حکومت مہدی پر طائرانہ نظر
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف حجة الاسلام والمسلمین آقای نجم الدین طبسی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


حکومت مہدی پر طائرانہ نظر

حجة الاسلام والمسلمین آقای نجم الدین طبسی


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے۲ ۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلام کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے،


ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتو رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مولفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام جناب نجم الدین طبسیکی گرانقدر کتاب” حکومت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) پر ایک طائرانہ نظر“ کو فاضل جلیل مولانا سید اخلاق حسین پکھنارو#ی اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


بیان حقیقت

خدا وند عالم ، مالک ملک و ملکوت کی لا تعداد عنایتوں ،اس کے ،ہر نفس لطف و مہربانی ،اہل بیت (علیہم السلام )کی بے شمار نوازشوں اور توجہات سے مجھ ناچیزاور بے بضاعت انسان کو توفیق نصیب ہوئی کہ حجة الاسلام والمسلمین آقای نجم الدین طبسی کی گرانقدر اورپرُ معنی کتاب (چشم اندازی بہ حکومت مہدی )کا ترجمہ کروں

الحمدللہ وہ پایہ تکمیل کو پہونچا، مورد نظر کتاب چند خصوصیات کی حامل ہے جنھیں خود مولف موصوف نے اپنی پیش گفتار میں بیان بھی کیا ہے، مختصر یہ کہ مولف نے ظہور سے قبل اور ظہور کے بعد حکومت حضرت مہدی پر لسبط و تفصیل سے روایتی انداز میں بحث کی ہے،

اور ظہور سے قبل و بعد کے اخلاقی،سیاسی ،اقتصادی حالات پر گفتگو اس انداز میں کی ہے کہ طرز تحریر آسان،اسلوب بیان سادہ ورواں ،نتیجہ خیز و قناعت بخش اور عام فہم ہے، قاری حضرات کو پڑھنے کے بعد اس کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا ،نیز ذوق روایت رکھنے والے اہل درایت و بصیرت افراد موصوف کی کاوشوں سے محظوظ بھی ہوں گے، چونکہ عالم امکان میں ایک عالمگیر طاقت کے ظہور سے متعلق تشویش وا ضطراب ،جستجو و تلاش پائی جاتی ہے اس عالمی حاکم کا نام جوبھی دینا رکھ لے لیکن اس کی حقیقت کا کوئی بھی منکر نہیں ہے، اور پوری دنیا خصوصا عالم غرب اسی موضوع پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کر رہی ہے اور آیندہ کے لئے حفاظتی اسباب بھی فراہم کر رہی ہے۔ لہٰذا اہل اسلام خصوصاً شیعہ حضرات کے لئے یہ کتاب مختصر سرمایہ حیات اور زندگی بخش نوید ہے۔


چونکہ مولف نے روایت کے قالب میں بہت سارے سوالات کا جواب بھی دیا ہے دیگر یہ کہ کتاب ھذا عربی و فارسی میں بھی شائع ہو چکی ہے امید ہے کہ قاری حضرات کے لئے پسندیدہ خاطر اور مفید ہو اور ان سے خواہش ہے کہ اپنے نیک ،ہمت افزا،اورخالص مشوروں سے راہنمائی کر کے مجھے شکریہ کا موقع دیں اور خداوند سبحان و رحمان سے دعا ہے کہ مولف موصوف نیز مجھ ناچیز اور تمام اہل ایمان و خداَّم امام زمانہ(عج) کوظہور کے وقت سچے اور باوفا ناصروں میں قرار دے اور ہماری لغزشوں، گناہوں اور غفلتوں کو اپنے فضل و کرم و احسان سے عفو و درگذر کرے اور راہ حق ،جادہ مستقیم کا مالک بناتے ہوئے طول عمر کی بیش بہا دولت نیز روز افزوں توفیقات سے نوازے۔

آمین

شکر گزار

اخلاق حسین پکھناروی

اہل رہتاس بہار ھند


پیش گفتار

شوش دانیال کا علاقہ ابھی تازہ تازہ بعثی کافروں کے چنگل سے آزاد ہو اتھا،اور لوگ آہستہ آہستہ اپنے شہر اور وطن کو لوٹ رہے تھے، ان دنوں میں انھیں جانباز عزیزوں کے درمیان اپنے وجود کو فخر و برکت سمجھتے ہوئے اس شہر کی تاریخی مسجد میں امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ )سے متعلق علامہ مجلسی کی کتاب بحارالانوار سے درس کہنے لگا تو اس بات کی طرف متوجہ ہو اکہ اگر چہ امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) سے متعلق گوناگوں مباحث ،جیسے طول عمر کا راز،فلسفہ غیبت،عوامل ظہور وبیان ہوچکے ہیں لیکن قیام کی کیفیت ،حکومتی پروگرام و طریقہ کار، سربراہی کے طرز وغیرہ پر شایان شان تحقیق نہیں ہوئی ہے ۔اس وجہ سے میں نے عز م کر لیا کہ اس میدان میں بھی تحقیق لازم ہے، شاید اب تک لا جواب سوالوں کا جواب دے سکوں تمام پریشان کن سوالات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ )کس طرح مختلف قوت و خیالات کے حامل سیاسی نظاموں کو ایک سیاسی نظام بنادیں گے۔

حضرت کا حکومتی پروگرام کس طرح ہے جس میں ظلم و جور دنیا سے مٹ جائے گا اور فساد کا خاتمہ اور بھوکوں کا وجود نہیں رہ جائے گا ۔

یہی فکر مجھے چار سال سے مذکورہ موضوع پر تحقیق کر نے کی جبری دعوت دے رہی تھی چنانچہ اسی تحقیق کا نتیجہ آپ کے سامنے موجود ہ کتاب ہے ۔

اس کتاب کے پہلے حصہ میں امام علیہ السلام کے ظہورسے قبل کشت وکشتار ،قتل و غارتگری، ویرانی و بربادی،قحط سالی،موت ،بیماری،ظلم و جور ، اضطراب،بے چینی ،گھٹن،حقوق پامالی اور تجاو ز سے لبریز دور کی تحقیق ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ لوگ اس وقت اپنے مقاصد میں کامیابی ،مکاتیب فکر،مختلف حکومتیں ،حقوق بشر کی دعویدار ،انسانی نیک بختی کا نعرہ لگانے والے زمانے کے اضطراب و ناگفتہ بہ حالا ت سے مایوس ہوچکے ہوں گے اور مصلح جہانی کے ظہور کے منتظر نجات کے امیدوار ہوں گے ۔


دوسرا حصہ ،حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے انقلاب اور تحریک و قیام کی کیفیت پر مشتمل ہے اس انقلاب کی شان یہ ہے کہ اس کا آغاز خانہ کعبہ سے حضرت کے اعلان پر ہوگا اور آپ کے خالص اور حقیقی ناصر و مدد گار دنیا کے گوشہ گوشہ سے آکر آپ سے ملحق ہو جائیں گے توفوجی چھاونی ،کوتوالی بنائی جائے گی اور منظم سپاہی اورکمانڈر کا انتخاب عمل میں آئے گا اور وسیع پیمانہ پر جنگ کی تیاری ہوگی ۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) ظہور کریں گے تو دنیا سے ظلم و جور مٹا دیں گے یاد رہے کہ یہ دنیا یا سماج و معاشرہ حجاز یا خلیج فارس و ایشیا میں محدود نہیں بلکہ اس کی لا محدود وسعت تمام کرہ زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

ظلم و جور سے پرُ معاشرہ کی اصلاح ایک مشکل اور دشوار کام ہے اور اس کا مدعی در حقیقت ایک بہت بڑے معجزہ کا مدعی ہے جو اسی کے ہاتھوں انجام پذیر ہوگا ۔

کتاب کا تیسرا حصہ آخری امام علیہ السلام کی حکومت کی طرف اشار ہ ہے کہ آپ بگڑے ہوئے ،سر کش طاغی سماج کا ادارہ کرنے،اسلامی حکومت کی تشکیل دینے کے لئے ایک قادر اور کار آمد حکومت اپنے قوی اورشجاع انصار ،جیسے حضرت عیسیٰ، سلمان فارسی ،مالک اشتر ،صالح ،سلف صالح وکے ذریعہ تشکیل دیں گے، اگر چہ ان لوگوں کی کار کر دگی حکومت جور میں بھی لائق اہمیت و قابل قدر ہے ،لیکن انکا اصلی کردار اور بنیادی کام حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے دور حکومت میں اصلاح اور تعمیر ہے ۔

جو کچھ پیش گفتار میں بیان کیا گیا ہے دسیوں شیعہ اور سنی کتابوں سے ماخوذ نیز سیکڑوں روایت کی مبسوط طور پر چھان بین ،برہان و استدلال کے ساتھ اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے۔


توقع ہے کہ یہ کتاب ادھورے اور نارسا انداز میں سہی ظہور کے بعد اسلامی دنیا میں آل محمد (علیہم السلام )کی عمومی عدالت اور ا س کی و سعت کو بیان کرے اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کی خدمت میں مقبول قرار پائے اور ایرانی مسلمان نیز تمام حقیقی و سچے منتظرین کے لئے قابل استفادہ واقع ہو اور انھیں حضرت کے ظہور کی مقدمہ سازی میں توفیق و تائید کرے۔

خدا وند عالم سے دعا ہے کہ مرجع عالی قدر حضرت امام خمینی جنھوں نے ایران میں حکومت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کی ایک جھلک دیکھائی ہے ،انہیں انبیاء و معصومین (علیہم السلام )کے ساتھ محشور کرے، نیز اہل بیت اور ان کی حکومت کے خادموں کو توفیق دے اور اسلامی ام القریٰ (ایران)کو اپنی حفاظت میں رکھتے ہوئے تائید فرمائے، یہاں پر چند نکتے کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے :

۱ ۔ہم ہر گز اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ کتاب ھٰذا میں مذکورہ باتیں نئی اور جدید ہیں ؛ اس لئے کہ انھیں ساری روایات کو گذشتہ علماء نے جمع کیا ہے، اور بعض مقامات پر نتیجہ بھی اخذکیا ہے؛ پھر بھی اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوشش کی گئی ہے کہ حتی الامکان خاص اصطلاحوں اور اختلافی باتوں سے گریز کیا جائے ،اور جدید لب و لہجہ نیز سادہ و آسان قالب میں ڈھال کر بیان کیا جائے تاکہ عوام بھی استفادہ کر سکیں۔


۲ ۔جو ماخوذات روایت سے حاصل ہیں اور انھیں کسی طرف استناد بھی نہیں دیا گیا ہے،وہ مولف کی ذاتی رائے ہے۔ اس لحاظ سے دقت نظر اور چھان بین نیز ایک روایت کا دوسری روایت سے مقایسہ کر نے پر ،دیگر نئے مطالب کا حصول ممکن ہے۔

۳ ۔اسی طرح یہ بھی ادعاء نہیں ہے کہ اس کتاب کی تمام موردا ستناد روایات صحیح اور بے خدشہ ہیں ؛بلکہ کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ جو کچھ معتبر محدثین اور قابل وثوق مولفین نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، اس میں ذکر ہو جائے ۔

اسی طرح کچھ مقامات کے علاوہ، روایات کی سند سے بحث نہیں کی گئی ہے، چونکہ مقام نفی واثبات میں نہیں تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے مقامات پر تو اتر اجمالی کے ساتھ روایات کے صدور کا یقین ہوگیا؛ خصوصا وہ روایات جو اہل بیت سے مروی ہیں ۔

۴ ۔اس کتاب کی روایات معجم احادیث(۱) الامام المہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) سے قبل جمع و تالیف ہوئی ہیں۔ اس بناء پر اس وادی میں تحقیق کرنے والے شائقین حضرات کو اس کتاب کی جانب جو اس کے بعد بحمد اللہ جمع و تالیف ہوئی ہے رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہوں ۔

۵ ۔بہت سارے مقامات پرروایات میں کلمہ (الساعة،القیامة)کی حضرت مہدی کے ظہور سے تفسیر کی گئی ہے ۔اس لحاظ سے جو روایات شرائط یا علائم الساعة والقیامة کے عنوان سے ذکر کی گئی ہیں ،اس کتاب میں علائم ظہور کے عنوان سے بیان کی گئی ہیں ۔

____________________

(۱)ناچیز نے حوزہ علمیہ قم کے چند افاضل کی مدد سے کتاب ھٰذا کو۵ جلد وںمیں تالیف کیا ہے اور بنیاد اسلامی قم نے۱۴۱۱قمری میں شائع کیا ہے انشاء اللہ ۔ آئندہ نظر ثانی بھی کروں گا


۶ ۔ اس کتاب کے بعض مطالب مزید تحقیق اور تلاش طلب ہیں؛ اگر چہ کوشش کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں توضیح دی جائے امید ہے کہ خدا وندعالم کی عنایتوں سے دوسری طباعت مزید دقت نظر و تحقیق کے ساتھ منظر عام پر آئے ۔

آخر کلام میں من لم یشکر المخلوق لم یشکر الخالق کے عنوان سے ضروری ہے کہ اپنے دوستوں اور بھائیوں خصوصا حجة الاسلام محمد جواد ،حجة الاسلام محمد جعفر طبسی کی راہنمائی اور حجة الاسلام رفیعی وسید محمد حسینی شاہرودی کے دوبارہ لکھنے کی وجہ سے اور کتاب کے مطالب کی تنظیم پر شکر گذار و قدر داں ہوں۔

نجم الدین طبسی

قم۱ ۳۷۳ ھ ش


پہلا حصَّہ

دنیا ظہور سے قبل

جب تک ہم روشنی اور خو شحالی میں ہوتے ہیں ،اس کی قدر و قیمت کا کم اندازہ ہوتا ہے ہمیں اس وقت اس کی حقیقی قدرو قیمت معلوم ہو گی جب ہم ظلمت و تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گھر جائیں گے ۔

جب سورج افق آسمان پر درخشاں ہوتا ہے ہم اس کی طرف کم توجہ دیتے ہیں ، لیکن جب بادل میں چھپ جاتاہے اور ایک مدت تک اپنی نورانیت و حرارت سے محروم کر دیتا ہے تو اس کی ارزش کا اندازہ ہونے لگتا ہے ۔

ظہورآفتاب ولایت کے لازمی ہونے کا ہمیں اس وقت احساس ہو گاجب ظہور سے پہلے بے سرو سا مانی اور نا امنی کے ماحول سے با خبر ہوں ،اور اس وقت کے نا گفتہ بہ حالات کو درک کرلیں۔

اس زمانے کی کلی طور پر نقشہ کشی ،جو روایات سے ماخوذہے ،درج ذیل ہے ۔

امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے ظہور سے قبل فتنہ و فساد ،ہرج ومرج ،بے سرو سامانی، ناامنی، ظلم و استبداد ،عدم مساوات،غارتگری ،قتل و کشتار ،اورتجاوز تمام عالم کو محیط ہوگا اور زمین ظلم و ستم اور ناانصافی سے لبریز ہوگی ۔

خونین جنگ کا آغاز ملتوں اور ممالک کے درمیان ہو چکا ہوگا ،زمین کشتوں سے بھری ہوگی، قتل ناحق اس قدر زیادہ ہوگا کہ کوئی گھر یا خاندان ایسا نہیں ہوگا جسکے ایک یا چند عزیز قتل نہ ہوئے ہوں گے۔ مرد و جوان جنگوں کے اثر سے ختم ہو چکے ہوں گے یہاں تک کہ ہر ۳/ آدمی میں۲ / آدمی قتل ہو چکا ہو گا ۔

قوم و ملت کے درمیان جان ومال بے وقعت، راستے غیر محفو ظ ہوں گے ، خوف، وحشت ہر انسان کے دل میں بیٹھی ہوگی ،ناگہانی اورحادثاتی موتوں کی کثرت ہو گی، معصوم بچے بد ترین شکنجوں کے ذریعہ ظالم وجابر حکام کے ہاتھوں قتل کئے جائیں گے، سڑکوں اور چوراہوں پر حاملہ عورتوں کے ساتھ تجاوز ہوگا، جان لیوا بیماریاں لاشوں کی بد بو یا انواع و اقسام ہتھیار کے استعمال سے عام ہو جائیں گی ،


کھانے پینے کی اشیاء میں کمی ہو گی ، مہنگائی و قحط سے لوگوں کی زندگی مفلوج ہو جائے گی،زمین بیج قبول کرنے نیزاُسے اگانے سے انکار کردے گی، بارش نہیں ہوگی ،یا اگر ہوگی بھی تو بے وقت اور ضرر رساں ہوگی قحط ایسا پڑے گا کہ لوگوں کی زندگی اتنی دشوار و مشکل ہو جائے گی کہ بعض لوگ قوت لایموت فراہم نہ کرنے کی وجہ سے، اپنی عورتوں اور بچیوں کو معمولی غذا کے مقابل دوسرے کے حوالے کر دیں گے ۔

ایسے مشکل و نا ساز گار ماحول میں انسان نا امیدی و قنو طیت کا شکار ہو جائے گا اور اس وقت موت اللہ کا بہترین ہدیہ سمجھی جائے گی،اور صرف و صرف لوگو ں کی آرزو موت بن جائے گی نیز ایسے ماحول میں جب کوئی شخص لاشوں کے درمیان یا قبر ستان سے گذر رہا ہوگا تو اس کی آرزو بس یہی ہوگی کہ کاش میں بھی انھیں میں سے ایک ہوتا تاکہ ذلت کی زندگی سے آسودہ خاطر ہوتا۔

اس وقت کوئی طاقت ،پارٹی ،انجمن نہ ہوگی جو اس بے سرو سامانی،تجاوز ، غارتگری کا سد باب کرے اور ستمگروں و طاقتوروں کو ان کی بد کر داری کی سزا دے۔ لوگوں کے کانوں سے کوئی نجات کی آواز نہیں ٹکرائے گی،سارے جھوٹے دعویدار انسان کی نجات کا جھوٹا نعرہ لگانے والے خائن اور جھوٹے ہوں گے اور انسان صرف ایک مصلح الٰہی ،خدائی معجزہ کا انتظار کرے گا اور بس، اس وقت جب کہ یاس و ناامیدی تمام عالم کو محیط ہوگی، خداوند عالم اپنے لطف و رحمت سے مہدی موعود (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ )، کو مدتوں غیبت و انتظار کے بعد بشریت کی نجات کے لئے ظاہر کرے گا اور ہاتف غیبی کی آسمان سے ایسی نداآئے گی جو ہرایک انسان کے کان سے ٹکرائے گی،”کہ اے دنیا والو! ستمگروں کی حاکمیت کا زمانہ ختم ہو گیا ہے، اور اب عدل الٰہی سے پرُ حکومت کا دور ہے، اور مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) ظہور کر چکے ہیں۔ یہ آسمانی آواز، انسان کے بے جان قالب میں امید کی روح پھونک دے گی اور محرومین ومظلومین کو نجات کا مژدہ سنائے گی۔

یقینا مذکورہ بالا ماحول کا ادراک کرنے کے بعد مصلح الٰہی کے ظہور کی ضرورت کا احساس کر سکتے ہیں نیز حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کی عادلانہ حکومت کی وسعت کا اندا زہ لگا سکتے ہیں۔

یہاں پر امام علیہ السلام کے ظہور سے قبل نا سازگار حالات کو روایات کی نظر میں پانچ فصلوں میں ذکر کریں گے۔


پہلی فصل

حکومت

ادیان و مکاتب کے قوانین، معاشرے میں اس وقت اجرا ہو سکتے ہیں جب حکومت اس کی پشت پناہی کرے ۔اس لئے کہ ہر گروہ حکومت کا طالب ہے تاکہ اپنے مقاصد کا اجرا کر سکے، اسلام بھی جب کہ تمام آسمانی آئین میں بالا تر ہے ،اسلامی حکومت کا خواہاں رہا ہے حکومت حق کا وجود اورا س کی حفاظت اپناسب سے بڑا فریضہ جانتا ہے ۔پیغمبر اسلام نے اپنی تمام کوشش اسلامی حکومت کی تشکیل میں صرف کر دی اور شہر مدینہ میں اس کی بنیاد ڈالی ،لیکن آنحضرت کی وفات کے بعد،اگر چہ معصومین و علماء، حکومت اسلامی کی آرزو رکھتے تھے معدودہ چندکے علاوہ ، حکومت الٰہی نہیں تھی اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے ظہور تک اکثر باطل حکومتیں ہوں گی۔

جو روایات پیغمبر و ائمہ (علیہم السلام )سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں حکومتوں کا عام نقشہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے قیام سے قبل بیان کیا گیا ہے ، ہم ان چند موارد کی طرف اشار ہ کریں گے:

الف)حکومتوں کا ظلم

ظہور سے پہلے من جملہ مسائل میں ایک مسئلہ جو انسان کی اذیت کا باعث ہوگا ،وہ حکومتوں کی طرف سے لوگوں پر ہونے والا ظلم و ستم ہے ، رسول خدا اس سلسلے میں فرماتے ہیں:” زمین ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی حدیہ ہے کہ ہر گھر میں خوف ودہشت کی حکمرانی ہوگی “(۱)

____________________

(۱)ابن ابی شیبہ،المصنف ،ج۱۵،ص۸۹ ؛کنزل العمال، ج۱۴،ص۵۸۴


حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” زمین ظلم و استبداد سے پر ہوگی؛ یہاں تک کہ خوف و اندوہ ہر گھر میں داخل ہوچکاہوگا “(۱) امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت قائم (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) خوف و دہشت کے دور میں ظہور کریں گے “(۲) یہ خوف و ہراس وہی ہے جو اکثر ستمگرو خود سر حاکموں سے وجود میں آتا ہے ؛ اس لئے کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے ،ظالم دنیا کے حاکم ہو ں گے۔

امام محمد باقر (علیہ السلام)فرماتے ہیں :” مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) اس وقت قیام کریں گے جب معاشرے کی رہبری ستمگروں کے ہاتھ میں ہو گی “(۳)

ابن عمر کہتے ہیں :غیر تمند، ذی حیثیت اور صاحب ثروت انسان آخر زمانہ میں اس شکنجے اور اندوہ سے جو حاکموں سے پہنچیں گے مرنے کی آرزوکرےگا۔(۴)

قابل توجہ بات یہ ہے کہ رسول خدا کے ماننے والے صرف اجنبی حکومتوں سے رنجورنہیں ہوں گے، بلکہ اپنی خود مختار ظالم حکومت سے بھی انھیں تکلیف ہوگی ؛اس درجہ کہ زمین اپنی تمام وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو جائے گی ، اور آزادی کے احساس کے بجائے، خود کو قید خانہ میں محسوس کریں گے۔ جیسا کہ فی الحال ایران کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک مسلمانوں کے ساتھ اچھا بر تاو نہیں کر رہے ہیں بلکہ اجنبی بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں روایات میں اس طرح آیا ہے :

____________________

(۱)کنزل العمال، ج۱۴،ص۵۸۴؛احقاق الحق، ج۱۳،ص۳۱۷

(۲)شجری ،امالی، ج۲،ص۱۵۶

ملاحظہ ہو:نعمانی ،غیبة، ص۲۵۳؛طوسی، غیبة، ص۲۷۴،اعلام الوری، ص۴۲۸؛مختصر بصائر الدرجات، ص۲۱۲اثبات الہداة،ج۳، ص۵۴۰؛حلیةالابرار،ج۳،ص۶۲۶؛بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۳؛بشارة الاسلام ،ص۸۲؛عقد الدرر، ص۶۴؛القول المختصر ،ص۲۶ ؛متقی ہندی، برہان ص۷۴؛سفارینی لوائح، ج۳ ،ص۸

(۳)ابن طاووس، ملاحم، ص۷۷

(۴)عقد الدرر ،ص۳۳۳


رسول خدا فرماتے ہیں :” آخر زمانہ میں شدید مصیبت ،کہ اس سے سخت ترین مصیبت سنی نہ ہو گی،اسلامی حُکاّم کی طرف سے میری امت پر آئے گی ؛اس طرح سے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہو جائے گی ،اور ظلم و ستم سے ایسی لبریز ہو گی ، کہ مومن ظلم سے چھٹکارے کے لئے ،پناہ کا طا لب ہو گا لیکن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی “(۱)

بعض روایتوں میں اپنے رہبروں کے توسط مسلمانوں کے ابتلا کی تصریح ہوتی ہے ان ظالم حکام کے پیچھے ایک مصلح کل کے ظہور کی نوید دی گئی ہے ،ان روایات میں تین قسم کی حکومت کا، جو رسول خدا کے بعد قائم ہوتی ہے ذکر آیا ہے ۔جویہ ہیں تین قسم کی حکومتیں ہیں :خلافت ،امارت و ملوکیت ،اس کے بعد جابر حاکم ہوں گے ، رسول خدا فرماتے ہیں :” میرے بعد خلفاء ہوں گے خلفاء کے بعد امراء اور امراء کے بعد بادشاہ ان کے بعد جابر و ستمگر حاکم ہوں گے؛ پھر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) ظہور کریں گے “(۲)

ب)حکومتوں کی تشکیل

لوگ اس وقت عیش و عشرت کی زندگی گذار سکتے ہیں جب حکومت کا کار گذار با شعور و نیک ہو۔ لیکن اگر غیر مناسب افراد لوگوں کے حاکم ہو جائیں گے تو فطری بات ہے کہ انسان رنج و الم میں مبتلاء ہوگا؛ بالکل وہی صورت حال ہو گی جو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ )کے ظہور سے قبل کے زمانے میں حکومتیں خائن اور فاسق و فاجر ستمگر کے ہاتھ میں ہوں گی رسول خدا فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ آئے گا کہ حکام ستم پرور ،فرمانروا خائن قاضی،فاسق اور وزراء ستمگر ہوں گے“(۳)

ج)حکومتوں میں عورتوں کا نفوذ

آخر زمانہ سے متعلق حکومتوں کے مسائل میں ایک مسئلہ ،عورتوں کا تسلط اور ان کا نفوذ ہے

____________________

(۱)حاکم ،مستدرک ،ج۴،ص۴۶۵؛عقد الدرر، ص۴۳؛احقاق الحق ،ج۱۹، ص ۶۶۴

(۲)المعجم الکبیر ،ج۲۲،ص۳۷۵؛الا ستیعاب ،ج۱،ص۲۲۱؛فردوس الاخبار ،ج۵، ص۴۵۶؛ کشف الغمہ، ج۳، ص۲۶۴؛اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۹۶

(۳)شجری ،امالی ،ج۲،ص۲۲۸


یاوہ ڈائریکٹ لوگوں کی حاکم ہوں گی (جیسا کہ بعض ممالک میں عورتیں حاکم ہیں)یا حکام ان کے ماتحت ہوں گے اس مطلب میں ناگوار حالات کی عکاسی ہے ، حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: ” ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ فاسد و زنا کار لوگ ناز و نعمت سے بہرہ مند ہوں گے اور پست و ذلیل افراد پوسٹ و مقام حاصل کریں گے ،اور انصاف پرور افراد ناتواںو کمزور ہوں گے“ پوچھا گیا : یہ دور کب آئے گا؟ تو امام (علیہ السلام)نے فرمایا: ”ایسا اس وقت ہوگا جب عورتیں اور کنیزیں لوگوں کے امور پر مسلط ہوںاور بچے حاکم ہو جائیں “(۱)

د)بچوں کی فرمانروائی

حاکم کو تجربہ کا ر اور مدیر ہونا چاہئے تاکہ لوگ سکون و اطمینان سے زندگی گذار سکیں ۔اگر ان کے بجائے، بچے یا کوتاہ نظر، امور کی ذمہ داری لے لیں، تو رونما ہونے والے فتنہ سے خدا وند عالم سے پناہ مانگنی چاہئے ۔

اس سلسلے میں دو روایت کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں :رسول خدا نے فرمایا:” ۷۰ ویں سال کے آغاز اور بچوں کی حکومت سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے“(۲)

سعید بن مسیب کہتے ہیں :” ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا۔ جس کی ابتداء بچوں کی بازی ہے“(۳)

ھ)حکومت کی نا پایداری

وہ حکومت اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت پرقادر ہے جو سیاسی دوا م رکھتی ہو ؛اس لئے کہ اگر تغییر پذیر ہو جائے تو بڑے کاموں کے انجام دینے پر قادر نہ ہوگی ۔

____________________

(۱)کافی، ج۸، ص۶۹؛بحارلانوار، ج۵۲،ص۲۶۵

(۲)احمد ،مسند،ج۲،ص۳۲۶،۳۵۵،۴۴۸

(۳)ابن طاوس،ملاحم، ص۶۰


آخر زمانہ میں حکومتیں پایدار نہیں ہوں گی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ صبح کو حکومت تشکیل پائے تو غروب کے وقت زوال پذیر ہوجائے اس سلسلے میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”تم کیسے ہوگے جب تم لوگ کسی امام ہادی اور علم و دانش کے بغیر زندگی گذار رہے ہو گے اور ایک دوسرے سے نفرت و بیزاری کے طالب ہو گے ؟ اور یہ اس وقت ہوگا جب تم آزمائے جاو اور تمہارے اچھے بُرے لوگو ں کی پہچان ہو جائے اور خوب اُبال آجائے اس وقت جب تلواریں کبھی غلاف میںتو کبھی باہر ہو ں گی ۔جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں ایک حکومت دن کی ابتداء میں تشکیل پائے گی اور آخر روز میں زوال پذیر ہوجائے گی “(گر جائے گی )(۱)

و)ملک کا ادارہ کرنے سے حکومتیں بے بس و مجبور

امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کے ظہور سے قبل ظا لم حکومتیں ناتواں ہو جائیں گی اور یہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) کی عالمی حکومت کے قیام کا مقدمہ ہو گا ۔

حضرت امام سجاد (علیہ السلام) آیہ شریفہ( حَتّٰی اِذَارَاواْ مَایُوْعَدُ وْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِراً وَ اقلّ عَدداً ) (۲) جب اس وقت دیکھیں گے کہ وہ کیا وعدہ ہے جو اس آیت میں کیا گیا ہے بہت جلد ہی وہ جان لیں گے کہ کس کے پا س ناصر کم اور ناتوان ہیں،حضرت قائم (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ) اصحاب و یاوراور آپ کے دشمنوں سے متعلق ہے جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ )قیام کریں گے تو آپ کے دشمن سب سے کمزور و ناتواں دشمن ہوں گے نیز سب سے کم فوج و اسلحے رکھتے ہوں گے “(۳)

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۲،ص۳۴۸

(۲) سورہ جن آیت۲۴

(۲) کافی،ج۱،ص۴۳۱؛نورالثقلین،ج۵،ص۴۴۱؛احقاق الحق، ج۱۳،ص۳۲۹؛ینابیع المودة، ص۴۲۹؛المحجہّ، ص۱۳۲


دوسری فصل

لوگوں کی دینی حالت

اس فصل میں ظہور سے قبل لوگوں کی دینی حالت کے بارے میں بحث کریں گے ۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اسلام و قرآن کا صرف نام باقی رہ جائے گا، مسلمان صرف نام نہاد، مسلمان ہوں گے۔ مسجدیں اس وقت ارشاد و موعظہ کی جگہ نہیں رہ جائیں گی۔ اس زمانے کے فقہاء روئے زمین کے بد ترین فقہاء ہوں گے دین کا معمولی اور بے ارزش چیزوں کے مقابل معاوضہ ہو گا ۔

الف)اسلام اورمسلمان

اسلام دستورات الٰہی اور قانون خدا وندی کے سامنے تسلیم ہونے کے معنی میں ہے۔ اسلام سب سے اچھا اور غالب دین ہے جو انسان کی دینی اور دنیاوی سعادت کا ضامن ہے؛ لیکن جو چیز قابل اہمیت ہے وہ اسلام و قرآن کے احکام پر عمل کرنا ہے ۔

آخر زمانہ میں ہر چیز بر عکس ہوگی؛یعنی اسلام کاصرف نام رہ جائے گا۔ قرآن معاشرہ میں موجود ہوگا؛ لیکن تنہا تحریر ہوگی جو اوراق پر پائی جائے گی۔ اور مسلمان بس نام کے مسلمان رہ جائیں گے اسلام کی کوئی علامت نہیں پائی جائے گی ۔رسول خدا فرماتے ہیں :” میری امت پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ صرف اسلام کا نام ہوگا اور قرآن کا نقش و تحریر کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا مسلمان، صرف مسلمان پکارے جائیں گے ؛لیکن اسلام کی بہ نسبت دیگرا دیان والوں سے بھی زیادہ اجنبی ہوں گے “(۱)

____________________

(۱)ثواب الاعمال، ص۳۰۱؛جامع الاخبار، ص۱۲۹؛بحا رالانوار،ج۵۲،ص۱۹۰


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” عنقریب وہ زمانہ آئے گا کہ لوگ خدا کو نہیں پہچانیں گے اور توحید کے معنی نہیں جانیں گے پھر دجال خروج کرےگا “(۱)

ب) مساجد

مسجد خدا وندعالم کی عبادت اور تبلیغ دین، لوگوں کی ہدایت و ارشاد کی جگہ ہے صدر اسلام، میں حکومت کے اہم کام بھی مسجد میں انجام دئے جاتے تھے جہاد کا پروگرام مسجد میں بنتا تھا اور انسان مسجد سے معراج پر گیا؛ لیکن آخر زمانہ میں مسجد یں اپنی اہمیت کھوبیٹھیں گی اور دینی راہنمائی ،و ہدایت و تعلیم کے بجائے مسجدوں کی تعداد اور خوبصورتیوں میں اضافہ ہو گا جب کہ مساجد مومنین سے خالی ہوں گی رسول خدا فرماتے ہیں :” اس زمانے میں مسجدیں آبادو خوبصورت ہوں گی؛ لیکن ہدایت و ارشاد کی کوئی خبر نہیں ہوگی“(۲)

ج)فقہاء

علماء، اسلامی دانشور ،دین خدا کی حفاظت کرنے والے روئے زمین پر موجود ہیں اور لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی ان کے ہاتھ میں ہے وہ زحمتیں بر داشت کر کے دینی منابع سے شرعی مسائل کا استخراج کر کے، لوگوں کے حوالہ کرتے ہیں؛ لیکن آخر زمانہ میں حالت دگر گون ہوجائے گی اس زمانہ کے عالم بد تر ین عالم ہوں گے رسول خدا فرماتے ہیں :” اس زمانہ کے فقہاء، بدترین فقہاء ہوں گے جو آسمان کے زیر سایہ زندگی گذار رہے ہوں گے ۔فتنہ و فساد ان سے پھیلے گا نیز اس کی باز گشت بھی انھیں کی طرف ہوگی “یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مرادوہ درباری علماء ہیں جو ظالم و جابر بادشاہوں کے جرم کی توجیہ کرتے اور اسے اسلامی رنگ دیتے ہیں؛ ایسے لوگ ہر مجرم

____________________

(۱)تفسیر فرات، ص۴۴

(۲) بحار الانوار، ج۲،ص۱۹۰


سے ہاتھ ملانے کے لئے آمادہ ہیں؛ جیسے سلاطین کے واعظ جو وہابیت سے وابستہ ہیں اور امریکہ و اسرائیل سے جنگ کرنا شرع کے خلاف سمجھتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اسرئیلی جرائم کے مقابلے میں سانس تک نہیں لی اور وہابیوں کے جرائم خانہ خداکے زائرین کے قتل کے بارے میں توجیہ کر دی اور اس کے لئے آیت و روایت پیش کی ہاں، ایسے افراد کے لئے کہنا صحیح ہوگا یہ لوگ بد ترین فقہاء ہیں جن سے فتنہ و فساد کا آغاز یافتنوں کی باز گشت ان کی طرف ہوگی ۔(۱)

د)دین سے خروج

آخر زمانہ کی علامتوں میں ایک علامت یہ بھی ہے کہ لوگ دین سے خار ج ہو جائیں گے ۔ ایک روز امام حسین (علیہ السلام) حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ ایک گروہ آپ کے ارد گرد بیٹھا ہوا تھا ۔آپ نے ان سے کہا:” حسین (علیہ السلام) تمہارے پیشوا ہیں رسول خدا نے انھیں سید و سردار کہا ہے۔ ان کی نسل سے ایک مرد ظہور کرے گا جو اخلاق و صورت میں میری شبیہ ہوگا۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا؛ جیسا کہ دنیا اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی“ پوچھا گیا کہ یہ قیام کب ہوگا ؟ تو آپ نے کہا: افسوس ! جب تم لوگ دین سے خارج ہو جاو گے ؛ بالکل اسی طرح جیسے عورت مرد کے لئے لباس اتار دیتی ہے “(۲)

ھ)دین فروشی

مکلف انسان کا وظیفہ ہے کہ اگر اس کی جان کو خطرہ ہو، تو مال کی پرواہ نہ کرے تاکہ جان بچ جائے اور اگر دین خطرہ میں پڑ جائے، تو جان قربان کر کے دین پر آنے والے خطرہ کا سد باب کردے۔؛

____________________

(۱)ثواب الاعمال ،ص۳۰۱؛جامع الاخبار ،ص۱۲۹؛بحا رالانوار،ج۵۲،ص۱۹۰

(۲)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۴۴


لیکن افسوس کہ آخر زمانہ میں دین معمولی و گھٹیا قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور جو لوگ صبح مومن تھے توظہر کے بعد کافر ہو جائیں گے ۔

رسول خدا نے اس کے متعلق فرمایا ہے: ”عرب پر وائے ہو اس شر و برائی سے جو ان کے نزدیک ہو چکی ہے فتنے تاریک راتوں کی مانند ہیں انسان صبح کو مومن تھے تو غروب کے وقت کافربعض لوگ اپنا دین معمولی قیمت پر بیچ ڈالیں گے جو اس زمانہ میں اپنے دین کو بچالے اور اس پر عامل بھی ہو، تو وہ اس شخص کے مانند ہے جو آتشی بندوقوں کو اپنے ہاتھ میں لئے ہو یا کانٹوں کاگٹھر اپنے ہاتھوں سے نچوڑ رہاہو“(۱)

____________________

(۱)احمد، مسند ،ج۲،ص۳۹۰


تیسری فصل

ظہو ر سے قبل اخلاقی حالت

آخر زمانہ کی نشانیوں میں بارزنشانی خاندانی بنیاد کاکمزور ہونا ،رشتہ داری ، دوستی، انسانی عواطف کا ٹھنڈا پڑنا اورمہر و وفا کا نہ ہونا ہے ۔

الف)انسانی جذبات کا سرد پڑجانا

رسول خدا اس زمانے کی عاطفی(شفقت کے)اعتبار سے حالت یوں بیان فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں،بزرگ اپنے چھوٹوں اور ماتحت افراد پر رحم نہیں کریں گے نیز قوی ناتواں پر رحم نہیں کرے گا اس وقت خدا وند عالم اسے (مہدی کو)قیام و ظہور کی اجازت دے گا“(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” قیامت نہیں آئے گی جب وہ دور نہ آئے کہ ایک شخص فقر و فاقہ کی شدت سے اپنے رشتہ داروں اور قرابتداروں سے رجوع کرے گا اور انھیں اپنی رشتہ داری کہ قسم دے گا تاکہ لوگ اس کی مدد کریں؛ لیکن لوگ اسے کچھ نہیں دیں گے پڑوسی اپنے پڑوسی سے مدد مانگے گا اور اسے ہمسایہ ہونے کی قسم دے گا لیکن ہمسایہ اس کی مدد نہیں کرے گا “(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” قیامت کی علامتوں میں ایک علامت پڑوسی سے بد رفتاری اور رشتہ داری کو ختم کر دینا ہے “(۳)

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۸۰ و ج۳۶ ،ص۳۳۵

(۲)شجری ،امالی، ج۲،ص۲۷۱

(۳)اخبار اصفہان، ج۱، ص۲۷۴؛؛فردوس الاخبار، ج۴ ،ص۵؛الدرالمنثور، ج۶، ص۵۰ ؛جمع الجوامع ،ج۱، ص۸۴۵ ؛ کنزل العمال، ج۱۴، ص۲۴۰


بعض روایات میں ((الساعة))کی تاویل حضرت کے ظہور سے کی گئی ہے اور روایات ((اشراط الساعة))ظہور کی علامتوں سے تفسیر کی گئی ہیں۔(۱)

ب)اخلاقی فساد

جنسی فساد کے علاوہ ہر طرح کے فساد پر تحمل کیا جا سکتا ہے اس لئے کہ جنسی فساد غیر ت مند اور شرفاء کے لئے بہت ہی ناگوار اور ناقابل تحمل ہے ۔

ظہور سے پہلے بد ترین انحراف و فساد جس سے سماج دوچار ہو گا ۔ناموس اور خانوادگی ناامنی ہے ،اس وقت اخلاقی گراوٹ اور فساد وسیع پیمانہ پر پھیلاہوا ہوگا اخلاقی برائیوں کی زیادتی اور ان کی تکرار کی وجہ سے انسان نما افراد کے حیوانی کردار کی برائی ختم ہو چکی ہو گی،اور یہ عام بات ہو چکی ہوگی، فساد اس درجہ پھیلا ہوگا کہ بہت کم ہی لوگ اسے روکنے کی طاقت یا تمنا رکھیں گے ۔

محمد رضا پہلوی کے دور حکومت۱ ۳۵۰ ئشمسی میں۲ ۵۰۰ / سو سالہ جشن منایا گیا،جس میں حیوانی زندگی کی بد ترین نمایش ہوئی، اور اسے ہنر شیراز کا نام دیا گیاتو ایران کے اسلامی سماج نے غیض و غضب کے ساتھ اعتراض بھی کیا ،لیکن ظہور سے پہلے ایسے اعتراض کی کوئی خبر نہیں ہے فقط اعتراض ،یہ ہوگا کہ کیوں ایسے برُے افعال چوراہوں پر ہو رہے ہیں یہ سب سے بڑا نہی از منکر ہے جس پر عمل ہوگا ۔ایسا شخص، اپنے زمانہ کا سب سے بڑا عابد ہے۔

اب روایات پر نظر ڈالیں تاکہ اسلامی اقدارکا خاتمہ اور اس عمیق فاجعہ اور وسعت فساد کو اس زمانے میں در ک کریں ۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” قیامت نہیں آئے گی مگر جب روز روشن میں عورتوں کو

____________________

(۱)تفسیر قمی،ج۲، ص۳۴۰؛کمال الدین،ج۲، ص۴۶۵؛تفسیر صافی،ج۵، ص۹۹؛نور الثقلین، ج۵، ص۱۷۵؛ اثبات الہداة، ج۳، ص۵۵۳؛کشف الغمہ، ج۳، ص۲۸۰؛شافعی ،البیان، ص۵۲۸؛الصواعق المحرقہ، ص۱۶۲کلمہ ۔یوم الظہور، یوم الکرّہ ،یوم القیامة کی تحقیق کے لئے تفسیر المیزان ،ج۲،ص۱۰۸ ملاحظہ ہو


ان کے شوہر سے چھین کر کھلم کھلا ( لوگوں کے مجمع میں)راستوں میں تعدی نہ کی جائے، لیکن کوئی اس کام کو برا نہیں کہے گا اورنہ ہی اس کی روک تھام کرے گا اس وقت لوگوں میں سب سے اچھا انسان وہ ہوگا جو کہے گا کہ کاش بیچ راستے سے ہٹ کر ایسا کام کرتے“(۱)

اسی طرح حضرت فرماتے ہیں : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ،یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک مرد عورتوں کے راستے میں نہ بیٹھیں اور درندہ شیر کی طرح تجاوز نہ کریں لوگوں میں سب سے اچھا انسان وہ ہوگا جو کہے کہ کاش اسے اس دیوار کے پیچھے انجام دیتے اور ملاء عام میں ایسا نہ کرتے “(۲)

دوسرے بیان میں فرماتے ہیں :” وہ لوگ حیوانوں کی طرح وسط راہ میں ایک دوسرے پر حملہ کریں گے، اور آپس میں جنگ کریں گے، اس وقت ان میں سے کوئی ایک ماں ،بہن، بیٹی کے ساتھ بیچ راہ میں سب کے سامنے تجاوزکریں گے، پھر انھیں دوسرے لوگوں کو تعدی و تجاوز کا موقع دیں گے، اور یکے بعد دیگر اس بد فعلی کا شکار ہوگا؛ لیکن کوئی اس بد کرداری کی ملامت نہیں کرے گا ،اور اسے بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا ان میں سب سے بہتر وہی ہوگا جو کہے گا کہ اگرراستے سے ہٹ کر لوگوں کی نگاہوں سے بچ کر ایسا کرتے تو اچھا تھا“(۳)

ج)بد اعمالیوں کا رواج

محمد بن مسلم کہتے ہیں:امام محمدباقرعلیہ السلام سے عرض کیا : اے فرزند رسول خدا آپ کے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کب ظہور کریں گے ؟ تو امام نے کہا!”اس وقت جب مرد خود کو عورتوں کے

____________________

(۱)عقد الدرر، ص۳۳۳؛حاکم مستدرک ،ج۴،ص۴۹۵

(۲)المعجم الکبیر، ج۹، ص۱۱۹؛فردوس الاخبار،ج۵، ص۹۱؛مجمع الزوائد ،ج۷ ،ص۲۱۷

(۳)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۰۱


مشابہ اور عورتیں مردوں کے مشابہ بنالیں۔ اس وقت جب مرد مرد پہ اکتفاء کرے (یعنی لو اط) اور عورتیں عورتوں پہ“(۱)

امام صادق علیہ السلام سے اسی مضمون کی ایک دوسری روایت بھی نقل ہوئی ہے۔(۲) اور ابو ہریرہ نے بھی رسول خدا سے نقل کی ہے۔” اس وقت قیامت آئے گی جب مرد بد اعمالی پرا یک دوسرے پر سبقت حاصل کریں جیسا کہ عورتوں کے سلسلے میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں“(۳) اسی مضمون کی ایک دوسری روایت بھی ہے۔(۴)

د)اولا دکم ہونے کی آرزو

رسول خدا فرماتے ہیں :” اس وقت قیامت آئے گی جب پانچ فرزند والے چار فرزند اور چار فر زند والے تین فر زند کی آرزو کرنے لگیں،تین والے دو کی اور دو والے، ایک اور

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۱، ص۳۳۱

(۲)مختصر اثبات الرجعہ، ص۲۱۶؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۷۰؛مستدرک الوسائل، ج۱۲،ص۳۳۵

(۳)فردوس الاخبار ،ج۵، ص۲۲۶؛کنزالعمال، ج۱۴، ص۲۴۹

(۴)الف )عن الصادق علیہ السلام ”اذا رایت الرجل یعیر علی اتیان النساء “کافی ،ج۸ ،ص۳۹ ؛بحارالانوار ،ج۵۲، ص۲۵۷؛بشارة الاسلام، ص۱۳۳

ب)”اذا صار الغلام یعطی کما تعطی المراة و یعطی قفاه لمن ابتغی “کافی، ج۸، ص ۳۸ ؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۵۷

ج)”یزف الرجل للرجال کما تزف المراة لزوجها “بشارة الاسلام ،ص۷۶؛الزام الناصب ،ص۱۲۱

د)قال الصادق علیہ السلام :”یتمشط الرجل کما تتمشط المراة لزوجها ،و یعطی الرجال الاموال علی فروجهم و یتنافس فی الرجل و یغار علیه من الرجال ،و یبذل فی سبیل النفس والمال “کافی ،ج۸، ص۳۸؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۴۵۷

ھ)قال الصادق علیہ السلام :”تکون معیشة الرجل من دبره ، ومعیشة المراة من فرجها “کافی ج۸ ص۳۸

و)”قال الصادق علیہ السلام :”عندما یغار علی الغلام کما یغار علی الجاریة (الشابة) فی بیت اهلها “بشارة الاسلام، ص۳۶،۷۶،۱۳۳

ز)قال النبی :کانک بالدنیا لم تکن اذا ضیعت امتی الصلاة و اتبعت الشهوات و غلت الاسعار و کثراللواط “بشار ة الاسلام ،ص۲۳؛الزام الناصب، ص۱۸۱


اورفرزند والا آرزو کرنے لگے کہ کاش صاحب فرزند نہ ہوتے“(۱)

دوسری روایت میں فرماتے ہیں : ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تم لوگ کم فرزند والے سے رشک کروگے جس طرح کہ آج اولاد و مال میں اضافہ کی آرزو کرتے ہو ،حد یہ ہو گی کہ جب تم میں سے کوئی، اپنے بھائی کی قبر سے گذرے گا تو اس کی قبر پر لوٹنے لگے گا؛ جس طرح حیوانات اپنی چراگاہوں کی خاک پر لوٹتے ہیں ۔اور کہے گا: اے کاش اس کی جگہ میں ہوتا اور یہ بات خدا وند عالم کے دیدار کے شوق میں ہوگی اور نہ ہی ان نیک اعما ل کی بنیاد پر ہوگی جو اس نے انجام دیئے ہیں ؛ بلکہ اس مصیبت و بلاء کی وجہ سے ایسا کہے گا جو اس پر نازل ہو رہی ہوں گی “(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” قیامت اس وقت آئے گی جب اولاد کم ہونے لگے گی“(۳) اس روایت میں ”الولد غیضا “آیا ہے جس کے معنی بچوں کے ساقط کرنے اور حمل نہ ٹھہرنے کے معنی ہیں؛ لیکن کلمہ ”غیضا “دوسری روایت میں؛غم و اندوہ ، زحمت و مشقت اور غضب کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

یعنی لوگ اس زمانے میں ( Abortion )سقط اور افزایش فرزند اور ان کی زیادتی سے مانع ہوں گے یا فرزند کا وجود غم و اندوہ کا باعث ہوگا شاید اس کی علت اقتصادی مشکل ہو، یا بچوں میں بیماریوں کی وسعت اور آبادی کے کنٹرول کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ و تبلیغ اثر اندازنہ ہوں یا کوئی اور وجہ ۔

ھ)بے سر پر ست خانوا دوں کی زیادتی

رسو ل خدا فرماتے ہیں :” قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ مرد کم ہوں گے اور

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۵ ،ص۲۲۷

(۲)المعجم الکبیر ،ج۱۰، ص۱۲

(۳)الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۱۵۱؛فردوس الاخبار، ج۵، ص۲۲۱؛المعجم الکبیر ،ج۱۰، ص۲۸۱؛بحار الانوار ،ج۳۴، ص۲۴۱


عورتیں زیادہ ہوں گی حد یہ ہے کہ ہر۵ ۰/ عورت پرایک مرد سر پرست ہوگا“(۱)

شاید یہ حالت مردوں کے جانی نقصان سے ہو جو لگا تار اور طولانی جنگوں میں ہوا ہوگا.

نیز آنحضرت فرماتے ہیں:” اس وقت قیامت آئے گی جب ایک مرد کے پیچھے تقریبا ۳۰/ عورتیں لگ جائیں گی اور ہرا یک اس سے شادی کی در خواست کریں گی“(۲)

حضرت دوسری روایت میں فرماتے ہیں :” خدا وند عالم اپنے دوستوں اور منتخب افراد کو دوسرے لوگوں سے جدا کر دے گا تاکہ زمین منافقین و گمراہوں نیزان کے فرزندوں سے پاک ہو جائےایسا زمانہ آئے گا کہ پچاس پچاس عورتیں ایک مر د سے کہیں گی اے بندہ خدا یا تم مجھے خرید لو یا مجھے پناہ دو“(۳)

انس کہتے ہیں کہ رسول خدا فرماتے ہیں :” قیامت اس وقت آئے گی جب مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی۔اگر کوئی عورت راستے میں کوئی جوتا ،چپل دیکھے گی تو بے دریغ افسوس سے کہے گی: یہ فلاں مرد کی ہے؛ اس زمانہ میں، ہر۵ ۰/ عورت پر، ایک مرد سر پر ست ہوگا“(۴)

انس کہتے ہیں کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ جو رسول خدا سے حدیث سنی ہے ،بیان کروں؟ رسول خدا نے فرمایا :” مردوں کاخاتمہ ہو جائے گا اور عورتیں باقی رہ جائیں گی“(۵)

____________________

(۱)طیالسی ،مسند ،ج ۸،ص۲۶۶؛احمد مسند ،ج۳،ص۱۲۰؛ترمذی ،سنن، ج۴، ص۴۹۱؛ابو یعلی ،مسند ،ج۵، ص۲۷۳؛حلیة الاولیاء، ج۶، ص۲۸۰ دلائل النبوة، ج۶، ص۵۴۳؛الدر المنثور، ج۶، ص۵۰

(۲)فردوس الاخبار ،ج۵، ص۵۰۹

(۳)مفید ،امالی، ص۱۴۴؛بحارالانوار، ج۵۲،ص۲۵۰

(۴)عقد الدرر ،ص۲۳۲؛فردوس الاخبار، ج۵، ص۲۲۵

(۵)احمد، مسند، ج۳، ص۳۷۷


چوتھی فصل

ظہور سے پہلے امن وامان

الف)ھرج و مرج اور ناامنی بڑی طاقتوں کی زیادتی و تجاوز کے سبب، چھوٹی چھوٹی حکومتوں اور ناتواں اقوام کے درمیان امنیت کا خاتمہ ہو جائے گا اس کے علاوہ آزادی و امنیت کا کوئی مفہوم نہیں رہ جائے گا ۔

( SUPER POWER )سوپر پاور حکومتیں ناتواں ملتوں ا ور ضعیف اقوام پر اس درجہ دباو ڈالیں گی اور ملتوں کے حقوق سے اتنا تجاوزکریں گی کہ لوگوں کو سانس لینے کی بھی مہلت نہیں ملے گی ۔

رسول خدا اس زمانہ کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں :”عنقریب امتیں (دیگر آئین و مکاتب کے پیرو)تمہارے خلاف اقدام کریں گی ؛جس طرح بھوکے کھانے کے برتنوں پر حملہ بولتے “(ٹوٹ پڑتے )ہیں ایک شخص نے کہا: کیا اس وجہ سے ایسا ہوگا کہ ہم اس وقت اقلیت میں ہوں گے، کہ ایسے حملہ کا نشانہ بنیں گے؟ رسول خدا نے کہا:” تمہاری تعداد اس وقت زیادہ ہوگی، لیکن خس و خاشاک کے مانند باڑھ میں سطح آب پر ہو گے خدا وند عالم تمہاری ہیبت و عظمت تمہارے دشمنوں کے دلوں سے نکال دے گا ،اور تمہارے دلوں پرسستی چھا جائے گی “کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ! یہ سستی کس وجہ سے ہوگی؟آپ نے فرمایا : ”دنیا کی محبت اور موت کو اچھا نہ سمجھنے سے“(۱)

____________________

(۱) طیالسی ،مسند ،ص۱۳۳؛ابی داود ،سنن ،ج۴ ،ص۱۱۱؛المعجم الکبیر ،ج۲، ص۱۰۱


یہ دو بری خصلتیں جسے رسول خدا نے یاد دلائی ہیں، ملتوں کے آزادی حاصل کرنے اور اپنے اقدار کا دفاع کرنے سے مانع ہونے کے لئے کافی ہیں اور انھیں ذلت آمیز زندگی جو ہر شرائط کے ساتھ ہو مانوس کرے ؛ہر چند ایسادین و اصول مکتب کے گنوا دینے سے ہو۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا پر آشوب اور ھرج مرج سے بھر جائے گی۔(۱) ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف یورش کرنے لگے گا، اور نہ بڑا چھوٹے پر اور نہ ہی قوی، ناتواں پر رحم کرے گا تو ایسے موقع پر خدا وند عالم انھیں قیام کی اجازت دےگا“(۲)

ب)راستوں کا غیر محفوظ ہونا

ہرج و مرج اور ناامنی کا دائرہ راستوں تک ہوگا بے رحمی وسیع ہو جائے گی اس وقت خداوندعالم حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو بھیجے گا اور ان کے دست زبردست سے گمراہیوں کے باب کی فتح ہوگی ۔

مہدی موعود (عجل اللہ تعالی فرجہ) تنہا کشادہ استوار قلعوں کی جانب توجہ نہیں دلائیں گے بلکہ حقائق و معنویت سے غافل دلوں کوکھول دیں گے اور حقائق کے قبول کرنے کے لئے آمادہ کر دیں گے ۔

رسول خدا اپنی بیٹی سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” اس خدا کی قسم جس نے مجھے مبعوث کیا ہے حقیقتاً اس امت کا مہدی حسین کی نسل سے ہے، جب دنیا میں ھرج و مرج اور بے سروسامانی ہوگی ۔ اور فتنے (یکے بعد دیگرے) آشکار ہوں گے راستے ،سڑکیں ناامن ہو جائیں گی اور بعض کچھ لوگوں پر حملہ کریں گے؛ نہ بڑا چھوٹے پر رحم کرے گا اور نہ چھوٹا بڑے کا

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۳۶،ص ۳۳۵؛؛ج۵۲،ص۳۸۰

(۲)وہی، ج۵۲،ص۱۵۴


احترام کرے گا ؛ایسے ہنگام میں خدا وند عالم حسن و حسین علیہماالسلام کی نسل سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا گمراہی کے قلعوں کو درھم و برھم کردے اور اسے فتح کرے ۔ اور ایسے دلوں کو جن پر جہالت ونادانی کا پردہ پڑا ہوا ہے اور حقائق کے درک سے عاجز ہیں بے نقاب کردیگا وہ آخر زمانہ میں قیام کریگا اسی طرح جیسے ہم نے اول میں قیام کیا ہے اوروہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر د ےگا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی۔“(۱)

ج)خوفناک جرائم

ستمگروں اورجلادوں کے جرائم تاریخ میں نہایت خوفناک اور ڈراونے رہے ہیں۔ تاریخی صفحات جرائم وظلم و استبداد سے بھرے پڑے ہیں ظالم و جابر اورخون کے پیاسے حکام اقوام عالم کو محروم رکھے ہوئے ہیں، جس کے نمونے چنگیز ،ہٹلر ، اورآٹیلاہیں۔

رہا سوال ان جرائم کا جو امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل رونما ہوں گے، خطرناک ترین جرائم ہیں جس کا تصور کیا جا سکتا ہے لکڑی کے دار پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو پھانسی دینا ،انھیں آگ میں جلانا ،پانی میں ڈبونا، انسانوں کوفولادی ہتھیار آرہ سے ٹکڑے ٹکڑے کرنا،چکیوں میں پیس دیناوغیرہ ۔

تاریخ کے تلخ حادثات، ہیں جو حکومت عدل جہانی کے قیام سے پہلے دفاع بشر کی دعویدار حکومتوں سے رونما ہوں گے ایسی درندگی کے ظہور سے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو جائے گا جس کے بارے میں روایات کہتی ہیں کہ محرومین کی پناہ ہوگی ۔

____________________

(۱)عقد الدرر، ص۱۵۲؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۱۵۴؛احقاق الحق ،ج۱۳، ص۱۱۶؛الاربعون حدیثاً (ابو نعیم) ذخائر العقبی، ص۱۳۵؛ینابیع المودة، ص۴۲۶


حضرت علی (علیہ السلام)ایسے تلخ ایام کی منظر کشی یوں فرماتے ہیں : ”اس وقت سفیانی ایک پارٹی کو مامور کرے گا تاکہ وہ لوگ بچوں کو ایک جگہ جمع کریں ؛اس گھڑی انھیں جلانے کے لئے تیل کھولا یا جائے گا ؛بچے کہیں گے : اگر ہمارے آباو اجداد نے تمہاری مخالفت کی ہے، تو میرا کیا گناہ ہے “کہ ہم ضرو رجلائے جائیں، پھروہ ان بچوں کے درمیان حسن و حسین نامی بچوں کو باہر لاکر دار پر لٹکائے گا ،اس کے بعد کوفہ کی سمت روانہ ہوگا اور وہی (پہلے کی وحشت ناک)حرکت وہاں کے بچوں کے ساتھ بھی انجام دے گا اور اسی نام کے دو بچوں کو مسجد کوفہ کے دروازہ پر دار پر لٹکائے گا۔ اور وہاں سے باہر نکل کر پھر ظلم و جنایت کرے گا، اور ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے حاملہ عورتوں کو قید کرے گا، اور انھیں اپنے کسی ایک چاہنے والے کے حوالے کر دے گا، اور اسے حکم دے گا کہ بیچ راستے میں اس کے ساتھ تجاوز (عصمت دری)کرو اور تجازو کے بعد عورت کا پیٹ چاک کرکے بچے کو باہر نکال لے گا کوئی اس ہولناک حالت کو نہیں بدل سکتا “(۵)

امام جعفر صادق علیہ السلام لوح کی خبر میں فرماتے ہیں : ”خدا وند عالم اپنی رحمت رسول خدا کی بیٹی کے فرزند کے ذریعہ کامل کرے گا، وہی شخص جو موسی علیہ السلام کا کمال، عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہیبت ،ایوب پیغمبر( علیہ السلام) کا صبر و استقامت رکھتا ہے ہمارے چاہنے والے، (ظہور سے قبل) خوارو ذلیل ہوں گے اور ان کے سر ترک ودیلم کے رہنے والوں کی مانند (ظالموں و حکام)کے لئے ھدیہ کئے جائیں گے، وہ قتل کئے جائیں گے ،جلائے جائیں گے ،اور ان پر خوف و ہراس طاری ہوگا، زمین ان کے خون سے رنگین ہوجائے گی، نالہ و فریاد عورتوں کے

____________________

(۵)عقد الدرر ،ص۹۴؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۵۵


درمیان بڑھ جائے گی وہ لوگ ہمارے سچے و واقعی دوست ہیں وہ ان کے ذریعہ ہر اندھے و تاریک فتنے کا دفاع کریں گے زلزلے اور بے چینی کو بر طرف کریں گے اور قید وبند کی زندگی سے انھیں آزاد کردیں گے خدا وند عالم کا ان پر درود ہو کہ وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔“(۱)

ابن عباس کہتے ہیں: ”سفیانی و فلانی خروج کرکے آپس میں جنگ کریں گے اس طرح سے کہ (سفیانی) عورتوں کے شکم چاک کرکے بچوں کو نکال لے گااور بڑے دیگ میں جلاڈالے گا“ ( ۲)

ارطات کہتا ہے :سفیانی اپنے مخالف کو قتل کرے گا، آرہ سے اپنے مخالفین کو دو آدھا کردے گا انھیں دیگ میں ڈال کرنابود کر دے گااور یہ ظلم و ستم ۶/ ماہ تک رہے گا۔(۳)

د)زندوں کو موت کی آرزو

رسول خدا فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہونے پائے گی کہ وہ وقت آجائے گا کہ جب کوئی مرد قبر ستان سے گذرے گا ،تو خود کو قبر پر گرا دے گا، اور کہے گا: کاش اس کی جگہ میں ہوتا، جب کہ اس کی مشکل قرض نہیں ہوگی، بلکہ زمانے کی مصیبت ،ظلم و جور ہوگی“(۴)

روایت میں کلمہ ”رجل“(رد)کے ذکر سے دو بات کا استفاد ہوتا ہے: اول یہ کہ یہ مصیبت و مشکلات اور اس وقت مو ت کی آرزو کرنا، کسی گروہ،قوم اورطائفہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ سبھی اس ناگوار حادثات کا شکا ر ہوں گے ۔

____________________

(۱)کما ل الدین ،ج۱، ص۳۱۱؛ابن شہر آشوب ،مناقب، ج۲، ص۲۹۷؛ اعلام الوری، ص۳۷۱؛اثبات الوصیہ، ص۶۲۲

(۲)ابن حماد، فتن، ص۸۳؛ابن طاوس، ملاحم، ص۵۱

(۳)حاکم، مستدرک، ج۴ ،ص۵۲۰الحاوی للفتاوی، ج۲،ص ۶۵؛متخب کنزل العمال، ج۶، ص۳۱(حاشیہ مسند احمد)؛ احقا ق الحق، ج۱۳، ص۲۹۳

(۴)احمد، مسند، ج۲، ص۶۳۶؛مسلم ،صحیح، ج۴، ص۲۲۳۱؛المعجم الکبیر، ج۹، ص۴۱۰؛مصابیح السنہ، ج۲، ص۱۳۹؛عقد الدرر، ص۲۳۶


دوم یہ کہ مرد کے ذریعہ تعبیر کرنا، اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ اس وقت دباو و سختی زیادہ بڑھی ہوگی؛اس لئے کہ مر د اکثر مشکلات و شدائد میں عورت سے زیادہ مقا ومت کرتا ہے ،اس بات سے کہ مردوں کو اس زمانے کی سختیاںنا قابل بر داشت ہوں گی، استفادہ ہوتا ہے کہ مشکل بہت بڑی اور کمر شکن ہے ۔

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا : اے ابو حمزہ حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت قیام کریں گے جب خوف و ہراس ، مصیبتیں ،اورفتنے معاشرہ میں حاکم ہوں گے ۔گرفتاری و بلاء لوگوں کے دامن گیر ہوگی، اور اس سے پہلے طاعون ،کی بیماری پھیلی ہوگی عرب کے مابین شدید اختلاف و نزاع واقع ہوگا ،اور لوگوں کے درمیان سخت اختلاف حاکم ہوگا، اور ایسا،دین اور اس کے آئین سے دوری کی بنیاد پر ہوگا ۔ لوگوں کی حالت اس حد تک بدل جائے گی کہ ہر شخص شب و روزجو اس نے لوگوں کی درندگی اور ایک دوسرے کے حق سے تجاوز دیکھاہے، مرنے کی آرزو کرےگا۔(۱)

حذیفہ صحابی ،رسو ل خدا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :” یقینا تم پر ایک ایسا وقت آئے گاکہ انسان اس وقت مرنے کی آرزو کرے گا؛اور یہ آرزو فقر و تنگدستی کے سبب نہیں ہوگی“(۲)

ابن عمر کہتے ہیں کہ یقینا لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ مومن زمین کی مصیبت، اور شدتِ گرفتاری کی وجہ سے آرزو کرے گا کہ کاش میں اپنے خانوادہ (اہل و عیال) سمیت کشتی پر سوار ہوتا اور دریا میں غرق ہو جاتا ۔(۳)

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۳۵؛طوسی ،غیبة، ص۲۴۷؛اعلام الوری، ص۴۲۸؛بحار الانوار، ج۲،۵ ص۳۴۸؛اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۴۰؛حلیة الا برار، ج۲، ص۶۲۶؛بشارة الاسلام ،ص۸۲

(۲)ابن ابی شیبہ ،مصنف ،ج۱۵،ص۹۱؛مالک ،موطا، ج۱، ص۲۴۱؛مسلم ،صحیح، ج۸، ص۱۸۲؛احمد، مسند،ج۲، ص۲۳۶ ؛ بخاری، ج۹، ص۷۳؛فردوس الاخبار، ج۵، ص۲۲۱

(۳)عقد الدرر، ص۳۳۴


ھ)مسلمانوں کا اسیر ہونا

حذیفہ بن یمانی کہتے ہیں کہ رسول خدا نے ان مشکلات کے بیان کرتے ہوئے جن سے مسلمان دوچار ہوں گے فرمایا: دباو کی وجہ سے آزاد افراد کوفروخت کریں گے اور عورتیں و مردغلامی کا اقرار کریں گے مشرکین مسلمانوں کو اپنی مزدوری و نوکری کے لئے استعمال کریں گے اور انھیں شہروں میں فروخت کریں گے اور کوئی ہمدرد ودلگیر نہیں ہوگا، نہ مومن اور نہ بد کار و فاجر ۔ اے حذیفہ! گرفتاری اس زمانے کے لوگو ں پر قائم رہے گی، اور اس درجہ مایوس ہوں گے کہ ظہور کشایش(فرج) سے بد گمان ہوجائیں گے ،اس وقت خدا وندعالم میری پاکیزہ عترت نیک فرزندوں میں سے جو عادل ،مبارک اور پاکیزہ ہوگا ،ایک شخص کو بھیجے گاوہ ذرا بھی چشم پوشی اور چھوٹ سے کام نہیں لے گا ۔خدا وند عالم دین،قرآن ،اسلام اور اس کے اہل کو اس کی مدد سے عزیز اور شرک کو ذلیل کرے گا ،وہ ہمیشہ خدا سے ڈرتا ہے اور کبھی مجھ سے اپنی رشتہ پر ناز نہیں کرتا ؛پتھر کو پتھر پر نہیں رکھے گا اور کسی کو کوڑے نہیں مارے گا، سوائے یہ کہ حق ہو یا حد کا اجراء ہو خدا وند عالم اس کے ذریعہ بد عتوں کا خاتمہ اور فتنوں کو نابود کردے گا اور حق کے دروازوں کو کھول دے گا نیز باطل کے دروازے بند کردے گا اور مسلمان اسیروں کو جہاں کہیں بھی ہوں گے ان کے وطن لوٹا دے گا“(۱)

و)زمین میں دھسنا

رسو خدا فرماتے ہیں:” یقینا اس امت پر وہ زمانہ آئے گا کہ دن کو رات بنادے گا، جب کہ ہر ایک دوسرے سے سوال کرے گا، آج رات زمین کس کو کھاگئی، جس طرح لو گ ایک دوسرے سے سوال کریں گے کہ فلاںخاندان و قبیلہ سے کون زندہ ہے کیا کوئی اس خاندان سے زندہ ہے؟“(۲)

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۳۲

(۲)المطالب العالیہ، ج۴، ص۳۴۸


شاید یہ کنایہ ہو آخر زمانہ کی کشت وکشتارا ور جنگ و جدال سے کہ جدید و نئے اسلحوں کے استعمال سے ہر روزلوگوں کی خاصی تعداد ماری جائے گی اور شاید زمین گناہ کی زیادتی سے، اپنے رہنے والوں کو کھاجائے ۔

ز)ناگہانی (اچانک)اموات کی زیادتی

رسول خدا فرماتے ہیں:”قیامت کی ایک علامت فالج کی بیماری اور ناگہانی موت ہے“(۱)

نیز فرماتے ہیں -:”قیامت اس وقت آئے گی جب سفید موت ہونے لگے لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ!سفید موت کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا: ”ناگہانی موت“(۲)

امیر المو منین علیہ السلام فرماتے ہیں ”حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے سرخ و سفید موت ہوگی سفید موت، طاعون ہے‘‘(۳)

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ایسے زمانے میں قیام کریں گے کہ جب خوف و ہراس کا غلبہ ہوگا اور اس سے پہلے طاعون کا مرض عام ہوگا “(۴)

ح)دنیا والے نجات سے نا امید ہوں گے

رسول خدا فرماتے ہیں :”اے علی! حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت ظہور کریں گے، جب شہر دگر گون ہو جائیں گے، اور خدا کے بندے ضعیف اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے فرج و ظہور سے مایوس ہو چکے ہوں گے، ایسے وقت میں مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ) قائم میرے فرزندوں کی نسل سے ظاہر ہوں گے“(۵)

____________________

(۱)شجری ،امالی، ج۲،ص۲۷۷ (۲)الفائق ،ج۱، ص۱۴۱

(۳)نعمانی ،غیبة، ص۲۷۷؛طوسی، غیبة، ص۲۶۷؛اعلام الوری ،ص۴۲۷؛خرائج ،ج۳ ،ص۱۵۲؛عقد الدرر،ص۶۵؛ الفصول المہمہ، ص۳۰۱؛الصراط المستقیم ،ج۲،ص۲۴۹؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۲۱۱(۴)بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۴۸ (۵)ینابیع المودة، ص۴۴۰؛احقاق الحق ،ج۱۳، ص۱۲۵


ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں امام محمد باقر علیہ السلام فرمایا:”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا قیام اس وقت ہو گا جب لوگ اپنے کاموں میں کشادگی اور حضرت کے فرج سے مایوس ہو چکے ہوں گے“(۱)

حضرت علی علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :”یقینا میرے اہل بیت سے ایک شخص میرا جانشین ہوگا،اور ایسا اس وقت ہوگا جب زمانہ مصیبتوں اور سختیوں کا شکار ہوگا ؛اس وقت جب کہ مصیبتیں سخت وشوار اور امیدیں منقطع ہوں گی“(۲)

ط)مدد گاروں کا فقدان

رسول خدا فرماتے ہیں:”اس امت پر اس قدر بلائیں نازل ہوں گی کہ انسان کو ظلم سے بچنے کے لئے کوئی پناہ نہیں ملے گی“(۳)

نیز فرماتے ہیں :آخر زمانہ میں ہماری امت پر ان کی حکومتوں کی جانب سے مصیبتیں نازل ہوں گی اس طرح سے کہ مومن کو ظلم سے نجات کے لئے کوئی ٹھکانہ نہ ہو گا ‘ ‘(۴)

دوسری روایت میں فرماتے ہیں:” تمہیں مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) فرزند فاطمہ(س) کی خوشخبری ہے کہ آپ مغرب سے ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے “کہا گیا: یارسول اللہ! (یہ ظہور) کس وقت ہوگا ؟ تو حضرت نے فرمایا:” ایسا اس وقت ہوگا جب قاضی رشوت لینے لگیں اور لوگ فاجر ہو جائیں “عرض کیا گیا :مہدی کس طرح ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا : اپنے

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۴۸

(۲)ابن المنادی ،ملاحم ،ص۶۴؛ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ،ج۱، ص۲۷۶؛ المسترشد، ص۷۵؛ مفید ،ارشاد، ص۱۲۸؛ کنزل العمال، ج۱۴، ص۵۹۲؛غایة المرام، ص۲۰۸بحار الانوار، ج۳۲، ص۹؛احقا ق الحق ،ج۱۳، ص۳۱۴؛منتخب کنزل العمال، ج۶، ص۳۵

(۳)شافعی، بیان، ص۱۰۸

(۴)عقد الدرر، ص۴۳


اہل و عیال اورخاندان سے علیحدگی اختیار کریں گے نیز وطن سے دور عالم مسافرت میں زندگی گذاریں گے “(۱) امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :تم لوگ جس کے انتظار میں ہو اسے دیکھ نہیں پاو گے مگر اس وقت کہ جب تم بکریوں کی طرح جو درندوں کے چنگل میں پھنس گئی اور سے کوئی چارہ جوئی کا راستہ نہ مل رہا ہو اس وقت تجاوز و تعدی سے محفو ظ رہنے کا کوئی ٹھکانا نہ پاوگے اور نہ ہی کوئی ایسی بلند جگہ کہ اس پر چڑھ کر اپنا بچا و کر سکو۔(۲)

ی)جنگ ،قتل،اور فتنے

روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام سے پہلے سارے عالم میں قتل وخون ہوگا ۔بعض روایتیں فتنے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ،کچھ روایتیں پئے در پئے جنگ کی خبر دیتی ہیں، کچھ روایتیں انسان کے قتل اور جنگ اور طاعون، سے پیدا شدہ بیماریو ں کی خبر دیتی ہیں ۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” میرے بعد تمہیں چار فتنوں کا سامنا ہوگا:پہلے فتنے میں ، خون مباح سمجھا جائے گا اور قتل کی زیادتی ہوگی ۔ دوسرے فتنے میں، خون اور مال حلا ل سمجھا جائے گا، اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگا ۔تیسرے فتنے، میں لوگوں کے خون و اموال اورعزتیں مباح سمجھی جائیں گی اور قتل و غارت گری کے علاوہ انسان کی ناموس بھی محفوظ نہیں رہے گی ۔ چوتھے فتنے میں، اندھیرے کا راج ہوگا، اور ایسا سخت زمانہ آئے گا جیسے دریامیں کشتی تلاطم و اضطراب کا شکار ہو ۔ جس کی وجہ سے کسی کو پناہ گاہ نصیب نہیں ہوگی ۔شام سے فتنے اٹھیں گے اور عراق پر محیط

____________________

(۱)احقاق الحق، ج۱۹، ص۶۷۹

(۲)کافی، ج۸، ص۲۱۳؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۴۶


ہو جائیں گے اور جزیرہ حجاز کا اس میں ہاتھ خون آلود ہوگا ،مصیبتیں لوگوں کو ہلاکے رکھ دیں گی، اور ایسا ہو جائے گا کہ کسی کو چوں و چرا کی گنجائش نہیں رہ جائے گی، اور اگر کسی طرف سے فتنے کی آگ خاموش بھی ہو گی تو دوسری طرف سے بھڑک جائے گی “(۱)

دوسری حدیث میں فرماتے ہیں :” میرے بعد ایسے ایسے فتنے اٹھیں گے کہ انسان کو اس سے راہ نجات نہیں ملے گی، اس میں جنگ ،فرار اور آوارگی ہوگی، اس کے بعد ایسے فتنے اٹھیں گے کہ ہر فتنہ پہلے فتنہ سے سخت تر ہوگا، ابھی ایک فتنہ خاموش نہیں ہونے پائے گا کہ دوسرا فتنہ اٹھ کھڑا ہوگا ۔ حدیہ ہو گی کہ عرب کا کوئی گھر اس فتنے کی آگ سے محفوظ نہیں رہ پائے گا ۔اور کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوگا جو اس فتنے سے امان میں ہو اس وقت میرے خاندان سے ایک شخص ظہور کرے گا “(۲)

نیز فرماتے ہیں : ”عنقریب میرے بعد ایسے ایسے فتنے اٹھیں گے کہ اگر ایک طرف سے امن ہوگا تو دوسر ی طرف سے نا امنی کی آواز آئے گی ، یہاں تک کہ آسمان سے منادی ندا کرے گا: تمہارا امیر و سردار مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)ہے“(۳)

ان روایات میں ان فتنوں سے متعلق گفتگو ہے جو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے رونما ہوں گے، لیکن دوسری روایتوں میں ان خانہ سوز جنگوں کا تذکرہ ہے جسے ابھی بیان کروں گا ۔

عمار یاسر فرماتے ہیں : تمہارے پیغمبر کے اہل بیت کی دعوت آخر زمانہ میں یہ ہے کہ جب تک ہمارے اہل بیت سے اپنے رہبر کو نہ دیکھ لو ہر طرح کی نزاع سے پر ہیز کرو۔

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۲۱؛کمال الدین ،ج۲، ص۳۷۱

(۲)عقد الدرر، ص۵۰

(۳)احقا ق الحق، ج۱۳،ص۲۹۵؛احمد ،مسند ،ج۲، ص۳۷۱


اس وقت ترک ،رومیوں کی مخالفت کریں گے، اور زمین پر جنگ چھڑ جائے گی “(۱)

کچھ روایتیں، ظہورمہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) سے پہلے قتل و کشتار کی خبر دیتی ہیں ،ان میں سے بعض روایات میں صرف کشتار کا تذ کر ہ ہے، اور بعض قتل و غارت گری کے عالمگیر ہونے کی خبر دیتی ہیں ۔

اس سلسلے میں امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے پئے در پئے اور بدون وقفہ قتل ہوں گے “(۲)

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ شہر مدینہ میں اس درجہ قتل و غارت گری ہوگی کہ اس میں ”احجار الزیت“(۳) نامی علاقہ درہم و برہم ہو جائے گا اور ”حرہ“(۴) کا حادثہ اس کے سامنے ایک تازیانہ کی چوٹ سے زیادہ نہیں سمجھاجائے گا ؛اس وقت کشتار کے بعد تقریباً دو فر سخ مدینہ سے دور ، حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی بیعت کی جائے گی ۔(۵)

ابوقبیل کہتا ہے کہ بنی ہاشم کا ایک شخص سر براہ حکومت ہوگا، اور صرف بنی امیہ کا قتل عام کرے گا؛ اس طرح سے کہ معدود چند کے سوا ،کوئی باقی نہیں بچے گا۔ اس کے بعد بنی امیہ کا ایک شخص خروج کرے گا اور ہر فرد کے مقابل ،دو آدمی کو قتل کرے گا؛ اس طرح سے کہ عورتوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں بچے گا۔(۶)

____________________

(۱)طوسی، غیبة، چاپ جدید ،ص۴۴۱؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۱۲

(۲)قرب الاسناد، ص۱۷۰؛نعمانی ،غیبة، ص۲۷۱

(۳) مدینہ شہرمیں ایک محلہ ہے جو نماز استسقاء پڑھنے کی جگہ ہے معجم البلدان ،ج۱،ص۱۰۹

(۴)امام حسین کی شہادت اور مدینہ والوں کے یزید کے خلاف قیام کے بعد مدینے کے لوگ یزیدی حکم سے قتل عام ہوئے اور اس واقعہ میں دس ہزار سے زیادہ افر اد مارے گئے یہ جگہ وہی (حرةو اقم)ہے معجم البلدان ،ج۲،ص۲۴۹

(۵)ابن طاوس، ملاحم ،ص۵۸

(۶)وہی ص۵۹


رسول خدا اس طرح فرماتے ہیں :”قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، دنیا کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک وہ زمانہ نہ آجائے جس میں قاتل کو اپنے قتل کرنے کی اور مقتول کے قتل ہونے کی علت معلوم نہ ہو جائے ۔ اور ھرج ومرج (اضطراب و بے چینی) سارے عالم پر محیط ہوگا ایسے وقت میں، قاتل و مقتول دونوں ہی جہنم میں جائیں گے “(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” ظہور سے پہلے دنیا دو طرح کی موت سے دو چار ہوگی: سفید و سرخ ۔سرخ موت تلوار (اسلحوں) سے ہوگی اور سفید موت طاعون کے ذریعہ“(۲)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لئے دو غیبتیں ہیں اس میں سے ایک دوسری سے دراز مدت ہے ،اس وقت لوگوں کو موت و قتل کا سامنا ہوگا“(۳)

جابر کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ کس وقت یہ بات (قیام مہدی عج) وقوع پذیر ہوگی؟(۴) امام (علیہ السلام) نے جواب میں کہا: کیسے اس کا تحقق ہو جب کہ ابھی ”حیرہ“ اور کوفہ کے درمیان کشتوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوئی ہے ۔(۵)

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۵، ص۹۱

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۲۷۷؛مفید، ارشاد، ص۳۵۹؛طوسی، غیبة، ص۲۶۷ ؛صراط المستقیم ،ج۲، ص۲۴۹بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۱۱

(۳)نعمانی، غیبة، ص۱۷۳؛دلائل الامامہ ،ص۲۹۳؛تقریب المعارف ،ص۱۸۷؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۱۵۶

(۴)(کوفہ سے (۶ کیلو میٹر ) دور ایک شہر ہے؛معجم البلدان، ج۲،ص۳۲۸

(۵)طوسی ،غیبة، چاپ جدید ،ص۴۴۶؛اثبات الہداة، ج۳،ص۷۲۸؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۲۰۹


امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے دو طرح کی موت آئے گی سرخ اور سفید، اور اس درجہ انسان قتل کئے جائیں گے کہ ہر ۷/ آدمی میں دو آدمی باقی بچیں گے“(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)اس وقت ظہور کریں گے جب ایک تہائی انسان قتل کر دئے جائیں گے، اور ایک تہائی مر جائیں اور ایک تہائی باقی بچیں گے “(۲)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) سے پوچھا گیا:” آیا حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کی کوئی علامت و پہچان بھی ہے؟ تو آپ نے فرمایا :”درد ناک قتل، اچانک موت ، اور دہشت آمیزطاعون“(۳)

کتاب ارشاد قلوب کی نقل کے مطابق ۔(۴) ” قتل ذریع“یعنی اچانک و عالمگیر۔

اورکتاب مدینة المعاجز کے(۵) مطابق ۔”قتل رضیع“یعنی لئیم و پست۔

اورحلیة الابرار کے مطابق۔(۶) ” قتل فضیع“یعنی ناگوار۔

روایت کے معنی یہ ہیں ”ہاں ،حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ظہور کی علامتیں ہیں، من جملہ عالمگیر ،ناگوار ،پست قتل،اچانک موتیں پئے در پئے اور ،طاعون کا رواج“

____________________

(۱)کمال الدین، ج۲،ص۶۶۵؛العدد القویہ، ص۶۶؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۰۷

(۲)ابن طاووس، ملاحم، ص۵۸؛احقاق الحق، ج۱۳،ص۲۹

(۳)حصینی، ہدایہ، ص۳۱

(۴)ارشاد القلوب ،ص۲۸۶

(۵)مدینة المعاجز ،ص۱۳۳

(۶)حلیة الابرار، ص۶۰۱


محمد بن مسلم کہتے ہیں : امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :” امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت ظہور کریں گے جب دوتہائی آبادی ختم ہو جائے گی “کہا گیا:کہ اگر دوتہائی قتل ہو جائیں گے تو پھر کتنی تعداد باقی بچے گی؟ تو آپ نے فرمایا :کیا تم راضی نہیں ہو (اور دوست نہیں رکھتے) کہ ایک تہائی باقی رہنے والوں میں تم ایک رہو۔(۱)

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ظہوراس وقت ہوگا جب ( ۱۰/۹) آبادی ختم ہو جائے گی ۔(۲)

حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” اس زمانے میں ایک تہائی کے علاوہ کوئی باقی نہیں بچے گا“(۳)

رسول خدا فرماتے ہیں :” ہر دس ہزار کی تعداد میں نو ہزار نو سوافراد قتل ہو جائیں گے جز معدود چند افراد کے“(۴)

ابن سیرین کہتے ہیں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت ظہور کریں گے جب ہر نو آدمی پر مشتمل جماعت کے سات آدمی قتل ہو جائیں ۔(۵)

____________________

(۱)طوسی ،غیبة،چاپ جدید، ص۳۳۹؛کمال الدین، ج۲،ص۶۵۵؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۱۰؛ بحار الانوار، ج۵۲،ص۷ا۲۰؛الزام الناصب ،ج۲،ص۱۳۶؛ابن حماد، فتن ،ص۹۱؛کنزل العمال، ج۱۴،ص۵۸۷؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۱۱

(۲)الزام الناصب، ج۲، ص۱۳۶،۱۸۷؛عقد الدرر، ص۵۴،۵۹،۶۳،۶۵،۲۳۷؛نعمانی، غیبة، ص۲۷۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۴۲

(۳)حصینی، ہدایہ، ص۳۱؛ارشاد القلوب، ص۲۸۶

(۴)مجمع الزوائد، ج۵، ص۱۸۸

(۵)ابن طاوس، ملاحم، ص۷۸


محترم قارئین! مذکورہ تمام روایات سے مندرجہ ذیل نکات نکلتے ہیں :

۱ ۔حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے کشت و کشتار ہوگی ،اور اکثر انسان قتل ہو جائیں گے ،اور جو لوگ بچ جائیں گے ان کی تعداد مقتولین سے کم ہوگی۔

۲ ۔کچھ افراد جنگ کی وجہ سے قتل ہوں گے، اور کچھ لوگ سرایت کرنے والی بیماری کی وجہ سے، (جو احتمال قوی )کی بناء پر لاشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہوگی ۔اسی طرح احتمال ہے کہ کیمیائی اسلحوں اور خطرناک اور مہلک ہتھیاروں کی وجہ سے بیماری وجود میں آئے گی، اور لوگ جان بحق ہوں گے ۔

۳ ۔اس اقلیت کے درمیان امام کے چاہنے والے شیعہ ہوں گے؛ اس لئے کہ وہی لوگ ہیں جو امام کی بیعت کریں گے نیز امام صادق (علیہ السلام) کی حدیث میں آیا ہے کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ اس باقی رہنے والی ایک سوم آبادی میں تم رہو۔؟


پانچویں فصل

دنیا کی اقتصادی حالت ظہور کے وقت

اس فصل کی روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے، کہ فساد و تباہی کے پھیلاو ا ورعطوفت صلہ رحمی کے ختم ہوجانے اور جنگ وغیرہ سے دنیا اقتصادی اعتبار سے انحطاطی کیفیت سے دو چار ہوگی؛ اس طرح سے کہ آسمان بھی ان پر رحم نہیں کرے گا، اور بارش کانزول جو کہ رحمت الٰہی ہے غضب میں تبدیل ہو جائے گا، اور ایک تباہ کن حالت ہو گی۔

ہاں، آخر زمانہ میں بارش کم ہو گی، یاپھر بے موسم ہو گی جو کھیتیوں کی نابودی کا سبب قرار پائے گی، چھوٹے چھوٹے دریا اور جھیلیں خشک ہوجائیں گی، اور کھیتیاں سود مند ثابت نہیں ہوں گی، اور تجارت کی آب و تاب ختم اور بھوک مری عام ہو جائے گی، اس درجہ کہ لوگ پیٹ بھرنے کے لئے اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو بازار میں لے آئیں گے، اور انھیں تھوڑی سی غذا کے بدلے بدل ڈالیں گے ۔

الف) بارش کی کمی اور بے موقع بارش

رسول خدا فرماتے ہیں : ”لوگوں پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ خدا وند عالم بارش سے انھیں محروم کر دے گا ۔ اور بارش نہیں ہوگی اور اگر ہوگی تو بے موسم ہوگی“(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”گرمی کے موسم میں بارش ہوگی “(۲)

____________________

(۱)جامع الاخبار،ص۱۵۰؛مستدر ک الوسائل، ج۱۱،ص ۳۷۵

(۲)دوحة الا نوار، ص۱۵۰؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۱۵۱؛کنز ل العمال ،ج۱۴،ص۲۴۱


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے ایک سال ایسا ہوگا کہ خوب بارش ہوگی جس سے میوہ خراب اور کھجوریں درخت پر ہی فاسد ہوجائیں گی لہٰذا اس وقت شک و شبہ میں مبتلا نہ ہونا(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” بارش اتنی کم ہوگی کہ نہ زمین پودا اگاسکے گی اور نہ ہی آسمان سے بارش ہوگی ایسے موقع پر حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے“(۲)

عطا بن یسار کہتے ہیں:”روز قیامت کی نشانیوں میں ایک۔یہ ہے کہ بارش تو ہوگی لیکن زراعت نہیں ہو پائے گی“

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:” جس وقت حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے اصحاب قیام کریں گے تو پانی زمین پر نایاب ہوجائے گا، مو منین خدا وند عالم سے گریہ و زاری، نالہ و فریاد کے ذریعہ بارش کی در خواست کریں گے، تاکہ خدا وند عالم پانی بر سائے اور لوگ سیراب ہوں“(۳)

ب) چھوٹی چھوٹی (ندیوں، جھیلوں کا خشک ہو نا)

رسول خدا فرماتے ہیں :” مصر کے شہر؛ دریائے نیل کے خشک ہو جانے کی وجہ سے تباہ ہوجائیں گے “(۴)

ارطات کہتے ہیں :”اس وقت،دریائے فرات ،نہریں،اورچشمے خشک ہو جائیں گے“(۵)

____________________

(۱)شیخ مفید ،ارشاد، ص۳۶۱؛شیخ طوسی، غیبة، ص۲۷۲؛اعلام الوری، ص۴۲۸؛خرائج ج۳،ص۱۱۶۴؛ابن طاو س، ملاحم، ص۱۲۵؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۱۴

(۲)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۳۴

(۳)عبد الرزاق ،مصنف ،ج۳ ،ص۱۵۵

(۴)دلائل الامامہ، ص۲۴۵

(۵)بشارة الاسلام ،ص۲۸


نیز روایت میں آیا ہے ”طبرستان کے چھوٹے چھوٹے دریا خشک ہو جائیں گے، کھجور کے درخت بار آور نہیں ہوں گے اور ”زعر“(جو شام میں واقع ہے)چشمہ کا پانی زمین کی تہہ میں چلا جائے گا ‘ ‘(۱)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں آیا ہے : نہریں خشک ہو جائیں گی،اور مہنگائی اور خشک سالی تین سال تک بر قرار رہے گی ۔(۲)

ج)قحط،فقرو کساد بازاری

ایک شخص نے رسول خدا سے سوال کیا : قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے کہا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ (رسولخدا) سوال کرنے والے سے زیادہ باخبر نہیں ہے، مگر قیامت کی نشانیاں ہیں: ان میں سے ایک تقارب بازار ی ہے، سوال کیا گیا: تقارب بازار کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا مندا بازاری و بارش کا نہ ہونا کہ جس میں گھاس و محصول اپج نہ سکے“(۳)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) نے ابن عباس سے کہا: ”تجارت و معاملات زیادہ ہوں گے، لیکن لوگوں کو اس سے فائدہ کم نصیب ہوگا ۔اس کے بعد شدید قحط پڑے گا “(۴)

محمد بن مسلم کہتے ہیں : میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو کہتے سنا :” حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل خدا وند عالم کی جانب سے مومنین کے لئے علامتیں ہیں “میں نے کہا خدا مجھے آپ کا فدیہ قراردے ؛وہ علامتیں کیا ہیں ؟

آپ نے جواب دیا ”وہ خدا وند عالم کے قول کے مطابق ہیں۔

( وَلِنَبْلُوَنَّکُمْ بِشْیءٍ مِنَ الْخَوْفِ والجوعِ و نقصٍ من الاموال والانفس

____________________

(۱)ابن حماد ،فتن ،ص۱۴۸

(۲)بشارة الاسلام ،ص۱۹۱؛الزام الناصب ،ص۱۶۱

(۳)بشارة الاسلام ،ص۹۸

(۴)الترغیب و الترہیب ،ج۳، ص۴۴۲


والثمراتِ وبَشّر الصابرین ) ؛(۱)

تمہیں (مو منین ) حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل خوف ، بھوک، جان و مال،اورمیووں کی کمی سے آزمائیں گے لہٰذا صبر کرنے والوں کو مژدہ سناو“

اس وقت فرمایا:خدا وند عالم مومنین کو بنی فلاں کے بادشاہوں کے خوف سے ان کے اختتامی حکومت کے زمانے میں آزمائے گا۔

گر سنگی سے مراد ،قیمت کی گرانی ہے اور”کمی دارایھا“سے مراد( Income ) آمدنی کی کمی اور مندا بازاری ہے۔نقصان جان سے مراد، موتوں کی زیادتی اور اس کاپئے در پئے واقع ہونا ہے اور میووں کی کمی سے مراد، کاشت کی منفعت میں کمی ہے ۔لہٰذا صبر کرنے والوں کو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا اس وقت مژدہ سناو “(۲)

کتاب”اعلام الوریٰ“ کی نقل کے مطابق ”قلة المعاملات“سے مراد کساد بازاری ، اورعدل و انصاف کی کمی کے معنی میں ہے۔(۳)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”جب سفیانی خروج کرے گا، تو اشیاء خورد و نوش میں کمی آچکی ہوگی ،لوگوں کو قحط کا سامنا ہو گا بارش کم ہوگی “(۴)

ابن مسعود کہتا ہے:جب تجارتیں ختم ہو جائیں گی،اور راستے خراب ہو جائیں گے، تو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور فرمائیں گے۔(۵)

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۲۵

(۲)سورہ بقرہ، آیت۱۵۵

(۳)کمال الدین ،ج۲،ص۶۵۰؛نعمانی، غیبة، ص۲۵۰؛مفید ،ارشاد، ص۳۶۱؛اعلام الوری، ص۴۶۵؛عیاشی ،تفسیر، ج۱، ص۶۸

(۴)اعلام الوری ،ص۴۵۶

(۵)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۳۳


شاید مندہ بازاری کی وجہ صنعتی وپیداوار مراکز کی ویرانی اور انسانی طاقتوں کی کمی ،خریدنے کی طاقت کا نہ ہونا ،قحط اور راستوں کا غیر محفوظ ہونا وغیرہ ہے۔

مسند احمد بن حنبل میں مذکورہے: حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل لوگ تین سال تک شدید خشک سالی میں مبتلا ہوں گے۔(۱)

ابو ہریرہ کہتے ہیں : اس شر سے جو اُ ن سے نزدیک ہو رہا ہے عرب پر وائے ہو؛ سخت بھوک مری کا سامنا ہوگا، مائیں اپنے بچوں کی بھوک کی وجہ سے، گریہ و زاری کریں گی ۔(۲)

د)غذاکے بدلے عورتوں کا تبادلہ

ظہور سے پہلے قحط اور بھوک مری کا حادثہ اس درجہ دردناک ہوگا کہ کچھ لوگ اپنی لڑکیوں کا معمولی غذا کے عوض معاملہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ابو محمد، مغربی شخص سے روایت کرتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت ظہور کریں گے کہ انسان (فقر فاقہ کی شدت اور بھوک مری سے) اپنی خوبصورت کنیزوں اور لڑکیوں کو بازار میں لائے گا ،اور کہے گا: کون ہے جو مجھ سے اس لڑکی کو خرید لے اور اس کے بدلے خوراک دیدے ؟ایسے شرائط میں حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے ۔(۳)

____________________

(۱)الفتاوی الحدیثیہ، ص۳۰؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۴۲؛عقد الدرر،ص۱۳۲

(۲)ابن ماجہ، سنن، ج۲، ص۱۳۶۳

(۳)کنزل العمال ،ج۱۱،ص۲۴۹


چھٹی فصل

امید کے دریچے

گذشتہ بحثوں میں روایات کے سہارے امام عصر( (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہورسے قبل، دنیا کے حالات سے آگاہ ہوئے اگر چہ اِن روایات میں بے سر و سامانی اور اس درجہ مشکلات کا تذکرہ ہے کہ انسان مایوس و ناامید ہو جائے۔ لیکن دیگر روایات میں شیعوں اور مو منین کے لئے امید کی جھلکیں اور روشن مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔

بعض روایات تو بس ان مومنین کے بارے میں ہیں کہ کبھی زمین ان سے خالی نہیں رہے گی ،اور وہ لوگ ظہورسے قبل کے سخت ترین شرائط کے باوجود عالم میں پائے جائیں گے ۔

کچھ روایتیں دوران غیبت علماء اور اسلامی دانشوروں کے کردار کی جانب اشارہ کرتی ہیں خواہ کتنا ہی معاشرہ کی بد حالی کا باعث ہوں انھیں محافظ دین کے عنوان سے متعارف کراتی ہیں ۔

معصومین (علیہم السلام) کی بعض تقریروں میں ظہور سے قبل شہر قم کے کردار کا تذکرہ ہے ۔

روایتیں ظہور سے قبل و بعد ایرانیوں کی فعالیت و کار کردگی کی خبر دیتی ہیں ۔

الف)حقیقی مومنین

کبھی ایسی روایتوں سے بھی سابقہ ہوتا ہے جو کسی کے جواب میں بیان کی گئی ہیں، جن سے گمان ہوتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جو مومن انسان کے وجود سے خالی ہوگا ۔ امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) نے اس گمان کی نفی کی اور ہر زمانہ میں مومنین کے وجود کی خبردی۔


زراد کہتے ہیں :کہ میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا : میں ڈرتا ہوں کہ مومنین میں نہ رہوں امام نے کہا :”کیوں ایسا سوچ رہے ہو؟“میں نے کہا: اس لئے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنے بھائی کو درہم و دینا رپر مقدم کرے؛ لیکن یہ ضرور دیکھ رہا ہوں کہ درھم و دینار کو برادر دینی(جسے ولایت علی علیہ السلام نے ہم سب کو ایک جگہ جمع کیا ہے) پرترجیح دیتا ہے، امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے کہا:ایسا نہیں ہے جیسا تم کہہ رہے ہوتم لوگ صاحبان ایمان ہولیکن تمہاراایمان حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے وقت کامل ہو گا، اس وقت خداو ند عالم تمہاری عقلوں کو کامل کرے گا ،اور تم لوگ مکمل مومن بن جاو گے ۔

اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، سارے جہان میں، ایسے انسان پائے جاتے ہیں جن کی نگاہ میں ساری دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے“(۱)

ب)شیعہ علماء و دانشوروں کا کردار

ہر زمانے میں جہالت و ظلمت نے اپنا سایہ انسانی سماج پر ڈال رکھا ہے یہ علماء و دانشور افراد ہیں جنھوں نے ہمیشہ جہل و نادانی کو دور کرنے کی ذمہ داری لے رکھی ہے، اوراپنی سالم فکر سے انھیں دور کرتے رہتے ہیں لوگوں کے درمیان فساد و تباہی کو بحسن و خوبی ختم کرتے ہیں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں علماء اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیں گے۔

امام ہادی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” اگر قائم آل محمد کی غیبت کے زمانے میں علماء و دانشور نہ ہوتے اور لوگوں کو ان کی طرف ہدایت و رہنمائی نہ کرتے اورحجت الٰہی کے ذریعہ دین کا دفاع نہ کرتے اور ضعیف شیعوں کو شیطانی جالوں اوران کے بہی خواہوں سے نجات نہیں دیتے، اور ناصبی (دشمن اہل بیت ) کے شر سے محفوظ نہ رکھتے تو کوئی اپنے دین پر ثابت نہ رہتا،اور سب مر تد ہوجاتے؛ لیکن وہ لوگ جو شیعوں کے ضعیف دلوں کی رہبری اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے حفاظت

____________________

(۱)بحارالانوار، ج۶۷،ص۳۵۱


کرتے ہیں؛جس طرح کشتی کا ناخدا کشتی پر سوار افراد اور کشتی کے قانون کی حفاظت کرتا ہے لہٰذا، وہ خدا وند عالم کے نزدیک ،بلند ترین انسان ہیں“(۱)

رسول خدا ہر صدی میں دین کو زندہ کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں : ”خدا وندبزرگ و بر تر امت اسلام کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک شخص کو مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ دین کو زندہ رکھے“(۲)

خصوصاً یہ دو روایتیں اوراس طرح کی دیگر روایات، علماء کے کردار کو غیبت کے زمانہ میں با صراحت بیان کرتی ہیں ۔اور شیطانی مکر و فریب کی نابودی ، اوردین کو حیات نو ملنا دانشوروں کا صدقہ سمجھتی ہیں ۔

البتہ اس مطلب کا اثبات اس زمانے میں دلیل و برہان کا طالب نہیں ہے اس لئے کہ امام خمینی کا کردار دشمنوں کی ناپاک سازشوں کے بے کار بنا نے میں جنھوں نے اس دور میں اساس دین کو خطرہ میں ڈال رکھا تھا ،کسی پر پو شیدہ نہیں ہے۔

بے شک جو آج اسلام کو عزت و سر بلندی ملی ہے وہ ایران کے اسلامی انقلاب اور اس کے بانی امام خمینی کی برکت سے ہے ۔

ج)شہر قم کا آخر زمانہ میں کردار

اس زمانے میں انسانی جب کہ سماج؛ انحطاط و پستی ،تباہی اوربربادی کی طرف گامزن

____________________

(۱)تفسیر امام حسن علیہ السلام :ص۳۴۴؛احتجاج ،ج۲،ص۲۶۰؛منیة المرید،ص۳۵؛ محجة البیضاء، ج۱، ص۳۲؛حلیة الابرار، ج۲، ص۵۴۵؛بحار الانوار، ج۲، ص۶؛العوالم ،ج۳، ص۲۹۵

(۲)عن النبی :”ان اللّٰه تعالیٰ یبعث لهذه الامة علی راس کل مائة سنة من یجدد لها دینها “ ابی داودسنن، ج۴ ،ص۱۰۹؛حاکم مستدرک ،ج۴ ،ص۵۲۲؛تاریخ بغداد، ج۲، ص۶۱؛جامع الاصول، ج۱۲، ص۶۳؛کنزل العما ل، ج۱۲، ص۱۹۳اوراس روایت کا مدرک جہاں تک میں نے کوشش کی شیعہ کی کسی کتاب میں نہیں پایا


ہوگا ،توامید کیجھلک ظاہر ہوگی اور نور کے پر چم دار اس تاریکی کے دل میں جگہ بنالیں گے آخر زمانہ میں شہر قم اس ذمہ داری کو نبھائے گا ۔

روایات بہت ہیں جو اس مقدس شہر اور لائق افراد جومکتب اہل بیت(علیہم السلام) کے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب ہوئے اور پیام رسانی کی ذمہ داری لئے ہوئے ہیں ،کی ستائش کرتی ہیں ۔

ائمہ معصومین علیہم السلام کی مختلف تقریر یں ہیں جو قم اورثقافتی انقلاب سے متعلق عصر غیبت میں پائی جاتی ہے ہیںجن میں سے آیندہ۔

قم اہل بیت علیہم السلام کا حرم

بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ قم اور اہل قم ولایت اور شیعت کے لئے نمونہ اور اس کا راز و رمز ہیں اس لئے، جسے چاہا کہ دوستدار اہل بیت اور ان کے چاہنے والے کا خطاب دیں ،تو قمی سے خطاب کیا۔

ایک گروہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں مشرف ہوا اور اس نے کہا : ہم رے کے رہنے والے ہیں، حضرت نے فرمایا: ”ہمارے قمی بھائیوں کو مبارک ہو“ان لوگوں نے چند بار تکرار کی، کہ ہم اہل رے ہیں اور رے سے آئے ہیں لیکن حضرت نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی اس وقت کہا: خداوندعالم کا حرم مکہ ہے رسول خدا کا حرم مدینہ اور کوفہ امیر المو منین کا حرم ہے اور ہم اہل بیت کا حرم شہر قم ہے، عنقریب میرے فرزندوں میں فاطمہ نامی بیٹی وہاں دفن ہوگی، جو بھی اس کی (معرفت کے ساتھ) زیارت کرے گا اس پر بہشت واجب ہوگی ۔

راوی کہتا ہے :امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے یہ بات اس وقت کہی جب امام کاظم (علیہ السلام) ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے ۔(۱)

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۶۰،ص۲۱۷


صفوان کہتے ہیں : ایک دن میں ابو الحسن ۔امام کاظم (علیہ السلام) کے پاس تھا کہ قمیوں اور حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) سے ان کے لگاو کی بات نکل گئی؛ تو امام ہفتم (علیہ السلام) نے فرمایا :

”خداوندسبحان ان پر رحمت نازل کرے، اور ان سے راضی رہے اس کے بعد اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: بہشت کے آٹھ دروازے ہیں اس کا ایک دروازہ قم والوں کے لئے ہے، ملکوں اور شہروں کے درمیان و ہ لوگ ( اہل قم) نیک اور بر گزیدہ افراد میں ہمارے شیعہ ہیں خداوندعالم نے ہماری ولایت اور دوستی ان کی طینت اورسرشت سے ملا دی ہے “(۱)

اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ ائمہ معصومین( علیہم السلام) نے شہر قم کو اہل بیت علیہم السلام اورحضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے عاشقوں کی مرکزسمجھاہے ،شاید وہ بہشتی دروازہ جو شہر قم سے مخصوص ہے ،باب المجاہدین یا باب الاخیار (نیکوں کا دروازہ)ہو جیسا کہ روایت میں بھی اہل قم کو نیکو کار شیعوں سے یاد کیا گیا ہے ۔

شہر قم دوسرے افراد پر حجت ہے

خدا وند عالم کے ہر زمانے میں ایسے افرا د پائے جاتے ہیں جو دوسروں پر حجت ودلیل ہوں،اور جب وہ لوگ راہ خدا میں قدم اٹھاتے ہیں، اور کلمة اللہ کی بلندی کے لئے مبارزہ کرتے ہیں، تو خدا وندعالم ان کا ناصر و مدد گار ہوتاہے اور ان کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھتاہےغیبت کے زمانے میں شہر قم اور اس کے باشندے دوسروں پر حجت ہیں۔

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: مشکلات و گرفتاریاں قم اور اس کے باشندوں سے دور ہیں، اورایک دن آئے گا کہ قم کے باشندے تمام لوگوں پر حجت ہوں گے، اوریہ زمانہ

____________________

(۱)وہی ص۲۱۶


ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی غیبت اور ظہور کازمانہ ہوگا اگر ایسا نہ ہو، تو زمین اپنے باشندہ کو نگل جائے گی یقینا فرشتے بلاوں کو قم و اہل قم سے دور رکھتے، اور کوئی ستمگر قم کا ارادہ نہیں کرتا، مگر یہ کہ خداوند عالم اس کی کمر توڑ دیتا ہے ،اور اسے درد و الم ، یا دشمنوں سے گرفتار کر دیتا ہے، خدا وند عالم قم اور اہل قم کا نام ستمگروں کے حافظہ سے اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح انھوں نے خدا کو فراموش کر دیا ہے “

قم؛اسلامی تہذیب و ثقافت کے نشر کا مر کز

روایات میں گذشتہ باتوں کے علاوہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ غیبت کے دوران شہر قم اسلامی پیغام رسانی کا مر کز بنے گا ،اور یہاں سے زمین کے کمزور طبقوں کے کانوں تک اسلام کی بات پہنچے گی، نیز وہاں کے علماء دین اور دانشور حضرات دنیا پر حجت قرار پائیں گے۔

امام صادق (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :“عنقریب شہر کوفہ مومنین سے خالی ہو جائے گا، اور علم و دانش وہاں سے رخصت ہو جائے گا، اور سانپ کے مانند جو اپنی بل میں محدود رہتا ہے، محدود ہو جائے گا ،اور شہر قم سے ظاہر ہوگا پھر وہ جگہ علم و دانش اور فضل و کمال کامرکز بن جائے گی، اس درجہ کہ روئے زمین پر کوئی فکری اعتبار سے کمزور باقی نہیں بچے گا جو دین کے بارے میں جانتا نہ ہو، حدیہ ہے کہ پر دہ نشین خواتین بھی ،اورایسا ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے نزدیک زمانہ میں ہوگا۔


خدا وندعالم قم اور اہل قم کو حضرت حجت (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا جانشین قرار دے گا ،اگر ایسا نہ ہوا تو زمین اپنے رہنے والوں کو نگل جائے گی اور روئے زمین پر کوئی حجت نہیں رہ جائے گی لہٰذا شرق و غرب عالم میں قم سے علم و دانش کی اشاعت ہوگی ،اور عالم پر حجت تمام ہوگی ،اس طرح سے کہ کوئی ایسا نہیں باقی بچے گا جو علم و دانش سے محروم ہو،اوراس وقت حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، اور کافروں پر خدا کا عذاب ان کے ذریعہ نازل ہوگا؛ اس لئے کہ خدا وند عالم اپنے بندوں سے اس وقت تک انتقام نہیں لیتا ،جب تک کہ ان پر حجت نہ تمام ہوئی ہو“(۱)

دوسری روایت میں اس طرح آیاہے : ”اگر قم کے رہنے والے نہ ہوتے تو دین مٹ چکا ہوتا “(۲)

قم کی فکری روش کی تائید

بعض روایات سے استفادہ ہوتاہے کہ ائمہ معصومین( علیہم السلام) نے علماء قم کی تائید کی ہے ۔

چنانچہ امام صادق (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :”قم کی بلندی پر ایک فرشتہ ہے جو اپنے دونوں پروں کو ہلاتا رہتا ہے ،اور کوئی ظالم سوء ارادہ نہیں کرپاتا ؛مگر اسے خدا وند عالم نمک کی طرح پانی میں گھلا دیتا ہے۔

پھر اس وقت حضرت نے عیسیٰ بن عبدا للہ قمی کی طرف اشارہ کرکے کہا: قم پر خداو ندعالم کا درود ہو،خدا وند عالم ان کی سر زمین کو بارش سے سیراب کرے گا، اور ان پر اپنی بر کتیں نازل کرے گا، اورگناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا ،وہ لوگ رکوع ، سجود،قیام اور قعود والے ہیں؛ جس طرح وہ لوگ فقیہ ، دانشمند،اور صاحب درک و فہم ہیں، وہ لوگ اہل درایت و روایت ،اور نیک اور عبادت گذار وں کی بصیرت رکھنے والے ہیں “

اس طرح امام (علیہ السلام) نے اس شخص کے جواب میں جس نے کہا :میں چاہتا ہوں آپ سے وہ سوال کروں کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پوچھا ہو ،اور نہ میرے بعد پوچھے گا ،کہتے ہیں : شاید تم حشر و نشر سے متعلق سوال کرنا چاہتے ہو ؟“اس نے کہا:ہاں ،اس ذات کی قسم جس نے

____________________

(۱)وہی،، ص۲۱۳

(۲)وہی ،ج،۶۰،ص۲۱۳؛سفینة البحار، ج۷، ص۳۵۶


محمدکو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ،حضرت نے کہا: تمام افراد کا حشر بیت المقدس کی سمت ہے؛سرزمین جبل کہ ٹکڑے کی موت جسے قم کہتے ہیں بخشش الٰہی ان کے شامل حال ہے اس شخص نے اونگھتی ہوئی حالت میں کہا : اے فرزند رسول !کیا یہ قم والوں سے مخصوص ہے؟ امام (علیہ السلام) نے جواب دیا: ”ہاں؛وہ لوگ بلکہ ہر وہ شخص جو ان کے عقیدہ پر ہو اور ان کی بات کہے“(۱)

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے انصار

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ روایا ت میں قم والوں اور ان افراد کے جو اہل بیت (علیہم السلام) کا حق لینے کے لئے قیام کریں گے اسماء مذکور ہیں۔

عفان بصری کہتے ہیں : امام صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا:کیا جانتے ہو کہ قم کو قم کیوں کہتے ہیں ؟تو میں نے کہا : خداوندعالم اس کا رسول اور آپ بہتر جانتے ہیں ،آپ نے کہا: قم کو اس لئے اس نام سے یا د کرتے ہیں کہ اس کے رہنے والے قائم آل محمد کے ارد گرد جمع ہوں گے، اور حضرت کے ساتھ قیام کریں گے، اور اس راہ میں ثبات قدم اور پایداری کا ثبوت پیش کریں گے، اور آپ کی مدد کریں گے“(۲)

صادق آل محمد (علیہ السلام) ایک دوسری روایت میں اس طرح فرماتے ہیں:”قم کی مٹی، مقدس و پاکیزہ ہے، اور قم والے ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں، کوئی ظالم برائی کا ارادہ نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس کواس سے پہلے سزامل جائے ،البتہ یہ اس وقت تک ہے جب اپنے بھائی سے نہ کریں اور اگر ایسا کیا تو، خدا وند عالم ،بد کردارستمگروں کو ان پر مسلط کر دے گا،لیکن قم والے ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار اور ہمارے حق کی دعوت دینے والے ہیں ۔ اس وقت امام علیہ السلا م

____________________

(۱)۲و۳ بحار الانوار، ج۶۰، ص۲۱۷

(۲)وہی ،ص۲۱۸


نے آسمان کی جانب سر اٹھا یا اور اس طرح دعا کی : خدا وند! انھیں ہر فتنے سے محفوظ رکھ اور ہر ہلاکت و تباہی سے نجات عطا کر“(۱)

ایران،امام زمانہ کا ملک ہے

جو روایات شہر قم کے بارے میں بیان کی گئی ہیں وہ ایک حد تک ظہور سے قبل اور ظہور کے وقت ایرانیوں کی تصویر کشی کرتی ہیں،لیکن معصومین( علیہم السلام) کی تقریروں میں تھوڑا غور کرنے سے اس نتیجہ تک پہنچیں گے کہ انھوں نے، ایرانیوں اور ایران کی طرف خاص توجہ رکھی ہے، اور مختلف مواقع پر دین کی مدد اور ظہور کے لئے مقدمہ چینی کے بارے میں اور بھی تقریریں کی ہیں یہاں پر چند ایسی روایات پر جو ایرانیوں اور ظہور کے سلسلے میںمقدمہ بنانے والوں کی عظمت بیان کرتی ہیں اکتفاء کرتے ہیں :

ایرانیوں کی عظمت

ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول خدا کی خدمت میں فارس، کی بات چلی تو آنحضرت نے کہا:”اہل فارس( ایرانی)بعض ہم اہل بیت سے ہیں“(۲)

جس وقت رسول خدا کی خدمت میں غیر عرب(۳) یا موالی (چاہنے والوں)کی بات چلی تو آنحضرت نے فرمایا :خدا کی قسم میں ان پر تم سے زیادہ اعتماد و اطمینان رکھتا ہوں“(۴) ممکن ہے یہ چیز اہل فارس سے مخصوص نہ ہو بلکہ عام ہو۔

____________________

(۱)وہی ،ص۲۱۶

(۲)وہی ،ص۲۱۸

(۳)ذکر اصفہان ،ص۱۱

(۴)موالی ومولی کا لغت میں مختلف استعمال ہے علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد میں۲۲معنی ذکر کیا ہے لیکن حدیث و آیت کی اصطلاح میں پانچ معنی ذکر ہوئے ہیں:ولاء عتق،ولاء اسلام،ولاء حلف،ولاء قبیلہ،ولاء عرب کے مقابل لیکن اس سے مراد غیر عرب ہیں اور غالباً یہی معنی علماء رجال کی مراد ہے


ابن عباس کہتے ہیں جس گھڑی سیاہ پر چم تمہاری سمت بڑھ رہے ہوں فارسوں کا احترام کرواس لئے کہ تمہاری حکومت ان کی بدولت ہے“(۱)

ایک روز اشعث نے حضرت علی!(علیہ السلام) سے اعتراض کرتے ہوئے کہا: اے امیرالمو منین یہ (گونگے )کیوں تمہارے ارد گرد آئے ہوئے ہیں اور ہم پر سبقت کرتے ہیں۔ ؟ حضرت غصہ ہوئے اور جواب دیا-:کون مجھے معذور قرار دے گا کہ ایسے قوی ہیکل اور بے خیر کہ ان میں سے ہر ایک لمبے کان لئے اپنے بستر پر لوٹتا ہو، اور فخر و مباحات کرتے ہوئے ایک قوم سے رو گرداں ہو؛تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اُن سے دور ہو جاوں ؟کبھی میں ان سے دور نہیں ہوں گا۔(۲) جب تک کہ وہ جاہل کی صف میں شامل نہ ہو جائیں ،اس خدا کی قسم جس نے دانے اُگائے اور مخلوقات کو خلق کیا وہ لوگ ایسے ہیں جو تمہیں دین اسلام کی طرف لوٹانے کے لئے تم سے مبارزہ کریں گے؟ جس طرح تم اسلام لانے کے لئے ان کے درمیان تلوار چلاتے ہو۔“(۳)

ظہور کی راہ ہموار کرنے والے

قابل اہمیت حصہ جو روایات میں ظہور سے پہلے کے واقعات اور حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار کے بارے میں آیا ہے وہ ایران اور ایرانیوں کے بارے میں مختلف تعبیر کے ساتھ جیسے اہل فارس ۔عجم، اہل خراسان ،اہل قم،اہل طالقان،اہل رے۔وبیان کیا گیا ہے ۔

تمام روایات کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ملک ایران میں ظہور سے پہلے الٰہی حکومت جو ائمہ( علیہم السلام) کی دفاع کرنے والی اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی

____________________

(۱)ذکر اصفہان ،ص۱۲؛ملاحظہ ہو:الجامع الصحیح، ج۵، ص۳۸۲

(۲)رموز الاحادیث ،ص۳۳

(۳)مستدرک الوسائل ،ج،۱۳،ص،۲۵۰،حدیث۴


عنایت کا مرکز ہوگی قائم ہوگی، نیز ایرانی ،حضرت کے قیام میں بہت بڑا کردار ادا کریں گے چنانچہ قیام کی بحث میں ذکر کریں گے ،یہاں پر صرف چند روایت پر اکتفاء کرتے ہیں :

رسول خدا فرماتے ہیں :”ایک شخص سر زمین مشرق سے قیام کرے گا، اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔“(۱)

نیز فرماتے ہیں :ایسے سیاہ پر چم مشرق کی طرف سے آئیں گے جن کے دل فولادی ہوں گے ،لہٰذا جو بھی ان کی تحریک سے آگاہ ہو ان کی طرف جائے اور بیعت کرے خواہ انھیں برف پر چلنا پڑے“(۲)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” گویا میں ایک ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جس نے مشرق میں قیام کر دیا ہے، اور حق کے طالب ہیں؛لیکن انھیں حق نہیں دیا جا رہا ہے، دو بارہ طلب کرتے ہیں پھر بھی ان کے حوالے نہیں کیا جا رہا ہے، ایسی صورت میں تلواریں نیام سے باہر نکالے شانوں پر رکھے ہوئے ہیں، اس وقت دشمن ان کی مرادوں کو پورا کررہا ہے ،لیکن وہ لوگ قبول نہیں کر رہے، اور قیام کئے ہیں، اور حق صاحب حق ہی کو دیں گے، ان کے مقتولین شہید ہیں ،اور اگر ہم نے انھیں درک کر لیا تو میں خودکو اس صاحب امر کے لئے آمادہ کروں گا “(۳)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصا ر ۳۱۳ / اولاد عجم ہیں “(۴)

____________________

(۱)الغارات، ج۲۴،ص۴۹۸؛سفینة البحار، ج۸،ص۶۰۹؛ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ ،ج۲۰، ص۲۸۴

(۲)ابن ماجہ ،سنن ،ج۲،ص۱۳۶۸؛المعجم الاوسط ،ج۱،ص۲۰۰؛مجمع الزوائد ،ج۷، ص۳۱۸؛کشف الغمہ ،ج۳، ص۲۶۸؛ اثبات الہداة ،ج۳ ،ص۵۹۹؛بحار الانوار ،ج۵۱،ص۸۷

(۳)عقد الدرر، ص۱۲۹؛شافعی ،بیان، ص۴۹۰؛ینابیع المودة ،ص۴۹۱؛کشف الغمہ، ج۳، ص۲۶۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۹۶؛بحار الانوار، ج۵۱، ص۸۴

(۴)نعمانی ،غیبة، ص۳۷۳ ؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۴۳؛ابن ماجہ، سنن ،ج۲،ص۱۳۶۶؛حاکم مستدرک ،ج۴، ص۴۶۴


اگر چہ عجم کا اطلاق غیر عرب پر ہوتا ہے لیکن قطعی طور پر ایرانیوں کو بھی شامل ہے ،اور دیگر روایات پر توجہ کرنے سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی مخصوص فوج کی تعداد زیادہ تر ایرانیوں پر مشتمل ہے۔

رسول خدا فرماتے ہیں : عنقریب تمہارے بعد ایک قو م آئے گی جسے طی الارض کی صلاحیت ہوگی، اور دنیاوی دروازہ ان پر کھلے ہوں گے، نیزان کی خدمت ایرانی مرد اور عورت کریں گی، زمین ان کے قدموں میں سمٹ جائے گی ،اس طرح سے کہ ان میں سے ہرایک شرق و غرب کی فاصلہ کے باوجود ایک گھنٹہ میں مسافت طے کر لے گا، نہ انھوں نے خود کو دنیا سے فروخت کیا ہے، اور نہ ہی وہ دنیادار ہیں“(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : طالقان والوں کو مبارک ہو کہ خداوند عالم کا وہاں ایسا خزانہ ہے جو نہ سونے کا ہے اور نہ چاندی کا بلکہ صاحب ایمان لوگ ہیں، جنھوں نے خدا کو حق کے ساتھ پہچانا ہے ،اور وہی لوگ آخر زمانہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصا ر میں سے ہوں گے “(۲)

رسول خدا بھی خراسان کے بارے میں فرماتے ہیں:”خراسان میں خزانے ہیں لیکن نہ وہ چاندی ہے اور نہ سونا ،بلکہ ایسے لوگ ہیں جنھیں خدا و رسول دوست رکھتے ہیں۔(۳)

____________________

(۱)فردو س الاخبار ،ج۳، ص۴۴۹

(۲)شافعی ،بیان، ص۱۰۶؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۵۰؛کنزل العمال ،ج۱۴ ،ص۵۹۱؛ینابیع المودة ،ص۴۹۱؛کشف الغمہ ،ج۳ ،ص۲۸۶

(۳)کنزل العمال، ج۱۴، ص۵۹۱


حصہ دوم

پہلی فصل

امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا قیام

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے روز قیام کے سلسلے میں مختلف روایتیںپائی جاتیں ہیں ،بعض میں نو روزکا دن قیام کے آغاز کا دن ہے، اوربعض میں روز عاشورہ ،اورکچھ روایتوں میں سنیچر کا دن اور کچھ میں جمعہ کا،قیام کے لئے معین ہے،

ایک ہی زمانے میں نو روزاور عاشورہ کا واقع ہونامحل اشکال نہیں ہے؛ اس لئے کہ نو روز شمسی اعتبار سے، اور عاشورہ قمری لحاظ سے حساب ہو جائے گا،لہٰذادو روز کا ایک ہونا ممکن ہے۔

اور ان دو روز (عاشورہ و نو روز) کا ایک زمانہ میں واقع ہونا ممکن ہے البتہ جو کچھ مشکل اور مانع ہے وہ ہفتہ میں دو دن بعنوان قیام کا ذکر کرنا ہے، لیکن اس طرح کی روایت بھی قابل توجیہ ہے؛اس طرح کہ اگر ان روائیوں کی سند صحیح ہو تو ایسی صورت میں روز جمعہ والی روایات کو قیام و ظہور کے دن پر حمل کیا جائے گا، اور وہ روایات جو شنبہ کو قیام کا دن کہتی ہیں نظام الٰہی کے اثبات اور مخالفین کی نابودی کا دن سمجھا جائے گا ،لیکن جاننا چاہئے کہ جو روایتیں شنبہ کا دن تعیین کرتی ہیں وہ سند کے لحاظ سے مورد تاّمل ہیں ۔ لیکن روز جمعہ والی روایات اس اعتبار سے بے خدشہ ہیں۔

اس سلسلے میں اب روایات ملاحظہ ہوں۔

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” ہمارا قائم جمعہ کے دن قیام کریں گا “(۱)

____________________

(۱)اثبات الہداة، ص۴۹۶؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۷۹


امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضر ت قائم عاشور کے دن شنبہ کو رکن و مقام کے درمیان کھڑے ہیں ،اور جبرئیل آنحضرت کے سامنے کھڑے لوگوں کو ان کی بیعت کی دعوت دے رہے ہیں“(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : روز عاشورہ شنبہ کے دن حضرت قائم(عجل اللہ فرجہ) قیام کریں گے یعنی جس دن امام حسین (علیہ السلام) شہید ہوئے ہیں۔(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” کیا جانتے ہو کہ عاشور ہ کون سا دن ہے ؟ یہ وہی دن ہے جس میں خداوند عالم نے آدم و حوا کی توبہ قبول کی،اسی دن خدا نے بنی اسرائیل کے لئے دریا شگاف کیا، اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو غرق کیا،اور موسیٰ (علیہ السلام) فرعون پر غالب آئے اسی دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے، حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے توبہ او ر جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کا دن ہے“(۳)

اسی مضمون کی امام محمد باقر (علیہ السلام) سے ایک دوسری روایت بھی نقل ہوئی ہے؛(۴)

لیکن اس روایت میں ابن بطائنی کی وثاقت جو سلسلہ سند میں واقع ہوا ہے مورد خدشہ ہے ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” تیسویں کی شب حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فر جہ )

____________________

(۱)طو سی، غیبة، ص۲۷۴؛کشف الغمہ، ج۳ ،ص۲۵۲؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۹۰

(۲)کمال الدین ،ج۲، ص۶۵۳؛طوسی ،غیبة، ص۲۷۴ ؛التہذیب، ج۴، ص۳۳۳؛ملاذ الاخیار،ج۷،ص۱۷۴؛ بحار الانوار ، ج۵۲،ص۲۸۵

(۳)بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۵

(۴)التہذیب، ج۴، ص۳۰۰؛ابن طاوس، اقبال، ص۵۵۸؛خرائج، ج۳ ،ص۱۱۵۹؛وسائل الشیعہ، ج۷، ص۳۳۸ ؛بحار الانوار، ج۹۸،ص۳۴؛ملاذالاخیار ،ج۷، ص۱۱۶


کے نام سے آواز آئے گی اور روز عاشورہ حسین بن علی کی شہادت کے دن قیام کریں گے۔‘ ‘(۱)

اسی طرح آنحضرت فرماتے ہیں :”نوروز کے دن ہم اہل بیت( علیہم السلام )کے قائم ظہور کریں گے“(۲)

الف)اعلان ظہور

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا اعلان سب سے پہلے آسمانی منادی کے ذریعہ ہوگا ،اس وقت آنحضرت جب کہ قبلہ کعبہ سے ٹیک لگائے ہوں گے،حق کی دعوت کے ساتھ، اپنے ظہور کا اعلان کریں گے۔

امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب منادی آسمانی آواز دے گا: حق آل محمد کی طرف ہے ،اگر تم لوگ ہدایت و سعادت کے خواہاں ہو، توآل محمد کے دامن سے متمسک ہو جاو،اور حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہور کررہے ہیں“(۳)

امام محمد باقر (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں:” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) مکہ میں نماز عشاء کے وقت ظہور کریں گے ؛جب کہ پیغمبر کا پرچم، تلوار اور پیراہن ہمراہ لئے ہوں گے اور جب نماز عشاء پڑھ چکیں گے، توآوازدیں گے :اے لوگو!تمہیں خدا اور خدا کے سامنے (روز قیامت) کھڑے ہونے کو یاد دلاتا ہوں ؛ جب کہ تم پر دنیا میں اپنی حجت تمام کر چکا ہے انبیاء بھیجے ،اورقرآن نازل کیا،خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو اور اس کے پیغمبروں کی

____________________

(۱)طوسی ،غیبة، ص۲۷۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۹۰

(۲)المہذب البارع ،ج۱، ص۱۹۴؛خاتون آبادی، اربعین ،ص۱۸۷؛وسائل الشیعہ، ج۵،ص۲۲۸؛اثبات الہداة، ج۳ ، ص۵۷۱؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۰۸

(۳)الحاوی للفتاوی، ج۲، ص۶۸ ؛حقا ق الحق ،ج۱۳، ص۳۲۴


اطاعت کرو، جس کے زندہ کرنے کو قرآن نے کہا ہے اسے زندہ کرو، اور جس کے نابود کرنے کا حکم دیا ہے اسے نابود کرو اور راہ ہدایت کے ساتھی بنو اور تقویٰ وپر ہیز گاری اختیار کرو اس لئے کہ دنیا کے فنا ہونے زوال اور وداع کا وقت آچکاہے ۔

میں تمہیں اللہ ،رسول ،کتاب عمل اور باطل کی نابودی رسول اللہ کی سیرت کے احیاء کی دعوت دیتا ہوں، اس وقت ۳۱۳ / انصار کے درمیان ظہور کریں گے۔(۱)

ب)پرچم قیام کا نعرہ

ہر حکومت کا ایک قومی نشان ہوتا ہے تاکہ وہ اسی کے ذریعہ پہچانی جائے ،اسی طرح قیام و انقلاب بھی ایک مخصوص پرچم رکھتے ہیں،اور اس کا مونو گرام ایک حد تک اس کے رہبروں کے مقاصد کو نمایا ں کرتا ہے، حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا عالمی انقلاب بھی مخصوص مونوگرام رکھتا ہوگا اور اس پر شعار لکھا ہوگا ،البتہ مونوگرام کے شعار کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ایک بات سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ لوگوں کو حضرت کی اطاعت کی دعوت دے گا۔(۲)

ابھی ہم اس سلسلے میں چند نمونے ذکرنے پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے پرچم پہ لکھا ہوگا :

”کان کھلا رکھو اور حضرت کی اطاعت کرو“(۳)

____________________

(۱)ابن حماد، فتن ،ص۹۵؛عقد الدرر ،ص۱۴۵؛سفارینی الوائح، ج۲، ص۱۱؛ابن طاوس، ملاحم، ص۶۴؛الصر اط المستقیم ، ج۲،ص۲۶۲

(۲)امام محمد باقر علیہ السلام نے ابو حمزہ سے فرمایا : میں اہلبیت آل محمد کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ نجف میں وارد ہو رہے ہیں، اور جب نجف کے اندر پہنچے گے تو رسول خدا کے پرچم کو لہرائیں گے، اور وہ پرچم جس طرح بدر میں کھلا تھا فرشتے نیچے آئے تھے اسی طرح حضرت کے لئے بھی نازل ہوں گے “،عیاشی، تفسیر، ج۱، ص۱۰۳ ؛نعمانی ،غیبة، ص۳۰۸؛کمال الدین ،ج۲، ص۶۷۲؛تفسیر، برہان، ج۱، ص۲۰۹؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۶

(۳)اثبات الہداة ،ج۲،ص۵۸۲؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۰۵


دوسری جگہ ملتا ہے کہ پر چم مہدی کا نعرہ ”البیعة للہ ؛بیعت خدا کے لئے ہے “(۱)

ج)قیام سے کائنات کی خوشحالی

روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا قیام انسانوں کی خوشحالی کا باعث ہوگا ،اوراس خوشحالی کا بیان مختلف طریقوں سے ہے، بعض روایتوں میں زمین اور آسمان والوں کی خوشی ہے، اور بعض میں مردوں کی خوشحالی مذکور ہے، ایک روایت میں قیام کے لئے لوگوں کے استقبال کا تذکرہ ہے دوسری روایتوں میں مردو ں کے زندہ ہونے کی آرزو کا تذکرہ ہے یہاں پر اس کے چند نمونے ذکر کرتا ہوں۔

رسول خدا فرماتے ہیں : حضرت مہدی کے قیام سے تمام اہل زمین و آسمان پرندے ،درندے اوردریا کی مچھلیاں خو شحال و شاد ہوں گی ۔(۲)

اس سلسلے میں حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”اس وقت حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے جب آپ کانام مبارک خاص و عام کی زبان زدہوگا اور لوگوں کے وجود حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے عشق سے سرشار ہوں گے، اس طرح سے کہ ان کے نام کے سوا کوئی اور نام نہ زبان زد ہوگا اور نہ یاد رہ جائے گا ،اور ان کی دوستی سے اپنی روح کو سیراب کریں گے“(۳)

____________________

(۱)ابن حماد، فتن، ص۹۸؛ابن طاوس، ملاحم، ص۶۷؛القول المختصر،ص۲۴؛ینابیع المودة، ص۴۳۵؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۱۰

(۲)عقد الدرر ،ص۸۴،۱۴۹؛البیان، ص۱۱۸؛حاکم مستدرک ،ج۴،ص۴۳۱؛الدر المنثور، ج۶، ص۵۰؛نور الابصار، ص۱۷۰؛ابن طاوس، ملاحم، ص۱۴۲؛حقاق الحق، ج۱۳، ص۱۵۰

(۳)الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۶۸؛احقا ق الحق ،ج۱۳، ص۳۲۴


روایت میں ”یَشْرِبُوْنَ حُبَّه “کی تعبیر سے یعنی ”لوگ ان کی محبت سے اپنی پیاس بجھائیں گے“ حضرت سے ارتباط وتعلق کو خوشگوار پینے کے پانی سے تشبیہ دی گئی ہے جسے لوگ الفت اور پوری رغبت سے پیتے ہیں ،اور حضرت مہدی کا عشق ان کے وجود میں نفوذ کر جائے گا۔

حضرت امام رضا (علیہ السلام) ظہور سے قبل کے تلخ حوادث اور فتنوں کو شمار کرتے ہوئے ظہور کے بعد فرج اور کشادگی کے بارے میں فرماتے ہیں :” اس وقت لوگوں کو اس طرح فرج و سکون حاصل ہوگا کہ مردے دوبارہ زندگی کی تمنا کریں گے“(۱)

امام جعفرصادق (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں:”گویا میں منبر کوفہ کی بلندی پر قائم (عج)کو بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں، اوروہ رسول خدا کی زرہ ڈالے ہوئے ہیں، اس وقت حضرت کے بعض حالات بیان فرمائے ،اور اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: کوئی مومن قبر میں نہیں بچے گا کہ اس کے دل میں خوشی و مسرت داخل نہ ہوئی ہو، اس طرح سے کہ مردے ایک دوسرے کی زیارت کو جائیں گے، اور حضرت کے ظہور کی ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے ۔

بعض روایتوں میں ”تلک الفرجة“کی لفظ آئی ہے یعنی برزخ کے باشیوں کے لئے حضرت کے ظہور سے کشایش پیدا ہوگی، اس نقل کے مطابق رہبری و انقلاب کی عظمت اس درجہ ہے کہ ارواح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔(۲)

د)محرومین کی نجا ت

اس میں کوئیشک نہیں کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کا قیام عدالت کی بر قراری اور انسانی سماج سے تمام محرومیت کی بیخ کنی ہے ،اس حصے میں حضرت کے قیام کے وقت مظلوموں

____________________

(۱)خرائج ،ج۳،ص۱۱۶۹؛طوسی ،غیبة، ص۲۶۸

(۲)اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۳۰


کے سلسلے میں جوآپ کا اقدام ہوگا کہ محروموں کی پناہ کا باعث ہو اُسے بیان کریں گے۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” میری امت سے مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، خدا انھیں انسانوں کا ملجاء بنا کر بھیجے گا ،اس زمانے میں لوگ نعمت اورآسائش میں زندگی گذاریں گے“(۱)

رسول خدا نے فریاد رسی کو کسی گروہ ،ملت اور قوم وقبیلہ سے مخصوص نہیں کیا ہے ؛بلکہ کلمہ (ناس) کے ذریعہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ جاناہے، اس بناء پر ان کے ظہور سے پہلے شرائط کچھ ایسے ہوجائیں گے کہ دنیا کے تمام انسان ظہور کی تمنا کریں گے جابر کہتے ہیں : امام محمد باقر (علیہ السلام ) نے فرمایا:” حضرت مہدی مکہ میں ظہور کریں گے اورخدا وند عالم ان کے ہاتھوں سے سرزمین حجاز کو فرج عطا کرے گا، اور حضرت(قائم عج) بنی ہاشم کے تمام قیدیوں کو آزاد کریں گے“(۲)

ابو ارطات کہتا ہے حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)(مکہ سے) مدینہ کے لئے عازم ہوں گے، اور اسراء بنی ہاشم کو آزاد ی دلائیں گے، پھر کوفہ جائیں گے، اور بنی ہاشم کے اسراء کو آزاد کریں گے ۔(۳)

شعرانی کہتا ہے : جب حضرت مہدی غرب کی سر زمین پر پہنچیں گے تواُندلس کے لوگ ان کے پاس جاکے کہیں گے: اے حجة اللہ! جزیرہ اُندلس کی مدد کیجئے کہ وہاں کے لوگ اور جزیرہ تباہ ہو گیا ہے ۔(۴)

____________________

(۱)عقد الدرر، ص۱۶۷

(۲)ابن حماد ،فتن ،ص ۹۵؛ابنطاوس، ملاحم، ص۶۴؛الفتاوی الحدیثیہ، ص۳۱؛القول المختصر ،ص۲۳

(۳)ابن حماد، فتن، ص۸۳؛الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۶۷؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۱۸؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۴

(۴)قرطبی، مختصر تذکرہ، ص۱۲۸؛احقاق الحق، ج۱۳،ص۲۶۰


۵ ۔امام (علیہ السلام) کے قیام کے وقت عورتوں کا کردار

ظہور سے قبل و بعد عورتوں کے کردار سے متعلق روایات کی چھان بین کرنے سے چند قابل توجہ باتیں سامنے آتی ہیں، اگر چہ بعض روایات کی رو سے، اکثر دجال کے پیرو یہود اور عورتیں ہوں گی۔(۱)

لیکن انھیں کے مقابل، مومنہ اور پاکدامن عورتیں بھی ہیں کہ اپنے عقیدہ کی حفاظت میں زیادہ سے زیادہ کوشاں رہیں گی، ظہور سے قبل کے حالات سے بہت متاثر ہیں، اوربعض عورتیں ثبات قدم اور مجاہدانہ قوت کی حامل ہوں گی وہ جہاں بھی جائیں گی لوگوں کو دجال کے خلاف جنگ کی تبلیغ کریں گی، اور دجال کی انسانی ہیئت کے خلاف ماہیت کو آشکار کریں گی ۔

بعض روایتوں کے مطابق قیام کے وقت چار سو ۴۰۰/ عورتیں امام کے ہمراہ ہوں گی نیز ان کی اکثریت دوا، دارواورمعالجہ میں مشغول ہو گی، البتہ عورتوں کی تعداد کے بارے میں کہ قیام کے وقت کتنی ہوں گی اختلاف ہے، بعض روایتوں میں۱ ۳/ عورتوں کانام ہے کہ ظہور کے وقت حضرت کے ساتھ ہوں گی ،شاید یہ عورتیں امام کی ابتدائی فوج میں ہوں، اور بعض روایات میں امام کی ناصر عورتوں کی تعداد سات ہزار آٹھ سو ذکر کی گئی ہے، اور وہ وہی عورتیں ہیں جو قیام کے بعد حضرت کے ہمراہ ہو کر حضرت کے کاموں میں مدد کریں گی۔

کتاب” فتن“ میں ابن حماد سے نقل ہے کہ دجال کے خروج کے وقت مومنین کی تعداد۱ ۲۰۰۰/ ہزار مرد اور سات ہزار سات سو یا آٹھ سو عورتیں ہوں گی۔(۲)

رسو ل خدا فرماتے ہیں:حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) آٹھ سو مرد اور چار سو

____________________

(۱)احمد، مسند، ج۲،ص۷۶؛فردوس الاخبار ،ج۵،س۴۲۴؛مجمع الزوائد، ج۷، ص۱۵

(۲)ابن حماد، فتن ،ص۱۵۱


عورتوں کے درمیان نازل ہوں گے کہ وہ لوگ زمین کے رہنے والوں میں سب سے بہتر اور گذشتہ لوگوں میں صالح تر ہوں گے“(۱)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”خدا کی قسم تین سو کچھ افراد آئیں گے جس میں۵ ۰/ عدد عورتیں ہوں گی “(۲)

مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:” حضرت قائم ، (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمراہ۱ ۳/ عورتیں ہیں ،میں نے عرض کیا : وہ کیاکریں گی اوران کاکیا کردار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا:زخمیوں کا مداوا، اور بیماروں کی تیمار داری کریں گی؛ جس طرح رسول اللہ کے ہمراہ تھیں، میں نے کہا: ان۱ ۳/ عورتوں کا نام بتایئے ؟ آپ نے فرمایا:” قنوا دختررشید ہجری،ام ایمن ،حبابہ و البیہ،سمیہ مادر عمار یاسر، زبیدہ،ام خالد احمسیہ، ام سعید حنفیہ ،صیانة ماشطہ و ام خالد جھنیہ“(۳)

کتاب” منتخب البصائر“ میں دو عورتوں کانام وتیرہ اوراحبشیہ بھی مذکور ہواہے کہ جو حضرت کے اصحاب و یاور میں ہوں گی۔(۴)

بعض روایتوں میں تنہا عورتوں کے ہمراہ ہونے پر اکتفاء کیا گیا ہے اور ان کی تعداد بیان نہیں کی گئی ہے۔

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۵،ص۵۱۵؛کنزل العمال، ج۱۴، ص۳۳۸؛التصریح، ص۲۵۴

(۲)عیاشی ،تفسیر ،ج۱، ص۶۵؛نعمانی ،غیبة، ص۲۷۹

(۳)دلائل الامامہ، ص۲۵۹اثبات الہداة، ج۳،ص۷۵

(۴)بیان الائمہ، ج۳، ص۳۳۸


تاریخی کتابوں میں عصر ظہور کی عورتوں کے ماضی کی تحقیق

مفضل ابن عمر کی روایت میں وضاحت کے ساتھ ان عورتوں کی تعداد جو حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ساتھ ہوں گی،۱ ۳/ ذکر کی گئی ہے؛ لیکن اس تعداد میں بھی صرف ۹/ عورتوں کے اسماء اور خصوصیات بیان کی گئی ہے۔

اوران اسماء پر حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام)کی تاکیدنے مجھے مجبور کیاکہ ان کی سوانح حیات اور خصوصیا ت کی تحقیق کروں ۔اورتحقیق کے بعد ایسے نکتے ملے جو امام کی تاکید کا قانع کنندہ جواب ہیں۔

ان میں سے ہر ایک لیاقت رکھتی ہیں لیکن ان میں سے اکثر نے دشمنان خدا سے جہاد کے موقع پر اپنی صلاحیت کو ظاہر نہیں کیا ان میںسے بعض جیسے صیانہ جو چند شہیدوں کی ماں تھیں، اور خود بھی جانسوز حالت میں شہید ہوئیں ،اور دوسری سمیہ ہیں،جنھوں نے اسلامی عقیدہ کی دفاعی راہ میں سخت شکنجوں کو بر داشت کیا،اور آخر دم تک اپنے عقیدہ کا دفاع کرتی رہیں، انھیں میں ام خالد ہیں، جنھوں نے تندرستی کی نعمت کو قالب اسلام کی حفاظت میں گنوادی اور جانباز بنیں ،انھیں میںزبیدہ خاتون ہیں جنھیں دنیا کی چمک دمک اور مادی زرق وبرق نے اسلام سے منحرف نہیں کیا بلکہ بر عکس ہوا کہ ان امکانات سے عقیدہ کی راہ میں استفادہ کیا،اورحج برپا کرنے کے لئے جو اسلامی مظاہر اور دینی ارکان میں سے ایک ہے مدد کی،اور بعض دوسری خاتون نے امت اسلامی کے عظیم رہبر کی خدمت اور دایہ کا افتخار حاصل کیا ،اور معنویت سے خود کو اتنا آراستہ کیا کہ زبان زد خاص و عام ہو گئیں اور کچھ شہداء گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں جنھوں نے نیم جان جسموں کو اٹھا یا اور ان سے باتیں کی ہیں ۔

ہاں، یہ وہ دل سوختہ ہیں جنھوں نے ہدایت کے فریضہ کی انجام دہی سے ثابت کیا کہ حکومت اسلامی کے وزنی بار کے ایک کونہ کا تحمل کیا جا سکتا ہے ۔


اب ان بعض کا تعارف کراتاہوں :

۱ ۔صیانة

کتاب ”خصائص فاطمیہ“ میں آیا ہے : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت میں۱ ۳/ عورتیں زخمیوں کا معالجہ کرنے کے لئے زندہ کی جائیں گی،اور دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گی۔ ان میںسے ایک صیانہ ہیں جو حضرت حزقیل کی بیوی، اور فرعون کی بیٹی کی آرایش گر تھیں، آپ کے شوہر حزقیل فرعون کے چچا زاد بھائی اور خزانہ کے مالک تھے اور اس کے بقول ،حزقیل اور،خاندان فرعون کے مومن ہیں اوراپنے زمانے کے پیغمبر حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔(۱)

رسول خدا نے فرمایا :” شب معراج مکہ معظمہ و مسجد اقصیٰ کی سیر کے درمیان اچانک ایک خوشبو میرے مشام سے ٹکڑائی، جس کے مانند کبھی ایسی بو محسوس نہیں کی تھی ،جبرئیل سے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے؟

جبرئیل نے کہا: اے رسول خدا!حزقیل کی بیوی حضرت موسیٰ بن عمران پر ایمان تولائی تھی لیکن اسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھی، اس کا کام فرعون کے حرم سرا میں آرایش کرنا تھا ،ایک روز وہ فرعون کی بیٹی کو آرایش کرنے میں مشغول تھی کہ اچانک کنگھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور بے اختیار اس نے کہا: ”بسم اللّٰہ“ فرعون کی بیٹی نے کہا :کیا تم میرے باپ کی تعریف کر رہی ہو؟اس نے کہا: نہیں بلکہ میں اس کی تعریف کر رہی ہوں جس نے تمہارے باپ کو پید اکیا ہے ،اور وہی اسے نابود کرے گا فرعون کی بیٹی تیزی سے اپنے باپ کے پاس گئی اور کہنے لگی :جو عورت ہمارے گھر

____________________

(۱)ریاحین الشریعہ ،ج۵،ص۱۵۳؛خصائص فاطمیہ ،ص۳۴۳


میں آرا یش گر ہے، موسیٰ پر ایمان رکھتی ہے فرعون نے اسے بلایا اور کہا: کیا تم میری خدائی کی معترف نہیں ہو؟صیانہ نے کہا: ہر گز نہیں، میں حقیقی خدا سے دوری اختیار کرکے تمہاری پوجا نہیں کروں گی ، فرعون نے حکم دیا، کہ تنور روشن کیا جائے ،جب تنور سرخ ہو گیا، تو اس نے حکم دیا کہ اس کے تمام بچوں کو اس کے سامنے آگ میں ڈال دیا جا ئے ۔

جس وقت اس کے شیرخوا ر بچے کو جو اس کی گود میں تھا لے کر آگ میں ڈالنے لگے، صیانہ کا حال بُرا ہوگیا ،اور سوچا کہ زبان سے دین سے برات و بیزار ی کر لیں اچانک خدا کے حکم سے، بچہ گویا ہوا۔اور بولا: ”اصبری یا اُمّاه اِنَّکِ عَلَی الْحَقْ “ مادر گرامی صبر کیجئے آپ حق پر ہیں فرعونیوں نے اس عورت کو بچے سمیت آگ میں ڈال دیا، اور اس کی خاک کو اس زمین پر ڈال دیا لہٰذا قیامت تک اس زمین سے خوشبو ،آتی رہے گی“(۱)

وہ ان عورتوں میں ہے جو زندہ ہو کر دنیا میں آئے گی اور حضرت مہدی کے ہم رکاب اپنا وظیفہ انجام دے گی۔

۲ ۔ام ایمن

آپ کانام برکہ ہے آپ حضرت رسول خدا کی کنیز تھیں جو والد بزرگوار، حضرت عبداللہ، سے انھیں میراث میں ملی تھیں ۔اور رسول خدا کی خدمت گذار تھیں۔(۲)

حضرت انھیںماں کہتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میرے باقی اہل بیت میں ہیں۔

وہ اپنے شوہر عبید خزرجی سے ایک فرزند رکھتی تھیں ،اس لئے ام ایمن نام تھا ایمن ایک مجاہداور مہاجر تھا جو جنگ حنین میں شہید ہوا۔

____________________

(۱)منہاج الدموع، ص۹۳

(۲)تاریخ طبری، ج۲،ص۷؛حلبی سیرہ، ج۱، ص۵۹


ام ایمن وہ شخصیت ہیں کہ جب مکہ و مدینہ کے راستے میں ان پر پیاس کا غلبہ ہوا ،اور ہلاکت سے قریب ہوئیں تو آسمان سے پانی کا ڈول آیا،اسے پیا اس کے بعد پھر کبھی پیاسی نہ ہوئیں ۔(۱)

انھوں نے رسول خدا کی رحلت کے وقت بہت گریہ کیا؛جب ان سے رونے کا سبب پوچھا گیا، تو جواب دیا: خدا کی قسم مجھے معلوم تھا کہ رحلت کریں گے، لیکن گریہ اس بات کا ہے کہ وحی منقطع ہوگئی ۔(۲)

اور انھیںحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے مسئلہ میں شاہد کے عنوان سے بھی پیش کیا تھاآخر کار عثمان کی خلافت کے دور میں انتقال کر گئیں۔

۳ ۔زبیدہ

آپ ہارون رشید کی بیوی اور شیعیان اہل بیت میں سے تھیں جب ہارون ان کے عقیدہ سے آگاہ ہواتو قسم کھائی کہ اسے طلاق دیدے آپ نیک کاموں سے معروف تھیں،وہ اس زمانے میں جب شہر مکہ میں ایک مشک پانی کی قیمت ایک دینار سونا تھی، تو ا نھوں نے حجاج اور شاید تمام مکہ والوں کو سیراب کیا انھوں نے پہاڑ اور دروں کو کھدوا کر حرم کے باہر۱ ۰/ میل فاصلہ سے پانی حرم میں لائیں ،زبیدہ کی۱ ۰۰ کنیزیں تھیں ،اور ساری کی ساری حافظ قرآن اور ہر ایک کا وظیفہ تھا کہ ایک دہم قرآن پڑھیں، اس طرح سے کہ رہائشی مکان تک قرآن کی آواز جائے۔(۳)

____________________

(۱)عبد الرزاق، مصنف ،ج۴ ،ص۳۰۹ ؛الاصابہ، ج۴، ص۴۳۲

(۲)تنقیح المقال، ج۳ ،ص۷۰

(۳)وہی، ص۷۸


۴ ۔سمیّہ

اعلان بعثت کے بعدآپ ساتویں فرد ہیں جو اسلام سے متمسک ہوئیں، اسی وجہ سے ان کو بد ترین شکنجہ دیا گیا، جب رسول خدا کا گذر عمار اوران کے والدین کی طرف سے ہوتا اور دیکھتے کہ مکہ کی گرمی میں تپتی زمین پر شکنجہ دیا جارہا ہے تو فرماتے تھے:اے خاندان یاسر! صبر کرو؛ اور یہ جان لو کہ تمہاری منزل موعود ،جنت ہے ۔،نتیجہ کے طور پر آپ ابو جہل نابکار کے خونی نیزہ سے شہید ہو گئیں یہ اسلام کی پہلی شہیدہ خاتون ہیں۔(۱)

۵ ۔ام خالد

جب عراق کے حاکم یوسف بن عمر نے زید بن علی کو شہر کوفہ میں شہید کیا تو ام خالد کا ہاتھ شیعہ ہونے اور قیام زید کی طرف مائل ہونے کے جرم میں کاٹ ڈالاگیا۔

ابو بصیر کہتے ہیںمیں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں تھا کہ ام خالد کٹے ہاتھ لئے آئیں، حضرت نے کہا: اے ابو بصیر !ام خالد کی بات سننے کے خواہشمند ہو؟میں نے عرض کیا: ہاں اور اس سے مجھے مسرت ہو گی،ام خالد حضرت کے قریب گئیں بات کرنے لگیں،میں نے انھیں نہایت ہی فصیح و بلیغ پایا، حضرت نے بھی ولایت کے مسئلہ اور دشمنوں سے برات کے موضوع پر بات کی(۲)

۶ ۔حبابہ والبیہ

شیخ طوسی نے انھیں امام حسن (علیہ السلام) کے اصحاب میں شمار کیا ہے ،اور ابن داود نے امام حسن ،حسین ،سجاد و باقر (علیہم السلام )کے اصحاب میں شمار کیا ہے اوربعض دیگر افراد نے

____________________

(۱)اسد الغابہ، ج۵ ،ص۴۸۱

(۲)معجم رجال الحدیث ،ج۱۴، ص۲۳،۱۰۸،۱۷۶؛ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۳۸۱


امام رضاتک آٹھ معصوم امام ا صحاب میں شمار کیا ہے ،اسی طرح کہا گیا ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) نے اپنے شخصی لباس میں انھیں کفن دیا ہے ،آپ کی عمر وفات کے وقت۲ ۴۰ / سال تھی آپ دو مرتبہ جوا ن ہوئی ہیں ایک بار حضرت امام سجاد (علیہ السلام) کے معجزہ سے اور دوسری بار آٹھویں امام کے معجزہ سے، وہی خاتون ہیں آٹھ معصوم امام نے ان کے ہمرا ہ جو پتھر تھااس پر اپنی انگوٹھی سے نقش کیا ہے ۔(۱)

حبا بہ والبیہ کہتی ہیں: میں نے امیر المو منین (علیہ السلام) سے عر ض کیا: خدا آپ پر رحمت نازل کرے،امامت کی دلیل کیا ہے؟ حضرت نے جواب میں کہا:اس سنگریزہ کو میرے پاس لاو، تومیں اسے حضرت کی خدمت میں لائی ،حضرت علی (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی سے اس پر مہر کی اس طرح سے کہ اس پتھر پر نقش ہوگیا ،اور مجھ سے کہا:”اے حبابہ ! جو بھی امامت کا مدعی ہو اور اس پر میری طرح مہر کردے تو وہ امام اور اس کی اطاعت واجب ہے امام وہ شخص ہے جو کچھ جاننا چاہے جان لےتا ہے“

پھر میں اپنے کام میں مشغول ہو گئی، اور حضرت علی (علیہ السلام) رحلت کر گئے، تو پھر امام حسن (علیہ السلام) کے پاس آئی، جو حضرت علی کے جانشین تھے، اور لوگ ان سے سوال کر رہے ہیں؛جب مجھے دیکھا تو کہا: ”اے حبابہ والبیہ!“میں نے کہا:حاضر ہوں اے میرے سید و سردار ! آپ نے کہا:”جو تمہارے پاس ہے لے آو“میں نے اس سنگریزہ کو حضرت کو دیا آنحضرت نے حضرت علی (علیہ السلام) کے مانند اپنی انگوٹھی سے مہر کی اس طرح سے کہ مہر کی جگہ نقش ہوگیا۔

پھر میں امام حسین (علیہ السلام) کی خدمت میں آئی جب کہ وہ مسجد رسول خدا میں تھے، مجھے اپنے پاس بلایا،اور خوش آمدید کہا:اور فرمایا: جو تم چاہتی ہو اس کی دلیل موجود ہے، کیا تم امامت کی علامت چاہتی ہو ؟“میں نے کہا :ہاں میرے آقا! آپ نے کہا:”جو تمہارے پاس ہے

____________________

(۱)تنقیح المقال ،ج۲۳،ص۷۵


لے آومیں نے وہ سنگریزہ انھیں دیا، تو انھوں نے انگوٹھی سے اس پر نقش کر دیا۔امام حسین(علیہ السلا م) کے بعد امام سجاد (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچی جب کہ اتنی ضعیف ہو چکی تھی کہ میرے بدن میں رعشہ غالب تھا ،اس وقت۱ ۱۳/ سال کی تھی آنحضرت رکوع و سجود میں تھے اس لئے میری طرف توجہ نہیں کی تو میں امامت کی نشانی دریافت کرنے سے مایوسی ہوگئی، آنحضرت نے اپنی انگلی سے میری طرف اشارہ کیا، ان کے اشارہ سے میری جو انی پلٹ آئیمیں نے کہا:اے آقا! دنیا کا کتنا حصہ گذر چکا ہے اور کتنا باقی بچاہے؟آپ نے کہا: گذشتہ کے متعلق ،میں نے کہا ہاں اور جوبچا ہے اس کے متعلق نہیں ۔

یعنی ہمیں گذشتہ کا علم ہے آیندہ غیب ہے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ،یا یہ کہ مصلحت نہیں کہ ہم بتائیں، اس وقت مجھ سے کہا: جو تمہارے پاس ہے اسے لے آو میں نے حضرت کو سنگریزہ دیا، حضرت نے اس پر مہر کی پھر کچھ زمانے کے بعد امام محمد باقر (علیہ السلام) کی خدمت میں آئی، آنحضرت نے بھی اس پر مہر کی، اس کے بعد امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس آئی تو آپ نے بھی اس پر مہر کی،پھر سالوں گذر نے کے بعد امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی خدمت میں شرفیاب ہوئی، آنحضرت نے بھی اس پر مہر کیا اس کے بعد امام رضا (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچی تو آنحضرت نے بھی اس پر نقش کیا اس کے بعد، نو ماہ زندہ رہیں ۔(۱)

۷ ۔قنوا دختر رشید ھجری

اگر چہ آپ کی خصوصیات شیعہ وسنی کتابوں میں مذکور نہیں ہیں اصطلاحاًمہمل ہے۔(۲) لیکن باپ کی اسیری ابن زیاد کے ہاتھوں ان کی شہادت کا قصہ خو د ہی بیان کرتی ہیں، عقیدہ میں پختگی ، اسلام میں پایداری و شیعت سے لگاو اور حضرت علی (علیہ السلام) سے محبت آشکار ہو جاتی ہے ۔

____________________

(۱)کافی، ج۱،ص۳۴۶؛تنقیح المقال، ج۳، ص۷۵

(۲)اعیان الشیعہ،ج ۳۲،ص۶


ابو حیان بجلی کہتا ہے: میں نے رشید ہجری کی بیٹی قنوا سے پوچھا : تم نے اپنے باپ سے کون سی روایت یا حدیث سنی ہے؟اس نے کہا:میرے باپ نے حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) سے نقل کیاہے : آنحضرت نے فرمایا:اے رشید ! تمہارا صبر کیسا ہوگا جب بنی امیہ کا منہ بولا بیٹا (ابن زیاد): تمہیں اپنے پاس بلائے اور دونوں ہاتھ پاوں اور زبان قطع کر ڈالے؟“میں نے کہا: آیا اس کا نتیجہ جنت ہے ؟ آپ نے کہا: اے رشید ! تم دنیاو آخرت میں ہمارے ساتھ ہو“

قنوا کہتی ہیں : خدا کی قسم کچھ دن بعد ابن زیاد نے میرے باپ کو بلایا اور ان سے کہا: علی سے بیزاری کرو،لیکن انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا،ابن زیاد نے کہا: تمہارے قتل کی کیفیت علی نے کیسے بیان کی ہے؟میرے باپ نے جواب دیا: میرے دوست علی نے مجھے اس طرح بتایا ہے کہ تم مجھے علی سے بیزاری کرنے کے لئے بلاو گے لیکن میں تمہاری مراد پوری نہیں کروں گا؛پھر میرے دونوں ہاتھ پاوں اور زبان کاٹ ڈالوگے،ابن زیاد نے کہا : قسم خدا کی علی کی پیش گوئی کے خلاف تمہارے حق میں کروں گا، اس وقت حکم دیا کہ ان کے دونوں ہاتھ ،پاوں کاٹ دئے جائیں ۔

اور زبان سالم چھوڑد ی جائے، قنوا کہتی ہیں : میں نے اپنے باپ کو کاندھے پر اٹھا یا اور راستے میں پوچھا : اے بابا! آیا درد کا احسا س کرتے ہیں ؟تو انھوں نے کہا: نہیں صرف اتنا ہی جتنا مجھے مجمع کے دباو سے ہوتا ہے، جب ہم اپنے باپ کو اٹھا کر ابن زیاد کے محل سے خارج ہوئے، تو لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے، میرے باپ نے موقع سے فائدہ اٹھا یا، اور کہا: قلم، دوات اور کاغذ لے آو تاکہ تمہیں حادثات کی خبر دوں ،لیکن جب یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی تو اس نے زبان قطع کرنے کا حکم دیا ،اور میرے باپ اسی شب شہید ہوگئے۔(۱)

____________________

(۱)اختیار معرفة الرجال ،ص۷۵ ؛شرح حال رشید ؛تنقیح المقال ،ج۱، ص۴۳۱،اور ج۳،ص۸۲؛معجم رجال الحدیث، ج۷، ص۱۹۰؛اعیان الشیعہ، ج۳۲،ص۶؛سفینة البحار ،ج۲۵،ص۳۵۷؛ریاحین الرشیعہ ،ج۵ ، ص۴۰


پیغمبر اسلام کے زمانے میں عورتوں کا کردار

اس بات پر نظر کرتے ہوئے کہ عورتوں کا حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت میں وہی کردار ہوگا جو صدر اسلام میں تھا ،مختصر طور پر، اُس زمانہ میں عورتوں کے کردار کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔

اگر چہ روایت میں اشارہ ہوا ہے کہ(یُدَاْوِینَ الْجَرْحیٰ و یَقمَن عَلَی المَرْضیٰ )”زخمیوں کا مداوا اور بیماروں کی تیمارداری کریں گی “لیکن شاید زمانہ پیغمبر میں عورتو ں کی خدمات کا سب سے بہتر نمونہ ہو اس لئے کہ وہ اس کے علاوہ بھی فعالیت کرتی تھیں وہی کردار حضرت مہدی کے زمانہ میں اداکریں گی۔

عورتیں پیغمبر کے ساتھ جنگوں میں دوسرے وظائف کی بھی ذمہ دار تھیں جیسے سپاہیوں کو کھانا پانی پہنچانا،ان کا کھانا پکانا ،سامان کی حفاظت ، دواوں کاا نتظام کرنا،اسلحوں کی تعمیر ،اہم خبروں کا پہنچانا ،شہداء کو منتقل کرنا،دفاعی جنگوں میں شرکت ، سپاہیوں کو محاذ جنگ پر جانے کی تشویق دلانا، جنگ میں حوصلہ افزائی کرناو۔

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے کی عورتوں کی، عصر پیغمبر کی عورتوں سے تشبیہ دینا ہمیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ صدر اسلام میں ان کی فعالیت اور کار کردگی کا بھی ذکر کریں ۔


بعض وہ عورتیں جو اہم کر دار ادا کررہی تھیں

۱ ۔ام عطیہ ؛انھوں نے سات غزوں میں شرکت کی اور ان کی من جملہ خدمات میں زخمیوں کا مداوا کرنا بھی ہے۔(۱)

ام عطیہ کہتی ہیں : میرے تمام کاموں میں ایک کام سپاہیوں کے سامان کی حفاظت کرنا تھا۔(۲)

۲ ۔ام عمارہ؛ (نسیبہ)؛ جنگ احد میں ان کی راہنمائی اس درجہ تھی کہ پیغمبر کے نزدیک تعریف اور تشکر کی قابل بنی۔(۳)

۳ ۔ام ابیہ؛یہ ان چھ عورتوں میںسے ایک تھیں جو قلعہ خیبر کی راہی ہوئیں،پیامبر نے ان سے کہا: کس کے حکم سے یہاں آئی ہو؟ ام ابیہ کہتی ہیں : جب ہم نے رسول کو غضبناک دیکھا تو کہا: ہم کچھ دواوں کے ساتھ زخمیوں کا مداوا کرنے یہاں آئے ہیں۔

اس وقت حضرت ہمارے وہاں رکنے پر آمادہ ہوگئے اوراس جنگ میں ہمارا کام زخمیوں کا مداوا اور ان کا کھانا پکانا تھا۔

۴ ۔ام ایمن ؛جنگوں میں زخمیوں کا مداوا کرتی تھیں۔(۴)

۵ ۔حمنہّ ؛انھوں نے زخمیوں تک پانی پہنچایا اور ان کا مداوا کیا یہ وہ خاتون ہیں جوکہ جنگ میں شوہر ،بھائی اورماموں سے محروم ہو گئیں۔(۵)

۶ ۔ربیعہ معوذ کی بیٹی ؛ زخمیوں کا مداوا کرتی تھیں ۔(۶) وہ کہتی ہیں ہم رسول خدا کے ساتھ جنگ کے لئے روانہ ہوئے اور شہد ا ء کو مدینہ منتقل کیا۔

____________________

(۱)ابو عوانہ، مسند، ج۴، ص۳۳۱

(۲)واقدی، مغازی، ج۱، ص۲۷۰

(۳)کنزل العمال، ج۴،ص۳۴۵

(۴)الاصابہ، ج۴،ص۴۳۳

(۵)ابن سعد طبقات، ج۸، ص۲۴۱

(۶)سد الغابہ ،ج۵،ص۴۵۱؛بخاری صحیح ،ج۱۴، ص۱۶۸


۷ ۔ام زیاد ؛آپ ا ن چھ عورتوں میں ہیں جو جنگ خیبر میں زخمیوں کے مداوا کے لئے گئیں۔(۱)

۸ ۔امیہ قیس کی بیٹی؛ ہجرت کے بعد مسلمان ہوئی اور کہتی ہے:بنی غفار کی عورتوں کے ہمراہ رسول خدا کی خدمت میں گئی اور ان سے عرض کیا: ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں زخمیوں کا علاج اور سپاہیوں کی مدد کرنے کے لئے خیبرکی سمت جائیں ۔

رسول خدا نے خوشی سے کہا: ”اللہ کی عنایتوں کے ساتھ جاو“(۲)

۹ ۔لیلائے غفاریہ؛فرماتی ہیں: میں رسول خدا کے ساتھ زخمیوں کا مداوا کرنے جنگ میں گئی ۔(۳)

۱۰ ۔ام سلیم ؛جنگ احد میں سپاہیوں کو پانی پہنچاتی تھیں اور حاملہ ہونے کے باوجود؛جنگ حنین میں شریک ہوئیں۔(۴)

۱۱ ۔معاذہ غفاریة ؛بیماروں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔(۵)

۱۲ ۔ام سنان اسلمیہ ؛آپ نے جنگ خیبر جاتے وقت رسول خدا سے کہا: میں بھی آپ کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں ،اور جنگ کے دوران زخمیوں کا معالجہ ، بیماروں کا مداوا،اورسپاہیوں کی مدد کروں گی اور ان کے سامان کی حفاظت اور سپاہیوں کو پانی پہنچاوں گی ،رسول خدا نے کہا :”مناسب ہے کہ تم ہماری بیوی ام سلمہ کے ساتھ ہوجاو“(۶)

____________________

(۱)الاصابہ، ج۴، ص۴۴۴

(۲)اسد الغابہ ،ج،۵ ص۴۰۵

(۳)نقش زنان در جنگ ،ص۲۲

(۴)ابن سعد، طبقات، ج۸ ،ص۴۲۵

(۵)اعلام النساء، ج۵،ص۶۱

(۶)ریاحین الشریعہ ،ج۳ ،ص۴۱۰


۱۳ ۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ؛محمد بن مسلمہ کہتا ہے :جو عورتیںجنگ احد میںپانی تلاش کر رہی تھیں اور وہ چودہ تھیں۔(۱)

اوران چودہ ۱۴/ خواتین میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہابھی تھیں، عورتیں کھانا، پانی اپنی پشت پر اٹھا کر لاتی تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور انھیں پانی پلاتی تھیں ۔(۲)

۱۴ ۔ ام سلبط ؛عمرا بن خطاب کہتے ہیں:ام سبلط جنگ احد میں پانی کی مشک اٹھا کر لاتی اور جنگی ساز وسامان کی تعمیر میں مشغول رہتی تھیں۔(۳)

۱۵ ۔نسیبہ ؛آپ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ہمراہ جنگ احد میں شریک ہوئیں،پانی کی مشک اٹھاتی تھیں، اور زخمیوں کو سیراب کرتی تھیں، جب جنگ اپنے شباب پر چھڑی تو یہ خود بھی جنگ میں شریک ہوگئیں ،اور تلواراور نیزوں کے بارہ زخم کی متحمل ہوئیں ۔(۴)

۱۶ ۔انسیہ ؛جنگ احد کے موقع پر رسول خدا کی خدمت میں مشرف ہوئیں اور کہا: اے رسول خدا!میرابیٹا عبد اللہ بن سلمہ جنگ بدر میں شریک ہوا،اورا حد میں شہید ہو گیا،میں چاہتی ہوں کہ اسے مدینہ لے جاوں، اور وہاں اسے دفن کروں، تاکہ اس کا مزار میرے گھر سے قریب رہے،اور اس سے اُنس حاصل کروں، رسول خدا نے اسے اجازت دے دی انسیہ نے اپنے بیٹے کے پاکیزہ جسم کو مجدر بن زیادنامی دوسرے شہید کے ساتھ ایک عبا میں لپیٹا اور انھیں اونٹ پر رکھ کر مدینہ لے گئیں۔(۵)

____________________

(۱)واقدی ،مغازی، ج۱، ص۲۴۹

(۲)واقدی، مغازی، ج۱، ص۲۴۹

(۳)بخاری، صحیح، ج۱۲، ص۱۵۳

(۴)واقدی ،مغازی، ج۱، ص۲۶۸

(۵)اسد الغابہ، ج۵، ص۴۰۶؛حجة الاسلام محمد جواد طبسی نقش زنانملاحظہ ہو


یہ عورتوں کی مختصر سی اسلامی محاذ پر رسول خدا کے ہم رکاب فعالیت ہے، اور یہ عورتوں کی فوجی ہمراہی اور پشت پناہی اس لئے تھی کہ جنگجو سپاہیوں کا دشمن کے مقابل زیادہ سے زیادہ استفادہ ہو، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں بھی وہی کر دار اداکریں گی جو رسول اللہ کے زمانے میں تھا، اس زمانے میں اس سے پہلے عورتیں مختلف فعالیت انجام دیتی تھیں ،دجال کے خلاف تبلیغ ،لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنا ،ان کے من جملہ وظیفوں میں ہے۔

ابو سعید خدری ؛کہتے ہیں:دجال جہاں بھی جائے گا اس سے پہلے لئیبة (طیبة) نامی خاتون وہاں پہنچ جائے گی، اور لوگوں سے کہے گی : تمہاری طرف دجال آرہا ہے؛ لہٰذا تم لوگ ہو شیار رہو گے اور انجام سے باخبر!(۱)

____________________

(۱)ابن حما د، فتن ،ص۱۵۱؛کنزل العمال، ج۱۴، ص۶۰۲


دوسری فصل :

رہبر قیام

انقلاب اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام سے متعلق ہم گفتگو کر چکے اب اس فصل میں،آپ کے جسمی اور اخلاقی خصوصیات و کرامات کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

الف) جسمی خصوصیات

۱ ۔عمر اور چہرہ:حصین کا بیٹا عمران کہتا ہے میں نے رسول خدا سے کہا:اس شخص (مہدی) کا مجھے تعارف کرایئے؛ اور ان کے کچھ حالات بیان کیجئے ۔

رسول خدا نے فرمایا:وہ میری اولاد میں سے ہے، ان کا جسم اسرائیل کے مردوں کے مانند سخت اور سڈول ہے؛میری امت کی مصیبت کے وقت قیام کرے گا؛ ان کے چہرے کا رنگ عربوں سے مشابہ ہے؛اس کا قیافہ چالیس۴ ۰/ سالہ مرد کے مانند ہوگا؛ صورت چاند کے ٹکڑے کے مانند چمکتی ہوگی؛زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا؛جب کہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی بیس سال تک حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے گا اورتمام کفار ممالک مانند قسطنطنیہ و روم و پر قبضہ جمائے گا ۔(۱)

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند متعال حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کی عمر غیبت کے زمانے میں طولانی کر دے گااس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے ان کے چہرے کو چالیس سال سے کم سالہ جوان کی مانند بنا دے گا“(۲)

____________________

(۱)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۴۲

(۲)کمال الدین ،ج۱، ص ۳۱۵؛کفایة الاثر، ص۲۲۴؛اعلام الوری، ص۴۰۱؛الاحتجاج ،ص۲۸۹


امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو لو گ انکار کریں گے، اور کوئی ان کا پاس و لحاظ نہیں کرے گا؛ سوائے ان لوگوں کے جن سے خداوند عالم نے عالم ارواح(۱) میں عہد و پیمان لیا ہو، وہ ایک مکمل اور کامیاب اورمعتدل انداز میں آئے گا۔“(۲)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”جب مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو آپ کا سن ۳۰/ اور۴ ۰/ سال کے درمیان ہوگا“(۳)

مروی کہتا ہے میں نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا : ظہور و قیام کے وقت آپ کے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کیا علامت ہے ؟امام نے فرمایا: ”علامت یہ ہے کہ عمر تو زیادہ ہے لیکن چہرے سے جوان ہوں گے؛ اور اتنا جوان ہوں گے کہ دیکھنے والے کہیں گے کہ ۳۰/ یا چالیس سال کے ہیں ۔(۴)

دوسری علامت یہ ہے کہ زمانے کی آمد و رفت اسے بوڑھا نہیں بنا سکے گی مگر یہ کہ ان کو موت آجائے “

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”یقینا ولی خدا۱ ۲۰ / سال جناب ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح عمر کریں گے، لیکن چہرہ اور رخسار ۳۰/ یا۴ ۰/ سالہ جوان کی طرح ہوگا“

مرحوم مجلسی فرماتے ہیں : شاید اس سے مراد حکومت اور سلطنت کی مدت ہو یا یہ کہ حضرت کی عمر اتنی ہی تھی؛ اور لیکن اسے خدا وند عالم نے طولانی کر دیا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ اعراف، آیت۱۷۲

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۱۸۸؛عقد الدرر، ص۴۱؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۷؛ینابیع المودة، ص۴۹۲

(۳)احقا ق الحق، ج۱۹، ص۶۵۴

(۴)کمال الدین ،ج۲،ص۶۵۲؛اعلام الوری ،ص۴۳۵؛خرائج ،ج۳، ص۱۱۷۰


لفظ”موفق “سے مراد اعضاء کا معتدل اور متناسب ہونا ہے اس سے کنایہ یہ ہے کہ (درمیانی سن کے ہوں گے )یا آخر عمر میں ایک جوان کی طرح ہیں۔(۱)

ظہور کے وقت آپ کے سن کے بارے میں دیگر اقوال بھی پائے جاتے ہیں ،ارطات کہتا ہے: حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ۶۰/ سال کے ہیں۔(۲) ابن حماد کہتا ہے : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)۱ ۸ / سالہ ہیں ۔(۳)

۲ ۔جسمی خصوصیات ابو بصیر کی زبانی

ابو بصیر کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی کہ میں نے آپ کے والد بزر گوار سے سنا ہے کہ امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کاسینہ کشادہ اور شانے چوڑے ہوں گے ؟حضرت نے کہا: اے ابو محمد! میرے والد نے رسول خدا کی زرہ پہنی تو انھیں بڑی ہو رہی تھی اور اتنی بڑی کہ زمین سے خط کر رہی تھی، میں نے بھی اسے پہنا تو مجھے بھی بڑی ہوئی، لیکن وہی زرہ حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے جسم پر بالکل رسول خدا کے جسم کی طرح مناسب ہوگی ،اور اس زرہ کا نچلا حصہ کوتاہ ہے اس طرح سے کہ ہر دیکھنے والا گمان کرے گا کہ اسے موڑ دیا گیا ہے “(۴)

صلت کے بیٹے ریان کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا : کیا آپ صاحب امر ہیں ؟تو آپ نے کہا : میں امام اور صاحب امر ہوں، لیکن نہ وہ صاحب امر جو زمین کو

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۳

(۲)بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۳

(۳)ملاحم ،ابن طاوس، ص۷۳؛کنزل العمال، ج۱۴، ص۵۷۶

(۴)ابن حماد، فتن، ص۱۰۲


عدل و انصاف سے بھر دے گا؛ جب کہ ظلم و ستم سے بھرچکی ہوگی میں کس طرح وہ صاحب امر ہوں گا جب کہ میرے جسم کی ناتوانی دیکھ رہے ہو؟ حضر ت قائم وہ ہیں کہ جب ظہور کریں گے، توبوڑھوں کی عمر ہوگی لیکن صورت جوانوں کی سی ہوگی ، قوی اور تندرست جسم کے مالک ہوں گے، کہ اگر کسی بڑے سے بڑے درخت پر ہاتھ ماردیں گے تو وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا، اور اگر پہاڑوں کے درمیان آواز دیں گے تو چٹان چٹخ جائیں گے،اور پہاڑ نیز اپنی جگہ چھوڑدیں گے جناب مو سیٰ(علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ان کے ساتھ ہوگی“(۱)

ب)اخلاقی کمالات

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) دیگر معصومین( علیہم السلام) کی مانند مخصوص اخلاقی کمالات کے مالک ہیں، یعنی حضرات معصومین( علیہم السلام) کامل انسان اور بشریت کے لئے نمونہ اور اعلیٰ حد تک نیک اخلاق کے مالک ہیں۔

حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) لوگوں میں سب سے زیادہ دانا ، حلیم، بردبار اور پر ہیز گار ہیں وہ تمام انسانوں سے زیادہ بخشش کرنے والے، عابد اوربہادر ہیں “(۲)

۱ ۔خوف خدا

کعب کہتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا خدا کے سامنے خوف و ہراس عقاب کی طرح ہے۔(۳) یعنی جس طرح اپنے پیروں کے سامنے سر جھکائے رہتا ہےشاید کعب کی مراد

____________________

(۱)بصائر الدرجات، ج۴، ص۱۸۸؛ اثبات الہداة ،ج۳، ص۴۴۰و۵۲۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۱۹

(۲)کمال الدین، ج۲، ص۴۸؛اعلام الوری، ص۴۰۷؛کشف الغمہ، ج۳ ،ص۴۱۳؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۲۲؛ وافی ،ج۲، ص۱۱۳؛اثبات الہداة، ج۳ ،ص۴۷۸

(۳)ینابیع المودة، ص۴۰۱؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۳۷؛احقا ق الحق ،ج۱۳، ص۳۶۷


یہ ہوکہ اگر چہ عقاب طاقتور پرندہ ہے لیکن عقاب کی تمام قوت کا دارو مدار پروں پر ہے اگرکسی وقت اس کے پر اس کی مدد نہ کریں تو آسمان سے زمین پر گر پڑے گا حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) بھی الٰہی قدرت مند رہبر ہیں، لیکن اس قدرت کا سر چشمہ اللہ کی ذات ہے ،اگر خداوند عالم کسی وقت آپ کی مدد نہ کرے، تو کار کردگی کی قوت باقی نہیں رہے گی، اس وجہ سے حضرت خدا وندعالم کے سامنے خاضع و خاشع ہیں۔

ابن طاووس کی نقل کے مطابق(۱) حضرت کا خشوع خدا وندعالم کے سامنے نیزوں کے دو طرف سے تشبیہ دیا گیا ہے نیزہ کی کار کردگی اور نشانہ پر اس کا لگنا دوکنارے سے تعلق رکھتا ہے جودو پروں کے مانند ہے کہ اگر ایک سرا ٹیڑھا ہواتو نیزہ خطا کرجائے گا۔

شاید ا س سے مراد یہ ہو کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی قدرت خدا وند عالم سے ہے اور خد اوند عالم کی مدد سے تعلق رکھتی ہے۔

۲ ۔زہد

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور میں کیوں جلد بازی کرتے ہو؟ خدا جانتا ہے کہ آپ کا لباس معمولی ،اور کھر درا، غذا نان جو، حکومت، تلوار کی حکومت ہے، اور موت تلوارکے سایہ میں ہے“(۲)

عثمان بن حماد کہتے ہیں :ہم امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی بزم میں تھے کہ ایک شخص نے حضرت سے عرض کی: حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ایسا معمولی لباس پہنتے تھے جس کی

____________________

(۱)ابن حماد، فتن، ص۱۰۰؛عقد الدرر، ص۱۵۸؛ابن طاوس ،ملاحم ،ص۷۳؛متقی ہندی، برہان، ص۱۰۱

(۲)ابن طاوس، ملاحم ،ص۷۳


قیمت چار درہم تھی لیکن آپ قیمتی لباس پہنتے ہیں ! حضرت نے جواب دیا: ”حضرت علی (علیہ السلام) نے ایسا لباس اس زمانے میں زیب تن کیا ہے کہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں تھا، ہر زمانے کا عمدہ لباس اس زمانے کے لوگوں کا ہے ،جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو حضرت علی (علیہ السلام) کا لباس پہنیں گے، اور انھیں کی سیاست اور ڈگر پر چلیں گے۔(۱)

۳ ۔ لباس

روایات میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا مخصوص لباس مذکور ہے کبھی رسول اللہ کے لباس کی بات آتی ہے تو کبھی جناب یوسف (علیہ السلام )کے لباس کی گفتگو ہوتی ہے۔

شعیب کے بیٹے یعقوب کہتے ہیں : امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:” کیا تم نہیں چاہتے کہ میں تمہیں وہ لباس دیکھاوں جو حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے وقت زیب تن کریں گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں دیکھنا چاہتاہوں، حضرت نے صندوقچہ منگوایا، اور اسے کھولا، اورکرباسی(روئی کے دھاگہ سے بناہوا) لباس نکالا اور اسے کھولا تو اس کے بائیں طرف ایک خون کا دھبّہ تھا۔

امام (علیہ السلام) نے کہا:” یہ رسول خدا کا لباس ہے، جس دن حضرت کے اگلے چار دانت (جنگ احد) میں شہید ہوئے تھے حضرت نے اسے پہنا تھا، اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) یہی لباس پہنے ہوئے قیام کریں گے، میں نے اس خون کو چوما اور آنکھوں سے لگایا، پھر حضرت نے لباس تہہ کر کے اٹھا لیا “(۲)

مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جناب یوسف کے لباس کے بارے میں جانتے ہو؟ میںنے کہا: نہیں تو حضرت نے کہا: ”جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام )

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۳۳ و۲۳۴تھوڑے سے فرق کے ساتھ ؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۴

(۲)کافی ،ج۶،ص۴۴۴؛بحا رالانوار، ج۴۱،ص۱۵۹،و ج۴۷ ،ص۵۵


کے لئے آگ روشن کی گئی، تو جبرئیل (علیہ السلام )نے ایک لباس لا کر انھیں پہنایا جو سردی و گرمی سے حفاظت کرتا ہو،اور جب ان کی وفات نزدیک ہوئی ،تو انھوں نے دعا کی اور جلد میں رکھ کر حضرت اسحاق کے بازو پر باندھ دیا،انھوں نے یعقوب(علیہ السلام)کو دیااور جب جناب یوسف (علیہ السلام ) پیدا ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام )نے یوسف(علیہ السلام) کے بازو پر باندھ دیا یوسف بھی حادثات سے گذرنے کے بعد مصر کے باد شاہ ہوئے،جب جناب یوسف نے اسے وہاں کھولا توحضرت یعقوب نے اس کی خوشبو محسوس کی، یہ خدا وند کی گفتگو قرآن میں ہے کہ یوسف کی یعقوب کے قول کے مطابق حکایت کرتا ہے،کہ میں یوسف کی خوشبو محسو س کر رہا ہوں میری طرف خطا کی نسبت نہ دو“(۱) یہ وہی لباس ہے جو جنت سے آیا ہے“

میں نے عرض کیا: میں قربان جاوں ؛وہ لباس کس کے ذریعہ آیا ہے؟ کہا: اس کے اہل کے ہاتھ؛لباس ہمارے قائم کے ہمراہ ہے جب وہ ظہور کریں گے “پھر کہا:ہر نبی جسے علم و دانش یا کوئی اور چیز بعنوان ارث ملی ہے وہ محمد تک پہنچی ہے۔“(۲)

۴ ۔اسلحہ

رسول خدا نے حضرت علی (علیہ السلام) سے کہا:” جب ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے اور ان کی ماموریت کا وقت آجائے گا تو ان کے ساتھ ایک تلوار ہوگی جو انھیں آوازدے گی: اے خدا کے ولی ! قیام کیجئے اور اپنے دشمنوں کو قتل کیجئے “(۳)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۴۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۴۲؛حلیة الابرار ،ج۲،ص۵۷۵؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۵۵۳

(۲)سورہ یوسف، آیت ۹۴

(۳)کافی، ج۱،ص۲۳۲؛کمال الدین ،ج۲، ص۶۷۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۷


وقت رسول خدا کا وہی لباس زیب تن کریں گے جو انھوں نے جنگ احد میں زیب تن کیا تھا اور وہی زرہ و عمامہ بھی ہوگا ،جو آنحضرت نے پہنا تھا اور ذوالفقار جو رسول خدا کی تلوار ہے ہاتھ میں لیں گے، تلوار آٹھ ماہ تک بے دینوں کے کشتوں کے پشتے لگائے گی“(۱)

جابر جعفی کہتے ہیں : امام محمد باقر(علیہ السلام) نے فرمایا:”امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) مکہ سے رکن و مقام کے درمیان اپنے وزیر اور ۳۱۳ / اصحاب کے ساتھ ظہور کریں گے، اور رسول خدا کا دستور العمل ،پر چم اوراسلحہ ان کے ہاتھ میں ہوگا ،اس وقت منادی آسمان مکہ سے حضرت کے نام اور آپ کی ولایت کے ساتھ آواز دے گا ؛اس طرح سے کہ تمام اہل زمین اس نام کو سنیں گے، آپ کا نام حضرت محمد کا نام ہے“(۲)

۵ ۔امام اور صورت کی شناخت

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ انسان کی اندرونی حالت چہروں سے پہچان لیں گے، اور نیک افراد کو بد کردار سے جدا کردیں گے، اور فساد کرنے والوں کو اسی شناخت کے مطابق کیفر کردار تک پہنچا ئیں گے۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، تو کوئی ایسا نہیں بچے گا جسے حضرت پہچانتے نہ ہوں کہ یہ نیک انسان ہے یا فاسد و بد کردار ۔“(۳)

____________________

(۱)کفایة الاثر، ص۲۶۳؛بحار الانوار، ج۳۶،ص۴۰۹ ؛عوالم ،ج۱۵،بخش۳،ص۲۶۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۶۳

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۳۰۸؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۲۳؛ارشاد، ص۲۷۵

(۳)الاصول الستة عشر، ص۷۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۸۸؛بحار الانوار، ج۲۶، ص۲۰۹؛مستدرک الوسائل، ج۱۱، ص۳۸


نیز فرماتے ہیں :”جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو ہمارے دشمنوں کو ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، اور اس وقت ان کے سرو پیر کو پکڑیں گے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انھیں قتل کر دیں گے “(۱)

اسی طرح فرماتے ہیں:” جب قیام کریں گے تو دوست و دشمن کو اپنی قوت شناخت سے الگ کردیں گے “

معاویہ دھنی کہتے ہیں : امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے آیہ مجرمین جس میں ہے کہ وہ اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے تو پھر ان کے سر اور پیر پکڑے جائیں گے ۔(۲)

امام (علیہ السلام) نے کہا: اے معاویہ! اس سلسلے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا: ان کا خیال ہے کہ خدا وند عالم قیامت کے دن گناہگاروں کو ان کے قیافے سے پہچان لے گا، اور سر کے بال و پاوں پکڑ کر جہنم میں ڈال دے گا،امام (علیہ السلام) نے کہا: خداوند عالم کو کیا ضرورت ہے کہ انھیں ان کے چہروں سے پہچانے جب کہ اسی نے انھیں پیدا کیا ہے“میں نے کہا: پھر آیت کے کیا معنی ہیں ؟ آپ نے کہا: جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو خدا وند عالم انھیں چہرہ شناسی کا علم عطا کرے گا،اور حضرت حکم دیں گے کہ کافروں کو سر اور پیر پکڑ کر ان پر سخت ضرب لگائی جائے“(۳)

____________________

(۱)کما ل الدین، ج۲، ص۶۷۱؛خرائج ،ج۲، ص۹۳۰؛اثبات الہداة، ج۳، ص۴۹۳؛بحار الانوار، ج۵۱،ص۵۸و ج۵۲، ص۳۸۹

(۲)احقا ق الحق،ج۱۳،ص۳۵۷؛ملاحظہ ہو:نعمانی، غیبة،ص۲۴۲؛کمال الدین،ج۲، ص۳۶۶؛ ارشاد، ج۵، ص۳۶؛ اعلام الوری ،ص۴۳۳؛کشف الغمہ، ج۳، ص۲۵۶

(۳)(اس وقت)گناہگار افراد اپنی علامتوں سے پہچا ن لئے جائیں گے تو پیشانی کے پٹے اور پاوں پکڑے (جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔سورہ رحمن۵۵، آیت۴۱


۶ ۔کرامات

اگر چہ آخر زمانہ میں لوگ قوی حکومت کے بروئے کار آنے سے جب کہ وہ مظلوموں کے حامی کے انتظار میںوقت شماری کریں گے، لیکن بہت ساری حکومتوں سے خوشحال نہیں ہوں گے ، اور ہر گروہ اور پارٹی کی بات نہیں مانیں گے،سچی بات یہ ہے کہ وہ کسی کو قادر نہیں سمجھتے جو دنیا کے نظام کو درست کر سکے اور پُر آشوب دنیا کو ٹھکانے لگاسکے۔

اس لحاظ سے جو سماج کے نظم بر قرار ہونے اور دنیا میں امنیت کی وسعت کے دعویدار ہیں، انھیں مافوق قوت کا مالک ہونا چاہئے اس بات کا اثبات کرامتوں کے ظاہر کرنے اور خارق العادة کاموں کے انجام دینے پر ہے، شاید اس لئے ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ابتدائے ظہور میں معجزات و کرامات سے کام لیں گے،اگر اڑتے پرندوں کو آواز دیں گے تووہ فوراً نیچے آکر حضرت کے اختیار میں آجائیں گے، خشک لکڑی کو اگر بنجر اور سخت زمین میں گاڑیں گے تو بلا فاصلہ وہ ہری بھری ہو جائے گی اوراس میں شاخ و پتے نکل آئیں گے ۔

ان کاموں سے لوگوں پر ثابت ہو جائے گا کہ میرا ایسی شخصیت سے سامنا ہے جس کے اختیا ر میں زمین و آسمان ہیں ،یہ کرامتیں در حقیقت ان لوگوں کے لئے ایک نوید اور مژدہ ہوں گی جو سالہاسال اور صدیوں سے آسمان و زمین کے نیچے مظلوم و مغلوب اور دبے ہوں گے اورلاکھوں قربانی دینے کے باو جود قادر نہ ہو سکے ہوں گے جو ایسے حملوں کے لئے رکاوٹ بن سکے، لیکن اس وقت خود کو ایک ایسی شخصیت کے سامنے پائیں گے جس کے اختیارمیں زمین و آسمان و ما فیھا ہوں گے ۔

جو لوگ کل تک قحط کی زندگی گذار رہے تھے حد تو یہ تھی کہ ابتدائی ضرورتوں کو بھی پورا نہ کر سکتے ہوں گے، اور خشک سالی اور زراعت نہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی بحران کا شکار ہوں گے، آج وہ لوگ ایسی شخصیت کے سامنے ہوں گے جس کے ادنیٰ اشارہ سے زمین سر سبز و شاداب ہو جائے گی اور پانی و بارش کا ذخیرہ ہو جائے گا۔


جو لوگ لا علاج بیماریوں سے دوچار ہوں گے، آج اس شخصیت کا سامنا کریں گے جو لا علاج بیماریوں کا علاج کرے گا اور مردوں کو حیات دے گا یہ سارے معجزات و کرامات ہیں جو اس ذات کی قوت و صداقت گفتار کو ثابت کریں گی ۔

خلاصہ یہ کہ دنیا والے یقین کریں گے کہ یہ نوید دینے والا گذشتہ دعویداروں سے کسی طرح مشابہ نہیں ہے ،بلکہ یہ وہی نجات دینے والا ،اللہ کا واقعی ذخیرہ مہدی موعودہے ۔

کبھی حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کرامتیں سپاہیوں کے لئے ظاہر ہوں گی جو ان کے ایمان کو محکم اور اعتقاد کو راسخ کریں گی ،اور کبھی دشمنوں اور شک کرنے والوں کے لئے ہوں گی جو آنحضرت پر ان کے ایمان و اعتقاد کا سبب ہوگا۔

یہاں پر بعض معجزات و کرامات کو بیان کر رہا ہوں ۔

۱ ۔پرندوں کا بات کرنا

امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی راہ میں ایک سادات حسنی سے ملاقات کریں گے جس کے پاس بارہ۱ ۲/ ہزار سپاہی ہوں گے حسنی احتجاج کرے گا اور خودکو رہبری کا زیادہ حق دار سمجھے، گا حضرت اس کے جواب میں کہیں گے-”میں مہدی ہوں“حسنی ان سے کہے گا :کیا تمہارے پاس کوئی علامت اور نشانی ہے کہ میں بھی بیعت کروںحضرت آسمان پر اڑتے پرندے کی طرف اشارہ کریں گے تو پرندہ نیچے آجائے گا ،اور حضرت کے ہاتھوں پر بیٹھے گا پھر اس وقت قدرت خدا سے گویا ہوگا اور حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی امامت کی گواہی دے گا ۔


سید حسنی کے مزید اطمینان کے لئے حضرت سوکھی لکڑی زمین میں گاڑیں گے تو وہ سر سبز ہو جائے گی اور شاخ و پتے نکل آئیں گے، دوبارہ پتھر کے ٹکڑے کو زمین سے اٹھائیں گے اور ہلکے سے دباو سے اسے ریزہ ریزہ کر کے خمیر کی طرح نرم کر دیں گے ۔

سید یہ ساری کرامتیں دیکھنے کے بعد حضرت پر ایمان لائے گا،اور خود اپنی تمام فوج کے ساتھ حضرت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے گا،حضرت اسے فوج کے پہلے دستہ کا کمانڈر بنادیں گے“(۱)

۲ ۔پانی کا ابلنااور زمین سے غذا کا حاصل کرنا

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” جب امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) شہر مکہ میں ظہور کریں گے اور وہاں سے کو فہ کا قصد کریں گے، تو اپنی فوج میں اعلان کریں گے کہ کوئی اپنے ہمراہ کھانا پانی نہیں لے گا، حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کا پتھر جو اپنے ہمراہ صاف و شفاف پانی کا بارہ چشمے رکھتا ہے ،لئے ہوں گے، راستے میں جہاں بھی رکیں گے اس کو نصب کر دیں گے، زمین سے پانی کے چشمے ابل پڑیں گے، اور سارے بھوکے اور پیاسے افراد اس سے شکم سیر ہوجائیں گے۔

راستے میں سپاہیوں کی خوراک کا بندوبست اسی طرح سے ہے، پھر جب نجف پہنچ جائیں گے وہاں اس پتھر کے نصب کرنے سے ہمیشہ کے لئے پانی اور دودھ ابلتا رہے گا، جو بھوکے پیاسوں کو سیراب کرے گا ۔(۲)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، تو رسول خدا کا پرچم ،سلیمان کی انگوٹھی، عصا اور سنگ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ہمراہ ہوگا،پھر حضرت کے حکم سے سپاہیوں کے درمیان اعلان ہوگا کہ کوئی اپنے کھانے پینے نیز جانوروں کے چارے کا انتظام نہ کرے ۔ بعض لوگ اپنے ساتھیوں سے کہیں گے :کیا وہ ہمیں ہلاک کرنا اور

____________________

(۱)اختصاص ،ص۳۰۴؛نعمانی ،غیبة، ص۱۲۸؛بصائر الدرجات ،ص۳۵۶؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۱؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۴۳۱؛المحجة، ص۲۱۷؛ینابیع المودة ،ص۴۲۹

(۲)عقد الدرر ،ص۹۷،۱۳۸،۱۳۹؛القول المختصر ،ص۱۹ ؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۵۸


ہماری سواریوں کو بھوکا پیاسا مارنا چاہتے ہیں ،پہلی جگہ پہنچتے ہی حضرت پتھر زمین میں نصب کریں گے، اور فوج کے کھانے پینے نیز چوپایوں کے چارے کاا نتظام ہو جائے گا، شہر نجف پہنچنے تک اس سے استفادہ کرتے رہیں گے ۔(۱)

۳ ۔طی الارض اور سایہ کا فقدان

امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو زمین نور الٰہی سے روشن ہوجائے گی، اور حضرت مہدی کے قدموں کے نیچے تیزی سے آگے بڑھے گی، آپ تیزی سے راستہ طے کریں گے اورآپ وہ ہیں کہ جس کا سایہ نہ ہوگا۔(۲)

۴ ۔انتقال کا ذریعہ

امام محمد باقر (علیہ السلام) نے سورہ نامی شخص سے کہا :”ذوالقرنین کو اختیار دیا گیاکہ نرم و سخت دو بادلوں میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، انھوں نے نرم بادل کا انتخاب کیا، سخت حضرت صاحب الامر کے لئے ذخیرہ رہ گیا ،سورہ نے پوچھا : سخت بادل کس لئے ہے؟حضرت نے کہا جن بادلوںمیں چمک۔ گرج،کڑک اور بجلی ہوگی جب ایسا ابرہوگا تو تمہارے صاحب الامر اس پر سوار ہیں، بے شک آپ بادل پر سورا ہوں گے، اور اس کے ذریعہ آسمان کی بلندی کی طرف جائیں گے، اور سات آسمان و زمین کی مسافت طے کریں گے،وہی پانچ زمینیں جو قابل سکونت ہیں اور۲ / ویران ہیں۔(۳)

____________________

(۱)بصائر الدرجات ،ص۱۸۸؛کافی ،ج۱،ص۲۳۱؛نعمانی، غیبة، ص۲۳۸؛خرائج، ج۲، ص۶۹۰؛نورالثقلین ،ج۱، ص۸۴؛بحار الانوار، ج۱۳، ص۱۸۵وج۵۲،ص۳۲۴

(۲)کمال الدین، ص۶۷۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۱؛وافی، ج۲، ص۴۶۵

(۳)کمال الدین، ص۳۷۲؛کفایة الاثر، ص۳۲۳؛اعلام الوری، ص۴۰۸؛کشف الغمہ، ج۳ ، ص۳۱۴؛فرائد السمطین، ج۲، ص۳۳۶؛ینابیع المودة، ص۴۸۹؛نور الثقلین ،ج۴،ص۴۷؛بحار الانوار، ج۵۱،ص۱۵۷؛ملاحظہ ہو:کفایة الاثر، ص۳۲۴؛ احتجاج، ج۲، ص۴۴۹؛اعلام الوری، ص۴۰۹؛خرائج، ج۳، ص۱۱۷۱؛مستدرک الوسائل ،ج۲،ص۳۳


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں - :”جب خدا وند عالم نے ذوالقرنین کو سخت و نرم بادلوں کے درمیان ایک کا اختیا ر دیا، تو انھوں نے نرم کو اختیار کیا، یہ وہی ابر ہے جس میں بجلی اور کڑک نہیں پائی جاتی اور اگر سخت بادل کا انتخاب کرتے تو انھیں اس سے استفادہ کی اجازت نہیں ملتی، اس لئے کہ خدا وندعالم نے سخت بادل کو حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے لئے ذخیرہ کیا ہے ۔(۱)

۵ ۔زمانے کی چال میں سستی

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں:” جب حضرت امام(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو کوفہ کی سمت حرکت کریں گے، پھر وہاں سات سال حکومت کریں گے جس کا ہر سال۱ ۰/ سال کے برابر ہوگا، پھر اس کے بعد جو اللہ کا ارادہ ہوگا انجام دیں گے، کہا گیا سال کس طرح طولانی ہوگا؟ امام نے کہا: کہ خداوند عالم شمسی اور اس کے مدیر فرشتوں کو حکم دے گا کہ اپنی رفتار کم کرو اس طرح سے ایام وسال طولانی ہو جائیں گے “

کہتے ہیں کہ اگر ان کی رفتار میں معمولی سے بھی تبدیلی ہوئی تو آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوجائیں گے تو امام نے جواب دیا: یہ قول مادہ پرستوں اور منکران خدا کا ہے لیکن مسلمان (جو خداوندعا لم کو اس کا گردش دینے والا جانتے ہیں) ایسی بات نہیں کہتے “(۲)

۶ ۔قدر ت تکبیر

کعب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ذریعہ شہر قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں کہتا ہے: حضرت ،اپنا پر چم زمین میں رکھ کر پانی کی طرف وضو کرنے نماز صبح کے لئے جائیں گے، پانی حضرت سے دور ہو جائے گا ،امام پرچم اٹھا کر پانی کے طرف دوڑیں گے تاکہ حضرت کا اس گوشہ

____________________

(۱)مفید ،اختصاص، ص۱۹۹؛بصائر الدرجات، ص۴۰۹ ؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۲۱

(۲)اختصاص، ص۳۲۶؛بحارالانوار،ج۵۲،ص۳۱۲؛غایة المرام، ص۷۷


سے گذر ہو جائے پھر اس وقت پر چم زمین میں رکھ دیں گے، اور سپاہیوں کو آواز دیں گے اور کہیں گے:اے لوگو! خدا وند عالم نے دریا تمہارے لئے بنائے ہیں ،جس طرح بنی اسرائیل کے لئے شگاف کیا تھا پھر فوجی دریا سے پار ہو کر شہر قسطنطنیہ کے مقابل کھڑے ہوجائیں گے، سپاہی تکبیر کی آواز بلند کریں، اور شہر کی دیواریں ہلنے لگیں گی، دوبارہ تکبیرکہیں گے پھر دیوار ہلنے لگے گی، جب تیسری بار تکبیر کی آواز بلند ہوگی تو بارہ برجی محفوظ دیواریں زمین بوس ہو جائیں گی ۔(۱)

رسول خدا فرماتے ہیں :”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قسطنطنیہ کے سامنے اتریں گے، اس وقت اس قلعہ میں ۷/ دیواریں ہوگی، حضرت سات تکبیر کہیں گے تو دیواریں زمین بوس ہوجائیں گی، اور بہت سارے رومی سپاہی کے قتل کے بعد وہ جگہ حضرت کے تحت تصرف آجائے گی اور کچھ گروہ اسلام لے آئیں گے “(۲)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”پھر حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے اصحاب تحریک جاری رکھیں گے، رومی کسی قلعہ سے نہیں گزریں گے مگر وہ ایک (لاالہ الااللہ)سے ڈھ(مسمار) جائے گا ،اس کے بعد شہر قسطنطنیہ سے قریب ہو جائیں گے، وہاں پر چند تکبیر کہیں گے، پھر اس کے پڑوس میں واقع دریا خشک ہو جائے گا، اور پانی زمین کی تہہ میں چلا جائے، گا اور شہر کی دیواریں بھی گر جائیں گی، وہاں سے رومیوں کے شہر کی جانب چل پڑیں گے، اور جب وہاں پہنچ جائیں گے، تو مسلمان تین تکبیر کہیں گے، تو شہر دھول اور ریت کی طرح نرم ہو کر اڑنے لگے گا۔(۳)

____________________

(۱)عقد الدرر، ص۱۳۸

(۲)العلل المناہیہ، ج۲،ص۸۵۵؛عقد الدرر، ص۱۸۰

(۳)عقد الدرر، ص۱۳۹


نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی تحریک جاری رکھیں گے یہاں تک کہ شہروں کو عبور کرتے ہوئے دریا تک پہنچ جائیں گے، حضرت کا لشکر تکبیر کہے گا، اس کے کہتے ہی دیواریں آپس میں ٹکرا کر گر جائیں گی“(۱)

۷ ۔پانی سے گذر

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : میرے باپ نے کہا: حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے توافواج کوشہر قسطنطنیہ تک روانہ کریں گے، اس وقت وہ خلیج تک پہنچ جائیں گے ، اپنے قدموں پر ایک جملہ لکھیں گے، اور پانی سے گذر جائیں گے، اور جب رومی اس عظمت اور معجزہ کو دیکھیں گے، توایک دوسرے سے کہیں گے جب امام زمانہ کے سپاہی ایسے ہیں تو خود حضرت کیسے ہوں گے ! اس طرح وہ دروازے کھول دیں گے، اور لشکر شہر میں داخل ہو جائے گا ،اور وہاں حکومت کرے گا“(۲)

۸ ۔بیماروں کو شفا

امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) پرچموں کو ہلاکر معجزات ظاہر کریں گے، اور خد وند عالم کے اذن سے ناپید اشیاء کو وجود میں لائیں گے،سفید داغ اور کوڑھ کے مریضوں کو شفادیں گے ،مردوں کو زندہ اور زندوں کو مر دہ کریں گے ۔(۳)

۹ ۔ہاتھ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کا عصا جناب آدم (علیہ السلام)سے متعلق تھا جو شعیب (پیغمبر) تک پہنچا ،اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام)

____________________

(۱)الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۱۶۱

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۱۵۹؛دلائل الامامہ، ص۲۴۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۵

(۳)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۶۹


ابن عمران کودیا گیا ،وہی عصا اب میرے پاس ہے، ابھی جلدی ہی اسے دیکھا ہے، تو وہ سبز تھا؛ ویسے ہی جیسے ابھی درخت سے الگ کیا گیا ہو، جب اس عصا سے سوال کیا جائے گا،تو جواب دے گا، اور وہ ہمارے قائم کے لئے آمادہ ہے، اور جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام)نے اس سے انجام دیا ہے، وہی حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس سے انجام دیں گے، اور اس عصا کو جو بھی حکم ہوگا انجام دے گا ،اور جہاں ڈال دیا جائے گاجادوکو نگل جائے گا “(۱)

۱۰ ۔بادل کی آواز

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : آخر زمانہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو بادل آپ کے سر پر سایہ فگن ہو کر جہاں آپ جائیں گے آپ کے ہمراہ وہ بھی جائے گا، تاکہ حضرت کی سورج کی تمازت سے حفاظت کرے، اور ببانگ دھل آواز دے گا کہ یہ مہدی ہیں “(۲)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے بقول نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی نبی اور وصی کا معجزہ باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ خدا وند عالم اسے حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہاتھوں ظاہر کر دے گا، تاکہ دشمنوں پر حجت تمام ہو جائے “(۳)

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۲،ص۶۷۳؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۱۸،۳۵۱؛کافی، ج۱، ص۲۳۲

(۲)تاریخ موالید الائمہ، ص۲۰۰ ؛کشف الغمہ، ج۳،ص۲۶۵؛الصراط المستقیم ،ج۲، ص۲۶۰؛بحار الانوار، ج۵۱، ص۲۴۰؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۶۱۵؛نوری ،کشف الاستار، ص۶۹

(۳)خاتون آبادی، اربعین ،ص۶۷؛اثبات الہداة، ج۳،ص۷۰۰


تیسری فصل :

امام کے سپاہی

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے سپاہی مختلف قوم وملت پر مشتمل ہوں گے، اور قیام کے وقت ایک خاص انداز میں بلائے جائیں گے ،جو لوگ پہلے سے کمانڈر معین کئے جاچکے ہوں گے، لشکر کی رہنمائی اور جنگی طریقوں کے بتانے کی ذمہ داری لے لیں گے جو سپاہی حضرت کے لشکر میںخاص شرائط سے قبول کئے گئے ہوں گے وہ خود بخود خصو صیت کے مالک ہوں گے ۔

اس فصل میں اس موضوع سے متعلق روایات ملاحظہ ہوں۔

الف) لشکر کے کمانڈر

روایات میں ایسے لوگوں کا نام ہے جو یا تو اس عنوان سے نام ہے جو خاص فوجی مشق کریں گے ،یا کچھ لشکر کی کمانڈری کریں گے،چنانچہ اس حصے میں ان کے اسماء اور کار کردگی بیان کریں گے ۔

۱ ۔حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

امیر المو منین (علیہ السلام) ایک خطبہ میں فرماتے ہیں : اس وقت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کو دجّال کے خلاف حملے میں اپنا جانشین بنائیں گے جناب عیسیٰ (علیہ السلام) دجا ل کو شکست دینے کے لئے روانہ ہوں گے، دجال وہ ہے جو پوری دنیاپراپنا تسلط جما کے کھیتوں کو اورا نسانی نسل کو جمع کر کے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دے گا، جو قبول کر لے گا،وہ اس کی عنایتوں کا مرکز ہوگا، اور جو انکار کردے گا، اسے وہ قتل کردے گااورمکہ ، مدینہ اوربیت المقدس کے علاوہ پوری کائنات کو درہم و برہم کر دے گا، اور جتنی ناجائز اولادہیں اس کے لشکر سے ملحق ہو جائیں گی۔


دجال حجاز کی سمت حرکت کرے گا،اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے”ہرشا“میں اس سے ملاقات ہوگی تو دردناک صدا بلند کریں گے، اور ایک کاری ضرب اسے لگائیں گے، اور اسے آگ کے شعلوں میں پگھلادیں گے، جس طرح موم آگ میں پگھلتی ہے“(۱)

ایسی ضرب جس سے دجال پگھل جائے یہ اس زمانے کے جدید ترین اسلحوں کے استعما ل سے ہوگا ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اعجاز کی حکایت کرے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت میں بیان ہوا ہے: آپ اس درجہ ہیبت رکھتے ہوں گے کہ دشمن دیکھتے ہی موت کو یاد کرنے لگے گا، یا یہ کہوں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی جان کا قصد کر لیا ہے ۔(۲)

۲ ۔شعیب بن صالح

حضرت امیرالمو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” کہ سفیانی اور کالے پرچم والے ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے، جب کہ ان کے درمیان ایک بنی ہاشم کا جوان ہوگا جس کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر سیاہ نشان ہوگا ،اور لشکر کے آگے آگے قبیلہ بنی تمیم سے شعیب بن صالح ہوں گے“ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ ضروری نہیں ہے کہ شعیب بن صالح امام کے اصحاب ہی میں ہوں لیکن ہم اس کا جواب اس طرح دیں گے کہ دوسری روایت اس بات پر قرینہ ہے کہ وہ امام کے اصحاب میں ہیں(۳)

حسن بصری کہتے ہیں:سرزمین رے میں شعیب بن صالح نامی شخص جس کے چار سبز شانے ہوں گے، اور داڑھی نہ ہوگی خروج کرے گا، اور چار ہزار کا لشکر اس کے ماتحت ہو گا ،ان کے

____________________

(۱)الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۱۶۷

(۲)ابن حماد، فتن ،ص۱۶۱

(۳)ابن حما د، فتن، ص۸۶؛عقد الدرر، ص۱۲۷ ؛کنزل العمال ،ج۱۴، ص۵۸۸


لباس سفید اور پر چم سیاہ ہوں گے، وہ لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے مقدمة الجیش میں سے ہوں گے۔(۱)

عمار یاسر فرماتے ہیں : شعیب بن صالح حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کاعلمدار ہے۔(۲)

شبلنجی کہتے ہیں: حضرت مہدی کے لشکر کا پیشرو کمانڈر شعیب بن صالح ہے جو قبیلہ بنی تمیم سے ہوگا ،اور جس کی داڑھی کم ہوگی۔(۳)

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں : خراسان سے سفید پوش ،اورسیاہ کمر بند والے سپاہی چلیں گے، مقدمة الجیش کے علاوہ ایک کمانڈر شعیب بن صالح یا صالح بن شعیب کے نام سے ہوگا جو قبیلہ بنی تمیم سے ہے یہ لوگ سفیانی لشکر کو شکست دیکر، بھاگنے پر مجبور کریں گے، اس کے بعد بیت المقدس میں پڑاو ڈالیں گے ،اور حضرت مہدی کی حکومت کی بنیاد ڈالیں گے۔(۴)

۳ ۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے فرزند اسمعٰیل اور عبد ابن شریک

ابو خدیجہ کہتا ہے: امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :” میں نے خدا سے چاہا کہ میری جگہ(میرے بیٹے)اسماعیل(علیہ السلام) کو قرار دے ،لیکن خدا نے نہیں چاہا، اور اس کے بارے میں ایک دوسرا مقام عطا کیا، وہ پہلا شخص ہے جو دس لوگوں میں حضرت کے اصحاب

____________________

(۱)ابن طاوس ،ملاحم، ص۵۳؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۲۱۰

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۵۳؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۲۱۱

(۳)نور الابصار ،ص۱۳۸؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۲۱۱

(۴)ابن حماد ،فتن ،ص۸۴؛ابن المنادی، ص۴۷ ؛دارمی، سنن، ص۹۸؛عقد الدرر، ص۱۲۶؛ابن طاوس، فتن، ص۴۹


کے ساتھ ظہورکرے گا اور عبد اللہ بن شریک ان دس میں ایک ہے جو اس کاپرچم دار ہوگا۔(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” گویا میں عبد اللہ بن شریک کو دیکھ رہا ہوں جو سیاہ عمامہ پہنے ہوئے ہے، اور عمامہ کا دونوں سرا شانوں پر لٹک رہا ہے، اور چار ہزار سپاہیوں کے ہمراہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے آگے آگے پہاڑ کے دامن سے اوپر چڑھ رہا ہے، اور مسلسل تکبیر کہہ رہا ہے“(۲)

عبداللہ بن شریک امام باقر و امام صادق (علیہما السلام )کے حواریوں میں ہیں نیز حضرت امام سجاد و امام باقر (علیہما السلام)سے روایت بھی کی ہے یہ ان دونوں کے نزدیک مورد توجہ بھی تھے۔(۳)

۴ ۔عقیل و حارث

حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں:” حضرت مہدی لشکر کو تحریک کریں گے، تاکہ عراق میں داخل ہو جائیں ،جب کہ سپاہی آگے آگے اور آپ پیچھے پیچھے حرکت کر رہے ہوں گے، لشکر طلیعہ کا کمانڈر عقیل نامی شخص ہوگا ،اور پچھلے لشکر کی کمانڈری حارث نامی شخص کے ذمّہ ہوگی۔(۴)

۵ ۔جبیر بن خابور

امام جعفر صادق (علیہ السلام)حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:” یہ شخص (جبیر )جبل الاھواز پرچار ہزار اسلحوں سے لیس لشکر کے ساتھ ہم اہل بیت (علیہم السلام )کے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کا انتظار کررہے ہیں، پھر یہ شخص حضرت کے ہمراہ

____________________

(۱)الایقاظ من الھجعہ، ص۲۶۶؛کشی اختیار معرفة الرجال، ص۲۱۷؛ابن داود، رجال، ص۲۰۶

(۲)الایقاظ من الھجعہ، ص۲۶۶؛ملاحظہ ہو:بحار الانوار، ج۵۳،ص۶۷؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۶۱

(۳)مستدرک علم الرجال،ج۵،ص۳۴؛تنقیح المقال ،ج۲،ص۱۸۹

(۴)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۵۸


اورآپ کے ہمرکاب دشمنوں سے جنگ کرے گا۔(۱)

۶ ۔مفضل بن عمر

امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے مفضل سے کہا:” تم دیگر۴ ۴/ آدمیوں کے ساتھ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ہمراہ ہوگے، تم حضرت کے داہنے طرف امر و نہی کروگے ،اور اس زمانے کے لوگ آج کے لوگوں سے زیادہ تمہاری اطاعت کریں گے۔(۲)

۷ ۔اصحاب کہف

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: اصحاب کہف حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)

____________________

(۱)خرائج، ج۱،ص۱۸۵؛بحارالانوار ،ج۴۱، ص۲۶۹؛مستدرکات ،علم رجال الحدیث ،۲:۱۱۸

جبیر بن خابور کے بارے میں کافی تلاش و تحقیق کے باوجود شیعہ و سنی کتابوں میں درج ذیل مطلب کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جبیر بن خابور معاویہ کا خزانہ دار تھا، اس کی ایک ضعیف ماں تھی جو کوفے میں رہتی تھی ،ایک روز جبیر نے معاویہ سے کہا :میرا دل ماں کے لئے تنگ ہو رہا ہے ؛ اجازت دو،تا کہ اس کی زیارت کروں، اور جو میری گردن پر حق ہے ادا کروں ۔

معاویہ نے کہا :کوفہ شہر میں کیا کام ہے ؟وہاں ایک علی ابن ابی طالب نامی جادو گر ہے مجھے اطمینان نہیں ہے کہ تم اس کے فریب میں نہ آو ۔جبیر نے کہا مجھے علی سے کوئی سرو کار نہیں ہے، میں صرف اپنی ماں سے ملاقات اور اس کا کچھ حق ادا کرنے جارہا ہوں، جبیر اجازت لینے کے بعد عازم سفر ہوا، اس وقت کوفہ پہنچا جب حضرت علی جنگ صفین کے بعد شہر کوفہ میں گما شتے چھوڑے ہوئے تھے ،اور رفت و آمد کو کنٹرول کر رہے تھے، گماشتوں نے اسے پکڑ لیا، اور شہر لے آئے علی نے اس سے کہا :” خدا وندعالم کے خزانوں میں تو ایک ہے، معاویہ نے تم سے کہا ہے کہ میں جادوگر ہوں “جبیر نے کہا:خدا کی قسم معاویہ نے ایسا ہی کہا ہے ،حضرت نے کہا :تمہارے ہمراہ کچھ رقم تھی جسے عین التمر نامی علاقہ میں دفن کردی ہے، جبیر نے اس بات کی بھی تصدیق کی،پھر امیر المومنین نے امام حسن کو حکم دیا کہ اس کی مہمان نوازی کریں، دوسرے دن حضرت علی نے اپنے اصحاب سے کہا :یہ شخص جبل الاہواز میں “(باقی مطلب اصل متن میں موجود ہے)

(۲)دلائل الامامہ، ص۲۴۸؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۷۳


کی مدد کو آئیں گے۔(۱)

ب) سپاہیوں کی قومیت

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوج مختلف قوم وملت سے تعلق رکھتی ہوگی اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں کبھی عجم کا ان کے سپاہی میں نام آتا ہے، تو کبھی غیر عرب کا بعض روایتیں ملک اور شہر کا بھی نام بتاتی ہیں، کبھی خاص قوم کا جیسے بنی اسرائیل کے تائب لوگ ، مسیحی مومنین، اوررجعت یافتہ لائق افراد و۔

اس فصل میں اس سلسلے میں بعض روایات ذکر کریں گے۔

۱ ۔ ایرانی

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانیوں کی معتد بہ تعداد حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر میں ہوگی، کیونکہ روایات میں اہل رے ،خراساناورگنج ھای طالقان (طالقان کے خزانے) قمی، اوراہل فارس وکے ذریعہ تعبیر ہوئی ہے۔

امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” پرچم والی فوج جو خراسان سے قیام کرے گی کوفہ آجائے گی،اور جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) شہر مکہ میں ظہور کریں گے تو ان کی بیعت کرے گی۔(۲)

امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” غیر عرب اولاد میں امام قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے چاہنے والے ۳۱۳/ افراد ہوں گے“(۳)

____________________

(۱)حصینی، الہدایہ، ص۳۱؛ارشاد القلوب ،ص۲۸۶ ؛حلیة الابرار، ج۵، ص۳۰۳با تفسیر عیّاشی،ج۱، ص۳۲؛داود رقی، نجم بن اعین ،حمران بن اعین اور مسیر بن عبد العزیز جیسے ہیں جن کا روایات میں زندہ ہونے اور امام زمان (عج) کی خدمت میں حاضر ہونے کی طرف اشارہ ہے لہٰذا ہم آیندہ اس کی طرف اشارہ کریں گے

(۲)ابن حماد ،فتن ،ص۸۵؛عقد الدرر ،ص۱۲۹؛الحاوی للفتاوی ،ج۲،ص ۶۹

(۳)نعمانی ،غیبة، ص۳۲۵؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۴۷؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۶۹


عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں : رسول خدا نے فرمایا :” تمہاری طاقت (مسلمانوں کی) عجم کے ذریعہ ہوگی، وہ لوگ ایسے شیر ہیں جو کبھی جنگ سے فرار نہیں کریں گے، تمہیں (عربوں کو) قتل کریں گے اور لوٹ لیں گے “(۱)

حذیفہ بھی رسول خدا سے اسی مضمون کی روایت نقل کرتے ہیں ۔(۲) لیکن اس روایت کی دلالت میں شک و اشکال ہے، روایت کے مطابق ایک دن ایساآئے گا کہ ایرانی اسلام کی وسعت اور تم عربوں سے اسلام لانے کے لئے تلوار چلائیں گے، اور گردنیں اڑادیں گے، اس وقت عربوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی، اور سخت و دشوار حالات کا انھیں سامنا ہوگا۔

اگر چہ عجم غیر عرب کو کہا جاتا ہے لیکن قطعی طور پر ایرانیوں کو بھی شامل ہے، دوسری روایات کے مطابق ظہور سے قبل اور قیام کے وقت مقدمہ سازی اورراہ ہموار کرنے میں ایرانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اور زیادہ تعداد میں جنگ کے لئے آمادہ ہوں گے۔

حضرت علی (علیہ السلام) کے ایک خطبہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصروں کے اسماء شہر کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں: حضرت علی (علیہ السلام) نے ایک خطبہ کے ضمن میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ان ساتھیوں کا جو حضرت کے ساتھ قیام کریں گے شما ر کیا ،اور کہا:اھواز سے ایک آدمی شوشتر سے ایک، شیراز سے ۳ آدمی ،حفص ، یعقوب،علی نامی، اصفہان سے۴ / موسیٰ، علی،عبد اللہ و غلفان نامی،بروجرد سے ایک قدیم نامی، نہاوند سے ایک عبد الرزاق نامی، ہمدان سے تین(۳) جعفر، اسحق ،موسیٰ نامی ، اور قم سے دس آدمی جو اہل بیت رسول خدا کے ہمنام

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۵، ص۳۶۶

(۲)عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱،ص۳۸۴؛المعجم الکبیر، ج۷، ص۲۶۸ ؛حلیة الاولیاء، ج۳،ص۲۴؛فردوس الاخبار، ج۵،ص۴۴۵

(۳)احتمال ہے کہ قبیلہ ہمدان عرب کے قبیلوں میں سے ہے


ہوں گے، ایک دوسری حدیث میں۱ ۸/ آدمی مذکور ہیں۔شیروان سے۱،خراسان سے۱،زید نامی اور پانچ زید جو اصحاب کہف کے ہمنام ہوں گے ،آمل سے ۱ ،جرجان سے۱،دامغان سے۱،سرخس سے۱،ساوہ سے۱،طالقان سے۲ ۴ آدمی، قزوین سے۲،فارس سے۱، ابھر سے ۱ ،اردبیل سے۱، مراغہ سے ۳ ، خوئی سے۱، سلماس سے۱، آبادان سے ۳ ، کازرون سے ۱ ، آدمی ہوگا ۔

پھر حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) نے فرمایا :رسول خدا نے حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصروں کی تعداد ۳۱۳/ بیان کی ہے مانند یا ران بدر ۔اور فرمایا: خدا وند عالم انھیں مشرق و مغرب سے پلک جھپکنے سے پہلے کعبہ کے کنارے جمع کر دے گا۔(۱)

حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کے آغاز میں آپ کے مخصوص سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳ ہے جیسا کہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔

۷۲/ افرادداخل ایران کے شہروں سے ہوں گے اور اگر دلائل الامامة(۲) طبری کی نقل کے مطابق حساب کیا جائے یا ان شہروں کے نام کے اعتبار سے جو اس زمانے میں ایران میں شمار ہوتے تھے ایرانی سپاہیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو جائےگی ۔

اس روایت میں کبھی ایک شہر کا دوبار نام آیا ہے یا یہ کہ ایک ملک سے چند شہر کا نام ہے اس وقت ملک کا نام بھی مذکور ہے۔

روایت کے صحیح ہونے کی صورت میں اس وقت کی تقسیم اور نامگذاری کا پتہ دیتی ہے آج

____________________

(۱)ابن طاو س، ملاحم، ص۱۴۶

(۲)دلائل الامامہ ،ج۳۱۶


کی جغرافیائی تقسیم معیار نہیں بن سکتی ،اس لئے کہ نام بدل گئے ہیں کبھی ایک شہر کانام اس وقت ملک کا نام تھا موجود ہ جغرافیائی نقشہ پر ان شہروں کے نام کی مطابقت کرنے سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حضرت کے ناصرو یاور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔اور ممکن ہے کہ خصوصیت کے ساتھ لفظ ”افر نجہ“کا روایت میں ذکر یورپ زمین کی طرف اشارہ ہو، اگر یہ بات اور مطابقت صحیح ہوتو روایت کا جملہ ”لو خلیت قلبت“بامعنی ہو جائے گا اس لئے کہ زمین کسی وقت نیک افراد سے خالی نہیں رہے گی ورنہ نابود و فنا ہو جائے ۔

دوسری روایات میں خصوصاً شہروں کے نام مذکور ہیں کہ یہاں پر چند شہروں کے نام مانند قم ،خراسان اورطالقان پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

قم

امام جعفر صادق (علیہ السلام) ”قم“ کے بارے میں فرماتے ہیں : شہر قم پاکیزہ و مقدس ہے کیا تمہیں نہیں معلوم کہ وہ لوگ ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ناصر و مدد گار اور حق کی دعوت دینے والے ہیں ؟“(۱)

عفان بصری کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) مجھ سے فرماتے تھے: ” کیا تم جانتے ہو کہ شہر قم کو ”قم“ کیوں کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : خدا اور رسول اور آپ بہتر جانتے ہیں، توآپ نے کہا: ”اس لئے کہ قم کے لوگ قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ رہیں گے اور ان کی ثبات قدمی کے ساتھ مدد کریں گے “(۲)

خراسان

امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : رسول خدا نے فرمایا کہ خراسان میں

____________________

(۱)عن ابی عبد اللہ الصادق علیہ السلام ”تربة قم مقدسة اما و انھم انصار قائمنا و دعاة حقنا “؛ بحارالانوار،ج۶۰ ، ص۲۱۸

(۲)بحار الانوار، ج۶۰،ص۲۱۶


ایسے خزانے ہیں جو سونے چاندی کے نہیں ہیں بلکہ ایسے ہیں جن کا عقیدہ خدا او ر رسول پر ان کو ایک جگہ جمع کر دے گا۔(۱) شاید ان کی مراد یہ ہو کہ ان کا خدا ورسول پر اعتقاد اشتراکی ہو یا یہ کہ سب کو خداوند عالم مکہ میں یکجا کردے گا۔

طالقان

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” طالقان والوں کے لئے مژدہ و خو شخبری ہے! اس لئے کہ خدا وند عالم کا وہاں سونے اور چاندی کے علاوہ خزانہ ہے؛ یعنی وہاں مومنین ہیں جو خدا کو حق کے ساتھ پہچانتے اور وہی لوگ آخر زمانہ میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے یاور و مدد گار ہوں گے “(۲)

۲ ۔عرب

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ قیام کے بارے میں عربوں سے متعلق دو طرح کی روایتیں ہیں بعض حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے انقلاب میں ان کی عدم شرکت پر دلالت کرتی ہیں ،اور کچھ روایتیں عرب ممالک کے کچھ شہروں کا نام بتاتی ہیں کہ وہاں سے کچھ لوگ حضرت کی پشت پناہی میں قیام کریں گے۔

جو روایات عربوں کے شرکت نہ کرنے پر دلالت کرتی ہیں، اگر سند صحیح ہو تو بھی قابل توجیہ ہیں اس لئے کہ ممکن ہے کہ حضرت کے آغاز قیام میں مخصوص سپاہیوں میں عرب شامل نہ ہوں، جیسا کہ شیخ حر عاملی اپنی کتاب اثبات الہداة میں ایسی ہی تشریح کرتے ہیں ،اور جو عربی شہروں کے روایت میں نام بتائے گئے ہیں ممکن ہے وہاں سے غیر عرب سپاہی حضرت کی مدد کے لئے آئیں

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۴۷؛روضة الواعظین، ص۳۱۰؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۴

(۲)کشف الغمہ، ج۳ ،ص۲۶۸؛کنزل العمال، ج۱۴،ص۵۹۱؛شافعی ،بیان، ص۱۰۶؛ینابیع المودة ،ص۹۱


نہ وہ لوگ جو اصل عرب ہوں یا یہ کہ اس سے مراد عربی حکومتیں ہیں ۔اس طرح کی روایات پر توجہ کیجئے۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”عربوں سے بچو اس لئے کہ ان کا مستقبل خراب و خطر ناک ہے کیا ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا “(۱)

شیخ حر عاملی فرماتے ہیں : شاید امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی گفتگو کا مطلب یہ ہو کہ آغاز قیام میں وہ شرکت نہیں کریں گے، یا کنایہ ہو کہ اگر شرکت کریں گے تو ان کی تعداد کم ہوگی ۔

رسول خدا فرماتے ہیں : سر زمین شام سے شریف و بزرگ لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) سے متمسک ہوں گے، نیز شام کے اطراف سے مختلف قبیلے کے لوگو ں کے دل فولاد کے مانند ہیں، وہ لوگ شب کے پاکیزہ سیرت اور دن کے شیرہیں“(۲)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ۳۱۳/ افراد جنگ بدر والوں کی تعداد میں رکن و مقام (کعبہ) کے درمیان حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی بیعت کریں گے ،ان لوگوں میں بعض بزرگ مصر اور بعض نیک خو شام سے اور بعض پاکیزہ سیرت عراق سے ہوں گے، حضرت جب تک خدا کی مرضی ہوگی حکومت کریں گے“(۳)

نیزامام محمد باقر(علیہ السلام) شہر کوفہ کے بارے میں فرماتے ہیں :”جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو خدا وند عالم ۷۰/ ہزار افراد کو کوفہ کی پشت سے(نجف) جو سچے اور صادق ہوں گے مبعوث کرے گا وہ لوگ حضرت کے اصحاب و انصار میں ہوں گے“( ۴ )

____________________

(۱)طوسی، غیبة، ص۲۸۴؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۱۷؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۳۳

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۴۲؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۴

(۳)طوسی، غیبة، چاپ جدید، ص۴۷۷؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۴؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۱۸

(۴)ابن طاوس، ملاحم، ص۴۳؛ینابیع المودة، ج۲، ص۴۳۵؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۴۵۶


مختلف ادیان کے پیرو کار

مفضل کہتے ہیں: امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :” جب قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو کچھ لوگ کعبے کی پشت سے ظاہر ہوں گے جو درج ذیل ہیں۔ موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم سے۲ ۸/ آدمی۔جو حق کا فیصلہ کریں گے، ۷/ آدمی اصحاب کہف سے،یوشع جناب موسیٰ کے وصی ،مومن آل فرعون ،(۲)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” ارواح مومنین آل محمد کو رَضوٰی نامی پہاڑ میں مشاہدہ کریں گی، اور انھیں کے کھانے اور پانی سے شکم سیر ہوں گی، ان کی مجلسوں میں شرکت کریں گی، اور ان سے ہم کلام ہوں گی، جب تک کہ ہمارے قائم آل محمد(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام نہ کریں ،جب خدا وند عالم ان کو مبعوث کرے گا تو ،گروہ درگروہ آکر حضرت کی دعوت قبول کریں گی اور حضرت کے ساتھ آئیں گی، اس وقت باطل عقیدے والے شک و تردید میں پڑجائیں گے اور پارٹیاں ،احزاب،حمایت ، طرفداری اور پیروی کے دعویدار ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے، اور مقرب الٰہی (مومنین) نجات پائیں گے “(۳)

ابن جریح کہتے ہیں :میں نے سنا ہے کہ جب بنی اسرائیل کے بارہ ۱۲/ قبیلوں نے اپنے نبی کو قتل کر ڈالا ،اور کافر ہوگئے ،تو ایک قبیلہ اس رفتار سے پشیمان ہوا، اور اپنے گروہ سے بیزار ہو کر خداوند عالم سے خود کو دیگر قبیلوں سے جداہونے کی درخواست کی خدا وند عالم نے زمین کے

____________________

(۱)اس کا نام سماک بن خرشہ ہے، مرحوم مامقانی اس کے بارے میں کہتے ہیں : میں اسے اچھا سمجھتا ہوں (تنقیح المقال ، ج۲، ص۶۸)

(۲)روضة الواعظین، ج۲،ص۲۶۶

(۳)کافی ،ج۳ ،ص۱۳۱؛الایقاظ ،ص۲۹۰؛بحا رالاانوار ،ج۲۷،ص۳۰۸


نیچےایک سرنگ بنادی اور وہ لوگ ڈیڑھ سال تک اس میں چلتے رہے، یہاں تک کہ سرزمین چین کی پشت سے باہر آئے اور ابھی وہیں زندگی گذا ر رہے ہیں، وہ لوگ مسلمان ہیں، اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں ۔(۱)

بعض لوگ کہتے ہیں : جبرئیل شب معراج، رسول خدا کو ان کے پاس لے گئے، تو حضرت نے قرآن کے مکی سوروں میں سے دس سورہ کی تلاوت کیتو وہ لوگ ایمان لے آئے،اور آپ کی رسالت کی تصدیق کی ،رسول خدا نے انھیں حکم دیا کہ یہیں پر قیام کریں، اور سنیچر کو (یہودیوں کی تعطیل کے روز) اپنے کاموں کو ترک کردیں ،نماز برپا کریں، اور زکاة دیں، ان لوگوں نے بھی قبول کیا، اور اس وظیفے کو انجام دیا(۲) اور ابھی کوئی دوسرا فریضہ واجب نہیں ہوا تھا۔

ابن عباس کہتے ہیں : آیہ مبارکہ( وَ قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِیْ اِسْرَائِیِل اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَاْ جَاءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَاْ بِکُمْ لفیفاً ) (۳) اس کے بعد بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس زمین پر سکو نت اختیار کریں اور جب وعدہ آخرت آپہنچے گا تو وہاں سے تمہیں بلالیں گے،

لوگوں نے کہا ہے کہ آخری وعدہ سے مراد، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظہور ہے، کہ جب آنحضرت کے ساتھ بنی اسرائیل قیام کریں گے؛ لیکن ہمارے اصحاب روایت کرتے ہیں کہ وہ لوگ حضرت قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمراہ قیام کریں گے۔(۴)

____________________

(۱)بحا رالاانوار، ج۵۴،ص۳۱۶

(۲)بحا رالاانوار، ج۵۴،ص۳۱۶

(۳)سورہ اسراء (بنی اسرائیل ) آیت۱۰۴

(۴)بحا رالاانوار، ج۵۴،ص۳۱۶


آیہ شریفہ( وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰی اُمَةٌ یَهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهیں یَعْدِلُوْن ) ۔(۱) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے ایک ایک گروہ ہدایت پائے گا اور اس دین کی طرف لوٹ آئے گا (لوگوں کو دین اسلام اور قرآن کی دعوت دیں گے )

مرحوم مجلسی فرماتے ہیں: وہ امت کون ہے اس میں اختلاف نظر ہے۔

بعض جیسے ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ وہی قوم ہے جو چین کی طرف زندگی گذارتی ہے، نیز ان کے اور چین کے درمیان ریتیلے بیابان کا فاصلہ ہے، وہ لوگ کبھی حکم الٰہی میں تبدیلی نہیںلائیں گے۔(۲)

امام محمد باقر(علیہ السلام) ان کی وصف میں فرماتے ہیں :” وہ لوگ کسی مال کو اپنے سے مخصوص نہیں سمجھتے، مگر یہ کہ اپنے دینی بھائی کو اس میں شریک کریں ،وہ رات کو آرام اور دن کو کھیتی باڑی میں مشغول رہتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی ان کی سر زمین تک اور ان میں سے کوئی ہماری سر زمین تک نہیں آئے گا ،وہ لوگ حق پر ہیں۔(۳)

آیہ شریفہ( وَمِنَ الَّذِیْنَ قَاْلُوْا اِنَّانَصَاَرَیٰ اَخَذْنَاْ مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظَّامِمَّا ذُکِرُوْ ا بِه ) ۔(۴)

ان میں سے بعض نے کہا: ہم عیسائی ہیں ،تو ہم نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ کتاب الٰہی اور رسول خدا کے پیرو رہیں گے،ان لوگوں نے انجیل میں مذکور پند و نصیحت کو بھلا دیا اور حق کے مخالف ہوگئے ۔

____________________

(۱)سورہ اعراف، آیت۱۵۹

(۲)بحا رالاانوار ،ج۵۴،ص۳۱۶

(۳)بحا رالاانوار، ج۵۴،ص۳۱۶

(۴) سورہ مائدہ، آیت۱۴


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” نصاریٰ اس راہ و روش کو یاد کریں گے اور حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمراہ ہو جائیں گے “(۱)

۴ ۔ جابلقا و جَابَرسَا۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” خدا وند عالم کا مشرق میں جابلقا نامی شہر ہے اس میں بارہ ہزار سونے کے دروازے ہیں ایک درسے دوسرے در کا فاصلہ ایک فرسخ ہے ۔ہر در پر ایک برجی ہے جس میں۱ ۲/ ہزار پر مشتمل لشکر رہتا ہے وہ اپنے تمام جنگی سامان و ہتھیار و تلوار سے آمادہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے منتظر ہیں، نیز خدا وند عالم کا ایک شہر جابرسا نامی مغرب میں ہے (انھیں تمام خصوصیات کے ساتھ)اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں ‘۔ ‘(۲)

اس کے علاوہ متعدد روایات پائی جاتی ہیں کہ ان شہروں اور زمینوں کے علاوہ بھی شہروں کا وجود ہے کہ جہاں کے لوگ بھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے، مزید معلومات کے لئے بحار الانوار کی۵ ۴ ویں جلد کا مطالعہ کیجئے تمام روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) پوری دنیا میں آمادہ لشکر اور چھاونی رکھتے ہیں جو ظہور کے وقت جنگ کریں گے، لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ برسوں پہلے مر چکے ہیں،خدا وند عالم انھیں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی مدد کے لئے دو بارہ زندہ کرے گا،اور وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے ،اور رجعت کریں گے،(۳)

____________________

(۱)کافی ،ج۵ ،ص۳۵۲؛التہذیب ،ج۷، ص۴۰۵؛الوسائل الشیعہ، ج۱۴،ص۵۶؛نورا لثقلین، ج۱، ص۶۰۱؛تفسیر برہان، ج۱،ص۴۵۴؛ینابیع المودة، ص۴۲۲

(۲)بحار الانوار، ج۵۴،ص۳۳۴وج۲۶،ص۴۷

(۳)شیعوں کا عقیدہ ہے کہ اسی دنیا میں حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے بعد کچھ مومنین اور کچھ کفار دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور دنیامیں واپس آئیں گے اس سلسلے میں دسیوں روایتیں موجود ہیں، مرحوم آیة اللہ والد محترم نے شیعہ و رجعت کی دوسری جلد میں بسط و تفصیل سے گفتگو کی ہے آخر میں اس کتاب کو حجة الاسلام میر شاہ ولد نے ستارہ درخشاں کے نام سے ترجمہ کر کے شایع کیا ہے اور۱۵/ سال قبل اس ناچیز کی طرف سے رجعت اور نظر شیعہ کے عنوان سے ایک جزوہ شایع ہوا ہے جو والد مرحوم کی تقریروں اور نوشتوں سے مستفاد ہے


اورمشغول جہاد ہوجائیں گے۔(۱)

نیز حمران اور میسر کے بارے میں فرماتے ہیں : گویا حمران بن اعین اور میسر بن عبد العزیز کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگ تلوار ہاتھوں میں لئے صفاو مروہ کے درمیان لوگوں کو خطبہ دے رہے ہیں۔“(۲)

آیة اللہ خوئی معجم الرجال الحدیث میں ((یخبطان الناس ))شمشیر سے مارنے کی تفسیر کرتے ہیں ۔(۳)

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے داود رقی کی طرف نگاہ کرکے کہا: ”جو حضرت قائم کے انصار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھے ۔(یعنی یہ شخص حضرت کے ناصر وں میں ہے) اور دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔“(۴)

ج)سپاہیوں کی تعداد

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر اور ان کے ساتھیوں کے سلسلے میں مختلف روایتیں ہیں، بعض روایتیں ۳۱۳/ کی تعداد بتاتی ہیں بعض دس ہزار اور اس سے زیادہ بتاتی ہیں۔ یہاں پر دو نکتے قابل ذکر ہیں۔

____________________

(۱)الایقاظ من الھجعہ، ص۲۶۹

(۲)کشی، رجال، ص۴۰۲؛الخلاصہ ،ص۹۸؛قہبائی، رجال ،ج۲،ص۲۸۹؛الایقاظ، ص۲۸۴؛بحا رالانوار، ج۵۴، ص۴؛معجم رجال الحدیث ،ج۶ ،ص۲۵۹

(۳)داود کے ثقہ ہونے کے سلسلے میں علماء رجال نے شرح و بسط سے گفتگو کی ہے بعض نے اس روایت کو ضعیف اور بعض نے اسے موثق جانا ہے ،دوسری روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:”داود کا میرے نزدیک وہی مقام ہے جو مقداد کا رسول اللہ کے نزدیک تھا(تنقیح المقال، ج۲،ص۴۱۴)

(۴)الایقاظ ،ص۲۶۴


الف)روایت میں ۳۱۳/ کی تعداد حضرت کے خاص الخاص جو آغاز قیام میں حضرت کے ہمراہ ہوں گے اور وہی لوگ امام زمانہ کی عالمی حکومت میں کار گزاروں میں ہوں گے ؛(یعنی وزراء سفراؤ )

جیسا کہ مرحوم اردبلی کشف الغمہ میں فرماتے ہیں : دس ہزار والی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳/ میں محدود نہیں ہے ، بلکہ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو حضرت کے قیام کے آغاز میں ان کے ہمراہ ہوں گے۔

ب)چار ہزار ،دس ہزار سپاہیوں کی تعدادو جیسا کہ بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے حضرت مہدی(عج)کی پوری فوج کی تعداد نہیں ہے؛بلکہ جس طرح روایات سے استفادہ ہوتا ہے۔کہ ان میں سے ہر ایک شمارہ ان افواج کی نشاندہی کرتا ہے جو ظہور کے وقت یا جنگ کے کسی خاص موقع پر دنیا کے گوشہ سے شریک ہوں گے شاید اس کے علاوہ کوئی اور بات ہو جسے ہم نہیں جانتے اوروہ حضرت کے ظہور کے وقت روشن ہو۔

۱ ۔مخصوص افواج

ظبیان کے بیٹے یونس کہتے ہیں : میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں تھا کہ حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار کی بات چلنے لگی توآ پ نے کہا:” ان کی تعداد ۳۱۳/ ہے ان میں سے ہر ایک خودکو ۳۰۰ / میں سمجھتا ہے“(۱)

دو احتمال پائے جاتے ہیں:

۱ ۔ ہر ایک کی جسمی توانائی ۳۰۰/ سو کے برابر ہے جیسا کہ اُس وقت ہر مومن کی توانائی۴ ۰/ مرد کے برابر ہوگی،

۲ ۔ہر ایک ۳۰۰/ سو فوج رکھتے ہیں کہ خود کو ۳۰۰/ کی تعداد کے درمیان دیکھتے ہیں جو ان

____________________

(۱)دلائل الامامہ ،ص۳۲۰؛المحجہ، ص۴۶


کے ماتحت ہیں اس احتما ل کی بناء پر وہ لوگ ۳۰۰/ پر الگ الگ مشتمل فوج کی کمانڈری کریں گے ، اور احتمال ہے کہ وہی ظاہر لفظ مراد ہو یعنی ہر ایک خود کو ۳۰۰/ میں ایک سمجھتا ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے ۔

امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جو لوگ حضرت کی مدد کے لئے اپنے بستر سے غائب ہوجائیں گے ان کی تعداد ۳۱۳/ کی تعداد اہل بدر کی تعداد ہے،اور اس شب کی صبح یعنی دوسرے دن وہ مکہ میں اکٹھا ہوں گے ۔(۱)

امام جواد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: رسول خدا نے فرمایا : امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) سر زمین تھامہ سے ظہور کریں گے، اس میں سونے اور،چاندی کے علاوہ خزانہ ہے،وہ لوگ اصحاب بدر کی تعداد میں قوی گھوڑے اور نامی گرامی مرد ہیں، وہ ۳۱۳/ میں جو دنیا سے ان کے ارد گرد آئیں گے مہر کردہ کتاب حضرت کے سا تھ ہے، جس پر ساتھیوں کی تعدا د نام اور شہر ،قبیلہ،کنیت نیز تمام پہچان کے ساتھ اس پر لکھی ہوئی ہے ،وہ سب کے سب حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی اطاعت کے لئے کو شش کریں گے “(۲) رسول خدا فرماتے ہیں ”لوگ پرندوں کی مانند ان کے گرد جمع ہوجائیں گے، تاکہ ۳۱۴/ مرد جس میں عورتیں بھی ہوں گی ان کے پاس آئیں گے، اور آنحضرت ہر ظالم اور اولاد ظالم پر کامیاب ہوں گے، اور ایسی عدالت قائم ہوگی کہ لوگ آرزوکریں گے کہ کاش مردے زندوں کے درمیان ہوتے، اور عدالت سے فیضیاب ہوتے“(۳)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنے ۳۱۳/ ساتھی جو اہل بدر کی تعداد میں ہیں ۔کے ہمراہ کسی آگاہی اور پہلے سے کوئی وعدہ کئے بغیر ظاہر ہوجائیں گے ؛جب کہ وہ بہارکے بادل کی طرح پرا کندہ ہیں وہ لوگ دن کے شیر اور رات کے رازو نیاز کرنے والے ہیں ۔“(۴)

____________________

(۱)کمال الدین، ج۲، ص۶۵۴؛عیاشی، تفسیر ،ج۲،ص۵۶؛نور الثقلین، ج۱،ص۱۳۹و ج۴، ص۹۴؛بحا رالانوار، ج۲۵ ، ص۳۲۳

(۲)عیون اخبار رضا، ج۱، ص۵۹؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۰

(۳)مجمع الزوائد ،ج۷ ،ص۳۱۵

(۴)ابن طاوس، ملاحم، ص۶۴؛الفتاوی الحدیثیہ، ج۳۱


ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:” عنقریب ۳۱۳/ آدمی تمہاری مسجد(مکہ) میں آئیں گے، مکہ والے جانتے ہیں کہ یہ اپنے آباو واجداد کی طرف منسوب نہیں ہیں ،(اور مکہ والوں میں سے بھی نہیں ہیں) ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک تلوار ہوگی ،اور تلوار پر لکھا ہو گا کہ اس کلمہ سے ہزار کلمے(مشکل) حل ہوں گے “(۱)

بعض روایات میں ان بعض کا نام بھی درج ہے کہ اس سلسلے میں دو روایت پر اکتفاء کر ر ہا ہو ں ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) مفضل بن عمر سے فرماتے ہیں : تم اور۴ ۴/ آدمی اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوستوں اور چاہنے والوں میں سے ہوں گے۔شاید۴ ۴ کی تعداد سے مراد امام جعفر صادق کے اصحاب ہوں۔(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :”جب حضرت قائم آل محمد(عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہورکریں گے تو۲ ۷/ آدمی کعبہ کی پشت سے ظاہرہوں گے اور۲ ۵/ آدمی موسیٰ کی قوم سے،جو سارے کے سارے حق کے ساتھ قاضی اور عادل ہوں گے،زندہ ہوں گے اور ۷/ آدمی اصحاب کہف سے،یوشع وصی موسیٰ،مومن آل فرعون،سلمان فارسی ، ابو دجانہ انصاری ، مالک اشتر دنیا میں لو ٹائے جائیں گے،(۳) اور بعض روایات میں مقداد بن اسود کا بھی نام ہے، روایات کے مطابق فرشتے نیک لوگوں کو مقامات مقدسہ (کعبہ)میں منتقل کریں گے۔(۴)

اس بناء پر شاید ان کے جسم کعبہ کے کنارے منتقل کئے جا چکے ہیں، اور ان کا دوبارہ زندہ ہونا

____________________

(۱)کمال الدین، ج۲، ص۶۷۱؛بصائر الدرجات ،ص۳۱۱؛بحا رالانوار ،ج۵۲، ص۲۸۶

(۲)دلائل الامامہ ،ص۲۴۸؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۷۳

(۳)روضة الواعظین، ص۲۶۶؛اثبات الہداة ،ج۳ ،ص۵۵

(۴)دررالاخبار، ج۱،ص۲۵۸


اور رجعت بھی وہیں سے ہوگی، ایک دوسری روایت کے مطابق، شاید یہ جگہ کوفہ شہر کی پشت (نجف) ہو، تو پھر روایت کے معنی صحیح ہو جائیں گے،اس لئے کہ ان کے جسم وہاں یعنی نجف اشرف منتقل ہو چکے ہیں، شایان ذکر یہ ہے کہ یہ لوگ زمانے کے طاغوت کے خلاف سیاسی اور فوجی سابقہ رکھتے ہیں، خصوصا! ،سلمان فارسی،ابو دجانہ ،مالک اشتر ، مقداد جنھوں نے صدرا سلام کی جنگوں میں شرکت کی ہے، اور اپنی ہدایت و راہنمائی کا اظہار کیا ہے، بعض لوگ تو کمانڈری کا بھی سابقہ رکھتے ہیں ۔

۲ ۔حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوج

ابو بصیر کہتے ہیں : ایک کوفے کے رہنے والے نے امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے پوچھا: حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ساتھ کتنے لوگ قیام کریں گے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ہمراہ اہل بدر کی تعدا د کے بقدر سپاہی ہوں گے یعنی ۳۱۳/ آدمی، امام (علیہ السلام) نے کہا:” حضرت مہدی توا نااور قوی فوج کے ساتھ ظہور کریں گے، اوریہ قوی فوج دس ہزار سے کم نہ ہوگی“(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں: جب خدا وند عالم حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو قیام کی اجازت دے گا تو ۳۱۳/ افراد ان کی بیعت کریں گے، آنحضرت مکہ میں اس وقت تک توقف کریں گے جب تک کہ ان کے اصحاب کی تعداد دس ہزار نہ ہو جائے، پھر اس وقت مدینہ کی سمت حرکت کریں گے ۔(۲)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کم سے کم بارہ ہزاراور زیادہ سے زیادہ۱ ۵/ ہزار لشکر کے ساتھ ظہور کریں گے، آپ کی فوجی طاقت کا

____________________

(۱)کما ل الدین ،ج۲،ص۶۵۴؛عیاشی ،تفسیر، ج۱،ص۱۳۴؛نور الثقلین ،ج۴،ص۹۸؛ج۱، ص۳۴۰؛العدد القویہ، ص۶۵؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۴۸

(۲)المتجاد، ص۵۱۱


رعب و دبدبہ سپاہیوں کے آگے آگے ہوگا، کوئی دشمن ان کے سامنے نہیں آئے گا، مگر شکست کھا جائے گا ،آنحضرت اور آپ کے سپاہی راہ خدا میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے، آپ کے لشکر کا نعرہ ہوگا ((مار ڈالو مار ڈالو))(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” حضرت اس وقت ظہور کریں گے جب ان کی تعداد پوری ہو جائے گی “راوی نے پوچھا: ان کی تعداد کتنی ہے؟ حضرت نے کہا: ((دس ۱۰/ ہزار))(۲)

شیخ حر عاملی کہتے ہیں : روایت میں مکمل فوج کی تعداد ایک لاکھ ہے۔(۳)

۳ ۔ حفاظتی گارڈ

کعب کہتے ہیں : ایک ہاشمی مرد بیت المقدس میں ساکن ہوگا، اس کی محافظ فوج کی تعداد۱ ۲/ ہزار ہے، اور ایک دوسری روایت میں محافظوں کی تعداد ۳۶/ ہزار ہے، اور بیت المقدس تک منتہی ہونے والے ہر بڑے راستوں پر۱ ۲/ ہزار فوج لگی ہوگی ۔(۴)

البتہ کلمہ حرس جو روایت میں آیا ہے، اعوان و انصار کے معنی میں بھی ہے، اگر چہ یہ معنی حدیث کے عنوان سے مناسب نہیں ہے، اس لئے کہ ممکن ہے کہ حضرت کے اعوان و انصار مرادہوں ۔

د)سپاہیوں کا اجتماع

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے ،حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لشکر والے دنیا کے گوشہ و کنار سے ان کے پاس اکٹھا ہو جائیں گے حضرت کے سپاہی کس طرح قیام اور مکہ میں کیسے جمع

____________________

(۱)ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۵

(۲)نعمانی، غیبة، ص۳۰۷ ؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۴۵

(۳)اثبات الہداة، ج۳، ص۵۷۸؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۷،۳۶۷؛بشار ة الاسلام، ص۱۹۰

(۴)ابن حماد، فتن ،ص۱۰۶؛عقد الدرر ،ص۱۴۳


ہو جائیں گے مختلف روایتیں ہیں ؛بعض لوگ رات کو بستر پر سوئیں گے، اور امام کے حضورحاضر ہوں گے ؛بعض طی الارض(کم مدت میں طولانی سفر کا ہونا)کے ذریعہ حضرت سے جاملیں گے، اور بعض افراد قیام سے آگاہ ہونے کے بعد بادلوں کے ذریعہ حضرت کے پاس آئیں گے ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :جب حضرت مہدی کو خروج اور قیام کی اجازت دی جائے گی تو عبری زبان میں خدا کو پکاریں گے، اس وقت ان کے اصحاب، جن کی تعداد ۳۱۳/ ہے اور بادلوں کے مانند پر اکندہ ہیں =آمادہ ہو جائیں گے، یہی لوگ پر چم دار اور کمانڈر ہیں، بعض لوگ رات کو بستر سے غائب ہو جائیں گے، اور صبح کو خود کو مکہ میں پائیں گے، اور بعض لوگ دن میں بادل پر سوار دیکھائی دیں گے ،یہ اپنے نام و نسب اور شہرت سے پہچانے جائیں گے“(۱)

مفضل بن عمر کہتے ہیں : میں نے عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوجاوں؛ کون گروہ ایمان کے لحاظ سے بلند مرتبہ پر فائز ہو گا؟آپ نے فرمایا: جو ابر کی بلندی پر سوار ہوں گے وہی لوگ غائب ہونے والوں میں ہیں، جن کی شان میں یہ آیہ کریمہ ہے:( اَیْنَ مَا تَکُوْنُوا یَاتِ بِکُمُ اللّٰه جمیعاً ) ؛(۱)

”تم لوگ جہاں بھی ہوگے خدا وند عالم یکجا کر دے گا“

رسول خدا فرماتے ہیں : تمہارے بعد ایسا گروہ آئے گا، کہ زمین ان کے قدموں تلے سمٹے گی، اور دنیا ان کا استقبال کرے گی، فارس کے مردو عورت ان کی خدمت کریں گے، زمین

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۲،ص۶۷۲؛عیاشی ،تفسیر ،ج۱،ص۶۷؛نعمانی ،غیبة، ص۳۱۵؛بحا رالانوار، ج۲، ص۳۶۸؛ کافی، ج۸، ص۳۱۳؛المحجة، ص۱۹

(۲)سورہ بقرہ، آیت۱۴۸


پلک جھپکنے سے پہلے سمٹ جائے گی، اس طرح سے کہ ان میں سے ہر ایک شرق و غرب کی ایک آن میں سیر کرلے گا، وہ لوگ اس دنیا کے نہیں ہیں ،اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی حصہ ہے“(۱)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے شیعہ اور ناصر دنیا کے گوشے سے ان کی طرف آئیں گے، زمین ان کے قدموں میں سمٹ جائے گی، اور طی الارض کے ذریعہ امام تک پہنچ جائیں گے، اور آپ کی بیعت کریں گے “(۲)

عجلان کے بیٹے عبد اللہ کہتے ہیں : امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کی بات چلی تو میں نے حضرت سے کہا: حضرت کے ظہور سے ہم کیسے باخبر ہوں گے ؟ آپ نے کہا: صبح کو اپنے تکیہ کے نیچے ایک خط پاوگے جس میں تحریر ہوگا کہ حضرت مہدی کی اطا عت اچھا اور نیک کام ہے“(۳)

امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خدا کی قسم اگر ہمارے قائم قیام کریں گے تو خداوندعالم ،شیعوں کو تمام شہروں سے ان کے قریب کر دے گا،(۴) نیز امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب ہمارے شیعہ ،چھتوں پر سوئے ہوں گے تو اچانک ایک شب بغیر کسی وعدہ کے، حضرت کے پاس لائے جائیں گے، اس وقت سبھی صبح کے وقت حضرت کے پاس ہوں گے۔(۵)

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۲،ص۴۴۹

(۲)روضة الواعظین، ج۲،ص۲۶۳؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۴۵عقدد الدرر،ص۶۵

(۳)بحارالانوار، ج۵۲،ص۳۲۴؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۸۲؛ترجمہ جلد۱۳؛بحار الانوار، ص۹۱۶

(۴)مجمع البیان ،ج۱،ص۲۳۱؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۲۴؛نور الثقلین ،ج۱،ص۱۴۰؛بحا رالانوار ،ج۵۲، ص۲۹۱

(۵)نعمانی ،غیبة، ص۳۱۶؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۱۹۸؛بشارة الاسلام، ص۱۹۸


ھ)سپاہیوں کی قبولیت کے شرائط اور امتحان

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار= جن کی تعداد ۳۱۳/ ہے =ان(حضرت) کی سمت جائیں گے ،اور اپنی گمشدہ چیز پالیں گے، اور سوال کریں گے :کیا تمہیں مہدی موعودہو ؟تو آپ فرمائیں گے : ہاں،میرے ساتھیو!اس کے بعد دوبارہ غائب ہو کر مدینہ چلے جائیں گے ،جب حضرت کے انصار کو خبر ہو گی، راہی مدینہ ہو جائیں گے اورجب وہ لوگ مدینہ پہنچیں گے ،تو امام پو شیدہ طور پر مکہ واپس آجائیں گے، انصا ر حضرت سے ملنے کے لئے مکہ جائیں گے، پھر دوبارہ حضرت مدینہ آجائیں گے، اور جب چاہنے والے مدینہ پہنچیں گے توحضرت مکہ کا قصد کرلیں گے اسی طرح تین بار تکرارہوگی۔

امام (علیہ السلام) اس طرح چاہنے والوں کو آزمائیں گے، تاکہ ان کی پیروی و اطاعت کا معیا ر معلوم ہوجائے، اس کے بعد صفاو مروہ کے درمیان،کعبہ میںظاہر ہوں گے، اور اپنے چاہنے والوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کروں گا جب تک تم لوگ شرائط کے ساتھ میری بیعت نہ کرو، اور اس پر پابند نہ رہو، اور ذرا بھی کوئی تبدیلی نہ ہو میں بھی آٹھ چیز وں کا وعدہ کرتا ہوں توسارے اصحاب جواب دیں گے: ہم مکمل تسلیم ہیں ،اور آپ کی پیروی کریں گے،جو شرائط رکھنا چائیں رکھ دیں بتایئے وہ شرائط کیا ہیں؟

حضرت مکہ میں صفا پہاڑی کی طرف جائیں گے تو ان کے انصار بھی پیچھے پیچھے جائیں گے وہاں ان سے مخاطب ہو کر کہیں گے: ”تم سے ان شرائط کے ساتھ عہدو پیمان کرتا ہوں:


۱ ۔میدان جنگ سے فرار نہیں کرو گے۔

۲ ۔چوری نہیں کروگے۔

۳ ۔ناجائز کام نہیں کروگے۔

۴ ۔حرام کام نہیں کروگے۔

۵ ۔ منکر و بُرے کام انجام نہیں دوگے۔

۶ ۔کسی کو ناحق نہیں ماروگے۔

۷ ۔سونا چاندی ذخیرہ نہیں کروگے۔

۸ ۔جَو، گیہوں ذخیرہ نہیں کروگے۔

۹ ۔کسی مسجد کو خراب نہیں کروگے۔

۱۰ ۔ناحق گواہی نہیں دوگے۔

۱۱ ۔کسی مومن کو ذلیل و خوار نہیں کروگے۔

۱۲ ۔سود نہیں کھاوگے۔

۱۳ ۔سختی و مشکلات میں ثابت قدم رہوگے۔

۱۴ ۔خدا پرست و یکتا پرست انسا ن پر لعنت نہیں کروگے۔

۱۵ ۔شراب نہیں پیو گے۔

۱۶ ۔سونے سے بنا لباس نہیں پہنو گے۔

۱۷ ۔حریر و ریشم کا لباس نہیں پہنو گے۔

۱۸ ۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کروگے۔


۱۹ ۔ خون حرام نہیں بہاوگے۔

۲۰ ۔کافر ومنافق سے اتحاد نہیں کروگے۔

۲۱ ۔خز کا لباس نہیں پہنو گے۔

۲۲ ۔مٹی کو اپنی تکیہ نہیں بناو گے (شاید اس معنی میں ہو کہ فروتن و خاکسار رہوگے)

۲۳ ۔نا پسندیدہ کاموں سے پر ہیز کروگے۔

۲۴ ۔نیکی کا حکم دو گے اور بُرائی سے روکو گے۔

اگر ان شرائط کے پابند ہو، اور ایسی رفتار رکھو گے، تو مجھ پر واجب ہوگا کہ تمہارے علاوہ کسی کو اپنا ناصر نہ بناوں اور میں وہی پہنوں گا جو تم پہنو گے، اور جو تم کھاوگے وہی کھاوں گا، اور جو سواری تم استعما ل کروگے وہی میں استعمال کروں گا، جہاں تم رہوگے وہیں میں بھی رہوں گا، جہاں تم جاوگے وہاں میں جاوں گا، اور کم فوج پر راضی و خو شحال رہوں گا، نیز زمین کو عدل و انصاف سے بھردوں گا، جس طرح ظلم و ستم سے بھری ہوگی، اور خدا کی ویسی ہی عبادت کروں گا جس کا وہ حقدار ہے، جو میں نے کہا اسے پورا کروں گا، تم بھی اپنے عہد وپیمان کو پورا کرنا۔ اصحاب کہیں گے جو آپ نے فرمایا ہم اس پر راضی اور آپ کی بیعت کرتے ہیں ،اس وقت امام (علیہ السلام) ایک ایک چاہنے والوں سے (بیعت کی علامت کے ساتھ)مصافحہ کریں گے۔(۱)

لیکن یہ خیال رکھنا چاہئے کہ حضرت امام (علیہ السلام) نے یہ شرا ئ ط و امتحان اپنی خاص فوج کے لئے رکھی ہیں ،

اس لئے کہ امام (علیہ السلام) کی حکومت کے کار گزاروں میں وہ لوگ ہیں جو اپنے نیک کردار سے دنیا میں عدالت بر قرار کرنے کے لئے ایک موثر اقدام کریں گے ۔

لیکن اس روایت کی سند قابل تامل ہے اس لئے کہ یہ” خطبة البیان“ سے ماخوذ ہے جس کو بعض لوگوں نے ضعیف سمجھاہے، اگر چہ بعض بزرگوں نے اس کا دفاع کر کے قوی بنانے کی

____________________

(۱)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۵۷؛عقدالدرر ،ص۹۶


کوشش کی ہے۔(۱)

و)سپاہیوں کی خصوصیت

روایات میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے اصحاب وانصار کی بہت زیادہ ہی خصوصیت بیان کی گئی ہے، مگر ہم کچھ کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں :

۱ ۔عبادت و پر ہیز گاری

امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت کے اصحاب کی توصیف فرماتے ہیں وہ لوگ شب زندہ دارانسان ہیں ۔جو راتوں کوقیام کی حالت میں عبادت کرتے ہیں۔ اور نماز کے وقت شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناتے ہیں اور صبح کے وقت گھوڑوں پر سوار اپنی (وظیفوں کو)ما موریت انجام

____________________

(۱)والد مرحوم نے الشیعہ والرجعہ کی پہلی جلد کے حاشیہ پر،خطبہ بیان کے بارے میں اس طرح فرمایا ہے : ہم نے یہ خطبہ شیخ محمد یزدی کی کتاب دوحة الانوار سے نقل کیا ہے؛لیکن اسی کتاب میں منحصر نہیں ہے بلکہ دیگر کتابوں میں بھی درج ہے جیسا کہ آقا بزرگ تہرانی الذریعہ کی ساتویں جلد میں چند کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں :

۱۔قاضی سعید قمی در شرح حدیث غمامہ م۱۱۰۳ ھق؛۲۔محقق قمی در جامع الشتات ،ص۷۷۲۳۔ایک نسخہ کتاب خانہ امام رضا علیہ السلام تاریخ ۷۲۹ھق؛

۴۔ایک نسخہ خط علی بن کمال الدین تاریخ ۹۲۳ھق؛۵۔خلاصہ الترجمان ۶۔معالم التنزیل

اس خطبے میں ایسی عبارتیں ہیں جو توحید سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن تمام نسخوں میں یہ عبارتیں نہیں ہیں ،بلا تردید یہ غالیوں کی گڑھی باتیں ہیں ”انا مورق الاشجار و مثمر الثمار “اس طرح کی روایت کثرت سے ہے”بنا اثمرت الاشجار و اینعت الثمار “اور زیارت مطلقہ میں اس طرح آیا ہے ”وبکم تنبت الارض اشجار ها و بکم تخرج الاشجار و اثمارها “اور زیارت رجبیہ میں ”انا سائلکم و املکم فیما الیکم التفویض وعلیکم التعویض،فبکم یجبر المهیض و یشفی المریض و “اس لحاظ سے جو بات بھی قرآن کے خلاف ہو اور اس کی صحیح تاویل بھی نہو تو بھی معصومین علیہم السلام اس سے بَری ہیں لیکن اس خطبہ کی عبارت کا جعلی ہونا تمام خطبہ کی صحت کو مخدوش نہیں کر سکتا


دینے جاتے ہیں، وہ لوگ رات کے عبادت گزار، پاکیزہ نفس اور دن کے دلاور و شیر ہیں اور خوف الٰہی سے ایک خاص کیفیت پیدا کر چکے ہیں، خدا وندعالم ان کے ذریعہ امام برحق کی مدد کرے گا ۔(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : ”گویا قائم آل محمد( علیہم السلام) اور ان کے چاہنے والوں کو شہر کوفہ کی پشت پر دیکھ رہا ہوں ،یوں کہئے کہ فرشتے ان کے سروں پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں، اور ان کی پیشانی پر سجدہ کا اثر ہے، راہ توشہ تمام ہو چکا ہے، اور ان کے لباس بوسیدہ و پرانے ہو چکے ہیں، ہاں وہ لوگ شب کے پارسا اور دن کے شیر ہیں،ان کے دل آ ہنی ٹکڑوں کے مانند محکم ومضبوط ہیں، ان میں سے ہر ایک چالیس آدمی کی قوت کا مالک ہو گا، اور کافر و منافق کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کریں گے، خدا وند عالم قرآن میں ان کے بارے میں اس طرح فرماتا ہے :

( اِنَّ ذَلِکَ لاْیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِیْنَ ) (۲)

”اس میں ہوشمند افراد کے لئے نشانی اور عبرت ہے“۔(۳)

۲ ۔امام سے عشق اور آپ کی اطاعت

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرما تے ہیں :”صاحب امر کے لئے بعض درّوں میں غیبت ہے ظہور سے دو شب قبل آپ کا نزدیک ترین خادم حضرت کے دیدار کو جائے گا، اور آپ سے پوچھے گا کہ آپ یہاں کتنے لوگ ہیں ؟

____________________

(۱)بحا ر الانوار، ج۵۲، ص۳۰۸

(۲)سورہ حجر، آیت۷۵

(۳)بحا رلانوار ،ج۵۲،ص۳۸۶


کہیں گے : چالیس آدمی تو وہ کہے گا: تمہارا کیا حال ہوگا ،جب تم اپنے پیشوا کو دیکھو گے ،جواب دیں گے : اگر وہ پہاڑوں پر زندگی کریں گے تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے، اور اُسی طرح زندگی گذاریں گے“(۱)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت کے انصار اپنے ہاتھوں کو حضرت امام کی سواری کے زین میں ڈال کر برکت کے لئے کھینچیں گے، اور حضرت کے حلقہ بگوش ہوں گے، اور اپنے جسم و جان کو ان کی سپر بنالیں گے، اور آپ جو اُن سے چاہیں گے وہ کریں گے ۔(۲)

نیز آنحضرت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصار و مدد گاروں کی توصیف میں فرماتے ہیں: ان کے پاس ایسے ایسے لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے ٹکڑے ہیں وہ لوگ حضرت کے سامنے کنیز کی طرح جو اپنے مولا و آقا کے سامنے مطیع و فرمانبردارہوتی ہے تسلیم ہوں گے۔(۳)

رسول خدا فرماتے ہیں :” خدا وند عالم حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لئے دنیا کے گوشہ و کنار سے اہل بدر کی تعداد میں لوگوں کو ان کے ارد گرد جمع کر دے گا، وہ لوگ حضرت کی فرمانبرداری کرنے میں حد سے زیادہ کوشاں ہوں گے۔(۴)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے ناصرومدد گار

____________________

(۱)عیاشی ،تفسیر ،ج۲،ص۵۶؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱

(۲)بحا رالانوار، ج۵۲، ص۳۰۸

(۳)اسی جگہ

(۴)وہی،ص۲۱۰


نجف(کوفہ) میں مستقر ہیں اور اس طرح ثابت قدم ہیں کہ گویا پرندہ ان کے سر پر سایہ فگن ہے۔(۱)

یعنی جنگجو، منظم ،اورتسلیم محض ہو کر حضرت کے سامنے کھڑے ہیں، گویا پرندہ ان کے سروں پر سایہ کئے ہوئے ہے، اگر معمولی حرکت کریں تو پرندے اڑجائیں گے۔

۳ ۔سپاہی قوی ہیکل اور جوان ہوں گے

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصر سارے کے سارے جوان ہیں، کوئی ان میں ضعیف و سن رسیدہ نہیں ہے، جز تھوڑے افراد کے ، جو آنکھ میں سرمہ یا غذامیں نمک کے مانند ہیں،لیکن سب سے کم قیمت زیادہ ضرورت کی چیز نمک ہی ہے۔(۲)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : لوط پیامبر کی مراد اپنی اس بات سے جو انھوں نے دشمنوں سے کہی ہے:اے کاش تمہارے مقابل قوی اور توانا ہوتا یا کسی مضبوط و محکم پایہ کی سمت پناہ لیتا ۔کوئی طاقت مہدی موعود(عجل اللہ تعالی فرجہ)اور ان کے ناصروں کی قدرت کے برابر نہیں ہوگی، اور ہر ایک آدمی کی قوت چالیس آدمی کے برابر ہوگی، ان کے پاس لوہے سے زیادہ ہموار دل ہے، اور جب پہاڑوں سے گذریں گے، تو چٹان لرز اٹھیں گے ،اور خدا وند عالم کی رضا و خوشنودی کے حصول تک وہ تلوار چلاتے رہیں گے۔(۳)

حضرت امام سجاد(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں:” جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو خداوند عالم ہمارے شیعوں سے ضعف و سستی کو دور کردے گا ،اور ان کے دلوں کو آ ھنی ٹکڑوں کی طرح محکم و استوار کردے گا،نیز ان میں سے ہر ایک کوچالیس آدمی کی قوت عطا کرے گا ،یہی لوگ

____________________

(۱)اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۸۵

(۲)طوسی ،غیبة ،ص۲۸۴؛نعمانی ،غیبة، ص۳۱۵؛ابن طاو س، ملاحم، ص۱۴۵؛کنز ل العمال، ج۱۴،ص۵۹۲؛ بحار لاانو ار ج۵۲، ص۳۳۴؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۱۷

(۳)کمال الدین ،ج۲،ص۶۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۷و۳۲۷


زمین کے حاکم اور رئیس ہوں گے“(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں ہمارے شیعہ زمین کے حاکم اور رئیس ہوں گے، اور ان میں سے ہر ایک کو۴ ۰/ مرد کی قوت دی جائے گی۔(۲)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: آج ہمارے شیعوں کے دلوں میں دشمنوں کا خوف بیٹھا ہوا ہے؛ لیکن جب ہماری حکومت آئے گی اور امام مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہور کریں گے، توہماراہر ایک شیعہ شیر کی طرح نڈر اور تلوار سے زیادہ تیز ہو جائے گا، اور ہمارے دشمنوں کو پاوں سے کچل ڈالیں گے اور ہاتھ سے کھینچیں گے۔(۳)

عبد الملک بن اعین کہتا ہے : ایک روز حضرت امام (علیہ السلام)کی خدمت سے جب ہم اٹھے، تو ہاتھوں کا سہارا لیا اور کہا:کاش حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کو جوانی میں درک کرتا، (یعنی جسمی توانائی کے ساتھ)تو امام نے کہا: کیا تمہاری خوشی کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کہ تمہارے دشمن آپس ہی میں ایک دوسرے کو مارڈالیں گے، لیکن تم لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہوگے؟ اگر امام ظہور کر جائیں گے تو تم میں سے ہر ایک کو۴ ۰/ مرد کی قوت دی جائے گی، اور تمہارے دل آ ھنی ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، اس طرح سے کہ تم لوگ زمین کے رہبر اور امین رہوگے “(۴)

____________________

(۱)کما ل الدین ،ج۲،ص۶۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۷،۳۲۷،۳۷۲؛ینابیع المودة ،ص۴۲۴؛احقا ق الحق ، ج۱۳، ص۳۴۶ (۲)مفید ،اختصاص ،ص۲۴ ؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۲

(۳)مفید ،اختصاص، ص۲۴؛بصائر الدرجات، ج۱،ص۱۲۴؛ینابیع المودة،ص۴۴۸؛،۴۸۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۵۷؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۸،۳۷۲

(۴)کافی ،ج۸، ص۲۸۲؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۳۳۵


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ہماراحکم (حضرت مہدی کی حکومت) آتے ہی خدا وند عالم ہمارے شیعوں کے دلوں سے خوف مٹادے کر ان کے دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا اس وقت ہمارا ہر ایک شیعہ نیزہ سے زیادہ تیز اور شیر سے زیاد ہ دلیر ہو جائے گا، ایک شیعہ اپنے نیزہ اور تلوار سے دشمن کا نشانہ لے کر اسے کچل ڈالے گا۔(۱)

اسی طرح حضرت فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے چاہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے مانند سخت و مضبوط ہیں اور کبھی ان دلوں پر ذات الٰہی کی راہ میں شک و شبہ نہیں آئے گا ،وہ لوگ پتھر سے زیادہ سخت اور محکم ہیں اگر انھیں حکم دیا جائے کہ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیں اور جابجا کر دیں تو وہ بہت آسانی اور تیزی سے ایسا کر دیں گے اسی طرح شہروں کی تباہی کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً ویران کر دیں گے، ان کے عمل میں اتنی قاطعیت ہوگی جیسے عقاب گھوڑوں پر سوار ہو۔(۲)

۴ ۔پسند ید ہ سپاہی

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصروں کو دیکھ رہا ہوں کہ پوری کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں ،اور دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان کی مطیع و فرمانبردار نہ ہو، زمین کے درندے اور شکاری پرندے بھی ان کی خوشنودی کے خواہاں ہوں گے، وہ لوگ اتنی محبوبیت رکھتے ہوں گے کہ ایک زمین دوسری زمین پر فخر ومباحات کرے گی، اور وہ جگہ

____________________

(۱)خرائج، ج۲،ص۸۴۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۶؛ملاحظہ ہو:حلیة الاولیاء، ج۳، ص۱۸۴؛ کشف الغمہ،ج، ص۳۴۵؛ینابیع المودة، ص۴۴۸؛اس طرح کی روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی منقول ہے :بصائر الدرجات ،ص۴؛ بحار الانوار، ج۲، ص۱۸۹

(۲) بحار الانوار، ج۲۵،ص۳۰۸


کہے گی کہ آج حضرت مہدی کے چاہنے والے نے مجھ پر قدم رکھا ہے ۔(۱)

شہادت کے متوالے

امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصروں کی خصوصیات کے بارے میں فرماتے ہیں :کہ وہ لوگ خدا کا خوف اور شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ان کی خواہش یہ ہے کہ راہ خدا میں قتل ہو جائیں ان کا نعرہ حسین کے خون کا بدلہ لینا ہے جب وہ چلیں گے تو ایک ماہ کے فاصلہ سے دشمنوں کے دل میں خوف بیٹھ جائے گا۔(۲)

____________________

(۱)کما ل الدین، ج۲،ص۶۷۳؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۳؛ بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۲۷

(۲)مستدرک الوسائل، ج۱۱،ص۱۱۴


چوتھی فصل :

حضرت کی جنگیں

جب حضرت کا ہدف پوری دنیا میں حکومت برپا کرنا اور ظلم و ستم کو فنا کرنا ہے تو یقینا اس ھدف کی تکمیل میں انواع و اقسام کی دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہوگا؟ لہٰذاضروری ہے کہ فوجی مشق اور ٹرینگ کے ذریعہ ان رکاوٹوں کو ختم کریں، اور یکے بعد دیگرے ممالک کو فتح کر کے شرق و غرب عالم میں تسلط حاصل کریں ،اور عادلانہ خدا ئی حکومت قائم کریں، اس فصل میں اس سلسلے میں روایات نقل کرتے ہیںملاحظہ ہوں۔

الف) شہیدوں اور مجاھدوں کی جزا

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں جنگ کا مقصد مفسدین زمانہ اور ستمگار وقت کی نابودی اور خاتمہ ہے، لہٰذا حضرت کے ہمرکاب جنگ میں شرکت بھی، کئی گنا جزا کی حامل ہو گی، اس طرح سے ہے کہ اگر کوئی سپاہی کسی ایک دشمن کو نابود کرے تو ۲۰/۲۵ شہید وں کا اجر پائے گا،(۱) اور اگر خود شہید ہو جائے تو اس کی جزا دو شہید وں کے برابر ہوگی، اسی طرح جانباز و زخمی افراد معنوی مقام کے علاوہ حکومت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)میں خصوصی امتیاز کے حامل ہوں گے، نیز شہداء کے گھرانے خصوصی امتیاز اور اہمیت کے حامل ہوں گے۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے شیعوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: ” اگر تمہاری رفتار

____________________

(۱)کافی ،ج۲،ص۲۲۲


ہمارے فرمان کے مطابق رہی، اور سر کشی دیکھنے میںنہ آئی، اور کوئی اس حال میں ظہور سے پہلے مرجائے تو شہید ہوگا ،اور اگر حضرت کو درک کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوجائے، تو دو شہیدوں کے برابر اجر پائے گا اور اگر ہمارے کسی ایک دشمن کو قتل کر دے تو پھر بیس۲ ۰/ شہید وں کا اجر پائے گا “(۱)

اس روایت میں، دشمنوں کی نابودی ایک شہید کے اجر سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ؛اس لئے کہ دشمن کو قتل کرنا خدا کی خوشنودی ،لوگوں کے سکون و آرام اوراسلام کی عزت و شوکت کا باعث ہوگا؛ اگر چہ شہادت کے درجہ پرفائز ہونا شہید کو کمال تک پہنچاتا ہے اس لحاظ سے سپاہیوں کو چاہئے کہ محاذ جنگ پر دشمنوں کی فکر میں رہیں نہ شہادت کی۔

امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں:”امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمرکاب شہید ہونا دو شہیدوں کا اجر رکھتا ہے “(۲)

”کافی “میں اس طرح آیا ہے:” اگر امام کے سپاہی دشمن کو قتل کردیں تو ان کا اجر۲ ۰/ شہید وں کے برابر ہے، اور اگرکوئی حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمراہ شہید ہو جائے ،تو پھر۲ ۵/ شہید وں کا اجر پائے گا “(۳)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے شہداء کے گھرا نو ں اور شہیدوں کے ساتھ طرز سلوک کے سلسلے میں فرماتے ہیں: حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) فوجی تشکیل کے بعد کوفہ روانہ ہو جائیں گے، اور وہاں قیام کریں گے،اور کوئی شہید ایسا نہیں ہوگا، جس کا قرضہ امام ادانہ کریں، اور اس کے خاندان کو دائمی وظیفہ و تنخواہ عنایت کریں گے“(۴)

____________________

(۱)طوسی ،امالی، ج۱، ص۲۳۶؛بشارة ا لمصطفی ،ص۱۱۳؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۲۹؛بحا ر الانوار، ج۵۲،ص۱۲۳، ۷ ۳۱

(۲)اثبات الہداة ،ج۳ ،ص۴۹۰؛ملاحظہ ہو:طوسی، امالی، ج۱،ص۲۳۶؛برقی ،محاسن، ص۱۷۳؛نور الثقلین، ج۵، ص۳۵۶

(۳)کافی، ج۲،ص۲۲۲(۴)عیاشی ،تفسیر ،ج۲،ص۲۶۱؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۲۴


یہ روایت حضرت کی خاندان شہداء کی دیکھ ریکھ کا پتہ دیتی ہے۔

ب)جنگی اسلحے اور ساز وسامان

قطعی و یقینی طور پر جو اسلحے حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) جنگوں میں استعمال کریں گے، دیگر اسلحوں سے بنیادی طور پر جدا ہوں گے، اور روایت میں لفظ سیف کا استعمال، شاید اسلحہ سے کنایہ ہو نہ یہ کہ مراد خاص کر تلوار ہو؛اس لئے کہ امام کا اسلحہ اس طرح ہے جس کے استعما ل سے کوفہ کی دیوارگر پڑیں گے، اور دھووں میںتبدیل ہوجائیں گی، اور دشمن ایک وار میں پانی میں نمک کی طرح پگھل جائے گا، اس لئے کہ دل ہل جائیں گے ۔

روایت کے مطابق، حضرت کے سپاہیوں کا اسلحہ آھنی ہے، لیکن ایساہے کہ اگر پہاڑ پر گرے تو دوٹکڑے ہو جائے گا، شاید دشمن بھی آتشی اسلحہ استعمال کرے ،اس لئے کہ امام وہ لباس پہنیں گے جو گرمی سے محفوظ ہوگا ،اور یہ وہی لبا س ہے جو جبرئیل (علیہ السلام) آسمان سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آتش نمرود سے نجات کے لئے لائے تھے، وہی لباس حضرت بقیتہ اللہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے اختیار میں ہے ،اگر ایسا نہ ہوتا یعنی ترقی یافتہ اسلحہ دشمن کے پاس نہ ہوتا تو پھر اس لباس کی ضروت نہ ہوتی ،ہر چند اس میں اعجازی جنبہ ہو۔

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو جنگی تلواریں آسمان سے نازل ہوں گی، ایسی تلواریں کہ جس پر سپاہی اور اس کے باپ کا نام لکھا ہوگا“(۱)

حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہمنواگروہ کے بارے میں فرماتے ہیں:”حضرت مہدی کے ناصر و یاور آھنی تلواریں رکھتے ہیں، لیکن اس کی جنس

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۴۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۹؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۴۲


لوہے کے علاوہ ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک پہاڑ پر وار کردے تو پہاڑ دوٹکڑے ہو جائے گا، حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ایسے سپاہیوں اور اسلحوں کے ساتھ ھند،دیلم ، کرد،روم، بربر، فارس،جابلقا اور جابرسا کے درمیان جنگ کے لئے جائیں گے “-(۱)

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی فوج کے پاس ایسے دفاعی وسائل ہوں گے کہ دشمن بے بس ہوگا امام جعفر صادق (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” اگر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے انصا ران سپاہیوں سے جو شرق و غرب میں پھیلے اور قبضہ جمائے ہیں روبرو ہوں گے تو ایک آن میں انھیں فنا کے گھاٹ اتاردیں گے، اور دشمن کے اسلحے ان پر کار آمد نہیں ہوں گے“(۲)

ج)امام کا نجات بشر کے لئے دنیا پر قبضہ

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوجی ترتیب او رشہرو ملک پر قابض ہونے کے بارے میں دوطرح کی روایت پائی جاتی ہے، بعض روایت میں شرق وغرب جنوب اور قبلہ ہے نتیجہ کے طور پر ساری کائنات پر تسلط کی خبر ہے اور بعض روایات صرف مخصوص و معین زمین پر فتح و غلبہ کی خبر دیتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ حضرت تمام کائنات کو اپنے قبضہ و دسترس میں کرلیں گے؛ مگر ایسا کیوں ہوا کہ بعض شہروں کے نام مذکور ہیں، تو شاید ایسا کسی اہمیت کے اعتبار سے ہو کہ وہ تمام شہر

____________________

(۱)بصائر الدرجات، ص۱۴۱؛اثبات الہداة ،ج۳ ،ص۵۲۳؛تبصرةالولی ،ص۹۷؛بحار الانوار، ج۲۷، ص۴۱و ج۵۴، ص۳۳۴

(۲)بصائر الدرجات ،ص۱۴۱؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۲۳؛تبصرةالولی، ص۹۷؛بحار الانوار، ج۲۷، ص۴۱و ج۵۴، ص۳۳۴


اس وقت ظاہر ہو جائیں گے یہ اہمیت اس لئے ہے کہ شاید اس وقت ان کا شمار طاقت ورمیں ہواور کسی نہ کسی جگہ کو اپنے نفوذ و تسلط میں رکھے ہوئے ہیں ،یا وہ سر زمین اتنی وسیع و عریض ہے کہ اکثریت آبادی اس میں زندگی گذارتی ہے، یا یہ کہ ایک دین و مذہب کی آرزوں کا مرکز ہے؛ اس طرح سے کہ وہ شہر قبضہ میں آجائے تو اس مکتب و آئین کے پیرو بھی تسلیم ہوجائیں ،یا یہ کہ ان کی فوجی اہمیت ہے اس طرح سے کہ ان کے سلنڈر ہو جانے سے دشمن کی تکنک بیکار ہو جائے، تو حضرت کے فوجی حملہ کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔

آغاز قیام کے لحاظ سے شہر مکہ کا انتخاب، پھر اس کے بعد عراق ،کوفہ سیاسی مرکز بنانے حکومت کی فوجی تحریک شام کی جانب پھر بیت المقدس کو فتح کرنا شاید اس بات کی تائید ہو اس لئے کہ آج تینوں سرزمینوں کی سیاسی ،مذہبی اورفوجی سرگرمی کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ۔

پہلے دستہ کی روایت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے پورے جہان پر قبضہ کے بارے میں تھی کہ بعض درج ذیل ہیں حضرت رضا (علیہ السلام) اپنے آباو اجداد سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : رسول خدا نے فرمایا:”جب ہمیں معراج پر لیجایا گیا تو میںنے عرض کیا خدا یا !یہ لوگ (ائمہ)میرے بعد میرے جانشین ہوں گے آواز آئی :ہاں ! اے محمد! یہ لوگ میرے دوست ،منتخب، لوگوں پر حجت ہوں گے، اور تمہارے بعد بہترین بندے اور جانشین ہوں گے، میری عزت و جلال کی قسم اپنے دین و آئین کو ان کے ذریعہ سے لوگوں پر غالب کروں گا، اور کلمة اللّٰہ کو ان کے ذریعہ بر تری عطا کروں گا، اور ان میں آخری کے ذریعہ زمین کو سر کش اور گنہگار افراد سے پاک و پاکیزہ کردوں گا، اور شرق و غرب عالم کی حکومت اسے دے دوں گا۔(۱)

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۱، ص۳۶۶؛عیون اخبار الرضا، ج۱،ص۲۶۲؛بحار الانوار، ج۱۸، ص۳۴۶


آیہ شریفہ( اَلَّذِیْنَ اِنْ مکَّنّٰاهُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَاْمُوْااْلصَّلٰوةَ و آتُوالزَّکٰوةَ ) (۱)

ان لوگوں کو اگر زمین پر حکومت دیدیں تو نماز قائم کریں گے اور زکوة اداکریں گے۔

امام محمدباقر (علیہ السلام ) فرماتے ہیں : یہ آیت آل محمد اور آخری امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) سے مربوط ہے، خدا وند عالم مغرب و مشرق کو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)اور ان کے انصار کے اختیار میں دیدے گا“(۲)

رسول خدا فرماتے ہیں : مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ہمارے فرزند ہیں، خدا وند عالم ان کے ذریعہ مشرق ومغرب کو فتح کرے گا ۔(۳) رسول خدا فرماتے ہیں : جب مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو دین کو اسکی اصلی جگہ لوٹادیں گے،اور درخشاں کامیابی ا ن کے لئے انھیں کے ذریعہ عطا کرے گا،اس وقت صرف اور صرف مسلمان ہوں گے، اور(لاالہ الااللہ )زبان سے جاری کریں گے۔(۴) امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ہم سے ہیں ان کی حکومت مشر ق ومغرب کو محیط ہوگی ۔(۵)

نیز فرماتے ہیں : حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے قیام کے وقت اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا ۔(۶)

رسول خدا سے منقول ہے :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنے لشکر کو پوری دنیا میں پھیلا دیں گے۔(۷)

____________________

(۱)سورہ حج، آیت۴۱

(۲)تفسیر برہان، ج۲، ص۹۶؛ینابیع المودة ،ص۴۲۵؛بحار الانوار، ج۵۱،ص۱

(۳)احقا ق الحق، ج۱۳، ص۲۵۹ ینابیع المودة ،ص۴۸۷؛بحا رالانوار ،ج۵۲، ص۳۷۸؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۱۸

(۴)عقد الدرر ،ص۲۲۲؛فرائد فوائد الفکر، ص۹

(۵)کمال الدین ،ج۱،ص ۳۳۱؛الفصول المہمہ، ص۲۸۴؛اسعاف الراغبین، ص۱۴۰

(۶)ینابیع المودة ،ص۴۲۳

(۷)القول المختصر ،ص۲۳


رسول خدا فرماتے ہیں :اگر زندگی اور دنیا کی عمر صرف ایک روز باقی بچے گی؛ تو بھی خداوند عالم مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کو مبعوث کرے گا ،اور اس کے ذریعہ، دین کی عظمت کو واپس کرے گا،اور آشکار و فائق کامیابی ان کے لئے انھیں کے ذریعہ عطا کرے گا، اس وقت ہر ایک (لاالہ الا اللّٰہ) زبان سے کہے گا۔(۱)

جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں : رسول خدا نے فرمایا :” ذوالقرنین خدا وند عالم کے ایک شایستہ بندے تھے، جنھیں خد اوند عالم نے اپنے بندوں پر حجت قرار دیا، اور اس نے اپنی قوم کویکتا پرستی کی دعوت دی، اور تقویٰ و پر ہیز گاری کا حکم دیا، لیکن انھوں نے اس کے سر پر ایک وار کیا تو وہ مدتوں پوشیدہ رہے؛ اور اتنا کہ انھوں نے خیال کر لیا کہ وہ اب مر چکے ہیں، پھر کچھ مدت بعد اپنی قوم کے درمیان آئے لیکن پھر سر کے دوسرے حصہ پر وار کیا۔

تمہارے درمیان ایسا شخص ہے، جو سنت پر سالک ہوگا ،خد اوند عالم نے ذوالقرنین کو زمین پر اقتدار دیا اور ہر چیز کو ان کے لئے وسیلہ بنادیا تو انھوں نے دین اس کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیلا دیا، خد اوند عالم وہی رفتارو روش امام غائب =جو میرے فرزندوں میں ہیں =جاری رکھے گا اور اسے مشرق ومغرب میں پہنچادے گا نیز کوئی پانی کی جگہ ،پہاڑ ،اوربیابان باقی نہیں ہوں گے جس پر ذوا لقرنین نے قدم نہ رکھا ہو، اور جیسے ہی قدم رکھیں گے خداوند عالم زمین کے خزانے و معادن ظاہر کردے گا اور ان کاخوف دشمنوں کے دل میںڈال کر ان کی مدد کرے گا، اور زمین کو ان کے ذریعہ عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ قیام سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی“(۲) دوسرے گروپ

____________________

(۱)عیون اخبار الرضا ،ص۶۵؛احقاق الحق ،ج۱۳، ص ۳۴۶؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۱۸

(۲)کمال الدین ،ج۲،ص۳۹۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۳،۳۳۶؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۱۸؛ملاحظہ ہو:ابن حماد، فتن، ص۹۵؛الصراط المستقیم،ج۲،ص۲۵۰،۲۶۲؛مفید، ارشاد ،ص۳۶۲؛ اعلام الوری، ص۴۳۰


کی روایات شہروں پر فتح کی جانب اشارہ کرتی ہیں ، ہم اس سلسلے میں چند روایت کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں :

حضرت امیر المو منین(علیہ السلام)حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کی شام کی جانب روانگی کے بارے میں فرماتے ہیں : حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے حکم سے لشکر کے حمل ونقل کے اسباب فراہم کئے جائیں گے : اس کے بعد چار سو کشتی بنائی جائے گی، اور ساحل عکا کے کنارے لنگر انداز ہوگی، دوسری طرف سے ملک روم والے سو صلیب کے ہمراہ کہ ہر صلیب دس ہزار لشکر پر مشتمل ہوگی باہر آئیں گے،اور نیزوں اوراسلحوں سے پہل کریں گے، حضرت اپنے سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچیں گے، اور انھیں اتنا قتل کریں گے کہ فرات کا پانی بدل جائے گا،اور ساحل ان کے جسم کی بوسے متعفن ہو جائے گا۔

اس خبر کو سنتے ہی ملک روم میں باقی ر ہ گئے، افراد انطاکیہ فرار کر جائیں گے۔(۱)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب حضرت قائم قیام کریں گے تو ایک لشکر قسطنطنیہ بھیجیں گے، اور جب وہ لوگ خلیج تک پہنچیں گے تو اپنے پاوں پر ایک جملہ لکھیں گے، اور پانی پر سے گذر جائیں گے “(۲)

رسول خدا فرماتے ہیں :”ا گر عمر دنیا کا ایک دن بھی بچے گا تو خد اوند عالم میری عترت سے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو میرا ہمنام ہوگا، اور اس کی پیشانی چمکتی ہوگی، اور وہ قسطنطنیہ اور جبل دیلم کو فتح کرے گا “(۳)

____________________

(۱)ابن حماد، فتن، ص۱۱۶؛عقد الدرر، ص۱۸۹

(۲)بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۵

(۳)فردوس الاخبار، ج۳،ص۸۳؛شافعی، بیان، ص۱۳۷؛احقاق الحق، ج۱۳، ص۲۲۹و ج۱۹، ص۶۶۰


حذیفہ فرماتے ہیں :دیلم و طبرستان ہاشمی مر دکے ہاتھوں فتح ہوں گے اور بس۔(۱)

امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں:” جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو قسطنطنیہ ،چین(۲) اور دیلم کے پہاڑ فتح کرکے سات سال تک فرمانروائی کریں گے“(۳)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے ساتھی قسطنطنیہ فتح کریں گے اور جہاں روم کا بادشاہ قیام پذیر ہے وہاں جائیں گے، اور وہاں سے تین خزانے نکالیں گے جواہرات ،سونے اورچاندی پھر اموال اور غنیمت لشکر کے درمیان تقسیم کردیں گے ۔(۴)

امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) فوج کے لئے تین پر چم تین نقطے پر آمادہ کریں گے؛ ایک پر چم قسطنطنیہ(۵) پر لہرائیں گے ،تو خدا وند عالم اس پرفتح و غلبہ عطا کرے گا؛ دوسرا پر چم چین روانہ کریں گے(۶) وہاں بھی حضرت فاتح ہوں گے اور تیسرا پرچم دیلم کے پہاڑ کے لئے روانہ کریں گے، تووہ جگہ بھی آپ کے لشکر کے تصرف میں آجائے گی۔(۷)

____________________

(۱)ابن ابی شیبہ، مصنف ،ج۱۳،ص۱۸

(۲)صین (چین)مشرقی ایشیا کو کہتے ہیں نیز سابق سوویت یونین ،ہند ،نیپال ،برمہ،ویتنام ،جاپان ،چین اور کرہ کے دریا کو بھی شامل ہوتا ہے(المنجد)

(۳)بحارالانوار، ج۵۲، ص۳۳۹؛حقاق الحق، ج۱۳،ص۳۵۲؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۴۰۰

(۴)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۶۲

(۵)قسطنطنیہ ترکیہ میں ایک شہر ہے جو ساتویں صدی میں عیسوی سے قبل بنایا گیا ہے اور ایک مدت تک روم کے بادشاہ کا پایہ تخت بھی رہا ہے۔ معجم البلدان، ج۴،ص۳۴۷؛اعلام المنجد ،ص۲۸

(۶)دیلم گیلان کے پہاڑی حصہ میں ایک جگہ کانام ہے جو قزوین کے شمال میں واقع ہے، معجم البلدان ،ج۱،ص۹۹؛ اعلام المنجد ، ص۲۲۷؛برہان قاطع ،ج۱،ص۵۷۰

(۷)اثبات الہداة، ج۳، ص۵۸۵؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۸۸؛ملاحظہ ہو:بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۲؛ حدیث نمبر۱،۶،۱۱،۱۴،۱۷،۱۸،۱۹،۳۴،۳۵،۳۶،۴۶


حذیفہ کہتے ہیں : کہ بلنجر(۱) اور دیلم کے پہاڑ فتح نہیں ہوں مگر آل محمد کے جوان کے(۲) ذریعہ حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں : پھر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ہزار کشتی کے ہمراہ شہر قاطع سے شہر قدس شریف کی جانب روانہ ہوں گے، اور عکا،صور،غزہ،اورعسقلان(۳) ہوتے ہوئے فلسطین میں داخل ہو جائیں گے، اموال و غنیمت باہر لائیں گے، پھر حضرت قدس شریف میں داخل ہو کر وہاں پڑاو ڈال دیں گے، اور دجال کے ظاہر ہونے تک وہیں مقیم رہیں گے ۔(۴)

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں : میں نے امام محمد باقر(علیہ السلام) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کہ جب قائم آل محمد ظہور کریں گے تو اپنی تلوار نیام سے باہر نکال کر روم،(۵) چین،دیلم، سند،ترک،ھند،کابل،(۶) شام،(۷) خزر کو فتح کریں گے ۔(۸)

ابن حجر کہتے ہیں کہ: سب سے پہلے پر چم، کوتُرک روانہ کریں گے ۔(۹)

____________________

(۱)معجم البلدان، ج۱،ص۹۹؛اعلام المنجد ،ص۲۱۴

(۲)عقد الدرر، ص۱۲۳ابن منادی نے ملاحم میں نقل کیا ہے

(۳)فلسطین کے توابع شام میں ایک شہر ہے جو دریا کے کنارے واقع ہے یہ حصہ دو شہر غزہ اور بیت جبرین کے درمیان میں ہے، معجم البلدان، ج۳، ص۶۷۳

(۴)عقدالدرر، ص۲۰۱

(۵)روم اس وقت اٹلی کا مرکز ہے اس زمانے میں ایسی حکومت کا مر کز تھا کہ قیصر کے نامز د بادشاہ اس پر حکومت کرتے تھے، اور دنیا کے بڑے حصہ پر مسلط تھے، اس طرح سے کہ ان کا نفوذ بحر مدیترانہ ،شمالی افریقہ ،یونان ،ترکیہ،سوریہ،لبنان، اورفلسطین تک کو شامل تھا اور پورے علاقہ کو روم کہتے تھے

(۶)ترکستان بر اعظم میں واقع ہے اور چین اورروس کے درمیان تقسیم ہے نیز چین سے سین کیا نغ اور ترکمنستان ، تاشکند ،تاجکستان ،قرنجیر ،اور قزاقستان کو شامل ہے

(۷)جزیرہ کے مانند مثلث کی شکل میں ایشیاء کے جنوب میں واقع ہے اور جمہوری ہند ،پا کستان ،نیپال ،بھوٹان کو بھی شامل ہے،برہان قاطع،ج۱،ص۷۰۳،اعلام المنجد ،ص۵۴۲

(۸)نعمانی ،غیبة، ص۱۰۸ ؛بحا رالانوار ،ج۵۲،ص۳۴۸

(۹)القول المختصر، ص۲۶


شاید ثمالی کی روایت میں سیف مخترط سے مراد خاص اسلحے ہوں جو حضرت مہدی کی دسترس میں آئیں گے ؛اس لئے کہ تمام سرزمینوں کو فتح کرنے کے لئے مافوق طاقت کی ضرورت ہے، اور ایسے مناسب اسلحے جو تمام اسلحوں پر بھاری ہوں؛ خصوصاً اگر ہم کہیں کہ حضرت اپنی مختلف فعالیت عادی اورمعمولی طریقوں سے انجام دیں گے ۔

ہند کے فتح ہونے کے بارے میں کعب کہتا ہے: جو حکومت بیت المقدس میں ہوگی ہند سپاہی بھیجے گی، اور اس جگہ کوفتح کرے گی، اس کے بعد وہ لشکرہند میں داخل ہو جائے گا، اور وہاں کے خزانے بیت المقدس کی حکومت کے لئے روانہ کریں گے، اورہند کے بادشاہوں کو اسیر کی صورت میں ان کے پاس لے آئیں گے مشرق و مغرب ان کے لئے فتح ہو جائے گا، اور دجال کے خروج تک فوجین ہند میں رہیں گی۔(۱)

خذیفہ کہتے ہیں : رسول خدا نے فرمایا : طاہر اسماء کے فرزند نے بنی اسرائیل سے جنگ کی،اور انھیں اسیر کیا، اور بیت المقدس میں آگ لگائی، اور وہاں سے۱ ۷۰۰/ سو یا۱ ۹۰۰/ سو کشتی جواہرات اور سونے کی شہر روم میں لایا یقینا حضرت مہدی اسے باہر نکال کر بیت المقدس واپس لائیں گے ۔(۲)

اگر چہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کا آغاز مکہ سے ہوگا(۳) لیکن ظہور کے بعد سر زمین حجاز کو فتح کریں گے(۴) امام محمدباقر(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

____________________

(۱)عقد الدر ،ص۹۷،۳۱۹؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۸۱؛حنفی ،برہان، ص۸۸

(۲)عقد الدر ،ص۲۰۱؛شافعی ،بیان، ص۱۱۴؛احقاق الحق، ج۱۳، ص۲۲۹

(۳)حجاز شمال سے خلیج عقبہ کی سمت مغرب سے بحر الاحمر مشرق سے نجد اور جنوب سے عسیر تک محدود ہوجاتا ہے لیکن حموینی کی نقل کے مطابق یمن میں اعماق صنعا سے شام تک کو حجاز کہتے ہیں اور تبوک و فلسطین بھی اسی کا جزء ہے۔ معجم البلدان

(۴)ابن حماد، فتن ،ص۹۵؛متقی ہندی ،برہان، ص۱۴۱؛ابن طاوس، ملاحم، ص۶۴؛القول المختصر ،ص۲۳


حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)مکہ میں ظہور کریں گے، لیکن حجاز بھی فتح ہو جائے گا ،اور تمام ہاشمی قیدیوں کو زندان سے رہا کریں گے ۔(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فتح خراسان کے بارے میں فرماتے ہیں -: حضرت خراسان فتح ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے،(۲) پھراس کے بعد مدینہ واپس آجائیں گے۔(۳)

آنحضرت حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہاتھوں آرمینة(۴) کے فتح ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں : حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی تحریک جاری رکھیں گے،اور جب آرمینیہ پہنچ جائیں گے، اور انھیں وہاں کے لوگ دیکھیں گے تو ایک دانشمند راہب کو حضرت سے مذاکرہ کے لئے بھجیں گے، راہب امام (علیہ السلام) سے کہے گا : کیا تم ہی مہدی ہو؟ تو حضرت جواب دیں گے : ہاں میں ہی ہوں؛ میںوہی ہوں جس کا نام انجیل میں ذکر ہے، اور آخر زمانہ میں جس کے ظہور کی بشارت دی گئی ہے، وہ سوالات کرے گا اور امام جواب دیں گے ۔

عیسائی راہب اسلام لے آئے گا،لیکن آرمینیہ کے رہنے والے سر کشی اور طغیانی کریں گے، اس کے بعد حضرت کے سپاہی شہر میں داخل ہو جائیں گے اور پانچ سوعیسائی فوج کو نیست ونابود کردیں گے، خدا وندعالم اپنی بے پایاں قدرت سے ان کے شہر کو زمین وآسمان کے مابین معلق کر دے گا اس طرح سے کہ بادشا ہ اور اس کے حوالی موالی جو شہر کے باہر ساکن تھے شہر کو آسمان

____________________

(۱)خراسان اس وقت ایران ،افغانستان ،روس کی سر زمین کو کہتے تھے ۔اعلام المنجد، ص۲۶۷

(۲)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۵۸

(۳)ارمینیہ ایشیاء صغیر میں آرارات کے پہاڑوں اور قفقاز ،ایران ،ترکیہ اور دریائے فرات میں محدود تھاایک وقت ایسا آیا کہ مستقل حکومت ہوگئی اور بیزانس کی بادشاہی ختم ہو ئی تو یہ سر زمین ایران ،روس اور عثمانیوں کے مابین تقسیم ہوگئی، المنجد ،ص۵ ۲

(۴)وہی، ص۱۶۲


وزمین کے درمیان دیکھیں گے، آرمینیة کا باد شاہ خوف سے فرار کرجاے گا، اور اپنے حوالی موالی سے کہے گا : کسی پناہ گاہ میں پناہ لو، اَثنا ء راہ میں ایک شیر راستہ بند کر دے گا ،وہ لوگ خوفزدہ ہو کر ا پنے ہمراہ لئے اموال و اسلحوں کو پھینک دیں گے، اور حضرت کے سپاہی جو ان کے تعاقب میں ہوں گے لے لیں گے، اور اپنے درمیان اس طرح تقسیم کریں گے کہ سب کو سو سوہزار دینار ملے۔(۱) فتح جہان کا دوسرا حصہ حضرت کے لئے زنج کے شہر ہیں اس سلسلے میں حضرت امیر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی تحریک شہر زنج کبریٰ پہنچنے تک جاری رکھیں گے اس شہر میں ہزار بازار اور ہر بازار میں ہزار دکانیں ہیں ،حضرت اس شہرکو بھی فتح کریں گے،(۲) اسے فتح کرنے کے بعد قاطعِ نامی شہر کا عزم کریں گے، جو جزیرہ کی صورت سمندر کے اوپر واقع ہے۔(۳) حضرت امام محمدباقر(علیہ السلام) پوری دنیا میں لشکر بھیجنے سے متعلق فرماتے ہیں : گویا ہم قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو دیکھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنا لشکر پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے“(۴)

نیز حضرت فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)اپنے لشکر کو بیعت لینے کے لئے پوری دنیا میں روانہ کریں گے ،ظلم و ظالم کو مٹادیں گے، اور فتح شدہ شہر حضرت کے لئے ثابت و بر قرار ہو جائے گا، اور خد اوند عالم آپ کے مبارک ہاتھوں سے، قسطنطنیہ کو فتح کرے گا“(۵)

____________________

(۱)وہی،ص۱۶۴

(۲)وہی،ج۱،ص۱۶۴؛ملاحظہ ہو:عقد الدرر ،ص۲۰۰؛احقاق الحق ،ج۱۳، ص۲۲۹

(۳)مفید ،ارشاد، ص۳۴۱؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۳۷

(۴)ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۴الفتاوی الحدیثیہ، ص۳۱

(۵)ضبہ حجاز میں ایک دیہات ہے جو شام کے راستے میں دریا کے کنارے واقع ہے اس کے کنارے حضرت یعقوب کا دیہات ”بدا“کے نام سے ہے بنی ضبہ ایک قبیلہ ہے جس نے جنگ جمل میں دشمنان علی کی مدد سے قیام کیا، اور اکثر و بیشتر رجز اورا شعار جو انھوں نے پڑھے، قبیلہ ضبہ اور ازد سے مربوط تھے، وہ لوگ اس جنگ میں عائشہ کے اونٹ کے ارد گرد رہے، اور اس کی حمایت کی سمعانی انساب ،ج۴،ص۱۲؛ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۹، ص۳۲۰وج۱،ص۲۵۳


شورشوں کی سرکوبی ،فتنوں کی خاموشی

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور ومختلف شہروں ا ور ملکوں کے فتح ہوجانے کے بعد بعض شہراور قبیلے کے لوگ حضرت کے مقابل آجائیں گے، لیکن حضرت کے لشکر کے ذریعہ شکست کھائیں گے، نیز بعض کج فکر افراد حضرت کی بعض مسائل میں نا فرمانی کریں گے ،اور حضرت کے خلاف طغیانی کریں گے، پھر دوبارہ حضرت کے لشکر کے ذریعہ سرکوب ہوں گے، اس سلسلہ میں روایات ملاحظہ ہوں ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : تیرہ ۱۳/ شہر و طائفے(قبیلے) ایسے ہیں جو حضرت کے ساتھ جنگ کریں گے، اور حضرت ان سے جنگ کریں گے، وہ تیرہ درج ذیل ہیں ۔

مکہ ،مدینہ ،شام، بنی امیہ،بصرہ،دمنسیان ،کرد،عرب قبیلے،بنی ضبہ،(۱) غنی(۲) باھلہ ،(۳) ازد،سر زمین رے کے لوگ۔(۴)

امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی باتوں سے بعض لوگوں کی پر خاش کے بارے میں کہتے ہیں : جب حضرت مہدی کچھ احکام بیان کریں گے

____________________

(۱)غنی ایک قبیلہ ہے جو جزیرة العرب کی سر زمین ”ہار“جو موصل اور شام کے درمیان واقع ہے رہتا تھا، اور غنی بن یعصر نامی شخص سے منسوب ہیںسمعانی انساب، ج۴،ص۳۱۵

(۲)باہلہ، باہلہ بن اعصر کی طرف منسوب ایک طائفہ ہے عرب اس زمانے میں ان سے ارتباط و تعلق سے پر ہیز کرتے تھے اس لئے کہ ان کے درمیان شرافتمند اور محترم انسان کوئی نہیں تھا ،باہلہ طائفہ کے لوگ پست تھے، حضرت علی نے جنگ صفین میں جانے سے پہلے ان کے بارے میں کہا:”خدا شاہد ہے کہ میں تم سے اور تم ہم سے ناراض ہو،لہٰذا تم لوگ آو اور اپنا حق لے لو، اور کوفہ سے دیلم روانہ ہو جاو؛سمعانی انساب، ج۱،ص۲۷۵؛وقعة صفین، ص۱۱۶:النفی والتغریب ،ص۳۴۹؛ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ، ج۳،ص۲۷۲؛الغارات ،ج۲،ص۲۱

(۳)نعمانی، غیبة، ص۲۹۹؛بصائر الدرجات ،ص۳۳۶؛حلیة الابرار، ج۲،ص۶۳۲؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۶۳ و ج۲۸، ص۸۴

(۴)عیاشی ،تفسیر ،ج۲،ص۶۱؛تفسیر برہان، ج۲،ص۸۳؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۴۵


یابعض سنت کی بات کریں گے، توبعض گروہ حضرت پر اعتراض اور مخالفت کرتے ہوئے مسجد سے باہرنکل پڑیں گا حضرت ان کے تعاقب کا حکم دیں گے، حضرت کا لشکر تمّارین محلہ میں ان پر قابو پائے گا، اور انھیں اسیر کر کے، حضرت کی خدمت میں لائیں گے، تو حضرت حکم دیں گے کے سب کی گردن مار دو، یہ حضرت کے خلاف آخری شورش و سر پیچی ہوگی۔(۱)

مقام رمیلہ میں یورش اور اس کی نابودی کے بارے میں ابی یعفور کے بیٹے کہتے ہیں :میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں اس وقت آیا جب کہ ایک گروہ ان کے پاس موجود تھا، حضرت نے مجھ سے کہا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟میں نے کہا :ہاں!لیکن اس معروف و مشہور قرآن سے، امام نے کہا:میری مراد یہی تھی میں نے کہا: اس سوال کا کیا مطلب ؟ تو آپ نے کہا: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے کچھ بیان کیا،لیکن وہ اس کے اہل نہیں تھے، اور حضرت کے خلاف مصر میں قیام کر بیٹھے، موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کے ساتھ مبارزہ کیا اور قتل کر ڈالا۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو کچھ کہا، ان لوگوں نے اسے برداشت نہیں کیا، اور ان کے خلاف شہر تکریت میں قیام کر بیٹھے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے روبرو آگئے ، اور انھیں نابو د کر دیا ،یہ خدا وند عالم کے قول کے معنی ہیں۔

( فامنت من بنی اسرائیل ) (۲)

نبی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرا گروہ کافر ہو گیا تو ہم نے ایمان لانے والے کی نصرت کی اور دشمنوں پر کامیابی عطا کی۔

____________________

(۱)سورہ صف، آیت۱۴

(۲)بصائر الدرجات، ص۳۳۶؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۷۵و ج۴۷، ص۸۴و ج۱۴، ص۲۷۹


حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) بھی جب ظہور کریں گے توایسی باتیں کہیں گے جسے بر داشت نہیں کر پاوگے، اس اعتبار سے شہر رمیلہ میں حضرت کے خلاف قیام اورجنگ کروگے، توحضرت بھی تمہارے مقابل آکر تمہیں قتل کریں گے ،یہ حضرت کے خلاف آخری یورش ہوگی“(۱)

ھ)جنگوں کا خاتمہ

حضرت امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت بر قرار اور نظام الٰہی کے استوار ہونے اور شیطانی طاقتوں کے خاتمے سے جنگ رک جائے گی، پھر کوئی ایسی طاقت نہیں ہوگی جو حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوج سے نبردآزمائی کرے اس لحاظ سے فوجی ساز و سامان بغیر مانگ کے بازاروں میں نظر آئیں گے، آخر کا راتنے سستے ہوں گے کہ کوئی خریدار نہ ہوگا۔

حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: جنگیں بھی ختم ہو جائیں گی۔(۲)

کعب کہتے ہیں : اس وقت ایاّم کا خاتمہ ہوگا جب قریش سے ایک شخص بیت المقدس میں ساکن ہو جائے اور جنگیں بھی بند ہوجائیں ۔(۳) رسول خدا نے ایک خطبہ میں دجال اور اس کے قتل ہونے کے بارے میں فرمایا: کہ اس کے بعد ایک گھوڑے کی قیمت چند درہم ہو جائے گی۔(۴)

ابن مسعود کہتے ہیں :قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ عورت اور گھوڑے مہنگے ہو جائیں گے؛پھر اس کے بعد سستے ہوجائیں گے کہ قیامت تک پھر کبھی ان کی قیمت نہیں بڑھے گی ۔(۵)

____________________

(۱)ابن حماد ،فتن، ص۱۶۲؛المعجم الصغیر ،ص۱۵۰؛احقا ق الحق، ج۱۳،ص۲۰۴

(۲)عقد الدرر، ص۱۶۶ ؛ملاحظہ ہو:عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱،ص۴۰۱

(۳)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۵۲

(۴)المعجم الکبیر، ج۹،ص۳۴۲؛ اور اسی سے مربوط مطلب عقد الدرر، ص۳۳۱خارجہ ابن صلت سے نقل ہوا ہے

(۵)الفائق، ج۱،ص۳۵۴


شاید ظہور امام زمان(عجل اللہ تعالی فرجہ) سے پہلے عورت کی گرانی سے مراد یہ ہو کہ اقتصادی حالات کے ناگوار ہونے سے ایک عورت کی حفاظت اور خاندانوں کی تشکیل مشکل ہو جائے گی ؛اس طرح سے کہ جنگوں کی زیادتی اور گھوڑوں کی ضرورت کی بناء پر جنگی سامان کی فراہمی دشواراور گراں ہوگی، لیکن جنگ بند ہونے اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کے بعد جنگی آلات سستے ہو جائیں گے، اور اقتصادی حالات کی بہتری کی وجہ سے ازدواجی مشکل آسان ہو جائے گی گویا عورت سستی ہوگئی ہو۔

زمخشری نقل کرتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کی ایک علامت یہ ہے کہ شمشیر کو کلہاڑی کی جگہ استعما ل کیا جائے گا۔(۱)

اس لئے کہ جب اس زمانے میں پھر کوئی جنگ نہ ہوگی؛تو نتیجہ کے طور پر وہ آلات و ہتھیار جو جنگ میں استعما ل ہوتے ہیں، کھیتوں کی ترقی میں استعمال ہوں گے۔

رسول خدا فرماتے ہیں : گائے کی قیمت بڑھ جائے گی، لیکن گھوڑے کی قیمت گھٹ جائے گی(۲) شاید اس روایت کی بھی تفسیر اسی طرح ہو؛ اس لئے کہ گائے کاا ستعمال کھیتی میں ہونے لگے گا، اور اس کا گوشت ،اور دودھ قابل استفاہ ہوگا؛ لیکن گھوڑوں کازیادہ تر استعمال جنگی آلات کی جگہ ہوتاہے (اور جنگ ختم ہو چکی ہوگی)

____________________

(۱)الفائق، ج۱،ص۳۵۴

(۲)ابن حماد ،فتن ،ص۱۵۹؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۸۲


پانچویں فصل :

غیبی امداد

اگر چہ ساری روایات میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے بعداکثر جنگوں کی نسبت میدان رزم سے دی گئی ہے کہ جو پوری دنیا سے چل کر حضرت سے ملحق ہو جائیں گے، لیکن ساری کائنات پر تکنالوجی کی ترقی اور صنعتوں کی پیشرفت اور علمی ارتقاء کے باوجود ظہورسے قبل کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے؛ مگر ایک ایسے رہبر کے ذریعہ جس کی مدد و تائید خدا کی طرف سے ہو،انجام پذیر ہو۔

کبھی غیبی امداد اس قدرت میں ہے جو خدا وند عالم نے حضرت کو دی ہے نیز حضرت کرامتیں ظاہر کر کے راستے کی مشکلیں دور کریں گے، یا اتنا رعب و خوف ہوگا جس سے دشمن سپر انداختہ ہو جائے گا، یا خدا وند عالم ملائکہ کو حضرت کی مدد کے لئے بھیجے گا، بعض روایات میں فرشتہ صفت افواج کا بیان ہے کہ وہ لوگ حضرت کے ظہور کے منتظر اور مدد کے لئے آمادہ ہیں، تابوت اور اس میں موجود اشیاء نصرت و مدد کے ایک دوسرے وسیلے کے عنوان سے مذکور ہیں ۔

اس فصل میں اس طرح کی بعض روایات ذکر کریں گے۔

الف) رعب ،خوف اورامام کے اسلحے

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: ہمارے قائم کی مدد رعب ، دبدبہ اور خوف کے ذریعہ ہوگی “(۱)

____________________

(۱)مستدرک الوسائل ،ج۱۲،ص۳۳۵و ج۱۴،ص۳۵۴


( ان کا رعب دشمنوں کے دلوں میں اتنا ہوگا کہ ڈر سے ہتھیار ڈال دیں گے)

نیز حضرت فرماتے ہیں : ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی تین طرح کے لشکر سے مدد کی جائے گی : فرشتے ،مومنین اور رعب و ہیبت دشمنوں کے دل میں خوف پیدا ہوگا۔(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں : خوف و وحشت امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی قدرت میں شمار ہوں گے اور وہ آپ کے سپاہیوں کے آگے آگے نیز پیچھے کے لحاظ سے بھی یک ماہ کے فاصلہ سے ظاہر ہوگا ۔(۲)

اسی طرح حضرت فرماتے ہیں : خوف و رعب حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے پرچم کے آگے ایک ماہ کے فاصلہ سے نیز پشت سے بھی ایک ماہ کے فاصلہ سے ظاہر ہوگا، اسی طرح داہنے اور بائیں طرف سے بھی ۔(۳)

ان روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جب حضرت مہدی کسی جگہ کا ارادہ کریں گے تو دشمن پہلے ہی خوف و دہشت میں مبتلاء ہو جائے گا، اور حضرت کے سپاہیوں کے روبرو ہونے اور مقاومت کی صلاحیت کھو بیٹھے گا یہی صورت ہوگی جب حضرت کے لشکر والے کہیں جائیں گے تو کسی میں یورش کرنے کی جرات نہ ہوگی؛ اس لئے کہ دشمن حضرت کے لشکر سے خوفزدہ ہوگا یہ تفسیر و توضیح پہلے بیان کی جانے والی روایت سے ظاہر طور پر تضاد رکھتی ہے۔

ب) فرشتے اور جنات

حضرت امیر المو منین علیہ السلام فرماتے ہیں :خداوند عالم حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فرشتوں اور جنات نیز مخلص شیعوں کے ذریعہ مدد کرے گا ۔(۴)

____________________

(۱)بحارالانوار، ج۵۲،ص ۳۵۶

(۲)وہی، ص۳۴۳

(۳)نعمانی، غیبة، ص۳۰۸؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۱

(۴)حصینی،الھدایہ،ص۳۱،ارشاد القلوب،ص۲۸۶


ابان بن تغلب کہتے ہیں:امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے فرمایا: گویاابھی میںحضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو شہر نجف کی پشت پر دیکھ رہا ہوں جب وہ دنیا کے اس نقطہ پر پہنچ جائیں گے توآپ سیاہ گھوڑے پر جس کے بدن پر سفید چتی ہوگی اور پیشانی پر ایک سفید نشان ہوگا سوار ہوں گے ،دنیا کے شہروں کو فتح کریں گے، دنیا کا ہر شہر قبول کرے گا، نیز حضرت مہدی انھیں شہروں میں ان کے درمیان ہوں گے، جب کہ وہ رسول خدا کا پر چم لہرا رہے ہوں گے ، ۳۱۳/ افراد فرشتے اس پرچم کے نیچے ہوں گے، جو برسوں سے ظہور کے منتظر تھے ،اور جنگ کے لئے آمادہ ہوجائیں گے، یہ وہی فرشتے ہیں جو حضرت نوح(علیہ السلام)کے ساتھ کشتی میں،ابراہیم(علیہ السلام) کے ساتھ آگ میں، عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ آسمان کی جانب پرواز کرنے میں ساتھ تھے ۔

اسی طرح چار ہزار فرشتے حضرت کی مدد کو آئیں گے، وہی فرشتے جو سر زمین کربلا پر امام حسین (علیہ السلام) کے ہمرکاب جنگ کے لئے آئے تھے، لیکن اس کی انھیں اجازت نہیں ملی، اور آسمان کی طرف چلے گئے، اور جب اذن جہاد کے ساتھ لوٹے، تو امام حسین (علیہ السلام) شہید ہو چکے تھے اور اس عظیم فیض کے کھو دینے پر مسلسل غمگین و محزون ہیں، اور قیامت تک امام حسین (علیہ السلام)کی ضریح کا طواف اور گریہ کرتے رہیں گے ۔(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں: گویا ابھی میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے یاوروں کو دیکھ رہا ہوں کہ جبرئیل فرشتہ حضرت مہدی کے داہنے جانب میکائیل بائیں جانب اور خوف و ہراس سپاہیوں کے آگے آگے ایک ماہ کے فاصلہ سے معلوم ہو رہا ہے، خدا وند عالم ان کی پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کرے گا۔(۲)

____________________

(۱)کمال الدین ،ج۲،ص۶۷۲؛نعمانی ،غیبة، ص۳۰۹؛کامل الزیارات ،ص۱۲۰؛العدد القویہ ،ص۷۴؛مستدرک الوسائل ، ج۱۰،ص۲۴۵

(۲)بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۴۳؛نورا لثقلین ،ج۱،ص۳۸۸؛القول المختصر ،ص۲۱


نیز آنحضرت فرماتے ہیں : جن فرشتوں نے رسول خدا کی جنگ بدر میں مدد کی تھی، ابھی تک آسمان پر نہیں گئے، بلکہ حضرت صاحب الامر (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی مدد کے لئے زمین پر موجود ہیں ،اور ان کی تعداد پانچ ہزار ہے۔(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے لئے ۹۳۱۳ فرشتے آسمان سے آئے ہیں، یہ وہی فرشتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے جب خداوند عالم نے انھیں آسمان پر بلایاتھا“(۲)

حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ مورد تائید واقع ہوں گے، وہ لوگ دشمنوں کے چہرے خراب اور کمر توڑ ڈالیں گے۔(۳)

آیہ شریفہ( اَتَیٰ اَمْرُ اللّٰهِ فَلَاْ تَسْتَعْجِلُوْه ) (۴) امر الٰہی آپہنچا ہے لہٰذا اس کے بارے میں جلدی نہ کرو، کی تفسیر میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: یہ امر الٰہی ہمارا امر ہے، یعنی خدا وند عالم نے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کے لئے حکم دیا ہے کہ جلد بازی نہ کرو؛اس لئے کہ خدا وند عالم تین طرح کے لشکر فرشتوں ،مومنین اوررعب ودبدبہ کے ذریعہ ان کی پشت پناہی کرے گا ،اورہم اپنا حق پائیں گے۔(۵)

____________________

(۱)اثبا ت الہداة، ج۳،ص۵۴۹؛نور الثقلین ،ج۱۲،ص۳۸۸؛مستدرک الوسائل، ج۲،ص۴۴۸

(۲)بحار الانوار، ج۱۴،ص۳۳۹ملاحظہ ہو:نعمانی غیبة،ص۳۱۱

(۳)ابن حماد، فتن، ص۱۰۱؛شافعی، بیان، ص۵۱۵؛الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۷۳؛الصواعق المحرقہ، ص۱۶۷؛کنزل العمال ، ج۴،ص۵۸۹؛ابن طاوس، ملاحم، ص۷۳؛احاق الحق ،ج۱۹،ص۶۵۲

(۴)سورہ نحل، آیت۱

(۵)تاویل الآیات الظاہرہ، ج۱،ص۲۵۲؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۶۲؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۶


حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو خد اوند عالم فرشتوں کو حکم دے گا کہ مومنین کی مجالس میں شرکت کریں، اور ان پر سلام کریں اور اگر کسی مومن کو حضرت سے کوئی کام ہو گا تو حضرت فرشتوں کو حکم دیں گے کہ انھیں دوش پر اٹھا کر میرے پاس لے آو، اور جب ضرورت بر طرف ہو جائے گی تو پھر اسے پہلی جگہ لوٹا دیں گے ۔

بعض مومنین بادل کے اوپر چلیں گے، اور بعض فرشتوں کے ہمراہ آسمان پر پرواز کریں گے،اور بعض گروہ فرشتوں پر بھی سبقت لے جائیں گے نیز بعض مومنین کو فرشتے قاضی بنائیں گے، اس لئے کہ مومن کی خدا وندعالم کے نزدیک فرشتہ سے بھی زیادہ اہمیت اور قیمت ہے، اتنی کہ بعض مومنین کو سو ہزار فرشتے پر قاضی بنائے گا“(۱)

شاید مومنین کی فرشتوں کے درمیان قضاوت کرنا علمی مسائل میں رفع اختلاف کے عنوان سے ہو ااورس طرح کے اختلافات فرشتوں کی عصمت کے منافی نہیں ہیں ۔

ج)زمین کے فرشتے

محمد بن مسلم کہتے ہیں : امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے علمی میراث اور اندازہ کے بارے میں سوا ل کیا ؟ تو حضرت نے جواب دیا:خدا وند عالم کے دو شہرہیں، ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں، ان دو شہروں میں ایسا گروہ رہتا ہے جو نہ ابلیس کو پہچانتا ہے، اور نہ ہی اس کی خلقت کے بارے میں کچھ جانتا ہے، اور جب کچھ دن کے بعد ایک بار ان کی زیارت کرتا ہوں تو مبتلا بہ مسائل اور دعا کی کیفیت کے بارے میں سوا ل کرتے ہیں، اور ہم انھیں سکھاتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے وقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں،اوروہ لوگ خداوند عالم کی عبادت و پر ستش میں بہت زیادہ ہی کوشاں رہتے ہیں ۔

____________________

(۱)دلائل الامامہ، ص۲۴۱؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۷۳


اس شہر میں دروازے ہیں جس کا ہر پلہ سو فرسخ فاصلہ پر ہے، وہ لوگ عبادت ، خدا کی تمجید اور دعاکی بہت کوشش کرتے ہیں، اگر تم لوگ انھیں دیکھوگے تو اپنے کر دار و رفتار کو معمولی شمار کروگے، نیز جب ان میں بعض نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو ایک ماہ تک سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں، ان کی غذا اللہ کی ستائش ،لباس پتے اوران کے رخسار نور کے سبب درخشاں ہیں، اگر ہم میں سے کسی امام کے روبروہوتے ہیں تو انھیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر ان کے قدموں کی خاک اٹھا کر تبرک حاصل کرتے ہیں، نماز کے وقت ایسی آہ و زاری کرتے ہیںجو طوفان کی صدا سے زیادہ سہمانے والی ہوتی ہے، ان میں سے بعض گروہ جس دن سے حضرت کے ظہور کے منتظر ہیں کبھی اسلحے زمین میں نہیں رکھا ہے اور ان کی حالت ایسی ہی تھی، وہ ہمیشہ خدا وند عالم سے درخواست کرتے ہیں کہ صاحب الامر(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو ظاہر کر دے۔

ان میں ہر ایک، ہزار سال زندہ رہتا ہے، ان کے رخسار سے خدا وندعالم کی بندگی اورتقرب و عاجزی کے آثار نمایا ں ہیں، اور جب ہم ان کے پاس نہیں جاتے ہیں تو وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان سے راضی نہیں ہیں، اور جس وقت ہم ان کے دیدار کو جاتے ہیں تو وہ دیکھتے رہتے ہیں اور اسی وقت سے ہمارے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں، اور کبھی تھکتے نہیں ۔

جیسا میں نے انھیں سکھایا ہے اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں، لیکن کچھ قرائتیں جو ہم نے سکھائی ہیں،اگر لوگوں کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ قبول نہیں کریں گے،اور جو قرآنی مطالب کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ہم جواب دیتے ہیں، تو اپنے سینہ و فکر کو کھول دیتے ہیں ،نیز وہ ہمارے لئے خدا وند عالم سے طول عمر کی دعاکرتے ہیں، تاکہ ہمیں اپنے ہاتھوں نہ گنوائیں، و ہ جانتے ہیں کہ جو ہم سے سیکھتے ہیں خدا وندعالم کا احسان سمجھتے ہیں ۔


جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو وہ لوگ حضرت کے ہمراہ ہوں گے ، اور امام کے دیگر سپاہیوں پر سبقت حاصل کریں گے، اور خدا وند عالم سے دعاکریں گے کہ وہ اپنے دین کی ان لوگوں کے ذریعہ مدد کرے، ان کا گروہ جوان اور بزرگ دونوں پر مشتمل ہے، اگر کوئی ایک جوان کسی بزرگ کو دیکھتا ہے تو ان کے احترام میں غلام کی طرح بیٹھ جاتا ہے، اور بغیر اجازت اپنی جگہ سے نہیں اٹھتا،نیز جس راہ کو وہ لوگ خود بہتر سمجھتے ہیں اسی راہ سے امام کے خیالات کو جان لیتے ہیں ،اور امام اگر کوئی حکم دیتے ہیں تو اس پر آخر تک باقی رہتے ہیں ،مگر یہ کہ خود حضرت انھیں کوئی دوسرا کام سپرد کردیں۔

اگرمشرق ومغرب والو ں سے جنگ کے لئے جائیں گے، تو انھیں منٹوں میں نیست و نابود کر دیں گے، اور ان پر اسلحوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا، آھنی اسلحے اور تلواریں ان کے پاس ہیں، لیکن آلیاژ(یعنی ہم بستہ) لوہے کے علاوہ ہے، اگر کسی پہاڑ پر تلوار مار دیں تو دوٹکڑے ہو جائے گا،اور اسے اس جگہ سے اکھاڑ پھینکیں گے،امام(عجل اللہ تعالی فرجہ) ان سپاہیوں کو ، ھند،دیلم،کرد،روم، بربر، فارس،جابرسا،جابلقا اور مشرق ومغرب کے دوشہر کی سمت جنگ کے لئے روانہ کریں گے۔

کسی بھی ادیان کے ماننے والوںسے تعارض نہیں کریں گے، مگر یہ کہ پہلے انھیں اسلام اوریکتا پرستی ،پیغمبر کی نبوت اور ہماری ولایت کی دعوت دے دیں، لہٰذا جو قبول کرے گا اسے چھوڑدیں گے، اور جو انکار کرے گا اسے قتل کر ڈالیں گے، اسی طرح سے ہوگا کہ مشرق و مغرب میں صرف مومن رہ جائیں گے۔(۱)

ان سپاہیوں کا سرسری جایزہ لینے سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ شاید وہ لوگ وہی فرشتے ہیں جو زمین پر کسی جگہ رہ کر حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کا انتظار کر رہے ہیں ۔

د)تابوت موسیٰ (علیہ السلام)

”غایة المرام“ میں رسول خدا سے اس طرح منقول ہے: حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)

____________________

(۱)بصائر الدرجات ،ص۱۴۴؛اثبات الہداة ،ج۳ ،ص۵۲۳؛تبصرہ الولی ،ص۹۷؛بحار الانوار، ج۲۷،ص۴۱و ج۵۴ ، ص۳۳۴


کےظہور کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے زمین پر آئیں گے تو ا نطاکیہ سے کتابیں اکٹھا کریں گے ،خدا وند عالم (ارم ذات العماد)(۱) کے رخ سے پردہ اٹھا دے گا اور جو محل حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی موت سے پہلے بنوایا تھا اسے ظاہر کردیں گے، حضرت ، محل میں موجود ہ چیزوں کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیں گے، اور وہ تابوت جسے خدا وند عالم نے ”ارمیا“کو حکم دیا تھا کہ طبرستان کے دریا میں ڈال دو اسے نکال لیں گے،جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون کے خاندان کی یاد گار ہے اسی تابوت میں ہے، نیز الواح ،موسیٰ(علیہ السلام) عصا، ہارون کی قبا ،نیز دس کیلو وہ غذا جو بنی اسرائیل کے لئے نازل ہوئی تھی اور مرغ بریاں جو اپنے آیندہ کے لئے ذخیرہ کر تے تھے اسی تابوت میں ہے، پھر اس وقت تابوت کی مدد سے شہروں کو فتح کریں گے، اسی طرح کہ اس سے پہلے بھی ایسا کیا ہے۔(۲)

”ینابیع المودة“ معمولی تبدیلی کے ساتھ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) سے اس بات کی نسبت دیتی ہے کہ حضرت مہدی انطاکیہ کے غار سے کتابیں نکالیں گے،اور حضرت داود (علیہ السلام) کی زبور، طبرستان کے چھوٹے دریا سے باہر نکالیں گے، اس کتاب میں خاندان موسیٰ و ہارون( علیہما السلام) کی یاد گار ہے، فرشتے اسے کاندھے پر اٹھائے ہیں، الواح اور موسیٰ (علیہ السلام) کاعصا اسی میں ہے ۔(۳)

____________________

(۱)اس آیہ شریفہ <اِرَم ذاتِ العِماد التی لَمْ یُخلَق مثلها فی البِلاد >اے رسول کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے شہر ارم کے باشندے جو صاحب اقتدار تھے انھیں کیسا مزہ چکھایا ؟جب کہ ویسا شہر مضبوطی و عظمت کے اعتبار سے دنیا میں نہیں تھا )کی طرف اشارہ ہے سورہ فجر آیت ۸اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ایسا باعظمت و پر رونق شہر دوبارہ حضرت عیسیٰ کے لئے آشکار ہوگا، اور یہ پوشیدہ شہر ظاہر ہو جائے گا

(۲)غایة المرام، ص۶۹۷؛حلیة الابرار، ج۲،ص۶۲۰؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۳۶؛ملاحظہ ہو:ابن طاوس ،ملاحم ، ص۱۶۶؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۸۹،۵۴۱

(۳)ینا بیع المودة، ص۴۰۱؛ابن حماد، فتن ،ص۱۹۸؛متقی ہندی، برہان ، ص۱۵۷؛ابن طاوس، ملاحم، ص۶۷


چھٹی فصل :

دشمنوں سے امام کا سلوک

صدیوں انتظار اوررنج و الم بر داشت کرنے کے بعد ظلم و ستم اور تاریکی کے خاتمہ کا وقت آچکا ہے، خورشید سعادت کا پر تو ظاہر ہوگا اور ایک با عظمت ہستی خداوندعالم کی مدد سے، ظلم و ستم کی بنیاد ڈھانے کے لئے ظہور کرے گی حضرت وسیع پیمانے پر اصلاح اور معنوی و مادی بنیادوں کی تبدیلی کو ختم کریں گے، اور اسلامی سماج کو ایسے راستے پر گامزن کردیں گے جو خوشنودی الٰہی کا خواہا ں ہوگا۔

اس دوران اگر اشخاص ،و احزاب اور پارٹیاں مشکل پیدا کرنا چاہیں کہ اس عظیم قیام میں رکاوٹ پڑجائے نیز خلل اندازی کرکے تحریک کو ضعیف کرنا چاہیں گی تو بشریت کے سب سے بڑے اور دین الٰہی کے زبر دست دشمن ہوں گے، ان کی جزا حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دست زبردست سے فنا ونابودی ہی ہوگی۔

انقلاب امام میں رخنہ اندازوہ لوگ ہوں گے، جن کے ہاتھ انسانیت کے خون سے آلودہ ہوں گے، یا لا ابالی و بے پرواہ ہوں گے، جنھوں نے جرائم پیشہ افراد کے جرم سے خاموشی اختیار کی ہوگی، لیکن حضرت کے پر چم تلے آنے سے سر پیچی کریں گے،یا وہ کج فکرو نافہم ہوں گے، جو اپنی فکروں کو حضرت کی فکر پر ترجیح دیں گے، فطری ہے کہ ایسے لوگ قطعی طور پر سر کوب ہوں تاکہ ہمیشہ کے لئے انسانی سماج ان کے شر سے محفوظ ہو جائے، اس اعتبار سے حضرت کی روش ان لوگوں کے ساتھ نظر اندازی کے علاوہ ہے ۔

اس فصل میں دو بنیادی مطلب کو بیان کریں گے جو روایات سے مستفادہیں ۔


الف) دشمنوں کے مقابل امام کی استقامت

جو کچھ اس حصہ میں قابل غور ہے یہ کہ حضرت دشمنوں سے مقابلے کی صورت میں کسی طرح کی مجاز گوئی سے کام نہیں لیں گے، بلکہ ان میں سے بعض کو جنگ میں نیست ونابود کردیں گے، حتی کہ فراری و زخمیوں کا بھی تعاقب کریں گے، بعض گروہ کو پھانسی اور ان کے گھروں کو ویران کر دیں گے، اور بعض گروہ کو جلا وطن اور بعض کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔

۱ ۔جنگ و کشتار

زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے سوال کیا کہ کیا حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی وہی رفتار ہوگی جو حضرت رسول خدا کی تھی؟ امام (علیہ السلام) نے کہا: ہرگز وہ رسول خدا کے طریقوں کو (دشمنوں سے مقابلے میں) اختیار نہیں کریں گے، رسول خدا نے نرمی و ملائمت سے رفتار کی تھی، تاکہ ان کادل جیت لیں ،اور لوگ آنحضرت سے مانو س ہو جائیں، لیکن حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی سیاست قتل ہوگی ،اور جو دستور ہے اسی کے مطابق رفتار رکھیں گے۔

نیز کسی کی توبہ قبول نہیں کریں گے، لہٰذا وائے ہو اس پر جو ان کی مخالفت کرے“(۱)

حسن بن ہارون کہتے ہیں :امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے حضور میں تھا کہ معَلی بن خنیس نے حضرت سے سوال کیا :کیا حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے وقت حضرت

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۳۱؛عقد الدرر، ص۲۲۶؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۳۹؛حلیة الابرار، ج۵،ص۳۲۲؛لیکن اسی کے مقابل اور بھی روایات ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ آپ کی روش رسول اکرم کے مانند ہے نعمانی،ص۲۳۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۳


امیرالمو منین (علیہ السلام)کی روش کے خلاف رفتار رکھیں گے، جب دشمنوں سے مقابلہ ہوگا؟ امام نے کہا: ہاں؛حضرت علی(علیہ السلام) نے نرمی اور ملایمت کا رویہ اختیار کیا چونکہ جانتے تھے ان کے بعد دشمن چاہنے والوں اور شیعوں پر مسلط ہو جائیں گے، لیکن حضرت کا رویہ ان پرتسلط و غلبہ اور انھیں اسیر کرنا ہے، اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بعد کوئی شیعوں پر قابو نہیں پا سکے گا۔(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں :ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے وقت قتل و غارت گری اور عرق ریزی کے(۲) علاوہ کچھ نہیں ہوگا، نیز جنگ کی کثرت اور ہمہ وقت گھوڑوں پر سوار ہونے کی وجہ سے زیادہ جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔(۳)

مفضل کہتے ہیں : امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا درمیان گفتگو ذکر کیا تو میں نے عرض کیا:مجھے امید ہے کہ حضرت کے پروگرام عملی ہواور حکومت آسانی سے بر قرار ہوگی، آپ نے کہا: ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ بہت ہی زیادہ سختیوں کا سامناہو۔(۴)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : علی (علیہ السلام) نے کہا: میرے لئے بھاگنے والوں کو قتل کرنا اور زخمیوں کو ما رڈالناجائز تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا ؛ اس لئے کہ اگر شیعہ قیام کریں تو زخمیوں کو قتل نہ کریں، لیکن حضرت قائم کے لئے جائز و روا ہے کہ فراریوں کو قتل اور زخمیوں کو مار ڈالیں ۔(۵)

____________________

(۱)برقی ،محاسن، ص۳۲۰؛کافی، ج۵،ص۳۳؛علل الشرائع، ص۱۵۰؛التہذیب ،ج۶، ص۱۵۵؛وسائل الشیعہ،ج۱۱، ص۵۷؛مستدرک الوسائل، ج۱۱،ص۵۸؛جامع الحادیث الشیعہ ،ج۱۳،ص۱۰۱

(۲)روایت میں”والعرق “سے مراد، رگ ،اور گردن مارنا ہے

(۳)نعمانی ،غیبة، ص۲۸۵؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۴۳

(۴)نعمانی ،غیبة، ص۲۸۴؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۴۳

(۵)نعمانی ،غیبة، ص۲۳۱؛ملاحظہ ہو:التہذیب، ج۶ ،ص۱۵۴؛وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص۷۵؛ بحار الانوار، ج۵۲، ص۵۳۳؛ مستدرک الوسائل، ج۱۱،ص۵۴


امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ حضرت کا پروگرام کیا ہے اور وہ کیا کریں گے تو اکثر لوگ حضرت کو نہ دیکھنے کی آرزو کریں گے، اس لئے کہ حضرت بہت زیادہ قتل کریں گے، اور قطعی طور پر پہلی جنگ قبیلہ قریش سے ہوگی، پھر قریش کے بعد ہاتھ میں صرف تلوار ہوگی ،نیزانھیں بھی صرف تلوار ہی دیں گے، پھرحضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے کام کی انتہا اس وقت ہوگی جب لوگ کہنے لگیں کہ یہ آل محمد نہیں ہیں،اگر رسول خدا کے اہل بیت (علیہم السلام) میں ہوتے تو رحم کرتے ۔(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) نئے پروگرام و نئی سنت اور جدید قضاوت کے ساتھ قیام کریں گے، عربوں پر بہت سخت زمانہ آئے گا، لہٰذا ان کے لئے شایستہ اور شایان شان یہی ہے کہ دشمنوں کو قتل کردیں۔(۲)

۲ ۔پھانسی اور جلا وطنی

عبد اللہ مغیرہ کہتے ہیں : امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے فرمایا: جب حضرت قائم آل محمد ظہور کریں گے تو پانچ سو قریش کو کھڑے کھڑے اسی طرح دوسرے پانچ سو کو بھی پھانسی دیں گے ۔

اور اس کام کی ۶/ بار تکرار ہوگی، عبداللہ پوچھتے ہیں : آیا ان کی تعداد اتنی ہو جائے گی ؟

حضرت نے کہا: ”ہاں؛وہ خوداور ان کے چاہنے والے“(۳)

____________________

(۱)نعمانی ،غیبة، ص۲۳۱؛عقد الدرر ،ص۲۲۷؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۳۹؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۴

(۲)بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۴۹

(۳)مفید ،ارشاد، ص۳۶۴؛روضة الواعظین ،ج۲،ص۲۶۵؛کشف الغمہ ،ج۳،ص۲۵۵؛صراط المستقیم ،ج۲، ص۲۵۳؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۲۷؛بحا رالانوار ،ج۲۵،ص۳۳۸،۳۴۹


امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :جب حضرت قائم قیام کریں گے تو ایک ایک ناصبی پر ایمان پیش کریں گے، اگر حقیقت میں انھوں نے قبول کرلیا تو انھیں آزاد کر دیں گے،ورنہ گردن مار دیں گے، یا ان سے جزیہ (ٹیکس) لیں گے، جیسا کہ آج اہل ذِمّہ سے لیتے ہیں ،اور انھیں دیہاتوں اور آبادیوں سے دور جلاوطن کردیں گے۔(۱)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں:” جب ہمارے قائم ظہور کریں گے تو ہمارے دشمنوں کو چہروں سے تشخیص دیں گے اور ان کا سر اور پاوں پکڑ کر تلوار سے ماردیں گے یعنی انھیں نیست و نابود کر دیں گے“(۲)

۳ ۔ہاتھوں کا قطع کرنا

ہروی کہتا ہے : میں نے امام رضا(علیہ السلام) سے پوچھا: حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) سب سے پہلے کون ساکام کریں گے ؟ حضرت نے کہا: ابتدامیں بنی شیبہ کے سراغ میں جائیں گے ، اور ان کے ہاتھوں کو قطع کریں گے اس لئے کہ وہ لوگ خانہ خدا کے چورہیں۔(۳)

امام جعفر صادق (علیہ السلام )فرماتے ہیں:جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو بنی شیبہ کو گرفتار کر کے ان کے ہاتھوں کو قطع کریں گے، اور انھیںلوگوں کے درمیان تشہیر کرتے ہوئے آواز دیں گے کہ یہ لو گ خانہ خدا کے چور ہیں۔(۴)

نیز فرماتے ہیں : سب سے پہلے دو بدو مقابلہ بنی شیبہ سے ہے، ان کے ہاتھوں کو قطع کر

____________________

(۱)کافی ،ج۸، ص۲۲۷؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۵۰؛مراة العقول، ج۲۶،ص۱۶۰؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۵

(۲)احقا ق الحق، ج۱۳،ص۳۵۷؛المحجہ، ص۴۲۹

(۳)عیون اخبارالرضا، ج۱،ص۲۷۳؛علل الشرائع ،ج۱،ص۲۱۹؛بحا رالانوار، ج۵۲،ص۳۱۳

(۴)علل الشرائع ،ج۲، ص۹۶؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۷


کے کعبہ پر لٹکادیں گے، اور حضرت کی طرف سے اعلان ہوگا کہ یہ لوگ خانہ خدا کے چور ہیں۔(۱)

شیبہ ،فتح مکہ میں مسلمان ہوا تو رسول خدا نے اسے خانہ کعبہ کی کنجی سپرد کر دی،اور بنی شیبہ گروہ ایک مدت تک خانہ کعبہ کے کلیدبرد ارا وراس کا محافظ رہاہے(۲)

مرحوم مامقانی کہتے ہیں : بنی شیبہ خانہ خدا کے چور ہیں انشاء اللہ ان کا ہاتھ اس جرم میں قطع ہوگا اور دیوار کعبہ پر لٹکایا جائے گا ۔(۳)

ب)مختلف گروہ سے مقابلہ

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) جب قیام کریں گے، تو مختلف پارٹیوں اور گروہ سے سامنا ہوگاان میں سے بعض خاص قوم وقبیلہ سے ہوں گے، اور بعض گروہ اسلام کے علاوہ دین کے پیرو ہوں گے، اور بعض گروہ اگر چہ ظاہراً مسلمان ہوں گے ،لیکن ان کی چال منافقانہ ہوگی، وہ مقدس نما اورکج فہم ہوں گے جو حضرت کی مخالفت کریں گے، یا باطل فرقے کی پیروی کرتے ہوں گے، حضرت امام(علیہ السلام) ہر ایک سے ایک خاص جنگ کریں گے، ہم روایات نقل کر کے اسے بیان کریں گے۔

۱ ۔ قوم عرب

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے، تو ان کے اور عرب و قریش کے درمیان صرف اور صرف تلوار حاکم ہوگی“(۴)

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۱۶۵؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۵۱،۳۶۱

(۲)اسد الغابہ، ج۳،ص۷،۳۷۲

(۳)تنقیح المقال، ج۲،ص۲۴۶

(۴)نعمانی ،غیبة، ص۱۲۲؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۵


پھر حضرت نے اپنے ہاتھ سے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے اور عربوں کے درمیان سوائے سر کاٹنے کے اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔(۱) شاید اس سے مراد اُن کے خود سر اور سرکش حاکم ہوں یا اس سے مراد دیگر مذاہب کے پیر وہوں۔

امام جعفرصادق(علیہ السلام) قریش سے جنگ کے بارے میں فرماتے ہیں:جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو قریش کو نشانہ بنائیں گے انھیں تلوارہی سے رام کریں گے اور تلوار ہی دیں گے۔(۲)

شاید اس سے مراد ”کہ قریش کو تلوار ہی ٹھکانے لگائے گی“یہ ہو کہ قریش حضرت کا حکم نہیں مانیں گے، اور خلل اندازی ومشکل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور ڈائریکٹ اور بالواسطہ حضرت سے بر سر پیکار ہوں گے، حضرت بھی اسلحے کے علاوہ کوئی تدبیر نہیں کریں گے۔

۲ ۔اہل کتاب آیہ شریفہ( وَلَه اَسْلَمَ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعاً وَکُرْهاً ) ؛(۳)

جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اپنے اختیار سے یا مجبور اً خدا کی مطیع ہوگی کی تفسیر پوچھی ۔

توامام نے فرمایا: یہ آیت حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب آپ یہود و نصاریٰ ،صابئیان مادہ پرستوں ،اسلام سے بر گشتہ افراد اور کافروں کے خلاف مشرق و مغرب میں قیام کریں گے اور ان پر اسلام پیش کریں گے، جو بھی اپنی مرضی سے قبول کرے گا تو اسے حکم دیں گے کہ نماز پڑھو، زکوة دو، اور تمام وہ چیز جو ایک مسلمان انجام دیتا ہے انجام دو ،اور جو مسلمان نہیں ہوگا ،اس کی گردن مار دیں گے، تاکہ مشرق ومغرب میں کوئی کافر باقی نہ بچے“

____________________

(۱)نعمانی، غیبة ،ص۱۲۲؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۵

(۲)نعمانی، غیبة ،ص۱۶۵؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۳۵۵

(۳)سورہ آل عمران، آیت ۸۴


عبد اللہ بن بکیر فرماتے ہیں : روئے زمین پر تو بہت سارے لوگ ہیں ،حضرت کیسے سب کو مسلمان کردیں گے یا نہیں تو گردن مار دیں گے؟

امام مو سیٰ کاظم(علیہ السلام) نے فرمایا :جب خدا ارادہ کرے تو معمولی چیز زیادہ اور زیادہ معمولی ہو جاتی ہے،(۱) شہر بن حوشب کہتا ہے : حجاج نے مجھ سے کہا: اے شہر! قرآن میں ایک آیت ہے، جس نے مجھے پر یشان کر دیا ہے، اور اس کے معنی نہیں سمجھ پا رہا ہوں، میں نے کہا:کون سی آیت؟ اس نے کہا جہاں پر خدا وند عالم فرماتا ہے:( وَاِنْ مِنْ اَهْلِ الْکِتَابِ اِلاَّ لِیُوِمِنَنَّ بِهیں قَبْلَ مَوْتِه ) (۲)

” کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہے جو مرنے سے قبل ایمان نہ لائے“ بارہا اتفاق ہوا ہے کہ نصرانی یا یہودی شخص کو میرے پاس لائے گردن مارتا ہوں تو اس وقت ان کے لبوںسے میں خیرہ ہوتا ہوں، لیکن حرکت نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کی جان نکل جائے ۔

شہر بن حوشب کہتا ہے : میں نے ان سے کہا : آیت کے معنی یہ نہیں ہیں جو تم خیال کرتے ہو ، بلکہ مراد یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت کی اقتداء کریں گے تو اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہیں بچے گا، مگر یہ کہ مرنے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے ۔

حجاج نے پوچھا - :یہ تفسیرکہاں سے یاد کی ؟ اور کس نے تمہیں یاد کرایا ہے ؟ میں نے کہا:یہ تفسیر امام محمد باقر(علیہ السلام)نے بتلائی ہے ،حجاج نے کہا: پھر تم نے ایک صاف وشفاف چشمہ سے حاصل کی ہے۔(۳)

____________________

(۱)عیاشی ،تفسیر ،ج۱،ص۱۸۳؛نورالثقلین ،ج۱،ص۳۶۲؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۴۹؛تفسیر صافی، ج۱،ص۲۶۷ ؛ بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۴۰

(۲)سورہ نساء، آیت۱۵۹

(۳)ابن اثیر کہتاہے : اُس زمانے میں کوئی اہل ذمہ نہیں رہ جائے گا جو جزیہ دے گا، اس سے مراد یہ ہے کہ اہل ذمہ یا مسلمان ہو جائیں گے یا قتل البتہ اس معنی کے بر خلاف روایات بھی ہیں ؛


رسول خدا فرماتے ہیں : ”قیامت برپا نہیں ہوگی مگر یہ کہ یہودیوں سے جنگ کرو اس گھڑی شکست خوردہ یہودی فرار کریں گے، اور پتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے، لیکن پتھر فریاد کرے، گا اے مسلمانو !اے خدا کے بندو!یہودی میری پشت کے پیچھے چھپاہے۔(۱)

رسول خدا فرماتے ہیں : یہودی دجال کے ہمراہ ہیں وہ فرار کرکے پتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے، لیکن درخت و پتھر چّلا کر کہیں گے :اے روح اللہ!یہ یہودی ہے حضرت انھیں قتل کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہیںچھوڑیں گے ۔(۲)

البتہ دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت کی اہل کتاب سے جنگ ہمیشہ یکسان نہیں ہے، بلکہ بعض مورد میں ان سے جزیہ لے کر انھیں ان کے دین پر باقی رہنے دیں گے، اور کچھ گروہ سے بحث و مناظرہ کر کے ان کو اس طریقے سے اسلام کی دعوت دیں گے ممکن ہے، کہ یہ کہیں کہ ان سے ابتداء میں بحث و مناظرہ کریں گے، اور جو حق سے چشم پوشی کرے، گا اس سے جنگ کریں گے ۔

ابو بصیر کہتے ہیں :میں نے امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے عرض کیا : کیا حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)مسجد سہلہ میں رہیں گے؟ حضرت نے کہا: ”ہاں “پھر سوال کیا ان کی نظر میں اہل ذمہ کیسے ہوں گے ؟ کہا: ان سے صلح آمیز طریقہ رکھیں گے ،جس طرح رسول خدا نے رفتار رکھی ہے اور ذلت آمیز انداز میں جزیہ ادا کرائیں گے ۔(۳)

ابن اثیر کہتا ہے : اس وقت جزیہ دینے والا کوئی اہل ذمہ نہیں ہوگا۔(۴)

____________________

(۱)احمد، مسند ،ج۲،ص۳۹۸،۵۲۰

(۲)احمد، مسند، ج۳،ص۳۶۷؛حاکم ،مستدرک، ج۴،ص۵۰۳؛ملاحظہ ہو:ابن حماد، فتن ،ص۱۵۹؛ابن ماجہ، سنن، ج۲،ص۱۳۵۹

(۳)بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۶

(۴)نہایہ، ج۵،ص۱۹۷


ابن شوذب کہتا ہے : اس لئے حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کو مہدی کہتے ہیں کہ شام کے کسی پہاڑ کی طرف مبعوث ہوں گے، اور وہاں سے توریت کو نکالیں گے، اور اس کے ذریعہ یہودیوں سے مناظرہ کریں گے، نیز انھیں میں بعض گروہ حضرت پر ایمان آئیں گے۔(۱)

۳ ۔باطل و منحرف فرقے

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : گروہ مرجہ پر وائے ہو ! کل جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو پھر وہ کس شخص کے پاس پناہ لیں گے؟ راوی نے کہا:کہتے ہیں کہ اس وقت ہم اور تم دونوں ہی عدالت کے سامنے یکساں ہوں گے ؟ آپ نے کہا: ان میں سے ہر ایک توبہ کرے توخدا معاف کرے گا، اور اگر اپنے اندر نفاق و دو روئی رکھتا ہو تو خدا وند عالم سوائے اس کے کسی کو جلا وطن نہیں کرے گا،اور اگر ذرہ برابر بھی نفاق کو ظاہر کرے گا تو خداوند عالم اس کا خون مباح کر دے گا، اس کے بعد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جس طرح قصاب گوسفند وں کی گردن مارتا ہے، انھیں بھی ہلاک کردے گا، پھر اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔

راوی کہتا ہے : جب حضرت ظہور کریں گے تو تمام امورحضرت کے نفع میں ہو ں گے اور وہ خون نہیں بہائیں گے ،امام (علیہ السلام) نے کہا:نہیں ؛ خدا کی قسم (ایسا نہیں ہوگا) جب تک ہم لوگ ان کا خون نہ بہالیں اور پسینے نہ پونچھ لیں ،پھراپنے ہاتھ سے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کیا۔(۲)

____________________

(۱)عقدالدرر، ص۴۰

(۲)نعمانی، غیبة، ص۲۸۳؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۳۵۷


حضرت امیر المو منین(علیہ السلام) نے خوارج کی شکست کے بعدان کی لاشوں کے درمیان سے گذرتے وقت کہا:”تمہیں اس نے قتل کرایا ہے جس نے تمہیں دھوکہ دیا ہے“اس پر سوال کیا گیا:وہ کون ہے؟امام نے جواب دیا:”شیطان اور غلیظ طبیعت لوگ“پھر اصحاب نے کہا: خدا وند عالم نے، قیامت تک کے لئے انھیں ریشہ کن کر دیا ہے۔

حضرت نے کہا: نہیں؛ اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ مردوں کی صلب اور عورتوں کے رحم سے ہوں گے، اور پئے در پئے خروج کریں گے،یہاں تک کہ اشمط نامی شخص کی سر براہی میں دریائے دجلہ و فرات کے درمیان خروج کریں گے، اس وقت میرے اہل بیت( علیہم السلام) سے ایک شخص ان سے جنگ کے لئے روانہ ہوگا،اور انھیں ہلاک کردے گا، اس کے بعد خوارج کا قیامت تک کوئی قیام نہیں ہوگا “(۱)

نیز آنحضرت بشریہ فرقہ کے بارے میں فرماتے ہیں :

جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے ،تو کوفہ کی سمت روانہ ہوں گے وہاں دس ہزار کی تعداد جنھیں تبریہ(۲) کہتے ہیں کاندھوں پر اسلحے لئے ہوئے حضرت کے لئے رکاوٹ بنیں گے، اور کہیں گے جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاو ؛ہمیں فرزند فاطمہ(س) کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پھر حضرت تلوار کھینچیں گے اور سب کو تہہ تیغ کردیں گے“(۳)

____________________

(۱)مروج الذہب ،ج۲،ص۲۱۸

(۲)زیدیہ فرقہ کا ایک فرقہ تبریہ ہے جو کثیرا لنوی کاباشندہ ہے ان کا عقیدہ سلیمانیہ فرقہ کی طرح ہے جو زیدیہ ہی کی ایک شاخ ہے عثمان کے اسلام و کفر کے بارے میں خاموش و مردد ہیں، اعتقادی مسائل میں معتزلہ کے ہم خیال ہیں، لیکن فقہی فروعات میں زیادہ تر ابو حنفیہ کے پیرو ہیں، ان کا بعض گروہ امام شافعی کا تابع ہے، یا مذہب شیعہ کا بھجة الآمال، ج۱،ص۹۵؛ملل ونحل ،ج۱، ص۱۶۱

(۳)ارشاد، ص۳۶۴؛کشف الغمہ، ج۳،ص۲۵۵؛صراط المستقیم ،ج۲،ص۳۵۴؛روضة الواعظین، ج۲، ص۲۶۵؛ اعلام الوری، ص۴۳۱؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۲۸


۴ ۔مقدس نما لوگ

امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت مہدی کوفہ کی سمت روانہ ہوں گے، تو وہاں تبریہ فرقے کے سولہ ہزار افراد اسلحوں سے لیس حضرت کی راہ میں حائل ہوں گے؛ وہ لوگ قرآن کے قاری اورعلماء دین ہوں گے، جن کی پیشانی پر عبادت کی کثرت سے گھٹا پڑا ہوگا، اور شب بیداری کی وجہ سے چہرے زرد ہوں گے، مگر نفاق سے ڈھکے ہوں گے ،وہ سب ایک آواز ہو کر کہیں گے: اے فرزند فاطمہ(س) جدھر سے آئے ہو، اُدھر ہی لوٹ جاو، اس لئے کہ تمہاری ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) شہر نجف کی پشت سے دو شنبہ کی ظہر سے شام تک ان پر تلوار چلائیں گے، اور سب کو موت کے گھاٹ اتاردیں گے، اس جنگ میں حضرت کا ایک سپاہی بھی زخمی نہیں ہوگا۔(۱)

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں : امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : حضرت کو ظہور کے وقت جن مشکلوں کا سامنا ہوگا رسول خدا کی مشکلات کے بقدرہوگا یا اس سے زیادہ“(۲)

فضیل کہتے ہیں: امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے فرمایا: جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو جن مشکلات کا سامنا زمانہ جاہلیت میں رسول خدا کو ہوا ہے اس سے زیادہ جاہلوں سے انھیں تکلیف و اذیت پہنچے گی۔

میں نے سوال کیا: کیسے او ر کس طرح؟ آپ نے کہا : رسول خدا ایسے زمانہ میں

____________________

(۱)دلائل الامامہ، ص۲۴۱؛طوسی، غیبة، ص۲۸۳؛اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۱۶؛بحا رالانوار، ج۲،ص۵۹۸

(۲)نعمانی، غیبة ،ص۲۹۷؛حلیةالابرار ،ج۵،ص۳۲۸؛بحارا لانوار ،ج۵۲، ص۳۶۲؛بشارة الاسلام، ص۲۲۲


مبعوث ہوئے تھے جب لوگ اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں ، لکڑ یو ں اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے، لیکن حضرت قائم ایسے زمانہ میں ظہور کریں گے جب لوگ آپ کے خلاف قرآن سے احتجاج کریں گے، اور آیات کی آپ کے بر خلاف تاویل کریں گے ۔(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : حضرت قائم اس درجہ انسانوں کا قتل کریں گے، پنڈلیاں خو ن میں ڈوب جائیں گی ایک شخص آپ کے آبا ء کی اولاد میں سے ان پر اعتراض کرے گا کہ لوگوں کو اپنے سے دور کرر ہے ہو؛ جس طرح گوسفندوں کو دور کرتے ہیں ! کیا یہ رسول کے دستور کے مطابق رفتار ہے؟

حضرت کے ناصروں میں سے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھے گا، اور کہے گا: خاموش ہوتے ہو یا گردن ماردوں، حضرت کے ہمراہ رسول خدا سے کئے عہدو پیمان کانوشتہ لوگوں کو دیکھائیں گے ۔(۲)

۵ ۔ ناصبی (دشمنان اہلیبت علیہم السلام)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو تمام ناصبی اور دشمن اہل بیت (علیہم السلام) پر اسلام پیش کریں گے،اوراقرار کر لیا تو ٹھیک ورنہ قتل کردئے جائیں گے، یا انھیں جزیہ لینے پر مجبور کیا جائے گا، جس طرح آج اہل ذمہ جزیہ دیتے ہیں۔(۳)

____________________

(۱)اسی جگہ

(۲)اثبات الہداة، ج۳ ،ص۵۸۵؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۳۸۷

(۳)تفسیر فرات، ص۱۰۰؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۲


امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب حضرت ظہور کریں گے تو ہر ایک ناصبی پر ایمان پیش کریں گے؛ اگر قبول کر لیا تو آزاد کر دیں گے، ورنہ گردن مار دیں گے، یا ان سے جزیہ لیں گے، جس طرح اہل ذمّہ سے لیا جاتا ہے، اور انھیں شہر سے دور دیہاتوں میں جلا وطن کر دیں گے ۔(۱)

مرحوم مجلسی کہتے ہیں : شاید یہ حکم آغاز قیام سے متعلق ہو، اس لئے کہ ظاہری طور پر روایات کہتی ہیں کہ ان سے صرف ایمان قبول کرایا جائے گا،اگر ایمان قبول نہیں کیا تو قتل کر دیئے جائیں گے۔(۲)

ابو بصیر کہتے ہیں:امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے میں نے عرض کیا:حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا ناصبیوں اور آپ کے دشمنوں سے کیسا سلوک ہوگا تو آپ نے کہا: اے ابو محمد ! ہماری حکومت میں مخالفین کا کچھ حصہ نہیں ہے، خدا وند عالم ہمارے لئے ان کا خون حلال کر دے گا، لیکن آج ہم لوگوں پر ان کا خون حرام ہے، لہٰذا تمہیں کوئی دھوکہ نہ دینے پائے ،اور یہ جان لوجس وقت ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو حضرت(مہدی) خداورسول نیز ہمارے لئے انتقا م لیں گے۔(۳)

۶ ۔منافقین

آیہ( لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا اْلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَاْباً اَلِیْماً ) (۴)

”اگر تم کفر و ایمان کے عناصر کو ایک دوسرے سے جدا کرتے توہم صرف کافروں کو درد ناک عذاب دیتے “کی تفسیر میں امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خداوند عالم نے

____________________

(۱)مراة العقول، ج۲۶،ص۱۶۰

(۲)بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۶

(۳)سورہ فتح، آیت۲۵

(۴)کمال الدین ،ج۲،ص۴۵۱؛المحجہ ،ص۲۰۶؛احقاق الحق ،ج۱۳،ص۳۵۷


منافقین اورکافرین کی صلب میں مومنین کی امانتیں قرار دی ہیں، حضرت قائم اس وقت ظہور کریں گے جب کافروں اور منافقوں کی صلب سے مومن ظاہر ہو جائیں یعنی مومنین ان سے پیدا ہو جائیں اس کے بعد خدا ان کافروں اور منافقوں کو قتل کر ے گا۔(۱)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب حضرت قائم قیام کریں گے تو انھیں تم سے مدد مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی،اور تم بہت سارے منافقین سے متعلق حدودالٰہی کاا جرا کریں گے۔ “(۲)

امام حسین (علیہ السلا م) اپنے بیٹے امام سجاد(علیہ السلام) سے فرماتے ہیں : خدا کی قسم میرا خون !اس وقت تک کھولتا رہے گاجب تک کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) مبعوث نہیں ہوتے، اور میرے خون کا فاسق ،کافراور منافقین سے انتقام نہیں لیتے اور ۷۰/ ہزارکو قتل نہیں کرتے ۔(۳)

امام محمدباقر (علیہ السلام)فرماتے ہیں : جب حضرت قائم قیام کریں گے تو وہ کوفہ آئیں گے، اور وہاں تمام منافقین کو (جو حضرت کی امامت کے معتقد نہیں ہیں ) قتل کریں گے، نیز ان کے محلوں کوویران، اور ان کے سپاہیوں سے جنگ کریں گے، اور انھیں اس درجہ قتل کریں گے کہ خدا وند عالم راضی اور خوشنود ہوجائے گا۔(۴)

____________________

(۱)التہذیب ،ج۶،ص۱۷۲؛وسائل الشیعہ، ج۱۱،ص۳۸۲؛ملاذ الاخیار، ج۹،ص۴۵۵

(۲)ابن شہر اشوب، مناقب ،ج۴،ص۸۵؛بحار الانوار، ج۴۵،ص۲۹۹

(۳)اثبات الہداة، ج۳،ص۵۲۸؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۳۸

(۴)سورہ حجر، آیت ۳۸


۷ ۔شیطان

وہب بن جمیع کہتے ہیں :حضرت امام جعفرصادق(علیہ السلام) سے میں نے سوال کیا : جو خداوند عالم نے شیطان سے کہا:( فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَریْن اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ) : ہاں (شیطان)روز معین اور وقت معلوم تک کے لئے مہلت دی گئی ہے یہ وقت معلوم کس زمانہ میں آئے گا؟ آپ نے کہا : تمہیں کیا گمان ہے کہ یہ دن قیامت کا دن ہے؟خدا وندعالم نے شیطان کو ہمارے قائم کے قیام کے دن تک مہلت دی ہے، جب خدا انھیں مبعوث کر کے قیام کی اجازت دے گا توحضرت مسجد کوفہ کی طرف روانہ ہوں گے ، اس وقت شیطان اپنے گھٹنوں کے بل چلتا ہوا وہاں آئے گا، اور کہے گا:مجھ پر آج کے دن وائے ہو!حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اس کی پیشانی پکڑ کر اس کی گردن مار دیں گے،لہٰذا یہی وقت وقت معلوم ہوگا،جب شیطان کی مہلت کا زمانہ تمام ہوجائے گا۔(۱)

خلاصہ حضرت کی جنگ خوارج ،نوصب،بنی امیہ،بنی عباس،کعبہ کے لٹیروں ،مرجہ گروہ،ظالموں ،سفیانی ،دجال،یہود وغیرہ سے ہے مختصر آپ لوگوں سے جنگ کریں گے جو محاذ آرائی اور مخالفت کریں گے نیز جو لوگ حکومت الٰہی کی تشکیل میں رکاوٹ بنیں گے لیکن جو عام کا خیال ہے کہ آنحضرت بے حدو حساب خونریزی کریں گے نعوذ باللہ سفاکی کا مظاہرہ کریں گے یہ صرف دشمنوں کے پروپیگنڈے ہیں کیسے؟یقین کر لیا جائے کہ ایسا کریں گے جب کہ رسول خدا فرماتے ہیں :وہ تمام انسانوں میں سب سے مجھ سے مشابہ ہیں۔

____________________

(۱) عیاشی، تفسیر ،ج۲،ص۲۴۳؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۵۱؛تفسیر صافی، ج۱،ص۹۰۶؛ تفسیر برہان، ج۲، ص۴۳۳؛ بحار الانوار، ج۶۰،ص۲۵۴میں نے(مولف)حضرت استاد آیة اللہ العظمیٰ وحید خراسانی صاحب سے بھی سنا ہےعلامہ محمد حسین طباطبائی نے اسی مضمون کی دوسری روایت تفسیر قمی سے نقل کی ہے، اور اس کے ذیل میں کہتے ہیں :اکثر آیات ،قیامت کی تفسیر میں اہل بیت سے مروی روایات کبھی آیات کو حضرت مہدی(عج) کے ظہور اور کبھی رجعت تو کبھی قیامت سے تفسیر کرتی ہیں ،شاید اس عتبار سے ہو یہ تین دن حقائق کے ظاہر ہونے کے اعتبار سے مشترک ہوں، اگر چہ شدت و ضعف کے اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ المیز ان فی تفسیر القرآن ،ج۱۲ص۱۸۴؛الرجعة فی احادیث الفرقین


ساتویں فصل

سنت محمدی کا احیاء( زندہ کرنا)

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی قضاوت ،جدید احکام نیز جو آپ اصلاح کریں گے، اس کے متعلق بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں؛ ایسے احکام جو موجودہ فقہی متون اور کبھی ظاہر روایات و سنت کے موافق نہیں ہیں بھائی کی میراث کا قانون عالم ذر میں شرابخور، بے نمازی کا قتل،جھوٹے کی پھانسی ، مومن سے سود لینا حرام ہے معاملات میں، مسجدوں کے مناروں کا خاتمہ مساجد کی چھتوں کو توڑدینا انھیں میں سے ہے، جو روش حضرت اپنے کاموں اور امور میں اختیار کریں گے جس کا بیان گذشتہ فصل میں ہو چکا ہے اس طرح ہے۔

روایات میں اس طرح عبارت کی تبدیلی سے جیسے جدید فیصلے ،نئی سنت ،نئی دعائیں ،نئی کتاب کے اسماء کا ذکر ہے کہ ہم اسے صرف سنت محمدی کو زندہ کرنے کانام دیتے ہیں ؛

لیکن دگر گونی و اختلاف کچھ اتنا ہوگا کہ دیکھنے والے لوگ دین جدید سے تعبیر کریں گے۔

جب ایسی روایتوں کا معصومین( علیہم السلام )سے صادر ہونا ثابت ہو جائے ،تو چند نکتوں کی جانب توجہ لازم و ضروری ہوگی :

۱ ۔بعض احکام الٰہی اگر چہ ان کا سر چشمہ خدا وند عالم ہی ہے لیکن اعلان و اجراء کے شرائط حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے زمانے میں فراہم ہوں گے اور ہی ہیںجو ان احکام کا اعلان اور اجراء کریں گے۔(۱)

____________________

(۱)کتاب الخمس ،موسوعة الفقہیہ،ایة الخوئی،ج۵،ص۲۰


۲ ۔مرور زمانہ سے طاقتوروں اور تحریف کرنے والوں کی جانب سے احکام الٰہی میں دگر گونی و تحریفیں واقع ہوئی ہیں حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے بعد اسے صحیح و درست کردیں گے ۔

کتاب القول المختصر میں ہے کہ کوئی بدعت اور سنت ایسی نہیں ہوگی جس کا پھر سے احیاء نہ کر یں ۔(۱)

۳ ۔اس لئے بھی کہ جو فقہا ء نے حکم شرعی حاصل کیا ہے قواعد و اصول سے حاصل کیا ہے کبھی حاصل شدہ حکم شرعی واقع کے مطابق نہیں ہو تا، اگرچہ اس استنباط کا نتیجہ مجتہد اور مقلد کے لئے حجت شرعی ہے؛ لیکن امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی حکومت میں حضرت احکام واقعی کو بیان کریں گے۔

۴ ۔بعض احکام شرعی خاص شرائط و اضطراری صورت اور تقیہ کے عالم میں غیر واقعی صورت میں بیان ہوئے ہیں جب کہ حضرت کے زمانہ میں تقیہ نہیں ہوگا اور احکام واقعی کی صورت میں بیان ہوں گے۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”جب ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تقیہ ختم ہو جائے گا اور حضرت، تلوار نیام سے باہر نکالیں گے تو لوگوں سے تلوار کا لین دین کریں گے اور بس“(۲)

مذکور بالا موارد سے متعلق چند روایت بیان کرتے ہیں :

امام جعفرصادق(علیہ السلام)ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں: تم مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہمارے امر کے سامنے تسلیم رہو اور تمام امور کی بازگشت ہماری جانب کرو

____________________

(۱)قیل -”لایترک بدعة الا ازالها ولا سنة الاا حیاها “القول المختصر، ص۲۰

(۲)تاویل الآیات الظاہرہ، ج۲،ص۵۴۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۴


نیز ہماری اور اپنی حکومت اور فرج کے منتظر رہو جب ہمارے قائم ظہور کریں گے اور ہمارا بولنے والا بولے گا نیز قرآن کی تعلیم دین و احکام کے قوانین نئے سرے سے تمہیں دیں جس طرح رسول خدا پر نازل ہوئے ہیں تو تمہارے علماء حضرت کی اس رفتار کا انکا ر کریں گے اور تم خدا کے دین اور اس کی راہ پر ثابت نہیں رہو گے، مگر تلوار کے ذریعہ جو تمہارے سروں پر سایہ فگن ہوگی۔

خدا وند عالم نے اس امت کے لئے گذشتہ امتوں کی سنت قرار دی ہے لیکن ان لوگوں نے سنت کو تبدیل کر دیا اور دین میں تحریف کر ڈالی کوئی لوگوں کے درمیان رائج حکم نہیں ہے مگر یہ کہ وحی شدہ کے احکام میں تحریف کر دی گئی ہے خدا تم پر رحمت نازل کرے جس چیز کی تمہیں دعوت دی جائے اسے قبول کرو تاکہ مجدددین آجائے “(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب حضرت قائم ظہور کریں گے، تو لوگوں کو نئے سرئے سے اسلام کی دعوت دیں گے اور انھیں اسلام کی راہنمائی کریں گے،جب کہ لوگ پرانے اسلام سے برگشتہ اور گمرا ہ ہو چکے ہوں گے۔(۲) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کسی نئے دین کی پیشکش نہیں کریں گے بلکہ چونکہ لوگ واقعی اسلام سے منحرف ہو چکے ہیں دوبارہ اسی دین کی دعوت دیں گے جس طرح رسول خد ا نے اس کی دعوت دی ہے ۔

امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے برید سے کہا:”اے برید خدا کی قسم کوئی حریم الٰہی ایسی نہیں ہوگی جس سے تجاوز نہ کیا گیا ہو اور اس دنیامیں کتاب خدا وندی و سنت رسول خدا پر کبھی عمل نہیں ہوا اور جس دن امیر المو منین(علیہ السلام) نے رحلت کی ہے اس کے بعد سے لوگوں کے درمیان حدود الٰہی کا اجراء نہیں ہوا“ اس وقت فرمایا:”قسم خدا کی روزو شب ختم نہیں ہوں گے مگر

____________________

(۱)کشی ،رجال، ص۱۳۸؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۰؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۴۶؛العوالم، ج۳، ص۵۵۸

(۲)مفید ،ارشاد ،ص۳۶۴؛روضةالواعظین، ج۲،ص۲۶۴؛اعلام الوری، ص۴۳۱؛بحار الانوارج،۵۱، ص۳۰


یہ کہ خداوند عالم مردوں کو زندہ ،زندوں کو مردہ کرے گا اور حق اس کے اہل کو لوٹا دے گا اور اپنے آئین کو جو اپنے اوررسول خدا کے لئے پسند کیا ہے باقی رکھے گا۔ تمہیں مبارک ہو مبارک، کہ حق صرف اور صرف تمہارے ہاتھ میں ہے “(۱)

یہ روایت بتاتی ہے کہ دگر گونی و تغیرزیادہ تر شیعوں کے علاوہ ان کے مخالفین کے لئے ہے لیکن بعض موارد میں شیعوں کے لئے بھی۔

اس فصل میں تغیرات ،اصلاحات ،کا امام زمانہ کے زمانے میں تین حصہ میں : احکام جدید، اصلاحات اورعمارتوں کی تجدید اور نئے فیصلوں کا بیان کریں گے۔

الف) احکام جدید

۱ ۔زنا کار اور زکوة نہ دینے والوں کو پھانسی

ابا ن بن تغلب کہتے ہیں : کہ امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے مجھ سے کہا: ”اسلام میں حکم خدا وندی کے مطابق دو خون حلال ہے، نیز اس وقت تک اس کا کوئی حکم نہیں دے گا جب تک کہ خداوند عالم ہمارے قائم کو نہ بھیج دے وہ خدا کے حکم کے مطابق حکم دیں گے اور کسی سے گواہ و شاہد کے طالب نہیں ہوں گے ۔حضرت زنائے محصنہ کرنے والوں (زن دار مرد،اور شوہر دار عورت) کو سنگسار کریں گے اور جو زکوة نہیں دے گا اس کی گردن مار دیں گے “(۲)

امام جعفر صادق و امام موسیٰ کاظم( علیہما السلام) فرماتے ہیں : ”جب حضرت مہدی

____________________

(۱)التہذیب، ج۴،ص۹۶؛ملاذ الاخیار، ج۶، ص۲۵۸

(۲)کافی، ج۳،ص۵۰۳؛الفقیہ، ج۲،ص۱۱؛کمال الدین، ج۲،ص۶۷۱؛وسائل الشیعہ، ج۶، ص۱۹؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۲۵


(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو تین ایسا حکم دیں گے کہ آپ سے پہلے کسی نے ایسا حکم نہ دیا ہوگا ۔ آنحضرت بوڑھے زنا کار مرد کو پھانسی دیں گے اور زکوة نہ دینے والوں کو قتل کردیں گے ایک برادردینی کی میراث دوسرے برادر دینی کودیں گے (یعنی جو عالم ذر میں باہم بھائی رہے ہوں گے)“(۱)

علامہ حِلّی زکوة نہ دینے والے کی پھانسی کے بارے میں کہتے ہیں: مسلمان ہر زمانہ میں زکوة کے وجوب پر متفق اور زکوة کو اسلام کے پنجگانہ ارکان میں سے ایک جانتے ہیں۔ لہٰذاجو اس کے وجوب کو قبول نہ کرے جبکہ فطری مسلمان ہو اور مسلمانوں کے درمیان نشو ونما پائی ہو، تو اسے بغیر توبہ کے پھانسی دیدیں گے اور اگر مسلمان ملی ہوگا تواسے تین بار مرتد ہونے کے بعد، توبہ کی مہلت دیں گے اس کے بعد پھانسی دیدیں گے۔

یہ احکام اس صورت میں ہیں جب آگاہ و باشعور انسان وجوب کے بارے میں علم رکھتا ہو لیکن اگر وجوب سے ناواقف ہو تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگے گا“(۲)

مجلسی اول، اس روایت کی شرح میں بعض وجوہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : شاید مراد یہ ہو کہ حضرت ان دو مورد میں اپنے علم کے مطابق حکم اور قضاوت کریں گے اور شاہد کی ضرورت نہیں ہوگی جیسا کہ یہی روش حضرت کے دیگر فیصلوں میں بھی ہوگی ان دو مورد سے اختصاص دینے کا راز اہمیت کے لحاظ سے ہے ۔(۳)

____________________

(۱)صدوق ،خصال، باب ۳،ص۱۳۳ ؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۵

(۲)تذکرة الفقہاء، ج۵،ص۷کتا ب زکات ؛ملاحظہ ہو:مرا ة العقول ،ج۱۶،ص۱۴

(۳)روضة المتقین، ج۳،ص۱۸


۲ ۔قانون ارث

امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خدا وند عالم نے، جسم سے دس ہزارسال قبل ارواح کو خلق فرمایا۔ان میں سے جو ایک دوسرے سے آسمان پر آشنا و متعارف رہے ہیں وہ زمین پر بھی آشنارہیں گے اور جو ایک دوسرے سے اجبنی رہا ہے، زمین پر بھی ایسا ہی ہوگا جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو برادر دینی کو میراث تو دیں گے لیکن نسبی برادر کو محروم کر دیں گے یہی معنی ہیں خداوند عالم کے قول کے سورہ مومنون میں :( فَاِذَاْ نُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِیذٍ وَلَاْ یَتَسَائَلُوْنَ ) (۱) جب صور پھونکاجائے گا تو اس وقت لوگوں کے درمیان کوئی نسب نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی علت دریافت کریں گے۔(۲)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” خدا وندعالم نے جسم کی خلقت سے دس ہزار سال قبل ،ارواح کے درمیان بھائی چارگی قائم کی لہٰذا جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو برادران دینی جن کے درمیان برادری قائم ہے ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور نسبی بھائی جو ایک ماں باپ سے ہوں گے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“(۳)

۳ ۔جھوٹوں کا قتل

امام جعفرصاد ق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”جب حضرت قائم ظہور کریں گے تو سب سے پہلے جھوٹے شیعوں کا تعاقب کریں گے اور انھیں قتل کر ڈالیں گے۔“(۴) احتما ل ہے کہ شاید

____________________

(۱)سورہ مومنون آیت۱۰۱

(۲)دلائل الامامہ، ص۲۶۰؛تفسیر برہان ،ج۳،ص۱۲۰؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۴۰۲

(۳)الفقیہ، ج۴،ص۲۵۴؛صدوق ،عقاید، ص۷۶؛حصینی، ہدایہ، ص۶۴،۸۷؛مختصر البصائر، ص۱۵۹؛روضہ المتقین، ج۱۱،ص۴۱۵؛بحار الانوار، ج۶،ص۲۴۹وج۱۰۱،ص۳۶۷

(۴)کشی، رجال، ص۲۹۹؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۶۱


اس سے مراد منافقین اور مہدویت کے مدعی اور بدعت گذار افراد ہوں جو دین سے لوگوں کے منحرف ہونے کا سبب بنے ہیں ۔

۴ ۔حکم جزیہ کا خاتمہ

حضرت امیر المو منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”خدا وند عالم دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہیں کرے گا، جب تک حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام نہ کریں اور ہمارے دشمنوں کو نیست و نابود اور جزیہ قبول نہ کریں اور صلیب و بتوں کونہ توڑدیں نیز جنگ کا زمانہ ختم ہوگا اور لوگوں کو مال ودولت لینے کے لئے آواز دیں گے اور ان کے درمیان اموال کو برابر سے تقسیم کریں گے اور لوگوں سے عادلانہ رفتار رکھیں گے“(۱)

رسول خدا نے صلیبوں کے توڑنے اورسوروں کے قتل کرنے کے بارے میں (کہ اس کا مطلب جزیہ کا حکم اور مسیحیت کا دور ختم ہونا ہے) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی ایک منصف فرمانروا کی حیثیت سے ظہور کریں گے صلیبوں کو توڑ اور سوروں کو قتل کر ڈالیں گے نیز اپنے کار گذاروں کو حکم دیں گے،مال ودولت لئے شہروں کا چکر لگائیں تاکہ نیاز مند اسے لے لیں؛ لیکن کوئی نیاز منداور محتاج نہیں ملے گا“(۲) شاید یہ حدیث مسیحیت اور اہل کتاب کے آخری دور کی طرف اشارہ ہو۔

۵ ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے باقی ماندہ قاتلوں سے انتقام

ہروی کہتے ہیں : میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا: یابن رسول اللہ!

____________________

(۱)اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۶

(۲)عقدالدرر، ص۱۶۶؛القول المختصر ،ص۱۴


امام جعفر صادق(علیہ السلام) کی اس بات کا آپ کی نظر میں کیا مطلب ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ”جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلین کے باقی ماندہ افراد اپنے اباو اجداد کے گناہ کی سزا پائیں گے “کیا ہے؟حضرت امام رضا(علیہ السلام) نے کہا:” یہ بات ٹھیک ہے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ اس آیت( وَلاَ تَزِر وَاْزِرَة وِزْر اُخْرَیٰ ) (۱) ” کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “کے کیا معنی ہیں ؟

توآپ نے کہا: جو خدا نے کہا ہے وہ درست ہے لیکن امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلین کے باقی ماندہ افراد اپنے آباو اجداد کے رویہ سے خوشحال ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں اور جوکوئی کسی چیز سے خوش ہو تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے انجام دیا ہو اگر کوئی شخص مشرق میں قتل کیا جائے اور دوسرا مغرب میں رہ کر اس قتل پر اظہار خوشی کرے خدا وند عالم کے نزدیک قاتل کے گناہ میں شریک ہے۔

اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) امام حسین(علیہ السلام) کے قاتلوں کے باقی ماندہ افراد کو نیست و نابود کریں گے؛ اس لئے کہ وہ اپنے آباو اجداد کے کردار پر اظہار خوشی کرتے ہیں“

میں نے کہا : آپ کے قائم سب سے پہلے کس گروہ سے شروع کریں گے ؟ آپ نے کہا: ”بنی شیبہ سے ان کے ہاتھوں کو قطع کریں گے اس لئے کہ وہ مکہ معظمہ میں خانہ خدا کے چور ہیں “(۲)

۶ ۔رہن و وثیقہ کا حکم

علی کہتے ہیں کہ میرے والد ،سالم نے امام جعفرصادق(علیہ السلام) سے حدیث ”جو کوئی

____________________

(۱)سورہ کہف آیت ۹

(۲)علل الشرائع، ج۱،ص۲۱۹؛عیون اخبار الرضا، ج۱،ص۲۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۱۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۴۵۵


رہن اور وثیقہ حوالہ کرنے پر برادر مومن سے زیادہ مطمئن ہو میں اس سے بیزار ہوں “کے بارے میں میںنے سوال کیا ۔

توامام جعفر صادق(علیہ السلام) نے کہا:” یہ مطلب قائم اہل بیت (علیہم السلام) کے زمانے میں ہے “(۱)

۷ ۔ تجارت کا فا ئد ہ

سالم کہتا ہے : میں نے امام جعفرصاد ق(علیہ السلام) سے کہا : ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ مومن کابرادر مومن سے سود لینا حرام اور رباہے؟حضرت نے کہا: ”یہ مطلب ہمارے اہل بیت( علیہم السلام) قائم کے ظہور کے وقت ہوگا؛ لیکن آج جایز ہے کہ کوئی شخص کسی مومن سے کچھ فروخت کرے اور اس سے فائدہ حاصل کرے تو جائز ہے۔(۲)

مجلسی اول اس روایت کی سند کو قوی جاننے کے بعد فرماتے ہیں : اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ جو روایات کسی مومن سے فائدہ لینے کو مکر وہ سمجھتی ہیں اور اسے ربا کہتی ہیں ،مبالغہ نہیں ہے ممکن ہے کہ فی الحال مکروہ ہو، لیکن حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں حرام ہو جائے،(۳) لیکن مجلسی دوم اس روایت کو مجہول قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں : شاید ان دو مورد میں حرمت ،حضرت حجت کے قیام کے زمانے سے مقید ہو۔(۴)

____________________

(۱)من لایحضرہ الفقیہ، ج۳،ص۲۰۰؛التہذیب، ج۷، ص۱۷۹؛وسائل الشیعہ، ج۱۳،ص۱۲۳؛ اثبات الہداة،ج۳، ص۴۵۵؛ملاذ الاخیار، ج۱۱، ص۳۱۵

(۲)من لایحضرہ الفقیہ، ج۳،ص۲۰۰؛التہذیب ،ج۷، ص۱۷۹؛وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۱۲۳؛ اثبات الہداة ، ج۳، ص۴۵۵؛ملاذ الاخیار، ج۱۱،ص۳۱۵

(۳)روضہ المتقین، ج۷، ص۳۷۵

(۴)ملاذ الاخیار ،ج۱۱، ص۳۱۵


۸ ۔برادران دینی کا ایک دوسرے کی مدد کرنا

اسحاق کہتے ہیں : میں امام جعفرصاد ق (علیہ السلام)کی خدمت میں تھا کہ حضرت نے برادر مومن کی مدد و تائید کی بات چھیڑدی اوراس وقت کہا-”جب قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)ظہور کریں گے تو برادران مومن کی مدد اس وقت واجب ہو جائے گی اور چاہئے کہ ان کی مدد کریں“(۱)

۹ ۔قطایع کا حکم (غیر منقول اموال کا مالک ہونا)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :”قطایع حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے قیام کے وقت نیست و نابو د ہو جائیں گے ؛اس طرح سے کہ پھر کوئی قطایع کا وجود نہیں ہوگا“(۲)

قطایع ۔یعنی بہت بڑا سرمایہ ،جیسے دیہات میں بے شمار زمینیں اور قلعے ہیں جسے باد شاہوں اور طاقتور افرا د نے اپنے نام درج کرا لیا ہے ساری کی ساری امام زمانے(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے وقت ان کی ہو جائیں گی۔

۱۰ ۔دولتوں کا حکم

معاذ بن کثیر کہتا ہے کہ امام جعفر صادق(علیہ السلام)نے فرمایا:” ہمارے خوشحال شیعہ آزاد ہیں کہ جو کچھ حاصل کریں راہ خیر میں خرچ کردیں، لیکن جب قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو ہر خزانہ دار پر اسی کا ذخیرہ حرام ہو جائے گا مگر یہ کہ اسے حضرت کی خدمت میںلائے تاکہ اس

____________________

(۱)صدوق، مصدقہ لاخوان، ص۲۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۹۵

(۲)قرب الاسناد، ص۵۴؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۹؛و ج۹۷،ص۵۸؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۲۳،۵۸۴ بشارة الاسلام، ص۲۳۴


کے ذریعہ دشمن سے جنگ میں مدد حاصل کریں یہی خدا وند عالم فرماتا ہے کہ( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّهْبَ وَالْفِضَّةَ وَلَاْ یُنْفِقُوْنَهَاْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَاْبٍ اَلِیْمٍ ) (۱)

”جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں لیکن اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انھیں دردناک عذاب کی بشارت دیدو۔“(۲)

ب)اجتماعی اصلاح،مسجد کی عمارت کی تجدید

۱ ۔مسجد کوفہ کی تخریب اور اس کے قبلہ کا درست کرنا

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیر المو منین (علیہ السلام) کوفہ میں داخل ہوتے وقت جب کہ اس وقت ٹھیکریوں اور مٹی سے بنا ہوا تھا فرمایا :” اس شخص پروای ہو جس نے تجھے ویران و کھنڈر کردیا اس شخص پر وای ہو جس نے تیری بربادی کی آسانی پیدا کی ہے، اس پر وای ہو جس نے نرم و پختہ مٹی سے بنایا اور حضرت نوح(علیہ السلام) کے قبلہ کا رخ موڑ دیا۔ پھر بات جاری رکھتے ہوئے اس شخص کومبارک ہو جوحضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے زمانے میں تیری ویرانی کے گواہ ہوں، وہ لوگ امت کے نیک لوگ ہیں جو ہماری عترت کے نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے“(۳)

اسی طرح آنحضرت فرماتے ہیں :” بے شک جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تومسجد کوفہ کو خراب اور اس کے قبلہ کو درست کریں گے “(۴)

____________________

(۱)سورہ توبہ آیت ۳۶

(۲)کافی،ج۴،ص۶۱؛التہذیب،ج۴،ص۱۴۳؛عیاشی ،تفسیر، ج۲،ص۸۷؛المحجہ، ص۸۹؛ تفسیر صافی، ج۲، ص۴۱۳؛ تفسیر برہان، ج۲،ص۱۲۱؛نورالثقلین ،ج۲،ص۲۱۳؛بحار الانوار، ج۳۷ ، ص۱۴۳؛مرا ة العقول، ج۱۶،ص۱۹۳

(۳)طوسی ،غیبة، ص۲۸۳؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۱۶؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۲

(۴)نعمانی، غیبة، ص۳۱۷؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۴؛مستدرک الوسائل ،ج۳،ص۳۶۹وج۱۲،ص۲۹۴


۲ ۔راستے میں واقع مساجد کی تخریب

ابو بصیر کہتے ہیں : امام محمد باقر(علیہ السلام) نے فرمایا:جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے، تو کوفے میں چار مسجدکو ویرا ن کر دیں گے نیز کسی بلند پایہ مسجد کو نہیں چھوڑیں گے اور اس کی اونچائی و کنگورہ کو گرادیں گے اور بغیر بلندی سادہ حالت میں چھوڑدیں گے نیز جو مسجد راستہ میں واقع ہوگی، اُسے گرادیں گے“(۱)

شاید اس سے مراد، وہ چار مسجدیں ہیں جسے لشکر یزید کے سربراہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کے قتل کے بعد شکرانہ کے عنوان سے کوفہ میں بنائی تھیں اور بعدمیں ”مساجد ملعونہ“کے نام سے مشہور ہوئیں اگر چہ آج یہ مساجد موجود نہیں ہیں لیکن ممکن ہے کہ بعد میں ایک گروہ اہل بیت (علیہم السلام)کی دشمنی میں دوبارہ بناڈالے۔(۲)

امام محمد باقر(علیہ السلام) ان مساجد کے بارے میں فرماتے ہیں :”کوفہ میں قتل حسین (علیہ السلام) پر خوشی منانے کے عنوان سے چار مسجد بنائی گئی یعنی مسجد اشعث، مسجد جریر،مسجد سماک،مسجد شبث بن ربعی“(۳)

۳ ۔مناروں کی ویرانی

ابو ہاشم جعفری کہتا ہے : امام حسن عسکری(علیہ السلام) کی خدمت میں تھا توآپ نے فرمایا: جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے ،تومنارے اور محراب(۴) کو مساجد سے ویران

____________________

(۱)من لایحضرہ الفقیہ ،ج۱،ص۵۳بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۳۳؛اثبات الہداة،ج۳، ص۵۱۷،۵۵۶ الشیعہ والرجعہ ،ج۲،ص۴۰۰؛ملاحظہ ہو:من لایحضرہ الفقیہ، ج۱، ص۲۳۲؛ ارشاد ، ص۳۶۵؛ روضہ الواعظین، ج۲،ص۲۶۴

(۲)مہدی موعود، ص۹۴۱؛الغارات ،ج۲،ص۳۲۴

(۳)بحار الانوار ،ج۴۵،ص۱۸۹

(۴)مسجد میں خلیفہ یا امام جماعت کے لئے ایک جگہ بنائی تاکہ نماز کی حالت میں وہاں کھڑے ہوں اور دشمن کی دسترس سے محفوظ رہیں


کریں گے میں نے خود سے کہا: حضرت ایسا کیوں کریں گے؟امام حسن عسکری (علیہ السلام) نے میری طرف رخ کر کے کہا:”اس لئے کہ یہ ایسی بدعت ، نئی تبدیلی ہے جسے رسول خدا اور کسی امام نے ایسا نہیں کیا ہے“(۱)

ایک روایت کے مطابق مرحوم صدوق کہتے ہیں : کہ حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) نے ایک ایسی مسجد کے پاس سے جس کا منارہ بلند تھا گذرتے وقت کہا: اسے ویران کردو۔(۲) مجلسی اول کہتے ہیں : کہ ان روایات سے بلند منارے کی مسجد بنانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے؛ اس لئے کہ مسلمانوں کے گھروں پر بلندی و تسلط رکھنا حرام ہے، لیکن اکثر فقہا ء نے اس روایت کو کراہت پر حمل کیا ہے(۳) ( یعنی ایسا کرنا مکرو ہ ہے) مسعودی و طبری کی نقل کے مطابق آپ منبروں کے ویران کرنے کاحکم دیں گے۔(۴)

۴ ۔مساجد کی چھتوں اور منبروں کی تخریب

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”سب سے پہلے جس چیز کا حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) آغاز کریں گے وہ یہ ہے کہ مساجد کی چھتوں کو توڑ دیں گے۔ اور عریش موسیٰ(۵) کی طرح اس پر سائبان بنائیں گے(۶) ( جس سے گرمی و سردی میں بچاو ہو سکے “

____________________

(۱)طوسی، غیبة، ص۱۲۳؛ابن شہر آشوب، مناقب ،ج۴،ص۴۳۷؛اعلام الوری، ص۳۵۵؛کشف الغمہ، ج ۳، ص۸۲۰ ؛ اثبات الہداة، ج۳،ص۴۱۲؛بحار الانوار،ج۵۰، ص۲۱۵وج۵۲، ص۲۲۳؛مستدرک الوسائل، ج۳،ص ۹ ۷۳،۴۸۳

(۲)من لایحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۱۵۵ (۳)روضہ المتقین ،ج۲،ص۱۰۹ (۴)اثبات الوصیہ ،ص۲۱۵؛اعلام الوری، ص۳۵۵

(۵)عریش ایک سائبان ہے جسے اپنے سردی و گرمی اور دھوپ سے سے حفاظت کے لئے بناتے ہیں اور طریحی کی نقل کے مطابق اسے کھجور کی پتیوں یا چھال سے بناتے ہیں اور فصل کھجور کے آخر تک اس میں زندگی گذارتے ہیں اس کا خراب کرنا شاید اس دلیل سے ہے کہ ظہور امام (عج) سے پہلے مساجد سادہ حالت میں ہوجائیں گی اور آرایش کھو بیٹھیں گی منابر کی ویرانی اس دلیل سے ہے کہ یہ لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کے ذمہ دار نہیں رہ جائیں گے بلکہ خائن و ظالم حکام کی تقویت اور مملکت اسلامیہ میں دشمنوں کے نفوذ کی توجیہ بیان ہوگی

(۶)من لایحضرہ الفقیہ، ج۱،ص۱۵۳؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۲۵؛وسائل الشیعہ، ج۳،ص۴۸۸؛روضة المتقین، ج۲،ص۱۰۱


اس روایت کو استحباب پر حمل کیا گیا ہے؛ اس لئے کہ آسمان و نماز گذار کے درمیان کسی مانع اور رکاوٹ کا نہ ہونا مستحب ہے نیز مانع کا نہ ہونانماز و دعا کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔

۵ ۔مسجد الحرام و مسجد النبی کا اصلی حالت پر لوٹانا

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :”حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) مسجد الحرام کی موجو دہ عمارت توڑ کر پہلے کی طرح اسے پرانی حالت میںتبدیل کردیں گے، نیز مسجد رسول خد ا کو بھی توڑ کر اس کی اصلی حالت پر لوٹادیں گے اور کعبہ کو اس کی اصلی جگہ پرتعمیر کریں گے“(۱)

اسی طرح آنحضرت فرماتے ہیں : جب حضرت قائم قیام کریں گے تو خانہ کعبہ کو اسکی پہلی صورت میں لوٹا دیں گے(۲) نیز مسجد رسول خدا اور مسجد کو فہ میں بھی تبدیلی لائیں گے۔

ج) قضاوت (فیصلہ )

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :خدا وند عالم حضرت مہدی(عجل اللہ فرجہ) کے ظہور کے بعد ایک ہوا کو بھیجے گا جو ہر زمین پر آوازدے گی کہ یہ مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) ہیں جو داود و سلیمان کی روش پر فیصلہ کریں گے اور اپنے فیصلہ پر کوئی شاہدو گواہ کے طالب نہیں ہوں گے“(۳)

____________________

(۱)ارشاد ،ص۳۶۴؛طوسی، غیبة، ص۲۹۷؛نعمانی ،غیبة، ص۱۷۱اعلام الوری، ص۴۳۱؛ کشف الغمہ، ج۳، ص۵۵ ۲اثبات الہداة، ج۳،ص۵۱۶؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۳۲

(۲)اس کی حدود کو صدوق و مجلسی بیان کرتے ہیں ؛ملاحظہ ہو:روضةالمتقین، ج۲، ص۹۴؛ من لایحضرہ الفقیہ ،ج۱، ص۹۱۴

(۳)کافی، ج۱، ص۳۹۷؛کمال الدین، ج۲،ص۶۷۱؛مراة العقول، ج۴،ص۳۰۰؛اس حدیث کو مجلسی موثق جانتے ہیں ؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۲۰،۳۳۰،۳۳۶،۳۳۹


امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) سے ایسے احکام اور فیصلے صادرہوں گے کہ بعض آپ کے چاہنے والے اور ہمرکاب تلوا ر چلا نے والے بھی معترض ہوں گے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی قضاوت ہے لہٰذا حضرت اعتراض کرنے والوں کی گردن ماردیں گے پھر دوسرے انداز میں فیصلہ کریں گے جو حضرت داود کا انداز تھا؛ پھر حضرت کے چاہنے والوں کا دوسرا گروہ اس پر معترض ہوگا تو حضرت اس کی بھی گردن مار دیں گے۔

تیسری دفعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کی روش پر فیصلہ کریں گے تو پھر حضرت کے چاہنے والوں کا گروہ معترض ہوگا حضرت اس کی بھی گردن ماردیں گے اور انھیں پھانسی دیدیں گے اس کے بعد حضرت رسول خدا کی روش سے فیصلہ کریں گے توپھر کوئی اعتراض نہیں کرے گا“(۱)

بڑی بڑی نامور کمیٹیاں جو محرومین اور حقوق بشر کا دم بھرتی ہیں وہ ایسی رفتار رکھیں گی کہ بشریت سے دشمنی کے سوا کچھ اور ظاہر نہیں ہوگا۔

حکومت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا انجام دنیا ،کا وارث و مالک ہونا ہے جس میں دشمن اپنی پوری طاقت سے انسانیت کے ساتھ مبارزہ کرے گااور انسانوں کی خاصی تعداد کو قتل کر چکا ہو گا اور جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں دوسری حکومتوں سے نا امید ہو کر ایک ایسی حکومت سے متمسک ہوں گے جو اپنا وعدہ پورے کرے گی۔ یہ وہی مہدی آل محمد کی حکومت ہے۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” ہماری حکومت و سلطنت آخری حکومت ہوگی کوئی خاندان ،پارٹی ،گروہ حکومت کا مالک نہیں رہ جائے گا مگر یہ کہ ہم سے پہلے بروی کار آکر وہ

____________________

(۱)اثبات الہداة، ج۳،ص۵۸۵؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۸۹


بھی اس لئے کہ اگر ہماری حکومت کی روش و سیاست دیکھیں تو نہ کہیں کہ اگر ہم بھی امور کی باگ و ڈور تھامتے تو ایسی رفتار کرتے یہی خدا وند عالم کے قول کے معنی ہیں کہ فرمایا:( وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْن ) (۱) ” انجام متقین کے لئے ہے“(۲)

د)حکومت عدل

عدالت ،ایک ایسا لفظ ہے جس سے سبھی آشنا ومتعارف ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ عدالت ایک ایسی چیز ہے کہ سب سے ظاہر ہو یہ نیک اور اچھی چیز ہے ذمہ داروں اور حکام سے اس کا ظہور اور بھی اچھی چیز ہے لیکن افسوس کا مقام ہے اکثر زمانوں میں، عدالت کا صرف نام و نشان باقی رہا ہے اور بشریت نے تھوڑے زمانے میں وہ بھی اللہ والوں کی حکومت میں عدالت دیکھی ہے۔

استعمار نے اپنے فائدہ اور اپنی حاکمیت کے نفوذ کی خاطر مختلف شکلوں میں اس مقدس لفظ سے سوء استفادہ کیا ایسے دلکش نعرے سے کچھ گروہ کو اپنے ارد گرد جمع کرتے تو ہیں، لیکن زیادہ دن نہیں گذرتا کہ رسوا ہو جاتے ہیں ،اور اپنی حکومت کے دوام کے لئے طاقت اور نا انصافی کا استعما ل کرنے لگتے ہیں ۔

مرحوم طبرسی کی نظر

مرحوم طبرسی کے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ذریعہ سنت کے زندہ کرنے کے بارے میں اقوال ہیں جسے ہم ذکر کریں گے :

اگر سوال کیا جائے کہ تمام مسلمان معتقد ہیں کہ حضرت ختمی مرتبت کے بعد کوئی

____________________

(۱)سورہ اعراف آیت۱۲۷

(۲)ارشاد ،ص۳۴۴؛روضة الواعظین، ص۲۶۵؛بحار الانوار ،ج۵۲، ص۳۳۲


پیغمبر نہیں آئے گا، لیکن تم شیعہ لوگ عقیدہ رکھتے ہو کہ جب حضرت قائم قیام کریں گے، تو اہل کتاب سے جزیہ قبول نہیں کریں گے جو بیس سال سے زیادہ ہو ، اور احکام دین کو نہ جانتا ہوگا اسے قتل کر دیں گے،اور مساجد، دینی زیارت گاہوں کو ویران کرادیں گے اور داود کے طریقہ پر(کہ وہ حکم صادر کرنے میں گواہ نہیں چاہتے تھے )حکم کریں گے اس طرح کی چیزیں تمہاری روایات میں وارد ہوئی ہیں یہ عقیدہ دیانت کے نسخ ہونے اور دینی احکام کے ابطال کا باعث ہے اور حضرت خاتم کے بعد ایک پیغمبر کا تم لوگ اثبات کرتے ہو اگر چہ اس کانام تم لوگ پیغمبر کا نام نہ دو ۔تمہارا جواب کیا ہے؟

ہم کہیں گے: جو کچھ سوال کیا گیا ہے ۔ یعنی یہ کہ قائم جزیہ قبول نہیں کریں گے بیس سالہ شخص جو احکام دینی نہ جانتا ہو اسے قتل کریں گے ہم اس سے باخبر نہیں ہیں اور اگر فرض کر لیا جائے کہ اس سلسلے میں خصوصی روایات ہیں تو قطعی طور پر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ ممکن ہے کہ بعض مساجد، زیارت گاہوں کی تخریب سے مراد وہ مساجد اور زیارت گاہیں ہو ں جو تقویٰ و دستور خداوندی کے خلاف بنائی گئی ہوں۔

تو یقینا یہ مشروع و جایز کام ہوگا نیز رسول خدا نے بھی ایسا کام کیا ہے ۔ یہ جو کہا گیا ہے قائم، حضرت داود(علیہ السلام) کی طرح بغیر شاہد کے فیصلہ کریں گے تویہ بھی ہمارے نزدیک قطعی و یقینی نہیں ہے اگر صحیح بھی ہوتو اس کی تاویل اس طرح ہو گی کہ جن موارد میں قضیوں کی حقیقت اور دعوے کی صداقت کا خود علم رکھتے ہیں اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے اور شاہد و دلیل کے طالب نہیں ہوں گے اس لئے کہ اگر امام یا قاضی کسی مطلب پر یقین حاصل کر لے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے اور یہ نکتہ دیانت کے منسوخ ہونے کا باعث نہیں ہے ۔


اسی طرح جو یہ بات کہی ہے کہ قائم جزیہ نہیں لیں گے اور گواہ و شاہد کی بات نہیں سنیں گے، اگر یہ درست ہوتو بھی، دیانت کے ختم ہونے کا سبب نہیں ہے اس لئے کہ نسخ اسے کہتے ہیں کہ اس کی دلیل منسوخ شدہ کے بعد ہوا ور ایک ساتھ بھی نہ ہو اگر ہر دودلیل ایک ساتھ ہوں تو ایک کودوسرے کا ناسخ نہیں کہہ سکتے اگر چہ معنی کے اعتبار سے مخالف ہو مثلاً اگر فرض کریں گے شنبہ کے دن فلاں وقت گھر میں سر کاٹو اور اس کے بعد آزاد ہو، تو ایسی بات کو نسخ نہیں کہتے ؛ اس لئے کہ دلیل رافع ،دلیل موجب کے ہمراہ ہے ۔

چونکہ یہ معنی روشن ہو چکے ہیں کہ رسول خدا نے ہمیں بتا یا ہے کہ قائم ہمارے فرزندں میں سے ہیں اس کے حکم کی پیروی کرو اور جو حکم دیں قبول کرو ہم پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کریں قائم جو ہمیں حکم دیں اس پر عمل کریں لہٰذا اگر ہم نے ان کے حکم کو قبول کیا ۔اگر چہ بعض گذشتہ احکام سے فرق ہوگا دین اسلام کے احکام کو منسوخ نہیں جانتے ؛ اس لئے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نسخ احکام ایسے موضوع میں جس کی دلیل وارد ہوثابت نہیں ہوتا۔(۱)

____________________

(۱)بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۸۳؛اہل سنت سے اسی مضمون کی روایات نقل ہوئی ہیں


حصہ سوم

پہلی فصل

حکومت حق

دنیا کی وسعت اور گسترش کے باوجوداس کا ادارہ کرنا ایک دشوار و مشکل کام ہے جو صرف الٰہی راہبر اور دلسوز و ہمدرد کار گذار، الٰہی نظام اور اسلامی حکومت کے اعتقاد کے ساتھ ہی امکان پذیر ہے ۔(ممکن ہے)

امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) دنیا کا ادارہ کرنے کے لئے ایسے ایسے وزراء بھیجیں جو جنگی سابقہ رکھتے ہوں گے اور تجربہ و عمل کے اعتبار سے اپنی پایداری و ثبات قدمی کا مظاہرہ کریں گے۔

صوبہ کا مالک اپنی بھاری بھر کم شخصیت کے ساتھ صوبوں کی اداری ذمہ داری قبول کرے گا جو صرف اسلامی حکومت اور خوشنودی خدا وندی کا خواہش مند ہوگا ظاہر ہے کہ جس ملک کے ذمہ دار ایسے ہوں گے وہ مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں نیز گذشتہ حکومتوں کی تباہی، کامیابی میں تبدیل ہوجائے گی اور ایسی حالت ہو جائے گی کہ زندہ افراد مردوں کی دوبارہ حیات کی آرزو کریں گے۔

توجہ رکھنا چاہئے کہ حضرت (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس وقت امور کی باگ ڈور ہاتھ میں لیں گے جب دنیا بے سر سامانی اورلاکھوں زخمی ،جسمی و روحانی اورذ ھنی بیماریوں سے بھری ہوگی دنیا پر تباہی و بربادی سایہ فگن ناامنی و بے چینی عالم پر محیط ہوگی شہر، جنگ کی وجہ سے ویران ہو چکے ہوں گے کھیتیاں آلودہ فضا کی وجہ سے خراب اور روزی میں کمی ہوگی۔

دوسری طرف دنیا والوں نے احزاب، پارٹیاں، کمیٹیاں حکومتیں دیکھی ہیں جو دعویدار تھیں اور ہیں، کہ اگر حکومت مجھے مل جائے، تو دنیا اور اہل دنیا کی خدمت کریں اور چین و سکون ،راحت و آرام اقتصادی حالت کو بہتر بنادیں گے لیکن ہر ایک عملی طورپر ایک دوسرے سے بُرا ہی ثابت ہوتا ہے سوائے فتنہ و فساد ، قتل و غارت گری ، ویرانی کے کچھ نہیں دیتے ۔کمیونسٹ نے تلاش کی ۔مالویزم اپنے راہبروں کی نظر میں معتوب ٹھہرا ۔ مغربی ڈیموکراسی نے انسان فریبی کے علاوہ کوئی نعرہ نہیں لگایا۔


آخر میں ایک ایسادن آئے گا کہ عدل و عدالت ایک قوی خدا رسیدہ الٰہی انسان کے ہاتھ میں ہوگی اور ظلم و جور سے مردہ زمین پر عدالت قائم ہوگی وہ اس شعار کے اجرا کرنے میں ((یَمْلَا ءُ الْاَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً ))”زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے “مصمم ہوں گے جس کے آثار ہر جگہ ظاہر ہوں گے۔(۱)

حضرت، حکومت اس طرح تشکیل دیں گے اور لوگوں کو ایسی تربیت کریں گے کہ ذہنوں سے ستم مٹ چکا ہوگا بلکہ روایات کی تعبیر کے اعتبار سے پھر کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا حدیہ کہ حیوانات بھی ظلم و تعدی سے باز آجائیں گے گوسفند ،بھڑیئے ایک ساتھ بیٹھیں گے۔

ام سلمیٰ کہتی ہیں :رسول خدا نے فرمایا : ”مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) سماج میں ایسی عدالت قائم کریں گے کہ زندہ افراد آرزوکریں گے ،کہ کاش ہمارے مردے زندہ ہوتے اور اس عدالت سے فیضیاب ہوتے“

امام محمد باقر(علیہ السلام) آیہ شریفہ( وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ یُحِْیْ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاْ ) (۲)

____________________

(۱)مجمع الزوائد، ج۷، ص۳۱۵؛الاذاعہ، ص۱۱۹؛حقاق الحق ،ج۱۳،ص۲۹۴ (۲)سورہ بقرہ آیت۲۵۱


”جان لو کہ خداوندعالم زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرے گا“ کی تفسیر فرماتے ہیں : خدا وند عالم زمین کو حضرت قائم کے ذریعہ زندہ کرے گا آنحضرت زمین پر عدالت برپا کریں گے اور اسے عادلانہ انداز سے زندہ کریں گے جب کہ ظلم و جور سے مردہ ہو چکی ہوگی “(۱)

نیز امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : خدا کی قسم یقینی طور پر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی عدالت گھروں کے اندر بلکہ کمروں میں نفوذ کر چکی ہوگی جس طرح سردی و گرمی کا اثر ہوتا ہے“(۲)

ان روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ بعض گروہ کے چاہنے اور مخالفت کے باوجود، عدالت پوری دنیا میں بغیر استثناء قائم ہوگی ۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) آیہ شریفہ( اَلَّذِیْنَ اِنْ مَکَّنَّاهُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَاْمُوْا اْلصَّلٰوةّ ) (۳) ” اگر زمین میں ان لوگوں کو حاکم بنادیں تو وہ نماز قائم کریں گے وغیرہ ‘ ‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :یہ آیت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے ناصروں کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔خدا وند عالم ان کے ذریعہ اپنے دین کو ظاہر کرے گا اس طرح سے کہ ظلم و ستم کا خاتمہ اور بدعت کا نشان تک مٹ جائے گا “(۴)

امام رضا(علیہ السلام) اسی سلسلے میں فرماتے ہیں : ”جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)

____________________

(۱)کما ل الدین، ص۶۶۸؛المحجہ، ص۴۱۹؛نور الثقلین ،ج۵،ص۲۴۲؛ینابیع المودة، ص۴۲۹؛ بحار الانوار ،ج۵۱، ص۵۴

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۱۵۹؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۴۴؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۶۲

(۳)سورہ حج آیت۴۱

(۴)تفسیر صافی، ج۲،ص۸۷؛المحجہ، ص۱۴۳؛احقا ق الحق، ج۱۳،ص۳۴۱


ظہور کریں گے تو معاشرہ میں ایسی میزان عدالت قائم کریں گے جس کے بعد پھر کوئی ظلم نہیں کرے گا ۔(۱)

نیز حضرت امیر المومنین (علیہ السلام)فرماتے ہیں:”حضرت کسانوں اور لوگوں کے درمیان عادلانہ رویہ اپنائیں گے“(۲)

جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے امام محمد باقر(علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کیاکہ یہ پانچ سو درہم بابت زکات ہیں اسے لے لیجئے ! امام نے کہا:”اسے تم خود ہی اپنے پاس رکھو اور اپنے پڑوسیوں ،بیماروں ،ضرورت مندمسلمانوں کو دیدو“ پھر فرمایا: جب ہمارے مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو برابر سے مال تقسیم کریں گے اور عدالت کے ساتھ ان سے رفتار رکھیں گے جو ان کی پیروی کرے گا، گویااس نے خدا کی پیروی کی ہے اور جو نافرمانی کرے ،خدا کا نافرمان شمار ہوگا اسی وجہ سے حضرت کا نام مہدی رکھا گیا ہے کہ پوشیدہ امور ومسائل سے آگاہ ہوتے ہیں ۔(۳)

حضرت مہدی کی عدالت زمانے میں اتنی وسیع ہوگی کہ شرعی اولویت کی بھی رعایت ہوگی یعنی جو لو گ واجبات انجام دیتے ہیں، ان پر مستحبات انجام دینے والوں کو، مقدم رکھا جائے گا ۔مثال کے طور پر حضرت قائم کے زمانے میں اسلام اور الٰہی حکومت کا پوری دنیا میں بول بالا ہوگا،تو فطری ہے کہ الٰہی نعروں کی ناقابل وصف شان و شوکت ظاہر ہو

حج ابراہیمی شعار الٰہی کا ایک جز ہے جو حکومت اسلامی کی وسعت سے پھر کوئی حج پر جانے سے مانع و رکاوٹ نہیں ہوگی اور لوگ باڑھ کی مانند کعبہ کی سمت روانہ ہوں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ کعبہ کے اردگردایک بھیڑ اژدہام ہوگا اور اتنا کہ حج کرنے والوں کے لئے کافی نہ ہوگا پھر امام(علیہ السلام)

____________________

(۱)کمال الدین، ص۳۷۲؛کفایة الاثر، ص۲۷۰؛ اعلام الوری، ص۴۰۸؛کشف الغمہ، ج۳، ص۳۱۴؛فرائد السمطین ، ج۲،ص۳۳۶؛ینابیع المودة ،ص۴۴۸؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۲۱؛ احقاق الحق، ج۱۳، ص۳۶۴

(۲)اثبات الہداة، ج۳،ص۴۹۶

(۳)عقدالدرر، ص۳۹ ؛احقاق الحق ،ج۱۳،ص۱۸۶


حکم دیں گے اولویت ان کو ہے جو واجب ادا کرنے آتے ہیں امام صادق(علیہ السلام) کے بقول یہ سب سے پہلی عدالت کی جلوہ گاہ ہوگی۔

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”سب سے پہلے حضرت (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی عدالت سے جو چیز آشکار ہوگی وہ یہ کہ حضرت اعلان کریں گے کہ جو لوگ مستحبی حج ،مناسک اور حجر اسود کو چومنے اورمستحبی طواف انجام دینے جارہے ہیں وہ واجب حج ادا کرنے والوں کے حوالے کردیں “(۱)

الف) دلوں پر حکومت

واضح ہے کہ کوئی حکومت مختصر مدت میں دشواریوں پر حاکم ہو اور بے سرو سامانی کا خاتمہ اور دلوں سے یاس و نا امیدی کو ختم کرے اوران دلوں میں امید کی لہر دوڑ ائے تو یقینا لوگ اس کی حمایت کریں گے نیز ایسا نظام جو جنگ کی آگ بجھا دے امنیت و آسایش کی راہ ہموار کردے حتی کہ حیوانات اس سے بہرہ مند ہوں یقینا لوگوں کے دلوں پر حاکم ہوگا نیزلوگ ایسی حکومت کے خواہشمند بھی ہیں اس لحاظ سے روایات میں امام سے لگاو اور تمسک کو پسندیدہ انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔

رسول خدا فرماتے ہیں : تم لوگوں کو مہدی قریشی کی بشارت دیتا ہوں جس کی خلافت سے زمین و آسمان کے رہنے والے راضی ہیں“(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” میری امت کا ایک شخص قیام کرے گا جسے زمین و آسمان والے دوست رکھیں گے“(۳) صباح کہتا ہے کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں

____________________

(۱)کافی، ج۴،ص۴۲۷؛من لایحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۵۲۵؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۷۴

(۲)ینابیع المودة ،ص۴۳۱؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۲۴

(۳)فردوس الاخبار ،ج۴،ص۴۹۶؛اسعاف الراغبین، ص۱۲۴؛احقاق الحق ،ج۱۹،ص۶۶۳؛ الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص ۶۱۲


بزرگ خرد ہونے اور خرد بزرگ ہونے کی تمنا کریں گے“(۱) شاید اس لئے چھوٹے ہونے کی آرزو ہو کہ وہ زیادہ دن تک حضرت مہدی کی حکومت میں رہنا چاہتے ہوں اور خرد بڑے ہونے کی آرزو اس لئے کریں گے کہ وہ مکلف ہونا چاہتے ہوں گے تاکہ حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی الٰہی حکومت کے پروگرام کو اجراء کرنے میں خاص نقش و کردار پیش کرسکیں اور اخروی جزا کے مالک ہوں۔ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت اس درجہ موثر ہوگی کہ مردے زندہ ہونے کی آرزو کریں گے ۔

حضرت علی(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” میرے فرزندوں میں سے ایک شخص ظہور کرے گا جس کے ظہور اور حکومت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مردے قبر میں رہنا نہیں چاہیں گے مگر یہ کہ وہی تمام سہو لتیں و فوائد انھیں قبر میں حاصل ہوں وہ لوگ ایک دوسرے کے دید ار کو جائیں گے اور حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے قیام کی خوشخبری دیں گے “(۲)

کامل الزیارات میں،(۳) ” الفرحة “خوشی و شادمانی کے معنی میں استعما ل ہوا ہے اور لفظ میت کا روایت میں استعما ل قابل غور ہے ،اس لئے کہ یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ عیش و عشرت عمومی و نوعی ہے اور ارواح کے کسی گروہ سے مخصوص نہیں ہے ،اگر اس روایت کو اُن روایات سے ضمیمہ کر دیں جو کہتی ہیں : ”کافروں کی روح بد ترین حالت اور زنجیرو قید خانوں میں زندگی بسر کریں گی “تو اس روایت کے معنی روشن ہو جاتے ہیں ،اس لئے کہ امام کے ظہور کے ساتھ ہی انھیں عذاب سے رہائی

____________________

(۱)ابن حماد ،فتن ،ص۹۹؛الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۷۸؛القول المختصر ،ص۲۱؛متقی ہندی، برہان، ص۸۶؛ابن طاوس، ملاحم، ص۷۰

(۲)کمال الدین ،ج۲،ص۶۵۳؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۲۸؛وافی، ج۲، ص۱۱۲(۳)کامل الزیارات ،ص۳۰


ممکن ہے کہ صباح سے مراد ابن عبد الرحمان مرسی ہوں یا محارب تمیمی کوفی یا ان دونوں کے علاوہسیر اعلام النبلاء،ج ۱۴ ،ص ۱۲

کا حکم مل جائے گا یا حالت (گشایش و رحمت کہ فرشتوں کی رفتار کے مطابق عذاب نہیں ہے) دگرگون ہو جائے گی ایک مدت کے لئے خواہ کوتاہ کیوں نہ ہو زمین پر الٰہی حکومت کے تشکیل پانے کے احترام میں کافروں ، منافقوں کی روح سے شکنجہ عذاب ختم ہو جائے گا۔

ب)حکومت کا مرکز (پایہ تخت)

ابو بصیر کہتے ہیں :امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے فرمایا :” اے ابو محمد! گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ قائم آل محمد اپنے اہل و عیال کے ساتھ مسجد سہلہ میںوارد ہوئے ہیں ‘ ‘ میں نے کہا: کیا ان کا گھر مسجد سہلہ ہے ؟ امام نے کہا:”ہاں؛وہی جگہ جو حضرت ادریس کا ٹھکانا تھی کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہو ا،جب تک وہاں اس نے نماز نہیں پڑھیجو وہاںٹھہرے ایسا ہی ہے کہ رسول خدا کے خیمہ میں ہو ۔کوئی مومن مرد و عورت ایسا نہیں ہے جس کا دل وہاں نہ ہو ہر روز وشب فرشتہ الٰہی اس مسجد میں پناہ لیتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں اے ابو محمد ! اگر میں بھی تمہارے قریب ہوتا تو میں نماز اسی مسجد میں پڑھتا۔

اُس وقت ہمارے قائم قیام کریں گے ،اورخدا وند عالم اپنے رسول اور ہمارے تمام دشمنوں سے انتقام لے گا “(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مسجد سہلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:” وہ ہمارے صاحب (حضرت مہدی ) (عجل اللہ تعالی فرجہ)کا گھر ہے ،جس وقت وہ اپنے تمام خاندان سمیت وہاں قیام پذیر ہوں گے “(۲)

____________________

(۱)کافی،ج۳،ص۴۹۵؛کامل الزیارات، ص۳۰ ؛راوندی، قصص الانبیاء، ص۸۰؛التہذیب، ج۶، ص۳۱؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۸۳؛وسائل الشیعہ، ج۳،ص۵۲۴؛بحارا لانوار،ج۵۲، ص۳۱۷،۳۷۶؛مستدرک الوسائل ،ج۳،ص۴۱۴

(۲)کافی، ج۳،ص۴۹۵؛ارشاد، ص۳۶۲؛التہذیب، ج۳،ص۲۵۲؛طوسی، غیبة، ص۲۸۲؛وسائل الشیعہ،ج۳، ص۳۲۵؛ بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۳۱ملاذ الاخیار، ج۵،ص۴۷۵


امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو کوفہ کی سمت روانہ ہوں گے اور وہیں قیام پذیر ہوں(۱) گے“ نیز آنحضرت فرماتے ہیں:” جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کریں گے تو کوفہ کی سمت جائیں گے، تو ہر مومن حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے آس پاس اُس شہر میں مقیم ہونا چاہے گا یا حد اقل اس شہر میں آئے گا“(۲) حضرت امیر (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” ایک روز آئے گا کہ یہ جگہ (مسجد کوفہ)حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کا مصَلیّٰ قرار پائے گی “(۳)

ابو بکر حضرمی کہتے ہیں امام محمد باقر یا امام جعفر صادق (علیہما السلام) سے میں نے کہا: کونسی زمین اللہ اور رسول خدا کے حرم کے بعد زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ تو آپ نے کہا:”اے ابو بکر ! سر زمین کوفہ پاکیزہ جگہ اور اس میں مسجد سہلہ ہے ایسی مسجد ہے جس میں تمام پیغمبروں نے نماز پڑھی ہے یہ وہی جگہ ہے جہاں سے عدالت الٰہی جلوہ گر ہوگی نیز ا للہ کے قائم اور تمام قیام کرنے والے وہیں ہوں گے یہ پیغمبروں اور ان کے صالح جانشینوں کی جگہ ہے “(۴)

محمد بن فضیل کہتا ہے کہ اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہوگی جب تک تمام مومنین کوفہ میں جمع نہ ہوجائیں(۵) رسول خدا فرماتے ہیں:” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ۹/۱۰/ سال حکومت کریں گے اور لوگوں میں سب سے زیادہ خوش بخت کوفہ کے لوگ ہیں“(۶)

____________________

(۱)راوندی، قصص الانبیاء ،ص۸۰ ؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۲۲۵

(۲)بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۸۵؛طوسی ،غیبة، ص۲۷۵تھوڑے سے فرق کے ساتھ

(۳)روضة الواعظین ،ج۲،ص۳۳۷؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۵۲

(۴)کامل الزیارات ،ص۳۰ ؛مستدرک الوسائل ،ج۳،ص۴۱۶

(۵)طوسی ،غیبة، ص۲۷۳؛بحارا لانوار، ج۵۲، ص۳۳۰

(۶)فصل الکوفہ ،ص۲۵ ؛اثبات الہداة، ج۳،ص۶۰۹ ؛حلیة الابرار ،ج۲،ص۷۱۹؛اعیان الشیعہ، ج۲،ص۵۱


تمام روایات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ شہر کوفہ (امام زمانہ) کی کار کردگی و فعالیت نیز فرمانروائی کا مرکز ہوگا ۔

ج)حکومت مہدی کے کارگذار۔

فطری ہے کہ جس حکومت کی رہبری حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہاتھ میں ہوگی، اس کے عہد یدار و کار گذار بھی امت کے نیک اور صالح افراد ہوں گے اس لحاظ سے، ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ روایات حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت، پیغمبروں ،ان کے جانشینوں، صاحبان تقوا،زمانہ کے نیک افراد ، گذشتہ امتوں اور بزرگ اصحاب پیغمبر کے ذریعہ تشکیل کو بیان کرتی ہیں جن میں بعض کا نام درج ذیل ہے۔

حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)۔اصحاب کہف کے سات آدمی ،یوشع و صی موسیٰ (علیہ السلام) ، مومن آل فرعون ،سلمان فارسی ،ابو دجانہ انصاری،مالک اشتر نخعی و قبیلہ ہمدان۔

حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کے بارے میں روایات متعدد الفاظ سے یاد کرتی ہیں کبھی وزیر، جانشین ،کمانڈر، حکومت کے مسول و ذمہ دار وغیرہ۔(۱)

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے وزیر ،راز دار، جانشین ہیں۔(۲)

اس وقت حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آسمان سے اتریں گے تو حضرت کے اموال دریافت کرنے کے مسول ہوں گے نیز اصحاب کہف ان کے پیچھے ہوں گے۔(۳)

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۸۳ ؛ابن حماد، فتن، ص۱۶۰

(۲)غایة المرام، ص۶۹۷؛حلیة الابرار ،ج۲،ص۶۲۰

(۳)غایة المرام، ص۶۹۷؛حلیة الابرار، ج۲،ص۶۲۰


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب قائم آل محمد قیام کریں گے تو۱ ۷/ افراد کو کعبہ کی پشت سے زندہ کریں گے وہ سترہ/۱ ۷ افراد یہ ہیں پانچ قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے وہ لوگ جو حق کے ساتھ فیصلہ کرتے ہوئے عادلانہ رفتار رکھیں گے ، ۷/ آدمی اصحاب کہف سے یوشع وصی موسیٰ(علیہ السلام)۔ مومن آل فرعون ، سلمان فارسی، ابودجانہ انصاری ،مالک اشتر نخعی۔(۱)

بعض روایات میں ان کی تعداد ستائیس تک بیان کی گئی ہے نیز قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے چودہ کی تعداد مذکور ہے(۲) اور ایک دوسری روایت میں مقداد کا بھی نام مذکور ہے۔(۳)

حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں ”سپاہی حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے

____________________

(۱)عیاشی ،تفسیر ،ج۲،ص۳۲؛دلائل الامامہ ،ص۲۷۴؛مجمع البیان ،ج۲،ص۴۸۹؛ارشاد، ص۳۶۵کشف الغمہ، ج۳ ،ص۲۵۶؛روضة الواعظین ،ج۲،ص۲۶۶؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۵۰؛ بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۴۶

(۲)اثبا ت الہداة، ج۳،ص۵۷۳

(۳)مقداد،رسول خدا اور حضرت علی کے اصحاب میں ہیں ان کی عظمت شان کے لئے یہی کافی ہے کہ ایک روایت کے مطابق ،خدا وندعالم نے سات آدمیوں کی وجہ سے کہ ان میں ایک مقداد بھی ہیں ہمیں روزی دیتا ہے اور تمہاری مدد کرتااور بارش نازل کرتا ہے اس نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت و امامت کے موضوع سے بہت ہاتھ پیر مارا اور انتھک کوشش کی ہے ۔

رسول خدا ان کے بارے میں فرماتے ہیں :(کہ خدا وند عالم نے مجھے حکم دیا کہ میں چار شخص کو دوست رکھوں : علی ، مقداد ،ا بوذراور سلمان فارسی “دوسری روایت میں ہے کہ بہشت مقداد کی مشتاق ہے۔(معجم رجال الحدیث، ج۸، ص۳۱۴) اس نے دوبارہ ہجرت کی اور مختلف جنگوں میں شرکت کی جنگ بدر میں رسول خدا سے عرض کیا :کہ ہم بنی اسرائیل کی طرح حضرت موسی سے گفتگو نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے پہلو اوہمرکاب دشمن سے لڑیں گے، مقداد حضرت امیر کے شرطة الخمیس کا ایک جز تھے مقداد نتیجةً۷۰/سال کی عمر میں ۳۳ ء ھ کو”جرف “نامی سر زمین جو ۳۰/میل مدینہ سے دور ہے سرای جاودانی کی سمت کوچ کر گئے ، لوگوں نے بقیع تک آپ کے جنازہ کی تشییع کی اور وہیں سپرد لحد کردیا ۔


آگے آگے ہوں گے اور قبیلہ(۱) ہمدان کے لوگ آپ کے وزیر ہوں گے۔(۲)

پھر بھی اس سلسلے میں یوں بیان کیا گیا ہے: -”خدا ترس لوگ حضرت مہدی کے ساتھ ہوں گے، ایسے لوگ جنھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی ہے وہی لوگ حضرت کی نصرت کریں گے اور آپ کے وزیر اور امور حکومت کو سنبھالیں گے جو کہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے“(۳)

____________________

(۱)ہمدان یمن میں ایک بڑاقبیلہ ہے انھوںنے جنگ تبوک کے بعد حضرت رسول خدا کی خدمت میں ایک نمایندہ بھیجا اور حضرت نے ۹ ئھ میں حضرت امیر المومنین کو یمن روانہ کیا تاکہ ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں رسول خدا کا پیغام پڑھے جانے کے بعد سارے کے سارے مسلمان ہوگئے حضرت علی نے ایک خط میں رسول خدا کو ہمدانی طائفہ کے اسلام کا تذکرہ کیا اور اس خط میں ہمدان پر تین بار دورد بھیجا رسول خدا خط پرھنے کے اس خبر کے شکرانہ کے طور پر سجدہ شکر بجالائے حضرت علی نے ان کی مدح میں اس طرح بیان کیا ہے :”ہمدان والے دیندار اور نیک اخلاق ہیں، ان کا دین ،ان کی شجاعت اور دشمن کے مقابل ان کے غلبہ نے انھیں زینت بخشی ہے اگر میں جنت کا دربان ہواتو ہمدانیوں سے کہوں گا سلامتی کے سے اس میں داخل ہو جا و ۔ آنحضرت نے معاویہ کی دھمکیوں کے جواب میں ،قبلیہ ہمدان کی توانائی و قوت کو اس پر ظاہر کیا اور کہا:”جب ہم نے موت کو سرخ موت پایا ،تو ہمدان طائفہ کو آمادہ کیا، ایک شخص نے حضرت پر اعتراض کیا بہت ممکن تھا کہ لشکر اکٹھا کرنے میں خلل واقع ہو جائے حاضرین واقعہ نے اسے لات گھونسا مارکر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا اور حضرت نے اس کا دیہ دیا ۔ ہمدان کا طائفہ ان تین طائفہ میں ایک تھا جو حضرت کے لشکر کی بھاری اکثریت کو تشکیل دیتا تھا صفین کی ایک جنگ میں داہنا بازو بن کر اپنی بے مثال ثبات قدمی اور پایداری کا مظاہرہ کیا خاص کر ۸۰۰/سو ہمدانی جوانوں نے آخر دم تک استقلال و پایداری دیکھائی اس میں۱۸۰/ افراد شہید اور زخمی ہوئے اور گیارہ کمانڈر شہید ،اگر پرچم ان میں سے کسی کے ہاتھ سے زمین پر گر جاتا تھا تو دوسرا ہاتھ میں اٹھا لیتا تھا اور اپنے رقیب ”ازد “اور ”بجیلہ “سے جنگ کرنے میں ان کے تین ہزار کو مار ڈالا۔

جنگ صفین کی کسی ایک شب کے موقع پر معاویہ نے چار ہزار افراد کے ساتھ حضرت علی کے لشکر پر شب خون کا ارادہ کیا تو ہمدان کا قبیلہ اس ناپاک ارادہ سے آگاہ ہواتو صبح تک پوری آمادگی کے ساتھ نگہبانی کرتا رہا ،ایک دن معاویہ نے اپنے لشکر سمیت اس قبیلہ سے جنگ شروع کر دی ،لیکن ان سے قابل دید شکست کے ساتھ میدان جنگ سے فرار کر گیامعاویہ نے ”عک“نامی قبیلہ کو ان سے جنگ کے لئے روانہ کیا ہمدانیوں نے ان پر اس طرح حملہ کیا کہ معاویہ کو پیچھے ہٹنے کا حکم دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ۔ حضرت علی نے ان سے فرمائش کی کہ سر زمین حمص کے سپاہیوں کو سرکوب کریں ہمدانی لوگ ان پر بھی حملہ ور ہوئے اور دلیرانہ جنگ کے بعد انھیں شکست دیدی اور معاویہ کے خیمے سے پیچھے ہٹا دیا، ہمدان کا گروہ ہمیشہ حضرت کا مطیع و فرمانبردار تھا اور جب نیزہ پر قرآن بلند کرنے سے حضرت علی کے لشکر کے درمیان اختلاف ہواتو اس قبیلہ کے رئیس نے حضرت سے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے آپ جو حکم دیں گے ہم اجراکریں گے ۔

(۲)عقد الدرر، ص۹۷ (۳)نور الابصار، ص۱۸۷؛وافی، ج۲،ص۱۱۴؛نقل از ”فتوحات مکیہ “


ابن عباس کہتے ہیں : اصحاب کہف حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ناصر ومدد گارہیں۔(۱)

حلبی کہتے ہیں : تمام اصحاب کہف عرب قبیلہ سے ہیں وہ صرف عربی بولتے ہیں اور وہی لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے وزیر ہیں ۔(۲)

مذکور ہ بالا روایات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت کی اتنی بڑی ذمہ داری اور وسیع و عریض اسلامی سر زمین کی مدیریت ہر کس وناکس کو نہیں دی جا سکتی، بلکہ ایسے افراد اس ذمہ دار ی کو قبول کریں گے کے جو بارہا کہ آزمائے ہوئے ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو مختلف آزمایشوں میں ثابت کر چکے ہیں۔ اسی لئے ،دیکھتا ہوں کہ، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت کے وزراء میں حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) سر فہرست ہیں اسی طرح حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت کے لائق و قابل اہمیت افراد میں سلمان فارسی، ابو دجانہ انصاری، مالک اشتر نخعی ہوں گے یہ لوگ رسول خدا اور حضرت امیر المو منین(علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی اپنی استعداد و صلاحیت ظاہر کر چکے ہیں نیز قبیلہ ہمدان نے تاریخ اسلام میں حضرت علی(علیہ السلام) کے دور میں نمایاں کام انجام دیئے ہیں لہٰذا اس حکومت کے وہ لوگ بھی منصب دار ہوں گے۔

د)حکومت کی مدت

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت کی کتنی مدت تک ہے اس سلسلے میں شیعہ و سنی کی متعدد روایات ہیں۔ بعض روایات ۷/ سال معین کرتی ہیں تو بعض ۹/۱۰/ اور۲ ۰/ سال بیان کرتی ہیں بلکہ بعض روایات ہزار سال تک بیان کرتی ہیں، لیکن جو مسلّم اور قطعی ہے وہ یہ کہ آپ کی حکومت

____________________

(۱)الدر المنثور، ج۴،ص۲۱۵؛متقی ہندی، برہان، ص۱۵۰؛العطر الوردی، ص۷۰

(۲)السیرة الحلبیہ، ج۱،ص۳۳؛منتخب الاثر، ص۴۸۵


۷/ سال سے کم نہیں ہے نیز بعض ائمہ( علیہم السلام )سے مروی روایات اسی کہ زیادہ تاکید بھی کرتی ہیں ۔

شاید یہ کہا جا سکے کہ مدت حکومت ۷/ سال ہے؛ لیکن اس کے سال اس زمانے کے سالوں سے متفاوت ہوں گے جیسا کہ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت مہدی کی حکومت ۷/ سال ہے لیکن ہر سال تمہارے سالوں کے دس سال کے برابر ہے لہٰذا تمہارے اعتبار سے حکومت ۷۰/ سال تک ہوگی“(۱) حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) سات سال حکومت کریں گے کہ ہر سال تمہارے سال سے دس گنا ہوگا“(۲)

حضرت رسول خدا فرماتے ہیں : کہ” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)ہم سے ہیں اور سات سال تک جملہ امور کی دیکھ بھال کریں گے“(۳) نیز فرماتے ہیں : ”آنحضرت اس امت پر سات سال تک حکومت کریں گے ۔“(۴)

اسی طرح آنحضرت فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت سات سال تک ہے، اگرکم ہو ورنہ ۹/۱۰ / سال تک ہوگی“(۵) نیز مذکور ہے:” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ۹/ سال اس دنیا میں حکومت کریں گے“(۶)

____________________

(۱)مفید، ارشاد،ص۳۶۳؛طوسی، غیبة، ص۲۸۳؛روضة الواعظین، ج۲،ص۲۶۴؛الصراط المستقیم، ج۲،ص۲۴۱؛ الفصول المھمہ، ص۳۰۲؛الا یقاظ، ص۲۴۹؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۹۱؛ نور الثقلین ، ج۴،ص۱۰۱

(۲) عقدالدرر، ص۲۲۴،۳۲۸؛اثبا ت الہداة، ج۳،ص۶۲۴

(۳)الفصول المھمہ، ص۳۰۲؛ابن بطریق ،عمدہ،، ص۴۳۵؛دلائل الامامہ ،ص۲۵۸؛حنفی ،برہان، ص۹۹؛مجمع الزوائد، ج۷، ص۳۱۴؛فرائد السمطین، ج۲،ص۳۳۰؛عقد الدرر، ص۲۰،۲۳۶؛شافعی ،بیان، ص۵۰؛حاکم ،مستدرک، ج۴، ص۷۵۵؛کنزل العمال، ج۱۴، ص۲۶۴؛ کشف الغمہ، ج۳،ص۲۶۲؛ینابیع المودة، ص۴۳۱؛غایة المرام، ص۶۹۸؛بحار الانوار ، ج۱۵ ، ص ۲۸

(۴)عقد الدرر، ص۲۰ ؛بحار الانوار،ج۵۱،ص۸۲

(۵)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۴۰؛کشف الا ستار، ج۴،ص۱۱۲؛مجمع الزوائد، ج۷، ص۳۱۴

(۶)ابن طاو س، طرائف ،ص۱۷۷


جابر بن عبد اللہ انصاری نے امام محمد باقر(علیہ السلام) سے سوال کیا:” امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کتنے سال زندگی کریں گے ؟حضرت نے کہا: قیام کے دن سے وفات تک۱ ۹/ سال طولانی ہوگی“(۱)

رسول خدا نے فرمایا:” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)۲ ۰/ سال تک حکومت کریں گے اور زمین سے خزانے بر آمد کریں گے، نیز سر زمین شرک کو فتح کریں گے “(۲)

نیز حضرت فرماتے ہیں : مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) میرے فرزندوں میں ہیں اور۲ ۰/ سال حکومت کریں گے“(۳)

اسی طرح روایت میں ہے آنحضرت۱ ۰/ سال حکومت کریں گے ۔(۴)

حضرت علی(علیہ السلام) اس سوال کے جواب میں کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کتنے سال حکومت کریں گے ؟ آپ نے فرمایا:” ۳۰/ یا۴ ۰/ سال حکومت کریں گے “(۵)

امام جعفر صاد ق(علیہ السلام) نے فرمایا:”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ہمارے فرزندوں میں ہیں اور اور ان کی حضرت ابراہیم خلیل کی عمر کے برابر عمر ہوگی ۸۰/ سال میں ظہور کریں گے اور چالیس سال حکومت کریں گے “(۶)

____________________

(۱)عیاشی ،تفسیر ،ج۲،ص۳۲۶؛نعمانی، غیبة، ص۳۳۱؛اختصاص، ص۲۵۷؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۲۹۸

(۲)فردوس الاخبار، ج۴،ص۲۲۱؛العلل المتناہیہ، ج۲،ص۸۵۸؛دلائل الامامہ، ص۲۳۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۹۳؛بحار الانوار،ج۵۱، ص۹۱؛ملاحظہ ہو:طبرانی، معجم، ج۸، ص۱۲۰؛اسد الغابہ ،ج۴،ص۳۵۳؛فرائد السمطین، ج۲، ص۳۱۴؛ مجمع الزوائد ،ج۷، ص۳۱۸؛لسان المیزان، ج۴،ص۳۸۳

(۳)کشف الغمہ، ج۳،ص۲۷۱؛ابن بطریق ،عمدہ، ،ص۴۳۹؛بحارا لانوار، ج۵۱، ص۱؛ابن طاوس، ملاحم، ص۲۵۱؛ فردوس الاخبار، ج۴،ص۶؛دلائل الامامہ، ص۲۳۳؛عقدالدرر، ص۲۳۹؛ینابیع المودة، ص۴۳۲

(۴)نورا لابصار، ص۱۷۰؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۲۵؛ملاحظہ ہو:فضل الکوفہ، ص۲۵؛اعیان الشیعہ، ج۲،ص۱۵ ؛ ینابیع المودة، ص۴۹۲

(۵)ابن حماد ،فتن ،ص۱۰۴؛کنزل العمال، ج۱۴،ص۵۹۱

(۶)اثبات الہداة، ج۳،ص۵۷۴


نیز آنحضرت نے فرمایا:”۱ ۹/ سال و کچھ مہینے حکومت کریں گے “(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ۳۰۹/ سال حکومت کریں گے؛ جس طرح اصحاب کہف غار میں اتنی مدت رہے ہیں ‘و‘(۲)

مرحوم مجلسی فرماتے ہیں: جو روایات حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت کی تعین کرتی ہیں ان کی درج ذیل توجیہ کی جا سکتی ہے :بعض روایات تمام مدت حکومت پر دلالت کرتی ہیں بعض حکومت کے ثبات و بر قراری پر بعض سال اور ایام کے اعتبار سے ہیں جن سے ہم آشنا ہیں ۔ بعض احادیث حضرت کے زمانے میں سال و روز پر دلالت کرتی ہیں جو طولانی ہوں گے اور خدا وند عالم حقیقی مطلب سے آگاہ ہے۔(۳)

مرحوم آیة اللہ طبسی(میرے والد بزرگ )ان روایات کو بیان کرنے کے بعد ۷/ سال والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں؛ لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ اس معنی میں کہ ہر سال ہمارے سالوں کے مطابق دس سال کے برابر ہوگا ۔(۴)

____________________

(۱)نعمانی ،غیبة، ص۳۳۱؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۹۸وج۵۳، ص۳

(۲)طوسی ،غیبة ،ص۲۸۳؛بحار الانوار،ج۵۲،ص ۳۹۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۸۴

(۳)بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۸۰

(۴)الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۲۵


دوسری فصل

علم و دانش اور اسلامی تہذیب میں ترقی

جس حکومت کا راہبر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) جیسا ہو جن پر علم و دانش کے دروازے ا ن پر کھلے ہیں نہ اس حدتک کہ جیسا پیغمبروں اور اولیاء خدا پر کھلے تھے بلکہ تیرہ گنا سے بھی زیادہ علم و دانش سے بہرہ مند ہوں گے، قطعی طور پر علمی ترقی حیرت انگیز ہوگی اور دنیائے علم و دانش میں خیرہ کر دینے والے تبدیلی واقع ہوگی۔

علم و دانش کاا دراک و شعورامام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور میں آج کی ترقی سے قابل مقایسہ نہیں ہے نیز لوگ بھی اس ترقی پذیر دانش کا خیر مقدم کریں گے حتی عورتیں جن کا سن ابھی زیادہ گذر ا نہیں ہوگا اس طرح کتاب خدا وندی ومذہب کے مبانی سے آشنا ہوں گی کہ آسانی سے حکم خدا قرآن سے نکال لیں گی۔

نیز صنعت وٹکنالوجی کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ترقی ہوگی اگر چہ ان جزئیات کو روایات نے بیان نہیں کیاہے، ان تمام روایات سے جو اس سلسلے میں بیا ن ہو ئی ہیں حیرت انگیز دگر گونی و تغیرکا پتہ چلتا ہے ،جیسے وہ روایات جو بتاتی ہیں ایک شخص مشرق میں ہونے کے باوجود مغرب والے برادر کو دیکھے گا ،حضرت تقریر

کے وقت تمام دنیا والوں کو دیکھیں گے، حضرت کے چاہنے والے دوری کے باوجود ایک دوسرے سے باتیں کریں گے، اور ایک دوسرے کی بات سنیں گے، تعلیمی لکڑی(چھڑی) اور جوتے کے بند و فیتے انسان سے گفتگو کریں گے گھر کے اندر موجود چیزیں انسان کو خبردیں گی ،اور بادل پر سوار ہو کر اس سمت سے اس سمت پرواز کرے گابہت سارے نمونے ہیں اگرچہ بعض کا اشارہ اعجاز کی طرف ہو لیکن روایات کی جانب توجہ کرنے سے، ان دگر گونی کو دریافت کیا جا سکتا ہے ۔

روایات امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور میں دنیا کو مہذب و متمدن ، طاقتور،علمی اعتبار سے ترقی یافتہ بتاتی ہیں کلی طور پر آج کی صنعتی ترقی اس زمانہ کی ترقی سے کوسوں دور تصور کی جائے گی جس طرح آج کی صنعت اورٹکنالوجی گذشتہ سے قابل مقایسہ نہیں ہے۔


حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اور آج کے دور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آج ہمارے دور میں علم و صنعت کی ترقی معاشرہ انسانی کی اخلاقی و ثقافتی گراوٹ پر مبنی ہے جتنا انسان علمی ترقی کرتا جا رہا ہے اتنا ہی انسانیت سے دور ہوتا جارہا ہے اور تباہی و بر بادی ،فتنہ و فساد کی طرف مائل ہے لیکن حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانہ میں بالکل بر عکس شرائط ہوں گے باوجودیکہ انسان علم اور ٹکنالوجی کے اعتبار سے بلندی کی طرف جارہا ہے لیکن اخلاقی گراوٹ ،کج رفتاری سے ہٹ کر اسے اخلاق کی بلندی و انسانی کمال کی اعلیٰ منزل پر ہونا چاہئے ۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کی حکومت میں خدا وند ی پروگرام کے اجراء سے اتنا انسان کی شخصیت کی تربیت ہوگی کہ گویا وہ لوگ انسانوں کے علاوہ تصور کئے جائیں گے جو سابق میں زندگی گذارچکے ہیں۔وہ لوگ جو کل تک درہم و دینار کی خاطر اپنے نزدیک ترین شخص کا خون بہاتے تھے، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور حکومت میں مال و دولت ان کی نظر میں اتنی بے قیمت ہو جائے گی کہ ان کا سوال اور مانگنا پستی و گرواٹ کی علامت بن جائے گا۔اگر کل تک ان کے دلوں میں بغض وحسد،کینہ و کدورت حاکم تھے تو حضرت کے زمانے میں دل ایک دوسرے سے نزدیک ہو جائیں گے گویا د و قالب ایک جان ہو جائیں گے جن لوگوں گے دل سست اور کمزور تھے اتنے محکم و مضبوط ہوں گے کہ لوہے سے بھی سخت و قوی ہوجائیں گے ۔


ہاں آنحضرت کی حکومت عقلوں کے کمال و اخلاقی بلندی،رشد و آگہی کا سبب ہوگی وہ دورکمال و ترقی کا دور ہوگا جو کچھ کل تک ہوا وہ انسانی تنگ نظری کا نتیجہ تھا لیکن حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے الٰہی نظام میں انسان عقل و خرد ،اخلاق و کردار ، فکرونظر ،آرزو وتمنا کے اعتبار سے اعلیٰ منزل پر فائز ہوگا یہ وہی بڑا وعدہ ہے جو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور حکومت میں پورا ہوگا جسے کسی حکومت نے انسانیت کو ایسا ھدیہ نہیں پیش کیا ۔

الف)علم و صنعت کی بہار

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” علم و دانش کے۲ ۷/ حروف ہیں اور اب تک جو کچھ پیغمبروں نے پیش کیا ہے وہ دو حرف ہے اور بس ۔لوگ آج دوحرف کے علاوہ (حرفوںسے) آشنا نہیں ہیں جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے، تو باقی۲ ۵/ حروف کو پیش کریں گے اور لوگوں کے درمیان رایج و نشر کریں گے نیز ان دو حرفوں کو ضمیمہ کر کے مجموعا ۲ ۷/ حروف لوگوں کے درمیان پیش کریں گے“(۱)

خرائج میں راوندی کی نقل کے مطابق ”جزا “صرفا کا بدل ہے (صِرفاً کی جگہ پر ہے۔)

اس روایت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان علم و دانش کے لحاظ سے جتنا بھی ترقی کر لے حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانہ میں بارہ گنا بڑھ جائے گا اور معمولی غور و فکر سے معلوم ہو جائے گا کہ انسان حضرت کے زمانہ میں کس درجہ حیرت انگیز اور خیرہ کر دینے والی ترقی کرے گا۔

____________________

(۱)خرائج، ج۲، ص۸۴۱؛مختصر بصائر الدرجات، ص۱۱۷؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۲۶


امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : علم و دانش کتاب خدا وندی و سنت نبوی کے اعتبار سے ہمارے مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دل میں اس طرح اُگے گا جس طرح گھاس عمدہ کیفیت کے ساتھ اُگتی ہے تم میں سے جو بھی حضرت کا زمانہ درک کرے اور ان سے ملاقات کرے ،تو ان پر میرا سلام کرے کہ تم پر سلام ہو اے خاندان رحمت و نبوت ،علم و دانش کے خزانہ، جانشین رسا لت ۔(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :”یہ امر، (ہمہ گیر اسلامی حکومت) اس کی شان میں ہے جو (امامت کے وقت) سن و سال کے اعتبار سے ہم سب سے کم ہوگا لیکن اس کی یاد ہم سب سے زیادہ دلنشین ہوگی خدا وند عالم علم و دانش انھیں عطا کرے گا ، اور کبھی انھیں خود پر موکول نہیں کرے گا۔(۲)

آنحضرت دوسری حدیث میں فرماتے ہیں :” جس امام کے پاس قرآن،علم اور اسلحے ہوںوہ مجھ سے ہے “(۳)

یہ روایات بشریت کے کمال و ترقی کے بارے میں بتا تی ہیں اس لئے کہ ایسا پیشوا سماج کو ترقی و خوش بختی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جس میں تین چیز پائی جائے:(۱) ایسا قانون الٰہی جو انسانیت کو کمال کی سمت ہدایت و راہنمائی کرے(۲) ایسا علم و دانش جو انسانی زندگی کو رفاہ و عیش کی جہت دے(۳) اور قدرت و اسلحے جو بشریت کے کمال و ترقی کے لئے سد راہ و رکاوٹ ہیں راستے سے ہٹادے اور حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ) ان چند چیزوں کے مالک ہیں اس بناء پر دنیا میں حکومت کریں گے اور علمی وٹکنالوجی کی ترقی کے علاوہ، اخلاقی و انسانی ترقی کی بھی راہ پر گامزن کریں گے۔

____________________

(۱)کما ل الدین ،ج۲،ص۶۵۳؛العدد القویہ ،ص۶۵؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۴۹۱؛حلیة الابرار، ج۳، ص۶۳۹؛ بحار الانوار،ج۵۱، ص۳۶وج۵۲، ص۳۱۷

(۲)عقدالدرر، ص۴۲

(۳)مثالب النواصب ،ج۱،ص۲۲۲


یہاں پر ہم بعض ان روایات کو بیان کریں گے جو حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں علمی و صنعتی ترقی پر دلالت کرتی ہیں ۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں ارتباط کی کیفیت سے متعلق فرماتے ہیں :” حضر ت کے زمانے میں مشرق میں رہنے والا مومن مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھے گا اسی طرح مغرب میں رہنے والا مشرقی مومن کو مشاہدہ کرے گا“(۱)

یہ روایت تصویری ٹیلفون کی اختراع و ایجاد کے باوجود زیادہ قابل فہم وادراک ہے واضح نہیں ہے کہ یہی روش اس طرح سے دنیا میں رائج ہو گی کہ تمام لوگ اس سے استفادہ کریں گے یا یہ کہ ترقی یافتہ سیسٹم ( System )اس کا جاگزیں ہوگا یا ان سب سے بالا تر کوئی دوسرا مطلب ہوگا۔

نیز آنحضرت ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں :” جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے، تو خدا وند عالم ہمارے شیعوں کی قوت سماعت وبصارت میں اضافہ کردے گا ؛اور اتنا کہ حضرت کا قاصد چار فر سخ سے آپ کے شیعوں سے گفتگو کرے گا اوروہ لوگ ان کی باتیں سنیں گے اور حضرت کو دیکھیں گے ؛جب کہ حضرت اپنی جگہ پر قائم و موجود ہوں گے “(۲)

مفضل بن عمر نے امام جعفر صاد ق(علیہ السلام) سے سوال کیا: کس جگہ اور کون سی سر زمین پر حضرت ظہور کریں گے ؟

حضرت نے فرمایا :” کوئی دیکھنے والا نہیں ہے جو حضرت کو ،ظہور کے وقت دیکھے، لیکن

____________________

(۱)بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۹۱؛حق الیقین، ج۱،ص۲۲۹؛بشارة الاسلام، ص۳۴۱

(۲)کافی ،ج۸ ،ص۲۴۰؛خرائج ،ج۲،ص۸۴۰؛مختصر البصائر، ص۱۱۷؛الصراط المستقیم ،ج۲،ص۲۶۲؛منتخب الانوار المضیئہ، ص۲۰۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۶


دوسرے لوگ اسے نہ دیکھیں (یعنی ظہور کے وقت سبھی اس کو دیکھیں گے)اگر کوئی اس کے علاوہ مطلب کا اثبات کرے تو اس کی تکذیب کرو“(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”گویا حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کو رسول خدا کی زرہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ہر جگہ کا رہنے والا حضرت کو اس طرح دیکھے گا کہ گویا آپ اس کے ملک و شہر میں ہیں “(۲) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے زمانے میں موجودہ وسائل کے علاوہ سے حضرت کو دیکھیں گے اس لئے کہ روایت میں ہے کہ لوگ آنحضرت کو اس طرح دیکھیں گے کہ گویا حضرت ان کے ملک و شہر میںموجود ہیں اس سلسلے میں دو احتمال ہے۱۔سہ جانبہ تصویر کے نشر کا سیسٹم اس زمانے میں پوری دنیا میں پھیل چکا ہوگا ۔ترقی یافتہ سیسٹم اس کی جگہ پر ہوگا جس کے ذریعہ حضرت کو دیکھیں گے یا یہ کہ حدیث امام (علیہ السلام) کے اعجاز کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

رسول خدا اس زمانے میں حمل و نقل کی کیفیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”ہمارے بعد ایسا گروہ آئے گا جسے طی الارض (یعنی زمین اس کے قدموں تلے سمٹے گی)کی صلاحیت ہوگی اور دنیا کے دروازے ان کے لئے کھل جائیں گے زمین کی مسافت ایک پلک جھپکنے سے پہلے طے ہو جائے گی اس طرح سے کہ اگر کوئی مغرب و مشرق کی سیر کرنا چاہے تو ایک گھنٹہ میں ایسا ممکن ہو جائے گا“(۳)

____________________

(۱)بحار الانوار، ج۵۳،ص۶

(۲)کامل الزیارات، ص۱۱۹؛نعمانی،غیبة، ص۳۰۹؛کما ل الدین، ج۲،ص۶۷۱؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۵؛ اثبات الہداة، ج۳،ص۴۹۳؛نورالثقلین،ج۱،ص۳۸۷؛مستدرک الوسائل، ج۱۰،ص۲۴۵؛جامع احادیث الشیعہ ،ج۱۲، ص۰ ۷۳

(۳)فردوس الاخبار ،ج۲،ص۴۴۹؛احقاق الحق ،ج۱۳،ص۳۵۱


حضرت کی حکومت اور ظہور کے زمانے میں ذرائع ابلاغ کی ترقی کے بارے میں روایات ہیں ہم یہاں پر صرف دو روایت کے ذکر کرنے پراکتفاء کرتے ہیں ۔

رسول خدا نے فرمایا : ”اس ذا ت کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تعلیمی لکڑی (چھڑی)،جوتے ، عصا(لاٹھی) خبر دینے لگیں کہ ہمارے گھر سے نکلنے کے بعد گھر والوں نے کیا کیا“(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں اخبار و اطلاعات سے متعلق فرماتے ہیں: ”حضر ت کو مہدی اس لئے کہتے ہیں کہ پوشیدہ امور کو جان لیں گے توپھر انھیں ایسی جگہ بھیجیں گے جہاں لوگ مجرم و گناہ گار کو قتل کر تے ہیں ۔

حضرت کی اطلاع لوگوں کے بنسبت اتنی ہوگی کہ گھر میں بات کرنے والا ڈرے گا کہ کہیں گھر کی دیوار حضرت سے کہہ نہ دے اور اس کے خلاف گواہی نہ دیدے “(۲)

یہ روایت ممکن ہے کہ حضرت کے زمانے میں متحیر و چکا چوندکردینے والی اطلاعات کی جانب اشارہ ہو البتہ عالمی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ تشکیلات اور مخفی خبر دینے والے سیسٹم بھی ہوں ممکن ہے کہ مراد وہی ظاہری عبارت ہو یعنی گھر کی دیواریں خبر دیدیں ۔

ب)اسلامی تہذیب کارواج

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں لوگ بے سابقہ اسلام کی طرف مائل ہوں گے،نیزاضطراب،گھٹن ، دینداروں کے کچلنے اور مظاہر اسلامی پر پابند ی لگانے دور ختم ہو چکا ہوگا

____________________

(۱)احمد، مسند ،ج۳،ص۸۹؛فردوس الاخبار، ج۵،ص۹۸؛جامع الاصول، ج۱۱،ص۸۱

(۲)نعمانی، غیبة، ص۳۱۹؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۶۵


ہر جگہ اسلام کا راگ بج رہا ہو گااور مذہبی آثار جلوہ فگن ہوں گے بعض روایات کی تعبیر کے مطابق اسلام ہر گھر ، خیمے،و محل میں پہنچ چکاہوگا جس طرح سردی و گرمی نفوذ کرتی ہے اس لئے کہ سردی و گرمی کا نفوذ اختیاری نہیں ہے ہر چند اس سے بچاو کیا جائے پھر بھی نفوذ کرکے اپنا اثر دیکھا ہی دیتی ہے اسلام اس زمانے میں بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود شہر ،دیہات،دشت و صحرا بلکہ دنیا کے چپہ چپہ میں نفوذ کر کے سب کو اپنے زیر اثر لے لے گا۔

ایسے ماحول میں فطری طور پر مذہبی شعار و مظاہر اسلامی سے لوگوں کی دلچسپی ، بے سابقہ ہوگی لوگوں کا قرآنی تعلیمات ،نماز جماعت اور نماز جمعہ میں شریک ہونا قابل دید ہوگا نیز موجود ہ مساجد یا جو بعد میں بنائی جائیں گی، لوگوں کی ضرورتیں بر طرف نہیں کر پائیں گی جو روایت میں ہے وہ یہ کہ ایک مسجد میں بارہ ۱۲/ دفعہ نماز جماعت ہوگی یہ خود ہی مظاہر اسلامی کے حددرجہ قبول کرنے کی واضح و آشکار دلیل ہے، یہ مطلب قابل توجہ ہے جب امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے دور والی روایت کو دیکھیں کیوں کہ دنیا قتل و کشتار سے کم ہو جائے گی ۔

ان حالات میں ادارے ،وزارتخانوں جن کی ذمہ داری دینی اورمذہبی ہے کا بڑا کردار ہے اور آبادی کے لحاظ سے مسجدیں بنائی جائیں گی حتی بعض ایسی جگہ پربھی مسجد بنانا لازم ہوگا جہاں پانچ سو دروازے ہوں گے یا روایت میں ہے کہ اس زمانے میں سب سے چھو ٹی مسجد آج کی مسجد کوفہ ہے جب کہ یہ مسجد آج دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

یہاں پر قرآن کی تعلیم ،معارف دینی ، مساجد ،رشد معنوی و اخلاق کریمانہ روایت کی نظر میں دوران حکومت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) بیان کریں گے ۔


۱ ۔اسلامی معارف و قرآن کی تعلیم

امیر المو منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں : گ”ویا ہم اپنے شیعوں کو مسجد کوفہ میں اکٹھا دیکھ رہے ہیں کہ وہ( چادریں بچھا کر) چادروں پر لوگوں کو قرآن کی تنزیل کے اعتبار سے تعلیم دے رہے ہیں “(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” گویا میں علی کے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ قرآن ہاتھ میں لئے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں “(۲) اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں :میںنے حضرت علی (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا : ”گویا غیر عرب (عجم) کو دیکھ رہا ہوں کہ مسجد کوفہ میں اپنی چادریں بچھائے تنزیل کے اعتبار سے لوگوں کو تعلیم دے رہے(۳) ہیں“ یہ روایت تعلیم دینے والوں کا نقشہ کھینچ رہی ہے کہ وہ سب عجم (غیر عرب) ہوں گے، و لغت دان، حضرات کے مطابق یہاں عجم سے مراد اہل فارس و ایرانی ہیں ۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں تمہیں اتنی حکمت و فہم و فراست عطا ہوگی کہ ایک عورت اپنے گھر میں کتاب خدا و سنت پیغمبر کے مطابق فیصلہ کرے گی “(۴)

۲ ۔تعمیر مساجد

حبہ عرنی کہتے ہیں کہ جب امیر المو منین(علیہ السلام) سر زمین ”حیرہ“( ۵ ) کی طرف روانہ ہوئے تو کہا:”-یقینا حیرہ شہر میں ایک مسجد بنائی جائے گی جس میں پانچ سو در ہوں گے اور بارہ ۱۲/ عادل امام جماعت اس میں نماز پڑھائیں گے میں نے کہا:یا امیر المو منین!(علیہ السلام)

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۳۱۹؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۶۵

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۳۱۸؛بحارالانوار،ج۵۲، ص۳۶۴

(۳)نعمانی، غیبة، ص۳۱۸؛بحارالانوار،ج۵۲، ص۳۶۴

(۴)الارشاد، ص۳۶۵؛کشف الغمہ، ج۳،ص۲۶۵؛نور الثقلین ،ج۵،ص۲۷؛روضة الواعظین، ج۲،ص۲۶۵

(۵)مجمع البحرین ،ج۶، ص۱۱۱


جس طرح آپ بیان کر رہے ہیں کیا مسجد کوفہ میں لوگوں کی اتنی گنجائش ہوگی؟توآپ نے کہا: وہاں چار مسجد بنائی جائے گی کہ موجود ہ مسجد کوفہ ان سب سے چھوٹی ہوگی اور یہ مسجد (مسجدحیرہ جو پانچ سو در والی ہے)اور دو ایسی مسجدیں کہ شہر کوفہ کے دو طرف میں واقع ہوں گی بنائی جائیں گی اس وقت حضرت نے بصرہ اور مغرب والوں کے دریا کی طرف اشارہ کیا “(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)اپنی تحریک جاری رکھیں گے تاکہ قسطنطنیہ یا اس سے نزدیک مسجدیں بنادی جائیں “(۲)

مفضل کہتے ہیں کہ امام جعفرصادق(علیہ السلام)نے فرمایا:” حضرت قائم(عجل اللہ فر جہ ) قیام کے وقت شہر کوفہ سے باہر ایک ہزار در کی مسجدبنائیں گے“(۳) شاید (ظھرالکوفہ)سے مراد روایت میں شہر نجف اشرف ہو، چونکہ دانشمندوں نے شہر نجف کو ظہر الکوفہ سے تعبیر کیا ہے۔جناب طوسی کی صریح یا ظاہر روایت جو امام محمد باقر سے منقول ہے ایساہی ہے۔(۴)

۳ ۔اخلا ق و معنویت میں رشد اور ترقی

امیر المو منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: لوگ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں عبادت و دین کی طرف مائل ہوں گے اور نماز جماعت سے پڑھیں گے“(۵)

____________________

(۱)بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۵۲

(۲)حیرہ کوفہ سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر ایک شہر تھا ساسانیوں کے زمانے میں ملوک لخمی وہاں حکومت کرتا تھا وہ لوگ ایران کی سر پرستی میں تھے لیکن خسرو پرویز نے ۶۰۲ئم میں اس سلسلے کو توڑ ڈالا اور وہاں حاکم معین کیا اور حیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں آنے کے بعد بنای کوفہ کی علت سے زوال پذیر ہوا اور دسیوں صدی م سے اور چوتھی صدی ہجری سے قبل کلی طورپر نابود ہو گیا معین، ج۵،ص۴۷۰

(۳)التہذیب، ج۳،ص۲۵۳؛کافی، ج۴،ص۴۲۷؛من لایحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۵۲۵؛وسائل الشیعہ، ج۹، ص۱۲۴؛ مراة العقول ،ج۱۸، ص۵۸؛ملاذ الاخیار، ج۵، ص۴۷۸؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۷۵ (۴)غیبت طوسی،ص۴۶۹اثبات الھداة؛۳،ص۵۱۵؛بحا رالانوار؛ج۵۲،ص۳۳۰

(۵) احقاق الحق، ج۱۳،ص۳۱۲؛


امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” کوفہ کے گھر کربلا و حیرہ سے متصل ہوجائیں گے اس طرح سے کہ ایک نماز گذار نما ز جمعہ میں شرکت کے لئے تیز رفتار سواری پر سوار ہوگا، لیکن وہاں تک نہیں پہنچ سکے گا “(۱)

شایدیہ کنایہ آبادی کی زیادتی اور لوگوں کے اژدہام کی جانب ہو جو نماز جمعہ میں شرکت سے مانع ہو اور جو یہ کہا گیا ہے کہ تمام نماز گذار یکجا ہو جائیں گے اور ایک نماز جمعہ ہوگی شاید اس کی وجہ تین شہروں کا ایک ہو جانا ہو ، اس لئے کہ شرعی لحاظ سے ایک شہر میں ایک ہی نماز جمعہ ہو سکتی ہے۔

فیض کاشانی نے ابن عربی کی بات نقل کی ہے جس کے بارے میں احتمال ہے کہ شاید کسی معصوم سے ہو:” حضرت قائم کے قیام کے وقت ایک شخص اپنی رات نادانی ،بزدلی کنجوسی میں گذارے گا لیکن صبح ہوتے ہی سب سے زیادہ عاقل ،شجاع ، جو ادانسان ہو جائے گا اور کا میابی حضرت کے آگے آگے قدم چومے گی“(۲)

حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت قائم کے قیام کے وقت لوگوں کے دلوں سے کینے ختم ہو جائیں گے “(۳)

نیز پیغمبر اکر م اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” اس زمانے میں کینے اور دشمنی دلوں سے ختم ہو جائے گی “(۴)

شیعوں کے دوسرے پیشوا اخلاقی فسادو انحراف کے بارے میں فرماتے ہیں : ”خداوندعالم

____________________

(۱)الارشاد، ص۳۶۲؛طوسی، غیبة، ص۲۹۵؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۳۷؛وافی،ج۲، ص۱۱۲؛ بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۳۰،۳۳۷

(۲)عقدالدرر، ص۱۵۹

(۳)طوسی ،غیبة، ص۲۹۵؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۳۷؛وافی، ج۲،ص۱۱۲؛بحار الانوار،ج۵۲، ص۳۳۰،۳۳۷

(۴)وافی، ج۲،ص۱۱۳بہ نقل از: فتوحات مکیہ


آخر زمانہ میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا کہ کوئی فاسد و منحرف نہیں رہ جائے گا مگر یہ کہ اس کی اصلاح ہو جائے“(۱) حضرت کے زمانہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ حرص و طمع لوگوں کے درمیان سے ختم ہو جائیں گی اور بے نیازی پیدا ہو جائے گی ۔

رسول خدا فرماتے ہیں:” جس وقت حضرت قائم قیام کریں گے، تو خداوند عالم لوگوں کے دلوں کو غنی و بے نیازی سے بھر دے گا ،اس درجہ کہ حضرت اعلان کریں گے جسے مال و دولت چاہئے وہ میرے پاس آئے لیکن کوئی آگے نہیں بڑھے گا“(۲)

اس روایت میں ،قابل غور و توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ”عباد“کا استعمال ہوا ہے؛ یعنی روحی دگر گونی و تغیر کسی گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ اندرونی تغیر و تبدیلی تمام انسانوں کے لئے ہے۔

اسی میں آنحضرت فرماتے ہیں :”تم کو مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی خوشخبری دے رہا ہوں ، جو لوگوں کے درمیان مبعوث ہوں گے، جب کہ لوگ آپسی کشمکش اور اختلاف و تزلزل میں مبتلا ہوں گے پھر اس وقت زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی نیز زمین و آسمان کے ساکن اس سے راضی و خوشنود ہوں گے۔

خدا وند عالم امت محمد کے دل بے نیازی سے بھر دے گا اس طرح سے کہ منادی ندا دے گا جسے بھی مال کی ضرورت ہے آجائے (تاکہ اس کی ضرورت بر طرف ہو)لیکن ایک شخص کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا اس وقت حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کہیں گے : ”خزانہ دار کے پاس جاو اور اس سے کہو کہ مہدی نے حکم دیا ہے کہ مجھے مال و ثروت دیدو“خزانہ دار کہے گا :دونوں ہاتھوں سے پیسہ جمع کروو ہ بھی پیسے اپنے دامن میں بھرے گا؛ لیکن ابھی وہاں سے باہر نہیں نکلے گا کہ پشیمان

____________________

(۱)خصال ،ج۲،ص۲۵۴،ح۱۰۵۱

(۲)عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱،ص۴۰۲؛ابن حماد، فتن ،ص۱۶۲؛ابن طاو س، ملاحم، ص۱۵۲


ہوگا اور خود سے کہے گا کیا ہو ا کہ میں محمد کی امت کا سب سے لالچی انسان ٹھہرا !کیا جو سب کی بے نیازی و غنا کا باعث بنا ہے وہ ہمیں بے نیاز کرنے سے ناتواں ہے پھر اس وقت واپس آکر تمام مال لوٹا دے گا ؛لیکن خزانہ دار قبول نہیں کرے گا اور کہے گا ہم جو چیزدیدیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے۔(۱) روایت میں( یملاء قلوب امة محمد) کا جملہ استعما ل ہوا ہے تو شایان غور و دقت ہے اس لئے کہ غناء و بے نیازی کا ذکر نہیں ہے بلکہ روح کی بے نیازی مذکور ہے ممکن ہے کہ ایک انسان فقیر ہو لیکن اس کی روح بے نیازو مطمئن ہوگی اس روایت میں(یملا قلوب امة محمد) کے جملے کااستعمال یہ بتا تا ہے کہ ان کے دل بے نیاز و مطمئن ہیں اس کے علاوہ مالی اعتبار سے بھی بہتر حالت ہوگی۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں اخلاقی کمال ،قلبی قوت، عقلی رشد و اضافہ کے بارے میں چند روایت کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب قائم(علیہ السلام) قیام کریں گے، تو اپنا ہاتھ بندگان خدا کے سروں پر پھیریں گے ان کی عقلوں کو جمع کریں گے (رشد عطا کریں گے اورایک مرکز پرلگا دیں گے)ان کے اخلاق کو کامل کریں گے“(۲)

بحار الانوار میں (احلامھم)کا استعمال ہوا ہے یعنی ان کی آرزو ں کو پورا کریں گے۔(۳)

امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) جب اسلامی قوانین کو بطور کامل اجراء کریں گے تو لوگوں کی رشد فکری میں اضافہ کا باعث ہوگا نیز رسول خدا کا ہدف کہ آپ کہتے تھے :” میں لوگوں کے اخلاق کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوا ہوں “محقق ہوگا۔(عملی ہو جائے گا)

رسول خدا حضرت فاطمہ( سلام اللہ علیہا) سے فرماتے ہیں : ”خدا وند عالم ان

____________________

(۱)منن الرحمن ،ج۲،ص۴۲؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۲۴نقل از :امیر المو منین علیہ السلام

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۷۱؛احقاق الحق ،ج۱۳،ص۱۸۶؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۷

(۳)احمد ،مسند ،ج۳،ص۳۷،۵۲؛جامع احادیث الشیعہ، ج۲،ص۳۴؛احقا ق الحق ،ج۱۳، ص۱۴۶


دونوں (حسن وحسین علیہما السلام ) کی نسل سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح اور سیاہ دل،کور باطن، مردہ ضمیروں کو تسخیر کرے گا ۔“(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : امیر المو منین (علیہ السلام) نے فرمایا : ”ایک شخص میرے فرزندوں میں ظہور کرے گا اور اپنے ہاتھ بندگان خدا کے سرپر رکھے گا اس وقت ہر مومن کا دل لوہے سے زیادہ مضبوط اور سندان(جس پر لوہار لوہا کوٹتے ہیں)سے زیادہ محکم تر ہو جائے گا اور ہر شخص چالیس مرد کی قوت کا مالک ہوگا“(۲)

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور حکومت کے افراد دنیا کے فریب کا یقین کرتے ہوئے تمام مصیبتوں و گناہوں کو جان لیں گے نیز تقویٰ و ایمان کے لحاظ سے ایسے ہو جائیں گے کہ پھر دنیا انھیں فریب نہیں دے پائے گی۔

رسول خدا فرماتے ہیں : ”زمین اپنے سینے میںمحفوظ بہتر سے بہتر چیزوں کو باہر نکال دے گی جیسے سونے چاندی کے ٹکڑے ،اس وقت قاتل آئے گا اور کہے گا ہم نے ان چیزوں کے لئے قتل کیا ہے جس نے قطع رحم کیا ہے کہے گا یہ قطع رحم کا باعث ہوا ہے چور کہے گا اس کے لئے میرا ہاتھ قطع ہوا ہے پھر سب سونے کو پھینک دیں گے اورکوئی بھی اس سے کچھ نہیں لے گا“(۳)

زید زراء کہتے ہیں میں نے امام صادق(علیہ السلام) سے عرض کی: مجھے خوف ہے کہ کہیں میں مومنین میں نہ رہوں آپ نے کہا:” کیوں؟“میں نے کہا : چونکہ میں اپنے درمیان، کوئی ایسا شخص نہیں پا رہا ہوں جو درہم و دینا ر پر اپنے دینی بھائی کو مقدم کرے بلکہ دیکھ رہا ہوں کہ درہم و

____________________

(۱)کافی ،ج۱،ص۱۵؛خرائج، ج۲،ص۸۴۰؛کمال الدین ،ج۲،ص۶۷۵

(۲)بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۶

(۳)عقد الدرر ،ص۱۵۲؛حقاق الحق ،ج۱۳،ص۱۱۶؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۴۸،۴۹۵


دینارہمارے نزدیک اُن براد ر دینی وا یمانی پر اہمیت رکھتے ہیں جو امیر المو منین (علیہ السلام) کی ولایت و دوستی کا دم بھرتے ہیں ۔

حضرت نے کہا : ”نہیں، تم ایسے نہیں ہو بلکہ تم مومن ہو؛ لیکن تمہارا ایمان ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ظہور سے قبل کامل نہیں ہوگا اس وقت خدا وند عالم تمہیں برد باری ،وصبر عطا کرے گا پھر اس وقت کامل مومن بن جاو گے“(۱)

____________________

(۱)کما ل الدین ،ج۲،ص۶۵۳؛دلائل الامامہ، ص۲۴۳؛کامل الزیارات، ص۱۱۹


تیسری فصل

امنیت

جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے نا امنیت و غیرسا لمیت کا ماحول پوری دنیا پر محیط ہوگا تو حضرت کا سب سے بنیادی کا م معاشرہ میں امن و سکون پیدا کرنا ہے، حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں دقیق پروگرام جو بنائےء جائیں گے کوتاہ مدت میں امنیت ، سماج میں قائم ہو جائے گی اور لوگ پرسکون انداز سے دنیا میں زندگی بسر کریں گے ایسی امنیت قائم ہوگی کہ انسان نے کسی زمانے میں نہیں دیکھا ہوگا۔

راستے اس طرح پر امن ہو جائیں گے کہ جوان عورتیں بغیر کسی محرم کو ہمراہ لئے ہوئے سفر کریں گی اور ہر طرح کی چھیڑ چھاڑ او رسو استفادہ سے محفوظ رہیں گی۔

لوگ بھرپور قضاوت کے ساتھ امنیت میں زندگی بسر کریں گے اس طرح سے کہ کسی کا معمولی حق کبھی پایمال نہیں ہوگا قوانین و پروگرام اس طرح اجراء ہوں گے کہ لوگ مالی و جانی اعتبار سے مکمل امنیت میں ہوں گے چوری سماج سے ختم ہو جائے گی اور اس درجہ کے اگر کوئی جیب میں ہاتھ ڈالے گا تو چوری کا تصور نہیں ہوگا بلکہ اس کی توجیہ ہو جائے گی۔

ایسی امنیت و سا لمیت ہوگی کہ اس کے دائرے میں حیوانات و جاندار سبھی آجائیں گے اور گوسفند و بھیڑ ئے ایک جگہ زندگی گذاریں گے نیز بچے بچھو اور ڈسنے والے جانوروں سے کھلیں گے اور انھیں کوئی گزند بھی نہیں پہنچے گا۔


الف)عمومی امنیت

رسول خدا اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” جب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام)آسمان سے زمین پر آئیں گے تو دجّال کو قتل کریں گے ، چرواہے اپنی گوسفندوں سے کہیں گے چرنے کے لئے فلاں جگہ جاو اور اس وقت لوٹ آو ،گوسفند کے گلے دو کھیتوں کے درمیان ہوں گے مگر اس کے ایک خوشے سے تجاوز نہیں کریں گے نیز اس کی ایک شاخ بھی اپنے پیروں سے نہیں روندیں گے ۔(۱)

رسول خدا فرماتے ہیں : ”زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا تاکہ لوگ اپنی فطرت کی جانب باز گشت کریں نہ کوئی ناحق خون بہے گا اور نہ ہی کسی سوئے ہوئے کو جگایا جائے گا“(۲)

ابن عباس حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں امنیت کے محیط ہونے کے بارے میں کہتے ہیں کہ حتی اس زمانے میں بھیڑیا گو سفند پر حملہ نہیں کرے گا نیز شیر ،گائے کو نہیں کھائے گا سانپ انسان کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا ،چوہا ذخیرہ نہیں کھائے گا نہ ہی اسے بر باد کرے گا۔(۳)

امیر المو منین(علیہ السلام)فرماتے ہیں : ”جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)ہمارے قیام کریں گے تو آسمان سے پانی برسے گا، درندے و چوپائے ایک درسے صلح و آشتی کے ساتھ داخل ہو ں گے نیز انسانوں سے انھیں کوئی سرو کار نہ ہوگا اور اتنا امن و سکون ہوگا کہ ایک عورت عراق سے شام چلی

____________________

(۱)ابن طاوس، ملاحم، ص۹۷

(۲)ابن حماد، فتن، ص۹۹؛متقی ہندی،برہان، ص۷۸؛ابن طاوس، ملاحم، ص۷۰؛ملاحظہ ہو:عقدالدرر، ص۱۵۶ القول المختصر ،ص۱۹؛سفارینی ،لوائح، ج۲،ص۱۲؛طوسی ،غیبة، ص۲۷۴؛خرائج ،ج۳،ص۱۴۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۱۴ ؛ بحار الانوار،ج۵۲،ص۲۹۰

(۳)بحار الانوار، ج۱،ص۶۱؛بیہقی ،سنن ،ج۹،ص۱۸۰


جائے گی نہ کوئی درندہ اسے پریشان کرے گا اور نہ ہی وہ کسی درندہ سے خوفزدہ ہوگی “(۱)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا لشکر (کانے دجال کی فوج ) کو نیست ونابود کرے گا زمین اس کے منحوس وجود سے پا ک ہو جائے گی پھر حضرت شرق و غرب عالم کی فرمانروائی کریں گے اور جابلقا سے جابرسا تک کو فتح کریں گے بلکہ تمام شہروں پر محیط حکومت ہوگی اور آپ کی حکومت کو استقرار و دوام ملے گا “(۲)

آنحضرت لوگوں کے ساتھ عادلانہ رفتار رکھیں گے حدیہ ہو گی کہ گوسفند بھیڑئے کے نزدیک چرنے میں مشغول ہوگی اور بچے بچھو سے کھیلیں گے بغیر اس کے کہ انھیں کوئی گزند پہنچے برائیاں ختم اور نیکیاں باقی رہیں گی ایک روایت میں آیا ہے کہ” حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)کی آمد سے پہلے قیامت برپا نہیں ہوگی(گرگ) بھیڑیاگوسفند کے گلہ میں گلہ کے کتے کے مانند ہوگا شیر اونٹ کے گلے میں اونٹ کے بچے یا اس کے جوڑے کے مانندہوگا“(۳)

حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر کو فرماتے سنا : ”حضرت قائم کے ظہور کے وقت پرندے اپنے آشیانے و مچھلیاں دریا میں تخم گذاری کریں گی“(۴)

شاید اس سے مرادیہ ہو کہ وہ امنیت کا احساس کریں گی اور بغیر دغدغہ اپنے آشیانہ و ٹھکانہ پر تخم گذاری کریں گی۔ابو امامہ باہلی کہتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا نے ہمارے لئے خطبہ دیا اور اس کے آخر میں کہا اُس زمانے میں لوگوں کا پیشوا ایک نیک و صالح انسان ہے اس زمانے

____________________

(۱)صدوق ،خصال ،باب۴۰۰،ص۲۵۵؛الامامة والتبصرہ،ص۱۳۱؛اثبات الہداة،ج۳،ص۴۹۴؛بحار الانوار ، ج۵۲، ص۳۱۶

(۲)ینابیع المودة، ص۴۲۲؛المحجہ، ص۴۲۵؛احقاق الحق، ج۱۳،ص۳۶۱

(۳)عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱،ص۴۰۱؛ملاحظہ ہو:احمد،مسند ،ج۲،ص۴۳۷،۴۳۸؛ابن حماد، فتن، ص۱۶۲

(۴)اختصاص ،ص۲۰۸؛بحارالانوار،ج۵۲،ص۳۰۴


میں بھیڑ، گا ئے پر ظلم نہیں ہو گا، دلوں سے کینے ختم ہو جائیں گے جانوروں کے منھ سے لگام ہٹالی جائے گی (اور حیوانات دوسرے کے حقوق سے تجاوز نہیں کریں گے چہ جائیکہ انسان ایک دوسرے کے حقوق سے تجاوز کریں ) بچہ درندہ کے منھ میں اپناہاتھ ڈال دے گا لیکن حیوان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، حیوا ن کا بچہ شیر اور درندوں کے سامنے ڈال دیا جائے گا لیکن اسے کوئی گزند نہیں پہنچے گا شیر اونٹ کی قطار میں اور بھیڑیا ،گوسفند کے گلہ میں حفاظتی کتے کی طرح ہو گا“(۱)

شاید یہ روایت بھر پور امنیت اور اطمینان بخش فضا کی حکایت کر رہی ہو ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں:”جب حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام)آسمان سے زمین پر آئیں گے اور دجّال کو قتل کریں گے تو سانپ ،بچھو ظاہر ہوں گے لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے “(۲)

اس حدیث سے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں جانی ومالی حفاظت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے؛ اس لئے کہ چرواہا جو اپنے چوپایوں کو جنگل میں بھیجے گا تو انسانوں اور درندوں کی تعدی سے آسودہ خاطر ومطمئن ہوگا جو انسان سفر کر رہا ہو یا موذی جانوروں کے درمیان زندگی گذارتا ہو ان کی ایذا رسانی سے محفوظ ر ہے گا ، اس طرح سے کہ گویا احترام کا قانون دوسرے کے حق میں حتی کہ حیوانات کے درمیان میں مورد قبول ہوگاسب ہی اس کے سامنے سر اپا تسلیم و مطیع ہوں گے شاید کچھ امنیت اس وجہ سے ہو کہ اس زمانہ میں نعمت الٰہی وافر ہو گی اورجب تمام جاندار اس سے فیضیاب ہوں گے تو امنیت کا احساس کرتے ہوئے کوئی کسی کو ایذا نہیں پہنچائے گا ۔

حضرت امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے زمانے میں امنیت کا دور دورہ اس طرح

____________________

(۱)طیالسی ،مسند ،ج۱۰،ص۳۳۵؛ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۵۲

(۲)ابن طاوس ،ملاحم، ص۹۷


سے ہوگا کہ اگر کوئی سوئے گا تو اس اطمینان سے کہ کوئی اس کی نیند میں خلل انداز نہیں ہوگا اور کوئی اسے بیدار نہیں کرے گا ۔

رسول خدا اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی امت آنحضرت سے پناہ حاصل کرے گی، جس طرح شہد کی مکھیاں اپنی شہزادی کے پاس پناہ لیتی ہیں آنحضرت زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے؛ جیسا کہ اس سے پہلے ظلم وجور سے پُر ہوگی؛ اس حد تک کہ لوگ اپنی اصلی فطرت کی جانب لوٹ آئیں گے سوئے ہوئے انسان کو کوئی بیدار نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کاناحق خون بہے گا “(۱)

ب)راستے کی امنیت

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوران حکومت راستوں کی سا لمیت و امنیت سے متعلق بہت ساری روایتیں ہیں مگر یہاں ہم چند روایت کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے زمانہ میں عورت ظلم و ستم ،ناانصافی سے بے خوف و خطر ہو کر شب کو سفر کرے گی“(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” یقینا خدا وند عالم اس امر (اپنے دین ) کو تمام کر کے رہے گا اس طرح سے کہ شخص رات کو صنعا سے حضرموت تک مسافرت کرے گا تو اسے خدا کے علاوہ ،کسی کا خوف نہیں ہوگا“(۳) ان دو جگہوں کا نام شاید اس لئے لیا گیا ہے کہ یہ خوفناک بیابان ہیں کہ کبھی انھیں مفازہ سے تعبیر کیا جاتا تھا اس لئے کہ کامیابی اور سلامتی سے تفال کیاجاتا تھا۔

____________________

(۱)الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۷۷؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۷۰؛او رصفحہ ۶۳ پر تھوڑے سے فرق کے ساتھ ؛احقا ق الحق، ج۱۳،ص۱۵۴

(۲)المعجم الکبیر ،ج۸،ص۱۷۹

(۳)المعجم الکبیر ،ج۴،ص۷۲؛جامع الاصول ،ج۷، ص۲۸۶؛بیہقی، سنن، ج۹،ص۱۸۰


امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” خدا کی قسم، مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ناصر اس حد تک جنگ کریں گے کہ لوگ صرف اور صرف خدا ئے وحدہ لاشریک کی عبادت کریں اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دیں حتی کہ بوڑھی سن رسیدہ عورت اس سمت سے اس سمت جائے اور کوئی معترض نہ ہو“(۱)

ایک شخص نے حضرت امام جعفر صاد ق(علیہ السلام) سے سوال کیا: ہم کیوں حضرت قائم کے ظہور کی تمنا کریں ؟ کیاہم غیبت کے زمانہ میں بلند مرتبہ ہوں گے ؟ حضرت نے کہا: سبحان اللہ! کیا تم نہیں چاہتے کہ امام اپنی عدالت پوری دنیا میں عام کردیں اور راستوں کو پر امن بنادیں اور اپنے منصفانہ فیصلے سے ستم دیدہ کی نصرت فرمائیں ؟“(۲)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) کے ایک ناصر کہتے ہیں کہ ایک دن ابو حنیفہ امام جعفر صادق(علیہ السلام) کے پاس آئے حضرت نے اس سے مخاطب ہو کر کہا :”یہ آیت کہتی ہے( سِیْرُوْا فِیْهَاْ لِیَاْلِی وْاَیَّامًاآمِنِیْن ) (۳) ” زمین میں شب و روز امن و سلامتی کے ساتھ حرکت کرو یہ کس زمین کے متعلق ہے ؟“

ابو حنیفہ نے کہا :میرا خیال ہے کہ مکہ و مدینہ کے درمیان ہو۔

حضرت اپنے چاہنے والوں کی طرف رخ کرکے کہنے لگے :”کیا تم لوگ جانتے ہو کہ لوگ اس راستے میں ڈاکو وں کا سامنا کریں گے اور ان کے اموال لوٹ لئے جائیں گے اور امنیت نہیں ہوگی اور مارڈالے جائیں گے ۔

____________________

(۱)عیاشی، تفسیر، ج۲،ص۶۲؛نعمانی، غیبة، ص۲۸۳؛تفسیر برہان، ج۱،ص۳۶۹؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۴۵؛ ینابیع المودة، ص۴۲۳؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۳۸۰

(۲)مفید ،اختصاص، ص۲۰؛عیاشی ،تفسیر ،ج۱،ص۶۴؛نعمانی، غیبة، ص۱۴۹؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۱۴۴؛اثبات الہداة، ج۳،ص۵۵۷؛بحار الانوار، میں ینصر المظلوم کے بجائے ینف المظلوم (آیا ہے )ملاحظہ ہو:الفائق ، ج۴،ص۱۰۰

(۳)سورہ سباء آیت۱۸


اصحاب نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے اور ابو حنیفہ خاموش رہے ۔

حضرت نے دوبارہ اس سے پوچھا : یہ آیت جس میں خدا وند عالم فرماتا ہے :( وَمَنْ دَخَلَهُ کَانَ اٰمِناً ) (۱) ” جو اس میں داخل ہو گیا محفوظ ہو گیا “کس زمین کے بارے میں ہے ،ابو حنیفہ نے کہا : کعبہ ۔

امام (علیہ السلام) نے کہا :” کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج بن یوسف ثقفی ابن زبیر کی سر کوبی کے لئے کعبہ پر منجنیق سے حملہ کیا اور اسے مار ڈالا ،کیا وہ محفوظ جگہ پر تھا؟

ابو حنیفہ خاموش ہو گیا پھر کچھ نہیں بولا ۔

جب وہ وہاں سے چلا گیا ؛تو ابو بکر حضرمی نے آپ سے عرض کیا : میں آپ پر فدا ہو جاوں! ان دو سوالوں کا جواب کیا ہے ؟

امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے کہا:”اے ابو بکر ! پہلی آیت سے مراد ہمارے قائم کی ہمراہی ہے نیز خدا وند عالم کے قول کا مطلب کہ اس نے کہا :” جو اس میں داخل ہو گیا محفوظ ہو گیا “ یعنی جو بیعت کے لئے ہاتھ بڑھائے اور حضرت کی بیعت کر لے تو حضرت کے ناصرو یاور میں قرار پائے گا اور امان میں ہوگا“

علی بن عقبہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ جس وقت حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، توعدالت بر قرار کریں گے نیز آپ کے دوران حکومت میں ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا اور آپ کے وجود ذی جود سے راستے ،سڑکیں پُر امن ہو جائیں گی ۔(۲)

قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) سب سے اچھے انسان ہیں آپ

____________________

(۱)سورہ آل عمران آیت ۹۷

(۲) علل الشرائع ،ج۱،ص ۸۳نورالثقلین ،ج۳،ص۳۳۲؛تفسیر برہان ،ج۳،ص۲۱۲؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۱۴


کے زمانے میں زمین اتنی پُرامن ہوگی کہ ایک عورت دیگر پانچ عورتوں کے ہمراہ بغیر کسی مرد کے حج پر جائے گی اور ذرہ برابر خوفزدہ نہیں ہوگی ۔(۱)

عدی بن حاتم کہتے ہیں : یقینا ایک زمانہ آئے گا کہ ضعیف وناتواں عورت؛ تنِ تنہا حیرہ (نجف سے نزدیک ) سے خانہ خدا کی زیارت کو جائے گی اور خدا کے علاوہ کسی سے خائف نہیں ہوگی۔(۲)

ج)فیصلوں پر اعتماد

امام کے ظہور کے بعد ایک کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں بے چینی و اضطراب پیدا کیا ہے اور لاکھوں افراد کو زخمی ،معلول ،اورقتل کر کے مادی و معنوی بے سرو سامانی ایجاد کی ہے انھیں سزا دی جائے گی کیونکہ وہ ایسے جرائم پیشہ افراد ہیں جنھوں نے دنیا کو ہلاکت و تباہی کے دہانے پر لگادیاہے۔

حضرت کے ظہور کے بعد ان کا تعاقب ،گرفتاری،محاکمہ ایک ضروری امر ہے ؛ اس لئے کہ حدود الٰہی کا اجراء کرنا واجب ہے؛ خصوصا امام معصوم (علیہ السلام) اور حضرت بقیة اللہ کی موجودگی میں کتاب خدا وندی کے مطابق ہر طرح کی ہو او ہوس سے، بری ہو کر حدود الٰہی کا اجراء ہو گا ۔

اس زمانہ میں اس اہم وظیفہ کی ادائیگی کے لئے ان افراد کو جو فقہی و اسلامی مبانی پر مسلط ہونے کے علاوہ گذشتہ میں ان پر معمولی اشکال و اعتراض بھی نہ ہواہو۔

روایات میں ان کے قضائی تسلط اور گذشتہ خوبیوں کا تذکرہ ہے ہم اس سلسلے میں چند روایات کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

____________________

(۱)ابن حماد، فتن ،ص۹۸؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۹؛عقدالدرر ،ص۱۵۱؛القول المختصر، ص۲۱

(۲)فردو س الاخبار، ج۳،ص۴۹۱


امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”جب قائم آل محمد قیام کریں گے، تو پشت کعبہ سے ۳۱۷ افراد کو باہر نکالیں گے۵ / جناب موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم سے جو حق فیصلہ کرتے ہیں اصحاب کہف کے سات ،یوشع و صی موسیٰ (علیہ السلام) ، مومن آل فرعون ،سلمان فارسی، ابو دجانہ انصاری ، مالک اشتر نخعی۔(۱)

ابو بصیر امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے سوال کرتے ہیں : کیا اس گروہ ( ۳۱۳ افراد) کے علاوہ دوسرے لوگ پشت کعبہ پر نہیں ہیں ؟ امام نے کہا:” کیوں نہیں، دوسرے مومن بھی ہیں ؛ لیکن وہ فقہاء ،چیدہ چیدہ افراد ،حکام و قضاة ہوں گے جن کے سینے اور پشت پر حضرت ہاتھ پھیریں گے اس کے بعد ان کے لئے کوئی فیصلہ مشکل نہیں ہوگا“(۲) بحار الانوار میں ہے کہ وہ لوگ حضرت کے ناصر و یاور اور زمین کے حاکم ہوں گے ۔(۳)

صادق اہل بیت (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو ہر محاذ اورباڈر پر ایک حاکم معین کریں گے، اور ان سے کہیں گے:” تمہارے کاموں کا پروگرام تمہارے ہی ہاتھ میں ہے اور اگر کبھی وظیفہ کی ادائیگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اپنی ہتھیلیوں پر نظر کرنا اور جو اس پر تحریر ہو اس کے مطابق عمل کرنا“(۴)

ہتھیلیوں سے مشکلات کا سمجھنا ممکن ہے کنایہ ہو مرکزی حکومت سے فوری ارتباط اور رفع مشکل کے وظیفہ کی تعیین ہو یا اشارہ ہو کہ ذمہ دار و عہد دار اپنے کاموں میں انتہائی حیرت انگیز

____________________

(۱)اثبات الہداة، ج۳، ص۵۵؛نقل از:عیاشی روضة الواعظین ص۲۶۶؛امام۲۷/ آدمیوں کو پست کعبہ سے باہر لائیں گے

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۲۰۲؛دلائل الامامہ، ص۳۰۷/تھوڑے سے فرق کے ساتھ

(۳)دلائل الامامہ، ص۲۴۹؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۵

(۴)نعمانی ،غیبة، ص۳۱۹؛دلائل الامامہ، ص۲۴۹؛اثبات الہداة،ج۳، ص۵۷۳؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۶۵و ج۵۳، ص۹۱


مہارت کے مالک ہوں گے کہ ایک آن میں اپنی فکر و نظر کا اظہار کر دیں یا معجزہ کے ذریعہ مشکل حل ہو جائے جس سے عقل انسان عاجز ہے ۔

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”حضرت مہدی کے ظہور کے بعد کسی کا کوئی حق کسی کے ذمہ باقی نہیں رہے گاکیونکہ حضرت اسے واپس لے کر صاحب حق کو واپس کر دیں گے“(۱)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب قائم آل محمد قیام کریں گے تو داود پیغمبر کے فیصلوں اور حکم پر عمل کریں گے انھیں شاہد و گواہ کی احتیاج نہیں ہوگی خدا وند عالم احکام الٰہی ان پر الہام کرے گا وہ بھی اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے اور اسی کے اعتبار سے فیصلہ کریں گے“(۲)

سیار شامی کے فرزند جعفر کہتے ہیں کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانہ میں پایمال حقوق کی واپسی اس درجہ ہے کہ اگر کسی کا کوئی حق کسی کے دانتوں کے نیچے ہوگا تو بھی اسے واپس لے کر صاحب حق کو لوٹا دیں گے(۳) البتہ یہ رفتار حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں ہی مناسب ہے اس کے قاضی : سلمان فارسی ،مالک اشتر ،جناب موسیٰ کی قوم کے سربرآوردہ افراد ہوں گے لیکن اس کی قیادت و رہبری خود آنحضرت کے ہاتھ میں ہوگی فطری ہے کہ پھر حقوق کی پامالی کا سوال نہیں ہوگا جیسا کہ (دانتوں کے نیچے والا) جملہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے۔

____________________

(۱)عیاشی، تفسیر ،ج۱،ص۶۴؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۲۲۴

(۲)روضة الواعظین، ص۲۶۶؛بصائر الدرجات ،ج۵، ص۲۵۹

(۳)ابن حماد، فتن، ص۹۸؛عقد الدرر، ص۳۶؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۸؛القول المختصر ،ص۵۲


چوتھی فصل

اقتصاد

اگر حکومت؛ خدا وند عالم کی تائیدسے الٰہی احکام و قوانین کامعاشرہ (سماج)میں اجراء کرے تو لوگ بھی اس کی برکت سے تبدیل ہو کر تقویٰ و پر ہیز گاری کی راہ پر لگ جائیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا وند عالم کی نعمتیں ہر طرف سے بندوں پر برسنے لگیں گی۔

قرآن کریم میں ہم پڑھتے ہیں :( وَلَوْ اَنَّ اَهْل الْقُریٰ اَمَنُوْا وَ اتَّقُوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرْکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ ) (۱) ” اگر اس بستی کے لوگ ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم زمین و آسمان کی بر کتیں ان کے اختیار میں دیدیں ۔“

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں لوگ خدا کی طرف مائل اور حجت خدا کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں گے ،پھر کوئی زمین و آسمان کی بر کتوں کے درمیان حائل نہیں ہوگا اس لحاظ سے موسم کے اعتبار سے بارش ہونے لگے گی دریاسے پانی لبریز ہوگا زمینیں زرخیز ہو جائیں گی اور کھیتی لہلہا اٹھے گی باغات سر سبزا ور میووں سے بھر جائیں گے مکہ و مدینہ جیسے صحرا جہاں کبھی ہر یالی کا نام و نشان نہیں تھا یکبارگی نخلستان میں تبدیل ہو جائیں گے اور منڈی وسیع ہو جائے گی۔

معاشرہ کا اقتصاد بہتر ہوگا فقر و تنگدستی ختم ،ہر طرف آبادی نظر آئے گی۔ تجارت میں خاطر خواہ رونق آجائے گی خصوصا حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانہ میں اقتصاد بہتر ہوگا اس سلسلے

____________________

(۱)سورہ اعراف آیت ۹۵


میں روایات بہت ہیں ہر مورد میں چند روایات کے ذکر پر اکتفاء کریں گے ۔

الف)اقتصاد اور اجتماعی رفاہ میں رونق

اس سلسلے میں جو روایات سے استفادہ ہوتا ہے وہ یہ کہ اقتصادی حالت کی بہتری کی وجہ سے سماج فقر و فاقہ میں پھرمبتلا نہیں ہوگا اورایک ضرورت مند انسان کو اتنی دولت و ثروت دی جائے گی کہ وہ لیجانے سے معذور ہوگا عمومی اقتصادی حالت اتنی بہتر ہو جائے گی کہ زکات نکالنے والے مستحق و ضرورت مند کی تلاش میں پریشان رہیں گے ۔

۱ ۔مال و دولت کی تقسیم

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جب قائم اہل بیت (علیہ السلام) قیام کریں گے، تو بیت المال کو لوگوں کے درمیان عادلانہ طور پر تقسیم کر دیں گے ،زمین کے اوپر کی دولتیں (جیسے خمس و زکوة ) اور زمین کے اندر چھپی ہوئی (جیسے خزانے و معادن و)حضرت کے پاس جمع ہو جائیں گی ،پھر اس وقت حضرت لوگوں سے خطاب کریں گے: ”آو جس کے لئے تم لوگوں نے اپنی رشتہ داریاں منقطع کر دی تھیں اور خون ریزی و گناہ پر آمادہ ہوگئے تھے لیجاو ،آپ اس طرح سے مال تقسیم کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے اس طرح نہیں تقسیم کیا ہوگا “(۲)

رسول خدا فرماتے ہیں :” آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو بے شمار مال عطا کرے گا“(۳)

____________________

(۱)علل الشرائع، ص۱۶۱؛نعمانی ،غیبة، ص۲۳۷؛عقد الدرر ،ص۳۹؛بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۹۰؛اثبات الہداة، ج۳،ص۴۹۷

(۲)ابن حماد، فتن، ص۹۸؛ابن ابی شیبہ، مصنف، ج۱۵،ص۱۹۶؛احمد ،مسند ،ج۳،ص۵ابن بطریق ،عمدہ، ص۴۲۴

(۳)شافعی ،بیان ،ص۱۲۴؛احقاق الحق ،ج۱۳،ص۲۴۸؛الشیعة والرجعہ،ج۱،ص۲۰۷


رسول خدا فرماتے ہیں :” نا امیدی اورفتنوں کے زمانہ میں مہدی نامی شخص ظہور کرے گا کہ اس کی دادو دہش لوگوںپرخوشگوارہوگی“(۱)

حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی بخشش مہربان باپ کے عنوان سے اور بغیر احسان کے ہوگی اس لحاظ سے دوسروں کی بخشش کے مقابل جو لوگوں کو غلام بناتے ہیں ،دین فروشی اور آبرو ریزی پر موقوف ہو لوگوں کے لئے پسندیدہ و خوشگوار ہوگی ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : ”ایک شخص قریش سے ظاہر ہو گا جو لوگوں کے درمیان مال تقسیم کرے گا اور پیغمبروں کی سیرت پر عمل پیرا ہوگا“(۲)

ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں :” مہدی زمین کے خزانوں کو باہر نکالیں گے اور لوگوں کے درمیان مال تقسیم کریں گے اور اسلام کی گئی شان وشوکت دوبارہ لوٹ آئے گی “(۳)

اسی طرح فرماتے ہیں :” میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا جو اموال لوگوں کو مٹھی مٹھی بے شما ر مال و دولت عطا کرے گا“(۴)

عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں: میرے والد نے امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے کہا : میرے پاس ٹیکس کی کچھ زمین ہے جس پر میں نے کھیتی کر دی ہے حضرت کچھ دیر خاموش رہے ؛پھر کہا: اگر ہمارے قائم قیام کریں تو تمہارا حصہ اس سر زمین سے زیادہ ہوگا“(۵)

____________________

(۱)شافعی، بیان، ص۱۲۴احقا ق الحق، ج۱۳،ص۲۴۸؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۰۷

(۲)ابی داود، سنن، ج۴،ص۱۰۸

(۳)ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۹

(۴)عبد الرزاق ،مصنف ،ج۱۱،ص۳۷۲؛ابن بطریق ،عمدہ،ص۴۲۴؛الصواعق المحرقہ، ص۱۶۴؛بغوی ،مصابیح السنہ، ج۲،ص۱۳۹؛شافعی، بیان، ص۱۲۲؛ابن طاوس ،ملاحم، ص۶۹

(۵)کافی ،ج۵،ص۲۸۵؛التہذیب، ج۷، ص۱۴۹


امام محمد باقر(علیہ السلا م) فرماتے ہیں :” جب ہمارے قائم قیام کریں گے، تو لوگوں کے درمیان مساوات و برابری سے اموال تقسیم کر کے عادلانہ رفتار بر قرار کریں گے“(۱)

رسول خدا فرماتے ہیں:” آخری امام ہمارا ہمنام ہے وہ ظاہر ہو کر دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا مال کا انبار لگا ہوگا جب کوئی مال و دولت کی درخواست کرے گا تو اس سے کہیں گے : تم خود ہی اپنی مر ضی سے جتنا چاہو لے لو“(۲)

۲۔سماج سے فقر وتنگد ستی کا خاتمہ

رسول خدا فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ظہور کے وقت لوگ اموال و زکوة گلی کوچے میں ڈال دیں گے ؛لیکن اس کا دریافت کرنے والا نہیں ملے گا“(۳)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) میری امت میں ہوں گے ان کی حکومت میں مال کا ڈھیر لگ جائے گا “(۴)

یہ حدیث معاشرہ کی ضرورت بر طرف ہو جائے گی سے کنایہ ہے چونکہ مال و دولت مصرف سے زیادہ ہوگا دوسری لفظوں میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) بجٹ میں کمی نہیں کریں گے بلکہ بجٹ سے اضافی در آمد ہوگی۔امام جعفرصادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت قائم کے قیام کے وقت زمین اپنے دفینہ اُگل دے گی اس طرح کہ لوگ! اپنی آنکھوںسے زمین پر پڑا دیکھیں

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۲۳۷؛بحار الانوار،ج۵۱،ص۲۹

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۷۰؛بحار الانوار، ص۳۷۹؛ملاحظہ ہو:احمد، مسند، ج۳، ص۲۱؛ احقا ق الحق، ج۱۳، ص۵۵

(۳)عقد الدرر، ص۱۶۶؛المستجاد، ص۵۸،روایت میں اسی طرح آیا ہے،مال کو محلے کے گھروں میں گھوماتے رہے، ایک دوسرے سے متصل گھروں اور محلہ کو ”حواء “کہتے ہیں

(۴)حاکم ،مستدرک، ج۴،ص۵۵۸؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۲۱۴


گے صاحبان زکوٰةمستحق کی تلاش کریں گے لیکن کوئی لینے والا نہیں ملے گا اور لوگ خدا وند عالم کے فضل وکرم سے بے نیاز ہو جائیں گے“(۱)

علی بن عقبة کہتے ہیں : اس زمانے میں صدقے دینے اور راہ خدا میں پیسہ خرچ کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی ؛چونکہ سبھی مومنین بے نیاز ہوں گے “(۲)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :”لوگ ٹیکس اپنے کاندھوں پر رکھے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی طرف جائیں گے خدا وند عالم نے ہمارے شیعوں کو عیش و عشرت کی زندگی عطا کی ہے وہ لوگ بے نیا زی سے زندگی بسر کریں گے اور اگر خدا وندعالم کا لطف ان کے شامل حال نہ ہو تو پھر وہ لوگ بے نیازی کی وجہ سے سرکشی و طغیانی پر آمادہ ہو جائیں گے“(۳)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت سال میں دوبار لوگوں کو عطا کریں گے آنحضرت ہر ماہ دوبار تنخواہ و حقوق دیں گے نیز لوگوں کے درمیان یکساں رفتار اس طرح رکھیں گے کہ پھر معاشرہ میں کوئی زکوة لینے والا نہیں ملے گا زکوة نکالنے والے فقراء کا حصہ ان کی خدمت میں پیش کریں گے لیکن وہ قبول نہیں کریں گے مجبوراً پیسوں کی مخصوص تھیلی میں اسے رکھ کر شیعوں کے محلوں میں پہنچا دیں گے لیکن وہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے “(۴)

____________________

(۱)مفید ،ارشاد،ص۳۶۳؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۳۷

(۲)مفید، ارشاد، ص۳۴۴؛المستجاد، ص۵۰۹؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۹؛ملاحظہ ہو:احمد، مسند ،ج۲،ص۵۲،۲۷۲، ۳۱۳وج۳،ص۵؛مجمع الزوائد ،ج۷، ص۳۱۴؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۴۹۶

(۳)بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۴۵

(۴)نعمانی، غیبة، ص۲۳۸؛حلیة الابرار، ج۲،ص۶۴۲؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۹۰؛ملاحظہ ہو:بحار الانوار،ج۵۲، ص۵۲۳؛ابن ابی شیبہ، مصنف ،ج۳،ص۱۱۱؛احمد، مسند، ج۴، ص۶۰۳؛ بخاری ،صحیح ،ج۲،ص۱۳۵؛مسلم ،صحیح، ج۲،ص۷۰


مذکورہ بالا روایت سے دو نکتہ نکلتا ہے : پہلا یہ کہ لوگ حضرت مہدی کی حکومت میں ایسی رای و نظر کے مالک ہوں گے کہ بغیر کسی دباو کے اپنے وظیفہ پر تمام جوانب سے عمل کریں گے ۔

انھیں وظائف میں، ایک اسلامی حکومت کو آمدنی کا ٹیکس دینا بھی ہے ۔

اگر تمام مسلمان اپنی اپنی آمدنی کا خمس اور اموال کی زکوة دیدیں تو ایک بہت بڑی رقم ہوگی اور حکومت ہر طرح کے اصلاحی اقدامات اور رفاہی خدمت پر قادر ہوجائےگی ۔

دوسرے یہ کہ ہر چند حضرت کی دادودہش اس زمانے میں بے حساب ہے اور لوگ مختلف طریقوں سے در آمد کریں گے لیکن جو چیز زیادہ قابل توجہ و جاذب نظرہے طبیعت کی بلندی اور روح کی بے نیازی ہے،اس لئے کہ بہت سارے دولت مند افراد پائے جاتے ہیں لیکن طبیعت میں سیری نہیں روح میں حرص وہوس کے جذبے بعض لو گ ایسے بھی ہیں جو فقرو فاقہ میں بسر کرنے کے باوجود ان کے دل غنی ،روح بے نیاز ہوتی ہے ۔لوگ امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور حکومت میں روحی بے نیازی کے مالک ہوں گے یہی اس زمانہ کی معنوی دگر گونی ہے ۔

۳ ۔محرومین و مستضعفین کی رسیدگی

رسول خدا فرماتے ہیں :” اس زمانے میں مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے اور وہ اِس شخص (حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی نسل سے ہوں گے۔

خدا وندعالم ان کے ذریعہ جھوٹ کا خاتمہ ،بُرے ایام ،اورغلامی کی زنجیروں سے تمہیں نجات دے گا “(۱)

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)

____________________

(۱)طوسی، غیبة، ص۱۱۴؛اثبات الہداة ،ج۳،ص۵۰۲؛بحار الانوار،ج۵۱،ص۷۵


ظہور کریں گے، توکوئی مسلمان غلام نہیں ہوگا مگر یہ کہ حضرت اسے خرید کر آزاد کر دیں گے نیز کوئی قرضدار باقی نہیں بچے گاکیونکہ حضرت اس کے قرض کو ادا کردیں گے “(۱)

امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں :جب مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، تو سب سے پہلے مدینہ جائیں گے اور وہاں ہاشمی قیدیوں کو آزاد کریں گے ،(۲) پھر ابن ارطاة کہتا ہے :-وہ کوفہ جائیں گے اور وہاں جاکر بنی ہاشم کے قیدیوں کو آزاد کریں گے ۔

طاووس یمانی کہتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنے حکام و کار گذار وں کی بہ نسبت سخت اور بخشش اموال میں ہاتھ کھلے ،اور بے چارہ ،بے نوا و مسکین افراد کی بنسبت مہربان و کریم ہیں(۳)

ابو روبہ کہتا ہے :حضرت بینواوں کو اپنے ہاتھوں سے عطا کریں گے۔(۴)

احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ حضرت محرومین و بے چارہ افراد پر بخشش کرنے میں خصوصی توجہ رکھیں اور انھیں زیادہ سے زیادہ مال عطا کریں گے ،جو بیت المال میں ہر مسلمان کا حق ہے اس کے علاوہ بھی صلاح کے مطابق عطا کریں گے ۔

ب)آبادی

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے کی آبادی کی اہمیت و عظمت سمجھنے کے لئے

____________________

(۱)عیاشی، تفسیر ،ج۱،ص۶۴؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۲۲۴

(۲)ابن حماد، فتن، ص۸۳؛الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۶۷؛متقی ہندی، برہان، ص۱۱۸

(۳)عقد الدرر، ص۱۶۷

(۴)ابن طاو س، ملاحم، ص۶۸؛عقدالدرر، ص۲۲۷


ضروری ہے کہ ظہور سے قبل ویرانی و تباہی نظر میں ہو یقینا جب دنیا تباہ کن جنگوں ، متعدد افراد کی ہواو ہوس کا لقمہ بنی ہو اور مدتوں آتش جنگ میں جلی اور کشتوں پہ کشتے د یا ہو تو اسے آبادی کی زیاد ہ ضرورت ہے حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)اسے آباد کرنے کے لئے آئیں گے اور پوری دنیا میں آبادی کو قابل دید بنا دیں گے ۔

حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”اپنے دوستوں کو مختلف سر زمینوں کی جانب روانہ کریں گے جو حضرت کی بیعت کر چکے ہوں گے انھیں شہروں کی طرف بھیج کر عدل و احسان کا حکم دیں گے ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی سر زمین کا حاکم ہوگا پھر اس کے بعد دنیا کے تمام شہر عدل و احسان کے ساتھ آباد ہو جائیں گے“(۱)

امام محمدباقر(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوران حکومت میں غیرآباد و ویران جگہیں نہیں ہوں گی “(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کو فہ میں وارد ہونے کے بعد ایک گروہ کو حکم دیں گے کہ امام حسین(علیہ السلام) کے روضہ مبارک کی پشت سے(شہر کربلا کے باہر)غریین کی طرف نہر کھودیں تاکہ شہر نجف تک پانی پہنچے اور اس نہر پر پُل بنائیں گے“(۳)

امام صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں:کہ جب ہمارے قائم(علیہ السلام) قیام

____________________

(۱)الشیعہ والرجعہ ،ج۱،ص۱۶۸

(۲)کما ل الدین ،ج۱،ص۳۳۱؛الفصول المھمہ، ص۲۸۴؛اسعاف الراغبین، ص۱۵۲؛وافی، ج۲،ص۱۱۲؛ نورالثقلین ، ج۲،ص۱۲۱؛احقا ق الحق ،ج۱۳،ص۳۴۲

(۳)مفید ،ارشاد، ص۳۶۲؛طوسی، غیبة، ص۲۸۰؛روضة الواعظین، ج۲،ص۲۶۳؛الصراط المستقیم ،ج۲،ص۲۶۲؛ اعلام الوری، ص۴۳۰؛المستجاد، ص۵۰۹؛کشف الغمہ، ج۳،ص۲۵۳؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۱؛وج۹۷،ص۳۸۵


کریں گے، تو کوفہ کے مکانات کربلا اور حیرہ کی نہر سے متصل ہو جائیں گے“(۱)

یہ روایت شہر کوفہ کی آبادی میں وسعت کی خبر دیتی ہے ایک طرف حیرہ ،جو فی الحال کوفہ سے ۶۰/ کیلو میٹر دور ہے اور دوسری سمت سے کربلا سے متصل ہوگا جس کا فاصلہ اتنا ہی ہے۔

حبہ عرنی کہتے ہیں : ”حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) حیرہ شہر کی جانب روانہ ہوئے تو وہاں پر شہر کوفہ کی طرف اپنے ہاتھوں سے اشارہ کر کے کہا: قطعی طور پر شہر کوفہ حیرہ شہر سے متصل ہو جائے گا اور اتنا قیمتی و گراں شہر ہوگا کہ یہا ں کی ایک میٹر(۲) زمین، مہنگی و گران قیمت پر خرید و فروش ہو گی“(۳)

شاید کوفہ کی وسعت اور اس کی زمینوں کی گرانی اس وجہ سے ہوگی کہ وہاں اسلامی حکومت کا مرکز(پایہ تخت ) بنے گا روایات کے مطابق مومنین وہاں چلے جائیں گے ۔

اسی طرح حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوران حکومت راستے کشادہ ہو جائیں گے اور خاص قوانین اس سلسلے میں وضع کئے جائیں گے ،امام محمد باقر(علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

”جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے، تو شہر کوفہ جائیں گے اس وقت کوئی مسجد مینار،اورگنگرہ والی نہیں ہوگی سب کو حضرت ویران و خراب کر ڈالیں گے اور اسے اس طرح بنائیں گے کہ بلندی نہ ہو نیز راستے کشادہ کر دیں گے“(۴)

____________________

(۱)طوسی، غیبة، ص۲۹۵؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۰،۳۳۷وج۹۷،ص۳۸۵ارشاد، مفید، میں اسی طرح آیا ہے ”اتصلت بیوت الکوفه بنهری کربلا “ملاحظہ ہو:روضةا لواعظین، ج۲، ص۲۶۴؛ اعلام الوری ،ص۴۳۴؛خرائج ، ج۳،ص۱۱۷۶؛صراط المستقیم ،ج۲،ص۲۵۱؛المحجہ، ص۱۸۴

(۲)ہر ذراع۵۰/اور ۷۰/ سینٹی میٹر کے درمیان ہے

(۳)التہذیب ،ج۳،ص۲۵۳؛ملاذالاخیار ،ج۵،ص۴۷۸؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۷۴

(۴)مفید ،ارشاد، ص۳۴۵؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۹


امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے قیام کے وقت آگاہ افراد سواری لے کر پہنچیں گے تاکہ راستے اور جادوں کے درمیان راستہ چلیں جس طرح لوگوں کو حکم دیں گے کہ سڑکوں کی دونوں طرف پیادہ چلیں اس کے سڑ ک کے کنارہ چلنے سے اگر کسی کو کوئی نقصان ہوگا تو اسے دیہ اور خون بہا دینے پر مجبور کریں گے اسی طرح کوئی سڑکوں کے درمیان پیادہ چل رہا ہو اور اسے کوئی نقصان ہو جائے تو دیة لینے کا حق نہیں ہوگا“(۱)

ہم اس روایت سے یہی سمجھتے ہیں کہ شہروں میں کشادگی اور عبور و مرور کے وسائل میں فراوانی ہوگی صرف نقل و انتقال کے ذرائع کے لئے قانون گذاری نہیں ہوگی بلکہ پیدل چلنے والوں کے لئے بھی قانون وضع ہوں گے یقینا جو حکومت علم و دانش اور صنعت و ٹکنالوجی سے اسفتادہ کرے گی اورراستوں کو کشادہ ،اور سڑکوں کو چوڑا کرے گی قطعا وہ ڈرائیوری اور جانوں کی ضمانت کا بھی قانون بنائے گی۔

ج)زراعت

امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوران حکومت جو چیز شایان ذکر و قابل توجہ ہے وہ کھیتی اور جانوروں کی تجارت ہے اس کے بعد جن لوگوں نے بارش کی کمی، پے در پے قحط و خشکسالی، اشیاء خورد ونوش کی قلت کھیتوں کی بربادی ،سے کبھی ایک لقمہ روٹی کے لئے گراں قیمت چیزوں کو فدیہ بنایا ہو یعنی ناموس و آبرو ،وہی افراد حیرت انگیز ، خیرہ کن کسانی اورجانوروں کی تجارت میں تبدیلی محسوس کریں گے معاشرہ میں اشیاء خورد ونوش کی فراوانی ہو جائے گی ۔

اگر امام کے ظہور سے پہلے کبھی بارش ہوئی، بھی تو زمین نے اسے قبول نہیں کیا اور کبھی

____________________

(۱)التہذیب ،ج۱۰،ص۳۱۴؛وسائل الشیعہ، ج۱۹،ص۱۸۱؛ملاذ الاخیار، ج۱۶،ص۶۸۵؛اثبا ت الہداة، ج۳، ص۴۵۵


قبول کیا تو بارش نہیں ہوئی کسانی کی محصولات (نتیجہ) بر باد ہوئیں تو کبھی نا وقت بارش نے کھیتیوں اور حاصل کو بر باد کر ڈالا حضرت کے دورمیں بارش کی حالت بدل جائے گی پہلی ہی جیسی بارش ہوگی اور اس درجہ کہ لوگوں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی ہوگی اس کے بعد رحمت الٰہی کاانسان پر نزول ہوگا نتیجہ کے طور پر انسانوں پر رحمت الٰہی کی فراوانی ہوگی اس طرح سے کہ دسیوں سال کا حاصل ایک سال میں جمع کر لیں گے اور روایات میں آیا ہے کہ ایک من (تین کیلوگرام ) گیہوں سے سو من نتیجہ حاصل ہوجائے گا۔

روایات چو بیس بارش کی خبر دیتی ہیں کہ ظہور کے بعد آسمان سے نازل ہوں گی اسی کے پیچھے بہت ساری بر کتیں لوگوں کے شامل حال ہوں گی ، پہاڑ ،جنگل، بیابان سر سبز ہو جائیں گے بے آب و گیاہ ،خشک و بنجر بیابان ہرے بھرے ہو جائیں گے اور نعمت الٰہی اسقدر فراوان ہوجائے گی کہ لوگ اپنے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کی تمنا کریں گے ۔

۱ ۔بارش کی زیادتی

رسول خدا فرماتے ہیں :” ان پر آسمان سے مو سلادھار بارش ہوگی “(۱)

دوسری روایت میں فرماتے ہیں : خدا وند عالم ان کے لئے (مہدی) آسمان سے بر کت نازل کرے گا “(۲) نیز فرماتے ہیں:” زمین عدل وانصاف سے پُر ہو گی اور آسمان بر سے گا نتیجہ کے طور پر زمین اپنا حاصل ظاہر کردے گی اور میری امت حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانہ میں اس درجہ نعمتوں سے بہرہ مند ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی ہوگی “(۳)

____________________

(۱)مجمع الزوائد ،ج۷،ص۳۱۷؛حقاق الحق ،ج۱۳،ص۱۳۹

(۲)عقدالدرر، ص۱۶۹؛ابن طاوس، ملاحم، ص۷۱و۱۴۱

(۳)المطالب العالیہ ،ج۴،ص۲۴۲؛ابن طاوس، ملاحم، ص۱۳۹؛اثبات الہداة،ج۳،ص۵۲۴؛احقا ق الحق، ج۱۹، ص۶۵۵؛ملاحظہ ہو:احمد، مسند، ج۲،ص۲۶۲؛بحا رالانوار، ج۵۲، ص۳۴۵؛احقاق الحق ،ج۱۹،ص۱۶۹،۶۶۳


حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں : کہ خداوند عظیم واکبر،نے ہمارے وجود سے خلقت کی ابتداء کی اور ہم ہی پر ختم کرے گا جو چاہے گا میرے ذریعہ نیست و نابود کرے گا اور جو چاہے گا میرے ذریعہ ثابت و باقی رکھے گا میرے وجود سے بُرے دن ختم ہوں گے اور بارش نازل کرے گا لہٰذ ا تمہیں دھوکہ دینے والا راہ خدا سے دھوکہ دے کر نہ ہٹا سکے گا جس دن سے خدا وند عالم نے آسمان کے دروازے بند کئے ہیں اس دن سے ایک قطرہ نہیں برسا اور جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)قیام کریں گے تو آسمان سے رحمت الٰہی کی بارش ہوگی ۔(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : کہ جب قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے ظہور کا زمانہ آئے گا تو جمادی الثانیہ اور رجب میں دس روز ایسی بارش ہوگی کہ لوگوں نے کبھی ایسی بارش نہیں دیکھی ہوگی“(۲)

سعید بن جبیر کہتے ہیں :جس سال حضرت قیام کریں گے ۳۲۴ دن بارش ہوگی جس کے آثار و بر کتیں آشکار ہوں گی۔(۳)

حضرت قائم( (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے زمانہ میں بارش کی کثرت کے بارے میں رسول گرامی فرماتے ہیں : ”ان(مہدی) کی حکومت میں پانی کی زیادتی ہوگی نہریں چھلک اٹھیں گی“(۴)

دوسری روایت میں فرماتے ہیں ”نہریں پانی سے بھری ہوئی ہوں گی چشمے جوش کھائیں گے اور زمین کئی گنا حاصل دے گی ۔(۵)

____________________

(۱)منن الرحمن ،ج۲،ص۴۲

(۲)بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۷؛وافی، ج۲،ص۱۱۳

(۳)احقا ق الحق ،ج۱۳،ص۱۶۹

(۴)عقدالدرر ،ص۸۴

(۵)مفید، اختصاص ،ص۲۰۸؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۰۴


۲ ۔کا شتکاری کے نتیجوں میں برکت

رسول خدا فرماتے ہیں : ”وہ زندگی مبارک ہو جس کے بعد حضرت مسیح (علیہ السلام) دجال کو قتل کریں گے ؛اس لئے کہ آسمان کو بارش اور زمین کو اگانے کی جازت دی جائے گی اگر کوئی دانہ صاف چٹیل پہاڑ پر ڈال دیا جائے گا تو یقینا اُگے گا اس زمانے میں کینے ،حسد ختم ہو جائیں گے اس طرح سے کہ اگر کوئی شخص شیر کے پاس سے گذرے گا تو وہ اسے گزند نہیں پہنچائے گا اور اگر سانپ پر پیر پڑجائے گا تو اسے نہیں ڈسے گا“(۱)

نیز فرماتے ہیں : ”میری امت حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دوران حکومت ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوگی کہ ویسی کبھی نہیں ہوئی ہوگی آج تک کوئی مومن یا کافر ایسی نعمت سے بہرہ مند نہیں ہوا ہے آسمان سے مسلسل بارش اور زمین سے اپج ہوگی “(۲)

رسول خدا عصر مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) میں زمین کی آمادگی کے بارے میں فرماتے ہیں:”زمین چاندی کے مانند جو جوش کھانے کے بعد درست ہوئی ہے کھیتی کے لئے آمادہ ہوگی پودے اگائے گی جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھا ۔(۳)

نیز آنحضرت پیداوار کی برکت اور بہتر حاصل کے بارے میں فرماتے ہیں:

ایک دانہ انار کئی لوگوں کو سیر کرے گا(۴) نیز ایک انگور کا خوشہ کئی افراد کھائیں گے اور سیر بھی ہو جائیں گے“(۵)

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۳،ص۲۴

(۲)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۴۱؛ملاحظہ ہو:طوسی، غیبة، ص۱۱۵؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۰۴

(۳)ابن طاوس ،ملاحم، ص۱۵۲؛ابن ماجہ، سنن، ج۲،ص۳۵۹؛ابن حماد، فتن، ص۱۶۲؛عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱، ص۳۹۹،فرق کے ساتھ

(۴)ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۵۲؛الدرالمنثور، ج۴،ص۲۵۵؛فرق کے ساتھ ؛عبد الرزاق، مصنف، ج۱۱،ص۴۰۱

(۵)ابن طاوس، ملاحم ،ص۱۵۲؛الدرالمنثور، ج۴،ص۲۵۵؛فرق کے ساتھ ؛عبد الرزاق، مصنف ،ج۱۱،ص۴۰۱


حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) مشرق ومغرب کو اپنے زیر اثر قرار دیں گے برائیوں اور اذیتوں کو بر طرف کردیں گے خیر اور نیکی اس کی جاگزیں ہو جائےگی ؛اس طرح سے کہ ایک کسان ایک من ( ۳ کیلو گرام ) گیہوں سے سو ۱۰۰/ من حاصل کرے گا جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے :(۱) ہر خوشہ میں سو دانے نکلیں گے نیز خدا وند عالم نیک ارادہ رکھنے والوں کے لئے اضافہ کر دے گا “(۲)

نیز فرماتے ہیں :” حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنے کار گزاروں کو شہروں میں لوگوں کے درمیان عادلانہ رفتار و رویہ کا حکم دیں گے اس زمانہ میں کسان ایک مد(۳) ( یعنی تین سیر) لگائے تو سات مد در آمد کرے گا جیسا کہ خدا وند عالم فرماتا ہے :اسی طرح خدا وند عالم اس مقدار سے زیادہ کردے گا“(۴)

درختوں کے ثمر دینے کے بارے میں فرماتے ہیں :” حضرت مہدی کے زمانے میں درخت بارآور و پھلدار ہو جائیں گے نیز برکت فراوان ہو جائے گی“(۵)

امیر المو منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”جب ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو آسمان برسے گا اور زمین گھاس اُگائے گی اس درجہ کہ ایک عورت شام سے عراق پیدل جائے گی تو پورے راستہ میں سبزہ ہی سبزہ نظر آئے گا اور اسی پر چلے گی “(۶)

____________________

(۱)سورہ بقرہ آیت۲۶۱

(۲) الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۶۷

(۳)مد ایک پیمانہ ہے جو عراق میں۱۸ /لیٹر کے برابر ہے فرہنگ فارسی عمید، ص۹۵۳

(۴)عقد الدرر، ص۱۵۹؛ابن طاوس ،ملاحم ،ص۱۹۷؛القول المختصر ،ص۲۰

(۵)ابن طاوس، ملاحم، ص۱۲۵؛الحاوی للفتاوی، ج۲،ص۶۱؛متقی ہندی، برہان، ص۱۱۷

(۶)تحف العقول، ص۱۱۵؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۴۵


شاید حضرت اس علاقہ کو مثال کے طور پر بیان کر رہے ہوں غور کرنا چاہئے کہ اس کی جغرافیائی حالت اس طرح ہے کہ اس راستے میں جنگلی کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملے گا ،شاید اس علاقہ کا عصر حضرت مہدی میں اس لئے نام لیا گیا ہے کہ تمام بنجر زمین کاشتکاری میں بدل جائے گی ۔

اسی سلسلے میں حضرت رسول خدا فرماتے ہیں : جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ہمارے امت کے درمیان ظاہر ہوں گے ؛زمین حاصل ، میوہ ، پھل اُگائے گی او ر آسمان بر سے گا“(۱)

امام جعفر صادق (علیہ السلام) آیہ شریفہ <مدھامتان >دو سبز پتے کی تفسیر فرماتے ہیں: ”مکہ و مدینہ خرمے کے درختوں سے متصل ہو جائےگا“(۲)

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : ”خدا کی قسم دجال کے خروج کے بعد کا شتکاری ہوگی اور درخت لگائے جائیں گے“(۳)

کتاب تہذیب میں شیخ طوسی کی نقل کے مطابق ((ہم کھیتی کریں گے اور درخت اُگائیں گے ‘ ‘(۴)

۳ ۔حیوانوں کے پالنے کا رواج

رسول خدا فرماتے ہیں :” میری امت کی زندگی کے آخری دور میں ، حضرت

____________________

(۱)المناقب والمثالب، ص۴۴؛احقا ق الحق ،ج۱۹،ص۶۷۷؛ملاحظہ ہو:ابن ماجہ، سنن ،ج۲،ص۱۳۵۶؛حاکم، مستدرک، ج۴،ص۴۹۲؛ الدرالمنثور، ج۲،ص۲۴۴

(۲)تفسیر ،قمی ،ج۲،ص۳۴۶؛بحار الانوار،ج۵۱،ص۴۹؛سورہ رحمن کی آیت ۶۴ ہے

(۳)کافی ،ج۵،ص۲۶۰؛من لایحضرہ الفقیہ، ج۳،ص۱۵۸؛وسائل الشیعہ، ج۱۳،ص۱۹۳؛التہذیب ،ج۶، ص۳۸۴

(۴)التہذیب ،ج۶،ص۳۸۴


(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے اورجانوروں کی کثرت ہوجائے گی ۔(۱)

نیز فرماتے ہیں :” اس زمانے میں جانوروں کے گلے موجود ہوں گے اور اپنی زندگی کو جاری رکھیں گے“(۲) رسول خدا کے قول میں نکتہ ہے۔ وہ یہ کہ گویا ظہور سے پہلے پانی اور چارہ کی کمی اور بیماریوں کے عام رواج سے جانور زندہ نہیں رہ سکیں گے ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں :” دجال کے قتل کے بعد گلوں میں اس درجہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹ کابچہ ( جو حاملہ ہونے کے قابل ہوگا) لوگوں کے ایک گروہ کو سیر کر دے گا اور ایک گوسالہ ( گائے کابچہ)ایک قبیلہ کی غذا فراہم کرے گا نیز ایک بکری کا بچہ ایک گروہ کو سیر کرنے کے لئے کافی ہوگا “(۳)

۴ ۔تجارت

ملک و سماج میں تجارت میں اضافہ و زیادتی ہوگی جو اقتصاد کے بہتر ہونے اور سماج کے ثروتمند ہونے کی علامت ہوگی جس طرح بازاروں کی بندی اور بازار کا مندا ہونا سماج کے فقیر و نادار ہونے کی علامت ہے حضرت امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے عصر میں لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر سے بہتر ہو جائے گی اور تجارت میں رونق اور بازاریں بروی کار آجائیں گی ۔

رسول خدا اس سلسلے میں فرماتے ہیں : ”قیامت کی علامت (حضرت مہدی (عج ) کے ظہور کی ) یہ ہے کہ مال و دولت لوگوں کے درمیان باڑھ کی طرح رواں ہوں گے علم و دانش

____________________

(۱)حاکم، مستدرک، ج۴،ص۵۵۸؛عقد الدرر ،ص۱۴۴؛متقی ہندی، برہان، ص۱۸۴؛کشف الغمہ، ج۳، ص۶۰ ۲؛ احقاق الحق، ج۱۳،ص۲۱۵؛بحار الانوار،ج۵۱،ص۸۱؛الشیعہ والرجعہ، ج۱، ص۲۱۴

(۲)جامع احادیث الشیعہ، ج۸،ص۷۷؛احقا ق الحق، ج۱۳،ص۲۱۵وج۱۹،ص۶۸۱

(۳)ابن حماد، فتن، ص۱۴۸


ظاہر ہوں گے تجارت کو عام رواج ملے گا اور بازار کی رونق بڑھ جائے گی “(۱)

عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں:کہ لوگ دجّال کے خروج کرنے کے بعد چالیس سال زندگی گذاریں گے ،کھجوریں با ر آور ہوں گی اور بازار قائم ہو گا۔(۲)

____________________

(۱)ابن قتیبہ، عیون الاخبار، ج۱،ص۱۲

(۲)ابن ابی شیبہ ،مصنف ،ج۱۵،ص۱۲۴؛الدرالمنثور، ج۵،ص۳۵۴؛متقی ہندی، برہان، ص۱۹۳


پانچویں فصل

صحت اور علاج

امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل معاشرہ کی ایک مشکل تندرستی و علاج کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں کا عام رواج اور مرگ ناگہانی (اچانک) کی پوری دنیا میں زیادتی و کثرت ہو گی عام بیماریاں جیسے:

جذام (کوڑھ) طاعون، لقوہ ،اندھا پن ، سکتہ(ہارٹ اٹیک)اس کے علاوہ سیکڑوں خطرناک بیماریاں اس درجہ لوگوں کی حیات کو چیلنج کریں گی کہ گویا ہر شخص اپنی موت کا انتظار کر رہا ہو اور ہرگز حیات کا امید وار نہیں ہے رات کو بستر پر جانے کے بعد صبح بیدار ہونے تک حیات کی امید باقی نہیں رہ جائے گی نیزگھر سے باہر جانے کے بعد صحیح و سالم واپس آنے کی امید نہیں رہ جائے گی ۔

یہ دلخراش اور خطرناک حالت فضائے زندگی کی آلودگی کی وجہ سے ہوگی اور ایسا ایٹمی و کیمیائی (زہریلے)اسلحے کے استعمال سے ہوگا یا مقتولین کی کثرت اور لاش کے بے دفن پڑے رہ جانے سے بدبو کی وجہ سے ہوئی ہوگی ان بیماریوں کا سبب ہو سکتا ہے یا ذ ہنی اور روحی بیماریوں کی وجہ سے جو ناامنی و عدم سلامتی و عزیزوں کی موت سے پیدا ہوگی شاید یہ ان تمام چیزوں کی معلول ہے جس کو ہم اور آپ نہیں جانتے ۔

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں ان حالات میں ستم رسیدہ انسانوں کے دل میں امید کی کرن پھو ٹے گی اور ناگفتہ بہ حالت کے خاتمہ اور انسانی سماج کو تندرستی کی نوید ہوگی ٹھیک یہ وہی چیز ہے جس کو امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت انجام دے گی ۔


یہاں پر تندرستی و علاج سے متعلق ظہور سے قبل چند روایت ذکر کرتے ہیں پھر ان روایات کو بیان کریں گے جو حضرت حجت (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی تندرستی و علاج کے بارے میں کوشش و تلاش کی خبر دیتی ہیں۔

الف)بیماریوں کا عام رواج اور ناگہانی موتوں کی کثرت

رسول خدا فرماتے ہیں :” قیامت نزدیک ہونے کی علامت یہ ہے کہ ایک مرد بغیر کسی درد و بیماری کے مر جائے گا“(۱)

دوسری روایت میں فرماتے ہیں : ”قیامت نزدیک ہونے(ظہور مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی علامت صاعقہ(آسمانی بجلی) رعد(بجلی کی کڑک) جو جلنے کا باعث ہوگا)پے در پے آئے گی اس طرح سے کہ جب کوئی شخص اپنے رشتہ دار یا کسی گروہ کے پاس جا کر سوال کرے گا کہ کل کس کس پر بجلی گری اور جل کر خاکستر ہوا؟ تو اسے جواب ملے گا کہ فلاں فلاں “(۲)

صاعقہ ۔خوفناک آواز سے بے ہوش اور اس کے اثر سے عقل زائل ہونے کے معنی میں ہے نیز آگ لگنے اور جلنے کے معنی میں بھی ہے اس لحاظ سے جو لوگ صاعقہ کا شکا ر ہوں یا ان کی عقل زائل ہو جائے یا صاعقہ کی وجہ سے جل کر خاکستر ہو جائیں۔(۳)

لیکن یہ ممکن ہے کہ صاعقہ ترقی یافتہ اسلحوں کے منفجر ہوجانے سے ہو کہ دردناک آواز، جلادینے والی آگ ؛اس طرح سے کہ جو بھی اس سے نزدیک ہوگا خاکستر ہو جائے گا اور جو آثار

____________________

(۱)فردوس الاخبار، ج۴،ص۲۹۸

(۲)احمد ،مسند ،ج۳،ص۶۴؛فردوس الاخبار ،ج۵،ص۴۳۴

(۳)فرہنگ عمید، ج۲،ص۶۸۸


انسانوں پر مرتب ہوتے ہیں وہ بیماریاں ہیں اور بس یہ تینوں بیماریاں تباہ کن اسلحوں کی وجہ سے ہیں۔

حضرت رسول خدا ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں :”قیامت نزدیک ہونے کی علامت موت کی زیادتی اور ان سالوں میں پئے در پئے زلزلہ کا آنا ہے “(۱)

حضرت امیر المو منین علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” حضر ت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے پہلے دو طرح کی موت کثرت سے ہوگی سرخ موت (قتل) سفید موت یعنی طاعون“(۲)

امام جعفر صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں: ”قیامت و روز جزا ء کی علامت لقوہ کی بیماری اور ناگہانی موت کا عام رواج ہوناہے“(۳)

امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام) رسول خدا سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ناگہانی موتیں ،جذام و بواسیر ،قیامت کے نزدیک ہونے کی علامتیں ہیں“(۴)

بیان الائمہ کتاب میں مذکورہے : کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور کے نزدیک ہونے کی علامت پوری دنیا میں بیماری کا رواج اور وبا ،و طاعون کا پھیلناہے ،خصوصا بغداد اور اس سے متعلق شہروں میں نتیجہ کے طور پر بہت سارے لوگ نیست و نابود ہوجائیں گے۔(۵)

____________________

(۱)المعجم الکبیر ،ج۷،ص۵۹

(۲)مفید، ارشاد، ص۳۵۹؛نعمانی، غیبة، ص۲۷۷؛طوسی ،غیبة، ص۲۶۷؛اعلام الوری، ص۴۲۷؛خرائج،ج۳، ص۱۵۲؛الصراط المستقیم ،ص۲۴۹؛بحارا لانوار،ج۵۲،ص۲۱۱؛الزام الناصب، ج۲،ص۱۴۷

(۳)بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۱۳؛ابن اثیر، نہایہ، ج۱،ص۱۸۷

(۴)بحار الانوار،ج۵۲،ص۲۶۹،نقل از:الامامہ والتبصرہ ؛الزام الناصب ،ج۲،ص۱۲۵

(۵)بیان الائمہ ،ج۱،ص۱۰۲


ب)صحت و تندرستی

علم کے حیرت انگیز شگوفے خصوصاً حفظ صحت و علاج حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں اور اُ سے سماج میں رواج دینے ،شعلہ جنگ کے خاموش ہونے ،نفسانی و ذ ہنی سکون، روحی علاج انسانوں کی اصلاح کے سبب نیز کسانی و جانوروں کی پرورش میں اضافہ اور ضرورت کی حد تک غذاوں کی فراہمی منجملہ ان عوامل میں ہیں جو امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں اعلیٰ حد تک پہنچ جائے گی لیکن ایسا ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی جسمی حالت دگر گوں ہو جائے اور عمر طولانی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ ایک شخص ہزار فرزند اور نسل دیکھے پھر اس کے بعد دنیا سے انتقال کر ے ۔

رسول خدا فرماتے ہیں :” جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور رات کو اس کی صبح کے ہنگام آفتاب مغرب سے نکلے گا (نہ مشرق کی طرف سے)تو انسان اس طرح چالیس سال تک آسودہ خاطر ، عیش و عشرت سے بھر ی زندگی گذارے گا کہ اس مدت میں نہ توکوئی مرے گا اور نہ ہی بیمار ہوگا“(۱)

شاید اس بات سے مراد یہ ہے کہ جو موتیں اور بیماریاں ظہور سے قبل عام ہوں گی دوران ظہور اتنی کم و نادر سننے میں آئیں گی کہ عدم بیماری و موت کا حکم لگایا جا سکتا ہے ممکن ہے کہ ظاہر ی معنی مراد ہوں یعنی اس مدت میں موت وبیماری کا وجود نہیں ہوگا وہ بھی حضرت بقیتہ اللہ آعظم کے ظہور کی برکت سے ایسا ہوگا۔

حضرت امیر المو منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں عمریں طولانی ہوں گی “(۲)

____________________

(۱)ابن طاوس ،ملاحم، ص۹۷ (۲)عقد الدرر، ص۱۵۹؛القول المختصر، ص۲۰


مفضل بن عمر کہتے ہیں : امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا:” جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو لوگ آپ کی فرمانروائی کے زیر سایہ طولانی عمریں کریں گے؛ اتنا کہ ہر شخص ہزار فرزندکاباپ ہوگا“(۱)

امام سجاد (علیہ السلام) اس سلسلے میں فرماتے ہیں :” جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے، تو خدا وند عزو جل بیماری وبلا کو ہمارے شیعوں سے دور کردے گا اور ان کے قلوب کو فولاد کے مانند محکم بنادے گا اور ان میں ہر ایک چالیس مرد کی قوت کا مالک ہوگا وہی لوگ زمین کے حاکم اور سر براہ ہو ں گے “(۲)

امام محمد باقر(علیہ السلام) امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت میں محیط صحت سے متعلق فرماتے ہیں:”جب ہمارے قائم ظہو ر کریں گے تو گندے اور استعمال شدہ پانی کے کنویں اور ناودان (پرنالے )جو راستوں میں واقع ہوں گے توڑدیں گے“(۳)

شہروں اور معاشرے کی فضا ڈاکٹری اصول کے مطابق حفاظت کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اس بناء پر وہ چیز جو ماحولیات و فضا اور حفظ صحت کے خلاف ہو اس کی روک تھا م ہونی چاہئے گھروں کے گندے پانیوں کو گلیوں میں پھیکنا ،گھر سے باہر بیسن اور پائخانوں کے کنووں کو گھر سے باہر کھودنا جیسا کہ بعض شہروں، دیہاتوں میں مرسوم ہے حفظ صحت کے اصول کی نابودی کا باعث

____________________

(۱)مفید ،ارشاد، ص۳۶۳؛المستجاد، ص۵۰۹؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۷وافی ،ج۲،ص۱۱۳

(۲)نعمانی ،غیبة ،ص۲۱۷؛صدوق، خصال، ج۲،ص۵۴۱؛روضہ الواعظین، ج۲،ص۲۹۵؛الصراط المستقیم ،ج۲، ص۶۱۲؛ بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۱۷

(۳)من لایحضرہ الفقیہ ،ج۱،ص۲۳۴؛مفید ا،رشاد، ص۳۶۵؛طوسی،غیبة،۲۸۳؛روضہ الواعظین، ج۲،ص۲۶۴؛ اعلام الوری ، ص۴۳۲؛الفصول المھمہ، ص۳۰۲؛اثبات الہداة، ج۳، ص۴۵۲؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۳


ہے؛ اس لحاظ سے، جو ہم مشاہدہ کر رہے ہیں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا ایک وظیفہ ڈاکٹری اصولوں کے مطابق حفظ صحت کی خلاف ورزی کی روک تھام ہے۔

ج)علاج

چونکہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے دور میں ضرورت کی حد تک علاج فراہم ہے ، لہٰذابیماریاں کم ہو جائیں گی اورایک مختصر تعداد ہوگی جو بیماریوں سے دوچار ہوگی لیکن اس زمانے میں ڈاکٹری علم حد درجہ ترقی پزیر ہوگا اور مختلف امراض میں مبتلا افراد کم سے کم مدت میں شفا یاب ہوں گے اس کے علاوہ حضرت ،خداوند عالم کی تائید سے ناقابل علاج بیماروں کو خود ہی شفا دیں گے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت کے دور حکومت میں بیماری نہیں پائی جائےگی۔

امام حسین (علیہ السلام) حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی حکومت کے بارے میں فرماتے ہیں : ”کوئی نابینا ،لنج اور فالج زدہ ،درد مند روی زمین پر نہیں رہ جائے گا مگریہ کہ خداوندعالم اس کے درد کو بر طرف کردے گا “(۱)

حضرت امیر المو منین(علیہ السلام) فرماتے ہیں :” جس وقت ہمارے قائم پوشیدہ و مخفی ہونے کے بعد ظاہر ہوں گے جبرئیل ان کے آگے آگے اورکتاب خدا چہرے کے سامنے ہوگی اوراس سے حضرت کوڑھی ،سفید داغ کے مریض کو شفا دیں گے “(۲)

اس روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ خود حضرت نا قابل علاج، مرض کا معالجہ کرنے میں بہت بڑا کر دار ادا کریں گے ۔

امام جعفرصادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں : جب ہمارے قائم قیام کریں گے، تو

____________________

(۱)خرائج، ج۲،ص۴۸۹؛بحار الانوار،ج۵۳،ص۶۲(۲)دوحةالانوار،ص۱۳۳؛الشیعہ والرجعہ، ج۱،ص۱۷۱


خداوندعالم مومنین سے بیماریوں کو دور اور تندرستی و صحت کو ان کے قریب کردے گا “(۱)

امام محمد باقرعلیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں : ”جو بھی قائم اہل بیت (علیہم السلام) کو درک کرے اور اگر وہ بیماری سے دو چار ہوگا، شفا پائے گا اور اگر ضعیف و ناتوانی کا شکا ر ہوگا ،قوی و توانا ہوجائے گا“(۲)

شیخ صدوق کی کتاب خصائل میں مذکور ہے کہ -”حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے زمانے میں بیماری ختم ہو جائے گی اور وہ لوگ ( مومنین ) فولادی پارے بن جائیں گے “(۳)

امام (علیہ السلام) کی شہادت

حضرت کی شہادت یا رحلت کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں لیکن حضرت امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے بقول کے آپ فرماتے ہیں : ”کہ ہم اماموں میں یا زہر دغا سے شہید ہوگا یا تلوار سے “(۴)

جو روایا ت حضرت کی شہادت پر دلالت کرتی ہیں انھیں میں بعض دیگر روایات پر ترجیح دی جا سکتی ہے ۔

ہم یہاں پر چند روایت کے ذکر کرنے پر اکتفا ء کرتے ہیں :

امام جعفرصادق (علیہ السلام) آیہ شریفہ( ثم رَدَدْنَا لَکُمْ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ ) (۵)

____________________

(۱)نعمانی، غیبة، ص۳۱۷؛بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۶۴؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۴۹۳

(۲)نعمانی ،غیبة، ص۳۱۷؛صدوق، خصال، ج۲،ص۵۴۱؛روضة الواعظین، ج۲،ص۲۹۵؛الصراط المستقیم، ج۲، ص۲۶۱؛ بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۳۵؛نقل از خرائج

(۳)صدوق ،خصال ،ص۵۹۷

(۴)کفایة الاثر، ص۲۲۶؛بحار الانوار، ج۲۷،ص۲۱۷

(۵)سورہ اسراء آیت۶


کے ذیل میں فرماتے ہیں :” اس سے مراد امام حسین (علیہ السلام) اور آپ کے ستر ۷۰/ اصحاب کا عصر امام زمانہ میں دوبارہ زندہ ہونا ہے ؛جب کہ سنہری (خود)(جنگ میں پہنی جانے والی ٹوپی) سر پر ہوگی لوگوں کو امام حسین(علیہ السلام) کی رجعت اور دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دیں گے تاکہ مومنین شک و شبہ میں نہ پڑیں۔

ایسا اس وقت ہوگا جب حضرت حجت(عجل اللہ تعالی فرجہ) لوگوں کے درمیان ہوں گے چونکہ حضرت کی معرفت اور ایمان لوگوں کے دلوں میں مستقر و ثابت ہوچکا ہوگااورحضرت حجت (عجل اللہ تعالی فرجہ) کو موت آجائے گی تو امام حسین (علیہ السلام)آپ کو غسل ، کفن،حنوط اوردفن کریں گے چونکہ کبھی وصی کے علاوہ کوئی وصی کو سپرد لحد نہیں کرسکتا “(۱)

زہری کہتا ہے : حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) چودہ سال زندہ رہ کر اپنی طبعی موت سے جان بحق ہوں گے ۔(۲)

ارطاة کہتا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) چالیس سال گزار کر اپنی طبعی موت سے مریں گے ۔(۳)

کعب الاحبار کہتا ہے کہ اس امت کے منصور ،مہدی ہیں اور زمین کے رہنے والے اور آسمان کے پرندے اس پر درود بھیجتے ہیں ۔

یہ وہی ہیں جو روم اور جنگ عظیم میں آزمائے جائیں گے یہ آزمائش بیس سال طولانی ہوگی

____________________

(۱)کافی، ج۸،ص۲۰۶؛تاویل الآیات الظاہرہ ،ج۱،ص۲۷۸وج۲،ص۷۶۲؛مختصر البصائر، ص۴۸؛تفسیر برہان ، ج۲، ص۴۰۱؛بحار الانوار،ج۵۳،ص۱۳وج۴۱،ص۵۶

(۲)ابن حماد، فتن، ص۱۰۴؛البداء والتاریخ، ج۲،ص۱۸۴؛متقی ہندی، برہان، ص۱۶۳

(۳)ابن حماد ،فتن ،ص۹۹؛عقد الدرر،ص۱۴۷؛متقی ہندی، برہان، ص۱۵۷


اورحضرت دو ہزار پرچم دار کمانڈروں کے ہمراہ شہید ہوں گے؛ پھر حضرت رسول خدا کے فقدان کی مصیبت مسلمانوں کے لئے حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی شہادت سے قیمتی و گراں نہیں ہوگی ۔(۱)

اگر چہ زہری ،ارطاة و کعب الاحبار کی باتیں ہمارے نزدیک قابل اعتماد نہیں ہیں؛ لیکن اس میں صداقت کا بھی احتمال ہے ۔

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کیفیت شہادت

الزام الناصب میں حضرت کی شہادت کی کیفیت مذکور ہے :”جب ستر ۷۰/ سال پورے ہوں گے اور حضرت کی موت نزدیک ہو جائے گی ،تو قبیلہ تمیم سے، سعیدہ نامی عورت حضرت کو شہید کرے گی اس عورت کی خصوصیت یہ ہے کہ مردو ں کی طرح داڑھی ہوگی ۔

وہ چھت کے اوپر سے ، جب حضرت وہاں سے گذر رہے ہوں گے ،ایک پتھر آپ کی طرف پھینکے گی اور آنحضرت کو شہید کر ڈالے گی اور جب حضرت شہید ہو جائیں گے تو امام حسین(علیہ السلام) غسل و کفن،کے فرایض انجام دیں گے“(۲) لیکن ہم نے اس کتاب کے علاوہ یہ مطلب ،یعنی کیفیت شہادت کسی اور کتاب میں نہیں دیکھا ۔

اما م جعفر صاد ق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :

حسین(علیہ السلام) اپنے ان اصحاب کے ساتھ جو آپ کے ہمرکاب شہید ہوئے ہیں

____________________

(۱)عقد الدرر، ص۱۴۹

(۲)الزام الناصب،ص۱۹۰؛تاریخ ما بعد الظہور ،ص۸۸۱


آئیں گے(۱) تو ستر ۷۰/ پیغمبر ان کے ہمراہ ہوں گے؛ جس طرح حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کے ہمراہ ستر ۷۰/ افراد بھیجے گئے تھے اس وقت حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) انگوٹھی ان کے حوالے کریں گے اور امام حسین(علیہ السلام) حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے غسل ،کفن، حنوط، دفن کے ذمہ دار ہوں گے۔

<سلام علیه یوم ولد ویوم یظهر ویوم یموت ویوم یبعث حیاً >

____________________

(۱)امام حسین (علیہ السلام )کی رجعت سے متعلق آیة اللہ والد مرحوم کی کتاب ستارہ درخشاں ملاحظہ ہو


منابع و ماخذ

۱ ۔قرآن کریم

۲ ۔نہج البلاغہ

۳ ۔اثبا ت الوصیہ ،علی بن حسین مسعودی ،ت ۳۴۶ ئھ ق،انتشارات الرضی قم ، ۱۴۰۴ ئھ ق

۴ ۔اثبات الہداة ،محمد بن لحسن حر عاملی ،ت۱ ۱۰۴ ئھق،چاپخانہ علمیہ ،قم

۵ ۔الاحتجاج ،احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی ،قرن ششم ہجری ،دارالنعمان ،نجف اشرف،۱ ۳۸۶ ئھق

۶ ۔احقا ق الحق و ازھاق الباطل ،شہید قاضی نور اللہ حسینی مرعشی تستری ،ت۱ ۰۱۹ ئھ ق (باتوالیق آیة اللہ مرعشی نجفی )کتا بخانہ آیہ للہ مرعشی ،قم

۷ ۔الاختصاص ،محمدبن محمد بن نعمان۴ ۱۳ ئھ ق،انتشار ات اسلامی وابستہ بی جامعہ مدرسین ، قم

۸ ۔اختیا ر معرفة الرجال ،(رجال کشی)ابو عمر و محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی ،ت ۳۸۵ ئھ ق ، تلخیص از ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی ،دانشگاہ مشہد

۹ ۔الاذاعة لما کان وما یکون بین یدی الساعة، محمد صادق حسن قنوجی بخاری ،۱ ۳۰۷ ئھ ق،دارلکتب العلمیہ ،بیروت

۱۰ ۔الارشاد ،محمد بن محمد بن نعمان ،۴ ۱۳ ئھق،بصیرتی ،قم

۱۱ ۔ارشاد القلوب ،ابو محمد الدیلمی ،موسسہ اسلامی ،بیروت

۱۲ ۔اسعاف الراغبین ،محمد بن علی الصبان ،ت۱ ۲۰۶ ئھق،دارالفکر ،قاہرہ

۱۳ ۔اسد الغابہ ،ابن الاثیر شیبانی ،ت ۶۳۰ ئھق،چاپخانہ اسلامیہ ،تہران

۱۴ ۔الاصابةفی معرفة الصحابة ،ابن حضر عسقلانی ،ت ۸۵۱ ئھق،دارالکتب ، بیروت

۱۵ ۔الا صول الستة عشر،تحقیق حسن مصطفوی ،تہران ،۱ ۳۷۱ ئش

۱۶ ۔اعلام المنجد ،لویس معلوف الیسوعی ،دارالمشرق ،بیروت


۱۷ ۔اعلام النساء ،عمر رضا کحالہ ،موسسہ الرسالہ ،بیروت ،۱ ۴۰۱ ئھق

۱۸ ۔اعلام الوری باعلام الہدی،ابو علی فضل بن حسن طبرسی ،ت۵ ۴۸ ئھ ق،دارالمعرفة، بیروت

۱۹ ۔اعیان الشیعہ ،سید محمد محسن امین عاملی ،دارالتعارف ،بیروت

۲۰ ۔اقبال ،رضی الدین ابو القاسم علی بن موسی بن جعفر بن طاوس ،ت ۶۶۴ ئھق، دارالکتب اسلامیہ

۲۱ ۔الزام الناصب ،شیخ علی یزدی حائری ،قم۱ ۴۰۴ ئھق

۲۲ ۔امالی الشجری ،(امالی الخمیسیہ )،یحی بن حسین شجری ،ت۴ ۷۸ ئھق،عالم الکتب، بیروت

۲۳ ۔امالی شیخ طوسی ،ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی ،ت۴ ۶۰ ئھق المکتبة الاھلیہ، بغداد

۲۴ ۔امالی مفید ،محمد بن محمد بن نعمان ت۴ ۱۳ ئھق،انتشارات اسلامی وابستہ بی جامع مدرسین ، قم

۲۵ ۔الامامة والتبصرہ ،علی بن الحسین بن بابویہ قمی ،ت ۳۲۹ ئھق،مدرسة الامام المہدی (عج) ، قم

۲۶ ۔الانساب،ابو سعد عبد الکریم تمیمی سمعانی،ت۵ ۶۳ ئھق،مو سسہ الکتب الثقافیہ، بیروت ،۱ ۴۰۸ ء ھ ق

۲۷ ۔الایقاظ من الھجعہ ،محمد بن الحسن حر عاملی ،ت۱ ۱۰۴ ئھق،دارالکتب العلمیہ ، قم

۲۸ ۔الایام المکیہ ،نجم الدین طبسی ،دانشکدہ علوم اسلامی ،قم

۲۹ ۔بحار الانوار،محمد باقر مجلسی ،ت۱ ۱۱۱ ء ھق،موسسہ الوفاء ،بیروت

۳۰ ۔البداء والتاریخ،منسوب بہ ابو یزید احمد بن سہل بلخی مقدسی ،ت ۳۵۵ ئھ ق،کتابخانہ اسدی ، تہرا ن

۳۱ ۔البرہان فی تفسیر القرآن ،سید ہاشم بحرانی ،ت۱ ۱۰۷ ئھق،چاپخانہ علمیہ ،قم

۳۲ ۔البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان ،علاء الدین علی بن حسام الدین ،معروف بہ متقی ہندی ، ت ۹۷۵ ئھق،چاپخانہ خیام ،قم

۳۳ ۔برہان قاطع ،محمدحسین برہان ،ت۱ ۰۸۳ ئھق،نشر خرد نیما ،تہران

۳۴ ۔بشارة اسلام ،سید مصطفی آل السید حیدر کاظمی ،ت۱ ۳۳۶ ء ھق،کتابخانہ نینویٰ الحدیثہ، تہران

۳۵ ۔بشارة المصفطیٰ،ابو جعفر محمد بن ابی القاسم طبری ،کتابفروشی حدریہ ،نجف اشرف


۳۶ ۔بصائر الدرجات فی فصائل آل محمد،محمد بن الحسن بن فروخ صفار قمی،ت۲ ۹۰ ئھ ق،کتابخانہ آیة اللہ مرعشی نجفی ،قم

۳۷ ۔بھجة الآمال ،ملا علی علیاری تبریزی ،ت۱ ۳۲۷ ئھق،بنیاد فرہنگ اسلامی کوشانپور، تہران

۳۸ ۔بیان الائمہ ،محمد مہدی نجفی ،قم ،۱ ۴۰۸ ئھق

۳۹ ۔البیان فی اخبار صاحب الزمان ،محمد بن یوسف بن محمد قرشی ،گنجی شافعی،ت ۶۵۸ ئھ ق،داراحیاء تراث اہل بیت ،تہران

۴۰ ۔تاویل الآیات الظاہرة فی فضائل العترہ الطاہرہ ،سید شرف الدین علی حسینی استرابادی نجفی ،قرن ششم ،مدرة الامام المہدی (عج) ،قم

۴۱ ۔تاریخ الامم والملوک ،ابو جعفر محمد بن جریر طبری ،ت ۳۱۰ ئھق،دارالمعارف قاہرہ

۴۲ ۔تاریخ بغداد ،ابعبکر احمد بن علی خطیب بغدادی ،ت۴ ۶۳ ئھق،دارالکتب العملیہ، بیروت

۴۳ ۔تاریخ ما بعد ظہور ،سید محمد صادق صدر ،دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت

۴۴ ۔تبصرہ الولی،سید ہاشم بحرانی ،ت۱ ۱۰۷ ئھق،موسسہ الاعملی ،بیروت

۴۵ ۔تحف العقول عن آل الرسول ،ابو حمد حسن بن علی بن الحسین بن شعبة حرانی، انتسارات اسلامی وابستہ بہ جامع مدرسین ،قم

۴۶ ۔تذکرة الفقہاء ،علامہ حلی ،ت ۷۲۶ ئھق،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم

۴۷ ۔الترغیب الترھیب من الحدیث الشریف،عبد العظیم بن عبد القوی المنذری، ت ۶۵۶ ئھ ق،دار احیاء التراث العربی ،بیروت

۴۸ ۔التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ،محمد انو شاہ کشمیری ہندی ،ت۱ ۳۴۲ ئھ ق،دارالقران الکریم ، بیرو ت

۴۹ ۔التطبیق بین السفینة والبحار بالطبعة الجدیدة ،سید جواد مصطفوی ،آستان قدس رضوی، مشہد، ۱۴۰۳ ئھق

۵۰ ۔تفسیر الصافی ،فیض کاشانی ،ت۱ ۰۹۱ ئھق،موسسہ الاعملی ،بیروت

۵۱ ۔تفسیر العسکری علیہ السلام،منسوب بہ امام حسن عسکری علیہ السلام مدرسة الامام المہدی (عج) قم،۱ ۴۰۹ ئھ ق

۵۲ ۔تفسیر العیاشی ،محمد بن مسعود بن عیاش سمر قندی ،کتابفروشی اسلامیہ ،تہران

۵۳ ۔تفسیر فرات الکوفی ،فرات بن ابراہیم بن فرات کوفی ،کتابفروشی داوری ،قم


۵۴ ۔تفسیر قمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی ،اواخر قرن سوم ہجری قمری ،کتابفروشی الہدی نجف اشرف

۵۵ ۔تفسیر نورالثقلین ،عبد علی جمعہ العروسی الحویزی ،ت۱ ۱۱۲ ئھق،چاپخانہ علمیہ ، قم

۵۶ ۔تقریب المعارف ،شیخ تقی الدین ابو الصلاح حلبی،،ت۱ ۱۱۲ ئھق،انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامع مدرسین،قم،۱ ۴۰۴ ئھق

۵۷ ۔التقریب و التیسیر ،ابو زکریا یحی بن شرف النوی ،بیروت

۵۸ ۔تنقیح المقال فی علم الرجال ،شیخ عبد اللہ بن حمد بن حسن المولیٰ عبد اللہ المامقانی النجفی، ت۱ ۳۵۱ ئھ ق

۵۹ ۔تہذیب الاحکام فی شرح المقنعہ ،ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی،ت۴ ۶۰ ئھ ق، دار الکتب الاسلامیہ ،تہران

۶۰ ۔ثواب الاعمال و عقاب الاعمال ،محمد بن الحسین بن بابویہ ، ۳۸۱ ئھ ق، کتابخانہ آیة اللہ مرعشی نجفی ، قم

۶۱ ۔جامع احادیث الشیعہ ،سید حسین بروجردی ،ت۱ ۳۸۰ ئھق،مدینة العلم ،قم

۶۲ ۔جامع الاخبار ،تاج الدین شعیری ،قرن ششم ہجری قمری ،انتشارات رضی،قم

۶۳ ۔جامع الاصول من احادیث الرسول ، ابو السعادات مبارک بن محمد معروف بہ ابن الاثیر ،ت ۶۰۶ ئھق،داراحیاء التراث العربی ،بیروت

۶۴ ۔الجامع الصحیح ،محمد بن عیسیٰ بن سورة ترمذی ت۲ ۹۷ ئھق

۶۵ ۔جمع الجوامع (الجامع الکبیر)،جلال الدین عبد الرحمن سیوطی،ت ۹۱۱ ئھ ق، چاپ سنگی

۶۶ ۔الحاوی للفتاوی ،جلال الدین عبد الرحمن سیوطی،ت ۹۱۱ ئھق،دار کتب العلمیہ، بیروت

۶۷ ۔حق الیقین ،محمد باقر مجلسی ،ت۱ ۱۱۱ ئھق،جاویدان ،تہران

۶۸ ۔حلیة الابرارفی فضائل محمد وا ل الاطہار،سید ہاشم بن اسماعیل بحرانی،ت۱ ۱۰۷ ئھ ق،دارالکتب العلمیہ ،قم

۶۹ ۔حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء ،ابو نعیم اصفہانی احمد بن عبد اللہ، ت۴ ۳۰ ئھ ق،دارالکتب العربی ،بیروت،،،


۷۰ ۔الخرائج والجرائح ،ابو الحسن سعید بن ھبة اللہ معروف بہ قطب راوندی ،ت۵ ۷۳ ئھ ق،موسسہ الامام المہدی (عج) ،قم

۷۱ ۔الخصال ،ابو جعفر محمد بن علی بن الحسن بن بابویہ قمی ،ت ۳۸۱ ئھق،انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامع مدرسین ،قم

۷۲ ۔خلاصة الاقوال ،(رجال علامہ)،حسن بن یوسف بن مطہر حلی ،ت ،الرضی ،قم

۷۳ ۔دررالاخبا فیما یتعلق بحال الاحتضار،شیخ محمد رضا طبسی نجفی ،ت۱ ۴۰۵ ئھ ق، چاپخانہ نعمان نجف اشرف

۷۴ ۔الدر المنثور فی التفسیر بالماثور ،جلا ل الدین سیوطی ، ت ۹۱۱ ئھق،دارالمعرفة، بیروت

۷۵ ۔دلائل الامامہ ،ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری ،کتابفروشی رضی،قم

۷۶ ۔دلائل النبوة ،احمد بن عبد اللہ ،ابو نعیم اصفہانی ،ت۴ ۳۰ ئھق،دارالمعرفة، بیروت

۷۷ ۔ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربیٰ ،محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری ،ت ۶۹۴ ئھ ق،کتابفروشی محمدی ،قم

۷۸ ۔الذریعہ الی تصانیف الشیعہ،آقا بزرگ تہرانی ،ت۱ ۳۸۹ ئھق،کتابفروشی اسلامیہ ، تہران

۷۹ ۔راموز الاحادیث ،ضیاء الدین احمد بن مصطفی استانبولی،ت۱ ۳۱۱ ئھ ق،چاپ ہند

۸۰ ۔رجال ابن داود،حسن بن علی بن داود حلی ،ت وایل قرن ہشتم ،نجف، ۱۹۷۲ ئم

۸۱ ۔رجعت از نظر شیعہ ،نجم الدین طبسی ،چاپخانہ علمیہ ،قم،۱ ۴۰۰ ئھق۔

۸۲ ۔الرجعہ فی احادیث الفریقین ،جنم الدین طبسی

۸۳ ۔راہنمای کتب اربعہ،محمد مظفری ،چاپخانہ علمیہ ،قم،۱ ۴۰۵ ئھق

۸۴ ۔روضة المتقین ،محمد تقی مجلسی ،۱ ۰۷۰ ئھ؛ق،بنیاد فرہنگ اسلامی کوشانپور ، تہران

۸۵ ۔روضة الواعظین ،محمد بن فتال نیشاپوری ،ت۵ ۰۸ ئھق،انشارات الرضی، قم

۸۶ ۔ریاحین الشریعة ،ذبیح اللہ محلاتی ،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران

۸۷ ۔ستارہ درخشان ،شیخ محمد رضا طبسی نجفی ،ترجمہ سید محمد میر شاہ والد ،انتشارات محمدی، تہران

۸۸ ۔سفینة البحار ،سیخ عباس قمی ،ت۱ ۳۵۹ ئھق،انتشارات اسوہ ،قم


۸۹ ۔سنن ابن ماجہ ،محمد بن یزیدقزوینی ،ت۲ ۷۵ ئھ،ق داراحیاء التراث العربی، بیروت

۹۰ ۔سنن ابی داود ،سلمان بن الاشعث سجستانی ،ت۲ ۷۵ ئھق،داراحیاء السنة النبویہ

۹۱ ۔السنن الکبری ،ابو بکر احمدبن الحسین بیہقی،ت۴ ۵۸ ئھق،دار المعرفة ، بیروت

۹۲ ۔سنن الدارمی ،ابو محمد عبد اللہ دارمی،ت۲ ۵۵ ئھق،دارالفکر ،بیروت

۹۳ ۔السیرة الحلبیہ ،علی بن برہان الدین حلبی شافعی،ت۱ ۰۴۴ ئھق،بیروت

۹۴ ۔شرح نہج لابلاغہ،عزالدین ابو حامد بن ھبة اللہ بن ابی الحدید مدائینی ،ت ۶۵۵ ئھ ق،چاپخانہ بابی حلبی قاہرہ

۹۵ ۔الشیعہ والرجعہ ،شیخ محمد رضا طبسی نجفی ،چاپخانہ الآداب نجف اشرف،۱ ۳۸۵ ئھ ق

۹۶ ۔صحیح البخاری ،اسماعیل بن ابراہیم جعفی بخاری ،ت۲ ۵۶ ئھق،داراحیاء التراث العربی ، بیروت

۹۷ ۔صحیح ترمذی،ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،ت۲ ۹۷ ئھق،دار احیاء التراث العربی، بیروت

۹۸ ۔صحیح مسلم :،ابو الحسن مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری ،ت۲ ۶۱ ئھق،داراحیاء التراث العربی ، بیرو ت

۹۹ ۔الصراط المستقیم الی مستحقی التقدیم ،زین الدین ابو محمد علی بن یونس عاملی نباطی ،ت ۸۷۷ ئھ ق،کتابفروشی مرتضویہ ،تہران

۱۰۰ ۔الصواعق المحرقہ،احمد بن حجر ہیثمی،ت ۹۷۴ ئھق،کتابخانہ قاہرہ

۱۰۱ ۔الطبقات الکبری ،ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن منیع بصری زہری ،ت۲ ۳۰ ئھق،دار صا در ، بیروت

۱۰۲ ۔الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف ،علی بن موسی معروف بہ سید بن طاوس ، ت ۶۶۴ ئھق،چاپخانہ خیام ،قم

۱۰۳ ۔العدد القویہ لدفع المخاوف الیومیہ،رضی الدین علی بن یوسف بن المطہر حلی ،ت ۷۲۶ ئھ ق، کتابخانہ آیة اللہ مرعشی نجفی ،قم

۱۰۴ ۔العطر الوردی ،محمد بلبیسی شافعی،ت۱ ۳۰۸ ئھق،چاپخانہ امیریہ ،بولاق

۱۰۵ ۔عقائد صدوق ،ابو جعفر محمد بن دعلی بن بابوایہ قمی ،ت ۳۸۱ ئھق،چاپ سنگی،۱ ۲۹۲ ئھ ق

۱۰۶ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر،یوسف بن یحی مقدسی سلمی شافعی ،قرن ہفتم ہجری قمری، عالم الفکر، قاہرہ

۱۰۷ ۔العقد الفرید ،ابن عبد ربہ اندلسی ،ت ۳۲۷ ئھق،دارالکتاب العربی ، بیروت


۱۰۸ ۔علل الشرائع،ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ ،ت ۳۸۱ ئھق،کتابفروشی حیدریہ ، نجف اشرف

۱۰۹ ۔العلل المتناھیہ ، ابو الفر ج عبد الرحمن بن الجوزی ،ت۵ ۹۷ ئھق،دار الکتب العلمیہ ، بیروت ،۱ ۴۰۳ ئھق

۱۱۰ ۔العمدة لابن البطریق ،یحی بن الحسن اسدی حلی معروف بہ ابن البطریق ،ت ۶۰۰ ئھ ق ، انتشارات اسلامی وابستہ بی جامع مدرسین

۱۱۱ ۔عوالم العلوم ،والمعارف والاحوا ل من الآیات والاخبار والاقوال،شیخ عبد اللہ بحرانی اصفہانی، مدرسہ الامام المہدی (عج)قم

۱۱۲ ۔عیون الاخبار ،عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری ،ت۲ ۷۸ ئھق،دارالکتب العلمیہ ، بیروت

۱۱۳ ۔عیون اخبار الرضا ،ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بابویہ ،ت ۳۸۱ ئھق،نشر توس، قم

۱۱۴ ۔الغارات ،ابو اسحاق ابراہیم محمد ثقفی ،ت۲ ۸۳ ئھق،انجمن آثار ملی ، تہران

۱۱۵ ۔غایة المرام فی حجة الخصام عن طریق الخاص والعام،سید ہاشم بن سلیمان بحرانی، ت۱ ۱۰۷ ئھ ق ، موسسہ الاعلمی ،بیروت

۱۱۶ ۔الغیبہ ،ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی ،ت۴ ۶۰ ئھق،کتابفروشی نینوی ،تہران

۱۱۷ ۔الغیبہ،محمد بن ابراہیم نعمانی ، ۳۶۰ ئھق،کتابفروشی صدوق ،تہران

۱۱۸ ۔الفائق فی غریب الحدیث،جار اللہ ،محمود بن عمر زمخشری ،ت۵ ۸۳ ئھ ق،دارالمعرفة ، بیرو ت

۱۱۹ ۔الفتاوی الحدیثیہ،احمد بن حجر ہیثمی ،ت ۹۷۴ ئھق،التقدم العلمیہ ،مصر

۱۲۰ ۔الفتن ،ابو عبد اللہ نعیم بن حماد مروزی،ت۲ ۲۸ ئھوق،خطی ،کتابخانہ المتحف، انگلستان

۱۲۱ ۔الفتوحات المکیہ ،محمد بن علی معروف بہ ابن عربی ،ت ۶۳۸ ئھق،دارصادر، بیرو ت

۱۲۲ ۔فرائد السمطین فی الفضائل المرتضی والبتول السبطین والائمة من ذریتھم ،ابراہیم بن محمد جوینی خراسانی ،ت ۷۳۰ ئھق،موسسہ المحمودی ،بیروت


۱۲۳ ۔فرائد فوائد الفکر ،مرعی بن یوسف بن ابی بکر ،قرن یازدھم ہجری قمری ،بنیاد اسلامی قم

۱۲۴ ۔فردوس الاخبار ،ابو شجاع شیرویہ ابن شہرداربن شیرویہ دیلمی ،ت۵ ۰۹۰ ئھق، دار الکتب العلمیہ ،بیروت

۱۲۵ ۔فرہنگ عمید،حسن عمید ،جاویدان ،تہران

۱۲۶ ۔الفصول المہمہ فی معرفة احوال الائمہ،علی بن محمد بن احمد مالکی مشہور بی ابن صباغ، ت ۸۵۵ ئھق، کتابفروشی دارالکتب ،نجف اشرف

۱۲۷ ۔فضل الکوفہ و فضل اھلھا ،محمد بن علی بن الحسن علوی حسینی کوفی،ت۴ ۴۵ ئھق، موسسہ اھل البیت ،بیروت

۱۲۸ ۔الفقیہ (کتا ب من لایحضرہ الفقیہ )،محمد بن علی بن بابویہ قمی ،ت ۳۸۱ ئھ ق، دارالکتب الاسلامیہ ،تہران

۱۲۹ ۔قرب الاسناد ،ابو العباس عبداللہ بن جعفر حمیری،ت ۳۱۰ ئھق،چاپ سنگی، چا پخا نہ اسلامیہ ، تہران

۱۳۰ ۔قصص الانیباء ،قطب الدین راوندی ،ت۵ ۷۳ ئھق،بنیاد پژوہش ھای اسلامی، مشہد ،ت۱ ۴۰۹ ئھ ق

۱۳۱ ۔القول المختصر فی وعلامات المہدی المنتظر،احمد بن حجر ہیثمی ،ت ۹۷۴ ئھق، خطی، کتابخانہ امیر المومنین ،نجف اشرف

۱۳۲ ۔کامل الزیارات ،ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ ، ۳۶۷ ئھق،چاپخانہ مرتضویہ، نجف اشرف،۱ ۳۵۶ ئھ

۱۳۳ ۔الکامل فی تاریخ ،ابو الحسن علی بن ابی المکرم معروف بہ ابن الاثیر ،ت ۶۳۰ ئھ ق،دار صادر ، بیرورت

۱۳۴ ۔کشف الاستار،میرزا حسین نوری،ت۱ ۳۲۰ ئھق ،کتا بفروشی نینوا، تہران

۱۳۵ ۔کشف الحق (الاربعون)،امیر محمد صادق خاتون آبادی،ت۱ ۲۰۷ ئھ ق،بنیاد بعثت تہران،۲ ۳۶۱ ئش

۱۳۶ ۔اکشف الیںمہ فی معرفةالائمہ ،ابو الحسن علی بن عیسی بن ابی الفتح اربلی ،ت ۶۹۲ ئھ ق،دار الکتب اسلامی ،بیروت

۱۳۷ ۔الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی رازی ،ت ۳۲۹ ئھق،دارالکتب الاسلامیہ، تہرا ن

۱۳۸ ۔کفایة الاثر فی النص علی الائمہ اثنی عشر ،ابو القاسم علی بن محمدبن علی (الخزاز)، قرن چہارم ہجری قمری ،نشر بیدار ،قم

۱۳۹ ۔کما ل الدین واتمام النعمة ،ابو جعفر محمد علی بن بابویہ قمی ،ت ۳۸۱ ئھ ق،انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامع مدرسین ،قم

۱۴۰ ۔الکنی والالقاب،شیخ عباس قمی ،ت۱ ۳۵۹ ئھق،کتابخانہ صدر ،تہران


۱۴۱ ۔کنز ل العمال فی سنن الاقوال و الافعال،علاء الدین علی معروف بہ متقی ہندی، ت ۹۷۵ ئھق، موسسہ الرسالہ ،بیروت

۱۴۲ ۔لسان المیزان ،احمد بن علی بن حضر عسقلانی ،ت ۸۵۲ ئھق،موسسہ الاعلمی، بیروت

۱۴۳ ۔لوائح الانوار البھیہ ،شمس الدین محمد بن احمد سفارینی نابلسی ،ت۱ ۱۸۸ ئھ ق،مجلہ المنار ،مصر

۱۴۴ ۔مجمع البحرین ،فخر الدین طریحی ،ت۱ ۰۸۵ ئھق،کتابفروشی مرتضویہ ،تہران

۱۴۵ ۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن ،فضل بن الحسن طبرسی ،ت۵ ۴۸ ئھوق،داراحیاء الترا ث العربی، بیروت

۱۴۶ ۔مجمع الرجال ،زکی الدین عنایة اللہ بن مشرف الدین قہبانی ،قرن یازدہم ہجری قمری،چاپخانہ ربانی ،اصفہان

۱۴۷ ۔مجمع الزوائد و منبع الفوائد،نور الدین علی بن ابی بکر ہیثمی ،ت ۸۰۷ ئھ ق، دار ا لکتا ب العربی ، بیروت

۱۴۸ ۔المحاسن ،ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد برقی،ت۲ ۷۴ ئھق،دارالکتب الاسلامیہ ،قم

۱۴۹ ۔المحجة فیما نزل فی الحجة، سید ہاشم بحرانی ،ت۱ ۱۰۷ ئھق،موسسہ الوفاء، بیروت،ت۱ ۴۰۳ ئھق

۱۵۰ ۔مختصر اثبات الرجعہ ،فضل بن شاذان نیشاپوری ،مجلہ تراثنا ،شمارہ۱ ۵

۱۵۱ ۔مختصر بصائر الدرجات ،عز الدین حسن بن سلیمان حلی ،قرن نہم ہجری قمری، چاپخانہ حیدریہ ،نجف اشرف

۱۵۲ ۔مدینة المعاجز ،سید ہاشم بحرانی ،ت۱ ۱۰۷ ئھق،چاپ سنگی تہران

۱۵۳ ۔مرا ة العقول ،محمد باقر مجلسی ،۱ ۱۱۱ ئھق،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران

۱۵۴ ۔مروج الذہب ،علی بن حسین مسعودی ،ت ۳۴۶ ئھق،دارالاندلس، بیروت

۱۵۵ ۔المستجاد --من کتاب الارشاد ،حسن بن مطہر حلی ،ت ۷۲۶ ئھق،کتابخانہ آیة اللہ مرعشی

۱۵۶ ۔مستدرکات علم رجال الحدیث،شیخ علی نمازی ،ت۱ ۴۰۵ ء ھق،چاپخانہ حیدریہ، تہران

۱۵۷ ۔المستدرک علی الصحیحین فی الحدیث ،ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ معروف بہ حاکم نیشاپوری،ت۴ ۰۵ ئھق،دارالفکر ،بیروت

۱۵۸ ۔مستدرک الوسائل ،میرزا حسین نوری طبرسی ،ت۱ ۳۲۰ ئھق،موسسہ آل البیت لاحیاء التراث ،قم


۱۵۹ ۔المسترشد ،ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری ،قرن چہارم ہجری قمری، چاپخانہ حیدریہ ،نجف اشرف

۱۶۰ ۔مسند ابو عوانہ ،یعقوب بن اسحاق اسفرائینی ،ت ۳۱۶ ئھق،دار المعرفة، بیروت

۱۶۱ ۔مسند ابی یعلی الموصلی ،احمدبن علی بن المثنی التمیمی ،ت ۳۰۷ ئھق،دارالمامون للتراث، دمشق

۱۶۲ ۔مسند احمد ،احمد بن حنبل ،ت۲ ۴۱ ھ ء ق،دارالفکر ،بیروت

۱۶۳ ۔مسند ابی داود ،سلیمان بن داود بن الجارود فارسی بصری ،ت۲ ۰۴ ھء ق،دارالمعرفة ، بیروت

۱۶۴ ۔مصابیح السنة ،حسین بن مسعود بن محمد الفراء بغوی ،ت۵ ۱۶ ھءق،دارالمعرفة، بیروت

۱۶۵ ۔مصادقة الاخوان ،ابو جعفر محمد بن رلی بن بابویہ قمی ، ۳۸۱ ھءق،مدرسة الامام المہدی (عج)،قم

۱۶۶ ۔المصنف ،عبد الرزاق بن ھمام صنعائی ،ت۲ ۱۱ ھء،ق المکتب اسلامی، بیروت

۱۶۷ ۔المصنف ،عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ ،ت۲ ۳۵ ھءق،دارالسلفیہ ،بمبئی

۱۶۸ ۔المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ ، احمد بن حجر عسقلانی ،ت ۸۵۲ ئھ ق، دارالمعرفة ، بیروت

۱۶۹ ۔معجم حادیث الامام المہدی (عج)،نجم الدین طبسی باھمکاری جمعی افضلاء ،نشر معارف اسلامی ،قم

۱۷۰ ۔معجم البلدان ،ابوعبد اللہ یاقوت بن عبداللہ حموی بغدادی ،ت ۶۲۶ ھءق، دارالتراث العربی، بیروت

۱۷۱ ۔معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواة،سید ابو القاسم خوئی ،مدینة العلم ،قم

۱۷۲ ۔المعجم الصغیر ،سلیمان بن احمد طبرانی ،ت ۳۶۰ ئھق ،دارالکتب العلمیہ، بیروت

۱۷۳ ۔المعجم الاوسط،سلیمان بن احمد طبرانی ،ت ۳۶۰ ئھق ،کتابفروشی العارف، ریاض

۱۷۴ ۔المعجم الکبیر،سلیمان بن احمد طبرانی ،ت ۳۶۰ ئھق ،وزارت اوقاف عراق

۱۷۵ ۔الملاحم و الفتن فی الظہور الغائب المنتظر،رضی الدین علی بن موسی بن طاوس،ت ۶۶۴ ئھ ق ،موسسہ الاعلمی ،بیروت

۱۷۶ ۔ملاذ الاخیار ،محمد باقر مجلسی ،ت ۱۱۱۱ ھءق،کتابخانہ آیة اللہ مرعشی ،قم


۱۷۷ ۔المنا ر المنیف فی الصحیح والضعیف ،ابن قیم الجوریة ،ت ۷۵۱ ئھق،مکتب المطبو عا ت الاسلامیہ

۱۷۸ ۔مناقب آل ابی طالب ،ابو جعفر رشید الدین محمد بن علی بن شہرآشوب،ت۵ ۸۸ ء ھ ، انتشارات علامہ،قم

۱۷۹ ۔منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر(عج)،شیخ لطف اللہ صافی ،کتابخانہ صدر، تہران

۱۸۰ ۔منتخب الانوار المضیئة ،سید علی بن عبد الکریم نیلی نجفی ،قرننہم ہجری قمری، چاپخانہ خیام، قم،۱ ۴۰۱ ھءق

۱۸۱ ۔منتخب کنزل العما ل ،علاء الدین متقی ہندی ،ت ۹۷۵ ئھق، دارالفکر، بیرو ت

۱۸۲ ۔المنجد ،لویس معلوف یسوعی ،دارالمشرق ،بیروت

۱۸۳ ۔منن الرحمن ،محمدبن بہاء الدین الحارثی ،ت۱ ۰۳۰ ئھق،چاپخانہ حیدریہ، نجف اشرف ،۱ ۳۴۴ ئھ

۱۸۴ ۔منیة المرید ،زین الدین ب علی ابن احمد عاملی ، ۹۶۵ ئھ،ق انتشارات دفتر تبلیغا ت اسلامی، قم،۱ ۳۶۸ ئش

۱۸۵ ۔منہاج الدموع ،شیخ علی قرنی گلپائیگانی ،موسسہ مطبوعاتی دین و دانش ،قم،۱ ۳۴۴ ء ھ ق

۱۸۶ ۔مہدی موعود ،محمد باقر مجلسی ، ۱۱۱۱ ھءق،ترجمہ علی دوانی آخوندی ،تہران

۱۸۷ ۔الہذب البارع فی شرح المختصر النافع،شیخ جمال الدین ابو العباس ،احمد بن فہد حلی اسدی، ۸۴۱ ھءق،انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامع مدرسین،قم

۱۸۸ ۔موارد السجن فی النصوص والفتاوی ،نجم الدین طبسی ،دفتر تبلیغات اسلامی،قم ،۱ ۴۱۱ ھء ق

۱۸۹ ۔الموطا ،مالک بن ا نس ،ت۱ ۷۹ ھءق،داراحیاء التراث العربی ،بیروت

۱۹۰ ۔المیزان فی تفسیر القرآن،سید محمد حسین طباطبائی ،ت۱ ۴۰۲ ھءق،دارالکتب الاسلامیہ ،تہران

۱۹۱ ۔النفی والتغریب ،نجم الدین طبسی ،مجمع الفکر الاسلامی ،قم

۱۹۲ ۔نقش زنان مسلمان درجنگ ،محمد جواد طبسی نجفی ،چاپخانہ طلوع آزادی،۱ ۳۶۷ ئش


۱۹۳ ۔نور الابصار ،فی مناقب آل النبی المختار ،شیخ مومن بن حسن مومن شبلنجی ،ت۱ ۲۹۰ ھ ء ق،دارالفکر ،بیروت

۱۹۴ ۔النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ،مبارک بن حمد جزری معروف بہ ابن الاثیر، ت ۶۰۶ ئھق، اسماعلیلیان ،قم

۱۹۵ ۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ،محمد بن الحسن حر عاملی ،ت۱ ۱۰۴ ھء ق ، دار احیاء التراث العربی ،بیروت

۱۹۶ ۔وقعة صفین ،نصر بن مزاحم منقری ،ت۲ ۱۲ ھءق،کتابخانہ آیة اللہ مرعشی، قم، ۱۶۰۳ ئھ ق

۱۹۷ ۔الہدایة الکبری ،حسین بن حمدان حسینی حصینی ،ت۱ ۲۹۴ ئھق،موسسة البلاغ،۱ ۴۰۶ ئھق

۱۹۸ ۔ینابیع المودة ،سلیمان بن ابراہیم بن قندوزی حنفی،ت۱ ۲۹۴ ئھق،کتابفروشی محمدی، قم

۱۹۹ ۔یوم الخلاص فی ظل القائم المہدی (عج) ،کامل سلیمان ،دار الکتاب اللبنانی ،۱ ۴۰۲ ئھ ق


فہرست

حرف اول ۴

بیان حقیقت ۷

پیش گفتار ۹

پہلا حصَّہ ۱۴

دنیا ظہور سے قبل ۱۴

پہلی فصل ۱۶

حکومت ۱۶

الف)حکومتوں کا ظلم ۱۶

ب)حکومتوں کی تشکیل ۱۸

ج)حکومتوں میں عورتوں کا نفوذ ۱۸

د)بچوں کی فرمانروائی ۱۹

ھ)حکومت کی نا پایداری ۱۹

و)ملک کا ادارہ کرنے سے حکومتیں بے بس و مجبور ۲۰

دوسری فصل ۲۱

لوگوں کی دینی حالت ۲۱

الف)اسلام اورمسلمان ۲۱

ب) مساجد ۲۲

ج)فقہاء ۲۲

د)دین سے خروج ۲۳

ھ)دین فروشی ۲۳


تیسری فصل ۲۵

ظہو ر سے قبل اخلاقی حالت ۲۵

الف)انسانی جذبات کا سرد پڑجانا ۲۵

ب)اخلاقی فساد ۲۶

ج)بد اعمالیوں کا رواج ۲۷

د)اولا دکم ہونے کی آرزو ۲۸

ھ)بے سر پر ست خانوا دوں کی زیادتی ۲۹

چوتھی فصل ۳۱

ظہور سے پہلے امن وامان ۳۱

ب)راستوں کا غیر محفوظ ہونا ۳۲

ج)خوفناک جرائم ۳۳

د)زندوں کو موت کی آرزو ۳۵

ھ)مسلمانوں کا اسیر ہونا ۳۷

و)زمین میں دھسنا ۳۷

ز)ناگہانی (اچانک)اموات کی زیادتی ۳۸

ح)دنیا والے نجات سے نا امید ہوں گے ۳۸

ط)مدد گاروں کا فقدان ۳۹

ی)جنگ ،قتل،اور فتنے ۴۰

پانچویں فصل ۴۷

دنیا کی اقتصادی حالت ظہور کے وقت ۴۷

الف) بارش کی کمی اور بے موقع بارش ۴۷


ب) چھوٹی چھوٹی (ندیوں، جھیلوں کا خشک ہو نا) ۴۸

ج)قحط،فقرو کساد بازاری ۴۹

د)غذاکے بدلے عورتوں کا تبادلہ ۵۱

چھٹی فصل ۵۲

امید کے دریچے ۵۲

الف)حقیقی مومنین ۵۲

ب)شیعہ علماء و دانشوروں کا کردار ۵۳

ج)شہر قم کا آخر زمانہ میں کردار ۵۴

قم اہل بیت علیہم السلام کا حرم ۵۵

شہر قم دوسرے افراد پر حجت ہے ۵۶

قم؛اسلامی تہذیب و ثقافت کے نشر کا مر کز ۵۷

قم کی فکری روش کی تائید ۵۸

حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ)کے انصار ۵۹

ایران،امام زمانہ کا ملک ہے ۶۰

ایرانیوں کی عظمت ۶۰

ظہور کی راہ ہموار کرنے والے ۶۱

حصہ دوم ۶۴

پہلی فصل ۶۴

امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا قیام ۶۴

اس سلسلے میں اب روایات ملاحظہ ہوں۔ ۶۴

الف)اعلان ظہور ۶۶


ب)پرچم قیام کا نعرہ ۶۷

ج)قیام سے کائنات کی خوشحالی ۶۸

د)محرومین کی نجا ت ۶۹

۵ ۔امام (علیہ السلام) کے قیام کے وقت عورتوں کا کردار ۷۱

تاریخی کتابوں میں عصر ظہور کی عورتوں کے ماضی کی تحقیق ۷۳

۱ ۔صیانة ۷۴

۲ ۔ام ایمن ۷۵

۳ ۔زبیدہ ۷۶

۴ ۔سمیّہ ۷۷

۵ ۔ام خالد ۷۷

۶ ۔حبابہ والبیہ ۷۷

۷ ۔قنوا دختر رشید ھجری ۷۹

پیغمبر اسلام کے زمانے میں عورتوں کا کردار ۸۱

بعض وہ عورتیں جو اہم کر دار ادا کررہی تھیں ۸۲

دوسری فصل : ۸۶

رہبر قیام ۸۶

الف) جسمی خصوصیات ۸۶

۲ ۔جسمی خصوصیات ابو بصیر کی زبانی ۸۸

ب)اخلاقی کمالات ۸۹

۱ ۔خوف خدا ۸۹

۲ ۔زہد ۹۰


۳ ۔ لباس ۹۱

۴ ۔اسلحہ ۹۲

۵ ۔امام اور صورت کی شناخت ۹۳

۶ ۔کرامات ۹۵

۱ ۔پرندوں کا بات کرنا ۹۶

۲ ۔پانی کا ابلنااور زمین سے غذا کا حاصل کرنا ۹۷

۳ ۔طی الارض اور سایہ کا فقدان ۹۸

۴ ۔انتقال کا ذریعہ ۹۸

۵ ۔زمانے کی چال میں سستی ۹۹

۶ ۔قدر ت تکبیر ۹۹

۷ ۔پانی سے گذر ۱۰۱

۸ ۔بیماروں کو شفا ۱۰۱

۹ ۔ہاتھ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا ۱۰۱

۱۰ ۔بادل کی آواز ۱۰۲

تیسری فصل : ۱۰۳

امام کے سپاہی ۱۰۳

الف) لشکر کے کمانڈر ۱۰۳

۱ ۔حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۱۰۳

۲ ۔شعیب بن صالح ۱۰۴

۳ ۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے فرزند اسمعٰیل اور عبد ابن شریک ۱۰۵

۴ ۔عقیل و حارث ۱۰۶


۵ ۔جبیر بن خابور ۱۰۶

۶ ۔مفضل بن عمر ۱۰۷

۷ ۔اصحاب کہف ۱۰۷

ب) سپاہیوں کی قومیت ۱۰۸

۱ ۔ ایرانی ۱۰۸

قم ۱۱۱

خراسان ۱۱۱

طالقان ۱۱۲

۲ ۔عرب ۱۱۲

مختلف ادیان کے پیرو کار ۱۱۴

۴ ۔ جابلقا و جَابَرسَا۔ ۱۱۷

ج)سپاہیوں کی تعداد ۱۱۸

۱ ۔مخصوص افواج ۱۱۹

۲ ۔حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی فوج ۱۲۲

۳ ۔ حفاظتی گارڈ ۱۲۳

د)سپاہیوں کا اجتماع ۱۲۳

ھ)سپاہیوں کی قبولیت کے شرائط اور امتحان ۱۲۶

و)سپاہیوں کی خصوصیت ۱۲۹

۱ ۔عبادت و پر ہیز گاری ۱۲۹

۲ ۔امام سے عشق اور آپ کی اطاعت ۱۳۰

۳ ۔سپاہی قوی ہیکل اور جوان ہوں گے ۱۳۲


۴ ۔پسند ید ہ سپاہی ۱۳۴

شہادت کے متوالے ۱۳۵

چوتھی فصل : ۱۳۶

حضرت کی جنگیں ۱۳۶

الف) شہیدوں اور مجاھدوں کی جزا ۱۳۶

ب)جنگی اسلحے اور ساز وسامان ۱۳۸

ج)امام کا نجات بشر کے لئے دنیا پر قبضہ ۱۳۹

شورشوں کی سرکوبی ،فتنوں کی خاموشی ۱۴۹

ھ)جنگوں کا خاتمہ ۱۵۱

پانچویں فصل : ۱۵۳

غیبی امداد ۱۵۳

الف) رعب ،خوف اورامام کے اسلحے ۱۵۳

ب) فرشتے اور جنات ۱۵۴

ج)زمین کے فرشتے ۱۵۷

د)تابوت موسیٰ (علیہ السلام) ۱۵۹

چھٹی فصل : ۱۶۱

دشمنوں سے امام کا سلوک ۱۶۱

الف) دشمنوں کے مقابل امام کی استقامت ۱۶۲

۱ ۔جنگ و کشتار ۱۶۲

۲ ۔پھانسی اور جلا وطنی ۱۶۴

۳ ۔ہاتھوں کا قطع کرنا ۱۶۵


ب)مختلف گروہ سے مقابلہ ۱۶۶

۱ ۔ قوم عرب ۱۶۶

۳ ۔باطل و منحرف فرقے ۱۷۰

۴ ۔مقدس نما لوگ ۱۷۲

۵ ۔ ناصبی (دشمنان اہلیبت علیہم السلام) ۱۷۳

۶ ۔منافقین ۱۷۴

۷ ۔شیطان ۱۷۶

ساتویں فصل ۱۷۷

سنت محمدی کا احیاء( زندہ کرنا) ۱۷۷

الف) احکام جدید ۱۸۰

۱ ۔زنا کار اور زکوة نہ دینے والوں کو پھانسی ۱۸۰

۲ ۔قانون ارث ۱۸۲

۳ ۔جھوٹوں کا قتل ۱۸۲

۴ ۔حکم جزیہ کا خاتمہ ۱۸۳

۵ ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے باقی ماندہ قاتلوں سے انتقام ۱۸۳

۶ ۔رہن و وثیقہ کا حکم ۱۸۴

۷ ۔ تجارت کا فا ئد ہ ۱۸۵

۸ ۔برادران دینی کا ایک دوسرے کی مدد کرنا ۱۸۶

۹ ۔قطایع کا حکم (غیر منقول اموال کا مالک ہونا) ۱۸۶

۱۰ ۔دولتوں کا حکم ۱۸۶

ب)اجتماعی اصلاح،مسجد کی عمارت کی تجدید ۱۸۷


۲ ۔راستے میں واقع مساجد کی تخریب ۱۸۸

۳ ۔مناروں کی ویرانی ۱۸۸

۴ ۔مساجد کی چھتوں اور منبروں کی تخریب ۱۸۹

۵ ۔مسجد الحرام و مسجد النبی کا اصلی حالت پر لوٹانا ۱۹۰

ج) قضاوت (فیصلہ ) ۱۹۰

د)حکومت عدل ۱۹۲

مرحوم طبرسی کی نظر ۱۹۲

حصہ سوم ۱۹۵

پہلی فصل ۱۹۵

حکومت حق ۱۹۵

الف) دلوں پر حکومت ۱۹۹

ب)حکومت کا مرکز (پایہ تخت) ۲۰۱

ج)حکومت مہدی کے کارگذار۔ ۲۰۳

د)حکومت کی مدت ۲۰۶

دوسری فصل ۲۱۰

علم و دانش اور اسلامی تہذیب میں ترقی ۲۱۰

الف)علم و صنعت کی بہار ۲۱۲

ب)اسلامی تہذیب کارواج ۲۱۶

۱ ۔اسلامی معارف و قرآن کی تعلیم ۲۱۸

۲ ۔تعمیر مساجد ۲۱۸

۳ ۔اخلا ق و معنویت میں رشد اور ترقی ۲۱۹


تیسری فصل ۲۲۵

امنیت ۲۲۵

الف)عمومی امنیت ۲۲۶

ب)راستے کی امنیت ۲۲۹

ج)فیصلوں پر اعتماد ۲۳۲

چوتھی فصل ۲۳۵

اقتصاد ۲۳۵

الف)اقتصاد اور اجتماعی رفاہ میں رونق ۲۳۶

۱ ۔مال و دولت کی تقسیم ۲۳۶

۲۔سماج سے فقر وتنگد ستی کا خاتمہ ۲۳۸

۳ ۔محرومین و مستضعفین کی رسیدگی ۲۴۰

ب)آبادی ۲۴۱

ج)زراعت ۲۴۴

۱ ۔بارش کی زیادتی ۲۴۵

۲ ۔کا شتکاری کے نتیجوں میں برکت ۲۴۷

۳ ۔حیوانوں کے پالنے کا رواج ۲۴۹

۴ ۔تجارت ۲۵۰

پانچویں فصل ۲۵۲

صحت اور علاج ۲۵۲

الف)بیماریوں کا عام رواج اور ناگہانی موتوں کی کثرت ۲۵۳

ب)صحت و تندرستی ۲۵۵


ج)علاج ۲۵۷

امام (علیہ السلام) کی شہادت ۲۵۸

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کیفیت شہادت ۲۶۰

منابع و ماخذ ۲۶۲