صحیفہ امام مھدی علیہ السلام
گروہ بندی ادعیہ اور زیارات کی کتابیں
مصنف سید مرتضی مجتہدی سیستانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کانام: صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

مولف: سید مرتضی مجتہدی سیستانی


بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقدمہ

حمد اور ثنا سزاوار ہے اس خدا کے لئے کہ جس نے ہمیں پیدا کیا اور رسول خدا کو تکمیل دین کے لئے ہماری طرف بھیجا جو کہ خاتم الانبیاء ہیں تا کہ ہم نیک اعمال بجا لائیں ان کے بعد اماموں کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجا خدا نے ہماری نیک اخلاق اور نیک اعمال کی طرف رہنمائی کی تا کہ اس کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے بہشت میں داخل ہوں تا کہ بہشت میں بلند مقام حاصل کریں اور خدا کی رحمت کے ملائکہ دیکھیں کہ جو کلام الٰہی سے مزین ہیں

سلام قولاً من ربّ رحیم سورة یس آیہ ۵۸

سلام تمہارے اوپر دلنشین گفتار مہربان پروردگار کی طرف سے ہے

اور ہمیشہ کے لئے درود و سلام حضرت محمد پر کہ جو خدا کے پیغمبر ہیں اوور اس کے خاندان پر درود و سلام کہ جو پاک و پاکیزہ ہیں

تا کہ پاکیزہ کلمات اور مطہر کلام کے ساتھ لوگوں کی تکالیف کو بیان کریں اور ان کو چراغ الٰہی کے نور کے ساتھ جیسے (کوکب درّی یوقد من شجرة مبارکةٍ زیتونةٍ ) درخشان ستارہ کے جو مبارک زیتون کے درخت سے چمکتاہے انوار کے دریاؤں کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے اس روشنائی کی پرتو میں معرفت کے راستوں پر چلتے ہوئے علم اور حکمت کے شہر کی طرف سفر کا عزم کرتے ہوئے سعادت کے دروازے سے اس شہر میں داخل ہوجائیں اور درود و سلام ہو خصوصاً ان میں سے آخری شخص پر کہ جو عدل اور انصاف کے لئے قیام کرے گا کہ جو دعوت نبوی اور غلبہ حیدری کا حامل ہے

جس میں عصمت فاطمی صبر حسنی‘ حسینی شجاعت اور دلیری پائی جاتی ہے جس میں سجاد کی عبادت اور باقر کی بزرگواری جعفر کے آثار اور نشانیاں اور کاظم کی دانش جس میں رضا کے دلائل اور برھان جس میں تقی کی سخاوت اور نقی کی بزرگی اور عسکری کی ھیبت اور الٰہی غیبت موجود ہے یہ وہ ہستیی ہے کہ جو حق کو قائم کرنے کے لئے قیام کرے گی اور انسان کو سچ کی طرف دعوت دے گی وہ خدا کا کلمہ خدا کا امان اور حجت خدا ہیں وہ امر الٰہی کو زندہ کرنے کے لئے غالب ہوگا اور حرم الٰہی سے دفاع کرے گا وہ ظاھراً اور باطناً پیشوا ہوگا وہ بلاؤں کو ہٹانے والا جو کہ سخی اور بے شمار نیکی کرنے والا یعنی امام حق ابوالقاسم محمد بن الحسن صاحب الزمان خدا کا جانشین اور خلیفہ انسانوں اور ملائکہ کا پیشوا ہے وہ رات کی تاریکی میں اروشن ستارہ ہے وہ خطرات کے موقع پر امن و امان کا موجب ہیں وہ بلاؤں اور سختیوں کے موقع پر سِپر بن کر حفاظت کرنے والا ہے یہ کتاب ہدیہ ہے ایک ضعیف اور فانی بندہ کی طرف سے آپ کی خدمت میں یعنی میرے مہربان مولیٰ کی خدمت میں اگر یہ قبول ہوجائے تو خدا کا مجھ پر بڑا احسان ہوگا کہ جس خدا نے تمہارے احسان کو مجھ پر مُسلط رکھا ہے اے صاھب زمان۔

اس کتاب کو قبول کرنے کی وجہ سے یہ میرے لئے باقیات الصالحات اور قیامت کے دن میرے لئے زاد و توشہ ہوگا اس دن کہ جس میں (لا ینفع مالاْ ولا بنون ) سورة شعراء آیہ ۸۸ جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ ہی بیٹے سائلین کے لئے فائدے کا سبب اور شب زندہ داروں کے لئے روشن چراغ ہونگے اگر اس کو پڑھ لیں تو رستہ گاری طلب کرنے والوں کے لئے چابی ہے یہی چیز بہشت کے دروازوں کو کھولنے والا ہوگا آپکے اس نیکی کو قبول کرنے کے ساتھ اے صاحب بخشش یہ کتاب دوست کے لئے بصیرت کا سبب ہوگی ان پوشیدہ چابیوں کو ظاہر کرنے کے لئے اس شخص کے لئے کہ جو اس میں غور کے ساتھ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کو آپ کی مدد کا سبب قرار دے گا۔

پس اے محبوب اے عزیزمسّنا و اهلنا الضرُّ و جئنا ببضاعةٍ مزجاة فاوف لناالکیل و تصدق علینا انّ الله یجزی المتصدقین سورة یوسف آیہ ۸۸ اے عزیز ہم اور ہمارے خاندان اور بے بس ہیں کہ سرمایہ کے ساتھ تمہاری طرف آئے ہیں پس ہمارے پیمانہ کو بھر دے اور ہمیں صدقہ دے چونکہ خدا صدقہ دینے والوں کو جزا دیتاہے یہ کتاب کہ جو آپ کے سامنے موجود ہے اس میں نمازوں دعاؤں اور زیارات کا مجموعہ ہے یہ یا تو صاھب الزمان کی طرف سے صادر ہوئے ہیں یا اس جہاں میں ولایت کبریٰ کے بارے میں وارد ہوئے ہیں کہ جو زمین میں خدا کی طرف سے آخری جانشین اور خدا کا خلیفہ حضرت حجت بن الحسن العسکری ہیں مولّف کی کوشش یہ ہے کہ جو دعائیں اور زیارات معتبر کتابوں میں لکھی گئی ہم تک پہنچی ہیں ان کو جمع کرلے اگر چہ ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ یہ مجموعہ کتاب جامع اور کامل ہے چونکہ صاحب العصر کی طویل غیبت کی وجہ سے اور ہم سے دور ہونے کی وجہ سے بہت سی دعائیں اسی طرف زیارات نمازیں اور اذکار کہ جو امام زمان کی طرف سے صادر ہوئے ہیں وہ ہماری رستہ سے دور ہیں اور دوسری طرف افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ حجت کی غیبت کے زمانے میں حضرت کے وجود سے غفلت اور بے خبری کی زندگی گزار رہے ہیں جو کچھ آخری حجت سے صادر ہوئے ہیں

اس سے بے خبر ہیں کچھ مطالب حضرت کی طرف سے ان کے دوستوں تک پہنچے ہیں اس کو انہوں نے چھپادیا ہے اور ان کو نہیں لکھا گیا جس کی وجہ سے ہم ان واقعات سے آگاہ نہیں ہیں اس مطلب پر شاہد اور گواہ یہ تھے کہ عالم ربانی مرحوم آیة اللہ العظمیٰ شیخ مرتضیٰ حائری سے نقل کرتاہوں ایک دن فقہ کے درس کے بعد کہ جو عشق علی میں درس دیا کرتے تھے میں ان کے گھر چلا گیا انہوں نے فرمایا میرا ایک دوست تھا کہ جو آخری حجت کے ساتھ ارتباط رکھتا تھا وہ بعض اوقات میرے پاس آتے تھے میرا ارتباط اس کے ساتھ اول انقلاب تک تھا لیکن انقلاب کے بعد یہ ارتباط کٹ گیا

میں نے ان کو کئی سال سے نہیں دیکھا جن دنوں میں میرا ان کے ساتھ ارتباط ہوا اس وقت میں ایک مشکل میں مبتلا تھا ایک دن میں نے ان کو اپنی مشکل بتائی اور ان سے کہا کہ میری مشکل کو حل کریں میری مشکل یہ تھی کہ بعض محتاج طلاب نے اپنی حاجت روائی کے لئے مجھ سے رجوع کیا لیکن ان میں سے بعض کو نہیں جانتا تھا ان کے بارے میں مترود تھا کہ آیا میں ان کی بھی مدد کرسکتاہوں یا نہیں ہوسکتاہے کہ یہ حقیقت میں مستحق نہ ہوں اس کے باوجود میں ان کی مدد کروں یا یہ کہ یہ واقعاً محتاج ہیں اس کے باوجود مدد نہ کی ہو بہر حال میں نے اپنی مشکل کو ان کے سامنے پیش کیا انہوں نے کہا میں تمہاری اس مشکل کو امام زمانہ کی خدمت میں پیش کروں گا انشاء اللہ اس کا جواب لے آؤں گا وہ ایک مدت کے بعد میرے پاس آیا اور فرمایا حضرت حجت نے ایک دعا مجھ کو عطا فرمائی اور فرمایا اگر کسی کو نہیں جانتے ہو اس کے باوجود وہ تجھ سے مدد کے خواہشمند ہیں اول اس دعا کو پڑھ لیں اس کے بعد اس کی مدد کریں چونکہ حضرت نے فرمایا ہے اگر اس دعا کو پڑھ لیں اور کسی شخص کی مدد کریں تو جو مال لے چکا ہے وہ ہماری رضا کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ نہیں کرسکتاہے

وہ ایک مختصر دعا تھی میں نے بارہا دیکھا ہے کہ جب ناشناس لوگ آتے اور مدد مانگتے تھے تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے اس کے بعد اس کی مدد کرتے تھے اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے بسا اوقات بعض افراد اس کو سمجھنے کی قوت نہیں رکھتے تھے۔ وہ اس لئے ہے کہ جو کچھ امام زمانہ سے صادر ہوتا تھا وہ ہم تک نہیں پہنچاہے بہت سی دعائیں زیارات اور نمازیں حضرت کے دوستوں کے دلوں میں موجود تھیں اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہیں کیا گیا اور اس دار فانی سے چلے گئے۔مرحوم محدث نوری کہتے ہیں اصحاب میں سے قابل اعتماد لوگوں نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے بیداری کی حالت میں صاحب الزمان کی زیارت کی ہے اور ان کے متعدد معجزات کو دیکھا ہے حضرت نے ان کو متعدد غیبی امور سے آگاہ کیا ہے

اور ان کے لئے مستجاب دعاؤں کے ساتھ دعا فرمائی اور ان کو مہلک خطرات سے نجات دی ہے ان کلمات کو یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں ہے اس بناء پر جو کچھ اس کتاب میں جمع کیا ہے وہی دعائیں اور زیارات ہیں کہ جو معتبر کتابوں میں موجود ہیں اس میں تمام وہ چیزیں موجود نہیں ہیں کہ جو امام سے صادر ہوئی ہیں کہا جاسکتاہے یہاں جو کچھ میرے ہاتھ میں آیا ہے کہ سب کے سب میرے مولیٰ کا لطف و کرم ہے جو کچھ اس مجموعہ میں خوبی دیکھیں اس میں صاح الزمان کی تائید حاصل ہے اس میں جو نقص اور اشتباہ دیکھیں وہ میری طرف سے ہے امید ہے کہ خداوند متعال اس کام کو قبول فرمائے گا اور صاحب الزمان کے قرب کا موجب قرار دے یہ کتاب ایک مقدمہ اور خاتمہ کے علاوہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے جس طرح بارہ مہینے ہیں اور ائمہ بھی بارہ ہیں اور نقباء قوم بھی بارہ ہیں اور جان لو یہ ایک یاد گاری کا سبب ہے جو چاہیے اپنے رب کے راستے کی طرف وسیلہ قرار دے جتنا ممکن ہو پڑھ لے نماز کو قائم کرے زکوٰة ادا کرے اور خدا کو قرض حسنہ دے دے اور جان لو کہ جو کچھ کرتے ہو اس کو اللہ کے پاس پاتے ہو یہ نیکی ہے اور بہت زیادہ اجر ہے خدا سے استغفار کرلو بتحقیق اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

ایک مہم نکتہ

یہاں پر ایک مہم نکتہ بیان کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے ائمہ اطہار نے ایک سیاسی فضا میں ایک غاصب حکومت کے زمانے میں زندگی گزاری کہ جس کی وجہ سے حکومت عدل علوی قائم نہ ہوسکی اس لئے ائمہ طاھرین کو لوگوں کے لئے اسرار الٰہی بیان کرنے کا موقع نہیں مل سکا تمام امیروں کے امیر اور سب سے پہلے مظلوم حضرت علی بن ابی طالب کو حقوق لینے سے دور رکھا خود حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیںکان لرسول الله سرّ لا یعلمه الّا قلیل و لولا طغاة هذه الامة لبثثست هذا السرّ ۔ رسول اللہ کے لئے ایک راز تھا چند افراد کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اگر اس امت کے سرکش نہ ہوتے تو اس راز کو ظاہر کر کے اس واضح بیان کو پھیلا دیتا ۔ اس بناء پر ہمارے اماموں نے رازوں کو لوگوں کے لئے بیان نہیں کیا اپنے بعض دوستوں کے علاوہ کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ پس رازوں کا بیان کرنا اور مہم معنوی حقائق کا بیان کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوا چونکہ لوگ اس کو برداشت نہیں کرسکتے تھے چونکہ لوگوں نے غاصب حکومت سے لیکر حکومت الٰہی یعنی حضرت قائم کی حکومت تک زندگی کرتے تھے۔ حضرت امام صادق اس آیہ شریفہ (والیل اذا یسرا) کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ ایک غاصب حکومت کہ جو قیام قائم تک جاری رہے گی رات سے مراد غاصب حکومت ہے یہ حضرت قائم کے قیام تک جاری رہے گی

یہی وجہ ہے ائمہ معصومین نے بہت سے اسرار اور حقائق معنوی کو دعا اور مناجات کے ضمن میں بیان کیا ہے اگر آپ ان حقائق کو جاننا چاہیں تو ان دعاؤں اور مناجات کے ضمن میں جستجو کریں اھل بیت نہ صرف سیاسی وجوھات کی بناء پر لوگوں کو کھل کر راز نہیں بتاسکتے تھے اسلئے دعاؤں اور زیارات کے ضمن میں بتاتے تھے بلکہ مہم اعتقادی مسائل اور بلند معارف کو بھی دعا مناجات اور زیارات کی صورت میں بیان کرتے تھے دعاؤں کے درمیان تحقیق کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں اسرار عقائد اور بے شمار مطالب کو بیان کیا ہے معاشرہ میں زندگی کے لئے بہترین درس سکھایا گیا ہے بطور نمونہ صحفیہ سجادیہ کو دیکھیں کہ جس کے بارے میں امام زمانہ کی تائید بھی ہے اس میں غور کریں اور دیکھیں کہ امام سجاد نے مختصر الفاظ میں کس قدر حقائق دعا اور مناجات کے ضمن میں فرمایا ہے حضرت اور اھل بیت سے دوسری جو دعائیں منقول ہیں ان پر بھی غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے اب نومنہ کے طور پر دعاء کے ضمن میں جو ہمیں درس دیا گیا ہے اس کو نقل کرتاہوں مناجات انجیلیہ میں حضرت امام زین العابدین نے جو مناجات کی ہے اس کو بیان کرتاہوں: اسائلک من الھم اعلاھا بار الاھا مجھ سے سب سے بلند ترین ہمت کی کواہش کرتاہوں یہ حضرت امام سجاد کا کلام ہے

ان تمام لوگوں کے لئے کہ جس کے ہاتھ میں دعا کی کتاب ہے دعا پڑھنے کے ساتھ خدا سے کلام کرتاہے یعنی دعا کرنے والا جو بھی ہو اگر چہ آپنے آپ کو بے ارادہ اور ناچیز جانتاہے اس کو چاہیے کہ خدا سے چاہیے کہ بہترین اور عالی ترین ہمت اس کو دے دے تا کہ اپنی زندگی میں ایک عظیم تبدیلی بجالائے جو کچھ ائمہ طاہرین سے ہم تک پہنچاہے یہ ہے کہ دعا کے آداب اور استجابت کی شرائط کو انجام دے تا کہ دعا قبول ہوتے ہوئے دیکھے جو کچھ ہم نے لیا ہے وہ سب کچھ قرآن اور احادیث سے بیان کیا ہے اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے غور سے سن لے رحمت الٰہی سے مایوس نہ ہوجائے چونکہ ۔انّه لا بیاس من روح الله الّا القوم الکافرون سورة یوسف آیہ ۸۷ رحمت خدا سے صرف کافر مایوس ہوجاتے ہیں اس بناء پر نور امامت سے استفادہ کر کے اپنے اندر نور امید اور نور یقین پختہ کرلے۔

عقلی اور نقلی دلائل کی نظر میں دعا کی طرف ترقیب دینا دعا کے آداب اور شرائط بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ عقلی اور نقلی اعتبار سے ترغیب دعا کیلئے جو دلائل ہیں بیان کروں

دلیل عقلی:

عقل ہمیں کہتی ہے اگر انسان کو کوئی ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو اور انسان اس ضرر کے دور کرنے پر قادر ہو تو عقل کہتی ہے کہ اس کو دور کرنا ضروری ہے یہ چیز واضح ہے کہ دنیوی زندگی میں ہر انسانن کو ضرر پہنچتاہے اور انسان ہمیشہ ضرر میں گرفتار رہتاہے یہ گرفتاری یا تو داخلی ہوگی جیسے ایک چیز انسان کے مزاج کو عارض ہوجائے یا خارجی ہے جیسے کوئی ظالم اس پر ظلم کرے یا کوئی شخص یا ہمشایہ اس کو گالی دے دے اگر اب ان چیزوں میں گرفتار نہ ہو ممکن ہے کہ آئندہ گرفتار ہوجائے پس اس دنیا کے ضرر ان دو حالتوں سے خالی نہیں ہے یا حاصل ہوا ہوگا اور اور انسان اس میں مبتلا ہوگا یا حاصل ہوجائے گا ان دونوں صورتوں میں ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ دعا اس ضرر کو دور کرنے کا وسیلہ ہے پس عقلی اعتبار سے ضروری ہے کہ دعا کے ذریعے اس ضرر کو اپنے آپ سے دور کرے چنانچہ امیرالمومنین علی علیہ اسلام نے اس معنی سے آگاہ کیا ہے کہ جہاں فرماتے ہیںما من احد ابتلی و ان عظمت بلواه بأحق بالدعاء من المعافی الذی لا یأمن من البلاء ۔ کوئی شخص بھی مبتلا اور گرفتار نہیں ہوجاتاہے مگر یہ کہ بہت بڑی مصیبت کیوں نہ ہو اس فرد کے لئے بھی ضروری ہے کہ جو مصیبت میں مبتلاء نہیں ہے وہ بھی دعا مانگے۔

دلیل نقلی:

جو کچھ احادیث سے ہمیں معلوم ہوا ہیہ ہے کہ ہر انسان چاہے سالم ہو یا مصیبت میں مبتلا ہو دونوں دعا کے محتاج ہیں اور دعا کا فائدہ یہ ہے کہ انسان جن مشکلات میں مبتلا ہے دعا اس کو دور کرتی ہے جو مشکلات در پیش ہیں اس کو بھی دور کرتی ہے یا انسان کی فائدہ کی جستجو میں ہے دعا کی وجہ سے وہ فائدہ حاصل ہوتاہے یا کوئی اچھائی موجود ہے اس کو دعا کی وجہ سے برقرار رکھتاہے اس کو زائل ہونے سے محفوظ رکھتاہے یہی وجہ ہے ائمہ معصومین نے دعا کو سلاح مومن کے عنوان سے بیان کیا ہے اسلحہ وسیلہ ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کو نفع پہنچتاہے اس اسلھہ کی وجہ سے ضرر کو دور کیا جاتاہے ائمہ طاہرین سے دوسری روایات میں دعا کو سپر سے تعبیر کیا گیا ہے اور معلوم یہ ہے کہ سپر کے ذریعے انسان ناگوار چیز سے اپنے آپ کو بچاتاہے پیغمبر خدا فرماتے ہیں: الا ادئکم علی سلاح ینجیکم من اعلائکم ویدرّ ارزاقکم قالو: بلی یا رسول الله قال: تدعون ربکم باللیل و النهار فانّ سلاح الموٴمن الدعاء کیا میں تمہاری راہنمائی نہ کروں ایک ایسے اسلحہ کی طرف کہ جو تم کو دشمنوں سے نجات دے دے اور تمہاری روزی زیادہ کرے عرض کیا ہاں اے رسول خدا نے فرمایا شب روز اپنے رب کو پکارو چونکہ دعاء مومن کا اسلحہ ہے۔

حضرت امیر المومنین نے فرمایا:الدعا ترس المومن و متی تکثر قرع الباب یفتح لک دعا ۔ مومن کے لئے سپر ہے جب بھی دروازے کو زیادہ کھٹکھٹائیں تو تمہارے سامنے وہ دروازہ کھل جائے گا امام صادق نے فرمایاالدعاء انفذ من الانسان الهدید دعاء لوہا کے نیزہ سے زیادہ موثر ہے۔

امام کاظم نے فرمایاانّ الدعاء یردّ ما قدّر و مالم یقدّر قال قلت و ما قد قدأر فقد عرفته فمالم یقدّر قال حتی لا یکون یہی دعا‘ جو کچھ لوح محفوظ میں مقدر ہے اور جو کچھ مقدر نہیں ہے اس کو لوٹا دیتی ہے راوی نے کہا میں نے عرض کیا جو کچھ مقدر میں ہے اس کا معنی میں نے سمجھا لیکن جو مقدر میں نہیں ہے اس کا مطلب کیا ہے حضرت نے فرمایا دعا کرتاہے کہ جو اب تک مقدر نہیں ہوا ہے آئندہ بھی مقدر نہیں ہوگا۔ ایک اور روایت میں پڑھتے ہیں کہ حضرت امام موسیٰ کاظم نے فرمایاعلیکم بالدعاء فان الدعاء ما الطلب الی الله تعالیٰ یردّ البلاء و قد قدّر وقضیٰ فلم یبق الّا امضائه فاذا دعی الله وسئل صرفه صرفه تمہارے لئے دعا کرنا ضروری ہے چونکہ خدا سے دعا مانگنے سے بلائیں دور ہوجاتی ہیں وہ بلائیں کہ جو انسان کے مقدر میں ہیں جس پر اللہ کا حکم جاری ہوا ہے صرف اس پر التقا نہیں ہوا ہے بلکہ اگر خدا سے اس کے برطرف کرنے کے لئے دعا مانگنی جائے تو خدا اس کو برطرف کرتاہے ایک روایت میں زراہ امام محمد باقر سے نقل کرتاہے کہ حضرت نے فرمایاالاادلکم علی شئی کم یستثن فیه رسول الله قلت بلی قال: الدعاء یردّ القضا و قدا برم ابراماً و ضمّ أصابعه کیا تم کو ایسا مسئلہ بیان نہ کروں کہ جس میں رسول نے استثنا نہیں کیا ہے میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا دعا امضاء شدہ قجی کو واپس کردیتاہے حضرت نے اپنی انگلیوں کو آپس میں ملا دیا کہ یہ۔ کام کے محکم ہونے کی علامت ہے۔

امام سجاد نے فرمایاان الدعاء و البلاء لیتوافقان الی یوم القیامة، ان الدعاء لیردّ البلاء و قد أبرم ابراماً ۔تحقیق دعا اور بلاء قیامت کے دن تک ساتھ ساتھ ہیں ان دونوں میں سے ایک کو واقع ہونا چاہیے یہی دعا حتمی بلاء کو پلٹا دیتی ہے پھر حضرت نے ایک اور کلام میں فرمایا:الدعاء یردّ البلاء النازل و مالم ینزلترجمه : دعا نازل ہونے والی بلاء کو اور نازل نہ ہونے والی بلاء کو دور کرتی ہے۔


آداب دعا

واضح ہو کہ دعا مانگنے والا دعاء کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے دعا مانگے تو حاجت روائی کے لئے عجیب غریب آثار دیکھے گا اس لئے دعاء کے آداب اور شرائط کو بیان کرتاہوں کتاب المختار من کلمات الامام المھدی میں کہتے ہیں دعا کے اداب کو دیکھیں کہ کس سے دعا مانگتے ہیں کس طرح دعا مانگتے ہیں کیوں دعا مانگتے ہیں یہ بھی دیکھیں کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں کس قدر سوال کرتے ہیں کس لئے سوال کرتے ہیں دعا یعنی طلب اجابت تمام موارد میں تمہاری جانب سے تمام امور کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۱ اگر دعاء کو شرائط کے تحت انجام نہ دیں۔ تو پھر اجابت کے منتظر نہ ہوجائیں چونکہ وہ ظاہر اور باطن کو جانتاہے ہوسکتاہے کہ کدا سے ایک چیز کو مانگیں تو اس باطن کے خلاف کو جانتا ہو۔ یہ بھی جاننا چاہیئے اگر خدا ہمیں دعا کا حکم نہ دیتا لیکن خلوص کے ساتھ ہماری دعا قبول ہوجاتی تو فضل کے ساتھ ہماری دعا قبول کرلیتا پس جب خدا دعا کی التجابت کا ضامن ہوا ہے جب اسے تمام شرائط کے ساتھ انجام دیا جائے تو پھرکس طرح دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ دعاء کے آداب یہ ہیں۔

اول آداب :دعا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ دعا کا آغاز کرے

پیغمبر خدا نے فرمایا ہےلا یردّ دعاء اوّله بسم الله الرحمن الرحیم جس دعا کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہو وہ دعا رد نہیں ہوتی۔

دوسرا آداب: دعا سے پہلے خدا کی حمد و ثنا بجا لائے

ہمارے مولیٰ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا ہے کل دعاء لا یکون قبلہ تمحید فھو ابتر جس دعا سے پہلے خدا کی حمد و ثنا نہ کی جائے وہ دعا ناقص اور ابتر ہوتی ہے۔ ایک روایت میں ذکر ہوا ہے چنانچہ حضرت امیرالمومنین کی کتاب میں اس طرح ذکر ہوا ہے دعا سے پہلے حمد ثنا بجا لائیں اگر اللہ سے کوئی چیز مانگنا چاہیں تو سب سے پہلے اس کی تعریف کریں راوی کہتاہے میں نے کہا کہ میں کس طرح اس کی تعریف کروں فرمایا کہو:یا من اقرب الیّ من حبل الورید یا من یحول بین المرء و قبله یا من هو بالمنظر الاعلی یا من لیس کمثله شئی ۔ اے خدا کہ جو میری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اے وہ کہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل اور مانع ہوتے ہیں اے وہ ذات کہ جو منظر اعلیٰ ہے کہ جو بلند مرتبہ رکھتاہے اے وہ ذات کہ جو تیرے مانند کوئی نہیں ہے۔

تیسرا آداب: محمد اور آل محمد پر درود بھیجیں

پیغمبر خدا نے فرمایا :صلاتکم علی اجابة لدعائکم و زکاة لأعمالکم ۔تمہارا درود و صلوة بھیجنا مجھ پر تمہاری دعا کے قبول ہونے کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کے پاک و پاکیزہ ہونے کا سبب ہے۔

ہمارے مولیٰ امام جعفر صادق نے فرمایا:لا یزال الدعاء محبوباً حتیٰ یصلّی علی محمد و آل محمد ۔ دعا ہمیشہ حجاب میں ہوتی ہے یہاں تک محمد و آل محمد پر درود بھیجیں ایک دوسری حدیث میں فرمایا:من کانت له الی اللّٰه عز و جلّ حاجة فلیبدء بالصلوة علی محمد و آله ثم یسأله حاجتة ثم یختم بالصلوة علی محمد و آل محمد بانّ الله اکرم من ان یقبل الطرفین و یدع الوسط اذا کانت الصلوة علی محمد و آل محمد لا تحجب عنه ۔ جس کسی کو بھی خدا کی طرف کوئی حاجت ہو اس کو چاہیے کہ دعا کا آغاز محمد و آل محمد سے کرے اس کے بعد خدا سے اپنی حاجت مانگے اور دعا کے بعد محمد و آل محمد پر درود بھیجے چونکہ خداوند تعالیٰ کریم ہے کہ اس دعا کے دونوں اطراف کو قبول کرے اور درمیان کو چھوڑ دے اور قبول نہ کرے چونکہ محمد و آل محمد پر درود بھیجنے پر حجاب واقع نہیں ہوتاہے۔

چوتھا آداب: معصومین کو اپنا شفیع قرار دے

ہمارے مولا حضرت امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام ) نے فرمایا اگر کسی چیز کے بارے میں خدا کی طرف محتاج ہو تو کہو:اللّٰهم انّی اسألک بحق محمد و علی فان لهما عندک شاناً من الشان و قدراً من القدر فبحق ذالک القدر ان تصلّی علی محمد و آل محمد و ان تفعل بی کذا و کذا ۔بارالھٰا محمد و علی کو واسطہ دیکر سوال کرتاہوں چونکہ یہ دونوں بزرگ تیرے نزدیک بڑا مقام رکھتے ہیں اس شان اور منزلت کا واسطہ کہ محمد و آل محمد پر درود بھیج دے اور میری فلان فلان حاجت کو قبول فرما۔

چونکہ جب بھی قیامت کا دن آئے گا کوئی ملک مقرب پیغمبر مرسل اور مومن ممتحن باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ اس دن ان دونوں کے محتاج ہیں زیارت جامعہ کبیرہ میں پڑھتے ہیںاللّٰهم انّی لوجوجدت شفعاء اقرب الیک من محمد و اهل بیته الاخیار الائمة الابرار لجعلتهم شفعائی ۔

خداوندا اگر محمد اور اھل بیت سے زیادہ کوئی اور تیرے زیادہ نزدیک ہوتے تو تیری درگاہ میں ان کو شفیع قرار دیتا واضح ہے حاجت قبول ہونے کے لئے خدا کی درگاہ میں وسیلہ قرار دینا چاہیئے چونکہ خدانے قرآن مجید میں اس کے بارے میں حکم دیا ہے کہ جہاں فرماتاہےوابتغوا الیه الوسیلة اس کے ساتھ قرب حاصل کرنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور کوئی وسیلہ بھی محمد و آل محمد سے زیادہ خدا کے نزدیک نہیں ہے متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ کلام الہی میں وسیلہ سے مراد ائمہ طاہرین ہیں۔

یہ منافات نہیں رکھتا کہ وسیلہ سے مراد سیڑھی سے لیں چونکہ وہاں سیڑھی سے مراد ترقی کا وسیلہ ہے۔

ایک روایت میں حضرت رسول سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: ھم العروة الوثقیٰ والوسیلہ الی اللہ یعنی یہی اھل بیت محکم رسی اور خدا کی طرف وسیلہ ہیں اس کے بعد اس آیہ شریفہ کی تلاوت کی فرمایا:یا ایهاالذین آمنو اتقو الله و ابتغو الیه الوسیلة یہ بھی احتمال ہے کہ ایمان اور تقویٰ کی صفت خدا تک وسیلہ کے لئے شرط ہو چونکہ وسیلہ ایمان اور تقویٰ کے بغیر فائدہ نہیں رکھتا اگر یہ دونوں اکٹھے موجود ہوں تب فائدہ دے گا چونکہ ولایت کا قبول کرنا ممکن نہیں ہے مگر ایمان اور تقویٰ کے ساتھ

پانچواں آداب دعا دعا سے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔

ایک روایت امام صادق(علیہ السلام ) سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: انما ھی المدحة، ثم الاقرار بالذنب ثم المسالة، واللہ ما خرج عبد من ذنب الّا بالاقرار۔دعا میں سب سے پہلے خدا کی مدح و ثناء کرے اس کے بعد اپنے گناہوں کا اعتراف کرے پھر اس کے بعد اپنی حاجت مانگے۔

چھٹا آداب: دل سے غافل ہو کر دعا نہ مانگے بلکہ جب درگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہو تب دعا مانگے

چنانچہ امام صادق نے فرمایا :ان الله لا یستجیب دعاء بظهر قلب ساه فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن الا حاجبة ۔ جو شخص بھی خدا سے غافل دل کے ساتھ دعا مانگتاہے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے جب دعا کرنا چاہو تو اپنے دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اس وقت یقینا تمہاری دعا قبول ہوگی۔ چونکہ جو بھی پراگندہ فکر کے ساتھ خدا کو پکارے وہ حقیقت میں دعا نہیں مانگتاہے اور دعا قبول نہیں ہوتی ہے صرف اس صورت میں دعا قبول ہوتی ہے جب توجہ قلبی کے ساتھ اللہ کو پکارے۔

ساتواں آداب: دعا کرنے والے کا لباس اور غذا پاکیزہ ہو

اچھی دعا اس وقت ہے کہ جب عمل اچھا ہو اچھا عمل حرام کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتاہے قرآن میں فرماتاہے: یا ایھا الرسل کُلُو من الطیباتِ و اعمَلو صالحاً اے پیامبر پاک و پاکیزہ غذا کھالو اور نیک کام انجام دو اس آیہ شریفہ میں نیک عمل میں حلال اور پاکیزہ غذا لازم و ملزوم ہے پیغمبر خدا نے فرمایامن احبّ ان یستجاب دعاؤه فلیطیب مطعمه و مکسبه جو چاہتاہے کہ اس کی دعا قبول ہوجائے تو وہ غذا اور اپنے کمائی کو پاک اور حلال قرار دے ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ طھّر ما کلک،و لا تدخل فی بطنک الهرام ۔ اپنی غذا کو پاکیزہ قرار دو اور احرام مال کو اپنے شکم میں داخل نہ کرو ایک اور روایت میں آیا ہےاطب کسبک تستجاب دعوتک فان الرجل یرفع القمة الی فیه حراماً فما تستجاب له اربعین یوماً ۔ اپنی کمائی کو پاکیزہ اور حلال قرار دو تا کہ تمہاری دعا مستجاب ہوجائے جب انسان ایک حرام لقمہ اپنے منہ میں ڈالتاہے تو اس کی دعا چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی ہے۔ حدیث قدسی میں آیا ہےفمنک الدعاء و علیّ الاجابهة فلا تحجب عنّی دعوة آکل الحرام اے میرا بندہ تیری طرف سے دعا کرنا اور قبولیت میری طرف سے ہے کوئی بھی دعا مجھ سے پوشیدہ نہیں ہوتی ہے صرف اس شخص کی دعا کہ جس نے حرام کھایا ہو ہمارے مولا امام صادق(علیہ السلام ) نے فرمایا: من سرّہ ان یستجاب دعاؤہ فلیطیّب کسبہ جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی دعا مستجاب ہوجائے اس کو چاہیئے کہ وہ اپنی کمائی کو پاکیزہ اور حلال قرار دے۔

ایک دوسری روایت میں فرمایا:اذا اراد اهدکم ان یستجاب له فلیطیب کسبه و لیخرج من مظالم الناس و ان الله لا یرفع دعاء عبد وفی بطنه هرام، او عنده مطلمة لاهد من خلقه ۔ تم میں سے جو شخص چاہے کہ اس کی دعا قبول ہو اس کو چاہیے کہ اس کی کمائی پاکیزہ اور حلال ہو اور خود لوگوں کے حقوق سے نجات حاصل کرلے چونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا کو قبول نہیں کرتاہے کہ جس کے پیٹ میں حرام ہے یا لوگوں کا حق اس کے ذمہ میں ہے اس کی دعا اوپر نہیں جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔

آٹھواں آداب: لوگوں کے حقوق جو اس کے ذمہ میں ہے اس کو ادا کرے

حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام ) نے فرمایا :انّ الله عزوجل یقول و عزتی وجلالی لا اجیب دعوة مظلوم دعانی فی مطلمة ظلمها و الاحد عنده مثل تلک المظلمة الله ۔تعالیٰ فرماتاہے: میری عزت اور جلال کی قسم اس مظلوم کی دعا کہ جس پر ظلم ہوا ہو حالانکہ اس نے خود بھی کسی اور پر اس قسم کا ظلم کیا ہو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:انّ الله اوحی الی عیسیٰ بن مریم: قل للملاء من بنی اسرائیل انّی غیر مستجیب لاحد منکم دعوة و الاهد من خلقی قبله مظلمه خدا نے عیسیٰ پر وحی کی بنی اسرائیل کے گروہ سے کہو جس کے پاس کسی کا حق موجود ہے میں اس کی دعا کو قبول نہیں کرتاہوں۔

نواں آداب: گناہ حاجت قبول کرنے کے لئے مانع ہے

امام محمد باقر فرمایا:انّ العبد یسال الحاجة فیکون من شأنه قجاوٴ ها الی اجل قریب او الی وقت بطییٴ فیذنب العبد ذنباً فیقول الله تبارک و تعالیٰ للملک: لاتقضِ حاجته و احرمه ایاها فانّه تعرّض لسخطی و استوجب الحرمان منّی بندہ خدا سے ایک حاجت مانگتاہے بندہ کی شان یہ ہے کہ اس کی حاجت جلد یا ایک مدت کے بعد قبول کی جائے لیکن بندہ گناہ کا مرتکب ہوجاتاہے تو اللہ ایک فرشتہ سے فرماتاہے اس کی حاجت قبول نہ کرو اور اس کو اس سے محروم کردو اس نے مجھ کو ناراض کیا ہے اور محروم ہونے کا سزاوار میری طرف سے ہوا ہے۔

دسواں آداب: اجابت دعا کے لئے حسن ظن رکھتاہو

حسن ظن سے مراد طلب یقین ہے چونکہ خدا کی طرف سے وعدہ خلافی محال ہے اور آیہ کے مطابق ادعونی استجب لکم مجھے پکارو تا کہ میں تمہاری پکار کو قبول کرلوں خدا نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور دعا کے قبول کرنے کی ضمانت دی ہے پس اللہ وعدہ کلافی نہیں کرتاہے اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا ہے:وعد الله لا یخلف الله وعده ولکنّ اکثر الناس لا یعلمون یہ اللہ کا وعدہ ہے اور خداوعدہ خلافی نہیں کرتاہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں خدا کس طرح وعدہ خلافی کرتاہے حالانکہ وہ بے نیاز مہربان اور رحیم ہے حدیث میں ہے۔فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن الاجابة ۔ جب دعا مانگنا چاہو تو اپنے دل کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ اس کے بعد دعا کے قبول ہونے پر یقین رکھو۔

گیارھواں آداب دعا: اللہ حضور سے بار بار دعا مانگو

علامہ مجلسی نے اس کو دعا کے آداب اور شرائط میں سے قرار دیا ہے اور فرمایا ہے آسمانی کتاب میں قرآن سے پہلے آیا ہے:لا تملّ من الدعاء فانی لااملّ من الاجابة دعا سے ملول اور تھک نہ جاوء چونکہ میں ملول اور تھکے ہوئے انسان کی دعا قبول نہیں کرتاہوں عبدالعزیز نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایاان العبد اذا دعا لم یزل الله فی حاجته ما لم یستعجل جب بندہ دعا مانگتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے یہاں تک کہ جلدی نہ کرے یعنی دعا سے ہاتھ نہ اٹھائے اسی طرح حضرت سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا:انّ العبد اذا اعجّل فقام لحاجته یقول الله تعالیٰ استعجل عبدی أتراه یظنّ اَنّ حوائجه بید غیری جب بندہ حاجت روائی میں جلدی کرتاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے میرا بندہ جلدی کرتاہے کیا وہ گمان کرتاہے کہ اس کی حاجت روائی میرے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا :انّ الله یحبّ السائل اللحوح ۔ اللہ تعالیٰ دعا میں اصرار کرنے والے کو دوست رکھتاہے ولید بن عقبہ ھجری نے روایت کی ہے اور کہتاہے کہ امام محمد باقر سے سنا کہ فرماتے تھے:والله لا یلح عبد مومن علی الله فی حاجة الّاقضاها له خدا کی قسم اللہ کا کوئی بندہ بھی اپنی حاجت اللہ سے مانگنے میں اصرار نہیں کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے ابو صباح نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا:ان الله کره الحاح الناس بعضهم علی بعض فی المسألة واحبّ ذالک لنفسه انّ اللّه یحبّ ان یسال و یطلب ما عنده ۔ خداوند تعالیٰ بعض لوگوں سے بعض کی حاجت روائی میں اصرار کو دوست نہیں رکھتا ہے اور یہ اصرار اپنے لئے دوست رکھتاہے اللہ دوست رکھتاہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور جو اس کے پاس ہے خدا سے طلب کرے۔

احمد بن محمد بن ابونصر کہتاہے کہ میں نے امام رضا سے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہوجاؤں میں نے کئی سال سے خدا سے ایک حاجت طلب کی ہے (اب تک میری حاجت قبول نہیں ہوئی) میری حاجت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے میرے دل میں کچھ احساس ہوا ہے حضرت نے فرمایا:یا احمد ایاک و الشیطان ان یکون له علیک سبیل حتی یقضک ان ابا جعفر کان یقول: ان الموٴمن یسأل اللّٰه حاجة فیوٴخّر عنه تعجیل اجابته حبّاً لصوته واستماع نحیبه ثم قال: والله ما أخر اللّٰه عن الموٴمنین ما یطلبون فی هذه الدّنیا خیر لهم ممّا عجّل لهم فیها، و أیّ شیء الدنیا ۔ اے احمد شیطان سے بچو اس چیز سے کہ کہیں تمہارے اوپر مسلط نہ ہو تا کہ تجھ کو رحمت الٰہی سے مایوس نہ کرے امام محمد باقر نے فرمایا یقینا ایک مومن مرد خدا سے ایک حاجت مانگتاہے پس اس کی حاجت قبول ہونے میں تاخیر ہوجاتی ہے وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی آواز کو دوست رکھتاہے اللہ چاہتاہے کہ اس کے نالہ و فریاد کو سنے اس کے بعد فرمایا خدا کی قسم خدا اس کی حاجت کو اس دنیا میں تاخیر کرتاہے یہ بہتر ہے کہ اس کی حاجت قبول ہو پتہ چلے کہ دنیا کی کیا قدر و قیمت ہے۔

امام صادق نے فرمایا:انّ العبد الوالی للّٰهِ یدعو اللّٰه فی الامر ینوبه فیقال الملک الموکّل به اقضِ لعبدی حاجته ولا تعجلها فانی اشتهی ان اسمع ندائه و صوته و ان العبد العدوالله لیدعوالله فی الامر ینوبه، فیقال للملک الموکل به: اقض لعبدی حاجته وعجلها فانی أکره أن أسمع نداء ه و صوته قال: فیقول الناس: ما اُعطی هذا الّاالکرامته، ومامنع هذا الّا لهوانه ۔ وہ بندہ جو اللہ کو دوست رکھتاہے کسی امر میں ہمیشہ اللہ کو پکارتاہے پس کہا جاتاہے اس فرشتہ کے لئے کہ جو اس کام کے لئے مقرر ہے کہ میرے بندہ کی حاجت پوری کرلے لیکن اس میں جلدی نہ کرو میں اس کی آواز کو سننا چاہتاہوں اور بتحقیق وہ بندہ جو اللہ کا دشمن ہے جب وہ کسی معاملہ میں خدا کو پکارتاہے پس جو فرشتہ اس کام کے لئے مقرر ہے اس سے کہتاہے جلد از جلد اس کی حاجت کوپوری کرلے میں اس کی آواز کو سننا پسند کرتاہوں اس وقت حضرت نے فرمایا اس دوست کی کرامت کی وجہ سے حاجت قبول دیر سے ہوئی اور اس دشمنی کی حاجت اس کی آواز کو ناپسند کرنے کی وجہ سے جلدی قبول ہوئی پھر حضرت نے ایک دوسری روایت میں فرمایا:لایزال الموٴمن بخیر و رخا ۷ و رحمة من الله ما لم یستعجل فیقنط فیترک الدعاء، قلت له: کیف یستعجل؟ قال: یقول: قددعوت منذکذا و کذا، ولا أری الاجابة ۔مومن ہمیشہ رحمت الٰہی میں ہے جب تک جلدی نہ کرے اور پشیمان نہ ہوجائے اور ہاتھ دعا سے نہ اٹھائے

میں نے عرض کیا وہ کس طرح جلدی کرتاہے فرمایا کہتاہے ایک مدت سے خدا کو پکارتاہوں لیکن دعاء کے قبول ہونے کے آثار نہیں دیکھتاہوں اسی طرح ایک اور کلام میں فرماتے ہیں:انّ المومن لیدعوالله فی حاجته فیقول عزوجلّ: اُخروااجابته شوقاً الی صوته ودعاه فاذا کان یوم القیامة قال الله: عبدی دعوتنی و اخرت اجابتک و ثوابک کذا وکذا و دعوتنی فی کذا و کذا فاخرت اجابتک و ثوابک کذا قال: فیتمنّی الموٴمن انّه لم یستجب له دعوة فی الدّنیا ممّا یری من حسن الثواب ۔ بتحقیق ایک مومن بندہ اپنی حاجت کے لئے اللہ کو پکارتاہے پس اللہ تعالیٰ کہتاہے کہ میں نے دعا کی اجابت کو تاخیر کیا اور تمہارا ثواب یہ ہے اے میرے بندہ تو نے مجھے فلاں فلاں کے بارے میں پکارا میں نے تمہاری اجابت کو تاخیر کیا اور تمہارا ثواب یہ ہے اس وقت مومن تمنا کرے گا کاش میری دعا دنیا میں قبول نہ ہوتی اس کے بدلے میں آخرت میں زیادہ اجر اور ثواب دیکھتا تھا اس کے بعد حضرت نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:قال رسول الله رحم الله عبداً طلب من اللّٰه حاجة فالحّ فی الدنیا استجیب له اولم یستجب له و تلاهذه الآیة وادعوا ربّی عسیٰ ان لا اکون بدعاء ربّی شقیاً رسول خدا نے فرمایا : اگر کوئی بندہ خدا سے حاجت مانگے اصرار کرے تو خواہ اس کی دعا قبول ہو یا نہ ہو خدا اس شخص کو بخش دیتاہے اس کے بعد حضرت نے یہ آیہ پڑھی میں اپنے پروردگار کو پکارتاہوں اس امید سے کہ اپنے رب کو پکارنے کی وجہ سے بدبخت نہ بنوں تو رات میں آیا ہےیا موسیٰ من احبتنی لم ینسنی، و من رجا معروفی ألحّ فی مسألتی یا موسی ! انّی لست بغافل عن خلقی و لکن اُحبّ ان تسمع ملائکتی ضجیج الدّعاء من عبادی، و تری حفظتی تقرب بنی آدم الیَّ بما أنا مقوّبهم علیه و مسبّبه لهم یا موسی! قل لبنی اسرائیل: لاتبطرنّکم النعمة فیعاجلکم السلب، ولاتغفلوا عن الشکر فیقارعکم الذلآ، وألحوا فی الدّعاء تشملکم الرحمة بالاجابة، و تهنئکم العافیة ۔ اے موسیٰ جو مجھ کو دوست رکھے میں اس کو فراموش نہیں کرتاہوں

اور جو بھی میری نیکی کی امید رکھتاہے وہ مجھ سے سوال کرنے میں اصرار کرتاہے اے موسیٰ میں اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہوں لیکن میں چاہتاہوں کہ میرے بندوں کی دعا کے چیخ و پکار کو میرے ملائکہ سنیں۔ اور حافظان عرش کو بنی آدم کے تقرب ان کے اختیار میں دے دیا ہے ۔ دعا کے اسباب کو ان کے لئے فراہم کیا ہے اے موسیٰ بنی اسرائیل سے کہہ دیں کہ نعمت طغیان کا باعث اور تمہاری ناشکری کا سبب نہ بنے تا کہ نعمت کو تم سے سلب کروں اور لشکر سے غافل نہ ہوجاؤ تا کہ ذلت تمہاری دامن گیر نہ ہوجائے دعا میں اصرار کرو تا کہ اللہ کی رحمت تمہارے اوپر نازل ہوجائے عافیت اور سلامتی تمہارے لئے گوارا ہو۔ امام باقر نے فرمایا:لایلح عبد مومن علی الله فی حاجته الا قضاها له ۔ کوئی بندہ بھی اپنی حاجت میں خدا سے دعا کے ذریعے اصرار نہیں کرتاہے مگر یہ کہ اللہ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے۔

منصور صیقل کہتاہےقلت لابی عبد الله ربّما دعا الرجل فاستجیب له ثم اخّر ذالک الای حین قال: فقال: نعم قلت ولِمَ ذالک لیزداد من الدعا قال: نعم میں نے امام جعفر صادق سے عرض کیا بسا اوقات ایک شخص دعا کرتاہے اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے لیکن ایک مدت تک تاخیر ہوجاتی ہے کیا ایسا ہی ہے حضرت نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے میں نے عرض کیا کیوں تاخیر ہوجاتی ہے کیا اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ دعا مانگے حضرت نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے اب تک جو کچھ بیان کیا گیا وہ دعا کے آداب اور شرائط کے بارے میں تھا اب یہ کہ بعض دعا کے آداب خاص اہمیت کے حامل ہیں اس کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرتاہوں۔

دعاء کے اصرار کی اہمیت

دعا کے تکرار کرنے سے حاجت قبول ہوتی ہے یہ نکتہ بہت زیادہ مہم ہے البتہ ایک دفعہ دعا مانگنے سے حاجت قبول نہیں ہوتی ہے اس سے مقصد حل نہیں ہوتاہے اس مطلب کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال بیان کرتاہوں تا کہ میرا مطلب واضح ہوجائے بہت سی جسمانی بیماریوں میں اگر بیماری معمولی ہو یا ابھی ابھی بیمار ہوا ہو اور بیماری پرانی نہ ہوچکی ہو تو اس کا علاج دوائی کے ایک ہی نسخہ سے کیا جاتاہے لیکن اگر بیماری پرانی ہو انسان کے بدن میں جڑیں موجود ہوں تو ایسی صورت میں معلوم ہے کہ ایک نسخہ سے بیماری دور نہیں ہوتی ہے اس کے لئے بار بار دوائی دینے کی ضرورت ہے تا کہ بیماری دور ہو روحانی امراض میں بھی یہی حالت ہے اگر کسی کو روحانی بیماری لگی تھی بیماری اتنی مہم نہیں تھی لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ اور طولانی ہونے کے ساتھ بیماری نے جڑیں پکڑی ہیں ایسی صورت میں ایک دفعہ دعا پڑھنے سے بیماری دور نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لئے بار بار دعا مانگنے کی ضرورت ہے جس طرح جسمانی بیماری میں انسان بار بار دوا کا محتاج ہوتاہے تا کہ بیماری دور ہو اسی طرح روح کی بیماری کے لئے بار بار دعا کی ضرورت ہے البتہ ممکن ہے کہ بعض افراد کے ایک دفعہ دعا پڑھنے سے ان کی دعا قبول ہوجائے لیکن عام لوگوں کو نہیں چاہیئے کہ یہ بھی اس کی طرح توقع رکھیں کہ ایک دفعہ دعا پڑھنے سے دعا قبول ہوگی۔ یہی ایک وجہ ہے کہ دعا میں اصرار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

(استجاب دعا پر انسان کو یقین ہو)

دعا کے قبول ہونے میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔

۱۔موانع قلبی دور ہو ۲۔ اور باطنی نورانیت موجود ہو۔

دعا کا تیر ھدف تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے ان دو چیزوں کو ایجاد کرے تا کہ اضطرار تک نوبت نہ پہنچے دل کی تاریکی کو دور کرکے اس میں نورانیت ایجاد کرے چونکہ یقین کا لازمہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں یقین کا نور پیدا ہوتاہے۔

حضرت امام محمد باقر(علیہ السلام ) فرماتے ہیں لا نور کنوار الیقین یقین کے نور کی طرح کوئی نور نہیں ہے۔ واضح ہے کہ جب انسان کو یقین ھاسل ہوجائے تو اس کے دل میں روشنی پائی جاتی ہے اس کے دل سے تاریکی زائل ہوجاتی ہے چونکہ نور اور ظلمت دونوں ایک جگہ پر جمع نہیں ہوسکتے ہیں مرحوم آیة اللہ خوئیبسم الله الرحمن الرحیم کے اثرات کے رابطہ میں جب کہ یقین کے ساتھ کہا گیا ہو اس بارے میں آقائی خوئی نے ایک عجیب واقعہ شیخ احمد سے نقل کیا ہے جو کہ مرحوم میرزائی شیرازی کے یہاں خادم تھا اس نے کہا مرحوم شیرازی کا ایک اور خادم تھا کہ جس کا نام شیخ محمد تھا مرحوم میرزا کے فوت ہونے کے بعد لوگوں سے الگ تھلک رہا ایک دن ایک شخص شیخ محمد کے پاس گیا سورج غروب ہوتے وقت چراغ کو پانی سے بھر دیا اور اس کو روشن کیا اور چراغ جل رہا تھا اس شخص نے بہت زیادہ تعجب کیا اور اس کی وجہ کے بارے میں پوچھا شیخ محمد نے اس کے جواب میں کہا کہ شیخ مرحوم میرزا کے فوت ہونے کے بعد اس کے غم میں لوگوں سے الگ رہا اور اپنے گھر میں رہا میں بہت زیادہ غمگین ہوا تھا دن کے آخری وقت ایک جوان میرے پاس آیا کہ جو عرب کا طالب علم دکھائی دیتا تھا میں ان سے مانوس ہوا غروب آفتاب تک میرے پاس رہا ان کے بیانات سے بہت زیادہ خوش ہوا بہت لذت حاسل ہوئی میرے دل سے تمام غم دور ہوا چند دن میرے پاس رہے اور میں اس کے ساتھ مانوس ہوا ایک دن وہ مجھ سے گفتگو کرتا تھا کہ خیال آیا کہ آج میرے چراغ میں تیل نہیں ہے اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ غروب آفتاب کے وقت دکانیں بند کردیتے تھے اور ساری رات بند کرتے تھے اس لئے مجھے فکر ہوا اگر میں ان سے اجازت لیکر تیل کے لئے باہر چلا جاتاہوں تو میں ان کی باتوں کے فیض سے محروم ہوجاتاہوں اور اگر تیل نہ خریدوں تو ساری رات تاریکی میں گزاروں اس وقت میری حالت کو دیکھا اور میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تجھ کو کیا ہوا ہے کہ میری باتوں کو اچھی طرح نہیں سنتے ہو میں نے کہا میرا دل آپکی طرف متوجہ ہے فرمایا نہیں تم میری باتوں کو اچھی طرح نہٰں سنتے ہو میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آج میرے چراغ میں تیل نہیں ہے فرمایا بہت زیادہ تعجب ہے اس قدر تمہارے لئے حدیث بیان کی اوربسم الله الرحمن الرحیم کی فضیلت بیان کی اس قدر بے پرواہ نہیں ہوئے کہ تیل کے خریدنے سے بے نیاز ہوجائے میں نے کہا مجھے یاد نہیں ہے فرمایا بھول گئے ہو جو کچھبسم الله الرحمن الرحیم خواص اور فوائد بیان کرچکا ہوں اس کے فوائد یہ ہیں کہ آپ جس قصد کے لئے کہیں وہ مقصود حاصل ہوتاہے آپ اپنے چراغ کو پانی سے بھردیں اس مقصد کے ساتھ کہ پانی میں تیل کی خاصیت ہو کہوبسم الله الرحمن الرحیم ۔

میں نے قبول کیا میں اٹھا اسی قصد سے چراغ کو پانی سے بھر دیا اس وقت میں نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کے بعد چراغ روشن ہوا اور اس سے شعلہ بلند ہوا اس وقت سے لیکر اب تک جب بھی چراغ خالی ہوجاتاہے اس کو پانی سے بھر دیتاہوں اور بسم اللہ کہتاہوں چراغ روشن ہوجاتاہے مرحوم آیة اللہ خوئی نے اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا تعجب یہ ہے کہ اس واقعہ کے مشہور ہونے کے بعد بھی مرحوم شیخ محمد سے اس کا اثر ختم نہیں ہوا۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ بسم اللہ کو عقیدہ اور یقین کے ساتھ پڑھنے پر ظاہراً یہ اثر تعجب آور اور خارق العادہ ہے کہ جن کے پاس اسم اعظم ہے وہ بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں ان کا وہ عمل جو دوسروں سے ان کو امتیاز پیدا کرتاہے وہ ان کا یقین ہے چونکہ ان کے یقین میں ایک خاص اثر پایا جاتاہے۔ یقین کے تعجب کو بیان کرنے کے لئے اسی ایک واقعہ پر اکتفا کرتاہوں۔

امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگنا ضروری ہے۔

دعا کے شرائط اور آداب بیان کرنے کے ساتھ بعد کہتاہوں سب سے مہم اور سب سے ضروری امام کے غیبت کے زمانے میں ظہور امام کے لئے دعا مانگنا ہے چونکہ صاحب الزمان ہمارے زمانے کے امام ہیں بلکہ تمام جہان کے سرپرست ہیں مگر کیا ہم اس سے غافل رہ سکتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے امام ہیں اور امام سے غافل رہنا اصول دین کے ایک اصل سے غافل ہونا ہے پس ضروری ہے کہ حضرت کے ظہور کے لئے دعا کریں اپنے اور رشتہ داروں کے لئے دعا کرنے سے پہلے صاحب الزمان کے لئے دعا مانگے مرحوم سید بن طاوؤس اپنی کتاب جمال الاسبوع میں لکھتے ہیں ہمارے پیشوا امام کے لئے دعا مانگنے کے لئے خاص اہمیت کے قائل تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے لئے دعا مانگنا اھل اسلام اور ایمان کے وظائف میں مہم ترین چیز ہے امام جعفر صادق(علیہ السلام ) نماز ظہر کے بعد امام زمانہ کے حق میں دعا مانگتے تھے امام کاظم بھی امام زمانہ کے لئے دعا مانگتے تھے

ہمیں بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے امام زمانہ کے لئے دعا مانگنی چاہیئے کتاب فلاح السائل میں اپنے بھائیوں کے لئے دعا کے فضائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں اگر اپنے دینی بھائیوں کے لئے دعا مانگنے میں اتنی فضیلت ہے تو ہمارے امام اور بادشاہ کے لئے کہ جو تیرے وجود کے لئے علت ہے اس کے لئے دعاء مانگنے کی کتنی فضیلت ہوگی تو اچھی طرح جانتاہے اور تمہارا عقیدہ ہے اگر امام زمانہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ تجھ کو خلق نہ کرتا بلکہ کسی کو بھی خلق نہ کرتا لطف الٰہی ہے کہ اس ھستی کے وجود سے تو اور دوسرے موجود ہیں خبردار یہ گمان نہ کرنا کہ امام زمان تمہاری دعا کا محتاج ہے افسوس اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے تو تم اپنے عقیدہ میں بیمار ہو بلکہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اس لئے ہے ان کا حق عظیم ہے ان کا بڑا احسان ہے اور ہم انکے حق کو پہچانیں اب واضح ہے اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے اپنے رشتہ داروں کے لئے دعا کرنے سے پہلے امام زمانہ کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اجابت کے دروازوں کو جلد از جلد تمہارے لئے کھول دیتاہے چونکہ تو نے دعا کے قبول کے دروازوں کو اپنے جرائم قفل کے ساتھ بند کردیا ہے اس بناء پر اگر دعا اپنے مولیٰ کے لئے کروگے تو امید ہے کہ کہ اس بزرگوار کی وجہ سے تمہارے لئے اجابت کے دروازے کھل جائیں تا کہ تو اور دوسرے کہ جن کے لئے دعا کرتے ہو فضل اور رحمت الٰہی میں شامل ہوجائیں

چونکہ تم نے اپنی دعا میں ان کی رسی کو تھاما ہے اس دعا کی اہمیت ائمہ طاھرین کی نظر میں کیا ہے کیا انہوں نے دعا مانگنے میں بے اعتنائی کی ہے ہرگز نہیں اس بناء پر واجب نمازوں میں حضرت کے لئے دعا کرنے سے کوتاہی نہ کریں۔ ایک صحیح روایت محمد بن علی بن محبوب سے مروی ہے کہ شیخ قمی اس زمانے میں موجود تھے وہ اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایاکلمّا کلّمت اللّٰه تعالیٰ فی صلوة الفریضة فلیس بکلام واجب نماز میں جو بات بھی خدا کے ساتھ کلام کریں وہ کلام نہیں ہے۔ (یعنی دعا نماز کو باطل نہیں کرتی ہے) پھر تکرار کرتاہوں ان دلائل کو ذکر کرنے کے بعد امام کے تعجیل ظہور کے لئے دعا کو اہمیت نہ دینے میں کوئی عذر باقی نہیں رہتاہے۔

صاحب مکیال المکارم فرماتے ہیں جیسا کہ آیات اور روایات دلالت کرتی ہیں کہ دعا سب سے بڑی عبادت ہے اور اس میں شک نہیں کہ سب سے مہم ترین دعا اس کے لئے ہو کہ خداوند تعالیٰ نے جن کے لئے تمام لوگوں پر دعا واجب کیا ہے ان کے وجود کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے رحمت سے نوازا ہے اس میں کوئی شک نہیں خدا کے ساتھ مشغول ہونے سے مراد خداکی عبادت میں مشغول ہونا ہے اور ہمیشہ دعا کرنا یہ سبب بنتاہے کہ خدا ان کو عبادت میں مدد کرے اور اس کو اپنے اولیاء میں سے قرار دیا ہے اس بناء پر اھل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ جہاں کہیں بھی ہو اور جس زمانے میں بھی ہو امام کی تعجیلِ ظہور کے لئے دعا مانگے اس مطلب کے ساتھ جو مناسب ہے اور ہمارے گفتار کی تائید کرتی ہے یہ ہے کہ حضرت امام حسن نے عالم خواب میں یا مکاشفہ میں مرحوم آیة اللہ میرزا محمد باقر فقیہ سے فرمایا منبروں پر لوگوں سے کہیں اور لوگوں کو حکم دیں کہ توبہ کریں اور آخری حجت کے تعجیل ظہور کے لئے دعا مانگیں حضرت حجت کے لئے دعا مانگنا نماز میت کی طرح نہیں ہے کہ واجب کفائی ہو ایک شخص کے انجام دینے سے دوسروں سے ساقط ہو بلکہ پانچ وقت کی نمازوں کی طرح ہے کہ ہر بالغ فرد پر واجب ہے کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگیں جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگنا ضروری ہے۔

عالم میں سب سے مظلوم فرد

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج کل نہ صرف عبادات میں بلکہ عمومی مجالس میں بھی امام کے تعجیل ظہور کی دعا سے غافل ہیں اگر ہم جانیں کہ اب تک ہم کس قدر غافل ہیں تب معلوم ہوگا کہ حضرت اس عالم میں سب سے زیادہ مظلو م ہے اب چند واقعات حضرت کی مظلومیت کے بارے میں بیان کرتاہوں۔

۱ ۔ حجة الاسلام و المسلمین مرحوم آقائی حاج سید اسمعیل سے نقل کیا گیا ہے میں زیارت کے لئے مشرف ہوا حضرت سید الشہداء کے حرم میں زیارت میں مشغول تھا چونکہ زائرین کی دعا امام حسین کے حرم کے سرھانے مستجاب ہوتی ہے وہاں میں نے خدا سے درخواست کی کہ مجھے امام زمانہ کی زیارت سے مشرف فرما مجھے ان کی زیارت نصیب فرما میں زیارت میں مشغول تھا کہ اتنے میں امام نے ظہور فرمایا اگر چہ میں نے اس وقت آخری حجت کو نہیں پہچانا لیکن میں ان سے زیادہ متاثر ہوا سلام کے بعد ان سے پوچھا آقا آپ کون ہیں انہوں نے فرمایا میں عالم میں سب سے زیادہ مظلوم ہوں میں متوجہ نہ ہوا اپنے آپ سے کہا شاید یہ نجف کے بزرگ علماء میں سے ہیں چونکہ لوگوں نے ان کی طرف توجہ نہیں دی اس لئے اپنے آپ کو عالم میں سب سے زیادہ مظلوم جانتے ہیں اتنے میں اچاک متوجہ ہوا کہ کوئی میرے پاس نہیں ہے اس وقت میں نے سمجھا کہ عالم میں سب سے زیادہ مظلوم امام زمانہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور میں ان کے حضور کی نعمت سے جلد محروم ہوا۔

۲ ۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائی حاج سید احمد موسوی امام عصر کے عاشقان میں سے تھے وہ حجة الاسلام و المسلمین مرحوم آقائے شیخ محمد جعفر جوادی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ عالم کشف میں یا عالم شھود میں حضرت حجة کی خدمت میں مشرف ہوئے ان کو زیادہ غمگین دیکھتے ہیں حضرت سے احوال پرسی کرتے ہیں حضرت فرماتے ہیں میرا دل خون ہے میرا دل خون ہے۔

۳ ۔ حضرت امام حسین نے عالم مکاشفہ میں قسم کے علماء میں سے ایک سے فرمایا ہمارے مہدی اپنے زمانے میں مظلوم میں حضرت مہدی کے بارے میں گفتگو کریں اور لکھیں جو بھی اس معصوم کی شخصیت کے بارے میں کہیں گویا تمام معصومین کے لئے کہا ہے چونکہ تمام معصومین عصمت ولایت اور امامت میں ایک ہیں چونکہ زمانہ حضرت مہدی(علیہ السلام ) کا زمانہ ہے اس لئے سزاوار ہے اس کے بارے میں کچھ مطالب کہے جائیں آخر میں فرمایا پھر تاکید کرتاہوں ہمارے مہدی کے بارے میں زیادہ گفتگو کریں اور لکھیں کہ ہمارا مہدی مظلوم ہے زیادہ سے زیادہ امام مہدی کے بارے میں لکھنا اور کہنا چاہیئے۔


مرحوم حاج شیخ رجب علی خیاط کی نصیحت

آپ آخری حجت کی مظلومیت سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا سے مراد حالات اور مقامات تک پہنچنا مقصود نہ ہو بلکہ قرب الٰہی اور امام کی رضا کو اپنے عمل کا مرکز قرار دے اب مہم واقعہ کی طرف توجہ دیں مرحوم آقائی اشرفی امام عصر کے ظہور کے منتظرین میں سے تھے نقل کرتے ہیں کہ ایک زمانہ میں تبلیغ کے لئے مشہد مقدس کے شہروں میں سے ایک شہر میں گیا تھا ماہ رمضان میں مسافرت کے دوران ہم تہران کے دوستوں میں سے ایک دوست کے ساتھ مرہوم شیخ رجب علی خیاط کی خدمت میں مشرف ہوئے اور ان سے اپنی راہنمائی کا مطالبہ کیا اس بزرگوار نے ختم آیہ شریفہ (ومن یتق اللہ) کا طریقہ بتادیا اور فرمایا اول صدقہ دیں اور چالیس روز روزہ رکھیں اور اس ختم کو چالیس روز میں انجام دیں مرحوم شیخ رجب علی خیاط نے اس مقام پر جو مہم نکتہ فرمایا یہ ہے کہ اس ختم سے مقصود یہ ہو کہ حضرت امام رضا سے اس بزرگوار کا قرب حاصل کرو اور مادی حاجتیں اپنی نظر میں نہ رکھیں۔

مرحوم آقائی شرفی نے فرمایا میں نے ختم کو شروع کیا لیکن اس ختم کو جاری نہیں رکھ سکا لیکن میرے ساتھی کو یہ توفیق حاصل ہوئی اور اس کو اختتام تک پہنچایا پس جب ہم مشہد مقدس لوٹے جب وہ حضرت امام رضا کے حرم میں تھا تو آپکی زیارت سے مشرف ہوا تب متوجہ ہوئے کہ آن حضرت کو نور کی صورت میں دیکھتاہے آہستہ آہستہ یہ حالت قوی ہوئی یہاں تک حضرت کو دیکھنے اور گفتگو کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے وہ جو دعاؤں اور توسلات میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان نماز ادا کرنے کے علاوہ دعاؤں اور توسل میں خلوص کی رعایت کرے اس کو انجام دینا صرف قرب الٰہی حاسل کرنے کے لئے ہو تا کہ اھل بیت کے نزدیک ہوجائے یعنی یہ بندگی کے لئے انجام دے نہ کہ حالات اور مقامات تک پہنچنے کے لئے نہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے مرحوم حاج شیخ علی حسن علی اصفہانی سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں ایسا کام کرسکتاہوں کہ لوگ میرے دروازے کو دق الباب کریں۔ تا کہ ان کی مشکلات حل ہوجائے مجھ سے کہے بغیر لیکن لوگوں کا عقیدہ حضرت امام رضا کے بارے میں سست ہوجاتاہے اس لئے میں اس کو انجام نہیں دیتاہوں۔

شیخ حسن علی کااصفہانی کا مہم تجربہ

اب جب شیخ حسن علی اصفہانی کا ذکر ہوا تو یہاں ایک واقعہ اسی مناسبت سے نقل کرتاہوں یہ بچپن سے عبادات ریاضیات میں مشغول ہوجاتے تھے اور بلند اھداف تک پہنچنے کے لئے بہت زیادہ زحمت اٹھائی تھی جو اس بزرگوار نے نمازیں اور قرآنی کی آیتوں کو بچپن سے لیکر آخری عمر تک انجام دیا تھا اس کو لکھا اس میں بہت زیادہ اسرار اور نکات موجود تھے چونکہ اس کتاب میں رموز اور اسرار تھے مناسب نہیں سمجھا یہ دوسروں کے ہاتھ میں دیدے اس لئے اس کو مخفی رکھا لوگوں کو نہیں دیا مرحوم والد اس کتاب کے ساتھ ارتباط کے بارے میں فرماتے تھے مرحوم شیخ حسن علی اصفہانی نے اپنی آخری زندگی میں اس کتاب کو مرحوم آیة اللہ حاج سید علی رضوی کو دے دیا اس واقعہ کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے جو شیخ حسن علی اصفہانی نے اس کتاب کے آخر میں لکھا ہے جو کچھ اس کتاب کے آخر میں لکھا ہے اس میں یہ نکتہ ہے کاش میں ان اذکار اور ززحمات کو امام زمانہ کے ساتھ قرب حاسل کرنے کے لئے انجام دیت

جو بھی تعجیل ظہور کے لئے دعا مانگے امام زمانہ کی دعا انہیں بھی شامل ہوتی ہے

امام زمانہ کی دعا ہے کہ جو مھج الدعوات میں نقل ہوئی ہے دعا کے بعد تعجیل فرج کے لئے خدا سے چاہتاہے واجعل من یبتعنی النصرة دینک مویدین، و فی سبیلک مجاھدین و علی من ارادنی و ارادھم بسوءٍ منصورین۔۔ جس زمانے میں میرے ظہور کی اجازت دیں گے کسی کو کہ جو میری پیروی کرے اپنے دین کی مدد کے لئے موید قرار دے اور اس کو راہ خدا میں مجاہدین میں سے قرار دے اور جو بھی میری اور ان کی نسبت برا قصد رکھتے ہیں ان پر کامیاب فرما اس مطلب پر دوسری دلیل یہ ہے کہ علی بن ابراھیم قمی آیہ شریفہ کی تفسیر میںواذاحییتُم بتحیة فحیوا باحسن منها او رُدوها جب تم پر کوئی سلام کرے تو اس کے جواب میں اچھا سلام دیں یا ویسا ہی سلام کا جواب دیں سلام کرنا نیک کاموں میں سے ہے۔

ہمارے گفتار پر گواہ اور تائید وہ روایت ہے کہ جو مرحوم راوندی اپنی کتاب الخراج میں نقل کرتے ہیں کہتاہے کہ اصفہانی کی ایک جماعت جن میں ابوعباس احمد بن نصر ابو جعفر محمد بن علویہ شامل ہیں نے نقل کیا ہے اور کہتے ہیں اصفہان میں ایک شیعہ مرد تھا جس کا نام عبدالرحمان تھا ان سے پوچھا گیا تم نے علی نقی کی امامت کو قبول کیا اس کی کیا وجہ ہے کسی اور کو قبول نہیں کیا حضرت سے ایک واقعہ دیکھا جس کی وجہ سے میں ان کی امامت کا قائل ہوا میں ایک فقیر مرد تھا لیکن زبان تیز اور جرأت رکھتا تھا یہی وجہ ہے ایک سال اھل اصفہان نے مجھے انتخاب کیا تا کہ میں ایک جماعت کے ساتھ عدالت کے لئے متوکل کے دربار میں چلا جاؤں ہم چلے یہاں تک کہ بغداد پہنچے جب ہم دربار کے باہر تھے تو ہمیں اطلاع پہنچی کہ حکم دیا گیا ہے کہ امام علی بن محمد بن الرجا کو حاضر کریں اس کے بعد حضرت کو لے آئے میں نے حاضرین میں سے ایک سے کہا جس کو ان لوگوں نے حاضر کیا ہے وہ کون ہے کہا وہ ایک مرد ہے جو علوی ہے اور رافضیوں کا امام ہے اس کے بعد کہا میرا خیال ہے کہ متوکل اس کو قتل کرنا چاہتاہے میں نے کہا میں اپنی جگہ سے حرکت نہیں کروں گا جب تک اس مرد کو نہ دیکھوں کہ وہ کس قسم کا شخص ہے اس نے کہا حضرت گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے لوگ دونوں طرف سے صف باندھ کر اس کو دیکھتے تھے جب میری نظر ان کے جمال پر پڑی میرے دل میں ان کی محبت پیدا ہوئی میں نے دل میں ان کے لئے دعا مانگنا شروع کی کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو متوکل کے شر سے محفوظ رکھے حضرت لوگوں کے درمیان حرکت کرتے تھے نہ دائیں طرف دیکھتے تھے نہ بائیں طرف میں بھی حضرت کے لئے دل میں دعا مانگتا تھا جب میرے سامنے آئے تو حضرت میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:استجاب الله دعاک و طوّل عمرک و کثر مالک و ولدک خدا نے تمہاری دعا قبول کی اللہ تمہاری عمر کو طویل کرے اللہ تجھ کو مال اور اولاد زیادہ دے ان کی ھیبت اور وقار کی وجہ سے میرا بدن لرزنے لگا۔

دوستوں کے درمیان زمین پر گرا انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا میں نے کہا خیریت ہے اور واقعہ کسی سے بیان نہیں کیا اس کے بعد اصفہان لوٹا خدا نے حضرت کی دعا کی وجہ سے مال اور ثروت کے دروازے کھل گئے اگر آج ہی اپنے گھر کے دروازے کو بند کردوں تو بھی اس میں جو مال رکھتا ہوں کئی ہزار درہم کے برابر ہے یہ اس مال کے علاوہ ہے جو گھر کے باہر مال رکھتاہوں خدا نے حضرت کی دعا کی برکت سے مجھے فرزند عطا کیا ہے اس وقت میری عمر ستر سال سے زیادہ ہے میں ان کی امامت کا دل میں قائل تھا اس کے بارے میں مجھے خبردی تو خدا نے ان کی دعاء کو میرے حق میں قبول کیا میں اعتقاد رکھتا ہوں ۔

دیکھیں کہ کس طرح ہمارے مولیٰ کی دعا نے اس شخص کو اس کی نیکی کی وجہ سے جبران کیا ان کے لئے دعا کی حالانکہ وہ مومن نہیں تھا کیا گمان کرتے ہو اگر ہم مولیٰ کے حق میں دعا کریں تو وہ تمہارے لئے دعائیں کرے گا حالانکہ تم مومنین میں سے ہو نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے اس خدا کی قسم کہ جس نے جن اور انس کو پیدا کیا حضرت ان مومنین کے لئے بھی دعا کرتے ہیں کہ جو اس امر سے غافل ہیں چونکہ وہ صاحب احسان ہے۔

اب اس مطلب کی تائید کے لئے بیان کرتاہوں اور وہ خواب ہے کہ بعض برادران نے مجھے بیان کیا ہے عالم خواب میں حضرت کی زیارت ہوتی ہے حضرت نے فرمایاانّی ادعولکل موٴمن یدعولی بعدذکر مصائب سید الشهداء فی مجالس العزاء میں ہر مومن کے لئے کہ جو مصائب سید الشہداء کے ذکر کے بعد میرے لئے دعا مانگتاہے میں اس کے لئے دعا مانگتاہوں خداوند تعالیٰ سے اس امر کے لئے توفیق کی درخواست کرتاہوں چونکہ وہ دعا کو سننے والا ہے۔

تعجیل فرج کے لئے مجلس دعا تشکیل دینا

جس طرح ممکن ہے کہ تنہا انسان تعجیل ظہور امام زمانہ کے لئے دعا کرے اسی طرح ممکن ہے اکٹھے مل کر دعا مانگیں اور مجالس دعا تشکیل دیں تا کہ آخری حجت کی یاد تازہ ہوجائے اس اجتماع میں نیک کاموں پر دعا کے علاوہ اور فوائد بھی ہوتے ہیں اس سے ائمہ معصومین کے امر زندہ رکھا جاتاہے اور اھل بیت کی احادیث کو یاد کرتے ہیں۔ صاحب مکیال المکارم

ان مجالس کی تشکیل کو امام کے غیبت کے زمانے میں لوگوں کے وضائف میں شمار کیا ہے اس میں صاحب الزمان کی یاد صفائی جاتی ہے فضائل بیان کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ بہترین دلیل وہ کلام ہے کہ جس کو امام جعفر صادق سے وسائل الشیعہ میں روایت کیا گیا ہے کہ جہاں فرمایا ہے ایک دوسرے کی زیارت کرو اس طرح کی زیارتیں تمہارے دلوں کو زندہ کرنے کا باعث اور ہماری احادیث کو یاد کرنے کا موجب ہے ہمارے احادیث ذکر کرنا تمہیں ایکدوسرے کے لئے مہربان قرار دیتاہے اگر ہماری احادیث کو سنوگے اور عمل کروں گے تو ہدایت پاؤگے اور ہلاکتوں سے نجات پاؤگے اور اگر ان کو فراموش کروگے تو گمراہ ہوکر ہلاک ہوجاؤگے پس تم ان پر عمل کرو میں ان سے رہائی کا ضامن ہوں۔ کس طرح یہ روایت ہمارے مطلب پر دلالت کرتی ہے حضرت نے اپنے اس کلام میں ایکدوسرے کی زیارت کو علل اور اسباب قرار دیا ہے چونکہ ایکدوسرے کی زیارت کرنا ان کے امر کو زندہ رکھنے کاموجب ہے اس بناء پر ائمہ کے نزدیک اس میں شک نہیں ہے کہ امام کو یاد کرنا اور مجالس کو ترتیب دینا مستحب ہے ہمارے اس مطلب پر دلیل ہے کہ حضرت امیرالمومین نے ایک کلام کے ضمن میں تفصیل کے ساتھ فرمایا:ان الله تبارک و تعالیٰ اطّلع الی الارض فاختارنا و اختارلنا شیعة ینصروننا، و یفرحون لفرحنا، و یحزنون لحزننا، و یبذلون اموالهم و انفسهم فینا، اُولئک منّا و الینا، الخبر ۔ خدائے متعال نے کرہ زمین پر نگاہ کی اور ہمیں چنا اور ہمارے لئے شیعوں کو چنا کہ جو ہماری مدد کرتے ہیں ہماری خوشی میں خوشی کرتے ہیں اور ہمارے غم میں غم کرتے ہیں اپنی جان اور مال کو ہماری راہ میں کرچ کرتے ہیں وہ ہم میں سے ہیں وہ ہماری طرف لوٹیں گے۔

بعض اوقات اس قسم کی مجالس کا انعقاد واجب اور ضروری ہے اس وقت کہ جب لوگ گمراہ ہورہے ہیں اس قسم کی مجالس کا انعقاد تباہی اور فساد سے روکنے کا سبب اور ان کی ہدایت کا سبب ہے اھل بدعت اور گمراہ لوگوں کو برائی سے روکنا واجب ہے۔

امام زمانہ کے مخصوص مقامات (صلوات اللہ علیہ)

محدث نوری لکھتے ہیں یہ چیز مخفی نہیں ہے بعض ایسے مقامات ہیں کہ جو آخری حجت کے ساتھ مخصوص ہیں کہ جو ان کے نام سے مشہور ہیں جیسے وادی اسلام نجف اشرف میں اور مسجد سھلہ شہر کوفہ میں حلہ میں ایک معروف مقام ہے مسجد جمکران قم میں میری نظر یہ وہ مقامات ہیں کہ جہاں عاشقان حجت نے ان مقامات پر حضرت کو دیکھا ہے اور زیارت کی ہے یا یہ کہ ان مقامات پر حضرت کی طرف سے معجزہ ظاہر ہوا ہے اس لئے ان مقامات کو اماکن شریف میں سے شمار کیا گیا ہے یہ وہ مقام ہیں کہ جو ملائکہ کے اترنے کی جگہ ہے اور ان مقامات پر شیطان کا آنا بہت کم ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں پر دعا قبول ہوتی ہے بعض روایات میں پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ مقدم اماکن کو دوست رکھتاہے جیسے مساجد اماموں کے حرم ائمہ کے حرموں کی زیارت گاہ نیک لوگوں کی قبریں کہ جو قریب اور دور موجود ہیں۔

ہاں یہ خود اللہ کا لطف ہے کہ اپنے بندوں پر لطف کیا ہے۔

اللہ کے بندے کہ جو محتاج ہیں جنھوں نے راہ کو گم کردیا ہے اور معرفت کی تلاش میں ہیں وہ لوگ کہ جو اپنے لئے کوئی چارہ کار نہیں دیکھتے ہیں مجبور ہیں وہ لوگ کہ جو بیماری میں مبتلا ہیں کچھ مقروض ہیں کچھ لوگ ظالم دشمنوں سے خائف ہیں وہ سب محتاج ہیں غم نے ان کے وجود کو گھیر لیا ہے جو پریشانہیں ان کے حواس پراگندہ ہیں یہ سب کے سب ان مقدس مقامات میں پناہ حاصل کرتے ہیں اپنی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ان مقامات میں درخواست کرتے ہیں۔ طبیعی ہے جتنا اس مقام کا قابل احترام کرتے ہیں اس مقدار میں نیکی پاتے ہیں ۔

مسجد کوفہ کی فضیلت

اب بعض ان مقامات کو بیان کروں گا کہ جو آخری حجت سے منسوب ہیں۔ مسجد کوفہ ان چار مسجدوں میں سے ایک ہے کہ جن کی طرف سفر کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ مساجد یہ ہیں ۱ ۔ مسجد الحرام مکہ مکرّمہ میں ۲ ۔مسجد النبی مدینہ منورہ میں ۳ ۔ مسجد الاقصی بیت المقدس میں ۴ ۔مسجد کوفہ اسی طرح مسجد کوفہ ان چار مسجدوں میں سے ایک ہے کہ جس میں انسان کو اختیار ہے کہ وہاں نماز قصر پڑھنا چاہے یا تمام پڑھنا چاہے وہ جگہیں یہ ہیں۔ ۱ ۔ مسجد الحرام ۲ ۔مسجد النبی ۳ ۔امام حسین کا حرم ۴ ۔مسجد کوفہ مسجد کوفہ وہ ہے کہ جس میں انبیاء اور اوصیاء نے نماز پڑھی ہیں۔ ایک روایت میں ہے اس مسجد میں ہزار پیغمبر اور ہزار اوصیاء نے نماز پڑھی ہیں مسجد کوفہ کے اعمال بہت زیادہ ہیں یہاں بیان نہیں کئے جاسکتے جو تفصیل سے دیکھنا چاہیں انہیں چاہیئے کہ سید علی بن طاوؤس کی کتاب مصباح الزائر میں دیکھیں۔

۲ ۔ مسجد سھلہ کی فضیلت

حضرت صاحب الزمان کا مقام بھی وہیں پر ہے شہر کوفہ میں مسجد کوفہ کے بعد سب سے بہترین مسجد مسجد سہلہ ہے وہاں حضرت ادریس اور ابراہیم کا مقام ہے وہاں حضرت خضر کے رہنے کی جگہ ہے ایک روایت میں ہے کہ وہاں پر پیغمبران اور نیک لوگوں کا مقام ہے اس مسجد کی فضیلت میں بہت زیادہ روایات موجود ہیں۔

امام صادق علیہ السلام نے ابوبصیر سے فرمایا گویا میں دیکھ رہاہوں کہ صاحب العصر اپنے اھل و عیال کے ساتھ مسجد سہلہ میں داخل ہوئے ہیں اور وہاں پر ساکن ہیں خداوند نے کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں پر نماز پڑی ہے جو بھی اس مکان میں نماز پڑھے ایسا ہے جیسے خیمہ رسول خدا میں پڑھی ہے کوئی مومن مرد اور عورت نہیں ہے مگر یہ کہ مسجد سہلہ میں جانے کا آرزو رکھتاہے اس مسجد میں ایک پتھر ہے کہ اس میں تمام پیغمبروں کی تصویر ہے۔

جو شخص بھی خلوص نیت سے اس مسجد میں نماز پڑھے اور دعا پڑھے خداوند تعالیٰ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے اس مسجد کے اور بھی فضائل ہیں ۔ حضرت صادق سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا: من صلّٰی رکعتین فی مسجد السہلہة زاد اللہ فی عمرہ عامین۔ جو بھی مسجد سہلہ میں دو رکعت نماز پڑھے خداوند تعالیٰ اس کی عمر میں دو سال اضافہ کرتاہے ایک اور روایت میں آیا ہےانّ منه یکون النفخ فی الصور و یحشر من حوله سبعون الفایدخلون الجنة بغیر حساب صور اس جگہ سے پھونکا جائے گا اور ستر ہزار آدمی اس کے اطراف میں محشور ہوں گے اور حساب کے بغیر بہشت میں داخل ہونگے۔

ابن قولویہ کتاب کامل الزیارات میں معتبر سند کے ساتھ حضرمی سے امام محمد باقر یا امام صادق سے روایت کی گئی ہے کہ کہا کہ میں نے امام سے عرض کیا سب سے بہتر مقام حرم خدا اور حرم رسول خدا کے بعد کیا ہے حضرت نے فرمایا:الکوفة یا ابابکر، هی الزکیّة الطاهرة، فیها قبور النبیّین المرسلین وغیر المرسلین و الاوصیاء الصادقین، و فیها مسجد سهیل الّذی لم یبعث اللّٰه نبیاً الّا وقد صلّی فیه ومنها یظهر عدل اللّٰه، و فیها یکون قائمه و القوّام من بعده، و هی منازل النبیّین والأوصیاء و الصالحین ۔ وہ مکان پاک و پاکیزہ ہے اس میں مرسل انبیاء اور غیر مرسل اور اوصیاء صادقین کی قبریں ہیں اور اس میں مسجد سہلہ ہے اللہ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس میں نماز پڑھی ہے اس شہر سے خدا کا عدل ظاہر ہوگا اسی میں قائم آل محمد ہے اور دین کو قائم کرے گا۔ یہی شہر انبیاء اوصیاء اور نیک لوگوں کی جگہ ہے۔

۳ ۔ جمکران کی مقدس مسجد

جمکران کی مسجد امام کے حکم سے بنائی گئی ہے پرہیزگار حسن بن مثلہ نے امام کے حکم سے کس طرح مسجد بنائی گئی ہے کہتے ہیں یہ واقعہ منگل کی رات سترہ ماہ رمضان مبارک میں ۳۹۳ ھجری قمری میں پیش آیا کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں سویا ہوا تھا رات کا کچھ حصہ گزرا تھا اچانک کچھ لوگوں نے ہمارے گھر کے دروازے کو دق الباب کیا اور مجھے بیدار کیا اور کہنے لگے اٹھیں امام آپ کو پکارتے ہیں حسن بن مثلہ کہتاہے میں جلدی سے اٹھا اور لباس کو تلاش کرتارہا تا کہ تیار ہوجاؤں میں نے کہ اکہ اجازت دیں تا کہ میں اپنی قمیض پہن لوں آواز آئی یہ تمہاری قمیض نہیں ہے اس کو نہ پہنو میں نے اس کو پھینک دیا اور اپنی قمیض کو دیکھا اور پہن لیا چاہا کہ شلوار پہن لوں آواز آئی یہ تمہاری شلوار نہیں ہے اپنی شلوار پہن لو اس کو چھوڑ کر اپنی شلوار پہن لی اس کے بعد دروازے کی چابی تلاش کرنے لگا تا کہ دروازہ کھول دوں اتنے میں آواز آئی اس کے لئے چابی کی ضرورت نہیں دروازہ کھلا ہوا ہے گھر کے دروازے پر آیا تو کچھ بزرگوں کو کہ جو میرا انتظار کر رہے تھے سلام کر کے عرض آداب کیا انہوں نے جواب دیا اور کوش آمدید کہا مجھے وہان پر لے گئے کہ جہاں اب مسجد جمکران موجود ہے غور سے دیکھا دیکھا کہ ایک نورانی تخت ہے جس پر عمدہ فرش ہے ایک خوبصورت جوان اس تخت پت بیٹھا ہوا ہے کہ جس کی عمر تقریباً تیس سال تھی تکیہ کا سہارا لیکر بیٹھا تھا ان کے سامنے ایک عمر رسیدہ شخص بٹھا ہوا تھا ایک کتاب اس کے ہاتھ میں تھی جو انھیں پڑھ کے سناتا تھا وہاں پر ساٹھ آدمی سفید اور سبز لباس میں ان کے اطراف میں نماز پڑھتے تھے

وہ سن رسیدہ مرد حضرت خضر تھے اس بوڑھے مرد نے مجھے بیٹھنے کا حکم دیا میں وہاں پر بیٹھ گیا حضرت امام زمان میری طرف متوجہ ہوئے میرا نام لیکر پکارا اور فرمایا جا کر حسن مسلم سے کہو کہ تو نے کئی سال سے اس زمین کو غصب کر کے آباد کیا ہے اور زراعت کرتے ہو ہم اس کو خراب کریں گے پانچواں سال ہے کہ اس زمین میں غاصبانہ طور پر کاشت کی گئی ہے اس سال دوبارہ آباد کرنا چاہتے ہیں اب تمہیں حق نہیں ہے کہ اس زمین میں کاشت کرو اس زمین سے جو فائدہ بھی اٹھایا اس کو واپس کردو تا کہ اس جگہ مسجد بنالیں اور حسن مسلم سے کہو یہ زمین مبارک زمین ہے اور خداوند تعالیٰ نے اس زمین کو باقی زمینوں پر فضیلت دی ہے تو اس زمین کا مالک بن بیٹھا ہے اور اپنی زمین قرار دی ہے خدا نے تجھے تنبیہ کرنے کے لئے اور سزا دینے کے لئے تمہارے دو جوان بیٹوں کو لے لیا ہے لیکن تم اب بھی باز نہیں آتے ہو اگر اس کے بعد بھی باز نہ آیا تمہیں ایسی سزا ملے گی جو تمہیں معلوم نہیں ہوگا۔ میں نے کہا اے میرے مولیٰ اور آقا اس پیغام کو پہنچانے کے لئے کوئی علامت چاہتاہوں چونکہ لوگ پیغام کو نشانی اور علامت کے بغیر نہیں سنتے ہیں ۔ میری بات کو قبول نہیں کریں گے فرمایا ہم یہاں پر ایک علامت رکھ دیتے ہیں تا کہ تمہاری بات کو قبول کریں تم چلے جاؤ اور میرے پیغام کو پہنچادو اور سید ابوالحسن کے پاس چلے جاؤ اور ان سے کہو کہ اٹھیں اور زراعت کرنے والے کو حاضر کریں کئی سال سے جو فائدہ اٹھایا ہے وہ اس سے لیکر لوگوں کو دیدیں تا کہ مسجد بنالیں اگر خرچہ کم ہوا تو باقی کو فلاں جگہ سے لے آئیں وہ ہماری ملکیت ہے وہاں سے لاکر مسجد کو مکمل کرلیں ہم نے نصف مُلک کو اس مسجد کے لئے وقف کیا ہے اس کی آمدنی لا کر اس مسجد پر خرچ کریں اور لوگوں سے کہیں کہ لوگ شوق سے اس مسجد میں آئیں اور اس کو اہمیت دیں وہاں پر چار رکعت نماز پڑھیں جناب حسن بن مثلہ کہتاہے جب میں نے یہ باتیں سنیں تو اپنے آپ سے کہا گویا یہ وہی مقام ہے کہ جس کے بارے میں فرماتے ہیں اور میں نے اشارہ کیا اس جوان کی طرف کہ جو تکیہ کا سہارا لیا ہوا تھا۔

مسجد جمکران بہت زیادہ اہمیت کی حاصل ہے ان میں سے بعض کو بیان کرتاہوں

۱ ۔آخری حجت نے حسن بن مثلہ کے توسط سے حکم دیا ہے کہ مسجد مقدس کی بنیاد رکھ لے یہ واقعہ بیداری کی حالت میں فرمایا نہ کہ عالم خواب میں۔

۲ ۔ آخری حجت کے حکم سے کئی سال پہلے حضرت امیرالمومنین نے اس کے بارے میں خبر دی ہے۔

۳ ۔ مسجد جمکران آخری حجت کے ظہور کے زمانے میں کوفہ کے بعد سب سے بڑا پایہ تخت ہوگا امام کے ظہور کے وقت امام کے لشکر کا علم کوہ خضر پر لہراتاہوا دکھائی دے گا۔

۴ ۔ ایک مہم نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ نہ صرف امام عصر(علیہ السلام ) کے ظوہر کے وقت مسجد جمکران مرکز ہوگا بلکہ زمانہ غیبت میں بھی ایسا ہوگا امام زمانہ کا یہ فرمانا کہ جو بھی اس جگہ پر نماز پڑھے گا گویا اس نے خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے اس سے استفادہ ہوتاہے کہ خانہ خدا نہ صرف مرکز زمین ہے اس میں ہونا انسانی میں روحانی جسمانی اعتبار سے بہت زیادہ اثر رکھتاہے اسی طرح مسجد جمکران بھی ہے۔

امام عصر کا یہ کہنا کہ اس مکان میں نماز کا پڑھنا خانہ خدا میں نماز پڑھنے کا ثواب رکھتاہے اس مسجد جمکران میں کچھ اسرار ہیں جو ہر کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا ہےمامن سرّ الّاوانا افتحه و مامن سرّ الّا والقائم یختمه کوئی راز نہیں مگر یہ کہ میں اس کو کھول دوں گا اور کوئی راز نہیں مگر یہ کہ قائم اس کو بیان کرے گا۔

۵ ۔ جو لوگ اس مقدس مکان میں جاتے ہیں وہ جانیں یہ بہت بڑا مقام ہے امام عصر کی توجہ ان کی طرف ہے گویا حضرت کے مکان میں داخل ہوئے ہیں ان کے سامنے موجود ہیں۔

کئی سو سال حضرت کی غیبت سے گزرے ہیں لیکن ہم امام زمانہ سے استفادہ نہیں کرتے ہیں ہم بارش کی فکر کرتے ہیں لیکن بارش حضرت کے وجود اور برکت سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں وبکم ینزل الغیث تمہاری وجہ سے بارش ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ آخری حجت کی طرف توجہ حقیقت میں خدا کی طرف توجہ ہے جس طرح باقی ائمہ کی طرف توجہ کرنا خدا کی طرف توجہ کرنا ہے پس آئمہ کی زیارت اور توسل حقیقت میں خدا سے توسل ہے یہی وجہ ہے کہ جو بھی خدا سے قرب حاصل کرنے کا قصد رکھتاہے اس کو چاہئے کہ ائمہ طاہرین کی طرف توجہ دے چنانچہ زیارت جامعہ میں ہم پڑھتے ہیں ومن قصدہ توجہ بکم جو بھی خدا کا قرب حاصل کرنا چاہے اس کو چاہئے کہ وہ ائمہ کی طرف توجہ دے چونکہ آئمہ کی طرف توجہ کرنا نہ صرف خدا کی طرف متوجہ ہونا ہے بلکہ وہ گناہ اور وہ چیزیں کہ جو بلند مقام حاصل کرنے کے لئے مانع ہیں وہ بھی دور ہوتی ہیں چونکہ امام زمانہ اور ائمہ طاہرین کی طرف توجہ کرنے کی وجہ سے انسان کی طرف رحمت اور مغفرت الٰہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

حضرت باقر العلوم نے حضرت امیرالمومنین کے اس کلام میں کہ جہاں فرمایا انا باب اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یعنی من توجہ بی الی اللہ غفرلہ جو بھی میرے وسیلہ سے خدا کی طرف توجہ دے اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگر چہ چودہ معصومین کی طرف ہر زمانہ میں توجہ ہونا چاہئے لیکن انسان جس زمانے میں زندگی گزارتاہے اس کو اپنے زمانے کے امام(علیہ السلام ) کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہئے آپ اس روایت کی طرف توجہ دیںعن عبدالله بن قلامه الترمذی عن ابی الحسن علیه اسلام قال: من شکّ فی اربعة فقد کفر بجمیع ما انزل الله عزوجل: احدها معرفة الامام فی کل زمان و اوان بشخصه و نعته ۔ حضرت نے فرمایا: کہ جو بھی چار چیزوں کے بارے میں شک کرے گویا اس نے تمام ان چیزوں کا انکار کیا ہے جو نازل کی گئی ہے ان میں سے ایک ہر زمانے میں امام کا پہچاننا کہ امام کی ذات اور صفات کے ساتھ پہچانیں پس ہر زمانے کے امام کی معرفت واجب ہے کس طرح ممکن ہے کہ جو اپنے زمانے کی امام کی معرفت رکھتا ہو اور ان کی عظمت سے آگاہ ہو لیکن اس کی طرف توجہ نہ دیتا ہو اس بناء پر امام زمانے کی معرفت سے غفلت صحیح نہیں ہے پس ہمارا وظیفہ اس زمانے میں یہ ہے آخری حجت کی امامت کے زمانے میں آپ(علیہ السلام ) کی طرف زیادہ توجہ دیں وہ دعا کہ جو ملا قاسم رشتی کو تعلیم دی ہے اور فرمایا ہے اسے دوسروں کو تعلیم دیں اگر کوئی مومن کسی بلاء میں مبتلا ہوا ہو تو اس دعا کو پڑھے وہ مجرب ہے اس دعا کے پڑھنے میں بہت زیادہ تاثیر ہے وہ دعا یہ ہےیا محمد یا علی یا فاطمه یا صاحب الزمان ادرکنی ولا تهلکنی ۔

انتظار

آخری حجت کا انتظار کرنا بہت زیادہ فضیلت رکھتاہے جو بھی امام عصر کے ظہور کا انتظار کرے ایسی صورت میں ان کی غیبت بمنزلہ مشاہدہ شمار ہوگی۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے ابو خالد کابلی سے فرمایا کہ غیبت کا مسئلہ رسول خدا کے بارھویں امام میں طولانی ہوگا اے ابا کالد اھل زمان اپنے زمانے کے امام غیبت کے معتقد ہیں اور ان کے ظہور کے معتقد ہیں ہر زمانے میں سب سے زیادہ افضل ہیں خدا ان کو اس قدر عقل معرفت عطا کرتاہے کہ مسئلہ غیبت ان کے لئے بمنزلہ مشاہدہ قرار دیتاہے خداوند متعال ان کو اتنا ثواب اور اجر عطا کرتاہے کہ جو رسول کدا کے ساتھ تلوار کے ساتھ جنگ کرے حقیقت میں مخلص اور سچے شیعہ ہیں جو کہ دین خدا کی طرف دعوت دینے والے ہیں حضرت سجاد نے فرمایا کہ ظہور کا انتظار کرنا تعجیل ظہور کا بہترین راستہ ہے امام سجاد نے اس روایت میں ان لوگوں کو کہ جو امام کی غیبت میں زندگی گزارتے ہیں لیکن غیبت سے غافل نہیں ہیں اور وہ آخری حجت کے ظہور کے انتظار میں زندگی گزارتے ہیں ان کو ہر زمانے میں سب سے بہترین لوگوں میں سے قرار دیا ہے ایسے لوگوں کو ایسی عقل اور معرفت عطا کی ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے مسئلہ غیبت بمنزلہ مشاہدہ ہوگا اس لئے پیغمبر اسلام نے فرمایا افضل جہاد امتی انتظار الفرج میری امت کے سب سے افضل جہاد فرج کا انتظار ہے۔ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا ہے کہ بندوں کی عبادت قبول ہونے کی شرائط میں ایک شرط آخری حجت کی حکومت کا انتظار کرنا ہے اس کے بعد امام فرماتے ہیں ہمارے لئے ایک حکومت ہے خدا جب چاہے لے آتاہے اس کے بعد فرمایا فرماتے ہیں جو بھی چاہتاہے کہ آخری حجت کے اصحاب سے ہوجائے اس کو چاہیے کہ امام کے ظہور کا انتظار کرے پرہیزگاری اور نیک اخلاق کے ساتھ زندگی گزارے اور امام کے ظہور کا انتظار کرے اس دوران اگر اس کو موت آجائے اور حضرت قائم اس کے بعد قیام کرے تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا امام کے ساتھ قیام کرنے والے کو ثواب ملتاہے پس کوشش کریں اور انتظار میں رہیں اور گوارا ہو تم پر اے جماعت کہ جن پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے امام صادق نے ایک دوسری روایت میں امام کی غیبت کے زمانے کے بارے میں یہ بتاتے ہیں کہ ان کا کیا وظیفہ ہے فرماتے ہیںوانتظر الفرج صباحاً و مساءً صبح اور شام ظہور اور فرج کے انتظار میں رہو حضرت امیرالمومنین انتظار کرنے کو اھل بیت کے دوستداروں کی صفات میں سے جانتے ہیں اور اھل بیت کے ساتھ محبت کرنے والوں کی علامت یہ ہے صبح و شام امام کے ظہور کے انتظار میں ہوں گے آن حضرت نے فرمایا ان مجینا ینتظر الروح والفرج کل یوم ولیلة ہمارے دوست شب و روز دشمنوں سے آسائش کے انتظار میں ہوتے ہیں امام ھادی کے دوستاروں میں سے ایک نے پوچھا امام کی غیبت میں شیعوں کی کیا ذمہ داری ہے سوال کیاکیف تصنع شیعتک قال علیه السلام علیکم بالدعاء و انتظار الفرج غیبت کے زمانے میں آپکے شیعہ کیا وظیفہ انجام دیں امام ھادی نے فرمایا تمہارے لئے لازم ہے دعا کرنا اور ظہور کا انتظار کرنا۔

جیسا کہ روایت میں ہے کہ ظہور کا انتظار کرنا جو جہاں کی اصلاح کرے اعمال کے قبول ہونے کے شرائط میں سے ایک شرط ہے پس جو خود صالح ہو اس کو چاہئے کہ مصلح کا انتظار کرے۔

حضرت جواد الائمہ نے امام عصر کے انتظار کے بارے میں فرمایا حضرت عبدالعظیم حسنی فرماتے ہیںدخلت علی سیدی محمد بن علی و انا اریدان اساله عن القائماهوالمهدی او غیره فبلانی فقال علیه السلام یا اباالقاسم انّ القائم منا هو المهدی الذی یجب ان ینتظر فی غیبته و یطاع فی ظهوره و هو الثالث من ولدی، والذی بعث محمداً بالنبوة و خصنا بالامامة انه لو لم یبق من الدّنیا الّا یوم واهد لطول اللّیه ذالک الیوم حتی یخرج فیملا الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً و ظلماً و ان الله تبارک و تعالیٰ یصلح امره فی لیلة کما اصلح امر کلیمه موسی علیه السلام لیقتبس لاهله ناراً فرجع و هو رسول نبیّ ثمّ قال علیه اسلام افضل اعمال شیعتنا انتظار الفرج

میں حضرت امام جواد کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ حضرت سے قائم آل محمد کے بارے میں سوائل کروں آیا وہ مھدی ہے یا کوئی اور ہے میرے کہنے سے پہلے حضرت نے فرمایا اے ابالقاسم قائم آل محمد وہی مھدی ہے کہ غیبت کے زمانے میں اس کا انتظار کرنا واجب ہے اور ظہور کے زمانے میں ان کی اطاعت کرنا واجب ہے وہ میری نسل سے تیسرا فرد ہوگا اس خدا کی قسم کہ جس نے محمد کو نبی بنا کر بھیجا ہے امامت کے مقائم کو ہمارے ساتھ مخصوص کردیا ہے اگر دنیا باقی بھی نہ رہے مگر ایک دن تو خداوند تعالیٰ کے اس کو اتنا طویل کرے گا یہاں تک امام قائم خروج کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کرے گا جیسا کہ ظلم و جور سے پر ہوچکا ہوگا خداوند تعالیٰ اس کے امر کی ایک رات میں اصلاح کرے گا جس طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے کام کی اصلاح کی وہ اپنے خاندان کے لئے آگ لانے کے لئے چلے گئے لیکن اس حالت میں لوٹے کہ جو نبوت اور رسالت کے مقام پر فائز تھے اس وقت حضرت جواد نے فرمایا شیعوں کے سب سے افضل اعمال فرج کا انتظار کرنا ہے۔

انتظار کا طریقہ

ان امور میں سے جو درس انتظار ہمیں سکھاتے ہیں انسان کو ہمیشہ معرفت خدا اور جانشین خدا کی معرفت ہو اور ان کی عظمت ان کے پیش نظر ہو اگر کوئی واقعا اللہ اور ائمہ اطہار کی معرفت میں قدم اٹھادے تو اس کا دل معارف الھیہ سے روشن ہوگا اور متوجہ ہوگا کہ امام سے غفلت کرنا ناپسند یدہ عمل ہے۔ یہ نورانیت ہے امام کے نور کے اثر سے ہر امام کے زمانے میں ان کے دوستوں کے دل روشن ہونگے اب اس روایت کی طرف توجہ دیںعن ابی خالد الکابلی قال: سالت ابا جعفر عن قول الله عزوجل فامنو بالله و رسوله و النور الذی انزلنا فقال یا ابا خالد النور واللّٰه الائمة من آل محمد الی یوم القیامة و هم و اللّٰه نور اللّٰه اندی انزل و هم واللّٰه نور اللّٰه فی السمٰوات و فی الارض واللّٰه یا ابا خالد لنور الامام فی قلوب الموٴمنین انور من الشمس المضیئة بالنّهار و هم واللّٰه ینوّرون قلوب الموٴمنین و ویجیب اللّٰه نور هم عمن یشاء فتظلم قلوبهم واللّٰه یا ابا خالد لا یحبّنا عبد و یتولّانا حتّی یُطهر اللّٰه قلبه، ولا یُطهر اللّٰه قلب عبد حتی یُسلم لنا، و یکون سلماً لنا، فاذاکان سلماً لنا سلّمه اللّٰه من شدید الحساب، وآمنه من فزع یوم القیامة الأکبر ۔

ابوخالد کابلی کہتاہے امام محمد باقر سے آیہ شریفہ کے بارے میں کہ جو اللہ فرماتاہے پس ایمان لے آؤ خدا پیغمبر اور اس نور پر کہ جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ اس آیہ کے بارے میں پوچھا حضرت نے فرمایا اے ابوخالد خدا کی قسم اس نور سے مراد آل محمد کے پیشوا ہیں کہ جو قیامت تک ہوں گے خدا کی قسم یہ اللہ کے نور ہیں کہ جس کو نازل کیا ہے خدا کی قسم یہ اللہ کے نور ہیں آسمانوں اور زمینوں میں خدا کی قسم اے ابا خالد امام کا نور جو مومنین کے دلوں میں روشنی دینے والا سورج سے زیادہ نورانی ہے خدا کی قسم یہ امام مومنین کے دلوں کو نورانی کریں گے خدا ان کے نور کو جس سے چاہے مخفی رکھتاہے پس ان کے دل تاریک ہوں گے خدا کی قسم اے ابوخالد کوئی بندہ بھی ہم سے محبت نہیں کرے گا مگر یہ کہ خدا اس کے دل کو پاک کرے گا اور خدا کسی بندہ کے دل کو پاک نہیں کرے گا یہاں تک وہ ہمارا فرمان بردار ہوگا خدا ایسے شخص کو قیامت کے حساب سے محفوظ رکھے گا اور اس کو قیامت کے خوف محفوظ رکھے گا کیا ممکن ہے کہ جس کا دل امام زمانہ کے نور سے نورانی ہو لیکن امام زمانہ سے غافل ہو

حضور کا احساس یا معرفت کی نشانی

غیبت کے زمانے میں ذمہ داریاں میں دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔

۱۔ ایک وہ ذمہ داری کہ جو زمانن غیبت کے ساتھ مخصوص ہے

۲۔ دوسرا وہ کہ غیبت اور حضور کے زمانے میں جو ہماری ذمہ داریاں ہیں اس کی رعایت کی جائے۔

اگر انسان کا یہ عقیدہ ہو کہ سب کے سب خدا اور جانشین کے حضور میں ہیں تو زمان اور مکان ہمارے لئے محدودیت نہیں لاتاہے چونکہ نورانی مقام کو زمان یا مکان کے ساتھ مقید نہیں کیا جاسکتاہے اسلئے زمان اور مکان مادہ کے قیود اور خصوصیات سے ہے اھل بیت کی نورانیت کی حضرت امیرالمومنین نے اس حدیث نورانیت میں تشریح کی ہے کہ یہ مادہ سے بالا ہے بلکہ مادہ کو بھی احاطہ کرتاہے اس بناء پر زمان اور مکان نورانیت کے مقام کی محدودیت ایجاد نہیں کرتاہے۔

اس مطلب کی وضاحت کے لئے حضرت امیرالمومنین کی حدیث نورانیت کی طرف رجوع کرسکتے ہیں کہ جو جناب سلمان اور ابوذر کے لئے فرمایا ہے حدیث لمبی ہونے کی وجہ سے یہاں بیان نہیں کرتاہوں ایک مہم روایت کہ جس کو امام محمد باقر نے فرمایا ہے اختصار کے ساتھ بحث کی مناسبت سے نقل کرتاہوں۔ ابوبصیر کہ جو حضرت امام محمد باقر کے اصحاب میں سے تھے فرمایا:

دخلت المسجد مع ابی جعفر علیه السلام والناس یدخلون و یخرجون فقال لی: سل الناس هل یروننی؟ فکلّ من لقیته قلت له: أرایت أباجعفر علیه السلام فیقول: لا و هو واقف حتی دخل ابوهارون المکفوف، قال: سل هذا؟ فقلت: هل رایت أباجعفر؟ فقال: ألیس هوا قائمأ، قال: و ما علمک؟ قال: و کیف لا أعلم و هو نور ساطع؟ قال: وسمعته یقول الرجل من أهل الافریقیة: ما حال راشدٍ؟ قال: خلّقته حیّاً صالحاً یقروٴک السلام قال: رحمه اللّٰه قال: مات؟ قال: نعم، قال: متی؟ قال: بعد خروجک بیومین قال: واللّٰه ما مرض و لا کان به علّة، قال: و انّما یموت مَن یموت من مرض أوعلّة قلت: من الرجل؟ قال: رجل لنا موالٍ ولنامحبّ ثمّ قال: أترون أنّه لیس لنا معکم أعینٌ ناظرة، أوسماع سامعة، لبئس مارأیتم، واللّٰه لا یخفی علینا شيء من أعمالکم فاحضرونا جمعیاً وعوّدو أنفسکم الخیر، وکونوا من أهله تعرفوا فانّي بهذا آمرو لدي وشیعتي ۔

ابوبصیر کہتاہے امام باقر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا لوگ آتے جاتے تھے امام لوگوں کی نظروں سے غائب رہا اور مجھ سے فرمایا لوگوں سے پوچھ لو کیا وہ مجھے دیکھتے ہیں میں نے جس سے ملاقات کی اس سے پوچھا کیا مام باقر کو دیکھا اس نے کہا نہیں یہاں تک کہ نابینا ابوھارون داخل ہوا امام نے فرمایا اس مرد سے سوال کرو میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے امام باقر کو دیکھا ہے ابوھارون نے جواب میں کہا مگر یہ یہاں ہمارے پاس کھڑا نہیں ہے؟

ابوبصیر نے کہا میں نے اس سے پوچھا تجھے کیسے پتہ چلا کہ امام یہاں پر موجود ہے ابوھارون نے کہا کس طرح مجھے معلوم نہ ہو حالانکہ امام ایک واضح نور ہے اس وقت ابوبصیر کہتاہے کہ میں نے سنا کہ امام محمد باقر افریقہ کے ایک شخص سے فرماتے تھے کہ راشد کا کیا حال ہے اس نے کہا جب میں افریقہ سے نکلا تھا تو وہ زندہ اور صحیح سالم تھا آپ کو سلام پہنچاتا تھا۔ امام باقر نے فرمایا خداوند تعالیٰ اس پر رحمت کرے وہ اس دنیا سے چلا گیا ہے افریقائی مرد کہنے لگا کیا وہ مرگیا ہے امام نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کہ کس زمانے میں فوت ہوئے ہیں امام نے فرمایا آپ کے نکلنے کے دو دن بعد فوت ہوا ہے افریقائی نے کہا خدا کی قسم راشد نہ بیمار تھا نہ ان کو کسی قسم کی تکلیف تھی امام نے اس سے فرمایا مگر جو بھی مرجاتاہے کسی بیماری یا درد کی وجہ سے مرجاتاہے ابو بصیر نے کہا میں نے امام سے پوچھا یہ افریقائی مرد کون ہے امام نے فرمایا یہ ہمیں اور ہمارے خاندان کو دوست رکھتاہے اس وقت امام نے فرمایا کیا تم عقیدہ رکھتے ہو ہمارے بارے میں کہ ہم تمہیں دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان نہیں رکھتے کس قدر تم برا عقیدہ رکھتے ہو خدا کی قسم ہمارے لئے تمہارے اعمال میں سے کوئی بھی پوشیدہ نہیں ہے پس ہم سب کو اپنے پاس حاضر جانو اور اپنے نفسوں کو نیک کام کرنے کی عادت ڈال دو تا کہ نیک کام کرنے والوں میں سے ہوجاؤ میں اپنے فرزندوں اور شیعوں کو جو کہاہے اس کا امر کرتاہوں۔

اس روایت میں بہت سے مطالب موجود ہیں ان مطالب کو دردک کرنے کے لئے مکمل طور پر غور کی ضرورت ہے۔ مہم نکات کہ جو اس روایت سے استفادہ کرتے ہیں کہ خاندان وحی کے حضور کا اعتقاد ہونا چاہئے اور اس واقعیت کا درک کرنا اس صورت میں ممکن ہے کہ جن شرائط کو امام باقر نے درک کرنے کے بارے میں فرمایا ہے اس کی رعایت کی جائے۔

مہم نکتہ کہ جس کے بارے میں آخر میں فرمایا ہے یہ ہے کہ آں حضرت نے تمام شیعوں اور اپنے فرزندوں کو وصیت کی اور حکم دیا ہے یہ اس پر دلیل ہے کہ تمام واقعیت کے شناخت کے لئے کوشش کریں اس روایت کی بناء پر ہر ایک بزرگوار عین اللہ ہیں کہ ہمارے اعمال اور رفتار کو دیکھتے ہیں اور اذن اللہ ہیں کہ ہمارے گفتار کو سنتے ہیں اس وقت جو بھی ان حقائق کو قبول نہیں کرتے ہیں اس کی خدمت کی گئی ہے اور فرماتے ہیں واقعاً برا اعتقاد رکھتے ہو خدا کی قسم کھائی کہ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

حضرت امام محمد باقر ان نکات کو بیان کرنے کے بعد چند نکات کی تصریح کرتے ہیں۔

ہم سب کو اپنے نزدیک حاضر جانیں

یہ کلام اھل بیت کی نورانیت کی طرف اشارہ ہے کہ نورانیت کی وجہ سے ہر زمانے پر محیط ہے ان میں سے کسی میں کوئی فرق نہیں ہے ہر شیعہ ہر زمانے میں ہر بزرگوار کو قریب جانے جس طرح انسان اپنے آپ کو خداوند کے حضور دیکھتاہے اس کو یہ بھی احساس ہو کہ اھل بیت کے سامنے حاضر ہے۔

واضح ہے کہ جو بھی اس حقیقت کا احساس کرے اور اس کو عملی قرار دے بہت بڑی تبدیلی اس میں پیدا ہوتی ہے۔

۲ ۔ اپنے نفسوں کو نیک کاموں کی عادت ڈالے اور نیک لوگوں میں سے ہوجائے اس بناء پر انسان نہ صرف برے کاموں اور ناپسندیدہ کی عادت نہ ڈالیں بلکہ اچھے کام انجام دینے کی عادت ڈالے۔ تھذیب نفس اور خود سازی کی کوشش کرے نہ اچھے سے اچھا کام انجام دینے سے متنفر نہ ہو بلکہ اچھا کام انجام دینے کی عادت ڈالے

اس مطلب کی توضیح کے لئے کہتا ہوں کہ نیک کاموں کی عادت ڈالنے کی دو صورتیں ممکن ہیں۔

۱ ۔ پہلی صورت اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے نفس کو اپنے کام بجالانے کے لئے فرمان بردار بنانا اگر اس قسم کی عادت ڈالے تو ایسی عادت انسان کی ترقی کا موجب ہے۔

۲ ۔ دوسری صورت یہ ہے ممکن ہے کہ نیک کام کرنے کی عادت ڈالی ہو بلکہ ایسے ماحول میں زمدگی گزارتاہے جس کی وجہ سے اچھے کام انجام دیتاہے اور عادت بن گئی مثال کے طور پر ایسے خاندان میں زندگی گزارتاہے کہ جو اول وقت میں نماز یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے پابند ہیں اس نے بھی ایسی عادت کی ہے اگر اس کے زندگی کے ماحول میں تبدیلی آجائے چونکہ ذاتاً اس نے عادت نہیں بنائی ہے زمانہ کے گزرنے کے ساتھ وہ شخص بھی تبدیل ہوجاتاہے چونکہ یہ عادت اپنے اپنے نفس اور اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ماحول کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لئے حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں علاوہ اس کے کہ نیک کاموں کی عادت ڈالنے کے ساتھ خود بھی نیک لوگوں میں سے ہوجائے نہ کہ ماحول کی وجہ سے مجبور ہوجائے۔ سب کو حاجر جانیں اس سے مراد حضور علمی ہے یا حضور عینی ہے مرحوم علامہ مجلسی اس نے روایت کے بارے میں فرمایا ہے اگر فاحضروا کو باب افعال سے قرار دیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ جان لو ہم سب تمہارے پاس حاضر ہیں علم کی وجہ سے اس سے مراد علامہ مجلسی کی حضور علمی ہے ایک روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام حضرت خضر کے بارے میں فرماتے ہیںانّه لیحضر حیث ما ذکر فمن ذکره منکم فلیسلّم علیه اس کو جس زمانے میں بھی پکارا جائے وہ حاضر ہوتے ہیں آپ میں سے جو بھی اس کا نام لے اس پر سلام کرے مرحوم آیة اللہ مستنبط اس کے بارے میں لکھتے ہیں حضرت خضر(علیہ السلام ) کا مقام امام زمانہ کا تابع اور غیبت میں ہیں پس حضرت حجت کا مقام کتنا بلند ہے حضور کا مسئلہ اھلبیت کے معارف میں اہم ترین مسائل میں سے ہے اور اس کے لئے تفصیل کی ضرورت ہے اس لئے حضرت امیرالمومنین کے کلام کے ساتھ کلام کااختیار کرتے ہیں فرمایا احضروا اذ ان قلوبکم تفھموا اس فرمائش کی بناء پر اگر حقائق کو درک کرنا چاہتے ہو تو دل کے کان کو کھول دو تا کہ تم سجھ سکو۔

اھلبیت کی نظر میں امام زمانہ کی عظمت

۱ ۔ پیغمبر اسلامفرماتے ہیں میرے ماں باپ فدا ہو اس پر کہ جو میرا ہم نام ہے اور میرا شبیہہ ہے پیغمبر اسلام نے حضرت امیر سے امام عصر کی گفتگو کے بعد فرمایا میرے بعد ایک بہت زیادہ سخت فتنہ ہوگا اس میں ایک برگزیدہ اور راز دار شخص سقوط کرے گا یہ وہ وقت ہے کہ تیرے شیعے پانچویں آدمی کو یعنی ساتویں کی اولاد امام سے گم کردیں گے اس کے غائب ہونے کی وجہ سے زمین اور آسمان والے غمگین ہوں گے کتنے زیادہ مرد اور عورتیں ان کی غیبت کے موقع پر غمگین اور افسوس کریں گے اس کے بعد حجرت اپنے سر کو جھکا دیا اس کے بعد سر بلند کر کے فرمایا میرے ماں باپ اس پر قربان ہو وہ میرا ہم نام میری شبیہہ اور موسیٰ بن عمران کی شبیہہ ہوگا اس کے اوپر نور کی چادر ہے جو شعاع قدس سے روشن ہوتی ہے اس کلام کی علامہ مجلسی نے حضرت امیرالمومنین کی طرف نسبت دی ہے ۔

۳ ۔ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا ہے میرے ماں باپ فدا ہوں اس بہترین فرزند پر اس روایت کو جناب جابر جعفی نے امام جعفرصادق اور امام محمد باقر کے اصحاب سے نقل کیا ہے اب اس روایت کی طرف توجہ دیں جناب جابر جعفی فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر سے سنا کہ فرماتے تھے:سایر عمر بن الخطاب امیرالموٴمنین فقال: اخبرنی عن المهدی ما اسمه فقال امّا اسمه فان حبیبی عهد الیّ ان لا احدّث باسمه حتّٰی یبعثه اللّٰه قال: فاخبرنی عن صفته قال هو شابّ مربوع حسن الوجه حسن الشعر یسیل شعره علی منکبیه ونور وجهه یعلو سواد لحیته و راسه بابی ابن خیرة الاماء عمر بن خطاب حضرت امیرالمومنین کے ساتھ جارہے تھے کہا مجھے مھدی کے نام کے بارے میں بتادیں حضرت نے فرمایا حضرت مھدی کے نام کے بارے میں یہ ہے کہ میرے حبیب نے مجھے سے عہد و پیمان لیا ہے کہ میں ان کا نام کسی کو نہ بتاؤں یہاں تک کہ اللہ اس کو مبعوث کرے عرض کیا کہ ان کے صفات کے بارے میں بتادیں حضرت نے فرمایا وہ جوان ہے اور اسکا چہرہ اور بال خوبصورت ہیں اس کے بال شانے پر گرے ہوئے ہیں اس کے چہرے کا نور سر اور چہرے سے برتر ہے میرے باپ قربان ہوں۔ اس بہترین فرزند پر

۴ ۔ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا میرے ماں باپ قربان بہترین کنیز کے بیٹے پر اس کلام کو حضرت امیرالمومونین نے بار بار فرمایا حارث ھمدانی نے اس کو حضرت امیرالمومنین سے نقل کیا ہے آپ(علیہ السلام ) بزرگوار نے فرمایا ظالم کے ظلم کا خاتمہ بقیة اللہ کی تلوار سے ہوگا اور فرمایا ہے کہ پیالہ کے ساتھ تلخ زھر سب ظالموں کے منہ میں ڈالا جائے گا میرا باپ قربان اس بہترین کنیز کے بیٹے پر حضرت قائم کہ جو حضرت کے فرزندوں میں سے ہے ذلت اور خواری پر ان ظالموں کیلئے ہوگی ایک برتن صِبر سے (تلخ بوٹی) ان ظالموں کو پلایا جائے گا اور ان کو کوئی چیز نہیں دی جائے گی مگر تلوار اور فتنہ۔

۵ ۔ حضرت امیرالمومنین نے انے خطبوں میں کئی مرتبہ فرمایا کہ پیغمبر کے اھل بیت کو دیکھو اگر وہ آرام کرلیں تو تم بھی آرام کرنا اگر تم کو مدد کے لئے طلب کریں تو ان کی مدد کرنا خداوند تعالیٰ ایک مرد کو ظالموں کے خاتمہ کے لئے بھیجے گا میرے باپ قربان ہوں بہترین ہستی پر ظالموں کو نہیں دیں گے مگر تلوار کس قدر آشوب ہوگا آٹھ مہینے تک تلوار کو اپنے شانہ پر رکھے گا۔

اس خطبہ میں حضرت امیرالمومنین زمانے کو بدترین لوگوں سے پاک کرنے کی خوشخبری دے رہے ہیں کہ آٹھ مہینے تک ظالموں کے ساتھ جنگ جاری رکھے گا اس وقت عدل و انصاف سے جہاں پُر ہوگا ۔

۶ ۔ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا میں اس کو دیکھنے کا کس قدر مشتاق ہوں اس کلام میں حضرت امیرالمومنین فتنہ کے بعد امام کی خصلتوں کو بیان کرتے ہیں حضرت نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں کس قدر اس کو دیکھنے کا مشتاق ہوں۔

۷ ۔ امام باقر نے فرمایا اگر میں اس زمانے میں موجود ہوں تو اپنی جان کو اس صاحب امر کے لئے محفوظ رکھوں گا فرمایا: اما انّی لو ادرکت ذالک لا سبقیت نفسی لصاحب ھذا الامر آگاہ ہوجاؤ اگر میں اس زمان کو درک کرلوں تو اپنے آپ کو صاحب امر کے لئے محفوظ رکھوں گا۔

۸ ۔ میرے ماں باپ فدا ہوں ہوں اس پر کہ جو تمام دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا اس روایت کو ابو حمزہ ثمالی نے نقل کیا ہے وہ کہتاہے کہ میں ایک دن امام محمد باقر کی خدمت میں حاضر تھا اس وقت کچھ لوگ حضرت سے رخصت کر کے چلے گئے تو اس وقت مجھ سے فرمایا یاابا حمزه من المحتوم الذی حمة الله قیام قائمنا فمن شک فیما اقول لقی اللّٰه وهو به کافر ثم قال بابی امی المتمیٰ باسمی والمکنّی بکنیتی السابع من ولدی بابی من یملا الارض قسطاً و عدداً کما ملئت ظلما و جوراً یا ابا حمزه من ادرکه فسلّم له ما سلّم لمحمد و علی فقد وجبت له الجنة و من لم یسلّم فقد حرم اللّٰه علیه الجنة و ماواه النار و بئس مثوی الظالمین اے ابا حمزہ ان چیزوں میں سے کہ جن کو خدا نے حتمی قرار دیا ہے ہمارے قائم کا قیام ہے جو کچھ میں کہتاہوں اگر کوئی اس میں شک کرے تو اس کی ملاقات خدا کے ساتھ اس حالات میں ہوگی وہ کافر ہوگا میرے ماں باپ قربان ہو اس پر جو میرا ہمنام ہے میری کنیت پر جس کی کنیت رکھی گئی ہے اور وہ میری نسل میں ساتواں فرد ہوگا۔

میرا باپ اس پر فدا ہو کہ جو پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح ظلم وجور سے پر ہوچکا ہوگا اے ابا حمزہ جو بھی اس کے زمانے میں ہو اور اس کو تسلیم کرے جو جیسا کہ محمد اور علی کو تسلیم کیا ہے بہشت اس پر واجب ہے اور جو اس کو تسلیم نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے بہشت کو اس پر حرام قرار دیتاہے اور اس کا ٹھکانہ جھنم میں ہے یہ ظالموں کے لئے بری جگہ ہے۔ اگر میں اس زمانے میں موجود ہوں تو جب تک زندہ ہوں اسکی خدمت کرتا رہوں گا۔ اس کلام کو امام صادق نے اس وقت فرمایا جب آخری حجت کے بارے میں امام سے سوال کیا گیاهل ولدا القائم قال: لا ولوادرکته لخدمته ایام حیاتی کیا حضرت قائم متولد ہوئے ہیں حضرت نے فرمایا نہیں اگر میں اس کے زمانے کو درک کرلوں تو تمام زندگی اس کی خدمت کروں گا۔

۱۰ ۔ عباد بن محمد مداینی کہتے ہیں کہ امام صادق نے نماز ظہر کے بعد اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور دعا کی میں نے کہا میری جان قربان آپ نے اپنے لئے دعا کی ہے فرمایا:دعوت لنور آل محمد وسائقهم والمنتقم بامراللّٰه من اعلائهم میں نے آل محمد اور آل محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے دشمنوں سے خدا کے حکم سے انتقام لینے والوں کے لئے دعا کی اگر چہ تمام وحی سے خاندان کے تمام افراد نور ہیں اور ان کو نورانی جاننا حقیقت میں خدا کی معرفت ہے۔

۱۱ ۔ حضرت امام رضا نے فرمایا میرے ماں باپ فدا ہوں اس پر جس کا نام میرے جد کا ہمنام ہے وہ میری اور موسیٰ بن عمران کی شبیہہ ہیں۔


باب اوّل

نمازوں کے بارے میں

اس باب میں ان نمازوں کے بارے میں ہیں کہ جو حضرت صاحب الزمان سے منقول ہیں یا جو نماز یں حضرت کے لئے ذکر کی گئی ہیں ان نمازوں کو یہاں نقل کرتا ہوں۔

۱ ۔امام زمانہ کی نماز

مرحوم راوندی لکھتے ہیں کہ امام زمان کی نماز دو رکعت ہیں ہر رکعت میں سورہ حمد ایک مرتبہ پڑھے جب ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچے کہ اس کو ایک سو مرتبہ پڑھے اور نماز کے بعد سو مرتبہ پیغمبر پر درود بھیجے اس کے بعد اپنی حاجت کو خدا سے مانگے یہ نماز کی خاص زمان اور مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس میں سورہ اور مخصوص دعا وارد نہیں ہے۔

۲ ۔ امام زمان کی ایک اور نماز

مرحوم سید بن طاوؤس فرماتے ہیں یہ نماز بھی دو رعکت ہے سورہ حمد کو پڑھے جب ایاک نعبد و ایاک نستعین تک پہنچے اس وقت سو مرتبہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کو پڑھے اس کے بعد سورہ کو تمام کرے اس کے بعد ایک دفعہ سورہ اخلاص کو پڑھے اس کے بعد یہ دعا پڑھے دعاء

أَللَّهُمَّ عَظُمَ الْبَلاءُ ، وَبَرِحَ الْخِفاءُ ، وَانْكَشَفَ الْغِطاءُ ، وَضاقَتِ الْأَرْضُ بِما وَسِعَتِ السَّماءُ ، وَ إِلَيْكَ يا رَبِّ الْمُشْتَكى ، وَعَلَيْكَ الْمُعَوَّلُ فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخاءِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، اَلَّذينَ أَمَرْتَنا بِطاعَتِهِمْ

وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ بِقائِمِهِمْ ، وَأَظْهِرْ إِعْزازَهُ ، يا مُحَمَّدُ يا عَلِيُّ ، يا عَلِىُّ يا مُحَمَّدُ ، إِكْفِياني فَإِنَّكُما كافِيايَ ، يا مُحَمَّدُ يا عَلِيُّ ، يا عَلِيُّ يا مُحَمَّدُ ، اُنْصُراني فَإِنَّكُما ناصِرايَ ، يا مُحَمَّدُ يا عَلِيُّ ، يا عَلِيُّ يا مُحَمَّدُ ، إِحْفَظاني فَإِنَّكُما حافِظايَ ، يا مَوْلايَ يا صاحِبَ الزَّمانِ ثلاث مرّة ، اَلْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ ، أَدْرِكْني أَدْرِكْني أَدْرِكْني ، اَلْأَمانَ الْأَمانَ الْأَمانَ.( جمال الاُسبوع : ۱۸۱ ، البحار : ۱۹۱/۹۱ )

یہ نماز بھی کسی مخصوص فرمان کے اور مکان کے ساتھ مختص نہیں ہے لیکن آخر میں سورہ اخلاص اور اسی طرح دعاؤں کا پڑھنا چاہیے جنکا ذکر کیا گیا ہے۔

۳ ۔مسجد جمکران کی نماز

جناب حسن بن مثلہ جمکرانی لکھتے ہیں کہ امام زمان نے فرمایا کہ لوگوں سے کہو کہ اس مکان کی طرف زیادہ رغبت کریں اس جگہ کا احترام کریں اس مکان میں چار رکعت نماز پڑھیں دو رعکت تحیہ مسجد کہ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور سو مرتبہ سورہ اخلاص کو پڑھے اور ہر رکوع اور سجدہ میں سات مرتبہ ذکر پڑھے اور دو رکعت نماز صاحب الزمان پڑھے اس ترتیب سے:

سورہ فاتحہ پڑھے اور جب ایّاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچے تو اس کو سو مرتبہ پڑھے جب نماز تمام کرے تو تھیلیل کہے اور حضرت فاطمہ الزھرا کی تسبیح پڑھے جب تسبیح تمام کرے تو سو مرتبہ محمد و آل محمد پر درود بھیجے جو بھی یہ نماز پڑھے گویا ایسا ہے کہ اس نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔

۴ ۔ امام زمانہ کی نماز حلّہ اور نعمانیہ میں

عالم جلیل میرزا عبداللہ اصفہانی کتاب ریاض العلماء کے جلد پنجم میں شیخ ابن ابوجواد نعمانی کے حالات میں لکھتے ہیں یہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنھوں نے غیبت کبری کے زمانے میں امام زمانہ سے ملاقات کی ہے اور اس نے حضرت سے ایک روایت نقل کی ہے۔

کسی ایک کتاب میں دیکھا کہ شاگرد شہید کے خط سے لکھا ہوا تھا کہ ابن ابوجواد نعمانی نے حضرت مہدی کو دیکھا اور حضرت نے عرض کیا اے میرے مولا آپ ایک مقام نعمانیہ میں اور ایک مقام حلہ میں رکھتے ہیں وہاں کس وقت تشریف رکھتے ہیں حضرت نے فرمایا منگل کو دن اور رات نعمانیہ میں اور حلہ میں جمعہ کو دن اور رات ہوتاہوں لیکن حلہ کے لوگ میرے مقام کا احترام اور آداب کی رعایت نہیں کرتے ہیں جو بھی احترام کے ساتھ وہاں پر داخل ہو اور اس جگہ کو محترم شمار کرے مجھ پر اور اماموں کو سلام کرے نیز مجھ پر اور اماموں پر بارہ مرتبہ درود بھیجے اس کے بعد دو رکعت نماز‘ دو سوروں کے ساتھ پڑھے اور نماز میں خدا کے ساتھ مناجات کرے جو حاجات بھی رکھتاہو اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتاہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے مولا ان مناجات کو یاد کرادیں فرمایا کہو ص ۱۳۰

حضرت نے تین مرتبہ اس دعا کو تکرار کیا یہاں تک کہ میں نے اس کو سمجھا اور حفظ کی

۵ ۔ امام زمانہ کی ایک اور نماز

جناب الخلود میں نقل کیا ہے رات سوتے وقت ایک پاک برتن میں پانی ڈال کر پاک کپڑا اس پر ڈال کر سرہانے رکھے جب آخری شب نماز شب کے لئے بیدار ہوجائے تو اس سے تین گھونٹ پانی پی لے اس کے بعد باقی پانی سے وضو کرلے اور قبلہ کی طرف منہ کرے اذان اور اقامہ کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اس میں جو سورہ پڑھنا چاہئے پڑھ سکتاہے اور رکوع میں پچیس ( ۲۵) مرتبہ کہے یا غیاث المستغیثین اور رکوع کے بعد پچیس ( ۲۵) مرتبہ یہی پڑھے اسی طرح پہلے سجدہ میں بھی اور سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد بھی ہر ایک میں پچیس مرتبہ کہے اور دوسری رکعت کو بھی اسی کیفیت کے ساتھ انجام دے مجموعاً تین سو مرتبہ کہے نماز کے بعد اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرے اور تیس مرتبہ کہے من العبد الذلیل الی المولی الجلیل اس کے بعد اپنی حاجت مانگے انشاء اللہ جلد از جلد حاجت قبول ہوگی۔ اس نماز کو کتاب جنات الخود میں امام زمانہ کی طرف نسبت دی ہے لیکن مرحوم محدث قمی نے کتاب الباقیات الصالحات میں اس کو نماز استغاثہ کے عنوان سے نقل کیا ہے اور اس کو امام زمانہ کی طرف نسبت نہیں دی ہے۔

۶ ۔ نماز اور دعائے توجہ

احمد بن ابراھیم کہتاہے امام زمانہ کی زیارت کا شوق میرے دل میں پیدا ہوا اس لئے جناب ابوجعفر محمد بن عثمان سے شکایت کی جو نواب اربعہ میں سے ایک تھا جناب محمد بن عثمان نے فرمایا کہ کیا دل سے آرزو رکھتے ہو کہ امام زمانہ کی ملاقات ہوجائے میں نے کہا ہاں فرمایا خداوند تعالیٰ کے تمہاری آرزو کو پورا کرے میں تمہارا معاملہ آسان دیکھتاہوں ای ابا عبداللہ ان کی زیارت کا التماس نہ کرو چونکہ غیبت کبریٰ کے دوران ان کی زیارت کا اشتیاق رہتاہے لیکن اس اجتماع سے ان سے سوال نہیں کیا جاسکتاہے یہ آیات الٰہی میں سے ہے لیکن اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے لیکن جب آپ اس کی طرف توجہ کرنا چاہیں تو اس زیارت کے ساتھ حضرت کی طرف متوجہ ہوجائیں زیارت اس طرح کریں بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور تمام رکعتوں میں سورہ قل ھو اللہ پڑھے جب محمد و آل محمد پر درود بھیجے تو اس طرح سے خدا سے کلام کرےسلام علی آل یسین ذالک وهوالفضل المبین من عند الله والله ذوالفضل العظیم امامه من یهدیه صراطه المستقیم قد آتاکم الله خلافته یا آل یاسین ۔

۷ ۔ نماز اور دعائے فرج

مہم مشکلات دور کرنے کے لیئے ابو جعفر محمد بن جریر طبری مسند فاطمہ میں کہتے ہیں کہ ابو حسین کا تب نے کہا ابو منصور وزیر کی طرف سے میں نے ایک کام کی ذمہ داری لے لی اس ضمن میں میرے اور اس کے درمیان اختلاف واقع ہوا نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں اس کے ڈر سے چھپ گیا وہ مجھے تلاش کرنے لگا اور مجھے دھمکی بھی دی میں نے ایک مدت تک خوف اور ڈر کی وجہ سے چھپ کر زندگی گزاری میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ شب جمعہ حضرت امام موسیٰ کاظم کی مرقد پر حاضری دوں تا کہ رات کو دعاکروں اور حاجات مانگوں میں حرم میں داخل ہوا تیز بارش ہورہی تھی ابن جعفر خادم حرم سے خواہش کی کہ حرم کے دروازوں کو بند کردے تا کہ حرم میں تنہا ہی رہوں تا کہ رات کو تنہائی میں جو حاجت مانگنا چاہوں مانگوں اور جس سے میں ڈرتا تھا اس سے امن میں رہوں اس نے میری بات مانی اور دروازوں کو بند کردیا آدھی رات کو تیز بارش ہوئی لوگوں کا اس جگہ پر آنا جانا بند ہوا حرم مکمل طور پر تنہا ہوا میں راز و نیاز میں مشغول تھا دعا پڑھتا تھا زیارت کرتا تھا اور نماز پڑھتا تھا اچانک روضہ مطہرہ کے پاؤں کی طرف سے ایک آواز آئی ایک شخص زیارت میں مشغول تھا اس کے بعد اس نے حضرت آدم اور اولوالعزم پیغمبروں پر سلام بھیجا اس کے بعد ایک ایک امام پر سلام بھیجا یہاں تک کہ جب آخری امام کا نام آیا تو اس کا نام نہیں لیا مجھے اس عمل سے تعجب ہوا اپنے آپ سے کہا شاید انہوں نے فراموش کیا ہو یا اس کو نہیں جانتاہو یا اس شخص کا مذہب ایسا ہے جب وہ زیارت سے فارغ ہوئے تو دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد امام جواد کے مرقد کی طرف گیا اسی طرح زیارت کی اور سلام کیا اور دو رکعت نماز پڑھی میں ان کو نہیں جانتا تھا اس لیئے میں اس سے ڈرتا تھا وہ ایک مکمل جوان تھا سفید لباس پہنے ہوئے تھے سر پر عمامہ کے ساتھ تحت الحنک تھا اور بدن پر عباء تھی وہ میری طرف متوجہ ہوا اور فرمایا اے ابوحسین تم دعا ے فرج کیوں نہیں پڑھتے ہو میں نے عرض کیا کہ دعاء فرج کونسی ہے اے میرے آقا تو فرمایا دو رکعت نماز پڑھو اور کہو

يا مَنْ أَظْهَرَ الْجَميلَ وَسَتَرَ الْقَبيحَ ، يا مَنْ لَمْ يُؤاخِذْ بِالْجَريرَةِ وَلَمْ يَهْتِكِ السِّتْرَ ، يا عَظيمَ الْمَنِّ ، يا كَريمَ الصَّفْحِ ، يا مُبْتَدِئَ النِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها ، يا حَسَنَ التَّجاوُزِ ، يا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ ، يا باسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ ، يا مُنْتَهى كُلِّ نَجْوى ، وَيا غايَةَ كُلِّ شَكْوى ، وَيا عَوْنَ كُلِّ مُسْتَعينٍ ، يا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها ،

”یٰا ربّٰا ہُ “ دس ۱۰ مرتبہ ”یٰا سَیَّدٰاہُ “ دس ۱۰ مرتبہ ، ” یٰا مَوْلاٰہُ ( یٰا مَوْلَیٰاہُ ) “ دس ۱۰ مرتبہ ،”یٰا غٰایَتٰاہُ“د س ۱۰ مرتبہ ،”یٰا مُنْتَھیٰ رَغْبَتٰاہُ“ دس ۱۰ مرتبہ ۔

أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هذِهِ الْأَسْماءِ ، وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ إِلّا ما كَشَفْتَ كَرْبي ، وَنَفَّسْتَ هَمّي ، وَفَرَّجْتَ عَنّي ، وَأَصْلَحْتَ حالي

اس کے بعد جو دعاء مانگنا چاہو مانگو اس وقت دایاں رخسار کو زمین پر رکھو اور سجدہ میں سو مرتبہ کہو

يا مُحَمَّدُ يا عَلِيُّ ، يا عَلِيُّ يا مُحَمَّدُ ، إِكْفِياني فَإِنَّكُما كافِياني ، وَانْصُراني فَإِنَّكُما ناصِراني

اس کے بعد بائیں رخسار کو زمین پر رکھے اور سو مرتبہ کہے ادرکنی یا اس سے زیادہ تکرار کرے اور کہو الغوث الغوث ایک سانس لینے کی مقدار تکرار کرے اور سجدہ سے سر اٹھائے خداوند تعالیٰ اپنے کرم سے تیری حاجت کو قبول کرے گا ان شاء اللہ۔

جس وقت میں نماز اور دعا میں مشغول ہوا وہ باہر چلے گئے میں نے نماز اور دعا تمام کی اور آیاتا کہ ابن جعفر سے اس شخص کے بارے میں پوچھوں کہ وہ کس طرح حرم میں داخل ہوا ہے تو میں نے دیکھا کہ تمام دروازے بند ہیں اور تالا لگا یا ہوا ہے میں نے تعجب کیا اپنے آپ سے کہا شاید یہ یہاں سویا ہوا ہو اورمجھے معلوم نہ ہو میں ابن جعفر کے پاس گیا وہ اس کمرہ سے کہ جس میں حرم کے تیل سے چراگ جل رہا تھا وہاں سے باہر آیا میں نے اس واقعہ کے بارے میں اس سے پوچھا اس نے کہا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دروازے بند ہیں میں نے سامنے سارا واقعہ بیان کیا اس نے کہا وہ ہمارے مولیٰ صاحب الزمان تھے اور میں نے ایسے موقع پر جب حرم لوگوں سے خالی ہو تو ان کو دیکھا ہے اس نے اس وقت امام کی ملاقات سے محروم ہونے پر افسوس کیا طلوع فجر کے نزدیک حرم مطہر سے باہر آیا اور مقام کرخ کہ جہاں میں چھپا ہوا تھا وہاں پر گیا ابھی ظہر کا وقت نہیں ہوا تھا کہ ابومنصور کے مامور مجھ سے ملاقات کی تلاش میں تھے اور میرے دوستوں سے پوچھ گچھ کرتے تھے ان کے پاس وزیر کی طرف سے ایک امان نامہ تھا اس میں سب نیکیاں لکھی ہوئی تھی میں اپنے کسی ایک دوست کے ساتھ وزیر کے پاس چلا گیا وہ اٹھا اور مجھے بغل گیر کیا میرے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ جو آج تک نہیں دیکھا تھا اور کہا اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ میری شکایت امام زمانہ سے کرتے ہو میں نے کہا کہ میں نے اپنی طرف سے دعا اور درخواست تھی اس نے کہا وائے ہو تجھ پر گذشتہ رات یعنی شب جمعہ خواب میں امام زمان کو دیکھا وہ مجھے اچھے کاموں کا حکم دیتے تھے لیکن اس دفعہ اتنی سختی سے پیش آئے کہ میں ڈر گیا میں نے ان سے کہا لا الہ الا اللہ میں گواہی دیتاہوں کہ وہ حق ہیں گذشتہ شب اپنے مولیٰ کی بیداری کی حالت میں زیارت کی ہے اور مجھ سے وہ باتیں کہیں جو کچھ میں نے حرم امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام ) میں دیکھا تھا وہ سب بتادیا اس نے اس واقعہ سے تعجب کیا اور اس نے بہت بری نیکی کو میرے حق میں انجام دیا اور اس کی طرف سے ایسے مقام پر پہنچا کہ میں گمان نہیں کرتا تھا اور یہ سب کچھ صاحب الزمان کی برکت سے ہوا ہے۔

علامہ شیخ علی اکبرنھاوندی الحبقری الحسان میں کہتے ہیں میں نے یہ عمل کئی مرتبہ تجربہ کیا ہے اور میں نے حاجت روائی کے لئے بہت زیادہ موثر دیکھا اس لئے میں چاہتاہوں کہ اس کے موثر ہونے کو اس کے ہم عصر مرحوم ملا محمود عراقی نے جو داراالسلام میں نقل کیا ہے اس کو ذکر کروں اس کتاب میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: میں نے اس دعا میں بہت زیادہ معجزہ دیکھا ہے چونکہ اس عمل سے تعجب انگریز آثار کو دیکھا ہے سب سے پہلے یہ نعمت بارہ سو پینسٹھ ہجری میں ملی میں تہران میں امام جمعہ تبریز حاج میرزا باقر تبریزی کے ساتھ آقائی مھدی ملک کے گھر میں مہمان تھا وہ کسی وجہ سے تہران چلے گئے دوبارہ تبریز آنا ممنوع تھا مجھے بھی ان سے جو محبت تھی خرچہ نہ ہونے کے باوجود سفر کیا میں اپنے گھر نہیں لوٹ سکتا تھا چونکہ امام جمعہ کا مہمان تھا خوراک اس کے ساتھ تھی لیکن اور خرچ بھی تھا اور میں اس شہر والوں کے ساتھ آشنا نہیں تھا کسی سے قرض بھی نہیں لے سکتا تھا اس لئے مجھے ذرا تکلیف تھی ایک دن امام جمعہ کے ساتھ صحن میں چار دیواری کے اندر بیٹھا ہوا تھا آرام کر رہا تھا ظہر کے وقت نماز کے لئے اوپر والے کمرہ میں چلا گیا نماز میں مشغول تھا نماز کے بعد الماری میں ایک کتاب کو دیکھا بحارالانوار کی تیرھویں جلد کا ترجمہ تھا اس میں امام زمانہ کے حالت موجود تھے میں نے اس کتاب کو کھولا یہ روایت معجزات کے بارے میں ملی میں نے اپنے آپ سے کہا اس حالت میں جو مجھے سختی ہے میں اس عمل کا تجربہ کرتاہوں اٹھا نماز دعا اور سجدہ کو بجالایا اپنے مشکل کام کے لئے دعا مانگی کمرہ سے باہر آکر امام جمعہ کے پہلو میں بیٹھا اچانک ایک مرد گھر کے دروازے سے داخل ہوا اور امام جمعہ کو ایک خط دیا اور اس کے پاس ایک سفید رومال رکھا امام جمعہ نے خط پڑھا اس کو رومال کے ساتھ مجھے دیا اور کہا یہ تمہارا مال ہے میں نے خط پڑھا خط کو آقا علی اصغر تاجر تبریزی نے لکھا تھا وہ مکتوب اور بیس تومان رومال میں رکھ کر امام جمعہ کو لکھا کہ یہ رقم فلان شخص کو دیدیں میں نے اس واقعہ کی پوری تحقیق کی خط آنے کا رومال آنے کا زمانہ اور عمل کا زمانہ ایک تھا مجھے اس واقعہ سے تعجب ہوا سبحان اللہ کہہ کر ہنس دیا امام جمعہ نے تعجب کی وجہ کو پوچھا میں نے سارا واقعہ بتادیا میں نے کہا کہ جلدی اٹھیں اور انجام دیں وہ اٹھا اسی کمرہ میں گیا نماز ظہر اور عصر پڑھی اس کے بعد اس عمل کو انجام دیا ابھی تھوڑا وقت گزرا تھا کہ خبر پہنچی کہ امیر نے اس کو تہران میں حاضر کر کے اس کو معزول کردیا اور اس کو کاشان بھیجا ہے شاہ نے امام جمعہ سے معذرت کرلی اور اس کو احترام کے ساتھ تبریز بھیجا اس کے بعد میں نے اس عمل کو ذخیرہ کیا سختی میں اور مشکل حاجات میں اس کو انجام دیتا تھا میں نے عجیب و غریب آثار کا مشاہدہ کیا ایک سال وباء کی بیماری نجف اشرف میں پھیلی بہت زیادہ لوگ مرگئے لوگ اس ڈر سے مضطرب ہوگئے اس لئے میں شہر کے چھوٹے دروازہ سے باہر چلا گیا اور دروازہ کے باہر ایک خالی جگہ پر اس عمل کو انجام دیا اور خدا سے چاہا کہ یہ بیماری دور ہوجائے دوسروں کو اطلاع دئے بغیر شہر لوٹ آیا دوسرے دن وباء بیماری کے ختم ہونے کی خبر لوگوں کو دے دی جاننے والے کہنے لگے کہ آپ کیسے یہ کہتے ہو میں نے کہا میں اس کی وجہ نہیں بتاتا لیکن تم تحقیق کرلو کل رات کے بعد اگر کوئی اس بیماری میں مبتلا ہوا تو تم سچے ہو انہوں نے کہا کہ فلانی فلانی آج رات اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہے میں نے کہا ایسا نہیں ہے یقینا کل ظہر سے پہلے یا اس سے پہلے بیمار ہوا ہے تحقیق کی تو انہوں نے دیکھا جیسا میں نے کہا تھا وہ صحیح نکلااس کے بعد بیماری کے کوئی نشان دکھائی نہیں دیا لوگوں نے اس سال بیماری سے نجات حاصل کی لیکن اس کی علت کو نہیں سمجھ سکے کئی بار ایسا ہوا ہے کئی برادران کو سختی میں دیکھا اور اس عمل کو ان کو یاد کرادیا جلدی ان کے مشکلات حل ہوئے یہاں تک کہ ایک دن اپنے کسی برادر کے وہاں تھا اس کے لئے کوئی مشکلات تھیں اس کی مشکل سے باخبر ہوا میں نے یہ عمل اس کو سکھادیا گھر واپس آیا تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر کوئی آیا تو اسی شخص کو دیکھا کہ کہتا تھا اسی دعا کی برکت سے میرا مشکل حل ہوا کچھ رقم اس کو ملی کہا تمہیں جتنی ضرورت ہے لے لے میں نے کہا اس عمل کی برکت سے میں محتاج نہیں ہوں لیکن یہ بتاؤ کہ تمہاری مشکل کس طرح حل ہوا اس نے کہا آپ کے جانے کے بعد حرم امیرالمومنین میں چلا گیا اور اس عمل کو انجام دیا روضہ مطہر سے باہر نکلا صحن میں کسی ایک شخص سے ملاقات کی مجھے جتنی رقم کی ضروت تھی اتنی رقم دیکر چلا گیا۔ خلاصہ یہ کہ میں نے اس عمل کا بہت زیادہ اثر دیکھا ہے کہ جلد از جلد میری حاجت قبول ہوئی ہے لیکن جہاں محتاج نہیں اور کوئی اضطرار موجود نہیں وہاں کسی کو نہیں دیاہے میں نے خود بھی فائدہ نہیں اٹھایا اس لئے جب خود اس بزرگوار نے اس دعا کا فرج نام رکھا ہے اس سے پتہ چلتاہے کہ یہ دعا سختی اور تکلیف کے وقت بہت زیادہ موثر ہے۔

۸- امام زمانہ کا نماز استغاثہ

امام زمانہ کی نماز استغاثہ اس طرح ہے کہ سید علی خان کلم الطیب میں فرمایا ہے یہ استغاثہ ہے امام زمانہ سے جہاں پر بھی ہو دو رکعت نماز حمد اور سورہ کیساتھ پڑھ لیں پس قبلہ کی طرف منہ کر کے آسمان کے نیچے بیٹھیں اور کہیں دعا:

سَلامُ اللَّهِ الْكامِلُ التَّامُّ الشَّامِلُ الْعامُّ ، وَصَلَواتُهُ الدَّائِمَةُ وَبَرَكاتُهُ الْقائِمَةُ التَّامَّةُ ، عَلى حُجَّةِ اللَّهِ وَوَلِيِّهِ في أَرْضِهِ وَبِلادِهِ ، وَخَليفَتِهِ عَلى خَلْقِهِ وَعِبادِهِ ، وَسُلالَةِ النُّبُوَّةِ ، وَبَقِيَّةِ الْعِتْرَةِ وَالصَّفْوَةِ ، صاحِبِ الزَّمانِ ، وَمُظْهِرِ الْإيمانِ ، وَمُلَقِّنِ أَحْكامِ الْقُرْآنِ ، وَمُطَهِّرِ الْأَرْضِ ، وَناشِرِ الْعَدْلِ فِي الطُّولِ وَالْعَرْضِ ، وَالْحُجَّةِ الْقائِمِ الْمَهْدِيِّ ، اَلْإِمامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِيِّ ، وَابْنِ الْأَئِمَّةِ الطَّاهِرينَ ، اَلْوَصِيِّ بْنِ الْأَوْصِياءِ الْمَرْضِيّينَ ، اَلْهادِي الْمَعْصُومِ بْنِ الْأَئِمَّةِ الْهُداةِ الْمَعْصُومينَ

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُعِزَّ الْمُؤْمِنينَ الْمُسْتَضْعَفينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُذِلَّ الْكافِرينَ المُتَكَبِّرينَ الظَّالِمينَ

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلايَ يا صاحِبَ الزَّمانِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ سَيِّدَةِ نِساءِ الْعالَمينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ الْأَئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُومينَ وَالْإِمامِ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلايَ سَلامَ مُخْلِصٍ لَكَ فِي الْوِلايَةِ

أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمامُ الْمَهْدِيُّ قَوْلًا وَفِعْلًا ، وَأَنْتَ الَّذي تَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً ، بَعْدَ ما مُلِئَتْ جَوْراً وَظُلْماً ، فَعَجَّلَ اللَّهُ فَرَجَكَ ، وَسَهَّلَ مَخْرَجَكَ ، وَقَرَّبَ زَمانَكَ ، وَكَثَّرَ أَنْصارَكَ وَأَعْوانَكَ ، وَأَنْجَزَ لَكَ ما وَعَدَكَ ، فَهُوَ أَصْدَقُ الْقائِلينَ « وَنُريدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوارِثينَ »

يا مَوْلايَ يا صاحِبَ الزَّمانِ ، يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، حاجَتي كَذا وَكَذا ، ثمّ اذكر حاجتك وقل : فَاشْفَعْ لي في نَجاحِها ، فَقَدْ تَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ بِحاجَتي ، لِعِلْمي أَنَّ لَكَ عِنْدَ اللَّهِ شَفاعَةً مَقْبُولَةً ، وَمَقاماً مَحْمُوداً ، فَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّكُمْ بِأَمْرِهِ ، وَارْتَضاكُمْ لِسِرِّهِ ، وَبِالشَّأْنِ الَّذي لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ ، سَلِ اللَّهَ تَعالى في نُجْحِ طَلِبَتي ، وَ إِجابَةِ دَعْوَتي ، وَكَشْفِ كُرْبَتي

کذا کذا کی جگہ اپنی حاجت کو بیان کریں اور دعا کریں جو بھی چاہیں تو وہ حاجت قبول ہوگی۔

علامہ بزرگوار شیخ محمود عراقی کتاب دارالسلام میں کہاہے کہ میں نے اس عمل سے تجربہ کیا اس سے تعجب انگیز آثار کو مشاہدہ کیا دوسرا سفر بارہ سو پچھتر ہجری میں کی

علماء میں سے ایک نے اس عمل کا تجربہ کیا اور اپنے مہم امور میں اس نے عمل کیا جو اہلیت نہیں رکھتا تھا اس کو یاد نہیں کرتے تھے میں نے اس عمل کو اس سے دریافت کیا ہے۔ درالسلام میں کہا ہے ظاہر یہ ہے کہ چاہیئے اس نماز میں سورہ فتح اور سورہ نصر کو پڑھا جائے ہم عصر فاضل کا بھی یہی نظریہ تھا بعید نہیں کہ اس کا وقت بھی آدھی رات ہو چونکہ راوی نے اس وقت اس عمل کے بجا لانے کا حکم دیا ہے اور کلام میں اس وقت کے علاوہ کوئی اور وقت نہیں ہے قدر متعین وہی آخری آدھی رات کا وقت ہے اس عالم نے بھی آخری شب کا وقت معین نہیں کیا فاضل ہم عصر کتاب البلاد الامین سے کفحمی نے نقل کیا ہے علاوہ اس کے کہ دونوں سورہ میں ہیں چاہے کہ نماز اور زیارت سے پہلے غسل کرلے اس نے کتاب مصباح الزائر میں نقل کیا ہے کہ سورہ معین نہیں ہے اس بناء پر سورہ کاتعین اظہر ہے وقت کا تعین بھی اگر اقویٰ نہ ہو تو احوط ہے لیکن اظہر یہ ہے کہ نماز اور زیارت سے پہلے غسل کا کوئی اعتبار نہیں ہے اگر چہ مستحب ہے کہ غسل کرے۔

۹ ۔ امام زمانہ کی خدمت میں نماز ہدیہ

سید بن طاوؤس فرماتے ہیں کہ ابو محمد صمیری سلسلہ سند کے ساتھ ائمہ معصومین سے نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں اگر ممکن ہو نماز واجب اور نافلہ نماز میں اضافہ کرنا۔ تو اضافہ کرے اگر چہ دو ررکعت کی مقدار پر زور بجالائے اور اس کو ہر روز آئمہ معصومین کی خدمت میں ھدیہ بھیجے اس طریقے پر کہ اپنی نماز کو پہلی رکعت میں شروع کرے واجب نماز کی طرح ساتھ مرتبہ تکبیر یا تین مرتبہ یا ایک مرتبہ رکوع وسجود کے ذکر کے بعد تین مرتبہ کہے صلی اللہ علی محمد و آلہ الطیبین الطاہرین پس تشہد اور اسلام کے بعد چودہویں دن کے بعد نماز امام حاضر کی خدمت میں ھدیہ کرنے اور کہے ۱۴۳ اللھم ۔۔ انت تا آخر

۱۰ ۔ امام زمانہ کے لئے نماز کا ھدیہ

شیخ بزرگوار ابوجعفر طوسی کتاب مصباح کبیر میں کہتے ہیں نماز ھدیہ آٹھ رکعت ہے معصوم اماموں سے روایت ہوئی ہے انسان کے لئے ضروری ہے کہ جمعہ کے دن آٹھ رکعت نماز پڑھے چار رکعت رسول خدا کی خدمت میں دوسرے چار رکعت حضرت فاطمہ زھراء کے لئے ھدیہ کرے پھر اسی طرح ہر روز چار رکعت پڑھے اور آئمہ میں سے کسی ایک کے لئے ھدیہ پیش کرے جمعرات کے دن چار رکعت نماز پڑھے اور امام صادق(علیہ السلام ) کو ھدیہ پیش کرے۔

جمعہ کے دن دوبارہ آٹھ رکعت نماز پڑھے چار رکعت حضرت رسول کے لئے اور چار رکعت حضرت فاطمہ زھرا کے لئے ھدیہ کرے اس کے بعد ہفتہ کے دن چار رکعت نماز پڑھے اور حضرت امام کاظم کو ھدیہ پیش کرے اور اسی طرح جمعرات کے دن چار رکعت نماز پڑھے اور حضرت امام زمانہ کے لئے ھدیہ پیش کرے اور دو رکعت کے درمیان اس دعا کو پڑھے

أَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، وَ إِلَيْكَ يَعُودُ السَّلامُ ، حَيِّنا رَبَّنا مِنْكَ بِالسَّلامِ أَللَّهُمَّ إِنَّ هذِهِ الرَّكَعاتِ هَدِيَّةٌ مِنّي إِلَى الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبَلِّغْهُ إِيَّاها ، وَأَعْطِني أَفْضَلَ أَمَلي وَرَجائي فيكَ ، وَفي رَسُولِكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ]وَفيهِ[ ، وتدعو بما

جو چاہتاہے اس کے لئے بھی دعا مانگے۔

۱۱ ۔ امام زمانہ کے لئے نماز استغاثہ

کتاب التحفة الرضویہ میں لکھتے ہیں عالم بزرگوار سید حسین ھمدانی نجفی نے مجھ سے کہا جس کسی کو کوئی حاجت ہو جمعرات اور جمعہ کی رات آسمان کے نیچے حالانکہ سر اور پاؤں برہنہ ہوں دو رکعت نماز پڑھے نماز کے بعد اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرے پانچسو نوے مرتبہ کہے یا حجة القائم اس کے بعد سر کو سجدہ میں رکھے اور ستر مرتبہ کہے یا صاحب الزمان اغثنی اور اپنی حاجت کی درخواست کرے یہ عمل ہر مہم حاجت کے لئے مجّرب ہے اگر ان دو راتوں میں حاجت پوری نہ ہو دوبارہ دوسرے ہفتہ میں اس عمل کو انجام دے اگر پھر بھی حاجت قبول نہ ہوئی دوبارہ تیسرے ہفتہ میں انجام دے یقینا اس کی حاجت قبول ہوگی صاحب کتاب التحفة الرضویہ نے کہا ہے کہ سید محمد علی جواہری حائری نے مجھ سے نقل کیا ہے کہ جو اس نماز کو حاجت کے لئے انجام دیتاہے اسی رات حضرت امام مھدی کو خواب میں دیکھتاہے اور اپنی حاجت کو حضرت کی خدمت میں پیش کرتاہے خداوند تعالیٰ امام زمانہ کی برکت سے اس کی مشکل کو حل اور اس کی حاجت کو پوری کرتاہے۔

۱۲ ۔ نماز استغاثہ کا ایک اور طریقہ

علامہ بزرگوار صدر الاسلا م ھمدانی اپنی عمدہ کتاب تکالیف الانام فی غیبة الامام میں اس عمل کو ایک اور طریقہ سے نقل کیا ہے اس نے سید سند استاد اور عالم ربّانی حکیم فقیہ پرہیزگار سید محمد ہندی نجفی سے اس نے عالم بزرگوار سید حسن قزوینی سے اس نے سید حسین شوشتری امام جماعت سند کے ساتھ سید علی خان سے نقل کیا ہے۔ جو صحیفہ سجادیہ کا شارح ہے کہتاہے کہ شب جمعرات اور جمعہ شب جمعہ آسمان کے نیچے چھت کے اوپر سر برہنہ دو رکعت نماز پڑھتا تھا اس کے بعد ۵۹۵ مرتبہ کہتا تھا یا حجة اللہ سے مجموع عدد وہی عبارت ہوتی ہے اور اس توسل کی تاثیر پر تجربہ ہوا ہے وہ اضافہ کرتاہے کہ عدد یا حجة القائم عبارت ہے ۱۰+ ۱ + ۸+ ۳+ ۱۰۰+ ۱-+ ۳۰ + ۱۰۰ + ۱ + ۴۰) کہ مجموعی طور پر ۵۹۵ ہے یہ ایک خاص عمل میں ہے اس کی حفاظت کی کوشش کریں میں نے بارھا اس عمل کے ساتھ تجربہ کیا ہے۔

۱۳ ۔ شبع جمعہ میں امام زمانہ کی نماز

سید بزرگوار علی بن طاوؤس فرماتے ہیں کتاب کنوز النجاح فقیہ ابو علی فضل بن حسن طبرسی کی ہے اس میں دیکھا ہے کہ ہمارے امام زمانہ سے اس طرح منقول ہے حسین بن محمد بزوفری کہتاہے کہ صاحب العصر کی جانگ سے اس طرح صادر ہوا ہے جس کسی کو خدا سے کوئی حاجت ہو شب جمعہ آدھی رات کے بعد غسل کرے اور نماز پڑھنے کی جگہ جائے اور دو رکعت نماز پڑھ لے پہلی رکعت میں سورہ حمد کو پڑھ لے جب ایّاک نعبد و ایّاک نستعین تک پہنچے تو سو مرتبہ اس آیہ کو دھرائے اس کے بعد آخری سورة تک پڑھ لے اور ایک مرتبہ سورہ توحید پڑھ لے اس کے بعد رکوع اور سجود بجا لائے اور اس کے ذکر کو سات مرتبہ پڑھے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طریقے پر پڑھے اور یہ دعا پڑھے اس کے بعد جو حاجت بھی ہو سوائے قطع صلہ رحم کے علاوہ جو بھی چاہے خدا سے مانگے اللہ تعالیٰ یقینا اس کی حاجت کو پوری کرے گا۔

اور دعا یہ ہے

أَللَّهُمَّ إِنْ أَطَعْتُكَ فَالْمَحْمَدَةُ لَكَ ، وَ إِنْ عَصَيْتُكَ فَالْحُجَّةُ لَكَ ، مِنْكَ الرَّوْحُ وَمِنْكَ الْفَرَجُ ، سُبْحانَ مَنْ أَنْعَمَ وَشَكَرَ ، سُبْحانَ مَنْ قَدَرَ وغَفَرَ

أَللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ قَدْ عَصَيْتُكَ ، فَإِنّي قَدْ أَطَعْتُكَ في أَحَبِّ الْأَشْياءِ إِلَيْكَ وَهُوَ الْإيمانُ بِكَ ، لَمْ أَتَّخِذْ لَكَ وَلَداً ، وَلَمْ أَدْعُ لَكَ شَريكاً ، مَنّاً مِنْكَ بِهِ عَلَيَّ لا مَنّاً مِنّي بِهِ عَلَيْكَ ، وَقَدْ عَصَيْتُكَ يا إِلهي عَلى غَيْرِ وَجْهِ الْمُكابَرَةِ ، وَلَا الْخُرُوجِ عَنْ عُبُودِيَّتِكَ ، وَلَا الْجُحُودِ لِرُبُوبِيَّتِكَ ، وَلكِنْ أَطَعْتُ هَوايَ ، وَأَزَلَّنِي الشَّيْطانُ

فَلَكَ الْحُجَّةُ عَلَيَّ وَالْبَيانُ ، فَإِنْ تُعَذِّبْني فَبِذُنُوبي غَيْرَ ظالِمٍ ، وَ إِنْ تَغْفِرْ لي وَتَرْحَمْني ، فَإِنَّكَ جَوادٌ كَريمٌ ، يا كَريمُ يا كَريمُ

ایک سانس میں جتناپڑھ سکتا ہے پڑھے پھر کہے:

يا آمِناً مِنْ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، وَكُلُّ شَيْ‏ءٍ مِنْكَ خائِفٌ حَذِرٌ ، أَسْأَلُكَ بِأَمْنِكَ مِنْ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، وَخَوْفِ كُلِّ شَيْ‏ءٍ مِنْكَ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني أَماناً لِنَفْسي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَسائِرِ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، حَتَّى لا أَخافَ أَحَداً ، وَلا أَحْذَرَ مِنْ شَيْ‏ءٍ أَبَداً ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكيلُ

يا كافِيَ إِبْراهيمَ نُمْرُودَ ، يا كافِيَ مُوسى فِرْعَوْنَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تَكْفِيَني شَرَّ فُلانِ بْنِ فُلانٍ

اور فلان بن فلان کی جگہ کہ جس شخص کے شر سے ڈرتاہے اس کا نام لے خداوند تعالیٰ ان شاء اللہ اس کے شر سے محفوظ رکھے گا اس کے بعد سجدہ میں چلا جائے اور اپنی حاجت خدا سے مانگے اور خدا سے تضرع اور زاری کرے چونکہ کوئی مومن مرد یا عورت نہیں ہے کہ جو بھی یہ نماز پڑھ لے اور اس دعاء کے ساتھ خلوص کے ساتھ نیت کرے مگر یہ کہ آسمان کے دروازے اجابت کے لئے اس کی طرف کھل جاتے ہیں۔ اسی وقت اور اسی رات جو حاجت بھی ہو قبول ہوجائے گی یہ اللہ کا فضل ہمارے لئے اور لوگوں کے لئے ہے۔

۱۴ ۔ امام زمانہ کی ایک اور نماز

نجم الثاقب میں اس نماز کو کتاب سید فضل اللہ راوندی سے یہ نماز حضرت امام زمانہ کے عناون سے نقل کیا ہے اور کہا ہے نماز تمام ہونے کے بعد سو مرتبہ درود بھیجے لیکن جس دعا کو میں نے ذکر کیا تھا اس کو بیان نہیں کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ نماز خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

۱۵ ۔ ستائیس ماہ رجب کے دن کی نماز

احمد بن علی بن روح کہتاہے اس نماز کو محسن بن عبدالحکیم سجری نے میرے لئے نقل کیا ہے اور میں نے اس کو اس کی کتاب سے لکھا ہے وہ کہتا تھا میں نے اس نماز کو کتاب ابونصر جعفر بن محمد سے لکھا ہے وہ کہتا تھا کہ یہ نماز ابوالقاسم حسین بن روح کی طرف سے صادر ہوئی ہے۔ ستائیس رجب کے دن کی نمازیں اس میں بارہ رکعت نماز کا ذکر ہوا ہے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کو جس سورہ کے ساتھ چاہیں پڑھ لیں اور نماز تمام کریں پس ہر دو رکعت کے بعد یہ دعا پڑھے ۱۴۸ الحمد اللہ

جب نماز اور دعا پڑھ لے تو سورہ حمد اور قل ھوا اللہ احد قل یا ایھالکافرون۔ معوذتین۔ انا انزلناہ فی لیلة القدر آیہ الکرسی ہر ایک کو سات مرتبہ پڑھ لے اس کے بعد سات مرتبہ کہے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ ولا حول ولا قوة الا باللہ پھر اس کے بعد سات مرتبہ پڑھیں اللہ اللہ ربّی لا اشرک بہ شیئاً اس کے بعد جو پسند کریں دعا مانگیں

۱۶ ۔ پندرہ شعبان کی رات کی نماز

ابو یحی صنعانی نے روایت کی ہے کہ اس کو قابل اطمینان تیس آدمیوں سے نقل کیا گیا ہے کہ امام باقر اور امام صادق نے فرمایا جب بھی پندرہ شعبان کی رات ہوجائے تو چار رکعت نماز پڑھ لے ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور سو مرتبہ سورہ قل ھو اللہ احد پڑھے اور نماز کے بعد یہ دعا مانگے ۱۴۹ اللھم

۱۷ ۔ پندرہ شعبان کی رات ایک اور نماز

ابو یحیٰ نے امام صادق سے روایت کی ہے اس نے امام باقر سے کہ پندرہ شعبان کی رات کے فضیلت کے بارے میں سوال ہوا تو حضرت نے فرمایا نیمہ شعبان کی رات شب قدر کے بعد سب سے افضل ترین رات ہے اس رات خداوند اپنا فضل اپنے بندوں کو عطا کرتاہے ان پر احسان کرتاہے اور بخشش دیتاہے اس بناء پر اس رات خدا سے قرب حاسل کرنے کی کوشش کرو چونکہ خدا نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ اس رات کسی سائل کو رد نہیں کرے گا جب تک خدا سے کسی معصیت کا سوائل نہ کرے یہ وہ رات ہے کہ خداوند تعالیٰ نے اس کو ہم اھلبیت کے لئے قرار دیا ہے شب قدر کے برابر کہ اس کو پیغمر کے لئے قراردیا ہے ۱۵۰ پس اس رات خدا سے دعا کی کوشش کرو چونکہ جو بھی اس رات سو مرتبہ تسبیح پڑھے سوبار حمد پڑھے سو مرتبہ تکبیر کہے تو خداوند تعالیٰ ان کے گذشتہ گناہوں کو بخشتیاہے اور دنیا اور آخرت کی حاجتوں کو اسی طرح وہ حاجتیں کہ جن کا محتاج ہے لیکن خدا سے طلب نہیں کیا ہے یہ بھی خدا کے فضل سے عطا کرتاہے۔ ابو یحییٰ کہتاہے کہ میں نے امام صادق سے عرض کیا دعاؤں میں سے کس دعاء میں زیادہ فضیلت ہے حضرت نے فرمایا جب بھی نماز عشا پڑھ لیں تو دو رکعت نماز پڑھ لیں پہلی رکعت میں سورہ حمد اور سورة قل یا ایھا الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور سورہ قل ھو اللہ احد کو پڑھے نماز کے بعد ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ الحمد اللہ اور ۳۴ مرتبہ کہو اللہ اکبر اس وقت کہو ۱۵۱ یا من الیہ

اس کے بعد سجدہ میں بیس مرتبہ یا رب یا اللہ کہو اور سات مرتبہ کہولا حول ولا قوة الّا باللّٰه اور دس مرتبہ کہو ماشاء اللہ اور دس مرتبہ کہو لا قوة الّا باللّٰہ اس کے بعد درود بھیجیں اور اللہ سے اپنی حاجت مانگیں خداوند تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو عطا کرے گا۔

مولف: چار رکعت بھی وارد ہے کہ جو ظہر عاشور کے وقت پڑھی جاتی ہیں اس کے بعد ایک دعا پڑھی جاتی ہے طولانی کی وجہ سے مہینوں کے دعاؤں ادعیہ ص ۲۴۱ میں ذکر کیا گیا ہے


باب دوم

قنوت کی دعائیں

۱ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

شہید اول کتاب ذکری میں فرماتے ہیں ابن ابی عقیل نے قنوت کے لئے جو دعائیں امیر المومنین سے روایت کی ہیں وہ دعا یہ ہے

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ شَخَصَتِ الْأَبْصارُ ، وَنُقِلَتِ الْأَقْدامُ ، وَرُفِعَتِ الْأَيْدي ، وَمُدَّتِ الْأَعْناقُ ، وَأَنْتَ دُعيتَ بِالْأَلْسُنِ ، وَ إِلَيْكَ سِرُّهُمْ وَنَجْواهُمْ فِي الْأَعْمالِ ، رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحينَ

أَللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ غَيْبَةَ نَبِيِّنا وَقِلَّةَ عَدَدِنا ، وَكَثْرَةَ عَدُوِّنا ، وَتَظاهُرَ الْأَعْداءِ عَلَيْنا ، وَوُقُوعَ الْفِتَنِ بِنا ، فَفَرِّجْ ذلِكَ اللَّهُمَّ بِعَدْلٍ تُظْهِرُهُ ، وَ إِمامِ حَقٍّ تُعَرِّفُهُ ، إِلهَ الْحَقِّ آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ

اسی طرح فرماتے ہیں میرے لئے نقل ہوا ہے کہ امام صادق نے اپنے شیعوں کو حکم دیا کہ قنوت میں کلمات فرج کے بعد مذکورہ دعا پڑھیں

۲ ۔ امام سجاد کی دعائے قنوت

اشرار کے شر کو دور کرنے کے لئے اور جہان میں حق کی کامیابی کے لئے اس قنوت کو جناب ابوالقاسم حسین بن روح نائب اول جناب محمد بن عثمان سے نقل کرتے ہیں

أَللَّهُمَّ إِنَّ جِبِلَّةَ الْبَشَرِيَّةِ ، وَطِباعَ الْإِنْسانِيَّةِ ، وَما جَرَتْ عَلَيْهِ تَرْكيباتُ النَّفْسِيَّةِ ، وَانْعَقَدَتْ بِهِ عُقُودُ النَّشَئِيَّةِ ] النَّسَبِيَّةِ خ[ ، تَعْجِزُ عَنْ حَمْلِ وارِداتِ الْأَقْضِيَةِ إِلّا ما وَفَّقْتَ لَهُ أَهْلَ الْإِصْطِفاءِ ، وَأَعَنْتَ عَلَيْهِ ذَوِي الْإِجْتِباءِ.

أَللَّهُمَّ وَ إِنَّ الْقُلُوبَ في قَبْضَتِكَ ، وَالْمَشِيَّةَ لَكَ في مَلْكَتِكَ ، وَقَدْ تَعْلَمُ أَيْ رَبِّ مَا الرَّغْبَةُ إِلَيْكَ في كَشْفِهِ واقِعَةٌ لِأَوْقاتِها بِقُدْرَتِكَ ، واقِفَةٌ بِحَدِّكَ مِنْ إِرادَتِكَ ، وَ إِنّي لَأَعْلَمُ أَنَّ لَكَ دارَ جَزاءٍ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ مَثُوبَةً وَعُقُوبَةً ، وَأَنَّ لَكَ يَوْماً تَأْخُذُ فيهِ بِالْحَقِّ ، وأَنَّ أَناتَكَ أَشْبَهُ الْأَشْياءِ بِكَرَمِكَ ، وَأَلْيَقُها بِما وَصَفْتَ بِهِ نَفْسَكَ في عَطْفِكَ وَتَراءُفِكَ ، وَأَنْتَ بِالْمِرْصادِ لِكُلِّ ظالِمٍ في وَخيمِ عُقْباهُ وَسُوءِ مَثْواهُ.

أَللَّهُمَّ وَ إِنَّكَ قَدْ أَوْسَعْتَ خَلْقَكَ رَحْمَةً وَحِلْماً ، وَقَدْ بُدِّلَتْ أَحْكامُكَ ، وَغُيِّرَتْ سُنَنُ نَبِيِّكَ ، وَتَمَرَّدَ الظَّالِمُونَ عَلى خُلَصائِكَ ، وَاسْتَباحُوا حَريمَكَ ، وَرَكِبُوا مَراكِبَ الْإِسْتِمْرارِ عَلَى الْجُرْأَةِ عَلَيْكَ.

أَللَّهُمَّ فَبادِرْهُمْ بِقَواصِفِ سَخَطِكَ ، وَعَواصِفِ تَنْكيلاتِكَ ، وَاجْتِثاثِ غَضَبِكَ ، وَطَهِّرِ الْبِلادَ مِنْهُمْ ، وَاعْفُ عَنْها آثارَهُمْ ، وَاحْطُطْ مِنْ قاعاتِها وَمَظانِّها مَنارَهُمْ ، وَاصْطَلِمْهُمْ بِبَوارِكَ حَتَّى لاتُبْقِ مِنْهُمْ دِعامَةً لِناجِمٍ ، وَلا عَلَماً لِامٍّ ، وَلا مَناصاً لِقاصِدٍ ، وَلا رائِداً لِمُرْتادٍ.

أَللَّهُمَّ امْحُ آثارَهُمْ ، وَاطْمِسْ عَلى أَمْوالِهِمْ وَدِيارِهِمْ ، وَامْحَقْ أَعْقابَهُمْ ، وَافْكُكْ أَصْلابَهُمْ ، وَعَجِّلْ إِلى عَذابِكَ السَّرْمَدِ انْقِلابَهُمْ ، وَأَقِمْ لِلْحَقِّ مَناصِبَهُ ، وَاقْدَحْ لِلرَّشادِ زِنادَهُ ، وَأَثِرْ لِلثَّارِ مَثيرَهُ ، وَأَيِّدْ بِالْعَوْنِ مُرْتادَهُ ، وَوَفِّرْ مِنَ النَّصْرِ زادَهُ ، حَتَّى يَعُودَ الْحَقُّ بِجِدَّتِهِ ، وَتُنيرَ مَعالِمَ مَقاصِدِهِ ، وَيَسْلُكَهُ أَهْلُهُ بِالْأَمَنَةِ حَقَّ سُلُوكِهِ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.( مهج الدعوات : ۶۹ ، وفي البلد الأمين : ۶۵۰ بتفاوت يسير .)

۳ ۔ حضرت امام محمد باقر کی دعائے قنوت

يا مَنْ يَعْلَمُ هَواجِسَ السَّرائِرِ ، وَمَكامِنَ الضَّمائِرِ ، وَحَقائِقَ الْخَواطِرِ ، يا مَنْ هُوَ لِكُلِّ غَيْبٍ حاضِرٌ ، وَلِكُلِّ مَنْسِيٍّ ذاكِرٌ ، وَعَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قادِرٌ ، وَ إِلَى الْكُلِّ ناظِرٌ ، بَعُدَ الْمَهَلُ ، وَقَرُبَ الْأَجَلُ ، وَضَعُفَ الْعَمَلُ ، وَأَرابَ الْأَمَلُ ، وَآنَ الْمُنْتَقَلُ

وَأَنْتَ يا اَللَّهُ الْآخِرُ كَما أَنْتَ الْأَوَّلُ ، مُبيدُ ما أَنْشَأْتَ ، وَمُصَيِّرُهُمْ إِلَى الْبِلى ، وَمُقَلِّدُهُمْ أَعْمالَهُمْ ، وَمُحَمِّلُها ظُهُورَهُمْ إِلى وَقْتِ نُشُورِهِمْ مِنْ بَعْثَةِ قُبُورِهِمْ عِنْدَ نَفْخَةِ الصُّورِ ، وَانْشِقاقِ السَّماءِ بِالنُّورِ ، وَالْخُرُوجِ بِالْمَنْشَرِ إِلى ساحَةِ الْمَحْشَرِ ، لاتَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ أَبْصارُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ

مُتَراطِمينَ في غُمَّةٍ مِمَّا أَسْلَفُوا ، وَمُطالَبينَ بِمَا احْتَقَبُوا ، وَمُحاسَبينَ هُناكَ عَلى مَا ارْتَكَبُوا ، اَلصَّحائِفُ فِي الْأَعْناقِ مَنْشُورَةٌ ، وَالْأَوْزارُ عَلَى الظُّهُورِ مَأْزُورَةٌ ، لَا انْفِكاكَ وَلا مَناصَ وَلا مَحيصَ عَنِ الْقِصاصِ قَدْ أَفْحَمَتْهُمْ الْحُجَّةُ ، وَحَلُّوا في حَيْرَةِ الْمَحَجَّةِ وَهَمْسِ الضَّجَّةِ ، مَعْدُولٌ بِهِمْ عَنِ الْمَحَجَّةِ إِلّا مَنْ سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ الْحُسْنى ، فَنَجا مِنْ هَوْلِ الْمَشْهَدِ وَعَظيمِ الْمَوْرِدِ ، وَلَمْ يَكُنْ مِمَّنْ فِي الدُّنْيا تَمَرَّدَ ، وَلا عَلى أَوْلِياءِ اللَّهِ تَعَنَّدَ ، وَلَهُمُ اسْتَبْعَدَ ، وَعَنْهُمْ بِحُقُوقِهِمْ تَفَرَّدَ أَللَّهُمَّ فَإِنَّ الْقُلُوبَ قَدْ بَلَغَتِ الْحَناجِرَ ، وَالنُّفُوسَ قَدْ عَلَتِ التَّراقِيَ ، وَالْأَعْمارَ قَدْ نَفِدَتْ بِالْإِنْتِظارِ ، لا عَنْ نَقْضِ اسْتِبْصارٍ ، وَلا عَنِ اتِّهامِ مِقْدارٍ ، وَلكِنْ لِما تُعاني مِنْ رُكُوبِ مَعاصيكَ ، وَالْخِلافِ عَلَيْكَ في أَوامِرِكَ وَنَواهيكَ ، وَالتَّلَعُّبِ بِأَوْلِيائِكَ وَمُظاهَرَةِ أَعْدائِكَ

أَللَّهُمَّ فَقَرِّبْ ما قَدْ قَرُبَ ، وَأَوْرِدْ ما قَدْ دَنى ، وَحَقِّقْ ظُنُونَ الْمُوقِنينَ ، وَبَلِّغِ الْمُؤْمِنينَ تَأْميلَهُمْ ، مِنْ إِقامَةِ حَقِّكَ ، وَنَصْرِ دينِكَ ، وَإِظْهارِ حُجَّتِكَ ، وَالْإِنْتِقامِ مِنْ أَعْداءِكَ .( مهج الدعوات : ۷۲ ، البلد الأمين : )۶۵۱ )

. ۴ ۔ حضرت امام رضا کی دعا قنوت

اَلْفَزَعُ الْفَزَعُ إِلَيْكَ يا ذَا الْمُحاضَرَةِ ، وَالرَّغْبَةُ الرَّغْبَةُ إِلَيْكَ يا مَنْ بِهِ الْمُفاخَرَةُ ، وَأَنْتَ اللَّهُمَّ مُشاهِدُ هَواجِسِ النُّفُوسِ ، وَمُراصِدُ حَرَكاتِ الْقُلُوبِ ، وَمُطالِعُ مَسَرَّاتِ السَّرائِرِ مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ وَلاتَعَسُّفٍ ، وَقَدْ تَرَى اللَّهُمَّ ما لَيْسَ عَنْكَ بِمُنْطَوىٍ ، وَلكِنَّ حِلْمَكَ آمَنَ أَهْلَهُ عَلَيْهِ جُرْئَةً وَتَمَرُّداً وَعُتُوّاً وَعِناداً ، وَما يُعانيهِ أَوْلِياؤُكَ مِنْ تَعْفِيَةِ آثارِ الْحَقِّ ، وَدُرُوسِ مَعالِمِهِ ، وَتَزَيُّدِ الْفَواحِشِ ، وَاسْتِمْرارِ أَهْلِها عَلَيْها ، وَظُهُورِ الْباطِلِ وَعُمُومِ التَّغاشُمِ ، وَالتَّراضي بِذلِكَ فِي الْمُعامِلاتِ وَالْمُتَصَرَّفاتِ مُذْ جَرَتْ بِهِ الْعاداتُ ، وَصارَ كَالْمَفْرُوضاتِ وَالْمَسْنُوناتِ

أَللَّهُمَّ فَبادِرِ الَّذي مَنْ أَعَنْتَهُ بِهِ فازَ ، وَمَنْ أَيَّدْتَهُ لَمْ يَخَفْ لَمْزَ لَمَّازٍ ، وَخُذِ الظَّالِمَ أَخْذاً عَنيفاً ، وَلاتَكُنْ لَهُ راحِماً وَلا بِهِ رَؤُوفاً أَللَّهُمَّ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ بادِرْهُمْ أَللَّهُمَّ عاجِلْهُمْ أَللَّهُمَّ لاتُمْهِلْهُمْ

أَللَّهُمَّ غادِرْهُمْ بُكْرَةً وَهَجيرَةً وَسُحْرَةً وَبَياتاً وَهُمْ نائِمُونَ ، وَضُحىً وَهُمْ يَلْعَبُونَ ، وَمَكْراً وَهُمْ يَمْكُرُونَ ، وَفُجْأَةً وَهُمْ آمِنُونَ أَللَّهُمَّ بَدِّدْهُمْ ، وَبَدِّدْ أَعْوانَهُمْ ، وَافْلُلْ أَعْضادَهُمْ ، وَاهْزِمْ جُنُودَهُمْ ، وَافْلُلْ حَدَّهُمْ ، وَاجْتَثَّ سَنامَهُمْ ، وَأَضْعِفْ عَزائِمَهُمْ

أَللَّهُمَّ امْنَحْنا أَكْتافَهُمْ ، وَمَلِّكْنا أَكْنافَهُمْ ، وَبَدِّلْهُمْ بِالنِّعَمِ النِّقَمَ ، وَبَدِّلْنا مِنْ مُحاذَرَتِهِمْ وَبَغْيِهِمُ السَّلامَةَ ، وَاغْنِمْناهُمْ أَكْمَلَ الْمَغْنَمِ أَللَّهُمَّ لاتَرُدَّ عَنْهُمْ بَأْسَكَ الَّذي إِذا حَلَّ بِقَوْمٍ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرينَ .(مهج الدعوات : ۷۹ ، البلد الأمين : ۶۵۴ .)

۵ ۔ حضرت امام جواد کی دعائے قنوت

أَللَّهُمَّ مَنائِحُكَ مُتَتابِعَةٌ ، وَأَياديكَ مُتَوالِيَةٌ ، وَنِعَمُكَ سابِغَةٌ ، وَشُكْرُنا قَصيرٌ ، وَحَمْدُنا يَسيرٌ ، وَأَنْتَ بِالتَّعَطُّفِ عَلى مَنِ اعْتَرَفَ جَديرٌ أَللَّهُمَّ وَقَدْ غُصَّ أَهْلُ الْحَقِّ بِالرّيقِ ، وَارْتَبَكَ أَهْلُ الصِّدْقِ فِي الْمَضيقِ ، وَأَنْتَ اللَّهُمَّ بِعِبادِكَ وَذَوِي الرَّغْبَةِ إِلَيْكَ شَفيقٌ ، وَبِإِجابَةِ دُعائِهِمْ وَتَعْجيلِ الْفَرَجِ عَنْهُمْ حَقيقٌ

أَللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبادِرْنا مِنْكَ بِالْعَوْنِ الَّذي لا خِذْلانَ بَعْدَهُ ، وَالنَّصْرِ الَّذي لا باطِلَ يَتَكَأَّدُهُ ، وَأَتِحْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ مُتاحاً فَيَّاحاً يَأْمَنُ فيهِ وَلِيُّكَ ، وَيَخيبُ فيهِ عَدُوُّكَ ، وَيُقامُ فيهِ مَعالِمُكَ ، وَيَظْهَرُ فيهِ أَوامِرُكَ ، وَتَنْكَفُّ فيهِ عَوادي عِداتِكَ

أَللَّهُمَّ بادِرْنا مِنْكَ بِدارَ الرَّحْمَةِ ، وَبادِرْ أَعْدائَكَ مِنْ بَأْسِكَ بِدارَ النَّقِمَةِ أَللَّهُمَّ أَعِنَّا وَأَغِثْنا ، وَارْفَعْ نَقِمَتَكَ عَنَّا ، وَأَحِلَّها بِالْقَوْمِ الظَّالِمينَ .( مهج الدعوات : ۸۰ ، البلد الأمين : ۶۵۶ .)

۶ ۔ امام جواد کی دوسری قنوت کی دعائیں

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ بِلا أَوَّلِيَّةٍ مَعْدُودَةٍ ، وَالْآخِرُ بِلا آخِرِيَّةٍ مَحْدُودَةٍ ، أَنْشَأْتَنا لا لِعِلَّةٍ اقْتِساراً ، وَاخْتَرَعْتَنا لا لِحاجَةٍ اقْتِداراً ، وَابْتَدَعْتَنا بِحِكْمَتِكَ اخْتِياراً ، وَبَلَوْتَنا بِأَمْرِكَ وَنَهْيِكَ اخْتِباراً ، وَأَيَّدْتَنا بِالْآلاتِ ، وَمَنَحْتَنا بِالْأَدَواتِ ، وَكَلَّفْتَنا الطَّاقَةَ ، وَجَشَّمْتَنا الطَّاعَةَ ، فَأَمَرْتَ تَخْييراً ، وَنَهَيْتَ تَحْذيراً ، وَخَوَّلْتَ كَثيراً ، وَسَأَلْتَ يَسيراً ، فَعُصِيَ أَمْرُكَ فَحَلُمْتَ ، وَجُهِلَ قَدْرُكَ فَتَكَرَّمْتَ

فَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ وَالْبَهاءِ ، وَالْعَظَمَةِ وَالْكِبْرِياءِ ، وَالْإِحْسانِ وَالنَّعْماءِ ، وَالْمَنِّ وَالْآلاءِ ، وَالْمِنَحِ وَالْعَطاءِ ، وَالْإِنْجازِ وَالْوَفاءِ ، وَلاتُحيطُ الْقُلُوبُ لَكَ بِكُنْهٍ ، وَلاتُدْرِكُ الْأَوْهامُ لَكَ صِفَةً ، وَلايُشَبِّهُكَ شَيْ‏ءٌ مِنْ خَلْقِكَ ، وَلايُمَثَّلُ بِكَ شَيْ‏ءٌ مِنْ صَنْعَتِكَ

تَبارَكْتَ أَنْ تُحَسَّ أَوْ تُمَسَّ أَوْ تُدْرِكَكَ الْحَواسُّ الْخَمْسُ ، وَأَنَّى يُدْرِكُ مَخْلُوقٌ خالِقَهُ ، وَتَعالَيْتَ يا إِلهي عَمَّا يَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوّاً كَبيراً

أَللَّهُمَّ أَدِلْ لِأَوْلِيائِكَ مِنْ أَعْدائِكَ الظَّالِمينَ الْباغينَ النَّاكِثينَ الْقاسِطينَ الْمارِقينَ ، اَلَّذينَ أَضَلُّوا عِبادَكَ ، وَحَرَّفُوا كِتابَكَ ، وَبَدَّلُوا أَحْكامَكَ ، وَجَحَدُوا حَقَّكَ ، وَجَلَسُوا مَجالِسَ أَوْلِيائِكَ ، جُرْأَةً مِنْهُمْ عَلَيْكَ ، وَظُلْماً مِنْهُمْ لِأَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ ، عَلَيْهِمْ سَلامُكَ وَصَلَواتُكَ وَرَحْمَتُكَ وَبَرَكاتُكَ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا خَلْقَكَ ، وَهَتَكُوا حِجابَ سِتْرِكَ عَنْ عِبادِكَ.

وَاتَّخَذُوا اللَّهُمَّ مالَكَ دُوَلاً ، وَعِبادَكَ خَوَلاً ، وَتَرَكُوا اللَّهُمَّ عالِمَ أَرْضِكَ في بَكْماءَ عَمْياءَ ظَلْماءَ مُدْلَهِمَّةً ، فَأَعْيُنُهُمْ مَفْتُوحَةٌ ، وَقُلُوبُهُمْ عَمِيَّةٌ ، وَلَمْ تُبْقِ لَهُمُ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ مِنْ حُجَّةٍ ، لَقَدْ حَذَّرْتَ اللَّهُمَّ عَذابَكَ ، وَبَيَّنْتَ نَكالَكَ ، وَوَعَدْتَ الْمُطيعينَ إِحْسانَكَ ، وَقَدَّمْتَ إِلَيْهِمْ بِالنُّذُرِ فَآمَنَتْ طائِفَةٌ.

فَأَيِّدِ اللَّهُمَّ الَّذينَ آمَنُوا عَلى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّ أَوْلِيائِكَ ، فَأَصْبَحُوا ظاهِرينَ ، وَ إِلَى الْحَقِّ داعينَ ، وَلِلْإِمامِ الْمُنْتَظَرِ الْقائِمِ بِالْقِسْطِ تابِعينَ ، وَجَدِّدِ اللَّهُمَّ عَلى أَعْدائِكَ وَأَعْدائِهِمْ نارَكَ وَعَذابَكَ ، اَلَّذي لاتَدْفَعُهُ عَنِ الْقَومِ الظَّالِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَقَوِّ ضَعْفَ الْمُخْلِصينَ لَكَ بِالْمَحَبَّةِ ، اَلْمُشايِعينَ لَنا بِالْمُوالاةِ ، اَلْمُتَّبِعينَ لَنا بِالتَّصْديقِ وَالْعَمَلِ ، اَلْمُوازِرينَ لَنا بِالْمُواساةِ فينا ، اَلْمُحِبّينَ ذِكْرَنا عِنْدَ اجْتِماعِهِمْ.

وَشَدِّدِ اللَّهُمَّ رُكْنَهُمْ ، وَسَدِّدِ اللَّهُمَّ لَهُمْ دينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَيْتَهُ لَهُمْ ، وَأَتْمِمْ عَلَيْهِمْ نِعْمَتَكَ ، وَخَلِّصْهُمْ وَاسْتَخْلِصْهُمْ ، وَسُدَّ اللَّهُمَّ فَقْرَهُمْ ، وَالْمُمِ اللَّهُمَّ شَعَثَ فاقَتِهِمْ.

وَاغْفِرِ اللَّهُمَّ ذُنُوبَهُمْ وَخَطاياهُمْ ، وَلاتُزِغْ قُلُوبَهُمْ بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَهُمْ ، وَلاتُخِلِّهِمْ أَيْ رَبِّ بِمَعْصِيَتِهِمْ ، وَاحْفَظْ لَهُمْ ما مَنَحْتَهُمْ بِهِ مِنَ الطَّهارَةِ بِوِلايَةِ أَوْلِيائِكَ ، وَالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِكَ ، إِنَّكَ سَميعٌ مُجيبٌ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ.( مهج الدعوات : ۸۰ ، البلد الأمين : ۶۵۶ .)

۷ ۔ حضرت امام ھادی کی دعائے قنوت

أَللَّهُمَّ مَناهِلُ كَراماتِكَ بِجَزيلِ عَطِيَّاتِكَ مُتْرَعَةٌ ، وَأَبْوابُ مُناجاتِكَ لِمَنْ أَمَّكَ مُشْرَعَةٌ ، وَعَطُوفُ لَحَظاتِكَ لِمَنْ ضَرَعَ إِلَيْكَ غَيْرُ مُنْقَطِعَةٍ ، وَقَدْ اُلْجِمَ الْحِذارُ ، وَاشْتَدَّ الْإِضْطِرارُ ، وَعَجَزَ عَنِ الْإِصْطِبارِ أَهْلُ الْإِنْتِظارِ.

وَأَنْتَ اللَّهُمَّ بِالْمَرْصَدِ مِنَ الْمُكَّارِ ، وَغَيْرُ مُهْمَلٍ مَعَ الإِمْهالِ ، وَاللّائِذُ بِكَ آمِنٌ ، وَالرَّاغِبُ إِلَيْكَ غانِمٌ ، وَالْقاصِدُ اللَّهُمَّ لِبابِكَ سالِمٌ.

أَللَّهُمَّ فَعاجِلْ مَنْ قَدِ امْتَزَّ في طُغْيانِهِ ، وَاسْتَمَرَّ عَلى جَهالَتِهِ لِعُقْباهُ في كُفْرانِهِ ، وَأَطْمَعَهُ حِلْمُكَ عَنْهُ في نَيْلِ إِرادَتِهِ ، فَهُوَ يَتَسَرَّعُ إِلى أَوْلِيائِكَ بِمَكارِهِهِ ، وَيُواصِلُهُمْ بِقَبائِحِ مَراصِدِهِ ، وَيَقْصُدُهُمْ في مَظانِّهِمْ بِأَذِيَّتِهِ.

أَللَّهُمَّ اكْشِفِ الْعَذابَ عَنِ الْمُؤْمِنينَ ، وَابْعَثْهُ جَهْرَةً عَلَى الظَّالِمينَ أَللَّهُمَّ اكْفُفِ الْعَذابَ عَنِ الْمُسْتَجيرينَ ، وَاصْبُبْهُ عَلَى الْمُغَيِّرينَ.

أَللَّهُمَّ بادِرْ عُصْبَةَ الْحَقِّ بِالْعَوْنِ ، وَبادِرْ أَعْوانَ الظُّلْمِ بِالْقَصْمِ أَللَّهُمَّ أَسْعِدْنا بِالشُّكْرِ ، وَامْنَحْنَا النَّصْرَ ، وَأَعِذْنا مِنْ سُوءِ الْبَدارِ وَالْعاقِبَةِ وَالْخَتَرِ.(مهج الدعوات : ۸۲ ، البلد الأمين : ۶۵۷ .)

۸ ۔ دعائے امام حسن عسکری

جس وقت قم کے لوگو نے موسیٰ بن ببغی کے بارے میں حضرت امام حسن عسکری سے شکایت کی حضرت نے حکم دیا اس دعا کو قنوت میں پڑھیں

اَلحَمْدُ للَّهِِ شُكْراً لِنَعْمائِهِ ، وَاسْتِدْعاءً لِمَزيدِهِ ، وَاسْتِخْلاصاً لَهُ وَبِهِ دُونَ غَيْرِهِ ، وَعِياذاً بِهِ مِنْ كُفْرانِهِ وَالْإِلْحادِ في عَظَمَتِهِ وَكِبْريائِهِ ، حَمْدَ مَنْ يَعْلَمُ أَنَّ ما بِهِ مِنْ نَعْمائِهِ فَمِنْ عِنْدِ رَبِّهِ ، وَما مَسَّهُ مِنْ عُقُوبَتِهِ فَبِسُوءِ جِنايَةِ يَدِهِ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ ، وَخِيَرَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، وَذَريعَةِ الْمُؤْمِنينَ إِلى رَحْمَتِهِ ، وَآلِهِ الطَّاهِرينَ وُلاةِ أَمْرِهِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ نَدَبْتَ إِلى فَضْلِكَ ، وَأَمَرْتَ بِدُعائِكَ ، وَضَمِنْتَ الْإِجابَةَ لِعِبادِكَ ، وَلَمْ تُخَيِّبْ مَنْ فَزَعَ إِلَيْكَ بِرَغْبَتِهِ ، وَقَصَدَ إِلَيْكَ بِحاجَتِهِ ، وَلَمْ تَرْجِعْ يَدٌ طالِبَةٌ صِفْراً مِنْ عَطائِكَ ، وَلا خائِبَةً مِنْ نَحْلِ هِباتِكَ ، وَأَيُّ راحِلٍ رَحَلَ إِلَيْكَ فَلَمْ يَجِدْكَ قَريباً ، أَوْ وافِدٍ وَفَدَ عَلَيْكَ فَاقْتَطَعَتْهُ عَوائِقُ الرَّدِّ دُونَكَ ، بَلْ أَيُّ مُحْتَفِرٍ مِنْ فَضْلِكَ لَمْ يُمْهِهِ فَيْضُ جُودِكَ ، وَأَيُّ مُسْتَنْبِطٍ لِمَزيدِكَ أَكْدى دُونَ اسْتِماحَةِ سِجالِ عَطِيَّتِكَ

أَللَّهُمَّ وَقَدْ قَصَدْتُ إِلَيْكَ بِرَغْبَتي ، وَقَرَعَتْ بابَ فَضْلِكَ يَدُ مَسْأَلَتي ، وَناجاكَ بِخُشُوعِ الْإِسْتِكانَةِ قَلْبي ، وَوَجَدْتُكَ خَيْرَ شَفيعٍ لي إِلَيْكَ ، وَقَدْ عَلِمْتَ ما يَحْدُثُ مِنْ طَلِبَتي قَبْلَ أَنْ يَخْطُرَ بِفِكْري ، أَوْ يَقَعَ في خَلَدي ، فَصِلِ اللَّهُمَّ دُعائي إِيَّاكَ بِإِجابَتي ، وَاشْفَعْ مَسْأَلَتي بِنُجْحِ طَلِبَتي

أَللَّهُمَّ وَقَد شَمَلَنا زَيْغُ الْفِتَنِ ، وَاسْتَوْلَتْ عَلَيْنا غَشْوَةُ الْحَيْرَةِ ، وَقارَعَنَا الذُّلُّ وَالصِّغارُ ، وَحَكَمَ عَلَيْنا غَيْرُ الْمَأْمُونينَ في دينِكَ ، وَابْتَزَّ اُمُورَنا مَعادِنُ الْاُبَنِ مِمَّنْ عَطَّلَ حُكْمَكَ ، وَسَعى في إِتْلافِ عِبادِكَ وَ إِفْسادِ بِلادِكَ

أَللَّهُمَّ وَقَدْ عادَ فَيْئُنا دَوْلَةً بَعْدَ الْقِسْمَةِ ، وَ إِمارَتُنا غَلَبَةً بَعْدَ الْمَشْوَرَةِ ، وَعُدْنا ميراثاً بَعْدَ الْإِخْتِيارِ لِلْاُمَّةِ ، فَاشْتُرِيَتِ الْمَلاهي وَالْمَعازِفُ بِسَهْمِ الْيَتيمِ وَالْأَرْمَلَةِ ، وَحَكَمَ في أَبْشارِ الْمُؤْمِنينَ أَهْلُ الذِّمَّةِ ، وَوَلِيَ الْقِيامَ بِاُمُورِهِمْ فاسِقُ كُلِّ قَبيلَةٍ ، فَلا ذائِدَ يَذُودُهُمْ عَنْ هَلَكَةٍ ، وَلا راعٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ بِعَيْنِ الرَّحْمَةِ ، وَلا ذُو شَفَقَةٍ يُشْبِعُ الْكَبِدَ الْحرَّى مِنْ مَسْغَبَةٍ ، فَهُمْ اُولُوا ضَرْعٍ بِدارٍ مَضيعَةٍ ، وَاُسَراءُ مَسْكَنَةٍ ، وَخُلَفاءُ كَآبَةٍ وَذِلَّةٍ

أَللَّهُمَّ وَقَدِ اسْتَحْصَدَ زَرْعُ الْباطِلِ ، وَبَلَغَ نِهايَتَهُ ، وَاسْتَحْكَمَ عَمُودُهُ ، وَاسْتَجْمَعَ طَريدُهُ ، وَخَذْرَفَ وَليدُهُ ، وَبَسَقَ فَرْعُهُ ، وَضُرِبَ بِجِرانِهِ

أَللَّهُمَّ فَأَتِحْ لَهُ مِنَ الْحَقِّ يَداً حاصِدَةً تَصْدَعُ قائِمَهُ ، وَتَهْشُمُ سُوقَهُ ، وَتَجُبُّ سَنامَهُ ، وَتَجْدَعُ مَراغِمَهُ ، لِيَسْتَخْفِيَ الْباطِلُ بِقُبْحِ صُورَتِهِ ، وَيَظْهَرَ الْحَقُّ بِحُسْنِ حُلْيَتِهِ

أَللَّهُمَّ وَلاتَدَعْ لِلْجَوْرِ دِعامَةً إِلّا قَصَمْتَها ، وَلا جُنَّةً إِلّا هَتَكْتَها ، وَلا كَلِمَةً مُجْتَمِعَةً إِلّا فَرَّقْتَها ، وَلا سَرِيَّةَ ثِقْلٍ إِلّا خَفَّفْتَها ، وَلا قائِمَةَ عُلُوٍّ إِلّا حَطَطْتَها ، وَلا رافِعَةَ عَلَمٍ إِلّا نَكَّسْتَها ، وَلا خَضْراءَ إِلّا أَبَرْتَها

أَللَّهُمَّ فَكَوِّرْ شَمْسَهُ ، وَحُطَّ نُورَهُ ، وَاطْمِسْ ذِكْرَهُ ، وَارْمِ بِالْحَقِّ رَأْسَهُ ، وَفُضَّ جُيُوشَهُ ، وَارْعُبْ قُلُوبَ أَهْلِهِ

أَللَّهُمَّ وَلاتَدَعْ مِنْهُ بَقِيَّةً إِلّا أَفْنَيْتَ ، وَلا بُنْيَةً إِلّا سَوَّيْتَ ، وَلا حَلَقَةً إِلّا قَصَمْتَ ، وَلا سِلاحاً إِلّا أَكْلَلْتَ ، وَلا حَدّاً إِلّا فَلَلْتَ ، وَلا كُراعاً إِلّاَ اجْتَحْتَ ، وَلا حامِلَةَ عَلَمٍ إِلّا نَكَسْتَ.

أَللَّهُمَّ وَأَرِنا أَنْصارَهُ عَباديدَ بَعْدَ الْاُلْفَةِ ، وَشَتَّى بَعْدَ اجْتِماعِ الْكَلِمَةِ ، وَمُقْنِعِي الرُّؤُوسِ بَعْدَ الظُّهُورِ عَلَى الْاُمَّةِ ، وَأَسْفِرْ لَنا عَنْ نَهارِ الْعَدْلِ ، وَأَرِناهُ سَرْمَداً لا ظُلْمَةَ فيهِ ، وَنُوراً لا شَوْبَ مَعَهُ ، وَاهْطِلْ عَلَيْنا ناشِئَتَهُ ، وَأَنْزِلْ عَلَيْنا بَرَكَتَهُ ، وَأَدِلْ لَهُ مِمَّنْ ناواهُ ، وَانْصُرْهُ عَلى مَنْ عاداهُ

أَللَّهُمَّ وَأَظْهِرِ الْحَقَّ ، وَأَصْبِحْ بِهِ في غَسَقِ الظُّلَمِ وَبُهَمِ الْحَيْرَةِ أَللَّهُمَّ وَأَحْيِ بِهِ الْقُلُوبَ الْمَيِّتَةَ ، وَاجْمَعْ بِهِ الْأَهْواءَ الْمُتَفَرِّقَةَ ، وَالْآراءَ الْمُخْتَلِفَةَ ، وَأَقِمْ بِهِ الْحُدُودَ الْمُعَطَّلَةَ ، وَالْأَحْكامَ الْمُهْمَلَةَ ، وَأَشْبِعْ بِهِ الْخِماصَ السَّاغِبَةَ ، وَأَرِحْ بِهِ الْأَبْدانَ اللّاغِبَةَ الْمُتْعَبَةَ ، كَما أَلْهَجْتَنا بِذِكْرِهِ ، وَأَخْطَرْتَ بِبالِنا دُعاءَكَ لَهُ ، وَوَفَّقْتَنا لِلدُّعاءِ إِلَيْهِ ، وَحِياشَةِ أَهْلِ الْغَفْلَةِ عَنْهُ ، وَأَسْكَنْتَ في قُلُوبِنا مَحَبَّتَهُ ، وَالطَّمَعَ فيهِ ، وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ ، لِإِقامَةِ مَراسِمِهِ

أَللَّهُمَّ فَأْتِ لَنا مِنْهُ عَلى أَحْسَنِ يَقينٍ ، يا مُحَقِّقَ الظُّنُونِ الْحَسَنَةِ ، وَيا مُصَدِّقَ الْآمالِ الْمُبْطِنَةِ أَللَّهُمَّ وَأَكْذِبْ بِهِ الْمُتَأَلّينَ عَلَيْكَ فيهِ ، وَأَخْلِفْ بِهِ ظُنُونَ الْقانِطينَ مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَالْآيِسينَ مِنْهُ

أَللَّهُمَّ اجْعَلْنا سَبَباً مِنْ أَسْبابِهِ ، وَعَلَماً مِنْ أَعْلامِهِ ، وَمَعْقَلاً مِنْ مَعاقِلِهِ ، وَنَضِّرْ وُجُوهَنا بِتَحْلِيَتِهِ ، وَأَكْرِمْنا بِنُصْرَتِهِ ، وَاجْعَلْ فينا خَيْراً تُظْهِرُنا لَهُ بِهِ ، وَلا تُشْمِتْ بِنا حاسِدِى النِّعَمِ ، وَالْمُتَرَبِّصينَ بِنا حُلُولَ النَّدَمِ ، وَنُزُولَ الْمُثَلِ ، فَقَدْ تَرى يا رَبِّ بَرائَةَ ساحَتِنا ، وَخُلُوَّ ذَرْعِنا مِنَ الْإِضْمارِ لَهُمْ عَلى إِحْنَةٍ ، وَالتَّمَنّي لَهُمْ وُقُوعَ جائِحَةٍ ، وَما تَنازَلَ مِنْ تَحْصينِهِمْ بِالْعافِيَةِ ، وَما أَضْبَؤُا لَنا مِنِ انْتِهازِ الْفُرْصَةِ ، وَطَلَبِ الْوُثُوبِ بِنا عِنْدَ الْغَفْلَةِ

أَللَّهُمَّ وَقَدْ عَرَّفْتَنا مِنْ أَنْفُسِنا ، وَبَصَّرْتَنا مِنْ عُيُوبِنا خِلالاً نَخْشى أَنْ تَقْعُدَ بِنا عَنِ اشْتِهارِ إِجابَتِكَ ، وَأَنْتَ الْمُتَفَضِّلُ عَلى غَيْرِ الْمُسْتَحِقّينَ ، وَالْمُبْتَدِئُ بِالْإِحْسانِ غَيْرَ السَّائِلينَ ، فَأْتِ لَنا مِنْ أَمْرِنا عَلى حَسَبِ كَرَمِكَ وَجُودِكَ وَفَضْلِكَ وَامْتِنانِكَ ، إِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ ، وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، إِنَّا إِلَيْكَ راغِبُونَ ، وَمِنْ جَميعِ ذُنُوبِنا تائِبُونَ

أَللَّهُمَّ وَالدَّاعي إِلَيْكَ ، وَالْقائِمُ بِالْقِسْطِ مِنْ عِبادِكَ ، اَلْفَقيرُ إِلى رَحْمَتِكَ ، اَلْمُحْتاجُ إِلى مَعُونَتِكَ عَلى طاعَتِكَ ، إِذِ ابْتَدَأْتَهُ بِنِعْمَتِكَ ، وَأَلْبَسْتَهُ أَثْوابَ كَرامَتِكَ ، وَأَلْقَيْتَ عَلَيْهِ مَحَبَّةَ طاعَتِكَ ، وَثَبَّتَّ وَطْأَتَهُ فِي الْقُلُوبِ مِنْ مَحَبَّتِكَ ، وَوَفَّقْتَهُ لِلْقِيامِ بِما أَغْمَضَ فيهِ أَهْلُ زَمانِهِ مِنْ أَمْرِكَ ، وَجَعَلْتَهُ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِكَ ، وَناصِراً لِمَنْ لايَجِدُ ناصِراً غَيْرَكَ ، وَمُجَدِّداً لِما عُطِّلَ مِنْ أَحْكامِ كِتابِكَ ، وَمُشَيِّداً لِما رُدَّ مِنْ أَعْلامِ دينِكَ ، وَسُنَنِ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ سَلامُكَ وَصَلَواتُكَ وَرَحْمَتُكَ وَبَرَكاتُكَ

فَاجْعَلْهُ اللَّهُمَّ في حِصانَةٍ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدينَ ، وَأَشْرِقْ بِهِ الْقُلُوبَ الْمُخْتَلِفَةَ مِنْ بُغاةِ الدّينِ ، وَبَلِّغْ بِهِ أَفْضَلَ ما بَلَّغْتَ بِهِ الْقائِمينَ بِقِسْطِكَ مِنْ أَتْباعِ النَّبِيّينَ

أَللَّهُمَّ وَأَذْلِلْ بِهِ مَنْ لَمْ تُسْهِمْ لَهُ فِي الرُّجُوعِ إِلى مَحَبَّتِكَ ، وَمَنْ نَصَبَ لَهُ الْعَداوَةَ ، وَارْمِ بِحَجَرِكَ الدَّامِغِ مَنْ أَرادَ التَأْليبَ عَلى دينِكَ بِإِذْلالِهِ ، وَتَشْتيتِ أَمْرِهِ ، وَاغْضَبْ لِمَنْ لا تِرَةَ لَهُ وَلا طائِلَةَ ، وَعادَى الْأَقْرَبينَ وَالْأَبْعَدينَ فيكَ مَنّاً مِنْكَ عَلَيْهِ ، لا مَنّاً مِنْهُ عَلَيْكَ

أَللَّهُمَّ فَكَما نَصَبَ نَفْسَهُ غَرَضاً فيكَ لِلْأَبْعَدينَ ، وَجادَ بِبَذْلِ مُهْجَتِهِ لَكَ في الذَّبِّ عَنْ حَريمِ الْمُؤْمِنينَ ، وَرَدَّ شَرَّ بُغاةِ الْمُرْتَدّينَ الْمُريبينَ حَتَّى أَخْفى ما كانَ جُهِرَ بِهِ مِنَ الْمَعاصي ، وَأَبْدا ما كانَ نَبَذَهُ الْعُلَماءُ وَراءَ ظُهُورِهِمْ مِمَّا أَخَذْتَ ميثاقَهُمْ على أَنْ يُبَيِّنُوهُ لِلنَّاسِ وَلايَكْتُمُوهُ ، وَدَعا إِلى إِفْرادِكَ بِالطَّاعَةِ ، وَأَلّا يَجْعَلَ لَكَ شَريكاً مِنْ خَلْقِكَ يَعْلُو أَمْرُهُ عَلى أَمْرِكَ ، مَعَ ما يَتَجَرَّعُهُ فيكَ مِنْ مَراراتِ الْغَيْظِ الْجارِحَةِ بِحَواسِّ ] بِمَواسِي خ[ الْقُلُوبِ ، وَما يَعْتَوِرُهُ مِنَ الْغُمُومِ ، وَيَفْزَعُ عَلَيْهِ مِنْ أَحْداثِ الْخُطُوبِ ، وَيَشْرَقُ بِهِ مِنَ الْغُصَصِ الَّتي لاتَبْتَلِعُهَا الْحُلُوقُ وَلاتَحْنُو عَلَيْهَا الضُّلُوعُ عِنْدَ نَظَرِهِ إِلى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِكَ ، وَلاتَنالُهُ يَدُهُ بِتَغْييرِهِ وَرَدِّهِ إِلى مَحَبَّتِكَ

فَاشْدُدِ اللَّهُمَّ أَزْرَهُ بِنَصْرِكَ ، وَأَطِلْ باعَهُ فيما قَصُرَ عَنْهُ مِنْ إِطْرادِ الرَّاتِعينَ في حِماكَ ، وَزِدْهُ في قُوَّتِهِ بَسْطَةً مِنْ تَأْييدِكَ ، وَلاتُوْحِشْنا مِنْ اُنْسِهِ ، وَلاتَخْتَرِمْهُ دُونَ أَمَلِهِ مِنَ الصَّلاحِ الْفاشي في أَهْلِ مِلَّتِهِ ، وَالْعَدْلِ الظَّاهِرِ في اُمَّتِهِ

أَللَّهُمَّ وَشَرِّفْ بِمَا اسْتَقْبَلَ بِهِ مِنَ الْقِيامِ بِأَمْرِكَ لَدى مَوْقِفِ الْحِسابِ مَقامَهُ ، وَسُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِرُؤْيَتِهِ ، وَمَنْ تَبِعَهُ عَلى دَعْوَتِهِ ، وأَجْزِلْ لَهُ عَلى ما وَأَيْتَهُ قائِماً بِهِ مِنْ أَمْرِكَ ثَوابَهُ ، وَابْنِ قُرْبَ دُنُوِّهِ مِنْكَ في حَياتِهِ ، وَارْحَمِ اسْتِكانَتَنا مِنْ بَعْدِهِ ، وَاسْتِخْذاءَنا لِمَنْ كُنَّا نَقْمَعُهُ بِهِ إِذا فَقَدْتَنا وَجْهَهُ ، وَبَسَطْتَ أَيْدِيَ مَنْ كُنَّا نَبْسُطُ أَيْدِيَنا عَلَيْهِ لِنَرُدَّهُ عَنْ مَعْصِيَتِهِ ، وَافْتِراقَنا بَعْدَ الْاُلْفَةِ وَالْإِجْتِماعِ تَحْتَ ظِلِّ كَنَفِهِ ، وَتَلَهُّفَنا عِنْدَ الْفَوْتِ عَلى ما أَقْعَدْتَنا عَنْهُ مِنْ نُصْرَتِهِ ، وَطَلَبِنا مِنَ الْقِيامِ بِحَقِّ ما لا سَبيلَ لَنا إِلى رَجْعَتِهِ

وَاجْعَلْهُ اللَّهُمَّ في أَمْنٍ مِمَّا يُشْفَقُ عَلَيْهِ مِنْهُ ، وَرُدَّ عَنْهُ مِنْ سِهامِ الْمَكائِدِ ما يُوَجِّهُهُ أَهْلُ الشَّنَئانِ إِلَيْهِ وَ إِلى شُرَكائِهِ في أَمْرِهِ ، وَمُعاوِنيهِ عَلى طاعَةِ رَبِّهِ ، اَلَّذينَ جَعَلْتَهُمْ سِلاحَهُ وَحِصْنَهُ وَمَفْزَعَهُ وَاُنْسَهُ ، اَلَّذينَ سَلَوْا عَنِ الْأَهْلِ وَالْأَوْلادِ ، وَجَفَوُا الْوَطَنَ ، وَعَطَّلُوا الْوَثيرَ مِنَ الْمِهادِ ، وَرَفَضُوا تِجاراتِهِمْ ، وَأَضَرُّوا بِمَعايِشِهِمْ ، وَفُقِدُوا في أَنْدِيَتِهِمْ بِغَيْرِ غَيْبَةٍ عَنْ مِصْرِهِمْ ، وَخالَلُوا الْبَعيدَ مِمَّنْ عاضَدَهُمْ عَلى أَمْرِهِمْ ، وَقَلَوُا الْقَريبَ مِمَّنْ صَدَّ عَنْ وِجْهَتِهِمْ ، فَائْتَلَفُوا بَعْدَ التَّدابُرِ وَالتَّقاطُعِ في دَهْرِهِمْ ، وَقَطَعُوا الْأَسْبابَ الْمُتَّصِلَةَ بِعاجِلِ حُطامِ الدُّنْيا

فَاجْعَلْهُمُ اللَّهُمَّ في أَمْنِ حِرْزِكَ وَظِلِّ كَنَفِكَ ، وَرُدَّ عَنْهُمْ بَأْسَ مَنْ قَصَدَ إِلَيْهِمْ بِالْعَداوَةِ مِنْ عِبادِكَ ، وَأَجْزِلْ لَهُمْ عَلى دَعْوَتِهِمْ مِنْ كِفايَتِكَ وَمَعُونَتِكَ ، وَأَمِدَّهُمْ بِتَأْييدِكَ وَنَصْرِكَ ، وَأَزْهِقْ بِحَقِّهِمْ باطِلَ مَنْ أَرادَ إِطْفاءَ نُورِكَ أَللَّهُمَّ وَامْلَأْ بِهِمْ كُلَّ اُفُقٍ مِنَ الْآفاقِ ، وَقُطْرٍ مِنَ الْأَقْطارِ قِسْطاً وَعَدْلاً وَمَرْحَمَةً وَفَضْلاً ، وَاشْكُرْهُمْ عَلى حَسَبِ كَرَمِكَ وَجُودِكَ وَما مَنَنْتَ بِهِ عَلَى الْقائِمينَ بِالْقِسْطِ مِنْ عِبادِكَ ، وَادَّخَرْتَ لَهُمْ مِنْ ثَوابِكَ ما يَرْفَعُ لَهُمْ بِهِ الدَّرَجاتِ ، إِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ .( مهج الدعوات : ۸۵ ، البلد الأمين : ۶۶۰ ، وفي مصباح المتهجّد : ۱۵۶ بتفاوت يسير)

وفي البلد الأمين :

وَصَلَّى اللَّهُ عَلى خِيَرَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الْأَطْهارِ

أَللَّهُمَّ إِنّي أَجِدُ هذِهِ النُّدْبَةَ امْتَحَتْ دَلالَتُها ، وَدَرَسَتْ أَعْلامُها ، وَعَفَتْ إِلّا ذِكْرُها ، وَتِلاوَةُ الْحُجَّةِ بِها

أَللَّهُمَّ إِنّي أَجِدُ بَيْني وَبَيْنَكَ مُشْتَبِهاتٍ تَقْطَعُني دُونَكَ ، وَمُبْطِئاتٍ تَقْعُدُ بي عَنْ إِجابَتِكَ ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنّي عَبْدُكَ وَلايُرْحَلُ إِلَيْكَ إِلّا بِزادٍ وَأَنَّكَ لاتَحْجُبُ عَنْ خَلْقِكَ إِلّا أَنْ يَحْجُبَهُمُ الْأَعْمالُ دُونَكَ ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ زادَ الرَّاحِلِ إِلَيْكَ عَزْمُ إِرادَةٍ يَخْتارُكَ بِها ، وَيَصيرُ بِها إِلى ما يُؤَدّي إِلَيْكَ

أَللَّهُمَّ وَقَدْ ناداكَ بِعَزْمِ الْإِرادَةِ قَلْبي فَاسْتَبْقِني نِعْمَتَكَ بِفَهْمِ حُجَّتِكَ لِساني وَما تَيَسَّرَ لي مِنْ إِرادَتِكَ أَللَّهُمَّ فَلا اُخْتَزَلَنَّ عَنْكَ وَأَنَا آمُّكَ ، وَلا اُحْتَلَجَنَّ عَنْكَ وَأَنَا أَتَحَرَّاكَ.

أَللَّهُمَّ وَأَيِّدْنا بِما نَسْتَخْرِجُ بِهِ فاقَةَ الدُّنْيا مِنْ قُلُوبِنا ، وَتَنْعَشُنا مِنْ مَصارِعِ هَوانِها ، وَتَهْدِمُ بِهِ عَنَّا ما شُيِّدَ مِنْ بُنْيانِها ، وَتَسْقينا بِكَأْسِ السَّلْوَةِ عَنْها حَتَّى تُخَلِّصَنا لِعِبادَتِكَ ، وَتُورِثَنا ميراثَ أَوْلِيائِكَ الَّذينَ ضَرَبْتَ لَهُمُ الْمَنازِلَ إِلى قَصْدِكَ ، وَآنَسْتَ وَحْشَتَهُمْ حَتَّى وَصَلُوا إِلَيْكَ

أَللَّهُمَّ وَإِنْ كانَ هَوًى مِنْ هَوَى الدُّنْيا أَوْ فِتْنَةٌ مِنْ فِتَنِها عَلِقَ بِقُلُوبِنا حَتَّى قَطَعَنا عَنْكَ أَوْ حَجَبَنا عَنْ رِضْوانِكَ ، وَقَعَدَ بِنا عَنْ إِجابَتِكَ ، فَاقْطَعِ اللَّهُمَّ كُلَّ حَبْلٍ مِنْ حِبالِها جَذَبَنا عَنْ طاعَتِكَ ، وَأَعْرَضَ بِقُلُوبِنا عَنْ أَداءِ فَرائِضِكَ ، وَاسْقِنا عَنْ ذلِكَ سَلْوَةً وَصَبْراً يُورِدُنا عَلى عَفْوِكَ ، وَيُقْدِمُنا عَلى مَرْضاتِكَ ، إِنَّكَ وَلِيُّ ذلِكَ

أَللَّهُمَّ وَاجْعَلْنا قائِمينَ عَلى أَنْفُسِنا بِأَحْكامِكَ حَتَّى تُسْقِطَ عَنَّا مَؤُونَ الْمَعاصي ، وَاقْمَعِ الْأَهْواءَ أَنْ تَكُونَ مُساوِرَةً ، وَهَبْ لَنا وَطْءَ آثارِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ، وَاللُّحُوقَ بِهِمْ حَتَّى يَرْفَعَ الدّينُ أَعْلامَهُ ابْتِغاءَ الْيَوْمِ الَّذي عِنْدَكَ

أَللَّهُمَّ فَمُنَّ عَلَيْنا بِوَطْءِ آثارِ سَلَفِنا ، وَاجْعَلْنا خَيْرَ فَرَطٍ لِمَنِ ائْتَمَّ بِنا ، فَإِنَّكَ عَلى ذلِكَ قَديرٌ وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمينَ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ سَيِّدِنا وَآلِهِ الْأَبْرارِ وَسَلَّمَ .( البلد الأمين : ۶۶۳ .)

۹ ۔ امام زمانہ کی دعائے قنوت

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَكْرِمْ أَوْلِيائَكَ بِإِنْجازِ وَعْدِكَ ، وَبَلِّغْهُمْ دَرْكَ ما يَأْمُلُونَهُ مِنْ نَصْرِكَ ، وَاكْفُفْ عَنْهُمْ بَأْسَ مَنْ نَصَبَ الْخِلافَ عَلَيْكَ ، وَتَمَرَّدَ بِمَنْعِكَ عَلى رُكُوبِ مُخالَفَتِكَ ، وَاسْتَعانَ بِرِفْدِكَ عَلى فَلِّ حَدِّكَ ، وَقَصَدَ لِكَيْدِكَ بِأَيْدِكَ ، وَوَسِعْتَهُ حِلْماً لِتَأْخُذَهُ عَلى جَهْرَةٍ ، وَتَسْتَأْصِلَهُ عَلى عِزَّةٍ.

فَإِنَّكَ اللَّهُمَّ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ «حَتَّى إِذا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُها أَنَّهُمْ قادِرُونَ عَلَيْها أَتاها أَمْرُنا لَيْلاً أَوْ نَهاراً فَجَعَلْناهُمْ حَصيداً كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآياتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ » وَقُلْتَ «فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنا مِنْهُمْ » ، وَ إِنَّ الْغايَةَ عِنْدَنا قَدْ تَناهَتْ ، وَ إِنَّا لِغَضَبِكَ غاضِبُونَ ، وَ إِنَّا عَلى نَصْرِ الْحَقِّ مُتَعاصِبُونَ ، وَ إِلى وُرُودِ أَمْرِكَ مُشْتاقُونَ ، وَلِإِنْجازِ وَعْدِكَ مُرْتَقِبُونَ ، وَلِحُلُولِ وَعيدِكَ بِأَعْدائِكَ مُتَوَقِّعُونَ.

أَللَّهُمَّ فَأْذَنْ بِذلِكَ ، وَافْتَحْ طُرُقاتِهِ ، وَسَهِّلْ خُرُوجَهُ ، وَوَطِّأْ مَسالِكَهُ ، وَأَشْرِعْ شَرائِعَهُ ، وَأَيِّدْ جُنُودَهُ وَأَعْوانَهُ ، وَبادِرْ بَأْسَكَ الْقَوْمَ الظَّالِمينَ ، وَابْسُطْ سَيْفَ نَقِمَتِكَ عَلى أَعْدائِكَ الْمُعانِدينَ ، وَخُذْ بِالثَّارِ ، إِنَّكَ جَوادٌ مَكَّارٌ .( مهج الدعوات : ۹۰ ، البلد الأمين : ۶۶۴ .)

۱۰ ۔ امام زمانہ کی دوسری دعا قنوت میں

اَللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ يَا مَاجِدُ يَا جَوَادُ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإكْرَامِ يَا ذَا الْبَطْشِ الشَّدِيدِ يَا فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ يَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينُ يَا رَؤُوفُ يَا رَحِيمُ يَا حَيُّ حِينَ لاَ حَيُّ أسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَخْزُونِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْقَيُّومِ الَّذِي اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ وَلَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ أحَدٌ مِنْ خَلْقِكَ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي تُصَوِّرُ بِهِ خَلْقَكَ فِي الأَرْحَامِ كَيْفَ تَشَاءُ وَبِهِ تَسُوقُ إلَيْهِمْ أرْزَاقَهُمْ فِي أطْبَاقِ الظُّلُمَاتِ مِنْ بَيْنِ الْعُرُوقِ وَالْعِظَامِ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي ألَّفْتَ بِهِ بَيْنَ قُلُوبِ أوْلِيَائِكَ وَألَّفْتَ بَيْنَ الثَّلْجِ وَالنَّارِ لاَ هَذَا يُذِيبُ هَذَ وَلا هَذَا يُطْفِئُ هَذَا. وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي كَوَّنْتَ بِهِ طَعْمَ الْمِيَاهِ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي أجْرَيْتَ بِهِ الْمَاءَ فِي عُرُوقِ النَّبَاتِ بَيْنَ أطْبَاقِ الثَّرَى وَسُقْتَ الْمَاءَ إلَى عُرُوقِ الأشْجَارِ بَيْنَ الصَّخْرَةِ الصَّمَّاءِ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي كَوَّنْتَ بِهِ طَعْمَ الثِّمَارِ وَألْوَانَهَ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي بِهِ تُبْدِي وَتُعِيدُ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْفَرْدِ الْوَاحِدِ وَالْمُتَفَرِّدِ بِالْوَحْدَانِيَّةِ الْمُتَوَحِّدِ بِالصَّمَدَانِيَّةِ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي فَجَّرْتَ بِهِ الْمَاءَ فِي الصَّخْرَةِ الصَّمَّاءِ وَسُقْتَهُ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي خَلَقْتَ بِهِ خَلْقَكَ وَرَزَقْتَهُمْ كَيْفَ شِئْتَ وَكَيْفَ تَشَاءُ يَا مَنْ لاَ تُغَيِّرُهُ الأيَّامُ وَاللَّيَالِي أدْعُوكَ بِمَا دَعَاكَ بِهِ نُوحٌ حِينَ نَادَاكَ فَأنْجَيْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ وَأهْلَكْتَ قَوْمَهُ وَأدْعُوكَ بِمَا دَعَاكَ بِهِ إبْرَاهِيمُ خَلِيلُكَ حِينَ نَادَاكَ فَأنْجَيْتَهُ وَجَعَلْتَ النَّارَ عَلَيْهِ بَرْداً وَسَلاَم وَأدْعُوكَ بِمَا دَعَاكَ بِهِ مُوسَى كَلِيمُكَ حِينَ نَادَاكَ فَفَلَقْتَ لَهُ الْبَحْرَ فَأنْجَيْتَهُ وَبَنِي إسْرَائِيلَ وَأغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فِي الْيَمِّ وَأدْعُوكَ بِمَا دَعَاكَ بِهِ عِيسَى رُوحُكَ حِينَ نَادَاكَ فَنَجَّيْتَهُ مِنْ أعْدَائِكَ وَإلَيْكَ رَفَعْتَهُ وَأدْعُوكَ بِمَا دَعَاكَ بِهِ حَبِيبُكَ وَصَفِيُّكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَمِنَ الأحْزَابِ نَجَّيْتَهُ وَعَلَى أعْدَائِكَ نَصَرْتَهُ وَأسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي إذَا دُعِيتَ بِهِ أجَبْتَ يَا مَنْ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ يَا مَنْ أحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْم يَا مَنْ أحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَد يَا مَنْ لاَ تُغَيِّرُهُ الأَيَّامُ وَاللَّيَالِي وَلاَ تَتَشَابَهُ عَلَيْهِ الأَصْوَاتُ وَلاَ تَخْفَى عَلَيْهِ اللُّغَاتُ وَلاَ يُبْرِمُهُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ أسْأَلُكَ أنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ فَصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ وَصَلِّ عَلَى جَمِيعِ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ الَّذِينَ بَلَّغُوا عَنْكَ الْهُدَى وَعَقَدُوا لَكَ الْمَوَاثِيقَ بِالطَّاعَةِ وَصَلِّ عَلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ يَا مَنْ لاَ يُخْلِفُ الْمِيعَادَ أنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي وَاجْمَعْ لِي أصْحَابِي وَصَبِّرْهُمْ وَانْصُرْنِي عَلَى أعْدَائِكَ وَأعْدَاءِ رَسُولِكَ وَلاَ تُخَيِّبْ دُعَائِي فَإنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ أسِيرٌ بَيْنَ يَدَيْكَ سَيِّدِي أنْتَ الَّذِي مَنَنْتَ عَلَيَّ بِهَذَا الْمُقَامِ وَتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلَيَّ دُونَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ أسْأَلُكَ أنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأنْ تُنْجِزَ لِي مَا وَعَدْتَنِي إنَّكَ أنْتَ الصَّادِقُ وَلاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ وَأنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ .

۱۱ ۔ قنوت میں حضرت حجت کی تیسری دعا

مرحوم آیة اللہ سید نصر اللہ مستنبط نے حرم امیرالمومنین میں حضرت حجت کو نماز کی حالت میں مشاہدہ کیا امام عصر کی دلنشین دعا کان میں سنائی دی آنحضرت قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھےاللّٰهم انّ معاویة بن ابی سفین قد عادی علی بن ابی طالب فا لعنه لعناً و بیلا

۱۲ ۔جمعہ میں قنوت کی دعا

آخری حجت کے ظہور کے لئے ابن مقاتل کہتاہے کہ حضرت امام رضا نے مجھ سے پوچھا تم نماز جمعہ کے قنوت میں کونسی دعا پڑھتے ہو میں نے عرض کیا اھل سنت کے لوگ جو دعا پڑھتے وہی میں بھی پڑھتاہوں حضرت نے فرمایا جو دعا وہ پڑھتے ہیں نہ پڑھو بلکہ قنوت میں یہ دعا پڑھو ۱۷۲


باب سوم

نمازوں کے بعد دعاؤں کے بارے میں

۱ ۔ نماز صبح کے بعد دعائیں

أَللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلايَ صاحِبَ الزَّمانِ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَنْ جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، في مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، وَبَرِّها وَبَحْرِها ، وَسَهْلِها وَجَبَلِها ، حَيِّهِمْ وَمَيِّتِهِمْ ، وَعَنْ والِدَيَّ وَوُلْدي ، وَعَنّي مِنَ الصَّلَواتِ وَالتَّحِيَّاتِ ، زِنَةَ عَرْشِ اللَّهِ ، وَمِدادَ كَلِماتِهِ ، وَمُنْتَهى رِضاهُ ، وَعَدَدَ ما أَحْصاهُ كِتابُهُ ، وَأَحاطَ بِهِ عِلْمُهُ

أَللَّهُمَّ إِنّي اُجَدِّدُ لَهُ في هذَا الْيَوْمِ ، وَفي كُلِّ يَوْمٍ ، عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً ] لَهُ[ في رَقَبَتي

أَللَّهُمَّ كَما شَرَّفْتَني بِهذَا التَّشْريفِ ، وَفَضَّلْتَني بِهذِهِ الْفَضيلَةِ ، وَخَصَصْتَني بِهذِهِ النِّعْمَةِ ، فَصَلِّ عَلى مَوْلايَ وَسَيِّدي صاحِبِ الزَّمانِ ، وَاجْعَلْني مِنْ أَنْصارِهِ وَأَشْياعِهِ ، وَالذَّابّينَ عَنْهُ

وَاجْعَلْني مِنَ الْمُسْتَشْهَدينَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، طائِعاً غَيْرَ مُكْرَهٍ ، فِي الصَّفِّ الَّذي نَعَتَّ أَهْلَهُ في كِتابِكَ ، فَقُلْتَ «صَفّاً كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ » عَلى طاعَتِكَ وَطاعَةِ رَسُولِكَ وَآلِهِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ أَللَّهُمَّ هذِهِ بَيْعَةٌ لَهُ في عُنُقي إِلى يَوْمِ القِيامَةِ.( زاد المعاد : ۴۸۷ ، مصباح الزائر : ۴۵۴ ).

۲ ۔ ظہور امام زمانہ کے لئے دعا

نماز صبح کی تعقیب میں مرحوم شیخ بھائی نے نقل کیا ہے کہ نماز صبح کے بعد دائیں ہاتھ سے اپنی دارھی کو پکڑیں اور بائین ہاتھ کو آسمان کی طرف بلند کر کے سات مرتبہ کہے یا رب محمد و آل محمد صلی علی محمد و آل محمد وعجل فرج محمد و آل محمد

۳ ۔ نماز صبح کے بعد حضرت حجت کے ظہور کے لئے دعا

منھاج العارفین میں لکھتے ہیں کہ مستحب ہے کہ انسان نماز صبح کے بعد سو مرتبہ کہے اَللّٰھم صلّ علی محمد و آل محمد و عجّل فرجھم

۴ ۔ نماز صبح کے بعد حضرت حجت کے لئے ایک اور دعا

علامہ مجلسی کتاب المقیاس میں نقل کیا ہے کہ نماز صبح کی تعقیب میں کسی سے بات کرنے سے پہلے سو مرتبہ کہےیا ربّ علی محمد و آل محمد و عجّل فرج آل محمد اعت رقبتی من النار

۷ ۔ ۵ ۔ آخری حجت سے مشکلات دور کرنے کے لئے دعائیں

مرحوم محدث نوری کتاب دارالسلام میں لکھتے ہیں عالم جلیل جناب حاج ملّا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کیا ہے کہ فاضل مقدس آخوند ملّا محمد صادق عراقی کہتے ہیں انتہائی فقر و فاقہ کی زندگی گزار رہے تھے ایک مدت تک ان مسائل میں مبتلاء تھا ان مشکلات سے رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی یہاں تک کہ ایک رات عالم خواب میں صحراء میں ایک بڑا خیمہ دیکھا اس خیمہ میں ایک قبلہ تھا پوچھتاہے کہ یہ عظمت والا خیمہ کس کا ہے کہتے ہیں یہ خیمہ حضرت مہدی قائم اور امام منتظر کا ہے جلدی سے اس خیمہ میں چلا گیا چونکہ ہر درد کی دعا وہاں پر ہے جب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے اپنی پریشانی فقر و فاقہ کی شکایت حضرت حجت سے کی مشکلات اور غم و غصہ دور کرنے کی درخواست کی حضرت نے اپنے فرزندوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور خیمہ کی نشان دہی کرتے ہیں فاضل مقدس حضرت کے یہاں سے جا کر اس خیمہ میں جاتے ہیں کہ جس کی طرف آخری حجت نے اشارہ کیا تھا اچانک دانشمند بزرگوار سید محمد سلطان آبادی کو دیکھتاہے کہ سجادہ پر بیٹھا ہوا ہے دعا اور قرآن کی قرائت میں مشغول ہے سلام کے بعد حضرت حجت کا پیغام اس کو پہنچاتے ہیں تو وہ ان کو ایک دعا یاد کراتے ہیں کہ وہ سختیوں سے نجات حاصل کرے اور روزی کے دروازے اس کے لئے کھول دیے جائیں خواب سے بیدار ہوا اس حالت میں کہ اس نے دعا کو حفظ کیا تھا اس سید کے گھر کی طرف روانہ ہوجاتاہے حالانکہ اس خواب سے پہلے اس سید کے ساتھ کوئی خاص رابطہ نہیں ہوا تھا جب اس بزرگوار کے گھر میں داخل ہوتاہے اسی حالت میں دیکھتاہے جس حالت میں خواب کی حالت میں دیکھا تھا اپنے سجادہ پر بیٹھا ہوا ہے اور ذکر خدا اور استغفار میں مشغول ہے سلام کرتاہے سید جواب دیتاہے اس کی طرف مسکراتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کو پہلے سے اس واقعہ کا علم ہے پوشیدہ اسرار سے آگاہ ہے جس طرح عالم خواب میں اس سے پوچھا تھا اسی طرح اس سے پوچھتاہے سید وہی دعا کہ جو عالم خواب میں اس کو تعلیم دی تھی اس کو یاد کراتاہے وہ اس دعا کو ہمیشہ پڑھتاہے مختصر وقت میں ہر قسم کے مشکلات اس سے دور ہوجاتے ہیں۔

محدث نوری کہتاہے ہمارے استاد سید کے لئے خاص احترام کے قائل تھے انہوں نے آخری عمر میں سید کی ملاقات کی چند مدت اس کی شاگردی کی تھی جو کچھ سید نے عالم خواب اور بیداری میں یاد کرایا تھا تین چیزیں تھیں

۱ ۔ طلوع فجر کے بعد ہاتھ کو سینہ پر رکھ کر ستر مرتبہ یا فتاح کہے محدث نوری فرماتے ہیں: کفعمی کتاب المصباح میں لکھتے ہیں جو شخص بھی اس کام کو انجام دے تو خداوند تعالیٰ اس کے دل سے حجات کو دور کرتاہے۔

۲ ۔ شیخ کلینی سند کے ساتھ ایک روایت اسمٰعیل بن عبدالخالق سے نقل کرتاہے کہتاہے پیغمبر کے اصحاب سے ایک مرد ایک مدت تک حضرت کی خدمت میں نہیں پہنچا چند روز کے بعد آیا حضرت نے فرمایا کیوں ایک مدت سے ہم سے غائب رہے ایسا کیوں ہوا عرض کیا بیماری اور فقر و فاقہ کی وجہ سے حضرت نے فرمایا کہ تجھے ایسی دعا یاد کرادوں کہ جو تجھ سے فقر و فاقہ اور بیماری دور کرے کہنے لگا ہاں اے رسول خدا حضرت نے فرمایا کہو

لا حول ولا قوة الّا بالله العلی العظیم توکلت علی الحی الذی لا یموت و الحمد لله الذّی لم یتخذ صاحبة ولا ولداً و لم یکن له شریک فی الملک و لم یکن له ولیّ من الذلّ وکبّره تکبیراً

راوی کہتاہے تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ وہ مرد آیا اور کہا اے رسول خدا خدا نے بیماری اور فقر کو مجھ سے دور کیا ہے۔

۳ ۔ شیخ ابن فھد حلی نے عدة الداعی میں ایک روایت پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا جو بھی ہر روز نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے اور دست حاجت خدا کی طرف بلند کرے خدا آسانی کے ساتھ اس کی حاجت کو پوری کرتاہے اس کے تمام مہم کاموں کے لئے کفایت کرتاہے۔

بِسْمِ اللَّهِ وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ بَصيرٌ بِالْعِبادِ ، فَوَقيهُ اللَّهُ سَيِّئاتِ ما مَكَرُوا ، لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ ، فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَنَجَّيْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنْجِى الْمُؤْمِنينَ ، وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكيلُ ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ ، وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا ما شاءَ النَّاسُ ، ما شاءَ اللَّهُ وَ إِنْ كَرِهَ النَّاسُ

حَسبِيَ الرَّبُّ مِنَ الْمَرْبُوبينَ ، حَسْبِيَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقينَ ، حَسْبِيَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقينَ ، حَسْبِيَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمينَ ، حَسْبي مَنْ هُوَ حَسْبي ، حَسْبي مَنْ لَمْ يَزَلْ حَسْبي ، حَسْبي مَنْ كانَ مُذْ كُنْتُ ] لَمْ يَزَلْ [حَسْبي ، حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا هُوَ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وهذه الأوراد ممّا ينبغي المواظبة عليها ، فقد صدّقتها الدراية والرواية والخبر .( دار السلام : ۲۶۶/۲ .)

واقعاً یہ دعا ان دعاؤں میں سے ہے کہ سزاوار ہے کہ اس کو پابندی سے پڑھے نقل اور خبر بھی ہمارے گفتار کے سچ ہونے پر گواہ ہے۔

۸ ۔ ہر روز صبح اور ظہر کے بعدآخری حجت کے ظہور کے لئے دعا

حضرت امام صادق نے فرمایا جو بھی نماز ظہر اور صبح جمعہ کے دن اور باقی دنوں میں کہے اللّٰھم صَلِّ علی محمد و آل محمد و عجّل فرجھم وہ شخص نہیں مرے گا یہاں تک امام مھدی کو درک کرے گا۔

۹ ۔ ہر روز نماز ظہر کے بعد آخری حجت کے ظہور کے لئے دعا

کتاب فلاح السائل میں لکھتے ہیں نماز ظہر کے سب سے مہم ترین تعقیبات میں سے امام صادق کی پیروی کرتے ہوئے حضرت مہدی کے لئے دعا کرنا ہے اس کے آنے کی خوشخبری کو امت کے لئے صحیح روایت میں بیان فرمایا ہے آخری زمانہ میں ان کے ظہور کا وعدہ دیا ہے۔

محمد بن رھبان دیلمی سلسلہ سند کے ساتھ ایک روایت عباد بن محمد مدائنہ سے نقل کیا ہے مداینی کہتاہے کہ مدینہ منورہ میں امام صادق کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضرت نماز ظہر تمام کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے فرماتے تھے۔

يا سامِعَ كُلِّ صَوْتٍ ، يا جامِعَ (كُلِّ فَوْتٍ) ، يا بارِئَ كُلِّ نَفْسٍ بَعْدَ الْمَوْتِ ، يا باعِثُ ، يا وارِثُ ، يا سَيِّدَ السَّادَةِ ، يا إِلهَ الْآلِهَةِ ، يا جَبَّارَ الْجَبابِرَةِ ، يا مَلِكَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا رَبَّ الْأَرْبابِ ، يا مَلِكَ الْمُلُوكِ ، يا بَطَّاشُ ، يا ذَا الْبَطْشِ الشَّديدِ ، يا فَعَّالاً لِما يُريدُ ، يا مُحْصِيَ عَدَدِ الْأَنْفاسِ وَنَقْلِ الْأَقْدامِ ، يا مَنِ السِّرُّ عِنْدَهُ عَلانِيَةٌ ، يا مُبْدِئُ ، يا مُعيدُ

أَسْأَلُكَ بِحَقِّكَ عَلى خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَبِحَقِّهِمُ الَّذي أَوْجَبْتَ لَهُمْ عَلى نَفْسِكَ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ السَّلامُ ، وَأَنْ تَمُنَّ عَلَيَّ السَّاعَةَ السَّاعَةَ بِفِكاكِ رَقَبَتي مِنَ النَّارِ ، وَأَنْجِزْ لِوَلِيِّكَ وَابْنِ نَبِيِّكَ الدَّاعي إِلَيْكَ بِإِذْنِكَ ، وَأَمينِكَ في خَلْقِكَ ، وَعَيْنِكَ في عِبادِكَ ، وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، عَلَيْهِ صَلَواتُكَ وَبَرَكاتُكَ وَعْدَهُ

أَللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِنَصْرِكَ ، وَانْصُرْ عَبْدَكَ ، وَقَوِّ أَصْحابَهُ وَصَبِّرْهُمْ ، وَاجْعَلْ لَهُمْ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصيراً، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ، وَأَمْكِنْهُ مِنْ أَعْدائِكَ وَأَعْداءِ رَسُولِكَ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں آیا آپ نے اپنے لئے دعا مانگی حضرت نے فرمایا آل محمد کے نور کے لئے اور اس کے لئے کہ جو خدا کے حکم سے دشمنوں سے انتقام لے گا اس کے لئے دعا کی ہے میں نے عرض کیا خدا مجھے آپ پر قربان کرے آن حضرت کب قیام کرے گا حضرت نے فرمایا جب بھی خدا چاہے یہ امور اس کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے میں نے عرض کیا کیا اس سے پہلے کوئی علامتیں ہیں حضرت نے فرمایا ہاں کئی علامتیں ہیں میں نے عرض کیا وہ علامتیں کیا ہیں حضرت نے فرمایا ایک علم مشرق کی زمین سے اور ایک علم مغرب کی زمین سے بلند ہوگا اور ایک فتنہ اھل رزوراء (ایک گاؤں کا نام) پر سایہ کرے گا اور ایک مرد میرے چچا کے فرزندوں میں سے یمن سے قیام کرے گا جس کا نام زید ہوگا اور کعبہ کا پردہ لوٹا جائے گا اور جو کچھ خدا کی مشیت اقتضاء کرے گی وہی انجام پائے گا گراں قدر کتاب مکیال المکارم کا صاحب اس حدیث شریف کی توضیح میں کہتے ہیں اس مذکورہ دعاء سے چند چیزوں کا استفادہ ہوتاہے۔

اوّل حضرت حجت کے لئے دعا مانگتا اور نماز ظہر کے بعد تعجیل فرج کے لئے دعا مانگنا مستحب ہے۔

دوم آنحضرت کے لئے دعا پڑھتے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا مستحب ہے۔

سوم مستحب ہے کہ حاجت مانگنے سے پہلے خدا کی حمد و ثناء بجالائے۔

چہارم مستحب ہے کہ حاجت طلب کرنے سے پہلے خدا کو اپنا شفیع قرار دے۔

پانچواں کہ دعا سے پہلے مستحب ہے محمد و آل محمد پر درود بھیجے

چھٹا کہ استغفار کے ساتھ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرے تا کہ پاک دل کے ساتھ اجابت کے لئے آمادہ ہوجائے۔

ساتواں کہ ولی مطلق سے مراد جن حضرات کی زبانوں پر یا جن دعاؤں میں ہے اس سے مراد صاحب الزمان ہے۔

آٹھواں مستحب ہے کہ اصھاب کے حق میں اور حضرت کے ساتھیوں کے حق میں دعا مانگے

نواں امام تمام بندوں کے اعمال اور رفتار کو ہر حالت میں دیکھتاہے اور ان کے افعال کو زیر نظر رکھتاہے

دسواں آخری حجت کے القاب میں سے ایک لقب نور آل محمد ہے اس پر گواہ متعدد روایت ہیں کہ جو وارد ہیں اور محقق نوری کے کتاب نجم الثاقب میں ان سے بعض روایت کو ذکر کیا ہے۔

گیارہواں یہ کہ آخری حجت‘ امیرالمومنین علی امام حسن اور امام حسین کے بعد باقی ائمہ معصومین سے افضل ہیں اس مقام پر روایات تائید کے عنوان سے نقل ہوئی ہیں

بارھواں خدائے متعال نے آن حضرت کو ذخیرہ کیا ہے اور ان کے قیام کو تاخیر میں ڈالا ہے تا کہ اپنے اور پیغمبر کے دشمنوں سے انتقام لے لیں متعدد اور متواتر روایات اس معنی میں وارد ہوئی ہیں ۔

تیرھواں یہ کہ حضرت کے ظہور کا زمانہ رازوں میں سے ایک راز ہے کہ آپ مصلحت الٰہی کے تقاضا کے مطابق پوشیدہ ہیں اور اس مطلب پر متواتر روایات موجود ہیں۔

چودھواں۔ یہ کہ یہ علامتیں حتمی علامتیں نہیں ہیں چونکہ اپنے کلام کے اختتام پر خود فرماتے ہیں جیسا خدا کی مشیت اقتجاء کرے گی انجام پائے گا۔

۱۰ ۔ نماز عصر کے بعد امام زمانہ کے لئے دعا مانگنا

سید بن طاوؤس فرماتے ہیں نماز عصر کے بعد سب سے اہم تعقیبات حضرت امام موسیٰ کاظم کی پیروی کرتے ہوئے ہمارے آخری حجت کے لئے دعا مانگنا چنانچہ یحییٰ بن فضل نو فلی کہتاہے کہ بغداد میں حضرت امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضرت نے نماز عصر کے بعد اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور میں نے سنا کہ یہ دعا پڑھتے تھے۔

أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، وَأَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، إِلَيْكَ زِيادَةُ الْأَشْياءِ وَنُقْصانُها ، وَأَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، خَلَقْتَ الْخَلْقَ بِغَيْرِ مَعُونَةٍ مِنْ غَيْرِكَ ، وَلا حاجَةٍ إِلَيْهِمْ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، مِنْكَ الْمَشِيَّةُ وَ إِلَيْكَ الْبَدْءُ.

أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، قَبْلَ الْقَبْلِ وَخالِقُ الْقَبْلِ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، بَعْدَ الْبَعْدِ وَخالِقُ الْبَعْدِ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، تَمْحُو ما تَشاءُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَكَ اُمُّ الْكِتابِ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، غايَةُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَوارِثُهُ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لايَعْزُبُ عَنْكَ الدَّقيقُ وَلَا الْجَليلُ ، أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لايَخْفى عَلَيْكَ اللُّغاتُ ، وَلاتَتَشابَهُ عَلَيْكَ الْأَصْواتُ.

كُلَّ يَوْمٍ أَنْتَ في شَأْنٍ ، لايَشْغَلُكَ شَأْنٌ عَنْ شَأْنٍ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَأَخْفى ، دَيَّانُ الدّينِ ، مُدَبِّرُ الْاُمُورِ ، باعِثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، مُحْيِ الْعِظامِ وَهِيَ رَميمٌ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَكْنُونِ الْمَخْزُونِ ، اَلْحَيِّ الْقَيُّومِ ، اَلَّذي لايَخيبُ مَنْ سَأَلَكَ بِهِ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَأَنْ تُعَجِّلَ فَرَجَ الْمُنْتَقِمِ لَكَ مِنْ أَعْدائِكَ ، وَأَنْجِزْ لَهُ ما وَعَدْتَهُ ، يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ.

میں نے عرض کیا کس کے لئے دعا کرتے ہیں فرمایا مھدی آل محمد کیلئے اس وقت فرمایا میرے باپ فدا اس پر کہ جس کا پیٹ بھرا ہوا ابرو ملے ہوئے جس کے ران باریک بدن قوی گندم گون رنگ تھجد میں شب بیداری کی وجہ سے اس کا رنگ زردی کی طرف مائل تھا میرا باپ قربان اس پر کہ رات کو سجدہ اور رکوع کی حالت میں ساتروں کے غروب کا انتظار کرتاہے میرا باپ قربان اس پر کہ جو راہ خدا میں ملامت کرنے والوں کی ملامت ان پر اثر نہیں کرتی ہے مطلق تاریکی میں وہ ھدایت کا چراغ ہے میرا باپ قربان اس پر کہ جس نے خدا کے امر کو قائم کیا میں نے عرض کیا کس زمانے میں قیام کرے گا فرمایا جس وقت سپاہیوں کو فرات اور دجلہ کے کنارے دیکھ لیں اور کوفہ کا پل منہدم ہوجائے اور کوفہ کے بعد گھر آگ میں جل جائیں جب اس مطلب کو دیکھیں گے پس خداوند متعال کی مشیت کا تعلق وقت ہوا اس وقت انجام پائے گا کدا کے حکم پر کوئی غالب نہیں ہے۔

۱۱ ۔ ہر نماز کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

یہ دعا ہر نماز کے بعد وارد ہے

اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ السُّرُورَ

اللَّهُمَّ أَغْنِ كُلَّ فَقِيرٍ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ كُلَّ جَائِعٍ‏

خدايا هر فقير را بى‏ نياز گردان خدايا هر گرسنه را سير گردان

اللَّهُمَّ اكْسُ كُلَّ عُرْيَانٍ اللَّهُمَّ اقْضِ دَيْنَ كُلِّ مَدِينٍ‏

خدايا هر برهنه را لباس پوشان خدايا دين هر مديونى را ادا فرما

اللَّهُمَّ فَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَكْرُوبٍ اللَّهُمَّ رُدَّ كُلَّ غَرِيبٍ اللَّهُمَّ فُكَّ كُلَّ أَسِيرٍ

اللَّهُمَّ أَصْلِحْ كُلَّ فَاسِدٍ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ‏

اللَّهُمَّ اشْفِ كُلَّ مَرِيضٍ اللَّهُمَّ سُدَّ فَقْرَنَا بِغِنَاكَ اللَّهُمَّ غَيِّرْ سُوءَ حَالِنَا بِحُسْنِ حَالِكَ‏

اللَّهُمَّ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَ أَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ

پڑھنے والوں پر یہ چیز مخفی نہیں ہے کہ اس دعا کا مضمون حضرت مھدی کی حکومت کے زمانے میں محقق ہوگا اس دعا کے لئے ایک قصہ ہے یہاں پر بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

۱۲ ۔ ہر نماز کے بعد آخری حجت کے لئے دعا

کتاب جمال الصالحین میں امام صادق سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت نے فرمایا ہمارے شیعوں پر ہمارے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ ہر واجب نماز کے بعد اپنے ہاتھ سے ٹھوڑی کو پکڑ کر تین مرتبہ کہے

یٰا رَبِّ مُحَمَّدٍ عَجِّل فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ یٰا رَبَّ مُحَمَّدٍ إحْفَظْ غَیْبَةَ مُحَمَّدٍ یٰا رَبَّ مُحَمَّدٍ انْتَقِمْ لِا بْنَتِه مُحَمَّدٍ ۔

۱۳ ۔ ہر واجب نماز کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

حضرت امام جواد فرماتے ہیں جب آپ واجب نماز سے فارغ ہوجائیں تو کہو

رَضيتُ بِاللَّهِ رَبّاً ، وَبِالْإِسْلامِ ديناً ، وَبِالْقُرْآنِ كِتاباً ، وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وآله وسلم نَبِيّاً ، وَبِعَلِيٍّ وَلِيّاً ، وَبِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَمُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ ، وَعَلِيِّ بْنِ مُوسى ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَالْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَئِمَّةً

أَللَّهُمَّ وَلِيُّكَ الْحُجَّةُ فَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ ، وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ ، وَامْدُدْ لَهُ في عُمْرِهِ ، وَاجْعَلْهُ الْقائِمَ بِأَمْرِكَ ، اَلْمُنْتَصِرَ لِدينِكَ ، وَأَرِهِ ما يُحِبُّ وَتَقَِرُّ بِهِ عَيْنُهُ في نَفْسِهِ وَفي ذُرِّيَّتِهِ ، وَأَهْلِهِ وَمالِهِ ، وَفي شيعَتِهِ وَفي عَدُوِّهِ ، وَأَرِهِمْ مِنْهُ ما يَحْذَرُونَ ، وَأَرِهِ فيهِمْ ما يُحِبُّ وَتَقَِرُّ بِهِ عَيْنُهُ ، وَاشْفِ بِهِ صُدُورَنا وَصُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنينَ

اس حدیث شریف سے ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت کی فرض کے لئے دعا کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

۱۴ ۔ دعائے تشرف

روایت میں ہے کہ جو بھی اس دعا کو ہر واجب نماز کے بعد پڑھے اور اس عمل پر پابند رہے اس کی عمر لمبی ہوجاتی ہے اس قدر کہ وہ اپنی زندگی سے تھک جائیں گے اور آخری حجت کی زیارت اور ملاقات ہوجائے گی اور دعا یہ ہے

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، أَللَّهُمَّ إنَّ رَسُولَكَ الصَّادِقَ الْمُصَدَّقَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ قالَ إِنَّكَ قُلْتَ ما تَرَدَّدْتُ في شَيْ‏ءٍ أَنَا فاعِلُهُ كَتَرَدُّدي في قَبْضِ رُوحِ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَساءَتَهُ

أَللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَعَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ ، وَالنَّصْرَ وَالْعافِيَةَ ، وَلاتَسُؤْني في نَفْسي ، وَلا في فُلانٍ ..( مكارم الأخلاق : ۳۵/۲ ، وفي مصباح المتهجّد : ۵۸ والصحيفة الصادقيّة : ۱۷۸ بتفاوت يسير .)

فرمایا کہ فلاں کی جگہ اس کا نام لے

۱۵ ۔ ہر واجب نماز کے بعد امام زمانہ کی ملاقات کی دعا

حضرت امام صادق فرامتے ہیں جو بھی ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھے حضرت امام م ح م د بن الھسن کو حالتِ بیداری میں یا خواب میں دیکھتاہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانا صاحِبَ الزَّمانِ ، أَيْنَما كانَ وَحَيْثُما كانَ ، مِنْ مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، سَهْلِها وَجَبَلِها ، عَنّي وَعَنْ والِدَيَّ ، وَعَنْ وُلْدي وَ إِخْوانِي التَّحِيَّةَ وَالسَّلامَ عَدَدَ خَلْقِ اللَّهِ ، وَزِنَةَ عَرْشِ اللَّهِ ، وَما أَحْصاهُ كِتابُهُ ، وَأَحاطَ عِلْمُهُ

أَللَّهُمَّ إِنّي اُجَدِّدُ لَهُ في صَبْيحَةِ هذَا الْيَوْمِ ، وَما عِشْتُ فيهِ مِنْ أَيَّامِ حَياتي ، عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً لَهُ في عُنُقي ، لا أَحُولُ عَنْها وَلا أَزُولُ أَللَّهُمَّ اجْعَلْني مِنْ أَنْصارِهِ وَنُصَّارِهِ الذَّابّينَ عَنْهُ ، وَالْمُمْتَثِلينَ لِأَوامِرِهِ وَنَواهيهِ في أَيَّامِهِ ، وَالْمُسْتَشْهَدينَ بَيْنَ يَدَيْهِ

أَللَّهُمَّ فَإِنْ حالَ بَيْني وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ ، اَلَّذي جَعَلْتَهُ عَلى عِبادِكَ حَتْماً مَقْضِيّاً فَأَخْرِجْني مِنْ قَبْري مُؤْتَزِراً كَفَني ، شاهِراً سَيْفي ، مُجَرِّداً قَناتي ، مُلَبِّياً دَعْوَةَ الدَّاعي فِي الْحاضِرِ وَالْبادي

أَللَّهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشيدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَميدَةَ ، وَاكْحُلْ بَصَري بِنَظْرَةٍ مِنّي إِلَيْهِ ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ ، وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ أَللَّهُمَّ اشْدُدْ أَزْرَهُ ، وَقَوِّ ظَهْرَهُ ، وَطَوِّلْ عُمْرَهُ ، وَاعْمُرِ اللَّهُمَّ بِهِ بِلادَكَ ، وَأَحْيِ بِهِ عِبادَكَ ، فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ «ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِما كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ ».

فَأَظْهِرِ اللَّهُمَّ لَنا وَلِيَّكَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ ، اَلْمُسَمَّى بِاسْمِ رَسُولِكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، حَتَّى لايَظْفَرَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْباطِلِ إِلّا مَزَّقَهُ ، وَيُحِقَّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِماتِهِ وَيُحَقِّقَهُ

أَللَّهُمَّ اكْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاُمَّةِ بِظُهُورِهِ ، إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعيداً ، وَنَراهُ قَريباً ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ .(البحار : ۶۱/۸۶ ، الصحيفة الصادقيّة : ۱۸۰ .)

۱۶ ۔ نماز شب میں پہلی دو رکعت کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

مستحب ہے کہ نماز شب میں پہلی دو رکعت کے بعد یہ دعا پڑھی جائے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ وَلَمْ يُسْأَلْ مِثْلُكَ ، أَنْتَ مَوْضِعُ مَسْأَلَةِ السَّائِلينَ وَمُنْتَهى رَغْبَةِ الرَّاغِبينَ ، أَدْعُوكَ وَلَمْ يُدْعَ مِثْلُكَ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ وَلَمْ يُرْغَبْ إِلى مِثْلِكَ ، أَنْتَ مُجيبُ دَعْوَةِ الْمُضْطَرّينَ وَأَرْحَمُ الرَّاحِمينَ.

أَسْأَلُكَ بِأَفْضَلِ الْمَسائِلِ وَأَنْجَحِها وَأَعْظَمِها ، يا اَللَّهُ يا رَحْمانُ يا رَحيمُ وَبِأَسْمائِكَ الْحُسْنى ، وَأَمْثالِكَ الْعُلْيا ، وَنِعَمِكَ الَّتي لاتُحْصى.

وَبِأَكْرَمِ أَسْمائِكَ عَلَيْكَ ، وَأَحَبِّها إِلَيْكَ ، وَأَقْرَبِها مِنْكَ وَسيلَةً ، وَأَشْرَفِها عِنْدَكَ مَنْزِلَةً ، وأَجْزَلِها لَدَيْكَ ثَواباً ، وَأَسْرَعِها فِي الْاُمُورِ إِجابَةً ، وَبِاسْمِكَ الْمَكْنُونِ الْأَكْبَرِ الْأَعَزِّ الْأَجَلِّ الْأَعْظَمِ الْأَكْرَمِ ، اَلَّذي تُحِبُّهُ وَتَهْواهُ ، وَتَرْضى بِهِ عَمَّنْ دَعاكَ ، فَاسْتَجَبْتَ لَهُ دُعاءَهُ ، وَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ لاتَحْرِمَ سائِلَكَ وَلاتَرُدَّهُ.

وَبِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ فِي التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَبِكُلِّ اسْمٍ دَعاكَ بِهِ حَمَلَةُ عَرْشِكَ وَمَلائِكَتُكَ ، وَأَنْبِياؤُكَ وَرُسُلُكَ ، وَأَهْلُ طاعَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعَجِّلَ فَرَجَ وَلِيِّكَ وَابْنِ وَلِيِّكَ ، وَتُعَجِّلَ خِزْيَ أَعْدائِهِ ، وتدعو بما تحبّ .( مصباح المتهجّد : ۱۳۹

صاحب مکیال فرماتے ہیں اس دعا میں مزید اضافہ کا کتاب جمال الصالحین میں دیکھا ہےو تجعلنا من اصحابه و انصاره و ترزقنابه رجاء نا و تستجیب به دعاء نا مستحب ہے اس دعا کو نماز شب کے ہر دو رکعت کے بعد پڑھی جائے۔

۱۷ ۔ نماز شب کے چوتھی رکعت کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

نماز شب میں چوتھی رکعت کے بعد سجدہ شکر بجا لائے اور اس میں سو مرتبہ ما شاء اللہ ماشاء اللہ کہے اس کے بعد یہ دعا پڑھے

یٰا رَبِّ أَنْتَ اللّٰهُ، مٰا شِئْتَ مِنْ أَمْرٍ یَکُونُ، فَصَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ لی فیمٰا تَشیاءُ أَنْ تُعَجَّلَ فَرَجَ آل مُحَمَّدٍ، صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمْ، وَتَجْعَلَ فَرَجی وَ فَرَجَ إِخْوٰانی مَقْرُوناً بَفَرَجِهِمْ، وَتَفْعَلَ بی کَذٰا وَ کَذٰا ، جو حاجت ہو وہی دعا مانگو۔


باب چہارم

ہفتہ وار دنوں کی دعائیں

۱ ۔ جمعرات کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

مستحب ہے کہ انسان جمعرات کے دن پیغمبر اکرم پر حضرت ہزار مرتبہ درود بھیجے اور اس طرح کہے

أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ ۔

۲ ۔ مستحب ہے کہ انسان جمعرات کے دن نماز عصر کے بعد جمعہ کے ختم ہونے تک پیغمبر پر زیادہ درود بھیجے اور کہے

أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَ أَهْلِکْ عَدُوَّهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، مِنَ الْأَوَّلینَ وَالْآخِرینَ ۔

اگر اس ذکر کو سو مرتبہ پڑھے تو بہت زیادہ فضیلت ہے شیخ کفعمی کہتے ہیں کہ متحب ہے کہ جمعرات کے دن ہزار متبہ سورہ قدر پڑھے اور پیغمبر پر ہزار مرتبہ درود بھیجے۔

۳ ۔ شب جمعہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

مرحوم شیخ طوسی کتاب مختصر المصباح میں جہاں شب جمعہ کے اعمال بیان کئے ہیں فرمایا ہے کہ پیغمبر پر درود بھیجے

أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَ أَهْلِکْ عَدُوَّهُمْ، مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ، مِنَ الْأَوَّلینَ وَ الْآخِرینَ ۔ اسے سو مرتبہ یا جس مقدار میں ممکن ہو پڑھے۔

علوی مصری کی دعا کا واقعہ

عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس مھجل الدعوات میں فرماتے ہیں ایک قدیم نسخہ میں تاریخ شوال سال تین سو ننانوے میں حسین بن علی بن ھند کے توسط سے لکھا ہوا تھا دعا علوی مصری کو دیکھا کہ اس میں اس طرح ذکر ہوا ہے کہ ایک دعاء امام منتظر نے اپنے شیعوں میں سے ایک شخص کو عالم خواب میں تعلیم دی اس نے ایک ظالم سے ظلم دیکھا تھا اس دعا کی وجہ سے خداوند تعالیٰ نے اس کے کام کو آسان کردیا اور اس کے دشمن کو ھلاک کیا۔

سید بن طاوؤس اس دعا کو اوامر دینے میں دو طریقوں سے نقل کیا ہے یہاں تک کہ فرمایا ہے: کہ محمد بن علی علوی حسینی مصری کہتاہے میرے بارے میں حاکم مصر کے پاس شکایت ہوئی میں اس شخص کے خوف سے غمگین ہوگیا ڈر گیا سوچنے لگا کہیں اس سے نجات کے لئے کوئی صورت ہو اس لئے اپنے اجداد طاہرین کی زیارت کے لئے ہمارے مولا حضرت امام ابوعبداللہ الحسین کے حرم میں گیا حاکم مصر کے خوف سے حضرت کے حرم میں پناہ حاصل کی۔ پندرہ روز تک امام حسین کے جوار میں تھا شب و روز دعا اور زاری میں مشغول تھا ایک دن خواب اور بیداری کے درمیان والی حالت میں تھا اتنے میں صاحب الزمان جلوہ گر ہوئے انہوں نے مجھ سے فرمایا اے میرے فرزند تم فلاں شخص سے ڈر گئے میں نے عرض کیا کہ ہاں وہ مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے میں نے اپنے آقاسے پناہ حاسل کی ہے تا کہ جو کچھ وہ مجھ پر ظلم کرنا چاہتاہے اس ظالم سے مجھے نجات دے حضرت نے فرمایا کیا تم نے وہ دعائیں پڑھی ہے کہ جس دعا کو پڑھ کر پیغمبروں پر جو سختی ہو رہی تھی اس کو اٹھادیا جاتاہے میں نے عرض کیا وہ دعا کونسی ہے تا کہ میں بھی پڑھ لوں فرمایا شب جمعہ اٹھیں اور غسل کریں اور نماز شب پڑھیں جب سجدہ شکر بجالائیں حالانکہ دوزانو بیٹھ کر اس دعا کو پڑھیں۔

محمد بن علی مصری کہتاہے کہ حضرت پانچ راتیں پے در پے تشریف لائے حالانکہ میں خواب اور بیداری کے درمیان میں تھا اس دعا کو میرے لئے تکرار کیا یہاں تک کہ میں نے حفظ کیا شب جمعہ تشریف نہیں لائے میں اٹھا غسل کر کے اپنے لباس کو تبدیل کیا اور عطر لگایا نماز شب پڑھی اور دوزانو بیٹھا اور خدا کو اس دعا کے ساتھ پکارا ہفتہ کی رات حضرت اسی طریقے پر جیسے پہلے آتے تھے وہ تشریف لائے اور میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے محمد تمہاری دعا قبول ہوئی اور تمہارا دشمن ہلاک ہوا اس دعا کو تمام کرنے کے بعد خدا نے اس ھلاک کیا محمد بن علی مصری کہتاہے جب صبح ہوئی تو اپنے دوست احباب سے ملاقات کے بعد گھر کی طرف روانہ ہوا تھوڑی دیر چلا تھا کہ اچانک ایک قاصد میرے فرزندوں کی جانب سے ایک خط لیکر آیا اور کہا جس مرد کے ڈر سے فرار کیا تھا وہ ھلاک ہوا ہے۔ اس نے چند مہمانوں کو دعوت دی تھی مہمان کھانا کھانے کے بعد چلے گئے وہ اپنے نوکروں کے ہمراہ وہیں پر سویا صبح اس کا پتہ نہیں چلا لوگ اس کے گھر گئے اس سے لحاف کو اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ سر تن سے جدا ہوا ہے اور اس کا خون جاری ہے یہ واقعہ شب جمعہ تک پتہ نہیں چلا کہ کس نے یہ کام کیا ہے میرے فرزندوں نے خبر دی تھی کہ میں جلدی گھر چلا آؤں جب میں اپنے گھر پہنچا تو اس کے قتل کا وقت پوچھا تو ٹھیک وہی وقت تھا کہ جس وقت میں نے دعا تمام کی تھی دعا یہ ہے۔

دعائے ندبہ کی اہمیت اور روز جمعہ

صدر الاسلام ہمدانی نے کتاب تکالیف الانام میں کہتے ہیں دعائے ندبہ پڑھنے کی خاصیت یہ ہے اگر اس دعا شریف کو ہر جگہ حضور قلب اخلاص کامل مضامین پر توجہ دیتے ہوئے پڑھے حضرت صاحب العصر کی خاص توجہ اس مکان اور محفل کی طرف ہوتی ہے بلکہ خود حضرت اس محفل میں حاضر ہوجاتے ہیں چنانچہ بعض موارد اور محافل میں ایسا اتفاق ہوا ہے۔

علامہ محقق شیخ علی اکبر نھاوندی نے کتاب العبقریہ الحسان میں کہتے ہیں کہ میں نے حجة الالسلام آقائے حاج شیخ مھدی کو دیکھا کہ اس نے سید جواد مرحوم کی کتاب سے نقل کیا تھا وہ اس کے مولف کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مرحوم اصفہان کے ائمہ جماعت میں سے تھے جو قابل اطمینان تھے وہ بہت عالی مقام رکھتا تھا سچ بولنے والوں میں سے تھا۔ (وما اظلّت الخظراء علی اصدق لھجة منہ) وہ اس کتاب میں لکھتے ہیں ہم چند آدمی ایک دیہات میں رہتے تھے کہ جس کا نام صالح آباد تھا وہاں کے چند آدمی وہ جگہ غصب کر کے ہمارے ہاتھ چھیننا چاہتے تھے اس لئے کچھ لوگ غصب کرنے کے لئے وہاں آئے ہم نے اس بارے میں مذاکرات کئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا میں نے ایک عریضہ امام زمانہ کے نام لکھا اور اس کو نہر میں ڈال دیا اور تخت فولاد جا کر ایک خرابہ میں تضرع اور دعائے ندبہ پڑھنے میں مشغول ہوا بار بر کہتا تھا ھل الیک یابن احمد سبیل فتلقیٰ اے فرزند پیغمبر کیا تمہاری طرف کوئی راستہ ہے تا کہ میں تمہاری ملاقات کروں اچانک میں نے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنی تو میں نے دیکھا کہ ایک عرب سفید و سیاہ گھوڑے پر سوار ہے انہوں نے میری طرف نگاہ کی اور غائب ہوئے اس کو دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا کہ اب میری مشکل حل ہوگی۔ اگلی رات میں میرا کام ٹھیک ہوا میں بار بار حضرت کو خواب میں دیکھتا تھا اور حضرت کا قیافہ اور شکل وہی تھی کہ جو بیداری کی حالت میں دیکھا تھا اسی طرح جناب آقائے سید رضا کہ جو اصفہان کے قابل وثوق علماء میں سے ہے وہ کہتاہے کہ زیادہ مقروض اور فقر و فاقہ کی وجہ سے مردوں کو اپنا وسیلہ قرار دیا تقریباً دو سو مرحومین کا نام لیکر طلب مغفرت کی ان کے بعد امام عصر کو اپنا وسیلہ قرار دیا دعائے ندبہ کے چند فقرات کوپڑھا جیسے ھل الیک یابن احمد سبیل فتلقی۔ اچانک ایک کمرہ کو دیکھا کہ اس سے ایک مخصوص نور نکلتا تھا اسی دن میری مشکل حل ہوئی۔ محدث جلیل القدر مرحوم نوری کہتے ہیں کہ آقا محمد سامرہ شہر میں زندگی گزارتے تھے وہ شخص عادل امین اور اطمینان کا باعث تھا اس کی ماں نیک اور عابدہ تھی اس نے بتایا کہ میری ماں کہتی تھی کہ جمعہ کے دن مرحوم مولیٰ میرزا محمد علی قزوینی کے ہمراہ تہہ خانے میں تھا مرحوم مولیٰ دعائے ندبہ پڑھتا تھا اور ہم بھی اس کے ہمراہ دعا پڑھنے میں مشغول تھے غمگین دل کے ساتھ جیسے کوئی عاشق اور حیران روتاہے جیسے ستم دیدہ نالہ و فریاد کرتاہے ہم بھی اس کے ساتھ روتے تھے تہہ خانہ خالی تھا ہمارے علاوہ کوئی اور وہاں پر موجود نہیں تھا اسی حالت میں تھے کہ اچانک کستوری کی خوشبو تہہ خانے میں پھیلی اور اس کی فضا کو معطر کیا اس کی خوشبو نے اس محفل کو اس قدر معطر کیا اور ہم سب اس حالت میں جو تھے وہاں سے باہر نکلے ہم سب اس شخص کی طرح کی جس کے سر پر پرندہ ہو خاموش ہوگئے حرکت کرنے اور بات کرنے کی ہمت نہیں تھی تھوڑی دیر حیران و پریشان رہ گئے یہاں تک کہ وہ معطر خوشبو کہ جس کو سونگھتے تھے وہ ختم ہوگئی ہم سب دعا کی حالت میں لوٹے جب ہم گھر واپس لوٹے تو مولیٰ سے اس عطر اور خوشبو کے بارے میں پوچھا مولیٰ نے کہا تمہیں اس سے کیا کام ہے اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا برادر بزرگوار آقائے علی رضا اصفہانی نے مجھے بتایا اور کہا کہ ایک دن میرزا محمد علی قزوینی امام زمانہ سے ملاقات کے بارے میں پوچھا میرا گمان یہ تھا کہ یہ بھی اپنے بزرگ استاد سید بحرالعلوم کی طرح آخری حجت سے ملاقات کرتے ہیں انہوں نے اس واقعہ کو اسی طرح میرے لئے بیان کیا۔

علامہ مجلسی زاد المعاد میں فرمایا ہے معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہوئی ہے کہ دعائے ندبہ کا پڑھنا چار عیدوں میں مستحب ہے یعنی روز جمعہ روز عید فطر روز عید قربان اور روز عید غدیر۔

بحار الانوار میں کتاب مزار میں دعائے ندبہ شریف کو سید بن طاوؤس سے اس نے بعض ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے وہ کہتاہے محمد بن علی بن ابوقرّہ کہتاہے دعائے ندبہ کتاب محمد بن حسین بن سفیان بزوفری سے میرے لئے نقل ہوئی ہے اور کہا گیا ہے یہ دعا صاحب الزمان کے لئے ہے اور مستحب ہے کہ چار عیدوں میں پڑھی جائے۔ محدث نوری نے اس دعا کو تحیة الزائر میں مصباح الزائر کتاب سید بن طاوؤس سے اور کتاب مزار میں محمد بن مشہدی نے سند مذکور کے ساتھ نقل کیا ہے اس نقل کے ضمن میں اس دعا کو کتاب المزار تقدیم میں لکھا ہے اس دعا کا مستحب ہونا شب جمعہ میں چار عیدوں میں استجاب کی طرح ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

دعائے ندبہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَصَلَّی اﷲُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ نَبِیِّهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً

حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا پرودگار ہے اور خدا ہمارے سردار اور اپنے نبی محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر رحمت کرے اور بہت بہت سلام بھیجے

اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی مَا جَریٰ بِهِ قَضاؤُکَ فِی أَوْلِیائِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ

اے معبود حمد ہے تیرے لیے کہ جاری ہو گی تیری قضائ و قدر تیرے اولیائ کے بارے میںجن کو تو نے اپنے لیے

لِنَفْسِکَ وَدِینِکَ إذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِیلَ مَا عِنْدَکَ مِنَ النَّعِیمِ الْمُقِیمِ الَّذِی لاَ زَوالَ لَهُ

اور اپنے دین کیلئے خاص کیا جب کہ انہیں اپنے ہاں سے وہ نعمتیں عطا کی ہیں جو باقی رہنے والی ہیں جو نہ ختم ہوتی ہیں نہ کمزور پڑتی ہیں

وَلاَ اضْمِحْلالَ بَعْدَ أَنْ شَرَطْتَ عَلَیْهِمُ الزُّهْدَ فِی دَرَجاتِ هذِهِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّةِ وَزُخْرُفِها

اس کے بعد کہ تو نے ان پر اس دنیا کے بے حقیقت مناصب جھوٹی شان و شوکت اور زینت سے دور رہنا لازم کیا

وَزِبْرِجِها فَشَرَطُوا لَکَ ذلِکَ وَعَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفائَ بِهِ فَقَبِلْتَهُمْ وَقَرَّبْتَهُمْ وَقَدَّمْتَ لَهُمُ

پس انہوں نے یہ شرط پوری کی اور ان کی وفا کو تو جانتا ہے تو نے انہیں قبول کیا مقرب بنایا ان کے ذکر کو بلند فرمایا

الذِّکْرَ الْعَلِیَّ وَالثَّنائَ الْجَلِیَّ وَأَهْبَطْتَ عَلَیْهِمْ مَلائِکَتَکَ وَکَرَّمْتَهُمْ بِوَحْیِکَ وَرَفَدْتَهُمْ

اور ان کی تعریفیں ظاہر کیں تو نے ان کی طرف اپنے فرشتے بھیجے ان کو وحی سے مشرف کیا

بِعِلْمِکَ وَجَعَلْتَهُمُ الذَّرِیعَةَ إلَیْکَ وَالْوَسِیلَةَ إلَی رِضْوانِکَ فَبَعْضٌ أَسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ

ان کو اپنے علوم سے نوازا اور ان کو وہ ذریعہ قرار دیا جوتجھ تک پہنچائے اور وہ وسیلہ جو تیری خوشنودی تک لے جائے پس ان میں کسی کو

إلَی أَنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْها وَبَعْضٌ حَمَلْتَهُ فِی فُلْکِکَ وَنَجَّیْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَکَةِ

جنت میں رکھا یہاں تک کہ اس سے باہر بھیجا کسی کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور بچا لیا اور جو ان کے ساتھ تھے انہیں موت سے بچایا

بِرَحْمَتِکَ وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِکَ خَلِیلاً وَسَأَلَکَ لِسانَ صِدْقٍ فِی الْاَخِرِینَ فَأَجَبْتَهُ

تو نے اپنی رحمت کے ساتھ اور کسی کو تو نے اپنا خلیل بنایا پھردوسرے سچی زبان والوں نے تجھ سے سوال کیا جسے تو نے پورا فرمایا

وَجَعَلْتَ ذلِکَ عَلِیّاًوَبَعْضٌ کَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَرَةٍ تَکْلِیماً وَجَعَلْتَ لَهُ مِنْ أَخِیهِ رِدْئاً وَوَزِیْراً

اسے بلند وبالا قرار دیا کسی کے ساتھ تو نے درخت کے ذریعے کلام کیا اور اس کے بھائی کو اس کا مدد گار بنایا کسی کو تو نے نے بن باپ

وَبَعْضٌ أَوْلَدْتَهُ مِنْ غَیْرِ أَبٍ وَآتَیْتَهُ الْبَیِّناتِ وَأَیَّدْتَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَکُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَرِیعَةً

کے پیدا فرمایا اسے بہت سے معجزات دئیے اور روح قدس سے اسے قوت دی تو نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت

وَنَهَجْتَ لَهُ مِنْهاجاً وَتَخَیَّرْتَ لَهُ أَوْصِیائَ مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ مِنْ مُدَّةٍ إلَی مُدَّةٍ

اور راستہ مقرر کیا ان کے لیے اوصیائ چنے کہ تیرے دین کو قائم رکھنے کے لیے ایک کے بعد دوسرا نگہبان آیا

إقامَةً لِدِینِکَ وَحُجَّةً عَلَی عِبادِکَ وَلِئَلاَّ یَزُولَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ وَیَغْلِبَ الْباطِلُ عَلَی

جو تیرے بندوں پر حجت قرار پایا تاکہ حق اپنے مقام سے نہ ہٹے اور باطل کے حامی اہل حق پر غلبہ

أَهْلِهِ وَلاَ یَقُولَ أَحَدٌ لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَیْنا رَسُولاً مُنْذِراًوَأَقَمْتَ لَنا عَلَماً هادِیاً فَنَتَّبِعَ آیاتِکَ

نہ پائیں اور کوئی یہ نہ کہے کہ کاش تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول بھیجا ہوتا اور ہمارے لیے ہدایت کا جھنڈا بلند کیا ہوتا کہ تیری

مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزٰی إلَی أَنِ انْتَهَیْتَ بِالْاََمْرِ إلی حَبِیبِکَ وَنَجِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی

آیتوںکی پیروی کرتے اس سے پہلے کہ ذلیل و رسوا ہوں یہاں تک کہ تو نے امر ہدایت اپنے حبیب اور پاکیزہ اصل محمد

اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ فَکانَ کَمَا انْتَجَبْتَهُ سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَیْتَهُ وَأَفْضَلَ مَنِ

کے سپرد کیا پس وہ ایسے سردار ہوئے جن کو تو نے مخلوق میں سے پسند کیا برگزیدوں میں سے برگزیدہ بنایا جن کو چنا ان میں سے

اجْتَبَیْتَهُ وَأَکْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ قَدَّمْتَهُ عَلَی أَنْبِیائِکَ وَبَعَثْتَهُ إلَی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبادِکَ وَأَوْطَأْتَهُ

افضل بنایا اپنے خواص میںسے بزرگ قرار دیا انہیں نبیوں کا پیشوا بنایا اور ان کو اپنے بندوں میں سے جن وانس کی طرف بھیجا ان

مَشارِقَکَ وَمَغارِبَکَ وَسَخَّرْتَ لَهُ الْبُراقَ وَعَرَجْتَ بِرُوحِهِ إلَی سَمائِکَ وَأَوْدَعْتَهُ

کیلئے سارے مشرقوں مغربوں کو زیر کر دیا براق کو انکا مطیع بنایا اور انکو جسم و جان کیساتھ آسمان پربلایا اور تو نے انہیں سابقہ و آئندہ

عِلْمَ مَا کانَ وَمَا یَکُونُ إلَی انْقِضائِ خَلْقِکَ ثُمَّ نَصَرْتَهُ بِالرُّعْبِ وَحَفَفْتَهُ بِجَبْرَائِیلَ

باتوں کا علم دیا یہاں تک کہ تیری مخلوق ختم ہو جائے پھر ان کو دبدبہ عطا کیا اور ان کے گرد جبرائیل(ع)

وَمِیکائِیلَ وَالْمُسَوِّمِینَ مِنْ مَلائِکَتِکَ وَوَعَدْتَهُ أَنْ تُظْهِرَ دِینَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ

و میکائیل(ع) اور نشان زدہ فرشتوں کوجمع فرمایا ان سے وعدہ کیا کہ آپکا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا اگرچہ مشرک دل تنگ ہوں

الْمُشْرِکُونَ وَذلِکَ بَعْدَ أَنْ بَوَّأْتَهُ مُبَوَّأَ صِدْقٍ مِنْ أَهْلِهِ وَجَعَلْتَ لَهُ وَلَهُمْ أَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ

اور یہ اس وقت ہوا جب ہجرت کے بعد تو نے انکے خاندان کوسچائی کے مقام پر جگہ دی اور انکے اور انکے ساتھیوں کیلئے قبلہ بنایا پہلا

لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبارَکاً وَهُدیً لِلْعالَمِینَ فِیهِ آیاتٌ بَیِّناتٌ مَقامُ إبْراهِیمَ وَمَنْ دَخَلَهُ

گھر جو مکہ میں بنا یا گیا جو جہانوں کیلئے برکت و ہدایت کا مرکز ہے اس میں واضح نشانیاں اور مقام ابراہیم(ع) ہے جو اس گھر میں داخل ہوا

کانَ آمِناً وَقُلْتَ إنَّما یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً ثُمَّ

اسے امان مل گئی نیز تو نے فرمایا ضرور خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے برائی کو دور کر دے اے اہلبیت(ع) اور تمہیں پاک رکھے جسطرح پاک رکھنے کا حق ہے

جَعَلْتَ أَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَوَدَّتَهُمْ فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ قُلْ لاَ أَسْأَلُکُمْ

محمد(ص) پر اور انکی آل(ع) پر تیری رحمتیں ہوں تو نے اہل بیت(ع) کی محبت کو انکا اجررسالت قرار دیا قرآن میں پس تو نے فرمایا کہہ دیں کہ میں تم

عَلَیْهِ أَجْراً إلاَّ الْمَوَدَّ ةَ فِی الْقُرْبیٰ وَقُلْتَ مَا سَأَلْتُکُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَکُمْ وَقُلْتَ ما

سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور تو نے کہا جو اجر میں نے تم سے مانگا ہے وہ تمہارے فائدے میں ہے

أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ أَجْرٍ إلاَّ مَنْ شَائَ أَنْ یَتَّخِذَ إلَی رَبِّهِ سَبِیلاً فَکانُوا هُمُ السَّبِیلَ

نیز تو نے فرمایا میں نے تم سے اجر رسالت نہیں مانگا سوائے اس کے کہ یہ راہ اس کے لیے جو خدا تک پہنچنا چاہے پس اہل بیت

إلَیْکَ وَالْمَسْلَکَ إلَی رِضْوانِکَ فَلَمَّا انْقَضَتْ أَیَّامُهُ أَقامَ وَلِیَّهُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ

تیرا مقرر کردہ راستہ اور تیری خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہیں ہاں جب محمد(ص) رسول اللہ کا وقت پورا ہو گیا تو ان کی جگہ علی(ع) بن ابی طالب(ع) نے لے لی

صَلَواتُکَ عَلَیْهِما وَآلِهِما هادِیاً إذْ کانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هادٍ فَقالَ وَالْمَلاََُ

ان دونوں پر اور انکی آل(ع) پر تیری رحمتیں ہوں علی رہبر ہیں جب کہ محمد(ص) ڈرانے والے اور ہر قوم کیلئے رہبر ہے پس فرمایا آپ نے

أَمامَهُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلاهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ

جماعت صحابہ سے کہ جسکا میں مولا ہوں پس علی(ع) بھی اسکے مولا ہیں اے معبود محبت کراس سے جو اس سے محبت کرے دشمنی کر اس سے

عاداهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَقالَ مَنْ کُنْتُ أَنَا نَبِیَّهُ فَعَلِیٌّ أَمِیرُهُ

جو اس سے دشمنی کرے مدد کر اسکی جو اسکی مدد کرے خوار کر اسکو جو اسے چھوڑے نیز فرمایا کہ جسکا میں نبی (ص) ہوں علی(ع) اسکا امیر و حاکم ہے

وَقالَ أَنَا وَعَلِیٌّ مِنْ شَجَرَةٍ واحِدَةٍ وَسائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ وَأَحَلَّهُ مَحَلَّ هَارُونَ مِنْ

اور فرمایا میں اور علی(ع) ایک درخت سے ہیں اور دوسرے لوگ مختلف درختوں سے پیدا ہوئے ہیں اور علی(ع) کو اپنا جانشین بنایا جیسے ہارون(ع)

مُوسی فَقال لَهُ أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هارُونَ مِنْ مُوسی إلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِیَّ

موسیٰ(ع) کے جانشین ہوئے پس فرمایااے علی(ع) تم میری نسبت وہی مقام رکھتے ہو جو ہارون(ع) کو موسیٰ(ع) کی نسبت تھا مگر میرے بعد کوئی نبی(ص)

بَعْدِی وَزَوَّجَهُ ابْنَتَهُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ وَأَحَلَّ لَهُ مِنْ مَسْجِدِهِ مَا

نہیںآپ نے علی(ع) کا نکاح اپنی بیٹی سردار زنان عالم(س) سے کیا مسجد میں ان کیلئے وہ امر حلال رکھا جو آپ کیلئے تھا اور مسجد کی

حَلَّ لَهُ وَسَدَّ الْاََبْوابَ إلاَّ بابَهُ ثُمَّ أَوْدَعَهُ عِلْمَهُ وَحِکْمَتَهُ فَقالَ أَنَا مَدِینَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ

طرف سے سبھی دروازے بندکرائے سوائے علی(ع) کے دروازے کے پھر اپنا علم و حکمت ان کے سپرد کیا تو فرمایا میں علم کاشہر ہوںاور علی(ع)

بابُها فَمَنْ أَرادَ الْمَدِینَةَ وَالْحِکْمَةَ فَلْیَأْتِها مِنْ بابِها ثُمَّ قالَ أَنْتَ أَخِی وَوَصِیِّی وَوارِثِی

اس کا دروازہ ہیں لہذا جو علم و حکمت کا طالب ہے وہ اس در علم پر آئے نیز یہ کہا کہ اے علی(ع) تم میرے بھائی جانشین اور وارث ہو

لَحْمُکَ مِنْ لَحْمِی وَدَمُکَ مِنْ دَمِی وَسِلْمُکَ سِلْمِی وَحَرْبُکَ حَرْبِی وَالْاِیمانُ

تمہارا گوشت میرا گوشت تمہارا خون میرا خون تمہاری صلح میری صلح تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور ایمان

مُخالِطٌ لَحْمَکَ وَدَمَکَ کَمَا خالَطَ لَحْمِی وَدَمِی وَأَنْتَ غَداً عَلَی الْحَوْضِ خَلِیفَتِی

تمہاری رگوں میں شامل ہے جیسے وہ میرے رگوں میں شامل ہے قیامت میں تم حوض کوثر پر میرے خلیفہ ہوگے

وَأَنْتَ تَقْضِی دَیْنِی وَتُنْجِزُ عِداتِی وَشِیعَتُکَ عَلَی مَنابِرَ مِنْ نُورٍ مُبْیَضَّةً وُجُوهُهُمْ

تمہی میرے قرضے چکائو گے اور میرے وعدے نبھائو گے تمہارے شیعہ جنت میں چمکتے چہروں کیساتھ نورانی تختوں پرمیرے آس پاس

حَوْلِی فِی الْجَنَّةِ وَهُمْ جِیرانِی وَلَوْلا أَنْتَ یَا عَلِیُّ لَمْ یُعْرَفِ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدِی وَکانَ بَعْدَهُ

میرے قرب میں ہوں گے اور اے علی(ع) اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنوں کی پہچان نہ ہو پاتی چنانچہ وہ آپ کے بعد گمراہی سے

هُدیً مِنَ الضَّلالِ وَنُوراً مِنَ الْعَمیٰ وَحَبْلَ اﷲِ الْمَتِینَ وَصِراطَهُ الْمُسْتَقِیمَ لاَ یُسْبَقُ

ہدایت میں لانے والے تاریکی سے روشنی میںلانے والے خدا کا مضبوط سلسلہ اور اسکا سیدھا راستہ ہیں نہ قرابت پیغمبر(ص) میں کوئی ان

بِقَرابَةٍ فِی رَحِمٍ وَلاَ بِسابِقَةٍ فِی دِینٍ وَلاَ یُلْحَقُ فِی مَنْقَبَةٍ مِنْ مَناقِبِهِ یَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ

سے بڑھا ہوا تھا نہ دین میں کوئی ان سے آگے تھا ان کے علاوہ کوئی بھی اوصاف میں رسول(ص) کے مانند نہ تھاعلی(ع) و نبی(ص) اور

صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِما وَآلِهِما وَیُقاتِلُ عَلَی التَّأْوِیلِ وَلاَ تَأْخُذُهُ فِی اﷲِ لَوْمَةُ لائِمٍ قَدْ وَتَرَ فِیهِ

انکی آل(ع) پر خدا کی رحمت ہو علی(ع) نے تاویل قرآن پر جنگ کی اور خدا کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ

صَنادِیدَ الْعَرَبِ وَقَتَلَ أَبْطالَهُمْ وَناوَشَ ذُؤْبانَهُمْ فَأَوْدَعَ قُلُوبَهُمْ أَحْقاداً بَدْرِیَّةً وَخَیْبَرِیَّةً

کی عرب سرداروں کو ہلاک کیا انکے بہادروں کو قتل کیا اور انکے پہلوانوں کو پچھاڑا پس عربوں کے دلوں میں کینہ بھر گیا کہ بدر‘ خیبر‘

وَحُنَیْنِیَّةً وَغَیْرَهُنَّ فَأَضَبَّتْ عَلَی عَداوَتِهِ وَأَکَبَّتْ عَلَی مُنابَذَتِهِ حَتَّی قَتَلَ النَّاکِثِینَ

حنین وغیرہ میں انکے لوگ قتل ہو گئے پس وہ علی(ع) کی دشمنی میں اکھٹے ہوئے اور انکی مخالفت پر آمادہ ہو گئے چنانچہ آپ(ع) نے بیعت توڑنے والوں

وَالْقاسِطِینَ وَالْمارِقِینَ وَلَمَّا قَضیٰ نَحْبَهُ وَقَتَلَهُ أَشْقَی الْاَخِرِینَ یَتْبَعُ أَشْقَی الْاََوَّلِینَ

تفرقہ ڈالنے والوں اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو قتل کیا جب آپکا وقت پورا ہوا تو بعد والوں میں سے بدبخت ترین نے آپ کو قتل کیا

لَمْ یُمْتَثَلْ أَمْرُ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ فِی الْهادِینَ بَعْدَ الْهادِینَ وَالْاَُمَّةُ مُصِرَّةٌ عَلَی

اس نے پہلے والے شقی ترین کی پیروی کی رسول اللہ کا فرمان پورا نہ ہوا جبکہ ایک رہبرکے بعد دوسرا رہبر آتا رہا اور امت اس

مَقْتِهِ مُجْتَمِعَةٌ عَلَی قَطِیعَةِ رَحِمِهِ وَ إقْصائِ وُلْدِهِ إلاَّ الْقَلِیلَ مِمَّنْ وَفَیٰ لِرِعایَةِ

کی دشمنی پر شدت سے کمر بستہ ہو کر اس پر ظلم ڈھاتی رہی اور اس کی اولاد کو پریشان کرتی رہی مگر تھوڑے سے لوگ وفادار تھے اور انکا

الْحَقِّ فِیهِمْ فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ وَسُبِیَ مَنْ سُبِیَ وَأُقْصِیَ مَنْ أُقْصِیَ وَجَرَی الْقَضائُ لَهُمْ بِمَا

حق پہچانتے تھے پس ان میں سے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید میں ڈالے گئے اور کچھ بے وطن ہوئے ان پر قضا وارد ہو گئی

یُرْجیٰ لَهُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ إذْ کانَتِ الْاََرْضُ لِلّٰهِ یُورِثُها مَنْ یَشائُ مِنْ عِبادِهِ وَالْعاقِبَةُ

جس پروہ بہترین اجر کے امیدوار ہوئے کیونکہ زمین خدا کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اسکا وارث بناتا ہے اور انجام کار پرہیزگاروں

لِلْمُتَّقِینَ وَسُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً وَلَنْ یُخْلِفَ اﷲُ وَعْدَهُ وَهُوَ الْعَزِیزُ

کیلئے ہے اور پاک ہے ہمارا رب کہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے ہاں خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا وہ زبر دست ہے

الْحَکِیمُ فَعَلَی الْاََطآئِبِ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِما وَآلِهِما فَلْیَبْکِ

حکمت والا پس حضرت محمد(ص)و حضرت علی(ع) کہ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو ان کے خاندان پران پر رونے والوں کو

الْباکُونَ وَ إیَّاهُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُونَ وَلِمِثْلِهِمْ فَلْتَذْرِفِ الدُّمُوعُ وَلْیَصْرُخِ الصَّارِخُونَ

رونا چاہیے چنانچہ ان پر اور ان جیسوں پر دھاڑیں مار کر رونا چاہیے پس ان کیلئے آنسو بہائے جائیںرونے والے چیخ چیخ کر روئیں

وَیَضِجَّ الضَّاجُّونَ وَیَعِجَّ الْعاجُّونَ أَیْنَ الْحَسَنُ أَیْنَ الْحُسَیْنُ أَیْنَ أَبْنائُ الْحُسَیْنِ

نالہ و فریاد بلند کریں اور اونچی آوازوں میں رو کر کہیں کہاں ہیں حسن(ع) کہاںہیں حسین(ع) کہاں گئے فرزندان حسین(ع) ایک نیک کردار کے

صالِحٌ بَعْدَ صالِحٍ وَصادِقٌ بَعْدَ صادِقٍ أَیْنَ السَّبِیلُ بَعْدَ السَّبِیلِ أَیْنَ الْخِیَرَةُ بَعْدَ

بعد دوسرا نیک کردار ایک سچے کے بعد دوسرا سچا کہاں گئے جو ایک کے بعد ایک راہ حق کے رہبر تھے کہاں گئے جو اپنے وقت میںخدا

الْخِیَرَةِ أَیْنَ الشُّمُوسُ الطَّالِعَةُ أَیْنَ الْاََقْمارُ الْمُنِیرَةُ أَیْنَ الاََنْجُمُ الزَّاهِرَةُ أَیْنَ أَعْلامُ الدِّینِ

کے برگزیدہ تھے کدھر گئے وہ چمکتے سورج کیا ہوئے وہ دمتے چاند کہاں گئے وہ جھلملاتے ستارے کدھر گئے وہ دین کے نشان اور علم

وَقَواعِدُ الْعِلْمِ أَیْنَ بَقِیَّةُ اﷲِ الَّتِی لاَ تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهادِیَةِ أَیْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ

کے ستون کہاں ہے خدا کا آخری نمائندہ جو رہبروں کے اس خاندان سے باہر نہیں کہاں ہے وہ جو ظالموں کی جڑیں کاٹنے کیلئے آمادہ ہے

أَیْنَ الْمُنْتَظَرُ لاِِِقامَةِ الْاََمْتِ وَالْعِوَجِ أَیْنَ الْمُرْتَجیٰ لاِِِزالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ أَیْنَ

کہاں ہے وہ جو انتظار میں ہے کہ کج کو سیدھا اور نا درست کو درست کرے کہاں ہے وہ امیدگاہ جو ظلم وستم کو مٹانے والا ہے کہاں ہے

الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ الْفَرائِضِ وَالسُّنَنِ أَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لاِِِعادَةِ الْمِلَّةِ وَالشَّرِیعَةِ أَیْنَ الْمُؤَمَّلُ

وہ جو فرائض اور سنن کو زندہ کرنے والا امام(ع) کہاں ہے وہ جو ملت اور شریعت کو راست کرنے والا کہاں ہے وہ جس کے ذریعے قرآن

لاِِِحْیائِ الْکِتابِ وَحُدُودِهِ أَیْنَ مُحْیِی مَعالِمِ الدِّینِ وَأَهْلِهِ أَیْنَ قاصِمُ شَوْکَةِ

اور اس کے احکام کے زندہ ہونے کی توقع ہے کہاں ہے وہ جو دین اور اہل دین کے طریقے روشن کرنے والا کہاں ہے وہ جو ظالموں

الْمُعْتَدِینَ أَیْنَ هادِمُ أَبْنِیَةِ الشِّرْکِ وَالنِّفاقِ أَیْنَ مُبِیدُ أَهْلِ الْفُسُوقِ وَالْعِصْیانِ وَالطُّغْیانِ

کا زور توڑنے والا کہاں ہے وہ جو شرک و نفاق کی بنیادیں ڈھانے والا کہاں ہے وہ جو بدکاروں نافرمانوں اور سرکشوں کو تباہ کرنے والا

أَیْنَ حاصِدُ فُرُوعِ الْغَیِّ وَالشِّقاقِ أَیْنَ طامِسُ آثارِ الزَّیْغِ وَالْاََهْوائِ أَیْنَ قاطِعُ

کہاں ہے وہ جو گمراہی اور تفرقے کی شاخیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو کج دلی و نفس پرستی کے داغ مٹانے والا کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان

حَبائِلِ الْکِذْبِ وَالْاِفْتِرائِ أَیْنَ مُبِیدُ الْعُتاةِ وَالْمَرَدَةِ أَیْنَ مُسْتَأْصِلُ أَهْلِ الْعِنادِ وَالتَّضْلِیلِ

کی رگیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو سرکشوں اور مغروروں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے وہ جو دشمنوں گمراہ کرنے والوں اور بے دینوں کی

وَالْاِ لْحادِ أَیْنَ مُعِزُّ الْاََوْلِیائِ وَمُذِلُّ الْاََعْدائِ أَیْنَ جامِعُ الْکَلِمَةِ عَلَی التَّقْوی

جڑیں اکھاڑنے والا کہاں ہے وہ جو دوستوں کو باعزت اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے وہ جو سب کو تقویٰ پر جمع کرنے والا

أَیْنَ بابُ اﷲِ الَّذِی مِنْهُ یُوَْتی أَیْنَ وَجْهُ اﷲِ الَّذِی إلَیْهِ یَتَوَجَّهُ الْاََوْلِیائُ أَیْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ

کہاں ہے وہ جو خدا کا دروازہ جس سے وارد ہوں کہاں ہے وہ جو مظہر خدا کہ جس کی طرف حبدار متوجہ ہوں کہاں ہے وہ جو زمین و

بَیْنَ الْاََرْضِ وَالسَّمائِ أَیْنَ صاحِبُ یَوْمِ الْفَتْحِ وَناشِرُ رایَةِ الْهُدی أَیْنَ مُوََلِّفُ شَمْلِ

آسمان کے پیوست رہنے کا وسیلہ کہاں ہے وہ جو یوم فتح کا حکمران اور ہدایت کا پرچم لہرانے والا کہاں ہے جو وہ نیکی

الصَّلاحِ وَالرِّضا أَیْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْاََنْبِیائِ وَأَبْنائِ الْاََنْبِیائِ أَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ

و خوشنودی کا لباس پہننے والا کہاں ہے وہ جو نبیوں کے خون اور نبیوں کی اولاد کے خون کا دعویدار کہاں ہے وہ جو کربلا کے مقتول حسین(ع)

بِکَرْبَلائَ أَیْنَ الْمَنْصُورُ عَلَی مَنِ اعْتَدی عَلَیْهِ وَافْتَری أَیْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِی یُجابُ إذا دَعا

کے خون کا مدعی کہاں ہے وہ جو اس پر غالب ہے جس نے زیادتی کی اور جھوٹ باندھا وہ پریشان کہ جب دعا مانگے قبول ہوتی ہے

أَیْنَ صَدْرُ الْخَلائِقِ ذُو الْبِرِّ وَالتَّقْوی أَیْنَ ابْنُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفی وَابْنُ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی وَابْنُ

کہاں ہے وہ جو مخلوق کا حاکم جو نیک و پرہیز گار ہے کہاں ہے وہ جو نبی مصطفی(ص) کا فرزند علی مرتضی (ع)کا فرزند خدیجہ

خَدِیجَةَ الْغَرَّائِ وَابْنُ فاطِمَةَ الْکُبْرَی بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی لَکَ الْوِقائُ وَالْحِمی یَابْنَ

پاک(ع) کا فرزند اور فاطمہ کبری(ع) کا فرزند مہدی(ع) قربان آپ پر میرے ماں باپ اور میری جان آپ کیلئے فدا ہے اے خدا کے مقرب

السَّادَةِ الْمُقَرَّبِینَ یَابْنَ النُّجَبائِ الْاََکْرَمِینَ یَابْنَ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ یَابْنَ الْخِیَرَةِ الْمُهَذَّبِینَ

سرداروں کے فرزند اے پاک نسل بزرگواروں کے فرزند اے ہدایت یافتہ رہبروں کے فرزنداے برگزیدہ اور خوش اطوار بزرگوں

یَابْنَ الْغَطارِفَةِ الْاََنْجَبِینَ یَابْنَ الْاََطآئِبِ الْمُطَهَّرِینَ یَابْنَ الْخَضارِمَةِ الْمُنْتَجَبِینَ یَابْنَ

کے فرزند اے پاک نہاد سرداروں کے فرزند اے پاکبازوں پاک شدگان کے فرزند اے پاک نژاد و سادات کے فرزند

الْقَماقِمَةِ الْاََکْرَمِینَ یَابْنَ الْبُدُورِ الْمُنِیرَةِ یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیْئَةِ یَابْنَ الشُّهُبِ الثَّاقِبَةِ

اے وسیع القلب عزت داروں کے فرزند اے روشن چاندوں کے فرزند اے روشن چراغوں کے فرزند اے روشن سیاروں کے فرزند

یَابْنَ الْاََنْجُمِ الزَّاهِرَةِ یَابْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ یَابْنَ الْاََعْلامِ اللاَّئِحَةِ یَابْنَ الْعُلُومِ الْکامِلَةِ

اے چمکتے ستاروں کے فرزند اے روشن راہوںکے فرزند اے بلند مرتبے والوں کے فرزنداے حاملین علوم کے فرزند

یَابْنَ السُّنَنِ الْمَشْهُورَةِ یَابْنَ الْمَعالِمِ الْمَأْثُورَةِ یَابْنَ الْمُعْجِزاتِ الْمَوْجُودَةِ یَابْنَ الدَّلائِلِ

اے واضح روشوں کے فرزند اے مذکورہ علامتوں کے فرزند اے معجز نمائوںکے فرزند اے ظاہر دلائل کے فرزند

الْمَشْهُودَةِ یَابْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ یَابْنَ النَّبَاََ الْعَظِیمِ یَابْنَ مَنْ هُوَ فِی أُمِّ الْکِتابِ لَدَی اﷲِ

اے سیدھے راستے کے فرزند اے عظیم خبر کے فرزند اے اس ہستی کے فرزند جو خدا کے ہاں ام الکتاب میں

عَلِیٌّ حَکِیمٌ یَابْنَ الْآیاتِ وَالْبَیِّناتِ یَابْنَ الدَّلائِلِ الظَّاهِراتِ یَابْنَ الْبَراهِینِ الْواضِحاتِ

علی اور حکیم ہے اے واضح روشن آیات کے فرزند اے ظاہر اور دلائل کے فرزند اے واضح و روشن تر دلائل کے

الْباهِراتِ یَابْنَ الْحُجَجِ الْبالِغاتِ یَابْنَ النِّعَمِ السَّابِغاتِ یَا ابْنَ طه وَالْمُحْکَماتِ یَابْنَ یسَ

فرزند اے کامل حجتوں کے فرزند اے بہترین نعمتوں کے فرزند اے طۂ اور محکم آیتوں کے فرزند اے یا سین

وَالذَّارِیاتِ یَابْنَ الطُّورِ وَالْعادِیاتِ یَابْنَ مَنْ دَنیٰ فَتَدَلَّیٰ فَکانَ قابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ دُنُوّاً

و ذاریات کے فرزند اے طور اور عادیات کے فرزند اے اس ہستی کے فرزند جو نزدیک ہوئے تو اس سے مل گئے پس کمان کے دونوں سروں جتنے

وَاقْتِراباً مِنَ الْعَلِیِّ الْاََعْلی لَیْتَ شِعْرِی أَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّویٰ بَلْ أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّکَ

یا اس سے بھی نزدیک ہوئے علی اعلیٰ کے قریب ہو گئے اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایااور کس زمین میں اور کس خاک نے

أَوْ ثَریٰ أَبِرَضْویٰ أَوْ غَیْرِها أَمْ ذِی طُویٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أَرَی الْخَلْقَ وَلاَ تُریٰ

آپکو اٹھا رکھا ہے آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادی طویٰ میں یہ مجھ پر گراں ہے کہ مخلوق کو دیکھوں اور آپکو نہ دیکھ پائوں

وَلاَ أَسْمَعُ لَکَ حَسِیساً وَلاَ نَجْویٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ تُحِیطَ بِکَ دُونِیَ الْبَلْوَیٰ وَلاَ

نہ آپکی آہٹ سنوں اور نہ سر گوشی، مجھے رنج ہے کہ آپ تنہا سختی میں پڑے ہیں میں آپکے ساتھ نہیں ہوں اور میری آہ و زاری آپ

یَنالُکَ مِنِّی ضَجِیجٌ وَلاَ شَکْویٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّابِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نازِحٍ

تک نہیں پہنچ پاتی میری جان آپ پر قربان کہ آپ غائب ہیں مگر ہم سے دور نہیں میں آپ پر قربان آپ وطن سے دور ہیں لیکن ہم

مَا نَزَحَ عَنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ أُمْنِیَّةُ شائِقٍ یَتَمَنَّیٰ مِنْ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ ذَکَرا فَحَنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ

سے دور نہیں میں آپ پرقربان آپ ہر محب کی آرزو ہر مومن و مومنہ کی تمنا ہیںجس کیلئے وہ نالہ کرتے ہیں میں قربان آپ وہ عزت دار ہیں

عَقِیدِ عِزٍّ لاَ یُسَامیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ أَثِیلِ مَجْدٍ لاَ یُجارَیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ تِلادِ نِعَمٍ لاَ

جنکا کوئی ثانی نہیں میں قربان آپ وہ بلند مرتبہ ہیں جن کے برابر کوئی نہیں میں قربان آپ وہ قدیمی نعمت ہیں جس کی مثل نہیں میں

تُضاهیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نَصِیفِ شَرَفٍ لاَ یُساوَیٰ إلی مَتَی أَحارُ فِیکَ یَا مَوْلایَ وَ إلَی

قربان آپ جو شرف رکھتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں مل سکتا کب تک ہم آپ کے لیے بے چین رہیںگے اے میرے آقا اور کب تک

مَتَیٰ وَأَیَّ خِطابٍ أَصِفُ فِیکَ وَأَیَّ نَجْوَیٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أُجَابَ دُونَکَ وَأُناغَیٰ عَزِیزٌ

اور کسطرح آپ سے خطاب کروں اور سرگوشی کروں یہ مجھ پر گراں ہے کہ سوائے آپکے کسی سے جواب پائوں یا باتیں سنوں مجھ پر

عَلَیَّ أَنْ أَبْکِیَکَ وَیَخْذُلَکَ الْوَرَیٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ یَجْرِیَ عَلَیْکَ دُونَهُمْ مَا جَرَیٰ هَلْ

گراں ہے کہ میں آپ کیلئے روئوں اور لوگ آپکو چھوڑے رہیں مجھ پر گراں ہے کہ لوگوں کیطرف سے آپ پر گزرے جو گزرے تو

مِنْ مُعِینٍ فَأُطِیلَ مَعَهُ الْعَوِیلَ وَالْبُکائَ هَلْ مِنْ جَزُوعٍ فَأُساعِدَ جَزَعَهُ إذا خَلا هَلْ قَذِیَتْ

کیا کوئی ساتھی ہے جسکے ساتھ مل کر آپ کے لیے گریہ وزاری کروں کیا کوئی بے تاب ہے کہ جب وہ تنہا ہو تو اس کے ہمراہ نالہ کروں

عَیْنٌ فَساعَدَتْها عَیْنِی عَلَی الْقَذَیٰ هَلْ إلَیْکَ یَابْنَ أَحْمَدَ سَبِیلٌ فَتُلْقیٰ هَلْ

آیا کوئی آنکھ ہے جسکے ساتھ مل کر میری آنکھ غم کے آنسو بہائے اے احمد مجتبی(ص) کے فرزند آپ کے پاس آنے کا کوئی راستہ ہے کیا ہمارا

یَتَّصِلُ یَوْمُنا مِنْکَ بِعَدِهِ فَنَحْظیٰ مَتَی نَرِدُ مَناهِلَکَ الرَّوِیَّةَ فَنَرْوَیٰ مَتَی نَنْتَقِعُ

آج کا دن آپکے کل سے مل جائے گا کہ ہم خوش ہوں کب وہ وقت آئیگا کہ ہم آپکے چشمے سے سیراب ہونگے کب ہم آپ کے چشمہ ٔ

مِنْ عَذْبِ مائِکَ فَقَدْ طالَ الصَّدیٰ مَتیٰ نُغادِیکَ وَنُراوِحُکَ فَنُقِرَّ عَیْناً

شیریں سے پیاس بجھائیں گے اب تو پیاس طولانی ہو گئی کب ہماری صبح و شام آپکے ساتھ گزرے گی کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہونگی

مَتی تَرانا وَنَراکَ وَقَدْ نَشَرْتَ لِوائَ النَّصْرِتُرَیٰ أَتَرَانا نَحُفُّ بِکَ وَأَنْتَ تَؤُمُّ الْمَلْأَ

کب آپ ہمیں اورہم آپکو دیکھیں گے جبکہ آپکی فتح کا پرچم لہراتا ہو گا ہم آپکے ارد گرد جمع ہونگے اور آپ سبھی لوگوں کے امام ہونگے

وَقَدْ مَلْأَتَ الْاََرْضَ عَدْلاً وَأَذَقْتَ أَعْدائَکَ هَواناً وَعِقاباً وَأَبَرْتَ الْعُتاةَ وَجَحَدَةَ الْحَقِّ

تب زمین آپکے ذریعے عدل و انصاف سے پر ہو گی آپ اپنے دشمنوں کو سختی و ذلت سے ہمکنار کرینگے آپ سرکشوں اور حق کے

وَقَطَعْتَ دابِرَ الْمُتَکَبِّرِینَ وَاجْتَثَثْتَ أُصُولَ الظَّالِمِینَ وَنَحْنُ نَقُولُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ

منکروں کو نابود کرینگے مغروروں کا زور توڑ دینگے اور ظلم کرنے والوں کی جڑیں کاٹ دینگے اس وقت ہم کہیں گے حمد ہے خدا کیلئے جو

الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ کَشَّافُ الْکَُرَْبِ وَالْبَلْوَیٰ وَ إلَیْکَ أَسْتَعْدِیٰ فَعِنْدَکَ الْعَدْوَیٰ

جہانوں کا رب ہے اے معبود تو دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے میں تیرے حضور شکایت لایا ہوں کہ تو مداوا کرتا ہے

وَأَنْتَ رَبُّ الْاَخِرَةِ وَالدُّنْیا فَأَغِثْ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ عُبَیْدَکَ الْمُبْتَلیٰ وَأَرِهِ سَیِّدَهُ

اور تو ہی دنیا و آخرت کا پروردگار ہے پس میری فریاد سن اے فریادیوں کی فریاد سننے والے اپنے اس حقیر اور دکھی بندے کو اس آقا کا دیدار کرا دے

یَا شَدِیدَ الْقُوَیٰ وَأَزِلْ عَنْهُ بِهِ الْاََسَیٰ وَالْجَوَیٰ وَبَرِّدْ غَلِیلَهُ یَا مَنْ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ

اے زبردست قوت والے انکے واسطے سے اسکے رنج و غم کو دور فرما اور اسکی پیاس بجھا دے اے وہ ذات جو عرش پر حاوی ہے کہ جسکی

وَمَنْ إلَیْهِ الرُّجْعیٰ وَالْمُنْتَهیٰ اَللّٰهُمَّ وَنَحْنُ عَبِیدُکَ التَّائِقُونَ إلی وَلِیِّکَ الْمُذَکِّرِ بِکَ

طرف واپسی اور آخری ٹھکانا ہے اور اے معبود ہم ہیں تیرے حقیر بندے جو تیرے ولی عصر(ع) کے مشتاق ہیں جن کا ذکر تو نے

وَبِنَبِیِّکَ خَلَقْتَهُ لَنا عِصْمَةً وَمَلاذاً وَأَقَمْتَهُ لَنا قِواماً وَمَعاذاً وَجَعَلْتَهُ لِلْمُوَْمِنِینَ

اور تیرے نبی(ص) نے کیا تو نے انہیں ہماری جائے پناہ بنایا ہمارا سہارا قرار دیا انکو ہماری زندگی کا ذریعہ اور پناہ گاہ بنایا اور انکو ہم میں سے

مِنَّا إماماً فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً وَزِدْنا بِذلِکَ یَارَبِّ إکْراماً وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنا

مومنوں کا امام قرار دیا پس انکو ہمارا درود و سلام پہنچا اور اے پروردگار انکے ذریعے ہماری عزت میں اضافہ فرما انکی قرار گاہ کو ہماری

مُسْتَقَرَّاً وَمُقاماً وَأَتْمِمْ نِعْمَتَکَ بِتَقْدِیمِکَ إیَّاهُ أَمامَنا حَتَّی تُورِدَنا جِنَانَکَ وَمُرافَقَةَ

قرار گاہ اور ٹھکانہ بنا دے ہم پر انکی امامت کے ذریعے ہمارے لیے اپنی نعمت پوری فرما یہاں تک کہ وہ ہمیں تیری جنت میں ان

الشُّهَدائِ مِنْ خُلَصائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ جَدِّهِ

شہیدوں کے پاس لے جائینگے جو مقرب خاص ہیں اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور امام مہدی(ع) کے نانا محمد(ص) پر رحمت فرما

وَرَسُولِکَ السَّیِّدِ الْاََکْبَرِ وَعَلَی أَبِیهِ السَّیِّدِ الْاََصْغَرِ وَجَدَّتِهِ الصِّدِّیقَةِ الْکُبْری فاطِمَةَ

جو تیرے رسول اور عظیم سردار ہیں اور مہدی(ع) کے والد پر رحمت کر جو چھوٹے سردار ہیں ان کی دادی صدیقۂ کبری فاطمہ(ع)

بِنْتِ مُحَمَّدٍ صلَّی الله عَلیْهِ وآلِهِ وَعَلَی مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ آبائِهِ الْبَرَرَةِ وَعَلَیْهِ أَفْضَلَ

بنت محمد پر رحمت فرما ان سب پر رحمت فرما جن کو تو نے ان کے نیک بزرگوں میں سے چنا اور القائم پر رحمت فرما بہترین کامل

وَأَکْمَلَ وَأَتَمَّ وَأَدْوَمَ وَأَکْثَرَ وَأَوْفَرَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَصْفِیائِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ

پوری ہمیشہ ہمیشہ بہت سی بہت زیادہ جو رحمت کی ہو تو نے اپنے برگزیدوں میں سے کسی پر اور مخلوق میں سے اپنے

خَلْقِکَ وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلاةً لاَ غایَةَ لِعَدَدِها وَلاَ نِهایَةَ لِمَدَدِها وَلِاِنَفادَ لاََِمَدِها اَللّٰهُمَّ

پسند کردہ پر اور اس پر درود بھیج وہ درود جس کا شمار نہ ہوسکے جس کی مدت ختم نہ ہو اور جو کبھی منقطع نہ ہو اے معبود!

وَأَقِمْ بِهِ الْحَقَّ وَأَدْحِضْ بِهِ الْباطِلَ وَأَدِلْ بِهِ أَوْلِیائَکَ وَأَذْلِلْ بِهِ أَعْدائَکَ

انکے ذریعے حق کو قائم فرما انکے ہاتھوں باطل کو مٹا دے انکے وجود سے اپنے دوستوں کو عزت دے انکے ذریعے اپنے دشمنوں کو ذلت دے

وَصِلِ اَللّٰهُمَّ بَیْنَنا وَبَیْنَهُ وُصْلَةً تُوََدِّیٰ إلی مُرافَقَةِ سَلَفِهِ وَاجْعَلْنا مِمَّنْ

اور اے معبود ہمیں اور انکو اکٹھے کر دے ایسا اکٹھا کہ جو ہم کو انکے پہلے بزرگوں تک پہنچائے اور ہمیں ان میں قرار دے جنہوں نے ان

یَأْخُذُ بِحُجْزَتِهِمْ وَیَمْکُثُ فِی ظِلِّهِمْ وَأَعِنَّا عَلَی تَأْدِیَةِ حُقُوقِهِ إلَیْهِ وَالاجْتِهادِ فِی طاعَتِهِ

کا دامن پکڑا ہے ہمیں ان کے زیر سایہ رکھ ان کے حقوق ادا کرنے میں ہماری مدد فرما ان کی فرما نبرداری میں کوشاں بنا دے

وَاجْتِنابِ مَعْصِیَتِهِ وَامْنُنْ عَلَیْنا بِرِضاهُ وَهَبْ لَنا رَأْفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ وَدُعائَهُ وَخَیْرَهُ

انکی نافرمانی سے بچائے رکھ انکی خوشنودی سے ہم پر احسان کر اور ہمیں انکی محبت عطا فرما انکی رحمت انکی دعا اور انکی برکت عطا فرما

مَا نَنالُ بِهِ سَعَةً مِنْ رَحْمَتِکَ وَفَوْزاً عِنْدَکَ وَاجْعَلْ صَلا تَنا بِهِ مَقبُولَةً وَذُنُوبَنا بِهِ

جسکے ذریعے ہم تیری وسیع رحمت اور تیرے ہاں کامیابی حاصل کریں ان کے ذریعے ہماری نماز قبول فرما ان کے وسیلے ہمارے گناہ

مَغْفُورَةً اوَدُعائَنا بِهِ مُسْتَجاباً وَاجْعَلْ أَرْزاقَنا بِهِ مَبْسُوطَةً وَهُمُومَنابِهِ مَکْفِیَّةً

بخش دے انکے واسطے سے ہماری دعا منظور فرما اور انکے ذریعے سے ہماری روزیاں فراخ کر دے ہماری پریشانیاں دور فرما اور انکے وسیلے سے

وَحَوَائِجَنا بِهِ مَقْضِیَّةً وَأَقْبِلْ إلَیْنا بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنا إلَیْکَ وَانْظُرْ إلَیْنا

ہماری حاجات کو پورا فرما اور توجہ کر ہماری طرف اپنی ذات کریم کے واسطے سے اور قبول فرما اپنی بار گاہ میں ہماری حاضری ہماری طرف نظر کر

نَظْرَةً رَحِیمَةً نَسْتَکْمِلُ بِهَا الْکَرامَةَ عِنْدَکَ ثُمَّ لاَ تَصْرِفْها عَنَّا بِجُودِکَ وَاسْقِنا مِنْ

مہربانی کی نظر کہ جس سے تیری درگاہ میں ہماری عزت بڑھ جائے پھر اپنے کرم کی وجہ سے وہ نظر ہم سے نہ ہٹا ہمیں القائم(ع) کے نانا

حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِکَأْسِهِ وَبِیَدِهِ رَیّاً رَوِیّاً هَنِیْئاً سَائِغاً

کے حوض سے سیراب فرما ان پر اور انکی آل (ع) پر خدا کی رحمت ہو انکے جام سے انکے ہاتھ سے سیر و سیراب کر جس میں مزہ آئے اور پھر

لاَ ظَمَأَ بَعْدَهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

پیاس نہ لگے اے سب سے زیادہ رحم والے ۔

۔ جمعہ کے دن صبح کے نماز کے بعد کی دعا

جمع کے دن صبح کے بعد آخری حجت کے تعجیل ظہور کے لئے دعا مستحب ہے کہ انسان جمعہ کے دن نماز صبح کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید کو پڑھے اور سو مرتبہ استغفار کرے اور سو مرتبہ پیغمبر پر اس طرح درود بھیجے اور کہے

أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ

۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

شیخ طوسی مصباح المتھجد میں لکھتے ہیں جب تم چاہو کہ جمعہ کے دن پیغمبر پر درود بھیجو تو کہو

أَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلٰاتَکَ، وَ صَلَوٰاة مَلٰائِکَتِکَ وَ رُسُلِکَ، عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ ۔یا کہےأَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ ۔اور روایت میں ہے کہ سو مرتبہ کہوأَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ

۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

مستحب ہے کہ انسان جمعہ کے دن سورہ قدر کو سو مرتبہ پڑھے اور کہےأَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ ۔اس ذکر کو امکان کی صورت میں ہزار مرتبہ یا سو مرتبہ یا دس مرتبہ کہے۔

۔ نماز جمعہ کے بعد درود بھیجنے کی فضیلت

حضرت صادق نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ جو بھی نماز جمعہ کے بعد سات مرتبہ کہےأَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ ۔تو یہ شخص حضرت کے اصحاب اور مددگاروں میں شامل ہوجاتاہے۔

۱۰ ۔ جمعہ عید افطر عید قربان کے دن آخری حجت کے ظہور کے لئے دعا۔

حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں جمعہ عید فطر عید قربان کے دن جب نماز کے لئے جانے کا ارادہ کریں تو کہیں

أَللّٰهُمَّ مَنْ تَهَیَّأَ فی هٰذَا الْیَوْمِ، أَوْ أَعَدَّوَاسْتَعَدَّلِوِفٰادَةٍ إِلیٰ مَخْلُوقٍ، رَجٰاءَ رِفْدِهِ وَجٰائِزَتِهِ وَنَوٰافِلِهِ، فَإِلَیْکَ یٰاسَیِّدی کٰانَتْ وِفٰادَتی وَتَهْیِئَتی وَإِعْدٰادی وَ اسْتِعْدٰادی رَجٰا رِفْدِک، وَجَوٰائِزِکَ وَنَوٰافِلِکَ

أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَاخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ، وَعَلِیٍّ أَمیرِالْمُوٴْمِنینَ وَوَصِیِّ رَسُلِکَ، وَصَلِّ یٰا رَبِّ عَلیٰ أَئِمَّةِ الْمُوٴْمِنینَ، اَلْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍاور ایک ایک کر کے تمام معصومین کا نام لیں یهاں تک اپنے مولیٰ کا نام لیں اور کهیں

أَللّٰهُمَّ افْتَحْ لَهُ فَتْحاً یَسیراً، وَ انْصُرْهُ نَصْراً عَزیزاً، أَللّٰهُماَّ أَظْهَرْ بِهِ دینَکَ وَسُنَّةَ رَسُلِکَ، حَتّٰی لٰا یَسْتَخْفِیَ بِشَیْءٍ مِنَ الْحَقِّ مَخٰافَةَ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ

أَللّٰهُمَّ إِنّٰا نَرْغَبُ إِلَیْکَ فی دَوْلَةٍ کَریمَةٍ تُعِزُّبِهَا الْاِسْلٰامَ وَأَهْلَهُ، وَتُذِلُّ بِهَا النِّفٰاقَ وَأَهْلَهُ، وَتَجْعَلُنٰا فیهٰا مِنَ الدُّعٰاةِ إِلیٰ طٰاعَتِکَ وَالْقٰادَةِ إِلیٰ صَبیکَ وَتَرْزُقُنٰا بِهٰا کَرٰامَةَ الدُّنْیٰا وَالْآخِرَةِ

أَللّٰهُمَّ مٰا أَن کَرْنٰا مِنْ حَقٍّ فَعَرِّفْنٰاهُ، وَمٰا قَصُرْنٰا عَنْهُ فَبَلِّغْنٰاهُ ۔ اور خدا سے اس کے لئے دعا مانگو اور ان کے دشمن پر نفرین بھیجو اور اپنی حاجت کا خدا سے سوال کرو اور آخری کلام یہ ہوأَللّٰهُمَّ اسْتَجِبْ لَنٰا، أَللّٰهُمَّ اجْعَلْنٰا مِمَّنْ تَذَکَّرَ فیهِ فَیَذَّکَّرَ ۔

ضرّاب اصفہانی کے درود کا واقعہ

سید جلیل القدر علی بن طاؤوس فرماتے ہیں کہ ضرّاب اصفہانی کا درود وہ درود ہے محمد و آل محمد پر کہ جسکی صاحب الزمان کی طرف سے روایت ہوئی ہے یہ صلوات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے جمعہ کے دن عصر کی تعقیب نہ پڑھ سکے تو ہرگز اس صلوات کو ترک نہ کرنا چونکہ اس میں ایک راز ہے کہ خدا نے ہم کو اس سے آگاہ کیا ہے کئی لوگ کہ جنکا بار بار نام لے چکا ہوں سند کے ساتھ میرا جدا ابو جعفر طوسی معتبر سلسلہ سند کے ساتھ یعقوب بن یوسف ضرّاب غسانی سے انہوں نے میرے لئے نقل کیا ہے کہ اصفہان سے واپس ہوتے وقت اس طرح بتایا ہے سال ۲۸۱ ھجری قمری میں اھل سنت کے چند ہم وطنوں کے ساتھ حج کے لئے عازم سفر ہوئے جب ہم مکہ مشرفّہ پہنچے ان میں سے ایک پہلے چلا گیا بازار لیل کے درمیان ایک محلہ ہے ہمارے لئے ایک گھر کرایہ پر لیا وہاں حضرت خدیجہ کا گھر تھا کہ امام رضا کے گھر سے مشہور تھا اس گھر میں ایک بوڑھی عورت زندگی کرتی تھی جب مجھے پتہ چلا کہ وہ دارالرضا کے نام سے مشہور ہے اس بوڑھی عورت سے پوچھا تیرا اس گھر کے مالک کے ساتھ کیا نسبت ہے یا تعلق ہے اور اس گھر کو دارالرضا کیوں نام رکھا گیا ہے۔ اس نے کہا میں اھل بیت کے دوستداروں میں ہوں اور یہ گھر امام علی بن موسیٰ الرضا کا گھر ہے مجھے امام حسن عسکری نے اس گھر میں رکھا ہے اور میں حضرت کے خدمت گزاروں میں تھا جب میں نے یہ بات ان سے سنی میں اسے سے مانوس ہوا اور اس راز کو اپنے مخالف ساتھیوں سے چھپادیا ایک مدت تک وہاں پر تھے ہمارا پروگرام یہ تھا کہ جب ہم رات کو خانہ کعبہ کے طواف سے واپس لوٹتے تھے تو گھر کے صحن میں ہم سوجاتے تھے اور گھر کے دروازے کو بند کرتے تھے اور اس دروازے کے پیچھے ایک بڑا پتھر رکھ دیتے تھے جس صحن میں ہم سوجاتے تھے رات کو کئی مرتبہ ایک نور کو دیکھتے تھے جیسے مشعل کا نور ہوا کرتاہے اور یہ بھی دیکھتے تھے کہ گھر کا دروازہ کھلتا تھا ہم میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولتا تھا ایک شخص درمیانہ قد کا گندم گون رنگ متمایل بہ زردی ایک بہترین قد و قامت کو دیکھا اس کے خوبصورت چہرہ سے سجدہ کے آثار نمایاں تھے وہ قمیض پہنے ہوئے اس پر اوپر ایک نازک عبا تھی اور جوتے پہنے ہوئے گھر میں داخل ہوتے تھے اور اس بوڑھی عورت کے اوپر والا کمرہ میں چلے جاتے تھے وہ بوڑھی عورت کہتی تھی کہ میری بیٹی کے علاوہ اور کوئی میرے کمرہ میں نہیں آتاہے جب سیڑھیوں سے اوپر جاتے تھے تو میں ایک نور دیکھتا تھا جو صحن میں پڑجاتا تھا اس کے بعد اسی نور کو کمرہ میں دیکھتا تھا اس میں کوئی چراغ نہیں جلاتا تھا میرے ساتھیوں نے بھی اسی نور کو دیکھا اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ شخص اس عورت کا صاحب ہے کہ ہوسکتاہے کہ اس لڑکی سے متعہ کیا ہو اور کہتے تھے کہ یہ علوی متعہ کو جائز جانتے ہیں اور یہ ان کے گمان میں حرام تھا ہم دیکھتے تھے وہ شخص آتا تھا اور جاتا تھا اور دروازہ کے پیچھے جو پتھر رکھتے تھے اسی طرح تھا جس طرح ہم نے رکھا تھا اور ہم اپنے سامان کے ڈر سے دروازہ بند کرتے تھے کوئی اور دروازہ کو نہ بند کرتا اور نہ کھولتا تھا لیکن وہ شخص گھر میں آتا تھا اور جاتا تھا اور پتھر اسی طرح دروازہ کے پیچھے تھا جب ہم نکلنا چاہتے تھے تو اس وقت پتھر کو ایک طرف ہٹا کر رکھ دیتے تھے جب میں نے یہ واقعہ دیکھا میرے اندر اس کی ہیبت نمایاں ہوئی میں نے اس بوڑھی عورت سے ہمدری کا اظہار کیا میں چاہتا تھا اس شخص کے واقعہ کو جانوں ان سے کہا کہ اے فلاں میں اپنے ساتھیوں کو بتائے بغیر خفیہ طور پر آپ سے پوچھنا چاہتاہوں آپ نے دیکھا کہ اس وقت میرے ساتھی نہیں ہیں میں اس وقت آپ سے ایک سوال کرنا چاہتاہوں اس نے جواب میں بلا فاصلہ کہا میں بھی چاہتی ہوں کہ ایک راز بتادوں لیکن اب تک تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے موقع نہیں ملا ہے میں نے کہا آپ کیا کہنا چاہتی ہیں اس نے کہا تجھ سے کہنا ہے اور کسی کا نام نہیں لیا: کہ آپنے ساتھیوں سے سختی نہ کریں ان کے ساتھ جھگڑا نہ کریں کیونکہ یہ تمہارے دشمن ہیں ان کے ساتھ نرمی سے پیش آجائیں۔ میں نے کہا کس نے یہ بات کی ہے کہنے لگی میں کہتی ہوں میرے دل میں اس کی مصیبت داخل ہوئی تھی سوال دوبارہ نہ کیا میں نے کہا آپکی مراد میرے کونسے ساتھی ہیں میں نے خیال کیا کہ ان کی مراد وہ ساتھی ہیں کہ جن کے ساتھ میں حج پر گیا تھا اس نے کہا وہ ساتھی ہیں کہ جو تیرے شہر میں ہیں تیرے گھر میں تمہارے ساتھ ہیں البتہ میرے درمیان اور ان کے درمیان گو دین کے بارے میں گربڑھ ہوئی تھی کہ میرے خلاف باتیں ہوئی تھیں میں وہاں سے بھاگا تھا اور ایک مدت تک چھپ کر زندگی کرتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے میرے خلاف باتیں کی تھیں۔

اس بوڑھی عورت سے کہا تو کس طرح امام رضا کے دوست داروں میں سے ہوئی کہنے لگے میں حضرت امام حسن عسکری کے خدمت گاروں میں سے تھی جب اس بارے میں یقین ہوا تو اپنے آپ سے کہا بہتر ہے کہ حضرت غائب کے بارے میں اس سے پوچھوں اور میں نے کہا خدا کے لئے یہ بتاؤں کیا تم نے ان کو دیکھا ہے اس نے کہا اے بھائی میں نے ان کو نہیں دیکھا ہے میں اور میری بہن جو حاملہ تھی اپنے شہر سے باہر آئے اور امام حسن نے مجھے مبارک بادی دی کہ آخر عمر میں اس کو دیکھوں گا اور فرمایا ان کے لئے وہی کچھ ہوگا جو میرے لئے ہوا ہے۔

میں زمانے سے اسی شہر میں ہوں اب ایک خط اور خرچہ کے ساتھ ایک خراسانی شخص کہ جو عربی زبان اچھی طرح نہیں جانتاہے میرے پاس آیا ہے اس نے مجھے تیس دینار دیے ہیں اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس سال حج کے لئے مشرف ہوجاؤں میں اس کی زیارت کے شوق میں اپنے شہر سے باہر آیا ہوں راوی کہتاہے اس وقت میرے دل میں آیا کہ وہ شخص بعض راتوں میں اس گھر میں آتا تھا وہی دلوں کا محبوب ہے دس درہم صحیح جو کہ سکّہ رضویہ تھا میرے ساتھ تھے اور میں نے نذر کیا تھا کہ مقام ابراہیم میں ڈالوں گا ان کو نکال کر اس بوڑھی عورت کو دیے اور اپنے آپ سے کہا کہ اس کو زھراء کے فرزندوں کو دینا مقام ابراہیم میں ڈالنے سے بہتر ہے اور اس کا ثواب زیادہ ہے میں نے ان سے کہا کہ اس رقم کو حضرت فاطمہ کی اولاد میں جو مستحق ہیں ان کو دے دیں میری نیت یہ تھی جس شخص کو دیکھا ہے وہ رقم لیکر مستحقین کو دے دے گا۔ اس عورت نے رقم لے لی اور اوپر کمرہ میں گئی تھوڑی دیر کے بعد آئی اور کہا وہ کہتاہے ہمارا اس میں کوئی حق نہیں ہے جو تم نے نیت کی ہے اس کو برقرار رکھو لیکن اس سکہ رضوی کے اس عوض ہم سے لے لیں اور جس مقام پر نذر کیا ہے وہیں پر ڈال دیں انہوں نے جیسا فرمایا تھا ویسا عمل کیا اور اپنے آپ سے کہا یہ وہی ہے کہ جو مامور تھا کہ اس کی طرف سے انجام دوں یعنی حضرت حجت ہیں۔

اس کے بعد ایک نسخہ ایک تحریر کہ قاسم بن علاء کی طرف صادر ہوا تھا میرے پاس تھا میں نے ان سے کہا یہ نسخہ اس شخص کو دکھا دیں کہ جو امام غائب کی توقیع کو جانتاہو اس نے کہا کہ مجھے دے دیں میں جانتاہوں وہ نسخہ اس کو دے دیا اور گمان کیا کہ وہ بوڑھی عورت اچھی طرح پڑھ سکتی ہے اس نے کہا میں نہیں پڑھ سکتی ہوں کمرہ میں جانے کے بعد واپس آئی اور کہا یہ توقیع صحیح ہے اور اس توقیع میں یہ رکھا گیا تھا میں تجھ کو خوشخبری دیتاہوں کہ میں نے اپنی خوشخبری کسی کو نہیں دی ہے اس وقت کہا وہ فرماتے ہیں کہ جس وقت پیغمبر پر درود بھیجتے ہو تو کس طرح بھیجتے ہو میں نے کہا میں کہتا ہوںأَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ بٰارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ کَأَفْضَلِ مٰا صَلَّیْتَ وَ بٰارَکْتَ وَ تََحَّمْتَ عَلیٰ إِبْرٰاهیمَ وَآلِ إِبْرٰاهیمَ، إِنَّکَ حَمیدٌ مَجیدٌ ۔

فرمایا نہیں جب سب پر درود بھیجنا چاہو تو ہر ایک کا نام لو کہا ہاں نام لیتا ہوں جب صبح ہوئی وہ بوڑھی عورت آئی اس کے ہمراہ ایک چھوٹی کاپی تھی اس نے کہا تم سے کہتاہے کہ جب پیغمبر پر درود بھیجنا چاہو تو اس نسخہ کے مطابق ان کے اوصیاء پر درود بھیجو اس نسخہ کو میں نے لیا کہ اب اس پر عمل کروں گا چند راتیں دیکھا کہ وہ کمرہ سے نیچے آتے تھے نور چراغ کی طرح روشن تھا میں نے دروازہ کھولا اور اس نور کے پیچھے چلا گیا لیکن کسی کو نہیں دیکھا صرف نور کو دیکھا یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوا شہر کے مختلف لوگوں کو دیکھا کہ اس گھر کے دروازے پر آتے تھے بعض عریضے اس بوڑھی کو دیتے تھے وہ بوڑھی عورت بھی ان کو عریضے دے دیتی تھی اور آپس میں باتیں کرتے تھے لیکن میں ان کی باتوں کو نہیں سمجھتا تھا ان میں بعض کو راستے میں جاتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ میں بغداد میں داخل ہوا۔

۔ ضرّاب اصفہانی کے صلوات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْمُرْسَلينَ وَخاتَمِ النَّبِيّينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ ، اَلْمُنْتَجَبِ فِي الْميثاقِ ، اَلْمُصْطَفى فِي الظِّلالِ ، اَلْمُطَهَّرِ مِنْ كُلِّ آفَةٍ ، اَلْبَري‏ءِ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ ، اَلْمُؤَمَّلِ لِلنَّجاةِ ، اَلْمُرْتَجى لِلشَّفاعَةِ ، اَلْمُفَوَّضِ إِلَيْهِ دينُ اللَّهِ أَللَّهُمَّ شَرِّفْ بُنْيانَهُ ، وَعَظِّمْ بُرْهانَهُ ، وَأَفْلِجْ حُجَّتَهُ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ ، وَأَضِئْ نُورَهُ، وَبَيِّضْ وَجْهَهُ، وَأَعْطِهِ الْفَضْلَ وَالْفَضيلَةَ ، وَالْمَنْزِلَةَ وَالْوَسيلَةَ ، وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَابْعَثْهُ مَقاماً مَحْمُوداً يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ.

وَصَلِّ عَلى أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَقائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلينَ ، وَسَيِّدِ الْوَصِيّينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلى مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلى عَلِيِّ بْنِ مُوسى ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ

وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ

وَصَلِّ عَلى عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَصَلِّ عَلَى الْخَلَفِ الْهادِي الْمَهْدِيِّ ، إِمامِ الْمُؤْمِنينَ ، وَوارِثِ الْمُرْسَلينَ ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الْأَئِمَّةِ الْهادينَ ، اَلْعُلَماءِ الصَّادِقينَ ، اَلْأَبْرارِ الْمُتَّقينَ ، دَعائِمِ دينِكَ ، وَأَرْكانِ تَوْحيدِكَ ، وَتَراجِمَةِ وَحْيِكَ ، وَحُجَجِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَخُلَفائِكَ في أَرْضِكَ ، اَلَّذينَ اخْتَرْتَهُمْ لِنَفْسِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُمْ عَلى عِبادِكَ ، وَارْتَضَيْتَهُمْ لِدينِكَ ، وَخَصَصْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِكَ ، وَجَلَّلْتَهُمْ بِكَرامَتِكَ ، وَغَشَّيْتَهُمْ بِرَحْمَتِكَ ، وَرَبَّيْتَهُمْ بِنِعْمَتِكَ ، وَغَذَّيْتَهُمْ بِحِكْمَتِكَ ، وَأَلْبَسْتَهُمْ نُورَكَ ، وَرَفَعْتَهُمْ في مَلَكُوتِكَ ، وَحَفَفْتَهُمْ بِمَلائِكَتِكَ ، وَشَرَّفْتَهُمْ بِنَبِيِّكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ ، صَلوةً زاكِيَةً نامِيَةً كَثيرَةً دائِمَةً طَيِّبَةً لايُحيطُ بِها إِلّا أَنْتَ ، وَلايَسَعُها إِلّا عِلْمُكَ ، وَلايُحْصيها أَحَدٌ غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلى وَلِيِّكَ ، اَلْمُحْيي سُنَّتَكَ ، اَلْقائِمِ بِأَمْرِكَ ، اَلدَّاعي إِلَيْكَ، اَلدَّليلِ عَلَيْكَ، حُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَخَليفَتِكَ في أَرْضِكَ ، وَشاهِدِكَ عَلى عِبادِكَ أَللَّهُمَّ أَعِزَّ نَصْرَهُ ، وَمُدَّ في عُمْرِهِ ، وَزَيِّنِ الْأَرْضَ بِطُولِ بَقائِهِ.

أَللَّهُمَّ اكْفِهِ بَغْيَ الْحاسِدينَ ، وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْكائِدينَ ، وَازْجُرْ عَنْهُ إِرادَةَ الظَّالِمينَ ، وَخَلِّصْهُ مِنْ أَيْدِى الْجَبَّارينَ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِهِ في نَفْسِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، وَشيعَتِهِ وَرَعِيَّتِهِ ، وَخاصَّتِهِ وَعامَّتِهِ وَعَدُوِّهِ وَجَميعِ أَهْلِ الدُّنْيا ، ما تُقِرُّ بِهِ عَيْنَهُ ، وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ ، وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ ما أَمَّلَهُ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحى مِنْ دينِكَ ، وَأَحْيِ بِهِ ما بُدِّلَ مِنْ كِتابِكَ ، وَأَظْهِرْ بِهِ ما غُيِّرَ مِنْ حُكْمِكَ ، حَتَّى يَعُودَ دينُكَ بِهِ وَعَلى يَدَيْهِ غَضّاً جَديداً خالِصاً مُخْلَصاً لا شَكَّ فيهِ ، وَلا شُبْهَةَ مَعَهُ ، وَلا باطِلَ عِنْدَهُ ، وَلا بِدْعَةَ لَدَيْهِ.

أَللَّهُمَّ نَوِّرْ بِنُورِهِ كُلَّ ظُلْمَةٍ ، وَهُدَّ بِرُكْنِهِ كُلَّ بِدْعَةٍ ، وَاهْدِمْ بِعِزِّهِ كُلَّ ضَلالَةٍ ، وَاقْصِمْ بِهِ كُلَّ جَبَّارٍ ، وَأَخْمِدْ بِسَيْفِهِ كُلَّ نارٍ ، وَأَهْلِكْ بِعَدْلِهِ جَوْرَ كُلِّ جائِرٍ ، وَأَجْرِ حُكْمَهُ عَلى كُلِّ حُكْمٍ ، وَأَذِلَّ بِسُلْطانِهِ كُلَّ سُلْطانٍ.

أَللَّهُمَّ أَذِلَّ كُلَّ مَنْ ناواهُ ، وَأَهْلِكْ كُلَّ مَنْ عاداهُ ، وَامْكُرْ بِمَنْ كادَهُ ، وَاسْتَأْصِلْ مَنْ جَحَدَهُ حَقَّهُ ، وَاسْتَهانَ بِأَمْرِهِ ، وَسَعى في إِطْفاءِ نُورِهِ ، وَأَرادَ إِخْمادَ ذِكْرِهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفى ، وَعَلِيٍّ الْمُرْتَضى ، وَفاطِمَةَ الزَّهْراءِ ، وَالْحَسَنِ الرِّضا ، وَالْحُسَيْنِ الْمُصَفَّى ، وَجَميعِ الْأَوْصِياءِ ، مَصابيحِ الدُّجى ، وَأَعْلامِ الْهُدى ، وَمَنارِ التُّقى ، وَالْعُرْوَةِ الْوُثْقى ، وَالْحَبْلِ الْمَتينِ ، وَالصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ.

وَصَلِّ عَلى وَلِيِّكَ وَوُلاةِ عَهْدِكَ ، وَالْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ ، وَمُدَّ في أَعْمارِهِمْ ، وَزِدْ في آجالِهِمْ ، وَبَلِّغْهُمْ أَقْصى آمالِهِمْ ، ديناً وَدُنْياً وَآخِرَةً ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

یہ روایت شریف گذشتہ معتبر کتابوں میں متعدد سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے لیکن کوی روایت میں بھی اس صلوات کے پڑھنے کے لئے مخصوص وقت معین نہیں ہوا ہے صرف سید بزرگوار علی بن طاؤوس جمال الاسبوع میں اس صلوات کو جمعہ کے دن نماز عصر کے تعقیبات میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے جمعہ کے دن عصر کے تعقیبات ترک کردیں تو اس صلوات کو ہرگز ترک نہ کریں اس میں ایک راز ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ہم کو اس سے آگاہ فرمایا ہے اس کلام شریف سے استفادہ ہوتاہے کہ صاحب الامر کے جانب سے اس مقام پر ایک چیز ہمارے ہاتھ میں آتی ہے اگر چہ اس کے مقام سے بعید نہیں چنانچہ خود اس نے تصریح کی ہے کہ حضرت حجت کی زیارت کا راستہ اس کے لئے کھلا ہے صاحب مکیال المکارم کہتاہے یہ دعائے شریف مہم ترین دعاؤں میں سے ہے کہ سزاوار ہے کہ انسان اس کو ہمیشہ پڑھے اوقت میں سے ہر وقت زمانوں میں سے ہر زمانے میں پابندی سے پڑھے مخصوصاً ان اوقات میں کہ جو صاحب الامر کے اوقات ہیں جیسے پندرہ شعبان کو دن رات اور جمعہ کو شب و روز احتمال ہے کہ یہی وجہ ہے جمال الصالحین کے صاحب نے اس دعا کو شب جمعہ کے اعمال کا جزاء قرار دیا ہے حالانکہ جو کچھ روایت سے ظاہر ہے کہ یہ دعا خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام اوقات میں پڑھی جاسکتی ہے صاحب مکیال المکارم سید علی بن طاؤوس کے کلام کے ضمن میں کہ اس کو روز جمعہ کے اعمال میں نقل کیا ہے کہتاہے سید طاؤوس فرماتے ہیں کہ ہرگز اس دعا کو ترک نہ کرو اس راز کی وجہ سے کہ جس سے ہمیں آگاہ کیا ہے اس سے استفادہ ہوتاہے کہ اس دعا کو پڑھنے کا امر حضرت صاحب الزمان کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ اس روایت کے صحیح ہونے پر دلیل ہے اور خداوند صاحب نعمت اور صاحب ہدایت ہے۔

۔ جمعہ کے روز کے عصر کے وقت صلوات اور دعا حضرت حجت کے ظہور کے لئے

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں قیامت کے دن خداوند متعال دنوں کو ایک خاص شکل میں مبعوث کرے گا روز جمعہ سب کے آگے باقی دن اس کے پیچھے ایک خوبصورت عروس کی طرح کہ جو دیندار شخص اور ثروت مند کے گھر بھیجا جاتاہے اور بہشت کے دروازے سامنے کھڑا ہوجاتاہے جو بھی اس دن سب سے زیادہ محمد و آل محمد پر صلوات بھیجے گا اس کی شفاعت کرے گا ابن سنان کہتاہے میں نے عرض کیا کہ مراد اس بیشتر سے کیا ہے جمعہ کے کس وقت بہتر ہے حضرت نے فرمایا سو مرتبہ اور بہتر ہے کہ عصر کے وقت ہو راوی کہتاہے میں نے عرض کیا کہ کس طرح درود بھیجیں حضرت نے فرمایا سو مرتبہ لکھو أَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عَجِّلْ فَرَجَھُمْ۔

سید بزرگوار علی بن طاؤوس کہتاہے کہ ایک روایت میں دنوں کے بارے میں حضرت آخری حجت سے سوال ہوا اس میں ذکر ہوا ہے کہ روز جمعہ سے مراد حضرت صاحب الزمان ہے۔

۔ سورہ بنی اسرائیل کی فضیلت جمعہ کی راتوں میں

اس باب کے اختتام پر جمعہ کی راتوں میں سورہ بنی اسرائیل پڑھنے کی فضیلت نقل کروں گا صاحبہ مکیال المکارم تفسیر برہان سے معتبر سند کے ساتھ امام صادق سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا جو بھی سورہ بنی اسرائیل کو ہر شب جمعہ پڑھے وہ نہیں مرے گا یہان تک کہ امام زمانہ کو درک کرے گا اور ان کے مددگاروں میں سے ہوگا۔


باب پنجم

ہر مہینے کی دعائیں

۱ ۔ عاشورا کے دن امام زمانہ کے ظہور کی دعا

عبداللہ بن سنان کہتاہے کہ عاشور کے دن امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت کا رنگ متغیر اور غمگین موتیوں کی طرح آنسو آنکھوں سے جاری ہوتے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا اے فرزند رسول خدا آپ کیوں روتے ہیں اللہ آپ کو نہ رلائے حضرت نے فرمایا کیا تم غافل ہو کیا نہیں جانتے ہو کہ ان جیسے دنوں میں امام حسین شہید ہوچکے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے آقا آج کے دن روزہ رکھنے میں آپکا کیا نظریہ ہے حضرت نے فرمایا ایسے دنوں میں روزہ رکھیں رات کو روزہ کی نیت کئے بغیر افطار کرو خوشی کے بغیر اس روزہ کو مکمل روزہ قرار نہ دیں نماز عصر کے بعد ایک گھنٹہ بعد پانی سے افطار کریں چونکہ ایسے اوقات میں فرزند رسول سے جنگ ختم کی گی ہے اور جنگ کا فتنہ خاموش ہوا اور ان میں سے تیس آدمی زمین پر پڑے ہوئے تھے یہ رسول خدا کے لئے بہت سخت تھا اگر اس دن حضرت رسول زندہ ہوتے تو خود ان کے لئے عزاداری کرتے راوی کہتاہے حضرت امام جعفر صادق روئے یہاں تک کہ حضرت کی داڑھی آنکھوں کے آنسو سے تر ہوگئی اس کے بعد فرمایا خداوند تعالیٰ نے نور کو پیدا کیا تو اس کو جمعہ کے دن ماہ رمضان کے پہلے دن پیدا کیا اور تاریکی کو بدھ کے دن دس محرم کے دن خلق کیا ان میں دو کو ہر ایک کے لئے روشن راستہ قراردیا۔

اے عبداللہ بن سنان بہترین عمل اس دن یہ ہے کہ آج کے دن پاک کپڑے پہنیں اور تسلّب کریں میں نے عرض کیا کہ تسلب کا کیا مطلب ہے حضرت نے فرمایا اپنے آپ کو مصیبت زدہ لوگوں کی طرح قراردیں اپنی عبا کو کھول دیں اور لباس کو کہنیوں سے کھول دیں مصیبت زدہ لوگوں کی طرح قراردیں اور عزاداری کریں اس کے بعد ایسی جگہ پر جائیں کہ جہاں کوئی بھی نہ ہو ظہر کے وقت چار رکعت نماز خشوع کے ساتھ رکوع اور سجود اور دوسلام پڑھیں پہلی رکعت میں سورہ حمد اور فل یا ایھا الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور قل ھواللہ احد کو پڑھے اس کے بعد دوسرے دو رکعت بھی پڑے لے پہلی رکعت میں سورہ حمد اور سورہ احزاب اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور واذا جائک المنافقون یا جو بھی اس کے لئے آسانی ہو پڑھے لے نماز کو تمام کریں اور حضرت امام حسین کے مرقد کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اس حال میں حضرت کے قتلگاہ ان کے اعزاء ان کے فرزند اور ان کے اہلبیت کو نظر میں رکھیں اور ان پر سلام اور درود بھیجیں اور حضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجیں ان کے اس کام سے بیزاری حاصل کریں خداوند تعالیٰ تیرے اس عمل کی وجہ سے بہشت میں بلند درجات دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا اس وقت آپ جہاں بھی ہوں چند قدم اٹھائیں اور حرکت کریں اور کہیںانا لله و انا الیه راجعون رضاً بقضاء الله و تسلیماً لامره ان تمام حالات میں محزون اور غمگین ہوں ان دنوں میں خدا کو زیادہ یاد کریں کلمہ استرجاع بہت زیادہ زبان پر جاری کریں جب اس حالت میں چند قدم اٹھائیں جہاں نماز پڑھی ہے وہیں پڑ بیٹھ جائیں اس کے بعد کہیں۔

أَللَّهُمَّ عَذِّبِ الْفَجَرَةَ ، اَلَّذينَ شاقُّوا رَسُولَكَ ، وَحارَبُوا أَوْلِيائَكَ ، وَعَبَدُوا غَيْرَكَ ، وَاسْتَحَلُّوا مَحارِمَكَ ، وَالْعَنِ الْقادَةَ وَالْأَتْباعَ ، وَمَنْ كانَ مِنْهُمْ ، فَخَبَّ وَأَوْضَعَ مَعَهُمْ ، أَوْ رَضِيَ بِفِعْلِهِمْ لَعْناً كَثيراً

أَللَّهُمَّ وَعَجِّلْ فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ ، وَاجْعَلْ صَلَواتِكَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ، وَاسْتَنْقِذْهُمْ مِنْ أَيْدِي الْمُنافِقينَ الْمُضِلّينَ ، وَالْكَفَرَةِ الْجاحِدينَ ، وَافْتَحْ لَهُمْ فَتْحاً يَسيراً ، وَأَتِحْ لَهُمْ رَوْحاً وَفَرَجاً قَريباً ، وَاجْعَلْ لَهُمْ مِنْ لَدُنْكَ عَلى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ سُلْطاناً نَصيراً

اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو بلند کرین اور قنوت میں اس دعا کوپڑھیں اس حالت میں کہ آل محمد کے دشمنوں کی طرف اشارہ کریں اور کہیں:

أَللَّهُمَّ إِنَّ كَثيراً مِنَ الْاُمَّةِ ناصَبَتِ الْمُسْتَحْفَظينَ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، وَكَفَرَتْ بِالْكَلِمَةِ ، وَعَكَفَتْ عَلَى الْقادَةِ الظَّلَمَةِ ، وَهَجَرَتِ الْكِتابَ وَالسُّنَّةَ ، وَعَدَلَتْ عَنِ الْحَبْلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَمَرْتَ بِطاعَتِهِما ، وَالتَّمَسُّكِ بِهِما ، فَأَماتَتِ الْحَقَّ ، وَجارَتْ عَنِ الْقَصْدِ ، وَمالَأَتِ الْأَحْزابَ ، وَحَرَّفَتِ الْكِتابَ ، وَكَفَرَتْ بِالْحَقِّ لَمَّا جائَها ، وَتَمَسَّكَتْ بِالْباطِلِ لَمَّا اعْتَرَضَها ، وَضَيَّعَتْ حَقَّكَ ، وَأَضَلَّتْ خَلْقَكَ ، وَقَتَلَتْ أَوْلادَ نَبِيِّكَ ، وَخِيَرَةَ عِبادِكَ ، وَحَمَلَةَ عِلْمِكَ ، وَوَرَثَةَ حِكْمَتِكَ وَوَحْيِكَ.

أَللَّهُمَّ فَزَلْزِلْ أَقْدامَ أَعْدائِكَ وَأَعْداءِ رَسُولِكَ وَأَهْلِ بَيْتِ رَسُولِكَ أَللَّهُمَّ وَأَخْرِبْ دِيارَهُمْ ، وَافْلُلْ سِلاحَهُمْ ، وَخالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ ، وَفُتَّ في أَعْضادِهِمْ وَأَوْهِنْ كَيْدَهُمْ ، وَاضْرِبْهُمْ بِسَيْفِكَ الْقاطِعِ ، وَارْمِهِمْ بَحَجَرِكَ الدَّامِغِ ، وَطُمَّهُمْ بِالْبَلاءِ طَمّاً ، وَقُمَّهُمْ بِالْعَذابِ قَمّاً ، وَعَذِّبْهُمْ عَذاباً نُكْراً ، وَخُذْهُمْ بِالسِّنينَ وَالْمَثُلاتِ الَّتي أَهْلَكْتَ بِها أَعْدائَكَ ، إِنَّكَ ذُو نَقِمَةٍ مِنَ الْمُجْرِمينَ.

أَللَّهُمَّ إِنَّ سُنَّتَكَ ضائِعَةٌ ، وَأَحْكامَكَ مُعَطَّلَةٌ ، وَعِتْرَةَ نَبِيِّكَ فِي الْأَرْضِ هائِمَةٌ أَللَّهُمَّ فَأَعِنِ الْحَقَّ وَأَهْلَهُ ، وَاقْمَعِ الْباطِلَ وَأَهْلَهُ ، وَمُنَّ عَلَيْنا بِالنَّجاةِ ، وَاهْدِنا إِلَى الْإيمانِ ، وَعَجِّلْ فَرَجَنا ، وَانْظِمْهُ بِفَرَجِ أَوْلِيائِكَ ، وَاجْعَلْهُمْ لَنا وُدّاً ، وَاجْعَلْنا لَهُمْ وَفْداً.

أَللَّهُمَّ وَأَهْلِكْ مَنْ جَعَلَ يَوْمَ قَتْلِ ابْنِ نَبِيِّكَ وَخِيَرَتِكَ عيداً ، وَاسْتَهَلَّ بِهِ فَرَحاً وَمَرَحاً ، وَخُذْ آخِرَهُمْ كَما أَخَذْتَ أَوَّلَهُمْ ، وَأَضْعِفِ اللَّهُمَّ الْعَذابَ وَالتَّنْكيلَ عَلى ظالِمي أَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ ، وَأَهْلِكْ أَشْياعَهُمْ وَقادَتَهُمْ ، وَأَبِرْ حُماتَهُمْ وَجَماعَتَهُمْ

أَللَّهُمَّ وَضاعِفْ صَلَواتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكاتِكَ عَلى عِتْرَةِ نَبِيِّكَ ، اَلْعِتْرَةِ الضَّائِعَةِ الْخائِفَةِ الْمُسْتَذَلَّةِ ، بَقِيَّةِ الشَّجَرَةِ الطَّيِّبَةِ الزَّاكِيَةِ الْمُبارَكَةِ.

وَأَعْلِ اللَّهُمَّ كَلِمَتَهُمْ ، وَأَفْلِجْ حُجَّتَهُمْ ، وَاكْشِفِ الْبَلاءَ وَاللَّأْواءَ ، وَحَنادِسَ الْأَباطيلِ وَالْعَمى عَنْهُمْ ، وَثَبِّتْ قُلُوبَ شيعَتِهِمْ وَحِزْبِكَ عَلى طاعَتِهِمْ وَوِلايَتِهِمْ وَنُصْرَتِهِمْ وَمُوالاتِهِمْ ، وَأَعِنْهُمْ وَامْنَحْهُمُ الصَّبْرَ عَلَى الْأَذى فيكَ ، وَاجْعَلْ لَهُمْ أَيَّاماً مَشْهُودَةً ، وَأَوْقاتاً مَحْمُودَةً مَسْعُودَةً ، يُوشِكُ فيها فَرَجُهُمْ ، وَتُوجِبُ فيها تَمْكينَهُمْ وَنَصْرَهُمْ ، كَما ضَمِنْتَ لِأَوْلِيائِكَ في كِتابِكَ الْمُنْزَلِ.

فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ «وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دينَهُمُ الَّذِي ارْتَضى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَني لايُشْرِكُونَ بي شَيْئاً »

أَللَّهُمَّ فَاكْشِفْ غُمَّتَهُمْ ، يا مَنْ لايَمْلِكُ كَشْفَ الضُّرِّ إِلّا هُوَ ، يا أَحَدُ يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، وَأَنَا يا إِلهي عَبْدُكَ الْخائِفُ مِنْكَ ، وَالرَّاجِعُ إِلَيْكَ ، اَلسَّائِلُ لَكَ ، اَلْمُقْبِلُ عَلَيْكَ ، اَللّاجِئُ إِلى فِنائِكَ ، اَلْعالِمُ بِأَنَّهُ لا مَلْجَأَ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَقَبَّلْ دُعائي ، وَاسْمَعْ يا إِلهي عَلانِيَتي وَنَجْوايَ ، وَاجْعَلْني مِمَّنْ رَضيتَ عَمَلَهُ ، وَقَبِلْتَ نُسُكَهُ ، وَنَجَّيْتَهُ بِرَحْمَتِكَ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزيزُ الْكَريمُ.

أَللَّهُمَّ وَصَلِّ أَوَّلاً وَآخِراً عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ ، بِأَكْمَلِ وَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى أَنْبِيائِكَ وَرُسُلِكَ ، وَمَلائِكَتِكَ وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ بِلا إِلهَ إِلّا أَنْتَ.

أَللَّهُمَّ وَلاتُفَرِّقْ بَيْني وَبَيْنَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ، وَاجْعَلْني يا مَوْلايَ مِنْ شيعَةِ مُحَمَّدٍ وَعَلِيٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَذُرِّيَّتِهِمُ الطَّاهِرَةِ الْمُنْتَجَبَةِ ، وَهَبْ لِيَ التَّمَسُّكَ بِحَبْلِهِمْ ، وَالرِّضا بِسَبيلِهِمْ ، وَالْأَخْذَ بِطَريقَتِهِمْ ، إِنَّكَ جَوادٌ كَريمٌ.

اس کے بعد اپنے چہرے کو زمین کے ساتھ لگادیں اور کہیں

يا مَنْ يَحْكُمُ ما يَشاءُ وَيَفْعَلُ ما يُريدُ أَنْتَ حَكَمْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ مَحْمُوداً مَشْكُوراً ، فَعَجِّلْ يا مَوْلايَ فَرَجَهُمْ ، وَفَرَجَنا بِهِمْ ، فَإِنَّكَ ضَمِنْتَ إِعْزازَهُمْ بَعْدَ الذِّلَّةِ ، وَتَكْثيرَهُمْ بَعْدَ الْقِلَّةِ ، وَ إِظْهارَهُمْ بَعْدَ الْخُمُولِ ، يا أَصْدَقَ الصَّادِقينَ ، وَيا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

فَأَسْئَلُكَ يا إِلهي وَسَيِّدي ، مُتَضَرِّعاً إِلَيْكَ بِجُودِكَ وَكَرَمِكَ ، بَسْطَ أَمَلي وَالتَّجاوُزَ عَنّي ، وَقَبُولَ قَليلِ عَمَلي وَكَثيرِهِ ، وَالزِّيادَةَ في أَيَّامي وَتَبْليغي ذلِكَ الْمَشْهَدَ ، وَأَنْ تَجْعَلَني مِمَّنْ يُدْعى فَيُجيبُ إِلى طاعَتِهِمْ وَمُوالاتِهِمْ وَنَصْرِهِمْ ، وَتُرِيَني ذلِكَ قَريباً سَريعاً في عافِيَةٍ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

(مذکورہ دعا کا آخری حصہ)

اس کے بعد اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرے اور کہےاعوذ بک ان اکون من الذین لا یرجون ایآامک فاعذنی یا الهٰی برحمتک من ذالک اے ابن سنان یہ عمل مستحب حج اور عمرہ سے بہتر ہے اس عمر سے کہ جس میں اپنا سارامال خرچ کریں اور اپنے آپ کو زحمت میں ڈالیں اور اپنے اھل و عیال سے جدائی اختیار کریں۔ جان لو جو بھی ان دونوں میں اس نماز کو خلوص کے ساتھ پڑھے اور اس عمل کو یقین اور تصدیق کے ساتھ انجام دے خداوند قضا کے اس کو دس خصلتیں عطا کرتاہے ان میں ایک یہ ہے کہ بُری موت سے نجات دیتاہے برائی اور فقر سے محفوظ رکھتاہے جب تک زندہ ہے دشمن اس پر غالب نہیں آئے گا بیماریوں سے جیسے جذام برص جنون سے اس کو اور اس کے فرزندوں کو چار پشت تک محفوظ رکھتاہے چار پشت تک اس پر اس کے دوستوں پر اور اس کے فرزندوں ہے شیطان مسلّط نہیں ہوتاہے۔

ابن سنان کہتاہے میں حضرت کی خدمت سے رخصت ہوا حالانکہ میں کہتا تھا اللہ کی حمد و ثناء ہے کہ جس نے مجھ پر منت رکھا تا کہ تمہیں اور تمہاری محبت کو پہچانوں اس کے احسان اور رحمت سے درخواست کرتاہوں کہ میری تمہارے واجب کی اطاعت پر مدد کرے۔

۲ ۔ عاشور کے دن ایک دوسری دعا

صالح بن عقبہ اپنے باپ سے اس نے امام محمد باقر سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا جو بھی محرم کے مہینے میں عاشور کے دن امام حسین کی زیارت کرے اور گریہ کی حالت میں حرم میں رہے تو قیامت کے دن دو ہزار حض دو ہزار عمرہ دو ہزار جھاد راہ اسلام کا ثواب کیساتھ خدا سے ملاقات کرتاہے اور ہر جھاد عمرہ اور حج کا ثواب جتنا حضرت رسول خدا اور اماموں کے ساتھ حج اور عمرہ اور ان کے رکاب میں جنگ کرنے کا جتنا ثواب ہے راوی کہتاہے میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں جو لوگ دور دراز علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے لئے ایسے دنوں میں حرم میں نہیں آسکتے ہیں وہ کیا کریں حضرت نے فرمایا اگر کوئی نزدیک سے زیارت نہیں کرسکتاہے تو صحراء میں چلا جائے یا اپنے گھر کے چھت پر جائے اور اشارہ کے ساتھ حضرت کی طرف سلام کرے اور حضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اس عمل کو زوال آفتاب سے پہلے بجا لائے اس وقت امام حسین پر ندبہ کرے اور اگریہ کرے اگر تصفیہ کی حالت نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو حکم دے کہ گریہ کریں اور عزاداری قائم کریں نالہ و فریاد کرے اور ایک دوسرے کو امام حسین کی مصیبت میں تعزیت و تسلیت پیش کریں۔ جیسا کہ میں نے کہا اس طرح اس عمل کو انجام دیں تو ان تمام ثواب کا خداوند تعالیٰ کی طرف سے میں ضامن ہوں میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں آپ اس سب ثواب کے ضامن ہیں حضرت نے فرمایا کیوں نہیں میں ضامن ہوں اس شخص کے لئے کہ جو اس عمل کو انجام دے میں نے عرض کیا کس طرح ایک دوسرے کو تسلیت پیش کریں فرمایا کہ کہو اعظم اللہ اجورنا بمصابنا بالحسین وجعلنا و ایّاکم من الطالبین بثارہ مع ولیّہ الامام المھدی من آل محمد علیھم سلام۔

۳ ۔ ماہ رجب کے دنوں کی دعائیں کہ جو آخری حجت سے صادر ہوئی ہیں

ابن عبّاس کہتاہے من جملہ ان توفیقات میں سے کہ جو جناب شیخ ابو جعفر محمد بن عثمان کے ہاتھ سے آخری حجت کی طرف سے ہے رجب کے مہینے میں ہر روز کی دعا

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِمَعاني جَميعِ ما يَدْعُوكَ بِهِ وُلاةُ أَمْرِكَ ، اَلْمَأْمُونُونَ عَلى سِرِّكَ ، اَلْمُسْتَبْشِرُونَ بِأَمْرِكَ ، اَلْواصِفُونَ لِقُدْرَتِكَ ، اَلْمُعْلِنُونَ لِعَظَمَتِكَ ، أَسْأَلُكَ بِما نَطَقَ فيهِمْ مِنْ مَشِيَّتِكَ ، فَجَعَلْتَهُمْ مَعادِنَ لِكَلِماتِكَ ، وَأَرْكاناً لِتَوْحِيدِكَ وَآياتِكَ وَمَقاماتِكَ الَّتي لاتَعْطيلَ لَها في كُلِّ مَكانٍ يَعْرِفُكَ بِها مَنْ عَرَفَكَ ، لا فَرْقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَها إِلّا أَنَّهُمْ عِبادُكَ وَخَلْقُكَ ، فَتْقُها وَرَتْقُها بِيَدِكَ ، بَدْؤُها مِنْكَ وَعَوْدُها إِلَيْكَ ، أَعْضادٌ وَأَشْهادٌ وَمُناةٌ وَأَذْوادٌ وَحَفَظَةٌ وَرُوَّادٌ ، فَبِهِمْ مَلَأْتَ سَماءَكَ وَأَرْضَكَ حَتَّى ظَهَرَ أَنْ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ.

فَبِذلِكَ أَسْأَلُكَ وَبِمَواقِعِ الْعِزِّ مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَبِمَقاماتِكَ وَعَلاماتِكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَأَنْ تَزيدَني إيماناً وَتَثْبيتاً ، يا باطِناً في ظُهُورِهِ وَظاهِراً في بُطُونِهِ وَمَكْنُونِهِ ، يا مُفَرِّقاً بَيْنَ النُّورِ وَالدَّيْجُورِ ، يا مَوْصُوفاً بِغَيْرِ كُنْهٍ ، وَمَعْرُوفاً بِغَيْرِ شِبْهٍ ، حادَّ كُلِّ مَحْدُودٍ ، وَشاهِدَ كُلِّ مَشْهُودٍ ، وَمُوجِدَ كُلِّ مَوْجُودٍ ، وَمُحْصِيَ كُلِّ مَعْدُودٍ ، وَفاقِدَ كُلِّ مَفْقُودٍ ، لَيْسَ دُونَكَ مِنْ مَعْبُودٍ أَهْلَ الْكِبْرِياءِ وَالْجُودِ.

يا مَنْ لايُكَيَّفُ بِكَيْفٍ ، وَلايُؤَيَّنُ بِأَيْنٍ ، يا مُحْتَجِباً عَنْ كُلِّ عَيْنٍ ، يا دَيْمُومُ يا قَيُّومُ ، وَعالِمَ كُلِّ مَعْلُومٍ ، صَلِّ عَلى عِبادِكَ الْمُنْتَجَبينَ ، وَبَشَرِكَ الْمُحْتَجِبينَ ، وَمَلائِكَتِكَ الْمُقَرَّبينَ ، وَالْبُهْمِ الصَّافّينَ الْحافّينَ.

وَبارِكْ لَنا في شَهْرِنا هذَا الْمُرَجَّبِ الْمُكَرَّمِ ، وَما بَعْدَهُ مِنَ الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ ، وَأَسْبِغْ عَلَيْنا فيهِ النِّعَمَ ، وَأَجْزِلْ لَنا فيهِ الْقِسَمَ ، وَأَبْرِرْ لَنا فيهِ الْقَسَمَ ، بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَجَلِّ الْأَكْرَمِ الَّذي وَضَعْتَهُ عَلَى النَّهارِ فَأَضاءَ ، وَعَلَى اللَّيْلِ فَأَظْلَمَ ، وَاغْفِرْ لَنا ما تَعْلَمُ مِنَّا وَما لانَعْلَمُ ، وَاعْصِمْنا مِنَ الذُّنُوبِ خَيْرَ الْعِصَمِ ، وَاكْفِنا كَوافِيَ قَدَرِكَ ، وَامْنُنْ عَلَيْنا بِحُسْنِ نَظَرِكَ ، وَلاتَكِلْنا إِلى غَيْرِكَ ، وَلاتَمْنَعْنا مِنْ خَيْرِكَ.

وَبارِكْ لَنا فيما كَتَبْتَهُ لَنا مِنْ أَعْمارِنا ، وَأَصْلِحْ لَنا خبيئَةَ أَسْرارِنا ، وَأَعْطِنا مِنْكَ الْأَمانَ ، وَاسْتَعْمِلْنا بِحُسْنِ الْإيمانِ ، وَبَلِّغْنا شَهْرَ الصِّيامِ ، وَما بَعْدَهُ مِنَ الْأَيَّامِ وَالْأَعْوامِ ، يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ

صاحب عمدة الزائر اس دعائے شریف کے بیان میں فرماتے ہیں ملاة امر یعنی صاحبان امر وہ محمد اور ان کے اھلبیت ہیں جن میں صفات حمیدہ پائی جاتی ہیں ان کے برے مقامات ہیں ان میں کسی قسم کی غیر مفید چیز معنی نہیں ہے جب خدا کے نزدیک یہ برا مقام رکھتے ہیں خدا سے مانگیں یا اھلبیت کو وسیلہ قرار دے کہ پکاریں جہاں پر ہوں اور جس امر کے لئے پڑھیں خداوند ان کی دعا کو قبول کرتاہے اور ان کی برکت سے اس کا فیض دعا کرنے والے کو پہنچتاہے اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ ان کی برکت سے تمام مخلوق کو فیض پہنچتاہے۔ یہی راز ہے کہ درود بھیجنا ان کو وسیلہ قرار دینا جو حاجت بھی ہو چونکہ جو بھی ان پر درود بھیجے اس کی دعا رد نہیں ہوتی ہے۔

۴ ۔ ماہ رجب کے دنوں میں اور دعائیں

(جو امام زمانہ سے ہم تک پہنچی ہیں)

ابن عیاش کہتاہے ایک اور توقیع کہ جناب شیخ ابوالقاسم حسین بن روح کے ہاتھ سے کہ جو امام زمانہ کی طرف سے صادر ہوئی ہے اس دعا کو ہر رواز رجب کے مہینے میں پرھا جائے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِالْمَوْلُودَيْنِ في رَجَبٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الثَّاني ، وَابْنِهِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُنْتَجَبِ ، وَأَتَقَرَّبُ بِهِما إِلَيْكَ خَيْرَ الْقُرَبِ ، يا مَنْ إِلَيْهِ الْمَعْرُوفُ طُلِبَ ، وَفيما لَدَيْهِ رُغِبَ

أَسْأَلُكَ سُؤالَ مُعْتَرِفٍ مُذْنِبٍ قَدْ أَوْبَقَتْهُ ذُنُوبُهُ، وَأَوْثَقَتْهُ عُيُوبُهُ، فَطالَ عَلَى الْخَطايا دُؤُوبُهُ ، وَمِنَ الرَّزايا خُطُوبُهُ ، يَسْأَلُكَ التَّوْبَةَ ، وَحُسْنَ الْأَوْبَةِ ، وَالنُّزُوعَ عَنِ الْحَوْبَةِ ، وَمِنَ النَّارِ فَكاكَ رَقَبَتِهِ ، وَالْعَفْوَ عَمَّا في رِبْقَتِهِ ، فَأَنْتَ يا مَوْلايَ أَعْظَمُ أَمَلِهِ وَثِقَتِهِ

أَللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ بِمَسائِلِكَ الشَّريفَةِ ، وَوَسائِلِكَ الْمُنيفَةِ ، أَنْ تَتَغَمَّدَني في هذَا الشَّهْرِ بِرَحْمَةٍ مِنْكَ واسِعَةٍ ، وَنِعْمَةٍ وازِعَةٍ ، وَنَفْسٍ بِما رَزَقْتَها قانِعَةٍ إِلى نُزُولِ الْحافِرَةِ ، وَمَحَلِّ الْآخِرَةِ ، وَما هِيَ إِلَيْهِ صائِرَةٌ .( المصباح : ۷۰۳ ، مصباح المتهجّد : ۸۰۵ ، البحار : ۳۹۳/۹۸ ، إقبال الأعمال : ۱۴۶ .)

۵ ۔ ماہ رجب کے دنوں میں اور دعائیں

محمد بن عبدالرحمن تستری کہتاہے کہ میں بنی رداس کے علاقہ سے گزر رہا تھا ان برادران میں سے ایک نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو اکٹھے مسجد صعصعہ چلے جائتے ہیں وہاں نماز پڑھتے ہیں چونکہ یہ مہینہ رجب کا مہینہ ہے اس مہینے میں ان مقدس مقام پر معصوم امام آئے ہیں اور اس میں نماز پڑھ رہے ہیں اور وہ جہاں نماز پڑھنا مستحب ہے اور مسجد صعصعہ بھی ان میں سے ایک ہے راوی کہتاہے کہ ان کے ساتھ مسجد کی طرف چلا گیا مسجد کے دروازے پر پہنچا تو اچانک ایک اونٹ کو دیکھا اس کی پشت پر پالان اور مسجد کے دروازہ کے کنارے سویا ہوا ہے ہم مسجد میں داخل ہوئے ایک شخص کو دیکھا کہ بدن پر حجازی لباس اور سر پر عمامہ رکھا ہوا بیٹھا ہے اور دعا پڑھتاہے میں نے اور میرے ساتھی نے اس دعا کو حفظ کیا مرحوم شیخ طوسی نے فرمایا ہے کہ مستحب ہے کہ رجب کے مہینے میں ہر روز اس دعا کو پڑھیں

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْئَلُكَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ في هذَا الْيَوْمِ ، اَلْمَوْعُودِ بِشَهادَتِهِ قَبْلَ اسْتِهْلالِهِ وَوِلادَتِهِ ، بَكَتْهُ السَّماءُ وَمَنْ فيها ، وَالْأَرْضُ وَمَنْ عَلَيْها ، وَلَمَّا يَطَأْ لابَتَيْها قَتيلِ الْعَبَرَةِ وَسَيِّدِ الْاُسْرَةِ ، اَلْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَةِ يَوْمَ الْكَرَّةِ ، اَلْمُعَوَّضِ مِنْ قَتْلِهِ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ نَسْلِهِ ، وَالشِّفاءَ في تُرْبَتِهِ ، وَالْفَوْزَ مَعَهُ في أَوْبَتِهِ ، وَالْأَوْصِياءَ مِنْ عِتْرَتِهِ ، بَعْدَ قائِمِهِمْ وَغَيْبَتِهِ ، حَتَّى يُدْرِكُوا الْأَوْتارَ ، وَيَثْأَرُوا الثَّارَ ، وَيُرْضُوا الْجَبَّارَ ، وَيَكُونُوا خَيْرَ أَنْصارٍ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، مَعَ اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ

أَللَّهُمَّ فَبِحَقِّهِمْ إِلَيْكَ أَتَوَسَّلُ ، وَأَسْئَلُ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ ] وَ[مُعْتَرِفٍ ، مُسي‏ءٍ إِلى نَفْسِهِ ، مِمَّا فَرَّطَ في يَوْمِهِ وَأَمْسِهِ ، يَسْئَلُكَ الْعِصْمَةَ إِلى مَحَلِّ رَمْسِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ ، وَاحْشُرْنا في زُمْرَتِهِ ، وَبَوِّئْنا مَعَهُ دارَ الْكَرامَةِ ، وَمَحَلَّ الْإِقامَةِ

أَللَّهُمَّ وَكَما أَكْرَمْتَنا بِمَعْرِفَتِهِ ، فَأَكْرِمْنا بِزُلْفَتِهِ ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَهُ وَسابِقَتَهُ ، وَاجْعَلْنا مِمَّنْ يُسَلِّمُ لِأَمْرِهِ ، وَيُكْثِرُ الصَّلاةَ عَلَيْهِ عِنْدَ ذِكْرِهِ ، وَعَلى جَميعِ أَوْصِيائِهِ وَأَهْلِ اصْطِفائِهِ ، اَلْمَمْدُودينَ مِنْكَ بِالْعَدَدِ الْإِثْنَيْ عَشَرَ ، اَلنُّجُومِ الزُّهَرِ ، وَالْحُجَجِ عَلى جَميعِ الْبَشَرِ

أَللَّهُمَّ وَهَبْ لَنْا في هذَا الْيَوْمِ خَيْرَ مَوْهِبَةٍ ، وَأَنْجِحْ لَنا فيهِ كُلَّ طَلِبَةٍ ، كَما وَهَبْتَ الْحُسَيْنَ لِمُحَمَّدٍ جَدِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، وَعاذَ فُطْرُسُ بِمَهْدِهِ ، فَنَحْنُ عائِذُونَ بِقَبْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ ، نَشْهَدُ تُرْبَتَهُ ، وَنَنْتَظِرُ أَوْبَتَهُ ، آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ .( زاد المعاد : ۵۷ ، مصباح المتهجّد : ۸۲۶ ، المصباح : ۷۲۰ ، إقبال الأعمال : ۲۰۲ .)

آس وقت ایک طویل سجدہ کیا اور اٹھا اونٹ پر سوار ہو کر چلاگیا ساتھی میری طرف متوجہ ہوا اور کہا میری نظر میں وہ حضرت خضر(علیہ السلام ) ہے کیوں ان کے ساتھ بات نہیں کی گویا ہماری زبان بند ہے ہم مسجد سے باہر آئے ابن الورداء رواسی کو دیکھا کہا کہاں سے آئے ہیں ہم نے کہا مسجد صعصعہ سے آئے ہیں اس کو واقعہ سے آگاہ کیا اس نے کہا یہ سوار دو تین روز اس مسجد میں آتے ہیں کسی سے بات نہیں کرتے ہیں ہم نے کہا ہم گمان کرتے ہیں کہ وہ حضرت خضر(علیہ السلام ) ہے اس نے کہا خدا کی قسم میری نظر میں یہ وہی ہیں کہ حضرت خضر اس کی زیارت کا مھتاج ہے پس ہم لوٹے اور سمجھ گئے کہ واقعہ کیا ہے میرے ساتھی نے مجھ سے کہا کہ خدا کی قسم وہ صاحب الزمان تھا سید طاؤوس کی روایت کی بناء پر یہ دعا حضرت امیرالمومنین سے ہے چونکہ یہ دعا ماہ رجب سے مربوط ہے اس لئے اس باب میں ذکر ہوا

۶۔ تیسرے شعبان کے دن کی دعا

یہ دعا ہم تک آخری حجت سے پہنچی علامہ مجلسی بحار الانوار میں کہتے ہیں امام حسن کے وکیل قاسم بن علاء ھمدانی کی توقیع سے یہ دعا صادر ہوئی ہے۔

حضرت امام حسین جمعرات کے دن تین شعبان کو پیدا ہوئے اس دن روزہ رکھ لیں اور اس دعا کو پڑھ لیں زاد المعاد میں ایک چیز کا اضافہ ہے کہ یہ امر صاحب الزمان کی طرف سے صادر ہوئی ہے ماہ شعبان کا تیسرا دن امام حسین کی ولادت کا دن ہے اس دن روزہ رکھو اور یہ دعا پڑھ لو۔

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ فِی هذَا الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ بِشَهادَتِهِ قَبْلَ اسْتِهْلالِهِ

اے معبود! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں آج کے دن پیدا ہونیوالے مولود کے واسطے سے کہ جس کے پیدا ہونے اور دنیا میں

وَوِلادَتِهِ، بَکَتْهُ السَّمائُ وَمَنْ فِیها، وَالْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْها، وَلَمَّا یَطَأْ لابَتَیْها

آنے سے پہلے اس سے شہادت کا وعدہ لیا گیا تو اس پر آسمان رویا اور جو کچھ اس میں ہے اور زمین اور جو کچھ اس پر ہے روے جبکہ

قَتِیلِ الْعَبْرَةِ، وَسَیِّدِ الْاُسْرَةِ، الْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَةِ یَوْمَ الْکَرَّةِ، الْمُعَوَّض ِ مِنْ

اس نے زمین مدینہ پر قدم نہ رکھا تھا وہ گریہ والا شہید اور کامیاب و کامران خاندان کا سید و سردار ہے رجعت کے دن، یہ اس کی

قَتْلِهِ أَنَّ الْاَئِمَّةَ مِنْ نَسْلِهِ، وَالشِّفائَ فِی تُرْبَتِهِ، وَالْفَوْزَ مَعَهُ فِی أَوْبَتِهِ،

شہادت کا بدلہ ہے کہ پاک آئمہ (ع)اس کی اولاد میں سے ہوئے اس کی خاکِ قبر میں شفائ ہے اور اس کی بازگشت میں کامیابی اسی کے

وَالْاَوْصِیائَ مِنْ عِتْرَتِهِ بَعْدَ قائِمِهِمْ وَغَیْبَتِهِ، حَتّی یُدْرِکُوا الْاَوْتارَ، وَیَثْأَرُوا الثَّارَ،

لیے ہے اور اوصیائ اسی کی اولاد میں سے ہیں کہ ان میں سے قائم غیبت ختم ہونے کے بعد وہ اپنے خون کا بدلہ اور انتقام لے کر تلافی

وَیُرْضُوا الْجَبَّارَ وَیَکُونُوا خَیْرَ أَنْصارٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِمْ مَعَ اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّهار

کرنے والے خدا کو راضی کریںگے اور بہترین مددگار ثابت ہوںگے درود ہوان سب پر جب تک رات دن آتے جاتے رہیں

اَللّٰهُمَّ فَبِحَقِّهِمْ إلَیْکَ أَ تَوَسَّلُ وَأَسْأَلُ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُعْتَرِفٍ مُسِیئٍ إلی نَفْسِهِ

اے معبود ان کا حق جو تجھ پر ہے اسے وسیلہ بناتا ہوں اور سوال کرتا ہوں اپنا گناہ تسلیم کرنے والے کیطرح کہ جس نے اپنے نفس

مِمَّا فَرَّطَ فِی یَوْمِهِ وَأَمْسِهِ، یَسْأَ لُکَ الْعِصْمَةَ إلی مَحَلِّ رَمْسِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلی

سے برائی کی ہے آج کے دن اور گزری ہوئی رات میں تو وہ سوال کرتا ہے اپنی موت کے دن تک کیلئے اے معبود! پس حضرت محمد(ص) اور

مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ، وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِهِ ، وَبَوّئْنا مَعَهُ دارَ الْکَرامَةِ، وَمَحَلَّ الْاِقامَةِ

انکے خاندان پر رحمت فرما اور ہمیں اسکے گروہ میں محشور فرما اور ہمیں بزرگی والے گھر اور جائے قیام کے سلسلے میں انکے ساتھ جگہ دے

اَللّٰهُمَّ وَکَما أَکْرَمْتَنا بِمَعْرِفَتِهِ فَأَکْرِمْنا بِزُلْفَتِهِ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَهُ وَسابِقَتَهُ،

اے معبود! جیسے تو نے ان کی معرفت کے ساتھ ہمیں عزت دی اسی طرح ان کے تقرب سے بھی نوازا اور ہمیں ان کی رہنمائی عطا کر

وَاجْعَلْنا مِمَّنْ یُسَلِّمُ لاََِمْرِهِ، وَیُکْثِرُ الصَّلاةَ عَلَیْهِ عِنْدَ ذِکْرِهِ، وَعَلی جَمِیعِ

اور انکی ہمراہی نصیب فرما ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کاحکم مانتے اور ان کے ذکر کے وقت ان پر بکثرت درود بھیجتے ہیں نیز

أَوْصِیائِهِ وَأَهْلِ أَصْفِیائِهِ، الْمَمْدُودِینَ مِنْکَ بِالْعَدَدِ الاثْنَی عَشَرَ، النُّجُومِ الزُّهَرِ،

ان کے سارے جانشینوں پر اور برگزیدہ اہل خاندان پر جن کی تعداد کو تو نے بارہ تک پورا فرمایا ہے جو چمکتے ہوئے ستارے ہیں

وَالْحُجَجِ عَلی جَمِیعِ الْبَشَرِ اَللّٰهُمَّ وَهَبْ لَنا فِی هذَا الْیَوْمِ خَیْرَ مَوْهِبَةٍ، وَأَ نْجِحْ

اور وہ تمام انسانوں پرخدا کی حجتیں ہیںاے معبود! آج کے دن ہمیں بہتریں عطاؤں سے سرفراز فرما اور ہماری سبھی حاجات

لَنا فِیهِ کُلَّ طَلِبَةٍ، کَما وَهَبْتَ الْحُسَیْنَ لُِمحَمَّدٍ جَدِّهِ، وَعاذَ فُطْرُسُ بِمَهْدِهِ، فَنَحْنُ

پوری کر دے جیسے تو نے حسین(ع) کے نانا حضرت محمد(ص) کو خود حسین(ع) عطا فرمائے تھے اور فطرس نے انکے گہوارے کی پناہ لی پس ہم انکے روضہ

عائِذُونَ بِقَبْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ نَشْهَدُ تُرْبَتَهُ وَنَنْتَظِرُ أَوْبَتَهُ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

کی پناہ لیتے ہیں انکے بعد اب ہم انکے روضہ کی زیارت کرتے ہیں اور انکی رجعت کے منتظر ہیں ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پالنے والے۔

اس کے بعد امام حسین - کی دعا پڑھے کہ جو آپ نے یوم عاشورہ کوپڑھی جب کہ آپ دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اور وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ مُتَعالی الْمَکانِ، عَظِیمُ الْجَبَرُوتِ، شَدِیدُ الْمِحالِ، غَنِیٌّ عَنِ الْخَلائِقِ،

اے معبود! تو بلند تر منزلت رکھتا ہے تو بڑے ہی غلبے والا ہے زبردست طاقت والا، مخلوقات سے بے نیاز،

عَرِیضُ الْکِبْرِیائِ قادِرٌ عَلی مَا تَشائُ قَرِیبُ الرَّحْمَةِ ، صَادِقُ الْوَعْدِ، سَابِغُ النِّعْمَةِ،

بے حد و حساب بڑائی والاہے جو چاہے اس پر قادر، رحمت کرنے میں قریب، وعدے میں سچا، کامل نعمتوں والا،

حَسَنُ الْبَلائِ، قَرِیبٌ إذا دُعِیتَ، مُحِیطٌ بِما خَلَقْتَ، قابِلُ التَّوْبَةِ لِمَنْ تابَ إلَیْکَ،

بہترین آزمائش کرنے والاہے تو قریب ہے جب پکارا جائے جسکو پیدا کیا تو اسے گھیرے ہوئے ہے تو اسکی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے

قادِرٌ عَلی مَا أَرَدْتَ ، وَمُدْرِکٌ مَا طَلَبْتَ، وَشَکُورٌ إذا شُکِرْتَ، وَذَ کُورٌ إذا ذُکِرْتَ،

تو جو ارادہ کرے اس پر قادر ہے جسے تو طلب کرے اسے پالینے والا ہے اور جب تیرا شکر کیا جائے تو قدر کرتا ہے تجھے یاد کیا جائے

أَدْعُوکَ مُحْتاجاً، وَأَرْغَبُ إلَیْکَ فَقِیراً، وَأَ فْزَعُ إلَیْکَ خائِفاً، وَأَبْکِی إلَیْکَ

تو بھی یاد کرتا ہے میں حاجتمندی میں تجھے پکارتا اور مفلسی میں تیری رغبت کرتا ہوں تیرے خوف سے گھبراتا ہوں مصیبت میں تیرے

مَکْرُوباً، وَأَسْتَعِینُ بِکَ ضَعِیفاً، وَأَ تَوَکَّلُ عَلَیْکَ کافِیاً، احْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ قَوْمِنا

آگے روتا ہوں کمزوری کے باعث تجھ سے مدد مانگتا ہوں تجھے کافی جان کر توکل کرتا ہوں فیصلہ کردے ہمارے اور ہماری قوم کے

بِالْحَقِّ، فَ إنَّهُمْ غَرُّونا وَخَدَعُونا وَخَذَلُونا وَغَدَرُوا بِنا وَقَتَلُونا، وَنَحْنُ عِتْرَةُ نَبِیِّکَ

درمیان کہ انہوں نے ہمیں فریب دیا اور ہم سے دھوکہ کیا ہمیں چھوڑدیا اور بے وفائی کی اور ہمیں قتل کیا جبکہ ہم تیرے نبی(ص) کا گھرانہ اور

وَوَلَدُ حَبِیبِکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاﷲِ الَّذِی اصْطَفَیْتَهُ بِالرِّسالَةِ وَائْتَمَنْتَهُ عَلی وَحْیِکَ،

تیرے حبیب محمد(ص) بن عبداللہ کی اولاد ہیں جن کو تو نے تبلیغ رسالت کے لیے چنا اور انہیں اپنی وحی کا امین بنایا

فَاجْعَلْ لَنا مِنْ أَمْرِنا فَرَجاً وَمَخْرَجاً بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

پس اس معاملے میں ہمیں کشادگی اور فراخی دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔


شب برات کی فضیلت

سید بزرگوار علی بن طاؤوس فرماتے ہیں۔

سزاوار ہے ایسی رات کہ جس میں آخری حجت کی ولادت ہوئی ہے مسلمان اس کو بہت زیادہ اہمیت دیں جو لوگ حضرت کے حقوق کے اقامہ کے معترف ہیں وہ حقوق کے جس کو ان کے جد محمد مصطفی نے معین کیا ہے اور اس کی خوشخبری اس کی سعادت مند امت کو دی ہے بہت بڑے احترام کے قائل ہوجائیں چونکہ مسلمانوں کی ھالت اس طرح تھی کہ پورہ زندگی تاریکی روز ظلمت میں گزری دشمن کے لشکر ان پر مسلّط ہوئے ان کے گناہوں کی بدبختی نے ان کو احاطہ کیا ہوا تھا ایسی بری حالت میں ایک مولود کو انہیں عطا کیا کہ انہوں نے لوگوں کو غلامی سے آزاد کیا ہر شخص جس چیز کا استحقاق رکھتاہے اور محتاج ہے اس کے احتیاج سے پہلے اس کو عطا کرتاہے۔

سید بن طاوؤس اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہر انسان کو چاہیئے کہ خدا نے اس رات اس بادشاہ کی وجہ سے ہمارے اوپر احسان کیا ہے اس کا شکریہ ادا کریں اور احترام کرنے کے لئے قیام کریں جس خدا نے ان لوگوں کو اس مولود کا لشکر قرار دیا ہے اور اس کے لشکر میں ان کا نام ثبت ہوا ہے ایسے سپاہی کہ جو ان کے انصار میں سے شمار ہوتے ہیں وہ جس نے اسلام اور ایمان کو ان کے لئے ہموار کیا ہے اور جس نے کفر اور طغیان کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کردیا ہے۔ وہ رحمت کا خیمہ مشرق سے لیکر مغرب تک ان پر بچھائے گا اور ان کو خدا کی خدمت میں قرار دے گا کوئی بشر بھی اس حقیقت کو درک کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔

ان بزرگ حقوق کے قیام کی توانائی خدا کی مدد کے علاوہ ممکن نہیں ہے اس بناء پر ہر سعادت مند شخص پر اللہ نے احسان کیا ہے کہ اس جیسے عمل کے بجالانے پر اقدام کرتاہے یہاں پر اُس دعا کو بیان کرتاہوں کہ جس میں شب برات میں خداوند متعال اس باعظمت مولود کی قسم کھاتاہے اور وہ دعا یہ ہے

۷ ۔ شب برات کی دعا

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا هذِهِ وَمَوْلُودِها وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِهَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِها فَضْلاً

اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجت (ع)اور اس کے موعود (ع)کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی

فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَأَلِّقُ

اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموںکو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ

وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ

(مہدی موعود(ع)) تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاںو پوشیدہ ہے اس کی

مَوْلِدُهُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُهُ، وَالْمَلائِکَةُ شُهَّدُهُ، وَاﷲُ ناصِرُهُ وَمُؤَیِّدُهُ، إذا آنَ مِیعادُهُ

ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے ا س کے گواہ ہیں اور اللہ ا سکا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا

وَالْمَلائِکَةُ أَمْدادُهُ، سَیْفُ اﷲِ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُهُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ

اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے

الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّهْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاةُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْهِمْ

جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومین(ع) ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے

مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ، وَأَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَةُ وَحْیِهِ، وَوُلاةُ أَمْرِهِ

انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی

وَنَهْیِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِهِمْ وَقائِمِهِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِهِمْ اَللّٰهُمَّ وَأَدْرِکْ

کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ

بِنا أَیَّامَهُ وَظُهُورَهُ وَقِیامَهُ، وَاجْعَلْنا مِنْ أَ نْصارِهِ، وَاقْرِنْ ثأْرَنا بِثَأْرِهِ، وَاکْتُبْنا

اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے

فِی أَعْوانِهِ وَخُلَصائِهِ، وَأَحْیِنا فِی دَوْلَتِهِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِهِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّهِ

مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اسکی صحبت سے بہرہ یاب فرما اسکے حق میں قیام کرنے

قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،

والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوںکا پروردگار ہے

وَصَلَواتُهُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الصَّادِقِینَ

اور اسکی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمد(ص) پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں اور انکے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور انکے

وَعِتْرَتِهِ النَّاطِقِینَ، وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ، وَاحْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَهُمْ یَا أَحْکَمَ الْحاکِمِینَ

اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں اور لعنت کرتمام ظلم کرنے والوں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔

سزاوار ہے کہ پندرہ شعبان کے شب و روز میں ضرّاب اصفہانی کی صلوات اس کتاب میں نقل ہوئی ہے اس کو پڑھ لے

پندرہ شعبان کی رات کو دعائے کمیل پڑھنے کی فضیلت

مرحوم سید بن طاؤوس نے فرمایا ہے کہ جناب کمیل بن زیاد نے فرمایا کہ مسجد بصرہ میں حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں بٹھا ہوا تھا اور ایک جماعت حضرت کے اصحاب میں سے بیٹھی ہوئی تھی ان میں سے ایک نے اللہ کے اس فرمان (فیھا یفرق کل امر حکیم) کے بارے میں سوال کیا حضرت امیرالمومنین نے فرمایا اس سے مراد پندرہ شعبان کی رات ہے اس ذات کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے کوئی بندہ نہیں ہے مگر یہ کہ جو کچھ اس کو برائی یا اچھائی پہنچتی ہے پندرہ شعبان کی رات تقسیم ہوتی ہے آخر سال تک جو بھی اس رات بیدار ہے اور دعائے خضر کو پڑھے مگر یہ کا اس کو جواب دیا جاتاہے۔ جب حضرت تشریف لے گئے رات کو ان کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے فرمایا کمیل کس لئے آئے ہو میں نے عرض کیا یہ جانوں کہ دعائے خضر کونسی ہے حضرت نے فرمایا بیٹھ جاؤ اے کمیل جب بھی اس دعا کو حفظ کرو تو اس کو ہر شب جمعہ پڑھ لو یا مہینے میں ایک دفعہ یا سال میں ایک دفعہ یا تمام عمر میں ایک دفعہ پڑھ لو یہی تمہارے لئے کافی ہے اور تمہاری مدد ہوگی اور روزی دے دی جائے گی گناہ بخشے بغیر نہیں رہوگے اے کمیل تمہاری طویل نشست نے ہمارے ساتھ واجب قرار دیا ہے کہ سخاوت کر کے تمہارے سوال کا جواب دوں اس وقت فرمایا لکھو اور اس معروف دعا کو کہ جو دعائے کمیل ہے انہیں یاد کرادیا اور ہم نے اس دعا کو اسی کتاب میں نقل کیا۔

دعائے افتتاح اور ظھور امام کی دعائیں

دعائے افتتاح

علامہ مجلسی کہتاہے کہ معتبر سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ حضرت صاحب العصر نے اپنے شیعوں کے لئے لکھا ہے اس دعا کو ماہ رمضان کی راتوں میں سے ہر رات پڑھیں چونکہ ملائکہ اس دعا کو سنتے ہیں اور پڑھنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور دعا اس طرح ہے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَ فْتَتِحُ الثَّنائَ بِحَمْدِکَ وَأَ نْتَ مُسَدِّدٌ لِلصَّوابِ بِمَنِّکَ وَأَیْقَنْتُ أَنَّکَ أَنْتَ

اے معبود! تیری حمد کے ذریعے تیری تعریف کا آغاز کرتا ہوں اور تو اپنے احسان سے راہ راست دکھانے والا ہے اور مجھے یقین ہے

أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فِی مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ وَأَشَدُّ الْمُعاقِبِینَ فِی مَوْضِعِ النَّکالِ

کہ تو معافی دینے مہربانی کرنے کے مقام پر سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والا ہے اور شکنجہ و عذاب کے موقع پر سب سے سخت

وَالنَّقِمَةِ، وَأَعْظَمُ الْمُتَجَبِّرِینَ فِی مَوْضِعِ الْکِبْرِیائِ وَالْعَظَمَةِ اَللّٰهُمَّ أَذِنْتَ لِی فِی

عذاب دینے والا ہے اور بڑائی اور بزرگی کے مقام پر تو تمام قاہروں اور جابروں سے بڑھا ہوا ہے اے اﷲ ! تو نے مجھے اجازت

دُعائِکَ وَمَسْأَلَتِکَ فَاسْمَعْ یَا سَمِیعُ مِدْحَتِی وَأَجِبْ یَا رَحِیمُ دَعْوَتِی وَأَقِلْ یَا غَفُورُ

دے رکھی ہے کہ تجھ سے دعا و سوال کروں پس اے سننے والے اپنی یہ تعریف سن اور اے مہربان میری دعا قبول فرما اے بخشنے والے

عَثْرَتِی، فَکَمْ یَا إلهِی مِنْ کُرْبَةٍ قَدْ فَرَّجْتَها، وَهُمُومٍ قَدْ کَشَفْتَها، وَعَثْرَةٍ قَدْ أَ قَلْتَها

میری خطا معاف کرپس اے میرے معبود ! کتنی ہی مصیبتوں کو تو نے دور کیا اور کتنے ہی اندیشوں کو ہٹایا اور خطاؤں سے در گزر کی

وَرَحْمَةٍ قَدْ نَشَرْتَها وَحَلْقَةِ بَلائٍ قَدْ فَکَکْتَها؟ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ

رحمت کو عام کیا اور بلاؤں کے گھیرے کو توڑا اور رہائی دی حمد اس اﷲ کیلئے ہے جس نے نہ کسی کو اپنی زوجہ بنایا اور نہ کسی کو

وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً

اپنا بیٹا بنایا نہ ہی سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا سر پرست ہو اس کی بڑائی بیان کرو بہت بڑائی

الْحَمْدُ لِلّٰهِِ بِجَمِیعِ مَحامِدِهِ کُلِّها عَلَی جَمِیعِ نِعَمِهِ کُلِّها الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ مُضادَّ لَهُ

حمد اﷲ ہی کیلئے ہے اس کی تمام خوبیوں اور اس کی ساری نعمتوں کے ساتھ حمد اس اﷲکیلئے ہے جس کی حکومت میں

فِی مُلْکِهِ، وَلاَ مُنازِعَ لَهُ فِی أَمْرِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ شَرِیکَ لَهُ فِی خَلْقِهِ، وَلاَ

اس کا کوئی مخالف نہیں نہ اس کے حکم میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا ہے حمد اس اﷲ کیلئے ہے جس کی آفرینش میں کوئی اس کا شریک نہیں

شَبِیهَ لَهُ فِی عَظَمَتِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الْفاشِی فِی الْخَلْقِ أَمْرُهُ وَحَمْدُهُ، الظَّاهِرِ بِالْکَرَمِ

اور اسکی بڑائی میں کوئی اس جیسا نہیں حمد اس اﷲ کیلئے ہے کہ جسکا حکم اور حمد خلق میں آشکار ہے اس کی شان اس کی بخشش کے ساتھ

مَجْدُهُ، الْباسِطِ بِالْجُودِ یَدَهُ، الَّذِی لاَ تَنْقُصُ خَزائِنُهُ، وَلاَ تَزِیدُهُ کَثْرَةُ الْعَطائِ

ظاہر ہے بن مانگے دینے میں اس کا ہاتھ کھلا ہے وہی ہے جس کے خزانہ نے کم نہیں ہوتے اور کثرت کے ساتھ عطا کرنے سے اس

إلاَّ جُوداً وَکَرَماً إنَّهُ هُوَ الْعَزِیزُ الْوَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ قَلِیلاً مِنْ

کی بخشش اور سخاوت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست عطا کرنے والا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بہت میں سے

کَثِیرٍ، مَعَ حاجَةٍ بِی إلَیْهِ عَظِیمَةٍ وَغِناکَ عَنْهُ قَدِیمٌ وَهُوَ عِنْدِی کَثِیرٌ، وَهُوَ عَلَیْکَ

تھوڑے کا جبکہ مجھے اس کی بہت زیادہ حاجت ہے اور تو ہمیشہ اس سے بے نیاز ہے وہ نعمت میرے لیئے بہت بڑی ہے اور تیرے

سَهْلٌ یَسِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنَّ عَفْوَکَ عَنْ ذَ نْبِی، وَتَجاوُزَکَ عَنْ خَطِیئَتِی، وَصَفْحَکَ عَنْ

لئے اس کا دینا آسان ہے اے معبود! بے شک تیرا میرے گناہ کو معاف کرنا میری خطا سے تیری در گزر میرے ستم سے تیری چشم

ظُلْمِی وَسَِتْرَکَ عَلَی قَبِیحِ عَمَلِی، وَحِلْمَکَ عَنْ کَثِیرِجُرْمِی عِنْدَ مَا کانَ مِنْ خَطَ إی

پوشی میرے برے عمل کی پردہ پوشی میرے بہت سے جرائم پر تیری برد باری ہے جبکہ ان میں سے بعض بھول کر اور بعض میں نے جان

وَعَمْدِی أَطْمَعَنِی فِی أَنْ أَسْأَلَکَ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ مِنْکَ الَّذِی رَزَقْتَنِی مِنْ رَحْمَتِکَ

بوجھ کر کئے ہیں تب بھی اس سے مجھے طمع ہوئی کہ میں تجھ سے وہ مانگوں جس کا میں حقدار نہیں چنانچہ تو نے اپنی رحمت سے مجھے روزی

وَأَرَیْتَنِی مِنْ قُدْرَتِکَ وَعَرَّفْتَنِی مِنْ إجابَتِکَ فَصِرْتُ أَدْعُوکَ آمِناً وَأَسْأَلُکَ

دی اور اپنی قدرت کے کرشمے دکھائے قبولیت کی پہچان کرائی پس اب میں با امن ہوکر تجھے پکارتا ہوں اور سوال کرتا ہوں

مُسْتَأْنِساً لاَ خائِفاً وَلاَ وَجِلاً، مُدِلاًّ عَلَیْکَ فِیما قَصَدْتُ فِیهِ إلَیْکَ، فَ إنْ أَبْطَأَ عَنِّی

الفت سے نہ ڈرتے اور گھبراتے ہوئے اور مجھے ناز ہے کہ اس بارے میں تیری بارگاہ میں آیا ہوں پس اگر تو نے قبولیت میں دیر کی تو

عَتَبْتُ بِجَهْلِی عَلَیْکَ وَلَعَلَّ الَّذِی أَبْطَأَ عَنِّی هُوَ خَیْرٌ لِی لِعِلْمِکَ بِعاقِبَةِ الاَُْمُورِ، فَلَمْ

میں بوجہ نادانی تجھ سے شکوہ کروں گا اگر چہ وہ تاخیر کاموں کے نتائج سے متعلق تیرے علم میں میرے لیے بہتری کی حامل ہو پس میں

أَرَ مَوْلیً کَرِیماً أَصْبَرَ عَلَی عَبْدٍ لَئِیمٍ مِنْکَ عَلَیَّ، یَا رَبِّ ، إنَّکَ تَدْعُونِی فَأُوَلِّی عَنْکَ

نے تیرے سوا کوئی مولا نہیں دیکھا جو میرے جیسے پست بندے پر مہربان و صابر ہو۔ اے پروردگار! تو مجھے پکارتا ہے تو میں تجھ سے

وَتَتَحَبَّبُ إلَیَّ فأَتَبَغَّضُ إلَیْکَ، وَتَتَوَدَّدُ إلَیَّ فَلاَ أَقْبَلُ مِنْکَ کَأَنَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَیْکَ

منہ موڑتا ہوں تو مجھ سے محبت کرتا ہے میں تجھ سے خفگی کرتا ہوں تو میرے ساتھ الفت کرتا ہے میں بے رخی کرتا ہوں جیسے کہ میرا تجھ پر

فَلَمْ یَمْنَعْکَ ذلِکَ مِنَ الرَّحْمَةِ لِی وَالْاِحْسانِ إلَیَّ وَالتَّفَضُّلِ عَلَیَّ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ

کوئی احسان رہا ہو تو بھی میرا یہ طرز عمل تجھے مجھ پر رحمت فرمانے اور مجھ پر اپنی عطا و بخشش کیساتھ فضل و احسان کرنے سے باز نہیں

فَارْحَمْ عَبْدَکَ الْجاهِلَ وَجُدْ عَلَیْهِ بِفَضْلِ إحْسانِکَ إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ الْحَمْدُ

رکھتا پس اپنے اس نادان بندے پر رحم کر اور اس پر اپنے فضل و احسان سے سخاوت فرما بے شک تو بہت دینے والا سخی ہے حمد ہے اس

لِلّٰهِِ مالِکِ الْمُلْکِ، مُجْرِی الْفُلْکِ، مُسَخِّرِ الرِّیاحِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، دَیَّانِ الدِّینِ، رَبِّ

اللہ کے لیے جو سلطنت کا مالک کشتی کو رواں کرنیوالا ہواؤں کو قابو رکھنے والا صبح کو روشن کرنے والا او رقیامت میں جزا دینے والا

الْعالَمِینَ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلی حِلْمِهِ بَعْدَ عِلْمِهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلَی عَفْوِهِ بَعْدَ قُدْرَتِهِ

جہانوں کا پروردگار ہے حمد ہے اللہ کی کہ جانتے ہوئے بھی بردباری سے کام لیتا ہے اورحمد ہے اس اللہ کی جو قوت کے باوجود معاف

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلَی طُولِ أَناتِهِ فِی غَضَبِهِ وَهُوَ قادِرٌ عَلَی مَا یُرِیدُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ خالِقِ

کرتا ہے اور حمد ہے اس اللہ کی جو حالت غضب میں بھی بڑا بردبار ہے اور وہ جو چاہے اسے کرگزرنے کی طاقت رکھتا ہے حمد ہے اس

الْخَلْقِ، باسِطِ الرِّزْقِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، ذِی الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ

اللہ کی جو مخلوق کو پیدا کرنیوالا روزی کشادہ کرنیوالا صبح کو روشنی بخشنے والا صاحب جلالت و کرم اور فضل و نعمت کا مالک ہے

الَّذِی بَعُدَ فَلا یُریٰ، وَقَرُبَ فَشَهِدَ النَّجْویٰ، تَبارَکَ وَتَعالی الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَیْسَ

جو ایسا دور ہے کہ نظر نہیںآتا اور اتنا قریب ہے کہ سرگوشی کو بھی جانتا ہے وہ مبارک اور برتر ہے حمد ہے اس اﷲ کی جس کا ہمسر نہیں جو

لَهُ مُنازِعٌ یُعادِلُهُ، وَلاَ شَبِیهٌ یُشاکِلُهُ، وَلاَ ظَهِیرٌ یُعاضِدُهُ، قَهَرَ بِعِزَّتِهِ الْاَعِزَّائَ

جو اس سے جھگڑا کرے نہ کوئی اس جیسا ہے کہ اس کاہمشکل ہو نہ کوئی اس کا مددگار و ہمکار ہے وہ اپنی عزت میں سب عزت والوں پر

وَتَواضَعَ لِعَظَمَتِهِ الْعُظَمائُ، فَبَلَغَ بِقُدْرَتِهِ مَا یَشائُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یُجِیبُنِی حِینَ

غالب ہے اور سبھی عظمت والے اس کی عظمت کے آگے جھکتے ہیں وہ جو چاہے اس پر قادر ہے حمد ہے اللہ کی جسے پکارتا ہوں تو وہ

أُنادِیهِ، وَیَسْتُرُ عَلَیَّ کُلَّ عَوْرَةٍ وَأَ نَا أَعْصِیهِ، وَیُعَظِّمُ النِّعْمَةَ عَلَیَّ فَلاَ أُجازِیهِ

جواب دیتا ہے اور میری برائی کی پردہ پوشی کرتا ہے میںاسکی نافرمانی کرتا ہوں تو بھی مجھے بڑی بڑی نعمتیں دیتا ہے کہ جن کا بدلہ میں

فَکَمْ مِنْ مَوْهِبَةٍ هَنِیئةٍ قَدْ أَعْطانِی، وَعَظِیمَةٍ مَخُوفَةٍ قَدْ کَفانِی، وَبَهْجَةٍ مُو نِقَةٍ

اسے نہیں دیتا پس اس نے مجھ پر کتنی ہی خوشگوار عنایتیں اوربخششیں کی ہیں کتنی ہی خطرناک آفتوں سے مجھے بچالیا ہے کئی حیرت انگیز

قَدْ أَرانِی فَأُ ثْنِی عَلَیْهِ حامِداً، وَأَذْکُرُهُ مُسَبِّحاً الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ یُهْتَکُ حِجابُهُ

خوشیاں مجھے دکھائی ہیں پس ان پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور لگاتار اس کا نام لیتا ہوں حمد ہے اللہ کی جس کا پردہ ہٹایا نہیںجاسکتا

وَلاَ یُغْلَقُ بابُهُ، وَلاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُهُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یُؤْمِنُ الْخائِفِینَ

اس کا در رحمت بند نہیں ہوتا اس کا سائل خالی نہیں جاتا اور اس کا امیدوار مایوس نہیں ہوتا حمد ہے اللہ کی جو ڈرنے والوں کو پناہ دیتا ہے

وَیُنَجِّی الصَّالِحِینَ، وَیَرْفَعُ الْمُسْتَضْعَفِینَ، وَیَضَعُ الْمُسْتَکْبِرِینَ، وَیُهْلِکُ مُلُوکاً

نیکوکاروں کو نجات دیتا ہے لوگوں کے دبائے ہوؤں کو ابھارتا ہے بڑا بننے والوں کو نیچا دکھاتا ہے بادشاہوں کو تباہ کرتا اور ان کی جگہ

وَیَسْتَخْلِفُ آخَرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ قاصِمِ الْجَبَّارِینَ مُبِیرِ الظَّالِمِینَ، مُدْرِکِ الْهارِبِینَ

دوسروں کو لے آتا ہے۔ حمد ہے اللہ کی کہ وہ دھونسیوں کا زور توڑنے والا ظالموں کو برباد کرنے والا فریادیوں کو پہنچنے والا

نَکالِ الظَّالِمِینَ صَرِیخِ الْمُسْتَصْرِخِینَ مَوْضِعِ حاجاتِ الطَّالِبِینَ مُعْتَمَدِ الْمُؤْمِنِینَ

اور بے انصافوں کو سزا دینے والا ہے وہ دادخواہوں کا دادرس حاجات طلب کرنے والوں کا ٹھکانہ اور مومنوں کی ٹیک ہے

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی مِنْ خَشْیَتِهِ تَرْعُدُ السَّمائُ وَسُکَّانُها، وَتَرْجُفُ الْاَرْضُ وَعُمَّارُها

حمد ہے اس اللہ کی جس کے خوف سے آسمان اور آسمان والے لرزتے ہیں زمین اور اس کے آبادکار دہل جاتے ہیں

وَتَمُوجُ الْبِحارُ وَمَنْ یَسْبَحُ فِی غَمَراتِها الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدانا لِهذا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ

سمندر لرزتے ہیں اور وہ جو انکے پانیوں میں تیرتے ہیں حمد ہے اللہ کی جس نے ہمیں یہ راہ ہدایت دکھائی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاسکتے

لَوْلاَ أَنْ هَدَانا اﷲُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی یَخْلُقُ وَلَمْ یُخْلَقْ، وَیَرْزُقُ وَلاَ یُرْزَقُ

اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ فرماتا حمد ہے اس اللہ کی جو خلق کرتا ہے اور وہ مخلوق نہیں وہ رزق دیتا ہے اور وہ مرزوق نہیں

وَیُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ وَیُمِیتُ الْاَحْیائَ وَیُحْیِی الْمَوْتی وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ

وہ کھانا کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں وہ زندوں کو مارتاہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں بھلائی اسیکے ہاتھ میں ہے

وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَأَمِینِکَ وَصَفِیِّکَ

اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! اپنی حضرت محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے تیرے رسول(ص) تیرے امانتدار تیرے

وَحَبِیبِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ وَحافِظِ سِرِّکَ، وَمُبَلِّغِ رِسالاتِکَ أَ فْضَلَ وَأَحْسَنَ

برگزیدہ تیرے حبیب اور تیری مخلوق میں سے تیرے پسندیدہ ہیں تیرے راز کے پاسدار ہیں اور تیرے پیغاموں کے پہنچانے

وَأَجْمَلَ وَأَکْمَلَ وَأَزْکی وَأَ نْمی وَأَطْیَبَ وَأَطْهَرَ وَأَسْنی وَأَکْثَرَ مَا صَلَّیْتَ

والے ہیں ان پر رحمت کر بہترین نیکوترین زیباترین کامل ترین روئیدہ ترین پاکیزہ ترین شفاف ترین روشن ترین اور تو نے جو بہت

وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ وَسَلَّمْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ عِبادِکَ وَأَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ

رحمت کی برکت دی نوازش کی مہربانی کی اور درود بھیجا اپنے بندوں میں اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے برگزیدوں میں سے کسی

وَصِفْوَتِکَ وَأَهْلِ الْکَرامَةِ عَلَیْکَ مِنْ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ

ایک پر اور جو تیرے ہاں بزرگی والے ہیں تیری مخلوق میں سے۔ اے معبود! امیرالمومنین علی(ع) پر رحمت فرما

وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ عَبْدِکَ وَوَ لِیِّکَ وَأَخِی رَسُولِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ

جو جہانوں کے پروردگار کے رسول(ص) کے وصی ہیںتیرے بندے تیرے ولی تیرے رسول(ص) کے بھائی تیری مخلوق پر تیری

وَآیَتِکَ الْکُبْری، وَالنَّبَاََ الْعَظِیمِ، وَصَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَةِ الطَّاهِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ

حجت تیری بہت بڑی نشانی اور بہت نبأ عظیم ہیں اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ =پر رحمت فرما جو تمام جہانوں کی عورتوں کی

الْعالَمِینَ وَصَلِّ عَلَی سِبْطَیِ الرَّحْمَةِ وَ إمامَیِ الْهُدی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ

سردار ہیں اور نبی(ص) رحمت کے دو نواسوں اور ہدایت والے دو ائمہ(ع) حسن(ع) و حسین(ع) پر رحمت فرما جو جنت کے

شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَصَلِّ عَلَی أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِینِّ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ

جوانوں کے سید و سردار ہیں۔ اور مسلمانوں کے ائمہ(ع) پر رحمت فرما کہ وہ علی زین العابدین(ع) محمد الباقر(ع)

وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ

جعفر الصادق(ع) موسیٰ الکاظم(ع) علی الرضا(ع) محمد تقی الجواد(ع) علی نقی(ع)

مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَالْخَلَفِ الْهادِی الْمَهْدِیِّ حُجَجِکَ عَلَی عِبادِکَ وَأُمَنائِکَ

الہادی(ع) حسن العسکری(ع) اور بہترین سپوت ہادی المہدی(ع) ہیں جو تیرے بندوں پر تیری حجتیں اور تیرے شہروں

فِی بِلادِکَ صَلاةً کَثِیرَةً دائِمَةً اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی وَ لیِّ أَمْرِکَ الْقائِمِ الْمُؤَمَّلِ

میں تیرے امین ہیں ان پر رحمت فرما بہت بہت ہمیشہ ہمیشہ اے معبود اپنے ولی امر پر رحمت فرما کہ جو قائم، امیدگاہ

وَالْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ وَحُفَّهُ بِمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَیِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ

عادل اور منتظر ہے اسکے گرد اپنے مقرب فرشتوں کا گھیرا لگادے اور روح القدس کے ذریعے اسکی تائید فرما اے جہانوں کے پروردگار

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ الدَّاعِیَ إلی کِتابِکَ وَالْقائِمَ بِدِینِکَ اسْتَخْلِفْهُ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفْتَ

اے معبود! اسے اپنی کتاب کی طرف دعوت دینے والا اور اپنے دین کیلئے قائم قرار دے اسے زمین میںاپنا خلیفہ بنا جیسے ان کو خلیفہ

الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِ، مَکِّنْ لَهُ دِینَهُ الَّذِی ارْتَضَیْتَهُ لَهُ، أَبْدِلْهُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِ أَمْناً یَعْبُدُکَ

بنایا جو اس سے پہلے ہو گزرے ہیں اپنے پسندیدہ دین کو اس کیلئے پائیدار بنادے اسکے خوف کے بعد اسے امن دے کہ وہ تیرا

لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئاً اَللّٰهُمَّ أَعِزَّهُ وَأَعْزِزْ بِهِ، وَانْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ، وَانْصُرْهُ

عبادت گزار ہے کسی کو تیرا شریک نہیں بناتا۔ اے معبود! اسے معزز فرما اور اس کے ذریعے مجھے عزت دے میں اسکی مدد کرو اور اس

نَصْراً عَزِیزاً، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً یَسِیراً، وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطاناً نَصِیراً

کے ذریعے میری مدد فرما اسے باعزت مدد دے اور اسے آسانی کے ساتھ فتح دے اور اسے اپنی طرف سے قوت والا مددگار عطا فرما

اَللّٰهُمَّ أَظْهِرْ بِهِ دِینَکَ وَسُنَّةَ نَبِیِّکَ حَتَّی لاَ یَسْتَخْفِیَ بِشَیْئٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ

اے معبود! اس کے ذریعے اپنے دین اور اپنے نبی(ص) کی سنت کو ظاہر فرما یہاں تک کہ حق میں سے کوئی چیز مخلوق کے خوف سے مخفی و

مِنَ الْخَلْقِ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَرْغَبُ إلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْاِسْلامَ وَأَهْلَهُ

پوشیدہ نہ رہ جائے اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت

وَتُذِلُّ بِهَا النِّفاقَ وَأَهْلَهُ، وَتَجْعَلُنا فِیها مِنَ الدُّعاةِ إلَی طاعَتِکَ، وَالْقادَةِ إلی

دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائی

سَبِیلِکَ، وَتَرْزُقُنا بِها کَرامَةَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اَللّٰهُمَّ مَا عَرَّفْتَنا مِنَ الْحَقِّ

کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے اے معبود! جس حق کی تو نے ہمیں معرفت کرائی اسکے

فَحَمِّلْناهُ، وَمَا قَصُرْنا عَنْهُ فَبَلِّغْناهُ اَللّٰهُمَّ الْمُمْ بِه شَعَثَنا، وَاشْعَبْ

تحمل کی توفیق دے اور جس سے ہم قاصر رہے اس تک پہنچادے اے معبود اسکے ذریعے ہم بکھروں کو جمع کردے اسکے ذریعے

بِهِ صَدْعَنا، وَارْتُقْ بِهِ فَتْقَنا، وَکَثِّرْ بِهِ قِلَّتَنا، وَأَعْزِزْ بِهِ ذِلَّتَنا، وَأَغْنِ بِهِ عائِلَنا

ہمارے جھگڑے ختم کر اور ہماری پریشانی دور فرما اسکے ذریعے ہماری قلت کوکثرت اور ذلت کو عزت میں بدل دے اسکے ذریعے

وَاقْضِ بِهِ عَنْ مُغْرَمِنا، وَاجْبُرْ بِهِ فَقْرَنا، وَسُدَّ بِهِ خَلَّتَنا، وَیَسِّرْ

ہمیں نادار سے تونگر بنا اور ہمارے قرض ادا کر دے اسکے ذریعے ہمارا فقر دور فرما دے ہماری حاجتیں پوری کر دے اور تنگی کو آسانی

بِهِ عُسْرَنا، وَبَیِّضْ بِهِ وُجُوهَنا، وَفُکَّ بِهِ أَسْرَنا، وَأَ نْجِحْ بِهِ طَلِبَتَنا، وَأَ نْجِزْ بِهِ

میں بدل دے اس کے ذریعے ہمارے چہرے روشن کر اور ہمارے قیدیوں کو رہائی دے اس کے ذریعے ہماری حاجات بر لا اور

مَواعِیدَنا، وَاسْتَجِبْ بِهِ دَعْوَتَنا، وَأَعْطِنا بِهِ سُؤْلَنا، وَبَلِّغْنا بِهِ مِنَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ

ہمارے وعدے نبھا دے اسکے ذریعے ہماری دعائیں قبول فرما اور ہمارے سوال پورے کر دے اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں

آمالَنا، وَأَعْطِنا بِهِ فَوْقَ رَغْبَتِنا، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ، وَأَوْسَعَ

ہماری امیدیں پوری فرما اور ہمیں ہماری درخواست سے زیادہ عطا کر اے سوال کئے جانے والوں میں بہترین۔اور اے سب سے

الْمُعْطِینَ، اشْفِ بِهِ صُدُورَنا، وَأَذْهِبْ بِهِ غَیْظَ قُلُوبِنا، وَاهْدِنا بِهِ لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ

زیادہ عطا کرنے والے اس کے ذریعے ہمارے سینوں کو شفا دے اور ہمارے دلوں سے بغض و کینہ مٹا دیجس حق میں ہمارا

مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ تَهْدِی مَنْ تَشائُ إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَانْصُرْنا

اختلاف ہے اپنے حکم سے اس کے ذریعے ہمیں ہدایت فرما بے شک تو جسے چاہیسیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے اس کے

بِهِ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّنا إلهَ الْحَقِّ آمِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَشْکُو إلَیْکَ فَقْدَ

ذریعے اپنے اور ہمارے دشمن پر ہمیں غلبہ عطا فرما اے سچے خدا ایسا ہی ہو۔ اے معبود ! ہم شکایت کرتے ہیں تجھ سے اپنے نبی (ص) کے

نَبِیِّنا صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَغَیْبَةَ وَلِیِّنا، وَکَثْرَةَ عَدُوِّنا، وَقِلَّةَ عَدَدِنا،

اٹھ جانے کی کہ ان پر اور ان کی آل(ع) پر تیری رحمت ہو اور اپنے ولی کی پوشیدگی کی اور شاکی ہیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت تعداد

وَشِدَّةَ الْفِتَنِ بِنا، وَتَظاهُرَ الزَّمانِ عَلَیْنا، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَأَعِنَّا عَلی ذلِکَ

اور فتنوں کی سختی اور حوادث زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں پس محمد(ص) اور ان کی آل (ع)پر رحمت فرما اور ہماری مدد فرما ان پر فتح کے ساتھ

بِفَتْحٍ مِنْکَ تُعَجِّلُهُ، وَبِضُرٍّ تَکْشِفُهُ، وَنَصْرٍ تُعِزُّهُ، وَسُلْطانِ حَقٍّ تُظْهِرُهُ، وَرَحْمَةٍ

اور اس میں جلدی کر کے تکلیف دور کردے نصرت سے عزت عطا کر حق کے غلبے کا اظہار فرما ایسی رحمت فرما جو ہم پر

مِنْکَ تُجَلِّلُناها، وَعافِیَةٍ مِنْکَ تُلْبِسُناها، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

سایہ کرے اور امن عطا کر جو ہمیں محفوظ بنا دے رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

۹ ۔ تیرھویں ماہ رمضان کے دن کی دعا

آخری حجت کے ظہور کے لئے سید علی بن طاؤوس نے اس دن کے لئے اس دعا کو نقل کیا ہے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَدينُكَ بِطاعَتِكَ وَوِلايَتِكَ ، وَوِلايَةِ مُحَمَّدٍ نَبِيِّكَ ، وَوِلايَةِ أَميرِالْمُؤْمِنينَ حَبيبِ نَبِيِّكَ ، وَوِلايَةِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، سِبْطَيْ نَبِيِّكَ وَسَيِّدَيْ شَبابِ أَهْلِ جَنَّتِكَ.

وَأَدينُكَ يا رَبِّ بِوِلايَةِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِيِّ بْنِ مُوسى وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَسَيِّدي وَمَوْلايَ صاحِبِ الزَّمانِ أَدينُكَ يا رَبِّ بِطاعَتِهِمْ وَوِلايَتِهِمْ ، وَبِالتَّسْليمِ بِما فَضَّلْتَهُمْ ، راضِياً غَيْرَ مُنْكِرٍ وَلا مُسْتَكْبِرٍ ، عَلى ما أَنْزَلْتَ في كِتابِكَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَادْفَعْ عَنْ وَلِيِّكَ وَخَليفَتِكَ وَلِسانِكَ وَالْقائِمِ بِقِسْطِكَ ، وَالْمُعَظِّمِ لِحُرْمَتِكَ ، وَالْمُعَبِّرِ عَنْكَ ، وَالنَّاطِقِ بِحُكْمِكَ ، وَعَيْنِكَ النَّاظِرَةِ ، وَاُذُنِكَ السَّامِعَةِ ، وَشاهِدِ عِبادِكَ ، وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَالْمُجاهِدِ في سَبيلِكَ ، وَالْمُجْتَهِدِ في طاعَتِكَ وَاجْعَلْهُ في وَديعَتِكَ الَّتي لاتَضيعُ ، وَأَيِّدْهُ بِجُنْدِكَ الْغالِبِ ، وَأَعِنْهُ وَأَعِنْ عَنْهُ ، وَاجْعَلْني وَوالِدَيَّ وَما وَلَدا وَوُلْدي مِنَ الَّذينَ يَنْصُرُونَهُ ، وَيَنْتَصِرُونَ بِهِ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، إِشْعَبْ بِهِ صَدْعَنا ، وَارْتُقْ بِهِ فَتْقَنا.

أَللَّهُمَّ أَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ ، وَدَمْدِمْ بِمَنْ نَصَبَ لَهُ ، وَاقْصِمْ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ حَتَّى لاتَدَعَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْهُمْ دَيَّاراً.( إقبال الأعمال : ۴۲۶ ، البحار : ۳۷/۹۸ ، باب السعادة : ۸۵ .)

۱۰ ۔ زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

سید علی بن طاؤوس کی ایک اور دعا اس دن کے لئے نقل کی گئی ہے

أَللَّهُمَّ إِنَّ الظَّلَمَةَ جَحَدُوا آياتِكَ ، وَكَفَرُوا بِكِتابِكَ ، وَكَذَّبُوا رُسُلَكَ ، وَاسْتَنْكَفُوا عَنْ عِبادَتِكَ ، وَرَغِبُوا عَنْ مِلَّةِ خَليلِكَ ، وَبَدَّلُوا ما جاءَ بِهِ رَسُولُكَ ، وَشَرَّعُوا غَيْرَ دينِكَ ، وَاقْتَدَوْا بِغَيْرِ هُداكَ ، وَاسْتَنُّوا بِغَيْرِ سُنَّتِكَ ، وَتَعَدَّوْا حُدُودَكَ ، وَسَعَوْا مُعاجِزينَ في آياتِكَ.

وَتَعاوَنُوا عَلى إِطْفاءِ نُورِكَ ، وَصَدُّوا عَنْ سَبيلِكَ ، وَكَفَرُوا نَعْماءَكَ ، وَشاقُّوا وُلاةَ أَمْرِكَ ، وَوالَوْا أَعْداءَكَ ، وَعادَوْا أَوْلِيائَكَ ، وَعَرَفُوا ثُمَّ أَنْكَرُوا نِعْمَتَكَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا آلاءَكَ ، وَأَمِنُوا مَكْرَكَ ، وَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ عَنْ ذِكْرِكَ ، وَاسْتَحَلُّوا حَرامَكَ وَحَرَّمُوا حَلالَكَ ، وَاجْتَرَأُوا عَلى مَعْصِيَتِكَ ، وَلَمْ يَخافُوا مَقْتَكَ ، وَنَسُوا نِقْمَتَكَ وَلَمْ يَحْذَرُوا بَأْسَكَ ، وَاغْتَرُّوا بِنِعْمَتِكَ.

أَللَّهُمَّ فَاصْبُبْ مِنْهُمْ ، وَاصْبُبْ عَلَيْهِمْ عَذابَكَ ، وَاسْتَأْصِلْ شافَتَهُمْ ، وَاقْطَعْ دابِرَهُمْ ، وَ ضَعْ عِزَّهُمْ وَجَبَرُوتَهُمْ ، وَانْزَعْ أَوْتارَهُمْ ، وَزَلْزِلْ أَقْدامَهُمْ ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ أَللَّهُمَّ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا دينَكَ دَغَلاً ، وَمالَكَ دُوَلاً وَعِبادَكَ خَوَلاً.

أَللَّهُمَّ اكْفُفْهُمْ بَأْسَهُمْ ، وَافْلُلْ حَدَّهُمْ ، وَأَوْهِنْ كَيْدَهُمْ ، وَأَشْمِتْ عَدُوَّهُمْ وَاشْفِ صُدُورَ الْمُؤْمِنينَ أَللَّهُمَّ افْتُتْ أَعْضادَهُمْ ، وَاقْهَرْ جَبابِرَتَهُمْ ، وَاجْعَلِ الدَّائِرَةَ عَلَيْهِمْ ، وَاقْضُضْ بُنْيانَهُمْ ، وَخالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ ، وَفَرِّقْ جَمْعَهُمْ ، وَشَتِّتْ أَمْرَهُمْ ، وَاجْعَلْ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، وَابْعَثْ عَلَيْهِمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِهِمْ ، وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ ، وَاسْفِكْ بِأَيْدِي الْمُؤْمِنينَ دِمائَهُمْ ، وَأَوْرِثِ الْمُؤْمِنينَ أَرْضَهُمْ وَدِيارَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ.

أَللَّهُمَّ أَضِلَّ أَعْمالَهُمْ ، وَاقْطَعْ رَجاءَهُمْ ، وَأَدْحِضْ حُجَّتَهُمْ ، وَاسْتَدْرِجْهُمْ مِنْ حَيْثُ لايَعْلَمُونَ ، وَائْتِهِمْ بِالْعَذابِ مِنْ حَيْثُ لايَشْعُرُونَ ، وَأَنْزِلْ بِساحَتِهِمْ ما يَحْذَرُونَ ، وَحاسِبْهُمْ حِساباً شَديداً ، وَعَذِّبْهُمْ عَذاباً نُكْراً ، وَاجْعَلْ عاقِبَةَ أَمْرِهِمْ خُسْراً.

أَللَّهُمَّ إِنَّهُمُ اشْتَرَوْا بِآياتِكَ ثَمَناً قَليلاً ، وَعَتَوْا عُتُوّاً كَبيراً أَللَّهُمَّ فَخُذْهُمْ أَخْذاً وَبيلاً ، وَدَمِّرْهُمْ تَدْميراً ، وَتَبِّرْهُمْ تَتْبيراً ، وَلاتَجْعَلْ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ ناصِراً ، وَلا فِي السَّماءِ عاذِراً ، وَالْعَنْهُمْ لَعْناً كَبيراً أَللَّهُمَّ فَخُذْهُمْ أَخْذاً وَبيلاً.

أَللَّهُمَّ إِنَّهُمْ أَضاعُوا الصَّلاةَ ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَواتِ ، وعَمِلُوا السَّيِّئاتِ أَللَّهُمَّ فَخُذْهُمْ بِالْبَلِيَّاتِ ، وَاحْلُلْ بِهِمُ الْوَيْلاتِ ، وَأَرِهِمُ الْحَسَراتِ ، يا اَللَّهُ إِلهَ الْأَرَضينَ وَالسَّماواتِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْنا بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ إِنّي أَدينُكَ يا رَبِّ بِطاعَتِكَ ، وَلانُنْكِرُ وِلايَةَ مُحَمَّدٍ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَوِلايَةَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَوِلايَةَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلامُ ، سِبْطَيْ نَبِيِّكَ وَوَلَدَيْ رَسُولِكَ عَلَيْهِمَا السَّلامُ.

وَوِلايَةَ الطَّاهِرينَ الْمَعْصُومينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْحُسَيْنِ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِيِّ بْنِ مُوسى وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ سَلامُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعينَ ، وَوِلايَةَ الْقائِمِ ، اَلسَّابِقِ مِنْهُمْ بِالْخَيْراتِ ، اَلْمُفْتَرَضِ الطَّاعَةِ ، صاحِبِ الزَّمانِ سَلامُ اللَّهِ عَلَيْهِ.

أَدينُكَ يا رَبِّ بِطاعَتِهِمْ وَوِلايَتِهِمْ ، وَالتَّسْليمِ لِفَرْضِهِمْ ، راضِياً غَيْرَ مُنْكِرٍ وَلا مُسْتَكْبِرٍ وَلا مُسْتَنْكِفٍ ، عَلى مَعْنى ما أَنْزَلْتَ في كِتابِكَ ، عَلى مَوْجُودِ ما أَتانا فيهِ ، راضِياً ما رَضيتَ بِهِ ، مُسَلِّماً مُقِرّاً بِذلِكَ يا رَبِّ ، راهِباً لَكَ ، راغِباً فيما لَدَيْكَ.

أَللَّهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِيِّكَ وَابْنِ نَبِيِّكَ ، وَخَليفَتِكَ وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَالشَّاهِدِ عَلى عِبادِكَ ، اَلْمُجاهِدِ الْمُجْتَهِدِ في طاعَتِكَ ، وَوَلِيِّكَ وَأَمينِكَ في أَرْضِكَ ، فَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ ما خَلَقْتَ وَبَرَأْتَ، وَاجْعَلْهُ في وَدائِعِكَ الَّتي لايَضيعُ مَنْ كانَ فيها ، وَفي جِوارِكَ الَّذي لايُقْهَرُ ، وَآمِنْهُ بِأَمانِكَ ، وَاجْعَلْهُ في كَنَفِكَ ، وَانْصُرْهُ بِنَصْرِكَ الْعَزيزِ ، يا إِلهَ الْعالَمينَ.

أَللَّهُمَّ اعْصِمْهُ بِالسَّكينَةِ ، وَأَلْبِسْهُ دِرْعَكَ الْحَصينَةَ ، وَأَعِنْهُ وَانْصُرْهُ بِنَصْرِكَ الْعَزيزِ نَصْراً عَزيزاً ، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً يَسيراً ، وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصيراً أَللَّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ ، وَعادِ مَنْ عاداهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ.

أَللَّهُمَّ اشْعَبْ بِهِ صَدْعَنا ، وَارْتُقْ بِهِ فَتْقَنا ، وَالْمُمْ بِهِ شَعَثَنا ، وَكَثِّرْ بِهِ قِلَّتَنا ، وَأَعْزِزْ بِهِ ذِلَّتَنا ، وَاقْضِ بِهِ عَنْ مَغْرَمِنا ، وَاجْبُرْ بِهِ فَقْرَنا ، وَسُدَّ بِهِ خَلَّتَنا ، وَأَغْنِ بِهِ فاقَتَنا ، وَيَسِّرْ بِهِ عُسْرَتَنا ، وَكُفَّ بِهِ وُجُوهَنا ، وَأَنْجِحْ بِهِ طَلِبَتَنا ، وَاسْتَجِبْ بِهِ دُعائَنا ، وَأَعْطِنا بِهِ فَوْقَ رَغْبَتِنا ، وَاشْفِ بِهِ صُدُورَنا ، وَاهْدِنا لِمَا اخْتُلِفَ فيهِ مِنَ الْحَقِّ يا رَبِّ ، إِنَّكَ تَهْدي مَنْ تَشاءُ إِلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ.

أَللَّهُمَّ أَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ ، وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ ، وَقَوِّ ناصِرَهُ ، وَاخْذُلْ خاذِلَهُ ، وَدَمِّرْ مَنْ نَصَبَ لَهُ ، وَأَهْلِكْ مَنْ غَشَّهُ ، وَاقْتُلْ بِهِ جَبابِرَةَ الْكُفْرِ ، وَاقْصِمْ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ ، وَسائِرَ أَهْلِ الْبِدَعِ ، وَمُقَوِّيَةَ الْباطِلِ ، وَذَلِّلْ بِهِ الْجَبابِرَةَ ، وَأَبِرْ بِهِ الْكافِرينَ وَالْمُنافِقينَ وَجَميعَ الْمُلْحِدينَ ، في مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، بَرِّها وَبَحْرِها ، وَسَهْلِها وَجَبَلِها ، لاتَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْهُمْ دَيَّاراً ، وَلاتُبْقِ لَهُمْ آثاراً.

أَللَّهُمَّ أَظْهِرْهُ ، وَافْتَحْ عَلى يَدَيْهِ الْخَيْراتِ ، وَاجْعَلْ فَرَجَنا مَعَهُ وَبِهِ أَللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلى سُلُوكِ الْمَناهِجِ ، مِنْهاجِ الْهُدى ، وَالْمَحَجَّةِ الْعُظْمى ، وَالطَّريقَةِ الْوُسْطى ، اَلَّتي يَرْجِعُ إِلَيْهِ الْغالي ، وَيَلْحَقُ بِهِ التَّالي ، وَوَفِّقْنا لِمُتابَعَتِهِ ، وَأَداءِ حَقِّهِ.

وَامْنُنْ عَلَيْنا بِمُتابَعَتِهِ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ ، وَاجْعَلْنا مِنَ الطَّالِبينَ رِضاكَ بِمُناصَحَتِهِ ، حَتَّى تَحْشُرَنا يَوْمَ الْقِيامَةِ في أَعْوانِهِ وَأَنْصارِهِ ، وَمَعُونَةِ سُلْطانِهِ ، وَاجْعَلْ ذلِكَ لَنا خالِصاً مِنْ كُلِّ شَكٍّ وَشُبْهَةٍ ، وَرِياءٍ وَسُمْعَةٍ ، لانَطْلُبُ بِهِ غَيْرَكَ ، وَلانُريدُ بِهِ سِواكَ ، وَتُحِلَّنا مَحَلَّهُ ، وَتَجْعَلَنا فِي الْخَيْرِ مَعَهُ.

وَاصْرِفْ عَنَّا في أَمْرِهِ السَّامَةَ وَالْكَسَلَ وَالْفَتْرَةَ ، وَلاتَسْتَبْدِلْ بِنا غَيْرَنا ، فَإِنَّ اسْتِبْدالَكَ بِنا غَيْرَنا عَلَيْكَ يَسيرٌ وَعَلَيْنا عَسيرٌ ، وَقَدْ عَلِمْنا بِفَضْلِكَ وَ إِحْسانِكَ يا كَريمُ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.( إقبال الأعمال : ۴۲۷ .)

۱۱ ۔ اٹھارہ ماہ رمضان میں دن کے وقت امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

سید بن طاؤوس نے اٹھارہ ماہ رمضان میں دن کے لئے جو دعا نقل کیا ہے اس طرح ہے

أَللَّهُمَّ إِنَّ الظَّلَمَةَ كَفَرُوا بِكِتابِكَ ، وَجَحَدُوا آياتِكَ ، وَكَذَّبُوا رُسُلَكَ ، وَبَدَّلُوا ما جاءَ بِهِ رَسُولُكَ ، وَشَرَعُوا غَيْرَ دينِكَ ، وَسَعَوْا بِالْفَسادِ في أَرْضِكَ ، وَتَعاوَنُوا عَلى إِطْفاءِ نُورِكَ ، وَشاقُّوا وُلاةَ أَمْرِكَ ، وَوالَوْا أَعْداءَكَ ، وَعادَوْا أَوْلِياءَكَ ، وَظَلَمُوا أَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكَ.

أَللَّهُمَّ فَانْتَقِمْ مِنْهُمْ ، وَاصْبُبْ عَلَيْهِمْ عَذابَكَ ، وَاسْتَأْصِلْ شَأْفَتَهُمْ أَللَّهُمَّ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا دينَكَ دَغَلاً ، وَمالَكَ دُوَلاً ، وَعِبادَكَ خَوَلاً ، فَاكْفُفْ بَأْسَهُمْ ، وَأَوْهِنْ كَيْدَهُمْ ، وَاشْفِ مِنْهُمْ صُدُورَ الْمُؤْمِنينَ ، وَخالِفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ، وَشَتِّتْ أَمْرَهُمْ ، وَاجْعَلْ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، وَاسْفِكْ بِأَيْدِي الْمُؤْمِنينَ دِمائَهُمْ ، وَخُذْهُمْ مِنْ حَيْثُ لايَشْعُرُونَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ يَوْمَ الْقِيامَةِ ، وَيَوْمَ حُلُولِ الطَّامَّةِ ، أَنَّهُمْ لَمْ يُذْنِبُوا لَكَ ذَنْباً ، وَلَمْ يَرْتَكِبُوا لَكَ مَعْصِيَةً ، وَلَمْ يُضَيِّعُوا لَكَ طاعَةً.

وَأَنَّ مَوْلانا وَسَيِّدَنا صاحِبَ الزَّمانِ ، اَلْهادِي الْمُهْتَدي ، اَلتَّقِيُّ النَّقِيُّ الزَّكِيُّ الرَّضِيُّ ، فَاسْلُكْ بِنا عَلى يَدَيْهِ مِنْهاجَ الْهُدى ، وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمى ، وَقَوِّنا عَلى مُتابَعَتِهِ ، وَأَداءِ حَقَّهِ ، وَاحْشُرْنا في أَعْوانِهِ وَأَنْصارِهِ ، إِنَّكَ سَميعُ الدُّعاءِ.( إقبال الأعمال : ۴۴۸ .)

۱۲ ۔ تئیس ماہ رمضان میں امام زمانہ کے لئے دعا

أَللَّهُمَّ يا ذَا الْمَجْدِ الشَّامِخِ وَالسُّلْطانِ الْباذِخِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَكُنْ لِوَلِيِّكَ وَابْنِ وَلِيِّكَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَهْدِيِّ ، في هذِهِ السَّاعَةِ وَلِيّاً وَحافِظاً ، وَقائِداً وَناصِراً ، وَدَليلاً وَعَوْناً ، وَعَيْناً وَمُعيناً ، حَتَّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً ، وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلاً.

يا مُدَبِّرَ الْاُمُورِ ، يا باعِثَ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، يا مُجْرِيَ الْبُحُورِ ، يا مُلَيِّنَ الْحَديدِ لِداوُودَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بي كَذا وَكَذا ، أي اُطلب حاجتك.( منهاج العارفين : ۲۷۴ .)

۱۳ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے تئیس ماہ رمضان کی رات ایک اور دعا

علامہ مجلسی کہتاہے کہ محمد بن عیسیٰ معتبر سند کے ساتھ اماموں سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اس دعا کو ماہ رمضان کی تئیسویں رات اٹھتے بیٹھتے اور تمام حالات میں تکرار کرے نیز اس ماہ رمضان میں تمام دن رات جس قدر پڑھ سکے اپنی زندگی میں جب بھی یاد آجائے پڑھ لے پس خدا کے لئے حمد و ثناء کے بعد محمد و آل محمد پر درود بھیجے دعا یہ ہے

أَللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْقائِمِ بِأَمْرِكَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَهْدِيِّ ، عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالسَّلامِ ، في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ ، وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَمُؤَيِّداً ، حَتَّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً ، وَتُمَتِّعَهُ فيها طُولاً وَعَرْضاً ، وَتَجْعَلَهُ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ الْوارِثينَ.

أَللَّهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ ، وَاجْعَلِ النَّصْرَ مِنْكَ عَلى يَدِهِ ، وَاجْعَلِ النَّصْرَ لَهُ وَالْفَتْحَ عَلى وَجْهِهِ ، وَلا تُوَجِّهِ الْأَمْرَ إِلى غَيْرِهِ أَللَّهُمَّ أَظْهِرْ بِهِ دينَكَ وَسُنَّةَ نَبِيِّكَ ، حَتَّى لايَسْتَخْفِيَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ في دَوْلَةٍ كَريمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلامَ وَأَهْلَهُ ، وَتُذِلُّ بِهَا النِّفاقَ وَأَهْلَهُ ، وَتَجْعَلُنا فيها مِنَ الدُّعاةِ إِلى طاعَتِكَ ، وَالْقادَةِ إِلى سَبيلِكَ ، وَآتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنا عَذابَ النَّارِ ، وَاجْمَعْ لَنا خَيْرَ الدَّارَيْنِ ، وَاقْضِ عَنَّا جَميعَ ما تُحِبُّ فيهِما.

وَاجْعَلْ لَنا في ذلِكَ الْخِيَرَةَ بِرَحْمَتِكَ وَمَنِّكَ في عافِيَةٍ ، آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ ، وَزِدْنا مِنْ فَضْلِكَ وَيَدُكَ الْمَلَأُ ، فَإِنَّ كُلَّ مُعْطٍ يَنْقُصُ مِنْ مُلْكِهِ ، وَعَطاؤُكَ يَزيدُ في مُلْكِكَ.(بحار الأنوار : ۳۴۹/۹۷ ، إقبال الأعمال : ۳۵۷ .)

۱۴ ۔ ماہ رمضان میں تئیسویں کی رات ظہور امام زمانہ کے لئے دعا

ہمارے ائمہ طاہرین سے منقول ہے کہ اس دعا کو تئیسویں ماہ رمضان میں سجدہ کی حالت میں اٹھتے بیٹھتے تمام حالتوں میں تکرار کرلے نیز اس مہینہ کے تمام اوقات میں جس قدر جس موقع پر بھی ہو اپنی زندگی کے دوران جب بھی یاد آئے تو پڑھے خدا کی تمحید اور پیغمبر پر درود بھیجنے کے بعد کہے۔

أَللّٰهُمَّ کُنْ لِوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ، فی هٰذِهِ السّٰاعَةِ وَ فی کُلِّ سٰاعَةٍ، وَلِیّاً وَحٰافِظاً، وَقٰائِداً وَنٰاصِراً، وَدَلیلاً وَعَیْناً، حَتّٰی تُسْکِنَه أَرْضَکَ طَوْعاً، وَتُمَتِّعَهُ فیهٰا طَویلاً

۔ عید غدیر کے دن کی دعا

جو بھی اس دعا کو پڑھے وہ اس شخص کی طرح ہے کہ جو حضرت قائم کے علم کے نیچے ہے۔

علامہ مجلسی سند کے ساتھ شیخ مفید سے اس طرح روایت کی ہے ابوھارون عبدی کہتاہے کہ ۱۸ ذوالحجہ کو حجرت امام صادق کی خدمت میں ھاضر ہوا حضرت روزہ سے تھے فرمایا آج وہ دن ہے کہ خداوند متعال نے ان دن کے احترام کو مومنین کے لئے بہت بڑی عید شمار کیا ہے چونکہ خدا نے اس دن دین کو ان کے لئے کامل اور نعمت کو تمام کیا ہے جو عہد و پیمان ان کی پیدائش کے وقت ان سے لیا تھا جس کو وہ فراموش کرچکے تھے غدیر کے دن تجدید کی ہے اور اس کو قبول کرنے کی توفیق دی ہے اور خدا نے ان کو ان لوگوں سے قرار نہیں دیا ہے کہ اس امر کے منکر ہیں میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں آج کے دن روزہ رکھنے کا ثواب کتنا ہے فرمایا آج عید اور خوشی کا دن ہے اس دن روازہ رکھنا خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے ہے آج کے دن روزہ رکھنا محترم مہینوں میں ساتھ مہینوں میں روزہ رکھنے کے برابر ہے۔

جو بھی اس دن دو رکعت نماز پڑھے جب بھی پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ ظہر کے نزدیک پڑھے یہ وہ وقت ہے کہ غدیر خم میں حضرت امیرالمومنین لوگوں پر امیر ہوئے ہیں چونکہ اسی وقت غدیر خم کے کنارے پر پہنچے، اس کے بعد سجدہ کرے اور سجدہ میں سو مرتبہ کہے شکراً اللہ اور سر کو سجدہ سے اٹھائے اور یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَأَ نَّکَ واحِدٌ أَحَدٌ صَمَدٌ

اے معبود!سوال کرتا ہوں تجھ سے اس لئے کہ صرف تیرے ہی لئے حمد تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تو یگانہ ویکتا بے نیاز ہے

لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَکَ کُفُواً أَحَدٌ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ صَلَواتُکَ

نہ تو نے جنا اور نہ ہی تو جنا گیا اور تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت محمد(ص) تیرے بندے اور تیرے رسول(ص) ہیں ان پر اور

عَلَیْهِ وَآلِهِ، یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ کَما کانَ مِنْ شَأْنِکَ أَنْ تَفَضَّلْتَ عَلَیَّ بِأَنْ

ان کی آل(ع) پر تیری رحمت ہو اے وہ جو ہر روز کسی نئے کام میں ہے جو تیری شان کے لائق ہے یعنی تو نے مجھ پر فضل وکرم کیا کہ مجھ کو

جَعَلْتَنِی مِنْ أَهْلِ إجابَتِکَ وَأَهْلِ دِینِکَ وَأَهْلِ دَعْوَتِکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِذلِکَ فِی مُبْتَدَئ

ان میں قرار دیا جن کی دعا قبول فرمائی جو تیرے دین پر ہیں اور تیرے پیغام کے حامل ہیں اور مجھے میری پیدائش

خَلْقِی تَفَضُّلاً مِنْکَ وَکَرَماً وَجُوداً ثُمَّ أَرْدَفْتَ الْفَضْلَ فَضْلاً وَالْجُودَ جُوداً وَالْکَرَمَ

کے آغاز میں اپنی مہربانی عنایت اور عطا سے اس کی توفیق دی پھر اپنی محبت اور رحمت سے تو نے متواتر مہربانی پر مہربانی عطا پر عطا

کَرَمَاً رَأْفَةً مِنْکَ وَرَحْمَةً إلی أَنْ جَدَّدْتَ ذلِکَ الْعَهْدَ لِی تَجْدِیداً بَعْدَ تَجْدِیدِکَ خَلْقِی

اور نوازش پر نوازش کی یہاں تک کہ میری بندگی کے عہد کی جب میری نئی پیدائش ہوئی پھر سے تجدید کی

وَکُنْتُ نَسْیاً مَنْسِیّاً ناسِیاً ساهِیاً غافِلاً، فَأَ تْمَمْتَ نِعْمَتَکَ بِأَنْ ذَکَّرْتَنِی ذلِکَ وَمَنَنْتَ

جب میں بھولا بسرا بھولنے والا اور بے دھیان بے خبر تھا تو نے اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے مجھے وہ عہد یاد دلایا اور یوں مجھ پر احسان

بِهِ عَلَیَّ وَهَدَیْتَنِی لَهُ، فَلْیَکُنْ مِنْ شَأْنِکَ یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ أَنْ

کیا اور اس کی طرف میری رہنمائی کی پس اے میرے معبود اے میرے سردار اور میرے مالک یہ تیری ہی شان کریمی ہے کہ اس

تُتِمَّ لِی ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْنِیهِ حَتَّی تَتَوَفَّانِی عَلَی ذلِکَ وَأَ نْتَ عَنِّی راضٍ، فَ إنَّکَ أَحَقُّ

عہد کو انجام تک پہنچائے اسے مجھ سے جدا نہ کرے یہاں تک کہ اسی پر مجھے موت دے جبکہ تو مجھ سے راضی ہو کیونکہ تو نعمت دینے

الْمُنْعِمِینَ أَنْ تُتِمَّ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ سَمِعْنا وَأَطَعْنا وَأَجَبْنا داعِیَکَ

والوں میں زیادہ حقدار ہے کہ مجھ پر اپنی نعمت تمام کرے اے معبود ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور تیرے احسان کے ذریعے

بِمَنِّکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ غُفْرانَکَ رَبَّنا وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، آمَنّا بِاﷲِ وَحْدَهُ لاَ

تیرے داعی کا فرمان قبول کیا پس حمد تیرے لئے ہے تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں واپسی

شَرِیکَ لَهُ، وَبِرَسُو لِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَصَدَّقْنا وَأَجَبْنا داعِیَ اﷲِ

تیری طرف ہی ہے وہ یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیں اور اس کے رسول محمد(ص) پر خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل (ع)پر قبول کیا اﷲ کے اس

وَاتَّبَعْنا الرَّسُولَ فِی مُوالاةِ مَوْلانا وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی

داعی کو ہم نے مان لیا اور ہم نے رسول(ص) کی پیروی کی اپنے اورمومنوں کے مولا سے دوستی کرنے میں کہ وہ مومنوں کے امیرعلی(ع) ابن ابی

طالِبٍ عَبْدِ اﷲِ، وَأَخِی رَسُو لِهِ، وَالصِّدِّیقِ الْاََکْبَرِ، وَالْحُجَّةِ عَلَی بَرِیَّتِهِ، الْمُؤَیِّدِ

طالب (ع)ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی اور سب سے بڑے صدیق اور مخلوقات پر خدا کی حجت ہیں ان کے

بِهِ نَبِیَّهُ وَدِینَهُ الْحَقَّ الْمُبِینَ، عَلَماً لِدِینِ اﷲِ، وَخازِناً لِعِلْمِهِ، وَعَیْبَةَ غَیْبِ اﷲِ

ذریعے خدا کے نبی اور اس کے سچے اور واضح دین کو قوت ملی وہ اللہ کے دین کے پرچم اس کے علم کے خزینہ دار اس کے غیبی علوم کا

وَمَوْضِعَ سِرِّ اﷲِ، وَأَمِینَ اﷲِ عَلَی خَلْقِهِ، وَشاهِدَهُ فِی بَرِیَّتِهِ اَللّٰهُمَّ رَبَّنا إنَّنا

گنجینہ اور اسکے راز دار ہیں وہ خدا کی مخلوق پر اسکے امانتدار اور کائنات میں اسکے گواہ ہیں اے اللہ! اے ہمارے رب یقینا ہم نے

سَمِعْنا مُنادِیاً یُنادِی لِلاِِْیْمانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَکَفِّرْ

سنا منادی کو ایمان کی صدا دیتے ہوئے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم اپنے رب پر ایمان لائے اب ہمارے گناہوں کو بخش دے

عَنَّا سَیِّئاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الْاََ بْرارِ، رَبَّنا وَآتِنا مَا وَعَدْتَنا عَلَی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنا یَوْمَ

ہماری برائیوں کو مٹا دے اور ہمیں نیکوں جیسی موت دے اے ہمارے رب ہمیں عطا کر وہ جسکا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے

الْقِیامَةِ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ، فَ إنَّا یَا رَبَّنا بِمَنِّکَ وَلُطْفِکَ أَجَبْنا

کیا اور قیامت کے روز ہم کو رسوا نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا پس اے ہمارے رب ہم نے تیرے لطف و

داعِیَکَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ وَصَدَّقْناهُ، وَصَدَّقْنا مَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ

احسان سے تیرے داعی کی بات مانی تیرے رسول(ص) کی پیروی کی اس کو سچا جانا اور مومنوں کے مولا(ع) کی بھی تصدیق کی اور ہم نے بت

وَالطَّاغُوتِ، فَوَ لِّنا مَا تَوَلَّیْنا، وَاحْشُرْنا مَعَ أَئِمَّتِنا فَ إنَّا بِهِمْ مُؤْمِنُونَ

اور شیطان کی پیروی سے انکار کیا پس ہمارا والی اسے بنا جو حقیقی والی ہے اور ہمیں ہمارے ائمہ(ع) کے ساتھ اٹھانا کہ ہم ان پر عقیدہ و

مُوقِنُونَ، وَلَهُمْ مُسَلِّمُونَ، آمَنَّا بِسِرِّهِمْ وَعَلانِیَتِهِمْ وَشاهِدِهِمْ وَغائِبِهِمْ، وَحَیِّهِمْ

ایمان رکھتے ہیں اور انکے فرمانبردار ہیں ہم ان کے باطن اور ان کے ظاہر پر ان میں سے حاضر پر اور غایب پر اور ان میں سے زندہ

وَمَیِّتِهِمْ، وَرَضِینا بِهِمْ أَئِمَّةً وَقادَةً وَسادَةً، وَحَسْبُنا بِهِمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ اﷲ دُونَ

اور متوفی پر ایمان لائے ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں کہ وہ ہمارے امام پیشوا و سردار ہیں اور ہمیں کافی وہ ہیں وہ ہمارے اور خدا کے درمیان

خَلْقِهِ لاَ نَبْتَغِی بِهِمْ بَدَلاً وَلاَ نَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِمْ وَلِیجَةً، وَبَرِئْنا إلَی اﷲِ مِنْ کُلِّ مَنْ

ہم اس کی مخلوق میں سے ان کی جگہ کسی اور کو نہیں چاہتے اور نہ ان کے سوا ہم کسی کو واسطہ بناتے ہیں اور خدا کے حضور ہم ان سے اپنی

نَصَبَ لَهُمْ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ

علیحدگی اظہار کرتے ہیں جو ائمہ طاہرین (ع)کے مقابلے میں آکر لڑے کہ وہ اولین و آخرین جنّوں انسانوں میں سے جو بھی ہیں اور ہم

وَالطَّاغُوتِ وَالْاََوْثانِ الْاََرْبَعَةِ وَأَشْیاعِهِمْ وَأَ تْباعِهِمْ وَکُلِّ مَنْ والاهُمْ مِنَ الْجِنِّ

انکار کرتے ہیں ہر بت کا نیز ہر دور ہیں شیطان سے چاروں بتوں اور ان کے مددگاروں اور پیروکاروں سے اور ہم اس شخص سے

وَالاِنْسِ مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إلی آخِرِهِ اَللّٰهُمَّ إ نَّا نُشْهِدُکَ أَنَّا نَدِینُ بِما

دور ہیں جو ان سے محبت کرتا ہو جنّوں اور انسانوں میں سے زمانے کے آغاز سے اختتام تک کے عرصے میں اے اللہ ! ہم تجھے گواہ

دانَ بِهِ مُحَمَّدٌ وَآلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ، وَقَوْلُنا مَا قالُوا، وَدِینُنا مَا

بناتے کہ ہم اس دین پر ہیں جس پر محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) تھے کہ خدا ان پر اور ان کی آل (ع)پر رحمت کرے ہمارا قول وہ ہے جو ان کا قول تھا ہمارا

دانُوا بِهِ، مَا قالُوا بِهِ قُلْنا، وَمَا دانُوا بِهِ دِنَّا، وَمَا أَ نْکَرُوا أَ نْکَرْنا، وَمَنْ والَوْا

دین وہ ہے جو انکا دین تھا انکا قول ہی ہمارا قول اور انکا دین ہی ہمارا دین ہے جس سے ان کو نفرت اس سے ہمیں نفرت جس سے ان کو محبت

والَیْنا، وَمَنْ عادَوْا عادَیْنا، وَمَنْ لَعَنُوا لَعَنَّا، وَمَنْ تَبَرَّأُوا مِنْهُ تَبَرَّأْنا مِنْهُ،

اس سے ہمیں محبت جس سے ان کو دشمنی اس سے ہمیں دشمنی جس پر انکی لعنت اس پر ہماری لعنت جس سے وہ دور اس سے ہم بھی دور ہیں

وَمَنْ تَرَحَّمُوا عَلَیْهِ تَرَحَّمْنا عَلَیْهِ، آمَنَّا وَسَلَّمْنا وَرَضِینا وَاتَّبَعْنا مَوالِیَنا صَلَواتُ

جس کے لئے وہ طالب رحمت اس کے لئے ہم بھی طالب رحمت ہیں ہم ایمان لائے تسلیم کیا اور راضی ہوئے اپنے سرداروں کے

اﷲِ عَلَیْهِمْ اَللّٰهُمَّ فَتَمِّمْ لَنا ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْناهُ وَاجْعَلْهُ مُسْتَقِرّاً ثابِتاً عِنْدَنا، وَلاَ

پیروکار ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اے معبود! ہمارا یہ عقیدہ کامل کر دے اور اسے ہم سے جدا نہ کر اور اسے ہمارا مستقل طریقہ اور

تَجْعَلْهُ مُسْتَعاراً، وَأَحْیِنا مَا أَحْیَیْتَنا عَلَیْهِ، وَأَمِتْنا إذا أَمَتَّنا عَلَیْهِ، آلُ مُحَمَّدٍ أَئِمَّتُنا

روشن بنا اور اس کو عارضی قرار نہ دے جب تک زندہ ہیں ہمیں اس پر زندہ رکھ اور ہمیں اسی عقیدے پر موت دے کہ آل محمدہمارے

فَبِهِمْ نَأْ تَمُّ وَ إیَّاهُمْ نُوالِی، وَعَدُوَّهُمْ عَدُوَّ اﷲِ نُعادِی، فَاجْعَلْنا مَعَهُمْ فِی الدُّنْیا

امام و پیشوا ہوں ہم انکی پیروی کرتے اور ان کو دوست رکھتے ہوں ان کا دشمن خدا کا دشمن ہے ہم اسکے دشمن ہیں پس ہمیں انکے ساتھ دنیا

وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ، فَ إنَّا بِذلِکَ راضُونَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

و آخرت میں قرار دے اور ہمیں اپنے مقربوں میں داخل فرما کہ ہم اس عقیدے پر راضی ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

اس کے بعد سجدہ کرے اور سو مرتبہ الحمد اللہ اور سو مرتبہ شکر اللہ پڑھے۔ حضرت نے فرمایا جو بھی اس عمل کو انجام دے یہ اس شخص کی طرح ہے کہ اس روز حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا ہو اور حضرت کے ساتھ امیرالمومنین کی ولایت کی بیعت کی ہو اس کا مقام اور درجہ بہشت میں سچ بولنے والوں کے ساتھ ہے یہ اس شخص کی طرح ہوگا کہ جس نے اس دن حضرت کی ولایت کی تصدیق کی ہو اور اس شخص کی طرح ہے کہ جس نے پیغمبر خدا امیرالمومنین علی امام حسن اور امام حسین کے رکاب میں شھادت پائی ہو اور یہ اس شخص کی طرح ہے کہ جو حضرت قائم کے علم کے نیچے ہو اور حضرت کے خیمہ کے نیچے حضرت کے برگزیدہ اصحاب جو حضرت کے ساتھ ہیں یہ بھی ان کی طرح ہوگا۔

۱۶ ۔ امام زمانہ کی تسبیح

(اٹھارہ سے لیکر آخر ماہ تک )

سُبْحٰانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحٰانَ اللّٰهِ رِضیٰ نَفْسِهِ، سُب؟حٰانَ اللّٰهِ مِدٰادَ کَلِمٰاتِهِ، سُبْحٰانَ ’اللّٰهِ‘ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلَ ذٰلِکَ ۔


باب ششم

حضرت مھدی(علیہ السلام ) کے ساتھ بیعت کا معنی

بیعت کا معنی اور مفہوم اپنے آپ کو پابند کرنا ہے واقعے میں عھد موکّد اور بیعت کرنے والا محکم عہد کرے اس پر کہ جس کی بیعت کرتاہے اس کی جان اور مال کے ساتھ اسکی مدد کرے اس راستے میں جو کچھ اس کے ہاتھ آٹاہے اس میں کوتاہی نہ کرے اپنیجان اور مال کو اس شخص کی حفاظت میں قربان کرے اور وہ بیعت کہ جو دعائئے عھد میں ہر روزپڑھی جاتی ہے اور دوسری دعائے عہد کے چالیس دن کے وقت پڑھی جاتی ہے اس بیعت کا یہی معنی ہے پیغمبر خدا نے تمام امت کو حکم دیا ہے کہا س قسم کی بیعت تمام اماموں کے ساتھ انجام دیں وہاں خطبہ غدیر میں کہ جو کتاب الاحتجاج میں روایت ہوئی ہے کہ حاضرین اور غائبین کو اپنی بیعت پر مامور فرمایا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی بیعت ایمان کے لوازم اور ایمان کی علامتوں میں سے ہے بلکہ واقعیت میں ایمان اس بیعت کے بغیر ثابت نہیں ہوتاہے۔

کیوں نہیں۔ یہاں بیچنے والا مومن اور خریدنے والا اللہ تعالیٰ ہے اس لئے خدا نے قرآن میں فرمایا ہے:

إِنَّ اللهَ اشْتَرَیٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمْ الْجَنَّةَ

خدا نے مومنین کی جان اور مال کو بہشت کے مقابلہ میں خریدا ہے سچ مچ خداوند متعال نے پیغمبروں اور رسولوں کو تجدید عہد اور بیعت کے لئے بھیجا ہے پس جو بھی ائمہ معصومین کی بیعت کرے واقع میں اس نے خدا کی بیعت کی ہے اور جو ان سے روگردانی کرے تو حقیقت میں خدا سے روگردانی کی ہے اس لئے خدا قرآن مجید میں فرماتاہے۔

إِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ أَیْدِیهِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَی بِمَا عٰاهَدَ عَلَیْهُ اللهَ فَسَیُؤْتِیهِ أَجْرًا عَظِیمًا

ٍ اے رسول جو بھی تیری بیعت کرتے ہیں واقع میں خدا کی بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ تمام ہاتھوں کے اوپر ہے جو بھی اس پیمان اور عہد کو توڑدے واقع میں اپنے خلاف عہد کو توڑا ہے اور جو بھی اس عہد اور پیمان پر خدا کے ساتھ باندھہے اور وہ وفادار ہیں عنقریب اس کو بہت بڑا اجر ملے گا۔

یہ آیہ بتاتی ہے کہ بیعت سے مراد وہی عہد کی تاکید ہے کہ جو خدا اور رسول کے ساتھ ہوا ہے اور اس عہد کو پورا کرنے والوں کو بہت بڑی خوشخبری سنائی گئی ہے۔

یہ بیعت دو چیزوں سے مکمل ہوجاتی ہے

اول : دل سے یہ تصمیم کرے یعنی فرماے امام کی پیروی کرنے کا مصمم ارادہ کرے اور جان اور مال کے ساتھ مدد کرے چنانچہ خداوند تعالیٰ نے آیہ شریفے میں اس چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے :إِنَّ اللهَ اشْتَرَیٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بتحقیق اللہ نے مومنین کی جان اور مال کو خریدا ہے چونکہ بیچنے والے کیلئے ضروری ہے کہ جو بیچاہے بغیر تامل اور تاخیر کے خریدنے والے کی درخواست پر فوراً اس کے سپرد کردے اور جو پیمان باندھا ہے اس کی تصدیق کرے۔

دوسرا: جو کچھ اس کا مقصود ہے اس کے انجام دینے کا دل سے اظہار کرلے بیعت کرتے وقت زبان کے ساتھ بیان کرے اس وقت کہا جاتاہے کہ اس نے عہد و پیمان کو مکمل طور پر باندھا اسی طرح خرید و فروخت کا عقد اور دوسرے امور میں بھی صرف دو شرطوں کے ساتھ ثابت ہوتاہے اول یہ کہ قصد انشاء کرے دوسرا جو کچھ اس کے دل میں ہے زبان پر جاری کرے ان دوشرکوں کے ساتھ بیع ثابت ہوتاہے کبھی بیعت ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھنے کی وجہ سے ہوتی ہے چنانچہ عربوں کے درمیان رواج یہ تھا کہ معاملہ طے ہونے کی صورت ایکدوسرے سے ہاتھ ملاتے تھے اس کو بیع کے قبول ہونے کی علامت جانتے تھے اسی معنی سے قرآن مجید سے بھی استفادہ ہوتاہے کہ جہاں فرماتے ہیں: إِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ أَیْدِیہِمْ اے رسول جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں حقیقت میں خدا کی بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ سب ہاتھوں کے اوپر ہے آیہ شریفہ میں ہاتھ استعمال ہوا ہے سے مراد اس بیعت سے وہ بیعت ہے کہ جو ہاتھ کے ساتھ ہوتی تھی اس کے علاوہ متعدد آیات میں وارد ہوا ہے کہ لوگ ہاتھ کے ساتھ رسول کی بیعت کرتے تھے۔

دعائے عہد

امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام (عج) کے مدد گاروں میں سے ہو گا اور اگر وہ امام(ع) کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خدا وند کریم اسے قبر سے اٹھائیگا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اسکے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا وہ دعائے عہد یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْکُرْسِیِّ الرَّفِیعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ

اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار اے بلند کرسی کے پرودگار اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار اور اے توریت

وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْمَلائِکَةِ

اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے اور اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے اے مقرب

الْمُقَرَّبِینَ وَالْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْکَرِیمِ وَبِنُورِ

فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے تیری

وَجْهِکَ الْمُنِیرِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام

الَّذِی أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمٰوَاتُ وَالْاََرَضُونَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِهِ الْاََوَّلُونَ

کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے

وَالْاَخِرُونَ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ

بھلائی پائی اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے

حَیَّ یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ وَمُمِیتَ الْاََحْیائِ یَا حَیُّ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْاِمامَ

والے اے زندوں کو موت دینے والے اے وہ زندہ کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں اے معبود ہمارے مولا امام

الْهادِیَ الْمَهْدِیَّ الْقائِمَ بِأَمْرِکَ صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ الطَّاهِرِینَ عَنْ جَمِیعِ

ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں اور تمام مومن مردوں

الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها سَهْلِها وَجَبَلِها وَبَرِّها وَبَحْرِها

اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوںاور مغربوں میں ہیں میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروںمیں

وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ اﷲِ وَمِدادَ کَلِماتِهِ وَمَا

میری طرف سے میرے والدین کیطرف سے بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش اور اسکے کلمات کی روشنائی کے اور جو چیزیں

أَحْصاهُ عِلْمُهُ وَأَحاطَ بِهِ کِتابُهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُجَدِّدُ لَهُ فِی صَبِیحَةِ یَوْمِی هذَا

اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو اور جب تک زندہ

وَمَا عِشْتُ مِنْ أَیَّامِی عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً لَهُ فِی عُنُقِی لاَ أَحُولُ عَنْه وَلاَ أَزُولُ أَبَداً اَللّٰهُمَّ

ہوں باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گانہ کبھی ترک کروں گا اے معبود

اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَالذَّابِّینَ عَنْهُ والْمُسارِعِینَ إلَیْهِ فِی قَضائِ حَوَائِجِهِ وَالْمُمْتَثِلِینَ

مجھے ان کے مدد گاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں قرار دے میں حاجت برآری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں

لاََِوامِرِهِ وَالْمُحامِینَ عَنْهُ وَالسَّابِقِینَ إلی إرادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ

انکے احکام پر عمل کرنے والوں انکی طرف سے دعوت دینے والوں انکے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے

اَللّٰهُمَّ إنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنِی مِنْ

اے معبود اگر میرے اور میرے امام(ع) کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر

قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاهِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی

سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گائوں میں

اَللّٰهُمَّ أَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ وَاکْحَُلْ ناظِرِی بِنَظْرَةٍ مِنِّی إلَیْهِ وَعَجِّلْ

اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبا آپ کی درخشاں پیشانی دکھا ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ان کی کشائش میں

فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ وَاشْدُدْ أَزْرَهُ

جلدی فرما ان کے ظہور کو آسان بنا ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا

وَاعْمُرِ اَللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَکَ وَأَحْیِ بِهِ عِبادَکَ فَ إنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ

اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا

فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ فَأَظْهِرِ اَللّٰهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ

فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولی(ع) اور اپنے نبی (ص) کی دختر (س) کے فرزند کا

الْمُسَمَّیٰ بِاسْمِ رَسُولِکَ صَلَّی الله عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ إلاَّ

جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں

مَزَّقَهُ وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ

حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں اے معبود قرار دے انکو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی

لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْکامِ کِتابِکَ وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ

مدد گار نہیں بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے ان کو اپنے دین کے

دِینِکَ وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ

خاص احکام اور اپنے نبی (ص) کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آل(ع) پر خدا کی رحمت ہو اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں رکھ جنکو تو نے

الْمُعْتَدِینَ اَللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی

ظالموں کے حملے سے بچایا اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے اور جنہوں نے ان کی دعوت میں

دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاَُمَّةِ بِحُضُورِهِ وَ

انکا ساتھ دیا اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے اور

عَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ إنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما کہ لوگ انکو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے:

الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ

جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امام(ع)

۲ ۔ ایک دوسرا عہد کی دعا

جابر بن یزید جعفی کہتے ہیں کہ امام باقر فرماتے تھے:

جو بھی یہ دعا اپنی عمر میں ایک دفعہ پڑھ لے اس عہد اور پیمان کو چمڑے پر لکھا جاتاہے حضرت قائم کی کاپی میں اوپر لے جایا جاتاہے جس وقت قائم قیام کرے گا اس وقت اس کا نام اور اس کے باپ کا نام لیا جائے گا اس وقت اس کو یہ تحریر دی جائے گی اور کہیں گے کہ اس تحریر کو لے لیں یہ وہ عہد و پیمان ہے کہ دنیا میں ہمارے ساتھ باندھا تھا اور کلام خدا سے یہ مراد ہے کہ جہاں فرمایاالّا من اتخذ عهد الرحٰن عهداً مگر جو بھی خدا کے حضور میں عہد و پیمان باندھے اس دعا کو طہارت کے ساتھ پڑھیں اور یوں پڑھے

أَللَّهُمَّ يا إِلهَ الْآلِهَةِ ، يا واحِدُ ، يا أَحَدُ ، يا آخِرَ الْآخِرينَ ، يا قاهِرَ الْقاهِرينَ ، يا عَلِيُّ يا عَظيمُ ، أَنْتَ الْعَلِيُّ الْأَعْلى ، عَلَوْتَ فَوْقَ كُلِّ عُلُوٍّ ، هذا يا سَيِّدي عَهْدي وَأَنْتَ مُنْجِزُ وَعْدي ، فَصِلْ يا مَوْلايَ عَهْدي ، وَأَنْجِزْ وَعْدي ، آمَنْتُ بِكَ.

وَأَسْأَلُكَ بِحِجابِكَ الْعَرَبِيِّ ، وَبِحِجابِكَ الْعَجَمِيِّ ، وَبِحِجابِكَ الْعِبْرانِيِّ ، وَبِحِجابِكَ السِّرْيانِيِّ ، وَبِحِجابِكَ الرُّومِيِّ ، وَبِحِجابِكَ الْهِنْدِيِّ ، وَأَثْبِتْ مَعْرِفَتَكَ بِالْعِنايَةِ الْاُولى ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاتُرى ، وأَنْتَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلى.

وَأَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِرَسُولِكَ الْمُنْذِرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، وَبِعَلِيٍّ أَميرِالْمُؤْمِنينَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْهادي ، وَبِالْحَسَنِ السَّيِّدِ وَبِالْحُسَيْنِ الشَّهيدِ سِبْطَيْ نَبِيِّكَ ، وَبِفاطِمَةَ الْبَتُولِ ، وَبِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ زَيْنِ الْعابِدينَ ذِى الثَّفَناتِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْباقِرِ عَنْ عِلْمِكَ ، وَبِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ ، اَلَّذي صَدَّقَ بِميثاقِكَ وَبِميعادِكَ ، وَبِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ الْحَصُورِ الْقائِمِ بِعَهْدِكَ ، وَبِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا الرَّاضي بِحُكْمِكَ ، وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحِبْرِ الْفاضِلِ ، اَلْمُرْتَضى فِي الْمُؤْمِنينَ ، وَبِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَمينِ الْمُؤْتَمَنِ ، هادِي الْمُسْتَرْشِدينَ ، وَبِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الطَّاهِرِ الزَّكِيِّ ، خَزانَةِ الْوَصِيّينَ.

وَأَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِالْإِمامِ الْقائِمِ الْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ الْمَهْدِيِّ ، إِمامِنا وَابْنِ إِمامِنا صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعينِ.

يا مَنْ جَلَّ فَعَظُمَ و] هُوَ[ أَهْلُ ذلِكَ فَعَفى وَرَحِمَ ، يا مَنْ قَدَرَ فَلَطُفَ ، أَشْكُو إِلَيْكَ ضَعْفي ، وَما قَصُرَ عَنْهُ عَمَلي مِنْ تَوْحيدِكَ ، وَكُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِالتَّسْمِيَةِ الْبَيْضاءِ ، وَبِالْوَحْدانِيَّةِ الْكُبْرى ، اَلَّتي قَصُرَ عَنْها مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّى.

وَآمَنْتُ بِحِجابِكَ الْأَعْظَمِ ، وَبِكَلِماتِكَ التَّامَّةِ الْعُلْيا ، اَلَّتي خَلَقْتَ مِنْها دارَ الْبَلاءِ ، وَأَحْلَلْتَ مَنْ أَحْبَبْتَ جَنَّةَ الْمَأْوى ، وَآمَنْتُ بِالسَّابِقينَ وَالصِّدّيقينَ ، أَصْحابِ الْيَمينِ مِنَ الْمُؤْمِنينَ ، ] وَ[ الَّذينَ خَلَطُوا عَمَلاً صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً أَلّا تُوَلِّيَني غَيْرَهُمْ ، وَلاتُفَرِّقَ بَيْني وَبَيْنَهُمْ غَداً إِذا قَدَّمْتَ الرِّضا بِفَصْلِ الْقَضاءِ.

آمَنْتُ بِسِرِّهِمْ وَعَلانِيَتِهِمْ وَخَواتيمِ أَعْمالِهِمْ ، فَإِنَّكَ تَخْتِمُ عَلَيْها إِذا شِئْتَ ، يا مَنْ أَتْحَفَني بِالْإِقْرارِ بِالْوَحْدانِيَّةِ ، وَحَباني بِمَعْرِفَةِ الرُّبُوبِيَّةِ ، وَخَلَّصَني مِنَ الشَّكِّ وَالْعَمى ، رَضيتُ بِكَ رَبّاً ، وَبِالْأَصْفِياءِ حُجَجاً ، وَبِالْمَحْجُوبينَ أَنْبِياءَ ، وَبِالرُّسُلِ أَدِلّاءَ ، وَبِالْمُتَّقينَ اُمَراءَ ، وَسامِعاً لَكَ مُطيعاً.(مهج الدعوات : ۳۹۸ ، البحار : ۳۳۷/۹۵ ، النجم الثاقب : ۴۸۳/۲ .)

۳ ۔ غیبت کے زمانے میں دعا

غیبت کے زمانے میں حضرت امام رضیا نے دعا اس کے پڑھنے کا حکم دیا ہے سید جلیل القدر علی بن طاؤوس کتاب جمال الاسبوع میں فرماتے ہیں پہلے بتایا گیا ہمارے گذشتہ پیشوا حضرت مھدی کے لئے دعا کرنے میں ایک خاص اہمیت کے قائل تھے اور اس کا بیان یہ ہے کہ حضرت قائم کے لئے دعا مانگنا اھل اسلام کے وظائف میں سے مہم ترین وظیفہ ہے ہم نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت صادق نے فرمایا نماز ظہور کی تعقیب میں سب سے کامل ترین دعا حضرت مہدی کے بارے میں دعا کرنا ہے ہم نے گذشتہ عناوین کے دوران حضرت امام کاظم(علیہ السلام ) کی دعا کو مہدی(علیہ السلام ) کے لئے مختص کیا ہے بدیھی ہے جو بھی اسلام میں ان دو بزرگوں کی عظمت سے آگاہ ہو ان کی پیروی خود دلیل ہے اب حضرت امام رضا نے جو دعا کرنے کا حکم دیا ہے کہ حضرت مہدی کے لئے دعا کریں آنحضرت خود بھی اس دعا کو پڑھتے تھے اس دعا کو نقل کریں گے۔

میرا جد ابوجعفر طوسی نے متعدد سندوں کے ساتھ یونس بن عبدالرحمان سے اس طرح روایت کی ہے کہ امام رضا اپنے شیعوں کو حکم دیتے تھے کہ اس دعا کے ساتھ صاحب الامر کے لئے دعا مانگیں:

أَللَّهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِيِّكَ وَخَليفَتِكَ ، وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَلِسانِكَ الْمُعَبِّرِ عَنْكَ بِإِذْنِكَ ، اَلنَّاطِقِ بِحِكْمَتِكَ ، وَعَيْنِكَ النَّاظِرَةِ عَلى بَرِيَّتِكَ ، وَشاهِدِكَ عَلى خَلْقِكَ ، اَلْجَحْجاحِ الْمُجاهِدِ ، اَلْعائِذِ بِكَ عِنْدَكَ.

وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ جَميعِ ما خَلَقْتَ وَبَرَأْتَ ، وَأَنْشَأْتَ وَصَوَّرْتَ ، وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ ، وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ بِحِفْظِكَ الَّذي لايَضيعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ ، وَاحْفَظْ فيهِ رَسُولَكَ وَآباءَهُ ، أَئِمَّتَكَ وَدَعائِمَ دينِكَ.

وَاجْعَلْهُ في وَديعَتِكَ الَّتي لاتَضيعُ ، وَفي جِوارِكَ الَّذي لايُخْفَرُ ، وَفي مَنْعِكَ وَعِزِّكَ الَّذي لايُقْهَرُ ، وَآمِنْهُ بِأَمانِكَ الْوَثيقِ ، اَلَّذي لايُخْذَلُ مَنْ آمَنْتَهُ بِهِ ، وَاجْعَلْهُ في كَنَفِكَ الَّذي لايُرامُ مَنْ كانَ فيهِ ، وَأَيِّدْهُ بِنَصْرِكَ الْعَزيزِ ، وَأَيِّدْهُ بِجُنْدِكَ الْغالِبِ ، وَقَوِّهِ بِقُوَّتِكَ ، وَأَرْدِفْهُ بِمَلائِكَتِكَ ، وَوالِ مَنْ والاهُ ، وَعادِ مَنْ عاداهُ ، وَأَلْبِسْهُ دِرْعَكَ الْحَصينَةَ ، وَحُفَّهُ بِالْمَلائِكَةِ حَفّاً.

أَللَّهُمَّ وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ ما بَلَّغْتَ الْقائِمينَ بِقِسْطِكَ مِنْ أَتْباعِ النَّبِيّينَ أَللَّهُمَّ اشْعَبْ بِهِ الصَّدْعَ ، وَارْتُقْ بِهِ الْفَتْقَ ، وَأَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ ، وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ ، وَزَيِّنْ بِطُولِ بَقائِهِ الْأَرْضَ ، وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ ، وَانْصُرْهُ بِالرُّعْبِ ، وَقَوِّ ناصِريهِ ، وَاخْذُلْ خاذِليهِ ، وَدَمْدِمْ عَلى مَنْ نَصَبَ لَهُ ، وَدَمِّرْ مَنْ غَشَّهُ.

وَاقْتُلْ بِهِ جَبابِرَةَ الْكُفْرِ ، وَعُمُدَهُ وَدَعائِمَهُ ، وَاقْصِمْ بِهِ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ وَشارِعَةَ الْبِدَعِ ، وَمُميتَةَ السُّنَّةِ ، وَمُقَوِّيَةَ الْباطِلِ ، وَذَلِّلْ بِهِ الْجَبَّارينَ ، وَأَبِرْ بِهِ الْكافِرينَ وَجَميعَ الْمُلْحِدينَ ، في مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، وَبَرِّها وَبَحْرِها ، وَسَهْلِها وَجَبَلِها ، حَتَّى لاتَدَعَ مِنْهُمْ دَيَّاراً ، وَلاتُبْقِيَ لَهُمْ آثاراً.

أَللَّهُمَّ طَهِّرْ مِنْهُمْ بِلادَكَ ، وَاشْفِ مِنْهُمْ عِبادَكَ ، وَأَعِزَّ بِهِ الْمُؤْمِنينَ ، وَأَحْيِ بِهِ سُنَنَ الْمُرْسَلينَ ، وَدارِسَ حِكْمَةِ النَّبِيّينَ ، وَجَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحى مِنْ دينِكَ ، وَبُدِّلَ مِنْ حُكْمِكَ ، حَتَّى تُعيدَ دينَكَ بِهِ ، وَعَلى يَدَيْهِ غَضّاً مَحْضاً صَحيحاً ، لا عِوَجَ فيهِ ، وَلا بِدْعَةَ مَعَهُ ، وَحَتَّى تُنيرَ بِعَدْلِهِ ظُلَمَ الْجَوْرِ ، وَتُطْفِئَ بِهِ نيرانَ الْكُفْرِ ، وَتُوضِحَ بِهِ مَعاقِدَ الْحَقِّ وَمَجْهُولَ الْعَدْلِ.

فَإِنَّهُ عَبْدُكَ الَّذِي اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ مِنْ خَلْقِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ عَلى عِبادِكَ ، وَائْتَمَنْتَهُ عَلى غَيْبِكَ ، وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَبَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُيُوبِ ، وَطَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ ، وَسَلَّمْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ.

أَللَّهُمَّ فَإِنَّا نَشْهَدُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ ، وَيَوْمَ حُلُولِ الطَّامَّةِ ، أَنَّهُ لَمْ يُذْنِبْ ذَنْباً وَلا أَتى حَوْباً ، وَلَمْ يَرْتَكِبْ مَعْصِيَةً ، وَلَمْ يُضَيِّعْ لَكَ طاعَةً ، وَلَمْ يَهْتِكْ لَكَ حُرْمَةً ، وَلَمْ يُبَدِّلْ لَكَ فَريضَةً ، وَلَمْ يُغَيِّرْ لَكَ شَريعَةً ، وَأَنَّهُ الْهادِى الْمَهْدِيُّ الطَّاهِرُ التَّقِيُّ النَّقِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِهِ في نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ ، وَوُلْدِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، وَاُمَّتِهِ وَجَميعِ رَعِيَّتِهِ ، ما تُقِرُّ بِهِ عَيْنَهُ ، وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ ، وَتَجْمَعُ لَهُ مُلْكَ الْمُمْلَكاتِ كُلِّها ، قَريبِها وَبَعيدِها ، وَعَزيزِها وَذَليلِها ، حَتَّى يَجْرِيَ حُكْمُهُ عَلى كُلِّ حُكْمٍ ، وَيَغْلِبَ بِحَقِّهِ كُلَّ باطِلٍ.

أَللَّهُمَّ اسْلُكْ بِنا عَلى يَدَيْهِ مِنْهاجَ الْهُدى ، وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمى ، وَالطَّريقَةَ الْوُسْطى ، اَلَّتي يَرْجِعُ إِلَيْهَا الْغالي ، وَيَلْحَقُ بِهَا التَّالي ، وَقَوِّنا عَلى طاعَتِهِ ، وَثَبِّتْنا عَلى مُشايَعَتِهِ ، وَامْنُنْ عَلَيْنا بِمُتابَعَتِهِ ، وَاجْعَلْنا في حِزْبِهِ الْقَوَّامينَ بِأَمْرِهِ ، اَلصَّابِرينَ مَعَهُ ، اَلطَّالِبينَ رِضاكَ بِمُناصَحَتِهِ ، حَتَّى تَحْشُرَنا يَوْمَ الْقِيامَةِ في أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَمُقَوِّيَةِ سُلْطانِهِ.

أَللَّهُمَّ وَاجْعَلْ ذلِكَ لَنا خالِصاً مِنْ كُلِّ شَكٍّ وَشُبْهَةٍ وَرِياءٍ وَسُمْعَةٍ ، حَتَّى لانَعْتَمِدَ بِهِ غَيْرَكَ ، وَلانَطْلُبَ بِهِ إِلّا وَجْهَكَ ، وَحَتَّى تُحِلَّنا مَحَلَّهُ ، وَتَجْعَلَنا فِي الْجَنَّةِ مَعَهُ ، وَأَعِذْنا مِنَ السَّآمَةِ وَالْكَسَلِ وَالْفَتْرَةِ ، وَاجْعَلْنا مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدينِكَ ، وَتُعِزُّ بِهِ نَصْرَ وَلِيِّكَ ، وَلاتَسْتَبْدِلْ بِنا غَيْرَنا ، فَإِنَّ اسْتِبْدالَكَ بِنا غَيْرَنا عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَهُوَ عَلَيْنا عَسيرٌ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى وُلاةِ عَهْدِهِ ، وَالْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ ، وَبَلِّغْهُمْ آمالَهُمْ ، وَزِدْ في آجالِهِمْ ، وَأَعِزَّ نَصْرَهُمْ ، وَتَمِّمْ لَهُمْ ما أَسْنَدْتَ إِلَيْهِمْ في أَمْرِكَ لَهُمْ ، وَثَبِّتْ دَعائِمَهُمْ ، وَاجْعَلْنا لَهُمْ أَعْواناً ، وَعَلى دينِكَ أَنْصاراً ، فَإِنَّهُمْ مَعادِنُ كَلِماتِكَ ، وَأَرْكانُ تَوْحيدِكَ ، وَدَعائِمُ دينِكَ ، وَوُلاةُ أَمْرِكَ ، وَخالِصَتُكَ مِنْ عِبادِكَ ، وَصَفْوَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَأَوْلِيائُكَ وَسَلائِلُ أَوْلِيائِكَ ، وَصَفْوَةُ أَوْلادِ رُسُلِكَ ، وَالسَّلامُ عَلَيْهِمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ.(جمال الاُسبوع : ۳۰۷ ، وفي مصباح المتهجّد : ۴۰۹ ، والمصباح : ۷۲۶ ، والبلد الأمين : ۱۲۲ بتفاوت ، و رواه السيّد رحمه الله مع زيادة ونقصان في مصباح الزائر : ۴۵۷ .)

۴ ۔ غیبت کے زمانے میں دعا کے بارے میں ایک اور روایت

سید علی بن طاؤوس فرماتے ہیں کہ اس دعا کو ایک اور طریقہ کے ساتھ زیادہ تفصیل کے ساتھ پایا یونس بن عبدالرحمن کہتاہے ہمارے مولیٰ حضرت علی بن موسیٰ الرضا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ حضرت حجت کے لئے دعا مانگیں ان دعاؤں میں ایک یہ دعا بھی تھی

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَادْفَعْ عَنْ وَلِيِّكَ وَخَليفَتِكَ وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَلِسانِكَ الْمُعَبِّرِ عَنْكَ بِإِذْنِكَ ، اَلنَّاطِقِ بِحِكْمَتِكَ ، وَعَيْنِكَ النَّاظِرَةِ في بَرِيَّتِكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى عِبادِكَ ، اَلْجَحْجاحِ الْمُجاهِدِ الْمُجْتَهِدِ ، عَبْدِكَ الْعائِذِ بِكَ.

أَللَّهُمَّ وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ ما خَلَقْتَ وَذَرَأْتَ ، وَبَرَأْتَ وَأَنْشَأْتَ وَصَوَّرْتَ ، وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ ، وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ ، بِحِفْظِكَ الَّذي لايَضيعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ.

وَاحْفَظْ فيهِ رَسُولَكَ وَوَصِيَّ رَسُولِكَ وَآبائَهُ ، أَئِمَّتَكَ وَدَعائِمَ دينِكَ ، صَلَواتُكَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعينَ ، وَاجْعَلْهُ في وَديعَتِكَ الَّتي لاتَضيعُ ، وَفي جِوارِكَ الَّذي لايُحْتَقَرُ ، وَفي مَنْعِكَ وَعِزِّكَ الَّذي لايُقْهَرُ.

أَللَّهُمَّ وَآمِنْهُ بِأَمانِكَ الْوَثيقِ الَّذي لايُخْذَلُ مَنْ آمَنْتَهُ بِهِ ، وَاجْعَلْهُ في كَنَفِكَ الَّذي لايُضامُ مَنْ كانَ فيهِ ، وَانْصُرْهُ بِنَصْرِكَ الْعَزيزِ ، وَأَيِّدْهُ بِجُنْدِكَ الْغالِبِ ، وَقَوِّهِ بِقُوَّتِكَ ، وَأَرْدِفْهُ بِمَلائِكَتِكَ أَللَّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ ، وَعادِ مَنْ عاداهُ ، وَأَلْبِسْهُ دِرْعَكَ الْحَصينَةَ ، وَحُفَّهُ بِمَلائِكَتِكَ حَفّاً.

أَللَّهُمَّ وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ ما بَلَّغْتَ الْقائِمينَ بِقِسْطِكَ مِنْ أَتْباعِ النَّبِيّينَ أَللَّهُمَّ اشْعَبْ بِهِ الصَّدْعَ ، وَارْتُقْ بِهِ الْفَتْقَ ، وَأَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ ، وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ ، وَزَيِّنْ بِطُولِ بَقائِهِ الْأَرْضَ ، وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ ، وَانْصُرْهُ بِالرُّعْبِ ، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً يَسيراً ، وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْكَ عَلى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِ سُلْطاناً نَصيراً.

أَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ الْقائِمَ الْمُنْتَظَرَ ، وَالْإِمامَ الَّذي بِهِ تَنْتَصِرُ ، وَأَيِّدْهُ بِنَصْرٍ عَزيزٍ وَفَتْحٍ قَريبٍ ، وَوَرِّثْهُ مَشارِقَ الْأَرْضِ وَمَغارِبَهَا اللّاتي بارَكْتَ فيها ، وَأَحْيِ بِهِ سُنَّةَ نَبِيِّكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، حَتَّى لايَسْتَخْفِيَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ ، وَقَوِّ ناصِرَهُ ، وَاخْذُلْ خاذِلَهُ ، وَدَمْدِمْ عَلى مَنْ نَصَبَ لَهُ ، وَدَمِّرْ عَلى مَنْ غَشَّهُ.

أَللَّهُمَّ وَاقْتُلْ بِهِ جَبابِرَةَ الْكُفْرِ وَعُمُدَهُ ، وَدَعائِمَهُ وَالقُوَّامَ بِهِ ، وَاقْصِمْ بِهِ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ ، وَشارِعَةَ الْبِدْعَةِ ، وَمُميتَةَ السُّنَّةِ ، وَمُقَوِّيَةَ الْباطِلِ ، وَأَذْلِلْ بِهِ الْجَبَّارينَ ، وَأَبِرْ بِهِ الْكافِرينَ وَالْمُنافِقينَ ، وَجَميعَ الْمُلْحِدينَ ، حَيْثُ كانُوا وَأَيْنَ كانُوا مِنْ مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، وَبَرِّها وَبَحْرِها ، وَسَهْلِها وَجَبَلِها ، حَتَّى لاتَدَعَ مِنْهُمْ دَيَّاراً ، وَلاتُبْقِيَ لَهُمْ آثاراً.

أَللَّهُمَّ وَطَهِّرْ مِنْهُمْ بِلادَكَ ، وَاشْفِ مِنْهُمْ عِبادَكَ ، وَأَعِزَّ بِهِ الْمُؤْمِنينَ ، وَأَحْيِ بِهِ سُنَنَ الْمُرْسَلينَ ، وَدارِسَ حِكَمِ النَّبِيّينَ ، وَجَدِّدْ بِهِ ما مُحِيَ مِنْ دينِكَ ، وَبُدِّلَ مِنْ حُكْمِكَ ، حَتَّى تُعيدَ دينَكَ بِهِ وَعَلى يَدَيْهِ غَضّاً جَديداً صَحيحاً مَحْضاً ، لا عِوَجَ فيهِ ، وَلا بِدْعَةَ مَعَهُ ، حَتَّى تُنيرَ بِعَدْلِهِ ظُلَمَ الْجَوْرِ ، وَتُطْفِئَ بِهِ نيرانَ الْكُفْرِ ، وَتُظْهِرَ بِهِ مَعاقِدَ الْحَقِّ ، وَمَجْهُولَ الْعَدْلِ ، وَتُوضِحَ بِهِ مُشْكِلاتِ الْحُكْمِ.

أَللَّهُمَّ وَ إِنَّهُ عَبْدُكَ الَّذِي اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ مِنْ خَلْقِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ عَلى عِبادِكَ ، وَائْتَمَنْتَهُ عَلى غَيْبِكَ ، وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَبَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُيُوبِ ، وَطَهَّرْتَهُ ] مِنَ الرِّجْسِ[ ، وَصَرَّفْتَهُ عَنِ الدَّنَسِ ، وَسَلَّمْتَهُ مِنَ الرَّيْبِ.

أَللَّهُمَّ فَإِنَّا نَشْهَدُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ ، وَيَوْمَ حُلُولِ الطَّامَّةِ ، أَنَّهُ لَمْ يُذْنِبْ وَلَمْ يَأْتِ حَوْباً ، وَلَمْ يَرْتَكِبْ لَكَ مَعْصِيَةً ، وَلَمْ يُضَيِّعْ لَكَ طاعَةً ، وَلَمْ يَهْتِكْ لَكَ حُرْمَةً ، وَلَمْ يُبَدِّلْ لَكَ فَريضَةً ، وَلَمْ يُغَيِّرْ لَكَ شَريعَةً ، وَأَنَّهُ الْإِمامُ التَّقِيُّ الْهادِى الْمَهْدِيُّ الطَّاهِرُ التَّقِيُّ الْوَفِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ.

أَللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ ، وَأَعْطِهِ في نَفْسِهِ وَوُلْدِهِ ، وَأَهْلِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَاُمَّتِهِ وَجَميعِ رَعِيَّتِهِ ، ما تُقِرُّ بِهِ عَيْنَهُ ، وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ ، وَتَجْمَعُ لَهُ مُلْكَ الْمُمْلَكاتِ كُلِّها ، قَريبِها وَبَعيدِها ، وَعَزيزِها وَذَليلِها ، حَتَّى يَجْرِيَ حُكْمُهُ عَلى كُلِّ حُكْمٍ ، وَيَغْلِبَ بِحَقِّهِ عَلى كُلِّ باطِلٍ.

أَللَّهُمَّ وَاسْلُكْ بِنا عَلى يَدَيْهِ مِنْهاجَ الْهُدى ، وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمى ، وَالطَّريقَةَ الْوُسْطى ، اَلَّتي يَرْجِعُ إِلَيْهَا الْغالي ، وَيَلْحَقُ بِهَا التَّالي أَللَّهُمَّ وَقَوِّنا عَلى طاعَتِهِ ، وَثَبِّتْنا عَلى مُشايَعَتِهِ ، وَامْنُنْ عَلَيْنا بِمُتابَعَتِهِ ، وَاجْعَلْنا في حِزْبِهِ الْقَوَّامينَ بِأَمْرِهِ ، اَلصَّابِرينَ مَعَهُ ، اَلطَّالِبينَ رِضاكَ بِمُناصَحَتِهِ ، حَتَّى تَحْشُرَنا يَوْمَ الْقِيامَةِ في أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ ، وَمُقَوِّيَةِ سُلْطانِهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَاجْعَلْ ذلِكَ كُلَّهُ مِنَّا لَكَ خالِصاً مِنْ كُلِّ شَكٍّ وَشُبْهَةٍ وَرِياءٍ وَسُمْعَةٍ ، حَتَّى لانَعْتَمِدَ بِهِ غَيْرَكَ ، وَلانَطْلُبَ بِهِ إِلّا وَجْهَكَ ، وَحَتَّى تُحِلَّنا مَحَلَّهُ ، وَتَجْعَلَنا فِي الْجَنَّةِ مَعَهُ ، وَلاتَبْتَلِنا في أَمْرِهِ بِالسَّآمَةِ وَالْكَسَلِ وَالْفَتْرَةِ وَالْفَشَلِ ، وَاجْعَلْنا مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدينِكَ ، وَتُعِزُّ بِهِ نَصْرَ وَلِيِّكَ ، وَلاتَسْتَبْدِلْ بِنا غَيْرَنا ، فَإِنَّ اسْتِبْدالَكَ بِنا غَيْرَنا عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَهُوَ عَلَيْنا كَبيرٌ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلى وُلاةِ عُهُودِهِ ، وَبَلِّغْهُمْ آمالَهُمْ ، وَزِدْ في آجالِهِمْ وَانْصُرْهُمْ وَتَمِّمْ لَهُمْ ما أَسْنَدْتَ إِلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِ دينِكَ ، وَاجْعَلْنا لَهُمْ أَعْواناً وَعَلى دينِكَ أَنْصاراً ، وَصَلِّ عَلى آبائِهِ الطَّاهِرينَ الْأَئِمَّةِ الرَّاشِدينَ أَللَّهُمَّ فَإِنَّهُمْ مَعادِنُ كَلِماتِكَ ، وَخُزَّانُ عِلْمِكَ ، وَوُلاةُ أَمْرِكَ ، وَخالِصَتُكَ مِنْ عِبادِكَ ، وَخِيَرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَأَوْلِيائُكَ وَسَلائِلُ أَوْلِيائِكَ ، وَصَفْوَتُكَ وَأَوْلادُ أَصْفِيائِكَ ، صَلَواتُكَ وَرَحْمَتُكَ وَبَرَكاتُكَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعينَ.

أَللَّهُمَّ وَشُرَكاؤُهُ في أَمْرِهِ ، وَمُعاوِنُوهُ عَلى طاعَتِكَ ، اَلَّذينَ جَعَلْتَهُمْ حِصْنَهُ وَسِلاحَهُ وَمَفْزَعَهُ وَاُنْسَهُ ، اَلَّذينَ سَلَوْا عَنِ الْأَهْلِ وَالْأَوْلادِ ، وَتَجافُوا الْوَطَنَ ، وَعَطَّلُوا الْوَثيرَ مِنَ الْمِهادِ ، قَدْ رَفَضُوا تِجاراتِهِمْ ، وَأَضَرُّوا بِمَعايِشِهِمْ ، وَفُقِدُوا في أَنْدِيَتِهِمْ بِغَيْرِ غَيْبَةٍ عَنْ مِصْرِهِمْ ، وَحالَفُوا الْبَعيدَ مِمَّنْ عاضَدَهُمْ عَلى أَمْرِهِمْ ، وَخالَفُوا الْقَريبَ مِمَّنْ صَدَّ عَنْ وِجْهَتِهِمْ ، وَائْتَلَفُوا بَعْدَ التَّدابُرِ وَالتَّقاطُعِ في دَهْرِهِمْ ، وَقَطَعُوا الْأَسْبابَ الْمُتَّصِلَةَ بِعاجِلِ حُطامٍ مِنَ الدُّنْيا.

فَاجْعَلْهُمُ اللَّهُمَّ في حِرْزِكَ وَفي ظِلِّ كَنَفِكَ ، وَرُدَّ عَنْهُمْ بَأْسَ مَنْ قَصَدَ إِلَيْهِمْ بِالْعَداوَةِ مِنْ خَلْقِكَ ، وَأَجْزِلْ لَهُمْ مِنْ دَعْوَتِكَ مِنْ كِفايَتِكَ وَمَعُونَتِكَ لَهُمْ ، وَتَأْييدِكَ وَنَصْرِكَ إِيَّاهُمْ ، ما تُعينُهُمْ بِهِ عَلى طاعَتِكَ ، وَأَزْهِقْ بِحَقِّهِمْ باطِلَ مَنْ أَرادَ إِطْفاءَ نُورِكَ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ.

وَامْلَأْ بِهِمْ كُلَّ اُفُقٍ مِنَ الْآفاقِ ، وَقُطْرٍ مِنَ الْأَقْطارِ قِسْطاً وَعَدْلاً وَرَحْمَةً وَفَضْلاً ، وَاشْكُرْ لَهُمْ عَلى حَسَبِ كَرَمِكَ وَجُودِكَ ، وَما مَنَنْتَ بِهِ عَلَى الْقائِمينَ بِالْقِسْطِ مِنْ عِبادِكَ ، وَاذْخَرْ لَهُمْ مِنْ ثَوابِكَ ما تَرْفَعُ لَهُمْ بِهِ الدَّرَجاتِ ، إِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ.( جمال الاُسبوع : ۳۱۰ ).

سید بزرگوار اس کو جاری رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں یہ روایت پہلی روایت سے زیادہ کامل ہے کچھ مواد ہیں کہ جو پہلی روایت میں نہیں ہیں اگر تم نیک لوگوں میں سے ہونا چاہتے ہو تو اس دعا کو خدا کی درگاہ میں تواجع اور خشوع کے ساتھ پڑھو۔ شیخ کفعمی نے اس دعا کو سند مذکور کے ساتھ امام رضا سے نقل کیا ہے اس دعا کے بعد ذیل والی دعا نقل کی ہے

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى وُلاةِ عَهْدِهِ وَالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهِ ، وَبَلِّغْهُمْ آمالَهُمْ ، وَ زِدْ في آجالِهِمْ ، وَأَعِزَّ نَصْرَهُمْ ، وَتَمِّمْ لَهُمْ ما أَسْنَدْتَ إِلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِكَ لَهُمْ ، وَثَبِّتْ دَعائِمَهُمْ ، وَاجْعَلْنا لَهُمْ أَعْواناً ، وَعَلى دينِكَ أَنْصاراً.

فَإِنَّهُمْ مَعادِنُ كَلِماتِكَ ، وَخُزَّانُ عِلْمِكَ ، وَأَرْكانُ تَوْحيدِكَ ، وَدَعائِمُ دينِكَ ، وَوُلاةُ أَمْرِكَ ، وَخالِصَتُكَ مِنْ عِبادِكَ ، وَصَفْوَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَأَوْلِياؤُكَ وَسَلائِلُ أَوْلِيائِكَ، وَصَفْوَةُ أَوْلادِ نَبِيِّكَ ، وَالسَّلامُ عَلَيْهِمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ.(البحار : ۱۱۵/۱۰۲ )

۵ ۔ غیبت کے زمانے میں معرفت کی دعا

سید بزرگوار علی بن طاؤوس جمال الاسبوع میں فرماتے ہیں حضرت حجت کے لئے ایک اور دعا وارد ہے یہ دعا بھی پہلی دعا کی طرح ہے سزاوار ہے کہ اس دعا کے پڑھنے میں بہت زیادہ اہمیت دے اگر جمعہ کے دن عصر کی تعقیب کسی وجہ سے رہ جائے تو خبردار اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرنا کیونکہ ہم اس کو اللہ کا فضل اور احسان جانتے ہیں ہم کو اس کے ساتھ مخصوص کیا پس اس دعا پر اعتماد کرو اس دعائے شریف کو دو طریقوں کے ساتھ محمد بن ھمام سے روایت کی گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس دعا کو شیخ ابوعمر و عمری جو حضرت صاحب زمان کے چار نوابوں میں سے ایک ہے اس نے اس پر املا کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ میں اس کو پڑھ لوں

أَللَّهُمَّ عَرِّفْني نَفْسَكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْني نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْكَ ، وَلَمْ أَعْرِفْ رَسُولَكَ. أَللَّهُمَّ عَرِّفْني رَسُولَكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْني رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ. أَللَّهُمَّ عَرِّفْني حُجَّتَكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْني حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ ديني.

أَللَّهُمَّ لاتُمِتْني ميتَةً جاهِلِيَّةً ، وَلا تُزِ غْ قَلْبي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَني أَللَّهُمَّ فَكَما هَدَيْتَني لِوِلايَةِ مَنْ فَرَضْتَ طاعَتَهُ عَلَيَّ مِنْ وُلاةِ أَمْرِكَ بَعْدَ رَسُولِكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، حَتَّى والَيْتُ وُلاةَ أَمْرِكَ أَميرَالْمُؤْمِنينَ عَلِيَّ بْنَ أَبي طالِبٍ ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَعَلِيّاً وَمُحَمَّداً وَجَعْفَراً وَمُوسى وَعَلِيّاً وَمُحَمَّداً وَعَلِيّاً وَالْحَسَنَ وَالْحُجَّةَ الْقائِمَ الْمَهْدِيَّ صَلَواتُكَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعينَ.

أَللَّهُمَّ ثَبِّتْني عَلى دينِكَ ، وَاسْتَعْمِلْني بِطاعَتِكَ ، وَلَيِّنْ قَلْبي لِوَلِيِّ أَمْرِكَ ، وَعافِني مِمَّا امْتَحَنْتَ بِهِ خَلْقَكَ ، وَثَبِّتْني عَلى طاعَةِ وَلِيِّ أَمْرِكَ ، اَلَّذي سَتَرْتَهُ عَنْ خَلْقِكَ ، فَبِإِذْنِكَ غابَ عَنْ بَرِيَّتِكَ ، وَأَمْرَكَ يَنْتَظِرُ ، وَأَنْتَ الْعالِمُ غَيْرُ مُعَلَّمٍ بِالْوَقْتِ الَّذي فيهِ صَلاحُ أَمْرِ وَلِيِّكَ ، فِي الْإِذْنِ لَهُ بِإِظْهارِ أَمْرِهِ وَكَشْفِ سِرِّهِ.

وَصَبِّرْني عَلى ذلِكَ ، حَتَّى لا اُحِبَّ تَعْجيلَ ما أَخَّرْتَ ، وَلا تَأْخيرَ ما عَجَّلْتَ ، وَلا أَكْشِفَ عَمَّا سَتَرْتَ ، وَلا أَبْحَثَ عَمَّا كَتَمْتَ ، وَلا اُنازِعَكَ في تَدْبيرِكَ ، وَلا أَقُولَ لِمَ وَكَيْفَ وَما بالُ وَلِيِّ الْأَمْرِ لايَظْهَرُ وَقَدِ امْتَلَأَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْجَوْرِ ، وَاُفَوِّضَ اُمُوري كُلَّها إِلَيْكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُرِيَني وَلِيَّ أَمْرِكَ ظاهِراً نافِذَ الْأَمْرِ ، مَعَ عِلْمي بِأَنَّ لَكَ السُّلْطانَ وَالْقُدْرَةَ ، وَالْبُرْهانَ وَالْحُجَّةَ ، وَالْمَشِيَّةَ وَالْحَوْلَ وَالْقُوَّةَ ، فَافْعَلْ ذلِكَ بي وَبِجَميعِ الْمُؤْمِنينَ ، حَتَّى نَنْظُرَ إِلى وَلِيِّكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، ظاهِرَ الْمَقالَةِ ، واضِحَ الدَّلالَةِ ، هادِياً مِنَ الضَّلالَةِ ، شافِياً مِنَ الْجَهالَةِ ، وَأَبْرِزْ يا رَبِّ مُشاهَدَتَهُ ، وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ ، وَاجْعَلْنا مِمَّنْ تَقَِرُّ عَيْنُهُ بِرُؤْيَتِهِ ، وَأَقِمْنا بِخِدْمَتِهِ ، وَتَوَفَّنا عَلى مِلَّتِهِ ، وَاحْشُرْنا في زُمْرَتِهِ.

أَللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ جَميعِ ما خَلَقْتَ وَبَرَأْتَ ، وَذَرَأْتَ وَأَنْشَأْتَ وَصوَّرْتَ ، وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ ، وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ ، بِحِفْظِكَ الَّذي لايَضيعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ ، وَاحْفَظْ فيهِ رَسُولَكَ وَوَصِيَّ رَسُولِكَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ.

أَللَّهُمَّ وَمُدَّ في عُمْرِهِ ، وَزِدْ في أَجَلِهِ ، وَأَعِنْهُ عَلى ما وَلَّيْتَهُ وَاسْتَرْعَيْتَهُ ، وَ زِدْ في كَرامَتِكَ لَهُ ، فَإِنَّهُ الْهادِى الْمَهْدِيُّ ، وَالْقائِمُ الْمُهْتَدِيُ ، اَلطَّاهِرُ التَّقِيُّ الزَّكِيُّ النَّقِيُّ الرَّضِيُّ الْمَرْضِيُّ الصَّابِرُ الشَّكُورُ الْمُجْتَهِدُ.

أَللَّهُمَّ وَلاتَسْلُبْنَا الْيَقينَ لِطُولِ الْأَمَدِ في غَيْبَتِهِ ، وَانْقِطاعِ خَبَرِهِ عَنَّا ، وَلاتُنْسِنا ذِكْرَهُ وَانْتِظارَهُ ، وَالْإيمانَ بِهِ ، وَقُوَّةَ الْيَقينِ في ظُهُورِهِ ، وَالدُّعاءَ لَهُ وَالصَّلوةَ عَلَيْهِ ، حَتَّى لا يُقَنِّطَنا طُولُ غَيْبَتِهِ مِنْ ] ظُهُورِهِ وَ[ قِيامِهِ ، وَيَكُونَ يَقينُنا في ذلِكَ كَيَقينِنا في قِيامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، وَما جاءَ بِهِ مِنْ وَحْيِكَ وَتَنْزيلِكَ.

وَقَوِّ قُلُوبَنا عَلَى الْإيمانِ بِهِ ، حَتَّى تَسْلُكَ بِنا عَلى يَدَيْهِ مِنْهاجَ الْهُدى وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمى ، وَالطَّريقَةَ الْوُسْطى ، وَقَوِّنا عَلى طاعَتِهِ ، وَثَبِّتْنا عَلى مُتابَعَتِهِ ، وَاجْعَلْنا في حِزْبِهِ وَأَعْوانِهِ وَأَنْصارِهِ ، وَالرَّاضينَ بِفِعْلِهِ ، وَلاتَسْلُبْنا ذلِكَ في حَياتِنا ، وَلا عِنْدَ وَفاتِنا ، حَتَّى تَتَوَفَّانا وَنَحْنُ عَلى ذلِكَ لا شاكّينَ وَلا ناكِثينَ ، وَلا مُرْتابينَ وَلا مُكَذِّبينَ.

أَللَّهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَهُ ، وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ ، وَانْصُرْ ناصِريهِ ، وَاخْذُلْ خاذِليهِ ، وَدَمْدِمْ عَلى مَنْ نَصَبَ لَهُ وَكَذَّبَ بِهِ ، وَأَظْهِرْ بِهِ الْحَقَّ ، وَأَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ ، وَاسْتَنْقِذْ بِهِ عِبادَكَ الْمُؤْمِنينَ مِنَ الذُّلِّ ، وَانْعَشْ بِهِ الْبِلادَ ، وَاقْتُلْ بِهِ جَبابِرَةَ الْكَفَرَةِ ، وَاقْصِمْ بِهِ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ ، وَذَلِّلْ ]بِهِ[ الْجَبَّارينَ وَالْكافِرينَ.

وَأَبِرْ بِهِ الْمُنافِقينَ وَالنَّاكِثينَ ، وَجَميعَ الْمُخالِفينَ وَالْمُلْحِدينَ ، في مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، وَبَرِّها وَبَحْرِها ، وَسَهْلِها وَجَبَلِها ، حَتَّى لاتَدَعَ مِنْهُمْ دَيَّاراً ، وَلاتُبْقِيَ لَهُمْ آثاراً ، وَطَهِّرْ مِنْهُمْ بِلادَكَ ، وَاشْفِ مِنْهُمْ صُدُورَ عِبادِكَ.

وَجَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحى مِنْ دينِكَ ، وَأَصْلِحْ بِهِ ما بُدِّلَ مِنْ حُكْمِكَ ، وَغُيِّرَ مِنْ سُنَّتِكَ ، حَتَّى يَعُودَ دينُكَ بِهِ وَعَلى يَدَيْهِ غَضّاً جَديداً صَحيحاً لا عِوَجَ فيهِ ، وَلا بِدْعَةَ مَعَهُ ، حَتَّى تُطْفِئَ بِعَدْلِهِ نيرانَ الْكافِرينَ.

فَإِنَّهُ عَبْدُكَ الَّذِي اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِكَ ، وَارْتَضَيْتَهُ لِنُصْرَةِ دينِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ بِعِلْمِكَ ، وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَبَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُيُوبِ ، وَأَطْلَعْتَهُ عَلَى الْغُيُوبِ ، وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ، وَطَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ ، وَنَقَّيْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ.

أَللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ الْأَئِمَّةِ الطَّاهِرينَ ، وَعَلى شيعَتِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَبَلِّغْهُمْ مِنْ آمالِهِمْ أَفْضَلَ ما يَأْمُلُونَ ، وَاجْعَلْ ذلِكَ مِنَّا خالِصاً مِنْ كُلِّ شَكٍّ وَشُبْهَةٍ وَرِياءٍ وَسُمْعَةٍ ، حَتَّى لانُريدَ بِهِ غَيْرَكَ ، وَلانَطْلُبَ بِهِ إِلّا وَجْهَكَ.

أَللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنا ، وَغَيْبَةَ وَلِيِّنا ، وَشِدَّةَ الزَّمانِ عَلَيْنا ، وَوُقُوعَ الْفِتَنِ بِنا ، وَتَظاهُرَ الْأَعْداءِ ]عَلَيْنا[ ، وَكَثْرَةَ عَدُوِّنا ، وَقِلَّةَ عَدَدِنا أَللَّهُمَّ فَفَرِّجْ ذلِكَ بِفَتْحٍ مِنْكَ تُعَجِّلُهُ ، وَنَصْرٍ مِنْكَ تُعِزُّهُ ، وَ إِمامِ عَدْلٍ تُظْهِرُهُ ، إِلهَ الْحَقِّ ] آمينَ[ رَبَّ الْعالَمينَ.

أَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ أَنْ تَأْذَنَ لِوَلِيِّكَ في إِظْهارِ عَدْلِكَ في عِبادِكَ ، وَقَتْلِ أَعْدائِكَ في بِلادِكَ ، حَتَّى لاتَدَعَ لِلْجَوْرِ يا رَبِّ دِعامَةً إِلّا قَصَمْتَها ، وَلا بَقِيَّةً إِلّا أَفْنَيْتَها ، وَلا قُوَّةً إِلّا أَوْهَنْتَها ، وَلا رُكْناً إِلّا هَدَمْتَهُ ، وَلا حَدّاً إِلّا فَلَلْتَهُ ، وَلا سِلاحاً إِلّا أَكْلَلْتَهُ ، وَلا رايَةً إِلّا نَكَّسْتَها ، وَلا شُجاعاً إِلّا قَتَلْتَهُ ، وَلا جَيْشاً إِلّا خَذَلْتَهُ.

وَارْمِهِمْ يا رَبِّ بِحَجَرِكَ الدَّامِغِ ، وَاضْرِبْهُمْ بِسَيْفِكَ الْقاطِعِ ، وَبَأْسِكَ الَّذي لاتَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمينَ ، وَعَذِّبْ أَعْداءَكَ ، وَأَعْداءَ دينِكَ وَأَعْداءَ رَسُولِكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وآلِهِ ، بِيَدِ وَلِيِّكَ ، وَأَيْدي عِبادِكَ الْمُؤْمِنينَ

أَللَّهُمَّ اكْفِ وَلِيَّكَ وَحُجَّتَكَ في أَرْضِكَ هَوْلَ عَدُوِّهِ ، وَكَيْدَ مَنْ كادَهُ ، وامْكُرْ بِمَنْ مَكَرَ بِهِ ، وَاجْعَلْ دائِرَةَ السَّوْءِ عَلى مَنْ أَرادَ بِهِ سُوءاً ، وَاقْطَعْ عَنْهُ مادَّتَهُمْ ، وَأَرْعِبْ لَهُ قُلُوبَهُمْ ، وَزَلْزِلْ ] لَهُ[ أَقْدامَهُمْ.

وَخُذْهُمْ جَهْرَةً وَبغْتَةً ، وَشَدِّدْ عَلَيْهِمْ عَذابَكَ ، وَأَخْزِهِمْ في عِبادِكَ ، وَالْعَنْهُمْ في بِلادِكَ ، وَأَسْكِنْهُمْ أَسْفَلَ نارِكَ ، وَأَحِطْ بِهِمْ أَشَدَّ عَذابِكَ ، وَأَصْلِهِمْ ناراً ، وَاحْشُ قُبُورَ مَوْتاهُمْ ناراً ، وَأَصْلِهِمْ حَرَّ نارِكَ ، فَإِنَّهُمْ أَضاعُوا الصَّلوةَ ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَواتِ ، وَأَضَلُّوا عِبادَكَ.

أَللَّهُمَّ وَأَحْيِ بِوَلِيِّكَ الْقُرْآنَ ، وَأَرِنا نُورَهُ سَرْمَداً ، لا ظُلْمَةَ فيهِ ، وَأَحْيِ ]بِهِ [الْقُلُوبَ الْمَيِّتَةَ ، وَاشْفِ بِهِ الصُّدُورَ الْوَغِرَةَ ، وَاجْمَعْ بِهِ الْأَهْواءَ الْمُخْتَلِفَةَ عَلَى الْحَقِّ ، وَأَقِمْ بِهِ الْحُدُودَ الْمُعَطَّلَةَ ، وَالْأَحْكامَ الْمُهْمَلَةَ ، حَتَّى لايَبْقى حَقٌّ إِلّا ظَهَرَ ، وَلا عَدْلٌ إِلّا زَهَرَ.

وَاجْعَلْنا يا رَبِّ مِنْ أَعْوانِهِ وَمُقَوِّيَةِ سُلْطانِهِ وَالْمُؤْتَمِرينَ لِأَمْرِهِ ، وَالرَّاضينَ بِفِعْلِهِ ، وَالْمُسَلِّمينَ لِأَحْكامِهِ ، وَمِمَّنْ لا حاجَةَ بِهِ إِلَى التَّقِيَّةِ مِنْ خَلْقِكَ ، أَنْتَ يا رَبِّ الَّذي تَكْشِفُ الضُّرَّ ، وَتُجيبُ الْمُضْطَرَّ إِذا دَعاكَ ، وَتُنْجي مِنَ الْكَرْبِ الْعَظيمِ ، فَاكْشِفِ الضُّرَّ عَنْ وَلِيِّكَ ، وَاجْعَلْهُ خَليفَتَكَ في أَرْضِكَ كَما ضَمِنْتَ لَهُ.

أَللَّهُمَّ وَلاتَجْعَلْني مِنْ خُصَماءِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلامُ ، وَلاتَجْعَلْني مِنْ أَعْداءِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلامُ ، وَلاتَجْعَلْني مِنْ أَهْلِ الْحَنَقِ والْغَيْظِ عَلى آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلامُ ، فَإِنّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ذلِكَ فَأَعِذْني ، وَأَسْتَجيرُ بِكَ فَأَجِرْني.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَاجْعَلْني بِهِمْ فائِزاً عِنْدَكَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَمِنَ الْمُقَرَّبينَ ، آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ.(. جمال الاُسبوع : ۳۱۵ ، وفي مصباح المتهجّد : ۴۱۱ ، ومصباح الزائر : ۴۲۵ بتفاوت يسير .)

صاحب مکیال المکارم نے اس گفتار کو سید مرحوم سید بن طاؤوس سے نقل کیا ہے سزاوار ہے اگر جمعہ کے دن نماز عصر کی تعقیبات کے انجام دینے کے لئے کوئی غدر ہو تو خبردار اس دعا کو جمعہ کی نماز کے بعد ترک نہ کریں کیونکہ یہ نکتہ خدا کے فضل سے میرے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ یہ کلام دلالت کرتاہے یہ امر ہمارے مولیٰ حضرت صاحب الزمان کی طرف سے پہنچاہے۔

اور یہ بعید نہیں کہ سید بن طاؤوس کی کرامات سے ہو اور خدا نے ان کے بلند مراتب سے ہمیں فیض پہنچایا ہو۔

۶۔ زمان غیبت میں ایک اور دعا

سید بزرگوار علی بن طاؤوس مجمع الدعوات میں فرماتے ہیں کہ محمد بن احمد جعفی سے سند کے ساتھ روایت بیان کرتاہوں وہ حضرت مہدی کی غیبت کی حدیث کے ضمن میں ائمہ معصومین سے نقل کرتاہے میں نے عرض کیا کہ آپکے شیعہ اس زمانہ میں کس طرح رفتار کریں حضرت نے فرمایا تمہارے اور پر لازم ہے کہ دعا کریں اور فرج کا انتظار کریں چونکہ جلد از جلد تمہارے لئے اس کی نشانی آشکار ہوگئی جب وہ علامت آشکار ہو تو خدا کے لئے حمد و ثنا کر اور جو کچھ آشکار ہوا اس کو تھام لو ۔ میں نے عرض کیا کونسی دعا پڑھ لوں حضرت نے فرمایا کہ پڑھو:

أَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَرَّفْتَنی نَفْسَکَ، وَ عَرَّفْتَنی رَسُلَکَ، وَعَرَّفْتَنی مَلٰا ئِککَتَکَ وَعَرَّفْتَنی نَبِیَّکَ، وَعَرَّفْتَنی وَ لٰاةَ أَمْرِکَ أَللّٰهُمَّ لٰا آخِذَ إِلّٰا مٰا أَعْطَیْتَ، وَلٰا ویاقِیَ إِلّٰا مٰا وَقَیْتَ أَللّٰهُمَّ لٰا تُغَیِّبْنی عَنْ مَنٰازِلِ أَوْلِیٰائِکَ، وَلٰا تُزِغْ قَلْبی بَعْدَ إِذْ هَدَیْتَنی أَللّٰهُمَّ اهْدِنی لِوِلٰایَةِ مَنِ افْتَرَضْتَ طٰاعَتَهُ

۷ ۔ زمان غیبت میں مختصر دعا

شیخ کلینی ایک حدیث کے ضمن میں زرارہ سے اس نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا اس جوان کے لئے غیبت ضروری ہے میں نے کہا کیس لیئے غائب رہتاہے حضرت نے فرمایا قتل کے ڈر سے اور یہ وہ ہے کہ جس کے انتظار میں سارے لوگ زندگی گزاریں گے اور یہ وہ ہے کہ لوگ اس کی پیدائش میں متردد ہوں گے بعض کہیں گے کہ ابھی تک پیدا نہیں ہوا ہے بعض دوسرے کہیں گے اس کے باپ اس دنیا سے چلے گئے اس نے اپنے بعد کسی فرزند کو باقی نہیں رکھا۔ اور بعض کہیں گے کہ اپنے باپ کے مرنے سے دوسال پہلے پیدا ہوا زرارہ نے کہا میں نے عرض کیا اگر اس زمانہ کو درک کرلوں کونسی دعا پڑھ لوں حضرت نے فرمایا خدا کے لئے یہ دو اپڑھو۔

أَللّٰهُمَّ عَرِّفْنی نَفْسَکَ، فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْکَ أَللّٰهُمَّ عَرِّفْنی نَبِیَّکَ، فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنی نَبِیَّکَ لَمْ أَعْرِفْهُ (قَطُّ) أَللّٰهُمَّ عَرِّفْنی حُجَّتَکَ، فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دینی ۔

۸ ۔ زمان غیبت میں دعائے غریق

سید بزرگوار علی بن طاؤوس مھج الدعوات میں فرماتے ہیں عبداللہ بن سنان نے کہا کہ حضرت امام صادق نے فرمایا عنقریب ایک شبہہ تمہارے دامن گیر ہوگا اس موقع پر نہ علم ہے کہ جو راستے کی نشان دہی کرے اور نہ امام ہے کہ جو تمہاری ہدایت کرے اس دوران کوئی نجات حاصل نہیں کرے گا مگر یہ کہ دعائے غریق پڑھ لے میں نے عرض کیا کہ دعائے غریق کونسی ہے فرمایا کہ کہو

"یٰا اَللّٰهُ یٰا رَحْمٰانُ یٰا رَحیمُ، یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبی عَلیٰ دینِکَ "۔میں نے عرض کیا یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْأَبْصٰارِ، ثَبِّتْ قَلْبی عَلیٰ دینِکَ فرمایا: خداوند متعال مقلب القلوب والابصار ہے لیکن جیسا کہ میں نے پڑھا ویسا پڑھ لو یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبی عَلیٰ دینِکَ

سید فرماتے ہیں شاید اس لئے حضرت نے فرمایا نہ کہو والابصار ہوسکتاہے تقلب اور دگرگونی دل اور آنکھیں شدت خوف اور ہراس قیامت کے دن ہے لیکن غیبت کے زمانے میں صرف دل خوف کی وجہ سے دگرگونی ہوگا نہ کہ آنکھیں۔

۹ ۔ غیبت کے زمانے ایک اور دعا

سید جلیل القدر علی بن طاووس فرماتے ہیں کہ میں نے عالم خواب میں کسی کو دیکھا کہ ایک دعا مجھ کو یاد کرارہے تھے اچھا ہے کہ غیبت کے زمانے میں پڑھی جائے۔ اور وہ دعا یہ ہے

یٰا مَنْ فَضَّلَ آلَ اِبْرٰاهیمَ وَ آلَ إِسرٰائیلَ عَلَی الْعٰالَمینَ بِاخْتِیٰارِهِ وَأَظْهَرَ فی مَلَکُوتِ السَّمٰاوٰاتِ وَالْأَرْضِ عِزَّةَ اقْتِدٰارِهِ وَأَوْدَعَ مُحَمَّداً صَلَّی اللّٰه عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ أَهْلَ بَیْتِهِ غَرٰائِبَ أَسْرٰارِهِ (صَلَّی اللّٰه عَلَیْهِ وَ آلِهِ )، وَاجْعَلْنی مِنْ أَعْوٰانِ حُجَّتِکَ عَلیٰ عِبٰادِکَ وَأَنْصٰارِهِ ۔

۱۰ ۔ آخری زمانہ میں فتنہ سے نجات کے لئے دعا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ ، (يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ سبعاً).

أَللَّهُمَّ عُمَّ أَعْداءَ آلِ نَبِيِّكَ وَظالِميهِمْ وَأَعْداءَ شيعَتِهِمْ ، وَأَعْداءَ مَواليهِمْ بِالشَّرِّ عَمّاً ، وَطُمَّهُمْ بِالشَّرِّ طَمّاً ، وَاطْرُقْهُمْ بِلَيْلَةٍ لا اُخْتَ لَها ، وَساعَةٍ لامَنْجى مِنْها ، وَانْتَقِمْ مِنْهُمُ انْتِقاماً عاجِلاً ، وَأَحْرِقْ قُلُوبَهُمْ بِنارِ غَضَبِكَ.

أَللَّهُمَّ شَتِّتْ شَمْلَهُمْ ، وَفَرِّقْ جَمْعَهُمْ، وَقَلِّبْ تَدْبيرَهُمْ ، وَنَكِّسْ أَعْلامَهُمْ ، وَخَرِّبْ بُنْيانَهُمْ ، وَقَرِّبْ آجالَهُمْ ، وَأَلْقِ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، وَاجْعَلْنا مِنْ بَيْنِهِمْ سالِمينَ ، وَخُذْهُمْ أَخْذَ عَزيزٍ مُقْتَدِرٍ.

أَللَّهُمَّ أَلْقِ الْأَوْجاعَ وَالْأَسْقامَ في أَبْدانِهِمْ ، وَضَيِّقْ مَسالِكَهُمْ ، وَاسْلُبْهُمْ مَمالِكَهُمْ ، وَحَيِّرْهُمْ في سُبُلِهِمْ ، وَاقْطَعْ عَنْهُمُ الْمَدَدَ ، وَانْقُصْ مِنْهُمُ الْعَدَدَ.

أَللَّهُمَّ وَاحْفَظْ مَوالِيَ آلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ مِنْ شُرُورِهِمْ ، وَسَلِّمْهُمْ مِنْ مَكْرِهِمْ ، وَخَدْعِهِمْ وَضُرِّهِمْ ، وَانْصُرْهُمْ عَلَيْهِمْ بِنَصْرِكَ ، وَاجْمَعْ كَلِمَتَهُمْ ، وَأَلِّفْ جَمْعَهُمْ ، وَدَبِّرْ أَمْرَهُمْ ، وَعَرِّفْهُمْ ما يَجْهَلُونَ ، وَعَلِّمْهُمْ ما لايَعْلَمُونَ ، وَبَصِّرْهُمْ ما لايُبْصِرُونَ ، وَأَعْلِ كَلِمَتَهُمْ ، وَاجْعَلْهَا الْعُلْيا ، وَاجْعَلْ كَلِمَةَ الْأَعْداءِ السُّفْلى( سلاح المؤمنين : ۵۹ .)

۱۱ ۔ امام جواد کی دعا

دنیا سے ظلم اور ستم کو دور کرنے کے لئے اس دعا کو سید بن طاؤوس نے مھج الدعوات میں حضرت جواد الائمہ سے نقل کیا ہے

أَللَّهُمَّ إِنَّ ظُلْمَ عِبادِكَ قَدْ تَمَكَّنَ في بِلادِكَ حَتَّى أَماتَ الْعَدْلَ ، وَقَطَعَ السُّبُلَ ، وَمَحَقَ الْحَقَّ ، وَأَبْطَلَ الصِّدْقَ ، وَأَخْفَى الْبِرَّ ، وَأَظْهَرَ الشَّرَّ ، وَأَخْمَدَ التَّقْوى ، وَأَزالَ الْهُدى ، وَأَزاحَ الْخَيْرَ ، وَأَثْبَتَ الضَّيْرَ ، وَأَنْمَى الْفَسادَ ، وَقَوَّى الْعِنادَ ، وَبَسَطَ الْجَوْرَ ، وَعَدَى الطَّوْرَ.

أَللَّهُمَّ يا رَبِّ لايَكْشِفُ ذلِكَ إِلّا سُلْطانُكَ ، وَلا يُجيرُ مِنْهُ إِلّاَ امْتِنانُكَ.

أَللَّهُمَّ رَبِّ فَابْتُرِ الظُّلْمَ ، وَبُثَّ حِبالَ الْغَشْمِ ، وَأَخْمِدْ سُوقَ الْمُنْكَرِ ، وَأَعِزَّ مَنْ عَنْهُ يَنْزَجِرُ ، وَاحْصُدْ شافَةَ أَهْلِ الْجَوْرِ ، وَأَلْبِسْهُمُ الْحَوْرَ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ إِلَيْهِمُ الْبَياتَ ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمُ الْمُثَلاتِ ، وَأَمِتْ حَياةَ الْمُنْكَرِ لِيُؤْمَنَ الْمَخُوفُ ، وَيَسْكُنَ الْمَلْهُوفُ ، وَيَشْبَعَ الْجائِعُ ، وَيَحْفَظَ الضَّائِعُ ، وَيَأْوَى الطَّريدُ ، وَيَعُودَ الشَّريدُ ، وَيُغْنَى الْفَقيرُ ، وَيُجارَ الْمُسْتَجيرُ ، وَيُوَقَّرَ الْكَبيرُ ، وَيُرْحَمَ الصَّغيرُ ، وَيُعَزَّ الْمَظْلُومُ ، وَيُذَلَّ الظَّالِمُ ، وَيُفَرَّجَ الْمَغْمُومُ ، وَتَنْفَرِجَ الْغَمَّاءُ ، وَتَسْكُنَ الدَّهْماءُ ، وَيَمُوتَ الْإِخْتِلافُ ، وَيَعْلُوَ الْعِلْمُ ، وَيَشْمَلَ السِّلْمُ ، وَيُجْمَعَ الشَّتاتُ ، وَيَقْوَى الْإيمانُ ، وَيُتْلَى الْقُرْآنُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الدَّيَّانُ الْمُنْعِمُ الْمَنَّانُ.( مهج الدعوات : ۳۱۵ .)

۱۲ ۔ دجال کے شرّ سے حفاظت کی دعا

معاذ بن جبل کہتاہے کہ ایک دن پیغمبر خدا نے مجھے عبداللہ بن سلام کے پاس بھیجا تا کہ حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہوجائے حالانکہ اس وقت کچھ لوگ حضرت کے اطراف میں حلقہ کئے ہوئے تھے عبداللہ بن سلام داخل ہوا پیغمبر خدا اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے عبداللہ جس دن حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا خدا نے اس کو دس کلمات کلمے یاد کرادیے کیا وہ کلمات تورات میں موجود ہیں عبداللہ نے کہا اے پیغمبر خدا میرے ماں باپ تمہارے اوپر قربان ہوں کیا کوئی چیز اس کے بارے میں آپ پر نازل ہوئی ہے میں نے اس کے ثواب اور اجر کو تورات میں پڑھا ہے لیکن ان کلمات کو دریافت نہیں کرسکا اور وہ دس کلمات ہیں اس میں اسم اعظم موجود ہے مطلب رسول خدا نے فرمایا کیا خدا نے ان کلمات کو حضرت موسیٰ کو یاد کرایا ہے تو کہا کہ خداوند نے ان کلمات کو ابراہیم خلیل کے علاوہ کسی کو یاد نہیں کرایا ہے۔ رسول خدا نے فرمایا اے عبداللہ اس کا ثواب اجر تورات میں کیا ہے عبداللہ نے کہا اے رسول خدا کس کی ہمت ہے کہ اس کے ثواب اور اجر کو بیان کرے صرف یہ دیکھا ہے کہ تورات میں لکھا ہوا موجود ہے۔

کوئی بندہ نہیں ہے کہ خدا نے ان پر احسان کیا ہو اور ان کلمات کو اس کے دل میں رکھا ہو مگر یہ کہ اس کے آنکھوں میں نور اور اس کے دل میں یقین قرار دیتاہے اور اس کے سینہ کو ایمان قبول کرنے کے لئے کھول دیتاہے اس کے لئے ایک نور قرار دیتاہے کہ جہاں بیٹھا ہوا ہے وہاں سے عرش تک نور افشانی کرتاہے اس کی وجہ سے دن میں دو مرتبہ ملائیکہ پر فخر و مباہات کرتاہے حکمت کو اس کی زبان میں قرار دیتاہے اور حفظ قرآن اس کو عطا کرتاہے اگرچہ اس امر میں حریص نہ بھی ہو اس کو دین میں فقیہ اور عالم بنادیتاہے اور اس کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتاہے قبر کے عذات اور دجال کے فتنہ سے محفوظ ہوجاتاہے قیامت کے ہولناک خوف سے محفوظ ہوجاتاہے اس کو شہداء کی جماعت میں مبعوث کرتاہے خداوند تعالیٰ اس کو وہ عزت دیتاہے کہ جو عزت اپنے پیغمبروں کو عطا کرتاہے جس وقت لوگ کسی چیز سے ڈریں گے وہ نہیں ڈرے گا جب لوگ محزون ہونگے وہ غمگین نہیں ہوگا وہ کدا کی درگاہ میں صدیقین میں سے لکھا جائے گا اور قیامت کے دن آرام اور مطمئن دل کے ساتھ محشور ہوگا یہ ان میں سے ہے کہ جو حضرت ابراہیم کے ساتھ ہم مرتبہ ہوگا۔ وہ اس دعا کے ساتھ خدا سے جو چیز مانگے گا خدا اس کو دے دے گا اگر کدا کی قسم کھالے تو اس کی قسم کو اچھا قرار دیتاہے اور دارالجلال میں حضرت رحمان کا ہمسایہ ہوجاتاہے اور اس کیلئے ہر شہید جتنا ثواب ہے کہ جو اس دنیا کی پیدائش سے شہید ہوئے ہیں پیغمبر اکرم نے فرمایا اے ابن سلام دارالجلال کیا ہے کہا بہشت جاویدان ہے وہاں پر خدائے رحمان کا عرش ہے جو جوار خدا میں ہے ابن سلام نے عرض کیا اے رسول خدا ہمارے اوپر احسان کریں اور اس دعا کو ہمیں یاد کرادیں جیسا کہ خدا نے تم پر احسان کیا ہے حضرت پیغمبر نے فرمایا خدا کے لئے سجدہ کرو راوی کہتاہے تمام مراصی سب اور جو بھی وہاں حاضر تھے سب سجدہ میں گئے جب سجدہ سے سر اٹھایا تو پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ وہ دعا یہ ہے۔

يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ ، أَنْتَ الْمَرْهُوبُ مِنْكَ جَميعُ ] خَلْقِكَ[ ، يا نُورَ النُّورِ ، أَنْتَ الَّذِي احْتَجَبْتَ دُونَ خَلْقِكَ فَلاتُدْرِكُ نُورَكَ نُورٌ ، يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ ، أَنْتَ الرَّفيعُ الَّذِي ارْتَفَعْتَ فَوْقَ عَرْشِكَ مِنْ فَوْقِ سَمائِكَ ، فَلايَصِفُ عَظَمَتَكَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِكَ ، يا نُورَ النُّورِ قَدِ اسْتَنارَ بِنُورِكَ أَهْلُ سَمائِكَ ، وَاسْتَضاءَ بِضَوْئِكَ أَهْلُ أَرْضِكَ.

يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ ، أَنْتَ الَّذي لا إِلهَ غَيْرُكَ ، تَعالَيْتَ عَنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ شَريكٌ ، وَتَعَظَّمْتَ عَنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ وَلَدٌ ، وَتَكَرَّمْتَ عَنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ شَبيهٌ ، وَتَجَبَّرْتَ عَنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ ضِدٌّ ، فَأَنْتَ اللَّهُ الْمَحْمُودُ بِكُلِّ لِسانٍ ، وَأَنْتَ الْمَعْبُودُ في كُلِّ مَكانٍ ، وَأَنْتَ الْمَذْكُورُ في كُلِّ أَوانٍ وَزَمانٍ ، يا نُورَ النُّورِ ، كُلُّ نُورٍ خامِدٌ لِنُورِكَ ، يا مَليكَ كُلِّ مَليكٍ ، يَفْنى غَيْرُكَ يا دائِمُ ، كُلُّ حَيٍّ يَمُوتُ غَيْرُكَ.

يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ الرَّحْمانُ الرَّحيمُ ، اِرْحَمْني رَحْمَةً تُطْفِئُ بِها غَضَبَكَ ، وَتَكُفُّ بِها عَذابَكَ ، وَتَرْزُقُني بِها سَعادَةً مِنْ عِنْدِكَ ، وَتَحُلُّني بِها دارَكَ الَّتي تَسْكُنُها خِيَرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

يا مَنْ أَظْهَرَ الْجَميلَ ، وَسَتَرَ الْقَبيحَ ، يا مَنْ لَمْ يُؤاخِذْ بِالْجَريرَةِ ، وَلَمْ يَهْتِكِ السِّتْرَ ، يا عَظيمَ الْعَفْوِ ، يا حَسَنَ التَّجاوُزِ ، يا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ ، يا باسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ ، يا صاحِبَ كُلِّ نَجْوى ، وَيا مُنْتَهى كُلِّ شَكْوى ، يا كَريمَ الصَّفْحِ ، يا عَظيمَ الْمَنِّ ، يا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها ، يا رَبَّاهُ يا رَبَّاهُ ، وَيا سَيِّداهُ وَيا أَمَلاهُ ، وَيا غايَةَ رَغْبَتاهُ ، أَسْأَلُكَ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ أَنْ لاتُشَوِّهَ خَلْقي فِي النَّارِ.

عرض کیا اے رسول خدا ان کلمات کا ثواب کیا ہے

حضرت نے فرمایا ھیہات ھیہات قلم اس دعا کے ثواب کے لکھنے سے رکا ہوا ہے اگر سات آسمان اور زمین کے ملائکہ سب اکٹھے بیٹھ کر اس دعا کے ثواب کو قیامت تک بیان کریں تو ہزار جزء میں سے ایک جز کی توصیب نہیں کرسکے گے اس وقت حضرت نے اس دعا کے فضائل کو بیان کیا یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے اس لئے اسی مقدار پر اکتفا کرتاہوں۔

۱۳ ۔ دعائے فرج

شیخ کفعمی البلد الامین میں کہتاہے کہ یہ دعا ہمارے مولیٰ صاحب الزمان نے اس شخص کو تعلیم دی کہ جو قید خانہ میں بند تھا اور اس کو قید خانہ سے نجات ملی

إلهِی عَظُمَ الْبَلائُ، وَبَرِحَ الْخَفائُ، وَانْکَشَفَ الْغِطائُ، وَانْقَطَعَ الرَّجائُ ، وَضاقَتِ

میرے معبود! مصیبت بڑھ گئی ہے چھپی بات کھل گئی ہے پردہ فاش ہو گیا ہے امید ٹوٹ گئی ہے زمین تنگ

الْاَرْضُ وَمُنِعَتِ السَّمائُ، وَأَ نْتَ الْمُسْتَعانُ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ، وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی

ہوگئی ہے اور آسمان نے رکاوٹ ڈال دی ہے تو ہی مدد کرنے والا ہے اور تجھی سے شکایت ہو سکتی ہے اور تنگی وآسانی میں صرف تو ہی

الشِّدَّةِ وَالرَّخائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أُولِی الْأَمْرِ الَّذِینَ فَرَضْتَ

سہارا بن سکتا ہے اے معبود محمد(ص) و آل(ع) محمد(ع) پر رحمت نازل فرما جو صاحبان امر ہیں وہی ہیں جن کی اطاعت تو نے

عَلَیْنا طاعَتَهُمْ، وَعَرَّفْتَنا بِذَلِکَ مَنْزِلَتَهُمْ، فَفَرِّجْ عَنّا بِحَقِّهِمْ، فَرَجاً عاجِلاً قَرِیباً

ہم پر فرض کی ہے اور اس طرح ہمیں ان کے مرتبہ کی پہچان کرائی ہے پس ان کے صدقے میں ہمیں آسودگی عطا فرما جلد تر نزدیک

کَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ إکْفِیانِی فَ إنَّکُما کافِیانِ

تر گویا آنکھ جھپکنے کی مقدار یا اس سے بھی پہلے یامحمد(ص) یاعلی(ع) یاعلی(ع) یامحمد(ص) میری سرپرستی فرمائیے کہ آپ دونوں ہی کافی ہیں

وَانْصُرانِی فَ إنَّکُما ناصِرانِ یَا مَوْلانا یَا صاحِبَ الزَّمانِ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ،

میری مدد فرمائیے کہ آپ دونوں ہی میرے مددگا رہیں اے ہمارے آقا اے صاحب زمان (ع)فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں

أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی السَّاعَةَ السَّاعَةَ السّاعَةَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَا أَرْحَمَ

مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں اسی وقت اسی لمحے اسی گھڑی جلد تر جلد تر جلد تر اے سب سے زیادہ

الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ

رحم کرنے والے واسطہ ہے محمد(ص)(ص) کااور ان کی پاک آل(ع) کا۔

۱۴ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

(حضرت امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام ) کے حرم میں)

حضرت کے پاؤں کی طرف کھٹے ہوجاؤ اور کہو

أَللَّهمَّ عَظُمَ الْبَلاءُ ، وَبَرِحَ الْخَفاءُ ، وَانْكَشَفَ الْغِطاءُ ، وَضاقَتِ الْأَرْضُ ، وَمُنِعَتِ السَّماءُ ، وَأَنْتَ يا رَبِّ الْمُسْتَعانُ ، وَ إِلَيْكَ يا رَبِّ الْمُشْتَكى.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، اَلَّذينَ فَرَضْتَ طاعَتَهُمْ ، وَعَرَّفْتَنا بِذلِكَ مَنْزِلَتَهُمْ ، وَفَرِّجْ عَنَّا كَرْبَنا قَريباً كَلَمْحِ الْبَصَرِ ، أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ، يا أَبْصَرَ النَّاظِرينَ ، وَيا أَسْمَعَ السَّامِعينَ ، وَيا أَسْرَعَ الْحاسِبينَ ، وَيا أَحْكَمَ الْحاكِمينَ.

يا مُحَمَّدُ يا عَلِيُّ ، يا عَلِيُّ يا مُحَمَّدُ ، يا مُصْطَفى يا مُرْتَضى، يا مُرْتَضى يا مُصْطَفى ، اُنْصُراني فَإِنَّكُما ناصِرايَ ، وَاكْفِياني فَإِنَّكُما كافِيايَ ، يا صاحِبَ الزَّمانِ ، اَلْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ ، أَدْرِكْني أَدْرِكْني أَدْرِكْني

اس کلمہ کو ایک سانس کی مقدار تکرار کرو اس کے بعد اپنی حاجت کی درخواست کرو کہ خدا کے حکم سے وہ حاجت پوری ہوگی۔

۱۵ ۔ سجدہ شکر میں امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا

شیخ طوسی مصباح المتھجد میں فرماتے ہیں کہ سجدہ شکر کو انجام دو اس کے بعد اس دعا کو پڑھو کہ جس کو امام کاظم علیہ اسلام نے خط کے ضمن میں عبداللہ بن جندب کو لکھا اور فرمایا جس وقت سر کو سجدہ میں رکھوگے تو تین مرتبہ کہو

أَللَّهُمَّ إِنّي اُشْهِدُكَ ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ رَبّي ، وَالْإِسْلامُ ديني ، وَمُحَمَّدٌ نَبِيّي ، وَعَلِيٌّ وَلِيّي ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ وَعَلِيُّ بْنُ مُوسى وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَالْخَلَفُ الصَّالِحُ صَلَواتُكَ عَلَيْهِمْ أَئِمَّتي ، بِهِمْ أَتَوَلَّى ، وَمِنْ عَدُوِّهِمْ أَتَبَرَّءُ أَللَّهُمَّ إِنّي اُنْشِدُكَ دَمَ الْمَظْلُومِ.

وقل ثلاثاً : أَللَّهُمَّ إِنّي اُنْشِدُكَ بِوَأْيِكَ عَلى نَفْسِكَ لِأَوْلِيائِكَ ، لَتُظْهِرَنَّهُمْ عَلى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الْمُسْتَحْفَظينَ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ.

وتقول ثلاثاً : أَللَّهُمَّ إِنّي اُنْشِدُكَ بِإيوائِكَ عَلى نَفْسِكَ لِأَعْدائِكَ ، لَتُهْلِكَنَّهُمْ وَلَتُخْزِيَنَّهُمْ بَأَيْديهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنينَ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الْمُسْتَحْفَظينَ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ.

وتقول ثلاثاً : أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الْيُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ.( مصباح المتهجّد : ۲۳۸ .)

۱۶ ۔ چھینک کے وقت دعا

جنات الخلود میں ذکر کیا ہے مستھب ہے کہ چھینک کے وقت شہادت کی انگلی کو ناک کے قریب رکھے اور جس دعا کو امام زمان نے پڑھا اس دعا کو پڑھے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعیالَمینَ، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ عَبْداً ذٰاکِراً لِلّٰهِ، غَیْرَ مُسْتِنْکِفٍ وَلٰا مُسْتَکْبِرٍ ۔

۱۷ ۔ مخصوص وقت میں سفر کی دعا

سید بزرگوار علی بن طاؤوس کتاب الاسرار المودعة فی ساعات الیل و النھار میں بیان فرماایاہے ہر مخصوص دن میں ایک وقت ائمہ طاہرین میں سے کسی ایک نام کے ساتھ مخصوص ہے اس کے لئے دو قسم کی دعائیں نقل ہوئی ہیں جس نے ان میں ایک میرے جد ابوجعفر کے خط سے اور دوسری کو اس خط سے کہ جو ابن مُقلہ سے منسوب ہے ان کو نقل کیا ہے واضح ہے کہ روایات کے تقاضا کے مطابق ہر ایک بزرگوں کے ساتھ ایک وقت مخصوص ہے۔ شیخ کفعمی نے ہر دن کو بارہ گھڑیوں میں تقسیم کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک گھڑی کو بارہ اماموں میں سے ایک کی طرف نسبت دی ہے اور پھر ہر گھڑی کے لئے ایک دعا جو اس امام کے توسل پر مشتل ہے بتائی ہے۔

مصباح میں فرمایا ہے کہ پہلی گھڑی صبح صادق سے لیکر سورج نکلنے تک امیرالمومنین علی بن ابی طالب کی طرف منسوب ہے دوسری گھڑی سورج نکلنے کے بعد سرخی دور ہونے تک امام حسن کی طرف منسوب ہے تیسری گھڑی شعاعوں کے پھیلنے سے لے کر تھوڑا سورج بلند ہونے تک امام حسین کی طرف منسوب ہے چوتھی گھڑی دن کے بلند ہونے سے لیکدر دن کے ڈھلنے تکا امام زین العابدین علی بن الحسین کی طرف منسوب ہے پانچویں گھڑی دن کے ڈھلنے سے لے کر چار رکعت نماز کے ادا کرنے کی مقدار تک امام محمد باقر کی طرف منسوب ہے چھٹی گھڑی چار رکعت نماز ادا کرنے کی مقدار کے بعد سے لیکر ظہر کی نماز پڑھنے تک امام جعفر صادق کی طرف منسوب ہے ساتویں گھڑی ظہر کے بعد چار رکعت کی مقدار پہلے تک امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف منسوب ہے آٹھویں گھڑی ظہر کے بعد چار رکعت کی مقدار سے لے کر عصر کی نماز تک امام رضا علیہ السلام کی طرف منسوب ہے نویں گھڑی عصر کی نماز سے لیکر دو گھڑی بعد تک امام محمد تقی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے دسویں گھڑی عصر کی نماز کے بعد دو گھڑیوں کے بعد سے لے کر سورج کی زردی مائل ہونے سے پہلے تک امام علی نقی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے گیارہویں گھڑی سورج کے زردی مائل ہونے سے پہلے سے لے کر زردی مائل ہونے تک امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف منسوب ہے بارہویں گھڑی سورج کے زردی مائل ہونے سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک امام صاحب العصر کی طرف منسوب ہے ان تمام اوقات میں مخصوص دعائیں ہر ایک اہلبیت سے پڑھتے ہیں اس وقت میں فرق نہیں پڑھتاہے گرمی کے اوقات ہوں کہ مکمل بارہ گھنٹے ہوتے ہیں یا سردی کے اوقات ہوں کے دن چھوٹے ہوتے ہیں چونکہ ہر روز کی مقدار جس مقدار میں بھی ہو بارہ گھنٹوں میں تقسیم ہوگا یہ بھی روایات سے استفادہ ہوتاہے۔ اس بناء پر جس زمانے میں سفر کرنا چاہیے اور تمہاری اس سفر اماموں میں سے کسی ایک کے ساتھ اچانک ملاقات ہو وہ امام جو کہ بشریت کے حامی ہیں خداوند نے ان کو ہلاکت سے نجات کا سبب قرار دیا ہے اس دعا کوپڑھ لیں

أَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلٰانٰا فُلٰاناً صَلَویاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ إِنَّنی اُسَلَّمُ عَلَیْهِ، وَإِنَّنی أَتَوَجَّهُ إِلَیْهِ بإِقْبیالِکَ عَلَیْهِ، فی أَن یَکُونَ خَفیارَتی وَحِمٰایَتی وَسَلٰامَتی وَکَمٰالُ سَعٰادَتی ضِمٰانَهٰا بِکَ عَلَیْهِ، هَیْثُ قَدْ تَوَجَّهْتُ فِی السّٰاعَةِ الَّتی جَعَلْتَهُ کَالْخَفیر فیهٰا وَحَدیثَهٰا فی ذٰالِکَ إِلَیْهِ

سید بزرگوار علی بن طاؤوس نے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ہے: بدیھی ہے پورے سفر میں ہر وقت کہ جو وقت مخصوص ہے اماموں کے ساتھ جس منزل میں بھی اتریں یا جس جگہ سے کوچ کریں جو وقت امام کے ساتھ مخصوص ہے سلام کریں تا کہ اس کے نزدیک مقرب ہوجائیں اور اس سے خطاب کریں تا کہ ان اوقات میں اس کی ضمانت میں ہو اگر خداوند اس کے علاوہ چاہتا تو ہمیں ان دعاؤں کی طرف رہنمائی نہ کرتا اس بناء پر خدا تمہاری ہدایت کرے اور ان کے حکم کے مطابق عمل کریں تو تمہاری تمام حرکات اور سکنات اس سفر میں عبادت شمار ہونگی اور آخرت میں تمہارے لئے باعث سعادت ہونگی۔

۱۸ ۔ مخصوص وقت میں ایک اور دعا

بارہواں وقت کے لئے دن کے اوقات میں سے یہ دعا نقل ہوئی ہے۔

يا مَنْ تَوَّحَدَ بِنَفْسِهِ عَنْ خَلْقِهِ ، يا مَنْ غَنِيَ عَنْ خَلْقِهِ بِصُنْعِهِ ، يا مَنْ عَرَّفَ نَفْسَهُ خَلْقَهُ بِلُطْفِهِ ، يا مَنْ سَلَكَ بِأَهْلِ طاعَتِهِ مَرْضاتَهُ ، يا مَنْ أَعانَ أَهْلَ مَحَبَّتِهِ عَلى شُكْرِهِ ، يا مَنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِدينِهِ ، وَلَطُفَ لَهُمْ بِنائِلِهِ.

أَسْأَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ الْخَلَفِ الصَّالِحِ ، بَقِيَّتِكَ في أَرْضِكَ ، اَلْمُنْتَقِمِ لَكَ مِنْ أَعْدائِكَ ، وَأَعْداءِ رَسُولِكَ ، بَقِيَّةِ آبائِهِ الصَّالِحينَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، وَأَتَضَرَّعُ إِلَيْكَ بِهِ ، وَاُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيْ حَوائِجي وَرَغْبَتي إِلَيْكَ.

أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تَفْعَلَ بي كَذا وَكَذا ، وَأَنْ تُدارِكَني بِهِ ، وَتُنْجِيَني مِمَّا أَخافُهُ وَأَحْذَرُهُ ، وَأَلْبِسْني بِهِ عافِيَتَكَ وَعَفْوَكَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ.

وَكُنْ لَهُ وَلِيّاً وَحافِظاً ، وَناصِراً وَقائِداً ، وَكالِئاً وَساتِراً ، حَتَّى تُسْكِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً ، وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلاً ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ ، فسَيَكْفيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، اَلَّذينَ أَمَرْتَ بِطاعَتِهِمْ ، وَاُولِي الْأَرْحامِ الَّذينَ أَمَرْتَ بِصِلَتِهِمْ ، وَذَوِى الْقُرْبَى الَّذينَ أَمَرْتَ بِمَوَدَّتِهِمْ ، وَالْمَوالِيَ الَّذينَ أَمَرْتَ بِعِرْفانِ حَقِّهِمْ ، وَأَهْلِ الْبَيْتِ الَّذينَ أَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهيراً.

أَسْأَلُكَ بِهِمْ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تَغْفِرَ ذُنُوبي كُلَّها يا غَفَّارُ ، وَتَتُوبَ عَلَيَّ يا تَوَّابُ ، وَتَرْحَمَني يا رَحيمُ ، يا مَنْ لايَتَعاظَمُهُ ذَنْبٌ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.(البلد الأمين : ۲۱۱ ، المصباح : ۱۹۳ ، منهاج العارفين : ۱۲۷ ، وفي مصباح المتهجّد : ۵۱۷ ، والبحار : ۳۵۴/۸۶ بتفاوت .)

۱۹ ۔ حضرت کے ساتھ مخصوص وقت میں تیسری دعا

أَللَّهُمَّ يا خالِقَ السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ ، وَالْمِهادِ الْمَوْضُوعِ ، وَرازِقَ الْعاصي وَالْمُطيعِ ، اَلَّذي لَيْسَ لَهُ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلا شَفيعٌ.

أَسْأَلُكَ بَأَسْمائِكَ الَّتي إِذا سُمِّيَتْ عَلى طَوارِقِ الْعُسْرِ عادَتْ يُسْراً ، وَإِذا وُضِعَتْ عَلَى الْجِبالِ كانَتْ هَباءً مَنْثُوراً ، وَإِذا رُفِعَتْ إِلَى السَّماءِ تَفَتَّحَتْ لَهَا الْمَغالِقُ ، وَإِذا هُبِطَتْ إِلى ظُلُماتِ الْأَرْضِ اتَّسَعَتْ لَهَا الْمَضائِقُ.

وَإِذا دُعِيَتْ بِهَا الْمَوْتَى انْتَشَرَتْ مِنَ اللُّحُودِ ، وَإِذا نُودِيَتْ بِهَا الْمَعْدُوماتُ خَرَجَتْ إِلَى الْوُجُودِ ، وَإِذا ذُكِرَتْ عَلَى الْقُلُوبِ وَجِلَتْ خُشُوعاً ، وَإِذا قُرِعَتِ الْأَسْماعُ فاضَتِ الْعُيُونُ دُمُوعاً.

أَسْأَلُكَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولِكَ الْمُؤَيَّدِ بِالْمُعْجِزاتِ ، اَلْمَبْعُوثِ بِمُحْكَمِ الْاياتِ ، وَبِأَميرِالْمُؤْمِنينَ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ ، اَلَّذِي اخْتَرْتَهُ لِمُؤاخاتِهِ وَوَصِيَّتِهِ ، وَاصْطَفَيْتَهُ لِمُصافاتِهِ وَمُصاهَرَتِهِ.

وَبِصاحِبِ الزَّمانِ الْمَهْدِيِّ ، اَلَّذي تَجْمَعُ عَلى طاعَتِهِ الْآراءَ الْمُتَفَرِّقَةَ ، وَتُؤَلِّفُ بِهِ بَيْنَ الْأَهْواءِ الْمُخْتَلِفَةِ ، وَتَسْتَخْلِصُ بِهِ حُقُوقَ أَوْلِيائِكَ ، وَتَنْتَقِمُ بِهِ مِنْ شَرِّ أَعْدائِكَ ، وَتَمْلَأُ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلاً وَإِحْساناً ، وَتُوَسِّعُ عَلَى الْعِبادِ بِظُهُورِهِ فَضْلاً وَامْتِناناً ، وَتُعيدُ الْحَقَّ إِلى مَكانِهِ عَزيزاً حَميداً ، وَتُرْجِعُ الدّينَ عَلى يَدَيْهِ غَضّاً جَديداً.

أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، فَقَدِ اسْتَشْفَعْتُ بِهِمْ إِلَيْكَ ، وَقَدَّمْتُهُمْ أَمامي وَبَيْنَ يَدَيْ حَوائِجي ، وَأَنْ تُوزِعَني شُكْرَ نِعْمَتِكَ ، فِي التَّوْفيقِ لِمَعْرِفَتِهِ ، وَالْهِدايَةِ إِلى طاعَتِهِ ، وَتَزيدَني قُوَّةً فِي التَّمَسُّكِ بِعِصْمَتِهِ وَالْإِقْتِداءِ بِسُنَّتِهِ ، وَالْكَوْنِ في زُمْرَتِهِ ، إِنَّكَ سَميعُ الدُّعاءِ ، بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

علامہ خوجوی نے الذی تجمع علی طاعتة الا راء المتفرقہ اس عبارت کی شرح میں یعنی صاحب الزمان وہ ہے کہ تمام مختلف نظریات اور آراء کو جمع کرکے فرماتے ہیں۔

یہ عبارت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے حضرت امام زمانہ کی حکومت کے ظہور میں مختلف آراء نہیں ہونگی بلکہ سب لوگ متفق اور حضرت کی اطاعت میں ہوں گے وہ رئیس ہے کہ سب کے سب اس کی اطاعت کریں گے اس مبارک دن میں تمام لوگوں کو ان کے حقوق ملیں گے خمس اپنے محل میں خرچ ہوگا اسی طرح زکات اور باقی احکام الٰہی اپنے محل میں خرچ ہوں گے اور حقوق کے مطابق عمل ہوگا اس روز فدک کہ جو ناحق غصب ہوا ہے حقداروں کو واپس ہوگا خداوند تعالیٰ اس روز اپنے دوستوں کا انتقام ان کے دشمنوں سے لے گا جو زندہ ہیں چاہے وہ دوست زندہ ہوں یا مردہ ہوں چنانچہ بہت زیادہ روایات اس بارے میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک روایت میں نقل ہوئی ہے کہ حضرت مہدی کے قیام کے زمانے میں کہ خداوند تعالیٰ اپنے دوستداروں اور شیعوں میں سے ایک جماعت جو خالص مومن ہیں ان کو زندہ کرے گا اور ان کو دوبارہ اس دنیا کی طرف واپس لے آئے گا تا کہ حضرت کی مدد کا ثواب ان کو ملے اور اس کی حکومت ظاہر ہونے سے خوش حال ہوجائیں اسی طرح ایک کافر جماعت کو بھی اس دنیا میں لے آئے گا تاکہ ان سے انتقام لے اور جو عذاب کے سزاوار ہیں وہ انہیں عذاب ملے یا ذلت کے ساتھ شیعوں کے ہاتھوں سے مارے جائیں اور حضرت کی عظمت کو دیکھیں اس زمانے میں عدل انصاف زمین کے مشرق اور مغرب میں منتشر ہوگا چنانچہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں عدل اور احسان کا حکم فرمایا ہے۔ اور اللہ کے بندے بہت بڑی رزق اور نعمت میں زندگی گزاریں گے ان کی دنیوی اور اخروی زندگی تک ہوگی اس روز سب کے حقوق ادا ہونگے اسلام جو کہ ختم ہوچکا تھا دوبارہ لوٹ آئے گا اور تجدید ہوگی اور لوگ نئے اسلام کو قبول کرکے جدید اسلام لے آئیں گے اے خدایا امام زمانہ کے ظہور میں تعجیل فرما حضرت کے قیام اور خروج کو آسان فرما ہمیں ان کی حکومت کے سایہ میں زندگی گزارنے اور اُن سے ملاقات نصیب فرما۔

امام سے متعلق دعائیں

۲۰ ۔ امام زمانہ پر درود

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى وَلِيِّكَ وَابْنِ أَوْلِيائِكَ ، اَلَّذينَ فَرَضْتَ طاعَتَهُمْ ، وَأَوْجَبْتَ حَقَّهُمْ ، وَأَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ ، وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهيراً أَللَّهُمَّ انْتَصِرْ بِهِ لِدينِكَ ، وَانْصُرْ بِهِ أَوْلِيائَكَ وَأَوْلِياءَهُ وَشيعَتَهُ وَأَنْصارَهُ ، وَاجْعَلْنا مِنْهُمْ.

أَللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ كُلِّ باغٍ وَطاغٍ ، وَمِنْ شَرِّ جَميعِ خَلْقِكَ ، وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ ، وَاحْرُسْهُ وَامْنَعْهُ أَنْ يُوصَلَ إِلَيْهِ بِسُوءٍ ، وَاحْفَظْ فيهِ رَسُولَكَ وَآلَ رَسُولِكَ.

وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ ، وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ ، وَانْصُرْ ناصِريهِ ، وَاخْذُلْ خاذِليهِ ، وَاقْصِمْ بِهِ جَبابِرَةَ الْكَفَرَةِ ، وَاقْتُلْ بِهِ الْكُفَّارَ وَالْمُنافِقينَ وَجَميعَ الْمُلْحِدينَ حَيْثُ كانُوا مِنْ مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها ، وَبَرِّها وَبَحْرِها ، وَامْلَأْ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلاً ، وَأَظْهِرْ بِهِ دينَ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ السَّلامُ ، وَاجْعَلْنِي اللَّهُمَّ مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ ، وَأَتْباعِهِ وَشيعَتِهِ ، وَأَرِني في آلِ مُحَمَّدٍ ما يَأْمُلُونَ ، وَفي عَدُوِّهِمْ ما يَحْذَرُونَ ، إِلهَ الْحَقِّ آمينَ.( مصباح المتهجّد : ۴۰۵ .)

۲۱ ۔ نماز کے آغاز میں امام زمانہ کی دعا

حمیری نے خط لکھتے ہوئے امام کی خدمت میں حضرت سے خط کے ذریعے سے سوال کیا کیا نماز کے شروع میں علی ملّة ابراہیم و دین محمد جائز ہے؟ چونکہ ہمارے بعض اصحاب کہتے ہیں اگر کوئی نماز کے شروع میں کہے علی دین محمد اس نے دین میں بدعت ایجاد کی ہے کتابوں جو نماز کے بارے میں ہے کوئی چیز اس کے بارے میں ہمیں نہیں ملی صرف ایک حدیث کتاب قاسم بن محمد اپنے جد حسن بن راشد سے نقل ہوئی ہے حسن بن راشد کہتاہے کہ امام صادق نے فرمایا: کہ نماز کا آغاز کس طرح کرتے ہو میں نے عرض کیا میں کہتاہوں لبیّک وسعدیک حضرت امام صادق نے فرمایا میرا مقصد یہ نہیں تھا میں پوچھتاہوں کہ نماز کے آغاز میں کیا کہتے ہووجهت وجهی للذی فطر السمٰوات والارض حنیفا مسلماً میں اس کی طرف متوجہ ہوا کہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا حالانکہ خدا پرست اور مسلمان ہوں حضرت صادق نے فرمایا جب بھی یہ دعا پڑھو لیں اس کے بعد کہوعلی ملة ابراهیم و دین محمد و منهاج علی بن ابی طالب والایتام بآل محمد حنیفا مسلماً و ما انا من المشرکین ابراہیم کے مذہب پر پر اور محمد کے دین پر اور علی بن ابی طالب کے راستے پر ہوں اور آل محمد کا پیرو ہوں حالانکہ خدا پرست ہوں اور مسلمان ہوں اور مشرکین سے نہیں ہوں۔

حضرت امام زمانہ نے جواب میں فرمایا نماز کے آغاز میں دعا کا پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب موکد ہے اس جھت سے کہ اجماع کے مانند ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور نماز کے آغاز میں یوں لکھو

أَللّٰهُمَّ وَجْهِیَ لِلَّذی فَطَرَ السَّمیاوٰتِ وَالْأَرْض حَنیفاً مُسْلِماً عَلیٰ مَلَّةِ إِبْرٰاهیمَ وَدینِ مُحَمَّدٍ وَهُدیٰ أَمیرِ الْمُوٴْمِنینَ وَمٰا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکینَ، إِنَّ صَلٰاتی وَنُسُکی وَمَحْیٰایَ وَمَمٰاتی لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمینَ، لٰا شَریکَ لَهُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسلِمینَ أَللّٰهُمَّ اجْعَلْنی مِنَ الْمُسْلِمینَ، أَعوذُ بِاللّٰهِ السَّمیعِ الْعَلیمِ مِنَ الشَّیْطٰانِ الرَّجیمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ اس کے بعد حمد پڑھیں۔

۲۲ ۔ صاحب الزمان کی دعا

إِلهي بِحَقِّ مَنْ ناجاكَ ، وَبِحَقِّ مَنْ دَعاكَ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، تَفَضَّلْ عَلى فُقَراءِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْغِناءِ وَالثَّرْوَةِ ، وَعَلى مَرْضَى الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالشِّفاءِ وَالصِّحَّةِ ، وَعَلى أَحْياءِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللُّطْفِ وَالْكَرَمِ ، وَعَلى أَمْواتِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ ، وَعَلى غُرَباءِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالرَّدِّ إِلى أَوْطانِهِمْ سالِمينَ غانِمينَ ، بِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعينَ.( مهج الدعوات : ۳۵۲ .)

۲۳ ۔ دعائی سہم اللّیل

یہ دعا صاحب الزمان سے روایت ہوئی ہے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِعَزيزِ تَعْزيزِ اعْتِزازِ عِزَّتِكَ ، بِطَوْلِ حَوْلِ شَديدِ قُوَّتِكَ ، بِقُدْرَةِ مِقْدارِ اقْتِدارِ قُدْرَتِكَ ، بِتَأْكيدِ تَحْميدِ تَمْجيدِ عَظَمَتِكَ ، بِسُمُوِّ نُمُوِّ عُلُوِّ رَفْعَتِكَ ، بِدَيْمُومِ قَيُّومِ دَوامِ مُدَّتِكَ ، بِرِضْوانِ غُفْرانِ أَمانِ رَحْمَتِكَ ، بِرَفيعِ بَديعِ مَنيعِ سَلْطَنَتِكَ ، بِسُعاةِ صَلاةِ بِساطِ رَحْمَتِكَ.

بِحَقائِقِ الْحَقِّ مِنْ حَقِّ حَقِّكَ ، بِمَكْنُونِ السِّرِّ مِنْ سِرِّ سِرِّكَ ، بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عِزِّ عِزِّكَ ، بِحَنينِ أَنينِ تَسْكينِ الْمُريدينَ ، بِحَرَقاتِ خَضَعاتِ زَفَراتِ الْخائِفينَ ، بِآمالِ أَعْمالِ أَقْوالِ الْمُجْتَهِدينَ ، بِتَخَشُّعِ تَخَضُّعِ تَقَطُّعِ مَراراتِ الصَّابِرينَ ، بِتَعَبُّدِ تَهَجُّدِ تَمَجُّدِ تَجَلُّدِ الْعابِدينَ.

أَللَّهُمَّ ذَهَلَتِ الْعُقُولُ ، وَانْحَسَرَتِ الْأَبْصارُ ، وَضاعَتِ الْأَفْهامُ ، وَحارَتِ الْأَوْهامُ ، وَقَصُرَتِ الْخَواطِرُ ، وَبَعُدَتِ الظُّنُونُ عَنْ إِدْراكِ كُنْهِ كَيْفيَّةِ ما ظَهَرَ مِنْ بَوادي عَجائِبِ أَصْنافِ بَدائِعِ قُدْرَتِكَ ، دُونَ الْبُلُوغِ إِلى مَعْرِفَةِ تَلَأْ لُؤِ لَمَعانِ بُرُوقِ سَمائِكَ.

أَللَّهُمَّ مُحَرِّكَ الْحَرَكاتِ ، وَمُبْدِئَ نِهايَةِ الْغاياتِ ، وَمُخْرِجَ يَنابيعِ تَفْريعِ قُضْبانِ النَّباتِ ، يَا مَنْ شَقَّ صُمَّ جَلاميدِ الصُّخُورِ الرَّاسِياتِ ، وَأَنْبَعَ مِنْها ماءً مَعيناً حَياةً لِلْمَخْلُوقاتِ ، فَأَحْيى مِنْهَا الْحَيَوانَ وَالنَّباتَ ، وَعَلِمَ مَا اخْتَلَجَ في سِرِّ أَفْكارِهِمْ مِنْ نُطْقِ إِشاراتِ خَفِيَّاتِ لُغاتِ النَّمْلِ السَّارِحاتِ.

يا مَنْ سَبَّحَتْ وَهَلَّلَتْ وَقَدَّسَتْ وَكَبَّرَتْ وَسَجَدَتْ لِجَلالِ جَمالِ أَقْوالِ عَظيمِ عِزَّةِ جَبَرُوتِ مَلَكُوتِ سَلْطَنَتِهِ مَلائِكَةُ السَّبْعِ السَّماواتِ.

يا مَنْ دارَتْ فَأَضاءَتْ وَأَنارَتْ لِدَوامِ دَيْمُومِيَّتِهِ النُّجُومُ الزَّاهِراتُ ، وَأَحْصى عَدَدَ الْأَحْياءِ وَالْأَمْواتِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ خَيْرِ الْبَرِيَّاتِ ، وَافْعَلْ بي كَذا وَكَذا، واذكر حاجتك.( المصباح : ۳۵۴ ، البلد الأمين : ۴۷۹ .)

۲۴ ۔ امام زمانہ کی ایک اور دعا

یہ دعا شریف حضرت صاحب الزمان سے روایت کی گئی ہے

اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنا تَوْفِیقَ الطّاعَةِ، وَبُعْدَ الْمَعْصِیَةِ، وَصِدْقَ النِّیَّةِ، وَعِرْفانَ الْحُرْمَةِ،

اے معبود توفیق دے ہمیں اطاعت کرنے، نافرمانی سے دور رہنے، نیت صاف رکھنے اور حرمتوں کو پہچاننے کی

وَأَکْرِمْنا بِالْهُدی وَالاسْتِقامَةِ، وَسَدِّدْ أَ لْسِنَتَنا بِالصَّوابِ وَالْحِکْمَةِ، وَامْلاََْ قُلُوبَنا

اور ہمیں راہ راست اور ثابت قدمی سے سرفراز فرما اور ہماری زبانوں کو خوبی و دانائی سے بولنے کی توفیق دے ہمارے دلوں

بِالْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ، وَطَهِّرْ بُطُونَنا مِنَ الْحَرامِ وَالشُّبْهَةِ، وَاکْفُفْ أَیْدِیَنا عَنِ الظُّلْمِ

کو علم و معرفت سے بھر دے اور ہمارے شکموں کو حرام اور مشکوک غذا سے پاک رکھ ہمارے ہاتھوں کو ستم

وَالسَّرِقَةِ، وَاغْضُضْ أَبْصارَنا عَنِ الْفُجُورِ وَالْخِیانَةِ، وَاسْدُدْ أَسْماعَنا عَنِ اللَّغْوِ

اور چوری کرنے سے بچائے رکھ اور ہماری آنکھوں کو بدی اور خیانت سے باز رکھ اور ہمارے کانوں کو چغلی اور بے فائدہ باتیں

وَالْغِیبَةِ وَتَفَضَّلْ عَلی عُلَمائِنا بِالزُّهْدِ وَالنَّصِیحَةِ وَعَلَی الْمُتَعَلِّمِینَ بِالْجُهْدِ وَالرَّغْبَةِ

سننے سے محفوظ فرما ہمارے علمائے دین پر زہد ونصیحت کی ارزانی فرما اور ہمارے طالب علموں کو محنت اور رغبت عطا کر

وَعَلَی الْمُسْتَمِعِینَ بِالاتِّباعِ وَالْمَوْعِظَةِ وَعَلی مَرْضَی الْمُسْلِمِینَ بِالشِّفائِ وَالرَّاحَةِ

وعظ سننے والوں کو نصیحت حاصل کرتے اور پیروی کرنے کی توفیق دے اور بیمار مسلمانوں کو شفایاب فرما

وَعَلی مَوْتاهُمْ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَعَلی مَشائِخِنا بِالْوَقارِ وَالسَّکِینَةِ وَعَلَی الشَّبابِ

اور آرام دے ان کے مرحومین پر مہربانی فرما ہمارے بوڑھوں کو وقار اور سکون عطا کر اور ہمارے جوانوں کو

بِالْاِنابَةِ وَالتَّوْبَةِ وَعَلَی النِّسائِ بِالْحَیائِ وَالْعِفَّةِ وَعَلَی الْاَغْنِیائِ بِالتَّواضُعِ وَالسَّعَةِ

توبہ و استغفار کی توفیق دے اور عورتوں کو حیا اور پاکدامنی عنایت فرما ہمارے تونگروں کی فروتنی اور سخاوت عطا کر دے

وَعَلَی الْفُقَرائِ بِالصَّبْرِ وَالْقَناعَةِ، وَعَلَی الْغُزاةِ بِالنَّصْرِ وَالْغَلَبَةِ، وَعَلَی الاَُْسَرَائِ

اور مفلسوں کو صبر و قناعت بخش دے غازیوں کو مدد اور غلبہ دے قیدیوں کو

بِالْخَلاصِ وَالرَّاحَةِ، وَعَلَی الاَُْمَرائِ بِالْعَدْلِ وَالشَّفَقَةِ ، وَعَلَی الرَّعِیَّةِ بِالْاِنْصافِ

رہائی اور آرام دے حاکموں کو انصاف اور نرمی کی توفیق دے اور عوام کو حق شناسی اور نیک کردار بنا دے

وَحُسْنِ السِّیرَةِ، وَبارِکْ لِلْحُجَّاجِ وَالزُّوَّارِ فِی الزَّادِ وَالنَّفَقَةِ، وَاقْضِ ما أَوْجَبْتَ

حاجیوں اور زائروں کے زاد راہ اور خرچ میں برکت دے اور ان پر جو حج اور عمرہ تو نے

عَلَیْهِمْ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

واجب کیا ہے وہ اچھی طرح ادا کر دے اپنے فضل سے اور اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

۲۵ ۔ یانور النّور کی دعا

جو امام زمانہ سے مروی ہے

يا نُورَ النُّورِ ، يا مُدَبِّرَ الْاُمُورِ ، يا باعِثَ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَاجْعَلْ لي وَلِشيعَتي مِنَ الضّيقِ فَرَجاً ، وَمِنَ الْهَمِّ مَخْرَجاً ، وَأَوْسِعْ لَنَا الْمَنْهَجَ ، وَأَطْلِقْ لَنا مِنْ عِنْدِكَ ما يُفَرِّجُ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ يا كَريمُ (المصباح : ۴۰۷ ، جنّات الخلود : ۴۱ ، ضياء الصالحين : ۵۳۳ ، الجُنّة الواقية والجَنّة الباقية (مخطوط) : ۵۹)

روایت ہے کہ جو بھی اس دعا کو اختیار کرے یعنی اس کو اپنا دعا قرار دے اور پڑھے تو اس کا حشر صاحب العصر کے ساتھ ہوگا۔

حاجت روائی کیلئے دعا

تحفة الرضویہ میں مرحوم علامہ سید حسن فرزند مرحوم آیة اللہ سید علی آقا شیرازی سے منقول ہے کہ یہ دعا حضرت حجت سے وارد ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ اس دعا کو نماز یومیہ کے بعد اور اسی موقع پر اپنی حاجت روائی کے لئے پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے

یٰا مَنْ إِذٰا تَضٰایَقَتِ الْاُمُورُ فَتَحَ لَیٰا بٰاباً لَمْ تَذْهَبْ إِلَیْهِ الْأَوْهٰامُ، صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَافْتَحْ لِاُمُورِی الْمُتَضٰایِقَةِ بٰا باً لَمْ یَذْهَبْ إِلَیْهِ وَهْمٌ یٰا أَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ

۲۷ ۔ امام زمانہ کی ایک مہم دعا ھاجت آوری کے لئے

الکلم الطیب میں لکھتے ہیں یہ عظیم الشان دعا ہے کہ حضرت صاحب الزمان سے اس شخص کے لئے کہ جس کو کوئی چیز گم ہوئی ہے یا کوئی مہم حاجت رکھتا ہو روایت ہوئی ہے کہ جو بھی مہم حاجت رکھتا ہو اس دعا کو زیادہ پڑھے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، مُبْدِئُ الْخَلْقِ وَمُعيدُهُمْ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، مُدَبِّرُ الْاُمُورِ ، وَباعِثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْقابِضُ الْباسِطُ ، وَأَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وارِثُ الْأَرْضِ وَمَنْ عَلَيْها.

أَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي إِذا دُعيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَ إِذا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ ، وَأَسْئَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ، وَبِحَقِّهِمُ الَّذي أَوْجَبْتَهُ عَلى نَفْسِكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَقْضِيَ لي حاجَتي ، اَلسَّاعَةَ السَّاعَةَ.

يا سَيِّداهُ ، يا مَوْلاهُ ، يا غِياثاهُ ، أَسْئَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ سَمَّيْتَهُ بِهِ نَفْسَكَ ، وَاسْتَأْثَرْتَ بِهِ في عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعَجِّلَ خَلاصَنا مِنْ هذِهِ الشِّدَّةِ ، يا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْأَبْصارِ ، يا سَميعَ الدُّعاءِ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.( الكلم الطيّب : ۱۴ .)

۲۸ ۔ بیماریوں سے شفاء کے لئے امام عصر کی دعا

محدث نوری کہتاہے: شیخ جلیل القدر کفعمی کتاب البدر الامین میں حضرت مھدی سے نقل کرتے ہیں اگر کوئی بیمار اس دعا کو کسی تازہ برتن میں امام حسین کی مٹی کے ساتھ لکھے اور اس کو دھوئے اور اس کے پانی کو پی لے تو بیماری سے شفا حاصل ہوگی۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ، بِسْمِ اللّٰهِ دَوٰاءٌ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ شِفٰاءٌ، وَلٰاإِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کِفٰاءٌ هُوَ الشّٰافی شِفٰاءٌ، وَ هُوَ الْکٰافی کِفٰاءٌ، إِذْهَبِ الْبِأْسَ بِرَبِّ النّٰاسِ، شِفٰاءٌ لٰا یُغٰادِرُهُ سُقْمٌ وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ النُّجَبٰاءِ

۲۹ ۔ سختیوں سے رہائی اور چوروں سے محفوظ رہنے کے لئے امام زمانہ کی دعا

مرحوم آیة اللہ شیخ علی اکبر نھاوندی لکھتے ہیں شیخ علی اکبر طہرانی ساکن مشہد مقدس نے ہمارے لئے ایک واقعہ بیان کیا اور کہا عالم متقی شیخ محمد تقی تربتی فضلاء اور علماء میں سے تھے اور علامہ میرزا حبیب رشتی کے شاگردوں میں سے تھے ان کی طرف سے اجازت نامہ بھی تھا فرمایا کہ میرے متدین شاگردوں میں سے ایک جو شہر تربت کے سادات میں سے تھے اس نے میرے لئے بیان کیا اور کہا کہ میں زیارت عتبات عالیات سے واپس آرہا تھا طلباء کے ہمراہ خانقین سے خارج ہوا اور پیادہ قافلہ کے پیچھے قصر شیرین کے طرف جارہا تھا تشنگی اور تھکاوٹ کی وجہ سے کمزور ہوچکا تھا بہت زیادہ زحمت کے ساتھ اپنے آپ کو قافلہ تک پہنچایا چوروں نے قافلہ کے مال کو لوٹ لیا تھا۔ بعض زخمی ہوئے تھے اور بیابان میں پڑے تھے اور محمل ٹوٹے ہوئے تھے اور زمین پر پڑے ہوئے تھے ہم ڈر کے مارے دور گئے اور ایک ٹیلے پر چڑھ کر کھڑے ہوگئے اچانک دیکھا کہ ایک سید بزرگوار ہمارے پاس کھڑا ہے ہمیں سلام کیا اس کے بعد سات زاھدی کرمہ کے دانے مجھے دیا اور فرمایا چار دانہ خود کھالیں ان میں تین دانہ کھجور شیخ کو دے دیں جب ہم نے خرمہ کھایا تو ہماری پیاس دور ہوگئی اور فرمایا اس دعا کو سختی سے رہائی اور چوروں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے پڑھو

أَللّٰهُمَّ إِنّی أَخیافُکَ، وَأَخافُ مِمَّنْ یَخٰافُکَ، وَ أعُوذُ بِکَ مِمَّنْ لٰا یَخٰافُکَ

اس کے بعد تھوڑی دیر سید بزرگوار کے ہمراہ چلے اچانک اس نے اشارہ کیا اور فرمایا یہ آپکی منزل ہے ہم نے دیکھا اس ٹیلہ کے دامن میں ہیں جب ہم گھر میں داخل ہوئے بہت زیادہ تھکاوٹ کی وجہ سے نیند ہمارے اوپر غالب آگئی ہم سوئے اور ہم متوجہ نہیں ہوئے اس چیز پر جو ہمارے ساتھ اتفاق سے جو ہوا تھا جب ہم بیدار ہوئے تب ہم نے جان لیا کہ وہ بزرگوار صاحب الزمان تھے۔

۳۰ ۔ امام زمانہ کی ایک اور دعا سختیوں اور مشکلات سے نجات حاصل کرنے کے لئے

کتاب الکلم الطیب میں لکھتے ہیں کہ ایک نسخہ سادات اور قابل اطمینان لوگوں کا لکھا ہوا دیکھا اس میں لکھا ہوا تھا ماہ رجب میں ایک ہزار تیرانویں ہجری میں قمری(۱۰۹۳ھ) میں برادر اسمٰعیل بن حسین جابری انصاری سے سنا کہ کہتے تھے کہ شیخ مفتی حاج علی مکی کہتاہے کہ میں دشمنوں کے درمیان ایک حق کو ثابت کرنے کے لئے گرفتار ہوا میں ڈر گیا کہ کہیں میں ھلاک نہ ہوجاؤں اس لئے بہت زیادہ پریشان ہوا ایک دن ایک دعا میری جیب سے ملی میں نے تعجب کیا چونکہ میں نے کسی سے دعا نہیں لی تھی اس واقعہ سے میں حیران تھا یہاں تک کہ ایک رات عالم خواب میں دیکھا عمدہ لباس میں اور زاہد تھا وہ کہتا تھا فلاں دعا کو میں نے تمہیں دیا تھا اس کو پڑھو تا کہ شدت اور پریشانی سے نجات حاصل کرلو میں اس کہنے والے کو نہیں جانتا تھا اس لئے بہت زیادہ تعجب ہوا دوبارہ امام زمانہ کو خواب میں دیکھا حضرت نے فرمایا جو دعا میں نے تمہیں دی ہے اس کوپڑھ لو یہ دعا جس کو چاہیں یاد کرادیں میں نے کئی دفعہ اس دعا کو پڑھا جلد از جلد میری مشکلات حل ہوئی اور اس عمل پر میں نے تجربہ کیا ایک مدت کے بعد اس دعا کو گم کردیا بہت زیادہ پریشان ہوا اور افسوس کیا میں اپنے غلط کام سے نادم اور پشیمان ہوا اچانک ایک شخص آیا اور مجھ سے کہا تمہاری دعا فلاں جگہ پر پڑی ہے مجھے نہیں معلوم کہ میں وہا گیا ہوں گا اور دعا کواٹھایا اور شکرانہ سجدہ شکر ادا کیا اور وہ دعا یہ ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ، رَبِّ أَسْئَلُکَ مَدَداً رُوحٰانِیّاً تَقْویٰ بِهِ قُوٰایَ الْکُلِّیَّةُ وَالْجُزْئیَّةُ، حَتّٰی أَقْهَرَ بِمَبٰادی نَفْسی کُلَّ نَفْسٍ قٰاهَرَةٍ، فَتَنْقَبِضَ لی إِشٰارَةُ دَقٰائِقِهٰا، اِنْقِبٰاضاً تَسْقُطُ بِهِ قُوٰیهٰا، حَتّٰی لٰا یَبْقٰ فِی الْکَوْنِ ذُورُوحٍ إِلّٰا وَنٰارُ قَهْری قَدْ أَحْرَقَتْ ظُهُورَهُ

یٰا شَدیدُ، یٰا شَدیدُ، یٰا ذَاالْبَطْشِ الشَّدیدِ، یٰا قٰاهِرُ یٰا قَهّٰارُ، أَسْئَلُکَ بِمٰا أوْدَعْتَهُ عِزْرٰائیلَ مِنْ أَسْمٰائِکَ الْقَهْرِیَّةِ، فِانْفَعَلَتْ لَهُ النُّفُوسُ بِالْقَهْرِ، أَنْ تُودِعَنی هٰذَا الشِّرِّفی هٰذِهِ السّٰاعَةِ، حَتّٰی اُلَیِّنَ بِهِ کُلَّ صَعْبٍ، وَاُذَلِّلَ بِهِ کُلَّ مَنیعٍ، بِقُوَّتِکَ یٰا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتینِ

یہ دعا امکان کی صورت میں سحر کے وقت تین مرتبہ اور صبح کے وقت تین مرتبہ اور رات کے وقت تین مرتبہ پڑھی جاتی ہے اگر اس کا کام بہت زیادہ مشکل ہو تو اس دعا کو پڑھنے کے بعد تیس مرتبہ کہو :

یَارَحْمٰانُ یٰا رَحیمُ، یٰا أَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ، أَسْئَلُکَ اللُّطْفَ بِمٰا جَرَتْ بِهِ الْمِقٰادیرُ

۳۱ ۔ حفاظت کے لئے امام زمانہ کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ، یٰا مٰالِکَ الرِّقٰابِ، وَهٰازِمَ الْأَحْزٰابِ، یٰا مُفَتِّحَ الْأَبوابِ، یٰا مُسَبِّبَ الْأَسْبٰابِ، سَبِّبْ لَنٰا سَبَباً لٰا نَسْتَطیعُ لَهُ طَلَباً بِحَقَّ لٰا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدّ رَسُلُ اللّٰهِ صَلَویاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ آلِهِ أَجْمَعینَ

۳۲ ۔ امام زمانہ کی طرف سے دعائے حجاب

أَللَّهُمَّ احْجُبْني عَنْ عُيُونِ أَعْدائي ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَ أَوْلِيائي ، وَأَنْجِزْ لي ما وَعَدْتَني ، وَاحْفَظْني في غَيْبَتي إِلى أَنْ تَأْذَنَ لي في ظُهُوري ، وَأَحْيِ بي ما دَرَسَ مِنْ فُرُوضِكَ وَسُنَنِكَ ، وَعَجِّلْ فَرَجي ، وَسَهِّلْ مَخْرَجي.

وَاجْعَلْ لي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصيراً ، وَافْتَحْ لي فَتْحاً مُبيناً ، وَاهْدِني صِراطاً مُسْتَقيماً ، وَقِني جَميعَ ما اُحاذِرُهُ مِنَ الظَّالِمينَ ، وَاحْجُبْني عَنْ أَعْيُنِ الْباغِضينَ ، اَلنَّاصِبينَ الْعَداوَةَ لِأَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ ، وَلايَصِلْ مِنْهُمْ إِلَيَّ أَحَدٌ بِسُوءٍ.

فَإِذا أَذِنْتَ في ظُهُوري فَأَيِّدْني بِجُنُودِكَ ، وَاجْعَلْ مَنْ يَتَّبِعُني لِنُصْرَةِ دينِكَ مُؤَيَّدينَ ، وَفي سَبيلِكَ مُجاهِدينَ ، وَعَلى مَنْ أَرادَني وَأَرادَهُمْ بِسُوءٍ مَنْصُورينَ ، وَوَفِّقْني لِإِقامَةِ حُدُودِكَ ، وَانْصُرْني عَلى مَنْ تَعَدَّى مَحْدُودَكَ.

وَانْصُرِ الْحَقَّ ، وَأَزْهِقِ الْباطِلَ ، إِنَّ الْباطِلَ كانَ زَهُوقاً ، وَأَوْرِدْ عَلَيَّ مِنْ شيعَتي وَأَنْصاري مَنْ تَقَِرُّ بِهِمُ الْعَيْنُ ، وَيَشُدُّ بِهِمُ الْأَزْرُ ، وَاجْعَلْهُمْ في حِرْزِكَ وَأَمْنِكَ ، بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.( مهج الدعوات : ۳۶۰ ، المصباح : ۲۹۶ )

سید بزرگوار علی بن طاؤوس مھج الدعوات میں اس حجات کے ذکر اور دوسرے حجات کے بعد فرماتے ہیں ایک دن بہت زیادہ سیلاب آیا اور ہر جگہ پانی آیا تھا اور جو مکان سیلاب کے راستے میں تھے زیادہ سیلاب آنے کی وجہ سے مکان منھدم ہوچکے تھے اس روز انسان کی سلامتی خطرے میں پڑگئی اور زندگی سخت ہوئی مجھے ان دنوں میں ان حجات کے پڑھنے کے لئے الہام ہوا تھا واقعاً اس دوران زندگی صرف دعا کے قبول ہونے میں منحصر تھی یہ حجاب تھے کہ جس نے ان موانع کو دور کیا اور ان ناگوار حوادث کے دور گزرنے کے ضامن یہ حجاب تھے پس میں نے اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا۔

۳۳ ۔ دعا جب صیحہ واقع ہو

ابن مسعود نے پیغمبر اکرم سے روایت نقل کی ہے آنحضرت نے فرمایا کہ جب بھی ماہ رمضان میں ایک صیحہ واقع ہو ماہ شوال میں جنگ اور فتنہ واقع ہو اور ذی القعدہ میں قبیلے آپس میں گروہ بندی اور جدا ہوجائیں اور ذی الحجہ اور محرم میں خون بہادیا جائے کیسا محرّم ھیہات ھیہات لوگ اس میں قتل کئے جائیں گے کس قدر قتل ہوں گے پیغمبر اسلام سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صیحہ کیا ہے پیغمبر نے فرمایا پندرہ ماہ رمضان کو جمعہ کے دن ایک آواز آئے گی یہ اس وقت ہے کہ ماہ رمضان شب جمعہ کے ساتھ موافق ہو نہ جمعہ کے ساتھ موافق ہو پس یہ آواز سوئے ہوئے انسان کو بیدار کرتی ہے بیٹھے ہوئے انسان کو اٹھا دیتی ہے اور لڑکیاں (وحشت سے) حجات کے بغیر خارج ہوجاتی ہیں یہ واقعہ شب جمعہ میں ہوتاہے یہ اس سال میں ہوتاہے کہ جس میں زلزلہ بہت زیادہ واقع ہوتاہے اور زیادہ سردی ہو پس جب بھی اول ماہ رمضان میں اس سال شب جمعہ کے ساتھ موافق ہو جس وقت نماز صبح کو جمعہ کے دن پندرہ شعبان کو پڑھو تو اپنے گھروں میں چلے جاؤ اور دروازوں کو بند کردو اور کھڑکیوں کو بند کردو اپنے آپ کو چھپا دو اور اپنے کانوں کو بند رکھو جب بھی کوئی بہت زیادہ صیحہ واقع ہو تو خدا کے لئے سجدہ میں پڑ جاؤ اور کہو "سُبْحٰانَ الْقُدُّوسِ سُبْحٰانَ الْقُدُّوسِ رَبِّنٰا "سچ مچ جو بھی اس کام کو انجام دے وہ نجات پائے گا اور جو بھی اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرے گا ھلاک ہوجائے گا۔

۳۴ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے فرج کی دعا

مرحوم شیخ نعمانی کتاب الغیبہ میں یونس بن ظبیان سے اس نے امام صادق سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا جب بھی شب جمعہ آجائے تو خداوند تعالیٰ ایک ملک کو دنیا کے آسمان کی طرف بھیجتاہے جس وقت طلوع فجر ہوجائے تو یہ ملک عرش پر بیت لمعمور کے اوپر بیٹھتاہے اور محمد علی(علیہ السلام ) حسن(علیہ السلام ) حسین(علیہ السلام ) کے لئے نور کے منبر نصب کرتاہے یہ منبر پر چلے جاتے ہیں ملائکہ انبیاء مومنین ان کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور سورج زوال ہوتے وقت رسول اللہ خدا سے کہتے ہیں اے پروردگار جو وعدہ آپ نے کتاب میں کیا تھا اس کا وقت پہنچاہے "وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُم فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِینَهُمْ الَّذِی ارْتَضَی لَهُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا یَعْبُدُونَنِی لاَیُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ "

اس کے بعد ملائکہ اور انبیاء ان کی طرح کہیں گے اس وقت محمد علی حسن اور حسین سجدہ میں پڑجائیں گے اس کے بعد کہیں گےیٰارَبِّ إِغْضَبْ، فَإِنَّهُ قَدْ هُتِکَ حَریمُکَ، وَقُتِلَ أَصْفِیٰاوٴُکَ، وَاُذَلَّ عِبٰادُکَ الصّٰالِحُونَ ، پس خداوند جو چاہے گا انجام دے گا اور وہ روز معلوم ظہور کا دن ہے۔

۳۵ ۔ اول ظہور میں حضرت صاحب الزمان کی دعا

مفصل ایک روایت کے ضمن میں امام صادق سے پوچھتاہے اے میرے آقا حضرت مھدی کہاں سے ظہور کرے گا اور کس طرح ظاہر ہوگا حضرت نے فرمایا اے مفضّل وہ تنہا ظاہر ہوں گے اور تنہا خانہ خدا میں چلے جائیں گے اور تنہا کعبہ میں داخل ہوں گے اور تنہائی میں رات گزاریں گے جب سب سوئے ہوں گے اور رات کی تاریکی سب پر چھا جائے گی جبرئیل اور میکائیل ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی طرف آئیں گے جبرئیل حضرت کی طرف متوجہ ہوں گے اور کہے گا اے میرے آقا تمہاری بات مانی جائے گی اور تییرے فرماں پر عمل ہوگا حضرت اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیریں گے اور کہیں گے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذی صََدَّقَنٰا وَعْدَهُ، وَ أَوْرَثَنَا الْأَرضَ، نَتَبَوَّءُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشٰاءُ، فَنِعْمَ أَجْرُ الْعٰامِلینَ ۔

۳۶ ۔ صاحب الزمان کے خروج کے وقت شیعوں کی دعا

پیغمبر اکرم نے فرمایا جب تمہارا ارادہ ہو کہ خدا تم کو غرق ہونے اور جلنے اور چوری سے محفوظ رکھے تو جب تم صبح کر لو تو کہو

بِسْمِ اللّٰهِ مٰا شٰاءَ اللّٰهُ، لیا یَصْرِفُ السُّوءَ إِلَّا اللّٰهُ، بِسْمِ اللّٰهِ میا شٰاءَ اللّٰهُ، لیا یَسُوقُ الْخَیْرَ إِلَّا اللّٰهُ، بِسْمِ اللّٰهِ مٰا شٰاءَ اللّٰهُ، مٰا یَکُونُ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ، بِسْمِ اللّٰهِ مٰا شٰاءَ اللّٰهُ، لٰا حَوْلَ وَلٰا قُوَّةَ إِلّٰا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظیمِ، بِسْمِ اللّٰهِ مٰا شٰاءَ اللّٰهُ، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّیِّبینَ ۔

کیونکہ جو بھی اس دعا کو صبح کے وقت تین مرتبہ پڑھے غرق ہونے جلنے اور چوری سے محفوظ ہوگا رات تک اور جو بھی اس دعا کو تین مرتبہ رات کے وقت پڑھے صبح تک اس سے امان میں رہے گا۔ اور خضر اور الیاس ہر سال حج کے موقع پر آپس میں ملاقات کرتے ہیں اور ایکدوسرے سے جدا ہوتے وقت یہ کلمات پڑھتے ہیں اور یہ دعا میرے شیعوں کا شعار ہے اور اس دعا کی وجہ سے دشمنوں کو ہمارے دوستوں سے جب قائم آل محمد قیام کرے گا تو اس وقت پہچانا جائے گ

۳۷ ۔ وادی السلام سے عبور کرتے وقت امام زمانہ کی دعا

حضرت امیرالمومنین نے ایک حدیث کے ضمن میں فرمایا گویا میں اس کو (صاحب الزمان) دیکھ رہا ہوں کہ گھوڑے پر سوار ہیں گھوڑا کہ جس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں سفید ہیں اور اس کی پیشانی سفیدی کی وجہ سے چمکتی ہے وہ وادی اسلام سے سیل گاہ سہلہ سے عبور کرتاہے اور دعا کرتاہے اور اپنی دعا میں کہتاہے

لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ حَقّاً حَقّاً ، لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ إيماناً وَصِدْقاً ، لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ تَعَبُّداً وَرِقّاً أَللَّهُمَّ مُعِزَّ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَحيدٍ ، وَمُذِلَّ كُلِّ جَبَّارٍ عَنيدٍ ، أَنْتَ كَنَفي حينَ تُعْيينِي الْمَذاهِبُ ، وَتَضيقُ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِما رَحُبَتْ.

أَللَّهُمَّ خَلَقْتَني وَكُنْتَ غَنِيّاً عَنْ خَلْقي ، وَلَوْلا نَصْرُكَ إِيَّايَ لَكُنْتُ مِنَ الْمَغْلُوبينَ ، يا مُنْشِرَ الرَّحْمَةِ مِنْ مَواضِعِها ، وَمُخْرِجَ الْبَرَكاتِ مِنْ مَعادِنِها ، وَيا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِشُمُوخِ الرَّفْعَةِ ، فَأَوْلِياؤُهُ بِعِزِّهِ يَتَعَزَّزُونَ ، يا مَنْ وَضَعَتْ لَهُ الْمُلُوكُ نِيْرَ الْمَذَلَّةِ عَلى أَعْناقِهِمْ ، فَهُمْ مِنْ سَطْوَتِهِ خائِفُونَ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي فَطَرْتَ بِهِ خَلْقَكَ ، فَكُلٌّ لَكَ مُذْعِنُونَ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُنْجِزَ لي أَمْري ، وَتُعَجِّلَ لي فِي الْفَرَجِ ، وَتَكْفِيَني وَتُعافِيَني وَتَقْضِيَ حَوائِجي ، اَلسَّاعَةَ السَّاعَةَ ، اَللَّيْلَةَ اللَّيْلَةَ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.(العدد القويّة : ۷۵ ، دلائل الإمامة : ۴۵۸ بتفاوت يسير )

فضائل سورھای قرآن

۳۸ ۔ سورہ کہف کی فضیلت

اس حصہ میں بعض سورتوں کے خواص کہ جو اس کتاب کے مطالب سے مربوط ہیں نقل کرتاہوں

۱ ۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا جو بھی سورہ کہف کو آٹھ دن رات پڑھے تو وہ ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ ہوگا اگر دجال ان آٹھ دنوں میں خروج کرے تو خداوند تعالیٰ اس کو دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھے گا۔

۲ ۔ ایک دوسری حدیث میں اس بزرگوار نے فرمایا جو بھی سورہ کہف کی دس آیتیں حفظ کرلے تو دجال کا فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچاتاہے اگر سب آیتوں کو پڑھ لے تو بہشت میں داخل ہوگا۔

۳ ۔ ایک اور روایت میں آنحضرت نے فرمایا جو بھی دس آیتیں سورہ کہف کی حفظ کرے اس کے بعد دجال کو درک کرلے وہ اس شخص کو ضرر نہیں پہنچائے گا اور جو بھی سورہ کہف کی آخری آیتوں کو حفظ کرے اسکے لئے قیامت کے دن ایک نور اور روشنی ہوگا۔

۳۹ ۔ سورہ یٰسین کی خاصیتیں

اھل علم میں سے ایک قابل اعتماد شخص نے ایک واقعہ اس سورہ مبارکہ کی خاصیت کے بارے میں میرے لئے نقل کیا ہے خدا کے بندوں میں سے ایک شخص یزد شہر میں ایک سخت مصیبت میں گرفتار ہوا وہ حضرت صاحب الزمان کی خدمت میں حاضر ہوجاتاہے لیکن اس بزرگوار کو نہیں جانتاہے حضرت نے اس سے فرمایا کہ سورہ یٰسین پڑھ لو چونکہ مبین چھ مقام پر آیا ہے جب مبین پر پہنچیں تو اپنی حاجت کی نیت کرلیں اور سورہ پڑھنے کے بعد اپنی حاجت کی درخواست کرلو تا کہ خداوند تمہاری دعا کو مستجاب کرے کہا جب میں نے سورہ یاسین میں نگاہ کی تو دیکھا کہ مبین کا کلمہ اس سورہ میں سات مقامات پر آیا ہے اس مسئلہ سے میں نے تعجب کیا لیکن چونکہ میں نے اس میں دقت کی تو میں سمجھ گیا کہ چھ مقام پر کلمہ مبین الف لام کے بغیر ایا ہے اور ایک مقام پر الف لام کے ساتھ ہے اس کے بعد سورہ اسی طریقہ پر پڑھا جس طرح حضرت نے فرمایا تھا تو خداوند متعال نے میری دعا کو مستجاب فرمایا۔

۴۰ ۔ مسبّحات سورتوں کی فضیلت

جناب جابر جعفی فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر سے سنا کہ فرماتے تھے جو بھی رات کے وقت سونے سے پہلے مسبّحات سورتوں کو پڑھ لے وہ نہیں مرے گا یہاں تک کہ حضرت قائم کو درک کرے گا اگر مرجائے تو پیغمبر کے جوار میں قورار پائے گا۔

طریحی کہتاہے وہ سورتین کہ جن کا شروع تسبیح کے ساتھ ہوچکا ہے ان کو مسبحات کہتے ہیں مولا محمد صالح مازندرانی کہتاہے: کہا گیا ہے کہ جن سورتوں کے شروع میں سَبَّحَ یسبح یا سبحان کے ساتھ شروع ہوا ہو مسبھات کہتے ہیں اس پر احتمال کی بناء پر مسبحات سات ہیں وہ یہ ہیں سورہ اسراء۔ حدید۔ حشر۔ صف۔ جمعہ۔ تغابن۔ اعلی لیکن مرحوم کفعمی کتاب مصباح کے حاشیہ میں اس روایت کو نقل کرتے وقت کہتاہے مسبحات میں پانچ سورتوں کی طرف اشارہ ہے اول اور آخر کے علاوہ یعنی اسراء اور اعلیٰ کے علاوہ سب کو شمار کرتاہے۔

یہ مطلب شیخ صدق کے کلام سے واضح ہوجاتاہے چونکہ وہ انہوں نے روایت کو سورہ تغابن کی فضیلت میں ذکر کیا ہے کہ جو مسبحات کا آخری سورہ ہے علامہ مجلسی نے حلیہ میں اور فیض کا شان رافی میں اسی مطلب کو بیان کیا ہے اھل فضل مٰں سے ایک کہتاہے جو کچھ مضمون حدیث سے ہاتھ میں آتاہے یہ ہے کہ ایک مرتبہ پڑھنے سے حضرت قائم کو درک کرتاہے اور پیغمبر کے جوار میں ہوتاہے چونکہ اس مقام پر ہمارا ہدف ان سورتوں کے پڑھنے کی تشویق اور ترغیب میں ہیں تا کہ اچھی عادت پڑ جائے اس بناء پر قائم کو درک کرنا اور جوار رسول اور تکرار کے ساتھ اور عادت بنانے کی وجہ سے ہوتی ہے اور واضح ہے اگر کسی وقت یہ عمل ترک ہوجائے تو درک اور جوار کے منافی نہیں ہے اس ترک سے ضرر نہیں پہنچاتاہے دوسرا مطلب یہ ہے کہ حضرت کے درک سے مراد اس طرح پر ہے کہ وہ یہ جانے کہ یہ امام زمان ہیں اس مسئلہ کے لئے دو علت ہیں یا یہ کہ مسبحات میں حضرت قائم کا ذکر اور صفات اور احوال موجود ہے اگر چہ خصوصی طور پر اس مطلب کو نہ جانے یا اثر میں کوئی اور خاصیت ہے اور اس قسم کی باقی سورتوں اور آیات میں ان کے لئے بھی ثواب بیان کیا گیا ہے وہ تاثیر اس میں موجود ہے۔

آیہ شریفہ نور کے بارے میں اور آیہ ربّ ادخلنی اور دوسری آیات کہ جو اس موضوع کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں لیکن ان کے نقل سے صرف نظر کرتاہوں ہمیں توجہ دینا چاہیئے کہ سب سے عالی ترین راستہ حضرت کی خدمت میں پہنچنے کے لئے اس بزرگوار کی رضا کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

۴۱ ۔ سورہ القارعة اور دجال سے محفوظ ہونا

امام صادق فرماتے ہیں کہ جو بھی سورہ القارعة کو پڑھے خداوند تعالیٰ اس کو دجال کے فتنہ سے اس پر ایمان لانے اور جھنم کے عذاب سے محفوظ رکھتاہے۔


باب ہفتم

امام زمانہ کوو سیلہ قرار دینا

مرحوم آیة اللہ مستنبط کہتے ہیں عقلی اور نقلی اعتبار سے ہمارے اوپر لازم ہے کہ آخری حجت کے الطاف اور عنایات کے ذیل میں ان کے دامن کو تھام لیں اور سختیوں احتیاجات اور مہم چیزوں میں آخری حجت سے پناہ لیں چونکہ وہی وقت کے بادشاہ ہیں اور امام عصر ہیں اگر چہ وہ ہم سے پوشیدہ ہیں لیکن وہ ہمیں دیکھتے ہیں۔ ہم ہی ہیں جوان کو نہیں دیکھتے ہیں ہیں اور نہیں پہچانتے ہیں اس حضرت کی عنایت کے انوار ہمارے اوپر پڑتے ہیں ہم میں سے جو بھی ان بزرگوار کو اپنا وسیلہ قرار دے اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے۔

مرحوم مستنبط ایک چیز کا اضافہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے خود ان کو وسیلہ قرار دیکر تعجب انگریز اثرات دیکھتے ہیں اور حیرت انگیز نتائج ہمارے ہاتھ میں آئے ہیں میں نے بھی کسی کو اس توسّل سے تخلّف ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ ہاں جس نے اس توسل کے آثار کی لذت کو نہیں چکھا ہے وہ ہرگز درک نہیں کرسکتاہے اور نہیں سمجھ سکتا بنفسی (أنت) من مغیب لم یحل منّا۔

خواجہ نصیر کے دعائے توسّل کا واقعہ

مرحوم خواجہ نصیر الدین طوسی جھرود ساوہ کے دیہات کا رہنے والا تھا اس کی ولادت گیارہ جمادی الاول سال پانچسو پچانوے میں شہر طوس میں ہوئی اس کی تاریخ کا مادہ آیہ کریمہ( جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا ) کے ساتھ موافق ہے اور اٹھارہ ذوالحجہ سال چھ سہ بہتر میں اس دنیا سے چلے گئے اور اس کی پوری عمر ۷۵ سال تھی دعائے توسل کا تفصیلی واقعہ ان کی طرف جو منسوب ہے کہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوا ہے اور بعض کتابوں میں بھی لکھا گیا یہ ہے کہ خواجہ نصیر نے بیس سال کی مدت میں مناقب اھل عصمت میں ایک کتاب تالیف کی اور اس کتاب کو اپنے ساتھ بغداد لے گیا تا کہ خلیفہ عباسی کو دکھادے اتفاق سے یہ اس وقت پہنچا کہ جب خلیفہ ابن حاجب کے ساتھ تفریح اور تماشا کے لئے بغداد میں فرات کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے خواجہ نے اس کتاب کو خلیفہ کے پاس رکھا اور اس نے ابن حاجب کو دیا جب اس ناجبی کی نظر ائمہ اطہار کے مناقب پر پڑی اس نے سخت بغض کی وجہ سے اس کتاب کو دریا میں ڈال دیا اور بطور مذاق اور استہزاء کہا اعجبنی تلّمہ اس کتاب کے دریا میں گرنے کی آواز نے مجھے تعجب میں ڈالا پھر اس کے بعد خواجہ نصیر کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہاں کے رہنے والے ہیں خواجہ نے فرمایا میں طوس کا رہنے والا ہوں اس نے کہا گائیوں میں سے ہیں یا گدھوں میں سے ہیں خواجہ نے فرمایا گائیوں میں سے ہوں ابن حاجت نے پوچھا تمہارے سینگ کہاں ہیں خواجہ نے فرمایا میں نے اپنے سینگ طوس میں رکھ دیے ہیں۔ میں اس کو لینے کے لئے جا رہاہوں پس خواجہ مہموم مغموم اور محروم اپنے علاقے واپس آئے اتفاق سے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک مکان ہے اور اس مکان میں ایک مقبرہ ہے اور اس مقبرہ پر ایک صندوق رکھا ہوا ہے اور اس صندوق پر دعا سلام کو لکھا گیا ہے کہ جو بارہویں امام خواجہ کے نام سے معروف ہے اور حضرت حجت اس مقام پر ہوتے ہیں پس اس بزرگوار نے اس سلام کو معروف دعا توسل کے ساتھ اور اس کے ختم کی کیفیت خواجہ کو تعلیم دی جب خواب سے بیدار ہوا ان میں سے کچھ بھول گیا تھا دوبارہ خواب دیکھا اسی طریقہ پر واقعہ کو دوبارہ خواب میں دیکھا اور جو فراموش کرچکا تھا اس کو بھی حضرت سے یاد کیا جب بیدار ہوا تو تمام کو یاد کرلیا پھر اس کو لکھا ابن حاجت اور خلیفہ کے عمل کی تلافی کے لئے اس ختم کو انجام دینے میں مشغول ہوگئے تا کہ اس کا یہ عمل انجام کو پائے اس کی حاجت قبول ہونے کے لئے کہ ایک چھوٹا بچہ جو اس کی تربیت سے بزرگ ہوگا اور وہ تاج اور سلطنت تک پہنچے گا اور اس کو وہ شہر اور جگہ کی طرف اشارہ فرمایا پس کواجہ رمل کے ساتھ اس بادشاہ کے محلہ کا پتہ لگایا اور اس کے گھر کی جستجو شروع کی ایک عورت کو اس گھر میں دیکھا کہ جس کے دو بچے تھے ان دو بچوں کو تربیت دینے کے لئے اس عورت سے درخواست کی اور خواجہ کو تربیت کے لئے دیا اور فراست سے جان لیا کہ ان میں بادشاہ کونسا ہے اور وہ ھلاکوخان تھا پس اس کی تربیت میں بہت زیادہ اہتمام کی رعایت کی یہاں تک کہ ھلاکوخان بلوغ کی حد تک پہنچا ایک دن خواجہ نے ھلاکوخان سے کہا اگر تم بادشاہ ہوجائے تو میری زحمت اور تکلیف کا کس طرح حق ادا کروگے ھلا کو نے کہا تجھ کو اپنا وزیر بناؤں گا خواجہ نے کہا کہ ضروری ہے کہ ایک عہد نامہ اس کے بارے میں لکھیں ھلاکوخان نے کہا ایساہی ہے اور عہد نامہ لکھا اور خواجہ کو دیا کچھ زمانہ گزرا تھا کہ ھلاکوخان خراسان کا حاکم ہوا اور حاکم کی جگہ بیٹھا اور خواجہ کو اپنا وزیر بنا دیا پس لشکر خراساں پر چھا جانے کے بعد اور شہروں کی طرف لشکر کشی کی ایک ایک شہر کو اپنے تصرف میں لے آیا یہاں تک کہ بغداد کی طرف گئے اور مستعصم خلیفہ عباسی کو ھلاک کیا اس شہر میں قتل و قتال ہوا جب ابن حاجت نے اس واقعہ کو دیکھا تو کسی کے گھر میں چھپ گیا اور ایک طشت کو خون سے بھر دیا اور اس طشت کے اوپر ایک چیز رکھا اور اس کے اوپر فرش کو بچھا دیا اور اس پر بیٹھا تا کہ خواجہ کے علم رمل سے محفوظ رہے جب خواجہ نے رمل سے عمل کرنا شروع کیا تو ابن حاجت کو ایک خون کے دریا کے اوپر دیکھا حیران ہوا اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن پیدا نہیں کرسکا آخر اس نے ایک اور تدبیر سوچی کہ کئی گوسفند کو وزن کیا اور بغداد کے چند لوگوں کے درمیان تقسیم کیا اور ان سے شرط لگائی کہ جو بھی گوسفند کو لے گیا ہے اس کو چاہیئے کہ پہلے ہی جو وزن تھا وہی اسی وزن پر واپس کرے ایک گوسفند ابن حاجت کے میزبان کو بھی دیا وہ اس میں سوچنے لگا کہ اس گوسفند کے وزن کو کس طرح حفاظت کرے کہ واپس دیتے وقت اس وزن میں کوئی فرق نہ آئے ابن حاجب کے ساتھ مشورہ کیا ابن حاجت نے کہا اس کی تدبیر یہ ہے کہ ایک بھڑیا کا بچہ لے آئیں ہر روز صبح سے شام تک کافی مقدار میں گھاس کھلا دیں جب رات ہوجائے تو اس گوسفند کو بھیڑیا کو دکھا دیں تا کہ جتنا یہ گوسفند موٹا ہوا ہے اس بھیڑیا کو دیکھ کر اتنا ہی کمزور ہوجائے جب تک یہ گوسفند تمہارے پاس ہے اس پر عمل کریں اس وقت اس کے وزن میں کوئی فرق نہیں آئے گا پس یہ مرد گوسفند واپس کرنے تک یہ عمل کرتا رہا تمام گوسفند کے وزن میں فرق ظاہر ہوا لیکن ابن حاجت کے میزبان کے گوسفند میں کوئی فرق نہیں آیا خواجہ نے فراست سے جان لیا کہ ابن حاجت اس شخص کے گھر میں ہے اور یہ تدبیر ابن حاجت کی ہے وہاں سے پکڑ کر لائے خواجہ اور ھلاکوخان کے سامنے رکھا کواجہ نے اس سے کہا کہ میرے سینگ یہ بادشاہ ہیں اس سینگ کے لانے کا وعدہ تجھ سے کیا تھا اس کے بعد اس کو اپنے ساتھ فراست کے کنارے لے گیا اور ان کے کتابوں کو لانے کا حکم دیا خواجہ کے سامنے ابن حاجت کی ساری کتابیں دریا برد کین اور کہا أعجبنی تلمّہ ان کتابوں کے پانی میں گرنے کی وجہ سے جو آواز نکلی ہے اس نے مجھے تعجب میں ڈالا ہے ۔ شافیہ کافیہ اور مختصر کو جو صرف نحو اور اصول میں تھے یہ کتابیں مبتدی کے لئے فائدہ مند تھیں ان کتابوں کو باقی رکھا اس کے بعد فرمایا کہ ابن حاجت کی گوسفند کی طرح اس کی کھال کو اتاردیں اور اس کے بدن کو شط فرات میں ڈال دیا یہ وہ واقعہ ہے اس دعا کے صدور میں حضرت حجت نے ذکر کیا ہے لیکن جیسا کہ دارالسلام میں تصریح ہوگئی ہے کہ تاریخ فتح بغداد اور ابن حاجت کے فوت کی تاریخ سے ایک اشکال پیدا ہوتاہے چونکہ ھلاکوخان کا بغداد پر حملہ کرنا اور خواجہ نصیر الدین طوسی کی فکر اور اس کی تاریخ کچھ نکات پائے جاتے ہیں کہ جو اس واقعہ کی صحت میں خدشہ پیدا کرتاہے۔

۱ ۔ جس طرح تاریخ میں ثابت ہے ابن حاجت کی موت اسکندریہ میں ہوئی ہے نہ کہ بغداد میں۔

۲ ۔ اس کی موت فتح بغداد سے نو سال پہلے ہوئی ہے جس وقت ھلاکو اور خواجہ نصیر الدین طوسی جب بغداد میں داخل ہوئے تو ابن حاجت زندہ نہیں تھا تا کہ فرار کرتا اور خون سے بھرا ہوا طشت پر بیٹھنے کا محتاج ہوتا۔

۳ ۔ جس طرح خواجہ نصیر الدین کے رمل سے استفادہ کر کے شہر حلہ اور ھلاکوں خان کو دریافت کیا کیا ابن حاجت کو رمل کے زریعے دریافت نہیں کرسکتے تھے کہ ابن حاجت کہاں ہے وہ خون کے طشت کے اوپر بیٹھا ہوا ہے کہ کہاں اور کس مکان میں قرار پایا ہے۔

اگر رمل کے ذریعے سے دریا کا خون دیکھتا ہے کیا اس سے استفادہ نہیں کرسکتا تھا ان تمام سے قطع نظر کواجہ جانتا تھا رمل کے ذریعہ جانتا تھا کہ ابن حاجت کے میزبان کو تو گوسفند میں وزن نہ کرنے کی شرط کی کیا ضرورت تھی ان تمام کے باوجود دعائے توسل کی اہمیت میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو خواجہ کی طرف منسوب ہے اس کتاب کے مولف نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے مرحوم شیخ بھائی سے نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مقدس اردبیلی سے سوال ہوا کہ کونسی چیز سبب ہوئی کہ جس کی وجہ سے اس مقامات عالیہ پر پہنچا اس نے جواب میں فرمایا

خواجہ نصیر الدین دعائے توسل ہمیشہ پڑھنے کی وجہ سے

۔ دعائے توسل معروف بہ دوازدہ امام خواجہ نصیر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَزِدْ وَبارِكْ عَلَى النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الْعَرَبِيِّ الْهاشِمِيِّ الْقُرَشِيِّ الْمَكِّيِّ الْمَدَنِيِّ الْأَبْطَحِيِّ التَّهامِيِّ ، اَلسَّيِّدِ الْبَهِيِّ ، اَلسِّراجِ الْمُضي‏ءِ ، اَلْكَوْكَبِ الدُّرِّيِّ ، صاحِبِ الْوَقارِ وَالسَّكينَةِ ، اَلْمَدْفُونِ بِالْمَدينَةِ ، اَلْعَبْدِ الْمُؤَيَّدِ ، وَالرَّسُولِ الْمُسَدَّدِ ، اَلْمُصْطَفَى الْأَمْجَدِ ، اَلْمَحْمُودِ الْأَحْمَدِ ، حَبيبِ إِلهِ الْعالَمينَ ، وَسَيِّدِ الْمُرْسَلينَ ، وَخاتَمِ النَّبِيّينَ ، وَشَفيعِ الْمُذْنِبينَ ، وَرَحْمَةٍ لِلْعالَمينَ ، أَبِي الْقاسِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبَا الْقاسِمِ يا رَسُولَ اللَّهِ ، يا إِمامَ الرَّحْمَةِ ، يا شَفيعَ الْاُمَّةِ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الْمُطَهَّرِ ، وَالْإِمامِ الْمُظَفَّرِ ، وَالشُّجاعِ الْغَضَنْفَرِ ، أَبي شُبَيْرَ وَشَبَرَ ، قاسِمِ طُوبى وَسَقَرَ ، اَلْأَنْزَعِ الْبَطينِ ، اَلْأَشْجَعِ الْمَتينِ ، اَلْأَشْرَفِ الْمَكينِ ، اَلْعالِمِ الْمُبينِ ، اَلنَّاصِرِ الْمُعينِ ، وَلِيِّ الدّينِ ، اَلْوالِيِ الْوَلِيِّ ، اَلسَّيِّدِ الرِّضِيِّ ، اَلْإِمامِ الْوَصِيِّ ، اَلْحاكِمِ بِالنَّصِّ الْجَلِيِّ ، اَلْمُخْلِصِ الصَّفِيِّ ، اَلْمَدْفُونِ بِالْغَرِيِّ ، لَيْثِ بَني غالِبٍ ، مَظْهَرِ الْعَجائِبِ ، وَمُظْهِرِ الْغَرائِبِ ، وَمُفَرِّقِ الْكَتائِبِ ، وَالشِّهابِ الثَّاقِبِ ، وَالْهِزَبْرِ السَّالِبِ ، نُقْطَةِ دائِرَةِ الْمَطالِبِ ، أَسَدِ اللَّهِ الْغالِبِ ، غالِبِ كُلِّ غالِبٍ ، وَمَطْلُوبِ كُلِّ طالِبٍ ، صاحِبِ الْمَفاخِرِ وَالْمَناقِبِ ، إِمامِ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ ، مَوْلانا وَمَوْلَى الْكَوْنَيْنِ ، اَلْإِمامِ أَبِي الْحَسَنَيْنِ أَميرِالْمُؤْمِنينَ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِ.

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبَا الْحَسَنِ ، يا أَميرَالْمُؤْمِنينَ ، يا عَلِيَّ بْنَ أَبي طالِبٍ ، يا أَخَ الرَّسُولِ ، يا زَوْجَ الْبَتُولِ ، يا أَبَا السِّبْطَيْنِ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا يا مَوْلانا ، إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدَةِ الْجَليلَةِ الْجَميلَةِ ، اَلْمَعْصُومَةِ الْمَظْلُومَةِ ، اَلْكَريمَةِ النَّبيلَةِ ، اَلْمَكْرُوبَةِ الْعَليلَةِ ، ذاتِ الْأَحْزانِ الطَّويلَةِ فِي الْمُدَّةِ الْقَليلَةِ ، اَلرَّضِيَّةِ الْحَليمَةِ ، اَلْعَفيفَةِ السَّليمَةِ ، اَلْمَجْهُولَةِ قَدْراً ، وَالْمَخْفِيَّةِ قَبْراً ، اَلْمَدْفُونَةِ سِرّاً ، وَالْمَغْصُوبَةِ جَهْراً ، سَيِّدَةِ النِّساءِ ، اَلْإِنْسِيَّةِ الْحَوْراءِ ، اُمِّ الْأَئِمَّةِ النُّقَباءِ النُّجَباءِ ، بِنْتِ خَيْرِ الْأَنْبِياءِ ، اَلطَّاهِرَةِ الْمُطَهَّرَةِ ، اَلْبَتُولِ الْعَذْراءِ ، فاطِمَةَ التَّقِيَّةِ الزَّهْراءِ عَلَيْهَا السَّلامُ.

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكِ وَعَلى ذُرِّيَّتِكِ يا فاطِمَةُ الزَّهْراءُ، يا بِنْتَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، أَيَّتُهَا الْبَتُولُ ، يا قُرَّةَ عَيْنِ الرَّسُولِ ، يا بَضْعَةَ النَّبِيِّ ، يا اُمَّ السِّبْطَيْنِ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَتَنا وَمَوْلاتَنا ، إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكِ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكِ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهَةً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعي لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الْمُجْتَبى ، وَالْإِمامِ الْمُرْتَجى ، سِبْطِ الْمُصْطَفى ، وَابْنِ الْمُرْتَضى ، عَلَمِ الْهُدى ، اَلْعالِمِ الرَّفيعِ ، ذِي الْحَسَبِ الْمَنيعِ ، وَالْفَضْلِ الْجَميعِ ، وَالشَّرَفِ الرَّفيعِ ، اَلشَّفيعِ ابْنِ الشَّفيعِ ، اَلْمَقْتُولِ بِالسَّمِّ النَّقيعِ ، اَلْمَدْفُونِ بِأَرْضِ الْبَقيعِ ، اَلْعالِمِ بِالْفَرائِضِ وَالسُّنَنِ ، صاحِبِ الْجُودِ وَالْمِنَنِ ، كاشِفِ الضُّرِّ وَالْبَلْوى وَالْمِحَنِ ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ ، اَلَّذي عَجَزَ عَنْ عَدِّ مَدائِحِهِ لِسانُ اللُّسَنِ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ الْمُؤْتَمَنِ ، أَبي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا مُحَمَّدٍ ، يا حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، أَيُّهَا الْمُجْتَبى ، يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الزَّاهِدِ ، وَالْإِمامِ الْعابِدِ ، اَلرَّاكِعِ السَّاجِدِ ، وَلِيِّ الْمَلِكِ الْماجِدِ ، وَقَتيلِ الْكافِرِ الْجاحِدِ ، زَيْنِ الْمَنابِرِ وَالْمَساجِدِ ، صاحِبِ الْمِحْنَةِ وَالْكَرْبِ وَالْبَلاءِ ، اَلْمَدْفُونِ بِأَرْضِ كَرْبَلاءَ ، سِبْطِ رَسُولِ الثَّقَلَيْنِ ، وَنُورِ الْعَيْنَيْنِ ، مَوْلانا وَمَوْلَى الْكَوْنَيْنِ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ أَبي عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ (صَلَواتُ اللَّه وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَباعَبْدِاللَّهِ ، يا حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ، أَيُّهَا الشَّهيدُ يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ ، يا سَيِّدَ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلى أَبِي الْأَئِمَّةِ ، وَسِراجِ الْاُمَّةِ ، وَكاشِفِ الْغُمَّةِ ، وَمُحْيِى السُّنَّةِ ، وَسَنِيِّ الْهِمَّةِ ، وَرَفيعِ الرُّتْبَةِ ، وَأَنيسِ الْكُرْبَةِ ، وَصاحِبِ النُّدْبَةِ ، اَلْمَدْفُونِ بِأَرْضِ طيبَةَ ، اَلْمُبَرَّءِ مِنْ كُلِّ شَيْنٍ ، وَأَفْضَلِ الْمُجاهِدينَ ، وَأَكْمَلِ الشَّاكِرينَ وَالْحامِدينَ ، شَمْسِ نَهارِ الْمُسْتَغْفِرينَ ، وَقَمَرِ لَيْلَةِ الْمُتَهَجِّدينَ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ زَيْنِ الْعابِدينَ ، أَبي مُحَمَّدٍ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِما).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا مُحَمَّدٍ ، يا عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، يا زَيْنَ الْعابِدينَ ، أَيُّهَا السَّجَّادُ يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلى قَمَرِ الْأَقْمارِ ، وَنُورِ الْأَنْوارِ ، وَقائِدِ الْأَخْيارِ ، وَسَيِّدِ الْأَبْرارِ ، وَالطُّهْرِ الطَّاهِرِ ، وَالْبَدْرِ الْباهِرِ ، وَالنَّجْمِ الزَّاهِرِ ، وَالْبَحْرِ الزَّاخِرِ ، وَالدُّرِّ الْفاخِرِ ، اَلْمُلَقَّبِ بِالْباقِرِ ، اَلسَّيِّدِ الْوَجيهِ ، اَلْإِمامِ النَّبيهِ ، اَلْمَدْفُونِ عِنْدَ جَدِّهِ وَأَبيهِ ، اَلْحِبْرِ الْمَلِيِّ عِنْدَ الْعَدُوِّ وَالْوَلِيِّ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ الْأَزَلِيِّ ، أَبي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلامُ.

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا جَعْفَرٍ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ ، أَيُّهَا الْباقِرُ يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الصَّادِقِ الصِّدّيقِ ، اَلْعالِمِ الْوَثيقِ ، اَلْحَليمِ الشَّفيقِ ، اَلْهادي إِلَى الطَّريقِ ، اَلسَّاقي شيعَتَهُ مِنَ الرَّحيقِ ، وَمُبَلِّغِ أَعْدائِهِ إِلَى الْحَريقِ ، صاحِبِ الشَّرَفِ الرَّفيعِ ، وَالْحَسَبِ الْمَنيعِ ، وَالْفَضْلِ الْجَميعِ ، اَلشَّفيعِ ابْنِ الشَّفيعِ ، اَلْمَدْفُونِ بِالْبَقيعِ ، اَلْمُهَذَّبِ الْمُؤَيَّدِ ، اَلْإِمامِ الْمُمَجَّدِ أَبي عَبْدِاللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا عَبْدِ اللَّهِ ، يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَيُّهَا الصَّادِقُ يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الْكَريمِ ، وَالْإِمامِ الْحَليمِ ، وَسَمِيِّ الْكَليمِ ، اَلصَّابِرِ الْكَظيمِ ، قائِدِ الْجَيْشِ ، اَلْمَدْفُونِ بِمَقابِرِ قُرَيْشٍ ، صاحِبِ الشَّرَفِ الْأَنْوَرِ ، وَالْمَجْدِ الْأَظْهَرِ ، وَالْجَبينِ الْأَطْهَرِ ]الْأَزْهَرِ خ[ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ أَبي إِبْراهيمَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا إِبْراهيمَ ، يا مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ ، أَيُّهَا الْكاظِمُ ، وَأَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الْمَعْصُومِ ، وَالْإِمامِ الْمَظْلُومِ ، وَالشَّهيدِ الْمَسْمُومِ ، وَالْغَريبِ الْمَغْمُومِ ، وَالْقَتيلِ الْمَحْرُومِ ، عالِمِ عِلْمِ الْمَكْتُومِ ، بَدْرِ النُّجُومِ ، شَمْسِ الشُّمُوسِ ، وَأَنيسِ النُّفُوسِ ، اَلْمَدْفُونِ بِأَرْضِ طُوسِ ، اَلرَّضِيِّ الْمُرْتَضى ، اَلْمُرتَجَى الْمُجْتَبى ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضا (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبَا الْحَسَنِ ، يا عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضا ، يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى السَّيِّدِ الْعادِلِ الْعالِمِ ، اَلْعامِلِ الْكامِلِ ، اَلْفاضِلِ الْباذِلِ ، اَلْأَجْوَدِ اَلْجَوادِ ، اَلْعارِفِ بِأَسْرارِ الْمَبْدَءِ وَالْمَعادِ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ ، مَناصِ الْمُحِبّينَ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ ، اَلْمَذْكُورِ فِي الْهِدايَةِ وَالْإِرْشادِ ، اَلْمَدْفُونِ بِأَرْضِ بَغْدادَ ، اَلسَّيِّدِ الْعَرَبِيِّ ، وَالْإِمامِ الْأَحْمَدِيِّ ، وَالنُّورِ الْمُحَمَّدِيِّ ، اَلْمُلَقَّبِ بِالتَّقِيِّ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ أَبي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ.

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا أَبا جَعْفَرٍ ، يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ ، أَيُّهَا التَّقِيُّ الْجَوادُ ، يَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّةَ اللَّهِ عَلى خَلْقِهِ ، يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلَى الْإِمامَيْنِ الْهُمامَيْنِ ، اَلسَّيِّدَيْنِ السَّنَدَيْنِ ، اَلْفاضِلَيْنِ الْكامِلَيْنِ ، اَلْباذِلَيْنِ الْعادِلَيْنِ ، اَلْعالِمَيْنِ الْعامِلَيْنِ ، اَلْأَوْرَعَيْنِ الْأَطْهَرَيْنِ ، اَلنُّورَيْنِ النَّيِّرَيْنِ ، وَالشَّمْسَيْنِ الْقَمَرَيْنِ ، اَلْكَوْكَبَيْنِ الْأَسْعَدَيْنِ ، وارِثَيِ الْمَشْعَرَيْنِ ، وَأَهْلَيِ الْحَرَمَيْنِ ، كَهْفَيِ التُّقى ، غَوْثَيِ الْوَرى ، بَدْرَيِ الدُّجى ، طَوْدَيِ النُّهى ، عَلَمَيِ الْهُدى ، اَلْمَدْفُونَيْنِ بِسُرَّ مَنْ رَأى ، كاشِفَيِ الْبَلْوى وَالْمِحَنِ ، صاحِبَيِ الْجُودِ وَالْمِنَنِ ، اَلْإِمامَيْنِ بِالْحَقِّ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّقِيِّ وَأَبي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِما).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكُما يا أَبَا الْحَسَنِ وَيا أَبا مُحَمَّدٍ ، وَيا عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَيا حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، أَيُّهَا النَّقِيُّ الْهادي وأَيُّهَا الزَّكِيُّ الْعَسْكَرِيُّ ، يَابْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ ، يَابْنَيْ أَميرِالْمُؤْمِنينَ ، يا حُجَّتَيِ اللَّهِ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعينَ ، يا سَيِّدَيْنا وَمَوْلَيَيْنا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكُما إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكُما بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهَيْنِ عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعا لَنا عِنْدَ اللَّهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ زِدْ وَبارِكْ عَلى صاحِبِ الدَّعْوَةِ النَّبَوِيَّةِ ، وَالصَّوْلَةِ الْحَيْدَرِيَّةِ ، وَالْعِصْمَةِ الْفاطِمِيَّةِ ، وَالْحِلْمِ الْحَسَنِيَّةِ ، وَالشُّجاعَةِ الْحُسَيْنِيَّةِ ، وَالْعِبادَةِ السَّجَّادِيَّةِ ، وَالْمَآثِرِ الْباقِرِيَّةِ ، وَالْآثارِ الْجَعْفَرِيَّةِ ، وَالْعُلُومِ الْكاظِمِيَّةِ ، وَالْحُجَجِ الرَّضَوِيَّةِ ، وَالْجُودِ التَّقَوِيَّةِ ، وَالنَّقاوَةِ النَّقَوِيَّةِ ، وَالْهَيْبَةِ الْعَسْكَرِيَّةِ ، وَالْغَيْبَةِ الْإِلهِيَّةِ ، اَلْقائِمِ بِالْحَقِّ ، وَالدَّاعي إِلَى الصِّدْقِ الْمُطْلَقِ ، كَلِمَةِ اللَّهِ وَأَمانِ اللَّهِ وَحُجَّةِ اللَّهِ.

اَلْغالِبِ بِأَمْرِ اللَّهِ ، وَالذَّابِّ عَنْ حَرَمِ اللَّهِ ، إِمامِ السِّرِّ وَالْعَلَنِ ، دافِعِ الْكَرْبِ وَالْمِحَنِ ، صاحِبِ الْجُودِ وَالْمِنَنِ ، اَلْإِمامِ بِالْحَقِّ أَبِي الْقاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، صاحِبِ الْعَصْرِ وَالزَّمانِ ، وَخَليفَةِ الرَّحْمانِ ، وَإِمامِ الْإِنْسِ وَالْجانِّ (صَلَواتُ اللَّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ).

اَلصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا وَصِيَّ الْحَسَنِ ، وَالْخَلَفَ الصَّالِحَ ، يا إِمامَ زَمانِنا ، اَلْقائِمَ الْمُنْتَظَرَ الْمَهْدِيَّ.

يا سَيِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ إِلَى اللَّهِ ، وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَيْ حاجاتِنا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، يا وَجيهاً عِنْدَ اللَّهِ ، إِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ.

فيسئل حاجاته من اللَّه تعالى ، ويرفع يديه ويقول :

يا سادَتي وَمَوالِيَّ ، إِنّي تَوَجَّهْتُ بِكُمْ ، أَنْتُمْ أَئِمَّتِي وَعُدَّتي لِيَوْمِ فَقْري وَفاقَتي وَحاجَتي إِلَى اللَّهِ ، وَتَوَسَّلْتُ بِكُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَبِحُبِّكُمْ وَبِقُرْبِكُمْ أَرْجُو النَّجاةَ مِنَ اللَّهِ ، فَكُونُوا عِنْدَ اللَّهِ تَعالى رَجائي ، يا ساداتي يا أَوْلِياءَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكُمْ أَجْمَعينَ.

أَللَّهُمّ إِنَّ هؤُلاءِ أَئِمَّتُنا وَسادَتُنا وَقادَتُنا وَكُبَرائُنا وَشُفَعاءُنا ، بِهِمْ أَتَوَلَّى وَمِنْ أَعْدائِهِمْ أَتَبَرَّءُ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ.

أَللَّهُمَّ والِ مَنْ والاهُمْ ، وَعادِ مَنْ عاداهُمْ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُمْ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، وَالْعَنْ عَلى مَنْ ظَلَمَهُمْ ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ ، وَأَهْلِكْ عَدُوَّهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ مِنَ الْأَوَّلينَ وَالْآخِرينَ ، آمينَ يا رَبَّ الْعالَمينَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْنا فِي الدُّنْيا زِيارَتَهُمْ ، وَفِي الْآخِرَةِ شَفاعَتَهُمْ ، وَاحْشُرْنا مَعَهُمْ وَفي زُمْرَتِهِمْ وَتَحْتَ لِوائِهِمْ ، وَلاتُفَرِّقْ بَيْنَنا وَبَيْنَهُمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ أَبَداً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.(مهج الدعوات : ۴۲۵ .)

۲ ۔ حضرت صاحب الزمان سے توسل کی دعا

کتاب قسب المصباح میں صاحب الزمان کے ساتھ دعائے توسل جو کہ مختصر دعا ہے اس طرح نقل کیا گیا ہے۔

أَللّٰهُمَّ إِنی أَسْأَلُکَ بِحَقَّ وَلِیِّکَ وَ حُجَّتِکَ صٰاحِبِ الزَّمٰانَ إِلّٰا أَعَنْتَنی بَهِ عَلیٰ جَمیعِ اُمُوری، وَکَفَیْتَنی بِهِ مَوٴُونَةَ کُلِّ مُوذٍ وَطٰاغٍ وَبٰاغٍ، وَأَعَنْتَنی بِهِ، فَقَدْ بَلَغَ مَجْهُدی، وَکَفَیْتَنی کُلَّ عَدُوًّ و هَمٍّ (وَغَمٍّ وَدَیْنٍ، وَوُلْدی وَجَمیعَ أَهْلی وَ إِخْوٰانی، وَمَنْ یُعْنینی أَمْرُهُ وَ خٰاصَّتی، آمینَ رَبَّ الْعٰالَمینَ ۔

کتاب جنات الخلود میں کہتے ہیں جنگ کے دن دشمنوں پر کامیابی اور تمام قرض ادا کرنے کے لئے اس طریقے سے امام زمانہ سے متوسل ہوجائے اس کتاب میں اس نکتہ کو ذکر کرنے کے بعد مذکور دعا کو نقل کیا ہے۔

۳ ۔ مشکلات میں صاحب الزمان سے توسل کرنا

سب سے بڑا وظیفہ امام زمانہ کو وسیلہ قرار دینا خصوصاً سختی اور مشکلات قسم قسم کی گرفتاریاں اور قسم قسم کی بیماریوں کی صورت میں آخری حجت کو وسیلہ قرار دیں۔

مرحوم علامہ مجلسی لکھتے ہیں ابوالوفاء شیرازی نے کہا میں قید خانہ میں تھا یہ چیز مجھ پر سخت گزری اپنی حالت کیلئے کدا سے شکایت کی اور اھلبیت سے مدد مانگی عالم خواب میں حضرت رسول کی خدمت میں حاضر ہوا پیغمبر عالم خواب میں اس کی راہنمائی کرتے ہیں کہ کس حاجت کے لئے کس طرح امام کو اپنا وسیلہ قرار دیں وہ کہتاہے کہ رسول خدا نے اس سے فرمایا یاد امام صاحب الزمانفاذا بلغ منک السیف الذبح فاستعن به فانه یعینک ووضع یده علی حلقه ۔ لیکن صاحب الزمان جب تلوار کے ساتھ قتل کی جگہ پر پہنچے اور اپنے ہاتھ کو حلق مبارک پر رکھیں تو اس سے مدد طلب کرو کہ وہ تمہاری مدد کرے گا۔

ابوالوفاء کہتاہے کہ عالم خواب میں آوازدی یا مولای یا صاحب الزمان ادرکنی فقد بلغ مجھے دی وہ کہتاہے کہ میں خواب سے بیدار ہوا اس حالت میں تھا کہ مامورین میرے ہاتھ سے زنجیروں کو کھولتے تھے سلاح المومنین میں لکھتے ہیں کہ میرے پدر بزرگوار نے اس رابطہ میں کہا ہے

إِن دَنا مِنْ نَحْرِکَ السَّیْفُ اسْتَغِثْ بِوَلِیِّ الْعصْرِ مَوْلٰاکَ وَقُل:

یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانِ أَغِثْنی، یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانَ أَدْرِکْنی

فَهُوَ بیابُ اللّٰه وَالرَّحْمَةِ وَالْغَوْثُ وَابنُ الْمُصْطِفیٰ فَخْرِ الرُّسُلِ

جس وقت تلوار تیرے گلے تک پہنچے تو اپنے مولیٰ حضرت حجت سے متوسل ہوجاؤ اور کہو اے صاحب الزمان ہماری فریاد کو پہنچو اے صاحب الزمان میری مدد کرو چونکہ وہ خدا کا دروازہ اور رحمت الٰہی ہے وہ سب کی فریاد کو پہنچنے والا ہے وہ فرزند پیغمبر حضرت محمد مصطفی ہے۔ جو کچھ رسول کے کلام سے ظاہر ہوتاہے یہ ہے کہ حضرت صاحب الزمان کو واسطہ قرار دینا صرف اس مقام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ انسان جب دشمن کے ہاتھ میں گرفتار ہوا اور وہ اس کو قتل کرنے کا قصد رکھتا ہو تب ہی کرے بلکہ یہ کنایہ ہے کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے اور تمام اسباب ختم ہوجائیں اور لوگوں سے ناامید ہوجائے صبر اور تحمل کے لئے کوئی گنجائش نہ ہو چاہے دینی بلا ہو یا دنیوی ہو دشمن انسان ہو یا جن ہو ان تمام صورتوں میں حضرت حضت سے متوسل ہوجائے۔

۴ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل مشکلات میں

روایت میں ہے کہ اگر کسی مومن پر دنیوی یا اخروی امور سخت ہو تو صحراء میں چلا جائے اور اس دعا کو ستر مرتبہ پڑھے امام زمان اس کی مدد کریں گے دعا یہ ہے

یٰا فٰارِسَ الْحِجٰازِ أَدْرِکْنی، یٰا أَبٰا صٰالِحِ الْمَهْدِیَّ أَدْرِکْنی، یٰا أَبَا الْقاسِمِ أَدْرِکْنی أَدْرِکْنی وَلٰا تَدَعْنی، فَإِنّی عٰاجِزٌ ذَلیلٌ ۔

۵ ۔ یا محمد یا علی کے ساتھ مشکلات میں صاحب الزمان کو سیلہ قرار دینا

عالم بزرگ مرحوم عراقی کتاب دارالسّلام میں لکھتے ہیں کہ ملّا قاسم رشتی جو معروف علماء میں سے ایک ہیں وہ نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کسی مہم کام کے لئے اصفہان گیا ہوا تھا جمعرات کے علاوہ ایک دن تفریح کے لئے شہر (قبرستان تخت فولاد) کے جو با برکت زمین ہے چلا گیا اس شہر میں ناواقف تھا مجھے نہیں معلوم تھا کہ شب جمعہ لوگ اھل قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور بہت زیادہ بھیڑ اور رش ہوتاہے لیکن باقی دنوں میں خلوت ہوتی ہے وہاں کھانے پینے کی چیزیں نہیں ملتی ہیں صرف کبھی کبھی کوئی زمیندار یا کوئی مسافر وہاں سے گزرتاہے جب میں خیابان سے عبور کرتا تھا تو دل چاہتا تھا کہ اپنے ہمراہ حقہ بھی لے جاؤں میرے ہمراہ جو نوکر تھا اس نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو بتادیں اپنے ساتھ حقّہ لے جائیں چونکہ شب جمعہ کے علاوہ وہاں کوئی اور چیز نہیں ملتی ہے حقہ بیچنے والے نہیں آتے ہیں میں نے کہا حقہ کی خاطر واپس نہیں ہوتے ہیں یہاں بزرگ لوگوں کی قبریں ہیں سیدھے قبرستان چلے گئے قبرستان میں داخل ہوئے اور سورہ فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے ایک شخص گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا درویش جیسا دکھائی دیتا تھا وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا ملّا قاسم جب تم یہاں آئے تو کیوں سیرت پیغمبر کے مطابق سلام نہیں کیا میں اس کے کلام سے شرمندہ ہوا معذرت کرلی کہ میں دور تھا میں نے چاہا کہ نزدیک ہوجاؤں اس وقت سلام کروں فرمایا نہیں تم ملا میں ادب نہیں ہے اس سے میرے دل میں ایک ہیبت پیدا ہوئی آگے جا کر سلام کیا اس نے جواب دیا اس نے میرے ماں باپ کا نام لیا کہ فلاں فلاں تھے اور فرمایا کہ اس کا بیٹا زندہ نہیں بچتا تھا اس لئے اس نے نذر کی تھی کہ اگر خدا نے اس کو بیٹا عنایت کیا تو اھل حدیث اور اھل خیر سے ہوجائے گا خدا نے تجھ جیسا فرزند تیرے باپ کو دیا ہے۔ اس نے بھی نذر کو پورا کیا میں نے عرض کیا کیوں نہیں یہ واقعہ میں نے تفصیل سے سنا ہے اس کے بعد فرمایا اگر حقہ پینا چاہتے ہو تو تھیلا میں حقہ موجود ہے باہر نکالو اور تیار کرلو میں بھی پیونگا میں نے چاہا کہ نور کو آواز دوں اور حق بنانے کا حکم دوں یہ خیال اچانکمیرے ذہن میں آیا تو فرمایا کہ نہیں خود حق بنا لو میں نے عرض کیا اچھا اور ہاتھ کو تھیلا میں ڈال دیا اس میں حقہ تھا تازہ پانی ڈالا ہوا تھا اس کو باہر نکالا تمباکو کوئلے اور باقی ضروری چیزیں موجود تھیں میں نے حقہ تیار کیا خود پیا اور اس کو دیا اس کے بعد فرمایا کہ حقہ کی اگ کو گرادیں اس حق کو تھیلا میں رکھ دو میں نے ان کی اطاعت کی فرمایا: چند روز سے یہاں آیا ہوں لیکن اس شہر والوں کو پسند نہیں کرتا ہوں اس لئے شہر میں داخل نہیں ہوا اب میں ایک دوست کو دیکھنے کے لئے مازندران جارہاہوں اس کے بعد فرمایا اس قبرستان میں چند پیغمبر دفن ہیں کسی کو پتہ نہیں آئیے ان کی زیارت کرتے ہیں اٹھے اور تھیلا کو لئے ہوئے چل پڑے۔ یہاں تک کہ ایسی جگہ پہنچے فرمایا کہ پیغمبر کی قبر یہاں پر ہے زیارت پڑھی میں نے اس عبارت کو کتاب میں نہیں دیکھا تھا میں بھی ان کے ساتھ پڑھتا رہا اس کے بعد ان قبروں سے دور ہوگئے فرمایا میں مازندران جانا چاہتاہوں مجھ سے کوئی یادگار چیز طلب کرو میں نے ان سے علم کیمیا کی خواہش کی فرمایا نہیں سکھاتاہوں میں نے اصرار کیا فرمایا رزق اور روزی مقدّر ہے جب تک زندہ ہے روزی چلے گی میں نے کہا کیا ہوتاہے اس سے دربدری سے نجات حاصل کروں گا

فرمایا: اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے میں نے عرض کیا اس کو دنیا کو دوست رکھنے کی وجہ سے نہیں چاہتاہوں فرمایا پھر کیوں ان چیزوں کو چاہتے ہو کہ جو دنیا کے ساتھ مربوط ہیں۔ پھر میں نے اپی خواہش کا تکرار کیا تو فرمایا اگر مسجد سہلہ میں مجھے دیکھا تو سکھادوں گا پس میں نے عرض کیا کوئی دعا یاد کرادو فرمایا دو دعائیں یاد کراتاہوں ایک تمہارے ساتھ مخصوص ہے اور دوسری سے دوسروں کو نفع پہنچے گا اگر کوئی مومن کسی بلاء میں گرفتار ہو تو یہ دعا پڑھے اس میں بہت تاثیر ہے بہت زیادہ مجرب ہے انہوں نے دونوں دعائیں یاد کرادی میں نے عرض کیا افسوس کہ میرے پاس قلم کاغذ نہیں ہے تا کہ لکھوں اور زبانی یاد نہیں کرسکتا ہوں فرمایا: میرے پاس قلم کاغذ ہے اس کو تھیلا سے نکال لو ہاتھ کو تھیلا میں ڈال دیا وہاں نہ حقہ تھا نہ باقی چیزیں تھی صرف ایک قلم اور کاغذ تھا اتنے میں اس نے کہا کہ جلدی کرو مجھے نہ روکو میں جانا چاہتاہوں میں نے جلدی سے لکھنا شروع کیا اور مخصوص دعا کو املا کرایا اور میں نے لکھا جب دوسری دعا میں پہنچے تو یوں فرمایا: یا محمد یا علی یا فاطمہ یا صاحب الزمان ادرکنی ولا تھلکنی تھوڑی دیر صبر کیا فرمایا اس عبارت کو غلط جانتے ہو میں نے عرض کیا کہ ہاں چونکہ خطاب چار سے ہے اور فعل اس کے بعد جمع لانا چاہیئے۔ فرمایا تم نے اشتباہ کیا ہے چونکہ اس زمانے میں اس جہان کو منظم کرنے والا حضرت صاحب الزمان ہے دوسرے افراد اس کے ملک میں تصرف نہیں کرتے ہیں ہم دعا میں حضرت محمد علی فاطمہ کو اس بزرگوار کے پاس شفاعت کے لئے پڑھتے ہیں اور صرف امام زمان سے مدد طلب کرتے ہیں اس دن میری عجیب حالت ہوئی تھی اسی حالت میں شہر میں داخل ہوا اور حاجی محمد ابراہیم کے گھر گیا اس کا اپنا کتابخانہ تھا جب مجھ کو اس حالت میں دیکھا تو کہا کیا ہوا ہے کیا بخارا آیا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا ہے اس کے بعد سارا واقعہ بیان کیا اس نے کہا اس دعا کو آقا محمد بید آبادی نے یاد کرایا ہے کتاب کی پشت پر دعا موجود ہے اٹھا اور کتاب کو لے آیا میں نے دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا تھا ادررکونی ولا تھلکونی میں نے اس کو مٹا دیا اور دونوں فعل کو مفرد لکھا۔

۶ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل

روایت میں ہے کہ جس کسی کو کوئی ہم و غم ہو یا کسی شدّت میں مبتلا ہو اس کو چاہیئے کہ ستّر مرتبہ کہے

"یٰا اَللّٰهُ یٰا مُحَمَّدُ یٰا عَلِیُّ یٰا فٰاطِمَةُ یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانِ، أَدْرِکْنی وَلٰا تُهْلِکْنی

۷ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل

کتاب التحفة الرضویہ میں لکھتے ہیں کہ نماز مغرب کے بعد پیغمبر اور اس کی آل پر سو مرتبہ درود بھیجو اس کے بعد ستّر مرتبہ کہو :

ٰا اَللّٰهُ یٰا مُحَمَّدُ یٰا عَلِیُّ یٰا فٰاطِمَةُ یٰا حَسنُ یٰا حُسَیْنُ، یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانِ، أَدْرِکْنی وَلٰا تُهْلِکْنی

اس وقت سو دفعہ پیغمبر پر درود بھیجو اور اپنی حاجت کا سوال کرو سید علامہ میرے پدر بزرگوار نے کہا ہے کہ یہ عمل مہم امور کے لئے مجرّب ہے۔

۸ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل

عالم بزرگوار فقیہ بزرگوار سید محمد ہندی نجفی نے سید حسن قزوینی سے اس نے سید حسین شوشتری سے اس نے اپنے اساتذہ سے نقل کیا ہے اور کہتاہے مشکلات اور سختی کے وقت سر برہنہ قبلہ کی طرف کھڑے ہوجائیں اور پانچو مرتبہ کہیں "یٰا حُجَّةَ الْقٰائِمَ" یہ عمل بہت زیادہ مجرّب ہے۔

۹ ۔ بیماری کو دور کرنے کے لئے امام زمانہ سے دعا

غیبت کے ختم ہونے کے لئے حضرت حجت کو وسیلہ قرار دیتے ہیں داؤد بن زربی کہتاہے کہ میں مدینہ منورہ میں سخت بیمار ہوا یہ خبر امام صادق تک پہنچی حضرت نے کرم فرمایا اور خط کے ضمن میں اس طرح فرمایا میں تمہاری بیماری سے اگاہ ہوا شفاء کے لئے تین کیلو گندم خرید لیں اس کے بعد پشت کے بل لیٹیں اور اس کو سینہ پر پھیلادیں اور کہیں :

"أَلهُمَّ إِنّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذی إِ ذٰا سَأَلَکَ بِهِ الْمُضْطَرُّ کَشَفْتَ مٰا بَهِ مِنْ ضُرٍّ، وَمَکَّنْتَ لَهُ فِی الْأَرْضِ وَجَعَلْتَهُ خَلیفَتَکَ عَلیٰ خَلْقِکَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ أَهْلِ بَیْتِهِ، وَأَنْ تُعیافِیَنی مَنْ عَلَّتی"

اس کے بعد اٹھیں اور بیٹھیں اور گندم کو اپنے اطراف سے جمع کریں پھر وہی دعا پڑھ لیں اس کے بعد دس سیر (فارسی) گندم فقراء کے درمیان تقسیم کریں پھر وہی دعا پڑھ لیں داؤد کہتاہے کہ میں نے اس علم کو انجام دیا اور ٹھیک ہوگیا۔


باب ہشتم

عریضے

توسل اور استغاثہ کی قسموں میں سے ایک حضرت حجت کی خدمت میں عریضہ لکھنا ہے اس کے بھی تعجب انگیز آثار پائے جاتے ہیں چونکہ ہمارے مولیٰ حضرت حجت جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اپنے دوستوں پر بہت زیادہ مہربان ہیں میں کئی مرتبہ حضرت کی خدمت میں عریضہ لکھا تو اس سے عجیب آثار کا مشاہدہ کیا۔ اس مرحلہ میں امام کو جو عریضے لکھے جاتے ہیں اور بزرگوں سے جو بعض حکایات واقع ہوئی ہیں ان کو بیان کرتاہوں کتاب التحفة الرضویہ میں لکھتے ہیں علامہ بزرگوار سید جلیل القدر محمد تقی اصفہانی حجرت حجت کے معجزات کی فصل میں کہتے ہیں ان معجزات میں سے حضرت کے معجزات اور کرامات عریضہ لکھنے کی وجہ سے تمام مقاصد اور حوائج حاصل ہوچکے ہیں اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہے اور وجدان کے ساتھ تجربہ کیا گیا ہے علامہ بزرگ شیخ عبدالحسین امینی صاحب کتاب الغدیر میں تعجب انگیز حکایت اس بارے میں نقل کرتے ہیں وہ حضرت حجت سے متوسّل ہوئے اس سے ان کے لئے ایک حکایت پیش آئی البتہ اس نے اجازت نہیں دی کہ اس کو کتاب میں نقل کروں اس نے ایک عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں تقدیم کیا اور حضرت حجت کو وسیلہ قرار دیا تھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت حجت سے مہم امور اور قضائے حوائج کے لئے تجربہ کیا ہے۔

اس شخص کا واقعہ جس نے حضرت حجت کے نام لکھا

محدث نوری کتاب نجم الثاقب میں لکھتے ہیں:

دانشمند پرہیزگار مرحوم سید محمد فرزند جناب سید محمد عباس جبل عامل کے توابع میں ساکن تھے اور سید درّالدین عاملی اصفہانی کے چچا تھے شیخ جعفر نجفی کے داماد تھے اس کا ایک عجیب واقعہ ہے ظالم حاکموں نے اس کو فوج میں کام کرنے کا حکم دیا وہ تیار نہیں ہوا وہ اپنے وطن میں چھپ جاتاہے اور فقر و فاقہ کے باوجود فرار کرتاہے وہ لوگوں سے سوال نہیں کرتا تھا ان دنوں میں بیداری اور خواب کی حالت میں عجیب چیزیں دیکھتے تھے و بالآخر نجف اشرف چلا گیا اور صحن شریف میں قبلہ کی طرف اوپر کا ایک کمرہ لیتاہے اور اس میں پریشانی کی زندگی گزارتاہے وہ جب تک زندہ رہا اس کی فقر و فاقہ کو چند آدمیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا اپنے وطن سے فراری سے لیکر فوت ہونے تک پانچ سال ہوگئے اس دوران میرا اس کے پاس آنا جانا تھا وہ شخص انتہائی با حیاء عفیف اور قانع تھا عزاداری کے دنوں میں مجالس میں حاضر ہوتے تھے فقیرانہ زندگی گزارتے تھے چونکہ اکثر اوقات چند دانہ خرمہ اور صحن کے کنویں کے پانی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی اس لئے روزی کی وسعت کے لئے جو دعائیں وارد ہیں ان پر پابندی سے عمل کرتے تھے کبھی دعاؤں کی کتاب کو امانت کے طور پر لے لیتے تھے بہت کم دعائیں ایسی تھی کہ جو اس نے نہ پڑھی ہو اکثر شب و روز دعا اور ذکر میں مشغول ہوجاتے تھے ایک دن ایک عریضہ آخری حجت کی خدمت میں لکھتے ہیں اور مصمم ارادہ کرتاہے کہ چالیس دن یہ کام کرے گا وہ ہر دن سورج نکلنے سے پہلے شہر کا دروازہ کھلتے ہی کہ جو دریا کی طرف ہے باہر چلا جاتاہے اور یہ کہ کوئی اس کو نہ دیکھے دائیں طرف چلا جاتاہے اس وقت عریضہ کو گارے میں ڈال کر اور حضرت کے نواب میں سے کسی ایک کے سپرد کر کے پانی میں ڈال دیتاہے ۳۸ روز یا ۳۹ روز اس عمل کو انجام دیتاہے وہ واقعہ کو اس طرح بیان کرتاہے ایک دن عریضہ کو پانی میں ڈال کر واپس آرہا تھا سر نیچے کر کے بہت زیادہ غصہ میں تھا اچانک متوجہ ہوا کہ گویا کوئی میرے پیچھے آرہا ہے اس نے عربی لباس پہنا ہوا تھا اور عربوں کی طرح سر پر آگال پہنا ہوا تھا اس نے مجھے سلام کیا میں افسردہ ہو کر مختصر جواب دیا اس کی طرف توجہہ نہیں کی چونکہ میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ایک مسافت تک میرے ساتھ چلا میں ناراحت اور افسردہ تھا وہ میری طرف متوجہ ہوا اور اہل جبل عامل کے لہجہ میں فرمایا سید محمد آپکی کیا حاجت ہے آج ۳۸ یا ۳۹ روز ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے شہر سے باہر آئے ہو اور فلاں جگہ پر جاکر دریا میں اپنا عریضہ ڈالتے ہو کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہارا امام تمہاری حاجت سے بے خبر ہے مجھے تعجب ہوا چونکہ میرے اس کام کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا دونوں کی تعداد کو میرے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا یہاں تک کہ کسی نے بھی دریا کے کنارے جاتے ہوئے نہیں دیکھا اور جبل عامل میں سے کوئی شخص یہاں پر موجود نہیں تھا کہ جو ان کو جانتا تھا خصوصاً جب عربی لباس پہنے چونکہ یہ لباس جبل عامل میں مرسوم نہیں تھا میرے ذہن میں آگیا کہ میں نے بڑی رحمت پائی ہے اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوا ہوں۔

میں نے جب عامل میں سنا تھا کہ حضرت کے ہاتھ بہت زیادہ نرم ہیں کوئی ہاتھ اس جیسا نہیں ہے اپنے آپ سے کہا اب ہاتھ دیتاہوں اگر میں نے احساس کیا کہ اس کے ہاتھ نرم اور لطیف ہیں حضرت کی خدمت میں شرف کے آداب بجا لاؤں گا میں اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھادیا آنجنات نے بھی اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھادئے میں نے مصافحہ کیا اور حضرت کے ہاتھوں کو بہت زیادہ لطیف اور نرم محسوس کیا اور یقین ہوا کہ مجھے بہت بڑی نعمت پہنچی ہے چاہا کہ حضرت کے ہاتھ کو بوسہ دوں تو کسی کو نہیں پایا۔

حضرت حجت کے لئے عریضہ کا ایک دوسرا واقعہ

مرحوم محدّث نوری کہتے ہیں فاضل میرزا ابراہیم شیرازی حائری نے ایک واقعہ عریضہ کے بارے میں مجھے بتایا اس نے کہا کہ شہر شیراز میں زندگی گزارتا تھا مجھے ایک مہم حاجت تھی اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا تھا اس واقعہ سے میرا سینہ تنگ ہوا ان تمام میں سے امام حسین کی زیارت تھی کوئی چارہ نہیں دیکھا مگر یہ کہ آخری حجت سے متوسل ہو اپنی حاجتوں کو عریضہ کے ضمن میں حضرت کی خدمت میں لکھا مخفیانہ طور پر غروب آفتاب کے وقت شہر سے نکلا اور دریا کے کنارے اآکر کھڑا ہوگیا اور نواب ابوالقاسم حسین بن روح کو آواز دی اور اس کو سلام کیا اور میں نے کہا کہ عریضہ کو وہ جو میرے اور سب انسانوں کے مولیٰ ہیں تسلیم کریں اور رقعہ کو پانی میں ڈالا اور شہد کی طرف واپس ہوا سورج غروب ہوا تھا دوسرے دروازہ سے شہر میں داخل ہوا اور اپنے گھر آگیا اور اس واقعہ کو ان کے سامنے بیان نہیں کیا کل استاد کے پاس چند آدمیوں کے ہمراہ درس پڑھنے کیلئے وہاں گیا جب تمام افراد آئے اور بیٹھ گئے اچانک ایک سید شریف حرم امام حسین میں خادموں کے لباس میں داخل ہوا سلام کیا اور وہ استاد کے پہلو میں بیٹھا ہم نے اس کو آج تک نہیں دیکھا تھا اور اس کو نہیں جانتے تھے اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور میرا نام لیکر آواز دی اور کہا اے فلانی تمہارے عریضہ کو آخری حجت تک پہنچایا ہے میں ان کی بات سے مبہوت ہوگیا وہاں جتنے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اس کی بات کو نہیں سمجھا کہ کیا کہتاہے اس لئے اس سے پوچھا کہ واقعہ کیا ہے کہا کل رات عالم خواب میں دیکھا ایک جماعت سلمان محمدی کے اطراف میں کھڑی ہے اور اس کے پاس بہت زیادہ عریضے تھے انہوں نے ان کو دیکھا جب مجھے دیکھا تو مجھے آواز دی اور کہا فلاں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو یہ تمہارا عریضہ ہے اس نے اپنے ہاتھ کو بلند کیا عریضہ کو دیکھا کہ اس پر مہر لگی ہوئی تھی حضرت حجت کی طرف سے آیا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے میں سمجھ گیا جس کسی کی حاجت قبول ہوتی ہے اس پر مہر لگائی جاتی ہے اور جس کا مقدّر نہ ہو اس کا عریضہ اسی طرح واپس ہواجاتاہے مجلس میں جو حاضر تھے انہوں نے سچے خواب کے بارے میں پوچھا میں نے وہ واقعہ ان کے سامنے بیان کیا اور قسم کھا کہ اس واقعہ کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا انہوں نے مجھے خوشخبری دی کہ تمہاری حاجت پوری ہوگئی اور ایسا ہی ہوا تھوڑی دیر گزرنے کے بعد موفق ہوا کہ حایر حسینی میں چلا جاؤں اب حضرت کے حرم کے جوار میں ہوں اور حاجیوں کیلئے جو عریضہ میں لکھا تھا سب حاجتیں قبول ہوئی خدا کا شکر ادا کرتاہوں اور اولیاء الٰہی پر درود بھیجتاہوں۔

علامہ شیخ علی اکبر نھاوندی العبقری الحسان میں لکھتے ہیں استاد اخلاق علامہ حاج میرزا علی قاضی طباطبائی نجفی روز جمعہ عصر کے وقت ربیع الاول ۱۳۵۸ نجف اشرف میں ایک واقعہ کے بارے میں مجھے بتایا اس نے کہا دوستوں میں سے ایک جس کے ساتھ میں مانوس تھا اس کا نام نہیں بتایا خط کے ضمن میں مجھے لکھا تھا ایک رات پندرہ شعبان کو امام زمان کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا اس کو معمول کے مطابق اپنے شہر میں پانی میں ڈال دیا چند روز کے بعد ایک شخص آیا اور کہا آپ کے عریضہ کو امام کی خدمت میں پہنچایا شب عاشور آؤں گا اور تجھ کو حضرت حجت کے پاس لے جاؤں گا۔ میں نے تمام عبادتیں جو امام کی خدمت میں جانے کی قابلیت رکھتی تھی اس کو انجام دیا یہاں تک کہ عاشور کی رات وعدہ کی رات آئی اچانک ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق آیا ایک پلک چھپکنے میں مجھے ایک ایسے جزیرہ میں پہنچایا کہ جہاں امام رہتے تھے وہاں ایسی چیزیں دیکھیں جس کو بیان نہیں کرسکتا انبیاء اور اوصیاء کی روحیں وہاں پر تھیں عظمت الٰہی کے آثار کو وہاں پر مشاہدہ کیا اس طریقے پر بے ہوش پڑھا رہا میں نے نہیں سمجھا کہ امام کو دیکھایا نہیں یہاں تک کہ پلک جھپکنے سے پہلے مجھے اپنے گھر پہنچادیا۔

امام عصر کا عریضہ

کچھ واقعات کو حضرت کے عریضہ کے فوائد کے بارے میں بیان کیا اب یہ بتارہاہوں کہ عریضہ کس طرح لکھیں ایک عبارت کاغذ پر لکھ کر ائمہ معصومین میں سے کسی ایک کی ضریح میں ڈال دیں یہ عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں پہنچ جاتاہے اور خود حضرت اس کی حاجت کو پوری کرتے ہیں اور کاغذ پر اس طرح لکھیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

كَتَبْتُ يا مَوْلايَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكَ مُسْتَغيثاً ، وَشَكَوْتُ ما نَزَلَ بي مُسْتَجيراً بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ، ثُمَّ بِكَ مِنْ أَمْرٍ قَدْ دَهَمَني ، وَأَشْغَلَ قَلْبي ، وَأَطالَ فِكْري ، وَسَلَبَني بَعْضَ لُبّي ، وَغَيَّرَ خَطيرَ نِعْمَةِ اللَّهِ عِنْدي ، أَسْلَمَني عِنْدَ تَخَيُّلِ وُرُودِهِ الْخَليلُ ، وَتَبَرَّأَ مِنّي عِنْدَ تَرائي إِقْبالِهِ إِلَيَّ الْحَميمُ، وَعَجَزَتْ عَنْ دِفاعِهِ حيلَتي، وَخانَني في تَحَمُّلِهِ صَبْري وَقُوَّتي.

فَلَجَأْتُ فيهِ إِلَيْكَ ، وَتَوَكَّلْتُ فِي الْمَسْأَلَةِ للَّهِِ جَلَّ ثَناؤُهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْكَ في دِفاعِهِ عَنّي ، عِلْماً بِمَكانِكَ مِنَ اللَّهِ رَبِّ الْعالَمينَ ، وَلِيِّ التَّدْبيرِ وَمالِكِ الْاُمُورِ ، وَاثِقاً بِكَ فِي الْمُسارَعَةِ فِي الشَّفاعَةِ إِلَيْهِ جَلَّ ثَناؤُهُ في أَمْري ، مُتَيَقِّناً لِإِجابَتِهِ تَبارَكَ وَتَعالى إِيَّاكَ بِإِعْطائي سُؤْلي.

وَأَنْتَ يا مَوْلايَ جَديرٌ بِتَحْقيقِ ظَنّي ، وَتَصْديقِ أَمَلي فيكَ ، في أَمْرِ كَذا وَكَذا ويذكر حاجته ، فيما لا طاقَةَ لي بِحَمْلِهِ ، وَلا صَبْرَ لي عَلَيْهِ ، وَ إِنْ كُنْتُ مُسْتَحِقّاً لَهُ وَلِأَضْعافِهِ بِقَبيحِ أَفْعالي ، وَتَفْريطي فِي الْواجِباتِ الَّتي للَّهِِ عَزَّوَجَلَّ ، فَأَغِثْني يا مَوْلايَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكَ عِنْدَ اللَّهْفِ ، وَقَدِّمِ الْمَسْأَلَةَ للَّهِِ عَزَّوَجَلَّ في أَمْري ، قَبْلَ حُلُولِ التَّلَفِ ، وَشَماتَةِ الْأَعْداءِ ، فَبِكَ بُسِطَتِ النِّعْمَةُ عَلَيَّ.

وَاسْأَلِ اللَّهَ جَلَّ جَلالُهُ لي نَصْراً عَزيزاً ، وَفَتْحاً قَريباً ، فيهِ بُلُوغُ الْآمالِ ، وَخَيْرُ الْمَبادي ، وَخَواتيمُ الْأَعْمالِ ، وَالْأَمْنُ مِنَ الْمَخاوِفِ كُلِّها في كُلِّ حالٍ ، إِنَّهُ جَلَّ ثَناؤُهُ لِما يَشاءُ فَعَّالٌ ، وَهُوَ حَسْبي وَنِعْمَ الْوَكيلُ فِي الْمَبْدَءِ وَالْمَآلِ.

یا اس نوشتہ کو تہہ کر کے پاک مٹی کو گیلا کردیں اس عریضہ کو گیلی مٹی کے درمیان رکھ کر اس کو نہر میں یا چشمہ میں یا گہرے کنواں میں ڈال دیں اس کے بعد نہر یا چشمہ پر آئے اور حضرت حجت کے نائبوں میں سے ایک عثمان بن سعد عمری محمد بن عثمان حسین بن روح علی بن محمد سمری سے خطاب کرے اور کہیں

یٰا فُلاٰنَ بْنَ فُلاٰنٍ سَلاٰمٌ عَلَیْکَ أَشهَدُ أَنَّ وَفیاتَکَ فی سَبیلِ اللّٰهِ وَ أَنَّکَ حَیٌّ عَنْدَاللّٰهِ مَرْزُوقٌ، وَقَدْ خٰاطَبْتُکَفی حَیٰاتِکَ الَّتی لَکَ عِنْدَ اللّٰهِ جَلَّ و عَزآَ وَهٰذِهِ رُقْعَتی وَحٰاجَتی إِلیٰ مَوْلاٰ نٰا صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فَسَلِّمْهٰا إِلَیْهِ، فَأَنْتَ الثِّقَةُ الْأَمینُ

اس کے بعد عریضہ کو نہر یا کنواں یا چشمہ میں ڈالیں انشاء اللہ اس کی حاجت قبول ہوگئی مرحوم علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ عریضہ کو ڈالتے وقت اس طرح خیال کرے کہ اس خط کو نائب خاص کے سپرد کرتاہے محدث نوری کہتاہے اس خبر سے استفادہ ہوتاہے کہ چار نائب بزرگوار جس طرح غیبت صغری کے زمانے میں لوگوں اور حضرت حجت کے درمیان حوائج عریضے جواب لینے اور توقیعات پہنچانے میں واسطہ تھے اسی طرح غیبت کبریٰ میں یہی فریضہ انجام دیتے تھے اور بہت بڑے منصب پر فائز تھے واضح ہے کہ آخری حجت کا فضل و کرم اور حضرت کی نعمتیں تمام کو شامل ہیں۔

۲ ۔ خداوند تعالیٰ کے لئے عریضہ

شیخ الطائفہ ابوجفر طوسی کتاب المصباح اور مختصر المصباح میں کہتے ہیں خدا کے لئے ایک عریضہ لکھیں اس کو لپیٹیں اس کے بعد ایک دوسرا عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں لکھیں خدا کے لئے عریضہ اس طرح لکھیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

إِلَى اللَّهِ سُبْحانَهُ وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُهُ ، رَبِّ الْأَرْبابِ ، وَقاصِمِ الْجَبابِرَةِ الْعِظامِ ، عالِمِ الْغَيْبِ وَكاشِفِ الضُرِّ ، اَلَّذي سَبَقَ في عِلْمِهِ ما كانَ وَما يَكُونُ ، مِنْ عَبْدِهِ الذَّليلِ الْمِسْكينِ ، اَلَّذِي انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَسْبابُ ، وَطالَ عَلَيْهِ الْعَذابُ ، وَهَجَرَهُ الْأَهْلُ ، وَبايَنَهُ الصَّديقُ الْحَميمُ فَبَقِيَ مُرْتَهِناً بِذَنْبِهِ ، قَدْ أَوْبَقَهُ جُرْمُهُ ، وَطَلَبَ النَّجا]ةَ[ فَلَمْ يَجِدْ مَلْجَأً وَلا مُلْتَجَأً ، غَيْرَ الْقادِرِ عَلى حَلِّ الْعَقْدِ ، وَمُؤَبِّدِ الْأَبَدِ ، فَفَزَعي إِلَيْهِ وَاعْتِمادي عَلَيْهِ ، وَلا لَجَأَ وَلا مُلْتَجَأَ إِلّا إِلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِعِلْمِكَ الْماضي ، وَبِنُورِكَ الْعَظيمِ ، وَبِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِحُجَّتِكَ الْبالِغَةِ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تَأْخُذَ بِيَدي وَتَجْعَلَني مِمَّنْ تَقْبَلُ دَعْوَتَهُ ، وَتُقيلُ عَثْرَتَهُ ، وَتَكْشِفُ كُرْبَتَهُ ، وَتُزيلُ تَرْحَتَهُ وَتَجْعَلُ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ فَرَجاً وَمَخْرَجاً ، وَتَرُدَّ عَنّي بَأْسَ هذَا الظَّالِمِ الْغاشِمِ ، وَبَأْسَ النَّاسِ يا رَبَّ الْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ ، حَسْبي أَنْتَ وَكَفى مَنْ أَنْتَ حَسْبُهُ ، يا كاشِفَ الْاُمُورِ الْعِظْامِ ، فَإِنَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِكَ.

وتكتب رقعة اُخرى إلى صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه :

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

تَوَسَّلْتُ بِحُجَّةِ اللَّهِ الْخَلَفِ الصَّالِحِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ ، اَلنَّبَإِ الْعَظيمِ ، وَالصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ ، وَالْحَبْلِ الْمَتينِ ، عِصْمَةِ الْمَلْجَإِ ، وَقَسيمِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ.

أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِآبائِكَ الطَّاهِرينَ الْخَيِّرينَ الْمُنْتَجَبينَ ، وَاُمَّهاتِكَ الطَّاهِراتِ الْباقِياتِ الصَّالِحاتِ ، اَلَّذينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ في كِتابِهِ ، فَقالَ عَزَّ مَنْ قائِلٌ «اَلْباقِياتُ الصَّالِحاتُ » ، وَبِجَدِّكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَخَليلِهِ وَحَبيبِهِ وَخِيَرَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، أَنْ تَكُونَ وَسيلَتي إِلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ في كَشْفِ ضُرّي ، وَحَلِّ عَقْدي ، وَفَرَجِ حَسْرَتي ، وَكَشْفِ بَلِيَّتي ، وَتَنْفيسِ تَرْحَتي ، وَبِكهيعص وَبِيس وَالْقُرْآنِ الْحَكيمِ ، وَبِالْكَلِمَةِ الطَّيِّبَةِ.

وَبِمَجارِي الْقُرْآنِ ، وَبِمُسْتَقَرِّ الرَّحْمَةِ ، وَبِجَبَرُوتِ الْعَظَمَةِ ، وَبِاللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ ، وَبِحَقيقَةِ الْإيمانِ ، وَقِوامِ الْبُرْهانِ ، وَبِنُورِ النُّورِ ، وَبِمَعْدَنِ النُّورِ ، وَالْحِجابِ الْمَسْتُورِ ، وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، وَبِالسَّبْعِ الْمَثاني ، وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَفَرائِضِ الْأَحْكامِ ، وَالْمُكَلَّمِ بِالْعِبْرانِيِّ ، وَالْمُتَرْجَمِ بِالْيُونانِيِّ ، وَالْمُناجى بِالسِّرْيانِيِّ ، وَما دارَ فِي الْخَطَراتِ ، وَما لَمْ يُحِطْ بِهِ لِلظُّنُونِ ، مِنْ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ ، وَبِسِرِّكَ الْمَصُونِ ، وَالتَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ.

يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَخُذْ بِيَدي ، وَفَرِّجْ عَنّي بِأَنْوارِكَ وَأَقْسامِكَ وَكَلِماتِكَ الْبالِغَةِ ، إِنَّكَ جَوادٌ كَريمٌ ، وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكيلُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ ، وَصَلَواتُهُ وَسَلامُهُ عَلى صَفْوَتِهِ مِنْ بَرِيَّتِهِ مُحَمَّدٍ وَذُرِّيَّتِهِ.

عریضہ لکھنے کے بعد باری تعالیٰ کے عریضہ کو حضرت حجت کے عریضہ میں رکھیں اور اس کو خالص گارہ میں رکھ دیں اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیں محمد و آل محمد کو وسیلہ قرار دے کر درگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوجائیں اور شب جمعہ اس کو جاری نہر کے پانی میں یا کئواں کے پانی میں ڈال دیں۔

بدیھی ہے کہ اس عمل کو اجابت کی نیت سے انجام دیں نہ تجربہ کی خاطر اور صرف سختی اور مشکل امور میں اس عمل سے استفادہ کیا جائے اس دعا کو نااھل لوگوں کے لئے نہ لکھیں اول تو اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہے دوسرا یہ کہ یہ امانت ہے کہ تمہارے ذمہ میں رکھا گیا ہے جس وقت رقعہ کو جاری نھر میں یا پانی کے کنویں میں ڈالیں تو اس دعا کو پڑھ لو

جو عریضے کے آخر میں ذکر کیا ہے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي لَحَظْتَ بِهَا الْبَحْرَ الْعِجاجَ ، فَأَزْبَدَ وَهاجَ وَماجَ ، وَكانَ كَاللَّيْلِ الدَّاجِ ، طَوْعاً لِأَمْرِكَ ، وَخَوْفاً مِنْ سَطْوَتِكَ ، فَأَفْتَقَ اُجاجُهُ ، وَائْتَلَقَ مِنْهاجُهُ ، وَسَبَّحَتْ جَزائِرُهُ ، وَقَدَّسَتْ جَواهِرُهُ ، تُناديكَ حيتانُهُ بِاخْتِلافِ لُغاتِها ، إِلهَنا وَسَيِّدَنا مَا الَّذي نَزَلَ بِنا ، وَمَا الَّذي حَلَّ بِبَحْرِنا فَقُلْتَ لَها اُسْكُني سَاُسْكِنُكَ مَلِيّاً ، وَاُجاوِرُ بِكَ عَبْداً زَكِيّاً ، فَسَكَنَ وَسبَّحَ وَوَعَدَ بِضَمائِرِ الْمِنَحِ.

فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ ابْنُ مَتَّى بِما أَلِمَ الظُّنُونَ ، فَلَمَّا صارَ في فيها سَبَّحَ في أَمْعائِها ، فَبَكَتِ الْجِبالُ عَلَيْهِ تَلَهُّفاً ، وَأَشْفَقَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ تَأَسُّفاً ، فَيُونُسُ في حُوتِهِ كَمُوسى في تابُوتِهِ لِأَمْرِكَ طائِعٌ ، وَلِوَجْهِكَ ساجِدٌ خاضِعٌ ، فَلَمَّا أَحْبَبْتَ أَنْ تَقِيَهُ أَلْقَيْتَهُ بِشاطِىِ الْبَحْرِ شَلْواً لاتَنْظُرُ عَيْناهُ ، وَلاتَبْطِشُ يَداهُ ، وَلاتَرْكُضُ رِجْلاهُ ، وَأَنْبَتَّ مِنَّةً مِنْكَ عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطينٍ ، وَأَجْرَيْتَ لَهُ فُراتاً مِنْ مَعينٍ ، فَلَمَّا اسْتَغْفَرَ وَتابَ خَرَقْتَ لَهُ إِلَى الْجَنَّةِ باباً ، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ، وتذكر الأئمّة عليهم السلام واحداً واحداً.

۳ ۔ ایک اور عریضہ امام زمانہ کے نام

مرحوم محدث نوری کہتے ہیں کہ استغاثہ کے عریضہ کی حضرت حجت کیلئے متعدد طریقوں سے روایت ہوئی ہے اور دعاؤں کی کتابوں میں کہ جو لوگوں کے درمیان موجود ہے لیکن جو نسخہ اس کتاب میں موجود نہیں ہے یہاں تک کہ مزار میں (بحار الانوار) اور دعاؤں اور عریضہ کی کتابوں میں بھی ذکر نہیں ہے چونکہ اس کا نسخہ کم یاب ہے اس لئے اس کو یہاں نقل کرتاہوں محمد بن طیب صفویہ حکومت کے علماء میں سے ہے اس نے اپنی کتاب انیس العابدین میں کتاب السعادات سے اس طرح نقل کیا ہے دعائے توسل مہم امور اور حوائج کے لئے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

تَوَسَّلْتُ إِلَيْكَ يا أَبَاالْقاسِمِ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ ، اَلنَّبَإِ الْعَظيمِ ، اَلصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ ، وَعِصْمَةِ اللّاجينَ.

بِاُمِّكَ سَيِّدَةِ نِساءِ الْعالَمينَ ، وَبِآبائِكَ الطَّاهِرينَ ، وَبِاُمَّهاتِكَ الطَّاهِراتِ ، بِياسينَ وَالْقُرْآنِ الْحَكيمِ ، وَالْجَبَرُوتِ الْعَظيمِ ، وَحَقيقَةِ الْإيمانِ ، وَنُورِ النُّورِ ، وَكِتابٍ مَسْطُورٍ ، أَنْ تَكُونَ سَفيري إِلَى اللَّهِ تَعالى فِي الْحاجَةِ لِفُلانٍ ، أَوْ هَلاكِ فُلانِ بْنِ فُلانٍ.

فلان بن فلان تک اس دعا کو ایک کاغذ پر لکھ کر پاک گارہ میں رکھ دیں اور جاری پانی میں اور پاکٹوں میں ڈال دیں اور کہیں :

یٰا سَعیدَ بْنَ عُثْمٰانَ، وَ یٰا مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمٰانَ ،أَوصِلٰا قِصَّتی إِلیٰ صٰاحِبِ الزَّمٰانِ صَلَوٰاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ ۔

البتہ نسخہ میں اس طرح ذکر ہوا ہے سعید بن عثمان و عثمان بن سعید لیکن روایات کا ملاحظہ اور بعض رقعوں کے طریقوں سے واضح ہوجاتاہے کہ اشتباہ ہوا ہے بلکہ صحیح نسخہ اس طرح ہے یا عثمان بن سعید و یا محمد بن عثمان واللہ العالم۔


باب نہم

استخارے

اس حصہ میں ایسے مطالب بیان کروں گا پڑھنے والوں کی آنکھیں روشن اور ان کے دل کو غیبی خوشبو سے ساتھ آرام ہو تا کہ تا کہ فرج اور کشایس کی چابی دریافت کر کے نور افشانی کے مقام پر پہنچائے اور بند دروازوں کو کھولنے پر قدرت رکھتا ہوں یہ وہ مطالب ہیں کہ خدا کی جانب سے بصیرت تلاش کرنے والوں کی راہنمائی کیلئے احسان ہوا ہے اے پڑھنے والے جو اس جھان مادی اور معنوی کے سرپرست اور ولی کی طرف سے بندوں کی راہنمائی کے لئے جو استخارہ قرار دیا ہے اس کو غنیمت شمارکریں اگر اس قسم کے مطالب جاننے کی تلاش میں ہو یہ آپ اور یہ چابیاں تمہارے ہاتھ میں ہیں اس کو پکڑ لو اور اس کو غنیمت شمار کرو اس میں شرط یہ ہے کہ استخارہ کی شرائط یاد کرلو اور استخارہ کے راستوں کو جان لے تا کہ پوشیدہ چابیوں اور وحی آسمانی کے چراغ سے استفادہ کرسکے اور جہاں استخارہ کرنا چاہتاہے وہاں قسم قسم کی دعائیں ہیں اور ہم نے اس کے آداب اور شرائط کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اس مقام پر مزید آگاہی کے لئے وہاں رجوع کریں مطلب کی اہمیت سے پیش نظر کہتاہوں سب سے مہم چیز ہر دعا کرنے والے اور استخارہ کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی رعایت کرے وہ یہ ہے کہ اپنے دل کو ہر اس چیز سے پاکیزہ کرلے کہ جو خدا کے لئے ناراضگی کا موجب بنتاہے یقین اور اطمینان حاصل کرنے میں کوشش کرے چونکہ یہی چیزیں دعا اور توسل کی بنیاد ہے اگر استخارہ کو آداب اور شرائط کے ساتھ انجام دے استخارہ کرنے والا اپنی مرضی سے ایک قبضہ تسبیح کا انتخاب نہیں کرتاہے بلکہ خدا کے اختیار سے اس سے خیر طلب کرکے منتخب ہوجاتاہے اس بناء پر اگر استخارہ صحیح طریقے پر انجام دیا جائے تسبیح کے ساتھ مٹھی میں لے لینا یا ارقعوں کے ساتھ استخارہ کرنے میں ایک رقعہ کو انتخاب یا قرآن کے ساتھ استخارہ میں صفحہ کا انتخاب یہ سب خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں رہے اور تجھ کو اختیار نہیں ہے۔ اگر یہ آداب اور شرائط کے ساتھ نہ ہو تو اس قسم کے استخارہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پس استخارہ کرنے والا اپنے دل کو ہر قسم کی پلیدگی سے پاک کرے اور یقین کی تلاش میں رہے تا کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف توجہ کرسکے اور اگر استخارہ کرنے والے نہ یہ ایمان اور یقین کے ساتھ نہ کیا ہو اس کے اس استخارہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے سید بزرگوار علی بن طاؤوس بعض لوگوں کے حالات کے بارے میں بتاتے ہیں عوام میں سے بعض لوگوں کے دل یقین سے خالی اور ان میں شناخت کی طاقت بھی نہیں ہے اور قیامت کے دن کے مالک پر عقیدہ بھی نہیں رکھتے ہیں چونکہ بعض لوگوں کی جان کو لوگوں کے مشورہ اور ان سے مانوس ہو کر آرام آتاہے اور خداوند کو مشاہدہ نہیں کیا جاتاہے اس لئے وہ خدا پر اعتماد کے لذت کو درک نہیں کرتے ہیں اور یہ تنگ نظری کی بناء پر ہے کہ خدا کے ساتھ مشورہ کرنے میں فائدہ نہیں جانتے ہیں

و مَن یکُ ذا فم مرّ مریض یجد مرّاً به الماء الزلالا

جس کا منہ کڑوا ہو اور بیمار ہو وہ پانی کے ذائقہ کو کڑوا خیال کرتاہے یہ اس گروہ میں سے ہے کہ جن کی طرف ہمارے مولیٰ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے ایک عمدہ خطبہ کے ضمن میں فرمایا ہے :

همجٌ رعاع، لا یعبأ اللّٰه بهم، أتباع کلّ ناعق و ناعقة

یہ مچھر کی طرح ضعیف ہیں خدا نے ان کی طرف توجہ نہیں کی ہے وہ ہر آواز کے پیچھے جاتے ہیں حضرت حجت کی طرف سے آخری توقیع جو صادر ہوئی وہ دعائے استخارہ تھی۔

سید بزرگوار علی بن طاؤوس فرماتے ہیں وہ دعائیں کہ جو استخارہ کے بارے میں پیغمبر اور ائمہ سے وارد ہوئی ہیں میں یہی سے سمجھا ہے ان حضرات نے استخارہ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے جہاں تک میں نے جو سمجھا ہے یہ ہے کہ استخارہ سب سے مہم ترین امور میں سے اور اسرار الٰہی کا ایک جزء ہے اور شب معراج حضرت پیغمبر کے لئے بیان ہوا ایک اور مطلب اس عملی کاوش میں جو میرے ہاتھ میں آیا ہے یہ ہے کہ حضرت حجت کی طرف سے آخری توقیع جو صادر ہوئی وہ دعائے استخارہ تھا۔

۱ ۔ امام عصر کی طرف سے دعائے استخارہ

دعاء استخارہ آخری دعا ہے کہ جو حضرت حجت کی طرف سے نیابت خاصہ کے زمانے میں صادر ہوئی ہے۔محمد بن علی بن محمد اپنی کتاب میں اس طرح روایت کرتے ہیں کہ محمد بن مظفر کہتے ہیں کہ آخری کلام کہ جو حضرت حجت کی طرف سے صادر ہوا "استخارة الاسماء" ہے کہ اس پر عمل کیا جاتاہے کہ نماز حاجت وغیرہ میں اس کو پڑھا جاتاہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي عَزَمْتَ بِهِ عَلَى السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، فَقُلْتَ لَهُما «إِئْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً قالَتا أَتَيْنا طائِعينَ » ، وَبِاسْمِكَ الَّذي عَزَمْتَ بِهِ عَلى عَصا مُوسى ، «فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ ».

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي صَرَفْتَ بِهِ قُلُوبَ السَّحَرَةِ إِلَيْكَ ، حَتَّى «قالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعالَمينَ رَبِّ مُوسى وَهارُونَ » ، أَنْتَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمينَ ، وَأَسْأَلُكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي تُبْلي بِها كُلَّ جَديدٍ ، وَتُجَدِّدُ بِها كُلَّ بالٍ.

وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ كُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِكُلِّ حَقٍّ جَعَلْتَهُ عَلَيْكَ ، إِنْ كانَ هذَا الْأَمْرُ خَيْراً لي في ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ تَسْليماً ، وَتُهَيِّئَهُ لي ، وَتُسَهِّلَهُ عَلَيَّ ، وَتُلَطِّفَ لي فيهِ بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

وَإِنْ كانَ شَرّاً لي في ديني وَدُنيايَ وَآخِرَتي ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ تَسْليماً ، وَأَنْ تَصْرِفَهُ عَنّي بِما شِئْتَ ، وَكَيْفَ شِئْتَ ، (وَحَيْثُ شِئْتَ) ، وَتُرْضِيَني بِقَضائِكَ ، وَتُبارِكَ لي في قَدَرِكَ ، حَتَّى لا اُحِبَّ تَعْجيلَ شَيْ‏ءٍ أَخَّرْتَهُ ، وَلاتَأْخيرَ شَيْ‏ءٍ عَجَّلْتَهُ ، فَإِنَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِكَ ، يا عَلِيُّ يا عَظيمُ ، يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ.( فتح الأبواب : ۲۰۵ ، المصباح : ۵۲۱ ، مفاتح الغيب : ۲۵ .)

مہم نکتہ:

سید بزرگوار علی بن طاؤوس کہتے ہیں کہ ہوسکتاہے کہ بعض افراد کے ذہن میں اس طرح آیا ہے کہ جب غیبت کبریٰ کا زمانہ پہنچا تو ہمارے مولیٰ حضرت حجت نے استخارہ کو اہل دانش سے مشورہ اور ملاقات کے عوض قرار دیا ہے اس وسیلہ سے خدا کے ساتھ مشورہ اور استخارہ کی عظمت سے آگاہ کیا جیسا کہ مجھے معلوم ہوا اور میں نے نہیں سمجھا کہ کسی نے حضرت سے درخواست کی ہو بلکہ ابتدا میں اس دعا کو حضرت کے آخری مہم چیزوں میں سے ہے کہ جو حضرت سے صادر ہوئی ہے اور یہ مطلب اہل بصیرت کے نزدیک سمجھنے کے قابل ہے۔

۲ ۔ قرآن سے استخارہ کیلئے دعا

سید بزرگوار علی بن طاؤوس فتح الابواب میں کہتے ہیں کہ میں امام موسیٰ کاظم کے حرم میں تھا کہ بدر بن یعقوب مقری اعجمی نے قرآن کے ساتھ استخارہ کرنے کے بارے میں تین روایتیں میرے لئے نقل کیں ان میں سے کوئی بھی نماز کی روایات میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔

پہلی روایت:

اس نے کہا کہ قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور دعا کریں اس وقت کہیں:

أَللّٰهُمَّ إِنْ کٰانَ مِنْ قَضیائِکَ وَقَدَرِکَ أَنْ تَمُنَّ عَلیٰ اُمَّةِ نَبِیِّکَ بِظُهُورِ وَلِیِّکَ وَابْنِ بَنْتِ نَبِیِّکَ، فَعَجِّلْ ذٰالِکَ، وَسَهِّلْهُ وَیَسِّرْهُ وَکَمِّلْهُ، وَأَخْرِجْ لی آیَةً أَسْتَدِلُّ بِهٰا عَلیٰ أَمْرٍ فَأَئْتَمِرُ، أَوْنَهْیٍ فَأَنْتِهی (أَوْ مٰا تُریدُ الْفٰالَ فیهِ) فی عٰافِیَةٍ ۔

اس کے بعد سات ورقہ گن لیں جب ساتویں ورق پر پہنچے اس کے دوسرے صفحہ پر دیکھیں اور چھ سطریں شمار کرین اور ساتویں سطر پر فال نکال لیں۔

دوسری روایت:

اسی دعا کو پڑھ لے اس کے بعد قرآن مجید کو کھول لیں اور سات ورق کی گنتی کرلیں ساتویں ورق کے دوسرے صفحہ پر اور پہلے صفحہ میں آٹھویں ورق سے لفظ اللہ کو شمار کریں اس کے بعد لفظ اللہ کی تعداد سے سطروں کو شمار کریں اور آخری سطر میں فال ڈال دیں۔

تیسری روایت:

جب دعائے مذکور کو پڑھ لیں تو آٹھ ورق شمار کریں اس کے بعد آٹھ ورق کے پہلے صفحہ پر گیارہ سطریں شمارکریں اور گیارھویں سطر پر فال نکال لیں قرآن سے فال نکالنے کے بارے میں یہی تین روایتیں سنی تھی جن کو نقل کیا ہے ۔

۳ ۔ حضرت حجت کی طرف سے رقعہ کے ساتھ استخارہ نکالنے کا طریقہ

حضرت حجت کی طرف سے رقعہ کے ساتھ استخارہ اس طرح روایت ہوئی ہے دو الگ الگ کاغذون پر لکھیں:خِیَرَةٌ مِنَ اللّٰهِ وَ رَسُولِهِ لِفُلٰانِ بْنِ فُلٰانَةٍ " ان میں سے ایک پر لکھیں "إِفْعَلْ " یعنی انجام دیں اور دوسرے رقعہ پر لکھیں "لٰا تَفْعَلْ "یعنی انجام نہ دیں گارہ کا ایک گولا بنالیں اور ان دو رقعوں کو ان کے درمیان رکھ دیں اور پانی کے برتن میں ڈال دیں اس وقت وضوع کرلیں اور دوسری رکعت نماز پڑھ لیں اور اس دعا کو پڑھ لے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي عَزَمْتَ بِهِ عَلَى السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، فَقُلْتَ لَهُما «إِئْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً قالَتا أَتَيْنا طائِعينَ » ، وَبِاسْمِكَ الَّذي عَزَمْتَ بِهِ عَلى عَصا مُوسى ، «فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ »

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي صَرَفْتَ بِهِ قُلُوبَ السَّحَرَةِ إِلَيْكَ ، حَتَّى «قالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعالَمينَ × رَبِّ مُوسى وَهارُونَ » ، أَنْتَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمينَ ، وَأَسْأَلُكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي تُبْلي بِها كُلَّ جَديدٍ ، وَتُجَدِّدُ بِها كُلَّ بالٍ.

وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ كُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ ، وَبِكُلِّ حَقٍّ جَعَلْتَهُ عَلَيْكَ ، إِنْ كانَ هذَا الْأَمْرُ خَيْراً لي في ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ تَسْليماً ، وَتُهَيِّئَهُ لي ، وَتُسَهِّلَهُ عَلَيَّ ، وَتُلَطِّفَ لي فيهِ بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

وَإِنْ كانَ شَرّاً لي في ديني وَدُنيايَ وَآخِرَتي ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ تَسْليماً ، وَأَنْ تَصْرِفَهُ عَنّي بِما شِئْتَ ، وَكَيْفَ شِئْتَ ، (وَحَيْثُ شِئْتَ) ، وَتُرْضِيَني بِقَضائِكَ ، وَتُبارِكَ لي في قَدَرِكَ ، حَتَّى لا اُحِبَّ تَعْجيلَ شَيْ‏ءٍ أَخَّرْتَهُ ، وَلاتَأْخيرَ شَيْ‏ءٍ عَجَّلْتَهُ ، فَإِنَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِكَ ، يا عَلِيُّ يا عَظيمُ ، يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ.( فتح الأبواب : ۲۰۵ ، المصباح : ۵۲۱ ، مفاتح الغيب : ۲۵ .)

اس کے بعد سجدہ کرے اور سجدہ میں سو دفعہ کہتے "أَسْتَخیرُ اللّٰهَ خِیَرَةً فی عیافِیَةٍ " اس وقت سر کو سجدہ سے اٹھا دے اور منتظر ہوجائے جو کاغذ بھی گارہ کے گولا سے پہلے نکلے اس پر عمل کرے ان شاء اللہ ۔

حضرت حجت کی طرف سے تسبیح کے ساتھ استخارہ کے چند طریقے

۴ ۔ حضرت حجت کی طرف سے تسبیح کے ساتھ استخارہ

استخارہ کا پہلا طریقہ

علامہ حلی نے کتاب مصباح میں کہا ہے کہ اس استخارہ کی آخری حجت کی طرف سے روایت ہوئی ہے اور اس کا طریقہ اس طرح ہے کہ سورہ حمد کو دس دفعہ یا تین دفعہ یا ایک دفعہ پڑھے اس کے بعد سورہ قدر کو بھی دس مرتبہ پڑھے اس کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھے۔

أَللّٰهُمَّ إِنّی أَسْتَخیرُکَ لِعِلْمِکَ بِعٰاقِبَة، الْاُمُورِ، وَ أَسْتَشیرُکَ لِحُسْنِ ظَنّی بِکَ فِی الْمَأْمُلِ وَالْمَحْذُورِ أَللّٰهُمَّ إِنْ کٰانَ الْأَمْرُ الْفُلٰانیاور اپنے کام کا نام لیں بِما قَد نیطَتْ بِالْبَرَکَةِ أَعْجٰازُهُ وَبَوٰادیهِ،وَحُفَّتْ بِالْکَرٰامَهِ أَیّٰامُهُ وَلَیٰالیهِ، فَخِرْ لِیَ اللّٰهُمَّ فیهِ خِیَرَةً تَرُدُّ شُمُوسَهُ ذَلُولاً، وَتَقْعَضُ أَیّٰامَهُ سُرُوراً

أَللّٰهُمَّ إِمّٰا أَمْرٌ فَأَئْتَمِرُ، وَإِمّٰا نَهْیٌ فَأَنْتَهی أَللّٰهُمَّ إِنّی أَسْتَخیرُکَ بِرَحْمَتِکَ خِیَرَةً فی عافِیَةٍ

اس کے بعد تسبیھ کو متھی میں لے لے اور اپنی حاجت کو اپنے دل میں نیت کرلے اور اس مٹھی میں جو تسبیح ہے اس کو شمار کرلے اگر شمار کرنے کے بعد عدد طاق رہ جائے تو اس کام کو انجام دے اگر وہ عدد جفت رہ جائے تو اس کو ترک کرے۔

۔ دوسرا استخارہ

علامہ مجلسی بحارل الانوار میں کہتے ہیں کہ اپنے پدر بزرگوار سے سنا کہ اس نے اپنے استاد شیخ بھائی سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میرے اساتذہ تسبیح کے ساتھ استخارہ کے طریقہ کو حضرت آخری حجت(علیہ السلام ) سے اس طرح نقل کرتے تھے کہ تسبیح کو ہاتھ میں لیکر تین مرتبہ محمد و آل محمد پر درود بھیجیں اور تسبیح کو مٹھی میں لے لیں اس کو دو دو کر کے شمار کریں آخر میں اگر ایک دانہ بچ جائے تو اس کام کو انجام دیں اگر دو باقی رہ جائے تو اس کام کو انجام نہ دیں۔

تیسرا استخارہ

المختار من کلمات الامام المھدی کا مصنف کہتے ہیں کہ ہم تسبیح کے ساتھ استخارہ میں ایک مجازی طریقہ رکھتے ہیں کہ جو حضرت حجت کے ساتھ متصل ہے علماء میں سے ایک نے مجھے اجازت دی ہے کہ اس طریقہ پر استخارہ انجام دوں دوسروں کو بھی اجازت دیتاہوں میں نے بھی بعض کو اس طریقہ کی اجازت دی ہے اور وہ استکارہ اس طرح ہے کہبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ،تین مرتبه أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ پڑھے اس کے بعد ایک مختصر دعا پڑھے مثال کے طور یوں پڑھے"یٰا مَنْ یَعْلَمُ إِهْدِ مَنْ لٰا یَعْلَمُ " یا یوں کہے "یٰا رَبِّ خِزْلی مٰا هُوَ الصّٰالِحُ "اس کے بعد حضرت تسبیح کو مٹھی میں لیتے تھے اور شمار کرتے تھے اگر ایک دانہ باقی رہ جاتا اس کام کو انجام دیتا تھا اور اگر جفت رہتا تو اس کو ترک کرتے تھے۔

۔ استخارہ کا چوتھا طریقہ

ایک قدیم کتاب میں اس طرح لکھا ہوا تھا جو استخارہ امام زمانہ کی طرف منسوب ہے وہ اس ترتیب سے ہے اول سورہ حمد کو پڑھ لو آیہ "إِهْدِنَا الصِّرٰاطَ المُسْتَقیمَ " تک پہنچنے اس کے بعد تین مرتبہ محمد و آل محمد پر درود بھیجیں اور تین مرتبہ کہو "یٰا مَنْ یَعْلَمُ إِهْدِ مَنْ لٰا یَعْلَمُ "۔اس کے بعد تسبیح کو اپنے مٹھی میں لیلے اس کے بعد دو دو کر کے شمار کرے اگر آخر میں ایک باقی رہے تو وہ کام اچھا ہے انجام دیں اگر دو باقی رہے تو اس کو انجام نہ دیں اگر اس عمل کے خوبی اور برائی کو جاننا چاہتے ہیں تو دوبارہ استخارہ کرلیں اور اس عمل کے ترک کرنے کا قصد کرلے اگر پہلے استخارہ میں امر ہو اور دوسرے استخارہ میں نہی آجائے تو وہ کام بہت اچھا ہے اگر دوسرے استخارہ میں بھی امر آجائے تو وہ کام متوسط ہے یعنی درمیانہ ہے۔

اسی طرح اگر پہلا استخارہ میں کام سے نھی ہوا ہے اور اس کے ترک میں امر ہوا ہو اس کو چاہیئے کہ وہ اس کام کو ہرگز انجام نہ دے اگر اس کام کے ترک کی بھی نھی کی گئی ہے تو اجتناب کرنا اس کام سے پہلے استخارہ کی طرح نہیں ہے۔

۸ ۔ پانچواں استخارہ

شیخ محمد حسن نجفی صاحب جواہر جواہر الکلام میں لکھتے ہیں بعض اہل زمان کے نزدیک ایک ایسا استخارہ معمول ہوا ہے کہ بسا اوقات اس استخارہ کی ہمارے آخری حجت کی طرف نسبت دی گئی ہے اور وہ استخارہ یوں ہے کہ قرآت اور دعا کے بعد تسبیح کو متھی میں لے لے آٹھ آٹھ شمار کرلے اگر ایک باقی رہ گیا تو کچھ نہ کچھ ٹھیک ہے اگر دو دانے باقی رہ گئے ایک نھی ہے اگر تین دانے باقی رہ گئے تو آپ کو اختیار حاصل ہے چونکہ بجا لانا اور ترک کرنا برابر ہے اگر چار باقی رہ گئے دو نھی موجود ہیں اگر پانچ باقی رہ گئے تو بعض کہتے ہیں اس میں زحمت اور تکلیف ہے دوسرے بعض کہتے ہیں کہ اس کام میں ملامت ہے اگر چھہ دانے باقی رہ گئے تو بہت اچھا ہے اس کام کو جلدی انجام دے اگر سات باقی رہ گئے تو اس کا حکم پانچ والا حکم ہے یعنی دو عقیدہ یا دو روایات اس کے بارے میں موجود ہیں اگر چار باقی رہ جائے تو اس میں چار نھی موجود ہیں۔


باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین


باب یازدھم

زیارات

(حضرت صاحب الزمان کی زیارت کرنا ہر زمان اور مکان میں مستحب ہے)

علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ حضرت صاحب الزمان کی زیارت ہر مکان اور ہر زمانے میں مستحب ہے اور حضرت کی زیارت کی سرداب مقدس اور ان کے اجداد کی قبر کے نزدیک بہت زیادہ فضیلت ہے حضرت کی زیارت اوقات شریف میں یعنی حضرت کی ولادت کی رات یعنی پندرہ شعبان صحیح روایت کی بناء پر اور شب قدر کہ جس میں ملائکہ اور روح ان کی خدمت میں نازل ہوتے ہیں ایسے موقع کی زیادہ مناسب ہے۔

اب ایک روایت اس کے بارے میں نقل کرتاہوں:

سلیمان بن عیسی اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام صادق کی خدمت میں کھا عرض کیا جب بھی آپ کی کدمت میں نہ آسکوں تو آپ کی زیارت کس طرح کروں راوی کہتاہے حضرت میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے عیسیٰ اگر میرے پاس نہ آکسو تو جمعہ کے دن غسل کرو اور ساتھ وضوع کرلو اور اپنے گھر کی چھت پر چلے جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو اور میری طرف متوجہ ہوجاؤ کیونکہ جو بھی میری زندگی میں میری زیارت کرے گویا اس نے میری موت کے بعد میری زیارت کی ہے اور جو بھی میری موت کے بعد میری زیارت کرے واقع میں میری زندگی میں میری زیارت کی ہے۔

علامہ مجلسی اس حدیث شریف کی توضیح میں کہتے ہیں یہ حدیث بتاتی ہے کہ زندہ امام کی زیارت بھی اسی طریقے پر جائز ہے یہ بہترین دلیل ہے حضرت صاحب الزمان کی زیارت کے لئے کہ انسان جہاں چاہے سرداب مقدس کی طرف رخ کر کے صاحب الزمان کی زیارت کرسکتاہے۔

شیخ کفعمی فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب الزمان کی زیارت ہر مکان اور زمان میں مستحب ہے زیارت کے موقع پر مستحب ہے کہ تعجیل فرج کے لئے اور ظہور کے لئے دعا کی جائے صاحب الزمان کی زیارت کی سامراہ اور سرداب مقدس میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ۔

زیارات معصومین علیہ السلام

اور ثواب کا ہدیہ امام زمان کی خدمت میں پیش کرے۔ انسان زیارت کے ثواب کو پیغمبر کی پیشگاہ میں یا ائمہ مین سے کسی کے لئے ہدیہ بھیج سکتاہے۔

شیخ طوسی سند کے داؤد صرمی سے روایت کرتے ہیں کہ داؤد صرمی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام ھادی کی خدمت میں عرض کیا میں نے آپکے پدر بزرگوار کی زیارت کی اور اس کا ثواب آپ کے لئے قرار دیا کیا یہ عمل جائز ہے حضرت نے فرمایا تمہارے لئے خدا کی طرف سے اجر اور ثواب ہے اور ہماری طرف سپاس اور شکر ہے۔

اس بناء پر اب شیعہ امام زمانہ کی غیبت کے زمانے میں جو ان کی جدائی میں زندگی گزارتے ہیں اور حضرت کے حضور اور ظہور میں موجود نہیں ہیں اور ہمیشہ باعظمت مقامات پر کہ جو حضرت کے ساتھ مربوط ہیں۔ جیسے سرداب مقدس مسجد کوفہ۔ مسجد سہلہ مسجد جمکران کہ جہاں شریفاب ہوتے ہیں۔ ان مقدس مقامات کی زیارت کر کے اس کمی کا جبران کیا جاسکتاہے اسی طرح بعض زیارات پڑھنے سے خدا کا قرب حاصل کرسکتے ہیں اب تک بہت سے افراد کہ خاندان وحی کو دوست رکھتے ہیں حضرت امیرالمومنین کے حرم میں اسی طرح بقیع کاظمین سامراہ مشہد مقدس ان مقامات پر امام زمانہ کی عنایت شیعوں پر ہے متعدد کتابوں میں ذکر ہوا ہے اس کتاب میں بھی نمونہ کے طور پر نقل کیا ہے۔

زیارات کے آداب

اہلبیت کی زیارت کا ثواب امام زمانہ کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنا مستحب ہے۔ محدث قمی نے نقل کیا ہے کہ زیارت کے آداب بہت ہیں یہاں چند چیزوں پر اکتفا کرتاہوں۔

۱ ۔ زیارت کے لئے سفر پر جانے سے پہلے غسل کرنا

۲ ۔ بے ہودہ اور لغو باتوں کا ترک کرنا سفر کے دوران دعویٰ اور جھگڑے کو ترک کرنا۔

۳ ۔ ہر امام کی زیارت کے لئے غسل کرنا اور غسل کرتے وقت دعا کا پڑھنا روایت میں وارد ہے۔

۴ ۔ طھارت

۵ ۔ پاک و پاکیزہ اور نئے لبا سکا پہننا اور بہتر یہ ہے کہ سفید لباس پہنے۔

۶ ۔ روضہ مقدسہ جاتے وقت آہستہ قدم رکھے سکون اور وقار کے ساتھ چلے خضوع اور خوشوع کے ساتھ سر کو نیچے جھکا دے اور پر دائیں بائیں نہ دیکھے۔

۷ ۔ امام حسین کی زیارت کے علاوہ باقی کے اماموں کے زیارت کے لئے خوشبو لگانا ۔

۸ ۔ حرم مطہر جاتے ہوئے زبان پر تکبیر تمحید تسبیح اور تہلیل اور تمجید میں مشغول ہو اور محمد و آل محمد پر درود بھیج کر اپنے منہ کو معطر کرے۔

۹ ۔ حرم شریف کے دروازے پر ٹھہرنا (داخل ہونے کی اجازت) کرنا وقت قلب اور خشوع میں سعی کرنا اور صاحب قبر کی عظمت اور یہ کہ اس کے کھڑے ہونے کو دیکھتاہے اور اس کے کلام کو سنتاہے اور سلام کا جواب دیتاہے۔

۱۰ ۔ بوسہ دینا عتبہ عالیہ کا شیخ شہید نے فرمایا ہے اگر زیارت کرنے والا سجدہ کرے اور یہ نیت کرے کہ خدا کے لئے سجدہ کرتاہوں شکرانہ کے طور پر کہ اللہ نے مجھے یہاں پہنچا دیا ہے تو بہتر ہوگا۔

۱۱ ۔ داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں داخل کرے اور باہر نکلتے وقت بایاں قدم آگے رکھے جیسا کہ مسجاد میں کرتے ہیں۔

۱۲ ۔ ضریح مطہر کے پاس جائے اس طریقے پر کہ اپنے آپ کو ضریح کے ساتھ متصل کردے یہ وہم کہ دور کھڑے ہونا ادب ہے یہ غلط ہے چونکہ ضریح تک اپنے آپ کو پہنچانے کے بارے میں روایت وارد ہے۔

۱۳ ۔ زیارت کرتے وقت قبلہ کی طرف پشت اور قبر کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا ظاہراً یہ ادب معصوم کے ساتھ مختص ہے جب زیارت پڑھنے سے فارغ ہوجائے دائیں رخسار کو ضریح پر رکھے اور تضرع کی حالت میں دعا مانگے اس کے بعد بایا رخسار رکھے اور پڑھے کہ خداوند صاحب قبر کا واسطہ کہ اس بزرگوار کیلئے اھل شفاعت سے قرار دے بہت زیادہ دعا مانگے اس کے بعد سر مطہر کی طرف قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوجائے اور دعا پڑھے۔

۱۴ ۔ زیارت پڑھتے وقت کھڑا ہوجائے اگر کوئی عذر موجود نہ ہو۔

۱۵ ۔ قبر مطہر کو دیکھتے وقت تکبیر پڑھے زیارت پڑھنے سے پہلے اور خبر مٰں ہے جو بھی امام کے سامنے تکبیر کہے اور کہے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ اس کے لئے رضوان اللہ الاکبر لکھا جاتاہے۔

۱۶ ۔ ان زیارات کا پڑھنا کہ جوائمہ طاہرین سے منقول ہے اور اپنی طرف سے ایجاد شدہ زیارات کو ترک کرے شیخ کلینی نے عبدالرحیم قصیر سے روایت کی ہے کہ کہا کہ میں حضرت صادق کی خدمت حاضر ہوا اور کہا میں آپ پر قربان ہوجاؤں میں نے انی طرف سے دعا ایجاد کی ہے فرمایا چھوڑ دو اختراع کو جب بھی تم کو کوئی حاجت در پیش ہو حضرت رسول سے پناہ حاصل کرلو دو رکعت نماز پڑھ لو اور اس کو ہدیہ کرو حضرت کی طرف ۔

۱۷ ۔ نماز زیارت کا بجا لانا اور کم از کم دو رکعت ہے شیخ شہید نے فرمایا ہے اگر پیغمبر کی زیارت ہے تو نماز کو روضہ مطہرہ میں بجالے آؤ اگر آئمہ میں سے کسی ایک کے حرم میں ہو تو سرہانے کی طرف بجالائے اگر ان دورکعت کو حرم کی مسجد میں انجام دے تو جائز ہے۔

علامہ مجلسی نے فرمایا ہے اگر نماز زیارت یا کوئی اور میرے گمان کے مطابق پشت سر یا سرہانے پر انجام دے تو بہتر ہے نماز پڑھنا ضریح امام کے آگے چونکہ امام کے ساتھ بے احترامی اور بے ادبی ہوتی ہے اس لئے جائز نہیں ہے۔

۱۸ ۔ سورہ یٰسین کا پڑھنا پہلی رکعت میں اور سورہ الرحمن دوسری رکعت میں اگر مخصوص کیفیت نماز زیارت کے لئے وارد نہ ہوا ہو اور نماز کے بعد دعا مانگے جو کچھ وارد ہے اپنے دین اور دنیا کے لئے اور تمام مومنین کے لئے دعا مانگے چونکہ یہ قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

۱۹ ۔ شیخ شہید نے فرمایا ہے اگر کوئی حرم مطہر میں داخل ہوجائے اور دیکھے کہ نماز جماعت ہو رہی ہے سب سے پہلے نماز پڑھ لے اس کے بعد زیارت کرلے جب کہ نماز جماعت میں جماعت کے شرائط موجود ہوں

۲۰ ۔ شیخ شہید نے زیارت کے آداب میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور ضریح کے قریب قرآن مجید کا پڑھنا اور اس کو ہدیہ کرنا جس کی زیارت کی ہے اور اس کا فائدہ زیارت کرنے والے کی طرف لوٹتاہے اس میں جس کی زیارت کرتاہے اس کی تعظیم ہےْ۔

۲۱ ۔ شرک کرنا نازیبا کلمات کا اور بے ہودہ باتوں کا اور دنیوی باتوں میں ہمیشہ مشغول ہونا یہ ہر جگہ مذموم اور قبیح ہے رزق کے لئے مانع اور دل کی پریشانی کا موجب ہے خصوصاً ان مقامات پر کہ جہاں ان کی عظمت کو بلند قرار دیا ہے۔

۲۲ ۔ زیارت کے وقت آواز کو بلند نہ کرنا چانچہ ہدایة الزائر میں ذکر کیا ہے۔

۲۳ ۔ امام کو وداع کرنا جب شہر کو چھوڑ کر جارہاہو۔

۲۴ ۔ توبہ اور استغفار کرنا گناہوں کی وجہ سے اور اپنی حالت کو بہتر کرنا زیارت سے فارغ ہونے کے بعد اس حالت سے کہ جو زیارت سے پہلے جو حالت تھی۔

۲۵ ۔ خرچ کرنا اپنی استطاعت کے مطابق آستانہ کے خادموں پر اور سزاوار ہے کہ وہاں کے خدام شریف اہل خیر صاحب دین اور صاھب مروت ہوں۔

۲۶ ۔ خرچ کرنا کے امام کے شہر کے مساکین مجاورین اور فقراء پر خصوصاً سادات اور اہل علم پر

۲۷ ۔ شیخ شہید نے فرمایا ہے کہ آداب میں یہ ہے جلدی کرے باہر نکلنے میں جب اس نے زیارت کی ہو۔

نیز فرمایا جب عورتیں زیارت کرنا چاہتی ہیں ان کو چاہیئے کہ وہ مردوں سے جدا رہیں اور تنہا زیارت کرلیں اگر رات کے وقت زیارت کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے ان کو چاہیئے کہ وہ اپنا وضع اور ہیئت تبدیل کریں یعنی عالی لباس کو معمولی لباس میں تبدیل کریں کہ پہچانی نہ جائیں مخفی اور پوشیدہ ہو کر باہر نکلیں کہ لوگ اس کو کمتر دیکھیں اور پہچانیں اگر مردوں کے ساتھ زیارت کریں شب بھیجائز ہے اگر چہ مکروہ ہے ان باتوں سے معلوم ہوا کہ عورتیں زیارت کے عنوان سے اپنے آپ کو زینت دے کر نفیس لباس میں اپنے گھروں سے باہر آتی ہیں اور حرم مطہر میں نامحرم کے لئے باعث مزاحمت ہوتی ہیں اس کو ترک کریں اور وہ عورتیں جو مردوں کے قبلہ کے سامنے بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے سلوک عادات سے لوگوں کے حواس کو پریشان کرتی ہیں زائرین نمازگزار گریہ کرنے والوں کو عبادت سے روک دیتی ہیں ان لوگوں میں شمار ہوجاتی ہیں کہ جو راہ خدا کو بند کردیتی ہیں واقعاً اس قسم کی عورتوں کی زیارت منکرات میں شمار ہوجاتی ہیں نہ کہ عبادات میں حضرت صادق سے منقول ہے کہ حضرت امیرالمومنین نے اھل عراق سے فرمایا یا: اھل العراق نبّئت ان نسائکم یوافین الرجال فی الطریق اما تستحیون اے اھل عراق مجھے خبر پہنچی ہے کہ تمہاری عورتیں راستے میں مردوں سے ملتی ہیں یعنی گلی اور بازار میں نامحرموں کے ساتھ ملاقات کرتی ہیں کیا تمہیں شرم نہیں آتی وقال : لعن اللہ من لایفار اور فرمایا خدا لعنت کرے اس پر کہ جو غیر نہیں کرتا۔

۲۸ ۔ سزاوار ہے کہ جب زوار زیادہ ہوں جو جلدی ضریح تک پہنچتے ہیں وہ زیارت کو مختصر کرے اور باہر نکل جائے تا کہ دوسرے لوگ بھی ضریح کے قریب جا کر زیارت کرسکیں۔

۲۹ ۔ جب مقدس مقامات پر جائیں اور اھل بیت کے حرم مطہر میں جائیں امام زمانہ کے تعجیل ظہور کے لئے دعا کریں۔

۳۰ ۔ امام زمانہ کی زیارت جہاں سے چاہے کرسکتاہے اور سزاوار ہے کہ زیارت پڑھنے کے بعد اپنے دل کو صاف کرے اور اپنے وظیفہ کو انجام دے اب حضرت کی بعض زیارتوں کو نقل کرتاہوں۔

۱ ۔ زیارت آل یٰسین

شیخ ابو منصور طبرسی کتاب الاحتجاج میں لکھتے ہیں محمد بن حمیری کہتاہے حضرت کی طرف سے سوالوں کے جواب میں اس طرح صادر ہوا بسم اللہ الرحمن الرحیم الامرہ تعقلون ولا من اولیائہ تقبلون حکمة بالغة فماتضنی النذر عن قوم لایومنون السلام علینا و علی عباداللہ الصالحین نہ اس کے امر میں عقل سے کام لیتے ہو نہ اس کے اولیاء کو قبول کرتے ہو حکمت کا تقاضا ہے ڈرانا ڈرانے والوں کو ڈرانا اس قوم کے لئے جو ایمان نہیں لاتی ہے کافی نہیں ہے سلام ہمارے اوپر اور خدا کے نیک بندوں پر۔

جب آپ چاہیں ہمارے وسیلہ سے خدا کی طرف توجہ کریں تو کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

سَلامٌ عَلَی آلِ یسَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا داعِیَ اﷲِ وَرَبَّانِیَّ آیاتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ اﷲِ

سلام ہو اولاد پیغمبر(ص) پر آپ پر سلام ہو اے خدا کے داعی اور اس کے کلام کے نگہبان سلام ہوآپ پر اے خدا کے باب

وَدَیَّانَ دِینِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ اﷲِ وَناصِرَ حَقِّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اﷲِ

اور اس کے دین کی حفاظت کرنے والے آپ پر سلام ہو اے خدا کے نائب اور حق کے مددگار آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور

وَدَلِیلَ إرادَتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا تالِیَ کِتابِ اﷲِ وَتَرْجُمانِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ فِی آنائِ

اس کے ارادے کے مظہر سلام ہو آپ پراے قرآن کے قاری اور اس کی تشریح کرنے والے آپ پر سلام ہو رات کے

لَیْلِکَ وَأَطْرافِ نَهارِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةَ اﷲِ فِی أَرْضِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مِیثاقَ

اوقات میں اور دن کی ہر گھڑی میں آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے نمائندہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے وہ

اﷲِ الَّذِی أَخَذَهُ وَوَکَّدَهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَعْدَ اﷲِ الَّذِی ضَمِنَهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا

عہد جو اس نے باندھا اور پکا کیا آپ پر سلام ہو اے خدا کے وعدہ جس کا وہ ضامن ہے آپ پر سلام ہو کہ آپ ہیں

الْعَلَمُ الْمَنْصُوبُ وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوبُ والْغَوْثُ وَالرَّحْمَةُ الْواسِعَةُ وَعْداً غَیْرَ مَکْذُوبٍ

گاڑا ہوا علم، ہیں سپرد شدہ دانش، دادرس کشادہ تر رحمت اور وہ وعدہ ہیں جو جھوٹا نہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیکَ حِینَ تَقُومُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْعُدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْرَأُ وَتُبَیِّنُ

آپ پر سلام ہوجب آپ قیام کریں گے آپ پر سلام ہو جب منتظربیٹھے ہیں آپ پر سلام ہو جب آپ قرآن پڑھیں اور تفسیر کریں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تُصَلِّی وَتَقْنُتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَرْکَعُ وَتَسْجُدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

آپ پر سلام ہو جب آپ نماز گزاریں اور قنوت پڑھیں آپ پر سلام ہو جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے ہیں آپ پر سلام ہو

حِینَ تُهَلِّلُ وَتُکَبِّرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِین تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تُصْبِحُ وَ

جب آپ ذکر الہیٰ کریں آپ پر سلام ہوجب حمد و استغفار کریں آپ پر سلام ہوجب آپ صبح اور

تُمْسِی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ فِی اللَّیْلِ إذا یَغْشیٰ وَالنَّهارِ إذا تَجَلَّیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ

شام کریں اورتسبیح بجا لائیں آپ پر سلام ہو رات میں جب وہ چھا جائے اور دن میں جب روشن ہو جائے آپ پر سلام ہو اے محفوظ

الْمَأْمُونُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ بِجَوامِعِ السَّلامِ أُشْهِدُکَ

امام آپ پر سلام ہو جس کے آنے کی آرزو ہے آپ پر سلام ہو ہر طبقے کی طرف سے سلام، میں آپ کوگواہ قرار دیتا ہوں

یَا مَوْلایَ أَنِّی أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ

اے میرے آقا اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد(ص) اسکے بندے

وَرَسُولُهُ لاَ حَبِیبَ إلاَّ هُوَ وَأَهْلُهُ وَأُشْهِدُکَ یَا مَوْلایَ أَنَّ عَلِیّاً أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ

اوررسول ہیں سوائے انکے کوئی حبیب نہیں اور ان کے اہلبیت(ع) کے آپ کو گواہ بناتا ہوں اے میرے آقا اس پر کہ علی (ع)امیر المؤمنین اور

حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ حُجَّتُهُ وَالْحُسَیْنَ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ حُجَّتُهُ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ

اس کی حجت ہیں حسن(ع) اس کی حجت ہیں حسین(ع) اس کی حجت ہیںاور علی(ع) ابن الحسین(ع) اس کی حجت اور محمد(ع) ابن علی(ع)

حُجَّتُهُ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی حُجَّتُهُ

اس کی حجت اور جعفر(ع) ابن محمد(ع) اس کی حجت ہیں موسیٰ(ع) بن جعفر(ع) اس کی حجت ہیں علی(ع) بن موسیٰ(ع) اس کی حجت ہیں

وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُهُ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ

محمد(ع) بن علی(ع) اس کی حجت ہیں علی(ع) بن محمد(ع) اس کی حجت ہیں حسن(ع) بن علی(ع) اس کی حجت ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ(ع)

حُجَّةُ اﷲِ أَنْتُمُ الْاََوَّلُ وَالْاَخِرُ وَأَنَّ رَجْعَتَکُمْ حَقٌّ لاَ رَیْبَ فِیها یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ نَفْساً

خدا کی حجت ہیں آپ(ع) ہی ہیں اول و آخر اور آپ(ع) کی رجعت حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اس دن ایمان لانا کچھ نفع نہ دیگا جو اس سے

إیمانُها لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إیمانِها خَیْراً وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّوَأَنَّ ناکِراً

پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا ایمان کے تحت نیکی کے کام نہ کیئے ہوں اور یقیناً موت حق ہے منکر

وَنَکِیراً حَقٌّ وَأَشْهَدُ أَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌّ وَأَنَّ الصِّراطَ حَقٌّ وَالْمِرْصادَ حَقٌّ

و نکیر حق ہیں میں گواہی دیتا ہوںکہ قبر سے باہر آنا حق اور مردوں کا اٹھنا حق ہے، بے شک صراط سے گزرنا حق، نگرانی ہونا حق اور

وَالْمِیزانَ حَقٌّ وَالْحَشْرَ حَقٌّوَالْحِسابَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالْوَعْدَ وَالْوَعِیدَ بِهِما حَقٌّ

اعمال کا تولا جانا حق ہے، حشر حق ہے، حساب کتاب حق ہے جنت و جہنم حق ہے ان کے بارے میں وعدہ اور وعید حق ہے

یَا مَوْلایَ شَقِیَ مَنْ خالَفَکُمْ وَسَعِدَ مَنْ أَطَاعَکُمْ فَاشْهَدْ عَلَی مَا أَشْهَدْتُکَ عَلَیْهِ

اے میرے سردار آپ(ع) کا مخالف بد بخت ہے اور آپ(ع) کا پیروکار نیک بخت ہے پس میںگواہی دیتا ہوںاسکی جسکی آپ نے گواہی دی

وَأَنَا وَلِیٌّ لَکَ بَرِیٌٔمِنْ عَدُوِّکَ فَالْحَقُّ مَا رَضِیتُمُوهُ وَالْباطِلُ مَا أَسْخَطْتُمُوهُ

میں آپ(ع) کا حبدار اور آپ(ع) کے دشمن سے بیزار ہوں پس حق وہ ہے جسے آپ(ع) پسند کریں او رباطل وہ ہے جس سے آپ(ع) ناخوش ہوں

وَالْمَعْرُوفُ مَا أَمَرْتُمْ بِهِ وَالْمُنْکَرُ مَا نَهَیْتُمْ عَنْهُ فَنَفْسِی مُؤْمِنَةٌ بِاﷲِ وَحْدَهُ

نیکی وہ ہے جس کا آپ(ع) حکم دیں اور برائی وہ ہے جس سے آپ(ع) منع کریں پس میرا دل ایمان رکھتا ہے خدا پر جو یگانہ ہے

لاَ شَرِیکَ لَهُ وَبِرَسُولِهِ وَبِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَبِکُمْ یَامَوْلایَ أَوَّلِکُمْ

اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور اسکے رسول(ص) پر اورامیر المومنین(ع) پر اور آپ(ع) پر اے میرے آقا ایمان رکھتا ہوں اسی طرح آپ(ع) کے پہلے اور

وَآخِرِکُمْ وَنُصْرَتِی مُعَدَّةٌ لَکُمْ وَمَوَدَّتِی خَالِصَةٌلَکُمْ آمِینَ آمِینَ ۔اس زیارت کے بعد یہ دعا

آخری پر اور میری نصرت آپ(ع) کے لیے حاضر ہے میری دوستی آپ(ع) کے لیے خالص ہے قبول فرما، قبول فرما۔

پڑھے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ نَبِیِّ رَحْمَتِکَ وَکَلِمَةِ نُورِکَ وَأَنْ

اے معبود یقیناً میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ اپنے نبی محمد(ص)پر رحمت فرما جو رحمت و برکت والے اور تیرا نورانی کلمہ ہیںاور یہ کہ

تَمْلَأَ قَلْبِی نُورَ الْیَقِینِ وَصَدْرِی نُورَ الْاِیمانِ وَفِکْرِی نُورَ النِّیَّاتِ وَعَزْمِی نُورَ الْعِلْمِ

میرے دل کو نور یقین اور سینے کو نور ایمان سے بھردے اور میرے ذہن کو روشن نیتوں میرے ارادے کو نور علم میری قوت کو نور عمل

وَقُوَّتِی نُورَ الْعَمَلِ وَلِسانِی نُورَ الصِّدْقِ وَدِینِی نُورَ الْبَصائِرِ مِنْ عِنْدِکَ وَبَصَرِی نُورَ الضِّیائِ

میری زبان کو نور صداقت اور میرے دین کو اپنی طرف سے بصیرتوں کے نورسے پر کر دے میری آنکھ کو نور ضیائ سے

وَسَمْعِی نُورَ الْحِکْمَةِ وَمَوَدَّتِی نُورَ الْمُوالاةِ لِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ حَتَّی أَلْقَاکَ

میرے کان کو نور دانش اور میری دوستی کو محمد و آل محمد کی محبت کے نور سے بھر دے حتی کہ تجھ سے ملاقات کروں

وَقَدْ وَفَیْتُ بِعَهْدِکَ وَمِیثاقِکَ فَتُغَشِّیْنِی رَحْمَتَکَ یَا وَلِیُّ یَا حَمِیدُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی

جبکہ تیرے عہد و پیماں کو پورا کیا ہو پس تیری رحمت مجھے گھیر لے اے ولی اے تعریف والے اے معبود محمد مہدی(ع) پر درود

مُحَمَّدٍ حُجَّتِکَ فِی أَرْضِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی بِلادِکَ وَالدَّاعِی إلَی سَبِیلِکَ وَالْقائِمِ

و رحمت فرما جو تیری زمین میں تیری حجت ،تیرے شہروں میں تیرے خلیفہ تیرے راستے کی طرف بلانے والے، تیری عدالت پر قائم

بِقِسْطِکَ وَالثَّائِرِ بِأَمْرِکَ وَلِیِّ الْمُؤْمِنِینَ وَبَوَارِ الْکافِرِینَ وَمُجَلِّی الظُّلْمَةِ وَمُنِیرِ الْحَقِّ

رہنے والے، تیرے حکم سے بدلہ لینے والے، مومنوں کے ولی، کافروں کے لیے پیام موت، تاریکی میں روشنی کرنے والے حق کو

وَالنَّاطِقِ بِالْحِکْمَةِ وَالصِّدْقِ وَکَلِمَتِکَ التَّآمَّةِ فِی أَرْضِکَ الْمُرْتَقِبِ

عیاں کرنے والے حکمت و سچائی سے کلام کرنے والے جو تیری زمین میں تیرا کلمہ کامل وہ تیرے فرامین کے نگہبان اور تیرے

الْخائِفِ وَالْوَلِیِّ النَّاصِحِ سَفِینَةِ النَّجَاةِ وَعَلَمِ الْهُدَیٰ وَنُورِ أَبْصارِ الْوَرَیٰ وَخَیْرِ مَنْ تَقَمَّصَ

جبروت سے خوف زدہ ہیں، خیر خواہ ولی،نجات دلانے والی کشتی، ہدایت کے پرچم اور لوگوں کی آنکھوں کا نور ہیں قمیص اور چادر پہننے والوں میں

وَارْتَدیٰ وَمُجَلِّی الْعَمَی الَّذِی یَمْلاََُ الْاََرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً کَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً

بہترین اور اندھوں کو آنکھیں دینے والے ہیں جو زمین کوعدل و انصاف سے پرکریںگے جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی

إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی وَلِیِّکَ وَابْنِ أَوْلِیَائِکَ الَّذِینَ فَرَضْتَ

بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود اپنے ولی اور اپنے اولیائ کے﴿نسل در نسل﴾ فرزند پر رحمت نازل فرما جن کی

طَاعَتَهُمْ وَأَوْجَبْتَ حَقَّهُمْ وَأَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهِیراً اَللّٰهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ

اطاعت تو نے لازم فرمائی انکا حق واجب کیا اور ان سے پلیدی کو دور کیا انہیں پاک رکھا اور خوب پاک۔ اے معبود امام زمان(ع) کی مدد کر

بِهِ لِدِینِکَ وَانْصُرْ بِهِ أَوْلِیائَکَ وَأَوْلِیَائَهُ وَشِیعَتَهُ وَأَنْصارَهُ وَاجْعَلْنا مِنْهُمْ

انکے ذریعے اپنے دین کو غلبہ دے اور انکے ذریعے اپنے دوستوں، انکے دوستوں شیعوں اور مدد گاروں کو قوت دے اور ہمیں ان میں سے قرار دے

اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ وَمِنْ شَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ وَاحْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ

اے معبود بچائے رکھ ان کو ہرباغی اور سرکش کے شر سے اور اپنی مخلوقات کے شر سے ان کو محفوظ رکھ ان کے آگے سے ان کے

خَلْفِهِ وَعَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَاحْرُسْهُ وَامْنَعْهُ مِنْ أَنْ یُوصَلَ إلَیْهِ بِسُوئٍ وَاحْفَظْ فِیهِ

پیچھے سے انکے دائیں سے اور انکے بائیں سے ان کی نگہبانی کر ان کو بچائے رکھ اس سے کہ انہیں کوئی اذیت پہنچے ان کی حفاظت کر

رَسُولَکَ وَآلَ رَسُولِکَ وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ وَأَیِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ ناصِرِیهِ وَاخْذُلْ

کے اپنے رسول(ص) اور انکی آل (ع) کی حفاطت کر ان امام آخر(ع)کے ذریعے عدل کوظاہر کر اور نصرت دے کر ان کو قوی بنا ان کے ناصروں کی

خاذِلِیهِ وَاقْصِمْ قاصِمِیهِ وَاقْصِمْ بِهِ جَبابِرَةَ الْکُفْرِ وَاقْتُلْ بِهِ الْکُفَّارَ

مدد فرما انکو چھوڑ دے جو انکو چھوڑ گئے انکو کمزور کرنیوالوں کی کمر توڑ دے انکے ہاتھوں کفر کے سرداروں کو زیر کر انکی تلوار سے کافروں،

وَالْمُنافِقِینَ وَجَمِیعَ الْمُلْحِدِینَ حَیْثُ کانُوا مِنْ مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغَارِبِها بَرِّها وَبَحْرِها

منافقوں اور سارے بے دینوں کو قتل کرا دے وہ جہاں جہاں ہیں زمین کے مشرقوں اور اسکے مغربوں میں میدانوں اور سمندروں میں

وَامْلَأَ بِهِ الْاََرْضَ عَدْلاً وَأَظْهِرْ بِهِ دِینَ نَبِیِّکَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ وَسَلَّمْ وَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ

ان کے ذریعے زمین کو عدل سے بھر دے اور اپنے نبی کے دین کو غالب کر دے اور اے معبود مجھے

مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَأَتْباعِهِ وَشِیعَتِهِ وَأَرِنِی فِی آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ

امام مہدی(ع) کے مدد گاروں، ان کے ساتھیوں، ان کے پیروکاروں اور ان کے شیعوں میں سے قرار دے اورآل (ع) محمد (ص) کے

مَا یَأْمُلُونَ وَفِی عَدُوِّهِمْ مَا یَحْذَرُونَ إلهَ الْحَقِّ آمِینَ

بارے میں جسکی وہ تمنا رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں میں جس سے وہ دور رہتے ہیں میرے لیے آشکار فرما اے سچے معبود ایسا ہی ہوا

یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے صاحب جلال و بزرگی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

۲ ۔ زیارت ندبہ

علامہ مجلسی فرماتے ہیں: ابو علی حسن بن اشناس نقل کرتاہے کہ ابو مفضل بن عبداللہ شیبانی نے کہا ابو جعفر بن عبداللہ بن جعفر حمیری نے تمام روایات میں اس کو اجازت دی ہے۔

اسی طرح نقل کیا ہے نماز کے بارے میں مسائل کا جواب دینے کے بعد اور ناحیہ مقدس کی طرف سے خدا ان کا نگہبان اور نگہدار ہے اس طرح صادر ہوابسم الله الرحمن الرحیم لا لامر الله تعقلون، ولا من اولیائه تقبلون، حکمة بالغة فما تعنی الایات و النذر عن قوم لا یومنون والسلام علینا و علی عباد الله الصالحین ۔

نہ اس معاملے میں عقل سے کام لیتے ہیں نہ ان کے اولیاء کو قبول کرتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے ہیں ان کو ڈرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے سلام ہمارے اوپر اور خدا کے نیک بندوں پر جب چاہیں کہ ہمارے وسیلہ سے خدا کی طرف متوجہ ہوں تو کہیں جیسا کہ خداوند متعال فرمایا ہے۔

«سَلامٌ عَلى آلِ ياسينَ» ، ذلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْمُبينُ ، وَاللَّهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظيمِ ، لِمَنْ يَهْديهِ صِراطَهُ الْمُسْتَقيمَ.

قَدْ آتاكُمُ اللَّهُ يا آلَ ياسينَ خِلافَتَهُ ، وَعِلْمَ مَجارِيِ أَمْرِهِ ، فيما قَضاهُ وَدَبَّرَهُ وَرَتَّبَهُ وَأَرادَهُ في مَلَكُوتِهِ ، فَكَشَفَ لَكُمُ الْغِطاءَ ، وَأَنْتُمْ خَزَنَتُهُ وَشُهَداؤُهُ ، وَعُلَماؤُهُ وَاُمَناؤُهُ ، ساسَةُ الْعِبادِ ، وَأَرْكانُ الْبِلادِ ، وَقُضاةُ الْأَحْكامِ ، وَأَبْوابُ الْإيمانِ ، وَسُلالَةُ النَّبِيّينَ ، وَصَفْوَةُ الْمُرْسَلينَ ، وَعِتْرَةُ خِيَرَةِ رَبِّ الْعالَمينَ.

وَمِنْ تَقْديرِهِ مَنائِحَ الْعَطاءِ بِكُمْ إِنْفاذُهُ مَحْتُوماً مَقْرُوناً ، فَما شَيْ‏ءٌ مِنْهُ إِلّا وَأَنْتُمْ لَهُ السَّبَبُ ، وَ إِلَيْهِ السَّبيلُ ، خِيارُهُ لِوَلِيِّكُمْ نِعْمَةٌ ، وَانْتِقامُهُ مِنْ عَدُوِّكُمْ سَخْطَةٌ ، فَلا نَجاةَ وَلا مَفْزَعَ إِلّا أَنْتُمْ ، وَلا مَذْهَبَ عَنْكُمْ ، يا أَعْيُنَ اللَّهِ النَّاظِرَةِ ، وَحَمَلَةَ مَعْرِفَتِهِ، وَمَساكِنَ تَوْحيدِهِ في أَرْضِهِ وَسَمائِهِ.

وَأَنْتَ يا حُجَّةَ اللَّهِ وَبَقِيَّتَهُ كَمالُ نِعْمَتِهِ ، وَوارِثُ أَنْبِيائِهِ وَخُلَفائِهِ ما بَلَغْناهُ مِنْ دَهْرِنا ، وَصاحِبُ الرَّجْعَةِ لِوَعْدِ رَبِّنَا الَّتي فيها دَوْلَةُ الحَقِّ وَفَرَجُنا وَنَصْرُ اللَّهِ لَنا وَعِزُّنا.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَلَمُ الْمَنْصُوبُ ، وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوبُ ، وَالْغَوْثُ وَالرَّحْمَةُ الْواسِعَةُ، وَعْداً غَيْرَ مَكْذُوبٍ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صاحِبَ الْمَرْأى وَالمَسْمَعِ، اَلَّذي بِعَيْنِ اللَّهِ مَواثيقُهُ ، وَبِيَدِ اللَّهِ عُهُودُهُ، وَبِقُدْرَةِ اللَّهِ سُلْطانُهُ.

أَنْتَ الْحَليمُ الَّذي لاتُعَجِّلُهُ الْعَصَبِيَّةُ ، وَالْكَريمُ الَّذي لاتُبْخِلُهُ الْحَفيظَةُ ، وَالْعالِمُ الَّذي لاتُجْهِلُهُ الْحَمِيَّةُ ، مُجاهَدَتُكَ فِي اللَّهِ ذاتُ مَشِيَّةِ اللَّهِ ، وَمُقارَعَتُكَ فِي اللَّهِ ذاتُ انْتِقامِ اللَّهِ ، وَصَبْرُكَ فِي اللَّهِ ذُو أَناةِ اللَّهِ ، وَشُكْرُكَ للَّهِِ ذُو مَزيدِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَحْفُوظاً بِاللَّهِ ، اَللَّهُ نُورُ أَمامِهِ وَوَرائِهِ ، وَيَمينِهِ وَشِمالِهِ ، وَفَوْقِهِ وَتَحْتِهِ ، يا مَحْرُوزاً في قُدْرَةِ اللَّهِ ، اَللَّهُ نُورُ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ ، وَيا وَعْدَ اللَّهِ الَّذي ضَمِنَهُ ، وَيا ميثاقَ اللَّهِ الَّذي أَخَذَهُ وَوَكَّدَهُ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا داعِيَ اللَّهِ وَرَبَّانِيَّ آياتِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بابَ اللَّهِ وَدَيَّانَ دينِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَليفَةَ اللَّهِ وَناصِرَ حَقِّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللَّهِ وَدَليلَ إِرادَتِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا تالِيَ كِتابِ اللَّهِ وَتَرْجُمانَهُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ في آناءِ لَيْلِكَ وَأَطْرافِ نَهارِكَ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بَقِيَّةَ اللَّهِ في أَرْضِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تَقُومُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تَقْعُدُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تَقْرَأُ وَتُبَيِّنُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تُصَلّي وَتَقْنُتُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تُعَوِّذُ وَتُسَبِّحُ

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تُهَلِّلُ وَتُكَبِّرُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تُمَجِّدُ وَتَمْدَحُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ حينَ تُمْسي وَتُصْبِحُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ فِي اللَّيْلِ إِذا يَغْشى ، وَ] فِي[ النَّهارِ إِذا تَجَلَّى ، وَالْآخِرَةِ وَالْاُولى.

اَلسَّلامُ عَلَيْكُم يا حُجَجَ اللَّهِ وَرُعاتَنا ، وَهُداتَنا وَدُعاتَنا ، وَقادَتَنا وَأَئِمَّتَنا ، وَسادَتَنا وَمَوالينا ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُم أَنْتُمْ نُورُنا ، وَأَنْتُمْ جاهُنا أَوْقاتُ صَلاتِنا (صَلَواتِنا) ، وَعِصْمَتُنا بِكُمْ لِدُعائِنا وَصَلاتِنا ، وَصِيامِنا وَاسْتِغْفارِنا ، وَسائِرِ أَعْمالِنا.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمَأْمُونُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ بِجَوامِعِ السَّلامِ.

اُشْهِدُكَ يا مَوْلايَ أَنّي أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ ، لا شَريكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، لا حَبيبَ إِلّا هُوَ وَأَهْلُهُ ، وَأَنَّ أَميرَالْمُؤْمِنينَ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ الْحَسَنَ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ الْحُسَيْنَ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ عَلِيَّ بْنَ مُوسى حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ ، وَأَنْتَ حُجَّتُهُ ، وَأَنَّ الْأَنْبِياءَ دُعاةُ وَهُداةُ رُشدِكُمْ.

أَنْتُمُ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَخاتِمَتُهُ ، وَأَنَّ رَجْعَتَكُمْ حَقٌّ لا شَكَّ فيها يَوْمَ لايَنْفَعُ نَفْساً إيمانُها لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ في إيمانِها خَيْراً ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ.

وَأَشْهَدُ أَنَّ مُنْكَراً وَنَكيراً حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الصِّراطَ حَقٌّ ، وَالْمِرْصادَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْميزانَ حَقٌّ وَالْحِسابَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ ، وَالْجَزاءَ بِهِما لِلْوَعْدِ وَالْوَعيدِ حَقٌّ.

وَأَنَّكُمْ لِلشَّفاعَةِ حَقٌّ ، لاتُرَدُّونَ وَلاتَسْبِقُونَ بِمَشِيَّةِ اللَّهِ ، وَبِأَمْرِهِ تَعْمَلُونَ ، وَللَّهِِ الرَّحْمَةُ وَالْكَلِمَةُ الْعُلْيا ، وَبِيَدِهِ الْحُسْنى ، وَحُجَّةُ اللَّهِ النُّعْمى (الْعُظْمى) ، خَلَقَ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ لِعِبادَتِهِ ، أَرادَ مِنْ عِبادِهِ عِبادَتَهُ فَشَقِيٌّ وَسَعيدٌ ، قَدْ شَقِيَ مَنْ خالَفَكُمْ ، وَسَعِدَ مَنْ أَطاعَكُمْ.

وَأَنْتَ يا مَوْلايَ فَاشْهَدْ بِما أَشْهَدْتُكَ عَلَيْهِ ، تَخْزُنُهُ وَتَحْفَظُهُ لي عِنْدكَ ، أَمُوتُ عَلَيْهِ ، وَأَنْشُرُ عَلَيْهِ ، وَأَقِفُ بِهِ وَلِيّاً لَكَ ، بَريئاً مِنْ عَدُوِّكَ ، ماقِتاً لِمَنْ أَبْغَضَكُمْ ، وادّاً لِمَنْ أَحَبَّكُمْ ، فَالْحَقُّ ما رَضيتُمُوهُ ، وَالْباطِلُ ما سَخِطْتُمُوهُ ، وَالْمَعْرُوفُ ما أَمَرْتُمْ بِهِ ، وَالْمُنْكَرُ ما نَهَيْتُمْ عَنْهُ ، وَالْقَضاءُ الْمُثْبَتُ مَا اسْتَأْثَرَتْ بِهِ مَشِيَّتُكُمْ ، وَالْمَمْحُوُّ ما لَا اسْتَأْثَرَتْ بِهِ سُنَّتُكُمْ.

فَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، عَلِيٌ أَميرُالْمُؤْمِنينَ حُجَّتُهُ ، اَلْحَسَنُ حُجَّتُهُ ، اَلْحُسَيْنُ حُجَّتُهُ ، عَلِيٌّ حُجَّتُهُ ، مُحَمَّدٌ حُجَّتُهُ ، جَعْفَرٌ حُجَّتُهُ ، مُوسى حُجَّتُهُ ، عَلِيٌّ حُجَّتُهُ ، مُحَمَّدٌ حُجَّتُهُ ، عَلِيٌّ حُجَّتُهُ ، اَلْحَسَنُ حُجَّتُهُ ، أَنْتَ حُجَّتُهُ ، أَنْتُمْ حُجَجُهُ وَبَراهينُهُ.

أَنَا يا مَوْلايَ مُسْتَبْشِرٌ بِالْبَيْعَةِ الَّتي أَخَذَ اللَّهُ عَلَيَّ شَرْطَهُ قِتالاً في سَبيلِهِ اشْتَرى بِهِ أَنْفُسَ الْمُؤْمِنينَ ، فَنَفْسي مُؤْمِنَةٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، وَبِرَسُولِهِ وَبِأَميرِالْمُؤْمِنينَ ، وَبِكُمْ يا مَوْلايَ ، أَوَّلِكُمْ وَآخِرِكُمْ ، وَنُصْرَتي لَكُمْ مُعَدَّةٌ ، وَمَوَدَّتي خالِصَةٌ لَكُمْ ، وَبَرائَتي مِنْ أَعْدائِكُمْ أَهْلِ الْحِرَدَةِ وَالْجِدالِ ثابِتَةٌ ، لِثارِكُمْ أَنَا وَلِيٌّ وَحيدٌ ، وَاللَّهُ إِلهُ الْحَقِّ يَجْعَلُني كَذلِكَ ، آمينَ آمينَ.

مَنْ لي إِلّا أَنْتَ فيما دِنْتُ ، وَاعْتَصَمْتُ بِكَ فيهِ ، تَحْرُسُني فيما تَقَرَّبْتُ بِهِ إِلَيْكَ ، يا وِقايَةَ اللَّهِ وَسِتْرَهُ وَبَرَكَتَهُ ، أَغِثْني ] أَدْنِني ، أَعِنّي[ أَدْرِكْني ، صِلْني بِكَ وَلاتَقْطَعْني.

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ بِهِمْ تَوَسُّلي وَتَقَرُّبي أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَ صِلْني بِهِمْ وَلاتَقْطَعْني أَللَّهُمَّ بِحُجَّتِكَ وَاعْصِمْني ، وَسَلامُكَ عَلى آلِ يس ، مَوْلايَ أَنْتَ الْجاهُ عِنْدَ اللَّهِ رَبِّكَ وَرَبّي ، ] إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ[.

الدعاء بعقب القول:

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ كُلِّكَ (ذلِكَ) فَاسْتَقَرَّ فيكَ ، فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلى شَيْ‏ءٍ أَبَداً ، أَيا كَيْنُونُ أَيا مَكْنُونُ ، أَيا مُتَعالُ ، أَيا مُتَقَدِّسُ ، أَيا مُتَرَحِّمُ ، أَيا مُتَرَئِّفُ ، أَيا مُتَحَنِّنُ.

أَسْأَلُكَ كَما خَلَقْتَهُ غَضّاً أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ نَبِيِّ رَحْمَتِكَ ، وَكَلِمَةِ نُورِكَ ، وَوالِدِ هُداةِ رَحْمَتِكَ ، وَامْلَأْ قَلْبي نُورَ الْيَقينِ ، وَصَدْري نُورَ الْإيمانِ ، وَفِكْري نُورَ الثَّباتِ ، وَعَزْمي نُورَ التَّوْفيقِ ، وَذُكائي نُورَ الْعِلْمِ ، وَقُوَّتي نُورَ الْعَمَلِ ، وَلِساني نُورَ الصِّدْقِ ، وَديني نُورَ الْبَصائِرِ مِنْ عِنْدِكَ ، وَبَصَري نُورَ الضِّياءِ ، وَسَمْعي نُورَ وَعْيِ الْحِكْمَةِ.

وَمَوَدَّتي نُورَ الْمُوالاةِ لِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ ، وَيَقيني قُوَّةَ الْبَراءَةِ مِنْ أَعْداءِ مُحَمَّدٍ وَأَعْداءِ آلِ مُحَمَّدٍ ، حَتَّى أَلْقاكَ وَقَدْ وَفَيْتُ بِعَهْدِكَ وَميثاقِكَ ، فَلْتَسَعْني رَحْمَتُكَ ، يا وَلِيُّ يا حَميدُ ، بِمَرْآكَ وَمَسْمَعِكَ يا حُجَّةَ اللَّهِ دُعائي ، فَوَفِّني مُنَجِّزاتِ إِجابَتي ، أَعْتَصِمُ بِكَ ، مَعَكَ مَعَكَ مَعَكَ سَمْعي وَرِضايَ يا كَريمُ.

۳ ۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کی زیارت

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اﷲِ فِی أَرْضِهِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ اﷲِ فِی خَلْقِهِ اَلسَّلاَمُ

آپ پر سلام ہو جو خدا کی زمین میں اس کی حجت ہیں آپ پر سلام ہو جو خدا کی مخلوق میں اس کی آنکھ ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَا نُورَ اﷲِ الَّذِی یَهْتَدِی بِهِ الْمُهْتَدُونَ وَیُفَرَّجُ بِهِ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ

سلام ہو جو خدا کے وہ نور ہیں جس سے ہدایت چاہنے والے ہدایت پاتے ہیں اور جس سے مومنوں کو کشادگی ملتی ہے آپ پر سلام ہو

أَیُّهَا الْمُهَذَّبُ الْخائِفُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَةَ

جو نیک طینت ڈرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے خیر خواہ و سرپرست آپ پر سلام ہو اے کشتی

النَّجاةِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیَاةِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ

نجات آپ پر سلام ہو اے چشمہ حیات آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو آپ(ع) پر اورآپکے پاک

بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ عَجَّلَ اﷲُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَظُهُورِ

و پاکیزہ خاندان(ع) پر آپ پر سلام ہو خدا اس امر کے ظہور او نصرت میں جس کا وعدہ اس نے آپ سے

الْاَمْرِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ أَنَا مَوْلاکَ عَارِفٌ بِأُولاَکَ وَأُخْرَاکَ أَتَقَرَّبُ إلَی اﷲِ

کیا ہے آپ(ع) پر سلام ہو اے میرے سردار میں آپ کا غلام ہوں آپ کے آغاز و انجام سے واقف ہوں میں خدا کا قرب چاہتا

تَعَالَی بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَأَنْتَظِرُ ظُهُورَکَ وَظُهُورَ الْحَقِّ عَلَی یَدَیْکَ وَأَسْأَلُ اﷲَ أَنْ

ہوں آپ کا اور آپکے خاندان کے و سیلے کا انتظا کرتا ہوںآپکے ظہوراورآ پکے ہا تھو ں حق کے ظہو ر کا اور خد ا سے سو ال کرتا ہوں

یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِینَ لَکَ وَالتَّابِعِینَ وَالنَّاصِرِینَ

کہ وہ محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرمائے اور مجھے آپکے انتظار کرنے والوں اور پیروی کرنے والوں اور آپ کے دشمنوں کے

لَکَ عَلَی أَعْدائِکَ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِی جُمْلَةِ أَوْلِیَائِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ

مقابل آپکے مددگاروں اور آپکے سامنے شہید ہونے والے آپکے دوستوں میں سے قرار دے۔ اے میرے آقا اے

الزَّمَانِ، صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ، هذَا یَوْمُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ

صاحب زماں(ع) آپ پر اور آپ(ع) کے اہل خاندان(ع) پر خدا کی رحمتیں ہوں ۔ یہ جمعہ کا دن ہے جوآپ(ع) کا دن ہے جس میں

فِیهِ ظُهُورُکَ، وَالْفَرَجُ فِیهِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدَیْکَ، وَقَتْلُ الْکافِرِینَ بِسَیْفِکَ، وَأَ نَا یَا

آپ(ع) کے ظہور اور آپ(ع) کے ذریعے مومنوں کی آسودگی کی توقع ہے اور آپ کی تلوار سے کافروں کے قتل کی امید ہے اور اے

مَوْلایَ، فِیهِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، وَأَ نْتَ یَا مَوْلایَ کَرِیمٌ مِنْ أَوْلادِ الْکِرَامِ، وَمَأْمُورٌ

میرے آقا میں آج کے دن آپ کی پناہ میں ہوں اور اے میرے آقا آپ کریم اور کریموں کی اولاد سے ہیں اور مہمان رکھنے اور

بِالضِّیافَةِ وَالْاِجَارَةِ فَأَضِفْنِی وَأَجِرْنِی صَلَوَاتُ اﷲِ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِکَ الطَّاهِرِینَ

پناہ دینے پر مامور ہیں بس مجھے مہمان کیجیے اور پنا ہ دیجئے پر اور آپ کے پاک و پاکیز ہ اہل خاندان پرخدا تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت کی زیارت کے بعد حضرت کو اپنے سامنے تصور کرتاہوں اور حضرت کی طرف اشارہ کر کے کہتاہوں۔

نزیک هیث ما اتجهت رکابی وضیفک حیث کنت من البلاد

جہاں بھی میری سواری رخ کرتی ہے تمہاری طرف متوجہ ہوتی ہے اور شہروں میں سے جس شہر میں بھی ہوں تمہارا مہمان ہوں

۴ ۔ امام زمانہ کی زیارت مشکلات اور خوفناک مقام پر پڑھی جاتی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ الْحُجَّةَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صاحِبَ الْأَمْرِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صاحِبَ التَّدْبيرِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلانا يا صاحِبَ الزَّمانِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمُنْتَظَرُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْقائِمُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْخَلَفُ الصَّالِحُ لِلْأَئِمَّةِ الْمَعْصُومينَ الْمُطَهَّرينَ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا إِمامَ الْمُسْلِمينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وَلِيَّ اللَّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَليفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا فِلْذَةَ كَبِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللَّهِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بَضْعَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جادَّةَ اللَّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا غَوْثَ الْمُسْتَغيثينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا غَوْثَ الْمَلْهُوفينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَوْنَ الْمَظْلُومينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا قُطْبَ الْعالَمِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا إِمامَ الْمَسيحِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَديلَ الْخَيْرِ ، أَدْرِكْني ، أَدْرِكْني ، أَدْرِكْني ، أَعِنّي وَلاتُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْني وَلاتَنْصُرْ عَلَيَّ ، كُنْ مَعي وَلاتُفارِقْني ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ شاكِراً وَمُصَلِّياً وَهُوَ حَسْبي وَنِعْمَ الْوَكيلُ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ

۵ ۔ حضرت امیرالمومنین کی زیارت اتوار کے دن

ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص ہفتہ کے دن جو امیرالمومنین کا دن ہے حضرت حجت کو عالم بیداری میں دیکھتاہے نہ کہ عالم خواب میں دیکھا کہ حضرت حجت اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین علی کی زیارت اس طرح کرتے ہی

اَلسَّلاَمُ عَلَی الشَّجَرَةِ النَّبَوِیَّةِ وَالدَّوْحَةِ الْهَاشِمِیَّةِ الْمُضِییَةِ الْمُثْمِرَةِ بِالنُّبُوَّةِ الْمُونِقَةِ

درخشاں شجرہ نبویہ اور گلزار ہاشمیہ پر سلام ہو جو نبوت سے ثمرآور ہوا ہے اور امامت سے

بِالْاِمَامَةِ وَعَلی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِکَ

لہرایا ہے۔ اور آدم و نوح + پر سلام ہو جو آپ کے پاس دفن ہیں۔ آپ پر سلام ہو اور آپ کے اہلبیت(ع) پر

الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ وَالْحَافِّینَ بِقَبْرِکَ

جو پاک پاکیزہ ہیں۔ آپ پر سلام ہو اوران فرشتوں پر جو آپ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور آپکی قبر کو گھیرے ہوئے ہیں

یَا مَوْلایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ هَذاَ یَوْمُ الْاَحَدِ وَهُوَ یَوْمُکَ وَبِاسْمِکَ وَأَ نَا ضَیْفُکَ فِیهِ

اے میرے مولا(ع) اے مومنوں کے امیر یہ اتوار کا دن ہے اور یہی آپکا دن ہے اور آپکے نام سے منسوب ہے اور میں اس دن میں آپکا

وَجارُکَ فَأَضِفْنِی یَا مَوْلایَ وَأَجِرْنِی فَ إنَّکَ کَرِیمٌ تُحِبُّ الضِّیافَةَ وَمَأْمُورٌ

مہمان اور آپکی پناہ میں ہوں۔پس میرے مولا (ع) مجھے مہمان کیجیے اور پناہ دیجیے کہ بے شک آپ سخی، مہمان نواز اور پناہ دینے پر مامور

بِالْاِجارَةِ فَافْعَلْ مَا رَغِبْتُ إلَیْکَ فِیهِ وَرَجَوْتُهُ مِنْکَ بِمَنْزِلَتِکَ وَآلِ بَیْتِکَ عِنْدَ

ہیں۔ پس جس مقصد سے میں اس دن حا ضر ہوا ہوں اور آپ سے جو آرزو رکھتا ہوں پوری فرمائیے اپنی اور اپنے خاندان کی خداکے

اﷲِ، وَمَنْزِلَتِهِ عِنْدَکُمْ، وَبِحَقِّ ابْنِ عَمِّکَ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

ہاںبلندی کے واسطے اور خدا کی منزلت کے واسطے جو آپکے نزدیک ہے اور اپنے چچا کے بھائی حضرت رسول کے حق کے

وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ

واسطے میری آرزو پوری کیجیے آنحضرت اور ان سب پر درود سلام ہو۔

۶ زیارت ناحیہ مقدسہ

علامہ مجلسی بھار الانوار میں لکھتے ہیں شیخ مفید رعایت کرتے ہیں کہ جب چاہیں کہ عاشور کے دن حضرت امام حسین کی زیارت کریں تو آنحضرت کی قبر کے کنارے کھڑے ہوجائیں اور کہیں

أَلسَّلامُ عَلى ادَمَ صِفْوَةِ اللهِ مِنْ خَلیقَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى شَیْث وَلِىِّ اللهِ وَ خِیَرَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى إِدْریسَ الْقــآئِمِ للهِِ بِحُـجَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى نُوح الْمُجابِ فی دَعْوَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى هُود الْمَمْدُودِ مِنَ اللهِ بِمَعُونَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى صالِـح الَّذی تَـوَّجَهُ اللهُ بِکَرامَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى إِبْراهیمَ الَّذی حَباهُ اللهُ بِخُلَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى إِسْمعیلَ الَّذی فَداهُ اللهُ بِذِبْــح عَظیم مِنْ جَنَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى إِسْحقَ الَّذی جَعَلَ اللهُ النُّبُوَّةَ فی ذُرِّیَّتِهِ ، أَلسَّـلامُ عَلى یَعْقُوبَ الَّذی رَدَّ اللهُ عَلَیْهِ بَصَرَهُ بِرَحْمَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى یُوسُفَ الَّذی نَجّاهُ اللهُ مِنَ الْجُبِّ بِعَظَمَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى مُوسَى الَّذی فَلَقَ اللهُ الْبَحْرَ لَهُ بِقُدْرَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى هارُونَ الَّذی خَصَّهُ اللهُ بِنُبُـوَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى شُعَیْب الَّذی نَصَرَهُ اللهُ عَلى اُمَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى داوُدَ الَّذی تابَ اللهُ عَلَیْهِ مِنْ خَطیـئَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى سُلَیْمانَ الَّذی ذَلَّتْ لَهُ الْجِنُّ بِعِزَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى أَیُّوبَ الَّذی شَفاهُ اللهُ مِنْ عِلَّتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى یُونُسَ الَّذی أَنْـجَـزَ اللهُ لَهُ مَضْـمُونَ عِدَتِهِ، أَلسَّلامُ عَـلى عُزَیْر الَّذی أَحْیاهُ اللهُ بَعْدَ میتَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى زَکَرِیـَّا الصّـابِرِ فی مِحْنَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى یَحْیَى الَّذی أَزْلَفَهُ اللهُ بِشَهادَتِهِ ،

أَلسَّلامُ عَلى عیسى رُوحِ اللهِ وَ کَلِمَتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى مُحَمَّد حَبیبِ اللهِ وَ صِفْوَتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى أَمیرِالْمُؤْمِنینَ عَلِىِّ بْنِ أَبی طالِب الْمَخْصُوصِ بِاُخُوَّتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى فاطِمَةَِ الزَّهْرآءِ ابْنَتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى أَبی مُحَمَّد الْحَسَنِ وَصِىِّ أَبیهِ وَ خَلیفَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ الَّذی سَمَحَتْ نَفْسُهُ بِمُهْجَتِهِ ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ أَطاعَ اللهَ فی سِـرِّهِ وَ عَلانِـیَـتِـهِ ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ جَعَلَ اللهُ الشّـِفآءَ فی تُرْبَتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى مَنِ الاِْ جابَـةُ تَحْتَ قُـبَّـتِهِ، أَلسَّلامُ عَلى مَنِ الاَْ ئِـمَّـةُ مِنْ ذُرِّیَّـتِـهِ ، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ خاتَِمِ الاَْ نْبِیآءِ ، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ سَیِّدِ الاَْوْصِیآءِ ، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ فاطِمَةَِ الزَّهْرآءِ ، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ خَدیجَةَ الْکُبْرى، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ جَنَّةِ الْـمَـأْوى، أَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ زَمْـزَمَ وَ الصَّـفا، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُرَمَّلِ بِالدِّمآءِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمَهْتُوکِ الْخِبآءِ ، أَلسَّلامُ عَلى خامِسِ أَصْحابِ الْکِسْآءِ، أَلسَّلامُ عَلى غَریبِ الْغُرَبآءِ ، أَلسَّلامُ عَلى شَهیدِ الشُّهَدآءِ ، أَلسَّلامُ عَلى قَتیلِ الاَْدْعِیآءِ ، أَلسَّلامُ عَلى ساکِنِ کَرْبَلآءَ ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ بَکَتْهُ مَلائِکَةُ السَّمآءِ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ ذُرِّیَّتُهُ الاَْزْکِیآءُ ، أَلسَّلامُ عَلى یَعْسُوبِ الدّینِ ، أَلسَّلامُ عَلى مَنازِلِ الْبَراهینِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الاَْئِمَّةِ السّاداتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الْجُیُوبِ الْمُضَرَّجاتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الشِّفاهِ الذّابِلاتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى النُّفُوسِ الْمُصْطَلَماتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الاَْرْواحِ الْمُخْتَلَساتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الاَْجْسادِ الْعارِیاتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الْجُسُومِ الشّاحِباتِ، أَلسَّلامُ عَلَى الدِّمآءِ السّآئِلاتِ ، أَلسَّلامُ عَلَى الاَْعْضآءِ الْمُقَطَّعاتِ، أَلسَّلامُ عَلَى الرُّؤُوسِ الْمُشالاتِ، أَلسَّلامُ عَلَى النِّسْوَةِ الْبارِزاتِ، أَلسَّلامُ عَلى حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمینَ،

أَلسَّلامُ عَلَیْک َ وَ عَلى ابآئِک َ الطّاهِرینَ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ وَ عَلى أَبْنآئِکَ الْمُسْتَشْهَدینَ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ وَ عَلى ذُرِّیَّتـِک َ النّـاصِرینَ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ وَ عَلَى الْمَلآئِکَةِ الْمُضاجِعینَ، أَلسَّلامُ عَلَى الْقَتیلِ الْمَظْلُومِ، أَلسَّلامُ عَلى أَخیهِ الْمَسْمُومِ ، أَلسَّلامُ عَلى عَلِىّ الْکَبیرِ، أَلسَّلامُ عَلَى الرَّضیـعِ الصَّغیرِ، أَلسَّلامُ عَـلَى الاَْبْدانِ السَّلیبَةِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْعِتْرَةِ الْقَریبَةِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُجَدَّلینَ فِى الْفَلَواتِ، أَلسَّلامُ عَلَى النّازِحینَ عَنِ الاَْوْطانِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمَدْفُونینَ بِلا أَکْفان ، أَلسَّلامُ عَلَى الرُّؤُوسِ الْمُفَرَّقَةِ عَنِ الاَْبْدانِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُحْتَسِبِ الصّابِرِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمَظْلُومِ بِلا ناصِر، أَلسَّلامُ عَلى ساکِنِ التُّرْبَةِ الزّاکِیَةِ، أَلسَّلامُ عَلى صاحِبِ الْقُبَّةِ السّامِیَةِ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ طَهَّرَهُ الْجَلیلُ، أَلسَّلامُ عَلى مَنِ افْتَـخَرَ بِهِ جَبْرَئیلُ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ ناغاهُ فِی الْمَهْدِ میکآئیلُ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ نُکِثَتْ ذِمَّـتُهُ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ هُتِکَتْ حُرْمَتُهُ، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ اُریقَ بِالظُّـلْمِ دَمُهُ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُغَسَّلِ بِدَمِ الْجِراحِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُجَـرَّعِ بِکَأْساتِ الرِّماحِ أَلسَّلامُ عَلَى الْمُضامِ الْمُسْتَباحِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمَنْحُورِ فِى الْوَرى، أَلسَّلامُ عَلى مَنْ دَفَنَهُ أَهْـلُ الْقُرى، أَلسَّلامُ عَلَى الْمَقْطُوعِ الْوَتینِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْمُحامی بِلا مُعین، أَلسَّلامُ عَلَى الشَّیْبِ الْخَضیبِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْخَدِّ التَّریبِ، أَلسَّلامُ عَلَى الْبَدَنِ السَّلیبِ، أَلسَّلامُ عَلَى الثَّغْرِ الْمَقْرُوعِ بِالْقَضیبِ، أَلسَّلامُ عَلَى الرَّأْسِ الْمَرْفُوعِ، أَلسَّلامُ عَلَى الاَْجْسامِ الْعارِیَةِ فِى الْفَلَواتِ، تَنْـهَِشُهَا الذِّئابُ الْعادِیاتُ، وَ تَخْتَلِفُ إِلَیْهَا السِّباعُ الضّـارِیاتُ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ یا مَوْلاىَ وَ عَلَى الْمَلآ ئِکَةِ الْمُرَفْرِفینَ حَوْلَ قُبَّتِک َ ، الْحافّینَ بِتُرْبَتِک َ،

الطّـآئِفینَ بِعَرْصَتِک َ ، الْوارِدینَ لِزِیارَتِک َ ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ فَإِنّی قَصَدْتُ إِلَیْک َ ، وَ رَجَوْتُ الْفَوْزَ لَدَیْک َ، أَلسَّلامُ عَلَیْک َ سَلامَ الْعارِفِ بِحُرْمَتِک َ ، الْمُخْلِصِ فی وَِلایَـتِک َ، الْمُتَقَرِّبِ إِلَى اللهِ بِمَحَبَّـتِک َ ، الْبَرىءِ مِنْ أَعْدآئِـک َ ، سَلامَ مَنْ قَلْبُهُ بِمُصابِک َ مَقْرُوحٌ ، وَ دَمْعُهُ عِنْدَ ذِکْرِک َ مَسْفُوحٌ ، سَلامَ الْمَفْجُوعِ الْحَزینِ ، الْوالِهِ الْمُسْتَکینِ ، سَلامَ مَنْ لَوْ کانَ مَعَکَ بِالطُّفُوفِ ، لَوَقاک َ بِنَفْسِهِ حَدَّ السُّیُوفِ ، وَ بَذَلَ حُشاشَتَهُ دُونَکَ لِلْحُتُوفِ ، وَ جاهَدَ بَیْنَ یَدَیْک َ ، وَ نَصَرَک َ عَلى مَنْ بَغى عَلَیْک َ ، وَ فَداک َ بِرُوحِهِ وَ جَسَدِهِ وَ مالِهِ وَ وَلَدِهِ ، وَ رُوحُهُ لِرُوحِک َ فِدآءٌ ، وَ أَهْلُهُ لاَِهْلِک َ وِقآءٌ ، فَلَئِنْ أَخَّرَتْنِى الدُّهُورُ ، وَ عاقَنی عَنْ نَصْرِک َ الْمَقْدُورُ ، وَ لَمْ أَکُنْ لِمَنْ حارَبَک َ مُحارِباً، وَ لِمَنْ نَصَبَ لَک َ الْعَداوَةَ مُناصِباً ، فَلاََ نْدُبَنَّک َ صَباحاً وَ مَسآءً ، وَ لاََبْکِیَنَّ لَک َ بَدَلَ الدُّمُوعِ دَماً ، حَسْرَةً عَلَیْک َ ، وَ تَأَسُّفاً عَلى ما دَهاک َ وَ تَلَهُّفاً ، حَتّى أَمُوتَ بِلَوْعَةِ الْمُصابِ ، وَ غُصَّةِ الاِکْتِیابِ ، أَشْهَدُ أَ نَّک َ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلوةَ ، وَ اتَیْتَ الزَّکوةَ ، وَ أَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَ نَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْعُدْوانِ، وَ أَطَعْتَ اللهَ وَ ما عَصَیْتَهُ، وَ تَمَسَّکْتَ بِهِ وَ بِحَبْلِهِ فَأَرْضَیْتَهُ، وَ خَشیتَهُ وَ راقَبْتَهُ وَ اسْتَجَبْتَهُ ، وَ سَنَنْتَ السُّنَنَ ، وَ أَطْفَأْتَ الْفِتَنَ ، وَ دَعَوْتَ إِلَى الرَّشادِ ، وَ أَوْضَحْتَ سُبُلَ السَّدادِ ، وَ جاهَدْتَ فِى اللهِ حَقَّ الْجِهادِ ، وَ کُنْتَ للهِِ طآئِعاً ، وَ لِجَدِّک َ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ الِهِ تابِعاً ، وَ لِقَوْلِ أَبـیک َ سامِعاً ، وَ إِلى وَصِیَّةِ أَخیک َ مُسارِعاً ، وَ لِعِمادِ الدّینِ رافِعاً ، وَ لِلطُّغْیانِ قامِعاً ، وَ لِلطُّغاةِ مُقـارِعاً ، وَ لِلاُْ مَّةِ ناصِحاً ، وَ فی غَمَراتِ الْمَوْتِ سابِحاً ، وَ لِلْفُسّاقِ مُکافِحاً ، وَ بِحُجَجِ اللهِ قآئِماً ، وَ لِـلاِْسْلامِ وَ الْمُسْلِمینَ راحِماً ،

وَ لِلْحَقِّ ناصِراً ، وَ عِنْدَ الْبَلآءِ صابِراً ، وَ لِلدّینِ کالِئاً ، وَ عَنْ حَوْزَتِهِ مُرامِیاً ، تَحُوطُ الْهُدى وَ تَنْصُرُهُ ، وَ تَبْسُطُ الْعَدْلَ وَ تَنْشُرُهُ ، وَ تَنْصُرُ الدّینَ وَ تُظْهِرُهُ ، وَ تَکُفُّ الْعابِثَ وَ تَزْجُرُهُ ، وَ تَأْخُذُ لِلدَّنِىِّ مِنَ الشَّریفِ ، وَ تُساوی فِى الْحُکْمِ بَیْنَ الْقَوِىِّ وَ الضَّعیفِ ، کُنْتَ رَبیعَ الاَْیْتامِ ، وَ عِصْمَةَ الاَْ نامِ ، وَ عِزَّ الاِْسْلامِ ، وَ مَعْدِنَ الاَْحْکامِ ، وَ حَلیفَ الاِْنْعامِ ، سالِکاً طَرآئِقَ جَدِّک َ وَ أَبیک َ، مُشْبِهاً فِى الْوَصِیَّةِ لاَِخیـک َ ، وَفِىَّ الذِّمَـمِ ، رَضِىَّ الشِّیَمِ ، ظاهِرَ الْکَرَمِ ، مُتَهَجِّداً فِى الظُّلَمِ ، قَویمَ الطَّرآئِقِ ، کَریمَ الْخَلائِقِ ، عَظیمَ السَّوابِقِ ، شَریفَ النَّسَبِ ، مُنیفَ الْحَسَبِ ، رَفیعَ الرُّتَبِ ، کَثیرَ الْمَناقِبِ ، مَحْمُودَ الضَّرآئِبِ ، جَزیلَ الْمَواهِبِ ، حَلیمٌ رَشیدٌ مُنیبٌ ، جَوادٌ عَلیمٌ شَدیدٌ ، إِمامٌ شَهیدٌ، أَوّاهٌ مُنیبٌ ، حَبیبٌ مَهیبٌ ، کُنْتَ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ الِهِ وَلَداً ، وَ لِلْقُرْءانِ سَنَداً [مُنْقِذاً :خل] وَ لِلاُْ مَّةِ عَضُداً ، وَ فِى الطّاعَةِ مُجْتَهِداً ، حافِظاً لِلْعَهْدِ وَالْمیثاقِ ، ناکِباً عَنْ سُبُلِ الْفُسّاقِ [وَ :خل[ باذِلاً لِلْمَجْهُودِ ، طَویلَ الرُّکُوعِ وَ السُّجُودِ ، زاهِداً فِى الدُّنْیا زُهْدَ الرّاحِلِ عَنْها ، ناظِراً إِلَیْها بِعَیْنِ الْمُسْتَوْحِشینَ مِنْها ، امالُک َ عَنْها مَکْفُوفَةٌ ، وَ هِمَّتُک َ عَنْ زینَتِها مَصْرُوفَةٌ ، وَ أَلْحاظُک َ عَنْ بَهْجَتِها مَطْرُوفَةٌ ، وَ رَغْبَتُک َ فِى الاْخِرَةِ مَعْرُوفَةٌ ، حَتّـى إِذَا الْجَوْرُ مَدَّ باعَهُ ، وَ أَسْفَرَ الظُّلْمُ قِناعَهُ ، وَ دَعَا الْغَىُّ أَتْباعَهُ ، وَ أَنْتَ فی حَرَمِ جَدِّک َ قاطِنٌ ، وَ لِلظّـالِمینَ مُبایِنٌ ، جَلیسُ الْبَیْتِ وَ الْمِحْـرابِ ، مُعْتَزِلٌ عَنِ اللَّـذّاتِ وَ الشَّـهَواتِ ، تُنْکِـرُ الْمُنْکَـرَ بِقَلْبِـک َ وَ لِسانِک َ ، عَلى حَسَبِ طاقَتِـک َ وَ إِمْکانِـک َ ، ثُمَّ اقْتَضاک َ الْعِلْمُ لِـلاِْنْکارِ، وَ لَزِمَک َ [أَلْزَمَک َ :ظ ]أَنْ تُـجـاهِدَ الْـفُجّـارَ ، فَـسِـرْتَ فـی أَوْلادِکَ وَ أَهـالیـک َ ،

وَ شیعَـتِک َ وَ مَوالیک َ وَ صَدَعْتَ بِالْحَـقِّ وَ الْبَـیّـِنَـةِ ، وَ دَعَوْتَ إِلَى اللهِ بِالْحِکْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، وَ أَمَرْتَ بِإِقامَةِ الْحُدُودِ ، وَ الطّاعَةِ لِلْمَعْبُودِ، وَ نَهَیْتَ عَنِ الْخَبآئِثِ وَ الطُّـغْیانِ، وَ واجَهُـوک َ بِالظُّـلْمِ وَ الْعُـدْوانِ، فَجاهَدْتَهُمْ بَعْدَ الاْیعازِ لَهُمْ [الاْیعادِ إِلَیْهِمْ : خل] ، وَ تَأْکیدِ الْحُجَّةِ عَلَیْهِمْ ، فَنَکَثُوا ذِمامَک َ وَ بَیْعَتَک َ ، وَ أَسْخَطُوا رَبَّک َ وَ جَدَّ ک َ ، وَ بَدَؤُوک َ بِالْحَرْبِ ، فَثَبَتَّ لِلطَّعْنِ وَالضَّرْبِ ، وَ طَحَنْتَ جُنُودَ الْفُـجّارِ ، وَاقْتَحَمْتَ قَسْطَلَ الْغُبارِ ، مُجالِداً بِذِى الْفَقارِ ، کَأَنَّک َ عَلِىٌّ الْمُخْتارُ ، فَلَمّا رَأَوْک َ ثابِتَ الْجاشِ، غَیْرَ خآئِف وَ لا خاش ، نَصَبُوا لَک َ غَوآئِلَ مَکْرِهِمْ ، وَ قاتَلُوکَ بِکَیْدِهِمْ وَ شَرِّهِمْ، وَ أَمَرَ اللَّعینُ جُنُودَهُ ، فَمَنَعُوک َ الْمآءَ وَ وُرُودَهُ ، وَ ناجَزُوک َ الْقِتالَ ، وَ عاجَلُوک َ النِّزالَ ، وَ رَشَقُوک َ بِالسِّهامِ وَ النِّبالِ ، وَ بَسَطُوا إِلَیْک َ أَکُفَّ الاِصْطِلامِ، وَ لَمْ یَرْعَوْا لَک َ ذِماماً، وَ لاراقَبُوا فیک َ أَثاماً، فی قَتْلِهِمْ أَوْلِیآءَک َ ، وَ نَهْبِهِمْ رِحالَک َ ، وَ أَنْتَ مُقَدَّمٌ فِى الْهَبَواتِ ، وَ مُحْتَمِلٌ لِلاَْذِیّاتِ ، قَدْ عَجِبَتْ مِنْ صَبْرِک َ مَلآئِکَةُ السَّماواتِ، فَأَحْدَقُوا بِک َ مِنْ کُلّ ِالْجِهاتِ ، وَ أَثْخَنُوک َ بِالْجِراحِ ، وَ حالُوا بَیْنَک َ وَ بَیْنَ الرَّواحِ ، وَ لَمْ یَبْقَ لَک َ ناصِرٌ ، وَ أَنْتَ مُحْتَسِبٌ صابِرٌ ، تَذُبُّ عَنْ نِسْوَتِک َ وَ أَوْلادِک َ ، حَتّى نَکَسُوکَ عَنْ جَوادِک َ، فَهَوَیْتَ إِلَى الاَْرْضِ جَریحاً ، تَطَؤُک َ الْخُیُولُ بِحَوافِرِها، وَ تَعْلُوکَ الطُّغاةُ بِبَواتِرِها ، قَدْ رَشَحَ لِلْمَوْتِ جَبینُک َ ، وَ اخْتَلَفَتْ بِالاِنْقِباضِ وَ الاِنْبِساطِ شِمالُک َ وَ یَمینُک َ ، تُدیرُ طَرْفاً خَفِیّاً إِلى رَحْلِک َ وَ بَیْتِک َ ، وَ قَدْ شُغِلْتَ بِنَفْسِک َ عَنْ وُلْدِک َ وَ أَهالیک َ ، وَ أَسْرَعَ فَرَسُک َ شارِداً ، إِلى خِیامِک َ قاصِداً ، مُحَمْحِماً باکِیاً ، فَلَمّا رَأَیْنَ النِّـسآءُ جَوادَک َ مَخْزِیّاً ،

وَ نَظَرْنَ سَرْجَک َ عَلَیْهِ مَلْوِیّاً ، بَرَزْنَ مِنَ الْخُدُورِ ، ناشِراتِ الشُّعُورِ عَلَى الْخُدُودِ ، لاطِماتِ الْوُجُوهِ سافِرات ، وَ بِالْعَویلِ داعِیات ، وَ بَعْدَالْعِزِّ مُذَلَّلات، وَ إِلى مَصْرَعِک َ مُبادِرات، وَ الشِّمْرُ جالِسٌ عَلى صَدْرِکَ، وَ مُولِـغٌ سَیْفَهُ عَلى نَحْرِک َ ، قابِضٌ عَلى شَیْبَتِک َ بِیَدِهِ ، ذابِـحٌ لَک َ بِمُهَنَّدِهِ ، قَدْ سَکَنَتْ حَوآسُّک َ، وَ خَفِیَتْ أَنْفاسُک َ ، وَ رُفِـعَ عَلَى الْقَناةِ رَأْسُک َ ، وَ سُبِىَ أَهْلُک َ کَالْعَبیدِ ، وَ صُفِّدُوا فِى الْحَدیدِ ، فَوْقَ أَقْتابِ الْمَطِیّاتِ ، تَلْفَحُ وُجُوهَهُمْ حَرُّ الْهاجِراتِ، یُساقُونَ فِى الْبَراری وَالْفَلَواتِ ، أَیْدیهِمْ مَغلُولَةٌ إِلَى الاَْعْناقِ ، یُطافُ بِهِمْ فِى الاَْسْواقِ ، فَالْوَیْلُ لِلْعُصاةِ الْفُسّاقِ ، لَقَدْ قَتَلُوا بِقَتْلِک َ الاِْسْلامَ ، وَ عَطَّلُوا الصَّلوةَ وَ الصِّیامَ ، وَ نَقَضُوا السُّنَنَ وَ الاَْحْکامَ، وَ هَدَمُوا قَواعِدَ الاْیمانِ، وَ حَرَّفُوا ایاتِ الْقُرْءانِ ، وَ هَمْلَجُوا فِى الْبَغْىِ وَالْعُدْوانِ ، لَقَدْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِوَ الِهِ مَوْتُوراً ، وَ عادَ کِتابُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ مَهْجُوراً ، وَ غُودِرَ الْحَقُّ إِذْ قُهِرْتَ مَقْهُوراً ، وَ فُقِدَ بِفَقْدِکَ التَّکْبیرُ وَالتَّهْلیلُ ، وَالتَّحْریمُ وَالتَّحْلیلُ ، وَالتَّنْزیلُ وَالتَّأْویلُ ، وَ ظَهَرَ بَعْدَکَ التَّغْییرُ وَالتَّبْدیلُ ، وَ الاِْلْحادُ وَالتَّعْطیلُ ، وَ الاَْهْوآءُ وَ الاَْضالیلُ ، وَ الْفِتَنُ وَ الاَْباطیلُ، فَقامَ ناعیک َ عِنْدَ قَبْرِ جَدِّک َ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ الِهِ ، فَنَعاک َ إِلَیْهِ بِالدَّمْعِ الْهَطُولِ ، قآئِلا یا رَسُولَ اللهِ قُتِلَ سِبْطُک َ وَ فَتاک َ ، وَ اسْتُبیحَ أَهْلُک َ وَ حِماک َ ، وَ سُبِیَتْ بَعْدَک َ ذَراریک َ ، وَ وَقَعَ الْمَحْذُورُ بِعِتْرَتِک َ وَ ذَویک َ ، فَانْزَعَجَ الرَّسُولُ ، وَ بَکى قَلْبُهُ الْمَهُولُ ، وَ عَزّاهُ بِک َ الْمَلآئِکَةُ وَ الاَْنْبِیآءُ، وَ فُجِعَتْ بِک َ اُمُّک َ الزَّهْرآءُ، وَ اخْتَلَفَتْ جُنُودُ الْمَلآئِکَةِ الْمُقَرَّبینَ، تُعَزّی أَباک َ أَمیرَالْـمُـؤْمِنینَ ، وَ اُقیمَتْ لَک َ الْمَـاتِمُ فی أَعْلا عِلِّیّینَ ،

وَ لَطَمَتْ عَلَیْک َ الْحُورُ الْعینُ، وَ بَکَتِ السَّمآءُ وَ سُکّانُها، وَ الْجِنانُ وَ خُزّانُها ، وَ الْهِضابُ وَ أَقْطارُها، وَ الْبِحارُ وَ حیتانُها، [وَ مَکَّةُ وَ بُنْیانُها، :خل [وَ الْجِنانُ وَ وِلْدانُها ، وَ الْبَیْتُ وَ الْمَقامُ، وَ الْمَشْعَرُ الْحَرامُ، وَ الْحِـلُّ وَ الاِْحْرامُ ، أَللّـهُمَّ فَبِحُرْمَةِ هذَا الْمَکانِ الْمُنیفِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد، وَاحْشُرْنی فی زُمْرَتِهِمْ، وَ أَدْخِلْنِى الْجَنَّةَ بِشَفاعَتِهِمْ، أَللّهُمَّ إِنّی أَتَوَسَّلُ إِلَیْک َ یا أَسْرَعَ الْحاسِبینَ ، وَ یاأَکْرَمَ الاَْکْرَمینَ ، وَ یاأَحْکَمَ الْحاکِمینَ، بِمُحَمَّدخاتَِمِ النَّبِیّینَ ، رَسُولِک َ إِلَى الْعالَمینَ أَجْمَعینَ ، وَ بِأَخیهِ وَابْنِ عَمِّهِ الاَْنْزَعِ الْبَطینِ ، الْعالِمِ الْمَکینِ ، عَلِىّ أَمیرِالْمُؤْمِنینَ، وَ بِفاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسآءِ الْعـالَمینَ ، وَ بِالْحَسَنِ الزَّکِىِّ عِصْمَةِ الْمُتَّقینَ ، وَ بِأَبی عَبْدِاللهِ الْحُسَیْنِ أَکْرَمِ الْمُسْتَشْهَدینَ ، وَ بِأَوْلادِهِ الْمَقْتُولینَ ، وَ بِعِتْرَتِهِ الْمَظْلُومینَ ، وَ بِعَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدینَ ، وَ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِىّ قِبْلَةِ الاَْوّابینَ ، وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّد أَصْدَقِ الصّادِقینَ ، وَ مُوسَى بْنِ جَعْفَر مُظْهِرِ الْبَراهینِ ، وَ عَلِىِّ بْنِ مُوسى ناصِرِالدّینِ، وَ مُحَمَّدِبْنِ عَلِىّ قُدْوَةِ الْمُهْتَدینَ، وَ عَلِىِّ بْنِ مُحَمَّد أَزْهَدِ الزّاهِدینَ ، وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىّ وارِثِ الْمُسْتَخْلَفینَ، وَالْحُجَّةِ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعینَ، أَنْ تُصَلِّىَ عَلى مُحَمَّدوَالِ مُحَمَّدالصّادِقینَ الاَْبَرّینَ ، الِ طه وَ یس ، وَ أَنْ تَجْعَلَنی فِى الْقِیامَةِ مِنَ الاْمِنینَ الْمُطْمَئِنّینَ، الْفآئِزینَ الْفَرِحینَ الْمُسْتَبْشِرینَ، أَللّهُمَّ اکْتُبْنی فِى الْمُسْلِمینَ، وَ أَلْحِقْنی بِالصّالِحینَ ، وَاجْعَلْ لی لِسانَ صِدْق فِى الاْخِرینَ ، وَانْصُرْنی عَلَى الْباغینَ،وَاکْفِنی کَیْدَ الْحاسِدینَ ، وَاصْرِفْ عَنّی مَکْرَ الْماکِرینَ ، وَاقْبِضْ عَنّی أَیْدِىَ الظّالِمینَ ، وَاجْمَعْ بَیْنی وَ بَیْنَ السّادَةِ الْمَیامینِ فی أَعْلا عِلِّیّینَ،

مَعَ الَّذینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ مِنَ النَّبِیّینَ وَالصِّدّیقینَ وَالشُّهَدآءِ وَالصّالِحینَ، بِرَحْمَتِک َ یا أَرْحَمَ الرّاحِمینَ، أَللّهُمَّ إِنّی اُقْسِمُ عَلَیْک َ بِنَبِیِّک َ الْمَعْصُومِ، وَ بِحُکْمِک َ الْمَحْتُومِ، وَنَهْیِک َ الْمَکْتُومِ ، وَ بِهذَا الْقَبْرِ الْمَلْمُومِ ، الْمُوَسَّدِ فی کَنَفِهِ الاِْمامُ الْمَعْصُومُ، الْمَقْتُولُ الْـمَظْلُومُ، أَنْ تَکْشِفَ ما بی مِنَ الْغُمُومِ ، وَ تَصْرِفَ عَنّی شَرَّ الْقَدَرِ الْمَحْتُومِ، وَ تُجیرَنی مِنَ النّارِ ذاتِ السَّمُومِ، أَللّــهُمَّ جَلِّلْنی بِنِعْمَتِک َ، وَ رَضِّنی بِقَسْمِک َ ، وَ تَغَمَّدْنی بِجُودِک َ وَ کَرَمِک َ ، وَ باعِدْنی مِنْ مَکْرِک َ وَ نِقْمَتِک َ ، أَللّهُمَّ اعْصِمْنی مِنَ الزَّلَلِ ، وَ سدِّدْنی فِى الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ ، وَافْسَحْ لی فی مُدَّةِ الاَْجَلِ ، وَ أَعْفِنی مِنَ الاَْوْجاعِ وَالْعِلَلِ، وَ بَلِّغْنی بِمَوالِىَّ وَ بِفَضْلِک َ أَفْضَلَ الاَْمَلِ ، أَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد وَاقْبَلْ تَوْبَتی ، وَارْحَمْ عَبْرَتی ، وَ أَقِلْنی عَثْرَتی ، وَ نَفِّسْ کُرْبَتی ، وَاغْفِرْلی خَطیئَتی، وَ أَصْلِـحْ لی فی ذُرِّیَّتی، أَللّـهُمَّ لاتَدَعْ لی فی هذَاالْمَشْهَدِ الْمُعَظَّمِ ، وَالْمَحَلِّ الْمُـکَرَّمِ ذَنْباً إِلاّ غَفَرْتَهُ، وَ لاعَیْباً إِلاّ سَتَرْتَهُ، وَ لاغَمّاً إِلاّ کَشَفْتَهُ، وَ لارِزْقاً إِلاّ بَسَطْتَهُ، وَ لاجاهاً إلاّ عَمَرْتَهُ، وَ لافَساداً إِلاّ أَصْلَحْتَهُ ، وَ لاأَمَلا إِلاّ بَلَّغْتَهُ ، وَ لادُعآءً إِلاّ أَجَبْتَهُ ، وَ لامَضیقاً إِلاّ فَرَّجْتَهُ ، وَ لاشَمْلا إِلاّ جَمَعْتَهُ ، وَ لاأَمْراً إِلاّ أَتْمَمْتَهُ ، وَ لامالا إِلاّ کَثَّرْتَهُ ، وَ لاخُلْقاً إِلاّ حَسَّنْتَهُ ، وَ لاإِنْفاقاً إِلاّ أَخْلَفْتَهُ ، وَ لاحالا إِلاّ عَمَرْتَهُ ، وَ لاحَسُوداً إِلاّ قَمَعْتَهُ ، وَ لاعَدُوّاً إِلاّ أَرْدَیْتَهُ ، وَ لاشَرّاً إِلاّ کَفَیْتَهُ ، وَ لامَرَضاً إِلاّ شَفَیْتَهُ ، وَ لابَعیداً إِلاّ أَدْنَیْتَهُ ، وَ لاشَعَثاً إِلاّ لَمَمْتَهُ ، وَ لا سُؤالا [سُؤْلا :ظ [إِلاّ أَعْطَیْتَهُ ، أَللّهُمَّ إِنّی أَسْئَلُک َ خَیْرَ الْعاجِلَةِ ، وَ ثَوابَ الاْجِلَةِ ، أَللّهُمَّ أَغْنِنی بِحَلالِک َ عَنِ الْحَرامِ، وَ بِفَضْلِک َ عَنْ جَمیعِ الاَْنامِ ، أَللّهُمَّ إِنّی أَسْئَلُک َ عِلْماً نافِعاً ،

وَ قَلْباً خاشِعاً ، وَ یَقیناً شافِیاً ، وَ عَمَلا زاکِیاً ، وَ صَبْراً جَمیلا، وَ أَجْراً جَزیلا ، أَللّهُمَّ ارْزُقْنی شُکْرَ نِعْمَتِک َ عَلَىَّ ، وَ زِدْ فی إِحْسانِک َ وَ کَرَمِک َ إِلَىَّ ، وَاجْعَلْ قَوْلی فِى النّاسِ مَسْمُوعاً ، وَ عَمَلی عِنْدَک َ مَرْفُوعاً ، وَ أَثَری فِى الْخَیْراتِ مَتْبُوعاً ، وَ عَدُوّی مَقْمُوعاً ، أَللّـهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّدالاَْخْیارِ ، فی اناءِ اللَّیْلِ وَ أَطْرافِ النَّهارِ ، وَاکْفِنی شَرَّ الاَْشْرارِ ، وَ طَهِّرْنی مِنَ الــذُّنُوبِ وَ الاَْوْزارِ ، وَ أَجِرْنی مِنَ النّـارِ ، وَ أَحِلَّنی دارَالْقَرارِ ، وَ اغْفِرْلی وَ لِجَمیعِ إِخْوانی فیک َ وَ أَخَواتِىَ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ ، بِرَحْمَتِک َ یا أَرْحَمَ الرّاحِمینَ.

یا ارحم الراحمین کے بعد یہ کہیں: اس وقت قبلہ کی طرف منہ کریں اور دو رکعت نماز پڑھیں پہلی رکعت میں سورہ انبیاء اور دوسری رکعت میں سورہ حشر کو پڑھے اور قنوت میں یہ دعا پڑھیں

لاإِلهَ إِلاَّ اللهُ الْحَلیمُ الْکَریمُ ، لاإِلهَ إِلاَّاللهُ الْعَلِىُّ الْعَظیمُ ، لاإِلهَ إِلاَّاللهُ رَبُّ السَّماواتِ السَّبْعِ وَ الاَْرَضینَ السَّبْعِ، وَ ما فیهِنَّ وَ ما بَیْنَهُنَّ ، خِلافاً لاَِعْدآئِهِ، وَ تَکْذیباً لِمَنْ عَدَلَ بِهِ ، وَ إِقْراراً لِرُبُوبِیَّتِهِ ، وَ خُضُوعاً لِعِزَّتِهِ ، الاَْوَّلُ بِغَیْرِ أَوَّل ، وَالاْخِرُ إِلى غَیْرِ اخِر، الظّـاهِرُ عَلى کُلِّ شَىْء بِقُدْرَتِهِ ، الْباطِنُ دُونَ کُلِّ شَىْء بِعِلْمِهِ وَ لُطْفِهِ ، لا تَقِفُ الْعُقُولُ عَلى کُنْهِ عَظَمَتِهِ، وَ لاتُدْرِکُ الاَْوْهامُ حَقیقَةَ ماهِیَّتِهِ ، وَ لاتَتَصَوَّرُ الاَْنْفُسُ مَعانِىَ کَیْفِیَّتِهِ، مُطَّلِعاً عَلَى الضَّمآئِرِ ، عارِفاً بِالسَّرآئِرِ ، یَعْلَمُ خآئِنَةَ الاَْعْیُنِ وَ ما تُخْفِى الصُّدُورُ ، أَللّهُمَّ إِنّی اُشْهِدُک َ عَلى تَصْدیقی رَسُولَک َ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ الِهِ وَ إیمانی بِهِ، وَ عِلْمی بِمَنْزِلَتِهِ ، وَ إِنّی أَشْهَدُ أَنَّهُ النَّبِىُّ الَّذی نَطَقَتِ الْحِکْمَةُ بِفَضْلِهِ ، وَ بَشَّرَتِ الاَْ نْبِیآءُ بِهِ، وَ دَعَتْ إِلَى الاِْقْرارِ بِما جآءَ بِهِ، وَ حَثَّتْ عَلى تَصْدیقِهِ، بِقَوْلِهِ تَعالى: «اَلَّذی یَجِدُونَهُ مَکْتُوباً عِنْدَهُمْ فِى التَّوْریةِ وَ الاِْنْجیلِ یَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَ یَنْهیهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِـلُّ لَهُمُ الطَّیِّباتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبائِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَ الاَْغْلالَ الَّتی کانَتْ عَلَیْهِمْ» ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد رَسُولِک َ إِلَى الثَّقَلَیْنِ ، وَ سَیِّدِ الاَْنْبِیآءِ الْمُصْطَفَیْنَ ، وَ عَلى أَخیهِ وَ ابْنِ عَمِّهِ ، اللَّذَیْنِ لَمْ یُشْرِکا بِک َ طَرْفَةَ عَیْن أَبَداً ، وَ عَلى فاطِمَةَِ الزَّهْرآءِ سَیِّدةِ نِسآءِ الْعالَمینَ ، وَ عَلى سَیِّدَىْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ ، صَلاةً خالِدَةَ الدَّوامِ ، عَدَدَ قَطْرِ الرِّهامِ ، وَ زِنَةَ الْجِبالِ وَ الاْکامِ ، ما أَوْرَقَ السَّلامُ، وَ اخْتَلَفَ الضِّیآءُ وَ الظَّلامُ، وَ عَلى الِهِ الطّاهِرینَ، الاَْئِمَّةِ الْمُهْتَدینَ، الذّآئِدینَ عَنِ الدّینِ ، عَلِىّ وَ مُحَمَّد وَ جَعْفَر وَ مُوسى وَ عَلِىّ وَ مُحَمَّد وَ عَلِىّ وَالْحَسَنِ وَ الْحُجَّةِ الْقَوّامِ بِالْقِسْطِ ، وَ سُلالَةِ السِّبْطِ ، أَللّهُمَّ إِنّی أَسْئَلُک َ بِحَقِّ هذَا الاِْمامِ فَرَجاً قَریباً ، وَ صَبْراً جَمیلا ، وَ نَصْراً عَزیزاً ، وَ غِنىً عَنِ الْخَلْقِ ، وَ ثَباتاً فِى الْهُدى ، وَ التَّوْفیقَ لِما تُحِبُّ وَ تَرْضى ، وَ رِزْقاً واسِعاً حَلالا طَیِّباً ، مَریئاً دارّاً سآئِغاً ، فاضِلا مُفَضَِّلا صَبّاً صَبّاً ، مِنْ غَیْرِ کَدّ وَ لا نَکَد ، وَ لا مِنَّة مِنْ أَحَد ، وَ عافِیَةً مِنْ کُلِّ بَلآء وَ سُقْم وَ مَـرَض ، وَ الشُّکْرَ عَلَى الْعافِیَةِ وَ النَّعْمآءِ ، وَ إِذا جآءَ الْمَوْتُ فَاقْبِضْنا عَلى أَحْسَنِ ما یَکُونُ لَک َ طاعَةً ، عَلى ما أَمَرْتَنا مُحافِظـینَ حَتّى تُؤَدِّیَنا إِلى جَنّـاتِ النَّعیمِ ، بِرَحْمَتِک َ یا أَرْحَمَ الرّاحِـمینَ ، أَللّـهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَـــمَّد ، وَ أَوْحِـشْنـی مِنَ الـدُّنْیا وَ انِسْـــنی بِالاْخِـــرَةِ ،

فَإِنَّهُ لایُوحِشُ مِنَ الدُّنْیا إِلاّ خَوْفُک َ ، وَ لایُؤْنِسُ بِالاْخِرَةِ إِلاّ رَجآ ؤُک َ ، أَللّهُمَّ لَک َ الْحُجَّةُ لاعَلَیْک َ ، وَ إِلَیْک َ الْمُشْتَکى لامِنْک َ ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِهِ وَ أَعِنّی عَلى نَفْسِىَ الظّالِمَةِ الْعاصِیَةِ، وَ شَهْوَتِىَ الْغالِبَةِ، وَاخْتِمْ لی بِالْعافِیَةِ، أَللّـهُمَّ إِنَّ اسْتِغْفاری إِیّاک َ وَ أَنَا مُصِرٌّ عَلى مانَهَیْتَ قِلَّةُ حَیآء، وَ تَرْکِىَ الاِسْتِغْفارَ مَعَ عِلْمی بِسَِعَةِ حِلْمِک َتَضْییـعٌ لِحَقِّ الرَّجآءِ، أَللّـهُمَّ إِنَّ ذُنُوبی تُؤْیِسُنی أَنْ أَرْجُوَک َ، وَ إِنَّ عِلْمی بِسَِعَةِ رَحْمَتِک َ یَمْنَعُنی أَنْ أَخْشاک َ ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد ، وَ صَدِّقْ رَجآئی لَک َ ، وَ کَذِّبْ خَوْفی مِنْک َ، وَ کُنْ لی عِنْدَ أَحْسَنِ ظَنّی بِک َ یا أَکْرَمَ الاَْکْرَمینَ ، أَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد وَ أَیِّدْنی بِالْعِصْمَةِ ، وَ أَنْطِقْ لِسانی بِالْحِکْمَةِ ، وَ اجْعَلْنی مِمَّنْ یَنْدَمُ عَلى ما ضَیَّعَهُ فی أَمْسِهِ ، وَ لایَغْـبَنُ حَظَّهُ فی یَوْمِهِ ، وَ لا یَهُمُّ لِرِزْقِ غَدِهِ ، أَللّهُمَّ إِنَّ الْغَنِىَّ مَنِ اسْتَغْنى بِک َ وَ افْتَقَرَ إِلَیْک َ ، وَ الْفَقیرَ مَنِ اسْتَغْنى بِخَلْقِک َ عَنْک َ ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد ، وَ أَغْنِنی عَنْ خَلْقِک َ بِک َ ، وَ اجْعَلْنی مِمَّنْ لا یَبْسُطُ کَفّاً إِلاّ إِلَیْک َ ، أَللّـهُمَّ إِنَّ الشَّقِىَّ مَنْ قَنَطَ وَ أَمامَهُ التَّوْبَـةُ وَ وَرآءَهُ الرَّحْمَـةُ ، وَ إِنْ کُنْتُ ضَعیفَ الْعَمَلِ فَإِ نّی فی رَحْمَتِک َ قَوِىُّ الاَْمَلِ ، فَهَبْ لی ضَعْفَ عَمَلی لِقُوَّةِ أَمَلی ، أَللّـهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنْ ما فی عِبادِک َ مَنْ هُوَ أَقْسى قَلْباً مِنّی وَ أَعْظَمُ مِنّی ذَنْباً ، فَإِ نّی أَعْلَمُ أَنَّهُ لامَوْلى أَعْظَمُ مِنْک َ طَوْلا ، وَ أَوْسَعُ رَحْمَةً وَ عَفْواً، فَیامَنْ هُوَ أَوْحَدُ فی رَحْمَتِهِ، إِغْفِرْ لِمَنْ لَیْسَ بِأَوْحَدَ فی خَطیئَتِهِ، أَللّـهُمَّ إِنَّک َ أَمَرْتَنا فَعَصَیْنا، وَ نَهَیْتَ فَمَا انْتَهَیْنا، وَ ذَکَّرْتَ فَتَناسَیْنا ، وَ بَصَّرْتَ فَتَعامَیْنا، وَ حَذَّرْتَ فَتَعَدَّیْنا ، وَ ما کانَ ذلِک َ جَزآءَ إِحْسانِک َ إِلَیْنا ،

وَ أَنْتَ أَعْلَمُ بِما أَعْلَنّا وَ أَخْفَیْنا ، وَ أَخْبَرُ بِما نَأْتی وَ ما أَتَیْنا ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد وَ لاتُؤاخِذْنا بِما أَخْطَأْنا وَ نَسینا ، وَ هَبْ لَنا حُقُوقَک َ لَدَیْنا ، وَ أَتِمَّ إِحْسانَک َ إِلَیْنا، وَ أَسْبِلْ رَحْمَتَک َ عَلَیْنا، أَللّهُمَّ إِنّا نَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِهذَا الصِّدّیقِ الاِْمامِ، وَ نَسْئَلُکَ بِالْحَقِّ الَّذی جَعَلْتَةُ لَهُ وَ لِجَدِّهِ رَسُولِک َ وَ لاَِبَوَیْهِ عَلِىّ وَ فاطِمَـةَ ، أَهْلِ بَیْتِ الرَّحْمَةِ ، إِدْرارَ الرِّزْقِ الَّذی بِهِ قِوامُ حَیاتِنا، وَ صَلاحُ أَحْوالِ عِیالِنا، فَأَنْتَ الْکَریمُ الَّذی تُعْطی مِنْ سَِعَة، وَ تَمْنَعُ مِنْ قُدْرَة، وَ نَحْنُ نَسْئَلُک َ مِنَ الرِّزْقِ مایَکُونُ صَلاحاً لِلـدُّنْیا، وَ بَلاغاً لِلاْخِرَةِ ، أَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ الِ مُحَمَّد، وَ اغْفِرْلَنا وَ لِوالِدَیْنا، وَ لِجَمیعِ الْمُـؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ، وَ الْمُسْلِمینَ وَ الْمُسْلِماتِ ، الاَْحْیاءِ مِنْهُمْ وَالاَْمْواتِ، وَ اتِنا فِى الدُّنْیاحَسَنَةً وَفِى الاْخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ.

جس وقت نماز تمام نماز تمام کریں اور تسبیح پڑھنا چاہیں تو اپنے رخسار کو مٹی پر رکھیں اور چالیس مرتبہ کہیں سبحان اللہ ولا الہ الّا اللہ واللہ اکبر اور خدا سے طلب کریں کہ خدا تجھ کو گناہوں سے پاک کرے اور مہالک سے نجات دے تمہارے گناہوں کو بخش دے اور نیک کام انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو خدا سے قرب کا سبب حضرت کے توسط سے قرار دے اور حضرت کے سرہانے کھڑے ہوں جس طرح میں نے کہا دو رکعت نماز پڑھ لے اس کے بعد ضریح کے قریب جائیں اور ضریح کو بوسہ دیں اور کہیں زاد اللہ فی شرفکم، والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ اپنے لئے اپنے ماں باپ کے لئے اور جس کو دوست رکھتے ہو ان کے لئے دعا کریں۔ علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ المزار الکبیر کا مولف نے کہا ہے کہ ایک اور زیارت ناحیہ مقدسہ کی طرف سے نواب اربعہ میں سے کسی ایک کی طرف سے صادر ہوئی ہے کہ کہتاہے کہ قبر کے کنارے کھڑے ہوجائیں اور کہیں اسلام علی آدم صفوة اللہ من خلیفة اس کے بعد زیارت جیسا کہ ہم نے نقل کیا ہے ویسا ذکر کیا ہے اس بناء پر واضح ہے کہ یہ زیارت بھی علماء سے نقل ہوئی ہے اور راویں کے توسط سے روایت ہوئی ہے احتمال ہے کہ یہ عاشورا کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کو ہر وقت پڑھ سکتے ہیں چنانچہ سید مرتضی سے اس طرح نقل کیا ہے:

مرحوم آیة اللہ سید احمد مستنبط نے لکھا ہے کہ زیارت ناحیہ کی روایت دلالت نہیں کرتی ہے کہ وہ عاشورا کے ساتھ مخصوص ہو۔

۷ ۔ زیارت رجبیہ

زیارت رجبیہ اہل بیت کے حرم مطہر میں پڑھی جاتی ہے حضرت حجت کے نائب بزرگوار ابوالقاسم حسین بن روح کہتے ہیں کہ جو بھی آل محمد میں سے کسی کے حرم میں داخل ہوجائے اور اس زیارت کے ساتھ حضرت کی زیارت کرے اسکے وطن پہنچنے سے پہلے دینی اور دنیوی حاجتیں قبول ہوجائیں گی اس بناء پر جب چاہیں اماموں میں سے کسی کے حرم میں اس زیارت کو پڑھ لیں اور قبر کے سامنے کھڑے ہوجائیں اور کہیںالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَشْهَدَنا مَشْهَدَ أَوْ لِیائِهِ فِی رَجَبٍ، وَأَوْجَبَ عَلَیْنا مِنْ حَقِّهِمْ مَا

حمد خدا ہی کیلئے ہے جس نے ہمیں رجب میں اپنے اولیائ کی زیارت گاہوں پر حاضر کیا اور ان کا حق ہم پر واجب کیا

قَدْ وَجَبَ وَصَلَّی اﷲُ عَلَی مُحَمَّدٍ الْمُنْتَجَبِ، وَعَلَی أَوْصِیائِهِ الْحُجُبِ اَللّٰهُمَّ فَکَما

جو ہونا چاہئے تھا اور رحمت خدا ہو عالی نسب محمد(ص)(ص) پر اور ان کے اوصیائ پر جو صاحب حجاب ہیں اے معبود! پس جیسے تونے ہمیں ان کی

أَشْهَدْتَنا مَشْهَدَهُمْ فَأَ نْجِزْلَنا مَوْعِدَهُمْ، وَأَوْرِدْنا مَوْرِدَهُمْ، غَیْرَ مُحَلَّئیِنَ عَنْ وِرْدٍ

زیارت کی توفیق دی ویسے ہی ہمارے لئے ان کا وعدہ پورا فرما اور ہمیں ان کی جائے ورود پر وارد فرما بغیر کسی روک ٹوک

فِی دارِ الْمُقامَةِ وَالْخُلْدِ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، إنِّی قَدْ قَصَدْتُکُمْ وَاعْتَمَدْتُکُمْ بِمَسْأَلَتِی

کے جائے اقامت اور خلد برین میں پہنچا دے اور سلام ہو آپ پر کہ میں آپ کی طرف آیا اور آپ پر بھروسہ کیا اپنے سوال

وَحَاجَتِی وَهِیَ فَکَاکُ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ، وَالْمَقَرُّ مَعَکُمْ فِی دَارِ الْقَرارِ ، مَعَ شِیعَتِکُمُ

اور حاجت کے لئے اور وہ یہ ہے کہ میری گردن آگ سے آزاد ہو اور میرا ٹھکانہ آپ کے ساتھ آپ کے نیکوں کار شیعوں

الْاَ بْرَارِ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ، أَنَا سائِلُکُمْ وَآمِلُکُمْ فِیمَا

کیساتھ ہو اور سلام ہو آپ پر کہ آپ نے صبر کیا پس آپ کا کیا ہی اچھا انجام ہے میں آپکاسائل اور امید وار ہوں ان چیزوں کیلئے

إلَیْکُمُ التَّفْوِیضُ، وَعَلَیْکُمُ التَّعْوِیضُ، فَبِکُمْ یُجْبَرُ الْمَهِیضُ، وَیُشْفَی الْمَرِیضُ،

جو آپ کے اختیار میں ہیں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ کے ذریعے شکستگی کی تلافی اور بیمار کو شفا ملتی ہے اور جو کچھ

وَمَا تَزْدَادُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَغِیضُ، إنِّی بِسِرِّکُمْ مُؤْمِنٌ، وَ لِقَوْ لِکُمْ مُسَلِّمٌ، وَعَلَی اﷲِ

رحموں میں بڑھتا اور گھٹتا ہے بے شک میںآپ کی قوت باطنی کا معتقد اور آپ کے قول کو تسلیم کرتا ہوں میں خدا کوآپ کی قسم

بِکُمْ مُقْسِمٌ فِی رَجْعِی بِحَوَائِجِی وَقَضَائِها وَ إمْضَائِها وَ إنْجَاحِها وَ إبْراحِها

دیتا ہوں کہ میری حاجتوں پر توجہ دے انہیں پورا کرے ان کا اجرا کرے اور کامیاب کرے یا ناکام کرے اور جو کام میں نے آپ

وَبِشُؤُونِی لَدَیْکُمْ وَصَلاَحِها وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ سَلاَمَ مُوَدِّعٍ وَلَکُمْ حَوائِجَهُ مُودِعٌ

کے سپرد کئے ہیں ان میں بہتری کرے اور سلام ہو آپ پر، وداع کرنے والے کا سلام جو اپنی حاجتیں آپ کے سپرد کر رہا ہے

یَسْأَلُ اﷲَ إلَیْکُمُ الْمَرْجِعَ وَسَعْیُهُ إلَیْکُمْ غَیْرَ مُنْقَطِعٍ وَأَنْ یَرْجِعَنِی مِنْ حَضْرَتِکُمْ

وہ خدا سے سوال کرتا ہے کہ آپکے ہاں واپس آئے اور اسکا آپکی بارگاہ میں آنا چھوٹنے نہ پائے وہ چاہتا ہے کہ آپکے حضور سے

خَیْرَ مَرْجِعٍ إلَی جَنَابٍ مُمْرِعٍ وَخَفْضٍ مُوَسَّعٍ وَدَعَةٍ وَمَهَلٍ إلَی حِینِ الْاَجَلِ وَخَیْرِ

جائے تو پھر آپ کی خدمت میں حاضری دے تو یہ جگہ ہموار، سر سبز اور وسیع ہو چکی ہو کہ تا دم آخر وہ یہاں رہے اوراس کا انجام بخیر ہو

مَصِیرٍ وَمَحَلٍّ فِی النَّعِیمِ الْاَزَلِ، وَالْعَیْشِ الْمُقْتَبَلِ، وَدَوامِ الاَُْکُلِ، وَشُرْبِ الرَّحِیقِ

ہمیشہ کی نعمتیں نصیب ہوں آئندہ زندگی خوشگوار ہو ہمیشہ بہترین غذائیں اور پاک شراب ملے اور آب شرین

وَالسَّلْسَلِ وَعَلٍّ وَنَهَلٍ لاَ سَأَمَ مِنْهُ وَلاَ مَلَلَ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ عَلَیْکُمْ

اور یہ مہینہ بار بار آئے جس میں نہ تنگی آئے نہ رنج ہو اور خدا کی رحمت، برکتیں اور درود و سلام ہو آپ پر جب تک

حَتَّی الْعَوْدِ إلَی حَضْرَتِکُمْ، وَالْفَوْزِ فِی کَرَّتِکُمْ، وَالْحَشْرِ فِی زُمْرَتِکُمْ، وَرَحْمَةُ

کہ میں دوبارہ حاضر بارگاہ ہوں آپ کی رجعت میں کامیاب رہوں حشر میں آپ کے گروہ میں اٹھوں خدا کی رحمت اور

اﷲِ وَبَرَکاتُهُ عَلَیْکُمْ وَصَلَواتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ، وَهُوَ حَسْبُنا وَنِعْمَ الْوَکِیلُ

برکتیں ہوںآپ پر اور اس کی نوازشیں اور سلامتیاں اور وہ ہمارے لئے کافی اور بہترین کارساز ہے۔

۸ ۔ حضرت صاحب العصر کی زیارت

السلام علیک یا صاحب الزمان السلام علیک یا خلیفة الرحمن السلام علیک یا شریک القرآن السلام علیک کا قاطع البرهان السلام علیک یا امام الانس والجانّ السلام علیک و علی آبائک الطیبین و اجدادک الطاهرین المعصومین ورحمة اللّٰه و برکاته ۔

۹ ۔ ائمہ کے حرام اور سرداب میں اذن دخول

علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ ایک قدیم نسخہ میں ہمارے علماء میں سے ایک عالم نے اس طرح لکھا ہے سرداب مقدس اور ائمہ کے حرم میں اذن دخول کے وقت یہ پڑھیں

اَللّٰهُمَّ إنَّ هذِهِ بُقْعَةٌ طَهَّرْتَها، وَعَقْوَةٌ شَرَّفْتَها، وَمَعالِمُ زَکَّیْتَها حَیْثُ أَظْهَرْتَ فِیها

اے معبود! یقیناً اس بارگاہ کو تو نے پاکیزہ کیا ہے اور اس آستانے کو عزت دی اور یہ مقام نصیحت ہے جسے تو نے چمکا یا تاکہ تو اس میں

أَدِلَّةَ التَّوْحِیدِ وَأَشْباحَ الْعَرْشِ الْمَجِیدِ الَّذِینَ اصْطَفَیْتَهُمْ مُلُوکاً لِحِفْظِ النِّظامِ

توحید کی دلیلیں اور عزت والے عرش کی مثالیں ظاہر فرمائے کہ جن لوگوں کو تو نے نظم و نظام کی حفاظت کیلیے حاکم بنایا

وَاخْتَرْتَهُمْ رُؤَسائَ لِجَمِیعِ الْاََنامِ، وَبَعَثْتَهُمْ لِقِیامِ الْقِسْطِ فِی ابْتِدائِ الْوُجُودِ إلی

انہیں ساری مخلوق کیلئے سردار مقرر کیا اور انہیں عدل و قسط قائم رکھنے کے لیے مامور فرمایا تاکہ آغاز کائنات سے قیامت تک یہ کام

یَوْمِ الْقِیَامَةِ، ثُمَّ مَنَنْتَ عَلَیْهِمْ بِاسْتِنابَةِ أَنْبِیائِکَ لِحِفْظِ شَرائِعِکَ وَأَحْکَامِکَ

انجام دیں پھر تو نے ان پر یہ احسان کیا کہ انہیں اپنے نبیوںکا جانشین قرار دیا تاکہ تیری شریعتوں اور حکموں کی حفاظت ہو پس تو نے

فَأَکْمَلْتَ بِاسْتِخْلافِهِمْ رِسالَةَ الْمُنْذِرِینَ کَما أَوْجَبْتَ رِیَاسَتَهُمْ فِی فِطَرِ الْمُکَلَّفِین

ان کو خلافت دے کرنبیوں کی رسالت کو کامل کردیاجیسا کہ تو نے اہل دین پر ان کی حکمرانی واجب و لازم کردی ہے

فَسُبْحانَکَ مِنْ إلهٍ مَا أَرْأَ فَکَ، وَلاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مِنْ مَلِکٍ مَا أَعْدَلَکَ حَیْثُ طابَقَ

پس پاک تر ہے تو اے معبود! کہ بڑی محبت کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو بڑا عدل کرنے والا بادشاہ ہے

صُنْعُکَ مَا فَطَرْتَ عَلَیْهِ الْعُقُولَ، وَوافَقَ حُکْمُکَ مَا قَرَّرْتَهُ فِی الْمَعْقُولِ

کیونکہ تیری بنائی ہوی چیزیں عقل و خرد سے مطابقت رکھتی ہیں اور تیرا حکم ان اصولوں سے موافقت رکھتا ہے جو تو نے معقولات و

وَالْمَنْقُولِ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی تَقْدِیرِکَ الْحَسَنِ الْجَمِیلِ وَلَکَ الشُّکْرُ عَلَی قَضائِکَ

منقولات میں مقرر فرمائے ہیں پس حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے ہر چیز کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور شکر تیرے لیے ہے کہ تو نے اپنے ہر

الْمُعَلَّلِ بِأَکْمَلِ التَّعْلِیلِ، فَسُبْحانَ مَنْ لاَ یُسْأَلُ عَنْ فِعْلِهِ، وَلاَ یُنازَعُ فِی أَمْرِهِ

فیصلے میں ایک قوی دلیل کوبنیاد بنایا ہے پس پاک ہے وہ کہ جس کے فعل پر باز پرس نہیں اور جس کے حکم میں اختلاف نہیں ہوتااور

وَسُبْحانَ مَنْ کَتَبَ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ قَبْلَ ابْتِدائِ خَلْقِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی مَنَّ

پاک ہے وہ جس نے رحمت کرنا خود پر ضروری قرار دیا قبل اس کے کہ اپنی مخلوق کا آغاز کرتا اور حمد اس اﷲ کی ہے جس نے

عَلَیْنا بِحُکَّامٍ یَقُومُونَ مَقامَهُ لَوْ کانَ حاضِراً فِی الْمَکانِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ اﷲُ الَّذِی

اپنے قائم مقام حکّام انبیائ کے تقرر سے ہم پر احسان کیا اگرچہ وہ کسی جگہ محدود نہیں ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںجس نے انبیائ

شَرَّفَنا بِأَوْصِیائَ یَحْفَظُونَ الشَّرائِعَ فِی کُلِّ الْاََزْمانِ، وَاﷲُ أَکْبَرُ الَّذِی أَظْهَرَهُمْ

کے جانشینوں کے ذریعے ہمیںعزت دی جو ہر ہر زمانے میں شریعتوں کی حفاظت کرتے رہے اور بزرگتر ہے وہ اﷲ جس نے ان کو

لَنا بِمُعْجِزاتٍ یَعْجُزُ عَنْهَا الثَّقَلانِ، لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ الَّذِی

ہمارے لیے ظاہر کیا معجزے دے کر کہ جن کے مقابل جن وانس عاجز ہیں نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے

أَجْرانا عَلَی عَوائِدِهِ الْجَمِیلَةِ فِی الْاَُمَمِ السَّالِفِینَ اَللّٰهُمَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَالثَّنائُ الْعَلِیُّ

جس نے ہمیں سابقہ امتوں سے خوب تر نعمتوں سے نوازا اور سرفراز کیا ہے اے معبود! تیرے ہی لیے حمد ہے اور بہت تعریف اس پر

کَما وَجَبَ لِوَجْهِکَ الْبَقائُ السَّرْمَدِیُّ، وَکَما جَعَلْتَ نَبِیَّنا خَیْرَ النَّبِیِّینَ، وَمُلُوکَنا

کہ تونے اپنی ذات میں ہمیشہ ہمیشہ کا جلوہ رکھا اور تیری حمد اس پر کہ تو نے ہمارے نبی کو نبیوں میں افضل اور ہمارے ائمہ کو مخلوق میں

أَفْضَلَ الْمَخْلُوقِینَ وَاخْتَرْتَهُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعالَمِینَ وَفِّقْنا لِلسَّعْیِ إلی أَبْوابِهِمُ

بہتر بنایا نیزعلم ودانش سے ان کو پوری کائنات سے منتخب کیا ہے ہمیں قیامت تک ان کے آبادآستانوں پر حاضر ہونے کی توفیق دی

الْعامِرَةِ إلی یَوْمِ الدِّینِ، وَاجْعَلْ أَرْواحَنا تَحِنُّ إلی مَوْطِیََ أَقْدامِهِمْ، وَنُفُوسَنا

ہماری روح کو ان کے قدموں میں جانے کا اشتیاق دے ہماری جانوں کو ان کے

تَهْوِی النَّظَرَ إلی مَجالِسِهِمْ وَعَرَصاتِهِمْ حَتَّی کَأَنَّنا نُخاطِبُهُمْ فِی حُضُورِ أَشْخاصِهِمْ

درباروں اور صحنوں کے دیکھنے کی تمنا دے یہاں تک کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے روبرو ہو کر عرض گزارہیں

فَصَلَّی اﷲُ عَلَیْهِمْ مِنْ سادَةٍ غایِبِینَ وَمِنْ سُلالَةٍ طاهِرِینَ وَمِنْ أَئِمَّةٍ مَعْصُومِینَ

اﷲ کی رحمت ہو ان پر جو سردار ،غائب پاکیزہ خاندان اور صاحب عصمت امام و پیشوا ہیں

اَللّٰهُمَّ فَأْذَنْ لَنا بِدُخُولِ هذِهِ الْعَرَصاتِ الَّتِی اسْتَعْبَدْتَ بِزِیارَتِها أَهْلَ الْاََرَضِینَ

اے معبود! ہمیں ان بارگاہوں کے احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت دے کہ جن کی زیارت کو تو نے زمین

وَالسَّمٰوَاتِ، وَأَرْسِلْ دُمُوعَنا بِخُشُوعِ الْمَهابَةِ، وَذَ لِّلْ جَوارِحَنا بِذُلِّ الْعُبُودِیَّةِ

وآسمان والوں کیلئے ذریعہ عبادت قرار دیا اپنی ہیبت سے ہمارے آنسورواں کردے اور ہمارے اعضا کو بندگی اور اطاعت

وَفَرْضِ الطَّاعَةِ، حَتَّی نُقِرَّ بِمَا یَجِبُ لَهُمْ مِنَ الْاََوْصَافِ، وَنَعْتَرِفَ بِأَ نَّهُمْ شُفَعَائُ

کے لیے جھکا دے یہاں تک کہ ہم اقرار کریں ان ہستیوں کے اوصاف کا اور مانیں اس بات کو کہ اس وقت وہ مخلوق کی

الْخَلائِقِ إذَا نُصِبَتِ الْمَوَازِینُ فِی یَوْمِ الْاََعْرافِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلامٌ عَلَی عِبادِهِ

شفاعت کرنے والے ہونگے جب روز قیامت اعمال کے وزن سامنے آئیں گے اورحمد خدا کیلئے ہے اور سلام ہو اسکی برگزیدہ

الَّذِینَ اصْطَفی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ

مخلوق محمد(ص) و آل محمد(ص) پر جو پاک و پاکیزہ ہیں۔

اس وقت ضریح کو بوسہ دیں خشوع کے ساتھ روتے ہوئے داخل ہوں چونکہ ان حضرات نے داخل کی اجازت دی ہے۔

۱۰ ۔ سرداب میں صاحب الزمان کی پہلی زیارت

جب بھی حضرت حجت کی زیارت سرداب مقدس میں کرنا چاہیں تو سب سے پہلے حضرت امام ھادی اور حضرت عسکری کی زیارت کریں جب ان دونوں بزرگواروں کی زیارت سے فارغ ہوجائیں تو سرداب مقدس کی طرف جائیں اور اس دروازے ے سامنے کھڑے ہوجائیں اور اذن دخول کی دعا پڑھ لیں

إِلهي إِنّي قَدْ وَقَفْتُ عَلى بابِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، وَقَدْ مَنَعْتَ النَّاسَ مِنَ الدُّخُولِ إِلى بُيُوتِهِ إِلّا بِإِذْنِهِ ، فَقُلْتَ «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لاتَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ ».

أَللَّهُمَّ وَ إِنّي أَعْتَقِدُ حُرْمَةَ نَبِيِّكَ في غَيْبَتِهِ ، كَما أَعْتَقِدُ في حَضْرَتِهِ ، وَأَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَكَ وَخُلَفاءَكَ أَحْياءٌ عِنْدَكَ يُرْزَقُونَ ، يَرَوْنَ مَكاني ، وَيَسْمَعُونَ كَلامي ، وَيَرُدُّونَ سَلامي عَلَيَّ ، وَأَنَّكَ حَجَبْتَ عَنْ سَمْعي كَلامَهُمْ ، وَفَتَحْتَ بابَ فَهْمي بِلَذيذِ مُناجاتِهِمْ.

فَإِنّي أَسْتَأْذِنُكَ يا رَبِّ أَوَّلاً ، وَأَسْتَأْذِنُ رَسُولَكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ثانِياً ، وَأَسْتَأْذِنُ خَليفَتَكَ الْإِمامَ الْمفْرُوضَ عَلَيَّ طاعَتُهُ ، فِي الدُّخُولِ في ساعَتي هذِهِ إِلى بَيْتِهِ ، وَأَسْتَأْذِنُ مَلائِكَتَكَ المُوَكَّلينَ بِهذِهِ الْقِطْعَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُطيعَةِ السَّامِعَةِ

اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الْمَلائِكَةُ الْمُوَكَّلُونَ بِهذَا الْمَشْهَدِ الشَّريفِ الْمُبارَكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ

بِإِذْنِ اللَّهِ ، وَ إِذْنِ رَسُولِهِ ، وَ إِذْنِ خُلَفائِهِ ، وَ إِذْنِ هذَا الْإِمامِ ، وَ إِذْنِكُمْ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَجْمَعينَ ، أَدْخُلُ إِلى هذَا الْبَيْتِ مُتَقَرِّباً إِلَى اللَّهِ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، فَكُونُوا مَلائِكَةَ اللَّهِ أَعْواني ، وَكُونُوا أَنْصاري ، حَتَّى أَدْخُلَ هذَا الْبَيْتِ ، وَأَدْعُوَ اللَّهَ بِفُنُونِ الدَّعَواتِ، وَأَعْتَرِفَ للَّهِِ بِالْعُبُودِيَّةِ ، وَلِهذَا الْإِمامِ وَآبائِهِ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ بِالطَّاعَةِ

ثمّ تنزل مقدِّماً رجلك اليمنى وتقول : بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ ، وَفي سَبيلِ اللَّهِ ، وَعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وكبّر اللَّه وأحمده وسبّحه وهلّله ، فإذا استقررت فيه فقف مستقبل القبلة وقل :

سَلامُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ وَتَحِيَّاتُهُ وَصَلَواتُهُ عَلى مَوْلايَ صاحِبِ الزَّمانِ ، صاحِبِ الضِّياءِ وَالنُّورِ ، وَالدّينِ الْمَأْثُورِ ، وَاللِّواءِ الْمَشْهُورِ ، وَالْكِتابِ الْمَنْشُورِ ، وَصاحِبِ الدُّهُورِ وَالْعُصُورِ ، وَخَلَفِ الْحَسَنِ ، اَلْإِمامِ الْمُؤْتَمَنِ ، وَالْقائِمِ الْمُعْتَمَدِ ، وَالْمَنْصُورِ الْمُؤَيَّدِ ، وَالْكَهْفِ وَالْعَضُدِ ، عِمادِ الْإِسْلامِ ، وَرُكْنِ الْأَنامِ ، وَمِفْتاحِ الْكَلامِ ، وَوَلِيِّ الْأَحْكامِ ، وَشَمْسِ الظَّلامِ ، وَبَدْرِ التَِّمامِ ، وَنَضْرَةِ الْأَيَّامِ وَصاحِبِ الصَّمْصامِ ، وَفَلّاقِ الْهامِ، وَالْبَحْرِ الْقَمْقامِ ، وَالسَّيِّدِ الْهُمامِ ، وَحُجَّةِ الْخِصامِ ، وَبابِ الْمَقامِ لِيَوْمِ الْقِيامِ.

وَالسَّلامُ عَلى مُفَرِّجِ الْكُرُباتِ، وَخَوَّاضِ الغَمَراتِ، وَمُنَفِّسِ الْحَسَراتِ، وَبَقِيَّةِ اللَّهِ في أَرْضِهِ ، وَصاحِبِ فَرْضِهِ ، وَحُجَّتِهِ عَلى خَلْقِهِ ، وَعَيْبَةِ عِلْمِهِ ، وَمَوْضِعِ صِدْقِهِ ، وَالْمُنْتَهى إِلَيْهِ مَواريثُ الْأَنْبِياءِ ، وَلَدَيْهِ مَوْجُودٌ آثارُ الْأَوْصِياءِ ، وَحُجَّةِ اللَّهِ ، وَابْنِ رَسُولِهِ ، وَالْقَيِّمِ مَقامَهُ ، وَوَلِيِّ أَمْرِ اللَّهِ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ.

أَللَّهُمَّ كَمَا انْتَجَبْتَهُ لِعِلْمِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُ لِحُكْمِكَ ، وَخَصَصْتَهُ بِمَعْرِفَتِكَ ، وَجَلَّلْتَهُ بِكَرامَتِكَ ، وَغَشَّيْتَهُ بِرَحْمَتِكَ ، وَرَبَّيْتَهُ بِنِعْمَتِكَ ، وَغَذَّيْتَهُ بِحِكْمَتِكَ ، وَاخْتَرْتَهُ لِنَفْسِكَ ، وَاجْتَبَيْتَهُ لِبَأْسِكَ ، وَارْتَضَيْتَهُ لِقُدْسِكَ ، وَجَعَلْتَهُ هادِياً لِمَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَدَيَّانَ الدّينِ بِعَدْلِكَ ، وَفَصْلَ الْقَضايا بَيْنَ عِبادِكَ.

وَوَعَدْتَهُ أَنْ تَجْمَعَ بِهِ الْكَلِمَ ، وَتُفَرِّجَ بِهِ عَنِ الْاُمَمِ ، وَتُنيرَ بِعَدْلِهِ الظُّلَمَ ، وَتُطْفِئَ بِهِ نيرانَ الظُّلْمِ ، وَتَقْمَعَ بِهِ حَرَّ الْكُفْرِ وَآثارَهُ ، وَتُطَهِّرَ بِهِ بِلادَكَ ، وَتَشْفِيَ بِهِ صُدُورَ عِبادِكَ ، وَتَجْمَعَ بِهِ الْمَمالِكَ كُلَّها ، قَريبَها وَبَعيدَها ، عَزيزَها وَذَليلَها ، شَرْقَها وَغَرْبَها ، سَهْلَها وَجَبَلَها ، صَباها وَدُبُورَها ، شِمالَها وَجُنُوبَها ، بَرَّها وَبَحْرَها ، حُزُونَها وَوُعُورَها ، يَمْلَاُها قِسْطاً وَعَدْلاً ، كَما مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً ، وَتُمَكِّنَ لَهُ فيها ، وَتُنْجِزَ بِهِ وَعْدَ الْمُؤْمِنينَ ، حَتَّى لايُشْرَكَ بِكَ شَيْئاً ، وَحَتَّى لايَبْقى حَقٌّ إِلّا ظَهَرَ ، وَلا عَدْلٌ إِلّا زَهَرَ ، وَحَتَّى لايَسْتَخْفِيَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ صَلاةً تُظْهِرُ بِها حُجَّتَهُ ، وَتُوضِحُ بِها بَهْجَتَهُ ، وَتَرْفَعُ بِها دَرَجَتَهُ ، وَتُؤَيِّدُ بِها سُلْطانَهُ ، وَتُعَظِّمُ بِها بُرْهانَهُ ، وَتُشَرِّفُ بِها مَكانَهُ ، وَتُعْلي بِها بُنْيانَهُ ، وَتُعِزُّ بِها نَصْرَهُ ، وَتَرْفَعُ بِها قَدْرَهُ ، وَتُسَمّي بِها ذِكْرَهُ ، وَتُظْهِرُ بِها كَلِمَتَهُ ، وَتُكَثِّرُ بِها نُصْرَتَهُ ، وَتُعِزُّ بِها دَعْوَتَهُ ، وَتُزيدُهُ بِها إِكْراماً ، وَتَجْعَلُهُ لِلْمُتَّقينَ إِماماً ، وَتُبَلِّغُهُ في هذَا الْمَكانِ مِثْلَ هذَا الْأَوانِ ، وَفي كُلِّ مَكانٍ مِنَّا تَحِيَّةً وَسَلاماً ، لايَبْلى جَديدُهُ ، ] وَلايَفنى عَديدُهُ[.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بَقِيَّةَ اللَّهِ في أَرْضِهِ وَبِلادِهِ ، وَحُجَّتَهُ عَلى عِبادِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَلَفَ السَّلَفِ ، اَلسَّلام عَلَيْكَ يا صاحِبَ الشَّرَفِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ الْمَعْبُودِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا كَلِمَةَ الْمَحْمُودِ اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا شَمْسَ الشُّمُوسِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَهْدِيَّ الْأَرْضِ وَعَيْنَ الْفَرْضِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلايَ يا صاحِبَ الزَّمانِ وَالْعالِيَ الشَّأْنِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خاتَمَ الْأَوْصِياءِ وَابْنَ الْأَنْبِياءِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُعِزَّ الْأَوْلِياءِ وَمُذِلَّ الْأَعْداءِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْفَريدُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمُنْتَظَرُ وَالْحَقُّ الْمُشْتَهَرُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْوَلِيُّ الْمُجْتَبى وَالْحَقُّ الْمُشْتَهى اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمُرْتَجى لِإِزالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْمُبيدُ لِأَهْلِ الْفُسُوقِ وَالطُّغْيانِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمامُ الْهادِمُ لِبُنْيانِ الشِّرْكِ وَالنِّفاقِ ، وَالْحاصِدُ فُرُوعَ الْغَيِّ وَالشِّقاقِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُدَّخَرُ لِتَجْديدِ الْفَرائِضِ وَالسُّنَنِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا طامِسَ آثارِ الزَّيْغِ وَالْأَهْواءِ ، وَقاطِعَ حَبائِلِ الْكِذْبِ وَالْفِتَنِ وَالْإِفْتِراءِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُؤَمَّلُ لِإِحْياءِ الدَّوْلَةِ الشَّريفَةِ اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جامِعَ الْكَلِمَةِ عَلَى التَّقْوى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بابَ اللَّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا ثارَ اللَّهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحيي مَعالِمِ الدّينِ وَأَهْلِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا قاصِمَ شَوْكَةِ الْمُعْتَدينَ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وَجْهَ اللَّهِ الَّذي لايَهْلَكُ وَلايَبْلى إِلى يَوْمِ الدّينِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَيْنَ الْأَرْضِ وَالسَّماءِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صاحِبَ الْفَتْحِ وَناشِرَ رايَةِ الْهُدى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُؤَلِّفَ شَمْلِ الصَّلاحِ وَالرِّضا.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا طالِبَ ثارِ الْأَنْبِياءِ وَأَبْناءِ الْأَنْبِياءِ ، وَالثَّائِرَ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلاءَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمَنْصُورُ عَلى مَنِ اعْتَدى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُنْتَظَرُ الْمُجابُ إِذا دَعى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بَقِيَّةَ الخَلائِفِ ، اَلبَرُّ التَّقِيُّ ، اَلْباقي لِإِزالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ عَلِيٍّ الْمُرْتَضى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ خَديجَةَ الْكُبْرى ، وَابْنَ السَّادَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْقادَةِ الْمُتَّقينَ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ النُّجَباءِ الْأَكْرَمينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْأَصْفِياءِ الْمُهَذَّبينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْهُداةِ الْمَهْديّينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ خِيَرَةِ الخِيَرِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ سادَةِ الْبَشَرِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْغَطارِفَةِ الْأَكْرَمينَ ، وَالْأَطائِبِ الْمُطَهَّرينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْبَرَرَةِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَالْخَضارِمَةِ الْأَنْجَبينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْحُجَجِ الْمُنيرَةِ ، وَالسُّرُجِ الْمُضيئَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الشُّهُبِ الثاقِبَةَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ قَواعِدِ الْعِلْمِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ مَعادِنِ الْحِلْمِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْكَواكِبِ الزَّاهِرَةِ ، وَالنُّجُومِ الْباهِرَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الشُّمُوسِ الطَّالِعَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْأَقْمارِ السَّاطِعَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ ، وَالْأَعْلامِ اللّائِحَةِ ، الَسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ السُّنَنِ الْمَشْهُورَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْمَعالِمِ الْمَأْثُورَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الشَّواهِدِ الْمَشْهُودَةِ ، وَالْمُعْجِزاتِ الْمَوْجُودَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ ، وَالنَّبَإِ الْعَظيمِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْآياتِ الْبَيِّناتِ ، وَالدَّلائِلِ الظَّاهِراتِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْبَراهينِ الْواضِحاتِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ الْحُجَجِ الْبالِغاتِ ، وَالنِّعَمِ السَّابِغاتِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ طه وَالْمُحْكَماتِ ، وَيس وَالذَّارِياتِ ، وَالطُّورِ وَالْعادِياتِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ مَنْ دَنى فَتَدَلَّى فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى ، وَاقْتَرَبَ مِنَ الْعَلِيِّ الْأَعْلى.

لَيْتَ شِعْري أَيْنَ اسْتَقَرَّتْ بِكَ النَّوى ، أَوْ أَنْتَ بِوادي طُوى ، عَزيزٌ عَلَيَّ أَنْ أَرَى الْخَلْقَ وَلاتُرى ، وَلا يُسْمَعُ لَكَ حَسيسٌ وَلا نَجْوى ، عَزيزٌ عَلَيَّ أَنْ يُرَى الْخَلْقُ وَلاتُرى ، عَزيزٌ عَلَىَّ أَنْ تُحيطَ بِكَ الْأَعْداءُ.

بِنَفْسي أَنْتَ مِنْ مُغَيَّبٍ ما غابَ عَنَّا ، بِنَفْسي أَنْتَ مِنْ نازِحٍ ما نَزَحَ عَنَّا وَنَحْنُ نَقُولُ ، اَلْحَمْدُ للَّهِِ رَبِّ الْعالَمينَ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعينَ.

ثمّ ترفع يديك وتقول :

أَللَّهُمَّ أَنْتَ كاشِفُ الْكُرَبِ وَالْبَلْوى ، وَ إِلَيْكَ نَشْكُو غَيْبَةَ إِمامِنا ، وَابْنِ بِنْتِ نَبِيِّنا أَللَّهُمَّ فَامْلَأْ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً ، كَما مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ، وَأَرِنا سَيِّدَنا وَصاحِبَنا وَ إِمامَنا وَمَوْلانا صاحِبَ الزَّمانِ ، وَمَلْجَأَ أَهْلِ عَصْرِنا ، وَمَنْجا أَهْلِ دَهْرِنا ، ظاهِرَ الْمَقالَةِ ، واضِحَ الدَّلالَةِ ، هادِياً مِنَ الضَّلالَةِ ، مُنْقِذاً مِنَ الْجَهالَةِ

وَأَظْهِرْ مَعالِمَهُ ، وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ ، وَأَعِزَّ نَصْرَهُ ، وَأَطِلْ عُمْرَهُ ، وَأَبْسِطْ جاهَهُ ، وَأَحْيِ أَمْرَهُ ، وَأَظْهِرْ نُورَهُ ، وَقَرِّبْ بُعْدَهُ ، وَأَنْجِزْ وَعْدَهُ ، وَأَوْفِ عَهْدَهُ ، وَزَيِّنِ الْأَرْضَ بِطُولِ بَقائِهِ ، وَدَوامِ مُلْكِهِ ، وَعُلُوِّ ارْتِقائِهِ وَارْتِفاعِهِ ، وَأَنِرْ مَشاهِدَهُ ، وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ ، وَعَظِّمْ بُرْهانَهُ ، وَأَمِدْ سُلْطانَهُ ، وَأَعْلِ مَكانَهُ ، وَقَوِّ أَرْكانَهُ ، وَأَرِنا وَجْهَهُ ، وَأَوْضِحْ بَهْجَتَهُ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ ، وَأَظْهِرْ كَلِمَتَهُ ، وَأَعِزَّ دَعْوَتَهُ ، وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ ، وَبَلِّغْهُ يا رَبِّ مَأْمُولَهُ ، وَشَرِّفْ مَقامَهُ ، وَعَظِّمْ إِكْرامَهُ.

وَأَعِزَّ بِهِ الْمُؤْمِنينَ ، وَأَحْيِ بِهِ سُنَنَ الْمُرْسَلينَ ، وَأَذِلَّ بِهِ الْمُنافِقينَ ، وَأَهْلِكْ بِهِ الْجَبَّارينَ ، وَاكْفِهِ بَغْيَ الْحاسِدينَ ، وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْكائِدينَ ، وَازْجُرْ عَنْهُ إِرادَةَ الظَّالِمينَ ، وَأَيِّدْهُ بِجُنُودٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمينَ ، وَسَلِّطْهُ عَلى أَعْداءِ دينِكَ أَجْمَعينَ ، وَأَقْصِمْ بِهِ كُلَّ جَبَّارٍ عَنيدٍ ، وَأَخْمِدْ بِسَيْفِهِ كُلَّ نارٍ وَقيدٍ ، وَأَنْفِذْ حُكْمَهُ في كُلِّ مَكانٍ ، وَأَقِمْ بِسُلْطانِهِ كُلَّ سُلطانٍ ، وَأَقْمِعْ بِهِ عَبَدَةَ الْأَوْثانِ

وَشَرِّفْ بِهِ أَهْلَ الْقُرْآنِ وَالْإيمانِ ، وَأَظْهِرْهُ عَلى كُلِّ الْأَدْيانِ ، وَأَكْبِتْ مَنْ عاداهُ ، وَأَذِلَّ مَنْ ناواهُ ، وَاسْتَأْصِلْ مَنْ جَحَدَ حَقَّهُ ، وَأَنْكَرَ صِدْقَهُ ، وَاسْتَهانَ بِأَمْرِهِ ، وَأَرادَ إِخْمادَ ذِكْرِهِ ، وَسَعى في إِطْفاءِ نُورِهِ.

أَللَّهُمَّ نَوِّرْ بِنُورِهِ كُلَّ ظُلْمَةٍ ، وَاكْشِفْ بِهِ كُلَّ غُمَّةٍ ، وَقَدِّمْ أَمامَهَ الرُّعْبَ ، وَثَبِّتْ بِهِ الْقَلْبَ ، وَأَقِمْ بِهِ نُصْرَةَ الْحَرْبِ ، وَاجْعَلْهُ الْقائِمَ الْمُؤَمَّلَ ، وَالْوَصِيَّ الْمُفَضَّلَ ، وَالْإِمامَ الْمُنْتَظَرَ ، وَالْعَدْلَ الْمُخْتَبَرَ ، وَامْلَأْ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً ، كَما مُلِئَتْ جَوْراً وَظُلْماً ، وَأَعِنْهُ عَلى ما وَلَّيْتَهُ وَاسْتَخْلَفْتَهُ وَاسْتَرْعَيْتَهُ ، حَتَّى يَجْرِيَ حُكْمُهُ عَلى كُلِّ حُكْمٍ ، وَيَهْدِيَ بِحَقِّهِ كُلَّ ضَلالَةٍ.

وَاحْرُسْهُ اللَّهُمَّ بِعَيْنِكَ الَّتي لاتَنامُ ، وَاكْنُفْهُ بِرُكْنِكَ الَّذي لايُرامُ ، وَأَعِزَّهُ بِعِزِّكَ الَّذي لايُضامُ ، وَاجْعَلْني يا إِلهي مِنْ عَدَدِهِ وَمَدَدِهِ ، وَأَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَأَرْكانِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَأَذِقْني طَعْمَ فَرْحَتِهِ ، وَأَلْبِسْني ثَوْبَ بَهْجَتِهِ ، وَأَحْضِرْني مَعَهُ لِبَيْعَتِهِ ، وَتَأْكيدِ عَقْدِهِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقامِ عِنْدَ بَيْتِكَ الْحَرامِ

وَوَفِّقْني يا رَبِّ لِلْقِيامِ بِطاعَتِهِ ، وَالْمَثْوى في خِدْمَتِهِ ، وَالْمَكْثِ في دَوْلَتِهِ ، وَاجْتِنابِ مَعْصِيَتِهِ ، فَإِنْ تَوَفَّيْتَنِي اللَّهُمَّ قَبْلَ ذلِكَ ، فَاجْعَلْني يا رَبِّ في مَنْ يَكِرُّ في رَجْعَتِهِ ، وَيَمْلِكُ في دَوْلَتِهِ ، وَيَتَمَكَّنُ في أَيَّامِهِ ، وَيَسْتَظِلُّ تَحْتَ أَعْلامِهِ ، وَيُحْشَرُ في زُمْرَتِهِ ، وَتَقَرُّ عَيْنُهُ بِرُؤْيَتِهِ ، بِفَضْلِكَ وَ إِحْسانِكَ ، وَكَرَمِكَ وَامْتِنانِكَ ، إِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظيمِ ، وَالْمَنِّ الْقَديمِ ، وَالْإِحْسانِ الْكَريمِ.

اس وقت بارہ رکعت نماز جس سورہ کے ساتھ پڑھنا چاہے پڑھ لے اور اس کا ہدیہ امام زمانہ کو بھیج دے نماز دو دو رکعت پڑھ لے اور ہر دوسری رکعت کے بعد جناب فاطمہ زھراء کی تسبیح پڑھ لے اور یہ دی پڑھ لے أَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ ، وَ إِلَيْكَ يَعُودُ السَّلامُ ، حَيِّنا رَبَّنا مِنْكَ بِالسَّلامِ أَللَّهُمَّ إِنَّ هذِهِ الرَّكَعاتِ هَدِيَّةٌ مِنّي إِلى وَلِيِّكَ وَابْنِ وَلِيِّكَ وَابْنِ أَوْلِيائِكَ ، اَلْإِمامِ بْنِ الْأَئِمَّةِ ، اَلْخَلَفِ الصَّالِحِ ، اَلْحُجَّةِ صاحِبِ الزَّمانِ فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبَلِّغْهُ إِيَّاها ، وَأَعْطِني أَفْضَلَ أَمَلي وَرَجائي فيكَ وَفي رَسُولِكَ ، صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلى آلِهِ أَجْمَعينَ وَفيهِ.

سید بزرگوار علی بن طاوؤس کہتے ہیں کہ نماز کے بعد اس معروف دعا کو پڑھیں کہ جا امام زمانہ کے غیبت کے دوران پڑھی جاتی ہے۔

۱۱ ۔ امام زمانہ کی دوسری زیارت

حضرت حجت کی دوسری زیارت منقول ہے کہ جو زیارت ندبہ کے نام سے مصروف ہے یہ زیارت آخری حجت کی طرف سے محمد بن عبداللہ حمیری کی طرف صادر ہوئی ہے اور اسے سرداب مقدس میں پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

۱۲ ۔ امام زمانہ کی تیسری زیارت

تیسری زیارت آخری حجت کی ہے جسکی مقدس مکان میں ان کی زیارت کی جاتی ہے اس طرح ہے کہ دو رکعت نماز پڑھ لے اس کے بعد کہےسَلامُ اﷲِ الْکامِلُ التَّامُّ الشَّامِلُ الْعامُّ، وَصَلَواتُهُ الدَّائِمَةُ وَبَرَکاتُهُ الْقائِمَةُ التَّامَّةُ

خدا کا سلام کامل و مکمل بہت زیادہ اور اس کا دائمی سلام ہو اور اس کی ہمیشہ رہنے والی رحمت ساری برکتیں اس ذات پر ہوں جو خدا

عَلی حُجَّةِ اﷲِ وَوَ لِیِّهِ فِی أَرْضِهِ وَبِلادِهِ، وَخَلِیفَتِهِ عَلی خَلْقِهِ وَعِبادِهِ، وَسُلالَةِ

کی حجت اور اس کا دوست ہے زمین پر اور شہروں میں اس کا خلیفہ ہے مخلوق اور بندوں پر نبوت کی

النُّبُوَّةِ وَبَقِیَّةِ الْعِتْرَةِ وَالصَّفْوَةِ، صاحِبِ الزَّمانِ، وَمُظْهِرِ الْاِیمانِ، وَمُلَقِّنِ أَحْکامِ

نشانی اہل بیت(ع) کے آخری فرد اور منتخب ہستی، زمانہ حاضر کے امام(ع) ہیں جو ایمان کو ظاہر کرنے والے احکام قرآن

الْقُرْآنِ، وَمُطَهِّرِ الْاَرْضِ ، وَناشِرِ الْعَدْلِ فِی الطُّولِ وَالْعَرْضِ، وَالْحُجَّةِ الْقائِمِ

کی تعلیم دینے والے زمین کو پاک کرنے والے اور اس کے طول وعرض میں عدل کوعا م کرنے والے ہیں وہ حجت قائم مہدی (ع) امام (ع)

الْمَهْدِیِّ الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِیِّ وَابْنِ الْاَ ئِمَّةِ الطَّاهِرِینَ الْوَصِیِّ ابْنِ الْاَوْصِیائِ

منتظر خدا کے پسندیدہ ہیں وہ پاک اماموں کے فرزند اور خود بھی وصی ہیں اور ان اوصیائ کے فرزند ہیں جو پسندیدہ،

الْمَرْضِیِّینَ، الْهادِی الْمَعْصُومِ ابْنِ الْاَ ئِمَّةِ الْهُداةِ الْمَعْصُومِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا

وہ ہادی(ع) اور معصوم ہیں جو ہدایت یافتہ معصوم اماموں کے فرزند ہیں سلام ہو آپ پر اے ناتواں

مُعِزَّ الْمُوَْمِنِینَ الْمُسْتَضْعَفِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُذِلَّ الْکافِرِینَ الْمُتَکَبِّرِینَ الظَّالِمِینَ

مومنوں کو عزت دینے والے سلام ہو آپ پر اے ظالم اور سرکش کافروں کو ذلیل کرنے والے

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ اﷲِ،

سلام ہو آپ پر اے میرے آقا اے صاحب الزمان(ع) سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول(ص)

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ

سلام ہو آپ پر اے فرزند امیرالمومنین سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہرا(ع) کے نور نظر جو عالمین کی

نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ الْاَ ئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُومِینَ وَالْاِمامِ عَلَی

عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے حجج خدا آئمہ معصومین کے جگر گوشہ اور ساری

الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ سَلامَ مُخْلِصٍ لَکَ فِی الْوِلایَةِ، أَشْهَدُ

مخلوقات کے امام(ع) سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اس کا سلام جو آپ کی محبت میں مخلص ہے میںگواہی دیتا ہوں کہ

أَنَّکَ الْاِمامُ الْمَهْدِیُّ قَوْلاً وَفِعْلاً، وَأَ نْتَ الَّذِی تَمْلاََُ الْاَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً بَعْدَ ما

بہ لحاظ قول و فعل آپ ہی امام مہدی(ع) ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے جبکہ وہ

مُلِئتْ ظُلْماً وَجَوْراً، فَعَجَّلَ اﷲُ فَرَجَکَ، وَسَهَّلَ مَخْرَجَکَ، وَقَرَّبَ زَمانَکَ، وَکَثَّرَ

ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی پس خدا آپکو جلد آسودگی دے اور آپ کے ظہور کو آسان بنائے آپ کاعہد قریب تر کرے اور آپ کے

أَنْصارَکَ وَأَعْوانَکَ، وَأَ نْجَزَ لَکَ ما وَعَدَکَ فَهُوَ أَصْدَقُ الْقائِلِینَ وَنُرِیدُ أَنْ نَمُنَّ

مددگاروں میں اضافہ کر دے اورآپ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا فرمائے پس وہی کہنے والوں میں سب سے سچا ہے کہ فرمایا

عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوارِثِینَ، یَا

’’ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور کر دیا گیا احسان کریں اور ان کو امام (ع) بنائیں اور ہم انہیں وارث قرار

مَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ، یَا ابْنَ رَسُولِ اﷲِ، حاجَتِی کَذا وَکَذا

دیں‘‘ اے میرے مولا اے صاحب الزمان(ع) اے فرزند رسول(ص) میری یہ یہ۔

لفظ کذا کذا کی بجائے اپنی حاجت طلب کرے پھر کہے:

فَاشْفَعْ لِی فِی نَجاحِها، فَقَدْ تَوَجَّهْتُ إلَیْکَ بِحاجَتِی لِعِلْمِی أَنَّ لَکَ عِنْدَ اﷲِ

پس ان حاجات کی برآری میں شفاعت کیجئے کہ اپنی حاجت لے کر آپ کی خدمت میں آیاہوں یہ جانتے ہوئے کہ خدا کے حضور

شَفاعَةً مَقْبُولَةً وَمَقاماً مَحْمُوداً فَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّکُمْ بِأَمْرِهِ، وَارْتَضاکُمْ

آپ کی شفاعت مقبول ہے اور آپ کا مقام قابل ستائش ہے پس اس ذات کے واسطے سے جس نے آپ کو اس امر کیلئے چنا ہے یا

لِسِرِّهِ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَ اﷲِ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ، سَلِ اﷲَ تَعالی فِی نُجْحِ

اپنے اسرار کے لیے پسند کیا اور اس شان کے واسطے سے جو خدا کے ہاں آپ کو حاصل ہے جو آپ کے اور اس کے درمیان ہے اﷲ

طَلِبَتِی وَ إجابَةِ دَعْوَتِی وَکَشْفِ کُرْبَتِی

سے سوال کیجئے کہ وہ میری حاجت پوری کریں دعا قبول فرمائے اور میری مشکل کو آسان کرے۔

پس جو دعا چاہے مانگے انشائ اﷲ وہ برآئے گی۔

مؤلف کہتے ہیں کہ بہتر ہے دو رکعت نماز جس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہاِنَّا فَتَحْنَا اور دوسری رکعت میں سورہ نصراِذَا جَاءَ پڑھے۔

۱۳ ۔ امام زمانہ کی چوتھی زیارت

سید جلیل القدر علی بن طاوؤس کہتے ہیں سابق زیارت میں زیارت اذن دخول صاحب الزمان کا ذکر کیا اول زیارت میں دوبارہ تکرار نہیں کیا ایک اور زیارت اسی مقدس مکان میں نقل کرتے ہیں۔

اذن دخول کے بعد اس مقدس مکان میں داخل ہوجاؤ اور کہو:

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَليفَةَ اللَّهِ في أَرْضِهِ ، وَخَليفَةَ رَسُولِهِ وَآبائِهِ الْأَئِمَّةِ الْمَعْصُومينَ الْمَهْديّينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حافِظَ أَسْرارِ رَبِّ الْعالَمينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وارِثَ عِلْمِ الْمُرْسَلينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بَقِيَّةَ اللَّهِ مِنَ الصَّفْوَةِ الْمُنْتَجَبينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ الْأَنْوارِ الزَّاهِرَةِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ الْأَشْباحِ الْباهِرَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَابْنَ الصُّوَرِ النَّيِّرَةِ الطَّاهِرَةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وارِثَ كَنْزِ الْعُلُومِ الْإِلهِيَّةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حافِظَ مَكْنُونِ الْأَسْرارِ الرَّبَّانِيَّةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَنْ خَضَعَتْ لَهُ الْأَنْوارُ الْمَجْدِيَّةُ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بابَ اللَّهِ الَّذي لايُؤْتى إِلّا مِنْهُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا سَبيلَ اللَّهِ الَّذي مَنْ سَلَكَ غَيْرَهُ هَلَكَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حِجابَ اللَّهِ الْأَزَلِيِّ الْقَديمِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ شَجَرَةِ طُوبى وَسِدْرَةِ الْمُنْتَهى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا نُورَ اللَّهِ الَّذي لايُطْفَأُ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللَّهِ الَّتي لاتُخْفى ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا لِسانَ اللَّهِ الْمُعَبِّرُ عَنْهُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وَجْهَ اللَّهِ الْمُتَقَلِّبُ بَيْنَ أَظْهُرِ عِبادِهِ ، سَلامَ مَنْ عَرَفَكَ بِما تَعَرَّفْتَ بِهِ إِلَيْهِ، وَنَعَتَكَ بِبَعْضِ نُعُوتِكَ الَّتي أَنْتَ أَهْلُها وَفَوْقُها.

أَشْهَدُ أَنَّكَ الْحُجَّةُ عَلى مَنْ مَضى وَمَنْ بَقِيَ ، وَأَنَّ حِزْبَكَ هُمُ الْغالِبُونَ ، وَأَوْلِياءَكَ هُمُ الْفائِزُونَ ، وَأَعْداءَكَ هُمُ الْخاسِرُونَ ، وَأَنَّكَ حائِزُ كُلِّ عِلْمٍ ، وَفاتِقُ كُلِّ رَتْقٍ ، وَسابِقٌ لايُلْحَقُ.

رَضيتُ بِكَ يا مَوْلايَ إِماماً وَهادِياً ، لا أَبْتَغي بَدَلاً ، وَلا أَتَّخِذُ مِنْ دُونِكَ وَلِيّاً ، وَأَنَّكَ الْحَقُّ الثَّابِتُ ، اَلَّذي لا أَغْتابُ وَلا أَرْتابُ لِأَمَدِ الْغَيْبَةِ ، وَلا أَتَحَيَّرُ لِطُولِ الْمُدَّةِ.

وَعْدُ اللَّهِ بِكَ حَقٌّ ، وَنُصْرَتُهُ لِدينِهِ بِكَ صِدْقٌ ، طُوبى لِمَنْ سَعِدَ بِوِلايَتِكَ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ شَقِيَ بِجُحُودِكَ ، وَأَنْتَ الشَّافِعُ المُطاعُ الَّذي لايُدافَعُ ، ذَخَرَكَ اللَّهُ سُبْحانَهُ لِنُصْرَةِ الدّينِ ، وَ إِعْزازِ الْمُؤْمِنينَ ، وَالْإِنْتِقامِ مِنَ الْجاحِدينَ.

اَلْأَعْمالُ مَوْقُوفَةٌ عَلى وِلايَتِكَ ، وَالْأَقْوالُ مُعْتَبَرَةٌ بِإِمامَتِكَ ، مَنْ جاءَ بِوِلايَتِكَ وَاعْتَرَفَ بِإِمامَتِكَ قُبِلَتْ أَعْمالُهُ ، وَصُدِّقَتْ أَقْوالُهُ ، تُضاعَفُ لَهُ الْحَسَناتُ ، وَتُمْحى عَنْهُ السَّيِّئاتُ ، وَمَنْ زَلَّ عَنْ مَعْرِفَتِكَ ، وَاسْتَبْدَلَ بِكَ غَيْرَكَ ، أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلى مِنْخَرَيْهِ فِي النَّارِ ، وَلَمْ يَقْبَلْ لَهُ عَمَلاً ، وَلَمْ يُقِمْ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً.

أَشْهَدُ يا مَوْلايَ أَنَّ مَقالي ظاهِرُهُ كَباطِنِهِ ، وَسِرُّهُ كَعَلانِيَتِهِ ، وَأَنْتَ الشَّاهِدُ عَلَيَّ بِذلِكَ ، وَهُوَ عَهْدي إِلَيْكَ ، وَميثاقِي الْمَعْهُودُ لَدَيْكَ ، إِذْ أَنْتَ نِظامُ الدّينِ ، وَعِزُّ الْمُوَحِّدينَ ، وَيَعْسُوبُ الْمُتَّقينَ ، وَبِذلِكَ أَمَرَني فيكَ رَبُّ الْعالَمينَ.

فَلَوْ تَطاوَلَتِ الدُّهُورُ ، وَتَمادَتِ الْأَعْصارُ ، لَمْ أَزْدَدْ بِكَ إِلّا يَقيناً ، وَلَكَ إِلّا حُبّاً ، وَعَلَيْكَ إِلّاَ اعْتِماداً ، وَلِظُهُورِكَ إِلّا مُرابَطَةً ، بِنَفْسي وَمالي وَجَميعَ ما أَنْعَمَ بِهِ عَلَيَّ رَبّي.

فَإِنْ أَدْرَكْتُ أَيَّامَكَ الزَّاهِرَةَ ، وَأَعْلامَكَ الْقاهِرَةَ ، فَعَبْدٌ مِنْ عَبيدِكَ ، مُعْتَرِفٌ بِأَمْرِكَ وَنَهْيِكَ ، أَرْجُو بِطاعَتِكَ الشَّهادَةَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، وَبِوِلايَتِكَ السَّعادَةَ في ما لَدَيْكَ.

وَإِنْ أَدْرَكَنِي الْمَوْتُ قَبْلَ ظُهُورِكَ ، فَأَتَوَسَّلُ بِكَ إِلَى اللَّهِ سُبْحانَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ يَجْعَلَ لي كَرَّةً في ظُهُورِكَ ، وَرَجْعَةً في أَيَّامِكَ ، لِأَبْلُغَ مِنْ طاعَتِكَ مُرادي ، وَأَشْفِيَ مِنْ أَعْدائِكَ فُؤادي.

يا مَوْلايَ وَقَفْتُ في زِيارَتي إِيَّاكَ مَوْقِفَ الْخاطِئينَ الْمُسْتَغْفِرينَ النَّادِمينَ ، أَقُولُ عَمِلْتُ سُوءاً ، وَظَلَمْتُ نَفْسي ، وَعَلى شَفاعَتِكَ يا مَوْلايَ مُتَّكَلي وَمُعَوَّلي ، وَأَنْتَ رُكْني وَثِقَتي ، وَوَسيلَتي إِلى رَبّي ، وَحَسْبي بِكَ وَلِيّاً وَمَوْلى وَشَفيعاً.

وَالْحَمْدُ للَّهِِ الَّذي هَداني لِوِلايَتِكَ وَما كُنْتُ لِأَهْتَدِيَ لَوْلا أَنْ هَدانِيَ اللَّهُ ، حَمْداً يَقْتَضي ثَباتَ النِّعْمَةِ ، وَشُكْراً يُوجِبُ الْمَزيدَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلايَ وَعَلى آبائِكَ مَوالِيَّ الْأَئِمَّةِ الْمُهْتَدينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ ، وَعَلَيَّ مِنْكُمُ السَّلامُ.

ثمّ صلّ صلاة الزيارة وقد تقدّم بيانها في الزيارة الأولى ، فإذا فرغت منها فقل:

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الْهادينَ الْمَهْديّينَ ، اَلْعُلَماءِ الصَّادِقينَ ، اَلْأَوْصِياءِ الْمَرْضيّينَ ، دَعائِمِ دينِكَ ، وَأَرْكانِ تَوْحيدِكَ ، وَتَراجِمَةِ وَحْيِكَ ، وَحُجَجِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَخُلَفائِكَ في أَرْضِكَ.

فَهُمُ الَّذينَ اخْتَرْتَهُمْ لِنَفْسِكَ ، وَاصْطَفَيْتَهُمْ عَلى عِبادِكَ ، وَارْتَضَيْتَهُمْ لِدينِكَ، وَخَصَصْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِكَ، وَجَلَّلْتَهُمْ بِكَرامَتِكَ، وَغَذَّيْتَهُمْ بِحِكْمَتِكَ، وَغَشَّيْتَهُمْ بِرَحْمَتِكَ ، وَزَيَّنْتَهُمْ بِنِعْمَتِكَ ، وَأَلْبَسْتَهُمْ مِنْ نُورِكَ ، وَرَفَعْتَهُمْ في مَلَكُوتِكَ ، وَحَفَفْتَهُمْ بِمَلائِكَتِكَ ، وَشَرَّفْتَهُمْ بِنَبِيِّكَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ صَلاةً زاكِيَةً نامِيَةً كَثيرَةً ، طَيِّبَةً دائِمَةً لايُحيطُ بِها إِلّا أَنْتَ ، وَلايَسَعُها إِلّا عِلْمُكَ ، وَلايُحْصيها أَحَدٌ غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى وَلِيِّكَ الْمُحْيِ السَّبيلِ ، اَلْقائِمِ بِأَمْرِكَ ، اَلدَّاعي إِلَيْكَ ، اَلدَّليلِ عَلَيْكَ ، وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ، وَخَليفَتِكَ في أَرْضِكَ ، وَشاهِدِكَ عَلى عِبادِكَ.

أَللَّهُمَّ أَعِزَّ نَصْرَهُ ، وَامْدُدْ في عُمْرِهِ ، وَزَيِّنِ الْأَرْضَ بِطُولِ بَقائِهِ أَللَّهُمَّ اكْفِهِ بَغْيَ الْحاسِدينَ ، وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْكائِدينَ ، وَازْجُرْ عَنْهُ إِرادَةَ الظَّالِمينَ ، وَخَلِّصْهُ مِنْ أَيْدِي الْجَبَّارينَ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِهِ في نَفْسِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، وَشيعَتِهِ وَرَعِيَّتِهِ ، وَخاصَّتِهِ وَعامَّتِهِ وَجَميعِ أَهْلِ الدُّنْيا ، ما تُقِرُّ بِهِ عَيْنَهُ ، وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ ، وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ أَمَلِهِ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۱۴ ۔ صاحب الزمان کی پانچویں زیارت

اَلسَّلامُ عَلَى الْحَقِّ الْجَديدِ وَالْعامِلِ الَّذي لايَبيدُ ، اَلسَّلامُ عَلى مُحْيِي الْمُؤْمِنينَ وَمُبيرِ الْكافِرينَ ، اَلسَّلامُ عَلى مَهْدِيِّ الْاُمَمِ وَجامِعِ الْكَلِمِ ، اَلسَّلامُ عَلى خَلَفِ السَّلَفِ وَصاحِبِ الشَّرَفِ ، اَلسَّلامُ عَلى حُجَّةِ الْمَعْبُودِ وَكَلِمَةِ الْمَحْمُودِ.

اَلسَّلامُ عَلى مُعِزِّ الْأَوْلِياءِ وَمُذِلِّ الْأَعْداءِ ، اَلسَّلامُ عَلى وارِثِ الْأَنْبِياءِ وَخاتَمِ الْأَوْصِياءِ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْقائِمِ الْمُنْتَظَرِ وَالْعَدْلِ الْمُشْتَهَرِ ، اَلسَّلامُ عَلَى السَّيْفِ الشَّاهِرِ وَالْقَمَرِ الزَّاهِرِ ، اَلسَّلامُ عَلى شَمْسِ الظَّلامِ وَبَدْرِ التِّمامِ ، اَلسَّلامُ عَلى رَبيعِ الْأَنامِ وَفِطْرَةِ الْأَيَّامِ ، اَلسَّلامُ عَلى صاحِبِ الصَّمْصامِ ] وَ[فَلّاقِ الْهامِّ ، اَلسَّلامُ عَلَى الدّينِ الْمَأْثُورِ وَالْكِتابِ الْمَسْطُورِ.

اَلسَّلامُ عَلى بَقِيَّةِ اللَّهِ في بِلادِهِ ، وَحُجَّتِهِ عَلى عِبادِهِ ، اَلْمُنْتَهى إِلَيْهِ مَواريثُ الْأَنْبِياءِ ، وَلَدَيْهِ مَوْجُودٌ آثارُ الْأَصْفِياءِ ، اَلْمُؤْتَمَنِ عَلَى السِّرِّ ، وَالْوَلِيِّ لِلْاُمَمِ ، اَلْمَهْدِيِّ الَّذي وَعَدَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِهِ الْاُمَمَ أَنْ يَجْمَعَ بِهِ الْكَلِمَ ، وَيَلُمَّ بِهِ الشَّعَثَ ، وَيَمْلَأَ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً ، وَيُمَكِّنَ لَهُ ، وَيُنْجِزَ بِهِ وَعْدَ الْمُؤْمِنينَ.

أَشْهَدُ يا مَوْلايَ أَنَّكَ وَالْأَئِمَّةَ مِنْ آبائِكَ أَئِمَّتي وَمَوالِيَّ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهادُ ، أَسْأَلُكَ يا مَوْلايَ أَنْ تَسْأَلَ اللَّهَ تَبارَكَ وَتَعالى في صَلاحِ شَأْني ، وَقَضاءِ حَوائِجي ، وَغُفْرانِ ذُنُوبي ، وَالْأَخْذِ بِيَدي في ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي ، لي وَلِإِخْواني وَ إِخْوَتِيَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ كافَّةً ، إِنَّكَ غَفُورٌ رَحيمٌ.

ثمّ صلّ صلاة الزيارة بما قدّمناه ، فإذا فرغت فقل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى حُجَّتِكَ في أَرْضِكَ، وَخَليفَتِكَ في بِلادِكَ ، اَلدَّاعي إِلى سَبيلِكَ ، وَالْقائِمِ الصَّادِعِ بِالْحِكْمَةِ ، وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَالصِّدْقِ ، وَكَلِمَتِكَ وَعَيْبَتِكَ وَعَيْنِكَ في أَرْضِكَ ، اَلْمُتَرَقِّبِ الْخائِفِ ، اَلْوَلِيِّ النَّاصِحِ ، سَفينَةِ النَّجاةِ ، وَعَلَمِ الْهُدى ، وَنُورِ أَبْصارِ الْوَرى ، وَخَيْرِ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدى ، وَالْوِتْرِ الْمَوْتُورِ ، وَمُفَرِّجِ الْكَرْبِ ، وَمُزيلِ الْهَمِّ ، وَكاشِفِ الْبَلْوى.

صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ الْأَئِمَّةِ الْهادينَ ، وَالْقادَةِ الْمَيامينِ ، ما طَلَعَتْ كَواكِبُ الْأَسْحارِ ، وَأَوْرَقَتِ الْأَشْجارُ ، وَأَيْنَعَتِ الْأَثْمارُ ، وَاخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهارُ ، وَغَرَّدَتِ الْأَطْيارُ أَللَّهُمَّ انْفَعْنا بِحُبِّهِ ، وَاحْشُرْنا في زُمْرَتِهِ وَتَحْتَ لِوائِهِ ، إِلهَ الْحَقِّ آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ.

۱۵ ۔ صاحب الزمان کی چھٹی زیارت

جب حضرت ھادی اور امام حسن عسکری کی زیارت کرلیں تو سرداب مقدس کی طرف جائیں دروازے کے سامنے اس طرح کھڑے رہیں جیسے داخل ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اور کہیںبسم الله الرحمن الرحیم وقار و سکون کے ساتھ سرداب کے سیڑھیوں سے نیچے اترجائیں اور ضریح کے سامنے دو رکعت نماز پڑھیں اور کہیں

اَللَّهُ أَكْبَرُ ، اَللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ ، اَللَّهُ أَكْبَرُ ، اَللَّهُ أَكْبَرُ وَللَّهِِ الْحَمْدُ اَلْحَمْدُ للَّهِِ الَّذي هَدانا لِهذا ، وَعَرَّفَنا أَوْلِياءَهُ وَأَعْداءَهُ ، وَوَفَّقَنا لِزِيارَةِ أَئِمَّتِنا وَلَمْ يَجْعَلْنا مِنَ الْمُعانِدينَ النَّاصِبينَ ، وَلا مِنَ الْغُلاةِ الْمُفَوِّضينَ ، وَلا مِنَ الْمُرْتابينَ الْمُقَصِّرينَ

اَلسَّلامُ عَلى وَلِيِّ اللَّهِ وَابْنِ أَوْلِيائِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْمُدَّخَرِ لِكَرامَةِ اللَّهِ وَبَوارِ أَعْدائِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَى النُّورِ الَّذي أَرادَ أَهْلُ الْكُفْرِ إِطْفاءَهُ فَأَبَى اللَّهُ إِلّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ بِكُرْهِهِمْ ، وَأَمَدَّهُ بِالْحَياةِ حَتَّى يُظْهِرَ عَلى يَدِهِ الْحَقَّ بِرَغْمِهِمْ

أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ اصْطَفاكَ صَغيراً ، وَأَكْمَلَ لَكَ عُلُومَهُ كَبيراً ، وَأَنَّكَ حَيٌّ لاتَمُوتُ حَتَّى تُبْطِلَ الْجِبْتَ وَالطَّاغُوتَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلى خُدَّامِهِ وَأَعْوانِهِ عَلى غَيْبَتِهِ وَنَأْيِهِ ، وَاسْتُرْهُ سَتْراً عَزيزاً ، وَاجْعَلْ لَهُ مَعْقَلاً حَريزاً ، وَاشْدُدِ اللَّهُمَّ وَطَأْتَكَ عَلى مُعانِديهِ ، وَاحْرُسْ مَوالِيَهُ وَزائِريهِ.

أَللَّهُمَّ كَما جَعَلْتَ قَلْبي بِذِكْرِهِ مَعْمُوراً ، فَاجْعَلْ سِلاحي بِنُصْرَتِهِ مَشْهُوراً ، وَإِنْ حالَ بَيْني وَبَيْنَ لِقائِهِ الْمَوْتُ الَّذي جَعَلْتَهُ عَلى عِبادِكِ حَتْماً ، وَأَقْدَرْتَ بِهِ عَلى خَليقَتِكَ رَغْماً ، فَابْعَثْني عِنْدَ خُرُوجِهِ ظاهِراً مِنْ حُفْرَتي ، مُؤْتَزِراً كَفَني ، حَتَّى اُجاهِدَ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الصَّفِ الَّذي أَثْنَيْتَ عَلى أَهْلِهِ في كِتابِكَ فَقُلْتَ «كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ ».

أَللَّهُمَّ طالَ الْإِنْتِظارُ ، وَشَمِتَ بِنَا الْفُجَّارُ ، وَصَعُبَ عَلَيْنَا الْإِنْتِظارُ أَللَّهُمَّ أَرِنا وَجْهَ وَلِيِّكَ الْمَيْمُونَ في حَياتِنا وَبَعْدَ الْمَنُونِ أَللَّهُمَّ إِنّي أَدينُ لَكَ بِالرَّجْعَةِ بَيْنَ يَدَيْ صاحِبِ هذِهِ الْبُقْعَةِ.

اَلْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ يا صاحِبَ الزَّمانِ ، قَطَعْتُ في وَصْلَتِكَ الخُلّانَ ، وَهَجَرْتُ لِزِيارَتِكَ الْأَوْطانَ ، وَأَخْفَيْتُ أَمْري عَنْ أَهْلِ الْبُلْدانِ ، لِتَكُونَ شَفيعاً عِنْدَ رَبِّكَ وَرَبّي ، وَإِلى آبائِكَ مَوالِيَّ فى حُسْنِ التَّوْفيقِ ، وَإِسْباغِ النِّعْمَةِ عَلَيَّ ، وَسَوْقِ الْإِحْسانِ إِلَيَّ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍ ، أَصْحابِ الْحَقِّ ، وَقادَةِ الْخَلْقِ ، وَاسْتَجِبْ مِنّي ما دَعَوْتُكَ ، وَأَعْطِني ما لَمْ أَنْطِقْ بِهِ في دُعائي ، مِنْ صَلاحِ ديني وَدُنْياىَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ.

ثمّ ادخل الصفة فصلّ ركعتين وقل:

أَللَّهُمَّ عَبْدُكَ الزَّائِرُ في فِناءِ وَلِيِّكَ الْمَزُورِ ، اَلَّذي فَرَضْتَ طاعَتَهُ عَلَى الْعَبيدِ وَالْأَحْرارِ ، وَأَنْقَذْتَ بِهِ أَوْلِياءَكَ مِنْ عَذابِ النَّارِ أَللَّهُمَّ اجْعَلْها زِيارَةً مَقْبُولَةً ذاتَ دُعاءٍ مُسْتَجابٍ ، مِنْ مُصَدِّقٍ بِوَلِيِّكَ غَيْرِ مُرْتابٍ.

أَللَّهُمَّ لاتَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ بِهِ وَلا بِزِيارَتِهِ ، وَلاتَقْطَعْ أَثَري مِنْ مَشْهَدِهِ وَزِيارَةِ أَبيهِ وَجَدِّهِ أَللَّهُمَّ اخْلُفْ عَلَيَّ نَفَقَتي ، وَانْفَعْني بِما رَزَقْتَني في دُنْيايَ وَآخِرَتي ، لي وَلِإِخْواني وَأَبَوَيَّ وَجَميعِ عِتْرَتي.

أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ أَيُّهَا الْإِمامُ الَّذي يَفُوزُ بِهِ الْمُؤْمِنُونَ ، وَيَهْلِكُ عَلى يَدَيْهِ الْكافِرُونَ الْمُكَذِّبُونَ ، يا مَوْلايَ يَا بْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جِئْتُكَ زائِراً لَكَ وَلِأَبيكَ وَجَدِّكَ ، مُتَيَقِّناً الْفَوْزَ بِكُمْ ، مُعْتَقِداً إِمامَتَكُمْ أَللَّهُمَّ اكْتُبْ هذِهِ الشَّهادَةَ وَالزِّيارَةَ لي عِنْدَكَ في عِلِّيّينَ ، وَبَلِّغْني بَلاغَ الصَّالِحينَ ، وَانْفَعْني بِحُبِّهِمْ يا رَبَّ الْعالَمينَ.

تک پڑھیں سید علی بن طاوؤس فرماتے ہیں کہ جب عسکرین کی زیارت کرلیں تو سرداب میں چلے جائیں جتنی نمازیں پڑھ سکتے ہیں پڑھ لیں اس کے بعد قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوجائیں اور کہیںاللهم ادفع عن ولیک و خلیفتک آخر تک

۱۶ ۔ امام زمانہ کے لئے سلام کا ایک اور طریقہ

امام باقر نے فرمایا کہ جب وھی تم میں سے ہمارے اہل بیت کے قائم کو درک کرلے جس وقت اس کو دیکھ لے اس کو چاہیے اس طرح عرض کرے

السلام علیکم یا اهل بیت النبوة و معدن العلم و موضوع الرساله

۱۷ ۔ صاحب الزمان کے لئے سلام کا ایک طریقہ

ایک اور روایت میں وارد ہے کہ اس طریقہ پر حضرت صاحب الزمان کو سلام کریں۔

السلام علیک یا بقیة الله فی ارضه

حضرت صاحب الزمان کے نائبین کی زیارت اور دعائیں کہ صاحب الزمان کے اصحاب نے نقل کیا ہے

حضرت صاحب الزمان کے غیبت صغریٰ میں چار نائب ہوتے تھے کہ ان کے نام اس ترتیب سے ہیں۔ ابو عمرو عثمان بن سعید بن عمر و عمری اسدی اور ان کے فرزند ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری اور ابوالقاسم حسین بن روح بن ابوبحر نو بختی اور ابوالھسن علی بن محمد سمری یہ وہ تھے کہ غیبت صغری کے زمانے میں امام زمانہ کے توقیعات ان کے ذریعہ شیعوں تک پہنچاتے تھے پس ان کی رحلت کے بعد نیابت خاصہ کا زمانہ ختم ہوا اور غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا۔


باب دوازدھم

نواب اربعہ کی زیارت اور کچھ دعائیں جو آپ کے اصحاب نے نقل کی ہیں

۱ ۔ امام زمانہ کے نواب کی زیارت

شیخ طوسی کتاب تھذیب الاحکام میں اور سید علی بن طاوؤس اپنی کتاب مصباح الزائر میں فرمایا ہے مستحب ہے کہ امام زمانہ کے نائبین جو زیارت شیخ ابوالقاسم حسین بن روح سے منسوب ہے وہ زیارت کی جائے اس بناء پر عثمان بن سعید کے مرقد پر کھڑا ہوجائے اور کہے اسلام علی رسول اللہ آخر تک اس کے بعد دوبارہ پیغمبر اور آئمہ طاہرین پر اور امام زمانہ پر سلام بھیجیں اور کہیںجئتک مخلصا بتوحید اللّٰه و مولاة اولیائه و البرائة من اعدائهم و من الذین خالفوک یا حجة المولی و بک الهم توجهی و بهم الیک توسّلی اس کے بعد دعا مانگیں اس کے بعد دوسرے نائبین کی اس طرح زیارت کرے اور یا عثمان بن سعید کی جگہ جس کی زیارت کرتے ہیں اس کا نام لے لیں۔

۲ ۔ نائب اول عثمان بن سعید کی زیارت

علامہ مجلسی کہتاہے ایک قدیم نسخہ میں ہمارے اصحاب کے علماء کی تالیف ہے کہ ہمارے مولیٰ ابو محمد محمد بن عثمان بن سعید کی زیارت اس طرح نقل ہوئی تھی

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، اَلنَّاصِحُ للَّهِِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَوْلِيائِهِ ، اَلْمُجِدُّ في خِدْمَةِ مُلُوكِ الْخَلائِقِ ، اُمَناءِ اللَّهِ وَأَصْفِيائِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْبابُ الْأَعْظَمُ ، وَالصِّراطُ الْأَقْوَمُ ، وَالْوَلِيُّ الْأَكْرَمُ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُتَوَّجُ بِالْأَنْوارِ الْإِمامِيَّةِ ، اَلْمُتَسَرْبَلُ بِالْجَلابيبِ الْمَهْدِيَّةِ ، اَلْمَخْصُوصُ بِالْأَسْرارِ الْأَحْمَدِيَّةِ ، وَالشُّهُبِ الْعَلَوِيَّةِ ، وَالْمَواليدِ الْفاطِمِيَّةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا قُرَّةَ الْعُيُونِ وَالسِّرَّ الْمَكْنُونَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا فَرَجَ الْقُلُوبِ وَنِهايَةَ الْمَطْلُوبِ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا شَمْسَ الْمُؤْمِنينَ ، وَرُكْنَ الْأَشْياعِ الْمُنْقَطِعينَ ، اَلسَّلامُ عَلى وَلِيِّ الْأَيْتامِ ، وَعَميدِ الْجَحاجِحَةِ الْكِرامِ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْوَسيلَةِ إِلى سِرِّ اللَّهِ فِي الْخَلائِقِ ، وَخَليفَةِ وَلِيِّ اللَّهِ الْفاتِقِ الرَّاتِقِ.

اَلسِّلامُ عَلَيْكَ يا نائِبَ قِوامِ الْإِسْلامِ ، وَبَهاءِ الْأَيَّامِ ، وَحُجَّةِ اللَّهِ الْمَلِكِ الْعَلّامِ عَلَى الْخاصِّ وَالْعامِّ ، اَلْفارُوقِ بَيْنَ الْحَلالِ وَالْحَرامِ ، وَالنُّورِ الزَّاهِرِ ، وَالْمَجْدِ الْباهِرِ في كُلِّ مَوْقِفٍ وَمَقامٍ.

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا وَلِيَّ بَقِيَّةِ الْأَنْبِياءِ وَخِيَرَةِ إِلهِ السَّماءِ ، اَلْمَخْتَصِّ بِأَعْلى مَراتِبِ الْمُلْكِ الْعَظيمِ ، اَلْمُنْجي مِنْ مَتالِفِ الْعَطَبِ الْعَميمِ ، ذِي اللِّواءِ الْمَنْصُورِ ، وَالْعَلَمِ الْمَنْشُورِ ، وَالْعِلْمِ الْمَسْتُورِ ، وَالْمَحَجَّةِ الْعُظْمى ، وَالْحُجَّةِ الْكُبْرى ، سُلالَةِ الْمُقَدَّسينَ ، وَذُرِّيَّةِ الْمُرْسَلينَ ، وَابْنِ خاتَمِ النَّبِيّينَ ، وَبَهْجَةِ الْعابِدينَ ، وَرُكْنِ الْمُوَحِّدينَ ، وَوارِثِ الْخِيَرَةِ الطَّاهِرينَ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ صَلاةً لاتَنْفَدُ وَ إِنْ نَفَدَ الدَّهْرُ ، وَلاتَحُولُ وَ إِنْ حالَ الزَّمَنُ وَالْعَصْرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي اُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْ سُؤالي ، اَلْإِعْتِرافَ لَكَ بِالْوَحْدانِيَّةِ ، وَلِمُحَمَّدٍ بِالنُّبُوَّةِ ، وَلِعَلِيٍّ بِالْإِمامَةِ ، وَلِذُرِّيَّتِهِما بِالْعِصْمَةِ وَفَرْضِ الطَّاعَةِ ، وَبِهذَا الْوَلِيِّ الرَّشيدِ ، وَالْمَوْلَى السَّديدِ ، أَبي مُحَمَّدٍ عُثْمانَ بْنِ سَعيدٍ ، أَتَوَسَّلُ إِلَى اللَّهِ بِالشَّفاعَةِ إِلَيْهِ ، لِيَشْفَعَ إِلى شُفَعائِهِ ، وَأَهْلِ مَوَدَّتِهِ وَخُلَصائِهِ ، أَنْ يَسْتَنْقِذُوني مِنْ مَكارِهِ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَبْدِكَ عُثْمانَ بْنِ سَعيدٍ ، وَاُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيْ حَوائِجي أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَشيعَتِهِ وَأَوْلِيائِهِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِيَ الْحَوْبَ وَالْخَطايا ، وَتَسْتُرَ عَلَيَّ الزَّلَلَ وَالسَّيِّئاتِ ، وَتَرْزُقَنِي السَّلامَةَ مِنَ الرَّزايا.

فَكُنْ لي يا وَلِيَّ اللَّهِ شافِعاً نافِعاً ، وَرُكْناً مَنيعاً دافِعاً ، فَقَدْ أَلْقَيْتُ إِلَيْكَ بِالْآمالِ ، وَوَثِقْتُ مِنْكَ بِتَخْفيفِ الْأَثْقالِ ، وَقَرَعْتُ بِكَ يا سَيِّدي بابَ الْحاجَةِ ، وَرَجَوْتُ مِنْكَ جَميلَ سِفارَتِكَ ، وَحُصُولَ الْفَلاحِ بِمَقامِ غِياثٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ وَأَقْصُدُ إِلَيْهِ ، وَأَطْرَحُ نَفْسي بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ

اس کے بعد نماز زیارت پڑھ لیں اور اس کو امام زمانہ اور ان کے نائبین کی خدمت میں ھدیہ بھیجیں پھر اس کی طرف منہ کر کے وداع کریں ان شاء اللہ

۳ ۔ نماز حجت یہ محمد بن عثمان سے منقول ہے

مبشر بن عبدالعزیز کہتاہے کہ میں حضرت صادق کی خدمت میں موجود تھا ہمارے اصحاب میں سے ایک داخل ہوا اور کہا میں تجھ پر قربان ہوجاؤں میں فقیر ہوں کیا کروں حضرت نے اس سے فرمایا بدھ کے دن روزہ رکھ لیں اور جمعرات اور جمعہ کو بھی اس کے ساتھ ضمیمہ کر لے تا کہ تین روز ہوجائے جمعہ کے دن ظہر کے وقت رسول خدا کی اپنے گھر کے چھت پر یا اپنی زمین پر جو جس میں خلوت ہو کہ کوئی تجھ کو نہ دیکھے زیارت کرلو اور دو رکعت نماز پڑھ لو اس کے بعد دوزانو بیٹھ کر اور قبلہ کی طرف منہ کر کے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں اور کہواللهم انت انت انقطع الرجاء الّا منک و خابت الامال الا فیک یا ثقة من لاثقة له لا ثقة لی غیرک اجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً و ارزقنی من حیث احتسب و من حیث لا احتسب اس وقت سر کو سجدہ میں رکھیں اور کہیں یا مغیث اجعل لی رزقاً من فضلک اگر اس عمل کو انجام دیں ابھی تک ہفتہ نہ آیا ہو نئی روزی تمہارے لئے آئے گی احمد بن ما بنداذ جو اس حدیث کا راوی ہے وہ کہتاہے کہ محمد بن عثمان بن سعید عمری سے کہا کہ جو بھی روزی کے لئے دعا کرنا چاہتاہے اگر مدینہ شہر میں نہ ہو تو کیا کرے فرمایا جس شہر میں اس کا امام ہے اس امام کے حرم میں چلا جائے اس کے سرہانے حضرت رسول خدا کی زیارت کرے میں نے عرض کیا اگر اس کے شہر میں امام کا مرقد نہ ہو فرمایا تو خدا کے نیک اور صالح کی زیارت کرے اور صحراء میں چلا جائے اور صحرا کے دائیں جانب جو کچھ میں نے کہا انجام دے انشاء اللہ اس کی حاجت قبول ہوگی۔

۴ ۔ عظیم الشان دعا جناب محمد بن عثمان سے منقول

اس دعا کو حضرت امیرالمومنین علی امام باقر اور امام صادق نے پڑھاہے تو اس دعا کو ابوجعفر محمد بن عثمان کو بتادیا فرمایا کوئی دعا اس دعا جیسی عطمت نہیں رکھتی اور اضافہ فرمایا کہ اس دعا کا پڑھنا سب سے اچھی عبادت ہے اور وہ دعا یہ ہے

أَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصاً لَكَ عَلى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ سُوءِ عَمَلي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِيَ الَّتي لايَغْفِرُها غَيْرُكَ ، أَصْبَحَ ذُلّي مُسْتَجيراً بِعِزَّتِكَ ، وَأَصْبَحَ فَقْري مُسْتَجيراً بِغِناكَ ، وَأَصْبَحَ جَهْلي مُسْتَجيراً بِحِلْمِكَ ، وَأَصْبَحَتْ قِلَّةُ حيلَتي مُسْتَجيرَةً بِقُدْرَتِكَ.

وَأَصْبَحَ خَوْفي مُسْتَجيراً بِأَمانِكَ ، وَأَصْبَحَ دائي مُسْتَجيراً بِدَوائِكَ ، وَأَصْبَحَ سُقْمي مُسْتَجيراً بِشِفائِكَ ، وَأَصْبَحَ حَيْني مُسْتَجيراً بِقَضائِكَ ، وَأَصْبَحَ ضَعْفي مُسْتَجيراً بِقُوَّتِكَ ، وَأَصْبَحَ ذَنْبي مُسْتَجيراً بِمَغْفِرَتِكَ ، وَأَصْبَحَ وَجْهِيَ الْفانِيَ الْبالِيَ مُسْتَجيراً بِوَجْهِكَ الْباقِي الدَّائِمِ الَّذي لايَبْلى وَلايَفْنى.

يا مَنْ لايُواريهِ لَيْلٌ داجٍ ، وَلا سَمْاءٌ ذاتُ أَبْراجٍ ، وَلا حُجُبٌ ذاتُ ارْتِجاجٍ (أَتْراجٍ) ، وَلا ماءٌ ثَجَّاجٌ في قَعْرِ بَحْرٍ عَجاجٍ ، يا دافِعَ السَّطَواتِ ، يا كاشِفَ الْكُرُباتِ ، يا مُنْزِلَ الْبَرَكاتِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَماواتٍ.

أَسْأَلُكَ يا فَتَّاحُ يا نَفَّاحُ يا مُرْتاحُ ، يا مَنْ بِيَدِهِ خَزائِنُ كُلِّ مِفْتاحٍ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّاهِرينَ الطَّيِّبينَ ، وَأَنْ تَفْتَحَ لي مِنْ خَيْرِ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَأَنْ تَحْجُبَ عَنّي فِتْنَةَ الْمُوَكَّلِ بي ، وَلاتُسَلِّطْهُ عَلَيَّ فَيُهْلِكُني ، وَلاتَكِلْني إِلى أَحَدٍ طَرْفَةَ عَيْنٍ فَيَعْجِزَ عَنّي ، وَلاتَحْرِمْنِي الْجَنَّةَ ، وَارْحَمْني وَتَوَفَّني مُسْلِماً ، وَأَلْحِقْني بِالصَّالِحينَ ، وَاكْفِني بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرامِ ، وَبِالطَّيِّبِ عَنِ الْخَبيثِ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ خَلَقْتَ الْقُلُوبَ عَلى إِرادَتِكَ ، وَفَطَرْتَ الْعُقُولَ عَلى مَعْرِفَتِكَ، فَتَمَلْمَلَتِ الْأَفْئِدَةُ مِنْ مَخافَتِكَ ، وَصَرَخَتِ الْقُلُوبُ بِالْوَلَهِ ، وَتَقاصَرَ وُسْعُ قَدْرِ الْعُقُولِ عَنِ الثَّناءِ عَلَيْكَ ، وَانْقَطَعَتِ الْأَلْفاظُ عَنْ مِقْدارِ مَحاسِنِكَ ، وَ كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ إِحْصاءِ نِعَمِكَ ، فَإِذا وَلَجَتْ بِطُرُقِ الْبَحْثِ عَنْ نَعْتِكَ بَهَرَتْها حَيْرَةُ الْعَجْزِ عَنْ إِدْراكِ وَصْفِكَ.

فَهِيَ تَتَرَدَّدُ فِي التَّقْصيرِ عَنْ مُجاوَزَةِ ما حَدَّدْتَ لَها ، إِذْ لَيْسَ لَها أَنْ تَتَجاوَزَ ما أَمَرْتَها ، فَهِيَ بِالْإِقْتِدارِ عَلى ما مَكَّنْتَها تَحْمَدُكَ بِما أَنْهَيْتَ إِلَيْها ، وَالْأَلْسُنُ مُنْبَسِطَةٌ بِما تُمْلي عَلَيْها ، وَلَكَ عَلى كُلِّ مَنِ اسْتَعْبَدْتَ مِنْ خَلْقِكَ أَلّا يَمُلُّوا مِنْ حَمْدِكَ ، وَ إِنْ قَصُرَتِ الْمَحامِدُ عَنْ شُكْرِكَ عَلى ما أَسْدَيْتَ إِلَيْها مِنْ نِعَمِكَ.

فَحَمِدَكَ بِمَبْلَغِ طاقَةِ جُهْدِهِمُ (حَمْدِهِمُ) الْحامِدُونَ ، وَاعْتَصَمَ بِرَجاءِ عَفْوِكَ الْمُقَصِّرُونَ ، وَأَوْجَسَ بِالرُّبُوبِيَّةِ لَكَ الْخائِفُونَ ، وَقَصَدَ بِالرَّغْبَةِ إِلَيْكَ الطَّالِبُونَ ، وَانْتَسَبَ إِلى فَضْلِكَ الْمُحْسِنُونَ ، وَكُلٌّ يَتَفَيَّأُ في ظِلالِ تَأْميلِ عَفْوِكَ ، وَيَتَضائَلُ بِالذُّلِّ لِخَوْفِكَ ، وَيَعْتَرِفُ بِالتَّقْصيرِ في شُكْرِكَ.

فَلَمْ يَمْنَعْكَ صُدُوفُ مَنْ صَدَفَ عَنْ طاعَتِكَ ، وَلا عُكُوفُ مَنْ عَكَفَ عَلى مَعْصِيَتِكَ إِنْ أَسْبَغْتَ عَلَيْهِمُ النِّعَمَ ، وَأَجْزَلْتَ لَهُمُ الْقِسَمَ ، وَصَرَفْتَ عَنْهُمُ النِّقَمَ ، وَخَوَّفْتَهُمْ عَواقِبَ النَّدَمِ ، وَضاعَفْتَ لِمَنْ أَحْسَنَ ، وَأَوْجَبْتَ عَلَى الْمُحْسِنينَ شُكْرَ تَوْفيقِكَ لِلْإِحْسانِ ، وَعَلَى الْمُسي‏ءِ شُكْرَ تَعَطُّفِكَ بِالْإِمْتِنانِ ، وَوَعَدْتَ مُحْسِنَهُمْ بِالزِّيادَةِ فِي الْإِحْسانِ مِنْكَ.

فَسُبْحانَكَ تُثيبُ عَلى ما بَدْؤُهُ مِنْكَ ، وَانْتِسابُهُ إِلَيْكَ ، وَالْقُوَّةُ عَلَيْهِ بِكَ ، وَالْإِحْسانُ فيهِ مِنْكَ ، وَالتَّوَكُّلُ فِي التَّوْفيقِ لَهُ عَلَيْكَ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ مَنْ عَلِمَ أَنَّ الْحَمْدَ لَكَ ، وَأَنَّ بَدْأَهُ مِنْكَ ، وَمَعادَهُ إِلَيْكَ حَمْداً لايَقْصُرُ عَنْ بُلُوغِ الرِّضا مِنْكَ ، حَمْدَ مَنْ قَصَدَكَ بِحَمْدِهِ ، وَاسْتَحَقَّ الْمَزيدَ لَهُ مِنْكَ في نِعَمِهِ ، وَلَكَ مُؤَيِّداتٌ مِنْ عَوْنِكَ ، وَرَحْمَةٌ تَخُصُّ بِها مَنْ أَحْبَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ.

فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَاخْصُصْنا مِنْ رَحْمَتِكَ وَمُؤَيِّداتِ لُطْفِكَ ، بِأَوْجَبِها لِلْإِقالاتِ ، وَأَعْصَمِها مِنَ الْإِضاعاتِ ، وَأَنْجاها مِنَ الْهَلَكاتِ ، وَأَرْشَدِها إِلَى الْهِداياتِ ، وَأَوْقاها مِنَ الْآفاتِ ، وَأَوْفَرِها مِنَ الْحَسَناتِ ، وَأَنْزَلِها بِالْبَرَكاتِ ، وَأَزْيَدِها فِي الْقِسَمِ ، وَأَسْبَغِها لِلنِّعَمِ ، وَأَسْتَرِها لِلْعُيُوبِ ، وَأَغْفَرِها لِلذُّنُوبِ ، إِنَّكَ قَريبٌ مُجيبٌ.

فَصَلِّ عَلى خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَصَفْوَتِكَ مِنْ بَرِيَّتِكَ ، وَأَمينِكَ عَلى وَحْيِكَ بِأَفْضَلِ الصَّلَواتِ ، وَبارِكْ عَلَيْهِ بَأَفْضَلِ الْبَرَكاتِ ، بِما بَلَّغَ عَنْكَ مِنَ الرِّسالاتِ ، وَصَدَعَ بِأَمْرِكَ ، وَدَعا إِلَيْكَ ، وَأَفْصَحَ بِالدَّلائِلِ عَلَيْكَ بِالْحَقِّ الْمُبينِ ، حَتَّى أَتاهُ الْيَقينُ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْأَوَّلينَ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرينَ ، وَعَلى آلِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّاهِرينَ ، وَاخْلُفْهُ فيهِمْ بِأَحْسَنِ ما خَلَّفْتَ بِهِ أَحَداً مِنَ الْمُرْسَلينَ بِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ إِراداتٌ لا تُعارِضُ دُونَ بُلُوغِهَا الْغاياتُ ، قَدِ انْقَطَعَ مُعارَضَتُها بِعَجْزِ الْإِسْتِطاعاتِ عَنِ الرَّدِّ لَها دُونَ النِّهاياتِ ، فَأَيَّةُ إِرادَةٍ جَعَلْتَها إِرادَةً لِعَفْوِكَ ، وَسَبَباً لِنَيْلِ فَضْلِكَ ، وَاسْتِنْزالاً لِخَيْرِكَ.

فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ، وَ صِلْهَا اللَّهُمَّ بِدَوامٍ ، وَابْدَأْها بِتَمامٍ ، إِنَّكَ واسِعُ الْحِباءِ ، كَريمُ الْعَطاءِ ، مُجيبُ النِّداءِ سَميعُ الدُّعاءِ.

۵ ۔ دعائے سمات نائب دوم محمد بن عثمان سے

محمد بن علی کہتے ہیں کہ محمد بن عثمان بن سعید عمری اسدی کی مجلس میں حاضر تھا انہوں نے فرمایا مفضل بن عمر جعفی نے اس دعا کو حضرت امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے اور روایت کے آخر میں فرماتے ہیں کہ مستحب ہے کہ اس دعا کو جمعہ کے آخری وقت پڑھی جائے۔

مرحوم شیخ طوسی فرماتے ہیں دعائے سمات کہ جو عمری سے نقل ہوئی ہے مستحب ہے کہ اس کو جمعہ کے دن آخری وقتوں میں پڑھا جائے اب متن دعا کو مرحوم کفعمی کی روایت کے مطابق ذکر کرتاہوں:

بسم الله الرحمن الرحیم

اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الأَعْظَمِ الأَعَزِّ الأَجَلِّ الأَکْرَمِ، الَّذِی إِذا دُعِیتَ بِهِ عَلی

اے معبود میں تیرے عظیم بڑی عظمت والے بڑے روشن بڑی عزت والے نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ جب آسمان کے بند دروازے رحمت

مَغالِقِ أَبْوابِ السَّماءِ لِلْفَتْحِ بِالرَّحْمَةِ انْفَتَحَتْ وَ إِذا دُعِیتَ بِهِ عَلی مَضائِقِ أَبْوابِ الاَرْضِ

کیلئے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ کھل جاتے ہیں اور جب زمین کے تنگ راستے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکارا جائے تو وہ کشادہ

لِلْفَرَجِ انْفَرَجَتْ وَ إِذا دُعِیتَ بِهِ عَلَی الْعُسْرِ لِلْیُسْرِ تَیَسَّرَتْ، وَ إِذا دُعِیتَ بِهِ عَلَی الْاَمْواتِ

ہو جاتے ہیں اور جب سختی کے وقت آسانی کیلئے اس نام سے پکاریں تو آسانی ہو جا تی ہے اور جب مردوں کو اٹھانے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں

لِلنُّشُورِ انْتَشَرَتْ، وَ إِذا دُعِیتَ بِهِ عَلی کَشْفِ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ انْکَشَفَتْ، وَبِجَلالِ وَجْهِکَ

تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنگیاں اور سختیاں دور کرنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ دور ہو جاتی ہیں اور سوالی ہوں تیری ذات کریم کے جلال

الْکَرِیمِ أَکْرَمِ الْوُجُوهِ وَأَعَزِّ الْوُجُوهِ الَّذِی عَنَتْ لَهُ الْوُجُوهُ وَخَضَعَتْ لَهُ الرِّقابُ وَخَشَعَتْ

کے ذریعے جو سب سے بزرگ ذات ہے سب سے معزز ذات ہے کہ جس کے آگے چہرے جھکتے ہیں اسکے سامنے گردنیں خم ہوتی ہیں اسکے حضور آوازیں

لَهُ الْاَصْواتُ وَوَجِلَتْ لَهُ الْقُلُوبُ مِنْ مَخافَتِکَ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی بِها تُمْسِکُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ

کانپتی ہیں اور جسکے خوف سے دلوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور سوال کرتا ہوں تیری اس قوت کے ذریعے جس سے تو نے آسمان کو زمین پر گرنے

عَلَی الْاَرْضِ إِلاَّ بِإِذْنِکَ وَتُمْسِکُ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ أَنْ تَزُولا، وَبِمَشِیئَتِکَ الَّتِی دَانَ

سے روک رکھا ہے مگر جب تو اسے حکم دے اور اس آسمان اور زمین کو روکا ہوا ہے کہ کھسک نہ جائیں اور تیری اس مشیت کے ذریعے سوالی ہوں

لَهَا الْعالَمُونَ،وَبِکَلِمَتِکَ الَّتِی خَلَقْتَ بِهَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ، وَبِحِکْمَتِکَ الَّتِی صَنَعْتَ

عالمین جس کے مطیع ہیں تیرے ان کلما ت کے واسطے سے سو الی ہوں جن سے تونے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیاتیری اس حکمت

بِهَا الْعَجائِبَ، وَخَلَقْتَ بِهَا الظُّلْمَةَ وَجَعَلْتَها لَیْلاً، وَجَعَلْتَ اللَّیْلَ سَکَناً، وَخَلَقْتَ بِهَا النُّورَ

کے واسطے سے جس سے تونے عجائب کو بنایا اورجس سے تو نے تاریکی کو خلق کیا اور اسے رات قرار دیا اور اسے آرام کیلئے خاص کیا

وَجَعَلْتَهُ نَهاراً، وَجَعَلْتَ النَّهارَ نُشُوراً مُبْصِراً، وَخَلَقْتَ بِهَا الشَّمْسَ وَجَعلْتَ الشَّمْسَ ضِیاءً،

اور اپنی حکمت سے تونے روشنی پیدا کی اور اسے دن کا نام دیا اور دن کو جاگ اٹھنے اور دیکھنے کیلئے بنایا اور تو نے اس سے

وَخَلَقْتَ بِهَا الْقَمَرَ وَجَعَلْتَ الْقَمَرَ نُوراً، وَخَلَقْتَ بِهَا الْکَواکِبَ وَجَعلْتَها نُجُوماً وَبُرُوجاً وَ

سورج کو پیدا کیا اور سورج کو روشن کیا تونے اس سے چاند کو پیدا کیا اور چاند کو چمکدار بنایا اور تونے اس سے

مَصابِیحَ وَزِینةً وَرُجُوماً، وَجَعَلْتَ لَها مَشارِقَ وَمَغارِبَ وَجَعَلْتَ لَها مَطالِعَ وَمَجارِیَ وَجَعَلْتَ

ستاروں کو پیدا کیا انہیں فروزاں کیا ان کے برج بنائے اور انہیں چراغ بنایا اور زینت بنایا، سنگبار بنایا تو نے ان کیلئے مشرق اورمغرب بنائے تونے ان کے

لَها فَلَکاً وَمَسابِحَ وَقَدَّرْتَها فِی السَّماءِ مَنازِلَ فَأَحْسَنْتَ تَقْدِیرَها، وَصَوَّرْتَها فَأَحْسَنْتَ تَصْوِیرَها

چمکنے اور چلنے کی راہیں بنائیں تونے ان کیلئے فلک اور سیر کی جگہ بنائی اور آسمان میں ان کی منزلیں مقرر کیں پس تونے ان کا بہترین اندازہ

وَأَحْصَیْتَها بِأَسْمائِکَ إِحْصاءً وَدَبَّرْتَها بِحِکْمَتِکَ تَدْبِیراً فَأَحْسَنْتَ تَدْبِیرَها وَسَخَّرْتَها

ٹھہرایا اور تونے انہیں شکل عطا کی کیا ہی اچھی شکل دی اور انھیں اپنے ناموں کے ساتھ پوری طرح شمار کیا اور اپنی حکمت سے ان کا ایک نظام قائم کیا

بِسُلْطانِ اللَّیْلِ وَسُلْطانِ النَّهارِ وَالسَّاعاتِ وَعَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسابِ، وَجَعَلْتَ رُؤْیَتَها لَجَمِیعِ

اور خوب تدبیر فرمائی اور رات کے عرصے اور دن کی مدت کیلئے مطیع بنایا اور ساعتوں اور سالوں کے حساب کا ذریعہ بنایا اور سب لوگوں کیلئے ان

النّاسِ مَرْیً واحِداً وَأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ بِمَجْدِکَ الَّذِی کَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ مُوسَی

کو دیکھنا یکساں کردیا اور سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ تیری اس بزرگی کے ذریعے جس سے تونے اپنے بندے اور رسول

بْنَ عِمْرانَ ں فِی الْمُقَدَّسِینَ، فَوْقَ إِحْساسِ الْکَرُوبِیِّیْنَ، فَوْقَ غَمائِمِ النُّورِ،فَوْقَ تابُوتِ

حضرت موسی (ع) سے کلام فرمایا پاک لوگوں میں جو فرشتوں کی سمجھ سے بالا نور کے بادلوں سے بلند

الشَّهادَةِ، فِی عَمُودِ النَّارِ، وَفِی طُورِ سَیْناءَ، وَفِی جَبَلِ حُورِیثَ، فِی الْوادِی الْمُقَدَّسِ فِی

تابوت شہادت سے اونچا جو آگ کے ستون میں طور سینا میں کوہ حوریث میں وادی مقدس میں برکت والی زمین میں طور ایمن کی طرف ایک

الْبُقْعَةِ الْمُبارَکَةِ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ مِنَ الشَّجَرَةِ وَفِی أَرْضِ مِصْرَ بِتِسْعِ آیاتٍ بَیِّناتٍ

درخت سے جو سر زمین مصر میں پیدا ہوا سوال کرتا ہوں نو روشن معجزوں کے واسطے سے اور اس دن کے واسطے سے کہ جس دن تونے بنی اسرا ئیل

وَیَوْمَ فَرَقْتَ لِبَنِی إِسْرائِیلَ الْبَحْرَ وَفِی الْمُنْبَجِساتِ الَّتِی صَنَعْتَ بِهَا الْعَجائِبَ فِی بَحْرِ سُوفٍ،

کیلئے دریا میں راستہ بنایا اور ان چشموں میں جو پتھر سے جاری ہوئے کہ جن کے ذریعے تونے عجیب معجزات کو دریائے سوف میں ظاہر کیا۔

وَعَقَدْتَ ماءَ الْبَحْرِ فِی قَلْبِ الْغَمْرِ کَالْحِجارَةِ، وَجاوَزْتَ بِبَنِی إِسْرائِیلَ الْبَحْرَ ، وَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ

اور تونے دریا کے پانی کو بھنور کے درمیان پتھروں کی مانند جکڑ کے رکھ دیا اور تونے بنی اسرائیل کو دریا سے گذار دیا اور ان کے بارے میں تیرا بہترین

الْحُسْنی عَلَیْهِمْ بِما صَبَرُوا، وَأَوْرَثْتَهُمْ مَشارِقَ الْاَرْضِ وَمَغارِبَهَا الَّتِی بارَکْتَ فِیها لِلْعالَمِینَ،

وعدہ پورا ہوا جب انھوں نے صبر کیا اور تونے ان کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنایا جن میں تو نے عالمین

وَأَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ وَمَراکِبَهُ فِی الْیَمِّ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ الْاَعَزِّ الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ،

کیلئے برکتیں رکھی ہیں اور تو نے فرعون اور اسکے لشکر کو اور انکی سواریوں کو دریائے نیل میں غرق کر دیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے نام

وَبِمَجْدِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِهِ لِمُوسی کَلِیمِکَ ں فِی طُورِ سَیْناءَ وَ لاِِبْراهِیمَ خَلِیلِکَ

کے جو بلندترعزت والا روشن بزرگی والا ہے اور بواسطہ تیری شان کے جو تو نے اپنے کلیم موسی (ع) کے لیے طور سینا

مِنْ قَبْلُ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ وَلاِِسْحاقَ صَفِیِّکَ ں فِی بِئْرِ شِیعٍ، وَ لِیَعْقُوبَ نَبِیِّکَ ں فِی

میں ظاہر کی اور اس سے پہلے اپنے خلیل ابراہیم (ع) کیلئے مسجد خیف میں اور اپنے برگزیدہ اسحاق (ع) کیلئے چاہ شیع میں ظاہر کی اور اپنے محبوب یعقوب (ع) کیلئے

بَیْتِ إِیلٍ، وَأَوْفَیْتَ لاِِبْراهِیمَ ں بِمِیثاقِکَ، وَلِاِسْحاقَ بِحَلْفِکَ، وَ لِیَعْقُوبَ بِشَهادَتِکَ،

بیت ایل میں ظاہر کی اور تونیابراہیم (ع) سے اپنا عہد و پیمان پورا کیا اور اسحاق (ع) کیلئے اپنی قسم پوری کی اور یعقوب (ع) کیلئے اپنی شہادت ظاہر کی

وَلِلْمُؤْمِنِینَ بِوَعْدِک وَلِلدَّاعِینَ بِأَسْمائِکَ فَأَجَبْتَ وَبِمَجْدِکَ الَّذِی ظَهَرَ لِمُوسَی بْنِ عِمْرانَ

اور مومنین سے اپنا وعدہ وفا کیا اور جنہوں نے تیرے ناموں کے ذریعے دعائیں کیں انہیں قبول کیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیری اس شان کے جو قبہء

عَلیَ قُبَّةِ الرُّمّانِ،وَبِآیاتِکَ الَّتِی وَقَعَتْ عَلی أَرْضِ مِصْرَ بِمَجْدِ الْعِزَّةِ وَالْغَلَبَةِ بِآیاتٍ عَزِیزَةٍ،

رمان پر موسی ابن عمران (ع) کیلئے ظاہر ہوئی اور بواسطہ تیرے معجزوں کے جو ملک مصر میں تیری شان و عزت اور غلبہ سے

وَبِسُلْطانِ الْقُوَّةِ، وَبِعِزَّةِ الْقُدْرَةِ، وَبِشَأْنِ الْکَلِمَةِ التَّامَّةِ، وَبِکَلِماتِکَ الَّتِی تَفَضَّلْتَ بِها عَلی

عزت والی نشانیوں سے غالب قوت سے قدرت کی بلندی اور پورا ہونے والے قول کی شان سے رونما ہوئے اور تیرے ان کلمات

أَهْلِ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَأَهْلِ الدُّنْیا وَأَهْلِ الْاَخِرَةِ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِی مَنَنْتَ بِها عَلی جَمِیع

سے جن کے ذریعے تو نے آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں اور اہل دنیا اور اہل آخرت پر احسان کیا اور سوالی ہوں تیری اس

خَلْقِکَ، وَبِاسْتِطاعَتِکَ الَّتِی أَقَمْتَ بِها عَلَی الْعالَمِینَ وَبِنُورِکَ الَّذِی قَدْ خَرَّ مِنْ فَزَعِهِ طُورُ

رحمت کے ذریعے سے جس سے تو نے اپنی ساری مخلوق پر کرم کیا سوالی ہوں تیری اس توانائی کے واسطے سے جس سے تو نے اہل عالم

سَیْناءَ وَبِعِلْمِکَ وَجَلالِکَ وَکِبْرِیائِکَ وَعِزَّتِکَ وَجَبَرُوتِکَ الَّتِی لَمْ تَسْتَقِلَّهَا الْاَرْضُ، وَ

کو قائم رکھاسوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نور کے جس کے خوف سے طو رسینا چکنا چور ہوا سوالی ہوں تیرے اس علم و جلالت اور تیری

انْخَفَضَتْ لَهَا السَّماواتُ، وَانْزَجَرَ لَهَا الْعُمْقُ الْاَکْبَرُ، وَرَکَدَتْ لَهَا الْبِحارُ وَالْاَ نْهارُ، وَ

بڑائی و عزت اور تیرے جبروت کے واسطے سے جس کو زمین برداشت نہ کر سکی اور آسمان عاجز ہو گئے اور اس سے زمین کی گہرائیاں

خَضَعَتْ لَهَا الْجِبالُ، وَسَکَنَتْ لَهَا الْاَرْضُ بِمَناکِبِها، وَاسْتَسْلَمَتْ لَهَا الْخَلائِقُ کُلُّها، وَ

کپکپا گئیں جسکے آگے سمندر اور نہریں رک گئیں پہاڑ اس کیلئے جھک گئے اور زمین اس کیلئے اپنے ستونوں پر ٹھہر گئی اور اسکے سامنے ساری

خَفَقَتْ لَهَا الرِّیاحُ فِی جَرَیانِها وَخَمَدَتْ لَهَا النِّیرانُ فِی أَوْطانِها، وَبِسُلْطانِکَ الَّذِی عُرِفَتْ

مخلوق سرنگوں ہو گئی اپنی رؤوں پر چلتی ہوائیں اسکے سامنیپریشان ہوگئیں اس کیلئے آگ اپنے مقام پر بجھ گئی سوالی ہوں بواسطہ تیری اس حکومت کے

لَکَ بِهِ الْغَلَبَةُ دَهْرَ الدُّهُورِ، وَحُمِدْتَ بِهِ فِی السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ وَبِکَلِمَتِکَ کَلِمَةِ الصِّدْقِ

جسکے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ تیرے غلبے کی پہچان ہوتی ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس سے تیری حمد ہوتی ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس سچے قول کے

الَّتِی سَبَقَتْ لاَِبِینا آدَمَ وَذُرِّیَّتِهِ بِالرَّحْمَةِ، وَأَسْأَلُکَ بِکَلِمَتِکَ الَّتِی غَلَبَتْ کُلَّ شَیْءٍ،

جو تو نے ہمارے باپ آدم (ع) اور ان کی اولاد کیلئے رحمت کے ساتھ فرمایا ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس کلمہ کے جو تمام چیزوں پر غالب ہے

وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً وَبِمَجْدِکَ الَّذِی

سوالی ہوں بواسطہ تیری ذات کے اس نور کے جس کا جلوہ تونے پہاڑ پر ظاہر کیا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسی(ع) بے ہوش

ظَهَرَ عَلی طُورِ سَیْناءَ فَکَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ،وَبِطَلْعَتِکَ فِی ساعِیرَ،

ہو کر گرپڑے سوالی ہوں بواسطہ تیری اس بزرگی کے جو طور سینا پر ظاہر ہوئی تو، تو اپنے بندے اور اپنے رسول موسی (ع) بن عمران سے ہم کلام ہوا سوالی ہوں

وَظُهُورِکَ فِی جَبَلِ فارانَ، بِرَبَواتِ الْمُقَدَّسِینَ وَجُنُودِ الْمَلائِکَةِ الصَّافِّینَ، وَخُشُوعِ الْمَلائِکَةِ

تیری نورانیت کے ذریعے جناب عیسیٰ کی مناجات کی جگہ میں اور تیرے نور کے ظہور کے ذریعے کوہ فاران میں بلند و مقدس مقامات میں صفیں

الْمُسَبِّحِینَ، وَبِبَرَکاتِکَ الَّتِی بارَکْتَ فِیها عَلی إِبْراهِیمَ خَلِیلِکَ فِی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی

باندھے ہوئے ملائکہ کی فوج کے ذریعے اور تسبیح خواں ملا ئکہ کے خشوع کے ذریعے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری ان برکات کے ذریعے جن سے

اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَبارَکْتَ لاِِِسْحاقَ صَفِیِّکَ فِی أُمَّةِ عِیسی عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ، وَبارَکْتَ لِیَعْقُوبَ

تو نے برکت عطا کی اپنے خلیل ابراہیم (ع) کو حضرت محمد کی امت میں برکت دی اور اپنے برگزیدہ اسحاق (ع) کو حضرت عیسیٰ (ع) کی امت میں برکت

إِسْرائِیلِکَ فِی أُمَّةِ مُوسی عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ ، وَبارَکْتَ لِحَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ

دی اور برکت دی تونے اپنے خاص بندے یعقوب (ع) کو حضرت موسی (ع) کی امت میں اور برکت دی تو نے اپنے حبیب حضرت محمد کو ان کی

فِی عِتْرَتِهِ وَذُرِّیَّتِهِ وَأُمَّتِهِ اَللّٰهُمَّ وَکَما غِبْنا عَنْ ذلِکَ وَلَمْ نَشْهَدْهُ، وَآمَنَّا بِهِ وَلَمْ نَرَهُ، صِدْقاً

عترت، ذریت اور انکی امت میں خدایا جیسا کہ ہم ان کے عہد میں موجود نہ تھے اور ہم نے انہیں دیکھا نہیں اور ان پر سچائی اور حقانیت کے

وَعَدْلاً،أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،وَأَنْ تُبارِکَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،وَتَرَحَّم عَلی

ساتھ اور درستی سے ایمان لائے ہم چاہتے ہیں کہ محمد و آل محمد پر رحمت فرما اور محمد وآل محمد پر

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَأَفْضَلِ ما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلی إِبْراهِیمَ وَآلِ إِبْراهِیمَ إِنَّکَ

برکت نازل فرما اور محمد و آل محمد پر شفقت فرما جس طرح تو نے بہترین رحمت اور برکت اور شفقت ابرہیم

حَمِیدٌ مَجِیدٌ فَعَّالٌ لِما تُرِیدُ وَأَ نْتَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ

و آل ابراہیم پر فرمائی تھی بے شک تو حمد اور شان والا ہے جو چاہے سو کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔

اب اپنی حاجت بیان کریں اور کہیں:

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعاءِ وَبِحَقِّ هَذِهِ الْاَسْماءِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُ تَفْسِیرَها وَلاَ یَعْلَمُ باطِنَها غَیْرُکَ صَلِّ

اے معبود! اس دعا کے واسطے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر تیرے سوا کوئی نہیں جانتا اور جن کی حقیقت سے سوائے

عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ تَفْعَلْ بِی ما أَنَا أَهْلُهُ وَاغْفِرْ لِی مِنْ ذُنُوبِی

تیرے کوئی آگاہ نہیں تو محمد و آل محمد پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں مستحق ہوں

ما تَقَدَّمَ مِنْها وَما تَأَخَّرَ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ إِنْسانِ سَوْءٍ وَجارِ سَوْءٍ وَ

اور میرے گناہوں میں سے جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں ،بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھے برے انسان برے ہمسائے

قَرِینِ سَوْءٍ وَسُلْطانِ سَوْءٍ إِنَّکَ عَلی ما تَشاءُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

برے ساتھی اور برے حاکم کی اذیت سے بچائے رکھ بے شک تو جو چاہے وہ کرنے پر قادر ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے آمین یارب العالمین ۔

اسکے بعد جو حاجت ہو اسکا ذکر کریں اور کہیں

وَ اَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر

اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ اے محبت

یَا اللهُ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

کرنے والے اے احسان کرنے والے اے آسمان اور زمین کے ایجاد کرنے وا لے اے جلالت اور بزرگی والیاے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعاءِ ۔دعا کے آخر تکاَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعاءِ وَبِحَقِّ هَذِهِ الْاَسْماءِ الَّتِی لَا

اے معبود اس دعا کے واسطے اے معبود اس دعا کے واسطے سے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی

اور علامہ مجلسی(علیہ الرحمہ) نے مصباحِ سید بن باقی(علیہ الرحمہ) سے نقل کیا ہے کہ دعائے سمات کے بعد یہ دعا پڑھیں:

یَعْلَمُ تَفْسِیرَها وَلاَ تَأْوِیلَها

تفسیر اور تاویل اور جن کے باطن و ظاہر

وَلاَ باطِنَها وَلاَ ظاهِرَها غَیْرُکَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَرْزُقَنِی خَیْرَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ

کو سوائے تیرے کوئی نہیں جانتا تو محمد و آل محمد پر رحمت فرما اور مجھے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرما دے

اب حاجت طلب کریں اور کہیں:

وَافْعَلْ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَلاَ تَفْعَلْ بِی ما أَنَا أَهْلُهُ وَانْتَقِمْ لِی مِنْ فُلانِ

اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں مستحق ہوں اور میری طرف سے فلاں بن فلاں سے بدلہ لے۔

بْنِ فُلان فلاں بن فلاں کی جگہ اپنے دشمن کا نام لیں اور کہیں:

وَاغْفِرْلِی مِنْ ذُ نُوبِی مَا تَقَدَّمَ مِنْها وَمَا تَأَخَّرَ

اور میرے گذشتہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف فرما

وَ لِوالِدَیَّ وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ، وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ

اور میرے ماں باپ اور سارے مومنین اور مومنات کے گناہ بخش دے اور

إِنْسانِ سَوْءٍ، وَجارِ سَوْءٍ، وَسُلْطانِ سَوْءٍ، وَقَرِینِ سَوْءٍ، وَیَوْمِ سَوْءٍ، وَساعَةِ سَوْءٍ، وَانْتَقِمْ لِی

اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھ کو برے انسان برے ہمسائے برے حاکم برے ساتھی برے دن برے وقت کی اذیت سے بچائے رکھ

مِمَّنْ یَکِیدُنِی، وَمِمَّنْ یَبْغِی عَلَیَّ، وَیُرِیدُ بِی وَبِأَهْلِی وَأَوْلادِی وَ إِخْوانِی وَجِیرانِی وَقَراباتِی

اور میری طرف سے بدلہ لے اس سے جس نے مجھے دھوکہ دیا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اور جو ظلم کا ارادہ رکھتا ہے میرے اہل میری اولاد میرے بھائیوں

مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ ظُلْماً إِنَّکَ عَلی ما تَشَاءُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ

اور میرے ہمسایوں کیلیے جو مومنین اور مومنات میں سے ہیں اس سے انتقام لے بے شک تو جو کچھ چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے

الْعالَمِینَ پهر کهیں: اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعاءِ تَفَضَّلْ عَلی فُقَراءِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْغِنی وَالثَّرْوَةِ

اور ہر چیز سے واقف ہے آمین اے رب العالمین اے معبود اس دعا کے واسطے سے غریب مومنین اور

وَعَلی مَرْضَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالشِّفاءِ وَالصِّحَّةِ، وَعَلی أَحْیاءِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ

مومنات کو مال و متاع عطا فرما بیمار مومنین اور مومنات کو تندرستی اور صحت

بِاللُّطْفِ وَالْکَرامَةِ، وَعَلی أَمْواتِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَعَلی مُسافِرِی

عطا فرما اور زندہ مومنین اور مومنات پر لطف و کرم فرما اور مردہ مومنین اور مومنات پر بخشش و رحمت فرما اور مسافر

الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالرَّدِّ إِلی أَوْطانِهِمْ سالمِینَ غانِمِینَ ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،

مومنین اور مومنات کو سلامتی و رزق کے ساتھ گھروں میں واپس لا اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور ہمارے سردار نبیوں کے

وَصَلَّی اللهُ عَلی سَیِّدنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعِتْرَتِهِ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً

خاتم حضرت محمد پر رحمت خدا ہو اور ان کی پاکیزہ اولاد پر اور سلام ہو بہت زیادہ سلام ۔

شیخ ابن فہد نے فرمایا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ دعائے سمات کے بعد کہیں:

اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِحُرْمَةِ هذَا الدُّعاءِ، وَبِما فاتَ

اے معبود میں سوال کرتا ہوں بوا سطہ اس دعا کی حرمت کے اور

مِنْهُ مِنَ الْاَسْماءِ، وَبِما یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ مِنَ التَّفْسِیرِ وَالتَّدْبِیرِ، الَّذِی لاَ یُحِیطُ بِهِ إِلاَّ أَ نْتَ ، أَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکذا

ان ناموں کے ذریعے جو اس میں مذکور نہیں اور اس تفسیر وتدبیر کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کا سوائے تیرے کوئی احاطہ نہیں کر سکتا کہ تو میرے لیے ایسا اور ایسا کر۔

کذا و کذا کی جگہ پر اپنی حاجات طلب کرے

سید علی بن طاوؤس فرماتے ہیں بعض دعا کے کلمات توضیح اور تفسیر کے محتاج ہیں ان میں سے بعض کو نقل کرتاہوں حوریث یا حوریثا ایک پہاڑ ہے کہ خداوند تعالیٰ کے لئے پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اس مقام پر خطاب فرمایا حضرت یوسف کا تابوت طور سیناء کی طرف سے حوریثا پہاڑ سے اٹھایا گیا دریائے سوف عبری زبان میں یومسوف یعنی گہرا دریا ہے ساعیر ایک پہاڑ ہے کوہ سسراء کے نام سے کہ حضرت عیسیٰ نے اس پہاڑ پر خدا کے ساتھ مناجات کی کوہ فاران ایک پہاڑ تھا جو مکہ مکرمہ کے نزدیک کہ حضرت محمد نے وہاں پر خدا کے ساتھ مناجات کیں محمد بن علی راشدی دعائے سمات کی اہمیت اور فضیلت میں کہتے ہیں کہ اس دعا کو کسی سختی اور مہم امور میں نہیں پڑھا مگر یہ کہ جلدی سے جلدی میری دعا قبول ہوئی اور جو بھی اس دعا کو جس جہت میں چاہے یا جس حاجت کا مقصد رکھتا ہو یا اس مصیبت کے آنے سے پہلے یا دشمن یا بادشاہ سے ڈرتا ہو اس سے بچنے کے لئے پڑھے پھر اس کو کسی سے خوف نہیں ہوگا اور اس کی حاجت قبول ہوگی اگر وہ پڑھ نہیں سکتاہے تو ایک رقعہ پر لکھے اور اپنے ساتھ رکھے یہ دعا اجابت کے اعتبار سے بہترین ہے اس کی نظیر کوئی دعا نہیں ہے۔ مرحوم سید محمد خامنہ تبریزی مجموعہ نوشتار میں لکھتے ہیں کہ دعائے سمات کا پڑھنا جمعہ کے دن آخری وقتوں میں قضائے حوائج کے لئے مجرّب ہے دشمنوں کے شر کو دور کرنے اور اس دعا کی قبولیت یقینات میں سے ہے خصوصاً اگر چالیس جمعہ یہ دعائے سمات پڑھی جائے۔

۶۔ عید فطر کے دن کی دعا محمد بن عثمان سے منقول ہے

وہ دعا کہ جس کو محمد بن عثمان پڑھتے تھے اور ان کی کاپی میں رمضان کی دعاؤں میں اس کا ذکر ہوا ہے اس میں موجود ہے یہ دعا نماز صبح عید فطر کے دن پڑھی جاتی ہے۔

أَللَّهُمَّ إِنّي تَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ أَمامي ، وَعَلِيٍّ مِنْ خَلْفي وَعَنْ يَميني وَأَئِمَّتي عَنْ يَساري ، أَسْتَتِرُ بِهِمْ مِنْ عَذابِكَ ، وَأَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ زُلْفى لا أَجِدُ أَحَداً أَقْرَبَ إِلَيْكَ مِنْهُمْ ، فَهُمْ أَئِمَّتي ، فَآمِنْ بِهِمْ خَوْفي مِنْ عِقابِكَ وَسَخَطِكَ ، وَأَدْخِلْني بِرَحْمَتِكَ في عِبادِكَ الصَّالِحينَ.

أَصْبَحْتُ بِاللَّهِ مُؤْمِناً مُخْلِصاً عَلى دينِ مُحَمَّدٍ وَسُنَّتِهِ ، وَعَلى دينِ عَلِيٍّ وَسُنَّتِهِ ، وَعَلى دينِ الْأَوْصِياءِ وَسُنَّتِهِمْ ، آمَنْتُ بِسِرِّهِمْ وَعَلانِيَتِهِمْ ، وَأَرغَبُ إِلَى اللَّهِ تَعالى فيما رَغِبَ فيهِ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ وَالْأَوْصِياءُ.

وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا مِنْهُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، وَلا عِزَّةَ وَلا مَنْعَةَ وَلا سُلْطانَ إِلّا لِلَّهِ الْواحِدِ الْقَهَّارِ الْعَزيزِ الْجَبَّارِ الْمُتَكَبِّرِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ «فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بالِغُ أَمْرِهِ ».

أَللَّهُمَّ إِنّي اُريدُكَ فَأَرِدْني ، وَأَطْلُبُ ما عِنْدَكَ فَيَسِّرْهُ لي ، وَاقْضِ لي حَوائِجي فَإِنَّكَ قُلْتَ في كِتابِكَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ «شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي اُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ » ، فَعَظَّمْتَ حُرْمَةَ شَهْرِ رَمَضانَ ، بِما أَنْزَلْتَ فيهِ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَخَصَّصْتَهُ وَعَظَّمْتَهُ بِتَصْييرِكَ فيهِ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقُلْتَ «لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فيها بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ».

أَللَّهُمَّ وَهذِهِ أَيَّامُ شَهْرِ رَمَضانَ قَدِ انْقَضَتْ ، وَلَياليهِ قَدْ تَصَرَّمَتْ ، وَقَدْ صِرْتُ مِنْهُ يا إِلهي إِلى ما أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنّي ، وَأَحْصى لِعَدَدِهِ مِنْ عَدَدي ، فَأَسْأَلُكَ يا إِلهي بِما سَأَلَكَ بِهِ عِبادُكَ الصَّالِحُونَ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلى أَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ.

وَأَنْ تَتَقَبَّلَ مِنّي كُلَّما تَقَرَّبْتُ بِهِ إِلَيْكَ ، وَتَتَفَضَّلَ عَلَيَّ بِتَضْعيفِ عَمَلي ، وَقَبُولِ تَقَرُّبي وَقُرُباتي ، وَاسْتِجابَةِ دُعائي ، وَهَبْ لي مِنْكَ عِتْقَ رَقَبَتي مِنَ النَّارِ ، وَمُنَّ عَلَيَّ بِالْفَوْزِ بِالْجَنَّةِ وَالْأَمْنِ يَوْمَ الْخَوْفِ مِنْ كُلِّ فَزَ عٍ ، وَمِنْ كُلِّ هَوْلٍ أَعْدَدْتَهُ لِيَوْمِ الْقِيامَةِ.

أَعُوذُ بِحُرْمَةِ وَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِحُرْمَةِ نَبِيِّكَ وَحُرْمَةِ الصَّالِحينَ ، أَنْ يَنْصَرِمَ هذَا الْيَوْمِ ، وَلَكَ قِبَلي تَبِعَةٌ تُريدُ أَنْ تُؤاخِذَني بِها ، أَوْ ذَنْبٌ تُريدُ أَنْ تُقايِسَني بِهِ ، وَتُشْقِيَني وَتَفْضَحَني بِهِ ، أَوْ خَطيئَةٌ تُريدُ أَنْ تُقايِسَني بِها وَتَقْتَصَّها مِنّي لَمْ تَغْفِرْها لي ، وَأَسْأَلُكَ بِحُرْمَةِ وَجْهِكَ الْكَريمِ الْفَعَّالِ لِما يُريدُ ، اَلَّذي يَقُولُ لِلشَّيْ‏ءِ كُنْ فَيَكُونُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِلا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، إِنْ كُنْتَ رَضيتَ عَنّي في هذَا الشَّهْرِ أَنْ تَزيدَني فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري رِضاً ، فَإِنْ كُنْتَ لَمْ تَرْضَ عَنّي في هذَا الشَّهْرِ ، فَمِنَ الْآنَ فَارْضَ عَنِّي السَّاعَةَ السَّاعَةَ السَّاعَةَ ، وَاجْعَلْني في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي هذَا الْمَجْلِسِ مِنْ عُتَقائِكَ مِنَ النَّارِ ، وَطُلَقائِكَ مِنْ جَهَنَّمَ ، وَسُعَداءِ خَلْقِكَ بِمَغْفِرَتِكَ وَرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِحُرْمَةِ وَجْهِكَ الْكَريمِ ، أَنْ تَجْعَلَ شَهْري هذا خَيْرَ شَهْرِ رَمَضانَ عَبَدْتُكَ فيهِ ، وَصُمْتُهُ لَكَ ، وَتَقَرَّبْتُ بِهِ إِلَيْكَ مُنْذُ أَسْكَنْتَني فيهِ ، أَعْظَمَهُ أَجْراً ، وَأَتَمَّهُ نِعْمَةً ، وَأَعَمَّهُ عافِيَةً ، وَأَوْسَعَهُ رِزْقاً ، وَأَفْضَلَهُ عِتْقاً مِنَ النَّارِ ، وَأَوْجَبَهُ رَحْمَةً ، وَأَعْظَمَهُ مَغْفِرَةً ، وَأَكْمَلَهُ رِضْواناً ، وَأَقْرَبَهُ إِلى ما تُحِبُّ وَتَرْضى.

أَللَّهُمَّ لاتَجْعَلْهُ آخِرَ شَهْرِ رَمَضانَ صُمْتُهُ لَكَ ، وَارْزُقْنِي الْعَوْدَ ثُمَّ الْعَوْدَ حَتَّى تَرْضى وَبَعْدَ الرِّضا ، وَحَتَّى تُخْرِجَني مِنَ الدُّنْيا سالِماً وَأَنْتَ عَنّي راضٍ وَأَنَا لَكَ مَرْضِيٌّ.

أَللَّهُمَّ اجْعَلْ فيما تَقْضي وَتُقَدِّرُ مِنَ الْأَمْرِ الْمَحْتُومِ الَّذي لايُرَدُّ وَلايُبَدَّلُ أَنْ تَجْعَلَني مِمَّنْ تُثيبُ وَتُسَمّي وَتَقْضي لَهُ ، وَتَزيدُ وَتُحِبُّ لَهُ وَتَرْضى ، وَأَنْ تَكْتُبَني مِنْ حُجَّاجِ بَيْتِكَ الْحَرامِ في هذَا الْعامِ ، وَفي كُلِّ عامٍ ، اَلْمَبْرُورِ حَجُّهُمْ ، اَلمَشْكُورِ سَعْيُهُمْ ، اَلْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمْ ، اَلْمُتَقَبَّلِ مِنْهُمْ مَناسِكُهُمْ ، اَلْمُعافينَ عَلى أَسْفارِهِمْ ، اَلْمُقْبِلينَ عَلى نُسُكِهِمْ ، اَلْمَحْفُوظينَ في أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ وَذَراريهِمْ ، وَكُلِّ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيْهِمْ.

أَللَّهُمَّ اقْلِبْني مِنْ مَجْلِسي هذا ، في شَهْري هذا ، في يَوْمي هذا ، في ساعَتي هذِهِ ، مُفْلِحاً مُنْجِحاً مُسْتَجاباً لي ، مَغْفُوراً ذَنْبي ، مُعافاً مِنَ النَّارِ ، وَمُعْتَقاً مِنْها عِتْقاً لا رِقَّ بَعْدَهُ أَبَداً ، وَلا رَهْبَةَ يا رَبَّ الْأَرْبابِ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ فيما شِئْتَ ، وأَرَدْتَ وَقَضَيْتَ وَقَدَّرْتَ وَحَتَمْتَ وَأَنْفَذْتَ أَنْ تُطيلَ عُمْري ، وَأَنْ تُنْسِئَ في أَجَلي ، وَأَنْ تُقَوِّيَ ضَعْفي ، وَأَنْ تُغْنِيَ فَقْري ، وَأَنْ تَجْبُرَ فاقَتي ، وَأَنْ تَرْحَمَ مَسْكَنَتي ، وَأَنْ تُعِزَّ ذُلّي ، وَأَنْ تَرْفَعَ ضَعَتي ، وَأَنْ تُغْنِيَ عائِلَتي ، وَأَنْ تُؤْنِسَ وَحْشَتي ، وَأَنْ تُكْثِرَ قِلَّتي ، وأَنْ تُدِرَّ رِزْقي في عافِيَةٍ وَيُسْرٍ وَخَفْضٍ.

وَأَنْ تَكْفِيَني ما أَهَمَّني مِنْ أَمْرِ دُنْيايَ وَآخِرَتي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي فَأَعْجِزَ عَنْها ، وَلا إِلَى النَّاسِ فَيَرْفِضُوني ، وَأَنْ تُعافِيَني في ديني وَبَدَني وَجَسَدي وَرُوحي وَوُلْدي وَأَهْلي وَأَهْلِ مَوَدَّتي وَ إِخْواني وَجيراني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمينَ وَالْمُسْلِماتِ ، اَلْأَحْياءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْواتِ ، وَأَنْ تَمُنَّ عَلَيَّ بِالْأَمْنِ وَالْإيمانِ ما أَبْقَيْتَني ، فَإِنَّكَ وَلِيّي وَمَوْلايَ ، وَثِقَتي وَرَجائي ، وَمَعْدِنُ مَسْأَلَتي ، وَمَوْضِعُ شَكْوايَ ، وَمُنْتَهى رَغْبَتي.

فَلا تُخَيِّبْني في رَجائي يا سَيِّدي وَمَوْلايَ ، وَلاتُبْطِلْ طَمَعي وَرَجائي ، فَقَدْ تَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَقَدَّمْتُهُمْ إِلَيْكَ أَمامي ، وَأَمامَ حاجَتي وَطَلِبَتي ، وَتَضَرُّعي وَمَسْأَلَتي ، فَاجْعَلْني بِهِمْ وَجيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبينَ ، فَإِنَّكَ مَنَنْتَ عَلَيَّ بِمَعْرِفَتِهِمْ ، فَاخْتِمْ لي بِهِمُ السَّعادَةَ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

زيادة فيه : مَنَنْتَ عَلَيَّ بِهِمْ ، فَاخْتِمْ لي بِالسَّعادَةِ وَالْأَمْنِ وَالسَّلامَةِ وَالْإيمانِ وَالْمَغْفِرَةِ وَالرِّضْوانِ وَالسَّعادَةِ وَالْحِفْظِ ، يا اَللَّهُ أَنْتَ لِكُلِّ حاجَةٍ لَنا فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَعافِنا وَلاتُسَلِّطْ عَلَيْنا أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ لا طاقَةَ لَنا بِهِ ، وَاكْفِنا كُلَّ أَمْرٍ مِنْ اُمُورِ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ.

صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَتَرَحَّمْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَسَلِّمْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَسَلَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

۷ ۔ زیارت امام صادق عثمان بن سعید اور حسین بن روح کے نقل کے مطابق

ابوالحسین احمد بن حسین صیداوی نے اس زیارت کو جناب عثمان بن سعید عمری کہ جناب ابوالقاسم حسین بن روح کے ہمراہ تھے نقل کیا ہے اور کہتاہے کہ یہ دونوں بزرگوار باب السلام کے کنارے کھڑے تھے اور حضرت امام جعفر صادق کی اس طرح انہوں نے زیارت کی علامہ مجلسی کہتاہے کہ بعید نہیں ہے کہ یہ زیارت حضرت ابی عبداللہ حسین کی زیارت ہو کہ لکھنے والوں نے اس میں غلطی کی ہو

السلام علیک یا مولائی ص ۵۱۱ تا ۵۱۲ تک

۸ ۔ دعائے حضرت خضر جو دعائے کمیل کے نام سے مشہور ہے۔

اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی قَهَرْتَ بِها کُلَّ شَیْءٍ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جوہر شی پر محیط ہے تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شی کو زیر نگیں کیا

وَخَضَعَ لَها کُلُّ شَیْءٍ، وَذَلَّ لَها کُلُّ شَیْءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبْتَ بِها کُلَّ شَیْءٍ وَبِعِزَّتِکَ

اور اس کے سامنے ہر شی جھکی ہوئی اور ہر شی زیر ہے اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے توہر شی پر غالب ہے

الَّتِی لاَ یَقُومُ لَها شَیْءٌ، وَ بِعَظَمَتِکَ الَّتِی مَلَأَتْ کُلَّ شَیْءٍ، وَ بِسُلْطانِکَ الَّذِی عَلاَ کُلَّ شَیْءٍ،

تیری عزت کے ذریعے جسکے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا تیری سلطنت کے ذریعے جو ہر

وَ بِوَجْهِکَ الْباقِی بَعْدَ فَنَاءِ کُلِّ شَیْءٍ، وَبِأَسْمَائِکَ الَّتِی مَلأَتْ أَرْکَانَ کُلِّ شَیْءٍ، وَبِعِلْمِکَ

چیز سے بلند ہے تیری ذات کے واسطے سے جوہر چیز کی فنا کے بعد باقی رہے گی اورسوال کرتا ہوں تیرے ناموں کے ذریعے جنہوں نے ہر چیز کے

الَّذِی أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ، وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَضَاءَ لَهُ کُلُّ شَیْءٍ یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا أَوَّلَ

اجزاء کو پر کر رکھا ہے تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور تیری ذات کے نور کے ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے یانور یاقدوس

الْاَوَّلِینَ ، وَیَا آخِرَ الْاَخِرِینَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ

اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر اے معبود میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں

الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی

خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے معبود! میرے وہ گناہ

تَحْبِسُ الدُّعَاءَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلاَءَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی کُلَّ ذَ نْبٍ أَذْ نَبْتُةُ

معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے

وَکُلَّ خَطِیئَةٍ أَخْطَأْتُها اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ، وَأَسْتَشْفِعُ بِکَ إِلَی نَفْسِکَ

اور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہو ئی ہے اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے

وَأَسْأَ لُکَ بِجُودِکَ أَنْ تُدْنِیَنِی مِنْ قُرْبِکَ، وَأَنْ تُوزِعَنِی شُکْرَکَ وَأَنْ تُلْهِمَنِی ذِکْرَکَ

حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپناقرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں

اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ أَنْ تُسامِحَنِی وَتَرْحَمَنِی وَتَجْعَلَنِی بِقَسْمِکَ

اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے گرے ہوئے ڈرے ہوئے کیطرح کہ مجھ سے چشم پوشی

رَاضِیاً قانِعاً، وَفِی جَمِیعِ الْاَحْوَالِ مُتَواضِعاً اَللّٰهُمَّ وَأَسْأَ لُکَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ، وَأَ نْزَلَ

فرما مجھ پر رحمت کر اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے یااللہ میں

بِکَ عِنْدَ الشَّدایِدِ حَاجَتَهُ، وَعَظُمَ فِیَما عِنْدَکَ رَغْبَتُهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ

تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کیطرح جو سخت تنگی میں ہو سختیوں میں پڑا ہواپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں اور جو کچھ تیرے

وَخَفِیَ مَکْرُکَ، وَظَهَرَ أَمْرُکَ وَغَلَبَ قَهْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلاَ یُمْکِنُ الْفِرارُ مِنْ

پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے

حُکُومَتِکَ اَللّٰهُمَّ لاَ أَجِدُ لِذُنُوبِی غَافِراً، وَلاَ لِقَبائِحِی سَاتِراً، وَلاَ لِشَیْءٍ مِنْ عَمَلِیَ الْقَبِیحِ

تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ لاَ إِلهَ إِلاَّ أَ نْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَتَجَرَّأْتُ

بخشنے والا میری برائیوں کو چھپانے والا اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے

بِجَهْلِی، وَسَکَنْتُ إِلَی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لِی وَمَنِّکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ مَوْلاَیَ کَمْ مِنْ قَبِیحٍ سَتَرْتَهُ،

میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی اور میں نے تیری قدیم یاد آوری اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے اے اللہ :

وَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ الْبَلاَءِ أَقَلْتَهُ، وَکَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَهُ، وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ، وَکَمْ مِنْ ثَنَاءٍ

میرے مولا کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلاؤں سے مجھے بچالیا کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے

جَمِیلٍ لَسْتُ أَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاَئِی وَأَ فْرَطَ بِی سُوءُ حالِی وَقَصُرَتْ بِی أَعْمالِی،

دور کیں تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے میرے اعمال

وَقَعَدَتْ بِی أَغْلالِی ، وَحَبَسَنِی عَنْ نَفْعِی بُعْدُ آمالِی، وَخَدَعَتْنِی الدُّنْیا بِغُرُورِها، وَنَفْسِی

بہت کم ہیں گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے لمبی آرزوؤں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے دنیا نے دھوکہ

بِجِنایَتِها، وَمِطالِی یَا سَیِّدِی فَأَسْأَ لُکَ بِعِزَّتِکَ أَنْ لاَ یَحْجُبَ عَنْکَ دُعائِی سُوءُ عَمَلِی

بازی سے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ

وَفِعالِی وَلاَ تَفْضَحْنِی بِخَفِیِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّی وَلاَ تُعاجِلْنِی بِالْعُقُوبَةِ عَلی مَا عَمِلْتُهُ

میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو

فِی خَلَواتِی مِنْ سُوءِ فِعْلِی وَ إِسائَتِی وَدَوامِ تَفْرِیطِی وَجَهالَتِی، وَکَثْرَ ةِ شَهَواتِی وَغَفْلَتِی،

جانتاہے اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا برائی کی ہمیشہ کوتاہی کی اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت

وَکُنِ اَللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لِی فِی کُلِّ الْاَحْوالِ رَؤُوفاً، وَعَلَیَّ فِی جَمِیعِ الاَمُورِ عَطُوفاً إِلهِی وَرَبِّی

اور غفلت بھی ہے اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما میرے معبود میرے رب

مَنْ لِی غَیْرُکَ أَسْأَلُهُ کَشْفَ ضُرِّی، وَالنَّظَرَ فِی أَمْرِی إِلهِی وَمَوْلایَ أَجْرَیْتَ عَلَیَّ حُکْماً

تیرے سوا میرا کون ہے جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم

اتَّبَعْتُ فِیهِ هَویٰ نَفْسِی، وَلَمْ أَحْتَرِسْ فِیهِ مِنْ تَزْیِینِ عَدُوِّی، فَغَرَّنِی بِمَا أَهْوی وَأَسْعَدَهُ عَلَی

صادر فرمایالیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیا

ذلِکَ الْقَضاءُ، فَتَجاوَزْتُ بِما جَری عَلَیَّ مِنْ ذلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخالَفْتُ بَعْضَ

اور وقت نے اسکا ساتھ دیا پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی

أَوامِرِکَ،فَلَکَ الحُجَّةُ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ وَلاَ حُجَّةَ لِی فِیما جَریٰ عَلَیَّ فِیهِ قَضَاؤُکَ،

مخالفت کی پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجالانا اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو فیصلہ تو نے میرے لیے کیا

وَأَ لْزَمَنِی حُکْمُکَ وَبَلاؤُکَ، وَقَدْ أَتَیْتُکَ یَا إِلهِی بَعْدَ تَقْصِیرِی وَ إِسْرافِی عَلی نَفْسِی،

ہے اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی

مُعْتَذِراً نادِماً مُنْکَسِراً مُسْتَقِیلاً مُسْتَغْفِراً مُنِیباً مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً، لاَ أَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا کَانَ مِنِّی

کی ہے میں عذر خواہ و پشیماں،ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی ،تائب گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس

وَلاَ مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إِلَیْهِ فِی أَمْرِی غَیْرَ قَبُو لِکَ عُذْرِی وَ إِدْخالِکَ إِیَّایَ فِی سَعَةٍ مِنْ رَحْمَتِکَ

سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ کہ اپنے معاملے میں اسکی طرف توجہ کروں سوائے اسکے کہ تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل

اَللّٰهُمَّ فَاقْبَلْ عُذْرِی وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّی وَفُکَّنِی مِنْ شَدِّ وَثاقِی یَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِی وَرِقَّةَ

کرلے اے معبود! بس میرا عذر قبول فرما میری سخت تکلیف پر رحم کر اور بھاری مشکل سے رہائی دے اے پروردگار میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک

جِلْدِی وَدِقَّةَ عَظْمِی، یَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِی وَذِکْرِی وَتَرْبِیَتِی وَبِرِّی وَتَغْذِیَتِی، هَبْنِی لاِبْتِداءِ کَرَمِکَ

ہڈیوں پر رحم فرما اے وہ ذات جس نے میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا اپنے پہلے کرم اور گزشتہ نیکی کے تحت

وَسالِفِ بِرِّکَ بِی یَا إِلهِی وَسَیِّدِی وَرَبِّی أَتُراکَ مُعَذِّبِی بِنَارِکَ بَعْدَ تَوْحِیدِکَ، وَبَعْدَ مَا

مجھے معاف فرما اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں اسکے

انْطَوی عَلَیْهِ قَلْبِی مِنْ مَعْرِفَتِکَ، وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِی مِنْ ذِکْرِکَ وَاعْتَقَدَهُ ضَمِیرِی مِنْ حُبِّکَ

ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہیمیرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف

وَبَعْدَ صِدْقِ اعْتِرافِی وَدُعَائِی خَاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ هَیْهاتَ أَنْتَ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَهُ

اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا۔ ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے

أَوْ تُبَعِّدَ مَنْ أَدْنَیْتَهُ أَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ أَوْ تُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاَءِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ، وَلَیْتَ شِعْرِی

یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے یا جسکی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے

یَا سَیِّدِی وَ إِلهِی وَمَوْلایَ، أَ تُسَلِّطُ النَّارَ عَلَی وُ جُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ سَاجِدَةً، وَعَلَی

اے کاش میں جانتا اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے

أَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِیدِکَ صَادِقَةً، وَبِشُکْرِکَ مَادِحَةً، وَعَلَی قُلُوبٍ اعْتَرَفَتْ بِإِلهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً،

ہیں اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں اور ان دلوں

وَعَلَی ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتَّی صَارَتْ خَاشِعَةً، وَعَلَی جَوارِحَ سَعَتْ إِلَی أَوْطانِ

کو جو تحقیق کیساتھ تجھے معبود مانتے ہیں اور انکے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف ہیں تو انہیںآ گ میں ڈالے گا؟

تَعَبُّدِکَ طَائِعَةً، وَ أَشارَتْ بِاسْتِغْفارِکَ مُذْعِنَةً، مَا هَکَذَا الظَّنُّ بِکَ، وَلاَ أُخْبِرْنا بِفَضْلِکَ

اور ان اعضاء کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھتیری مغفرت کے طالب ہیں (تو انہیں آگ

عَنْکَ یَا کَرِیمُ یَا رَبِّ وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِی عَنْ قَلِیلٍ مِنْ بَلاءِ الدُّنْیا وَعُقُوباتِها، وَمَا یَجْرِی

میں ڈالے) تیری ذات سے ایسا گمان نہیں، نہ یہ تیرے فضلکے مناسب ہے اے کریم اے پروردگار! دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری

فِیها مِنَ الْمَکَارِهِ عَلَی أَهْلِها، عَلی أَنَّ ذلِکَ بَلاءٌ وَمَکْرُوهٌ قَلِیلٌ مَکْثُهُ، یَسِیرٌ بَقاؤُهُ، قَصِیرٌ

ناتوانی کو جانتا ہے اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں (میں انہیں برداشت نہیں کرسکتا) اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے تو پھر

مُدَّتُهُ، فَکَیْفَ احْتِمالِی لِبَلاءِ الاَخِرَةِ وَجَلِیلِ وُقُوعِ الْمَکَارِهِ فِیها وَهُوَ بَلاءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ وَیَدُومُ

کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی

مَقامُهُ، وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ، لِاَنَّهُ لاَ یَکُونُ إِلاَّ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقامِکَ وَسَخَطِکَ، وَهذا ما لاَ

مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام

تَقُومُ لَهُ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ، یَا سَیِّدِی فَکَیْفَ بِی وَأَ نَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ، الْحَقِیرُ

اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے تو اے آقا مجھ پر کیا گزرے گی جبکہ میں تیرا

الْمِسْکِینُ الْمُسْتَکِینُ یَا إِلهِی وَرَبِّی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ، لاَِیِّ الاَْمُورِ إِلَیْکَ أَشْکُو، وَ لِمَا مِنْها

کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں اے میرے آقا اور میرے مولا! میں کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں

أَضِجُّ وَأَبْکِی، لِاِلِیمِ الْعَذابِ وَشِدَّتِهِ، أَمْ لِطُولِ الْبَلاَءِ وَمُدَّتِهِ فَلَئِنْ صَیَّرْتَنِی لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ

اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟ دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے پس

أَعْدائِکَ، وَجَمَعْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَهْلِ بَلاَئِکَ، وَفَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَحِبَّائِکَ وَأَوْ لِیائِکَ،

اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھااور مجھے اوراپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا اور میرے اور اپنے دوستوں اور

فَهَبْنِی یَا إِلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَرَبِّی، صَبَرْتُ عَلَی عَذابِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَلَی فِراقِکَ،

محبوں میں دوری ڈال دی تو اے میرے معبود میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے

وَهَبْنِی صَبَرْتُ عَلی حَرِّ نَارِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إِلَی کَرامَتِکَ أَمْ کَیْفَ أَسْکُنُ فِی

دوری پر کیسے صبر کروں گا؟ اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا تو تیرے کرم سے کسطرح چشم پوشی کرسکوں گا یا کیسے آگ میں

النَّارِ وَرَجائِی عَفْوُکَ فَبِعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ أُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَکْتَنِی نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ

پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری

إِلَیْکَ بَیْنَ أَهْلِها ضَجِیجَ الْاَمِلِینَ وَلَاَصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُراخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ وَلَااَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ

گویائی باقی رہنے دی تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے مددگار کے متلاشی کرتے

بُکَاءَ الْفَاقِدِینَ، وَلاَنادِیَنَّکَ أَیْنَ کُنْتَ یَا وَ لِیَّ الْمُؤْمِنِینَ یَا غَایَةَ آمالِ الْعارِفِینَ یَا غِیاثَ

ہیں تیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیں اور تجھے پکاروں گا کہاں ہے تواے مومنوں کے مددگار اے عارفوں کی

الْمُسْتَغِیثِینَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِ الصَّادِقِینَ وَیَا إِلهَ الْعالَمِینَ أَفَتُراکَ سُبْحَانَکَ یَا إِلهِی وَبِحَمْدِکَ

امیدوں کے مرکز اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے اے سچے لوگوں کے دوست اور اے عالمین کے معبود کیا میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاک ہے اس

تَسْمَعُ فِیها صَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فِیها بِمُخالَفَتِهِ، وَذاقَ طَعْمَ عَذابِها بِمَعْصِیَتِهِ، وَحُبِسَ

سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندہ مسلم کی آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ

بَیْنَ أَطْباقِها بِجُرْمِهِ وَجَرِیرَتِهِ، وَهُوَ یَضِجُّ إِلَیْکَ ضَجِیجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ وَیُنادِیکَ بِلِسانِ

چکھ رہا ہے اور اپنے جرم گناہ پر جہنم کے طبقوں کے بیچوں بیچ بند ہے وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح اور اہل توحید

أَهْلِ تَوْحِیدِکَ، وَیَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ یَا مَوْلایَ فَکَیْفَ یَبْقی فِی الْعَذابِ وَهُوَ یَرْجُو

کی زبان میں تجھے پکار رہا ہے اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ

مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ أَمْ کَیْفَ تُؤْ لِمُهُ النَّارُ وَهُوَ یَأْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ أَمْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ

تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے

لَهِیبُها وَأَ نْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَری مَکانَهُ أَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ زَفِیرُها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ أَمْ

یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے یا کیسے آگ کے شرارے اسے

کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ أَطْباقِها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ أَمْ کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبانِیَتُها وَهُوَ یُنادِیکَ یَا رَبَّهُ

گھیریں گے جبکہ تو اسکی ناتوانی کو جانتا ہے یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے

أَمْ کَیْفَ یَرْجُو فَضْلَکَ فِی عِتْقِهِ مِنْها فَتَتْرُکُهُ فِیها، هَیْهاتَ ما ذلِکَ الظَّنُ بِکَ، وَلاَ الْمَعْرُوفُ

یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا

مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ مُشْبِهٌ لِمَا عَامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدِینَ مِنْ بِرِّکَ وَ إِحْسانِکَ، فَبِالْیَقِینِ أَقْطَعُ،

امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے نہ یہ توحید

لَوْلاَ مَا حَکَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذِیبِ جَاحِدِیکَ، وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ إِخْلادِ مُعانِدِیکَ، لَجَعَلْتَ النَّارَ

پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم نہ دیا ہوتا اور اپنے مخالفوں کو

کُلَّها بَرْداً وَسَلاماً، وَمَا کانَ لاََِحَدٍ فِیها مَقَرّاً وَلاَ مُقاماً، لَکِنَّکَ تَقَدَّسَتْ أَسْماوٴُکَ أَقْسَمْتَ

ہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا لیکن تو نے

أَنْ تَمْلَاَها مِنَ الْکَافِرِینَ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، وَأَنْ تُخَلِّدَ فِیهَا الْمُعانِدِینَ، وَأَنْتَ جَلَّ

اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا جنّوں اور انسانوں میں سے اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے اور تو بڑی

ثَناؤُکَ قُلْتَ مُبْتَدِیاً، وَتَطَوَّلْتَ بِالْاِنْعامِ مُتَکَرِّماً، أَفَمَنْ کَانَ مُوَْمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ

تعریف والا ہے تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا کہ کیا وہ شخص جو مومن ہے وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟

إِلهِی وَسَیِّدِی، فَأَسْأَ لُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِی قَدَّرْتَها وَبِالْقَضِیَّةِ الَّتِی حَتَمْتَها وَحَکَمْتَها، وَغَلَبْتَ

یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا! میں تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا اور تیرا فرمان جسے تو نے یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے

مَنْ عَلَیْهِ أَجْرَیْتَها، أَنْ تَهَبَ لِی فِی هَذِهِ اللَّیْلَةِ وَفِی هَذِهِ السَّاعَةِ کُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ، وَکُلَّ ذَنْبٍ

اس پر جس پر اسے جاری کرے اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوں بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے

أَذْ نَبْتُهُ، وَکُلَّ قَبِیحٍ أَسْرَرْتُهُ، وَکُلَّ جَهْلٍ عَمِلْتُهُ کَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنْتُهُ أَخْفَیْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ وَکُلَّ سَیِّئَةٍ

کیے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں جو نادانیاں میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں علی الاعلان یا پوشیدہ، رکھی

أَمَرْتَ بِإِثْباتِهَا الْکِرامَ الْکاتِبِینَ الَّذِینَ وَکَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مَا یَکُونُ مِنِّی وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَیَّ

ہوں یا ظاہر کیں ہیں اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبینکو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں اور ان کو

مَعَ جَوارِحِی وَکُنْتَ أَ نْتَ الرَّقِیبَ عَلَیَّ مِنْ وَرائِهِمْ وَالشَّاهِدَ لِما خَفِیَ عَنْهُمْ وَبِرَحْمَتِکَ

میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے

أَخْفَیْتَهُ وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ، وَأَنْ تُوَفِّرَ حَظِّی، مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُهُ، أَوْ إِحْسانٍ تُفْضِلُهُ، أَوْ بِرٍّ

چھپایا اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا یا ہر اس احسان میں جو

تَنْشِرُهُ، أَوْ رِزْقٍ تَبْسِطُهُ، أَوْ ذَ نْبٍ تَغْفِرُهُ، أَوْ خَطَاًَ تَسْتُرُهُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا إِلهِی وَسَیِّدِی

تو نے کیا یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا رزق میں جسے تو نے وسیع کیا یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا

وَمَوْلایَ وَمالِکَ رِقِّی یَا مَنْ بِیَدِهِ نَاصِیَتِی، یَا عَلِیماً بِضُرِّی وَمَسْکَنَتِی یَا خَبِیراً بِفَقْرِی وَفاقَتِی

یارب یا رب یا رب اے میرے معبود میرے آقا اورمیرے مولا اور میری جان کے مالک اے وہ جسکے ہاتھ میں میری لگام ہے

یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ أَسْأَ لُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ وَأَعْظَمِ صِفاتِکَ وَأَسْمائِکَ، أَنْ تَجْعَلَ

اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر یارب یارب یارب میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی، تیری عظیم

أَوْقاتِی فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً، وَبِخِدْمَتِکَ مَوْصُولَةً وَأَعْمالِی عِنْدَکَ مَقْبُولَةً،

صفات اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر اور مسلسل اپنی حضوری میں رکھ اور میرے اعمال کو

حَتَّی تَکُونَ أَعْمالِی وَأَوْرادِی کُلُّها وِرْداً وَاحِداً، وَحالِی فِی خِدْمَتِکَ سَرْمَداً یَا سَیِّدِی یَا

اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے اے میرے

مَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِی، یَا مَنْ إِلَیْهِ شَکَوْتُ أَحْوالِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ قَوِّ عَلی خِدْمَتِکَ جَوارِحِی وَ

آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے اے جس سے میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں یارب یارب یارب میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی اور

اشْدُدْ عَلَی الْعَزِیمَةِ جَوانِحِی، وَهَبْ لِیَ الْجِدَّ فِی خَشْیَتِکَ، وَالدَّوامَ فِی الاتِّصالِ بِخِدْمَتِکَ،

میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں تاکہ تیری بارگاہ میں

حَتّی أَسْرَحَ إِلَیْکَ فِی مَیادِینِ السَّابِقِینَ، وَأُسْرِعَ إِلَیْکَ فِی المُبَادِرِینَ وَأَشْتاقَ إِلی قُرْبِکَ

سابقین کی راہوں پر چل پڑ و ں اور تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جا ؤں تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں

فِی الْمُشْتاقِینَ وَأَدْنُوَ مِنْکَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِینَ، وَأَخافَکَ مَخافَةَ الْمُوقِنِینَ وَأَجْتَمِعَ فِی جِوارِکَ

میں زیادہ شوق والا بن جاؤں تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں

مَعَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ وَمَنْ أَرادَنِی بِسُوءٍ فَأَرِدْهُ، وَمَنْ کادَنِی فَکِدْهُ وَاجْعَلْنِی مِنْ أَحْسَنِ عَبِیدِکَ

اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں اے معبود جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر جو میرے

نَصِیباً عِنْدَکَ وَأَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ، وَأَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ، فَإِنَّهُ لاَ یُنالُ ذلِکَ إِلاَّ بِفَضْلِکَ،

ساتھ مکر کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر مجھے اپنے بند و ں میں قر ار دے جو نصیب میں بہتر ہیں جومنزلت میں تیرے قریب ہیں جو تیرے

وَجُدْ لِی بِجُودِکَ، وَاعْطِفْ عَلَیَّ بِمَجْدِکَ، وَاحْفَظْنِی بِرَحْمَتِکَ، وَاجْعَلْ لِسانِی بِذِکْرِکَ

حضور تقرب میں مخصوص ہیں کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر بذریعہ اپنی بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما بوجہ

لَهِجاً، وَقَلْبِی بِحُبِّکَ مُتَیَّماً وَمُنَّ عَلَیَّ بِحُسْنِ إِجابَتِکَ وَأَقِلْنِی عَثْرَتِی وَاغْفِرْ زَلَّتِی فَإِنَّکَ

اپنی رحمت کے میری حفاظت کر میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دیمیری دعا بخوبی قبول فرما مجھ پر احسان فرما میرا گناہ

قَضَیْتَ عَلی عِبادِکَ بِعِبادَتِکَ، وَأَمَرْتَهُمْ بِدُعائِکَ، وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْاِجابَةَ، فَإِلَیْکَ یارَبّ

معاف کر دے اور میری خطا بخش دے کیونکہ تو نے بندوں پر عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور قبولیت کی ضمانت دی پس اے پروردگار میں

نَصَبْتُ وَجْهِی، وَ إِلَیْکَ یَا رَبِّ مَدَدْتُ یَدِی، فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِی دُعائِی، وَبَلِّغْنِی مُنایَ،

اپنا رخ تیری طرف کر رہا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے لگی

وَلاَ تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجائِی،وَاکْفِنِی شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ أَعْدائِی،یَا سَرِیعَ الرِّضا،اغْفِرْ

میری امید نہ توڑ میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر اے جلد

لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إِلاَّ الدُّعاءَ، فَإِنَّکَ فَعَّالٌ لِما تَشَاءُ، یَا مَنِ اسْمُهُ دَوَاءٌ، وَذِکْرُهُ شِفاءٌ وَطَاعَتُهُ

را ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے اے وہ جس کا نام دوا جس

غِنیً اِرْحَمْ مَنْ رَأْسُ مالِهِ الرَّجاءُ وَسِلاحُهُ الْبُکَاءُ یَا سَابِغَ النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا نُورَ

کا ذکر شفا اور اطاعت تونگری ہے رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے اور جس کا ہتھیار گریہ ہے اے نعمتیں پوری کرنے والے اے

الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِی مَا

سختیاں دور کرنے والے اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا محمد آل(ع) محمد پر رحمت فرما مجھ سے وہ سلوک کر جس کا

أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَصَلَّی اللهُ عَلی رَسُو لِهِ وَالْاَئِمَّةِ الْمَیامِینَ مِنْ آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً

تو اہل ہے خدا اپنے رسول پر اور بابرکت آئمہ پرسلام بھیجتا ہے بہت زیادہ سلام وتحیات جو انکی آل(ع) میں سے ہیں۔


خاتمہ کتاب یا ملحقات

بعض عبادات کہ جن کی طرف امام زمانہ کو زیادہ توجہ ہوتی تھی کتاب کے اختتام پر بعض عبادات کہ جن کی طرف امام زمانہ کو زیادہ توجہ تھی یا جن کے بجالانے کا حکم دیا ہے ان بعض عبادات کو ذکر کرتاہوں اس حصہ میں سید احمد رشتی موسوی کا واقعہ بیان کرتاہوں جس میں حضرت کی طرف سے احکام بیان کئے گئے ہیں۔

مرحوم محدث نوری لکھتے ہیں: سید رشتی کہتے ہیں: سال ۱۲۸۰ میں حج بیت الحرام کے لئے شہر رشت سے روانہ ہوا اور تبریز میں معروف تاجر حاج صغر علی تبریزی کا مہمان ہوا قافلہ روانہ ہوا تھا میں حیران تھا کہ کس طرح سفر کروں اس دوران حاج جبّار اصفہانی کا قافلہ طربوزن کی طرف روانہ ہوا میں نے تنہا اس سے ایک گھوڑا کرایہ پر لیا اور چل پڑا تین اور آدمی حاج صغر علی کی تشویق سے میرے ساتھ ملحق ہوئے ان کے نام یہ ہیں حاج ملا باقر تبریزی حاج سید حسین تاجر تبریزی حاج علی ہم اکٹھے ساتھی ہوگئے اور روانہ ہوئے یہاں تک کہ ارضروم پہنچے وہاں سے طربوزون کا عزم کیا ان دو شہروں کے درمیان کاروان میں سے ایک حاج جبّار میرے پاس آئے اور کہا ہم سے پہلے جو قافلہ ہے وہ ڈرپوک ہے کچھ جلدی کرو تا کہ قافلہ کے ہمراہ ہوجاؤ معمولاً کچھ فاصلہ کے بعد قافلہ روانہ ہوا۔ ہم تقریباً اڑھائی گھنٹے یا تین گھنٹے اذان صبح سے پہلے روانہ ہوئے ابھی آدھا یا تین فرسخ راستہ طے نہیں کیا تھا کہ آسمان ابر آلود ہوا بادل نے سورج کو گھیر لیا تھا اور موسم تاریک ہوگیا اور برف باری شروع ہوئی اتنی تیز برف باری ہوئی کہ ہم میں سے ہر ایک نے سروں کو ڈھانپا اور جلدی سے روانہ ہوئے میں نے بہت کوشش کی کہ میں اپنے آپ کو ان تک پہنچاؤں نہیں پہنچ سکا وہ دور ہوگئے اور چلے گئے اور میں تنہا رہ گیا گھوڑے سے پیادہ ہوا اور راستے کے کنارے بیٹھا میں بہت زیادہ مضطرب تھا چونکہ سفر کا خرچ تقریباً چھ سو تومان میرے ساتھ تھا تھوڑی دیر غور و فکر کیا اور مصمم ارادہ کرلیا یہی پر رہوں گا یہاں تک روشنی ہوجائے پہلے قافلہ کی طرف واپس لوٹوں گا اور وہاں سے چند محافظ اپنے ہمراہ لے جاؤں گا اور ان کے ذریعہ قافلہ سے ملحق ہوجاؤں گا اس حالت میں تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک باغ نظر آیا ایک مالی اس میں تھا اور ایک بیلچہ ہاتھ میں تھا اور درختوں کو مارتا تھا اور اس سے برف گرا دیتا تھا میرے پاس آیا کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا اور فرمایا تو کون ہے میں نے عرض کیا میرے ساتھی چلے گئے ہیں میں اکیلا رہ گیا ہوں راستہ نہیں جانتاہوں فارسی زبان میں فرمایا نافلہ پڑھو تا کہ راستہ کا پتہ چل جائے میں نماز شب پڑھنے میں مشغول ہوا نماز تمام کی دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا کیوں نہیں گئے میں نے کہا خدا گواہ ہے راستہ نہیں جانتا ہوں فرمایا جامعہ پڑھو مجھے زیارت جامعہ زبانی یاد نہیں میں نے کہا اب بھی مجھے جامعہ زبانی یاد نہیں ہے۔

ھالانکہ کئی دفعہ زیارات سے مشرف ہوا ہوں اس ھالت میں اٹھا اور زیارت جامعہ کو بطور کامل زبانی پرھا اس کے بعد وہ آقا ظاہر ہوئے اور فرمایا ابھی تک نہیں گئے ہیں بے اختیار رو پڑا اور کہا ابھی تک یہیں پر ہوں راستہ نہیں جانتا ہوں۔ فرمایا عاشورا پڑھ لو مجھے زیارت عاشورا زبانی یاد نہیں تھی میں نے کہا اب تک مجھے زبانی یاد نہیں ہے میں اٹھا اور زبانی زیارت عاشورا پڑھنا شروع کیا زیارت کو لعن اور سلام سمیت اور دعا علقمہ بھی پڑھی اس کے بعد وہ آقا آیا اور فرمایا ابھی تک نہیں گئے ہو۔ یہیں پر ہو میں نے عرض کیا نہیں ابھی تک نہیں گیا صبح تک یہیں پر ہوں فرمایا اب میں تم کو قافلہ کے ہمارہ پہنچادیتاہوں اس کے بعد وہ چلے گئے اور ایک گھوڑے پر سوار ہوئے اور بیلچہ کو کندھے پر لیا اور آئے فرمایا میرے پیچھے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ میں سوار ہوا میں نے گھوڑے کے لگام کو کھینچا لیکن گھوڑے نے حرکت نہیں کی فرمایا گھوڑے کی لگام مجھے دے دو میں نے لگام اس کو دے دی اپنے بیلچہ کو بائیں شانہ پر رکھا اور گھوڑے کی لگام کو دائیں ہاتھ میں رکھا اور چل پڑے اور گھوڑے نے ان کی اطاعت کی اور چل پڑا اس کے بعد دائیں ہاتھ کو میرے زانو پر رکھا اور فرمایا نافلہ کیوں نہیں پڑھتے ہو نافلہ نافلہ نافلہ تین دفعہ اس کو تکرار کیا پھر فرمایا تم زیارت عاشورا کیوں نہیں پڑھتے ہو عاشورا عاشورا عاشورا تین مرتبہ تکرار فرمایا اس کے بعد فرمایا جامعہ کیوں نہٰں پڑھتے ہو جامعہ جامعہ جامعہ یہ راستے طے کرتے ہوئے دائروار حرکت کرتے تھے اچانک میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تمہارے ساتھی چشمہ کے کنارے پانی کے پاس آئے ہیں صبح کی نماز کے لئے وضوع میں مشغول ہیں میں گھوڑے سے نیچے اتر آیا میں نے چاہا کہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوجاؤں لیکن سوار نہیں ہوسکا وہ بزرگوار پیادہ ہوا اور بیلچہ کو برف میں دبادیا اور مجھے سوار کیا اور گھوڑے کے سر کا ساتھیوں کی طرف منہ کردیا اس حالت میں میں اس فکر میں رہا کہ میرا آقا فارسی بولتاہے حالانکہ اس علاقہ میں تمام ترک اور عیسائی رہتے ہیں ترکی بولتے ہیں اور پھر کس طرح اتنی جلدی سے اپنے ساتھیوں تک پہنچایا میں نے پیچھے دیکھا کسی کو نہیں دیکھا اس کا کوئی اثر بھی نہیں دکھائی دیا پس اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملا۔

نماز شب:

مرحوم محدث نوری لکھتے ہیں کہ نماز شب کے فضائل اور فوائد حد سے زیادہ ہیں چونکہ قرآن مجید اور روایت میں اس کے رموز اور اسرار وارد ہیں اس لئے چند خبر میں تین مرتبہ اس کے بجالانے کی تاکید ہوئی ہے شیخ کلینی اور مرحوم صدوق اور شیخ برقی نے ایک روایت کو حضرت امام صادق سے نقل کیا ہے کہ فرمایا رسول خدا نے امیرالمومنین کو ہدایت کی اور فرمایا اس کو انجام دے اور دعا کی کہ خداوند تعالیٰ حضرت کو اس کے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ان سفارشات میں سے ایک یہ تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ تمہارے اوپر لازم ہے نماز شب پڑھنا تمہارے اوپر نماز شب ضروری ہے تمہارے اوپر نماز شب ضروری ہے۔ اس حدیث کا مضمون کتاب فقہ الرضا میں بھی ذکر ہوا ہے۔

زیارت جامعہ:

اس زیارت کے بارے میں بہت سے دانشمندوں نے تصریح کی ہے یہ بہترین اور کامل ترین زیارت ہے علامہ مجلسی نے کتاب مزار میں (بحارالانوار) زیارت کے بعض فقرات کی دوسروں سے زیادہ تشریح کی ہے اور اس کے بارے میں فرمایا کہ اس زیارت کی شرح میں کچھ بات کو زیادہ تفصیل دی ہے چونکہ یہ زیارت سب سے زیادہ صحیح سند کے اعتبار سے اور سب سے زیادہ عام مقام کے اعتبار سے اور سب سے زیادہ فصیح لفظ کے اعتبار سے اور سب سے زیادہ بلیغ معنی کے اعتبار سے اور سب سے بلند شان اور مقام کے اعتبار سے ہے۔

زیارت عاشورا:

زیارت عاشورا کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ کوئی معمولی زیارت نہیں ہے کیوں کہ اس کی املاء اور انشأ معصومین میں سے کسی ایک کی طرف سے ہے اگر چہ جو کچھ ان کے پاک دلوں سے نکلتاہے وہ عالم بالا سے ہے بلکہ یہ زیارت احادیث قدسی سے ہے اس موجودہ ترتیب کے ساتھ زیارت لعن سلام دعا خالق کی طرف سے جبرائیل امین کو اور وہ خاتم النبیین سے ہم تک پہنچی ہے اس زیارت کو پرھنا اور چالیس روز تک اس کو جاری رکھنا یا اس سے کمتر اس کی حاجت روائی اور اپنی آواز کو پہنچنا اور دشمن کے شر کو برطرف کرنے میں بے نظیر ہے اور یہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے بہترین نتیجہ اس کو پابندی سے بجا لانے سے ثابت ہوتاہے یہ وہ فائدہ ہے جس کا کوئی کتاب دارالسلام میں ذکر کیا ہے اس کو بطور خلاصہ نقل کرتاہوں نجف اشرف کے بہترین مجاروں میں سے جس کا نام حاج ملا حسن یزدی یہ بہترین پرہیزگار ہمیشہ عبادت اور زیارت میں مشغول رہتا تھا حاج محمد علی یزدی جو ایک موثق اور امین شخص یزد میں تھا اور ہمیشہ آخرت کی اصلاح کے بارے میں متفکر تھا اس نے نقل کیا ہے رات کے وقت یزد سے باہر کچھ نیک لوگوں کی قبریں ہیں کہ جو مزار کے نام سے معروف ہے میں رات کو وہاں پر گزارتا تھا میرا ایک ہمسایہ تھا ہم بچپن سے اکٹھے بڑے ہوئے تھے اکٹھے درس پڑھتے تھے وہ بڑا ہوا وہ مالیات لینے میں مشغول ہوا ایک مدت زندگی کی اس کے بعد اس دنیا سے چلا گیا اور اس کو اسی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا ابھی ایک ماہ نہیں گزرا تھا اس کو اچھی حالت میں خواب میں دیکھا اس کے پاس جا کر کہا میں اول سے آخر تک اور تیرے ظاہر اور باطن کو جانتاہوں تم ان لوگوں میں سے نہیں تھے کہ باطن میں اچھائی کا احتمال دیا جائے تا کہ برے کاموں کو اچھائی پر حمل کریں تقیہ یا ضرورت یا مظلوم کی مدد پر حمل کیا جائے اور جس کام کو تم نے انتخاب کیا تھا ایسا کام تھا کہ جو عذاب کی طرف کھینچنے والا تھا یہ بتاؤ کہ تم کس کام کی وجہ سے اس مقام پر پہنچا کہا تم نے سچ کہا کہ جس دن اس دنیا سے چلا گیا تھا اور مجھے خاک میں سپرد کیا کل تک سخت ترین عذاب میں تھا کل استاد اشرف لوہار کی بیوی فوت ہوئی اس کو اس مکان پر دفن کیا اس نے اشارہ کیا ایک ایسی جگہ کی طرف کہ جو اس سے ایک میٹر قریب تھا اس کے دفن کی رات حضرت امام حسن نے تین مرتبہ ان کو دیکھنے کے لیئے آئے تیسری مرتبہ حکم دیا کہ اس قبرستان سے عذاب کو اٹھادیا جائے اب ہماری حالت اچھی ہے اور ہم نعمت اور وسعت میں قرار پائے۔

خواب سے بیدار ہوا اور میں حیران تھا چونکہ میں نے لوہا رکو جانتا تھا نہ اس کے محلہ کو جانتا تھا میں لوہار کے بازار میں گیا اور اس کی جستجو کی اس کو تلاش کیا میں نے پوچھا کیا تمہاری بیوی تھی کہا ہاں کل میرے بیوی فوت ہوئی ہے اور اس کو فلاں جگہ پر دفن کیاہے میں نے کہا کیا وہ عورت حضرت امام حسین کی زیارت کے لئے گئی تھی کہا کہ نہیں میں نے کہا کیا وہ حضرت امام حسین کے مصائب بیان کرتی تھی کہنے لگا نہیں میں نے کہا کیا وہ مجلس عزا کو تشکیل دیتی تھی کہنے لگا نہیں لوہار نے پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں اس پوچھنے کا مقصد کیا ہے میں نے اس کو اپنا خواب بتادیا کہا وہ عورت زیارت عاشورا پڑھتی تھی اور ہمشیہ پڑھتی تھی سید احمد رشتی کہ گذشتہ واقعہ کو اس سے نقل کیا وہ خود بھی پرہیزگار لوگوں میں شمار ہوتا تھا وہ اطاعت، عبادات زیارات حقوق کے ادا کرنے بدن اور لباس کو پاک اور شبھات کے آلودگی سے پاک رکھنے کا پابند تھا۔ شہر کے لوگوں کے درمیان پرہیزگاری اور سچ بولنے میں مشہور تھا اور زیارات میں بہت سے الطاف اس کو شامل ہوتا تھا یہاں پر اس کے ذکر کرنے کا مقام نہیں ہے۔

نماز شب

اب نماز شب کی کیفیت بیان کرکے اس کے بعد زیارت عاشورا کو نقل کرتاہوں۔

نماز شب:

اس کا اول وقت آدھی رات سے شروع ہوتاہے اور طلوع فجر سے جتنا زیادہ نزدیک ہوجائے اتناہی اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے اگر چار رکعت نمازپڑھ لے اور صبح ہوجائے تو باقی نمازوں کو سورہ کے بغیر صرف حمد کے ساتھ اداء کے مقصد سے پڑھ سکتاہے۔

اول آٹھ رکعت نماز نماز شب کی نیت سے دو دو رکعت کر کے پڑھے اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے بہتر ہے کہ پہلی دو رکعت میں سورہ حمد کے بعد ساٹھ مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور ہر رکعت میں تیس مرتبہ پڑھی جائے گی اگر اس طریقے پر نماز پڑھے پس نماز تمام کرنے کے بعد اس کے درمیان اور خدا کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہتاہے۔

یا یہ کہ پہلی رکعت میں سورہ توحید اور دوسری رکعت میں قل یا ایھا الکافرون پڑھ لے اور باقی چھ رکعتوں میں سورہ حمد اور جو سورہ پڑھنا چاہے پڑھ سکتاہے اگر ہر رکعت میں سورہ حمد اور قل ھو اللہ احد پڑھ لے تو بھی کافی ہے نماز شب کو صرف ایک سورہ حمد کے ساتھ بھی پڑھ سکتاہے جس طرح قنوت واجب نمازوں میں مستحب ہے اس نماز شب میں بھی قنوت مستحب ہے اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کہے تو بھی کافی ہے یا یہ کہ وہ کہےاللهم اغفرلنا و ارحمنا و عافنا واعف عنا فی الدنیا و الاخرة انک علی کل شی قدیر یا یوں کہےربّ اغفر و ارحم وتجاوز عما تعلم انّک انت الاعزّ الاجّل الاکرم اور روایت ہوئی ہے کہ حضرت امام موسیٰ بن جعفر رات کے وقت محراب عبادت میں کھڑے ہوجاتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے اللھم انک خلقتی سویا اور یہ صحیفہ کاملہ کی بچاسویں دعا ہے جب آتھ رکعت شب نماز کو تمام کرلے تو دو رکعت نماز شفع کی نیت سے اور ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے بجالائے اور ان تین رکعت میں سورہ حمد کے بعد قل ھو اللہ احد کو پڑھ لے یہ ختم قرآن کی طرح ہے چونکہ سورہ توحید قرآن کا تیسرا حصہ ہے تیسرے قرآن پڑھنے کا ثواب ہے یا نماز شفع میں پہلی رکعت میں سورہ حمد اور قل اعوذ بربّ الناس اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد قل اعذ برب الفلق پڑھے نماز شفع میں قنوت وارد نہیں ہوا ہے اور اس کو رجاء کے قصد سے پڑھ سکتاہے۔ پس نماز شفع کے بعد کھڑا ہوجائے اور ایک رکعت نماز وتر کو سورہ حمد اور سورہ توحید کے ساتھ پڑھے یا یہ کہ سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ قل ھو اللہ احد اور معوذتین یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعذ برب الناس کو پڑھے اور قنوت کے لئے ہاتھوں کو بلند کرے اور جس چیز کے لیئے چاہیے دعا مانگے۔

شیخ طوسی کہتاہے جو دعائیں اس نماز کے قنوت میں پڑھی جاتی ہیں بہت زیادہ ہیں اگر چہ ہر دعا کے لئے وقت معین ہے لیکن غیر وقت میں بھی پڑھی جاتی ہیں۔

مستحب ہے کہ انسان اس نماز کے قنوت میں خدا کے خوف اور عذاب کے ڈر سے گریہ کرے یا رونے کی شکل بنائے اور اپنے مومن بھائیوں کے لئے دعا مانگے۔ اور مستحب ہے کہ چالیس مومنین کا نام لے اور ان کے لئے دعا مانگے جو بھی چالیں مومنین کے لئے دعا مانگے اس کی دعا قبول ہوتی ہے انشاء اللہ شیخ صدوق کتاب من لا یحفرہ الفقیہ میں کہتے ہیں کہ حضرت رسول نے نماز وتر کے قنوت میں اس دعا کو پڑھتے تھے:

اللهم اهدنی فمن هدیت و عافنی فمن عافیت و تولّنی فیمن تولّیت و بارک لی فیما اعطیت وقنی شرّما قضیت فانّک تقضی ولا یقضی علیک سبحانک رب البیت استغفرک واتوب الیک و اؤ من بک واتوکل بک واتوکل علیک ولا حول ولا قوة الا بک یا رحیم بہتر ہے کہ قنوت میں ستر مرتبہ کہے استغفر اللہ (ربّی) و اتوب الیہ اور سزاوار ہے کہ اپنا بایاں ہاتھ کو دعا کے لئے بلند کرے اور دائیں ہاتھ کے ساتھ استغفار کو شمار کرے جو نماز شب کو اذان صبح سے پہلے پڑھ لے اس کو چاہییے کہ باقی نمازوں کو نماز صبح کے بعد اداء کی نیت سے پڑھ لے جو شخص آدھی رات کے بعد نماز شب نہیں پڑھ سکتاہے وہ شخص آدھی رات سے پہلے بھی پڑھ سکتاہے۔

زیارت عاشورا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِاﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے ابا عبدا(ع)للہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین

أَمِیرِالْمُوَْمِنِینَ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ

(ع)کے فرزند اور اوصیائ کے سردار کے فرزند سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ (ع)جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاثارَ اﷲِ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ

آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر

الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اﷲِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ

جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں

یَا أَبا عَبْدِاﷲِ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ

اے ابا عبداﷲ(ع) آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام

أَهْلِ الْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلَی جَمِیعِ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ

کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے

فَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً

پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر

دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَأَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اﷲُ فِیها، وَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً

جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو

قَتَلَتْکُمْ وَلَعَنَ اﷲُ الْمُمَهِّدِینَ لَهُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِیْتُ إلَی اﷲِ وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ

قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان

وَأَشْیاعِهِمْ وَأَتْباعِهِمْ وَأَوْلِیائِهِمْ، یَا أَبا عَبْدِاﷲِ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ

سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے

لِمَنْ حارَبَکُمْ إلی یَوْمِ الْقِیامَةِ، وَلَعَنَ اﷲُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ، وَلَعَنَ اﷲُ بَنِی

آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک اور خدا لعنت کرے اولاد زیاداور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے

أُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَلَعَنَ اﷲُ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَلَعَنَ اﷲُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَلَعَنَ اﷲُ شِمْراً،

خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر

وَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَأَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی،

اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں

لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ، فَأَسْأَلُ اﷲَ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَأَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی

یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ

طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ

مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور (ع)کے ساتھ جو اہل بیت محمد(ص) میں سے ہوں گے اے معبود!

اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ یَا أَبا عَبْدِاﷲِ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی

مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین - کے واسطے سے دنیا و آخرت میں اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں

اﷲِ، وَ إلی رَسُولِهِ، وَ إلی أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، وَ إلی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ

خدا کا اس کے رسول(ص) کا امیر المومنین(ع) کا فاطمۃ زہرا (ع)کا حسن مجتبیٰ (ع) کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری

بِمُوَالاتِکَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ

سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم

الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ وَأَبْرَأُ إلَی اﷲِ وَ إلی رَسُولِهِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذلِکَ وَبَنی

کی بنیاد رکھی اور میں بری الذمہ ہوں اﷲ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی

عَلَیْهِ بُنْیانَهُ، وَجَریٰ فِی ظُلْمِهِ وَجَوْرِهِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی أَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی اﷲِ

اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا

وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ، وَأَتَقَرَّبُ إلَی اﷲِ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَمُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ

اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت

مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَالنَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِهِمْ وَأَتْبَاعِهِمْ، إنِّی

کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے

سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَوَلِیٌّ لِمَنْ والاکُمْ،

میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور

وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ، فَأَسْأَلُ اﷲَ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَمَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ،

آپکے دشمن کا دشمن ہوں پس سوال کرتاہوںخدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے

وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ، أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَنْ یُثَبِّتَ

اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے

لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَسْأَلُهُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ

حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام

لَکُمْ عِنْدَ اﷲِ، وَأَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ هُدیً ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ

پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے

مِنْکُمْ، وَأَسْأَلُ اﷲَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَهُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی

تم میں سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا

بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِهِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَها وَأَعْظَمَ

کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و

رَزِیَّتَها فِی الْاِسْلامِ وَفِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی

غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر

هذَا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ

ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش اے معبود قرار دے میرا جینا محمد(ص) و آل

مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو أُمَیَّةَ

محمد(ص) کا سا جینا اور میری موت کو محمد (ص)و آل محمد(ص) کی موت کی مانند بنا اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی

وَابْنُ آکِلَةِ الْاََکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلَی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ

کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرم(ص) کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے

وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیهِ نَبِیُّکَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبا سُفْیانَ وَمُعَاوِیَةَ وَیَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْهِمْ

اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرم(ص) ٹھہرے اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو

مِنْکَ اللَّعْنَةُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ، وَهذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ

تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین

صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاََلِیمَ اَللّٰهُمَّ إنِّی

صلوات اﷲ علیہ کو اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو اے معبود بے شک

أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی هذَا، وَأَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْهُمْ،

میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے

وَاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ ۔ پھر سو مرتبہ کہے:

اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبی(ص) کی آل (ع)سے ہے سلام ہو تیرے نبی (ص)اور ان کی آل (ع)پر

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَی ذلِکَ

اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد (ص)و آل محمد (ص)کا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی

اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلَی قَتْلِهِ

اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین (ع) سے نیز ان پربھی جو قتل حسین (ع) میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے

اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِیعاً اب سو مرتبہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِاﷲِ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی

اے معبود ان سب پر لعنت بھیج سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے

حَلَّتْ بِفِنائِکَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اﷲِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، وَلاَ جَعَلَهُ

روضے پر آتی ہیں آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ

اﷲُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ،

دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع سلام ہو حسین(ع) پر اور شہزادہ علی(ع) فرزند حسین(ع) پر

وَعَلَی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ، وَعَلَی أَصْحابِ الْحُسَیْنِپھر کهے : اَللّٰهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ

سلام ہو حسین(ع) کی اولاد اور حسین(ع) کے اصحاب پر اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کو

ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَن الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ

میری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج اے معبود!

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَالْعَنْ عُبَیْدَاﷲِ بْنَ زِیادٍ وَابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ

لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر

وَشِمْراً وَآلَ أَبِی سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوَانَ إلی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ۔ اس کے بعد سجدے

اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک

میں جائے اور کهے : اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلَی مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی

اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے

عَظِیمِ رَزِیَّتِی، اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ

عزاداری نصیب کی اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین (ع) کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب

عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَأَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ

میں تیرے پاس آئوں حسین (ع) کے ساتھ اور اصحاب حسین (ع) کے ساتھ جنہوں نے حسین(ع) کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔

دعائے علقمہ

یَااللهُ یَااللهُ یَااللهُ،یَامُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ،یَاکاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ،یَاغِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ،

اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے

یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَیَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ

داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میریقریب ہے اے وہ جو انسان

وَقَلْبِهِ، وَیَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاََعْلَی، وَبِالْاُفُقِ الْمُبِینِ، وَیَا مَنْ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ

اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر کنارے میں ہے اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پر

اسْتَویٰ، وَیَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاََعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَیَا مَنْ لا یَخْفیٰ عَلَیْهِ خافِیَةٌ، یَا مَنْ

حاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں

لاَ تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ الْاََصْواتُ وَیَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُهُ الْحاجاتُ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ إِلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ یَا مُدْرِکَ

اے وہ جس پر آوازیں گڈمڈ نہیں ہویں اے وہ جس کو حاجتوں میں بھول نہیں پڑتی اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ

کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ، وَیَا بارِیََ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ،

کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز

یَاقاضِیَ الْحاجاتِ،یَامُنَفِّسَ الْکُرُباتِ،یَامُعْطِیَ السُّؤُلاتِ،یَاوَلِیَّ الرَّغَباتِ،یَاکافِیَ الْمُهِمَّاتِ،

نئی شان ہے اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں پر مختار اے

یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْءٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْءٌ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ

مشکلوں میں مددگار اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز مدد نہیں کرتی سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد

خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَبِحَقِّ فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،

کے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضی کے حق کے واسطے تیرے نبی کی دختر فاطمہ کے حق کے واسطے اور حسن و حسین کے حق کے واسطے کیونکہ میں

فَإِنِّی بِهِمْ أَتَوَجَّهُ إِلَیْکَ فِی مَقامِی هذَا، وَبِهِمْ أَتَوَسَّلُ، وَبِهِمْ أَتَشَفَّعُ إِلَیْکَ، وَبِحَقِّهِمْ أَسْأَلُکَ

نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوں اسی

وَأُقْسِمُ وَأَعْزِمُ عَلَیْکَ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ وَبِالْقَدْرِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ، وَبِالَّذِی فَضَّلْتَهُمْ

کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے

عَلَی الْعَالَمِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَهُ عِنْدَهُمْ، وَبِهِ خَصَصْتَهُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ، وَبِهِ أَبَنْتَهُمْ

انکو جہانوں میں بڑائی دی اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوں میں خصوصیت عطا فرمائی

وَأَبَنْتَ فَضْلَهُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتَّی فاقَ فَضْلُهُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ جَمِیعاً، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ

ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے زیادہ ہو گئی سوال

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی وَکَرْبِی، وَتَکْفِیَنِی الْمُهِمَّ مِنْ أُمُورِی،

کرتا ہوں تجھ سے کہ محمد و آل محمد پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور ہر دکھ اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ

وَتَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی،وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ،وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَةِ،وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْأَلَةِ إِلَی الْمَخْلُوقِینَ،

دے مجھ کو تنگدستی سے بچا مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اور میری مدد فرما اس اندیشے میں جس سے میں ڈرتا

وَتَکْفِیَنِی هَمَّ مَنْ أَخافُ هَمَّهُ، وَعُسْرَ مَنْ أَخافُ عُسْرَهُ، وَحُزُونَةَ مَنْ أَخافُ حُزُونَتَهُ، وَشَرَّ مَنْ

ہوں اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں اس تکلیف میں جس سے خوف کھاتا ہوں اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا

أَخافُ شَرَّهُ، وَمَکْرَ مَنْ أَخافُ مَکْرَهُ، وَبَغْیَ مَنْ أَخافُ بَغْیَهُ، وَجَوْرَ مَنْ أَخافُ جَوْرَهُ، وَسُلْطانَ

رہتا ہوں اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں اس بے گھر ہونے سے جس سے ترساں ہوں اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوں اس فریب سے جس سے

مَنْ أَخافُ سُلْطانَهُ، وَکَیْدَ مَنْ أَخافُ کَیْدَهُ، وَمَقْدُرَةَ مَنْ أَخافُ مَقْدُرَتَهُ عَلَیَّ، وَتَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ

خائف ہوں اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو اے معبود جو میرے لیے جیسا

الْکَیَدَةِ، وَمَکْرَ الْمَکَرَةِ اَللّٰهُمَّ مَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْهُ، وَمَنْ کادَنِی فَکِدْهُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُ وَمَکْرَهُ

قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کرجو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو روک دے

وَبَأْسَهُ وَأَمانِیَّهُ وَامْنَعْهُ عَنِّی کَیْفَ شِئْتَ وَأَنَّیٰ شِئْتَ اَللّٰهُمَّ اشْغَلْهُ عَنِّی بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُهُ، وَبِبَلاءٍ

اسے مجھ سے جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے ایسی تنگدستی

لاَ تَسْتُرُهُ وَبِفاقَةٍ لاَ تَسُدُّها، وَبِسُقْمٍ لاَ تُعافِیهِ، وَذُلٍّ لاَ تُعِزُّهُ، وَبِمَسْکَنَةٍ لاَتَجْبُرُها اَللّٰهُمَّ اضْرِبْ

سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے جسے تو دور نہ کرے اے معبود میرے دشمن

بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْهِ، وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِهِ وَالْعِلَّةَ وَالسُّقْمَ فِی بَدَنِهِ حَتَّی تَشْغَلَهُ عَنِّی بِشُغْلٍ

کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے

شاغِلٍ لاَ فَراغَ لَهُ، وَأَنْسِهِ ذِکْرِی کَما أَنْسَیْتَهُ ذِکْرَکَ وَخُذْ عَنِّی بِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَلِسانِهِ وَ

کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے اسے میری یاد بھلا دے جیسے اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ

یَدِهِ وَرِجْلِهِ وَقَلْبِهِ وَجَمِیعِ جَوارِحِهِ وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ فِی جَمِیعِ ذلِکَ السُّقْمَ وَلاَ تَشْفِهِ حَتَّی تَجْعَلَ

اسکے پاؤں اس کا دل اور اس کے تمام اعضاء کو روک دے اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے لیے

ذلِکَ لَهُ شُغْلاً شاغِلاً بِهِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی، وَاکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لاَ یَکْفِی سِواکَ فَإِنَّکَ الْکافِی

ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے

لاَ کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ لاَ مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لاَ جارَ سِواکَ،

تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں نا امید ہوا

خابَ مَنْ کانَ جَارُهُ سِواکَ، وَمُغِیثُهُ سِواکَ وَمَفْزَعُهُ إِلی سِواکَ وَمَهْرَبُهُ إِلی سِواکَ وَمَلْجَأهُ

جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جسکا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی

إِلی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاهُ مِنْ مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ، فَأَنْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی وَمَفْزَعِی وَمَهْرَبِی وَمَلْجَأی

پناہ لے اور جسے بچانے والاسوائے تیرے کوئی اور ہو کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو

وَمَنْجایَ، فَبِکَ أَسْتَفْتِحُ، وَبِکَ أَسْتَنْجِحُ، وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّهُ إِلَیْکَ وَأَتَوَسَّلُ

مجھے نجات دینے والا ہے پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد و آل محمد کے واسطے سے تیری طرف آیا اور انہیں وسیلہ بنانا

وَأَتَشَفَّعُ، فأَسْأَلُکَ یَا اللهُ یَا اللهُ یَا اللهُ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَإِلَیْکَ الْمُشْتَکَیٰ وَأَنْتَ

اور شفاعت چاہتا ہوں پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے

الْمُسْتَعانُ، فأَسْأَلُکَ یَا اللهُ یَا اللهُ یَا اللهُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمد و آل محمد کے واسطے سے کہ

مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی وَکَرْبِی فِی مَقامِی هذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ هَمَّهُ

محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبی کا اندیشہ ان کا غم

وَغَمَّهُ وَکَرْبَهُ، وَکَفَیْتَهُ هَوْلَ عَدُوِّهِ، فَاکْشِفْ عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْهُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ

اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی پس دور کر میری مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی

عَنْهُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَهُ، وَاصْرِفْ عَنِّی هَوْلَ مَا أَخافُ هَوْلَهُ، وَمَؤُونَةَ مَا أَخافُ مَؤُونَتَهُ، وَهَمَّ

تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی میرا خوف دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا

مَا أَخافُ هَمَّهُ، بِلامَؤُونَةٍ عَلَی نَفْسِی مِنْ ذلِکَ، وَاصْرِفْنِی بِقَضاءِ حَوائِجِی، وَکِفَایَةِ مَا أَهَمَّنِی

جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے

هَمُّهُ مِنْ أَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِاللهِ، عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ اللهِ أَبَداً مَا

میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبدالله آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں

بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ والنَّهارُ وَلاَ جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلاَ فَرَّقَ اللهُ بَیْنِی وَبَیْنَکُما

اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ بنائے اور میرے اور

اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی حَیَاةَ مُحَمَّدٍ وَذُرِّیَّتِهِ، وَأَمِتْنِی مَمَاتَهُمْ، وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِهِمْ،

آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے اے معبودمجھے زندہ رکھ محمد اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ

وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِاللهِ،

میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی دنیا اور آخرت میں اے امیر المومنین اور اے ابا عبداللہ میں آپ دونوں کی

أَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً إِلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّهاً إِلَیْهِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إِلَی اللهِ

زیارت کو آیا کہاس کو خدا کے ہاں وسیلہ بناؤں جو میرا اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی

تَعالی فِی حاجَتِی هذِهِ فَاشْفَعا لِی فَإِنَّ لَکُما عِنْدَ اللهِ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاهَ الْوَجِیهَ، وَالْمَنْزِلَ

بناتا ہوں اپنی حاجت کے بارے میں پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور محکم تعلق رکھتے

الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَةَ،إِنِّی أَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِالْحاجَةِ وَقَضائِها وَنَجاحِهامِنَ اللهِ بِشَفاعَتِکُما

ہیں بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے

لِی إِلَی اللهِ فِی ذلِکَ فَلا أَخِیبُ، وَلاَ یَکونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی

جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیں اور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی

مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاًمُنْجِحاً مُسْتَجاباً بِقَضاءِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إِلَی اللهِانْقَلَبْتُ عَلَی

جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیں میں پلٹ رہا ہوں

مَا شاءَ اللهُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ، مُفَوِّضاً أَمْرِی إِلَی اللهِ، مُلْجِئاً ظَهْرِی إِلَی اللهِ، مُتَوَکِّلاً عَلَی

اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی

اللهِ، وَأَقُولُ حَسْبِیَ اللهُ وَکَفیٰ، سَمِعَ اللهُ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ لِی وَراءَ اللهِ وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَهیٰ،

بھروسہ رکھتا ہوں اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے اور سوائے

مَا شاءَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ أَسْتَوْدِعُکُمَا اللهَ، وَلاَ جَعَلَهُ

آپ کے اے میرے سردار جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں

اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی إِلَیْکُما، انْصَرَفْتُ یَا سَیِّدِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَأَنْتَ اُبْتُ یَاأَبا عَبْدِ

کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے میں واپس جاتا ہوں اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار

اللهِ یَا سَیِّدِی وَسَلامِی عَلَیْکُما مُتَّصِلٌ مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، واصِلٌ ذلِکَ إِلَیْکُما غَیْرُ

اور آپ ہیں اے ابا عبداللہ اے میرے سردار میرا سلام ہو آپ دونوں پر متواتر جب تک رات اور دن باقی ہیں یہ سلام آپ دونوں کو پہنچتا رہے کبھی رکنے

مَحْجُوبٍ عَنْکُما سَلامِی إِنْ شَاءَ اللهُ، وَأَسْأَلُهُ بِحَقِّکُما أَنْ یَشاءَ ذلِکَ وَیَفْعَلَ فَإِنَّهُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ

نہ پائے آپ پر میرا یہ سلام اگر خدا چاہے تو سوال کرتا ہوں اس سے آپ کے واسطے کہ وہ یہی چاہے اور یہ کرے کیونکہ وہ ہے حمد والا بزرگی والا میں آپ

انْقَلَبْتُ یَا سَیِّدَیَّ عَنْکُما تائِباً حامِداً لِلّٰهِ شاکِراً راجِیاً لِلاِِْجابَةِ، غَیْرَ آیِسٍ وَلاَ قَانِطٍ، آئِباً عائِداً

کے ہاں سے جاتا ہوں اے میرے سردار ا ور خدا سے توبہ کرتا ہوں اسکی حمد کرتا ہوں شکر کرتا ہوں قبولیت کا امید وار ہوں مجھے نا امید و مایوس نہ کرنا پھر آنے کی زیارت

راجِعاً إِلی زِیارَتِکُما، غَیْرَ راغِبٍ عَنْکُما وَلاَ عَنْ زِیارَتِکُما بَلْ راجِعٌ عائِدٌ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَلاَ

کرنے کے ارادے سے نہ کہ آپ سے اور نہ آپ کی زیارت سیمنہ موڑے ہوئے بلکہ دوبارہ آنے کے لیے اگر خدا چاہے اورنہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی

حَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إِلاَّبِاللهِ،یَاسادَتِی رَغِبْتُ إِلَیْکُما وَإِلی زِیارَتِکُما بَعْدَ أَنْ زَهِدَ فِیکُما وَفِی زِیارَتِکُما

ہے اے میرے سردار میں شائق ہوں آپ کا اور آپ کی زیارت کا جبکہ بے رغبت ہو گئے ہیں آپ سے اور آپ دونوں کی زیارت کرنے سے یہ دنیا والے

أَهْلُ الدُّنْیا، فَلا خَیَّبَنِیَ اللهُ مِمَّا رَجَوْتُ وَمَا أَمَّلْتُ فِی زِیارَتِکُما إِنَّهُ قَرِیبٌ مُجِیبٌ

پس خدا مجھے نا امید نہ کرے اس سے جسکی امید و آرزو رکھتا ہوں آپکی زیارت کے واسطے بے شک وہ نزدیک تر ہے قبول کرنے والا ہے۔

زیارت جامعہ سے امام زمانہ کی تجلیل اور عظمت

مرحوم علامہ مجلسی اوّل اس زیارت شریف کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں اس زیارت کو تمام ائمہ طاہرین کے حرم میں پڑھا جاتاہے۔ انسان ائمہ کے کسی ایک حرم میں تمام ائمہ کے لئے قصد کر کے زیارت پڑھ سکتاہے چاہے دور ہو یا نزدیک ہو اور اگر ہر مرتبہ ترتیب کے ساتھ ان میں کسی ایک کا قصد کرے اور باقیوں کا تابع قرار دیکر زیارت کرلے تو زیادہ بہتر ہوگا چنانچہ میں اس طرح زیارت کرتاہوں۔

ایک سچے خواب میں حضرت امام رضا کو دیکھا کہ اس زیارت کی تقریر اور تحسین کرتے تھے اور جس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت امیرالمومنین کی زیارت کی توفیق عطا فرمائی اور حضرت کے روضہ میں مجاہد نفس تزکیہ اور تھذیب نفس میں مشغول ہوا خداوند تعالیٰ نے میرے مولیٰ کی برکت سے مکاشفات کے دروازے میرے لئے کھول دیا۔ کہ جس کو ضعیف عقل والا انسان اسے درک کرنے اور اسکے متحمل ہونے سے عاجز ہے اس عالم میں یا بہتر طریقے سے کہوں کہ عالم خواب اور بیداری کے درمیان جس وقت رواق میں بیٹھا ہوا تھا تو میں نے دیکھا حضرت امام ھادی اور امام حسن عسکری حرم میں انتہائی بلندی پر ہیں اور بہترین طریقے پر زینت دی گئی ہے ان دو بزرگواروں کی قبر کے اوپر بہشت کے لباسوں میں سے ایک سبز لباس ہے ایسا لباس دنیا کے لباسوں میں نہیں دیکھا تھا اچانک میں نے اپنے مومنین کے مولیٰ یعنی حضرت صاحب الزمان کو دیکھا حضرت کو دروازے کی طرف منہ کر کے قبر کی طرف پشت کر کے بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے آنحضرت کو دیکھا تو بلند آواز کے ساتھ زیارت جامعہ کاآغاز کیا جب میں نے تمام کی تو حضرت نے فرمایا کس قدر اچھی زیارت ہے میں نے عرض کیا میرے مولیٰ میری جان آپ پر قربان ہو اپنے جد کی زیارت کے بارے میں بتاتے ہیں اور میں نے قبر مطہر کی طرف اشارہ کیا فرمایا ہاں داخل ہوجاؤ جب روضہ مقدسہ میں داخل ہوا دروازے کے قریب کھڑا ہوا حضرت نے فرمایا آگے آجاؤ میں نے عرض کیا اے میرے مولیٰ میں ڈرتاہوں ادب ترک کرنے کی وجہ سے کافر ہوجاؤں فرمایا اگر میری اجازت سے آگے آجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے ڈرتے کانپتے ہوئے آگے بڑھا فرمایا آگے آجاؤ آگے آجاؤ یہاں تک کہ حضرت کے نزدیک ہوا فرمایا بیٹھ جاؤ میں نے عرض کیا اے میرے مولیٰ میں ڈرتاہوں فرمایا نہ ڈرو جیسے آقا کے سامنے غلام بیٹھتاہے ویسے بیٹھا حضرت نے فرمایا آرام سے رہو دو زانو بیٹھو کیونکہ تم تھک گئے ہو اور پیادہ یہاں آئے ہو ۔

خلاصہ: اس بزرگوار نے بہت زیادہ مہربانی اور عنایت میرے ساتھ کی محبت سے بھرئی ہوئی گفتگو حضرت نے مجھ سے کی البتہ ان باتوں میں سے اکثر کو فراموش کر چکا ہوں

ازیں رویا بہ خود آمدم

ایککافی مدت سے راستہ بند تھا اور سامرہ کی زیارت کرنا ممکن نہیں تھا اس واقعہ کے بعد اسی دن زیارت کے اسباب فراہم ہوئے اور خدا کے فضل سے تمام رکاوٹیں برطرف ہوگئیں اور پیادہ جیسا کہ حضرت نے فرمایا تھا زیارت کی توفیق ہوئی اور رات کو روضہ مقدسہ میں کئی بار اس زیارت کو پڑھتے ہوئے حضرت کی زیارت کی اور راستے میں اور روضہ مقدسہ میں عجیب کرامات بلکہ تعجب آور معجزات میرے لئے آشکار ہوئے اگر بیان کرنا چاہوں تو طویل ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ زیارت جامعہ حضرت امام زمان کی تقریر کی بناء پر یہ حضرت امام ھادی سے منقول ہے اور کامل ترین اور سب سے عمدہ زیارت ہے میں اس خواب کے بعد عام طور پر اس زیارت کے ساتھ ائمہ معصومین کی زیارت کرتاہوں اور عتبات عالیات میں اس زیارت کے علاوہ کوئی اور زیارت نہیں پڑھتاہوں اسی وجہ سے اکثر زیارات کی شرح کو تاخیر کردیا تا کہ اس زیارات کی شرح لکھ لوں

زیارت جامعہ کبیرہ

شیخ صدوق نے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور عیون اخبار الرضا میں اس طرح روایت بیان کیا ہے موسیٰ نخعی کہتاہے: کہ میں نے امام ھادی کی خدمت میں عرض کیا اے فرزند رسول خدا کہ مجھے ایک بلیغ اور کامل زیارت کی تعلیم دیں کہ جب بھی آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کرنا چاہوں تو زیارت کرلوں حضرت نے فرمایا جب آپ ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کرنا چاہیں تو غسل کرلو جب آئمہ طاہرین کے کسی ایک مزار پر پہنچو تو کھڑے ہوجاؤ اور شہادتین کہو:اشهد ان لا اله الا الله وحده لاشریک له و اشهد ان محمداً صلی اللہ علیہ و آلہ عبدہ و رسولہ جس وقت حرم مطہر میں داخل ہوجاؤ اور قبر کو دیکھ لو تو کھڑے ہوجاؤ اور تیس مرتبہ اللہ اکبر کہو آہستہ سے قدم اٹھاؤ پھر کھڑے ہوجاؤ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہو جب قبر مطہر کے قریب پہنچ جائے تو چالیس مرتبہ اللہ اکبر کہو مجموعی طور پر سو تکبیریں ہوتی ہیں اس وقت کہو:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَوْضِعَ الرِّسالَةِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَةِ وَمَهْبِطَ الْوَحْیِ

آپ پر سلام ہو اے خاندان نبوت اے پیغام الہی کے آنے کی جگہ اور ملائکہ کے آنے جانے کے مقام وحی نازل ہونے کی جگہ نزول

وَمَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَخُزَّانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَهَی الْحِلْمِ وَأُصُولَ الْکَرَمِ وَقادَةَ الْاَُمَمِ وَأَوْلِیائَ النِّعَمِ

رحمت کے مرکز علوم کے خزینہ دار حد درجہ کے بردباراور بزرگواری کے حامل ہیں آپ قوموں کے پیشوا ،نعمتوں کے بانٹنے والے

وَعَناصِرَ الْاََبْرارِوَدَعائِمَ الْاََخْیارِ وَساسَةَ الْعِبادِ وَأَرْکانَ الْبِلادِ وَأَبْوابَ الْاِیمانِ وَأُمَنائَ

سرمایۂ نیکو کاران، پارسائوں کے ستون، بندوں کے لیے تدبیر کار، آبادیوں کے سردار، ایمان و اسلام کے دروازے،اور خدا کے

الرَّحْمنِ وَسُلالَةَ النَّبِیِّینَ وَصَفْوَةَ الْمُرْسَلِینَ وَعِتْرَةَ خِیَرَةِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَةُ اﷲِ

امانتدار ہیں اور آپ نبیوں کی نسل و اولاد رسولوں کے پسندیدہ اور جہانوں کے رب کے پسند شد گان کی اولاد ہیں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو

وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَئِمَّةِ الْهُدَیٰ وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ وَأَعْلامِ التُّقَیٰ وَذَوِیٰ النُّهَیٰ وَأُولِی

اور اس کی برکات ہوں آپ(ع) پر جو ہدایت دینے والے امام(ع) ہیں تاریکیوں کے چراغ ہیں پرہیز گاری کے نشان صاحبان عقل و خرد اور

الْحِجَیٰ وَکَهْفِ الْوَرَیٰ وَوَرَثَةِ الْاََنْبِیائِ وَالْمَثَلِ الْاََعْلَیٰ وَالدَّعْوَةِ الْحُسْنَیٰ وَحُجَجِ اﷲِ

مالکان دانش ہیں آپ، لوگوں کی پناہ گاہ نبیوں کے وارث بلندترین نمونہ عمل اور بہترین دعوت دینے والے ہیں آپ دنیا والوں پر خدا

عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَالْاَُولَی وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَةِ اﷲِ

کی حجتیں ہیں آغاز و انجام میں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خد اکی معرفت کے

وَمَساکِنِ بَرَکَةِ اﷲِوَمَعَادِنِ حِکْمَةِ اﷲِ وَحَفَظَةِ سِرِّ اﷲِ وَحَمَلَةِ کِتابِ اﷲِ وَأَوْصِیائِ نَبِیِّ

ذریعوں پر جو خدا کی برکت کے مقام اور خدا کی حکمت کی کانیں ہیں خدا کے رازوں کے نگہبان خدا کی کتاب کے حامل خدا کے آخری نبی (ص)

اﷲِ وَذُرِّیَّةِ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وآلِهِ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی

کے جانشین اور خدا کے رسول(ص) کی اولاد ہیں خدا ان پر اور ان کی آل(ع) پر درود بھیجے اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوںسلام ہو خدا

الدُّعاةِ إلَی اﷲِ وَالْاََدِلاَّئِ عَلَی مَرْضاةِ اﷲِ وَالْمُسْتَقِرِّینَ فِی أَمْرِ اﷲِ وَالتَّامِّینَ فِی مَحَبَّةِ اﷲِ

کیطرف بلانے والوں پر اور خدا کی رضائوں سے آگاہ کرنے والوں پر جو خدا کے معاملے میں ایستادہ خدا کی محبت میں سب سے

وَالْمُخْلِصِینَ فِی تَوْحِیدِ اﷲِ وَالْمُظْهِرِینَ لاََِمْرِ اﷲِ وَنَهْیِهِ وَعِبادِهِ الْمُکْرَمِینَ الَّذِینَ لاَ

کامل اور خدا کی توحید کے عقیدے میںکھرے ہیں وہ خدا کے امرونہی کو بیان کرنے والے اور اس کے گرامی قدر بندے ہیں کہ جو

یَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بأَمْرِهِ یَعْمَلُونَ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی

اسکے آگے بولنے میں پہل نہیں کرتے اور اسکے حکم پر عمل کرتے ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں سلام ہو ان پر جو

الْاََئِمَّةِ الدُّعاةِ و َالْقادَةِ الْهُداةِ وَ السَّادَةِ الْوُلاةِ وَالذَّادَةِ الْحُماةِ وَأَهْلِ الذِّکْرِ وَأُولِی

دعوت دینے والے امام ہیں ہدایت دینے والے راہنما صاحب ولایت سردار حمایت کرنے والے نگہدار ذکر الہی کرنے والے اور والیانِ

الْاََمْرِ وَبَقِیَّةِ اﷲِ وَخِیَرَتِهِ وَحِزْبِهِ وَعَیْبَةِ عِلْمِهِ وَحُجَّتِهِ وَصِراطِهِ وَنُورِهِ

امر ہیں وہ خدا کا سرمایہ اس کے پسندیدہ اس کی جماعت اور اس کے علوم کا خزانہ ہیں وہ خدا کی حجت اس کا راستہ اس کا نور اور

وَبُرْهانِهِ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ کَما

اسکی نشانی ہیں خداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں

شَهِدَ اﷲُ لِنَفْسِهِ وَشَهِدَتْ لَهُ مَلائِکَتُهُ وَأُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِهِ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ

جیسا کہ خدا نے اپنے لیے گواہی دی اسکے ساتھ اسکے فرشتے اور اسکی مخلوق میں سے صاحبان علم بھی گواہ ہیںکہ کوئی معبود نہیں مگر وہی

الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ الْمُنْتَجَبُ وَرَسُولُهُ الْمُرْتَضَی أَرْسَلَهُ بِالْهُدَی

جو زبردست ہے حکمت والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص)اسکے برگزیدہ بندے اور اسکے پسند کردہ رسول(ص) ہیں جن کو اس نے ہدایت

وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکوُنَ وَأَشْهَدُ أَنَّکُمُ الْاََئِمَّةُ

اور سچے دین کیساتھ بھیجاتا کہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دیں اگر چہ مشرک پسند نہ بھی کریں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام ہیں

الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ

ہدایت والے سنورے ہوئے گناہ سے بچائے ہوئے بزرگیوں والے اس سے نزدیک تر پرہیز گار صدق والے چنے ہوئے

الْمُصْطَفُونَ الْمُطِیعُونَ لِلّٰهِ الْقَوَّامُونَ بِأَمْرِهِ الْعامِلونَ بِ إرَادَتِهِ الْفائِزُونَ بِکَرَامَتِهِ

خدا کے اطاعت گزار اس کے حکم پر کمر بستہ اس کے ارادے پر عمل کرنیوالے اور اس کی مہربانی سے کامیاب ہیں

اصْطَفاکُمْ بِعِلْمِهِ وَارْتَضاکُمْ لِغَیْبِهِ وَاخْتارَکُمْ لِسِرِّهِ وَاجْتَباکُمْ بِقُدْرَتِهِ وَأَعَزَّکُمْ

کہ اس نے اپنے علم کیلئے آپ (ع)کو چنا اپنے غیب کیلئے آپکو پسند کیا اپنے راز کیلئے آپکو منتخب کیا اپنی قدرت سے آپکو اپنا بنایا اپنی

بِهُداهُ وَخَصَّکُمْ بِبُرْهانِهِ وَانْتَجَبَکُمْ لِنُورِهِ وَأَیَّدَکُمْ بِرُوحِهِ وَرَضِیَکُمْ خُلَفائَ فِی أَرْضِهِ

ہدایت سے عزت دی اور اپنی دلیل کیلئے خاص کیااس نے آپکو اپنے نور کیلئے چنا روح القدس سے آپکو قوت دی اپنی زمین میں آپ کو اپنا نائب قرار دیا

وَحُجَجاً عَلَی بَرِیَّتِهِ وَأَنْصاراً لِدِینِهِ وَحَفَظَةً لِسِرِّهِ وَخَزَنَةً لِعِلْمِهِ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِهِ

اپنی مخلوق پر اپنی حجتیں بنایا اپنے دین کے ناصر اور اپنے راز کے نگہدار اور اپنے علم کے خزینہ دار بنایا اپنی حکمت انکے سپرد کی آپ (ع)کو اپنی

وَتَرَاجِمَةً لِوَحْیِهِ وَأَرْکاناً لِتَوْحِیدِهِ وَشُهَدائَ عَلَی خَلْقِهِ وَأَعْلاماً لِعِبادِهِ وَمَناراً فِی بِلادِهِ

وحی کے ترجمان اور اپنی توحید کا مبلغ بنایا اس نے آپکو اپنی مخلوق پر گواہ قرار دیا اپنے بندوں کیلئے نشان منزل اپنے شہروں کی روشنی

وَأَدِلاَّئَ عَلَی صِرَاطِهِ عَصَمَکُمُ اﷲُ مِنَ الزَّلَلِ وَآمَنَکُمْ مِنَ الْفِتَنِ وَطَهَّرَکُمْ مِنَ الدَّنَسِ

اور اپنے راستے کے رہبر قرار دیاخدا نے آپکو خطائوں سے بچایا فتنوں سے محفوظ کیا اور ہر آلودگی سے صاف رکھا آلائش آپ سے دور کر دی

وَأَذْهَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَکُمْ تَطْهِیراً فَعَظَّمْتُمْ جَلالَهُ وَأَکْبَرْتُمْ شَأْنَهُ وَمَجَّدْتُمْ کَرَمَهُ

اور آپکو پاک رکھا جیسے پاک رکھنے کا حق ہے پس آپ نے اسکے جلال کی بڑائی کی اسکے مقام کو بلند جانااسکی بزرگی کی توصیف کی اس

وَأَدَمْتُمْ ذِکْرَهُ وَوَکَّدْتُمْ مِیثاقَهُ وَأَحْکَمْتُمْ عَقْدَ طاعَتِهِ وَنَصَحْتُمْ لَهُ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ

کے ذکر کو جاری رکھا اسکے عہد کوپختہ کیا اسکی فرمانبرداری کے عقیدے کو محکم بنایا آپ نے پوشیدہ و ظاہر اسکا ساتھ دیا اور اس کے

وَدَعَوْتُمْ إلَی سَبِیلِهِ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَبَذَلْتُمْ أَنْفُسَکُمْ فِی مَرْضاتِهِ وَصَبَرْتُمْ

سیدھے راستے کی طرف لوگوںکو دانشمندی اور بہترین نصیحت کے ذریعے بلایا آپ نے اس کی رضا کیلئے اپنی جانیں قربان کیں اور

عَلَی مَا أَصابَکُمْ فِی جَنْبِهِ وَأَقَمْتُمُ الصَّلاهَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتُمْ عَنِ

اسکی راہ میں آپکو جو دکھ پہنچے انکو صبر سے جھیلا آپ نے نماز قائم کی اور زکواۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا برے کاموں

الْمُنْکَرِوَجاهَدْتُمْ فِی اﷲِ حَقَّ جِهادِهِ حَتَّی أَعْلَنْتُمْ دَعْوَتَهُ وَبَیَّنْتُمْ فَرائِضَهُ وَأَقَمْتُمْ حُدُودَهُ

سے منع فرمایا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا چنانچہ آپ نے اسکاپیغام عام کیا اسکے عائد کردہ فرائض بتائے اور اسکی مقررہ حدیں

وَنَشَرْتُمْ شَرائِعَ أَحْکامِهِ وَسَنَنْتُمْ سُنَّتَهُ وَصِرْتُمْ فِی ذلِکَ مِنْهُ إلَی الرِّضا وَسَلَّمْتُمْ لَهُ

جاری کیں آپ(ع) نے اسکے احکام بیان کیے اسکے طریقے رائج کیے اور اس میں آپ اسکی رضا کے طالب ہوئے آپ(ع) نے اسکے ہر فیصلے

الْقَضائَ وَصَدَّقْتُمْ مِنْ رُسُلِهِ مَنْ مَضَیٰ فَالرَّاغِبُ عَنْکُمْ مارِقٌ وَاللاَّزِمُ لَکُمْ لاحِقٌ

کو تسلیم کیا اور آپ نے اسکے گذشتہ پیغمبروں کی تصدیق کی پس آپ سے ہٹنے والا دین سے نکل گیا آپکا ہمراہی دیندار رہا اور آپکے

وَالْمُقَصِّرُ فِی حَقِّکُمْ زاهِقٌ وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَفِیکُمْ وَمِنْکُمْ وَ إلَیْکُمْ وَأَنْتُمْ

حق کو کم سمجھنے والا نابود ہواحق آپ(ع) کیساتھ ہے آپ(ع) میں ہے آپ(ع) کیطرف سے ہے آپ(ع) کیطرف آیا ہے آپ حق والے ہیں اور مرکز

أَهْلُهُ وَمَعْدِنُهُ وَمِیراثُ النُّبُوَّةِ عِنْدَکُمْ وَ إیابُ الْخَلْقِ إلَیْکُمْ وَحِسابُهُمْ عَلَیْکُمْ وَفَصْلُ

حق ہیں نبوت کا ترکہ آپ(ع) کے پاس ہے لوگوں کی واپسی آپ(ع) کی طرف اور ان کا حساب آپ کو لینا ہے آپ حق و باطل

الْخِطابِ عِنْدَکُمْ وَآیاتُ اﷲِ لَدَیْکُمْ وَعَزائِمُهُ فِیکُمْ وَنُورُهُ وَبُرْهانُهُ عِنْدَکُمْ وَأَمْرُهُ إلَیْکُمْ

کا فیصلہ کرنے والے ہیں خدا کی آیتیں اور اسکے ارادے آپکے دلوں میں ہیں اسکا نور اور محکم دلیل آپکے پاس ہے اور اسکا حکم آپکی طرف آیا ہے

مَنْ والاکُمْ فَقَدْ والَی اﷲَ وَمَنْ عاداکُمْ فَقَدْ عادَی اﷲَ وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ اﷲَ وَمَنْ

آپکا دوست خدا کا دوست اور جو آپکا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے

أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ اﷲَ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاﷲِ أَنْتُمُ الصِّراطُ الْاََقْوَمُ وَشُهَدائُ

آپ(ع) سے نفرت کی اس نے خدا سے نفرت کی اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ خدا سے وابستہ ہوا کیونکہ آپ سیدھا راستہ دنیا میں لوگوں

دارِ الْفَنائِ وَشُفَعائُ دارِ الْبَقائِ وَالرَّحْمَةُ الْمَوْصُولَةُ وَالْاَیَةُ الْمَخْزُونَةُ وَالْاََمانَةُ الْمَحْفُوظَةُ

پر شاہد و گواہ اور آخرت میں شفاعت کرنے والے ہیں آپ ختم نہ ہونے والی رحمت محفوظ شدہ آیت سنبھالی ہوئی امانت

وَالْبابُ الْمُبْتَلَیٰ بِهِ النَّاسُ مَنْ أَتَاکُمْ نَجَا وَمَنْ لَمْ یَأْتِکُمْ هَلَکَ إلَی اﷲِ تَدْعُونَ

اور وہ راستہ ہیں جس سے لوگ آزمائے جاتے ہیں جو آپکے پاس آیا نجات پاگیا اور جو ہٹا رہا وہ تباہ ہو گیا آپ خدا کیطرف بلانے والے

وَعَلَیْهِ تَدُلُّونَ وَبِهِ تُؤْمِنُونَ وَلَهُ تُسَلِّمُونَ وَبِأَمْرِهِ تَعْمَلُونَ وَ إلَی سَبِیلِهِ تُرْشِدُونَ

اور اسکی طرف رہبری کرنے والے ہیں آپ اس پر ایمان رکھتے اور اسکے فرمانبردار ہیں آپ اسکا حکم ماننے والے اسکے راستے کی طرف لے جانے والے

وَبِقَوْلِهِ تَحْکُمُونَ سَعَدَ مَنْ والاکُمْ وَهَلَکَ مَنْ عاداکُمْ وَخابَ مَنْ جَحَدَکُمْ

اور اسکے حکم سے فیصلہ دینے والے ہیں کامیاب ہوا وہ جو آپکا دوست ہے ہلاک ہوا وہ جو آپکا دشمن ہے اور خوار ہواوہ جس نے آپکا انکار کیا

وَضَلَّ مَنْ فارَقَکُمْ وَفازَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکُمْ وأَمِنَ مَنْ لَجَأَ إلَیْکُمْ وَسَلِمَ مَنْ

گمراہ ہوا وہ جو آپ(ع) سے جدا ہوا اور بامراد ہوا وہ جو آپکے ہمراہ رہا اور اسے امن ملا جس نے آپکی پناہ لی سلامت رہا وہ جس نے

صَدَّقَکُمْ وَهُدِیَ مَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ مَنِ اتَّبَعَکُمْ فَالْجَنَّةُ مَأْواهُ وَمَنْ خالَفَکُمْ

آپکی تصدیق کی اور ہدایت پاگیا وہ جس نے آپکا دامن پکڑاجس نے آپکی اتباع کی اسکا مقام جنت ہے اور جس نے آپکی نافرمانی

فَالنَّارُ مَثْواهُ وَمَنْ جَحَدَکُمْ کافِرٌ وَمَنْ حارَبَکُمْ مُشْرِکٌ وَمَنْ رَدَّ عَلَیْکُمْ فِی أَسْفَلِ

کی اسکا ٹھکانا جہنم ہے جس نے آپکا انکار کیا وہ کافر ہے جس نے آپ(ع) سے جنگ کی وہ مشرک ہے اور جس نے آپکو غلط قرار دیا وہ

دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ أَشْهَدُ أَنَّ هذَا سابِقٌ لَکُمْ فِیما مَضیٰ وَجارٍ لَکُمْ فِیما بَقِیَ

جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مقام آپکو گذشتہ زمانے میں حاصل تھااورآیندہ زمانے میں بھی حاصل رہے گا

وَأَنَّ أَرْواحَکُمْ وَنُورَکُمْ وَطِینَتَکُمْ واحِدَةٌ طابَتْ وَطَهُرَتْ بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ

بے شک آپ(ع) سب کی روحیں آپکے نور اور آپکی اصل ایک ہے جو خوش آیند اور پاکیزہ ہے کہ آپ(ع) میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں

خَلَقَکُمُ اﷲُ أَنْواراً فَجَعَلَکُمْ بِعَرْشِهِ مُحْدِقِینَ حَتّی مَنَّ عَلَیْنا بِکُمْ فَجَعَلَکُمْ فِی بُیُوتٍ أَذِنَ

خدا نے آپکو نور کی شکل میںپیدا کیا پھر آپ(ع) سب کو اپنے عرش کے اردگرد رکھا حتیٰ کہ ہم پر احسان کیا اور آپکو بھیجا پس آپکو ان

اﷲُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ وَجَعَلَ صَلاتَناعَلَیْکُمْ وَمَا خَصَّنا بِهِ مِنْ

گھروں میں رکھا جنکو خدا نے بلند کیااور ان میں اسکا نام لیا جاتا ہے اس نے آپ(ع) پر ہمارے درود وسلام قرار دیئے اس سے ہمیں

وِلایَتِکُمْ طِیباً لِخَلْقِنا وَطَهارَةً لاََِنْفُسِنا وَتَزْکِیَةً لَنا وَکَفَّارَةً لِذُنُوبِنا

آپکی ولایت میں خصوصیت دی اسے ہماری پاکیزہ پیدائش ہمارے نفسوں کی صفائی ہمارے باطن کی درستی کا ذریعہ اور گناہوں کا کفارہ بنایا

فَکُنَّا عِنْدَهُ مُسَلِّمِینَ بِفَضْلِکُمْ وَمَعْرُوفِینَ بِتَصْدِیقِنا إیَّاکُمْ فَبَلَغَ اﷲُ بِکُمْ أَشْرَفَ مَحَلِّ

پس ہم اسکے حضور آپکی فضیلت کو ماننے والے اور آپکی تصدیق کرنے والے قرار پاگئے ہیں ہاں خدا آپکو صاحبان عظمت کے بلند مقام پر پہنچائے

الْمُکَرَّمِینَ وَأَعْلَی مَنازِلِ المُقَرَّبِینَ وَأَرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلِینَ حَیْثُ لاَ یَلْحَقُهُ لاحِقٌ وَلاَ

اور اپنے مقربین کی بلند منزلوںتک لے جائے اور اپنے پیغمبروں کے اونچے مراتب عطا کرے اسطرح کہ پیچھے والا وہاں نہ پہنچے کوئی

یَفُوقُهُ فائِقٌ وَلاَ یَسْبِقُهُ سابِقٌ وَلاَ یَطْمَعُ فِی إدْرَاکِهِ طامِعٌ حَتَّی لاَ یَبْقَیٰ مَلَکٌ

اوپر والا اس مقام سے بلند نہ ہوا اور کوئی آگے والا آگے نہ بڑھے اور کوئی طمع کرنے والا اس مقام کی طمع نہ کرے یہاں تک کہ باقی نہ

مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ صِدِّیقٌوَلاَ شَهِیدٌ وَلاَ عالِمٌ وَلاَ جاهِلٌ وَلاَ دَنِیٌّ وَلاَ فاضِلٌ وَلاَ

رہے کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی نبی مرسل نہ کوئی صدیق اور نہ شہید نہ کوئی عالم اور نہ جاہل نہ کوئی پست اور نہ کوئی بلند نہ کوئی

مُؤْمِنٌ صالِحٌ وَلاَ فاجِرٌ طالِحٌ وَلاَ جَبَّارٌ عَنِیدٌ وَلاَ شَیْطانٌ مَرِیدٌ وَلاَ خَلْقٌ فِیما بَیْنَ ذلِکَ

نیک مؤمن اور نہ کوئی فاسق و فاجر اور گناہ گار نہ کوئی ضدی سرکش اور نہ کوئی مغرور شیطان اور نہ ہی کوئی اور مخلوق گواہی دے سوائے

شَهِیدٌ إلاَّ عَرَّفَهُمْ جَلالَةَ أَمْرِکُمْ وَعِظَمَ خَطَرِکُمْ وَکِبَرَ شَأْنِکُمْ وَتَمامَ نُورِکُمْ وَصِدْقَ

اسکے کہ وہ انکو آپکی شان سے آگاہ کرے آپکے مقام کی بلندی آپکی شان کی بڑائی آپکے نور کی کاملیت آپکے درست درجات آپ

مَقاعِدِکُمْ وَثَباتَ مَقامِکُمْ وَشَرَفَ مَحَلِّکُمْ وَمَنْزِلَتِکُمْ عِنْدَهُ وَکرامَتَکُمْ عَلَیْهِ وَخاصَّتَکُمْ

کے مراتب کی ہمیشگی آپکے خاندانکی بزرگی اسکے ہاں آپکے مقام اس کے سامنے آپ(ع) کی بزرگواری اس کے ساتھ آپ(ع) کی خصوصیت

لَدَیْهِ وَقُرْبَ مَنْزِلَتِکُمْ مِنْهُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَأَهْلِی وَمالِی وَأُسْرَتِی أُشْهِدُ اﷲَ

اور اس سے آپکے مقام کے قرب کی گواہی دے میرے ماں باپ میرا گھر میرا مال اور میرا خاندان آپ(ع) پر قربان میں گواہ بناتا ہوں

وَأُشْهِدُکُمْ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِکُمْ وَبِما آمَنْتُمْ بِهِ کافِرٌ بِعَدُوِّکُمْ وَبِما کَفَرْتُمْ بِهِ

خدا کو اور آپکو کہ اس پر میں ایمان رکھتا ہوں جس پر آپ(ع) ایمان رکھتے ہیں منکر ہوں آپکے دشمن کا اور جس چیز کا آپ انکار کرتے ہیں

مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِکُمْ وَبِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکُمْ مُوالٍ لَکُمْ وَلاََِوْلِیائِکُمْ مُبْغِضٌ

آپکی شان کو جانتا ہوں اور آپکے مخالف کی گمراہی کو سمجھتا ہوں محبت رکھتا ہوں آپ(ع) سے اور آپکے دوستوںسے نفرت کرتا ہوں

لاََِعْدائِکُمْ وَمُعادٍ لَهُمْ سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ

آپکے دشمنوں سے اور انکا دشمن ہوں میری صلح ہے اس سے جو آپ(ع) سے صلح رکھے اورجنگ ہے اس سے جو آپ(ع) سے جنگ کرے

مُحَقِّقٌ لِما حَقَّقْتُمْ مُبْطِلٌ لِمَا أَبْطَلْتُمْ مُطِیعٌ لَکُمْ عارِفٌ بِحَقِّکُمْ

حق کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) حق کہیں باطل کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) باطل کہیں آپکا فرمانبردار ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں آپکی بڑائی

مُقِرٌّ بِفَضْلِکُمْ مُحْتَمِلٌ لِعِلْمِکُمْ مُحْتَجِبٌ بِذِمَّتِکُمْ مُعْتَرِفٌ بِکُمْ مُؤْمِنٌ بِ إیابِکُمْ

کو مانتا ہوں آپکے علم کا معتقد ہوںآپکی ولایت میں پناہ گزین ہوں آپکی ذات کا اقرار کرتا ہوں آپکے بزرگان کا معتقد ہوں آپکی

مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِکُمْ مُنْتَظِرٌ لاََِمْرِکُمْ مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِکُمْ آخِذٌ بِقَوْلِکُمْ عامِلٌ

رجعت کی تصدیق کرتا ہوں آپکے دور کا منتظر ہوں آپکی حکومت کا انتظار کرتا ہوں آپ(ع) کے قول کو قبول کرتا ہوں آپ(ع) کے حکم پر عمل

بِأَمْرِکُمْ مُسْتَجِیرٌ بِکُمْ زائِرٌ لَکُمْ لائِذٌ عائِذٌ بِقُبُورِکُمْ مُسْتَشْفِعٌ إلَی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ بِکُمْ

کرتا ہوں آپکی پناہ میں ہوںآپکی زیارت کو آیا ہوں آپکے مقبرے میں پوشیدہ ہو کر پناہ لی ہے خدا کے حضور آپکو اپنا سفارشی بناتا ہوں

وَمُتَقَرِّبٌ بِکُمْ إلَیْهِ وَمُقَدِّمُکُمْ أَمامَ طَلِبَتِی وَحَوَائِجِی وَ إرادَتِی فِی کُلِّ أَحْوالِی وَأُمُورِی

آپکے ذریعے اسکا قرب چاہتا ہوں آپکو اپنی ضرورتوں حاجتوں اور ارادوں کا وسیلہ بناتا ہوں اپنے ہر حال اور ہر کام میں اور ایمان

مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ وَشاهِدِکُمْ وَغائِبِکُمْ وَأَوَّلِکُمْ وَآخِرِکُمْ وَمُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ

رکھتا ہوں آپ(ع) میں سے نہاں اور عیاں پر آپ(ع) میں سے ظاہر اور پوشیدہ پر آپ(ع) میں سے اول اور آخر پر ان تمام امور کیساتھ خود کو

کُلِّهِ إلَیْکُمْ وَمُسَلِّمٌ فِیهِ مَعَکُمْ وَقَلْبِی لَکُمْ مُسَلِّمٌ وَرَأْئِی لَکُمْ تَبَعٌ وَنُصْرَتِی

آپکے سپرد کرتا ہوں اوران میں آپکے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں میرا دل آپکا معتقد ہے میرا ارادہ آپکے تابع ہے میری مدد و نصرت

لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یُحْیِیَ اﷲُ تَعَالی دِینَهُ بِکُمْ وَیَرُدَّکُمْ فِی أَیَّامِهِ وَیُظْهِرَکُمْ لِعَدْلِهِ

آپ کیلئے حاضر ہے یہاں تک کہ خدا آپکے ہاتھوں اپنے دین کو زندہ کرے آپکو اس زمانے میںلے جائے قیام عدل میں آپکی مدد کرے

وَیُمَکِّنَکُمْ فِی أَرْضِهِ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَمَعَ غَیْرِکُمْ آمَنْتُ بِکُمْ وَتَوَلَّیْتُ آخِرَکُمْ

اور آپکو اپنی زمین میں اقتدار دے پس میں صرف آپکے ساتھ ہوں آپکے غیر کیساتھ نہیں آپکا معتقد ہوں اور آپ(ع) میں سے آخری کا محب ہوں

بِمَا تَوَلَّیْتُ بِهِ أَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ إلَی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَمِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ

جیسے آپ(ع) میں سے اول کا محب ہوں میں خدائے عزو جل کیسامنے آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور بیزار ہوں بتوں سے سرکشوں سے

وَالشَّیاطِینِ وَحِزْبِهِمُ الظَّالِمِینَ لَکُمُ الْجاحِدِینَ لِحَقِّکُمْ وَالْمارِقِینَ مِنْ وِلایَتِکُمْ

شیطانوں سے اور انکے گروہ سے جو آپ(ع) پر ظلم کرنے والے آپ(ع) کے حق کا انکار کرنے والے آپ(ع) کی ولایت سے نکل جانے والے

وَالْغاصِبِینَ لاِِِرْثِکُمُ الشَّاکِّینَ فِیکُمُ الْمُنْحَرِفِینَ عَنْکُمْ وَمِنْ کُلِّ وَلِیجَةٍ دُونَکُمْ وَکُلِّ

آپکی وراثت غصب کرنے والے آپ پر شک لانے والے آپ(ع) سے پھر جانے والے ہیں اور بیزار ہوںمیں آپکے سوا ہر جماعت

مُطاعٍ سِواکُمْ وَمِنَ الْاََئِمَّةِ الَّذِینَ یَدْعُونَ إلَی النَّارِ فَثَبَّتَنِیَ اﷲُ أَبَداً

سے آپکے سوا ہر اطاعت کئے والے سے اور ان پیشوائوں سے بیزار ہوں جو جہنم میںلے جانے والے ہیں پس جب تک زندہ ہوں

مَا حَیِیتُ عَلَی مُوالاتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَدِینِکُمْ وَوَفَّقَنِی لِطاعَتِکُمْ وَرَزَقَنِی شَفاعَتَکُمْ

خدا مجھے قائم رکھے آپکی دوستی پر آپکی محبت پر آپکے دین پر اور توفیق دے آپکی پیروی کرنے کی اور آپ(ع) کی شفاعت نصیب کرے

وَجَعَلَنِی مِنْ خِیارِ مَوالِیکُمُ التَّابِعِینَ لِما دَعَوْتُمْ إلَیْهِ وَجَعَلَنِی مِمَّنْ یَقْتَصُّ

خدا مجھ کو آپکے بہترین دوستوں میںرکھے جو اسکی پیروی کرنے والے ہوںجنکی طرف آپ نے دعوت دی اورمجھے ان میں سے قرار

آثارَکُمْ وَیَسْلُکُ سَبِیلَکُمْ وَیَهْتَدِی بِهُداکُمْ وَیُحْشَرُ فِی زُمْرَتِکُمْ وَیَکِرُّ فِی

دے جو آپکے اقوال نقل کرتے ہیں مجھے آپکی راہ پر چلائے آپکی ہدایت سے بہرہ ور کرے آپکے گروہ میں اٹھائے آپکی رجعت

رَجْعَتِکُمْ وَیُمَلَّکُ فِی دَوْلَتِکُمْ وَیُشَرَّفُ فِی عافِیَتِکُمْ وَیُمَکَّنُ فِی أَیَّامِکُمْ وَتَقِرُّ عَیْنُهُ غَداً

میں مجھے بھی لوٹائے آپکی حکومت میں آپکی ریاعا بنائے آپکے دامن میں عزت دے آپکے عہد میںاعلیٰ مقام دے اور ان میں رکھے

بِرُؤْیَتِکُمْ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی مَنْ أَرادَ اﷲَ

جو کل آپکے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کریں گے میرے ماں باپ میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان جو خدا کو چاہے وہ

بَدَأَ بِکُمْ وَمَنْ وَحَّدَهُ قَبِلَ عَنْکُمْ وَمَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِکُمْ مَوالِیَّ لاَ أُحْصِی

آپ(ع) سے ملتا ہے جو اسے یکتا سمجھے وہ آپکی بات مانتا ہے جو اسکی طرف بڑھے وہ آپکا رخ کرتا ہے میرے سردارمیں آپکی تعریف کا

ثَنائَکُمْ وَلاَ أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ کُنْهَکُمْ وَمِنَ الْوَصْفِ قَدْرَکُمْ وَأَنْتُمْ نُورُ الْاََخْیارِ وَهُداةُ

اندازہ نہیں کر سکتا نہ آپکی مدح کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہوں اور نہ آپکی شان کا تصور کرسکتا ہوں آپ شرفائ کا نور نیکو ں کے رہبر خدائے

الْاَبْرارِ وَحُجَجُ الْجَبَّارِبِکُمْ فَتَحَ اﷲُ وَبِکُمْ یَخْتِمُ وَبِکُمْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَبِکُمْ یُمْسِکُ

قادر کی حجتیں ہیں خدا نے آپ(ع) سے آغاز وانجام کیا ہے وہ آپ(ع) کے ذریعے بارش برساتا ہے آپ کے ذریعے آسمان کو

السَّمائَ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاََرْضِ إلاَّ بِ إذْنِهِ وَبِکُمْ یُنَفِّسُ الْهَمَّ وَیَکْشِفُ الضُّرَّوَعِنْدَکُمْ

روکے ہوئے ہے تاکہ زمین پرنہ آ گرے مگر اسکے حکم سے وہ آپ(ع) کے ذریعے غم دور کرتا اور سختی ہٹاتا ہے وہ پیغام آپ(ع) کے پاس ہے

مَا نَزَلَتْ بِهِ رُسُلُهُ وَهَبَطَتْ بِهِ مَلائِکَتُهُ وَ إلی جَدِّکُمْ اگر امیر المؤمنین- کی زیارت پڑھے تو

جو اس کے رسول لائے اور فرشتے جس کو لے کر اترے اور آپ(ع) کے نانا کی طرف

بجائے و إلی جدّکمکے کہے:وَ إلی أخیک بُعِثَ الرُّوحُ الْاََمِینُ آتاکُمُ اﷲُ مَا لَمْ یُؤْتِ

اور آپ(ع) کے نانا کی طرف اور آپ(ع) کے بھائی کے پاس روح الامین آیا خدا نے آپ کو وہ نعمت دی جو جہانوں میں

أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ طَأْطَأَ کُلُّ شَرِیفٍ لِشَرَفِکُمْ وَبَخَعَ کُلُّ مُتَکَبِّرٍ لِطاعَتِکُمْ وَخَضَعَ کُلُّ

کسی کو نہ دی ہر بڑائی والا آپ(ع) کی بڑائی کے آگے جھکتا ہے ہر مغرور آپ(ع) کا حکم مانتا ہے ہر زبردست آپ(ع) کی فضلیت کے سامنے

جَبَّارٍ لِفَضْلِکُمْ وَذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لَکُمْ وَأَشْرَقَتِ الْاََرْضُ بِنُورِکُمْ وَفازَ الْفائِزُونَ بِوِلایَتِکُمْ

خم ہوتا ہے ہر چیز آپکے آگے پست ہے زمین آپ(ع) کے نور سے چمکتی ہے کامیابی پانے والے آپ(ع) کی ولایت سے کامیابی پاتے ہیں

بِکُمْ یُسْلَکُ إلَی الرِّضْوانِ وَعَلَی مَنْ جَحَدَ وِلایَتَکُمْ غَضَبُ الرَّحْمٰنِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی

کہ آپ(ع) کے ذریعے رضائ الہی حاصل کرتے ہیں اور جو آپ(ع) کی ولایت کے منکر ہیں ان پر خدا کا غضب آتا ہے میرے ماں باپ

وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمَالِی ذِکْرُکُمْ فِی الذَّاکِرِینَ وَأَسْماؤُکُمْ فِی الْاََسْمائِ وَأَجْسادُکُمْ فِی

میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان آپکا ذکر ہے ذکر کرنے والوں میں ہے آپکے نام ناموں میں خاص ہیں آپکے جسم اعلیٰ ہیں

الْاَجْسادِ وَأَرْواحُکُمْ فِی الْاََرْواحِ وَأَنْفُسُکُمْ فِی النُّفُوسِ وَآثارُکُمْ فِی الْاَثارِ وَقُبُورُکُمْ

جسموں میں آپکی روحیںبہترین ہیں روحوں میں آپکے دل پاکیزہ ہیں دلوں میں آپ(ع) کے نشان عمدہ ہیں نشانوں میں اور آپ(ع) کی

فِی الْقُبُورِ فَمَا أَحْلَی أَسْمائَکُمْ وَأَکْرَمَ أَنْفُسَکُمْ وَأَعْظَمَ شَأْنَکُمْ وَأَجَلَّ خَطَرَکُمْ وَأَوْفَی

قبریں پاک ہیںقبروں میں پس کتنے پیارے ہیں آپکے نام کتنے گرامی ہیںآپکے نفوس آپکی شان بلند ہے آپکا مقام عظیم ہے آپکا

عَهْدَکُمْ وَأَصْدَقَ وَعْدَکُمْ کَلامُکُمْ نُورٌ وَأَمْرُکُمْ رُشْدٌ وَوَصِیَّتُکُمُ التَّقْوَی وَفِعْلُکُمُ الْخَیْرُ

پیمان پورا ہونے والا اور آپ(ع) کا وعدہ سچا ہے آپ(ع) کا کلام روشن آپ(ع) کے حکم میں ہدایت آپ(ع) کی وصیت پرہیز گاری آپ(ع) کا فعل عمدہ

وَعادَتُکُمُ الْاِحْسانُ وَسَجِیَّتُکُمُ الْکَرَمُ وَشَأْنُکُمُ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکُمْ حُکْمٌ

آپ(ع) کی عادت پسندیدہ آپ(ع) کے اطوار میں بزرگواری آپ(ع) کی شان سچائی راستی اور ملائمت ہے آپ(ع) کا قول مضبوط و یقینی ہے

وَحَتْمٌ وَرَأْیُکُمْ عِلْمٌ وَحِلْمٌ وَحَزْمٌ إنْ ذُکِرَ الْخَیْرُ کُنْتُمْ أَوَّلَهُ وَأَصْلَهُ وَفَرْعَهُ وَمَعْدِنَهُ وَمَأْواهُ

آپکی رائے میں نرمی اور پختگی ہے اگر نیکی کا ذکر ہو تو آپ(ع) اس میں اول اسکی جڑ اسکی شاخ اس کا مرکز اس کا ٹھکانہ اور اس کی انتہا ہیں

وَمُنْتَهاهُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی کَیْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنائِکُمْ وَأُحْصِی جَمِیلَ بَلائِکُمْ

قربان آپ(ع) پر میرے ماں باپ اور میری جان کسطرح میںآپکی زیبا تعریف و توصیف کروں اور آپکی بہترین آزمائشوں کا تصور کروں

وَبِکُمْ أَخْرَجَنَا اﷲُ مِنَ الذُّلِّ وَفَرَّجَ عَنَّا غَمَراتِ الْکُرُوبِ وَأَنْقَذَنا مِنْ شَفا جُرُفِ الْهَلَکاتِ

کہ خدا نے آپکے ذریعے ہمیں خواری سے بچایا ہمارے رنج و غم کو دور فرمایا اور ہمیں تباہی کی وادی سے نکالا اور جہنم کی آگ سے آزاد

وَمِنَ النَّارِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی بِمُوالاتِکُمْ عَلَّمَنَا اﷲُ مَعالِمَ دِینِنا وَأَصْلَحَ مَا کانَ

کیا میرے ماں باپ اور میری جان آپ(ع) پر قربان آپ(ع) کی دوستی کے وسیلے سے خدا نے ہمیں دینی تعلیمات عطا کی اور ہماری دنیا کے

فَسَدَ مِنْ دُنْیانا وَبِمُوالاتِکُمْ تَمَّتِ الْکَلِمَةُ وَعَظُمَتِ النِّعْمَةُ وَایْتَلَفَتِ الْفُرْقَةُ وَ بِمُوالاتِکُمْ

بگڑے کام سنوار دیے آپ(ع) کی ولایت کی بدولت کلمہ مکمل ہوا نعمتیں بڑھ گئیں اور آپس کی دوریاں مٹ گئیں آپ(ع) کی دوستی کے

تُقْبَلُ الطَّاعَةُ الْمُفْتَرَضَةُ وَلَکُمُ الْمَوَدَّةُ الْواجِبَةُ وَالدَّرَجاتُ الرَّفِیعَةُ وَالْمَقامُ الْمَحْمُودُ

باعث اطاعت واجبہ قبول ہوتی ہے آپ(ع) سے محبت رکھنا واجب ہے خدائے عزو جل کے ہاں آپ کیلئے بلند درجے پسندیدہ مقام اور

وَالْمَکانُ الْمَعْلُومُ عِنْدَ اﷲِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْجاهُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَةُ الْمَقْبُولَةُ

اونچا مرتبہ ہے نیز اس کے حضور آپ(ع) کی بڑی عزت ہے بہت اونچی شان ہے اور آپ(ع) کی شفاعت قبول شدہ ہے

رَبَّنا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ

اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے

رَبَّنا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ

اے ہمارے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ ہونے دے جب کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنی طرف سے رحمت عطاکر بے شک تو

الْوَهَّابُ سُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً یَا وَلِیَّ اﷲِ إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ

بہت عطا کرنے والا ہے پاک تر ہے ہمارا رب یقینا ہمارے رب کاوعدہ پورا ہو گا اے ولی خدا بے شک میرے اور خدائے عز و جل

اﷲِ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً لاَ یَأْتِی عَلَیْها إلاَّ رِضاکُمْ فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکُمْ عَلَی سِرِّهِ وَاسْتَرْعاکُمْ

کے درمیان گناہ حائل ہیں جو آپ(ع) چاہیں تومعاف ہو سکتے ہیں پس واسطہ اس کا جس نے آپ کو اپنا راز داں بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ

أَمْرَ خَلْقِهِ وَقَرَنَ طاعَتَکُمْ بِطاعَتِهِ لَمَّا اسْتَوْهَبْتُمْ ذُنُوبِی وَکُنْتُمْ شُفَعائِی

آپکو سونپا آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ واجب قرار دی آپ میرے گناہ معاف کروائیں اور میرے سفارشی بن جائیں کہ

فَ إنِّی لَکُمْ مُطِیعٌ مَنْ أَطاعَکُمْ فَقدْ أَطاعَ اﷲَ وَمَنْ عَصَاکُمْ فَقَدْ عَصَی اﷲَ

یقیناً میں آپکا پیرو کارہوں جس نے آپکی پیروی کی تو اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جس نے آپکی نافرمانی کی خدا کی نافرمانی کی

وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ اﷲَ وَمَنْ أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ اﷲَ اَللّٰهُمَّ إنِّی لَوْ

جس نے آپ(ع) سے محبت کی تو اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ(ع) سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اے معبود یقیناً جب

وَجَدْتُ شُفَعائَ أَقْرَبَ إلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الْاََخْیارِ الاََئِمَّةِ الاََبْرارِ لَجَعَلْتُهُمْ

میں نے ایسے سفارشی پا لیے ہیں جو تیرے مقرب ہیںیعنی حضرت محمد(ص) اور انکے اہلبیت(ع) جو نیک اور خوش کردار امام(ع) ہیں ضرور میں نے

شُفَعائِی فَبِحَقِّهِمْ الَّذِی أوْجَبْتَ لَهُم عَلَیْکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَنِی فِی

انہیں اپنے سفارشی بنایا ہے پس انکے حق کے واسطے سے جو تو نے خود پر لازم کرر کھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں

جُمْلَةِ الْعارِفِینَ بِهِمْ وَبِحَقِّهِمْ وَفِی زُمْرَةِ الْمَرْحُومِینَ بِشَفاعَتِهِمْ إنَّکَ

داخل فرما جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیںاور مجھے اس گروہ میں رکھ جس پر انکی سفارش سے رحم کیا گیا ہے بے شک تو

أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی اﷲُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراًوَحَسْبُنَا

سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور خدا محمد(ص) پر اور انکی پاکیزہ آل(ع) پر درود بھیجے اور بہت بہت سلام بھیجے سلام اور کافی ہے ہمارے لیے

اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ

خدا جو بہترین کارساز ہے۔

زیارت امین اللہ اور اس کی فضیلت

تین جھت کی وجہ سے زیارت امین اللہ کو ذکر کرتاہوں

۱ ۔ جیسا کہ حضرت امام محمد باقر نے فرمایا ہے کہ جو بھی اس زیارت کو پڑھ لے نور سے لکھا ہوا ایک خط حضرت صاحب الزمان کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔

۲ ۔ زیارت امین اللہ وہ زیارت ہے جس کو حضرت امام زمان نے پڑھا ہے جیسا کہ حاج علی بغدادی کے تشریف میں تفریح ہوئی ہے۔

۳ ۔ آنحضرت نے اس زیارت کو تمام زیارات سے افضل جانا ہے۔

مہم مطلب کہ جو اس واقعہ سے استفادہ ہوتاہے وہ یہ ہے کہ زیارت امین اللہ زیارات جامعہ میں سے ہے یعنی ائمہ طاہرین کے تمام حرم میں پڑھی جاتی ہے جس طرح حضرت امام زمان نے اس زیارت کو کاظمین کے حرم میں پرھا

محدث بزرگوار مرحوم محدث قمی کہتے ہیں جو زیارت امین اللہ کے نام سے مشہور ہوئی یہ وہ معتبر زیارات ہے کہ تمام مزار کی کتابوں میں اور مصابیح میں نقل ہوئی ہے۔

علامہ مجلسی اس زیارت کے بارے میں فرماتے ہیں یہ زیارت متن اور سند کے اعتبار سے سب سے بہترین زیارت ہے۔ تمام مقدس روضوعں میں اور حرموں میں ہمیشہ پابندی کے ساتھ پڑھی جائے یہ زیارت معتبر سندوں کے ساتھ جابر سے اس نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ حضرت امام محمد باقر نے فرمایا: امام زین العابدین حضرت امیرالمومنین کے قبر مطہر کے پاس کھڑے ہوگئے اور گریہ کیا اور اس شزیارت میں حضرت نے اس طرح فرمایا:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ اﷲِ فِی أَرْضِهِ، وَحُجَّتَهُ عَلَی عِبادِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ

آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین اور اس کے بندوں پر اس کی حجت سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے

الْمُوَْمِنِینَ، أَشْهَدُ أَنَّکَ جاهَدْتَ فِی اﷲِ حَقَّ جِهادِهِ وَعَمِلْتَ بِکِتابِهِ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ

سردار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیااس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبی(ص) کی سنتوں کی پیروی کی

نَبِیِّهِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتّی دَعاکَ اﷲُ إلی جِوارِهِ فَقَبَضَکَ إلَیْهِ بِاخْتِیارِهِ

خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل(ع) پر پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی اور آپ کے

وَأَلْزَمَ أَعْدائَکَ الْحُجَّةَ مَعَ مَا لَکَ مِنَ الْحُجَجِ الْبالِغَةِ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِهِ اَللّٰهُمَّ

دشمنوں پر حجت قائم کی جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں اے اللہ میرے

فَاجْعَلْ نَفْسِی مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِکَ، راضِیَةً بِقَضائِکَ، مُولَعَةً بِذِکْرِکَ وَدُعائِکَ، مُحِبَّةً

نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میںحریص ہو تیرے برگزیدہ

لِصَفْوَةِ أَوْلِیائِکَ، مَحْبُوبَةً فِی أَرْضِکَ وَسَمائِکَ، صابِرَةً عَلَی نُزُولِ بَلائِکَ

دوستوں سے محبت کرنے والا تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو تیری

شاکِرَةً لِفَواضِلِ نَعْمائِکَ، ذاکِرَةً لِسَوابِغِ آلائِکَ، مُشْتاقَةً إلی فَرْحَةِ لِقائِکَ،

بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ

مُتَزَوِّدَةً التَّقْویٰ لِیَوْمِ جَزائِکَ، مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ أَوْلِیائِکَ، مُفارِقَةً لاََِخْلاقِ أَعْدائِکَ،

بنانے والا ہو تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور اور دنیا سے بچ بچا کر

مَشْغُولَةً عَنِ الدُّنْیا بِحَمْدِکَ وَثَنائِکَ

تیری حمد و ثنائ میں مشغول رہنے والا ہو۔

پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:

اَللّٰهُمَّ إنَّ قُلُوبَ الْمُخْبِتِینَ إلَیْکَ والِهَةٌ وَسُبُلَ الرَّاغِبِینَ إلَیْکَ شارِعَةٌ، وَأَعْلامَ

اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیںشوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں تیرا قصد

الْقاصِدِینَ إلَیْکَ واضِحَةٌ، وَأَفْئِدَةَ الْعارِفِینَ مِنْکَ فازِعَةٌ، وَأَصْواتَ الدَّاعِینَ إلَیْکَ

کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں

صاعِدَةٌ وَأَبْوابَ الْاِجابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ وَدَعْوَةَ مَنْ ناجاکَ مُسْتَجابَةٌ وَتَوْبَةَ مَنْ أَنابَ

بلند ہیں اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے جو تیری طرف پلٹ

إلَیْکَ مَقْبُولَةٌ، وَعَبْرَةَ مَنْ بَکَیٰ مِنْ خَوْفِکَ مَرْحُومَةٌ، وَالْاِغاثَةَ لِمَنِ اسْتَغاثَ بِکَ

آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے جو تجھ سے فریاد کرے اس کے

مَوْجُودَةٌ، وَالْاِعانَةَ لِمَنِ اسْتَعانَ بِکَ مَبْذُولَةٌ، وَعِدٰاتِکَ لِعِبادِکَ مُنْجَزَةٌ، وَزَلَلَ مَنِ

لئے داد رسی موجود ہے جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں

اسْتَقالَکَ مُقالَةٌ وَأَعْمالَ الْعامِلِینَ لَدَیْکَ مَحْفُوظَةٌ وَأَرْزاقَکَ إلَی الْخَلائِقِ مِنْ لَدُنْکَ

تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں مخلوقات کے لئے رزق

نازِلَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ إلَیْهِمْ واصِلَةٌ، وَذُنُوبَ الْمُسْتَغْفِرِینَ مَغْفُورَةٌ، وَحَوائِجَ

و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں طالبان بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ساری

خَلْقِکَ عِنْدَکَ مَقْضِیَّةٌ، وَجَوائِزَ السَّائِلِینَ عِنْدَکَ مُوَفَّرَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ مُتَواتِرَةٌ

مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے اور پے در پے عطائیں

وَمَوائِدَ الْمُسْتَطْعِمِینَ مُعَدَّةٌ، وَمَناهِلَ الظِّمائِ مُتْرَعَةٌ اَللّٰهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعائِی

ہوتی ہیں کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے

وَاقْبَلْ ثَنائِی، وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَ أَوْ لِیائِی، بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ

اس ثنائ کو پسند فرما مجھے میرے اولیائ کے ساتھ جمع کر دے کہ واسطہ دیتا ہوں محمد(ص) و علی (ع)و فاطمہ﴿س﴾

وَالْحُسَیْنِ إنَّکَ وَ لِیُّ نَعْمائِی، وَمُنْتَهَیٰ مُنایَ، وَغایَةُ رَجائِی فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوَایَ

و حسن(ع) و حسین(ع) کا بے شک تو مجھے نعمتیں دینے والادنیاو آخرت میں میری آرزوؤں کی انتہائ میری امیدوں کا مرکز۔

کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے :

أَنْتَ إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ اغْفِرْ لاََِوْ لِیائِنا، وَکُفَّ عَنَّا أَعْدائَنا، وَاشْغَلْهُمْ عَنْ

تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ

أَذَانَا وَأَظْهِرْ کَلِمَةَ الْحَقِّ وَاجْعَلْهَا الْعُلْیَا، وَأَدْحِضْ کَلِمَةَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْهَا السُّفْلی

کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے کہ

إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

حضرت امام محمد باقر نے فرمایا جو بھی ہمارے شیعوں میں سے اس زیارت اور دعا کو حضرت امیرالمومنین کے حرم میں یا باقی ائمہ کے حرم میں پڑھے تو خداوند تعالیٰ اس کو نور کے ایک فرمان میں اوپر لے جاتاہے اور اس پر حضرت امام مھدی کی مھر لگائی جاتی ہے اور اس فرمان کو محفوظ رکھتے ہیں اور قائم آل محمد کے حوالہ کیا جاتاہے اور وہ فرمان بشارت تحقیق اور کرامت کے ساتھ اس کے صاحب کے استقبال کے لئے آیا ہے ان شاء اللہ

زیارت وارث

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

آپ پر سلام ہو

یَا وَارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

اے آدم(ع) کے وارث جو خدا کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو آپ پر اے نوح (ع)کے وارث جو خدا کے نبی ہیں آپ پر سلام ہو اے

وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

ابراہیم(ع) کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پراے موسیٰ(ع) کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں آپ پر سلام ہو

یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

اے عیسیٰ(ع) کے وارث جو خدا کی روح ہیں سلام ہوآپ پر اے محمد(ص) کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں آپ پر سلام ہو

یَا وارِثَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

اے امیر المومنین - کے وارث و جانشین آپ پر سلام ہو اے محمدمصطفی(ص) کے فرزند آپ پر سلام ہو اے علی مرتضی (ع)

عَلِیٍّ الْمُرْتَضی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَةَ

کے فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا(ع)ئ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدیجہ الکبریٰ(ع)

الْکُبْری اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اﷲِ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، أَشْهَدُ

فرزند آپ پر سلام ہو اے خدا کے نام پر قربان ہونے والے اور قربان ہونے والے کے فرزند اے ناحق بہائے گئے خون میں گواہی

أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ

دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اوربرے کاموں سے منع فرمایا

وَأَطَعْتَ اﷲَ وَرَسُولَهُ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ اﷲُ

آپ خدا و رسول(ص) (ص) کی اطاعت میں رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پس خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا خدا کی لعنت ہو

أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ اﷲُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ اﷲِ

اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم ڈھایا اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا تو وہ اس پر خوش ہوا اے میرے آقا اے ابو عبداﷲ(ع)

أَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَةِ وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ

میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ وہ نور ہیں جو بلند مرتبہ صلبوں اور پاک و پاکیزہ رحموں میںمنتقل ہوتا آیا آپ زمانہ جاہلیت کی

الْجَاهِلِیَّةُ بِأَنْجَاسِها وَلَمْ تُلْبِسْکَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ ثِیَابِها وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ

ناپاکیوں سے آلودہ نہ ہوئے اور اس زمانے کے ناپاک لباسوں میں ملبوس نہ ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے نگہبان اور مومنوں

وَأَرْکانِ الْمُؤْمِنِینَ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ الْهادِی الْمَهْدِیُّ،

کے رکن ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ امام ہیں جو نیک کردار پرہیز گار پسندیدہ پاکیزہ ہدایت دینے والے اور ہدایت پائے ہوئے ہیں

وَأَشْهَدُ أَنَّ الْاََئِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْوی وَأَعْلامُ الْهُدی وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقی

میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد سے ہوئے ہیں وہ پرہیز گاری کے مظہر ہدایت کے نشان مضبوط و محکم رسی

وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَأُشْهِدُ اﷲَ وَمَلائِکَتَهُ وَأَنْبِیائَهُ وَرُسُلَه، أَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ

اور دنیا والوں پر خدا کی دلیل و حجت ہیں میںگواہ بناتا ہوں اس کے فرشتوں کو اور اس کے نبیوں اور رسولوںکو کہ میں آپ پر اور آپ

وَبِ إیَابِکُمْ مُوقِنٌ، بِشَرائِعِ دِینِی، وَخَواتِیمِ عَمَلِی، وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ، وَأَمْرِی

کے باپ دادا پرایمان رکھتا ہوں اپنے دین کے احکام اور اپنے عمل کے انجام پر میرا دل آپ کے دل کے ساتھ ہے اور میرا کام

لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ، صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْکُمْ، وَعَلَی أَرْواحِکُمْ، وَعَلَی أَجْسادِکُمْ، وَعَلَی

آپ کی پیروی ہے خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کی روحوں پر آپ کے پاک وجودوں پر

أجْسامِکُمْ، وَعَلَی شاهِدِکُمْ، وَعَلَی غائِبکُمْ وَ عَلَی ظاهِرِکُمْ وَعَلَی باطِنِکُمْ

اور ر حمت ہو آپ میں سے حاضر پر اور غائب پر رحمت ہو آپ کے ظاہر و عیاں اور آپ کے باطن پر۔


مصادر کتاب

قرآن کریم

الف

ابواب الجنات فی آداب الجمعات۔ تالیف آیة اللہ سید محمد تقی موسوی اصفہانی

احتجاج ۔ تالیف عالم بزرگوار احمد بن علی طبرسی

ادب الزائر۔ تالیف مرحوم علامہ امینی

اصول کافی۔ تالیف محدث مرحوم کلینی

اربعہ ایام۔ تالیف عالم مرحوم میر داماد

اقبال الاعمال۔ تالیف علالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

الامان من اخطار السفار و الازمان ۔تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

(ب)

الباقیات الصالحات۔ تالیف محدث قمی

بحار الانوار۔ تالیف علامہ محمد باقر مجلسی

بشارة الاسلام۔ تالیف عالم بزرگوار سید مصطفی کاظمی

البلد الامین۔ تالیف عالم بزرگوار شیخ ابراہیم کفعمی

(ت)

تبصرة الولی۔ تالیف علامہ سید ھاشم بحرانی

التحفة الرضویہ فی مجربات الامامیہ۔ تالیف محمد رضی

تحفة طوسیّہ۔ تالیف مرحوم محدث قمی

التشریف بالمنن المعروف بالملاحم والفتن۔ تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

تکالیف الانام فی غبیة الامام۔ تالیف عالم علی اکبر نھاوندی

(ث)

ثواب الاعمال: عالم جلیل القدر شیخ صدوق

(ج)

جمال الاسبوع تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

جنات الخلوح ۔تالیف مرحوم محدث نوری

(د)

دارالسلام۔ تالیف عالم بزرگوار شیخ محمود عراقی

دارالسلام فیما یتعلق بالرویا والمنام۔ تالیف مرحوم محدث نوری

الدعوات۔ تالیف عالم شھیر قطب الدین راوندی

دلائل الامامة ۔ تالیف محدث خبیر ابی جعفر محمد بن جریر

(ز)

زادالمعاد۔ تالیف علامہ مجلسی

الزیارة و ابشارہ۔ تالیف آیة اللہ سید احمد مستنبط

(ص)

الصحیفة الصادقیة۔ تالیف آیة اللہ شیخ احمد بحرانی

(ع)

العبقری الحسان۔ تالیف آیة اللہ شیخ علی اکبر نھاوندی

عدة الداعی۔ تالیف عالم جلیل القدر علی بن یوسف حلی

عمدة الزائر۔ تالیف آیة اللہ سید حیدر حسنی کاظمی

(غ)

الغدیر۔ تالیف علامہ امینی

الغیبة۔ تالیف شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد طوسی

(ف)

فتح الابواب تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

فرحة الغری تالیف عالم بزرگوار عبدالکریم بن طاوؤس

الفقہ المنسوب للامام الرضا

فلاح السائل تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

(ق)

قصص الانبیاء۔ تالیف جلیل القدر قطب الدین راوندی

(ک)

کامل الزیارات تالیف محدث خیبر جعفر بن محمد

(م)

المجموع الرائق من اطہار الحدائق ۔تالیف محدث بزرگوار سید ھبة اللہ موسوی

المختار من کلمات المام المھدی۔ تالیف آیة اللہ شیخ محمد غروی

المزار بکیر تالیف عالم بزرگوار ابوعبداللہ محمد بن جعفر

المزار۔ تالیف شہید اول

مزار تالیف عالم جلیل القدر آقا جمال خوانساری

مستدرک الوسائل۔ تالیف مرحوم محدث نوری

لمصباح۔ تالیف عالم جلیل القدر ابراہیم عاملی کفعمی

مصباح الزائر۔ تالیف عالم جلیل القدر سید بن طاوؤس

مصباح المتھجد۔ تالیف شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد طوسی

معان الحکمة۔ تالیف محدث محمد بن فیض کاشانی

مفاتح الغیب۔ تالیف علامہ مجلسی

مفاتتیح الجنان۔ تالیف محدث قمی

مفاتیح الجنات۔ تالیف عالم بھاء الدین عاملی

المقام الاسنی۔ تالیف عالم شیخ ابراہیم کفعمی

مکارم الاخلاق۔ تالیف محدث شیخ حدن بن فضل طبرسی

مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم۔ تالیف آیة اللہ سید محمد تقی موسوی اصفہانی

المنتکب۔ تالیف فخر الدین طریحی

منھاج العارفین۔ تالیف محمد حسن سمنانی۔

مھج الدعوات۔ تالیف جلیل القدر سید بن طاوؤس

(ن)

نجم الثاقب۔ تالیف مرحوم محدث نوری

نزھة الزاھد۔ تالیف یکی از اعلام قرن ششم


فہرست

مقدمہ ۴

ایک مہم نکتہ ۷

دلیل عقلی: ۸

دلیل نقلی: ۸

آداب دعا ۱۰

اول آداب :دعا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ دعا کا آغاز کرے ۱۰

دوسرا آداب: دعا سے پہلے خدا کی حمد و ثنا بجا لائے ۱۰

تیسرا آداب: محمد اور آل محمد پر درود بھیجیں ۱۱

چوتھا آداب: معصومین کو اپنا شفیع قرار دے ۱۱

پانچواں آداب دعا دعا سے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔ ۱۲

چھٹا آداب: دل سے غافل ہو کر دعا نہ مانگے بلکہ جب درگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہو تب دعا مانگے ۱۲

ساتواں آداب: دعا کرنے والے کا لباس اور غذا پاکیزہ ہو ۱۲

آٹھواں آداب: لوگوں کے حقوق جو اس کے ذمہ میں ہے اس کو ادا کرے ۱۳

نواں آداب: گناہ حاجت قبول کرنے کے لئے مانع ہے ۱۳

دسواں آداب: اجابت دعا کے لئے حسن ظن رکھتاہو ۱۴

گیارھواں آداب دعا: اللہ حضور سے بار بار دعا مانگو ۱۴

دعاء کے اصرار کی اہمیت ۱۷

دعا کے قبول ہونے میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ ۱۷

۱۔موانع قلبی دور ہو ۲۔ اور باطنی نورانیت موجود ہو۔ ۱۸

امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگنا ضروری ہے۔ ۱۹

عالم میں سب سے مظلوم فرد ۲۰

مرحوم حاج شیخ رجب علی خیاط کی نصیحت ۲۲

شیخ حسن علی کااصفہانی کا مہم تجربہ ۲۲

جو بھی تعجیل ظہور کے لئے دعا مانگے امام زمانہ کی دعا انہیں بھی شامل ہوتی ہے ۲۳

تعجیل فرج کے لئے مجلس دعا تشکیل دینا ۲۴

امام زمانہ کے مخصوص مقامات (صلوات اللہ علیہ) ۲۵

مسجد کوفہ کی فضیلت ۲۶

۲ ۔ مسجد سھلہ کی فضیلت ۲۶

۳ ۔ جمکران کی مقدس مسجد ۲۷

انتظار ۳۰

انتظار کا طریقہ ۳۱

حضور کا احساس یا معرفت کی نشانی ۳۲

ہم سب کو اپنے نزدیک حاضر جانیں ۳۴

اھلبیت کی نظر میں امام زمانہ کی عظمت ۳۵

باب اوّل ۳۸

نمازوں کے بارے میں ۳۸

۱ ۔امام زمانہ کی نماز ۳۸

۲ ۔ امام زمان کی ایک اور نماز ۳۸

۳ ۔مسجد جمکران کی نماز ۳۹

۴ ۔ امام زمانہ کی نماز حلّہ اور نعمانیہ میں ۳۹

۵ ۔ امام زمانہ کی ایک اور نماز ۳۹

۶ ۔ نماز اور دعائے توجہ ۴۰

۷ ۔ نماز اور دعائے فرج ۴۰

۸- امام زمانہ کا نماز استغاثہ ۴۳

۹ ۔ امام زمانہ کی خدمت میں نماز ہدیہ ۴۵

۱۰ ۔ امام زمانہ کے لئے نماز کا ھدیہ ۴۵

۱۱ ۔ امام زمانہ کے لئے نماز استغاثہ ۴۶

۱۲ ۔ نماز استغاثہ کا ایک اور طریقہ ۴۶

۱۳ ۔ شبع جمعہ میں امام زمانہ کی نماز ۴۶

۱۴ ۔ امام زمانہ کی ایک اور نماز ۴۷

۱۵ ۔ ستائیس ماہ رجب کے دن کی نماز ۴۸

۱۶ ۔ پندرہ شعبان کی رات کی نماز ۴۸

۱۷ ۔ پندرہ شعبان کی رات ایک اور نماز ۴۸

باب دوم ۵۰

قنوت کی دعائیں ۵۰

۱ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۵۰

۲ ۔ امام سجاد کی دعائے قنوت ۵۰

۳ ۔ حضرت امام محمد باقر کی دعائے قنوت ۵۱

. ۴ ۔ حضرت امام رضا کی دعا قنوت ۵۱

۵ ۔ حضرت امام جواد کی دعائے قنوت ۵۲

۶ ۔ امام جواد کی دوسری قنوت کی دعائیں ۵۲

۷ ۔ حضرت امام ھادی کی دعائے قنوت ۵۳

۸ ۔ دعائے امام حسن عسکری ۵۴

۹ ۔ امام زمانہ کی دعائے قنوت ۵۷

۱۰ ۔ امام زمانہ کی دوسری دعا قنوت میں ۵۸

۱۱ ۔ قنوت میں حضرت حجت کی تیسری دعا ۵۹

۱۲ ۔جمعہ میں قنوت کی دعا ۵۹

باب سوم ۶۰

نمازوں کے بعد دعاؤں کے بارے میں ۶۰

۱ ۔ نماز صبح کے بعد دعائیں ۶۰

۲ ۔ ظہور امام زمانہ کے لئے دعا ۶۰

۳ ۔ نماز صبح کے بعد حضرت حجت کے ظہور کے لئے دعا ۶۰

۴ ۔ نماز صبح کے بعد حضرت حجت کے لئے ایک اور دعا ۶۰

۷ ۔ ۵ ۔ آخری حجت سے مشکلات دور کرنے کے لئے دعائیں ۶۱

۸ ۔ ہر روز صبح اور ظہر کے بعدآخری حجت کے ظہور کے لئے دعا ۶۲

۹ ۔ ہر روز نماز ظہر کے بعد آخری حجت کے ظہور کے لئے دعا ۶۳

۱۰ ۔ نماز عصر کے بعد امام زمانہ کے لئے دعا مانگنا ۶۴

۱۱ ۔ ہر نماز کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۵

۱۲ ۔ ہر نماز کے بعد آخری حجت کے لئے دعا ۶۶

۱۳ ۔ ہر واجب نماز کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۶

۱۴ ۔ دعائے تشرف ۶۷

۱۵ ۔ ہر واجب نماز کے بعد امام زمانہ کی ملاقات کی دعا ۶۷

۱۶ ۔ نماز شب میں پہلی دو رکعت کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۸

۱۷ ۔ نماز شب کے چوتھی رکعت کے بعد امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۸

باب چہارم ۶۹

ہفتہ وار دنوں کی دعائیں ۶۹

۱ ۔ جمعرات کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۹

۳ ۔ شب جمعہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۶۹

علوی مصری کی دعا کا واقعہ ۶۹

دعائے ندبہ کی اہمیت اور روز جمعہ ۷۰

دعائے ندبہ ۷۲

۔ جمعہ کے دن صبح کے نماز کے بعد کی دعا ۸۵

۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۸۵

۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۸۵

۔ نماز جمعہ کے بعد درود بھیجنے کی فضیلت ۸۵

۱۰ ۔ جمعہ عید افطر عید قربان کے دن آخری حجت کے ظہور کے لئے دعا۔ ۸۵

ضرّاب اصفہانی کے درود کا واقعہ ۸۶

۔ ضرّاب اصفہانی کے صلوات ۸۹

۔ جمعہ کے روز کے عصر کے وقت صلوات اور دعا حضرت حجت کے ظہور کے لئے ۹۱

۔ سورہ بنی اسرائیل کی فضیلت جمعہ کی راتوں میں ۹۱

باب پنجم ۹۲

ہر مہینے کی دعائیں ۹۲

۱ ۔ عاشورا کے دن امام زمانہ کے ظہور کی دعا ۹۲

(مذکورہ دعا کا آخری حصہ) ۹۴

۲ ۔ عاشور کے دن ایک دوسری دعا ۹۵

۳ ۔ ماہ رجب کے دنوں کی دعائیں کہ جو آخری حجت سے صادر ہوئی ہیں ۹۶

۴ ۔ ماہ رجب کے دنوں میں اور دعائیں ۹۷

(جو امام زمانہ سے ہم تک پہنچی ہیں) ۹۷

۵ ۔ ماہ رجب کے دنوں میں اور دعائیں ۹۷

۶۔ تیسرے شعبان کے دن کی دعا ۹۹

شب برات کی فضیلت ۱۰۲

۷ ۔ شب برات کی دعا ۱۰۲

پندرہ شعبان کی رات کو دعائے کمیل پڑھنے کی فضیلت ۱۰۴

دعائے افتتاح اور ظھور امام کی دعائیں ۱۰۵

دعائے افتتاح ۱۰۵

۹ ۔ تیرھویں ماہ رمضان کے دن کی دعا ۱۱۳

۱۰ ۔ زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۱۱۳

۱۱ ۔ اٹھارہ ماہ رمضان میں دن کے وقت امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۱۱۵

۱۲ ۔ تئیس ماہ رمضان میں امام زمانہ کے لئے دعا ۱۱۶

۱۳ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے تئیس ماہ رمضان کی رات ایک اور دعا ۱۱۶

۱۴ ۔ ماہ رمضان میں تئیسویں کی رات ظہور امام زمانہ کے لئے دعا ۱۱۷

۔ عید غدیر کے دن کی دعا ۱۱۷

۱۶ ۔ امام زمانہ کی تسبیح ۱۲۲

(اٹھارہ سے لیکر آخر ماہ تک ) ۱۲۲

باب ششم ۱۲۳

حضرت مھدی(علیہ السلام ) کے ساتھ بیعت کا معنی ۱۲۳

دعائے عہد ۱۲۴

۲ ۔ ایک دوسرا عہد کی دعا ۱۲۷

۳ ۔ غیبت کے زمانے میں دعا ۱۲۹

۴ ۔ غیبت کے زمانے میں دعا کے بارے میں ایک اور روایت ۱۳۰

۵ ۔ غیبت کے زمانے میں معرفت کی دعا ۱۳۳

۶۔ زمان غیبت میں ایک اور دعا ۱۳۶

۷ ۔ زمان غیبت میں مختصر دعا ۱۳۶

۸ ۔ زمان غیبت میں دعائے غریق ۱۳۷

۹ ۔ غیبت کے زمانے ایک اور دعا ۱۳۷

۱۰ ۔ آخری زمانہ میں فتنہ سے نجات کے لئے دعا ۱۳۸

۱۱ ۔ امام جواد کی دعا ۱۳۸

۱۲ ۔ دجال کے شرّ سے حفاظت کی دعا ۱۳۹

۱۳ ۔ دعائے فرج ۱۴۰

۱۴ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۱۴۱

۱۵ ۔ سجدہ شکر میں امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا ۱۴۲

۱۶ ۔ چھینک کے وقت دعا ۱۴۲

۱۷ ۔ مخصوص وقت میں سفر کی دعا ۱۴۲

۱۸ ۔ مخصوص وقت میں ایک اور دعا ۱۴۴

۱۹ ۔ حضرت کے ساتھ مخصوص وقت میں تیسری دعا ۱۴۴

امام سے متعلق دعائیں ۱۴۶

۲۰ ۔ امام زمانہ پر درود ۱۴۶

۲۱ ۔ نماز کے آغاز میں امام زمانہ کی دعا ۱۴۶

۲۲ ۔ صاحب الزمان کی دعا ۱۴۷

۲۳ ۔ دعائی سہم اللّیل ۱۴۷

۲۴ ۔ امام زمانہ کی ایک اور دعا ۱۴۸

۲۵ ۔ یانور النّور کی دعا ۱۴۹

حاجت روائی کیلئے دعا ۱۴۹

۲۷ ۔ امام زمانہ کی ایک مہم دعا ھاجت آوری کے لئے ۱۵۰

۲۸ ۔ بیماریوں سے شفاء کے لئے امام عصر کی دعا ۱۵۰

۲۹ ۔ سختیوں سے رہائی اور چوروں سے محفوظ رہنے کے لئے امام زمانہ کی دعا ۱۵۰

۳۰ ۔ امام زمانہ کی ایک اور دعا سختیوں اور مشکلات سے نجات حاصل کرنے کے لئے ۱۵۱

۳۱ ۔ حفاظت کے لئے امام زمانہ کی دعا ۱۵۲

۳۲ ۔ امام زمانہ کی طرف سے دعائے حجاب ۱۵۲

۳۳ ۔ دعا جب صیحہ واقع ہو ۱۵۳

۳۴ ۔ امام زمانہ کے ظہور کے لئے فرج کی دعا ۱۵۳

۳۵ ۔ اول ظہور میں حضرت صاحب الزمان کی دعا ۱۵۴

۳۶ ۔ صاحب الزمان کے خروج کے وقت شیعوں کی دعا ۱۵۴

۳۷ ۔ وادی السلام سے عبور کرتے وقت امام زمانہ کی دعا ۱۵۵

فضائل سورھای قرآن ۱۵۵

۳۸ ۔ سورہ کہف کی فضیلت ۱۵۵

۳۹ ۔ سورہ یٰسین کی خاصیتیں ۱۵۶

۴۰ ۔ مسبّحات سورتوں کی فضیلت ۱۵۶

۴۱ ۔ سورہ القارعة اور دجال سے محفوظ ہونا ۱۵۷

باب ہفتم ۱۵۸

امام زمانہ کوو سیلہ قرار دینا ۱۵۸

خواجہ نصیر کے دعائے توسّل کا واقعہ ۱۵۸

۔ دعائے توسل معروف بہ دوازدہ امام خواجہ نصیر ۱۶۱

۲ ۔ حضرت صاحب الزمان سے توسل کی دعا ۱۶۵

۳ ۔ مشکلات میں صاحب الزمان سے توسل کرنا ۱۶۵

۴ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل مشکلات میں ۱۶۶

۵ ۔ یا محمد یا علی کے ساتھ مشکلات میں صاحب الزمان کو سیلہ قرار دینا ۱۶۶

۶ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل ۱۶۸

۷ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل ۱۶۸

۸ ۔ حضرت صاحب الزمان کے ساتھ توسل ۱۶۸

۹ ۔ بیماری کو دور کرنے کے لئے امام زمانہ سے دعا ۱۶۹

باب ہشتم ۱۷۰

عریضے ۱۷۰

حضرت حجت کے لئے عریضہ کا ایک دوسرا واقعہ ۱۷۱

امام عصر کا عریضہ ۱۷۳

۲ ۔ خداوند تعالیٰ کے لئے عریضہ ۱۷۴

۳ ۔ ایک اور عریضہ امام زمانہ کے نام ۱۷۶

باب نہم ۱۷۷

استخارے ۱۷۷

۱ ۔ امام عصر کی طرف سے دعائے استخارہ ۱۷۸

مہم نکتہ: ۱۷۹

۲ ۔ قرآن سے استخارہ کیلئے دعا ۱۷۹

پہلی روایت: ۱۷۹

دوسری روایت: ۱۷۹

تیسری روایت: ۱۸۰

۳ ۔ حضرت حجت کی طرف سے رقعہ کے ساتھ استخارہ نکالنے کا طریقہ ۱۸۰

حضرت حجت کی طرف سے تسبیح کے ساتھ استخارہ کے چند طریقے ۱۸۱

۴ ۔ حضرت حجت کی طرف سے تسبیح کے ساتھ استخارہ ۱۸۱

استخارہ کا پہلا طریقہ ۱۸۱

۔ دوسرا استخارہ ۱۸۱

تیسرا استخارہ ۱۸۱

۔ استخارہ کا چوتھا طریقہ ۱۸۲

۸ ۔ پانچواں استخارہ ۱۸۲

باب دہم ۱۸۴

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے ۱۸۴

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر ۱۸۴

حرز یمانی کا واقعہ ۱۸۹

حرز یمانی ۱۹۱

۔ دعائے حریق ۱۹۴

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول ۱۹۸

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول ۱۹۹

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول ۱۹۹

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول ۲۰۰

دعائے عبرات کا واقعہ ۲۰۱

دعائے عبرات ۲۰۲

باب یازدھم ۲۰۴

زیارات ۲۰۴

زیارات معصومین علیہ السلام ۲۰۴

زیارات کے آداب ۲۰۵

۱ ۔ زیارت آل یٰسین ۲۰۸

۲ ۔ زیارت ندبہ ۲۱۳

۳ ۔ جمعہ کے دن امام زمانہ کی زیارت ۲۱۶

۴ ۔ امام زمانہ کی زیارت مشکلات اور خوفناک مقام پر پڑھی جاتی ہے۔ ۲۱۸

۵ ۔ حضرت امیرالمومنین کی زیارت اتوار کے دن ۲۱۸

۶ زیارت ناحیہ مقدسہ ۲۱۹

۷ ۔ زیارت رجبیہ ۲۲۶

۸ ۔ حضرت صاحب العصر کی زیارت ۲۲۸

۹ ۔ ائمہ کے حرام اور سرداب میں اذن دخول ۲۲۸

۱۰ ۔ سرداب میں صاحب الزمان کی پہلی زیارت ۲۳۰

۱۱ ۔ امام زمانہ کی دوسری زیارت ۲۳۵

۱۲ ۔ امام زمانہ کی تیسری زیارت ۲۳۵

۱۳ ۔ امام زمانہ کی چوتھی زیارت ۲۳۷

۱۴ ۔ صاحب الزمان کی پانچویں زیارت ۲۳۹

۱۵ ۔ صاحب الزمان کی چھٹی زیارت ۲۴۰

۱۶ ۔ امام زمانہ کے لئے سلام کا ایک اور طریقہ ۲۴۱

۱۷ ۔ صاحب الزمان کے لئے سلام کا ایک طریقہ ۲۴۱

باب دوازدھم ۲۴۳

۱ ۔ امام زمانہ کے نواب کی زیارت ۲۴۳

۲ ۔ نائب اول عثمان بن سعید کی زیارت ۲۴۳

۳ ۔ نماز حجت یہ محمد بن عثمان سے منقول ہے ۲۴۴

۴ ۔ عظیم الشان دعا جناب محمد بن عثمان سے منقول ۲۴۵

۵ ۔ دعائے سمات نائب دوم محمد بن عثمان سے ۲۴۶

۶۔ عید فطر کے دن کی دعا محمد بن عثمان سے منقول ہے ۲۵۵

۷ ۔ زیارت امام صادق عثمان بن سعید اور حسین بن روح کے نقل کے مطابق ۲۵۷

۸ ۔ دعائے حضرت خضر جو دعائے کمیل کے نام سے مشہور ہے۔ ۲۵۷

خاتمہ کتاب یا ملحقات ۲۶۹

نماز شب: ۲۷۰

زیارت جامعہ: ۲۷۱

زیارت عاشورا: ۲۷۱

نماز شب ۲۷۲

نماز شب: ۲۷۲

زیارت عاشورا ۲۷۳

دعائے علقمہ ۲۷۹

زیارت جامعہ سے امام زمانہ کی تجلیل اور عظمت ۲۸۵

زیارت جامعہ کبیرہ ۲۸۶

زیارت امین اللہ اور اس کی فضیلت ۲۹۹

زیارت وارث ۳۰۲

مصادر کتاب ۳۰۵

فہرست ۳۰۹