں جنہیں نرجس علیہا السلام کہا جاتا تھا۔
آپ کے باپ کی وفات کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی اللہ تعالیٰ نے اسی عمر میں آپ کو علم و حکمت عطا کیاآپ کوفیصلہ کن خطاب عطافرمایا اور تمام جہانوں کے واسطے آپ کوآیت قرار دیا جس طرح یح یٰ علیہ السلام کو بچپن میں حکمت دی اسی طرح آپ کو بھی عطا فرمائی آپ کو ظاہری بچپن میں امامت کا منصب عطا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کو گہوارے میں نبی بنایا۔
آپ کے لئے ، آپ کے قیام کرنے سے پہلے دو غیبتیں ہوں گی ایک غیبت دوسری غیبت سے زیادہ لمبی ہو گی جیسا کہ اس بارے میں روایات وارد ہوئی ہیں۔
خایک غیبت صغریٰ ہے جس کا زمانہ آپ علیہ السلام کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور آپ کے اور آپ کے شیعوں کے درمیان سفارت کے منقطع ہونے تک رہتا ہے آپ کے آخری سفیر کی وفات پر یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے آپ کی طولانی غیبت، پہلی غیبت کے اختتام سے شروع ہوتی ہے اور اس غیبت کے آخر میں آپ تلوار لے کر قیام کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے”( وَنُرِیدُ اَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوا فِی الاَرضِ وَنَجعَلَهُم آئِمَّةً وَّنَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ ) “(سورہ القصص آیت ۵)
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے ”( وَلَقَد کَتَبنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ اَنَّ الاَرضَ یُرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) “(سورہ الانبیاءآیت ۵۰۱)
حضرت رسول اللہ نے فرمایا”دن اور راتیں ختم نہ ہوں گی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گا جس کا نام میرے نام جیسا ہو گا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
(الارشاد باب ذکر الامام القائم ص ۶۴۳
قائم علیہ السلام منتظر کے اسماء
الزام الناصب میں ایک سو چھیالیس نام اور القاب آپ علیہ السلام کے ذکر کیے گئے ہیں۔ بعض کا ثبوت واضح ہے، کچھ روایات اور زیارات سے لئے گئے ہیں کچھ تورایت و انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں سے لئے گئے ہیں اور بعض اسماءایسے ہیں جو آپ علیہ السلام کے شیعوں کی جانب سے ہیں، ان القاب و اسماءمیں کچھ اس طرح ہیں۔
ابوالقاسم علیہ السلام ، ابوعبداللہ علیہ السلام ، ابوجعفر علیہ السلام ،ابومحمد علیہ السلام ، ابوابراہیم علیہ السلام ، ابوالحسن علیہ السلام ،ابوتراب علیہ السلام ، ابوصالح علیہ السلام ، الاصل علیہ السلام ، احمد علیہ السلام ، امیر الامراءعلیہ السلام ،ایدی علیہ السلام ، یہ ”ید“ کی جمع ہے جس کا معنی نعمت ہے(ایزدستاش، ایزدنشان، ایستادہ یہ نام مجوسیوں کے ہاں موجودہیں) احسان علیہ السلام ، بقیة اللہ علیہ السلام ،بقیة الانبیاءعلیہ السلام ،برہان اللہ علیہ السلام ،الباسط علیہ السلام ، بقیة الاتقیاءعلیہ السلام ،بندہ یزدان علیہ السلام ،(عبداللہ) الثالی علیہ السلام ، الثائر علیہ السلام ،الجعفر علیہ السلام ،الجابر علیہ السلام ، جنب علیہ السلام ، حجة اللہ علیہ السلام ،حجة اللہ الحقعلیہ السلام ، الجلیل علیہ السلام وغیرذلک(الزام الناصب ج ۱ ص ۶۲۴)
مترجم کہتا ہے کہ بعض محققین نے آپ علیہ السلام کے چھ سو اسماءذکر کیے ہیں اور میں نے ان اسماءاور القاب کوزیارات اور دعاوں سے یکجا بھی جمع کیا ہے۔ بہرحال آپ علیہ السلام کے اسماءکثیر تعداد میں ہیں آپ علیہ السلام کا ہر نام آپ علیہ السلام کے ایک عملی کردار پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ علیہ السلام کی کسی نہ کسی صفت یا حالت یا عمل کو بیان کرتاہے۔(دیکھیں اسماءالقائم علیہ السلام ج ۱ تالیف جعفر الزمان، مرحوم)
حضرت صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت یا شہادت
خالکافی میں ہے آپ علیہ السلام کی ولادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ ہجری قمری میں ہوئی اور احمد بن محمد نے کہا ہے کہ آپ علیہ السلام کی ولادت کا سال ۶۵۲ ہجری قمری ہے۔
خشیخ صدوقؒ نے اپنے استاد سے سیدہ حکیمہ بنت محمد بن علی بن موسیٰ علیہم السلام سے روایت بیان کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا”ابومحمد الحسن بن علی علیہ السلام نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: پھوپھی جان! آج رات آپ علیہ السلام کا افطار ہمارے پاس ہوگا کیونکہ آج ۵۱ شعبان کی رات ہے۔
اللہ تعالیٰ اس رات حجت کو ظاہر فرمائے گا اور وہی اللہ کی زمین میں اللہ کی حجت ہوں گے اور یہ کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام کی ولادت کا دن جمعہ تھا اور ۶۵۲ ہجری کا سال تھا۔
خکمال الدین میں ہے:علان رازی سے نقل کیا ہے کہ اس نے بیان کیا کہ ہمارے بعض اصحاب نے ہم سے یہ بات بیان کی ہے کہ جس وقت ابومحمد علیہ السلام(امام حسن عسکری علیہ السلام) کی جاریة(آپ علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ)کے لئے حمل ٹھہر گیا تو آپ علیہ السلام نے انہیں خبر دی آپ ایسے جلیل القدرمرد کی حامل ہیں جن کا نا محمد علیہ السلام ہے اور وہی میرے بعد قائم علیہ السلام ہیں“۔(کمال الدین ص ۸۰۴ حدیث ۴ ، کفایة الاثرص ۴۹۲)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت پر طعام تقسیم کرنا
جناب ابوجعفر العمری سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے بیان کیا :
”جس وقت السید(امام زمانہ علیہ السلام ) کی ولادت ہو چکی تو ابومحمد علیہ السلام(امام حسن عسکریعلیہ السلام ) نے فرمایا کہ میرے پاس ابوعمرو کو لے آو، پس انہیں بلوایا گیا اور وہ آپ علیہ السلام کے پاس آ گئے تو آپ علیہ السلام نے ان سے یہ فرمایا:
”آپ دس ہزارر طل روٹی خرید کر لیں اور دس ہزاررطل( )گوشت خرید کر لیں اور اسے بنی ہاشم(سادات) میں تقسیم کر دیں اور ان کی جانب سے اتنی تعداد میں بکروں کا عقیقہ کریں۔(کمال الدین ص ۱۳۴ حدیث ۶ ، البحار ج ۱۵ ،ص ۵ حدیث ۹
جناب سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا کی حضرت امام زمانہ (عج) کی ولادت بارے روایت
البحار میں محمد بن عبداللہ المطہری سے یہ بیان نقل ہوا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ میں سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا کے پاس ابومحمد علیہ السلام(امام حسن عسکری علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد حاضر ہوا تاکہ میں آپ علیہ السلام سے حجت کے بارے پوچھوں اور جس حیرانگی اور پریشانی میں اس وقت لوگ سرگرداں ہیں اس بارے جواب معلوم کرو۔
حضرت سیدہ حکیمہ خاتون سلام اللہ علیہا: ادھر بیٹھ جاو
پس میں بیٹھ گیا، پھر آپ علیہ السلام نے اس طرح مجھ سے فرمایا:
”اے محمد یہ بات جان لو، اللہ تبارک وتعالیٰ زمین کو حجت سے خالی نہیں چھوڑتا یا تو حجت ناطقہ(بولنے والی) ہو گی یا حجت صامت(خاموش) ہو گی حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ نمائندگی دو بھائیوں میں قرار نہیں دی، یہ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام کی فضیلت ہے اوران کو باقی سے جدا کرنے کے لئے کہ پوری کائنات میں ان دوبھائیوں جیسا کوئی نہیں ہے۔
البتہ اللہ تعالیٰ نے حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد کو فضیلت عطاءفرمائی( اوراپنی نمائندگی ان میں رکھ دی)جس طرح حضرت ھارون علیہ السلام کی اولاد کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد پر فضیلت و برتری عطا کی گئی اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام پر حجت تھے ۔ لیکن حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کو قیامت تک کے لئے یہ فضیلت حاصل ہے۔
امت کے لئے حیرت قرار ہو گی سرگردانی میں وہ ضرور پڑیں گے اس میں باطل والے بھٹک جائیں گے اور حق والے چھٹکارا پالیں گے تاکہ لوگوں کی جانب سے رسولوں کے گذر جانے کے بعد ان پر کوئی حجت عذراور بہانہ موجود نہ ہو۔ ابومحمدعلیہ السلام کے گذر جانے کے بعد حیرت اور پریشانی یقینی ہوئی تھی۔
راوی: کیا حضرت امام حسن علیہ السلام کے لئے بیٹا تھا؟
سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا: مسکرا دیں پھر فرمایا:اگرحسن علیہ السلام کا بقیہ نہ ہوگا تو پھر آپ علیہ السلام کے بعد حجت کون ہوں گے؟اور میں نے تو تمہیں یہ بات بتا دی ہے کہ حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے بعد دو بھائیوں میں حجت اور نمائندگی خدااکٹھی موجود نہ ہو گی۔
راوی: میں نے عرض کیا، میری سردار بی بیعلیہ السلام ، مجھ سے میرے مولا علیہ السلام کی ولادت اور ان کی غیبت بارے بیان کریں؟
سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا: جی ہاں! بیان کرتی ہوں۔
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ میرے لئے ایک کنیز تھی جسے نرجس پکارا جاتا تھا ایک دن میرے بھائی کے بیٹے(میرے بھتیجے امام حسن علیہ السلام ) مجھ سے ملنے تشریف لے آئے تو آپ علیہ السلام نے اس کنیز کی طرف بہت ہی دلچسپی اور توجہ سے نگاہ فرمائی اور اسے غور سے دیکھا اور ان پر پیار کی نظرڈالی،تو میں نے ان سے کہا کہ اے میرے سردار علیہ السلام !آپ علیہ السلام نے اس کنیز کو لینے کا قصد کر لیا ہے؟ تو کیا میں انہیں آپ علیہ السلام کے پاس بھیج دوں؟
توآپ علیہ السلام نے میرے جواب میںفرمایا:”نہیں پھوپھی جان! لیکن مجھے اس کو دیکھ کو تعجب ہو رہا ہے “۔
میں نے پوچھاوہ کیسے ؟
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا”اس سے ایک کریم فرزند ہو گا جو اللہ کے نزدیک بڑی شان والا ہے، زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی“۔
میں نے پھر پوچھا تو کیا پھر میں اس کنیزکو آپ علیہ السلام کے پاس بھیج دوں؟
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اس بارے میں میرے باپ سے اجازت لے لیں“۔
سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا: میں نے اپنا لباس پہنا اور تیار ہو کر ابوالحسن علیہ السلام (امام علی نقی علیہ السلام ) کے گھر آ گئی ۔ میں نے آپ علیہ السلام کو سلام کیا اور بیٹھ گئی تو آپ علیہ السلام نے خود ہی بات کا آغاز کر دیا اور فرمایا:”اے حکیمہ علیہ السلام !تم نرجس علیہ السلام کو میرے بیٹے ابومحمد علیہ السلام (امام حسن عسکری علیہ السلام)کے پاس بھیج دو“۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام : میں نے عرض کیا: میرے سردارعلیہ السلام !میں اسی ارادہ سے آپ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئی تھی کہ آپ علیہ السلام سے اس بارے اجازت لے لوں اور انہیں ابومحمد علیہ السلام کے پاس بھیج دوں۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام: اے مبارکہ! اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کو اس ثواب میں شریک کرے اور آپ علیہ السلام کے لئے اس خیروبرکت میں حصہ قرار دے“۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام : میں وہاں نہ رکی اور فوراً اپنے گھر آ گئی میں نے نرجس علیہ السلام کو بتایااور اس کا ہارسنگھارکیا اور اسے ابومحمد علیہ السلام کے لئے ہدیہ کر دیااور انہیں میں نے اپنے گھر میں ہی ایک کمرہ دے دیا اور اس میں ان کے لئے آرام وسکون کا پوراپورا انتظام کردیا۔
ابومحمد علیہ السلام میرے گھر میں کچھ دن تک موجود رہے۔ اس کے بعدآپ اپنے والد کے گھر تشریف لے گئے اور نرجس علیہ السلام کو میں نے ان کے ساتھ بھیج دیا۔
السیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا:۔ ابوالحسن علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ابومحمد علیہ السلام ان کی جگہ پر بیٹھے تو میں ان کی زیارت کے لئے اس طرح جایا کرتی تھی جس طرح میں ان کے والد کی زیارت کے لئے جایا کرتی تھی۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ نرجس علیہ السلام میرے پاس آئی اور انہوں نے میرے پاوں سے جوتے اتارنے کا ارادہ کیا اور یہ فرمایا کہ میری سردار اپنے جوتے مجھے دیں میں انہیں رکھ دیتی ہوں۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں نے نرجس علیہ السلام سے جواب میں کہانہیں توں میری سردار ہے، توں میری مولا اور آقا ہے ، خدا کی قسم!میں اپنے پاوں تیری جانب نہیں بڑھاوں گی کہ تم میرے پاوں سے میرے جوتے اتارو اور اس بات کی اجازت بھی نہیں دوں گی کہ تم میری خدمت کرو بلکہ میں تمہیں اپنی آنکھوں پر بٹھاوں گی میں تمہاری خدمت کروں گی تم میری سردار ہو۔
سیدہ حکیمہ علیہ السلام کی اس بات کو حضرت ابومحمدعلیہ السلام (امام حسن عسکری علیہ السلام) نے سن لیا اور آپ علیہ السلام نے یہ بات سن کر فرمایا:
پھوپھی جان!اللہ آپ علیہ السلام کو جزائے خیر دے میں غروب آفتاب تک آپ کے پاس موجود رہی میں نے وہاں پر موجود ایک کنیز کو آواز دی کہ میرے کپڑے لے آو تاکہ میںاپنے گھر جاوں۔
ابومحمد علیہ السلام :۔ ابومحمد علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا:”اے پھوپھی جان!آج رات آپ علیہ السلام ہمارے پاس ٹھہریں گی، کیونکہ آج رات مولود کریم کی ولادت ہے جس کی اللہ کے ہاں شان ہے، اللہ عزوجل ان کے ذریعہ زمین کو ویرانی کے بعد آباد کردے گا۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ اے میرے سردار!میں نرجس علیہ السلام میں تو حمل کا کوئی اثر نہیں دیکھتی؟
ابومحمد علیہ السلام :۔ نرجس(سلام اللہ علیہا)سے،کسی اور سے نہیں۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں دوڑ کر نرجس کے پاس گئی میں نے ان کے آگے پیچھے سب دیکھا میں نے حمل کا کوئی اثر و نشان تک موجود نہ پایا۔میں واپس ابومحمد علیہ السلام کے پاس آ گئی اور ان کو اس عمل بارے بتایا جو میں نے انجام دیا۔
ابومحمد علیہ السلام:۔ آپ علیہ السلام مسکرا دیے پھر میرے لئے فرمایا:جس وقت فجر کا وقت ہو گا توآپ علیہ السلام کے لئے نرجس ہی سے حمل ظاہر ہوگا، کیونکہ ان کی مثال موسیٰ علیہ السلام کی ماں جیسی ہے کہ ان کا حمل ظاہر نہ ہوااور ولادت کے وقت کسی ایک کو اس کا علم نہ ہو سکا کیونکہ فرعون ان تمام خواتین کے شکم چاک کروا دیتا تھا جن میں حمل کے آثار موجود ہوتے تھے تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو تلاش کر سکے اور اسے ولادت سے پہلے ہی ختم کردے۔تو اس مولود کی مثال بھی موسیٰ علیہ السلام کی جیسی ہے۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں طلوع فجر تک بڑی توجہ سے سیدہ نرجس علیہ السلام کو دیکھتی رہی اوران پر میری نظر رہی جب کہ آپ علیہ السلام آرام سے میرے سامنے سو رہی تھیں اورآپ نے اپنا پہلو تک نہ بدلا۔ جب رات کا آخری پہر ہوا اور طلوع فجر قریب ہوا تو یکدم وہ اپنی جگہ سے اُٹھ بیٹھیں خوفزدہ تھیں میں نے انہیں اپنے سینہ سے چپکا لیا اور میں نے اس پر( بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ) پڑھا۔
ابومحمد علیہ السلام :۔ آپ علیہ السلام نے مجھے آواز دے کر فرمایا”اس( پراِنَّا اَنزَلنٰاهُ فِی لَیلَةِ القَدرِ ) پڑھو
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں نے نرجس علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ علیہ السلام کاحال کیساہے؟
سیدہ نرجس علیہ السلام :۔ وہ امر ظاہر ہو چکا ہے جس کے بارے میرے سردار نے آپ کو خبر دی تھی۔
السیدہ حکیمہعلیہ السلام :۔ جیسے مجھ سے ابومحمد علیہ السلام نے فرمایا:میں نے نرجس علیہ السلام پر ”سورہ اِنَّا اَن زَل نَاہُ فِی لَی لَةِ ال قَد رِ....“کوپڑھنا شروع کر دیاتوبچے نے نرجس علیہ السلام کے شکم سے مجھے جواب دیا جس طرح میں پڑھ رہی تھی اسی طرح اس بچے نے بھی پڑھنا شروع کر دیا اور میرے اوپر سلام بھی کیا۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ جب میں نے یہ سنا تو میں گھبرا گئی۔
ابومحمد علیہ السلام:۔ ابومحمد علیہ السلام نے مجھے زور سے آواز دے کر فرمایا:”اللہ عزوجل کے امر بارے حیران مت ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بچپن میں ہم سے حکمت بلواتا ہے اور بڑے ہونے پر اپنی زمین پر ہمیں حجت بنا دیتاہے۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ ابھی ابومحمد علیہ السلام کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ نرجس علیہ السلام مجھ سے غائب ہو گئیں اس طرح کہ میں ان کو نہ دیکھ سکی گویا میرے اور ان کے درمیان حجاب قرار دے دیا گیا، تو میں دوڑتی ہوئی ابومحمد علیہ السلام کے پاس آ گئی جب کہ میں چلا رہی تھی ۔
ابومحمد علیہ السلام:۔ ابومحمد علیہ السلام نے مجھے اس حالت میں دیکھ کرفرمایا: پریشان نہ ہوں واپس لوٹ جائیں ابھی آپ علیہ السلام نرجس علیہ السلام کو اپنی جگہ پرموجود پاو گی۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں واپس آ گئی تھوڑی دیر ہی گذری ہو گی کہ میرے اور نرجس علیہ السلام کے درمیان جو پردہ آ گیا تھا وہ ہٹا دیا گیا میں نے اچانک انہیں اپنے سامنے موجود پایا تو ان کے پورے وجود پرنورکااثرتھااور یہ نور اس قدر روشن تھا کہ میری آنکھوں کے نور پر چھا گیا اسی کے ساتھ ہیں میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک بچہ سجدہ کی حالت میں موجود ہے پھر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اپنی صبابہ(انگشت شہادت) کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا”لَا اِلہٰ اِلَّا اللّٰہَ وَح دَہُ لَا شَرِی کَ لَہُ وَاَنَّ جَدِّی رَسُو لُ اللّٰہُ وَاَنَّ اَبِی اَمِی رُال مُو مِنِی نَ“اس کے بعد ایک ایک کر کے سارے اماموں کا نام لیا اور جب اپنے نام پر پہنچے تو فرمایا”اَللّٰهُمَّ اَنجِز لِی وَعدِی ، اَتمِم لِی اَمرِی وَثَبِّت وَطَاتِی وَاملَا اَلاَرضَ بِی عَدلاً وَّقِسطاً “
ترجمہ:۔ اے اللہ میرا وعدہ پورا کر دے، میرے امر کو پورا کر دے میری چاپ کو مضبوط بنا دے اور میرے ذریعہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے۔
ابومحمد الحسن علیہ السلام :۔ آپ علیہ السلام نے بلند آواز دے کر فرمایا: اے پھوپھی جان! بچے کو اٹھا لو اور اسے میرے پاس لے آو پس میں نے بچے کو اٹھالیا اور میں اسے ابومحمد علیہ السلام کے پاس لے آئی پس جب میں آپ علیہ السلام کے باپ کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور آپ علیہ السلام میرے ہاتھوں میں موجود تھے، تو آپ علیہ السلام نے اپنے بابا پرسلام کیا، اس کے ساتھ ہی ابومحمد الحسن علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کو مجھ سے لے لیا میں نے دیکھا کہ کچھ پرندے ہیں جو آپ علیہ السلام کے سر مبارک پرمنڈلارہے ہیں۔پس ابومحمد الحسن علیہ السلام نے ان پرندوں سے ایک کوآواز دی وہ آپ علیہ السلام کے پاس آ گیاآپ علیہ السلام نے اس پرندے سے فرمایااس کو اٹھالو اس کی حفاظت کرو اور ہر چالیس دن بعد اس بچے کو ہمارے پاس واپس لے کر آیاکرو اس پرندے نے آپ کو لیا اور آسمان کی جانب فضا میں اڑ گیا اور باقی سارے پرندے اس کے پیچھے پیچھے اڑ کر چلے گئے۔میں نے یہ سنا کہ ابومحمد علیہ السلام فرما رہے تھے : میں نے تجھے اس کے سپرد کردیاہے جس کے سپرد موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے موسیٰ علیہ السلام کو کیا تھا۔
سیدہ نرجس علیہ السلام :۔ یہ دیکھ کرسیدہ نرجس علیہ السلام روپڑیں تو ابومحمد علیہ السلام نے ان سے فرمایا: خاموش رہو، روونہیں ان پر دودھ کسی اور کا حرام ہے اس نے دودھ آپ علیہ السلام کے سینہ سے ہی لینا ہے اسے تیرے پاس واپس لایا جائے گا جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو اس کی ماں کے پاس لوٹا دیا گیا تھا اور اس بارے اللہ عزوجل کا یہ قول ہے ”( فَرَدَد نَاهُ اِلیٰ اُمِّهِ کَی تَقَرَّعَی نُهَا وَلَا تَحزَن ) “(سورہ القصص آیت ۳۱)
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں نے ابومحمد علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ پرندوں کا قصہ کیاہے؟ اور یہ پرندہ کون تھا؟ جس کے سپرد اس مولودکو کیا گیا ہے؟
ابومحمد علیہ السلام:۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ پرندہ روح القدس تھا جس کی ڈیوٹی آئمہ علیہ السلام کے لئے لگائی گئی ہے وہ ان تک فقہ پہنچاتا ہے علم کی غذا ان کے لئے لاتا ہے اور انہیں محفوظ رکھتا ہے ، ان کی دیکھ بھال رکھتا ہے ان کاخیال رکھتاہے؟
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ جب چالیسواں دن آیا تو اس بچے کو واپس ان کے باپ کے پاس لایا گیا تو آپ علیہ السلام نے مجھے بلوا بھیجا جب میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے ایک بچے کو آپ علیہ السلام کے سامنے چلتے دیکھتا۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ میں نے ابومحمد علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیاکہ یہ بچہ تو دو سال کا لگ رہا ہے؟
ابومحمد علیہ السلام:۔ یہ سن کر مسکرا دیئے اور فرمایا:انبیاءعلیہ السلام اور اوصیاءعلیہ السلام کی اولاد جب کہ وہ آئمہ علیہ السلام سے ہوں تو ان کی نشوونمادوسرے افرادسے مختلف ہوتی ہے ہمارے بچوں پر جب ایک ماہ گزرتا ہے تو وہ دوسروں کی بہ نسبت ایک سال کے ہو جاتے ہیں اور ہمارے بچے جو ہیں وہ ماں کے شکم میں باتیں کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، اپنے رب کی عبادت ماں کے شکم میں کررہے ہوتے ہیں، دودھ پیتے وقت فرشتے ان کی اطاعت کررہے ہوتے ہیں اورفرشتے ان پر صبح کے وقت اور شام کے وقت اترتے ہیں۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ تو میں ہر چالیس دن بعد اس بچے کودیکھا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ میں نے آپ علیہ السلام کو مکمل جوان دیکھا اور یہ ابومحمد علیہ السلام کے جانے سے چند ہی دن قبل کی بات ہے۔ میں نے پہلے تو آپ علیہ السلام کو نہ پہچانا اور ابومحمد علیہ السلام سے پوچھ لیا یہ کون ہیں؟ جن کے سامنے آپ مجھے بیٹھنے کاحکم فرما رہے ہیں تو آپ علیہ السلام نے میرے جواب میں فرمایا:
”یہ نرجس علیہ السلام کافرزند ہے، میرے بعد میرا خلیفہ ہے، تھوڑی مدت بعد تم مجھے اپنے درمیان نہ پاو گی تو آپ علیہ السلام اس کی بات کوسننا اور ان کی اطاعت کرنا“۔
السیدہ حکیمہ علیہ السلام :۔ پس تھوڑے دنوں بعد ابومحمدعلیہ السلام گذر گئے اور لوگ متفرق ہو گئے جیسا کہ تم اس وقت دیکھ رہے ہو، خدا کی قسم! میں تو انہیں صبح بھی دیکھتی ہوں اور شام کے وقت بھی دیکھتی ہوں اور صحیح بات یہ ہے کہ تم جو کچھ مجھ سے سوال کرتے ہو وہ مجھے اس کے بارے میں جواب دیتے ہیں اور اس کی خبرپہلے ہی دے دیتے ہیں۔
خدا کی قسم! جب میں کسی بات کے بارے دریافت کرنے کاارادہ کرتی ہوں تو وہ خود سے ہی میرے سوال سے پہلے مجھے اس کا جواب دے دیتے ہیں اور جب کوئی معاملہ میرے درپیش ہوتا ہے تو فوراً اس کا جواب اسی وقت میرے پاس آجاتا ہے بغیر اس کے کہ میں ان سے سوال کروں، آپ علیہ السلام نے کل رات مجھے تمہارے آنے کی خبر دی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں حق کے بارے تمہیں آگاہ کروں۔
محمد بن عبداللہ :۔ خدا کی قسم! جناب سیدہ حکیمہ علیہ السلام نے مجھے ایسے امور کے بارے آگاہ کیا کہ جن کے متعلق اللہ کے سوا کسی کو علم نہ تھا تو میں اس سے سمجھ گیا کہ یہ اللہ کی جانب سے سچ اور عدل ہے اور اس بات کا مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان امورپر مطلع کیا ہے کہ جن کے بارے اس نے اپنی مخلوق سے کسی اورکو مطلع نہیں کیا۔
(کمال الدین ص ۹۲۴ ، مدینة المعاجزج ۸ ص ۸۶ ، البحار ج ۱۵ ص ۲۱ حدیث ۴۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کرنے والی تاریخ اسلام کی بعض معروف شخصیات
شیعہ کے علاوہ مسلمانوں کی تاریخ میں بعض بہت ہی معروف شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے۔ ان میں چند ایک ذیل میں ہیں:
پہلی شخصیت:ابوسالم کمال الدین محمد بن طلحہ بن محمد بن الحسن الفرش النصیبی
کوئی ایک بھی اہل السنت سے ایسا ہم نہیں پاتے جو اس عالم کی شخصیت کامنکر ہو یا ان کی کتاب ”مطالب السول“کا انکار کرے اس کتاب کا بارہواں باب ہے”الباب الثانی عشر فی ابی القاسم”محمد بن الحسن علیه السلام الخالص بن علی المتوکل بن محمد القانع بن علی الرضا بن موسیٰ الکاظم علیه السلام بن جعفر الصادق علیه السلام بن محمد الباقر علیه السلام بن علی علیه السلام زین العابدین علیه السلام بن الحسین علیه السلام الزکی بن علی المرتضیٰ علیه السلام امیرالمومنین علیه السلام بن ابی طالب علیه السلام، المهدی الحجة الخلف الصالح المنتظر عجل الله تعالیٰ فرجه ورحمة الله وبرکاته “
اس عنوان میں امام مہدی علیہ السلامکا نام آپ علیہ السلام کا پورا نسب نامہ اور آپ علیہ السلام کے القاب کا ذکر کیا ہے اس کے بعد مصنف کتاب ” مطالب السول“ عربی میں امام مہدی علیہ السلام کی مدح میں قصیدہ لکھا ہے جو اس طرح ہے۔
فهذا الخلفه الحجة قدایده الله
هدانا منهج الحق واناه سجایاه
واعلاه ذری العلیا و بالتایید رقاه
وآتاه حلی فضل عظیم فتحلاه
وقد قال رسول الله قول قدرویناه
وذوالعلم بماقال اذا ادرکت معناه
یری الاخبار فی المهدی جات بمساه
وقد ابداه بانسبة والوصف وسماه
ویکفی قوله: منی لاشراق محیاه
ومن بضعته الزهراءمجراه ومرسهاه
ولن یبلغ ما اوتیه امثال واشباه
فان قالوا هوا ماما توابماخاها
اس کے بعد وہ لکھتاہے:
آپ کی ولادت کی جگہ: آپ علیہ السلام کی ولادت کی جگہ سرمن رائے ہے اور آپ ۳۲ رمضان ۵۸۲ ہجری قمری کے ہاں پیدا ہوئے آپ کا باپ اور ماں کی جانب سے نسب نامہ آپ کے بارے الحسن الخالص ہیں جو علی المتوکل کے بیٹے ہیں اوروہ محمد النافع کے اور اسی طرح اسنے آپ کے آباءکوشمار کیا ہے اور لکھا ہے کہ آپ امیرالمومنین بن ابی طالب علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ کا نام محمد علیہ السلام ہے آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے آپ کا لقب، الحجت، الخلف الصالح ہے اور منتظر بھی کہا گیا ہے۔(مطالب السول باب ۲۱ کشف الغمہ ج ۳ ص ۳۳۲)
دوسری شخصیت: ابوعبداللہ محمد بن یوسف الکنجی الشافعی
جسے ابن الصباغ المالکی نے اپنی کتاب الفصول المہمہ میں لکھا ہے”آپ علیہ السلام امام ہیں حافظ ہیں سارے علماءنے ان کی تجلیل و بزرگی کو بیان کیا ہے اور انہیںبااعتماد قرار دیاہے۔ اہل السنة والجماعة میں اس کا معارض و مخالف کوئی ایک بھی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ”کفایة الطالب“ میں ابومحمد علیہ السلام کی تاریخ ولادت اور آپ علیہ السلام کی تاریخ وفات لکھنے کے بعد بیان کیا کہ انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیٹا چھوڑا جو کہ امام منتظر ہے۔(کفایة الطالب ص ۸۵۴ آٹھویں باب کے ذیل میں)
تیسری شخصیت: نور الدین علی بن محمد بن الصباغ المالکی
بہت سارے بزرگ علماءنے ان کی توثیق کی ہے ان کی بزرگی کو بیان کیا ہے ان علماءمیںبھی ایک محمد بن عبدالرحمن السخاوی البصری ہیں جو حافظ بن حجر العسقلانی کے شاگرد ہیں، ابن الصباغ المالکی نے اپنی کتاب الفصول المھمہ میں لکھا ہے، بارہویں فصل ابوالقاسم الحجة الخلف الصالح بن ابی عہد الحسن الخالص کے متعلق ہے اور وہی بارہویں امام ہیں اور اسی فصل میں ان کی ولادت کی تاریخ اور ان کی امامت کے دلائل تحریر کئے ہیں۔(الفصول المہمہ ذکرالمہدی)
چوتھی شخصیت: شمس الدین یوسف بن قزعلی بن عبداللہ البغدادی الحنفی
یہ عالم، واعظ، ابوالفرج عبدالرحمن بن الجوزی کے نواسے ہیں ۔ انہوں نے اپنی کتاب تذکرة الخواص الامة میں حضرت العسکری علیہ السلام کے حالات زندگی کے بعد ان کی اولاد کے ذکر میں لکھتے ہیں:”م ح م دہیں جو کہ امام علیہ السلام ہیں پھر فرمایا: ”م ح م د“حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام بن جعفر علیہ السلام بن محمد علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن الحسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام ہیں آپ علیہ السلام کی کنیت ابوعبداللہ اور ابوالقاسم ہے اور وہی الخلف، الحجة، صاحب الزمان، القائم، المنتظر ہیں اور وہ آخرالائمہ ہیں۔(تذکرة الخواص ص ۵۲۳ فصل فی ذکر المہدی علیہ السلام)
پانچویں شخصیت:الشیخ الاکبر محی الدین العربی
انہوں نے اپنی کتاب الفتوحات کے باب ۶۶۳ میں لکھا ہے یہ بات تم سب لوگ جان لو کہ مہدی علیہ السلام کا خروج ضروری ہے لیکن وہ اس وقت تک خروج نہیں کریں گے مگر یہ کہ زمین ظلم و جور سے مکمل طور پر بھر جائے گی۔
پس آپ آ کر اسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے، اگر دنیا سے سوائے ایک دن کچھ باقی نہ بچے تو اللہ اس دن کو طولانی کر دے گا، یہاں تک کہ خدا اس خلیفہ کو ولایت دے گا وہ رسول اللہ کی عترت سے ہیں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد سے ہیں ان کے جد حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام ہیں، ان کے والد الحسن العسکری علیہ السلام بن الامام علی النقی علیہ السلام بن الامام محمد التقیعلیہ السلام بن الامام علی الرضعلیہ السلام بن الامام موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن الامام جعفر الصادقعلیہ السلام بن الامام محمد الباقر علیہ السلام بن الامام علی زین العابدین علیہ السلام بن الامام الحسین علیہ السلام بن الامام علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ان کا نام رسول اللہ کے نام جیسا ہے مسلمان، رکن اور مقام کے درمیان ان کی بیعت کریں گے آپ علیہ السلام شکل و صورت یعنی خلقت میں رسول اللہ سے مشابہ ہوں گے اخلاق میں ان سے کم درجہ پرہوں گے کیونکہ رسول اللہ کے اخلاق میں کوئی ایک بھی ان جیسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”( اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ ) “(سورةالقلم آیت ۴)
بتحقیق بلا شک و شبہ تو تو یقینی طور پر خلق عظیم پر ہے۔ آپ کی آنکھیں کھلی ابھری ہوئی چوڑی پیشانی ہوگی باریک بینی والے ہوں گے ۔کوفہ والے سب سے زیادہ ان کے وسیلہ سے سعادت مند ہوں گے مال کو برابر تقسیم کریں گے رعیت میں عدل قائم کریں گے حضرت خضر علیہ السلام آپ کے آگے چلیں گے آپ پانچ یا سات یا نو سال زندگی کریں گے رسول اللہ کے نشانات پر چلیں گے ان کے لئے ایک فرشتہ ہوگاجو ان کی تائید کرے گا جودیکھا نہ جا سکے گا۔یعنی ایک فرشتہ ان کی راہنمائی کے لئے موجود ہوگا جو ان کی حفاظت پر مامور ہوگا رومی اس شہر کو سترہزار مسلمانوں کے ہمراہ ایک تکبیرسے فتح کریں گے اللہ ان کے وسیلہ سے اسلام کو عزت دےگا جب کہ ان سے پہلے اسلام ذلیل ہو چکا ہوگا اسلام مرچکا ہوگا اسے آپ زندہ کریں گے جزیہ ختم کر دیں گے اللہ کی طرف تلوار کے ذریعہ دعوت دیں گے جو انکار کرے گا اسے قتل کر دیں گے جو بھی اس سے جھگڑے گا وہ رسوا ہو گا ہر قسم کی برائی سے پاک دین خالص کی حکومت قائم کریں گے(آخر تک اس گفتگو کو انہوں نے جاری رکھاہے)(الفتوحات المکیہ ج ۳ ص ۹۱۴ یا ۶۶۳ طبع بولاق مصری، الیواقبت والجواہرص ۲۲۴،۳۲۴)
چھٹی شخصیت:الشیخ العارف عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانی
اپنی کتاب الیواقیت کی ج ۲ میں بحث نمبر ۵۶ میں تحریر کیاہے”تمام وہ شرائط جن کو شارع مقدس(رسول اکرم) نے بیان کیا ہے وہ سب برحق ہیں اور قیامت کے بپا ہونے سے پہلے وہ سب کی سب پوری ہوں گی اور اس طرح سے ہے کہ مہدی علیہ السلام کا خروج ہونا پھر دجال کا آنا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول....اس کے بعد تحریر کرتا ہے وہ ہزار سال تک کے واقعات لکھتا ہے پھر تحریر کرتا ہے دین مٹ جائے گا، دین غریب ہو جائے گا اور یہ گیارہویں صدی ہجری سے تیس سال گذر جانے کے بعد سے ہوگا۔
اس وقت مہدی علیہ السلام کے خروج کا بڑی شدت سے انتظار ہوگا اور آپ امام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد سے ہیں آپ علیہ السلام کی ولادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ ہجری قمری کے سال میں ہوئی ہے اور وہ اب تک باقی اور موجود ہیں یہاں تک کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کے ساتھ اکٹھے ہوں گے اور ان کی عمر اس وقت( ۵۸۹ ہجری قمری میں)سات سوتین سال ہے۔
(الیواقبت والجواہرص ۲۲۴ بحث ۵۶)
ساتویں شخصیت:نورالدین عبدالرحمن بن قوام الدین الاشتی الجامی الحنفی
شواہدالنبوة میں لکھا ہے(مقدمہ غیبة النعمانی ص ۴۱)
آٹھویں شخصیت: الحافظ ابوالفتح محمد بن ابی الفوارس
انہوں نے اپنی کتاب اربعین میں لکھاہے۔(منتخب الاثرص ۲۱)
نویں شخصیت :ابوالمجدعبدالحق الدھلوی البخاری
انہوں نے اپنے کتابچہ المناقب میں لکھا ہے: ابومحمد العسکری علیہ السلام کا بیٹا(م ح م د)ہے جس کے بارے ان کے معتمدین اور خاص اصحاب کو معلوم تھا(کشف الغمہ ج ۲ ص ۸۹۴)
دسویں شخصیت: السید جمال الدین عطاءاللہ بن السیدغیاث الدین فضل اللہ بن السید عبدالرحمن
مشہور محدث جس کی کتاب فارسی روضة الاحباب مشہور ہے اس میں وہ لکھتاہے:
بارہویں امام ”م ح م د“ہیں حسن علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ کا مبارک و مسعود تولد ۵۱ شعبان ۵۵۲ ہجری قمری کے سال میں سامرہ کے اندر ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کا تولد ۳۲ رمضان المبارک ۸۵۲ ہجری قمری کے سال ہوا آپ گوہر نایاب کی والدہ ام ولد(کنیز)تھیں جس کا نام صیقل یا سوسن تھا۔
(غیبت مقدمہ نعمانی ص ۴۱ ، مقتضب الاثرص ۲۱)
گیارہویں شخصیت:الشیخ العالم الادیب الدولہ
ابومحمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن الحشاب
انہوں نے صدقہ بن موسی سے اس بات کو نقل کیاہے
(تاریخ موالیدالائمہ لابن الخشاب ص ۵۴ ، کشف الغمہ ج ۳ ص ۵۶۲)
بارھویں شخصیت: عبداللہ بن محمد المطری
انہوں نے امام جمال الدین السیوطی کے حوالے سے احیاءالمیت بفضائل اہل البیت علیہ السلام، رسالہ میں بیان کیا ہے حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام کی اولاد سے مہدی علیہ السلام ہیں جو آخری زمانہ میں مبعوث ہوںگے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں ان کے گیارہویں فرزندمحمد القائم المہدی علیہ السلام ہیں اور ان کے بارے میں نبی اکرم کا واضح بیان گذر چکا ہے کہ ملت اسلام میں مہدی علیہ السلام ہوں گے جو صاحب السیف ہوں گے قائم منتظر ہوں گے(سیوطی کا رسالہ احیاءالمیت الاتحاف بحب الاشراف کتاب کے حاشیہ پر چھپا ہوا موجود ہے لیکن اس میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے کلام موجود نہیں ہے۔یہ نقطہ قابل غور ہے....مصنف) مترجم کہتا ہے ہو سکتا ہے عبداللہ بن محمد الطبری نے اس کو مخطوط رسالہ سے پڑھا ہو لیکن بعد میں چھاپنے والوں نے اس بیان کو نکال دیا ہو)
تیرہویں شخصیت : شہاب الدین
یہ ملک العلماءشمس الدین کے نام سے معروف ہیں، ابن عمرالہندی، البحرالمواج تفسیر کے مصنف ہیں انہوں نے اپنی کتاب ”ہدایة السعدائ“ میں جابر بن عبداللہ انصاری سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جابر کہتے ہیں میں سیدہ فاطمةالزہراءعلیہ السلام بنت رسول اللہ کی خدمت میں حاضرہوا ان کے سامنے تختیاں موجود تھیں جن میں ان کی اولاد سے آئمہ کے نام درج تھے ان میں پہلے زین العابدین علیہ السلام تھے یعنی حسین علیہ السلام سے نو امام جو ہیں ان میں پہلے، دوسرے امام محمدباقرعلیہ السلام ہیں پھر ترتیب وار لکھتے ہوئے بیان کرتے ہیں نویں امام حجت قائم امام مہدی علیہ السلام ان کے بیٹے ہیں، وہ غائب ہیں، ان کی لمبی عمر ہے، جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام مومنین سے اور کافروں سے دجال اور سامری ہیں۔(غیبت نعمانی کے مقدمہ میں اس کانام شہاب الدین آبادی لکھا ہے ص ۵۱ اسی طرح الغدیر میں ج ۶ ص ۶۳۱ حدیث ۲۳۴)
حدیث اللوح کو بہت سارے علماءنے ذکر کیا ہے دیکھیں کشف الغمہ ج ۳ ص ۶۴۲ ، فرائدالسمطین ج ۲ ص ۶۳۱ حدیث ۲۳۴)
چودہویں شخصیت:مشہور عالم فضل بن روزبھان
انہوں نے الشمائل للترمذی کی شرح لکھی ہے آئمہ کی شان میں اس کا منظوم کلام ہے(مترجم کہتا ہے کہ انہوں نے بارہ آئمہ علیہ السلام کے نام بنام صلوات بھی لکھی ہے جس کا ترجمہ ماہنامہ پیام زینب علیہ السلام میں شائع ہواہے)
منظوم کلام، آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں سلام عقیدت
سلام علی المصطفیٰ المجتبیٰ
سلام علی السیدالمرتضیٰ علیه السلام
سلام علی ستا فاطمه علیها السلام
من اختارها الله خیرالنسائ
سلام من المکه الفاسه
علی الحسن الالمعی الرض علیه السلام
سلام علی الاورعی الحسین علیه السلام
شهید بری جسیمه کربلا
سلام علی سیدالعابدین علیه السلام
علی بن الحسین المجتبیٰ علیه السلام
سلام علی الباقر علیه السلام المهتدی
سلام علی الصادق علیه السلام المقتدی
سلام علی الکاظم علیه السلام الممتحن
رضی السیجایا امام التقی علیه السلام
سلام علی التامن الموتمن
علی الرضا علیه السلام سید الاصفیائ
سلام علی المتقی التقی علیه السلام
محمد الطیب المرتجی
سلام علی الاریحی النقی علیه السلام
علی المکرم هادی انوری
سلام علی السید العسکری علیه السلام
امام یجهز جیش الصفا
سلام علی القائم علیه السلام المنتظر
ابی القاسم العرم نور الهدیٰ
لیطلع کاشمس فی عاسق
ینجیه من سیفه المنتقی
قوی یملاءالارض من عدله
کما ملئت جوراهل الهوی
سلام علیه و آبائه
وانصاره ما تدوم السمائ
(کتاب چہاردہ معصوم کے مقدمہ میں ص ۱۳)
پندرھویں شخصیت: العالم العابدالعارف الاورع الباع الالمی الشیخ سلیمان بن خواجہ کلان الحسین القندوزی البلخی
صاحب کتاب ینابیع المودة، اس نے بہت زیادہ اس بات پر زور دیا ہے اور اسے ثابت کیا ہے اپنے ذرائع سے، کہ مہدی علیہ السلام موعود وہی حجت بن الحسن العسکری علیہ السلام ہیں، بہت سارے ابواب میں جس کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
(ینابیع المودة ج ۱ ص ۹۸ باب ۳۷)
سولہویں شخصیت: العارف المشہدی شیخ الاسلام احمد الجامی
انہوں نے بیان کیا ہے کہ عبدالرحمن الجامی نے اس بارے میں اپنی کتاب النفحات میں لکھاہے۔(ینابیع المودة ج ۳ ص ۹۴۳ ، نفحات الانس ۷۵۳ حاشیہ پر)
سترہویں شخصیت: ابن خلکان
انہوں نے اپنی تاریخ میں دیا ہے کہ ابن الازرق نے مبافارقین کی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ یہ حجت مذکورہ کی ولادت ۹ ربیع الاول ۸۵۲ ہجری قمری کے سال میں ہوئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت ۸ شعبان ۶۵۲ ھجری میں ہوئی ہے دوسرا قول زیادہ صھیح ہے اور یہ کہ جس وقت آپ سرداب میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر چار سال تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر پانچ سال تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام سرداب میں ۵۷۲ ہجری قمری کے سال میں گئے، اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ۷۱ سال تھی اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ کیا تھا، اللہ کا ان پر سلام ہو اور اللہ کی ان پر رحمت ہو۔
(الصواعق المحرقہ ص ۴۱۳ ،ص ۷۴۲،۲۱)
اٹھارہویں شخصیت: الشیخ شمس الدین محمد بن یوسف الزیدی
انہوں سے مواج الاصول الی معرفة فضل آل الرسول میں نقل کیا ہے ۔
بارہویںامام مشہور کرامات والے ہیں ان کی منزلت علم کے ذریعے بلند ہے حق کی پیروی میں اور قیام کرنے کے حوالے سے وہ بلندمرتبے والے ہیں جیسا کہ شیعوں نے بیان کیا ہے ان کی ولادت ۵۱ شعبان شب جمعہ ۵۵۲ ہجری قمری کے سال ہے۔ وہ قائم بالحق، الداعی الی منہج الحق، الامام ابوالقاسم محمد بن الحسن ہیں۔ آپ المعتمد کے زمانہ میں سرمن رائے میں موجود تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ نرجس بنت قیصر اور رومیہ ہیں اور ام ولد تھیں۔
انیسویں شخصیت: الشیخ محمد بن المحمود الحافظ البخاری
ان سے ان کی کتاب میں یہ بیان نقل ہوا ہے ابومحمدالحسن العسکری کے بیٹے محمد ہیں اور یہ بات ان کے خاص اصحاب کے لئے معلوم تھی۔(ینابیع المودة ج ۳ ص ۴۰۳)
بیسویں شخصیت: الشیخ عبداللہ بن محمد المطہری الشافعی
ان سے الریاض الزاہرہ فی فضل آل بیت النبی و عترتہ الطاہرہ میں نقل ہوا ہے ابوالقاسم محمد الحجة بن الحسن الخالص کی ولادت سرمن رائے میں ۵۱ شعبان کی رات ۵۵۲ ہجری قمری کے سال ہوئی۔
الحائری نے اس پورے بیان کو الزام الناصب میں نقل کیا ہے اور الشیخ النوری نے النجم الثاقب میں بھی اسی طرح کا بیان نقل کیا ہے یعنی ان تمام شخصیات کا تذکرہ ان دونوں کتابوں میں موجود ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بقاءکا مسئلہ
لمبا زمانہ گزر جانے کے باوجود حضرت امام مہدی علیہ السلام کا موجود ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ان ہونا امر ہے۔کیونکہ یہ بات اللہ کی قدرت سے باہر نہیں اور کسی بھی وجہ سے ایسا ہو سکتاہے اور وہ سبب ابلیس کی بقاءسے زیادہ برا تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جس کی بقاءمیں عالمین کے لئے گمراہی ہے مگر یہ کہ جنہیں اللہ تعالیٰ بچالے۔
اس کے علاوہ روایات و اخبار نے بیان کر دیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے غیب ہونے کی مصلحت ہدایت مطلقہ ہے اور یہ کہ ظلم اور تاریکیوں کا بالکل ختم کیا جا سکے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بقاءپر دلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت الیاسعلیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی بقاءاولیاءاللہ سے ہے اور اللہ کے دشمنوں میں ابلیس اور دجال کی بقاءہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”( وَاِن مِّن اَهلِ الکِتَابِ اِلَّا لِیُو مِنَنَّ بِه قَبلَ مَوتِه ) “(النساءآیت ۹۵۱)
ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ اہل کتاب ان کی موت سے پہلے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے)ان پر ایمان لے آئیں گے اور ابھی تک سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے پس ضروری ہے کہ ایسا آخری زمانہ میں ہو۔
ابونعیم الطبری اور دوسروں نے روایت کی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام(السیع) زندہ اور باقی ہیں اور یہ کہ دونوں اللہ کی زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔(البیان الکنجی الشافعی ۹۴۱ ، الباب الخامس والعشرون، الطبری سے دلائل النبوة ج ۲ ص ۹۴۵ ، الفضل ص ۳ طبع ہند، دکن، الفردوس ج ۲ ص ۲۰۲ حدیث ۰۰۳ ، طبع دارالکتب العلمیہ اور ص ۰۲۳ حدیث ۲۲۸۲ ، المطالب العالیہ ج ۳ ص ۸۷۲ ص ۴۷۴۳)
الزمحشری نے لکھا ہے: انبیاءسے چار زندہ ہیں دو آسمانوں پر ہیں ،عیسیٰ علیہ السلام اور ادریس علیہ السلام دو زمین پر ہیں الیاس علیہ السلام اور خضر علیہ السلام (ربیع الابرار ج ۱ ص ۷۹۳ ، مشارق الانوار ص ۱۲ فصل نمبر ۳ باب ۱)
اشعار اس بارے ملاحظہ ہوں۔
منظوم کلام، آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں سلام عقیدت
والمرتضی قول الحیاة فکم له
حجج تجل الدهر عن احصائ
خضر و الیاس بارض مثل ما
عیسیٰ و ادریس بقوا بسمائ
هذا جواب ابن السیوطی
یرجومن الرحمن خیر جزائ
ابونعیم نے عامر بن الفھر اور العلاءبن الحضرمی کے بارے بیان کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی مانند انہیں آسمان پر ااٹھا لیا گیاہے۔( ۲)
بہرحال دجال کی بقاءکا مسئلہ تو اس پر سب کا اتفاق ہے اور اس بارے بہت ساری روایات موجود ہیں۔( ۳)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ الایر میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کنوئیں میں موجود ہے۔( ۴)
ابلیس کی بقاءپر تو قرآن کی نص ہے ”( وَقَالَ اَنظِرنِی اِلیٰ یَو مِ یُبعَثُونَ قَالَ: اِنَّکَ مِنَ المُنظَرِینَ ) “(الاعراف ۵۱)
یاجوج اور ماجوج کی بقاءبھی بعید از قیاس نہیں ہے۔( ۶)
مزید برآں جو کچھ انبیاءکی عمروں اور ان کی لمبی زندگی بارے بیان موجودہے۔( ۷) اس کے علاوہ بھی ہر زمانہ میں اس زمین پر لمبی عمر رکھنے والے لوگ موجود رہے ہیں اور اب بھی موجود ہیں کبھی کبھار ان کا تذکرہ ہو جاتا ہے ان کی عمر ہی عام انسانوں کی عمر سے زیادہ اور لمبی ہوتی ہیں۔( ۸)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بقاءکے دلائل
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجة الوداع کے موقع پر:
”ان الحمدلله نحمده ونستعینه ....“اس کے بعد پورا خطبہ ہے جس میں آپ نے فرمایا....کیا میں نے تمہیں یہ سب کچھ پہنچا دیا، اے اللہ تو گواہ رہنا! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا اور ایک دوسرے کی گردنوں کو نہ کاٹنا، بتحقیق میں نے تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم نے ان کو لے لیا اور ان سے مربوط رہے تو میرے بعد گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب ہے اور میرے اہل البیت علیہ السلام ہیں، اے اللہ تو گواہ رہنا! اور بتحقیق لطیف و خبیر نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں اکٹھے میرے پاس حوض پر آئیں گے پس تم ان دونوں پر تقدم نہ کرنا وگرنہ تم سب ہلاک ہو جاو گے اور نہ ہی ان کے حق میں کوتاہی کرنا کیونکہ ایسا کرنے سے بھی تم ہلاک ہو جاو گے اور تم ان کو کچھ تعلیم نہ دینا کیونکہ یہ دونوں تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔(مجمع الزوائد ج ۹ ص ۳۶۱،۴۶۱ ، البغیہ ج ۹ ص ۸۵۲ حدیث ۳۶۹۴۱) السیوطی نے اس روایت کو ابن اخطب سے اخراج کیا ہے(احیاءالمیت ص ۰۴۲) اور ایفاءنے المختارہ میں اور ابن عقدہ نے حذیفہ سے اسے روایت کیا ہے(ینابیع المودة ص ۷۳ طبع اسلامبول، ج ۱ ص ۱۴ طبع نجف، جواہرالعقدین باب رابع ص ۵۳۲)
ابونعیم اور ابن عقدہ نے ابوالطفیل سے نقل کیا ہے(ینابیع المودة ص ۷۳ طبع اسلامبول، ج ۱ ص ۱۴ طبع نجف، جواہرالعقدین باب رابع ص ۵۳۲) ابن عقدہ نے عامر بن ابی ضمرہ سے اور ام سلمہ سے، جابر سے، ابی رافع سے نقل کیا ہے(ینابیع المودة ص ۷۳ طبع اسلامبول، ج ۱ ص ۱۴ طبع نجف، جواہرالعقدین باب رابع ص ۵۳۲) ابرار نے اپنی مسند میں اور ابن عقدہ نے ام ھانی سے اسی کو امام زید نے علی سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس وقت رسول اللہ کی مرض شدید ہو گئی اورآپ کاحجرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا میرے پاس حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کو لے آو....ان دونوں کے لئے میرے بعد تکلیف ہو گی، پھر آپ نے فرمایا اے لوگو! آگاہ رہو میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب، اپنی سنت اور اپنی عترت اہل بیت علیہ السلام کو پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہوں جس نے اللہ کی کتاب کو ضائع کردیا تو اس نے میری سنت کو ضائع کر دیا اور جس نے میری سنت کو ضائع کر دیا تو اس نے میری عترت کو ضائع کر دیا آگاہ رہو کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میں ان سے حوض پر ملاقات کروں گا۔(مسندالامام زیدص ۶۳ باب فضل العلمائ)
اس کا اخراج ابن عقدہ نے جناب فاطمة الزہراءعلیہ السلام سے کیا ہے(ینابیع المودة ص ۰۴ طبع اسلامبول، ج ۱ ص ۴۴ طبع نجف)
اس حدیث کو حدیث الثقلین کہا جاتا ہے اور یہ حدیث مشہور احادیث سے ہے اور احادیث متواترہ سے ہے اسے بہت سارے حفاظ احادیث نے اپنی اپنی کتب میں روایت کیاہے(سابقہ حوالے کے علاوہ دیکھیں کنزالعمال ج ۱ ص ۶۸۱ ص ۰۵۹ اور ۳۵۹ ، ترجمة الامیرمن تاریخ دمشق ج ۲ ص ۶۳،۶۴ حدیث ۶۳۵،۷۴۵ ، الفصول المھمہ ص ۰۴ ، مصابیح السنہ ج ۴ ص ۵۸۱ حدیث ۰۰۸۴ ، المستدرک ج ۳ ص ۳۵ ، کتاب المغازی)
حدیث ثقلین کی امام مہدی علیہ السلام کی بقاءپر دلالت
المسعودی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ثقلین کا لغوی معنی تحریر کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ طے شدہ امر ہے کہ قرآن مجید اور عترت طاہرہ دونوں دینی علوم کا مصداق و منبع ہیں اور شریعت کے نفائس کا خزانہ ہیں، شرعی رازوں کاخزینہ ہیں، شریعت کی باریکیوں کا مرکز ہیں اور اس سے شریعت کے دقیق نقطوں کا اخراج کرنے کا منبع ہیں، رسول اللہ نے ان دونوں پرثقلین کا لفظ بولا ہے(الرشفة الصادی رشفة ۸۲۱) ( مترجم: ثقل وزنی شئے،قیمتی شئے اہمیت والی چیز،قدرت شان والی چیزثقلین کا لفظ دونوں جہانوں پر بھی بولا گیا۔اس حدیث میں پہلا معنی مرادلیا گیا ہے۔اس معنی کو لغث میں بیان کیا گیا ہے۔رسول اللہ نے امت کو یہ راہنمائی دی اوراس پرتاکیدفرمائی اورانھیں شوق بھی دلایا کہ وہ ان دونوں سے علم حاصل کریں یہ دونوں ہدایت کا مرکز ہیں ۔انکی پیروی کریں اوران دونوں سے تمسک رکھیں۔
امام احمد کی حدیث میں آیا ہے ”الحمدالله الذی جعل فیناالحکمة اهل البیت علیه السلام ،،تمام حمداللہ کے لیے ہے کہ جس نے ہم اہل البیت میں حکمت ودانائی کو قراردیا ہے۔(فضائل الصحابہ لاحمدج ۲ ص ۴۵۶ حدیث ۳۱۱۱ ذخائرالعقبی صفحہ ۰۲،۰۸) اس کے بعدیہ حدیث بھی پڑھیں گے کہ اہل البیت علیہ السلام امت کے لیے امان ہیں۔(الصواعق المحرقہ میں ابن حجر کی گفتگو اس امر سے شباہت رکھتی ہے اس میں دیکھیں ص ۱۵۱ طبع مصر ص ۱۳۲،۲۳۲ طبع بیروت)
اس کے بعد المسعودی کہتاہے: اس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ ایسی شخصیت اہل البیت علیہ السلام سے قیامت کی آمد تک موجود رہے گی جو اس بات کی اہلیت رکھتی ہو کہ اس سے تمسک کیا جائے اور اس سے ہدایت لی جائے اور وہ تاکید کرتا ہے کہ ان سے تمسک کیا جائے جس طرح قرآن کریم بھی اسی طرح ہے اسی لئے یہ دونوں امت کے لئے امان ہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔اگر یہ دونوں چلے گئے تو پھر زمین ہی نہ رہے گی۔
(جواہر العقدین ۵۴۲،۳۴۲،۷۵۲،۲۶۲ باب الرابع، ینابیع المودة ص ۳۷۲ طبع استمبول اور طبع النجف ص ۷۲۳ باب ۷۵)
الخوارزمی نے اللہ تعالیٰ کے قول کو لوامع الصادقین کے ضمن میں اس بات کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ ذات علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام ہیں(مناقب الخوارزمی ص ۰۸۲ ،حدیث ۳۷۲۱ فصل ۷۱)
جناب رفاعی، ابن حجر، الخفاجی جیسے معروف مورخین نے بھی اسی طرح کی بات انہی کتابوں میں لکھی ہے(دیکھیں المشروع الروی: ج ۱ ص ۰۲،۱۲ ۔ الصواعق ص ۱۵۱ طبع مصر ، طبع بیروت ص ۰۳۲،۱۳۲ ، آیت مودة کی تفسیر میں)
توفیق ابوعلم نے لکھا ہے اس حدیث کے مختلف اسناد کو بیان کرنے کے بعد یہ بات طبعی اور واضح ہے کہ کوئی اقدام جو دینی احکام کے مخالف ہو گا وہ کتاب سے جدائی تصور کیا جائے گا اور نبی پاک نے فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک اکٹھے حوض پر وارد ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل بیت علیہ السلام سے کوئی عمل ایسا سرزد نہ ہو گا جودینی احکام کے مخالف ہو، اسی طرح یہ حدیث اہل البیت علیہ السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ہے اور یہ بڑی واضح اور روشن ہے۔(دیکھیں، الاعتصام ج ۳ ص ۴۵۱)
نبی اکرم نے اس حدیث کا متعدد جگہوں پر تکرار فرمایا ہے جس سے آپ یہ چاہتے تھے کہ امت انحراف سے بچی رہے اور صحیح راستہ پر قائم رہے عقائدی اور دینی احکام کے میدانوں میں منحرف نہ ہو۔ اسی لئے بار بار تاکید کی گئی کہ اگر تم قرآن اور اہل بیت علیہ السلام سے میرے بعد تمسک رکھو گے تو پھر تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
اس کے بعد وہ لکھتاہے: اسی حدیث سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ اہل البیت علیہ السلام سے ہر زمانہ میں کوئی فرد ضرور موجود رہے گااگر کوئی ایک زمانہ بھی اہل البیت علیہ السلام سے خالی ہو گیا تو اس کے نتیجہ میں اہل البیت علیہ السلام کی قرآن مجید سے جدائی ثابت ہو جائے گی جب کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں گے ساتھ ساتھ ہوں گے، قرآن مجید موجود ہے تو اہل البیت علیہ السلام کے فرد بھی جو قرآن کے ہم پلہ ہیں وہ بھی موجود ہیں دونوں نے اکٹھے حوض کوثر پر وارد ہونا ہے(اہل البیت علیہ السلام لتوفیق ص ۸۷،۹۷)
ابن ابی شیبہ نے زین بن حارث سے روایت بیان کی ہے ”انی تارک فیکم الثقلین من بعد کتاب الله وعترتی اهل بیتی وانهمالن یفترقا حتی یردا علی الحوض “
بتحقیق میں تمہارے میں دو خلیفے چھوڑ کر جا رہا ہوں، اپنے بعد، اللہ کی کتاب ہے اور میری عترت اہل البیت علیہ السلام ہے اور یہ کہ دونوں ہرگزایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں اکٹھے میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔
(المصنف ج ۶ ص ۳۱۳ حدیث ۰۷۶۱۳ کتاب الفضائل باب مااعطی اللہ محمداور جواہرالعقدین ص ۶۳۲ الباب الرابع المعجم الکبیرج ۵ ص ۳۵۱ حدیث ۱۲۹۴ ، مسند احمد ج ۵ ص ۲۸۱ ، طبع مصر اور طبع بیروت ج ۶ ص ۲۳۲ حدیث ۸۶۰۱۲،۵۴۱۱۲)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اس حدیث کا معنی کیاہے؟”اور عترت سے مراد کون ہیں؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا میں خود حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کی اولاد سے آئمہ علیہ السلام کہ ان کا نواں مہدی علیہ السلام ہو گا یہ سب کتاب اللہ سے جدا نہیں ہوں گے اور کتاب اللہ ان سے جدا نہیں ہوگی یہاں تک کہ دونوں رسول اللہ کے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۹۰۵)
ان سب بیانات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی اکرم کا ہدف یہ تھا کہ آپ امت کو قرآن اور عترت کی فضیلت و عظمت ان کے واسطے بیان کر دیں اور یہ کہ امت ان کے اقوال کو لے ان سے دستورات حاصل کرے، اپنے تمام معاملات میں انہیں مقدم قرار دے، خاص کر الٰہی خلافت کے جو معاملات ہیں، اللہ کی زمین میں کہ خلافت الٰہی کے منصب کے لئے شرط یہ ہے کہ اس منصب پر ایسا شخص ہو جس سے غلطی نہ ہو، بھول چوک سے وہ مبرا ہو، تاکہ امت صحیح راستہ پر باقی رہے اور اسے استحکام ملے، رسول اللہ نے وضاحت کر دی کہ اس صفت کے حاملین فقط قرآن اور اہل بیت علیہ السلام ہیں اور یہ دونوں اکٹھے حجت ہیں ، معصوم ہیں، ہر زمانہ میں یہ دونوں ہوں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک رہے گا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ حدیث جو صحیح ہے، متواتر ہے، مسلم ہے، اس کا معنی اور مفہوم صحیح نہیں بنتا مگر اس صورت میں جب ہم اس بات پر ایمان لے آئیں اور یقین کر لیں کہ قرآن کا ہم وزن اور ہم پلہ اس زمانہ میں بھی موجود ہے اور وہ عترت سے ہے اور وہی امام مہدی علیہ السلام ہیں قرآن مجید کی طرح معصوم ہیں اور غلطی سے پاک ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ اسی طرح باقی رہے گا۔ان دونوں کی ذمہ داری مشترکہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر دور میں اسلام کی حمایت کرنا، اسلام کی برتری کوثابت کرنا، اسلام کو تحریف سے محفوظ رکھنا اور وہ ذات سوائے امام مہدی علیہ السلام محمد بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف علیہ وآلہ وآبائہ الاف التحیة والسلام کے کوئی اور نہیں ہے (مترجم:امام مہدی علیہ السلام کے موجود ہونے پر حدیث معرفت امام زمانہ علیہ السلام بھی دلالت کرتی ہے، حدیث متواتر سے ہے کہ آپ نے فرمایا بتحقیق جواس حالت میں مر جائے کہ وہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت نہ رکھتا ہو تو وہ کفر کی موت مرا، یا ہر مسلمان پر ایک امام کی بیعت فرض ہے۔
اسی مضمون کی بہت ساری احادیث ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کرے اس کی بیعت کا طوق اپنی گردن میں ڈالے ،اس کے پیچھے چلے، اس کی پیروی کرے یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ ہر دور میں امت اپنے لئے امام کا انتخاب کرے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ امام کی معرفت حاصل کرے، معرفت اس کی حاصل کی جاتی ہے جو موجود ہو اور پھر امت کو اس کی پیروی کے لئے حکم دیا گیا ہے پیروی اس کی واجب ہو گی جو معصوم ہو۔
اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آسانی سے آ جاتی ہے کہ اس دور میں بھی امام علیہ السلام موجود ہیں اور وہ معصوم ہیں ان کی معرفت ہر مسلمان پر واجب ہے اگر معرفت حاصل نہ کریں گے تو کفر کی موت مریں گے ۔یہ مفہوم اور معنی اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب اس بارے ایمان لائیں اور یقین کر لیں کہ اس دور کے امام حضرت امام مہدی علیہ السلام بن الحسن العسکری علیہ وعلی آبائہ الاف التحیة والسلام و عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں ، ان کی معرفت حاصل کرنا سب پر واجب ہے اور وہی صاحب الزمان علیہ السلام ہیں، حجت ہیں خلیفة اللہ ہیں، بقیة اللہ ہیں، صاحب العصر ہیں، ولی اللہ ہیں، خاتم الائمہ ہیں، خاتم الخلفاءہیں، سید ہیں۔حدیث معرفت امام، حدیث بیعت اولی الامر، تمام کتب احادیث میں موجود ہے۔مترجم
غیبت کیوں اور کس لئے؟
اس جگہ ایک سوال سامنے آتا ہے کہ امام علیہ السلام اپنے وقت سے پہلے خروج کیوں نہیں کریں گے؟ اور غیبت کا مقصد کیا ہے؟
ہم اس جگہ غیبت کے بارے عملی بحث نہیں چھیڑنا چاہتے بلکہ اس جگہ کچھ اور واقعات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر جواب دینا چاہتے ہیں ۔
غیبت کے جواز کے لئے چند امور پیش کئے جا سکتے ہیں۔
۱ ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت جس نے پورے عالم پر حکم چلانا ہے اس کے پورے کارندے اور اسے چلانے والی شخصیات کے مکمل ہو جانے کی خاطر غیبت اختیار کی گئی جو ابھی مردوں کی پشتوں میں موجود تھے جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے، مومنوں کی امانتیں کافر اقوام کی صلبوں میں موجود ہیں اسی طرح حضرت قائم علیہ السلام ہرگز ظہور نہ فرمائیں گے مگر یہ کہ کافروں کی پشتوں میں اور ان کی صلبوں میں جتنے بھی مومنین ہیں وہ سب وجود میں آ جائیں۔ جب تک ایک مومن بھی کسی کافر کی پشت میں موجود ہے اس وقت تک امام تشریف نہ لائیں گے۔ اللہ کی امانتیں جو کافروں کی پشتوں میں رکھ دی گئی ہیں ان سب کا وجود میں آجاناضروری ہے پس جب یہ سب کافروں کی پشتوں سے نکل آئیں گے تو اس وقت آپ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور سارے کافروں کو قتل کر دیں گے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے، آپ کی آمد سے قبل سب پر حجت تمام ہو چکی ہو گی (کمال الدین ص ۱۴۶ ، بحارالانوار ج ۲۵ ص ۷۹ حدیث ۹۱ ۔ علل الشرائع ص ۷۴۱،۲۲۱ حدیث ۲)
اس کے لئے ایک لمبے زمانہ کی ضرورت ہے۔
۲ ۔ امت کی چھان پھٹک، انسان اپنی زندگی میں جتنی مشکلات اور پریشانیوں سے گزرتا ہے ان میں گذرکر ایمان پر قائم رہے، اس امت کو بہت ساری آزمائشوں سے گذرنا ہے یہ مصائب کی بھٹی میں کندن ہو کر نکلے اور اس میں یہ صلاحیت سامنے آ جائے کہ وہ عادلانہ حکومت کا استقبال کر سکتی ہے اور عادلانہ حکومت کے سربراہ کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو چکی ہے کیونکہ جب وہ آئیں گے تو انہیں عدل مطلق کو نافذ کرنا ہے جس کی مثال اس سے پہلے دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس کے لئے امت کی تربیت، اس کی آزمائش، اس کی پرکھ ضروری ہے؟
حضرت ابوعبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں انہیں اس دھرتی پر اس طرح توڑا جائے گا جس طرح سونے کو توڑا جاتا ہے یعنی جیسے خالص سونے کو ناخالص سونے سے جدا کرنے کے لئے اسے آگ میں ڈالا جاتا ہے اسی طرح اس امت کے سامنے بھی کیا جائے گا تاکہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف پلٹ آئے۔
(مختصر البصائر ص ۸۲ ص ۳۳۱ ، البحارج ۳۵ ص ۴۴)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”( یَومَ هُم عَلَی النَّارِ یُفتَنُونَ ) “وہ ایسا دن ہو گا کہ انہیں آگ پر آزمایا جائے گا، آگ کی بھٹی میں ڈال کر ان کی آزمائش ہوگی، انہیں پرکھا جائے گا(الذاریات آیت ۳۱)
”( اَحَسِبَ النَّاسُ اَن یُّترَ کُوا اَن یَّقُولُوا اَمَنَّا وَهُم لَا یُفتَنُو نَ ) “ ”کیا لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور پھر انہیں آزمائش میں نہیں ڈالاجائے گا۔(سورہ العنکبوت آیت ۲)
اس کے ضمن میں بیان ہوا ہے انہیں اس طرح صاف و شفاف کیا جائے گا جس طرح سونے کو صاف و شفاف و چمکیلا اور خالص بنایا جاتاہے....امام نے اس کے بعد مزید فرمایا انہیں اس طرح خالص کیا جائے گاجس طرح سونے کو ملاوٹ سے خالص کیاجاتاہے۔(غیبت نعمانی ص ۰۱۲ ،حدیث ۲)
پرکھنا،چیک کرنا،چھان پھٹک کرنا جس طرح ایک فرد کی ہو گی اسی طرح پوری امت کی بھی من حیث المجموع ہو گی؟ اور وہ کیسے ہوگی؟ امت کی تمحیص کا مطلب امت کی پرکھ نسل درنسل مختلف اداروں، دفتروں، سرکاری ذمہ داریوں اور حکومتی عہدوں، حکومتوں کی تشکیل میں شرکت اور اس میں کام کرنے اور اس کی حمایت یا عدم حمایت کرنے کے ذریعہ ہو گی تاکہ اس لمبی مدت میں جو نقائص سامنے آتے جائیں گے ان کے متبادل سامنے آتے جائیں گے اور نظام احسن اور اجمل اکمل کی طرف امت بڑھتی جائے گی مزید تفصیل آگے آئے گی۔
۳ ۔ افکار کا کامل ہونا، ذہنی ارتقاءہونافکری ارتقاع حاصل ہوجانا، انسانی علوم کا اتنی ترقی کو پانا کہ وہ عادلانہ اور سائنسی و علمی بنیادوں پر قائم حکومت کی حقیقت کا ادراک کر سکیں اور یہ سائنسی اور علمی اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں تبدیلی اور ترقی کرنے سے ہی ہو گا ۔
اللہ تعالیٰ انہیں یہ ساری صلاحیتیں دے گا، ترقی کے اسباب ان لوگوں کے لئے مہیا ہوں گے، خفیہ رازوں سے پردے اٹھیں گے کہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں رہنے والوں کے لئے آپ کی غیبت اس طرح ہو جائے گی جس طرح وہ لوگ ان کا مشاہدہ کر رہے ہیں جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے بعد میں ذکر ہوگا۔
۴ ۔ تمام سیاسی اور اجتماعی منصوبہ جات انسان کی مشکلات حل کرنے کے لئے آزما لئے جائیں، کوئی بھی پلان انسانی فکر اور سوچ میں باقی نہ رہ جائے کہ جس کے متعلق وہ انسان یہ کہہ سکے کہ اگر فلاں شکل یا نظام اپنایا جانا تھا تو انسانی مشکلات کو حل کیا جا سکتا تھا یہ اس لئے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد پر ان کی قیادت بارے کسی کے لئے کوئی اعتراض باقی نہ رہے جیسا کہ حدیث میں اشارہ ملتا ہے۔
امام علیہ السلام فرماتے ہیں”ہماری حکومت آخری حکومت اپنی نوع کے لحاظ سے ہو گی کوئی بھی ایسا خاندان، قبیلہ، گھرانہ ، قوم و ملت اس روئے زمین پر نہ رہے گا مگر یہ کہ ان کی حکومت قائم ہو چکی ہو گی اور وہ سب ہمارے سے پہلے اپنے نظاموں کو اپنا چکے ہوں گے تاکہ جب وہ لوگ ہمارے نظام حکومت کو دیکھیں اور حکومتی معاملات میں ہماری روش کا مشاہدہ کریں تو وہ یہ نہ کہیں کہ اگر ہمیں حکومت ملی ہوتی تو ہم بھی ایسا ہی نظام اپناتے اور اس طرح حکومت چلاتے، یعنی جو بھی اس روئے زمین پر حکومت کر سکیں گے وہ ہم سے پہلے حکومت کر لیں گے ہماری حکومت سب کے لئے نئی ہو گی اور اس کی مثال پہلے موجود نہ ہو گی اور کوئی بھی اس قسم کے دعویٰ کرنے والا موجود نہ ہو گا کہ وہ یہ کہہ دے کہ ہمیں حکومت ملتی تو ہم بھی ایسا کرتے سارے اپنا اپنا دور پور کر چکے ہوں گے۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۲۳۲ ،حدیث ۸۵) اس کی مزید وضاحت بعد میں آئے گی۔
امام حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے دیدار کا امکان
فرقہ امامیہ کے ہاں یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ امام غیب کو دیکھنا ممکن ہے غیبت صغریٰ میں تو اجماع ہے اور غیبت کبریٰ کے بارے بھی مشہور نظریہ یہی ہے۔
پہلا دیدار
بظاہر پہلا دیدار جو غیبت صغریٰ میں حاصل رہاوہ آپ کے چار سفراءرحمھم اللہ تھے اسی طرح کچھ اورافراد کو بھی یہ سعادت حاصل ہوتی رہی ۔
جب کہ دوسری قسم کا دیدار تو یہ کسی ایک فرد کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر شخص آپ سے ملاقات کر سکتا ہے لیکن یہ دیدار اورملاقات اس صورت میں حاصل ہو گی جب وہ ساری شرائط موجود ہوں جو امام غائب سے ملاقات کے لئے ضروری ہیں۔
امام غائب سے ملاقات اور آپ کے دیدار کی شرائط
پہلی شرط
آپ علیہ السلام کا دیدار کرنے والا شخص آپ علیہ السلام کے خاص موالیوں سے ہو جیسا حضرت ابوعبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے ۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا:”قائم کے لئے دو غیبتیں ہیں ایک دوسری سے مختصر اور چھوٹی ہو گی اور دوسری لمبی غیبت ہو گی، پہلی غیبت میں آپ علیہ السلام کی رہائش کے بارے کسی کو آگہی نہیں ہو گی مگر آپ علیہ السلام کے خاص شیعوں کو معلوم ہو گاکہ آپ کس جگہ رہائش پذیر ہیں جب کہ دوسری غیبت میں آپ علیہ السلام کے خاص موالیوں(موالیوں کا مقام و درجہ اس روایت کے مطابق آپ علیہ السلام کے خاص شیعوں سے زیادہ ہے اور موالیوں میں سے بھی سب سے زیادہ قرب والے افراد جو بہت ہی خاص ہوں گے ان کے لئے یہ سعادت حاصل ہو گی)کے سوا کوئی بھی آپ علیہ السلام کی رہائش سے آگاہ نہ ہوگا۔
(اصول الکافی ج ۱ ص ۰۴۳ حدیث ۹۱ ، باب الغیبة الغیبت نعمانی ص ۹۸)
دوسری شرط
کوئی مصلحت موجود ہو کہ جس کا حصول ملاقات کے بغیر ممکن نہ ہو، جیسے اسلام کی حیثیت خطرہ سے دوچار ہویاکوئی ایسا واقعہ درپیش ہو جس میں مسلمانوں کی ہلاکت اور تباہی کا خطرہ ہو یا کوئی اور اہم مسئلہ ہو کہ جس کی حقیقت کو واضح کرنا اسلام کی حقانیت،حیثیت اور شان بچانے کے واسطے ضروری ہو۔
جب ہم ان لوگوں کے حالات پڑھتے ہیں کہ جنہوں نے امام غائب علیہ السلام سے ملاقات کی ہے تو اس سے یہی کچھ معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی لوگوں کی زندگی بچانے کا مسئلہ درپیش ہوا جیسے بحرین کے شیعوں کا واقعہ ہے یا کوئی شرعی مسئلہ تھا یا اسی سطح کے کچھ اور امور تو اس میں امام علیہ السلام نے ملاقات فرمائی اور وہ اس خاص مصلحت کی خاطر جس کا حصول ضروری سمجھا گیاایسی ملاقات ہوئی۔
تیسری شرط
بعض لوگوں کی حاجت روائی کے حوالے سے ملاقات کا ہونا، کسی شخص کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش رہا یا کسی اور کوکوئی مسئلہ درپیش تھا اور وہ شخص امام علیہ السلام سے اس کا حل چاہتا ہے کہ امام علیہ السلام سے ملاقات کے بغیر اس حاجت کے پورے ہونے کا امکان نہ ہو تو پھر دیدار ہوتا ہے اور ایسے واقعات بھی تاریخ کے اوراق میں موجودہیں۔
چوتھی شرط
غیبت کے زمانہ میں دیدار اور ملاقات کرنے والاشخص اس بات کا پابندہو کہ اس نے اس ملاقات کا اعلان نہیں کرنا نہ ہی اس واقعہ کو مشہور کرنا ہے، یہ بات اس تحریر سے ثابت ہوتی ہے جو امام علیہ السلام نے شیخ مفیدؒ کو لکھی ہے جس میں آپ علیہ السلام کا یہ فرمان موجود ہے”اس بات کو محفوظ کر لو اور کسی کو ہمارا یہ خط مت دکھاو جو ہم نے تحریر کیاہے جو کچھ اس خط میں موجود ہے اور جس کی ہم نے کسی ایک کے لئے ضمانت اس خط میں دی ہے“۔(الزام الناصب میں لفظ بمالہ کی جگہ بمافیہ ہے، دیکھیں بحارالانوار ج ۳۵ ص ۶۷)
(مترجم:اس شرط سے مراد یہ ہے کہ دیدار کرنے والا اپنی زندگی میں ایسا نہ کرے کیونکہ امام علیہ السلام نے اپنے آخری نائب کے ذریعہ تمام شیعوں کے لئے یہ حکم دے دیا ہے کہ میری غیبت کے زمانہ میں اگر کوئی شخص مشاہدہ اور دیدار کا دعویٰ کرے تو اس کو جھٹلا دو، اس طرح دعویٰ کرنے والے کی توہین ہو گی اگرچہ وہ سچ بول رہا ہوگا، دوسرا امراس قسم کے اعلان میں اور بہت ساری خرابیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے امام علیہ السلامنے منع فرما دیا البتہ اس شخصیت کی وفات کے بعد اس کی تحریروں سے اس واقعہ کا ثابت ہو جانا اس بات پر دلیل ہے کہ امام علیہ السلام نے اس سے منع نہیں کیا)
ایک سوال: اس جگہ یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ شرط شیخ مفیدؒ کے زمانہ کے لئے تو ٹھیک ہے لیکن یہ ہمارے زمانہ کے لئے شاید ایسا نہ ہو، ہمارے زمانہ میں یہ پوچھا جا سکتا ہے امام علیہ السلام کے خط کو دیکھنا یا اس خط سے کسی رائے کولینا خاص امورکے بارے میں تو اس بارے کیا مانع اور کون سی رکاوٹ ہے یہ درست ہے کہ شیخ مفیدؒ کے زمانہ کے بعد ان کے پاس جو خطوط آئے اس سے کسی رائے کو اخذ کرنا اور اس سے استفادہ تو اس میں مانع نہیں ہے۔
جی ہاں! یہ بات معین مصلحت کے مطابق ہو گی اور دقیق اہم خصوصیات کی روشنی میں جو زیارت کرنے والے کو حاصل ہیں ہر ایک کے لئے ایسا نہیں ہے۔
پانچویں شرط
علامہ طباطبائی نے شیخ مفیدؒ کے حالات زندگی میں جو کچھ لکھا ہے اس سے جو استفادہ ہوتا ہے۔ آپ نے شیخ مفیدؒ کے لئے جو توقیعات جاری فرمائی ہیں ان کو ذکر کرنے کے بعد علامہ کی بات سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ دیدار کرنے والاشخص جس وقت امام علیہ السلام سے ملاقات کر رہا ہوتا ہے تو اس حالت میں وہ اس ملاقات کا اعلان نہ کرے(البتہ ملاقات ختم ہو جانے کے بعداور امام علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد اگر اس ملاقات بارے بیان کرے تو اس سے ممانعت موجود نہیں ہے)
بعد والے صفحات میں ایسی روایات بیان ہوں گی کہ جن سے ان پانچ شرائط کو سمجھا جا سکتاہے۔ البتہ یہ پانچ شرائط علت تامہ کے عنوان سے نہیں ہیں اور نہ ہی اس لحاظ سے ہیں کہ یہ پانچ شرائط علت نامہ کے اجزاءہیں جب سارے پورے ہو جائیں تودیدار ہوجانا ہے اور یہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کچھ ایسے معیار ہمارے پاس موجود ہوں کہ جن کی روشنی میں جو شخص امام علیہ السلام سے ملاقات کا دعویٰ کر رہا ہے اسے پرکھا جا سکے کیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بے وزن اور بے حیثیت بات ہے کہ ہرایک جب چاہے اس قسم کا دعویٰ کر دے اگر ملاقات کا مسئلہ اتنا آسان اور مکمل ہوتا اور ہر ایک کی دسترس میں یہ بات ہوئی تو پھر غیبت کی حکمت ہی ختم ہو جاتی ہے بلکہ امام علیہ السلام کا دیدارایک لطف الٰہی ہے جس کسی کو یہ نصیب ہو اور یہ توآئینہ دل کی پاکیزگی اور ثقافیت کو سامنے رکھ کر تقویٰ کی منزلوں کو طے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندگان میں سے بھی جس پر اپنا لطف و کرم فرما دے اورپھر اس شخص کواپنے امام علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو جائے۔(مترجم۔۔اللهم ارزقنا رویته وزیارته و دعائه، اللهم ارنا الطلعة الرشیده والفرة الحمیده )
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دیدار واسطے شرعی ذرائع
جو شرائط زیارت اور دیدار کے لئے بیان کی ہیں ان کے علاوہ بعض ایسے وسائل اوراعمال اہل البیت علیہم السلام کی زیارت اور دیدار کے لئے آئمہ اہل البیت علیہم السلام سے وارد ہوئے ہیں کہ جو شخص ان اعمال کو باقاعدگی سے انجام دے تو اس کےلئے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا دیدار اور آپ کی زیارت ممکن ہو جائے گی اور باقی آئمہ علیہم السلام کی زیارت بھی ممکن ہو گی مزید استفادہ کے لئے ان وسائل اوراعمال کوبیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ آئمہ اطہار علیہم السلام کے چلے جانے کے بعد یا ان کی غیبت کے زمانہ میںزیارت اورملاقات کا امکان حاصل ہو جاتا ہے ممکن ہو جاتاہے۔
پہلا طریقہ:
اہل البیت علیہم السلام کی زیارت کے لئے
یہ روایت ہے جسے شیخ مفیدؒ نے اپنی کتاب ”الاختصاص میں ابوالمصری کے ذریعہ سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت کیا ہے ۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے جس شخص کے لئے اللہ کی جناب میں کوئی حاجت ہو اور وہ ہمارا دیدار چاہتا ہو اور یہ کہ وہ اپنی جگہ اور مقام جاننا چاہے تو اس پر ہے کہ وہ مسلسل تین رات غسل کرے اور ہمارے وسیلہ سے مناجات کرے تو وہ ہمیں دیکھے گا، ہماری زیارت اسے ہو گی اور ہمارے وسیلہ سے اسے بخش دیا جائے گا اور اس پر اس کا مقام پوشیدہ نہ ہوگا۔(الاختصاص ص ۰۹)
دوسرا راستہ:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص ہر فریضہ کے بعد حسب ذیل دعا کو باقاعدگی سے پڑھے گا تو وہ حضرت امام محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام کی زیارت سے شرفیاب ہوگا بیداری میں اور خواب میں بھی وہ دعا یہ ہے:
”بسم الله الرحمن الرحیم اللهم بلغ مولاناصاحب الزمان اینما کان وحیثما کان، من مشارق الارض و مغاربها سهلها و جبلها عنی وعن والدی واخوانی التحیة والسلام، عددخلق الله وزنة عرش الله و مااحصاه کتابه و احاط علمه، اللهم انی اجد فی صبیحة یومی هذا الیوم وما عشت فیه من ایام حیاتی، عهدا وعقدا و بیعة له فی عنقی، لا احول عنها ولا ازول، اللهم اجعلنی من انصاره والذابین عنه، والممتثلین لاوامره و نواهیه فی یامه، و من المستشهدین بین یدیه، اللهم ان حال بینی وبینه الموت الذی جعلته علی عبادک حتما مقضیا، فاخرجنی من قبری موتز راکفنی، شاهرا سیفی، مجرد اقناتی، دعوة الداعی فی الحاضر و البادی، اللهم ارنی الطلعة الرشیده، والغرة الحمیدة، واکحل بصری بننظرة الیه، وعجل فرجه، وسهل مخرجه، اللهم اشدد ازره وقوه ظهره، وطوّل عمره، اللهم اعمر به بلادک، واح ¸ به عبادک فانک قلت و قولک الحق ظهر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس، فاظهر اللهم لناولیک، وابن بنت نبیک، المسمی باسم رسولک، صلواتک علیه وآله حتیٰ لا یظهر بشی من الباطل الامزّقه، ویحق الله الحق بکلماته و یحققه اللهم اکشف هذه اکفمه عن هذه الغمة بظهوره، انهم یرونه بعید او نراه قریباً وصلی الله علی محمدوآله “۔(بحارالانوار ج ۶۸ ص ۱۶ ص ۹۶ ، ابن الباقی کی کتاب سے نقل کیا ہے، باب سائرہ مایستحب عقیب کل صلاة)
تیسرا طریقہ
اسے جنتة الواقعیہ میں شیخ ابراہیم الکفعمی نے نقل کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے اپنے اصحاب کی بعض کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ جو شخص انبیاءعلیہم السلام سے کسی ایک کو یا اپنے والدین کو نیند میں ملنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ ”سورہ والشمس، القدر، الحجہ، الاخلاص، المعوذتین“ کو پڑھے اس کے بعد سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور محمد وآل محمد پر صلوات سو مرتبہ پڑھے۔وضو کی حالت میں دائیں جانب سو جائے تو وہ جسے چاہتا ہے اس کا دیدار کرے گا اللہ تعالیٰ اور ان سے جو بھی سوال کرنا چاہتا ہے ۔ بات چیت اور گفتگو بھی کر سکے گا اور سوالات کے جوابات بھی لے سکے گا۔
(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۹۲۳)
چوتھا طریقہ:
یہ وہی تیسرا طریقہ ہی ہے لیکن اس میں اضافہ یہ موجود ہے کہ اس عمل جواوپر بیان ہوا ہے سات رات انجام دے لیکن ان اعمال کو اس دعا کے بعد انجام دے گا، وہ دعا یہ ہے۔
”اللهم اتت الح ¸ الذی لا یوصف والایمان یعرف منه، منک بدئت الاشیاءوالیک تعود، فما اقبل منها کنت ملجاه ومنجاه، وما ادیر منها لم یکن له ملجا ولا منجاءمنک الاالیک، فاسالک، بسم الله الرحمن الرحیم و بحق حبیبک محمد و بحق علی خیرالوصیین علیهمالسلام و بحق فاطمه سیدة نساءالعالمین سلام الله علیها، و بحق الحسن علیه السلام و الحسین علیهما السلام اللذین جعلتهما سیداشباب اهل الجنة اجمعین، ان تصلی علی محمد وآله واهل بیته وان ترینی میتی “(اس جگہ اپنے مرحوم کا تصور کرے جس سے ملاقات چاہتا ہے یا پھر میتی کی جگہ جس نبی کی یا امام کی زیارت چاہتا ہے اس کا نام لے مترجم)
اس دعا کو علی بن طاووس نے فلاح السائل میں یہ کہتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جس وقت تم اپنے میت کی ملاقات کا ارادہ کرو تو باوضواور طہارت کے ساتھ سوو۔ اور اپنی دائیں جانب لیٹ جاو اور بی بی زہراءسلام اللہ علیہا کی تسبیح پڑھو۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۹۲۳)
پانچواں طریقہ:
شیخ الکفعمیؒ نے اپنی کتاب جنة الماوی میں بیان کیا ہے، سونے سے پہلے دعاءالمجیر کو سات دن مسلسل روزے رکھنے کے بعد ہر رات سات مرتبہ با طہارت ہو کر پڑھنے سے زیارت نصیب ہو گی۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۰۳۳)
چھٹا طریقہ:
روایت کی گئی ہے کہ جو شخص جمعہ کی شب، شام کی نماز پڑھنے کے بعد(با نماز تہجد کے بعد.... از مترجم)سورہ الکوثر کو ہزار مرتبہ پڑھے اور ہزار مرتبہ درود شریف پڑھ لے تو نیند کی حالت میں نبی اکرم کی زیارت کرے گا۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۱۳۳)
ساتواں طریقہ:
فلاح السائل میں ابن طاووس نے امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت نیند کی حالت میں کرنے کے لئے روایت کیا ہے، جب تم اس بات کا قصد کر لو تو سونے کے لئے آمادہ ہو جانے پر یہ پڑھو۔
”اللهم انی اسئلک یا من لطفه خف ¸، و ایادیه باسطة لا تنقضی، اسالک بلطفک الخفی، الذی ما لطفت به احدا الاکفی، ان ترینی مولا ¸ علی بن ابی طالب علیه السلام “
آٹھواں طریقہ :
اسے مجمع الدعوات میں بیان کیا گیا ہے، جو شخص یہ چاہے کہ خواب میں نبی اکرم کی زیارت کرے تو وہ شب جمعہ نماز مغرب پڑھے اور اس کے بعد مسلسل درود کو ورد کرتا رہے یہاں تک کہ نماز عشاءکا وقت ہو جائے اور وہ نماز عشاءپڑھے اور کسی سے بات نہ کرے۔ پھر دو رکعت نماز ادا کرے، ہر رکعت میں سورہ الحمد ایک مرتبہ اورسورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھے، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو اٹھ جائے پھر دو رکعت نماز پڑھے ۔ان میں سورہ فاتحہ پڑھے ایک دفعہ اور سورہ قل ھواللہ احد سات مرتبہ پڑھے۔ سلام کے بعد سجدہ کرے اور سات مرتبہ درود شریف پڑھے اور یہ تسبیحات اربعہ کو پڑھے۔”سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اکبر ولاحول ولاقوة الا بالله “
ان کلمات کو سات مرتبہ پڑھے، پھر سجدہ سے سر اٹھا لے اور سیدھا بیٹھ جائے اور دعا کے لئے ہاتھ بلند کرے اور پڑھے:
”یاحی یا قیوم یا ذوالجلال والاکرم یا اله الاولین والاخرین یا رحمان الدنیا والآخرة ورحیمها، یا رب یا رب “
پھر کھڑا ہو جائے اور دعا کے لئے ہاتھ پھیلا دے اور یہ دعا پڑھے:
یارب، یا رب، یا رب، یاعظیم الجلال، یا عظیم الجلال، یا عظیم الجلال، یا بدیع الکمال، یا کریم الفعال، یا کثیرالنوال، یا دائم الافضال ، یا کبیر یا متعال، یا اول بلامثال، یا قیوم بغیر زوال، یا واحد بلا انتقال، یا شدیدالمحال، یا رازق الخلائق علی کل حال، ارنی حبیبی و حبیبک محمد صلی الله علیه وآله وسلم فی منامی، یا ذوالجلال والاکرام “
پھر اپنے بستر پر جا کر سو جائے قبلہ رخ ہو، دائیں پہلوسوئے، مسلسل درود شریف کا ورد جاری رکھے، یہاں تک کہ اسے نیند آ جائے۔
(بحارالانوار ج ۱۹ ، ص ۰۸۳ ، حدیث ۳ باب الصلاة و الدعاءعندالنوم)
نواںطریقہ:
بحار میں ہے(ج ۸۶ ص ۷۷ باب ۹۳ حدیث ۱۱) جنة الاماں سے نقل کیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص صبح اور ظہر کی نماز کے بعد یہ پڑھے”اللهم صل علی محمدوآل محمدو عجل فرجهم “باقاعدگی کے ساتھ تو قائم آل علیہ السلام محمد کو پا کر مرے گا یعنی اسے زیارت نصیب ہو گی۔
دسواں طریقہ:
الشیخ الجلیل الحسن بن الفضل الطبرسیؒ نے روایت بیان کی ہے مکارم الاخلاق میں ہر فریضہ نماز کے بعد اس دعا کو پڑھے اور اس میں باقاعدگی کرے زندگی بھر کا ورد بنائے تو اسے صاحب الامر علیہ السلام کی زیارت نصیب ہو گی۔
اللهم صل علی محمدوآله محمد اللهم ان رسولک الصادق المصدق ....آخر تک دعا (مکارم الاخلاق ص ۹۴۱ )
گیارہواں طریقہ:
بحارالانوار ج ۶ ص ۱۶ باب ۸۳ ، حدیث ۹۶ ، از ادالمعاد ص ۳۸۴ میں بیان ہوا ہے اور کتابوں میں بھی آیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے انوار النعمانیہ کی روایت ہے۔
اسی دعا کوچالیس صبح پڑھا جائے تو وہ شخص حضرت قائم علیہ السلام کے انصار سے ہوگا اگر پہلے مرگیا تو اسے دوبارہ زندہ کیاجائے گا امام علیہ السلام کے ساتھ مل کر دشمنوں کے خلاف جہاد کرے گا۔
ہر کلمہ کے بدلے ایک ہزار نیکی درج ہو گی اور ایک ہزار گناہ معاف ہوں گی یہ دعا معروف دعا ہے اور دعائے عہد کے نام سے پڑھی جاتی ہے جو کہ مفاتیح الجنان میں حضرت امام زمان (عج)کے بارے زیارات اور دعاوں کے باب میں موجود ہے”یارب النور العظیم....“سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات آپ کے دیدار کی کیفیت کے حوالے سے تحقیقی بحث
یہ بات تو گذر چکی کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کادیدار ممکن ہے لیکن اس دیدار اور ملاقات کی کیفیت کیا ہو گی؟کیا یہ ملاقات نیند کی حالت میں ہو گی یا بیداری کی حالت میں یا دونوں حالتوں میں، دونوں صورتیں ممکن ہیں، پھر کیا یہ امر امام مہدی علیہ السلام اور باقی آئمہ علیہ السلام اور انبیاءکرام کے حوالے سے ایک ہی ہے یا اس میں فرق موجود ہے؟اس بارے کافی ساری صورتیں ہیں جن بارے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس بارے تفصیلی بحث شروع کرنے سے پہلے دیدار کے متعلق بعض دلائل کا ذکر کرنا ضروری ہے اور یہ کہ ان سے کیا استفادہ ہوتاہے؟!
پہلی دلیل:
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دیدار اور آپ سے ملاقات کے حوالے سے جو دلیل ہے وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان ہے ”قائم علیہ السلام کے واسطے دو غیبتیں ہیں ایک غیبت چھوٹی اور مختصر ہے دوسری غیبت طولانی ،لمبی ہے پہلی غیبت میں آپکی رہائش کا علم نہ ہو گا مگر آپکے خاص شیعوں کو، اور دوسری غیبت میں آپکی رہائش اور ٹھہرنے کی جگہ کا علم نہیں ہو گامگر آپ کے خاص موالیوں کو(اصول الکافی ج ۱ ص ۴۳ حدیث ۹۱)
دوسری دلیل:
ابوبصیر کی روایت ہے کہ حضرت ابوعبداللہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا” اس امر کے صاحب کے لئے ایک غیبت ضروری ہے اور اس غیبت میں تنہائی کا ہونا بھی ضروری ہے، بہترین جگہ ان کے لئے طیبہ ہے(طیبہ سے مراد مدینہ ہے لیکن میں نے ایک روایت دیکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طیبہ امام صادق علیہ السلام کی ایک زمین(زرعی زمین) کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھی ہو سکتا ہے وہ جگہ مرادہو۔مترجم)(البصائر ۴۲۲۱ ، باب فی ان الامام یرای ملک الموت و جبرئیل)
اور تیس افراد میں رہنے سے کوئی وحشت اور پریشانی نہیں ۔
(اصول الکافی ج ۱ ص ۴۲ حدیث ۶۱ باب الغیبة)
آپ کے اس قول کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ تیس افراد کے ساتھ رہنے میں کوئی وحشت و ڈر نہیں تو اس سے مراد یہ لی جا سکتی ہے کہ تیس افراد آپ سے رابطہ میں ہوں گے کیونکہ لوگوں کی عمریں تو اتنی طولانی نہیں ہوں گی تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مختلف زمانوں میں سے ہر زمانہ میں آپ کے ساتھ تیس افراد سے ملاقات رہے گی اور تیس افراد آپ سے رابطہ میں ہوں گے۔
تیسری دلیل:
یہ روایت ہے جسے شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب کمال الدین میں اس جوان کے حوالے سے نقل کیا ہے جس نے کعبہ کے دروازے کے پاس امام علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
اے ابوالحسن! تم کیا چاہتے ہو؟
جوان کہتا ہے: اس امام کو چاہتا ہوں جو اس عالم میں محبوب ہے اور پردہ میں ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ تم سے محجوب نہیں ہے لیکن تمہارے اعمال نے انہیں تمہیں سے محجوب کر رکھا ہے اوروہ پردے کے پیچھے ہیں۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۱۲۳)
چوتھی دلیل:
جو شرعی اعمال اور ذرائع امام کی روایت اور دیدار واسطے بیان کیے گئے ہیں تو یہ سب آپ کی زیارت کے امکان پر دلالت کرتے ہیں اور ان کے بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔
پانچویں دلیل:
علماءکرام کے آپ کی زیارت کے ممکن ہونے پر اقوال و بیانات ہیں۔ شیخ الطوسیؒ نے فرمایا ”ہم اس بات پر یقین نہیںرکھتے کہ آپ اپنے سارے اولیاءسے پردہ میں ہیں، بلکہ یہ بات درست ہے کہ آپ اپنے اولیاءمیں سے بہت ساروں کے واسطے ظاہر ہوںگے اور ہر شخص اس کو نہیں جان سکتا مگر ہر ایک کو خود اپنے بارے پتہ ہے۔
(کتاب غیبت ص ۵۷)
علامہ السید مرتضیٰ نے اپنی کتاب تنزیہ الانبیاءمیں فرمایا ہے: یہ بات ممتع نہیں ہے کہ امام علیہ السلام اپنے بعض اولیاءکے لئے ظاہر ہوں گے جس سے ملاقات کرنے میں وہ خوف اور ڈر موجود نہ ہو جس کی بناءپر غیبت اختیار کی گئی ہے اور اس ملاقات میں دین کے لئے کوئی خطرہ بھی نہ ہو اور نہ ہی آپ کی اپنی جان کواس سے کوئی خطرہ ہو۔
ابن طاووس نے اپنی کتاب ”کشف الحجة ، عن ثمرة المحجة“ میں لکھا ہے غیبت آئمہعلیہ السلام کے لئے دلیل اور حجت ہے اور آپ کے جو مخالفین ہیں ان پر آپ کی حقانیت پر بھی دلیل ہے اور آپ کی امامت کاعقیدہ نبوت پر دلیل ہے اور آپ کی غیبت کے صحیح ہونے پر بھی دلیل ہے، جب کہ آپ اللہ تعالیٰ عزوجل کی مشیت سے حاضر اور موجود ہیں، بات دراصل یہ ہے کہ وہ تو غائب ہیں ان لوگوں سے جو ان کی غیبت کی وجہ سے آپ سے ملاقات نہیں کر سکتے کیونکہ ایسے افراد رب العالمین کی پیروی اور اتباع کرنے سے خود غائب ہیں۔
آپ کی یہ گفتگوبہت ہی متین اور دقیق ہے اور بہت بڑی بات آپ نے کی ہے؟یہ بات حق اور سچ ہے اور بالکل درست ہے ۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام غائب نہیں ہیں ولادت کے وقت سے لے کر اب تک وہ تو موجود ہیں ہم ان کی خصوصیات اور اور حضوری سے غائب ہیں۔ ہم غائب ہیں وہ تو موجود اور حاضر ہیں، ہمیں ہمارے برے اعمال نے ان سے غائب کیا ہے ہماری بری عادتوں نے ہمیں ان کی حضوری سے محروم رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت اور رحمانیت والی رحمت کے صدقہ میں ہماری فریاد سن لے اور ہمیں اپنے سردار، امام، آقا، امام مہدی روحی و ارواح العالمین لہ الغداءعجل اللہ فرجہ الشریف، کی زیارت کا شرف عطا فرمائے۔
(مترجم....آپ ایک آئینہ فرض کریں، جو زنگ آلودہو اس کے سامنے آپ کھڑے ہوں تو اس میں آپ نظر نہیں آئیں، اگر اسپر گرد پڑی ہے تو پہلے اس گردکو آپ صاف کریں تب اس میں اپنا چہرہ دیکھ سکیں گے، اسی طرح ہمارے دل کا حال ہے دل آئینہ کی مانند ہے اور دل رحمان کا گھر ہے، دل رحمان کے نمائندوں کا گھرہے، دل اہل البیت علیہ السلام کے لئے ہے ان کے اغیار کے لئے نہیں ہے، لیکن اگر دل تزکیہ شدہ نہ ہو، صاف شفاف نہ ہو،تواس دل میں رب رحمان ملے گا نہ ہی اس کا نمائندہ صاحب الزمان ملے گا، ظاہری آنکھوں سے دیدار کا تعلق دل کی صفائی سے ہے، گناہوں کی وجہ سے جب انسان کا آئینہ دل کثیف اور زنگ آلود ہو جائے تو اس میں امام کا نورانی چہرہ نہیں دیکھا جا سکتا، امام تو حاضر اور موجود ہیں اور ہر وقت موجود ہیں، ان کے لئے کائنات کاعلمی احاطہ ہے اللہ تعالیٰ کے اذن و ارادہ سے پوری کائنات پر ان کا تسلط ہے اور احاطی علم بھی پوری کائنات پر ان کاہے۔ہمارے دل کی سکرین پر ان کی آمداس وقت ہو گی جب شرط پوری ہو گی دنیا کے کسی کونے میں ایک واقعہ ہوتا ہے تو وہ حالت اور واقعہ وہ فضاءمیں موجود ہے کیمروں کی آنکھوں نے اسے محفوظ بھی کر لیاہے۔
ممکن ہے میرے گھر سے ہزاروں میل دور کا فاصلہ ہو میں گھر میں بیٹھ کر ٹی وی کی سکرین پر اسے دیکھ سکتا ہوں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ میرے پاس ٹی وی موجود ہو، بجلی ہو، اس چینل کوکیچ کرنے والی ڈش موجود ہو پھر بٹن اور سوئچ آن کرنے کا طریقہ آتا ہو اور پھر سوئچ آن بھی کرے اور اس خاص نمبر پر لگائے تو وہ پورا واقعہ جو ہزاروں میل دور ہے اسے دیکھا جا سکتا ہے اسی طرح امام جو مرکز و محور کائنات ہیں تو اللہ رب العالمین ان کے لئے غیب نہیں بلکہ اللہ ان کے لئے حاضر وموجود ہیں وہ جلی ہیں، روشن ہیں،تووہ پاکیزہ دل میں آتے ہیں،دل صاف کر لیں، ارادہ کر لیں اپنے اندر دیدار کی ساری شرائط پوری کر لیں تو پھر ہر آن زیارت اور ملاقات ہو سکتی ہے یہ امر نہ عجیب ہے اور نہ ہی ممنوع ہے شرعاً اس کے جواز پر دلائل موجود ہیں عقلی کوئی قباحت موجودنہیں۔ خرابی دیکھنے والے میں ہے جیسے وہ خرابی دور ہو گی اور جو بھی اس خرابی کو دور کر لے گا جو دیدار کے لئے رکاوٹ ہے تو پھر دیدارہوناممکن ہی نہیں بلکہ بالفعل ہو بھی جائے گ
اعتراض اور جواب
ان روایات اور اقوال اور بیانات کے بعد جو اوپر ذکر ہوئے ہیں ان بیانات کی حیثیت نہیں رہتی جو امام مہدی علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کے عدم جواز پر ہیں شاید ان سب دلائل میں سب سے اہم دلیل وہ بیان ہے جسے شیخ الطوسی نے اپنی کتاب غیبت میں اور علامہ الطبرسی نے اپنی کتاب احتجاج میں نقل کیا ہے کہ:
جو توقیع ناحیہ مقدسہ سے آپ کے آخری نائب جناب ابی الحسن السمری کے نام جاری ہوئی اس میں امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا”یا علی بن محمد السمری، یہ بات غور سے سن لو، کہ تیرے حوالے سے جو مصیبت تیرے بھائیوں پر آنے والی ہے اللہ تعالیٰ اس کا انہیں بڑا اجر عطا فرمائے، کیونکہ بتحقیق تم نے مرنا ہے چھ دن کے اندر اندر تیری موت واقع ہو گی۔
تم اپنے معاملے کو مخفی رکھو اور کسی کو وصیت نہ کرو جو تمہارا قائم مقام بنے کیونکہ اب سے مکمل غیبت شروع ہو گئی ہے اب ظہور نہیں ہو گا مگر اللہ تعالیٰ کے اذن ملنے کے بعد اور اس لمبی مدت گزرنے کے بعد دلوں کے سخت ہو جانے کے بعدعنقریب میرے شیعوں سے کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو یہ دعویٰ کریں گے کہ انہوں نے میرے ساتھ حضوری میں ملاقات کی ہے، تو آگاہ رہو جو شخص بھی سفیانی کے خروج سے پہلے اور آسمانی آواز آنے سے پہلے مشاہدہ اور حضوری ملاقات کا دعویٰ کرے تو وہ شخص بڑا جھوٹا ہے اور افتراءپرداز ہے۔”ولاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم “
(غیبت شیخ طوسی ۷۵۲ ، کمال الدین ج ۲ ص ۲۹۱)
تبصرہ
یہ روایت میری کوتاہ علمی کے باوجود اس موضوع سے غیر متعلق ہے جس کی ہم اوپر بات کر آئے ہیں کیونکہ اس میں اس قسم کے دیدار اور ملاقات کی نفی کی جا رہی ہے جو غیبت صغریٰ میں بعض خاص شیعوں کے لئے حاصل رہی اور باقاعدگی سے نمائندگی کا ایک سلسلہ تھا اور اس شخص کا امام علیہ السلام سے رابطہ تھا اور لوگ اس کے ذریعہ اپنے مسائل امام علیہ السلام تک پہنچاتے اور ان کا جواب دیتے تھے کیونکہ اس تحریر کے ذریعہ اس خصوصی سفارت اور نیابت کا سلسلہ بند کیا جا رہا ہے اور ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کچھ شیعوں سے ایسے لوگ ہوں گے جو اس قسم کا دعویٰ کریں گے کہ وہ امام علیہ السلام سے رابطہ میں ہیں اور خود کو امام کا نمائندہ خصوصی ظاہر کریں گے تو ایسے شخص کو جھٹلایا جائے وہ افتراءپرداز ہے کیونکہ اس کے بعد آپ کااس قسم کا رابطہ کسی سے نہ ہو گا خصوصی نمائندگی کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس بیان سے کسی بھی طرح امام علیہ السلام کی زیارت یا آپ کے دیدار کی غیبت کبریٰ میں نفی نہیں کی جا رہی اور نہ دور و نزدیک سے اس تحریر سے یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے کہ امام علیہ السلام کا دیدارناممکن ہے۔ جس دیدار اور زیارت کے امکان اور جواز کے بارے اوپر دلائل دیے گئے ہیں اوروہ بھی ٹھوس شرائط اور قواعد کی روشنی میں تو اس بیان میں اس بارے کوئی بات موجود نہیں ہے اس روایت شریفہ کے مضمون بارے دو احتمال موجود ہیں۔
پہلا احتمال
امام علیہ السلام اس قسم کی ملاقات کی نفی فرما رہے ہیں جو چار نائبین کو یکے بعد دیگر غیبت صغریٰ کے زمانہ میں حاصل رہی تو اس کی روشنی میں اس کا معنی اس طرح ہوگا۔اے ابوالحسن علی بن محمد سمری، تیرے بعد جو کوئی اس طرح کے مشاہدہ کا دعویٰ کرے جیسا کہ تجھے حاصل تھا تو ایسا شخص بڑا جھوٹا ہے اور افتراءپرداز ہے( ساتھ امام علیہ السلام نے یہ خبر بھی دے دی کہ شیعوں سے کچھ ایسا کریںگے)اس قسم کی ملاقات اور مشاہدہ کاوجودنہیں ہے۔
یہ ممنوع اور حرام ہے اس قسم کے مشاہدہ میں عمومی اور خصوصی احکام تھے جو شخص چاہتا تھا وہ اپنے امام علیہ السلام سے خط و کتابت کرتا تھا۔ امام علیہ السلام اسے جواب دیتے تھے اور وہ شخص جو درمیان میں واسطہ بنتا تھا لوگ اس کے بارے آگاہ تھے یہ معلوم تھا کہ امام علیہ السلام اپنے سفراءاورخصوصی نمائندگان سے ملاقات فرماتے تھے اور ان کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل فرماتے تھے میری جان اپنے امام پر فدا ہو جائے اس تحریر میںامام علیہ السلام اس قسم کی ملاقات کی نفی فرما رہے ہیں۔
یعنی کوئی بھی خصوصی نیابت اور سفارت کا دعویٰ کرے تو وہ بڑا جھوٹا ہے، افتراءپرداز ہے اس کی بات قبول نہ کی جائے لیکن امام علیہ السلام اپنے خالص اولیاءسے کسی بھی مصلحت یا دینی مقصد کی خاطر یا اس خاص ولی کے کسی اپنے مسئلہ کی خاطر آپ سے ملاقات کا شرف دیناتو اس کی نفی نہیں کی گئی البتہ اس کے لئے خاص شرائط ہیں جن کا ذکر کیا جا چکا، ایسے دیدار کی نفی نہیں کی گئی اسی لئے امام علیہ السلام نے اس روایت میں یہ بھی فرمایا کہ تم اپنے بعد کسی کے لئے وصیت نہ کرو جو آپ کا قائم مقام آپ کی وفات کے بعدہو، کیونکہ اب مکمل غیبت شروع ہو چکی ہے اب ظہور نہ ہو گا مگر اللہ تعالیٰ کے اذن سے، پس آپ ایسے شخص کی نفی فرما رہے ہیں جو آپ کے چوتھے نائب کے بعد ہو اور اس کی جگہ لے اور اسی طرح کا نمائندہ ہو اوراسی قسم کے کاموں کو انجام دے۔
دوسرا احتمال
امام علیہ السلام نے روایت اور زیارت کی جو نفی فرمائی ہے تو یہ ایسے مشاہدہ کی نفی کی ہے کہ جو مکمل ظہور کے وقت ہوتا ہے اس کا معنی یہ ہو گا کہ جب آسمانی آواز سے پہلے ظہور کا دعویٰ کر دے اور اعلان کر دے کہ میں نے امام علیہ السلام سے ملاقات کر لی ہے اور ظہور ہو گیا تو یہ شخص بڑا جھوٹا ہے۔
میری جان آپ علیہ السلام پر قربان جائے‘ آپ علیہ السلام اس ظہور کی نفی فرما رہے ہیں اس بات پر خود اس روایت میں جو بات موجود ہے وہی دلیل ہے آپ نے فرمایا ہے عنقریب کچھ لوگ آئیںگے جو مشاہدہ کا دعویٰ کریں گے تو آگاہ رہو جو بھی مشاہدہ کا دعویٰ سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے کرے تو وہ بڑا، جھوٹا اور افتراءپرداز ہے“۔
تو آپ اس طرح اس مشاہدہ کی نفی کر رہے ہیں جس کا معنی یہ ہے کہ آسمانی آواز سے پہلے یہ خبر دینا کہ ظہور ہو گیااور کہنے والا یہ دعویٰ کرے کہ میں نے امام علیہ السلام کا مشاہدہ کیا ہے تو ایسا کہنے والا بڑا جھوٹا ہے اورافتراءپرداز ہے۔
اس بات پر دو قرینے موجود ہیں۔
پہلا قرینہ :۔ آپ علیہ السلام نے پہلے فرمایا ہے ”فلا ظہور“مکمل غیبت شروع ہو گئی ہے اب ظہور نہیں ہوگا آپ اپنے ظہور کی نفی کے بعد فرما رہے ہیں کہ کچھ لوگ میرے شیعوں سے ایسے آئیں گے جو مشاہدہ کا دعویٰ کریں گے ظاہر ہے کہ اس مشاہدہ سے آپ کے ظہور کی اطلاع دینے والا مشاہدہ مراد لے رہے ہیں، پھر آگے فرماتے ہیں ایسی خبر دینے والا بڑا جھوٹا ہے ، افتراءپرداز ہے کیونکہ سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے مشاہدہ کا دعویٰ غلط ہے یہ دونوں حتمی علامات سے بھی ان علامات کے بعد ظہور ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس جگہ مشاہدہ سے مراد وہ روایت اوردیدار نہیں جسے ہم بیان کر رہے ہیں اورجس کو ثابت کرنے کے درپے ہیں بلکہ یہ ایسا مشاہدہ ہے جو ظہور امام علیہ السلام کے ساتھ منسلک ہے۔
خاص موالیوں کے لئے امام علیہ السلام کی ملاقات
لیکن آپ کا دیدار خاص موالیوں کے لئے ہونا شرعی ضوابط کے تحت تو آپ اس کی نفی نہیں فرما رہے، ان دونوں احتمالات سے جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ امام علیہ السلام ایسے مشاہدہ کی نفی کر رہے ہیں جو ظہور سے ملا ہوا ہے۔ آپ اس دیدار کی نفی نہیں فرما رہے جو ظہور کے دعویٰ سے خالی ہو، یا ایسا مشاہدہ جس میں امام کے ظہور کی خبر نہ ہو، تو ان دو حالتوں میں فرق بڑا واضح ہے ایسا مشاہدہ جو ظہور کے مساوی ہے اور ایسا دیدار اورزیارت جس میں ظہور کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ ہماری جانب سے دومفاہیم کے درمیانی خلط ملط کر دیا گیاہے اور اگر روایت اس روئت اور دیدار کی نفی میں ہے کہ جسے ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں تو سابقہ بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس روایت کے ظاہر کو لے کر اور جو کچھ دعاوں اور شرعی اعمال سے ملتا ہے تو پھر ہم کو اس روایت کی تاویل اور توجیہ کرتا ہوگی کیونکہ اس روایت سے اس مفہوم کو اسی طرح سابقہ روایات جو معصومین علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نہیں لے سکتے یعنی اگر ہم اس روایت کے ظاہری معنی کو اس طرح لیں کہ غیبت کے دوران امام علیہ السلام کے دیدار اور ملاقات اور زیارت کی بالکل نفی کر دی ہے تو اس کے مقابلہ میں وہ بہت ساری روایات اور عقلی دلائل اور مشاہداتی بیانات ہیں جو ملاقات اور دیدار کو ثابت کر رہے ہیں تو پھر ہمیں اس روایت کے ظاہری معنی کی توجیہ پیش کرنا ہو گی ، ایسی توجیہ جو باقی روایات کے مفہوم و مضمون سے نہ ٹکرائے۔
تو ہم اس کی توجیہ میں چند امور اس جگہ بیان کرتے ہیں تاکہ اگر اس روایت سے عام دیدار اور روایت کی نفی مراد لیں تو سابقہ روایات کو بھی سامنے رکھیں تو پھر اس کی توجیہ حسب ذیل کی جائے گی۔
پہلی توجیہ:۔ جس ملاقات اور دیدار کی نفی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ زیارت سے مشرف ہونے والا شخص اس کی شہرت کرے اور لوگوں میں جا کر بیان کرے اس بات کو امام علیہ السلام کی ایسے شخص پر لعنت بھیجنے سے اخذ کی جا سکتی ہے کیونکہ اس وجہ سے لوگوں میں انتشار اور پریشانی پھیل جائے گی اور وہ حکمت منتفی ہو جائے گی جس کی بنا پر امام علیہ السلام غائب ہو گئے اسی لئے امام علیہ السلام نے ملاقات اور دیدار کا دعویٰ کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
دوسری توجیہ:۔ اس روایت سے امام علیہ السلام کی ذات کا مشاہدہ مراد ہودیکھنے والا امام علیہ السلام کے نور کو دیکھ سکتا ہے امام علیہ السلام کی آواز کو سن سکتا ہے اس کی نفی روایت سے نہیں سمجھی جا سکتی۔
تیسری توجیہ:۔ اس روایت و دیدار کی نفی جو بیداری کی حالت میں ہو لیکن روایت اس دیدار کی نفی نہیں کرتی جو نیند کی حالت میں ہو یہ وجہ اس بنا پر ہے کہ دونوں روایتوں اور دیداروں میں فرق ہے امام علیہ السلام اور اہل البیت علیہم السلام سے خواب کی حالت میں ملاقات اور ہے اور بیداری کے عالم میں ملاقات اور ہے اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔
چوتھی توجیہ:۔ جسے علامہ مجلسی نے بیان کیا ہے کہ جس دیدار کی نفی کی گئی ہے وہ ایسا دیدار جس میں امام علیہ السلام کی نمائندگی اور نیابت کا عنوان شامل ہو۔
پانچویں توجیہ:۔ علامہ طباطبائی نے شیخ مفید کے حالات زندگی میں بیان کیا ہے کہ دیدار اور زیارت کے دوران امام علیہ السلام کو پہچان لینااور ان سے امام علیہ السلام سمجھ کر ملاقات کرنا تو اس قسم کے مشاہدہ کی نفی کی گئی ہے۔ ملاقات ہو جانے کے بعدآثار اور قرائن سے یہ جان لینا کہ جن سے شرف ملاقات ہورہے تھے اور جنہوں نے میرے مسائل حل کئے یا مجھے ہدایات دیں وہ تو میرے امام زمانہ(عج)تھے تویہ ٹھیک ہے۔
چھٹی توجیہ:۔ ایسی ملاقات کہ جس میں امام علیہ السلام کے حالات بارے آگہی ہو جائے اور اس کی رہائش کا پتہ چل جائے تو ایسی ملاقات کی نفی کی گئی ہے ایسی ملاقات کا دعویٰ کرنے والالعنتی ہے اورجھوٹاہے۔
ملاقات کے احتمالات کا جائزہ
ہم نے بیان کیا ہے کہ دیدار اور ملاقات کے بارے چند احتمالات دیئے جا سکتے ہیں۔
۱ ۔ کہ امامعلیہ السلام کا دیدار جو ہے خواب کی حالت میں ہو بیداری کی حالت میں نہ ہو
۲ ۔ مقامات کی مناسبت سے امام علیہ السلام کا دیدار اور آپ علیہ السلام کی ملاقات بیداری اور نیند دونوں حالتوں میں ہو، یہ تینوں احتمالات اس صورت میں ہیں جب خواب کی حالت میں ہونے والی ملاقات بیداری میں ہونے والی ملاقات سے مختلف ہو، لیکن اگر دونوں ایک ہی ہوں مفہوم میں یا مصداق میں تو پھر یہ احتمالات درست نہیں ہیں۔
جی ہاں!حضرت امام مہدی علیہ السلام اور باقی آئمہ علیہم السلام کی زیارت اور روئت کے درمیان فرق موجود ہے یہ اس صورت میں ہے کہ ہم ان احادیث کو صحیح تسلیم کریں جن میں بیان ہوا ہے کہ آئمہ اطہار علیہم السلام نے فرمایا ”وہ شخص جھوٹا ہے جو غیبت کبریٰ کے زمانے میں یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ہم سے ملاقات کی اورہمارا دیدار کیا ہے“ اور اسی طرح اس مضمون کی احادیث کو بھی صحیح قرار دیا جائے جن میں ہے کہ جس نے خواب میں ہمیں دیکھا تو اس نے ہمیں ہی دیکھا کیونکہ شیطان ہماری صورت میں نہیں آ سکتا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زیارت سے شرفیاب ہونا
جس وقت ہم سابقہ بیان شدہ روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کچھ روایات میں امام علیہ السلام کی زیارت کو بیداری کی حالت میں جائز قرار دے رہی ہیں جیسا کہ امام علیہ السلام سے ملاقات کے لئے دوسرے شرعی طریقہ میں بیان ہوا ہے ۔
مزیدبرآں کہ خواب کی حالت میں بھی زیارت کے بارے میں خود اسی حدیث میں بیان ہوا ہے اسی بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات بیداری اور خواب دونوں حالت میں ہو سکتی ہے اس صورت میںہے جب ہم یہ کہیں کہ خواب اور بیداری میں زیارت اور ملاقات کرنے کا مفہوم اور معنی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
البتہ اس اعتبار سے کہ بیداری کی حالت میں شرف ملاقات اشرف اور افضل ہے تو بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ مقام اور منزلت کے اعتبار سے اور امام حجت سے قربت کے لحاظ سے دونوں حالتوں میں زیارت اور ملاقات کا جواز موجود ہے ۔
البتہ باقی اہل البیت علیہم السلام کی زیارت کے متعلق تو سابقہ روایات اس بارے خاموش ہیں ان سے یہ بات بالکل نہیں سمجھی جاتی کہ بیداری کی حالت میں ملاقات ہو گی سب روایات خواب کی حالت میں ملاقات کو بیان کر رہی ہیں۔
حضرت آئمہ اہل البیت علیہم السلام سے حالت خواب میں ملاقات کرنا
بہرحال یہ حدیث کہ جس کسی نے خواب میں ہمیں دیکھا تو اس نے ہمیں ہی دیکھا ہماری صورت میں شیطان نہیں آ سکتا تو اس حدیث بارے چند احتمالات ہیں:۔
پہلا احتمال:۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ جس نے ہمیں خواب میں دیکھا تو گویا اس نے حقیقت میں ہمیں ہی دیکھا ہے جیسا کہ کوئی بیداری کی حالت میں دیکھے، اس بناءپر یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ اہل البیت علیہم السلام کو بیداری کی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے اور خواب کی حالت کو دیکھنے والے کے لئے بیداری کی طرح قراردیا جائے۔
دوسرا احتمال:۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ جس نے ہمیں نیند کی حالت میں دیکھا تو اس کی یہ نیندحقیقی ہے یہ خواب حقیقت پر مبنی ہوگا شیطانی وسوسہ یا خیال نہ ہوگا کیونکہ شیطان ہماری تصویر بن کر نہیں آ سکتا اس احتمال کی بنا پر اور جو حدیث کی ساخت اور انداز بیان سے بھی موافق ہے روایت اور زیارت جو ہے خواب کی صورت میں ہو گی ظاہری اور بیداری میں نہیں اور احادیث میں یہ ہے کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں ہمیں دیکھا ہے ، ہم سے ملاقات کی ہے ،تو اس نے جھوٹ بولاہے تو اس سے مراد بھی یہ ہے کہ جو یہ کہے کہ میں نے بیداری کی حالت میں آئمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک سے ملاقات کی ہے۔انہیں دیکھا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ فقط حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دیدار کے ساتھ مختص ہو باقی آئمہ علیہم السلام کے لئے نہ ہو تو تاویل کی جو پہلے وجوہ بیان کی گئی ہیں ان سے رجوع کیا جائے گا اس پر نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زیارت خواب کی حالت میں اور بیداری کی صورت میں، دونوں صورتوں میں ہو سکتی ہے البتہ باقی آئمہ اہل البیت علیہم السلام کی ملاقات اور زیارت خواب اور نیند میں ہو سکتی ہے بیداری میں نہیں۔
تیسرا احتمال :۔ اس سے مراد یہ ہوا کہ جو شخص ہمیں بیداری کے عالم میں دیکھے تو پھر اس نے خود ہم ہی کو دیکھا ہے کیونکہ شیطان ہماری شکل میں ظاہر نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں تاویل کی صورت باقی نہیں رہتی بس امام علیہ السلام کے دیدار کا امکان نیند کی حالت میں بھی اور بیداری کی حالت میں بھی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔
چوتھا احتمال:۔ یہ مراد ہو کہ خواب میں جو دیکھا جائے گا اور نیند میں جو زیارت ہو گی تو وہ ایسے ہے جیسے بیداری کی حالت میں زیارت کی گئی ہویہ تشبیہ ہے بنابرایں آئمہ اطہار علیہم السلام کو دیکھنا یہ ڈھکوسلا نہیں اور نہ ہی ابلیسی خیالات ہیں اور نہ ہی ایسی تصاویر شیطان کی ہو سکتی ہیں کیونکہ شیطان کسی بھی حالت میں آئمہ اہل البیت علیہم السلام کی شکل نہیں اپنا سکتا یہ طے ہے لیکن اس صورت میں آئمہ علیہم السلام کا دیدار فقط نیند کی حالت ہی میں منحصر ہو گا بیداری میں نہیں لیکن اس نیند کی حالت کو بیداری کے قائمقام سمجھا جائے گا ۔
دیدار کی صورت میں امام علیہ السلامکے اوامر کی حیثیت
جس کسی نے ایک امام کو خواب میں دیکھا یا بیداری کی حالت میں دیکھا تو امام علیہ السلام نے اسے کوئی خاص کام کرنے کا حکم دیا تو اس حکم کی تعمیل کے حوالے سے کیا حکم ہے؟ تو اس بارے کچھ اس طرح کی تفصیل ہے:
اگر تو اس نے امام علیہ السلام کو بیداری اور ظاہر بظاہر دیکھا تو اس صورت میں واجب ہے کہ وہ امام علیہ السلام کے تمام اوامر اور احکامات پر عمل کرے ۔اگر اس نے حضرت امام مہدی علیہ السلام یا ائمہ اہل البیت علیہ السلام سے کسی کو خواب کی حالت میں دیکھااور اس میں اسے حکم دیا گیا تو اگر امام علیہ السلام کسی کام کرنے کے بارے حکم فرمائیں یا کسی کام کے بارے میں کہیںنہیں کہ اسے کرنا تم پر واجب ہے تو اس صورت میں معاملہ آسان ہے۔
لیکن اگر امام علیہ السلام اسے کسی حرام کام کرنے کا حکم دیں تو اگر یہ حرام کام اس طرح کا ہو کہ امام علیہ السلام فرمائیں تم نماز نہ پڑھو تو اس صورت میں اصل امام سے ملاقات ہی مشکوک ہو جائے گی کیونکہ اس قسم کا حکم امام نہیں دے سکتے تو اس وقت اس خواب کو اس شخص کا اپنا خیال قرار دیا جائے گا اور یہ حقیقی دیدار نہ ہو گا اور اگر خواب میں کسی مسلمان انسان کے قتل کا حکم دیا گیا ہو تو جیسے کہ ہمارے زمانہ میں بعض معتمد افراد سے نقل ہوا ہے تو اس میں توقف اور احتیاط لازمی ہے لیکن سب سے بہتر بات اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جب اس قسم کی صورت پیش آئے تو خواب دیکھنے والا شخص اس بارے میں باخبر افراد علماءعاملین سے رابطہ کرلے اور خود سے کچھ اقدام نہ کرے ۔
لوگوں کے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کرنے کے اسباب
بعض دفعہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کا کیا معنی ہے؟ اور اس کا مقصد کیا ہے کیونکہ غیبت کا معنی تو یہ ہے کہ وہ غائب ہیں اور نظر نہیں آتے جب غائب ہیں تو غیبت کے زمانہ میں ملاقات کیسی؟ اور یہ دیدار کیسا؟اور کس لئے؟
اس سوال کے جواب میں چند امور کو بالترتیب بیان کرتے ہیں جو غیبت کے زمانہ میں دیدار کا محور بن سکتے ہیں اور اس دیدار کے فوائد ہو سکتے ہیں اور یہ دیدار غیبت کے منافی بھی نہ ہوگا۔
۱ ۔ امام علیہ السلام کے وجود کا براہ راست اثبات کہ آپ زندہ موجود ہیں اور روزی لے
رہے ہیں۔
۲ ۔ امام علیہ السلام کے خروج کو یاد دلانا تاکہ لوگوں کو اس واسطے تیاری کرلیں۔
۳ ۔ حاجت مندوں کی حاجات کو پورا کرنا ان کے بیماروں کو شفاءدینا۔
۴ ۔ اپنے چاہنے والوں سے رابطہ برقرار رکھنااور ان کے استحکام کے لئے ایسا کرنا۔
۵ ۔ علماءکو خطا سے بچانا تاکہ امت کی صحیح راہنمائی ہو۔
۶ ۔ لوگوں کو مناجات، دعاوں اور اذکار کی تعلیم دینا۔
۷ ۔ دشمنوں کی سازشوں، ان کی مکاریوں کو طشت از بام کرنا، ان کی سیاسی
چالوں کا توڑ کرنا(جیسا کہ امام علیہ السام کے ان خطوط سے واضح ہوتا ہے جو آپ نے شیخ مفید کی طرف غیبت کبریٰ میں بھیجے.... (دیکھیں،تاریخ ما بعد الظہور ج ۲ ص ۱۴۱)
اس کتاب میں ایسے مطالب بیان ہوں گے جن سے ایسے امور کی مزید وضاحت ہو گی۔
(مترجم....جب ہم کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام غائب ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ اس طرح غائب ہیں کہ انہیں دیکھا نہ جا سکے، ان کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن دیکھنے والے انہیں پہچانتے نہیں ہیں اور امام علیہ السلام کو اس بات کا اذن نہیں ہوتا یا وہ خود مصلحت نہیں سمجھتے کہ وہ اپنی پہچان کروائیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربارمیں موجود تھے ان کی قوم ظلم کی چکی میں پس رہی تھی وہ موسیٰ علیہ السلام کوفرعون کے دربار میں دیکھتے تھے وہ کوڑوں کی ضربوں کے نیچے چیختے چلاتے موسیعلیہ السلام کی آمد کی دعا بھی کرتے تھے لیکن موسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کے باوجود نہ پہچانتے تھے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی اجازت نہ تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس زمانہ میں کچھ علماءسے ملاقات بھی کی اور انہیں اپنی آمد کے لئے خصوصی دعا کرنے کا حکم دیا اس طرح محتاجوں کی مدد بھی کرتے تھے اور بازار میں اپنی قوم کے آدمی کو فرعونی کے شر سے بھی بچایا لیکن خدا کے اذن ملنے تک وہ ایسی حالت میں رہے اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کا مصر میں اپنے سگے بھائیوں سے معاملہ تھا وہ سب یوسف علیہ السلام سے بات کر رہے تھے معاملہ کر رہے تھے مدد لے رہے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خود ہی یوسف علیہ السلام ہیں اور ان کے بھائی ہیں۔ لیکن جب یوسف علیہ السلام نے اپنی پہچان کروا دی تو پھر حیرانگی سے وہ سب بول اٹھے تو اچھا آپ علیہ السلام ہی یقینی طور پر یوسف علیہ السلام ہیں؟(دیکھیں سورہ قصص ، سورہ یوسف)
امام زمانہ علیہ السلام کا معاملہ بھی اسی طرح ہے مصنف جس دیدار کی بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا امام علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں اپنے موالیوں کو شیعوں کو ملاقات کا شرف بخشتے ہیں بیداری کی حالت میں یا خواب کی حالت میں تو مصنف نے یہ نظریہ اپنایا ہے کہ جی ہاں! بالکل شرف ملاقات ہوتا ہے کیونکہ ملاقات آپ کی غیبت کے تب منافی ہو جب اس کا علان عام ہو اور پھر ملاقات کرنے والے کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ اس کا چرچا کرے یا ملاقات کرنے والے شخص کو آپ کے اصلی ٹھکانا اور رہائش بارے علم ہوتو ایسی کوئی بات نہیں ہے اب یہ ملاقات کس لئے ہو گی؟ امام علیہ السلام کیوں ملیںگے؟ تو اس بارے سات پوائنٹ اور نقاط بیان کیے گئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام علیہ السلام اللہ کے اذن سے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے اپنے خاص موالیوں کو ملاقات کا شرف بخشتے ہیں یہ فوائد بعض شخصی ہوتے ہیں اور بعض اجتماعی ہوتے ہیںبعض دفعہ دین کی بقاءکا معاملہ درپیش ہوتا ہے اور بعض دفعہ اپنے خاص موالیوں کے اطمینان قلب واسطے ایسا ہوتا ہے بہرحال ملاقات کا امکان بھی ہے اورآپ اپنے خاص موالیوں سے ملتے بھی ہیں اور یہ غیبت کبریٰ کے طولانی زمانوں میں ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے لیکن وہ خواص کون ہیں؟ان کا علم نہیں ہے، وہ بھی ان ہی عوام میں چھپے ہوئے ہیں اور وہی امام علیہ السلام کے کارندے بھی ہیں اور امام علیہ السلام کی خاص عنایات انہیں حاصل ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے خاص موالیوں سے محبت کرنے والا بنائے اور ان کی پہچان کی توفیق دے اور ہمیں بھی ان کے ذریعہ یہ توفیق ملے کہ ہم بھی اپنے امام علیہ السلام کے قدموں کے نشانات کا بوسہ لے سکیں اور ان کے قدموں کی مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرما بنا سکیں
”اللهم ارنی الطلعة الرشیدة والعزة الحمیدة لنکحل ناظرنا برویته “
دوسری فصل
امام زمانہ (عج) کے وجود مقدس کی تکوینی اور تشریعی برکات و فوائد
تمہید
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اول زمانہ میں ولادت اور آخری زمانہ میں ولادت ہونے کا فرق۔
بعض کا یہ خیال ہے کہ اس نظریہ کو اپنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت پہلے ہو چکی ہے کیونکہ پہلے زمانہ میں ولادت ہو جانا یا بعد میں آخری زمانہ میں ان کی ولادت ہونا ان دو نظریات میں عملی طورپر کوئی فرق موجود نہیں ہے کیونکہ جس بات کی اہمیت ہے وہ اس پر اجمالی ایمان لانا ہے اور یہ کہ جب وہ آخری زمانہ میں خروج کریں گے تو ان کی نصرت اور مدد کرنا ہے یہ گفتگو اس لحاظ سے کہ مسلمانوں کے درمیان وحدت سے مرتبط ہے اور نظریہ مہدویت پر اجماع مسلمین کی صورت بنتی ہے تو اس پہلو سے اس کا ایک عنوان بنتا ہے امام مہدی علیہ السلام کی نصرت کے لئے تمام کوششوں کا یکجا ہونا اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں مل کر دور کرنا اور آپ کی حکومت کے لئے مقدمات فراہم کرنا، مسلمانوں کی جانب سے عام لام بندی ہو تو یہ بہت ہی اہمیت والی بات ہے اس تصور کو مضبوط کیا جائے اور عام کیا جائے تاکہ سارے مسلمان تیاری کے عمل میں شریک ہو جائیں بلکہ پورے جہاں کے محروم اور کمزور طبقات کو بھی ساتھ لیا جائے۔
ہم اس بارے بعد میں بات کریں گے جس وقت ہم امام علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے سیاسی، علمی، ثقافتی، عسکری تیاری بارے گفتگو کرےںگے۔
لیکن بات یہ ہے کہ آپ کے لئے لمبی غیبت کبریٰ ہے یا آپ علیہ السلام اتنا لمبا عرصہ زندہ اور موجود ہیں اسی زمین پر موجود ہیں تو اس نظریہ اور عقیدہ کے بہت سارے فائدے اور عملی اثرات ہیں بعض کا تو آپ کی حکومت کے قیام سے متعلق مقدمات کی فراہمی سے بہت ہی گہرا تعلق ہے اور خود آپ کی جانب سے عمومی اور خصوصی تیاری اور آمادگی سے بھی اس کا تعلق ہے۔
کیونکہ تیاری جو ہے وہ یک دم اور ظہور کی گھڑی میں نہیں ہوسکتی بلکہ یہ تیاری اس لمبی جدوجہد اور سالہا سال کی محنت کے نتیجہ میں ہو گی بلکہ صدیوں کی محنت کے نتیجہ میں ہو گی بلکہ صدیوں کی تیاری کا ماحصل ہوگا یہ بات فرق کرتی ہے اس صورت میں جب ہم یہ کہیں کہ امام مہدی علیہ السلام موجود ہیں جیسے حالات سازگار ہوں گے تو حکومت سنبھال لیں گے اور اس نظریہ کا اختیار کرنا ہے تاکہ ابھی انہوں نے پیدا ہونا ہے اور معلوم نہیں کب پیدا ہوں گے اور جب پیدا ہوں گے تو پھر تیاری کا عمل شروع ہو گا ان دونوں باتوں میں مثبت اور منفی حوالوں سے فرق بڑا واضح ہے جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا۔
ہم ذیل میں چند ایسے امور پر روشنی ڈالتے ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود مقدس کی برکات ہیں اور آپ کے مبارک وجود کے اثرات سے ہیں۔
اثرات اور برکات دو طرح کے ہیں۔
۱ ۔ تکوینی اثرات و برکات
۲ ۔ تشریعی اثرات و برکات
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مقدس وجود کا غیبت کے باوجود فائدہ
الکلینی نے اسحق بن یعقوب سے روایت نقل کی ہے کہ محمد بن عثمان کے وسیلہ سے ان کے پاس ناحیہ مقدسہ سے یہ تحریر موصول ہوئی جس پہ درج تھا”باقی رہا یہ سوال کہ میری غیبت میں مجھ سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے گا؟ تو یہ اس طرح ہے جس طرح جب بادل سورج کے سامنے آجائیں اور اسے غیب کر دیں تو سورج فائدہ دے رہا ہوتا ہے اور یہ کہ میں زمین والوں کے لئے اس طرح امان ہوں جس طرح ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں۔(الاحتجاج ۳۶۲ ، کمال الدین ج ۲ ص ۲۶۱)
امام علیہ السلام کے انوار کی سورج کی شعاوں سے شباہت کے پہلو مخفی ہیں ہر ایک اس تشابہ کو شاید نہ سمجھ پائے تو اس جگہ کوئی حرج نہیں کہ علامہ مجلسی نے جو آٹھ پہلو شباہت کے بیان کئے ہیں ان کو اس جگہ بیان کر دیا جائے اختصار کے پیش نظر باقی پہلووں کو چھوڑ دیا ہے جو علامہ مجلسی نے بیان کئے ہیں۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۲۹)
پہلی وجہ:۔ وجود اور ہدایت کا نور امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وسیلہ سے پہنچنا ہے کیونکہ آپ ہی بندگان اور ان کے رب رحمان کے درمیان واسطہ ہیں کیونکہ اگر آپ نہ ہوتے تو اللہ کے لطف و کرم اور فیضان رحمت کا سلسلہ بند ہوجاتا(اس بارے مزید تفصیل آگے بیان ہو گی)
دوسری وجہ:۔ آفتاب جو بادلوں کی اوٹ میں ہوتا ہے اس سے جو منفعت حاصل ہو رہی ہوتی ہے اس کے علاوہ لوگ بادلوں کے چھٹ جانے کی انتظار میں ہوتے ہیں تاکہ اس سے مزید استفادہ کر سکیں پس اسی طرح اہل البیت علیہم السلام کے شیعہ امام علیہ السلام کے خروج سے مزید استفادہ حاصل کرنے کی خاطر انتظار کر رہے ہیں(عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)
تیسری وجہ:۔ امام علیہ السلام اور احنالہ الفداءکے وجود کا منکر تمام تر آثار اور نشانیوں کے باوجود ایسا ہے جس طرح کوئی سورج کی موجودگی کا انکار کر دے جو بادلوں کی اوٹ میں موجود ہوتاہے۔
چوتھی وجہ:۔ آفتاب کا بادلوں کی اوٹ میں چلے جانا آفتاب کے سامنے موجود ہونے سے زیادہ سود مند ہوتا ہے اگرچہ ایسا بعض اوقات کے لئے ہوتا ہے یا بعض جگہوں کے لئے اس کا بادلوں کے پیچھے چلا جانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اسی طرح امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت آپ کے ظہور سے بعض زمانوں میں جو گذر چکے ہیں زیادہ فائدہ مند ہے، بعض لوگوں کے حالات کے پیش نظر امام علیہ السلام کا غیبت کے پردہ میں رہنا خود ان لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے۔
پانچویں وجہ:۔ انسان بادل کے بغیر سورج کی جانب نہیں دیکھ سکتا وگرنہ سورج کی تیز شعائیں اسے اندھا کر دیں گی اسی طرح امام مہدی علیہ السلام کے وجود مقدس سے براہ راست فیض یاب ہونا حق سے دور ہو جانے کا سبب بن رہا ہو تو پردہ غیبت میں رہنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ انسان غیبت کے دوران حق کی معرفت اس طرح حاصل کر لے کہ وہ امام علیہ السلام سے براہ راست استفادہ کر سکے۔
چھٹی وجہ:۔ امام علیہ السلام سورج کی مانند ہیں عام منفعت پہچان کے لحاظ سے جو اندھا ہوتا ہے وہ سورج کے وجود کی عمومی منفعت سے محروم رہتا ہے اسی طرح امام کے وجود کی برکت سے عقل کا اندھا ہی محروم رہے گا، جو عقل سلیم رکھتا ہے تو وہ اس کے وجود کے عمومی فوائد کو حاصل کر سکے گا۔
آٹھویں وجہ:۔ سورج کی شعائیں گھروں میں اتنی مقدارمیں داخل ہوتی ہیں جتنی مقدار میں اس گھر کے اندر سوراخ ہوتے ہیں، جتنی کھڑکیاں ہوتی ہیں اور جتنی رکاوٹیں دور ہوں گی اتنی مقدار میں شعائیں اندر داخل ہوتی ہیں، پس اسی طرح نور امام علیہ السلام ہے اور ارواح العالمین لہ الفدائ“ اس سے بھی لوگ اتنی مقدار میں فائدہ اٹھائیں گے جس قدر انہوں نے اپنے دلوں کو پاک و طاہر کر لیا ہو گا اور دل کے آئینہ سے گناہوں کی میل کچیل ہٹادی ہوگی۔
علامہ مجلسی کا بیان اس جگہ ختم ہوا۔
اس جگہ میں (مصنف)اپنے مہربان قاری کی آنکھوں کے سامنے کچھ اور پہلووں کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں جو میری سوچ اور فکر میں آئے ہیں، اس تشابہ سے ان امور کو بھی سمجھا جا سکتاہے۔
پہلی وجہ:۔ سورج کی طرف بعض ایسے افراد دیکھ سکتے ہیں جن کی نگاہ مضبوط و قوی ہوتی ہے یا اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے کچھ ایسے آلات لگا لئے ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ سورج کی طرف دیکھ سکتا ہے اسی طرح بعض افراد اپنی بصیرت کے مضبوط اور طاقتور ہونے یا بعض عبادتوں کے انجام دینے کی مدد سے امام علیہ السلام کے نور کا مشاہدہ کرسکتاہے۔
دوسری وجہ:۔ لوگ سورج سے اپنی اپنی ضروریات کے مطابق فائدہ اٹھاتے ہیں، زرعی زمین کا مالک اپنی زمین کے لئے سورج کی انتظار میں ہوتا ہے( کوئی کپڑے خشک کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے انتظارمیں ہوتاہے ، ہر شخص اپنی ضرورت کو سورج سے پورا کرنے کے لئے سورج کے ظاہر ہونے اور بادل کی اوٹ سے باہر آنے کے لئے انتظار کر رہا ہوتا ہے، کچھ سن باتھ کرنے کے لئے انتظار کر رہے ہوتے ہیں، کوئی اس کی شعاوں سے بجلی پیدا کر کے بڑا فائدہ لینے کے لئے انتظار میں ہوتا ہے....مترجم)
اسی طرح امام منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے اپنی ضروریات کے مطابق فائدہ اٹھانے کے لئے آپ علیہ السلام کے ظہور کی انتظار میں ہیں،کچھ بڑی حاجات رکھتے ہیں اور کچھ چھوٹی حاجات۔
تیسری وجہ:۔ علامہ مجلسی نے جو چھٹی وجہ بیان کی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سورج کی منفعت عام ہے جو اندھا ہو وہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتا اسی طرح امام غائب عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں۔
ہم اس پر مزید یہ کہتے ہیں کہ سورج کے دو قسم کے فائدے ہیں۔
۱ ۔ ایک فائدہ وہ ہے جس سے فقط وہ استفادہ کرتا ہے جس کی نگاہ سالم ہے کہ سورج کے نور سے اشیاءکو دیکھنے کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
۲ ۔ دوسری قسم وہ ہے جس سے بینا اور نابینا دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں جیسا کہ سورج کی وجہ سے دونوں اپنی دنیاوی زندگی کے لئے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح امام علیہ السلام سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ بھی دو قسم کاہے، ایک خاص ہے جو ان کے لئے ہے جن کے دل کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور اپنے دل کی آنکھوں کو اس نے امام علیہ السلام کی ذات پر، امام علیہ السلام کے علوم پر اور امام علیہ السلام سے ہدایت لینے پر گاڑ رکھا ہو۔
ایک منفعت عام ہے جو سب کے لئے ہے، مومن کے لئے، کافر کے لئے، مسلمان کے لئے، منکر کے لئے، دشمن کے لئے، موالی کے لئے سب کے لئے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ اور اللہ کے بندگان کے درمیان فیضان رحمت کا واسطہ ہیں جس طرح آپ علیہ السلام مومن کے رزق کے لئے واسطہ ہیں اسی طرح کافر کے رزق کے لئے بھی واسطہ ہیں۔
چوتھی وجہ:۔ سورج جو ہے وہ ہاتھوں کی پہنچ سے منزہ اور پاک ہے کیونکہ اس کی جگہ بلند ہے اور اس کے نور کی قوت تیز ہے، اسی طرح امام علیہ السلام ”روحی لہ الفدا “ عام ہاتھوں سے منزہ ہیں اور ہر ایک کی دسترس آپ علیہ السلام تک نہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کی شان بلند ہے آپ کا نور قوی اور مضبوط ہے۔
پانچویں وجہ:۔ سورج غائب نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ظاہر ہوتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جاتا ہے تو اس طرح امام علیہ السلام غائب نہیں ہوتے بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
ساتویں وجہ:۔ سورج آسمان کے لئے امان ہے اور آسمانی ستاروں کے لئے امان ہے، اسی طرح امام علیہ السلام زمین اور زمین والوں کے لئے امان ہیں اگر امام علیہ السلام کا وجود زمین پر نہ ہو تو زمین اپنے اہل سمیت دھنس جائے گی اور برباد ہو جائے گی۔
آٹھویں وجہ:۔ سورج کا نور ذاتی ہے یہ دوسرے کو روشنی دیتا ہے ، اپنی نورانیت اور روشنی کو کسی اور سے نہیں لیتا جب کہ شمع کا نور اس کے برعکس ہوتا ہے امام علیہ السلام کا علم ذاتی ہے آپ نے یہ علم کسی فرشتہ یا کسی مخلوق میں سے کسی اور سے کسب نہیں کیابلکہ اللہ تعالیٰ سے لیاہے آپ علیہ السلام یہ علم دوسروں کو دیتے ہیں آپ کسی سے لیتے نہیں اور جس طرح سورج کا نور دینے سے ختم نہیں ہوتا اسی طرح امام علیہ السلام کا علم آگے دینے سے ختم نہیں ہوتا۔
نویں وجہ:۔ سورج ذاتی طور پر خود مخلوق سے غائب نہیں ہوتا بلکہ جو چیز سورج کو لوگوں سے غائب کر دیتی ہے وہ بادل ہوتے ہیں یا گاڑھے قسم کا گردوغبار ہوتا ہے جو سورج اور مخلوق کے درمیان حائل ہو جاتاہے، یا سمندر سے اٹھنے والے بخارات جو بعد میںگہرے اور بھاری بادل بن جاتے ہیں وہ بخارات حائل ہو جاتے ہیں اسی طرح امام علیہ السلام ہیں آپ خود غائب نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنے کسی کام کی وجہ سے غائب ہوتے ہیں بلکہ جو چیز آپ علیہ السلام کو بندگان سے غائب کرتی ہے وہ ان بندگان کے گناہ ہوتے ہیں جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں گناہوں کے گھنے بادل بندگان کو ان کے امام علیہ السلام سے غائب کر دیتے ہیں جیسا کہ امام علیہ السلام سے سابقہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے برے اعمال نے انہیں آپ سے پردہ میں پہنچا دیاہے۔(حاجب اور رکاوٹ مشاہدہ کے لئے بندگان کے برے اعمال ہیں)(البحار ج ۳۵ ص ۱۲۳ حدیث کا حوالہ)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے تکوینی اثرات اور فوائد
پہلا فائدہ:۔کائنات کا استقرار اور اثبات(زمین و آسمان)
روایات شریفہ سے یہ بات ثابت ہے کہ کائنات کا ثبات اور بقاءاہل بیت علیہم السلام سے مربوط ہے اگر وہ حضرات علیہ السلام نہ ہوں تو کوئی شئی باقی نہ رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوقات کو اس لئے خلق فرمایا کہ ان ذوات کو خلق فرمایا(اللہ تعالیٰ کمال مطلق ہے کمال لامتناہی ہے، وہاں سے نیچے تک فیض اور رحمت آنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت تامہ اور اپنے کمال مطلق کے اظہار کے لئے اہل بیت علیہم السلام کو خلق فرمایا اور انہیں اپنی تمام صفات کمالیہ اور جلالیہ اور جمالیہ کا مظہر بنایا اور پھر باقی مخلوقات کے مراتب اور مدارج کے مطابق انہیںخلق فرمایا جو درحقیقت ان ذوات مقدسہ کے کمالات کا پرتو اور سایہ کے مانند ہیں جب کہ خود یہ ذوات مقدسہ اللہ تعالیٰ کے کمال کا مکمل اثر ہیں۔
اسی تناظر میں اہل البیت علیہم السلام کے وجود سے ساری کائنات کے موجودات کا وجود ہے اور کائنات میں تمام زندگی کے آثار ان کی وجہ سے ہیں یہ سسٹم خداوند تبارک وتعالیٰ کا اپنا بنایا ہوا ہے اور اس کے کمال کا تقاضا ہی یہی تھا یہ اس کے جودوسخا و لطف و کرم اور رحمت اور کمال مطلق کا تقاضا تھا کہ اس نے اپنے تمام جمالات و کمالات وجلالیات کے اظہار کے لئے اہل البیت علیہم السلام کے وجودات کو خلق فرمایا۔
پس یہ نہ رہیں تو پھر کچھ نہ رہے گا، ساری مخلوقات ان کی وجہ سے خلق ہوئی ہے اس کا معنی یہی ہے اور امام علیہ السلام کا فرمان کہ ”ہم اپنے اللہ اور رب کی صفت و مصنوع و مخلوق ہیں جب کہ ہمارے بعد ساری مخلوقات ہماری پروردہ احسان ہیں، ان کی وجودی حیثیت کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ مربوط کر دیا ہے ہم ہوں گے تو وہ سب ہوں گے اگر ہم نہ ہوں گے تو پھر کوئی نہ ہوگا....ازمترجم)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث ہے، حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب ہیں: اے علی علیہ السلام! میں اور تم ایک درخت سے ہیں ہماری اصل ایک ہے، اگر ہمارا وجود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو خلق نہ فرمایا، نہ انبیاءعلیہ السلام کو خلق فرماتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ فرشتوں کو خلقت وجود عطاءکرتا(بحارالانوار ج ۶۲ ص ۹۴۳ حدیث ۳۲ ، الہدایہ الکبریٰ ص ۱۰۱)
شاعر نے کیا خوب کہاہے:
لولا کم مااستدارت الاکر
ولا استشارت شمس ولاقمر
اگر آپ نہ ہوتے تو کرات کی چکی نہ گھومتی۔۔۔۔ اور نہ سورج و چاند کی روانی ہوتی
ولا تدلی عفن ولاثم
ولاتندی ورق ولاخضر
نہ ٹہنی جھومتی نہ پھل لگتا۔۔۔نہ پتے پر شبنم گرتی نہ سبزہ ہوتا
لا سری برق ولا مطر
نہ بجلی چمکتی نہ بادل برستا۔(مشارق انوار البیض ص ۶۴۲،۷۴۲)
حضرت ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام سے حدیث میں آیاہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”ہم ہی تو وہ ہیں جن کے وسیلہ سے رحمت پہنچتی ہے ہمارے وسیلہ سے بارش سے تم سیراب ہوتے ہو اور ہم ہی وہ ہیں جن کے ذریعہ تم سے عذاب کو دور کر دیا جائے گا“۔
(بصائر الدرجات ص ۳۶ ، باب انعم حجة اللہ وبابہ، بحارالانوار ج ۶۲ ص ۹۴۲ ، حدیث ۸۱ باب جوامع مناقبھم)
ایک اور روایت میں ہے:
”ہم زمین والوں کےلئے، آسمان والوں کے لئے امان ہیں، اگر ہم نہ ہوں تو سب کچھ تباہ ہو جاتا“۔(مشارق الانوار ص ۶۵)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر سے فرمایا:
”اے جابر!یاد رکھو جس شخص نے میرے خلفائ، میرے اوصیائ، میری اولاد اور میری عترت کی اطاعت کی تو اس نے بتحقیق خود میری اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی....اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے زمین والوں سے عذاب کوروک رکھتا ہے اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ نے آسمان کو روک رکھا ہے کہ وہ زمین پرنہ آ گرے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے اذن سے گرے ،ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے زمین کو روکا ہوا ہے کہ وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل جائے۔
(الاختصاص ص ۴۲۲ ، بحار الانوار ج ۷۲ ص ۰۲۱ حدیث ۹۹)
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے، اللہ ان کے وسیلہ سے ظلم کو دور کرتا ہے، ان کے ذریعہ رحمت کو بھیجتا ہے، ان کے ذریعہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ان کے ذریعہ سے زندوں کو مارتاہے۔(التوحیدص ۷۶۱ تا ۴۲ ج ۱)
آئمہ طاہرین علیہم السلام کے وصف میں آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے ارکان بنایا تاکہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل نہ جائے(اصول الکافی ج ۱ ص ۷۹۱ حدیث ۲۰۳)
اسی طرح کی حدیث حضرت ابوجعفر امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی ہے امام ابوعبداللہ جعفر صادقعلیہ السلام سے ہے اگر زمین امام کے بغیر ہو تو زمین دھنس جائے ، برباد ہو جائے۔
(بصائرالدرجات ص ۸۸۳ ،باب ان الارض لایبقی بلا امام، اصول الکافی ج ۱ ص ۹۷۱ ، باب ان الارض لاتخلومنہ ج ۱)
حضرت ابوجعفر علیہ السلام سے ہے اگر امام علیہ السلام کو ایک گھڑی کے لئے زمین سے اٹھا لیا جائے تو زمین دھنس جائے، تباہ ہو جائے، اپنے اہل سمیت اور زمین اس طرح طوفانی شکل اختیار کر لے جس طرح سمندر بپھر جاتا ہے اور ہر شئی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔(بصائرالدرجات ص ۸۸۴ ،اصول الکافی ج ۱ ص ۹۷۱ ،حدیث ۲۱)
اس باب میں بصائرالدرجات اور اصول الکافی میں بہت ساری احادیث بیان ہوئی ہیں۔
الاصبغ بن نباتہ سے روایت ہے، اس نے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ امیرالمومنین علیہ السلام باہر آئے آپ علیہ السلام کا ہاتھ اس وقت اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ میں تھا اور آپ علیہ السلام اس وقت یہ فرما رہے تھے کہ ایک دن رسول ہمارے پاس آئے اور آپ نے فرمایا”اللہ تعالیٰ ان (اہل بیت علیہ السلام)کے ذریعہ اپنے دین کی حفاظت کرے گا اور ان کے ذریعہ شہروں کو آباد کرے گا۔(کمال الدین ص ۹۵۲،۰۶۲ حدیث ۵)
(ازمترجم....اسی مناسبت سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت مطلقہ میں چندجملے ہیں جن کو میں یہاں پر محبان اہل بیت علیہم السلام کے لئے بیان کردینا اپنے لئے سعادت سمجھتاہوں اس زیارت کو شیخ الکلینی نے اپنی سند سے حسین بن تویر سے نقل کیاہے کہ اس نے بتایا کہ میں خود یونس بن طبیان،المفصل بن عمر، ابوسلمہ السراج حضرت ابوعبداللہ جعفر صادقعلیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے تھے، یونس نے ہم میں سے بات چھیڑی، وہ ہم میں سِن کے لحاظ سے بڑا تھا۔
میں آپ پر قربان جاوں میں بہت دفعہ ان لوگوں کے پروگراموںمیں شریک ہوتا ہوں(یعنی بنی عباس، حکمرانوں کی محافل میں جاتاہوں)تو میں کیا کہوں؟تو آپ نے فرمایا تم یہ کہا کرو”اللهم ارناالرخاءوالسرور “ اے اللہ!ہمیں خوشحالی اور سکون نصیب فرما تاکہ تم کو وہ کچھ ملے جو تم چاہتے ہو اور رجعت بھی نصیب ہو، پھر اس نے اگلا سوال کیا، میں بہت مرتبہ امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتا ہوں تو اس وقت میں کیا کہوں؟
تو آپ نے فرمایا:تین مرتبہ یہ جملے کہاکروں”صلی اللہ علیک یا اباعبداللہ، صلی اللہ علیک یا اباعبداللہ، صلی اللہ علیک یا اباعبداللہ“تو آپ کو قریب اور دور دونوں حالتوں کا ثواب ملے گا۔
پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہو گئی تو پھرآپ پر سات آسمانوں نے سات زمینوں نے اور جو کچھ ان میں تھا اور جو کچھ ان کے درمیان تھا سب نے جنت اور جہنم نے اور جو کچھ جنت اور جہنم کے اندر کام کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو مخلوقات خلق کی ہیں چاہے وہ نظر آتی ہیں یا نظر نہیں آتیں سب نے گریہ کیاکوئی جگہ ایسی نہیں تھی جنہوں نے گریہ نہ کیا ۔
۱ ۔بصرہ، ۲ ۔دمشق، ۳ ۔آل عثمان
اس کے بعد اس نے کہامام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھا جائے ، تو امام علیہ السلامکی زیارت کے آداب بیان کئے اور پھر جو زیارت تعلیم فرمائی اس کے چند جملے ملاحظہ ہوں جو ہمارے سابقہ بیان کی تائید میں ہیں یہ زیارت صحیحہ ہے اس میں جو خطاب ایک امام علیہ السلام کو ہے تو یہ سب کے لئے ہے اور آج یہی خطاب امام زمانہ علیہ السلام کے لئے ہے۔اس زیارت میں زائر اس طرح اپنے امام علیہ السلام سے مخاطب ہوتاہے۔
جو شخص خدا تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس نے آپ سے ہی آغاز کرنا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے معیار پر جھوٹ کو واضح کرتا ہے آپ کے وسیلہ سے زمانہ کی چیرہ دستیوں کو دور فرماتاہے، اللہ تعالیٰ نے آپ سے (کائنات کا)آغاز کیا اور آپ ہی پر(کائنات ) کا اختتام کرے گا۔یعنی کائنات کا آغاز آپ سے اور کائنات کا اختتام آپ پر ہے، اللہ آپ کے معیار پر جس فیصلہ کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس فیصلہ کو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے اور آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ ہماری گردنوں میں پڑے ہوئے ذلت و رسوائی کے طوق کو دور فرمائے گا اور آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ ہر مومن کے خون ناحق کا بدلہ چکائے گا آپ کے وجود کی برکت ہے کہ زمین درختوں کو نکالتی ہے اور پھلوں کو دیتی ہے، آپ ہی تو سبب ہیں کہ آسمان بارش برساتا ہے اور اپنے قطرات باران کو زمین پر گراتا ہے اور روزی کا وسیلہ فراہم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کرب اور پریشانی کو آپ کے توسط سے دور فرماتا ہے اور اللہ آپ کی موجودگی کی وجہ سے بارش دیتا ہے آپ زمین پر موجود ہیں کہ زمین اللہ کی تسبیح کرتی ہے وہ زمین جس نے آپ کے اجسام کو اٹھا رکھا ہے اور زمین پر موجود پہاڑ اپنی جگہ پر آپ کی وجہ سے قائم ہیں اور برقرار ہیں اللہ تعالیٰ کا تمام معاملات میں فیصلہ اور ارادہ آپ کے پاس پہنچتا ہے اور پھر آپ کے گھروں سے نافذ ہونے کے لئے جاتاہے بندگان کے متعلق جو بھی فیصلہ جات ہوئے سب آپ کے دروازہ سے ہو کر جاتے ہیں۔(مفاتیح الجنان، باب زیارات، کامل الزیارات)
اس زیارت کے جملے بہت ہی واضح اور روشن ہیں جو امام زمانہ(عج) کی غیبت میں ہونے کے باوجود آپ کے جو فوائد اس پوری مخلوق کو مل رہے ہیں اس کو بیان کر رہے ہیں اس سے بڑا واضح بیان تکوینی اثرات جو امام علیہ السلام کے غیبت میں ہونے کے باوجود حاصل ہیں اور کوئی نہیں ہو سکتا، خداوند ہمیں ان باریک، دقیق، اسرار و رموز پر یقین کامل اور ایمان لانے کی توفیق دے۔(آمین)
مصنف کا بیان ہے: اس قسم کے مضامین پر مشتمل روایات کثرت سے موجود ہیں جو واضح کر رہی ہیں کہ کرہ ارض پر حیات اور اس کا استقرار و اثبات، اس کی بقاءاور اس زمین کے سارے ثمرات تو اس پر رہنے والی مخلوقات کو مل رہے ہیں سب کے سب امام مہدی علیہ السلام کے مبارک وجود سے ہیں ، یہ اثراور فائدہ جو تکوینی امور سے مربوط ہے اس کا انکار کوئی صاحب ایمان نہیں کر سکتا اور ان مضامین کی دلالت اپنے معانی پر واضح ہے اور اس میں کوئی تاویل بھی نہیں ہو سکتی۔
دوسرا فائدہ اور اثر:۔ آسمان سے بارش کا اترنا
حضرت امام علی ھادی نقی علیہ السلام سے جو زیارت جامعة روایت ہوئی ہے اس میں یہ جملہ موجود ہے....آئمہ کے وسیلہ سے آسمان بارش برساتاہے“۔
یعنی آپ اہل البیت علیہم السلام کے لئے اللہ کے ہاں یہ مقام و شان ہے کہ آسمان سے بارشیں آپ کی وجہ سے برستی ہیں۔حضرت ابوجعفر باقر علیہ السلام سے روایت ہے، ہم اس کے لئے سراج(چراغ) ہیں جو ہمارے ذریعہ روشنی لینا چاہے، ہم ہی راستہ ہیں جو ہمارے ذریعہ طے کرنا چاہے، ہم ہی وہ ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ رحمت اتارتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اتارنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہمیں قرار دیتاہے،ہمارے وسیلہ سے سب کو بارش سے سیراب کیا جاتاہے، ہم ہی تو وہ ہیں جن کی وجہ سے تم سے عذاب کوہٹالیا گیاہے۔
(روایت کمال الدین ص ۹۵۲،۰۶۲ ص ۵ اوردوسری الکافی ج ۴ ص ۶۷۵ حدیث ۲)
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی علیہ السلام! آئمہ علیہ السلام تیری اولادسے ہیں میری امت کو ان کے وسیلہ سے بارش ملے گی اور ان کے توسل سے دعا قبول کی جائے گی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے مصائب کو لوگوں سے دور کرے گا اور ان کے وسیلہ سے آسمان سے رحمت اترے گی اور آپ نے امام حسن علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ ان آئمہ میں پہلا ہے اور حسین علیہ السلام کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: باقی آئمہ علیہ السلام ان کی اولادسے ہوں گے(حسین علیہ السلام دوسرے امام علیہ السلام ہیں اور باقی نو امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں)
(فرائد السمطین ج ۲ ص ۴۵۲ حدیث ۳۳۵ ،تفسیر البرہان ج ۴ ص ۰۸ حدیث ۸۱)
الاصبغ بن نباتہ: ایک دن ہمارے پاس حضرت امیرالمومنین علیہ السلام باہر تشریف لائے آپ علیہ السلام کا ہاتھ اپنے بیٹے حضرت امام حسن علیہ السلامکے ہاتھ میں تھا ، آپ علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا”اور ان کے وسیلہ سے اللہ کے بندگان کو روزی دی جائے گی اور ان کی وجہ سے آسمان سے بارش کے قطرات گریں گے، یہ ہیں میرے اصفیائ، یہ ہیں میرے خلفائ، اور یہ سب مسلمانوں کے آئمہ علیہ السلام ہیں اور یہ ہیں مومنوں کے رہبران“(آپنے یہ جملے حضرت علی علیہ السلام ، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ سے نو آئمہ علیہ السلام اور اپنی بیٹی حضرت سیدة نساءالعالمین سیدہ فاطمة الزہراءسلام اللہ علیہا کے لئے فرمائے جو کہ اہل بیت علیہ السلام ہیں اللہ کے نمائندگان ہیں اللہ کی زمین پراللہ اور اللہ کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں....مترجم) (کمال الدین ص ۹۵۲،۰۶۲ حدیث ۵)
تیسرا فائدہ:زمین سے سبزیوں،پھلوں اور اناج کا اگنا
زیارت جامعہ میں یہ جملہ موجود ہے ”اے اہل البیت علیہم السلام آپ کے ذریعہ زمین اگاتی ہے....یعنی زمین سے جو کچھ اگتا ہے اس کا ذریعہ آپ علیہ السلام ہی ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حدیث ہے”آپ کے وسیلہ سے زمین درخت نکالتی ہے، آپ کے وسیلہ سے زمین اپنے ثمرات اور پھل دیتی ہے،آپ کے ذریعہ سے آسمان پانی برساتاہے اور آسمان روزی کے اسباب کو مہیا کرتا ہے، آپ علیہ السلام کے وسیلہ سے بارش اترتی ہے“(کامل الزیارات ص ۰۰۲ باب ۹۷)
اصبح بن نباتہ کی اوپر بیان کی ہوئی حدیث میں یہ جملہ بھی موجود ہے”ان کے وسیلہ سے زمین اپنی برکات باہر نکالے گی“زمین سے جو بھی برکات انسانوں کو حاصل ہیں وہ آئمہ اہل بیت علیہ السلام کی وجہ سے ہیں۔(الکافی ج ۴ ص ۶۷۵ حدیث ۲)
چوتھا فائدہ:۔ آپ علیہ السلام زمین والوں کے لئے امان ہیں
آپ علیہ السلام نے خود یہ بیان فرمادیا ہے کہ آپ علیہ السلام کا وجود زمین پر سب رہنے والوں کے لئے امان ہے آپ علیہ السلام نے کسی خاص گروہ کو معین نہیں فرمایا اور نہ ہی کسی جگہ کو خاص کیا گیا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ ساری زمین کے واسطے اور زمین پر سب رہنے والوں کے لئے رحمت ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”( کُلًّا تُمِدُّ هٰٓو لَآئِ وَهٰٓو لَآئِ مِن عَطَاء رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَاء رَبِّکَ محظُورًا ) “(سورہ الاسراءآیت ۰۲)
ترجمہ:۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے بندگان پر اپنی آنکھ قرار دیا ہے اور اپنے بندوں پر رحمت اور مہربانیوں سے بھرا ہوا سخاوت وجود کا ہاتھ قرار دیاہے“۔(التوحیدص ۱۵۱ باب ۲۱ حدیث ۵)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے ”ہم وہ ہیں جن کے توسط سے رحمت اترتی ہے اور ہم ہی وہ ہیں جن کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ تم سے عذاب کو ٹال دیتاہے“۔(تفسیرالبرہان ج ۴ ص ۰۸ ذیل ۷۱)
امان سے متعلق احادیث
توقیع الشریف جو محمد بن عثمان کے واسطہ سے روایت ہوئی ہے، امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اس تحریر میں بیان فرمایا ہے:”بہرحال میری غیبت میں مجھ سے فائدہ اور منفعت اٹھاناایسے ہے جس طرح سورج جب بادلوں کی اوٹ میں چلا جاتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور بے شک میں حتمی طور پر زمین والوں کے لئے اسی طرح امان ہوں جس طرح سفارت آسمان والوں کے لئے امان ہیں۔
(الاحتجاج ص ۳۶۲ ، کمال الدین ج ۲ ص ۵۸۴ باب ۵۴ توقیعات کے ذکر میں حدیث ۴)
اس حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ آپ زمین والوں کے لئے ان خطرات سے امان ہیں جو زمین پر رہنے والوں کے لئے تباہی و بربادی کا سبب بن سکتے ہیں اسی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین پر بسنے والوں کے لئے جو بھی کوئی بڑا اورہولناک خطرہ بن سکتا ہو جس سے ان کی حیات و زندگی کا چراغ بجھ جائے تو میں اس خطرہ کے لئے امان ہوں۔
خحاکم نے اپنی مستدرک میں اس حدیث کو بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے کہ ابن عباس نے نبی اکرم سے اس حدیث کو اس طرح نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:”ستارے زمین والوں کے لئے امان ہیں اسی طرح کہ انہیں غرق ہونے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت علیہ السلام میری امت کے لئے امان ہیں کہ انہیں اختلاف اور انتشار سے بچاتے ہیں، اگر عربوں کے قبیلہ نے جس وقت بھی ان کی مخالفت کی تو وہ انتشار کا شکار ہوںگے اور ابلیس کی جماعت سے بن جائیں گے۔
(مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۹۴۱ ، مناقب اہل بیت علیہ السلام من کتاب المعرفة، کنزالعمال ج ۲۱ ص ۲۰۱ حدیث ۹۸۱۴۳)
خحاکم نے محمد بن المتکدر سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے نبی اکرم سے قیامت کے بارے حدیث کے ضمن میں اسے نقل کیا ہے....پھر رسول اللہ نے اپنا سرمبارک آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا”ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں اگر آسمان سے ستارے محو ہو جائیں تو وہ گھڑی آجائے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے(قیامت)اور میں اپنے اصحاب کے لئے امان ہوں جب میں ان کے درمیان سے اٹھ جاوں گا تو ان پر وہ کچھ آئے گا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے اور میرے اہل بیت علیہ السلام میری امت کے لئے امان ہیں تو جب میرے اہل بیت علیہ السلام چلے گئے اورموجود نہ رہے تو میری امت پر وہ کچھ آئے گا جس کا وعدہ دیا گیا ہے(مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۷۵۴ ، مناقب المنکدر کے ذکر میں نوادرالاصول نے اختصارج ۳ ص ۶۶ ، الاصل ۲۲۲)
الطبرانی نے ایاس بن سلمہ سے اور اس نے اپنے باپ سے اس نے نبی اکرم سے یہ بیان نقل کیا ہے ستاروں کو آسمان والوں کے لئے امان قرار دیا گیا ہے اور میرے اہل بیت علیہ السلام میری امت کے لئے امان ہیں۔(المعجم الکبری ج ۷ ص ۲۲ حدیث ۰۶۲۶ ، ایاس کے حالات زندگی میں، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۴۷۱ ، البضیہ ج ۹ ص ۷۷۲ ، حدیث ۵۲۰۵۱)
حضرت علی علیہ السلام سے روایت بیان ہوئی ہے رسول اللہ نے فرمایا:”ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں جب ستارے چلے جائیں گے تو پھر آسمان والے نہ رہیں گے، میرے اہل بیت علیہ السلام زمین والوں کے لئے امان ہیں اور جب میرے اہل بیت علیہ السلام نہ رہیں گے تو پھر زمین والے بھی نہ رہیں گے، اس حدیث کو حاکم اور احمد نے المناقب میں، الدیلمی نے الفردوس میں اور قرشی نے بھی اسے نقل کیا اور اس میں یہ جملہ پڑھایا ہے اور بربادی ہے پھٹکار ہے ان کے واسطے جنہوں نے اہل البیت علیہ السلام کو چھوڑ دیا اوران سے دشمنی کی ہے“۔(فضائل الصحابہ احمد کی ج ۲ ص ۱۷۶ ، حدیث ۵۴۱۱ ، مستدرک ج ۲ ص ۸۴۴ ، سورہ ....کی تفسیر میں الفردوس ج ۴ ص ۱۱۳ حدیث ۳۱۹۶ ، کنوز الحقائق ج ۲ ص ۰۴۲ ص ۷۱۲۸ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۴۷۱ ، البغیہ ص ۷۷۲ حدیث ۵۲۰۵۱ ، دررقرشی کی مسند شمس الاخیار ج ۱ ص ۷۲۱ ، باب ۴۱)
ابن المظفر نے انس سے اس نے نبی اکرم سے اس حدیث کو نقل کیا ہے، ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں میرے اہل بیت علیہ السلام زمین والوں کے لئے امان ہیں اور اگر میرے اہل بیت علیہ السلام زمین پر نہ رہے تو پھر زمین والوں کے لئے وہ سب نشانیاں آجائیں گی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیاہے۔(جواہرالقعدین ص ۰۵۲ باب خامس)
ابوسعیدالحذری نے بتایا کہ رسول اللہنے فرمایا:”میرے اہل بیت علیہ السلام زمین والوں کےلئے امان ہیں جس طرح ستارے آسمان والوں کےلئے امان ہیں“(کتابة الاثرص ۹۲)
سوال کیا گیا یا رسول اللہ!کیا آپ کے بعد آئمہ علیہ السلام آپ کے اہل بیت علیہم السلام سے ہوں گے؟تو آپ نے فرمایا:جی ہاں!میرے بعد آئمہ علیہ السلام بارہ ہیں جو حسین علیہ السلام کی صلب سے ہیں وہ سب امانتدار ہیں معصوم علیہ السلام ہیں ہم ہی سے اس امت کے مہدی ہیں آگاہ رہو کہ یہ سب میرے اہل بیت علیہ السلام اور میری عترت ہیں“(کفایة الاثر، ص ۹۲)
حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنی بیعت کی تقریب کے بعد جو خطاب فرمایا اس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا”ہم مسلمانوں کے امام علیہ السلام ہیں اور تمام جہانوں پر اللہ کے صحیح(نمائندگان)ہیں، ہم زمین والوں کے لئے امان ہیں جس طرح ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں، ہمارے وسیلہ سے بارش برستی ہے، ہمارے ذریعہ رحمت پھیلائی جاتی ہے، ہمارے ذریعہ سے زمین کی برکات حاصل ہوتی ہیں، اگر ہم میں سے کوئی بھی زمین پر نہ ہو تو زمین تباہ ہو جائے گی،ویران ہو جائے گی، آبادی کا خاتمہ ہو جائے گی(اہل البیت علیہ السلام لتوفیق ۳۷) ثقة الصادی کے ص ۵ طبع مصر میں یہ اشعار دیئے ہیں۔
هم الراقدون فی اوج الکمال....هم اهل المعارف والمعالی
ترجمہ: وہ تو کمال کی بلندیوں پر ٹھہرے ہیں، وہ معارف والے اور بلند مرتبت ہیں
هم سفن النجاة اذا ترامت....باهل الارض امواج الضلال
جب زمین والوں کو گمراہی کی تندوتیزلہریں اپنے گھیرے میں لے لیں تو اس وقت نجات کی کشتیاں آپ علیہ السلام ہی ہیں۔
امان الارض من غرق وجعت....وحصن الملة الصعب المنال
زمین کو غرق ہونے اور تباہ ہونے سے امان دینے والے ہیں اور اس مشکل گھری امت کے لئے سہارا اور دفاعی قلعہ ہیں۔
حدیث امان سے مراد اور مقصود
السیدالمسھودی نے ان احادیث کوذکر کرنے کے بعد یہ لکھا ہے اس جگہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ اہل بیت علیہ السلام جو امت کے لئے امان ہیں اس سے مراد اہل بیت علیہ السلام سے جو علماءہیں وہ مراد ہیں کہ جن کے وسیلہ سے ہدایت اور رہنمائی لی جاتی ہے جیسا کہ آسمان کے ستاروں سے راہنمائی لی جاتی ہے اور یہ ذوات اگر زمین پر موجود نہ ہوں تو زمین والوں کے وہ ساری نشانیاں ظاہر ہو جائیں گی جن سے ان کو ڈرایا گیا ہے اور زمین والے سب ختم ہو جائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب حضرت مہدی علیہ السلام کی موت واقع ہو گی جس کے بارے نبی اکرم نے اطلاع دی ہے۔(جواہرالعقدین ص ۲۶۲ باب خامس)
ان روایات کے ذکر کرنے سے یہ فائدہ کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بعد زمین میں کوئی خیر نہیں ہے....
السمہودی اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتاہے”اس بات کا احتمال موجود ہے اور میرے نزدیک زیادہ بات یہی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اہل البیت علیہ السلام امت کے لئے امان ہیں تو مطلق امان ہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ ساری دنیا کو اس کے تمام لوازمات سمیت نبی اکرم کی خاطر خلق فرمایا ہے تو اس دنیا کے دوام کو اس کے دوام کے ساتھ وابستہ کیا ہے اور آپ کے اہل البیت علیہ السلام کیونکہ خود آپ سے ہیں اس لئے اہل البیت علیہ السلام کے دوام سے دنیا کا دوام ہے۔ جب تک اہل البیت علیہم السلام ہیں دنیا باقی ہے جب وہ نہ رہے تو پھر دنیا موجود نہ رہے گی اور اس کی ساری بساط کو الٹ دیا جائے گا شاید اس بات کا راز اور حکمت و فلسفہ بھی یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل البیت علیہم السلام کو بہت سارے امور میں نبی اکرم کے مساوی قرار دیا ہے۔
فخررازی نے وہ امور پانچ شمار کئے ہیں جیسا کہ ذکرنمبر ۳ میں بیان ہوچکا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُم وَ اَن تَ فِی ہِم “(سورہ الانفال آیت ۳۳)
ایسا تو بالکل نہیں ہو سکتا کہ جب تم ان میں موجود ہو تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے دے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے اہل بیت علیہ السلام کے وجود کو امت میں نبی کے وجود کا تسلسل قرار دیا ہے اور انہیں ان کے لئے امان قرار دیا ہے یہ اس فرمان کی روشنی میں ہے جو پہلے بیان ہو چکا کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”اے اللہ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“ اس بات کو اس سے مزید تقویت ملتی ہے کہ جناب فاطمہ علیہ السلام نبی اکرم کی نصف ہیں، ان کا ٹکڑا ہیں، انکا حصہ ہیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد نبی کے اس حصہ کی اولاد ہے جسے نبی نے اپنا ٹکڑا قرار دیا ہے تاکہ آپ کی اولاد بالواسطہ نبی اکرم کا حصہ ہوں گے اسی طرح ان کے باپ کی اولاد ہو گی اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھے گاپس ہرزمانہ میں جو بھی ان میں سے ہو گاوہ بالواسطہ رسول اللہ کا حصہ ہو گا پس ان کے وجود کو امت کے لئے امان ہونے میں نبی اکرم کے وجود کا قائمقام قرار دیا گیاہے۔(شیخ رفاعی کی بھی مفیدگفتگو اس بارے موجود ہے کہ اہل بیت علیہ السلام امت کے لئے امان ہیں دیکھیں(ضوءالشمس ج ۱ ص ۲۲۱) السمہودی کی کلام ختم ہو گئی(جواہرالعقدین ص ۲۶۲ ، ۳۶۲ باب خامس)
صاحب الذخائرالمجمدیہ والے نے اہل بیت علیہ السلام کے خصائص کو بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے آثار کو زمین میں عالم کی بقاءاور اس کی حفاظت کاذریعہ قراردیا ہے جب ان کے ارشاد موجود رہیں گے یہ عالم باقی رہے گا جب ان کے آثار ختم ہو جائیں گے تو یہ دنیا بھی ختم ہو جائے گی۔(الذخائرالمحمدیہ ص ۳۴۳ ، خصائص اہل بیت علیہ السلام)
الحکم الترمذی نے امان والی حدیث کے بعد کہا ہے کہ ان کی ستاروں کے ساتھ شباہت اس حوالے سے ہے کہ ان کے ذریعہ ہی اطاعت و اقتداءکی جا سکتی ہے اور وہ اصھاب سے بھی ان کی تعداد کم ہے ستاروں کی طرح کیونکہ وہی بصیرت والے ہیں ان کے لئے اجتہاد بھی جائز ہے یقین اور بصیرت رکھنے کی وجہ سے....
وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے نبی اکرم کا یہ فرمان”میرے اہل بیت علیہ السلام میری امت کے لئے امان ہیں“ تو آپ علیہ السلام کے اہل بیت علیہ السلام آپ علیہ السلام کے بعد آپ کے طریقہ اور سنت پر ہیں وہی صدیقین ہیں وہی ابدال ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابدال شام میں ہوں گے اور ان کی تعداد چالیس ہے سب مرد ہیں، جب ان میں ایک مرے گا تو اس کی جگہ دوسرا لے لے گا اللہ اس کے بدلے میں اور کو قرار دے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان ابدال کے ذریعہ بارش برساتا ہے ان کے ذریعہ دشمنوں پر مسلمانوں کی مدد کرتا ہے اور ان کی وجہ سے زمین والوں سے مصائب کو ٹالتاہے۔(الحدیث اومافی معقاہ فی الحاوی للفتادی ج ۲ ص ۶۲۴،۸۴۴ ۔ ۰۳۴)
پس یہ اہل بیت علیہ السلام رسول اللہ ہیں اس امت کے لئے امان ہیں، اگر یہ مر گئے تو زمین فاسد ہو جائے گی دنیا ویران ہو جائے گی۔(نوادرالاصول ص ۳۶۲ ، الاصل ۲۲۲)
ابن حجر نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ ”وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُم وَ اَن تَ فِی ہِم “ کے ذیل میں بیان کیا ہے۔حضرت نبی اکرم نے اس معنی کا اشارہ اہل بیت علیہ السلام کے وجود میں بھی دیا ہے کہ اہل بیت علیہ السلام زمین والوں کے لئے امان ہیں جس طرح خود رسول اللہ زمین والوں کے لئے امان تھے، اس مضمون کی بہت ساری اور احادیث بھی موجود ہیں جو اس کتاب میں آئیں گی۔(الصواعق المحرقہ ص ۲۵۱ طبع مصر ص ۳۳۲ ، طبع بیروتنمبر ۷ ، المشرع الروی ج ۱ ص ۷)
(از مترجم....یہ سب روایات اہل سنت کے علماءسے لی گئی ہیں جب یہ طے ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیہ السلام سے ہیں تو اس زمانہ میں امام مہدی علیہ السلام ہی زمین والوں کے لئے امان ہیں جیسا کہ آپ نے خود اپنی تحریر میں بیان فرما دیا جیسا کہ گذر چکا ، اس ساری بحث سے بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک مسلمان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی زندگی کی رونقیں امام مہدی علیہ السلام کے وجود سے ہیں، اسے امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے اپنا کردارادا کرناچاہیے“۔
پانچواںفائدہ:۔ امام مہدی علیہ السلام فیض الٰہی کاواسطہ ہیں
دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں”اے اللہ! ہماری نماز کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وسیلہ سے قبول کر لے، ہمارے گناہوں کو ان کے صدقہ سے معاف کر دے، ہماری دعا کو ان کے وسیلہ سے قبول فرمالے ہماری روزیاں ان کی خاطر وسیع کر دے، ان کے توسط سے ہماری پریشانیوں کو دور کر دے اور ہماری حاجات کو ان کے ذریعہ پورا کردے۔
بحارالانوار میں ابومحمد حسن العسکری علیہ السلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا: جس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے اس امت کے مہدی کو عطا کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو بھیجا تو وہ دونوں مہدی کو ”سرادق عرش‘ میں لے گئے یہاں تک کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضورمیں انہیں پہنچا دیا۔تو اللہ تعالیٰ نے مہدی علیہ السلام سے اسی طرح خطاب فرمایا:میرے عبد، میرے بندے مرحبا، میرے دین کی نصرت کی خاطر، میرے امر کو غلبہ دینے کی خاطر اور میرے بندگان کو ہدایت دینے کی خاطر میں نے قسم اٹھا لی ہے کہ میں تیرے ذریعہ ہی ان کے اعمال کووصول کروں گا اور تیرے ذریعہ سے جو کچھ دینا ہے دنیا کو دوں گا تیری وجہ سے معافی دوں گا اور تیری وجہ سے عذاب دوں گا۔
(بحارالانوار ج ۱۵ ص ۷۲ باب ۱ ، ذیل ۷۳)
حضرت ابوعبداللہ جعفر الصادق علیہ السلام سے روایت ہے”جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسے رسول اللہ کے لئے بھیج دیتا ہے پھر وہ فیصلہ امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس جاتا ہے اسی طرح ایک کے بعد دوسرے امام علیہ السلام کے پاس جاتا ہے یہاں تک کہ وہ الٰہی ارادہ اور فیصلہ امام مہدی علیہ السلام کے پاس آجاتا ہے اور پھر امام مہدی علیہ السلام سے وہ دنیا میں نافذ ہونے کے لئے چلا جاتاہے اور جس وقت فرشتے کوئی عمل اللہ عزوجل کی خدمت میں لے جانے کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے صاحب الزمان علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں پھر ایک کے بعد دوسرے امام علیہ السلام کے پاس وہ عمل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ عمل رسول اللہ کی خدمت میں پہنچ جاتا ہے اور پھر وہاں سے ہو کر وہ عمل اللہ کے پاس جاتا ہے ، بس اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ بھی اترتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر اترتا ہے اور پھر آگے جاتا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس جاتا ہے تو وہ ان کے ہاتھوں سے ہو کر جاتا ہے اور وہ سب ایک آن کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں ہیں۔(یعنی ہر لمحہ ہر آن وہ اللہ سے رابطہ میں ہیں اور اللہ کے محتاج ہیں اللہ سے کسی بھی حال میں مثتثنیٰ نہیں ہیں)پلک جھپکنے کی مقدار میں بھی بے نیازی اللہ سے نہیں۔
(غیبة الطوسی ص ۸۸۳ ، النجم الثاقب ص ۹۸۴)
حضرت رسول اللہ سے ایک طولانی حدیث میں یہ بات آئی ہے ”ہم اللہ کا یمین(دایاں ہاتھ)ہیں ہم اللہ کے اعضاءہیں....جو ہمارے اوپر ایمان لے آیا وہ اللہ پر ایمان لے آیاجس نے ہماری بات ٹھکرا دی تو اس نے اللہ کی بات کو ٹھکرا دیا جس نے ہمارے بارے شک کیا تو اس نے اللہ کے بارے شک کیا، جس نے ہمیں پہچان لیا تو اس نے اللہ کو پہچان لیا جس نے ہماری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ہم اللہ تک جانے کا وسیلہ ہیں، ہم اللہ کے رضوان سے جوڑنے کا ذریعہ ہیں، ہمارے لئے عصمت، خلافت اور ہدایت ہے۔(بحارالانوار ج ۵۲ ، ص ۲۲،۳۲ ، باب بدءخلقھم ص ۳۸)
دعاءندبہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے خطاب ہے ”وہ باب اللہ کہاں ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ کے پاس آیا جاتا ہے وہ سبب متصل کہاں ہیں جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
(بحارالانوارج ۲۰۱ ص ۴۰۱)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: ہم تمہارے اور اللہ کے درمیان سبب و ذریعہ اور واسطہ ہیں“۔(بشارة المصطفیٰ ص ۰۹)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حدیث روایت ہے” جس میں آل علیہ السلام محمد کی توصیف بیان کی گئی ہے، اورہم وجود کی علت ہیں، ہم معبود کی حجت ہیں جو شخص ہمارے حق سے جاہل رہا اللہ اس کا کوئی عمل بھی قبول نہیںفرماتا“۔(بحارالانوارج ۶۲ ، ص ۹۵۲ حدیث ۶۳)
حضرت ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے”ہم اللہ کی حجت ہیں ہم اللہ تک جانے کا دروازہ ہیں، ہم اللہ کے ترجمان زبان ہیں، ہم اللہ کی پہچان کا چہرہ ہیں، ہم اللہ کی مخلوق میں اللہ کی دیکھنے والی آنکھ ہیں، ہم اللہ کے بندگان میں اللہ کے والیان امر ہیں، پھر آپ نے راوی سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے اسودبن سعید!ہمارے اور ہر زمین کے درمیان ایک تعلق اور رابطہ کی زنجیر موجود ہے جس طرح ایک بلڈنگ کی بنیاد سے لے کر اس کے اختتام تک ایک مسلسل جوڑ، ربط اور اتصال ہوتاہے، جس وقت ہم کو کسی بات کا امر ہوتا ہے اور ہم نے کسی زمین پراسے لاگو کرنا ہوتا ہے تو ہم نے اس رابطہ والی لائن کو اپنی جانب کھینچنا ہوتا ہے اسی طرح وہ زمین اپنے اہل سمیت، بازاروں سمیت، گھروں سمیت ہماری طرف آ جاتی ہے اور ہم اس میں اپنا امر اور فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہوتا ہے جاری کر دیتے ہیں۔
(بحارالانوار ج ۵۲ ص ۴۸۳ ، باب غرائب افعالھم حدیث ۰۴ ، بصائرالدرجات ص ۱۶ اختصار کے ساتھ)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے”بتحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے تحت ایک مخلوق کو خلق فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق کو اپنے نور اور اپنی رحمت سے خلق فرمایا ہے اور اس مخلوق کو اپنی رحمت کے لئے خلق فرمایا ہے پس وہ مخلوق اللہ کی دیکھنے والی آنکھ ہیں اور اس کے سننے والے کان ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر اس امر پر امناءہیں جو اللہ تعالیٰ نے حجت کے طور ، ڈرانے کے لئے عذر خواہی کے حوالے سے جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس پر وہ امناءہیں، اللہ کی مخلوق میں حجت ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ برائیوں کو مٹاتا ہے اور ان کے توسط سے ظلم کو دور کرتا ہے، ان کے وسیلہ سے رحمت کو اتارتا ہے ان کے ذریعہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور زندوں کو مارتا ہے، ان کے ذریعہ سے اپنی مخلوق کی آزمائش کرتا ہے اور ان کے وسیلہ سے اپنے مخلوق میں فیصلے فرماتا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا! میں آپ پر قربان جاوں وہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا وہ اوصیاءہیں۔(التوحیدللصدوق ص ۷۶۱ باب ۴۲ ص ۱)
(ازمترجم....مصنف نے ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد حکماءاور فلسفیوں کے بیانات سے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ ذوات مقدسہ مخلوق اور اللہ کے درمیان واسطہ فی الفیض ہیں۔ میرے خیالات میں اتنی واضح روایات اور احادیث کو بیان کرنے کے بعد کسی فلسفی یا عقلی بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب ان کے لئے لکھی جا رہی ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو اپنا امام سمجھتے ہیں اور ان کی پیروی کو اپنا فریضہ قرار دیتے ہیں، لہٰذا اس بحث کا ترجمہ نہیں کیا،اگرچہ مختصر تھی۔ اصل کتاب کے ص ۷۹ ،ص ۸۹ سے دیکھ سکتے ہیں)
ابن عربی(عالم اہل سنت) کا بیان ہے، کائنات میں جو بھی رزق موجود ہے یہ سب بقیة اللہ کے ذریعہ سے ہے، اس بیان کے بعد اس نے اپنے طریقہ کے مطابق اس نظریہ کے اثبات پر دلائل دیئے ہیں۔(دیکھئے الفتوحات المکیہ ج ۶ ص ۹۷)
چھٹافائدہ:۔ محتاجوں پریشان حالوں کی مددکرنا
میری جان ان پر قربان جائے آپ پسے ہوئے طبقات پر، محروموں پر، کمزوروں پر بہت ہی مہربان ہیں آپ ان کی مدد ہیں جن کا کوئی مددگار نہیں روایت بیان ہوئی ہے کہ جس کو کوئی حاجت ہو تو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق”جب کوئی شخص صحرا میں راستہ بھٹک جائے تو وہ اس اپنے امام علیہ السلام کو آواز دے“۔
”یا اباصالح ارشدتاعلی الطریق یرحمک الله تعالیٰ “
اے اباصالح! ہمارے لئے راستہ کی نشاندہی کردیں اللہ آپ علیہ السلام پررحمت فرمائے“۔
(من لایحضرہ الفقیہ ج ۲ ص ۸۹۲ حدیث ۶۰۵۲ ، مکارم الاخلاق ص ۹۵۲ ، مجمع البحرین ج ۲ ص ۶۲۶ ، اللمقہ البضیاءص ۲۶۵)
یہ بات یاد رہے کہ خشکی پر ابوصالح مقرر ہے اور سمندروں پر حمزہ موکل ہیں۔
(الاداب الدینیہ ص ۰۰۱)( شاید یہ دو نام امام زمانہ کے مراد لیے گئے ہوں کہ جب خشکیوں، صحراوں میں مسئلہ ہو تو ابوصالح پکاریں جب سمندروں میں مسئلہ ہو توحمزہ کہہ کرپکاریں....مترجم)
شیخ مفیدؒ کو جو آپ نے خط بھیجا اس میں یہ جملہ موجود ہے :”انا غیرمهملین لمراعاتکم ولاناسین لذکرکم لولاذلک لنزل بکم اللاواءواصطلمکم الاعدائ “
بتحقیق ہم نے تمہاری حفاظت کے معاملہ کو اسی طرح نہیں چھوڑ رکھا اور نہ ہی ہم نے تمہاری یاد کو بھلا دیا ہے اگر ایسا نہ ہو تو تمہارے اوپر تباہ کن مصائب آئیں گے اور دشمن تمہیں ختم کر دیں گے“۔بہت سارے واقعات اور حالات کتب میں موجود ہیں جو حاجت مندوں نے آپ سے توسل کیا، پریشانی کے وقت آپ کو آواز دی تو اس کی حاجات پوری ہوئیں، پریشانیوں کا ازالہ ہوا، محدث نوری نے بہت سارے واقعات نقل کیے ہیں۔(النجم الثاقب ج ۲ ص ۱۲۴ سے ۶۲۴ ، مکیال المکارم ج ۱ ص ۸۳،۹۳۱)
ان واقعات میں بحرین کے مومنوں کو استعماری ایجنٹوں اور کارندوں سے بچایا گیا۔(النجم الثاقب)
عنیزہ قبیلہ نے جب کربلا کاراستہ زواروں پر بند کیا تو اسے زائرین کے لئے کھول دیاگیا۔(مشخص الامال ج ۲ ص ۶۲۳)
صحرا اسود کو اس کی اپنی جگہ رکھنے کا واقعہ۔(منتخب الاثر ص ۶۰۴ ،الخرائج والجرائح ص ۹۲)
مالی امداد کے واقعات بھی ہیں بیماروں کی شفایابی کے واقعات ہیں۔
(سابقہ حوالوں کے علاوہ، کشف الغمہ ج ۳ ص ۷۸۲)
ابن عربی نے اس جگہ بہت ہی علمی اور فلسفی بحث کی ہے اور اس میں یہ تالیف کیا ہے کہ کس طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام محتاجوں کی مدد کرتے ہیں۔
(الفتوحات المکیہ ج ۶ ص ۸۷ ،باب ۶۶۳)
(ازمترجم....ہمارے زمانہ کے بہت سارے واقعات ہیں جس میں امام زمانہ(عج) کی امداد بڑی واضح ہے، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی، امریکی طیاروں کاطبس کے صحرا میں تباہ ہونا، ایران کے انقلاب کے خلاف تمام عالمی طاقتوں کی مشترکہ سازشیں اور علاقائی اسلامی ممالک کی بھرپورمخالفت اور عالمی طاقتوں کا ساتھ نہ دینے کے باوجودانقلاب کا باقی رہنا اور ہر آنے والے دن میں مضبوط سے مضبوط ترہونا، امام زمانہ علیہ السلام کی زندہ امداد کی مثالیں ہیں، افغانستان میں شیعوں کی حفاظت کا انتظام، دہشت گردوں کو ناکامی اور شیعوں کو ان کے حقوق ملنا، اپریل ۷۰۰۲ سے اکتوبر ۸۰۰۲ تک تمام تر محاصرہ کے باوجود پارہ چنار ، کرم ایجنسی میں شیعوں کی فتوحات اور کامیابیاں اور ملک دشمن ، اسلام دشمن طالبان کی مسلسل ناکامی، جولائی ۶۰۰۲ کی جنگ میں حزب اللہ کی کامیابی اور اسرائیل کی بری طرح ناکامی اور پھر ۸۰۰۲ ءمیں سیاسی میدان میں حزب اللہ کی کامیابی،اسی صدام کی ۶۳ سالہ حکومت کا خاتمہ اور عراق میں شیعوں کی کامیابیاں سعودی عرب میں شیعوں کا باقی رہ جانا اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کو تقویت ملنا، روس کی سلطنت عظمیٰ کا خاتمہ اور امریکی اقتدار کا روبزوال ہونا یہ سب ایسے واقعات ہیں کہ ان کے پیچھے امام زمانہ (عج) کی غیبی امدادشامل ہے، شیعہ اہل بیت علیہ السلام کے خلاف تمام عالمی طاقتیں ہیں، منافق حکمران ہیں لیکن ہر آنے والا دن شیعوں کی مضبوطی کی خبر لا رہا ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ منجی بشریت، عالمی مصلح، امن عالم کا داعی، موعود امم، عدل الٰہی کا نمائندہ، صاحب الزمان امام مہدی علیہ السلام کے اقتدار کا زمانہ قریب ہے، سوال یہ تھا کہ امام مہدی علیہ السلام پردہ غیبت میں رہ کر کیا فائدہ دے رہے ہیں تو اس بارے تکوینی فوائد اور اثرات احادیث کی روشنی میں بیان ہوئے اور ہم اپنے زمانہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ حاضر اور موجود آثار ہیں جو آپ کے وجودذیجود کی برکات سے ہیں، خداوند آپ کی برکات اور زیادہ ہمارے نصیب کرے اور ہم اسی زمانہ میں یہودیوں کے اقتدار کا خاتمہ اور آل علیہ السلام محمد کے اقتدار کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں۔(آمین)مصنف نے اس دور میں ظاہر ہونے والی کچھ غیبی امدادات کا تذکرہ کیاہے)
ساتواں فائدہ:۔ مجاہدوں کی مدد کرنا
حضرت امام زمانہ (عج) ہر اس کی مدد کو پہنچتے ہیں جو ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے، بہت سارے اسلامی خطوں میں امام زمانہ (عج) کی مدد کی گواہی موجود ہے، جمہوری اسلامی ایران میں مجاہدین کے لئے امام زمانہ (عج) کی امدادبڑی روشن اور واضح ہے چاہے وہ انقلاب کے ابتدائی ایام ہوں یا صدام ملعون کی طرف سے مسلط کردہ جنگ ہو یا اس کے بعد والے امام ہوں۔
اسی طرح لبنان میں مجاہدین کے لئے آپ علیہ السلامکی مدد کسی پر مخفی نہیں چاہے اسلامی مزاحمتی تحریک کا ابتدائی زمانہ ہو یا اس کے بعد کا زمانہ ہو، یہ جنگ جس میں حزب اللہ کے مجاہدین داخل ہوئے جو ایک اسطورہ اور خیالی کہانی لگتی ہے ۶۰۰۲ ءمیں یہ تو ایک ایسا امر ہے جسے دنیا کا کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا غیبی امداد کی انکار ناممکن ہے کہ چالیس ہزار مسلح افواج کا لشکر بے کراں تھا، ٹینکوں، توپخانہ، جنگی جہازوں اور ایسا اسلحہ جسے کسی نے اس سے پہلے دیکھا تک نہ تھا چوبیس گھنٹے مجاہدین کے اوپر دشمن کے جنگی طیارے پرواز کر رہے تھے اور بمباری میں مصروف تھے جب کہ مجاہدین کی تعداد ۰۰۵۱ سے زیادہ نہ تھی اور ان کے پاس درمیانہ درجہ کے ہتھیار تھے۔
جو مجاہدین بالفعل میدان میں لڑ رہے تھے انہوں نے جو واقعات اور حکایات بیان کی ہیں اور جو آپ بیتی ہر ایک مجاہد نے سنائی ہے وہ سب غیبی امداد پر دلیل ہے۔
اسی طرح جو کچھ دشمن کے سپاہیوں، عسکری کمانڈروں نے واقعات اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بیان کیے ہیں کہ جنگ کے دوران انہوں نے سفید لباس والے سپاہی، سفید گھوڑوں پر سوار افراد، تلواریں اٹھائے ہوئے دیکھے ہیں، تلوار سے ایک کمانڈر نے اپنا کٹا ہوا ہاتھ بھی ٹیلی ویژن کی سکرین پر انٹرویو کے دوران دکھایا یہ سب کچھ غیبی امداد کی نشانیاں ہیں یہ سب واقعات و حالات ہمیں بتاتے ہیں کہ اس جنگ میں غیبی ہاتھ مجاہدین کے سرپر موجود تھا اور امام زمانہ (عج) کی خصوصی عنایات شامل تھیں جس وجہ سے مجاہدین کو حیرت انگیز کامیابی ہوئی اسرائیل کو ایسی شکست ہوئی کہ جس سے اس کا وجود خطرہ میں پڑچکاہے۔”والحمدللہ ولہ اشکرعلی انعمہ“۔
آٹھواں فائدہ:۔ امام زمانہ علیہ السلام(عج) ہمارے ولی نعمت ہیں
اور ہمارے رزق کے ولی بھی ہیں
زیارت جامعہ میں ہےوقادة الامم واولیاءالنعم وعناصرالابرار “
(بحارالانوار ج ۷۹ ص ۴۷۱)
سلام ہو آپ پر اے اقوام کی قیادت کرنے والے رہبروں اور اے نعمتوں کے اولیاءاور وارثان، اے ابرار، نیکوکاروں کے لئے بنیادون،عناصر“
دعاءندبہ میں ہے....اے اللہ!ہماری روزیوں کو ان کے وسیلہ سے وسیع کر دے، پھیلا دے، ان کے ذریعہ ہماری پریشانیوں کو ٹال دے، ان کے وسیلہ سے ہماری حاجت کو پورا کردے“۔
الکافی میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے بیان نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا....”ہم اللہ تعالیٰ تک لیجانے کا دروازہ ہیں، ہم اللہ کے آسمانوں میں خزانہ دار ہیں، اللہ کی زمین میں اللہ کے خزانہ دار ہیں، ہمارے ذریعہ سے درختوں کو پھل لگتے ہیں اور پھل پکتے ہیں، دریا بہتے ہیں، آسمان سے پانی برستا ہے، زمین گھاس اگاتی ہے، ہماری عبادت کے ذریعہ اللہ کی عبادت ہوئی یعنی لوگوں نے ہماری عبادت کودیکھ کر سیکھا اور اللہ کی عبادت کی، اگر ہم موجود نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ کی جاتی ہے۔
(الکافی ج ۱ ص ۴۴۱ ، باب النوادر حدیث ۵)
الخرائج میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”اے داود ! اگر ہم موجود نہ ہوتے تو دریاوں کو نہ بہایا جاتا،پھلوں کو نہ پکایا جاتا، اور درختوں پر سبزہ نہ ہوتا“۔(مکیال المکارم ج ۱ حدیث ص ۱۴ حدیث ۷۳)
الکافی میں حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام کی طرف سے حدیث کو نسبت دی ہے کہ آپ نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خلق فرمایا اور دنیا کا ایک ٹکڑا اس کے لئے مخصوص کردیا، جو آدم علیہ السلام کے لئے ہے وہ سب کچھ رسول اللہ کے لئے ہے اور جو رسول اللہ کے لئے ہے وہ آل محمد علیہم السلام سے آئمہ اطہارعلیہم السلام کے لئے ہے۔(الکافی ج ۱ ص ۹۰۴ ، باب ان الارض کلھا للامام حدیث ۷)
حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ دنیا کا آخری دور اور جو کچھ دنیا میں موجود ہے اس کا آخری مرحلہ، اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اللہ کے رسول کے لئے ہے اور ہمارے لئے مخصوص ہے، پس جو کوئی دنیا سے کچھ پالیتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اپنے بھائیوں پر احسان کرے، ان سے نیکی کرے اور جو دنیا سے حاصل شدہ مال دنیا میں حاصل ہونے والے اختیارات کا استعمال اس طرح نہ کرے گا تو ہم ان سے بری اور بیزار ہیں، وہ ہم سے دور ہے۔(الکافی ج ۱ ص ۸۰۴ حدیث ۲)
دارالسلام میں کتاب بصائرالدرجات سے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ:
امام علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا:
اے اباحمزہ تم طلوع آفتاب سے پہلے ہرگز نہ سویا کرو، کیونکہ اس وقت میں سونے کو میں تیرے لئے پسند نہیں کرتا ہوں، تمہیں اللہ تعالیٰ اس وقت میں رزق اور روزی تقسیم فرماتا ہے اور اس رزق کو ہمارے ہاتھوں سے جاری فرماتا ہے۔
(مکیال المکارم ج ۱ ص ۲۴ حدیث ۴)
مکیال المکارم کی ج ۱ ص ۷۷۲ میں اشعار اس معنی میں ذکر کیے گئے ہیں جن کو یہاں پر لانے کی چنداں ضرورت نہ ہے۔
مذکورہ احادیث اور بیانات سے واضح ہو گیاکہ ہمارے ولی نعمت امام زمانہ علیہ السلام ہیں اور ہمارے رزق کا ذریعہ امام زمانہ علیہ السلام ہیں....مترجم
تکوینی آثار بیان ہو چکے ان کی مزید تفصیل بھی دی جا سکتی ہے جو کچھ بیان ہو چکا یہ ایک غیرمتعصب کے لئے کافی ہے اور صاحب ایمان کے یقین کو بڑھانے کا وسیلہ یہ بیانات ہیں۔
حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کے وجود مبارک سے تشریعی فوائد
پہلا فائدہ:۔ مراجع الدین اور فقھاءکی راہنمائی فرمانا
شرعی احکام استنباط کرنے کے منابع چار ہیں ( ۱) قرآن مجید( ۲) سنت، روایات شریعہ ( ۳) عقل( ۴) اجماع (المصلحات ص ۵۶)
یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیعہ فقہاءکے نزدیک ہر اجماع حجت اور دلیل نہیں اور اس کی پیروی کرنا لازم نہیں مگر جو اجتماع حجت ہے اور شرعی احکام کے لئے ماخذ بھی ہے وہ اجماع کشفی ہے وہ ایسا اجماع ہے جس میں پورے فقہاءکا اتفاق ہوتا ہے ایک بھی مخالف رای والا موجود نہیں ہوتا، گویا کہ جس چیز پر پوری امت کا اتفاق ہو جائے اور اس میں ایک بھی مخالف نہ ہو تو اس سے یہ بات کشف اور معلوم ہو جائے گی کہ اس اجماع میں امام وقت جو کہ معصوم اور نمائندہ الٰہی ہیں وہ بھی موجود ہیں پس اس لئے ایسے اجماع سے حکم اخذ کرنا صحیح ہے۔
شیخ الطالقہ الطوسیؒ اوردوسرے فقہاءنے واضح کیا ہے کہ اس اجماع میں کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کا وجود یقینی ہوتاہے۔اس لئے یہ اجماع حجت ہے، اگر ایسا اجماع نہ مل سکے تو پھر اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔(رسائل المرتضیٰ ج ۱ ص ۶۱ ، المعتبر للعلامہ الحلی ج ۱ ص ۹۳،۳۵ ، روض الجنان ص ۰۸ ، تہذیب الاصول للامام الخمینیؒ ج ۲ ص ۸۶۱)
کیونکہ اگر امام علیہ السلام اس فیصلہ پر راضی نہ ہوں تو وہ یقینی طور پر کسی فقیہ کے ذہن میں اس کے مخالف حکم ڈال دیں گے اور اس طرح اجماع ٹوٹ جائے گا اور ایسا اقدام کرنا امام علیہ السلام کے اختیار اور قدرت میں ہے اورایسا کرنا ضروری بھی ہوگا کیونکہ اگرایسانہ ہوتو لوگ گمراہ ہوجائیں گے گمراہی سے بچانے کے لئے اقدامات کرناامام وقت کی ذمہ داری ہے اگرچہ امام غائب ہی کیوں نہ ہوں۔
امام علیہ السلام ایک چھوٹے سے فقہی اور شرعی مسئلہ کی رہنمائی کے لئے فقہاءکی غیر محسوس طریقہ سے مدد فرماتے ہیں اسی طرح اگر امت کی تقدیر کا فیصلہ ہو، امت کی بقاءاوراستحکام کا مسئلہ ہو، امت کی ہلاکت اور حیات کا مسئلہ ہو تو اس میں امام علیہ السلام کی مدداور لازمی ہو جاتی ہے یہ امام کا اپنا لطف و کرم اور مہربانی ہے کہ وہ امت کے امور کو چلانے والوں کے لئے راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔محقق اردبیلی ان فقہاءسے ہیں جنہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے شرف ملاقات تھا اور وہ امام علیہ السلام سے سوال کر لیا کرتے تھے جب بھی کسی مسئلہ میں الجھ جاتے اور اس کی سمجھ نہ آ رہی ہوتی اور وہ حل نہ ہوتا تو امیرالمومنین علیہ السلام کے محراب عبادت مسجد کوفہ میں تشریف لے جاتے اور مخصوص اعمال بجا لاتے اور امام علیہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کر لیتے تھے جس کا جواب انہیں معلوم نہ ہوتاتھا۔
(النجم الثاقب منتہی المال ج ۲ ص ۹۱۳)
شیخ مفیدؒ کا بہت بڑا نصیب ہے کہ امام علیہ السلام ان کی برابر راہنمائی فرماتے تھے خطوط کے ذریعہ بھی اور بالواسطہ طور پر کسی اور کے ذریعہ بھی اور براہ راست بھی....
ایک خط میں آپ شیخ مفیدؒ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہم تمہارے ساتھ یہ عہد کرتے ہیں اے مخلص ولی ہماری خاطر دشمنوں سے جہاد کرنے والے....یہ کہ جس شخص نے تیرے دینی بھائیوں سے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس سے حصہ نکال کر اس کے مستحق کو دینا ہے تو وہ باطل پر لے جانے والے فتنہ سے محفوظ رہے گا اور اس فتنہ کے تاریک اور خوفناک مناظر سے بچا رہے گا اور ان میں سے جو بخل اور کنجوسی کرے گا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے مال دیا ہے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اگر وہ ایسا نہ کرے گاتو وہ اس کی وجہ سے خسارے میں ہوگا اپنی دنیا میں بھی اور اپنی آخرت میں بھی۔
(علماءکرام اور فقہاءعظام کے حالات زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات اور حالات درج ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام نے کسی طرح ان کی راہنمائی فرمائی اور انہیں بھٹکنے سے بچایا، یہ سلسلہ آج کے دور میں بھی جاری ہے، البتہ ہمارے عظیم القدر فقہاءنے اپنی زندگی میں امام زمانہ علیہ السلام سے راہنمائی لینے کے واقعات کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کیا ان کی وفات کے بعد ان کی خودنوشت سے یا ان کے متعمد ترین اور امین ساتھیوں کے ذریعہ ان واقعات سے آگہی ہوئی، اگر امام علیہ السلام کی راہنمائی نہ ہوتی اور آپ اپنے شیعوں کا خیال نہ رکھتے اور انہیں یاد نہ فرماتے تو اس لمبی ظالم تاریخ کے تندوتیز، جھگڑوں میں شیعوں کا نام مٹ جاتا اور امامعلیہ السلام نے اپنے شیعوں کی راہنمائی کے لئے فقہاءاور مراجع دین کی خصوصی سرپرستی جاری رکھی اسی لئے ہمارے فقہاءہر دور کے مسائل سے نبردآزما ہوتے رہے اور کامیاب ہو کر ہر میدان سے نکلے اور آج بھی شیعیان آل محمد کی راہنمائی فرمارہے ہیں....ازمترجم)
امام علیہ السلام کی توقیعات دیکھنے کے لئے(الاحتجاج ج ۲ ص ۳۲۳،۴۲۳ ، علماءکے حالات کے لئے ہر معروف فقیہ کا اپنا تفصیلی زندگی نامہ ان کی زندگی کے واقعات پر مشتمل کتابیں،ہمارے دور میں حضرت امام خمینیؒ، آیت اللہ سید شہاب مرعشی نجفیؒ اور کچھ پہلے کے سید آیت اللہ سیدمہدی بحرالعلوم، کے حالات کو پڑھ سکتے ہیں اور قصص العلماءمیں بھی بہت کچھ اس ضمن میں مل جائے گا۔
دوسرا فائدہ:۔ امام علیہ السلام کی موجودگی لطف الٰہی ہے
لطف ہر اس حالت کو کہتے ہیں جوعبدکو مولا کے قریب کردینے کا ذریعہ بنے یا جو حالت اطاعت کرنے پر آمادہ کر دے یہ اصطلاحی معنی ہے ۔
تلطف اور لطف کا معنی مولا کا اپنے بندگان پر مہربانی کرنا،کرم کرنا، رحمت سے نوازتا ہے، اس میں محبت اور پیار کا عنصر شامل ہے نبوت اور امامت کے باب میں بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندگان پر لطف ہے کہ اس نے اس کی ہدایت کے لئے انبیاءعلیہ السلام و رسل علیہ السلامبھیجے اور پھر ان کے لئے اوصیاءقرار دے، نبوت کی طرح امامت کا عہدہ اور منصب بھی لطف الٰہی ہے۔
سید مرتضیٰ علم الہدیٰ نے فرمایا:ریاست اورقیادت جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے واجب کو انجام دینے اور حرام سے بچنے کے لئے لطف الٰہی ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس لطف سے خالی نہ چھوڑے اور الطاف الٰہیہ کے ہونے پر جو دلیل قائم ہے وہ اسے بھی شامل ہے
(الذخیرہ فی علم الکلام ، باب اللطف ص ۶۸۱ ، باب الامامة ص ۰۱۴ ، لفین للعلامہ الحلی ص ۵۱ بحث نمبر ۴)
علامہ حلیؒ فرماتے ہیں:امام معصوم کا جوہم نے معنی کیا ہے اور جو خصوصیات ہم نے ان کے لئے متعین کردی ہیں وہ اللہ کی طرف سے منصوب ہوتا ہے ایک بندہ اس کے وسیلہ سے اطاعت کر کے قرب الٰہی حاصل کرتا ہے، اور اس کے وسیلہ سے نافرمانیوں سے بچتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر معاملہ الٹ ہو جاتا، یہ حکم ہر عاقل کے لئے تجربہ سے ظاہرہے اور ضروری اورواضح ہے کوئی ایک بھی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا ہر وہ امر جو مکلفین کو اللہ کی اطاعت کے قریب کر دے اور بندگان کو اللہ کی نافرمانی سے دورکر دے وہ لطف ہے اصطلاح میں بس امام کا وجود لطف ہے۔
(الذخیرہ فی علم الکلام ، باب اللطف ص ۶۸۱ ، باب الامامة ص ۰۱۴ ، لفین للعلامہ الحلی ص ۵۱ بحث نمبر ۴)
نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت امام زمانہ (عج) کا وجود مبارک انسان کو اللہ کی اطاعت کے قریب کر دیتا ہے اور اللہ کی نافرمانی سے دور کرتا ہے بلکہ اللہ کی اطاعت زیادہ کرنے کا سبب بھی بنتا ہے یہ اس طرح ہے کہ جب انسان یہ محسوس کرتا ہے اور اس پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور یقین کامل اس پر رکھتا ہے کہ اس کا امام زندہ اور موجود ہے جو کہ معصوم ہے اور اس کی نظر اس کے چھوٹے بڑے سارے اعمال پر ہے تو وہ معصیت اور گناہ کرتے وقت شرم اور حیاءمحسوس کرے گا کہ اپنے مہربان امام کے سامنے اور ان کی موجودگی میں گناہ کرے۔
اس طرح وہ گناہ پر اصرار بھی نہیں کرے گا اگر ایک دفعہ اس سے غلطی ہو جائے تو پھر اس کو دہرائے گا نہیں اسی طرح اسے شرم آئے گی کہ وہ کس طرح اپنے آقا ومولا امام کے سامنے واجبات کو ترک کر دے وہ حضرت امام زمانہ(عج)کے وجود کا یقین رکھتاہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان کامل گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے
ازمترجم....اس جگہ آپ ذرا تصور کریں ہم عام طور پر یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ عوام میں ایسا عام ہے کہ جب کوئی جوان جو سگریٹ نوشی کرتا ہے سامنے کسی عالم کو آتے دیکھے تو فوراً سگریٹ بجھا دیتا ہے اسی طرح عمامہ والے، عالم دین کو دیکھ کرباادب ہو جاتا ہے بے ہودہ حرکات کو چھوڑ دیتا ہے، آپ نے بے پردہ خواتین کو دیکھا ہو گا کہ جب کسی عالم دین اور بزرگ شخصیت کا سامنا کرتی ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کس حد تک خود کو حجاب میں لے آئیں، آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا بلکہ پاکستان میں تو یہ عام ہے کہ جب قرآن مجید کی تلاوت شروع ہو تووہ خواتین جو سر پر دوپٹہ نہیںلیتیں وہ فوراً دوپٹہ لے لیتی ہیں جب انہیں کسی عالم کے پاس جانا پڑے تو دوپٹہ اوڑھ لیتی ہیں یا جن کا حجاب کچھ خراب ہوتا ہے تو وہ عالم کے سامنے صحیح حجاب کر لیتی ہیں اسی طرح جب عوام میں عالم دین موجود ہو تو اس وقت وہ دینی اعمال اور شرعی عبادات کے بارے زیادہ اہتمام کرتے ہیں پس ان مثالوں کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ جس کویقین ہے کہ میرا امام موجود ہے میرا امام میرے ہر عمل سے واقف ہے، میرے امام کی نظر میرے اعمال پر ہے، میرے امام علیہ السلام سے میرے اعمال پوشیدہ نہیں ہیں اور امام کی قدرت اور اختیار ات سے بھی واقف ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ میرے امام کا فرمان ہے کہ جو اللہ کا اطاعت گزار بندہ ہے وہ ہمارا شیعہ اور موالی و محب ہے اور جو اللہ کا نافرمان ہے، معصیت کار ہے، وہ ہمارا مخالف اور ہمارا دشمن ہے، اچھے اعمال کو وہ پسند کرتے ہیں اور برے اعمال انہیں ناپسند ہیں، شیعوں کے اچھے کاموں سے انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور ان کے برے کاموں سے انہیں تکلیف ہوتی ہے اور برے اعمال کو دیکھ کر انہیں حزن وملال ہوتا ہے، تو کون بدبخت ہے جو اپنے امام علیہ السلام، اپنی ولی نعمت، بقیة اللہ الاعظم مہدی امم کو ناراض کرے، کون ہے جو چاہے گا کہ اپنے امام کو غمزدہ اور دکھی کرے بلکہ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اپنے اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے امام کو خوش کریں ان کے آرام اور سکون کے اسباب مہیا کریں) پس امام کے وجود کا دوسرا بڑا فائدہ اور اہم فائدہ یہ ہے کہ آپ کاوجود لطف الٰہی ہے جس کے وسیلہ سے بندگان خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور ان ہی کے وسیلہ سے خدا کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں اعمال پیش کرنے کے بارے روایات
روایات میں ہے کہ بندگان کے اعمال حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں ، چند روایات ملاحظہ ہوں۔
۱ ۔ حضرت ابوعبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ کسی فیصلہ کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے رسول اللہ پر پیش کیا جاتا ہے پھر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس جاتا ہے اسی طرح ترتیب وار سب آئمہ علیہ السلام سے ہوتا ہوا وہ فیصلہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے پاس آتا ہے اور وہاں سے دنیا میں لاگو اور نافذ ہونے کے لئے جاتاہے اور جب فرشتے کسی عمل کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جانا چاہتے ہیں تو اس عمل کو حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے پھر ترتیب وار باقی آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں وہ عمل لے جایا جاتا ہے اسی طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ عمل جاتا ہے پس جو کچھ اللہ کی طرف سے اترتا ہے تو وہ ان کے ہاتھوں پر اترتا ہے اور جو بھی اللہ کی طرف جاتا ہے تو وہ ان کے وسیلہ سے جاتا ہے اور وہ سب پلک جھپکنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ سے بے نیاز نہیں ہیں۔
(غیبت شیخ طوسیؒ ص ۸۸۳ ،النجم الثاقب ۹۸۴)
۲ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”اے مفضل ! جو شخص یہ خیال رکھے کہ آل محمد علیہ السلام سے جو امام ہے اس سے کوئی چیز چوک جاتی ہے اور جوحتمی امر ہوتا ہے اس سے وہ ناآگاہ ہے تو ایسا خیال کرنے والا شخص کافر ہے اس نے اس کا انکار کر دیا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترا ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے یہ یقینی امر ہے کہ ہم آپ کے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں اور تمہارا کوئی امر ہم سے پوشیدہ نہیں ہے بتحقیق اعمال کو ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس وقت روح رہ جائے گی بدن روح سے خالی ہو جائے گا تو اس وقت ان کے انوار ظاہر ہوں گے ان کے اسرار کا پتہ چلے گا اور عالم الغیب کا ادراک ہوگا۔(مشارق انوار البقینص ۸۳۱)
۳ ۔ امام زمانہ (عج) سے روایت ہے کہ اپنے اصحاب اور ساتھیوں کو یہ بات بتا دو اور میری جانب سے انہیں سلام پہنچاو اور ان کے لئے ہر بات بیان کر دو کہ میں خود اور جو بھی آئمہ علیہ السلام سے میرے مقام پر ہے تو ہمارے لئے یہ بات ضروری ہے کہ ہم آپ کے جنازوں پر حاضری دیں تم جس شہر میں بھی رہتے ہو تم اپنے بارے اللہ کا تقویٰ اختیارکرو“۔(بحارالانوارج ۸۴ ،ص ۳۷ ص ۰۰۱)
۴ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:”خدا کی قسم! اگر میں چاہوں تو تم میں سے ہر آدمی کے نکلنے کی جگہ، اندر جانے کی جگہ باہر آنے کی جگہ، اس کی رفت و آمد کے سارے حالات وواقعات اور جو کچھ بھی اس سے متعلق ہے اسے بتا دوں، لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم میری وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار نہ کردو اور کافر نہ ہو جاو، آگاہ رہو یہ سب کچھ میں اپنے خواص کے لئے بیان کرتاہوں“۔(نہج البلاغہ خطبہ ۵۷۱،۰۵۲)
۵ ۔ الکافی میں امام ابوعبداللہ صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:امام جب اپنی ماں کے شکم میں ہوتا ہے تواس وقت سنتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان یہ جملہ لکھا جاتا ہے ”( وَتَمَّت رَبِّکَ صِد قًا وَّعَدلاً لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰاتِهِ وَهُوَالسَّمِیعُ العَلِیمُ ) “(سورہ الانعام ۴۱۱)
اور جب معاملات اس امام کے سپرد ہوتے ہیں تو ان کے لئے روشنی کا ایک ستون قائم ہو جاتا ہے جس کے ذریعہ ہر شہر والوں کے جو بھی اعمال ہوتے ہیں وہ انہیں دیکھتے ہیں۔(الکافی ج ۱ ص ۷۷۳ ، باب موالیدالائمہ حدیث ۴)
۶ ۔ حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے ہے کہ ہر صبح رسول اللہ کی خدمت میں سب بندگان کے اعمال ہوتے ہیں۔(ص ۹۱۲ باب عرض الاعمال علی النبی)
روایت میں آیت”( اِعمَلُوا فَسَیَریَ اللّٰهُ عَمَلَکُم وَرَسُولُهُ وَالمُومِنُو نَ ) “(سورة التوبہ آیت ۵۰۱) کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس جگہ مومنون سے مراد آئمہ اطہار علیہ السلام ہیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی معنی بنتا ہی نہیں کیونکہ ایک مومن کو دوسرے مومن کے سارے اعمال کی بالکل خبر نہیں ہوتی وہ تو ظاہری عمل جو وہ اس کے سامنے کرے اسے بڑی مشکل سے دیکھ پاتاہے۔
(اصول الکافی ج ۱ ص ۹۱۲ ، عرض الاعمال عمل النبی ج ۲ ۔ ۱)
۱: ۔عبدالرزاق اہل سنت کے عالم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث اخراج کی ہے، تمہارے ناموں اور تمہارے شکلوں سمیت تمہیں میرے سامنے پیش کیا جاتاہے“۔(المصنف ج ۲ ص ۴۱۲ ،حدیث ۱۱۳) مجاہد سے روایت ہے ۔
۲: ۔ بخاری نے ادب المفرد میں ابوذر سے اس روایت کو بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: میری امت کے سارے نیک اور بداعمال میرے پاس پیش ہوتے ہیں میں نے تمہاری اچھائیوں پر نظر ڈالی۔(الادب المفروض ۰۸ ، حدیث ۲۰۳ ، باب امامة الادبی ۶۱۱)
۳: ۔ حارث اوربزاز نے حضرت رسول اللہ سے روایت نقل کی ہے، میری زندگی تمہارے لئے خیروبرکت ہے تم باتیں کرتے ہو اور ہم تم سے حدیث بیان کرتے ہیں، میری موت بھی تمہارے لئے خیروبرکت ہے کہ تمہارے سارے اعمال میرے پاس پیش کیے جاتے ہیں۔(المطالب العالیہ ج ۴ ص ۲۲ حدیث ۳۵۸۳ ۔ المطالب العالیہ ج ۴ ص ۲۲ ، ص ۳۵،۸۳ ۔ اس بارے اور روایات بہت زیادہ ہیں ۔دیکھیں:۔جامع الاصول ج ۶ ص ۸۴۲ ص ۳۹۴ ،الرسائل المبشرہ للسیوطی ص ۸۹۱ ، السنن الکبریٰ ج ۳ ص ۹۴۲ ، الفردوس بانوارالخطاب ج ۲ ص ۸۳۱ حدیث ۱۰۷۲ ،صلح الاخوان ص ۵۷)
اعمال کا امام کے پاس جانے کے بارے
اس باب میں چند روایات پر اکتفاءکیا گیا ہے یہ بات ہمارے مسلمہ عقائد میں سے ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے پاس ہمارے اعمال لے جائے جاتے ہیں، اس بارے تفصیلات عقائد کی بڑی کتابوں میں موجود ہیں اس کی چندصورتیں ہیں جو کچھ روایات سے سمجھا جا سکتا ہے۔
۱: ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے لئے اللہ کی جانب سے احاطہ علمی ہے کہ کائنات کی ہرشی کا علم امام کے پاس موجود ہوتاہے اور روزانہ کے اعمال کا علم اور اشیاءمیں ردوبدل کا علم جزئیات و کلیات کا علم امام کے لئے حاصل ہے، سورہ یٰسین میں آیت ”( کُلُّ شَی اَحصَینَاهُ فِی اِمَامٍ مُبِّین ) “ (سورہ یٰسین آیہ ۲۱) کی تفسیر میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے اور امام زمانہ علیہ السلام کی توقیعات میں بھی ہے کہ آپ بندگان کے تمام اعمال بارے احاطہ علمی رکھتے ہیں اس میں کوئی مضایقہ نہیں ہے۔
۲: ۔ فرشتے مامور ہیں جو باقاعدہ ہر آدمی کے اعمال نامہ کو آپ کے پاس لے آتے ہیں ہر روز ایسا ہوتا ہے یا ہر شب جمعہ کو ہوتا ہے، سارے اعمال روزانہ پیش ہوتے ہیںیا ہفتہ میں ایک بار پیش ہوتے ہیں اس بارے تفصیلی بحث عقائد کی کتابوں میں موجود ہے اور یہ وہ فرشتے ہوتے ہیں جو ہر آدمی پر اس کے اعمال لکھنے پر مامور ہوتے ہیں یعنی ہر شخص کے اعمال کی رپورٹ اس شخص پر متعین فرشتے امام زمانہ (عج) کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر امام علیہ السلام کی ہدایات کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں۔
۳: ۔ ایک بڑا ہی جلیل القدر فرشتہ ہے جس کا نام روح القدس ہے جس کی ڈیوٹی آئمہ علیہ السلام پر ہے وہ ہر امام کی خدمت میں موجود رہتا ہے، امام کی حفاظت کرتاہے، امام کی ضروریات پوری کرتاہے، امامعلیہ السلام کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے آج کی اصطلاح میں وہ ہر امام علیہ السلام کے لئے خصوصی سیکرٹری کا درجہ رکھتاہے۔
اس سے زیادہ خاص اور کوئی نہیں ہے وہ ہر امام کے بارے مکمل آگاہ ہوتا ہے اور امام کے ہر حکم کی تعمیل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کو امام تک لے آتا ہے، الٰہی علوم کو بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے امام علیہ السلام کی طرف منتقل کرتاہے۔گویا تازہ اورباقاعدہ معلومات امام علیہ السلام تک ساری کائنات کے بارے پہنچانا اس کی ذمہ داریوں سے ہے پس یہ روح القدس ہے جو امام علیہ السلام کی خدمت میں بندگان میں سے ہر ایک کے بارے تفصیلی معلومات پہنچاتا رہتا ہے، اس کی مزیدتفصیلات عقائد کی کتابوںمیں دیکھیں۔
تیسرافائدہ:۔ امام مہدی علیہ السلام کے موجودہونے سے اللہ کی عبادت ہو رہی ہے
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین کو خلق فرمایا ہے تو یہ زمین اللہ کی حجت اور نمائندگی سے خالی نہیں رہی یا تو وہ حجت ظاہر اًموجود تھی یا پھر پردہ میں پوشیدہ موجود تھی یہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہو گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اگر زمین پر اللہ کی حجت موجود نہ ہو تو پھر اللہ کی عبادت نہ کی جاتی۔اللہ تعالیٰ کی عبادت حجت کے وجود کی وجہ سے ہے۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۲۹)
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ایک بہت ہی اہم حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ اللہ کی عبادت کرنا توقیفی اور تعبدی ہے، اللہ تعالیٰ بندگان سے یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ جس طرح چاہیں عبادت کریں ، وہ چاہتا ہے کہ وہ عبادت اس طرح کریں جس طرح وہ خود چاہتا ہے، اسی طریقہ پر عبادت کریں جو اس نے عبادت کے لئے بنایا ہے اسی کیفیت اور ترتیب سے عبادت کریں جس طرح اس نے قرار دی ہے عبادت کی شرائط اس کی تفصیلات سب اللہ کی جانب سے معین ہیں کسی کو اس میں اپنی مرضی سے ردو بدل کا اختیار نہیں ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض اولیاءکو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اللہ کی عبادت کرنے کی ٹھان لی تھی۔
”( وَاتلُ عَلَیهِم نَبَاَالَّذِی اَتَینٰهُ اَیٰتِنَا فَان سَلَخَ مِنهَا فَاَتبَعَهُ الشَّیطٰنُ فَکَانَ مِنَ الغٰوِینَ وَلَو شِئنَا لَرَفَقنٰهُ بِهَا وَلٰکِنَّهُ اَخلَدَ اِلَی الاَرضِ وَاتَّبَعَ هَوٰئهُ فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الکَل بِاِن تَحمِل عَلَیهِ يلهَث اَو تَترُکهُ یَلهَث ذٰلِکَ مَثَلُ القَو مِ الَّذِینَ کَذَّبُوابِاَیَتِنَا فَاقصُصِ القَصَصَ لَعَلَّهُم یَتَفَکَّرُونَ )
”اور (اے رسول)تم ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا پکڑا اور آخر کار وہ گمراہ ہو گیا اور اگر ہم چاہتے تو ہم اسے انہیں آیتوں کی بدولت بلندمرتبہ کر دیتے مگر وہ توخود ہی پستی کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن بیٹھا تو اس کی مثل اس کتے کی مثل ہے کہ اگر اس کو دھتکاردو تو بھی زبان نکالے رہے اور اس کوچھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے یہ مثل ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔اے رسول یہ قصے ان لوگوں سے بیان کردو تاکہ یہ لوگ خود بھی غور کریں“(سورہ اعراف آیت ۵۷۱ تا ۶۷۱)
روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بلعم نامی شخص اولیاءاللہ سے تھا وہ عرش الٰہی کا نظارہ کرتا تھا اس کی دعا قبول ہوتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ، کیونکہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر اعتراض کر دیا اور ان کے ساتھ حسد کیا اور یہ کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں میں یہ عبادت اپنے طریقہ پر کروں گا اس طریقہ پر عبادت نہیں کروں گا جو موسیٰ علیہ السلام نے تعلیم دیاہے اس نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہی اور اللہ تعالیٰ کی حجت اور نمائندہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طریقہ کو اختیار کرنے سے انکار کردیا۔(تاریخ المدینہ ج ۱ ص ۵۵)
پس اللہ کی عبادت ان شروط کے ساتھ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں اس میں بندے کی مرضی شامل نہیں ہے۔
نماز پڑھنے کا طریقہ توقیفی ہے
(ازمترجم....نماز اسی طرح اور اسی کیفیت اور ان ہی اذکار و تسبیحات و قرائت و دعا کے ساتھ پڑھنی ہے جو اللہ کی طرف سے بیان ہوئی ہے کوئی اپنی مرضی سے مستحبی نمازوں کے لئے باجماعت پڑھنے کا حکم دے دے تو یہ عبادت اللہ کو قبول نہیں ہے اور کوئی نماز کے تشہد سے درود شریف کو نکال دے یا رسول اللہ پر درود پڑھے اور آل پر نہ پڑھے یہ اللہ کو قبول نہیں ہے اسی طرح اگر کوئی اپنی مرضی سے اور بغیر کسی مضبوط شرعی ثبوت اور حوالہ سے تشہد میں دوسری گواہی کے ساتھ تیسری گواہی علی علیہ السلام مولا کی ولایت کی شروع کر دے ، علی علیہ السلام کی ولایت برحق ہے اور علی علیہ السلام اور اولاد علی علیہ السلام کی ولایت اور محبت کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہے اس شخص کی عبادت جس میں محمد وآل علیہ السلام محمد سے محبت نہیں اس کے منہ پر مار دی جائے گی اور خدا کو بغیر محبت علی علیہ السلام والی عبادت قبول نہیں، لیکن علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کس جگہ کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ بندے کے اختیار میں نہیں یہ اللہ کے اختیار میں ہے لہٰذا نماز میں دو گواہیوں کے بعددرود پڑھنے کا حکم ہے درمیان میں تیسری چوتھی پانچویں بہت ساری اور شہادتیں ہیں جن کے کہنے اور اقرار کرنے کا حکم ہے ان سب شہادات کو نماز کی حالت میں دینے کا حکم نہیں ہے پس اپنی مرضی سے تیسری شہادت شامل کرنے پر خداکو یہ عبادت قبول نہ ہو گی کیونکہ خدا اس عبادت کو قبول کرتا ہے جس عبادت کو اسی طرح انجام دیا جائے جس طرح اس نے خود فرمایا ہے مومنین اس امر پر توجہ کریںکیونکہ نمازکی حیثیت ترکیبی اور اس کے اذکار اور اوراد توفیقی ہیں اللہ کی طرف سے طے شدہ ہیں اس میں کمی یا زیادتی کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے)
اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث بیان کر رہی ہے کہ اللہ کی عبادت معصوم کی موجودگی کے بغیر نہ ہو گی، اللہ کی عبادت کے لئے ہر زمانہ میں ایک معصوم امام علیہ السلام کی موجودگی ضروری ہے ، کیونکہ وہی امام معصوم بندگان اور اللہ کے درمیان واسطہ ہوتا ہے اگر وہ واسطہ موجود نہ ہوگا تو اللہ کی عبادت نہ ہوگی۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود کا اہم تشریعی اثر
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود مقدس کے اہم آثار اور فوائد میں یہ انتہائی اہم تشریعی اثر اور فائدہ ہے۔
الکافی میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے۔
بتحقیق! اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلق فرمایا ہے اور ہمیں اپنے بندگان میں اپنی آنکھ قرار دیاہے،اپنی مخلوق میں ہمیں اپنی بولنے والی زبان قرار دیا ہے، اپنے بندگان کے سروں پر ہمیں اپنی رحمت و شفقت و کرم و فضل کا پھیلا ہوا ہاتھ بنایا ہے اور ہم ہی اللہ کا وہ رخ انور ہیں جس کی جانب توجہ کر کے خدا تک پہنچا جاتا ہے خدا سے وصل ہو جاتا ہے اور ہم ہی اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس کے ذریعہ خدا کے پاس جانا ہوتاہے....اور ہماری عبادت کی وجہ اوروسیلہ سے اللہ کی عبادت ہوتی ہے اگر ہم موجود نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ کی جاتی۔(الکافی ج ۱ ص ۴۴۱ ، باب النوادر)
یعنی آئمہ اطہار علیہم السلام اللہ کی عبادت کرنے کا ذریعہ اور واسطہ ہیں، ایک واسطہ کاموجودہونا خدا اور بندگان کے درمیان ضروری ہے جو اللہ کی مرضی اور منشاءکو بندگان سے بیان کرے اور بندگان اس کے بیان کردہ دستور کے مطابق اللہ کی عبادت کریں اگر ایسا واسطہ نہ ہو گا تو پھر بندگان کو کس طرح پتہ چلے گا کہ ان کا رب ان سے کس قسم کی اور کس طرح کی کس کیفیت اور شرائط کے تحت ہم سے عبادت چاہتا ہے۔
آئمہ علیہم السلام نے خود عبادت کا طریقہ بیان کیا، اللہ کی عبادت کر کے دکھائی اور اللہ کی عبادت کے طریقے تفصیل سے بیان بھی کئے تو اس سے پھربندگان کو پتہ چلا کہ ہم نے اللہ کی اس طرح عبادت کرتا ہے ، پس اللہ کی عبادت آئمہ علیہم السلام کے وجود سے مشروط ہے اوریہ عبادت اس لئے ہو رہی ہے کہ حضرت ولی العصر علیہ السلام زمین پرموجود ہیں....ازمترجم)
دعاءندبہ میں یہ جملے موجودہیں:
”اے اللہ! ہماری نمازوں کو امام زمانہ علیہ السلام کے وسیلہ اور واسطہ سے قبول کرلے(یعنی قبولیت نماز کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا واسطہ اور وسیلہ ضروری ہے....مترجم)ہمارے گناہوں کو امام زمانہ علیہ السلام کے صدقہ میں بخش دے، امام زمانہ علیہ السلام کے وسیلہ سے ہماری دعا قبول کر لے، ہماری روزی کو امام زمانہ علیہ السلام کے توسط سے بڑھا دے، ہمارے غموں اور پریشانیوں کو امام زمانہ علیہ السلام کے بابرکت وجود کے صدقہ میں ٹال دے اور ہماری ساری حاجات کو امام زمانہ علیہ السلام کے وسیلہ سے پورا کر دے“۔
پس نماز کاقبول ہونا، دعا کا منظور ہونا، پریشانیوں کا دور ہونا، حاجات کا پورا ہونا، حضرت مولانا صاحب العصر والزمان امام مہدی علیہ السلام کے وجود ذیجود کے تشریعی آثار اور فوائد سے ہے۔(خدا ہمیں ان کی ساری برکات اور مہربانی نصیب کرے۔آمین)
چوتھافائدہ:۔ بندگان کی ہدایت
تمام اہل ایمان کی ہدایت حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کے نور کی روشنی اورضیاءکے صدقہ میں ہو رہی ہے یہ ان فیوض و برکات کے علاوہ ہے جو آپ علیہ السلام نے اپنی توقیعات اور خطوط کے ذریعہ احکام بیان فرمائے اور فقہاءکی راہنمائی کی۔
آپ علیہ السلام نے جو تحریر شیخ مفید کو بھیجی اس میں یہ جملہ موجود ہے:
”ہم نے تمہاری مراعات کو ایسے نہین چھوڑا ہوا اور بے توجہی کے سپرد تمہارے معاملات نہیں ہیں، تم ہمیں یاد ہو اور ہم نے تمہارا ہر لحاظ سے خیال رکھا ہوا ہے اگر ہماری عنایات تمہارے لئے نہ ہوتیں تو تمہارے اوپر مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے اور ظالموں کا تم شکار بنتے، دشمن تمہارا صفایا کر دیتے“۔(الاحتجاج ،ج ۲ ص ۳۲۳)
احتجاج میں ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ شیعوں کی ایک جماعت میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آئمہ علیہ السلام کے سپرد رزق اور خلق کے معاملات کر دیئے ہیں اوران کے ذمہ ہے کہ وہ خودخلق کریں اورخودمخلوق کورزق دیں۔
ایک گروہ نے یہ نظریہ اپنایا کہ یہ بات محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کیونکہ اجسام خوداجسام کو خلق کرنے پر قدرت نہیں رکھتے، یہ قدرت فقط اللہ کے لئے ہے غیر اللہ کے لئے نہیں ہے، دوسرے گروہ نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ آئمہ علیہم السلام کو یہ قدرت خود دی ہے کہ وہ ایسا کریں پس اللہ نے معاملہ ان کے سپرد کر دیاہے پس انہوں نے خلق کیا اور انہوں نے رزق دیا اس بارے بہت شدید جھگڑا کھڑا ہو گیاان میں سے کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ تم اس بارے آپس میں لڑتے جھگڑتے کیوں ہو؟
ابوجعفر محمد بن عثمان کے پاس یہ سوال کیوں نہیں لے جاتے تاکہ اس بارے تمہارے لئے حق واضح اور روشن ہو جائے کیونکہ وہ اس وقت جب حضرت صاحب الزمان علیہ السلام تک رسائی کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں، پس انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا اور ابوجعفر کے پاس ساری صورتحال لکھ بھیجی تو جب ان کو خط ابوجعفر کے وسیلہ سے امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا تو آپ علیہ السلام کی طرف سے جو جواب آیا وہ اس طرح ہے۔
بتحقیق اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اجسام کو خلق فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے ارزاق(روزیاں) تقسیم کی ہیں کیونکہ اللہ جسم نہیں ہے اور نہ ہی اللہ کسی جسم میں حلول کئے ہوئے ہے اور اللہ کی مثال کوئی بھی چیز نہیں ہے اور اللہ سمیع و بصیر ہے(اس سے یہ اشارہ دیا گیا کہ اجسام کو وہی خلق کر سکتا ہے جو خود جسم نہ ہو، جسم میں حلول بھی نہ کیا ہو، اس کی مثال کوئی نہ ہو سمیع وبصیرہو)باقی بات رہی آئمہ علیہم السلام کی(جو اللہ کے اللہ کی زمین پر نمائندگان ہیں)تو وہ اللہ سے سوال کرتے اور اللہ خلق فرمادیتا ہے وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں تو اللہ روزی دے دیتا ہے اللہ ان کے سوال کو پورا کرتا ہے اور ان کے حق کو عظمت اور بزرگی دیتاہے۔(الاحتجاج ج ۲ ص ۴۸۲ ، توقیعات الناحیہ المقدسہ)
اس باب میں بہت سارے واقعات ہیں کہ آپ بعض بندگان کو دعائیں تعلیم دیں، مناجات کے طریقے بتائے، توسل کرنے کاانداز بتایا(خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پردہ غیبت میں رہتے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا سامان مہیا کئے ہیں جہاں ضرورت پڑی براہ راست ہدایت فرما دیتے ہیں اور جہاں پر چاہتے ہیں بالواسطہ ہدایت کردیتے ہیں، آپ ہدایت کا منبع ہیں آپ کے وجود مقدس کی نورانی شعائیں جہالت و ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں اور تاریکیوں میں ہدایت کا سامان ہیں اور صراط مستقیم پر برقرار رکھنے کا وسیلہ ہیں۔(ملاحطہ ہو۔النجم الثاقب، مفاتیح الجنان)
پانچواں فائدہ:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے تربیتی دروس اور آپ علیہ السلام کے آداب
کمال الدین میں شیخ صدوقؒ نے اپنے ذرائع سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر خطبہ دیا اس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”اے اللہ! ضروری ہے کہ تیری زمین پر تیری حجت تیری مخلوق پر موجود ہو جو انہیں تیری جانب ہدایت دے اور تیرا علم ان تک پہنچائے تاکہ تیری دلیل جو ہے وہ باطل نہ ہو جائے اور تیرے اولیاءکے پیروکار گمراہ نہ ہوجائیں جب کہ تو نے انہیں ان کے ذریعہ سے ہدایت دے دی ہے، ہدایت لینے کے بعد گمراہ نہ ہو جائیں بوجہ اس کے کہ تیری حجت موجود نہ ہو تیری زمین پر یاتو تیری حجت ظاہر اورصاف ہو گی لیکن اس کی اطاعت نہ ہو رہی ہو گی یا تیری حجت پردہ میں انتظار کر رہی ہوگی، اگر وہ لوگوں سے حضوری کے لحاظ سے غائب ہو گا لیکن ان لوگوں سے اس کا علم غائب نہ ہو گا یعنی امام غائب کا علم لوگوں میں موجود رہے گا اور ان کے تربیتی دروس اور آداب زندگی مومنوں کے دلوں میں ثابت و موجود اورقائم ہوں گے اور وہ لوگ ان آداب کے مطابق عمل کر رہے ہوں گے۔(کمال الدین ج ۱ ص ۲۰۳ ، باب ۶۲ حدیث ۱۱)
الاصفہانی نے آداب کے معنی میں تحریر کیا ہے، آداب ادب کی جمع ہے جیسا کہ القاموس میںبیان ہوا ہے اس کا معنی حالت اور عادت کے ہیں۔
تو اوپر والے بیان کا معنی یہ ہو گا کہ ان کی عادات اور ان کے پسندیدہ اوصاف مومنوں کے دلوں میں موجود ہوں گے جو سبب بنیں گے کہ وہ ایسا عمل کریں جو امام علیہ السلام کی پسند ہو اس بناءپر کہ وہ علت اور وجہ بیان کرنے کے لئے موجودہیں۔
یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے آداب مومنوں کے دلوں میں قائم ہوں گے یہ مومنین ایسے اعمال کریں گے جو امام علیہ السلام کے آداب اورآپ کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہوں گے تو اس صورت میں عربی عبارت میں موجوداللام کو بائ(وسیلہ) کے معنی میں لیں گے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ مومنین امام علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں اعمال صالحہ کو بجا لائیں گے تاکہ اس طرح وہ امام علیہ السلام کے آداب سے تربیت لے سکیں اور خود کو امام علیہ السلام کی صفات سے آراستہ کر یں اس صورت میں اللام غرض اور غایت کے معنی میں ہوگا، جو بھی ہو مطلوب و مقصود ثابت ہے کہ مومنوں کی صفات سے یہ ہے کہ ان کا دل و دماغ اور افکار میں امام غائب کے تربیتی دروس اور آداب موجود ہوں ان کے ایمان کے لوازمات سے ہے اس پر گواہ یہ بات ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام امام غائب حضرت امام مہدی علیہ السلامکے آداب آپ علیہ السلام کی صفات، آپ علیہ السلام کے اعمال کوبڑی تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ آپ علیہ السلام کے زمانہ والے مومنین ان صفات اور خصوصیات کو اپنے دلوں میں بٹھائیں خٰود کو ان صفات اور آداب سے آراستہ کر لیں جو آپ علیہ السلام کے لئے ہیں آپ علیہ السلام کے آداب میں کیچھ امتیازی خصوصیات موجود ہیں جو باقی آئمہ علیہ السلام کے ادوار میں موجود نہ تھیں۔
یہ سب کچھ نہیں ہے مگر اس لئے کہ ان کی صفات کی معرفت حاصل کی جائے ان کی خصوصیات کو جانا جائے، اس کی وجہ بھی بڑی واضح ہے کہ آپ علیہ السلام جیسی ہستی کی غیبت میں آپ کے منصب کے جھوٹے دعوے داروں کی پہچان ہو سکے۔
پس ہر مومن پر واجب ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام بارے ان کی خصوصی صفات، ان کے رہن سہن کے خصوصی آداب زندگی، ان کی عملی زندگی، سیرت و کردار، اخلاقیات سب کی معلومات رکھنا۔ تاکہ اگرکوئی ملحد اس منصب کا دعویٰ کر بیٹھے تواس کے حق پر ہونے کے بارے ذرا برابربھی شک و خیال دل میں نہ آئے۔
(مکیال المکارم ج ۲ ص ۵۹ حدیث ۸۵۱۱)
تیسری فصل
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے ہماری ذمہ داری اور آپ علیہ السلام کی حکومت بارے ہمارا موقف
ابتدائیہ:ضروری بات
سب سے اہم بات جو حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے ہمارے ساتھ مربوط ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی معرفت ہونی چاہئے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کے سلسلہ میں ہمارا موقف کیا ہونا چاہئے آپ علیہ السلام کی حکومت کے قیام بارے، آپ علیہ السلام کے ذریعہ جو فتوحات ہوں گی اس بارے،حکومت کے قیام کے لئے مقدمات فراہم کرنا، آپ علیہ السلام کے خروج و قیام کی تعجیل کے واسطے کام کرنے کے حوالے سے دیکھنا ہوگا کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟
ان سوالات کے جواب کی ہماری سرگرمیوںکے واسطے بہت ہی تاثیر ہوگی۔
یہ فصل ان سوالات کا جواب کسی حد تک ضرور دے گی، جب کہ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ جس طرح ان امور کے بارے جواب ہونا چاہیئے اسے میں پیش نہ کر سکا، لیکن اس مقولہ کے پیش نظر کہ اگرپورا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو تو جو کچھ حاصل ہو رہا ہے اسے تو نہ چھوڑا جائے، ہم نے یہ سطور قلمبند کر دی ہیں اس کے علاوہ یہ بات بھی یہاں پر کرنا ضروری ہے کہ اس سے پہلے کسی نے اس بارے بحث نہیں کی تاکہ اس سے استفادہ کیا جاتا۔
اگر بحث میں وارد ہونے کی نیت سوائے اس کے کہ قاری اس تحریر سے کچھ باتیں اخذ کر سکے یا کچھ مطالب اسے مل سکیںکچھ اور نہیں ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ بہت سارے مصنفین جو امام مہدی علیہ السلام کے بارے مقالات، کتابیں تحریر کرتے ہیں وہ ان موضوعات کو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر کچھ اور موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں جن کی اہمیت کمتر ہے بلکہ بعض ایسے مطالب بیان کیے جاتے ہیں کہ جن کا بیان کرنا ظہور کی تحریک کے معاملات کے لئے نقصان دہ بھی ہے، جیسے ان ظہور کی تفصیلی یا اجمالی علامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاتی ہے یا ظہور کی شرائط کو بیان کیا جاتا ہے ان امور کے بیان کرنے کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے انسان ان سے متاثر نہیں ہوتا سوائے چند امور کے جنہیں ہم آٹھویں فصل میں بیان کریں گے۔
وہ معاملہ جو تیاری سے مربوط ہے ہم اسے اس جگہ بیان کریں گے اسی طرح حضرت قائم علیہ السلام کے بعض اصحاب پربھی روشنی ڈالنے کا قصہ جیسے خراسانی اور یمانی“ اللہ ان دونوں کی حفاظت فرمائے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے فتوحات کوجلدلے آئے۔کے حوالے سے تفصیلات میں جانا یہ بھی زیادہ مفید نہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس سے کوئی عملی فائدہ نہیں ہے مگر یہ کہ اس شخصیت سے ایک قسم کاجذباتی لگاو پیدا ہوجاتا ہے جن کے بارے یہ کہا جائے کہ یہی خراسانی اور یمانی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں پھر بعض قائدین اور رہبروں کے لئے ان ناموں کا دے دینا اس میں چند خرابیاں ہیں، نقصانات ہیں جیسے:
۱: ۔ یہ تعین کرنا کہ عصر ظہور میں ہماری ذمہ داری اور شرعی تکلیف کیا ہے اور مجھے اب کیا کرنا ہے تو اس قسم کے بیان میں نہ تو آگے بڑھاجا سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے رہا جا سکتا ہے جب تک خراسانی اور یمانی خود اس امر کی اپنی جانب دعوت نہ دیںاور خود یہ اعلان نہ کردیں۔
۲: ۔ جن کوہم خراسانی یا یمانی کا نام دیں گے ان کی زندگی کے لئے بھی خطرہ ہو گا کیونکہ منکرین اپنی پوری قوت کو اس پر جھونک دیں گی کہ ہر وہ ہستی جس نے مستضعفین کو منکرین سے نجات دلانی ہے اس کی آمد میں رکاوٹ ڈالی جائے اور جو بھی ان کے عنوان سے سامنے آئے گا تواس کا خاتمہ کردیا جائے گاخاص کر اگر بعض تجزیے سچے ہوں کہ منکریں آخری جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے ہیں یا جسے وہ ہرمجدون(اس بارے ہماری دوسری کتاب کا مطالعہ کریں....مترجم)کی لڑائی قرار دے رہے ہیں، وہ اس میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیںاس لحاظ سے بعض موجودہ اسلامی قائدین کی جانب یہ اشارہ دینا کہ وہ خراسانی ہے یا یمانی ہے یا ....شعیب بن صالح ہے تو اس میں منکرین کو ان کے خلاف جنگ بھڑکانے اوران کے خلاف مخالفین کواکسانے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔
۳: ۔ بعض شخصیات کو اس قسم کے القاب دینے سے موجودہ زمانہ میں بعض دوسری شخصیات کے تحفظات ہوں گے اگرچہ وہ منکرین سے نہ بھی ہوں، نسلی ، مذہبی، قومی، خاندانی قبائلی جیسے عناصر درمیان آجائیں گے خاص کر یہ ایک ایسا امر ہے جس کا عملی فائدہ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ جس وحدت اور یکجہتی اور یکسوئی کی ضرورت ہے اس کو اس قسم کے بیانات سے دھچکا ضرور لگے گا۔
اس طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام جو کہ بشریت کےلئے نجات دہندہ ہیں، ان کے حوالے سے سوچ اور نظریہ کو نقصان ہوگا ہم اس بارے بعد میں کچھ بیان کریں گے۔
۴: ۔ پھر بعض شخصیات کو معین کر دینا کہ وہ ہی امام مہدی علیہ السلام کے خواص ہیں اور ان کے نائبین ہیں خود ان شخصیات کے لئے نقصان دہ ہے ان کے وجود کی نفی کرنا ہو گی اور اگر یہ بات خدا نہ کرے سچ نہ ہوئی جیسا کہ سابقہ ادوار میں ہوتا رہا ہے کہ جب کچھ لوگ کسی خاص شخصیت سے محبت کر رہے تھے کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کے خواص ہیں یا جو لوگ امام خمینیؒ کے حوالے سے یہ عقیدہ بنا بیٹھے تھے کہ آپ ہی پرچم اسلام کو امام مہدی علیہ السلام کے سپرد کریں گے پھر ایسا نہ ہوا جس پرآپ کی وفات کے بعد کچھ نے ان خیالات پر حاشیہ چڑھایا، کچھ کا ایمان کمزور ہوا اور کچھ نے اس نظریہ کا مذاق اڑایا۔
اسی طرح آج اگر ایک اور شخصیت کے واسطے اسی قسم کی بات مشہور کر دی جائے کہ وہ اس پرچم کو امام زمانہ علیہ السلام کے سپرد کریں گے تو پہلی بات جو ہے کہ اس سے بعض لوگ ذاتی مفاد اٹھائیں گے اور بعض شک کریں گے دوسری بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کی شخصیت کا انکار کر دیا جائے گا ، اگر یہ نام اور عنوان سچ نہ ہوا اس طرح سے نظریہ مہدویت کے لئے یہ اقدام نقصان دہ ہوگا۔
۵: ۔ سابقہ بات میں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے بعض شخصیات جو امام مہدی علیہ السلام کی منتظر تھیں اور ان کے بارے خیال تھا کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کی آمد تک زندہ رہیں گے جب یہ خیال جھوٹا ہو گیا، غلط ثابت ہوا، تو پھر اس سے مہدویت کا نظریہ بھی مشکوک ہو جائے گا اوراس سے بعض مفاد پرست اپنے مذموم ارادے پورے کریں گے اور اس بات کو اپنے باطل نظریات کی تقویت کاذریعہ بنائیں گے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مومن انسان پر لازم ہے کہ وہ اس بات پر پوری توجہ دے کہ اس کی شرعی تکلیف کیا ہے، جذباتی کیفیات، اندرونی احساسات اور بعض شخصیات سے انس اور محبت ،ان کے مقام و مرتبہ اور ان کی اسلامی خدمات کے حوالے سے جذبات کے اظہار جیسے امور کو ایک طرف رکھ دیا جائے اپنی جانب سے اس قسم کے خیالات کا اظہار نہ کیا جائے کہ فلاں امام مہدی علیہ السلام کے خاص ہیں اور فلاں خراسانی ہیں یا یمانی ہیں تاکہ وہ وقت آجائے جس کا انتظار ہے۔
خاص کر ان آخری ایام میں(یہ کتاب ۸۲۴۱ ہجری میں لکھی گئی اور حزب اللہ کی اسرائیل پر فتح حاصل کرنے کے بعد تحریر کی گئی ہے، اس کامیابی کے بعد بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے جس کی طرف مصنف کا اشارہ ہے....مترجم)
جو پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اور فرسودہ خیالات کو عام کیا جا رہا ہے ، خواب سنائے جا رہے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں، امام العصر علیہ السلام کے اصحاب کے بارے میں، امام العصر علیہ السلام کے لشکر کی قیادت کرنے والوں کے بارے میں یا جو یہ کہا جا رہا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کو چاند میں دیکھا گیا ہے یا ان کے نائبین کو دیکھا گیا ہے یا بعض تحریریں جو چھپ چکی ہیں جو واقعات کی بنیاد بتاتی جا رہی ہیں یا ان جیسے واقعات کی تائید کر رہی ہیں یہ یسا امر ہے جس سے عوام سے بہت سارے لوگ متاثر ہورہے ہیں اورمزیدانہیں ایسے حالات میں پہنچایاجارہاہے یا وہ اپنے اوپر کچھ ایسے حالات کو ٹھونس رہے ہیں کہ جن کی کوئی ضرورت نہ ہے۔
علاوہ ازیں اس قسم کے امور خود امام مہدی علیہ السلام کے مسئلہ کو مشکوک بنا رہے ہیں اور لوگوں کو امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے تیاری سے بھی روک رہے ہیں اس مبارک حکومت کے واسطے جو ضروری کام کرنے ہیں وہ اس طرح ادھورے رہ جائیں گے اور یہ بہت ہی نقصان دہ ہے، ہم اس جگہ ان فرائض اور ذمہ داریوں کو بیان کریں گے جو ہماری دانست میں ہے کہ ایک فرد کی کیا ذمہ داری ہے؟ ایک معاشرہ کی کیا ذمہ داری ہے اور ایک حکومت کی کیا ذمہ داری ہے، یہ ذمہ داریاں دو طرح کی ہیں۔
۱: ۔ وہ ذمہ داریاں ہیں جو آپ علیہ السلام کی غیبت کے دورانیے سے متعلق ہیں اور آپ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کی ہے۔
۲: ۔ آپ علیہ السلام کے ظہور کے وقت ، آپ علیہ السلام کے قیام کے وقت جو ذمہ داریاں عائد ہوں گی یا اس کے بعد جو ذمہ داریاں آئیں گی۔
دوسرا مرحلہ ایسا نہیں کہ اس میں امام زمانہ علیہ السلام پر کوئی ذمہ داری لازم کی جا رہی ہے کیونکہ آپ علیہ السلام کے قیام کے ساتھ ہی ساری ذمہ داریاں، فرائض اور واجبات ختم ہو جائیں، وہی فرض اور واجب ہو گا جس کا آپ علیہ السلام حکم دیں گے لیکن ان امور کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
روایات میںجو آیا ہے کہ جب حضرت کا ظہور مبارک ہو جائے تو اس وقت ہمیں کیا کرنا ہے اور ظہور کے بعد کیا کرنا ہے ان روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وقت مومنین اپنے امام علیہ السلام کا دیدار کریں گے اور آپ علیہ السلام کی آواز کو سنیں گے تو اس وقت عوام کو کیاکرنا چاہئے؟ یہ سب روایات میں بیان ہوا ہے، اسے ہم یہاں پر ذکر کریں گے۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں
دعائے ندبہ میں یہ جملہ موجود ہے اے اللہ! ہماری مدد فرما کہ ہم ان کے حقوق جو ہمارے اوپر ہیں ان کوہم وہ پورا کریں اور ان کی اطاعت کرنے کے لئے پوری کوشش کریں اور ان کی نافرمانی سے دوری اختیارکریں۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے کچھ حقوق ہیں کچھ ذمہ داریاں ہیں،فرائض ہیں کچھ آپ کی ذات کے حوالے سے اور کچھ آپ علیہ السلام کی حکومت کے حوالے سے، ان سب کو ادا کرنا ہمارے اوپرواجب ہے ہم ان میں سے کچھ کا تذکرہ ترتیب وار کررہے ہیں۔
پہلی ذمہ داری: حضرت امام مہدی علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنا
یہ سب سے پہلی ذمہ داری ہے اور اہم واجبات سے ہے۔باقی تمام ذمہ داریاں اسی پہلی ذمہ داری پر مرتب ہوتی ہیں۔
جناب عثمان بن سعید العمری سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ:حضرت ابومحمد الحسن العسکری علیہ السلام سے سوال کیا گیا اور میں اس وقت آپ علیہ السلام کے پاس موجود تھا، سوال میںاس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ علیہ السلام کے آباءعلیہم السلام سے یہ حدیث بیان ہوئی ہے کہ:”اللہ کی زمین اللہ کی حجت(نمائندگی) سے خالی نہ ہوگی وہ حجت اللہ کی مخلوق پر ہوں گے اور یہ قیامت تک سلسلہ جاری رہے گااور اگر کوئی شخص مر جائے اور اپنے زمانہ کے امام کی معرفت اسے نہ ہو تو وہ جاہلیت اور کفر کی موت مر گیا“
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
”یہ بات اسی طرح برحق اور صحیح ہے جس طرح اس روشن دن کاوجود“
سوال کیا گیایابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ علیہ السلام کے بعد حجت اور امام کون ہیں؟
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام: میرے بیٹے محمد علیہ السلام ہیں، وہ امام ہیں، وہ ہی میرے بعد حجت ہیں، جو اس امر اور اپنے اس امام کی معرفت کے بغیر مرا تو وہ شخص جاہلیت اور کفر کی موت مر گیا، البتہ ان کے لئے ایک ایسی غیبت ہے کہ جس میں جاہل لوگ حیران ہوں گے اور باطل پر چلنے والے لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور ان کی آمد کا وقت معین کرنے والے جھوٹے ہوں گے پھر وہ خروج فرمائیں گے ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے سر پر سفید رنگ کے پرچم لہرا رہے ہیں اور وہ کوفہ کے اوپر نجف میں موجودہےں“۔
(کمال الدین ج ۲ ص ۹۰۴ ،باب ۸۳ ، ذیل ۹ ۔ الوسائل ج ۱۱ ص ۱۹۴ باب ۳۳ حدیث ۳۲)
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث مروی ہے آپ نے فرمایا:
”جس نے میری اولاد سے قائم کے وجود کا انکار کر دیا تو اس نے خود میرے وجود کا انکار کیا“۔(کمال الدین ج ۴ ص ۲۱۴ باب ۹۳ حدیث ۸۲)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباءعلیہم السلام سے نقل فرمایاہے:
”جو شخص رات کو اس حالت میں سو گیا کہ اسے اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت نہ تھی تو وہ جاہلیت اور کفر کی موت مرا“۔(غیبت نعمانی ص ۲۶ ، باب من بات لیلة)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباءعلیہ السلام سے اور انہوں نے رسول اللہ سے بیان کیا:
”جس شخص نے میری اولاد سے قائم علیہ السلام کا انکار ان کی غیبت کے زمانہ میں کر دیا تو وہ جاہلیت اور کفر کی موت مرا“(الکافی ج ۲ ص ۲۱۲ باب ۹۳ ،حدیث ۲۱)
حضرت ابوعبداللہ صادق علیہ السلام سے حدیث صحیح میں آیاہے
راوی: میں نے پوچھا کہ رسول اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت نہ رکھتا تو وہ کفر کی موت مرا۔ کیا یہ حدیث ہے؟۔
امام علیہ السلام: جی ہاں! ایسے ہی ہے۔
راوی: جاہلوں والی جاہلیت یا ایسی جاہلیت کہ جس میں وہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت نہیں رکھتا ہو۔
امام علیہ السلام: کفر و نفاق اورگمراہی کی جاہلیت(الکافی ج ۱ ص ۷۷۳ ، باب من مات خبر ۳)
(از مترجم....ان احادیث سے واضح ہو گیا ہے کہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کی جائے اور اس معرفت سے مراد آپ علیہ السلام کا نسب اور فضائل سے آگہی مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہو اور مانتا ہو کہ اس کے زمانہ کا امام علیہ السلام کون ہے؟ اوروہ کس کی رعیت ہے اور اس نے کس کی اطاعت کرنی ہے؟مزید تفصیل کے لئے مترجم کی کتاب”معرفت امام زمانہ علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں“دیکھیں)
دوسری ذمہ داری: فقہاءاور مجتہدین سے مربوط رہنا
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت سے مربوط اور اس معرفت کا عملی نتیجہ یہ دوسری ذمہ داری ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے پتہ ہو کہ اس کے زمانہ کے جو امام علیہ السلام ہیں جن کی اطاعت اس پر فرض ہے جن کی رضایت اسے اپنے سارے اعمال میں حاصل کرنا ہے، کیونکہ سارے عبادتی اعمال کی قبولیت ان کے ذریعہ ہونی ہے اور جب تک اس کی طرف سے اعمال پر مہر رضایت ثبت نہ ہوگی کوئی عمل بھی قبول نہ ہوگا تواس کے لئے ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو کہ میرے زمانہ کے امام علیہ السلام کے اوامر کیا ہیں؟ نواہی کیا ہے؟ میرا امام مجھ سے کیا چاہتاہے؟اور کیا نہیں چاہتا؟ اور منہج اہل البیت علیہم السلام سے تمسک یہی ہے اہل بیت علیہم السلام کے منہج اور طریقہ کو سوائے ان کے اور کوئی نہیں جانتا جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ کے امام کے قریب ہوں اور وہ ہردور اور ہر زمانہ میں علماءاور فقہاءہیں جو خود کو گناہوں کی آلودگیوں سے بچا کر رکھتے ہیں، ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث کو بیان کرتے ہیں جو اس میں مخلوق میں ایسے علماءاور فقہاءکے سواکون اور ہوسکتا ہے جو ان ذوات مقدسہ کے سب سے زیادہ قریب ہو؟ اسی بات کو امام زمانہ(عج) نے اپنی تحریر میں اس طرح بیان فرمایاہے۔
خبہرحال جو بھی نئے واقعات اور حالات پیش آئیں اور اس حوالے سے مسائل پیدا ہوں تو ان کے لئے حل معلوم کرنے کے واسطے ہماری حدیث بیان کرنے والوں کی طرف تم سب رجوع کرو کیونکہ وہ میری جانب سے تمہارے اوپرحجت ہیں تمہارے اوپر ان کی اطاعت فرض ہے اور میں خود ان پر حجت ہوں وہ میری اطاعت میں ہیں اور میں ان پراللہ کی حجت ہوں۔(کمال الدین ج ۲ ص ۴۸۴)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”علماءانبیاءعلیہ السلام کے خلفاءہیں“۔(مجمع الزوائد ج ۱ ص ۶۲۱ ، العفاوین الفقھیہ ج ۲ ص ۶۶۵)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”اللهم ارحم خلفائی “ اے اللہ میرے خلفاءپر رحمت نازل فرما“۔
راوی: یا رسول اللہ آپ کے خلفاءکون ہیں؟
حضرت رسول اللہ:میرے خلفاءوہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے وہ میری حدیث اور میری سنت کو روایت کریں گے اور بیان میں ہے وہ ہیں جو میری سنت کو زندہ کریں گے اور میری سنت کو اللہ کے بندگان کے لئے تعلیم دیں گے۔(عیون اخبارالرضا ج ۲ ص ۷۳ ، من لایحضرہ الفقیہ ج ۴ ص ۲۰۳ ، امالی الصدوق ص ۷۴۲ حدیث ۶۶۲ ، معانی الاخبارص ۵۷۳ ،کنزالعمال ج ۱ ص ۱۳۲ ،حدیث ۷۶۱۹۲ ، المہود المجدیہ ص ۷۲)
حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
”تمام معاملات کے انجام پانے کے مراکز اور احکام کو جاری کرنے کے ذرائع علماءباللہ ہیں، علماءہی نے یہ سب کچھ انجام دینا ہے، علماءہی تو ہیں جو اللہ کے حلال اور حرام پر امین ہیں اور تم ایسے لوگ ہو جنہوں نے علماءکے اس مرتبہ کو چھین لیا ہے جو کام علماءکا تھا وہ کام ان لوگوں سے تم نے لے لیا ہے اور تم عوام علماءسے محروم ہو گئے ہو، اس میں خود تمہارا قصور ہے کہ تم اپنے تفرقہ کی وجہ سے اس سے محروم ہو گئے ہو، حق کو تم نے چھوڑا ہے ،تم نے حق سے انحراف کیا ہے جس کے نتیجہ میں تمہاری باگ ڈور اور تمہاری زندگی کے معاملات غیر علماءنے سنبھال لئے ہیں۔
(تحف العقول ص ۸۲۲ ، مستدرک الوسائل ج ۷۱ ص ۶۱۳ ، حدیث ۴۵۴۱۲ ، البحار ج ۷۹ ص ۰۸)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”بہرحال ایسے فقہاءکہ جنہوں نے اپنے نفس کو بچا رکھا اپنے دین کی حفاظت کر رکھی ہو، اپنی خواہشات کے مخالف ہوں، اپنے مولا کے فرمان کی اطاعت کرنے والے ہوں تو عوام پر قرض ہے کہ وہ ایسے فقہاءکی تقلید کریں ان کی پیروی کریں“
(الاحتجاج ج ۲ ص ۳۶۲ ،وسائل الشیعہ ج ۸۱ ص ۵۹ حدیث ۸۳۳۳ ،البحارج ۲ ص ۸۸)
یہ فریضہ عوام کے لئے غیبت کے زمانہ سے مخصوص ہے جو بڑا ہی واضح ہے۔
(ازمترجم....ایک قانون ہے جس پر پوری انسانیت کے تمام کاروبار زندگی کا دارومدار ہے اور وہ قانون یہ ہے کہ جاہل عالم سے رجوع کرے یہ فطرت ہے، کبھی جاہل جاہل سے جا کر اپنا پرابلم حل نہیں کرائے گا، ایک ان پڑھ دیہاتی بھی جب کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے جب اسے کسی قسم کا مسئلہ اپنی کھیتی باڑی بارے، اپنے بچوں کی بیماری بارے، اپنے حیوانات کی بیماری بارے، اپنی زراعت کی بیماری بارے ہو تو وہ ایسے کے پاس جاتا ہے جو اس مشکل کو حل کرنے کی قابلیت رکھتا ہو، وہ ایسا کرنے کے لئے کسی قرآنی آیت یا کسی حدیث کی تلاش میں نہیں نکلتا کہ وہ کہے کہ میں تو زراعت کے عالم کے پاس اپنا زرعی مسئلہ حل کرانے نہیں جاتا مجھے کوئی حدیث لا کر دکھاو کوئی قرآن کی آیت دکھاو جب وہ مریض ہوتا ہے تو اپنے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے کسی حدیث کا سہارا نہیں لیتا، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے کسی ان پڑھ سے مشورہ لینے کی بجائے اپنے علاقہ کے پڑھے لکھے آدمی کے پاس جانے کے لئے کبھی اس نے کسی قرآن کی آیت یاحدیث کا سہارا نہیں ڈھونڈا، کیونکہ فطرت الٰہی ہے کہ جاہل نے عالم سے رجوع کرنا ہے، اس قانون پر رہتے ہوئے ہر مسلمان کو، ہر صاحب ایمان کو، دین اسلام کے احکام جاننے کے لئے ان سے رجوع کرنا ہوتا ہے جو دین کے بارے آگاہ ہیں اور ان ہی کو علماءدین اور فقہاءکا نام دیا جاتا ہے اور جاہل کے عالم کے پاس جا کراپنی مشکل حل کرانے کا نام تقلید ہے۔
مقام افسوس ہے کہ ہمارے پاکستان میں عوام کو اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام سے دور کرنے کے لئے یہ فکر عام کر دی گئی ہے کہ ہمارے ہاں تقلید نہیں ہے، تقلید کے لئے قرآن کی آیت یاحدیث لاو اورسادہ عوام ان اجتہاد کے مخالفوں اور باطل خیالات میں پھنس کر خودکو اپنے زمانہ کے قفہاءو مجتہدین اورمراجع تقلید سے دور کر لیتے ہیں جو اس دور میں اسے اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام سے مربوط کرنے کا تنہا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ، علماءرسول اللہ کے خلفاءہیں، علماءدین پر امین ہیں، علماءآل محمد کے یتیموں(شیعوں) کو بھٹکنے سے بچانے والے ہیں، علماءاہل بیت علیہ السلام کی منہاج اور طریقہ کے نگہبان ہیں،ان سے جا کر اہل بیت علیہ السلام کے احکام وصول کرنا اور امام زمانہ علیہ السلام کے اوامر و نواہی کو ان سے جا کر معلوم کرنا ہے، یہ غیبت کے زمانہ کا اہم فریضہ ہے اور اس بارے فقہاءاور علماءسے رجوع کرنا اور ان کی تقلید کے بارے احادیث بھی نقل کر دی گئی ہیں جو ایک فطری حکم کی تاکید مزید کرنے کاسبب ہیں۔
لہٰذا مومنین کرام کو ٹھگ بازوں سے بچنا چاہیئے، دین کے سوداگروں کے چنگل میں نہیں پھنسنا چاہئے، امریکیوں کو یہ پتہ چل گیا ہے اور اس کی سی آئی اے کا سربراہ اپنی خودنوشت میں لکھتا ہے کہ شیعوں پر اگر غلبہ حاصل کرنا ہے تو انہیں فقہاءو مجتہدین کی تقلید سے برگشتہ کرنا ہو گا کیونکہ علماءاور فقہاءکی تقلید کا نظریہ انہیں ایک زندہ اور موجود امام علیہ السلام سے مربوط کردیتا ہے جس کی اطاعت وہ اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں....بہرحال جو بھی فقہاءسے تمسک اور ان سے مربوط رہنے اور ان کی تقلید کی مخالفت کرتا ہے وہ امام زمانہ(عج)کا مخالف ہے وہ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پرامریکی لابی سے ہے، یہودیوں کا ایجنٹ ہے اسے ان سے ہوشیار رہنے کی ضروت ہے....ازمترجم)
تیسری ذمہ داری:آپ علیہ السلام کے نام مبارک کے حوالے سے ذمہ داری
یہ بات آپ علیہ السلام کے زمانہ غیبت کے متعلق ہے لیکن جب آپ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو پھر اس بارے جو آپ علیہ السلام کے ارشادات ہوں گے اس پر عمل کیا جائے گا” کنزالخواطر“ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام سے یہ سوال کیا گیا کہ جب آپ کا نام ”قائم“لیا جاتا ہے تو اس وقت احترام کے لئے کھڑا ہو جانا چاہئے، ایسا کس لئے ہے؟
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: کیونکہ آپ علیہ السلام کے لئے ایک بہت لمبی غیبت ہے، آپ علیہ السلام اس قدر اپنے چاہنے والوں اور محبت کرنے والوں پر مہربان ہیں کہ جب بھی آپ علیہ السلام کے چاہنے والوں سے کوئی آپ علیہ السلام کا یہ نام لیتا ہے جس میں آپ علیہ السلام کی حکومت کا اشارہ ہے، آپ علیہ السلام کی غربت کوبیان کرتا ہے، آپ علیہ السلام کی تنہائی کا ذکر کرتاہے، آپ علیہ السلام کی تعظیم کے لئے ایک عبد، غلام اپنے آقا کے احترام میں کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ جب ایک غلام اپنے آقا کو سامنے دیکھتا ہے تو فوراً اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے اسی طرح جب لفظ ”قائم“زبان پر جاری ہو تو احترام میں اپنے امام کی تعظیم بجالاتے ہوئے کھڑا ہو جائے اور اللہ عزوجل سے یہ طلب کرے کہ وہ اس کے مولا علیہ السلام کے قیام کے وقت میں جلدی انتظام کر دے، وہ اسباب جلد پورے ہو جائیں جن کے پورے ہونے سے مولعلیہ السلام آجائیں گے“۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت بیان ہوئی ہے:آپ علیہ السلام خراسان میں ایک مجلس میں تشریف فرما تھے جب آپ علیہ السلام کے سامنے لفظ ”قائم “بولا گیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ دیا اور فوراً کھڑے ہو گئے اور فرمایا”اللھم عجل فرجہ وسھل مخرجہ“اے اللہ! ان کے لئے جلد کشادگی فرما دے، ان کے خروج کو آسان کر دے، ان کی حکومت کا زمانہ جلد لے آ اورپھر آ پ نے ان کی حکومت کی خصوصیات کو آپ علیہ السلام نے بیان فرمایا۔(الزام الناصب ج ۱ ص ۹۴۲)
محدث نوری نے اپنی کتاب ”نجم ثاقب “میں اس بارے جو کچھ لکھا ہے اس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے، مصنف نے عربی میں ترجمہ کیا ہے اور ہم عربی سے اردو میں دے رہے ہیں:امام زمانہ(عج)کو یاد کرنے کے وقت بالخصوص جب لفظ ”قائم“زبان پر آجائے، اس حالت میں قیام کرنا اور تعظیم کے لئے اٹھ کھڑا ہونا عرب،عجم، فارس، ہند، ترک،دیلم غرض دنیا کے ہرکونے میں بسنے والے شیعوں میں عام ہے اور ان کی سیرت کا حصہ ہے بلکہ اہل السنة والجماعة کے ہاں بھی یہ عمل رائج ہے۔
(النجم الثاقب ص ۵۰۶ باب ۹ فارسی نسخہ)(اعانة الطالبین ج ۳ ص ۴۱۳ ،السیرة الجلبیہ ج ۱ ص ۷۳۱)
جلیل القدر عالم جناب عبداللہ علامہ الجزائری مرحوم کے نواسے ہیں انہوں نے اس روش کو حضرت امام جعفر صادق علیہ اسللام سے روایت کیا ہے اور یہ کہ اہل سنت کے ہاں بھی ایسا رواج ہے۔
روایت نقل ہوئی ہے کہ”امام انسکی کے پاس ان کے زمانہ کے علماءکی ایک بڑی تعداد موجود تھی کسی نے ان اشعار کو پڑھا
قلیل لمدح المصطفی الخط الذهب....علی ورق من خط احسن من کتب
وان لفعن الاشراف عندسماعه....قیاما صقوقا اوجثیا علی الرکب
سارے یہ سن کر تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے۔(النجم الثاقب ص ۶۰۶)
(از مترجم....امام زمانہ (عج) سے عشق اور محبت کا اظہار اس میں ہے کہ جب بھی ان کا نام لیا جائے تو بڑے احترام سے لیا جائے، ان کے نام کے ساتھ جہاں ”علیہ السلام،علیہ الصلوة والسلام“بولا جائے وہاں پر دعائیہ جملے”اللهم عجل فرجه وسهل مخرجه “ کہے جائیں اور احترام کے لئے کھڑا ہوا جائے یا کم از کم نام سنتے ہی ایسی حالت میں آ جائے کہ محسوس ہو کہ اس نے اپنے امام علیہ السلام کا احترام بجالایاہے)
آپ علیہ السلام کو قائم کیوں کہا جاتاہے؟
علل الشرائع میں ہے، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا گیا:
یابن رسول اللہ!کیا آپ علیہ السلام سب قائمین بالحق ، حق کی خاطر قیام کرنے والے نہیں ہیں؟
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: جی ہاں!
راوی: تو پھر (امام مہدی علیہ السلام)کو فقط قائم کیوں کہا گیا ہے ، یہ نام ان سے کیوں مخصوص ہے؟
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: جس وقت میرے جدحضرت امام حسین علیہ السلام قتل ہو گئے تو اللہ کے حضور فرشتے چیخے چلائے، بہت روئے اور عرض کی اے ہمارے اللہ!اے ہمارے سردار!کیا تیری ذات اس سے غافل تونہیں ہے کہ تیرے منتخب بندوں، تیرے منتخب بندوں کے فرزندوں اور تیری مخلوق میں جو بہترین ہیں انہیں قتل کر دیا گیاہے؟فرشتوں نے تعجب اور حیرانگی کے عالم میں روتے ہوئے، چیختے چلاتے ہوئے غمناک حالت میں یہ عرض داشت پیش کی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو وحی فرمائی جس میں یہ ارشاد فرمایا:
”میرے فرشتو!آرام کرو، مجھے میری عزت کی قسم ہے، مجھے اپنے جلال کی قسم ہے، میں ان سب(قاتلوں) سے ضرور بالضرورانتقام لوں گا، اگرچہ یہ انتقام کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو،پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے اولاد سے آئمہ علیہ السلام کا فرشتو کو مشاہدہ کرایا پس فرشتے یہ دیکھ کر خوش ہو گئے کہ ان میں ایک قائم تھے جو نماز پڑھ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس قائم کے ذریعہ ان سب سے انتقام لوں گا۔(علل الشرائع ص ۰۶۱ ، باب العلمہ علی امیرالمومنین علیہ السلام باب ۸۴۱ حدیث ۱)
چوتھی ذمہ داری: امام زمانہ علیہ السلام کی نصرت اور مدد کرنا
یہ مدد اس وقت پہنچانا ہو گی جس وقت آپ علیہ السلام قیام فرمائیں گے اور آپ علیہ السلام کے ظہور کا اعلان ہو جائے گا اس وقت ہر ایک پرواجب ہو گا کہ وہ امام علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہے جہاں ہو، جس حال میں ہو، جو وقت ہو ۔
روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آسمان سے نداءدیں گے اور سب لوگوں کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مدد کرنے کی دعوت دیں گے اور یہ کہ سب لوگ آپ علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہوجائیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ آپ علیہ السلام کی نصرت اور مدد کرنے کاآغاز اس وقت ہو گا جس وقت آسمان سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی نداءکو سنا جائے گا۔ جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے، آپ علیہ السلام کے جو موالی اور چاہنے والے ہیں ان سب پر آپ علیہ السلام کی نصرت کرنا شرعی طور پر واجب ہے اورآپ علیہ السلام کی عالمی اصلاحی تحریک میں جو حضرات قیادتی کردار ادا کریں ان پر یہ واجب تاکیدی ہے اور وہی آپ علیہ السلام کے خاص اصحاب ہوں گے۔
غیبت نعمانی ص ۴۳۱ ، علائم الظہور کے باب میں ہے کہ حضرت امام ابوجعفر محمدباقرعلیہ السلام سے روایت ہے:
”یہ خاص نداءماہ رمضان میں آئے گی، اس کے علاوہ کوئی دوسرا مہینہ نہ ہوگا رمضان جو کہ ”شہراللّٰہ “(اللہ کا مہینہ)ہے یہ آواز جبرئیل علیہ السلام کی ہوگی اور یہ نداءمخلوق خدا کے لئے ہو گی گویا یہ ایک قسم کا اعلان ہوگا“
پھر فرمایا:”آسمان سے آواز دینے والا قائم علیہ السلام کا نام لے کر اعلان کرے گا جسے اہل مشرق، اہل مغرب سب سنیں گے، کوئی سویا ہوا نہیں ہوگا مگر یہ کہ اس آواز سے اٹھ جائے گا،کھڑا ہوا شخص یکدم بیٹھ جائے گا ،بیٹھا ہوا شخص خوف کے مارے کھڑا ہو جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے جو اس آواز کو معتبر قرار دے کر اس پر مثبت جواب دے، کیونکہ یہ آواز جبرئیل علیہ السلام امین کی آواز ہو گی“
پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:”یہ آواز ۳۲ رمضان المبارک کو ہوگی اور وہ شب، شب جمعہ ہوگی اس آواز میں شک نہ کرنا، اس کی پیروی کرنا اس آواز پر لبیک کہنا، اس کو تسلیم کر لینا کیونکہ جس رات کے پچھلے حصہ میں جبرئیل امین علیہ السلام آواز دے گا اور حضرت قائم علیہ السلام کا نام بھی لے گا اور مخلوق کو ان کی اطاعت کرنے کاکہے گا تو اس سے اگلے دن ابلیس ملعون اعلان کرے گاجسے سب لوگ سنیں گے کہ فلاں شخص() مظلوم مارا گیا ہے اس کے لئے جمع ہو جاو تاکہ اس کے خون کا بدلہ لیا جائے اس طرح وہ انہیں گمراہ کرے گا“۔
جناب ابوبصیرحضرت ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں:
راوی: میں نے عرض کیا میں آپ علیہ السلام پر قربان جاوں،قائم علیہ السلام کا خروج کب ہوگا؟
حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام:اے ابامحمد!ہم اہل بیت علیہ السلام اس وقت کو متعین نہیں کرتے،آپ نے فرمایا کہ وقت مقرر کر دینے والے جھوٹے ہیں، لیکن اے ابومحمد قائم کے خروج سے پہلے پانچ کام ہوں گے ۔
۱ ۔ ماہ رمضان میں آسمان سے نداءآئے گی۔
۲ ۔ سفیانی کاخروج ہوگا۔
۳ ۔ خراسانی کا خروج ہوگا۔
۴ ۔ نفس ذکیہ کاقتل ہوگا۔
۵ ۔ بیداءمیں زمین دھنس جائے گی۔
راوی: میں نے پوچھا کس طرح نداءآئے گی؟
امام علیہ السلام:حضرت قائم علیہ السلام کا نام اور آپ کے باپ کے نام کےساتھ لیا جائے گا اور اسی طرح اعلان ہوگا۔
فلاں کا فلاں بیٹا قائم آل محمد علیہم السلام ہیں، ان کی بات کو سنو اور ان کی اطاعت کرو، اللہ کی کوئی بھی ایسی مخلوق نہیں بچے گی کہ جس میں روح ہے مگر یہ کہ وہ اس آواز کو سنے گی سویا ہوا اس آواز سے جاگ جائے گا اور اپنے گھر کے صحن میں دوڑ کر آ جائے گا اور پردہ والی عورت اپنے پردے سے باہر نکل آئے گی، قائم علیہ السلامیہ آواز سن کر خروج فرمائیں گے یہ آوازجبرئیل علیہ السلام کی ہوگی۔(بحارالانوارج ۲۵ ص ۹۱۱ ص ۸۴)
زرارة:میں نے حضرت امام ابوعبداللہ جعفرالصادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا آوازکا آسمان سے آنابرحق ہے؟
امام علیہ السلام: جی ہاں! خدا کی قسم!آواز کا آنا برحق ہے ہر قوم اپنی اپنی زبان میں اس آواز کو سن کر اس کے معنی کو سمجھے گی۔
عبداللہ بن سنان: میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام کے پاس موجود تھاکہ میں نے ہمدان کے ایک آدمی کی بات سنی کہ وہ امام کی خدمت میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ لوگ(ہمارے مخالفین) ہمیں طعنے دیتے ہیں اور ہمارے اوپراعتراض کرتے ہیں اور ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ تمہارا خیال ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی جوصاحب الامر علیہ السلام کے نام کی آوازدے گاوہ جبرئیل علیہ السلامامام علیہ السلام تکیہ کی ٹیک لگا کر بیٹھے تھے آپ یہ سن کر غضب ناک ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔
امام علیہ السلام: یہ حدیث مجھ سے روایت نہ کرو میرے باپ سے روایت کرنا، اس میں تمہارے اوپر کوئی مانع نہیں ہے، میں یہ گواہی دے کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے باپ سے یہ بات اسی طرح سے سنی کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم! یہ آسمانی نداءوالی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب میں واضح بیان ہوئی ہے جہاں اللہ فرماتاہے ”( فَظَلَّت اَعنَاقُهُم لَهَا خَاضِعِینَ ) “(سورہ الشعراءآیت ۴)
اور اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک ایسی نشانی اتاریں کہ جس کے آنے پر ان سب کی گردنیں اس نشانی کے سامنے جھک جائیں گی ، اس دن زمین پر کوئی بھی نہیں بچے گا مگر یہ کہ اس نشانی کے آگے جھک جائے گا، ان کی گردنیں اس آواز کے سامنے ذلیل نظر آئیں گی زمین والے جب آسمان سے نداءسنیں گے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: جو لوگ ایمان لائے ہیں تو اللہ انہیں حق بات پر ثابت رکھے گا....اور جن کے دلوں میں بیماری ہے تو وہ اس دن شک میں پڑ جائیں گے اور دلوں کی بیماری خدا کی قسم! ہماری دشمنی کا عنوان ہے اس میں وہ لوگ ہم سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاحبان ایمان ہمارا دامن پکڑیں گے....
پھر ابوعبداللہ علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی”( وَاِن یَّرَو ا آیَةً یُّعرِضُو ا وَیَقُو لُو ا سِحر مُّس تَمِرّ ) (سورہ القمر آیت ۲)
اس ذمہ داری کی ادائیگی کا وقت امام علیہ السلام کا ظہور ہے ۔
پانچویں ذمہ داری: امام علیہ السلام کی بیعت کرنا
بیعت دو قسم کی ہے۔
( ۱) ایک بیعت غیبت کے زمانہ میں ہے اور وہ اس طرح ہے کہ ہر صبح آپ علیہ السلام سے تجدید بیعت کرنا ہے اور یہ عمل مستحبات سے ہے۔
( ۲) بیعت کبریٰ ہے اور یہ آپ علیہ السلام کے ظہور اور خروج کے وقت ہو گی جس شخص نے امام زمانہ(عج) کی بیعت کی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے بیعت کی”( اِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُو نَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰهُ یَدُواللّٰهِ فَوقَ اَیدِی هِم فَمَن نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنکُثُ عَلیٰ نَفسِه وَمَن اَو فیٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَیهُ اللّٰهَ فَسَیُئوتِیهِ اَجراً عَظِیماً ) “(سورہ الفتح آیت ۰۱)
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے بیعت کرنے کی شرط یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس پر آمادہ کرنا کہ امام علیہ السلام کی خاطر ہر قیمتی سے قیمتی چیز کو قربانی دے گا اور اس عزیز ترین متاع کو امام علیہ السلام کے لئے دے دے گاامام علیہ السلام کی نصرت کے لئے اپنی کسی شئی کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اِنَّ اللّٰهَ اشتَریٰ مِنَ المُو مِنِینَ اَنفُسَهُم وَ اَموَالَهُم بِاَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ “(سورہ التوبہ آیت ۱۱۱)
توطین النفس:۔ اپنے آپ کو آمادہ کرنا، دل سے ارادہ اور فیصلہ کر لینا کہ اپنے امام علیہ السلام کا ساتھ دینا ہے اور عملی میدان میں جو مولا چاہے اور جس کا حکم دیں اس کے مطابق اقدام کرنا ہے۔
باقی آئمہ علیہ السلام اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت سے امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ بیعت دو حوالوں سے مختلف ہے۔
۱ ۔ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی دعوت کا اسلوب، طریقہ کار، آپ کے اہداف، آپ سے پہلے جو معصومین علیہم السلام گزرے ہیں ان سے مختلف ہوگا جیسا کہ بعد میں بیان ہوگاکیفیت اور انداز کا فرق ہوگا۔
۲ ۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی واقعیت اصلیت ہر شئی کی جس طرح ہو گی آپ اسی کے مطابق اس بارے حکم کریں گے ظاہری کیفیت اور حالت پر حکم جاری نہیں ہوگاہر فیصلہ حقیقت پر مبنی ہوگا اور ہر حکم باطن اور اصلیت کے مطابق ہوگا۔
یہ ایساامر ہوگا جسے بعض شیعہ برداشت نہ کر پائیں گے ، آپ علیہ السلام کے ظہور کے وقت ایسے مناظر دیکھنے میں آئیں گے کہ آپ علیہ السلام کے اقدامات کو دیکھ کر بعض ایسے افراد جو آپ علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے یا آپ علیہ السلام کے شیعہ ہونے کا دم بھرتے رہے ہوں گے وہ آپ علیہ السلام کے اقدامات کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ہمیں اولاد فاطمہ علیہم السلام کی ضرورت نہیں ہے۔چہ جائکہ وہ لوگ جو آپ کے ہمراہ نہ ہوں گے یہ بہت ہی سخت مرحلہ ہوگا۔
(بحارالانوارج ۲۵ ص ۸۳۳ حدیث ۱۸)
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے عجیب و غریب فیصلے
یہ اس وجہ سے ہوگا کہ جب وہ لوگ آپ علیہ السلام کی عدالت کا مشاہدہ کریں گے اور یہ کہ آپ علیہ السلام حقائق اور اصل واقعات کے مطابق فیصلے دے رہے ہیں، ظاہری صورتحال سے مختلف فیصلے آپ علیہ السلام کے ہوں گے مثال کے طور پر جب ہم سے امام علیہ السلام یہ فرمائیں گے کہ جو زمین تمہارے اختیار میں ہے ان سب کو چھوڑ دو، ہمارے گھروں کو خالی کر دو جن میں تم رہائش پذیر ہو، تمہارے جوبینکوں میں سرمایہ پڑاہے اس سے تم فارغ ہو اور نہ کہ ہم اپنی توجیہ کا اعلان کریں کیونکہ یہ ساری کمائی غلط وراثت کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی یا ہمارے اجداد سے کسی نے مال غصب کیا تھا جو ہم تک آگیا وغیرہ توسوچیے کیا ہم آمادہ ہو جائیں گے اور فوراً امام علیہ السلام کے فیصلہ کو تسلیم کر لیں گے اور دل میں کسی قسم کا فاسد خیال نہ لائیں گے۔
اگر ہمیں امام علیہ السلام یہ فرمائیں گے کہ یہ تمہاری بیوی درحقیقت تمہاری نہیں ہے تمہارا اس سے ازدواجی رشتہ حرام ہے یہ تمہاری رضاعی بہن بنتی ہے تو کیا ہم فوراً اس بیوی سے ہاتھ اٹھالیں گے اسے چھوڑ دیں گے(یا جب امام علیہ السلام یہ فرمائیں گے کہ تمہاری بیوی فلاں وجہ سے تمہارے اوپر حرام ہے فوراً اس سے الگ ہو جاو تو کیا ایسا بغیر کسی چون و چرا کے کریںگے)اسی اطاعت محض کو قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
”( فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُو مِنُونَ حَتّٰی یُحَکِّمُوکَ فِی مَا شَجَرَبَینَهُم ثُمَّ لَا یَجِدُو ا فِی اَنفُسِهِم حَرَجاً مِمَّا قَضَیتَ وَیُسَلِّمُوا تَسلِیماً ) “(سورہ نساءآیت ۵۶)
عبرت کے لئے ایک حکایت
یہ بات بیان کی گئی ہے کہ گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ بحرین کے شیعہ ظالموں کے ظلم و ستم سے اس قدر تنگ آ گئے کہ انہوں نے اپنے امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی تمنا کی کہ آپ علیہ السلام تلوار لے کر آئیں اور پورے عالم کا نقشہ بدل کررکھ دیں تاکہ پورے عالم سے ظلم و ستم کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں اورفقط ان کے شہروں میں امن و سکون نہ ہو بلکہ پورے عالم میں ایسا ہو۔ انہوں نے اپنے درمیان سے انتہائی نیک، پارسا، متقی اور عبادت گزاروں کی جماعت کا انتخاب کیا جو تقویٰ، علم، میں سب سے بہتر تھے پھر انہوں نے اپنے میں سے تین افراد کا انتخاب کیا اور انہوں نے پھر اپنے میں سے ایک کو چن لیا جسے وہ اپنے سے تقویٰ و فضل میں بہتر سمجھتے تھے۔
یہ منتخب آدمی صحرا میں چلا گیا اور اللہ کی عبادت شروع کر دی اور امام زمانہ علیہ السلام سے توسل کرنے میں مصروف ہو گیا کہ حضرت تشریف لائیں اور تلوار لے کر قیام کریں ظلم کا خاتمہ کریں، عدل و انصاف رائج کردیں جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہے، اس کے لئے اس نے شب و روز گریہ وزاری، عجزوانکساری، دعا و مناجات میں گزار دیئے۔
جب آخری رات ہوئی تو ایک شخصیت تشریف لے آئی اور انہوں نے اس منتخب آدمی سے کہا کہ میں تمہارا امام مہدی علیہ السلام ہوں جس کے تم منتظر ہو، تمہارا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے تم کس لئے آئے ہو اور کیا چاہتے ہو؟
منتخب آدمی: آپ کے موالی ، آپ سے عشق و محبت کرنے والے شدت سے آپ کے ظہور کی انتظار میں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ قیام فرمائیں ، ظلم کے خاتمہ کے لئے اقدام کریں۔
امام مہدی علیہ السلام: تم کل فلاں جگہ پر کچھ بکرے لے کر پہنچ جاو، اس مکان کی دوسری منزل پر ان بکروں کو لا کر باندھ دو یہ کام صبح شروع کردو اور پھر لوگوں میں یہ اعلان کرو کہ امام مہدی فلاں وقت میں تشریف لائیں گے اور یہ کہ سب اس مکان کے سامنے آجائیں، امام نے اس شخص سے یہ بھی فرمایا کہ میں اس معین وقت میں چھت پرموجود ہوں گا۔
اس آدمی نے امام کے فرمان کے مطابق عمل کیا، معین شدہ وقت پر آن پہنچا، اس معین جگہ پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا، امام مہدی اس آدمی کے ہمراہ چھت پر موجود تھے اور بکرے بھی چھت پر موجود تھے۔
اس جگہ پر امام مہدی نے ایک شخص کا نام لیا اور اس آدمی سے کہا کہ اجتماع میں آواز دو اور اس شخص کو چھت پربلاو اس نے اس ادمی کے نام کی آوازدی اور اسے چھت پر بلا لیا وہ آدمی چھت پر آ گیا اس کے چھت پر آتے ہی امام مہدی نے اس شخص سے کہا کہ فوراًایک بکرے کو پرناے(میزاب) کے سامنے ذبح کرو۔
جب لوگوں نے میزاب سے گاڑھا خون گرتے دیکھا تو لوگوں نے سمجھا کہ امام مہدی نے اس آدمی کے ذبح کرنے کا حکم دیاہے۔
اس کے بعد دوسرے آدمی کو اجتماع سے بلایا وہ بہت ہی نیک افراد سے تھا وہ اپنے کو قربانی کے لئے تیار کر کے چھت پر آگیا اس کے ذہن میں تھا کہ امام اسے میزاب کے سامنے ذبح کر دیں گے جیسے وہ چھت پر گیا تو میزاب سے پھر دوسرے بکرے کا خون بہنے لگا پھر اجتماع سے پہلے دو کی طرح تیسرے شخص کو بلایا گیا اس کے چھت پر آنے کے ساتھ پھر میزاب سے خون جاری ہو گیا پھر چوتھے کو بلایا گیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے چھت پر جانے سے انکار کر دیا اور انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ جو بھی چھت پر جائے گا اس کا خون بہا دیا جائے گا وہ ذبح کر دیا جائے گا۔
اس طرح انہوں نے امام کے حکم کے سامنے اپنی زندگی کو مقدم جانااور میدان سے آہستہ سے فرار شروع کر دیایہ منظر دیکھ کر امام مہدی علیہ السلام نے اس شخص کو سمجھایا کہ ظہور میں رکاوٹ یہ امر ہے جس کا تم نے مشاہدہ کیا ہے جب تک لوگوں کی حالت یہی رہے گی تو ظہورنہیںہوگا۔(تاریخ الغیبة ج ۲ ص ۸۱۱ ،ص ۹۱۱)
(یہ ایک حکایت ہے اس میں عبرت کے لئے بہت کچھ ہے اور ایسے واقعات آئمہ علیہ السلام کے ادوار میں ہی ملتے ہیں کہ ان میں ہارون مکی کا واقعہ مشہور ہے کہ جب حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کے پاس خراسان کے شیعوں کا وفد آیا اور انہوں نے آپ علیہ السلام سے شیعوں کی تعداد کے بہت ہو جانے کی بات کی اور یہ درخواست کی کہ اتنے سارے شیعوں کی موجودگی میں آپ علیہ السلام قیام کیوں نہیں فرماتے؟
تو آپ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ تم ان ہی شیعوں سے ہو جو خراسان میں ہیں تو انہوں نے جواب دیا جی ہاں!تو آپ علیہ السلام نے ان میں سے ایک کو آگ کے جلتے ہوئے تنور میں کود جانے کا حکم دیاتووہ پریشان ہو گیا اور معافی مانگنے لگا کہ مجھے نہ جلائیں ، کیا مجھ سے کوئی گستاخی ہوگئی ہے؟....اتنے میں ہارون آ گیا آپ علیہ السلام نے اسے یہ حکم دیا تو وہ فوراً تنور میں کود گیا اور آگ اس کے لئے گلزار بن گئی....
امام علیہ السلام نے پوچھا اس قسم کے کتنے ہیں تو خراسانی شیعہ نے جواب دیا ایک بھی نہیں....تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ظالموں کے خلاف قیام نہ کرنے کی وجہ یہ ہے ۔ بات خالص شیعہ کی موجودگی ہے جو ابھی تک حاصل نہیں۔مترجم)
دعائے عہد اور دعائے بیعت
صبح کی نماز کے بعد روزانہ مستحب ہے کہ یہ دعا برائے تجدید بیعت امام زمانہ(عج) پڑھی جائے جو اس طرح ہے:
”اللهم بلغ مولای صاحب الزمان ( عج ) عن جمیع المومنین والمومنات فی مشارق الارض و مغاربها وبرها وبحرها سهلها وجبلها هیهم ومیتهم وعن والدی وولدی وعنی من الصلوات والتحیات زنة عرش الله ومداد کلماته ومنتهی رضاه وعدد مآ احصاهُ کتابهُ و احاط به علمه اللهم انی اجدد لهُ فی هذا الیوم وفی کل یوم عهدا وعقدا وبیعة فی رقبتی اللهم کما شرفتنی بهذا التشریف وفضلتنی بهذا الفضیلة وخصصتنی بهذه النعمة فصل علی مولای وسیدی صاحب الزمان واجعلنی من انصاره واشیاعه والذآبین عنه واجعلنی من المستشهدین بین یدیه طائعا غیر مکره فی اصف الذی نعت اهله فی کتابک فقلت صفا کانهم بنیان مرصوص علی طاعتک وطاعة رسولک وآله علیهم السلام اللهم هذه بیعة له فی عنقی الی یوم القیامة“
ترجمہ:۔ ”اے معبود!میرے آقا امام زمانہ علیہ السلام کو ان پر خدا کی رحمتیں ہوں تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں خشکیوں اور سمندروں میں میدانوں اور پہاڑوں میں ہیں زندہ اور مردہ اور میرے والدین اور میری اولاد اور میری طرف سے بہت درود اور بہت سلام ہو ہم وزن ہو عرش الٰہی کے اور اس کے کلمات کی روشنی اور اس کی پوری رضا کی اس تعداد میں جو اس کی کتاب میں ہے اور جو اس کے علم میں ہے اے معبود میں تازہ کرتا ہوں آج کے دن میں اور ہر دن میں یہ پیمان یہ بندھن اور بیعت جو میری گردن پر ہے ۔ اے معبود!جیسے عزت دی تو نے مجھے اس عزت کے ساتھ بڑائی دی تو نے مجھے اس بڑائی کے ساتھ اور خصوصیت دی ہے اس نعمت کے ساتھ پس میرے مولا علیہ السلام میرے سردار امام زمان علیہ السلام پر رحمت کر اور مجھ کو ان کے مددگاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں میں قرار دے اور مجھے ان میں رکھ جو شہید ہوں گے ان کے روبرو فرمانبرداری سے نہ زبردستی سے اس صف میں جس صف والوں کی تو نے کتاب میں مدح کی پس فرمایا ایسی صف جیسے سیسہ پلائی دیوار ہو میرا یہ عمل تیری اطاعت تیرے رسول اور ان کی آل علیہ السلام کی اطاعت میں ہو ان سب پر سلام ہوں اے معبود! ان کی یہ بیعت روز قیامت تک میری گردن پر ہے“۔
علامہ مجلسیؒ نے اس دعا کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ میں نے بعض قدیمی کتابوں میں دیکھا ہے کہ اس دعا کو پڑھنے کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر مارے۔
اس دعا کے علاوہ ایک اور دعا بھی ہے جو اس سے زیادہ لمبی ہے اور دعاوں کی کتابوں میں موجودہے۔(البحار ج ۲۰۱ ،باب ۰۱۱،۱۱۱ ، مکیال المکارم ج ۳۲۲،۲۲۲ حدیث ۶۱۴)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہر نماز کے بعد امام زمانہ علیہ السلام سے بیعت کرنے کااستحباب وارد ہوا ہے البحار میں السیدالباقی کی کتاب الاختیار سے نقل کیا ہے امام صادقعلیہ السلام نے فرمایا جو شخص اس دعا کوہر واجب نماز کے بعد پڑھے گا تو وہ حضرت امام ”م،ح،م،د“
کی بیداری یا نیند کی حالت میں زیارت کرے گا۔دعا یہ ہے:
”بسم الله الرحمن الرحیم، اللهم بلغ مولانا صاحب الزمان“
اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے، اے اللہ ہمارے مولانا صاحب الزمان علیہ السلام کوجلد بھیج“
”اینما کان وحیثما کان من مشارق الارض و مغاربهاسهلهاو جبلها“
جہاں پر وہ ہوں اور جس وقت میں ہو، زمین کے مشارق اور مغارب زمین کے میدانوں میں ہوں، زمین کے پہاڑوں میں ہوں۔
”عنی وعن والدی وعن ولدی واخوانی التحیة والسلام“
”اپنی طرف سے، میرے والدین کی طرف سے، میری اولاد کی طرف سے، میرے بھائیوں کی طرف سے، ان کی خدمت میں تحیت اورسلام ہو“
”عددخلق الله، وزنة عرش الله، وما احصاه کتابه وماحاط به علمه
یہ تحیت و سلام اللہ کی مخلوق کی تعداد برابر، اللہ کے عرش کے وزن برابر اور اس کے برابر جسے اللہ کی کتاب نے شمار کررکھا ہے اور جسے اللہ کے علم نے احاطہ کر رکھاہے
اللهم انی اجددله فی صبیحة هذا الیوم وماعشت
اے اللہ! بتحقیق میں صاحب الزمان علیہ السلام کے لئے آج دن کی صبح میں اور اپنی زندگی
فیه من ایام حیاتی عهدا و عقدا و بیعة له فی
جو دن میں گزاروںاس میں تجدید کرتا ہوں، عہد، بیعت،معاہدہ کی
عنقی لاحول عنها ولاازول ابدا
صاحب الزمان علیہ السلام کے لئے میری گردن میں یہ بیعت ہے کہ میں اس سے کبھی پھروں گا نہیں اور نہ کبھی اسے اپنی گردن سے الگ کروںگا یہ پکا وعدہ ہے۔
اللهم اجعلنی من انصاره والذابین عنه والممتثلین
اے اللہ! مجھے صاحب الزمان علیہ السلام کے انصار سے قرار دے اور ا نکا دفاع کرنے والا بنا دے
لاوامره ونواهیه فی ایامه واالمتشهد بین یدیه
اور ان کے احکام کو پورا کرنے والا بنا، ان کے نواہی کو چھوڑنے والا بنااور ان کے ساتھ شہادت طلبی کے لئے پیش ہونے والا قرار دے۔
اللهم فان حال بینی وبینه الموت الذی جعلته
اے اللہ! اگر میرے اور صاحب الزمان علیہ السلام کے درمیان موت آجائے جسے تو نے اپنے
علی عباده حتما مقضیا فاخر جنی من قبری موتزاراکفنی
بندگان پر حتمی فیصلہ قرار دے رکھا ہے تو اے اللہ تومجھے میری قبر سے باہر نکال لانا اس حالت میں کہ
شاهراًسیفی، مجرداقناتی، ملبیادعوة الداعی فی الحاضروالباد
کہ کفن میں لپٹا ہوا ہووں، اپنی تلوار کو نیام سے نکال رکھا ہو، اپنے نیزے کو کمان میں لگا رکھا ہو، دعوت دینے والے کی آواز پر لبیک کہہ رہا ہووںآبادیوں میں یا دیہاتوں میں۔
اللهم ارنی الطلعة الرشیده والغرة الحمیده واکحل
اے اللہ! مجھے طلعہ رشیدہ اور غرہ حمیدہ(امام زمانہ علیہ السلام)کادیدار کرا دے
بصری بنظرة منی الیه وعجل فرجه وسهل مخرجه
اور میری آنکھ کو ان کے دیدار کا سرمہ لگا دے اور ان کی آمد، ان کی حکومت، انکے خروج، ان کے ایام کو جلد لے آ
اللهم اشدد ازره وقوظهره، وطول عمره
اے اللہ! ان کے دامن کو مضبوط بنا دے، ان کی کمر کو طاقتور بنا اور انہیں لمبی عمر عطا فرما
واعمراللهم به بلادک واحی به عبادک فانک
اے اللہ!صاحب الزمان علیہ السلام کے وسیلہ سے اپنے شہروں کو آباد کر دے اور اپنے
قلت وقوله الحق اظهرالفساد فی البرو البحر
بندگان کو خوشحال زندگی عطا فرما کیونکہ تیرا فرمان ہے اور تیرا فرمان برحق ہے
بماکسبت ایدی الناس لیذیقهم بعض الذی عملوالعلهم یرجعون
زمین میں فساد ظاہر ہو چکا بوجہ ان اعمال کے جو لوگوں نے انجام دیئے ہیںیہ اس لئے تاکہ لوگ اس عمل کا مزہ چکھیں جس کاانہوں نے ارتکاب کیا تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں
فاظهراللهم لنادینک، وابن بنت نبیک المسمی باسم
اے اللہ! ہمارے واسطے اپنے ولی کو ظاہر فرما دے جو تیرے نبی کی بیٹی کا
رسولک حتی لایظفر بشی من الباطل
فرزند ہے اور تیرے رسول کاہمنام ہے اس طرح ظاہر ہوں کہ کسی باطل کو نہ پائیں مگر یہ کہ
الامزقه ویحق الله الحق بکلماته ویحققه
اس کا صفایا کر دیں اور اللہ ان کے بیان سے حق کو قائم کر دے
اللهم اکشف هذه الغمه عن هذا الامة بظهوره انهم
اے اللہ! اس غم و اندوہ کو اس امت سے صاحب الزمان علیہ السلام کے ظہور کے ذریعہ
یرونه بعیدا ونریه قریبا
دور کر دے وہ لوگ(تیرے مخالفین)اس بات کو دورکی بات خیال کرتے ہیں اور ہم تو اس امر کے ہو جانے کو قریب سمجھتے ہیں
وصلی الله علی محمدوآله
اور اے اللہ محمد و آل محمد پر صلوات بھیج
ایک روایت یہ بھی موجود ہے کہ ہر جمعہ کو تجدید بیعت کی جائے(مکیال المکارم ج ۲ ص ۵۲۲)
روزانہ صبح کی نماز کے بعد دعائے عہدپڑھنے کا حکم ہے یہ دعا معروف ہے پاکستان میں اس کا ترجمہ مولانا اسدعالم فاضل قم اور محمد جعفر الزمانؒ نے کیا اور دونوں ترجمے چھپے ہوئے ہیں یہ دعاءمفاتیح الجنان میں موجود ہے علامہ حافظ ریاض حسین نجفی اور علامہ ذیشان حیدرجوادی صاحب والا ترجمہ بھی ساتھ دیا ہے ۔
اَللّهُمَّ رَبَّ الْنُّورِ العَظیمِ وَرَبَّ الكُرْسِیّ الرَّفِیعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ومُنْزِلَ التَّوْریةِ وَالْأنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَروُرِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظیمِ وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالْأنْبیاءِ وَالْمُرْسَلِینَ اَللّهُمَّ إِنّی اسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِیمِ وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنِیرِ وَمُلْكِكَ الْقَدیمِ یاحَیُّ یاقَیُّومُ أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذی اَشْرَقَتْ بِهِ السَّمواتُ وَالْأرضُونَ وَبِإسْمِكَ الَّذی یَصْلَحُ بِهِ الأَوّلوُنَ والآخِروُنَ یاحَیّاً قَبْلَ كُلَّ حَیٍّ وَیا حَیّاً بَعْدَ كُلِّ حَیٍّ وَیاحیّاً حینَ لاحَیَّ یامُحْیِیَ الْمَوْتى وَمُمیتَ الْأَحیاءِ یاحَیُّ لا إِلهَ إِلاّ أَنْتَ اَللّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانا اَلإمامَ الهادِیَ الْمَهْدِیَّ الْقائِمَ بِأمْرِكَ صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْهِ وَعَلى آبائِهِ الطّاهِریِنَ عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فی مَشارقِ الْأرْضِ وَمَغارِبها سَهْلِها وَجَبَلِها وَبَرِّها وَبَحْرِها وَعَنّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ اللّهِ وَمِدادَ كَلِماتِهِ وَما اَحْصاهُ عِلْمُهُ وَأَحاطَ بِهِ كِتابُهُ اَللّهُمَّ إنّی اُجَدِّدُ لَهُ فی صَبِیحَةِ یَوْمی هذا وَما عِشْتُ مِنْ اَیّامی عَهْداً وَعقْداً وَبَیْعةً لَهُ فی عُنُقی لا اَحُولُ عَنْها وَلا أَزُولُ أبَداً اَللّهُمَّ اجْعَلْنی مِنْ اَنصارِهِ وَاَعْوانِهِ وَالذَّابّینَ عَنْهُ وَالْمُسارِعینَ إِلَیْهِ فی قَضاءِ حَوائِجِهِ والْمُمْتَثِلینَ لأوامِرِهِ وَالْمُحامِینَ عَنْهُ وَالسّابِقینَ اِلى إِرادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ اللّهُمَّ إنْ حالَ بَیْنی وبَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذی جَعَلْتَهُ عَلى عِبادِكَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنی مِنْ قَبْری مُؤْتَزِراً كَفَنی شاهِراً سَیْفی مُجَرِّداً قَناتی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدّاعی فی الْحاضِرِ وَالْبادی اَللّهُمَّ اَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشیدَةَ والْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ واكْحُلْ ناظِری بِنظْرَةٍ مِنّی إلَیهِ وَعَجِّلْ فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَاَوُسِعْ مَنْهَجهُ وَاسْلُكْ بی مَحَجَّتَهُ وَاَنْفِذْ اَمْرَهُ وَاشْدُدْ اَزْرَهُ واعْمُرِ اللّهُمَّ بهِ بِلادَكَ وَاَحْی بِهِ عبادَكَ فَإنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِما كَسَبَتْ أَیْدِی النّاسِ فَاظْهِرِ اللّهُمَّ لَنا وَلِیَّكَ وَاَبْنَ بِنْتِ نَبِیِّكَ الْمُسَمّى بِاسْمِ رَسْولِكَ صَلّى اللّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلّمَ حَتّى لایَظْفَرَ بِشْیءٍ مِنَ الْباطِلِ إِلاّ مَزَّقَهُ وَیُحِقَّ الْحَقَّ ویُحَقّقَهُ وَاجْعَلْهُ اللّهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلوُمِ عِبادِكَ وَنَاصِراً لِمَنْ لایَجِدُ لَهُ ناصِراً غَیْركَ وَمُجدِّداً لِما عُطِّلَ مِنْ أَحْكامِ كِتابِكَ وَمُشَیّداً لِما وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ دِینِكَ وَسُنَنِ نَبِیّكَ صَلَّى اللّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَاجْعَلْهُ اللّهُمَّ مِمِّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدینَ اَللّهُمَّ وَسُرَّ نَبِیّك مُحَمَّداً صَلّى اللّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلى دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِكانَتَنا بَعْدَهُ الَلّهُمَّ اكْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هِذهِ الْاُمَّةِ بِحُضُورِهِ وَعجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ إِنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعیداً وَنَراهُ قریباً بِرَحْمَتِكَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمین
پهر تین بار دائیں ران پر هاته مارے اور هر بار کهے اَلعَجَلَ العَجَلَ یَا مَو لایَ یَاصاحِبَ الزَّمانِ
ترجمہ:۔اے معبود!اے عظیم نور کے پروردگار اے بلند کرسی کے پروردگار اے موجیں مارتے سمندر کے پروردگار اور اے توریت اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے اور اے سایہ اور دھوپ کے پروردگار! اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے! اے مقرب فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار! اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین و آخرین نے بھلائی پائی ۔ اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے زندوں کو موت دینے والے اے وہ زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے معبود! ہمارے مولا امام ہادی مہدی علیہ السلام کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں۔ میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروں میں میری طرف سے میرے والدین کی طرف سے بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش اور اس کے کلمات کی روشنائی کے اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں۔ اے معبود!میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو اور جب تک زندہ ہوں باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گا نہ کبھی ترک کروں گا ۔ اے معبود! مجھے ان کے مددگاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں سے قرار دے میں حاجت برآوری کے لئے ان کی طرف بڑھنے والوں ان کے احکام پر عمل کرنے والوں ان کی طرف سے دعوت دینے والوں ان کے ارادوں کو جلد پورا کرنے والوں اور ان کے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے۔ اے معبود!اگر میرے اور میرے امام علیہ السلام کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں۔ شہر اور گاوں میں اے معبود مجھے حضرت کارخ زیبا آپ کی درخشاں پیشانی دکھا ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ان کی کشائش میں جلدی فرما ان کے ظہور کو آسان بنا ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا اور اے معبود! ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال وافعال کا پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولی علیہ السلام اور اپنے نبی کی دختر علیہ السلام کے فرزند کا جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے یہاں تک کہ وہ باطل کا نام نشان مٹا ڈالیں حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں ۔ اے معبود!قرار دے ان کو اپنے مظلوم بندوں کے لئے جائے پناہ اوران کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والا جو بھلا دیئے گئے ان کو اپنے دین کے خاص احکام اور اپنے نبی کے طریقوں کو راسخ کرنے والا بنا ان پر اور ان کی آل علیہ السلام پر خدا کی رحمت ہو اور اے معبود! انہیں ان لوگوں میں رکھ جن کوتو نے ظالموں کے حملے سے بچایا ۔ اے معبود!خوشنود کر اپنے نبی محمد مصطفی کو ان کے دیدار سے اور جنہوں نے ان کی دعوت میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما۔ اے معبود!ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے اور ہمارے لیے جلد ان کا ظہور فرما کہ لوگ ان کو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ جلد آئیے ، جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امام علیہ السلام “
کیا ظہور سے پہلے غیر امام کی بیعت جائز ہے
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا اے مفضل!ہر بیعت جو قائم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے لی جائے گی وہ کفر اور منافقت کی بیعت ہو گی دھوکہ دیہی کی بیعت ہو گی ایسی بیعت لینے والے پر لعنت ہے اور ایسی بیعت کرنے والے پر بھی لعنت ہے یعنی امام زمانہ(عج)کے ظہور سے پہلے بیعت لینے والا اور بیعت کرنے والا دونوں لعنتی ہیں۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۸)
اسی حوالے سے بعض شیعہ علماءنے یہ نظریہ اختیار کیا ہے کہ نبی اعظم اور آئمہ اطہارعلیہ السلام کے علاوہ دوسروں کی بیعت ٹھیک نہیں ہے۔(مکیال المکارم ج ۲ ص ۸۲۲)
بعض شیعہ علماءکا نظریہ ہے کہ فقہاءکی بیعت کرنا مستحب ہے۔(مکیال المکارم ج ۲ ص ۸۲۲)
میرا خیال یہ ہے اللہ ہی بہترآگاہ ہے کہ جو بات شیعہ علماءکے بیانات سے سمجھی جا سکتی ہے کہ اس بیعت سے مراد ریاست مطلقہ اور ولایت مطلقہ کی بیعت ہے ظاہر ہے اس زمین پر ریاست مطلقہ اورولایت مطلقہ فقط امام زمانہ علیہ السلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے آج کے دور میں کسی اور کے لئے ایسانہیں تو اسی حوالے سے ایسی بیعت امام زمانہ علیہ السلام کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔
بیعت سے مراد
نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی بیعت جس کا مفاد یہ ہو کہ جس کی بیعت کی جا رہی ہے اس کے لئے ریاست مطلقہ ہے اورولایت عامہ ہے ہر لحاظ سے حکومت اور اقتدار ان کے لئے ہے بیعت کرنے والے شخص پر بھی اور دوسروں پر بھی تو ایسی بیعت کسی غیر امام کے لئے انجام دینا کفر ہے یہ بیعت جائز نہیں ہے، البتہ ایسی بیعت کرنا جو معاہدہ کے معنی میں ہو کہ مخصوص شرائط کے تحت بیعت کرنے والا شخص بیعت لینے والے سے معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے گا تو ایسی بیعت کو مشروط بیعت کہا جائے یہ بیعت غیر امام کی ہو سکتی ہے، ایسی بیعت میں بیعت کرنے والے کے اختیارات سلب نہیں ہوتے اور نہ ہی امام زمانہ(عج)والے اختیارات بیعت لینے والے کے لئے قبول کئے جا رہے ہیں ایسی بیعت اگر شرعی موازین اور ضوابط کے تحت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ بات اسی طرح ہے جیسا کہ روایات میں آیا ہے”ان کل رایة ترفع قبل قیام القائم فصاحبھا طاغوت یعبد من دون اللہ تعالیٰ“
ہر پرچم جو قائم کے قیام سے پہلے بلند کیا جائے گا تو اس پرچم والا شخص طاغوت ہو گا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو اپنا معبود بنائے گا“(الکافی ج ۸ ص ۵۹۲ حدیث ۲۵۳)
علماءشیعہ نے اس بارے بات کی ہے کہ اس سے ہر وہ پرچم ہے(ہروہ تحریک ہے) جس میں امام مہدی علیہ السلام کے لئے دعوت نہ دی گئی ہو، بلکہ اپنی ذات کی طرف دعوت ہو تو ایسی تحریک طاغوتی تحریک ہے اور ایسا پرچم طاغوت کا پرچم ہے، لیکن جس پرچم تلے حضرت قائم علیہ السلام کے لئے دعوت دی جا رہی ہو ان کی حکومت کے لئے مقدمات فراہم کرنے کے لئے اورحضرت قائم علیہ السلام کی پیروی کی دعوت دی جا رہی ہو اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میںتو پھر ایسے پرچم کو بلند کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایسی تحریک طاغوت کی تحریک نہ ہوگی۔
(بیعت اس معنی میں جس میں رسول اللہ کی تھی کہ ہر مسلمان اپنا سب کچھ اور سارے اختیارات رسول اللہ کے سپرد کرتا تھا جان، مال،عزت وناموس، سب کچھ رسول اللہ کے لئے یہ بیعت درحقیقت اللہ کے لئے بیعت ہے کہ اللہ کے سامنے بندے کا کوئی اختیار نہیں اسی طرح رسول اللہ کے سامنے بھی بندے کا کوئی اختیار نہیں سارے اختیارات رسول اللہ کے ہیں رسول اللہمومنین کے نفوس پر خود ان سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں،ان ہی اختیارات کا حوالہ رسول اللہ نے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے جب بیعت لی تھی اور فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی علیہ السلام مولا ہے۔اور پھر یہی بیعت باقی آئمہ علیہ السلام کے لئے ہے اور اسی طرح یہ بیعت حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کے واسطے بھی ہے یہ بیعت کسی اور کے لئے نہیں ہے ، دوسرے کسی بھی شخص کے ساتھ شرعی حدود میں رہتے ہوئے معاہدے ہوتے ہیں جن کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے معاہدات کو بیعت کا نام نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی بیعت اس قسم کے معاہدات کے معنی میں لے تو پھر امام زمانہ علیہ السلام کے علاوہ بیعت ہو سکے گی وگرنہ اس معنی میں کہ ریاست مطلقہ اور ولایت عامہ کے معنی میں بیعت فقط اور فقط آج کے دورمیں امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔یہ بیعت اور عہد ہمیں غیبت کے زمانہ میں کرنا ہے جس کا معنی بیان ہو چکا اور جب آپ علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو اس وقت یہ بیعت اپنے پورے معنی اور مضمون سے عملی شکل میں سامنے آئے گی....ازمترجم)
یہ چوتھی ذمہ داری ہے روزانہ تجدید بیعت کرنے کا حکم ہے، گویا کہ روزانہ اپنے امام علیہ السلام سے انسان یہ عہد دہراتا ہے کہ وہ ان کی اتباع اور پیروی میں رہے گا۔
زمانہ ظہور کے لئے بھی یہی بیعت ہے اب ایسا کرنا روزانہ واجب ہوگا یا ایک دفعہ واجب ہوگا اورروزانہ ایسا عمل مستحب ہے تو اس کا معاملہ حضرت صاحب الزمان(عج) سے مربوط ہو گا کہ وہ ظہور کے بعد روزانہ بیعت چاہیں گے یا ایک ہی دفعہ کافی ہو گا بہرحال غیبت کے زمانہ میں روزانہ اس عمل کے دہرانے کااستحباب یقینی طور پر ثابت ہے۔
چھٹی ذمہ داری:امام زمانہ علیہ السلام کی لوگوں کے دلوں میں محبت ڈالنا
روضتہ الکافی میں ہے، انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوعبداللہ صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے:آپ علیہ السلام نے فرمایا:اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے لوگوں میں ہمیں محبوب بنایااور لوگوں میں ہمیں مبغوض نہیں بنایا یعنی لوگوں کے درمیان ہمیں اس طرح متعارف کروایا کہ وہ ہم سے محبت کرنے لگے اور اس طرح متعارف نہیں کروایا کہ وہ ہم سے بغض اور دشمنی شروع کریں، کیونکہ خدا کی قسم!ایسا ہے کہ اگر لوگوں کو ہماری گفتگو اور بیانات کی خوبیوں کا علم ہو جائے اور وہ جان لیں کہ ہم نے ان کے مفادات کے لئے کیا کچھ بیان کیا ہے تووہ ہر ایک سے زیادہ ہم سے تعلق و وابستگی قائم کر لیں اور اسے اپنے لئے عزیزو قیمتی جانیں اور کوئی ایک بھی کسی قسم کا حاشیہ ان پر نہ چڑھائے اور کسی قسم کا اعتراض نہ کرے لوگ ہمارے گرویدہ ہوجائیں۔
لیکن ان میں جب کوئی ایک آدھ جملہ سنتا ہے(وہ بھی ادھوراجملہ)توپھر اس پر دسیوں جملے اور جڑدیتے ہیںتو اس طرح معاملات بگر جاتے ہیں۔
(الکافی ج ۸ ص ۹۲۲ حدیث ۳۹۲ ، امالی شیخ الصدوقؒ ص ۱۶)
خشیخ صدوقؒ نے اپنی سند سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ اس بندے پر رحم کرے جو لوگوں کی محبت اور مودت کو ہماری جانب کھینچ کر لے آئے اور ان سے ایسی گفتگو کرے جسے وہ جانتے ہیں جس کی انہیں معرفت ہے ان سے ایسی باتیں مت کرے جس کے وہ انکاری ہیں۔
(الکافی ج ۸ ص ۹۲۲ حدیث ۳۹۲ ، امالی شیخ الصدوقؒ ص ۱۶)
یہ بات فقط حضرت امام مہدی علیہ السلام سے خاص نہیں ہے بلکہ سارے آئمہ اطہار علیہم السلام سے متعلق ہے لیکن حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اس کی زیادہ تاکید ہوئی ہے اور اس کی وجوہات یہ ہیں۔
۱ ۔ اس لحاظ سے کہ وہ ہمارے زمانہ کے امام ہیں اور جو اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت نہیں رکھتا تو وہ شخص کفر اور جاہلیت کی موت مرا۔
(الکافی ج ۸ ص ۹۲۲ حدیث ۳۹۲ ، امالی شیخ الصدوقؒ ص ۱۶)
معرفت سے مراد
یہ بات واضح ہے کہ امام زمانہ کی معرفت سے مراد فقط ان کے نام سے واقفیت حاصل کر لینانہیں ہے بلکہ ان کی صفات، ان کے اوصاف ان کی موالات، ان کی بیعت، ان کی خصوصیات سب کے بارے معرفت حاصل کرنا ضروری ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب ایک شخص امام علیہ السلام کی خوبصورت صفات کا تذکرہ کرے گاآپ کے وجود کی برکات بیان کرے گا، آپ کی وجہ سے لوگوں کوجو خیروبرکت مل رہی ہے اس کا ذکر کرے گا اور آپ کی آمد پر جو خوشحالی سب کو نصیب ہو گی اسے بیان کرے گا آپ جس طرح لوگوں سے محبت سے پیش آئیںگے جس طرح لوگوںکی مدد کریں گے جس طرح یتیموں، بیوگان کا سہارا بنیں گے جس طرح محروم طبقات کی فلاح اور ترقی کا سبب بنیں گے جس طرح غریبوں کو لٹیروں سے نجات دلائیں گے تو امام صاحب الزمان علیہ السلام کی ان صفات اور ایسے حالات کو جان کر یقینا لوگ آپ سے نہ فقط محبت کریں گے بلکہ چاہیں گے کہ آپ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیں بنا برایں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کے وجوب سے ہی لوگوں کو آپ کے قریب کرنے اور آپ علیہ السلام کا محبوب بنانے کا وجوب بھی ثابت ہو جاتاہے۔
۲: ۔ جن حالات میں امام زمانہ (عج)خروج فرمائیں گے آپ علیہ السلام کے راستہ پر ثابت قدم رہنے میں جو مشکلات وصعوبات درپیش ہوں گی ان کے چاہنے والوں، ان کے پیروکاروںپر آپ کے ظہور سے پہلے جو ظلم و ستم ہو گا اور جس طرح زیادتیاں ہوں گی کہ ان حالات بارے بعض روایات میں ہے ایسے حالات ہوں گے ان میں دین پر باقی رہنا اس سے بھی زیادہ سخت ہو گا کہ انسان آگ دہکتے انگارے کواپنی ہتھیلی پر رکھے، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں حضرت امام زمانہ(عج)کے بارے لوگوں کو اس طرح متعارف کروائیں کہ لوگ آپ کے عاشق بن جائیں اپنی ہرعزیز ترین متاع سے زیادہ امام زمانہ(عج) سے محبت کرتے ہوں اور ان کی خاطر سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ ہوں یہ اس لئے ضروری ہے کہ لوگ غیبت کے زمانہ میں دین پر باقی رہیں، امام زمانہ(عج)سے اپنے موالات کو برقرار رکھیں اور امام علیہ السلام کے ظہور کی شدت سے انتظار کریں اور غیبت کے زمانہ میں دین اور ایمان پر ثابت قدم رہیں ہر قسم کی مشکلات اور مصائب کو برداشت کرنے سے نہ گھبرائیں(افسوس ہے کہ ہمارے ہاںبعض اوقات امام زمانہ(عج) کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ آپ نے آ کر قتل کرنا ہے آپ نے خون کی ندیاں بہانا ہیںآپ کو ایک بے رحم انسان بنا کر پیش کیا جاتا ہے جب کہ امام کا نام ہی رحمت ہے آپ روف ہیں آپ شفیق ہیں آپ رفیق ہیں ، آپ لطیف ہیں، آپ جمیل ہیں آپ حسین ہیں، آپ فریاد رس ہیں آپ محروموں کے ہمدرد ہیں، آپ مظلوموں کے ساتھی ہیں آپ موسم بہارہیں، آپ خوشحال ہیں، آپ عدل ہیں، آپ پیارے ہیں، آپ کودیکھنے والے آپ سے اس قدر متاثر ہوں گے کہ آپ کے گرویدہ ہو جائیں گے، آپ کو عالمین کے لئے رحمت زمین کو آباد کرنے والے،شہروں کو خوشحال بنانے والے قرار دیا گیا ہے، آپ اللہ کی تمام صفات جمالیہ و جلالیہ کے مظہر ہیں، آپ نے ظالموں سے محروم طبقات کو نجات دلانا ہے، آپ رحیم ہیں ، روف ہیں، جمیل ہیں، منتقم بھی ہیں لیکن انتقام خدا کے منکروں سے خدا کے دشمنوں کے لئے سخت ہیں، آل محمد کے دشمنوں کے لئے آپ سخت ہیں محروم طبقات کے لئے آپ خیروبرکت ہیں آپ اتمام حجت کے بعد کسی کو قتل کریں گے عفوودرگذر آپ کی خاندانی روایت ہے البتہ اپنے آباءواجداد سے آپ کی عملی سیرت میں فقط اتنا فرق ہوگا کہ آپ کے دربار میں منافقوں کے لئے جگہ نہ ہوگی اور نہ ہی آپ کے دور حکومت میں روئے زمین پر کوئی کافر،ملحداور مشرک اور منکر خدا رہ سکے گا۔ آپ کی حکومت میں سب اللہ والے ہوں گے سب ایک دوسرے کے ہمدرد ہوں گے ایک مدینہ قاضلہ ہوگا جس میں امن ہو گا، سکون ہوگا، خوشحالی ہو گی سکھ و چین ہوگا، اللہ اللہ ہوگا، اہل بیت علیہ السلام کے شان کے قصیدے عام ہوں گے ہر ایک کی زبان پر سلامتی کے بول ہوں گے، اللہ کی زمین اسی دنیا میں حقیقت میںجنت نظیربن جائے گی، خداوند وہ وقت جلد لائے ”اَللّٰهُمَّ عَجِّل فَرَجَهُ وَسَهِّل مَخ رَجَهُ “....ازمترجم)
روایات کی روشنی میں لوگوں کو آپ علیہ السلام کو محبوب بنانے کا طریقہ
حدیث میں ہے کہ امام علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ کی گفتگو کی تفسیر فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خطاب کیا:
”اے موسیٰ علیہ السلام! مجھے لوگوں کا محبوب اور پیارا بناو اور مخلوق کو میرا محبوب اور پیارا بناو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام: یا رب! یہ کام کس طرح انجام دوں؟
اللہ کا فرمان:ان کے پاس میری پوشیدہ اور ظاہری نعمات کا ذکرکرو، انہیں میری ساری نعمتیں یاد دلاو۔(بحارالانوار ج ۸۲ ص ۷۴ حدیث ۹)
دارالسلام میں ہے قصص الانبیاءعلیہ السلام سے، اپنی سند سے نبی اکرم سے:
اللہ کا فرمان داود کے نام: اے داود تم مجھ سے پیار کرو اور مجھے میری مخلوق کا محبوب بناو کہ وہ مجھ سے پیار کریں۔
داود: اے اللہ! میں تو تجھ سے محبت کرتاہوں، میں کیا کروں کہ تیری مخلوق تجھ سے محبت کرے۔
اللہ کا فرمان : میری جو نعمات ان کے پاس ہیں وہ انہیں یاد دلاو کیونکہ اگر تم انہیں ان نعمتوں کو یاد دلاو گے جو میں نے انہیں دے رکھی ہیں تو وہ یہ جان کر مجھ سے محبت کریں گے ۔
شیخ صدوق نے اپنی سند سے ابن عباس سے روایت بیان کی ہے۔
ابن عباسؓ: رسول اللہ نے فرمایا: تم سب اللہ سے اس وجہ سے محبت کرو کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے غذادیتا ہے اور مجھ سے محبت اس لئے کرو کہ میں اللہ کا محبوب ہوں، اللہ سے محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میرے اہل بیت علیہ السلام سے محبت اس لئے کرو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو، میری محبت کی وجہ سے تم میرے اہل بیت علیہ السلام سے محبت کرو۔
(امالی الصدوق ص ۹۱۳ ،ص ۶۴۴)
پہلے بیان ہو چکا ہے اور بعد میں بھی ذکر ہو گا کہ جتنی اللہ کی نعمات ہیں جن میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اور جن نعمتوں کی برکات ہم کو مل رہی ہیں اتنی زیادہ نعمتیں کہ جن کا شمار ممکن نہیں یہ سب کچھ مولا صاحب الزمان (عج) کے وجود کی برکات سے ہے اور آپ کے واسطہ سے یہ سب کچھ ہمیں مل رہا ہے یہ ذمہ داری جس طرح زمانہ غیبت کے لئے ہے اسی طرح یہ فریضہ ظہور کے بعد کے زمانہ میں بھی جاری رہے گا۔
اس جگہ چند امور کو بیان کرتے ہیں جو اس مقصد کو پورا کرنے میں مدد دیں گے جس کا ذکر ہوا ہے ان امور کو اس مقصد کے حصول کے لئے انجام دینا ضروری ہے۔
۱ ۔ امام زمانہ(عج) کی صفات کو بیان کرنا چاہئے۔
۲ ۔ امام زمانہ(عج) کی عدالت اور آپ کے انصاف کو بیان کرنا چاہئے۔
۳ ۔ جو آپ علیہ السلام کادیدار کریں گے جو آپ کی مدد کریں گے جو آپ کے لئے شہادت دیں گے جو آپ کے پرچم تلے جنگ کریںایسے لوگوںکوکیااجراورثواب ملے گااور ان کے واسطے اس عمل کا ثواب اور اجر بیان کرنا چاہیے۔
۴ ۔ امام زمانہ(عج) کی حکومت اور آپ کی عدالت کی بدنما تصویر اور خوفناک شکل پیش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ایسے خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے، اس کو اس طرح بیان کیا جائے کہ ہر شخص اس حکومت کے قیام کی شدت سے انتظار کرنے لگ جائے اور اس کے قیام کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کرنے پر آمادہ ہو جائے اور اس کے قیام کے لئے ساری تکالیف برداشت کرنے پر آمادہ نظر آئے۔
۵ ۔ جو کچھ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے مربوط ہے جیسے یمانی کا وجود یا خراسانی کا وجود، تو ان دو ہستیوں کو اس انداز سے پیش نہ کیا جائے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے نظریہ پرشک ہو اور آپ کی حکومت اور آپ کے عادلانہ نظام کے قیام کا نظریہ زیر سوال آجائے۔
(ازمترجم....حضرت امام زمانہ (عج)کے وسیلہ سے، آپ کا توسل کرنے سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں، دعائیں قبول ہوتی ہیں، عبادات قبول ہوتی ہیں، اس توسل کے جودنیا میں فائدے حاصل ہوتے ہیں اسے بیان کیا جائے )
۷ ۔ حضرت امام زمانہ (عج)نے اپنی غیبت کے دوران جس طرح پریشان حال لوگوں کی مدد کی ہے اور کرتے ہیں اور جس طرح بھٹکے ہوئے قافلوں کی راہنمائی کی ہے جس طرح ہلاکت سے بعض کو بچایا ہے، جس طرح فریاد کرنے والے کی فریاد کو سنا ہے اور آپ علیہ السلام سے ملاقات کرنے والوں سے آپ نے جس پیارومحبت کا اظہار فرمایا ہے ان سب کو بیان کیاجائے
حضرت امام زمانہ (عج) کے لئے دعا کرنا
آپ علیہ السلام کی تحریر میں یہ بات آئی ہے ”واکثروالدعاءلتعجیل الفرج فان فی ذلک فرحکم“(الاحتجاج ج ۲ ص ۳۲۳)
تم سب فرج(کشادگی، فتح و نصرت، ظہور، حکومت کے قیام) کی دعاءبہت زیادہ کیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری ساری مشکلات کا حل ہے، اسی میں تمہارے لئے فَرَج ہے۔ابومحمد ہارون نے ابوعلی محمد بن الحسین بن محمد بن جمہورالقمی سے اس نے اپنے باپ محمد بن خمہور سے اس نے احمد بن الحسین السری اس نے عباد بن محمدالمداینی سے روایت نقل کی ہے۔
راوی: میں امام ابوعبداللہ جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ میں حاضرہوا میں نے یہ دیکھا اور خود سنا کہ جب آپ فریضہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے آسمان کی جانب اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس طرح دعا مانگنا شروع کی۔
وہ دعا یہ ہے:
اے سامع کل صوت، اے جامع کل فوت، اے ہر آواز کو سننے والے، اے ہر چلے جانے والے کو اکٹھا کرنے والے، اے باری کل نفس بعدالموت، اے باعث، اے وارث، موت کے بعدہرنفس کو پیدا کرنے والے، اے مبعوث کرنے والے ، اے وارث، اے سیدالسادات، اے لاالہ الااللہ، اے جبار الجبابرہ، اے سرداروں کے سردار، اے معبودوں کے الہ، اے جابروں پر زبردست جابر، اے مالک الدنیاوالآخرہ، اے رب الارباب، اے مالک، اے آخرت اور دنیا کے مالک، اے سارے ارباب کے رب، اے ملک الملوک، اے ذالبطش الشدید، اے بادشاہوں کے بادشاہ، اے سخت گرفت اور پکڑ والے، اے فعال لمایرید،اے محصی عدد الانفایس، اے اپنے ارادوں کو انجام دینے والے، اے سانسوں کی تعداد کا شمار کرنے والے ، اے نقل الاقدام، اے من السرعندہ اعلانیہ، اے قدموں کی چاپ کو شمار کرنے والے، اے وہ جس کے پاس رات ظاہر ہے، اے مبدی ، اے معید، اے آغاز والے، اے واپس لوٹانے والے، اے پلٹانے والے،
اسالک بحقک علی خیرتک من خلقک
میں تجھ سے تیرے اس حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی مخلوق میں سے اپنے منتخب کےلئے قرار دیاہے۔
وبحقهم الذی اوجبت لهم علی نفسک ان تصلی علی محمدواهل بیته
اور ان کے اس حق کا واسطہ جس کو تو نے ان کی خاطر اپنے اوپر لازم قرار دے رکھا ہے کہ اے اللہ تو محمد اور اہل بیت علیہ السلام محمد پر صلوات بھیج
وان تمن علی الساعة بفکاک رقبتی من النار
اور یہ کہ تو اسی گھڑی میں میری گردن کو آتش جہنم سے آزاد قرار دے
وانجزلولیک وابن نبیک الداعی الیک باذنک
اور اپنے ولی کے لئے اپنے نبی کے بیٹے کے لئے جو تیری جانب تیرے اذن سے دعوت دینے والا ہے اس کے اپنا وعدہ پورا کردے
امینک علی خلقک وعینک فی عبادک
لہٰذا وہ ولی جو تیری مخلوق میں تیرا امین ہے اور تیرے بندگان میں تیری آنکھ ہے
وحجتک علی خلقک علیه صلواتک وبرکاتک وعنده
اور وہ تیری حجت ہے تیری مخلوق پر اس پر تیری صلوات اور برکات ہوں
اللهم ایده ینصرک وانصر عبدک
اے اللہ اپنی نصرت سے اس کی تائید فرما، اپنے بندے کی مدد فرما
وقواصحابه وحیرهم وافتح
اس کے اصحاب کو طاقتور بنا اور انہیں صبر عطا فرما اور تو
لهم من لدنک سلطانا نصیراً
اس کے لئے اپنی جناب سے کامیاب سلطانی کے راستے کھول دے
وعجل فرجه، وامکنه من اعدائک
اس کے ظہورمیں جلدی فرما دے اور انہیں اپنے دشمنوں سے آگہی دے اور ان پر رسائی دے دے۔
واعداءرسولک، یاارحم الراحمین
وہ جو تیرے رسول کے دشمن ہیں، اے ارحم الراحمین
راوی: میں نے سوال کیا کہ آپ نے اس دعا میں اپنے لئے دعا نہیں مانگی میں آپ پر قربان جاوں ۔
امام علیہ السلام: میں نے نور آل علیہ السلام محمد کے لئے دعا کی ہے جو ان پر سبقت لے جانے والا ہے اور اللہ کے امر سے ان کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔
راوی:ان کا خروج کب ہوگا اللہ مجھے آپ پرقربان کردے۔
امام علیہ السلام: جس وقت اس ذات کی مرضی ہوگی جس کے قبضہ میںحق ہے امر ہے۔
راوی: کیا ان کے خروج سے پہلے کوئی علامت اور نشانی بھی ہے۔
امام علیہ السلام: بہت ساری متفرق نشانیاں ہیں۔
راوی: مثال کے طور پر کچھ بیان کریں، کس قسم کی؟
امام علیہ السلام:مشرق سے پرچم کا خروج اور مغرب سے پرچم کا خروج، ایسا فتنہ جو اہل زورائ(بغداد) کو گمراہ کر دے گا، یمن سے میرے چچازید کی اولاد سے ایک کا خروج، کعبہ کے غلام کا لوٹا جانا اور اللہ کی جو مشیت ہوتی ہے اسی نے ہوناہے....
(النجم الثاقب ج ۲ ص ۸۵۴)( بحارالانوار ج ۶۸ ص ۲۶)
فلاح السائل میں سیدالاجل جناب علی بن طاووس ؒ نے بیان کیا ہے ”نماز عصر کے بعد اہم دعا عروہ ہے جسے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پڑھتے تھے کہ ہم اپنے مولانا حضرت امام زمانہ(عج) کے لئے اس دعا کو پڑھاکریں۔
راوی: میں بغداد میں حضرت ابوالحسن موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ علیہ السلام نماز عصر سے فارغ ہوئے تھے آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب پھیلا دیا میں نے سنا کہ آپ علیہ السلام یہ کلمات پڑھ رہے تھے
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السام کی نماز عصر کے بعد امام زمانہ کے لئے دعا
انت لا اله الاانت الاول والآخر
تو اللہ ہے تو لاالہ الا توں ہے، اول بھی توں ہے آخر بھی توں ہے
والظاهر والباطن، وانت الله لااله الاانت
ظاہر بھی توں ہے باطن بھی توں ہے اور تو اللہ ہے ،سوائے تیرے کوئی اور الہ نہیں
الیک زیادة الاشیاءونقصانها، وانت الله لااله انت
چیزوں کا بڑھنا بھی تجھ سے ہے ان کا گھٹنا بھی تجھ سے ہے اور تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں
خلقت خلقک بغیر معونة من غیرک ولاحاجة الیهم
تو نے اپنی مخلوق کو بغیر اپنے غیر سے مدد لئے خلق فرمایا ہے مخلوق سے تیری کوئی حاجت نہیں ہے
وانت الله لا اله الاانت منک المشیة والیک البدائ
اور توں اللہ ہے تیرے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے، تجھ سے مشیت ہے اور تجھ سے واپسی ہے، مشیت بھی تیری اور مشیت سے واپسی بھی تیری ہے
انت الله لااله الاانت
تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے
بعدالبعد خالق البعد
تو بعد کے بعد ہے اور ہر بعد اور بعد کا خالق ہے
انت الله لا اله الا انت
توں اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے
تمحوماتشاءوتثبت وعندک ام الکتاب
تو جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے تیرے پاس ام الکتاب ہے
انت الله لا اله الا انت
توں اللہ ہے تیرے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے
غایة کل شئی و وارثه
تو ہر چیز کی غایت ....ہے اور ہر چیز کا وارث ہے
انت الله لا اله الا انت
توں اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے
لایعزب عنک الدقیق والجلیل
تجھ سے نہ کوئی باریک چیز چھوٹتی ہے اور نہ ہی بڑی چیز
انت الله لا اله انت
تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے
لاتخفی علیک اللغات ولاتشابه عنک الاصوات
مختلف زبانیں تجھ سے پوشیدہ نہیں اور مختلف آواز میں نشابہ نہیں ہوتا
کل یوم انت فی شان لاتشغلک شان عن شان
ہر روز تو ایک ہی شان میں ہے اور کوئی حالت دوسری حالت سے تجھے مصروف نہیں کرتی
عالم الغیب واحفی
غیب اور مخفی ترین چیز کا توں عالم ہے
دیان یوم الدین
یوم حساب میں حساب لینے والا ہے
مدیر الامور
تمام امور کی تدبیر کرنے والا تو ہے
باعث من فی القبور
جو قبروں میں ہیں انہیں تو ہی اٹھانے والا ہے
مجی العظام وهی رمیم
ہڈیاں جب کہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی ان کو زندہ کرنے والا توں ہے
اسالک ان تصلی علی محمدوآل محمد وان تعجل فرج
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدوآل محمد پر صلوات بھیج اور یہ کہ اس کے ظہور
المنتقم من اعدائک وانجزله ماوعدته یاذالجلال والاکرام
میں جلدی فرما دے جو تیرے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے اور تو نے اس سے جو وعدہ فرمایا ہوا ہے اسے توجلد پورا کر دے اے ذوالجلال والاکرام
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: آپ علیہ السلام نے اس کے بعد یہ جملے فرمائے۔
راوی:میں نے سوال کیا کہ آپ نے یہ دعا کس کے لئے کی ہے آپ کا مقصد کون تھے؟
امام علیہ السلام: مہدی آل محمدعلیہم السلام وعجل فرجہ و سھل مخرجہ ،مقصود تھے۔
اس کے بعد حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے یہ جملے ارشاد فرمائے:
بابی المنتدح البطن المقرون الحاجبین اخمشی الساقین، بعید مابین المنکبین، سمراللون یعتوره مع سمرته صفرة من سهراللیل، بابی من لیله یرعی النجوم ساجدا وراکعا، بابی من لایاخذه فی الله لومة لائم، مصباح الدجی، بابی القائم بامرالله ۔(فلاح السائل ص ۹۹۱)
ترجمہ:۔ میرے باپ قربان اس پر جو کشادہ بطن والے، دونوں ملے ہوئے حاجبوں والے، پتلی پنڈلیوں والے، جن کے دونوں کاندھوں کے درمیان فیصلہ ہے، بھورے، گندمی رنگ والے کہ بھوری رنگت کے ساتھ زرد چھائی ہے جو شب بیداری کی وجہ سے ہے میرے باپ اس پر قربان جائیں جس کی رات اس طرح گزرتی ہے کہ رات کے تارے انہیں سجدے اور رکوع کرتے ہوئے دھیان سے نظارہ کرتے ہیں میرے باپ ان پر قربان جنہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کٹھکا نہ ہوگااور نہ ہی پرواہ ہو گی ،تاریکیوں کے لئے چراغ، میرے باپ قربان قائم بامراللہ پر۔
خعلامہ مجلسیؒ نے المقیاس میں صبح کی نماز کے بعد ایک سو مرتبہ اس صلوات کو پڑھنے کا لکھا ہے ، وہ صلوات یہ ہے کسی سے گفتگو کئے بغیر یہ صلوات پڑھے۔
یارب صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد واعتق رقبتی من النار
اے رب!محمد وآل محمد پر صلوات بھیج اور آل محمد کے ظہور میں جلدی فرمااور میری گردن کو آگ سے آزاد کردے
خالبحار میں ایک لمبی دعا علامہ مجلسیؒ نے ذکر کی ہے جسے ہم نے اپنی کتاب ابواب الفات فی آداب، الجہات میں تحریر کیا ہے یہ دعا بہت ہی عمدہ مطالب پر مشتمل ہے اسے باقاعدہ پڑھنا چاہئے اس دعا میں درج ذیل جملے قابل توجہ ہیں
اللهم کن لولیک فی خلقک ولیا و حافظاوقائدا وناصراً حتی تسکنه ارضک طوعا وتمتعه منها( فیها) طویلا وتجعله وذ ریته فیها الائمة الوارثین واجمع شمله واکمل له امره والح له رعیته وثبت رکنه وافر النصر( البصر) منک علیه حتی ینتقم فیشتفی ویشفی حزازات نغلة وحرارات صدور وغرة وحسرات انفس ترجة، من دماءمسبغوله وارحام مقطوعة، وطاعة مجهول قد احسنت الیه ووسعت علیه الا لاءواتممت علیه النعماءفی حسن الحفظ منک له
اللهم آنقه هول عدوه و انسهم ذکره و اردمن الاده، وکدمن کاده، وامکربمن مکربه، واجعل دائرة السوءعلیهم ....دعا کے آخر تک
حضرت امام ابوالحسن علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے ہے کہ آپ نے حضرت حجت صاحب الزمان علیہ السلام کے لئے درج ذیل دعا پڑھنے کا حکم دیا اور آپ خود اس دعا کو حضرت صاحب الزمان (عج)کے لئے پڑھتے تھے۔
دعا اس طرح ہے:
”اللهم صل علی محمد وآل محمد وادفع عن ولیک وخلیفتک
اے اللہ محمد وآل محمد پر صلوات بھیج اور توں اپنے ولی، اپنے خلیفہ
وحجتک علی خلقک، ولسانک المعبرعنک
اور وہ جو تیری مخلوق پر تیری حجت ہے اور تیری ترجمان زبان ہے
الناطق بحکمتک وعینک الناظره فی بریتک
جو تیری حکمت کو بیان کرنے والے ہیں اور جو تیری مخلوق کو دیکھنے والی تیری آنکھ ہیں
وشاهدک علی عبادک،الحججاج المجاهد المجتهد
اور تیرے بندگان پر تیراگواہ ہے، جو بہت ہی بڑے، محنت کرنے والے مجاہد ہیں
عبدک، العائذبک، العابد عندک( وادفع عنه) واعذه
تیرا بندہ ہے، جو تیری پناہ میں ہے، جو تیری جناب میں عابد ہے تو اپنے اس ولی سے دور کر دے اور اپنے اس ولی کو اپنی پناہ میں لے لے
من شرما خلقت وذرات و برات صورت
ہر اس شر سے جسے تو نے خلق کیا، جسے تو نے پیدا کیا، جسے تو نے بنایا، جسے تو نے قراردیا جس کی تو نے تصویر بنائی شر کی تمام اقسام کو اس سے دور کردے
واحفظه من بین یدیه ومن خلقه
اے اللہ! اس کی اس کے سامنے سے حفاظت فرما، اس کی پیچھے سے حفاظت فرما
وعن یمینه، وعن شماله
اس کی دائیں جانب سے حفاظت فرما، اس کی بائیں جانب سے حفاظت فرما
ومن فوقه ومن تحته
اور اس کی اوپر سے حفاظت فرما اس کی نیچے سے حفاظت فرمایعنی ہرشش جہات سے تواے اللہ! ان کی حفاظت فرما
حفظک الذی لایضیع من حفظه
اپنی اس قسم کی حفاظت کے ذریعہ کہ تو نے اس طرح جس کی حفاظت کی وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا
واحفظ فیه رسولک
اور اس کی حفاظت سے اپنے رسول کی حفاظت فرما
ووصی رسولک وآبائه آئمتک ودعائم دینک
اور ان کی حفاظت سے اپنے رسول کے وصی علیہ السلام اور اس کے آباءجو کہ تیرے آئمہ علیہ السلام ہیں اور تیرے دین کے ستون ہیں ان سب کی حفاظت فرما
صلواتک علیه وعلیهم اجمعین
تیری صلوات اس پرہو اور ان سب پرہو
واجعله فی ودیعتک الوثیق الذی لایخذل
اور انہیں اپنی اس مضبوط امان گاہ میں قرار دے دے کہ جس سے کوئی اسے رسوا نہ کرے
من امنته به واجعله فی کنفک الذی
کیونکہ وہ امان جس کو ملے وہ رسوائی سے محفوظ رہا اور اے اللہ اسے اپنی اس مضبوط غار میںاورٹھکانہ میں
لایضام من کان فیه والضره بنصرالعزیز
قرار دے دے کہ جو اس میں موجود ہو تو اس پر کوئی ظلم نہیں ہو سکتا اور اے اللہ اپنی اس
وابده بجندک الغالب وقوه بقوتک
غلبہ والی مدد سے ان کی مدد کر دے کہ جس میں شکست نہیں اور اپنے اس غالب اور
واردفه بملائکتک
کامیاب لشکر سے اس کی تائید فرما اور اپنی طاقت سے اسے قدرت مند بنا اوراپنے فرشتوں کو اس کے ساتھ قرار دے دے
اللهم وال من والاه و عاد من عاداه
اے اللہ! اس سے موالات رکھ جو اسے دوست رکھے جواس سے دشمنی کرے اسے دشمن رکھ
البسه ورعک الحصینه
اور اسے اپنی مضبوط و مستحکم زرہ پہنا دے
وحفه بالملائکة حقًا
اور سارے فرشتوں کو اس کے گرداگرد قرار دے دے
اللهم وبلغه افضل مابلفت القائمین بالقسط
اے اللہ! اس کو ایسی بہتر حالت میں پہنچا دے کہ جس پر عدالت کے
من اتباع البنین
کے نفاذ کرنے والوں کو تو نے پہنچایا کہ وہ سارے نبیوں کی پیروی کرنے والے ہیں
اللهم اشعب به الصدع وارتق به الفتق
اے اللہ! ان کے وسیلہ سے فراغ کو بھر دے اور سازشوں کا ان کے ذریعہ سے توڑ کر دے
وامت به الجور
ان کے ذریعہ ظلم کو مار ڈال اوراس کا خاتمہ کر دے
واظهر به العدل
ان کے وسیلہ سے عدالت کا اظہار فرما دے
وزین بطول بقائه الارض
ان کی لمبی بقاءسے زمین کوزینت عطا فرمایا، اسے بارونق فرما
وابده بالنصر، وانصره بالرعب
ان کی اپنی نصرت سے تائید فرما، رعب کے وسیلہ سے ان کی مدد فرما
وافتح له فتحا یسیرا
اس کے لئے آسان سی فتح قرار دے
واجعل له من لدنک سلطانا نصیرا
ان کے لئے اپنی جناب سے فتح و کامیابی و کامرانی عطا فرما دے
اللهم اجعله القائم المنتظر
اے اللہ!اسے قائم منتظر قرار دے
والامام الذی به تنتصر
اور وہ امام قرار دے جس کے ذریعہ تیری کامیابی ہو گی
وابده ینصر عزیر
اپنی غلبہ والی نصرت سے اس کی تائید فرما
و فتح قریب
اور نزدیکی فتح سے ان کی تائید فرما
وورثه مشارق الارض و مغاربها
اور انہیں زمین کے مشارق و مغارب کا وارث بنا دے
والارض التی بارکت فیها
وہ زمینیں جن کو تو نے بابرکت بنایا ہے
واحی به ستة نبیک صلواتک علیه وآله
ان کے وسیلہ سے اپنے نبی کی سنت کو زندہ کر دے محمدوآل محمد پر صلوات ہو
حتی لایخفی شئی من الحق مخالفة احد من الخلق
ایسا ہو جائے کہ حق کا کچھ بھی پوشیدہ نہ رہے مخلوق میں کسی کے ڈر کی وجہ سے یعنی سارا حق سامنے آجائے حق کسی کے ڈر سے مخفی نہ رہے
وقوناصربیه واخذل جاذبیه
اس کے ناصروں کو طاقتور بنا، اس سے بے وفائی کرنے والوں کو رسوا کر دے
علی من نصب له
اور جو ان کی دشمنی کرے ان پر خون کی بارش برسا دے
ودمر علی من غشه
اور جو ان سے دھوکہ کرے اسے برباد کر دے
اللهم واقتل به جبابرة الکفر وعمده ودعامه واقصم به
اے اللہ! ان کے وسیلہ سے کفر کے بڑے بڑے جابروں اور ان کے بڑے سپوتوں کو قتل کر دے ان کے لئے جو مضبوط سہارے ہیں انہیں برباد کر دے
واجتثث رووس الضلالة
اور ان کے وسیلہ سے گمراہی کے سروں کو رگڑ دے انہیں توڑ دے
وشارعة البدع وممیتة السنة و مقویة الباطل
اور وہ جنہوں نے بدعت شروع کی سنت کا خاتمہ کیا اور باطل کو مضبوط کیا
واذلل به الجبارین
ان کے ذریعہ سارے جابروں کو ذلیل و رسوا کر دے
وابربه الکافرین والمنافقین وجمیع الملحدین
ان کے ذریعہ سارے کافروں کو، سارے منافقوں کو، سارے ملحدوں کو
حیث کانوا واین کانوا، من مشارق الارض
مار ڈال وہ جہاں بھی ہیں جس وقت میں ہوں زمین کے مشارق
ومغاربها، برها و بحرها،سهلها وجبلها
مغارب سے ہوں خشکی و تری سے ہوں میدانوں اور پہاڑوں سے ہوں، ان کا صفایا کر دے
حتی لاتدع منهم دیارا
یہاں تک کہ ان سے کوئی بھی گھر باقی نہ رہے
ولاتبقی لهم اثاراً
اور ان کے نشانات سے کچھ باقی نہ رہے
اللهم طهرمنهم بلادک
اے اللہ! ان کے منحوس وجود سے اپنے شہروں کو پاک کر دے
واشف منهم عبادک
اپنے بندگان کو ان کے شر سے نجات دے دے
واعزبه المومنین واحی سنن المرسلین
انکے ذریعہ مومنوں کو عزت دار بنا دے اور انکے وسیلہ سے رسول کی سنتوں کو مضبوط کر دے
ودارس حکم النبین ،وجددبه ما امتححی من
اور نبیوں کے حکم کو جاری کر دے اور ان کے ذریعہ اس چیزکی تجدید فرما دے جو تیرے دین سے محو ہو چکی ہیں
دینک، وبدل من حکمک
اور جو تیرے حکم میں تبدیلی آچکی ہے اس کی دوبارہ تجدید ہو جائے گی
حتی تعیددینک به وعلی یدیه غضاجدید اصحیحیامحضاً
تاکہ تو اپنے دین کو ان کے ذریعہ دوبارہ اصلی شکل میں لے آئے
لاعوج فیه ولابدعة معة
اس طرح کہ دین تروتازہ ہو، اس میں کوئی خرابی نہ ہو، ٹیڑھا پن نہ ہو کوئی بدعت باقی نہ رہے، خالص دین، صاف ستھرا دین، نیا اور تازہ دین، اصل دین ہو
حتی تنیز بعدله ظلم الجور،وتطفی به نیزان
تاکہ ان کے عدل سے ظلم اورتاریکیوں کو روشن کر دے اور ان کے
الکفر و توضیح به معاقد الحق به ومجهول العدل
وسیلہ سے کفر کی بھڑکتی آگ کو بجھا دے اور ان کی وجہ سے حق کے مراکز
وتحل مشکلات الحکم
کو ظاہر اور روشن کر دے اور نامعلوم عدل کو غلبہ دے دے بھولا عدل واپس لے آاور فیصلہ کرنے کی مشکلات ان کے ذریعہ حل کر دے
اللهم وانه عبدک الذی استخلصته لنفسک
اے اللہ وہ تو تیرا بندہ ہے جسے تو نے اپنی ذات کے لئے خالص کر لیا ہے
واصطفیته من خلقک، واصطفیته علی عبادک
اور اپنی مخلوق سے اسے چن لیا ہے اور انہیں اپنے بندوں پر مصطفی بنایا ہے
وامنته علی غیبک
اور تونے اسے اپنے غیب پر امین قرار دیا ہے
وعصمته من الذنوب
اسے تو نے گناہوں سے معصوم بنایا ہے
وبرائة من العیوب
اسے تو نے عیبوں سے پاک بنایا ہے
وطهرته من الرجس
اور اسے ہر قسم کی ظاہری اور باطنی پلیدگی سے پاک بنایا ہے
وصرفته عن وسلمته من الانس
اور اس سے کثافت اور غلاظت کو دور رکھا ہے اور انہیں ہر پلیدگی سے ہر نقص سے صحیح وسالم بنایا ہے
وسلمته من الریب
اور اسے ہرشک سے محفوظ رکھا ہے
اللهم انا نشهدله یوم القیامة یوم حلول الطامه
اے اللہ!ہم قیامت کے دن یہ گواہی دیں گے جو کہ بڑا دن ہوگا
انه لم یذنب ذنباولم یات حوبا
کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیااور کسی بھی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا
ولم یرتکب لک معصیة
اور یہ کہ اس نے تیری بالکل نافرمانی نہیں کی
ولم یضیع لک طاعة
اور اس نے تیری اطاعت کو ضائع نہیں کیا
ولم یهتک لک حرمة
اور تیرے کسی محترم کی ہتک اس نے نہیں کی
ولم یبدل لک فریضة ولم یغیریک شریعة
اور اس نے نہ تو تیرے کسی فریضہ کو بدلا ہے اور نہ ہی تیری شریعت کوتبدیل کیاہے
وانه الامام التقی الهادی المهتدی الطاهر النقی الوفی الرضی الزکی
اور یہ کہ وہ امام ہیں، جو نقی ہیں، ھادی ہیں،خود ہدایت یافتہ ہیں، طاہر ہیں، نقی ہیں، وعدہ وفاکرنے والے ہیں، پسندیدہ ہیں، زکی اورپاکیزہ ہیں
اللهم صل علی محمد وعلیٰ آبائه
اے اللہ!اس پر اور ان کے آباءپرصلوات بھیج
واعطه فی نفسه وولده واهله وذریته وامته
اے اللہ اسے اپنی ذات کے حوالے سے،بیٹوں کے حوالے سے ،اپنے خاندان
وجمیع رعیته ماتقربه عینه وتسره به
کے حوالے سے اپنی ذریت کے حوالے سے اپنی امت اور رعیت کے حوالے وہ کچھ عطا کر دے جس سے انہیں سکون ملے، ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان حالات سے انہیں مسرت اور خوشحالی ملے
وتجمع له الملکات کلها
اے اللہ!ساری مملکتیں ان کے لئے اکٹھی کر دے
قریبها وبعیدها عزیز ها وذلیلها
جو قریب ہیں وہ بھی، جو دور ہیں وہ بھی، جو طاقتور ہیں وہ بھی، جو کمزور ہیں وہ بھی
حتی یجری حکمه علی کل حکم
تاکہ وہ اپنے حکم سارے احکام فوقیت دے دے اور سب پر حاوی کر دے
ویغلب بحقه علی کل باطل
اور اپنے حق کو ہر باطل پر غلبہ دے دے
اللهم اسلک بنا علی یدیه منهاج الهدیٰ
اے اللہ!ان کے ہاتھوں پر ہمیں ہدایت کے راستہ پر چلا
الحجة العظمی والطریقة الوسطی الٰهی یرجع الیها
ہمیں حق کی بڑی شاہرہ پر چلا دے اور اس وسطانی راستہ پر لگا دے
المعالی ویلحق بها التالی
کہ آگے بڑھ جانے والے اس پر پلٹ آئیں اور پیچھے رہ جانے والے بھی اس پر آئیں
اللهم وقونا علی طاعته
اے اللہ! ہمیں ان کی اطاعت کی طاقت عطا فرما
وثبتنا علی مشایعته
اور ہمیں اس کی پیروی پر ثابت اور مستحکم رکھ
وامنن علینا بمتابعته
اور ہمارے اوپر ان کی اتباع کرنے کا احسان کر دے
واجعلنا فی حزبه
ہمیں ان کی پارٹی سے قرار دے
القوامین بامره
ان میں سے بنا جو ان کے حکم کو نافذ کرنے والے ہوں
الصابرین معه
ان کے ساتھ صبر کرنے والوں سے بنا
والطالبین رضاک بمناصحة
اور ان سے بنا جو تیری رضا کو ان کی خیرخواہی کے وسیلہ سے حاصل کرنے والے ہیں
حتیٰ یحشرنا یوم القیمة من انصاره واعوانه ومقوبه سلطانه
تاکہ توں قیامت کے دن ہمیں ان کے ناصران سے قرار دے ان کے معاونت کاروں سے اور ان کی سلطنت کو مضبوط کرنے والوں سے قرار دے
اللهم صل علی محمد وآل محمد
اے اللہ! محمد و آل محمد پر صلوات بھیج
اللهمواجعل ذلک لناخالصا من کل شک وشبهة وریاءوسمعة
اور یہ سب کچھ ہمارے ہر قسم کے شک و شبہ، ریاکاری،شہرت کاروںسے خالص اور پاک عمل قرار دے
حتی لاتعتمدبه غیرک
تاکہ ہم ان کے ذریعہ پھر تیرے غیرپر اعتماد نہ کریں
ولایطلب به الاوجهک
اور ان کے واسطے سے ہم تیری جناب تک رسائی کے لئے جائیں
حتی تحلنا محله وتجعلنا فی الجنة
تاکہ تو ہمیں ان کا قائم مقام بنا دے اور تو جنت میں ہمیں
معه ولا تجعلناا فی امره بالسا مة والکسل
ان کے ساتھ قرار دے اور توں ہمیں ان کے معاملہ میں سستی، کاہلی، بے رخی، بے توجہی، نالائقی اور
والفترة والغفلة
کمزوری جیسے امور میں مبتلا مت فرما
واجعلنا ممن تنتصربه لدینک
اور تم ہمیں ان سے قرار دے جن کے ذریعہ تو اپنے دین کی مدد کرے گا
وتعزبه نصرولیک
اور جن کے ذریعہ توں اپنے ولی کی نصرت کو مضبوط کرے گا
ولا تستبدل بنا غیرنا فان استبدالک بناغیرنا
اے اللہ! ہماری جگہ کسی اور کو قرار نہ دے کیونکہ ایسی تبدیلی تیرے لئے معمولی ہے
علیک یسیروهوعلینا کثیر، انک علی کل شی قدیر
جب کہ ہمارے واسطے یہ بڑی بات ہو گی اور توں تو ہرچیز پر قادر ہے
اللهم صل علی ولاة عهده
اے اللہ! ان کے زمانہ کے والیوں پر صلوات بھیج
وبلغهم آمالهم وزدفی آحالهم وانصرهم
اے اللہ! ان کی ساری امیدوں کو پورا کر دے، ان کی عمریں بڑھا دے
وتمم لهم مااسندت الیهم من امر دینک
ان کی مدد کر اور اپنے دین کے معاملہ میںجو تونے ان کے سپرد کیا ہے تو وہ سب کچھ ان کے لئے پورا کر دے
واجعلنا لهم اعوانا و علی دینک انصارا وصل
اور ہمیں ان کے لئے اعوان بنا اور اپنے دین کے ناصر قرار دے اور
علی آبائه الطاهرین الآئمة الراشدین
ان کے آباءپرجو طاہرین ہیں ، آئمہ ہیں، راشدین ہیں صلوات بھیج
اللهم فانهم معادن کلماتک وخزان علمک
اے اللہ! وہ تو سب تیرے کلمات کے معادن ہیں تیرے علم کے خزانہ دار ہیں
وولاة امرک وخالصتک من عبادک
تیرے امر کے اولیاءہیں اور تیرے بندگان سے خالص ہیں اور
خیرتک من خلقک واولیائک وسلائل اولیائک
تیری مخلوق سے منتخب شدہ ہیں اور تیرے اولیاءہیں اور بڑے اولیاءکی نسل سے ہیں
وصفوتک واولاد اصفیائک
تیرے خالص چنے ہوئے ہیں تیرے اصفیاءکی اولاد سے ہیں
صلواتک و رحمتک وبرکاتک علیهم اجمعین
تیری صلوات ، تیری رحمت اور تیری برکات ان سب پر ہوں
اللهم وشرکائه فی امره
اے اللہ! اور وہ افراد جو ان کے امر حکومت میں ان کے شریک ہیں
ومعاونیه علی طاعتک
اور تیری اطاعت میں اس کے معاونین ہیں
الذین جعلتهم حصنه وسلاحه ومفزعه وخیرالوسیله
جن کو تو نے اس کے واسطے مضبوط ڈھال بنایا اس کا اسلحہ قرار دیا ہے اس کی پناہ بنایا ہے اور اس کے خیرکا وسیلہ بنایا ہے
الذین سلواعن الاهل والاوالاد
جنہوں نے اپنے خاندان اور بچوں کو چھوڑ دیا
تجافوا الوطن وعطلوا الوتر من المهاد
جنہوں نے وطن کو چھوڑدیا اپنے آرام کو خیرباد کہہ دیا
قدر فضوا تجار اتهم واضروا بمعالیشهم
جنہوں نے اپنی تجارتیں ، کاروبار،سب کو داو پر لگا دیا
فقد و امن اندیتهم بغیرغیبة عن معدهم
وہ کلبوں سے غائب رہے باوجودیکہ شہروں میں موجود تھے جب کہ وہ اپنے مرکز سے غائب نہ رہے
وحالفوا البعیدمن عاضدهم علی امرهم
انہوں نے نئے دور والوں سے تعاون کا پیمان باندھاجن کے بارے انہوں نے دیکھا کہ وہ اس کے لئے مضبوط سہارا ان کے پروگرام میں رہیں گے
خالفوا القریب ممن صدعن وجهتهم
انہوں نے اپنے قریبی مکی مخالفت کی اس وجہ سے کہ وہ انہیں ان کے مشن سے روکتے تھے
وابتلغوا بعدالندا بروالتقاطع فی دهرهم
انہیں اپنے زمانہ میں آگے پیچھے ہونا پڑاروابط جوڑنے اور توڑنے پڑے اس کے بعد ہی وہ یکجا ہو سکے
وقطعوا الاسباب المتصله بعاجل حطام الدنیا
دنیا سے متصل رکھنے والے اسباب ووسائل کو انہوں نے کاٹ ڈالا
فاجعلهم اللهم فی حرزک و فی ظل کنفک
اے اللہ!انہیں اپنی امان میں رکھ اور اپنی پناہ کے سایہ میں رکھ
وردعنهم با س من قصدالیهم بالعداوة من خلقک
اور تیری مخلوق سے جو بھی ان سے دشمنی کا ارادہ رکھتا ہے اس کی سختی کو، اس کی سازش کو ان سے دور رکھ
واجزل لهم من دعوتک من کفایتک ومعونتک
اے اللہ! تیری جانب جو وہ دعوت دے رہے ہیں اس میں تیری مدد ان کے
لهم وتائیدک ونصرک ایاهم ما تکفیهم به
لئے کافی ہے اور تیری تائید، تیری مدد، فراوان ان کے لئے جاری رہے
علی طاعتک
کہ تو اس طرح اپنی اطاعت کے لئے ان کی مدد فرمائے
وازهق بحقهم باطل من اراداطفاءنورک
وہ باطل جو تیرے نور کو بجھانے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے حق کے وسیلہ سے اس باطل کو برباد کردے
وصل علی محمدوآل محمد، وآملاءبهم کل افق
محمد وآل محمد پر صلوات بھیج اور ان کے ذریعہ تمام آفاق میں
من الافاق و قطر من الاقطار قسطا وعدلاومرحمة وفضلا،
سارے خطوں میں عدل اور انصاف سے بھر دے اپنی رحمت اورفضل وکرم کا راج کر دے
واشکرلهم علی حبیب کرمک وجودک ومامننت به
اپنے کرم وجود کے مطابق اور جو کچھ تو نے اپنے بندگان میں سے انصاف
علی العالمین بالقسط من عبادک
نافذ کرنے والوں پر احسان کیا ہے ایسا ہی ان کے لئے کر دے
وادخرلهم من لوائک ماترفع لهم به الدرجات
اور ان کے لئے اس ثواب کو ذخیرہ کر دے جس کے ذریعہ تونے انہیں
انک تفعل ماتشاءوتحکم ماتریدا آمین رب العالمین
ان درجات تک پہنچایا کہ جس کے لئے توں چاہتا ہے ایسا کرتا ہے اور جو تیرا ارادہ ہوتا ہے اس کے مطابق حکم دیتا ہے خدایا یہ دعا قبول فرما۔(مکیال المکارم ج ۲ ص ۱۱،۵۱،۸۳)
حضرت امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے دعا مانگنے کا طریقہ
(علامہ الاصفہانی نے اپنی بہت ہی نفیس اور قیمتی کتاب جو انہوںنے خواب میں امام زمانہ علیہ السلام کی ہدایت ملنے پر تحریر کی اور یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ساری کتاب دعا کے بارے میں ہے کہ امام زمانہ (عج) کے لئے دعا مانگنا کیوں ضروری ہے؟ اس کا کیا فائدہ ہے؟ دعا کا انداز کیا ہونا چاہیے اور کون سی دعائیںپڑھی جائیں حروف تہجی کے لحاظ سے احادیث روایات، اقوال علماءسے نقل کئے ہیںاس بحث کو بہت ہی تفصیل سے بیان کیا ہے یہ کتاب عربی میں ہے....ازمترجم)
علامہ اصفہانی صاحب امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا مانگنے کی کیفیت کے بارے میں چند نقاط اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
۱ ۔ اللہ تعالیٰ سے واضح بیان کے ساتھ سوال کرے۔ فارسی میں،عربی میں یا کسی اور زبان میں اس طرح کہے ”اللھم عجل فرج مولانا صاحب الزمان “اے اللہ! ہمارے مولا صاحب الزمان علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل فرما یاعجل اللہ تعالیٰ فرجہ وظہورہ
۲ ۔ اللہ تعالیٰ سے آل محمدعلیہم السلام کے ظہور کا سوال کرے کیونکہ آل محمد کے ظہور کا وسیلہ امام زمانہ علیہ السلام کاظہورہے جیسا کہ دعاوں اور مناجات میں آیا ہے۔
۳ ۔ سارے مومنین اور ساری مومنات یا سارے اولیاءکے کشائش کے لئے اللہ سے سوال کرے کیونکہ امام زمانہ (عج) کے ظہورسے ہی سب کی کشائش ہو گی۔جیسا کہ روایت میں ہے ۔
۴ ۔ جو بھی امام زمانہ(عج) کے لئے دعا کرے تواس دعا کوسننے والا آمین کہے اے اس دعا کو اللہ قبول فرما، لفظ آمین بھی دعا ہے اس میں دعا مانگنے والا اور دعا کی قبولیت کے لئے سوال کرنے والا دونوں دعا میں شریک ہو جاتے ہیں جیسا کہ روایت میں ہے۔
۵ ۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے، اے اللہ جو امام زمانہ(عج) کے ظہور کی تعجیل واسطے دعائیں کر رہے ہیں ان کی دعائیں قبول فرما، یہ سوال کرنے میں ضروری نہیں کہ انسان دعا پڑھنے والوں کی دعا سن رہا ہواور اس میں فرق یہ ہے کہ آمین وہاں بولا جائے گا جہاں پر انسان دعا پڑھنے والے کے ساتھ موجود ہو اور دعا کو سن رہا ہوں جب کہ دوسری صورت میں ایسا نہیں ہے۔
۶ ۔ اللہ سے سوال کرے اے اللہ!ان اسباب کو پورا کر دے جس سے ظہور میں جلدی ہو سکے۔
۷ ۔ اللہ سے ان رکاوٹوں کے دور کرنے کا سوال کرے جو آپ علیہ السلام کے ظہور میں حائل ہیں۔
۸ ۔ ان گناہوں کی معافی خدا سے طلب کرے جو گناہ دعاءمانگنے والے یا اہل ایمان سے سرزد ہوتے ہیں اور ظہور میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔
۹ ۔ اللہ سے سوا ل کرے کہ اللہ مجھے ایسے گناہوں سے بچا کر رکھ جو ظہور میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔
۰۱ ۔ امام زمانہ(عج) کے دشمنوں کی ہلاکت کا سوال کرے کہ جن کا وجود امام زمانہ (عج)کے ظہور میں تعجیل کے لئے رکاوٹ ہے۔
۱۱ ۔ اللہ سے سوال کرے کہ ظالموں کا ہاتھ مومنوں سے کاٹ دے، مومنوں کو ان کے شر سے بچائے کیونکہ یہ ان کے امام منتظر کے ظہور کی برکت سے ہی ہوگا۔
۲۱ ۔ زمین کے مشارق و مغارب میں عدالت عام ہو جانے کا اللہ سے سوال کرے کیونکہ یہ اسی وقت ہو گا جب حضرت صاحب الزمان (عج)کا ظہور ہوگا۔
۳۱ ۔ سوال کرے، اے اللہ!ہمیں سرور،خوشی،خوشحالی اور ہریالی دکھا دے“ یہ نیت رکھے کہ ایسا اسی وقت ہو گا جب حضرت کا ظہور ہو گا کیونکہ مکمل خوشحالی، ہر قسم کی ہریالی امن اور سکون مومن کے لئے حاصل نہ ہوگا مگر جب حضرت قائم آل محمد(عج) کا ظہور ہوگا۔
۴۱ ۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے کہ اے اللہ! میرے اعمال کا اجر اور ثواب میرے زمانہ کے امام کے ظہور کی تعجیل کو قرار دے۔
۵۱ ۔ اس دعا کی توفیق خداوند سے مانگے یعنی اپنے مولا صاحب الزمان (عج) اور ان کے ظہور کی تعجیل کے وسیلہ سے مومنین کی مشکلات کے حل کی دعا کیونکہ سارے مومنوں کا اس پر انفاق ہو کہ ظہور کے لئے جو مطلوبہ مقدمات ہیں ان کو آسان بنا دے گا اور وہ اس مطلوب کے حصول کے لئے حسب رغبت سعی کرنے والا ہوگا۔
۶۱ ۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے کہ اے اللہ! دین کو سب پر غلبہ دے دے، اہل ایمان کو غالب کر دے ، اسلام کو تمام ادیان پر نصرت دے دے اور یہ اسی وقت حاصل ہو گا جب حضرت صاحب الزمان (عج) کا ظہور ہوگا،اسی اللہ کا وعدہ ہے، جیسا کہ روایات میں آیا ہے جو سورہ توبہ آیت ۳۳ کے ذیل میں ذکر ہوئی ہیں(البرھان ج ۲ ص ۱۲۱)
۷۱ ۔ اللہ سے سوال کرے کہ وہ دین کے دشمنوں سے انتقام لینے والوں سے ہو، اہل البیت علیہم السلام پرظلم کرنے والوں اور ان کے حقوق غصب کرنے والوں سے انتقام لینے والوں میں شامل ہو اور یہ اس وقت حاصل ہو گا جب حضرت امام منتظر علیہ السلام غائب عن الانظار کا ظہور ہوگا۔
۸۱ ۔ امام زمانہ(عج) پر صلوات پڑھے ان کے وسیلہ سے اللہ کی خاص رحمت طلب کرے کہ جس کی وجہ سے امام زمانہ(عج) کے لئے کشائش اور آپ کا ظہور جلدی ہو
کامل الزیارات میں جو صلوات آپ کے لئے روایت ہوئی ہے ان سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے باب میں ہے۔
آئمہ اطہار علیہم السلام میں سے ہر ایک پر صلوات پڑھنے کے بعد امام زمانہ(عج) کے لئے آیا ہے۔
اللهم صل علی حجتک وولیک القائم فی خلقک
اے اللہ! اپنی حجت پر اپنے ولی پر، جو تیری مخلوق میں قائم ہے ایسی
صلاة تامة نامیة تعجل بهافرجه
صلوات بھیج جوپوری ہو بڑھنے والی ہو ایسی صلوات کے جس کی وجہ سے
تضیره بها وتجعلنا معه فی الدنیا والآخرة
تو ان کے ظہورمیں تعجیل فرما دے اور تو ان کی مغفرت فرما دے اور اے اللہ توں ہمیں دنیا اور آخرت سب میں ان کے ساتھ قرار دے۔
۹۱ ۔ یہ سوال کرے کہ اے اللہ امام زمانہ(عج) سے کرب، پریشانی، رنج و غم کو دور کر دے ان کے قلب مبارک کو خوش کر دے انہیں سرور نصیب فرما دے کیونکہ ایسا اس وقت ہو گا جب آپ سارے ظالموں پر غالب آئیں گے اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کریں گے۔
۰۲ ۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے کہ سید الشہداءامام حسین علیہ السلام کے خون ناحق کا بدلہ چکانے کے ایام جلد لے یہ درحقیقت امام زمانہ(عج)کے ظہور پر نور سے ہی حاصل ہو گا آپ ہی خون حسین علیہ السلام کے انتقام کا نعرہ لے کر قیام کریں۔
(مکیال المکارم ج ۲ ص ۳۶،۴۶)
(دعا مانگنے کے لئے انسان کااپنے شخصی حقوق اور اپنے امام سے عشق اور محبت کی نوعیت اور آپ کے حالات سے آگہی اور آپ کی صفات اور خصوصیات کی معرفت سے ہے آپ نے تمام ظالموں سے بدلا لینا ہے ابتدائے انسانیت سے لے کر ظہور کے وقت تک جو بھی روئے زمین پرخون ناحق گرا ہے آپ نے اس کا بدلہ لینا ہے خاص کر آپ نے اپنی دادی زہراءسلام اللہ علیہا کو اذیت دینے والوں اور مظلوم محسن علیہ السلام شہید کے خون ناحق کا بدلہ بھی لینا ہے لہٰذا دعا میں اس کا بھی سوال کیا جائے۔
دعا جتنی تفصیل سے مانگی جائے گی اتنی ہی انسان کی اصلاح ہو رہی ہو گی کیونکہ دعا کے الفاظ اور جو کچھ دعا میں اللہ سے طلب کیا جا رہا ہو گا اس کے تناظر میں دعا مانگنے والا اپنے بارے بھی جائزہ لے گا جہاں وہ یہ دعا مانگے کہ بی بی زہراء علیہ السلام کا خمس کھا جانے والوں کو سزا دینے کے ایام اے اللہ قریب لے آ۔تو اگر وہ خود خمس نہیں دیتا تو یہی دعا اسے خمس کا پابند بنا دے گی، جب ظلم کے خاتمہ اور ظالموں سے انتقام کی دعا مانگے گا تو پھر اگر اس کے اپنے اندر یہ مذموم صفت موجود ہے تو اسے اپنے سے دور کرے گا بہرحال دعا میں بہت سارے قریبی فوائد ہیں اس لئے اس امر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔(مترجم)
ساتویں ذمہ داری :امام زمانہ (عج) کا قرب حاصل کرنا
دعائیں جو ذکر ہوئی ہیں یہ خود امام زمانہ (عج) سے قریب ہونے کا وسیلہ ہیں ان کے علاوہ کچھ اور اعمال بھی ہیں جو حضرت سے قرب کا ذریعہ بنتے ہیں انہیں انجام دینا چاہیے ان میں ایک دعادعائے توسل ہے، اسی طرح مخصوص زیارات ہیں جو کہ دعاوں اور زیارات کی کتابوں میں درج ہیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہوئی ہے بہرحال جو شخصیت حجت ہے تو اس سے تیرا تعلق اس طرح کا ہونا چاہیے کہ جیسے تلوار تیری گردن پر ذبح کے لئے رکھ دی گئی ہو تو تو اس حجت کو پکارے تو وہ تیری فریاد کو آئے۔
حجت زمانہ(امام صاحب العصر والزمان علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے)آپ ہی پریشان حال کے لئے مضبوط سہاراہیں اور جو بھی آپ کو پکارے آپ اس کی فریاد رسی کرتے ہیں۔(بکیال المکارم ج ۲ ص ۳۶،۵۶)
ان اعمال میں سے جو آپ کے قرب کا ذریعہ بنتے ہیںچند ایک حسب ذیل ہیں۔
۱ ۔ آپ کی نیابت میں حج کرنا یا کسی کو آپ کی نیابت میں حج پر بھیجنا، اسی طرح عمرہ کے لئے بھیجنا یا خود کرنا۔
۲ ۔ آپ کی سلامتی کے لئے صدقہ دیناآپ کی سلامتی کے لئے دعا کرنا۔
۳ ۔ آپ کے ناموں کا ورد کرنا۔
۴ ۔ آپ کے نام سے محافل و مجالس کا انعقاد کرنا۔
۵ ۔ آپ کے نام پر ادارے ، کمیٹیاں بنانا۔
۶ ۔ اپنے بچوں کے ناموں کو آپ کے القاب سے موسوم کرنا۔
۷ ۔ آپ کی نیابت میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا یا کسی کو زیارت کے لئے بھیجنا۔
۸ ۔ آپ کے نام پر خیراتی ادارے بنانا۔
۹ ۔ آپ کے نام پر تعلیمی ادارے، دینی مدارس قائم کرنا۔
۰۱ ۔ امام زمانہ(عج) کے شیعوں کی مشکلات حل کرنا، ایسے نیک کام انجام دینے، جس سے امام زمانہ(عج) کا قلب مبارک مسرور ہو۔
۱۱ ۔ غیبت کے زمانہ میں مومنین کی شرعی مسائل کے حوالے سے راہنمائی کرنا اور انہیں بھٹکنے سے بچانا۔
۲۱ ۔ مذہب حقہ اہل البیت علیہم السلام کے خلاف اعتراضات کا جواب دینا اور شیعوں کے عقائد کو مضبوط کرنا، انہیں دشمن کے جال میں پھنسنے سے بچانا۔
۳۱ ۔ اچھائی کے کاموں کا حکم دینا، امربالمعروف
۴۱ ۔ برائی کے کاموں سے منع کرنا، نہی عن المنکریہ سارے اعمال اور اسی طرح کے اور اعمال ایسے ہیں جو ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں اور ہمارے جو ولی نعمت ہیں وقت کے امام ہیں حضرت صاحب العصر والزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بھی قریب کرنے کا وسیلہ بنتے ہیں۔
یہ ذمہ داری زمانہ غیبت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ علیہ السلام کے ظہور کے بعد بھی ایسے اعمال انجام دینے ہوں گے جس سے امام علیہ السلام کا قرب حاصل ہو۔
جب بھی کسی مجلس یا محفل میں بیٹھیں تو اس میں امام زمانہ(عج)کا ذکر ضروری کیا جائے اور امام زمانہ(عج) کی برکات سے دوسروں کو آگاہ کیا جائے اور اپنے اندر امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں رہنے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ان جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں اور ہمارے لئے بہت بڑا درس چھوڑتے ہیں ، آپ علیہ السلام امام زمانہ (عج) کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”انی لوادرکته لخدمته ایام حیاتی “اگر میں انہیں پالوں تو اپنی زندگی کے سارے ایام ان کی خدمت میں گزاردوں۔(غیبت نعمانی ص ۴۵۲)
جب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس طرح کے جذبات ہوں تو ہمارے کیسے جذبات ہونے چاہیں اس کاہر ایک اپنے بارے خود فیصلہ کر لے۔
اہل البیت علیہ السلام کی ولایت کا واجب ہونا
بہت ساری حدیثیں موجود ہیں جن میں اہل البیت علیہ السلام کی ولایت کو واجب قرار دیا گیا ہے آپ حضرات کی رہبریت فرض ہے، اہل البیت علیہم السلام کا آخری فرد حضرت صاحب الزمان (عج) ہیں لہٰذا اس دور میں امام مہدی علیہ السلام کی ولایت رکھنا فرض ہے ، آپ سے ولایت اس بات کی نشانی ہو گا کہ ہم اہل البیت علیہم السلام کی ولایت کو قبول کرتے ہیں ان کا تولا ہمارے دلوں میں ہے اہل البیت علیہ السلام سے تولا اور ان کی ولایت کا اثر زیارت جامعہ میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ”بموالاتکم علمنا اللہ معالم دیننا واصلح مافسد من دنیا“اور تمہاری ولایت اور موالات کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے دین کے معالم بیان کئے اور ہمیں دین کی آگہی دی ہے اور ہماری دنیا کے جو امور خراب ہو رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان امور کو آپ کی ولایت و رہبریت کے ذریعہ درست کر دیا ہے۔
(معانی الاخبار ص ۸۰۱ ، باب معنی الامانة التی عرفت ص ۲۲۱ ، باب آل یٰسین ج ۱ ، المختصر للجلی ص ۰۲۲)
یہ ذمہ داری عام ہے زمانہ غیبت میں بھی اور زمانہ ظہور میں بھی بلکہ اس پر دین کی بنیاد قائم ہے۔آپ کی ولایت عامہ ہے اس سے کوئی ایک بھی مستثنیٰ نہیں ہے آپ ولی اعظم ہیں، ابن عربی نے اس حوالے سے بہت عمدہ اور دقیق کلام لکھی ہے اپنے مخصوص طریقہ پر ان کی کتاب سے پڑھیں(الفتوحات المکیہ ج ۴ ص ۵۷ یا ۶۶۳ ایک چھاپ میں ج ۱ ص ۶۲۳ باب ۶۶۳)
آٹھویں ذمہ داری:امام زمانہ(عج) کی قیادت اور ولایت کو تسلیم کرنا
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مفصل حدیث آئمہ اطہار علیہم السلام کے ناموں کے متعلق حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے اور آپ سے آپ کے فرزندوں اور اس طرح حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اس حدیث میں امام زمانہ(عج) کے ذکر پر رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ”ومن احب ان یلقی الله وقدکمل ایمانه وحسن اسلامه فلیتول الحجة صاحب الزمان المنتظر “
جو شخص پسند کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ اس کا ایمان کامل ہو اس کا اسلام ٹھیک ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ حجت صاحب الزمان المنتظر علیہ السلام کو اپنا ولی قرار دے، ان کی ولایت میں ہو، اس کے بعد رسول اللہ نے فرمایا: فھولاءمصابیح الدجی، وآئمة الہدیٰ، واعلام التقیٰ، ومن احبھم وتولاھم کنت ضامنالہ علی اللہ تعالیٰ بالجنة(البحارج ۶۳ ،باب ۱۴،۶۹۲ ص ۵۲۱)
پس یہ حضرات ہیںتاریکیوں کے چراغ اور یہ ہیں ہدایت کے آئمہ، تقویٰ کی علامات اور جو کوئی بھی ان سے محبت کرے گا اور ان سے تولا رکھے گاتو میں اللہ کے پاس اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔
نویں ذمہ داری: حضرت امام زمانہ (عج) کے لئے محبت
(سابقہ عنوان اور اس عنوان میں فرق یہ ہے کہ ولایت موالات، تولا کا معنی ہوتا ہے کسی کو اپنی مرضی سے اپنا سرپرست، رہبر، قائد ولی نعمت قرار دینا، اس معنی میں امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت پر ایمان اہم فرائض سے ہے اور اسے بیان کیا گیاہے جبکہ اس عنوان میں محبت کے حوالے سے بات ہونی ہے درحقیقت وہ عنوان قیادت، رہبریت کے حوالے سے ہے جب کہ یہ عنوان پیار، عشق، محبت کے بارے ہے جو کہ عام مفہوم ہے ان الفاظ کے معنی سب کو معلوم ہیں....ازمترجم)
حضرت رسول خدا کا فرمان ہے کہ کوئی بندہ ایمان نہیں لائے گااور مومن نہیں بن سکتا مگریہ کہ میں اس کے لئے خود اس کی اپنی جان سے زیادہ محبوب ہوں اور میری عترت اس کے لئے اس کی اپنی اولاد سے زیادہ محبوب ہو اور میرے اہل البیت علیہ السلام اس کے لئے اپنے خاندان سے زیادہ اس کے نزدیک محبوب ہوں اور میری ذات جوہے اس کے لئے اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب ہو، اسی طرح دین کی بنیاد محبت اہل بیت علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے۔حضرت رسول اللہ کا فرمان ہے: ہرچیز کی اساس اور بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیادہم اہل البیت علیہ السلام کی محبت ہے، محبت کو ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور قرآن مجید میںاجر رسالت کو محبت اہل البیت علیہم السلام قرار دیا گیا ہے امام صاحب الزمان علیہ السلام اہل البیت علیہ السلام کی آخری فرد ہیں جس طرح آپ علیہ السلام کی ولایت ، قیادت، رہبریت یعنی آپ علیہ السلام کی اطاعت سب پر فرض ہے اسی طرح اطاعت کے ساتھ ساتھ آپ کی قیادت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے محبت بھی فرض ہے اور دین کی بنیاد ہے۔
غیبت کے زمانہ میں بھی اور ظہور کے زماہ میں بھی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے زمانہ کے امام سے محبت کرنے والوں سے قرار دے، ان کی نصرت کرنے والا بنائے اور ان کی رہبریت اور ولایت پر ثابت قدم رکھے ان کے خط پر ہمیں باقی رکھے ہمیں انحراف سے بچائے(آمین)(علل الشرائع باب ۷۱۱ ، ص ۰۴۱ حدیث ۳)
دسویں ذمہ داری:انحراف سے امام مہدی علیہ السلام کے نظریہ کا دفاع کرنا
یہ مقالہ رہبر اسلام السید علی الخامنہ ای حفظہ اللہ کا ہے جس کا عنوان ہے ”نظریہ مہدویت کے سامراج پر اثرات“حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے ہمارایہ نظریہ مشکلات حل کرنے کی بہت بڑی طاقت سے بہرہ ور ہے جو لوگ اس عقیدہ والے ہیں اور اس عقیدہ کی طاقت اور صلاحیت سے برخوردار ہیں، دشمنوں نے کوشش کی ہے اور بعض نادان دوستوں نے بھی بعض اوقات اس میں کردار ادا کیا ہے کہ اس عقیدہ کو اس کے اصل مضمون اور معنی سے خالی کر دیں اس نظریہ کی جان نکال لیںاور یہ عقیدہ خالی ایک مقدس عنوان رہ جائے۔
بعض اوقات جو نقصان ایک نادان دوست سے پہنچتا ہے وہ عقلمند دشمن سے کہیں زیادہ ہوتا ہے لیکن اس وقت ہم اپنی گفتگو کا دائرہ اس عقلمند دشمن تک محدود رکھیں گے جو اس عقیدہ کو بے اثر بنانا چاہتا ہے میں نے ایک دستاویز کا مطالبہ کیا جس کا تعلق دسیوں سال پہلے سے ہے یہ وہ زمانہ ہے جب شمالی افریقہ میں سامراج، استعماری طاقتیں، نئی نئی وارد ہو رہی تھیں اس علاقہ پر انہوں نے خصوصی توجہ اس لئے دی کہ اس خطہ کے لوگ اہل البیت علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے قطع نظر اس بات کے کہ اسلامی فرقوں میں ان کا کس فرقہ سے تعلق تھا اور اس لحاظ سے کہ مہدویت کا نظریہ بہت ہی واضح شکل میں وہاں پر موجود ہے جیسے سوڈان، مغرب جیسے ممالک ہیں جب گذشتہ صدی میں استعمار اس خطہ میں داخل ہوا اس نے دیکھا کہ مہدویت کا نظریہ اس خطہ میں موجود ہے جو اس کے نفوذ میں رکاوٹ بنے گا اس مضمون میں استعماری قیادت کی طرف سے اس نقطہ پر زور دیا جاتا ہے کہ تدریجی طور پر نظریہ مہدویت کا اس خطہ سے خاتمہ کیا جائے اور لوگوں کے اذہان کے لئے تصور مہدی علیہ السلام محو کر دیا جائے اس وقت فرانسیسی اور انگریزی استعمار اس خطہ میں چھایا ہوا تھا استعمار تو استعمار ہی ہوتا ہے جس کی جانب سے ہواور جس شکل و عنوان سے ہو۔اجنبی سامراجیوں نے یہ بات سمجھ لی کہ جب تک اس خطہ میں نظریہ مہدویت کی جڑیں مضبوط رہیں گی اور اس علاقہ کی عوام کے اذہان میں یہ عقیدہ راسخ رہے گا تو ان اقوام پر اس طرح تسلط اور غلبہ ممکن نہیں ہے جس طرح ان کی خواہش ہے، انہوں نے مہدویت کے عقیدہ کی اہمیت کو جان لیا اور انہوں نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ جو لوگ فکری وسعت، دین میں جدت کی تحریک چلا رہے ہیں وہ کتنی بڑی غلطی پر ہیں کہ بغیر سمجھ و آگہی اور جس کام کو وہ کر رہے ہیں اس بارے مکمل جائزہ لئے بغیر وہ خود ہی اسلامی عقائد کے بارے شکوک وشبہات پھیلائے جانے کے عنوان میں پھنستے جا رہے ہیں اور یہ لوگ بھی وہی کام کر رہے ہیں جو دشمن کی غرض تھی اس لحاظ سے انہیں ان مجددین، کھلی فکراور وسیع النظری کے عنوان سے اسلامی عقائد سے محبت کرنے والوں کو اپنے مقصد کے لئے بہترین معاون اور مددگار پایا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ استعمار کے سامنے چٹان ہے
اس لئے استعماری منصوبوں میں اور ان کے ایجنٹوں کی ذمہ داریوں میں یہ بات بطور اصل شامل ہے کہ روشن کل کی امید اور جدوجہد کے عقیدہ کو ان سے چھین لیا جائے امت کے دلوں سے اس نظریہ کو باہر نکال دیا جائے اس نور کو بجھانے کے لئے انہوں نے بہت زیادہ کام کیا۔
لیکن انہوں نے اپنے ان تمام منصوبہ جات سے سوائے رسوائی اور ناکامی کے کچھ حاصل نہ کر پائے ہمیں یہ علم ہے کہ استعماراپنے مقاصد کے لئے زیادہ کوششیں کرتا ہے اور کتنا وقت لگاناہے اور کس قدر اموال خرچ کرنا ہیں وہ فقط ایران میں نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایسا ہی کر رہا ہے تاکہ وہ اس نور کی بجھا دے اور امام مہدی علیہ السلام کا نظریہ مسلمانوں سے چھین لے کیونکہ وہ اسی نظریہ کو اپنے اہداف تک جانے کے لئے سب سے بڑی چٹان اور رکاوٹ سمجھتا ہے۔
اس بیان سے جسے کئی سال گزر چکے ہیں یہ بات روشن ہوتی ہے کہ شمالی افریقہ میں یورپ سے آنے والے تبلیغی وفود(مشنری وفود)نے کس طرح استعمار کے لئے راستہ ہموار کیا تاکہ وہ آ کر اس خطہ پر اپنا قبضہ جمائیں ان امور میں سے ایک امر اور بات جو دین دار طبقہ کو تکالیف پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیحی حکومتوں نے مسیحیت کی تبلیغ کے وسیلہ سے استعمار کی گاڑی کے پہیہ کو حرکت دی ہے، تبشیری وفود جو ہیں وہ استعمار کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں، تبشیری وفود کو بظاہر یہ مقصد دے کر بھیجا جاتا کہ وہ مسیحی مذہب کی تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی اور وہ یہ تھی کہ یورپ سے مسیحیت کی تبلیغ کے لئے ان علاقوں میں آنے والی جماعتوں کے وسیلہ سے استعمار کے لئے ان علاقوں میں قدم جمانے کے لئے راستہ ہموار کرتا تھا کہ وہ اسلامی سرزمینوں پر داخل ہو سکیں اور اسلامی ممالک میں سیاسی اقتدار پر کنٹرول حاصل کر سکیں اور یہ پوری دنیا کے مختلف حصوں میں انجام پایا اور وہ اپنے اس پروگرام میں کامیاب ہوئے بہت ہی افسوس ہے کہ انہیں اپنی اس منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے بہت سارے اسلامی خطوں میں کامیابی نصیب ہوگئی۔
جس بیان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس میں شمالی افریقہ کی طرف مسیحیت کی تبلیغ کے لئے بھیجے گے مشنوں کے موضوع کوچھیڑاگیا ہے۔
اس بیان میں کاتب لکھتا ہے وہ رکاوٹیں جن کا مسیحت کے لئے تبلیغی جماعتوں کو سامنے اور شمالی افریقہ میں استعمار کی پیش قدمی میں مشکلات ہیں ان میں ایک بڑی رکاوٹ شمالی افریقہ اورمغرب میںرہنے والوں کا مہدی موعود بارے یہ عقیدہ ہے کہ انہوں نے تشریف لانا ہے اور وہ ایک دن ضرور آئیں گے اور آ کر اسلام کی بات کو سربلند کردیں گے اسلام کوسب نظاموںپر غلبہ دلائیں گے ۔
(آقای خامنہ ای کا خطاب بمناسبت ۵۱ شعبان ۸۱۴۱ ھ طھان)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہدی موعود کا عقیدہ ہی استعمار کے راستہ کی ایک بڑی رکاوٹ ہے جب کہ معلوم ہے کہ اس مسئلہ کے بارے ان علاقوں میں بسنے والے ہمارے بھائیوں کا عقیدہ ایسی وضاحت موجودنہیں جس کے آج ہم مالک ہیں، بلکہ ان برادران کے عقیدہ میں بہت سارے ابہامات موجود ہیں اوران پر اس کی جزئیات واضح نہیں ہیں اور اس مسئلہ میں کون مراد ہیں؟ ان کے لئے واضح نہیں، نام سے اور دوسری خصوصیات سے وہ واقف نہیں لیکن حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ بارے تمام تر ابہامات، جو اس خطہ کے عوام میں موجود تھے پھر بھی استعمار اس نظریہ سے خوفزدہ نظر آتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ کی تفصیلات سے قطع نظر، استعمار کواس عقیدہ سے بہت زیادہ خوف لاحق ہے اور وہ اس کے سادہ سے عنوان کو بھی اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ہمارے اپنے ملک کی بات ہے جسے میرے لئے بزرگ علماءسے ایک نے بیان کیا ہے جو اس وقت زندہ ہیں اور ان کے وجود کی برکات سے ہماری عوام فیض یاب ہو رہے ہیں کہ رضا شاہ بہلوی کے اقتدار میں آنے کے ابتدائی ایام کی بات ہے جاہل، خودسر، ہر قسم کی مقبولیت اور معرفت سے فارغ شخص رضا شاہ نے درباری ملاں کو بلایا اور اس سے دریافت کیا کہ امام صاحب الزمان علیہ السلام کا قصہ کیا ہے جس نے ہمارے لئے یہ ساری مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں؟
اس درباری ملاں نے اسے ایسا جواب دیا جو شاہ کے لئے پسندیدہ تھا اور اس کی جاہلیت کا آئینہ داربھی تھا پھر اسے شاہ کہتا ہے تم جاو اور اس قصہ کو تمام کر دو اور لوگوں کے دلوں سے اس عقیدہ کو باہر نکال پھینکو۔
درباری ملاں یہ سن کر اسے کہتا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے اس کام میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ہمارے اوپر لازم ہے اگر ایسا کرنا ہے تو اس کے لئے مقدمات کو فراہم کریں اور تدریجاً اس پر کام کریںچنانچہ اس غرض سے ان مقدمات کو اس زمانہ میں مہیا کیا گیا اور اس پر کام بھی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور علماءربانی، بیدار اور آگاہ مفکرین ،مجتہدین کی کوششوںسے وہ سارے مقدمات طشت ازبام ہوئے اور ناکام ہوئے اس کانتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ملک میں استعماری طاقتوں نے ایک خودسر غاصب شخص کو ہمارے ملک کا اقتدارتودے دیااوراسے ایران پر مسلط کیا اور اس ملک کی ساری ثروات اس کے قبضہ میں دے دیں اور پھر یہ تھا کہ وہ سب کچھ اپنے استعماری آقاوں کے سپرد کرے اس ملک کی عوام پر مکمل تسلط اور غلبہ کے لئے جو وسائل استعمال کیے جا رہے تھے ان میں ایک وسیلہ یہ تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ کو لوگوں سے چھین لیا جائے اور لوگوں کے اذہان سے امام مہدی علیہ السلام موعود کا عقیدہ اور نظریہ محو ہو جائے۔(خطاب ۵۱ شعبان ۶۱۴۱ تہران)
(ہماری ذمہ داریوں میں یہ بات آتی ہے کہ غیبت کے زمانہ میں امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کیا جائے اس عقیدہ بارے شکوک و شبہات دور کئے جائیں اس کی خصوصیت اور اصلیت سے لوگوں کو آگاہ رکھا جائے اور اس عقیدہ میں انحرافی رجحانات کو دور کیا جائے اور استعماری سازشیں جو اس عقیدہ بارے سابقہ ادوار میں ہوتی رہی ہیں اور جو آج بھی ہو رہی ہیں اس سے لوگوں کو آگاہ رکھا جائے اور اس کا توڑ کیاجائے....ازمترجم)
گیارہویں ذمہ داری۔ بامقصد انتظار
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اور آپ علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے انتظار اہم ذمہ داری ہے یعنی ہم ہر وقت ظہور کے لئے تیار رہیں اور اس وقت کے لئے اپنے کو تیار رکھیں ہر آن ظہور کی توقع ہو۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا: ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوگا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے سب سے زیادہ راضی ہوگا جب وہ لوگ اللہ کی حجت کو اپنے درمیان موجود نہ پائیں اور حجت خدا ان کے لئے ظاہر نہ ہو، حجت خدا ان سے حجاب میں ہو، وہ لوگ حجت خدا کی رہائش گاہ سے واقف نہ ہوں اور وہ اس دوران یہ یقین رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حُجج(دلائل اور اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کاسلسلہ) باطل نہیں ہوگا، ختم نہ ہوگااور نہ ہی خدا کی نشانیاں ختم ہوں گی تو وہ اس یقین کے ساتھ صبح، شام ظہور کی توقع رکھتے ہوں۔(ایسا شخص اللہ کے زیادہ قریب اور اللہ اس سے زیادہ راضی ہے)
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اپنے دشمنوں پر سخت ترین غضب اس وقت ہو گا جب خدا اپنی حجت کو ان سے غائب کر دے گا یعنی حجت کی غیبت خدا کے دشمنوں پر خدا کے شدید غضب کی علامت ہے اور ان کے لئے خدا اپنی حجت کو ظاہر نہیں کرے گا جب کہ خدا کو یہ علم ہے کہ جو اولیاءاللہ ہیں جو خدا کے ہیں وہ شک نہیں کریں گے اگر اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہوتا کہ اس کے اولیاءشک میں پڑ جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ پلک جھپکنے کی مقدار بھی اپنی حجت کو غائب نہ فرماتا یہ نہیں ہوگا مگر لوگوں میں بدترین حاکم ان کے سرپرہوگا شرپسندوں سے غیبت ہے۔(کمال الدین ج ۲ ص ۹۳۳ باب ۳۳ حدیث ۷۱)
حضرات اہل البیت علیہم السلام سے یہ روایت ہوئی ہے ”پس تم میں سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کا عمل بجالائے جو عمل اسے ہماری محبت کے قریب کر دے اور ایسے عمل سے دوری اختیار کرے جو عمل اسے ہم سے دور کر دے “۔(الزام الناصب ج ۱ ص ۸۰۴)
انتظار کا ثواب
جناب عمار الساباطی سے ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے عرض کیا:
راوی: کون سی عبادت افضل ہے؟ وہ عبادت جو تمہارے میں سے جب امام پوشیدہ ہو، باطل کی حکومت ہو اور تمہارے لئے باطل حکومت خوف اور خطرہ ہو یا وہ عبادت افضل ہے جب امام حق ظاہر ہو، حق کی حکومت ہو؟
امام علیہ السلام:۔ اے عمار مخفیانہ صدقہ خدا کی قسم اعلانیہ صدقہ سے افضل ہے،اسی طرح خدا کی قسم! تمہاری عبادت مخفیانہ بجا لانا، جب کہ تمہاراامام باطل حکومت سے پوشیدہ ہو اور تمہیں باطل حکومت میں اپنے دشمن کا خوف لاحق ہو، صلح اور آرام اور سکون موجود نہ ہو تویہ عبادت افضل ہے اس عبادت سے کہ جب حق کا ظہور ہو جائے امام حق کے ہمراہ عبادت خدا انجام دی جائے حق کی حکومت ہو جو عبادت باطل حکومت میں خوف کی حالت میں انجام دی جاتی ہے وہ عبادت اس عبادت کی مانند نہیں ہے جو حکومت حقہ میں امن کی حالت میں انجام دی جائے۔(الکافی ج ۱ ص ۳۳۳ ،باب نادر فی حال الغیبة حدیث ۲)
ابن عباس سے روایت ہے کہ اس نے بیان کیا ہے :
ابن عباس: رسول اللہ نے فرمایا کہ: علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام میری امت کے امام ہیں اور میرے بعد میری امت پر خلیفہ ہیں اور علی علیہ السلام کی اولاد سے قائم منتظر علیہ السلام ہیں جن کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ زمین کو عدالت سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ جو لوگ اس کی غیبت کے زمانہ میں اس کی امامت پر ثابت اور قائم رہیں گے تو وہ کبریت احمر سے زیادہ قدروقیمت والے ہوں گے۔
(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۵۳۳،۶۳۳ ، کمال الدین ص ۸۸۴ حدیث ۷)
بارہویں ذمہ داری:حضرت امام مہدی علیہ السلام کےلئے تیاری اور مقدمات
یہ سب سے زیادہ اہم ہے تمام واجبات سے برتر ہے بلکہ یہ ذمہ داری باقی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے والی ہے خاص کر اس زمانہ میں جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں جس میں انسان محسوس کر رہا ہے کہ وہ عصر ظہور کے بہت زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے جس قدر انسان عصر ظہور کے نزدیک ہوتا جائے گا تو وہ یہ محسوس کرے گا کہ تمہید اور تیاری کے لئے اس کے پاس وقت تنگ ہو گیا ہے یہ جدید زمانہ عجیب و غریب دور، منفرد زمانہ، بے مثال دور، ٹیکنالوجی کا زمانہ ایک مومن انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے جو اس کے پاس وقت ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے کیونکہ وقت کی مثال تلوار جیسی ہے اگر تو اسے نہیں توڑے گا تو وہ تجھے کاٹ دے گی جیسا کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایاتھا۔
اعتراض اور جواب
روایات میں ایک لمبے اور مہم مرحلے بارے بات کی گئی ہے جیسا کہ آپ بعد میں پڑھیں گے لیکن ان روایات میں جانے سے پہلے ایسی روایات کو ہم اس جگہ لاتے ہیں جن سے بعض لوگوں نے غیبت کے زمانہ میں رہنے یا مقدمات فراہم نہ کرنے یا آپ علیہ السلام کے ظہور سے تمہید اور تیاری نہ کرنے کا نظریہ اختیارکر رکھا ہے جوکہ غلط ہے۔
قائم علیہ السلامکے قیام سے پہلے ہر پرچم اور اس پرچم کو اٹھانے والا طاغوت ہے اس روایت کی مانند اور روایات کے مضامین سے استفادہ کرتے ہوئے یہ نظریہ اختیار کر لیاگیا کہ آپ علیہ السلام کے ظہور کے لئے کسی قسم کی تیاری کی ضرورت نہیں ہے بعض روایات سے اس قسم کا معنی سمجھنا خطاءاور غلطی ہے، اشتباہ ہے، ان روایات سے ۔
۱ ۔ عیص بن قاسم کی روایت صحیحہ اباابوعبداللہ سے ہے۔
۲ ۔ مرفوعہ ربعی کی روایت حضرت علی علیہ السلام ابن الحسین علیہ السلام سے ہے(مقدمہ صحیفہ سجادیہ)
۳ ۔ عمر بن متوکل الثقفی کی روایت امام ابوعبداللہ سے ہے۔
۴ ۔ صحیفہ ابوبصیر ہے۔(الوسائل الشیعہ ج ۱۱ ص ۶۳،۶۳،۷۳ ، باب بارہ جدید ۱،۲۲)
علماءنے ان روایات سے غلط استفادہ کرنے والوں کو جواب دیا ہے کہ یہ روایات ہماری بحث سے اجنبی اور غیر متعلق ہیں ہم بھی اس جگہ علماءکے جوابات کو اس جگہ اجمالی طور پر ذکر کرتے ہیں ان کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے صحیحہ العیص میں جس جملہ کا سہارا لیا گیا ہے وہ یہ ہے ”فالخارج مناالیوم الی ای شی یدعوکم؟الی الرضا آل محمد، فنحن شهدکم انا لاترضی به وهو یعصینا الیوم ولیس معه احدوهو اذکانت الرایات والا لویة اجدر الا یسمع منا الامن اجتمعت بنوفاطمة معه فوالله ماصالیکم الا من اجنتمعوا علیه “
ترجمہ:۔تو آج جو شخص ہمارے میں سے خروج کر رہا ہے تو وہ تمہیں کس کی طرف دعوت دے رہا ہے؟ آل محمد کی رضا کی جانب تو ہم آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم اس خروج سے راضی نہیں ہیں وہ آج ہماری نافرمانی کر رہا ہے جب کہ اس کے ہمراہ کوئی بھی نہیں ہے، اگر بہت سارے پرچم اور جھنڈے موجود ہوتے تو اس قسم کے خروج کرنے کے لئے زیادہ لائق اور مناسب تھا تو کیا وہ ہم سے یہ بات سنتا نہیں ہے مگر اس کے ساتھ تو وہی ہیں جو بنو فاطمہ سے اکٹھے ہوئے ہیں تو خدا کی قسم تمہارا صاحب نہیں ہوگا مگر وہ جس پر وہ سب اکٹھے ہوں گے“۔
یہ گفتگو خروج کی مطلق اوراس حوالے سے حرمت اور ناجائز ہونے پر دلیل نہیں ہے جی ہان!خروج اس وقت حرام ہے جب انقلاب کے لئے ضروری شرائط موجود نہ ہوں امام علیہ السلام نے اس بات کی طرف اشارہ دے دیا ”ولیس معہ احد؟“ اور اس کے ساتھ تو کوئی ایک بھی نہیں ہے ناصر کی کمی اور نتیجہ کی ضمانت موجود نہ ہونے کی صورت میں خروج حرام ہے۔
اسی طرح آپ نے جو یہ فرمایا ہے ”وماصاحبکم الا من اجتمعوا علیہ“ کہ یہ تمہارا صاحب نہیں مگر وہ جس پر وہ سب اکٹھے ہوں تو اس میں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے ناصروں کی کثرت کی تائید فرمائی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے روایت نے اس بات کو سمجھایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام سے پہلے انقلاب لانا اور خروج کرنا اگر آل محمد کی رضا کے لئے ہو جیسا کہ بنی عباس کی حکومت کے شروع میں تھا جائز نہیں ہے، لیکن اگر انقلاب، تحریک، قیام اور حکومت اس لئے ہو کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے زمین ہموار کرے مقدمات فراہم کرے تو ایسا خروج اور قیام حرام نہیں روایت اسے منع نہیںکررہی۔
حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام سے جو مرفوعہ بھی ہے تو اس میں ہے”والله لایخرج احد مناقبل، خروج القائم الاکان مثله کمثل فرج طارمن وکره قبل ان یستوی جناحاه فاخذه العبیان فعبثوا به “
خدا کی قسم! قائم کے خروج اور قیام سے پہلے کوئی بھی ہم میں سے قیام نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس کی مثال پرندے کے اس بچے کی ہو گی جو اپنے دونوں پَر مضبوط ہونے سے پہلے خود کو اپنے گھونسلے سے باہر نکال دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں اور اسے نقصان دیتے ہیں۔
اس روایت کی سند کو صحیح تسلیم کر لینے کی صورت میں یہ ہماری بحث اور گفتگوسے اجنبی ہے اس کا تعلق غیبت کے زمانہ میں خروج سے نہیں ہے کیونکہ یہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کے بعد بیان ہوئی ہے جو ایک ایسا شرعی اور طے شدہ خروج تھا اس کے اثرات کو آج تک ہم محسوس کر رہے ہیں یہ روایت حضرت قائم (عج) کے خروج سے متعلق نہیں ہے اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ خروج حرام ہے جو امام مہدی علیہ السلام کے خروج کے مقابل میں ہو امام مہدی علیہ السلام کا خروج حق کی حکومت، انبیاءکی حکومت قائم کرنے کے لئے ہوگا جس کا اللہ نے آخری زمانہ میں قیام کا وعدہ دیا ہے پس جو شخص بھی امام مہدی علیہ السلام سے پہلے ان کے خروج اور قیام کا اعلان کرے گااور ان والا کردار ادا کرنے کے لئے قیام کرے تو ایسا قیام باطل ہے۔
دوسری بات اس روایت میں یہ ہے کہ ”لایخرج منا “ یعنی ہم اہل بیت علیہ السلام سے کوئی خروج نہیں کرے گا“
درحقیقت یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جس نے آپ کے دور میں یہ سوال کیاکہ آپ اوراسی طرح باقی آئمہ خروج کریں گے تو آپ نے جواب دیا کہ قائم سے پہلے ہم میں سے کوئی بھی قیام نہیں کرے گاسارے ظالموں کے خلاف انقلاب لانا اور حکومت انبیاءکا قیام، حکومت حقہ کا قیام تو یہ حضرت قائم امام مہدی علیہ السلام کے وسیلے سے انجام پانا ہے، تو یہ بات اس سے اجنبی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے واسطے مقدمات فراہم کئے جائیں اس کے لئے تیاری کی جائے، صھیفہ سجادیہ کی روایت میں جو آیا ہے۔
”ما خرج ولا یخرج منا اهل البیت علیه السلام الی قیام قائمنا، احد لیدفع ظلما اوینعش حقا الا اصطلمته البلیة وکان قیامه زیادة فی مکروهنا وخیعتا “
ہمارے قائم علیہ السلام کے قیام سے پہلے اگر کسی ایک نے خروج کیا تاکہ وہ ظلم کو رد کرے اور حق کو تازہ کرے تو ایسے شخص کو مصیبت گھیر لے گی اور اس کا قیام ہماری تکالیف اور ہمارے شیعوں کے مصائب میں اضافہ کرے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت کا راوی مجہول ہے اس میں متوکل بن ھارون ہے جس کے بارے معلوم نہیں وہ کیسا شخص ہے اس وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے اور اس میں محمد بن عبداللہ بن المطلب الشعبانی ہے اس کا ضعیف ہونابھی معلوم ہے اس لحاظ سے یہ روایت اعتبار سے ساقط ہے
(معجم رجال الحدیث ج ۵۸ ،رجال النجاشی ۶۹۳ فہرست الطوسی ص ۶۱۲ نمبر ۹۰۶ ۔رجال الطوسی ص ۷۴۴)
دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث بھی اس بحث سے اجنبی ہے جس میں ہم ہیں بلکہ پچھلی مرفوع سے زیادہ واضح بیان ہے کہ ہم اہل بیت علیہ السلام سے کوئی خروج نہیں کرے گامگروہ کامیاب نہ ہوگاتو اس روایت میں کسی کے سوال کا جواب دیاگیا ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص ہم آئمہ اہل البیت علیہ السلام سے حضرت قائم علیہ السلام کے قیام سے پہلے اگرخروج کرے گا تو اس کا نتیجہ سوائے ناکامی اور شیعوں کے مصائب میں اضافہ کے اور کچھ نہ ہوگا۔
تیسری بات اس میں یہ ہے کہ اس میں آیا ہے ”فَرَج “یعنی ہم اہل البیت علیہ السلام سے سابقہ زمانہ میں جس کسی نے خروج کیااور پھر ہے ”یخرج“ اور خروج کرے گا تو یہ جملہ امام حسین علیہ السلام اور حضرت زید کے انقلاب کو شامل ہے اس لحاظ سے اعتبار سے ساقط ہے۔
باقی رہ گئی صحیحہ ابوبصیر تو اس میں ہے ”کل رایة ترفع قبل قیام القائم (عج) فصاجھا طاغوت “
”کہ ہر وہ پرچم جو قائم کے قیام سے پہلے اٹھے گا تو اس پرچم والا طاغوت ہے“۔
”یعبد من دون اللہ“ وہ اللہ کے غیر کی عبادت کرتا ہے اس کا معبود غیر اللہ ہے۔تو یہ روایت بھی ہماری بحث سے اجنبی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنا، ظلم سے دفاع کرنا، تو غیرخدا کی عبادت نہیں ہو سکتا کیونکہ روایت کہہ رہی ہے کہ اس پرچم والا طاغوت ہے اور اس کا معبود غیر اللہ ہے تو یہ اس تحریک چلانے والے کی صفت ہے جو امام مہدی علیہ السلام کے مدمقابل پرچم لا کھڑا کرے گا اور جس کا پرچم لوگوں کو امام مہدی علیہ السلام سے دور کرنے کے لئے ہوگا، گمراہی کا وسیلہ ہوگا۔
لیکن ایسا انقلاب جو امام مہدی علیہ السلام کے لئے تمہید کا کام دے ان کے پرچم کی تائید میں ہواور اس پرچم والا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دینی احکام سے تمسک اللہ کے نبی کی سنت کو اپنائے اہل بیت علیہ السلام کی سیرت پرچلنے کے لئے ہو اور جو یہ چاہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور کلمہ طاغوت سرنگوں ہو تو پھر ایسا پرچم والا طاغوت نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا معبود غیر اللہ ہوگا۔
ایران میں اسلامی حکومت
اسلامی حکومت اس بات کی بہترین دلیل ہے ، یہ اسلامی پرچم ہے، اللہ تعالیٰ کے شعائر، اہل البیت علیہ السلام کے شعائر کی سربلندی کے لئے ہے تاکہ دولت حقہ کے لئے حالات بنائے اور اس انقلاب کو لانے والی ہستی عبدصالح تھا جس نے رضائے آل محمد علیہم السلام کی دعوت دی ، قرآنی احکام کے نفاذ کی بات کی اور پورے عالم کے لئے یہ بات ثابت کر دی کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور قرآنی دستور کو نافذ کیا جا سکتا ہے ولایت فقیہ کی بنیاد پر مذہب اہل البیت علیہ السلام کے مطابق اسلامی حکومت قائم کی جا سکتی ہے جس کی بشارت امام ابوالحسن اول موسیٰ کاظم علیہ السلام نے دی تھی۔
”رجل من اهل قم یدعوالناس الی الحق یجتمع معه فوم کنزیر الحدید لاتزلهم الریاح العواصف، ولا یملون من الحرب ولا یجبنون وعلی الله یتوکلون والعاقبة للمسقین “(بحارالانوار ج ۰۶ ص ۶۱۲)
اہل قم سے ایک مرد ہو گا جو لوگوں کو حق کی دعوت دے گا ان کے ساتھ ایک قوم اکٹھی ہو جائے گی جو فولاد کے ٹکڑوں کی مانند مضبوط ہوں گے انہیں تندوتیز جکھڑ اپنی جگہ سے ہلائیں گے نہیں اور نہ ہی وہ جنگ سے اکتائیں گے اور نہ ہی وہ بزدل پڑیں گے وہ اللہ پر توکل رکھیں گے اور عاقبت متقین کے واسطے ہے۔
اس انقلاب کے نتیجہ میں ایسا ہوا ہے کہ اس مذہب کو بھی اسی طرح پڑھا جا رہا ہے جس طرح اسلام کے باقی چار مذاہب(حنفی،حنبلی،شافعی،مالکی)کو پڑھاجاتا ہے یہ سب کچھ اس انقلاب کے بعد ہوا جب امام خمینیؒ نے کلی طور پر ثابت کر دیا کہ فقہ جعفری معاشرہ اورسول سوسائٹی کی سیاسی اقتصادی قیادت کر سکتی ہے اور انہیں کمال اور عروج پر لے جا سکتی ہے۔
اگر اس اسلامی حکومت نے اس کے سوا اور کچھ نہ کیا ہوتا تو یہی کافی تھااس انقلاب کی حقانیت کے لئے جب کہ اس حکومت کے قیام کے تو بہت زیادہ اثرات اور فوائدحاصل ہوئے ہیں جن کو بیان کرنے کا یہ مقام نہیں ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام سے پہلے کسی قسم کی تحریک اور انقلابی عمل کی مخالفت کرنے والوں نے جن روایات کا سہارا لیا ہے وہ یہی تھیں البتہ چند اور روایات بھی ہیں جو اس مضمون کے قریب قریب معنی رکھتی ہیںجن کا سہارا بھی لیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
۱ ۔ ”ہمارے قائم کے خروج سے پہلے جس نے تقیہ کو چھوڑ دیا تو وہ شخص ہم سے نہیں ہے ۔(الوسائل الشیعہ ج ۵۱ ص ۱۱۲ ،باب وجوب التقیہ، کمال الدین ص ۱۷۳ ، کفایة الاثرص ۴۷۲)
۲ ۔ زمین گیر ہو جاو، ہاتھ پاوں کو مت ہلانا، یہاں تک کہ تمہارے لئے وہ علامات جو میں بیان کرتا ہوں وہ ظاہر ہو جائیں۔
(الوسائل ج ۵۱ ص ۶۵ ، باب جہاد العدد، غیبة النعمانی ص ۹۷۲)
اسی طرح کی اور روایات میں ہے ان سے بھی جنہوں نے غلط معانی لئے ہیں ان کا جواب علماءنے دیا ہے جو اوپر بیان ہو چکا اسی سے ان روایات کا حال بھی روشن ہو جاتا ہے۔ (دیکھئے المرجعیة والقیادہ السیدالحائری ص ۹۸،۹۸۱)
یہ روایات جو ہیں ان میں بعض کا تعلق امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ غیبت سے بالکل نہیں ہے مثلاً یہ جو کہا گیا ہے کہ لوگوں سے دور ہو جاو، گھر میں بیٹھ جاو، زمین گیر ہو جاو تو یہ اس تناظر میں ہے کہ انسان بعض حالات میں اپنے شرعی واجبات کو ادا نہیں کر سکتے جس جگہ موجود ہوتے ہیںوہاں ان کے لئے حالات مساعد نہیں ہوئے کہ باہر نکلے تو اس کے لئے خطرہ ہے اسے اپنی جان و مال کا خطرہ ہے، عزت اور ناموس کا خطرہ ہے تو ایسی صورتحال میں اسے اپنی روش بدلنی ہوگی بعض لوگ گھربیٹھ کر ، بعض اس علاقہ کو چھوڑ کر، بعض دفعہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرکے، تقیہ بھی ان حالات کے حوالے سے ہے جیسا کہ نبی اکرم کی دعوت کے آغاز میں ہوا یا حضور پاک کی رحلت کے بعد والے حالات جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے لئے درست ہے یا جو حالت باقی آئمہ علیہ السلام کے زمانوں میں موجود رہی، اسی طرح زمانہ غیبت بارے ہے یہ ایک عام بات ہے اس کا تعلق حالات سے ہے اس میں کوئی بھی عقلمند شک نہیں کر سکتا اگر انسان اپنی ذمہ داری اور واجب کو اس طرح ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو جس طرح اس کی ادائیگی کا حکم ہے تو اسے کسی بھی حالت میں پیچھے نہیں ہٹنا ہوگااگرچہ اس راستہ میں قابل برداشت کچھ تکالیف کا سامنا بھی ہو، اگر ایسا نہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعطیل لازم آئے گی اللہ تعالیٰ کی حدود کو مھمل چھوڑنے کی بات ہو گی۔امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کا ترک لازم آئے گا۔
ظہورکے مقدمات سے حکومت کا قیام
سورہ آل عمران آیت ۴۰۱”( وَلتَکُن مِّنكم اُمَّة یَّد عُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَا مُرُون بِالمَعرُوفِ ) آپ میں سے ایک امت ایسی ہو جو خیر کی دعوت دے معروف کا حکم دے، منکر سے روکے اور ایسے لوگ ہی فلاح پا جانے والے ہیں“۔
چور اور چوری دونوں کے ہاتھ کاٹ دو”( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقطَعُوا اَیدِیَهُمَا ) (سورہ مائدہ آیت ۸۳)
سورہ مائدہ آیت ۳۳”( إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ) ، وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے، اللہ تعالیٰ کے رسول سے جنگ کرتے ہیں زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا انہیں پھانسی چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھوں اور پاوں کو کاٹ دیا جائے....یا انہیں زمین سے نکال دیا جائے۔(شہدبدر، ملک بدر)
سورہ حجرات آیت ۹”( وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ ۚ ) ، اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو تم ان کے درمیان صلح کراو اور ان دو میں سے جو بغاوت پر اتر آئے، جارحیت کرے تو پھر تم سب اس سے جنگ کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف وہ واپس آجائیں۔
سورہ بقرہ آیت ۰۹۱”( وَقَاتِلُو ا فِی سَبِیلِ اللّٰهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُو نَکُم وَلَا تَعتَدُوا ) “ میں ہے اور تم ان سے جنگ کر واللہ کی راہ میں جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور تم زیادتی مت کرو۔
پس جو شخص زمین میں فساد پھیلاناچاہتا ہے دوسروں کو قتل کرتا ہے ، چوری کرتا ہے ڈاکہ مارتا ہے ظلم کرتا ہے تو ان کے خلاف اقدام کرنا چاہیے جو اعتراض کر تاہے اس سے سوال ہے کہ ان سارے امور کو کون انجام دے گا ۔اس حکم کو کون سی سرکار نافذ کر ے گی ؟ جب کہ جنگ کرنے صلح کرنے، شہر بد ر کرنے کے طریقہ کا تعین کون کرے گا؟ بغاوت اور عدم بغاوت کا فیصلہ کون کرے گا؟ جنگ کے مقدمات کی فراہمی کے لئے اموال کون اکٹھے کرے گا؟موجودہ زمانوں مین جنگ کے جدید ترین طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کون کرے گا؟ان سارے امور کی انجام دہی کے لئے حکومت کا قیام ضروری ہے اور جو اس کا انکار کرتے ہیں وہ اس کے مرتکب ہوں گے اللہ کی حدود اسی طرح معطل رہیں اور اللہ کے احکام کا نفاذ نہ ہو۔
بہرحال جو روایات امام مہدی علیہ السلام سے پہلے پرچم اٹھانے یا پارٹیاں بنانے یا کوئی اور طریقہ اختیار کرنے سے منع کرتی ہیں تو یہ اس پرچم سے روکتی ہیں جو گمراہی کا پرچم ہو، جو امام مہدی علیہ السلام سے تو....ہٹانے کے لئے ہو، جو پارٹی بنانے والوں کی اپنی ذاتی اغراض کے لئے ہو۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کو معطل کرنے کا ذریعہ بنیں، کہیں وہ پرچم، ایسی جماعت جو حق کی دعوت دے اسلامی تعلیمات پر چلنے کی خاطر ہو، اہل البیت علیہ السلام کے خطہ پر رہنے کی تائید کرے تو ایسا پرچم اور ایسی جماعت گمراہ جماعت نہیں اور نہ ہی وہ پرچم طاغوت کا پرچم ہے بلکہ یہ حق کا پرچم ہے جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور حق کا منتظر ہے۔
خاص کر آج کے دور میں انسان ایک کونے میں لگ کر نہیں ٹھہر سکتا اور نہ ہی لاتعلق رہ سکتا ہے۔یا تو اقتصادی مسائل کی وجہ سے یا امیت کے لئے خطرات کی خاطر، انسان پر لازم ہے کہ وہ زندگی کے معاملات میں مداخلت کرے، ایسا کردار ادا کرے اپنے لئے ایک موقف بنائے۔
پس جو شخص اس پرچم کے ساتھ نہیں آنا چاہتا جو حق کاپرچم ہے تو پھر اس مدمقابل دوسرے پرچم تلے چلا جائے جو باطل اور طاغوت کا پرچم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم طاغوت کی طرف میلان رکھیں۔ کیا تم نے ان کی جانب نہیں دیکھا کہ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے۔ تیرے اوپر اور ان پر جو تجھ سے پہلے تھے۔پھر وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کے فیصلوں کوپہنچائیں جب کہ ان کو حکم تو یہ دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں”( أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ) “۔(سورہ نساءآیت ۶۰ )
تمہید کی اہمیت اور ضرورت
رہبر اسلام السید علی خامنہ ای نے اپنی ایک گفتگو میں فرمایا ہے،اس کاعنوان ہے” انبیاءعلیہ السلام اور اوصیاءعلیہ السلام کا پورے عالم کو پاک نہ کر سکنے کے اسباب “
اس کا کیا سبب ہے کہ انبیاءعلیہ السلام کی بہت بڑی تعداد جن میں اولوالعزم پیغمبر بھی شامل ہیں عالم(دنیا) کو فساد، کمینگی سے پاک نہ کر سکے؟
اس کاسبب یہ ہے کہ اس وقت حالات سازگار نہ تھے ۔حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے زمانہ میں فساد کی جڑوں کا صفایا کیوں نہ کر سکے باوجودیکہ آپ ربانی طاقت کے مالک تھے اور حکمت الٰہی سے متصل علم آپ کے پاس تھا ارادہ کی پختگی، فیصلہ کی جرات آپ کے اہم اوصاف سے تھا اتنے سارے مناقب و فضائل کے آپ مالک تھے اتنی زیادہ رسول اکرم نے آپ کے حق میں سفارشات کیں؟ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود آپ عالم کو فساد سے پاک کیوںنہ کر سکے؟
بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا بالآخر آپ کو راستہ سے ہٹا دیا گیا۔ آپ اپنے محراب عبادت میں شہادت پاتے ہیں آپ علیہ السلام اپنی عدالت میں سخت ہونے کی وجہ سے قتل کر دیئے گئے یہ اس وجہ سے کہ اس زمانہ کے حالات اور وہ ماحول سازگار نہ تھا، مخالفین نے حالات آپ کے خلاف بنا دیئے ،ان کے لئے دنیاوی محبت کے راستہ کو ہموار کیاگیا اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے آپ کے مدمقابل راستہ کا انتخاب کیا ۔وہ لوگ جو امیرالمومنین علیہ السلام کے مدمقابل صف آراءہوئے آغاز میں یا درمیانے دور میں یا آخری ایام میں تو سب وہ تھے جن میں دین سے لگاو کی بنیاد کمزور تھی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر حالات سازگار نہ ہوں، ماحول مناسب نہ ہو تو اس طرح کے مصائب اور مشکلات آتے ہیں جن کا سامنا امیرالمومنین علیہ السلام کو کرنا پڑا۔
اگر حضرت امام زمانہ (عج) ایسے حالات میں ظہور فرمائیں کہ لوگوںمیںآمادگی موجود نہ ہو، ماحول سازگار نہ ہو تو پھر وہی نتیجہ ہو گا جو پہلے ہوتا رہا ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی آمد کے لئے تمہید ضروری ہے، حالات سازگار بنانا ضروری ہیں۔
لیکن یہ تمہید کیسے ہوگی؟
یہ اسی طرح ہی ہو گی جیسا کہ آپ اس کی مثالیں اپنے معاشرہ میں ایران کی اسلامی حکومت میں دیکھ رہے ہیں آج ایک معنوی رجحان موجودہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور حصہ میں نہیں پائی جاتی ان جوخبریں اور اطلاعات ہم تک پہنچتی ہیں ان کی روشنی میں جہاں تک ہمارا علم ہے اورجو کچھ پورے عالم میں ہو رہا ہے ہم اس سے غافل نہیں ہیں
آپ اس عالم میں کس جگہ ایسا پاتے ہیں کہ ایک نوجوان اپنی مادی خواہشات کو پاوں تلے رگڑ دے اور معنوی آفاق میں سیر کرنے لگ جائے۔
جی ہاں!وہاں کچھ ایسے جوان موجود ہیں جو اس قاعدہ کلی سے مستثنیٰ ہیں یہ پورے عالم کی ایک ظاہری اور طبعی صورتحال ہے اتنی بڑی تعداد اور وہ بھی ان صفات کے ساتھ آراستہ و پیراستہ ایک نسل سے؟ اس کی مثال موجود نہیں ہے اس پوری روئے زمین پر اس پورے عالم میں اتنی بڑی تعداد میں اس معنوی رجحان کے ساتھ ایک سرزمین پر ایک ہی نسل و قوم کے جوان کسی اور جگہ موجود نہیں ہیں۔جیسا کہ اس وقت بعض اسلامی خطوں میں ہے جیسے لبنان۔
بعض کا خیال تھا کہ یہ حالت فقط جنگ کے زمانہ میں تھی اور اسی زمانہ سے مخصوص تھی یہ بات درست ہے کہ جنگ کے ایام میں اس رجحان کے لئے بہت زیادہ مساعد اور مددگار تھے اور اس پہلو سے باہر آنے والے جوانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن یہ حالت ایام جنگ سے مختص نہیں بلکہ اسے آج بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔نیک، خیرخواہ، مومن، عبادت گزار حزب اللہ کے فرزندوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو پاوں تلے روند کر رکھ دیا ہے مال اور ثروت کی لالچ سے باہر نکل آئے ہیں اگرچہ بعض ایسے بھی موجود ہیں جو ان کودھوکہ دینے والے زرق برق کے ظاہری مناظر میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن فرزندان حزب اللہ پورے ورع کے ساتھ، گناہوں کو خیرباد کہتے ہوئے، تقویٰ، زہد کو اپناتے ہوئے پوری ہمت اور قوت کے ساتھ بغیر کسی ملال اور اکتاہٹ اور دنیا کی تنگیوں اور مادی لذات سے دل اچاٹ کئے معنویات کے بے کراں سمندر میں غوطہ زن ہیں تو ان حالات کے سایہ میں بہتری کی طرف ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھانے کے امکانات پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔
خواتین میں معنویت کا رجحان مردوں سے کم نہیں
یہی صورتحال خواتین میں بھی پائی جاتی ہے ہمارے ملک میں عورت سیاسی عمل میں موجود ہے اجتماعی اور سیاسی سرگرمیاں اس کے لیے موجود ہیں ، وہ تنظیمی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں اور جب جہاد کا وقت ہوتا ہے تو مائیں اپنے جگر گوشوں کو جنگ کے محاذ پر خود تیار کر کے روانہ کرتی ہیں اور پھر امورخانہ داری اور تربیت اولاد کے معاملات سے بھی غافل نہیں اس قسم کے مظاہر اور اس جیسے حالات کا وجود عمومی طور پر دنیا کے دیگر ممالک میں تائید ہے اس بات کی بڑی اہمیت ہے اور یہ سب کچھ صحیح اسلامی تربیت کے نتیجہ میں ہوا ہے اور یہی حالت جو دلوں میں امید کی کرن روشن کرتی ہے اور اس نے ان نتائج تک پہنچا دیا جس کا آج آپ مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہم نے ہمیشہ زور دیا ہے اور تاکید بھی کی ہے اور آج ہماری ایرانی عوام تدریجی طور پر ہماری عزت اور وقار کو پورے عالم میں مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ اسلام کی پابندی کرنے اور اسلامی تعلیمات کو اپنانے کے نتیجہ میں ہے اور جو قوم بھی اسلام کی پیروی کرے گی اسے یہی کچھ حاصل ہو گا جو ایرانی قوم کو اسلام کے قوانین پر عمل پیرا ہو کرملا ہے اور جو لبنانی مسلمانوں کے لئے موجود تھے۔
لہٰذا اوضاع، حالات کوسازگار بنانا ممکن ہے اللہ کے اذن سے جس وقت اس قسم کے حالات بنیں گے اور پورے عالم میں اس قسم کی آمادگی ہو جائے گی تو حضرت بقیة اللہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے بھی حالات سازگارہوجائیںگے اوراس وقت یہ دیرینہ خواہش پوری ہو جائے گی جو مدتوں سے انسانوں کے اذہان میں بالعموم اور مسلمانوں کے اذہان بالخصوص جولان مار رہی تھی کہ کوئی ایسی صورتحال ہے کہ ہر طرف عدل ہو، امن ہو، خوشحالی ہو۔
تمہید:۔ دولت حق کے لئے بعض روایات
حضرت امام صاحب الزمان(عج) کی حکومت کے قیام کے لئے حالات بنانے ہیں، ماحول سازگار کرنا ، عمومی آمادگی پیدا کرنے کے لئے کوششیں کرنی ہیں اس کے لئے روایات میں تاکید ہوئی ہے اس جگہ چند روایات ملاحظہ ہوں۔
۱ ۔ ابوالحسن بن ھلال بن عمیر میں نے یہ بات حضرت علی علیہ السلام سے سنی کہ آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کا ارشاد ہے ”وراءنھر“سے ایک مرد خروج کرے گا اسے حرث(حارث بن حراث)کہا جائے گااس کے پیش ایک مرد ہو گا جسے منصور کہا جاتا ہو گا وہ حالات بتائے گا یا قدرت پیدا کرے گا حضرات آل محمد علیہم السلام کے اقتدار میں آنے کے لئے جس طرح قریش نے حضرت رسول اللہ کے لئے حالات پیدا کئے ہر مومن پر واجب ہے کہ وہ اس کی نصرت کرے یا یہ فرمایا کہ اس کی دعوت کو قبول کرے۔(سنن ابی داودج ۲ ص ۱۱۳ ،ح ۰۹۲۳)
۲ ۔ کتاب الفتن میں آیا ہے کہ عبداللہ بن مروان نے ھیثم بن عبدالرحمن سے اس نے حضرت علی علیہ السلام سے اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”مہدی علیہ السلام سے پہلے ایک مرد اٹھے گا جو آپ کے اہل بیت سے ہوگا اور مشرق کی سرزمین سے اس کا تعلق ہوگا وہ آٹھ ماہ تک تلوار اپنے کاندھے پر اٹھائے رکھے گا، قتل کرے گا، ٹکڑے ٹکڑے کرے گا اور وہ بیت المقدس کا رخ کرے گا تو وہ اس جگہ نہ پہنچ سکے گا کہ وہ مارا جائے گا“۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی ص ۸۹۱)
۳ ۔ المستدرک میں ابوالعباس محمد بن یعقوب نے حدیث بیان کی ہے، ان سے حسن بن علی بن عفان العامری نے ،ان سے عمروبن محمد العنقری نے حدیث بیان کی ان سے یونس بن اسحق نے یہ کہا کہ مجھے خبر دی ہے عمار دھنی نے ابوالطفیل سے اور اس نے محمد بن الحنفیہ سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ” ہم حضرت علی علیہ السلام کے پاس تھے کہ کسی نے آپ علیہ السلام سے مہدی علیہ السلام کے بارے سوال کیا تو حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ھیھات یہ بات دور کی ہے، پھر اپنے ہاتھ سے سات گرہیں بنائیں پھر فرمایا: وہ آخری زمانہ میں خروج کرے گا۔ اس آدمی نے سوال دہرایا کہ اگر وہ قتل کر دیئے گئے تو(لمحات النہج الصبان ص ۲۰۱) اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک قوم کو اکٹھا کرے گا اس طرح جمع ہوں گے جس طرح بادل کی ٹکڑیاں جمع ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اکٹھا کر دے گا کسی ایک سے انہیں وحشت نہ ہو گی اور نہ ہی کسی ایک سے انہیں خوشی ہو گی ان میں اصحاب بدر کی تعداد برابر، افراد وارد ہوں گے اولین نے ان پرسبقت نہیں کی اور نہ ہی آخرین ان کا ادراک کریں گے طالوت کے اصحاب کی تعداد میں ہوں گے جنہوں نے اس کے ہمراہ نہر کو عبور کیا تھا۔
ابوالفضل:۔ ابن الحنفیہ نے کہا کیا تم اسے جانتے ہو؟
ابوالطفیل:۔ جی ہاں!
ابن حنیفہ:۔ وہ ان دو ٹکڑیوں کے درمیان سے خروج کریں گے۔
ابوالطفیل:۔ کوئی حرج نہیں، اللہ ان دونوں کومجھے نہ دکھائے مگر یہ کہ میں مر جاوں پس وہ مکہ میں مر گیا ، اللہ مکہ کی حفاظت فرمائے۔(المستدرک الحاکم نیشاپوری ج ۴ ص ۴۵۵)
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور ان دونوں نے اس حدیث کا اخراج نہیں کیا۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: امر سارا ان کے لئے ہو گا یہاں تک کہ وہ ان کے مقتول کو قتل کریں گے اور آپس میں مقابلہ کریں گے جب ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ مشرق سے ان پر ایسی اقوام بھیجے گاجو انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کریں گے اور انہیں شمار کر کے ماریں گے خدا کی قسم وہ ایک سال کے مالک نہ بنیں گے مگر ہم دو سال کے مالک بنیں گے وہ دو سال کا اقتدار نہ لیں گے مگر یہ کہ ہم چار سال کا اقتدار لیں گے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے ہے: میں اسباط سے سبط ہوں، حق پر میں جنگ کروں گا تاکہ میں حق قائم کروں لیکن حق ہرگز قائم نہ ہوگا اور اَمر اُن کے واسطے رہے گا پس جب وہ بہت ہو جائیں گے تو آپس میں مقابلہ پر اترآئیں گے تو وہ ان کے قتیل کو بھی مکمل کریں گے اللہ تعالیٰ ان پر اہل مشرق سے اقوام بھیجے گا تو وہ انہیں منتشر کر کے ماریں گے اور ان کی تعداد کا انہیں شمار ہوگا خدا کی قسم!وہ ایک سال اقتدار حاصل نہ کریں گے مگر یہ کہ ہم دو سال اقتدار لیں گے۔(الشریف بالمتن ج ۴۸ ص ۰۳،۹۳۳،۸۴۴)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون آج عرب کے ایسے امر کو ضروربالضرور بیان کر دیا جائے گا جسے وہ چھپاتے رہے۔
راوی کہتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سخت غضب کی حالت میں تھے ۔
آپ نے فرمایا مجھے ان ضیاطرہ( ) کے بارے گفتگو کرنے سے کون معذور قرار دیتا ہے ان کا ایک جو ہے وہ اس حشایا( )پر چھٹا پڑا ہے ، پس وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اسے بھگا دوں اور میں ظالموں سے قرار پاوں جس نے دانا شگافتہ کیا اور نفس کو پیدا کیا،میں نے یہ بات جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی کہ آپ فرماتے تھے خدا کی قسم کہ وہ تمہیں دین پر واپس لانے کے لئے مارے گا جس طرح تم نے اسے شروع میں دین پر لانے کے لئے مارا ہے۔(نہج السعادة ج ۲ ص ۳۰۷)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے ہے: میں عجمیوں کو دیکھ رہا ہوں ان کے مجمعے مسجد کوفہ میں لگے ہوئے ہیں وہ قرآن کو اس طرح تعلیم دے رہے ہیں جس طرح قرآن اترا ہے۔(الغیبة نعمانی ص ۸۳)
الطبرانی نے ابن حیان سے اس نے معاویہ بن قرہ سے اس نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے جس وقت ملاحم واقع ہوں گے تو اللہ تعالیٰ موالیوں کی جماعت بھیجے گا وہ عربوں میں زیادہ کریم ہوں گے سواری کے اعتبار سے اور اسلحہ کے اعتبار سے زیادہ سخی ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے دین کی تائید فرمائے گا۔
ابی الحسن الربعی المالکی نے اپنی سند سے حدیث بیان کی ہے حضرت رسول اللہ نے فرمایا: جب ملاحم واقع ہوں گی اللہ تعالیٰ دمشق سے ایک گروہ کو اٹھائے گا جو موالی(غیرعرب)سے ہوں گے سواری کے لحاظ سے تمام عربوں سے زیادہ کریم ہوں گے اور اسلحہ کے لحاظ سے ان سے زیادہ اٹے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین کی تائید فرمائے گا جب خلیفہ کو عراق میں قتل کر دیا گیا تو ایک مربوع(چارشانوں والا مرد خروج کرے گا)(معجم احادیث المہدی ج ۱ ص ۳۸۲ ، بحارالانوار ج ۷۵ ج ۶ ص ۶۱۲ ص ۶۱۲)
مصنف کہتا ہے کہ یہ روایات اہل سنت کی کتابوں سے لی گئی ہیں ان کے مضامین سے جو بات اجمالی طور پر سمجھی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے کام کیا جائے گا اور آپ علیہ السلام کی حکومت کے لئے حالات بنانے کے واسطے کوششیں ہوں گے۔(مصنف نے ان روایات سے اجمالی یہ مطلب ا خذ کیا ہے البتہ ان سے زیادہ وضاحت والی احادیث کا انتخاب کیا جاتا تو بہترتھا۔ مصنف بتانا یہ چاہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں فتنے ہوں گے اسلام کے احیاءکے لئے تحریک اٹھے گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے لوگ اسلام کے لئے قیام کریں گے کچھ ناکام ہوں گے اور یہ سلسلہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور تک جاری رہے گا مصنف نے یہ ساری روایات اہل سنت سے لی ہیں اس موضوع پر مزید جاننے کے لئے ہماری ترجمہ شدی کتاب”عصر ظہور“کا مطالعہ کریں....مترجم)
سیاہ جھنڈے اور اہل قم
۱ ۔ حضرت امام ابوالحسن اول کے حوالے سے حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں اہل قم سے ایک مرد کے قیام کی بات کہی گئی ہے۔
۲ ۔ حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ قم کو کیوں قم کا نام دیا گیاہے؟
راوی : میں نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول اور آپ علیہ السلام بہتر جانتے ہیں۔
امام ابوعبداللہ علیہ السلام: قُم کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اھل قُم قائم آل محمد علیہم السلام کے ساتھ اکٹھے ہوں گے ان کے ساتھ قیام کریں گے ان کے ہمراہ مستحکم رہیں گے اور ان کی مدد کریں گے۔(البحار ج ۶ ص ۶۱۶ ،ص ۸۳)
۳ ۔ ابوعبداللہ علیہ السلام: عنقریب کوفہ مومنوں سے خالی ہو جائے گا اور وہاں سے علم اس طرح غائب ہو جائے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں غائب ہو جاتا ہے، پھر علم ایک ایسے شہر میں ظاہر ہو گا جسے قم کہا جاتا ہو گا قُم علم و فضل کا مرکز بن جائے گا، یہاں تک کہ رُوئے زمین پر کوئی شخص دین کے حوالہ سے مستضف نہیں ہوگا حتیٰ کہ خواتین جو پردہ دار ہیں ان تک بھی پہنچے گا جیسا کہ آج خواتین میں علم دین کے حصول کا شوق اور لگاو عام ہے....مترجم) اور یہ ہمارے قائم علیہ السلام کے ظہور کے قریب ہو گا اور اللہ تعالیٰ قُم اور اہل قُم کو حجت کے قائم مقام قرار دے گا اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین اپنے اہل سمیت دھنس جاتی اور زمین پر حجت اور دلیل باقی نہ رہتی پس وہاں سے علم سارے شہروں کوپہنچے گا مشرق اور مغرب میں یہ علم جائے گا اس طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے گی کوئی روئے زمین پر ایسا نہ بچے گا مگر یہ کہ اس تک دین اور علم پہنچ جائے گا اس کے بعد قائم ظہور فرمائیں گے آپ علیہ السلام اللہ کا عذاب بن کر آئیں گے اور اللہ کی ناراضگی کا اظہار ہوں گے بندگان پر کیونکہ اللہ تعالیٰ بندگان سے انتقام نہیں لیتا مگر اس وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کی حجت کا انکار کر دیتے ہیں۔(البحارج ۰۶ ص ۶۱۲،۶۳ ص ۸۳)
۴ ۔ ابوعبداللہ علیہ السلام:اللہ تعالیٰ نے کوفہ کے توسط سے سارے شہروں پر احتجاج کیا اور کوفہ میں رہنے والے مومنین کے ذریعہ ان پر احتجاج کیا جو دوسرے شہروں میں رہنے والے ہیں اور قُم شہر کے ذریعہ باقی شہروں پر احتجاج کیا اور قُم والوں کے ذریعہ مشرق اور مغرب میں رہنے والے سارے جنات اور انسانوں پر احتجاج کیا اللہ تعالیٰ نے قُم اور اہل قُم کوکمزورنہیں چھوڑا بلکہ انہیں توفیق دی اور ان کی تائید فرمائی پھر فرمایا: دین اور اہل دین قُم میں ذلیل ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تیزی سے اس طرف آتے اور قُم ویران ہوجاتااور اہل قُم ختم ہو جاتے ہیں پھر سارے شہروں حجت و دلیل نہ رہتی اور اگر ایسا ہو جائے تو پھر زمین اور آسمان مستقرنہیں رہ سکتے اور پلک جھپکنے کی مقدار بھی ان کی جانب نگاہ نہ کی جائے مصائب قُم اور اہل قُم سے دور ہیں ایک زمانہ عنقریب آئے گا کہ قُم اور اہل قُم تمام خلائق پر حجت ہوں گے اور یہ ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہو گا کوئی بھی ان کی جانب برا ارادہ نہ کرے گا مگر یہ کہ فاصیم الحیارین انہیں توڑ کر رکھ دے گا اور انہیں کسی مصیبت اور ہلاکت میں تباہ و برباد کر دے گا یا کسی دشمن سے ان کا پالا پڑے گا ان جابروں کے ذہن سے قُم اور اہل قُم کی یاد کو بھلا دے گا جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھول چکے ہیں۔
(البحارج ۶ ،ص ۲۱۲،۳۱۳ ، باب ۶۳ حدیث ۲۲ ، منتخب الاثرص ۳۶۲،۴۶۳ ، باب ۷۲ حدیث ۱۲)
امام علیہ السلام: اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے زیادہ بلند، کرامت والی، شان والی، عظمت والی ہستی ہے کہ وہ زمین کو بغیر عادل امام علیہ السلام کے چھوڑ دے ایسا کرنا اس کی شان، عظمت و جلالت کے منافی ہے۔
راوی:۔ میں آپ پر قربان جاوں کس طرح میں آرام و اطمینان حاصل کروں۔
امام علیہ السلام:۔ اے ابا محمد! امت محمد کبھی بھی راحت کو نہ پا سکیں گے جب تک فلاں کی اولاد ان پر حاکم ہے یہاں تک کہ ان کا ملک اور اقتدار ختم ہو جائے، جب ان کا اقتدار ختم ہو گا تو اللہ تعالیٰ امت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم اہل البیت علیہ السلام سے ایک آدمی(مرد)عطا کرے گا جو انہیں تقویٰ اختیار کرنے کا کہے گا اور ہدایت پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ کے حکم میں رشوت نہ لے گا خدا کی قسم میں اس کا نام اور اس کے باپ کا نام جانتا ہوں پھر ہمارے پاس ایک موٹے جسم والا چھوٹے قد والا غلیظ القصرہ، آئے گا خال والا ہوگا، شامتین( )اس کے ہوں گے۔ قائم قیام کرنے والا ہوگا، عادل ہوگا، جو اسے سپرد کیا گیا ہے اس کی حفاظت کرنے والا ہوگا زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہے۔
(اقبال الاعمال ص ۹۹۵،۰۰۶ اثبات الہداہ ج ۳ ص ۱۸۵،۲۸۵ ، فصل ۹۵ حدیث ۶۶۷ ، البحارج ۲۵ ص ۹۶۲،۵۲ ،حدیث ۸۵۱)
۵ ۔ ابن اعثم الکوفی نے الفتوح میں بیان کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:
طالقان کے کیا ہی کہنے، اللہ تعالیٰ کے اس میں خزانے ہیں جو سونے چاندی کے نہیں ہیں لیکن اس میں ایسے مرد ہیں جو مومن ہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اس طرح رکھتے ہیں جیسے ہونی چاہئے اور وہ آخری زمانہ میں مہدی علیہ السلام کے انصار بھی ہیں۔(البحار ج ۱۵ ص ۷۸ ، مستدرک سفینة البحار ج ۶ ص ۷۵ ، الماوی للسیوطی ج ۲ ص ۲۸ ، کنزالعمال ج ۷ ص ۲۶۶ ، آخری دو حوالے اہل سنت سے ہیں)
طالِقان سے مراد
لام پر زیر پڑھنی ہے ، دو شہروں پر بولا جاتا ہے ( ۱) خراسان میں ہے جو مروالروذ اور بلخ کے درمیان واقع ہے اس کے ارامروالروذ کے درمیان تین مراحل فاصلہ ہے اور الاصطخری نے بیان کیا ہے طخارستان کا سب سے بڑا شہر طالِقان ہے اور یہ ایسا شہر ہے جو سطح زمین کے برابر ہے شہر اور پہاڑ کے درمیان ایک تیرکے چلانے کا فاصلہ ہے ان میں بڑا دریا ہے اور باغات اس میں ہیں طالِقان بلخ کا ایک تہائی ہے اس کے بعد جو شہر ہے وہ زوالین ہے بڑے ہونے کے لحاظ سے ۔(معجم البلدان الحموی ج ۴ ص ۶)
(از مترجم....مصنف نے طالِقان کے بارے یہی بات لکھی ہے پھر یہ کہ دو جگہوں پر بولا جاتا ہے اس کی بھی پوری وضاحت نہیں ہے کہ دوسری جگہ کون سی ہے؟ جہاں تک میری معلومات ہیں تہران سے متصل کوہ ابرز کے علاقہ پر طالِقان کا لفظ بولا جاتا ہے اس نام کا کوئی خاص شہر آباد نہیں ہے۔عصر الظہور میں اس کے بارے تفصیل موجودہے)
مصنف کا بیان ہے کہ طالِقان کے جو خزانے ہیں اس سے مراد وہ افراد ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ نکلیں گے جیسا کہ روایت میں ہے ان کی تعداد بارہ ہزار ہوگی۔
عام طور پر اس لفظ کو اہل خراسان پر اس طرح سے نہیں بولا جاتا جس طرح اہل فارس اور اہل قُم کا لفظ ہے۔ اس کا استعمال اس انداز سے نہیں (مصنف نے طالقان کا تعین نہیں کیا کہ یہ کس علاقہ پر بولا جاتا ہے اور اس سے کون مراد ہیں)
حضرت ابوجعفر محمد بن علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اللہ کے فرمان ”ماختلف الاحزاب من بینھم “ بارے پوچھا گیا۔
امیرالمومنین علیہ السلام: تین میںظہورکی انتظار کرو۔
سائل: یا امیرالمومنین علیہ السلام وہ تین کون سے ہیں؟
امیرالمومنین علیہ السلام: شام والوں کا آپس میں اختلاف ہونا،خراسان سے سیاہ جھنڈوں کا نمودارہونا، ماہ رمضان میں فزعة کا ہونا ۔
سائل: اس فَزَعة سے کیا مرادہے؟
امیرالمومنین علیہ السلام: کیا تم نے قرآن مجیدمیں اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں پڑھا ”( إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ ) “(الشعراءآیت ۴)
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتاریں کہ اس نشانی کے آگے ساروں کی گردنیں جھک جائیں گی یہ ایک خوفناک دہلا دینے والی آسمان سے آواز ہو گی کہ جوان لڑکی اپنے پردہ سے باہر دوڑ آئے گی، سوئے ہوئے کو جگا دے گی اور بیدار جو ہے ڈر جائے گا۔(کتاب الغیبة باب علامات قبل قیام القائم علیہ السلام ص ۱۵۲ ، اثبات الہداة ج ۷ ص ۱۲۴)
پھر کوفہ سے ایک لاکھ نکلیں گے جو مشرک اور منافق ملے ہوں گے وہ پڑاو دمشق میں ڈالیں گے کوئی روکنے والا انہیں منع نہیں کرے گا اور یہ ارم ذات العماد ہیں مشرقی سرزمین سے پرچم آئیں گے روئی، اون، ریشم کے نہیں ہوں گے نیزوں کے سروں پر السیدالاکرکی مہر سے نشان لگے ہوں گے آل محمد علیہم السلام کا ایک آدمی انہیں جلا رہا ہو گا جس دن وہ پرچم مشرق میں اڑے گا تو اس کی ہوا مغرب کو پہنچے گی مشک اذفر کی مانند، اس کے آگے رعب اور دبدبہ ایک ماہ کے فاصلہ سے چلے گا یعنی اس پرچم سے اتنا رعب ہوگا کہ ایک ماہ کی مسافت والے علاقہ جات پرچم کے پہنچنے سے پہلے ہی مرعوب ہو جائیں گے۔
(البحار ج ۳۵ ص ۷۷ حدیث ۲۲ ، الایقاط من الحجة ص ۹۸۲ ج ۰۰۱،۱۱۱)
۸ ۔ غیبت نعمانی میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے : پلان بنایا جا چکا ہے، فیصلہ ہو چکا ہے کہ ایسا ہونا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بنی امیہ سے ظاہری تلوار سے اقتدار کو لے اور فلاں کا اقتدار لینا اچانک ہوگا۔امیرالمومنین علیہ السلام: اس چکی نے ضروری گھومنا ہے، جب وہ کہ اپنے قطب اور مرکز پر آگئی اور اپنی بنیاد پر برقرار ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک عبد عسف کومسلط کرے گا جس کی اصل ہو گی بھیجے گا،مدد اس کے ساتھ ہو گی اس کے اصحاب کے بال لمبے ہوں گے وہ اصحاب السبال( )ہوں گے ان کے لباس سیاہ ہوں گے وہ سیاہ جھنڈوں والے ہوں گے ان کے واسطے تباہی ہوگی جو ان کا مقابلہ کرے گا وہ بدامنی کے ساتھ قتل کریں گے خدا کی قسم!میں انہیں دیکھ رہا ہوں ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہوں ان کے فاجروں سے جو کچھ ہو گا اور عراب سے جو کچھ ہوگا ، ظلم ہو گا، زیادتی ہو گی ، اللہ ان پر بے رحم کو مسلط کر دے گا وہ انہیں بدامنی سے قتل کر دے گا ان کے شہر میں فرات کے کنارے پر، تری اور خشکی میں یہ بدلہ ہو گا اس عمل کا جو انہوں نے انجام دیا ہوگا اور تیرا رب ظلم کرنے والا نہیں ہے۔(الزام الناصب ج ۲ ص ۶۳۱ ، غیبت نعمانی ص ۷۵۲۱ ج ۴۱ حدیث ۴۱)
۹ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف منسوب باتوں سے یہ بھی ہے کہ سیاہ پرچم والوں کی جماعتوں میں ہیجان بپا ہو گا، بڑی آگ نصب کریں گے ، جسے سیارخ(عربی میں صاروخ، صارخ میزائل کو کہاجاتاہے)صارخ نام دیا جائے گا اور اللہ کے دشمنوں کو بہت ساری معدنیات سے دھمکائیں گے، دائرہ کی مانندمخلوط ہوں گے اور دوسری بہت ساری شکلیں ہوں گی، پہاڑوں کی لمبائی جیسے تیر ہوں گے ان تیروں کے دل میں بھڑکتی آگ ہو گی جو زمین کو پھاڑ کر رکھ دیں گے پانی اور ہوا کوفاسد کر دیں گے کسی کو زندہ نہ چھوڑیں گے مگر اسے چٹ کر دیں گے وہ حمحمہ جیسا اگر چھوڑے گا راکھ ہو جائے گا ہوا میں ذرات اڑ جائیں گے، اگر اسے دفن نہیں کرو گے، یہودی عورتیں شوہرمانگیں گی ان کو شوہر نہ ملیں گے مگر یہود سے باہر کی نسل سے بیس عورتوں کا ایک نگران ہوگایعنی یہود میں مرد کم پڑجائیں گے۔
وہ سب زمین کے ایک حصہ میں اکٹھے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل کرے گا ان پر اھانت، بیچارگی، رسوائی لکھ دی جائے گی ان کا کوئی پر بھڑکتا ہوا نہیں اٹھے گا مگر یہ کہ نیزے کی مانند وہ دجال کی انتظار کریں گے اور وہ جوشر غالب ہے وہ انتظار اس کی کریں گے ان میں سے ہزاروں ایمان لائیں گے ان کے لئے عقل اور دین ہوگا وہ دن اور رات مہدی علیہ السلام کے اقتدار میں بسر کریں گے۔(المناجاة لمحمد عیسی بن داود ص ۱۰۶)
۰۱ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلامکی طرف منسوب ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا،قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیاہے، ایک پرچم ہے کہ اس کے ساتھ اور بہت سارے پرچم ہیں، وہ پرچم ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے جس دن سے لہرایا گیا تو اسے ابھی لپیٹا نہیں گیا اور ایسے مرد ہیں کہ ان کے دل فولاد سے زیادہ سخت ، مضبوط اور ٹھوس ہیں اگر وہ پہاڑوں پر حملہ کردیں تو انہیں اپنی جگہ سے ہٹا دیں وہ یہودیوں کے کسی بھی شہر کا اپنے جھنڈوں اور اسلحہ کے ساتھ رخ نہ کریں گے مگر یہ کہ اسے ویران کر دیں گے گویا ان کی سواریوں کے اوپر عقبان ہیں جو اڑ رہے ہیں وہ مہدی علیہ السلام کو اپنی جانوں سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے اصحاب محبت رکھتے تھے وہ مہدی علیہ السلام کو گھیرے رکھیں گے اور اپنی جانوں کے ذریعہ ان کی حفاظت کریں گے انہیں اس بات کا یقین ہو گا کہ اللہ ان کے لئے فتح دے گا اور جو مہدی علیہ السلام نے ارادہ کر لیا ہے اللہ اس کے لئے المفاجاة لمحمدعیسیٰ فتح دے دے گا۔
(المغاجاءلمحمد عیسیٰ بن داودص ۱۰۶)
حضرت رسول اللہ: جس وقت تم خراسان سے سیاہ پرچموں کو آتے دیکھ لو تو پھر ان کی مدد کے لئے آگے بڑھنا، اگرچہ تمہیں برف پر گھٹنوں کے بل بھی چل کر کیوں نہ آنا پڑے کیونکہ ان میں خلیفة اللہ المہدی علیہ السلام موجود ہے۔(بحارالانوار ج ۷۴ ص ۲۸ ج ۷۳)
حضرت رسول اللہ : ہم اہل البیت علیہ السلام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن کے لئے آخرت کو ان کی دنیا پر منتخب کر لیا ہے میرے اہل بیت علیہ السلام میرے بعد بہت تکالیف دیکھیں گے انہیں بھگایا جائے گا دربدر پھرایا جائے گا، یہاں تک کہ مشرق سرزمین سے ایک قوم آئے گی ان کے ہمراہ سیاہ پرچم ہوں گے تو وہ حق کے متعلق سوال کریں گے تو انہیں وہ حق نہیں دیا جائے تو وہ اس حق کو لینے کے لئے جنگ کریں گے اور وہ کامیاب ہو جائیں گے انہیں ان کا حق دیا جائے گاجو وہ چاہتے تھے لیکن وہ اس صورت میں اتنے پر اکتفا نہ کریں گے یہاں تک کہ وہ اس پرچم کو میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک کے حوالے کریں گے جو آکر زمین کو عدل اور انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم اورجور سے بھرچکی ہو گی پس تم میں جس سے ہو سکے وہ اس کی مدد کے لئے آئے اگرچہ اسے برف پر گھٹنوں کے بل چل کر کیوں نہ آناپڑے۔(سابقہ حوالہ)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: تمہارے خزانے کے پاس جنگ ہو گی اور تین افراد جنگ کریں گے سارے خلیفہ کے بیٹے ہوں گے پھر نتیجہ ان میں سے کسی ایک کے حق میں نہ جائے گا پھر مشرق سے سیاہ پرچم نمودار ہوں گے تو وہ ان سے جنگ کریں گے ایسی جنگ کہ اس سے پہلے اس طرح کی جنگ نہ ہوئی ہو گی پھر رسول اللہ نے کوئی بات ارشاد فرمائی جو مجھے یاد نہیں ۔
پھر فرمایا: پس جب تم ان کے امیر کو دیکھو تو تم سب ان کی بیعت کرنا اگرچہ تمہیں اس تک جانے کے لئے برف پر گھٹنے کے بل چل کر کیوں نہ جانا پڑے کیونکہ وہی خلیفة اللہ المہدی علیہ السلام ہیںاسی روایت کو حافظ ابن ماجہ نے ذکر کیا ہے ۔(کفایة الطالب ص ۹۸۴)
ایک اور روایت میں اس پر اضافہ ہے، پھر خلیفة اللہ المہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے پس جب تم اس کے متعلق سنوتو اس کے پاس آنا اور اس کی بیعت کرنا کیونکہ وہی خلیفة اللہ المہدی علیہ السلام ہے۔(بحارالانوار ج ۷۴ ص ۳۸ حدیث ۷۳)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے سیاہ پرچم آئیں گے گویا ان کے دل لوہے کے ہیں پس جو ان کے بارے سنے تو وہ ان کے پاس آ جائے اور ان کی بیعت کرے اگرچہ برف پر گھٹنوں کے بل چل کر کیوں نہ آنا پڑے۔
(سابقہ حوالہ، ینابیع المودة ج ۱ ص ۷۰۴)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: مشرق سے کچھ لوگ نکلیں گے جو مہدی علیہ السلام کے لئے زمین ہموار کریں گے یعنی مہدی علیہ السلام کے اقتدار اور ان کی سلطنت کے لئے راستہ بنائیں گے یہ حدیث صحیح ہے اسے ثقہ اور ثابت راویوں نے روایت کیا ہے اس کا اخراج حافظ ابوعبداللہ ماجہ القزوینی نے کیا ہے ابن سنن میں(کفایة الطالب ص ۰۹۴)
مصنف کہتے ہیں: یہ روایتوںکا ایک گروپ ہے جس میں مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈوں کی بات کی گئی ہے۔
پہلا مشرق ہی میں قُم، خُراسان، طالِقان، فارس آتے ہیں تو یہ ساری روایات جمہوریہ اسلامیہ ایران کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ جہاں کوفہ سے علم یا نجف سے علم منتقل ہوا تاکہ زمین کی ساری اطراف میں مبلغین کے توسط سے پہنچے جو ہر سال مختلف شہروں میں تشریف لے جاتے ہیں عدالت، دین، قیام کے رائج ہونے کے لیے نکلتے ہیں، عدالت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں یہ کشف کرتا ہے کہ یہ جھنڈے مقدمہ اورتمہیدہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے ہیں۔
تمہید و مقدمات کی انواع
یہ وہ احادیث ہیں جو ایسے واقعات اور حالات پر اجمالی طور پر روشنی ڈال رہی ہیں کہ کچھ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے اور کوئی ظہور کے ہمراہ اور کچھ ظہور کے بعد کو بیان کر رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ حالات ہیں جو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے مقدمات کو فراہم کرنے سے متعلق ہیں امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے حوالہ سے تمہید کے معانی حیات کے حوالہ سے مختلف ذکر ہوئے ہیں۔
افراد کی تیاری
افراد کی تیاری یہ ہے کہ منکرات اور انحرافات عقائدی لحاظ سے یا عبادتی لحاظ سے ہوں ان کو اپنے وجود سے دور کیا جائے بدعملی اور انحرافات کے مراکز سے خود کو دور رکھا جائے اپنی اصلاح پر توجہ دی جائے اسلامی تعلیم پر عمل کیا جائے خود کو صالح اور نیک بنایا جائے۔
ادارہ جات کی سطح پر تیاری
ادارہ جات کی بنیاد پر تیاری کی جائے اجتماعی، ثقافتی، تبلیغی، خدماتی میدانوں میں کام کیا جائے اگر ایک آدمی امام مہدی علیہ السلام کے لئے تیاری کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے ایسے ادارہ جات بنانے ہوں گے کہ جن کے ذریعہ معاشرہ کے اندر جو بگاڑہے، خرابیاں ہیں، ان کا خاتمہ کیا جائے، اجتماعی مفاسد اور منکرات کے خاتمہ کے لئے کام کیا جائے، افراد کے درمیان پیار ، محبت کی فضاءقائم کی جائے، ہر وہ عمل جو معروف کے عنوان میں درج ہوتا ہے اسے انجام دیا جائے معاشرہ کے کمزور طبقات کے لئے کام کیا جائے، فکری انحطاط کو دور کیا جائے۔
اگر آپ نے کوئی تربیتی ادارہ اس کے لئے بنایا ہے تو ان میں بچوں کی صحیح اسلامی تربتیت پر خصوصی توجہ دی جائے انہیں ایسے منکرات سے بچایا جائے جو ان کی روحانی اور معنوی حالت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جیسے حرام غذاکھانے سے روکاجائے، نجس غذا، نجس پانی پینے سے روکا جائے۔
اسی طرح بچے کو اسلامی آداب سکھائے جائیں اور ایسے کام اس کے ذمہ لگائے جائیں جس سے وہ شجاع بنے، بااخلاق بنے، بردبار بنے، سخی بنے،سنجیدہ بنے۔
اسی طرح ماحول اور خاندان کے اندر کام کرنے بارے ہے، اس کی کوشش ہو کہ خاندانی روابط کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں استوار کرے، خاندان پر بوجھ نہ بنے، ماحول کو آلودہ کرنے والی عادات سے بچے جیسے سگریٹ نوشی، ایسے کھانوں سے پرہیز جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوں ، زراعت پر زور دے، شجرکاری مہم میں حصہ لے ہر وہ کام کرے جس سے فضاءاور ماحول سے آلودگی کا خاتمہ ہو، یہ ایسا امر ہے جو ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل میں مددگار ہوگا انسان خود کو ایسے کاموں کے لئے فارغ پائے گا اور ماحول کو نقصان بھی نہ دے گا۔
اجتماعی اور اخلاقی ادارہ جات اور تنظیموں کے لئے ایسے امور کی انجام دہی بارے زیادہ تاکید ہے اس پر لازم ہے کہ ایسے عمل سے روکے جو اخلاقی مفاسد کو وجود میں لانے کا سبب ہیں جیسے چوری، زنا، جنسی بے راہ روی، مردوزن کا اختلاط، رشوت، فحاشی، ان کے خاتمہ کے لئے ایسے پروگرام بنائے جائیں جس سے بے راہ روی انحرافی رجحانات کا خاتمہ ہو۔فکری اور عملی طور پر پاکدامنی، شرافت، شرعی طریقہ پرجنسی روابط استوار کرنے اور گھرانے کی اسلامی اصولوں پر تشکیل جیسے امور پر زور دیا جائے اور اس کے لئے اجتماعی انداز سے کام کیاجائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اجتماعی اداروں، دینی بنیادوں پر قائم انجمنوں، فلاحی ٹرسٹوں، رفاہی اداروں، تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ وہ اپنے عمل میں اپنے پروگراموں میںبامقصد ہوں، ان کی ساری سرگرمیوں کا محور اور مقصد ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ہو، فرد کی سطح پر اور اجتماع اور سوسائٹی کی سطح پر، اگر ایک ادارہ اجتماعی وضع اور حالات کو پر سکون بنانے، مفیدقراردینے،گھرانوں، خاندانوں، یا افراد کے اندر کردار سازی کے عمل میں کامیابی حاصل کرلے تو گویا ایسے اداروں نے اسلامی ماحول بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور یہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےلئے مقدمات فراہم کرنے اور حالات بنانے میں اپنی ذمہ داری کو نبھاتا ہے(یہ انتہائی اہم ہے اسی ضمن میں اسلامی تعلیمات کےلئے دینی مدارس کا قیام، مستند کتابوں، ماہنامہ، ہفت روزوں کی اشاعت، راہنمائی کےلئے مراکز، جوانوں کی تربیت کے لئے ورزش گاہیں، تعلیم یافتہ طبقہ تیار کرنے اور جاہلیت کے خاتمہ کے لئے سکولوں و کالجوں، یونیورسٹیوں کا قیام، اخلاقی تربیت کےلئے دینی تربیت کے مراکز عبادت کےلئے مساجد، امام بارگاہوں کی تعمیر، دینی احکام کی تعلیم کےلئے مبلغین اور مبلغات کی تربیت، ہنرمند بنانے کے لئے فنی مراکز، معاشی ترقی کےلئے تجارتی مراکز، اقتصادی منصوبہ جات، سیاسی شعور اجاگر کرنے کےلئے لٹریچر، خصوصی لیکچروں کا اہتمام، سیاسی عمل کےلئے سیاسی جماعت کی تشکیل غرض ایک الٰہی، صالح، ترقی یافتہ، پیارومحبت پر مبنی، تعلیم یافتہ، تہذیب یافتہ، معاشرہ تشکیل دینے کےلئے اور وہ بھی الٰہی نظریہ کی بنیاد پر عصری تقاضوں کو سامنے رکھ کر جو کام اور جو عمل ضروری ہے اسے انجام دینا ہوگااور ایسا کرنا حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےلئے حالات کو سازگار بنانا ہے اور ایسے عمل انجام دینے والے امام زمانہ علیہ السلام کے ناصران کہلائیں گے اور انکے معاونین سے شمار ہوں گے اور ایسے افراد ہی حقیقی منتظرین ہیں، کیونکہ انتظار جو سب سے افضل عبادت ہے، اللہ کے قرب کا وسیلہ ہے، امام مہدی علیہ السلام سے تعلق کا ذریعہ ہے اور کثیر ثواب والا عمل ہے، تو اس معنی میں یہ ہے کہ خود کو امام زمانہ (عج) کےلئے تیارکرنا تو یہ تیاری دو طرح کی ہے۔
انفرادی اور شخصی تیاری
اس میں انسان کو اسلامی احکام سیکھناہوں گے، قرآن پڑھناہوگا،اپنے اخلاق پر توجہ دینا ہوگی، خود کو اسلامی احکام کا پابند بنانا ہوگا، یہ خودسازی کی منزل ہے ، اسلام جس طرح کا انسان چاہتا ہے ویسا بننا ہوگا، واجبات ادا کرنا، محرمات سے بچنا۔
اجتماعی اور معاشرتی سطح پر
اس میں اجتماع سے متعلق معاشرہ اور سوسائٹی کے حوالے سے جتنے بھی کام ہیں وہ سب شامل ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے صالح معاشرہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کام کرنا....ازمترجم)
حکومتوں کی سطح پر تیاری
یہ تیاری انتہائی اہم ہے، اس کا اثر دوسرے کاموں سے زیادہ ہے کیونکہ حکومتوں کے پاس مادی اور معنوی صلاحیات اور اختیارات وقدرات زیادہ ہوتی ہیں ان اختیارات کے استعمال سے وہ ان تمام اہداف کو پورا کرتے ہیں جن کا ہم نے اجتماعی تیاری میں اشارہ کیا ہے یہ اختیارات ، ادارہ جات، انجمنوں اور تنظیموں کے پاس موجود نہیں ہوتے جو کچھ ہم نے تعلیمی، ثقافتی، تبلیغی، خدماتی ،رفاہی ادارہ جات کے لئے مثالیں دی ہیں اور ان کے کاموں کو بیان کیا ہے تو حکومتی سطح پر ان سب امور کو منظم انداز سے انجام دیا جا سکتا ہے اور اس میں نتائج کا حصول بھی یقینی ہوگا بلکہ حکومت ان ادارہ جات کے لئے میدان فراہم کرتی ہے اور ان کے عمل کو تقویت دیتی ہے اور اس کی کامیابیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتی ہے، کیونکہ حکومتیں ایسے قوانین وضع کر سکتی ہیں جو اخلاق سدھارنے اوراجتماعی بگاڑ سے بچنے اور تربیتی امور کو منظم انداز سے انجام دینے میں مددگار ہوتے ہیں ان قوانین کے ذریعہ منکرات فحاشی،مفاسد اور آوارہ گردی کا خاتمہ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی امربالمعروف انجام پاتا ہے واجبات کی ادائیگی پرزور دیا جاتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
حکومتوں میں ہی عسکری تربیت ہو سکتی ہے کیونکہ حکومتیں فوج کوتربیت دیں گے، اسلحہ تیار کریں گی، اسلحہ سازی کے لئے ضروری اقدامات کریں گی، اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے اگر ایسی حکومت موجود ہو جو اسلامی اور قرآنی تعلیمات کی پابند ہو اور نبی اکرم کی سیرت اخلاقی اور سنت کو حکومتی اور انفرادی سطح پر لاگو کر دے گی تو ایسی حکومت اجتماعی اور اخلاقی قوانین کو عظمت اورقدر دے دے گی اور اس کے بہت ہی زیادہ اثرات ہوں گے یہ ایسا کام ہے جسے افراد اور پرائیویٹ ادارے، تنظیمات اور انجمنیں انجام نہیں دے سکتیں ایسی حکومت ماحول بنائے گی، حالات سازگار کرے گی، امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے لئے جورکاوٹیں ہیں انہیں دور کرے گی اور امام مہدی علیہ السلام کے لئے فورس اور فوج کو تربیت دے گی ۔
حضرت امام زمانہ(عج) کی حکومت کی تیاری میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ عالمی سطح پر اخلاقی اور اجتماعی فساد ہے، دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے، یہ فحاشی امیر ممالک سے غریب ملک میں داخل ہو چکی ہے، پوری دنیا کے اکثر گھروں پر اخلاقی فساد ٹیلی وژن، ریڈیو، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ویب سائیٹس کے ذریعہ پہنچ چکا ہے اس طرح پورے عالم میں اس وقت بڑی تیزی سے فساد پھیل گیا ہے فحاشی کے مناظر عام ہو چکے ہیں جو ایک فرد پر بھی اسی طرح اثر انداز ہیں جس طرح ایک سوسائٹی اور اجتماع پر ہے ۔ اس حالت سے تہذیبی انحطاط کو جنم دیا ہے، اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں، انسان کی انسانیت اور صالح معاشرہ کا وجود نا پید ہوتا جا رہا ہے اس کے لئے حکومتوں کو منصوبہ بندی کرنی ہو گی جو اسلامی ممالک کے حکمران ہیں ان کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ عالمی سطح پر اخلاقی فساد کا مقابلہ کریں اور اسلام کے اعلیٰ اخلاق کو پورے عالم کے لئے معاشرے میں متعارف کرائیں اور ان کے لئے متبادل طریقے پیش کریں اس عمل سے وہ اس الٰہی فریضہ کو ادا کریں گے جو ان کی گردن پر ہے کہ پورے عالم میں امن کے قیام اور عدالت الٰہی کے نفاذ اور معاشی بحران کے خاتمہ اور اجتماعی اور انفرادی خوشحالی کے لئے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے حالات سازگار کئے جائیں اور ضروری مقدمات فراہم کیے جائیں اس ذمہ داری کوایک فرد ادا نہیں کرسکتا۔اسلام کا اپنا نظام ہے اپنا طریقہ کار ہے، اس پر عمل کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور اس میں مسلمان حکمرانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری بنتی ہے ۔
تیاری
اس بات کے بیان کر دینے کے بعد کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے فکری، عملی، شخصی، اجتماعی، معاشرتی طور پر افراد کی سطح اور حکومتی سطح پر نجی اداروں کی سطح پر کس طرح کرنا اور کیا کرنا ہے ہم نے اس بارے امام مہدی علیہ السلام کے لئے تیاری کرنے والی جماعتوں اور پرچموں اور افراد کا بھی روایات کی روشنی میں ذکر کر دیا ہے اب یہ مرحلہ آن پہنچا ہے کہ ہم کس طرح تیاری کریں اور اس تیاری کی انواع و اقسام کیا ہیں اور اس کی کیفیت کیا ہوگی۔
تیاری کا ثواب
علی بن ابراہیم القمی نے اپنی سند سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے صحیح روایت اس آیت سورہ آل عمران آیت ۰۰۲ کے ضمن میں بیان کیا ہے کہ ”اصبرو“تم سب صبرکرو، علی المصائب، مصائب پر، صابروا علی الفرائض، فرائض کی ادائیگی پر قائم رہو، رابطوالائمة، آئمہ سے رابطہ میں رہو۔
البرھان اور دوسری تفاسیر میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ہے ”یا ایھاالذین امنوا اصبروا وصابروا ورابطوا“ تم فرائض ادا کرنے پر جو تکالیف کا سامنا کرو تو اس پر صبرکرو، اپنے دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ جاو اور سختیوں کو برداشت کرو اور اپنے امام منتظر سے رابط میں رہو۔(تفسیر القمی ج ۱ ص ۸۱۱ ۔ البرھان ج ۱ ج ۱۴۳۴)
روضة الکافی کتاب الدواجن میں ابن ابی الطیفور المطیب سے روایت ہے :
امام ابوالحسن علیہ السلام: تم کس چیز پر سواری کرتے ہو؟
ابن ابی الطیفور: گدھے پر
امام علیہ السلام: کتنے میں خرید کیا ہے؟
ابن ابی الطیفور:تیرہ دینار میں۔
امام علیہ السلام: بتحقیق یہ اسراف ہے توتیرہ دینار میں گدھا خرید کرتا ہے اور خچر کو چھوڑ دیتاہے۔
راوی: میرے سردار! خچرکا خرچہ گدھے کے خرچہ سے زیادہ ہے۔
امام علیہ السلام:جو ذات گدھے کا خرچہ پورا کردیتی ہے وہ ذات خچر کا خرچہ بھی پورا کر دے گی کیا تم اس بات کو نہیں جانتے ہو کہ جو شخص جانور کو اس نیت سے باندھے اور اپنے ہاں رکھے کہ اس کے ذریعہ وہ ہمارے امر کو انجام دے گا اور ہمارے دشمن کو اس کے ذریعہ ناراض کرے گا تو وہ ہماری طرف منسوب ہو جاتا ہے اور اس کا رزق فراوانی سے لے آتا ہے، اس کے سینہ کو کشادہ کردیتا ہے اور وہ شخص اپنی امیدکوپالیتاہے۔
تیاری میں عمومیت
ہم نے پہلے بیان کر دیا ہے کہ مہدویت کا نظریہ، ایک نجات دھندہ کا تصور آخر زمان کے لئے کسی خاص مذہب کا نہیں اور نہ ہی کسی خاص فرقہ کا ہے بلکہ کسی دین سے بھی مخصوص نہیں بلکہ سب کا اس پر ایمان ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ایک شخص خروج کرے گا جو انسانیت کی تمنا اور آرزو پر مبنی حقیقی عدالت کا نفاذ کرے گا، عدلیہ کو بالا دستی ہو گی، ظلم کا خاتمہ ہوگا تو وہی نجات دہندہ ہو گا وہ اس آرزو کوپورا کرے گا یہ آرزو اور طلب دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اس وقت عالمی سطح پر اس تصور نے مختلف شکلیں اختیار کر لی ہیں بنابرایں جیسا کہ مثل مشہور ہے جس کا ریوڑ ہے تو خرچہ بھی اس کا ہے، تمہید اور تیاری اپنی تمام انواع اور اقسام سمیت اور متفرق شکلوں اور صورتوں میں ضروری ہے کہ تمام فرقوں، تمام مذاہب اور تمام ادیان جو اس پر ایمان رکھتے ہیں میں اس کے لئے تیاری اور آمادگی پیداکی جائے۔
ہم اس نجات دہندہ کی تیاری کے لئے اور اس کی آمد کے واسطے ماحول بنانے اور حالات کو سازگار کرنے کے لئے جو کچھ پیش کرتے ہیں تو اس میں ہمارے مخاطب تمام وہ گروہ، جماعتیں، فرقے، مذاہب، ادیان ہیں جو ایک نجات دہندہ کی انتظار میں ہیں جس نے انسان کی اس تمنا کو پورا کر دینا ہے کہ پورے عالم میں عدل کی حکومت ہو، عدلیہ بالادست ہو، امت قائم ہو، ظلم ختم ہو خاص کر وہ جن پر بہت زیادہ ظلم ہو رہا ہے جہاں پر ستم گر زیادہ طاقت میں ہیں تو وہ اس بیان سے زیادہ مراد ہیں کہ وہ انسانی تعلیمات کی پابندی کریں کہ جن انسانی تعلیمات سے کوئی فرد جو ہے خالی نہیں انسانی تعلیمات کہتی ہیں کہ ہر حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیئے اور انسان کو انفرادی اور اجتماعی خرابیوں سے پاک ہونا چاہیئے۔ انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح میں جو خرابیاں ہیں، معاشی بگاڑ ہے، اخلاقی بے راہ روی ہے، ہر عقلمند اس کا خاتمہ چاہتا ہے اور ہر انسان عدلیہ کی بالادستی امن کے قیام اور دولت کی عادلانہ تقسیم، طبقاتی رجحانات کا خاتمہ ایک متوازن ماحول کا خواہاں ہے اس کے لئے سب سے بہترین عبادت یہی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے خاص کرمحروم طبقات کے لئے یہ پیغام ہے کہ:
”( اِنَّ اللّٰهَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِهِم ) “(الرعد آیت ۱۱)
”بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جب تک خود اس قوم کے لوگ اپنی حالت کو خود تبدیل نہ کریں“۔
فساد کے خاتمہ کےلئے سب سے پہلے اپنی ذات سے پھر اپنے گھر سے ،پھر اپنے خاندان سے، پھر اپنے قبیلہ سے اور پھر اپنے ملک سے آغاز کرنا ہوگا اور ایسا کرنا ہی خود کو اس عالمی نجات دہندہ کی مدد کےلئے آمادہ اور تیار کرنا ہے پس یہ خطاب عام ہے جو بھی انسان زندگی کو اس کی حقیقت اور فطرت کے عین مطابق دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں مفاسد اور فتن کے تمام مظاہر کو ہر سطح پر ختم کرنے کےلئے جدوجہد کرنا ہو گی اور اپنی ذات سے ان کا آغاز کرنا ہوگا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانہ میں تبلیغ کا انداز ایک نئی صورت اختیار کرے اس کی سابقہ شکل بدلنا ہوگی خاص کر اس شخصیت کے بارے تبلیغی عمل جس سے پورے عالم کا مستقبل وابستہ ہے، جس نے معاشرہ اجتماع، سوسائٹی، نفسیاتی اور انفرادی، سماجی، آلام و مصائب کو آ کر کم کرنا ہے، اس میں ایک جگہ اور دوسری جگہ میں فرق نہیں ایک قوم اور دوسری قوم میں فرق نہیں ایک دین اور دوسرے دین میں فرق نہیں، ایک ملک اور دوسرے ملک میں فرق نہیں، ایک خطبہ اور دوسرے خطبہ میں فرق نہیں یہ عالمی معاملہ ہے اور یہ سب کے لئے ہے، پھر یہ آمادگی اس فرق میں نہیں ہے کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کی ذات پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے، اس شخصیت سے واقف ہیں یا نہیں جو اس کے ولادت کے قائل ہیں یا وہ جو اس کی ولادت کے منتظر ہیں کیونکہ اس وقت ہم آخری زمانہ میں ہیں، اسی زمانہ میں منجی بشریت کا ظہور متوقع ہے، کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے ابھی سے تیاری کرنا واجب ہوگا ان پر بھی تیاری واجب ہے جو آپ کی ولادت کے قائل ہیں اور ان کے وجود کو سابقہ زمانہ سے نہیں سمجھتے۔
تیاری کی شرائط
تیاری کی جتنی اقسام ہیں جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا، اسے ایک دائرہ میں اور کچھ شرائط کے تحت ہونا ہوگا اس کے لئے ضوابط اور قوانین ہیں جو مل کر مطلوبہ ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان امور میں اشارہ ممنوع ہے کیونکہ ایسی حکومت کے قیام کی بات کر رہے ہیں۔جس میں ظلم نہیں ہو گا جس میں رشوت نہیں ملے گی، جس میں دھوکہ نہیں ہوگا، جس میں بغض، کینہ،حسد نہیں ہوگا۔
ضروری ہے کہ جو تیاری کے مرحلہ سے گزرنا چاہتا ہے وہ ایسے صفات سے خالی ہو کہ تیاری کے مرحلہ میں یا پروگراموں کی ترتیب دینے میں کہیں بھی کوئی خطا ہو گئی تو وہ اس حکومت کے قیام پر اثر انداز ہو گی یا اس کے قیام کو دور کر دے گی جب کہ بعض خیال کر رہے ہوں گے کہ اس کی تشکیل قریب ہے۔
یہ معلوم نہیں کہ آدھے راستہ میں پہنچ کر آغاز میں جن غلطیوں کا ارتکاب کیا جا چکا ہو ان کا ازالہ کرنا ممکن ہوگا؟نتیجہ یہ ہوا کہ جو افراد، شخصیات، ادارہ جات ، حکومتیں مختلف میدانوں میں تیاری کے مراحل سے گزر رہے ہیں وہ کسی بھی قانون کو وضع کرنے یا کسی حکم کو لاگو کرنے یا کسی قسم کی ہدایت دینے سے پہلے اچھی طرح اس کے بارے جائزہ لے لیں، اس کا مطالعہ کر لیں اور اس کی جو شرائط ہیں انہیں دیکھ لیں تاکہ بعد کے نقصان سے بچا جا سکے تیاری کے مراحل کی شرائط حسب ذیل ہیں۔
پہلی شرط:۔ عزم اور اخلاص
عزم، پختہ ارادہ پہلا قدم ہے ۔ ہر عمل کے لئے یہ امر بڑا واضح ہے جب انسان یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ اس نے عدالت اور پاکیزگی پر مبنی حکومت کی طرف بڑھنا ہے تو اسے یہ معلوم ہو کہ یہ ہدف بہت ہی عمدہ اور شریف ہدف ہے تو اس مقصد کے حصول میں اخلاص ضروری ہے۔ لیکن ہر قسم کی دورنگی سے پاک ہو یہ کہ انسان نیت کرے جس وقت وہ مختلف امور سے کسی بھی امر کی تیاری کے لئے یا کریمہ حکومت، عادلانہ حکومت کے حالات کے لئے کسی بھی جماعت کے لئے تیاری کی صورت میں اسے تقرب الی اللہ کی نیت کرے تاکہ حق کا کلمہ بلند ہو اور باطل کا کلمہ ختم ہو جائے اور باطل سے متعلقات کا خاتمہ، یعنی الٰہی عدالت کے نفاذ کے لئے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے خود کو آمادہ کرے اور قربت الی اللہ کی نیت کرے، اس میں ریائ، دکھاوا نہ ہو، کسی ذاتی مفاد کے لئے نہ ہو، اس مرحلہ پر ریاءکاری درست نہیں کیونکہ یہ بات بہت ہی جلدی کھل جائے گی کہ حضرت امام زمانہ(عج)کی حکومت کے عنوان سے جس تیاری میں لگا ہوا ہے یہ دکھاوا ہے ، ریاءکاری ہے اس میں رضائے الٰہی نہیں ہے، تقرب آل محمد نہیں ہے، پس جو شخص نیت میں اخلاص پیدا نہیں کرسکتا تو اسے چاہیے کہ پیچھے ہٹ جائے اور پہلے اپنی ذات کو ریاءکاری سے پاک کرے۔
دوسری شرط:۔ عمل میں تسلسل
ایک مشکل یہ ہے کہ عمل اور ہدف کے لئے جدوجہد میں ابتداءہی میں رک جاتے ہیں اور عمل کو جاری نہیں رکھتے یا کسی حد تک عمل کو جاری رکھتا ہے لیکن کچھ عرصہ بعد جب اس منصوبہ کا انچارج بدل جاتا ہے یا وہ انچارج مر جائے یا کوئی مخصوص تبدیلی رونما ہو جائے تو کچھ اس سلسلہ کو وہیں چھوڑ کر اپنے لئے الگ راستہ اپنا لیتے ہیں، شروع کیے ہوئے عمل کو ترک کردیا جاتا ہے اس کی جگہ دوسرے منصوبہ کا آغاز کر دیا جاتا ہے اس بارے پہلے والے تجربات اور اس بارے حاصل شدہ معلومات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے یہی حالت اس کے لئے بھی جو بعد میں آتا ہے جس کی وجہ سے نتیجہ اور ہدف کا حصول مو خر ہو جاتا ہے۔
پس جو شخص حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے تیاری کے مرحلہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ اداروں کی اہمیت کو قبول کرے ، افراد اور شخصیات سے خود کو وابستہ نہ کرے اس کے لئے وہ ہدف معین کرے اور سب مل کر اس ہدف کے لئے کام کریں اس میں فرق نہیں کہ وہ کام موجودہ نسل کے ذریعہ پورا ہو یا بعد والی نسل اسے پورا کرے، موجودہ افراد اس میں کامیاب ہوںگے یا بعد والے شخصیت پرستی سے اسے باہر آنا ہوگا، ہدف کو اہمیت دینا ہوگی۔
یہ اس صورت میں ہے جب تیاری اس کی اجتماعی انداز میں علمی لحاظ سے اور سیاسی عنوان سے ہواسی طرح ہے اگر عبادتی عمل ہو کیونکہ ایک طے شدہ عمل میں تسلسل عبادت گذار کے روح پر مناسب اثرات چھوڑنا ہے اور ہدف الٰہی تک پہنچنے میں اس مخصوص عبادتی عمل تک پہنچنے کے لئے جلد کامیابی حاصل کر سکتا ہے، خلاصہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے تیاری کے عمل میں تسلسل ہونا چاہیئے۔
تیسری شرط :۔ کسی مناسب شخص کا بطور راہنما انتخاب
ترقی کے راستے پر چلنے اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے، عمومی ہدایت کے واسطے لائق اور قابل افراد کا انتخاب کرنا ہوگا اور ان لائق افراد کو دوسروں پر ترجیح دینا ہوگی اداروں کی تقویت کے لئے، تنظیمات کی کامیابی کے واسطے اور کسی بھی منصوبہ کی کامیابی کے لئے لائق اور قابل افراد کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے طالوت کے قصہ میں بیان فرمایا ہے:
ان کے لئے ان کے نبی نے فرمایا کہ بتحقیق تمہارے لئے طالوت کورہبرکمانڈربنایا ہے انہوں نے جواب میں کہا اس کے لئے ہمارے اوپر اختیار اور اقتدار کیسے ہوگا ہم اس اقتدار کے اس سے زیادہ حقدار ہیں اس کے پاس تو اتنا مال اور ثروت نہیں ہے۔ نبی نے بیان کی اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے اوپر چن لیا ہے اور اسے علم دیا ہے، جسمانی طور پر مضبوط بنایا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار دیتاہے اور اللہ تعالیٰ تو واسع اور علیم ہے۔(سورہ بقرہ آیت ۶۴۲،۷۴۲)
اللہ تعالیٰ نے طالوت کو مقدم کیا باوجودیکہ وہ مالی طور پر کمزور تھے، جس وجہ سے عوام میں ان کا کوئی مقام نہ تھا جو مالداروں کا ہوتا ہے، لیکن وہ قابل شخصیت تھے علمی لحاظ سے، عقل اور شعور کے اعتبار سے، پس جو شخص اپنے ہدف کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ایسے افراد کو آگے کرے جو علمی، سیاسی، سماجی، اجتماعی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوں کسی کی مالی پوزیشن یا کسی اور وجہ سے معاشرہ میں نام اور مقام کو سامنے نہ رکھا جائے اور انسان یہ بھی نہ سوچے کہ سب کام خود کرے گا جو شخص حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت کے لئے حالات سازگار بنانا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ باصلاحیت افراد کو سامنے لائے اور باصلاحیت افراد کے ذریعہ اس بڑے ہدف کے حصول کے واسطے کام کرے اور اس میں اگر کوئی ایک فرد لائق اور قابل مل جائے تو اسے بعنوان راہنما لے لیں اور اپنے ہدف کے لئے اس کی ہدایات کے مطابق کام شروع کر دیں جب ہدف الٰہی ہے اور امام زمانہ (عج) کی حکومت کے قیام کے لئے ہے تو باصلاحیت افراد کو مقدم کیا جائے اور کم صلاحیت والے افراد خود ہی پیچھے ہوجائیں جس شخص میں اس بڑی ذمہ داری کو نبھانے کی قابلیت نہیں ہے تو وہ اس کام کو دوسرے کے حوالے کر دے کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خاطر قائم تحریک کوئی تجارتی عمل نہیں ہے اور نہ ہی مال وصول کرنے کی کمیٹی ہے بلکہ یہ ایک الٰہی تحریک ہے اسے بہت سارے مشکل اور کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا،پیچیدہ حالات اور واقعات سے گزرنا ہو گا ، پوری دقت سے اور کم ترین نقصانات پر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔
شیخ الطوسیؒ سے حدیث روایت ہوئی ہے انہوں نے اپنی سند سے اس حدیث کو ابوبصیر سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے:
امام جعفر صادق علیہ السلام: قائم علیہ السلام کے خروج کے لئے تم جلد بازی کیوں کر رہے ہو؟ خدا کی قسم اس کا لباس موٹا، چھوٹا ہوگا اس کا کھانا چھلکے واے جو سے بنا ہو گا اور وہ نہیں آئیں گے مگر تلوار کے ہمراہ اور تلوار کے سایہ تلے موت ہو گی۔
(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۴۵۳ باب ۷۲ ذیل ۵۱۱)
چوتھی شرط:۔ خفیہ کاری اور رازداری
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اپنی حاجات کے پورا ہونے کےلئے خفیہ کاری، بات کو پوشیدہ رکھنے کے وسیلہ سے مدد حاصل کرو۔(الرواشح السماویہ ص ۳۱۳)
امیرالمومنین علیہ السلام:عقل مند کا سینہ راز کا صندوق ہوتاہے۔(نہج البلاغہ ج ۴ فرمان ۴)
امیرالمومنین علیہ السلام: جس نے اپنے راز کو چھپائے رکھا تو اختیار اس کے اپنے ہاتھ میں ہوگا۔(نہج البلاغہ فرمان ۱۴)
امیرالمومنین علیہ السلام: اپنے امور اور معاملات کے لئے پوشیدہ کاری اور رازداری سے مدد لو کیونکہ جس کے پاس کوئی نعمت ہوتی ہے تو اسی سے حسد کیا جاتا ہے۔
(تحف العقول ص ۸۴)
اہل البیت علیہم السلام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم جو کام انجام دیں اس میں رازداری کا لحاظ رکھیں اسے مکمل ہونے سے پہلے تشہیر نہ کریں اسے اس کے وقت سے پہلے عام نہ کریں تاکہ حسد کاشکار نہ ہو جائیں، مقابلہ بازی نہ شروع ہو جائے، سازشیں کامیاب نہ ہو جائیں ، انحراف نہ آجائے، یہ بات تو عام کاموں، منصوبہ جات اور پروگرام سے متعلق ہے۔
مولا علی علیہ السلام فرمان یہ بھی ہے کہ کسی منصوبہ کو اس کے مستحکم ہونے سے پہلے کھول دینا اس منصوبہ کو ناکام بنانے اور اسے فاسد کرنے کا سبب بنے گا لیکن وہ پروگرام اور منصوبہ جات جن کا تعلق حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی اسلامی الٰہی حکومت بارے ہیں تو اس کے لئے رازداری زیادہ ضروری ہے اس کے دشمن تاک میں بیٹھے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ چوکنے ہیں وہ بھی اس بات کا تعین رکھتے ہیں اس دنیا کی چکی اسی طرح نہیں چلے گی اس کا اختتام ایک دن ہونا ہے اور آخری زمانہ میں عدل اور ظلم کے درمیاں فیصلہ کن معرکہ لڑاجانا ہے اور بعض نے اس آخری جنگ کو”ہرمجدون“ کی جنگ قرار دیا ہے جسے بڑی عالمی جنگ اور ملحمہ گیری کا نام بھی دیا گیا ہے اور ہمارا دشمن اس جنگ کی تیاری میں ہے اس جنگ کا میدان مقبوضہ فلسطین کی سرزمین ہے جس پر اسرائیل کی حکمرانی ہے۔(دیکھیں ہرمجدون کی لڑائی، جمال الدین احمدامین مصری اردوترجمہ)
ادارہ جات، شخصیات اور افراد پر سب سے پہلی بات یہ لازم ہے کہ وہ خفیہ کاری سے تیاری کے بارے ایسے قوانین وضع کر دیں تو اس تیاری کے عمل کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور سارا عمل رازداری سے انجام دیجئے یعنی عمل زیادہ اور ڈھنڈورا کم اور پھر ان کی طرف سے عملی تعاون بھی ہو، یعنی جتنے ادارے، افراد اس مقصد کے لئے کام کر رہے ہوں وہ خود عملی طور پر ان امور کی پابندی کریں کہ انہوں نے سب کاموں کو پوری رازداری کو دقت سے انجام دیناہے۔
پانچویں شرط:۔ عمل میں پختگی
یہ شرط تیسری شرط سے مختلف ہے وہ شرط لیڈر، لائق افراد ، عملی بنیادوں پر پروگراموں کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد سے لائق افراد کا انتخاب تھا اس شرط سے یہ مراد ہے کہ ان باصلاحیت افراد اور لیڈر سے جن افراد نے استفادہ کرنا ہے یعنی جو متعلمین ہیں، ان کا باصلاحیت افراد سے جوہدایات لینے والے افراد ہیں جو اس وقت سیکھنے کے مرحلہ میں ہیں اور بعد میں وہ بھی قیادت کے مرحلہ میں آملیں گے آج کے متعلمین کل کے قائدین
عمل میں پختگی کا معنی یہ ہے کہ جو نظریہ پیش کیا جائے جو پروگرام دیا جائے اس میں پوری دقت کی جائے اس میں انسان کی یہ کوشش نہ ہو کہ نچلی سطح پر پاسنگ مارکس لے لے بلکہ اعلیٰ درجہ کے حصول کی کوشش ہو، سند لینے کی بجائے اپنی قابلیت بنانے پر توجہ دی جائے، بعض علوم اور فنون میں طلباءغیر معمولی نمبروں پر اکتفاءکر لیتے ہیں ،بعض تحقیقی مواد پر درمیانی پوزیشن لینے پر اکتفاءکی جاتی ہے لیکن جس کا تعلق عادلانہ حکومت کے قیام سے ہے جس سے عدل کا خواب پورا ہوگا ایسا امرجس میں ....اللہ تعالیٰ سے معاملہ پیدا ہو جاتا ہے ایک ایسے امر کے بارے جوسخت ترین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مو خر کر رکھا ہے آخری زمانہ کے لئے جس نے امام منتظر مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں پورا ہونا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی صداقت پوری ہوگی ”( اِنِّی جَاعِل فِی ال اَر ضِ خَلِی فَة ) “ زمین کا حاکم خلیفہ بتحقیق بنا رہا ہوں۔(بقرہ ۰۳)
زمانہ کے شروع میں یہ خطاب حضرت آدم علیہ السلام سے تھا مگر اس وقت سے لے کر آج تک روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں آیا جس نے پوری زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت اور حکومت کو قائم کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو یقینی بنایا ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کی نفاذ پوری زمین پر کیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ جو انسان اس حکومت کی تشکیل میں شراکت دار بننا چاہتا ہے تو اسے ظاہری طور پر معمولی سطح کی سند حاصل نہیں کرنا بلکہ اس پرلازم ہے کہ اپنی پڑھائی پر، بلکہ اپنے پروگراموں کے بارے اپنے تمام کاموں میں جو بھی ہوں پوری دقت سے اور مکمل مضبوطی اور استحکام کے ساتھ محنت کرتے ہوئے اس مسئلہ کے ساتھ جو مناسب ہے ویسے قیام کرے عمل میں پختگی اور دقت پوری توجہ اہم شرط ہے۔
چھٹی شرط:۔ عمل سے پہلے منصوبہ بندی، پلاننگ قبل از وقت
اس امر پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، ماہر افراد کے ذریعہ پلاننگ کرنا ہو گی بغیر منصوبہ بندی کے جو کام کیا جائے گا اس کے لئے بعد میں پشیمان ہونا پڑے گا۔
مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ سال ۰۵۰۲ ءمیں کچھ ممالک اور مناطق پانیوں میں ڈوب جائیں گے جیسے مصر کا اسکندریہ شہر، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بعض ریاستیں، چین کے کچھ علاقے بالکل پانی ان پر چھا جائے گااوریہ سارے شہر پانی کے نیچے چلے جائیں گے کیونکہ سمندروں کا پانی زیادہ ہو جائے گا اور ان شہروں کے اردگرد کے جو حالات ہیں وہ انہیں پانی میں ڈبو دیں گے۔
اس طرح ماحول کی آلودگی کا مسئلہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ماحول اور فضاءکی آلودگی زندگی کے امکانات ختم کر دے گی۔
اگر ۰۵۰۲ میں پیش آنے والے خطرات کا پیشگی انتظام نہ کیا گیا اور یہ حادثہ رونما ہو گیا یا ایسا شروع ہو گیا تو پھر اس حالت میں اس کا حل ممکن نہ ہوگا۔
لیکن اگر اس کا حل ابھی سے تلاش کرنا شروع کر دیا جائے اگرچہ تیس سال پہلے سے ہی اس پر کام شروع کیا جائے تو بہت سارے حادثات اور سانحات سے بچا جا سکے گا حل میں دیر کرنا، یا اس خطرہ کو نظرانداز کر دینا بعض ذاتی مفادات کی وجہ سے تو یہ بہت سارے منصوبہ جات اور اہم پروگراموں کو برباد کر دینے کا سبب ہوگا۔
اس بات کو تمام معاملات میں دیکھنا ہوگا بلکہ اخلاقی امور میں بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا فساد کی بعض اقسام کا مقابلہ کرنے کے لئے اگر شروع میں یا ان کے وقوع سے پہلے سوچ لیا جائے تو پھر ان اخلاقی فسادات سے بچنا ممکن ہو سکتاہے(پاکستان اس وقت دہشت گردی، خودکش حملوں کی زد میں ہے اگر اس فتنہ کے شروع ہونے سے پہلے جس وقت اس کے آثار نمودار ہو رہے تھے اس کے لئے دقیق منصوبہ بندی کر لی جاتی تو آج پاکستانی حکومت، پاکستانی عوام اور پاکستانی فورسز جن مشکلات سے دوچار ہیں یہ صورتحال پیش نہ آتی اب نقصان بھی جانی و مالی بہت زیادہ ہو رہا ہے اور اس کا حل بھی نظر نہیں آ رہا ہے اور اسے سامنے رکھ کر پلاننگ کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے اسی تناظر میں آپ بجلی کے بحران کو دیکھ سکتے ہیں ہمارے ہمسایہ ملک نے دریاوں پر کتنے ڈیم بنا لئے ہیں اور بڑے منصوبہ جات بھی رکھتا ہے جب کہ ہماری پلاننگ اس قدر بھی نہ تھی کہ ہم مستقبل کے خطرات اور اپنی ضروریات کا اندازہ لگا سکتے اسی طرح سرکاری اثاثہ جات کو بیچنے کی بات ہے اس میں بھی بغیر پلاننگ کے کام کیا جا رہا ہے جس کے خطرناک نتائج اب سامنے آ چکے ہیں کوئی ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر بغیر پلاننگ اور منصوبہ بندی سے اپنے مسائل اور مشکلاب پر قابو نہیں پا سکتا اسی طرح باقی امور میں ایک چھوٹے سے گھر کے امور کو چلانے سے شروع کریں اور ایک بڑے ملک کے معاملات کو لیں ایک چھوٹی سے تنظیم سے شروع کریں اور ایک بڑی جماعت کو لیں، ایک چھوٹے سے سکول سے لیں اور یونیورسٹی تک جائیں، چھوٹے سے کاروبار سے بڑی تجارتی مراکز تک ہر جگہ پلاننگ اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور کام سے پہلے منصوبہ بندی اور مکمل جائزہ لے کر منصوبہ بندی کامیابی کی ضمانت ہے....ازمترجم)
اجتماعی معاملات، خاندانی مسائل، ازدواجی زندگی کے حوالے سے اگر آغاز میں منصوبہ بندی موجود ہو تو بہت ساری خرابیوں اور ناکامیوں سے بچا جا سکتا ہے بالکل اسی طرح ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے تمہیدی کاموں میں پہلے سے پلاننگ اور اچھی منصوبہ بندی کرنا ہوگی اگر ہم نے تیاری کے عمل کو دسیوں سال پہلے شروع کیا ہوتا تو وہ اس سے بہتر ہوتا کہ جو آج ہم شروع کر رہے ہیں اور اگر آج ہم کام شروع کر دیں تو یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم اسے کئی سال گزرنے کے بعد شروع کریں دست تنگ ہو رہا ہے فساد عام ہو رہا ہے اور نئے فتنے جنم لے رہے ہیں اور فساد اور بے راہ روی کے مظاہر مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، ان حالات میں منصوبہ بندی ضروری ہے اور اس کام میں جلدی کرنا بھی ضروری ہے، وقت گزر رہا ہے، جو افراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں انہیں منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا چاہیئے اور فساد، ظلم، جبر، استبداد، بدامنی کا خاتمہ کرنے کے لئے تیزی سے مناسب حل پیش کرنا ہوں گے، اس کا توڑ دینا ہوگا اور عملی اقدامات میں تیزی دکھانا ہو گی سست روی سے باہر آنا ہو گا۔ ڈھنگ ٹپاو پالیسیوں سے گریز کرنا ہوگا، باہدف، بامقصد اور لمبی مدت کے لئے اصلاحی پالیسیاں تیارکرنا ہوں گی اور ان پر عمل کرنے کے لئے لیڈر سازی کے واسطے ضروری اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
ساتویں شرط:۔ رقابت
رقابت سے مراد نگرانی اور چیکنگ کا عمل ہے، دفتری انداز سے کام کرنا ہوگا، جو کام شروع کر رکھے ہیں ان پر چیک بھی رکھنا ہوگا کسی بھی عمل، تحریک اور منصوبہ کی کامیابی کے لئے چیک اینڈبیلنس اور نگرانی کا عمل بہت ہی ضروری ہے۔ عملی اقدام کے وقت جو خرابیاں سامنے آئیں یا کام کرنے کے دوران جو انحرافات ہو رہے ہیں ان پر نظر رکھنا ہو گی اور ضروری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ یہ عمل اس لئے ضروری ہے کہ اس کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔جو ابتداءمیں غلطیاں سرزد ہوں ان کا ازالہ کر دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیاں نمودار نہ ہوں۔
متبادل کی تیاری
یہ اس لئے ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ اور وقت معلوم نہیں ہے بلکہ ہم انتظار کر رہے ہیں اسی لئے تو اس حکومت کے قیام کے لئے تیاری ضروری ہے اور یہ تیاری ہر زمانہ کے حالات سے مناسبت رکھتی ہو، کیونکہ اس سے ناواقف ہیں کہ کون سے افراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام میں ان کے کمانڈر ہوں گے اور انہیں قیادتی اور رہبری کا کردار سونپا جائے گا۔
لہٰذا موجودہ قائدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بعد کے لئے قائدین کی تربیت کریں، اپنی جگہ پر نئے افراد کو لانے کے لئے تیاری کے عمل سے گزریں، متبادل افراد کی موجودگی ضروری ہے جو اس کی عدم موجودگی میں ان کی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے ان کی وفات کی صورت میں یا ان کی عدم موجودگی میں قیادت اور رہبری کا خلا پیدا نہ ہو۔ یعنی لیڈرسازی اور لائق اور باصلاحیت افراد کی تیاری کا عمل مسلسل جاری رہے(جس طرح نظام مرجیعتی میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغریٰ میں نئے نائب خاص بننے کے لئے ایک نہیں چند لائق افراد تربیت وارموجود ہوتے تھے اور امام علیہ السلام ان میں سے جو سب سے زیادہ لائق ہوتا اسے یہ منصب دے دیتے اور آخری نائب علی محمد سمری کو منع کر دیا کہ اب غیبت کبریٰ شروع ہو رہی ہے کسی کو متعین نہ کیا جائے بلکہ اب نیا انداز ہو گا اور وہ فقہاءکے ذریعہ اسلام کے احکام سمجھنے ہوں گے اور فقہاءہی مخصوص صفات کے مالک، امام زمانہ (عج) کی عمومی نیابت کا منصب سنبھالیں گے۔
تو اس وقت سے لے کر ہر دور کی مرجعیت اپنے بعد کے لئے ایک نہیں بلکہ سینکڑوں فقھاءاور مجتہدین کی تربیت کر دیتے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک منقطع نہیں ہوا اور مرجعیت کے میدان میں خلاءپیدا نہیں ہوا یہ بھی درحقیقت ایک پہلو سے امام زمانہ (عج) کے قیام کے لئے قیادت فراہم کرنے کا فورم بھی ہے آپ کی حکومت کے قیام کے لئے تیاری کے عمل اس کا خاص خیال رکھنا ہوگا....ازمترجم)
یہ جائز نہیں ہے کہ اس وقت جن کے ہاتھ میں معاملات ہیں، زمام امور ہے وہ اپنے تجربات، اپنی معلومات اپنی نئی ایجادات کو مخفی رکھیں اور اگلی نسل کے لئے اسے منتقل نہ کریں ان افراد کو ہر بات بتانا ہو گی اور انہیں وہ سب کچھ سمجھایا اور بڑھانا ہو جس کی ضرورت ایک قائد ، ایک رہبر کے لئے ضروری ہے علمی ترقی کا عمل جاری رہے، کسی مرحلہ پر جمود نہ آئے۔
اجتہاد میں تطور اور ترقی کے لئے زمان اور مکان کے عنصر کو بڑی اہمیت ہے کیونکہ جگہوں اور وقت کے بدلنے سے تقاضے بدل جاتے ہیں، جو افراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے تیاری کے عمل سے گزر رہے ہیں تو وہ اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے اگلی نسل تک وہ سب کچھ منتقل کرنے کا انتظام کریں جس کی انہیں ضرورت ہو گی۔
تیاری اور آمادگی کی اقسام
عدالت پر مبنی حکومت کے قیام کی علیہ السلام کسی خاص قسم سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ظہور کے زمانہ سے زندگی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تمام میدانوں میں علیہ السلام کرنا ہوگی چاہے وہ عسکری ہوں، ثقافتی ہوں، امنیت کے حوالے سے ہوں، سلامتی کے امور ہوں، امن عامہ کے مسائل ہوں، صحت عامہ کے مسائل ہوں، اقتصادی مسائل ہوں سب میدانوں میں علیہ السلام کرنا ہوگی۔
۱ ۔ عسکری میدانوں میں تیاری
نعمانی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: حضرت قائم علیہ السلام کے ظہور کے لئے تم میں سے ہر ایک کو علیہ السلام ضروری کرنا ہو گی اگرچہ ایک تیر لے کر رکھنے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو اس کی نیت کا علم ہو کہ اس نے یہ ایک تیر اس غرض سے خرید کررکھا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر کو بڑھا دے گا۔(غیبة نعمانی ص ۳۷۱ ، باب ماجاءفی ذکرالشیعہ)
الکافی میں ہے ابوعبداللہ الجعفی سے روایت ہے:
ابوجعفر محمد بن علی علیہ السلام: تمہارے پاس کتنی رباط( گھوڑے کا بند)موجود ہیں؟
راوی: میں نے کہا چالیس
امام علیہ السلام: لیکن ہمارے ساتھ ربط جوڑنے اور ہمارے مرکز سے اپنی رستی باندھنے کے لئے تو ہم پورے دھر کا سلسلہ رکھتے ہیں ہمارے رباط( )تو پورے دھر کے رباط میں جس نے ہماری خاطر ایک چوپائے(سواری) کو باندھ رکھا تو اس کے لئے ا س سواری کا وزن ہوگا اور اس کا وزن بھی اس کے لئے ہوگا جب تک وہ اس کے پاس ہو گا جس شخص نے ہماری نصرت کے لئے اسلحہ باندھ کر رکھا تو اس کے لئے جو کچھ اس کے پاس ہے، اس کا وزن ہوگا تم ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ، چار دفعہ سے گھبراو نہیں ہماری مثال تو بنی اسرائیل کے اس نبی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے اسے وحی کی کہ اپنی قوم کو جنگ کی علیہ السلام کے لئے بلاو تو میں تمہاری مدد کروں گا اس نبی نے پہاڑوں کی چوٹیوں سے اور دوسری جگہوں سے اپنی قوم کو جنگ کی خاطر اکٹھا کیا لیکن انہوں نے نہ تلوار چلائی اور نہ نیزہ پھینکا اور شکست سے دوچار ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اس نبی علیہ السلام کو وحی کی کہ اپنی قوم کو جنگ کے لئے بلاو تو میں تمہاری مدد کروں گا تو اس نے قوم کو بلایا لیکن انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پہلے بلایا اور ہم سے مدد کا وعدہ کیا لیکن ہماری مدد نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی دو ہی راستے ہیں یا جنگ وگرنہ جہنم۔
نبی علیہ السلام: اے رب جنگ کرنا میرے نزدیک آتش جہنم سے زیادہ محبوب ہے۔
نبی علیہ السلام:نبی علیہ السلام نے قوم کو جنگ کے لئے دعوت دی تین سو تیرہ آدمی بدر میں اصحاب کی تعداد کے برابر جمع ہوئے ان کو ساتھ لے کر جنگ کے لئے نبی علیہ السلام نکل کھڑے ہوئے لیکن انہوں نے نہ تلوار چلائی اور نہ ہی نیزہ مارا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فتح دے دی۔(اصول الکافی ص ۱۸۳ ج ۶۷۵)
علامہ مجلسیؒ: امام علیہ السلام نے فرمایا:رباطنا رباط الدھر، ہماری ربط تو دھر کی رباط ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ شیعوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو امام برحق کی اطاعت پر قائم رکھیں اپنی گردنوں کو امام برحق کی اطاعت سے باندھ دیں، امام حق کی انتظار میں رہیں اور ان کی مدد کرنے کے لئے مسلسل علیہ السلام میں رہیں۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ اس کے لئے اس پوری کے وزن برابر ہے اور جتنے دن اس کے پاس ہو گا تو اس کے وزن برابر ہے، تو ان سے مراد یہ ہے کہ اس جانور، سواری یا اسلحہ کا جو وزن ہے اس کے برابر سونا اور چاندی اگر وہ صدقہ اور خیرات کرے تو اس کا جتنا ثواب اسے ملے گا تو ہماری خاطر سواری کو تیار رکھنے والے شخص کے لئے بھی اتنا ثواب ہے اسی طرح جو ہماری خاطر اپنا اسلحہ تیار رکھے گا اس کے لئے اسی طرح کا ثواب ہے، ثواب کو ایک محسوس شئی سے تشبیہ دی گئی ہے)
(اس روایت میں بہت ساری تربیتی باتیں موجود ہیں ایک بات یہ ہے کہ علیہ السلام کے مرحلہ میں فکر مند نہ ہوں کہ دیر کیوں ہو رہی ہے؟ہر دور میں رہنے والے شیعہ پر ہے کہ وہ اپنے امام علیہ السلام کی نصرت کے لئے خود کو تیار رکھے، اب عملی طور پر میدان میں اس سے یہ کام لیا جانا ہے یا نہیں تو وہ اس کی پرواہ نہ کرے اسے ثواب ملتا رہے گا۔
بعض روایات میں ہے کہ جو اس نیت سے تیار رہے گا تو اگر اسے امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے موت آ گئی تو امام علیہ السلام اسے قبر سے اٹھائیں گے اور وہ امام علیہ السلام کی فوج میں شامل ہو کر جہاد میں حصہ لے گا، اسی حوالے سے ورزش کرنا، اپنی صحت کا خیال رکھنا، خود کو بیماریوں سے بچا کر رکھنا اور ہر قسم کی تربیت لینا، عسکری تیاری میں رہنا، البتہ علیہ السلام کا حکم ہے نہ کہ بے گناہوں کے خلاف چڑھائی کرنے کا یا ازخود میدان جنگ میں کود جانے کا یا ماحول کو خراب کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ انسان شخصی طور پر خود کو امام علیہ السلام کی نصرت کے لئے ہر لحاظ سے اور اسلحہ کے اعتبار سے تیار رکھے تاکہ امام علیہ السلام کے ظہور کے وقت امام علیہ السلام کا ساتھ دے سکے، ضروری نہیں کہ اس وقت اس کے اس اسلحہ کی ضرورت ہو جیسا کہ نبی علیہ السلام کے ساتھ جو لوگ آئے اپنا اسلحہ لے کر آئے لیکن انہیں اسلحہ استعمال کئے بغیر فتح مل گئی تو ساری بات نیت کی ہے، نیت کے مطابق اجروثواب ملے گا....ازمترجم)
مسلح ہونا، اس کا ثواب ، اس کی اہمیت اور ضرورت
روایات میں ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا عسکری تیاری کے سلسلہ میں ایک قسم کو بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے خود کو مسلح رکھنا(جہاں پر بغیر لائسنس کے اسلحہ رکھنے کی سرکاری طور پر اجازت نہیں ہے تو وہاں پر اسلحہ کا لائسنس بنوانا بھی اسی عنوان میں شامل ہوگا....ازمترجم)اور اس زمانہ میں جو اسلحہ استعمال ہوتا تھا اور جس قسم کی سواری درکار تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے یہ بطور نمونہ ہے اس کے سوا کچھ نہیں کیونکہ زمانہ کی حکومت کے لئے اپنے انداز کی فوج اور اپنے انداز کا اسلحہ ہے۔
اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلحہ رکھنے کا حکم حکومتوں کی سطح پر نہیں ہے بلکہ یہ افراد کو بھی شامل ہے کیوں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کو حضرت قائم علیہ السلام کے خروج کے لئے خود کو تیار رکھنا چاہیئے اگر ایک تیر کے رکھنے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو(ہمارے پاکستان میں جب ایٹم بن بنا لیا گیا تو پوری دنیا کے مسلمان خوش ہوئے کہ یہ ایٹم بم اسلامی ایٹم بم ہے اسلام کے مفاد کے لئے ہے یہ اس دور کا تقاضا تھا اور جو پاکستان کے حصہ میں آیا، آخری زمانہ میں پوری دنیا پر اسلام کی عادلانہ حکومت ہو گی اور اسلامی نظام ہی پوری دنیا میں امن دے گا اس عالمی اسلامی حکومت کے لئے حکومتوں نے بھی علیہ السلام کرنا ہے اصل بات نیت کی ہے یہ ہمارے ملک کا ایٹم بم بھی اسلام کے لئے ہے اور پورے عالم میں امن قائم کرنے کے لئے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام میں مدد بننے کے لئے ہے....ازمترجم)
اس جگہ یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ افراد اسلحہ کی نمائش کریں، خاص کر موجودہ زمانوں میں، ہر ملک کے قوانین میں اسلحہ کی نمائش سے اجتماعی خطرات جنم لے سکتے ہیں بدامنی پھیل سکتی ہے اس سے مراد علیہ السلام ہے ، آمادگی ہے اور اپنے پاس محفوظ رکھنا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسلحہ لے کر رکھنا چاہیئے ہو سکتا ہے کہ ایسا وقت آ جائے جب اسلحہ لینا ممکن نہ ہو اور امام علیہ السلام کے ظہور کا اعلان ہو جائے اور اس وقت یہ شخص خالی ہاتھ ہو(اسی ضمن میں اسلحہ رکھنے کے لئے لائسنس بنوانا ہے انسان کو اپنی شخصی حفاظت، نجی املاک کی حفاظت کے لئے بھی اس کی ضرورت ہے اور ہر وقت اسلحہ کے لائسنس جاری نہیں ہوتے تو جب ایسا ممکن ہو اس کے لئے فوری اقدام کر لینا چاہیئے یہی احتیاط کا تقاضا ہے، اسی ضمن میں عسکری تربیت بھی ہر شخص کو لینی چاہیئے اکثر ممالک میں آج بھی ہر شہری کے لئے عسکری ٹریننگ لینا لازمی ہے اور جس جوان نے عسکری ٹریننگ نہیں لی ہوتی اسے سرکاری محکموں میں ملازمت نہیں ملتی اور بھی بہت ساری مراعات سے وہ محروم رہ جاتا ہے تو جو افراد امام زمانہ (عج) کی نصرت کے لئے علیہ السلام کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت پورے عالم میں امن کے لئے امام علیہ السلام کا ساتھ دے سکیں تو انہیں عسکری ٹریننگ لینی چاہیئے اور اسلحہ کی انواع اور اقسام سے اس کی آگاہی ہو اور وہ ہر قسم کا اسلحہ چلانا بھی جانتا ہو وگرنہ وہ شخص علیہ السلام کرنے والوں سے شمار نہ ہوگا، خاص کر عسکری میدانوں میں....ازمترجم)
امام علیہ السلام کے بیان میں ”لیعدن“ اس میں آپ اس شخص کو خطاب کر رہے ہیں جو ایک تیر یا اس جیسا جنگی ہتھیار رکھنے کی قابلیت رکھتا ہے تو اسے کہا جا رہا ہے کہ وہ ضرور تیار رہے، کیونکہ اس امر کے لئے سینکڑوں سال بھی لگ سکتے ہیں، خاص کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے علم امامت سے اس بات سے آگاہ تھے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اس صدی میں تو ہرگز قیام نہیں کریں گے جو صدی اس حدیث کے بعد والی ہے تو پھر اس روایت کا مفہوم اسلحہ آمادہ رکھنا بنتا ہے اور یہ کہ اپنے قریب ترین افراد سے بھی اس بات کو پوشیدہ رکھا جائے ۔تیر لے کر رکھنے کو بطور مثال فرمایا ہے ہر دور کے لحاظ سے اسلحہ کی نوعیت بھی بدل جائے گی اور اسے محفوظ رکھنا خاص کر آج کے زمانوں میں جدید ترین اسلحہ آ گیا ہے، پرانے ہتھیاروں کو تلف کر دیا جاتا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہر زمانہ کے حوالے سے بات کر رہے ہیں جن میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا احتمال دیا جا سکتا ہے تو پھر ہتھیاروں کی مناسبت سے تبدیلی لائی جائے گی اور پرانے ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار رکھنا ہوں گے یہ اس لئے تاکہ وہ اپنے امام علیہ السلام سے ملاقات کے لئے خود کو تیار اور آمادہ رکھے۔،
اس روایت کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں فقط ہتھیار محفوظ کرنے کی بات نہیں فرمائی بلکہ اس کے لئے حو صلہ بھی بندوایا ہے اور شوق دلایا ہے کہ جو اس کام کو انجام دے گا اس کی عمر بڑھ جائے گی ظاہر ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو تو لمبی عمر پانے کا ایک نسخہ اپنے زمانہ کے امام کی نصرت کے لئے خود کو تیار کرنا ہے اور ان کی مدد کے لئے ہتھیار لے کر رکھنا ہیں، مومن اس سے خوش ہوتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لمبی عمر نصیب ہو، لمبی عمر ایک مومن، متدین بھی چاہتا ہے اور ایک بے عمل اور کمزور عمل والا بھی چاہتا ہے، غیر مومن بھی چاہتا ہے کیونکہ وہ بھی بقاءچاہتاہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس کی یہ خواہش ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا سپاہی ہو ان کے خادموں سے ہو تووہ ایسا عمل کرنے یعنی امام علیہ السلام کی نصرت کے لئے ہتھیار لے کر رکھے ظاہر ہے ہر مومن چاہتا ہے کہ وہ امام علیہ السلام کے لشکر سے ہو تو وہ اسی شوق میں اس کام کو انجام دے گا۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہتھیار لے کر رکھنے کے فوائد میں لمبی عمر پانا اور امام زمانہ (عج) کے قاصدوں اور ان کی فوج میں شمولیت کو ملا کر بیان کیا ہے اس سے شوق دیا ہے۔
دوسری روایت جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ہے اس میں ایک اور نکتہ ہے وہ یہ بات ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مایوس نہ ہو ایک دفعہ یا دو دفعہ یا تین دفعہ جو شخص اسلحہ تیار رکھتا ہے ہو سکتا ہے کہ فتح حاصل ہو لیکن اسلحہ استعمال ہی نہ کرنا پڑے اس حدیث میں ایک خود کو مسلح رکھنے اور دوسرا ہتھیاروں کو آمادہ و تیار رکھنے کا حکم ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل رہے، مایوسی نہ ہو، اس حدیث میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نبی نے پہاڑوں کی چوٹیوں سے لوگوں کو اکٹھا کیا اب معلوم نہیں کہ ان کو اکٹھا کرنے میں اس نبی نے زور لگایاہوگا پھر جب جنگ میں شکست ہوئی، غیبی مدد نہ ہوئی تو اس پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ لوگوں کو جمع کرنے میں کتنا فاصلہ تھا اور اس زمانہ میں نقل و انتقال اور آنے جانے کے ذرائع بھی یقیناصرف ہوں گے لیکن دوسری مرتبہ ساری علیہ السلام کر لی گئی لیکن اسلحہ کے استعمال کی نوبت ہی نہ آئی اور فتح حاصل ہو گئی ۔ابوبصیر کی روایت سے ہے کہ ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب اسلحہ لینا مشکل ہو گاتو پہلے سے ہی علیہ السلام رکھنی چاہیے
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ان جھنڈوں میں یمانی کے جھنڈے سے زیادہ ہدایت والا جھنڈا نہ ہو گا یمانی کا جھنڈا ہدایت پر مبنی جھنڈا ہے کیونکہ اس پرچم والے تمہارے صاحب(امام مہدی علیہ السلام)کے لئے دعوت دیں گے پس جس وقت یمانی کا خروج ہو گا تو پھر لوگوں پر اسلحہ فروخت کرنا حرام ہو گا اور ہر مسلمان پر بھی جب یمانی خروج کرے تو تم اٹھ کھڑے ہونا اور اس کی حمایت میں جانا کیونکہ اس کا پرچم ہدایت کا پرچم ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کے پرچم کو سرنگوں کرے جو بھی ایسا کرے گا تو وہ جہنمی ہوگا کیونکہ یمانی حق کی طرف دعوت دے گا اور صراط مستقیم کی جانب دعوت دے گا۔(غیبت نمانی ص ۶۵۲)
اسلحہ کی ٹریننگ لینا
عسکری تیاری اسلحہ لینے سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک حالت ہے اسی کے ضمن میں اسلحہ چلانا بھی ہے عقل کا حکم ہے کہ جب روایات میں اسلحہ لے کر رکھنے کی بات ہوتی ہے تو اسی کے ضمن میں یہ بھی آ جاتی ہے کہ اسلحہ کی پہچان اور اسلحہ چلانے کا طریقہ اسے محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی آتا ہو، اس کی صفائی کرنا بھی سیکھے، کیونکہ علیہ السلام سے مراد اسے استعمال میں لانا بھی ہے فقط اسلحہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں مزید برآں کہ روایات میں یہ بھی تو آیا ہے کہ گھوڑسواری، تیرچلانا اور تیراکی سیکھی جائے۔
(الکافی ج ۶ ص ۷۴ حدیث ۴ ۔ مستدرک الوسائل ج ۴۱ ص ۷۷ حدیث ۴۱۶۱)
یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ علیہ السلام میں فنون حرب کو سیکھنا بھی ضروری ہے اور جنگی ہتھیاروں کے بارے آگہی اور ان کے چلانے کی ٹریننگ بھی ضروری ہے اور اس میں ڈرائیونگ بھی شامل ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ تیر چلانا سیکھنے کا حکم نمونہ کے طور پر ہے، ہرزمانہ میں اسلحہ کی نوعیت کے مطابق تربیت لینا ہو گی ، سکھلائی ہرزمانہ کے ہتھیاروں کی مناسبت سے ہوگی۔ آج کے دور میں ٹریننگ ایک نئے انداز سے ہو گی علمی اعتبار سے بھی اور عملی لحاظ سے بھی اس کی ڈیوٹی اس فن کے ماہرین پر ہے۔
اسلحہ کی ایجاد، اسلحہ سازی
عسکری تیاری میں اسلحہ کی تجدید اور نئی ایجادات پر بھی توجہ دینا ہو گی ،عسکری تعلیمی ادارہ جات اس کام کو انجام دیا جانا ہوگا، مختلف حکومتوں میں یہ کام انجام دیا جانا چاہیئے، اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میدان میں مناسب اقدام کریں اور اسلحہ کے میدان میں ترقی کی راہیں اپنائیں جس طرح ہمارے معاشرہ کے لئے ڈاکٹروں، انجینیئروں، سائنس دانوں کی ضرورت ہے۔
ہمارا معاشرہ ، ہمارا اجتماع اس کا متقاضی ہے کہ ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عدالت کے قیام کے لئے علیہ السلام کے عمل میں شریک ہوں، افراد سے زیادہ اسلامی حکومتوں کا کام ہے اسلحہ کی علیہ السلام، جدید ہتھیار بنانا ، بین الاقومی طور پر اسلحہ کی جو دوڑ ہے اس میںخود کو شامل رکھنا تاکہ ضرورت پڑنے پر اسلامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور اسلام کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کیا جا سکے اس کا احساس دلاتا اور حکومتوں کو متوجہ کرنا بھی اسی علیہ السلام کا حصہ ہے، سب سے اہم بات اسلامی ممالک کے سربراہان کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کا مفاد اسلام میں ہے اور ان کا تحفظ اور عزت اسلامی مملکت کے قیام میں ہے اور وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں ہوگا اس کے لئے وہ اپنا کردار ادا کریں۔
افواج کی تیاری
عسکری آمادگی میں لشکر تیار کرنا، فوج بنانا بھی شامل ہے تاکہ وہ امام زمانہ علیہ السلام(عج) کی خدمت میں ہوں۔اس امر میں جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ ایک قانون وضع کرنا ہوگا جس کے تابع یہ افواج ہوں گی اور جس کی بنیاد پر یہ لشکر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہوگا ہماری مراد قانون سے عسکری قوانین ہیں یہ بات اس کتاب کے موضوع سے باہر ہے اور میں اس سے آگاہ بھی نہیں ہوں بلکہ اس قانون سے مراد دینی، اخلاقی سیرت و کردار، عملی زندگی، معاشرتی آداب کے حوالے سے ہے جو اس شخص کی نجی زندگی پر اپنے اثرات چھوڑے اور ایک ایمانی روح اس میں ایجاد کرے اور وہ ایمانی قوت ہو گی جو اسے بڑے بڑے معرکوں میں بے جگری سے لڑنے پر آمادہ کرے گی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قانون کو وضع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس فوج کو افراد کے اعتبار سے بھی اور ایک مجموعہ کے لحاظ سے بھی، تمام شرعی احکام اور اسلامی تعلیمات کا پابند بنانا ہو گا اور ہر قسم کے حرام سے دور رہنا ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ مستحبات اور شرعی آداب کا بھی پابند ہو اور مکروہات سے خود کو دور رکھے، محرمات اور واجبات سے حوالے سے یہ بات بڑی واضح ہے جو بھی امام مہدی علیہ السلام کا لشکری بننا چاہتا ہے اس کی پہلی شرط بھی یہی ہے کہ تمام واجبات کو انجام دیتا ہو اور تمام محرمات سے دوررہتاہو۔
جوبات اس حوالے سے زیادہ اہم ہے کہ وہ مستحبات کو بجا لاتا ہو، اسلامی آداب کا پابند ہو، مکروہات سے دور ہو، مروت کے منافی کاموں سے دور رہے، اعلیٰ قدریں اس کے لئے اہمیت رکھتی ہیں ان کا وہ عامل ہو ۔
یہ امور اگرچہ اس کتاب کے موضوع سے باہر ہیں لیکن چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ کچھ اس طرح ہیں۔
۱ ۔ نماز پنجگانہ کے جو مستحب اعمال ہیں ان کو انجام دیتا ہو، جیسے باجماعت اور اول وقت میں نماز، پنجگانہ نمازوں کے نوافل ، مسجد میں نمازپڑھنا، نماز کی تعقیبات، تسبیح جناب سیدہ فاطمة الزہراءسلام اللہ علیہاہر فریضہ نماز کے بعد پڑھنا، اذان اور اقامت ۔
۲ ۔ قرآن سے کچھ آیات کی باقاعدگی سے روزانہ تلاوت کرنا ، ہرفریضہ کے بعد صدقہ دینا اگرچہ مختصر ہی کیوں نہ ہوہرشب جمعہ اور ہر روز جمعہ ۔
جمعہ کے دن غسل کی پابندی کرنا، خمیس اور جمعہ کو ناخن اتارنا ، باوضورہنا خاص کر جب گھر سے باہر جائے، ہر جمعہ کی صبح دعائے ندبہ پڑھنا، دعائے عہد پڑھنا، دعائے بیعت روزانہ پڑھنا، جنابت کا غسل کرنے میں جلدی کرنا، جنابت کے بعد کچھ نہ کھانا اور جنابت کی حالت میں نہ سونا، مگر یہ کہ پہلے وضو کر لے یادونوں ہاتھوں کوتین مرتبہ دھو لے، اسی طرح تین مرتبہ کلی کرنا اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالنا، اسی طرح کے مستحبات ہیں جو دعاوں اور زیارات کی کتابوں میں درج ہیں۔
عسکری تیاری کا مقصد
کیا اس عسکری تیاری کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لینا ہے، ان پر سخن کرنا ہے، یا عدالت کا عام کرنا ہے، جو کچھ روایات اور قرآنی آیات سے سمجھا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کرنااصل ہدف نہیں ہے بلکہ ہدف کے حصول کے لئے وسیلہ ہے ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوت کو عام کرنا چاہتے تھے اس کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے جنگیں کی گئی ہیں لہٰذا حضورپاک کی اللہ کے دشمنوں کے خلاف تقریباً ساری جنگ میں سوائے ایک ....کے دفاعی ہیں۔
”( وَقَاتِلُوا المُشرِکِینَ کَافَةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَةً ) “(التوبہ آیت ۶۳)
ترجمہ:۔”اور تم سارے مشرکین کے خلاف جنگ کرو جس طرح وہ تمہارے ساتھ جنگ کر رہے ہیں“۔
جہاد، جنگ ،اسلام کی حمایت اور اپنے نظریہ کے دفاع کے لئے شروع ہوئے، اسے ہم چوتھی فصل میں بیان کریں گے۔
لہٰذا عسکری تیاری عدالت عام کرنے اور روئے زمین پر امن کا قیام ہے اور جو اس ہدف کے سامنے رکاوٹ بنیں گے تو پھر ان کے خلاف جنگ بھی کی جائے گی۔
سختی کے بارے اسلام کا نظریہ
یہ مضمون رہبر اسلام حضرت آیت اللہ السید علی خامنہ کے خطاب سے لیا گیا ہے:
اسلام کی سختی کے بارے بڑی واضح اور روشن رائے ہے اسلام اصولی طرح پر سختی کو اپنے عمل کی بنیاد نہیں بناتا لیکن سختی کرنے کی نفی بھی نہیں کرتا جہاں پر قانون کے اندر رہتے ہوئے سختی کی ضرورت پیش آئے تو اس کی اجازت دی ہے۔
قانونی سختی اور غیر قانونی سختی
ہمارے ہاں سختی کی دو اقسام ہیں ( ۱) قانونی ( ۲) غیرقانونی
قانون ضرورت کے وقت سختی کرتا ہے مثلاً حکم دیتا ہے کہ اگر فلاں شخص فلاں جرم کا ارتکاب کرے تو اسے جیل میں ڈالا جائے ، فلاں جرم کرے تو اسے یہ سزا دی جائے تو یہ سختی جو ہے بری نہیں ہے کیونکہ یہ چیز انسانی حقوق کو پامال نہیں ہونے دیتی۔مجرموں کی کارروائیوں کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ اگر مجرموں کے ساتھ قانون سختی نہ کرے تو پھر جرائم بڑھ جائیں گے اور معاشرہ بے امن ہو جائے گا ایسی حالت میں سختی ضرور ہو جاتی ہے۔
دوسری سختی غیر قانونی ہے جس کی اسلام نے اجازت نہیں دی وہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے جب کہ اس کا دل چاہے اور بغیر وجہ اور بغیر دلیل اپنی من مانی کرے قانون اور دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا اقدام اٹھائے، ایک خودسر شخص اپنی مرضی سے لوگوں پر سختی کرتا ہے ان سے زیادتی کرتا ہے اور اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتا ہے تو واضح ہے کہ اس قسم کی سختی کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
اسلام کا یہ پہلو ہمہ جہتی دین ہے اس میں آفاقیت ہے اسلام میں یکطرفہ سوچ غالب نہیں جس وقت اسلامی حکومت یہ چاہتی ہے کہ وہ طاقت، زیادتی، دھونس، دھاندلی، قانون کی خلاف ورزی کے سامنے کھڑی ہو تو اس کے لئے طاقت کی ضرورت ہے، واضح موقف جاننے بلاخوف و خطر اور کسی مصلحت کو دیکھے بغیر کسی خاص جہت کا لحاظ رکھے بغیر اپنی بات کہے اور اس پر عمل کرے، حکومت جب عوام سے سامنا کرے یعنی افراد کی بات ہے تو اس کا رویہ نرم ہو رعیت سے پیار و محبت کا رویہ اپنائے نرمی ، پیار، شفقت کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ کے لئے فرمان ہے کہ”( عَزِیز عَلَیهِ مَا عَنِتُّم حَرِیص عَلَیکُم بِالمُومِنِینَ رَووف رَّحِیم ) “(التوبہ آیت ۸۲۱)
ترجمہ:۔”نرمی کا حکم ہے حضورپاک کی صفت سے کہ وہ مومنوں کی بھلائی پر حریص ہیں ان پر رووف مہربان ہے“۔
قانونی سختی اتنی مقدار میں ہے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے یہ کام فقط اچھا ہی نہیں بلکہ بہت ضروری بھی ہے۔غیر قانونی سختی تو جرم ہے فقط ایک برائی نہیں، اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس رویہ کو کچلنا ہوگا، یہ اسلام کی رائے ہے۔ اس میں کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی اس قسم کا جھگڑا ہے۔ بعض بغیر آگہی رکھے کرتے ہیں اور اسلام کی بنیادی سیاسی ہر بات کرتے ہیں جب کہ انہیں معاملات کی حقیقت بارے علم نہ ہے بعض اخبارات کے صفحات کو انہوں نے بے مغز عناوین پر بعض اشتعال انگیز عناوین سے بھر رکھاہے۔
ضروری بات یہ ہے کہ دین کے دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ اسلامی میدانوں میں بحث و جدل کو کھینچ کر لے آئیں ان کے مقاصد کچھ اور ہیں یہ سختی کو ایک کلی عنوان دے کر پیش کرتے ہیں۔ وہ قانونی اور غیر قانونی سختی کے درمیان فرق نہیں کرتے وہ قانونی سختی کے موافق نہیں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی گروہ تہران کی سڑکوں پر ماحول خراب کرے توڑ پھوڑ کرے ،فتنہ ایجاد کرے، لوگوں کا سکون برباد کرے ، ان کے اموال کو ضائع کرے، ان کے فرزندوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈالے، وہ کہتے ہیں کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے ان سے سختی کرنا ٹھیک نہیں ہے جب کہ پورے عالم میں وہ پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں، اپنے مخالفین کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور تشدد کی متعدد اقسام کو استعمال میں لاتے ہیں صیہونی حکومت جس کی خبررساں ایجنسیاں تشدد اور سختی کے خلاف تحریک میں پیش پیش ہیں اسے فلسطین میں عوام ان کی پرتشدد کاروائیاں نظر نہیں آتی جنوبی لبنان پر بچوں، عورتوں اور شہریوں کا قتل عام نظر نہیں آتا۔ جنوبی لبنان کی فضاءسے آگ کے گولے برستے انہیں دکھائی نہیں دیتے اور یہ عمل ان کے نزدیک سختی نہیں ہے اسی طرح ایک دوسرے کے رفقاءپورے عالم میں اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا ہی کر رہے ہیں اور بھی لوگ عالمی نشریاتی اداروں پر مسلط ہیں اور اپنی مرضی سے قانونی تشدد اور سختی کو مذموم قرار دیتے ہیں اور انہیں خود اپنا غیر قانونی تشدد نظر نہیں آتا۔(خطاب ۹ محرم ۱۲۴۱ ہجری قمری ۔طہران)
ثقافتی تیاری
ثقافت کے متعلق جب بات ہوتی ہے توبعض دفعہ کتابی ثقافت کی جاتی ہے بعض دفعہ کپڑے سازی کی ثقافت ، بعض معاشرہ میں رسومات و رواج و عادات کی ثقافت ۔ آج کل کتابی ثقافت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس کا اثر کم ہے کیونکہ کتاب کے قاری کم ہو گئے ہیں اس کے کافی سارے اسباب ہیں ۔ان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا جدید نظام، ویڈیو، انٹرنیٹ، ویب سائٹس، کمپیوٹر ان کے روزگار میں اس قدر مصروف رہتا ہے کہ کتاب پڑھنے کا وقت نہیں بچتا یا پھر اتنی پیچیدہ بیماریاں آ چکی ہیں کہ ان کے علاج میں لگا رہتاہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف وسائل اور ذرائع سے کتاب کے مطالعہ کا شوق دلایا جائے، اسلامی کتب کی معاشرہ میں طلب بڑھائی جائے، جدید طرز تحریر،دلچسپ تحریریں، زندہ موضوعات پر تحریریں، طباعت کی عمدگی، اختصار، بہر حال کتاب خوانی کا عمل معاشرہ میں ختم نہ ہونے دیا جائے۔
رائٹرز حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اس بات کا لحاظ رکھیں کہ کتاب قاریوں کی تعداد کم ہے ، تالیف اور تصنیف کے انداز میں تبدیلیاں لے آئیں ایسا انداز اپنائیں کہ وہ قاری کو کتاب کی اہمیت کا قائل کر دے، موضوعات میں اختصار پیش نظر رکھا جائے، علمی مطالب بیان کرتے وقت ایسی حکایات درج کی جائیں جن سے قاری کی دلچسپی بڑھ جائے۔ ایسے موضوعات کو چھیڑا جائے جو لوگوں کے روزہ مرہ مسائل سے مربوط ہیں یا ایسے موضوعات زیر بحث لائے جائیں جن سے بیماریوں کو کو دور کر دیں انہیں خطرات سے بچائیں یا ان کے لئے معاشی مسائل کا حل پیش کریں۔
ایسے مطالب جو اسلامی عقیدہ کو مضبوط بنا دیں اور اہل البیت علیہ السلام سے مودت و محبت کو مستحکم کریں اسی طرح علمی اور سائنسی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے جو انسان کے ذہن کی تقویت میں معاون ہوں اور سائنسی میدانوں میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے آگہی ہو مختلف میدانوں میں سائنس نے انسان کی فلاح کے لئے جو کارنامے انجام دیئے ہیں اس سے آگہی حاصل کرے۔خاص کر ایسے مقالات جن سے علیہ السلام میں مدد ملے ان کا مطالعہ کیا جائے نئی ایجادات سے آگہی لی جائے ایسے امور سے آگہی حاصل کی جائے جو معاشرہ کی اصلاح اور تربیت میں خلل ڈالتے ہیں معاشرہ اور اجتماع میں فضاءاور ماحول کو آلودہ کرنے والے لٹریچر سے آگہی حاصل کی جائے اور اس کا توڑ کیا جائے تاکہ اس صاف ستھرے انسانی ماحول کو بنایا جاسکے۔
اس جگہ حضرت قائم علیہ السلام کی حکومت کے لئے ثقافتی علیہ السلام کی بات ہو رہی ہے وہ حکومت جو پورے کرہ ارض پر ہوگی مختلف تہذیبوں، تمدنوں اور مختلف زبانوں، مختلف خطوں میں قائم ایک ہی حکومت ہو گی ایک سائنس دان جو ایٹمی رازوں سے واقف ہے اور دوسرا عام جاہل ان پڑھ ہے ان دونوں کے درمیان میں لمبا فاصلہ ہے ذہنی دوری ہے اور دونوں انتہاوں کے درمیان مختلف اذہان رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے، اس وجہ سے ہم اس وقت نہیں جانتے کہ اس حکومت میں کیا موقعیت بنے گی اور اس تجارت کا خاتمہ کیسے ہوگا اور اس حکومت میں ہر فرد کی کیا ذمہ داری ہو گی پھر یہ ذمہ داری ثقافتی ہو گی، عسکری ہو گی، سیاسی ہو گی، لیکن ایک بات ضروری ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کو چلانے والے ہوں گے جو انسان ہو وہ خیالی رول ادا کر رہے ہوں گے ان کے لئے کوشاںرہے کہ وہ اسلامی ثقافت سے آراستہ ہوں اور پھر یہ بھی ایک طے شدہ امر ہے اور اس کے آثار نمایاں ہیں کہ حضرت کے ظہور سے پہلے ثقافتی جنگ ہو گی جو عسکری جنگ سے زیادہ خطرناک ہے تہذیبوں کا ٹکراو ہونا ہے اس کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ہر تہذیب کی خوبیاں اور مختلف تہذیبوں میں خامیوں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اگر خوبیاں لے لی جائیں اور خامیوں کو نکال دیا جائے تو ایک بہترین انسانی تہذیب تسلسل پا جائے گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا خاصہ یہی ہوگا کہ اس میں انسانی قدریں پروان چڑھیں انسانی ثقافت کو عروج ہو، غیر انسانی ثقافتی شو ختم ہو جائے عدالت کا نفاذ اس حکومت میں ہونا ہے، عدالت کی نشرو اشاعت ثقافت کے وسیلہ سے ہی ہو گی ایسی قوم میں عدالت کا نفاذ کہ جس کی کوئی ثقافت نہیں ہے جاہل اجڈ ہیں، ان کا استحصال ہی ہو گا اقوام پر جبر ہو گا ایسے احکام اور قوانین ان پر لاگو کر دینا کہ جن سے وہ آشنا ہی نہیں ان کے صحیح اور غلط ہونے سے وہ واقف نہیں خاص کر ایسے علاقوں میں جو اسلامی تہذیب سے کوسوں دور ہیں انہوں نے اسلامی ثقافت کا کچھ دیکھا ہی نہیں ہے اور نہ ہی اسلامی آداب اور تعلیمات سے واقف ہیں اور اس خطہ میں امام علیہ السلام اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے وارد ہوں گے تو یہ کیسے ہوگا؟ ظاہر ہے کہ امام علیہ السلام کی آمد سے پہلے دنیا بھر کی تہذیب کو قریب کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ اسلامی تہذیب کو دوسری تہذیبوں کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور پھر اس کی نشرواشاعت بھی کرنا ہوگی تاکہ امام علیہ السلام کی حکومت کے قیام سے پہلے انسانی ذہن اسلامی ثقافت اور اسلامی تہذیب کی خوبیوں سے آگاہ ہو چکا ہو اور اس کو اپنانے کے لئے اس میں آمادگی موجود ہو یہ بہت ہی اہم کام ہے اس حوالے سے ہمارے لئے لازم آتا ہے کہ ہم اس موضوع کی مناسبت سے کتابوں کا مطالعہ کریں جو ہمیں اس قابل بنا دیں کہ ہم ثقافتی میدانوں میں علیہ السلام کر سکیں۔
قیادت کرنے والے لیڈر کی ثقافت
یہ علیہ السلام آخری اور مطلوب ہدف نہیں ہے جیسا کہ معاشرتی ثقافت کے حوالے سے بات ہو گی بلکہ یہ علیہ السلام کا ایک مرحلہ ہے اور ثقافت کی نشرواشاعت کے لئے ایک قدم ہے ہماری مراد یہ ہے کہ افراد میں سے ایک ایسی تعداد موجود ہونی چاہئے جس میں تمام ثقافتی اور علمی صلاحیات موجودہوں جو انہیں مستقبل میں بننے والی حکومت میں ذمہ داریاں ادا کریں گے یہ علیہ السلام بغیر پلاننگ اور منصوبہ بندی کے نہ ہو بلکہ اس میں افراد کا چناو کیا جائے اور انہیں مختلف ذمہ داریوں کی تربیت اور ٹریننگ لینی چاہیئے۔
جیسے ایک ایڈمنسٹریشن میں مہارت حاصل کرے تو ایک میدان میں اعلیٰ ڈگری رکھتا ہو تو ایک انتظامیہ میں بڑی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس طرح ہر حکومت میں مختلف ادارہ جات کے لئے مختلف پوسٹیں مختص کی جاتی ہیں اور پھر ان پوسٹوں کے لئے افراد کو خاص شرائط کے تحت تربیت کیا جاتا ہے تو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کو بھی اس سب کی ضرورت ہو گی تو اس حکومت کے کام کرنے کے لئے جہاں پر مخصوص ذمہ داری کے لئے یہ ضروری ہے اس کے ساتھ اس کی اسلامی ثقافت کے لحاظ سے بھی تربیت ہو گی وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اس کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
افراد کی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی یہ کام آسان بھی نہیں ہے اس کا دائرہ وسیع بھی ہے اور اس کا تربیتی مرحلہ سخت بھی ہے اس لیڈر سازی کا عمل ظہور کے مرحلہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ان سے معاشرہ کو تہذیب ....اور ان کے اندر اسلامی شعور پیدا کرنے اور انہیں اسلامی تہذیب و تمدن سے آگہی دینے کے لئے بھی کام لیا جائے گا۔
اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ ہمیں کوئی خاص جگہ مختص کر دیں اور اس میں کیڈٹ کالج بنا کر یہ کام شروع کریں بلکہ اس کام کو معاشرہ کے اندر رہ کر کرنا اس کے لئے کوئی الگ سے سلسلہ بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بات ہدف کے حصول میں رکاوٹ ہو گی بات یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں حکومتی اداروں کو چلانے کے لئے ....سے لے کر ایک یونین کونسل کی سطح تک ہر جگہ دفاتر ہیں ، عملہ ہے، مدیر ہیں، افسر ہیں ، کلرک ہیں ایک ضلع کو لے لیں تو جو افراد خود کو امام زمانہ (عج) کی حکومت کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے تو وہ مخلف مراحل میں اور مختلف پوسٹوں کے لئے اپنے اندر قابلیت پیدا کریں اور جس معاشرہ میں رہتے ہیں اور جن چیزوں میں کام کرتے ہیں ان میں موجود رہیں اور اپنی اخلاقی خوبیاں اجاگر کریں معاشرہ سازی میں اور اچھا ماحول بنانے میں کردار ادا کریں کیونکہ معاشرہ کی اصلاح ہی اہم مرحلہ ہے اس عالمی اسلامی حکومت یعنی جب امام علیہ السلام کاظہور ہوگا تو ہر شخص کواس کی قابلیت، مہارت، کی مناسبت سے اس ذمہ داری پوسٹ پر بٹھایاجائے گا اس کے لئے علیہ السلام پہلے کرناہے اور جو اس نیت سے علیہ السلام کرتا ہے ایک اچھا ٹیچر، اچھا ایڈمنسٹریٹر، اچھا پروفیسر،اچھا ڈائریکٹر،اچھا سیکرٹری، اچھاکمپوزر، اچھا ویب سائیٹ ڈیزائنرہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کام کرنے کے لئے اپنے اندر ساری صلاحیات پیدا کرنا ہیں اور اس انتظار میں رہنا ہے کہ اگر اسے موت آجاتی ہے تو اسے اس کا اجر ملے گا اور جس شدت سے اس کی انتظار ہو گی اس کی نیت کے مطابق اسے قبر سے دوبارہ اٹھایا جائے گا جب کہ روایات میں آیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت چلانے والے جو بڑے افراد ہوں گے جنہوں نے روئے زمین کے مختلف خطوں میں جا کر ذمہ داریاں لینا ہیں ان کی تعداد ۳۱۳ ہو گی اور وہ سب ایک جگہ سے نہیں ہوں گے، آسمانی آواز پر وہ سب مکہ میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہی پہلا گروپ ہو گا جو امام زمانہ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرے گا یہی امام علیہ السلام کی سینٹ ہو گی آپ کے خاصان ہوں گی۔
جی ہاں! اس جگہ جو مشکل امر ہے وہ یہ ہے کہ ان باصلاحیت افراد کی تربیت کی ذمہ داری ان پر ہے جو ہم بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر معاشرہ ، زمین کے تمام خطوں کے اندر اس بارے کام ہونا چاہئے ہر ملک میں، ہر شہر میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو اس ذمہ داری کو نبھائے اور اس ثقافت کو کچھ افراد میں عام کریں کہ وہ اس ہدف کو پا سکیں اللہ تعالیٰ ان کا مدد گار ہے جو ایمان لے آئے ہیں اللہ کی ذات پاک ہے۔
معاشرہ، قوم، اجتماع کی ثقافت
کسی بھی قوم کی ثقافت، سوسائٹی کی ثقافت بہت اہم ہے اور قومی ثقافت ہی ہمارے امام پر ہزاروں جانیں قربان کرنے کی تمنا اور آرزو ہے پورے عالم میں عدالت پھیلانے میں اس کا بنیادی کردار ہے اور یہی اصلی شرط ہے کیونکہ وہ حکومت عدل کی حکومت، علم کی حکومت، ثقافت کی حکومت ہو گی ، تہذیب و تمدن کی حکومت ہو گی ایسی حکومت ہو گی جس میں حقیقی علم پھیلایا جائے گا۔ ہمارے امام منتظر علیہ السلام کے وسیلہ سے، بعد میں امام علیہ السلام کے علم اور آپ علیہ السلام کے اصھاب کے علم بارے بات آئے گی۔
امام علیہ السلام سے یہ علم سب لوگوں کی طرف منتقل ہو گا مرد اور عورت کی تفریق نہ ہو گی بوڑھے اور جوان کا فرق نہ ہو گا یہ بات اس نظریہ کو تقویت دیتی ہے کہ ثقافت کسی ایک معین گروہ اور طائفہ کی نہیں ہوتی اور نہ ہی چند افراد کو ثقافت کی تعلیم دی جائے بلکہ تمام لوگوںکو تعلیم یافتہ کیا جائے، جہالت کا خاتمہ کیا جائے سب کو تہذیب سکھائی جائے سب کو متمدن شہری بنایا جائے معاشرہ کے تمام طائفہ اور گروہوں سے جہالت کا خاتمہ کیا جائے۔اگر ہم ایک بستی میں داخل ہوں اور اس میں آدھے بچوں کی تربیت کریں، انہیں تعلیم دیں اور باقی کو ہم نے ایک سال کے لئے چھوڑ دیا تو ہم نے اس بستی میں جن بچوں کو تعلیم دی جنہیں تربیت دی ، آداب زندگی تعلیم دیئے، اچھی عادات سکھائیں وہ بچے گھر میں گلیوں میں کوچوں میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلیں گے تو ان بچوں کی جو بری عادات ہیں وہ ان میں سرایت کر جائیں گی اس طرح ہم اس بستی میں جو عملی اور ثقافتی انقلاب لانا چاہتے تھے اس میں ناکام ہو جائیں گے لہٰذا ہم سب کے بچوں کے لئے مساوی تعلیم کا نظام اپنا کر سب کو تہذیب یافتہ بنائیں سب کومثقف بنائیں سب کو تعلیم دیں اس میں فرق نہ کریں۔
جو شخص اپنے بچوں کی اچھی تربیت چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ کے بچوں کی تربیت کا بھی انتظام کرے اگر ہم لیدڑ اور قیادی افراد کی تربیت کر رہپے ہیں، مردوں میں کام کر رہے ہیں پھر ایک تربیت یافتہ کی شادی ایک غیر تعلیم یافتہ لڑکی سے کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس کے ازدواجی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کیونکہ جوعورت اس کے گھر میں آئی ہے اور وہ اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں ہے اسلامی آداب سے آراستہ نہیں ہے تو وہ ایک مثالی گھرانہ نہیں بنا سکتی اور نہ ہی اولاد کی اچھی تربیت کر سکتی ہے آپ اگر اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو آپ کو اس بارے بہت ساری مثالیں مل جائیں گی۔
اس عورت نے یہ سیکھا نہیں کہ وہ شوہر کے ساتھ کیسے رویہ اپنائے اور اس کے حقوق کیا ہیں اور شوہر کے حقوق کیا ہیں اسے اس کا علم ہی نہیں اولاد کے حوالے سے ذمہ داریاں کیا ہیں اسے کچھ پتہ ہی نہیں تو وہ عورت تربیت یافتہ لیڈر اور قیادتی افراد پر منفی اثراب چھوڑے گی۔
یہ بات ہمارے اوپر اس امر کو روشن کر دیتی ہے کہ اسلامی ثقافت کی اہمیت کیا ہے اور یہ کہ اسے عام ہونا ہے اور معاشرہ کے ہر فرد کو تعلیم یافتہ بنانا ہو گا سب کو تہذیب یافتہ کرنا ہوگا سب افراد پر کام کرنا ہوگا تب ہی ان میں اعلیٰ صفات کے حامل افراد بڑی ذمہ داریوں کے لئے تیار ہو کر باہر آئیں گے ایسے افراد جو ایک زمین پر رہائش پذیر ہیں اور ایک آسمان تلے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، ایک دوسرے سے واقف ہیں، اللہ تعالیٰ کاسورہ حجرات آیت ۳۱ کا فرمان اسی طرف اشارہ ہے ”( وَ جَعَلنا کُم شُعُوباً وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوا اِنَّ اکرَمَکُم عِندَاللّٰهِ اَتقَاکُم“ )
”ہم نے تمہیں اقوام، قبائل میں قرار دیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو اور تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہوگا“۔
تعارف معرفت سے ہے اور یہ ایک دوسرے سے رابطہ میں رہنا ہے ایک دوسرے سے آگاہ ہونا ہے ہر ایک اپنی ثقافتی ، تہذیبی، اجتماعی، سیاسی، علمی معلومات دوسرے تک پہنچائے، ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں تمام میدانوں میں کرامت اور بزرگی تقویٰ کے مصادر پر ہے جتنا تقویٰ زیادہ ہوگا اتنا ہی اس تہذیب و تمدن کا مقام زیادہ ہوگا۔
معاشرہ کو مثقف بنانے کا طریقہ
ہم معاشرہ کے تمام گروہوں اور اقوام بارے ایک خاص پروگرام تربیت اور ثقافت کے حوالے سے دے سکیں ایک تو یہ بات ہے کہ لوگوں کی علمی اور ذہنی و فکری پہنچ مختلف ہوتی ہے یا فراغت کے اوقات مختلف ہیں کوئی صبح کو فارغ ہے تو کوئی دوپہر کو، کوئی دوپہر کو فارغ نہیں شام کو فارغ ہے کوئی شام کو فارغ نہیں رات کو فارغ ہے ۔ہر کسی کے پاس وقت کم ہے اور کسی کے پاس ثقافتی طریقہ کار مختلف ہیں کسی کو ایک رویہ پسند ہے کسی کو دوسرا طریقہ پسند ہے، تبلیغ کے انداز مختلف ہیں، کوئی قرآنی آیتوں کو پسند کرتا ہے، کوئی ناول کے انداز کو چاہتا ہے، کوئی اختصار چاہتا ہے کوئی تفصیل مانگتا ہے جو حضرات ان کاموں کے درپے ہیں ان پر ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے کر اپنے تعلیمی، تربیتی ،تبلیغی ، ثقافتی پروگرام تربیت دیں کچھ دروس رات کو ہوں تو کچھ دن کو ہوں چھٹیوں کے ایام میں ہو، ہر گروہ کو ان کی پسند کے اوقات اور پسند کے انداز سے تربیت کا اہتمام کیا جائے گھرانوں اور خاندانوں کے پاس ملاقات کے لئے جانے والے اساتذہ کرام ، علماءعظام کے تجربات میں بات آئی ہے اور طریقہ انتہائی موثر اور مفید رہا ہے کہ جب کسی گھر میں ایک عالم دین یا ایک اخلاق کا مربی جاتا ہے ان سے پہلے ہم آہنگی کر کے جائے اچانک نہ جائے ۔
پہلے تو باپ، بیٹے، بیٹی، بیوی کو گھرانے کے افراد سے تعارف ہوتا ہے پھر ان کے مادی اور روزگار کے بارے سوال کرے پھر ان کی صھت کا پوچھے پھر ثقافتی امور کی جانب سوالات بڑھا دے ان میں اہم کو پہلے نمبر پر لے آئے جیسے پاک دامنی کے بارے سوال کرے ،پردہ کے بارے سوال کرے پھر اہم واجبات کی پابندی بارے نماز پڑھنے کے بارے، روزہ رکھنے، اسی طرح آداب کے بارے، مستحبات کا سوال کرے، سلام کرنا، مریض کی عیادت کے لئے جانا، رشتہ داروں کی ملاقات کے لئے جانا، ہمسایوں کے بارے خیال رکھنا نماز باجماعت دعا زیارت ۔
اسی طرح شروع میں بچوں کی تعلیم بارے ،تعلیم میں ان کے درجات اگر ہو سکے تو اس ملاقات میں ایسا وقت رکھے کہ تعارفی پروگرام کے بعد نماز باجماعت ان کے گھر میں ادا کرے تجربہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب ایک عمامہ پوش شخص کسی گھر میں وارد ہوتا ہے توصاحب عمامہ بچوں کو اپنے قریب بٹھائے اور ان سے علیہ السلام کے چھوٹے چھوٹے سوال کرے اور وہ سوال کریں تو ان کا بڑے پیارے انداز سے بچوں کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر جواب دے ایک گھر کے اندر جا کر ان سے جس اپنائیت کے عالم میں ایک عالم بیٹھا ہوتا ہے اور ا س سے سوال و جواب ہوتا ہے اور اس کے مثبت اثراب اس گھرانے کے سارے افراد پر پڑتے ہیں یہ کام مسجد اور امام بارگاہ میں نہیں ہو سکتا اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سارے لوگ امام بارگاہ میں آتے ہیں تو یہ بھی درست نہیں بلکہ آنے والوں کی تعداد کیا ہوگی مثلا ایک بستی میں بارہ ہزار افراد ہیں تو دو سو افراد مسجد یا امام بارگاہ میں آجائیں گے مجالس عزاءمیں پانچ سو آجائیں گے ایک ہزار آجائیں گے۔
یہ معاملہ بہت ہی خطرناک ہے، جو لوگ امام بارگاہ میں آتے ہیں اگر اس میں سوفیصد شریک ہو تو پھر بھی وہاں سے جس قدر تربیت لیتے ہیں تو اس کی پیش رفت بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اسی طرح ہے کہ جو فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس پر عمل پیرا کتنے ہوتے ہیں تو ان کی تعداد اور بھی کم ہو جاتی ہے جب کہ ایک گھر میں جا کر اس پیغام کو دینا تو ا سکے اثرات بہت ہی مختلف ہیں پھر مسجد اور امام بارگاہ میں آنے والے ایک قسم کے یا دوتین قسم کے سوالات کا جواب حاصل کر پاتے ہیں ایک آدھ بات تربیت کے حوالے سے لیتے ہیں جیسے وہ قاری، خطیب ، ذاکر، مولوی پیش کرتا ہے اور وہ مختصر وقت میں جو آدھ گھنٹہ ہوگا یا کچھ اس سے زیادہ۔
جب کہ گھروں میں جا کر یہ کام کرنا اگر منصوبہ بندی کے ساتھ ہو تو اس میں ایک موضوع محدود نہیں ہوتا وقت بھی محدود نہیں ہوتا بعض دو دو گھنٹے بغیر کسی اکتاہٹ کے جاری رہتا ہے۔جی ہاں! گھروں میں جا کر تبلیغی عمل کو انجام دینے کے بعد جو طریقہ موثر اور مفید ہے وہ شب بیداریاں ہیں خاص کر گھروں کے اندر جو شب بیداریاں منعقد ہوتی ہیں جن میں بہت سارے رشتہ داروں کو اس گھر والے بلالیتے ہیں تو اس موقع پر بھی فائدہ اٹھایا جا سکتاہے۔
(اس بیان کا ماحصل یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کی حکومت کے لئے ہر میدان میں افراد کی علیہ السلام کرنا ہے، اس کے لئے اسلامی تعلیمات، اسلامی آداب، اسلامی تہذیب عام کرنا ہوگی اس کے لئے مبلغین ، علمائ، ذاکرین، معلمین تربیت دینے والے افراد بہت کام کر سکتے ہیں اس کام کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ مجلس کا ہے، مجلس میں درس کا ہے۔ دوسرا طریقہ کسی گھر میں، بیٹھک پر کھلی مجلس منعقد کرنے کا ہے مجلس کے بعد جو عالم دین کسی گھر میں ایک رات ٹھہر جاتا ہے تو اس کے ساتھ جو لوگوں کی نسبت ہوتی ہے سوال و جواب مختلف حوالوں سے ہوتے ہیں تو یہ اندازتبلیغ میں انتہائی ہے اور بہت اچھاہے یہ بات خود ہمارے تجربہ میں بھی آئی ہے اور خاص مناسبتوں میں اس کا اہتمام کیا جا سکتا ہے اسی طرح گھر میں دعا ئے توسل، حدیث کساءکی نسبت بھی انتہائی موثر ہے کہ اس کے بعد لوگوں کو قریب سے عالم کے پاس بیٹھ کر بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے اسی طرح عالم دین اپنے علاقہ میں مریضوں کی عیادت کے لئے جائے، اس کی خوشی غمی میں شریک ہو، جن کی میت ہوئی ہے ان کے گھر پرسہ کے لئے پہنچے پھر یہ پیغام ہدایت پہنچانے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے ۔ خلاصہ تبلیغ کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور ہر انداز اپنایا جائے یہ آج کے دور کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے....ازمترجم)
ثقافت پرعورتوں کے اثرات
البحار میں النعمانی سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوجعفر امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہارے اس دین کو دیکھ رہا ہوں پس ماندگی کا انتظار رہے گا، خونی مصر کے ہوں گے، یہاں تک کہ ہم اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد آئے گا جو اس دین کو دوبارہ تمہارے لئے لائے گا ان کے اقتدار میں سال میں دو بونس ملیں گے، مہینہ میں دو دفعہ تنخواہیں ملیں گی ان کے زمانہ میں تمہیں حکمت دی جائے گی یہاں تک کہ ایک عورت گھر میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلے دے گی۔
(غیبة نعمانی ص ۲۱ بحارالانوارج ۲۵ ص ۲۵۳ ، باب ۷۲ ذیل ۶۰۱)
اس بات پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کہ تبلیغ اور ثقافت کی نشرواشاعت میں بہت زیادہ عورت کا کردار ہے کیونکہ اس کے گھروں اور خاندانوں میں رفت و آمد آسان ہوتی ہے اور وہ مردوں سے زیادہ وقت دے سکتی ہے۔عورت کے لئے بھی مرد کی طرح تعلیم یافتہ، مہذب ہونا، تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے، اس پر بھی واجب ہے کہ وہ تعلیم کے لئے ، تربیت کے لئے وقت دے۔ شرعی احکام جو خواتین کے کام کے بارے ہیں ان کا لحاظ رکھتے ہوئے خواتین میں بھی قابل عنصر کی تربیت اور لیڈرسازی کی ضرورت ہے، اس کی پاک دامنی ، حجاب، شوہر یا باپ سے اجازت لینا، اس کے کام کرنے میں شرط ہے اور یہ کہ تبلیغی عمل کی وجہ سے گھر کے مسائل اور اپنی اولاد کی تربیت میں خلل واقع نہ ہو، بعض ثقافتی امور فقط خواتین سے مخصوص ہیں جیسے اولاد کی تربیت کی ثقافت، گھر سے معاملات چلانے کی ثقافت، شوہر کے ساتھ برتاو کی کیفیت کی ثقافت یہ وہ امور ہیں جن پر توجہ دی جاتی ہے ان میں بنیاد عورت ہے پس اس کی تربیت کرنا ضروری ہے اسے بعینہ آگہی دینا ضروری ہے تاکہ معاشرہ کی تربیت اور اس کے سنوارنے اور مہذب بنانے میں عورت اپنا کردار ادا کر سکے یہ امور جو عورت سے مخصوص ہیں یہ ایک معاشرہ کے لئے بنیادی ستون ہیں ان امور میں جو اولاد کی تربیت کے متعلق ہیں وہ سب پر مقدم ہیں۔ عورت نے ایک اچھی نسل تربیت کر کے معاشرہ کودینی ہے۔
امت کے لئے مستقبل کی قیادت عورت کی گود سے پروان چڑھتی ہے، پس اس امر پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور اس کے پروگرام تربیت دینا ہوں گے۔
بعض تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سارے مواقع پر جو ازدواجی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہے اس کا سبب عورت کا غیر تربیت یافتہ ہونا ہوتا ہے ازدواجی زندگی کے بارے عورت اسلامی ثقافت اور اسلامی تہذیب سے بے بہرہ ہوتی ہے اور بہت سارے ایسے مواقع آتے ہیں کہ معاملہ طلاق تک جا پہنچتا ہے اور ہم نے اپنی کتاب فاطمہ علیہ السلام بنت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ”قدوة النسائ‘ میں تفصیل دی ہے۔
مغربی ثقافت سے خبرداررہنا
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا بنیادی کردار یہ ہو گا کہ اس میں اسلامی ثقافت واپس لوٹ آئے گی استعماری ثقافت کا خاتمہ ہو جائے گا اسلامی تعلیمات کی دشمن استعماری و سامراجی طاقتیں غیر انسانی استعماری ثقافت کو اسلامی ممالک اور اسلامی دنیا میں پھیلانے پر لگے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”( یَاَیُّهَالَّذِینَ اَمَنُوا ستَجِیبُواللّٰهِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحیِیکُم“ () سورہ انفال آیت ۴۲) اے وہ لوگ جو ایمان لا چکے تم اللہ اور اللہ کے رسول کے اس پروگرام کو قبول کرو کہ جس پر عمل کرنے میں تمہاری زندگی ہے“۔
اللہ تعالیٰ نے انبیاءعلیہ السلام اور رسولوں علیہ السلام کو اس لئے بھیجا تاکہ وہ انسانوں اور اقوام عالم کو زندگی دیں انہیں مُردگی سے باہر نکالیں جو انبیاءعلیہ السلام لے کر آئے وہ عوام الناس کے ساتھ مربوط تھا ایسی تعلیمات لے آئے کہ انسان کا تعلق اس کے مجمع اور سوسائٹی سے اور اس کا تعلق اپنے بھائی سے، اپنے بیوی سے، اپنے باپ سے، اپنی ماں سے، اپنی بہن سے، اپنی بیٹی سے، اپنے بیٹے سے، اپنے دوست سے، اپنے ہمسایے سے، اپنے استاد سے، اپنے شاگرد سے، اپنے قائد سے کیسا ہونا چاہئے؟وہ ان روابط کو اچھا اور خوبصورت دیکھنا چاہتاہے اور ان روابط کی بنیاد کو وہ محبت کی بنیاد پر استوارکرتاہے۔
اسلام کے شرعی احکام، اسلامی آداب، فضائل، اچھائیاں ، نیکیاں یہ سب کچھ انسان کے ضمیر اور وجدان کو جگانے کے لئے ہے اور دنیا اور آخرت میں بہترین زندگی حاصل کرنے کے لئے ہیں دنیا دارالعمل ہے اور دارالاخرة جو ہے وہ دارالثواب ہے دارالاجر ہے۔اسلام نے یہ حکم جس کا تعلق انسان کی سعادت سے ہے چاہیئے وہ قانون ہو ، ادب کی بات ہو، جو انسان کی زندگی اور اس کے حالات سے متعلق ہے اس سب کو بیان کیا ہے اور اسے بہترین اسلوب، بہترین انداز اور پوری دقت اور باریک بینی سے بیان کیا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ خود اس انسان کے لئے ، اس کی ذات کے لئے ، اسکے اہل و عیال کے لئے یا اس کے معاشرہ اور اس کی سوسائٹی کے لئے ہے۔
قرآن کریم ، نبی اکرم، اہل البیت علیہ السلام نے ہمارے لئے بہت ہی ثروت مند ثقافت دی ہے، ایسی عادات ہیں جن کو اپنانے سے ہمارے نفوس زندہ ہو جاتے ہیں اس کے لئے یہ ثقافت ایک نور سے جس کی روشنی میں یہ انسان چلتا ہے لوگوں کے درمیان اس مشعل کے سہارے زندہ ہے،اس تہذیب کی کوئی زندگی نہیں جس کی اپنی ثقافت نہیں وہ مردہ ہے، چلتی پھرتی لاش ہے ۔
اسلام نے بیان کر دیا ہے یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ ان اصولوں پر عمل کرے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کے امور کو منظم کرے لیکن انسانیت دشمن اور ہر زمانہ کے سرکش و خودسر حکمرانوں نے انسانیت دشمن ثقافتیں متعارف کروائی ہیں اور بری عادات اور روایات کو عام کیا ہے اور ان غیر انسانی اخلاقیات کو اسلامی ممالک میں لے آئے ہیں تاکہ قرآن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اہل بیت علیہ السلام کی سیرت کے مدمقابل انسان دشمن ثقافتوں کو متعارف کروائیں اور عوام میں اسے لاگو کروائیں۔
بہت سارے لوگ ان کے ساتھ چل پڑے ہیں وہی گندی عادات اور حیوانی لغزشیں اپنا لی ہیں اور اس بڑی مصیبت کے عام کرنے میں دشمن کے ایجنٹوں کا کردار ادا کیا ہے حالت ہماری یہ ہے کہ جب ہم کوئی خوبصورت چیز دیکھتے ہیں یا غیر معمولی حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے لکڑی خام لکڑی لے آئے ہیں تاکہ ہم اس پر کام کریں اور اسلامی ثقافت کو ہم چھوڑ دیتے ہیں جو ثقافت ہماری یہ تربیت کرتی ہے کہ پڑھو”اللھم صل علی محمد وآل محمد“ جو ہمیں کہتی ہے کہو ماشاءاللہ، سبحان اللہ، اللہ اکبر۔
اسلام نے جو ثقافت اور تہذیب انسان پر لازم قرار دی ہے تو وہ ثقافت ایک دوسرے کے کام آنے ایک دوسرے کی ہمدردی کرنے کی ثقافت ہے اچھا برتاو کرنا، ایک دوسرے کی ملاقات کے لئے جانا، جب ملنا تو پہلے سلام کرنا، مصافحہ کرنا ایک دوسرے کی بھلائی چاہنا ایک دوسرے کی مشکلات حل کرنا، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہنا،لیکن اس کے مقابل میں انحرافی ثقافت لائیں جس کی بنیاد ہے کہ سب سے پہلے اپنے بارے سوچ کرو، اس تہذیب کی بنیاد خود پسندی ہے، اپنی ذات کے گرد سب امور گھومتے ہیں، مغربی انحرافی عادات اپنا لی جاتی ہیں جس میں باپ بیٹے کا تعلق بھی مفادات کے گرد گھومنا شروع کر دیتا ہے، شوہر بیوی ، اولاد والدین، ہمسایے، دوست، احباب، رشتہ دار، حاکم، محکوم غرض تمام تر تعلقات کا مرکزی نقطہ انسان کی اپنی ذات بن جاتی ہے۔ سلام کا رواج ختم ہو رہا ہے، ہمسایہ کی احوال پرسی ختم ہو رہی ہے بلکہ ہمسایہ کا یہ تک نہیں پتہ کہ میرا ہمسایہ کون ہے؟ماں باپ بوڑھے ہو گئے ان کی خدمت کی بجائے انہیں اولڈ گھر پہنچا دیا جاتا ہے اور کرایہ کے خدمت گذار ان کے لئے مقرر کر دیئے جاتے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ باپ بیٹے کا اختلاف، بھائی سے بھائی کا اختلاف، شوہر بیوی کا اختلاف ، چچا بھتیجے کا اختلاف، پھر یہ اختلافات ایسے وسیع ہو جاتے ہیں کہ مرتے دم تک ختم نہیں ہوتے یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے انسانی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے شاگرد، استاد کا احترام نہیں کرتے یہ سب کچھ ہمارے معاشرہ میں ہو رہا ہے۔ اورہمارے ماحول میں یہ آگیا ہے، اس نے ہمارے نفوس پر اپنے اثراب چھوڑے ہیں، جس وجہ سے ہم بہت ساری نعمتوں سے محروم ہو چکے ہیں، کیونکہ جونعمتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لئے رکھی ہیں ان سے ہم محروم ہو جاتے ہیں۔
اے انسانو! ہم ہیں جنہیں یہ دعوت دی گئی ہے کہ انسان کی انسانیت کو زندہ کرو اپنی زندگی کو اخلاق محمدیہ اور فضائل اسلامیہ سے آراستہ کریں ان سے بھی ہمارے نفوس زندہ ہوں گے مُردگی ختم ہو گی ہمارے لئے یہ دعوت ہے کہ ہم کافروں کی عادات کو چھوڑ دیں کافروں کی ثقافت، کافروں کا لباس، کافروں جیسی شکل نہ اپنائیں۔ اسے خداوند نے ناپسند فرمایا ہے ،ناراض ہوجاتا ہے بلکہ ان کے ساتھ کاروبار کرنا ان کی مصنوعات کو خرید کرنا جس سے ان کا اقتصاد مضبوط ہو یہ ہمارے لئے جائز نہیں ہے اس سے اسلام کمزور ہوتاہے۔اے مسلمانو! اسلام کا سر بلند رہنا ہے اس نے سرنگوں نہیں ہونا اسلام اللہ کے نزدیک محترم سے مکرم سے معزز ہے پھر ہم کیونکر کافروں کے رعب تلے آ جاتے ہیں، ان کی عادات اور ان کی تہذیبوں کو کیوں اپناتے ہیں ان کی مصنوعات کے دلدادہ کیوں ہیں؟ خود کیوں نہیں کرتے، اپنی ثقافت کو عام کیوں نہیں کرتے؟ ہم اپنی تہذیب مغربی دنیا میں کیوں نہیں پہنچاتے ہماری ثقافت، خالص انسان کی تربیت دی ہوئی ہے اس میں کشش موجود ہے اس میں عالمی ہونے کی قابلیت ہے یہ کام ہم نے کرنا ہے اسے متعارف ہم نے کروانا ہے یہ وہ کام ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام سے پہلے ہمیں کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ذلیل بنایا ہے ان کے لئے عزت نہیں ہے کیونکہ ان کے دلوں میں انسانیت کے لئے بغض ہے نفرت ہے،کینہ ہے وہ انسانی قدروں کے دشمن ہیں جو کچھ ان کے پاس ہے اقوام عالم کو غلام بنانے اور انہیں نقصان پہنچانے کے لئے ہے۔
ہمارے امام حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انبیاءعلیہ السلام سے ایک نبی علیہ السلام کو وحی فرمائی: مومنوسے کہہ دو کہ وہ میرے دشمنوں کا ترتیب دیا ہوا لباس نہ پہنیں اور نہ ہی میرے دشمن کی تیار کردہ غذا تناول کریں اور نہ ہی میرے دشمنوں کے بنائے ہوئے راستوں کو اپنائیں اگر ایسا کرو گے تو تم بھی ان کی طرح میرے دشمن قرار پاو گے۔(مفاتیح الجنان ص ۶۳۸)
خفیہ کاری (انٹیلی جنٹس)
اس امر بارے میری تحقیق نہیں ہے ہم نے اس کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی علیہ السلام کے لئے جو امور ضروری ہیں ان کی فہرست پوری کرنے کے لئے اسے دیا ہے۔
ہم نے اس امر میں خفیہ کاری، رازداری کو بیان کیا ہے اور اس کی اہمیت کو بھی بیان کیا ہے، کسی بھی حکومت کو چلانے کے لئے جتنی راز داری ضروری ہے، اتنا ہی آگہی اور معلومات رکھنا بھی ضروری ہے ، مملکت میں کیا ہو رہا ہے؟ دشمن کیا کر رہا ہے؟ فتنہ فساد پھیلانے والوں کے منصوبہ جات کیا ہیں اس بارے اطلاعات کا ہونا بہت ضروری ہے تب ہی مملکت میں امن قائم کیا جا سکتا ہے جس حکومت نے پورے عالم پر قائم ہونا ہے تو اس کے لئے بھی اس محکمہ کی اشد ضرورت ہے اس کی علیہ السلام کے لئے بھی اس کی ضرورت ہے تاکہ دشمنوں کی سرگرمیوں اور ان کے طریقہ کار کا علم ہو پھر اسی تناظر میں علیہ السلام کی جائے آج کی اصطلاح میں اطلاعات کا محکمہ انٹیلی جینٹس کا محکمہ ،مخبری کا محکمہ یا جاسوسی کا محکمہ کہا جاتا ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی حدیث میں ہے:
اپنے پروگراموں اور منصوبہ جات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے انہیں پوشیدہ رکھنا ضروری ہے۔(الراسخ السماویہ ج ۴)
اپنے پراگراموں اور منصوبہ جات کے لئے رازداری سے مدد لو کیونکہ یہ نعمت رکھنے والا محسود ہوتا ہے اس کے لئے حسد کیا جاتاہے۔(تحف العقول ص ۸۴)
جس نے اپنے راز کو چھپائے رکھا تو اختیار اس کے اپنے پاس موجوود رہا۔(نہج البلاغہ ج ۴)
اس نقطہ کی اہمیت ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتاجب حاجات کے لئے رازداری کی اہمیت ہے تو وہ معاملات جو تقدیر ساز ہیں جن سے انسان کا مستقبل وابستہ ہے داخلی اور خارجی مفادات جن امور سے وابستہ ہوں ان کی اہمیت سب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔خاص کر جن امور کا تعلق حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام سے ہے ان کے لئے معاونین بنانے ہیں، ان کے لیڈر کی تربیت کرنی ہے، ایسی حکومت جس نے پورے عالم میں امن قائم کرنا ہے ، عدالت کا نظام لانا ہے ، ظلم کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لئے رازداری کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر شعبہ اطلاعات رسانی ہے کیونکہ ایسے سازشی عناصر بھی ہو سکتے ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی تمہید میں خلل ڈال دیں گے اس کے لئے رکاوٹیں کھڑی کریں تو ایسے عناصر سے آگہی اور ان کا توڑ اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔اب اس کا طریقہ کار کیا ہے تو جو اس فیلڈ کے افراد ہیں وہی اس بارے رائے دے سکتے ہیں ہم نے اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور یہ کہ اس چیز کی ضرورت ہے۔
۴ ۔ اخلاقی علیہ السلام
اس کا تعلق ثقافتی تربیت سے ہے، بلکہ یہ اس کا ہی ایک حصہ ہے اس سے جدا نہیں ہے۔ ہم نے اخلاق کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ عنوان دیا ہے۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بعثت کا مقصد اخلاق قرار دیتے ہیں۔
”بعثت لاتمہم مکارم الاخلاق“(بحارالانوار ج ۶ ص ۰۱۲)
اس حدیث کے مضمون سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ حضورپاک نے اپنی بعثت کے نتیجہ میں اخلاقیات کی تمام خوبیوں کی تکمیل کردی، اخلاقیات کو ان کی آخری حد تک پہنچا دیا، آداب انسانی کو عروج پر لے گئے، کسی ایک کے لئے اس بات کی گنجائش نہیں رکھی کہ وہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقتدار اور پیروی میں ہچکچاہٹ کرے، مکارم اخلاق کی نظری موقعیت اور ان سے آگہی کہ مکارم اخلاق ہیں کیا؟ اور پھر انہیں عملی زندگی میں لے آنا حضورپاک نے ایسا ہی کیا آپ کی پوری زندگی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھی آپ کا ہر پہلو اخلاق کا آئینہ دارہے۔
معاشرہ و مجمع میں عمومی اخلاقیات کی اہمیت
السید الخامنہ ای فرماتے ہیں:
اخلاقی شکل ہی درحقیقت کسی سوسائٹی کی پہچان ہے، کسی بھی مجمع اور سوسائٹی کا وزن اس کے اخلاقی قطب پر قائم ہوتا ہے باقی سارے معاملات اسی اخلاقی مرکز کے گرد گھومتے ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اخلاقی امور کو اہمیت دیں اور ان کی پوری سرپرستی کی جائے، ذرائع ابلاغ، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، تمام وسائل کو اخلاقی فضائل کی اشاعت اور مکارم اخلاق کی تعلیم اور انہیں بیان کرنے کے لئے استعمال میں لایا جائے معاشرہ کے افراد کی روش، ان کے رویوں بارے اخلاقی ضابطے، اجتماعی ذمہ داریاں، نظم، منصوبہ بندی، اجتماعی آداب، خاندان کی اہمیت، دوسروں کے حقوق کا لحاظ رکھنا، انسان کا احترام اور اس کی کرامت کا لحاظ ، ذمہ داری کا احساس، اپنے اوپر اعتماد اور بھروسہ، ذاتی شجاعت، قومی شجاعت، قناعت یہ وہ اہم اخلاقی فضائل ہیں جن سے ایک معاشرہ کو بہرہ ور ہونا چاہیے۔
اگر ہم اس وقت مختلف زندگی کے میدانوں میں خرابیوں کے بارے گفتگو کریں تو سب کا بنیادی سبب اچھے اخلاق کا فقدان اور اچھے عادات کو چھوڑنا ہے۔
اسی طرح امانت، درستگی، خیر،اصلاح، حق کا ساتھ دینا ، خوبصورتی کو چاہنا، اپنے لئے خوبصورت زندگی چاہنا، ظاہری اور باطنی دونوں حوالوں سے خوبصورت زندگی، ....زندگی سے گریز، فضول خرچی سے گریز، پاکدامن، ماں باپ کا احترام ، استاد کا احترام اخلاقی فضائل سے ہیں۔
ہمارے ہاں اخلاقی فضائ، اسلام نے ان سب پر زور دیا ہے اہل البیت علیہ السلام نے اس کی تشویش فرمائی ہے، علماءاعلام، فلمگاروں پرلازم ہے کہ وہ ٹیلی ویژن کے تمام پروگراموں میں اخلاقی فضائل کا لحاظ رکھیں جو مکالمے ہوتے ہیں جو ڈڑامے پیش کیے جاتے ہیں جو خبریں نشر کی جاتی ہیں ، ٹیلیفونک گفتگو ہوتی ہے، خطاب ہوتا ہے، مکالمہ ہوتا ہے سب میں اخلاقی فضائل کا لحاظ رکھا جائے تاکہ ہر قسم کے نقص سے پروگرام پاک رہے۔
الٰہی اخلاقیات اور اخلاق مکارم کی وضاحت اور تعلیمات کو شریعت اسلامی میں بیان کیا گیا ہے چاہے وہ امور جن کا تعلق انسان کی ذات سے ہے جیسے صبر، شکر، اخلاق، یا وہ امور جن کا دوسروں سے ہے جیسے درگذر کرنا، معاف کر دینا، تواضع، عاجزی، قربانی، انسانوں کا احترام کرنا یا وہ جن کا تعلق عمومی معاشرہ اور سوسائٹی سے ہے۔
اسلامی اخلاقیات کا میدان بہت ہی وسیع ہے یہی وہ امور ہیں جن پر انبیاءعلیہ السلام اور رسولوںکی تبلیغ کا زورتھا، ادیان الٰہی کی بڑی شخصیات، اولیاءاللہ نے اسی نقطہ پر اپنی تمام مساعی اور جمہور کو مرکز رکھا، اسی طرح اسلام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئمہ اہل بیت علیہ السلام کی سارے محنتیں و مشقتیں اسی پر تھیں معلوم رہے کہ ان امور کو ظالم حکومتوں کے زیر سایہ حاصل نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ انسان بہت زیادہ مشقت کر کے ان فضائل کو اپنا سکتا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔
ہمارے اوپر واجب ہے، خطباءپر لازم ہے، تہذیب یافتہ طبقہ کی ذمہ داری ہے، گریجوایٹ افراد پر فرض ہے، رائٹرز، تجزیہ نگاروں، اخبارات کے مالکان، ٹی وی چینلز کے مالکان ، پروگرام ترتیب دینے والوں سب پرلازم ہے کہ اخلاق کی تعلیم دیں اور اخلاق کو عام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ بھی مدد کرے، حضرت امام زمانہ صاحب الزمان (عج) کا دل خوش ہو آپ علیہ السلام سے بھی اور ہم سے بھی اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہدایت الٰہی ہمارے نصیب ہو، اس طرح ہم اپنے عظیم رہبر حضرت روح اللہ الخمینیؒ کی روح کو بھی شاد کریں اپنی اس اخلاقی تحریک سے فیضان الٰہی حاصل کریں برکات کو سمیٹیں۔
(خطاب ۷۱ شوال ۵۲۴۱ ہجری قمری، دوسرا خطاب ۷۲ رجب ۷۱۴۲ ہجری قمری ۔تہران)
خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے علیہ السلام میں اخلاقی فضائل کی تعلیم لینا اور دوسروں کو تعلیم دینا اسی طرح اخلاقی فضائل کو اپنے وجود پر لاگو کرنا اور دوسروں کو اس پر جلانا اہم ذمہ داریوں سے ہے۔(ازمترجم)
نظریاتی لحاظ سے اخلاق کی تعلیم
اخلاقی تیاری کے لئے آغاز نظری اخلاق سے ہوگا، اصول اخلاق، اصول آداب کو بیان کرنے کے لئے باقاعدہ پروگرام اور منصوبہ سازی کرنا ہوگی جیسا کہ ہم نے ثقافتی تربیت کے بیان میں کہا ہے۔پروگرام اور منصوبہ سازی کے بعد اور اس کو پڑھنے اور پڑھانے کے بعد اسے عملی جامہ پہنانا ہوگا ان اصولوں کو لوگوں کے لئے تعلیم دینا ہوگا اور معاشرہ میں اس کی تعلیم عام کرنے کے لئے اخلاقیات کا درس دینے والے معلمین تربیت کرنا ہوں گے، اخلاقی اصولوں سے آگہی کے لئے مختلف کورسز کا اجراءکرنا ہوگا نظریاتی طور پر اخلاقی بنیادوں کو مستحکم طریقہ سے پیش کرنا ہوگا اور اس کی تعلیم کا انتظام کرنا ہوگا اسے ہم اخلاقی میدان میں نظریاتی تیاری کا عنوان دیتے ہیں۔
اخلاقیات کی عملی تیاری
اخلاقیات کے اصول بیان کردینا، اخلاقی فضائل کی بنیادوں کی تعلیم دے دینے سے ایسا معاشرہ تشکیل نہیں پاجاتا جو اعلیٰ اخلاق سے آراستہ ہو اور اخلاقی فضائل کا نمونہ ہو، بلکہ اس کے بعد اگلا قدم اٹھانا ہوگا اور وہ ہے ان اخلاقی اصولوں اور ضوابط کو نافذ کرنا ہے اور عملی طور پر لاگو کرنا ہے۔
یہ امر جو ہے مطالعہ چاہتا ہے جائزہ لینا ہوگا کہ کس طرح ان اصولوں پر عمل کروایا جائے اس کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تجربہ گواہ ہے کہ جس نے اخلاقی فضائل کے اصول پڑھ لئے ہیں تو ان فضائل کی تعلیم دینے اور نافذ کرنے کے مرحلہ میں مشکل سے دوچار ہوتے ہیں یا تو ان کو پڑھنے کے بعد بھول جاتے ہیں یا خود بھلا دیتے ہیں یا پھر ان کو عمل کرنے کے لئے اشتباہ میں پڑجاتے ہیں اس لئے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو عملی میدان میں لانے کے لئے ایک منظم منصوبہ بندی درکار ہے تاکہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔
اخلاقی تعلیمات کے نفاذ کی ضمانت
جیسا کہ میری معلومات ہیں اس پروگرام کے لئے علمی نظریات نہیں بلکہ یہ اجتماعی تجربات ہیں کیونکہ یہ امر ایک معاشرہ میں کچھ۔ اور دوسرے میں کچھ ہوگا۔ ایک گھرانہ میں کچھ، اور دوسرے میں کچھ ہوگا پروگرام سے مراد یہ ہے کہ عملی طور پر ایسا رویہ اپنایا جائے جو فرد اور معاشرہ کے لئے مفید ہو فرد کو ان اخلاقی خوبیوں کو اپنانے کا شوق دلایا جائے اور معاشرہ میں ان اخلاقی اصولوں کی پاسداری کا احساس اجاگر کیا جائے کہ شرعی آداب، مستحبات کی پابندی کریں، رذائل اور پست صفات کو اپنے سے دور کریں
جی ہاں!یہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد ہوگا اورآگہی کے بعد ہوگا پہلا مرحلہ آگہی ہے اور دوسرا مرحلہ عمل ہے، ثقافتی اور تہذیبی تربیت ہی اس کو عمل کے میدان میں لائے گی فرد اور مجتمع دونوں کو اعلیٰ اخلاقیات، اخلاقی فضائل کے فوائد سے واقف ہو اور بیری عادات سے برے اخلاق کے نقصانات کاعلم ہو۔ہم اس امر کی صعوبت اور مشکل سے آگاہ ہیں یہ کام ہم آسان نہیں سمجھے اس میں مشقت ہے، دقت کرنا ہوگی، اخلاق حسنہ اور اخلاق رذیلہ کے سارے معادین کو بیک وقت حاصل کرنا اور اخلاق رذیلہ کو بیک وقت چھوڑ دینا ممکن نہیں ہے یہ تدریجی عمل ہے۔
مثال: جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ معصومین علیہم السلام کے کی مزارات کی زیارت کے یہ فوائد ہیں انتا ثواب ہے تو پھر اس کے لئے پروگرام ترتیب دینے ، قافلہ زیارات کے لئے تیار کرتے ہیں ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں اور زیارت کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں اسی طرح باقی مستحبات ہیں جیسے ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا، ہر نعمت کے بعد الحمدللہ کہنا، کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کھانے کے بعد شکراللہ کہنا، پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا،غسل سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، گھر داخل ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنا، لباس پہنتے وقت بسم اللہ پڑھنا، جب فردایسا کرے گا تویہ عمل پورے معاشرہ میں جاری ہو جائے گا اسی طرح سلام کرنا ہے یا جمعرات کو ناخن کاٹنا ہے، جمعہ کی صبح دعائے ندبہ پڑھنا ہے، شب جمعہ زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھنا ہے، زیارت عاشورا پڑھنا ہے، صبح کی نماز کے بعد دعا ئے عہد پڑھنا ہے، مریض کی عیادت کے لئے جانا ہے، جمعہ کا غسل کرنا ہے، جمعہ کے دن اچھا لباس پہننا ہے، دوستوں سے ملاقات کرنا ہے، ہمسایوں کی احوال پرسی کرنا ہے، یہ سارے امور افراد انجام دیں گے اور معاشرہ اور سماج خودبخود اس پر عمل پیرا ہوجائے گا۔ان امور کی انجام دہی کے لئے ایک دوسرے کو آمادہ کرنا اور یاد دلانا ہوگا۔
تبلیغ کے ذرائع جو بیان کئے ان سے استفادہ کر سکتے ہیں کسی گھر میں جاتے ہیں، شب جمعہ کا انتخاب کرتے ہیں، نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں، زیارت عاشورا پڑھتے ہیں، امام زمانہ(عج) کی سلامتی کی دعا مانگتے ہیں، زیارت آل یٰسین پڑھتے ہیں، باپ، ماں، اولاد سب مل کر نماز ادا کرتے ہیں، مل کر کھانا کھاتے ہیں، اسلامی آداب کا لحاظ کرتے ہیں تو اس سے اخلاقی تعلیمات پر عمل شروع ہو جاتا ہے۔
جب لوگ یہ سنیں گے کہ دوستوں، بھائیوں کی خدمت کا ثواب ہے تو ہم رفاہی اور خیراتی جمعیات اور ادارے بنائیں گے اور اسلامی طریقہ پر ان میں کام شروع کر دیں گے اور ان تنظیموں کے ذریعہ اسلامی اخلاق اور اسلامی آداب کو بھی عام کریں گے ان تنظیموں کے ذریعہ جہاں فقراءمساکین کی مدد ہو گی ان پڑھوں کو تعلیم دی جائے گی دشمنوں کی سرپرستی ہو گی تو وہاں انہیں اخلاقیات اور اسلامی آداب کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ دی جائے ، اللہ تعالیٰ کی ذات کا شکر بجا لانے کو بیان کیا جائے گا۔
بہرحال خیراتی ادارہ،خدماتی تنظیموں کا قیام، اعلیٰ اخلاقیات کی تبلیغ اور اخلاقی فضائل کو عملی جامہ پہنانے میں بہت ہی موثر ہے۔
جیسا کہ پہلے بیان کر آئے ہیں اس میدان میں بھی خواتین سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، مردوں سے زیادہ خواتین خدماتی اور رفاہی میدانوں میں کام کر سکتی ہیں، اسلامی آداب بجالانے، مستحبات پر عمل کرنے، دعاوں اور زیارات کے باب سے فائدہ اٹھانا ان کا اہم کام کردار ہے خود خواتین نماز جماعت بھی اپنے لئے اقامت کر سکتی ہیں اس میں کوئی شرعی اشکال نہیں ہے۔
اخلاقی فضائل کی نطیق اور عملی میدانوں میں ان کے نفاذ کے لئے مقابلوں کا انعقاد بھی مقید ہے، انعامات رکھے جائیں، اس میں علمی فائدہ بھی ہوگا اور عملی فائدہ بھی ہوگا مثلاً تین دن وضو کے ساتھ رہنے والے کے لئے انعام، ایک ماہ باقاعدہ نماز جماعت میں شرکت کرنے والے کے لئے انعام، چالیس دن باقاعدہ زیارت عاشورا پڑھنے والے کے لئے انعام، دس فقیروں کی مدد کرنے والوں کے لئے انعام، دس بچوں کو وضو سکھانے والوں کے لئے انعام، گھر کی گلی صاف کرنے والوں کے لئے انعام، صاف ستھرا لباس پہننے والے کے لئے انعام، جمعرات اور جمعہ کے دن ناخن باقاعدگی سے تراشنے والے کے لئے انعام، جمعہ کے دن غسل کرنے والے کے لئے انعام، کسی بھٹکے ہوئے کو رستہ دکھانے والے کے لئے انعام، اخلاقی فضائل بیان کرنے والے کے لئے انعام، اخلاق رذیلہ بتانے والے کے لئے انعام، غرض انعامات کے مقابلے منعقد کئے جائیں مختلف مناسبات میں ایسا کیا جائے ان کے ذریعہ اخلاقی فضائل کو رواج دینے میں مدد ملے گی۔
ایک عارف کا قول ہے کہ ہر شئی کی زکات ہے اور جس کے پاس اپنی گاڑی ہے اس کی زکات یہ ہے کہ وہ پیدل چلنے والے کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر اسے منزل مقصود تک پہنچا دے خاص کر اس وقت جب اس کے پاس جگہ اور اس کا راستہ بھی اسی جگہ سے گزرتا ہو جہاں اس پیدل چلنے والے نے جانا ہے ہم نے اس کی تفصیلات کو اپنی کتاب ”معاجز الصدقہ وآثارہا“میں بیان کیا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اوراخلاق کی اہمیت
اجتماعی زندگی میں اخلاق کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ہم اس جگہ اس کے بیان کرنے کے درپے نہیں ہیں، یہ کتاب اس کے لئے مخصوص نہیں ہے، ہم اس جگہ ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اخلاق کی اہمیت اور اس کے اثرات کیا ہیں؟
اخلاقیات چند عملی، قولی اور سلوکی الزامات اور پابندیوں کا نام ہے لوگوں کی جانب سے، تو یہ ناچار معاشرہ کے اندر انجام پانے والے تمام اعمال اور کاموں پر مثبت اور منفی اثرات چھوڑے خاص کر جو الٰہی اعمال ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ اخلاقیات کا عادلانہ اور پاکیزہ حکومت کے قیام میں بہت بڑا کردار ہے۔
اس دولت کریمہ میں رہنے والوں اور اس کی پیروی میں کام کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ انبیاءعلیہم السلام اور اہل بیت علیہم السلام کے اخلاق سے آراستہ ہوں اور اپنی سیرت اور کردارکے دور میں اخلاقی فضائل کو اپنائیں اور ان پر پابند ہوں تاکہ وہ چیز جلدی اور مختصر وقت میں اپنے ہدف اور مقصد تک پہنچا دے اس حکومت کی خواہش رکھنے والوں کو اپنے اخلاقیات کو صحیح کرنا ہوگا اور اخلاقی فضائل سے خود کو رنگنا ہوگا۔
صحت اور ماحول کی درستگی
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان خود کو صحت مند بنائے رکھے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکے اور عبادات کے علاوہ اس سے جو کام چاہے گئے ہیں انہیں انجام دے سکے۔
عبادتی امورمیں سے ہے جسے ہم بیان کر رہے ہیں اور وہ ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کے لئے خود کو تیار کرنا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کو چاہنے والے شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ خود کو صحت مند رکھے اور بیماریوں سے بچائے(البتہ انہی امتحان کے تحت جو بیماری آ جاتی ہے تو وہ اس جگہ مراد نہیں ہے اس جگہ مراد یہ ہے کہ خود کو بیماری میں ڈالنے کے اسباب اپنے لئے مہیا نہ کرے)یہ ایک اہم واجب کی ادائیگی کے لئے مقدمہ ہے۔
جی ہاں! صحت کی بڑی اہمیت ہے اس حکومت کے علاوہ بھی اولاد کی تربیت کے لئے ، خاندان کے لئے، کاروبار کے لئے، محنت مزدوری کے لئے، روزگار کے لئے صحت کی ضرورت ہے۔صحت مند جسم مین صحت مند عقل ہوتا ہے عقلمندوں کی حضرت امام مہدی علیہ السلام کو ضرورت ہے ، صحت مندوں کی ضرورت ہے بیمارتو معاشرہ پر بوجھ ہوتے ہیں۔ایک ذمہ دار اور بامقصد زندگی گزارنے والے انسان پر لازم ہے کہ وہ اس حکومت کی انتظار میں ہو اس حکومت کے مقاصد پر اس کا ایمان ہو، وہ اپنے مادی جسم کی حفاظت کرے اور ایسی چیزوں کے استعمال سے گریز کرے جو اس کے مادی جسم کو بیمار بنا دیتی ہیں جیسے سگریٹ نوشی، ایسی چیز کھانا جو نقصان دہ ہو، ایسا کام انجام دینا جو بدن کو نقصان دے، جیسے تیز گاڑی چلانا، تیز سائیکل چلانا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ کام جو اس کے بدن کو نقصان دے یا نقصان میں اضافہ کا سبب ہے، اذیت کا سبب ہو، جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے تو ایسے امور اس مبارک حکومت تک پہنچنے کے لئے رکاوٹ بنیں گے۔
جو بھی امام علیہ السلام کے منتظرین سے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو اہمیت دیں کیونکہ یہ امر بہت سارے مسائل پر اثر چھوڑے گا، بیماری بہت ساری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے گی، مریض آدمی اجتماعی، سیاسی، تعلیمی، ثقافتی، اخلاقی حسن ، عباداتی ذمہ داریوں کو کیسے نبھا سکتا ہے۔یہ چیز ہمارے لئے صحت کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صحت اور امنیت دو ایسی نعمتیں ہیں جو غیر معروف(مجھول)ہیں۔(مسند الرضاءص ۰۲۱)
خلاصہ یہ ہے کہ انسان صحت کا خیال رکھے اور اجتماعی بیماریوں سے بچاو کی تدابیر کرے، ایسی بیماری جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام کی تیاری کے لئے رکاوٹ بنے یہ بات تو ایک فرد کی صحت کے حوالے سے تھی۔
صحت مند ماحول، صحت افزاءفضا ایک معاشرہ کے لئے تو اس کی بھی بڑی اہمیت ہے یہ کتاب اس بارے بحث کے لئے نہیں ہے ہم اس جگہ اتنی بات کریں گے جو تیاری کے عمل کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے مثلاًماحول کی آلودگی حد سے بڑھ جائے تو یہ بہت سارے کاموں کی انجام دہی کے لئےءرکاوٹ ہے جیسا کہ صحت بدنی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، ماحول کی آلودگی ایک فرد کی صحت پر اثرات چھوڑتی ہے اسے بیماربنا دیتی ہے اور بیماری کام سے رکاوٹ کا سبب ہے۔
بعض دفعہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ ماحول کی آلودگی براہ راست فرد کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتی اگرچہ اس نظریہ پہ بات کہی جائے کہ فوری اس کے برے اثر فرد کی صحت پر مرتب نہیں ہوتے ۔تو ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے جو ہماری کتاب کا موضوع ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے تمہیدی کاموں کو انجام دینا ہے اس حکومت میں ظلم اور جور نہ ہو گا ماحول کی آلودگی عوام کی صحت کے لئے نقصان دہ ہے کچھ چیزیں تو ظلم اور جور سے پیدا ہوں گی مثلاً کیمیائی مواد کے اخراج سے، زہریلی گیسوں کی بہتات سے، جنگ کی تباہ کاری،اسی طرح طبیعی فضاءکو خراب کرنے والے استحصالی اقدامات، شہری فضاءکو خراب کرنے کے لئے آبادیوں کے قریب فیکٹریاں یہ سب صحت کو خراب کرنے کا ذریعہ ہیں ان کی اجازت نہیں ہے۔صحت افزاءمقامات کا خاتمہ، درختوں اور جنگلات کا خاتمہ یہ بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہے، ہر وہ عمل جو ماحول کو آلودہ کردے، فضاءکو خراب کرے اس کی اجازت نہیں ہے، شرعاً حرام ہے، اس میں دھوئیں چھوڑنے والی گاریاں ہیں، گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر ہیں، صفائی کے انتظامات نہ ہونا، اس حکومت کی تیاری کے لئے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرنا ہو گا جو اس کے قیام میں تاخیر کا سبب ہوں ظلم اور جور کے تمام مظاہر کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی اور اس کے لئے ذہنی آمادگی پیدا کرنا ہوگی۔حضرت امام مہدی علیہ السلام نے ظلم کا خاتمہ کرنا ہے ان مظالم میں ایک ظلم کی شکل ماحول کو آلودہ کرنے کے اقدامات بھی ہیں اسے بھی ختم کر دیں گے ۔
جو شخص اس حکومت پر ایمان رکھتا ہے اس کے اہداف پر اسکا ایمان ہے تو اس پر لازم ہے کہ انفرادی طور پر کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھنے اور اجتماعی حوالے سے، ماحول و فضاءکے حوالے سے وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کی صحت خراب ہونے کا اندیشہ ہو، وہ اپنے گھر کے ماحول کو صحت افزاءبنائے اس میں بچوں کی صحت کے لئے ضروری اقدامات کریں، درخت لگائیں،پھلواری بنانے، کھیل کود کے میدان بنانے، ماحول کو صاف ستھرا رکھے۔
جب ہر شخص اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھے گا اور کوئی ایسا کام نہ کرے گا جس سے ماحول آلودہ ہو تو اس طرح وہ پورے معاشرہ اور سوسائٹی کو صحت مند بنانے میں کردارادا کرے گا ایک گھر کا کوڑا کرکٹ پھینک دینا، بچوں کو نالیوں پر پاخانہ کروانا، گندی نالیوں پر ڈھکنے نہ دینا، گٹروں کو کھلے چھوڑ دینا، بدبو کے خاتمہ کے لئے ضروری کیمیکل کا استعمال نہ کرنا، یہ سب گناہ ہے اور ایک مومن کو ایسانہیں کرنا چاہیئے۔
ماحول کو آلودگیوں سے بچانے کے لئے بلدیہ، حکومتی اداروں، رفاہی تنظیموں، این جی او،کا کام ہی نہیں بلکہ معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، زمین کو خراب کرنے سے محفوظ رکھنا، شجرکاری اور ہر وہ کام جو ماحول کو صحت افزاءبنائے اور اسے آلودگی سے بچائے اسے انجام دینا انتہائی ضروری ہے۔حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عاشق خودبخود صاف ستھرے رہتے ہیں، صحت مند ہوتے ہیں، اپنا ماحول صاف ستھراءرکھتے ہیں، دوسروں کی صحت کا خیال رکھتے ہیں، پورے ماحول کو آلودگی سے بچاتے ہیں اور صحت افزاءماحول بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
چوتھی فصل
حضرت امام زمانہ (عج)کی حکومت میں اہداف اور ان کے حصول کا طریقہ کار، حکومتی پالیسیاں
روایات جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے اہداف کو بیان کرتی ہیں ان میں بہت سارے اہداف کو ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کی تطبیق اور نفاذ کی بات کی گئی ہے لیکن یہ اہداف کتنی مدت میں حاصل ہوں گے اس کا ذکر موجود نہیں ہے اور کیسے ان اہداف کو حاصل کیا جائے گا اسے ہم پانچویں فصل میں بیان کریں گے۔اہداف کے حصول میں کتنا وقت لگے گا تو اس کا تعلق اس اسلوب اور طریقہ کار سے ہے جو اختیار کیا جائے گا ۔
مثال کے طور پر براعظم افریقہ میں اسلامی حکومت قائم کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے علمی اور ثقافتی طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کے لئے ایک معین عرصہ درکار ہے اور اگر جنگی طریقہ ہو گا تو پھر اس کے لئے وقت کم درکار ہوگا اسی طرح باقی اہداف کے بارے ہے۔
ہماری اس جگہ گفتگو کا مقصد اہداف کے تحقق کی مدت کا تعین نہیں ہے نہ ہی یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ کتنے سال لگیں گے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ان سالوںمیںاستعداد اور قابلیت کی مدت بارے جو امراس استعداد کی نوعیت، کیفیت اور حجم پر اثر انداز ہو گی اس کا ذکر کرنامقصود ہے۔
مثال:ایک بستی میں اسلامی قانون نافذ کرنے کے لئے ایک مہینہ کی ضرورت ہے تو اس میں دو جج ضرورت پڑیں گے ایک سوسپاہی کی ضرورت ہوگی لیکن اس بستی میں ایک سال وقت درکار ہو تو پھر وہ تعداد ناکافی ہے نتیجہ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا اور سپاہیوں کی تعداد بھی بڑھانا ہوگی۔
اس اعتبار سے اس فصل کا اور بعد والی فصول کا باہمی ربط اور تعلق ہے اوران دونوںابواب کے مطالب پچھلی فصل میں جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس پر بھی اثر پذیر ہوں گے۔
اہداف
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے اہداف کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتاہے۔
۱ ۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کا نفاذ
۲ ۔ اسلامی حکومت کا قیام
۳ ۔ عدالت کا عام کرنا ظلم و جور کا خاتمہ
پہلا ہدف:۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کا نفاذ
اللہ کے قانون کا نفاذ اسلامی حکومت ہی میں ہو سکتا ہے وہ اس طرح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے بعض احکام اور قوانین کا نفاذ مراد ہو اور وہ بھی محدود جگہ پر اور محدود وقت کے لئے تو پھر کسی حکومت کو تشکیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری بحث یہ ہے کہ سارے احکام کا نفاذ ہو اور غیرمعین مدت کے لئے اور زمین کے ہر کونے پراسلامی قوانین رائج ہوں۔
جی ہاں!امام علیہ السلام کے ظہور کے آغاز میں اور امام علیہ السلام کے سارے اہداف کے پورے ہونے سے پہلے ایک زمنی مرحلہ ہو گا جس میں اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہو گا اور وہ بغیر حکومت کے قیام کے ہوگا اوروہ نفاذ محدود علاقوں میں ہوگایہ اسی حوالے سے ہے کہ امام علیہ السلامکا پہلا ہدف اللہ کے قانون کا نفاذ ہے۔
حضرت امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے احکام کی نوعیت
امام علیہ السلام جن احکام اور قوانین کا نفاذ کریں گے وہ ظاہری احکام ہوں گے یا واقعی حقیقی اور اصلی احکام ہوں گے؟اس اعتبار سے کہ وہ اصلی احکام کا نفاذ کریں تو اس میں ماضی کے حوالے سے بھی فیصلے کئے جائیں گے یا نہیں؟ جوواقعہ گذر چکا ہے اور جس جرم کا ارتکاب پہلے کیا جا چکا ہے اس حوالے سے عام معافی دے دی جائے گی؟ موجودہ حال اور مستقبل میں اصلی احکام کا نفاذ یقینی بنایا جائے گا؟امام علیہ السلام کے لئے اصلی احکام کی پابندی کیوں ضروری ہے؟ اور اس سے ہدف کیا ہے؟
پشیمانی سے پہلے تنبیہ، خبردار کرنا
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اس بات پر توجہ دلانا ضروری ہے کہ اسے پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ امام علیہ السلام کی حکومت کے قیام سے پہلے لوگوں کے دلوں میں رعب ڈالا جائے اور نہ ہی اس کی تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ کس طرح عمل کریں گے۔ بلکہ یہ تو خبردار کرنا ہے کہ شرعی احکام کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور شرعی احکام کی پابندی پر اکسایا اور آمادہ کیا جائے تاکہ انسان بعد میں پشیمان نہ ہو کیونکہ اس وقت اصلاح کا موقع ہی نہ ملے گا یا اس حالت سے واپس آنے کا وقت ہی نہ رہاہوگا۔
جو شخص امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے یہ بات جانتا ہوکہ امام علیہ السلام اسے رسوا کر دیں گے اس کے اموال جن کا ظاہری طور پر وہ مالک ہے اور ظاہری دستاویزات بھی اس کے پاس موجودہیں لیکن اصلی مالک وہ نہیں، غیر شرعی طریقہ سے اس کے پاس یہ اموال آئے ہوئے ہیں، اس کے پاس انہیں نہ چھوڑا جائے گا جو شخص اس بات سے واقف ہے کہ اس کی بیوی کو اس سے الگ کر دیا جائے گا جو اصل میں اس کی بہن ہے یا ایسی عورت سے اس کی شادی ہوچکی ہے جو پہلے سے شادی شدہ تھی تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اس منکر سے بچ جائے گا۔
اسی طرح کے بہت سارے اعمال ہیں جن کا انسان ارتکاب کرتا ہے چھپ کر اور امام علیہ السلام جانتے ہیں کہ اس نے ان جرائم کا چھپ کر ارتکاب کیاہوا ہے ۔
بعض کا ارتکاب اس نے جان بوجھ کر کیا ہوتا ہے اور بعض کے بارے اسے معلوم ہی نہیں اور وہ جرم کر چکا ہوگا۔ امام علیہ السلام اس کے اعمال سے اس وقت واقف تھے جس وقت اس نے وہ اعمال انجام دیئے تھے کیونکہ اس کے اعمال امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں تو یہ شخص خلاف کاریوں سے بچے گا۔
امام علیہ السلام اصل اور واقعیت کے مطابق فیصلہ دیں گے
روایات میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں امام مہدی علیہ السلام آل داود علیہ السلام کی مانند فیصلے دیں گے جو واقعیت اور اصلیت پر مبنی ہوں گے ۔ کمال الدین میں شیخ صدوقؒ نے اپنی سند سے، ابان بن تغلب سے یہ بات نقل کی ہے کہ حضرت امام ابوعبداللہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: عنقریب تمہاری مسجد میں ۳۱۳ آدمی آئیں گے یعنی مکہ کی مسجد میں، مکہ والے جانتے ہوں گے کہ یہ سارے لوگ انکے شہر سے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے آباو اجداد اس شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے پاس تلواریں ہوں گی ہر تلوار پر ایک لفظ لکھا ہوگا جس سے ایک ہزار نقطہ(کلمہ)لکھیں گے(ظاہر ہے اس سے مراد مخصوص قسم کا بٹن یا چابی مراد ہے جیسا کہ کمپیوٹر کے لئے ”کی بورڈ“ استعمال ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کچھ اور مراد ہو)اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا اور اس میں سے آواز دی جائے گی ”یہ مہدی علیہ السلام ہیں داود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام جیسے فیصلے دیں گے ان فیصلوں کے لئے گواہ طلب نہیں کریں گے۔“
(کمال الدین ج ۲ ص ۱۷۶ باب ۸۵ ذیل ۹۱)
اسی کتاب میں مزید بیان ہواہے:
حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام: جس وقت قائم علیہ السلام ظہورفرمائیں گے کوئی شخص بھی رحمن کی مخلوق سے ان کے سامنے نہیں آئے گا مگر یہ کہ آپ علیہ السلام اسے پہچان لیں گے کہ وہ نیک ہے یا بد ہے کیونکہ اس میں متوسمین( )کے لئے نشانی ہے اوریہی سبیل مقیم( )ہے
(کمال الدین ج ۲ ص ۱۷۶ باب ۸۵ ، ذیل ۰۲)
بحارالانوار میں کتاب الغیبہ تالیف علی بن عبدالحمید سے اپنی سند سے نقل ہے کہ ابوبصیر نے حضرت ابوجعفر باقر علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے:
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: حضرت قائم(عج)بعض واقعات بارے ایسا فیصلہ سنائیں گے کہ جن لوگوں کی جانب وہ واقعات منسوب ہوں گے وہ انکار کر دیں گے بلکہ آپ علیہ السلام کے بعض ایسے ساتھی بھی انکار کر دیں گے جنہوں نے آپ کے حکم پرتلوار چلائی ہو گی جب کہ آپ کا فیصلہ تو حضرت آدمعلیہ السلام کے فیصلہ کے مطابق ہوگاجس کے نتیجہ میں آپ ان کے خلاف بغاوت کا جرم عائد کریںگے اور ان کی گردنیں اڑادیں گے اس کے بعد آپ دوسرا فیصلہ سنائیںگے تو اس کا بھی ایک جماعت انکار کر دے گی یہ بھی ان میں سے ہوں گے جنہوں نے آپ علیہ السلام کے سامنے تلوار چلائی ہو گی اور یہ داود علیہ السلام جیسا فیصلہ ہو گا پس آپ انہیں سامنے لائیں گے اور ان کی گردنیں بھی اڑا دیں گے پھر تیسرا فیصلہ دیں گے کہ اس کا بھی ایک جماعت انکار کر دے گی یہ بھی وہ ہوں گے جنہوں نے آپ کے سامنے تلوار چلائی ہو گی یہ فیصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام والا فیصلہ ہوگا پس آپ انہیں سامنے لائیں گے اور ان کی گردنیں اڑا دیں گے پھر چوتھا فیصلہ دیں گے اور وہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا فیصلہ ہوگا تو پھر اس کا کوئی انکار نہ کرے گا۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۹۸۳ ، باب ۷۲ ذیل ۷۰۲)
اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ساتھ دینے والے ایسے ہوں گے جنہوں نے کچھ جرائم کا ارکتاب کیا ہوگا جس وقت باقاعدہ اسلامی عدالت لگے گی اور سابقہ جرائم کی سماعت شروع ہو گی تو ان کے بارے حضرت امام مہدی علیہ السلام یہ فیصلہ سنائیں گے تو ان کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے وہ انکار کر دیں گے اور بغاوت پر اتر آئیں گے جن کے ساتھ امام علیہ السلام کوئی رعایت نہ کریں گے اور انہیں باغی کی سزا دی جائے گی جب کہ ان میں سے بعض ایسے افراد ہوں گے جن کا تعلق آپ کے ہمراہ جنگی محاذ پر لڑنے والوں سے بھی ہوگا لیکن آپ احکام الٰہی کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں کریں گے۔(مترجم)
الکافی میں صحیح سند سے عمار الساباطی کی روایت ہے۔
راوی: میں نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے سوال کیا کہ اگر آپ علیہ السلام کی حکومت ہو تو آپ علیہ السلام فیصلے کس طرح دیں گے؟
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اوراللہ کی معین کردہ حدود کے مطابق فیصلے دیں گے اگر ہمارے پاس کوئی ایسافیصلہ آئے کہ اس کا ریکارڈ موجود نہ ہو تو روح القدس ہمارے پاس اس کی تفصیل لے آتاہے(پھر اس کی روشنی میں فیصلہ دیا جاتاہے)۔(اصول کافی ج ۲ ص ۷۹۳)
٭اصول الکافی میں صحیح سندسے آبان کی روایت ہے۔
ابان: میں نے حضرت اباعبداللہ علیہ السلام سے سنا، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام: دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ میری اولاد سے ایک مرد خروج کرے گا جو آل داود علیہ السلام کی حکومت جیسے فیصلے کرے گا اوروہ فیصلہ دیتے وقت گواہ نہیں لیں گے ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے گا۔(اصول الکافی ج ۲ ص ۷۹۳)
٭الدیلمی نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے یہ بیان نقل کیا ہے ۔
امام ابوعبداللہ علیہ السلام: جس وقت قائم آل محمد علیہم السلام قیام فرمائیں گے تو لوگوں کے درمیان داود علیہ السلام جیسے فیصلے دیں گے گواہوں کی ضرورت نہ ہو گی اللہ انہیں الہام کرے گا اور وہ اسی کے مطابق فیصلے دیں گے۔ ان کے فیصلے ان کے اپنے علم کے مطابق ہوں گے وہ ہر جماعت کو اس بات کی خبر دیں گے جوبات ان کے اندرکی ہو گی جس بات کو انہوںنے چھپا رکھا ہو گا اور آپ اپنے دوست کو اپنے دشمن سے خاص نشانی کے ذریعہ پہچان لیں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”( اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّلمُتَوَسِّمِینَ وَاِنَّهَا لَسَبِیلٍ مُّقِیمٍ ) (سورة الحجر آیت ۵۷،۶۷)
(بحارالانوارج ۲۵ ص ۹۳۳ باب ۷۲ ذیل ۶۷)
سوال: اگرچہ یہ پوچھا جائے کہ کیا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے فیصلوں میں غلطی کرتے تھے جب کہ آپ جو فیصلہ دیتے وقت گواہوں کو طلب کرتے تھے اورگواہوں کی گواہی کی روشنی میںفیصلہ دیتے تھے اسی طرح حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فیصلے دیا کرتے تھے؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ گواہوں کی گواہی دینا غلط کام نہیں ہوتا،کیونکہ گواہوں کے لئے شرائط ہیں جن شرائط کی ان میں موجودگی ضروری ہے جیسے گواہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ عادل ہو، جھوٹ نہ بولتا ہو، معتمد ہو، یابعض کیسوںمیں دو گواہوں کایا چار گواہوں کا ایک ہی بات پر متفق ہونا، اسی ایک ہی واقعہ پراور یہ کہ ایک ہی وقت ہو اور اس کے علاوہ گواہی میںخصوصیات ہیںجن کا لحاظ ضروری ہے۔ یہ ساری شرائط وقیود گواہوں کی غلط گواہی کے امکان کو بہت ہی کم کر دیتی ہیں ایک عام قاضی اور حاکم جو ذہین و فطین ہے، سمجھدار ہے، جو گواہی کو سن رہا ہے تو اس سے غلطی کا امکان کم ہوجاتا ہے چہ جائیکہ جب وہ گواہ ایک معصوم کے سامنے کسی واقعہ کی گواہی دے رہے ہوں تو یقینی امر ہے کہ غلطی یا توبالکل ہوگی نہیں اور اگر احتمال کی بات کریں تو بہت ہی کمزور اور ضعیف احتمال ہے کہ گواہی غلط دی گئی ہو اور معصوم نے اس گواہی کے مطابق فیصلہ دے دیا ہو۔(جس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی فقط ایک فرضی احتمال میں ہے۔مترجم)
دوسری بات: اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاءعلیہ السلام اور اپنے اولیاءکی حفاظت عن الخطاءدنیا میں فرما دی ہے اور انہیں معصوم بنایاہے۔
”( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) “
”اے ایماندارو!خدا سے ڈرو اور اس کے رسول(محمد) پر ایمان لاو تو خدا تم کو اپنی رحمت کے دو حصے اجر عطا فرمائے گا اور تم کو ایسا نور عطا فرمائے گا جس(کی روشنی) میں تم چلو گے اور تم کو بخش بھی دے گا اور خدا تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے“۔
(سورہ حدید آیت ۲۸ ، پارہ ۷۲)
”( أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) “
”کیا جو شخص پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں(بے تکلف)چلتا پھرتا ہے اس شخص کا سا ہو سکتا ہے جس کی یہ حالت ہے کہ (ہرطرف سے)اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے کہ وہاں سے کسی طرح نکل نہیں سکتا(جس طرح مومنوں کے واسطے ایمان آراستہ کیا گیاہے)اسی طرح کافروں کے واسطے ان کے اعمال(بد)آراستہ کر دیئے گئے ہیں“۔
(سورہ الانعام آیت ۱۲۲ ، پارہ ۷)
”( أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ) “
”تو کیا وہ شخص جس کے سینہ کو خدا نے (قبول)اسلام کے لئے کشادہ کر دیا ہے تو وہ اپنے پروردگار (کی ہدایت)کی روشنی پر(چلتا)ہے(گمراہوں کے برابر ہو سکتاہے)افسوس تو ان لوگوں پر ہے جن کے دل خدا کی یاد سے(غافل ہوکر)سخت ہو گئے ہیں“(سورہ الزمر آیت ۲۲ ۔پارہ ۳۲)
انبیاءعلیہ السلام اور اولیاءعلیہ السلام پر فرشتوں کا نزول اس لئے ہوتا ہے کہ وہ کہیں غلطی نہ کریں، انہیں خطاءسے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ فرشتے ان کے واسطے ایک مخیرکا کردار ادا کرتے ہیں اور انبیاءعلیہ السلام اور اولیاءعلیہ السلام اللہ کو تمام حالات سے باخبر رکھتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام ہے ناپسندیدہ(مکروہ) افعال سے بھی انہیں دور رکھا جاتا ہے یہ بات قرآنی آیات سے نص اور واضح بیان ہے کہ انبیاءعلیہ السلام اور اولیاءاللہ علیہ السلام خطا سے محفوظ ہوتے ہیں۔
آخری آیت جو ہے وہ مختلف واقعات میں فیصلہ صادر کرنے کے بارے ہے کیونکہ عام طور پر استقامت کا عنوان حاکم اور جج کے لئے بولا جاتاہے۔
لغت کی کتاب الصبحاح میں استقامت کا لکھا ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ”استقام اله الامر “ یعنی اس کا مقابلہ اپنی جگہ پر درست ہو گیا اس میں کوئی سقم اور خرابی نہیں رہی۔(الصحاج ج ۵ ص ۷۱۰۲)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے( وَاستَقِم کَمَا اُمِر تَ وَلَاتَتَّبِع اَهوَائهُم ) (شوریٰ ۵۱)
استقامت دکھاو جیسا کہ تمہیںحکم دیا گیا ہے اورلوگوں کی خواہشات کی پیروی مت کرو
ابن العربی نے اپنی کتاب احکام میں ”تنزل الملائکة“ کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ مفسرین کہتے ہیں کہ موت کے وقت فرشتے اترتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ ہر روز فرشتے اترتے ہیں۔(تفسیر العالی ج ۵ ص ۶۳۱)
علامہ الطباطبائی نے اس آیت بارے لکھا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو ان مومنین سے خاص ہے جو دوسروں سے ایمان کے درجات میں ممتاز ہیں اور جوصفات انہیں عام مومنوں سے الگ کرتی ہیں۔(تفسیر المیزان ج ۰۱ ص ۳۹)
القرطبی نے کہا ہے کہ ولی کی شرائط سے ہے کہ اس میں خوف کا عنصرباقی رہ کہ اس پر فرشتے اتریں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا”تنزل علیہم الملائکة“ان پر فرشتے اترتے ہیں۔( تفسیر القرطبی ج ۱۱ ص ۹۲ ، موسسة التاریخ العربی )
انہوں نے فرمایا کہ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ شیاطین کے نزول بارے آیات میں آیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”( هَل اُنَبِّکُم عَلیٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ ) “ (سورة الشعراءآیہ ۱۲۲) کیا میں تمہیں بیان کر دوں کہ شیاطین کن پر اترتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ شیاطین حق کی تصویر بنا کر باطل کے اظہار کے لئے اترتے ہیں اور برائی کو خوبصورت شکل میں بنا کراترتے ہیں یہ شیاطین کی حالت ہے جیسا کہ علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے۔
الشوکاتی نے بیان کیا ہے کہ ظاہر امر یہ ہے کہ فرشتوں کا اترنا اولیاءپر کسی معین وقت میں نہیں ہے بلکہ عام ہے۔(فتح القدیر ج ۴ ص ۵۱۵)
پس شیاطین کے مقابلہ میں فرشتے بھی اترتے ہیں اور وہ ان پراترتے ہیں جو ایمان لائے ہیں تاکہ حق کو ظاہر کریں قبیح اور برائی کو دور کر دیں ان سے جنہوں نے استقامت دکھائی ہے اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے جسے تفسیر القمی میں بیان کیا گیاہے۔”( نَحنُ اَولِیٰٓو کُم فِی الحَیٰوةِ الدُّنیَا ) “(سورہ حٰم السجدہ آیہ ۱۳) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر بیان کیا کہ ”کنانجرهم من الشیاطین “
المجمع میں ہے یعنینحرسکم فی الدنیا (تفسیرالمیزان ج ۷۱ ص ۴۹۳)
پس فرشتے ان کی حفاظت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اولیاءہوتے ہیں گذشتہ آیت میں آیا ہے کہ اولیاءوہ ہیں جنہوں نے استقامت کی۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: نہج البلاغہ ج ۱ ص ۸۴۴ اللہ تعالیٰ کے کلام ”رجال لاتلهیم “ کے ذیل میں ارشاد فرمایا ہے۔
مشہور حدیث قدس ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”میرا بندہ مجھ سے نوافل (عبادات) کے ذریعہ تقرب حاصل کرتا رہتا ہے،اس کی مسلسل عبادات کے نتیجہ میں، میں(اللہ) اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ دیکھتا ہے، میں اس کا ہاتھ ہوتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کے پاوں ہوتا ہوں جن سے وہ چلتاہے۔(غوالی اللئالی ج ۴ ص ۳۰۱ حدیث ۲۵۱ ۔ الغدیر ج ۱ ص ۸۰۳ ، کنزالعمال ج ۱ ص ۹۲۲ حدیث ۵۵۱۱)
دعا میںآیا ہے”اے میرے سردار!اگر توں نہ ہوتو حیرت میں پڑنے والے گمراہ ہو جائے اگر تیری جناب سے درستگی نہ ہوتی تو مستقرین نجات نہ پاتے۔ تونے ان کے لئے راستوں کو آسان کردیا یہاں تک کہ وہ وصل ہو گئے تو تقویٰ کے وسیلہ سے ان کی تائید فرما دی تو انہوں نے عمل کیا تیری جناب سے ان پر قیمت بڑھتی رہی اور ان کے لئے تیری نعمت پہنچتی رہی۔(بحارالانوار ج ۱۹ ص ۰۷۱)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حمایت اور تائید خاص اس لئے موجود ہوتی ہے جس وقت قاضی فیصلہ دے رہا ہوتا ہے اورمال تقسیم کرنے والا جب بیت المال سے مال تقسیم کر رہا ہوتا ہے تو بھی اللہ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
(المجازات النبویہ ص ۲۹۳ حدیث ۹۰۳)
جب اللہ تعالیٰ کی تائید قاضی کےلئے، حاکم کے لئے، مال تقسیم کرنے والے کے لئے ہے یہ تو ان کے لئے ہے اور جو ان سے بڑے مرتبہ پر ہیں تو ان کے فیصلوں کو اللہ تعالیٰ کی تائید یقینی حاصل ہو گی اور خطاءو غلطی نہ ہوگی۔تیسری بات یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے فیصلہ جات درست ہیںکیونکہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی صحیح اور درست ہونے کا انتظام موجود ہے تائید الٰہی ان کے لئے حاصل ہے فیصلہ سے پہلے ان کے لئے واقعہ کی صحیح صورتحال معلوم ہوجاتی تھی اور آپ اسی کے مطابق فیصلہ دیتے تھے اور یہ بات امیرالمومنین علیہ السلام کے فیصلہ جات مشہور و معروف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ گواہوں کے بیانات میں اوران کی گواہی دینے میں تو خطا اور غلطی کا امکان موجود ہے لیکن فیصلہ صادر کرنے میں یہ امکان موجود نہیں ہے لیکن اس قسم کا فرضی احتمال امام مہدی علیہ السلام کے فیصلہ جات میں بالکل نہیں ہوگا کیونکہ آپ علیہ السلام اصل اور واقعہ کے مطابق فیصلہ دیں گے ظاہر کے مطابق فیصلہ نہیں دیں گے۔
کیاحقیقت امر اور اصل کے مطابق فیصلہ دینا ممکن ہے ؟!
یہ بات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے ممکن ہے کیونکہ آپ علیہ السلام کے پاس حقائق کا علم ہوگا تمام حالات سے آگاہ ہونے کی آپ کے پاس قدرت ہوگی جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا جو ہستی ہر قسمی حادثات و واقعات و حالات کو ان کی جزئیات سمیت ان کے ظاہری اور باطنی کیفیات و کمالات سے آگاہ ہواور پھر اس کے پاس ہر حکم اور فیصلہ پر عملدرآمد کی قدرت اور اختیار بھی موجود ہو اگرچہ ایسا فیصلہ تمام حکومتوں پر ہی لاگو کیوں نہ کرناپڑے، جب اس کے پاس یہ اختیارموجود ہوگااس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ فیصلے اصل کے مطابق کریں، واقعیت اور حقیقت پر مبنی فیصلہ جات صادر کریں یہ بات بڑی واضح اور روشن ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے البتہ ہمارے معاشرہ کے لحاظ سے اور جو اس میں زندگی گزار رہا ہے تو اس امر کو قبول کر لینا آسان نہیں ہے یا تو اس لئے کہ ہم اس قسم کے فیصلوں کے عادی نہیں ہیں بلکہ بعض تو ایسے ہیں کہ غیبت کے زمانہ میں ظاہری حالات کے مطابق بھی فیصلہ جات سننے سے عاری رہے اور ترستے رہے کہ ظاہری حالات کے مطابق ہی عدالتی فیصلے ہوں چہ جائیکہ حقیقت اور واقعیت پر مبنی فیصلہ جات ہوں۔
بہرحال واقعی احکام کا نفاذ اور حقائق کے مطابق فیصلہ جات کو قبول کرنے کے لئے آگہی اور بیداری کی ضرورت ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ کیایہ فیصلہ جات ماضی کے واقعات اور حالات پر بھی لاگوہوں گے اور ان فیصلہ جات کے ماضی پر اثرات مرتب ہوںگے جس کی طرف پہلے اشارہ کیاجا چکاہے جیسے شوہر اور بیوی میںجدائی، اموال کا ضبط کر لینا وغیرہ تو اسے بھی قبول نہ کرنے کی ایک وجہ لوگوںکا اس قسم کے فیصلہ جات سے نامانوس ہونا ہے اور امامعلیہ السلام فقط اسی بات ہی کو تبدیل نہ کریں گے بلکہ آپ کی آمدسے معاشرہ کے اندر پوری تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
غیبت نعمانی میں ہے کہ:
ابوحمزہ ثمالی: میں نے حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے سنا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
امام محمد باقر علیہ السلام: وہ تو نیا امر لائیں گے نئی سنت اپنائیں گے نئے فیصلے سنائیں گے ان کے فیصلے عربوں پر سخت ہوں گے، ان کا کام قتل کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ کسی سے توبہ نہیں لیں گے اور خدا کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں گے۔
(غیبة نعمانی ص ۴۳۲ حدیث ۲۲ باب ۳۱)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام:جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو وہ لوگوں کو نئے امر کی دعوت دیں گے جس طرح حضرت رسول خدا نے دعوت دی تھی اسلام کا آغازغربت کے عالم میں ہوا وہ تنہا تھا اکیلا تھا، ایک دفعہ پھر اسلام غریب ہوگا، تنہا ہوگا، اکیلا ہوگا جس طرح اسلام آغاز میں غرباءکے لئے ہی خوش خبری ہے ۔(اسی طرح آخر زمانہ میں غرباءکے لئے خوشخبری ہوگی)
ابوسعید: اللہ آپ کے سارے امور درست کر دے آپ ذرا اس کی تفصیل سمجھا دیں۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام: پھر سے ایک دعوت دینے والا ہوگا جو نئے سرے سے اسلام کی دعوت دے گا جس طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تھی۔(سابقہ حوالہ ص ۳۷۱ الاسلام بدا غربائ)
نتیجہ: احکام جو امام علیہ السلام لائیں گے وہ نئے معلوم ہوں گے۔اسلام پر لوگ عمل چھوڑ چکے ہوں گے، اسلامی احکام کو بھلا دیا گیا ہوگا لہٰذا اسلام کے حوالے سے ہر بات اور ہر حکم نیا معلوم ہوگا، یہ حالت اسلام کی غربت تنہائی اور بے چارگی پر دلالت کرے گی۔
اس میں کوئی مانع موجود نہیں ہے انسان کو اس قسم کی حالت کی توقع رکھنی چاہیئے اوراپنے آپ کو اس کے لئے تیار رکھے۔
اصل بات یہ ہے کہ لوگ اسلام کی حقیقت سے دور جا چکے ہوں گے اسلام کا نام ہوگا اسلام کے احکام سے ناواقف ہوں گے ان حالات میں جب امام مہدی علیہ السلام احکامِ اسلام بیان کریں گے اور اسلام کا نفاذ کریں گے توہر بات نئی لگے گی گویا نئے سرے سے امام علیہ السلام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیںگے۔
اسلام کےنفاذ کامسئلہ
یہ مسئلہ بہت ہی پیچیدہ ہے جس کے لئے ایک مدت درکار ہو گی جس میںلوگ عادلانہ حکومت کے نتائج کو تسلیم کرلیں اور اس حکومت کے قیام کے لوازمات جو ہیں انہیں مان لیں کہ واقعاتی احکام کا دورآ گیا ہے یا نئے احکام اور نئے قوانین کے نفاذ کا زمانہ آگیاہے۔یہ بات ثقافتی بنیادوں سے مربوط ہے جو کہ امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے انجام پانے ہیں اور دین کی نشرواشاعت جو امام علیہ السلام نے کرنی ہے اس سے بھی اس کا تعلق ہے ۔
سوال:کیا امام علیہ السلام عوام کی ہدایت کے لئے نبی اکرم والا اسلوب اور طریقہ کار اپنائیں گے جو آئمہ معصومین علیہم السلام کی عملی سیرت رہی ۔بیداری دینے میں، علم پھیلانے میں، مشکلات پر صبر کرنے میں،اسی روش کو آپ اختیار کریں گے؟ یا ایسا ہے کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ظہور کے بعد توبہ نہ ہو گی، امام علیہ السلام کے زمانہ میں ہدایت ایک آرڈننس کے ذریعہ نافذ ہو گی اس کی خلاف ورزی نہ ہو گی آرڈر ہوگا قوانین کا اعلان ہوگا اور اس کی پابندی کی بات ہوگی اوران کانفاذ ہوگا خلاف ورزی ناقابل قبول ہوگی، خلاف ورزی پر سخت سزا ہوگی معافی نہ ہوگی، اس میں نہ کوئی اعتراض کا حق ہوگا اور نہ ہی خلاف ورزی اور نافرمانی قبول ہوگی ؟اس بارے دومختلف حالتیں ہیں اور دو احتمال ہیں اس جگہ اس بارے کچھ نہیں کہا سکتا کہ کون سا امر اور احتمال زیادہ صحیح ہے اس کو اگلی فصل کے سپرد کرتے ہیںجس میںتوبہ کی بحث آئے گی تو اس میں اس بات کا ذکر بھی کیا جائے گا۔
امام علیہ السلام واقعیات کے مطابق فیصلہ جات کی روشنی میں حقوق واپس دلائیں گے؟
حقوق واپس لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افعال اور اعمال جو ظہور سے پہلے لوگوں سے صادر ہوئے اور وہ اعمال اسلام کے مخالف تھے تو کیا امام علیہ السلام آ کر ان کاموں کی درستگی کریں گے اور انہیں ان کی اصل شکل میں واپس لے آئیں گے یا ایسا نہیں کریں گے؟
اس مقام پر تفصیل ہے:
۱ ۔ وہ اعمال جن میں اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہو اور اس میں لوگوں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، جیسے نماز نہ پڑھنا، روزہ ترک کرنا، حج ادا نہ کرنا اسی قسم کے دوسرے عبادتی مسائل اس قسم کے اعمال جو ہیں ان کے بارے توبہ کر لینے کے بعد اس شخص پر کچھ نہ ہو گا البتہ اگر یہ توبہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام کے بعد ہو تو پھر اس بارے پانچویں فصل ہم بیان کریں گے کہ اس کی کیا صورت ہو گی۔
۲ ۔ ایسے اعمال جو دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے بارے ہوں جیسے چوری کرنا، دوسروں کے اموال کو غصب کرنا، دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنا، ان میں سے فقراءکے حقوق کاغصب کرنا،جیسے وہ شخص جس نے اپنے اموال سے خمس نہیں دیا، زکوٰة اس پر واجب ہوئی اسے ادا نہ کیا تو اس قسم کے حقوق بارے کوئی شک نہیں کہ امام علیہ السلام لوگوں سے غصب شدہ حقوق انہیںواپس دلائیں گے۔یہ کام امام علیہ السلام کی حکومت کے اہداف میں شامل ہے۔
۳ ۔ ایسے اعمال یا معصیتیں کہ جن کے ذریعہ کسی ایسے حرام کا ارتکاب کرلیا ہے کہ اسے جاری نہیں رکھا جا سکتا جیسے وہ شخص جس نے اپنی رضاعی بہن سے شادی کر رکھی ہو یا جس نے کسی ایسی طلاق شدہ عورت سے شادی کی تھی لیکن پتہ چلا کہ وہ ابھی تک سابقہ شوہر کے حق میں ہے اور اس کی طلاق واقع ہی نہ ہوئی یا ایسی عورت سے شادی کر لی تھی جس کا شوہر غائب ہو گیا تھا بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر تو زندہ ہے اسی قسم کے اور امور جو شادی سے متعلق ہیں تو اس میں شریعت کا حکم ہے کہ دونوں کے درمیان حقیقت معلوم ہونے کے بعد فوری جدائی ڈال دی جائے ۔
امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد امام علیہ السام کی امضاءاور تائید کے بغیر ان کا تسلسل ایک لمحہ کے لئے بھی نہ رہے گا تو یہ ایسے اعمال ہیں جن کی امام علیہ السلام آ کر درستگی کریں گے اور اس کے اثرات کی پابندی واجب ہے جب امامعلیہ السلام ان امور کے بارے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیں گے اور حقیقت کا علم ہو جائے گاآپ اپنے اس علم کے ذریعہ جو امام علیہ السلام کو عطا کیا گیا ہے یا خود افراد اس بات کا اعتراف کرلیںگے تو اس کے مطابق ہی عمل کرنا ہوگا، بلکہ غیبت کے زمانہ میں بھی اس حالت پر باقی رہناجائز نہیں ہے۔جس وقت کسی ایسی صورتحال کے بارے علم ہوجائے۔
وہ شخص جسے یہ علم ہو جائے کہ اس نے کچھ حقوق دوسروں کے غصب کر رکھے ہیں یا اس پر کچھ مالی حقوق فقراءکے حوالے سے واجب الادا ہیں یا بعض اعمال میں اسے شبہ لاحق ہو جائے۔اس کے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو رہی ہو، شادی کے بارے ایسے شبہ ہو کہ جس سے اس نے شادی کی ہے وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ہے تو اس کی درستگی امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کرنا بھی اس پرواجب اور لازم ہے اور امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد خود امام علیہ السلام کی جانب سے اس شخص کو آگہی دے دینے کے بعد اس کی روشنی میں عمل کرنا ضروری ہوگا۔
اصلی اورواقعی احکام کے مطابق فیصلے دینے سے کیا مقصودہے؟
یہ بات کہی جاتی ہے کہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت ظاہری جس پر قائم تھی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا کہ اصلی اور واقعی احکام کے مطابق فیصلے دینے میں کچھ مسائل درپیش ہوں گے توحضرت امام مہدی علیہ السلام ایسا کس لئے کریں گے؟
اس بارے میںوضاحت پیش ہے۔
۱ ۔ آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت ایسی نہیں تھی جس کا اوپر خیال ظاہر کیا گیا ہے یا جو عام طور پر تصور کیا جا تا ہے بیان ہو چکا کہ ظاہری احکام کی روشنی میں فیصلہ دیتے وقت وہ اس فیصلہ کو اصل اور حقیقت کے مطابق دینے میں موفق ہوتے تھے اور وہ فیصلہ خلاف حقیقت نہیں ہوتا تھا تاکہ یہ بات کہی جا سکے کہ باقی آئمہ علیہ السلام تو ظاہری احکام کے مطابق فیصلے دے دیتے تھے اگرچہ اصلیت اور واقعیت اس بارے کچھ اور ہی ہوتی، یعنی خلاف حقیقت فیصلہ دیتے تھے(ایساہرگزنہیں)
۲ ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اہداف میں اہم ہدف اور مقصد یہ ہے کہ آپ ظلم اور جور جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا خاتمہ کریں عدل اور حق کو لاگو کریں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ وہ احکام اور قوانین جو پوری انسانیت کی فلاح اور بہتری کے لئے وضع کیے گئے ہیںیقینی امر ہے کہ ان کے وضع کرنے میں حتمی مصلحت کارفرما ہے جس کی مخالفت کسی بھی صورت جائز نہیں ہے اور وہ مصلحت اس واقعہ کے حوالے سے اس کی اصلیت اور حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ اس کی ظاہری صورتحال پریعنی کسی بھی حکم کے بارے مصلحت اس واقعہ کی اصلیت اور حقیقت کے حوالے سے ہوتی ہے۔ امامعلیہ السلام اس اصلیت اور واقعیت کو سامنے رکھ کرفیصلہ دیں گے ، اسی طرح وہ مصلحت جو اس قانون بنانے میںطے شدہ تھی اسے امام علیہ السلام تحقق بخشیں گے جو امام علیہ السلام کے ظہور تک پوری نہ ہو سکے گی اگرقوانین اور احکام کی واقعی اور اصلی صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلے نہ دیئے جائیں تووہ فیصلے اللہ تعالیٰ کی اس مصلحت کے منافی ہوں گے جو اس خاص قانون یا حکم کے وضع کرنے میں ملحوظ تھی۔
نتیجہ
واقعیت کی روشنی میں فیصلہ صادر کرنا درحقیقت الٰہی مصلحت کو پورا کرنا ہے کہ جس کی بنیاد پر اسلامی احکام و قوانین وضع ہوئے ہیں اور اسی روشنی میں پورا عدل نافذہوگااور پورا حق ملے گا ظلم و جور اور زیادتی کی ساری شکلیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے مٹ جائیں گے ان کا نشان تک نہ رہے گا۔یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ ظاہری احکام کے مطابق فیصلے دینے سے بھی مصلحت الٰہی پوری ہوتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مصلحت الٰہی حاصل نہیں ہوتی فقط اتنی بات ہے کہ ظاہری احکام کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ ہمیں واقعیت اور اصلیت بارے علم نہیں مثال کے طور پرجب ایک واقعہ یا حالت کا جو اصلی حکم اور قانون اللہ تعالیٰ نے وضع فرمایا ہے اس کے بارے ہمیں علم نہیں ہے ہمیں جومعلوم ہے وہ ظاہری حکم ہے جو ہم نے قرآن وحدیث سے خودسمجھاہے تو ہمیں الٰہی حکم ہے کہ جو تم ظاہر میں سمجھ لو اس پر عمل کرو لیکن جب امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا اور اس وقت ایسے احکام جو ظاہری تھے اور ان پر عمل ہو رہا تھاجب ان کے بارے معلوم ہوگا کہ اصل میں حکم اور قانون اس طرح نہیں ہے جیسا کہ سمجھا گیا ہے تو اس صورت میں لازم ہوگا کہ الٰہی مصلحت کو پورا کیا جائے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ واقعی اور اصلی احکام وہی ہیں اور جب یہ معلوم ہو جائے گا کہ ظاہری احکام پر جب عمل ہو رہا تھا وہ واقعی اور اصلی احکام کے خلاف ہیں تو پھر ان پر عمل کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا، کیونکہ ظاہری احکام کو جو حیثیت ملی ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ اصلی احکام کا پتہ نہ تھا، جب پتہ چل گیا تو پھر ظاہری احکام بے حقیقت ہو گئے۔
حکم ظاہری اور حکم واقعی کی مثال
شوہر اور بیوی کا رشتہ ظاہر میں قائم تھا دونوں کو علم نہ تھا کہ وہ اصل میں رضاعی بہن بھائی ہیں اور ان کا نکاح جائز نہیں ہے جب اصلیت کا علم ہو جائے تو پھر ان دونوں کاایک لمحہ کے لئے اکٹھارہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا جب امام علیہ السلام اپنے علم کی وجہ سے فیصلہ صادر کردیں گے کہ یہ دونوںآپس میں بہن بھائی ہیں تو پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیںگے تو اسی صورت میں امام علیہ السلام کا فیصلہ ظاہری حکم نہیں ہے بلکہ واقعی اور حقیقی حکم ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
دوسرا ہدف:۔ دنیاکی سب سے بڑی الٰہی حکومت کا قیام
ہمارے امام مہدی علیہ السلام کے اسٹرٹیجک اہداف میں سے اہم ہدف وسیع ترین اور عظیم ترین(سپرپاورز)حکومت تشکیل دینا ہے جو ساتوں براعظموں کو شامل ہو گی اور واحد حکومت ہو گی جو پوری روئے زمین پر ہوگی، پورے جہان پر ایک آرڈر ہوگا اورایک نظام ہوگا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا امتیاز
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ایسی الٰہی یا اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی نہ امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانہ میں اور نہ ہی غیبت کے زمانہ میں قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں میں اس کی مثال ہو گی تمام حکومتیں محدود وقت کے لئے قائم ہوئیں اور جغرافیائی اعتبار سے محدود جگہوں کے لئے رہیں عالمی حیثیت کسی ایک کو حاصل نہیں ہے
نبی سلیمان علیہ السلام کی حکومت اپنی تمام تر وسعت اور طاقت کے باوجود بلاد و شام اور جزیرة العرب اور جو علاقہ ان کے ساتھ متصل تھااس پر قائم تھی(مثلاً یمن میں ان کی حکومت نہ تھی وہاں پر بلقیس نامی ایک عورت حکومت کر رہی تھی جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہواہے)
نبی یوسف علیہ السلام(اگر یہ کہاجائے کہ انہوں نے ایک حکومت قائم کی)حکومت بھی مصر اور اس کے اطراف پر قائم تھی۔
نبی اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عظمت اور وسعت کے باوجودآپکی حکومت ایک براعظم سے زیادہ پر قائم نہ تھی اسی طرح امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت اپنی حدود سے آگے نہ بڑھ سکی بلکہ کچھ علاقے معاویہ کے زیرتسلط تھے۔
جی ہاں!ذوالقرنین مشرق و مغرب کا مالک بنااس نے مشرق اور مغرب میں عدل کا نفاذ اور ان کی حکومت بارے یہ بات ذہن میں رہے کہ اس وقت انسانوںکی آبادی بہت کم تھی اورآبادی والے علاقے بہت تھوڑے تھے اورانسانی زندگی کے ابتدائی ایام تھے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تحریک گزشتہ تمام انبیاءنے جوپروگرام شروع کیا اسے پورا کرنے والی ہو گی جو انہوں نے خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر ہو گی اس عنوان سے دعائے ندبہ میں آیا ہے۔
انبیاءعلیہ السلام اوراولیاءعلیہ السلام کے خون ناحق کا بدلہ لینے والا کہاں ہیں؟ اور کربلا کے مقتولین کے خون کا انتقام لینے والے کہاں ہیں؟
حکومت بنانے اور عدل قائم کرنے میں فرق
ہمارے امام علیہ السلام۔ ان پر ہماری جانیں قربان جائیں۔
زمین کے تمام حصوں پر آپ کی حکومت قائم ہوگی اورآپ کا حکومت بناناآپ کی پہلی ترجیح ہوگی جو عدالت کے عملی نفاذ سے پہلے ہوگا۔جیسا کہ تیسرے ہدف میں بیان ہوگاحکومت کا قیام اور عدل کا نفاذ ان دونوںمیں فرق ہے ۔عدل سے مراد عدل مطلق ہے ہر قسم کے ظلم و جور اور زیادتی کی نفی ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسلامی حکومت موجود تھی لیکن اس میں عدل مطلق نہ تھا۔ کیونکہ اس کے لئے ابھی ماحول آمادہ نہ ہوا تھا اگرچہ جن جن علاقوں میں آپ کی حکمرانی ہوتی گئی عدالت کا نفاذ ہوتا گیا لیکن ایسا عدل جو ہر سطح پر ہو ہر صنف اور ہر جنس ونوع کے لئے ہو، آپ کے زمانہ میں مثال کے طور پر بھیڑ کا بچہ بھیڑ یے کے پہلو میں نہ سوتا تھا اسی طرح ہر قسم کا ظلم و جور ختم نہ ہوا تھا ہم کس طرح کہہ سکتے ہیںجبکہ خود ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم اور زیادتی کی گئی اسی طرح حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت کا معاملہ ہے آپ کا عدالت کے نفاذ میں سخت ہونا آپ کی شہادت کا سبب بنا بلکہ آپ علیہ السلام کی حکومت میں تویہ بات اور زیادہ واضح ہے کیونکہ آپ علیہ السلام کی حکومت میں عدلیہ کا سربراہ قاضی شریح جیسا شخص تھا جس کی حالت معلوم ہے اوراس کے غیر اسلامی اور غیرمنصفانہ فیصلہ جات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ عدل کا قیام حکومت کا محتاج ہے حکومت کے ذریعہ عدل نافذ کیا جائے لیکن ایسابھی ہوسکتاہے کہ اسلامی حکومت قائم ہولیکن اس میں عدل مطلق نہ ہو لیکن ایسا کسی معصوم علیہ السلام کی کوتاہی سے نہیں بلکہ حالات اور ماحول کا مناسب نہ ہونااور حالات کا ساتھ نہ دینا۔
لیکن حضرت امام مہدی علیہ السام کا زمانہ کہ جنہیں مطلق عدل کے قیام کے لئے جنا گیا ہے تو ان کا معاملہ پچھلے تمام ادوار سے مختلف ہوگا۔
جی ہاں! آپ علیہ السلامحکومت پہلے بنائیں گے اورعدل بعد میں نافذکریں گے اس لئے ہم نے دوسرے ہدف کو تیسرے ہدف سے الگ کر کے بیان کیا ہے۔
عدل کے بعدمیںنافذہونے اورہر قسمی ظلم کا خاتمہ جس کے معنی بعدمیں بیان ہوں گے کہ قوانین کے لحاظ سے اسلام کے عادلانہ قانون کوفقط رائج کرنا نہیں بلکہ شوہر اور بیوی کے درمیان جلوت اور خلوت میںبیٹے اورباپ کے درمیان، جلوت اور خلوت میں ہمسایہ اور ہمسایہ کے درمیان بھیڑیے اور بھیڑ کے درمیان، جیسا کہ روایات میں ہے عدل قائم کرناہے یہ ایک ایسا امر ہے جس کی کیفیت سے ہم ناواقف ہیں ان کے عملی ہونے کے لئے امام علیہ السلام کی خصوصی عنایت کی ضرورت ہو گی اس کے لئے تمہید ہو گی بیداری دی جائے گی آگہی کا مرحلہ ہوگا تعلیم دی جائے گی عالمی قوانین کے نفاذ سے مختلف رویہ ہوگا کہ آج کی دنیا میں قانون کا اعلان ہوتا ہے اور پھر اس پر پابندی کرنے کااعلان کر دیا جاتا ہے کسی کو قانون سمجھ آئے یا نہ آئے۔حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایسا نہیں ہوگا سب کو پہلے آگہی دی جائے گی پھراس کا نفاذہوگا۔
جی ہاں! دولت عظمیٰ کا قیام کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے پلاننگ ہوگی، تیاری ہوگی، جنگیں ہوں گی ، قربانیاں دی جائیں گی، اس راستہ میں شہداءہوںگے۔
نتیجہ
یہ اتنی بڑی عالمی حکومت آپ کے ظہور کے اعلان کے ساتھ ہی قائم نہیں ہو جائے گی اس حکومت کے قیام میں وقت لگے گا۔البتہ اس عالمی بڑی حکومت کے قیام کی کیفیت کیا ہو گی تو اس کا تعلق امام علیہ السلام کی تحریک اور اسلوب اور رویہ سے ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اس بارے تفصیلی گفتگو پانچویں فصل میں ہوگی، کیونکہ اس بارے بہت سارے احتمالات موجودہیں، موعظہ ہوگا، کلام طیب ہو گی، علمی مذاکرے ہوں گے، جدیدترین ہتھیاروں سے جنگ ہوگی،غیبی معجزات ہوں گے یہ سارے امور ہوں گے وعظ و نصیحت بھی ہوگا، علمی انداز بھی اپنایا جائے گا، مخالفین کے ساتھ جنگ بھی ہوگی، اخلاق حسنہ بھی ہوگا، ہمدردی اور محبت کا اسلوب بھی ہوگا، رغبت کے ساتھ ساتھ دھمکی اور ڈرانے کا عمل بھی ہوگا، بہرحال اس بارے بہت سارے احتمالات ہی دیئے جا سکتے ہیں۔
امام علیہ السلام کی حکومت کے اراکین اور آپ علیہ السلام کی حکومت کے وسائل
حضرت امام ابوجعفر باقر علیہ السام : ہماری حکومت تمام حکومتوں میں آخری حکومت ہو گی کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ ہماری حکومت سے پہلے اپنی اپنی حکومت بنا چکے ہوں گے تاکہ وہ ہماری سیرت کو دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ اگر ہمیں حکومت بنانے کاموقع ملتا تو ہم بھی ایسا ہی کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”وَال عَاقِبَةُ لِل مُتَّقِی نَ“(سورہ الاعراف آیت ۸۲۱ ۔ القصص آیت ۳۸)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بھی باقی حکومتوں کی طرح مختلف ادارہ جات ہوں گے، عدلیہ،مقنہہ، انتظامیہ، محکمہ تعلیم، محکمہ بلدیات، محکمہ پولیس،مختلف کاموں کے وزارت خانے موجود ہوں گے ایک حکومت کے لئے جتنے ادارہ جات کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب موجود ہوں گے۔
اس پر ہماری دلیل وہ مشہور حدیث ہے کہ آپ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی“۔(بحارالانوارج ۲۵ ص ۲۳۳)
زمین میں عدل قائم کرنے سے مراد یہ زمین نہیں جس میں پتھر،ریت،مٹی،درخت، گھاس، پہاڑ، دریا بلکہ اس سے مراد زمین پر بسنے والے افراد ہیں تنہا زمین سے مراد کرہ ارض نہیں بلکہ اس کے رہائشی مراد ہیں پھر جب عدالت کے قیام، ظلم و جور کے خاتمہ کی بات ہے تو اس سے مراد فقط افراد نہیں بلکہ ادارے،تنظیمیں،دفاتر، حکومتیں ہر سطح پر ظلم کا خاتمہ ہوگا اور عدل کا نفاذ ہوگاظلم کے خاتمہ کے بعد عدل کا قانون اس کی جگہ لاگوکریں گے، حق، خیر، امن اور سکون ہوگا تمام طبقات میں ، تمام گروپوں میں، تمام اقوام میں، تمام قبائل میں، تمام ادارہ جات میں، سیاسی،عسکری، انتظامی، عدلیہ، ہر جگہ عدل قائم ہوگا ہر جگہ سے ظلم وجورکا خاتمہ ہوگا، ورزش کے میدانوںمیںانفرادی طور پر، اجتماعی طورپر،چھوٹے سے، بڑے سے، گھر میں، گھر سے باہر، ادارہ کے اندرونی نظام میں اداروں سے باہر ہر جگہ امن قائم ہوگا، ظلم ختم ہوگا۔
حدیث نبوی میں عدل کے نفاذ کا خاص دائرہ بیان نہیں کیا اور نہ ہی ظلم کے خاتمہ کے حوالے سے کسی خاص عنوان کو بیان کیا ہے بلکہ ہر جگہ سے ہر قسم کے ظلم کے خاتمہ کی بات ہے اور اس کے مقابلے میں عدل کانفاذ ہے جہاں بھی ظلم ہوگا، اس کا خاتمہ ہوگا اور اس جگہ عدل ہوگا، جیسے جوا کھیلنا، سٹے بازی، اسراف، فضول خرچی ،نجی زندگی میںہو، اداروں کی سطح پرہو،حکومتی معاملات میں ہو۔اس کا خاتمہ ہوگا اور اس کی جگہ عدل کا نفاذ ہوگا جس جگہ ظلم ہو گا اس میں اس کی جگہ عدل نہیں آجائے گا بلکہ ظلم کو مٹا دیا جائے گا ظلم کے آثار اور نشانات کوختم کر دیئے جائیں گے اس کی جگہ عدل آجائے گاجیسے جوا ،کھیلانا ظلم ہے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا نہ یہ کہ اس میں عدل نافذ ہوگا۔
امام علیہ السلام اپنی حکومت میں قانون ساز اسمبلی کا خاتمہ کر دیں گے کیونکہ قانون سازی کا اختیارآپ کے اپنے پاس ہوگا آپ کا ہر بیان قانون کا درجہ رکھے گا کسی اور کو کسی بھی حوالے سے نہ قانون بنانے کا حق ہوگااور نہ ہی قانون کی تشتریح کا حق ہوگا یہ سب کچھ حضرت امام مہدی علیہ السلام خود بیان کریں گے یہ اتھارٹی ان کے اپنے پاس ہوگی۔
جی ہاں!بعض عناوین بدل جائیں گے وزیراعظم کا عنوان، صدرکاعنوان، کمانڈر انچیف کا عنوان، بادشاہ کا عنوان، امیر کاعنوان، گورنر کا عنوان، ان کی جگہ نئے عناوین متعارف ہوں گے جیسے وکیل، نمائندہ، نائب وغیرہ۔
جغرافیائی حدود آپ کی حکومت میں ختم ہو جائیں گی کیونکہ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں جغرافیائی حدود کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی اسی طرح اسلام کی پارٹی کے مقابل میںجو بھی سیاسی پارٹی ہو گی اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا جیل خانوں پر تالے ڈال دیئے جائیں گے
اس مفروضے پر کہ تمام آبادیاں عصمت کے درجہ پر پہنچ جائیں گی اور کوئی ایک بھی قانون کی خلاف ورزی کرنے والا نہ رہے گا تو اس صورت میں جیل خانے ختم ہو جائیں گے ہم اس بارے آٹھویں فصل میں بات کریں گے۔
نتیجہ
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بھی اسی طرح اعمال اور سرگرمیاں ہوں گے جیساکسی اور حکومت میںہوتا ہے مگر وہ امور جن کی آپ کے زمانہ ضرورت نہ رہے گی جیسے قانون ساز اسمبلی، آپ کی حکومت نے ہر قسم کے ظلم وجورکا خاتمہ کرنا ہے اور اس کی جگہ عدل و انصاف کا نفاذ کرناہے۔
اسی بنیاد پر اس حکومت کی تیاری کے مختلف امور بیان کیے گئے ہیں اس بحث کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس حکومت کی وسعت کا اندازہ ہو سکے اور پھر اس حوالے سے تیاری کی جائے اور اس بارے خصوصی اہتمام کیا جائے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی وسعت اور دائرہ کار
دعائے عہد میں ہے کہ”اے اللہ!اپنے شہروں کو ان کے وسیلہ سے آباد کر دے اور ان کے ذریعہ سے اپنے بندگان کو حیات تازہ عطاءکر دے“۔
کمال الدین میں شیخ صدوقؒ نے اپنی اسناد سے جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ سے یہ بات خود سنی کہ آپ نے فرمایا:رسول اللہ:ذوالقرنین عبدصالح(نیک بندہ)تھا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندگان پر حجت(اپنا نمائندہ)قرار دیا تھا اس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی اور انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اس کے قرن کو( )کاٹ ڈالا وہ اپنی قوم سے ایک عرصہ کے لئے غائب ہوگیا یہاں تک باتیں ہوئیں کہ یا تو وہ مر گیا ہے یا کسی وادی میں بھٹک کر ہلاک ہوگیاہے؟پھر وہ اپنی قوم میں واپس آیا، تو انہوں نے اسے دوسرے قرن( )کوبھی تلوار سے کاٹ ڈالا اور تمہارے میں ایساموجودہے جو اس کے طریقہ پر چلے گا اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو زمین پرقدرت دے دی اور اس کے لئے ہرچیز سے ایک وسیلہ دے دیا وہ اس طرح مشرق سے مغرب تک پہنچ گیا اور اللہ تعالیٰ اسی روش کو میری اولاد سے قائم علیہ السلام کے لئے جاری فرمائے گا تو وہ بھی زمین کے مشرق اور مغرب تک پہنچے گا یہاں تک کہ زمین کی کوئی گھاٹی، کوئی وادی، کوئی چھوٹی بڑی آبادی، کوئی پہاڑ، ریگستان، زمین کا کوئی بھی ٹکڑا ایسا نہ بچے گا کہ جس پر ذی القرنین نے قدم رکھا تھا وہاں پر میرا بیٹا قائم علیہ السلام پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے زمین کے پوشیدہ خزانے ظاہر کر دے گا زمین کی ساری معدنیات ظاہر ہوجائیں گی اللہ تعالیٰ رعب کے وسیلہ سے ان کی مدد فرمائے گا اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ زمین کوعدل اور انصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم اور جور سے بھرچکی ہوگی۔(کمال الدین ج ۲ ص ۴۹۳ باب ۸۳ ذیل ۴)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:مہدی علیہ السلام زمین کو عدل اور انصاف سے بھردیں گے جس طرح زمین ظلم اور جور سے بھرچکی ہوگی۔ قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اگر دنیاکے خاتمہ سے کچھ بھی نہ بچا مگر ایک دن تواللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کر دے گا یہاں تک کہ اس دن میں میرا بیٹا مہدی علیہ السلام خروج کرے گا اور روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی ان کی سلطنت اوران کا اقتدار مشرق سے مغرب تک ہوگا۔(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۲۱۳ ، ۲۶۵)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: میری اولاد سے مہدی علیہ السلام چالیس سالہ فرزند، ان کا چہرہ ایسے کہ کوکب دری(چمکتادمکتاروشن ستارہ)ان کے دائیں رخسار پر سیاہ خال ہوگا اور ان کے اوپر روئی کی بنی ہوئی دو عبائیں ہوں گی ایسا لگے گاکہ بنی اسرائیل کے مردوں سے ہے خزانوں کو زمین کے اندر سے نکالے گا اور شرک سے آلودہ شہروںکوفتح کرے گا۔(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۴۹۳ ، ۵۶۵)
ان روایات سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت زمین کی وسعت کے برابرہوگی پوری زمین پر آپ اپنی حکومت بنائیں گے زمین کا کوئی بھی حصہ آپ کے اقتدار سے باہر نہ ہوگا۔
عادلانہ حکومت کی منصوبہ بندی
یہ بات واضح ہے کہ امام قائم علیہ السلام وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف جس وقت ظہور فرمائیںگے توایسا نہیں کہ آپ کچھ وقت انتظار کریں کہ الٰہی حکومت کے لئے پلاننگ کریں اور اس کے اراکین اور اعضاءکے بارے منصوبہ بندی کریں، جائزہ لیں، بلکہ آپ ایسی حالت میں خروج کریں گے کہ آپ کے پاس اپنی حکومت کا مکمل نقشہ ہوگا اور اس کے سارے خدوخال معلوم ہوں گے اور آپ کو اپنی حکومت کے بنیادی ارکان اور اعضاءکا بھی علم ہو گا آپ کامل نمونہ ایک عادلانہ حکومت کے لئے دیں گے جوزمین کے ہر حصہ کواپنے زیراثر لے لے گی۔
ہمارے پاس دلیل میں اس بارے حسب ذیل روایات ہیں:
۱ ۔ روایت ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں ذمہ داری لیں گے کمال الدین میں امام ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے۔
ابوجعفر علیہ السلام: اس امر کا جو صاحب ہے، جس نے حکومت بنانا ہے، ان کی مثال یوسف علیہ السلام جیسی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حکومت کے معاملات کو ایک رات میں ٹھیک کر دے گا۔(کمال الدین ج ۱ ص ۹۲۳ باب ۲۳ ذیل ۲۱)
النبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : مہدی علیہ السلام ہم اہل بیت علیہ السلام سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی حکومت کے معاملہ کو ایک رات میں درست کر دے گا۔
۲ ۔ آپ کے پاس کام کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ موجود ہوگا جو آپ نے لمبے عرصہ میں تجربہ حاصل کیا ہوگا اور مختلف حکومتوں کو قریب سے دیکھا ہوگا ان کی خامیاں کمزوریاں خوبیاں ان کے سامنے ہوں گی یہ غیبت کبریٰ میں آپ کے لئے ایسا تجربہ حاصل رہا جس کی روشنی میں آپ نے اپنی حکومت کے لئے منصوبہ بندی کر رکھی ہوگی۔
۳ ۔ آپ کے پاس جو علم کثیر ہے اور عصمت جو آپ کو عطا شدہ ہے۔
۴ ۔ ملائکہ اور فرشتوں کا تعاون آپ کے لئے حاصل ہوگا۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ان میں سے نویں جو وہ قائم اہل بیت علیہ السلام ہیں(امام حسین علیہ السلام کے بعد نویں فرزند) میری امت کے مہدی علیہ السلام مجھ سے اپنے شمائل، اقوال اور سیرت و کردار اور اعمال میں سارے لوگوں سے زیادہ شباہت رکھتے ہیں آپ لمبی غیبت کے بعد ظاہر ہوں گے گمراہ کر دینے والی حیرت اور پریشانی کے بعد آئیں گے اللہ کے حکم کا اعلان کریں گے، اللہ کے دین کو غلبہ دین گے، اللہ کی نصرت اور مدد سے ان کی تائید ہوگی، اللہ کے فرشتوں کی مدد اور تعاون انہیں حاصل ہوگا توآپ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔
(النجم الثاقب ج ۱ ص ۵۰۵،۶۰۵)
مفضل حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کرتے ہیں: اے میرے سردار! کیا فرشتے اور جنات انسانوں کے سامنے ظاہری شکل میں آتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: جی ہاں! خدا کی قسم! نجف اور کوفہ کے درمیان ہجرت کی سرزمین پر ضرور بالضرور اتریں گے اور ان کے اصحاب کی تعدادچھالیس ہزار فرشتوںسے اور چھ ہزار جنات سے ہو گی اورایک روایت میں ہے کہ جنات کی تعداد بھی چھیالیس ہزار ہوگی ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا اور ان کے ہاتھوں فتح ہوگی۔
۵ ۔ رعب کے وسیلہ سے مدد ہوگی۔
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ:
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :اللہ تعالیٰ ان کے لئے زمین کے خزانوں کو ظاہر کر دے گا زمین کی معدنیات کو ان کے لئے کھول دے گا اور رعب کے وسیلہ سے ان کی مدد کرے گا ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے زمین ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔(کمال الدین ج ۲ ص ۴۹۳،۸۳ ذیل ۴)
حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام آپ کے پرچم بارے فرماتے ہیں:آپ کے پرچم کے آگے آگے ایک ماہ کے فاصلہ پر رعب چلے گا(یعنی آپ علیہ السلامنے جہاں ایک ماہ بعد پہنچنا ہو گا وہاں پر پہلے سے ہی آپ علیہ السلام کے رعب و دبدبہ کی دھاک بیٹھ چکی ہوگی)آپ کے دائیں، آپ کے بائیں رعب ایک ماہ کے فاصلہ پر آگے آگے جا رہا ہوگا۔
(بحارالانوارج ۲۵ ص ۰۶۳ ،باب ۷۲ حدیث ۹۲۱)
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام: آپ علیہ السلام کے اصحاب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”گویا ان کے دل فولاد کے ٹکڑوں کی مانندمضبوط ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات بارے وہ کسی قسم کاشک نہ کریں گے، پتھر سے زیادہ ٹھوس عقیدہ رکھتے ہوں گے، اگر وہ پہاڑوں پر چڑھائی کریں گے تو انہیں اپنی جگہ سے ہٹا دیںگے وہ اپنے پرچموں کے ساتھ کسی بھی شہر میں وارد نہ ہوں گے مگریہ کہ اسے ویران کر دیں گے گویا ان کے گھوڑوں کے اوپر عقبان( ) بیٹھاہوا ہے وہ امام علیہ السلام کی سواری سے اپنے آپ کو مسح کریں گے ”یتمسحون بسرج الامام“ اس وسیلہ سے وہ برکت حاصل کریں گے وہ اپنے امام علیہ السلام کو گھیرے میں لئے رکھیں گے جنگوں میں اپنے وجود سے ان کی حفاظت کریں گے جو ان کے امام علیہ السلامچاہیں گے وہ اسے پورا کردیں گے، ان میں ایسے مرد موجود ہوں گے جو رات کو نہیں سوئیں گے، ان کی نمازوں میں ایسی صدا ہو گی جس طرح شہد کی مکھیوں کے چھتہ میں مکھیوں کی بنبناہٹ ہوتی ہے، رات کو اپنے قدموں پر کھڑے عبادت کریں گے، جب کہ صبح اپنے گھوڑوں پر کریں گے رات کے رہبان(عبادت گزار)ہوں گے دن کے شیر ہوں گے، وہ اپنے مولا علیہ السلام کی اطاعت میںایک کنیز جس طرح اپنے مولا کی اطاعت میں ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے وہ مصابیح(روشن چراغ)کی مانند ہوں گی ان کے دلوںکی مثال قنادیل(قندیلیں،روشن دیے) جیسی ہو گی، وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے کانپتے ہوں گے، شہادت کی دعا کرتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے کی تمنا کرتے ہوں گے، ان کا نعرہ ہوگا ”یاثارات الحسین علیہ السلام“ جب وہ چلیں گے تو رعب ان کے آگے ایک ماہ کے فاصلہ پر چلے گا وہ اپنے مولا کی جانب دوڑ کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ امام الحق کی نصرت فرمائے گا۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۸۰۳ ص ۲۸)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے باقی حکومتوں سے امتیازات
جی ہاں! امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے دوسری حکومتوں سے حسب ذیل امتیازات ہیں۔
۱ ۔آپ علیہ السلام کی حکومت میں عدل ہوگااوریہی بات آپ کی حکومت کی اساس و بنیادہے۔
۲ ۔آپ واقعیات، حقائق اور ہر واقعہ کی اصل کے مطابق فیصلہ وحکم کریں گے آپ کی حکومت میںاصلی اور واقعی قوانین کا نفاذہوگا۔
۳ ۔آپ کے تمام ادارہ جات میں ظلم وجوروزیادتی نہ ہوگی، ہر جگہ اور ہر وقت عدل کا راج ہوگا، ظلم کسی بھی مرحلہ پر نہ ہوگا۔
۴ ۔خالص الٰہی قوانین نافذہوں گے، انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نہ ہوں گے۔
۵ ۔واسطوں کی ضرورت نہ رہے گی جیسا کہ بیان ہوچکا۔
۶ ۔امام علیہ السلام تک جانے کے لئے اس حکومت کی وسعت اور پھیلاو کے باوجود اس میں کوئی فقیر اور محتاج نہ ہوگا۔
۷ ۔ہر عہدہ اور ذمہ داری کے لئے ماہر، آگاہ عالم، لائق ترین اور مناسب ترین فردکا انتخاب رہے گا۔
۸ ۔سائنسی اور علمی ترقی کی آخری حدوں کو انسان پہنچ جائے گا جس کی وضاحت علم امام علیہ السلام کے باب میں کریں گے۔
۹ ۔آپ کی حکومت کاپورے عالم کے اطراف پر مکمل نفوذ اور تسلط ہوگا۔
۰۱ ۔تکوینی قدرت کا مظاہرہ بھی ہوگا جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قدرت وطاقت کے بیان میں آئے گا۔
۱۱ ۔آپ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوقات کو ایک دین اور ایک مذہب پر اکٹھا کردیں گے۔
۲۱ ۔پورے عالم کے سارے اطراف و اکتاف میں اجتماعی معاشرتی اور حیات انسانی سے مربوط سارے قوانین کویکجا کر دیں گے۔
۳۱ ۔آپ کا حکم اور اقتدار آسمانوں میں رہنے والوں اور زمین میں رہنے والوں سب پر جاری ہوگا جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا۔
۴۱ ۔آپ کی حکومت میں اللہ تعالیٰ سارے دلوں کو جوڑ دے گا جیسا کہ امام جعفر صادقعلیہ السلام سے روایت ہے کہ پیار اور محبت پر مبنی معاشرہ قائم ہوگا۔(الکافی ج ۲ ص ۶۶۴ حدیث ۱)
۵۱ ۔پورے عالم کے سارے اطراف میں وحدت کلمہ ہوگا، سب کی بات ایک ہوگی اختلاف نہ ہوگا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زیارت میں ہے”سلام ہو مہدی علیہ السلام پر کہ جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کو دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے سارے کلمات کو، تمام بیانات کو، ساری آراءکو، ایک کر دے گا اورمعاشرہ سے ہر قسمی اختلافات و افتراق کو اٹھالے گا۔(کمال الدین وتمام النعمة ص ۷۴۶)
یہ وہ امور تھے جو میرے ناقص خیال میں آئے ہیںیہ اس الٰہی حکومت کی خصوصیات ہیں جیسے حضرت امام مہدی علیہ السلام قیام کریں گے اور دوسری حکومتوںکے مقابل میں یہ اس الٰہی حکومت کے امتیازات ہیں ان میں بعض خصوصیات بارے مزید غوروفکر کی ضرورت موجود ہے اور بعض عناوین جو ہیں انہیں بعض دوسرے عناوین کے ضمن میں بھی لایا جا سکتا ہے اور بعض جو ہیں انہیں بنیادی اہداف میں شامل کر سکتے ہیں جو ان اہداف کے علاوہ ہیں جو ہم نے پہلے بیان کئے ہیں۔
تیسرا ہدف:۔ عدل کا نفاذ اور ظلم کا خاتمہ
یہ ہدف فقط انسانوں میں لاگو نہ ہوگا بلکہ اس میں حیوانات بھی شامل ہوں گے۔
حیوانات میں عدالت کے قیام بارے روایات
و البحار میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے جس میں قائم علیہ السلام کے اوصاف کو بیان کیاگیا ہے آپ نے فرمایا:آسمان اپنے قطرات باراںکو برسا دے گا اور درخت اپنے پھل دے دیں گے زمین اپنی نباتات کو اگل دے گی اور زمین اپنے باسیوں کے لئے آراستہ ہوجائے گی ، وحشی جانور بھی امن سے رہیں گے کسی پر زیادتی نہ کریں گے وہ بھی زمین کے اطراف میں اسی طرح گھاس چریں گے جس طرح باقی جانور گھاس چرتے ہیں۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۵۸)
و البحار میں ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول( لِیُظهِرَهُ عَلَی الدِّین کُلِّه وَلَو کَرِهَ المُشرِکُو نَ ) (سورة التوبہ آیہ ۳۳) کے ضمن میں روایت بیان کی ہے۔
ابن عباس: ایسا نہیں ہوگا مگریہ اس وقت ہوگا جس وقت کوئی یہودی، نصرانی اس دنیا میںباقی نہ رہے گاکسی ملت اور دین کا پیروکار نہ بچے گامگر یہ کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائے گایہاں تک کہ بھیڑیا اور بکری ، گائے اور شیر ، انسان اورسانپ سب اکٹھے مل کر رہیں گے اور کسی کوکوئی نقصان نہ دیں گے یہاں تک کہ چوہاجراب تک کو نہ کاٹے گا، یہ سب کچھ امام قائم علیہ السلام کے قیام میں ہوگا۔
(بحارالانوارج ۱۵ ص ۱۶ ۔باب آیات الموملہ زیل ۹۵)
امیرالمومنین علیہ السلام: آپ کے ملک میں وحشی جانوروں کی اصلاح ہو جائے گی اور زمین اپنی نباتات کو باہر نکالے گی اور آسمان اپنی برکات کو اتار دے گا۔(بحارالانوارج ۲۵ ص ۰۸۲)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: مہدی علیہ السلام، میری اولاد سے ایک مرد ہیں، ان کا رنگ عربی ہے، ان کا بدن اسرائیلی ہے، ان کے دائیں رخسار پر خال ہے، کوکب دری کی مانندہے، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی آپ علیہ السلام کی خلافت میں زمین والے، آسمان والے، فضاءکے پرندگان سب راضی ہوں گے۔(بحارالانوار ج ۱۵ حدیث ۰۸ باب ۱ ذیل ۹)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام: بھیڑیا اور بکری ایک جگہ پر گھاس چریں گے بچے، سانپ اور بچھو اکٹھے کھیلیں گے کوئی کسی کونقصان نہ دے گا شر جاتا رہے گا اور خیر ہی خیر رہ جائے گی۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۱۰۳)
امیرالمومنین علیہ السلام: اس زمانہ میں زمین پر امان کوانڈیل دیا جائے گا کوئی چیز بھی کسی کو نقصان نہ دے گی اور نہ ہی کوئی چیز کسی سے ڈرے گی حیوانات، حشرات الارض، درندگان،وحوش سب انسانوں کے درمیان ہوں گے تو کوئی بھی ایک دوسرے کو اذیت نہ دے گا حشرات الارض سے ہر ایک سے اس کا زہرلے لیا جائے گااس میں وہ زہر ہی نہ رہے گاکہ جس سے وہ ڈستے تھے۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۱۰۳)
وضاحت کے طور پر عرض ہے کہ ان روایات کو ذکر کرنا ذاتاًمقصود نہیں ہے اور نہ ہی حیوانات کے عالم سے اور ان میں ظلم و جور کی کیفیت اور عدل کے نفاذ کی بات کرنا مقصود ہے، یہ ہم نے نمونہ کے طور پر اس لئے ذکر کی ہیں تاکہ ہم ان سے اپنے مقصد کے لئے استفادہ کریںان روایات سے ایک بات بڑی عیاں ہے کہ ہر سطح پر،ہر صنف و قبیلہ میں اور ہر نوع اور جنس میں ہر طرح کا عدل ہوگا امن ہوگا، سکون ہوگا۔
عدل سے مراد
جس عدل کی ہم بحث کر رہے ہیں جو امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے اہداف سے ہے اس عدل سے فقط احکام اور فیصلہ جات میں عدل کا نفاذ نہیں ہے بلکہ یہ عدل ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے خاتمہ کے لئے ہے اس طرح کہ اس عدل میں حیوانات بھی شامل ہوں گے جن کی طینت میں ہے کہ طاقتور کمزور کو کھا جائے گا اور جنگل کے جانوروں کے درمیان رائج قانون یہی ہے کہ طاقتوربادشاہ ہے اور اس نے کمزور کو اپنا لقمہ بنانا ہے اللہ تعالیٰ اس عدل کی حقیقت سے آگاہ ہے اور اس کی وسعت کو بھی وہی ذات بہتر جانتی ہے یہ اس کا اپنا لطف ہے کہ کس طرح وہ بھیڑیے ،شیر،سنسار، چیتے، باز کو راضی رکھے گا اور وہ اپنی طبیعت کو بدل لیں گے۔ یہ عدل ہونا ہے کہ بچھو انسان کو اذیت نہ دے گا حیوان کو بھی بچھو نہیں ڈسے گا۔
میں یہ کہتا ہوں کہ ظاہر امر یہ ہے جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا کہ امام علیہ السلام کا عدل طاقت کے زور پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ ایک بہت ہی لطیف طریقہ پر اس کا نفاذ ہوگاجسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے اُد عُ اِلیٰ سَبِی لِ رَبِّکَ بِال حِک مَةِ وَال مَو عِظَةِ ال حَسَنَةِ(سورة النحل ۵۲۱)
حضرت امام مہدی علیہ السلام عدل قرآن ہیں، قرآن کے ساتھ ہیں، قرآن آپ کے ساتھ ہے تو قرآن میں اللہ تعالیٰ کے نظام کو لاگو کرنے کے لئے جو طریقہ بیان کیا گیا ہے آپ اس الٰہی نہج کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کی تفصیل ہم پانچویں فصل میں بیان کریں گے۔
مہدوی عدالت کا جوہر اور حقیقت
عدل عام کرنے سے مراد یہ ہے کہ عالمی سطح پر انسانوں کے لئے جو سیاسی، اقتصادی، اجتماعی، ماحولیاتی، اخلاقی بحران موجود ہیں ان سب کو حل کر دیا جائے، ہر انسان کو سکون اورامن کا ماحول فراہم کر دیا جائے اور ہر انسان کی ضروریات زندگی کو پورا کیاجائے پوری روئے زمین پر بسنے والوں کوعادلانہ مواقع خوشحال زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کر دیئے جائیں اور کوئی بھی کسی دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔
عدل کا نہ ہونا سب سے بڑا انسانی مسئلہ ہے اس کے بہت زیادہ منفی اثرات ہیں۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: امام عادل کی ایک گھڑی ستر سال کی عبادت سے افضل ہے زمین پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک حد(جرم کی سزا)کا قائم کرنا بارش برسنے سے افضل ہے۔(الوسائل ج ۸۱ ص ۸۰۳ ،باب ۱ حدیث ۴)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اللہ کا وعدہ ہے ان کے لئے جو تم سے ایمان لے آئے ہیں اور اچھے اعمال انجام دیئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین کا اقتدار دے دے جیسا کہ اس نے ان سے پہلے والوں کو بھی زمین پر اقتدار دیا اور یہ وعدہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جس دین (نظام) کو پسند فرمایا ہے اسے ان کے واسطے قدرت مندبنا دے اور یہ وعدہ ہے کہ جو خوف و ہراس ان پر طاری ہے اسے بدل کررکھ دے اور ان میں امن و سکون کی فضاءقائم ہو اور امن سے وہ سب میری عبادت کریں اور میرا کسی ایک کو وہ شریک نہ بنائیں اور جو اس کے بعد کفر اختیار کرے گا تو وہی لوگ فاسقین سے ہیں۔
یہ آیت بیان کر رہی ہے کہ مکمل عدل ابھی تک قائم نہیں ہوا اس نے بعد میں قائم ہونا ہے اور اسی عدل کے نفاذ اور قیام کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو پوری زمین کا اقتدار دے گا اور یہ آخری زمانہ میں ہوگا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے( سورہ التوبہ آیت ۲۳،۳۳ ۔ سورہ الصف آیت ۹ ۔سورہ الفتح آیت ۸۲)
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس دین (نظام حیات) کوسارے ادیان پر غلبہ دے دے اگر مشرکین اس عمل کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔
ابھی تک دین اسلام سارے ادیان پر غالب نہیں آیا اور مشرکین کا خاتمہ نہیں ہوا جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ لیکن ایسا یقینی ہونا ہے اور یہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر ہی ہوگا۔
(کمال الدین ج ۷۶ حدیث ۶۱ ۔ تفسیر نور الثقلین ج ۲ ص ۱۱۲ حدیث ۲۲۱)
عدل کے بارے روایات
ابوسعید الخدری۔ رسول اللہ نے فرمایا:
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : میں تمہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے بشارت دیتا ہوں وہ میری امت میں مبعوث ہوں گے جب کہ لوگوں میں اختلافات ہوں گے،زمین میں زلزلے ہوں گے، تو وہ آئیں گے اور زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جس طرح زمین ظلم اور جور سے بھر چکی ہو گی، اس سے آسمان میں رہنے والے اور زمین پر بسنے والے سب راضی ہوں گے، وہ مال کو صحیح طریقہ پر تقسیم کریں گے۔ایک شخص کا سوال:مال کو ”صحاحاً“صحیح طریقہ پر تقسیم کریں گے اس صحاح سے کیا مرادہے؟
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لوگوں کے درمیان مال کوصحیح معیارکی بنیاد پر تقسیم کریں گے۔(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۰۱۳ حدیث ۱۶۵)
حسین بن خالد:حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے سوال کیا گیا: یا بن رسول اللہ!آپ علیہ السلام اہل بیت علیہ السلام کا قائم علیہ السلام کون ہے؟
حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا المرتضیٰ علیہ السلام: میری اولاد سے چوتھے جو کنیزوں کی سردار بی بی علیہ السلام کا بیٹاہے اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کر دے گا اسے مقدس بنا دے گا وہ ایسے ہیں کہ لوگ ان کی ولادت بارے شک کریں گے ان کے لئے ایک غیبت ہے آپ کے خروج سے پہلے جب وہ خروج کریں گے تو ان کے نور سے زمین چمک اٹھے گی اور آپ لوگوں کے درمیان عدل کا میزان لگا دیں گے کوئی ایک بھی کسی پرظلم نہ کرے گا وہ ایسے ہیں کہ ان کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا۔اس کے لئے کوئی سایہ نہ ہوگا وہ ایسے ہیںکہ جن کے لئے آسمان سے منادی نداءدے گاجس کوسارے زمین والے سنیں گے اس نداءمیں لوگوں کو ان کی طرف بلایا جائے گا اس میں کہا جائے گا”الا ان حجة اللّٰہ قد ظہر عندبیت اللہ فاتبعوہ فان الحق فیہ ومعہ“ آگاہ ہوجاو، خواتین و حضرات، حجت خدا کا ظہور بیت اللہ میں ہوچکا ہے پس تم سب اس کی پیروی کرو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں موجود ہے ”( اِن نَّشَا نُنَزِّل عَلَیهِم مِّنَ السَّمَآئِ اَیَةً اَعنَاقُهُم لَهَا خَاضِعِینَ ) “
(سورہ شعراءآیت ۴ ۔ فرائدالسمطین ج ۲ ص ۷۳۳ حدیث ۹۵ ۔ کمال الدین ج ۲ ص ۱۷۴ ۔ باب ۵۳ ذیل ۵)
ابوسعید الخدری سے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
نبی اکرم: حضرت امام مہدی علیہ السلام میری امت میں خروج کرے گااللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے لئے فریاد رس بنا کر بھیجے گا، امت کے لئے نعمات کی فراوانی ہو جائے گی حیوانات پر سکون زندگی گزاریں گے زمین اپنی نباتات کو باہر نکال دے گی اور مال کی تقسیم برابر طور پر کی جائے گی۔(کشف الغمہ ج ۳ ص ۰۷۲)
البحار، غیبت النعمانی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حدیث بیان ہوئی ہے: خدا کی قسم! آگاہ رہو کہ ان کے زمانہ میں، انکا عدل لوگوںکے گھروں میں اس طرح داخل ہوگا جس طرح گرمی اور سردی گھروں میں آتی ہے(بحار ج ۲۵ ص ۲۶۳ حدیث ۱۳۱)
کمال الدین میں شیخ صدوقؒ نے اپنی اسناد سے امام ابوجعفر باقر علیہ السلامسے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ضمن میں”( اِعلَمُوا اَنَّ اللّٰهَ یُحيِ الاَرضَ بَعدَ مَوتِهَا ) “ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دے گا(سورہ الحدید آیت ۷۱)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: اللہ تعالیٰ زمین قائم علیہ السلام کے وسیلہ سے زندہ کردے گا جب کہ وہ آپ علیہ السلام کی آمد سے پہلے مردہ ہو چکی ہو گی۔
زمین کی موت کا معنی ہے کہ زمین پر کفر کے رواج سے زمین مردہ ہو جائے گی کفر کی موت امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے ہوگی۔ (من لایحضرہ الفقیہ ج ۲ ص ۸۶۶ باب ۸۵ ۔ ذیل ۳۱)
ابن عباس سے کتاب الحجة میں ہے: کہ اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ قائم آل محمد کے وسیلہ سے زمین کی اصلاح فرمائے گا جب کہ آپ علیہ السلام سے پہلے زمین مردہ ہو چکی ہو گی یعنی زمین پر بسنے والوں میں ظلم و جور کی حکمرانی سے زمین مردہ ہو چکی ہوگی ”قَد بَیَنَّالَکُم ال اٰیَاتِ“اور ہم نے تمہارے لئے نشانیوں کو واضح کر دیاہے۔
تو اس سے مراد بھی یہ ہے کہ ہم قائم آل محمدعلیہم السلام وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ذریعہ اپنی نشانیوں کو واضح کیا ہے ”لَعَلَّکُم تَع قِلُو نَ“یہ سب کچھ اس لئے ہو گا کہ تم سمجھ جاو، اس کا ادراک کر لو(سورہ الحدید آیت ۷۱ ۔ المحجة ۲۵۷)
ابوابراہیم علیہ السلام سے اس قول کے بارے آیا ہے کہ: اللہ تعالیٰ زمین کو بارش برسا کر آباد نہیں کرے گا زندہ کرنے سے مراد زمین کو آباد کرنا نہیں ہے اور نہ ہی زمین کے مردہ ہونے سے زمین کا غیرآباد ہونا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ آدمیوں کو بھیجے گا جو عدل کا قانون جاری کر کے زمین کو زندگی دیں گے یعنی زمین پر بسنے والوں کو زندگی دیں گے اور زمین کے اوپرایک(جرم کی سزا)قائم کرنا، زمین پر چالیس دن تک بارش برسنے سے زیادہ فضیلت رکھتاہے۔(الکافی ج ۷ ص ۴۷۱ حدیث ۱)
الجواہر میں ہے۔
حضرت امام ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام کافرمان ہے کہ حد(جرم کی سزا)جو زمین پرقائم کی جائے تو یہ زیادہ مفید ہے کہ چالیس دن رات زمین پر بارش برستی رہے۔
(المحجہ ۳۵۷)
المحجہ ص ۳۵۷ میںالحلبی سے ہے کہ ابوعبداللہ سے میں نے اس آیت ”وَاع لَمُو اَنَّ اللّٰہَ یُح ی ال اَر ضَ بَع دَ مَو تِھَا“ (سورة الحدید آیہ ۷۱) کے بارے سوال کیا:
امام ابوعبداللہ علیہ السلام : کے بعد عدل کا نفاذ مراد ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بارزترین اور روشن ترین صفات میں صفت عدل ہے، آپ علیہ السلام کا لقب ہی عدل ہے۔ماہ رمضان کی راتوں کے لئے مروی صلوات میں ہے”اللھم وصل علی ولی امرک القائم المو مل والعدل المنتظر“اے اللہ! اپنے امر کے ولی القائم المومل پر صلوات بھیج اور عدل منتظر پر صلوات بھیج اس میں امام مہدی علیہ السلام کو عدل کے لقب سے یاد کیا گیا ہے یعنی اس عدل(مہدی)پر صلوات بھیج جنکی انتظار کی جا رہی ہے۔(تہذیب الاحکام ج ۳ ص ۱۱۱)
کمال الدین میں مروی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم نے مہدی علیہ السلام کے وصف میں بیان کیا ”اولہ العدل واخرہ العدل“ ان کا آغاز بھی عدل ہے اور ان کا اختتام بھی عدل پر ہے۔(مکیال المکارم ج ۱ ص ۸۰۱)
اس سے مراد یہ ہے کہ آپ علیہ السلام عدل کے کمال پر ہوں گے۔
کوئی حدیث بھی ایسی نہیں ہے کہ جو امام مہدی علیہ السلام کے وصف میں ہو اور اس میں آپ علیہ السلام کی صفت عدل کو بیان نہ کیا گیا ہو۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حضرت امام حسین علیہ السلام کےلئے فرمایا:اے حسین علیہ السلام ! تمہاری اولاد سے نویں قائم علیہ السلام بالحق ہوں گے جو دین کو ظاہر اور غالب کرنے والے ہوں گے، عدل کو پھیلانے والے ہوں گے۔(کمال الدین ج ۱ ص ۴۰۳ باب ۶۲ ،حدیث ۶۱)
البحار میں حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے۔
ابوعبداللہ علیہ السلام: عدل سے پہلی بات جس کا اظہار قائم علیہ السلام کریں گے و عمار الساباطی: میں نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ علیہ السلام پر قربان جاوں پھر تو ہمیں اصحاب قائم علیہ السلام سے ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب کہ وہ حق کا اظہار فرمائیں گے حق کو ظاہر کریں گے، غلبہ لیں گے، جب کہ آج ہم آپ کی امامت میںہیں آپ کی اطاعت میں ہے تو دولت حق اور دولت عدل میں رہنے والوں سے ہم افضل ہے۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: سبحان اللہ! کیا تم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ حق اور عدل کو سارے شہروں میں ظاہر کرے اورسب کا کلمہ ایک کر دے، سب کی بات ایک ہو جائے اور اللہ تعالیٰ مختلف دلوں کو آپس میں جوڑ دے اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی حدود (خداکی جرائم پر طے شدہ سزائیں)کانفاذ ہو، اللہ تعالیٰ حق کو اہل حق کی طرف پلٹا دے پس اس طرح حق ظاہر ہو جائے اور غالب آجائے کہ کسی ایک کے ڈر سے حق سے کوئی چیزمخفی نہ رہے آگاہ رہواے عمار! خدا کی قسم! تم میں جو بھی اس حالت میں مرے گاجس پر اس وقت تم ہوتووہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدر اور اُحد کے بہت سارے شہداءسے افضل ہے پس تمہارے لئے یہ بشارت ہو۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۴۷۳ باب ۷۲ حدیث ۹۶۱)
و اس کا عدل ، میری جان اس پر قربان! انجیل میں موجود ہے....بلکہ وہ مساکین اور بیچاروں کے لئے عدل کا نفاذ کرے گا زمین کے بدبختوں کے لئے انصاف کو لائے گا اپنے منہ کی چھڑی سے مخالف کومارے گا اپنے ہونٹوں کی ایک پھنکار سے منافق کو مارے گا پس بھیڑیا میڈھے کے ساتھ رہے گا اور چیتا بچھڑے کے ساتھ رہے گا....ہر ایک پہاڑ میں قدسی( )موجود ہے کیونکہ زمین رب کی معرفت سے بھری پڑی ہے۔(اشعیاءج ۱۱ ص ۴۰۸)
یہ ایسی روایات ہیں جن میں تامل اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔
۱ ۔ آسمانوں میں رہنے والے اور زمین پر آباد سب اس سے راضی ہوں گے۔
۲ ۔ زمین کو جور سے طاہر کر دے گا اور ہر ظلم سے پاک کر دے گا۔
۳ ۔ لوگوں کے گھروں میں عدل کو داخل کر دے گا جس طرح گرمی اورسردی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتی ہے۔
۴ ۔ کوئی بھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرے گا۔
۵ ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک بات کو ایک کردے گا۔ توحید کلمہ ہوگا مختلف دلوں کو جوڑ دے گا اللہ کی زمین میں نافرمانی نہ ہو گی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کر دیا جائے گا۔
آسمانوں میں رہنے والوں اور زمین کے ساکنین کاحضرت امام مہدی علیہ السلام سے راضی ہونا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کا لطف و کرم
امام علیہ السلام نے جو بات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حق میں بیان فرمائی ہے کہ آسمانوں اور زمین والے سب حضرت امام مہدی علیہ السلام پر خوش ہوں گے، زمین میں بسنے والوں کا راضی ہونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ جب عدل مطلق کا تقاضا ہوگا تو ولی امر(حاکم وقت) سے زمین میں بسنے والے راضی ہوں گے، عورت ،مرد، چھوٹے، بڑے، امیر، غریب،بیمار، صحت مند،انسان،حیوان سب راضی ہوں گے ۔
کیونکہ حدیث میں ہے زمین میں بسنے والوں کے بارے میں ہے کہ جو حیوان اور انسان دونوں کو شامل ہے ۔
حیوانات میں عدالت کے بارے روایات بیان ہو چکی ہیں۔اس کی تفاصیل اور جزئیات اس کتاب کے دائرہ سے باہر ہیں۔
جی ہاں! عوام کی رضایت کے عنوان سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ ان عمومی مہربانیوں اور وسیع پیمانے پر عادلانہ اقدامات کا نتیجہ ہوگا جو حضرت امام زمانہ(عج) کی طرف سے انجام پائیں گے کیونکہ عوام کو راضی کر لینا اور ہر انسان کا خوش ہو جانا یہ ایک ایساہدف ہے جس کا حاصل کرنا بہت ہی مشکل کام ہے بس وہ کون سا اسلوب اور طریقہ ہوگاعدل کے نفاذ میں جس کی وجہ سے جب امام علیہ السلام ایک سوکن کے حق میں اور دوسری کے خلاف فیصلہ دیں تو بھی دونوں اس فیصلہ کی وجہ سے امام سے راضی ہوں گی۔
البتہ آسمان والوں کا راضی ہونا تو یہ امر واضح نہیں ہے کہ ان ساکنین سے مراد فرشتے ہیں کہ فرشتے آپ پر راضی اور خوش ہوں گے آپ کے عدل کو لوگوں پر نافذ ہوتا دیکھ کر اور فرشتے لوگوں کی معصیات اور گناہوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں پہنچائیں گے یہ ان کے لئے ایک طرح کی رضایت اور خوشی کی بات ہے یا اس سے مراد جنات ہیں اور آسمان سے مراد فضا کی ہے کہ امام علیہ السلام ان کے درمیان عدل کا قانون نافذ کریں گے جس طرح زمین میں بسنے والے انسانوں اور حیوانات پرعدل کا قانون جاری کریں گے اس اقدام سے جنات آپ سے راضی ہوں گے ۔
جی ہاں! اس میں تو شک نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام کا عدل عالم جنات کو بھی شامل ہوگا یا تو اس لحاظ سے کہ یہ مخلوق زمین میں بسنے والوں سے ہے اور یا آسمان میں رہتی ہے۔
یا آسمان میں رہنے والوں سے مراد زمین کے علاوہ دوسرے کرات میں رہنے والی مخلوقات ہے چاہے وہ انسان ہوں یا کوئی اور مخلوق ہم ان کے بارے نہیں جانتے وہ فضا میں رہنے والے ہیں یا دوسرے کرات میں رہنے والے ہیں، حضرت امام مہدی علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو اس حقیقت کو اپنے علم، اپنی قدرت سے ان سب کی حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے۔
یا اس سے مراد سارے معانی مراد ہیں فرشتے، جنات اور ہر دوسری مخلوق جو آسمانوں میں (چاہے فضاءمراد لیں یا دوسرے کرات مراد لئے جائیں)رہنے والے ہیں وہ امام علیہ السلام کے فیصلوں پر آپ علیہ السلام کے عدل کے نفاذ پر راضی ہوں گے۔
اس حوالے سے مختلف وجوہات اور احتمالات ہیں یہ سارے درست ہیں یا کچھ ان میں درست ہیں، باقی خیال ہے تو اس بارے میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ کتاب اس حوالے سے تحریربھی نہیں کی گئی کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے جتنے بھی سوالات سامنے آئیں ان کا جواب دے دیا جائے بلکہ ان مسائل میں بہت تھوڑے مسائل کا جواب بھی اس کتاب کے دائرہ میں نہیں آتا کیونکہ یہ معاملہ بہت ہی دقت طلب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی حقیقت حال سے واقف ہے۔
زمین کی تطہیر اور تقدیس کا مسئلہ
امام علیہ السلام:” اللہ تعالیٰ ان کے وسیلہ سے زمین کو ہر جور سے طاہر کر دے گا اور ہر ظلم سے پاک و مقدس بنا دے گا“۔
اس حدیث میں زمین کی تطہیر کی بات کی گئی ہے۔ جب جور زمین سے اٹھ جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتوں سے، ادارہ جات سے، دفاتر سے ظالموں کاکردار ختم ہو جائے گا۔ تطہیر کی تعبیر سے اس کی نوعیت یا کیفیت کو بیان کیا جاتا ہے کہ جور کو زائل کر کے اس کی جگہ حق اور عدل کو رکھ دیا جائے گا تو یہ طاہر نقی ہوگا جس طرح کوئی شخص جب کسی کپڑے کو طاہر کرتا ہے تو نجاست کو ذائل کرتا ہے اور اس جگہ پر ایک دفعہ پانی بہا دیتا ہے، اس طرح وہ پاک ہو جاتا ہے لیکن بعض اوقات نجاست کا اثر یا اس کا رنگ باقی رہ جاتا ہے لیکن اگر اس جگہ پر ایک دفعہ اور پانی بہا دیا جائے تو صفائی یا طہارت کی شکل میں اضافہ ہو جائے گا یہ درست ہے کہ نجاست کے زائل کر دینے کے بعد ایک پانی ڈالنے سے پاکیزگی اور طہارت حاصل ہو گئی لیکن ایک دفعہ سے زیادہ پانی ڈالنے سے اس کی طہارت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے یہاں بھی اسی طرح ہے۔
قرآن مجید میں آیا ہے”حیض کی حالت میں عورت سے مقاربت مت کرو یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے “۔
پھر آگے فرمایا”اگر وہ طاہر ہوجائیں یعنی غسل کر لیں اور غسل کرلینے کے بعد ان کے ساتھ مقاربت کرو جیسا کہ اللہ کا حکم ہے” تمہارے لئے“اللہ تعالیٰ تو،توبہ کرنے والوں اور طہارت کے ساتھ ہوجانے والوں سے محبت کرتا ہے“۔(سورہ البقرہ آیت ۲۲۲)
غسل کرلینا، طہارت اورپاکیزگی میں اضافہ پر دلالت کرتا ہے یہ صحیح ہے کہ حیض کے خاتمہ کے بعد جماع کرنا جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ غسل کے بعد جماع کیا جائے۔
ہمارے اس مورد اور جگہ پر صحیح ہے کہ جور کا زائل کر دینا کافی ہے،لیکن جَور کے آثار اور نشانات کو مٹادینا اور جَور کی پلیدگی سے پوری زمین کو پاک کر دینا تو یہ چیز ہمارے مولا مہدی منتظرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نورانی شعاوں سے حاصل ہوگی۔
یہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ”زمین کو ہر جَورسے“تو اس بارے ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ آپ کا عدل تمام ادارہ جات، سارے شعبہ ہائے حیات اور اس کے تمام ٹکڑوں کو شامل ہوگا، اس کی مزید تفصیل بعد میں آئے گی۔
امام علیہ السلام کا یہ فرمان کہ ”ویقد سبھا من ظالم“کہ ہر الم کے خاتمہ کے ذریعہ زمین کو مقدس بنا دیں گے یہ بھی ظالم کے ازالہ کے بعد مزیدعنایت اور مہربانی ہے، ظالم کے ہٹادینے اور اس کے ظلم کے خاتمہ سے ایک مرحلہ پوراہوگا۔
لیکن اس جگہ کو مقدس بنا دینا ، اس عہدہ کا تقدس، اس ادارہ کا تقدس ، اس شعبہ کا تقدس، زمین کے اس ٹکڑے اور حصہ کا تقدس،جسے ظلم اور ظالم سے پاک کیا گیا ہے تو یہ بات زمین پر حجة اللہ کے انوار سے ہوگا اور یہ آپ کی خصوصی عنایات اور مہربانیوں سے ہوگا
عدل اور قسط میں فرق
کمال الدین میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
بتحقیق میرے خلفائ، میرے اوصیاءاور مخلوق پر حجج اللہ میرے بعد بارہ ہیں، ان میں پہلے میرے بھائی اور آخری میرے بیٹے ہیں۔
سوال: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بھائی کون ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
سوال: آپ کے بیٹے کون ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:مہدی علیہ السلام ہیں جو زمین کو قسط اور عدل سے بھر دیں گے جس طرح جوراور ظلم سے بھر چکی ہوگی۔(کمال الدین ج ۱ ص ۰۸۲ باب ۴۲ ذیل ۸۲)
روایات میں لفظ قسط اورلفظ عدل دونوں کا اکٹھا استعمال ہوا ہے سوال یہ ہے کہ ان کے درمیان کیا فرق ہے ۔
جواب دیا گیا ہے کہ استعمال کے اعتبار سے عدل کا دائرہ قسط سے زیادہ وسیع ہے قسط استعمال ہوتا ہے دوسرے کے حق کو پورا دے دینا جیسے گواہی دینے کے موقع پر، فیصلہ دیتے وقت وزن اور پیمائش کے وقت، عدل اس صورت میں استعمال ہوتا ہے کہ دوسرے کے حق کو پورا پورا دے دینا اور اس کے علاوہ بھی استعمال ہوتاہے۔
عدل حق کے موافق ہے مطلقاًجب کہ قسط حق کے موافق ہے مخلوقات کے حوالے سے، اس کی تصدیق کے لئے عدل اور قسط کے حوالے سے جو آیات ہیں ان کا مطالعہ کریں جَور، قسط کی ضد ہے، جب کہ ظلم، عدل کی ضد ہے،؟ظلم مطلقاً حق سے تجاوز کرنا ہے، جب کہ جَور دوسرے کے حق کو دبانا ہے یعنی جس کا تعلق دوسرے سے ہے اس دوسرے کے حق کو دبالیناجَورکہلاتاہے۔
اس ضمن میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ یہ بیان کرتی ہیں کہ آخری زمانے کے افتراق،حکمران،قضاوت اپنی حکومت میں لوگوں کے درمیان جَور کو رواج دیں گے یعنی لوگوں کے جو حقوق بنتے ہیں وہ انہیں نہیں ملیں گے۔
اسی طرح وہ ظالم بھی ہوں گے یعنی اپنے اوپر بھی ظلم کریں گے اور دوسروں پر بھی ظلم کریں گے جب حضرت قائم علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو آپ لوگوں کے درمیان سے جَور کا خاتمہ کر دیں گے اور جَور کی جگہ عدل کی حکمرانی قائم کر دیں گے۔
ظالموں کی بنیاد بھی اکھیڑ دیں گے اور ظالموں کے اثرات کا بھی خاتمہ کر دیں گے اس طرح کہ آپ کا عدل پورے عالم پر پھیل جائے گا کوئی بھی کسی دوسرے پر جَور نہیں کرے گا اسی طرح کوئی بھی ظلم نہ کرے گا نہ اپنے ساتھ زیادتی اور ظلم کا رویہ اپنائے گا اور نہ ہی دوسروں پر ظلم و زیادتی کرے گا، ہر ایک کو اس کا حق ملے گا اور اپنے حقوق بھی اس کے محفوظ ہوں گے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: آگاہ رہو خدا کی قسم!حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عدل ضروربالضرور ان کے گھروں میں اس طرح داخل ہوگا جس طرح گرمی اور سردی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتی ہے(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۲۶۳ حدیث ۱۳۸ غیبت نعمانی)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عدل کی وسعت
امام علیہ السلام کا فرمان:”لیدخلف علیہم عدلہ جوف بیوتہم کما یدخل الحروالقر“
حضرت امام مہدی علیہ السلام ان پر ان کے گھروں کے اندر عدل کو ضروربالضرور داخل کر دیں گے، جس طرح گھروںمیں سردی اور گرمی داخل ہوتی ہے۔
الحر:۔وہ حرارت اور تپش ہے جو گھروں کے اندر داخل ہوتی ہے جس کے لئے دروازہ یا کھڑکی یاسوراخ کی ضرورت ہوتی ہے۔
القر:۔حرارت اور گرمی کے مقابل میں ہے اس سے مار ڈالنے والی سخت سردی ہے اور یہ بھی گھروں میں گرمی کی طرح داخل ہوتی ہے۔
یہ روایت بہت ہی عمدہ ہے یہ ہمارے لئے امام مہدی علیہ السلام کے عدل کی حدود اور دائرہ کو بیان کر رہی ہے امام علیہ السلام نے اس حدیث میں امام علیہ السلام کے عدل کی شدت اور اس کی وسعت کو بیان کیا ہے یہ عدل گھروں کے اندر پہنچ جائے گابغیر اس کے کہ کوئی اسے گھروں میں داخل کرنے والا ہو، حدیث میں لفظ ”جوف البیوت “ گھروں کے اندر، اس سے اشارہ ہے کہ جہاں انتہائی خفیہ اور رازداری کا سسٹم موجود ہوگا جو خود اس گھرانے کے اندر قائم ہوگاوہاں بھی آپ کا عدل موجود ہوگا۔
یہ ہمارے لئے ایک بڑے قانون کو کھول رہا ہے جو عدل سے مربوط ہے اور اس قانون نے گھرانوں کے اندر موجود ہونا ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا قانون ایساہوگا شوہر اور بیوی کے ذاتی معاملات کوبھی شامل ہوگا نہ شوہر اپنی بیوی پر ظلم کرے گا اور نہ ہی بیوی اپنے شوہر سے زیادتی کرے گی بیوی اپنے شوہر کو ناراض نہیں کرے گی، اسے تنگ نہیں کرے گی اسے خوش رکھے گی اسی طرح شوہر اپنی بیوی کوخوش رکھے گا اس کی جائز ضروریات کو پورا کرے گا بیوی شوہرسے خوش ہوگی،ناراض نہ ہو گی کوئی زبردستی نہیں کرے گاوہ دونوں خودبخود عدل کے قانون پر عمل کریں گے جس طرح گرمی اور سردی کے گھروں کے اندر آنے میں کسی قسم کے اضافی اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا ہے:”کمایدخل الحر والقز“جس طرح گرمی اور سردی داخل ہو جاتی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ کسی سے اجازت لئے بغیر عدل ہر گھر میں پہنچ جائے گا اور یہ احتمال بھی ہے کہ گھروالے نہ بھی چاہیں گے تو قانونِ عدل ان کے پاس پہنچ جائے گا اگر اسے ٹھکرانا چاہیں گے تب بھی عدل ان کے پاس ہوگا، اس سے وہ فرار نہیں کر سکتے جس طرح سردی اور گرمی کی گھروں میں آمد سے فرار نہیں کیاجا سکتا ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ گھر میں عدل داخل ہوگا جس کا علم گھر والوں کو ہوگا لیکن وہ اس عدل کی آمد کو روک نہ سکیں گے جس طرح سردی اور گرمی کو کوئی روک نہیں سکتے جب موسم سرما میں سردی اور موسم گرما میں گرمی آتی ہے تو اس کا ہمیں علم ہوتا ہے ہم اسے روک نہیں سکتے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ عدل گھروں میں پہنچے گا، گھر والے پورے شوق اور محبت سے اسے لے لیں گے جس طرح موسم گرما میں سردی کو شوق سے لیا جاتا ہے اور موسم سرما میں گرمی کو شوق سے حاصل کیا جاتاہے۔
تینوں معانی میں فرق موجود ہے پہلے اور دوسرے معنی میں سختی کا عنوان موجود ہے لیکن تیسری صورت میں عدل خودپہنچ جائے گا اس کا گھر والوں کوعلم بھی ہوگا اور اس سے واقفیت بھی موجود ہوگی اور علم کا تقاضا بیداری اور آگہی ہے تاکہ گھروں میں اس کی روشنی میں عدل وارد ہو۔
جب کہ چوتھے احتمال میں عدل داخل ہوگا، اس کی انہیں چاہت ہوگی، اس کے لئے علم کی ضرورت ہے اور علم کے ساتھ رضایت اور پسندیدگی کی بھی ضرورت ہے ۔
امام علیہ السلام کا قول:”لایظلم احد احداً “کوئی ایک کسی ایک پر ظلم نہ کرے گا۔
اس سے محسوس ہوتا ہے کہ قاضیوں اور ججوں کی ضرورت نہ رہے گی اور نہ ہی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہو گی اور عدالتوں کے قیام کے سارے لوازمات کی ضرورت نہ رہے گی یہ بات قابل غور، قابل دقت ہے۔
دعائے ندبہ میں ہے ”این المنتظر لاقامة الدمت والعوج ....“کہاں ہیں وہ جن کی انتظار ہو رہی ہے کہ ہر ٹیڑھے پن اور انحراف کو صحیح کر دے۔این حاصد فروع الغی الشقاق ....کہاں ہے وہ جو زیادتی وافتراق کو آ کر جڑ سے اکھیڑ دے گا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ٹیڑھا پن، انحراف بالکل نہیں ہوگا بلکہ سب لوگ صراط مستقیم پر ہوں گے۔
امام علیہ السلام کا فرمان:” یجمع الله الکلمة ویولف بین قلوب مختلفة ولایعصی الله فی ارضه وتمام حدود فی صفقه “ کلمہ میں توحید سے مراد یہ ہے پورا عالم متحد ہوگا ایک بات پر اور وہ کلمہ یہ ہوگا ”اشهدان لا اله الا الله واشهدان محمد ارسول الله “جس کے لئے انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ اطہار علیہم السلام نے مسلسل جدوجہد کی اور علماءنے توحید کلمہ کے لئے کوششیں کیںہر ایک حکومت اپنے اپنے زمانہ میں ایسا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے یا ایک بستی میں ایسا ہو یا ایک خاندان میں کسی جھگڑے کے بغیرایسا ہوجائے،لیکن کوئی ایسا نہیں کر سکا یہ ہمارے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات سے ہے دعائے ندبہ میں ہے:
”این جامع الکلم “کلمہ کو ایک کر دینے والے کہاں ہیں؟
آپ علیہ السلام کی زیارت میں آیا ہے ”السلام علیک یا جامع کلمہ علی التقویٰ“اے کلمہ کو تقویٰ سب پر اکٹھا کر دینے والے کہاں ہیں؟ آپ تقویٰ کی بنیاد پر کلمہ ایک کر دیں گے۔
مختلف دلوں کو ایک کر دیں گے سب دلوں میں محبت ہو گی ، مختلف دل جن میں محبت تھی، بغض تھا، ایک دوسرے سے نفرتیں تھیں، پیار و محبتوں میں مختلف تھے، رائے میں مختلف تھے چاہتیں مختلف تھیں یہ سب ایک ہوجائیں گے۔
نور امام مہدی علیہ السلام ان کے درمیان اتحاد کوپکا کر دیں گے ان میں تالیف ہو جائے گی پیار، محبت، انس، مہربانی،شفقت میں سب ایک ہو جائیں گے پیارہی پیار ہوگاوحدت افکار ہوگی۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام: اگر ہمارے قائم علیہ السلام نے قیام کیا تو آسمان اپنے قطرات برسا دے گا اور زمین اپنی نباتات کو نکال دے گی اور بندگان کے دلوں سے نفرت جاتی رہے گی۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۰۰۳)
آپ کا یہ بیان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مناسبت رکھتا ہے”( وَ نَزَعنَا مَافِی صُدُورِهِم مِن غِلٍّ اِخوَاناً عَلیٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِینَ ) “(حجر آیت ۷۴)
اور ہم نے ان کے دلوں سے نفرت اور گرہیں کھینچ ڈالیں وہ آمنے سامنے پلنگوں پر بھائی بھائی بن بیٹھے۔
لو لف کا معنی ہے کہ ان کے دلوں میں محبت ڈال دیں گے اور ان کے دلوں سے نفرت ختم کر دیں گے۔ دوریاں ختم وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گے یہ عدل کا اعلیٰ درجہ ہے عدل کی شدت اور سب تک عدل کا پہنچنا اس بات کا سبب ہو گا کہ تمام نفرتیں ختم ہو جائیں بغض اور کینہ کی زنجیریں ٹوٹ جائیں۔
دعائے ندبہ میں ہے ”این حاصد فروع الغی والشقاق، این طامس اثار الزیغ والاھوائ“ ہمارے امام مہدی علیہ السلام کے بارے کہا جا رہا ہے کہ وہ کہاں ہیں جوشقاق و افتراق اور نفرت کی شاخوں کو کاٹ کر رکھ دیں گے اور تمام خواہشات اور انحرافات کے آثار کو مٹا دیںگے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام تمام اخلاقی رذائل اور دلوں کے کینوں کو جڑوں سے اکھیڑ پھینکےں گے۔
امام علیہ السلام کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو گی اور اللہ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کیا جائے گا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ ہے کہ ظہور امام مہدی علیہ السلام میں سارے لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اللہ تعالیٰ کی معصیت نہ کریں گے، عدل ہوگا جور نہ ہو گا کسی دوسرے کے حق کو نہ مارا جائے گا،ہر ایک اللہ تعالیٰ کی حدود کی پابندی کرے گا۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرے گا تاکہ دولت حق میں عدل مطلق نافذ ہو جائے۔
لوگ اس حد تک پہنچ جائیںگے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریںگے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے بارے بہت زیادہ سوالات ہیں بلکہ اس بات کا تو تصور ہی بہت سخت لگتاہے کہ سب کچھ یہ کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ جمعہ کی ظہر میں سارے لوگ نمازظہر میں ہوں گے وہ بھی امام زمان علیہ السلام کی امامت میں معلوم ہے کہ ایسی نمازکا کتنا زیادہ ثواب ہوگا؟
اس زمانہ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ امام زمانہ(عج)کی امامت میں نماز ادا کر رہا ہوگا کیونکہ عصرِظہور میں نمازجمعہ واجب عینی ہو گی اس کا وقت بھی محدود ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوگی خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اس زمانہ کو پائیں گے اس سے انسان ان روایات کے معنی کو سمجھ سکتا ہے جن میں ہے کہ زمین اپنی تمام برکات اور خیرات کوباہر نکال دے گی اور آسمان اپنی ساری برکات اتار دے گا ایسا کیوں نہ ہوگا؟اس زمانہ میں ہر انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہوگا اور ان سب کے دل ایک ہوں گے اللہ تعالیٰ ہمیں ان نعمات سے بہرہ ورہونے کی توفیق دے اورہم بھی اس مبارک زمانہ میں موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ صاحب الزمان علیہ السلام کے زمانہ کو جلد لائے۔
عدل کو کیسے پھیلایا جائے گا
امام علیہ السلام کے عدل کے بارے جو روایات اور بحثیں گزر چکی ہیں چاہے وہ بات کہ جو عدل آپ کی مبارک حکومت اور مملکت میں رائج ہوگا اور اس کے تمام سیاسی، اقتصادی، عسکری شعبہ جات میںجاری ہوگا یا گھروں کے اندر تک عدل پہنچ جائے گا، خاندانوںکے روابط اور تعلقات میں عدل موجود ہوگا دلوں سے نفرتوں کاخاتمہ ہو جائے گابغض اور کینے ختم ہو جائیں گے یہ سب کچھ یقینی ہوگا تو اس جگہ ایک سوال پیش ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام اس عدلِ مطلق کو کیسے محقق کریں گے اورآپ کون سا طریقہ اپنائیں گے؟جس کی وجہ سے یہ سب کچھ موجود ہوپائے گا۔
اس امر کے بارے میں بیان جو ہے اس کا پانچویں فصل کے ساتھ ربط اور تعلق ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کی دعوت کے طریقہ کار کو بیان کیا جائے گا۔
البتہ عدل کی اقسام جو اوپر بیان ہوئی ہیں اور ان کے حوالے سے آپ کی دعوت کے طریقہ کے نتیجہ میںجو اثرات سامنے آئیں گے ان کے درمیان فرق کوپیش کیا جا سکتا ہے ۔جو عدل حکومتی اداروں سے مربوط ہے تو اس کے لئے ایک قانون عام وضع کیا جائے گا جو ایک سلطنت عظمیٰ کے لئے ہو گا یا اسلامی شہروں میں جو قضاة اور ججز تعین کیے جائیں گے ان کے بارے ایک قانون اور ضابطہ ہوگا جس کی وہ پیروی کریں گے اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے وہ وہی قانون ہوگاجو خداوند نے اتارا ہے۔
یہ اس صورت میں ہے کہ جب ہم یہ کہیں کہ جھگڑوںاور اختلافات کو حل کرنے کے لئے عدالتیں قائم کرنے کی ضرورت ہو گی کیونکہ روایات تو اس بات کی طرف بھی اشارے دے رہی ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو گی کوئی ایک بھی کسی دوسرے پر ظلم نہ کرے گا اس لحاظ سے عدالت گاہیں قائم کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو گی اور نہ ہی قضاةکی ضرورت رہے گی لیکن جس عدل نے لوگوںکے گھروں میں پہنچنا ہے، اورخاندانوں کے اندرپہنچنا ہے، جس طرح گرمی اور سردی پہنچتی ہے تو اس کے لئے ہم نے احتمالات پہلے بیان کر دیئے ہیں۔البتہ وہ عدل جس کی وجہ سے نفرتیں ختم ہوں گی سب لوگ ایک جان ہو جائیں گے سب کے دلوں سے کینے ختم ہوجائیںگے، سب متحد اور ایک سوچ والے ہوں گے یہ خودامامعلیہ السلام کی ذات کی برکات سے ہوگا جوبندگان خدا پروارد ہوںگی ان میں سے ایک برکت اس صورت میں ظاہر ہو گی۔ جب عدل مطلق محقق ہو گاظلم ختم ہو گا تو اس کے لئے کسی معین اسلوب اور طریقہ کی ضرورت نہےں بلکہ یہ خبر تو ہمارے مولا صاحب الزمان علیہ السلام کی رحمات واسعہ سے ایک چھوٹی سی رحیمانہ جھلک سے ہوگا اور آپ کی رحمت کا اس طرح اظہار ہوگا کہ خود آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلقہ کا مظہرہے یہ سارے اشارے اسی رحمت کے حوالے سے ہیں۔
کیا لوگ حضرت امام مہدی علیہ السلامکے زمانہ میں عصمت کے مقام کو پالیں گے
روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی حکومت میں امت کے لئے ایک بہت ہی عظیم ایمانی حالت پیدا ہو جائے گی اس طرح کہ اس حکومت کے زیرسایہ کوئی ایک بھی اللہ کی نافرمانی نہ کرے گا صحیفہ ادریس علیہ السلام کے حوالے سے حدیث قدسی میں آیاہے....میں ان کے درمیان مہربانی، الفت اور شفقت و پیار کو ڈال دوں گا پس وہ ایک دوسرے سے ہمدردی کریں گے آپس میں برابر مال تقسیم کریں گے فقیر مستغنی ہو جائے گا بعض دوسرے بعض پر فوقیت نہ جتائیں گے اور کوئی کسی پر بڑا نہ ہوگا بزرگ چھوٹے سے پیار کرے گا اور چھوٹا بڑے کی توقیر و عزت کرے گا حق پر عمل کریں گے حق کی بنیاد پر عدل کریں گے ، فیصلے دیں گے، یہی تو میرے اولیاءہیں میں نے ان کے لئے نبی مصطفی کا انتخاب کیا ہے اور میں نے مرتضیٰ کو چنا ہے میں نے ان کی ہدایت کے لئے انبیاءعلیہ السلام اور رُسل کو متعین کیا ہے ان کے لئے میں نے اولیاءاورانصار قرار دیئے ہیں یہ وہ امت ہے جسے میں نے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور اپنے امین مرتضیٰ کے لئے اختیار کیا ہے اس کے وقت جو میں نے اپنے علم غیب میں محجوب رکھا ہے اور ایسا ضرور ہونا ہے(اے ابلیس تو مردود ہے، جب وہ وقت آئے گاتو) میں تجھے اس دن تباہ کر دوں گا، ہلاک کر دوں گا، تیرے سواروں کو تیرے پیادوں کو اور تیری ساری افواج کواور تیرے سارے کارندوںکو ختم کردوں گا، پس تم جاو وقت معلوم تک تیرے لئے مہلت ہے تم اس دن کی انتظار کرو۔
علامہ المجلسی نے فرمایا ہے: اس حدیث قدسی بارے میرا بیان یہ ہے کہ یہ آثار جن کا اس حدیث میں ذکر ہوا ہے اور یہ کہ شیطان کااور اس کے لشکریوں کا خاتمہ ہو گا تو یہ سب کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی کے ایام میںتو حاصل نہیں ہوااور نہ ہی آپ کی امت میں ابھی تک ایسا ہوا ہے جب کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور سچ ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی بعثت کے بعد یہ سب کچھ بعض ایام میں ہوگا اور وہ ایام نہیں ہیں مگر حضرت قائم علیہ السلام کے زمانہ کے ایام ہیں جیسا کہ روایات میں آچکا ہے اور مزید بھی آئے گا(البحار ج ۲۵ ص ۴۷۳،۵۸۳)
آئمہ معصومین علیہم السلام سے روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی حدود کا نفاذ ہوگا۔(یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کا آخری نمائندہ ظہور فرمائے گا)
دعائے ندبہ میں یہ جملے موجودہیں:این حاصدفروع الغ ¸ والشقاق، این طامس آثارالزیغ والاهواءاین مبیداهل النفاق والعصیان والطیان، این قاطع حبائل الکذب والافتراء، این مستاصبل اهل العناد والتضلیل والالحاد، این جامع الکلمة علی التقویٰ
ان روایات اور اسی قسم کے دوسرے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام معاصی اور گناہوں کے تمام اسباب کو کائنات میں سے جڑ سے اکھیڑ دیں گے آپ کے دور میںنہ ملاوٹ ہو گی نہ افتراق ہوگا، نہ بغض ہوگا نہ کینہ ہوگا، نہ حسد ہوگا، نہ بخل ہوگا، نہ نفسانی خواہشات کی پیروی ہو گی اور نہ ہی ایسی خواہشات ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مخالف ہوں، نہ فسق رہے گا نہ فسادنہ سرکشی ہو گی نہ زیادتی ہوگی نہ جور ہوگا نہ ظلم نہ گمراہ کرنے والے اسباب ہوں گے نہ ہی دشمنیاں نہ جھوٹ ہو گا نہ افتراءکوئی کسی پر ظلم نہ کرے گا اور نہ ہی کوئی کسی کوگناہ پر آمادہ کرے گا اور نہ ہی کوئی کسی کو گمراہ کرے گا، بلکہ یہ تقویٰ ہوگا، خدا ترسی ہو گی، نیکی ہوگی، عدل ہوگا، سچ ہوگا، محبت ہو گی، ایمان ہوگاہر سطح پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو گی،اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو گی کوئی کسی پر ظلم نہ کرے گا سب ایک دوسرے کا احترام کریں گے اور کوئی کسی کا حق نہ مارے گا سب بھائی بھائی ہوں گے تواس جگہ سوال یہ ہے کہ کیا عصمت اس کے علاوہ کسی اورحالت کا نام ہے؟ یہ عصمت غیرذاتی ہے، اس حکومت میں گناہ کے اسباب ہی نہ رہیں گے تو کوئی کس طرح گناہ کرے گا؟ اپنے امام علیہ السلام کے نور کی برکت سے سارے انسان اپنی اصلی فطرت کی طرف پلٹ آئیں گے،ظلم کی ضرورت ہی نہ رہے گی عدل ہر ایک گھر میں اور ہر خاندان کے درمیان پہنچ جائے گا، حکمرانوں کے ضمیروں میں عدل بسا ہوا ہوگا، چوری نہیں ہوگی کیونکہ فقر ہی موجود نہ ہوگا، سب خوشحال ہوںگے، عدل کی سلطنت ہوگی، پاکیزہ حکومت ہو گی، زنا نہیں ہوگا،فسق و فجور نہ ہوگا کیونکہ جس کے لئے ازواج اور شادی کی حاجت ہو گی تو امام علیہ السلام اس کے لئے شادی کے اسباب مہیا فرما دیں گے۔کوئی ایسا نہ رہے گا کہ اس کے لئے شادی کی خواہش ہو اور وہ مالی مجبوریوں یا مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے شادی نہ کر سکے، بلکہ ہر ایک کے لئے اپنی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے واسطے اسباب مہیا کر دیئے جائیںگے۔
بغض، کینہ،حسد،نفرت کچھ بھی نہ ہوگا،امام زمان(عج)کے نور سے اللہ تعالیٰ اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں کو طاہر کر دے گا اور وہ سب امام زمان(عج)کے نور کی برکت سے اس فطرت پر واپس آجائیں گے جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں خلق فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو توحید اور اپنی معرفت کی فطرت پر خلق فرمایا ہے، یہ فطرت اپنی پوری آب تاب سے امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں سب انسانوں پر حکمران ہوگی۔
ابلیس کا قتل
اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ امام علیہ السلام، ابلیس ملعون کو قتل کریں گے۔
اسحق بن عمار سے روایت ہے:
اسحق: میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا ابلیس کو جو مہلت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور وقت معلوم تک مہلت کا کہا گیا ہے تو اس سے کیا مرادہے؟(سورة الحجر ۸۳)
امام علیہ السلام: وقت معلوم قائم علیہ السلام کے قیام کا وقت ہے جب اللہ تعالیٰ انہیں مبعوث فرمائیں گے تو آپ علیہ السلام مسجد کوفہ میں موجود ہوں گے وہاں پر ابلیس آئے گا اور اپنے زانو کے بل جھک کر آپ علیہ السلام کے سامنے بیٹھ جائے گا اور وہ کہے گا کہ ہائے افسوس!اس دن پر جو آ گیا ہے پس امام علیہ السلام اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے پس وہ دن یوم معلوم ہے ابلیس کی مدت عمر کے خاتمہ کا دن ہے۔اس بارے فرق نہیں ہے کہ ابلیس کو آپ علیہ السلام حقیقی طور پر پکڑ کر قتل کردیں گے یا نفوس کے اندر میں موجود شیطان کو قتل کر دیں گے ہرانسان کے اندر کا شیطان ماردیں گے دونوں کا نتیجہ ایک ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
جی ہاں! اس بنا پر کہ آپ نفوس سے شیطان کو ماردیں گے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض روایات میں جویہ قول موجود ہے کہ شیطان زندہ رہے گااور وہ انسانوں میں شیطانی وسوسہ ڈالے گا اوروہی شیطان حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قتل کا سبب بنے گا اور اس کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ ختم ہوگااوراللہ تعالیٰ کا غضب مخلوق پر نازل ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی روایات صحیح نہیں ہیں اور اس کی تردید ان روایات سے ہوجاتی ہے جن میں آیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں گناہوں اور جرائم کے اسباب ہی باقی نہ رہیں گے سب نیک ہوں گے۔ لیکن اس بحث کی جگہ یہ کتاب نہیں ہے اس کی جگہ اورہے۔جی ہاں! یہ بات کہ امت عصمت کے درجہ پر پہنچ جائے گی تو یہ فوری طورپر نہیں ہوگا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت کے مکمل ہو جانے کے بعد ہو گا ظہور کے ابتدائی دور میں ایسا نہ ہوگا کیونکہ وہ زمانہ توجنگوں کا اور دعوت دینے کا، ظلم سے منع کرنے کازمانہ ہوگا۔
ان روایات کا مضمون ہماری اس بات کی تائید کرتا ہے کہ امت عصمت مطلقہ کو پہنچ جائے گی خاص کر جب ان روایات کو ساتھ ملا دیں کہ امام علیہ السلام کا عدل وسیع ہو گا آپ علیہ السلام کی سلطنت عام ہو گی توحید الکلمة اور کلمة التوحید حاکم ہوگا خیالات، عقلیں سب ایک ہو جائیں گے، دلوں سے ہرقسم کی گرہیں کھول دی جائیں گی جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے ان روایات کو دوبارہ ذکر کرنے میں تکرارہوگا۔
اسی طرح ابلیس کو قتل کرنے کی جو روایت ہے وہ بھی اس کی تائید میں ہے کیونکہ ابلیس ہر قسم کے شر اور گناہ کی بنیاد ہے اسی لئے بعض روایات میںیہ بیان گذر چکا ہے کہ شر اور گناہ کے اسباب کا قلع قمع کر دیا جائے گا اس کی جگہ خیر اور بھلائی کو رکھ دیا جائے گا۔اجمالی طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں امت کے عصمت کے درجہ کو پہنچنا ثابت ہے اور ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے ان کی تاویل اس طرح کی جا سکتی ہے کہ لوگوں میں نیکی کے اسباب زیادہ ہوں گے خیر عام ہو گی گناہ کے ارتکاب کا کوئی سبب موجود نہیںرہے گاتوپھرانسان عصمت کے درجہ پرکیوںنہ پہنچ جائے اور وہ جن کے لئے اختیارہے، اختیاری حالت میں گناہ نہ کریں گے کیونکہ گناہ کی ضرورت ہی نہ ہو گی گناہ کے اسباب ہی نہ ہوںگے تویہ بات محال نہیں ہے ایسا ممکن ہے توپھر ان بہت ساری روایات کے مضمون کی تاویل اور توجیہ کیوں کی جائے۔
عصمت کا معنی
عصمت سے مرادفرائض اور واجبات ادا کرنے کی پابندی اورحرام کو چھوڑناہے ،عصمت ذاتی جو آئمہ اہل البیت علیہم السلام کے لئے ہے وہ اس جگہ مراد نہیں ہے۔
عمار الساباطی:میں نے حضرت ابوعبداللہ صادق علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ علیہ السلام پر قربان جاوں، تب تو ہم یہ رائے رکھیں کہ ہم قائم علیہ السلام کے اصحاب سے ہوں اور ان کا ظہور جلدہو جائے کیونکہ ہم آج آپ کی امامت میں ہیں آپ کی اطاعت میں ہیں اور اعمال کے اعتبار سے یہ افضل ہے دولت حق اور دولت عدل میں موجود ہونے سے۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام: سبحان اللہ!کیوں تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ممالک میں عدل اور حق کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ اپنے کلمہ کو اکٹھا کرے اور مختلف دلوں میں اللہ تعالیٰ تالیف و محبت پیداکر دے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ حق کو اہل حق کی طرف واپس پلٹا دے اور حق ظاہر ہو جائے اور حق سے کچھ بھی مخفی نہ رہے، مخلوق میں کسی ایک کے ڈر کی وجہ سے حق ظاہر ہونے سے مخفی نہ رہے پورے کا پورا حق ظاہرہوجائے۔حضور پاک نے حضرت عمارعلیہ السلام سے فرمایا: کہ تم جس حال میں ہو اسی پر قائم رہو گے اور جب تمہارے ساتھیوں کو موت آئے گی تو تمہارا انعام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدر اور احد کے بہت سارے شہداءسے افضل ہوگا پس تمہارے لئے یہ بشارت ہو۔(الکافی ج ۱ ص ۴۳۳ باب تا در فی حال الغیبة ص ۲)
اس جگہ کوئی اعتراض کر سکتا ہے اور اس کا اعتراض برجا بھی ہے کہ اس بات کو کہنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آخری زمانہ کے لوگوں کی سیرت میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو جائیں گی بہت ساری اخلاقی قدریں، سیاسی، اجتماعی قوانین بدل جائیں گے بلکہ بہت سارے توابین کو ملنی منسوخ ہو جائیں گے چہ جائیکہ عدالتی احکام اور اس کے لوازمات جیسے فوجی عدالتیں، سول عدالتیں، جیل خانے بلکہ پولیس، فوج اور اسی طرح کے دیگر امور کی ضرورت نہ رہے گی تو یہ سب کیسے ہوگا؟
یہ سوال اپنی جگہ پر ٹھیک ہے لیکن اگر ہم یہ جواب دیں کہ اس کے لئے وقت درکار ہوگا یہ یکدم اور فوری تو نہ ہوگا جب ماحول اور حالات ایسے ہو جائیں گے کہ کوئی بھی کسی پر ظلم نہ کرے گا گناہ اور جرائم کے اسباب کا خاتمہ کر دیا جائے گا تو پھر ان تبدیلیوں کے آجانے میں کیا حرج ہے؟جیسا کہ رسول پاک کا فرمان ہے:”علق السوط حیث یراہ اھلک“(تفسیر السمعانی ج ۵ ص ۵۷۴)
ترجمہ:۔اپنے کوڑے کو ایک طرف رکھ دو جس وقت تم اس طرح کے افرادکو پالو۔
لیکن اس میں ایک بات ہے کہ جب برائی جڑ سے اکھیڑ دی جائے گی عدل مطلق نافذ ہوگا، حق عام ہوگا ہر گھر میں عدل ہوگا، جور نہ ہوگا، ظلم نہ ہوگا، رذائل اور خیانت کے اسباب ہی نہ رہیں گے، دلوں میں قربت ہو گی، محبت ہی محبت ہو گی تقویٰ پر سب اکٹھے ہوں گے تو پھر ان سب کی ضرورت نہ رہے گی جو اوپر سوال اٹھایا گیا ہے۔ پھرڈنڈے اور کوڑے کی ضرورت نہ ہو گی، تہدید ووعید کی ضرورت نہ ہو گی، لیکن اس جگہ پھر یہ سوال ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوجائے گا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب روایات ہیںیہ ان کے مضامین ہیں، یہ وہ کچھ ہے جو ہم نے سمجھا ہے، سوالات موجود ہیں اشکالات موجود ہیں، بحث دقیق ہے۔اس پرکوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے۔خدا ہی ہماری درستگی فرمائے اوریقینی امر ہے کہ جب ظہور ہوگا تو پھر یہ سب کچھ سمجھ بھی آجائے گااللہ تعالیٰ صحیح سمجھ عطا کرے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ ،ترقی اور خیر مطلق، خوشحالی کا دور ہے
رہبر عظیم الشان آقای السید علی خامنہ ای کا ایک مقالہ میرے سامنے ہے جس میں انہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی برکات اور خیرات کو بیان کیا ہے آپ نے بیان کیا:
صاحب الامر علیہ السلام”ارواحنا فداہ“ کا زمانہ جو کہ آنے والا ہے یہ زمانہ انسانی زندگی کا نقطہ آغاز ہو گا یہ دور انسانی زندگی کی فناءاور خاتمہ نہیں اسی زمانہ میں اور اسی حکومت میں انسان کی حقیقی زندگی شروع ہو گی اور انسان کی حقیقی سعادت اسے حاصل ہو گی اس بڑی انسانی کائنات کے لئے آپ کی حکومت میں واقعی سعادت اور خوش حالی ہو گی انسان کے لئے خیرات اور برکات سے استفادہ کے مواقع ہوں گے وہ حکومت جو اس پوری زمین کو شامل ہو گی، زمین میں جتنی برکات ہیں اور جتنی پوشیدہ خیرات ہیں سب سے فائدہ حاصل کرنا اور انہیں بغیر کسی نقصان اور ضرر کے اپنے فائدہ کے لئے استعمال میں لانا انسان کے لئے ممکن ہوگا۔
یہ بات درست ہے کہ اس وقت انسان کائنات کی کچھ برکات اور خیرات سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن ان فوائد کے بدلے میں انہیں کافی سارے نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں انہوں نے ایٹمی طاقت کو ایجاد کر لیا ہے لیکن ان لوگوں نے اس ایجاد کو انسان کے قتل کے لئے استعمال کیا ہے۔ زمین کی گہرائیوں سے خام تیل کو حاصل کیا ہے لیکن اس کے ذریعہ ماحول اور فضاءکو آلودہ کیا جاتا ہے جو انسان کی زندگی کے لئے نقصان کا سبب ہے یہ گزشتہ صدی میں حاصل ہوا ہے انسان کے محرکہ وسائل اور پوشیدہ طاقتوں کو ایجاد کر لیا ہے جیسے تجارات کی طاقت اور اسی طرح کی دوسری اشیاءکی طاقتیں، لیکن اس کے مدمقابل انسان کو بہت سارے بدنی اور جسمانی نقصانات پہنچائے ہیں، انسان کے لئے مادی زندگی بہت ساری مشکلات اور مصائب کو لے کر آئی ہے،موجودہ مادی ترقی انسان کےلئے زندگی کی آسائشیں اورسہولیات کولے آئی ہے لیکن اس ترقی نے انسانی زندگی سے بہت کچھ چھین لیا ہے دوسری جانب معنوی لحاظ سے ہمعصر انسان اخلاقی اقدار کی بربادی سے دوچار ہے لیکن اس کے برعکس جس وقت حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کا ظہور ہوگا تو بالکل مختلف حالات ہوں گے انسان کائنات کی تمام خیرات اور برکات سے فوائد حاصل کرے گاعالم طبیعت میں جو طاقتیں(انرجی)خیرات موجود ہیں سب انسان کے لئے ہوں گی بغیر اس کے کہ انسانی زندگی کو کسی قسم کا نقصان کا سامناکرنا پڑے اسے جسمانی نقصان بھی نہیں ہوگا مالی نقصان بھی نہ ہوگا اخلاقی اور معنوی نقصانات بھی نہ ہوں گے ایسی حالت ہو گی جو انسان کو ترقی اور کمال کی منزل پر پہنچا دے گی۔
انبیاءآئے ہیں انہوں نے ایسے اسٹیشن اور مرکز کی خبر دی ہے اور اس کی خصوصیات بیان کی ہیں کہ جس سے انسانی زندگی نئے طریقے سے اپنا آغاز کرے گی پس اگر خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدف انسانیت کو اس مرکز تک پہنچانا نہیں تھا جو کہ آخری دین کا تقاضا ہے تو پھر آپ نے کیا کام کیاہے؟
ضروری ہے کہ تربیت کا وہ سلسلہ جاری رہے جسے انسان کے لئے آپ نے مہیا فرمایا ہے نسل در نسل ایک کے بعد دوسرے طبقہ میں تربیت کایہ عمل جاری رہے آپ نے اس دنیا کوچھوڑ جانا تھا”اِنَّکَ مَیِّت وَّاِنَّہُم مَیِّتُو نَ“(سورہ الزمرآیت ۰۳)
”اے پیغمبر! تو نے یقینامرنا ہے اور ان سب نے بھی مرنا ہے“۔
حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کا تقرر
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ اپنا قائمقام ایسے کو بنا جائیں جوپوری دقت اور امانت سے آپ کے قدم بقدم چلے اور جس راستہ کی تعمیر آپ نے شروع کی اسے آگے بڑھائے اور آپ کے طریقہ پر عمل کرے اورو ہ ہستی حضرت علی ابن ابی طالبعلیہ السلام ہیں جنہیں یوم الغدیر( ۸۱ ذوالحجہ ۰۱ ہجری) خلیفہ کے منصب پرمقررفرمایا۔ہماری مراد یہ ہے کہ اگر امت نے اس دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی تنصیب کے اقدام کی حقیقت اور اصلیت کا ادراک کر لیا ہوتا اور اس کے حقیقی مفہوم کو جان لیا ہوتا اور اسے اچھی طرح لے لیا ہوتا اورساری امت نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نشانات پر چلنا شروع کر دیا ہوتا اورنبوی تربیت پر خود کو باقی رکھا ہوتا اورحضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بعد میں آنے والی انسانی نسلوں کو الٰہی تربیت کے سائے تلے ہرقسم کی خرابیوں سے پاک ہو کر چلنے میں امت نے ان کا ساتھ دیا ہوتا تو انسان نے اپنی اس سطح کو پا لیا ہوتا جس تک پہنچنے میں اب تک یہ انسان ناکام رہا ہے اس منزل کو انسان نے بڑی تیزی سے حاصل کر لیا ہوتا انسانی علوم میں ترقی، انسان کی تمام روحانی منازل میںترقی اورلوگوں کے درمیان وحدت معاشرہ میںسلامتی اور امن، ظلم اور جور کا خاتمہ، طبقاتی تفاوت کا خاتمہ ہو چکا ہوتا اورمحبت و ولایت کی فضا سے بہرہ ور ہوتاتوموجودہ بدحالی اور بدامنی سے دوچار نہ ہوتا، اخلاقی بدحالی کایہ انسان شکار نہ ہوتا، مادی نقصانات سے دوچار نہ ہوتاانسانی معاشروں میں ظلم و جَور کے مظاہر موجود نہ ہوتے۔
حضرت علی علیہ السلام کی قیادت بارے جناب سیدہ زہراءسلام اللہ علیہا کافرمانا
جیسا کہ حضرت سیدہ فاطمة الزہراءسلام اللہ علیہا جو اپنے زمانہ کے لوگوں میں سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی منزلت اور ان کے مقام سے آگاہ تھیں فرمایاکہ: اگر لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کی ہوتی تو وہ انہیں اس راستہ پر(ترقی اور کمال کے راستہ پر) لے کر چلتے اور انہیں اس کے انجام تک پہنچادیتے۔
آپ نے فرمایا : ان پر وائے ہو، پھٹکار ہو کہ انہوں نے رسالت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا نبوت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا یعنی کس طرح اہل البیت علیہم السلام سے خود کو الگ کر کے نبوت اور رسالت کے مضبوط ستونوں کو کمزور کر دیا۔حضرت علی علیہ السلام جو دنیا اور دین کے معاملات سے بہترآگاہ تھے ان سے خود کو الگ کر لیا، آگاہ ہوجاو کہ یہی تو کھلا اور واضح نقصان ہے ابوالحسن علیہ السلام کو انہوں نے ناپسند کیا خدا کی قسم!ان میں کچھ بھی ایسا نہ تھا جو ناپسندیدگی کا سبب ہو یہ فقط ان کی تلوارکی کاٹ سے نفرت کا اظہار تھا، ان کی شدت سے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر جو ان کا غضب تھااس کے وہ مخالف تھے۔
کتنا ہی اچھاہوتااگر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوامانتیں اور ذمہ داریاں سونپیں تھیں وہ لوگ اسے لے لیتے اوراس پر پردہ نہ ڈالتے توحضرت علی علیہ السلام انہیں بڑے آرام سے منزل کی طرف امت کو لے کر چلتے اور امت کوکسی انحراف میں نہ پڑنے دیتے انہیںکوئی تکلیف نہ ہوتی انہیں خوشگوار گھاٹی پر پہنچا دیتے جہاں سے وہ سیراب ہو کر نکلتے،کوئی بھی بھوکا نہ رہتا، وہ سب اس طرح سیراب ہوتے جیسا کہ ہونا چاہئے ، انہیں کہیں بھی پریشانی نہ ہوتی، اپنے واضح اورروشن عمل کے ذریعہ بھوکے کی بھوک مٹا دیتے آسمان سے ان کے لئے برکات اترتیں اللہ تعالیٰ انہیںان کی اس غفلت اور کوتاہی پر اور اپنے مولا کی نافرمانی پر عنقریب گرفت میں لے گا بوجہ اس کے جووہ کر رہے ہیں۔یعنی وہ اپنے کئے کا نتیجہ بھگتیں گے۔
(بلاغات النساءص ۶۲،۷۴ ۔ کلام فاطمہ علیہ السلام، البحار ج ۳۴۸۵۱ ۔ ۹۵۱ ۔ ۱۶۱)
لیکن انسان بہت زیادہ غلطیوں میں جا پڑتا ہے کتنی بڑی غلطیاں اس انسان نے کی ہیں جس کا تاریخ نے مشاہدہ کیا ہے انسانیت کو بڑے بڑے مصائب جھیلنے پڑے ہیں، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمیں انسان الٰہی سفر، حادثات، سانحات اوراہم واقعات سے بھرا پڑا ہے اس کا یہ سفر انتہائی گہرے فلسفے پر مشتمل ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فلسفہ کا مزید گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اسے اچھی طرح پرکھا جائے، اس کی جانچ پڑتال کی جائے، ہمعصر انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی تحریک کو جاری رکھے اسی راستہ پر چلے انسانی تنظیمات اور معاشرے جس قدر عدالت اور معنویات سے آراستہ و پیراستہ ہوں گے اور انسان سب اخلاقی رذائل،انانیت، خودپسندی،بری عادات اور شہوانی احساسات سے پاک ہو گاتو پھر انسانیت کا کاروان روشن مستقبل کے قریب تر ہو جائے گااس وقت انسانیت انحرافات کی قربانی بنی ہوئی ہے اس لمبی تاریخ میں ایسے راستہ پر چلی ہے جس نے اس انسانیت کو طے شدہ ہدف اورمقصد سے اسے دور کر دیا ہے۔(خطاب ۸۱ ذوالحجہ ۱۲۴۱ ھ ق)
اوّل زمان اور آخر زمان کی دعوت
سورة الانبیاءآیت ۵۰۱ تا ۷۰۱ میں ہے ”ہم نے زبور میں ذکر کے بعد یہ بات درج کر دی ہے کہ بتحقیق زمین کے وارث میرے صالح بندگان ہوں گے یہ عبادت گزار قوم کے لئے خیر ہے جو اس کی طرف بھیجا جا رہا ہے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے“۔
یہاں ایک قدر مشترک ہے کہ حضرت نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ جنہیں عالمین کے لئے اول زمان میں رسول بنا کر بھیجا گیا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کہ جن کے بارے ہمیں آخری زمانہ کے لئے وعدہ دیاگیاہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:ہم سب ایک ہیں اور ایک نور سے ہیں اور ہماری روح اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ، ہمارا پہلا محمد ہے ،ہمارا درمیانی محمد اور ہمارا آخری بھی محمد ہے“۔(بحارالانوار ج ۶۲ ص ۶۱ ۔الزام الناصب ج ۱ ص ۴۴)
پس پہلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو کہ نبی اعظم ہیں اور آخری محمد وہ مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں۔اس آیت کے بہت سارے معانی ہیں ”اَنَّ ال اَر ضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُو نَ“ (سورة الانبیاءآیہ ۵۰۱) یہ آیت آخری زمانہ کی جانب اشارہ ہے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد مصطفی تک ساری زمین کے صالحین وارث نہیں بنے اور اب تک بھی ایسا نہیں ہواکہ صالحین ساری زمین کے وارث ہوں، حضرت قائم علیہ السلام کے زمانہ میں ایسا ہوگاجیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اللہ کا وعدہ ہے ان کے لئے جو تم سے ایمان لے آئے ہیں اورنیک اعمال بجالائے کہ انہیں زمین کی خلافت اور اقتدار ضرور دیا جائے گا جیسا کہ ان سے پہلے والوں کو اقتدار دیا گیا اور ان کے لئے اس دین کو ضرور قدرت مند بنا دیا جائے گا جس دین کو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایاہے“(سورہ النورآیات ۵۵)
پہلی آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کا جو یہ ارشاد ہے کہ ”وَمَا اَر سَل نَاکَ اِلَّا رَح مَةً لِّل عَالَمِی نَ“ کہ آپ عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں(سورة الانبیاءآیہ ۷۰۱)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سارے انسانوں کے لئے رحمت ہے ، اسلام رحمت اس لحاظ سے ہے کہ وہ ایک نظری اور فکری دین ہے، بلکہ اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ نظام عمل ہے اور اسے نافذ کیا جا سکتا ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کے سارے احکام کا اس طرح نفاذ ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ساری زمین پر ہوگا تو اس وقت یہ دین، یہ نظام پورے عالمین کے واسطے رحمت ہوگا۔
سورہ الانفال آیت ۴۲ میں ہے ”اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو، اللہ اور اس کے رسول کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسے امر کی دعوت دیں جو تمہیں زندہ کرتا ہے اور یہ بات تم سب جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور یہ کہ اس انسان کو اللہ کے پاس ہی محشورہوناہے“۔جس وقت اللہ تعالیٰ کے احکام کو قبول کر لیا جائے گا اور ان پر عمل کیا جائے گا تو ان کا اثر رحمت کی شکل میں ہوگا،فرد اوراجتماع کی حیات کی صورت میں حاصل ہوگااس تناظر میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام تشریعاتی ہیں تکلیفی نہیں ہیں کیونکہ تکلیف میں ایک طرف کی مشقت ہوتی ہے جب تشریف میں ایک قسم کی رحمت پوشیدہ ہے اللہ تعالیٰ کے احکام رحمت ہیں، امت اورفرد کی زندگی میں دنیاوی اور اخروی فائدہ ہے۔(سورہ ص ۸۸)
یہ بات معلوم ہے کہ ابھی تک سارے احکام کو نافذ نہیں کیا جا سکااور وہ بھی پوری زمین پرتونفاذ بالکل نہیں ہوسکتا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت نے ابھی تک عالمین کے لئے رحمت کا عنوان پوری طرح حاصل نہیں کیا۔
جی ہاں! مہدی منتظر علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت عدل کے قیام کے بعد ایسا ہوگا کہ جس حکومت میں ظلم نہ ہوگا کوئی کسی کا حق نہ مارے گا اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوگی، امن ہوگا، محبت کاراج ہوگا، پھر رحمت ہی رحمت ہوگی، سکون ہی سکون ہوگا، خوشحالی کا دور ہوگا، اس وقت حضور پاک کی رسالت عالمین کے لئے رحمت بن کر چمکے گی جیسا کہ احادیث میں بیان ہوچکا ہے۔
اس لحاظ سے آیت کے شروع اور آیت کے آخرمیں بہت ہی مضبوط ربط اور تعلق ہے اور یہ اول زمان اورآخر زمان کا رابطہ ہے۔
دوسرا بیان پہلے اور آخری زمانہ کے درمیان ربط و تعلق
اگر اس سے آپ قانع نہیں تو مزید سنیں۔
سورة الفرقان آیت ۱ میں ہے”اللہ کی ذات بابرکت ہے جس نے فرقان اپنے عبدپر نازل فرما دیا ہے تاکہ آپ عالمین کے لئے نذیریعنی ڈرانے والے ہوں“۔
سورہ سباءآیت ۸۲،۰۳ میں ہے کہ”اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر، لیکن انسانوں کی اکثریت نہیں جانتی کہ وہ ان سب کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیںوہ تو یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو یہ وعدہ کب پوراہوگا؟اگر تم سچ کہتے ہو کہ وہ سب کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں پس تم اے رسول! ان سے کہہ دو کہ: تمہارے لئے ایک دن کا وعدہ ہے کہ اس دن سے ایک گھڑی بھی آگے پیچھے نہیں ہوگی“۔
یعنی جب وعدہ والا دن آ گیا تو پھر یہ سب کچھ ہو جائے گا اس دن سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی کو نوحعلیہ السلام کے سارے شرائع(تمام قوانین) عطا کئے، اسی طرح ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ جن شرائع کو بھیجا گیا وہ سب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کی گئیں اللہ تعالیٰ نے انہیں سب کے لئے مبعوث کیا، سفید کےلئے،کالے کےلئے، جنات کے لئے سارے انسانوں کے لئے۔(المحاسن ج ۱ ص ۸۴۴)
اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ذکر ”للعالمین“کا عنوان دیا ہے تو اس سے مراد یا تو قرآن ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ہے جو کہ اسلام کی شکل میں سامنے آئی یا دونوں مراد ہیں اگر ایسا ہے تو وہ سارے عوالم کیا ہیں جو قرآن کو اپنے لئے ذکر شمار کرتے ہیں۔اول زمان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر اس زمانے تک جس میں اس وقت ہم موجود ہیں ایسے لوگ موجود ہیں اور پہلے بھی اس زمین میں موجود رہے ہیں جنہوں نے نہ قرآن سنا نہ اسلام کانام سنا اور نہ ہی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے سناتو پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح ان سب کے نذیر(ڈرانے والے)ہوں گے اور کس طرح ان سب کے لئے بشیر(بشارت دینے والے)ٹھہرے، اسی طرح یہ آیت ہے کہ ”( وَمَا اَرسَلنَاکَ اِلَّا کَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیراً وَّنَذِیرا ) “کب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارے انسانوں کو خدا کی اطاعت کرنے کے نتیجے میںبشارت دی ہے اور کب آپ کی دعوت سارے عالم میں پہنچی ہے بہت ہی تھوڑے تھے جنہیں آپ نے ڈرایا اور بہت ہی تھوڑے تھے جنہوں نے آپ کی اورقرآن اور اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔
اس بیان سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اگر آپ کی دعوت سارے انسانوں تک نہیں پہنچی یا عالمین کے لئے آپ کی دعوت نہیں گئی تو پھرکیا یہ آیات بے معنی نہ ہوں گی؟!
نہیں ایسا نہیں ہے! آیات کے ذیل میں اس بات کا جواب دے دیا گیاہے۔
”( ولتعلمن نباه بعدحین ) “اور یقینی طور پر تم اس خبر کو کچھ وقت گزرنے کے بعد ضروربالضرورجان لوگے“۔
”( وَیَقُولُونَ مَتٰی هَذَالوَعدُ اِن کُنتُم صَادِقِینَ ) (سورہ یونس آیت ۸۴)( قُل لَّکُم مِیعَادُ یَومٍ لَّا تَستَاخِرُونَ عَنهُ سَاعَةً وَّلَا تَستَقدِمُونَ ) (سورہ سبا آیہ ۰۳) اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو، تو ان سے کہہ دو کہ: وعدہ کادن مقرر ہے جب اس کا وقت آن پہنچے گا تو پھر نہ تم اس سے آگے بڑھ سکو گے اور نہ ہی اس سے پیچھے رہ سکو گے۔
وعدہ پورا ہونے والا ہے،وعدہ سچا ہے، اس نے ضرور پورا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور وہ دن جو آنے والا ہے اس وقت ہوگاجب اللہ تعالیٰ اپنے ولی کو خروج کا اذن عطاءکرے گا اور وہ آ کر سارے انسانوں کو ڈرائیں گے اور انہوں نے ہی سارے انسانوں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاپیغام دیناہے، دعوت کو پہنچانا ہے، بشارت دینی ہے، وہ دن آنے والا ہے ،وعدہ سچ ہونے والاہے۔
”( هُوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدٰی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَو کَرِه المُشرِکُو نَ ) “(التوبہ ۲۳،۳۳ ۔ الفتح ۸۲ الصٰف ۹)
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق کے ساتھ بھیج دیاہے دین حق دے کر تاکہ وہ اس دین کو ظاہرکریں اور غلبہ دیں اگرچہ مشرکین اس کو ناپسند کریں، باقی سارے نظاموں پر اس دین کو غلبہ دینا ہے دیں کے غلبہ کے حوالے سے چند روایات ملاحظہ ہوں کہ ان سے قاری کو مزید اطمینان حاصل ہوگا۔
۱ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی سیرت کیا ہوگی؟
جواب دیا گیا کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا جو کچھ آپ سے پہلے موجود ہوگا اسے ختم کر دیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا کہ کہ آپ نے جاہلیت کے دور کی ہرچیزکومنہدم کر کے نئی تعمیر کی اسی طرح حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد سے اسلام نئے سرے سے شروع ہوگا(غیبة النعمانی ص ۱۲۱ سیرة القائم)
۲ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام :جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو سارے انسانوں کو نئے امر کی دعوت دیں گے جس طرح حضرت رسول اکرم نے سارے لوگوں کو دعوت دی تھی ،اسلام شروع ہوا یعنی جس وقت اسلام کی دعوت دی گئی تو لوگ اسلام کو بھول گئے تھے حضرت رسول اللہ نے اس عالم میں اسلام کی طرف لوگوں کو بلایا، ایک دفعہ پھر اسلام غریب ہو جائے گا جس طرح اس کاآغاز ہوا تھا تو حضرت امام مہدی علیہ السلام پھر سے اس کی طرف دعوت دیں گے پس خوشخبری غربا کے لئے ہے۔(غیبة نعمانی ص ۳۷۱ ،الاسلام بداءغریبا)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں:امام زمانہ(عج) کے متعلق حدیث ہے کہ آپ اپنے خطاب میں فرمائیں گے....جو شخص بھی نبیوں کو درمیان میں لا کر مجھ سے بحث کرنا چاہتا ہے تو میں سب نبیوں کے زیادہ قریب ہوں اور جو شخص حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درمیان میں لا کر مجھ سے بحث کرنا چاہتا ہے تو میں ان کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان اپنی محکم کتاب میں اس طرح موجود نہیں ہے”( اِنَّ اللّٰهَ اصطَفیٰ آدَمَ وَنُو حاً وَ آلَاِبرَاهِیمَ وَ آلَ عِمرَانَ عَلَی العَالَمِینَ ذُرِّیَّةً بَعضُهَا مِن بَعضٍ وَاللّٰهُ سَمِیع عَلِیم ) “۔(آل عمران ۳۳،۴۳)
”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام، نوحعلیہ السلام، آل ابراہیم علیہ السلام اور آل عمران کو عالمین پر چن لیا ہے بعض جو ہیں وہ بعض کی ذریت سے ہیں اللہ سمیع ہے اور علیم ہے“۔
میں حضرت آدم علیہ السلام کا بقیہ ہوں، میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذخیرہ ہوں، میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتخاب ہوں، میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چنا ہوا ہوں، سب پر سلام و صلوات ہو، آگاہ رہو، متوجہ ہوجاو، جو شخص کتاب خدا کو درمیان میں لا کر مجھ سے بحث کرنا چاہتا ہے تو سارے لوگوں سے کتاب خدا سے میرا زیادہ تعلق ہے اور جو شخص سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درمیان لا کر مجھ سے بحث کرنا چاہتا ہے تو سارے لوگوں سے زیادہ سنت رسول سے میرا تعلق ہے“۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۹۳۲)
یہ ہے وہ رابطہ اور تعلق جو اول زمان اور آخر زمان کے درمیان موجود ہے پس جس کام کا آغاز حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی کی تکمیل حضرت امام مہدی علیہ السلام کریں گے،اسے پورا آپ علیہ السلامآکرپورا کریں گے، کام وہی ہے لیکن اسے آخر تک حضرت امام مہدی علیہ السلام نے پہنچانا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاتم، خاتم الخلفاءکے بارے خود ہی فرمایا”وہ میرے نشان پر چلے گا اور وہ غلطی نہیں کرے گا اور اس سے چوک نہ ہو گی“۔(الفتوحات المکیہ ج ۶ ص ۱۷،۱۸ ، باب ۶۶۳)
سوال:” وَمَا اَر سَل نَاکَ اِلَّا رَح مَةً لِّل عٰلَمِی نَ“میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات قرار دی جائے اور اس رحمت سے مراد آپ کی رسالت کو نہ لیا جائے تو پھر اوپر اٹھائے سوال کا جواب کیاہے؟
جواب: حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کو دوسری آیات نے بھی بیان کیا ہے۔”اللہ کی جانب سے رحمت کی وجہ سے ہی تم ان کے لئے نرم ہوئے اگر تم سخت مزاج ہوتے ،تندخُو ہوتے تو وہ سب تیرے گردا گرد سے دور ہو جاتے تیرے پاس نہ آتے پس تم انہیں معاف کر دو ان کے لئے استغفار کرو اور معاملات میں ان سے مشورہ کر لیا کرو اور جب تم فیصلہ کر لو تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کام کو کر گزرو کیونکہ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو دوست رکھتاہے“۔(سورہ آل عمران آیت ۹۵۱)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس آیا ہے جو خود تمہارے میں سے ہے جس تکلیف میں تم ہوتے ہو تو وہ اس کے لئے گراں گزرتی ہے وہ تمہارے اوپر حریص ہے کہ تم مومنین ہو، انہیں مومنین کا بہت خیال رہتا ہے وہ روف ہے رحیم ہے ،مہربان ہے“۔(سورہ التوبہ آیت ۸۲۱)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اے نبی! تم کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ان کا انجام بُرا ہے“۔(سورہ التحریم آیت ۹)
پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحیم ہیں ان مومنوں کے واسطے جو آپ کے گرد موجود ہیں لیکن آپ کافروں کے لئے سخت ہیں، شدت اور غلبہ جو لفظ استعمال ہوئے ہیں ان سے مراد انتقام نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں ظلم اور سرکشی کرنے سے روکو انہیں دین کی طرف واپس لے آو اور اسلام کی رحمت میں انہیں داخل کرو پس حضرت نبی اکرم کی سختی اور درشتی رحمت ہے دشمنوں کے حق میں، اگرچہ اس باب سے ہی ہو کہ سونا عبادت ہے یا ظالم کو قتل کرنا عبادت ہے، کیونکہ جب انسان سو جاتا ہے یا مر جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے بچ جاتا ہے یا اس سے کم کر لو کہ اس کا ظلم کرنا کم ہوجاتا ہے اوراس طرح اس کا عذاب کم ہوجاتا ہے اور مظلوم پر اس کی زیادتی کم ہو جاتی ہے۔پس دشمنوں کو جب ظلم سے روکا جائے گا اور اس سے سختی کی جائے گی تو گویا انہیں ہلاکت سے بچایا جا رہا ہوگا تو یہ بات ان دشمنوں کے لئے رحمت ہو گی۔ سورہ فتح کی آیت ۸۲،۹۲ کا ترجمہ ملاحظہ ہو، یہ آیات اس مطلب کو بڑا ہی واضح بیان کر رہی ہیں جسے ہم بیان کرنے میں مصروف ہیں۔
مہدوی رحمت کے نظارے
جب ہماری گفتگو رحمت پر آٹھہری ہے تو مہدوی رحمت کے چند نظارے ملاحظہ ہوں۔
روایات گذر چکی ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی رحمت پر دلیل ہیں، جیسے آپ رحمت عام کریں گے، زمین کی ساری برکات باہر آجائیں گی، اگر ہم میں سے کوئی ایک زمین پر موجود نہ رہے تو زمین برباد ہو جائے۔(اہل البیت علیہ السلام لتوفیق ص ۳۷)
رحمت کے چند نمونے:
۱ ۔ عدالت عام ہونا ظلم ختم ہونا رحمت ہے۔
۲ ۔ فقر کا خاتمہ گداگری کا خاتمہ رحمت ہے۔
۳ ۔ غیر خدا کی غلامی کا خاتمہ رحمت ہے۔
۴ ۔ اجتماعی اور انسانی ارتقاءاور تکامل حاصل ہونا رحمت ہے۔
۵ ۔ معنوی اور مادی محرومیوں کا خاتمہ رحمت ہے۔
۶ ۔ پوری امت کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگا دینا، احکام اسلام کی پابندی اورنافرمانی خدا کا خاتمہ، رحمت ہے۔
۷ ۔ کمزور کی مدد کرنا اور اس کا حق اسے دلانا رحمت ہے۔
۸ ۔ بھیڑ اور بھیڑیے کا ایک گھاٹ پر پانی پینا، شیر اوربکری کا ایک ریوڑ میں چرنا، بلی اور چوہے کا اکٹھا رہنا ، رحمت ہے۔
اس کتاب میں جو کچھ بیان ہو رہا ہے وہ اس اجمال کی تفصیل ہے۔
ابن عربی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی نو خصوصیات کو ذکر کیا ہے، ان خصوصیات میں ایک رحمت ہے، یہ مہدی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لئے غضبناک ہوں گے اور غضب کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی معین کردہ سزاوں سے تجاوز نہ فرمائیں گے اس کے بعد اس نے لمبی کلام کی ہے جو اس کے مذہب کے حوالے سے بہت ہی لطیف اور عمدہ ہے۔(فتوحات المکیہ ج ۶ ص ۴۷ باب ۶۶۳)
حدیث النبوی ہے:”یقضواثری ولایخطی “(الفتوحات المکیہ ج ۶ ص ۱۷ ص ۱۸ باب ۶۶۳)
اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام رحمت ہیں آپ علیہ السلام کی رحمت نبی اکرم کی رحمت جیسی ہے۔
”(تو اے رسول یہ بھی)خدا کی ایک مہربانی ہے کہ تم(سا) نرم دل (سردار) ان کو ملا اور تم اگر بدمزاج اور سخت دل ہوتے تب تو یہ لوگ(خدا جانے کب کے) تمہارے گرد سے تتر بتر ہو گئے ہوتے پس (اب بھی) تم ان سے درگزر کرو اور ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگو اور(سابق دستورظاہراً)ان سے کام کاج میں مستورہ کر لیا کرو(مگر) اس پر بھی جب کسی کام کو ٹھان لو تو خدا ہی پر بھروسا رکھو(کیونکہ)جو لوگ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں خدا ان کو ضرور دوست رکھتاہے“۔(سورہ آل عمران آیت ۹۵۱ ، پارہ ۳)
”اور ہم نے تو نصیحت(توریت)کے بعد یقینا زبُور میں لکھ ہی دیا تھا کہ روئے زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے اس میں شک نہیں کہ اس میں عبادت کرنے والوں کے لئے (احکام خداکی)تبلیغ ہے اور(اے رسول)ہم نے تو تم کو سارے جہان کے لوگوں کے حق میں ازسرتاپارحمت بنا کر بھیجا“(سورہ الانبیاءآیت ۵۰۱ تا ۷۰۱ ، پارہ ۷۱)
(جو کچھ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہی کچھ آپ کے آخری خلیفہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہے کیونکہ حضورپاک نے فرمایا: کہ وہ میرے نشان پر چلے گا اس سے ذرا چُوک نہ ہو گی، غلطی نہ ہو گی، وہی رحمت جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے آپ بھی ہیں جس طرح آپ رحمت تھے اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام رحمت ہیں جو احکام حضورپاک کے لئے ہیں وہی امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہیں، امام مہدی علیہ السلام صاحب شریعت نہیں بلکہ شریعت محمدیہ اور اسلام کا احیاءکرنے والے ہیں، آپ اپنے جد امجد کی قائمقامی میں ان کے کام کو پورا کرنے والے ہیں اور آپ کی رسالت کی آفاقیت کو عملی شکل آپ نے دینا ہے اور جس نظام کو سب دوسرے نظاموں پر غلبہ ملنا ہے وہ نظام اسلام ہے، دینِ غالب اسلام ہے، اس کی عملی شکل حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں ہونا ہے، جب حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے جیسا کہ روایات میں ہے امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے پہلے اسلام کا نام توہوگا اسلام کا عنوان بھی موجودہوگا لیکن اسلام کی حقیقت مٹ چکی ہو گی آپ علیہ السلام اسے دوبارہ بحال کریں گے لوگ سمجھیں گے کہ کوئی نئی شریعت لائے ہیں لیکن آپ علیہ السلام واضح کر دیں گے کہ یہ وہی اسلام ہے جسے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہنچایا ہے اب میں اسے اس کی اصلی شکل میں بیان کررہا ہوں اور دنیا کے کونے کونے تک اس پیغام کو پہنچا کر رسول پاک کی رسالت کے عالمی اور آفاقی ہونے کو بھی ثابت کر دیں گے ]خداوند وہ ایام جلد لائے اور ہمیں ان ایام کو قریب تر کرنے والوں سے شمار کرے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ایام لانے میں کام کرنے والے بنیں اور تمہیدی عمل جو آپ کی سلطنت کے قیام کے لئے ضروری ہے اس میں ہمارا بھی کردار ہو
۔آمین(مترجم)
پانچویں فصل
ابتدائیہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ہم انبیاءکی جو جماعت ہے ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں کی عقل و فہم کے مطابق گفتگو کریں۔(المحاسن للبرقی ج ۱ ص ۵۹۱ حدیث ۷۱)
یہ تمام عقلاءکا طریقہ ہے کیونکہ وہ اپنے مخاطب، سامع، سننے والے کے لئے اتنی گفتگو کرتے ہیں جسے وہ سمجھ سکتا ہے وگرنہ ان کی گفتگو لغو اور بے فائدہ ہو گی اللہ تعالیٰ کے انبیاءعلیہ السلام مخلوق میں سردار ہیں اور ان میں سب سے زیادہ عقلمند ہیں بلکہ اس کے بغیر ہو تو پھر ہدف منتفی ہو جاتا ہے، اندازکا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، ہدف یہ ہے کہ انبیاءعلیہ السلام، آئمہ طاہرین علیہم السلام یا علماءکی طرف سے جو حکم دیا جاتا ہے اس کی پابندی کی جائے اور جو وعظ اور نصیحت کی جاتی ہے اس سے اثر لیا جائے یہ اسی صورت میں ہو گا جب انسانوں کی سمجھ اور عقلی حیثیت کو سامنے رکھ کر ان سے بات کی جائے۔
انبیاءکی سیرت اور ان کے بعد آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت اسی طریقہ پر قائم رہی جیسا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براق(وہ سواری جس پر رسول پاک بیٹھ کر آسمانوں کی سیر کے لئے لے جائے گئے مکہ سے بیت المقدس(مسجداقصیٰ) اور پھر وہاں سے مختلف کرات میں تشریف لے گئے، اس سفر میں مسجد کوفہ میں بھی اترے)اس کا منہ آدمی کے منہ جیسا ہے اس کے گھر ھیل( ) کے گھر ہیں، اس کی دم گائے جیسی ہے، گدے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا....اس کے اوپر دوپر لگے ہیں....(مستدرک سفینة البحار ج ۱ ص ۲۳۳)
جب کہ براق اس طرح نہیں تھا اور نہ ہی وہ گدھا تھا ممکن ہے اس کے لئے دو پر ہوں، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانہ میں اسی انداز سے براق کو سمجھانے کی کوشش کی ہے مثالیں دے کر، کیونکہ اس وقت کے انسان اس سے زیادہ سمجھ نہیں سکتے تھے، ان کے پاس سواری کے جو عادی ذرائع تھے وہ گدھا اور خچر ہی تھے جب کہ رات کے وقت آپ کا سفرِ معراج مکہ سے یا مدینہ سے بیت المقدس تک اور پھر بیت المقدس سے سے آسمانوں کی بلندیوں پرجاتاہے تو اس کے لئے ہوائی سروس کی ضرورت ہے یہ تعبیر اس دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے بیان ہوئی وگر نہ آج ہمارے زمانہ میں براق(برق رفتارسواری)جدید ترین فضائی اڑان کا وسیلہ ہے جس کا انسان تصور کر سکتا ہے وہ ایسی فضائی سواری تھی جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے آپ کو لیا ہے اورآپ کو بیت المقدس پہنچایا پھروہاں سے سات آسمانوں کی طرف لے جایاگیا ایک ایک آسمان میں ٹھہرایا بھی جاتا ہے، ہر آسمان میں باجماعت نماز کا انعقاد ہوتاہے مزیدبرآں کہ جنت اور جہنم کا معاملہ اس سفر میں شامل ہے اور یہ سارا سفر چندگھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے کیونکہ رات کا ایک حصہ اس سفر میں صرف ہوتاہے۔
اصحاب حضرت امام قائم علیہ السلام کی خصوصیات
اس طرح کی بات اصحاب حضرت قائم علیہ السلام کے لئے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے احادیث بیان ہوئی ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: جب حضر ت امام قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو زمین کے مختلف خطوں میں(براعظموں)ایک آدمی کو بھیجیں گے اور اس سے فرمائیں گے کہ تیرے کاموں کی تفصیل تیرے ہاتھ میں ہے۔(الغیبة ۲۷۱ ، باب ماجاءعندخروج القائم علیہ السلام)
اس وقت تک اسے موبائیل ،ٹیلی فون سے تعبیر کیا جا رہا ہے دستی کمپیوٹر مراد لیا جاسکتا ہے یا پھر کوئی اور جدید ترین وسیلہ ہوگا۔
حضرات آئمہ اہل البیت علیہم السلام سے حدیث بیان ہوئی ہے کہ حضرت امام قائم علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مومن جو مشرق میں ہوگا وہ اپنے بھائی کو جو مغرب میں ہو گا دیکھنے کا ارادہ کرے گا تو وہ دیکھ لے گا اسی طرح مغرب میں موجود بھائی اپنے بھائی کو مشرق میں دیکھ لے گا۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۱۹۳ حدیث ۳۱۲)
اس بات کو اس وقت ٹیلی ویژن،کمپیوٹر، الیکٹرانک میڈیا سے تعبیر کیا جارہا ہے جب کہ اس سے پہلے اس کا کوئی معین معنی نہ تھا۔
خلاصہ:۔ اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ علیہم السلام انسانوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو فرماتے تھے جس کووہ سمجھ لیں یا ایسے اوصاف بیان کرتے تھے جو ان کے زمانہ سے مناسبت رکھتے تھے یا جس جگہ اور ماحول میں آپ موجود تھے اس کو سامنے رکھ کر بات کرتے اور بعض امور کی جتنی مثالیں جو اس علاقہ سے مخصوص تھیں وہ پیش کر کے لوگوں کو بات سمجھاتے تھے۔
اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مطالب بیان کرتے جو اسلوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا اور جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں تھا ان دونوں میں فرق دیکھا جا سکتا ہے جس طرح زہد کا وصف بیان کرنے میں فرق پاتے ہیں جو مفہوم اور معنی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانہ میں ہے اور جو حضرت امام جعفرصاد ق علیہ السلام کے زمانہ میں ہے دونوں اسلوب میں فرق ہے، بات ایک ہے لیکن اسے نبی اکرم کے زمانہ میں اور طریقہ سے سمجھایا جا رہا ہے اورحضرت امام جعفرصادقعلیہ السلام کے زمانہ میں دوسرے طریقہ سے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے دور میں زہد کو ایک انداز سے سمجھایا جا رہا ہے جبکہ حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام کے زمانہ میں دوسرے انداز سے سمجھایا جا رہاہے۔(دعائم الاسلام ج ۲ ص ۴۵۱ حدیث ۴۴۵)
بعض اوقات ایک قوم اور دوسری قوم کے لئے بھی مطلب کو بیان کرنافرق کرتا ہے جیسا کہ اس بات کو حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے۔
بتحقیق میرے مومن بندگان میں سے کچھ ایسے ہیں کہ جن کی ہدایت نہیں ہو سکتی مگر مال اور دولت سے اگر مال اس سے لے کر دوسرے کو دے دوں تو وہ ہلاک ہو جائے گا اور میرے مومن بندگان سے کچھ ایسے ہیں کہ جن کی بہتری نہیں ہے مگر فقر اور فاقہ میں، اگر یہ ان سے لے لوں تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔(الکافی ج ۲ ص ۳۵۳ حدیث ۸)
حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے کچھ بندوں کا فائدہ نہیں ہے مگر بیماری میں اگر میں انہیں صحت دے دوں تو وہ اس وجہ سے فاسد ہو جائیں اور کچھ میرے بندے ایسے ہیں جن کی اصلاح اور بہتری ان کی صحت میں ہے اگر ان سے صحت لے لوں تو یہ بات انہیں فاسدکردے گی۔(جامع احادیث الشیعہ ج ۱ ص ۰۹۳ حدیث ۳۱۸)
پس جو شخص بیماری کی حالت میں ہے تو اس کے ساتھ ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے جو اس کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے اورجو فقیر اور غریب ہے اس سے ایسا انداز اپنایا جاتا ہے جو اس سے مناسبت رکھتا ہے اورجو مالدار ہے تو اس کے ساتھ ویسا انداز اپنایا جاتا ہے اور جو مریض رہتا ہے تو اس سے بیماروں سے جو بات مناسب ہوتی ہے وہ کی جاتی ہے اور صحت مند سے ایسا انداز ہوتا ہے جو اس سے مناسبت رکھتا ہے اس کے برعکس کرنے میں نقصان ہوگا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے جس میں آیا ہے ”پھر امام مہدی علیہ السلام ایک گھوڑے پر سوار ہوں گے جو ابلق( ) ہوگا اس کی آنکھوں کے درمیان شمراخ( )ہوگا جس سے روشنی چھوٹے گی کوئی گھر نہ بچے گا مگر یہ کہ اس گھرمیں اس شمراخ سے نکلی ہوئی روشنی آئے گی یہ ان لوگوں کے لئے آیت اور نشانی ہو گی....
اس سے پتہ چلتا ہے کہ براق کا معنی سمجھانے کے لئے جو انداز نبی اکرم نے اختیار کیا آپ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے خطاب کی جگہ کو بیان کرنے کے لئے دوسرا انداز اپنایا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ اشمراخ وہی براق ہو یا کوئی اور ترقی یافتہ فضائی وسیلہ ہو۔(دلائل الامامة ص ۷۵۴)
(الشمراخ: اس سے مراد گھوڑا ہے یا گھوڑے کی پیشانی کی سفیدی مراد ہے یا پہاڑ کے اوپر نکلی ہوئی چوٹی مراد ہے یا بڑا پہاڑ اور مضبوط قلعہ مراد ہے جس کی پناہ لی جاتی ہو۔(کتاب العین ج ۴ ص ۵۲۳ الضحاح)
دعوت دینے کا قرآنی اسلوب
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی دعوت کے اسلوب کا بیان شروع کرنے سے پہلے قرآن مجید کے اسلوب دعوت کو بیان کرتے ہیں۔
قرآن الکریم کا اسلوب انبیاءکا اسلوب، آئمہ طاہرین علیہم السلام کا اسلوب جو رہا ہے سب کو بیان کریں گے پہلے قرآنی اسلوب کو بیان کریں گے اور اس کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اسلوب کو بیان کریں گے اور دیکھیں کہ دونوں میں فرق ہے قرآنی اسلوب جاننے کے لئے ذیل میں آیات ملاحظہ ہوں۔
”اور(وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے(جو تمہارے بزرگ تھے) عہدوپیمان لیا تھا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور قرابتداروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اچھے سلوک کرنا اور لوگوں کے ساتھ اچھی طرح (نرمی) سے باتیں کرنا اور برابر نماز پڑھنا اور زکوٰة دینا پھر تم میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا (سب کے سب)پھر گئے اور تم لوگ ہو ہی اقرار سے منہ پھیرنے والے“۔
(سورہ بقرہ پارہ، آیت ۳۸ ،پارہ ۲)
”(اے رسول)تم درگذر کرنا اختیار کرو اور اچھے کام کا حکم دو اور جاہلوں کی طرف سے منہ پھیر لو “(سورہ اعراف آیت ۹۹۱ ۔پارہ ۹)
”اور(یہ)وہ لوگ ہیں کہ جن (تعلقات)کے قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا انہیں قائم رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور (قیامت کے دن) بری طرح حساب لیے جانے سے خوف کھاتے ہیں“۔(سورہ الرعد آیت ۲۲ ۔ پارہ ۳۱)
”اے ایماندارو(دیکھو) نہ خدا کی نشانیوں کی بے توقیری کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کی اور نہ پٹے والے جانوروں کی(جونذر خدا کے لیے نشان)دے کر منیٰ میں لے جاتے ہیں اور نہ خانہ کعبہ(کے طواف وزیارت)کا قصد کرنے والوں کی جو اپنے پروردگار کی خوشنودی اور فضل(وکرم)کے جو یاں ہیں اور جب تم (حرام سے) محل ہو جاو تو شکار کر سکتے ہو اور کسی قبیلہ کی یہ عداوت کہ تمہیں ان لوگوں نے خانہ کعبہ (میں جانے) سے روکا تھا اس جرم میں نہ پھنسوا دے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور(تمہارا تو فرض یہ ہے کہ)نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی میں باہم کسی کی مدد نہ کرو اور خدا سے ڈرتے رہو(کیونکہ)خدا تو یقینا بڑا سخت عذاب والاہے“۔( سورہ المائدہ آیت ۲ ۔پارہ ۶)
”(اے رسول) تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی راہ پر حکمت اور اچھی اچھی نصیحت کے ذریعہ سے بلاو اور بحث و مباحثہ کرو بھی تو اس طریقہ سے جو (لوگوں کے نزدیک) سب سے اچھا ہو اس میں شک نہیں کہ جو لوگ خدا کی راہ سے بھٹک گئے ان کو تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں سے بھی خوب واقف ہے“۔
( سورہ النحل آیت ۵۲۱ ۔ پارہ ۴۱)
”لوگو ہم نے تو تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم ہی نے تمہارے قبیلے اور برادریان بنائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر لے اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تم سب میں بڑا عزت وار وُہی ہے جو بڑا پرہیزگار ہو، بے شک خدا بڑا واقف کار خبردار ہے“۔(سورہ الحجرات آیت ۳۱ ۔پارہ ۶۲)
پہلا موقف :۔ عوام سے خطاب اور ان کے ساتھ رویہ
قرآنی اسلوب، قول حسن ہے اچھی گفتگو، فائدہ کی بات ، خراب ماحول کو خوبصورت کلام سے بہتر بنا دینا بلکہ برائی کو اچھائی سے دور کر دینا منفی بات کو مثبت بات سے جواب دینا، منفی رویہ کو چھوڑ کر مثبت رویہ اختیارکرنا۔
یہ معنی ہے ”یدروون بالحسنة السیة“ وہ تو برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور برائی کو اچھائی اور نیکی کے طریقہ سے روکتے ہیں۔
اس میں برائیوں کا خاتمہ فقط ان پر اعتراض کرنے سے نہیں بلکہ ان کے برے رویوں کو بھلا کر، جس نے برا کیا اس کے ساتھ اچھی گفتگو کر کے اس کے رویہ کوبھلا کر،جس طرح کوئی آپ کو گالی دے تو آپ نہ یہ کہ اسے گالی نہ دیں بلکہ اس پر مہربانی کریں اس کو اپنے گھر پر دعوت دیں اسے مال دیں، کھانا دیں، یہ ہے برائی کا جواب نیکی سے دینا ہے یہ رویہ ان ذوات میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔(العوالم ج ۴۶ ۔ الانوار البھیہ ۸۸)
حضرات اہل البیت علیہم السلام کی جانب سے اور علماءکی جانب سے یہ طریقہ آزمایا ہوا ہے مجرب ہے اوراس کا نتیجہ مفید ہے، نافع ہے، اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ کا اشارہ ہے۔
”(اے رسول) تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی راہ پر حکمت اور اچھی اچھی نصیحت کے ذریعہ سے بلاو اور بحث و مباحثہ کرو بھی تو اس طریقہ سے جو (لوگوں کے نزدیک) سب سے اچھا ہو اس میں شک نہیں کہ جو لوگ خدا کی راہ سے بھٹک گئے ان کو تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں سے بھی خوب واقف ہے“۔
( سورہ النحل آیت ۵۲۱ ۔ پارہ ۴۱)
قرآنی اسلوب ،دعوت
قرآنی اسلوب یہ ہے کہ ہماری دعوت کا طریقہ دانائی، حکمت پر مبنی ہو، اس میں معرفت، عرفان، علم، منطق،سمجھ، شعور ہو، عمدہ کلام ہو، لطیف جملے ہوں، گفتگو میں پیار ہو، صفاءقلب ہو، ہمدردی ہو، طمع لالچ کا عنصر نہ ہو، یہ انداز دلوں کو موہ لیتا ہے، جذب کر لیتا ہے دشمن کو دوست بنا لیتا ہے، خالی دوست نہیں بلکہ گہرا رفیق اور دوست بنا دیتا ہے اور ایسا گہرا تعلق ہوجاتا ہے کہ تھوڑی دیر پہلے تک جس سے گستاخی کر رہا تھا اسے اپنا ولی اور سرپرست اور رہبر قرار دے دیتا ہے اور اس پر اپنی جان تک نچھاور کرنے کے لئے تیار ہو جاتاہے۔
یہ اسلوب کتنا ہی عمدہ ہے اور اس نورانی آیات کا مضمون کتنا وسیع ہے مختصر آیت نے کتنی مشکلات آسان کر دیں قتل و غارتگری کی نفی کی، جارحیت کی نفی کی، جنگوں کی نفی کی، سختی کو کچل کر رکھ دیا، نفرت کا خاتمہ کر دیا، تھوڑے سے نقصان سے، مختصر وقت میں اپنے بڑے ہدف کو پانے کا گربتا دیا، اس سے تمہارا رب تم سے راضی ، لوگوں میںتم محبوب، تم لوگوں سے محبت کرو گے، لوگ تم سے محبت کریں گے یہ اسلوب اس بات کی تفریق نہیں کرتا کہ اس طریقہ کو فقط اپنے ہم مسلک والوں میں اپنانا ہے یا دوسروں میں بھی یہ طریقہ سب کے لئے ہے جس کی رائے تمہارے مخالف ہے جو تمہارے نظریہ کے خلاف ہے جو تم سے دشمنی رکھتا ہے جس کا دین تمہارے دین سے مختلف ہے سب کے لئے ایک قانون ہے”ادفع بالتی ھی احسن“بھلائی سب کے لئے ،پیار سب کے لئے، اچھایاں سب کے لئے، گالی کا جواب گالی نہیں، گالی کا جواب پیار سے ہے۔
قرآنی اسلوب کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ جب تبلیغ کے لئے کوئی کام کرنا چاہتاہو تو پھرمیرے خلاف ادا کیے گئے الفاظ کا جواب اچھے الفاظ سے،گستاخی کا جواب ہمدردی سے، نفرت کا جواب محبت سے ہونا چاہیے، یہ قرآنی اسلوب ہے، اسے آئمہ اہل البیت علیہم السلام نے اپنایا اور اسی انداز کے ذریعہ انسانوں کے لئے ہمدردی کا پیغام دیا،سب کے لئے محبت بانٹی اور اعلان کیا ”ان الدین الالحب“دین تو سوائے محبت کے اور کسی چیز کا نام نہیں ہے ”لکل شی اساس واساس الاسلام حبنا اھل البیت علیہ السلام “اسلام کی بنیاد اہل البیت علیہ السلام سے محبت قرار پائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل البیت علیہ السلام نے سب انسانوں کے ساتھ محبت کی ہے۔ خود کو بھوکا رکھا دوسروں کو کھانا دیا جس نے گالی دی اس سے پیار کیا جس نے محروم کیا اس کونواز دیا، دشمنوں کی بہو وبیٹیوں کا احترام کیا، قاتلوں کودودھ پلایا، کھانادیا،یہ سب قرآنی اسلوب ہے، یہ اسلام ہے، یہ دین حق ہے۔
دوسراموقف:۔ دوسرامرحلہ
باہمی رابطہ، تعارف، شرائط اور باہمی پہچان، ایک دوسرے سے تعلقات
قرآن مجید کا دوسرا مثالی موقف اور کردار جو اختلافات کو بھلا دیتا ہے معاشرہ کی خدمت کےلئے افتراقی امور کو نظر انداز کرتا ہے، معاشرہ کی ترقی کے لئے، اس کے تکامل کے واسطے باہمی تعاون کرنا ہے نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر باہمی روابط کو قائم کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو، تم اللہ کے شعائر کو حلال نہ جانو، ان کی بے احترامی کو جائز مت سمجھو اور نہ ہی محترم مہینہ کو حلال جانو کہ تم اس میں جنگ شروع کردو،نہ ہی ہدی قلائد کوحلال جانو(ان سب سے مراد بے احترام ہدی اور قلائد حج میں قربانی کے جانور کے لئے ہیں کہ ان کی بے احترامی سے بھی منع کیا ہے)اور جو لوگ بیت اللہ الحرام میں امن لینے آئے ہیں انہیں بھی حلال مت جانو(یعنی ان کی بے احترامی بھی جائز نہیں ہے)جو اپنے رب کا فضل چاہتے ہیں اور اپنے رب کا رضوان چاہتے ہیں اور جب تم احرام حج کھول دو تو اس وقت تمہارے لئے ہے کہ تم شعار کر لواور کسی قوم کی بدزمانی اور ان کا غلط رویہ تمہیں اس بات پر نہ لے آئے کہ تم انہیں مسجدالحرام سے روک دو اور تم ان پر زیادتی کر بیٹھو نیکی اور تقویٰ کے امور میں ایک دوسرے سے تعاون کرو گناہ اور دشمنی کے لئے ایک دوسرے سے زیادتی کے امور پر ان سے تعاون مت کرو۔(سورہ التوبہ آیت ۲)
اس آیت میں جو حکم دیا جا رہا ہے یہ مسلمانوں کے آپس میں روابط اور تعلقات بارے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو خطاب ہے کہ وہ انسانی کمال تک پہنچنے کے لئے غیرمسلمانوں سے کیارویہ اپنائیںغیرمسلموں کے ساتھ احسان کریں، غیرمسلموں کے ساتھ اچھا برتاو کریں، انہیں نیکی کی طرف راغب کریں، ان کے ساتھ زیادتی نہ کریں کہ انہوں نے ان کے ساتھ غلط رویہ اپنایا ہوا تھا۔
اسی حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا جا رہا ہے کہ ایسے اعمال سے بچے رہو جو گناہ کی طرف لے جائیںاور دشمنی اور زیادتی کا سبب بنیں یہ بھی غیرمسلموں کے ساتھ رویہ اور تعلقات کے لئے ایک ضابطہ دیا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آو لیکن ایسا کوئی کام مت کرو جو تمہیں ان سے تعاون کرتے ہوئے گناہ میں پہنچادے۔
گویا یہ آیت ہمیں سمجھا رہی ہے کہ ایک معاشرہ کے اندر مختلف نظریات والے افراد موجود ہوتے ہیںمختلف قومیں رہتی ہیں، مختلف قبائل ہوتے ہیں اور اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں خلق فرمایا ہے بلکہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کے اندر جنگیں ہوتی ہیں، دشمنیاں موجود ہوتی ہیں لیکن یہ سب کچھ باہمی روابط، احسان اور نیکی کے عمل کے لئے رکاوٹ نہیں ہے، معاشرہ میں خدمت کے کاموں کے لئے رکاوٹ ہرگز نہیں ہے اس وقت جس طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر حکومتیں سارے اختلافات کے باوجود بیماریوں کے علاج کے لئے ادویات ایجاد کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو وہ ادویات دیتے ہیں۔
جی ہاں!مسلمانوں کے خود اپنے اندر، ان کے مختلف طبقات میں مسالک کے اندر اس قسم کا تعاون تواوربھی ضروری ہے اوریہ رویہ سب سے زیادہ واجب ہے۔
ایک اور آیت میں ہے کہ ”( وَجَعَلنَا کُم شُعُوباً وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ) “ اور ہم نے تمہیں اقوام اور قبائل میں خلق کیا ہے تاکہ ایک دوسرے سے آشنائی رکھ سکو، ایک دوسرے کی پہچان رکھ سکو ،باہمی تعارف اور میل جول کی بات کی جا رہی ہے ۔(سورہ حجرات آیت ۳۱)
تعارف کا معنی ایک دوسرے سے آگہی، ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے کے قریب ہونا ہے اور یہ امرانسانی خلقت کا تقاضا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اختیار سے انسانوں کو اس طرح خلق فرمایا ہے اور ان سب کو ایک دین پر خلق فرمایا(ایک دین پر اور ایک نظام پر چلنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں جبرنہیں اختیار دیا ہے، اپنے ارادہ سے انسان ایسا کرے)
تیسرا موقف اورمرحلہ
قرآن کا تیسرا مثالی اور نمونہ کا موقف انسان کی انسانیت کا احترام ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے مسئلہ پر جنگ نہیں چھیڑی اور تمہیں انہوں نے گھروں سے بھی نہیں نکالا ہے کہ تم ان سے نیکی کرو، ان پر احسان کرو، ان سے انصاف کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف اور بھلا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے “۔(الممتحنہ آیت ۸ ۔ ۹)
اللہ تعالیٰ نے فقط ان سے تعاون کرنے سے منع کیا ہے جنہوں نے دین کے مسئلہ پر تم سے جنگ چھیڑ رکھی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے باہر نکال دیا ہے اور تمہارے نکالنے پر انہوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ہے ان کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے کہ تم ان سے دوستی مت رکھو اور جو بھی ان سے دوستی بنائے گا تو ایسا آدمی ظالموں میں سے ہوگا۔
یہ اسلوب ہمارے زمانہ میں کامیاب ترین اسلوب ہے کیونکہ یہ واقع اور حقیقی امر کی تصویر پیش کرتاہے اور موجودہ زمانہ کے لئے ہمارے لئے حل پیش کرتاہے۔
اس وقت انسانی معاشرے مختلف ادیان میں تقسیم ہیں، ایک ہی وطن میں رہتے ہیں، مذاہب مختلف ہیں، ادیان مختلف ہیں تو کیا ایک مومن ان سب سے خود کو الگ تھلگ کر لے ، ایک جانب ہو کر بیٹھ جائے یا اس معاشرہ کے اندر گھل مل جائے ان کے ساتھ روابط اور تعلقات بنا کر رکھے باہمی احترام قائم کرے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان موجود رہنے سے ہمیں منع نہیں فرمایا بلکہ ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم لوگوں سے اچھے انداز میں گفتگو کریں ، باہمی مذاکرات کریں، ایک دوسرے سے تعلقات قائم کریں اگرچہ دین اور مذہب میں ہم سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہیں چہ جائیکہ رنگ،بو،نسل، زبان مختلف ہو۔
رویوں کا اختلاف تعلقات توڑنے کا سبب نہیں قرار دیا گیا قرآن نے ہمیں تقویٰ اور احسان کی ہدایت کی ہے سب سے تعلقات قائم کرنے کا حکم دیا ہے ان کی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ دوسرے قرآنی موقف میں بیان ہواہے۔
پھر اس جگہ قرآن ہمیں یہ اجازت دے رہا ہے کہ ہم ان پر احسان کریں اور جو ان کے حقوق ہیں وہ انہیں دیں اور ان پر ظلم نہ کریں ان کے ساتھ دھوکہ نہ کریں جب تک وہ ہمارے ساتھ حالت جنگ میں نہیں آتے جب تک وہ ہمیں دھوکہ دینے پراصرار نہیں رکھتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ ہم ان کے ساتھ احسان کریں، عادلانہ رویہ رکھیں، ان سے بغض نہ رکھیں ، ان کے خلاف کینہ اور نفرت نہ کریں ، ان کی اہانت نہ کریں، یہ سب اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے یہ ارادہ کیا ہوتا کہ وہ سب ایک امت ہوں جیسا کہ سورہ المائدہ آیت ۸۴ میں ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ تم سب ایک امت ہو(لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ تمہیں قبائل بنایا، اقوام بنایا، مختلف رنگوں میں بنایا، مختلف زبانوں والا بنایا) اور یہ سب اس لئے کہ وہ تمہارا امتحان لے اس بارے جو کچھ اس نے تمہیں دیاہے، اس نے تمہیں اقوام و ملل میںبنایا ہے توباہمی پہچان کے لئے، باہمی تعاون کے لئے اور پھر یہ بتا دیا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتا ہے یعنی تقویٰ پر قائم ہے۔
قرآن مجید کا یہ موقف بہت ہی عمدہ مواقف سے ہے اس موقف میں انسان کی انسانیت کا احترام کیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:( لَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ فِی اَحسَنِ تَقوِیم ) (سورہ والتین آیت ۴)
”بتحقیق ہم نے انسان کو بہت ہی عمدہ انداز میں خلق کیا ہے“۔
یعنی اسے جس طرح جسمانی شکل بہترین دی ہے اسی طرح اسے اقوام و ملل میں بنا کر اس کی خوبصورتی کو بڑھادیا ہے انسان کی خلقت کا انداز اچھا ہی نہیں بہترین ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :”بتحقیق ہم نے بنی آدم علیہ السلام کو کرامت دی ہے اسے معزز و مکرم بنایا ہے اور ہم نے اسے خشکی اور تری میں بسایا ہے اور ہم نے انہیں عمدہ روزی عطا کی ہے بہت ہی عمدہ کھانے پینے، رہنے سہنے کی اشیاءسے نوازا ہے اور جو مخلوقات ہم نے بتائی ہیں ان میں سے بہت ساری مخلوقات پراس انسان کو فضیلت اور برتری دی ہے۔
(سورہ الاسراءآیت ۰۷)
اللہ تعالیٰ اس مقام پر انسان کی خلقت پر فخر و مباہات کر رہا ہے اس کی خلقت پر فخر کیا ہے اگرچہ وہ مسلمان نہ بھی ہو، مومنین کے لئے اختصار کے ساتھ اس امر کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یا تو وہ تمہارا دینی بھائی ہے اور یا وہ خلقت میں تمہاری مانند ہے“۔
(نہج البلاغہ ج ۳ ص ۴۸ ،عہد ۳۵)
ہر ایک کے لئے حقوق ہیں اور فرائض ہیں،فرائض کو انسان نے ادا کرنا ہے اور اپنے حقوق کو وصول کرنا ہے۔ قرآن مجید کے یہ تین مواقف ہیں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کےلئے، انسان غور کرنے سے ان سے زیادہ کا بھی قرآن کی آیات سے استخراج کر سکتا ہے لیکن جس امر کو ہم بیان کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
دعوت میں نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موقف اورطریقہ کار
حضرت نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ کار اجمالی طور پر قرآنی اسلوب سے مختلف نہ تھا جسے ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالات کی سنگینی کے باوجود ان ذرائع اور طریقوں کو دعوت کے سلسلہ میں استعمال کرنے میں کامیاب رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس عمل کی گواہی اپنی کتاب میں دی ہے ۔
سورہ قلم آیت ۴”( وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ ) “ ”بتحقیق تم تو خلق عظیم پر قائم ہو“۔
یہ اشارہ اس بات کا ہے کہ آپ اپنے اخلاقی سلوک اور رویے میں کامیاب رہے ہیں آپ کا اخلاق قرآنی اخلاق کا مظہر ہے اور الٰہی تعلیمات کی عملی شکل ہے۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اور طریقے بھی ہیں اگرچہ وہ ذرائع آپ نے بعض مخصوص حالات کے لئے استعمال کئے لیکن کچھ طریقے بہرحال ہیں جو آپ کی ذات سے خاص ہیں اور وہ اس طرح ہیں۔
۱ ۔ رواداری، نرم پالیسی
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام:” محبت اور پیار آدھا عقل ہے“(نہج البلاغہ حکمت ۲۴۱)
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے آباءعلیہم السلام سے اس بات کو نقل فرمایا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن نرم ہوتا ہے ، بخشش کرنے والا ہوتاہے، نرم خو ہوتا ہے، اچھے خلق والا ہوتا ہے، کافر سخت ہوتا ہے، سنگین مزاج ہوتا ہے، برے اخلاق والا ہوتا ہے، اس میںبڑائی کا عنصرہوتاہے، سخت مزاج ہوتا ہے، تندخو ہوتا ہے(امالی الطوسی، المحلیس الثالث عشرحدیث ۸۲ ص ۶۶۳ شمارہ ۷۷۷)
حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے اپنے والد سے نقل کیا کہ حضرت نبی اکرم نے فرمایا:ایمان کا بہترین وزیرعلم ہے اور علم کا وزیربردباری اور حلم ہے حلم کا وزیررفاقت ہے اور رفاقت کا وزیر نرم خوئی ہے“۔(قرب الاسناد ص ۷۶ حدیث ۷۱۲)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے آباءسے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ نے فرمایا:”کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں کہ کل آگ کن لوگوں پر حرام ہو گی ؟
جواب دیا گیا: جی ہاں! یارسول اللہ : تو آپ نے فرمایا: ”جو آسان منش ہو، قرب والا ہو، نرم خُو ہو، آسان ہو“۔
”الهین القریب اللین السهل “
(امالی الصدوق، المجلس الثانی والخمسون حدیث ۵/۷۹۳ ، شمارہ ۱۱۵)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام: بغیر کمزوری اپنائے تمہیں نرم رویہ والا ہونا چاہیئے شدید لیکن اس شدت میں ( )کمزوری کا عنصرنہ ہو۔(غررالحکم ج ۰۶۱۷)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے:جس کی طبیعت میں نرمی پائی گئی تو اس سے محبت کرنا لازم ہوجاتاہے۔(غررالحکم حدیث ۲۵۱۸)
رواداری، پیار، محبت ایک ایسا اندازہے جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں موجود ہے جو آپ کو زیادہ مواقع پر فائدہ دیتا تھا، اپنے اصحاب سے عطاءاور بخشش میں مداراة(رواداری غررالحکم حدیث ۲۵۱۸) فرماتے ہیں اپنی بیویوں کے ساتھ گھریلومعاملات میں یا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ یا اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ دعوت کے آغاز میں یا جنگی قیدیوں کے حوالے سے آپ نے جورویہ اپنایا اس سے آپ نے اپنی دعوت میں فائدہ اٹھایا۔
۲ ۔ پاک کرنا، تزکیہ کا عمل
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ”اے رسول!ان کے اموال سے صدقہ(ایک مقدار مال)وصول کر لو اس طرح تم انہیں طاہر کردو اور انہیں پاکیزہ بنا دو اور ان پر رحمت کی دعا کردو(ان پر صلوات بھیجو)کیونکہ آپ کی جانب سے ان کے لئے رحمت طلب کرنا ان کے لئے سکون اور آرام کا وسیلہ ہے ۔(سورہ التوبہ آیت ۳)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال سے یہ ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں کو رذائل، پلیدیوں،کدورتوں سے پاک کرتے اور ان کے نفوس کی صفائی کرتے تھے۔
۳ ۔ تعلیم
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں رسول کو بھیجا کہ ان پر آیات کی تلاوت کرے اور انہیں پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب(قرآن مجید) اور حکمت(دانائی)کی تعلیم دے اگرچہ وہ اس سے قبل کھلی گمراہی میں موجود تھے۔
(سورہ الجمعہ آیت ۲)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری امت کو اپنی اولاد سمجھتے تھے، بلکہ یہ اسی طرح ہے جیسا کہ خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو خطاب فرمایاکہ:”یا علی علیہ السلام! انا وانت ابواھذہ الامة“ اے علی علیہ السلام!میں خود اور تم ، ہم دونوں اس امت کے باپ ہیں“۔(الغارات للثقفی ج ۲ ص ۷۱۷)
پس آپ انہیں پڑھاتے تھے، تعلیم دیتے تھے، ان کی تربیت کرتے ، انہیں انحراف سے بچاتے، ان پر مہربانی کرتے، ان سے پیارفرماتے، ان کے نقصانات سے انہیں آگاہ کرتے، ان پر شفقت فرماتے تاکہ وہ سب کمال مطلق تک پہنچ جائیں۔
جنگ ، سخت روش، ہدف ہے یا وسیلہ
جس وقت ہم نے تیسری فصل میں عسکری حوالے سے تیاری کی بات کی ہے وہاں پر ہم نے بیان کیا ہے کہ جنگ کاہدف سختی، تندی نہیں ہے بلکہ وسیلہ ہے ایک ہدف کے لئے اسلام کی اس رائے کو واضح طور پر بیان کیا گیاہے ۔
سوال ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کو کیونکر اختیار کیا؟سخت رویہ کیوں اپنایا؟
سیرت نبوی کاخلاصہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت شریفہ کے حوالے سے جنگ کو اسٹریجک ہدف کے طور پر استعمال نہیں کیا، جنگی حکمت عملی بطور ہدف اختیار نہیں کی بلکہ آپ کی دعوت ایک مہربان باپ اپنی اولادسے ہمدردی رکھنے والا۔آپ انہیں دن رات سمجھاتے تھے،انہیں پیار سے بلاتے تھے، اچھی اچھی باتیں انہیں بتاتے تھے ،ان سے پیار کرتے تھے موعظہ فرماتے ، اخلاق سے اپنے پاس بلاتے، حکمت ،اعلیٰ درجہ کی دانائی سے اپنی دعوت کوان کے پاس لے جاتے تھے لوگوں کی تندی بداخلاقی پر صبر فرماتے تھے اور یہ عمل مسلسل جاری رکھتے تاکہ وہ ایمان لے آئیںانہیں بارہا دعوت دیتے کیونکہ آپ کی یہ شدید خواہش ہوتی تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں خود کو سختی میں ڈالتے اور خدا سے انہیں دور دیکھ کر سخت پریشان ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس حالت کو دیکھ کر فرمایا:
تم جن کو چاہتے ہو کہ وہ ہدایت پا جائیں تووہ اس طرح ہدایت نہیں پائیں گے اللہ تعالیٰ بے شک جنہیں چاہتا ہے ہدایت دیتاہے۔(سورہ القصص آیت ۶۵)
حضورپاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت کے لئے کسی بھی ذریعہ یا وسیلہ کو ترک نہ کیا مگر یہ کہ اسے استعمال کیا جنت کی رغبت دلائی ، جنت کی نعمات بیان کیں، حورالعین، غلمان، جنت میں ہر خواہش، ہرلذت کے پورے ہونے کی نوید، عزت ،کامیابی،سکون ابدی، دنیاوی فوائدسب کچھ بتایا کہ لوگ خدا کی طرف آجائیں رغبت کے ساتھ ساتھ مخالفت کرنے کے برے انجام سے ڈرایا، جہنم کی آگ کے بارے بتایا، جہنم کے اندر جوتکالیف ہونی ہیں اس کے بارے آگاہ کیا ، ہتک حرمت، دنیاوی نقصانات کی خبر دی۔
یہ اسلوب جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار کیا جن میں ایمان کے نور کو وصول کرنے کی صلاحیت موجود تھی وہ ایمان لے آئے جو نااہل تھے وہ ہدایت نہ پاسکے۔
اس ساری مدت میں آپ نے کسی ایک جگہ بھی سخت رویہ نہیں اپنایا ہر جگہ پیار ہے، محبت ہے، خوش کلامی ہے، اچھا اخلاق ہے، مہربانی ہے شفقت ہے، بلکہ آپ اس جملہ کوبار بار ارشادفرماتے تھے کہ ”لااکراہ فی الدین “(سورہ البقرہ آیت ۶۵۲)
دین کے انتخاب میں جبر نہیں ہے، زبردستی نہیں ہے، اختیار سے اللہ تعالیٰ کے نظام کو اپنانا ہے، آپ کے نرم رویہ کانتیجہ تھا کہ مشرکین نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو اللہ کے حکم کی انجام دہی سے روک دیں اور آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا، آپ کومکہ چھوڑناپڑا، آپ مدینہ آ گئے، مدینہ میں بھی آپ نے اپنی دعوت کے اسلوب کی بنیاد پیار،محبت، خوش کلامی، موعظ حسنہ، ہمدردی، شفقت، انسان دوستی کو قرار دیا لیکن مشرکین مکہ نے جب آپ کی پے در پے کامیابی ملاحظہ کی اور دیکھا کہ آپ کی دعوت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اورمسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت ختم کر دیں اور اس طرح کفار مکہ نے آپ کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی کی تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دفاع کے لئے جنگ میں داخل ہوتے ہیں، آپ کی دفاعی جنگ تھی، یہ آغاز کی بات ہے مکہ میں آپ نے لڑائی کی بجائے اپنے پیروکاروں کو ہجرت کا حکم دیاجب آپ کی ذات کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تو بھی آپ نے ہجرت کو اختیار کیا، مدینہ میں آپ کی موجودگی کے خاتمہ کے لئے منصوبہ بندی کر لی گئی تو پھر آپ نے مدینہ سے باہر نکل کر مکہ سے آنے والے لشکر کا مقابلہ بدر کے مقام پر کیا تو اسلام کی پہلی با قاعدہ جنگ اپنے دفاع میں لڑی گئی اورآپ کامیاب بھی ہوئے۔جب اسلام کا دائرہ وسیع ہو گیا ہر طرف اسلام پھیل گیا تو اس وقت بھی آپ نے ان کے خلاف جنگیں لڑیں جنہوں نے خود کو اسلام کے مقابل لا کھڑا کیا اور اسلامی دعوت کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر دیں اپنے نظریہ اور اپنی موجودگی کے دفاع میں آپ نے ساری جنگیں لڑیں۔لیکن جس وقت اسلامی سلطنت مدینہ منورہ میں قائم ہو گئی تو حضرت نبی اکرم نے اسلام کے پیغام کو وسیع سطح تک پہنچانے کا فیصلہ کیا تو آپ نے دنیا کے اطراف و اکناف میں اسلام کی دعوت پہنچانے کی غرض سے اپنے سفراءاور نمائندگان کو روانہ کیا، پس آپ کا ہدف یہ تھا کہ بغیرجبر و اکراہ کے حکمت و دانائی کے ساتھ، دلیل اور منطقی بنیاد پر، موعظہ حسنہ اور خوش کلامی سے اللہ تعالیٰ کی جانب لوگوں کو دعوت دیں اور اس طرح اسلام کی نشرواشاعت کریں۔
جی ہاں! جو لوگ اسلام کے مدمقابل آتے، اسلامی تبلیغات سے روکتے تو اس وقت آپ جنگ کا راستہ اختیار کرتے اور جنگ کے ذریعہ اسلامی دعوت کے لئے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا خاتمہ کرتے، پس جنگی حکمت عملی، سخت رویہ، آپ کی دعوت میں ہدف نہ تھا ہدف تک جانے کے لئے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وسیلہ تھا، اسلام کی دعوت ، بیداری، آگہی، رضایت اور اختیار سے انجام پائی۔ رکاوٹ دور کرنے کے بعد لوگوں کو اسلامی دعوت دی گئی زبردستی انہیں مسلمان نہیں بنایا گیا یعنی ایسا اعلان نہ ہوتاکہ یا اسلام لے آو وگرنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ نہیں ایسا نہیں تھا بلکہ اسلام کا پیغام پہنچانے میں جو رکاوٹیں کھڑی کی جاتی تھیں ان کو دور کیا جاتا تھا جو افراد اسلامی تبلیغات سے روکتے تھے انہیں راستہ سے ہٹایا جاتا اور پھر وہ پیار، محبت، شفقت، حکمت، دانائی، خوش اسلوبی، خوش کلامی، دلیل، منطق سے اسلام کی دعوت دی جاتی اور یہ اعلان کیا جاتا کہ”لااکراہ فی الدین“دین کے انتخاب میں جبر نہیں۔
واضح الفاظ میں یوں سمجھیں کہ لوگ اسلام میں آجائیں یہ بات حضرت نبی اکرم کے لئے آرزو تھی، خوشی کا سبب تھی اور آپ اسے شدت سے چاہتے تھے آپ ان لوگوں سے جنگ و جدال اور قتل وقتال کو پوشیدہ نہ کرتے تھے،لوگوں کا اسلام قبول کرنا آپ کے لئے ایک ہدف ہی نہ تھا بلکہ آپ کے لئے یہ پسندیدہ اور محبوب امربھی تھا، آپ کی یہ شدید رغبت تھی کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیںآپ نے حضرت علی علیہ السلام سے یہ جملہ ارشاد فرمایا:”اے علی علیہ السلام! اگر اللہ تعالیٰ آپ کے وسیلہ سے ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ آپ کے لئے اس سب کچھ سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتاہے۔(کنزالعمال ج ۰۱ ص ۶۵۱ حدیث ۲،۸۸۲ ، الکافی ج ۵ ص ۸۲ حدیث ۵)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی جنگیں
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ فتنوں اور سازشوں سے بھراپڑا ہے، جس کے بارے مشہور ہوا کہ آپ علیہ السلام کی حکومت جنگوں والی حکومت تھی، آپ علیہ السلام نے تقریباً اپنی حکومت کے کے دورانیہ میں جنگیں ہی لڑی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت اسلامی نظام حکومت کو اس کی اصلی اور واقعی شکل میں واپس لانے کے لئے تھا آپ نے اس امر کی اصلاح کو انجام دیا جو بگڑ چکا تھا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سے لے کر آپ کی جانب سے زمام حکومت سنبھالنے تک کا جو عرصہ گذرا اس میں بہت ساری خرابیاں رونما ہو چکی تھیں جن کا ازالہ ضروری تھا، سیاسی، عدالتی، عسکری، مالیاتی، بیت المال، معاشرتی بگاڑ آچکاتھا۔
اس وقت کی ایک بڑی اسلامی سلطنت کی جب اصلاح کرنی شروع کی تو مارقین، ناکثین اور قاسطین کے گروہ آپ کے مدمقابل آ گئے طلحہ اور زبیر آپ کے مخالف اس لئے ہوئے کہ انہیں کافی مقدار میں مال نہ دیا گیا اور جس منصب کے وہ خواہش مند تھے وہ انہیں نہ ملا۔
معاویہ کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے وہ بادشاہت چاہتا تھا، خلافت نہیں، منافقین کا معاملہ جو ہے تو ان کی خواہشات ایک عورت کی مرضی کے گرد گھوم رہی تھیں اوروہ اپنی آرزووں اور مادی خواہشات کے گرداب میں پھنسے ہوئے تھے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ اسلام کی جنگیں بھی بے ہدف نہ تھیں بلکہ وسیلہ تھیں حضرت نبی اکرم کے دین کی اصلاح کا جو عمل آپ نے شروع کیا تھا اس کے سامنے جو رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں تو آپ اس ہدف کا دفاع کر رہے تھے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جنگ شروع کرنے سے پہلے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام مخالف فریق کے پاس نمائندگان کو بھیجتے تھے تاکہ جنگ سے بچا جا سکے مذاکرات سے معاملات کو حل کر لیا جائے ایسے افراد کو بھیجتے تھے جو ان کے ساتھ جا کر دلائل کے ساتھ گفتگو کرتے تاکہ وہ بھی باقی عوام کی طرح خلیفة المسلمین کی اطاعت میں آجائیںاور سرکشی نہ کریں۔
مزیدبرآں ہر جنگ سے پہلے آپ کے خطابات ہیں جن میں آپ جنگ سے گریز کی کوشش کرتے، مخالف فریق کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کرتے، اسلام اور مسلمانوں کی وحدت کی خاطر یہ سب کچھ کرتے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح گذرچکا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شدید خواہش تھی کہ لوگ اسلام کے دائرہ میں آجائیں اسی طرح حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی بھی شدید خواہش تھی کہ سارے لوگ صلح و صفائی کے ساتھ زندگی گزاریں امن اور آشتی سے رہیں، اسلامی قوانین کا احترام کیا جائے گفتگو اور مذاکرات سے لوگوں کو مطمئن کیا جائے اور جنگ سے بچا جائے، جنگ کو آپ علیہ السلام آخری وسیلہ کے طور پر اختیار کرتے تھے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام اور سخت رویہ
حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلاب نے اس بات کو واضح کر دیا کہ آپ علیہ السلام کا انقلاب اصلاحی اور تصحیحی انقلاب تھا آپ بگڑے ہوئے معاملات کو ٹھیک کرنا چاہتے تھے جس کے بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک سے زیادہ مقامات پر خود بیان فرمایا: آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو جو وصیت تحریر کر دی تھی اس میں آپ علیہ السلام نے واضح بیان کیا کہ ”میں نے شر پھیلانے کے لئے ،تکبر اور بڑائی کے اظہار کی خاطر، فساد اور بداامنی پھیلانے کے لئے اور ظلم اور زیادتی کسی پر کرنے کی غرض سے خروج نہیں کیا، حاکم وقت کے خلاف میراخروج اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے، میں چاہتا ہوں کہ امربالمعروف کروں اور نہی عن المنکر انجام دوں(البحار ج ۴۴ ص ۹۲۳)
آپ علیہ السلام کی جنگ اصلاح کی غرض سے تھی، اسلام میں جو خرابیاںداخل ہو چکی تھیں ان کو دور کرنے اور اسلام کو اس کی اصلی شکل میں لانے کے لئے آپ علیہ السلام نے جنگ کی پھر آپ علیہ السلام نے جنگ کا آغاز نہیں کیا آخر وقت تک گفتگو کی، خطابات فرمائے، دلائل دیئے، موعظہ و نصیحت کی، جنگ سے گریز کیا اور یہ عمل بار بار دہرایالیکن جب مخالفین نے حملہ کا آغاز کیا تو پھر آپ علیہ السلام نے اپنا دفاع کیا اور تب دشمن کے خلاف جنگ لڑی اور حق و باطل کے معرکہ کی مثال بنے۔
یہ مثال کے طور پر دیا ہے، اسلام کے حقیقی نمائندگان کا عمل حضرت نبی اکرم کے عمل سے مختلف نہیں ہے اسلام میں جنگ مقصود نہیں ہے اور نہ ہی اسلام جنگ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ اپنے دفاع کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے اور اعلیٰ ہدف کے لئے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشینوں نے جنگ کا استعمال کیا۔
دنیا کے بادشاہوں کے لئے دعوت دینے کا نبوی طریقہ کار
انس سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بادشاہان قیصر، کسریٰ، حبشہ اوردوسرے جابر و ظالم حکمران کی جانب خطوط روانہ کئے ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب دعوت دی، نجاشی ایسا خوش قسمت حاکم تھا کہ جس پر حضرت نبی اکرم نے صلوات بھیجی اور اس کے لئے رحمت کی دعا فرمائی۔(صحیح مسلم ص ۴۷۷۱)
ابن عباس سے روایت ہے کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اہل الکتاب کی جانب اس مضمون کی تحریر روانہ کی گئی ”( تَعَالَو ! اِلیٰ کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَینَنَا وَبَینَکُم ) “”آئیے ایک سیدھے کلمہ(بات) پر متفق ہو جائیں جوتمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ایک خدا پر اکٹھے ہو جائیں “۔
(سورہ آل عمران آیت ۴۶)( الدررالمنثورج ۲ ص ۴۳۲)
جن کی طرف آپ نے خطوط بھیجے وہ کچھ اس طرح ہیں:قیصر بادشاہ روم، کیسریٰ بن ہرمزبادشاہ فارس، ھرقل،حارث ابن ابی شمر الغسانی۔(دیکھیں الخرائج والجرائح ج ۱ ص ۱۳۱،۷۱۲ ۔ الطبقات الکبریٰ ج ۱ ص ۹۵۲ ۔ البحارج ۲ ،ص ۹۸۳،۶۸۳ ج ۸ ص ۱۸۳ ۔صحیح مسلم ۳۷۷۱)
اسکندریہ(مصر) کے بادشاہ المقوقس کو خط بھیجا جو قبطیوں کے سربراہ تھے اسے اسلام کی دعوت دی اس کے پاس حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پہنچا اس نے یہ خط پڑھ کر اچھا ردعمل ظاہر کیا اس نے خط لے کر اسے عاج(ہاتھی کے دانتوں سے بنی) کی صندوقچی میں رکھا اس پر مہرلگائی اور اپنی کنیز کے سپرد کردیا اور نبی اکرم کو اس طرح جواب لکھ بھیجا ”مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی نے ابھی تشریف لانا ہے اور میرا خیال تھا کہ وہ شام سے خروج کرے گا میں نے آپ کے نمائندہ کا احترام کیا میں دوکنیزوں کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں قبطی قبیلہ میں ان کی بڑی شان ہے آپ کے لئے ایک لباس ہدیہ بھیجا ہے اور سواری کے لئے ایک خچر بھی روانہ کررہا ہوں، اس نے اس پر کچھ اور نہ لکھا اور اسلام کا اظہار نہ کیا۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول کر لیا اور اس کی دونوں کنیزوں کو بھی وصول کر لیا، جناب سیدہ ماریہ علیہ السلام جو اُم ابراہیم علیہ السلام ہوئیںاور ان کا بڑا شرف ہے کہ وہ رسول اللہ کی زوجیت میں آئیں اور صاحب اولاد بھی ہوئیں۔اور اس کی بہن ماریہ تھی اور سفید رنگ کا خچر تھا کہ عرب دنیا میں اس جیسا اور موجود نہ تھا اسی کو دُلدُل کہا جاتا تھا۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت نے سلطنت کالالچ کیا جب کہ اس کی سلطنت کے لئے بقاءنہیں ہے حاطب نے کہا جو مقوقس کی جانب سے رسول اللہ کے پاس آیا آپ نے بہت اچھی مہمانی دی میں آپ کے ہاں زیادہ نہ ٹھہرا فقط پانچ دن قیام کیا۔(الطبقات ج ۱ ص ۱۶۲)
لھوذہ بن علی الحنفی کو خط لکھا اور اسے اسلام کی دعوت دی اس کے پاس رسول اللہ نے نمائندہ بھیجا اس نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط وصول کیا اسے پڑھا اور نبی اکرم کی طرف جواب تحریر کیا لیکن اس نے جو جواب دیا وہ غیر مناسب تھا اس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تحریر کیا ”کیا ہی خوبصورت ترین بات ہے جس کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں یہ بہت ہی عمدہ دعوت ہے میں قومی شاعر ہوں اور اپنی قوم کا خطیب ہوں عرب میری منزلت سے خوف کھاتے ہیں میری عربوں میں ہیبت اور رعب ہے، جس بات کی طرف آپ دعوت دیتے ہو تو اس سے کچھ میرا حصہ قرار دے دو تو میں آپ کی پیروی کروں گا“۔
سبط بن عروہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے تھے اسے تحائف دیئے بہترین پوشاک اسے پہنائی جو ھَجَر علاقے کے بنے ہوئے تھے سبط یہ سب کچھ لے کر حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضڑ ہو گیا اور سارے حالات و واقعات سے آپ کو آگاہ کیا اور اس کا خط آپ کو پڑھ کر سنایا آپ نے اس کا خط سن کر فرمایا اگر وہ مجھ سے زمین کا سایہ ( )طلب کرے تو بھی میں اسے نہ دوں گا بَادَ وَ بَادَ مَا فِی یَدَی ہِ( )جس وقت حضور پاک فتح مکہ کے سال واپس ہوئے تو جبرئیل علیہ السلام نے واپس آ کر بنایا کہ وہ مر گیا ہے۔(الطبقات الکبریٰ ج ۱ ص ۰۶۲ ۔ ۱۶۲)
بادشاہ روم کی جانب خط
اس خط میں آپ نے تحریر فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو اللہ تعالیٰ کا عبد اور بندہ ہے اس کی جانب سے یہ خط ہے ھرقل کی طرف جو روم کا بڑا ہے اور سلامتی ہے ان کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔
اما بعد!میں آپ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم مسلمان ہو جاو تو محفوظ رہو گے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دو مرتبہ(دوبرابر)عطا کرے گااور اگر تو اس سے پھر گیا اور دعوت کو قبول نہ کیا تو پھر تیری رعیت کا گناہ تیری گردن پر ہوگا”( یَا اَهلَ الِتَابِ تَعَالَوا اِلیٰ کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَینَنَا وَبَینَکُم اَلَّا نَعبُد اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشرِکَ بِه شَیئاً وَلَا یَتَّخِذَ بَعضُنَا بَعضاً اَر بَاباً مِّن دُونِ اللّٰهِ فَاِن تَوَلَّوا فَقُو لُواشهَدُو ابِاَنَّا مُسلِمُو نَ ) “۔ (تفسیر ثعلبی ج ۳ ص ۶۸)
آیت کا ترجمہ: اے اہل کتاب تم سب ایک کلمہ (بات) پر آجاو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ بات یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ آپس میں کسی ایک کو ایک دوسرے کا رب قرار نہ دیں اور اگر تم اس پر نہ آو تو پھر تم سب یہ بات کہہ دو کہ تم گواہی دو کہ ہم تو مسلمان ہیں“۔
خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیار،محبت، منطق، دلیل سے لوگوں میں اسلام کو پھیلایا ، آپ نے خط وکتابت کے ذریعہ کوبھی اسلام کی دعوت کے لئے استعمال کیا اپنے سفراءاور نمائندوں کے ذریعہ بھی اسلام کی دعوت دی خود براہ راست بھی دوسروں کے پاس جا کر انہیں اسلام کی دعوت دی اسلام کی دعوت کو کسی ایک طبقہ یا کسی ایک علاقہ تک مخصوص نہ رکھا بلکہ ہر طبقہ کو اسلام کی طرف بلایا اور ہر علاقہ کے لوگوں کو بلایا اور آپ کے زمانہ میں جتنی بڑی بڑی حکومتیں اور سلطنتیں ہیں اور جو بڑے بڑے معروف گروہ تھے ان حکومتوں کے سربراہوں اور ان گروہوں کے سرداروں کو اسلام کی دعوت دی آپ نے اپنے زمانہ میں اس دور کی معروف شخصیات تک اپنے پیغام کو پہنچایا۔
اہل البیت علیہ السلام کا اسلام کی طرف دعوت دینے کا اسلوب
اہل البیت علیہم السلام نے اسلام کی دعوت عام کرنے کے لئے قرآنی اسلوب سے استفادہ کیا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں کو اپنایا ۔
جی ہاں! آپ حضرات جن زمانوں میں تھے تبلیغ دین اور اسلام کی طرف دعوت دینے میں اپنے زمانہ کے حالات اور مسائل کا لحاظ رکھا اور اس زمانہ کی مناسبت سے جو خاص طریقہ اپنانا پڑا تو آپ نے اسے اپنایا جیسے حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اپنے دور میں جو طریقہ اپنایا البتہ آپ حضرات علیہم السلام نے جو بھی رویے اپنے اپنے زمانوں میں اپنائے ان کا مآخذ قرآن مجید اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ ہی رہا۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کامعاویہ کے ساتھ صلحنامہ یا جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کرنا تو یہ آپ کے دور کا تقاضا تھا پھر حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کے خلاف آواز بلند کی اور اس کی بیعت سے انکار کیا اور پھر اسی انکار نے آپ کو کربلا تک پہنچا دیا اور آپ نے اسلام ہی کی دعوت کو عام کرنے اور لوگوں تک صحیح اسلام پہنچانے کے لئے شہادت کا راستہ اپنایا اور اسی طرح باقی آئمہ کا زمانہ ہے کہ ہر امام نے اسلام کے پیغام کو خودمسلمانوں کے اندر اور مسلمانوں سے باہر کے طبقات میں اسلام پہنچانے کے لئے جو طریقے اپنائے سب کے سب قرآنی اور نبوی طریقے ہیں اور یہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا اسلوب دعوت
امام علیہ السلام کے اسلوب اور طریقہ کار سے مراد ہماری یہ ہے کہ آپ یہ سب سے بڑی اسلامی مملکت قائم کرنے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کریں گے کہ جس حکومت کی بنیاد عدالت عام کرنے اور حقیقی عدل کو رواج دینے اور اللہ کے دین کا اس طرح نفاذ کہ جس طرح مرضی خدا ہے اسے عملی صورت میں لانے کے لئے ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کی خلقت کا ہدف اپنی عبادت اور اطاعت کو قرار دیا ہے۔
(سورہ الذاریات آیت ۶۵)
سارے انسانوں کی خلقت کا ہدف اللہ واحد احد کی عبادت ہے اور ابھی تک انسان اس منزل تک نہیں پہنچا کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں یہ اس وقت ہو گا کہ جب حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اس ہدف کے حصول کے لئے آپ اپنی آمد کے بعد کیا طریقہ کار اپنائیں گے اس جگہ کئی احتمالات دے سکتے ہیں۔
۱ ۔ پہلا اسلوب یہ اختیار کریں گے کہ اپنی دعوت کاآغازموعظہ حسنہ سے کریں گے قتل اور جنگ کا راستہ نہ اپنایا جائے، وعظ، نصیحت، دلیل، منطق، گفتگو، مذاکرہ سے اپنی بات سے دوسروں کو قائل کیا جائے گا۔
۲ ۔ دوسرا اسلوب یہ اختیار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر جہاد کریں گے اور تلوار کے سایے میں حکومت قائم کریں گے۔
۳ ۔ تیسر ااسلوب اعجاز کا ہوگا مکمل معجزہ ہوگا ، تلوار کا استعمال نہ ہوگا۔
۴ ۔ چوتھا اسلوب پہلے اور دوسرے کا ملاپ ہوگا یعنی وعظ،نصیحت، مذاکرات اور گفتگو کا اندازاپنایا جائے گا اور جہاں پر یہ فائدہ نہ دے گا تو تلوار کا استعمال کیا جائے گا۔
۵ ۔ دعوت دی جائے گی اور معجزہ کا راستہ بھی اپنایا جائے گا۔
۶ ۔ جہاد ہو گا اور معجزہ بھی ساتھ ساتھ ہوگا۔
۷ ۔ تینوں طریقوں کا امتزاج ہوگا۔( ۱) وعظ و نصیحت و مذاکرات و گفتگو، دلیل، عقل منطق( ۲) جہاں پر یہ کارگر نہ ہو تو جنگ ،تلوار( ۳) جس جگہ یہ دونوں کام نہ کریں تو معجزہ کا استعمال ہوگا بلکہ ان دونوں طریقوں کے استعمال ہی میں اعجازی پہلو بھی ہوگا۔
اس بیان پر دلائل موجود ہیں جو پہلے دوسرے اور تیسرے اسلوب کو بیان کر رہے ہیں جیسا کہ بعد کے بیانات سے روشن ہو جائے گا۔
پہلا اسلوب: مسالمت آمیز طریقہ سے دعوت دینا
قرآن میں جو تبلیغ کے طریقے بیان کیے گئے اور جو حضرت نبی اکرم کی سیرت اور آئمہ اہل البیت علیہم السلام کی روشوں سے ثابت ہے ان سب کو آپ علیہ السلام استعمال کریں گے ، قتل، تباہی، سختی، دھونس، ڈرانے، دھمکانے کے بغیر دعوت دیں گے اس پر دلیل حسب ذیل روایات ہیں۔
۱ ۔ روایت کی گئی ہے کہ آپ دعوت کے لئے قتل کا رویہ نہ اپنائیںگے جناب ابوہریرہ سے روایت بیان ہوئی ہے کہ مہدی علیہ السلام کی بیعت رکن(حجر اسود والاکونہ) اور مقام (مقام ابراہیمی علیہ السلام) کے درمیان (بیت اللہ میں)بیعت کی جائے گی آپ سوتے ہوئے کو جگائیں گے نہیں اور نہ ہی کسی کا خون بہائیں گے ۔(کتاب الفتن لابن حمادص ۲۱۲)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اورحدیث روایت ہوئی ہے کہ”مہدی علیہ السلام کی جانب آپ کی امت پناہ لے گی جس طرح شہد کی مکھیاں اپنی سردار مکھی کے گرد جمع ہوتی ہیں اور اس کی پناہ میں آتی ہیں، زمین کو عدالت اور انصاف سے بھر دیں گے جس طرح زمین ظلم اور جور سے بھر چکی ہو گی اسی طرح کہ سارے لوگ اپنے پہلے امر پر ہوں گے (فطرت پر ہو جائیں گے) آپ کسی سوئے ہوئے کو جگائیں گے نہیں اور نہ خون بہائیں گے۔(الملاحم والفتن ص ۷۴۱ حدیث ۸۷۱)
۲ ۔ روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام قرآن کے لئے دعوت دیں گے اور قرآن پر عمل کا کہیں گے حضرت ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے، مہدی علیہ السلام مکہ میں عشاءکے وقت ظاہر ہوں گے آپ کے ہمراہ رسول اللہ کا پرچم اور آپ کی قمیص ہوگی....وہ اعلان کریں گے کہ اس کو تم سب زندہ کرو جسے قرآن نے زندہ کیا ہے اور تم سب اسے مار دو جسے قرآن نے ختم کیا ہے اور ہدایت کے لئے تم سب مددگار بنو اور تقویٰ کے لئے تعاون کرو، تقویٰ کی مضبوطی بنو....میں تمہیں اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف دعوت دیتا ہوں اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرو باطل کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور یہ کہ رسول اللہ کی سنت کو زندہ کرو۔(الملاحم والصنن ۷۳۱ ۔ ۷۵۱)( الصراط المستقیم ج ۲ ص ۵۲۳)
۳ ۔ روایت ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کی دعوت دیں گے جیسا کہ گذشتہ روایات میں تھا۔
۴ ۔ روایت بیان ہوئی ہے کہ قوم کو وعظ کریں گے جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت میں آیا ہے: قائم (علیہ السلام و عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)اپنے اصحاب سے کہیں گے کہ مکہ والے مجھے نہیں چاہتے لیکن میں ان کے پاس کسی کو بھیجتا ہوں تاکہ ان پر احتجاج کیا جا سکے اور مجھ جیسی شخصیت کو جیسا کہ اقدام اٹھانا چاہیئے میں ایسا کروں اور ان پر احتجاج کروں۔(البحار ج ۳۱ ص ۰۸۱)
۵ ۔ یہ روایت بھی ہوئی ہے کہ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی جائے گی اور یہ محبت تباہی ، ویرانی، قتل و غارتگری، سخت روش کے منافی ہے۔
حضرت ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے :اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت کو ڈال دے گا“دو لفظ ہیں ایک میں ہے خودیلقی....دوسرے میں ہے خدا یقذف....دونوں کا معنی قریب قریب ہے اللہ محبت کو ڈال دے گا۔ یعنی بغیر کوشش کے خدا کی طرف سے عطا ہو گی کہ اپنے ولی کی محبت کو دلوںمیں جاگزیں کر دے گا(یقذف پھینک دے گا، یلقی ڈال دے گا)
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے : میں نے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا مہدی علیہ السلام ہم آل محمد سے ہوں گے یا ہمارے غیر سے ہوں گے؟ رسول اللہ نے فرمایا:ہم سے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان پر دین کا اختتام کرے گا جس طرح آغاز ہم سے ہوا، ہمارے ذریعہ لوگوں کو فتنوں سے نجات دلائی جائے گی جس طرح ہمارے ذریعہ سے انہیں شرک سے بچایا گیا ہمارے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت اور محبت پیدا کر لے گا جب کہ اس سے قبل ان میں کینہ کی آگ نے دشمنی ڈال رکھی ہو گی جس طرح شرک کی دشمنی کے بعد ان کے دلوں کو ایمان کی برکت سے قریب کر دیا اور کل کے دشمن آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔(غیبة النعمانی ص ۰۵۱)
سوال: جب ہم دوسرا اسلوب بیان کریں گے جس میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام جہاد کریں گے ، تباہ کن جنگ ہو گی، قتل ہوگا، مار دھاڑ ہو گی تو یہ سارے بیانات اس کے ساتھ منافات رکھتے ہیں ان میں سے کون سا طریقہ درست ہے یا پھر اس کی توجیہ دینا ہو گی اسے بعد میں بیان کیا جائے گا۔
دوسرا اسلوب :جہاد
ہماری مراد اس روش سے یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ساری تحریک اور آپ کے قیام کا محور و مرکز جہاد ہو گا اس میں مسالمت آمیز رویے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی غیر معمولی اعجاز کا میدان ہے اس جہاد سے مراد جہاد اصغر ہے جس میں جنگ ہے، ماردھاڑ ہے، قتل سے سزا دیناہے۔
اس رویہ پر دلائل
۱ ۔ روایات میں واردہوا ہے کہ آپ بہت زیادہ قتل کریں گے زخمیوں کو بھی مار ڈالیں گے۔
حضرت ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ :اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قائم علیہ السلام جب خروج فرمائیں گے تو وہ کیا کریں گے تو اکثر کی خواہش یہ ہو گی کہ وہ انہیں نہ دیکھیں بوجہ لوگوں کو کثرت سے قتل کرنے کے، یعنی لوگ آپ کے قتل و ماردھاڑ کے رویہ کو دیکھ کر یہ خواہش رکھیں گے کہ وہ انہیں نہ دیکھیں۔ایک روایت میں ہے....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت میں نرم رویہ اپنایا لوگوں میں محبت عام کرتے تھے آپس میں جوڑتے تھے جب کہ قائم علیہ السلام کی سیرت اور روش قتل کرنا ہوگا، مارنا ہوگا۔
ایک روایت میں ہے کہ قائم علیہ السلام بھاگنے والے کو ماریں گے اور زخمی کو بھی قتل کر دیں گے۔(غیبة النعمانی ص ۱۲۱)
۲ ۔ بعد میں ذکر ہوگا کہ آپ ظہور کے بعد توبہ قبول نہ کریں گے اور نہ ہی کسی سے یہ چاہیں گے کہ وہ توبہ کرے جس کا معنی یہ بنتا ہے کہ جو شخص گناہ پر ہوگا آپ اسے قتل کر دیں گے چہ جائیکہ جو کافر یا مشرک ہو ان کے معصیت کار کو معاف نہیں کریں گے اور جو غیر مسلم ہوں گے تو پھر ان کے لئے معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔
سوال: یہ روش پہلی روش کے ساتھ منافات رکھتی ہے ان دونوں کو کیسے یکجا کیا جائے تو یہ بعد میں بیان ہوگا۔ علاوہ برایں اگر کوئی ہدایت پا سکتا ہو اور اس میں وعظ و نصیحت اس کے لئے موثر ہو تو پھر اسے کیوں مارا جائے گا یہ بات تو انتقام ہوگی جب کہ آپ کا مقصد مطلق عدل کا نفاذ ہے۔
تیسرا اسلوب اعجاز کا ہے
اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام مسالمت آمیز روش نہ اپنائیں گے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور قتل وتباہی اور مار کٹائی سے بھی کام نہ بنے گا کیونکہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی اور وہ طاقتور بھی ہوں گے۔ پس آپ اعجازکی روش اپنائیں گے معجزاتی طریقہ سے عدل قائم کریں گے یہی مفہوم عام افراد کے ذہن میں راسخ ہے کہ امام علیہ السلام معجزاتی طریقہ سے پورے عالم پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عام لوگ امام علیہ السلام کی تحریک، آپ کی دولت کے قیام کی کیفیت اور اس کے لئے بنیادی اور اسکے صحیح مفہوم سے ناواقف ہیں۔
اس پردلائل
روایت ہے کہ آپ کے پاس سارے انبیاءوالے معجزات ہوں گے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ: مہدی علیہ السلام میری اولاد سے ہیں ان کے لئے غیبت ہو گی حیرانگی اور سرگردانی ہو گی، اس میں ساری اقوام گمراہ ہو جائیں گی آپ انبیاءعلیہم السلام کے ذخیرہ کو لے کر آئیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۵۳۳ حدیث ۷۸۵)
محدث حرالعاملی اپنی اثبات الہداة میں فضل بن شاذان سے اپنی اسناد کے واسطہ سے عبداللہ بن ابی یعفور سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابوعبداللہ جعفر بن محمد(صلوات اللہ علیہھا وعلی آبائھا وابنائھا) نے فرمایا : انبیاء علیہ السلام اور اوصیاءکے معجزات سے کوئی معجزہ ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس جیسے معجزہ کو ہمارے قائم علیہ السلام کے ہاتھ پر جاری فرمائے گا تاکہ سارے دشمنوں پر اتمام حجت ہوجائے۔
(اثبات الہداہ ج ۷ ص ۷۵۳ حدیث ۷۳۲)
۲ ۔ جو روایات میں آیا ہے کہ آپ کی قدرت اور قوت آ پکا علم اور آگہی غیر معمولی ہو گی اور عام قوانین کے دائرہ سے ماورا ہو گی جس سے آپ پوری دنیا کو پلٹ کر رکھ دیں گے اور یہ وہ چیز ہے جس سے صاحب الزمان علیہ السلام کے لئے ولایت تکوینی کا عنوان ہے۔ بعد میں اس بارے بیان ہوگا۔
۳ ۔ روایت میں آیا ہے کہ ساری زمین آپ کے لئے سمٹ آئے گی آپ بادلوں میں گھومیں گے آپ کے اصحاب پانی کی سطح پر چلیں گے فرشتوں سے آپ کی مدد ہو گی جبرئیل علیہ السلام آپ کے دائیں میکائیل علیہ السلام آپ کے بائیں ہوں گے اور جو روایات زمین زلزلوں، زمین کے پھٹنے بارے میں ہیں جیسا کہ گذر چکا ہے ۔ ان مضامین پر مشتمل روایات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی ساری تحریک معجزاتی ہو گی اس میں قتل مار دھاڑ یا مسالمت آمیز رویوںکازیادہ کردار نہ ہوگا۔
سوالات
۱ ۔ پچھلے دو اسلوب بارے جو روایات ہیں ان کا کیا بنے گا۔
۲ ۔ عسکری تیاری بارے جو روایات ہیں، فوج بنانے، اسلحہ ذخیرہ کرنے ، جنگی تربیت لینے والی روایات کا کیا بنے گا۔
۳ ۔ اس کالازمہ یہ ہے کہ آپ یہ سب کچھ طاقت رکھنے پر خاموشی میں ہے یہ سارا ظلم ہو رہا ہے اگر عدالت کے نفاذ نے اعجازی طریقہ سے ہی ہونا ہے اور یہی تنہا راستہ ہے تو پھر اتنی لمبی غیبت کیوں؟ اب تک امام علیہ السلام کا صبر کس لئے؟ آپ نے غیبت صغریٰ کے دوران قیام کیوں نہیں کیا؟ آپ اس دوران ہی اپنے اس اسلوب کو استعمال کرتے اور ظلم کا خاتمہ کر دیتے۔
تو کیا امام زمانہ علیہ السلام یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنین کی ایک کمزور جماعت ظلم برداشت کرتی رہے، قتل ہوتے رہیں، ان کے سر اڑتے رہے، ان کی عزتیں لٹتی رہیں، ان کے اموال غارت ہوتے رہیں اور امام سب کچھ دیکھتے رہیں اگر یہ مان لیںتو پھر آپ امام عدل نہیں ہیں؟ کچھ اور ہی ہیں (العیاذ باللہ)
چوتھا اسلوب پہلے اور دوسرے اسلوب کو استعمال کرنا ہے
قرآنی اور نبوی اسلوب کو استعمال میں لائیں گے، مسالمت آمیزدعوت بھی ہوگا اور جہاد بھی ہوگا، جہاں پر عدالت کے نفاذ میں رکاوٹ آئے گی تو اس رکاوٹ کو جہاد کے ذریعہ دور کریں گے سختی بھی کریں گے ضرورت پڑی تونرمی بھی کریں گے اور جزوی طور پر جہاں کہیں ویرانی کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کریں گے۔
اس کے دلائل
اس کے دلائل وہی ہیں جو پہلے اسلوب میں ذکر ہو چکے ہیں۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ دونوں اسلوب اکٹھے طولی شکل میں استعمال میں لائے جائیں گے جب ایک سے کام نہ چلے گا تو اس کے بعد دوسرا اسلوب استعمال میں لایا جائے گا۔
اس پر اعتراض: وہی اعتراض ہے جو اعجازی طریقہ کار کے بارے بیان ہوا ہے۔
پانچواں اسلوب
اس میں پہلے اور تیسرے اسلوب کو استعمال میں لایا جائے گا مسالمت آمیز دعوت کے ساتھ ساتھ اعجازی طریقہ کار بھی ہوگا اور ضرورت پڑنے پر جہاد بھی ہوگا۔
اس کی دلیل وہی ہے جو ان اسالیب میں بیان ہو چکی ہے۔
اس پر اعتراض
دوسرے اسلوب والی روایات ہیں اس کے علاوہ مسالمت آمیزدعوت اور اعجازی طریقہ کے درمیان ظاہری طور پر منافات موجود ہے اور اعجازی طریقہ کا روز مرہ وسیع پیمانے پر قتل کاجاری رہنا بھی ہے اور زمین بوس دشمنوں کو کردینابھی ہے مگر یہ کہ اس مقام پر سائنسی اعجاز مراد لیا جائے جو مسالمت آمیز دعوت کو مکمل کرنے والا ہے یہ احتمال موجود ہے بلکہ ایسا ہونا یقینی ہے کہ روایات میں ہے کہ زمین اور آسمان اپنے خزانے کھول کر رکھ دیں گے۔(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۶۸)
جو روایت میں آیا ہے کہ آپ ہر قسم کی تباہی اور بربادی کا خاتمہ کر دیں گے اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں وسیع پیمانے پر ترقی ہو اور جس سے ان خطرات کا ازالہ ہو جوزمین زلزلوں، آسمانی آفات سے رونما ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا بوجہ ان اعمال کے جو کچھ ان انسانوں نے انجام دیا یہ اس لئے ہوا تاکہ وہ اپنے ان اعمال کا کچھ مزہ چکھ لیں جو انہوں نے انجام دیئے ہیں یہ بھی ان کی تنبیہ کے لئے شاید کہ وہ واپس پلٹ آئیں( اور اللہ کی اطاعت میں آجائیں)(سورہ الروم آیت ۱۴)
چھٹا اسلوب
دوسرے اور تیسرے اسلوب کو ملا کر کام کرنا ہے، جہاد ہوگا اور اعجاز ہوگا اور یہ طولی شکل میں ہوگا جہاں پر جہاد کمزور پڑرہا ہوگا وہاں معجزہ اسے مضبوط کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔
اس کی دلیل وہی ہے جو ان دو اسلوب میں دی جا چکی ہے اس پر اعتراض وہی ہے جو ان تین اسالیب کو بیان کرتے وقت ذکر ہوچکا ہے۔
ساتواں اسلوب
تینوں اسالیب کو طولی شکل میں استعمال کیا جائے گا یعنی آغازمسالمت آمیز دعوت سے ہوگا، موعظہ حسنہ ہوگا، دلیل اور منطق سے لوگوں کو متوجہ کیا جائے گا، حق کی طرف بلایا جائے گا، پیار و محبت سے سمجھایا جائے گا جب اس انداز کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اور آواز حق کو دبایا جائے گا تو پھر اس دعوت کے سامنے آنے والی رکاوٹوں کو توڑنے کے لئے جہادی عمل شروع کیا جائے گا اگر جہادی عمل میں مشکل سامنے آئی اور کامیابی میں رکاوٹ آنے لگی تو اس وقت اعجاز اور معجزہ درمیان میں آئے گا اور فتح یقینی ہوگی۔
عقلی اور شرعی دلیل
عقلی دلیل اپنے ہدف اور غرض کو توڑنا عقلاءکی سیرت کے خلاف ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام سیدالعقلاءہیں وہ کس طرح اپنی غرض کو توڑ سکتے ہیں کس طرح ایسا کام کریں گے جس سے انکا مقصد ہی فوت ہو جائے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے خروج اور قیام کی غرض و غایت عدالت کا نفاذ ہے ایسی عدالت جو پورے کرہ ارض کو شامل ہو تاکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی خالص عبادت کے لئے خلق فرمایا ہے وہ غرض حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں“(الذاریات آیت ۶۵)
جو چھ اسالیب پہلے بیان ہو چکے ہیں وہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ پر تنہا اس غرض کو پورا نہیں کرتے کیونکہ اگر تنہا جہادی طریقہ ہو تو اس سے تباہی و ویرانی توڑ پھوڑ، قتل و غارتگری اورنفرتیں ہوں گی اس سے جدید ترین ، تباہ کن اسلحہ کے استعمال سے فضاءآلودہ ہو گی اور یہ اس قتل کی کثرت کی وجہ سے ہوگاجو عدالت کے منافی ہے بلکہ ظلم کے مقدمات سے ہے ۔
مثال امام علیہ السلام کسی ایک شہرمیں وارد ہوتے ہیں اور پھر وہاں جنگ کرتے اور اسی فیصد آبادی کو مار دیتے ہیں تو اس اقدام پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ امام علیہ السلام نے عدل قائم کیا اور زمین سے ظلم ختم کیا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ زمین والوں کا صفایا کر دیا اور تھوڑے سے تسلیم ہو گئے یہ بات ہدف کے منافی ہے۔سومیں سے اسی افراد کو قتل کر دیا جائے اور بیس افراد کو زندہ رکھا جائے تو یہ بات بھی ہدف کے منافی ہے۔
۲ ۔ اگر مسالمت آمیز دعوت کو استعمال میں لایا جائے اور دوسرے ذرائع استعمال میں نہ لائے جائیں تو یہ بھی کافی نہیں کیونکہ غرض اس انقلاب سے یہ ہے کہ پورے عالم میں عدالت کا نفاذ ہو جب کہ مختلف تہذیبیں ہیں ایک وسیع و عریض زمین پر رہنے والے انسانوں کے مزاجوں کا اختلاف ہے ان کی زبانیں مختلف ہیں پھر یہ بھی ہے کہ اکثریت پرظلم و زیادتی کا راج ہے تباہ کن اسلحہ بھی موجود ہے اور کوئی ظالم حکمران اپنی حکومت اور تسلط کو آسانی سے نہ چھوڑے گا۔مسالمت آمیزدعوت جو متعارف ہے اسے ابتدائی سطح کے چھوٹے معاشرہ میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے تو دعوت کا یہ انداز زیادہ فائدہ نہ دے گا بلکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اس طریقہ کا استعمال کمزوری سمجھا جائے گا۔یہ اس صورت میں ہے جب ہم یہ کہیں کہ اس قسم کی دعوت امام علیہ السلام کی حکومت کے لئے اس معقول عرصہ میں ہدف کو پورا کر دے گی جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت نبی اکرم ایک اسلامی حکومت کوقائم کرتے ہیں(پوری عدالت پورے معاشرہ میں نافذ نہیں کرپاتے کیونکہ خود مدینہ میں منافقین، یہود و نصاریٰ، مشرکین تک موجود رہے اسی طرح جب مدینہ سے باہر اس کا دائرہ وسیع ہوا تب بھی کامل سطح پر اور ہر ایک کے لئے عادلانہ حکومت کا نفاذ نہ ہوا)اور وہ بھی ایک بہت سارے محدود ماحول میں دنیا کے ایک بہت ہی چھوٹے سے حصہ پر اس کے لئے بھی بیس سال لگ جاتے ہیں یہ نتیجہ ہے مسالمت آمیز دعوت کاہے، اس تناظر میں غور کریں کہ آپ کے نواسے حضرت امام مہدی علیہ السلام جو پورے عالم میں ایک عادلانہ اسلامی حکومت قائم کرنا چاہیں گے اور وہ بھی ایسے ماحول میں کہ جہاں پر تباہ کار اسلحہ کی بھی بھرمار ہو، ظالموں اور ستمگروں کا راج ہو، ان کے پاس بھی سارے زندگی کے وسائل موجودہوں تمام معاشی ذرائع پر ان کا کنٹرول ہو ، ذرائع ابلاغ بھی ان کے پاس ہوں، جدید ٹیکنالوجی بھی وہ رکھتے ہوں، اس پوری زمین پر عدالت کے نفاذ کے لئے کس قدر وقت درکار ہو گا، اتنے بڑے معاشرہ کی حضورپاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ والی سول سوسائٹی جس پر آپ نے اسلامی حکومت قائم کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے پھر ایسی عدالت کا نفاذ کہ پوری آبادی عصمت کے مقام پر پہنچ جائے کہ کوئی بھی مجرم نہ رہے سب اچھے بن جائیں، نیک ہوں، تو ایسا طریقہ ہے کہ اس ذریعہ سے تو سو سال میں بھی یہ مقصد پورا نہ ہوگا، اور یہ بھی اگر فرض کر لیں کہ آپ کی مسالمت آمیزدعوت، منطقی انداز اور تبلیغی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے گی آپ کو موقع دیا جائے گا کہ آ پ اپنی بات سب انسانوں سے کر سکیں تو اس طرح آپ کی طولانی غیبت کے بعد ظہور اوروہ بھی اس مقصد کے لئے تو یہ اصل ہدف کو توڑنے والی بات ہے اور غرض کے منافی ہے۔
۳ ۔ اگر اسلوب اور روش فقط اعجازی ہو، مسالمت آمیز دعوت نہ ہو تو یہ طریقہ بھی تبا ہی اور بربادی لائے گا، ویرانی ہو گی اگر امام علیہ السلام پورے عالم میں مختلف حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے زمینی زلزلے، آسمانی آفات کااستعمال کریں گے، ہر جگہ معجزہ سے ویرانی کریں گے اور بڑی مقدار میں انسانوں کو مار ڈالیں گے تو بھی غرض کے منافی ہے وہ تو انسانوں کو خوشحالی دینے آئیں گے انسانوں پر عدالت کا نفاذکرنے آئیں گے نہ کہ انسانوں کو مارنے آئیں گے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ سابقہ طریقے اور رویے جو بیان ہوئے ہیں ان کو اگر تنہا تنہااستعمال میں لایا جائے تو اس سے مقصد و غرض حاصل نہیں ہوتا لہٰذا ان تینوں طریقوں کو استعمال میں لایا جائے گا جہاں جس طریقہ کی ضرورت ہو گی وہاں پر وہی طریقہ اپنایاجائے گا، دعوت بھی ہو گی،معجزہ بھی ہوگا، جنگ بھی ہوگی ۔
امام علیہ السلام کے طریقہ اور روش بارے شرعی دلیل
۱ ۔ جوروایات گزر چکی ہیں کہ آپ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر چلیں گے اسی طرح آپ قرآن کی طرف دعوت دیں گے اور اسی پر عمل کرنے کا لوگوں سے کہیں گے اور قرآنی اسلوب کو اپنی عملی زندگی میں لائیں گے۔
ان روایات میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آپ نبی اکرم کی دعوت کے جو بھی طریقے تھے آپ ان سب کو استعمال میں لائیں گے آپ کا سارا عمل اور پروگرام اسی کا تسلسل ہے۔آپ مسالمت آمیز طریقہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لئے استعمال کریں گے موعظہ حسنہ اور حکمت ودانائی کو استعمال میں لائیں گے اس طریقہ پر لوگ سیدھے نہ ہوئے، سرکشی کی گئی اور منافقوں اور کافروں نے انکار کر دیا اور حقائق کو توڑ مروڑ دیا حق بات سننے کے لئے تیار نہ ہوئے اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں تو پھر جس طرح نبی اکرم نے اسلحہ کا استعمال کیا جنگیں کیں آپ بھی ایسا ہی کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ حق کی طرف آجائیں اور حق اور اسلام کے انکار سے باز آجائیں۔
پھر اگر دعوت دینے، جہاد میں کامیابی کے لئے غیبی امداد اور معجزہ کی ضرورت پیش آئے تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کی مدد فرشتوں کے ذریعہ کی اور دیگر معجزات بھی آپ کے وسیلہ سے وقوع پذیر ہوئے اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے بھی ہوگا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے عام اسالیب اور طریقوں کو بالترتیب تدریجی اورطولی(سیدھ میں)حساب سے استعمال کیا۔ دعوت مسالمت آمیزطریقہ سے وہی موعظہ حسنہ اور حکمت ، دلیل و منطق سے بات کی اس میں رکاوٹیں ہٹانے کے لئے جنگ و جہادبھی کیا اور ہر دو طریقوں میں کامیابی کے لئے معجزہ اور غیبی امداد کا استعمال اس بارے روایات بھی موجود ہیں اور قرآنی آیات میں بھی یہ مطلب بیان ہوا ہے۔
حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام کی روایت میں آیا ہے:
”بتحقیق اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اسلام دے کر دس سال کے لئے بھیجا تو لوگوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جنگ کا حکم دیا پس خیر اور برکت تلوار میں اور تلوار کے سایے تلے اور بات ایسی طرف پلٹے گی جیسا اس کا آغاز تھا یعنی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت وہی کچھ ہوگا جو آغاز اسلام میں ہوا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام قرآن پر عمل کرنے کی دعوت دیں گے جیسا کہ روایات میں ہے قرآن پہلے اسلوب کو پیش کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیتا ہے اسی طرح قرآن دوسرے اسلوب کی بات کرتا ہے اور جہاد کا حکم دیتا ہے بہت ساری آیات میں یہ حکم موجود ہے کچھ تو نبی اکرم سے مخصوص آیات ہیں اور کچھ آیات میں حکم عمومی ہے اور ہر زمانہ کو شامل ہے۔
بہرحال تیسرا اسلوب اعجازی اور معجزہ کا طریقہ ہے چاہے ہم معجزہ کامعنی عادی اور طبیعی قوانین کو توڑنے سے کریں جیسا بلقیس کے تخت بارے آیا ہے کہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصی، بلقیس کے عرش کو لے آیا یمن سے بیت المقدس تک ایک لمحہ بھی صرف نہ ہوا جیسا کہ سورہ نمل آیت ۰۴ میں ہے۔اعجاز اور معجزہ اس معنی میں قرآن میں موجود ہے یا اس کی تفسیر اس طرح کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء علیہ السلام اور اولیاءکی مدد فرشتوں کے ذریعہ فرماتا ہے اور اس غیبی امداد سے ان کی تقویت کرتا ہے جیسا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایسا ہی ہوا جیسا کہ بہت سارے مقامات میں قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہوا ہے اس مضمون کی بہت ساری آیات ہیں۔”(اے رسول)اس وقت تم مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے آسمان سے بھیج کر تمہاری مدد کرے (ہاں ضرور کافی ہے)بلکہ اگر تم ثابت قدم رہو اور (رسول کی مخالفت سے)بچو اور کفار اپنے (جوش میں) بھی تم پر چڑھ بھی آئیں توتمہاراپروردگار ایسے پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جو نشان جنگ لگائے ہوئے ڈٹے ہوئے ہوں گے“(سورہ آل عمران آیت ۴۲۱،۵۲۱ ۔ پارہ ۴)
اعجاز اس معنی میں قرآن کے اندر موجود ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ جب حضرت امام مہدی علہ السلام قرآن پر عمل کی دعوت دیں گے تو یہ دعوت قرآن میں اعجاز بارے موجود آیات پر عملی دعوت بھی ہو گی پس تینوں اسالیب قرآن میں ذکر ہوئے ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں ان تینوں پر عمل ہوگا۔
طولی حساب سے ان تینوں کے استعمال پر عقلی دلیل موجود ہے جو پہلے بیان ہو چکی اسی طرح بعض آیات میں جو آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت نبی اکرم کی امداد کے لئے آسمان سے اتارا جس وقت مسلمان دشمن کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئے تھے جیسا کہ جنگ حنین میں ہوا اسی طرح روایات میں جو چھ اوپر بیان ہوئی ہیں وہ ان اسالیب کی ترتیب کو بھی بیان کرتی ہے۔
ان میں سے ایک یہ روایت ہے کہ ابوبکر کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابوالحسن علیہ السلام سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کا جو فرمان ہے کہ ”( وَلَهُ اَسلَمَ مَن فِی السَّمٰوَاتِ وَالاَر ضِ طَوعاً وَ کَرهاً ) “(سورہ آل عمران آیت ۳۸)” جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے وہ سب اس کے لئے تسلیم ہوگا اور اسلام لے آئے گا“۔
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ آیت قائم علیہ السلام کے بارے اتری ہے جس وقت یہودی، نصرانی، عیسائی، زنادقہ اور مرتدین، مشارق و مغارب میں بسنے والے کافر ان سب پر آپ اسلام پیش کریں گے جو آرام سے اور اپنے اختیار و ارادہ سے مسلمان ہو جائے گا تو اسے نماز اور زکات کا حکم دیں گے اور اس بات کا حکم دیں گے جو ایک مسلمان کو دیا جاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر واجب کیا ہے اور جو مسلمان نہیں ہوگا تو اس کی گردن اڑا دیں گے اس طرح مشرق زمین اور مغرب زمین میں کوئی ایک بھی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے عقیدہ پر آجائے گا۔(البحار ج ۳۱ ص ۸۸۱)
میری جان ان پر قربان کہ آپ اسلام ان سب پر پیش کرنے کے بعد انہیں قتل کرنے کا حکم دیں گے اور یہ بات کہ انہیں نماز اور زکات کا حکم دیں گے تو یہ انہیں اسلام کی تعلیمات دینے کے بعد کریں گے اسلامی احکام کی انہیں تعلیم دے کر ان واجبات کے ادا کرنے کا انہیںحکم دیں گے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے موافق ہے۔
(سورہ الاسراءآیت ۰۵۱)
جو ہدایت پا لیتا ہے تو وہ اپنے لئے ہدایت پاتا ہے خود اسی کا فائدہ ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے بھٹک جاتا ہے تو یہ بھی اس کے اپنے نقصان میں ہے کسی ایک کا جرم دوسرے پر نہیں ڈالا جاتا ہے اور ہم تو کسی ایک کو سزا نہیں دیں گے مگر ان کے پاس اپنا پیغام دینے والا بھیجنے کے بعد جب وہ اس کا انکار کر دیں تو پھر انہیں سزا دیتے ہیں۔(قرآن)
یہ بات بنیادی مقصد کے بھی موافق ہے اوراسی سے کمال مطلق کا تحقق اور اسلامی تربیت کا حصول ہے تاکہ واحد اَحَد مالک حقیقی کی عبادت اس پوری دھرتی پر ہو، آغاز ہی میں قتل،ماردھاڑ سختی غرض کے حصول میں رکاوٹ بنے گی کیونکہ اگرروئے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کو قتل کردینا ہے اورمعجزات کے ذریعہ بڑے بڑے شہروں کو تباہ کرنا ہے تو پھر روئے زمین پر کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا،جو کچھ روایات میں ہم پڑھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس غرض کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل و جنگ و جدال ہوگا، قتل و تباہی، ویرانی توزمین میں زلزلے اصل ہدف نہیں بلکہ ہدف تک پہنچنے کا وسیلہ ہےں یا تویہ ایک ذریعہ ہے یا پھر آخری وسیلہ ہے، جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت میں ہے ”قیامت کی گھڑی قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس سے پہلے ان مخالفین پر میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد قیام کرے گا اور ان مخالفین کی گردنیں اڑائے گا تاکہ وہ سب حق یعنی اسلام کی طرف آجائیں“۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے”جس وقت اللہ تعالیٰ حضرت قائم علیہ السلام کو خروج کا اذن عطا فرمائیں گے تو حضرت قائم علیہ السلام لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے انہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیں گے کہ وہ آپ کی تائید کریں انہیں حق کی دعوت دیں گے اورآپ ان لوگوںمیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر چلیں گے اور ان میں رسول اللہ جیسا عمل کریں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیجے گا حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئیں گے اور رکن حطیم پر اتریں گے پھر وہ آپ سے سوال کریں گے کہ آپ کس چیز کی دعوت دے رہے ہیں تو حضرت قائم علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اپناپروگرام بتائیں گے۔
اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھ کر یہ کہیں گے کہ اس کے لئے تو سب سے پہلے میں آپ علیہ السلام کی بیعت کرتا ہوں وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ مَس کریں گے اس دوران تین سوسے کچھ اوپرافراد آپ علیہ السلام کے پاس پہنچ جائیں گے اور وہ سب آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کریں گے آپ علیہ السلام مکہ میں قیام فرمائیں گے کہ آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد دس ہزار ہو جائے گی پھر مکہ سے مدینہ کی جانب جائیں گے۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۷۳۳ باب ۷۲ ذیل ۸۷)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی دعوت کے مراحل
اس میں شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام منبر پر جائیں گے اور منبر پر جا کر لوگوں کو دعوت دیں گے اپنی طرف بلائیں گے انہیں اپنا پروگرام بتائیں گے وگرنہ جنگ، حرب اور قتل کر دینے کے بعد دعوت دینے کا کوئی معنی نہیں ہے ۔
جناب بشیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت ابوجعفر علیہ السلام سے عرض کیا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ بتحقیق جس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام قیام کریں گے تو سارے معاملات بغیر نقصان کے درست ہو جائیں گے کوئی قطرہ خون کا نہیں گرے گا کوئی کھوپڑی نہیں اڑے گی۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:ایسا تو ہرگز نہیں ہوگا اگر کسی ایک کے لئے سارے معاملات بغیر نقصان اور تکلیف اٹھائے درست ہو جائیںتو پھر یہ سب کچھ حضرت رسول اللہ کے لئے ہو جاتااور بغیر تکلیف اٹھائے آپ کامیاب ہوجاتے جب کہ آپ کی رباعیہ ٹوٹ گئی(دانت ٹوٹ گئے)ان کا چہرہ زخمی ہو گیامجھے میری جان کی قسم ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ہم ان سختیوں کی وجہ سے اپنی پیشانیوں سے خون کے چھینٹے پونچھیں گے پھر آپ نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔اس حدیث سے یہ بات روشن ہوتی ہے کہ امام علیہ السلام کے لئے یہ دعوت بغیر نقصان کے پوری نہیں ہو گی اور نہ ہی اسے استحکام ملے گا اور حضرت نبی اکرم کے لئے بھی ایسا نہیں ہوگا ہر قسمی اسلوب اور طریقہ اپنایا جائے گا اور ہم نے یہ جوکہا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلوب و طریقہ اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اسلوب وطریقہ میں وحدت اور یک رنگی ہو گی اس کا معنی یہی ہے۔
۲ ۔ روایت میں لفظ (عفو)تھا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی دعوت عَفَوی ہو گی، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ دعوت اچانک ہو گی اور مفت میں ہو گی اس کے لئے کسی عمل اور محنت کی ضرورت نہ ہو گی اور نہ ہی اس دعوت کے لئے منصوبہ بندی اور کسی قسم کی تیاری کی قدرت ہو گی نہ قربانی دینی پڑے گی بلکہ بڑے آرام سے سب کچھ ہو جائے گا پر سکون ماحول میں سب کچھ انجام پائے گا تو یہ بات کسی ایک کے بھی نصیب نہیں ہوئی تو یہ ان کے لئے کیسے انجام پا سکتی ہے جو رسول کریم ہیں، خاتم الانبیاءہیں،انہوں نے اپنے پروگرام کو پیش کیا اس کے لئے منصوبہ بندی کی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام خاتم الاولیائ، مہدی منتظر ہیں، آپ اپنی دعوت کے لئے منصوبہ بندی کریںگے اس راستے میں تکالیف اٹھائی ہیں، خون بھی بہایا جاتا ہے، کام آسان نہیں ہے، آخری حجت کا کام اور بھی سخت اور دشوار ہوگا۔
ظہور امام علیہ السلام کے لئے جلدی
روایت میں آیا ہے کہ تم کس لئے امام قائم علیہ السلام کے خروج کے لئے جلدبازی میں پڑے ہو(یعنی یہ چاہتے ہو کہ ابھی ابھی خروج ہو جائے جب کہ تم نے کوئی تیاری بھی نہیں کی ہے اوریہ سمجھ رہے ہو کہ سب کچھ اسی طرح انجام پائے گا بڑی آسانی ہو گی)
خدا کی قسم!ان کا لباس کھردرا، موٹا ،ہوگا، ان کی غذا سخت ہو گی، لذیذ نہیں ہو گی،ان کے ساتھ تو تلوار ہو گی، جنگ ہو گی(یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان کی آمد پرفوراً ہر طرف ہریالی ہو جائے گی، غذائی اجناس کی فراوانی ہو گی، لذیذ غذائیں ملیں گی، آرام و سکون ہوگا، بلکہ غذا تھوڑی اور وہ سخت قسم کی اور غیرمزیدار ، پھر جنگیں بھی ہوں گی۔سختیوں اورمشکلات کے بعد آرام ہوگا)(غیبت نعمانی ص ۲۵۱)
قتل و غارتگری کی یہ روایات اور اس مضمون کی اور روایات یہ بتا رہی ہیں کہ حکومت کے قیام کے لئے دوراندیشی، منصوبہ بندی، قربانی، جہاد کی ضرورت ہو گی پس جو ایمان لے آیا تو اس کے لئے وہی ہو گا جو سب مسلمانوں کے لئے ہے اور جو مسلمانوں کے لئے ضرررساں ہیں ان کے لئے بھی ہوگا یعنی وہ مسلمانوں کے نفع و نقصان میںحصہ دار ہوں گے اور جس نے انکار کر دیا تو اس کے خلاف جنگ ہو گی اتنی جنگ کہ یا تو وہ مسلمان ہو جائے یا پھر قتل کر دیا جائے یہ حضرت رسول اللہ کی سیرت ہے اور وہی ان کے پَرتَو سے اور ان کے ہمنام مہدی منتظر کی سیرت ہو گی۔
جی ہاں! اس جگہ ایک فرق ملحوظ خاطر رہے اور وہ یہ کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہرپر حکم لگاتے تھے جب کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام واقعیت کے مطابق حکم لگائیںگے کہ اس طرح کوئی منافق نہ رہے گا،جو کہے گا میں مسلمان ہوں تو اگر اپنے بیان میں سچا ہوگا تووہ بچے گا اس کے ظاہری قول پر اسے معاف نہ کر دیا جائے گا ظاہری اقرار اگرتو باطنی اعتقاد کا مظہر ہوگا تووہ بچے گا وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے گا اس طرح پوری دھرتی کو کافروں، منافقوں، ملحدین، مشرکوں، یہودیوں، نصرانیوں، مرتدوں سے پاک کر دیا جائے گا البتہ اس سے پہلے دعوت دی جائے گی ان کواپنا پروگرام بتایا جائے گا، دلیل و منطق سے بات ہو گی موعظہ حسنہ اور دعوت سلیمہ ہو گی اس کے بعد مخالفین، سرکشوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو گی راستے دو ہی ہوں گے۔
( ۱) اسلام لے آو ۔ خدا کے ہو جاو، آرام اور سکون سے رہو۔
( ۲) یا مخالفت کا اعلان کرو اورقتل ہونے کے لئے تیار ہو جاو۔
( ۳) تیسری صورت منافقانہ ہے ظاہر میں دعوت قبول کر لیں باطن سے مخالف ہوں تو ایسی حالت ہرگزقبول نہ ہوگی۔
ایک اور فرق بھی بعد میں بیان کیا جائے گا اور توبہ کے مسئلہ میں آئے گا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام اور امرجدید
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے ، قائم امر جدید لے کر قیام کریں گے کتاب جدید ہو گی، فیصلہ جدید ہوگا، عربوں پر شدید ہوگا آپ کی روش تلوار ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے بارے کسی قسم کی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔(غیبت نعمانی ص ۲۲۱)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جب حضرت قائمعلیہ السلام خروج کریں گے تو وہ کیا کیا اقدامات اٹھائیں گے تو یہ جان کر ان لوگوںکی خواہش یہ ہو گی کہ کہ لوگ انہیں نہ دیکھیں بوجہ اس خبر کے کہ وہ لوگوں کو قتل کریں گے ۔ آگاہ رہو کہ وہ اس کا آغاز قریش سے کریں گے ان کے ساتھ سوائے تلوار کے کوئی اور رویہ نہ اپنائیں گے، تلوار اتنی چلائیں گے کہ آپ علیہ السلام کا یہ عمل دیکھ کر بعض لوگ یہ کہیں گے کہ لگتا ایسا ہے کہ یہ تو آل محمد علیہم السلام سے نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ آل محمد علیہم السلام سے ہوتے تو رحم کرتے۔(غیبت نعمانی ص ۲۲۱)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام: میرے والدین ان پر قربان جائیںجو کنیزوں سے بہترین کا بیٹا ہے وہ انہیں زلزلے اورزمین کے دھنس جانے سے ھانکے گا اور انہیں سخت موت کے مزے چکھائے گا وہ انہیں تلوار کی نوک پر لے گا اس وقت قریش قبیلہ فاجر اور بدکردار لوگ یہ تمنا کریں گے کہ کاش! ان کے دنیاوی مفادات کا تحفظ کسی طرح ہو جاتا ان کے لئے معافی نہ ہو گی اور ان سے اس وقت تک ہاتھ نہیں اٹھائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے وہ لوگ یہ چاہیں گے کہ ان سے کوئی دنیاوی مال و متاع لے لیتا اور انہیں مارتا نہیں، لیکن ان کے مظالم اور خراب کاریاں اس حد تک ہوں گی کہ ان کے لئے سوائے قتل کے معافی نہ ہوگی۔(مترجم)(غیبت النعمانی ص ۰۲۱)
حضرت امام جواد علیہ السلام کی روایت میں ہے آپ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اس حد تک قتل کریں گے کہ خدا آپ پر راضی ہو جائے۔(کفایة الاثر ص ۲۸۲)
یہ چند نمونے تھے کہ آپ علیہ السلام ظہور فرمانے کے بعد تخریب کاروں کو، فاسقوںکو، فاجروں کو، مفسدوں، فتنہ بازوں کو، ظالموں جابروں کو اتنا قتل کریں گے کہ آپ کے ساتھی بھی یہ منظر دیکھ کر گھبراجائیں گے۔ آپ ان جرائم کی معافی نہ دیں گے۔
ان روایات سے ایسا لگتا ہے کہ آپ دعوت دینے سے پہلے قتل کریں گے لیکن اس بارے ذیل کا تجزیہ ملاحظہ کریں۔
حضرت قائم علیہ السلام قتل سے پہلے دعوت دیں گے
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دعوت دینے سے پہلے قتل کرنا شروع کر دیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امام مہدی علیہ السلام انہیں اسلام کی طرف دعوت نہ بھی دیں تو وہ لوگ حضرت قائم علیہ السلام کے ساتھ جنگ شروع کر دیں گے جب کہ یہ قتل و قتال اور جنگ اس لئے ہو گی کہ وہ انہیں اسلام پر لانے کے لئے دعوت دینے والے ہوں گے اور وہ دنیائے اسلام کی امامت کرنے والے ہیں اور مسلمانوں کی قیادت اور رہبری سنبھالنے والے ہیں۔
(آپ کا جب ظہورہوگا تو آپ کی آمد سے پہلے خود مسلمان ممالک میں ایسے گروہ موجود ہوں گے جو خود دعویدار ہوں گے کہ انہوں نے اسلام لانا ہے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنوں میں سے بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے اور ہر اس طاقت سے جنگ کریں گے جو انہیں اصلی اسلام کی طرف دعوت دیں گے جب حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا اعلان کعبة اللہ میں ہوگا تو آپ ان بکھرے ہوئے، منتشر اور حقیقی اسلام سے دور مسلمانوں کو اپنے پہلے خطاب میں دعوت دیں گے اور اپنے برحق ہونے کے دلائل بھی دیں گے انہیں قرآن اور سنت سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے تو مسلح گروہ آپ کی بات کو نہ سنیں گے اور آپ علیہ السلام پر چڑھائی کر دیں گے اور آپ علیہ السلام کے حامیوں کو مارنا شروع کر دیں گے تو اس حالت میں آپ علیہ السلام پر جنگ کو مسلط کر دیا جائے گا تو آپ علیہ السلام بھی حق کے دفاع کے لئے جنگ کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جنگ کا آغاز نہیں کرنا، آپ علیہ السلام کے مخالفین جنگ کا اعلان کریں گے آپ علیہ السلام ان کا مقابلہ کریں گے اور اس میں کسی پر رحم پھر نہ کریں گے۔ روایات اسی بات کو بیان کر رہی ہیں۔مترجم)
اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے۔
حضرت امام ابوعبداللہ صادق علیہ السلام: آپ علیہ السلام مکہ میں اتریں گے اور اپنی تلوار کو اپنے نیام سے باہر نکالیں گے زرہ کو پہن لیں گے، اپنا پرچم لہرادیں گے(رسول اللہ کا مخصوص لباس) چادر، عمامہ پہن لیں گے اپنے ہاتھ میں عصا کو پکڑ لیں گے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے ظہور کی اجازت مانگیں گے تو ان حالات میں آپ کے بعض موالی ظاہر ہوں گے پس حسنی نامی شخص حاضر ہو کر آپ کو ایک خبر دے گا اور اس وقت حسنی خروج کرنے میں جلدی دکھائے گا اس پر مکہ والے ٹوٹ پڑیں گے اور وہ اسے قتل کر دیں گے اور اس کے سر کو کاٹ کر شام روانہ کردیں گے پس ان حالات میں صاحب الامر علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اورلوگ آپ کی بیعت کریں گے اورآپ کا ساتھ دیں گے تو اس صورتحال میں شامی مدینہ کی جانب اپنی فوج بھیج دے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی فوج کو مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک کر دے گا اس دوران جو بھی مدینہ میں موجود ہوگا وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا مدینہ چھوڑ کر جانے والے سب حضرت علی علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے اور ان کا رخ مکہ ہوگا اور وہ وہاںجا کر صاحب الامر علیہ السلام کے ساتھ مل جائیں گے صاحب الامر علیہ السلام عراق کی جانب بڑھیں گے اور آپ علیہ السلام ایک لشکر کو مدینہ بھیج دیں گے جو مدینہ والوں کو امن دے گا وہ لشکر مدینہ میں امن قائم کرے گا اوراس طرح جو مدینہ سے باہر چلے گئے تھے وہ مدینہ واپس آجائیں گے۔(الکافی ج ۸ ص ۵۲۲ حدیث ۵۸۲)
حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنا نمائندہ مکہ والوں کے پاس بھیجیں گے
حضرت ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام ایک طولانی حدیث میں بیان فرماتے ہیں:حضرت قائم علیہ السلام اپنے ساتھیوں سے کہیں گے اے قوم! مکہ والے تو مجھے نہیں چاہتے لیکن میں ان کی جانب اپنا نمائندہ بھیج رہا ہوں تاکہ ان پر احتجاج کیا جا سکے جیسا کہ میرے جیسے شخص کے لئے ضروری ہے،اپنے اصحاب میں سے ایک کو بلائیں گے اس سے فرمائیں گے کہ تم مکہ والوںکے پاس جاو اور ان سے یہ کہو اے مکہ والو!میں فلاں شخصیت (امام مہدی علیہ السلام)کی جانب سے تمہارے پاس نمائندہ بن کر آیا ہوں وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اہل بیت علیہ السلام رحمت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں، ہم ہی معدن و مرکز خلافت ہیں، ہم محمد کی ذریت ہیں اور انبیاءعلیہ السلام کی نسل اور اولاد سے ہیں، اس میں شک نہیں کہ ہمارے اوپر ظلم ڈھائے گئے، ہمارے ساتھ زیادتیاں کی گئیں ہمیں شکست سے دوچار کیا گیا ہمارا حق ہم سے چھین لیا گیا، ہمیں اذیتیں دی گئیںیہ سارے مظالم اس دن سے جس دن ہمارے نبی کا وصال ہوا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ہم تمہیں مدد کے لئے پکارتے ہیں تم سب ہماری مدد کرو....
جب یہ جوان (امام مہدی علیہ السلام کا نمائندہ)یہ گفتگو کرے گا تومکہ والے اس کے پاس آئیں گے اور رکن اور مقام کے درمیان اسے ذبح کردیں گے اور یہی شخص نفس زکیہ ہے۔
جب امام علیہ السلام کو یہ خبر ملے گی تو آپ اپنے اصحاب سے کہیں گے کہ میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ مکہ والے ہمیں نہیںچاہتے مکہ والے انہیںدعوت نہیں دیں گے بلکہ وہ خود عقبہ طوی سے تین سو تیرہ افراد کے ساتھ اتریں گے یہ تعداد بدر کے مجاہدوں کی تعداد کے برابر ہو گی،آپ مسجدالحرام میں پہنچیں گے مقام ابراہیم کے پاس آپ چاررکعت نماز پڑھیں گے اور حجر اسود کے ساتھ اپنی پشت لگائیں گے ان کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کریں گے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد کریں گے ان پر صلوات پڑھیں گے ایسی گفتگو کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے اس قسم کی گفتگو نہ کی ہو گی۔
ظہور امام علیہ السلام کے بعد بیعت کا عمل
اس وقت سب سے پہلے جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے وہ جبرئیل علیہ السلام ومیکائیل علیہ السلام ہوں گے اور ان دونوں کے ساتھ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام بھی آئیں گے اور آپ ایک جدید کتاب دیں گے جو عربوں پر بارگراں ہو گی جن پر تازہ مہر لگی ہوگی اور کہا جائے گا کہ جو اس پر تحریر ہے اس پر عمل کریں آپ کی بیعت تین سو(اورتیرہ)کریں گے ان میں مکہ کے افراد بہت تھوڑے ہوں گے۔
اسکے بعد آپ مکہ سے خروج کریں گے اس طرح کہ آپ ایک حلقہ کی مانند ہوں گے۔
راوی: حلقہ سے کیا مرادہے؟
امام علیہ السلام: آپ کے ساتھ دس ہزار مرد ہوں گے جبرائیل علیہ السلام آپ کی دائیں جانب اور میکائیل علیہ السلام آپ کی بائیں جانب ہوں گے پھر ”رایت ‘ اپنے خاص پرچم کو لہرائیں گے۔
حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام: تیرہ شہر اور تیرہ گروہ قائم علیہ السلام سے جنگ کریں گے اور آپ علیہ السلام ان سے جنگ کریں گے۔(غیبت نعمانی ص ۰۶۱)
حضرت امام مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد
۱ ۔ روایات میں جنگوں کے متعلق جو ذکر موجود ہے یہ ضروری نہیں کہ ان جنگوں کا آغاز حضرت امام مہدی علیہ السلام کریں گے۔ خاص کر اس روایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام مخالفین سے جنگ کاآغازکریں گے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ (امام کے مخالفین) امام مہدی علیہ السلام سے جنگ کریں گے اس کے بعد امام مہدی علیہ السلام بھی ان سے جنگ کریں گے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔
۲ ۔ یہ بات درست ہے کہ آپ علیہ السلام عربوں پر سخت ہوں گے آپ کے اور ان کے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی، آپ علیہ السلاماللہ تعالیٰ کے پیغام کی خاطر جو بھی کارروائی کریں گے اس میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے عربوں پر یہ بات گراں گزرے گی کہ انہیں کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے گی آپ علیہ السلامحق کے نفاذ کے لئے تلوار کا استعمال بھی کریں گے اس قدر عربوں سے جنگ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی بات کو بلند رکھنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہو جائے۔
۳ ۔ جو بات حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی حدیث میں ذکر ہوئی ہے اس وقت قریش کے فاجر و فاسق تمنا کریں گے کہ کاش! ان کے لئے کچھ دنیاوی مفادات کو بھی مدنظررکھاہوناتاکہ مال دنیا دے کروہ اپنی جان بخشی کرا لیتے لیکن ایسا نہیں ہوگا یا جو امام جواد علیہ السلام کی روایت میںہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضایت کے حصول تک آپ علیہ السلام جنگ کو جاری رکھیں گے اور اللہ کے دشمنوں کا قتل جاری رکھیں گے یہ بات اس پر دلیل ہے کہ آپ ایسے عربوں پر سخت ہوں گے جو تاجر مزاج ہوں گے مجرم ہوں گے، کافر ہوں گے ایسے افراد ہی تو اللہ کے دشمن ہیں انسانیت کے دشمن ہیں یہ قتل کئے جانے کے حقدار ہیں لیکن ایسے عرب حکمران اور ایسی عرب اقوام جو عدالت کے نفاذ کی انتظار میں ہیں، حق کی بالادستی ان کی آرزو ہے عدالت سے انہیں پیار ہے، اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں اور اسی آرزو پر زندہ ہیں تو ان کے لئے آپ علیہ السلام کا ظہورسوائے رحمت، شفقت، ہمدردی و پیار کے اور کچھ نہ ہوگا، امام علیہ السلام ان پر مہربان ہوں گے ان کے لئے رحیم ہوں گے ان پر شفیق ہوں گے۔
۴ ۔ یہ بات جو امیرالمومنین علیہ السلام کے بیان میں آئی ہے آپ علیہ السلامان سے ہاتھ اس وقت تک نہیں اٹھائیںگے جب تک اللہ تعالیٰ راضی نہ ہو جائے تواس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران قتل کرنا، مارنا، جنگ کرنا ایسا عمل ہو گا جس پر خدا راضی ہو گا اللہ تعالیٰ اپنے بندگان کے لئے کفر، گمراہی اور اتحاد کو نہیں چاہتا مگر یہ کہ لوگ خود ایسا اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں اور حق کے داعی کی بات کو قبول نہیں کرتے امام برحق کو نہیں مانتے عدالت نافذ کرنے والے کا انکار کرتے ہیں اور اس امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی سلطنت کی مخالفت کرتے ہیں جنہیںاللہ تعالیٰ نے اپنی زمین پر عدالت کے نفاذ کے لئے باقی رکھا ہوا ہے۔
میں اس جگہ یہ بات کہتا ہوں اس ساری گفتگو کا خلاصہ وہی بات ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے دعائے ندبہ میںہے جس میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے جہاد اور آپ کی دعوت کی کیفیت کو بیان کیا گیاہے۔
آپ نے اپنے دشمنوں کو ذلت و رسوائی اور سزا کے مزے چکھانے ہیں حق کے منکروں اور سرکشوں کا صفایا کرنا ہے آپ منکرین اور مغرور حکمرانوں کی بنیادوںکو اکھیڑ کر رکھ دیںگے اور ظالموں کی اصل اورنسل کا خاتمہ کردیںگے۔(مکیال المکارم ج ۲ ص ۰۹)
پس ان لوگوں کے خلاف امام علیہ السلام کی جنگ اس لئے ہو گی کہ وہ حق کے مخالف ہوں گے، عدالت نہیں چاہیںگے، انسانیت کے دشمن ہوںگے، دین نہیں چاہیں گے، آپ کا خروج ہی اسی لئے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے مخالفین ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے اور ظلم و جور کے اسباب ختم کر دیئے جائیں وہ اس لئے خروج کریں گے تاکہ عدالت کا نفاذ کریں، مظلوموں کو ان کا حق دلائیں ، امن قائم کریں۔
امن کے قیام کے لئے جوسات اسلوب بیان ہوئے ہیںان میں آخری اسلوب ہی صحیح ہے جس میں تینوں اسالیب اور طریقوں کو اکٹھاکر کے بیان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ چھٹی فصل میں ایک نئی بات ہم بیان کریں گے جو ان اسالیب سے کچھ مختلف ہو گی یا یوں جانیئے کہ ان اسالیب کوایک مناسب تبدیلی سے بیان کیا جائے گاجو بات طے ہے کہ عصرالظہور سائنسی ، تکنیکی وعملی ترقی کا دور ہو گایہ اس حالت سے مناسبت رکھتاہوگاعالمی سطح پر مختلف حکومتوں میں ان کی تبدیلی کے عشاق علماءسائنس دانوں، ادارہ جات، تنظیموںکاوجود اس عمل کو آسان کر دے گا اوربڑی تیزی سے عوام میں قبولیت آئے گی کہ وہ عدل و انصاف پر مبنی حکومت کو فوری قبول کرلیں گے ایسی حکومت جو علمی اور سائنسی بنیادوں پرقائم بھی ہو گی، ترقی پذیر ہو گی، امن کی ضامن ہو گی آئندہ صفحات میں اسے پڑھیے گا۔
حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبی سپورٹ ،حمایت
چوتھی فصل میں یہ بات گذر چکی ہے کہ جب ہم نے بتایا کہ امام علیہ السلام واقعیات اور اصل حقائق کے مطابق فیصلے دیں گے اور امام علیہ السلام کے درست اور صحیح فیصلے دینے کے متعلق روایات بیان ہوئیں، اس جگہ ہم اس بات کو کہنا چاہتے ہیں جو حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام سے یہ روایت موجودہے کہ آپ پر فرشتے اتریں گے جو حضرت نوح علیہ السلام کے لئے کشتی میں موجود تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہمراہ جب انہیں آگ میں پھینکا گیا جو فرشتے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے جب بنی اسرائیل کے لئے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور چار ہزار فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مسومین(نشان لگے) پھر ایک ہزار فرشتے۔مردفین(آگے پیچھے آنے والے)پھر تین سو تیرہ فرشتے بدریوں کی تعداد کے برابر اور چار ہزار فرشتے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کی مدد میں ان کے مخالفین سے جنگ کے لئے اترے اور انہیں جنگ کی اجازت نہ ملی اور وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر پراب بھی موجود ہیں۔ گردآلود حالت میں مسلسل رو رہے ہیں اور قیامت تک ان کی یہ حالت رہے گی ان کا سردار فرشتہ ہے جسے منصور کہا جاتا ہے کوئی بھی زائر زیارت کے لئے نہیں آتا مگر یہ کہ فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اس کو وداع کرنے پر اکتفاءنہیں کرتے بلکہ اسکے گھر تک اسے چھوڑنے جاتے ہیں اور پھر گھر میں بھی دس دن یا تین دن تک رہتے ہیں ان میں اگر کوئی مریض ہو جائے تو اسکی عیادت کرتے ہیں ان میں سے کوئی مر جائے تو اسکے جنازہ پر نماز پڑھتے ہیں اور اسکی موت کے بعد اس کےلئے استغفار کرتے ہیں اور یہ سب زمین پر موجود ہیں جو حضرت قائمعلیہ السلام کے خروج کا انتظار کررہے ہیں۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۸۲۳ باب ۷۲ ذیل ۸۴)
جب آپ ظہور فرمائیں گے تو یہ سب آپ کی مدد کے لئے آپ کے ہمراہ موجودہوں گے ۔
حق کی تائید میں قرآنی آیات
”اے ایماندارو!اگر تم خدا(کے دین)کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا“۔(سورہ محمد آیت ۷ ۔پارہ ۶۲)
”اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو خدا(قرآن کے ذریعہ سے)مزید ہدایت کرتا ہے“(سورہ محمدآیت ۷۱ ۔ پارہ ۶۲)
”اے میری قوم اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعا مانگو پھر اس کی بارگاہ میں(اپنے گناہوں سے)توبہ کرو تو وہ تم پر موسلا دھار مینہ آسمان سے برسائے گا(خشک سالی نہ ہوگی)اور تمہاری قوت میں اور قوت بڑھا دے گا اور مجرم بن کر اس سے منہ نہ موڑو“
(سورہ ہود آیت ۲۵ ، پارہ ۲۱)
”جن (مسلمانوں)سے (کفار) لڑا کرتے تھے چونکہ وہ (بہت)ستائے گئے اس وجہ سے انہیں بھی (جہاد کی)اجازت دے دی گئی اور خدا تو ان لوگوں کی مدد پر یقینا قادر(وتوانا)ہے۔ یہ وہ(مظلوم ہیں)جو(بیچارے)صرف اتنی بات کہنے پر کہ ہمارا پروردگارخدا ہے ناحق(ناحق)اپنے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے دور دفع نہ کرتا رہتا تو گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مجوس کے عبادت خانے اور مسجدیں جن میں کثرت سے خدا کا نام لیا جاتا ہے کب کے کب ڈھا دیئے گئے ہوتے اورجوشخص خدا کی مدد کرے گا خدا بھی البتہ اس کی مدد ضرور کرے گا بے شک خدا ضرور زبردست غالب ہے“۔
(سورہ حج آیت ۹۳،۰۴ ،پارہ ۷۱)
”اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعا مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے(اور)تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا اور مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لیے باغ بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا“(سورہ نوح آیت ۰۱ تا ۲۱ ،پارہ ۹۲)
ان آیات میں غیبی امداد کا تذکرہ ہے غیبی حمایت ہے، آسمانی مخلوقات کا مدد کے لئے اترنا ہے غرض حکم الٰہی کو اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے بندگان کے لئے نافذ کرنے کی خاطر پوری کائنات انتظار میں ہے اور جوبھی مخلوقات اس کائنات میں موجودہیں وہ سب اس وقت کے منتظر ہیں جب ہر طرف خوشحالی ہو ، انصاف کاراج ہوگا، عدالت ہوگی، ظلم نہ ہوگا، جہالت کا خاتمہ ہوگا، امن ہوگا تو یہ ساری مخلوقات اپنے ولی صاحب الامرعلیہ السلام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
دعوت دینے میں جدید علمی اور سائنسی اسلوب
علمی اعجاز
سابقہ اسالیب میں اعجازی اسلوب کا ذکر ہو چکا ہے تو ہماری مراد اعجاز سے غیرطبعی واقعات کا رونما ہونا تھا کائناتی تغیر و تبدل جیسے زمین کا دھنس جانا، آگ کا طوفان آنا، زلزلے ہونا یا فرشتوں کا اترنا‘ موسیٰ علیہ السلام کے عصا، سلیمان علیہ السلام کی خاتم اور اسی قسم کی اور چیزوں کاآپ کے پاس موجود ہونا۔
اس اسلوب کو امام علیہ السلام جہاں ضرورت سمجھیں گے استعمال میں لے آئیں گے۔
البتہ یہاں پر ایک اور اسلوب بھی ہے جسے امام علیہ السلام استعمال کریں گے جو بظاہر اعجاز ہی ہوگا لیکن درحقیقت اسلامی دعوت دینے کے طریقوں اورذرائع سے وہ بھی ایک ذریعہ ہوگا جو اس زمانہ کے ساتھ مناسبت رکھتا ہوگا جس میں امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔
یہ اسلوب، ذریعہ یا اعجاز اور اس کی جہت علمی ہوگی، البتہ اس کا اثر کائناتی ہوگا، حکومتوں، لشکروں، دانشوروں اور ان کے عقول پر اس کا اثر پڑے گا۔
حکومت اور فوج پر اس طرح کہ آپ کے پاس جو طاقت ہو گی اور جس قدرت کے آپ اس عالم میں مالک ہوں گے وہ قوت ان سب پر اپنے اثرات چھوڑے گی اور وہ اس حالت سے مرعوب ہوں گے جس کی تفصیلی بحث ہم چھٹی فصل میں کریں گے۔
مفکرین، دانشوران اور ان کے عقول پر اثرانداز ہونے والی بات تواس سے مراد وہ علوم ہیںجن کا استخراج حضرت امام مہدی علیہ السلام کریں گے اور وہ علمی اور سیاسی ہیں جن کو آپ پوری علمی دنیا کے لئے پیش کریں گے اور ان نظریات علمی پر دلائل قائم کریں گے اور یہ سب کچھ اس علم لدنی سے ہوگا جس کے آپ مالک ہوں گے اس بات کو بھی ہم چھٹی فصل میںبیان کریں گے
چھٹی فصل
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا علم اورآپ کا علمی غلبہ
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا علم
ہم نے اپنی کتاب آل محمد بین قوسی النزول والصعود“ میں ”باب علم“ میں اہل بیت علیہ السلام کے علوم کی ماہیت ان کے علوم کی وسعت اور ان کے منبع کے بارے تفصیل سے بیان کیا ہے اس جگہ پر ہم اس بحث سے مختصر ایک بیان نقل کرتے ہیں۔گفتگو ایک دفعہ امام کے علم بارے ہوئی ہے پھر اس علم کی وسعت اور اس کے دائرہ کار کے بارے ہوئی ہے پھر اس علم کے بیرونی اور خارجی اثرات کے متعلق بات ہوئی ہے اور یہ کہ ان کی تکوینی قدرت اور طاقت کتنی ہے یہاں سے ہم اس بحث تک پہنچتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی قدرت اور طاقت کی بحث کی جاتی ہے اوریہ سب کچھ علم الٰہی کا نتیجہ ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علم کی وسعت
البحار میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:علم ستائیس حروف ہے جو کچھ تمام مرسلین لے کر آئے وہ دو حرف برابر علم تھا تمام لوگوں نے آج تک جو کچھ علم سے حاصل کیا ہے وہ ان دو حرفوں والے علم سے لیا ہے جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو آپ علیہ السلام علم کے باقی پچیس حروف کو بھی نہان خانوں سے باہرنکالیں گے اور اس سارے علم کو لوگوں میں پھیلائیں گے اور ان پچیس حروف کے ساتھ پہلے والے دو حروف کا علم بھی ملادیں گے اس طرح پورے ستائیس حروف کا علم لوگوں میں عام ہو جائے گا(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۶۳۳ باب ۷۲ ج ۳۷)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”( عَالِمُ ال غَی بِ فَلَا یُظ هِرُ عَلیٰ غَی بِه اَحَدًا اِلَّا مَنِ ار تَضٰ مِن رَّسُو لٍ ) “اللہ ہی عالم غیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا مگر اس کے لئے جسے اپنے نمائندوں سے پسند فرمالیتاہے“(سورہ الجن آیت ۶۲ ۔ ۷۲)
آئمہ اطہارعلیہ السلام سے علم غیب کی نفی پرحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا رد عمل
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے عمرو بن ھذاب کے لئے بیان کیا کہ جس وقت اس نے آئمہ اطہار علیہم السلام سے علم غیب کی نفی کی تو آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں اس آیت سے استدلال فرمایا جو اوپر ذکر ہوئی ہے کہ رسول اللہ مرتضیٰ ہیں اور ہم اسی رسول کے وارثان ہیں جس رسول کو اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب پر مطلع کیا ہے پس ہم نے ماکان کو بھی جان لیا اور قیامت تک جو ہوگا”مایکون“اسے بھی جان لیا۔
(بحارالانوارج ۲۱ ص ۲۲ ج ۵۱ ص ۴۷)
حضرت ابوجعفر باقرعلیہ السلام نے فرمایا:”( الا من ارتضیٰ من رسول ) “ خداکی قسم!محمد ان سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے آپ اللہ کے مرتضیٰ نمائندے ہیں“۔(الارشاد الی ولایة الفقیہ ص ۷۵۶ ، الخرائج والجرائح ص ۶۰۳)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”( وَرَح مَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیً ) ‘ اور میری رحمت ہرچیز کو اپنے دائرہ میں لئے ہوئے ہے۔(سورة الاعراف آیہ ۶۵۱)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے اس کی تفسیر میں آپ نے بیان فرمایا: رحمت سے مراد، امام کا علم ہے، اس کا معنی ہے، اللہ کا علم وسیع ہے اور اس نے ہر شئی کو اپنے گھیرے اور دائرے میں لے رکھا ہے کہ اللہ کے علم سے ہی ہر شئی کا وجود ہے۔(نورالثقلین ج ۲ ص ۸۷ حدیث ۸۸۲ الکافی سے)
امام علیہ السلام سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہوتی(الخرائج والجرائح ص ۹۷۲)
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے:اللہ تعالیٰ نے اپنے نمائندہ (حجت) کو ہرچیز کی معرفت عطاءفرمائی ہے۔(اعلام الوریٰ ص ۷۵۳)
حضرت امام ابوالحسن علیہ السلام نے فرمایا: امام علیہ السلام کی زمین پر ایسی حیثیت ہے جو آسمان پر چاند کی حیثیت ہے اور وہ اپنی جگہ پر ساری اشیاءکے بارے مطلع و آگاہ ہوتا ہے۔(بصائرالدرجات ص ۱۴۴ ،حدیث ۸ باب ذکرعامودالنار)
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا:بتحقیق انہیں(آئمہ علیہ السلام کو)ہر اس بارے علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خلق فرمایا ہے ، تیار کیا ہے، بنایا ہے۔(بحارالانوار ج ۶۲ ص ۶۱۱ حدیث ۲۲)
حضرت امام ابوجعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث بیان کی جس میں آپ نے اس بات کا حوالہ دیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام وقت الوداع اپنی بیٹی فاطمہ علیہ السلامکوایک کتاب حوالے کی کہ اس کتاب کو آپ نے حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام کے حوالے کیا۔
راوی: میں نے عرض کیا کہ اس کتاب میں کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام پر رحمت فرمائے۔
امام علیہ السلام: اولاد آدم علیہ السلام کو دنیا کی خلقت کے دن سے لے کر اس کی فناءکے دن تک جس کی ضرورت ہے اس سب کا علم اس کتاب میں موجودتھا۔
(البحار ج ۶۲ ص ۴۵ حدیث ۹۰۱ باب جہات علومہم)
حضرت امام ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام سے روایت ہے:خدا کی قسم! ہمیں اولین اور آخرین کا علم عطا کیا گیاہے۔
علم غیب کے بارے ایک شخص کا سوال اور امام علیہ السلام کا جواب
میں آپ پر قربان جاوں کیا آپ کے پاس علم غیب ہے؟
امام علیہ السلام: تم پر وائے ہو، بتحقیق بلاشک و شبہ میں یہ جانتا ہوں کہ مردوں کی صلبوں میں کیا ہے اور عورتوں کے ارحام میں کیاہے؟ تم سب پر پھٹکار ہو، اس بات کو سمجھو، اس کا ادراک کرو اپنے دل و دماغ کو کھولو، اپنے سینوں کو کشادہ کرو، تمہاری آنکھیں کھلی رہنی چاہیں اور تمہارے دلوں کو بیدار ہونا چاہیئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں اور اس بات کوبرداشت نہیں کر سکتا مگر ہر مومن کا سینہ کہ اس میں ایسی طاقت موجود ہے جوتھامہ پہاڑ سے بھی زیادہ طاقتور ہے مگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہے اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو تھامہ پہاڑ پر موجود ہر کنکری کے بارے تمہیں آگاہ کردوں اوراس کی کیفیت سے آگاہ کردوں۔
(بحارالانوار ج ۲۶ ص ۸۲ حدیث ۸۲ ۔ باب جہات علومہم ، مناقب آل ابی طالب ج ۳ ص ۴۷۳)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے مفضل! ہمارا جو عالم ہوتا ہے وہ ہوا میں اڑنے والے پرندوں کے پروں کی حرکات و سکنات اور ان کے پروں کی کیفیت کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اس بات کا انکار کرتا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ کے عرش عظمت پر موجود ہونے کا انکار کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاءکے لئے اس نے جہالت کا عنوان لگا دیاہے۔(مشارق الانوار الیقین ص ۵۳۱)
علم غیب بارےحضرت ابوجعفر صادق علیہ السلام سے سوال
بتحقیق آپ علیہ السلام کے بارے آپ کے شیعوں کاخیال یہ ہے کہ آپ دجلہ میں جو پانی ہے اس کے وزن، پیمائش اور مقدار سے آگاہ ہیں(اس وقت آپ اور وہ سوال کرنے والا دجلہ کے کنارے بیٹھے تھے)
حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام:کیا اللہ عزوجل کی قدرت میں یہ موجود ہے کہ وہ اس کا علم اپنی مخلوق سے مچھر کو بھی دے دے؟
ہمراہی:۔ جی ہاں!
حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام: میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق مچھر سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ کرامت اورشان رکھتا ہوں(میری حیثیت ایک مچھر سے کہیں زیادہ ہے جس کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے)امام علیہ السلام نے یہ فرمایا اورپھر وہاں سے چل دیئے۔
(اثبات الوصیة ص ۱۹۱ ، ۲۹۱)
علم غیب بارےحضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے خطاب میں فرماتے ہیں
امام سچائی اور عدالت کا عنوان ہے،وہ غیب پر مطلع ہوتا ہے اور علی الاطلاق(ہرحوالے سے اور ہر جہت سے) وہ کائناتی تصرف کا مالک ہوتاہے۔(مشارق الارض ص ۵۱۱)
حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے فرمایا:اے مفضل ! آل محمد علیہم السلام سے جو امام ہوتا ہے اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اس کے پاس کسی بھی شی کا علم موجود نہیں یا اس سے کچھ چوک ہو جاتی ہے اوروہ حتمی بات سے آگاہ نہیں توایساشخص اس کاکافر ہوا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتارا ہے بلاشک وتردید(راوی سے مخاطب ہوئے) ہم آپ لوگوںکے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں ہم پر تمہارے امور سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہتا اور یہ کہ تمہارے اعمال کو ہمارے اوپر پیش کیا جاتا ہے، ہمارے پاس تمہارے اعمال کو معائنہ کے لئے لایا جاتا ہے اور جب روح بچ جائے اور جان سکڑ جائے گا یعنی بدن سے روح پرواز کرجائے گی اوربدن کی قید سے روح آزاد ہوجائے گی اورروح کے انوار چمکیں گے، اس کے اسرار ظاہر ہوں گے اور وہ عالم غیب کا ادراک کرے گا۔(مشارق انوار الیقین ص ۸۳۱)
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے جو ابن ھذاب سے گفتگو فرمائی ہے اس کے مطالعہ سے اس بابت سارا شک دور ہو جاتا ہے ۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام ابن ھذاب سے: اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ ان ایام میں اپنے قریبی عزیز کے حوالے سے کچھ مشکل میں مبتلاءہو تو تم میری تصدیق کرو گے؟
ابن ھذاب : نہیں! کیونکہ غیب سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی نہیں جانتا۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ”وہ عالم الغیب ہے کسی ایک کو اپنے غیب کو ظاہر نہیں فرماتا مگر اپنے نمائندہ(رسول) میں جو اللہ کا مرتضیٰ (چناہوا) ہو، اس پر اپنے غیب کو ظاہر فرما دیتا ہے۔(القرآن)
پس رسول اللہ !اللہ تعالیٰ کے ہاں مرتضیٰ ہیں اور ہم اسی رسول کے وارث ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب سے جتنا چاہا ہے مطلع فرما دیا ہے پس قیامت تک جو ”ماکان“ ہے اور ”مایکون“ ہے اس کا علم ہم نے حاصل کیا ہے اور اے ابن ھذاب! جو میں نے تمہیں بیان کیا ہے یہ پانچ دن میں ہوگا جو میں نے کہا ہے اگر ان ایام میں ایسا نہ ہوا تو میں جھوٹا افتراءپرداز ہوں گا اور اگر صحیح ہوا تو پھر تو ایسا ہوگا جو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات کو رد کرنے والاہے۔
تیرے لئے اس بابت ایک اور ثبوت بھی میرے دعویٰ کا موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ تم نابینا ہو جاو گے اور تم نہ میدان دیکھ سکو گے نہ پہاڑ اور یہ چند دنوں بعد ہونے والا ہے۔
میرے پاس ایک اور ثبوت بھی موجود ہے کہ تم ایک جھوٹی قسم اٹھاو گے جس کے نتیجہ میں تمہیں برص کی بیماری لگ جائے گی۔(عیون اخبارالرضا)
حضرت ابوجعفر امام جواد علیہ السلام نے جب ام الفضل بنت مامون کو اس بارے خبر دی جو کچھ ایام عادت میں عورتوں کو لاحق ہوتا ہے۔
ام الفضل: غیب کی خبر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے ۔
امام علیہ السلام: میں اللہ تعالیٰ کے علم سے اس بات کو جانتاہوں(الارشاد الی ولایة الفقیہ ص ۴۵۲)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تعارف بزبان امیرالمومنین علیہ السلام
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف منسوب کلام میں ہے جس میں آپ نے امام مہدی علیہ السلام کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:”امام مہدی علیہ السلام فضاءپر سوار ہوں گے یہ سفر نہ جادو سے ہوگا اور نہ ہی آنکھ کا دھوکا ہوگا بلکہ اس علم کے وسیلہ سے ہوگا کہ جس علم کو ان سے جو سابقین تھے وہ بھی آگاہ تھے پس آپ علیہ السلام اس علم کو استعمال میں لائیں گے اور پہاڑوں جیسے بیڑے بنائیں گے جو آسمان کے سمندر میں تیریں گے آسمانوں اور زمین کے تمام راستوں پر پہنچ جائیں گے۔
وہ اپنے ایام میں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ معرفت لے لیں گے کہ سارے اہل زمین سے کسی ایک کو بھی اس کا علم نہ ہوگا ایام اللہ ”زمانہ کے دن“نہیں گذریں گے مگر یہ کہ پوری زمین کو اوپر نیچے سے ہر ہر بالشت تک اور ہر ہر حصہ کو، اس کے ہرہر ٹکڑا تک کو طے کریں گے(المفاجاة لمحمدعیسی بن ص ۱۷۴)
حضرت امام علی علیہ السلام کی طرف یہ بیان بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام بارے منسوب ہے۔اللہ تعالیٰ اہل اسلام کے دلوں کو شفاءبخش دے گا(ان کی ساری کمزوریاں دور ہو جائیں گی)وہ قرآنی اسرار کو سیکھ لیں گے اور حروف کے انوار کی تعلیم لے لیں گے، تمام حروف کا علم ان کے پاس آجائے گا۔
جس کے ذریعہ علوم کے ایسے شہر بنائے جائیں گے کہ تم نے ان میں سے کسی شہر کو اس سے پہلے اس حالت میںنہ دیکھا ہوگا ”اورب“(اس لفظ سے مراد یورپ ہے)والے یہ سب کچھ دیکھ کر پشیمان ہوں گے کہ ان سے یہ سب کچھ چُوک گیا پس وہ توبہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریز ہو جائیں گے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام سے جنگ کر رہے ہوں گے اور اپنی اولاد کو انہوں نے جو اس فیض سے محروم رکھا اس سب پر وہ شرمندہ ہوں گے اور اپنی اولاد کو ایک عرصہ تک نور حق کی معرفت سے محروم رکھا، حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے نمائندوں(امیروں، گورنروں)کو سارے شہروں میں قرآن اور اولاد آدم علیہ السلام کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق اور عدالت کا نظام دیکھ کر بھیجیں گے جو شخص ان پرایمان لاچکا ہوگا تو وہ بھی بہرہ ور ہوگا اور جو کفر کرے گا تو وہ بھی اس کو جان لے گا کہ سب پرعدالت نافذ ہوگی۔ بھیڑیا اور بکری ایک گھاٹ پر چریں گے۔
سانپ اور بچھو
رب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم! اس زمانہ میں چھوٹا بچہ سانپ اور بچھو سے کھیلے گا لیکن وہ اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے ، شَر ختم ہو جائے گا اور خیر باقی رہ جائے گی، انسان ایک مدگندم بوئے گا اور سات گنا اٹھائے گا سات سودانے اگیں گے ”اللہ اکبر“ خیر بہت زیادہ ہو گی اگر تم چاہو تو پھر اس آیت کو پڑھ لو ایک دانہ کی مثال ہے کہ اس سے سات خوشے نکلے ہیں اور ہر خوشہ میں ایک سودانہ ہے اور اللہ تواس سے چندبرابر کر دیتا ہے جس کے لئے وہ چاہتا ہے ۔(المفاجاة لمحمد عیسی بن داود ص ۹۲۶،۰۳۶)
میں اس جگہ یہ بتاتا چلوں کہ اس مقام پر ابن عربی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علم غیب جاننے کے متعلق بہت ہی لطیف اور عمدہ کلام تحریر کی ہے جو تفصیل معلوم کرنا چاہے تووہ کتاب میں دیکھ لے۔(الفتوحات المکیہ ج ۶ ص ۰۸ باب ۶۶۳)
علم کا نتیجہ قدرت و طاقت کی صورت میں
یہ بات معلوم رہے کہ ان حضرات علیہم السلام کا علم اللہ تعالیٰ کے علم سے ہے پس ان کا علم درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا علم ہے اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی مشیت اور ارادہ سے عبارت ہے، پس جس ہستی کے پاس اللہ کا علم ہے تو اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ بھی ہے یہ وہ ذوات مقدسہ ہیں کہ جن کا ارادہ نہیں ہوتا مگر وہ جو اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے ۔
الحکیم سبزواری نے بیان کیا ہے: اور ارادہ اس کے نافذ اور راسخ ہونے والے ارادہ میں اور اپنی قوت اور قدرت میںٰ یہ ہے کہ روح قدسی اس طرح سے ہو کہ جس کا تصور اس کا متعلق ہو تو اس کے تصور ہی سے اس کا وجود ہے کائنات کا میٹر(مادہ)اس کی اطاعت و پیروی میں رہتا ہے تو وہ اس میں اس طرح تصرف کرتا ہے جس طرح وہ اس کے بدن میں تصرف کرتاہے۔(شرح دعاءالصباح ص ۷۹،۸۹ ، کماقال السبزواری)
علم کا نتیجہ قدرت ہے
...ہماری دلیل ان آیات سے ثابت ہے کہ قدرت علم کا نتیجہ ہے۔
۱ ۔ سورہ رعد آیت ۱۳: اور اگر اس قرآن کے ذریعہ پہاڑوں کو چلایا جائے یا زمین کے راستوں کو طے کیا جائے یا اس کے وسیلہ سے مردوں سے گفتگو کی جائے تو ایسا ہوسکتا ہے۔
۲ ۔ سورہ الحشر آیت ۱۲ ۔ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر اتار دیتے تو آپ اس پہاڑ کو اللہ کے خوف سے پھٹتا ہوا ، چھینکتا ہوا دیکھتے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:ہم قرآن کے وارث ہیں کہ جس قرآن میں ایسی چیز موجود ہے جس کے وسیلہ سے پہاڑوں کو چلایا جا سکتا ہے اور شہروں کے فاصلے طے کیے جائیں اور مردوں کو زندہ کیا جا سکتاہے۔
(الزام الناصب ج ۲ ص ۱۳۳ ، الکافی سے نقل کیاہے)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بیان کیا کہ ان کا علم قرآن سے ہے ہمارے پاس وہ چیزیں موجود ہیں جن کے ذریعہ پہاڑوں کو چلایا جاسکتا ہے زمین کے راستوں کو طے کیا جاتا ہے اور مردوں کو زندہ کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن اور ارادہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔(بصائر الدرجات ج ۵۱ حدیث ۳ باب العلم ورثواعلم آدم)
تخت بلقیس کا واقعہ
۳ ۔ سورہ النمل آیت ۸۳،۱۴ میں اللہ عزوجل نے فرمایا:سلمان نے اپنے اجتماع سے یہ بات کہی (جو خواص سے تھے)کہ تم میں سے کون ہے جو بلقیس کے تخت کو ان کے تسلیم ہونے سے پہلے میرے پاس لے آئے تو جنات میں سے عفریت نے یہ کہا کہ میں اسے لے آتا ہوں آپ کے یہاں سے اٹھنے سے پہلے اور میں اس پر قدرت رکھتا ہوں اور صحیح و سالم لاوں گا اور وہاں پر وہ شخص جس کے پاس کتاب کا تھوڑاسا علم تھا تو اس نے کہا کہ میں تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کے تخت کو تیرے پاس لے آتا ہوں (پس عالم کتاب کو کہا گیا کہ وہ لے آئے)پس جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھا تو وہ تخت اس کے سامنے موجود تھا پھر سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ یہ میرے رب کا انعام ہے تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں شکر بجا لاتا ہوں، یاکفران کرتا ہوں کیونکہ شکر بجا لایا جانا تو یہ عمل اپنی ذات کے لئے ہی تو ہے اور جو کفران کرتا ہے تو میرا رب غنی ہے ، کریم ہے، سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ ذرا اس کے تخت کو الٹاو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (بلقیس)ہدایت پر آجاتی ہے یا ان میں سے ہے جو ہدایت نہیں لیتے۔ الکافی میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام کی سدیرکے ساتھ علم غیب بارے گفتگو ہے جس میں آپ نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟
سدیر: کیوں نہیں!ہم قرآن پڑھتے ہیں۔
امام علیہ السلام :کیا تم نے قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ بیان پڑھا ہے کہ جس کے پاس کتاب سے تھوڑاسا علم تھا اس نے کہا کہ آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے میں اس کے(بلقیس کے) تخت کوتیرے پاس لاکھڑا کروں گا۔(سورہ النمل آیت ۰۴)
سدیر: میں آپ پر قربان ! میں نے یہ پڑھا ہے۔
امام علیہ السلام: تو آپ اس آدمی سے آگاہ ہیں جس نے یہ عویٰ کیا تھا اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ اس کے پاس علم کتاب سے کیا موجود تھا؟
سدیر: آپ اس بارے مجھے بتائیں۔
امام علیہ السلام: سبز سمندر میںجو پانی موجود ہے اس میں سے ایک قطرہ برابر تو آپ خود سوچیں کہ علم کتاب میں اس علم کی کیا حیثیت ہے؟!
سدیر:کس قدر کم مقدار ہے اس علم کی۔
امام علیہ السلام: اے سدیر! کیا تم نے قرآن سے جو پڑھا ہے اس میں یہ بھی پڑھا ہے:اے رسول! ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہ جس کے پاس علم کتاب ہے وہ بطور گواہ کافی ہے۔(سورہ رعدآیت ۳۴)
سدیر: میں نے اس آیت کو پڑھاہے۔
امام علیہ السلام: تو کیا جس کے پاس علم کتاب ہے تو ساری کتاب کا علم اس سے سمجھا جاتا ہے یا کتاب کے کچھ حصہ کا علم اس سے سمجھا جاتا ہے۔
سدیر: نہیں! اس سے تو پوری کتاب کا علم سمجھا جاتاہے۔
سدیر: امام علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : خدا کی قسم!علم الکتاب سارا ہمارے پاس ہے ۔ خدا کی قسم!سارے کا سارا علم کتاب ہمارے پاس ہے۔(اصول الکافی ج ۱ ص ۷۵۲ باب نادر ذکر الغیب حدیث ۳ ، بصائرالدرجات ص ۳۱۲ ۔ باب ان عندھم علم الکتاب حدیث ۳)
میں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ اس باب میں روایات بہت زیادہ ہیں اور ان روایات کی اکثریت صحیح السند ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علم کتاب اہل البیت علیہ السلام آئمہ اطہار علیہ السلام کے پاس ہے ان میں سے چند روایات پر ہم نے اکتفاءکیا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھیں اصول الکافی ج ۱ ص ۹۲۲ ، بصائرالدرجات ۳۲ تا ۶۳۳ حدیث ۲۱ تا ۵۱ ص ۲۱۲ تاص ۶۱۲ حدیث ۱ تا ۱۲ باب ماعندھم من الاسم الاعظم وعلم الکتاب الوسائل ج ۸۱ ص ۴۳۱ حدیث ۳۲۵۳۳ مابعدہ)
یہ بات معلوم ہے کہ کتاب سے جو تھوڑی مقدار میں اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو علم دیا تھا وہ آصف بن برخیعلیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصی تھے جو بلقیس کے تخت کو (جو ایک بہت بڑا پلیٹ فارم تھا جس پر اس کا دربار لگتا تھا)ایک سیکنڈ سے بھی کم مدت میں یمن سے بیت المقدس صحیح و سالم، اصلی حالت میں اپنی تمام خصوصیات سمیت لے آئے۔
بڑی طاقت، قدرت اور غیر معمولی اقدامات اور طبیعی قوانین کا توڑ سب علم کا نتیجہ ہے
حضرت ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: امیرالمومنین علیہ السلام یہ بات بہت زیادہ کرتے تھے میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے جہنم اور جنت کو تقسیم کرنے والا ہوں، میں فاروق اکبر ہوں، میں صاحب عصا ہوں، میں نشان لگانے والاہوں، میرا اقرار سب فرشتوں نے، سب رسولوں نے، روح نے کیا جس طرح انہوں نے یہ اقرار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کیاتھا۔
مجھے ایسی صفات اور خصلتیں دی گئی ہیں کہ جن تک مجھ سے پہلے کوئی ایک بھی نہ پہنچ سکا میرے پاس علم منایا، علم بلایا، علم انساب اور علم فصل الخطاب ہے جو مجھ سے پہلے ہو چکا وہ مجھ سے چُوکا نہیں اور جو ابھی پیش آنا وہ مجھ سے غائب نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے اذن سے میں نشر کروں گا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے میں سب کچھ انجام دوں گا یہ سب اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس کا فضل اور کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ مجھے اپنے علم کے وسیلہ سے قدرت دی ہے۔(بصائرالدرجات ص ۱۰۲ ۔ باب انھم جہری لھم ماجری للرسول حدیث ۳،۴)
یمن کا علم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
ابان: میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام کے پاس موجود تھا ان کے پاس یمن کا رہنے والا ایک شخص موجودتھا۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام: اے یمانی کیا تمہارے درمیان علماءموجود ہیں
یمانی: جی ہاں!
امام علیہ السلام:تمہارے عالم کا علم کس حدتک پہنچاہواہے۔
یمانی: وہ ایک رات میں دو مہینوں کا سفر طے کر لیتاہے۔
امام علیہ السلام: مدینہ منورہ کا عالم تمہارے عالم سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔
یمانی: مدینہ میں رہنے والے عالم کا علم کس حد تک پہنچا ہوا ہے۔
امام علیہ السلام: وہ تو ایک صبح میں اتنا فاصلہ طے کر لیتا ہے جتنا فاصلہ سورج ایک سال میں طے کرتا ہے بہرحال ایک دن کی جو بات ہے تو جوتوں پسند کرے اور جیسا توں کہے تو مدینہ کا عالم ایک دن میں بارہ مغرب اور بارہ مشرق طے کر ڈالے گا۔
(بصائرالدرجات ص ۱۰۲ ، باب انھم جری لھم ماجری للرسول حدیث ۳،۴)
آئمہ علیہم السلام کا علم اور آپ کے اختیارات
امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ایک طولانی حدیث میں یہ بیان آیا ہے میں اپنے رب کے اذن سے زندہ کرتا ہوں اور میں ہی مارتا ہوں....اور میری اولاد سے جو آئمہ ہیں وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں....اور ہمارے رب اللہ نے جو کچھ ہمیں عطا فرمایا ہے وہ اس سے اجل و اعظم، اعلی و اکبر ہے....ہمارے رب عزوجل نے ہم کواسم اعظم کا علم عطاءفرمایا ہے کہ اگر چاہیں تو اس کے ذریعہ آسمانوں ، زمین، جنت اور جہنم کو عبور کر جائیں اس کے ذریعہ بلندیوں پر پہنچ جائیں اور اس کے ذریعہ زمین پر اتریں، اس کے مشرق و مغرب کو عبور کر جائیں اور ہم اس کے ذریعہ عرش تک جاپہنچیں اور عرش پر اللہ عزوجل کے سامنے جابیٹھیں اور ہر چیز ہماری اطاعت کرے تمام آسمان، زمین، سورج، چاند،ستارے،سیارے، پہاڑ،درخت، حیوانات، پرند، چرند، درندے، سمندر، جنت،جہنم سب ہماری اطاعت کرتے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ کے بندگان ہیں
ہم کو اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اسم اعظم کے ذریعہ عطا فرمادیا ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اسم اعظم کا علم دیا اور اسے ہمارے لئے مخصوص کر دیاہے اس سب کے ہوتے ہوئے ہم غذا کھاتے ہیں، پانی پیتے ہیں، گلی کوچوں میں، راہ چلتے ہیں یہ سب کچھ ہم کرتے ہیں اپنے رب کے امر سے، ہم اللہ تعالیٰ کے مکرم و محترم بندگان ہیں ایسے بندگان جو گفتگو کرنے میں اس پر سبقت نہیں لیتے اور وہ سب اس کے امر کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں معصوم بنایا ہے پاک اور طاہر قرار دیا ہے اور اپنے بہت سارے مومنین، بندگان پر ہمیں فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے۔
(بحارالانوار ج ۶۲ ص ۶،۷ ۔ باب نادر فی معرفتھم بالنورانیہ حدیث ۱)
ابن عباس: امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: بتحقیق قاف کے پیچھے ایک عالم (دنیا) ہے میرے سوا اس جگہ کوئی ایک بھی نہیں پہنچے گا اس کے پیچھے والے عالم پر میرا احاطہ ہے اس کے بارے میرا علم اسی طرح ہے جس طرح تمہاری اس دنیا بارے میرا علم ہے میں اس کا محافظ ہوں میں اس پر گواہ ہوں اور اگر میں چاہوں تو ساری دنیا پر گھوم جاوں، ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں سے گذر جاوں اور یہ سب کچھ پلک جھپکنے سے کمتر وقت میں کیونکہ میرے پاس اسم اعظم ہے۔
(مشارق الانوار الیقین ص ۳۴ ، بحارالانوار ج ۷۵ ص ۶۳۳ حدیث ۰۲)
حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام اور امام ہادی علیہ السلام سے روایت بیان ہوئی ہے بتحقیق اللہ کا اسم اعظم ۳۷ حروف پر مشتمل ہے آصف بن برخیا کے پاس ان میں سے ایک حرف تھا اس نے اس حرف کو بولااورزمین سکڑ گئی اور اس نے بلقیس کے تخت کو اٹھا لیا پھر زمین اپنی پہلی حالت میں واپس ہو گئی پلک جھپکنے سے کمتر وقت میں اور ہمارے پاس اسم اعظم کے ۲۷ حروف ہیں ایک حرف اللہ کے پاس ہے اللہ تعالیٰ علم الغیب میں اسی اسم کو اپنے پاس رکھتاہے(اور وہ ہی اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ”مستاثر“ ہے)”لاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم “
(اصول الکافی ج ۱ ص ۰۳۲ ، باب مااعطوا من الاسم العظم حدیث ۱ ، دلائل الامامة ص ۹۱۲ ، معاجزالہادی)
علم کا نتیجہ احاطہ اور مشاہدہ کی وسعت ہے
روح القدس سے متعلق روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: روح القدس کے وسیلہ سے انہوں نے عرش کے نیچے سے لے کر تحت ثریٰ تک کا علم حاصل کر لیا روح القدس ثابت اور موجود ہے وہ دیکھتا ہے جو کچھ مشرق اور مغرب، خشکی اور تری میں موجود ہے۔
راوی: میں آپ علیہ السلام پر قربان جاوں!امام علیہ السلام اپنے ہاتھ سے اس چیز کو اٹھا سکتا ہے جو بغداد میں ہے۔
امام علیہ السلام: جی ہاں! جو کچھ عرش کے نیچے ہے اور جو کچھ بھی اس کائنات میںہے سب کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔(بصائرالدرجات ص ۴۵۴ حدیث ۳۱ ، ان روح القدس یتلفاھم)
روح القدس سے مراد
روح القدس ایسا موجود ہے جو انہیں (آئمہ اطہار علیہم السلام) علم دیتا ہے یا ایسا موجود ہے جس کے وسیلہ سے وہ علم وصول کرتے ہیں اور اسی سے انہیںمشرق و مغرب سے عرش تک ہر چیز پر قدرت حاصل ہے(اور وہ ہر قسمی تصرت کر سکتے ہیں)
ذوالقرنین کے متعلق حضرت امام حسن علیہ السلام سے سوال کیا گیا اللہ تعالیٰ کے اس قول بارے کہ ”اور ہم نے اسے ہر چیز کا سبب عطا کر دیا، انہیں علم دیا کہ وہ منزلوں کے اسباب کو حاصل کرلیں“۔(تاریخ دمشق ج ۷۱ ص ۹۳۳ ، ترجمہ ذی القرنین قم ۶۰۱۲)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حق میں فرمایا:ان کے پاس وہ کچھ ہے جو ذو القرنین کے پاس تھا اور ان سے چندبرابر آگے بڑھ گئے ہیں جس سے انہوں نے ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کا مشاہدہ کیا ہے یعنی جو علم ان کے پاس ہے اس کے وسیلہ سے انہوں نے پوری بشریت اور انسانیت کا مشاہدہ کیاہے۔(الہدایة الکبریٰ ص ۰۷۲)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قدرت اور طاقت
حذیفہ اور کعب الاحبار دونوں سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قدرت بارے یہ روایت موجود ہے ”پس مہدی علیہ السلام سات تکبیریں بلند کریں گے پس آپ علیہ السلام کے واسطے ہر رکاوٹ اور دھار ٹوٹ جائے گا اور ان میں قسطنطنیہ کا سقوط بھی شامل ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قدرت بارے ارشاد فرمایا: حضرت امام مہدی علیہ السلام ایک لکڑی کو زمین میں گاڑ دیں گے تو وہ فوراًسرسبز ہو جائے گی اورپتے نکالے گی(عقدالدرر ص ۰۸۱،۱۸۱)
امیرالمومنین علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام کی قدرت بارے فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام پرندے کو اشارہ کریں گے اور وہ آپ علیہ السلام کے ہاتھوں پر آ گرے گا۔
(عقدالدرر فی اخبار المنتظر ص ۸۳۱ باب ۶ ۔ الہدایة الکبریٰ ص ۴۰۴ ۔الانوار النعمانیہ ج ۲ ص ۸۸)
حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: جس وقت ہمارے قائمعلیہ السلام قیام فرمائیں گے تو آپ علیہ السلام سارے بندگان کے سروں پر ہاتھ رکھیں گے جس سے ان کی عقلیں اور فکریں کامل ہو جائیں گی(عقدالدرر فی اخبار المنتظر ص ۸۳۱ ۔باب السادس ، الانسان الکامل ص ۵۲۱ ،باب ۴)
امیرالمومنین علیہ السلام کے الفاظ میں امام مہدی علیہ السلام کا علم اور قدرت
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا خطاب ہے جس میں آپ امام مہدی علیہ السلام کے اوصاف کو بیان فرماتے ہیں اس میں ہے آپ ہیبت رعب و دبدبہ کا لباس پہنے ہوں گے علم الضمیر(اندر کا علم)آپ کے پاس ہوگا غیب کی آپ کو اطلاع ہو گی علی الاطلاق(ہرحوالے سے)آپ کوحق تصرف حاصل ہوگا۔(مشارق انوار الیقین ص ۵۱۱)
قائم منتظر کے لئے ہوا مسخر ہوگی۔ (الانوار النعمانیہ ج ۲ ص ۳۹)
آپ کے پاس پانی زمین سے نکالنے کی طاقت ہوگی۔(مجموعة ورام ص ۳۲۶)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طاقت اور آپ علیہ السلام کا اسلحہ
حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی: یا رب میرے اوصیاءعلیہ السلام کون ہیں؟تو آواز آئی کہ تیرے اوصیاءعلیہ السلام کے نام عرش کے پائے پر درج ہیں تو میں نے ان اسماءپر نگاہ ڈالی جب کہ میں اپنے رب کے سامنے موجود تھا عرش کے ستون تک میری رسائی تھی تو میں نے ۲۱ ، انوار کامشاہدہ کیا ہر نور میں ایک سبز سطر تھی جس پر میرے اوصیاءعلیہ السلام سے ہر وصی کا نام درج تھا ان کا پہلا علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ان کے آخری میری امت کے مہدی علیہ السلام ہیں۔
رسول اللہ: میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ،کیا یہی میرے اوصیاءعلیہ السلام ہیں جومیرے بعد ہوں گے؟
نداءالٰہی: اے محمد! یہی میرے اولیاءعلیہ السلام ہیں ،میرے احباءہیں، میرے اصفیاءہیں، میرے دلائل اور حجج ہیں، تیرے بعد میری مخلوق پرحاکم ہیں اور وہ سب تیرے اوصیاءاور تیرے خلفاءہیں اور تیرے بعد میری مخلوق سے بہترین ہیں، مجھے میری عزت اور جلالت کی قسم ہے میں ان کے وسیلہ سے اپنے دین(نظام)کوضرورغلبہ دوںگا اوران کے ذریعہ میں اپنے کلمہ اور اپنی بات کو ضرور بالضرور سب پر حاوی کروں گا اور ان اوصیاءسے جو آخری ہو گا اس کے ذریعے میں زمین کو اپنے دشمنوں کے وجود سے ضروربالضرور پاک کردوں گا اور میں اسے زمین کے مشارق و مغارب کا مالک بنا دوںگااورمیں اس کے لئے ہواوں کو مسخر کر دوںگااورسخت وسرکش گردنوںکوان کے لئے جھکادوںگااورمیں اسے سارے اسباب اوروسائل پر ترقی دوں گا اور میں اس کی اپنے فرشتوںکے توسط سے ضروربالضرور مدد کروں گا تاکہ وہ میری دعوت کا اعلان کرے گا اور پوری مخلوق کو میری توحید پراکٹھا کر دے گاپھر میں اس کی سلطنت اور ملک کو دوام دوں گا اور پھر قیامت کے دن تک ان ایام کو اپنے اولیاءکے درمیان بھیجتا رہوں گا۔(کمال الدین ص ۵۵۲ یا ۳۲ حدیث ۴)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا یہ فرمان حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے کہ میں زمین کے مشارق و مغارب کا ضروربالضرور مالک بناوں گا، کیونکہ اللہ عزوجل حضرت ولی عصرعلیہ السلام کو جب مشرق اور مغرب کا مالک بنا دے گا بادلوں کو ان کے اختیار میں دے دے گا، ہواوں کا کنٹرول ان کے پاس ہوگا۔
تویہ سب بیانات امام مہدی علیہ السلام کی قدرت کو واضح کر رہے ہیں اور یہ کہ امام علیہ السلام کے اختیارمیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا انہیں مالک بنایا ہے اور جو علم انہیں عطاءکر دیا ہے وہ اس کے تصرف اور استعمال میں بااختیارہوںگے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:میری اولادسے چوتھے کنیزوں کی سردار کے بیٹے ہر جَور سے زمین کو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے پاک کر دے گا اور ہر ظلم سے زمین کوخالی کر دے گا ظلم کا نام و نشان نہ رہے گا اور وہ ایسا شخص ہے کہ جن کی ولادت پر سارے لوگ شک کریں گے ان کے لئے ایک غیبت ہے اور یہ غیبت ان کے خروج سے پہلے ہو گی جب وہ خروج کرےں گے تو ان کے نور کے وسیلہ سے زمین چمک اٹھے گی وہ لوگوں میں عدالت کا ترازو لگا دیں گے کوئی ایک بھی کسی پر ظلم نہ کرے گا وہ ایسے ہیں کہ جن کے لئے زمین لپیٹی جائے گی ان کے لئے کوئی سایہ نہ ہو گا ان کے لئے منادی آسمان سے نداءدے گا جس کو ساری زمین والے سنیں گے اس نداءمیں ان کی طرف دعوت دیں گے آواز دینے والے اس طرح پکارے گا ”الاحجة اللہ قدظہرعندبیت اللہ فاتبعوہ فان الحق فیہ ومعہ“ آگاہ ہو جاو اللہ کی حجت کا ظہور بیت اللہ کے پاس ہو چکا ہے بس تم سب اس کی پیروی کرو کیونکہ حق ان میں ہے اور حق ان کے ساتھ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا سورہ الشعراءآیت ۴ میں فرمان اسی بات کی طرف اشارہ ہے ”اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان کے لئے نشانی کو اتاردیں تو ان کی گردنیں اس نشانی کے سامنے جھک جائیں گی۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مہدی علیہ السلام میری اولاد سے ہے ان کا نام میرے والا نام ہے، ان کی کنیت میرے والی کنیت ہے وہ خلقت میں اور اخلاق میں عام لوگوں سے زیادہ میرے مشابہ ہوگا ان کے لئے ایک غیبت ہو گی اور اس میں حیرت ہو گی سرگردانی ہوگی بہت ساری اقوام اس دوران گمراہ ہو جائیں گی بھٹک جائیں گی پھر وہ شہاب ثاقب کی مانند آگے بڑھیں گے اورتیزی سے نمودار ہوں گے زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جس طرح زمین جور اور ظلم سے بھرچکی ہو گی۔(فرائدالسمطین ج ۲ ص ۵۳۳ حدیث ۶۸۵)
البحار میں بصائر اور الاختصاص سے عبدالرحیم کے واسطہ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت ابوجعفر علیہ السلام نے فرمایا: بہرحال ذوالقرنین جو ہے تو ان کے لئے دو بادلوں میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے ذلول(نرم) بادل کا انتخاب کیا اور تمہارے صاحب الامر امام کے لئے صعب(سخت) بادل کو ذخیرہ کر کے رکھ دیا گیا۔
سوال:صعب بادل سے کیامراد ہے؟
امام علیہ السلام: یہ ایک ایسا بادل ہے جس میں گرج، کڑک، چمک ہے، بجلی کی مانند تیز روشنی ہے، پس تمہارے صاحب (امام)اس پر سوار ہوں گے بہرحال وہ سحاب پر سوار ہوں گے اور اسباب پر اٹھ جائیں گے سات آسمانوں اور سات زمینوں کے تمام جگہوں پر جائیں گے پانچ ان میں آباد ہیں اور دو ان میں ویران ہیں۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لئے دو بادلوں کا اختیار دیا انہوں نے ذلول بادل کا چن لیا جس میں بجلی کڑک، چمک دمک اور گرج نہ تھی اور اگر وہ صعب بادل کا انتخاب کرتے تو وہ انہیں عطا نہ ہوتا کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے حضرت قائم علیہ السلام کے لئے انتخاب کر چھوڑا ہے وہ ان کے لئے مخصوص ہے۔(بصائرالدرجات ج ۸ ص ۸۷۲ ۔ ۹۷۲ باب ۵۱ ج ۱ ۔ ۳ ۔ الاختصاص ص ۴۹۱ ۔بحارالانوار ج ۲۵ ص ۱۲۳ باب ۷۲ ۔ ذیل ۷۲ ۔ ۲۱/۲۸۱ ۔ حدیث ۱۲)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی قدرت اور طاقت
حدیث مفضل میں بیان ہوا ہے: حضرت امام مہدی علیہ السلام رکن اور مقام (مقام ابراہیم) کے درمیان ٹھہریں گے اور آپ وہاں پر بلند آواز میں اس طرح اپنے انصار کو بلائیں گے۔آپ کہیں گے:
اے میرے نقباءکی جماعت،اے میرے خاصان! وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے میری نصرت کے لئے میرے ظہور سے پہلے ذخیرہ کر کے رکھا ہوا ہے اس زمین پر تم سب میرے پاس فوری آجاو پس یہ آواز اور گونج سب تک ان کے پاس پہنچ جائے گی جب کہ وہ اپنے محرابوں اور اپنے بستروں پر ہوں گے زمین کے مشرق اور مغرب میں ہوں گے تو وہ سب اس آواز کو اسی وقت سنیں گے وہ آواز ان کے کان میں جا پہنچے گی پس وہ سب اس آواز پر جواب دیں گے ان کے لئے وقت نہ گزرے گا ایک پلک جھپکنے کی دیر نہ لگے گی اور پھر وہ سب رکن اور مقام کے درمیان حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سامنے موجود ہوں گے اور اللہ عزوجل نور کو حکم دیں گے تو وہ نور زمین سے آسمان تک ایک ستون بن جائے گا زمین پر موجود ہر مومن اس سے روشنی حاصل کرسکے گا اور اس پر نور اس کے گھر کے اندر سے داخل ہوگا مومنوں کے دل اس نور کی وجہ سے خوش ہوں گے جب کہ وہ اس وقت ہم اہل البیت علیہ السلام سے قائم علیہ السلام کے ظہور بارے آگاہ نہیں ہوں گے پھر وہ سب امام علیہ السلام کے سامنے موجود ہوں گے ان کی تعداد تین سوتیرہ مرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنگ بدر میں اصحاب کی تعدادکے برابر ہو گی(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۷ باب ۵۲)
عقلاءکے بیان سے دلیل اور حقیقی صورتحال
اس عنوان میں ہم یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ جہاں تک اس وقت علمی حوالے سے مفکرین اور دانشور پہنچ چکے ہیں عسکری میدانوں میں،صحت کے میدانوں میں، اجتماعی یا اقتصادی میدانوں میںہم سب کو ترتیب وار بیان کرتے ہیں۔
۱ ۔ عسکری سطح پر یہ بات ہے کہ اس زمانہ کے عقلائ، دانشور پورے عالم اور دنیا میں ایسی حکومت کو سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں جس کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی صلاحیت ہے جب ہم اس بات بارے غور کریں گے کہ وہ بڑی ایٹمی طاقت کیسے بنی ہے تو ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ اس ملک نے علمی میدانوں میں ترقی کر لی ہے سائنس دانوں نے مسلسل کئی سالوں کی جدوجہد اور محنت شاقہ کے بعد اور مسلسل علمی تجربات کرنے کے بعد اس طاقت کو حاصل کیا ہے ایسی ایجاد تک پہنچنے کے لئے انہیں بہت زیادہ تجربات سے گزرنا پڑا ہے آخر کار ایسی قوت اور طاقت کو حاصل کر لیا ہے کہ جس کے ذریعہ وہ ایسی طاقت کے مالک بن بیٹھے ہیں کہ ایسی تباہی لائی جا سکتی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ایٹمی اسلحہ یا ایٹمی طاقت علمی اور سائنسی نظریات سے مربوط ہے، اس کے نتیجہ میں یہ طاقت حاصل ہوئی ہے۔ عقلاءیہ بات بھی کر رہے ہیں کہ جو کچھ اس وقت بڑی طاقتوں کے پاس موجود ہے اور جس حد تک وہ علمی میدانوں میں آگے جا چکے ہیں اگر کوئی اور ملک اس سے زیادہ جدید ترقی حاصل کر لے اور اس کے پاس موجود نظریات سے بڑھ کر جدید نظریات اور حاصل ہو جائیں جو ان حکومتوں کے پاس موجود نہ ہوں تو وہ بڑی ایٹمی طاقت بن جائے گی اور پھر وہی سپرپاور کہلائے گی اور وہ بڑی حکومت ہو گی اورسب سے زیادہ طاقتور ہو گی۔اسی طرح اگر کوئی حکومت ایسے مائع یا مادہ کو حاصل کر لے جو ایٹمی اثرات کو زائل کر دے تو وہی حکومت دوسری حکومتوں سے زیادہ طاقتور ہو گی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ علم ساری طاقتوں کا سرچشمہ اورمنبع ہے اور علم ہی سے پورے عالم پر تسلط اور برتری حاصل کی جا سکتی ہے یہ بھی عقلاءکا فیصلہ ہے اور جس حد تک عقلاءاور سائنس دانوں کی تحقیقات اور ایجادات پہنچ چکی ہیں تو اس کا نتیجہ بھی یہی ہے۔
۲ ۔ اسی طرح جب ہم طبی حوالے سے بات کریں اور صحت عامہ بارے دیکھیں تو علم طب میں حیرت انگیزترقی ہوئی ہے اور بیماریوں کے علاجات کو ایجاد کیا گیا ہے پس ایسی دوائیںجن سے بیماریوں کا علاج ہوسکے اور ان کے منفی اثرات بھی نہ ہوں تو ایسی تحقیقات کرنے والے دوسروں پر غلبہ پالیں گے۔
تمام عقلاءاس بات پر اکٹھے ہیں کہ کسی بھی علاج کی کامیابی یا دوا کا موثر ہونا علمی نظریات کا نتیجہ ہے جس تک اس میدان میں علماء، اطباء، محققین پہنچ چکے ہیں اس کے ساتھ علمی تجربات کا لحاظ بھی رکھا جائے گا تجربات سے کسی دوا کے اثرات کا انکشاف ہوتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ طب کے میدان کی مضبوطی بارے استحکام بھی علمی نظریات کا نتیجہ ہے۔
۳ ۔ اقتصادی میدانوں میں بھی یہی صورتحال ہے، اقتصادی طاقت ایسے عوامل اور اسباب کے مجموعہ پر قائم ہوتی ہے کہ ان نظریات کو اقتصادیات کے ماہرین نے کشف کیا ہوتاہے معاشرتی اجتماعی اور ثقافتی میدانوں میںایسا ہی ہے کہ معاشرہ انحراف سے محفوظ ہو بداخلاقی کے گھڑے میں نہ جا گرے تو یہ بھی اس اجتماعی نظریہ کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔
اخلاقی پہلو کو لیں کسی معاشرہ میں فساد کا عام ہو جانا،معاشرہ کی تباہی ، اخلاقی نظریات میں انحرافات کانتیجہ ہے ۔ جب کسی معاشرہ کی اخلاقی قدریں متزلزل ہو جائیں تو وہ معاشرہ فساد زدہ ہو جاتا ہے اور جس معاشرہ کی بنیاد مضبوط اخلاقی نظریات پر ہو تو وہ معاشرہ مضبوط ہوگا اور انحراف سے دور ہو گا۔
اسی قانون کو زندگی کے تمام شعبہ جات میں لاگو کریں، کھیل کے میدان میں، تہذیب کے میدان میں، نشریات کے میدان میں، ذرائع ابلاغ میں، لیکن ہم اسی مقدار پر اکتفاءکرتے ہیں ۔
جی ہاں! ان کے مراتب عہد اور حالات مختلف ہیں ان علوم کی طبیعت اور مزاج میں فرق ہے لیکن سب کا سہارا علمی نظریات ہیں۔
لیکن ان نظریات کو صحیح طریقہ پر نافذ کرنا اس قوت اور طاقت کی بنیادی شرط ہے۔
خلاصہ:۔ کائنات پر غلبہ، تسلط اور طاقت حاصل کر لینا یا کائنات کے کچھ حصہ پر غلبہ پا لینا تو اس کا سارا خلاصہ اور بازگشت سائنس، علمی نظریات ہی پرہے کہ جس کے نتائج میں ایجادات اور اختراعات حاصل ہوتی ہیں....پاک ہے وہ ذات جس نے انسان کو علم دیا ہے اس کا جو اسے علم نہ تھا۔عالمی سطح پر تمام تر طاقت کا راز علم کی ترقی پر ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام پورے عالم میں تبدیلی لائیں گے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علم کی وسعت بارے جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس سے واضح ہو گیا کہ آپ علیہ السلام کا علم اس قدر وسیع ہوگا جس کی حد اور انتہاءکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور یہ بات بھی بیان ہو چکی ہے کہ کس قدر اس علم کی طاقت ہو گی اور اس کے زندگی کے منابع پراس کے کیا اثرات ہوں گے یا کائنات میں طاقت کا منبع اور سرچشمہ جو ہوگاتو اس کے کائنات پر اور زمین میں بسنے والی مخلوقات اور انسان پر کیا اور کس قسم کے اثرات ہوں گے۔
لیکن یہ بات جانناہمارے لئے ممکن ہے یا اس کا تصور کر سکیں کہ عدالت کے امام ، علم و سائنس کے امام ،علمی، فنی، تکنیکی میدانوں میں ترقی کی کیا کچھ منزلیں طے کریں گے اور کیا کچھ تبدیلیاں لائیں گے؟پہلے اس سب کے امکان پر بات ہو گی اورپھر اس سب کچھ کے وقوع پذیر ہونے پر بھی بات ہو گی۔
مفکرین، دانشوروں اور نئی نئی ایجادات کرنے والوں کے لئے بشارت
اس بات کے امکان بارے تو واضح ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علم کی وسعت اور قدرت بارے جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس سے واضح ہے کہ ہر دانشور اور ہر مخترغ نے کائنات میں جو کچھ بنانے اور ایجاد کرنے کا جو خواب بھی دیکھا ہو گاوہ حضرت امام مہدی علیہ السلام پورا کر دیں گے۔ زندگی کے مختلف پہلووں میں اور زندگی کے تمام علمی، فنی، تکنیکی، سائنسی، اجتماعی، معاشرتی ، سیاسی، اقتصادی میدانوں میں وہ کچھ کر دیں گے جس کا کسی دانشور یا عالم یا سائنس دان نے تصور کیا ہوگا۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ:”سلونی سلونی قبل ان تفقدونی قانا بطرق السماءاعلم منی بطرق الارض “(نہج البلاغہ ج ۲ ص ۰۳۱ شمارہ ۹۸۱)
”مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ تم مجھے اپنے درمیان نہ پاو، بتحقیق میں تو آسمان کے راستوں کو زمین کے راستوں سے زیادہ جانتا ہوں“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام آئیں گے تاکہ پوری کائنات میں اپنے جد امجد کے اس فرمان کو سچ ثابت کر دکھائیں اور بتائیں گے کہ حضرت علی علیہ السلام کی مراد اس فرمان سے کیا تھی اور اس کا علمی اور مادی اثر کیا ہے جس سے کائنات ماضی کے سالوں میں محروم رہی اور علمی کارناموں کی برکات اور اس کے نتائج سے مستفید نہ ہو سکی۔
ایسی ہستی آئیں گے جو ان سرد آہوں کی حقیقت سے پردہ اٹھا دیں جو حضرت علی علیہ السلام اپنے سینہ کی طرف اشارہ کر کے بھرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس میں علم کے خزانے ہیں، کاش! اس علم کو لینے والے مجھے مل جاتے اور میں یہ علم انہیں دیتا۔(الخصال ص ۶۸۱)
یا حضرت علی علیہ السلام کا نہج البلاغہ ج ۱ ص ۱۴ خطبہ نمبر ۵ میں جو ارشاد ہے کہ ”علم پوشیدہ موجود ہے اس کو سامنے لاوں تو تم اس طرح مضطرب ہو جاو گے جس طرح صحرا میں تند ہواوں سے ذرات مضطرب ہوتے ہیں“۔
آج کے علمائ، مفکرین، دانشوروں، سائنس دانوں کے لئے یہ بشارت ہو کہ ہمارے لئے بہت جلدایک بڑی بشارت اور خوشخبری آنے والی ہے جس سے تم اپنے نظریات کے صحیح ہونے کو جان سکو گے اور ان نظریات میں ایسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرو گے کہ جن کے تصور سے اس وقت تمہیں وحشت ہو جاتی ہے پس تمہارے لئے ایسی حکومت قائم ہونے والی ہے جو تمہاری ساری آرزووںکو پورا کر دے گی تمہارے لئے یہ سب مبارک ہو، اس حکومت میں آپ کے لئے بڑا حصہ ہوگا اور تم علماءاور مفکرین ، سائنس دان ہی اس حالت سے سب سے زیادہ خوشیاں مناو گے کیونکہ تمہیں اپنے خیالات اور تصورات کی دنیا مل جائے گی۔
حضرت امام عصر علیہ السلام کا زمانہ ایسے زمانے کا آغاز ہو گا جس کی انتہا نہیں
اس جگہ میرے سامنے حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی گفتگو ہے جو بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ہے آپ نے فرمایا:
بعض کا تصور ہے کہ بقیة اللہ کے ظہور کا دور آخری زمانہ ہے اور اسی سے عالم کا خاتمہ ہے۔ لیکن میں یہ کہتا ہوںکہ بقیة اللہ کے ظہور کا زمانہ درحقیقت اس عالم کا آغاز ہے اور یہی صراط مستقیم ہے جس پرہر انسان کی حرکت کا پہلا قدم ہوگا،ایسا فرق نہیں کہ یہ سب کچھ بعض رکاوٹوں کے ہمراہ ہو یا اس میں رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور یہ حرکت بڑی تیزی سے ہو گی اور اس تحریک کے لئے ہر قسم کے لئے تمام لوازمات کو پورا کر دیا جائے گا۔
اگر ہم فرض کر لیں کہ الٰہی صراط مستقیم ایک بڑی شاہراہ ، موٹروے سے مشابہت رکھتی ہے جو سیدھی ہے اور تیار شدہ ہے کہ سارے انبیاءعلیہ السلام ماضی کی لمبی صدیوں میں، ہزاروں سال کی محنت شاقہ انہوں نے کی ہے تاکہ انسان انسانیت کو غیر مبہم اور ہلاکت میں جا پھینکنے والے راستوں سے بچالیں اور ایک مضبوط اور پختہ، مستحکم شاہراہ کی انہیں راہنمائی کریں جب انسان کی انسانیت اس راستہ پر پہنچے گی تو وہ اپنی پختگی کی آخری حد کو چھو رہی ہو گی اور پھر اس شاہراہ پر سب چلیں گے اور بغیر رکاوٹ کے چلیں گے سب کے لئے اس پر چلنا آسان ہوگا اس میں انہیں کسی قسم کے فسادات اور نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔عصر ظہور اس قسم کا زمانہ ہوگا جس میں بشریت سکھ کا سانس لے گی اور الٰہی موٹروے پر چلے گی عالم طبیعات میں جتنی پوشیدہ قوتیں ہیں ان سب سے انسانیت فائدہ اٹھائے گی اور انسان کے اپنے وجود میں جوقابلیتیں اور صلاحیتیںہیں ان سب سے انسان بہرہ مندہوگا۔
اس وقت انسانی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال میں نہیں لایا جا رہا اس کی قابلیتیں ضائع ہوجاتی ہیں اسی طرح طبیعات میں جو پوشیدہ طاقتیں ہیں وہ بھی زیادہ تر ضائع ہو رہی ہیں اس وقت ہم جتنی خرابیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ماحول میں جو آلودگی ہے اس کی وجہ انسان کا اپنی تمام صلاحیتوںاور قابلیتوں کو صحیح طریقہ اور مناسب طریقہ پر استعمال میں نہ لاسکنا ہے۔
انسانیت علم اور سائنس کے طریقہ سے غافل ہے اور سیدھا اور مستحکم راستہ جس پر چلنے کے لئے الٰہی نظام کا سایہ درکار ہے اس سے موجودہ انسانیت دور ہے۔
(خطاب ۷ رجب ۱۲۴۱ ھ ق۔مدرسہ فیضیہ قم ایران)
اس بحث سے ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتہائی موثر کردار اور ان کے انتہائی فعال اور متحرک علمی رول کو سمجھ سکتے ہیں۔یہ بات بھی امکانی حوالے سے ، تصوراتی لحاظ سے ہے البتہ یہ سب کچھ وقوع پذیربھی ہونا ہے تو اسے ہم ان روایات سے سمجھ سکتے ہیں جن میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علمی کارناموں کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ سائنسی دنیا میں کتنا بڑا علمی معجزہ تخلیق کریں گے، جس کی وجہ سے پوری علمی دنیا آپ کے آگے جھک جائے گی۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت میں علمی انقلاب
علی بن ابراہیم القمی نے اپنی تفسیر میں مفضل بن عمر کی سند سے اس بات کو نقل کیا ہے:
مفضل: میں نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس قول”( وَ اَشرَقَتِ الاَرضُ بِنُورِرَبِّهَا ) “ (سورة الزمر آیہ ۹۶) کے متعلق یہ سنا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:رب الارض سے مراد امام الارض ہے، زمین کے امام کی آمدسے زمین چمک اٹھے گی۔
مفضل: جب آپ علیہ السلام خروج کریں گے تو اس وقت کیا ہوگا؟
امام علیہ السلام: اس وقت لوگ سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی سے بے نیاز ہو جائیں گے وہ امام علیہ السلام کے نور سے سارے کام چلالیں گے۔
(سورہ زمر آیت ۹۶ ۔تفسیرالقمی ج ۲ ص ۱۷۵)
کتاب المحجہ میں بھی مفضل کی روایت ہے:
مفضل : میں نے حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے یہ بات سنی ہے کہ جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو زمین اپنے رب(اپنے امام) کے نور سے چمک اٹھے گی اور لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائیں گے، دن اور رات ایک ہو جائیں گے آپ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرد کی عمر ایک ہزار سال ہو گی ہر سال اس کے لئے ایک لڑکاپیدا ہوگا اس کے لئے لڑکی پیدا نہ ہو گی وہ اسے ایساکپڑا پہنائے گاکہ وہ اسی ایک ہی کپڑے میں بڑا ہوتا جائے گا تو وہ کپڑا بھی اسی طرح بڑھتا جائے گا اور جس رنگ کو چاہے گا اس کا رنگ وہی ہو جائے گا۔(المحجہ ص ۴۷)
(اس قسم کی روایات ہمارے لئے عجیب لگتی ہیں اور ہمارے اذہان میں ان کے معانی نہیں سماتے اس کی مثال ایسے سمجھیں کہ اگر ماںکے شکم میں موجود بچے کو یہ بتایا جاتا کہ تم ایک ایسی جگہ جانے والے ہو جہاں پر ہزار میل لمبا پانی کا دریا ہوگا سو فٹ اونچی کھجور ہو گی اتنی اقسام کے جانور ہوں گے اسی طرح کی جھاڑیاں بھی ہوں گی اورکئی کئی منزلہ مکانات ہوں گے جب اس کے سامنے دنیا میں موجود اشیاءکی تفصیل بیان کی جائے اور وہ بچہ عقل و شعور اور سمجھ بھی رکھتا ہو تو وہ یہ سب کچھ سن کر تعجب کرے گا اور اسے انہونا کہے گا یہی ہمارا حال ہے کہ ہم اس وقت جن حالات میں پھنسے ہیں اس کے بعد والے حالات کا تصور ہمارے لئے مشکل ہے جس طرح سوسال پہلے کے لوگوں کے لئے ہوائی جہازوں، جیٹ طیاروں، ایٹم بم وغیرہ جیسی نئی ایجادات، ٹیلیفون کی جدیدترین سروس، کمپیوٹر جیسی صنعت کو قبول کرنا مشکل تھا اب امام زمانہ (عج) کا جو دور ہوگا ظاہر ہے اس میں علمی ترقی اس قدر ہو گی جس کا ہم تصور تک نہیں کر سکتے سارا علم اول سے آخر تک دو حروف کا ہے اور جب امام زمانہ(عج) تشریف لائیں گے تو باقی پچیس حروف کا علم بھی کھل جائے گا تو پھر اس زمانہ کے حالات وواقعات اور زندگی کی سہولیات کا ادراک ہم کیسے کر سکتے ہیں؟اور کیونکر کر سکتے ہیں؟ یہی حال قبر کے اندر کے حالات، میدان محشر کے حالات،جنت اور جہنم کی کیفیات بارے ہے،ہم تو بس اتنا کہتے ہیں کہ صادق اور امین ذوات جو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے ترجمان ہیں انہوں نے یہ سب کچھ بیان کیا ہے ہماری سمجھ میں اگر نہ بھی آئے تو ہم اس سب کچھ کو تسلیم اور قبول کرتے ہیں انکار نہیں کر سکتے، انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے....مترجم)
البحار میں مفضل سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے:
حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام: جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو زمین اپنے رب کے نور سے (اپنے امام کے نور سے)چمک اٹھے گی لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائیں گے ظلمت اور تاریکی ختم ہو جائے گی۔
(بحارالانوارج ۲۵ ص ۰۳۳ باب ۷۲ حدیث ۲۵)
وضاحت
لوگوں کا سورج کے نور سے بے نیاز ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ امام علیہ السلام کا مادی نور ظاہر ہوگا یعنی اس سے مراد نور کی مادی روشنی ہی لیں یا اس سے مراد علمی انقلاب ہے روشنیاں اور انوار اس قدر عام ہوں گے کہ دن رات ایک لگیں گے جب کہ اس وقت رات کو بعض تجارتی صنعتی سرگرمیاں ماند پڑجاتی ہیں زراعت کے کام رک جاتے ہیں جب کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں یہ ساری رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی تو اس وقت دن رات کے سارے اوقات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا اس طرح دن رات ایک ہو جائیں گے اس سے مرادیہ نہیں کہ رات کا وجود ختم ہوجائے گا۔
روضة الکافی میں حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے شیعوں کے لئے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کو وسعت عطاءکر دے گا ان کے درمیان اور قائم علیہ السلام کے درمیان فاصلہ نہ رہے گا اوران کے درمیان میں واسطہ کی ضرورت نہ ہوگی جب امام علیہ السلام سے گفتگو کریں گے تو وہ سن لیں گے وہ بولیں گے تو اسے مومنین سن لیں گے اور وہ سب کچھ دیکھ سکیں گے جب کہ امام علیہ السلام اپنی جگہ پر موجود ہوں گے۔(الکافی ج ۸ ص ۰۴۲ ذیل ۹۲۳)
امام علیہ السلام سے ایک اور حدیث میں آیاہے:
آپ علیہ السلام نے فرمایا: مومن قائم علیہ السلام کے زمانہ میں اس طرح ہوگا کہ اس کا جو بھائی مشرق میں ہوگا وہ مغرب میں بیٹھ کر اسے دیکھ لے گا اسی طرح جومغرب میں ہوگا تو وہ مشرق میں بیٹھ کر دیکھ لے گا۔(بحارالانوار ج ۲۵ ص ۱۹۳ حدیث ۳۱۲)
یہ حدیث ٹیلی ویژن کی سکرین پر نمودار ہونے والی تصاویر اور ٹیلیفون پر آنے والی تصویر موجودہ ترقی کے دور میں نشاندہی کرتی ہے لیکن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیان سے یہ لگتا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہوگا کیونکہ وہ ایسی حالت ہو گی جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھی ہو گی۔
حضرت امام عصر علیہ السلام کے دور میں علوم کی کثرت
بحارالانوار میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے ایک طولانی حدیث نقل کی ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: آپ مومنوں کے اذہان میں علم کو ڈال دیں گے کوئی بھی مومن معلومات لینے کے حوالے سے کسی دوسرے مومن کا محتاج نہیں رہے گا اس دن اس آیت کی تاویل آئے گی ”( یُغنِ اللّٰهُ کُلّاً مِّن سَعَتِه ) “(سورہ نساءآیت ۰۳۱)
(بحارالانوار ج ۳۵ ص ۶۸)
اصول الکافی میں حضرت امام ابوجعفر علیہ السلام سے اپنی اسناد کے ذریعے یہ روایت نقل کی ہے:جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندگان پر اپنی قدرت کا ہاتھ رکھ دے گا اس طرح ان کے لئے ان کی عقلوںکو اکٹھا کر دے گا اور اسی طرح ان کے سارے خیالات، احلام، تصورات، افکار کامل ہو جائیں گے اور الخرائج میں ہے کہ مومنوںکے اخلاقیات کو کامل کر دے گا۔(الکافی ج ۱ ص ۵۲ باب العقل حدیث ۱۲ کمال الدین ج ۲ صفحہ ۷۶ باب ۸۵ ذیل ۰۳)
علامہ مجلسی ثانی نے مرآة العقول میں اسی ضمن میں فرمایا ہے کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ ”ومسح یدہُ“یدہُ میں ”ة“ ضمیر کا اشارہ یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہے کہ االلہ تعالیٰ اپنا ہاتھ بندگان پر رکھے گا یا حضرت قائم علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے کہ قائمعلیہ السلام اپنے ہاتھ کو بندگان کے سروں پر رکھیں گے دونوں صورتوں میں یہ رحمت و شفقت یا قدرت کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ اس وجہ سے انہیں پورا تسلط اور غلبہ حاصل ہوگا اور ساری معلومات ان کوحاصل ہو جائیں گی۔
اس حدیث میں جو یہ جملہ ہے کہ ”تجمع بها عقولهم “ تو اس میں دو احتمال ہیں
ایک احتمال ہے کہ ان سب کے عقول کو حق کا اقرار کرنے پر اکٹھا کر دیں گے اس طرح کہ ان میں کسی قسم کا حق بارے اختلاف نہ رہے گا سب حق کی تصدیق کریں گے ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے عقل مجتمع ہو گی تو یہ اکٹھا ہونے کا مطلب ہے کہ تمام نفسانی قوات اور صلاحیتیں عقل کے تابع ہوں گی نفسانی خواہشات کے متفرق ہونے کا اثر نہ پڑے گا سب عقل کے تابع ہوں گے ۔
پہلا احتمال زیادہ واضح ہے عبارت میں ”بہ“ میں ”ھائ“ کا اشارہ دفیع اور.... کی طرف ہے جب کہ ”بھا“میں”ھائ“کااشارہ ”ید“ہاتھ کی طرف ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت قائم علیہ السلام بندگان کے سروں پر ہاتھ رکھیں گے جس سے سارے علوم انہیں حاصل ہو جائیں گے، عقول کی بالادستی ہو گی قدرتمند ہوں گی، سب حق کی تصدیق کریں گے، حق بارے اختلاف نہ رہے گا نہ ہی کسی کو دلائل مانگنے کی ضرورت ہو گی نفسانی خواہشات عقلوں کے تابع ہوں گی احلام، حِلم کی جمع ہے اس سے مراد بھی عقل ہے، اس جگہ علامہ مجلسی کی بات ختم ہوئی۔(مکیال المکارم ج ۱ ص ۶۷)
بعض علماءرضوان اللہ علیہم کا بیان ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ معجزاتی طور پر اپنے جسمانی ہاتھ کو تمام بندگان کے سروں پر رکھ دیں گے۔
اس بات کی دلیل حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول ہے۔ الکافی میں روایت ہے اور یہ امر اس کے لئے ہوگا جس کے لئے گھٹی دی جائے گی۔ جب اللہ تعالیٰ کی اس بارے اجازت ہوگی تو وہ خروج کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے یہ کہے گا یہ وہ ہے جسے ہونا ہے اللہ تعالیٰ اپنا دست قدرت اپنی رعیت کے سر پررکھ دے گا۔(بصائرالدرجات ص ۴۰۲/۹۳)
اس سب سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عقلیں قدرت مند ہو جائیں گی انکی سوچ بڑھ جائے گی انکی سوچوں میں تبدیلی آئے گی، آسمان، فضاءسمندر ماحولیات، زمین کے اندرون ہر جگہ ترقی ہو گی ایسی ترقی ہو گی جس کاکسی نے تصور تک نہ کیاہوگا۔
منتظرین کے علم کی وسعت
ابوخالد: میں نے عرض کیا یابن رسول اللہ : یہ سب کچھ ہوگا؟
حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام نے فرمایا:جی ہاں! میرے رب کی قسم! یہ سب کچھ ہمارے پاس اس صحیفہ میں درج ہے جس میں وہ تمام مصائب اور مشقتیں درج ہیں جو ہمارے اوپرحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آئیں گے۔
ابوخالد:یابن رسول اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟
حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام: حضرت رسول اللہ کے بعد جو اوصیاءاور آئمہ ہیں ان میں جو بارہویں ہیں ان کے لئے غیبت ہے۔
اے اباخالد! جو آپ کی غیبت میں موجود لوگ ہوں گے وہ آپ کی امامت کے قائل ہوں گے اور آپ کے ظہور کی انتظار کرنے والے ہوں گے وہ سارے زمانوں کے لوگوں سے افضل ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسے عقول اور ایسی سمجھ عطاءکر دی ہوئی ہے کہ ان کے ہاں غیبت ایسے ہو گی جس طرح امام علیہ السلام ان کے درمیان موجودہوں غیبت ان کے لئے بمنزلہ مشاہدہ ہو گی اللہ تعالیٰ اس زمانہ کے لوگوں کو ایسے مجاہدین کا مقام دیں گے جنہوں نے تلوار لے کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ان کے ہمراہ جہاد کیا یہ حقیقت میں مخلصین ہوں گے اور سچے شیعہ ہوں گے اور اللہ عزوجل کے دین کی جانب ظاہر میں اور مخفیانہ انداز سے دعوت دینے والے ہوں گے۔(کمال الدین ج ۱ ص ۹۱۳ حدیث ۲ ،النجم الثاقب ج ۱ ص ۳۱۵)
صحت کے میدانوں میں حیرت انگیز ترقی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مملکت میں ایک آدمی اتنی لمبی عمر کرے گا کہ اس کے لئے ایک ہزار لڑکے پیدا ہوں گے ان میں ایک بھی لڑکی نہ ہوگی۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۱۱۳)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بیان میں اس کے علاوہ بھی ہے کہ اس دور کے لوگ ہر بدعت ، آفت اور مصیبت سے امن میں ہوں گے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سنت رسول پر عمل کریں گے ان سے ہر قسم کی آفات و بلیات و شبہات دور ہوجائیں گے۔
(النجم الثاقب ج ۱ ص ۱۱۳)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جس نے ہم اہل بیت علیہ السلام کے قائم علیہ السلام کا زمانہ پا لیا تو اس وقت جو مریض ہوگا، معذورہوگا، اپاہج ہوگا،شفاءپا جائے گا جو کمزوری میں مبتلا ہوگا وہ طاقتور ہو جائے گا۔حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:جس وقت حضرت قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر مومن سے بیماری دور ہو جائے گی کمزوری ختم ہو جائے گی، ان کے لئے بے انتہاءطاقت ہو جائے گی۔
یہ ساری روایات طبی میدانوں میں بے تحاشا ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں ایسی ادویات کشف ہوں گی جو لاعلاج بیماریوں کا مداوا ہوں گی۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۱۲۳،۲۱۳)
زراعت اور ماحولیات میں تبدیلیاں
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ: جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو آسمان اپنے قطرات کو اتار دے گا اور زمین اپنی نباتات کو اگا دے گی اور بندگان کے دلوں سے بغض اور نفرت ختم ہوجائے گی درندوں اور چوپاوں میں صلح ہو جائے گی ایک عورت عراق اور شام کے درمیان کا سفر کرے گی جہاں بھی وہ قیام رکھے گی اس جگہ سبزہ ہو گا اس کے سر پر زینت چڑھی ہو گی اس کو نہ تو کوئی درندہ ڈرائے گا اور نہ ہی اسے کوئی آدمی خوف زدہ کرے گا۔(النجم الثاقب ج ۱ ص ۰۰۳)
ملاحظہ
عراق اور شام کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے اور زیادہ تر علاقہ صحرائی ہے اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصر ظہور امام زمانہ علیہ السلام میں اس وقت زراعت کے میدان میں اتنی ترقی ہو گی کہ عراق اور شام کے درمیان ہزاروں مربع میل صحرائی علاقہ سرسبزوشاداب ہو جائے گااور کہیں بھی ویرانی نہ ہوگی۔
”سعدالسعود“ کتاب میں صحف ادریس علیہ السلام سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ ”اس زمانہ میں امامت کو زمین پر ڈال دیا جائے گا کوئی بھی چیز کسی دوسری چیز کانقصان نہ کرے گی اور کوئی بھی کسی دوسری چیز کو خوفزدہ نہ کرے گی اور کوئی بھی کسی دوسرے سے خوف نہ کھائے گا، حشرات الارض ، حیوانات، درندے سب لوگوں کے درمیان ہوں گے وہ سب ایک دوسرے کو اذیت نہ دیں گے حشرات الارض میں سے جس جس کے لئے زہر کا کانٹا ہوگایعنی زہریلا ڈنگ اس سے نکال دیا جائے گا اور ہر ڈسنے والے سے اس کازہریلا پن ختم کر دیا جائے گا آسمان اور زمین سے برکات کو اتار دیا جائے گا زمین اپنی خوبصورت نباتات کے ذریعے چمک اٹھے گی جگمگائے گی زمین اپنے سارے ثمر کو باہر نکال دے گی اور اپنی خوشبووں کی تمام اقسام کو دے دے گی لوگوں کے درمیان رحمت، شفقت، ہمدردی انڈیل دی جائے گی سارے ماحول میں پیار اور محبت ہوگا امن اور سکون ہوگا۔(بحارلانوارج ۲۵ ص ۴۸۳ ،باب ۷۲ ۔ ذیل ۴۹۱)
البحار میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے:
حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں میری امت خوشحال ہو گی وہ سب ایسی نعمت میں ہوں گے کہ اس سے قبل ایسی نعمتوں سے بہرہ ور نہ ہو سکیں گے آسمان ان پر مسلسل برکات اتار دے گا اور زمین اپنی نباتات میں سے کچھ بھی نہ چھوڑے گی مگر سب کو اگا دے گی۔(بحارالانوار ج ۵۱ ص ۳۸ باب ۱ حدیث ۹۲)
اسی طرح جب ہم علمی، فنی، سائنسی ترقی کی روایات کو اس کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو بات سمجھ آجاتی ہے کہ زراعت کے میدان میں حیرت انگیز ترقی ہو گی اور زراعت سے کچھ بھی ضائع نہ ہوگا کیونکہ زمین میں کوئی نقصان دینے والی چیز باقی نہ رہے گی۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے :”مدھا متان“ آپ نے فرمایا: مدینہ سے مکہ میں کھجوروں کے باغات ایک دوسرے سے متصل ہوجائیں گے۔(البرہان ج ۴ ص ۱۷۲)
ڈیموں کی تعمیر
ایک طویل حدیث میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد ان کے اقدامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: پھر آپ کسی کو آرڈر جاری کریں گے اوروہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی مشہد کے پیچھے سے نہر کھودےں گے جو غریبین تک ہو گی اور نجف کی بلندی سے نیچے گرے گی اس کے بعد اس پر پل بنائیں گے آٹا پیسنے کی فلور ملیں لگائیں گے۔ ایک بوڑھی عورت آئے گی اور بغیر اجرت کے اس کی گندم اسے پیس دی جائے گی(گویا اس ڈیم پر جس کی لمبائی کربلاءسے نجف تک ہو گی پانی سے چلنے والی آٹا پیسنے کی چکیاں ہوں گی جہاں سے بغیر اجرت کے آٹا پیس کر دیا جائے گا)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت میں پانیوں کی رونق ہو گی نہریں لمبی لمبی ہوں گی زمین خوراک دے گی اور خزانوں کو زمین اگل دے گی۔(النجم ج ۱ ص ۶۰۳)
ایک اور روایت ہے کہ ان کے لئے زمین اپنے خزانے کھول دے گی اور قائمعلیہ السلام فرمائیں گے سب کھاو پیو گزشتہ زمانوں میں جو کمی رہی ہے اس کی تلافی کرو۔
(سورہ الحاقة آیت ۴۲ ۔ بحارالانوار ج ۳۵ ص ۶۸)
سڑکوں اور شاہراہوں کی وسعت اور پھیلاو
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو وہ بڑی شاہراہ کو وسعت دیں گے اور اس سے انحرافی موڑ ختم کر دیئے جائیں گے سڑکوں پر لگے میزابوں، گٹروں کا خاتمہ کر دیں گے(سڑکوں سے پانی کے راستے ایسے بنائیں گے کہ ٹریفک کے لئے پانی کی گذرگاہیں رکاوٹ نہ بنیں)
(الانوار البھیہ ص ۳۸۳ ۔ اعلام الوریٰ ج ۲ ص ۱۹۲)
شاہراہ اعظم سے مراد ہر وہ بڑی سڑک ہے جو شہروں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے اور جس کی توسیع کی ضرورت ہو گی اسے وسعت دیں گے۔
علمی اور سائنسی ترقی پر دلیل اور گواہ
ہم نے علمی اور سائنسی انقلاب پر روایات سے جو نمونے پیش کئے ہیں یہ ایک بڑی دلیل ہیں لیکن اگر روایات میں یہ سب کچھ نہ بھی ہوتا تب بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام نے جو بڑے بڑے کام سر انجام دینے ہیں ان کا تقاضا بھی اسی قسم کی علمی ترقی پر گواہ ہے۔
بلقیس کا تخت اور سلیمان کی حکومت
اگر ہم بلقیس کے تخت کی مثال کو سامنے رکھیں کہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصی یمن (صنعاءشہر)سے قدس شہر(فلسطین)میں پلک جھپکنے کی دیر میں لے آتے ہیں جب کہ ان کے پاس تھوڑا سا علم تھا اس قرآنی واقعہ سے ہم یہ بات تو سمجھ سکتے ہیں کہ علم میں یہ طاقت ہے کہ ایک چیز کو ایک جگہ سے اٹھا کر آن واحد میں دوسری جگہ پر پہنچا دے اگر حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے وصی سے یہ چاہتے کہ پورے یمن کو اپنی جگہ سے اٹھا کر لے آئیں اور اسے دوسری جگہ پر رکھ دیں جیسے مصر کا صحراءسینا،تو وہ یہ بھی کر دیتا پس علم ہی کے لئے معنوی اور مادی سلطنت ہے۔
جس وقت انسان کے پاس ایسے ذرائع، وسائل اور اسباب موجود ہوں کہ جن کو وہ استعمال میں لا کر اپنی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے تو وہ ایسا کیوں نہ کرے گا اللہ تعالیٰ نے بعض احادیث قدسیہ میں ان مطالب کی طرف اشارہ دیاہے۔
میرابندہ نوافل(عبادات) کے وسیلہ سے برابر، تسلسل کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور میں اس کا پاوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔
(غوالی اللئالی ج ۴ ص ۳۰۱ حدیث ۲۵۱ ۔ الغدیر ج ۱ ص ۸۰۴ ۔ کنزالعمال ج ۱ ص ۹۲۲ حدیث ۵۵۱۱)
اولیاءاللہ کا اختیار
الشیخ الشعرانی نے کہا ہے کہ میں نے خواص سے سوال کیا کہ کیا اولیاءمیں سے کسی ایک کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں”کُن“ کے تصرف کا اختیار دے دے گا ۔
(یعنی اللہ تعالیٰ کا ولی کسی چیز کے بارے یہ ارادہ کرے کہ وہ ہو جائے تو وہ چیز اس اللہ کے اذن سے اسی لمحہ ہو جائے گی) تو ان خواص نے جواب میں یہ کہا: جی ہاں! ایسے ہو سکتا ہے اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل ہے کہ آپ نے جنگ تبوک میں اسی قسم کاتکوینی اختیار استعمال کیا کہ آپ نے ابوذرعلیہ السلام کے لئے چاہا کہ وہ آپ کے پاس موجود ہو جائیں تو وہ اسی وقت تبوک کے مقام پر موجود آہوئے(جب کہ وہ مدینہ سے آپ کے ہمراہ نہ آئے تھے)(الجواہر والدرر للسفرانی کتاب الغدیر کے حاشیہ پرص ۳۲۱)
ابن العربی نے بیان کیا ہے: اللہ تعالیٰ سے اور نہ ہی رسول اللہ سے ایسی کوئی روایت ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق سے کسی کو”کُن“ کا اختیار دیا ہو سوائے انسان کامل(اس سے مراد حضورپاک کی ذات ہے)کی ذات کے اور یہ بات جنگ تبوک میں حضورپاک سے ظاہر ہوا آپ نے فرمایا:
”کن اباذر،فکان هواباذر “
اے اباذرعلیہ السلام ہو جاو، تو اس وقت ابوذرعلیہ السلام ہو گئے۔(یعنی آپ نے یہ چاہا کہ اے ابوذرعلیہ السلام ! اسی لمحہ میرے پاس تم پہنچ جاو تو(باذن اللہ)ایسا ہی ہوا)
حضرت آیت اللہ الشیخ حسن زادہ آملی نے فرمایا:بتحقیق وہ اسم جو انسانی جوہر اور حقیقت کی بلندی اور ارتقاءکا سبب ہے وہ اسم مسلسل اس ارتقاءمیں درجہ بدرجہ آگے بڑھتا رہتا ہے پھر ایسی جگہ پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ شخص قادر ہو جاتا ہے کہ وہ کائنات کے مادی سسٹم میں تصرف کرے ایسا درحقیقت ایک عینی اور خارجی حقیقت سے عبارت ہے کیونکہ جس وقت انسان اپنے وجود اوراپنی حقیقی، عینی اور خارجی حیثیت سے کسی بھی اسم سے متصف ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے اسماءکی خصوصیات سے جو خصوصیت اس خاص اسم کے لئے ہے وہ اس کے واسطے حاصل ہو جاتی ہے اللہ کے اسماء”کُن“ کے کلمات سے ہیں کیونکہ اس اسم میںسلطنت ،برتری قدرت کاملہ کا اظہار ہے چنانچہ جس کے پاس اسم الٰہی ہوگا تو پھر اسم کے عینی اور خارجی خواص اس انسان سے ظاہر ہوں گے اس طرح خودوہ انسان اسم کا درجہ اختیار کر لیتا ہے اس حالت میں وہ قادر ہو جاتا ہے کہ جو کچھ چاہے اس کو کر ڈالے جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کرتے تھے۔(الانسان الکامل ص ۲۶ ۔ الفتوحات المکیہ باب ۱۶۳ سے نقل کیا ہے)
اسی طرح کے حالات اور انبیاءعلیہ السلام سے بھی ظاہر ہوئے، حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصی آصف ابن برخیا سے تخت بلقیس لانے کا مظاہرہ اسی سلسلہ سے مربوط ہے جب کہ حضورپاک تمام انبیاءکے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اسماءکا مظہرکامل ہیں اس لئے آپ میں اللہ تعالیٰ کے سارے اسماءکے اثرات موجود ہیں آپ جو ارادہ کریں تو وہ ارادہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے پھر یہی سلسلہ آپ کے معصوم جانشینوں میں نظرآتا ہے کیونکہ ہر امام معصوم آپ کا قائم مقام ہے نبوت و رسالت کے علاوہ آپ کی ہرخصوصیت اس میں موجود ہوتی ہے۔مترجم)
ہم نے اپنی کتاب ”آل محمد بین قوسی النزول والصعود“میں متواتر واسطوں سے تفصیل بیان کر دی ہے کہ اس کتاب کی پہلی فصل جس میں آل محمد علیہم السلام کی ولایت تکوینیہ کو بیان کیا ہے جب کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام خاتم آل محمد علیہم السلام ہیںجن کے تعارف کے لئے آپ سے پہلے تمام آئمہ اہل بیت علیہم السلام نے سعی و کوشش کی آپ اس سب کو عملی شکل دیں گے جسے ان حضراتعلیہ السلام نے شروع کیا تھا آپ ہی اسے پورا کریں گے۔
عادلانہ سلطنت کے قیام میں علم سے استفادہ
حضرات آل محمد علیہم السلام کی قدرت اور علم بارے جو روایات اور دلائل بیان کیے گئے ہیں یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے اور نہ ہی یہ کتاب اس بحث کے لئے تحریر کی گئی ہے اس سب سے جو مقصد ہے وہ یہ ہے:
۱ ۔ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی صفات ان کی علمی صلاحیات کے بارے میں آگہی اور یہ کہ وہ کتنی قدرت کے مالک ہوں گے یہ معرفت اپنے زمانہ کے امام بارے حاصل کرنا واجب ہے ”من لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة“ جو اس حالت میں مرجائے وہ اپنے زمانہ کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو تو وہ جہالت کی موت مرا۔(الانسان الکامل ص ۹۹)
۲ ۔ یہ کہ عدالت عام کرنے اور پاکیزہ حکومت کے قیام اور فلاحی مملکت بنانے کے لئے تاکہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکیں کہ اس معاشرہ میں اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ ہو گی اس سب کے لئے جن علمی طریقوں کو استعمال کیا جائے گا اس سے آگہی ہوجائے۔
اسی تناظر میں جو اسالیب اور طرق بیان ہو چکے ہیں اس کے ساتھ آپ مسالمت آمیز طریقہ کو بھی بروئے کار لائیں گے نصیحت، وعظ، دلیل، اچھی گفتگو اسی سے آپ آغاز کریں گے،لوگوںکو سمجھائیں گے، اپنی حقانیت انہیںبتائیں گے، انہیںعقلی،سائنسی دلائل سے قائل کریں گے تاریخی حوالے دیں گے قرآن اور سنت سے استدلال کریں گے جولوگ آپ کی اس روش پرحق بات کو قبول کریں گے تو پھرآپ اپنے مقصد اور ہدف کے دفاع کے لئے مخالفین سے جہاد کریں گے بالآخر غیبی امداد اور الٰہی اعجاز بھی ہمراہی کرے گا اس سب کا اثر ہونا ہے اور اس سے مطلوب نتیجہ ملنا ہے، ہر عمل اور کارروائی کا آغاز باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہو گا جب کہ ظہور کے لئے اور عالمی سطح پر عادلانہ حکومت کے قیام واسطے عمومی طورپرپہلے سے آمادگی موجود ہو گی اور عادلانہ حکومت کے قیام کی تیاری کرنے والی جماعتیں افراد بھی اپنا کردار ادا کرچکے ہوں گے اور اس وسیع اور عالمی حکومت کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے آمادہ ہوں گے انہیں کسی کی طرف سے مذمتی بیانات کی پرواہ نہ ہو گی وہ الٰہی رضاکار فورس ہوں گے دن میں غراتے شیروں کی مانند اور رات کی تاریکی میں مارگزیدہ کی طرح اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر عبادت کرنے والے ہوں گے سیاسی بصیرت کے مالک ہوں گے عالمی حالات پر ان کی گہری نظر ہو گی ظالم حکمرانوں کی کمزوریوں سے واقف ہوں گے ان سب کااللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہوگا کسی کا خوف ان کے دل میں نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان، اپنا مال اور ناموس تک کی قربانی پر آمادہ ہوں گے، قربانیاں پیش کرنے سے وہ تھکیں گے نہیں اور نہ ہی ہار مانیں گے فتح اور نصرت ان کے قدم چومے گی اور وہ اپنے امام کی آمد کے لئے ہر قسمی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہ کریں گے ان کا مقصد ایک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام نافذ ہو اور ظلم کا خاتمہ ہو اور وہ یہ جانتے ہوں گے اور ان کا یقین کامل ہوگاکہ ان سب کے قائد،سارے انبیاءعلیہ السلام کی آرزو، محروموں کے لئے ڈھارس، خاتم الحجج،خاتم الاوصیائ، خاتم الائمہ، خاتم الخلفائ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے اور ان کی قیادت میں انہیں بڑی فتوحات نصیب ہوں گی۔
اس سب کے باوجود اتنی بڑی سلطنت کا قیام اور پوری زمین پر عدالت کا نفاذ اور سارے انسانوں اور پوری بشریت کے لئے رفاہ اور خوشحالی کا انتظام، مکمل طور پر غربت کا خاتمہ جہالت کا خاتمہ، نئی علمی دنیا کی تعمیرکوئی آسان اور سادہ سا کام نہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ سب آبادیاں وسیع و عریض ہیں، انسانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے سارے براعظموں تک پہنچنا اور ان سب میں اپنی بات پہنچانا کوئی آسان کام نہیں، یہ فقط زبانوں کی کثرت ماحول کے متعدد ہونے تہذیبوں کے تعدد، قومیتوں کے متفرق ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ انٹرنیٹ، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تمام ترجدید ترین روابط اور اتصالات کی سہولیات کے باوجود اگر فرض کر لیں کہ ایک چینل پر حضرت امام مہدی علیہ السلام خطاب کریں اور اپنے مقاصد کو بیان کریں تو پھر کتنے اور چینلز ہوں گے جو آپ کی بات کونشر کریں گے تین، چار،دس، بیس ،سو اس کا اثرہوگا۔
سوال: امام کا خطاب سب لوگوں تک کیسے پہنچے گا؟
فرض کریں کہ آپ کے خطاب کا ترجمہ بھی مختلف زبانوں میں کیا جا رہا ہوگا، کئی لوگ ہوں گے جو ٹیلی ویژنوں کے سامنے بیٹھ کر اس خطاب کو سن رہے ہوں گے اگر خطاب رات کو ہوا تو بہت سارے ممالک میں دن ہوگا اور دن کو لوگ کاروبار میں مصروف رہتے ہیں کم ہی ٹیلی ویژن پر بیٹھتے ہیں اور اگر دن کو ہوا تو بہت ساری جگہوں پر رات ہو گی، بعض ممالک میں راتوں کو کاروبار ہوتا ہے بعض میں دنوںکو بہت ساری اقوام اور افراد ایسے ہیں کہ جن کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ ٹیلی ویژن پر آسکیں جیسے جاپان، چین، کوریا وہ لوگ تو دن رات کام کرنے میں لگے رہتے ہیں، بہت ساری اقوام ہیں جو لذات کی دنیا میں غرق رہتے ہیں انہیں کچھ سروکار نہیں کہ عالم میں کیا ہو رہا ہے کتنے افراد ہیں جو ہفتہ میں فقط ایک دن ٹیلی ویژن پر بیٹھتے ہیں بہت سارے انٹرنیٹ سے بالکل فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں اس کے استعمال کو نہیں جانتے ہیں۔
اس کے ساتھ بہت سارے ہیں کہ جنہوں نے اسلام کے بارے میںکچھ بھی نہیں سنا اور نہ ہی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے سنا ہے اور نہ ہی ان کے عمل سے آگاہ ہیں نہ ہی ان کے پروگرام سے واقف ہیں اور نہ ہی ان کی عالمی اسلامی حکومت کے فوائدبارے آگاہ ہیں،نہ ہی ان کی امن کے قیام کی کوششوں سے واقف ہیں اگرچہ انسانوں کی اکثریت فطری طور پر ایک ایسے انسان کی امید لگائے ہوئے ہوگی جو پوری انسانیت کو امن دے اور انہیں خوشحال بنائے۔لیکن یہ سارے انسان اس سے آگاہ نہ ہوں گے کہ ان کا ہمدرد انسان، امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور وہ تشریف لے آئے ہیں
بہرحال چھ ارب انسانوں کی آبادی والی زمین پر ایک حکومت کا قیام کہ جس میں ظلم نہ ہو، عدالت ہو،امن ہو، خوشحالی ہو، علم ہو، جہالت نہ ہو، غربت نہ ہو،سب کا ایک دین ہو،سب کے لئے ایک نظام ہو، یہ کام آسان نہیں ہے البتہ اس نے ضرور ہونا ہے اور اس کے لئے مقدمات ہیں اور پھر اس کام کے لئے مختلف ذرائع اور وسائل کو استعمال میں لایا جائے گا۔
ساتویں فصل
ظہور سے پہلے رونما ہونے والی نشانیاں
ظہور کی اہم علامات اوران کے حوالے سے ہمارا کردار
یہ علامات کسی ایک معین نص(روایت یا آیت قرآن)میں موجود نہیں بلکہ بہت ساری روایات کے ضمن سے ان علامات کو سمجھاجا سکتا ہے جب کہ یہ علامات ظہورکی شرائط سے زیادہ قریب ہیں لیکن اس جگہ ان علامات بارے بحث ان کے متعلق زیادہ تاکید کے لئے ہے۔
علامت کا تعلق ہر مومن، مستصنعف اور مظلوم کے حوالے سے عبارت ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر اس بات پر قانع ہو کہ تبدیلی نے آنا ہے اور اس وقت جو کچھ صورتحال ہے اس پر وہ قانع نہ رہے جس وقت پوری امت اس یقین پر آجائے گی اور اس بات پر قانع ہو جائے گی کہ موجودہ صورتحال کو تبدیل ہونا ہے تو وہی زمانہ تبدیلی کا زمانہ ہوگا اس وقت امت اپنی پوری صلاحیتوں، لیاقتوں اور وسائل و ذرائع کہ اس تبدیلی کی تیاری کے لئے لگا دے گی تو اسی تناظر میں ظہور کا زمانہ آن پہنچے گا۔
یہ بات ضروری ہے کہ ساری امت اس مبارک ظہور کے حوالے سے اس اسلامی سلطنت کے لئے اور اس زمانہ کے مدمقابل ذمہ دارانہ کردار کے شعور و احساس کی سطح تک پہنچ جائے۔
یہ احساس ذمہ داری اور ایسا یقین اور ایسی آرزو اور اس کے لئے عملی جدوجہد اور پوری آمادگی اس بات سے منافات نہیں رکھتی کہ ظلم موجود ہو اور عام ہو یہ بات منتظرین کی طاقت اور انہیںبرداشت کی عادت ڈالنے کے لئے ضروری ہے تاکہ جسمانی طور پر مضبوط ہو، تصوراتی طور پر آمادہ ہو، عقلی طور پر پختہ دارستہ ہو، عقل بہتر ہو، جیسا کہ غربلہ اور تخمیص والی روایات ہیں کہ ظہور سے پہلے خالص کو ناخالص سے جدا کرنا اس بات کو ان روایات سے سمجھا جا سکتاہے۔
لیکن اگر ایسا نہ ہوایعنی پوری امت میں اس عالمی تبدیلی کے لئے آمادگی موجود نہ ہو اور کچھ میں آمادگی ہو، وہ قناعت کی منزل پر ہوں اور دوسرے اس سے انکاری ہوں اوریہ حجت پیش کریںاوروہ خوف کے اسباب کو بیان کریںاور بھوک، بیماری اوراسی قسم کے جو دوسرے امور مشابہت رکھتے ہیںوہ اس کو بہانا بنائیں کہ بہتر حالات خودبخود آجائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ظلم کے نتیجہ میں خودبخود تبدیلی آجائے گی جب کہ ایسا نہیں ہوگااگر آمادگی نہ ہوئی تو پھر ظہور کا زمانہ موجود ہو جائے گا یہ اس وقت ہی ہوگا جب اللہ تعالیٰ اذن دے گا
”( اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَو مٍ حَتّیٰ یُغَیِّرُو ا مَا بِاَن فُسِهِم ) “(سورہ رعدآیت ۱۱)
حالات کی تبدیلی کے لئے منتظر کا کردار
بتحقیق اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرے گا، یہاں تک کہ وہ قوم خود اپنے حالات کو بدل دے، جو بھی علامات بیان ہوئی ہیں یہ سب اس بات پر زور دے رہی ہیں اور اس امر کی تاکید کے لئے ہیں کہ حضرت قائم علیہ السلام کا ظہور ضرور ہوگا اور یہ برحق ہے وگرنہ یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے ہم منتظر ہیں جیسا کہ ہر انسان انتظار کر رہا ہے اگر وہ ان علامات پر ایمان نہ بھی رکھتا ہو یا ان کی تصدیق نہ بھی کرتاہو۔
جو بات ظہور کو قریب کر دے گی اور فَرَج میں جلدی ہو گی وہ یہ ہے کہ امت اس بات پر اطمینان اور یقین کر لے کہ حضرت قائم مہدی علیہ السلام کا وجود ایک حقیقت ہے اور یقینی ہے اور ان کے وجود مقدس پر ہمارے ایمان کا مطلب تحرک ہے اپنے حالات کو بدلنے کےلئے، اپنے معاشرہ میں تبدیلی لانے کے لئے، سول سوسائٹی میں آمادگی پیدا کرنے کے لئے کہ وہ سب اس یوم موعود کی خاطر تیار ہو جائیں ۔
کیا ایسانہیں ہوتاکہ جب کوئی شخص فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے لئے ایک گھر بنائے تو وہ اس گھر کے لئے مقدمات فراہم کرتا ہے، سب سے پہلے جگہ لیتا ہے، نقشہ بناتا ہے، میٹریل لیتا ہے، اس کے لئے راستہ بناتا ہے اور ایسے افراد مہیا کرتا ہے جو اس کے لئے مکان تعمیر کر دیں، مکان کی تعمیر کے سارے لوازمات اسے تیار کرنے ہوتے ہیں اور پھر دعا بھی کرنا ہے کہ میرا مکان جلد بن جائے لیکن دعا مانگتا رہے اور مکان بنانے کے لوازمات اور ضروریات کو مہیا نہ کرے تو اس کی یہ آرزو کبھی بھی پوری نہ ہوگی۔
اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنے گھر پر دعوت دیتا ہے وہ آئے گا وہ آپ کو وعدہ دیتا ہے وہ فلاں معین دن آئے گا تو وہ کیا کرے گاجس کے لئے وعدہ دیا گیا ہے جب کہ اسے یہ یقین ہو کہ جس نے وعدہ دیا ہے وہ سچا ہے اس نے ضرور آنا ہے کیا وہ یہ چاہے گاکہ وہ آجائے یہ اس کی انتظار کے لئے بیٹھ جائے یا وہ اپنے گھر کو صاف کر رہا ہوگا، مہمان کی شان کے مطابق اس کے بیٹھنے کی جگہ بنائے گا، کھانا ، پذیرائی کا انتظام کرے گا اسقبال کی تیاری کرے گا۔
اپنے منتظر کی شان کے مطابق تیاری کرے گا اور ساتھ ساتھ دعا بھی مانگے گا کہ کوئی رکاوٹ نہ آجائے !وہ ضرور آجائے۔
کیا ہم امام مہدی علیہ السلام کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں
اب سوچیئے! کیا ہم سب حضرت امام زمانہ (عج) کو دعوت نہیں دے رہے کہ وہ اس جگہ تشریف لے آئیں جس جگہ ہم اس وقت رہتے ہیں ہمارے گھروں، ہماری بستیوں، ہمارے شہروں، ہمارے ملکوں میں آئیں اورہمارے لئے خوشحالی دیں ہمارے لئے حکومت تشکیل دیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے ان کی آمد کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ کیا ہم خود انہیں قبول کرنے کے لئے، ان کے عادلانہ نظام کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہیں؟ اور اس نظام کے لئے جو کچھ چاہیں گے وہ سب کچھ ہم کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ہمارے گھر اس کے لئے آمادہ ہو چکے ہیں کہ حضرت امام زمان علیہ السلام ہمارے گھروں میں تشریف لے آئیں یا ہمارے گھروں کے اندرظلم کا سایہ ہے ، مردگی ہے، فحاشی ہے، بداخلاقی ہے، ہماری رگوں میں حرام سرایت کر چکا ہے۔
کیا ہمارے دلوں کی طہارت اور نظافت ہو چکی ہے تاکہ ہم اپنے مولا کا استقبال کر سکیں یا حسد، بغض، کینہ ایک دوسرے سے نفرت، دھوکہ، خیانت، چغلخوری، غیبت، بدگمانی جیسی بیماریاں اور نجاستیں ہمارے دلوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔
ہمارے اوپر لازم ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذکر سے اپنے دلوں کو آباد کرنے کے لئے ہم پہلے ان دلوں کو شیطان اور اس کے کارندوں کی یادوں سے خالی کر دیں۔ہمارے اوپرواجب ہے کہ ہم ظہور کی علامات کا سوال کرنے سے پہلے اور ان علامات کے ظاہر ہونے کی انتظار کرنے سے پہلے خود کو اپنے مولا علیہ السلام سے ملاقات کے لئے تیار کریں(ارواح العالمین لہ الغدی)
ظہور سے پہلے منتظرکوکیاکرناچاہیے؟
میں نے سادہ اور عام فہم مثالیں دی ہیں اور چند مثالیں دی ہیں قاری متوجہ رہے کہ اسے ظہور سے پہلے کیا کرنا ہے خاص کر جو کچھ آپ کے ظہور کی تمہید، تیاری، آمادگی، اپنے اندر قابلیت معلومیت اورصلاحیت پیدا کرنے کے لئے کرنا ہے اس کے واسطہ آگاہ ہو اور اسی تناظر میں وہ خود کو تیار کرے حضرت امام مہدی علیہ السلام کو قبول کرنے کے لئے ہر منتظر کا فرض ہے کہ وہ خود کو تیار اور آمادہ کرے، ملاقات تو آپ علیہ السلام کے ظہور کے یقین کو مستحکم کرنے کا وسیلہ ہیں۔
ایسی علامات جن کا واقع ہونا یقینی ہے
ایسی علامات جن کا ظہور سے پہلے واقع ہونا حتمی ہے، اس بارے چند روایات ملاحظہ ہوں۔
ابوحمزہ ثمالی: میں نے حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام سے سوال کیا حضرت امام ابوجعفرعلیہ السلام فرمایا کرتے تھے:سفیانی کا خروج حتمیات سے ہے؟
حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام: جی ہاں!
ابوحمزہ: بنی عباس کا آپس میں اختلاف حتمیات سے ہے؟
امام علیہ السلام: جی ہاں!
ابوحمزہ: نفس زکیہ کا قتل ہونا حتمیات سے ہے؟
امام علیہ السلام : جی ہاں!
ابوحمزہ: قائم علیہ السلام کا خروج حتمیات سے ہے؟
امام علیہ السلام: جی ہاں!
ابوحمزہ: وہ نداءکس طرح آئے گی جس کے بعدظہورہوناہے؟
امام علیہ السلام: آسمان سے دن کے شروع میں منادی اس طرح آواز دے گا”الا ان الحق فی علی وشیعتہ کہ لوگو!آگاہ ہو جاو حق علی علیہ السلام اور علی علیہ السلام کے شیعوں کے ساتھ ہے ۔
پھر دن کے آخری حصے میں ابلیس لعنتی آواز دے گا”الاان الحق فی السفیانی وشیعته “ سفیانی اور اس کی جماعت حق پر ہے۔
یہ ایسا مقام ہو گا کہ باطل پر چلنے والے شک میں پڑ جائیں گے ۔
(کمال الدین ج ۲ ص ۲۵۶ باب ۷۵ حدیث ۴۱)
حتمی علامات
عبداللہ بن سنان کا بیان ہے: حضرت امام ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا:نداءکا آنا، سفیانی کا خروج، یمانی کا قیام، نفس زکیہ کا قتل ہونا آسمان سے ہاتھ کا طلوع ہونا حتمیات سے ہیں ماہ رمضان میں خوفناک چنگھاڑ آئے گی جو سوئے ہوئے کو جگا دے گی ہرشخص پریشان ہو جائے گا حتیٰ کہ جوان لڑکی اپنے پردہ سے باہر آجائے گی۔
(الغیبة ص ۲۶۲ حدیث ۸ علامات الظہور)
ایک اور روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہے کہ چند راوی اسے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سفیانی ، نفس زکیہ کا قتل ہونا، قائم علیہ السلام کا خروج، بیداءمیں زمین کا دھنس جانا، آسمان سے ہاتھ کا طلوع ہونااور نداءکا آنا، ان کے بارے سوال کیا کہ یہ حتمیات سے ہیں(ہر ایک بارے الگ الگ سوال کیا گیا)آپ نے سب کے بارے جواب میں فرمایا: جی ہاں! یہ حتمیات سے ہیں۔
راوی: نداءکس قسم کی ہوگی۔
امام علیہ السلام: منادی قائم علیہ السلام اور ان کے باپ کا نام لے کر آواز دے گا۔
حمران بن اعین: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت قائم علیہ السلام کے قیام سے پہلے سفیانی کا خروج بیداءزمین(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی ہے) کا دھنسنا، نفس زکیہ کا قتل ہونا، آسمان سے نداءکا آنا حتمی ہے(الغیبت ص ۲۷۲ ص ۶۲ ۔علامات الظہور)
ان کے علاوہ جتنی علامات ہیں وہ اجتماعی ہیں اور وہ بہت ہی زیادہ تعداد میں ہیں کہ اس کتاب میں ان سے بحث کرنے کی گنجائش نہ ہے۔
علامات بارے آگہی
ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ ان علامات بارے آگاہ ہونے کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ان علامات کو جان لینے کے نتیجہ میں امام علیہ السلام کا ظہور جلدی نہیں ہوگا اور ان سے آگاہ نہ ہونا ظہور مبارک کو موخر بھی نہ کرے گا اور جو اس قسم کی روایت ہے کہ ان علامات سے آگاہ ہونا اور ان کو عام کر دینا ظہور کی تاخیر کا سبب بنے گا تو اگر اس قسم کی روایات صحیح ہوں تو پھر یہ کسی مخصوص زمانہ کے حوالے سے ہے عمومی ایسا نہیں ہے۔
علاوہ برایں اس سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ ایسے رازوں کو عام کرنا جو حضرت قائم علیہ السلام کی ذات اور ان کی صفات اور علامات کے بارے ہوں اس بارے منع کیا گیا ہو، خاص کر آپ کے ظہور اور قیام کے لئے تیاری اور آمادگی کے حوالے سے جو کچھ بیان کر آئے ہیں ان وسائل کا افشاءکرنا اور اپنے بارے مخالفین کومعلومات دینا تواس سے روکا گیا ہے۔
ظہور کی غیرحتمی علامات بارے بحث کرنے میں قباحت
اس جگہ غیر حتمی علامات کو عام کرنے میں ایک قباحت موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے عقیدت کمزور پڑ جائے گی کیونکہ جس وقت ہم ایک علامت کو ذکر کریں کہ مشرق زمین پر آگ کے شعلے بھڑکیں گے اس کا تعین ہم کر دیں یا خلیفہ کی موت ہو گی اس کا نام بھی ہم ذکر کردیں اوریہ ہوجائے پھر اس کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور نہ ہو تو اس کا منفی اثر پڑے گا کیونکہ مشرق میں کتنی زیادہ آگ لگی ہے اور کتنے زیادہ خلفاءاور بادشاہ ایک نام کے ہلاک ہوئے ہیں اسماءمشابہ ہوتے ہیں جب ایک علامت جو ظاہر ہو اور اس میں نام کی شباہت اور جگہ کا عنوان بھی مشابہ ہو تو پھر جو حتمی علامات ہیں ان کے بارے بھی عقیدہ پر منفی اثر پڑے گا۔
اجتماعی اور اقتصادی طور پر بھی اس کے منفی اثرات ہوں گے جس سے فتنہ اور بدامنی ہو گی یا تو کچھ کمزور ذہن لوگ اسے عام کر دیں گے اور جس شہر میں وہ علامت ظاہر ہوئی ہو گی اسے چھوڑ دیں گے اور اپنے مفادات کو اس مملکت سے ترک کر دیں گے فتنہ میں پڑنے اور قتل ہونے کے خوف سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں گے۔
ایک اور بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنے واجبات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کریں گے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تحریک کے حوالے سے ان پر عائد ہوتے ہیں اور ہم پہلے ابواب میں اسے بیان کر آ ئے ہیں۔
یہ احتمال بھی دیا جا سکتا ہے کہ ظہور مبارک کے عقیدہ کوکمزور کرنے کے لئے اور اس کی کیفیت کو خراب کرنے کے لئے دشمنان خدا کی جانب سے اس بارے پیشگی منصوبہ بندی کر لی جائے اور مومنین کے نظریات اور افکار منتشر ہوجائیں، صحیح اور غلط گڈمڈ ہو جائے اس قسم کی سازشوں بارے ہم نے پہلے آگاہ کردیاہے۔
ہمارا واجب کیاہے؟
پس ہمارے اوپر واجب ہے کہ ظہور مبارک کے حوالے سے ایسے واقعات و احادیث بیان کرنے سے گریز کریں جن کی وجہ سے دشمنوں کو موقع مل جائے کہ وہ اپنے مقاصد کے لئے ان واقعات کو استعمال کریں تاکہ عوام گمراہ ہو جائیں۔
عادلانہ، شریفانہ حکومت کے قیام میں اس طرح رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں اور دشمن ایسی حکومت کے قیام کی ناکامی کے لئے اپنی ساری توجہات کو ایک جگہ پر ہی مرکوز کر لیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے تعلق و رابطہ
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے اس عنوان سے رابطہ اور تعلق بڑھایا جائے کہ وہی الٰہی قائد ہیں جوایک فرد کی شخصیت پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اور ان کے کمال میں مو ثر ہیں اور معاشرہ پر بھی ان ہی کے اثرات مرتب ہونے ہیں پس معاشرہ اورسول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس قائد کے راستہ پر چلے اس سے ظہور کی امید بڑھتی ہے ظلم و جور کے خاتمہ اور عدالت کے نفاذ کے لئے اسی قائد سے خودکووابستہ رکھا جائے اور یہی فرد کا کمال ہے اور سول سوسائٹی کا کمال بھی اسی میں ہے لیکن صحیح و باطل نظریات کا مخلوط ہوجانا تو یہ آپ کے ظہور بارے شبہات کوپیدا کر دے گا اور وہ سارے آثار وفوائدجن کا ذکر ہوا وہ سب ختم ہوجائیں گے ظلم کا خاتمہ اور ظالموں کا زوال، اس بارے لوگ شک میں پڑ جائیں گے اس کے علاوہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود بارے عقیدہ بھی کمزور پڑ جائے گا۔
یہ سب کچھ ان علامات بارے ہے جو حتمی نہیں ہیں جن کے بارے ممکن ہے کہ وہ وقوع پذیر ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وقوع پذیر نہ ہوں یا ایک ہی قسم کی علامات متعدد بار ظاہر ہوں جس کا سبب ان علامات کا آپس میں مشابہت رکھناہے۔جیسے زلزلے ہونا ،چاندگہن، سورج گہن، زمین کاپھٹنا،آگ کا ظاہر ہونا،دنگہ فسادکاہونا، خاص بیماریوں کا پھیلنا ان میں طبعی اور غیرطبعی علامات سب ہی موجودہیں ظہور کے بارے اس قسم کی علامات پر اگر ظہور نہ ہوگا تو پھر یہی علامات بے شک و تردیدسادہ لوح عوام کے عقیدہ میں خلل اور اشتباہ ڈالنے کا سبب ہوں گی۔
ظہور کی حتمی علامات سے بحث کرنے کا ہدف
ان علامات کو لوگوں کے لئے بیان کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے لیکن ایسے انداز سے ان کا ذکر کیا جائے جو تیاری اور آمادگی کے لئے مددگار بنیں اور کام اور عمل پر متوجہ کرنے کاسبب بنیں اور اس کے لئے پروگرام اور منصوبہ بندی کا سبب بنیں، لوگوں کو ظہور کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں اور واجبات کو ادا کرنے سے گریزاں نہ ہونے دیں امام علیہ السلام کے حوالے سے اور آپ کی عادلانہ حکومت کے قیام کے حوالے سے جو ذمہ داریاں بنتی ہیں ان سے فرار کا سبب نہ بنیں۔
ظہور کے قریب ہونے کا ذکر جو ہے یہ نفسیاتی اور اجتماعی اثر چھوڑتا ہے کیونکہ ایسی علامات جو ظہور سے کچھ عرصہ قبل وقوع پذیر ہونا ہیں جب انسان ان کے بارے سنے گا کہ اب ظہور قریب ہے اس کے آثار نظر آ رہے ہیں تو وہ تیاری کرنے پر لگ جائے گا توبہ کرے گا، گناہوں پر پشیمان ہوگا وہ امام علیہ السلام کے ظہور کی حالت اور کیفیت میں زندہ رہے گا جب کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ امام علیہ السلام زندہ ہیں ،ہمارے اعمال پر ناظرہیں، وہ ہمیں دیکھتے ہیں، ہماری بات کو سنتے ہیں، ہمارے اعمال ان کے پاس پیش ہوتے ہیں وہ ہماری اچھی کارکردگی پر خوش ہوتے ہیں اور ہماری بری کارکردگی پر ناخوش ہوتے ہیں ہمارے اچھے کام، ہمارے اعمال خیریہ انہیں مسرور کرتے ہیں، ہماری کمزوریاں، ہماری برائیاں، ہماراحرام کاموں کا ارتکاب کرنا بلکہ مکروہات کو بجالانا انہیں ناراض کردیتا ہے۔
جی ہاں!ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ علامات کو اس انداز سے بیان نہ کریں کہ جو اصل حقیقت کو مشکوک بنا دے اور حقائق کو بگاڑنے کا سبب بنے شک و تردیدکو اصل عقیدہ میں ڈالنے کا سبب بنے۔خاص کر خراسانی اور یمانی کے قیام بارے جب ہم بیان کریں تو اس میں بڑی احتیاط سے کام لیا جائے یہ دونوں واقعات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل ہونے ہیں لیکن ان کو بیان کرنے میں انداز صحیح اپنایاجائے۔
حتمی علامات کا خلاصہ
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ:حضرت قائم علیہ السلام کے قیام سے پہلے پانچ علامات ایسی ہیں جوحتمیات سے ہیں۔
( ۱) یمانی ( ۲) سفیانی( ۳) آواز( ۴) نفس زکیہ کا قتل( ۵) بیداءزمین کا دھنسنا۔(کمال الدین ج ۰۵۶ ۔باب ۷۵ حدیث ۷)
فقط پانچ علامات کیوں؟
اس جگہ ان علامات میں ایک جامع موجود ہے اور وہ ہے حضرت قائم علیہ السلام وقت ظہورسے ان کا فاصلہ ان واقعات نے ظہور سے بہت تھوڑے پہلے واقع ہونا ہے۔
جیسے نفس زکیہ کا قتل ہونا روایت ہے کہ ظہور سے پندرہ دن پہلے ہوگا آواز اسی وقت ہو گی جب ظہور ہونا ہے یہ آپ کے بارے پہلا اعلان ہوگا۔
بیداءکی زمین کا دھنسنا بھی آپ کے مکہ میںظہور سے تھوڑا پہلے کا واقعہ ہے جیسا کہ خسف والی روایات سے سمجھا جاسکتاہے۔(البحارج ۲۵ ص ۳۵۲ حدیث ۳۴۱)
یمانی اور سفیانی ایسے ہیں جیسے مقابلہ میں دوڑنے والے دو گھوڑے جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت میںہے سفیانی اور حضرت قائم علیہ السلام کاظہور دونوںایک سال میں ہوں گے۔
(البحار ج ۳۵ ص ۰۱ باب ۵۲ ، ج ۲۵ ص ۶۸۱ حدیث ۱۱ ، غیبة نعمانی ص ۳۵۲ باب ۴۱ حدیث ۳۱)
ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ امام علیہ السلام کا ظہور اور یہ علامات زمانی لحاظ سے ایک دوسرے کے قریب ہیں یا ہمزمان ہیں۔پھر خسف(زمین دھنسنا)سفیانی اور یمانی میں بھی وجہ اشتراک موجود ہے کیونکہ خسف جو ہے وہ سفیانی اور یمانی کے مرکز سے متعلق ہے جیسا کہ روایات کے سیاق و سباق سے بات سمجھی جا سکتی ہے۔یمانی عربی لیڈر ہوگا اور سفیانی مسلمانوں میں فتنہ ایجاد کرے گا وہ بھی عربی ہوگا، اس کا تعلق شام سے ہوگا وہ عرب اسلامی ممالک میں فساد کا سبب ہوگا اور زمین دھنسنے کا واقعہ بھی اسی سے مربوط ہے جیسا کہ اس کی تفصیل بعد میں ذکر ہوگی۔
(معانی الاخبارص ۶۴۳ ۔الزام الناصب ج ۲ ص ۹۰۱)
یمانی کی شخصیت
جناب ابوبصیر نے حضرت امام ابوجعفر محمد بن علی علیہ السلام سے نقل کیا: یمانی سفیانی اور خراسانی کا خروج ایک ہی سال میں ہوگا ایک مدینہ ہوگا، ایک دن ہوگا یہ ایسے ہے جیسے بہار کا موسم ایک دوسرے کے پیچھے چلا آتا ہے ہر طرف سے بدبختی ہو گی ، جنگ ہو گی،پھٹکار ہے ان کے لئے جو ان کے مقابلہ میں آئے، ان پرچموں میں سفیانی کے پرچم سے زیادہ گمراہی والا اور کوئی پرچم نہ ہے اوریمانی کا پرچم ہدایت کاپرچم ہوگا وہ تمہیں تمہارے صاحب الزمان علیہ السلام (امام مہدی علیہ السلام)کی طرف بلائے گا جس وقت یمانی خروج کرے تو پھر کسی کے پاس اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے، ہر مسلمان اورہر انسان پرلازم ہے کہ وہ یمانی کا ساتھ دے جب یمانی خروج کرے تو پھرتم اٹھ کھڑے ہونا اس کے پرچم تلے جانا وہی پرچم ہدایت کا پرچم ہوگا کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ ان کے پرچم کو لپیٹ دے اوراس کے خلاف بات کرے جو بھی ان کے مقابلہ میں آ کر ایسا کرے گا وہ آتش جہنم میں ہوگا کیونکہ وہ تو حق کی جانب دعوت دے گا صراط مستقم کی جانب بلائے گا۔(غیبت النعمانی ص ۶۵۲)
یمانی کون؟
یمانی عربی شخصیت ہیں، صاحب پرچم ہوں گے یاتوان کی باقاعدہ حکومت ہو گی یا انکا کوئی ادارہ ہوگا جو اسلامی حکومت کے قیام کے لئے کوشاں ہوں گے کسی اسلامی جماعت کاسربراہ ہوگا جوعرب ممالک کو متحد کرنے کے لئے کام کرے گا، عرب علاقوں سے فتنوں کو دور کرے گا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سارے عرب ممالک میں محبوب ہوگا اوروہ ان کی پسندیدہ شخصیت ہوں گے۔
روایت بیان کرتی ہے کہ اس کی اطاعت کرناضروری ہے اوراس کا ساتھ دینا ہوگا ان کی مخالفت حرام ہے اس کے ذکر میں جو اہم نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ اس خطہ میں مسلمانوں کی وحدت انتہائی اہم ہے اور آخری زمانہ میں عادلانہ سلطنت کے قیام کی تیاری کے لئے یہ اہم اقدام ہے کیونکہ یہ حکومت کسی ایک طائفہ یا گروہ کی نہیں ہوگی یا کسی ایک مذہب کی نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی مخصوص دین کی ہو گی بلکہ یہ حکومت کمزور ، محروم، مظلوم، عدالت خواہ، سلامتی چاہنے والے، امن چاہنے والے کی ہوگی ترقی پسندوں ، حق پرستوں کی حکومت ہو گی عدلیہ کی بالادستی چاہنے والوں کے لئے ہوگی، اس حکومت کے عالمی اور آفاقی ہونے بارے اس کتاب کے شروع میں بیان ہو چکاہے۔
سفیانی کی شخصیت
یمانی کے پرچم کے مدمقابل سفیانی کا پرچم ہوگا، یمانی ہدایت اور وحدت کا داعی ہوگا ، سفیانی فتنہ، گمراہی کا داعی ہو گا ، سفیانی عربی وحدت اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والا ہوگا، فتنہ ایجاد کرنے والا ہوگا، داخلی جنگیں چھیڑے گا،اسلام کے دشمن، عدالت کے دشمن، امن مخالف طاقتیں اس کی حامی ہوں گی اس پرچم سے دور رہنا ہوگا اس کی شکل جو بھی ہو، اس کا رنگ جو بھی ہو،اس کا مذہب اور دین جو بھی ہو، کیونکہ انبیاءکے خواب کی تعبیر کے لئے یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا، عدل مطلق کے قیام میں سنگ راہ ہوگا اقتصادی عدالت، اجتماعی عدالت، معاشرتی عدالت، سیاسی عدالت، علمی عدالت ہر قسمی عدالت کے نفاذ کے لئے تنہارکاوٹ اور بڑی رکاوٹ سفیانی ہی ہوگا۔
ہر وہ شخص، ہر وہ ارادہ، جماعت، صاحب پرچم جو عدالت چاہتا ہے، امن چاہتا ہے، ظلم کا مخالف ہے، علم چاہتا ہے، ترقی چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس قسم کی قوت کے وجود میں آنے کے لئے رکاوٹ بنے اور اگر ایسی قوت سامنے آجائے تو اس سے دور رہے کمزور سی حمایت بھی نہ کرے، ذرا برابر اس کا ساتھ نہ دے، الگ تھلگ رہے، قلم سے، نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے ان کی حمایت کسی بھی حوالے سے نہ کرے، تاکہ ایسی قوت کا خاتمہ آسان ہو جائے اور تھوڑے نقصانات سے اسے ختم کرنا ممکن ہو، یہ صحیح ہے کہ یمانی کی سرگرمیاں اسے محدود کر دیں گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اس کی جڑوں تک کو اکھیڑ ڈالیں گے، لیکن اس کے خاتمہ کے لئے بڑے نقصانات بھی ہیں،بڑی تباہیاں ہیں، بربادیاں ہیں ، مالی نقصانات ہیں، جانی نقصانات ہیں، فتنہ ہے، یہ کم نہ ہوں گے بہت زیادہ ہوں گے لیکن جس قدر ہو سکتا ہے انہیں کم سے کم کیا جائے ایسی طاقت جوطبقاتی ہو،فرقہ پرست ہو، نسلی امتیاز پھیلائے ،جنگیں چھیڑے، علاقہ کو بے امن کرے ،تفرقہ ڈالے ،تکفیری مہم چلائے ،مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اس کی پالیسی ہو گی ایسی طاقت کا ساتھ دینا یا اس کی حمایت کرنا حرام ہے، اس پرچم نے ضرورسرنگوں ہونا ہے اور ایسی طاقت کوہرصورت ختم ہونا ہے، اس کے ایام چند ماہ ہی ہوں گے، یہ الٰہی وعدہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو ہر صورت پوراکرناہے۔
ہم اس قسم کی فسادی طاقتوں کو جس قدر محدود کریں گے اور فتنہ پرور پرچموں کی سرگرمیوں پر جتنی پابندیاں لگائیں گے اور جتنا ان فتنوں کو ٹھنڈ ا کرنے کے لئے جدوجہد کریں گے تو اتنی مقدار میں ہم مادی اور معنوی خسائر اور نقصانات کو کم کریں گے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے اسلامی اہداف اور الٰہی ادیان کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آسانی پیدا کریں گے، آسمانی ادیان، جنہوں نے ہمیشہ عدل مطلق کے نفاذ کو پوری روئے زمین پر جاری کرنے کی بات ہے اور ایسا قیامت سے پہلے ضرورہونا ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام اس مقصد کو پورا کرنے میںضرور کامیاب ہوں گے تو اس کے لئے ہمیں کام کرنا ہے۔
سفیانی سے مراد
سفیانی سے مراد ایک خاص شخص ہو گا جیسا کہ بعض نے روایات سے سمجھا ہے یا ایک مخصوص حالت اور کیفیت ہوگی جیسا کہ بعض دوسروں کا خیال ہے یا خاص حالات کے ضمن میں ایک خاص شخصیت ہوگی کیونکہ ہر حالت کے لئے اور ہر کیفیت کے لئے ایک قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ اس بات سے سفیانی کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو مسلمانوں کے اندر سے اٹھے گا اور اسلام کو اس سے سخت نقصان پہنچے گا اس میں شک نہیں ہونا چاہیئے اس قسم کے پرچم اٹھیں گے، استعماری اور سامراجی طاقتیں ایسے فتنہ بازوں کی سرپرستی کریں گی جو عدل پھیلانے اور ظلم کے خاتمہ کے حق میں نہیں ہے تو ان کے مقابلہ کے لئے عدالت کا نفاذ چاہنے والوں اور امن کی بات کرنے والوں کو کام کرناہوگا۔
حتمیات علامات جیسی چنددوسری نشانیاں
کچھ اور علامات ہیں جن پر حتمی ہونے کا لفظ نہیں ہے لیکن ان واقعات بارے روایات کی کثرت اورروایات میں ان حادثات اور واقعات کاکثرت سے تذکرہ ان کے ثبوت اور حتمیت کو بتا رہے ہیں ہم ان علامات کو ظہور کی شرائط کا عنوان دیتے ہیں تاکہ ان کاظہور کی حتمی علامات سے فرق کیا جا سکے ان علامات سے جو زیادہ اہم ہیںہم انہیں بیان کرتے ہیں۔
۱۔ سیاہ پرچم
اس عنوان کے تحت بہت ساری روایات ہیں یا ایسی روایات جو اس معنی پر دلالت کرتی ہیں جیسے مشرق سے پرچموں کا ظاہر ہونا، طالقان سے مردوں کا ظاہر ہونا یا خراسان کا تذکرہ یا فارس کے شہروں کا ذکر۔
اس پرچم کی اہمیت یہ ہے کہ عدل کے راستہ پر ہوگا اور کفر و نفاق کی جڑوں کو اکھیڑ پھینکے گا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت کی تمہید بنے گا یہ بھی فی الجملہ علامت ہے مگر یہ کہ ظہو کی شرائط سے ایک شرط ہے کیونکہ ظہور کے لئے تیاری اور آمادگی کے لئے ایسا پرچم ضروری ہے۔
ان علامات کا نام خراسان ، طالقان یا مشرقی سرزمین تو واضح ہے لیکن ان کے لئے سیاہ رنگ کا استعمال ہے تو یہ بات یا تو حقیقی عنوان سے ہے یا اس کا اشارہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی جانب ہے اور ان کے مصائب کے سوگ میں اٹھنے والے سیاہ علم ہیں یہ بات اس حوالے سے بھی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا نعرہ ”یاثارات الحسین علیہ السلام “”حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے انتقام لینے والے“(البحار ج ۲۵ ص ۸۰۳ حدیث ۲۸)
خراسانی
روایات کے سیاق وسباق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک شخصیت ہو گی جو عالمی سطح پر معروف ہو جائے گی اور قومیت، زبان، رنگ، بو، نسل، علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کر عدالت کی حکومت قائم کرنے کےلئے تمہید کاکام کرے گا یہ بھی ایک علامت ہے اسکا بھی خراسانی، طالقان سے نکلنے والے پرچموں سے ہے ان کا قائد عام خراسانی ہوگا۔
۲۔ دجّال
الطبرانی میں اسماءسے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جس وقت تمہارا امتحان ایک ایسے شخص کے ذریعہ لیا جائے گا جس کے لئے زمین، دریا، سمندر، شجر و ثمر سب مسخر اور اس کے کنٹرول میں ہوں گے جو اس کی پیروی کرے گا وہ اسے مالا مال کر دے گا اور جو اس کی مخالفت کرے گا وہ اسے محروم رکھے گا ۔
بتحقیق اللہ تعالیٰ اس دن مومنوں کو اس طرح اس کے شر سے محفوظ رکھے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے سارے فرشتوں کو تسبیح کے ذریعہ محفوظ رکھا ہوا ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے”کافر“جسے ہر پڑھا لکھا مومن اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔
دجال سمندروں میں داخل ہوگا، بادلوں پر اس کی دسترس ہو گی ، سورج کے ساتھ مغرب تک جانے کا مقابلہ کرے گا، اس کی پیشانی میں ایک ”قرن“ ہوگا کہ جس سے سانپ نکلے گا، اس کے بدن پر سارے اسلحوں کی نمائش لگی ہو گی، تلوار، نیزہ اور درق۔
راوی: میں نے سوال کیا کہ درق کیا ہے؟
رسول اللہ: ڈھال ہے۔
دجّال سے مراد
دجّال سے مرادایک عالمی حالت ہو گی جس کا ہدف حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت کے قیام میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہوگا تاکہ عدالت قائم نہ ہو، امن نہ ہو، ترقیاتی کام نہ ہو سکیں۔ایک خاص شخص مراد نہیں یا پھر ایک خاص شخص ہوگا جو ان ساری خصوصیات کا حامل ہوگا۔
روایات میں اس کی جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں تو اس کے تناظر میں ہم اس کی ھویت کو جان سکتے ہیںکہ وہ ظالم ہوگا، خودثنائی میں غرق، منکر، لٹیرا، ڈاکو، جھوٹی حکومتوں کاحامیاور اقوام کے مال کو ہڑپ کرنے والا ، تباہی لانے والا، فسادی، خون بہائے گا بغیر وجہ اور حق کے جو بھی سلامتی اور امن چاہتے ہیں،جو امن کے خواہاں ہیں جو عدالت خواہ ہیں توان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی شخصیت یا ایسی حالت کا مقابلہ کریں۔
جیسا کہ ہم نے سفیانی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جس قدر ہو سکے اس کے فتنے اور فساد کو اور اس کی تخریب کارانہ کارروائیوں کو اپنی جدوجہد سے محدود کیا جائے اسی طرح دجالی حالت جو پوری دنیا پر چھا چکی ہو گی ، ہر طرف ظلم ہوگا، فساد ہوگا، دہشت گردی ہوگی، قتل و غارت گری ہو گی، بدامنی ہو گی تو اس حالت کا مقابلہ کرنا، حق کو عام کرنا اور عدالت کے قیام کے لئے جدوجہد اہم ذمہ داریوں سے ایک ہے۔
دجّالی تحریک کا سب سے پہلا نقصان عالمی صنعتی ممالک کوہوگا، ایسے ممالک جو ترقیاتی اور فنی کاموں میں زیادہ کام کر رہے ہوں گے جو ماحولیات کو ٹھیک رکھنے میں مصروف ہوں گے، جو طبعیت کے حسن و جمال کو باقی رکھنے کے خواہش مند ہوں گے جو زمین میں امن اور آبادی چاہتے ہوں گے تو ایسی ساری طاقتوں اور حکومتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ دجالی تحریک کا مقابلہ کریں اور اس تحریک کے شر سے اپنی عوام کو اپنے ممالک کو بچائیں اگر یہ تحریک طاقتور ہو گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان صنعتی ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔
دجّال سے مراد ایک شخص ہو یا ایک فسادی حالت سے کنایہ ہو یا ایک تحریک ہو جس کی قیادت ایسے شخص کے پاس ہو جو ظالم ہو، ڈکٹیٹر ہو، فسادی ہو، امن دشمن ہو، خودپسندہو، منکرہو، قدرت خواہ ہو، ہر معنی میں دجالی حالت دجّالی تحریک یا دجال نام کا شخص معاشرہ پر منفی اثرات چھوڑے گا اور عدالت خواہوں، امن پسندوں کے لئے مشکلات لائے گا۔ اس کا مقابلہ کرنا ہرفردکی ذمہ داری ہے۔
ظہور کے لئے جلد تیاری
جو کچھ بیان ہو چکا اس سے واضح ہو گیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کر دینے کا عملی کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی بعض علاماتِ ظہور بارے بحث کا کوئی فائدہ ہے ہم نے بیان کیا ہے کہ اس حوالے سے کچھ قباحتیں اور منفی اثرات بھی ہیں جب کہ بعض افراد ایسی عادت بنا چکے ہیں کہ وہ ان علامات کا ذکر کر کے خود کو تسلی دیتے ہیں۔
جو افراد ظہور کے معاملہ میں جلدی میں ہیں تاکہ علامات کے ساتھ یا جو حسابات نکالتے ہیں یا علم الحروف کے تحت جو اعداد نکال کر جمع کرتے ہیں تاکہ اس طرح یہ جان سکیں کہ ظہور کس سال میں اور کب ہوگا؟ اور پھر نتیجہ دیں کہ ظہور نے فلاں سال ہونا ہے فلاں وقت میں ہونا ہے، ایسا کرنا صحیح نہیں ہے اس سے منع کیا گیا ہے۔
یہ بات بھی منفی اثرات کی حامل ہے اس رویہ سے کئی نقصانات سامنے آتے ہیں۔
( ۱) نفسیاتی نقصانات( ۲) خاندانی نقصانات( ۳) معاشرتی نقصانات
( ۱) نفسیاتی نقصانات
اس طرح کہ جو یہ امید لگا کر بیٹھا ہے کہ تین ماہ بعد یا تین سال بعد فلاں دن میں ظہور ہونا ہے تو اس کی بنیاد پروہ پروگرام اپنے لئے بنالے گا منصوبہ بندی کرے گا، اگر کسی سفر پر اسے جانا ہوگا تووہ کینسل کر دے گا، یا کوئی تجارت شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے روک دے گااوراگر کوئی صنعت لگانا چاہتا ہے، کوئی کارخانہ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے غرض کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے تووہ اسے ترک کر دے گا، اسی طرح کھیتی باڑی کے بارے ہے، شادی کومو خر کر دے گا کہ ظہور ہونے والا ہے، تعلیم روک دے گا، غرض اپنی زندگی کے تمام کاموں میں اسی حساب کی روشنی میں وہ تبدیلی لے آئے گا اور جب اس کے سارے حسابات اور اندازے غلط نکلیں گے تو وہ نفسیاتی طور پر مریض ہو جائے گااور ظہور مبارک کا عقیدہ بھی اس کے ہاں کمزور پڑ جائے گا اور اگر ایسا کئی مرتبہ ہوا تو وہ اس عقیدہ کا انکار کر بیٹھے گا۔
۲ ۔ خاندانی نقصانات:
اس طرح ہوگا کہ ایسا شخص اپنے گھرانے اور خاندان کے لئے مسائل کھڑے کر دے گا اگر انہیں کسی کام کی ضرورت ہو گی، گھر بنانے کی ضرورت ہو گی، گاڑی کی ضرورت ہو گی تو وہ ان سارے معاملات کو مو خر کر دے گا کہ ابھی ظہور ہونے والا ہے، جب تین ماہ گذر جائیں گے کہ جن میں ظہور کی امید لگائے بیٹھا تھا اور ظہور نہ ہوا تو اس کاپورا گھرانہ متاثر ہوچکاہوگا، اسے کافی صدمات اٹھانا پڑیں گے، اس واقعہ کے بعد ظہور کے متعلق اس کا اہتمام اور توجہ یاتو ختم ہو جائے گی یا کم ہو جائے گی خاص کر جب ایسا کئی مرتبہ ہو۔
( ۳) اجتماعی نقصانات :
یہ پہلے دو سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ہر شخص جس نے ظہور کے لئے وقت معین کردیا ہے تو اس نے اس بارے اپنے ساتھ کئی اور افراد کو ملا لیا ہو گا بہت سارے گھرانے اس کے ہمراہ ہوں گے کئی خاندان اس کا ساتھ دے رہے ہوں گے اور ان سب نے اپنے اپنے مقام پر وقتِ ظہور سے آگاہ ہونے کے بعد اسی قسم کے اقدامات کر لئے ہوں گے جن کا اوپر ذکر آ چکا ہے۔ وہ سب اپنے اپنے کام روک دیں گے، تعمیری منصوبہ جات ٹھپ ہو جائیں گے، کھیتی باڑی ختم ہوجائے گی، تجارتیں ٹھپ ہو جائیں گی، ان کی اولاد کا مستقبل تباہ ہو جائے گا، جب وہ وقت گزر جائے گا تو یہ سب متاثرین سے ہوں گے ان کے عقائد متزلزل ہوچکے ہوں گے خاص کر جب ایسا کئی مرتبہ ہوا۔
نتیجہ یہ ہوگا کہ امام علیہ السلام کی انتظار کافرد اور معاشرہ کے لئے جو فائدہ مرتب ہونا تھا وہ معاشرہ کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے گا۔
اس جگہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا ایک فرمان مدنظر رکھیں ”اعمل لدنیاک کانک تعیش ایدا واعجل لاخرتک کانک تموت غداً “
(بحارالانوار ج ۴۴ ص ۹۳۱)
اپنی دنیا کی خاطر ایسے کام کرو جس طرح تم نے ہمیشہ اسی میں باقی رہنا ہے اور آخرت کے لئے اس طرح کام کرو کہ تم نے کل ہی مرجانا ہے۔ظہور کی توقع اور انتظار کے امر اس فرمان پر تطبیق دے سکتے ہیں۔
ہم عمل اس طرح کریں کہ بس ظہور تین ماہ بعد ہونے والا ہے کہ اگر ہم گناہ کرتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے اوپر کسی کا قرض ہے تو اسے ادا کر دیں اور ہر وہ عمل کریں جو ہمیں ظہور کے اپریشن اور عملیات کا لائق بنا دے اور ہم ظہور سے متعلق تمام کاروائیوں میں شریک ہو سکیں، ہر وہ کام کریں جو ہمیں اس لائق بنا دے کہ ہم حضرت قائم علیہ السلام سے ملاقات کر سکیں اس کے منصوبہ جات میں شریک ہو سکیں اوران کا ساتھ دے سکیں جس کی تفصیل بیان ہو چکی ۔
اس کے مدمقابل ہم اس وقت ایسا کام کریں کہ ظہور کے لئے ابھی بہت طولانی مدت درکارہے۔ اس لحاظ سے اپنی خوشحال زندگی کے لئے سارے اعمال اور کاموں کو انجام دیں اپنی اولاد کے مستقبل بارے منصوبے بنائیں اوران پر عمل کریں؟
ظہور کا قریب ہونا ہمیں روزمرہ کے کاموں سے نہ روکے اور ظہور کا دیرسے ہونا ہمیں اقتصادی، معاشرتی، نفسیاتی، خاندانی طور پر تباہ بھی نہ کرے۔
اگر ظہور قریب ہوا تو بھی ہم تیار ہوں اور اگر قریب نہ ہوا توبھی ہمیں کوئی نقصان نہ ہو۔
آٹھویں فصل
عادلانہ حکومت میں توبہ کا عمل
توبہ والی روایات
بعض روایات میں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام توبہ کو قبول کر لیں گے بعض روایات کہتی ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت قائم ہونے کے بعد کسی کا اسلام قبول نہ ہوگا تو آپ سے پہلے کوئی مسلمان ہو گیاتو ٹھیک!وگرنہ اسے اسلام میں داخل نہ کیا جائے گا۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ پھر زمین میں چلنے والا، اپنا سر اوپر اٹھائے گا اللہ کے اذن سے پوری زمین کے مناظر کو دیکھے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب سورج مغرت سے طلوع کرے گا تو اس وقت توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا تو بہ قبول نہ ہوگی کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔
سورہ الانعام آیت ۸۵۱ ” کسی کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ خیر کو نہ کمایا ہوگا اے رسول انہیں کہہ دو کہ تم انتظارکرو اور ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں“۔
پھر آپ نے فرمایا: مجھ سے یہ سوال نہ کرو کہ اس کے بعد کیا ہوگا کیونکہ میرے لئے میرے حبیب رسول اللہ کا معاہدہ ہے کہ اس بارے اپنی عترت کے سواءکسی اور کو خبر نہ دوںگا۔(کمال الدین ج ۲ ص ۵۲۵ باب ۷۴ ۔ ذیل ۱)
البرہان میں اللہ تعالیٰ کی اس آیت بارے کہ ”یوم یاتی“ بعض آیت ”ربک“ کے ذیل میں تحریر کیا ہے۔
حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: زمین میں برابر اللہ کی حجت اور نمائندگی موجود رہے گی جو حلال اور حرام کی پہچان کرائے گی اور لوگوں کو سبیل اللہ کی طرف دعوت دے گی حجت زمین سے نہیں اٹھے گی مگر چالیس دن کے لئے اور یہ قیامت سے پہلے ہوگا جب حجت کو اٹھا لیا گیا تو پھر توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا یہ ہے کہ ”ولم ینفع نفسا ایمانھا....الخ“یعنی جو حجت کے اٹھنے سے پہلے ایمان نہیں لائے گا، اس کے لئے توبہ نہیں ہے۔(تفسیرالبرہان ج ۱ ص ۴۶۵ حدیث ۷ سورہ الانعام آیت ۵۸۱)
حضرت امام مہدی علیہ السلام اور توبہ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام توبہ قبول کریں گے ایمان بھی قبول کریں گے جو پہلے کافر ہوں گے ، سرکش ہوں گے، گناہ گار ہوں گے اور یہ سب کچھ”دابة الارض“ کے خروج سے پہلے تک ہوگا جب ”دابة الارض“ خروج کرے گا تو پھر توبہ اٹھ جائے گی یا حجت خدا(اللہ کی نمائندگی)کے زمین سے اٹھ جانے پر توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
کمال الدین میں ہے۔ حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا:
سورہ انعام کی آیت ۸۵۱: ان آیات سے مراد آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں جن کا سلسلہ ایک دوسرے سے متصل چلا آرہا ہے جو اپنے حقوق سے محروم رہے، جن پر ظلم ہوا، اس پر وہ انتظار میں رہے کہ ان کا آخری آئے گا اور سب کچھ ٹھیک کرے گا اور وہ امت جس کی انتظار کی جا رہی ہے اس سے مراد حضرت امام قائم علیہ السلام ہیں تو اس دن آپ کے تلوار لے کر قیام کرنے سے پہلے جوایمان نہ لائے ہوں گے انہیں پھر ایمان کا فائدہ نہ دیں گے اگرچہ وہ ان پر ایمان لا چکے ہوں جو آپ سے پہلے آپ کے آباءسے آئمہ ہو گزرے ہیں۔(کمال الدین ج ۲ ص ۶۳۳ باب ۳۳ ذیل ۸)
البحار میں روایت ہے: ابوجعفر باقر علیہ السلام نے فرمایا:آپ (مہدی علیہ السلام)کسی سے توبہ طلب نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔(البحارالانوار ج ۱۵ ص ۴۵۳ حدیث ۴۱۱)
توقیع المبارک میں ہے: تم میں سے ہر آدمی کو چاہیے اس پر لازم ہے کہ وہ ایسا عمل کرے جو اسے ہماری محبت کے قریب کر دے اور ایسے عمل سے دوری اختیار کرے جو اسے ہماری ناپسندیدگی کے قریب کر دے کیونکہ ہمارا امر(ظہور) اچانک اور یکدم ہوگا پھر اس وقت کسی کو توبہ فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی اسے ہماری سزا سے اس کا توبہ کرنا گناہ اسے فائدہ دے گا اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت سمجھائے ، ٹھیک رکھے اور تمہارے ساتھ مہربانی کرے اپنی رحمت کے صدقہ میں(البحار ج ۳۵ ص ۶۷۱ حدیث ۷ ، الاحتجاج ج ۲ ص ۴۲۳)
اصول الکافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہے ”من کان یریدحرث الاخرة“ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے یعنی جو امیرالمومنین علیہ السلام کی معرفت اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی معرفت حاصل کرتا ہے ”نزدلہ فی حرثہ“ اس کے کھیت میں اضافہ کر دیں گے یعنی آئمہ علیہ السلام کی حکومت کے دوران اسے بہت کچھ دیں گے ”ومن کان یرید الدنیا لونہ مھاومالہ فی الاخرہ من....اور جو دنیا چاہتا ہے تو اسے دیں گے پھر اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ بھی نہ ہوگا، یعنی اس کے لئے حضرت قائم علیہ السلام کے ہمراہ دولت حقہ میں کچھ نصیب نہ ہوگا۔(الکافی ج ۱ ص ۶۳۴)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: اے ابومحمد میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مسجد سہلہ میں اتررہے ہیں۔
راوی: جنہوں نے آپ سے دشمنی کی۔
امام علیہ السلام: نہیں ایسا نہیں ہے اے ابامحمد! جس نے ہماری حکومت کے دوران ہماری مخالفت کی اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ بھی حصہ نہیں ہے ہمارے قائمعلیہ السلام کے قیام کے بعد اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے ان کے خون بہانے کی اجازت لی ہے جب کہ آج کے دور میں یہ ہمارے لئے حرام ہے اور تم پر بھی حرام ہے کہ تم ان کا خون بہاو، کوئی ایک بھی مجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے، جس وقت ہمارے قائم علیہ السلام قیام کریں گے تو وہ اللہ اور اللہ کے رسول اور ہمارے مخالفین سب سے انتقام لیں گے۔
(بحارالانوار ج ۲۵ حدیث ۶۷۳)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام قائم علیہ السلام اپنی حکومت میں کسی سے توبہ قبول نہ کریں گے۔
ان روایات میں جمع کا طریقہ
۱ ۔ ایک تو وہ ہے جسے شیخ اصفہانی نے کہا ہے :
بتحقیق حضرت امام مہدی علیہ السلام توبہ کو قبول کریں گے جن کے ایمان کا آپ کو علم ہوگا کہ ان کا اخلاص واضح ہوگا اس کی توبہ قبول نہ کریں گے جو زبان سے ایمان لائیں گے جان چھڑانے کے لئے ۔
یہ چیز تو سابقہ بیان سے سمجھی جا سکتی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے باطنی علم کے مطابق ہی فیصلہ دیں گے جو علم امام علیہ السلام سے مخصوص ہے اس اشکال کو حل کرنے کے لئے یہ ایک تصور و خیال آیا ہے۔
(مکیال المکارم ج ۱ ص ۴۳۱ ذیل ۷۸۳ قتل دجال کے ذیل میں)
۲ ۔ ایک توجیہ السید نعمت اللہ الجزائری نے بیان کی ہے الانوار میں ہے میں ان روایات بارے بہت زیادہ تصور کرتا تھا اور ان کے درمیان جمع بارے سوچتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حدیث سے آگاہ کیا جس میں ان روایات کے درمیان جمع ہو سکتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے جس وقت اللہ تعالیٰ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو اذن دے گا تو اللہ تعالیٰ اس گروہ کو زندہ کرے گا جو خالص کفر پر تھے اور انہیں بھی زندہ کرے گا جو خالص ایمان پر تھے پس یہ زندہ ہونے والا کافر جن کو پہلے موت آ چکی ہو گی اور انہوں نے عذاب کا مشاہدہ بھی کر لیا ہوگا تو وہ مجبور ہوں گے کہ ایمان لے آئیں تو حضرت امام مہدی علیہ السلام ان سے توبہ قبول نہ کریں گے کیونکہ اس حالت میں ان کی توبہ ایسی ہے جیسی فرعون کی توبہ تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”( الان وقد عصیت قبل ) “ اب توبہ! جب کہ اس سے پہلے تو نے عصیان و نافرمانی کی تھی“۔
اس کی توبہ قبول نہ ہوئی اس کی توبہ جس کی روح نکل رہی ہواور حلقوم تک آ گیا ہو سینے میں موت کا جرجرہ آ چکا ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہے جو اپنی جگہ آ گ میں دیکھ رہا ہو، ایساشخص توبہ کرے گا تو خدا اس کی توبہ قبول نہ کرے گا آیت میں جو آیا ہے کہ اس نفس(انسان) کی توبہ قبول نہ ہو گی تو اس نفس سے مراد یہ کافر جماعت ہے جن کو اللہ تعالیٰ دوبارہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اٹھا دے گا۔
(الانوار النعمانیہ ج ۲ ص ۲۷)
توبہ قبول نہ کرنے والی روایات جو ہیں وہ ہمیں ایک بہت بڑی مشکل میں ڈال دیتی ہیں کیونکہ توبہ کا دروازہ بند ہونا قرآنی آیات کے مخالف ہے۔
”بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور ستھرے لوگوں کو پسندکرتاہے“
(سورہ بقرہ آیت ۲۲۲ ، پارہ ۲)
”خدااس(جُرم)کو تو البتہ نہیں معاف کرتا ہے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ہاں اس کے سوا جو گناہ ہو جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے(کسی کو)خدا کا شریک بنایا تو اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا“۔(سورہ النساءآیت ۸۴ ،پارہ ۵)
تو کیا ان آیات پر عمل حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے قیام میں ختم ہو جائے گا۔
ظہور کے زمانہ اور عدالت کے زمانہ کا فرق
اس جگہ یہ فرق بھی کر سکتے ہیں کہ ایک تو ظہور کا زمانہ ہے اور عادلانہ حکومت کے قیام کا زمانہ ظہور کے زمانہ میں اور ہر حجت تمام کرنے کے بعد ان سے توبہ قبول کر لی جائے گی جب کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے گا اور کسی کے گناہ کے اسباب نہ ہوں گے تو اس وقت جو توبہ کرے گا تواس سے توبہ قبول نہ کی جائے گی یہ عادلانہ حکومت قائم ہونے کے بعد ہوگاجب کہ فرض یہ ہے کہ اس وقت ہر ایک کو اس کا حق دے دیا جائے گا فساد نہ ہوگا باطل ختم ہو چکا ہوگا، ظلم نہ ہوگا، ابلیس قتل ہو جائے گا، معاشرہ عصمت کے درجہ پر پہنچ جائے گا تو اس سب کے بعد معصیت اور گناہ کا کوئی جواز نہ رہے گا کوئی نافرمانی نہ کرے گا کہ اسے سزا دی جائے اور نہ ہی اس وقت توبہ کا سوال پیداہوگا۔
توبہ والی روایت بارے توجیہ
یہ درست ہے کہ حکومت کے قیام کے بعد توبہ قبول نہ کرنے والی روایات قرآنی آیات کے مخالف ہیں لیکن ان روایات کو ایسے زمانہ بارے قرار دیا جا سکتا ہے جب فرائض اور واجبات ادا کرنے کے لئے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے اور سب نیکی کے اسباب ہوں تو اس وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
ایک اور توجیہ
روایات میں توبہ قبول نہ کرنے کی بات سخت رویہ بتانے بارے ہو تاکہ ظہور سے پہلے احکام شرعیہ پر پابندی کی جائے اور واجبات و فرائض کو انجام دینے پر ابھارا جائے تاکہ ایک مومن انسان اپنے مولا علیہ السلام سے اپنے امام علیہ السلام سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو اور اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
تیسری توجیہ
توبہ قبول نہ ہو گی یعنی انہیں توبہ کی توفیق نہ ہو گی عصر ظہور میں توبہ کا دروازہ تو کھلا ہوگا لیکن انسان موفق نہ ہوگا کہ وہ توبہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ مختلف اسباب سے توبہ قبول کرتا ہے ہوسکتا ہے کہ ایسا شخص جو گناہوں میں اس قدر غرق ہوچکا ہوگا کہ وہ توبہ کرنا چاہے گا لہٰذا اسے سزا ملے گی امام علیہ السلام کے سامنے اس پر حد جاری ہو گی کیوں کہ اس نے توبہ نہیں کی اپنی توبہ کا اعلان نہیں کیا توبہ کی توفیق حاصل نہ ہوئی بہرحال یہ اللہ تعالیٰ سے مربوط ہے۔
چوتھی تاویل و توجیہ
توبہ کرنے کا جواز ہی نہ رہے گاکیونکہ توبہ کے اسباب موجود نہ ہوں گے معاشرہ عصمت تک جا پہنچے گا جب گناہ نہ ہوگا تو توبہ کیسی؟ کیونکہ توبہ، استغفار تو گناہ اور معصیت پر ہوتاہے اور یہ حالت اس وقت ہو گی جب پوری دھرتی پر عادلانہ حکومت قائم ہو جائے گی یہ سلسلہ ظہور کے ابتدائی مراحل میں نہ ہوگا۔ کیونکہ جس نے ظہور سے پہلے نافرمانی کی ہو گی اور توبہ نہ کی ہو گی اور امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا تو کیا امام علیہ السلام اس سے توبہ قبول کر لیں گے؟ جب کہ معاشرہ ابھی عصمت کے مقام پر نہیں پہنچا ہوگا۔
اس قرض پر تو لوگوں کی اکثریت جب ایسی ہو گی تو پھر توبہ قبول ہو گی جو اخلاص سے کریں گے دوسروں کی قبول نہ ہو گی جو زبانی کریں گے ، یہ توبہ کرنے والے وہی ہوں گے جو امام علیہ السلام کا مشاہدہ کر کے توبہ کریں گے۔
پانچویں توجیہ
قرآنی آیات کی تفسیر کہ جب امام علیہ السلام کا مشاہدہ کر لیں گے تو پھر توبہ نہ ہو گی یا اسی حساب اور احساس کے لئے لایا جائے گا یا اس پر حد جاری ہوں گی یہ وہ ہے جس نے ماضی میں گناہ کیا ہوگااور ابھی تک ظہور کے زمانہ تک توبہ نہ کی ہو گی تو جب حد جاری ہو گی تو اس وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
”اب (مرنے کے وقت ایمان لاتاہے)حالانکہ تو اس سے پہلے نافرمانی کر چکا اور تُوتو فسادیوں میں سے تھا تو آج ہم(تیری رُوح کو تو نہیں مگر)تیرے بدن کو(تہ نشین ہونے سے)بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے عبرت(کاباعث)ہو اور اس میں تو شک نہیں کہ بہتیرے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا بے خبر ہیں“
(سورہ یونس آیت ۰۹ تا ۲۹ ،پارہ ۱۱)
یہ احتمال درست ہے اور مناسب بھی ہے یہ بات حضرت امام مہدی علیہ السلام اور آپ کی حکومت سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہے آئمہ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہے یعنی جس پر گواہ قائم ہوجائیںکہ اس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے تو پھر اس کے لئے سزا ہی دی جاتی تھی اس فیصلہ کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں نے توبہ کر لی ہے تو اس سے یہ توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ غرض یہ ہے کہ توبہ کی عدم قبولیت حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مختصات سے ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ جنہوں نے گناہوں کے ارتکاب کئے ہوں گے اور امام علیہ السلام ان پر حد جاری کریں گے اور وہ بھی اپنے علم کے مطابق تو سزا کے اجراءکی حالت اور اس فیصلہ کے بعدجو توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔
توبہ اور استنابہ میں فرق
توبہ اور استنابہ میں فرق کیا جائے توبہ گناہ سے معافی مانگنا ہے اور یہ کہ گناہ کی طرف پلٹ کر نہ جائے گا استنابہ یہ ہے کہ بندگان سے توبہ طلب کی جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں امام علیہ السلام گناہ گار سے توبہ طلب کریں گے یہ کام اسے سزا دینے سے پہلے ہوگا۔
تو ہم کہتے ہیں کہ توبہ باقی رہے گی اللہ تعالیٰ بندگان سے توبہ قبول کر لے گا لیکن امام علیہ السلام کسی سے یہ نہیں کہیں گے کہ تم اب معافی مانگ لو، ان وجوہات کی وجہ سے جن کا ذکر ہو چکا، حجت اور دلیل قائم ہونے کے بعد بھی کسی سے یہ کہا جائے کہ تم توبہ کرلو، معافی مانگ لو تو اس کا کوئی معنی نہیں بنتاجب حق سب پر کھل جائے امام علیہ السلام کی جانب سے استنابہ کا عمل ختم ہوگا خاص احکام کے تحت جیسا کہ پہلے ہم نے کہا ہے کہ آپ دلیل نہیں مانگیں حقیقت اور واقع امر پر فیصلہ دیں گے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ بات ایک مشکل امر ہے احتیاط اس باب میں دین کے لئے بہتر ہے تاکہ کوئی ایسی بات نہ کریں جو واضح آیات اور روایات کے معنوں سے مخالف ہو کہ باب توبہ اور استغفاربندہوجائیں گے جب کہ یہ دونوں عبادت کے ابواب سے ہیں سنت نبی سے ہیں جب کہ امام مہدی علیہ السلام قرآن اور سنت نبی پر عمل کی دعوت دیں گے۔
بلکہ ان بیانات کی روشنی میں توبہ کے دروازہ بند ہو جانے والی روایات کو رد کر دینا اور ان کے بارے تاویل و توجیہ کرنا ہی بہتر انداز ہے۔
توبہ قبول نہ ہونا، مسلمان کے لئے یا کافر کے لئے
ایک اور مشکل امر اس جگہ ہے کیا ایک مسلمان کے لئے توبہ قبول نہ ہو گی کہ اس کے پاس حجت آ چکی تھی اس نے توبہ کو خود ہی موخر کیا اسے مھمل چھوڑ دیا تو کیاایساتونہیں کہ یہ روایات اس امرکو بیان کر رہی ہوں یاپھرکافر سے توبہ قبول نہ ہو گی امام علیہ السلام کی جانب سے اس پر دلیل قائم ہو جانے کے بعد اگرچہ وہ عصر ظہور میں ہی کیوں نہ ہو پھر وہ کافران کے ہاتھوں پر اسلام نہ لائے تو پھر اسے توبہ کا نہ کہا جائے گا یاپھریہ روایات عمومی معنی میںہیں اورہر دو کو شامل ہیں۔بہت سارے احتمالات ہیں ان میں غور کرنے کی ضرورت ہے اس جگہ پر یہ استفادہ کر سکتے ہیں کہ ہر انسان کو احتیاط سے کام لینا چاہیئے اپنے دین کی خاطر ابھی سے توبہ اور استغفار کر لے زمانہ ختم ہونے سے پہلے اپنا معاملہ روشن کر لے۔یہ وہ کچھ تھا جو ہمارے ذہن میں آیا اور ہم نے اپنے مطالعہ کے دوران ”حضرت امام علیہ السلام کی عادلانہ حکومت اور اس کے تقاضے“ بارے سمجھا اور اللہ تعالیٰ آپ کے ظہور میں تعجیل فرما دے ہمیں ان کے اعوا ن و انصار سے بنائے اور اس نظریہ پر ثابت قدم رکھے۔والحمدللہ رب العالمین
مترجم کی توبہ بارے بات
توبہ کے بارے میں ایک بات میرے ذہن میں ایسی ہے جس کا میں نے اپنے خطابات میں بھی کئی بار تذکرہ کیا ہے کہ ظہور سے پہلے علامات و نشانیاں مومنین اور شیعوں کے لئے بیان کر دی گئی ہیں اور ضروری ہے کہ جو شیعہ ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے قائل ہیں ان کے منتظرین سے ہیں وہ آپ علیہ السلام کی آمد سے قبل توبہ کر لیں اگر توبہ نہ کریں گے اور امام علیہ السلام کا ظہور ہو گیا تو وہ باغیوں سے ہوں گے اور باغی کے لئے توبہ نہیں ہے اس کے واسطے سزا ہے۔ اسی طرح باقی مسلمان جو اس انتظار میں ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوں گے اور ان کے اوصاف بارے آگاہ ہیں، ظہور سے قبل کی علامات اور نشانیوں سے بھی واقف ہیں تو جب امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اور آپ دلائل قائم کر کے سب مسلمانوں سے کہیں گے کہ میں بقیة اللہ ہوں، میں مہدی علیہ السلام ہوں ، میں آل محمد سے ہوں، میرا ساتھ دو، پس جو انکار کریں گے اور آپ علیہ السلام کے مقابلہ میں آجائیں گے تو پھر ان کے لئے توبہ نہیں ہے ۔
باقی رہا کافروں،ملحدوں، عیسائیوں اور یہودیوں بارے تو امام علیہ السلام اپنے ظہور کے بعد قانع کنندہ دلائل کے ساتھ اپنے بارے بیان کریں گے کہ آپ اللہ کے نمائندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر عدالت کی حکومت قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں علمی، فلسفی، منطقی،سائنسی دلائل دیں گے، معجزات آپ علیہ السلام کے غیب سے مربوط ہونے پر گواہی دیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ علیہ السلام کی تائید کر کے آپ علیہ السلام کے برحق ہونے پر ایک اور گواہ ہوں گے حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام آپ کے ہمراہ ہوں گے جو آپ کے حق ہونے پر دلیل ہوں گے ، اصحاب کہف کا آنا سابقہ انبیاءعلیہم السلام کے تبرکات، سابقہ آسمانی کتابوں کا آپ علیہ السلام کے پاس موجود ہونا آسمانی نداء، زمینی حقائق یہ سب دلیل ہوں گے کہ سارے لوگ آپ علیہ السلام کی اطاعت میں آ جائیں یہ سب کچھ دیکھنے، جاننے کے باوجود جو مسلمان نہ ہوں گے تو پھر ان کے لئے توبہ نہیں ہے اور ان سے پھر توبہ کا نہ کہا جائے گا پھر ان کے لئے سزا ہے۔ویسے اصل صورتحال کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یا پھر اللہ تعالیٰ کے نمائندہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر اپنی رحمت کا نمائندہ بنا کر بھیجیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے مخالفین سے انتقام لینے کے لئے اپنی صفت انتقام کا بھی انہیں نمائندہ قرار دیں گے۔
مترجم کی دعا!
اے اللہ! ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے آخری نمائندے کے ظہور سے پہلے توبہ کر لیں اور خود کو اس طرح بنالیں کہ ہم اپنے امام علیہ السلام کے باغی قرار نہ پائیں۔
اے اللہ! ہمارے امام علیہ السلام کی دعائیں ہمارے نصیب ہوں۔
اے اللہ! ہمارے امام علیہ السلام کے ناصران بڑھا دے اور ہمارے امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے جو وسائل و اسباب درکار ہیں انہیں جلد پورا کر دے اور ہمیں اپنے امام علیہ السلام کی نصرت کی توفیق دے۔
اے اللہ! امام علیہ السلام کے ظہور تک بندہ حقیر پر تقصیر کو طویل عمر دے تاکہ میں اس خوشحالی کا دور دیکھ سکوں اور اپنے امام علیہ السلام کی خدمت میں رہ سکوں اپنے امام علیہ السلام کی شفقتوں سے بہرہ ور ہو سکوں جو آپ علیہ السلام کے ظہور سے مربوط ہیں۔
میرے والدین ، میرے دادا ،دادی اور میرے ہر اس رشتہ دار کو میری اس کوشش کا ثواب پہنچا دے جو میرے اس دنیا میں آنے کا وسیلہ بنے اور پھر میری تربیت میں انہوں نے کردار ادا کیا اور ان کو بھی یہ ثواب ملے جو مجھ سے منسوب ہیں اور جن جن نے مجھ سے کلمہ خیر حاصل کیا اور ولایت اہل البیت علیہ السلام کا تحفہ مجھ سے وصول کیا۔
والحمدللہ رب العالمین ۔ اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم والعن اعدائہم
۷ صفر المظفر ۰۳۴۱ ھ ( ۳ فروری ۹۰۰۲ ء)
جامعہ السیدہ خدیجة الکبریٰعلیہ السلام پکی شاہ مردان میانوالی پنجاب پاکستان
بوقت صبح دس بج کر تیرہ منٹ
فہرست
صلوات کاملہ ۶
حرف مترجم ۷
ابتدائیہ ۸
مہدوی تحریک کا عالمی ہونا ۸
حضرت اماممہدی علیہ السلام پر ایمان فطرت کا تقاضا ہے ۸
کائنات کی خلقت ۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام انبیاء علیہ السلام کے عمل کی تکمیل ہیں ۱۰
نظریہ مہدویت کا اثر ۱۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اعتقاد اقوام کا ذخیرہ ہے ۱۱
دوسرا محور ۱۱
نجات کی امید اور ناامیدی کا اثر ۱۲
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود بارے عقیدہ کا حیات بخش اثر ۱۳
اس کتاب کے مطالب اور اس کا اسلوب و روش ۱۴
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا نظریہ فطری ہے ۱۴
سائنسی اور علمی ترقی کا توڑ ۱۴
پہلی فصل ۱۶
قائم مہدی علیہ السلام کا شناسنامہ ۱۶
قائم علیہ السلام منتظر کے اسماء ۱۷
حضرت صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت یا شہادت ۱۸
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت پر طعام تقسیم کرنا ۱۸
جناب سیدہ حکیمہ سلام اللہ علیہا کی حضرت امام زمانہ (عج) کی ولادت بارے روایت ۱۸
حضرت سیدہ حکیمہ خاتون سلام اللہ علیہا: ادھر بیٹھ جاو ۱۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کرنے والی تاریخ اسلام کی بعض معروف شخصیات ۲۴
پہلی شخصیت:ابوسالم کمال الدین محمد بن طلحہ بن محمد بن الحسن الفرش النصیبی ۲۴
دوسری شخصیت: ابوعبداللہ محمد بن یوسف الکنجی الشافعی ۲۶
تیسری شخصیت: نور الدین علی بن محمد بن الصباغ المالکی ۲۶
چوتھی شخصیت: شمس الدین یوسف بن قزعلی بن عبداللہ البغدادی الحنفی ۲۶
پانچویں شخصیت:الشیخ الاکبر محی الدین العربی ۲۷
چھٹی شخصیت:الشیخ العارف عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانی ۲۸
ساتویں شخصیت:نورالدین عبدالرحمن بن قوام الدین الاشتی الجامی الحنفی ۲۸
آٹھویں شخصیت: الحافظ ابوالفتح محمد بن ابی الفوارس ۲۸
نویں شخصیت :ابوالمجدعبدالحق الدھلوی البخاری ۲۸
دسویں شخصیت: السید جمال الدین عطاءاللہ بن السیدغیاث الدین فضل اللہ بن السید عبدالرحمن ۲۸
گیارہویں شخصیت:الشیخ العالم الادیب الدولہ ۲۹
بارھویں شخصیت: عبداللہ بن محمد المطری ۲۹
تیرہویں شخصیت : شہاب الدین ۲۹
چودہویں شخصیت:مشہور عالم فضل بن روزبھان ۳۰
منظوم کلام، آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں سلام عقیدت ۳۰
پندرھویں شخصیت: العالم العابدالعارف الاورع الباع الالمی الشیخ سلیمان بن خواجہ کلان الحسین القندوزی البلخی ۳۲
سولہویں شخصیت: العارف المشہدی شیخ الاسلام احمد الجامی ۳۲
سترہویں شخصیت: ابن خلکان ۳۲
اٹھارہویں شخصیت: الشیخ شمس الدین محمد بن یوسف الزیدی ۳۲
انیسویں شخصیت: الشیخ محمد بن المحمود الحافظ البخاری ۳۳
بیسویں شخصیت: الشیخ عبداللہ بن محمد المطہری الشافعی ۳۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بقاءکا مسئلہ ۳۳
منظوم کلام، آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں سلام عقیدت ۳۴
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بقاءکے دلائل ۳۵
حدیث ثقلین کی امام مہدی علیہ السلام کی بقاءپر دلالت ۳۶
غیبت کیوں اور کس لئے؟ ۳۹
غیبت کے جواز کے لئے چند امور پیش کئے جا سکتے ہیں۔ ۳۹
اس کے لئے ایک لمبے زمانہ کی ضرورت ہے۔ ۴۰
امام حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے دیدار کا امکان ۴۱
پہلا دیدار ۴۱
امام غائب سے ملاقات اور آپ کے دیدار کی شرائط ۴۲
پہلی شرط ۴۲
دوسری شرط ۴۲
تیسری شرط ۴۳
چوتھی شرط ۴۳
پانچویں شرط ۴۴
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دیدار واسطے شرعی ذرائع ۴۴
پہلا طریقہ: ۴۵
اہل البیت علیہم السلام کی زیارت کے لئے ۴۵
دوسرا راستہ: ۴۵
تیسرا طریقہ ۴۶
چوتھا طریقہ: ۴۶
پانچواں طریقہ: ۴۷
چھٹا طریقہ: ۴۷
ساتواں طریقہ: ۴۷
آٹھواں طریقہ : ۴۷
نواںطریقہ: ۴۸
دسواں طریقہ: ۴۸
گیارہواں طریقہ: ۴۸
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات آپ کے دیدار کی کیفیت کے حوالے سے تحقیقی بحث ۴۹
پہلی دلیل: ۴۹
دوسری دلیل: ۴۹
تیسری دلیل: ۵۰
چوتھی دلیل: ۵۰
پانچویں دلیل: ۵۰
اعتراض اور جواب ۵۲
تبصرہ ۵۳
پہلا احتمال ۵۳
دوسرا احتمال ۵۴
خاص موالیوں کے لئے امام علیہ السلام کی ملاقات ۵۴
ملاقات کے احتمالات کا جائزہ ۵۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زیارت سے شرفیاب ہونا ۵۶
حضرت آئمہ اہل البیت علیہم السلام سے حالت خواب میں ملاقات کرنا ۵۷
دیدار کی صورت میں امام علیہ السلامکے اوامر کی حیثیت ۵۸
لوگوں کے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کرنے کے اسباب ۵۸
دوسری فصل ۶۱
امام زمانہ (عج) کے وجود مقدس کی تکوینی اور تشریعی برکات و فوائد ۶۱
تمہید ۶۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مقدس وجود کا غیبت کے باوجود فائدہ ۶۲
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے تکوینی اثرات اور فوائد ۶۵
پہلا فائدہ:۔کائنات کا استقرار اور اثبات(زمین و آسمان) ۶۵
دوسرا فائدہ اور اثر:۔ آسمان سے بارش کا اترنا ۶۹
تیسرا فائدہ:زمین سے سبزیوں،پھلوں اور اناج کا اگنا ۷۰
چوتھا فائدہ:۔ آپ علیہ السلام زمین والوں کے لئے امان ہیں ۷۰
امان سے متعلق احادیث ۷۱
حدیث امان سے مراد اور مقصود ۷۳
پانچواںفائدہ:۔ امام مہدی علیہ السلام فیض الٰہی کاواسطہ ہیں ۷۵
چھٹافائدہ:۔ محتاجوں پریشان حالوں کی مددکرنا ۷۸
ساتواں فائدہ:۔ مجاہدوں کی مدد کرنا ۷۹
آٹھواں فائدہ:۔ امام زمانہ علیہ السلام(عج) ہمارے ولی نعمت ہیں ۸۰
اور ہمارے رزق کے ولی بھی ہیں ۸۰
حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کے وجود مبارک سے تشریعی فوائد ۸۲
پہلا فائدہ:۔ مراجع الدین اور فقھاءکی راہنمائی فرمانا ۸۲
دوسرا فائدہ:۔ امام علیہ السلام کی موجودگی لطف الٰہی ہے ۸۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان کامل گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے ۸۵
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں اعمال پیش کرنے کے بارے روایات ۸۵
اعمال کا امام کے پاس جانے کے بارے ۸۷
تیسرافائدہ:۔ امام مہدی علیہ السلام کے موجودہونے سے اللہ کی عبادت ہو رہی ہے ۸۸
نماز پڑھنے کا طریقہ توقیفی ہے ۸۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود کا اہم تشریعی اثر ۹۰
چوتھافائدہ:۔ بندگان کی ہدایت ۹۱
پانچواں فائدہ:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے تربیتی دروس اور آپ علیہ السلام کے آداب ۹۳
تیسری فصل ۹۵
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے ہماری ذمہ داری اور آپ علیہ السلام کی حکومت بارے ہمارا
موقف ۹۵
ابتدائیہ:ضروری بات ۹۵
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں ۹۸
پہلی ذمہ داری: حضرت امام مہدی علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنا ۹۸
دوسری ذمہ داری: فقہاءاور مجتہدین سے مربوط رہنا ۱۰۰
تیسری ذمہ داری:آپ علیہ السلام کے نام مبارک کے حوالے سے ذمہ داری ۱۰۲
چوتھی ذمہ داری: امام زمانہ علیہ السلام کی نصرت اور مدد کرنا ۱۰۴
پانچویں ذمہ داری: امام علیہ السلام کی بیعت کرنا ۱۰۷
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے عجیب و غریب فیصلے ۱۰۸
عبرت کے لئے ایک حکایت ۱۰۸
دعائے عہد اور دعائے بیعت ۱۱۰
کیا ظہور سے پہلے غیر امام کی بیعت جائز ہے ۱۱۶
بیعت سے مراد ۱۱۶
چھٹی ذمہ داری:امام زمانہ علیہ السلام کی لوگوں کے دلوں میں محبت ڈالنا ۱۱۸
معرفت سے مراد ۱۱۹
روایات کی روشنی میں لوگوں کو آپ علیہ السلام کو محبوب بنانے کا طریقہ ۱۲۰
حضرت امام زمانہ (عج) کے لئے دعا کرنا ۱۲۲
حضرت امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے دعا مانگنے کا طریقہ ۱۳۸
ساتویں ذمہ داری :امام زمانہ (عج) کا قرب حاصل کرنا ۱۴۱
اہل البیت علیہ السلام کی ولایت کا واجب ہونا ۱۴۳
آٹھویں ذمہ داری:امام زمانہ(عج) کی قیادت اور ولایت کو تسلیم کرنا ۱۴۳
نویں ذمہ داری: حضرت امام زمانہ (عج) کے لئے محبت ۱۴۴
دسویں ذمہ داری:انحراف سے امام مہدی علیہ السلام کے نظریہ کا دفاع کرنا ۱۴۵
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ استعمار کے سامنے چٹان ہے ۱۴۵
گیارہویں ذمہ داری۔ بامقصد انتظار ۱۴۸
انتظار کا ثواب ۱۴۸
بارہویں ذمہ داری:حضرت امام مہدی علیہ السلام کےلئے تیاری اور مقدمات ۱۴۹
اعتراض اور جواب ۱۴۹
ایران میں اسلامی حکومت ۱۵۳
ظہورکے مقدمات سے حکومت کا قیام ۱۵۴
تمہید کی اہمیت اور ضرورت ۱۵۶
لیکن یہ تمہید کیسے ہوگی؟ ۱۵۶
خواتین میں معنویت کا رجحان مردوں سے کم نہیں ۱۵۷
تمہید:۔ دولت حق کے لئے بعض روایات ۱۵۸
سیاہ جھنڈے اور اہل قم ۱۶۰
طالِقان سے مراد ۱۶۲
تمہید و مقدمات کی انواع ۱۶۶
افراد کی تیاری ۱۶۶
ادارہ جات کی سطح پر تیاری ۱۶۶
انفرادی اور شخصی تیاری ۱۶۸
اجتماعی اور معاشرتی سطح پر ۱۶۸
حکومتوں کی سطح پر تیاری ۱۶۸
تیاری ۱۶۹
تیاری کا ثواب ۱۷۰
تیاری میں عمومیت ۱۷۱
تیاری کی شرائط ۱۷۲
پہلی شرط:۔ عزم اور اخلاص ۱۷۲
دوسری شرط:۔ عمل میں تسلسل ۱۷۳
تیسری شرط :۔ کسی مناسب شخص کا بطور راہنما انتخاب ۱۷۴
چوتھی شرط:۔ خفیہ کاری اور رازداری ۱۷۵
پانچویں شرط:۔ عمل میں پختگی ۱۷۶
چھٹی شرط:۔ عمل سے پہلے منصوبہ بندی، پلاننگ قبل از وقت ۱۷۶
ساتویں شرط:۔ رقابت ۱۷۸
متبادل کی تیاری ۱۷۸
تیاری اور آمادگی کی اقسام ۱۷۹
۱ ۔ عسکری میدانوں میں تیاری ۱۸۰
مسلح ہونا، اس کا ثواب ، اس کی اہمیت اور ضرورت ۱۸۱
اسلحہ کی ٹریننگ لینا ۱۸۴
اسلحہ کی ایجاد، اسلحہ سازی ۱۸۴
افواج کی تیاری ۱۸۵
عسکری تیاری کا مقصد ۱۸۶
سختی کے بارے اسلام کا نظریہ ۱۸۶
قانونی سختی اور غیر قانونی سختی ۱۸۷
ثقافتی تیاری ۱۸۸
قیادت کرنے والے لیڈر کی ثقافت ۱۹۰
معاشرہ، قوم، اجتماع کی ثقافت ۱۹۱
معاشرہ کو مثقف بنانے کا طریقہ ۱۹۳
ثقافت پرعورتوں کے اثرات ۱۹۵
مغربی ثقافت سے خبرداررہنا ۱۹۶
خفیہ کاری (انٹیلی جنٹس) ۱۹۸
۴ ۔ اخلاقی علیہ السلام ۱۹۹
معاشرہ و مجمع میں عمومی اخلاقیات کی اہمیت ۱۹۹
نظریاتی لحاظ سے اخلاق کی تعلیم ۲۰۱
اخلاقیات کی عملی تیاری ۲۰۱
اخلاقی تعلیمات کے نفاذ کی ضمانت ۲۰۲
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اوراخلاق کی اہمیت ۲۰۴
صحت اور ماحول کی درستگی ۲۰۴
چوتھی فصل ۲۰۷
حضرت امام زمانہ (عج)کی حکومت میں اہداف اور ان کے حصول کا طریقہ کار، حکومتی پالیسیاں ۲۰۷
اہداف ۲۰۷
پہلا ہدف:۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کا نفاذ ۲۰۸
حضرت امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے احکام کی نوعیت ۲۰۸
پشیمانی سے پہلے تنبیہ، خبردار کرنا ۲۰۸
امام علیہ السلام اصل اور واقعیت کے مطابق فیصلہ دیں گے ۲۰۹
کیاحقیقت امر اور اصل کے مطابق فیصلہ دینا ممکن ہے ؟! ۲۱۴
اسلام کےنفاذ کامسئلہ ۲۱۶
امام علیہ السلام واقعیات کے مطابق فیصلہ جات کی روشنی میں حقوق واپس دلائیں گے؟ ۲۱۷
اصلی اورواقعی احکام کے مطابق فیصلے دینے سے کیا مقصودہے؟ ۲۱۸
نتیجہ ۲۱۸
حکم ظاہری اور حکم واقعی کی مثال ۲۱۹
دوسرا ہدف:۔ دنیاکی سب سے بڑی الٰہی حکومت کا قیام ۲۱۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا امتیاز ۲۲۰
حکومت بنانے اور عدل قائم کرنے میں فرق ۲۲۰
نتیجہ ۲۲۲
امام علیہ السلام کی حکومت کے اراکین اور آپ علیہ السلام کی حکومت کے وسائل ۲۲۲
نتیجہ ۲۲۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی وسعت اور دائرہ کار ۲۲۴
عادلانہ حکومت کی منصوبہ بندی ۲۲۵
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے باقی حکومتوں سے امتیازات ۲۲۷
تیسرا ہدف:۔ عدل کا نفاذ اور ظلم کا خاتمہ ۲۲۸
حیوانات میں عدالت کے قیام بارے روایات ۲۲۸
عدل سے مراد ۲۲۹
مہدوی عدالت کا جوہر اور حقیقت ۲۳۰
عدل کے بارے روایات ۲۳۱
زمین کی تطہیر اور تقدیس کا مسئلہ ۲۳۶
عدل اور قسط میں فرق ۲۳۷
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عدل کی وسعت ۲۳۸
عدل کو کیسے پھیلایا جائے گا ۲۴۱
کیا لوگ حضرت امام مہدی علیہ السلامکے زمانہ میں عصمت کے مقام کو پالیں گے ۲۴۲
ابلیس کا قتل ۲۴۴
ایک سوال اور اس کا جواب ۲۴۵
عصمت کا معنی ۲۴۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ ،ترقی اور خیر مطلق، خوشحالی کا دور ہے ۲۴۷
حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کا تقرر ۲۴۸
حضرت علی علیہ السلام کی قیادت بارے جناب سیدہ زہراءسلام اللہ علیہا کافرمانا ۲۴۸
اوّل زمان اور آخر زمان کی دعوت ۲۵۰
دوسرا بیان پہلے اور آخری زمانہ کے درمیان ربط و تعلق ۲۵۱
پانچویں فصل ۲۵۷
ابتدائیہ ۲۵۷
اصحاب حضرت امام قائم علیہ السلام کی خصوصیات ۲۵۸
دعوت دینے کا قرآنی اسلوب ۲۵۹
پہلا موقف :۔ عوام سے خطاب اور ان کے ساتھ رویہ ۲۶۱
قرآنی اسلوب ،دعوت ۲۶۱
دوسراموقف:۔ دوسرامرحلہ ۲۶۲
باہمی رابطہ، تعارف، شرائط اور باہمی پہچان، ایک دوسرے سے تعلقات ۲۶۲
تیسرا موقف اورمرحلہ ۲۶۴
دعوت میں نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موقف اورطریقہ کار ۲۶۵
۱ ۔ رواداری، نرم پالیسی ۲۶۶
۲ ۔ پاک کرنا، تزکیہ کا عمل ۲۶۷
۳ ۔ تعلیم ۲۶۷
جنگ ، سخت روش، ہدف ہے یا وسیلہ ۲۶۸
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی جنگیں ۲۷۰
حضرت امام حسین علیہ السلام اور سخت رویہ ۲۷۱
دنیا کے بادشاہوں کے لئے دعوت دینے کا نبوی طریقہ کار ۲۷۱
بادشاہ روم کی جانب خط ۲۷۳
اہل البیت علیہ السلام کا اسلام کی طرف دعوت دینے کا اسلوب ۲۷۴
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا اسلوب دعوت ۲۷۴
پہلا اسلوب: مسالمت آمیز طریقہ سے دعوت دینا ۲۷۵
دوسرا اسلوب :جہاد ۲۷۷
اس رویہ پر دلائل ۲۷۷
تیسرا اسلوب اعجاز کا ہے ۲۷۸
اس پردلائل ۲۷۸
سوالات ۲۷۹
چوتھا اسلوب پہلے اور دوسرے اسلوب کو استعمال کرنا ہے ۲۷۹
اس کے دلائل ۲۷۹
پانچواں اسلوب ۲۸۰
اس پر اعتراض ۲۸۰
چھٹا اسلوب ۲۸۰
ساتواں اسلوب ۲۸۰
عقلی اور شرعی دلیل ۲۸۱
امام علیہ السلام کے طریقہ اور روش بارے شرعی دلیل ۲۸۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی دعوت کے مراحل ۲۸۶
ظہور امام علیہ السلام کے لئے جلدی ۲۸۷
حضرت امام مہدی علیہ السلام اور امرجدید ۲۸۸
حضرت قائم علیہ السلام قتل سے پہلے دعوت دیں گے ۲۸۸
حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنا نمائندہ مکہ والوں کے پاس بھیجیں گے ۲۹۰
ظہور امام علیہ السلام کے بعد بیعت کا عمل ۲۹۰
حضرت امام مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد ۲۹۱
حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبی سپورٹ ،حمایت ۲۹۲
حق کی تائید میں قرآنی آیات ۲۹۳
دعوت دینے میں جدید علمی اور سائنسی اسلوب ۲۹۴
علمی اعجاز ۲۹۴
چھٹی فصل ۲۹۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا علم اورآپ کا علمی غلبہ ۲۹۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا علم ۲۹۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علم کی وسعت ۲۹۶
آئمہ اطہارعلیہ السلام سے علم غیب کی نفی پرحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا رد عمل ۲۹۶
علم غیب کے بارے ایک شخص کا سوال اور امام علیہ السلام کا جواب ۲۹۸
علم غیب بارےحضرت ابوجعفر صادق علیہ السلام سے سوال ۲۹۸
علم غیب بارےحضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے خطاب میں فرماتے ہیں ۲۹۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تعارف بزبان امیرالمومنین علیہ السلام ۳۰۰
سانپ اور بچھو ۳۰۱
علم کا نتیجہ قدرت و طاقت کی صورت میں ۳۰۱
علم کا نتیجہ قدرت ہے ۳۰۲
تخت بلقیس کا واقعہ ۳۰۲
بڑی طاقت، قدرت اور غیر معمولی اقدامات اور طبیعی قوانین کا توڑ سب علم کا نتیجہ ہے ۳۰۴
یمن کا علم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ۳۰۴
آئمہ علیہم السلام کا علم اور آپ کے اختیارات ۳۰۵
علم کا نتیجہ احاطہ اور مشاہدہ کی وسعت ہے ۳۰۶
روح القدس سے مراد ۳۰۶
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قدرت اور طاقت ۳۰۷
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طاقت اور آپ علیہ السلام کا اسلحہ ۳۰۷
سوال:صعب بادل سے کیامراد ہے؟ ۳۰۹
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی قدرت اور طاقت ۳۱۰
عقلاءکے بیان سے دلیل اور حقیقی صورتحال ۳۱۰
حضرت امام مہدی علیہ السلام پورے عالم میں تبدیلی لائیں گے ۳۱۲
مفکرین، دانشوروں اور نئی نئی ایجادات کرنے والوں کے لئے بشارت ۳۱۲
حضرت امام عصر علیہ السلام کا زمانہ ایسے زمانے کا آغاز ہو گا جس کی انتہا نہیں ۳۱۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت میں علمی انقلاب ۳۱۴
وضاحت ۳۱۶
حضرت امام عصر علیہ السلام کے دور میں علوم کی کثرت ۳۱۶
منتظرین کے علم کی وسعت ۳۱۸
صحت کے میدانوں میں حیرت انگیز ترقی ۳۱۸
زراعت اور ماحولیات میں تبدیلیاں ۳۱۹
ڈیموں کی تعمیر ۳۲۰
سڑکوں اور شاہراہوں کی وسعت اور پھیلاو ۳۲۰
علمی اور سائنسی ترقی پر دلیل اور گواہ ۳۲۱
بلقیس کا تخت اور سلیمان کی حکومت ۳۲۱
اولیاءاللہ کا اختیار ۳۲۲
عادلانہ سلطنت کے قیام میں علم سے استفادہ ۳۲۳
سوال: امام کا خطاب سب لوگوں تک کیسے پہنچے گا؟ ۳۲۴
ساتویں فصل ۳۲۶
ظہور سے پہلے رونما ہونے والی نشانیاں ۳۲۶
ظہور کی اہم علامات اوران کے حوالے سے ہمارا کردار ۳۲۶
حالات کی تبدیلی کے لئے منتظر کا کردار ۳۲۷
کیا ہم امام مہدی علیہ السلام کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۳۲۷
ظہور سے پہلے منتظرکوکیاکرناچاہیے؟ ۳۲۸
ایسی علامات جن کا واقع ہونا یقینی ہے ۳۲۸
حتمی علامات ۳۲۹
علامات بارے آگہی ۳۳۰
ظہور کی غیرحتمی علامات بارے بحث کرنے میں قباحت ۳۳۰
ہمارا واجب کیاہے؟ ۳۳۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام سے تعلق و رابطہ ۳۳۱
ظہور کی حتمی علامات سے بحث کرنے کا ہدف ۳۳۲
حتمی علامات کا خلاصہ ۳۳۲
فقط پانچ علامات کیوں؟ ۳۳۳
یمانی کی شخصیت ۳۳۳
یمانی کون؟ ۳۳۴
سفیانی کی شخصیت ۳۳۴
سفیانی سے مراد ۳۳۵
حتمیات علامات جیسی چنددوسری نشانیاں ۳۳۶
۱ ۔ سیاہ پرچم ۳۳۶
خراسانی ۳۳۶
۲ ۔ دجّال ۳۳۷
دجّال سے مراد ۳۳۷
ظہور کے لئے جلد تیاری ۳۳۸
( ۱) نفسیاتی نقصانات ۳۳۸
۲ ۔ خاندانی نقصانات: ۳۳۹
( ۳) اجتماعی نقصانات : ۳۳۹
آٹھویں فصل ۳۴۱
عادلانہ حکومت میں توبہ کا عمل ۳۴۱
توبہ والی روایات ۳۴۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام اور توبہ ۳۴۱
ان روایات میں جمع کا طریقہ ۳۴۳
ظہور کے زمانہ اور عدالت کے زمانہ کا فرق ۳۴۴
توبہ والی روایت بارے توجیہ ۳۴۴
ایک اور توجیہ ۳۴۴
تیسری توجیہ ۳۴۵
چوتھی تاویل و توجیہ ۳۴۵
پانچویں توجیہ ۳۴۵
توبہ اور استنابہ میں فرق ۳۴۶
توبہ قبول نہ ہونا، مسلمان کے لئے یا کافر کے لئے ۳۴۷
مترجم کی توبہ بارے بات ۳۴۷
مترجم کی دعا! ۳۴۸