زندگی مہدوی (دعاۓ عہد کے سایہ میں)
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف حجت الاسلام محسن قرائتی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


زندگی مہدوی (دعاۓ عہد کے سایہ میں)

تالیف:حجۃ الاسلام استاد محسن قرائتی حفظہ اللہ

ترجمہ: سید محمود موسوی

تصحیح :مولانامصطفی فخری


انتساب

میں اپنی یہ ناچیز کاوش ، وارث علم کردگار، حامل علم رسول مختار،

ناظر گردش لیل و نہار، شیعیت کی محور و مدار ، نور چشم صاحب ذوالفقار،

قائم آل محمد یوسف زہرا علیہا السلام ،حضرت حجت ،

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف

کی پاک بارگاہ میں پیش کر کے قبولیت کا متمنی ہوں۔


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مقدمہ :

وہ دعائیں کہ جن کو امام زمان علیہ السلام کے غیبت کے زمانے میں پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے ان میں ایک دعائے عہد ہے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام اس دعا کے بارے میں فرماتے ہیں :

مَنْ‏ دَعَا إِلَى‏ اللَّهِ‏ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً بِهَذَا الْعَهْدِ كَانَ مِنْ أَنْصَارِ قَائِمِنَا عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَهُ أَخْرَجَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَبْرِهِ، وَ أَعْطَاهُ اللَّهُ بِكُلِّ كَلِمَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ، ۔(۱)

امام فرماتے ہیں کہ جو شخص چالیس دن صبح کے وقت اس دعا کو پڑھے گا تو وہ امام زمانہ علیہ السلام کے مددگاروں میں سے ہوگا اور اگر وہ امام کے ظہور سے پہلے مرجائے تو خدا وند متعال اسے زندہ کرے گا تاکہ امام علیہ السلام کے ہم رکاب ہوکر جنگ کر سکے اور اس کے ہر کلمہ کے بدلے میں ہزار حسنات لکھے گا اور ہزار خطاؤں کو محو کرے گا ۔

یہ دعا دنیا اور آخرت دونوں میں بہت ہی آثار اور برکات کے حامل ہے امام خمینی کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک کہتے ہیں کہ ایک چیز جسے امام خمینی نے اپنے آخری ایام میں مجھے وصیت کی ، وہ دعائے عہد کی تلاوت کے بارے میں تھی آپ فرماتے تھے کہ صبح کے وقت اس کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ آپ کے تقدیر سنورنے میں دخالت رکھتی ہے ۔(۲)

اسی طرح ان کی سیرت میں بھی ملتا ہے کہ جب آپ بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل تھے تب بھی آپ قرآن اور مفاتیح کی تلاوت کرتے رہتے تھے جب آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مفاتیح کو دیکھا تو آپ نے دعاے عہد پر نشان لگا کر رکھا تھا ۔(۳)

دعاے عہد کی مسلسل تلاوت کرنے کے اہم ترین آثار اور برکات میں علماء نے تین چیزیں بیان کئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔(۴)

۱ ۔ اسے اس شخص کا ثواب دیا جائے گا جو امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقت اس کے خدمت میں ہو ۔

۲ ۔ انسان کی ایمان اور اخلاص اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

۳۔ اور دعا کرنے والے پر امام زمانہ علیہ السلام کی خاص توجہ اور عنایت ہوتی ہے ۔

اور اسی طرح سے اس دعا میں امام زمان علیہ السلام کی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے چونکہ یہ دعا کرنے والے کی طرف سے ایک خصوصی درود و سلام پر مشتمل ہے اور دنیا کے مشرق ومغرب اور خشکی و دریا اور ہر شہر و بستی میں رہنے والے تمام مؤمنین و مؤمنات اور ہمارے والدین کی طرف سے امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں خصوسی درود و سلام پر مشتمل ہے ۔ اسے پڑھنے کے بعد انسان اپنے زمانے کے امام کے ہاتھوں پر بیعت کرتا ہے اور اپنی اس عہد و پیمان پر قیامت تک ثابت قدم رہنے کا اظہار کرتا ہے ۔

اور اس وقت خداوند عالم سے دعا کرتا ہے کہ اگر اس کی موت امام زمان کے ظہور سے پہلے واقع ہو جائے تو امام کی ظہور کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے تاکہ امام زمانہ کی مدد کا شرف حاصل کرسکے ۔

اور امام زمانہ کے ظہور میں تعجیل اور اسکی حکومت قائم ہونے اور دنیا کی حالت سدھر نے اور دین کی حقیقت آشکار ہونے کے لئے دعا کرنا بھی اس دعا کا آخری حصہ ہے ۔یہ دعا آٹھ حصوں پر مشتمل ہے ہم ان کے بارے میں بحث کریں گے ۔


پہلا حصّہ:

خدا شناس

اس دعا کا آغاز لفظاللَّهُمَ‏ سے ہوا ہے اور یہ لفظ اس دعا میں تیرہ ۱۳ مرتبہ تکرار ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دعاکرنے والے کا اللہ تعالی پر خصوصی توجہ ہے اور اس کلمہ کے بعد (رب ) کا نام آیا ہے جو اس دعا میں پانچ بار تکرار ہوا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعا کرنے والے کو ہمیشہ اور ہر لحظہ خدا کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔

چونکہ قرآن مجید میں بھی دعا کرنے کا طریقہ اسی طرح سے آیا ہے جیسا کہ سورہ مائدہ /آیت /۱۱۴ میں( اللَّهُمَ‏ رَبَّنَا ) آیا ہے۔معمولا قرآن مجید میں دعا کا آغاز (رب ) کے نام سے ہوتا ہے لیکن اس آیت میں دو کلمے جیسےاللَّهُمَ‏ رَبَّنَا آیا ہے۔

یہ شاید اس دعا کی اہمیت اور اس کے نتائج کی وجہ سے ہو ۔ اس حصے سے ہم یہ درس لیں گے کہ ہمیشہ خدا کو بہترین آداب اور اپنی حاجت کے ساتھ مناسب اللہ تعالی کے اوصاف سے پکارنا چاہیے ۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا خدایا مجھے اسمان سے کھانا نازل فرما تاکہ مشرکین جان لیں کہ یہ کوئی سادہ کام نہیں بلکہ ایک معجزہ الہی ہے ۔پس اس لحاظ سے اس جیسی دعاؤں کی مثالیں قرآن کریم میں بھی موجود ہے جودعاوں میں خدا شناسی کی اہمیت کی نشان دہی کرتی ہے ۔منتظر شخص کو بعض تعلیمات اور معرفت کی ضرورت ہوتی ہے کہ جن میں سب سے پہلی چیز شناخت ہے اور انسان کو باقی دوسرے موجودات پر جو امتیاز حاصل ہے وہ معرفت اور شناخت ہے اور معرفت اور شناخت کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے بہت سی آیات میں اس معرفت اور شناخت کو حاصل کرنے کی طرف انسانوں کو دعوت دی ہے اور ان لوگوں کی جو اہل تفکر و تدبر نہیں ہیں سختی کے ساتھ توبیخ اور مذمت ہوئی ہیں ۔

اور قرآن نے ہمیں ان لوگوں کی پیروی کرنے سے منع کیا ہے جو شناخت اور معرفت نہیں رکھتے ہیں جیساکہ فرمایا "( وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْم ) (۵) اور اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ہے ۔

وہ لوگ جو بغیر کسی شناخت اور معرفت کے کوئی راستہ اختیار کرتے ہیں اور کوئی عمل انجام دیتے ہیں انہیں گونگے اور اندھے سمجھتے ہیں جو تدبر اور تفکر نہیں کرتے ہیں ۔

معرفت اور شناخت کی ضرورت کے بارے میں مولائے کائنات نے اپنے صحابی کمیل کو جو بیان فرمایا تھا وہ بہت ہی قابل توجہ ہے فرمایا :يَا كُمَيْلُ‏ مَا مِنْ‏ حَرَكَةٍ إِلَّا وَ أَنْتَ مُحْتَاجٌ فِيهَا إِلَى مَعْرِفَة .(۶)

اے کمیل کوئی بھی حرکت انجام نہیں پاتی ہے مگر یہ کہ تمہیں شناخت اور معرفت کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیوں کہ معرفت اور شناخت ہمارے اعمال کو قیمتی بناتے ہے اسلام میں ہمارے اعمال اور عبادات کے درجات ہماری معرفت سے وابستہ ہے جتنی ہماری معرفت زیادہ ہوگی اتنا ہی ہماری عبادت کا درجہ بلند ہوگا کیونکہ اللہ تعالی انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام اصول الدین اور فروع دین کی معرفت منتظرین امام علیہ السلام کے لئے بہت ہی ضروری ہے اسی نکتے کی پیش نظر سب سے پہلا راستہ جو یہ دعائے مہدوی زندگی کے لئے معین کرتا ہے وہ خدا شناسی ہے ۔کیونکہ اس دعا کی ابتدا ہی اللہ تعالی کے ذکر اور اس کے اوصاف سے ہوئی ہے ۔

اور جو بھی امام زمانہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے خدا کی معرفت حاصل کرے۔ اور امام زمان کی غیبت کے زمانے میں اس دعا کو پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے کہ جس میں خود اللہ تعالی سے اپنی معرفت اپنے رسول اور ولی کی معرفت کی دعا کریں جس کے بغیر ہم گمراہ ہوں گے جیسے ۔

اللَّهُمَ‏ عَرِّفْنِي‏ نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ رَسُولَك‏. (۷)

(خدایا مجھے اپنے نفس کی پہچان کر اگر ایسا نہ ہوا تو میں آپ کے رسول کو نہیں پہچان سکوں گا )۔

خدا کو پہچاننا امام کو پہچاننے کے لئے مقدمہ ہے کیونکہ اگر کوئی شخص امام زمانہ کو پہچاننا چاہے تو ضروری ہے کہ وہ

پہلے خدا کو پہچانے اور توحید کو پہچانے ۔

امام مہدی کے حقیقی منتظرین کے تمام چال و چلن کی بنیاد خدا کی حقیقی معرفت و شناخت اور دینی دستورات پر گہرا علم حاصل ہونا ہے ۔

اور یہی چیزیں سبب بنتی ہے کہ منتظر شخص کا اٹھنا بیٹھنا دیکھنا اور سننا یہاں تک کہ سوچنا بھی الہی دستورات کے مطابق ہوتا ہے چونکہ اس کو ان پر ملکہ حاصل ہوتا ہے اور خدا کی رضا اور حجت خدا کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔

یاران امام زمان علیہ السلام کے اوصاف میں خدا شناسی کی بحث کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔اور وہ لوگ جو خدا کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں وہ امام زمان کے مددگار ہیں :رِجَالٌ‏ مُؤْمِنُونَ‏ عَرَفُوا اللَّهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ وَ هُمْ أَنْصَارُ الْمَهْدِيِّ فِي آخِرِ الزَّمَان‏ (۸)

اور خدا کی وحدانیت پر ایمان کامل رکھتے ہیں جیسے :فهم‏ الذين‏ وحّدوا اللّه تعالى حقّ توحيده .(۹)

اسی لئے ان کی علامت یہ ہے کہ وہ لوگ اطاعت الہی میں ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں جیسے:مجدون فی طاعة الله (۱۰)

اور یہ وہی لوگ ہے جیسے :وَ هُمُ‏ الَّذِينَ‏ قَالَ‏ اللَّهُ‏ فِيهِمْ- فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ .(۱۱)

امام زمانہ علیہ السلام کے انصار وہ ہیں کہ جن کے اوصاف اللہ تعالی اس طرح بیان کرتا ہے کہ خدا وند عالم ان کو دوست رکھتا ہے اور یہ لوگ خدا کو دوست رکھتے ہیں ۔

دعائے عہد کی ابتداء میں خداوند عالم کی سولہ /۱۶ اوصاف بیان ہوئیں ہیں ۔جیسے خدا وند عالم نور عظیم ہے بلند کرسی - جوش مارتا ہوا دریا - تپتی ہوئی دھوپ کا سایہ - تورات و انجیل و زبور اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والا - وغیرہ

اس حصے میں سات خاص صفات بیان ہوئی ہیں جو خدا شناسی سے مربوط ہیں ۔

۱-اللَّهُمَ‏ رَبَ‏ النُّورِ الْعَظِيم ۔

اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار ۔

معمولا لوگ جب کوئی تعمیراتی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کی افتتاح کرنے کے لئے کسی بڑی شخصیت کو بلاتے ہے تاکہ وہ اسی کام کا افتتاح کرے اگر یہی طریقہ ہی ہے تو ہم اپنے کام کا آغاز خدا کے نام سے کرتے ہیں جو تمام مخلوقات کا خالق اور تمام خوبصورتیوں کا مرکز ہے ۔( وَ لِلَّهِ الْأَسمْاءُ الحْسْنىَ‏ ) (۱۲) زیبا ترین نام اللہ ہی کے لیے ہیں۔

یہ آیت قرآن میں تین بار تکرار ہوئی ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ بہترین نام اللہ کے لئے ہیں اور اسماء حسنی کے درمیان کلمہ اللہ میں تمام صفات موجود ہے جس طرح سے ماں کے دودھ میں گلوکوز چکنائی مایعات اور تمام وٹامینز موجود ہوتی ہے جن کے بچے کو ضرورت ہوتی ہے اور ایک کامل غذا ہے اسی طرح اسماء الہی میں کلمہ اللہ میں تمام کمالات موجود ہے جو اللہ تعالی کے کامل ترین نام ہے ۔

اور اسم اللہ کے بعد اسم (رب ) آیا ہے یہ کلمہ رب مالک اور پر ورش کرنے والے کے معنی میں آیا ہے ۔

یعنی اللہ مالک بھی ہے اور پرورش کرنے والا بھی ہے ۔ اور دعاے عہد میں اس کلمہ کا تکرار ہونا اس کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح سے قرآن میں بھی رب کانام بہت ہی تکرار ہوا ہے تقریبا نویں /۹۰ مرتبہ ذکر ہوا ہے قرآن مجید میں سب سے زیادہ اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بعد رب کا لفظ ہے ۔

اور یہاں پر ان الفاظ کاتکرار ہونا بلاغت کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا ہے چونکہ انکا موقیعت ہی مختلف ہے اور ساتھ ہی تذکر، تفصیل اور تنوع کے لئے تکرار لازمی ہے جو یاد دہانی اور تربیت کے لئے بہترین طریقہ ہے لیکن اس دعا کی ابتداء میں کلمہ رب کا تکرار کے ساتھ آنا حکمت سے خالی نہیں ہے بالخصوص پانچ مقام پر یہ اسم الہی آیا ہے چونکہ کلمہ رب اور اس کا تکرار ہونا دعا کو قبولیت کے نزدیک کرتا ہے ۔ سورہ انبیاء آیت / ۸۹ میں آیا ہے( وَ زَكَرِيَّا إِذْ نَادَى‏ رَبَّهُ رَبّ‏ِ لَا تَذَرْنىِ فَرْدًا وَ أَنتَ خَيرْ الْوَارِثِين ) . اور زکریا کو بھی (رحمتوں سے نوازا) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے ۔

اسی طرح حضرت ابراہیم کے دعاؤں میں بھی یہ لفظ رب کا تکرار ہونا بھی قابل توجہ ہے جو کہ دعا کے قبول ہونے میں بہت ہی مؤثر ہے یا آداب دعا میں سے ہے.(۱۳)

رَبّ‏ِ اجْعَلْنىِ مُقِيمَ الصَّلَوةِ وَ مِن ذُرِّيَّتىِ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاءِ- رَبَّنَا اغْفِرْ لىِ وَ لِوَالِدَىَّ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَاب .

میرے رب مجھے اور میرے والدین اور ایمان والوں کو بروز حساب مغفرت سے نواز۔

اکثر دعاؤں میں کلمہ رب کو اصرار اور تکرار کے طور پر استفادہ کیا ہے جیسے دعاے مجیر میں تقریبا ستر /۷۰ بار تکرار ہوا ہے (اجرنا من النار یارب ) خدایا مجھے جہنم کی آگ سے نجات دے دیں ۔

اور دعاے جوشن کبیر میں سو بند ہیں اور ہر بند کے آخر میں ( خلصنا من النار یارب ) پڑھتے ہیں ۔

لیکن اس دعا میں کلمہ رب کا تکرار شاید بہترین اور مناسب ترین اسم رجعت کے لئے ہے یعنی خداوند عالم مالک اور پر ورش کرنے والا ہے اور دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے ۔

۲-وَ رَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيعِ ، :

اے بلند کرسی و بلند مرتبہ والا پروردگار ۔

یہاں پر کرسی کنایہ کے طور پر استعمال ہواہے اس سےمراد قدرت و حکومت اور کائنات پر مکمل اختیار ہے اور فارسی زبان میں بھی یہی مثال ہے کہ تخت پر بیھٹنا یا بٹھانا ۔ یہاں پر یہ بھی ممکن ہے عرش کنایہ ہو دنیاے مارای مادہ سے اور کرسی کنایہ ہو جہان مادہ سے ۔ کیونکہ آیت الکرسی میں پڑھتے ہیں کہ:

( وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْض ) . اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کرسی سےمراد خداوند عالم کا علم ہے جیسے

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ- وَسِعَ‏ كُرْسِيُّهُ‏ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ‏ قَالَ عِلْمُهُ .(۱۴)

امام صادق علیہ السلام نے پیغمبرخدا سے ایک اور حدیث نقل کی ہے اس میں فرمایا کہ کرسی سے مراد ایک جہان کا نام ہے جو اس قدر وسیع ہے کہ تمام آسمانوں و زمینوں کو اپنے اندر سمیٹی ہوئی ہے یعنی تمام زمین و آسمان اس کی نسبت سے انگھوٹھی کے نگینے کے یا اس کے حلقے کی مانند ہے.(۱۵)

اس کرسی کے بارے میں مختلف روایات ہے جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : یہ ان علوم میں سے ہے جو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے ۔

۳-وَ رَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ،:

اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار ۔

قرآن مجید میں اس شعلہ اور جوش کے بارے میں آیا ہے جیساکہ سورہ تکویر میں پڑھتے ہیں ۔( وَ إِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَت ) ۔ اور جب سمندروں کو جوش میں لایا جائے گا۔

اس سے مراد وہ دریا ہے جو قیامت کے دن بھڑکائے جائنگے یا وہ آگ ہے جو زمین کی تہہ میں موجود ہے جو کبھی آتش فشاں کی شکل میں بھڑکتا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ قرآن نازل اور قرآن صائد یعنی دعا )انسانوں کو وہ چیزیں جو وہ دیکھتے ہیں اور وہ چیزیں جو وہ نہیں دیکھتے ہیں ان سب کی طرف توجہ دلا رہے ہیں ابتداء میں ان چیزوں کو باور کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن خداوند متعال کے لئے یہ تمام چیزیں

آسان و ممکن ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

۴-وَ مُنْزِلِ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الزَّبُورِ ،:

اے تورات اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے۔

آسمانی کتابوں کو خدا وند عالم نے انسان کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے ۔اور صحف اولی سے مراد سورہ طہ کی آیت /۱۳۳ ۔ میں تورات و انجیل اور زبور لیا ہے اور تورات و انجیل کا آسمانی کتاب ہونا صرف اس معنی میں نہیں کہ وہ ہمیشہ رہےگا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام آسمانی کتابیں ایک ہی ہستی کی نازل کی ہوئی ہے جیسا کہ فرمایا :( مُصَدِّقًا لِّمَا بَينْ‏َ يَدَيْه ) ۔(۱۶) اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو پہلے سے موجود ہے ۔کیونکہ تمام ادیان کے ایک ہی اصول ہیں لیکن ان کی شریعتیں مختلف ہیں ۔دین اور شریعت ہی وہی راستہ ہے جو ہمیں حقیق حیات اور انسانیت تک پہنچاتی ہے چونکہ ہر زمانے میں صرف ایک ہی شریعت ہوتی ہے اور ہمارے زمانے میں جو دین و شریعت ہے وہ دین اسلام ہے اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہے ۔

( إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْاسْلَام ) (۱۷) : اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔

اسلام عدل اور عدالت کا دین ہے اور اسی عدالت کو قائم کرنے کے لئے آیا ہے اسی لئے خداوند عالم کے تمام عملی احکام و تر بیتی اصول سب اسی عدل کی بنیاد پر قائم ہے ۔اورہمیں قرآن مجید کے تمام موضوعات عادلانہ نظر آتی ہیں اور تمام اصولوں میں انصاف و عدالت ہی ہے چونکہ قرآن کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمام آسمانی کتابیں جو قرآن سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی بھی تائید کرتی ہے اور یہ خود عدل و انصاف کی ایک بہترین مثال ہے ۔

کلمہ زبور لغت میں تحریر اور کتاب کے معنی میں آیا ہے ۔فرمایا :( وَ كلُ‏ُّ شىَ‏ْءٍ فَعَلُوهُ فىِ الزُّبُر ) (۱۸) .

اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے سب نامہ اعمال میں درج ہے۔ لیکن یہ آیت کی قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد حضرت داؤد علیہ السلام کی مخصوص کتاب ہے جیسے :( وَ ءَاتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا ) .(۱۹)

اور داؤد کو ہم نے زبور عطا کی ہے ۔اور یہ مناجات و دعاؤں کا ایک مجموعہ ہے جو حضرت داؤد کی ہے ۔یہ ایک سو پچاس فصلوں پر مشتمل ہے اور یہ کتاب تورات کے بعد نازل ہوئی ہے چونکہ سورہ انبیاء کی آیت /۱۰۵ میں اس ذکر سے مراد تورات لیا ہے جیسا کہ فرمایا :( وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فىِ الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّلِحُون ) ۔ اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔

اور اسی طرح سے آیت /۴۸ میں بھی موجود ذکر سے مراد توریت ہے جیسے :( وَ لَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسىَ‏ وَ هَرُونَ الْفُرْقَانَ وَ ضِيَاءً وَ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِين ) .اور بتحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان ، ایک روشنی اور ذکر عطا کی ان متقین کے لیے۔لیکن اہم ترین آسمانی کتابیں تورات یہودیوں کی اور انجیل مسیحیوں کی اور قرآن مسلمانوں کی ہیں اللہ تعالی نے ان تینوں کو ایک سورہ میں نور کہا ہے ۔ سورہ مائدہ کی آیت /۱۵ میں قرآن کو نور بیان فرمایا ہے :

( قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُور ) ۔بتحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔

اور اسی آیت /۴۴ میں تورات کو بھی نور کہا گیا ہے جیسا کہ فرمایا :( إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَ نُور ) ۔ ہم نے توریت نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا، اور اسی طرح آیت / ۴۶ میں انجیل کو نور سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ فرمایا"( وَ ءَاتَيْنَاهُ الْانجِيلَ فِيهِ هُدًى وَ نُور ) ۔ اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا ۔

اسی طرح سے قرآن مجید اور دوسر ی آسمانی کتابوں کے درمیان بہت ساری شباہتیں پائی جاتی ہیں اور خصوصا قرآن مجید اور توریت کے درمیان بہت ہی زیادہ شباہت موجود ہے کیونکہ انجیل میں زیادہ تر موعظہ و نصیحتیں ذکر ہوئی ہیں اور زبور میں زیادہ تر دعائیں ذکر ہوئی ہیں لہذا قوانین کے اعتبار سے تورات و قرآن میں زیادہ شباہت ہے یہی وجہ ہے کہ تورات کو امام کہا جاتا ہے ۔( وَ مِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسىَ إِمَامًا. ) ۔اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (بھی دلیل ہو جو) راہنما اور رحمت بن کر آئی ہے ؟لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید تورات انجیل اور زبور تینوں کو کامل کرنے والی ان کے وارث اور ان تینوں کو جمع کرنے والی کتاب ہے ۔

رسول اکرم صل اللہ علیہ والسلم فرماتے ہیں کہ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أُعْطِيتُ السُّوَرَ الطِّوَالَ‏ مَكَانَ التَّوْرَاةِ وَ أُعْطِيتُ الْمِئِينَ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ وَ أُعْطِيتُ الْمَثَانِيَ مَكَانَ الزَّبُورِ وَ فُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ ثَمَانٌ وَ سِتُّونَ سُورَةً وَ هُوَ مُهَيْمِنٌ عَلَى سَائِرِ الْكُتُبِ وَ التَّوْرَاةُ لِمُوسَى وَ الْإِنْجِيلُ لِعِيسَى وَ الزَّبُورُ لِدَاوُد (۲۰) .

طولانی سوروں کو تورات کی جگہ اور سو آیات والی سوروں کو انجیل کی جگہ اور سو آیات سے کم والی سورتوں کو زبور کی جگہ میں مجھے عطا کیا ہے اور اس کے علاوہ مفصل سوروں ( یعنی چھوٹے سوروں )کے ذریعے جو کہ ۶۸ سوروں پر مشتمل ہیں مجھے برتری عطا فرمائی ہے اور قرآن مجید ان تمام کتابوں پر چھائی ہوئی ہے ۔

اب امام زمانہ ان تمام آسمانی کتابوں کے حقیقی وارث ہیں چونکہ امام علیہ السلام ہر دور اور زمان میں تمام گزشتہ ہستیوں کے تمام خوبیوں کے وارث ہوتے ہیں جیسا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں :السَّلَامُ‏ عَلَيْكَ‏ يَا وَارِثَ‏ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الزَّبُور. امام مہدی علیہ السلام بھی تمام انبیاء کے وارث ہے ۔

۵-وَ رَبِ‏ الظِّلِ‏ وَ الْحَرُورِ :

اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار ۔

کلمہ ظل سایہ کے معنی میں ہے اور حرور گرمی اور تپش کے معنی میں ہے خدا وند متعال دنیا و آخرت اور ظل و حرور اور دن رات کے خالق ہے سورہ فاطر کی آیت /۲۱ میں آیا ہے کہ"( وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الحْرُور ) ۔ اور نہ سایہ اور نہ دھوپ ۔

اس آیت میں مومن اور کافرکو دھوپ اور سایہ کی تشبیہ دی ہے اسکا نتیجہ یہ ہےکہ شخصیت کے اعتبار سے مؤمن کبھی بھی کافر کے ساتھ برابر نہیں ہو سکتا ہے اور انکا انجام ایک نہیں ہے ۔

بعض مفسرین نے مؤمن کو بہت ہی آرام دہ سایہ سے اور کافر کو گرم اور جلادینے والی ہوا کے ساتھ تشبیہ دی ہیں کہا گیا ہے

کہ اس ظل سے مراد بہشت ہے جہاں ہمیشہ سایہ اور آرام دہ ہے اور حرور سے مراد جہنم ہے جہاں جلن اور عذاب ہے(۲۱) ۔

اسی طرح یوم الحریر کے بارے میں روایت ہے کہ یہ قیامت کے اوصاف میں سے ایک ہے ۔اسی لحاظ سے خداوند عالم دھوپ اور سایہ کا مالک ہے اگر کوئی چاہتا ہےکہ دنیا اور آخرت میں اس دھوپ کی تپش یعنی قہر الہی سے نجات پائے اور سایہ الہی کے امان میں رہے تو وہ قرآن کی پیروی کرے :وَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ص فِي سَفَرٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا بِمَا لَنَا فِيهِ نَفْعٌ فَقَالَ إِنْ أَرَدْتُمْ عَيْشَ السُّعَدَاءِ وَ مَوْتَ الشُّهَدَاءِ وَ النَّجَاةَ يَوْمَ الْحَشْرِ وَ الظِّلَّ يَوْمَ الْحَرُورِ وَ الْهُدَى يَوْمَ الضَّلَالَةِ فَادْرُسُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ كَلَامُ الرَّحْمَنِ وَ حِرْزٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَ رُجْحَانٌ فِي الْمِيزَان .(۲۲) .

معاذ بن جبل نے رسول اللہ سے نقل کیا ہے کہ ہم پیغمبر خدا کے ساتھ کسی سفر میں تھے میں نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ایک ایسی گفتگو کریں کہ جی میں ہمارا فائدہ ہو تو آپ نے فرمایا اگر سعادت کی زندگی چاہتے ہو اور شہید کا درجہ چاہتے ہو اور قیامت کے دن عذاب الہی سے نجات چاہتے ہو تو قرآن کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ قرآن مجید خدائے رحمن کا کلام ہے اور شیطان سے نجات اور نیک اعمال کا پلٹرا بھاری ہونے کا سبب بنتا ہے ۔

۶-وَ مُنْزِلِ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ :

اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے ۔

خداوند متعال قرآن مجید میں اللہ کے رسول سے فرماتے ہیں :( وَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ ) (۲۳) :

ہم نے آپ کو قران عظیم عطا کیا ہے ۔ یقینا قرآن مجید بہت ہی بڑی کتاب ہے اور اس کے ۱۱۴ سوروں میں سے ۲۶ سورے ایسے ہیں کہ جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوئی ہے اور ۲۴ موارد میں ان حروف کے بعد قرآن کی عظمت اور اس کے معجزہ ہونے کے بارے میں گفتگو کی ہے جس طرح سے کہ سورہ بقرہ میں "( الم ذَالِكَ الْكِتَب ) آیا ہے اور یہ قرآن کی عظمت کی طرف اشارہ ہے ۔کیونکہ اکثر مصنفین اپنے کتابوں کو نقص سے خالی نہیں سمجھتے ہیں اسی لئے وہ اپنی کتابوں کے بارے میں ہونے والی اشکالات کو سنتے ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں لیکن یہ صرف قرآن مجید ہے کہ جس کے بارے میں خدائے تعالی نے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ (الکتاب الحکیم ) اس کی تمام آیات محکم اور حکمت کے ساتھ ہے اس میں کسی قسم کا نقص اور کمی نہیں ہے ۔

اور حضرات معصومین علیہم السلام نے بھی بہت ساری روایات میں قرآن کی عظمت کو بیان کی ہیں لیکن یہاں اختصار کے خاطر صرف امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلمات میں سے چند کو بیان کرتے ہیں ۔مولا نہج البلاغہ میں فرماتے ہے کہ قرآن مجید میں آئندہ اور گزشتہ کے بارے میں علم اور تمام دردوں کی دواء اور تمام امور کا نظام موجود ہے۔

قرآن ایک ایسا سمندر ہے کہ جس کی تہہ کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے اور ایک ایسی عمارت ہے کہ جس کی بنیادیں کبھی سست اور خراب نہیں ہوتیں اورایسی شفاء بخش دواء ہے کہ جس کے ساتھ کوئی بیماری باقی نہیں رہتی ہے ۔

قرآن ایک ایسی عزت ہے کہ جسے کو ئی کم نہیں کرسکتا اور ایک ایسا حق ہے کہ جو کبھی شکست نہیں کھاتی ہے

قرآن بہترین موعظہ و نصیحت ہے اور اللہ تعالی کی ایک مضبوط رسی ! دلوں کی بہار اور تمام علوم کا چشمہ ہے اور یہ ایک ایسی عظیم چیز ہے کہ جس کے بغیر انسان کے قلوب کو روشنائی نہیں ملتی ہے ۔

یعنی قرآن ایک روشن نور اور مفید دواء اور دلوں کی معنوی اور روحانی تشنگی کو سیراب کرنے والا اور نجات کا وسیلہ ہے ۔ کوئی بھی قرآن کا ہمنشین نہیں رہا مگر یہ کہ اس کی ہدایت میں اضافہ اور گمراہی میں کمی واقع ہوئی ہے ۔

قرآن میں گزشتہ لوگوں کی حالات اور آیندہ کے بارے میں خبر دی ہے اور حاضرین کے لئے احکام موجود ہے ۔

قرآن ! کفر و نفاق اور انحراف و گمراہی جیسی بڑی بیماریوں کاعلاج ہے ۔

انسان قرآن کے بغیر فقیر اور اس کے ساتھ امیر شمار ہوتا ہے ۔اور قرآن کبھی پرانا نہیں ہوگا(۲۴) ۔

قرآن مجید ایک ایسا خیر خواہ ہے جو کبھی خیانت نہیں کرتا اور ایسا راہنما ہے جو کبھی راہ گم نہیں کرتا ہے اور ایسا بولنے والا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا(۲۵) ۔

قرآن مجید عظیم کتاب جلو ہ الہی ہے ۔ اس کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ اگر ہم ہردن قرآن کے ہر جملے پر غور کریں تو کوئی نہ کوئی نیا نکتہ حاصل ہو جاتا ہے طالب علم اس صورت میں عالم ربانی بنتا ہے جب وہ اس بی انتہا علم میں غور و فکر کرتا ہے اسی لئے قرآن فرماتا ہے کہ :

( كُونُواْ رَبَّانِيِّنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَ بِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُون ) (۲۶) ۔

جو تم (اللہ کی) کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور جو کچھ پڑھتے ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم سچے ربانی بن جاؤ۔

اس آیت میں کلمہ کنتم دو مرتبہ آیا ہے تعلمون اور تدرسون کے ساتھ تو اس سے مراد قرآن کی تعلیم اور تدریس تمام لوگوں کے لئے ہر روز اور ہر زمان میں جاری رہنا چاہیے ۔( دینی مراکز اور یونیورسٹیوں میں ایسا ماحول ایجاد ہونے کی امیدوں کے ساتھ ۔

۷-وَ رَبِّ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَ الْأَنْبِيَاءِ والْمُرْسَلِينَ :

اے مقرب فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار۔

یہاں پر مقرب " یعنی قریب اور نزدیک کے معنی میں ہے اسی طرح سے سورہ نساء آیت /۱۷۲ میں "( وَ لَا الْمَلَئكَةُ المْقَرَّبُون ) ۔ مقرب فرشتوں کے معنی میں آیا ہے کیونکہ تمام فرشتوں کا مقام و مرتبہ ایک جیسا نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اور اسی طرح سے ان کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض فرشتوں کا مقام بہت ہی بلند ہے جیسا کہ جبرئیل میکائیل عزرائیل اور اسرافیل ہیں لیکن قرآن مجید میں صرف جبرائیل اور میکائیل ہی کا نام آیا ہے جیسا کہ فرمایا "( وَمَلَئكَتِهِ وَ رُسُلِهِ وَ جِبرْيلَ وَ مِيكَئلَ ) .(۲۷)

اور دوسری آیات میں فرشتوں کے اوصاف کاذکر ہوا ہے جیسے "( كِرَامًا كَاتِبِين ) .(۲۸)

لہذا فرشتوں کے بھی مختلف گروہ ہیں اور ہر گروہ کے مختلف مقامات اورذمہ داریاں ہیں جیسے "( وَ مَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُوم ) (۲۹) ۔اور (ملائکہ کہتے ہیں) ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقام مقرر ہے،۔

جس طرح سے وحی کی ذمہ داری جبرائیل اور رزق کی ذمہ داری میکائیل اور قبض روح کی ذمہ داری عزرائیل اور صور پھونکنے کی ذمہ داری اسرافیل کی ہے تو اسی طرح خود روح بھی ایک مقرب فرشتوں میں سے ایک ہے اور ان کا نام بھی الگ طور پر معمولا قرآن میں ملائکہ کے ساتھ ذکر ہوا ہے جیسا کہ فرمایا "( يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَ الْمَلَئكَةُ صَفًّا ) ۔

اس روز روح اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے ۔(۳۰)

( تَعْرُجُ الْمَلَئكَةُ وَ الرُّوحُ إِلَيْهِ ) ۔ ملائکہ اور روح اس کی طرف اوپر چڑھتے ہیں۔(۳۱)

( تَنزَّلُ الْمَلَئكَةُ وَ الرُّوحُ فِيهَا ) .۔ فرشتے اور روح اس شب میں نازل ہوتے ہیں ۔(۳۲)

لیکن اس فراز میں انبیاء اور رسول کے مقام کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اور رسول کے درمیان فرق ہے اس فرق کے بارے میں بہت بحث ہوئی ہے من جملہ ان میں سے کہا گیا ہے کہ نبی وہ ہے جو وحی الہی سے آگاہ ہو اور نبا کے مادہ سے خبر کے معنی میں ہے اوراگر نبو کے مادہ سے ہو تو رفعت اور بلندی کے معنی میں ہے یعنی جس کا مقام عالی ہو ۔

اسی طرح رسول بھی آسمانی آئین و شریعت کا مالک ہوتاہے اور اس شریعت کو پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہوتاہے یعنی وحی الہی کو حاصل کرنے کے بعد اس کو لوگوں تک پہنچانا رسول کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن نبی وحی کو حاصل کرتا ہے پھر بھی اس کا ابلاغ کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ جواب دے گا لیکن خود اپنی طرف سے ابلاغ کرنا ضروری نہیں ہے اس کی مثال یہ ہے کہ نبی اس ڈاکٹر کی طرح ہے جو بیمار کوصر ف علاج کرتاہے اور اس بیمار کے پیچھے نہیں جاتا ہے اگر بیمار رجوع کرے تو علاج کرتا ہے لیکن رسول خود بیمار کے پیچھے جاتا ہے تاکہ اس کا علاج کرسکے ۔جیسا کہ امیر المؤمنین علیہ السلام پیغمبر اکرم کے بارے میں فرماتے ہیں "طَبِيبٌ‏ دَوَّارٌ بِطِبِّه .(۳۳) ۔

یعنی ایسا طبیب ہے جو بیمار کے پاس جاتا ہے اور ایسا چشمہ ہے جو تشنگان کی تلاش میں ہوتا ہے ۔

بعض پیغمبر ایسے تھے جو دونوں مقامات کو رکھتے تھے جیسے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والسلم جیسا کہ وحی کو حاصل کرنے کے بعد اس کو لوگوں تک پہنچانا بھی آپ کی ذمہ داری تھی(۳۴) ۔

جناب ابوذر پیغمبر خدا سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا : انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول تھے(۳۵)


دوسرا حصّہ:

درخواست و طلب:(اسئلك )

دعا کے اس فراز میں دعا کرنے والے اپنی حاجتوں کو بیان کرنے کے لئے دوبارہ اسماء و صفات الہی کو بیان کرتا ہے اور یہ تکرار کلمہاسئلك کے بعد دو حصوں میں بیان ہواہے اور یہ اس لئے کہ دعا کرنے والا اسماء اور صفات الہی کو اپنی حاجت کے مطابق ذکر کرے ان کا تکرار بھی لطف سے خالی نہیں ہے ۔ امام علی علیہ السلام کبھی لوگوں کی ذہنیت کے مطابق ان الفاظ کو تکرار کرتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے تھے ۔

(اللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ )وَ (اللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ )(وَ اللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ )وَ (اللَّهَ‏ اللَّهَ‏ فِي‏ الصَّلَاة )(۳۶)

یہاں پر لفظ اللہ تکرار ہوا ہے اور ہر روز پانچ وقت کی نماز کا تکرار ہونا بھی اسی لئے ہے کہ انسان جتنا ہوسکے خدا سے نزدیک تر ہو جائے ۔ انسان ہر بار نماز اور ذکر و تلاوت قرآن کے ذریعے سے قدم بہ قدم خدا کے نزدیک ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم کے بارے میں فرماتے ہے کہ "

( ثمُ‏َّ دَنَا فَتَدَلىَ‏ فَكاَنَ قَابَ قَوْسَينْ‏ِ أَوْ أَدْنى ) . پھر وہ قریب آئے پھر مزید قریب آئے، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کم (فاصلہ) رہ گیا(۳۷) ۔

اسی طرح ہر ہفتے میں نماز جمعہ کے دونوں خطبوں میں تقوا کے متعلق تاکید ہونا بھی لوگوں کی دینی تربیت میں تکرار کی افادیت کو بیان کرتی ہے ۔ اصولا انسان کی زندگی بھی تکرار تنفس پر موقوف ہے اور کمالات بھی تکرار سے حاصل ہوتی ہیں ایک بار صدقہ دینے اور شجاعت کے جوہر دکھانے سے سخاوت اور شجاعت کی عادت نہیں ہوتی ہے جس طرح انسان کے اندر برے اوصاف ان کے برے اعمال کی تکرار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔

اس حصے میں دس مطالب ہیں : کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ (اللّٰهُمَّ انىْ اسْئَلُكَ )

۱-بِوَجْهِكَ الْكَريْمِ :

اے خداآپ کے بزرگی و بخشندگی کا واسطہ :

خداوند عالم کے لئے کوئی جسم نہیں ہے کہ چہرہ رکھتا ہو ؟ بلکہ ان کلمات کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے جیسے سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۵ میں پڑھتے ہیں کہ "( وَ لِلَّهِ المْشْرِقُ وَ المْغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيم ) ۔ اور مشرق ہو یامغرب، دونوں اللہ ہی کے ہیں، پس جدھر بھی رخ کرو ادھر اللہ کا چہرہ ہے، بے شک اللہ (سب چیزوں کا) احاطہ رکھنے والا، بڑا علم والا ہے ۔

اسی طرح سورہ قصص کی آخری آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ "( كلُ‏ُّ شىَ‏ْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ) (۳۸) ۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے ۔

لہذا اولا : وجہ اللہ ہمیشہ اور ہر جگہ ہے صرف اسی کو حاجت روا جاننا چاہیے اور اگر اولیاء الہی کو ہم واسطہ قرار دیتے ہیںتو بھی اسی لئے ہیں کہ وہ حضرات بھی فیض و رحمت الہی کو ہم تک پہنچا تے ہیں ۔

ثانیا: خداکریم ہے چونکہ قرآن مجید میں صفات الہی میں سے ایک صفت کریم ذکر ہوا ہے جیسا کہ سورہ انفطار آیت ۶ میں فرمایا "( يَأَيهُّا الْانسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيم ) ۔ اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے کریم پروردگار کے بارے میں دھوکے میں رکھا۔

کریم یعنی بہت زیادہ کرم کرنے والا اور زیادہ بخشنے والا لیکن یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں وجہ کریم کا کامل ترین مصداق امام زمانہ علیہ السلام کی ذات اقدس ہے ۔

امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے کہ وجہ اللہ سے مراد پیغمبر اکرم اور ان کے جانشین ہیں اور انہی کے ذریعے سے دین اور خدا کی معرفت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں(۳۹)

اور دعاے ندبہ میں بھی امام زمانہ کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ "أيْنَ‏ وَجْهُ‏ اللَّهِ‏ الَّذِي إِلَيْهِ یَتَوَجَّهُ الْأَوْلِيَاء ۔

۲-وَبِنُورِ وَجْهِکَ الْمُنِیرِ :

تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے ۔

امام حسین علیہ السلام دعاے عرفہ میں خداوند متعال کو اس طرح سے پکارتے ہیں "أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ‏ الَّذِي‏ أَشْرَقَتْ‏ لَهُ‏ السَّمَاوَاتُ وَ الْأَرْض (۴۰)

خدایا آپ کی اس پر نور جمال کا واسطہ کہ جس کی وجہ سے زمین و آسمان نورانی ہوتا ہے درخواست کرتا ہوں ۔

نور اور پچھلے جملے میں بیان شدہ نور( وجہ) کے درمیان فرق ہے چونکہ خداوند عالم نور بھی ہے اور تمام عالم کو نورانی کرنے والا بھی ہے کائنات میں موجود سارے نور اس کے نور کی ایک جہلک ہے اور نورصرف خدا ہے وہ جسے چاہے نور دیتا ہے پس ہر شخص جتنا خدا کامقرب اور نزدیک ہوگا اتنا ہی نورانی ہو جائے گا لہذا قرآن مجید نے پیغمبر اکرم کو منیر کہا ہے جیسا کہ سورہ احزاب کی آیت /۴۵-۴۶ میں آیا ہے کہ فرمایا "

( يَأَيهُّا النَّبىِ‏ُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَ نَذِيرًا وَ دَاعِيًا إِلىَ اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّنِيرًا ) ۔ اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ،اور اس کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے ۔

ان دو آیتوں میں پیغمبر اکرم کی سیرت کوبیان کیاہے کہ آپ معاشرے میں چراغ ہدایت ہے کہ جس کے نور کی وجہ سے رشد و حرکت اور حق و باطل کی پہچان انجام پاتا ہے ۔

اور اس زمانے میں تمام مخلوقات خدا میں صرف امام زمانہ کی ذات ہے جو خداوند متعال سے نور کو کشف کرتاہے اور دوسروں کو بھی نور دیتا ہے اور پیغمبر اکرم کا آخری وارث ہے ۔

۳-وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ :

اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے ۔

خداوند متعال تمام جہان کا مالک ہے جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں کہ "( لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ مَا فِيهِنَّ وَ هُوَ عَلىَ‏ كلُ‏ِّ شىَ‏ْءٍ قَدِيرُ ) (۴۱) ۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب پر اللہ کی سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

لفظ ملک لغت میں حاکم کے معنی میں ہے آیات اور روایات میں ملتا ہےکہ یہ لفظ خداوند عالم کے لئے استعمال ہوتا ہے جیساکہ سورہ توحید کی اس آیت( لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُولَد ) میں اشارہ ہوا ہے کہ۔ نہ اس نے کسی کوجنااورنہ وہ جنا گیا بلکہ وہ ازلی ہے یعنی قدیم ہے حادث نہیں ہے ۔اور اسی طرح سے سورہ حدید میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہوا ہے "( لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ يحُىِ وَ يُمِيتُ وَ هُوَ عَلىَ‏ كلُ‏ِّ شىَ‏ْءٍ قَدِير ) (۴۲) آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے، وہی زندگی اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔

۴-یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ :

اے زندہ اے پائندہ۔

آیت الکرسی میں ہم پڑھتے ہیں کہ( اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوم ) ۔ خدا وہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سب کا نگہبان ہے ۔

حیات کے معنی میں پروردگار عالم اور دوسرے لوگوں کے درمیان فرق ہے باقی دوسرے صفات الہی کی طرح کیونکہ صفات کا ذات الہی سے جدا ہوناممکن نہیں ہیں اور فناء و نابودی و عدم ذات الہی میں تصور نہیں ہے جیسا کہ فرمایا "( وَ تَوَكَّلْ عَلىَ الْحَىّ‏ِ الَّذِى لَا يَمُوت ) (۴۳) ۔ اور (اے رسول) اس اللہ پر توکل کیجیے جو زندہ ہے اور اس کے لیے کوئی موت نہیں ہے ۔

اور وہ اپنی حیات کے لئے تغذیہ تولید مثل اور جاذبہ و دافعہ میں سے کسی کی طرف محتاج نہیں ہے جیسا کہ دعاے جوشن کبیر میں آیا ہے "يَا حَيُ‏ الَّذِي‏ لَيْسَ‏ كَمِثْلِهِ شَي ۔ اس اسم کے بارے میں آئندہ وضاحت دیں گے ۔

اور لفظ قیوم" قیام سے لیا ہے جس کامعنی جو جوشخص اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور دوسرے اس سے وابستہ ہوں(۴۴)

اور قرآن کریم میں یہ لفظ تین بار استعمال ہوا ہے اور ہر بار کلمہ حی کے ساتھ آیا ہے ۔ پس خدا کا قیام ہونا خود اس کی ذات سے ہیں اور باقی تمام موجودات کا قیام اس کے وجود کی طرف سے ہیں ۔

اور قیومیت پروردگار سے مراد اپنے مخلوقات کی حفاظت اور تدبیر پر کامل تسلط رکھنا ہے ۔ پس خداوند عالم کا قیام ابدی و اذلی اور ہمیشہ رہنے والا ہے وہی پیدا کرتا ہے اور روزی دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ کبھی کسی ایک لحظہ کے لئے بھی غافل نہیں رہتا ہے ۔

اور اسی طرح سے ہر زندہ موجود اپنے زندگی کو ادامہ دینے کے لئے اس منبع فیض الہی کی طرف محتاج ہے جسطرح سے بجلی کا بلپ روشن ہونے کے لئے اس کا مر کز سے متصل ہونا ضروری ہے اسی طرح ہر موجود اپنی حیات اور بقاء کے لئے خدا وند عالم کی طرف محتاج ہیں ۔

جیسا کہ امیر المؤمنین فرماتے ہیں "كلّ‏ شئ‏ خاضع‏ له كلّ‏ شئ‏ قائم به (۴۵)

تمام چیزیں خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور تمام چیزیں اسی سے وابستہ ہیں ۔

علماء نقل کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں پیغمبر اکرم بار بار سجدے میں جاتے تھے اور یا حی یا قیوم کا ورد کرتے تھے۔

۵-أسئلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی أشْرَقَتْ به السَّمٰوَاتُ وَالْاَرَضُونَ :

تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں۔

دعا کے اس جملے کی طرح روز قیامت کے روشن ہونے پر قرآن کریم میں بھی ایک آیت ہے سورہ زمر میں فرمایا ہے "

( وَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبهِّا وَ وُضِعَ الْكِتَابُ وَ جِاْى‏ءَ بِالنَّبِيِّنَ وَ الشهُّدَاءِ وَ قُضىِ‏َ بَيْنهَم بِالْحَقّ‏ِ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُون ) (۴۶) ۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک جائے گی اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبروں اور گواہوں کو حاضر کیا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر اطیب البیان میں اس آیت کی ذیل میں ہے کہ قیامت کے دن سورج اور چاند سے انکی روشنی واپس لینگے اور اس دن خدا کے نور روشن ہوگا تو اس سے مراد وہ نورہے جو مؤمنین سے نکلے گا ۔ اس کے بعد اس آیت کو گواہی کے طور پر ذکر کرتا ہے "( يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى‏ نُورُهُم بَينْ‏َ أَيْدِيهِم ) (۴۷) قیامت کے دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا ۔

اس آیت کی اس تفسیر سے ہم یہ نتیجہ لے سکتے ہیں کہ وہ نو رجو قیامت کے دن روشن ہوگا وہ معصومیں علیہم السلام کا نور ہوگا کہ جن کا نور نور خدا سے ہے لہذاپیغمبر اکرم اور اہل بیت علیہم السلام دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کا نور ہیں اسی لئے زیارت جامعہ کبیرہ میں اسی نور کی طرف اشارہ ہوا ہے جیساکہ فرمایا "وَ أَشْرَقَتِ‏ الْأَرْضُ‏ بِنُورِكُم ۔اور اسی طرح بہت ساری دعائیں موجود ہے کہ جن میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے لیکن شیعوں کے اعتقاد کی بنیاد پر اہل بیت علیہم السلام نور الہی کے بہترین تجلی ہیں اور انکا نور نور خدا سے ہیں جو منور اور ہدایت گر ہے ۔اور اسی کی ذیل میں پیغمبر اکرم سے ایک حدیث نقل ہوئی ہیں فرمایا کہ "ثُمَ‏ أَظْلَمَتِ‏ الْمَشَارِقُ‏ وَ الْمَغَارِبُ فَشَكَتِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ تِلْكَ الظُّلْمَةَ فَتَكَلَّمَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ كَلِمَةً فَخَلَقَ مِنْهَا رُوحاً ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ فَخَلَقَ مِنْ تِلْكَ الْكَلِمَةِ نُوراً فَأَضَافَ النُّورَ إِلَى تِلْكَ الرُّوحِ وَ أَقَامَهَا مَقَامَ الْعَرْشِ فَزَهَرَتِ الْمَشَارِقُ وَ الْمَغَارِبُ فَهِيَ فَاطِمَةُ الزَّهْرَاءُ وَ لِذَلِكَ سُمِّيَتِ الزَّهْرَاءَ لِأَنَّ نُورَهَا زَهَرَتْ بِهِ السَّمَاوَات (۴۸) ۔

جب ہر جگہ تاریکی اور اندھیرا چھا گیا تو خداوند عالم سے فرشتوں نے شکایت کی کہ خدایا اس تاریکی کو ہم سے برطرف فرما !تو خداوند عالم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور اسی کلمہ سے ایک روح خلق ہوا اس کے بعد ایک اور کلمہ ارشاد فرمایا اس سے ایک نور خلق ہوا اور اس نور سے روشنی دی اور اس روشنی اورروح کو خدا نے عرش پر رکھا اس سے تمام عالم روشن ہوا اور وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نور ہے اسی لئے آپ کو زہرا کہا اور آپ کے نور سے تمام آسمان روشن ہوا ۔

ایک اور روایت میں امام مہدی علیہ السلام کو زمین کو روشن کرنے والا کہا ہے ۔ مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا " رب الارض جوکہأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبهِّا والی آیت میں آیا ہے اس سے مراد امام الارض ہے یعنی امام زمانہ مراد ہے -(۴۹)

البتہ روایات میں قیام حضرت امام مہدی علیہ السلام کو اس آیت کی تفسیر و تاویل میں بیان کیا ہے اور حقیقت میں یہ ایک تاکید و تشبیہ ہے روز قیامت کے ساتھ کیونکہ یہ قیامت کا ایک نمونہ ہے چونکہ امام زمانہ کا عدل و انصاف تمام عالم میں حاکم ہوگا ۔

امام زمانہ کے ظہور کے بارے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ" إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ‏ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّها وَ اسْتَغْنَى الْعِبَادُ عَنْ ضَوْءِ الشَّمْس (۵۰) ۔ جب ہمارا قائم ظہور کرے گا تو زمین نور پرور دگار سے روشن ہوگا اور لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہونگے ۔

۶-وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِه الْاَوَّلُونَ وَالْاَخِرُونَ :

تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے بھلائی پائی۔

ان کلمات کے ساتھ دعا دوسری دعاوں میں بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے خداوندعالم کی بارگاہ میں اس طرح سے دعا کی ہے فرمایا "

فَأَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ‏ لَهُ‏ الْأَرْضُ‏ وَ السَّمَاوَاتُ وَ انْكَشَفَتْ بِهِ الظُّلُمَاتُ وَ صَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِين (۵۱)

بعید نہیں ہے اس سے پہلے والے فراز میں اسم الہی کہ جس سے تمام مخلوقات اولین و آخرین اصلاح پاتے ہیں سے مراد وہ وہی انسان کامل اور خلیفہ الہی ہو ۔ کیونکہ خدا وند عالم نے حجت خدا کو مخلوقات سے پہلے خلق کیا ہے اور حجت خدا ہر زمانے میں موجود ہوتا ہے زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوتا ہے اور ابھی اس زمانے میں ہر صالح انسان کی زندگی میں جو مؤثر ذات ہے اور گمراہی اور فساد سے نجات دیتی ہے وہ حجت خدا امام زمانہ کی ذات اقدس ہے ۔ اور آپ کی ذات ہی معاشرے کی تربیت اور انسانوں کی ہدایت کا محور ہے اور آج کے اس دور میں انسان کی نجات کا واحد وسیلہ امام سے منسلک ہونا ہی ہے اور انسان جتنا بھی اپنے کردار سے امام سے نزدیک ہو جائے گا اتنا ہی وہ خوش نصیب ہوگا۔

ان جملات کے پڑھتے وقت منتظر اس نکتے کی طرف متوجہ ہے کہ انسان کو چاہیے اپنی زندگی کو ایسا بنائے کہ جس سے امام راضی ہو جائے کیونکہ حجت خدا کا انسان کے زندگی میں مؤثر ہونے سے مراد یہی ہے کہ وہ انسان کو فساد سے نجات دے اور اسکی ہدایت کرکے کامیابی کا راستہ دیکھا دے ۔ اسی طرح زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں "بِمُوَالاتِكُمْ عَلَّمَنَا اللَّهُ مَعَالِمَ دِينِنَا وَ أَصْلَحَ‏ مَا كَانَ‏ فَسَدَ مِنْ دُنْيَانَا ۔(۵۲)

خداوندمتعال نے آپ کی اس ولایت کے واسطے سے ہماری وہ زندگی جو خراب اوربے ثمر تھا اس کا اصلاح کیا ۔

پس ہر وہ شخص جو اپنی زندگی میں کامیاب تھے اور کامیابی تک پہنچے ہیں وہ اپنے زمانے کے حجت خدا کے وسیلہ سے کامیابی تک پہنچے ہیں ۔

۷-یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ :

اے زندہ ہر زندہ سے پہلے۔

۸-وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ :

اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد۔

۹-وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ :

اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے۔

اس دعامیں خاص طور پر خداوند متعال کے ( حَیٍّ ) یعنی زندہ ہونے پر تاکید ہوئی ہے اور یہ بحث دعاے جوشن کبیر کی سترویں فراز میں اس طرح سے آئی ہے ۔"يَا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ يَا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ يَا حَيُّ الَّذِي لَيْسَ كَمِثْلِهِ حَيٌّ يَا حَيُّ الَّذِي لَا يُشَارِكُهُ حَيٌّ يَا حَيُّ الَّذِي لَا يَحْتَاجُ إِلَى حَيٍّ (۵۳) ۔

ہاں خداوند عالم تمام موجودات سے پہلے اور بعد میں زندہ ہے اور زندہ رہنے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور نہ ہی زندہ ہونے میں وہ کسی کا محتاج ہے بلکہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ زندہ و قائم ہے

اس دعا میں اس اسم الہی کو چہار بار کیوں ذکر کیا ہے اور بعد میں بھی زندگی اور موت کی طرف اشارہ کیا ہے آیاممکن ہے کہ یہ بحث رجعت کے ساتھ مربوط ہو ؟ جوکہ اس دعا کے بارے میں معروف ہے تو ظاہرا ایسا لگتا ہے کہ اس (حی ) پر تاکید کرنا رجعت کے مسالہ سے غیر مربوط نہ ہو۔

۱۰-یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ :

اے مردوں کو زندہ کرنے والے ۔

وہ خدا کہ جو پہلے خلق کیا ہے وہی دوبارہ بھی خلق کرسکتا ہے جیسا کہ سورہ نجم میں آیا ہے کہ "( وَ أَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَ أَحْيَا ) (۵۴) ۔

اور یہ کہ وہی مارتا اور وہی جلاتا ہے ۔

پس وہ ایسی ذات ہے کہ جو تمام عالم پر اور ہر چیز کی زندگی اور موت پر قدرت و اختیار رکھتا ہے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے "( إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ يُحْيي‏ وَ يُميتُ وَ ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَ لا نَصيرٍ ) (۵۵)

آسمانوں اور زمین کی سلطنت یقینا اللہ ہی کے لیے ہے، زندگی بھی وہی دیتا ہے اور موت بھی ۔

اسی قسم کی بہت ساری آیات موجود ہیں جیسا کہ سورہ عنکبوت میں فرمایا "

( أَ وَ لَمْ يَرَوْاْ كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَالِكَ عَلىَ اللَّهِ يَسِير ) (۵۶) ۔

کیا انہوں نے (کبھی) غور نہیں کیا کہ اللہ خلقت کی ابتدا کیسے کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے، یقینا اللہ کے لیے یہ (زیادہ )آسان ہے ۔

نتیجہ :

۱ ۔ آفرینش جہان خدا وند عالم کی قدرت نمائی کا مظہر ہے اور موت و زندگی اسی کا ایک حصہ ہے ۔

۲۔ موت و زندگی دینا اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جانا خدا وند عالم کا ہمیشہ کا کام ہے ۔( إِنَّهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعيدُه ) ۔ فعل مضارع ہے جو استمرار اوردوام پر دلالت کرتاہے ۔

۳۔ پہلی دفعہ خلق کرنا اور موت دینا اور پھر زندہ کرنا خدا کے لئے آسان ہے صرف ارادہ چاہیے ۔( إِنَّ ذَالِكَ عَلىَ اللَّهِ يَسِير ) ۔

۱۱-وَمُمِیتَ الْاَحْیاء :

اے زندوں کو موت دینے والے ۔

قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں کہ موت و حیات خدا وند عالم کی ربوبیت کا ایک جلوہ ہے ۔( وَ أَن إِلى‏ رَبِّكَ الْمُنْتَهى‏ ) ۔ ھوآفات و احیاء) اور اسی طرح سے سورہ یونس میں ملتا ہے ۔( هُوَ يُحْىِ وَ يُمِيتُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُون ) (۵۷) ۔

وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جاؤ گے۔

اور سورہ روم میں آیا ہے( اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يحُيِيكُمْ هَلْ مِن شُرَكاَئكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَالِكُم مِّن شىَ‏ْءٍ سُبْحَنَهُ وَ تَعَلىَ‏ عَمَّا يُشْرِكُون ) (۵۸) اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا وہی تمہیں موت دیتا ہے پھروہی تمہیں زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کر سکے؟ پاک ہے اور بالاتر ہے وہ ذات اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔

اس آیت میں خداوند عالم کے چار اوصاف کی طرف اشارہ ہوا ہے اگر ان میں سے ایک بھی انسان میں ہو تو یہ اس کے لئے کافی ہے ۔

الف) انسان کی خلقت ہی بندگی لازم ہونے پر ایک دلیل ہے جیسا کہ فرمایا "

( اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذي خَلَقَكُمْ ) (۵۹) ۔ عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو پیداکیا۔

ب) اللہ تعالی کا ہمیں رزق و روزی دینا بندگی ضروری ہونے پر ایک اور دلیل ہے ۔ فرمایا "( فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَاذَا الْبَيْتِ الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَ ءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفِ ) (۶۰) ۔( چاہیے تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے انہیں امن دیا۔

اور اسی طرح سے موت و زندگی بھی اللہ تعالی کی عبادت و بندگی ضروری ہونے پر الگ الگ دلیلیں ہیں فرمایا "

( اللَّهُ الَّذي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُميتُكُمْ ثُمَّ يُحْييكُمْ ) (۶۱) ۔ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا وہی تمہیں موت دیتا ہے پھروہی تمہیں زندہ کرے گا،

اور اسی طرح سے سورہ غافر میں ہم پڑھتے ہیں کہ فرمایا "

( هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَ يُمِيتُ فَإِذَا قَضىَ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُون ) (۶۲) ۔ وہی تو ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہی موت بھی دیتا ہے پھر جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے: ہو جا! پس وہ ہوجاتا ہے ۔

نتیجہ :

۱۔ موت اور زندگی فقط خداکے ہاتھ میں ہے ۔( هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَ يُمِيتُ ) ۔

۲۔ اللہ کے لئے زندگی دینا اور موت دینا برابر ہے ۔( يُحْىِ وَ يُمِيتُ ) ۔

۱۲-یَا حَیُّ لاَ إله إلاَّ أنْتَ :

اے وہ زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں.

اس سے پہلے خداوند عالم کے حَیّ ہونے کے بارے میں توضیح دی ہے اور اس حصے میں خداوند عالم کی وحدانیت کو ذکر کیا ہے لہذا اس کے بارے میں تھوڑا سا توضیح دینگے ۔

قرآن مجید میں بہت ساری مقامات پر وحدانیت کا ذکر ہوا ہے جیسا کہ فرمایا "( لَا إِلَه إِلَّا الله ) (سورہ صافات /۳۵() لَا إِلَه إِلَّا الله هو ) ۔ (سورہ بقرہ / )۱۶۳ ) اور( لَا إِلَه إِلَّا الله انت ) ۔ (سورہ انبیاء /۸۷ )۔( لَا إِلَه إِلَّا الله انا ) ۔ (سورہ نحل / ۲)۔

مسلمانوں کی شناختی علامت یہی ۔لَا إِلَه إِلَّا الله ہے اور اسی طرح سے پیغمبر اکرم کے تبلیغ دین کا سب سے پہلا کلمہ بھی یہی تھا جیسا کہ فرمایا "قولوا لا اله الا الله تفلحوا ۔(۶۳)

اور اسی طرح سے فرمایا "مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصاً دَخَلَ الْجَنَّةَ وَ إِخْلَاصُهُ أَنْ تَحْجُزَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَل ۔(۶۴) ۔ جو کوئی خلوص کے ساتہ کلمہ توحید پڑھے گا تو وہ بہشت میں داخل ہوگا اورخلوص کی علامت یہ ہے کہ اس کلمہ کو پڑھنے کے بعد وہ حرام الہی سے دور رہے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہقَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَمَنُ‏ الْجَنَّة (۶۵) ۔ یعنی اس کا پڑھنا جنت کی قیمت ہے۔ اور اسی طرح سے حضرت امام رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے کہ "لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِي (۶۶)

یقینا خداکی وحدانیت خدا کا مضبوط قلعہ ہے خدا کی وحدانیت پر اقرار اور اعتراف کرنا بہت ساری دعاؤں میں موجود ہیں جیسا کہ آداب دعا میں سے ایک اہم حصہ یہی ہے جیسا کہ امیر المؤمنین علیہ السلام دعاے کمیل میں فرماتے ہیں "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ‏ سُبْحَانَكَ‏ وَ بِحَمْدِكَ‏ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَ تَجَرَّأْتُ بِجَهْلِي ۔(۶۷)

اور قرآن میں بھی اسی طرح سے آیا ہے فرمایا "( أَن لَّا إِلَاهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنىّ‏ِ كُنتُ مِنَ الظَّلِمِين ) ۔(۶۸)


تیسرا حصّہ :

ابلاغ درود

اس دعا میں امام زمانہ علیہ السلام پر پوری کائنات کی کمیت اور عرش کی کیفیت کے برابر درود و سلام بھیجتا ہے جو منتظر امام کی بلند نظری اور اندیشہ جہانی کو بیان کرتا ہے کیونکہ بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کو فقط اپنے مشکلات کو دور کرنے کے لئے پکارتے ہیں لیکن جو امام کے واقعی منتظر ہیں وہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ تمام دنیا کے لئے عدل و انصاف کے خواہاں ہیں اسی لئے وہ امام کو تمام دنیا کے لئے چاہتے ہیں ۔

دعاے عہد منتظرین امام کو آفاقی و جہانی نگاہ عطا کرتا ہے جیسا کہ اس فراز میں ہم پڑھتے ہیں "عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها ۔ اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں۔

منتظرین امام اس دعا کو صبح سویرے پڑھ کر تمام مؤمنین عالم کی طرف سے امام کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ۔ اور دعا کے اس فراز میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ منتظر امام زمانہ علیہ السلام کو فقظ اپنے لئے نہیں بلکہ تمام عالم کے لئے بلاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے دنیا میں عدل و انصاف قائم ہو جائے ۔

۱-اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْاِمامَ الْهادِیَ الْمَهْدِیّ الْقائِمَ بِامْرِکَ :

اے معبود ہمارے مولا امام ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ۔

معروف ومشہور اشخاص کے کئی نام اور القاب ہوتے ہیں جو ان کی شخصیت اور بزرگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں لہذا ہم زیارات اور دعاؤں میں دیکھتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام کے لئے بھی کئی نام اور بہت زیادہ القاب بیان ہوئے ہیں جو کہ ان کی شخصیت کو بیان کرتی ہیں ۔

اس حصے میں امام علیہ السلام کے پانچ القاب بیان ہوئے ہیں ہم ان کی وضاحت کرتے ہیں ۔

مولی ۔

یہ مادہ ( و ل ی ) سے مشتق ہوا ہے اور قرآن مجید میں بھی بہت ہی زیادہ استعمال ہوا ہے اس کلمہ کا اصل معنی سرپرست ہے اور باقی دوسرے معانی میں بھی قرینہ کے ساتھ سے استعمال ہوا ہے پس امام مہدی علیہ السلام ہمارا مولا ہے یعنی وہ ہمارے اوپر ولایت رکھتے ہیں اورہمارے سرپرست ہیں ۔

امام ۔

خدا وند عالم نے انہیں امام قرار دیا ہے وہ صرف راہنما اور سرپرست ہی نہیں بلکہ امام بھی ہیں یعنی ان کی ہر چیز ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ عمل ہے امام علیہ السلام گفتگو اور نظریات کو عینیت اور حقیقت میں اوراسلامی تصورات کو واقعیت اور خیالات کو حقیقت میں تبدیل کرتے ہیں ۔

پس امام علیہ السلام ان اوصاف کے ساتھ ہر جگہ اور ہر وقت ہر انسان کے لئے امام اور رہبر ہے اور اس کلمہ کے جو خصوصیات ہیں وہ ہرگز دوسرے معلم مرشد ہادی اور مبلغ وغیرہ جیسے کلمات میں نہیں ہیں چونکہ یہ کلمات تعلیم پر دلالت کرتی ہیں لیکن کلمہ امام یعنی جو خود عمل کرتا ہے اور دوسرے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔

ہادی ۔

یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں زمام ہدایت ہے اور وہ خاتم الاوصیاء حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ذات اقدس ہے جیسا کہ خداوند متعال نے خاتم الانبیاء کے بارے میں میں فرمایاإِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَ لِكلُ‏ِّ قَوْمٍ هَاد (۶۹) ۔

آپ تو محض تنبیہ کرنے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک رہنما ہوا کرتا ہے ۔

یہاں پر خداوند عالم اپنی حجت کو تمام کرتا ہے کہ زمین ہرگز حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی ہے ۔

( وَ لِكلُ‏ِّ قَوْمٍ هَاد ) کے بارے میں تفسیر مجمع البیان اور کنز الدقائق میں رویت ہوئی ہے کہ ہاد سے مراد امام معصوم ہیں اور عصر حاضر میں امام مہدی علیہ السلام کی ذات اقدس مراد ہے کہ خداوند عالم نے تمام امت کے لئے ہادی و ہدایت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ۔

مہدی ۔

امام زمان علیہ السلام کے مشہور القاب میں سے ایک مہدی ہے مہدی کا معنی یعنی ہدایت پایا ہوااور ہدایت کرنے والا اور حقیقت میں وہ ہدایت کے تجلی ہیں وہ وقت تاریخ بشری کے اہم ترین زمان میں سے ہے اور امام علیہ السلام تمام انسانوں کو کمال تک پہنچائے گا اور فساد و اندھیروں سے نجات دلائے گا روایت میں آیا ہے کہ "إِنَّمَا سُمِّيَ‏ الْقَائِمُ‏ مَهْدِيّاً لِأَنَّهُ يُهْدَى إِلَى أَمْرٍ مَضْلُولٍ عَنْهُ (۷۰) ۔

قائم کو اس لئے قائم کہتے ہیں کہ جس چیز کو لوگوں نےگم کر دیئے ہے وہ اس کی طرف راہنمائی کریں گے ۔

اور امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لِأَنَّهُ يُهْدَى إِلَى كُلِّ أَمْرٍ خَفِيٍّ ہر چھپی ہوئی امر کی طرف ہدایت کریں گے ۔

پس امام زمان علیہ السلام تمام لوگوں کو ایمان اور سچائی کی طرف راہنمائی کریں گے جس طرح پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ حضرت مہدی کو یہ لقب اس لئے ملا کہ وہ لوگوں کو راہ خدا کی طرف ہدایت کرے گا(۷۱) ۔

قائم ۔

یہ بھی امام علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ایک ہے چونکہ امام علیہ السلام ہر لحاظ سے ظالموں اور مفسدوں کے مقابل میں قیام کرینگے اسی لئے ان کو قائم کا لقب ملا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام غیبت کے طویل زمانے میں ہمیشہ اس عالمی انقلاب اور قیام کے انتظار میں ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ "سمی القائم لقیام بالحق .(۷۲) ۔ اس لئے قائم کہتے ہیں کہ کیونکہ یہ حق کے لئے قیام کرینگے ۔

اور امام جواد علیہ السلام سے سؤال ہوا کہ قائم کیوں کہتے ہیں ؟ تو فرمایا "

يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ وَ لِمَ سُمِّيَ الْقَائِمَ قَالَ لِأَنَّهُ يَقُومُ‏ بَعْدَ مَوْتِ‏ ذِكْرِهِ وَ ارْتِدَادِ أَكْثَرِ الْقَائِلِينَ بِإِمَامَتِهِ (۷۳)

کیونکہ آپ اس وقت قیام کرینگے کہ جب آپ کو لوگ بھول چکے ہوں گے اور امامت کے قائلین میں سے اکثر امام سے پلٹ چکے ہوں گے ۔ لہذا اس اعتبار سے منتظرین امام اس بات کی طرف توجہ کریں کہ وہ فراموشی کا شکار نہ ہو جائیں کیونکہ اکثر لوگ غفلت کی وجہ سے اس کے شکار ہوتے ہیں ۔

۲-صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْه :

ان پر خدا کا درود و سلام ہو ۔

انسان کا وظیفہ یہی ہے کہ وہ امام مہدی علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا کریں(۷۴)

اسی طرح سے سورہ احزاب میں فرمایا( " إِنَّ اللَّهَ وَ مَلَئكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلىَ النَّبىِ‏ِّ يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيْهِ وَ سَلِّمُواْ تَسْلِيمً ) ا(۷۵) ۔ اللہ اور اس کے فرشتے یقینا نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے)۔ اس آیت کی طرف توجہ کرنے سے یہ روشن ہوتا ہے کہ؛

الف ) خدا وند متعال اس آیت میں پیغمبر اکرم پر صلوات بھیجتا ہے اور صلوات (صلاۃ) کا جمع ہے جب اس کا خدا کی طرف نسبت دیدیں تو اس سے مراد رحمت بیھجنے والا ہوتا ہے اور اگر اس کی نسبت فرشتوں اور مؤمنین کی طرف دی جائے تو اس کا معنی طلب رحمت ہوتا ہے(۷۶) ۔

ب ) اس آیت میں یصلون فعل مضارع ہے جو کہ استمرار پر دلالت کرتی ہے اس سے پتہ چلتاہے کہ خداوند عالم محمد و آل محمد پر ہمیشہ درود و رحمت بیھجتا ہے(۷۷) ۔

ج ) حکومت الہی میں عوام اور رہبر کے درمیان رابطہ سلام و صلوات ہے فقط دلی رابطہ ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اس کا اظہار بھی ضروری ہے خداوند عالم نے قرآن کریم میں پیغمیراکرم صل اللہ علیہ و آلہ سے فرمایا "خُذْ مِنْ أَمْوَالهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيهِم بهِا وَ صَّل‏ِ عَلَيْهِمْ (۷۸) ۔

(اے رسول) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ لیجیے ، اس کے ذریعے آپ انہیں پاکیزہ اور بابرکت بنائیں اور ان کے حق میں دعا بھی کریں ۔یہاں پر زکات دینے والوں پر صلوات بیھجنے کا حکم ہوا ہے ۔

اسی بنا پر امام مہدی پر خداوند متعال کا صلوات بیھجنے سے مراد رحمت اور برکات بھیجنا ہے ۔اور اسی طرح سے دعائے افتتاح میں خدا سے طلب کرتے ہیں "( اللَّهُمَ‏ وَ صَلِ‏ عَلَى‏ وَلِيِ‏ أَمْرِكَ- الْقَائِم‏ ) ۔ خدایا ہمارے ولی امر پر صلوات بیھج دے یعنی رحمت بھیح دے ۔

علامہ مرحوم طباطبائی سے کسی نے سؤال کیاکہ معصوم درود و صلوات کے محتاج نہیں ہے تو ہم کیوں ان پر صلوات بھیجتے ہیں ؟ تو فرمایا کہ یہ جو ہم صلوات بھیجتے ہیں پہلا یہ کہ ہم اپنی طرف سے کسی چیز کو نہیں دیتے بلکہ خدا سے عرض کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر اکرم اور آپ کے خاندان پر خصوصی رحمت نازل کرے ۔

اور دوسرا یہ کہ اگرچہ یہ حضرات ہمارے محتاج نہیں ہیں لیکن خداوند عالم کے محتاج ہیں اسی لئے ہمیشہ ان پر فیض الہی نازل ہونا چاہیے ۔اور ہم اسی صلوات کے ذریعے خود کو اسی خاندان سے نزدیک کرتے ہیں(۷۹) ۔

صلوات کے بہت سارے فوائد اور اسرار ہیں مخصوصا دعا ؤں کے وقت بہت ہی زیادہ ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اس کی تعلیم دی ہے انہی میں سے ایک راز یہ ہے کہ جب رحمت خدا امام پر نازل ہوتا ہے تو یہ دوسروں کے لئے بھی پہنچتاہے لیکن پہلے امام تک پہنچتا ہے اور پھر دوسروں تک ۔علامہ طباطبائی نے فرمایا محمد و آل محمد پر صلوات کا معنی یہ ہے کہ خدایا آپ اپنی رحمتوں کو ان پر نازل کردیں تاکہ وہ رحمت ہم تک بھی پہنچ جائے اور اگر کوئی رحمت آئے تو پہلے ان پر پھر اس کے بعد دوسروں پر ۔ اسی بنا پر رحمت الہی کا طلب کرنا دعا کی قبولیت کا سبب بنتا ہے ۔(۸۰)

اور اس کے علاوہ یہ صلوات امام زمان کے لئے موجب رحمت الہی ہے اور پھر اس کے آثار دوسرے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ درود کا یہ طریقہ سامراء کے سرداب مقدس کے صلوات میں بھی بیان ہوا ہے(۸۱) ۔

۳-وَعَلَی آبائِه الطَّاهِرِینَ :

اور آپ کے آباء و اجداد پر درود و سلام ہو :

اس عبارت و علی آبائہ سے معلوم ہوتا ہے کہ درود امام کے ساتھ ان کے آبا و اجداد پر بھی بھیج دیں کیونکہ حقیقت میں امام مہدی علیہ السلام رسالت اور ولایت کا ادامہ ہے اسلام میں سابقین کی زیادہ اہمیت ہے جیسا کہ فرمایا

( وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُوْلَئكَ الْمُقَرَّبُون ) (۸۲) ۔

ادبیات عرب میں یہ بات ثابت ہے کہ حرف جر کا تکرار ہونا عامل کے تکرار کی مانند ہے اس لحاظ سے اس دعا میں دعا کرنے والا رحمت الہی کو امام زمان علیہ السلام اور پھر لفظ( علی) کو تکرار کر کے رحمتوں کو ان کے آباءو اجداد کے لئے طلب کررہے ہیں صرف امام مہدی علیہ السلام ہی زندہ اور حی ہیں تو ایک بار ان کے لئے رحمت الہی طلب کرے ۔

اور اسی طرح صلوات محمد و آل محمد میں لفظ مفرد استعمال ہوا ہے اور حرف علی بھی تکرار نہیں ہوا ہے جیسا کہ

(اللَّهُمَ‏ صَلِ‏ عَلَى‏ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ ،) لیکن اس دعا میں لفظ جمع اور حرف جر بھی تکرار ہوا ہے اور دعا کرنے والا تمام رحمت الہی کو ایک مرتبہ امام حاضر اور زندہ کے لئے اور ایک مرتبہ دوسرے گزشتہ اماموں کے لئے طلب کرتا ہے ۔

اس بات کی طرف توجہ رکھناچاہیے کہ ہر امام کی اپنی مسؤلیت تھی جو اسی کے مطابق الگ الگ فیض اور رحمت کو طلب کرتا ہے پس دعا کرنے والا لفظ جمع کو استعمال کرکے تمام رحمتوں کو امام زمانہ اور باقی تمام اماموں کے لئے بھی طلب کرتا ہے

۴-عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ :

اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے۔

اس دعا میں تمام مؤمنین اور مؤمنات کی طرف سے امام زمانہ علیہ السلام کو سلام دیا ہے یہاں سے معلوم ہوتا ہےکہ ان کے درمیان ایک رابطہ ہے لہذا منتظر یہ سیکھ لیتا ہے کہ اچھے کاموں کو ہمیشہ ایک آفاقی و جہانی انداز سے دیکھنا چاہیے نہ کہ ذاتی اور رشتہ داری اور قومی حد تک ۔ پس جو بھی کام کرنا چاہے اسے ایک عمومی طور پر سب کے لئے سوچنا چاہیے کیونکہ منتظر حقیقی اور واقعی سب کے لئے سوچتا ہے اس کا نظر بہت ہی وسیع ہوتا ہے کیونکہ امام علیہ السلام بھی تما م عالم کے لئے ہیں ۔

۵-فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها :

اور جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں رہتے ہیں انکی طرف سے ۔

اس دعا میں تمام سرحدی حدوں کو ختم کیا ہے کوئی سرحدی قید موجود نہیں ہے یعنی تمام مؤمنین و مؤمنات جو مشرق و مغرب میں رہتے ہیں ان کی طرف سے امام زمانہ کو سلام کیا جاتا ہے ۔

اس مشرق اور مغرب کے بارے میں قرآن مجید میں تین تعبیریں بیان ہوئی ہیں ۔

مفرد کی صورت میں جیسا( الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ ) (۸۳) ۔

تثنیہ کی صورت میں جیسا کہ( الْمَشْرِقَيْنِ وَ الْمَغْرِبَيْنِ ) (۸۴) ۔

اور جمع کی صورت میں جیسا کہ( الْمَشارِقِ وَ الْمَغارِبِ ) (۸۵) ۔

اور یہ تینوں تعبیریں صحیح ہیں کیونکہ کلی طور پر دیکھا جائے تو ایک طرف مشر ق ہے اور دوسری طرف مغرب ہے اور دوسری نگاہ کے اعتبار سے موسم گرما کے اعتبار سے ان میں تبدیلی آجاتی ہے گرمی میں مشرق شمال کی سمت بڑھتا ہے۔ اور سردی میں جنوب کی طرف ۔ پس سورج کے لئے دو مشرق اور دو مغرب ہیں اور اگر اس سے دقیق تر دیکھا جائے تو ہر روز ایک الگ جگہ سے طلوع و غروب کرتا ہے ۔

پس خلاصہ تمام عالم میں موجود مؤمنین اور مؤمنات کے سلام ہو اس امام زمانہ علیہ السلام پر ۔

۶-سَهْلها وَجَبَلها :

میدانوں اور پہاڑوں میں رہنے والوں کا سلام ہو ۔

زمین کے تمام جگہوں پر مؤمنین و مؤمنات موجود ہیں تو اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار اس دعا سے یہ سیکھتے ہیں کہ دعا کرتے وقت ایک خاص جغرافیائی جگہے کو نہیں بلکہ تمام دنیا میں موجود مؤمینن کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔

۷-وَبَرِّها وَبَحْرِها :

اور خشکیوں اور سمندروں میں رہنے والوں کا سلام ہو ۔

اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منتظر حقیقی تمام مؤمنین کے فکر میں ہوتا ہے چاہے وہ جہاں بھی ہوں پانی میں یا خشکی میں بیابانوں میں یا پہاڑوں میں اور مشرق و مغرب میں ہو سب کو مد نظر رکھتے ہیں ۔

۸-وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ :

میری طرف سے اور میرے والدین کی طرف سے ۔

والدین کو دعاؤں اور زیارتوں میں شریک کرنا یہ صرف ہمارے مذہب کی خصوصیات میں سے ہیں یعنی اے اللہ میرے طرف سے اور میرے آباء و اجداد کی طرف سے جو ہم سے پہلے تھے ہمارے امام تک سلام پہنچا ۔

یعنی یہاں پر امام سے رابطہ کرنے کے لئے تاریخ کا کوئی قید نہیں ہیں ۔

۹-مِنَ الصَّلَواتِ زِنَة عَرْشِ اﷲِ :

بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش کے ۔

امام زمان علیہ السلام کے ساتھ محبت کا اندازہ بے حساب ہے اسی لئے جو درود او رسلام امام علیہ السلام پر بھیجتے ہیں اس کو خدا کی عر ش کے ساتھ نسبت دی ہے جسے کوئی بھی نہیں جانتا ہے ۔ یعنی اے امام زمان سلام ہو آپ پر عرش خدا کے برابر یعنی ہر چیز جو خلق میں موجود ہے اس کے برابر ۔

عرش کیا ہے ؟

عرش کے بارے میں خود قرآن میں بیس /۲۰ مرتبہ اشارہ ہوا ہے ۔

لغت میں عرش کا معنی یعنی ایسا تخت کہ جس کے پائے بلند ہو اور کرسی وہ تخت کہ جس کے پایہ چھوٹی ہو جب ہم قرآن میں پڑھتے ہیں( وسع کرسیه السماوات والارض ) ) یعنی ان کی کرسی تمام زمین و آسمان کو پھیلی ہوئی ہیں تو اس

سے مراد قدرت خدا ہے تو ان کا عرش کتنا وسیع ہو گا ؟ عرش کنایہ ہے مرکز قدرت الہی کا یا احکام الہی صادر ہونے کا مرکز ہے جو کہ( حاملان عرش ہیں ) اور وہ فرشتے ہیں کہ جنہوں نے عرش الہی کو اٹھایا ہوا ہے جیساکہ قرآن کہہ رہا ہے "( وَ الْمَلَكُ عَلىَ أَرْجَائهَا وَ يحَمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئذٍ ثمَانِيَة ) (۸۶) ۔ اور فرشتے اس کے کنارے پر ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے آپ کے رب کا عرش ان سب کے اوپر اٹھائے ہوں گے۔حقیقت عرش کے بارے میں ہمیں صحیح طرح سے معلوم نہیں ہیں لیکن مجموع آیات سے ہم شاید اس مطلب کو اس طرح سے حاصل کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک ہی مرکز ہیں اور خدا وند عالم کا اس پر احاطہ ہے ۔ یعنی وہ قدرت کامل رکھتاہے اور خداوند اپنے ارادہ کا اجراء اپنے فرشتوں کے ذریعے سے کرتا ہے ۔ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے "الْعَرْشُ‏ هُوَ الْعِلْمُ‏ الَّذِي‏ أَطْلَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَنْبِيَاءَهُ وَ رُسُلَه‏ (۸۷) ۔ عرش سے مراد وہی علم ہے کہ جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبروں کو عطا کیا ہے ۔

مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ عرش حقیقی یعنی حقائق و اوامر امور خارجی اور امور جہان کے تدبیر کا مرکز ہیں۔ اور امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عرش و کرسی عالم غیب کے بڑے دروازوں میں سے ہیں "لِأَنَّهُمَا بَابَانِ مِنْ أَكْبَرِ أَبْوَابِ‏ الْغُيُوب‏ (۸۸) ۔

پس عرش سے مراد تخت جسمی نہیں ہے کیونکہ تخت پانی پر نہیں ٹھرسکتا ہے بلکہ عرش سے مراد (( وکان عرشه علی الماء ) (۸۹) قدرت و حکمرانی خداوند عالم ہے کہ جب زمین و آسمان کو خلق نہیں کیا تھا اور تمام دنیا پانی تھا تو اس وقت خداوند عالم کی حکمرانی پانی پر تھا ۔

۱۰-وَمِدادَ کَلِماتِه :

اورسلام ہو اسکے کلمات کی روشنائی سے ۔

خداوند عالم نے سورہ لقمان میں ارشاد فرمایا :( وَ لَوْ أَنَّمَا فىِ الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَ الْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبحْرٍ مَّا نَفِدَتْ كلَمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيم ) (۹۰) ۔ اور اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کے ساتھ مزید سات سمندر مل کر سیاہی بن جائیں تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، یقینا اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت و الا ہے ۔

اس آیت میں شاید( سَبْعَةُ أَبحْرٍ ) سے مراد کثرت ہو یعنی تمام دریاؤں کے پانی سیاہی بن جائے تب بھی کلمات الہی کو لکھ کر ختم نہیں کر سکتے ہیں ۔

لیکن اس دعا میں کلمہ اللہ آیا ہے اس کے بارے میں قرآن میں کئی موارد کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

۱۔ خداوند عالم کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جیسا کہ فرمایا "( قُل لَّوْ كاَنَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكلَمَاتِ رَبىّ‏ِ لَنَفِدَ الْبَحْر ) (۹۱) ۔

کہدیجئے: میرے پروردگار کے کلمات (لکھنے) کے لیے اگرسمندر روشنائی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے لیکن میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے ۔

۲۔ سنت الہی کی طرف اشارہ ہواہے جیسا کہ فرمایا "( وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كلَمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِين ) (۹۲)

اور بتحقیق ہمارے بندگان مرسل سے ہمارا یہ وعدہ ہو چکا ہے۔

۳۔اللہ تعالی کے مخصوص مخلوقات :( إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسىَ ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَ كَلِمَتُه ) ۔(۹۳) بے شک مسیح عیسیٰ بن مریم تو اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم تک پہنچا دیا ۔

۴۔ وہ حادثات جس کے ذریعہ امتحان لیا جاتا ہے "( وَ إِذِ ابْتَلىَ إِبْرَاهِمَ رَبُّهُ بِكلَمَاتٍ فَأَتَمَّهُن ) (۹۴) ۔

اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا ۔

۵۔ وہ آیات الہی جو حضرت مریم کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں :( وَ صَدَّقَتْ بِكلَمَاتِ رَبهِّا ) ۔(۹۵)

اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی ۔

۶۔ حق کو باطل پر فتح حاصل ہونے کے اسباب جیساکہ فرمایا "

( وَ يُرِيدُ اللَّهُ أَن يحُقَّ الْحَقَّ بِكلَمَاتِهِ وَ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ ) ۔(۹۶) ۔

جب کہ اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنے فرامین کے ذریعے ثبات بخشے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے ۔

پس ان تمام مطالب سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کلمہ سے صرف لفظ مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد سنت الہی مخلوقات خدا ارادہ خدا اور لطف خدا جو انسان کی پیدائش کے وقت ہوتا ہیں یہ سب مراد ہیں ۔

بنا براین اگر تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام دریا سیاہی بن جائیں تب بھی کلمات خدا کو لکھ نہیں سکتے ہیں ۔

امام کاظم علیہ السلام کا فرمان ہے کہ کلمات اللہ کا اکمل ترین مصداق اہل بیت علیہم السلام ہیں کہ ان کی فضائل کو درک کرنا اور ان کو حساب لگانا ممکن نہیں ہے ۔(۹۷)

۱۱-وَمَا أحْصاهُ عِلْمُه :

اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں ۔

(عَدًّ ) کا معنی حساب یا شمار کرنے کے معنی میں ہے اور(أحْصا ء ) دقت کے ساتھ شمار کرنے کےمعنی میں ہے یعنی اس طرح سے کوئی چیز باقی نہ رہ جائے خداوند عالم تمام چیزوں کو دقیق جانتا ہے یہاں تک کہ جو موجودات سانس لیتے ہیں ان کی تعداد کو بھی جانتاہے جیسا کہ سورہ مریم آیت / ۸۴ میں آیا ہے کہ فرمایا"( فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا ) ۔ پس آپ ان پر (عذاب کے لیے) عجلت نہ کریں، ہم ان کی گنتی یقینا پوری کریں گے ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کے عمر کو اس کے ماں باپ بھی حساب کرسکتے ہیں لیکن یہاں پر(( نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا ) سے مراد انسان کے منہ سے نکلے ہوئے نفسوں کا حساب لگانا ہے یعنی خدا انسانوں کے سانسوں کی تعداد کوبھی جانتا ہے(۹۸)

اور اسی طرح سے سورہ مریم آیت ۹۴ میں بھی آیا ہے کہ فرمایا "( لَّقَدْ أَحْصَئهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّا ) ۔ بتحقیق اس نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہیں شمار کر رکھا ہے۔

اسی سے معلوم ہوتا ہےکہ تمام موجودات جہان ہستی کے بارے میں دقیق علم رکھتا ہے اور علم خدا فقط کلیات پر نہیں ہے بلکہ جزئیات پر بھی ہے ۔

۱۲-وَأحاطَ بِه کِتابُه ۔:

اور ہر چیز پر کتاب خدا کا احاطہ ہے ۔

خداوند عالم ہر چیز پر علم رکھتاہے جیسا کہ فرمایا "( يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْديهِمْ وَ ما خَلْفَهُمْ وَ لا يُحيطُونَ بِهِ عِلْماً ) ۔(۹۹)

اور وہ لوگوں کے سامنے اور پیچھے کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ کسی کے احاطہ علم میں نہیں آ سکتا۔

اور اسی طرح سورہ نساء کی کی آیت /۱۲۶ میں پڑھتے ہیں "( وَ لِلَّهِ مَا فىِ السَّمَاوَاتِ وَ مَا فىِ الْأَرْضِ وَ كَانَ اللَّهُ بِكلُ‏ِّ شىَ‏ْءٍ محُّيطًا ) ۔ اور جو کچھ آسمانوںاور زمین میں ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب احاطہ رکھنے والا ہے۔

یقینا خداوند عالم تمام مخلوقات پر احاطہ کامل رکھتا ہے یعنی علم پر تدبیر پر خلقت پر تسخیر پر اور تمام چیزوں پر احاطہ رکھتا ہے جیسا کہ سورہ انعام آیت /۳ میں آیا ہے "( وَ هُوَ اللَّهُ فىِ السَّمَاوَاتِ وَ فىِ الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُون ) (۱۰۰) ۔ اور آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی وہی ایک اللہ ہے، وہ تمہاری پوشیدہ اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے ۔

اس آیت کے بارے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خداوند عالم تمام مخلوقات پر علم اور قدرت کے اعتبار سے حاکمیت اور احاطہ رکھتا ہے(۱۰۱) ۔

خلاصہ : خداوند عالم کا علم اجمالی نہیں ہے بلکہ احاطہ و احصاء حساب کامل رکھتاہے اور علم خدا دائمی ہے اور اس کا علم تمام زمین اور آسمانوں کے بارے میں یکساں ہے( یعلم ما فی السماوات و ما فی الارض ) ) اور ہر چیز کا علم رکھتاہے ۔ (( وسع کل شیء علما )(۱۰۲) ۔علم خدا تمام حزئیات پر بھی ہیں ۔


چوتھا حصّہ:

عہد مہدوی

اس دعا کے بعض مضامین میں عہد و پیمان اور میثاق کے بارے میں ہیں جو ایک منتظر حقیقی کے زندگی میں امام زمان علیہ السلام کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ زندگی ہی امام زمانہ کے انتظار میں گزار رہا ہے تو یہ عہد دائمی ہوتا ہے اور منتظرواقعی کبھی بھی اپنی زندگی میں اپنے امام کے ساتھ بے وفائی نہیں کرتا ہے ۔

جب انسان اس دعا کو ہر صبح پڑھتا ہے تو وہ اپنے امام کے ساتھ اس عہد کو یاد رکھتا ہے اور اپنی زندگی کو اس طرح سے گزارنے کی کوشش کرتا ہے کہ جیسا اسکا امام چاہتا ہو کیونکہ اس نے امام کے ساتھ بیعت کی ہوئی ہے ۔

اس حصہ میں منتظرین امام مہدی علیہ السلام اپنے عہد نامہ کو چند حصوں میں بیان کرتے ہیں ۔

۱-اَللّٰهُمَّ إنِّی أجَدِّدُ له فِی صَبِیحة یَوْمِی هذا :

اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو ۔

امام زمانہ کے ساتھ میثاق باندھنا یہ غدیر کے تحفوں میں سے ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے امیرالمؤمنین کو لوگوں میں معرفی کی تو لوگوں نے وظیفہ پا کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اسی طرح سے ہر امام جب امامت پر پہنچے تو لوگوں نے انکی بیعت کی ہے اور بیعت امام زمان علیہ السلام بھی نو ربیع الاول سنہ ۲۶۰ ہجری کوہے ۔ لیکن یہاں پر ہماری بحث تجدید بیعت و عہد و پیمان ہے توحقیقی منتظر ہر صبح کو امام زمانہ کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہیں۔

۲-وَمَا عِشْتُ مِنْ أیَّامِی :

اور جب تک میں زندہ ہوں ۔

اس دعا میں امام زمان کےساتھ رابطہ ہر روز تازہ ہو جاتا ہے اس دعا میں کہتے ہیں کہ یاامام زمان علیہ السلام آج کے دن اور ہر دن اپنی بیعت کو تجدید کرتاہوں

۳-عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَة :

باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن :

اے امام زمان علیہ السلام ہم آپ سے عہد کرتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں یعنی تم جو کہے گے ہم ایسا ہی کریں گے بس عہد ایک کمزور عقد متوسط ہے اور بیعت ایک کامل رابطہ ہے جو امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ ہوتا ہے ۔کیونکہ اس دعا میں امام علیہ السلام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ہم ہرروز امام زمانہ سے تجدید بیعت کرتے ہیں ۔

۴-لَهُ فِی عُنُقِی :

اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے۔

اس دعا میں امام زمان علیہ السلام کے ساتھ رابطہ حتمی ہے چونکہ کہتے ہیں کہ امام کی بیعت میرے گردن پر حتمی ہے اور اسی چیز کو ہمیں اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہیں کتنا اچھا ہے یہ رابطہ ہماری زندگی میں ہیڈ لائن ہوجائے ۔

۵-لاَ أَحُولُ عَنْه :

میں نہ اس سے مکروں گا ۔

یہ جملہ امام زمانہ کے حقیقی منتظرین کے ثابت قدمی کو بیان کرتاہے اور یہی بہت ہی اہم پہلو ہے کہ ہم راہ حق پر ثابت قدم و استوار رہے اور زمانے کے تمام مشکلات و حوادث پر ثابت و محکم رہیں ۔

۶-وَلاَ أَزُولُ أَبَداً :

اور نہ کبھی ترک کروں گا ۔

حول یعنی تبدیل و تغیر کے معنی میں ہے اور زوال بھی زائل اور ختم ہونے کے معنی میں ہے لیکن یہ عبارت اس معنی میں ہےکہ میں اپنے عہد و پیمان میں جو امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ باندھا ہوں اس سے نہ کبھی متزلزل ہونگا اور نہ ہی اس سے تبدیل و تغیر کا شکار ہونگا بلکہ اسی راہ میں ہمیشہ ثابت قدم رہونگا اور اپنی عہد سے کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھاؤنگا کیونکہ اپنے عہد کا وفا کرنا مؤمن کی خصوصیات میں سے ہیں ۔


پانچواں حصّہ:

عہد وپیمان کا فائدہ

اس دعامیں تجدید عہد و بیعت کے بعد آٹھ چیزوں کو بیان کیا ہے جو ذیل میں ہم بیان کریں گے

۱-اَللّٰهمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصارِهِ :

اے معبود مجھے ان کے مدد گاروں میں سے قرار دے ۔

اسی لحاظ سے ایک منتظر واقعی کے لئے صرف ایمان کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ عمل کے اعتبار سے انکی حمایت کرنا بھی ضروری ہیں جیسا کہ سورہ آل عمران آیت /۵۲ میں فرمایا :( فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسىَ‏ مِنهْمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِى إِلىَ اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نحَنُ أَنصَارُ اللَّهِ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَ اشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُون ) ۔

جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ لوگ کفر اختیار کر رہے ہیں تو بولے: اللہ کی راہ میں کون میرا مددگار ہو گا؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں ۔

حواریوں جو حضرت عیسی کے خاص مددگار تھے وہ بارہ لوگ تھے اور حواریوں کو حور سے لیا گیا ہے جس کا معنی دھونا اور سفید کرنا ہے اور سفید لباس پہننے کی وجہ سے اور ان کے دل صاف ہونے کی وجہ سے جو لوگوں کو پاکی کی طرف دعوت دیتے تھے انکو حواریوں کا لقب دیا ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ہمارے شیعہ ہمارے حواریوں میں سے ہیں عیسی کے حواریوں نے ان کے دشمنوں کے مقابل میں ان کی مدد نہیں کی لیکن ہمارے شیعہ ہماری مدد کرتے ہیں اور ہماری راہ میں شہید ہوتے ہیں اور ہماری راہ میں سخت مشکلات اٹھاتے ہیں خداوند عالم ا ن کو نیک اجر عطا کرے(۱۰۳) ۔

اسی طرح سورہ صف میں بھی آیا ہے کہ فرمایا( " يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ أَنصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسىَ ابْنُ مَرْيمَ‏َ لِلْحَوَارِيِّنَ مَنْ أَنصَارِى إِلىَ اللَّهِ قَالَ الحْوَارِيُّونَ نحَنُ أَنصَارُ اللَّهِ فَامَنَت طَّائفَةٌ مِّن بَنىِ إِسْرَ ءِيلَ وَ كَفَرَت طَّائفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلىَ‏ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُواْ ظَاهِرِين ) .(۱۰۴) ۔

اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بن جاؤ جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا: کون ہے جو راہ خدا میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل کی ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک جماعت نے انکار کیا لھٰذا ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی اور وہ غالب ہوگئے۔

اس آیت میں کئی نکات کی طرف اشارہ ہواہے ۔

۱۔ مؤمن کو قدم بہ قدم آگے بڑھنا چاہیے جیسا کہ فرمایا "( کونوا انصار اللہ ) تم لوگ اللہ کی مددگار بن جاؤ

۲۔ خداوند عالم ہماری مدد کی طرف محتاج نہیں ہے بلکہ تمام کامیابی اسی کی ذات سے ہیں (نصر من اللہ ) لیکن ہمارے لئے انصار خدا ہی ہونا باعث افتخار ہے ۔

۳۔ انبیاء الہی لوگوں کو خداکی طرف دعوت دیتے ہیں نہ کہ اپنی طرف یا اپنے پارٹی کی طرف جیسا کہ فرمایا ( من انصاری الی اللہ ) کون خدا کے مددگار ہیں ۔

۴۔ پیغمبران الہی تمام جنگوں کو عادی اور طبیعی طریقے سے کرتے تھیں نہ کہ معجزات سے ۔

۵۔ ہر قائد اور رہبر کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مددگاروں کی دقیق معلومات حاصل کرے ۔

۶۔ اور اپنے مددگاروں سے اقرار لینا بھی ایک قسم کی تجدید بیعت ہے ۔

۷۔ دین کی طرف دعوت دینے والوں کی دعوت کو قبول کرنا ضروری ہے ۔

۸ ۔ صاحب اختیار ہے انبیاء کی دعوت کو قبول کریں یا نہ کریں۔

۹۔ ہادیان الہی کی مددکرنا گویا خداکی مدد کرنا ہے ۔

۱۰۔ دین کی حمایت اور مدد میں سبقت کرنے کی زیادہ اہمیت ہے ۔

۲-وَأَعْوانِهِ :

ان کے ساتھیوں میں سے قرآر دے ۔

قرآن اور روایات کے اعتبار سے مؤمنین کا ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بہت ہی زیادہ تا کید ہوئی ہے اور اجر کا مستحق ہوتا ہے لیکن ہم اگر تمام موجودات میں سے بلند ہستی کی مدد کریں تو اسکا اجر کتنا عظیم ہو گا؟۔

امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ "إِنَ‏ الْخُمُسَ‏ عَوْنُنَا عَلَى دِينِنَا وَ عَلَى عِيَالاتِنَا وَ عَلَى مَوَالِينَا وَ مَا نَبْذُلُهُ وَ نَشْتَرِي مِنْ أَعْرَاضِنَا مِمَّنْ نَخَافُ سَطْوَتَهُ فَلَا تَزْوُوهُ عَنَّا وَ لَا تَحْرِمُوا أَنْفُسَكُمْ دُعَاءَنَا مَا قَدَرْتُمْ عَلَيْه .(۱۰۵)

خمس دینا ہماری مدد ہے اس سے منع نہ کرو تاکہ ہماری دعاؤں سے محروم نہ ہو جائے ۔

اور امام زمان علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "فَلَا يَحِلُ‏ لِأَحَدٍ أَنْ‏ يَتَصَرَّفَ‏ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَكَيْفَ يَحِلُّ ذَلِكَ فِي مَالِنَا مَنْ فَعَلَ شَيْئاً مِنْ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَمْرِنَا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مِنَّا مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ وَ مَنْ أَكَلَ مِنْ أَمْوَالِنَا شَيْئاً فَإِنَّمَا يَأْكُلُ فِي بَطْنِهِ نَاراً وَ سَيَصْلَى سَعِيرا ۔(۱۰۶)

کوئی حق نہیں رکھتا ہے کہ کسی کے مال میں تصرف کرے پس یہ لوگ کیسے ہمارے مال میں تصرف کرتے ہیں جو بھی ہمارے حکم کے بغیر ہمارے مال میں تصر ف کرے تو گویا اس نے گناہ کا ارتکاب کیا او رہمارے مال میں سے کوئی بھی تھوڑا سا کھائے گا تو گویا اس کے پیٹ میں آگ ہو گااور جہنم میں جائیں گا ۔

اور امام خمینی قدس سرہ تحریر الوسیلہ میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی انسان ایک درہم کے برابر بھی خمس نہیں دے گا تو وہ بھی اہل بیت پر ستم کرنے والوں میں سے ہوگا اور ان کی طرح ہوگا جنہوں نے انکے حق کو غصب کیا تھا

۳-وَالذَّابِّینَ عَنْهُ :

اور ان کا دفاع کرنے والوں میں سے قرار دے۔

معصومین علیہم السلام کی شخصیت کا دفاع کرنا واجب ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن ان ہستیوں سے سوء استفادہ نہ کرے ۔

خداوند متعال قرآن مجید میں پیغمبران الہی سے دفاع کرتا ہے اسی طرح ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ان ہستیوں کی شخصیات سے دفاع کریں اور دفاع کرنے کے بھی کچھ مراحل ہیں کبھی دفاع زبانی ہوتا ہے تو کبھی قلمی ہوتا ہے اور کبھی دفاع تلوار سے ہوتا ہے جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :هَلْ‏ مِنْ‏ ذَابٍ‏ يَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ (۱۰۷) ۔

کیا حرم رسول کا دفاع کرنے والا کوئی ہیں ؟

پس منتظر واقعی جو چاہتا ہے اپنی پوری وجود کے ساتھ امام زمانہ کا دفاع کریں تو اس کے لئے دشمن اور ان کی چالوں کا جاننا اور بصیرت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عصر حاضرمیں دشمن مختلف طریقوں سے اصل مہدویت میں تغیر و تبدیلی کر رہیں ہیں اسی لئے منتظر واقعی کے لئے ضروری ہےکہ وہ دشمن کی تمام تر طریقوں سے آگاہ ہوجائے ۔

۴-والْمُسارِعِینَ إلَیْهِ فِی قَضاء حَوَائِجِهِ :

حاجت برآوری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں میں قرار دے۔

اس حصہ میں خدا سے صرف امام مہدی کی دفاع کرنے کو ہی طلب نہیں کررہا ہے بلکہ خدا سے یہ طلب کررہے ہیں کہ مجھے ان میں سے قرار دے کہ جو ان کی مدد کے لئے دوسروں پر سبقت رکھتے ہیں ۔ اس میں دو اہم نکتے ہیں۔

الف ۔ سرعت یعنی جلدی :

اچھے کاموں میں اس کی اہمیت کو زیادہ کرتا ہے اسی لئے قرآن مجید میں لفظ( سارعوا سابقوا اور فاستبقوا ) ) آیاہے تویہ کار خیر کے لئے استعمال ہوئے ہیں قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں "( إِنَّهُمْ كَانُواْ يُسَرِعُونَ فىِ الْخَيرْات ) (۱۰۸) ۔

یہ لوگ کارہائے خیر میں سبقت لے جانے والے تھے۔

ب ۔ امام زمان علیہ السلام کا تقاضا :

ابتداء میں ہمیں یہ سمجھتے ہیں کہ امام زمانہ کا تقاضا بھی اہل بیت کی طرح ہے یعنی تمام اچھائیوں کی طرف متوجہ ہونا او رتمام برائیوں سے دور رہنا ہے کیونکہ اہلبیت علیہم السلام تمام خوبیوں کے معدن و منشا ہیں اور انکی خواہش صرف تقوا کی رعایت کرنا ہے ۔

۵-وَالْمُمْتَثِلِینَ لاِوامِرِهِ :

انکے احکام پر عمل کرنے والوں میں ۔

اس جملہ میں دو نکتے بیان ہوئی ہیں ۔ا۔ امام علیہ السلام کے فرامین ۔ب۔امام کی اطاعت کرنا ۔

الف ۔ فرامین امام زمان علیہ السلام :

فرامین امام علیہ السلام انکے توقیعات وغیرہ میں موجود ہیں اور اسی طرح واقعات اور حکا یات جیسا کہ حاج علی بغدادی کا واقعہ اور سید رشتی کی حکایت مفاتیح الجنان میں ذکر ہوئی ہیں اور اسی طرح سے مہزیار کے بیٹے کا امام زمان سے ملاقات کرنا کہ جس میں امام نے اسے اور تمام شیعوں کو تین چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہیں صلہ رحم کرنا ا ور معاشرے میں ضعیف و ناتوان لوگوں کی طرف توجہ دینا اور احتکار نہ کرنا ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس امام زمانہ سے کوئی احادیث موجود نہیں ہے تو مبلغین و مقررین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ منبر سے زیادہ تر امام کی احادیث بیان کریں تاکہ لوگ امام زمانہ علیہ السلام کے فرامین سے آشنا ہو سکیں ۔اور اس کے بارے میں اچھی کتابیں لکھ چکی ہیں۔

ب ۔ امام زمان علیہ السلام کی اطاعت :

جیسا کہ سورہ نساء میں ہم پڑھتے ہیں کہ فرمایا "( يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَ أَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَ أُوْلىِ الْأَمْرِ مِنكمُ‏ْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فىِ شىَ‏ْءٍ فَرُدُّوهُ إِلىَ اللَّهِ وَ الرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الاَخِرِ ذَالِكَ خَيرْ وَ أَحْسَنُ تَأْوِيلا ) (۱۰۹) ۔

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔

اس آیت میں خدا وند متعال اور پیغمبر اکرم کے سامنے لوگوں کی ذمہ داری اور انکا وظیفہ کیا ہونا چاہیے اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

اس آیت میں تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے کہ انسان اگر ان کی طرف رجوع کریں و وہ کبھی بھی ہدایت سے محروم نہیں رہے گا جیسا کہ خداوند عالم کی ذات اقدس ہے اور پیغمبر اکرم ہے اور اولی الامر ہیں اور اسی طرح سے اس آیت میں لفظ اطیعوا کا تکرار ہوا ہے جو کہ تنوع کے لئے ہے پس کوئی اگر قرآن کی روح سے پیغمبر اکرم اور اہل بیت کی اطاعت کریں تو گویا اس نے امام زمان علیہ السلام کی اطاعت کی ہے ۔

یہاں پر یہ سؤال ہے کہ ایک منتظر حقیقی خداسے یہ سؤال کیوں کر رہا ہے ؟ کہ خدایا مجھے ان میں سے قرار دے جو فرامین امام زمان کی اطاعت کرتے ہیں ۔

لیکن طول تاریخ میں بعض لوگ ایسے تھے جو اعتقاد تو رکھتے تھے لیکن میدان عمل میں پیچھے رہ جاتے تھے جیسا کہ قرآن مجید سورہ انقال آیت /۲۰ میں ارشاد ہوتا ہے "( يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لَا تَوَلَّوْاْ عَنْهُ وَ أَنتُمْ تَسْمَعُون ) ۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد تم اس سے روگردانی نہ کرو۔ اور اسی طرح سے اسی سورہ کی اکیسویں /۲۱ آیت میں ارشاد ہوتا ہے "( وَ لَا تَكُونُواْ كاَلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا يَسْمَعُون ) ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے یہ تو کہہ دیاکہ ہم نے سن لیا مگر درحقیقت وہ سنتے نہ تھے۔

قرآن مجیدمیں خداوندعالم کی اطاعت کے بعد رسول کی اطاعت کا حکم ہواہے اور گیارہ جگہوں پر(اتقوالله ) کے بعد (اطیعون ) کا جملہ آیا ہے یعنی تقوای الہی کا نبیجہ اور لازمہ رسول کی اطاعت ہے گویا خدا اور رسول دنوں کی اطاعت لازمی ہیں ۔

اس آیت میں چند اہم نکات کی طرف اشارہ ہے ۔

۱۔ مؤمنین اپنے تمام مشکل اوقات میں خدا اور رسول کے احکامات پر عمل کریں ۔

۲۔ رسول کی نافرمانی گویا خدا کی نافرمانی ہیں ۔خدا اور رسول کی احکام کوسن کر ان کو مسؤلیت کا احساس کریں ۔

۳۔ سننا اور سمجھ جانا ایک مسؤلیت حساب ہوتا ہے ۔

۴۔تاریخ میں گزرے ہوئے لوگوں کو اپنے لئے عبرت قرار دے دیں ۔

۵۔ اطاعت میں سچائی کیساتھ اپنے عہد کی وفا کریں اور عمل کے بغیر ایمان کا دعوی نہ کریں ۔

اسی طرح سے پیغمبر اکرم کے جانیشن وصی کی بھی اطاعت کرنا واجب ہے جیسا کہ فرمایا " (فاتبعونی و اطیعوا امری ) اور خصوصا اس دور حاضرمیں جو زیادہ اہم ہے وہ یہی ہے کیونکہ ہمارے اماموں کا ہدف و مقصد ایک ہے لیکن زمان و مکان کے لحاظ سے ان کے شرائط مختلف ہیں کوئی جنگ کرتے تو کوئی صلح کرتے ہیں ۔

روایات میں آیا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا دور پیغمبر اکرم کی دور سے بہت ہی سخت اور دشوارہے کیونکہ پیغمبر اکرم آیات قرآن سے جنگ کرتے تھے لیکن اس دور میں بعض لوگ اسی قرآن کو غلط استعمال کرتے ہیں اور امام کے خلاف غلط تاویلیں کرتے ہیں تو یہ دور بہت ہی سخت اور مشکل دور ہیں ۔

۶-وَالْمُحامِینَ عَنْهُ :

اور انکی طرف سے دعوت دینے والے ۔

اندیشہ مہدویت کا دفاع کرنا سب پر لازم ہے اگر کوئی اپنی زندگی کو مہدوی رنگ دینا چاہتا ہو تو وہ عارفانہ و عاشقانہ طور پر امام مہدی علیہ السلام کا دفاع کرے جیسا کہ سورہ بقرہ آیت /۱۳۷ میں خدا وند متعال نے مسلمانوں سے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے "( فَسَيَكْفِيكَهُمُ الله ) توقطعا خدا وندمتعال اپنے حجت یعنی امام مہدی علیہ السلام کی حفاظت و حمایت کرے گا لیکن ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسے انجام تک پہنچائے ۔

اور اسی طرح خداکی حمایت کا ایک اور نمونہ سورہ آل عمران آیت /۵۲ میں آیا ہے ۔

اور اسی طرح سے ایک او رنمونہ جو دین کی حمایت او راولیاء الہی کی حمایت میں ہے وہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی ذات ہے انہوں نے اپنی پوری جان و مال سے پیغمبر اکرم کی حمایت کی ہے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم کو اپنے بچوں پر مقدم کیا اور ہر مشکل میں پیغمبر اکرم کے ساتھ دیا ہے ۔ اور شعب ابی طالب میں جب پیغمبر اکرم کو مسلمانوں کے ساتھ محاصرہ میں رکھا تو حضرت ابو طالب راتوں کو پیغمبر اکرم کی جگہ حضرت علی کو سلاتے تھے تاکہ پیغمبر اکرم کی جان کوئی کوخطرہ نہ ہو۔

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوطالب نے اس لئے پیغمبر کی حفاظت کی کہ وہ آپ کے بھتیجہ تھے اس عاطفی جنبہ کی وجہ سے انکی حمایت کی ہے لیکن وہ ان چیزوں سے غافل ہیں کہ ۔

۱۔ کہ یہ عاطفہ اپنے بچوں میں دوسروں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ابوطالب پبغمبر اکرم کو اپنے بچوں پر بھی مقدم گردانتے تھے ۔

۲۔ اگر اس عاطفہ کا سبب انکا چاچا ہونا تھا تو ابولہب بھی انکا چچا تھا ۔

۳۔ تمام بنی ہاشم آپ کے قبیلہ کے تھے آپ پر ایمان بھی لائے مشکلات میں بھی آپ کے ساتھ دئیے لیکن کسی نے بھی ابوطالب کی طرح ایثار و فداکاری نہیں کیا ہے ۔

پس اس لحاظ سے یہ ساری چیزیں صرف اور صرف ایمان قلبی کا نتیجہ ہے ۔

۷-وَالسَّابِقِینَ إلی إرادَتِهِ :

اور ان کے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں ۔

اس فراز سے پہلے امام علیہ السلام کے احکام میں سرعت اور جلدی کے بارے میں بحث تھی اور ابھی انسان کے اعمال میں سبقت او رفرصت کو ضایع نہ کرنے کے بارے بحث ہے اور یہ اس دعا کی خصوصیات میں سے ہے کہ منتظر واقعی اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اچھے کاموں میں جلدی کرنا اور نیک اعمال و خیرات کی طرف سبقت لینے میں فضیلت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں عبادات کی طرف جلدی کرنے کو سبقت لینے کو افتخار جانا ہے جیسا کہ قرآن میں کہا ( سارعوا(۱۱۰) ۔ اور سابقوا(۱۱۱) ۔

پس منتظر واقعی کار خیر میں سبقت کرتا ہے اور منتظرین کا معاشرہ بھی انہی خیرات کی طرف سبقت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا :( أُوْلَئكَ يُسَارِعُونَ فىِ الخْيرْات ) (۱۱۲) ۔

اور اسی طرح قرآن کہہ رہا ہے کہ کفر نفاق کا معاشرہ فساد ومنکرات میں بھی سبقت رکھتا ہے جیساکہ فرمایا "

( وَ تَرَى‏ كَثِيرًا مِّنهْمْ يُسَارِعُونَ فىِ الْاثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ أَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كاَنُواْ يَعْمَلُون ) ۔(۱۱۳)

اور ان میں سے اکثر کو آپ گناہ، زیادتی اور حرام کھانے کے لیے دوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں، کتنا برا کام ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ۔کار خیر میں سبقت لینے کے بارے میں قرآن مجید میں بہت سارے مصادیق بیان ہوئے ہیں جیساکہ ایمان میں سبقت لینے کے بارے میں کہہ رہا ہے "( الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْايمَان ) (۱۱۴) ۔

اور خیرات میں سبقت لینے کے بارے میں کہہ رہا ہے ۔( فَاسْتَبِقُواْ الْخَيرَْاتِ ) (۱۱۵) ۔

( أُوْلَئكَ يُسَارِعُونَ فىِ الخْيرْات ) ۔(۱۱۶)

پس انسان عاشق یعنی منتظر حقیقی اپنی تمام فکر کو اپنے امام علیہ السلام کی رضایت کو حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں۔

۸-وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ :

اور ان کے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے۔

ایک منتظر حقیقی کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنی زندگی میں شہادت و عاقبت بخیرکا شوق رکھتا ہو ۔

پس دعا کا یہ فراز حق کو تسلیم اور قبول کرنے کا اور جانثاری کا ایک نشانہ ہے اگرچہ امام کا ظہور نہ بھی ہو ایک منتظر واقعی کے لئے اس قسم کے احساسات اور جزبات کا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔

کیونکہ شہید ہونا ایک مسئلہ اور شہادت کے لئے تیار ہونا اورایک مسئلہ ہے ان میں فرق ہیں جس طرح سے کہ خداوند عالم یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا خون بہہ جائے لیکن یہ چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیم اس کام کے لئے آمادہ رہے اسی طرح سے ممکن ہے ہم امام زمان علیہ السلام کی ظہور کی حالت کو درک نہ کرسکیں لیکن اس کی ظہور کے لئے حقیقی طور پر آمادہ رہنا بہت ہی ضروری ہے ۔


چھٹا حصّہ:

درخواست رجعت

شیعوں کے اعتقادات میں سے ایک رجعت کا عقیدہ ہے رجعت یعنی دوبارہ اس دنیا میں پلٹ کر آنا ہے۔

اس حصہ میں دعا کرنے والا خداوند عالم سے رجعت کی درخواست کرتا ہے ۔

اوریہ درخواست رجعت کے بارےمیں دوسری زیارتوں میں بھی آیا ہے جیساکہ فرمایا "وَ إِنْ‏ حَالَ‏ بَيْنِي‏ وَ بَيْنَ‏ لِقَائِهِ‏ الْمَوْتُ‏ الَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَى عِبَادِكَ حَتْماً وَ أَقْدَرْتَ بِهِ عَلَى خَلِيقَتِكَ رَغْماً، فَأَحْيِنِي عِنْدَ ظُهُورِهِ خَارِجاً مِنْ حُفْرَتِي، مُؤْتَزِراً بِكَفَنِي، حَتَّى أُجَاهِدَ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الصَّفِّ الَّذِي أَثْنَيْتَ عَلَيْهِمْ فِي كِتَابِكَ، فَقُلْتُ: ( ( كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ ) ۔(۱۱۷)

اگر میرے اور امام کی ظہور کے درمیان موت آجائے تو مجھے ان کے ظہور کے وقت قبر سے دوبارہ زندہ کرے اس حالت میں کہ میں کفن کو اپنے کمر پر باندھ کر اپنے امام کے ساتھ جھاد کروں کہ جن کی تعریف اللہ نے قرآن میں کی ہیں کہ فرمایا اللہ یقینا ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہوکر اس طرح لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

پس منتظر واقعی اپنی زندگی کی تمام ترکوششیں امام کی ظہور کی انتظار میں کرتے ہیں اور ہمیشہ انکی تعجیل کے لئے دعاکرتے ہیں اور یہ بات ممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی میں امام کی ظہور کو درک نہ کرسکے تو وہ خدا سے رجعت کے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ امام کی ظہور کے وقت کو درک کرسکیں ۔

۱-فَأخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی :

مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ ۔

قبروں سے نکلنا ظہور امام زمان کا وقت ہے وہی رجعت ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے ۔

( وَ يَوْمَ نحَشُرُ مِن كُلّ‏ِ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِايَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُون ) ۔(۱۱۸) ۔

اور جس روز ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت کو جمع کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتی تھیں پھرانہیں روک دیا جائے گا۔قیامت کے دن تمام لوگ زندہ ہوں گے لیکن اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہر امت میں سے چند گروہ کو زندہ کریں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت قیامت کے ساتھ مربوط نہیں ہے بلکہ رجعت کے ساتھ مربوط ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ گروہوں کو زندہ کریں گے ۔

اس کی مثالیں قرآن میں موجود ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ آیت /۲۴۳ میں خدا وند عالم نے ایک گروہ کو مرنے کا حکم دیا پھر اس کے بعد انکو زندہ کرنے کا حکم دیا ۔او ر اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت /۵۶ میں فرمایا" کہ میں نے تم لوگو ں کو موت کے بعد دوبارہ اس دنیا میں بھیجا ہے ۔ اسی طرح سے روایات میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ لیکن ایک منتظر واقعی خدا سے طلب رجعت کرتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اچھے افراد کے ساتھ رہ کر امام کے ہم رکاب ہو جائے گا ۔

۲-مُؤْتَزِراً کَفَنِی :

کفن میرا لباس ہو ۔

عام طور پر تمام انسان لباس کی طرف محتاج ہے تو اسلام نے بھی ہر کام کے لئے مخصوص لباس کا حکم دیا ہے جیسے جنگ کا لباس نماز استسقاء کا لباس احرام و حج کا لباس اور کفن کا لباس کہ جس کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔

اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اس فراز کا اسی دعا میں ذکر کرنا موت کی حقانیت کی تلقین ہے جو کہ ایک منتظر حقیقی ہمیشہ یاد خدا اور موت کی ذکر سے خالی نہیں ہوتا ہے ۔

۳-شاهِراً سَیْفِی :

میری تلوار بے نیام ہو ۔

منتظر واقعی کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہمیشہ و ہر حالت میں تیار رہے جیسا کہ امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے شہید کے قبر سے نکلنے کے بارے میں فرمایا "يَخْرُجُ‏ مِنْ‏ قَبْرِهِ‏ شَاهِراً سَيْفَه ۔(۱۱۹)

قیامت کے دن شہید قبر سے اس حالت میں نکلے گا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی ۔ اور منتظر کامل وہی ہے جس نے ا پنی زندگی امام کی معرفت اور کفر و فساد کے ساتھ مقابلہ کر کےگزاری ہو اور رجعت کے بعد بھی وہ کفر و فساد کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہونگے یعنی ہر حالت میں اہل باطل کے ساتھ مقابلہ کریں گے ۔

۴-مُجَرِّداً قَناتِی :

میرا نیزہ بلند ہو۔

حقیقت میں دعا کرنے والا اس فراز میں خداوند عالم سے چاہتا ہے کہ جب قبر سے باہر آئے تو دین کی خدمت کے لئے تیار ہو یعنی جب وہ قبر سے نکلے تو اپنی تلوار کو نیام سے نکالنے میں بھی دیر نہ ہو اور ہر وقت امام کی اطاعت کے لئے تیار رہے اور اسی کا نام انتظار ہے ۔

۵-مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی :

داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں ۔

یہ عبارت اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ منتظر واقعی ہر وقت و ہر جگہ پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہے اگر وہ دنیا کے دور دراز جگہوں میں ہو یا نزدیک ہو اور ہر جگہ پر بھی ہو وہ ہمیشہ امام کی دعوت پر لبیک کہنے کو تیار ہے ۔

۶-فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی :

شہرمیں ہوں یا گاؤں میں ۔

اس جملہ سے پتہ چلتا ہے کہ منتظر امام چاہے کسی بھی جگہ ہو شہر میں ہو یا دیہات میں ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ حجت خدا جب چاہے اسی وقت جواب دینے کو تیار ہے اور ہر چیز میں اپنے آپ کو مسؤل سمجھتا ہے اور لوگو ں کی خدمت میں اپنے آپ کو کسی مکان کے ساتھ محدود نہیں کرتا ہے اور اپنے امام کے حکم سے ہر جگہ پر باطل کے ساتھ نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔


ساتواں حصّہ:

ظہور کے لئے دعا

اس دعا میں نو پر لطف اور دقیق جملات کے ذریعے ظہور کی درخواست ہوئی ہے کہ ہم جس سے گفتگو کریں گے ۔

۱-اَللّٰهُمَّ أَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ :

اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبادکھا ۔

اس جملہ میں دعا کرنے والے خدا سے عرض کررہا ہے کہ الہی ہمارے امام کی ظہور میں تعجیل فرما ۔ امام کو بادل میں چھپے ہوئے سورج کی طرف نسبت دی ہے اسی طرح دعا کرتے ہیں کہ خدایا بادلوں میں چھپے ہوئے سورج کو ظاہر کردے تاکہ سب لوگ اس کو دیکھ سکیں ۔

کتاب مکیال المکارم میں جمال و زیبائی حضرت مہدی علیہ السلام کو انکی خصوصیات میں سے قرار دیا ہے کہ وہ خوبصورت ترین شخص ہے کیونکہ پیغمبر اکرم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہے ۔

اسی طرح سے روایات میں بررسی کرنے سے اور جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام ملاقات کی ہے انکی حکایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام خوبصورت ترین اور پیغمبر اکرم کے ساتھ مشابہ ہیں ۔بہت ساری روایات انکی جمال اور خوبصورتی کے بارےمیں بیان ہوئی ہیں جیسا کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں کہ مہدی میرےفرزندان میں سے ہیں اور اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن اور منور ہے(۱۲۰) ۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں کہ مہدی ہمارے فرزندان میں سے ہیں اور ان کے چہرے کی دائیں طرف ایک خال ہے جو ستارے کے مانند چمکتا ہے(۱۲۱)

۲-وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ :

آپ کی درخشاں پیشانی دکھا۔

عرب ہر مہینہ کی پہلی رات کی چاند کو غرہ کہتے ہیں او راس کو امام مہدی علیہ السلام کی خوبصورتی پراطلاق کیا ہے۔اور اسی طرح سے پیشانی کے درمیان والی سفیدی کو بھی غرہ کہا جاتا ہے اور یہ معنی انکے معروف او رنمایاں ہونے کی علامت قرار دیا ہے ۔

اور حمیدہ سے مراد جس کی تعریف ہوئی ہو امام مہدی کی ذات ایسی ہے کہ جن کی توصیف قرآن مجید کی آیات اور روایات میں بیان ہوئی ہے ۔

۳-وَاکْحَلْ ناظِرِی بِنَظْرَةٍ مِنِّی إلَیْهِ :

ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ۔

یہاں پر لفظ سرمہ سے تعبیر کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ سرمہ سے انسان کی آنکھوں میں قوت آجاتی ہے اور ایک فرق یہ بھی ہے کہ جس کی آنکھ میں سرمہ لگا ہو وہ دوسروں سے مشخص اور نمایاں ہوتا ہے اسی لئے یہاں پر دعا کرنے والا خدا سے یہ مانگ رہا ہے کہ وہ اس لائق ہو کہ منتظرین میں سے سب سے نمایاں اور ممتاز ہو اور حقیقی منتظرین میں سے شمار ہو جوکہ اپنے آپ کو امام علیہ السلام کی نصرت و مدد کے لئے ہر طرح سے آمادہ و تیار ہوتا ہے ۔

۴-وَعَجِّلْ فَرَجَهُ :

ان کی گشائش میں جلدی فرما۔

اسی طرح سے منتظرین کے امتیازات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ سلامتی اور امام کی ظہور میں تعجیل کے لئے دعاکرتے ہیں ۔

۵-وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ :

ان کے ظہور کو آسان بنا ۔

یہاں پر ایک لحاظ سے امام علیہ السلام کا ظہور و انقلاب ایک جہانی انقلاب ہے اس لئے ان کے لئے مشکلا ت اور سختیاں بھی زیادہ ہونگے لہذا ایک عاشق حقیقی اور منتظر واقعی ہمیشہ ان کے ظہور میں آسانی کے لئے دعا کرتے رہے۔

۶-وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ :

ان کا راستہ وسیع کر دے ۔

یہاں پر ان جملوں میں پہلے ظہور میں تعجیل کی دعا ہے اور اس بعد ظہور میں آسانی کی پھر اس کے بعد انکا راستہ اور ان کی ثقافت و حکومت کو وسعت دینے کی دعا ہے ۔

۷-وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ :

اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ۔

امام کا راستہ صراط مستقیم ہے اور راہ حق و پاکی ہے اور منتظر واقعی کے اہم ترین برنامہ زندگی ہے اسی لئے اگر کوئی دعاے عہد پڑ ھ لیتا ہے تو وہ اس دعا کے ذریعے سے خداوند عالم سے اپنی عاقبت بخیری اور اپنے آپ کو امام کی راہ میں قرار دینے کی تاکید کرتا ہے جیسا کہ ایک مؤمن ہمیشہ نماز بھی پڑھتا ہے اور خدا سے درخواست بھی کرتا ہے خدایا مجھے راہ حق کی طرف ہدایت فرما تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اس راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھنا اور میری عاقبت بخیرہونا ہے اسی طرح سے منتظر واقعی بھی یہی دعا کرتا ہےکہ وہ ثابت قدم رہے ۔

۸-وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ :

ان کا حکم جاری فرما۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتا ہے کہ منتظر حقیقی یہ جانتاہے کہ عصر ظہور میں باقی تمام جاری حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور صرف امام علیہ السلام کی حکومت باقی ہو گی اور اسی کے آئین ہونگے اور صرف آپ علیہ السلام کا حکم جاری ہوگا ۔

۹-وَاشْدُدْ أَزْرَهُ :

ان کی قوت کو بڑھا۔

سورہ طہ کی آیات /۳۱-۳۲ میں حضرت موسی علیہ السلام کے درخواست کے بارے میں آیا ہےکہ فرمایا "

( اشْدُدْ بِهِ أَزْرِى وَ أَشْرِكْهُ فىِ أَمْرِى ) ۔

اسے میرا پشت پناہ بنا دے، اور اسے میرے امر رسالت میں شریک بنا دے۔

تفاسیر میں آیا ہےکہ پیغمبر اکرم کئی بار ان آیات کو پڑھتے تھے جیساکہ خدایا مجھے حضرت موسی علیہ السلام کی طرح اپنے اہل بیت میں سے کسی کو وزیر عطا کرنا تاکہ وہ میری مدد کر سکے(۱۲۲) ۔

چونکہ حضرت موسی علیہ السلام کو وحی دیافت کرتے ہوئے کوئی مشکل نہیں تھی کہ وہ خدا سے درخواست کریں بلکہ انکا درخواست کرنے کامقصد ان کی مسؤلیت کی سنگینی اور تبلیغ میں سختی کی وجہ سے انہوں نے خدا سے وزیر کی درخواست کی اسی طرح سے امام مہدی کی ظہور میں بھی سختیاں ہونگے لہذا منتظر امام خداوند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی پشت کو مضبوط بنا دے تاکہ ان سختیوں کو بر داشت کرسکیں ۔


آٹھواں حصّہ:

ظہور کا برنامہ

اس حصے میں ۲۱ جملے ہیں جن میں ۱۳ جملے ظہور کے فوائد کے بارے میں ہیں۔

۱-وَاعْمُرِ اَللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَکَ :

اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر ۔

دین اسلام میں زمینوں کو آباد کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں کہ "( هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكمُ‏ْ فِيهَا ) (۱۲۳) اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں آباد کیا ۔اور اسی طرح سے امیر المؤمنین علیہ السلام نے مالک اشتر کو حکم دیا کہ "جِبَايَةَ خَرَاجِهَا وَ جِهَادَ عَدُوِّهَا وَ اسْتِصْلَاحَ أَهْلِهَا وَ عِمَارَةَ بِلَادِهَا .(۱۲۴)

اس علاقے کی مالیات کو جمع کرو اور ان کے دشمنوں سے جنگ کرو اور ان کے شہروں کو آباد کرو اور آپ زمینوں کو آباد کرنے کی طرف مالیات لینے سے زیادہ توجہ کرو ۔

پیغمبر اکرم نے ایک گروہ کو جنگ کے لئے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ درختوں کو نہ کاٹے(۱۲۵) ۔

اور اسی طرح سے امام علی علیہ السلام نے کہا ہے کہ عقل کے کامل ہونے کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ درختوں کو نہ کاٹا جائے(۱۲۶) ۔

امام زمان علیہ السلام کے خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام شہروں کو آباد کریں گے کیونکہ تمام زمین وآسمان کے خزانے آپ کے پاس ہونگے اور تمام جگہے سرسبز و شاداب ہونگے جس سے تمام انسان بہرہ مند ہونگیں جیسا کہ روایات میں آیا ہے کہيَمْلَأُ الْأَرْضَ‏ عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْما .(۱۲۷) ۔

امام علیہ السلام تمام جگہوں کوعدل و انصاف سے بھر دینگے چاہے وہ آبادی ہو شہر ہو یا دیہات ہو ہر جگہ پر لوگ آسائش میں ہونگے ۔

۲-وَأَحْیِ بِهِ عِبادَکَ :

اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے۔

خداوند عالم حی ہے او رسب کا حیات خدا کے ہاتھ میں ہے حیات کے مختلف اقسام ہیں ۔ جیسا

۱۔ حیات گیاہان و سبزیجات : جیساکہ قرآن آیا ہے "( أَنَّ اللَّهَ يحُىِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتهَِا ) (۱۲۸) ۔

اللہ ہی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے،

۲۔ حیات حیوانی ہے : جیسا کہ فرمایا "( إِنَّ الَّذِى أَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتىَ ) (۱۲۹) .

جس نے زمین کو زندہ کیا وہی یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔

۳۔ حیات فکری ہے : جیساکہ فرمایا "( أَ وَ مَن كاَنَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاه ) (۱۳۰) ۔

کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا ۔

یہاں حیات سے مراد حیات حیوانی نہیں ہے کہ جس سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے دعوت دے بلکہ حیات سے مراد حیات فکری اور عقلی ہے اور حیات معنوی و عملی اور اجتماعی ہیں یعنی حیات زندگی کے تمام مراحل مراد ہے لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حیات انسان ایمان و عمل صالح میں ہے اسی وجہ سے خداوند عالم اور انبیاء علیہم السلام نے بھی لوگو ں کو اسی کی طرف دعوت دی ہیں چونکہ احکام و دستورات الہی کی اطاعت کرنے سے ہی انسان کی زندگی پاک وپاکیزہ ہو جاتی ہے

جیساکہ قرآن نے کہا "( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثىَ‏ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً ) (۱۳۱) ۔

جو نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی ضرور عطا کریں گے ۔

اس لحاظ سے امام کے ظہور کے وقت انسان حقیقت میں زندہ ہونگے یعنی معنوی اعتبار سے ۔

۳-فَإنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ ِفی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ :

فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا۔

جو خداوند عالم نے بیان کیا ہے وہ حق اور حقیقت پر مبنی ہے کہ دنیا کے بعض سختیاں اور مشکلات خود انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہیں جیسا کہ :

۱۔ شرک ہے : جو زمین پر فساد اور تباہی کا سبب بنتا ہے فرمایا "( عَمَّا يُشْرِكُونَ ) ۔

۲۔انسان کے اعمال خود طبیعت پر اثر رکھتے ہیں جیساکہ آب و ہوا کو خراب کرنے میں خود انسان سبب بنتا ہے ۔ فرمایا "ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ .(۱۳۲)

۳۔ اور اسی طرح سے معاشرے کو خراب کرنے میں بھی خود انسان ہی باعث ہوتا ہے فرمایا "( بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاس ) ۔

۴-فَأَظْهِرِ اَللّٰهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ :

پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولیعلیہ السلام کی۔

اس فراز میں خداوند عالم سے امام کی ظہور کے لئے درخواست کررہیں ہیں کیونکہ انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہے اور دنیا پر فساد کی آلودگی چھائی ہوئی ہیں تو انسان کو اس تباہی سے بچانے کے لئے اور نجات دینے کے لئے منجی بشریت کے ظہور میں تعجیل کی ضرورت ہے تاکہ انسان کو اس فساد سے نجات مل سکیں۔

۵-وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ :

اور اپنے نبی صل اللہ علیہ و السلم کی بیٹی کے فرزند کا ۔

امام زمانہ علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کا نسل حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے ہونا ہے تقریبا

۱۹۰ سے زیادہ احادیث اور روایات جوکہ اہل سنت اور شیعہ منابع میں موجود ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے قرار دیتی ہیں(۱۳۳) ۔

سنن ابی داؤد میں ام سلمہ سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرم یہ فرماتے تھے "المهدي‏ من‏ عترتي‏ من ولد فاطمة ابنتي ۔(۱۳۴) ۔

اور اسی طرح سے کنز العمال میں بھی آیا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا "

المهدي‏ رجل‏ منّا من ولد فاطمة (۱۳۵) ۔

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں خطبہ /۱۶ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اکثر محدثین کا عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدی موعود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نسل سے ہیں(۱۳۶) ۔

۶-وَالْمُسَمَّیٰ بِاسْمِ رَسُولِکَ :

جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے۔

اہل سنت اور شیعہ روایات میں تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام پیغمبر اکرم کا ہمنام اور ہم کنیہ ہونگے یعنی انکا نام بھی محمد اور کنیہ ابوالقاسم اور انکا لقب مہدی ہے اور سب سے زیادہ پیغمبر اکرم کے ساتھ

شباہت رکھتے ہیں اور خداوند متعال ان کے ذریعہ سے تمام عالم کو فتح کریں گے(۱۳۷) ۔

صاحبان صحاح -سنن -معاجم اور مسانید میں مختلف اسناد ارو الفاظ کے ساتھ رسول اکرم سے نقل کیے ہیں کہ آخر الزمان میں میرے فرزندوں میں سے ایک فرزند جو میراہم نام اور ہم کنیہ ہوگا ظہور کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح سے کہ یہ دنیا ظلم و جور سے بھرا ہوا ہے(۱۳۸) ۔

اور اسی طرح سے ترمذی نے سند کے ساتھ پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا "لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ‏ مِنْ‏ أَهْلِ‏ بَيْتِي‏ يُوَاطِئُ‏ اسْمُهُ اسْمِي (۱۳۹) ۔

۷-حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ الا مَزَّقَهُ :

یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں ۔

خداوند متعال نے فرمایا "( هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى‏ وَ دِينِ الْحَقّ‏ِ لِيُظْهِرَهُ عَلىَ الدِّينِ كُلِّه ) (۱۴۰)

اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اسی نے بھیجا ہے تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے ۔

یہ آیت قرآن مجید میں تین بار تکرار ہوئی ہے اور یہ بشارت دیتی ہے کہ دین اسلام تمام عالم میں پھیل جائے گا ۔ لیکن اس کے لئے تین شرائط کا ہونا ضروری ہیں ۔

۱۔ پوری دنیا کا ایک رہبر ہونا ۔

۲۔ اور پوری دنیا میں ایک ہی قانون کا ہونا ۔

۳۔ اور تمام دنیا والوں کا اس کے لئے تیار ہونا ۔

تو جو پوری دنیا کا رہبر ہے وہ حضرت امام مہدی ہے اور اسی طرح سے ایک قانون بھی موجود ہے وہ قرآن کریم ہے کہ جس میں تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے لیکن لوگوں کی آمادگی بہت ہی کم ہے لہذا اس کے لئے بہت ہی کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امام زمان علیہ السلام کی حکومت کے لئے زمینہ فراہم ہو جائے اور امام جب ظہور کریں گے تو ہمیں بالکل تیار ہونا چاہیے ۔

خدا وند متعال نے دین اسلام کو تین بار فتح و کامیابی حاصل ہونے کی خبر دی ہے تو انشااللہ یہ وعدہ یقینا پورا ہو جائے گا اور یہ اللہ کا وعدہ ہے وہ اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کرتا ہے ۔( لَا يخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ ) (۱۴۱)

اور امام علی علیہ السلام نے فرمایا "فو الذي‏ نفسي‏ بيده‏ حتى‏ لا تبقى‏ قرية إلا ينادي فيها بشهادة أن لا إله إلا الله بكرة و عشيا (۱۴۲) ۔خداکی قسم کوئی شہر و دیہات باقی نہیں رہے گا مگر وہاں صبح و شام آذان اور شہادتوں کی صدائیں بلند ہو گی ۔

اور پیغمبر اکرم نے بھی غدیر خم کے میدان میں امام مہدی علیہ السلام کی معرفی کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگواس نور خدا کو مجھ میں قرار دیا ہے اور میرے بعد علی علیہ السلام کے نسل سے امام مہدی آئیں گے وہ تمام حقوق کو واپس لیں گے اور تمام ادیان پر فتح حاصل کریں گے تمام دنیا کی حکومتیں ان کے پاس ہونگی اورکوئی بھی انہیں شکست نہیں دے سکے گا(۱۴۳) ۔

۸-وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ :

حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں۔

طول تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ غلبا لوگوں پر ظالم اور جابر حکمرانوں کی حکومت رہی ہے اور ان حکومتوں کی بنیاد بھی ظلم اور فساد پر ہی ہوتی ہیں اور لوگ ان ظالم حکومتوں میں زندگی کرتے تھے جسکی مثال قرآن مجید نے ملکہ سباء کے قول کے طور پر بیان کیا ہوا ہے "قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَ جَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَ كَذَالِكَ يَفْعَلُون (۱۴۴) ۔

ملکہ نے کہا: یہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کرتے ہیں اور اس کے عزت داروں کو ذلیل کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی اسی طرح کریں گے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں حکومت قدرت مند لوگوں کی ہی ہوتی تھی اور انکا بنیاد بھی فساد اور ظلم پر ہوتا تھا ۔ لیکن قرآن مجید نے قطعی طور پر اور یقین کے ساتھ یہ کہا کہ آخر کامیابی حق کو ہی ہونا ہے اور تمام کائنات پر حق کا حکم نافذ ہو گا اور باطل حکومیتں ناکام و نابود ہو جائے گی اور روی زمین پر اچھے اور نیک لوگ وارث ہوں گے ۔

اور اسی طرح سے فریقین میں سے بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں کہ آخری فتح و کامیابی کو امام مہدی کی طرف نسبت دی ہے یعنی اس سے مراد امام علیہ السلام کا قیام کرنا ہے کہ جس میں امام کو فتح حاصل ہوگی اور باطل نابود ہو جائے گا جیسا

کہ قرآن کا وعدہ ہے کہ فرمایا "( وَ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كاَنَ زَهُوقًا ) (۱۴۵)

اور کہدیجئے: حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل کو تو یقینا مٹنا ہی تھا۔

اور اسی طرح سے قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرمایا "( بَلْ نَقْذِفُ بِالحَقّ‏ِ عَلىَ الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ) (۱۴۶) ۔

بلکہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگا تے ہیں جو اس کا سر کچل دیتاہے اور باطل مٹ جاتاہے۔

اس آیت کا ایک مصداق امام مہدی علیہ السلام کو قرار دیا ہے جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے جب امام مہدی کی

ولادت ہوئی تو آپ کے دائیں بازو پر یہ آیت لکھی ہوئی تھی(۱۴۷) ۔

اسی طرح سے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ فرمایا "إذا قام‏ القائم‏ ذهبت‏ دولة الباطل (۱۴۸)

جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو باطل نابود ہو جائے گا ۔

پس امام علیہ السلام کے ظہورکے بعد تمام عالم عدل و انصاف سے بھر جائے گا اور اس دن کے بارے میں پیغمبر اکرم سے روایت ہوئی ہیں کہ آپ نے فرمایا "لَوْ لَمْ‏ يَبْقَ‏ مِنَ‏ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ‏ لَبَعَثَ‏ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًاكَمَا مُلِئَتْ جَوْرا .(۱۴۹) ۔

اگر دنیا کی عمر میں سے ایک دن بھی باقی رہ جائے تو بھی خدا وند عالم ہم میں سے ایک مرد کو مبعوث کرے گا تاکہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔

۹-وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ :

اے معبود قرار دے ان کو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ ۔

خدا وند متعال نے اہلبیت علیہم السلام کو مظلومین اور بے پناہ لوگوں کے لئے پناہ گا قرار دیا ہے اور ان کی اپنی زندگی میں بھی وہ بے سہارا اور مظلومین کی لئے پناہگاہ اور سہارا تھے ۔ اسی طرح سے امام زمان علیہ السلام بھی بے سہاروں اور مظلوموں کے لئے پنا ہ گاہ ہیں اور خصوصا امام کی ظہور کے وقت اس کی مثال اور بھی واضح اور روشن ہوگا ۔

۱۰-وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ :

اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مدد گار نہیں بنا۔

جس طرح سے خداوند متعال ہر اس بندے کا مددگار ہے کہ جن کا کوئی مددگار نہیں اسی طرح سے اسکا نمایندہ امام علیہ السلام بھی تمام مظلوموں اور بے سہاروں کا سہارا ہے امام مہدی کے ظہور کے بعد کوئی بھی بے یار و مددگار نہیں ہوگا بلکہ امام علیہ السلام سب کی مدد کرینگے اور یہ امام مہدی کی حکومت کی خصوصیات میں سے ہیں ۔

۱۱-وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْکامِ کِتابِکَ :

ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے ۔

امام زمان علیہ السلام کی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دین اور قرآنی احکام کو دوبارہ زندہ کریں گے چونکہ جب امام ظہور کریں گے تو اس وقت مسلمانوں کے پاس صرف اس دین اور اسلام و قرآن کا ایک اثر ہی باقی رہا ہو گا کیونکہ جس معاشرے میں دین اسلام کی احکام پر عمل نہیں ہوتا ہو اور اسلامی قوانیں پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو تو اس معاشرے کو صرف مردہ معاشرہ ہی کہا جا سکتا ہے اسی لئے امیر المؤمین نے امام زمانہ علیہ السلام کو اس تعبیر کے ساتھ مخاطب قرار دیا ہے ۔یعنی قرآن و سنت اور مردہ کو زند ہ کرنے والا ہے(۱۵۰) ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امام علیہ السلام قوانیں اسلام اور انکی تعلیمات کو معاشر ے میں دوبارہ رائج کریں گے

اور حقیقی اسلام نافذ کرینگے تمام بدعتوں کو ختم کریں گے اور پیغمبر اکرم کی سنت جوکہ متروک ہوا ہو اسکو زندہ کریں گے اور قرآن و تعلیمات اسلامی کو حقیقی معنوں میں تفسیر کرینگے پھر لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے ۔

۱۲-وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ دِینِکَ :

ان کو اپنے دین کے خاص احکام ۔

امام کے ظہور کے وقت دین اسلام محکم اور قدرت مند دین شمار ہواگا چونکہ امام علیہ السلام خدا وند عالم کے حکم سے حقیقی معنوں میں اس دین کی تبلیغ کریں گے اور باقی تمام ادیان پر غالب آئے گا ۔

۱۳-وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ :

اور اپنے نبی کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آل پر خدا کی رحمت ہو ۔

اہل بیت علیہم السلام کے اہداف میں سے ایک بہترین ہدف دین اسلام کی تبلیغ اور پیغمبر اکرم کی سنتوں کو زندہ کرنا تھا کہ جس کے لئےانہوں نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی کوشش کی کہ جس کی ایک مثال قیام امام حسین علیہ السلام ہے ۔ اسی طرح سے امام زمانہ علیہ السلام بھی ان تمام سنتوں کو جوکہ لوگوں نے بھلا دیئے ہیں دوبارہ زندہ کریں گے ۔

۱۴-وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِینَ ۔

اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں سے فرار دے جنکو تو نے ظالموں کے حملے سے بچایا۔

تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان ہمیشہ ہی جنگ رہی ہے اور باطل ہمیشہ ہی حق پر حملہ آور رہا ہے جیسا کہ یہ سلسلہ دوران رسالت اور امامت سے ہی جاری رہا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی دور میں تمام اہل حق آپس میں متحد ہونگے اور انکے مخالفت میں باطل والے بھی آپس میں متحد ہونگے پھر حق اور باطل کے درمیان بہت سخت جنگ ہوگی لیکن آخر میں حق کو کامیابی ہوگی اور باطل و شیطان کا گروہ نابود ہوگا جیساکہ قرآن کہہ رہا ہے"( ْ فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَلِبُون ) (۱۵۱) ۔ : اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ۔( أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ المْفْلِحُون ) (۱۵۲)

اللہ کی جماعت والے ہی یقینا کامیاب ہونے والے ہیں ۔

۱۵-اللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی دَعْوَتِهِ :

اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے اوران لوگوں کو جنہوں نے ان کی دعوت میں ان کا ساتھ دیا ۔

یقینا یہ وہی زمانہ ہو گا جب امام مہدی علیہ السلام ظہور کریں گے اور تمام عالم میں کلمہ شہادتین سنائی دے گا تو اس وقت پیغمبر اکرم خوش ہوں گے شیطان اور اس کے پیروکاروں کو شکست ہوگی ۔

۱۶-وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ :

اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما ۔

یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ پیغمبر اکرم کے بعد اہل بیت علیہم السلام کا حق غصب ہوگیا اور ہر قسم کی مشکلات اور مصائب شروع ہو گئیں ۔

۱۷-اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاَمَّةِ بِحُضُورِهِ :

اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے ۔

یہاں پر لفظ حضور سے مراد ظہور ہے کیونکہ ان کے ظہور سے امت اسلامی کے تمام مشکلات اور مصائب بر طرف ہوں گے اسی لئے امام علیہ السلام کا ظہور خوشحالی کا باعث ہیں اور تمام دنیا کی مشکلات کا خاتمہ ہے خصوصا امت اسلام کے لئے خاص امتیاز حاصل ہے چونکہ تمام عالم میں اسلا م حاکم ہو گا ۔

۱۸-وَعَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ

اور ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما ۔

امام علیہ السلام کے منتظرین کے وظائف میں سے ایک وظیفہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ امام کی ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کرے تاکہ ان کے ظہور سے اس دنیا میں عدل و انصاف قائم ہو جائے اور اس دنیا سے ظلم و ستم اور مصیبتوں کا خاتمہ ہو جائے ۔

۱۹-إنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً :

کہ لوگ اس دن کو دور اور ہم اسے نزدیک سمجھتے ہیں۔

قرآن مجید میں یہ جملہ کافروں کے بارے میں آیا ہے جو کہ معاد کے منکر ہیں اور قیامت کو معقول نہیں سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں قیامت ایک حقیقی اور قطعی چیز ہے اور اسی طرح سے ہر وہ کام جو واقع ہونے والی ہے بہت ہی نزدیک ہے اسی طرح سے امام علیہ السلام کا ظہور بھی نزدیک اور واقع ہونے والا ہے اور یہ قطعی اور واقعی ہے ۔

۲۰-بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

یہ جملہ بہت ساری دعاؤں میں ذکر ہوا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا قبول ہونا خداوند عالم کی رحمت اورلطف پر موقوف ہے یہی وجہ ہے کہ تمام دعائیں خداوند عالم کی رحمت اور اسی کی نظر لطف سے قبول ہوجاتی ہیں ۔

پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے :

۲۱-الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ ۔

جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امام علیہ السلام ۔

اس جملہ میں تین نکتے بیان ہوئی ہیں :

پہلا ۔ خدا وند عالم سے انکے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کررہے ہیں اور اس کے ساتھ خود امام سے بھی اس کی درخواست کرتے ہیں ۔

دوسرا ۔ وہ ہمارا مولی اور سرپرست ہے ۔

تیسرا ۔ وہ زمانے کا امام اور صاحب عصر ہے ۔

تمت بالخیر

____________________

حوالہ جات

۱ ۔ بحار الانوار ج۸۳ /ص۲۸۴

۲۔ مآخذ سیرہ امام خمینی ج۳ ص/۴۲

۳ ۔ ہمان ص/۸۷

۴ ۔ فوز اکبر ص/ ۸۷)

۵۔ سورہ اسراء /۳۵

۶ ۔ بحار الانوار ج۷۷ /ص ۲۶۹.

۷ ۔ (بحار الانوار ج ۵۲/ ص۱۴۶) (کمال الدین ج۲/ ص ۵۱۲)

۸۔كشف الغمة ج‏۲ ؛ ص۴۷۸

۹ ۔ (الزام الناصب ،ج۲،ص: ۱۶۵.)یوم الغلاص /ص ۲۳۴

۱۰ ۔ ہمان ص ۲۳۶)

۱ ۔( الغيبة( للنعماني) ؛ ص۳۱۶).سورہ مائدہ آیت /۵۶ ۔(بحار الانوار ج ۵۲ /ص ۳۷۰)

۱۲ ۔ سورہ اعراف /۱۸۰

۱۳ ۔ سورہ ابراہیم آیات /۴۰-۴۱ ۔

۱۴ ۔التوحيدشیخ صدوق ص: ۳۲۷

۱۵ ۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ‏ فَقَالَ‏ السَّمَاوَاتُ‏ وَ الْأَرْضُ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِي الْكُرْسِيِّ وَ الْعَرْشُ هُوَ الْعِلْمُ الَّذِي لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ قَدْرَه‏ _التوحيدشیخ صدوق)، ص: ۳۲۷.

۱۶ ۔ سورہ بقرہ /۹۷).

۱۷ ۔ سورہ آل عمران آیت / ۱۹ ۔

۱۸ ۔ سورہ قمر/۵۲

۱۹۔ سورہ اسراء /۵۵

۲۰ ۔ اصول کافی ج ۲ /ص ۶۰۱

۲۱ ۔ تفسیر قرطبی )۔

۲۲۔مستدرک الوسائل ج۴ /ص ۲۳۲

۲۳ ۔ سورہ حجر /۸۷

-۲۴ نہج البلاغہ خطبہ /۱۵۶

۲۵ ۔ بحار الانوار ج ۷۷ /ص ۱۱۴)

۲۶۔ سورہ آل عمران /۷۹ )

۲۷ ۔ سورہ بقرہ آیت /۹۸)

۲۸ ۔(سورہ انفطار آیت /۱۱ )

۲۹ ۔ ( سورہ صافات آیت /۱۶۴)

۳۰۔ سورہ نبا آیت /۳۸)

۳۱ ۔ (سورہ معارج آیت /۴)

۳۲ ۔ (سورہ قدر /۴)

۳۳ ۔ (نہج البلاغة خطبہ ۱۰۸)

۳۴۔ ( تفسیر نمونہ ج ۱ /ص۴۴۰)

۳۵۔ تفسیر برہان ج ۳ /ص۱۰۴ و ج۴ ص ۴۵۲ )

۳۶۔ نہج البلاغہ نامہ/۴۷

۳۷ ۔سورہ نجم /۸-۹

۳۸ ۔ سورہ قصص /۸۸

۳۹۔ توحید صدوق /ص ۱۱۷

۴۰۔ ( بحار الانوار ج۹۵ -ص/۲۱۹ و اقبال الاعمال ج۱ /ص۳۴۳ .)

۴۱ ۔ سورہ مائدہ آیت /۱۲۰

۴۲ ۔ سورہ حدید آیت /۲

۴۳- سورہ فرقان آیت / ۵۸

۴۴ ۔ مفردات راغب کلمہ قیوم کی ذیل میں /ص۱۵ ۔

۴۵ ۔ نہج البلاغہ خطبہ /۱۰۸۔

۴۶۔ سورہ زمر کی آیت /۶۹

۴۷ ۔ سورہ حدید آیت /۱۲ -سورہ تحریم آیت /۸ ۔

۴۸ ۔ بحار الانوار ج۴۰/ ص۴۴

۴۹۔ تفسیر نور الثقلین ج ۱۲۱ ذیل آیت ۔تفسیر قمی ج ۲ ص ۲۵۳ ۔

۵۰ ۔ ( بحار الانوار ج ۵۲ /ص ۳۳۷

۵۱ ۔ (اقبال الاعمال ؛ ج۱ ؛ ص۳۴۳ )

۵۲۔من لا يحضره الفقيه ؛ ج۲ ؛ ص۶۱۶)

۵۳ ۔ (البلد الامين ، ص: ۴۰۸)

۵۴ ۔ سورہ نجم /۴۴

۵۵۔ (سورہ توبة :آیت / ۱۱۶)

۵۶ ۔ سورہ عنکبوت /۱۹

۵۷۔ سورہ یونس /۵۶

۵۸۔ سورہ روم /۴۰

۵۹ ۔ سورہ بقرة / ۲۱)

۶۰ ۔ سورہ قریش آیات ۳-۴ )

۶ ۔ سورہ روم / ۴۰)

۶۲ ۔ سورہ غافر آیت / ۶۸

۶۳۔ کنز العمال حدیث /۳۵۵۴

۶۴۔ توحید ص /۲۸ )

۶۵۔ بحار الانوار ج۹۰ / ص ۱۹۶)

۶۶ ۔ عیون اخبار الرضا ج۲ /ص ۱۳۴ )

۶۷۔ (مصباح المتہجد ج۲، ص: ۸۴۵)

۶۸۔ (سورہ انبیاء/۸۷ )

۶۹ ۔ سورہ رعد آیت / ۷

۷۰۔ (بحار الانوار؛ ج۵۱ ؛ ص۳۰ )

۷۱ ۔ (بحار الانوار ج ۵۲ /ص ۱۶ )

۷۲۔ ( ارشاد /ص ۳۶۶ ۔

۷۳ ۔ کمال الدین و تمام النعمہ ج۲ ص/۳۷۸ ح ۳۔

۷۴۔ (مکیال المکارم ج ۲ ص/۳۷۳)

۷۵ ۔ ( سورہ احزاب /۵۶ )

۷۶ ۔ مفردات راغب ۔

۷۷ ۔ تفسیر نمونہ ذیل آیہ ۔

۷۸ ۔ سورہ تورہ آیت / ۱۰۳

۷۹ ۔ (توصیہ ہا و پرسش ہا و پاسخ ہا ص/ ۷۸ )

۸۰ ۔ ہمان ص /۹۶ ۔

۸۱ ۔ مصباح الزائر ص/۴۱۸ ) (بحار الانوار ج ۹۹ /ص ۸۵ )۔

۸۲ ۔ (سورہ واقعہ / ۱۰ )

۸۳ ۔ سورہ بقرہ آیت /۱۵

۸۴ ۔ سورہ رحمن آیت / ۱۷

۸۵ ۔ سورہ معارج آیت /۴۰

۸۶ ۔ (سورہ حاقہ آیت / ۱۷)

۸۷ ۔ (معانی الاخبار ص / ۲۹)۔

۸۸ ۔ ( توحید ص /۳۲۱ )

۸۹ ۔ ( سورہ ہود آیت /۷ )

۹۰ ۔ سورہ لقمان /۲۷ ۔

۹۱ ۔ (سورہ کہف آیت /۱۰۹ )

۹۲ ۔ (سورہ صافات/۱۷۱)

۹۳ ۔ (سورہ نساء /۱۷۱ )

۹۴ ۔ (سورہ ابراہیم آیت /۱۲۴ )

۹۵ ۔ (سورہ مریم آیت / ۱۲ )

۹۶ ۔ ( سورہ انفال آیت /۷ )

۹۷ ۔ ( تفیسر نور الثقلین ذیل آیہ )

۹۸ ۔ ( اصول کافی ج۳ ص/ ۲۵۹ )

۹۹ ۔ (سورہ طہ/۱۱۰ )

۱۰۰ ۔ (سورہ انعام آیت /۳ )

۱۰۱ ۔ (توحید شیخ صدوق / ص ۱۳۳ )

۱۰۲ ۔ ( سورہ طہ /۹۸ )

۱۰۳ ۔ (اصول کافی ج ۸۰ /ص ۲۶۸ )

۱۰۴ ۔ سورہ صف آیت /۱۴ ۔

۱۰۵ ۔ (اصول کافی ج ۱ ص/۵۴۸ )

۱۰۶ ۔ (كمال الدين و تمام النعمةج ۲ص۵۲۱ ) ( وسائل الشیعہ ج۹ ص ۵۴۱ )۔

۱۰۷ ۔ (لہوف ص /۱۱۵ )

۱۰۸ ۔ (سورہ انبیاء آیت /۹۰ )

۱۰۹ ۔ سورہ نساء آیت /۵۹ ۔

۱۱۰ ۔ آل عمران ص/۱۳۳۔

۱۱۱ ۔ سورہ حدبد ص/۲۱۔

۱۱۲ ۔ سورہ مؤمنون آیت /۶۱ )

۱۱۳ ۔ (سورہ مائدہ /۶۲)

۱۱۴ ۔ (سورہ حشر آیت /۱۰)

۱۱۵ ۔ (سورہ بقرہ آیت /۱۴۸ )

۱۱۶ ۔ سورہ مؤمنون آیت /۶۱ )

۱۱۷ ۔ (صف / ۴).(المزار الكبير ؛ ص۶۵۸) ( بحار الانوار ج۵۳ ص ۹۶ )

۱۱۸ ۔ (سورہ نمل آیت /۸۳)

۱۱۹ ۔ (صحیفۃ الرضا ص /۹۳)

۱۲۰ ۔ (بحار الانوار ج۵۱ ص/۹۱)

۱۲۱ ۔ ( ہمان ص /۹۵ )

۱۲۲ ۔ (تفسیر نو ر الثقلین ج ۳ ص /۳۷۴ )

۱۲۳ ۔ (سورہ ھود آیت /۶۱ )

۱۲۴ ۔ (بحار الانوار ج۳۳ص/۵۹۹)

۱۲۵ ۔ (بحار الانوار ج۱۰۰ ص/۶۵)

۱۲۶ ۔ ( بحار الانور ج ۷۶ ص/۳۱۳ )

۱۲۷ ۔ (بحار الانوار ؛ ج۲۴ ؛ ص۲۴۱ )

۱۲۸ ۔ (سورہ حدید /۱۷)

۱۲۹ ۔ (سورہ فصلت /۳۹ )

۱۳۰ ۔ (سورہ انعمام /۱۲۲)

۱۳۱ ۔ (سورہ نحل /۹۷ )

۱۳۲ ۔ سورہ روم /۴۱۔

۱۳۳ ۔ (متخب الاثر :ص/۲۴۷ )

۱۳۴ ۔ (سنن ابی داؤد : ج ۴ ص/ ۸۷ )

۱۳۵ ۔ (کنز العمال : ج ۷ص/۲۶ )

۱۳۶ ۔ (شرح نہج البلاغہ :ج ۱ ص/۲۸۱ )

۱۳۷ ۔ (ینابیع المودۃ :ج ۳/ص۳۹۸- منتخب الاثر :ص/ ۲۳۶ -)

۱۳۸ ۔ ( مسند احمد :ج۱ ص/۳۷۶ - ابن حیان : ج۱۳ ص/۲۸۴ - المعجم الاوسط :ج۷ ص/۵۴ )

۱۳۹ ۔ (سنن ترمذی : ج۳ ص/۳۴۳ )

۱۴۰ ۔ (سورہ توبہ :/۳۳)

۱۴۱ ۔ سورہ روم /۶۔

۱۴۲ ۔ (کنز الدقائق ج۱۳ ص/۲۳۴ ).

۱۴۳ ۔ (بحار الانوار : ج ۳۷ ص/۲۱۳ )۔

۱۴۴ ۔ ( سورہ نمل : آیت /۳۴)۔

۱۴۵ ۔ (سورہ اسراء :آیت /۸۱ )

۱۴۶ ۔ (سورہ انبیاء " آیت /۱۸)

۱۴۷ ۔ ( نور الثقلین ج۳ ص /۲۱۳)

۱۴۸ ۔ (کافی ج۸ ص/۲۸۷ )

۱۴۹ ۔ (بحار الانوار ج ۵۱ ص/۸۵ ) مسند ابن حنبل ج۲ ص/۷۷۴ )

۱۵۰ ۔ (نہج البلاغہ خطبہ/۱۳۸ )

۱۵۱ ۔ سورہ مائدہ /۵۶۔

۱۵۲ ۔ سورہ مجادلہ /۲۲۔


منابع :

۱- قران کریم

۲- نهج البلاغه

۳- ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبه ، شرح نهج البلاغه ، قم ، موسسه تتحقیقات و نشر معارف اهل البیت ، بی تا

۴- ابن شاذان بن جبرئیل ، الفضائل ،قم ، منشورات الرضی ،۱۴۲۵ق

۵- ابن شعبه حرانی ، حسن بن علی ، تحف العقول ، تهران ، خوانساری ۱۴۲۳ق

۶- ابن طاووس ، علی بن موسی ، اللهوف علی قتلی الطفوف ، قم ، جزائری ، ۱۳۸۵ش

۷- .................مصباح الزائر ، قم موسسه آل البیت ،۱۴۱۷ق

۸- ...............اقبال الاعمال ، بیروت ، موسسه الاعلمی ، ۱۴۲۶ق.

۹- ابن مشهدی ، محمد بن جعفر ، المزار الکبیر ، قم، القیوم ۱۳۷۷ش

۱۰- اربلی، علی بن عیسی ، کشف الغمة فی معرفة الائمة ، تبریز ، کتابچی حقیقت ، ۱۳۶۲ش.

۱۱- ابو داوود، سلیمان بن اشعث ، سنن ابی داوود ، بیروت ، دار الفکر ، ۱۴۲۷ق.

۱۲- بحرانی ، سید هاشم ، البرهان فی تفسیر القرآن ، تهران ، بنیاد بعثت ، ۱۴۱۶ق.

۱۳- حر عاملی ، محمد بن حسن ، وسائل الشیعه فی تحصیل احکام الشرعیه ، قم ، موسسه آل البیت ۱۴۲۸ ق.

۱۴- .............اثبات الهداة با النصوص و المعجزات ، تهران ، دار الکتب ، ۱۴۲۹ق.

۱۵- حقی بروسوی ، اسماعیل ، ورح البیان ، بیروت ، دار الفکر ،بی تا

۱۶- خمینی ، روح الله ، تحریر الوسیله ، قم ، انتشارات دار القلم ، ۱۳۶۶ش.

۱۷- راغب اصفهانی ، حسین بن محمد ، المفردات ، تهران ، مرتضوی ، چاپ سوم ، ۱۳۸۳ش.

۱۸- رجائی ، غلام علی ، برداشت های از سیره امام خمینی ، تهران ، عروج ، ۱۳۷۶ق.

۱۹- صافی ، لطف الله ، منتخب الاثر ، قم ، نشر حضرت معصومه ، ۱۳۸۵ش

۲۰- صدوق ، محمد بن علی ، کمال الدین و تمام النعمة ، قم ، دار الحدیث ۱۳۸۷ق.

۲۱- ...............التوحید، قم ، جامعه مدرسین ، ۱۴۱۶ق

۲۲- ..............عیون اخبار الرضا ، مشهد ، طوس ، ۱۳۷۸ش

۲۳- معانی الاخبار ، تهران ، دار الکتب الاسلامییه ، ۱۳۸۱ش

۲۴- طباطبائی ، سید محمد حسین ، تفسیر المیزان ، ترجمه سید محمد باقر موسوی همدانی ، قم ، انتشارات جامعه مدرسین ، چاپ پنجم ۱۳۷۴ش.

۲۵- طبرسی ، حسن بن فضل ، مکارم الاخلاق ، ترجمه ابر اهیم سید محمد باقری، فراهانی ، ۱۳۸۱ش.

۲۶- فقیه ایمانی ، محمد باقر ، فوز اکبر ، توسلات به امام منتظر ، قم ، جمکران ۱۳۷۹ش.

۲۷- فیض کاشانی ، ملا محسن ، تفسیر صافی ، مشهد ، دار المرتضی ۱۳۹۹ ش

۲۸- وافی ، تهران ، اسلامیه ، بی تا

۲۹- قرطبی ، محمد بن احمد ، تفسیر قرطبی ، ریاض ، دار السلام ، ۱۳۸۷ش

۳۰- قمی ، شیخ عباس ، سفینة البحار ، قم ، اسوه ، ۱۳۸۴ش.

۳۱- .......مفاتیح الجنان ، قم ، روح ، ۱۴۲۸ ق.

۳۲- قمی ، علی ابن ابراهیم ، تفسیر قرطبی، ترجمه جابر رضوانی ، قم ، بنی زهرا ۱۳۸۸ش.

۳۳- قمی ، مشهدی محمد بن محمد رضا ، کنز الدقائق و بحر الغرائب ، تهران ، وزارت

ارشاد ۱۳۶۸ ش

۳۴- قندوزی ، سلیمان بن ابراهیم ، ینابع المودة ، بیروت ، دار الاسوه ، ۱۴۲۵ ق

۳۵- کفعمی ، ابراهیم ، بلد الامین ، بیروت ، موسسه البلاغ ، ۱۴۲۸ق

۳۶- کلینی ، محمد بن یعقوب ، الکافی ، بیروت ، دار المرتضی ،۱۴۱۲ق.

۳۷- متقی هندی ، علی بن حسام الدین ، کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال ،بیروت ، الرسالة ، ۱۴۰۵ ق

۳۸- مجلسی ؛ محمد باقر ، بحار الانوار الجامعه لدرر اخبار الائمة الاطهار ، بیروت ، الوفاء ، ۱۴۰۴ ش

۳۹- محمدی ری شهری ، محمد ، میزان الحکمة ، قم ، دار الحدیث ، ۱۳۸۴ ش

۴۰- مکارم شیرازی ، ناصر و دیگران ، تفسیر نمونه ، تهران ، دار الکتب الاسلامیه ، ۱۳۷۴ش

۴۱- موسوی اصفهانی ، محمد تقی ، مکیال المکارم ، قم ، جمکران ، ۱۳۸۵ش

۴۲- نوری ، حسین بن محمد تقی ، مستدرک الوسائل ، قم ، موسسه آل البیت ، ۱۴۱۷ش

۴۳- نهاد نمایندگی مقام معظم رهبری ، توصیه ها ، پرسش ها و پاسخ ها در محضر آیت الله جوادی آملی ، قم ، دفتر نشر معارف ، بی تا

۴۴- یزدی حائری ، علی بن زین العابدین ، الزام الناصب فی اثبات الحجة الغائب ، قم ؛ انوار الهدی ، ۱۳۸۴ش


فہرست

انتساب ۴

مقدمہ : ۵

پہلا حصّہ: ۷

خدا شناس ۷

۱- اللَّهُمَ‏ رَبَ‏ النُّورِ الْعَظِيم ۔ ۹

اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار ۔ ۹

۲- وَ رَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيعِ ، : ۱۰

اے بلند کرسی و بلند مرتبہ والا پروردگار ۔ ۱۰

۳- وَ رَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ،: ۱۱

اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار ۔ ۱۱

۴- وَ مُنْزِلِ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الزَّبُورِ ،: ۱۱

اے تورات اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے۔ ۱۱

۵- وَ رَبِ‏ الظِّلِ‏ وَ الْحَرُورِ : ۱۴

اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار ۔ ۱۴

۶- وَ مُنْزِلِ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ : ۱۴

اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے ۔ ۱۴

۷- وَ رَبِّ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَ الْأَنْبِيَاءِ والْمُرْسَلِينَ : ۱۶

اے مقرب فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار۔ ۱۶

دوسرا حصّہ: ۱۸

درخواست و طلب:( اسئلك ) ۱۸


۱- بِوَجْهِكَ الْكَريْمِ : ۱۸

اے خداآپ کے بزرگی و بخشندگی کا واسطہ : ۱۸

۲- وَبِنُورِ وَجْهِکَ الْمُنِیرِ : ۱۹

تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے ۔ ۱۹

۳- وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ : ۲۰

اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے ۔ ۲۰

۴- یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ : ۲۱

اے زندہ اے پائندہ۔ ۲۱

۵- أسئلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی أشْرَقَتْ به السَّمٰوَاتُ وَالْاَرَضُونَ : ۲۲

تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں۔ ۲۲

۶- وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِه الْاَوَّلُونَ وَالْاَخِرُونَ : ۲۳

تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے بھلائی پائی۔ ۲۳

۷- یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ : ۲۴

اے زندہ ہر زندہ سے پہلے۔ ۲۴

۸- وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ : ۲۴

اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد۔ ۲۴

۹- وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ : ۲۴

اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے۔ ۲۴

۱۰- یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ : ۲۵

اے مردوں کو زندہ کرنے والے ۔ ۲۵

نتیجہ : ۲۵


۱۱- وَمُمِیتَ الْاَحْیاء : ۲۶

اے زندوں کو موت دینے والے ۔ ۲۶

نتیجہ : ۲۷

۱۲- یَا حَیُّ لاَ إله إلاَّ أنْتَ : ۲۷

اے وہ زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۲۷

تیسرا حصّہ : ۲۹

ابلاغ درود ۲۹

۱- اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْاِمامَ الْهادِیَ الْمَهْدِیّ الْقائِمَ بِامْرِکَ : ۲۹

اے معبود ہمارے مولا امام ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ۔ ۲۹

مولی ۔ ۲۹

امام ۔ ۳۰

ہادی ۔ ۳۰

مہدی ۔ ۳۰

قائم ۔ ۳۱

۲- صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْه : ۳۱

ان پر خدا کا درود و سلام ہو ۔ ۳۲

۳- وَعَلَی آبائِه الطَّاهِرِینَ : ۳۳

اور آپ کے آباء و اجداد پر درود و سلام ہو : ۳۳

۴- عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ : ۳۴

اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے۔ ۳۴

۵- فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها : ۳۴

اور جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں رہتے ہیں انکی طرف سے ۔ ۳۴


۶- سَهْلها وَجَبَلها : ۳۵

میدانوں اور پہاڑوں میں رہنے والوں کا سلام ہو ۔ ۳۵

۷- وَبَرِّها وَبَحْرِها : ۳۵

اور خشکیوں اور سمندروں میں رہنے والوں کا سلام ہو ۔ ۳۵

۸- وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ : ۳۵

میری طرف سے اور میرے والدین کی طرف سے ۔ ۳۵

۹- مِنَ الصَّلَواتِ زِنَة عَرْشِ اﷲِ : ۳۵

بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش کے ۔ ۳۵

عرش کیا ہے ؟ ۳۶

۱۰- وَمِدادَ کَلِماتِه : ۳۶

اورسلام ہو اسکے کلمات کی روشنائی سے ۔ ۳۶

۱۱- وَمَا أحْصاهُ عِلْمُه : ۳۸

اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں ۔ ۳۸

۱۲- وَأحاطَ بِه کِتابُه ۔: ۳۸

اور ہر چیز پر کتاب خدا کا احاطہ ہے ۔ ۳۸

چوتھا حصّہ: ۴۰

عہد مہدوی ۴۰

۱- اَللّٰهُمَّ إنِّی أجَدِّدُ له فِی صَبِیحة یَوْمِی هذا : ۴۰

اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو ۔ ۴۰

۲- وَمَا عِشْتُ مِنْ أیَّامِی : ۴۰

اور جب تک میں زندہ ہوں ۔ ۴۰


۳- عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَة : ۴۰

باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن : ۴۰

۴- لَهُ فِی عُنُقِی : ۴۱

اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے۔ ۴۱

۵- لاَ أَحُولُ عَنْه : ۴۱

میں نہ اس سے مکروں گا ۔ ۴۱

۶- وَلاَ أَزُولُ أَبَداً : ۴۱

اور نہ کبھی ترک کروں گا ۔ ۴۱

پانچواں حصّہ: ۴۲

عہد وپیمان کا فائدہ ۴۲

۱- اَللّٰهمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصارِهِ : ۴۲

اے معبود مجھے ان کے مدد گاروں میں سے قرار دے ۔ ۴۲

۲- وَأَعْوانِهِ : ۴۳

ان کے ساتھیوں میں سے قرآر دے ۔ ۴۳

۳- وَالذَّابِّینَ عَنْهُ : ۴۴

اور ان کا دفاع کرنے والوں میں سے قرار دے۔ ۴۴

۴- والْمُسارِعِینَ إلَیْهِ فِی قَضاء حَوَائِجِهِ : ۴۵

حاجت برآوری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں میں قرار دے۔ ۴۵

الف ۔ سرعت یعنی جلدی : ۴۵

ب ۔ امام زمان علیہ السلام کا تقاضا : ۴۵

۵- وَالْمُمْتَثِلِینَ لاِوامِرِهِ : ۴۵

انکے احکام پر عمل کرنے والوں میں ۔ ۴۵


الف ۔ فرامین امام زمان علیہ السلام : ۴۵

ب ۔ امام زمان علیہ السلام کی اطاعت : ۴۶

۶- وَالْمُحامِینَ عَنْهُ : ۴۷

اور انکی طرف سے دعوت دینے والے ۔ ۴۷

۷- وَالسَّابِقِینَ إلی إرادَتِهِ : ۴۸

اور ان کے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں ۔ ۴۸

۸- وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ : ۴۹

اور ان کے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے۔ ۴۹

چھٹا حصّہ: ۵۰

درخواست رجعت ۵۰

۱- فَأخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی : ۵۰

مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ ۔ ۵۰

۲- مُؤْتَزِراً کَفَنِی : ۵۱

کفن میرا لباس ہو ۔ ۵۱

۳- شاهِراً سَیْفِی : ۵۱

میری تلوار بے نیام ہو ۔ ۵۱

۴- مُجَرِّداً قَناتِی : ۵۲

میرا نیزہ بلند ہو۔ ۵۲

۵- مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی : ۵۲

داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں ۔ ۵۲

۶- فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی : ۵۲

شہرمیں ہوں یا گاؤں میں ۔ ۵۲


ساتواں حصّہ: ۵۳

ظہور کے لئے دعا ۵۳

۱- اَللّٰهُمَّ أَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ : ۵۳

اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبادکھا ۔ ۵۳

۲- وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ : ۵۳

آپ کی درخشاں پیشانی دکھا۔ ۵۳

۳- وَاکْحَلْ ناظِرِی بِنَظْرَةٍ مِنِّی إلَیْهِ : ۵۴

ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ۔ ۵۴

۴- وَعَجِّلْ فَرَجَهُ : ۵۴

ان کی گشائش میں جلدی فرما۔ ۵۴

۵- وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ : ۵۴

ان کے ظہور کو آسان بنا ۔ ۵۴

۶- وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ : ۵۴

ان کا راستہ وسیع کر دے ۔ ۵۵

۷- وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ : ۵۵

اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ۔ ۵۵

۸- وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ : ۵۵

ان کا حکم جاری فرما۔ ۵۵

۹- وَاشْدُدْ أَزْرَهُ : ۵۵

ان کی قوت کو بڑھا۔ ۵۵

آٹھواں حصّہ: ۵۷


ظہور کا برنامہ ۵۷

۱- وَاعْمُرِ اَللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَکَ : ۵۷

اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر ۔ ۵۷

۲- وَأَحْیِ بِهِ عِبادَکَ : ۵۸

اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے۔ ۵۸

۳- فَإنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ ِفی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ : ۵۸

فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا۔ ۵۸

۴- فَأَظْهِرِ اَللّٰهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ : ۵۹

پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولیعلیہ السلام کی۔ ۵۹

۵- وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ : ۵۹

اور اپنے نبی صل اللہ علیہ و السلم کی بیٹی کے فرزند کا ۔ ۵۹

۶- وَالْمُسَمَّیٰ بِاسْمِ رَسُولِکَ : ۶۰

جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے۔ ۶۰

۷- حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ الا مَزَّقَهُ : ۶۰

یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں ۔ ۶۰

۸- وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ : ۶۱

حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں۔ ۶۱

۹- وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ : ۶۲

اے معبود قرار دے ان کو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ ۔ ۶۳

۱۰- وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ : ۶۳

اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مدد گار نہیں بنا۔ ۶۳


۱۱- وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْکامِ کِتابِکَ : ۶۳

ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے ۔ ۶۳

۱۲- وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ دِینِکَ : ۶۳

ان کو اپنے دین کے خاص احکام ۔ ۶۴

۱۳- وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ : ۶۴

اور اپنے نبی کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آل پر خدا کی رحمت ہو ۔ ۶۴

۱۴- وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِینَ ۔ ۶۴

اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں سے فرار دے جنکو تو نے ظالموں کے حملے سے بچایا۔ ۶۴

۱۵- اللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی دَعْوَتِهِ : ۶۴

اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے اوران لوگوں کو جنہوں نے ان کی دعوت میں ان کا ساتھ دیا ۔ ۶۴

۱۶- وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ : ۶۵

اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما ۔ ۶۵

۱۷- اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاَمَّةِ بِحُضُورِهِ : ۶۵

اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے ۔ ۶۵

۱۸- وَعَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ ۶۵

اور ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما ۔ ۶۵

۱۹- إنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً : ۶۵

کہ لوگ اس دن کو دور اور ہم اسے نزدیک سمجھتے ہیں۔ ۶۵

۲۰- بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔ ۶۵

تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔ ۶۶

۲۱- الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ ۔ ۶۶

جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امام علیہ السلام ۔ ۶۶


حوالہ جات ۶۶

منابع : ۷۵