سيرت آل محمد(عليهم السلام)
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف آیۃ اللہ شهید مرتضيٰ مطہرى
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


سیرت آل محمد- (علیہم السلام)

مؤلف : مطہری، مرتضی (آیۃ اللہ شہید)

مترجم / مصحح : عابد عسکری

ناشر : ادارہ منہاج الصالحین

نشر کی جگہ : لاہور (پاکستان)

نشر کا سال : ۲۰۰۳

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۹۹

سائز : رقعی

زبان : اردو


حرف ناشر

کتاب "سیرت آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم " پیش خدمت ہے یہ کتاب ایک مقدمہ اور آٹھ فصول پر مشتمل ہے ۔اس کا فارسی نام"سیری در سیرہ آئمہ اطہارعليه‌السلام "تھا اور یہ ایران کے معروف نشریاتی ادارے انتشارات صدرا"کی شائع کردہ ہے ۔ھم نے اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے قارئین کی آسانی اور تشفئی ذوق کے لئے اس کا نام سیرت آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکھا ہے ۔یہ کتاب ایران میں اب تک بیس مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔ یوں تو شھید مطھری (رح) کی تمام کتب وقیع اور گرانقدر ہیں لیکن اس کتاب کی اپنی ایک الگ خوشبوھے ۔اس کا مطالعہ کرنے سے نئے نئے مطالب سامنے آتے ہیں ۔آپ جس امامعليه‌السلام کی بھی سیرت کا مطالعہ کریں گے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پاکیزگی کردار کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے ۔یہ کتاب جھاں علمی کتب کے مطالعہ کے شائقین کے لیئے تاریخی معلومات کا سبب بنتی ہے وہاں آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عقیدت و محبت میں اضافہ اور تازگی ایمان کا باعث بنتی ہے ۔یہ خوبصورت اور معلوماتی کتاب آیتہ اللہ شھید مطھری (رح) کی فکر انگیز تقاریر کا مجموعہ ہے آپ نے مختلف مقامات پر مختلف خطابات کئے تھے۔ انتشارات صدرا کی محترم انتظامیہ نے ان تقاریر کو اکٹھا کر کے ایک کتاب کی صورت میں شائع کردیا اور یوں ایک بہت بڑا علمی ذخیرہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ کردیا گیا ۔پہلی فصل میں حضرت علی علیہ اسلام کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ۔جناب امیر المومنینعليه‌السلام کی سیرت طیبہ اور آپ کا صبر واستقامت اور دیگر بے شمار خوبیوں کو پڑھ کر انسان دم بخود رہ جاتا ہے اور بیساختہ زبان سے جو جملہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ"علیعليه‌السلام سازمانہ میں کوئی نہیں ہے"۔

چوتھی فصل میں امام جعفر صادق علیہ اسلام کے بارے میں بحث کی گئی ہے کہ فقہ جعفریہ کے اس جلیل القدر تاجدار نے علمی ودینی اور تحقیقی فکری حوالے سے ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے کہ روح محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پکار اٹھی کہ جعفر صادقعليه‌السلام جیتے رہو ۔شھید مطھری (رح) نے امام رضاعلیہ السلام کی سرزمین خراسان میں تشریف آوری اور ولی عھدی کے مسئلہ کو جس خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔پھر آپ نے امام موسی کاظم علیہ اسلام کی مجاہدت اور طویل اسیرانہ زندگی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ راہ حق کی خاطر قید ہونے والے شرم کی بجائے فخر محسوس کرنے لگیں ۔ھم سلام پیش کرتے ہیں ان مجاہد اسیروں کو جو مذھب آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاطر ایک طویل عرصہ سے پابند سلاسل ہیں۔ اس کے بعد دیگر ائمہ طاہر ین علیھم السلام کی سیرت طیبہ کو دوسرے مورخین اور تجزیہ نگاروں سے ھٹ کر پیش کیا ہے ۔دشمنان اہلبیتعليه‌السلام نے غلط پرو پیگنڈہ کر کے تاریخی فضا کو مسموم کردیا تھا ۔شھید مطھری (رح) کی یہ فکر انگیز تقاریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں "اگر چہ سیرت اہلبیتعليه‌السلام کو بیان کرنا اور اس کو کما حقّہ، حیطئہ تحریر میں لانا بشری طاقت سے باہر ہے تاہم ہم نے سمندر میں سے ایک قطرے کو سامنے لاکر مذھب حقہ کی خدمت کرنے کی ایک ناچیز سی کوشش کی ہے۔ آخر میں ہم ممتاز دانشور علامہ عابد عسکری فاضل قم دامہ ظلہ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سیرت آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آسان اور سلیس ترجمہ کرکے ملت جعفریہ کی علمی خدمت کا حق ادا کردیا ہے ۔موصوف ایک صاب طرز اور نئے اسلوب کے مالک باصلاحیت لکہاری ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت کے اسیر اور علی (محمد محمد کی محبت کے اسیر اور علیعليه‌السلام علیعليه‌السلام کا دم بھرنے والے مومنین کرام اس کتاب کو پسند فرمائیں گے جھاں تک علوم محمد و مومنین کرام اس کتاب کو پسند فرمائیں گے جھاں تک علوم محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام پھیلاناتھا اس کے لئے ہم نے حتی الامکان اپنا فرض پورا کردیا ہے اب موجودہ اور آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے کس طرح استفادہ کرتے ہیں اور کس طرح اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اللہ تعالی ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے۔ شہید مطہری (رہ) کے درجات بلند فرمائے "اور ہمیں توفیق دے کی ہم اس سلسے میں مزید کام کرتے رہیں (آمین)

دعا گو: ریاض حسین جعفری، لاہور


حضرت علی علیہ السلام کی مشکلات

و من کلام له علیه السلام دعونی والتمسو غیری فانّا مستقبلون امرا له وجوه الوان لا تقوم له القلوب ولا تثبت علیه العقول و انّ الافاق قد اغامت المحجة قد تنکرت و اعلمو انّی ان اجبتکم رکبت بکم ما اعلم (۱)

"یعنی مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کے لئے) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو، ہمارے سامنے اب معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہیں اور نہ عقلیں اسے مان سکتی ہیں " دیکھو افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں " راستہ پہچاننے میں نہیں آتا، تمھیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر تمہاری خواہش کو مان لوں تو تمھیں اس راستے پر لے چلوں جو میرے علم میں ہے ۔"

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام دوسرے خلفاء کی موجودگی اور ان کے بعد بہت زیادہ مشکلات میں تھے آپ کو کسی لحاظ سے بھی چین سے رہنے نہ دیا گیا " طرح طرح کی شورشیں اور سازشیں آپ کے ارد گرد خطرہ بن کر منڈ لاتی رہیں۔ عثمان کے قتل کے بعد لوگوں کا ایک انبوہ آپ کے دردولت پر حاضر ہوا اور اصرار کیا کہ وہ امامعليه‌السلام وقت کے طور پر زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لیں لیکن امام علیہ السلام خاموش رہے اور انتھائی دکھی انداز میں فرمایا۔

"دعونی والتمسوا غیری"

"مجھے چھوڑ دو خلافت کےلئے میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈھ لو"

اس سے یہ مقصد نہیں ہے کہ معاذاللہ حضرت اپنے آپ کو خلافت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اہل نہیں سمجھتے تھے بلکہ آپ تو مسند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بیٹھنیے کے لئے سب سے زیادہ مستحق وسزاوار تھے، پھر فرمایا :

"فانا مستقبلون امر اله وجوه والوان"

"یعنی ہمارے سامنے ایک اور معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں ۔"

اس جملے کی وضاحت کرتے ہوئے امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

"وان الافاق قد اغامت"

کہ دیکھو افق عالم پر گھٹا ئیں چھائی ہوئی ہیں"

والمحجة قد تنکرت"

کہ راستے پہچانے نہیں جاتے"

آپ اسی خطبہ میں مزید فرماتے ہیں:

"واعلموا انی ان اجبتکم رکبت بکم ما اعلم"

تمھیں معلوم ہونا چاہی ے کہ اگر میں تمہاری اس خواہش کو مان لوں تو تمھیں اس راستے پہ لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے۔"

اور اس کے متعلق کسی کھنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والی کی سرزنش پہ کان نہیں دھروں گا اور اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو پھر جیسے تم ہو ویسے میں ہوں"اور ہو سکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناؤ اس کی میں تم سے زیادہ سنوں اور مانوں اور میرا (تمہارے دینوی مفاد کے لئے) امیر ہونے سے وزیر ہونا بھتر ہے ۔

امام علیہ السلام کے اس قول سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر مشکل حالات میں گھرے ہوئے تھے ۔میں ایک نشست میں ان تمام مشکلات کے بارے میں تفصیل سے گفتگو نہیں کرسکتا ۔فی الحال حضرت علی علیہ اسلام کی ایک "مشکل "بتاتا ہوں کہ جو آپ کے لئے پوری سوسائٹی کے لئے اور مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ مشکل تھی ۔

عثمان کا قتل

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے لئے سب سے پہلی مشکل عثمان کا قتل تھا ۔اس لئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا تھاکہ ابھی بہت سی مشکلات نے آنا ہے ۔طرح طرح کی مصیبتیں اور پریشانیاں عفریت کی مانند اپنا اپنا منہ کھولے ہوئے ہیں ۔حضر علیعليه‌السلام اس حالت میں مسند خلافت پر تشریف لاتے ہیں کہ ان سے پیشرو خلیفہ کو چند نامعلوم افراد نے اس لئے قتل کردیا کہ اس کی تمام تر ذمہ داری حضرت علیعليه‌السلام پر پڑے۔ عثمان کے قاتلوں نے ان کی تدفین کے وقت بیشمار اعتراضات کیے اب وھی گروہ حضرت علیعليه‌السلام کے ارد گرد جمع تھے "ایک طرف قاتلین عثمان دوسری طرف عثمان کی محبت کا دم بھرنے والے لوگ جو حجاز "مدینہ"بصرہ" کوفہ اور مصر سے آئے ہوئے تھے ۔اور ان کے جذبات واحساسات میں ایک طرح کا طوفان برپا تھا ۔

حضرت علی علیہ السلام دو گروہوں کے درمیان انتھائی حیرانگی کے عالم میں سوچ رہے تھے کہ وہ کریں تو کیا کریں "اگر کسی خاص گروہ کی حمایت کرتے تو بھی ٹھیک نہیں تھا کسی کی مخالفت کرتے تب بھی موقعہ محل کے خلاف تھا ۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام عثمان کی کچھ پالیسیوں کے مخالف ہوں۔اختلاف رائے ایک طرف لیکن یہ اختلاف ایسا نہ تھا کہ حضرت علی علیہ السلام عثمان کے قتل کی خواہش کریں یا ان کے قتل میں کسی قسم کی مداخلت کریں آپ صلح جو" امن پسند شخصیت تھے ۔آپ نے اپنی شھرہ آفاق کتاب نھج البلاغہ میں عثمان کے قتل کا چودہ مرتبہ تذکرہ کیا ہے ۔دراصل یھی تذکرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ امن وآشتی کے کس قدر حامی اور طرف دار تھے ۔عثمان کے قتل سے قبل اور قتل کے بعد آپ کا رویہ انتھائی صلح جو یانہ رہا ۔آپ صبر واستقامت کی زندہ مثال بن کر بھپرے ہوئے حالات اور بکھرئے ہوئے لوگوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنے اور متحد کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

عثمان کے قتل کے بعد لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھےکو ئی اس قتل کے خلاف سراپا احتجاج نظر آرہا تھا، کوئی ان کی مخالفت کی وجہ سے تبدیلی خلافت پر اطمینان کا سانس لے رہا تھا، کہ آپ نے خلیفئہ وقت اور حاکم اسلامی ہونے کے ناطے سے کسی خاص گروہ کی حمایت نہیں کی بلکہ آپ کی کاوشوں اور کوششوں کا مرکز صرف ایک تھا کہ جیسے ہی بن پڑے اختلاف وتفرقہ کی فضا ختم ہو کر خوشگوار اور پرامن ماحول میں تبدیل ہو ۔حضرت علی علیہ السلام بخوبی جانتے تھے کہ عثمان کے قتل سے بے شمار مسائل کھڑے ہوں گے ۔اور یھی قتل اسلام اور مسلمانوں کے اختلاف کی سب سے بڑی وجہ اور سبب بنے گا۔ آخر وھی ہوا جس کا آپ نے نھج البلاغہ میں خدشہ ظاہر کیا تھا۔ آج جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو یھی حقیقت روز روشن کی طرح ہمارے سامنے آتی ہے کہ عثمان کو ان کے حاشیہ نشینوں نے قتل کرایا تھا ۔ان شر پسندوں کی شروع سے کوشش یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں کی مرکزیت کو ختم کیا جائے، ان کے اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کیا جائے ۔

چناچہ یہ شر پسند اس تاڑ میں تھے کہ جناب امیر علیہ السلام کو عثمان کے قتل میں ملوّث کر کے وسیع پیمانے پر فتنہ وفساد کھڑا کریں ۔تاریخ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ معاویہ قتل عثمان میں ہر لحاظ سے ملوث تھا وہ اندرونی طور پر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے میں مصروف تھا ۔وہ شروع ہی سے عثمان کے قتل کی سازشیں بنارہا تھا ۔اسے یہ بھی یقین تھا کہ دو گروہوں کی باہمی آویزیش اور لڑائی کے باعث قتل عثمان کی مذموم سازش ایک تو کامیاب رہے گی، دوسرا اصل قاتل کا پتہ نہیں چل سکے گا، تیسرا اس کا اصلی مشن کا میاب ہوجائے گا اور مسلمان ایک دوسرے سے دست بہ گریبان ہو کر اپنی مرکزیت کھو بیٹھیں گے ۔ان حالات ومشکلات کی وجہ سے جناب امیر علیہ السلام کو گونا گوں ومسائل سے دو چار ہونا پڑا ۔یہ موڑ تھا کہ جھاں منافقین مادی طور پر اپنے مکارانہ وعیارانہ حربوں میں کامیاب ہوگئے ۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس طرح اور اسی نوعیت کی مشکلات سے دوچار تھے، لیکن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علیعليه‌السلام کی مشکلات میں بہت بڑا فرق ہے۔سرکار رسالتمابصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن بت پرست توحید کے منکر تھے اور علانیہ طور پر اللہ تعالی کی ربوبیت سے انکار کرتے تھے اور ان کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ ہی یھی تھی کہ حضور توحید کا اعلان نہ کریں، اور بتوں کے خلاف کچھ نہ کہیں لیکن حضرت علی علیہ السلام کا مقابلہ ایک ایسے گروہ سے تھا کہ جو علانیہ طور پر خود کو مسلمان تو کہلواتے تھے لیکن حقیقت میں وہ مسلمان نہ تھے۔ ان کا نعرہ اسلامی تھا لیکن ان کا اصلی مقصد کفر ونفاق کی ترویج کرنا تھا ۔معاویہ کا باپ ابو سفیان کافر تھا وہ کافرانہ روپ ہی میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑنے کے لئے میدان جنگ میں آیا حضرت کے لئے اس سے لڑنا آسان تھا ۔لیکن اسی ابوسفیان کا بیٹا معاویہ سفیانی وشیطانی مقاصد لے کر حضرت علی علیہ السلام سے آکر لڑا ۔اور اس نے آپ کی بھر پور مخالفت کی، طرح طرح کی اذیتیں دیں ۔لیکن جب عثمان قتل ہوئے تو اس نے اس آیت کو:

( من قُتِل مظلوما فقد جعلنا لولیه سلطانا ) (۲)

"اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص کا) قابودیا ہے ۔"

عنوان بناکر خون عثمان کا مطالبہ کیا ۔وہ لوگوں کے احساسات وجذبات سے کھیل کر خون خرابہ کرنا چاہتا تھا ۔اس وقت اصل وارث کون ہے؟ تو کون ہے عثمان کو اپنا کہنے والا ۔تیرا تو ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔سب سے پہلے تو عثمان کا بیٹا موجود ہے ۔ان کے دیگر رشتہ دار بھی موجود ہیں ۔دوسرا تیرا ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہے؟دراصل وہ ایک چالاک اور عیار شخص تھا وہ اس مقتول صحابی رسول کے خون کو ذریعہ احتجاج بنانا چاہتا تھا ۔اس کا اصل مقصد حضرت علی علیہ السلام کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کرنا تھا ۔دوسرے وہ چاہتا تھا کہ جب بھی اور جیسا بھی ہوسکے مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرکے ان میں ہر طرح کی تفریق ڈالی جائے ۔عثمان زندہ تھے تو معاویہ نے جناب کو قتل کرنے کے لئے اپنے کرائے کے قاتل اور جاسوس مقرر کررکھے تھے ۔اور اس نے اپنے گماشتوں سے کہہ رکھا تھا کہ جس وقت عثمان قتل ہو جائیں ان کا خون آلود کرتہ فوری طور پر میری طرف شام روانہ کیا جائے ۔خبر دار کہیں ۔یہ خون خشک نہ ہونے پائے۔

چنانچہ عثمان کا خون آلود کرتہ اور عثمان کی زوجہ محترمہ کی انگلی کاٹ کریہ دونوں چیزیں امیر شام معاویہ کی طرف روانہ کی گئیں ۔اندر سے اس کا کلیجہ تو ٹھنڑا ہو گیا لیکن ظاہر میں وہ سراپا احتجاج نظر آیا ۔اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ عثمان کی اہلیہ کی کٹی ہوئی انگلیاں اس کے منبر کے پاس لٹکا دی جائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔اس نے بلند آواز سے کہا اے لوگو!دیکھو تو سھی کتنا ظلم ہو گیاہے کہ خلیفہ وقت کی بیوی کی انگلیاں بھی کاٹ دی گئی ہیں ۔اس نے حکم دیا کہ عثمان کا خون آلود پیراہن نوک نیزہ پر لٹکا کر مسجد کے قریب کسی جگہ پر نصب کیا جائے ۔جب ایسا کیا گیا تو معاویہ وہاں پر پہنچ گیا ۔اور عثمان کی مظلومیت پر زار وقطار رونے لگا۔ وہ گریہ کرتا رہا۔اور وہ اس قتل کے بہانے سے لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کرتا رہا۔ اس کا عوام سے بار بار یھی مطالبہ تھا کہ لوگو اٹھو بہت بڑا ظلم ہوگیا ہے۔ خلیفہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بڑی بے دردی سے قتل کیے گئے ہیں۔ آپ لوگوں پر فرض عائد ہوتا کہ عثمان کے خون ناحق کا بدلہ لیں۔ یہ قتل علیعليه‌السلام ہی نے کیا ہے۔ لھذا ان سے انتقام لینا ہم سب کا دینی و مذھبی فریضہ ہے۔ دیکھو تو سھی کہ انقلابی طبقہ سب کا سب علیعليه‌السلام کے ارد گرد جمع ہے۔ اور انھی لوگوں نے عثمان کو شھید کیا ہے۔ غرض یہ کہ معاویہ طرح طرح کے حیلے بہانے بناتا رہا اس کی سازش ہی کہ وجہ سے جنگ جمل جنگ صفین کے نام سے دو جنگیں وجود میں آئیں ۔

(استاد محترم علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم نھج البلاغہ کے اس خطبہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عثمان کے قتل ہو جانے سے مسند حکومت خالی ہوئی تو مسلمانوں کی نظریں امیر المومنین کی طرف اٹھنے لگیں، جن کی سلامت روی، اصول پرستی اور سیاسی بصیرت کا اس طویل مدت میں انھیں بڑی حد تک تجربہ ہو چکا تھا، چنانچہ متفقہ طور پر آپ کے دست حق پرست پہ بیعت کے لئے اس طرح ٹوٹ پڑے جس طرح بھولے بھٹکے مسافر دور سے منزل کی جھلک دیکھ کر اس کی سمت لپک پڑتے ہیں، جب کہ مؤرخ طبری نے لکھا ہے:" لوگ امیر المومنینعليه‌السلام پر ہجوم کرکے ٹوٹ پڑے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام پر کیا کیا مصیبتیں ٹوٹ رہی ہیں۔ اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریبیوں کے بارے میں ہماری کیسی آزمائش ہو رہی ہے ۔" مگر امیر المومنینعليه‌السلام نے ان کی خواہش کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر ان لوگوں نے شور مچایا؟اور چیخ چیخ کر کہنے لگے اے ابو الحسنعليه‌السلام !

آپ اسلام کی تباہی کو نہیں دیکھ رہے فتنہ و شر کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو نہیں دیکھتے، کیا آپ خدا کا خوف بھی نہیں کرتے پھر بھی حضرت نے آمادگی کا اظہار نہ فرمایا، کیونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد جو ماحول بن گیا تھا اس کے اثرات دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں ۔ طبیعتوں میں خود غرضی و جاہ پسندی جڑ پکڑ چکی ہے، ذھنوں پر مادیت کے غلاف چڑھ چکے ہیں اور حکومت کو مقصد برآریوں کا ذریعہ قرار دینے کی عادت پڑ چکی ہے ۔ اب خلافت اللہ کو بھی مادیت کا رنگ دے کر اس سے کھیلنا چاہیں گے ۔ ان حالات میں ذھنیتوں کو بدلنے اور طبیعتوں کے رخ موڑنے میں لوہے لگ جائیں گے ۔ ان اثرات کے علاوہ یہ مصلحت بھی کار فرما تھی کہ ان لوگوں کو سوچ سمجھ لینے کا موقعہ دے دیا جائے تاکہ کل اپنی مادی توقعات کو ناکام ہوتے دیکھ کر یہ نہ کہنے لگیں کہ یہ بیعت وقتی ضرورت اور ہنگامی جذبہ کے زیر اثر ہوگئی۔ اس میں سوچ بچار سے کام نہیں لیا گیا تھا غرض جب اصرار حد سے بڑھا تو اس موقعہ پر یہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اس امر کو واضح کیا گیا کہ اگر تم مجھے مقاصد کے لئے چاہتے ہو تو میں تمہارا آلہ کار بننے کے لئے تیار نھیں، مجھے چھوڑ دو۔

اور اس مقصد کے لئے کسی اور کو منتخب کرلو جو تمہاری توقعات کو پوری کرسکے ۔ تم میری سابقہ سیرت کو دیکھ چکے ہو میں قرآن و سنت کے علاوہ کسی کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لئے تیار نہیں اور نہ حکومت کے لئے اپنے اصول سے ہاتھ اٹھاؤں گا۔اگر تم کسی اور کو منتخب کرو گے تو میں ملکی قوانین و آئین حکومت کا اتنا ہی خیال کروں گا جتنا ایک پرامن شھری کو کرنا چاہی ئے ۔ میں نے کسی مرحلہ پر بھی شورش برپا کرکے مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ کو پراگندہ و منتشر کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

چنانچہ اب بھی ایسا ہی ہوگا بلکہ جس طرح مصالح عامہ کا لحاظ کرتے ہوئے ہمیشہ صحیح مشورے دیتا ہوں ۔ اب بھی دریغ نہ کروں گا اور اگر تم مجھے اسی سطح پر رہنے دو تو یہ چیز تمہارے دنیوی مفاد کے لئے بھتر ہوگی کیونکہ اس صورت میں میرے ہاتھ وں میں اقتدار نہیں ہوگا کہ تمہارے دنیوی مفادات کے لئے سدّ راہ بن سکوں، اور تمہاری من مانی خواہشوں میں روڑے اٹکاؤں، اور اگر یہ ٹھان چکے ہو کے میرے ہاتھ وں پر بیعت کیے بغیر نہ رہوگے تو پھر یاد رکھو چاہے تمہاری پیشانیوں پر بل آئیں اور چاہے تمہاری زبانیں میرے خلاف کھلیں میں حق کی راہ پر لے چلنے پر مجبور کردوں گا، اور حق کے معاملہ میں کسی کی رو رعایت نہیں کروں گا اس پر بھی اگر بیعت کرنا چاہتے ہو تو اپنا شوق پورا کرلو ۔ امیر المومنینعليه‌السلام نے ان لوگوں کے بارے میں جو نظریہ قائم کیا تھا بعد کے واقعات اس کی پوری پوری تصدیق کرتے ہیں ۔ چنانچہ جن لوگوں نے ذاتی اغراض و مقاصد کے پیش نظر بیعت کی تھی جب انھیں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو بیعت توڑ کر الگ ہوگئے اور بے بنیاد الزامات تراش کر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے) ۔

عدالت کے بغیر ہرگز نھیں

حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک مشکل یہ تھی کہ اس وقت کا معاشرہ ایک طرح کی بے مقصدیت میں کھو چکا تھا، لوگ ناجائز کاموں اور غلط رویوں کے عادی بن چکے تھے ۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرہ میں سفارش عروج پر تھی، خاندانی معیار فضیلت کو سامنے رکھا جاتا تھا ۔دوسری طرف حضرت علی علیہ السلام تھے کہ عدالت کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ نہیں ہوں کہ عدالت سے ایک بال برابر بھی انحراف کروں یہاں تک کہ آپ کے ایک صحابی کو کہنا پڑا کہ قبلہ عالم آپ اپنے انداز میں کچھ نرمی لے آیئے ۔آپ نے اس کی بات کو سن کر احساس ناگواری کے ساتھ فرمایا:

"اتامرونی ان اطلب النصر بالجور والله ما اطور به ماسمر سمیر" (۳)

"یعنی کیا تم مجھ پر یہ امر عائد کرنا چاہتے ہو کہ جن لوگوں کا حاکم ہوں ان پر ظلم وزیادتی کرکے (کچھ لوگوں کی) امداد حاصل کروں تو خدا کی قسم جب تک دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور کچھ ستارے دوسرے ستاروں کی طرف جھکتے رہیں گے میں اس چیز کے قریب بھی نہیں بھٹکوں گا ۔"

سیاست ہو تو ایسی

حضرت علی علیہ اسلام کی تیسری مشکل یہ تھی کہ آپ کی سیاست سچائی، صداقت، اور شرافت پر مبنی تھی ۔آپ کی ہر بات حقیقت ہوا کرتی تھی ۔آپ لگی لپٹی بات کرنے کے عادی نہ تھے ۔اور نہ ہی کسی کو اندھیرے میں رکھتے تھے۔آپ کے اس انداز کو آپ کے کچھ دوست پسند نہ کرتے تھے ۔وہ کہا کرتے تھے کہ مولاعليه‌السلام کچھ تو ظاہر ی رکھ رکھاؤ کر لیا کریں ۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ سیاست یہ نہیں ہے کہ اس میں جھوٹ بولا جائے، یا منافقت اختیار کی جائے یا جھوٹ بول کر مطلب نکال لیا جائے، بلکہ سچی، کھری، حقیقی سیاست یہ ہے، کہ سچ کہو اس کے سوا کچھ نہ کہو۔ آپ کی حقیقت پسندی اور صاف گوئی کو دیکھ کر کچھ لوگ کھو کرتے تھے کہ علیعليه‌السلام تو سیاست نہیں جانتے، معاویہ کو دیکھئے وہ کتنا بڑا سیاسدان ہے آپ نے فرمایا:۔

"والله مامعاویة بادهی منی ولکنه یغدر ویفجر، ولولا کراهیة الغدر لکنت من ادهی الناس ولکن کل غدرة فجرة وکل فجرة کفرة ولکل غادر لواء یعرف به یوم القیامة!"

"یعنی خدا کی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ چلتا پرزہ اور ہوشیار نہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہ غداریوں سے چوکتا اور بدکرداریوں سے باز نہیں آتا، اگر مجھے عیاری وغداری سے نفرت نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زائد ہوشیار وزیرک ہوتا ۔لیکن ہر غداری گناہ اور ہر گناہ حکم الٰہی کی نافرمانی ہے ۔چنانچہ قیامت کے دن ہر غداری کے ہاتھ وں میں ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔"(۴)

(استاد محترم علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم نے لکھا ہے کہ وہ افراد جو مذھب و اخلاق سے بیگانہ "شرعی قید وبند سے آزاد اور جزاء وسزا کے تصور سے ناآشنا ہوتے ہیں ان کے لئے مطلب براری کے لئے حیل وذرائع کی کمی نہیں ہوتی "وہ ہر منزل پر کامیابی وکامرانی کی تدبیریں نکال لیتے ہیں ۔جھاں انسانی واسلامی تقاضے اور اخلاقی وشرعی حدیں روگ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں وہاں حیلہ وتدبیر کا میدان تنگ اور جولانگاہ عمل کی وصعت محدود ہوجاتی ہے۔ چنانچہ معاویہ کا نفوذ وتسلط انھی تدابیر وحیل کا نتیجہ تھا ۔جن پر عمل پیرا ہونے میں اسے کوئی روک ٹوک نہ تھی، نہ حلال وحرام کا سوال اس کے لئے سدراہ ہوتا تھا، اور نہ پاداش آخرت کا خوف، اسے ان مطلق العنانیوں اور بے باکیوں سے روکتا تھا، جیسا کہ جناب راغب اصفھانی اس کی سیرت وکردار کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں "اس کا مطمع نظر یہی ہوتا تھا کہ جس طرح بن پڑے اپنا مطلب پورا کرو نہ حلال وحرام سے اسے کوئی واسطہ تھا نہ دین کی اسے کوئی پرواہ تھی اور نہ خدا کے غضب کی کوئی فکر تھی ۔

چناچہ اس نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے غلط بیانی وافزاء پردازی کے سہارے ڈھونڈھے ۔طرح طرح کے مکر وفریب کے حربے استعمال کیے اور جب یہ دیکھا کہ امیر المؤمنینعليه‌السلام کو جنگ میں الجھائے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی تو طلحہ وزبیر کو آپ کے خلاف ابہار کر کھڑا کردیا اور جب اس صورت سے کامیابی نہ ہوئی، تو شامیوں کو بھڑکا کر جنگ صفین کا فتنہ برپا کردیا اور پھر حضرت عمار کی شھادت سے جب اس کا ظلم و عدوان بے نقاب ہونے لگا تو عوام فریبی کے لئے کبھی یہ کہہ دیا کہ عمار کے قاتل علیعليه‌السلام ہیں، کیونکہ وھی انھیں ہمراہ لانے والے ہیں ۔اور کبھی حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں لفظ فئتہ باغیتہ کی یہ تاویل کی کہ اس کے معنی باغی گروہ کے نہیں بلکہ اس کے معنی طلب کرنے والی جماعت کے ہیں ۔یعنی عمار اس گروہ کے ہاتھ وں سے قتل ہوں گے جو خون عثمان کے قصاص کا طالب ہوگا، حالانکہ اس حدیث کا دوسرا ٹکڑا (کہ عمار ان کو بہشت کی دعوت دیں گے اور وہ انھیں جہنم کی طرف بلائیں گے) اس تاویل کی کوئی گنجائش پیدا نہیں کرتا، جب ایسے اوچھے ھتھیاروں سے فتح وکامرانی کے آثار نظرنہ آئے تو قرآن کو نیزوں پر بلند کرنے کا پر فریب حربہ استعمال کیا حالانکہ اس کی نظروں میں نہ قرآن کا کوئی وزن اور نہ اس کے فیصلہ کی کوئی اہمیت تھی۔

اگر اسے قرآن کا فیصلہ ہی مطلوب ہوتا تو یہ مطالبہ جنگ کے چھڑنے سے پہلے کرتا اور پھر جب اس پر حقیقت کھل گئی کہ عمرو ابن عاص نے ابو موسی کو فریب دے کر اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے اور اس کے فیصلہ کو قرآن سے دور کا بھی لگاؤ نہیں ہے تو وہ اس پر فریب تحکیم کے فیصلہ پر رضا مند نہ ہوتا ۔اور عمروابن عاص کو اس فریب کاری کی سزادیتا یا کم از کم تنبیہ وسرزنش کرتا مگر یہاں تو اس کےکارناموں پر اس کی تحسین آفرین کی جاتی ہے۔ اور کار گردگی کے صلہ میں اسے مصر کا گورنر بنادیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس امیر المؤمنینعليه‌السلام کی سیرت شریعت واخلاق کے اعلی معیار کا نمونہ تھی، وہ ناموافق حالات میں بھی حق صداقت کے تقاضوں کو نظر میں رکھتے تھے اور اپنی پاکیزہ زندگی کو حیلہ ومکر کی آلودگیوں سے آلودہ نہ ہونے دیتے تھے، وہ چاہتے تو حیلوں کا توڑ حیلوں سے کرسکتے تھے، اور اس کی رکاکت آمیز حرکتوں کا جواب ایسی ہی حرکتوں سے دیا جاسکتا تھا، جیسے اس نے فرآت پر پہرہ بٹھا کر پانی روک دیا تھا ۔تو اس کو اس امر کے جواز میں پیش کیا جاسکتا تھا کہ جب عراقیوں نے فرآت پر قبضہ کرلیا تو ان پر بھی پانی بند کردیا جاتا، اور اس ذریعہ سے ان کی قوت حرب وضرب کو مضمحل کر کے انھیں مغلوب بنالیا جاتا مگر امیر المؤمنینعليه‌السلام ایسے ننگ انسانیت اقدام سے کہ جس کی کوئی آئین واخلاق اجازت نہیں دیتا کبھی اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیتے تھے ۔اگر چہ دنیا والے ایسے حربوں کو دشمن کے مقابلہ میں جائز سمجھتے ہیں اور اپنی کامرانی کے لئے ظاہر و باطن کی دورنگی کو سیاست وحسن تدبیر سے تعبیر کرتے ہیں ۔

مگر امیر المؤمنینعليه‌السلام کسی موقعہ پر فریب کاری ودورنگی سے اپنے اقتدار کے استحکام کا تصور بھی نہ کرتے۔ چنانچہ جب لوگوں نے آپ کو یہ مشورہ دیا کہ عثمانی دور کے عمال کو ان کے عھد بر قرار رہنے دیا جائے اور طلحہ وزبیر کو کوفہ وبصرہ کی امارت دے کر ہمنوا بنا لیا جائے اور معاویہ کو شام کا اقتدار سونپ کر اس کے دنیوی تدبیر سے فائدہ اٹھایا جائے، تو آپ نے دنیوی مصلحتوں پر شرعی تقاضوں کو ترجیح دیتے ہوئے اسے ماننے سے انکار کردیا اور معاویہ کے متعلق صاف لفظوں میں فرمایا۔

"اگر میں معاویہ کو اس کے علاقہ پر برقرار رہنے دوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا قوت بازو بنارہاہوں۔"(۵)

ظاہر بین لوگ صرف ظاہر کامیابی کو دیکھنے ہیں اور یہ دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ یہ کامیابی کن ذرائع سے حاصل ہوئی؟ یہ شاطرانہ چالوں اور عیارانہ گھاتوں سے جسے کامیاب وکامران ہوتے دیکھتے ہیں اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔ اور اسے مدبر، بافہم اور سیاستدان وبیدار مغز اور خدا جانے کیا کیا سمجھنے لگتے ہیں، اور جو الٰہی تعلیمات اور اسلامی ھدایات کی پابندی کی وجہ سے چالوں اور ہتھکنڑوں کو کام میں نہ لائے اور غلط طریق کار سے حاصل کی ہوئی کامیابی پر محرومی کو ترجیح دے وہ ان کی نظروں میں سیاست سے ناآشنا اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے کمزور سمجھا جاتا ہے ۔انھیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ یہ سوچیں کہ ایک پابند اصول وشرع کی راہ میں کتنی مشکلیں اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں کہ جو منزل کامرانی کے قریب پہنچنے کے باوجود اسے قدم آگے بڑھانے سے روک دیتی ہیں۔

خوارج حضرت علیعليه‌السلام کیلئے ایک بنیادی مشکل

مولائے کائنات کی ایک بنیادی مشکل میں عرض کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے قبل ایک ضروری بات وہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور میں ایک گروہ پیدا ہوا یہ لوگ حضور کے پرچم تلے جمع ہوگئے ۔آپ نے اس طبقہ کو تعلیم وتربیت دی، اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا ۔قدم قدم پر ان لوگوں کی رھنمائی کی ۔رفتہ رفتہ اسلامی تعلیمات اس کے قلب وذھن میں گھر کر گئیں ۔ادھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سر زمین مکہ میں قریش سے طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کیں، آپ نے حد سے زیادہ مظالم سہے، لیکن آپ نے قدم قدم پر صبر وتحمل سے کام لیا ۔آپ کے اصحاب عرض کرتے ہیں کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ ہمیں جنگ لڑنے اور دفاع کرنے کی اجازت عنایت فرماہی دیں، آخر ہم کب تک ان لوگوں کے مظالم برداشت کرتے رہیں گے؟ آخر ہم کب تک ان لوگوں کے مظالم برداشت کرتے رہیں گے؟آخر کب تک یہ افراد ہم پر پتھروں کی بارش کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم ان کے کوڑے سہتے رہیں گے؟ ظالموں کا ظلم حد سے بڑھ گیا۔ آپ نے جھاد کی اجازت نہ دی، جب اصرار بڑھا تو آپ نے فرمایا آپ لوگ ہجرت کر سکتے ہیں ۔

ان میں سے کچھ لوگ حبشہ چلے آئے ۔یہ ہجرت مسلمانوں کے لئے سودمند ثابت ہوئی ۔اس سوال کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرہ سال کی مدت میں کیا کرتے رہے؟ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کی تربیت کرتے رہے، ان کو تعلیم کی روشنیوں سے روشناس کراتے رہے ۔ہجرت کے وقت ان لوگوں کی تعداد ایک ھزار کے لگ بھگ تھی ۔یہ لوگ اسلام کی حقیقتوں کو پوری طرح سے جانتے تھے ۔ان کی تربیت خالصتاً اسلامی طریقے پر ہوئی۔ درحقیقت یہ ایک تحریک تھی ایسے افراد کی جو تعلیم وتربیت، علم وعمل کے اسلح سے لیس تھے ۔

راہ حق کےجانبازوں نے قریہ قریہ، گلی گلی جاکر اسلام کا پرچار کیا، جس طرح ان کی تبلیغ میں تاثیر تھی اسی طرح لوگوں نے اتنی ہی تیزی سے اسلام کو قبول کیا۔نتیجہ چہار سوا اسلام کی کرنیں پھیل گئیں ۔ماحول منور ہوگیا، فضا معطر ہوگئی، بس کیا تھا ہر طرف اسلام ہی اسلام کی باتیں ہو رہی تھیں، پرچم اسلام بڑی زرق و برق اور شان وشوکت کے ساتھ لھرارہا تھا ۔

یھاں پر میں اتنا عرض کروں گا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی علیہ اسلام کے زمانوں اور حالات میں بہت فرق تھا۔ جناب رسلتمابصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقابلے میں کافر تھے ۔ایسے لوگ کہ جن کا عقیدہ صریحاً کافرانہ ومنکرانہ تھا ۔وہ علانیہ طور پر کھا کرتے تھے کہ ہم کافر ہیں اور کفر ہی کی حفاظت کے لئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑرہے ہیں، لیکن جناب علیعليه‌السلام کا مقابلہ منافقوں سے تھا ایسے منافق کہ جن کی زبان پر تو اسلام تھا لیکن ان کے دل کفر کا دم بھرتے تھے ۔اسلام وقرآن کا نام تو لیتے تھے لیکن اندر سے وہ اسلام کے سخت مخالف اور قرآن کے دشمن تھے ۔عثمان کے دور خلافت میں ان لوگوں نے بے پناہ فتوحات حاصل کیں لیکن انھوں نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پاک کی تمام تر تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ۔

آپ نے تیرہ ۱۳ سال تک لوگوں کو دفاع وجھاد کی اجازت اس لئے نہ دی کہ یہ لوگ بہت کم ظرف تھے ۔حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام کوششوں کا محور یہ تھا کہ اسلامی تھذیب پھلے پھولے، ایمانی تمدن میں وسعت پیدا ہو، لوگ پرچم اسلام تلے جمع ہوں، بدقسمتی سے اس وقت کے لوگ اپنے اس راستے سے ھٹ گئے جو کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعین کیا تھا وہ ظاہر میں اسلام اسلام کی رٹ لگاتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن حقیقت میں وہ حقیقی اسلام اور اسلام محمدی کی اصلی روح سے ناآشانا تھے ۔یہ لوگ نماز پڑھتے، روزہ رکھتے تھے لیکن ان کے قلوب معرفت اور ان کے اذھان بصیرت سے بلکل ناواقف تھے ۔یوں سمجھ لیجئے کہ یہ لوگ خالی خولی اور خشک مقدس تھے ۔لمبی لمبی داڑھیاں اور پیشانیوں پر سجے ہوئے سجدہ کے علامتی نشانات، صوفیانہ وضع قطع، مولویانہ انداز زندگی، زاہدانہ رھن سھن رندانہ طرز تبلیغ ۔یہ تقدس مآب لوگ لمبے لمبے سجدے کرتے تھے ۔جب حضرت علی علیہ السلام نے جناب ابن عباس کو ان کے پاس بھیجا تو یہ سب مولائے کائنات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابن عباس نے مولا کی خدمت میں عرض کی کہ :۔

"لهم جباه قرحة لطول السجود"

مولاان کی پیشانیا ں کثرت سجود سے زخمی ہو گئی ہیں "

واید کثفنات الابل"

ان کے ہاتھ اونٹ کے زانو کی مانند سخت ہو چکے ہیں "

علیهم قمص مرحضة"

انھوں نے پرانے لباس پھن کر خود کو زاہد ظاہر کررکھا ہے "

وهم مشمرون "

تاویل کی کوئی گنجائش پیدا ن؂ھ "یہ سب کے سب ایک ہی طرز کی زندگی گزار رہے ہیں "

یہ طبقہ اور یہ گروہ جھاں جاہل اور نادان تھا وہاں خشک مقدس بھی تھا ۔ ان کا زاہدانہ انداز زندگی بھی حقیقی نیکی اور اخلاص ومعرفت سے خالی تھا ۔انھوں نے اسلام اسلام کی رٹ لگا رکھی تھی ۔ان کو یہ خبر نہ تھی کہ اصل اسلام کیا ہے، اسلامی تعلیمات کا مقصد حقیقی کیا ہے؟اسلام کن کے لئے اور کس کس مقصد کے لئے لایا گیا ہے؟ مولا امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا رک جاؤ ۔ٹھرجاؤ میری طرف توجہ کرو، میری بات سنو میں آپ کو بتاتاہوں یہ کون لوگ ہیں؟

"جفاة طغام عبید اقزام، جمعوا من کل اوب وتلقطوا من کل شوب ممن ینبغی ان یفقه ویودب ویعلم ویدرب لیسو من المهاجرین والا نصار ولا من الذین تبؤ الدار وایمان !" (۶)

"یعنی وہ تندخواوباش اور کمینے بدقماش ہیں کہ ہر طرف اکھٹے کر لئے گئے ہیں۔اور مخلوط النسب لوگوں میں سے چن لئے گے ہیں ۔وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جھالت کی بناء پر اس قابل ہیں کہ انھیں ابھی اسلام کے متعلق کچھ بتایا جائے، اور شایستگی سکھائی جائے اچھائی اور برائی کی تعلیم دی جائے، اور عمل کی مشق کرائی جائے، اور ان پر کسی نگران کو چھوڑا جائے، اور ان کے ہاتھ پکڑ کر چلایا جائے، نہ تو وہ مھاجر ہیں نہ انصار اور نہ ان لوگوں میں سے ہیں جو مدینہ میں فروکش تھے"۔

حضرت علی علیہ السلام جب مسند خلافت پر بیٹھے تو عجیب وغریب صورت حال تھی، اور اس نوع کے مسلمان موجود تھے یہاں تک کہ آپ کے سپاہی وں اور فوجیوں میں بھی اس طرح کے لوگ موجود تھے ۔آپ جنگ صفین میں معاویہ اور عمر وعاص کی شاطرانہ چالوں کے بارے میں بار بار پڑھ چکے ہیں، اور متعدد بار سن چکے ہیں جب ان لوگوں نے دیکھا کہ وہ شکست کے قریب ہیں تو انھوں نے ایک بھانہ اور ایک اسکیم تیار کی اور ایک حیلہ تراشا تاکہ جنگ بند ہوجائے ۔چنانچہ ان لوگوں نے قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اے لوگو!ھم سب قرآن مجید کو ماننے والے ہیں، ہمارا قبلہ پر بھی مکمل ایمان ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں؟اگر آپ لڑنا بھی چاہتے ہیں تو آیئے سب سے پھلے قرآن پر حملہ کیجئے ۔یہ سننا تھا سبھی تلواریں نیام میں کر لیں، اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور ایک زبان ہو کر کھا بھلا کس طرح قرآن مجید سے لڑائی کی جاسکتی ہے؟

یہ لوگ فوراًمولا علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مولا مسئلہ حل ہوگیا ہے، قرآن مجید کی وجہ سے لڑائی ختم ہوچکی ہے ۔جب ہمارے درمیان قرآن مجید آگیا تو پھر جھگڑا کس بات کا، لڑائی کس چیز کے لئے" جنگ وجدال کا کیا مقصد؟ یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا کیا ہم نے پھلے ہی دن سے یہ نہیں کھا تھا کہ ہمیں قرآن مجید اور اسلام کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے، دیکھیں تو سھی کہ ہم میں حق پر کون ہے؟ یہ جھوٹ بکتے ہیں "یہ قرآن مجید نہیں لے آئے بلکہ قرآن مجید کی جلد اور کاغذ کو ڈھال قرار دیا ہے تاکہ بعد میں قرآن مجید کے خلاف قیام کریں ۔آپ اس کی طرف دھیان نہ دیں ۔میں تمہارا امام ہوں"میں ہی قرآن ناطق ہوں ۔ آپ لڑیں اور خوب لڑیں یہاں تک کہ ٹڈی دل دشمن میدان سے بھاگ جائے ۔یہ سن کر یہ لوگ کھنے لگے یا علیعليه‌السلام آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ۔اب تک تو ہم آپ کو اچھا انسان خیال کرتے رہے ہیں ۔لیکن ہمیں اب پتہ چلا کہ آپ جاہ طلب انسان ہیں "بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم قرآن مجید کے خلاف جنگ کریں؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا لڑنا ہے تو آپ خود جاکر لڑیں ہم اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتے؟

مالک اشتر میدان جنگ میں نبرد و پیکار تھے ۔ان لوگوں نے امام سے بار بار اصرار کیا کہ مولا مالک سے کھیں کہ وہ واپس آجائیں اور قرآن مجید کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لیں ۔امام نے پیغام بھیجا مالک واپس لوٹ آیئے ۔مالک نے عرض کی کہ قبلہ عالم ایک دو گھنٹہ کی مھلت دیجئے یہ ٹڈی دل لشکر جنگ ہارنے والا ہے ۔یہ واپس آگئے اور عرض کی مولا مالک جنگ کرنے سے باز نہیں آرہے ۔آیا یا مالک کو روکیں ورنہ بیس ھزار تلوار آپ پر حملہ آور ہوجائے گی ۔مولا نے پیغام دیا کہ مالک اگر تم علیعليه‌السلام کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو واپس لوٹ آؤ ۔وہ لوگ حضرت کے پاس آئے اور عرض کی ہم دو شخص بطور منصف تجویز کرتے ہیں ۔اب جبکہ قرآن مجید کی بات نکلی ہے تو ہم بھترین منصف مقرر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے عمر وعاص کا نام تجویز کیا اور جناب امیر علیہ السلام نے ابن عباس کا نام پیش کیا، اس پر راضی نہ ہوئے اور کہا یا علیعليه‌السلام چونکہ وہ آپ کے چچازاد بھائی ہیں اور آپ کے رشتہ دار ہیں ہم تو اس شخص کے نام کی منظوری دیں گے جو کہ رشہ میں کچھ نہ لگتا ہو ۔آپ نے فرمایا ابن عباس نہ سھی "مالک اشتر کا نام لکھ لیں"وہ بولے مالک بھی ہمیں منظور نہیں ہیں ۔امام نے چند نام اور دیئے انھوں نے منظور نہ کیے ۔آپس میں صلاح مشورہ کرکے بولے کہ ہم تو صرف ابو موسی اشعری کو تسلیم کرتے ہیں ۔ابو موسی وہ شخص ہے جو اس سے بیشتر کوفہ کا گورنر تھا اور مولا ئے کائنات نے اس کو عھدہ سے معزول کردیا تھا ۔

ابو موسی کا دل حضرت علی علیہ السلام کے لئے صاف نہیں تھا بلکہ وہ امام علیہ السلام کے خلا ف شدید قسم کا کینہ وبغض رکھتا تھا ۔وہ لوگ ابو موسی کو لے آئے، لیکن عمر وعاص نے ابو موسی کو بھی دھوکہ دے دیا ۔جب ان لوگوں نے سمجھا کہ وہ فیصلہ کے وقت دھوکہ کھا چکے ہیں تو امامعليه‌السلام کے پاس آئے اور کھا کہ ہمیں تو فریب دیا گیا، دراصل ان کا یہ اعتراف جرم ایک طرح کی دوسری غلطی تھی ۔اس وقت ہم جنگ سے ہاتھ نہ اٹھاتے اور معاویہ سے لڑتے رہتے، وہ جنگ ایک عام جنگ تھی، اس میں قرآن مجید کا کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا، ہم نے ابو موسی کو منصف مان لر بھی شدید غلطی کی ہے، ہم اگر ابن عباس یا مالک اشتر کو مان لیتے تو بھتر تھا، واقعتاًجو شخص خدا کے فیصلے سے ھٹ کر کسی انسان کا فیصلہ مان لیتا ہے وہ حقیقت میں کفر کرتا ہے:

"ان الحکم الا لله"

حکومت تو بس صرف خدا ہی کے لئے ہے"(۷)

جب قرآن مجید نے کھا کہ فیصلہ صرف اللہ تعالی کا ہونا چاہئے کوئی انسان اس کے بغیر فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ چنانچہ ہم سب کافر ومشرک ہو گئے اس لئے ہم سب کو بارگاہ الٰہی میں توبہ کرنی چاہی ے ۔ "استغفراللہ ربی واتوب الیہ" کھنے لگے یا علیعليه‌السلام آپ بھی ہماری طرح منکر خدا ہوگئے ہیں، اس لئے توبہ کریں ۔اب آپ اندازہ فرمائیں کہ علیعليه‌السلام کس قدر مشکلات میں ہیں۔ یہاں پر ایک طرف معاویہ۔۔۔۔۔۔علیعليه‌السلام کے لئے دردسر اور مسئلہ بناہوا ہے، دوسری طرف عمرو عاص نے مولا کو پریشان کر رکھا ہے"تیسرا ان عقل کے اندھوں اور جاہل ترین افراد نے امامعليه‌السلام وقت کے لئے مسئلہ کھڑا کر رکھا ہے ۔آپ نے فرمایا، نہیں نھیں تم لوگ غلطی پر ہو فیصلہ کرنا کفر نہیں ہے"دراصل تم لوگوں کو اس آیت( ان الحکم الا لله ) کا معنی ہی نہیں آتا ۔اس کا مقصد یہ ہے کہ جو قانون اللہ تعالی کا معین کردہ ہو"اور اس نے اپنے بندوں کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دے دی ہو کیا تم بھول گئے ہو جب ہم نے کھا تھا"کہ دو آدمی لے آؤ جو قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کریں ۔آپ نے فرمایا کہ میں نے کسی قسم کی غلطی نہیں کی جو چیز شریعت کے خلاف نہیں ہے ۔میں اس کو کیسے غلط کہہ سکتا ہوں۔یہ نہ کفر ہے اور نہ شرک یہ تو ہے۔ میرا فیصلہ۔ آگے آپ لوگوں کی اپنی مرضی ۔

خوارج کے ساتھ علیعليه‌السلام کا رویہ

ان لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام سے اپنا راستہ جدا کر لیا، خوارج کے نام سے ایک فرقہ بنالیا ۔ان کا مقصد صرف اور صرف علی علیہ السلام کی مخالفت کرنا تھا جب تک ان لوگوں نے امام علیہ السلام کے خلاف مسلح جنگ نہ کی اتنے تک امام علیہ السلام ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے رہے، یہاں تک کہ بیت المال میں سے ان کے مستحق لوگوں کو حصہ دیا جاتا تھا، ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ کی ۔

وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

خارجی لوگ دوسروں کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کی اہانت کرتے، لیکن امام علیہ السلام خاموش رہتے اور صبر وتحمل سے کام لیتے ۔آپ جب منبر پر تقریر کررہے ہوتے تو کچھ خارجی آپ کی تقریر کے دوران سیٹیاں بجاتے اور آوازیں کستے۔ ایک روز آپ تقریر فرمارہے تھے ایک شخص نے امام علیہ السلام سے ایک مشکل ترین سوال کیا، آپ نے اسی وقت اس انداز میں اس قدر آسان جواب دیا کہ تمام مجمع عش عش کر اٹھا، تکبیر کی آوازیں بلند ہوئیں ۔وہاں پر ایک خارجی بیٹھا ہوا تھا اور بولا :

"قاتله الله ماافقهه"

کہ خدا ان کو مار ڈالے کس قدر علامہ ہے یہ شخص"

آپ کے اصحاب نے اس شخص کو پکڑ کر مارنا چاہا لیکن امام علیہ السلام نے فرمایا اسے چھو ڑدو اس نے بدتمیزی تو مجھ سے کی ہے زیادہ سے زیادہ تو آپ اس کو توبیخ ہی کرسکتے ہیں۔ اس کو اپنے حال پر رہنے دو، جو کھتا ہے کھتا پھرے جن کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں ۔

علی علیہ السلام حاکم وقت تھے، مسجد میں نماز، باجماعت پڑہارہے تھے آپ اندازہ فرمایئے کیسا حلیم وبردبار ہے ہمارا امامعليه‌السلام ان خارجیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھی، کھنے لگے علیعليه‌السلام تو (نعوذباللہ) مسلمان ہی نہیں ہیں، یہ کافر ومشرک ہیں، حالانکہ حضرت سورہ حمد اور دوسری سورہ کی تلاوت کررہے تھے۔وہاں پر ابن الکواب نامی شخص موجود تھا، اس نے طنزیہ طور پر یہ آیت بلند آواز سے پڑھی :۔

"ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک" (۸)

"وہ یہ آیت پڑھ کے یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ یا علیعليه‌السلام یہ درست ہے کہ آپ سب سے زیادہ پکے مسلمان ہیں، آپ کی عبادات اور دینی خدمات قابل قدر ہیں، چونکہ آپ نے نعوذباللہ شرک کیا ہے "علی علیہ السلام اس آیت کے مطابق :

"واذا قری القرآن فاستمعواله وانصتوا" (۹)

" (لوگو) جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر سنو اور چپ چاپ رہو"

آپ خاموش ہو کر نماز پڑھتے رہے اس نے تین چار مرتبہ اسی طرح کا طنز کیا، آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

"فاصبر ان وعدالله حق لا یستخفنک الذین لا یوقنون"

اے رسول !تم صبر کرو "بیشک خدا کا وعدہ سچاہے اور کھیں ایسا نہ ہو کہ جو لوگ (تمہاری) تصدیق نہیں کرتے تمھیں (بہکا کر) خفیف کردیں ۔"(۱۰)

خوارج کا عقیدہ

کیا خارجیوں نے اس حد تک اکتفاء کیا ہے؟ اگر اتنا ہی کرتے تو حضرت علی علیہ السلام کے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا اور نہ ہی اتنی پریشانی کی بات تھی ۔انھوں نے اہستہ اہستہ فرقے اور گروہ کی صورت اختیار کر لی، جس طرح ہم نے عرض کیا ہے کہ وہ ظاہر ی صورت میں تو مسلمان تھے لیکن وہ پس پردہ کافر ومشرک تھے، کیونکہ انھوں نے اپنی طرف سے ایک نظریہ بلکہ عجیب قسم کے نظریات قائم کر لئے تھے ۔ان کا عقیدہ تھا کہ چونکہ حضرت علیعليه‌السلام عثمان اور امیر معاویہ کے حکم (منصف) کو قبول کیا ہے، اس لئے وہ اپنے اسلامی عقیدہ سے منحرف ہوگئے ہیں ۔ان کے نزدیک وہ بھی کافر ہوگئے تھے ۔چونکہ بقول ان کے ہم نے توبہ کرلی ہے اس لئے ہمارا عقیدہ صحیح ہو گیا ہے ان کے نزدیک امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی کوئی حیثیت نہ تھی ۔

یہ ظالم حکمران ان کے خلاف قیام کرنے کو جائز نہ سمجھتے تھے۔یہ لوگ دراصل انتھا پسند اور متعصب قسم کے تھے کہ جو خود کو اچھا سمجھتے تھے اور دوسروں پر کیچڑ اچھالتے رہتے تھے ان کاعقیدہ تھا کہ عمل ایمان کا جز ہے وہ کھتے تھے کہ جو

"اشهد ان لااله الاالله واشهد ان محمداً رسول الله "

کھے اور دل سے نہ مانے، تو کھنے سے انسان مسلمان نہیں ہوجاتا ۔اگر وہ نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، شراب نہ پیئے، جوا نہ کھلئے، فعل بد کا مرتکب نہ ہو، جھوٹ نہ کھے اگر وہ تمام گناہ نہ کرے تو تب مسلمان ہے ۔اگر ایک مسلمان جھوٹ بول لیتا ہے وہ کافر ہوجائے گا، وہ نجس ہے، اور مسلمان نہیں ہے ۔اگر ایک مرتبہ غیبت کرے یا شراب پی لے تو دین اسلام سے خارج ہے۔ غرض کہ انھوں نے گناہان کبیرہ کے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج کردیا ہے ۔ یہ لوگ دوسروں کو ناپاک، کافر، مشرک اور نجس سمجھتے تھے ۔ صرف اپنے آپ کو ہر لحاظ سے نیک اور پاک خیال کرتے تھے ۔ گویا یہ زبان حال سے کھہ رہے تھے کہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کوئی بھی ان کے سوا مسلمان وجود نہیں رکھتا ۔ ان کے نزدیک امر بالمعروف اور نھی عن المنکر واجب ہے ۔ لیکن اس کی کوئی شرط و غیرہ نہیں ہے ۔ یہ لوگ مولا علی علیہ السلام کو نعوذ باللہ مسلمان نہیں سمجھتے تھے ۔ ان کا کھنا تھا کی علیعليه‌السلام کے خلاف قیام کرنا اور ان سے جنگ نہ فقط کار ثواب ہے بلکہ بہت بڑی عبادت ہے ۔ ان جاہلوں اور تنگ نظر لوگوں نے شھر کے باہر خیمہ نصب کیا ۔ اور باغی ہونے کا اعلان کردیا ۔ ان کے عقائد اور نظریات میں انتھا پسندی، تنگ نظری کے سوا کچھ نہ تھا یہ خارجی چونکہ دوسرے لوگوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے، اس لئے ان کا عقیدہ تھا کہ ان لوگوں کو رشتہ دینا چاہی ے نہ لینا چاہی ے ۔ ان کا ذبح شدہ گوشت حلال نہیں ہے، بلکہ ان کی عورتوں اور ان کے بال بچوں کا قتل جائز اور باعث ثواب ہے ۔

انھوں نے شھر سے باہر ایک ڈیرہ جما لیا اور شھر کے باسیوں کی قتل و غارت شروع کردی، یہاں تک کہ ایک صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی اہلیہ کے ہمراہ وہاں سے گزر رہا تھا وہ بی بی حاملہ تھی انھوں نے اس صحابی سے کھا کہ وہ علیعليه‌السلام پر تبرا کریں ۔ جب انھوں نے انکار کیا تو ان ظالموں نے اس عظیم اور بزرگ صحابی کو قتل کردیا اور اس کی بیوی کے شکم کو نیزے سے زخمی کردیا اور کھا تم کافر تھے اس لئے ہم نے تمہارے ساتھ ایسا کیا ۔ یہ خارجی ایک دوسرے خارجی کے باغ سے گزر رہے تھے تو ایک خارجی نے کھجور کا ایک دانہ توڑ کر کھا لیا تو سبھی چیخ پڑے اور بلند آواز سے کھا کہ اس کا مال نہ کھاؤ کیونکہ ہمارا مسلمان بھائی ہے ۔ یعنی یہ خارجی اور پلید صفت انسان دوسرے مسلمان کو کافر اور خود کو مسلمان کھا کرتے تھے ۔

خارجیوں کے ساتھ مولا علیعليه‌السلام کا مجاہدانہ مقابلہ

خارجیوں کی جارجانہ کاروائیاں اور ظالمانہ سرگرمیاں جب حد سے تجاوز کرنے لگیں تو مولا علیعليه‌السلام نے ان کے مقابلے میں ایک جری بھادر افراد پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا، اب دوسرے مسلمانوں اور بے گناہ انسانوں کو خارجیوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا تھا ۔آپ نے ابن عباس کو ان سے بات چیت کرنے کیلئے بھیجا "جب وہ وآپس آئے تو مولا کوان الفاظ میں رپوٹ دی" یا حضرت!ان کی پیشانیوں پر محرابوں کا نشان ہے۔ان کے ہاتھ کثرت عبادت کی وجہ سخت ہوگئے ہیں"پرانا لباس اور زاہدانہ انداز زندگی مولا میں کس طرح ان کے ساتھ مذاکرات کروں؟ حضرت علی علیہ السلام خود تشریف لے گئے اور ان سے بات چیت کی، اور یہ گفتگو بہت سود مند ثابت ہوئی ۔بارہ ھزار افراد میں سے آٹھ ھزار آدمی نادم وشرمندہ ہوئے ۔علی علیہ السلام نے ایک علم نصب کیا اور فرمایا جو شخص اس پرچم تلے آجائے گا وہ محفوظ رہے گا ۔آٹھ ھزار آدمی اس پرچم کے سائے میں آگئے ۔لیکن چار ھزار اشخاص نے کہا کہ ہم کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے ۔

کائنات کے عظیم صابر اور بھادر امام نے تلوار اٹھائی اور ان ظالموں کی گردنیں گاجر مولی کی طرف کاٹ ڈالیں ۔ان میں دس آدمیوں نے معافی مانگ لی، آپ نے ان کو چھوڑدیا ۔ان نجات پانے والوں میں سے ایک عبدالرحمٰن بن ملجم تھا۔ یہ شخص خشک مقدس انسان تھا۔حضرت علی علیہ السلام کا نھج البلاغہ میں ایک جملہ ہے"واقعتاًعلیعليه‌السلام علیعليه‌السلام ہے "یھاں سے اس عالی نسب امام کی عظمت ورفعت ظاہر ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں :۔

"انا فقات عین الفتنة ولم یکن لیجتری علیها احد غیری بعدان ماج غیبها واشتد کلبها" (۱۱)

"اے لوگو!میں نے فتنہ وشر کی آنکھیں پھوڑ ڈالی ہیں۔ جب اس کی تاریکیاں (موجوں کی طرح) تہ و بالا ہو رہی تھیں اور (دیوانے کتوں کی طرح) اس کی دیوانگی زورں پر تھی تو میرے علاوہ کسی ایک میں جرأت نہ تھی کہ وہ اس کی طرف بڑھتا"۔

اس طرح کے لوگ جو خود کو مقدس اور پارسا سمجھتے ہیں ان کا ذھن اتنا تنگ وتاریک ہو چکا ہوتا ہے کہ کسی کی بات کو برداشت نہیں کرتے ۔اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو جان سے ماردینے میں کسی قسم کی پس وپیش نہیں کرتے ۔یھی لوگ تھے جو یزید کے حق میں ایک جگہ پر جمع ہوگئے اور امام حسینعليه‌السلام اور ان کے ساتھیوں کو شھید کر ڈالا ۔اس قسم کے لوگوں کا مقابلہ کرنا واقعتاً دل گردے کی بات ہے ۔یہ ایک طرف قرآن مجید پڑھتے، خدا کی عبادت کرتے تھے دوسری طرف دنیا کے صالح ترین افراد کو قتل کرتے ۔مولا خود فرماتے ہیں کہ ان مشکل ترین حالات میں میرے سوا کسی میں جرأت پیدا نہ ہوئی کہ ان کی جارحیت کا مقابلہ کرتے، حالانکہ اس وقت بڑے بڑے ایسے ایسے لوگ تھے جو خود کو سب سے بڑا مسلمان کہلواتے تھے"لیکن میں نے ان ظالموں کے خلاف تلوار بلند کی اور مجھے اس پر فخر ہے اس کے بعد فرماتے ہیں:

"بعد ان ماج غیبها"

"یعنی میں نے فتنہ وشر کی آنکھیں پھوڑ ڈالی ہیں ۔اور جب اس کی تاریکیاں (موجوں کی طرح) تہ و بالا ہو رہی تھیں"

امام علیہ السلام کا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حالات بہت زیادہ پیچیدہ تھے صورت حال انتھائی خطرناک تھی۔ ابن عباس جب ان کےپاس گئے تو دیکھا یہ تو بہت زیادہ عبادت کرنے والے ہیں ۔ان کی شکل وصورت پ رہی ز گاروں جیسی ہے'ان کو مارنا اور ان کے خلاف تلوار بلند کرنا واقعتاً مشکل بات تھی۔اگر ابن عباس کی جگہ پر ہم بھی ہوتے تو ان لوگوں کے خلاف ذرا بھی قدم نہ اٹھاتے ۔لیکن علی علیہ السلام کی معرفت اور جرأت کا کیا کہنا؟ آپ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑوں کو کمزور کررہے ہیں تو آپ نے دنیا اور دنیاداروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خارجیوں پر ایسی شمشیر زنی کی کہ منافقوں کا ستیاناس ہوگیا ۔اور اسلام حقیقی کا روشن اور تابناک چھرہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکھر کر سامنے آگیا۔ "واشتدکلبھا " اور دیوانے کتوں کی طرح اس کی دیوانگی زوروں پر تھی ۔حضرت کا جملہ بہت ہی عجیب وغریب جملہ ہے ۔آپ نے ان لوگوں کو ایک باؤ لے کتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے، جب کوئی کتا باؤلے پن کا شکار ہوتا ہے تو اس کے سامنے جو بھی آتا ہے وہ اس کو کاٹ لیتا ہے۔ آپنے پرائے کی پروا نہیں کرتا وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ یہ اس کا مالک ہے ۔یا یہ کوئی دوسرا شخص ہے ۔ اس قسم کے کتے کی زبان نکلی ہوتی ہے، رال ٹپکا رہا ہوتا ہے، جب کسی گھوڑے سے گزرتا ہے یا کسی انسان سے تو ان کو بھی باؤلے پن کا مریض بنادیتا ہے، امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ مقدس مآب اور جعلی شریف نما لوگ دیوانے کتے کی مانند ہیں ۔یہ جس کو بھی کاٹتے ہیں اسے دیوانہ اور پاگل کردیتے ہیں ۔اورر دیوانے کتوں کا ایک ہی علاج ہے ان کو ختم کردیا جائے اگر امام علیہ السلام ان کتوں کا سر قلم نہ کرتے اور شمشیر حیدری کے ذریعے انھیں صفحہ ہستی سے نہ مٹاتے تو یہ بیماری پورے معاشرہ میں پھیل جاتی اور اس کو حماقت، جھالت اور نادانی کا شکار بنادیتی۔میں نے جب دیکھا کہ اسلام اور اسلامی معاشرہ ان جاہلوں کی وجہ سے سخت خطرہ میں ہے تو میں نے انتھائی جرأت مندی کے ساتھ اس بڑے فتنہ کو فنا کے گھاٹ اتار کر اسے خاموش کردیا ہے ۔

خارجیوں کی ھٹ دھرمی

خارجیوں کی ایک بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد میں انتھائی مضبوط تھے۔جب عقیدہ اور نظریہ کی بات ہوتی تو یہ لوگ مرمٹتے تھے ۔انکی دوسری خوبی یہ تھی کہ یہ لوگ عبادت بہت زیادہ کرتے تھے ۔ان کی یہ صفت دوسروں کو ان کے بارے میں اچھا تأثر پیدا کرتی تھی یھی وجہ ہے کہ مولاعليه‌السلام نے فرمایا کسی ایک کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ ان پر شمشیر زنی کرے ۔ان میں تیسری بات یہ تھی کہ یہ لوگ جھالت ونادانی میں بھی بہت آگے تھے ۔یعنی پرلے درجے کے اجڈ اور ان پڑھ تھے ۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ ان کی جھالت اور نادانی کی وجہ سے اسلام پر کیا کیا گزری؟ نھج البلاغہ بہت عظیم کتاب ہے ہر لحاظ سے عجیب ہے، اسکی توحید عجیب، اس کی وعظ ونصیحت عجیب اس کی دعا والتجاء عجیب، اس کے تجزیئے عجیب ۔علی علیہ السلام جب معاویہ اور خارجیوں کے بارے تبصرہ فرماتے تھے تو کمال کر دیتے ہے۔ آپ نے خارجیوں سے فرمایاکہ "ثم انتم اشرار الناس "کہ تم بدترین لوگ ہو" آخر کیا وجہ ہے کہ آپ ان شریف نما لوگوں کو برے القابات کے ساتھ یاد کر رہے ہو۔

اگر ہم اس جگہ پر ہوں تو ہمیں کھیں گے کہ آدمی وہ اچھاہے جو دوسروں کو فائدہ پھنچائے اور نقصان نہ پھنچائے "کچھ لوگ ان شریف نما لوگوں کو دیکھ کر ان کو صالح اور پاکباز انسان کا لقب دے رہے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام ان کو بدترین اشخاص کہہ رہے ہیں؟ اس کے بعد فرماتے ہیں ۔ دراصل تم اور تم جیسے لوگ شیطان کے آلہ کا رہی ں۔ شیطان تمہارے ذریعہ سے لوگوں کو فریب دیتا ہے اور تمھیں کمان بناکر دوسروں پر تیر اندازی کرتا ہے ۔حضرت علی علیہ السلام واضح اور واشگاف الفاظ میں خارجیوں کی اس لئے مذمت کررہے ہیں یہ لوگ ظاہر میں قرآن پڑھتے ہیں لیکن حقیقت میں قرآنی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں ۔نمازیں پڑھتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں لیکن ان کی عبادت سے حقیقت کی بو نہیں آتی انھوں نے ظاہر ی شکل وصورت اور وضع قطع سے عام لوگوں کو فریب دے رکھا ہے ۔

آپ نے تاریخ کو پڑھا ہو گا کہ حضرت علی علیہ السلام کے دور میں عمرو عاص اور معاویہ جیسے لوگ بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام کی غیر معمولی صلاحیتوں اور معجزاتی حیثیتوں سے واقف تھے" اور یہ وہ بھی جانتے تھے کہ شجاعت، زھد وتقوی علم وعمل میں علیعليه‌السلام کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔معاویہ حضرت علی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعریفیں کرتا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے امام علیہ السلام سے جنگیں کیں، اور مختلف مواقع پر سازشوں کے جال بچھاتا رہا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ سب کچھ جانتے اور مانتے اور دیکھتے ہوئے بھی امام وقت کا مقابلہ کرتا ہے؟ جواب صاف ظاہر ہے اس کی عقل اور اس کے دل پر پردہ پڑ چکا تھا اور وہ عقل کا اندھا شخص شیطان کا آلہ کار بن کروہ کچھ کرتا رہا جو نہیں کرنا چاہی ئے تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ جب مولا علی علیہ السلام شھید ہوئے تو آپ کی شھادت کے بعد امام علیہ السلام کا جو بھی صحابی معاویہ کے پاس آتا تو یہ سب سے پہلے جو اس سے فرمائش کرتا تھا وہ یہ تھی میرے سامنے علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب اور ان کی خوبیاں بیان کرو، جب اس کے سامنے امام علیہ السلام کا تذکرہ کیا جاتا تو اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو چھلک پڑتے، اپنا زانو پیٹتا اور افسوس کرتے ہوئے وہ کھتا تھا ھاے افسوس اب علی علیہ السلام جیسا کوئی دنیا میں نہیں آئے گا۔

عمر وعاص اور معاویہ جیسے لوگ حضرت علی علیہ السلام کی عظمت و منزلت اور عظیم الشان حکومت سے بخوبی واقف تھے آپ کے ارفع و اعلی مقاصد کو بھی اچھی طرح سے جانتے تھے، لیکن دنیا کی زرق برق نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اور سیم و زر کی محبت اور طمع و لالچ نے ان کے دلوں پر تالے لگا رکھے تھے۔ دراصل یہ لوگ منافق تھے۔ انھوں نے لوگوں کو فریب دینے کیلئے دینی طرز کی وضع قطع بنا رکھی تھی۔ ان کا اصل مقصد تو مال ودولت اکٹھا کرنا اور اقتدار وحکومت کو حاصل کرنا تھا ۔ علی علیہ السلام کا دشمن اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ تھا۔ اور عمر و عاص، معاویہ اور ابن ملجم جیسے منافقوں، ظالموں، شیطانی آلہ کاروں کا علی علیہ السلام کے ساتھ مقابلہ تھا۔ یہ شیطانی چال چلنے والے ابلیس سیاست کے پرزے علی۔ علیہ السلام جیسے مرد خدا کو طرح طرح کے جالوں میں الجھاتے رہے

علی علیہ السلام پر جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے، طرح طرح کی تھمتوں سے آپ کے دامن پاک کو داغدار بنانے کی کوشش کی جاتی یہاں تک کہ جو چیز یں علی علیہ السلام میں نہ تھیں ان کو توڑمروڑ کر آپ کی ذات پاک کے ساتھ نتھی کردیا جاتا تھا۔ ان بدبختوں نے علی علیہ السلام کو کافر، مشرک تک بھی کھا۔ (نعوذباللہ)

کسی نے ابن سینا کی اس رباعی کو سن کرکھا تھا کہ ابن سینا کافر ہیں وہ رباعی یہ ہے

کفر چومنی گزاف و آسان نبود

محکم تراز ایمان من ایمان نبود

در دھریکی چومن و آن ہم کافر

پس در ہمہ دھر یک مسلمان نبود

"یعنی کفر میرے لئے اتنا سستا اور آسان نہیں تھا۔وہ میرے ایمان سے زیادہ مضبوط پائیدار نہ تھا زمانے میں ایک میں ہوں اور وہ بھی کافر چنانچہ پورے عالم میں کوئی مسلمان نہیں رہا"۔

دراصل بات یہ ہے کہ اب تک جتنے بھی اسلامی دانشور گزرے ہیں ان خالی خولی مولویوں اور خشک مقدس صوفیوں نے ان کوبھی تعریفی وتوصیفی نگاہ سے نہ دیکھا ۔ان کے بارے میں کبھی یہ کھا گیا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں" کبھی ان کو کھلے لفظوں میں کافر کہہ کر پکارا گیا"کبھی کھا گیا کہ یہ شیعہ تھا۔ مثال کے طور پر یہ حضرت علی علیہ السلام کا دشمن تھا۔ میں ّآپ کو ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے تمام مسلمان بھائیوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔ آپ سب مسلمانوں بیدار ہوشیار رھنا چاہی ے نھروان کے خارجیوں جیسا رویہ نہیں اپنانا چاہی ے، یہ نہ ہو کہ شیطانی قوتیں آپ کو آلہ کاربنا کر آپ سے غلط کام نہ لیں ۔

ایک روز میرے دوست نے مجھ سے فون پر بات چیت کی جس کو سن کر مجھے بہت حیرانگی ہوئی واقعتاً بہت عجیب و غریب بات تھی۔ اس نے مجھ سے کھا کہ علامہ اقبال پاکستانی نے اپنی کتاب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی توھین کی ہے، اور امام کو گالی بھی دی ہے۔ میں نے کھا کہ آپ نے کھاں پڑھا ہے کھنے لگا"آپ فلاں کتاب کے فلاں صفحہ پر پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا آپ نے خود اپنی آنکھوں سے پڑھا ہے۔ بولا نہیں ایک محترم شخص نے مجھ سے کھا تھا اور میں نے آپ کو بتا دیا۔ یہ سن کر میں لرز اٹھا اور کھا کہ ہمارے ایک دوست آقائے سعیدی نے دیوان اقبال کو الف سے ی تک پڑھا ہے انھوں نے تو مجھے اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا ۔ میں نے فوراً!جناب سید غلام رضا سعیدی سے فون پر رابطہ کیا اور ان سے اس مسئلہ کی بابت دریافت کیا " وہ بھی حیران ہوکر بولے اس نوعیت کا مسئلہ میری نظر سے بھی گزرا۔ میں نے کھا اتنے بڑے دانشور کے بارے میں اتنا بڑا جھوٹ تو نہیں بولنا چاہی ے ۔ایک دو گھنٹے کے بعد انھوں نے مجھ سے رابطہ کرکے کھا کہ جی مجھے یاد آگیا دراصل بات یہ ہے کہ ھندوستان میں دو شخص تھے ایک کا نام جعفر اور دوسرے کا نام صادق جب انگریزوں نے ھندوستان پر قبضہ کیا کہ ان دو اشخاص نے انگریزوں کے مفادات کی خاطر کام کرکے اسلامی تحریک کو بہت بڑا نقصان پھنچایا ۔ جناب علامہ اقبال نے اپنی کتاب میں ان دونوں افراد کی مذمت کی ہے ۔

میرے خیال میں جب بھی غلطی فھمی ہوتی ہے تو اسی طرح کی ہوتی ہے۔ پھر میں نے وہ کتاب منگوائی اس کا مطالعہ کیا تو حیران رہ گیا کہ اقبال کیا کھنا چاہتے ہیں اور سمجھنے والوں نے سمجھا واقعتاً جھاں برے لوگ ہیں وہاں اچھے بھی موجود ہیں علامہ اقبال نے یوں کھا۔

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگ دین ننگ جھاں ننگ وطن

یعنی جعفر بنگالی اور صادق دکنی نے دین اور وطن کو بہت نقصان پھنچایا ہے۔ اس لئے یھی لوگ ملک و قوم اور دین کے لئے ننگ و عار ہیں ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام بنگال یادکن کے رہنے والے تو نہیں تھے کتنی غلط بات کھی ہے اس شخص نے جس نے علامہ اقبال جیسے دانشور کے بارے میں اس قسم کی تہمت لگائی ہے۔ اس کے بعد جب ہم نے تاریخی ریسرچ کی تو پتہ چلا کہ جب انگریزوں نے ھندوستان پر چڑھائی کی تو وہاں کے دو شیعہ مجاہدوں نے ان کا بھر پور طریقے سے مقابلہ کیا ان میں سے ایک کا نام سراج الدین تھا اور دوسرے کا نام ٹیپو سلطان تھا۔ سراج الدین جنوبی ھندوستان اور ٹیپو سلطان شمالی ھندوستان میں تھے۔ علامہ اقبال نے ان دو سپوتوں کی بہت زیادہ تعریف کی۔ انگریزوں نے سراج الدین کی حکومتی مشینری میں جعفر نامی شخص کو تیار کیا اس نےسراج الدین کو اندرونی طور پر کمزور کیا اور ٹیپو سلطان کی حکومت میں صادق نامی شخص کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ۔ان کی حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پھنچایا گیا۔ جس کے نتیجہ میں انگریز ایک سوسال تک ھندوستان پر مسلط رہا ۔ شیعہ حضرات سراج الدین اور ٹیپو سلطان کا اس لئے احترام کرتے ہیں یہ دونوں بھادر شیعہ تھے۔ سنی حضرات اس لئے احترام کرتے ہیں کہ یہ دونوں مسلم قوم کے ھیرو تھے۔ ھندو ان کا اس لے احترام کرتے ہیں کہ یہ مجاہد قومی ھیرو تھے۔ لیکن جعفر و صادق نامی اشخاص سے ھندوستان وپاکستان کا ہر فرد اس لئے نفرت کرتا ہے کہ ان دونوں غداروں نے ملک و قوم کے ساتھ غدداری کی تھی۔

ایک روز میں نے سوچا کہ آپ لوگ علامہ اقبال کے اشعار اکثر اوقات بلکہ زیادہ اپنی محافل و مجالس میں پڑھتے ہیں اس عظیم شاعر نے امام حسین علیہ السلام کی شان میں کتنے اچھے اور عمدہ شعر کھے ہیں۔ آپ کے مذھبی حلقوں میں کچھ لوگ ان کے بارے میں کھتے ہیں کہ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کا گالیاں دی ہیں حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اقبال نے تو جعفر بنگالی اور صادق دکنی کے منافقانہ رویے کی وجہ سے ان کی مذمت کی ہے۔ میں حقیقت حال کو دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ ہمارے مسلمان بھی کتنے سادہ مزاج ہیں کہ اتنی بڑی بات اتنے آسان لفظوں میں کہہ دی۔ علامہ اقبال ملت السلامیہ کے جلیل القدر شاعر ہیں۔ ہم سب کو ان کا احترام کرنا چاہی ے ۔ ان کی طویل اسلامی خدمت پر انھیں خراج تحسین پیش کرنا چاہی ے۔ آئندہ کوئی شخص بھی ان کے بارے میں اسی طرح کی کوئی بات کرے تو اس پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔

امیر معاویہ نے ایک مرتبہ شام میں بدھ کے روز نماز جمعہ کا اعلان کردیا، چنانچہ بدھ کے دن نماز جمعہ ادا کی گئی۔ اس پر کسی ایک شخص نے اعتراض نہ کیا ۔ معاویہ نے اپنے ایک جاسوس سے کھا کہ علی علیہ السلام کے پاس جاکر کہو کہ میں ایک ھزار آدمی مسلح لے کر آپ کے پاس آرہاہوں کہ آپ نے بدھ اور جمعہ کا فرق کیوں نہیں بتایا۔ اب میں آپ کو ختم کردوں گا۔ اب حسینیہ ارشاد بھی گناہگار ہو گیا ہے کہ ایک روز اس میں فلسطینیوں کے حقوق اور کمک کے لئے اس میں گفتگو ہوئی ہے"آپ تو بخوبی جانتے ہیں ہمارے وطن عزیز ایران میں یھودیوں کی بڑی تعداد موجود ہے"یہ لوگ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں" اور انتھائی دکھ کے ساتھ کھنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض مسلمان ان یھودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں کہ حسینیہ ارشاد (امام بارگاہ) کے خلاف اخبارات میں کوئی بیان نہ چھپا ہو۔

میں یہاں پر صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ وہ اپنی آنکھیں کھول کر رکھیں ہر کام سوچ سمجھ کر کریں۔ اس ملک اور دوسرے اسلامی ممالک میں یھودی اور ان کے ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ ان کے پاس وسائل کی فراوانی ہے۔اس لئے یہ بدبخت کسی نہ کسی حوالے سے مسلمانوں کے خلاف مصروف کار رہتے ہیں۔ نھروان کے خوارج کی تاریخ دوبارہ نہ دھرانی پڑے۔ آخر کب تک ہم اسلام کا نام لے کر مسلمانوں کے سرقلم کرتے رہیں گے؟ ہمیں ان محافل و مجالس سے سبق حاصل کرنا چاہی ے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ہر سال ایک جگہ پر اکٹھے ہو کر علی علیہ السلام کے نام پر جلسہ منعقد کرتے ہیں؟ اس لئے کہ علی علیہ السلام کی پاک و پاکیزہ زندگی اور آپ کی سیرت طیبہ اپنے سامنے رکھ کر ہم اپنی زندگیون کو سنواریں۔

ھمیں سیرت علی علیہ السلام کو نمونہ عمل بنانا چاہی ے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ حضرت علی علیہ السلام نے کس طرح خوارج سے مقابلہ کیا؟ انھوں نے خشک مقدس ملاؤں کے خلاف کس انداز میں نبرد آزمائی کی؟ انھوں نے منافقوں کو کس طرح پامال کیا؟اور جھالت کے خلاف کس طرح جنگ لڑی؟ علی علیہ السلام کو جاہل شیعہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ علی علیہ السلام کو ایسے شیعہ نہیں چاہیئے کہ جو یھودیوں کے ایجنٹوں کے پروپیگنڑے پر عمل کرتے ہوئے کھیں کہ اقبال پاکستانی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو گالی دی ہے ۔ اور یہ بات پورے ملک میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل گئی ۔ اقبال کو ناصبی تک کہا گیا۔ حالانکہ وہ عظیم شخص اہلبیت اطہار علیھم السلام کے مخلص ترین عقیدت مندوں میں سے تھا۔ لوگ بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں کہ سنی سنائی بات کو اتنا اوپر لے جاتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے۔ کسی شخص کو اتنی توفیق نصیب نہ ہوئی کہ پاکستانی سفارت خانے یا کسی اور جگہ سے کتاب منگوا کر اس کا مطالعہ کرے۔ علی علیہ السلام کو اس طرح کے شیعہ کی ضرورت نھیں۔علی علیہ السلام اس سے اظہار نفرت کرتا ہے۔

اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھول کر رکھیں۔ جب بھی کوئی بات سنیں اس پر فوراً یقین نہ کریں۔ جن باتوں اور خبروں سے بد گمانیاں جنم لیتی ہوں وہ معاشرہ کے لئے بے حد خطرناک ہوتی ہیں۔ جب آپ کسی بات کی تحقیق کر چکیں تو پھر اللہ تعالی کو حاضر ناظر سمجھ کر جو چاہیں بات کریں۔ لیکن تحقیق اور ثبوت کے بغیر کوئی بات نہ کریں۔

عبدالرحمٰن ابن ملجم آتا ہے علی علیہ السلام کو قتل کر دیتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت کس قدر افسوس کرتا ہے۔ پشیمان ہوتا ہے۔ ایک خارجی کی ایک رباعی ہے اس کے پہلے دو شعر پیش کرتا ہوں وہ کھتا ہے۔

یا ضربة من تقی ما اراد بها

الا لیبلغ من ذی العرش رضوانا

"یعنی اس پ رہی ز گار شخص ابن ملجم (نعوذباللہ) کی ضربت کا کیا کھنا کہ اس کا مطمع نظر رضائے خدا کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ پھر کھتا ہے کہ اگر تمام لوگوں کے اعمال ایک ترازوں میں رکھے جائیں اور ابن ملجم کی ایک ضربت ایک ترازو میں رکھی جائے تو اس وقت آپ دیکھیں گے کہ پوری انسانیت میں ابن ملجم سے اچھا کام کسی نے نہیں کیا ہوگا" نعوذباللہ آپ اندازہ فرمائیں کہ جھالت اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتی ہے۔ کہ ایک شخص نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے وہ حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم ومھربان کے قاتل کو کس قدر عمدہ القابات سے یاد کرتا ہے؟

شھادت علی علیہ السلام

ابن ملجم ان نو ۹ آدمیوں میں سے ایک ہے جو خشک مقدس ہیں۔ یہ لوگ مکہ آتے ہیں اور آپس میں عھد وپیمان کرتے ہیں کہ دنیائے اسلام میں تین آدمی (علی علیہ السلام، معاویہ، عمر و عاص) خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کو قتل کردیا جائے۔ ابن ملجم حضرت علی علیہ السلام کے قتل کیلئے نامزد کیا جاتا ہے۔حملے کا وقت انیسویں ماہ رمضان کی رات طے پایا۔ آخر اس رات طے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ابن ابی الحدید کھتے ہیں کہ نادانی کی انتھا دیکھئے یہ رات انھوں نے اس لئے مقرر کی کہ چونکہ یہ عمل بہت بڑی عبادت ہے اسلئے اس رات کو انجام دیا جائے، تو اس کا ثواب بھی زیادہ ہوگا۔ ابن ملجم کوفہ آتا ہے اور کافی دنوں تک اسی رات کا انتظار کرتا رہا اس عرصہ میں وہ "قطام"نامی خارجی عورت سے اس کی آشنائی ہو جاتی ہے۔ اس سے شادی کی پیشکش کرتا ہے، وہ کھتی ہے میں شادی کیلئے حاضر ہوں لیکن اس کا حق مھر بہت مشکل ہے۔ اس نے کھا میں دینے کو تیار ہوں وہ عورت بولی تین ھزار درھم" وہ بولا کوئی حرج نھیں۔ ایک غلام، وہ بھی ملے گا، ایک کنیز وہ بھی ملےگی۔ میری چوتھی شرط یہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب کو قتل کیا جائے پہلے تو وہ کانپ اٹھا پھر بولی خوشحال زندگی گزارنے کیلئے آپ کو یہ کام تو کرنا پڑے گا اگر تو زندہ بچ گیا تو بھتر ہے نہ بچا تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ ایک عرصہ تک اس شش وپنج میں مبتلا رہا اور اس نے دو شعر کھے۔

ثلاثه آلاف وعبد وقینة

وقتل علی بالحسام المسمم

ولا مهر اعلی من دان علا

ولا فتک الا دون فتک ابن ملجم

وہ کھتا ہے کہ اس نے یہ چند چیزیں مجھ سے حق مھر میں طلب کی ہیں۔ اس کے بعد وہ کھتا ہے کہ جتنا بھی حق مھر زیادہ ہو وہ علی علیہ السلام سے بھتر ہے۔ میری بیوی کا حق مھر علی علیہ السلام کا خون ہے۔ پھر وہ کھتا ہے کہ پوری دنیا میں تا قیام قیامت ایسا قتل نہیں ہے جو ابن ملجم کے ہاتھ سے علی علیہ السلام کا قتل ہوا ہے، سے بڑا ہو واقعتاً اس نے بالکل ٹھیک کھا ہے۔

پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ جب علی علیہ السلام موت کے بستر پر وصیت کرتے ہیں۔ اس وقت ماحول میں عجیب و غریب کشیدگی پائی جاتی تھی۔ لوگوں کے جذبات میں شعلے لپک رہے رہے۔ ایک طرف معاویہ اور اس کے کارندے موجود تھے دوسری طرف خشک مقدس ملاؤں کا گروہ موجود تھا" ان دونوں گروپوں میں تضاد پایا جاتا تھا۔ آپ نے اپنے اصحاب اور جانثاروں سے فرمایا کہ لا تقتلوالخوارج بعدی کہ میرے بعد ان کو قتل نہ کرنا، انھوں نے مجھے تو مارڈالا ہے تم ان کو نہ مارنا۔ اگر آپ لوگوں نے خارجیوں کا قتل عام کیا تو یہ بات معاویہ کے فائدے میں جائے گی۔ اس سے کسی لحاظ سے بھی حق کو کوئی فائدہ نہیں پھنچے گا۔ آپ نے نھج البلاغہ میں ارشاد فرمایا:

"لا تقتلو الخوارج من بعدی فلیس من طلب الحق فاخطاه کمن الباطل فادرکه"

"یعنی میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا اس لئے کہ جو حق کا طالب ہو اور اسے نہ پاسکے وہ ایسا نہیں ہے کہ جو باطل ہی کی طلب میں ہو اور پھر اسے بھی پالے"

علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم رقمطر از ہیں کہ قتل خوارج سے روکنے کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ امیر المو منیین علیہ السلام کی نگاہی ں دیکھ رہی تھیں کہ آپ کے بعد تسلط واقتدار ان لوگوں کے ہاتھ وں میں ہوگا جو جھاد کے موقعہ و محل سے بے خبر ہوں گے اور صرف اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کیلئے تلواریں چلائیں گے اور یہ وھی لوگ تھے کہ جو امیر المو منین علیہ السلام کو برا سمجھنے اور برا کھنے میں خوارج سے بھی بڑھے چڑھے ہوئے تھے۔

لھذا جو خود گم کردہ راہ ہوں انھیں دوسرے گمراہوں سے جنگ وجدال کا کوئی حق نہیں پھنچتا اور نہ جان بوجھ کر گمراہی وں میں پڑے رہنے والے اس کے مجاز ہوسکتے ہیں کہ بھولے سے بے راہ ہو جانے والوں کے خلاف صف آرائی کریں۔ چنانچہ امیر المو منین علیہ السلام کا یہ ارشاد واضح طور سے اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ خوارج کی گمراہی جان بوجھ کر نہ تھی بلکہ شیطان کے بھکاوے میں آکر باطل کو حق سمجھنے لگے اور اس پر اڑگئے اور معاویہ اور اس کی جماعت کی گمراہی کی یہ صورت تھی کہ انھوں نے حق کو حق سمجھ کر ٹھکرایا اور باطل کو باطل سمجھ کر اپنا شعار بنائے رکھا اور دین کے معاملہ میں ان کی بے باکیاں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ نہ انھیں غلط فھمی کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ان پر خطائے اجتھادی کا پردہ ڈالا جاسکتا ہے جبکہ وہ علانیہ دین کی حدود توڑدیتے تھے اور اپنی رائے کے سامنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ارشاد کو اہمیت نہ دیتے تھے۔

چنانچہ ابن الحدید نے لکھا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاندی اور سونے کے برتنوں میں پینے والے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے لپکے اٹھیں گے تو معاویہ نے کھا کہ میری رائے میں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں "اور کس طرح زیاد ابن ابیہ کو اپنے سے ملا لینے کیلئے قول پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ٹھکرا کر اپنے اجتھاد کو کار فرما کرنا" منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا کھنا، حدود شرعیہ کو پامال کرنا، بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنا، اور ایک فاسق کو مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط کرکے زندقہ والحاد کی راہی ں کھول دینا ایسے واقعات ہیں کہ انھیں کسی غلط فھمی پر محمول کرنا حقائق سے عمداًچشم پوشی کرناہے۔

علی علیہ السلام کو کسی سے کینہ نہ تھا وہ ہمیشہ حق کی بات کھتے اور عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ جب ابن ملجم کو قید کرکے مولا علی علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا وہ شرم کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا ابن ملجم بتایہ کام تو نے کیوں کیا؟کیا میں تیرا اچھا امام نہ تھا؟ علی علیہ السلام کا یہ کھنا تھا کہ عرق ندامت اس کی پیشانی اور چھرے پر بہہ پڑا ۔ اس نے عرض کی علی علیہ السلام میں بدبخت تھا اور یہ بہت بڑا گناہ کر بیٹہا۔ لیکن ایک بار اس نے کرخت لھجہ کے ساتھ گفتگو کی اور کھا کہ یا علیعليه‌السلام یہ تلوار خریدتے وقت اللہ تعالی سے عھد کیا تھا کہ میں اس تلوار سے بدترین انسان کو قتل کروں گا (نعوذباللہ) اور میں ہمیشہ اپنے خدا سے یہ دعا کرتا رہا کہ اس تلوار سے اس انسان کا خاتمہ کر، آپ نے فرمایا ابن ملجم اللہ نے تیری دعا قبول کرلی ہے تو اپنی اسی تلوار سے قتل ہوگا۔

علی علیہ السلام دنیا سے چلے گئے آپ کا جنازہ کوفے جیسے بڑے شھر میں موجود ہے خارجیوں کے علاوہ شھر کے جتنے بھی لوگ تھے سب کی خواہش تھی کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے جنازہ میں شرکت کریں اور وہ علی علیہ السلام کے غم میں گریہ وزاری کر رہے تھے۔ اکیسویں رمضان کی رات ہے امام حسنعليه‌السلام اور امام حسینعليه‌السلام ، محمد بن حنفیہعليه‌السلام جناب ابوالفضل عباسعليه‌السلام اور چند مومنین شاید چھ سات آدمی تھے، انھوں نے تاریکی شب میں مولا کو غسل و کفن دیا۔ امام علی علیہ السلام کی معین کردہ جگہ میں رات کی تاریکی وتنھائی اور خاموشی میں آپ کو اہوں اور سسکیوں اور آنسوؤں کے ساتھ دفن کردیا گیا۔ اس جگہ پر کچھ انبیاء کرام بھی مدفون تھے۔ جب دوسری صبح ہوئی تب لوگوں کو علم ہوا کہ جناب ابو تراب علیہ السلام دفنائے جاچکے ہیں لیکن آپ کی قبر اطھر کے بارے میں کسی کو علم نہ تھا یہاں تک کہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت حسن علیہ السلام نے جنازہ تشکیل دے کر مدینہ روانہ کردیا تاکہ خوارج اور دشمنان علی علیہ السلام یہ سمجھیں کہ امام کو مدینہ میں دفن کردیا ہے۔ اور وہ قبر علی علیہ السلام کی توھین نہ کریں۔ اس زمانے میں خوارج کا قبضہ تھا۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرزندان اور چند خواص کے علاوہ کسی کو خبر نہ تک تھی کہ مولا مشکل کشا علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟

یہ راز ایک سو سال تک مخفی رہا۔ بنی امیہ چلے گئے اور بنی عباس آگئے۔ اب یہ خطرہ ٹل گیا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے سب سے پھلے امام علی علیہ السلام کی قبر مبارک کی نشاندھی کی" اور علانیہ طور پر لوگوں کو بتایا کہ ہمارے جد امجد امیر المومنین علیہ السلام یھیں پر دفن ہیں۔ زیارت عاشورا کا راوی صفوان کھتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں کوفہ میں تھا۔ آپ ہمیں قبر علی علیہ السلام کے سراہنے لے آئے اور اشارہ کرکے فرمایا یہ ہے داداعلی علیہ السلام کی قبر اطھر۔ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم امام علی علیہ السلام کی قبر پر سایہ کا اہتمام کریں۔ بس اسی روز سے والی نجف کی آخری آرام گاہ مشھور ہوئی۔ کتنے بڑے دکھ کی بات ہے کہ علی علیہ السلام کے دشمن اس قدر کینہ پرور اور کمینہ صفت لوگ تھے کہ ایک صدی تک آپ کی قبر غیر محفوظ تھی۔


صلح امام حسن علیہ السلام ۱

حضرت امام حسن علیہ السلام کا امیر شام کے ساتھ صلح کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس وقت سے لے کر اب تک زیر بحث چلا آرہا ہے۔ امام علیہ السلام کے دور امامت میں بعض اشخاص نے " صلح امام حسنعليه‌السلام پر اعتراض کیا دیگر ائمہ معصومینعليه‌السلام کے ادوار میں بھی کچھ لوگ اسی طرح کے اعتراضات کرتے رہے اور یہ مسئلہ آج تک زیر بحث چلا آرہا ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی؟ اس قسم کے افراد سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام نے حاکم وقت کے ساتھ مصالحت کرلی تھی اور امام حسین علیہ السلام نے یذید کے ہاتھ پر بیعت قبول نہ کی۔ اور ابن زیاد کو صاف جواب دے دیا کہ مجھ جیسا معصوم یزید جیسے فاسق وفاجر کی بعیت نہیں کرسکتا۔ درحقیقت بات یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام چونکہ امام وقت تھے اور ان کےزمانئہ امامت میں ان سے بھتر شخص اور کوئی نہیں تھا۔ یزید تو یزید وہ دنیا کے کسی بڑے شخص کی بھی بیعت نہیں کر سکتے تھے کیو نکہ وہ امام وقت تھے۔

اعتراض کرنے والے حضرات اگر حقیقت حال کا مطالعہ کر لیتے تو وہ صلح امام حسن علیہ السلام پر کبھی بھی اعتراض نہ کرتے کیونکہ امام حسنعليه‌السلام کی صلح اور امام حسینعليه‌السلام کے قیام میں بہت بڑا فرق ہے۔ حالات اور ماحول کا بہت فرق تھا بعض لوگ کھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام چونکہ ایک صلح پسندتھے اور امام حسین علیہ السلام جنگجو تھے اس لئے ایک جگہ پر صلح ہوئی اور دوسری جگہ پر جنگ اور قتل و کشتار جیسی صورت حال پیدا ہوگئی حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ ان تمام اعتراضات کا ہم ایک ایک کرکے جواب دیں گے اور اس ثبوت کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے یہ دونوں شھزادے حق پر تھے انھوں نے جو جو بھی اقدام کیا وہ بھی حق پر تھا۔

اگر امام حسن علیہ السلام"امام حسین علیہ السلام کی جگہ پر ہوتے یا امام حسینعليه‌السلام امام حسنعليه‌السلام کی جگہ پر ہوتے تو ایک جیسی صورت حال پیدا ہوتی۔صلح حسنعليه‌السلام کے وقت حالات اور طرح کے تھے اور کربلا میں زمانہ اور حالات کا رخ کچھ اور تھا۔ امام حسن علیہ السلام کے دور امامت میں اسلام کی بقاء اس خاموشی میں مضمر تھی اور کربلا میں اسلام جھاد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔

بقول مولانا ظفر علی خان ؂

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

میں بھی چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کے اردگرد بحث کروں عام طور پر جو لوگ صلح حسنیعليه‌السلام اور قیام حسینعليه‌السلام کے بارے میں بحث تمحیص کرتے ہیں ان کی گفتگو کا محور بھی یھی ہوتا ہے لیکن کچھ تجزیہ نگار اپنی پٹری سے اتر جاتے ہیں۔ وہ کھنا کچھ چاہتے ہیں کھہ کچھ اور دیتے ہیں۔ دراصل اسلام میں جھاد کا مسئلہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اگر ان دونوں مسئلوں کو دیکھا جائے تو ان دونوں ہی میں فلسفہ جھاد عملی طور پر نمایاں نظر آئے گا۔ اسی جھاد کو مد نظر رکھتے ہوئے امام حسنعليه‌السلام نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور اسی جھاد کی خاطر امام حسینعليه‌السلام نے میدان جنگ میں آکر صرف اپنا نہیں بلکہ اسلام و قرآن کا دفاع کیا۔ ہماری بحث کا محور بھی یھی بات رہے گی کہ امام حسن علیہ السلام نے حاکم وقت کے ساتھ صلح کی توکیوں کی اور امام حسینعليه‌السلام میدان جھاد میں یزیدی فوجوں سے نبرد آزما ہوئے تو کیوں ہوئے؟

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صلح

جب ہم غور وخوض کرتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صلح صرف امام حسنعليه‌السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ پیغمبر اسلام کے دور رسالت سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ جناب رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے ابتدائی سالوں سے لے کر آخر مدت تک مکہ میں رہے لیکن جب آپ دوسرے سال میں مدینہ تشریف لائے تو آپ کا رویہ مشرکین کے ساتھ انتھائی نرم اور ملائم تھا۔ حالانکہ مشرکین نے حضور پاک کو اور دیگر مسلمانوں کو بہت زیادہ اذیتیں دی تھیں اور ان کا جینا حرام کردیا تھا۔ آخر مسلمانوں نے تنگ آکر حضور سے جنگ کی اجازت چاہی اور عرض کی سرکار آپ ہمیں صرف ایک مرتبہ جنگ کی اجازت مرحمت فرما دیں تو ہم ان کافروں، مشرکوں کو ایسا یاد گار سبق سکھائیں کہ یہ آئندہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے آپ نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہ دی اور ان کو امن وآشتی اور صبر وتحمل کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔

آپ نے فرمایا لڑنے جھگڑنے سے صورت حال مزید خراب ہوگی اس لئے بھتر یہ ہے کہ خاموش رہا جائے۔ اگر کسی کو اس حالت میں نہیں رھنا ہے تو وہ سرزمین حجاز سے حبشہ کی طرف ہجرت کرسکتا ہے۔ لیکن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔

( اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا وان الله علی نصرهم لقدیر ) (۱۲)

"یعنی جن (مسلمانوں) سے (کفار) لڑا کرتے تھے چونکہ وہ (بہت) ستائے گئے اس وجہ سے انھیں بھی (جھادکی) اجازت دے دی گئی اور خدا تو ان لوگوں کی مدد پر یقیناً قادر (و توانا) ہے" اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسلام جنگ کا دین ہے یا صلح کا؟ اگر صلح کا دین ہے تو ہمیشہ اسی پالیسی پر عمل کرنا چاہی ے۔ دین کا کام تو لوگوں کو نیک کام کی دعوت دینا ہے ۔ گویا دین ایک پیغام ہے پھنچ گیا تو ٹھیک نہ پھنچا تو کوئی بات نہیں ۔

اگر اسلام جنگ کا دین ہوتا تو پھر رسول خدا نے مکہ میں تیرہ ۱۳ سال تک جنگ کی اجازت کیوں نہیں دی یہاں تک کہ دفاع کی اجازت بھی نہ دی۔ دراصل بات یہ ہے کہ اسلام وقت اقر حالات کو دیکھتا ہے اگر صلح کا مقام ہو تو حکم دیتا ہے کہ جنگ نہ کرو اور جنگ اور دفاع کی نوبت آجائے تو پھر سکوت کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ ہم رسول خدا کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ میں کچھ مقامات پر کفار و مشرکین کے ساتھ جنگیں کررہے ہیں اور بعض مقامات پر صلح کی قراردادوں پر دستخط کررہے ہیں جیسا کہ حدیبیہ کے مقام پر آپ مشرکین مکہ سے صلح کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ مشرک آپ کے سخت ترین دشمن تھے ۔ یہاں پر صحابہ کرام نے بھی صلح پر دستخط کیے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ مدینہ میں یھودیوں کےساتھ یہ عھد و پیمان کر رہے ہیں کہ ان کے ذاتی امور میں ان کو آزاد چھوڑا جائے گا۔ یہ فرمایئے اس کے متعلق آپ کیا کھیں گے؟

حضرت علیعليه‌السلام اور صلح

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام ایک جگہ پر لڑتے ہیں اور دوسری جگہ پر نہیں لڑتے۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد خلافت کا مسئلہ پیدا ہوجانا اور خلاف دوسرے لے جاتے ہیں علی علیہ السلام اس مقام پر جنگ نہیں کرتے، تلوار اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے اور فرماتے ہیں کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں نہ لڑوں اور نہ ہی مجھے لڑائی میں حصہ لینا چاہی ے۔ دوسروں کی طرف سے جوں جوں سختی پریشانی بڑھتی جاتی ہے آپ اس قدر نرم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ حضرت زھراعليه‌السلام کو پوچھنا پڑتا ہے کہ

"ما لک یاابن ابی طالب اشتملت شملة الجنین و قعدت حجرة الطنین" (۱۳) اے ابو طالب کے بیٹے آپ کی حالت جنین کی طرح کیوں ہوگئی ہے کہ جو شکم مادر میں ہاتھ اور پاؤں کو سمیٹ لیتا ہے آپ اس شخص کی مانند ایک کمرہ میں گوشہ نشین ہو کر رہ گئے ہیں کہ جو لوگوں کے شرم کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں نکلتا؟ آپ وھی تو ہیں کہ آپ کے سامنے میدان جنگ میں بڑے بڑے پھلوانوں کے پتے پانی ہوجایا کرتے اور آپ کو دیکھ کر بڑے بڑے جری بھادر جرنیل بھاگ جاتے تھے۔ اب آپ کی حالت یہ ہے کہ یہ ٹڈی دل لوگ آپ پر غالب آگئے ہیں آخر کیوں"؟

حضرت فرماتے ہیں اے میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیاری بیٹی!اس وقت میری ذمہ داری اس طرح کی تھی اور اب میرا فریضہ یہ ہے کہ میں چپ رہوں، خاموش رہوں، صبر وتحمل سے کام لوں۔ یہاں تک کہ پچیس سال اسی حالت میں گزرجاتے ہیں۔ ان پچیس ( ۲۵) سالوں کی مدت میں علیعليه‌السلام خاموش رہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ عثمان غنی قتل کردیئے جاتے ہیں۔ حالات بدل جاتے ہیں، لوگوں کا بہت بڑا ہجوم آپ کے در عصمت پر آتا ہے ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو علیعليه‌السلام کو قتل عثمان میں ملوث کرنا چاہتے ہیں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو کھتے ہیں مولا آپ مسند خلافت پر تشریف لے آیئے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ سے تقاضا کرتے ہیں کہ یا علیعليه‌السلام قاتلین عثمان کو پکڑ کر قرار واقعی سزادی جائے آخر وھی وقت آگیا جس کی نشاندھی آپ نے نھج البلاغہ میں کی ہے۔ آپ نے عثمان سے کھا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ کوئی شخص آپ کو قتل کرکے مسلمانوں کے درمیان عجیب صورت حال پیدا ہوگئی ایک طرف عثمان کے مخالفوں کا گروہ تھا دوسری طرف عثمان تھے"لیکن آپ نے ہمیشہ عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کیا۔

قارئین کرام ! آیتہ اللہ شھید مطھری (رح) اور علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی عبارتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اس لئے ہم مفتی صاحب قبلہ کی عبارت پیش کرتے ہیں وہ نھج البلاغہ کے صفحہ نمبر ۱۱۴ پر رقمطراز ہیں کہ جب حضرت عمر ابو لولوکے ہاتھ وں سے زخمی ہوئے اور دیکھا کہ اس کاری زخم سے جانبر ہونا مشکل ہے تو آپ نے انتخاب خلیفہ کیلئےایک مجلس شوری تشکیل دی جس میں علی ابن ابی طالب، عثمان ابن عفان ، عبدالرحمٰن ابن عوف، زبیر ابن عوام، سعد ابن ابی وقاص اور طلحہ ابن عبیداللہ کو نامزد کیا اور ان پر یہ پابندی عائد کردی کہ وہ انکے مرنےکے بعد تین دن کے اندر اندر اپنے میں سے ایک کو خلافت کے لئے منتخب کر لیں اور یہ تینوں دن امامت کے فرائض انجام دیں۔ ان ھدایت کے بعد ارکان شوری میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کھا کہ آپ ہمارے متعلق جو خیالات رکھتے ہوں ان کا اظہار فرماتے جائیں تاکہ انکی روشنی میں قدم اٹھایا جائے۔ اس پر آپ نے فرداً فرداً ہر ایک کے متعلق اپنی زریں رائے کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ سعد کے متعلق کھا کہ وہ درشت خو اور تند مزاج ہیں اور عبدالرحمن اس امت کے فرعون ہیں اور زبیر خوش ہوں تو مومن اور غصہ میں ہوں تو کافر اور طلحہ غرور و نخوت کا پتلا ہے اگر انھیں خلیفہ بنایا گیا تو خلافت کی انگوٹھی اپنی بیوی کے ہاتھ میں پھنا دیں گے اور عثمان کو اپنے قوم وقبیلہ کے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آتا رہے علی علیہ السلام تو وہ خلافت پر ریجھے ہوئے ہیں۔

اگر چہ میں جانتا ہوں کہ ایک وھی ایسے ہیں جو خلافت کو صحیح راہ پر چلائیں گے مگر اس کے اعتراف کے باوجود آپ نے مجلس شوری کی تشکیل ضروری سمجھی اور اس کے انتخاب ارکان اور طریق کار میں وہ تمام صورتیں پیدا کردیں کہ جس سے خلافت کا رخ ادھر ہی بڑھے جدھر آپ موڑنا چاہتے تھے۔ چنانچہ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ سے کام لینے والا بآسانی اس نتیجے پر پھنچ سکتا ہے کہ اس میں عثمان کی کامیابی کے تمام اسباب فراہم تھے اس کے ارکان کو دیکھئے تو ان میں ایک عثمان کے بھنوئی عبدالرحمٰن بن عوف ہیں اور دوسرے سعد بن وقاص ہیں جو امیر المومنینعليه‌السلام سے کینہ وعناد رکھنے کے باوجود عبدالرحمٰن کے عزیز و ہم قبیلہ بھی ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی عثمان کے خلاف تصور نہیں کیا جاسکتا، تیسرے طلحہ بن عبید اللہ تھے طبری وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ طلحہ اس موقعہ پر مدینہ میں موجود نہ تھے لیکن ان کی عدم موجودگی عثمان کی کامیابی میں سدراہ نہ تھی بلکہ وہ موجود بھی ہوتے، جیسا کہ شوری کے موقعہ پر پھنچ گئے تھے اور انھیں امیر المومنینعليه‌السلام کا ہمنوا بھی سمجھ لیا جائے تب بھی عثمان کی کامیابی میں کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ حضرت عمر کے ذھن رسانے طریقہ کار یہ تجویز کیا تھا "کہ اگر دو ایک پر اور دو ایک پر رضامند ہوں تو اس صورت میں عبداللہ بن عمر کو ثالث بناؤ جس فریق کے متعلق وہ حکم لگائے وہ فریق اپنے میں سے خلیفہ کا انتخاب کرے اور اگر وہ عبداللہ ابن عمر کے فیصلے پر رضا مند نہ ہوں تو تم اس فریق کا ساتھ دو جس میں عبدالرحمٰن بن عوف ہو اور دوسرے لوگ اگر اس سے اتفاق نہ کریں تو انھیں اس متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے قتل کردو ۔(۱۴)

اس مقام پر عبداللہ ابن عمر کے فیصلہ پر نارضامندی کے کیا معنی جب کہ انھیں یہ ھدایت کر دی جاتی ہے کہ وہ اسی گروہ کا ساتھ دیں جس میں عبدالرحمٰن ہوں۔ چنانچہ عبداللہ کو حکم دیا کہ اے عبداللہ اگر قوم میں اختلاف ہو تو تم اکثریت کا ساتھ دینا اور اگر تین ایک طرف ہوں اور تین ایک طرف تو تم اس فریق کا ساتھ دینا جس میں عبدالرحمٰن ہوں۔ اس فھمائش سے اکثریت کی ہمنوائی سے بھی یھی مراد ہے کہ عبدالرحمٰن کا ساتھ دیا جائے کیونکہ دوسری طرف اکثریت ہوھی کیونکر سکتی تھی جب کہ ابو طلحہ انصاری کی زیر قیادت پچاس خونخوار تلواروں کو حزب مخالف کے سروں پر مسلط کر کے عبدالرحمٰن کے اشارہ چشم وآبرو پر جھکنے کیلئے مجبور کردیا گیا تھا۔ چنانچہ امیر المومنینعليه‌السلام کی نظروں نے اس وقت بھانپ لیا تھا کہ خلافت عثمان کی ہوگی جیسا کہ آپ کے اس کلام سے ظاہر ہے جو ابن عباس سے مخاطب ہو کر فرمایا خلافت کا رخ ہم سے موڑ دیا گیا ہے۔ انھوں نے کھا کہ یہ کیسے معلوم ہوا فرمایا کہ میرے ساتھ عثمان کو بھی لگا دیا ہے اور یہ کھا ہے کہ اکثریت کا ساتھ دو اور اگر دو ایک پر اور دو ایک پر رضامند ہوں تو تم ان لوگوں کا ساتھ دو جن میں عبدالرحمٰن بن عوف ہو۔ چنانچہ سعد تو اپنے چچیرے بھائی عبدالرحمٰن کا ساتھ دے گا اور عبدالرحمٰن تو عثمان کا بھنوئی ہوتا ہی ہے۔

بھر حال حضرت عمر کی رحلت کے بعد یہ اجتماع ہوا اور دروازہ پر ابو طلحہ انصاری پچاس آدمیوں کے ساتھ شمشیر بکف آکھڑا ہوا۔ طلحہ نے کارروائی کی ابتداء کی اور سب کو گواہ بنا کر کھا کہ میں اپنا حق رائے دھندگی عثمان کو دیتا ہوں۔ اس پر زبیر کی رگ حمیت پھڑکی (کیونکہ ان کی والدہ حضرت کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب تھیں) اور انھوں نے اپنا حق رائے دھندگی عبد الرحمٰن کے حوالے کردیا۔ اب مجلس شوری کے ارکان صرف تین رہ گئے جن میں عبدالرحمٰن نے کھا کہ میں اس شرط پر اپنے حق سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہوں کہ آپ دونوں (علی ابن ابی طالبعليه‌السلام اور عثمان ابن عفان) اپنے میں سے ایک کو منتخب کر لینے کا حق مجھے دینے دیں یا آپ میں سے کوئی دستبردار ہو کر یہ حق لے لے۔

یہ ایک ایسا جال تھا جس میں امیر المومنینعليه‌السلام کو ہر طرف سے جکڑ لیا گیا تھا کہ یاتو اپنے حق میں دستبردار ہوجائیں یا عبدالرحمٰن کو اپنی من مانی کاروائی کرنے دیں۔ پھلی صورت آپ کیلئے ممکن ہی نہ تھی کہ حق سے دستبردار ہو کر عثمان یا عبد الرحمٰن کو منتخب کریں۔ اس لئے آپ اپنے حق پر جمے رہے اور عبدالرحمٰن نے اپنے کو اس سے یہ اختیار سنبھال لیا اور امیر المومنینعليه‌السلام سے مخاطب ہو کر کھا، میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کتاب خدا، سنت رسول اور ابو بکر کی سیرت پر چلیں" آپ نے کھا نہیں میں اللہ کی کتاب، رسول کی سنت اور اپنے مسلک پر چلوں گا۔ تین مرتبہ دریافت کرنے کے بعد جب یھی جواب ملا تو عثمان سے مخاطب ہو کر کھا کیا آپ کو یہ شرائط منظور ہیں۔ ان کے لئے انکار کی کوئی وجہ نہ تھی انھوں نے ان شرائط کو مان لیا اور ان کی بیعت ہوگئی۔ بھرصورت امیر المومنینعليه‌السلام نے فتنہ و فساد کو روکنے اور حجت تمام کرنے کیلئے اس میں شرکت گوارا فرمائی تاکہ ان کے ذھنوں پر قفل پڑجائیں اور یہ نہ کھتے پھریں کہ ہم تو انھی کےحق میں رائے دیتے مگر خود انھوں نے شوری سے کنارہ کشی کرلی اور ہمیں موقع نہ دیا کہ ہم آپ کو منتخب کرتے ۔)

آیۃ اللہ شھید مطھری تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہاں پر ایسی سیاست اختیار کیوں کی؟ تو آپ نے فرمایا :

"والله لاسلمن ما سلمت امور المسلمین ولم یکن فیها جورالاعلی خاصة" (۱۵)

"خدا کی قسم جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم ونسق برقرار رہے گا اور صرف میری ہی ذات ظلم وجور کا نشانہ بنتی رہے گی میں خاموشی اختیار کرتا رہوں گا۔"

عثمان کی رحلت کے بعد لوگ آپ کے دردولت پر آکر بیعت کرتے ہیں۔ یہ معاویہ کا دور ہے۔ ماحول بدل جاتا ہے یہاں پر حضرت علی علیہ السلام ناکثین، قاسطین، مارقین، یعنی اصحاب جمل، اصحاب صفین، اصحاب نھروان سے جنگ کرتے ہیں۔ اور یہ جنگ طول پکڑ جاتی ہے۔ چنانچہ صفین کے بعد عمر وعاص اور معاویہ کی عیارانہ ومکارانہ پالیسی کام دکھا جاتی ہے۔ خوارج قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کرکے آواز بلند کرتے ہیں کہ اس جنگ میں قرآن مجید کے فیصلہ کے مطابق عمل کرنا چاہی ے۔ قرآن کو نوک نیزہ پر دیکھ کر کچھ لوگ کھتے ہیں کہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے حق پر ہیں۔ امیر المومنینعليه‌السلام کے لشکر میں کھلبلی مچ گئی۔ اب مولا علیعليه‌السلام کو مصلحت کے مطابق خاموشی اختیار کرنا پڑی۔

آپ نے مجبور ہو کر حکم کو تسلیم کیا۔ آپ نے فرمایا حکم قرآن وسنت کے مطابق فیصلہ کریں۔ دراصل یہ ایک طرح کی منافقانہ چال تھی یہ لوگ مولا علی علیہ السلام کو وقتی طور پر خاموش کرنا چاہتے تھے۔ عمر وعاص اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا اس نے ابو موسی کو بھی دھوکہ دیا لیکن حقیقت بعد میں کھل کر سامنے آگئی کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ کیا ان میں سے ایک شخص کھتا ہے کہ دو ھزار افراد پر مشتمل لشکر میری وجہ سے پیچھے ھٹا ہے کہ نوبت گالی گلوچ تک پھنچ گئی۔ دراصل یہ خود ساختہ حکمیت کا اعجاز تھا۔ اب اعتراض کرنے والے کھتے ہیں کہ اگر چہ مولانے خوارج کے ہاتھ وں مجبور ہو کر جنگ بندی کا اعلان کر دیا زیادہ سے زیادہ یھی ہوجاتا کہ آپ قتل ہو جاتے یا آپ کے بیٹوں میں سے ایک شھید ہو جاتا وہ یہ بھی کھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ میں پہل نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ وہ شھید ہوجاتے۔ آپ نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کیوں کی؟ جس طرح کربلا میں امام حسینعليه‌السلام شھید ہوگئے" رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی شھید ہوجاتے؟ پھر امیر المومنین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد خاموشی اختیار کیوں کی؟زیادہ سے زیادہ آپ شھید ہو جاتے؟ آپ نے حکمیت کو کیوں تسلیم کیا؟ آپ کو چاہی ے تھا کہ جان کی پروا کیے بغیر جنگ جاری رکھتے؟ مسئلہ امام حسنعليه‌السلام کی صلح اور امام حسینعليه‌السلام کی جنگ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ بات باقی آئمہ طاہر ینعليه‌السلام تک بھی پہنچتی ہے۔ میں ان تمام سوالات، ابھامات کا ایک ایک جواب دوں گا۔ سب سے پہلے میں آپ کیلئے کتاب جھاد میں فقہ کے ایک باب کو بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو میری گفتگو کے دیگر نکات بخوبی سمجھ میں آسکیں ۔

فقہ جعفریہ میں جھاد کا تصور

بلا شبہ اسلام جھاد کا دین ہے اور یہ چند مقامات پر واجب ہے۔ ان میں سے ایک ابتدائی جھاد ہے یعنی یہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب مد مقابل غیر مسلمان ہوں۔ خاص طور پر اگر وہ مشرک ہوں۔ اگر کوئی مشرک مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے ایسا جھاد بالغ، عاقل اور آزاد شخص پر واجب ہے ۔ اور مجاہد مرد ہونا ضروری ہے۔ عورتوں کیلئے جھاد میں حصہ لینا ضروری نہیں ہے ۔ اس قسم کے جھاد میں امام علیہ السلام یا ان کے نائب سے اجازت لینا ضروری ہے ۔ شیعہ فقہ کے نزدیک اس وقت ایک حاکم شرعی اپنی طرف سے جھاد ابتدائی کو اپنی طرف سے شروع نہیں کرسکتا۔ دوسرا مقام یہ ہے کہ جب مسلمانوں کو کافروں، مشرکوں کی طرف سے خطرہ یا وہ جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف دست درازی کرے یا ایک ملک کسی دوسرے اسلامی ملک کی زمین پر قبضہ کرنا چاہے یا قبضہ کر چکا ہو یا اس قسم کا کوئی ناجائز اقدام کرے تو اس صورت میں عورت مرد، چھوٹے بڑے، آزاد غلام پر جھاد میں شرکت کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اس جھاد میں امام علیہ السلام یا ان کے نائب سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے ۔ یہ تمام شیعہ فقھاء کا متفقہ طور پر فتوی ہے اس سلسلے میں شھید ثانی علیہ الرحمہ کی فقھی رائے پیش خدمت ہے جناب محقق کی فقہ پر ایک کتاب ہے ۔ اس کا نام ہے شرائع الاسلام، اس کتاب کو شیعہ علما ء میں بڑی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جناب شھید ثانی نے" مسالک الافھام " کے نام سے اس کی شرح کی ہے، بہت ہی عمدہ شرح ہے۔ جناب شھید ثانی کا شمار شیعوں کے صف اول کے فقھاء میں سے ہوتا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کافر یا مشرک یا کوئی بے دین شخص مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ سب مل کر جھاد میں بھر پور طریقے کے ساتھ حصہ لیں ۔

آپ اسرائیل کو لے لیجئے اس نے مسلمانوں کی سر زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور آئے روز فلسطینی مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتا رھتا ہے۔ تو یہاں پر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف عملی طور پر جھاد میں شریک ہوں" یہاں پر امام علیہ السلام کی اجازت کی شرط نہیں ہے ۔ اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک جو غیر اسلامی ملک کی حمایت کرسکتا ہے کرے۔ یہ سب کچھ جھاد کے زمرے میں آجاتا ہے۔ جناب شھید ثانی تحریر فرماتے ہیں کہ:

"ولا یختص بمن قصد ومن المسلمین بل یجب علی من علم بالحال النهوض اذا لم یعلم قدرة المقصودین علی المقاومة" (۱۶)

" یعنی یہ جھاد (ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے کہ جن کی سر زمین، مال، جان اور ناموس غیر مسلموں کے قبضہ میں ہے بلکہ یہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے کہ جس کو دوسرے مسلمان کی اس مشکل کے بارے میں علم ہو تو اس پر جھاد واجب ہے مگر شرط یہ ہے، اگر وہ لوگ خود طاقت ورہوں اور خود دفاع کرسکتے ہوں تو پھر یہ وجوب ساقط ہو جاتا ہے ۔ اگر اس کو یہ علم ہو کہ جن مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کو دوسرے مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے تو پھر ہر مسلمان پر واجب ولازم ہے کہ جس طرح بھی ہوسکے وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی ہر طرح سے بھر پور مدد کرے ۔"

تیسری قسم جھاد خصوصی کی ہے اس کے احکام اور عمومی جھاد کے احکام میں فرق ہے۔ عمومی جھاد کے مسائل خاص نوعیت کے ہیں۔ اس جھاد میں اگر کوئی قتل ہو جائے تو وہ شھید ہے اور غسل نہیں ہے۔ جو شخص رسمی جھاد میں مارا جائے تو اس کو اسی لباس کے ساتھ غسل دیئے بغیر اس خون کے ساتھ دفن کیا جائے ؂

خون، شھیدان راز آب اولی تراست

ایں گنہ از صد ثواب اولی تر است

" شھید کا خون پاک ترین، خالص ترین پانی سے بھتر ہے یہ گناہ ھزار ثواب سے بھتر ہے"۔

اصطلاح میں تیسری قسم کو جھاد کھتے ہیں لیکن اس جھاد کے احکام جھاد کی مانند نہیں ہیں۔ اس کا ثواب جھاد کے اجر کی مانند ہے۔ اس میں حصہ لینے والا شھید ہے، وہ ایسے ہے کہ اگر ایک شخص سرزمین کفر میں ہو اگر وہاں کافروں کی لڑائی دوسرے کفار کے ساتھ ہو جائے مثلاًوہ فرانس میں ہے اور فرانس اور جرمنی میں جنگ چھڑ جاتی ہے، اب ایک مسلمان پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اس پر لازم ہے کہ وہ خود کو ہر لحاظ سے بچانے کی کوشش کرے، اس کو وہاں کے لوگوں کی خاطر نہیں لڑنا چایئے، اگر وہ جانتا ہے کہ اگر وہ دوسرے ملک کی فوجوں کے ساتھ لڑائی میں شریک نہیں ہوتا تو اس کی جان کو خطرہ ہے اگر اسی خطرہ کے پیش نظر وہ میدان جنگ میں آکر لڑتا ہے تو شھید ہے۔ آپ اسے مجاہد کھہ سکتے ہیں، اگر چہ وہ شھیدوں جیسا حکم نہیں رکھتا۔ اس کو غسل دیا جائے گا کفن دینا پڑے گا۔

اب ایک اور صورت پیدا ہو جاتی ہے اس کے بارے میں فقھاء نے رائے دی ہے کہ اگر ایک شخص پر اس کا ایک دشمن حملہ کرتا ہے اس کی جان یا عزت کو خطرہ لاحق ہے اور اس کا یہ دشمن مسلمان ہے مثال کے طور پر ایک گھر میں سویا ہوا ہے کہ ایک چور یا ڈاکو گھس آتا ہے۔ (حاجی کلباسی نے کہا تھا کہ اگر نماز تھجد بھی پڑھتا ہو چور چور ہے، ڈاکو ڈاکو ہے اس کے نماز روزے اور مسلمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے) تو یہاں پر اگر اس کو جان مال اور عزت کا خطرہ ہے، تو اس کو یہاں پر دفاع کرنا چاہی ے، حتی الامکان چوروں، ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنا چاہی ے وہ یہ نہ سوچے کہ اگر وہ مجھ پر حملہ کرے گا تو میں اس کا جواب دوں گا۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ ڈاکو کو جان سے مار دے۔ اس حالت میں اگر وہ مارا جاتا ہے تو وہ شھید کے حق میں ہے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے فقہ کی کتب میں آپ اس کی تفصیل ملاحظ کرسکتے ہیں۔

سر کشوں سے جنگ

جھاد کے میں نے تین مقامات ذکر کیے ہیں، دو مقامات اور بھی ہیں، ایک کو سرکشوں کے ساتھ جنگ کرنے کو کھتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے ایک گروہ دوسرے گروہ کو قتل کرنا چاہتا ہے تو یہاں پر دوسرے تمام مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سب سے پھلے تو ان کے درمیان صلح کرائیں۔ ان کو ہر حال میں لڑنے جھگڑنے سے ھٹائیں اگر ایک گروہ ان مسلمانوں کی نہ مانے اور مسلسل جنگ پر آمادگی کا اظہار کرے تو ان پر لازم ہے کہ وہ مظلوم گروہ کی حمایت کریں اور سرکش گروہ کے ساتھ مقابلہ کریں چنانچہ ارشاد الہٰی ہے۔

" وان طائفتان من المومنین اقتتلو فاصلحوا بینهما فان بغت احدیهما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفتئی الی امر الله" (۱۷)

" اور اگر مومنین میں سے دو فرقے آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں میں صلح کرادو پھر اگر ان میں سے ایک (فریق) دوسرے پر زیادتی کرے تو جو فرقہ زیادتی کرے تم (بھی) اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع کرے"۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایک عادل امام کے خلاف بغاوت کرتا ہے چونکہ وہ امامعليه‌السلام ہے اس لئے حق پر ہے، اور امامعليه‌السلام کے خلاف آنے والا جو بھی ہوگا باطل پر ہوگا۔ اب دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ وہ امام کا ساتھ دیں اور دشمن امامعليه‌السلام کے خلاف جنگ کریں۔ جھاد کا ایک اور مرحلہ یا مقام بھی ہے اگر چہ فقھا کا اس میں کچھ اختلاف ہے وہ ہے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کیلئے خونی انقلاب برپا کرنا۔

صلح اور فقہ جعفریہ

ایک مسئلہ جو کتاب جھاد میں سامنے آیا ہے وہ مسئلہ صلح ہے۔ فقھاء کی اصطلاح میں اس کو مھدیا مھادنہ کھا جاتا ہے مھادنہ یعنی مصالحت، ھدنہ یعنی صلح، صلح کا معنی یہ ہے کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ۔ آج کل کی اصطلاح میں ایک دوسرے کے ساتھ صلح وصفائی کے ساتھ رہنے کے عھد و پیمان کو صلح نامہ کھا جاتا ہے۔ جناب محقق شرائع الاسلام میں فرماتے ہیں کہ

"المهادنة وهی المعاقدة علی ترک الحرب مدة معینة"

" یعنی جنگ نہ کرنے اور امن وآشتی کے ساتھ رہنے پر عھد وپیمان باندھنے کو صلح کھا جاتا ہے لیکن اس کیلئے ایک مدت معین کی جائے" فقہ کی کتب میں لکھا ہے کہ اگر ایک شخص مشرک ہے کہ جس سے کرنا جائز ہے اس کے ساتھ بھی صلح کی جاسکتی ہے لیکن عھد و پیمان کی ایک مدت مقرر کی جائے۔ اس کے ساتھ چھ مہینوں، ایک سال، دس سال یا اس سے زیادہ کی مدت معین کرے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر دس سال کا معاہدہ کیا تھا:

"وهی جائزة اذا تضمنت مصلحة للمسلمین"

جناب محقق کھتے ہیں اگر اس میں مسلمانوں کو فائدہ پہچنے تو صلح کرنا جائز ہے حرام نہیں ہے۔"

لیکن میں نے عرض کیا ہے کہ اگر ایسا موقعہ ہو کہ جھاں جنگ کرنا ضروری ہے جیسا کہ مسلمانوں کی سر زمین پر کفار نے حملہ کیا ہے یا مسلمانوں کی سر زمین پر قبضہ کردیا جاتا ہے، تو دوسرے مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہر حالت میں اس عظیم سرزمین کو دشمن کے قبضہ سے چھڑانا چاہی ے۔ اب اگر مصلحت کے تحت وھی دشمن صلح نامہ لے آتا ہے تو آیا اس پر دستخط کرنا جائز ہے یا نھیں؟جناب محقق کا کہنا ہے کہ اگر مصلحت بھی ہو تو ایک مدت معین کرنی چاہی ے۔ اس کا مقصد یہ کہ یہ صلح ایک عارضی مدت کے لئے ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمان کس صلح نامہ کو قبول کریں؟ جناب محقق کھتے ہیں:

"اما لقلتهم عن المقاومة"

"یعنی جب مسلمانوں میں جنگ کرنے کی طاقت نہ ہو تو انھیں چاہی ے کہ کچھ مدت کیلئے صبر کریں اور خود کو مسلح اور طاقتور بنائیں" اور

او لما یحصل به الا استظهار"

"یا وہ جنگ بندی ا س لئے کر رہے ہیں کہ وہ جنگ کی مزید تیاری کرلیں"۔

او لرجاء الدخول فی الاسلام مع التربص"

"یا صلح اس امید کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ حزب مخالف اسلام قبول کرنا چاہتا ہو یہ اس وقت ہوگا جب مخالف کافر ہوں۔"

یعنی ہم ایک مدت کیلئے دشمن سے صلح کر رہے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران ہم روحانی و فکری لحاظ سے ان پر غلبہ حاصل کرلیں گے جیسا کہ صلح حدیبیہ میں تھا۔ اس کے بارے میں چند مطالب آگے چل کر بیان کروں گا۔

"ومتی ارتفعت ذلک وکان فی المسلمین قوة علی الخصم لم یجز"

جس وقت یہ شرائط ختم ہو جائیں تو صلح بر قرار رکھنا جائز نہیں ہے۔"

اب تھوڑی سی گفتگو کے بعد یہ بات واضح وروشن ہوگئی کہ اسلامی فقہ کے نزدیک صلح چند خاص شرائط کے تحت جائز ہے۔ اب یہ صلح خواہ ایک قرار داد کی صورت میں ہو یا فقط زبانی طور پر جنگ بندی کا معاہدہ کیا جائے۔ یہاں پر دو باتیں قابل ذکر ہیں ایک وقت میں ہم کھتے ہیں کہ صلح کا معنی یہ ہے کہ ایک قرار داد باندھی جائے یہ اس جگہ پر ہوگا جب دو مخالف گروہ صلح پر آمادگی کا اظہار کریں جیسا کہ ہمارے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کھا ہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کرتے ہوئے امام حسن علیہ السلام نے کھا ایک موقعہ پر ہم کھتے ہیں کہ صلح یعنی جنگ نہ کرنا اور امن وآشتی کی راہ کو تلاش کرنا۔ کھا گیا ہے کہ ایک وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں جنگ کی طاقت نہیں ہے تو اس وقت جنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے ہم جنگ نہ کریں۔ صدر اسلام میں تو اسی طرح صورت حال پیش آئی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، اگر وہ اس وقت لڑتے تو اپنا ہی نقصان کرتے۔ ممکن ہے جنگ بندی اس لئے کی گئی ہو کہ اس وقفے کے دوران خود کو مضبوط اور طاقتور کرنا چاہتے ہوں یا فکری لحاظ سے ان کی سوچ بدل کر ان کو مومن ومسلمان بنانا مقصود ہو۔ اب ہم آپ کے لئے صلح حدیبیہ کے بارے میں کچھ مطالب پیش کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ امام حسن علیہ السلام کا صلح کرنے کا انداز بالکل اپنے جد امجد حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جیسا تھا۔ آپ نے حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے یا ایک خاص وقت کے انتظار یا تیاری میں ھتھیار نہ اٹھائے بلکہ انتھائی حکمت ودانشمندی کے ساتھ دشمن کے ساتھ صلح کر لی۔

صلح حدیبیہ

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اپنے دور رسالت میں صلح کی تو آپ کے بعض صحابہ کرام نے نہ فقط تعجب کیا بلکہ سخت پریشان بھی ہوئے۔ لیکن ایک یا دو سال گزرنے کے بعد ان پر اس صلح کے ثمرات ونتائج ظاہر ہوئے تو پھر ماننے پر مجبور ہوگئے کہ سرکار رسلت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو بھی کیا ٹھیک کیا تھا۔ چھ ہجری ہے جنگ بدر کا ایسا خونی واقعہ رونما ہوا قریش مکہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں اپنے دل میں سخت بغض وکینہ رکھتے تھے۔ اس کے بعد جنگ احد ہوئی جس طرح قریش حضور کے بارے میں سخت نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ مسلمان اس سے بڑھ کر قریش سے نفرت کرتے تھے گویا قریش کے نزدیک ان کے سخت ترین دشمن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے اور مسلمانوں کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دشمن قریش تھے۔ ادھر ماہ ذی الحجہ کا چاند نظر آگیا یہ ان کی اصطلاح میں ماہ حرام کھلاتا تھا ۔

ان کی جاہلانہ رسم کے مطابق یہ بات طے تھی کہ ماہ حرام میں وہ اسلحہ زمین پر رکھ دیتے اور مکمل طور پر جنگ سے ہاتھ اٹھا لیتے تھے۔ عربوں میں بہت زیادہ دشمنیاں تھیں، یھی وجہ ہے اس زمانے میں قتل وکشتار بھی اتنا زیادہ تھا لیکن ماہ حرام میں اس مھینہ کے احترام میں وہ خاموش ہوجاتے۔ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی کچھ نہیں کھتے تھے، حضور رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوچا کہ کیوں نہ ان کی جاہلانہ رسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مکہ تشریف لے جائیں اور وہاں سے عمرہ کر کے واپس تشریف لے آئیں۔ اس کے علاوہ آپ کا اور کوئی ارادہ نہ تھا اور تیاری کا اعلان فرمایا اور سات سو آدمی (ایک اور روایت کے مطابق چودہ سو آدمی جن میں آپ کے صحابہ کرام اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ مکہ کی طرف رہسپار ہوئے۔ لیکن آپ جب مدینہ سے نکلے تو حالت احرام میں آگئے، چونکہ آپ کا حج قران تھا، اس لئے آپ کی قربانی کے جانور آپ کے آگے آگے چلے۔ قربانی کے جانوروں کے گلے میں جوتی لٹکا دی، زمانہ قدیم میں یہ رسم تھی کہ جو بھی کسی جانور کو اس حالت میں دیکھتا تو وہ خود بخود سمجھ جاتا تھا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ چنانچہ سات سو افراد کی مناسبت سے سات سو جانور خریدا گیا اور اسی خاص علامت کے ساتھ ان کو قافلے کے آگے اپنے ہمراہ لیا۔ تاکہ دیکھنے والے یہ بخوبی اندازہ لگا سکیں کہ یہ لوگ حج کرنے جارہے ہیں۔ جنگ کی غرض سے نہیں آئے ہیں یہ کام اور یہ پروگرام علانیہ تھا اس لئے قریش کو سب سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی تو جب آپ مکہ کے قریب پھنچے تو زن ومرد چھوٹے بڑے غرضیکہ تمام قریش گھروں سے باہر نکل کر مکہ سے باہر آگئے اور انھوں نے کھا کہ خدا کی قسم! ہم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔

حالانکہ وہ ماہ حرام تھا اور کھا کہ ہم اس مہینے میں بھی جنگ کریں گے وہ عربوں کی اس پرانی اور مروجہ رسم کی خلاف ورزی کرنا چاہتے تھے، آپ قریش کے خیموں کے پاس تشریف لے گئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی سواریوں سے نیچے اترآئیں اور قریش سے کھا کہ تم بھی اپنے چند آدمی تیار کرو تاکہ یا ہمی تبادلہ خیال سے مسئلہ حل ہو سکے۔ چنانچہ قریش کے چند بزرگ آدمی حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہاں کیوں اور کس مقصد کیلئے آئے ہیں؟ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا میں حاجی ہوں اور حج ہی کی ادئیگی کیلئے آیا ہوں اس کے سوا میرا کوئی کام نہیں ہے۔ حج سے فراغت پاتے ہی فوراً واپس چلا جاؤں گا۔

ان میں سے جو بھی آتا ان کو دیکھ کر واپس چلا جاتا اگر چہ وہ مطمئن تھے پھر بھی انھوں نے بات نہ مانی۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے ہمراہی وں نے یہ پکا ارادہ کر لیا کہ وہ ہر صورت میں مکہ میں داخل ہوں گے۔ ان کا پروگرام لڑائی کا نہ تھا۔ ھاں اگر ہم پر قریش نے حملہ کیا تو ان کا دندان شکن جواب دیں گے۔ سب سے پھلے تو بیعت الرضوان کی رسم ادا کی گئی۔ اصحاب نے از سر نو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی، جس میں طے یہ پایا۔ اگر قریش کا نمائندہ صلح کا پیغام لے کر آیا تو ہم بھی صلح کریں گے، طرفین سے نمائندوں کی آمد و رفت شروع ہوئی۔ آپ نے اپنے نمائندوں سے کھا کہ جاکر قریش سے کہہ دو کہ:

"ویح قریش اکلتهم الحرب"

افسوس ہے قریش پر جنگ نے ان کو کھا لیا"

اب یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ مجھے یہ لوگ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مکہ میں جانے دیں گے تو اس سے بھی قریش کو فائدہ ہو گا۔ انھوں نے کھا ہمیں آپ کی کوئی شرط قابل قبول نہیں ہے ہم صرف اور صرف صلح کیلئے قرار داد پاس کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں قریش کی طرف سے سھیل بن عمرو نمائندگی کے فرائض ادا کر رہا تھا۔ صلح نامہ میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امسال واپس چلے جائیں اور اگلے سال آئیں اور تین روز تک قیام کرسکتے ہیں۔ آپ عمرہ کرکے واپس چلے جائیں یہ صلح نامہ اگر چہ ظاہر میں مسلمانوں کے حق میں بھتر نہ تھا ان میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر ایک قریشی دیگر مسلمانوں کے ساتھ مل جائے تو قریش کا حق حاصل ہوگا کہ وہ اس کو اپنے پاس لے آئیں۔ اگر ایک مسلمان قریش کے ساتھ مل جائے تو مسلمانوں کو حق حاصل نہ ہوگا کہ اس کو وہاں سے لے جائیں۔ آپ نے فرمایا ہماری بھی ایک شرط ہے کہ مسلمان مکہ میں آزادی کے ساتھ رہیں اور ان پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے۔ آپ نے ایک شرط کی خاطر ان کی تمام شرائط کو قبول کر لیا، اور اس ایک شرط کی خاطر قرار داد پر دستخط کر دیئے۔ اس سے کچھ مسلمان کو سخت تکلیف ہوئی۔ عرض کی یا رسول اللہ یہ ہماری بے عزتی ہے کہ ہم مکہ کے نزدیک آکر واپس لوٹ جائیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ ہم تو واپس نہیں جائیں گے۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا قرار داد تو یھی ہے اور اس پر طرفین کے دستخط بھی ہوچکے ہیں اب تو ہمیں عمل کرنا ہوگا۔ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا یھیں پر قربانی کے جانوروں کو ذبح کردو اور میرے سر کے بالوں کو مونڈوا لیجئے۔

آپ جب سر کے بال منڈوا چکے تو دوسروں نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن سخت پریشانی کے ساتھ ۔ اس طرح کا عمل اس بات کی علامت تھا کہ اب یہ سب حالت احرام سے نکل چکے ہیں۔ حضرت عمر سخت ناراض ہوئے اور حضرت ابو بکر سے کھا کہ جو کچھ ہوا ہے اچھا نہیں ہوا ۔ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں کیا یہ مشرک نہیں ہیں؟ یہ سب کچھ کیوں ہوا ہے؟ حضور پاک نے اس سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ مسلمان مکہ میں داخل ہو کر مکہ کو فتح کریں گے ۔ یہ دونوں بزرگ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواب میں نہیں دیکھا تھا کہ ہم مسلمان مکہ میں داخل ہوئے ہیں؟ فرمایا ھاں ایسا ہی تھا عرض کی پس اس خواب کی تعبیر اس طرح کیوں ظاہر ہوئی ہے ۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں یہ نہین دیکھا کہ ہم امسال مکہ جائیں گے اور نہ ہی میں نے آپ سے اسی سال کی بات کی ہے میں نے خواب دیکھا ہے اور وہ خواب بھی سچا ہے کہ ہم مکہ ضرور جائیں گے ان دونوں بزرگوں نے عرض کی حضور یہ کوئی قرار داد تو نہ ہوئی کہ وہ لوگ ہمارے آدمی کو ساتھ لے جا سکتے ہیں اور ہم قریش میں سے کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکتے؟ آپ نے فرمایا اگر ایک شخص ہم میں سے وہاں جانا چاہتا ہے وہ مسلمان نہیں مرتد ہے ۔اس کی ہمیں قطعی طور پر ضرورت نہیں ہے جو مرتد ہوگیا وہ ہمارے کسی کام کا نہ رہا۔ اگر ان میں سے کوئی مسلمان ہوکر ہمارے پاس آجائے تو ہم اس سے کھیں کہ فی الحال تم مکہ جاؤ اور جس طرح بھی نبھ آئے گزار و اللہ تعالی ایک نہ ایک دن ضرور کوئی وسیلہ پیدا کرے گا۔ واقعتاً عجیب و غریب شرائط ہیں ۔ سھیل بن عمر کا ایک بیٹا مسلمان تھا اور وہ اسی لشکر اسلام میں تھا اس نے بھی اس قرارداد پر دستخط کیے اس کا دوسرا بیٹا قریش کے پاس تھا، وہ دوڑتا ہوا مسلمانوں کے پاس آیا۔ لیکن سھیل نے کھا کہ چونکہ اب ایگریمنٹ ہو چکا ہے اس لئے میں اس کو قریش کے پاس واپس بھیجتا ہوں اس نوجوان کا نام ابو جندل تھا۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا تم واپس چلے جاؤ اللہ تعالی کوئی بھتر سبب بنائے گا۔ فکر نہ کرو یہ بیچارہ سخت پریشان ہوا اور چیختا چلاتا رہا، کہ مسلمان مجھے کافروں کے درمیان بے یار ومددگار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ مسلمان بھی پریشان ہوئے عرض کی یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ اجازت دیں کہ ہم اس ایک نوجوان کو واپس نہ جانے دیں۔ آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں اسے واپس جانے دو اب یہ نوجوان قرارداد کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی بسر کرے گا ۔ ان تمام نوجوانوں کو چاہی ے کہ وہ مکہ میں رہ کر اسلام کی تبلیغ کریں۔ ایک سال کی کم مدت میں اتنے زیادہ مسلمان ہوئے کہ شاید اتنے بیس سالوں کی مدت میں نہ ہوتے۔ اہستہ اہستہ حالات بدلتے گئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مکہ شھر مسلمانوں سے چھلک رہا تھا اور اس میں اسلام و قرآن کی باتیں ہو رہی تھیں، علم و عمل کے تزکرے ہورہے تھے۔ ایک بہت اچھا واقع ہے میں چاہوں گا کہ آپ کو بھی سناؤں۔ ابو بصیر نامی ایک شخص مسلمان تھا۔ یہ مکہ میں رہائش پزیر تھا۔ اور بہت ہی بھادر و شجاع تھا۔ یہ مکہ سے فرار ہو کر مدینہ آیا۔ قریش نے دو آدمیوں کو مدینہ بھیجا تاکہ قراردادوں کے مطابق اس کو مکہ لے آئیں، یہ دو شخص آئے اور کھا کہ ابو بصیر کو واپس لوٹا دیجئے۔ حضرت نے فرمایا واقعی ایسا ہی ہے۔

اس نوجوان نے جتنا بھی کھا کہ یارسول اللہ مجھے واپس نہ بھیجئے حضرت نے فرمایا کہ چونکہ ہم ان سے وعدہ کرچکے ہیں جھوٹ بولنا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔ تم جاؤ انشاء اللہ حالات بہت جلد بھتر ہو جائیں گے۔ اس کو وہ اپنی حراست میں لے گئے۔ یہ غیر مسلح تھا اور وہ مسلح تھے۔ ذوالحلیفہ نامی جگہ پر پھنچ گئے، تقریباً یھیں سے یعنی مسجد شجرہ سے احرام باندھا جاتا ہے اور مدینہ یہاں سے سات کلو میٹر دور تھا۔ یہ لوگ ایک درخت کے نیچے آرام کرنے لگے۔ ایک شخص کے ہاتھ میں تلوار تھی، ابو بصیر نے اس سے کھا کہ یہ تلوار تو بہت خوبصورت ہے، ذرا مجھے دکھائیے تو سہی، اس نے اس سے تلوار لی اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا۔ اس مقتول کا دوسرا ساتھی دوڑ کر مدینہ آگیا اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا یہ کوئی نیا واقعہ ہوا ہے۔ اس نے عرض کی جی ھاں آپ کے آدمی نے ہمارے آدمی کو قتل کردیا ہے۔ کچھ لمحوں کے بعد ابو بصیر بھی وہاں پھنچ گیا عرض کی یا رسول اللہ آپ نے تو قرار داد پر عمل کر دیا۔ وہ قرار داد یہ تھی کہ اگر کوئی شخص قریش سے فرار ہو کر آجائے تو آپ اس کو ان کے حوالے کردیں میں تو خود آیا ہوں اس لئے آپ مجھے کچھ نہ کھیے آپ اسی وقت اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دریائے احمر کے کنارے پر آئے آپ نے وہاں پر ایک لکیر کھینچی اور اس کو مرکز قرار دیا جو مسلمان مکہ میں مشرکین کی طرف سے تکالیف برداشت کر رہے تھے ان کو پتہ چلا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی کو اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن آپ نے ساحل دریا کو مرکز قرار دیا ہے، وہ ایک ایک کرکے اس جگہ پر پھنچے اور ستر ۷۰ کے لگ بھگ اکٹھے ہو گئے۔ اور ایک "طاقت" بن گئے۔

قریش اب آمد و رفت نہ رکھ سکتے تھے، انھوں نے خود ہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ایک خط لکھا، جس میں کھا کہ یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم نے ان کو معاف کردیا ہے ہم درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کو لکھیں کہ یہ لوگ مدینہ آجائیں اور ہمارے لئے رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، ہم خود ہی اپنی قرارداد سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس قرارداد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ لوگوں کے افکار ونظریات میں تبدیلی لائی جائے۔ چنانچہ یھی ہوا جو ہمارے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چاہتے تھے۔ اس کے بعد مسلمان مکہ میں آزادانہ طور پر رہنے لگے، اور اس آزادی کی بدولت لوگ فوج در فوج دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے، مشرکین کی تمام تر پابندیاں ختم ہو کر آزادی میں بدل گئیں۔ یہ تھی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدبرانہ سیاست اور اس سے جو دورس نتائج بر آمد ہوئے۔ ان فوائد کو تو شمار ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اب آتے ہیں امام حسنعليه‌السلام اور امام حسینعليه‌السلام کی معصومانہ حکمت عملیوں کی طرف۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر امام حسنعليه‌السلام امام حسینعليه‌السلام کی جگہ پر ہوتے تو آپ کربلا میں ویسا ہی کرتے جیسا کہ امام حسینعليه‌السلام نے کیا تھا۔ میں یہاں پر صرف ایک نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اگر کوئی سوال کرتا ہے کہ کیا اسلام صلح کا دین ہے یا جنگ کا دین؟تو ہم اس کو اس طرح جواب دیں گے کہ آیئے قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں دیکھتے ہیں قرآن مجید ہمیں جنگ کا حکم بھی دیتا ہے اور صلح کا بھی۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی آیات موجود ہیں جو ہمیں کافروں ومشرکوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کی نشاندھی کرتی ہیں۔ ارشاد الھٰی ہے:

( وقاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ) (۱۸)

"اور جو لوگ تم سے لڑیں تم (بھی) خدا کی راہ میں ان سے لڑو اور زیادتی نہ کرو"

دوسری آیات بھی اس طرح کی ہیں۔ صلح کے بارے میں قرآن مجید کھتا ہے:

( وان جنحوا للسلم ما جنح بها ) (۱۹)

اور اگر یہ کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ"۔

ایک اور جگہ پر ارشاد خدا وندی ہے:

( والصلح خیر ) (۲۰)

"صلح تو (بھر حال) بھتر ہے۔"

آپ خود ہی اندازہ کر لیجئے کہ اسلام کس چیز کا مذھب ہے؟ اسلام نہ صرف صلح کو قبول کرتا ہے بلکہ اس کے لئے بھی وہ شرائط عائد کرتا ہے اور نہ بغیر کسی وجہ کے جنگ کو روا سمجھتا ہے ۔ وہ کھتا ہے صلح اور جنگ چند خاص شرائط کے ساتھ قیام پذیر ہوں گی ۔ مسلمان خواہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور کا ہو یا حضرت امیرعليه‌السلام کے زمانے کا یا حضرت امام حسنعليه‌السلام ، امام حسینعليه‌السلام اور دیگر آئمہ طاہر ین علیھم السلام کے دور امامت سے تعلق رکھتا ہے وہ ہر جگہ پر ایک ھدف اور مقصد کے تحت زندگی گزراتا ہے ۔

اس کا ھدف اصلی اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بازیابی ہے۔ اس کو دیکھنا چاہی ے کہ یہ مقاصد صلح کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں تو صلح کی زندگی گزاردے ۔ اگر کسی موقع پر اسلامی، دینی مقاصد کا تحفظ جنگ میں ہے تو اسلام کھتا ہے کہ کافروں، مشرکوں اور ظالموں کے خلاف ڈٹ جاؤ ۔ حقیقت میں یہ مسئلہ جنگ یا صلح کا نہیں ہے بلکہ بات حالات اور شرائط کی ہے جھاں جھاں اسلامی اہداف کا تحفظ ہو وہاں صلح یا جنگ کریں جیسی مناسبت ویسا اقدام ۔ بس ہر موقعہ پر اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا ملحوظ خاطر رہے یعنی یہ اسلام کا بنیادی فلسفہ ہے ۔

ایک سوال اور ایک جواب

سوال: آپ نے فقہ جعفریہ کی سند امام حسن علیہ السلام کے بارے میں بیان کی ہے درست نہیں ہے، کیونکہ شیعہ فقہ ائمہ طاہر ین علیھم السلام کی تعلیمات کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے ۔ اب آپ یہ نہیں کھہ سکتے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے شیعہ فقہ پر عمل کرتے ہوئے صلح کی ہے؟ جناب محقق اور دیگر علمائے شیعہ نے جو کچھ بھی کھا ہے یا بیان کیا ہے یہ سب کچھ ائمہ اطہارعليه‌السلام سے لیا ہے ۔ براہ کرم اس مسئلہ کی تشریح فرما دیجئے ۔

جواب:آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے آپ نے میری بات پر غور نہیں کیا میں نے کب کھا کہ امام حسن علیہ السلام نے شیعہ فقہ کی پیروی کرتے ہوئے حاکم وقت کے ساتھ صلح کی ہے ۔ میں نے تو فقہ کے بنیادی اصولوں کو سیرت امامعليه‌السلام سے منطبق کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دراصل ہماری فقہ ائمہ طاہر ین علیھم السلام کے فرامین سے مرتب کی گئی۔ شریعت اسلامیہ کی تشریح اور وضاحت ان بزرگ ہستیوں نے جس طرح کی ہے اتنی اور کسی نے نہیں کی ۔ ہم نے فقہ کے ایک باب جھاد پر تبصرہ کیا تھا ۔ جناب محقق کی عالمانہ رائے اور نقطہ نظر کو اس لئے بیان کیا تاکہ واضح ہوجائے کہ صلح کے بارے میں شیعہ فقہ کیا کھتی ہے؟بالغرض اگر آج ہمیں یا کسی اسلامی حکمران کو اس قسم کا قدم اٹھانا پڑے اور وہ ہم سے رائے مانگے تو ہم بغیر کسی توقف کے بتاسکیں کہ ہماری فقہ کیا کھتی ہے؟اور ہمارے ائمہ طاہر ین علیھم السلام کی سیرت طیبہ ہمیں کیا درس دیتی ہے؟

یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان ہر وقت لوگوں سے لڑتا جھگڑتا رہے اور وہ اس کو جھاد کا نام دے ۔ بلکہ جھاد اور صلح کے اپنے اپنے تقاضے ہیں اور ان کو ہم نے وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے ۔ اوقات صبر و تحمل اور خاموشی کی روش اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ کبھی کبھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جارح اور ظالم دشمن کے جواب میں مسلح ہو کر میدان جنگ میں اترنا پڑتا ہے ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر ائمہ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں اس نوع کی یکسانیت و یگرنگی ہے کہ انسان اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرسکتا ۔

سوال:کیا اہل سنت بھائیوں کا نقطہ نظر جھاد کے بارے میں شیعوں سے مختلف ہے اگر ہے تو کیا ہے؟

جواب:مجھے اس سلسلے میں اہل سنت بھائیوں کی کتب کا مطالعہ کرنا پڑے گا اس کے بعد کچھ اس پر روشنی ڈال سکوں گا لیکن جھاں تک مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ جھاد کے بارے میں شیعہ سنی کا کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے ہم یہ کھتے ہیں کہ جھاد میں امام یا اس کے نائب سے اجازت لینا چاہی ے ان کے نزدیک یہ شرط وقید نہیں ہے ۔ اس مسئلہ میں ہم سب مسلمان متحد ہیں کہ اگر کافر یا مشرک ملک یا شخص ہمارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے یا کسی کافر سے کسی مسلمان کی عزت و مال کو خطرہ ہے تو ہم سب پر واجب ہے کہ ہم اس کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں ۔


صلح امام حسن علیہ السلام (۲)

ھماری بحث امام حسن علیہ السلام کے بارے میں چل رہی تھی گزشتہ نشستوں میں میں نے جنگ اور صلح پر اسلامی نقطہ نظر کو بیان کیا ہے اور میں نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تاریخ اسلام سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ ہے امام وقت جو بھی قدم اٹھاتا ہے وہ عدل وانصاف کے عین تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے ۔ ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام نے اپنے ہر کام، ہر فعل اور ہر عمل میں جو بھی کیا اللہ تعالی اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا کیلئے کیا ہے ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مختلف مقامات پر صلح کی، مختلف قراردادوں پر دستخط کیے، کبھی مشرکین کے ساتھ، تو کبھی اہل کتاب کے ساتھ کبھی آپ کو جنگوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ میں نے اپنی بات اور گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فقھی و عقلی دلائل بھی پیش کیے ہیں ۔ میرا عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ دین ایک کامل ترین مذھب اور نظریہ کا نام ہے ایسا نہیں ہے کہ اس کی ہم اپنی مرضی کے مطابق تاویل کرتے رہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کے حیات بخش اصول پھلے بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں اور قیامت تک اس کی حقانیت مسلم طور پر موجود رہے گی۔ اگر صلح کی بات آتی ہے تو اس کی کچھ شرائط ہیں اسی طرح جنگ کے بارے میں اس کے معین کردہ قوانین موجود ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر دشمن کو بات منانا آسان ہوتا ہے اور اس میں جنگ وجدال کی نوبت نہیں آتی اور کبھی جو بات دشمن جنگ کے ذریعہ مانتا ہے وہ صلح سے پوری نہیں ہوتی ۔ میں نے گزشتہ محافل میں وضاحت کے ساتھ گفتگو کی ہے اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کے جوابات بھی دیئے ہیں دراصل امام حسن علیہ السلام کے دور امامت میں فضا اتنی مکدر تھی کہ صلح کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا، گویا آپ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کے دور میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اب میں اس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد فیصلہ آپ کو خود ہی کرنا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کو کیا کرنا چاہی ے اور امام حسین علیہ السلام کو کیا؟اور ایک نے صلح اور دوسرے نے جنگ کو کیوں چنا؟آیئے چلتے ہیں تفصیل کی طرف:

امام حسنعليه‌السلام اور امام حسینعليه‌السلام کے ادوار میں فرق کتنا تھا؟

سب سے پہلا فرق تو یہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام اس وقت مسند خلافت پر تشریف فرما ہوئے تو اس وقت معاویہ مضبوط ترین پوزیش بنا چکا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے زندگی میں کس طرح کی صعوبتیں اور سختیاں برداشت کیں پھر آپ کو کس بیدردی اور مظلومیت کے ساتھ شھید کردیا گیا؟ اس عظیم اور مظلوم والد کی شھادت کے بعد امام حسن علیہ السلام مسند خلافت پر تشریف لائے، یہ حکومت اندرونی سطح پر بہت ہی کمزور ہو چکی تھی۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ امامعليه‌السلام کی شھادت کے اٹہارہ روز بعد امام حسن علیہ السلام خلیفہ وقت مقرر ہوئے ۔ ان اٹہارہ دنوں کے اندر اندر معاویہ نے خود کو اچھا خاصا مضبوط ومستحکم کر لیا۔ اس نے جگہ جگہ اپنی فوجیں پھیلا دیں۔ پھر معاویہ عراق کو فتح کرنے کیلئے ایک کثیر تعداد کی فوج اپنے ہمراہ لے کر عازم سفر ہوتا ہے، اور ادھر امام حسن علیہ السلام بے پناہ مشکلات سے دو چار تھے۔ ایک باغی اور سرکش شخص آپ کے خلاف بغاوت کر چکا تھا۔ اب یہاں پر امام حسن علیہ السلام کا قتل ہو جانا مسند خلافت کیلئے بہت زیادہ نقصان دہ تھا۔ ابتدائی ابتدائی حالات تھے۔ اس کے بر عکس امام حسین علیہ السلام اس جگہ پر خاموش رہتے یا کسی خاص مصلحت کا انتظار کرتے تو دین محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نعوذ باللہ کب کا مٹ چکا ہوتا ادھر خاموشی عبادت، ادھر جھاد کرنا عبادت، ایک مقام پر سکوت جھاد تھا اور دوسرے مقام پر جھاد ہی جھاد تھا۔ امام حسن علیہ السلام نے ایسے ایسے حالات میں ظلم وفساد کا مقابلہ کیا کہ اگر کوئی اور ہوتا تو کب کا حکومت وقت کو تسلیم کر چکا ہوتا۔ امام حسنعليه‌السلام نے مصلحت کے تحت صلح کر لی تھی، لیکن معاویہ کی حاکمیت، خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ آپ نے کئی سالوں تک معاویہ کی شاطرانہ سیاست کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ آپ کو دھوکہ و فریب کے ساتھ شھید کر دیا گیا۔ آپ نے جرأت واستقامت کے ساتھ حالات کا انتھائی جرأتمندی اور پامردی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ امام حسنعليه‌السلام کی حکومت عملی اتنی بلند تھی کہ امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنے بھائی کی مدبرانہ سیاست کی تعریف کر کے اس سیاست کو آئیڈیل سیاست قرار دیا۔

اس لئے اعتراض کرنے والوں کو سمجھنا چاہی ے کہ امام حسنعليه‌السلام اور امام حسینعليه‌السلام کے حالات میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ آپ مسند خلافت پر خلیفۃ المسلمین کے طور پر تشریف فرما تھے اگر ان کو وھیں پر قتل کیا جاتا تو یہ خلیفۃ المسلمین کا مسند خلافت پر قتل تھا جو کہ بہت بڑا مسئلہ تھا، امام حسین علیہ السلام نے بھی مسند خلافت پر شھید ہونے سے اجتناب کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسینعليه‌السلام مکہ میں بھی شھید نہیں ہونا چاہتے تھے" کیونکہ اس سے مکہ کی بے حرمتی ہوتی۔ لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی السلام اس وقت غیر معمولی طور پر کوشش کرتے ہیں کہ عثمان اپنے دور کے مخالفین کے مطالبات پورے کرتے ہوئے ان کےساتھ صلح کریں۔ آپ ہر صورت میں عثمان کی حفاظت و سلامتی کے خواہاں تھے، اور گاہے بہ گاہے ان کو مشورے بھی دیا کرتے تھے۔ نھج البلاغہ میں ہے کہ آپ عثمان کا دفاع کرتے ہیں۔ آپ کا ایک فرمان ہے:

"وخشیت ان اکون اثما" (۲۱)

"کہ میں نے عثمان کا اس قدر دفاع کیا کہ اب مجھے ڈرہے کہ کھیں گناہگار نہ ہو جاؤں۔"

سوچنے کی بات ہے آپ خلیفہ صاحب کی حمایت کیوں کرتے تھے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ مسند رسول کی حفاظت کرنا تھی۔ آپ کی شبانہ روزی کی کوشش کا مقصد عثمان کو تحفظ فراہم کرنا تھا، کیونکہ یہ مسلمان کیلئے باعث ننگ و عار تھی کہ خلیفۃ المسلمین مسند خلافت پر قتل ہو اس سے مسند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے حرمتی ہو گی۔

اس عظیم مقصد کی تکمیل کیلئے مولا علی علیہ السلام کو بے تحاشا قربانیاں دینا پڑیں۔ دوسری طرف آپ عوامی رد عمل کو بھی نہیں روکنا چاہتے تھے، کیونکہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ حاکم وقت سے اپنی بات کھے اور اس کے سامنے اپنے مطالبات دھرائے۔ آپ لوگوں کو بھی حکومت کے خلاف اجتماع کرنے سے روکنا نہیں چاہتے تھے، اور آپ کی یہ کوشش تھی کہ عثمان کا قتل نہ ہو، کیونکہ آپ مسند رسول کے تحفظ و احترام کو زندگی کا سب سے اولین مقصد سمجھتے تھے۔ بالآخر وھی ہوا کہ جس کا آپ کو ایک عرصہ سے خدشہ تھا کہ عثمان قتل کر دیئے گئے۔ چنانچہ اگر امام حسن علیہ السلام انھی حالات میں معاویہ کے ساتھ مقابلہ کرتے تو ان کا حال بھی یھی ہوتا جیسا کہ تاریخ اسلام اس امر کی گواہ ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کو پتہ تھا کہ وہ شھید ہو جائیں گے۔ آپ تو صرف مسند خلافت کے احترام کی خاطر خاموش تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کی شھادت علم جھاد بلند کرنے والے عظیم مجاہد کی شھادت تھی کہ جنھوں نے ایسے ظالم فاسق وفاجر شخص کی حکومت کے خلاف آواز بلند کی کہ جو خود کو خلیفۃ المسلمین کہلواتا تھا۔ حالانکہ اس کا خلافت سے دور تک کا واسطہ نہ تھا، اس لئے تو میں نے کہا ہے کہ امام حسنعليه‌السلام اور امام حسینعليه‌السلام کے حالات و واقعات میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ایک مقام پر چپ رھنا عبادت تھا اور دوسری جگہ پر ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کا اہم تقاضہ تھا ۔

دوسرا فرق یہ تھا کہ کوفہ کی سرزمین اپنی بے وفائی کے باعث حق اور حق پرستوں کیلئے تنگ ہوچکی تھی۔ اگر معاویہ وہاں پر آجاتا تو بڑی آسانی سے اس کو فتح کر لیتا، امام حسن علیہ السلام کے حامیوں کی اکثریت رخ موڑ چکی تھی، کوفہ منافقوں کا مرکز بن چکا تھا۔ کوفہ میں سب سے بڑا مسئلہ خوارج کا وجود میں آنا تھا۔ لوگ جاہلیت میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ حق کو پھچاننا مشکل ہو گیا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس سوسائٹی کو نادانوں اور جاہلوں کی سوسائٹی سے تعبیر فرمایا نھج البلاغہ میں ہے کہ اس وقت کا معاشرہ تعلیم وتربیت سے عاری تھا۔ لوگ اسلام کو جانتے تک نہ تھے۔ اسلامی تعلیمات کو یکسر بھلا دیا گیا تھا۔ وہ لوگ مسلمان ہونے کا دعوی تو کرتے تھے لیکن دراصل وہ اسلام کی الف با سے بھی واقف نہ تھے۔

بہر حال کوفہ میں عجیب ماحول پیدا ہو چکا تھا۔ معاویہ کوفہ میں اپنی بنیادیں مستحکم کر چکا تھا اس نے پیسہ خرچ کر کے کوفیوں کو خرید لیا تھا۔ جگہ جگہ پر جاسوس پھیلے ہوئے تھے۔ حکومتی مشینری نے معاویہ کے حق میں اور امام حسن علیہ السلام کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کر رکھا تھا۔ اگر اس وقت امام حسنعليه‌السلام انقلاب برپا کرتے تو لوگوں کا ایک انبوہ معاویہ کے خلاف کھڑا ہو جاتا ۔ شاید تیس چالیس آدمیوں کا لشکر آمادۂ پیکار ہوتا۔ تاریخ میں یہاں تک ملتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام ایک لاکھ تک افراد کو جمع کرسکتے تھے۔ آپ معاویہ کے ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کا مقابلہ کر سکتے تھے لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوتا؟ جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام نے آٹھ مھینوں تک معاویہ سے مقابلہ کیا۔ اس وقت عراقی فوجیں خاص کر مضبوط تھیں۔ آٹھ مھینوں کی مسلسل جنگ میں معاویہ مکمل طور پر جنگ ہار چکا تھا، چند غداروں نے مولا مشکل کشا کے خلاف سازش کر کے قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کرکے میدان جنگ میں لے آئے۔

اگر امام حسنعليه‌السلام جنگ کرتے تو شام و عراق کی دو مسلمان فوجوں کے ما بین جنگ طول پکڑ جاتی اور ھزاروں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا، اس سے حاصل کیا ہوتا؟جھاں تک تاریخ بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ معاویہ اپنی تمام تر چالاکیوں کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا، اب آپ ہی اندازہ کریں کہ امام حسن علیہ السلام دو سالوں تک جنگ کرتے اور ھزاروں افراد قتل ہوتے اور نتیجہ مسند خلافت پر امام حسن علیہ السلام کی شھادت پر منتج ہوتا۔ امام حسن علیہ السلام کے پاس بھتر ( ۷۲) اشخاص موجود تھے۔ آپ نے ان کو بھی واپس بھیج دیا اور فرمایا تم سب یہاں سے چلے جاؤ۔ میں جانوں اور دشمن کی فوج جانے اور اگر میں اس حال میں شھید ہو جاؤں تو اس سے بھتر میرے لئے کیا اعزاز ہو گا۔

چنانچہ یہ وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے امام حسن علیہ السلام کو صلح کرنا پڑی۔ ایک یہ کہ آپ نہ چاہتے تھے کہ دشمن آپ کو مسند رسول پر قتل کرکے اس عظیم مسند کی توھین کرے۔ دوسرا آپ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمانوں کا قتل عام ہو۔ آپ اس وقت معاویہ کی فوج کے ساتھ بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن آپ نے امن و عامہ کی بحالی و برقراری اور مسند رسول کے تحفظ واحترام کی خاطر ھتھیار اٹھانے اور حملہ کرنے کے بجائے صلح و آشتی کو ترجیح دی۔ آپ نے اپنے قول و فعل کردار و گفتار کے ذریعہ ثابت کردیا کہ خاندان رسالت اسلامی و انسانی اقتدار کی کس طرح پاسداری کرتا ہے۔

صلح حسنعليه‌السلام اور قیام حسینیعليه‌السلام کے محرکات

حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے حالات میں بہت زیادہ فرق تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے عظیم انقلاب اور بے نظیر جھاد کے تین محرکات ہمارے سامنے آتے ہیں میں ان تینوں عوامل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں، جبکہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کے دور میں صورت حال کچھ اور طرح کی تھی۔

حسینیعليه‌السلام انقلاب کا پہلا محرک یہ تھا ظالم حکومت نے امام حسین علیہ السلام سے بیعت کرنے کا مطالبہ کیا کہ:

"خذ الحسین بالبیعة اخذا شدیدا لیس فیه رخصة"

کہ امام حسین علیہ السلام کو بیعت کیلئے گرفتار کر لے اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے یہاں تک کہ وہ بیعت کیے بغیر کھیں نہ جاسکیں۔"

وقت کے فاسق وفاجر شخص نے وقت کے سب سے بڑے امام اور معصوم ہستی سے بیعت کا تقاضا کیا جو کہ ناممکن تھا۔ امام عالی مقام نے جو جواب دیا وہ یہ تھا میں اور یزید کی بیعت یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ حق اور باطل کی پیروی یہ نا ممکن بات ہے۔ کہاں وہ بدترین شخص اور کھاں میں پروردہ عصمت! بھلا رات اور دن بھی ایک جگہ پر جمع ہوسکتے ہیں۔ یہ بہت مشکل بات ہے۔ لیکن امام حسن علیہ السلام سے معاویہ نے صلح کی پیشکش تو کی تھی۔ بیعت کا تقاضا نہ کیا تھا یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میری خلافت کو تسلیم کر لیں۔ یہ بات تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں ہے کہ معاویہ نے امام علیہ السلام سے بیعت کرنے کا کہا ہو، یا امامعليه‌السلام کے کسی صحابی یا کسی ماننے والے سے بیعت کا تقاضا کیا ہو ۔ دراصل ان کے درمیان بیعت کی بات بھی نہ تھی۔ یھی وجہ ہے کہ مسئلہ بیعت نے امام حسین علیہ السلام کو قیام کرنے اور علم جھاد بلند کرنے پر مجبور کیا۔ اور یہ مجبوری امام حسنعليه‌السلام کو درپیش نہ تھی اگر اس طرح کا مسئلہ ہوتا تو امام حسن علیہ السلام اسی طرح کرتے جس طرح ان کے عزیز ترین بھائی امام حسین علیہ السلام نے کیا تھا۔

قیام حسینیعليه‌السلام کی دوسری وجہ! دعوت کوفہ تھی، وہاں کے لوگوں نے بیس سال تک معاویہ کے مظالم برداشت کیے اور وہ بہت تھک چکے تھے۔ ان کو امام عادل کی آمد کا بے چینی سے انتظار تھا۔ کوفہ کی فضا کا رنگ یکسر بدل چکا تھا۔ ایک بہت بڑے انقلاب کی پیشین گوئی کی جا رہی تھی۔ کوفہ والوں نے امام حسین علیہ السلام کی طرف بیس ھزار خطوط ارسال کیے ان سب میں ان لوگوں کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ مولا آپ سرزمین کوفہ پر قدم رکھ کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا کیجئے ۔ اب ہم سے آپ کا مزید انتظار نہیں کیا جاتا۔ لیکن امام حسین علیہ السلام جب تشریف لائے تو کوفہ والے بالکل انجان بن چکے تھے۔ تاریخ نقطہ نظر سے اگر امام عالی مقام اہالیان کوفہ کے خطوط کو اہمیت نہ دیتے تو تاریخ میں آپ پر اعتراض کیا جا سکتا تھا۔ دنیا والے کہہ سکتے تھے کہ کوفہ کی سرزمین انقلاب کیلئے بالکل تیار تھی لیکن امام حسین علیہ السلام تشریف نہ لائے۔ لیکن امام حسن علیہ السلام کو اس طرح کا مسئلہ در پیش نہ تھا ۔ اس وقت کا کوفہ اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ لوگوں کی سوچیں بکھری اور اذھان پریشان تھے۔ ایسا کوفہ کہ جو اختلافات کا مرکز بن چکا تھا ۔ وہ کوفہ کہ جس کی حضرت علی علیہ السلام نے آخر وقت میں مذمت کی تھی۔ آپ نے خدا سے دعا کی تھی کہ بار الہا! مجھے ان لوگوں کے درمیان سے اٹھا لیجئے اور ان پر ایسا حکمران مسلط فرما کہ جس کے یہ اہل ہیں۔ تاکہ ان کو میری حکومت کی قدر معلوم ہوسکے۔

میں جو عرض کرنے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ کوفہ تیار ہے ۔ یہ امام حسین علیہ السلام سے اتمام حجت کے طور پر کہا گیا تھا، حالانکہ حقیقت میں وہ کسی صورت میں بھی انقلاب کیلئے سازگار نہ تھا۔ اب اگر امام عالی مقام لوگوں کے اس مطالبہ پر خاموش رہتے تو کھنے والے کہہ سکتے تھے کہ امام علیہ السلام نے مسلمانوں کی (نعوذباللہ) پروا نہیں کی، لیکن امام حسن علیہ السلام کا معاملہ اور تھا۔ آپ کے دور میں کوفہ کے لوگوں نے اپنی بے وفائی دکھادی تھی اور انھوں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ امامعليه‌السلام کا ساتھ دینے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں۔ کوفہ کی فضا اس قدر بدلی ہوئی تھی اور کوفی اس قدر بے وفا تھے کہ امام حسن علیہ السلام کوفیوں سے ملنا جلنا قطعی طور پر پسند نہ کرتے تھے۔ آپ گھر سے آتے جاتے وقت بہت زیادہ محتاط ہوتے یہاں تک کہ آپ اپنے لباس کے اندر زرہ پھن کر آتے تھے تاکہ خدا نخواستہ اگر کوئی شر پسند حملہ کرے تو آپ اپنا تحفظ کرسکیں۔ دوسری طرف آپ کو خوارج اور معاویہ سے سخت جانی خطرہ تھا۔ ایک مرتبہ آپ نماز پڑھنے میں مشغول تھے تو اچانک آپ پر کسی نے تیر پھینکنے شروع کر دئے چونکہ آپ نے لباس کے نیچے زرہ پھن رکھی تھی اس لئے اس ظالم کا حملہ کار آمد نہ ہوا۔ اور آپ بچ گئے چونکہ کوفہ والوں نے امام حسین علیہ السلام کو کوفہ میں آنے کی دعوت دی تھی اس لئے آپ کی شرعی ذمہ داری تھی کہ احسن طریقے سے ان کے خطوط کا جواب دیں۔ اور امام حسن علیہ السلام کے دور امامت میں کوفہ کی سرزمین نفاق اگل رہی تھی چاروں طرف بغض و عناد کی چنگاریاں نکل رہی تھیں حالات یہ تھے کہ بکھرتے چلے جارہے تھے اس لئے آپ نے خاموشی اختیار کی۔

امام حسین علیہ السلام کے قیام کا تیسرا محرک امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی اہم ذمہ داری نبھانا تھی۔ قطع نظر اس کے کہ حکومت وقت نے امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کی، اور قطع اس کے کہ امام حسین علیہ السلام کو کوفہ میں آنے اور ان کی ھدایت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اتمام حجت کے طور پر ان کو کوفیوں کے خطوط کا مثبت جواب دینا تھا دوسرے لفظوں میں اگر امام حسین علیہ السلام سے وہ بیعت طلب نہ کرتے تب بھی آپ کو قیام کرنا تھا اگر کوفہ آنے کی دعوت نہ دیتے تب بھی آپ کو یزیدی حکومت کے خلاف قیام کرنا تھا۔ یہ تھا امر بالمعروف اور نھی عن المنکر۔ اگر چہ معاویہ نے بیس سال تک حکومت کی اور اس نے اسلامی تعلیمات کے خلاف بے شمار اقدامات کیے وہ واقعتاً ایک ظالم حکمران تھا اس کی بدعنوانیاں اور زیادتیاں سب پر عیاں تھیں اس نے احکام شریعت میں کمی بیشی کی تھی بیت المال کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا، محترم اور قابل قدر انسانوں کا خون بھی بہایا ۔ غرضیکہ وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ اس کے جو جی میں آیا کیا ان تمام گناہوں کے باوجود اس نے ایک ایسا بڑا جرم اور گناہ کبیرہ سے بڑھ کر گناہ کیا وہ یہ کہ اس نے اپنے ظالم، بے دین، فاسق و فاجر شرابی بیٹے کو مسند خلافت پر بٹھا دیا۔ ہم پر شرعی فرض عائد ہوتا ہے کہ اس پر اعتراضات کریں، اس سے پوچھیں کہ اس نے ایسے نااہل شخص کو عظیم منصب پر کیوں بٹھایا؟ حالانکہ امام حسین علیہ السلام جیسی جلیل القدر موجود شخصیت تھی۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:

"من رای سلطانا جائزا مستحلا لحرام الله ناکثا عهده، مخالفا لسنة رسول الله یعمل فی عبادا لله بالاثم والعدوان" فلم یغیر علیه بفعل ولاقول، کان حقا علی الله ان یدخله مدخله الا وان هولاء قد لزموا اطاعة الشیطان" (۲۲)

"اگر کوئی شخص ایک ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو حلال خدا کو حرام کر دے اور اس سے کیے گئے وعدے کو توڑ دے سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف عمل کرے، لوگوں میں گناہ کا مرتکب ہو تو لوگ اس کو قول و فعل کے ذریعہ منع نہ کریں تو خدا وندکریم اس کو ضرور ہی ایسا عذاب دے گا جس کا وہ حکمران مستحق ہوگا"۔

معاویہ کے دور حکومت میں ایسا ہی تھا۔ امام حسن علیہ السلام اس کے کاموں پر راضی نہ تھے اور اس کو مظالم اور گناہوں سے باز رہنے کی تلقین بھی کرتے تھے۔

معاویہ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں یہ ڈھنڑورا پیٹتا رہا کہ میں عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہوں لیکن اب وہ کھتا تھا کہ میں قرآن و سنت اور سیرت خلفاء پر سوفی صد عمل کروں گا۔ اپنا جانشین بھی مقرر نہیں کرتا۔ میری خلافت کے بعد یہ خلافت حضرت حسن بن علی علیہ السلام کو منتقل ہو جائے گی۔ گویا اس نے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا خلافت امام حسن علیہ السلام کی ہے اور آپ ہی اس کے سزاوار ہیں۔ فی الحال آپ یہ ذمہ داری مجھے سونپ دیں میں ان شرائط کے تحت عمل کروں گا۔ اس نے ایک سفید کاغذ امام علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور اس پر اپنے دستخط بھی کر دیئے اور کہا کہ امام حسن علیہ السلام جو بھی مناسب سمجھیں اپنی شرائط لکھ دیں، میں ان کو قبول کرتا ہوں۔ میں صرف حاکم وقت کے طور پر کام کرنا چاہتا ہوں اور میری کوشش ہوگی کہ اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کروں۔ دراصل یہ ایک طرح کی معاویہ کی شاطرانہ چال تھی۔ اب اگر فرض کریں کہ ایسا ایک عظیم امام علیہ السلام کے ساتھ کیوں ہوا ہے کہ معاویہ نے سفید کاغذ بھیج کر امام علیہ السلام سے دستخط لئے اور کچھ شرائط پیش کر کے یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ آپ ایک کنارے پہ چلے جائیں۔ آپ کو خلافت کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ کی جگہ پر میں جو ہوں۔ رہی بات اسلامی قوانین کے نفاذ کی تو میں کرلوں گا۔ اب اگر آپ ہماری شرائط قبول نہیں کریں گے تو ایک خونی جنگ شروع ہو جائے گی۔

لھذا آپ چھوڑیں سب باتوں کو اور ایک گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں۔ اگر امام حسن علیہ السلام اس مقام پر صبر وتحمل سے کام نہ لیتے تو ایک بہت بڑی جنگ چھڑ سکتی تھی یہ جنگ دو تین سالوں تک لڑی جاتی اور اس میں ھزاروں افراد لقمہ اجل ہوتے جانی ومالی نقصان کےساتھ ساتھ امام حسنعليه‌السلام بھی شھید ہوجاتے تو آج تاریخ اسلام امام حسن علیہ السلام پر اعتراض کر سکتی تھی کہ آپ نے جنگ کی بجائے امن کو ترجیح کیوں نہیں دی؟ امام علیہ السلام نے اس میں صلح کو ترجیح دی۔ پیغمبر اسلام نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی کئی موقعوں پر صلح کی تھی انسان کو کھیں تو صلح کرنی چاہی ے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ معاویہ صرف حکومت چاہتا تھا نہ وہ آپ سے یہ خواہش کرتا تھا کہ آپعليه‌السلام اس کو بطور خلیفہ تسلیم کریں اور وہ یہ نہ کھتا تھا کہ آپ اسے امیر المومنینعليه‌السلام کا لقب دے کر پکاریں۔ وہ آپ سے بیعت کا مطالبہ کرتا ہے اگر آپ کھیں کہ آپ کی جان خطرے میں ہے تو وہ آپ کے بابا علی علیہ السلام کے شیعوں کو امن وامان کے بارے میں لکھ کر دینے کو تیار ہے صفین کی تمام ناراضگیاں ختم کرتا ہوں۔ آپ کی مالی پریشانی دور کرتا ہوں، حسب ضرورت رقم بھی دیتا ہوں تاکہ آپ کسی قسم کی اقتصادی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ آپ اور آپ کے شیعہ آرام سے زندگی بسر کریں۔

اگر امام حسن علیہ السلام ان شرائط کے ساتھ صلح نہ کرتے تو آج بھی تاریخ ان پر یہ اعتراضات کرسکتی تھی جب آپ نے معاویہ کی شرائط کو مان لیا تو تاریخ آج اس کی مذمت کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ کہ معاویہ ایک چالاک وعیار سیاستدان تھا وہ ان شرائط کی آڑ میں دنیاوی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ حکومتی، سیاسی مفادات کے تحفظ کے سوا اور کچھ نہ چاہتا تھا۔ یھی وجہ ہے کہ جب وہ مکمل طور پر مسند حکومت پر بر اجمان ہوگیا تو وہ نہ فقط ان طے کردہ شرائط کو بھول گیا بلکہ وہ امام علیہ السلام کو طرح طرح کی اذیتیں دینے لگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوفہ میں آتا ہے تو لوگوں میں تقریر کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے اے کوفہ والو! میں نے پہلے آپ سے جنگ اس لئے نہیں کی کہ نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، حج کریں اور زکوٰۃ دیں" ولکن لا تامرکم علیکم"بلکہ اس لئے جنگ کی کہ آپ پر حکومت کروں۔ پھر جب اس نے محسوس کیا کہ یہ میں نے کیا کہا تو پھر پینترا بدل لیا اور کہا اس قسم کے مسائل آپ خود حل کریں میں ان مسائل کے بارے میں کیا کیا کرتا پھروں۔ پہلے تو اس نے خود ہی یہ شرط لگا دی کہ میرے مرنے کے بعد خلافت امام حسن علیہ السلام کو ملے گی اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام کو لیکن سات آٹھ سالوں کے بعد جب اس نے دیکھا کہ اس کی حکومت ختم ہونے والی ہے تو اس نے یزید کی خلافت کا مسئلہ شروع کردیا چونکہ حضرت علی علیہ السلام کے ماننے والے اس کی قرار داد کو جانتے تھے اس لئے انھوں نے اس کے اس پروگرام کی مخالفت کی۔

تو اس نے مومنین کےساتھ وھی کیا جو کہ ایک ظالم حکمران اپنی رعیت کے ساتھ کرتا ہے۔ واقعتاً معاویہ شروع ہی سے شاطر وعیار شخص تھا۔ فقھاء اسلام نے اس کو خلفاء کی فھرست سے اس لئے خارج کردیا کہ اس کے سیاہ اعمالناموں کو دیکھ کر تاریخ اسلام شرما اٹھتی ہے۔ وہ ان حکمرانوں سے بھی پست سوچ رکھتا تھا جو عام دنیا کی خاطر صرف اور صرف حکومت کرنے آتے ہیں۔ اس طرح کے بادشاہ اپنی حفاظت کرتے ہے اور اپنی ہی حکومت کی بقاء چاہتے ہے ان درباروں میں فقط خوشامدیوں کو نوازا جاتا ہے۔ معاویہ کی تاریخ کو پڑھا جائے تو اس کو کسی طرح کوئی بھی مسلمانوں کا خلیفہ کہنا پسند نہیں کرے گا۔ یھی وجہ ہے جب امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے حالات کا موازنہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان دونوں شھزادوں، آقا زادوں کے حالات کا آپ میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پھر حالات بدلے، زمانہ بدلا، منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر وہ شخص بر اجمان ہوا جو اسلام تو اسلام انسانیت کا دشمن تھا۔ اس وقت امام حسین علیہ السلام نے جو موقف اختیار کیا قیامت تک آنے والے حق پرست اس جملے کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

"من رای سلطانا جائزا مستحلا لحرام الله کان حق علی الله ان یدخله مدخله"

کہ اگر کوئی ظالم شخص کی حکومت کو دیکھے کہ وہ ایسے ایسے کام کررہا ہو اور ان کو دیکھ کر وہ چپ رہے تو اللہ تعالی کے نزدیک وہ گناہگار ہے۔"

اس وقت امام حسن علیہ السلام نے اسلام کی عظیم تر مصلحتوں اور حکمتوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے مکر وفریب کے مقابلے میں امن وشرافت کی وہ داغ بیل ڈالی کہ انسانیت قیامت تک اس پر فخر کرتی رہے گی۔ دراصل امام حسن علیہ السلام کی صلح قیام حسینیعليه‌السلام کے لئے پیش خیمہ تھی۔ ضروری تھا کہ امام حسن علیہ السلام ایک عرصہ تک کے لئے خاموش ہو جائیں تاکہ اموی خاندان کی اصلیت اور حقیقت لوگوں پر آشکار ہو جائے اور اس کے بعد ایسا عالمگیر انقلاب آئے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ انسانی کے ماتھے کا جھومر بن جائے۔ معاویہ نے جب قرارداد کے اصولوں کی کہلے عام خلاف ورزی کی تو امام حسن علیہ السلام کے کچھ شیعہ آپ کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا حضرتعليه‌السلام ! اب وہ قرارداد خودبخود ختم ہوگئی ہے کیونکہ معاویہ نے اس کو خود ہی منسوخ کردیا ہے اور اس کے اصولوں کو پامال کردیا ہے لہذا آپ اٹھیے، قیام فرمایئے، فرمایا یہ انقلاب معاویہ کے بعد ہی آئے گا یعنی آپ لوگ صبر کریں۔ ایک مناسب وقت کا انتظار کریں، یہاں تک صورت حال واضح ہوجائے۔ وھی وقت وقت قیام ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام معاویہ کے بعد تک زندہ رہ جاتے تو آپ وھی کرتے جو کہ امام حسین علیہ السلام نے کیا تھا۔ آپ ہر صورت میں علانیہ طور پر علم جھاد بلند کرتے ۔ متذکرہ بالا قیام حسینی کے تین محرکات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ امام حسن علیہ السلام کا زمانہ امام حسین علیہ السلام کے دور سے یکسر مختلف تھا۔ ایک جگہ پر خاموشی مصلحت تھی، سکوت عبادت تھا اور دوسری جگہ پر کلمہ حق بلند کرنا، یزیدیت کے خلاف آواز بلند کرنا عبادت تھی۔ ایک امام سے بیعت طلب نہیں کی گئی اور دوسرے سے کی گئی دراصل بیعت کرنا بذات خود بہت بڑا مسئلہ ہے۔

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اگر امام حسین علیہ السلام کوفہ والوں کی درخواست مسترد کردیتے تو دامن عصمت پر اعتراض ہو سکتا تھا۔ لیکن امام عالی مقام کے انقلاب آفرین کردار نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ بیس سال کے بعد کوفہ پھر اور کوفہ تھا۔ اس کوفے والے بنی امیہ سے سخت نفرت کرنے لگے، امام علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے اظہار عقیدت ہونے لگا، آج کے لوگ امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر آنسو بہارہے تھے۔ درختوں نے پھل دینے شروع کیے ہیں۔ زمینیں سرسبز شاداب ہو چکی ہیں۔ مولا تشریف لے آیئے۔ یہاں کی فضا ساز گار ہے۔ اسی طرح کی دعوت اس بات کی مقتضی تھی کہ آپ کوفہ جائیں۔ جبکہ امام حسن علیہ السلام کے زمانے کا کوفہ کچھ اور طرح کا کوفہ تھا۔ امام حسن علیہ السلام کے خاموش اور پر حکمت انقلاب نے ایک نئی تاریخ مرتب کی اور ایک عالمگیر انقلاب کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا۔ تیسرا محرک حکومت کی بد عملی تھی امام حسن علیہ السلام کے دور میں معاویہ اتنا کھل کر فسق و فجور نہ کرتا تھا کہ جتنا یزید نے کیا ۔ امام حسن علیہ السلام نے ایک وقت کا انتظار کیا۔ اور اسی وقت کی ذمہ داری آپ کے پیارے بھائی نے اپنے ہاتھ وں پر لی۔ اسلام کے مرجھائے ہوئے درخت اور کملائے ہوئے پھولوں میں وہ جان ڈالی کہ وہ درخت قیامت تک کے اجڑے ہوئے انسانوں اور لٹے ہوئے قافلوں کو غیرت و حیرت کے ساتھ جینے کا حوصلہ دیتا رہے گا۔

قرار داد میں کیا تھا؟

اب میں آپ کے سامنے وہ قرار داد کی عبارت پیش کرتا ہوں جو کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ باندھی تھی:

۱) معاویہ کی حکومت واگزار کی جا رہی ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرآن و سنت اور سیرت خلفاء پر عمل کرے گا۔ میں یہاں پر ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ایک اصول تھا کہ خلافت میرے ہاتھ میں ہو یا کسی اور کے ہاتھ میں باوجودیکہ خلافت میرا حق ہے میں قیام نہیں کروں گا، یہ لوگوں کا کام ہے، میں اس وقت قیام کروں گا جب خلافت غصب کی جا رہی ہوگی نھج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

"والله لا سلمن ما سلمت امور المسلمین ولم یکن فیها جورالاعلی خاصة"

امام حسن علیہ السلام کی قرارداد بھی یھی تھی کہ جب تک فقط مجھ پر ظلم کیا جارہا ہو، اور میرا حق غصب کیا گیا ہو تب تک میں خاموش رہوں گا لیکن جب کوئی غاصب حکمران مسلمانوں کے شرعی امور میں داخل اندازی کرنے لگ جائے تو پھر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔"

۲) معاویہ کے مرنے کے بعد حکومت کرنے کا حق امام حسن علیہ السلام کو ہوگا اور ان کے بعد امام حسین علیہ السلام مسند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وارث ہوں گے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صلح عارضی مدت کے لئے تھی۔ امام حسن علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ اب ہم جارہے ہیں تو جانے اور یہ خلافت جانے جب تک جی چاہے حکومت کرتا رہے پھر یہ صلح معاویہ کی زندگی تک تھی اس کے بعد وہ صلح خود بخود ختم ہوجائے گی اس لئے معاویہ کو حق نہیں پھنچتا کہ وہ سازشوں کے جال بچھاتا پھرے اور نہ ہی وہ کوئی دوسرا شخص بطور خلیفہ معین کرسکتا ہے۔

۳) معاویہ شام میں حضرت علی علیہ السلام پر کھلے عام طعن و تشنیع کرتا تھا اس صلح نامہ میں شرط عائد کی گئی کہ اس عمل بدکو روکا جائے۔

معاویہ نے نمازوں کے وقت جو علی علیہ السلام پر طعن و تشنیع کا سلسلہ شروع کر رکھا تھااس دن سے موقوف ہوگیا اب وہ علی علیہ السلام کو اچھے لفظوں کے ساتھ یاد کرتا تھا۔ اس قرار داد پر معاویہ نے دستخط کیے اور یہ سلسلہ رک گیا اس سے بیشتر وہ علی علیہ السلام کے خلاف جگہ جگہ پروپیگنڈا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہم ان کو برا بھلا (نعوذ باللہ) اس لئے کھتے ہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہو چکے تھے۔ اب معاویہ پر اعتراض ہونے لگا کہ تو ایک شخص کو لعنت کا حقدار سمجھتا تھا اب تو اس کو اچھے لفظوں کے ساتھ یاد کر رہا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ خواہشات نفسانی کی پیروی کے سوا کچھ نہیں ہے اس کے بعد پھر کیا ہوا؟ اس نے قرارداد کے اصولوں کو توڑ دیا، انسانی اقدار کو روند ڈالا اور پھر نوے ۹۰ سال تک یہ سلسلہ طول پکڑ گیا۔

۴) کوفہ کے بیت المال میں پانچ ملین درھم موجود تھے لھٰذا قرارداد کے مطابق اس کو سال میں دو ملین درھم امام حسن علیہ السلام کو بھیجنے چاہیں تھے یہ بات باقاعدہ قرارداد میں درج تھی تاکہ امام علیہ السلام اپنی اور اپنے ماننے والوں کی ضرورت پوری کرسکیں۔ ھدایا اور عطیات کے سلسلے میں بنی ھاشم کو بنی امیہ پر اہمیت دی جائے اور ایک ملین درھم امیر المومنین علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے شھداء کے وارثان میں تقسیم کیا جائے۔ وہ شھدا جو جنگ جمل وصفین میں درجئہ شھادت پر فائز ہوئے تھے۔ شیراز کے آس پاس جتنا بھی علاقہ تھا وہ بنی ھاشم کے ساتھ خاص کر دیا گیا اور اس کی تمام آمدنی ان کو دی جائے گی۔

۵) لوگوں کے لئے امن وحفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ شام، عراق، یمن، حجاز، اور دیگر شھروں کے لوگوں کی حفاظت کی جائے کالے گورے کی تفریق نہیں ہونی چاہی ے۔ اور معاویہ کو چاہی ے کہ جنگ صفین کی تمام باتیں بھلادے۔ وہ لوگ جو صفین میں معاویہ کے خلاف لڑے تھے۔ معاویہ ان کی حفاظت وسلامتی کیلئے ضروری اقدامات کرے۔ عراقی عوام بھی پرانی سب باتیں بھلادیں۔ حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب جھاں کھیں بھی آباد ہیں ان کا خاص خیال رکھا جائے، اور شیعیان علی علیہ السلام کو کسی قسم کی تکلیف نہ پھنچائی جائے۔ علی علیہ السلام کے چاہنے والے اپنے مال، جان، ناموس اور اولاد کے سلسلے میں بے خوف رہیں۔ ان کی ہر لحاظ سے حفاظت کی جائے۔ حقدار کو حق دیا جائے اور اصحاب علیعليه‌السلام کے پاس جو کچھ ہے ان سے نہ لیا جائے۔ اور امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اور خاندان رسالت کے کسی فرد کو تکلیف نہ پھنچے ۔ ان کا احترام کیا جائے آرٹیکل نمبر ۵ اور ۳ میں حضرت علیعليه‌السلام کے خلاف کھلے عام مخالفت کرنے کے بارے میں تھا۔ اگر چہ معاویہ نے پہلی شرط میں بھی مان لیا تھا کہ وہ قرآن و سنت اور سیرت خلفاء کے مطابق عمل کرے گا لیکن پھر کیا وجہ تھی کہ وہ اس مسئلہ کو علیحدہ شرط کے طور پر لکھ رہا تھا؟اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا والوں پر ثابت کردے کہ مولا علی علیہ السلام کے خلاف ناسزا الفاظ کھنا جائز ہے؟ یہ بھی ایک طرح کی سازش تھی۔ یہ تھی قرارداد کی مجموعی عبارت ! معاویہ نے اپنے نمائندہ خصوصی عبداللہ بن عامر کو خالی کاغذ پر اپنے دستخط کر کے امام حسن علیہ السلام کے پاس بھیجا آپ جو بھی شرائط لکھیں گے میں ان کو قبول کروں گا اس کے بعد معاویہ نے خدا اور پیغمبر کی قسمیں کھائیں کہ وہ ایسا کرے گا اور ایسا نہ کرے گا اور اس نے زبانی طور پر اس طرح کی باتیں کیں اور پھر اس کاغذ پر دستخط کر دیئے۔ یہ بات بہر صورت تسلیم کرنا پڑے گی کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے زمانوں اور حالات میں بہت زیادہ فرق تھا۔

اگر امام حسین علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام کی جگہ پر ہوتے تو آپ بھی وھی کرتے جو کہ آپ کے بڑے بھائی جناب امام حسن علیہ السلام نے کیا تھا اسی طرح امام حسن علیہ السلام معاویہ کے بعد تک زندہ رہتے تو آپ امام حسین علیہ السلام کی مانند قیام کرتے ان دونوں شھزادوں کا طرز زندگی اور حکمت عملی ایک جیسی تھی کیونکہ وہ ایک شجر کے دو ثمر تھے۔

سوال اور جواب

سوال: اگر حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام کی جگہ پر ہوتے تو کیا آپ صلح کرتے یا نہ؟ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ میں معاویہ کی حکومت کو ایک دن کیلئے برداشت نہ کروں گا لیکن امام حسن علیہ السلام نے حکومت معاویہ کو کیوں تسلیم کیا؟

جواب: آپ کے اس سوال کا جواب صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت علی علیہ السلام اپنے صاجزادے، امام حسن علیہ السلام کی جگہ پر ہوتے تو بالکل ویسا کرتے جس طرح امام حسن علیہ السلام نے کیا تھا۔ اگر حضرت علی علیہ السلام کو ومسند خلافت پر قتل کیے جانے کا خدشہ ہوتا یا ویسے حالات پیدا ہوتے جو کہ امام حسن علیہ السلام کو پیش آئے تھے تو آپ بھی انھی شرائط کے تحت صلح کر کے گوشہ نشینی اختیار کر لیتے لیکن حضرت علی علیہ السلام کا دور بہت مختلف دور تھا ۔ مولا علی علیہ السلام کو طرح طرح کی الجھنو اور مشکلات میں الجھایا گیا۔ فتنوں، شرانگیزیوں، سازشوں، شورشوں اور یورشوں نے مولا علی علیہ السلام کو یوں الجھائے رکھا کہ اگر آپ کی جگہ پر پتھر ہوتا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا، اگر لوہا ہوتا تو وہ بھی موم ہوجاتا۔ یہ صرف اور صرف علی علیہ السلام کا دل تھا کہ مصیبتوں کے طوفانوں اور پہاڑوں کا شجاعانہ مقابلہ کرتے رہے۔ جنگ صفین میں آپ فتح حاصل کر چکے تھے۔ اگر خوارج نیزوں پر قرآن بلند کر کے نہ آتے تو علی علیہ السلام بڑی آسانی سے جنگ جیت چکے ہوتے۔ باقی آپ کا یہ کھنا کہ مولا علی علیہ السلام مشکل کشاء، شیر خدا ایک دن بھی معاویہ کی حکومت کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے، لیکن امام حسن علیہ السلام نے حکومت کو تسلیم کر لیا تھا؟

آپ نے ان دونوں مسئلوں کو خلط ملط کردیا، حالانکہ یہ دونوں مسئلے الگ الگ ہیں۔ ان کے درمیان ویسے ہی فرق ہے جیسا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے احوال میں فرق تھا۔جس طرح حضرت علی علیہ السلام نہیں چاہتے تھے کہ معاویہ آپ کا نائب بن کر مسند خلافت پر بیٹھے یا آپعليه‌السلام اس کو حاکم وقت مقرر کریں، اسی طرح امام حسن علیہ السلام نے بھی اس کو اپنا نائب اور جانشین نہیں بنایا تھا۔ صلح کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایک کنارے پر چلے گئے تھے۔ آپ نے اس کی حکومت کو قطعی طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس قرارداد میں آپ کو ایک لفظ بھی ایسا نہیں ملے گا کہ جس میں آپ نے معاویہ کو بطور خلیفہ تسلیم کیا ہو۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ایک کونے میں جارہے ہیں اور تو جانے اور تیرا کام جانے۔آپعليه‌السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ تو جو کچھ کام انجام دے گا وہ ٹھیک ہے۔ پس حالات کا فرق ہوا تو طریقہ کار بھی بدل گیا۔ جس طرح مولا علی علیہ السلام نے حکومت کو مسترد کردیا تھا اسی طرح امام حسن علیہ السلام نے بھی اس کی حقانیت و خلافت کو قبول نہیں کیا تھا۔ موقع محل کو دیکھ کر جس طرح تلوار اٹھانا عبادت ہے اسی طرح امت اسلامیہ ک بھتری کیلئے خاموش ہو جانا بھی عبادت ہے۔

سوال:کیا حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو یہ وصیت کی تھی کہ آپ اس کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کریں؟

جواب:مجھے یاد نہیں آرہا کہ امام علیہ السلام نے اس قسم کی کوئی وصیت کی ہو لیکن جھاں تک تاریخ میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام آخر دم تک معاویہ سے جنگ کرنے کے خواہاں تھے۔ آپ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس چپقلش سے دو چار تھے۔ امام علی علیہ السلام کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی تھی وہ معاویہ کی منافقانہ ڈپلومیسی تھی۔ حضرت اس کو سخت نا پسند کرتے تھے۔ آپ کی خواہش تھی کہ جب تک معاویہ ہلاک نہیں ہوجاتا اس سے جنگ جاری رکھنی چاہی ے۔آپ کی شھادت سے معاویہ سے جنگ کا سلسلہ ٹوٹ گیا اگر آپ کو شھید نہ کیا جاتا تو ایک اور جنگ پیش آسکتی تھی۔

حضرت علی علیہ السلام کا نھج البلاغہ میں ایک مشھور خطبہ ہے اس میں آپ لوگوں کو جھاد کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس کے بعد جنگ صفین میں شھید ہونے والے اپنے باوفا صحابہ کو یاد کرتے ہیں۔ فرمایا:

"این اخوانی الذین رکبوا الطریق ومضوا علی الحق این عمار واین ابن التیهان واین ذو الشهادتین" (۲۳)

"کھاں گئے ہیں میرے بھائی، میرے ساتھی، وہ سیدھے راستے پر سوار ہوئے یقیناًوہ حق پر تھے عمار یاسر اور میرے دوست کھاں ہیں؟"

اس کے بعد آپ نے گریہ کیا۔ آپ کا یہ خطاب نماز جمعہ میں تھا۔ آپ نے لوگوں کو آگے بڑھنے اور جھاد کرنے کی ترغیب دلائی۔ مورخین نے لکھا ہے کہ ابھی دوسرا جمعہ نہ آیا تھا کہ آپ کو ضربت لگی اور شھید ہوگئے۔ امام حسن علیہ السلام نے بھی شروع میں معاویہ سے جنگ کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن جب اپنے اصحاب کی بے پرواہی اور اندرونی اختلافات کو ملاحظہ فرمایا تو آپ نے جنگ کا ارادہ ترک کردیا۔ دوسرے لفظوں میں جب آپ نے یہ دیکھا کہ جنگ کرنے سے جگ ھنسائی ہوگی آپ نے بھتر سمجھا کہ اس حالت میں خاموش رہنے ہی میں عافیت ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے ایمانی لحاظ سے ایک طاقتور جماعت تیار کی جو کہ بڑی اور سخت سے سخت مشکل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔ یہ کسی تاریخ نے نہیں لکھا کہ آپ کی جماعت کا کوئی ایک فرد بھی دشمن کی فوج میں شامل ہوا ہو بلکہ آخری دم تک استقامت کے یہ پہاڑ اپنی اپنی جگھوں اور اپنے ارادوں پر ڈٹے رہے۔ ان کے بچوں تک نے بھی خواہش نہیں کی وہ فوج یزید میں سے ہوتے؟لیکن امام علیہ السلام کی پاکیزہ کردار کی کشش تھی کہ دشمن کی فوج سے منحرف ہو کر بہت سے افراد لشکر امام میں شامل ہوئے۔ امام عالی مقام کے اصحاب میں سے کسی نے کسی مقام پر ایمان کی کمزوری اور بزدلی نہیں دکھائی۔ ضحاک بن عبداللہ مشرقی امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا کہ مولاعليه‌السلام میں ایک شرط پر آپ کے لشکر میں شامل ہونا چاہتا ہوں کہ میں جب تک آپ کے لشکر میں رہوں گا کہ میں اور میرا وجود آپ کیلئے مفید ہے۔ لیکن جب دیکھوں گا کہ میرا آپ کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پھنچ رہا تو میں آپ سے جدا ہو کر چلا جاؤں گا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے آپ ہمارے پاس آجایئے چنانچہ یہ شخص لشکر امام میں شامل ہوگیا۔

عاشورہ کے آخری لمحات تک یہ شخص وھیں رہا اس کے بعد کھنے لگا مولاعليه‌السلام اب میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا آپ کو کسی قسم کا فائدہ نہیں ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اگر تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ اس کے پاس بہت اعلی قسم کا گھوڑا تھا یہ اس پر سوار ہوا اور اس کو ایڑی لگائی اور لشکر یزید کو چیرتا ہوا باہر نکل گیا۔ چند یزیدیوں نے صحاک کا تعاقب کیا وہ اس کو گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن ان سپاہی وں میں اس کا ایک واقف کار نکل آیا اس نے کہا اسے جانے دیجیئے کہ یہ جنگ نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے اسے جانے دیا اس کے علاوہ کسی ایک شخص نے بھی لشکر امام میں سے اپنے ایمان کی کمزوری نہیں دیکھائی۔ لیکن امام حسن علیہ السلام کے اصحاب اگر بزدلی اور کمزوری نہ دکھاتے تو آپ کسی طرح بھی صلح نہ کرتے ایک تو آپ شھید ہوجاتے دوسرے رسوائی ہوتی اس لئے آپ نے مصالحت کی۔

یہ وہ فرق ہے کہ جو ایک کے قیام اور دوسرے کی مصالحت پر منتج ہوا۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام معاویہ سے جنگ کے خواباں تھے کی طرح امام حسن علیہ السلام بھی ان سے لڑنا چاہتے تھے لیکن جب کوفہ والوں کی بے وفائی اور بے پرواہی دیکھی تو آپ نے جنگ کا ارادہ بدل لیا یہاں تک کہ امام علیہ السلام کے لشکر میں بھی کمی واقع ہوگئی، تو آپ نے شھر سے باہر آکر فوجیوں سے فرمایا آپ نخیلہ مقام پر جائیں اور آپ نے خطبہ دیا اور لوگوں کو جھاد کی طرف دعوت دی تو سبھی خاموش رہے، اس مجمع میں صرف عدی بن حاتم اپنی جگہ سے اٹھا اور لوگوں کی ملامت کی اور کہا کہ میں خود جاتا ہوں چنانچہ وہ چل پڑا ایک ھزار آدمی بھی اس کے ساتھ چل پڑے اس کے بعد امام حسن علیہ السلام نخیلہ مقام پر تشریف لے گئے اور دس دنوں تک وھیں پر قیام فرمایا۔ صرف چار ھزار آدمی جمع ہوئے حضرت دوسری مرتبہ پھر تشریف لائے اور لوگوں کو دوبارہ جھاد کی طرف راغب کیا اس مرتبہ لوگوں کی جمعیت کچھ زیادہ اکٹھی ہوئی لیکن اس کے باوجود انھوں نے ایمان کی کمزوری اور بزدلی کا مظاہر کیا۔ رات ہوئی معاویہ کی طرف سے کچھ لوگ آئے ان کے سرداروں کو پیسے دئیے چنانچہ اسی رات کو وہ لوگ بھاگ کر چلے گئے، ٹولیاں ٹولیاں بنا کر جارہے تھے۔ اس افسوسناک صورت حال کو دیکھ کر حضرت نے مناسب سمجھا کہ ذلت کے بجائے عزت کے ساتھ خاموشی اختیار کی جائے۔

سوال: آپ نے یہ فرمایا کہ اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ کرتے تو تاریخ ان پر اعتراض کرسکتی تھی۔ میرے خیال کے مطابق امام علیہ السلام اگر صلحنامہ پر دستخط نہ کرتے تو ان کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ معاویہ ایک چالاک وعیار شخص تھا۔ اس نے امام حسن علیہ السلام کی طرف ایک سفید کاغذ بھجوا کر ایک چال کھیلی تھی۔ معاویہ کو تو لوگ حضرت امیر علیہ السلام کے زمانہ سے جانتے تھے کہ یہ شخص صرف اور صرف اقتدار کا بھوکا ہے اور کرسی کے حصول کیلئے اس طرح کے حربے استعمال کرتا رھتا ہے؟

جواب: یہ درست ہے کہ معاویہ بہت ہی چالاک انسان تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امام علیہ السلام نے اسلامی شرائط کو قبول کیا ہے یا غیر اسلامی کو؟ ظاہر ہے اسلامی شرائط ہی امام علیہ السلام نے قبول فرمائی تھیں۔ دوسری بات یہ صلح نامہ ذاتی مقصد اور شخصی مفاد کیلئے نہیں تھا بلکہ اس میں تمام مسلمانوں کے فوائد مضمر تھے۔ تیسری بات امام حسن علیہ السلام کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھ ہر گز وفانہ کی۔ پھر اس وقت حکومتی مشینری شب وروز پروپیگنڈا کر رہی تھی کہ معاویہ تو امام علیہ السلام کی ہر بات مانتا ہے لیکن امام علیہ السلام نہیں مانتے ظاہر ہے اس وقت کا مورخ یھی لکھتا کہ نعوذ باللہ امام حسن علیہ السلام صلح جو انسان نہیں ہیں حالانکہ امن وسلامتی کا قیام ائمہ طاہر ین علیھم السلام کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ آپ نے یہ کہا کہ وہاں کے عوام حضرت امیر علیہ السلام کے زمانہ سے معاویہ کو پوری طرح سے جانتے اور پھچانتے تھے۔ کہ وہ اپنی ایک بات پر قائم نہیں رھتا کھتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے دراصل معاملہ کچھ یوں تھا کہ لوگ معاویہ کو اچھا انسان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کے نزدیک وہ حکمران اچھا تھا۔ اس لئے بھی کوفہ والے قدر ے خاموش ہوگئے ۔ عوامی ردعمل یہ تھا کہ اگر وہ اچھا انسان نہیں ہے تو کیا اچھا حکمران تو ہے وہ کہا کرتے تھے کہ معاویہ نے خطہ شام کو کس طرح سنوارا ہے، اور وہاں کے لوگ کس طرح خوشحال ہیں؟ لوگوں نے معاویہ کو اس طرح پھچان رکھا تھا پھر اس کو حکمران ہونے کے باعث پورے ملک پر مکمل قدرت حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ اس لئے سبھی خاموش تھے۔ اب ان حالات میں حق وصداقت، سچائی و راستبازی کے پیکر امام حسن علیہ السلام تن تنھا کیا کرتے؟

اس وقت لوگوں میں یہ بات عام تھی کہ معاویہ وقت کا بہت بڑا سیاستدان ہے۔ مورخین نے معاویہ کی اس مقام پر مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر وہ کوفہ میں بھی حلم وبردباری اور اچھے کردار کا عملی مظاہر ہ کرتا تو وہ اسلامی و دینی نقطہ نظر سے بھی کامیاب ہوتا۔ معاویہ کے بارے میں مشھور تھا کہ وہ بردبارسیاستدان ہے۔ لوگ اس کو جاکر سر عام گالیاں دیتے اور برا بھلا کھتے تھے لیکن وہ ان کی تمام باتیں سنی ان سنی کر دیتا تھا، اور ھنستے مسکراتے ہوئے ان کو انعام واکرام سے نوازتا تھا۔ اس کے اس رویے کی وجہ سے لوگوں کی سوچ بدل جاتی اور اس کی اس بات پر لوگ بہت زیادہ خوش ہوگئے تھے کہ معاویہ دنیا دار حکمران ہے۔ امام حسن علیہ السلام اس لئے خاموش ہوگئے تھے کہ وہ لوگوں کے اذھان پیسوں سے خرید لیا کرتا تھا۔ لوگوں کو اس سےغرض نہ تھی کہ وہ نیک ہو، اچھا ہو، دیندار ہو۔ بلکہ وہ چاہتے تھے کہ جو حکومتی امور کو بآ احسن چلا سکے۔

معاویہ کے بارے میں مشھور تھا کہ وہ ایک جاہ طلب اقتدار کا بھوکا انسان تھا (جس طرح آج کے دور میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کو خریدا جاتا ہے اس وقت بھی معاویہ اعتراض کرنے والے کو پیسے دے کر خاموش کرا دیتا تھا بلکہ اس کے بڑے بڑے مخالف مالی و مادی لالچ کی وجہ سے اس کے ساتھی بن گئے) اب آپ ہی فرمایئے کہ امام حسن علیہ السلام صلح نامہ پر دستخط کر کے گوشہ تنھائی میں نہ بیٹھیں تو کیا کریں۔ واقعتاً حالات نے امام علیہ السلام کو بے بس اور مجبور کردیا تھا۔

سوال: کیا امام حسین علیہ السلام نے اس صلحنامہ پر دستخط کیے تھے؟ کیا آپ نے اپنے بھائی جان امام حسن علیہ السلام پر اعتراض نہیں کیا تھا یا روکا نہیں تھا کہ وہ بیعت نہ کریں؟

جواب: میں نے کھیں نہیں پڑھا کہ مولا امام حسین علیہ السلام نے بھی اس پر دستخط کیے ہوں دراصل آپ کی اجازت اور آپ کے دستخطوں کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ اس وقت کے امام اور دینی سر براہ امام حسن مجتبی علیہ السلام تھے۔ جب ایک سربراہ موجود ہوتا ہے تو دوسرے کے احکامات اور آراء کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ امام حسین علیہ السلام کا فیصلہ بھی وھی تھا جو امام حسن علیہ السلام کا تھا۔ صلح کے بعد ایک گروہ امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کی مولاعليه‌السلام ہم اس صلح کو قبول نہیں کرتے۔ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں اور آپ قیام فرمایئے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا میرے پیارے بھائی جناب حسن علیہ السلام نے جو کچھ کیا ہے صحیح کیا ہے میں تو ان کے فرامین پر عمل کرنے کا پابند ہوں۔

تاریخ میں لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کی سوچ ایک تھی۔ امام حسن کی ذات گرامی امام حسین علیہ السلام کیلئے ایک معتبر حوالہ اور حرف آخر کے طور پر حیثیت رکھتی تھی۔ مورخین نے لکھا ہے کہ معاویہ کے مذاکرات اور صلحنامہ کے وقت امام حسین علیہ السلام نے مشورہ دینے کی بھی کوشش نہیں کی کیونکہ امام حسین علیہ السلام بخوبی جانتے تھے کہ اس وقت کے محمد،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی،عليه‌السلام حسن علیہ السلام ہی ہیں۔ جو کھیں گے سچ کھیں گے اور جو کریں گے ٹھیک کریں گے۔ کیونکہ وہ وقت کے امام اور وقت کے سب سے بڑے دانائے راز ہیں اور امام کبھی خطاء نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی سوچ الہٰی ہوتی ہے۔ امام علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے رھنمائی ہوتی ہے۔ غلطی کا شائبہ تک نہ ہوتا۔ (میرے نزدیک امام حسن علیہ السلام کے مدبرانہ اقدام پر حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی مرتضی علیہ السلام نے انھیں داد تحسین دی ہوگی اور جناب فاطمۃ الزھراءعليه‌السلام نے دعائیں دی ہونگی۔ امام حسینعليه‌السلام نے آگے بڑھ کر اپنے جلیل القدر بھائی کو گلے لگایا ہوگا۔ جناب جبرائیل امینعليه‌السلام نے اس منظر کو دیکھ کر ملائکہ کو نوید مسرت دی ہوگی کہ آج کا محمد (ص)، آج کا علیعليه‌السلام کس احسن طریقہ سے دین الہٰی کی تبلیغ کے فرائض انجام دے رہا ہے؟ ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ مولاعليه‌السلام آپ نے ان کربناک لمحوں میں جس حسن تدبر کا مظاہر ہ کیا ہے اس پر آپ کو پوری انسانیت خراج تحسین پیش کرتی ہے۔)


حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا نام نامی، اسم گرامی روحانی اقدار کے ھیرو کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ زھد وتقوی اور عبادت سمیت انسان کی تمام خوبیوں اور اعلی صفات و کمالات کو دیکھا جائے تو وہ ایک ایک کر کے امام سجاد علیہ السلام میں واضح طور پر موجود ہیں، جب خاندان رسالت پر نظر ڈالتے ہیں تو امام سجاد علیہ السلام چودھویں کے چاند کی مانند دمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس عظیم خاندان کا ہر فرد اپنے اپنے عھد کا بے مثال انسان ہوتا ہے۔ ایسا انسان کہ انسانیت اس پر فخر کرے۔ اگر ہم ان کے کردار و عمل کو دیکھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا اسلام کی تمام تر جلوہ آفرینیاں، ایمان کی ساری ساری ضوفشانیاں آپ میں موجود ہیں۔ جب ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی کو دیکھتے ہیں تو آپ کے کمالات وصفات کو دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ آپ کا ہر کام اتنا بلند ہے کہ اس تک پھنچنا تو در کنار آدمی ان کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کیلئے معجزانہ طور پر پیدا ہوا ہو اور اس کی تربیت بھی خود رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کی ہو پھر ساری زندگی سرورکائنات کے نام وقف کردی ہو۔ بھلا اس عظیم انسان کی عظمت و رفعت کا کیسے انداز لگایا جاسکتا ہے ۔ سایہ بن کر ساتھ چلنے والا علی علیہ السلام پیغمبر السلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ضرورت بن چکا تھا۔ گویا یک جان دو قالب ہوں۔ جب انسان علی علیہ السلام کو دیکھتا ہے تو ان کی سیرت طیبہ کے آئینہ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نور کی سیرت نظر آتی ہے (اسی طرح آپ کی تمام اولاد میں ایک جیسی صفات ہیں۔ زمانہ ھزار رنگ بدلے علی علیہ السلام اور اولاد علیعليه‌السلام کبھی اور کسی دور میں نہیں بدل سکتی۔ کیونکہ یہ حضرات اللہ تعالی کی تقدیر کا اٹل فیصلہ ہیں اور اس کا ہر فیصلہ ہمیشہ قائم و دائم رھتا ہے۔

عبادت امامعليه‌السلام

اہل بیت علیھم السلام کی عبادت کا انداز بھی ایک جیسا ہے دنیا کی ہر چیز میں دھوکے کا امکان ہے لیکن آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہیں کہ جن میں حقیقت کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ انسان جب امام زین العابدین علیہ السلام کو دیکھتا ہے تو آپ کو صحیح معنوں میں خدا کا مخلص بندہ پاتا ہے، اور بیساختہ کھہ اٹھتا ہے کہ بندہ ہو تو ایسا ہو اور بندگی ہو تو ایسی۔ آپ کی نماز خالص بندگی سے خالص عبادت تھی۔ آپ کی دعاؤں کا سوز اڑتے ہوئے پرندوں کو روک لیتا۔ راہ گزرتے لوگ رک کر فرزند حسین علیہ السلام کی رقت آمیز آواز کو سن کر گریہ کرتے۔ مسٹر کارل کھتا ہے کہ انسان کی روح اللہ کی طرف پرواز کرتی ہے (بیشک اگر کوئی نمازی کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے اور اس کی روح ادھر ادھر اڑتی پھرے تو یہ ایسی روح ہے کہ جو اس جسم سے جاچکی ہو) انسان جب سید سجادعليه‌السلام کے سجدوں، کو دیکھتا ہے تو بے ساختہ کھہ اٹھتا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ روح انسان کا حسن کیا ہے؟

اینھمہ آواز ھا از شہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

"یعنی یہ تمام آوازیں مولا ہی کی تھیں اگر چہ وہ ان کے فرزند شیر خوار کے حلق سے آ رہی تھیں۔"

جب کوئی انسان حضرت زین العابدین علیہ السلام کو دیکھتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے جیسے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محراب عبادت میں محو عبادت ہوں، یا رات کے تیسرے پہر میں کوہ حرا میں اپنے رب سے راز و نیاز کر رہے ہوں۔ ایک رات آپ عبادت الہٰی میں مصروف تھے کہ آپ کا ایک صاجزادہ کہیں پہ کر پڑا اور اس کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں۔ اب اس بچے کو پٹیوں کی ضرورت تھی آپ کے گھر والوں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ کی عبادت میں مخل ہوں۔ گھر میں ایک جراح کو بلایا گیا اس نے جب بچہ کو پٹی باندھی تو وہ چلا اٹھا اور درد سے کراہ رہا تھا۔ اس کے بعد خاموش ہو گیا اور رات کا سارا واقعہ آپ کو بتایا گیا آپ اس وقت عبادت کر رہے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام عبادت خداوندی میں اس قدر منھمک ہوتے اور آپ کی روح خدا کی طرف اس طرح پرواز کرتی تھی کہ عبادت کے وقت آپ کے کانوں پر کوئی بھی آواز نہ پڑتی تھی۔

پیکرِ محبت

امام زیں العابدین علیہ السلام خلوص و محبت کا پیکر تھے۔ جب بھی آپ کہیں پر جاتے اور راستے میں کسی غریب وفقیر اور مسکین کو دیکھتے تو آپ کے قدم رک جاتے اور فوراً اس بیکس کی مدد کرتے اور بیکسوں، بے نواؤں کی دلجوئی کرنا، ان کو سہارا دینا اور ان کی ضرورت پوری کرنا آپ کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ جن کا کوئی نہیں ہوتا تھا آپ اس کی دوسروں سے بڑھ کر ڈہارس بندھاتے۔ اس کو اپنے در دولت پر لے آتے اور اس کی ضرورت پوری کرتے تھے ایک روز آپ کی نظر ایک جذامی شخص (کوڑھ کے مریض) پر پڑی، لوگ اس سے نفرت کرتے ہوئے آگے گزرجاتے تھے۔ کوئی بھی اس سے بات کرنا گوارا نہ کرتا تھا، آپ اس کو اپنے گھر میں لے آئے۔ اس کی خوب خاطر مدارت کی۔ آپ ہر مسکین وضرورت مند سے کہا کرتے تھے کہ آپ لوگوں کو جب بھی کوئی مشکل آئے تو سید سجادعليه‌السلام کا دروازہ آپ کیلئے کھلا ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کا گھر مسکینوں، یتیموں اور بے نواؤں کا مرکز ہوا کرتا تھا (آپ ایک سایہ دار شجر کی طرح دوسروں پر سایہ کرتے، مھربانی و عطوفت سے پیش آتے اور ان کی مشکل وپریشانی کو دور کرتے تھے) ۔

کاروان حج کی خدمت کرنا

امام سجاد علیہ السلام حج پر تشریف لے جارہے تھے آپ نے اس قافلہ کو جانے دیا جو آپ کو جانتے تھے اور ایک اجنبی قافلہ کے ساتھ ایک مسافر اور پردیسی کے طور پر شامل ہو گئے۔ آپ نے ان سے کہا کہ میں آپ لوگوں کی خدمت کرتا جاؤں گا۔ انھوں نے بھی مان لیا۔اونٹوں اور گھوڑوں کے سفر میں بارہ دن لگتے تھے، امام علیہ السلام اس مدت میں تمام قافلہ والوں کی خدمت کرتے رہے۔ اثناء سفر میں یہ قافلہ دوسرے قافلہ کے ساتھ جا ملا ان لوگوں نے امام علیہ السلام کو پھچان لیا اور دوڑ کر آپ کی خدمت میں آئے عرض کی مولاعليه‌السلام آپ کھاں؟ امام نے سب کی خیرت دریافت کی انھوں نے اس قافلے سے پوچھا کیا تم اس نوجوان کو پھچانتے ہو؟ انھوں نے کھا نہیں یہ ایک مدنی نوجوان ہے اور بہت ہی متقی اور پ رہی ز گار ہے۔ وہ بولے تمھیں خبر نہیں یہ حضرت امام زیں العابدین علیہ السلام ہیں، اور آپ ہیں کہ امام سے کام لئے جارہے ہیں۔ یہ سن کر وہ لوگ امام کے قدموں میں گر پڑے عرض کی مولا آپ ہمیں معاف کر دیجئیے کہ ہم نے لا علمی کی بناء پر آپ کی شان میں گستاخی کی کھاں آپ کی عظمت ورفعت اور کھاں ہماری پستی؟

ھم پر کھیں عذاب الہٰٰی نہ آپڑے۔ آپ ہمارے آقا و مولاعليه‌السلام ہیں۔

آپ کو سرداری کی مسند پر بیٹھنا چاہی ے تھا۔ اب آپ تشریف رکھیں ہم آپ کی خدمت کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ میں انجان اور اجنبی بن کر آپ لوگوں کے قافلہ میں اس لئے شامل ہوا تھا کہ آپ زائرین بیت اللہ ہیں، آپ کی خدمت کر کے ثواب حاصل کروں، آپ فکر نہ کریں میں نے جو بھی خدمت کی ہے اس میں اللہ تعالی کی طرف سے ثواب مجھ کو ملے گا

امامعليه‌السلام کا دعا مانگنا اور گریہ کرنا

جس طرح آپ کے پدر بزرگوار حضرت حسین علیہ السلام کو کام کرنے کا موقعہ نہ دیا گیا اسی طرح آپ بھی مصیبتوں، ارمانوں اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ نہ کرسکے جو کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کچھ وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کو میسر ہوا اور آپ نے بہت کم مدت میں علم و عمل کی ایک دنیا آباد کردی۔ آپ نے علوم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ بہر کیف جو شخص اسلام کا سچا خدمت گزار ہو وہ تمام کلمات میں رضائے الھٰی کو مد نطر رکھتا ہے، وہ مشکلات اور سھولیات کو نہیں دیکھتا، بس کام کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ رب العزت کی طرف سے بلاوا آجاتا ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی عبادت کو دیکھ کر اور دعاؤں کو پڑھ کر ملت جعفریہ کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے، آپ کی دعا میں التجا بھی ہے اور دشمنوں کے خلاف احتجاج بھی۔ آپ کی دعا میں تبلیغ بھی ہے اور خوشخبری بھی۔ گویا برکتوں، رحمتوں کی ایک موسلا دہار بارش برس رہی تھی۔

بعض لوگوں کا زعم باطل ہے کہ چونکہ امام سجاد علیہ السلام نے والد بزرگوار کی شھادت کے بعد تلوار کے ذریعہ جھاد نہ کیا اس لئے آپ نے دعاؤں پر اکتفاء کی اور غموں کو دور کرنے کیلئے ہر وقت دعا مانگا کرتے تھے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے آپ نے اپنے والد گرامی کو زندہ کرنے کیلئے اس کی یاد کو ہر وقت تازہ کیے رکھا۔ دنیا والوں کو معلوم ہونا چاہی ے کربلا کو کربلا بنایا ہی سید سجادعليه‌السلام نے ہے۔ آپ کا اپنے پیاروں کی یاد میں گریہ کرنا بھی جھاد تھا۔ آپ دنیا والوں کو بتانا چاہتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام کا مقصد قیام کیا تھا۔ آپ نے اتنی تکلیفیں پریشانیاں برداشت کیوں کی؟ آپ پر ظلم کیوں ہوا اور کس نے کیا؟ یہ سب کچھ سید سجادعليه‌السلام ہی نے بتایا ہے۔ (میرے نزدیک امام سجاد علیہ السلام کی مصیبت کا باب ہی سب ائمہعليه‌السلام کے مصائب سے الگ اور انوکھا ہے۔ خدا جانے کتنا مشکل وقت ہوگا جب یزید ملعون منبر پر بیٹھ کر نشے سے مدھوش ہو کر امام مظلوم کے سر اقدس کی توھین کر کے اپنے مظالم کو فتح و کامیابی سے تعبیر کر رہا تھا۔ پھر کتنا کٹھن مرحلہ تھا وہ جب محذرات عصمت کی طرف اشارہ کرکے پوچھتا تھا کہ یہ بی بی کون ہے اور وہ بی بی کون؟یہ جناب سید سجاد علیہ السلام ہی کا دل تھا جو نہ سھنے والے غم بھی بڑی بے جگری سے سھتا رہا۔ یہ وہ غم تھے کہ پہاڑ بھی برداشت نہ کرسکتے تھے۔ پھر والد گرامی اور شھدائے کربلا کی شھادت کے بعد آپ نے جس انداز میں یزیدیت کا جنازہ نکالا اور اپنے عظیم بابا کا مقصد شھادت بیان کیا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ بول اٹھا سید سجادعليه‌السلام ! تیری عظمتوں کا کیا کھنا۔

آپ واقعہ کربلا کے بعد ہر وقت گریہ کرتے رہتے۔اشکوں کا سیلاب تھا جو رکتا نہیں تھا۔ آنسو تھے کہ بھتے رہتے تھے، ھائے حسین علیہ السلام، ھائے میرے عزیز جوانو، ھائے راہ حق میں قربان ہو جانے والو! سجاد تمہاری بے نظیر قربانیوں اور بے مثال وفاؤں کو سلام پیش کرتا ہے۔ آہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غم کا وہ کوہ گراں! جب تک یہ دنیا باقی ہے غم شبیر سلامت رہے گا۔ ایک روز آپ کے ایک غلام نے پوچھ ہی لیا کہ آقا آخر کب تک روتے رہیں گے۔ اب تو صبر کیجیئے۔ اس نے خیال کیا تھا کہ امامعليه‌السلام شاید اپنے عزیزوں کو یاد کر کے روتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تو کیا کھتا ہے؟ حضرت یعقوبعليه‌السلام کا ایک بیٹا یوسفعليه‌السلام ان کی نظروں سے اوجھل ہوا تھا کہ قرآن مجید کے بقول:

"وابیضت عیناه من الحزن" (۲۴)

"کہ روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہو گئی تھیں۔"

میں نے اپنی آنکھوں سے اٹہارہ یوسف تڑپتے ہوئے دیکھے ہیں۔ میں کس طرح ان کو بھلادوں۔


امام جعفر صادقعليه‌السلام اور مسئلہ خلافت ۱

اس وقت ہم مسئلہ امامت و خلافت پر گفتگو کر رہے ہیں۔ مسئلہ صلح امام حسن علیہ السلام پر بات چیت ہوچکی امام رضاعليه‌السلام کی ولی عہدی کے بارے میں ہم گفتگو کریں گے۔ اس سلسلے میں کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں، جن کا جواب دینا بہت ضروری ہے ۔ حضرت امیرعليه‌السلام حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام، حضرت امام صادق علیہ السلام کی خلافت حقہ کے بارے میں کچھ اعتراضات سننے کو آئے ہیں، میں چاہتا ہوں ان کا تفصیل کے ساتھ جواب دوں، ایسا جواب کہ جس کے بعد کسی قسم کا ابھام نہ رہے۔ لیکن میں اس وقت امام جعفر صادقعليه‌السلام کے بارے میں گفتگو کروں گا۔ امام علیہ السلام کے بارے میں دو سوالات ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امامت بنی امیہ کی حکومت کے آخری ایام اور بنی عباس کے اوائل اقتدار میں شروع ہوتا ہے۔

سیاسی اعتبار سے امام علیہ السلام کے لئے بھترین موقعہ ہاتھ میں آیا۔ بنی عباس نے تو اس موقعہ پر بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھا لیا۔ امام علیہ السلام نے ان سنھری لمحوں سے استفادہ کیوں نہیں کیا؟ بنی امیہ کا اقتدار زوال پذیر تھا۔ عربوں اور ایرانیوں، دینی اور غیر دینی حلقوں میں بنی امیہ کے بارے میں شدید ترین مخالفت وجود میں آچکی تھی۔ دینی حلقوں میں مخالفت کی وجہ ان کا علانیہ طور گناہوں کا ارتکاب کرنا تھا۔ دیندار طبقہ کے نزدیک بنی امیہ فاسق وفاجر اور نالائق لوگ تھے؟ اس کے علاوہ انھوں نے بزرگان اسلام اور دیگر دینی شخصیات پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ انتھائی قابل مذمت اور لائق نفرت تھے۔ اس طرح کی کئی مخالف وجوہات نفرت واختلاف کا باعث بن چکی تھیں" خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کی شھادت نے بنی امیہ کے ناپاک اقتدار کو خاک میں ملا دیا۔ پھر رہی سھی کسر جناب زید بن علی ابن الحسین اور یحیی بن زید کے انقلابات نے نکال دی۔ مذھبی اور دینی اعتبار سے ان کا اثر و رسوخ بالکل ناپید ہوگیا تھا۔ بنی امیہ علانیہ طور پر فسق وفجور کے مرتکب ہوئے تھے، عیاشی اور شرابخوری میں تو انھوں نے بڑے بڑے رنگین مزاج حکمرانوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ یھی وجہ ہے کہ لوگ ان سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اور ان کو لادین عناصر سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ کچھ حکران ظلم و ستم کے حوالے سے بہت ظالم وسفاک شمار کیے جاتے تھے ان میں ایک نام سلاطین بنی امیہ کا ہے۔ عراق میں حجاج بن یوسف اور خراسان میں چند حکمرانوں نے ایرانی عوام پر مظالم ڈھائے۔ وہ لوگ بنی امیہ کے مظالم کو ان مظالم کا سر چشمہ قرار دیتے تھے۔ اس لئے شروع ہی سے اسلام اور خلافت میں تفریق قائم کی گئی خاص طور پر علویوں کی تحریک خراسان میں غیر معمولی طور پر مؤثر ثابت ہوئی ۔ اگر چہ یہ انقلابی لوگ خود تو شھید ہوگئے لیکن ان کے خیالات اور ان کی تحریکوں نے مردہ قوموں میں جان ڈال دی۔ اور ان کے نتائج لوگوں پر بہت اچھے مرتب ہوئے۔

جناب زید بن زین العابدینعليه‌السلام نے کوفہ کی حدود میں انقلاب برپا کیا وہاں کے لوگوں نے ان کے ساتھ عھد و پیمان کیا اور آپ کی بیعت کی، لیکن چند افراد کے سوا کوفیوں نے آپ کے ساتھ وفا نہ کی، جس کی وجہ سے اس عظیم سپوت اور بھادر و جری نوجوان کو بڑی بیدردی کے ساتھ شھید کر دیا گیا۔ ان ظالموں نے آپ کی قبر پر دو مرتبہ پانی چھوڑ دیا تاکہ لوگوں کو آپ کی قبر مبارک کے بارے میں پتہ نہ چل سکے، لیکن وہ چند دنوں کے بعد پھر آئے قبر کو کھود کر جناب زید کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا اور کچھ دنوں تک اسی حالت میں لٹکتی رہی اور کہا پر وہ لاش خشک ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ جناب زید کی لاش چار سالوں تک سولی پر لٹکتی رہی ۔ جناب زید کا ایک انقلابی بیٹا تھا ان کا نام یحیی تھا ۔انھوں نے انقلاب برپا کیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور خراسان چلے گئے۔ پھر جناب یحیی بنی امیہ کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شھید ہوگئے۔ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی چلی گئی۔ آپ کی شھادت کے بعد خراسان کے عوام کو پتہ چلا کہ خاندان رسالت کے ان نوجوانوں نے ایک ظالم حکومت کے خلاف جھاد کیا اور خود اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہوئے شھید ہوگئے۔ ا س زمانے میں خبریں بہت دیر سے پھنچا کرتی تھیں۔ جناب یحیی نے امام حسین علیہ السلام اور جناب زید کی شھادت کو از سر نو زندہ کر دیا۔ لوگوں کو بعد میں پتہ چلا کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنی امیہ کے خلاف کس پاکیزہ مقصد کے تحت قیام کیا تھا۔

مورخین لکھتے ہیں جب جناب یحیی شھید ہوئے تو خراسان کے عوام نے ستر ۷۰ روز تک سوگ منایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کا اثر پھلے ہی سے تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے لوگوں کے اذھان میں انقلابی اثرات گھر کرتے جاتے ہیں۔ ایک انقلابی اپنے اندر کئی انقلاب رکھتا ہے۔ بہر حال خراسان کی سرزمین ایک بڑے انقلاب کیلئے سازگار ہوگئی۔ لوگ بنی امیہ کے خلاف کھلے عام نفرت کرنے لگے۔

بنی امیہ کے خلاف عوامی رد عمل اور بنی عباس

بنو عباس نے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو خوب مستحکم و مضبوط کیا، یہ تین بھائی تھے ان کے نام یہ ہیں۔ ابراہی م امام، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور یہ تینوں عباس بن عبدالمطلب کی اولاد سے ہیں۔ یہ عبداللہ کے بیٹے تھے۔ عبداللہ بن عباس کا شمار حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہوتا ہے۔ اس کا علی نام سے ایک بیٹا تھا۔ اور علی کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا" پھر عبداللہ کے تین بیٹے تھے۔ ابراہی م، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر، یہ تینوں بہت ہی با صلاحیت، قابل ترین افراد تھے۔ ان تینوں بھائیوں نے بنی امیہ کے آخری دور حکومت میں بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اس طرح کہ انھوں نے خفیہ طور پر مبلغین کی ایک جماعت تیار کی اور پس پردہ انقلابی پروگرام تشکیل دینے میں شب و روز مصروف رہے۔ اور خود حجاز و عراق اور شام میں چھپے رہے، ان کے نمائندے اطراف و اکناف میں پھیل کرامویوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے، خاص طور پر خراسان میں ایک عجیب قسم کا ماحول بن چکا تھا۔ لیکن ان کی تحریک کا پس منظر منفی تھا یہ کسی اچھے انسان کو اپنے ساتھ نہ ملاتے۔ یہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھرانے میں صرف ایک شخصیت کا نام استعمال کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عوام کی توجہ کا مرکز آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی تھے۔ ان عباسیوں نے ایک کھیل کھیلا کہ ابو مسلم خراسانی کا نام استعمال کیا اس سے ان کا مقصد ایرانی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔

وہ قومی تعصب پھیلا کر بھی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے تھے، وقت کی قلت کے پیش نظر میں اس مسئلہ پر مزید روشنی نہیں ڈالنا چاہتا، البتہ میرے اس مدعا پر تاریخی شواہد ضرور موجود ہیں۔ ان کو بھی لوگ بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن بنی امیہ سے نجات حاصل کرنے کیلئے وہ ان کو اقتدار پر لے آنا چاہتے تھے۔ بنی امیہ ہر لحاظ سے اپنا مقام کھو چکے تھے، اگر چہ بنی امیہ ظاہر ی طور پر خود کو مسلمان کہلواتے تھے۔ لیکن ان کا اسلام سے دور تک واسطہ نہ تھا۔ خراسان میں ان کا اثر و رسوخ بالکل نہ تھا کہ لوگوں کو اس وقت کی حکومت کے خلاف اکٹھا کر سکیں اور خراسان کی فضا میں ایک خاص قسم کا تلاطم پیدا ہو چکا تھا، اگر چہ یہ لوگ چاہتے تھے کہ خلافت اور اسلام ہر دونوں کو اپنے پروگرام سے خارج کر دیں، لیکن نہ کرسکے، اور یہ اسلام کی بقاء اور مسلمانوں کی ترقی کا نام استعمال کر کے آگے بڑھتے گئے اور سال ۱۲۹ کے پہلے دن مرو کے ایک قصبے"سفید نج" میں اپنے قیام کا رسمی طور پر اعلان کیا۔ عید الفطر کا دن تھا۔ نماز عید کے بعد اس انقلاب کا اعلان کیا گیا، انھوں نے اپنے پرچم پر اس آیت کو تحریر کیا اور اسی آیہ کو اپنے انقلابی اہداف کا ماٹو قرار دیا:

"اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا وان الله علی نصرهم لقدیر" (۲۵)

"جن (مسلمانوں) سے (کفار) لڑا کرتے تھے چونکہ وہ (بہت) ستائے گئے اس وجہ سے انھیں بھی (جھادکی) اجازت دے دی گئی اور خدا تو ان لوگوں کی مدد پر یقیناً قادر (و توانا) ہے۔"

پھر انھوں نے سورہ حجرات کی آیہ نمبر ۱۳ کو اپنے منشور میں شامل کیا ارشاد خداوندی ہے:

"یا ایهاالناس انا خلقناکم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عندالله اتقکم"

لوگو ہم نے تو سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے قبیلے اور برادریاں بنائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکیں اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تم سب سے بڑا عزت دار وھی ہے جو بڑا پ رہی ز گار ہو۔"

اس آیت سے بنی نوع انسان کو سمجھایا جارہا ہے کہ اسلام اگر کسی کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے تو وہ اس کا متقی ہونا ہے۔ چونکہ اموی خاندان عربوں کو غیر عربوں پر ترجیح دیتے تھے اسلام نے ان کے اس نظریہ کی نفی کر کے ایک بار پھر اپنے دستور کی تائید کی ہے کہ خاندانی و جاہت، مالی آسودگی کو باعث فخر سمجھنے والو! تقوی ہی معیار انسانیت ہے۔

ایک حدیث ہے اور اس کو میں نے کتاب اسلام اور ایران کا تقابلی جائزہ میں نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے یا ایک صحابی نے نقل کیا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سفید رنگ کے گوسفند کالے رنگ کے گوسفند میں داخل ہوگئے اور یہ ایک دوسرے سے ملے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کی اولاد پیدا ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خواب کی تعبیر ان الفاظ میں فرمائی کہ عجمی اسلام میں تمہارے ساتھ شرکت کریں گے، اور آپ لوگوں میں شادیاں کریں گے۔ آپ کی عورتیں ان کے مردوں اور ان کی عورتیں آپ کے مردوں کے ساتھ بیاہی جائیں گی۔ یعنی آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کریں گے۔ میں نے اس جملہ سے یہ سمجھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک روز تم عجم کے ساتھ اور عجم تمہارے ساتھ اسلام کی خاطر جنگ کریں گے یعنی ایک روز تم عجم کے ساتھ جنگ کر کے انھیں مسلمان کریں گے اور ایک روز عجم تمہارے ساتھ لڑیں گے اور تمھیں اسلام کی طرف لوٹائیں گے اس حدیث کا مفھوم یھی ہے کہ اس قسم کا انقلاب آئے گا۔

بنی عباس انتھائی مضبوط پروگرام اور ٹھوس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تحریک کو پروان چڑھا رہے تھے۔ ان کا طریقہ کار بہت عمدہ اور منظم تھا انھوں نے ابو مسلم کو خراسان اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے بھیجا تھا۔ وہ یہ ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ انقلاب ابو مسلم کے نام پر کامیاب ہو بلکہ انھوں نے چند مبلغوں کو خراسان بھیجا کہ جاکر لوگوں میں اچھے انداز میں تقریریں کر کے عوام کو امویوں کے خلاف اور عباسیوں کے حق میں جمع کریں۔ ابو مسلم کے نسب کے بارے میں آج تک معلوم نہیں ہو سکا تاریخ میں تو یہاں تک بھی پتہ نہیں ہے کہ ابو مسلم ایرانی تھے یا عربی؟ پھر اگر ایرانی تھے تو پھر کیا اصفھانی تھے یا خراسانی؟ وہ ایک غلام تھا اس کی عمر ۲۴ برس کی تھی کہ ابراہی م امام نے اس غیر معمولی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اس کو تبلیغ کے لئے خراسان روانہ کیا تاکہ وہ خراسان کے عوام کے اندر ایک انقلاب برپا کر دے۔ اس نوجوان میں قائدانہ صلاحیتیں بھر پور طریقے سے موجود تھیں۔ یہ شخص سیاسی لحاظ سے تو خاصا با صلاحیت تھا لیکن حقیقت میں بہت برا انسان تھا۔ اس میں انسانیت کی بوتک نہ آتی تھی۔ ابو مسلم حجاج بن یوسف کی مانند تھا، اگر عرب حجاج پر فخر کرتے ہیں تو ہم بھی ابو مسلم پر فخر کرتے ہیں۔

حجاج بہت ہی زیرک اور ہوشیار انسان تھا۔ اس میں قائدانہ صلاحتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں، لیکن وہ انسانیت کے حوالے سے بہت ہی پست اور کمینہ شخص تھا۔ اس نے اپنے زمانہ اقتدار میں بیس ھزار آدمی قتل کیے اور ابو مسلم کے بارے میں مشھور ہے کہ اس نے چھ لاکھ آدمی قتل کیے۔ اس نے معمولی بات پر اپنے قریبی دوستوں کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ ایرانی ہے یا عربی کہ ہم کہہ سکیں کہ وہ قومی تعصب رکھتا تھا۔

میں نہیں سمجھتا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس تحریک میں کسی قسم کی مداخلت کی ہو، لیکن بنو عباس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا یہ نعرہ تھا کہ وہ بنی امیہ سے خلافت ہر صورت میں لے کر رہیں گے۔ اس کیلئے وہ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنو عباس کے پاس دو اشخاص ایسے ہیں کہ جو شروع سے لے کر آخر تک تحریک عباسیہ کی قیادت کرتے رہے۔ ایک عراق میں تھا اور وہ پس پردہ کام کررہا تھا اور دوسرا خراسان میں، اور جو کوفہ میں تھا وہ تاریخ میں ابو سلمہ خلال کے نام سے مشھور ہے اور جو خراسان میں تھا اس کا نام ابو مسلم ہے۔ میں پھلے عرض کر چکا ہوں کہ اس کو بنی عباس نے خراسان روانہ کیا اور اس نے بہت کم مدت میں بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ ابو سلمہ کی حیثیت صدر اور ابو مسلم کی ایک وزیر کی تھی۔ یہ پڑھا لکھاشخص، سمجھدار سیاستدان اور بھترین منتظم تھا۔ گفتگو کرتے وقت دوسروں کو متأثر کر دیتا۔ یھی وجہ ہے کہ ابو مسلم ابو سلمہ سے حسد کرتا تھا۔ جب اس نے خراسان میں اپنی تحریک کا آغاز کیا تو ابو سلمہ کو درمیان سے ھٹا دیا اور ابو عباس سفاح کے نام ابو سلمہ کےخلاف ڈھیر سارے خط لکھ ڈالے، اور اس کو خطرناک شخص کے طور پر متعارف کروایا اور کھا کہ اس کو تحریک سے خارج کر دیجئے۔ اس نے اسی قسم کے خطوط بنی عباس کے مختلف اشخاص کی طرف ارسال کیے۔

لیکن سفاح نےاس کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور کھہ دیا کہ وہ مخلصانہ طویل خدمات کے صلے میں ابو سلمہ کےخلاف کسی قسم کا قدم نہیں اٹھا سکتے۔ پھر اعتراض کرنے والوں نے سفاح سے شکایت کی کہ ابو سلمہ اندر سے کچھ ہے اور باہر سے کچھ اور، وہ چاہتا ہے کہ آل عباس سے خلافت لے کر آل ابی طالبعليه‌السلام کے حوالے کرے۔ یہ سن کر سفاح نے کھا مجھ پر اس قسم کے الزام کی حقیقت ثابت نہ ہوسکی اگر ابو سلمہ اس طرح کی سوچ رکھتا ہے کہ وہ ایک انسان کی حیثیت سے اس طرح کی غلطی کرسکتا ہے۔ وہ ابو سلمہ کے خلاف جتنی بھی کوششیں کرتا تھا کار گر ثابت نہ ہوتی تھیں۔ کیونکہ ابو سفاح ابو سلمہ اس کو کسی نہ کسی حوالے سے نقصان دے سکتا ہے۔ اس لئے اس نے اس کے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ ابو سلمہ کی عادت تھی کہ وہ سفاح کے ساتھ رات گئے تک رھتا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ایک رات وہ سفاح سے ملاقات کر کے واپس آرہا تھا کہ ابو مسلم کے ساتھیوں اس کو قتل کر دیا۔ چونکہ سفاح کے کچھ آدمی اس قتل میں شریک تھے اس لئے ابو سلمہ کا خون کسی شمار میں نہ آسکا۔ یہ واقعہ سفاح کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا۔ اس سانحہ کی کچھ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں کچھ محرکات یہ بھی ہیں۔

ابو سلمہ کا خط امام جعفر صادقعليه‌السلام اور عبد اللہ محض کے نام

مشھور مورخ مسعودی نے مروج الذھب میں لکھا ہے کہ ابو سلمہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اس فکر میں مستغرق رھتا تھا کہ خلافت آل عباس سے لے کر آل ابی طالبعليه‌السلام کے حوالے کرے۔ اگر چہ وہ شروع میں آل عباس کیلئے کام کرتا رہا۔ ۱۳۲ ھ میں جب بنی عباس نے رسمی طور پر اپنی حکومت کی داغ بیل ڈالی اس وقت ابراہی م امام شام کے علاقہ میں کام کرتا تھا لیکن وہ منظر عام پر نہیں آیا تھا۔ وہ بھائیوں میں سے بڑا تھا۔ اس لئے اس کی خواہش تھی کہ وہ خلیفہ وقت بنے لیکن وہ بنی امیہ کے آخری دور میں خلیفہ مروان بن محمد کے ہتھے چڑھ گیا اور اس کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر اس کے خفیہ ٹھکانے کا کسی کو پتہ چل گیا تو وہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ چنانچہ اس نے ایک وصیت نامہ لکھ کر مقامی کسان کے ذریعے اپنے بھائیوں کو بھجوایا۔ وہ کوفہ کے نواحی قصبے حمیمہ میں مقیم تھے، اس نے اس وصیت نامے میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنی حالیہ پالیسی کے بارے میں اعلان کیا اور اپنا جانشین مقرر کیا اور اس میں اس نے یہ لکھا کہ اگر میں آپ لوگوں سے جدا ہوگیا تو میرا جانشین سفاح ہوگا (سفاح منصور سے چھوٹا تھا) اس نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا کہ وہ یہاں سے کوفہ چلے جائیں اور کسی خفیہ مکان میں جاکر پناہ لیں اور انقلاب کا وقت قریب ہے۔ اس کو قتل کردیا گیا اور اس کا خط اس کے بھائیوں کے پاس پھنچایا گیا۔ وہ وہاں سے چھپتے چھپاتے کوفہ چلے آئے اور ایک لمبے عرصے تک وھیں پہ مقیم رہے۔ ابو سلمہ بھی کوفہ میں چھپا ہوا تھا اور تحریک کی قیات کررہا تھا دو تین مھینوں کے اندر اندر یہ لوگ رسمی طور پر ظاہر ہوئے اور جنگ کر کے بہت بڑی فتح حاصل کی۔

مورخین نے لکھا ہے کہ اس انقلاب کے بعد ابراہی م امام کو قتل کردیا گیا۔ حکومت سفاح کے ہاتھ میں آگئی۔ اس واقعہ کے بعد ابو سلمہ کو پریشانی لاحق ہوئی اور وہ سوچنے لگا کہ خلافت کیوں نہ آل عباس سے لے کر آل ابو طالب کے حوالے کی جائے۔ اس نے دو علیحدہ علیحدہ خطوط لکھے ایک خط امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور دوسرا خط عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالبعليه‌السلام کے نام ارسال کیا۔ (حضرت امام حسنعليه‌السلام کے ایک بیٹے کا نام حسن تھا جسے حسن مثنيٰٰ سے یاد کیا جاتا ہے یعنی دوسرے حسن، حسن مثنی کربلا میں شریک جھاد ہوئے لیکن زخمی ہوئے اور درجئہ شھادت پر فائز نہ ہو سکے۔

اس جنگ میں ان کی ماں کی طرف سے ایک رشتہ داران کے پاس آیا اور عبید اللہ ابن زیاد سے سفارش کی کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے۔ حسن مثنی نے اپنا علاج معالجہ کرایا اور صحت یاب ہوگئے۔ ان کے دو صاجزادے تھے ایک کانام عبداللہ تھا۔ عبداللہ ماں کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کے نواسے تھے اور باپ کی طرف سے امام حسن علیہ السلام کے پوتے تھے۔ آپ دو طریقوں سے فخر کرتے ہوئے کھا کرتے تھے کہ میں دو حوالوں سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیٹا ہوں۔ اسی وجہ سے ان کو عبداللہ محض کھا جاتا تھا۔ یعنی خالصتاً اولاد پیغمبر، عبداللہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں اولاد امام حسن علیہ السلام کے سربراہ تھے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اولاد امام حسین علیہ السلام کے سربراہ تھے۔)

ابو سلمہ نے ایک شخص کے ذریعہ سے یہ دو خطوط روانہ کیے، اور اس کو تاکید کی کہ اس کی خبر کسی کو بھی نہ ہو۔ خط کا خلاصہ یہ تھا کہ خلافت میرے ہاتھ میں ہے۔ خراسان بھی میرے پاس ہے اور کوفہ پر بھی میرا کنٹرول ہے، اور اب تک میری ہی وجہ سے خلافت بنی عباس کو ملی ہے۔ اگر آپ حضرات راضی ہوں تو میں حالات کو پلٹ دیتا ہوں یعنی وہ خلافت آپ کو دے دیتا ہوں۔

امامعليه‌السلام اور عبداللہ محض کا رد عمل

قاصد وہ خط سب سے پھلے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں لے آیا۔ رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔ اس کے بعد عبداللہ محض کو ابو سلمہ کا خط پھنچایا گیا۔ جب اس نے یہ خط حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو عرض کی مولا یہ خط آپ کے ماننے والے ابو سلمہ کا ہے۔ حضرت نے فرمایا ابو سلمہ ہمارا شیعہ نہیں ہے۔ قاصد نے کہا آپ مجھے ہر صورت میں جواب سے نوازیں۔آپ نے چراغ منگوایا آپ نے ابو سلمہ کا خط نہ پڑھا اور اس کے سامنے وہ خط پھاڑ کر جلا دیا اور فرمایا اپنے دوست (ابو سلمہ) سے کھنا کہ اس کا جواب یھی ہے اس کے بعد حضرت نے یہ شعر پڑھا ؂

ایا موقدانارا لغیرک ضوءها

یا حاطبافی غیر حبلک تحطب

"یعنی آگ روشن کرنے والے اور، اس کی روشنی سے دوسرے مستفید ہوں۔ اے وہ کہ جو صحرا میں لکڑیاں اکٹھی کرتا ہے اور تو خیال کرتا ہے کہ یہ تو اپنی رسی میں ڈالی ہیں تجھے یہ خبر نہیں ہے تو نے جتنی بھی لکڑیاں جمع کی ہیں اس کو تیرے دشمن اٹھا کر لے جائیں گے۔"

اس شعر سے حضرت کا مقصد یہ تھا کہ ایک شخص محنت کرتا ہے لیکن اس کی محنت سے استفادہ دوسرے لوگ کرتے ہیں گویا آپ کھہ رہے تھے کہ ابو سلمہ بھی کتنا بد بخت شخص ہے کہ اس نے حکومت کی تشکیل دینے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ہے لیکن اس سے فائدہ دوسروں نے اٹھایا ہے یا اس شعر کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم خلافت کے لئے محنت کرتے ہیں اور وہ نا اہل ہاتھ وں میں چلی جاتی ہے۔

کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے حضرت نے خط کو جلا دیا اور اس قاصد کو جواب نہ دیا ابو سلمہ کا قاصد وہاں سے اٹھا اور عبداللہ محض کے پاس آیا اور ان کو ابو سلمہ کا خط دیا۔ عبد اللہ خط کو پڑھ کر بے حد مسرور ہوئے۔ مورخ مسعودی نے لکھا ہے کہ عبداللہ صبح ہوتے ہی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے در دولت پر آئے۔ امام علیہ السلام نے ان کا احترام کیا، حضرت جانتے تھے کہ عبداللہ کے آنے کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا لگتا ہے کہ آپ کوئی نئی خبر لے کر آئے ہیں۔ عبداللہ نے عرض کی جی ھاں ایسی خبر کہ جس کی تعریف و توصیف بیان نہ کی جاسکے۔ (نعم ہو اجل من ان یوصف) یہ خط ابو سلمہ نے مجھے بھیجا ہے انھوں نے اس خط میں تحریر کیا ہے کہ خراسان کے تمام شیعہ اس بات پر مکمل طور پر تیار ہیں کہ خلافت و ولایت ہمارے سپرد کردیں۔ انھوں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ ان کی یہ پیشکش قبول کر لوں۔ یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا:

"ومتی کان اهل خراسان شیعة لک؟"

خراسان والے آپ کے شیعہ کب بنے ہیں؟"

انت بعثت ابا مسلم الی خراسان؟"

کیا آپ نے ابو مسلم کو خراسان بھیجا ہے؟"

آپ نے خراسان والوں سے کہا ہے کہ وہ سیاہ لباس پہنیں اور ماتمی لباس کو اپنا شعار بنائیں۔ کیا یہ خراسان سے آئے ہیں یالائے گئے ہیں؟تم تو ایک آدمی کو بھی نہیں پھچانتے؟ امام علیہ السلام کی باتیں سن کر عبداللہ ناراض ہو گئے۔ انسان جب کوئی چیز پسند کرے اور اس کی خوشخبری سننے کے بعد کوئی اور بات سننا گوار نہیں کرتا۔ گویا یہ انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اس نے حضرت امام جعفر صادق سے بحث کرنی شروع کردی اور حضرت سے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں:

"انما یرید القوم ابنی محمدا لانه مهدی هذه الامة"

یہ میرے بیٹے محمد کو خلافت دینا چاہتے ہیں آُپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اس امت کا امام مھدی آپ کا بیٹا محمد نہیں ہے اگر اس نے قیام کیا تو قتل کیا جائے گا۔ یہ سن کر عبداللہ اظہار ناراضگی کرتے ہوئے بولا آپ خواہ مخواہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا بخدا ہم تمہاری خیر خواہی اور بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے ۔ آپ کا مقصد کبھی پورا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بخدا ابو سلمہ نے بالکل اسی طرح کا خط ہماری طرف بھی روانہ کیا ہے لیکن ہم نے پڑھنے کی بجائے اس کو آگ میں جلا دیا۔ عبداللہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ ان حالات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت سیاسی فضا کس قدر مکدر تھی، بنی عباس کی تحریک کامیاب ہوتی ہے؟ ابو مسلم اس وقت خاصا فعال ہوتا ہے۔ اور وہ ابو سلمہ جیسے انقلابی شخص کو قتل کرادیتا ہے۔ سفاح بھی اس کی حمایت کرنے لگ جاتا ہے۔ پھر ایسا ہوا کہ ابو سلمہ کا قاصد ابھی مدینہ سے کوفہ نہ پھنچا تھا کہ ابو سلمہ قتل ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عبداللہ محض کا جواب ابو سلمہ کے ہاتھ وں تک نہ پھنچ سکا۔

ایک تحقیق

اس واقعہ کو جس خوبی کے ساتھ مسعودی نے لکھا ہے اتنا اور کسی مورخ نے نہیں لکھا۔ میرے نزدیک ابو سلمہ کا مسئلہ بہت واضح ہے کہ وہ شخص سیاستدان تھا۔ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شیعوں میں ہر گز نہ تھا۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک مرتبہ آل عباس کیلئے کام کرتا ہے اور دوسری مرتبہ وہ اپنی پالیسی بدل لیتا ہے۔ دراصل عوام کی اکثریت یہ نہیں چاہتی تھی کہ خلافت خاندان رسالت سے باہر کسی دوسرے شخص کے پاس جائے۔ آل ابی طالب میں دو شخصیات اہم شمار کی جاتی تھیں ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور دوسرے جناب عبداللہ محض، ابو سلمہ ان دونوں شخصیات کے ساتھ دینداری اور خلوص کی وجہ سے یہ کام نہیں کر رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ خلافت بدلنے سے اس کے ذاتی مفادات محفوظ رہیں۔ ابھی اس کو امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبد اللہ محض کی طرف سے جواب موصول نہ ہوا تھا کہ ابو سلمہ قتل ہو گیا۔ جب میں یہ بات کرتے ہوئے لوگوں کو سنتا ہوں تو مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو سلمہ کے خط کا جواب کیوں نہیں دیاتھا اور اس کی دعوت قبول کیوں نہیں کی تھی؟ ا سکا جواب بھی صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر بھی حالات سازگار نہ تھے۔

صورت حال نہ روحانی لحاظ سے اچھی تھی اور نہ ظاہر ی لحاظ سے بھتر تھی بلکہ امام علیہ السلام نے جو بھی اقدامات کیے وہ حقیقت پر مبنی تھے ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے شروع ہی سے بنی عباس کی کسی قسم کی حمایت نہیں کی۔ دراصل آپ نہ امویوں کے حق میں تھے اور نہ عباسیوں کے حق میں۔ یہ دو خاندان اور موروثی حکمران ذاتی مفاد کے علاوہ کوئی سوچ نہ رکھتے تھے۔ ہم نے کتاب الفرج اصفھانی سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے میں جتنی ابو الفرج نے تفصیل لکھی ہے اتنا اور کسی مورخ نے نہیں لکھا۔ ابو الفرج اموی مورخ تھے۔ اور سنی المذھب تھے ان کو اصفھان میں سکونت رکھنے کی وجہ سے اصفھانی کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ اصفھانی نہ تھے بلکہ اموی تھے اگر چہ یہ اموی مورخ تھے لیکن انھوں نے تاریخ نویسی میں اعتدال قائم رکھا اس لئے جناب شیخ مفید (رح) نے اپنی کتاب ارشاد میں ابو الفرج سے روایات نقل کی ہیں۔

ھاشمی رھنماؤں کی خفیہ میٹنگ

دراصل بات یہ ہے کہ شروع میں یہ طے پایا تھا کہ امویوں کے خلاف تحریک شروع کی جائے۔ بنی ھاشم کے سرکردہ لیڑر ابواء مقام پر جمع ہوگئے تھے۔ یہ مقام مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ (ابواء یہ ایک تاریخ جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جھاں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی والدہ ماجدہ نے انتقال فرمایا تھا۔) حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پاک کی عمر پانچ سال کے لگ بھگ تھی بی بی اپنے اس عظیم صاجزادے کو اپنے ہمراہ لائی تھیں۔ حضرت آمنہ کے رشتہ دار مدینہ میں آباد تھے۔ اس لئے حضور پاک مدینہ والوں کے ساتھ ایک خاص نسبت رکھتے تھے۔ بی بی مدینہ سے ہوکر واپس مکہ جا رہی تھیں کہ راستہ میں مریض ہوئیں اور وھیں پر انتقال فرمایا اس جگہ کو مورخین نے ابواء کے نام سے یاد کیا ہے۔ حضورپاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی ماں کی کنیز خاص بی بی ام ایمن کے ساتھ مدینہ چلے گئے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو ابواء ہی میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ نے عالم غربت میں اپنی عظیم ماں کی المناک رحلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عمر بھر آپ اس غم کو نہ بھلا سکے۔ یھی وجہ ہے کہ آپ ۵۳ سال کی عمر میں مدینہ واپس لوٹ آئے اور اپنی زندگی کے آخری دس سال مدینہ ہی میں گزارے۔ آپ ایک موقعہ پر اثناء سفر میں ابواء نامی جگہ سے گزرے تو آپ چند لمحوں کیلئے اپنے صحابہ سے جدا ہوگئے اور ایک خاص جگہ پر رک گئے ۔ دعا پڑھی اس کے بعد زار وقطار رونے لگے۔ صحابہ کرام نے تعجب کیا کہ حضور پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رونے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ میری والد ماجدہ کی قبر اطھر ہے۔ آج سے پچاس سال قبل جب میں پانچ سالہ بچہ تھا تو یھیں پر والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تھا۔ آپ پچاس سالوں کے بعد اس مقام پر گئے اور دعا پڑھی اور اس کے بعد اپنی انتھائی عزیز ترین ماں کی یاد میں بہت ہی زیادہ روئے"۔ چناچہ ابواء کے مقام پر ہونے والی خفیہ میٹنگ میں اولاد امام حسنعليه‌السلام عبداللہ محض اور آپ کے دونوں صاجزادے محمد و ابراہیم موجود تھے۔ اسی طرح بنی عباس کی نمائندگی کرتے ہوئے ابراہیم امام، ابوالعباس سفاح، ابو جعفر منصور اور ان کے چند بزرگوں نے شرکت کی۔ اس وقت عبداللہ محض نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اے بنی ھاشم! اس وقت لوگوں کی نگاہی ں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ اور عوام کی آپ سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو یہاں پر اکٹھے ہونے کا موقعہ بخشا ہے لھذا سب مل جل کر اس نوجوان (عبداللہ محض کے بیٹے) کی بیعت کریں۔ ان کو اپنی تحریک کا قائد منتخب کریں۔ اور امویوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ کا آغاز کریں۔ یہ واقعہ ابو سلمہ کے واقعات سے پھلے کا ہے۔ تقریباً انقلاب خراسان سے بارہ سال قبل۔ اس وقت اولاد امام حسن علیہ السلام اور بنو عباس کی مشترکہ خواہش تھی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو کر امویوں کا مقابلہ کریں۔

محمد نفس زکیہ کی بیعت

بنی عباس کا شروع سے یہی پروگرام تھا کہ وہ آل علی علیہ السلا میں ایسے نوجوان کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں کہ جو لوگوں میں مقبول ہو اور لوگ اس کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہوں۔ جب ان کی تحریک کامیاب ہو جائے گی تو اس نوجوان کو درمیان میں سے ھٹا دیا جائے گا۔ اس کام کیلئے انھوں نے محمد نفس زکیہ کو منتخب کیا ۔ محمد جناب عبداللہ محض کے صاحبزادے تھے ۔ عبد اللہ بہت ہی متقی اور پ رہی ز گار اور انتھائی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا بیٹا محمد کردار و گفتار اور شکل و صورت میں ہو بھو اپنے باپ کی تصویر تھا۔ اسلامی روایات میں ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اولاد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ایک نوجوان ظاہر ہوتا ہے اور اپنے جد امجد کی طرح اسی کا نام بھی محمد ہوگا اسی طرح اسلامی تحریکیں چلتی رہیں گی اور اولاد زھراعليه‌السلام میں سے ایک سید زادہ انقلابی جد وجھد کی قیادت کرتا رہے گا۔ اولاد امام حسن علیہ السلام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ امت کا مھدی یھی محمد ہے۔ بنو عباس کے نزدیک بھی یھی محمد مھدی کے طور پر نمودار ہوئے تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے سازش کر کے ان کو مھدی وقت مان لیاہو؟

بہر حال ابو الفرج نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ محض نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کھا ہمیں متحد ہو کر ایک ایسے نوجوان کی قیادت میں کام شروع کردینا چاہی ے کہ جو اس مظلوم ملت کو ظالموں کے شکنجوں سے نجات دے سکے۔ ا سکے بعد بولے ایھا الناس اے لوگو! میری بات غور سے سنو ان ابنی ھذا ہو المھدی کہ میرا بیٹا محمد ہی مھدی دوراں ہے۔ آپ سب مل کر ان کی بیعت کریں۔ اس اثناء میں منصور بولا کہ مھدی کے عنوان سے نہیں البتہ یہ نوجوان موجودہ دور میں قیادت کے فرائض احسن طریقے سے نبھا سکتا ہے۔ آپ سچ کھہ رہے ہیں ہم سب کو اس نوجوان کی بیعت کرنی چاہی ے۔ میٹنگ کے تمام شرکاء نے ایک زبان ہو کر اس کی تصدیق کی اور ایک ایک کرکے انھوں نے محمد کی بیعت کی۔ اس کے بعد انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ جب حضرت تشریف فرما ہوئے سب نے حضرت کا استقبال کیا۔ عبداللہ محض جو صدر مجلس تھے نے اپنے پہلو میں حضرت کو جگہ دی۔ اس کے بعد انھوں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں رپورٹ پیش کی اور کہا جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی و سیاسی حالات مخدوش ہیں لھذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص اٹھے اور امت و ملت کی قیادت کرے۔ اس میٹنگ کے تمام شرکاء نے میرے بیٹے محمد کی بیعت کی ہے ۔کیونکہ ہمارے نزدیک مھدی دوراں یہی محمد ہی ہیں۔ لھذا آپ ان کی بیعت کریں۔ فقال جعفر لا تفعلوا امام علیہ السلام نے فرمایا نہیں تم ایسا نہ کرو:

"فان هذا الامر ثم یات بعد ان کنت تری ان ابنک هذا هو المهدی فلیس به ولا هذا اوانه"

رہی بات مھدی علیہ السلام کے ظھور کی تو یہ وقت ظھور نہیں ہے۔ اے عبداللہ اگر تم خیال کرتے ہو کہ تمہارا یہ بیٹا محمد مھدی ہے تو تم سخت غلطی پر ہو، تمہارا بیٹا ہر گز مھدی نہیں ہے اس وقت مھدی علیہ السلام کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی آمد اور ظھور کا وقت ہوا ہے۔"

وان کنت انما یرید ان تخرجه غضبا لله ولیامر بالمعروف وینه عن المنکر فانا والله لا ندعک فانت شیخنا ونبایع ابنک فی الامر "

حضرت نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرمایا اگر تم مھدی کے نام پر بیعت لے رہے ہو تو میں ہرگز بیعت نہیں کروں گا۔ کیونکہ یہ سراسر جھوٹ ہے یہ مھدی نہیں ہے اور نہ ہی مھدیعليه‌السلام کے ظھور کا وقت ہوا ہے لیکن اگر آپ نیکی کے فروغ اور برائیوں اور ظلم کے خاتمے کے لئے جھاد کریں گے تو ہم آپ لوگوں کا ہر طرح سے ساتھ دیں گے۔"

امام علیہ السلام کے اس فرمان سے آپ کا موقف کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ آپ نے نیکیوں کی ترویج اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن آپ نے ان کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کردی کہ یہ محمد مھدی نہیں ہے۔ جب آپ نے بیعت کا انکار کیا تو عبداللہ ناراض ہوگئے۔ جب آپ نے عبداللہ کی ناراضگی کو دیکھا تو فرمایا دیکھو عبداللہ میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ تمہارا بیٹا محمد مھدی نہیں ہیں ہم اہل بیت کے نزدیک یہ ایک ایسا راز ہے کہ جس کو ہم ہی جانتے ہیں ہمارے سوا کوئی اور نہیں جانتا کہ وقت کا امام کون ہے اور مھدیعليه‌السلام کون ہوگا؟ یاد رکھو تمہارا یہ بیٹا بہت جلد قتل کر دیا جائے گا۔ ابو الفرج نے لکھا ہے کہ عبداللہ سخت ناراض ہوئے اور کھا خیر آپ نے جو کھنا تھا کہہ دیا لیکن ہمارا نظریہ یھی ہے کہ محمد مھدی وقت ہے، آپ حسد اور خاندانی رقابت کے باعث اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔

"فقال والله ماذاک یحملنی ولکن هذا واخوته وابنانهم دونکم وضرب یده ظهر ابی العباس"

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنا دست مبارک ابو العباس کی پشت پر مارتے ہوئے فرمایا یہ بھائی مسند خلافت پر فائز ہو جائیں گے اور آپ اور آپ کے بیٹے محروم رہیں گے۔"

اس کے بعد آپ نے عبداللہ حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

"ما هی الیک ولا الی ابنیک"

تم اور تمہارے بیٹے خلافت تک نہیں پھنچ سکیں گے۔"

ان کو قتل ہونے سے بچائیے۔ بنو عباس آپ کو خلافت تک پھنچنے نہیں دیں گے۔ اور تمہارے دونوں بیٹے قتل کر دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے اپنا ایک ہاتھ عبدالعزیز عمران زھری کے کندھے پر رکھتے ہوئے اس سے کہا:

"ارایت صاحب الرداء الاصغر؟"

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے سبز قبا پہنی ہوئی تھی؟"

(آپ کی اس سے مراد ابو جعفر منصور تھی) وہ بولا نعم جی ھاں آپ نے فرمایا خدا کی قسم ہم جانتے ہیں کہ یھی شخص مستقبل قریب میں عبداللہ کے بیٹوں کو قتل کردے گا۔

یہ سن کر عبدالعزیز سخت متعجب ہوا اور اپنے آپ سے کھنے لگا یہ لوگ آج تو اس کی بیعت کر رہے ہیں اور کل اسے قتل کردیں گے؟ آپ نے فرمایا ھاں عبدالعزیز ایسا ہی ہوگا عبدالعزیز نے کہا میرے دل میں تھوڑا سا شک گزرا ہو سکتا ہے امام علیہ السلام نے حسد وغیرہ کی وجہ سے ایسا کھا ہو لیکن خدا کی قسم میں نے اپنی زندگی ہی میں دیکھ لیا کہ ابو جعفر منصور نے عبداللہ کے دونوں بیٹوں کو قتل کردیا۔ دوسری طرف حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام محمد سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ابوالفرج کے بقول

"کان جعفر بن محمد اذا رای محمد بن عبدالله بن الحسن تغر غرت عیناه"

کہ امام علیہ السلام کی نگاہ مبارک جب محمد پر پڑتی تو آپ کی آنکھو سے بے ساختہ آنسو چھلک پڑتے اور فرمایا کرتے:

"بنفسی هو ان الناس فیقولون فیه انه لمقتول لیس هذا فی کتاب علی من خلفاء هذه الامة"

میری جان قربان ہو اس پر لوگ جو اس کے بارے میں مھدی ہونے کے قائل ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ یہ نوجوان قتل کیا جائے گا ہمارے پاس حضرت علی علیہ السلام کی ایک کتاب موجود ہے اس میں محمد کا نام خلفاء میں شامل نہیں ہے۔"

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں تحریک کا آغاز ہی مھدویت کے نام پر ہوا ہے لیکن امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اس کی سخت مخالفت کی اور فرمایا اگر یہ تحریک نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے ہے تو پھر ہم اس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کریں گے لیکن ہم محمد کو مھدی کے طور پر تسلیم نہیں کرسکتے، رہی بات بنو عباس کی تو ان کا مطمع نظر سیاسی و حکومتی مفادات حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام کے دور امامت کی چند خصوصیات

یھاں پر ہم جس لازمی نکتے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امامت اسلامی خدمات کے حوالے سے بے نظیر اور بھترین دور ہے۔ آپ کے دور میں مختلف قسم کی تحریکوں نے جنم لیا، بے شمار انقلابات رونما ہوئے ۔ امام علیہ السلام کے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا انتقال ۱۱۴ کو ہوا۔ آپ اس وقت امام وقت مقرر ہوئے اور ۱۴۸ تک زندہ رہے۔ ظھور اسلام سےلیکر اب تک دو تین نسلیں حلقہ اسلام میں داخل ہو چکی تھیں۔ سیاسی و تمدنی لحاظ سے بے تحاشا ترقی ہوئی۔ اور کچھ ایسی جماعتیں بھی وجود میں آئیں جو خدا کی منکر تھیں۔ زندیق اس دور میں رونما ہوئے یہ لوگ خدا، دین اور پیغمبر کے مخالف تھے۔ بنی عباس کی طرف سے ان بے دین عناصر کو ہر لحاظ سے آزادی حاصل تھی۔ صوفیاء بھی اسی دور میں ظاہر ہوئے اور کچھ ایسے فقھا بھی پیدا ہوئے کہ جو فقہ کو قیاس کی طرف لے گئے۔ اس دور میں مختلف نظریات رکھنے والے لوگ، جماعتیں پیدا ہوئیں۔ اس نوع کی تبدیلی اور جدت وندرت پہلے ادوار میں نہ تھی۔

امام حسینعليه‌السلام اور امام جعفر صادقعليه‌السلام کے زمانوں کا زمین و آسمان کا فرق ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے دور میں بہت زیادہ گھٹن تھی اور مشکل ترین دور تھا اس لئے امام عالی مقام نے اپنے دور امامت میں حدیث کے پانچ چھ جملے بیان فرمائے اس کے علاوہ کوئی حدیث نظر نہیں آتی، لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امام تعلیمی وتربیتی حوالے سے بھترین دور تھا۔ آپ نے فرصت کے ان لمحوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت کم مدت میں چار ھزار فضلاء تیار کیے۔ لھذا اگر ہم فرض کریں (جو کہ غلط ہے) کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو وھی حالات پیش آتے جو امام حسین علیہ السلام کو پیش آئے تھے تو پھر بھی امام جعفر صادق علیہ السلام علمی کارنامے انجام دیتے؟ ہم نے پھلے عرض کیا ہے کہ آئمہ طاہر ین کی حیات طیبہ کا انداز ایک جیسا ہوتا ہے اور آپ کی شھادت وھی رنگ لاتی جو کہ امام حسینعليه‌السلام کی لائی ہے۔ اگر چہ آپ ایک وقت درجئہ شھادت پر فائز بھی ہوئے لیکن آپ کو قدرت نے خوب موقعہ فراہم کیا کہ آپ نے علمی و دینی لحاظ سے غیر معمولی کارنامے سر انجام دیئے۔ آج امام جعفر صادق علیہ السلام کا نام پوری دنیا میں ایک بہت بڑے مصلح کے طور پر مانا جانا جاتا ہے۔ امام علیہ السلام کے بارے میں اگلی نشست میں کچھ مزید باتیں عرض کروگا۔ ان شاء اللہ۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام اور مسئلہ خلافت ۲

ھم نے گزشتہ تقریر میں عرض کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں مسئلہ خلافت بھر پور طریقے سے سامنے آیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے دور میں حالات نے کچھ اس طرح کروٹ لی کہ طالبان حکومت داعیان خلافت ایک بار پھر پورے جوش وخروش کے ساتھ میدان عمل میں آگئے لیکن مصلحت وقت کے تحت امام جعفر صادق علیہ السلام نے گوشہ نشیشی اختیار کر لی۔ آپ کے دور امامت میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ امویوں کی حکومت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوا۔ پھر ابو سلمہ خلال اور ابو مسلم جیسے انقلابی لوگ پیدا ہوئے۔ ابو سلمہ کو وزیر آل محمدعليه‌السلام اور ابو مسلم کو امیر آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ یھی نوجوان امویوں کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنے اگرچہ انھوں نے عباسیوں کو اقتدار حکومت سونپنے میں بھر پور کردار ادا کیا تاہم ابو سلمہ ایسا نوجوان ہے کہ جو آخر میں اس چیز کی خواہش رکھتا تھا کہ اقتدار آل علیعليه‌السلام کو منتقل کیا جائے۔ انھوں نے اسی مقصد کی تکمیل کیلئے ایک خط امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبداللہ محض کے نام بھی ارسال کیا تھا ان دونوں شخصیات میں عبداللہ حکومت ملنے پر خوش اور آمادہ تھے لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو سلمہ کی اس پیش کش کو ذرہ بھر اہمیت نہ دی۔ یہاں تک آپ نے اس کے خط کو بھی نہ پڑھا جب آپ کی خدمت میں چراغ لایا گیا تو امام علیہ السلام نے اس خط کو نہ فقط پھاڑ دیا بلکہ اسے جلا بھی دیا اور فرمایا اس خط کا جواب یھی ہے اس سے متعلق ہم تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے سیاسی و حکومتی امور میں دلچسپی لینے اور ان میں مداخلت کرنے کی بجائے گوشہ نشینی کو ترجیح دی اور آپ اقتدار کو سنبھالنے کی ذرا بھر خواہش نہ رکھتے تھے اور نہ ہی اس کے لئے کسی قسم کی کوشش کا سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام اگر کوشش کرتے تو اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے تھے۔ اس کے باوجود آپ خاموش کیوں رہے؟ اس عدم دلچسپی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ جبکہ فضا بھی امام کے حق میں تھی۔ بالفرض اگر اس مقصد کے لئے آپ شھید بھی ہو جاتے تو شھادت بھی آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے، ایک بار پھر ہم امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہمہ جھت شخصیت کے بارے میں کچھ روشنی ڈالتے ہیں تاکہ حقیقت پوری طرح سے روشن ہو جائے۔ ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام اس دور میں ہوتے تو آپ کا انداز زندگی بالکل امام جعفر صادق علیہ السلام اور دیگر آئمہ طاہر ینعليه‌السلام جیسا ہوتا چونکہ امام حسین علیہ السلام اور دیگر اماموں کے دور ھائے امامت میں فرق تھا اس لئے ہر امام نے مصلحت و حکمت عملی اپناتے ہوئے امن و آشتی کا راستہ اختیار کیا۔ ہماری گفتگو کا محوریہ نہیں ہے کہ امام علیہ السلام نے اقتدار کیوں نہیں قبول کیا؟ بلکہ بات یہ ہے کہ آپ چپ کیوں رہے اور میدان جنگ میں آکر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کیوں نہیں کی؟

امام حسینعليه‌السلام اور امام صادقعليه‌السلام کے ادوار میں باہمی فرق

ان دو اماموں کا آپس میں ایک صدی کا فاصلہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی شھادت سال ۶۱ ہجری کو ہوئی اور امام صادق علیہ السلام کی شھادت ۱۴۸ کو واقع ہوئی گویا ان دو اماموں کی شھادتیں ۸۷ سال ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں۔ اس مدت میں زمانہ بہت بدلا، حالات نے کروٹ لی اور دنیائے اسلام میں گونا گوں تبدیلیاں ہوئیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے دور میں صرف ایک مسئلہ خلافت تھا کہ جس پر اختلاف ہوا دوسرے لفظوں میں ہر چیز خلافت میں سموئی ہوئی تھی، اور خلافت ہی کو معیار زندگی سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت اختلاف کا مقصد اور بحث کا ما حصل یہ تھا کہ کس کو "امیر امت" متعین کیا جائے اور کس کو نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے خلافت کا تصور زندگی کے تمام شعبوں پر محیط تھا۔ معاویہ سیاسی لحاظ سے بہت ہی طاقتور اور ظالم شخص تھا۔ اس کے دور حکومت میں سانس لینا بھی مشکل تھا۔ لوگ حکومت وقت کے خلاف ایک جملہ تک نہ کہہ سکتے تھے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت میں کوئی حدیث بیان کرنا چاہتا تو وہ اپنے اندر خوف محسوس کرتا تھا اور اس کو دھڑکا سا لگا رھتا کہ کھیں حکومت وقت کو پتہ نہ چل جائے۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں حضرت علی علیہ السلام پر کھلے عام تبرا کیا جاتا تھا۔ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی موجودگی میں منبر پر حضرت امیر علیہ السلام پر (نعوذ باللہ) لعنت کی جاتی تھی۔ جب ہم امام حسین علیہ السلام کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کا موسم کس قدر پتھریلا اور سخت تھا؟

کیسا عجیب دور تھا کہ امام حسین علیہ السلام جیسے امام سے ایک حدیث، ایک جمعہ، ایک مکالمہ ایک خطبہ اور ایک تقریر اور ایک ملاقات کا ذکر نہیں ہے۔ عجیب قسم کی گھٹن تھی۔ لوگوں کو آپ سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔آپ نے پچاس سالوں میں کتنی تلخیاں دیکھیں۔ کتنی پابندیاں برداشت کیں۔ یہ صرف امام حسین علیہ السلام ہی جانتے ہیں یہاں تک آپ سے تین جملے بھی حدیث کے نقل نہیں کیے گئے۔ آپ ہر لحاظ سے مصائب میں گھرے ہوئے تھے۔یہ دور بھی گزر گیا جانے والے چلے گئے اور آنے والے آگئے بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنو عباس کی حکومت شروع ہوئی اس وقت لوگوں میں علمی و فکری لحاظ سے کافی تبدیلی ہو چکی تھی۔ لوگ فکری لحاظ سے آزادی محسوس کرتے تھے۔ اس دور میں جس تیزی سے علمی وفکری ترقی ہوئی اس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ہے۔ اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت پر وسیع پیمانے پر کام ہونے لگا مثال کے طور پر علم قرات، علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ اور دیگر ادبی سرگرمیاں عروج پر ہونے لگیں یہاں تک کہ طب، فلسفہ، نجوم اور ریاضی وغیرہ جیسے علوم منظر عام پر آنے لگے۔

یہ سب کچھ تاریخ میں موجود ہے کہ حالات کا رخ بدلنے سے لوگوں میں علمی وفکری شعور پیدا ہوا۔ باصلاحیت افراد کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقعہ ملا۔ یہ علمی فضا اور تعلیمی ماحول امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانوں سے قبل وجود تک نہ رکھتا تھا۔ یہ سب کچھ صرف حالات بدلنے سے ہوا کہ لوگ اچانک علم و عمل، فکر و نظر کی باتیں سننے لگے اور پھر کیا ہوا کہ چہار سو علم کی روشنی پھیلتی چلی گئی۔ اب اگر بنو عباس پابندی عائد کرنا بھی چاہتے تو ان کے بس سے باہر تھا۔ کیونکہ عربوں کے علاوہ دوسری قومیں مشرف بہ اسلام ہوچکی تھیں۔ ان قوموں میں ایرانی غیر معمولی حد تک روشن فکر تھے۔ ان میں جوش و جذبہ بھی تھا اور علمی صلاحیت بھی۔ مصری اور شامی لوگ بھی فکری اعتبار سے خاصے زرخیز تھے۔ ان علاقوں میں دنیا کے مختلف افراد آکر آباد ہوئے۔ پھر دنیا کے لوگوں کی آمد و رفت نے اس خطے کو علم و ادب کا گھوارا بنا دیا۔ مختلف قومیں، مختلف نظریات اور پھر بحث مباحثوں سے فضا میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی۔ یہاں پر اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔ لوگ چاہتے تھے کہ اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ دوسری طرف عرب قرآن مجید میں کچھ زیادہ غور و خوض نہ کرتے تھے، لیکن دوسری قوموں میں قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کے بارے میں بہت زیادہ جذبہ کار فرما تھا۔ اس دور میں قرآن مجید کے ترجمہ، تفسیر اور مفاہی م پر خاصہ کام ہوا اور لوگ قرآن مجید کو بنیادی حیثیت دے کر بات کرتے تھے۔

نظریات کی جنگ

اچانک پھر کیا ہوا کہ عقائد و نظریات کا بازار گرم ہوگیا، سب سے پھلے تو تفسیر قرآن، قرات اور آیات قرانی پر بحث ہونے لگی۔ ایک ایسی جماعت پیدا ہوئی کہ جو لوگوں کو علم قرات، اور الفاظ، حروف کی صحیح ادائیگی کے بارے میں تعلیم دینے لگی، اس وقت قرآن مجید کی اشاعت و طباعت ایسی نہ تھی کہ جیسا کہ ہمارے دور میں ہے۔ ان میں سے ایک شخص کھتا تھا میں قرات کرتا ہوں اور یہ روایت فلاں بن فلاں صحابی سے نقل کرتا ہوں اور ان کی اکثریت حضرت علی علیہ السلام تک پھنچتی تھی۔ دوسرے افراد مختلف شخصیات سے روایت کرتے اسی طرح بحثوں اور مذاکروں کا سلسلہ عروج تک جا پھنچا۔ یہ لوگ مساجد میں جاکر لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے۔ عربوں کی نسبت غیر عرب زیادہ شوق و ذوق سے شرکت کرتے تھے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عجمی لوگ قرآن مجید کو پڑھنے اور سمجھنے میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ ایک قرات کے استاد مسجد میں آکر لوگوں کو درس قرآن دیتے اور ان کے ارد گرد لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہوجاتا۔ اتفاق سے قرات میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا پھر قرآن مجید کے معانی پر اختلاف پیدا ہوگیا، کوئی کچھ معنی کرتا اور کوئی کچھ ۔ اسی طرح احادیث کے بارے میں بھی مختلف آراء تھیں۔ حافظ احادیث کو بہت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ مساجد و محافل میں بڑے فخر و انبساط سے احادیث نقل کرتا اور لوگوں کو نئے اسلوب کے ساتھ حدیثیں بیان کرتا۔ نقل احادیث کے مراحل بھی بیان کرتا کہ یہ حدیث میں نے فلاں سے سنی اور اس نے فلاں سے اور فلاں نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی ہے پھر اس کا معنی و مفھوم یہ ہے۔

ان میں قابل احترام طبقہ فقھاء کا تھا لوگ ان سے فقھی مسائل پوچھتے تھے جیسا کہ اب بھی لوگ علماء سے شرعی و فقھی مسائل دریافت کرتے ہیں۔فقھاء کی ایک کثیر تعداد مختلف علاقوں میں پھیل گئی۔ لوگوں کو آسان طریقے سے بتایا جاتا تھا کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام یہ چیز پاک ہے اور یہ نجس یہ کاروبار صحیح ہے اور یہ ناجائز وغیرہ وغیرہ، مدینہ بہت بڑا علمی مرکز تھا اور دوسرا بڑا مرکز کوفہ میں قائم تھا۔ جناب ابو حنیفہ کوفہ میں تھے بصرہ بھی علمی لحاظ سے کافی اچھی شھرت کا حامل تھا۔ اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں اندلس فتح ہوا تو یہاں پر بھی علمی مرکز قائم ہوگیا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ ہر اسلامی شھر علم و عمل کا مرکز کھلاتا تھا کھا جاتا تھا کہ فلاں فقیھہ کا یہ نظریہ ہے اور فلاں فقیھہ یہ فرماتے ہیں مختلف مکاتب فکر کی موجودگی میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا ضروری امر تھا۔ چنانچہ فقھی میدان میں بھی عقائد کی جنگ چھڑ گئی اور یہ روز بروز زور پکڑتی گئی۔ ان تمام اختلافات سے بڑھ کر اختلاف "علم کلام" کا تھا۔

پہلی صدی ہی میں متکلم حضرات کی آمد شروع ہوگئی جیسا کہ ہم امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں دیکھتے ہیں کہ "متکلمین" آپس میں بحث مباحثہ کرتے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض شاگرد علم کلام میں خاص مہارت رکھتے تھے اور اعتراض کرنے والوں کو بڑے شائستہ طریقے سے جواب دیتے تھے۔ یہ لوگ خدا، صفات خدا اور قرآن مجید کی ان آیات سے متعلق بحث و تمحیص کرتے جو خدا کے بارے میں ہوا کرتی تھیں۔ کہا جاتا تھا کہ خدا کی فلاں صفت عین ذات ہے یا نھیں، کیا وہ حادث ہے یا قدیم؟ نبوت اور وحی کے بارے میں بحث کی جاتی تھی، شیطان کو بھی بحث میں لایا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ اور کھاں سے آیا ہے اس کا کام کیا ہے اور اس کے شر سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ پھر ایمان اور عمل پر روشنی ڈالی جاتی قضا وقدر، جبر و اختیار پر گفتگو ہوتی۔ غرض کہ علم کلام کے ماہر ین کے مابین نوک جھونک ہوتی رھتی اور مباحثوں کا یہ طویل سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آج تک موجود ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن بحث کے وقت انسان انتھا پسندانہ رویے کو ترک کرکے صلح و آشتی اور پرامن رویے کو اپنے سامنے رکھے۔ ان بحثوں کا نتیجہ تھا کہ ایک خطرناک ترین گروہ پیدا ہو گیا۔ ان کو آپ زندیق، لا مذھب کھہ سکتے ہیں۔ یہ لوگ خدا اور ادیان کے قائل نہ تھے۔ ان کو ہر لحاظ سے مکمل آزادی تھی، یہ مکہ و مدینہ، مسجد الحرام یہاں تک مسجد الحرام اور مسجد النبی میں بیٹھ کر اپنے عقائد کی ترویج کرتے تھے۔

اگر چہ وہ ہمارے نزدیک ایک بے دین کی سی حیثیت رکھتے ہیں لیکن وہ پڑھے لکھے ضرور تھے، ان کے سینوں میں علم اور ان کے ذھنوں میں فکر تھی، جو انھیں کچھ سوچنے اور بولنے پر مجبور کر رہی تھی یہ اور بات ہے کہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے۔ ان میں کچھ سریانی زبان بولتے تھے اور کچھ یونانی زبان جانتے تھے، کچھ ایرانی تھے کہ فارسی بولتے تھے۔ کچھ ھندی زبان جانتے تھے۔ سر زمین ھند سے کافی زندیق منگوائے گئے تھے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ زندیقیوں کا وجود کھاں سے شروع ہوا اور اس کی وجہ کیا ہے؟اس دور کی ایک اور بات کہ لوگ افراط وتفریط کا شکار ہوگئے تھے۔ کچھ لوگ صوفیوں اور خشک مقدس مولویوں کے روپ میں سامنے آگئے۔ یہ صوفی حضرات بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں وارد ہوئے۔ انھوں نے بہت جلد اپنا ایک مستقل اور الگ گروہ بنا لیا۔ یہ کھلے عام تبلیغ کرتے تھے۔

یہ لوگ اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کرتے بلکہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ اصل اسلام وھی ہے کہ جو یہ کھہ رہے ہیں۔ ان خشک مقدس مولویوں نے لوگوں میں عجیب قسم کا نظریہ پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ ان کا ظاہر ی صالحانہ، عابدانہ اور زاہدانہ انداز اختیار کرنا زبردست کشش کا باعث بنا اور یہ خالص اور حقیقی دین اسلام کے لیے زبر دست خطرے کا باعث تھا خوارج بھی اسی نظریہ کی پیداوار ہیں۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام اور مختلف مکاتب فکر

ھم دیکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اتنی بڑی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود مختلف فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسلامی طریقے سے تربیت کرنے کی بھر پور کوششیں کیں۔ قرآت اور تفسیر میں امام علیہ السلام نے انتھائی قابل ترین شاگرد تیار کیے جو لوگوں کو قرآن مجید کی صحیح طریقے سے تعلیم دیتے اور ان کو صحیح تفسیر سے متعارف کراتے، جہاں کہیں کسی قسم کی غلطی دیکھتے فوراً پکار اٹھتے اور بروقت اصلاح کرنے کی کوشش کرتے۔ پھر ایسے ہونہار طلبہ بھی میدان میں آئے جو علم حدیث میں پوری طرح سے مہارت رکھتے۔ نا سمجھ لوگوں کو بتایا جاتا کہ حدیث صحیح ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ اس حدیث کا سلسلہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پھنچتا ہے اور یہ حدیث من گھڑت ہے۔

فقھی مسائل کے حل اور لوگوں کی شرعی احکام میں تربیت کے لیے آپ کے لائق ترین شاگردوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ جولوگ فقہ سے نا آشنائی رکھتے یہ نوجوان طلبہ قریہ قریہ جاکر لوگوں کو حلال وحرام اور دیگر مسائل فقھی کی تعلیم دیتے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ برادران اہل سنت کے تمام بڑے مذھبی رھنما کسی نہ کسی حوالے سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے علمی فیض حاصل کرتے رہے ہیں۔تاریخ کی تمام کتب میں درج ہے کہ جناب ابو حنیفہ دو سال تک امام علیہ السلام سے پڑھتے رہے ہیں۔ جناب ابو حنیفہ کا ایک قول بہت مشھور ہے اور یہ قول تمام کتب اہل سنت میں موجود ہے کہ ملت حنفیہ کے سر براہ جناب ابو حنیفہ نے فرمایا کہ

"لولا السنتان لهلک نعمان"

"اگر میں نے وہ دو سال امام علیہ السلام کی شاگردی میں نہ گزارے ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔"

جناب ابو حنیفہ کا اصل نام نعمان ہے۔ کتب میں آپ کو نعمان بن ثابت بن زوطی بن مرزبان، کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد ایرانی تھے۔

اسی طرح اہلسنت کے دوسرے امام جناب مالک بن انس امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہم عصر تھے۔ جناب مالک نے بھی امام علیہ السلام سے کسب فیض کیا اور عمر بھر اس پر فخر کرتے رہے۔ امام شافعی کا دور بعد کا دور ہے انھوں نے جناب ابو حنیفہ کے شاگردوں، مالک بن انس اور احمد بن حنبل سے استفادہ کیا۔ لیکن ان کے اساتذہ کا سلسلہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ اپنے وقت کے چند علماء، فقہاء، محدثین امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی و دینی فیوضیات سے مستفیض ہوئے۔ امام علیہ السلام کے حلقہ درس میں علماء و فضلاء کا ہمہ وقت ٹھٹھ لگا رھتا تھا۔ اب میں اہل سنت کے بعض علماء کے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں تاثرات پیش کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے محترم قارئین اسے پسند فرمائیں گے۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام کے بار ے میں جناب مالک کے تاثرات

جناب مالک بن انس مدینہ میں رہائش پزیر تھے۔ نسبتاً خود پسند انسان تھے۔ ان کا کھنا ہے کہ میں جب بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ کو ہمیشہ اور ہر وقت ھنستا مسکراتا ہوا پاتا۔

"وکان کثیر التبسم"

آپ کے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ کے پھول کھلے ہوئے ہوتے تھے۔"

گویا آپ کو میں نے ہمیشہ خوش اخلاق پایا۔ آپ کی ایک عادت یہ تھی کہ جب آپ کے سامنے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نام مبارک لیا جاتا تو آپ کے چھرے کا رنگ یکسر بدل جاتا۔ میں اکثر اوقات امام علیہ السلام کے پاس آتا رھتا تھا۔ آپ اپنے زمانے کے عابد و زاہد انسان تھے۔ تقوی و پ رہی ز گاری اور راستبازی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ جناب مالک ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کھتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ امام علیہ السلام کے ہمراہ تھا جب ہم مدینہ سے نکل کر مسجد الشجرہ پر پھنچے تو ہم نے احرام باندھ لیا ہم چاہتے تھے کہ لبیک کھیں اور رسمی طور پر محرم ہو جائیں، چنانچہ ہم نے لبیک کھنا شروع کیا اور احرام باندھا تو میری نگاہ امام علیہ السلام پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آپ کے چھرہ اقدس کا رنگ یکسر بدل گیا ہے، اور آپ کا بدن کانپ رہا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید سواری سے گر جائیں۔ خدا خوفی کی وجہ سے آپ پر عجیب قسم کی کیفیت طاری تھی۔ میں نے عرض کیا اے فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! اب آپ لبیک کھہ ہی دیں تو آپ نے فرمایا میں کیا کھوں اور کیسے کھوں اگر میں لبیک کھتا ہوں؟ تو مجھے جواب ملے کہ لا لبیک تو اس وقت میں کیا کروں گا؟ اس روایت کو آقا شیخ عباس قمی اور دوسرے مورخین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ اس روایت کے راوی جناب مالک بن انس ہیں جو اہل سنت حضرات کے بہت بڑے امام ہیں جناب مالک کا کھنا ہے کہ:

"ما رات عین ولا سمعت اذن ولا خطر علی قلب بشر افضل من جعفر بن محمد"

آنکھ نے نہیں دیکھا کان نے نہیں سنا اور کسی کے خیال خاطر میں نہیں آیا کہ کوئی مرد امام جعفر صادق علیہ السلام سے افضل نظر سے گزرا ہو۔"

محمد شھرستانی جو کتاب الملل والنحل کے مصنف ہیں آپ پانچویں ہجری میں بہت بڑے عالم، متکلم، فلاسفی ہو کر گزرے ہیں۔ دینی و مذھبی اور فلسفیانہ اعتبار سے یہ کتاب دنیا بھر میں مشھور ہے۔ مصنف کتاب ایک جگہ پر امام جعفر صادق علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

"هو ذو علم غریر"

کہ آپ کا علم ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔"

وادب کامل فی الحکمة"

حکمت میں ادب کامل تھے۔"

وزهد فی الدنیا وورع تام عن الشهوات"

آپ غیر معمولی پر متقی و پ رہی ز گار تھے آپ خواہشات نفسانی سے دور رہتے تھے۔"

"ویفیض علی الموالی له اسرار العلوم ثم (دخل العراق)"

آپ سرزمین مدینہ میں رہ کر دوستوں اور لوگوں کو علم کی خیرات بانٹتے تھے۔" پھر آپ عراق تشریف لے آئے یہ مصنف امام علیہ السلام کی سیاست سے کنارہ کشی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔"

ولا نازع فی الخلافة احدا"

"کہ آپ نے خلافت کے مسئلہ پر کسی سے کسی قسم کا اختلاف ونزاع نہ کیا۔"

اس کنارہ گیری کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ آپ علم و معرفت کے سمندر میں غوطہ زن رہتے تھے اس لیے دوسرے کاموں کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہ تھا۔ میں محمد شھرستانی کی توجیہ کو صحیح نہیں سمجھتا۔ میرا مقصود اس سے یہ ہے کہ اس نے کھلے لفظوں میں امام کی غیر معمولی معرفت کا اعتراف کیا ہے لکھتا ہے۔

"ومن غرق فی بحر المعرفة لم یقع فی شط"

کہ جو دریائے معرفت میں ڈوبا ہوا ہو وہ خود کو کنارے پر نہیں لے آئے گا" اس کے نزدیک خلافت و حکومت ایک سطحی سی چیزیں ہیں جبکہ علم و معرفت کی بات ہی کچھ اور ہے۔

"ومن تعلی الی ذروة الحقیقة لم یخف من حط"

کہ جو حقیقت کی بلند و بالا چوٹیوں پر پھنچ جائے وہ نیچے کی طرف آنے سے کیسے ڈرے گا۔"

با وجودیکہ شھرستانی شیعوں کا مخالف شخص ہے، لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں مدحت سرائی کر رہا ہے۔ اس نے اپنی کتاب الملل و النحل میں شیعوں کے خلاف بہت زیادہ زھر اگلا ہے۔ لیکن اس نے امام علیہ السلام کو بہت ہی اچھے لفظوں کے ساتھ یاد کیا ہے۔ اگر چہ یہ دشمن تھا لیکن حقیقت کو ماننے پر مجبور ہو گیا۔ یہ نہ مانتا تو کیسے نہ مانتا؟ امام جعفر صادق علیہ السلام جیسا کوئی ہوتا تو یہ سامنے لاتا۔ سورج کا بھلا چراغوں سے کیسے مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟ اب بھی دنیا میں ایسے علماء موجود ہیں جو شیعیت کے سخت دشمن ہیں۔ لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کا بیحد احترام کرتے ہیں۔ وہ کھتے ہیں کہ شیعہ حضرات سے جن باتوں پر ہمارا اختلاف ہے۔ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان کردہ باتوں میں نہیں ہے کیونکہ صادق آل محمد علیھم السلام ایک انتھائی باکمال شخصیت و بے نظیر حیثیت کے مالک انسان تھے اور آپ کی علمی خدمات اور دینی احسانات کو کبھی اور کسی طور بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔

احمد آمین کی رائے فجر الاسلام، ضحی الاسلام، ظھر الاسلام، یوم الاسلام یہ احمد آمین کی معروف ترین کتب ہیں۔ احمد آمین ہمارے ہم عصر عالم دین ہیں۔ اور یہ شیعوں کے سخت مخالف ہیں۔ ان کو مذھب شیعہ کے بارے میں ذرا بھر علم نہیں ہے۔ سنی سنائی باتوں کو وجہ اعتراض بناکر شیعوں کے خلاف اپنی کتابوں میں انھوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ حالانکہ اس سطح اور اس پائے کے عالم دین کو حق کو سامنے رکھ کر حقیقت پسندی کا مظاہر ہ کرنا چاہی ے تھا۔ لیکن انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی جتنی تعریف کی ہے اتنی کسی اور سنی عالم نے نہیں کی۔ امام علیہ السلام کے فرامین اور ارشادات کی تفسیر و تشریح اس انداز میں کی ہے کہ کوئی عالم دین بھی نہ کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ ملت اسلامیہ، مذھب جعفریہ کے بارے میں ذرا بھر بھی تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کاش وہ شیعوں کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیتے اور ایک عظیم اور شریف ملت پر الزامات عائد کر کے اپنی کتب کے صفحات کو سیاہ نہ کرتے؟

جاحظ کا اعتراف

میرے نزدیک جاحظ کی علمی صلاحیت اور دینی قابلیت دوسرے سنی علماء سے بڑھ کر ہے۔ یہ شخص دوسری صدی کے اواخر اور تیسری صدی کے اوائل کا سب سے بڑا عالم ہے۔ یہ شخص ذھانت ومطانت کا عظیم شاہکار ہونے کےساتھ ساتھ غیر معمولی حد تک صاحب مطالعہ تھا۔ جاحظ نہ صرف اپنے عھد کا بہت بڑا ادیب ہے بلکہ ایک بہت بڑا محقق اور مورخ بھی ہے انھوں نے حیوان شناسی پر ایک کتاب الحیوان تحریر کی تھی آج یہ کتاب یورپی سائنسدانوں کے نزدیک بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بلکہ ماہر ین حیوانات اس کتاب پر نئے نئے تحقیقات کر رہے ہیں۔ جانوروں اور حیوانات کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں ہے۔ یہ کتاب اس دور میں لکھی گئی جب یونان اور غیر یونان میں جدید علوم نے اتنی ترقی نہ کی تھی۔ اس وقت ان کے پاس کسی قسم کا موادنہ تھا۔ انھوں نے اپنی طرف سے حیوانات پر تحقیق کر کے دنیا بھر کے جدید و قدیم ماہر ین کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

جاحظ ایک متعصب سنی عالم ہے۔ انھوں نے شیعوں کے ساتھ مناظرے بھی کئے اور انتھا پسندی کے باعث شیعہ حضرات ان کو ناصبی بھی کھتے ہیں۔ لیکن میں ذاتی طور پر کم از کم ان کو ناصبی نہیں کھہ سکتا۔ یہ شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کا عالم ہے۔ ہوسکتا ہے اس نے امام علیہ السلام کا آخری دور پایا ہو؟ شاید یہ اس وقت بچہ ہو یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امام علیہ السلام کا دور ایک نسل قبل کا دور ہو۔ کھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا دور اور امام علیہ السلام ایک دوسرے کے بہت قریب ہے۔ بھر حال جاحظ امام جعفر صادقعليه‌السلام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

"جعفر بن محمد الذی ملأ الدنیا علمه و فقهه"

کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے پوری دنیا کو علم و دانش اور معرفت و حکمت سے پر کردیا ہے۔"

ویقال ان ابا حنیفة من تلامذته و کذلک سفیان الثوری"

کہا جاتا ہے کہ جناب ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کا شمار امام علیہ السلام کے شاگردان خاص میں سے ہوتا ہے سفیان ثوری بہت بڑے فقیھہ اور سوفی ہو کر گزرے ہیں۔

میر علی ھندی کا نظریہ

میر علی ھندی ہمارے ہم عصر سنی عالم ہیں وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں اظہارے خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

"لا مشاحة ان انتشار العلم فی ذلک الحین قد ساعد علی فک الفکر من عقاله"

علوم کا پھیلاؤ اس زمانے میں ممکن بنایا گیا اور لوگوں کو فکری آزادی ملی اور ہر طرح کی پابندیاں ختم کردی گئیں۔"

فاصبحت المناقشات الفلسفیة عامة فی کل حاضرة من حواضر العالم الاسلامی"

"دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں علمی و عقلی اور فلسفیانہ مباحث کو رواج ملا۔"

جناب ھندی مزید لکھتے ہیں کہ:

"ولا یفوتنا ان نشیر الی ان الذی تزعم تلک الحرکة هو حفید علی ابن ابی طالب المسمی بالامام الصادق"

ھم سب کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہی ے کہ جس عظیم شخصیت نے دنیائے اسلام میں فکری انقلاب کی قیادت کی ہے وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پوتے ہیں اور انکا نام نامی امام صادقعليه‌السلام ہے۔"

وهو رجل رحب افق التفکیر"

وہ ایسے انسان تھے کہ جن کا افق فکری بہت بلند ہے یعنی جن کی فکری وسعت کی کوئی حد نہ تھی۔"

"بعید اغوار العقل"

ان کی عقل و فکر بہت گھری تھی ۔"

"ملم کل المام بعلوم عصره"

آپ اپنے عھد کے تمام علوم پر خصوصی توجہ رکھتے تھے۔ جناب ھندی مزید کھتے ہیں ۔"

ویعتبر فی الواقع هو اول من اسس المدارس الفلسفیة المشهورة فی الاسلام"

در حقیقت سب سے پھلے جس شخصیت نے جدید علمی مراکز قائم کیے ہیں وہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہی ہیں۔"

ولم یکن یحضر حلقته العلمیة اولئک الذین اصبحوا مؤسسی المذاهب الفقهیة فحسب بل کان یحضرها طلاب الفسفة والمتفلسفون من انحاء الواسعة"

وہ کہتا ہے کہ آپ نہ صرف ابو حنیفہ جیسی بزرگ شخصیت کے استاد تھے بلکہ جدید علوم کی بھی طلبہ کو تعلیم دیا کرتے تھے گویا جدید ترقی امام علیہ السلام کی مرہون منت ہے۔

احمد زکی صالح کے خیالات

کتاب امام صادق علیہ السلام میں آقائے مظفر احمد زکی صالح ماہنامہ الرسالۃ العصریہ سے نقل کرتے ہیں کہ شیعہ فرقہ کی علمی پیشرفت تمام فرقوں سے زیادہ ہے۔ کھا جاتا ہے کہ علوم کی ترقی اور پیشرفت میں اہل ایران کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ایران میں شیعوں کی اکثریت نہ تھی۔ ابھی ہم اس کے بارے میں بحث نہیں کرتے یہ پھر کبھی سھی یہ مصری لکھتا ہے:

"من الجلی الواضح لدی کل من درس علم الکلام الفرق الشیعة کانت انشط الفرق الاسلامیة حرکة"

کہ واضح سی بات ہے کہ ہر وہ شخص جو ذرا بھر علمی شعور رکھتا ہے وہ اس بات کا معترف ہے کہ شیعہ فرقہ کی مذھبی و علمی پیشرفت تمام فرقوں سے زیادہ ہے۔"

وکانت اولی من اسس المذاهب الدینیة علی اسس فلسفیة حتی ان البعض ینسب الفلسفة خاصة بعلی بن ابی طالب"

"یعنی شیعہ پہلا اسلامی مذھب ہے کہ جو دینی مسائل کو فکری و عقلی بنیادوں پر حل کرتا ہے۔ شیعہ یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں مختلف علوم کو عقلی و فکری لحاظ سے پرکھا جاتا تھا۔ اس کی بھترین دلیل یہ ہے کہ اہل تسنن کی احادیث کی ان کتابوں (صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد و صحیح نسائی) میں صرف اور صرف فروعی مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ وضو کے احکام یہ ہیں، نماز کے مسائل کچھ اس طرح کے ہیں۔ روزہ، حج، جھاد، وغیرہ کے احکام یہ ہیں۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سفر میں اس طرح عمل فرمایا ہے لیکن آپ اگر شیعہ کی احادیث کی کتب کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے شیعہ احادیث میں سب سے پھلے عقل و جھل کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، لیکن اہل سنت حضرات کی کتب میں اس طرح کی باتیں موجود نہیں ہیں۔ میں یہ کھنا چاہتا ہوں کہ اس کی بنیاد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں، بلکہ امام صادق علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اس میں تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام کی کوشش بھی شامل ہیں۔ اس کی اصل بنیاد تو خود حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اس عظیم مشن کا آغاز حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا اور اسے آگے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بڑھایا ہے۔

چونکہ امام جعفر صادقعليه‌السلام کو کام کرنے کا خوب موقعہ ملا ہے اس لیے آپ نے اپنے آباءو اجداد کی علمی میراث کو کما حقہ محفوظ رکھا ہے۔ اور اس عظیم ورثہ کو قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے ثمر آور بنادیا۔ ہماری احادیث کی کتب میں کتاب العقل والجھل کے بعد کتاب التوحید آتی ہے۔ ہمارے پاس توحید الٰھی کے بارے میں ھزاروں مختلف احادیث موجود ہیں۔ ذات خداوندی، معرفت الٰھی، فضاء و قدر، جبر و اختیار سے متعلق ملت جعفریہ کے پاس نہ ختم ہونے والا ذخیرہ احادیث موجود ہے۔ شیعہ قوم فخر سے کھہ سکتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور ہمارے جلیل القدر دیگر آئمہ طاہر ین نے جتنا ہمیں دیا ہے اتنا کسی اور پیشوا نے اپنی ملت کو نہیں دیا۔ اس لیے ہم کھہ سکتے ہیں کہ فکری، علمی اور عقلی و نظریاتی لحاظ سے امام جعفر صادق علیہ السلام نے نئے علوم کی بنیاد رکھ کر بنی نوع انسان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

جابر بن حیان

ایک وقت ایسا آیا کہ ایک نئی اور حیرت انگیز خبر نے پوری دنیا کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا وہ تھی جابر بن حیان کی علمی دنیا میں آمد ۔ تاریخ اسلام کے اس عظیم ھیرو کو جابر بن حیان صوفی بھی کھا جاتا ہے۔ اس دانائے راز نے علمی انکشاف اور سائنسی تحقیقات کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کر کے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ابن الندیم نے اپنی مشھور کتاب الفھرست میں جناب جابر کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جابر بن حیان ایک سو پچاس علمی وفلسفی کتب کے مصنف و مؤلف ہیں۔ کیمسٹری جابر بن حیان کے فکری احسانات کا صلہ ہے۔ ان کو کیمسٹری کی دنیا میں باپ اور بانی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ابن الندیم کے مطابق جناب جابر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دسترخوان علم سے خوشہ چینی کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔

ابن خلکان ایک سنی رائٹر ہیں۔ وہ جابر بن حیان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ کیمسٹری کا یہ بانی امام جعفر صادق علیہ السلام کا شاگر تھا۔ دوسرے مورخین نے بھی کچھ اس طرح کی عبارت تحریر کی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن جن علوم کی جناب جابر نے بنیاد رکھی ہے وہ ان سے پھلے بالکل وجود ہی نہ رکھتے تھے۔ پھر کیا ہوا کہ جابر بن حیان نے نئی نئی اختراعات ایجاد کر کے جدید ترین دنیا کو حیران کر دیا۔ اس موضوع پر اب تک سینکڑوں کتابیں اور رسالہ جات شائع ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنسدان اور ماہر ین نے جناب جابر کی جدید علمی خدمات کو بیحد سراہتے ہوئے کھا ہے کہ اگر جابر نہ ہوتے تو پوری انسانیت اتنے بڑے علم سے محروم رھتی۔ ایران کے ممتاز دانشور جناب تقی زادہ نے جابر بن حیان کی علمی ودینی خدمات پر انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں جابر کے متعلق بہت سی چیزیں مخفی اور پوشیدہ ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ شیعہ کتب میں بھی جناب جابر جیسے عظیم ھیرو کا تذکرہ بہت کم ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بعض شیعہ علم رجال اور حدیث کی کتابوں میں اسی بزرگ ہستی کا نام کھیں پہ استعمال نہیں ہوا۔ ابن الندیم شائد شیعہ ہو اس لئے انھوں نے جناب جابر کا نام اور تذکرہ خاص اہتمام اور احترام کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری دنیا کو بالآخر ماننا پڑا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے جس طرح لائق و فائق علماء تیار کئے ہیں اتنے اور کسی مذھب نے پیشوا نہیں کئے۔

ھشام بن الحکم

امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک اور معروف شاگرد کا نام ھشام بن الحکم ہے۔ یہ شخص واقعتاً نابغہ روزگار ہے، اپنے دور کے تمام دانشوروں پر ہمیشہ ان کو برتری حاصل رہی ہے۔ آپ جب بھی کسی موضوع پر بات چیت کرتے تو سننے والوں کو مسحور کر دیتے۔ اس مرد قلندر کی زبان میں عجیب تاثیر تھی۔ جناب ھشام سے بڑے بڑے علماء آکر شوق وذوق کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے اور سمندر علم کی جولانیوں اور طوفان خیزیوں کو دیکھ کر وہ اپنے اندر ایک خاص قسم کا اطمینان و سکون حاصل کرتے۔ یہ سب کچھ میں اہل سنت بھائیوں کی کتب سے پیش کر رہا ہوں۔ ابو الھزیل علاف ایک ایرانی النسل دانشور تھے۔ آپ علم کلام کے اعلی پایہ کے ماہر تسلیم کیے جاتے تھے۔ شبلی نعمانی تاریخ علم کلام میں لکھتا ہے کہ ابو الھزیل کے مقابلے میں کوئی شخص بحث نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن یھی ابو الھزیل ھشام بن الحکم کے سامنے آنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ جناب ھشام نے جدید علوم میں جدید تحقیق کو رواج دیا۔ آپ نے طبعیات کے بارے میں ایسے ایسے اسرار و رموز کو بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کے وھم و خیال میں بھی نہ تھے۔ ان کا کھنا ہے کہ رنگ و بو انسانی جسم کا ایک مستقل جزو ہے اور وہ ایک ایسی چیز ہے جو فضا میں پھیل جاتی ہے۔

ابو الھزیل ھشام کے شاگردوں میں سے تھا اور وہ اکثر اپنی علمی آراء میں اپنے استاد محترم جناب ھشام کا حوالہ ضرور دیا کرتے تھے۔ اور ھشام امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی پر نہ فقط فخر کیا کرتے تھے بلکہ خود کو "خوش نصیب" کھا کرتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے پھلے عرض کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے تعلیم و تربیت اور تھذیب و تمدن کے فروغ اور احیاء کے لیے شب و روز کام کیا۔ فرصت کے لمحوں کو ضروری اور اہم کاموں پر استعمال کیا، چونکہ ہمارے آئمہ میں سے کسی کو کام کرنے کا موقعہ ہی نہ دیا گیا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام واحد ہستی ہیں کہ جنھوں نے بہت کم عرصے میں صدیوں کا کام کر دکھایا۔ پھر امام رضا علیہ السلام کو بھی علمی و دینی خدمات کے حوالے سے کچھ کام کرنے کا موقعہ میسر آیا۔ ان کے بعد فضا بدتر ہوتی چلی گئی، حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا دور انتھائی مصیبتوں، پریشانیوں اور دکھوں کا دور ہے۔ آپ پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد کر دی گئیں، بغیر کسی وجہ اور جرم و خطا کے آپ کو زندگی بھر زندانوں میں رہ کر اسیرانہ زندگی بسر کرنی پڑی۔

ان کے بعد دیگرائمہ طاہر ین علیھم السلام عالم جوانی میں شھید کر دیئے گئے۔ ان کا دشمن بھی کتنا بزدل تھا کہ اکثر کو زھر کے ذریعہ شھید کر دیا گیا۔ ان پر عرصہ حیات ا س لیے تنگ کر دیا تھا کہ وہ علم و عمل کے فروغ اور انسانیت کی فلاح و بھبود کے لیے کام نہ کر سکیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو ایک تو کام کرنے کا موقع مل گیا دوسرا آپ نے عمر بھی لمبی پائی تقریباً ستر ( ۷۰) سال تک زندہ رہے۔

اب یہ صورت حال کس قدر واضح ہو گئی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے ادوار میں کتنا فرق تھا؟ امام عالی مقام علیہ السلام کو ذرا بھر کام کرنے کا موقعہ نہ مل سکا، یعنی حالات ہی اتنے نا گفتہ بہ تھے کہ مصیبتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے سخت پریشان رہے۔ پھر انتھائی بے دردی کے ساتھ آپ کو شھید کر دیا گیا، لیکن آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی مظلومیت نے پوری دنیا میں حق و انصاف کا بول بالا کر دیا اور ظالم کا نام اور کردار ایک گالی بن کر رہ گیا۔

امام حسین علیہ السلام کے لیے دو ہی صورتیں تھیں ایک یہ کہ آپ خاموش ہو کر بیٹھ جاتے اور عبادت کرتے دوسری صورت وھی تھی جو کہ آپ نے اختیار کی، یعنی میدان جھاد میں اتر کر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کر دی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو حالات و واقعات نے کام کرنے کا وقت اور موقعہ فراہم کر دیا۔ شھادت تو آپ کو نصیب ہونی تھی۔ آپ کو جو نھی موقعہ ملا آپ نے چہار سو علم کی شمعیں روشن کر کے جگہ جگہ روشنی پھیلا دی۔ علم کی روشنی اور عمل کی خوشبو نے ظلمت و جھالت میں ڈوبی ہوئی سوسائٹی کو از سر نو زندہ کر کے اسے روشن و منور کر دیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آئمہ اطہارعليه‌السلام کی زندگی کا مقصد اور مشن اور طریقہ کار ایک جیسا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر امام صادق علیہ السلام نہ ہوتے تو امام حسین علیہ السلام بھی نہ ہوتے۔ اسی طرح امام حسینعليه‌السلام نہ ہوتے تو امام صادقعليه‌السلام نہ ہوتے۔ یہ ہستیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے ظلم اور باطل کے خلاف جھاد کرتے ہوئے شھادت پائی۔ پھر آنے والے آئمہ اطہارعليه‌السلام نے ان کے فلسفہ شھادت اور مقصد قیام کو عملی لحاظ سے پایہ تکمیل تک پھنچایا۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اگر چہ حکومت وقت کے خلاف علانیہ طور پر جنگ شروع نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بھی پوری دنیا جانتی ہے کہ آپ حکام وقت سے نہ فقط دور رہے بلکہ خفیہ طور پر ان کے ساتھ بھر پور مقابلہ بھی کیا۔ ایک طرح کی امام علیہ السلام سرد جنگ لڑتے رہے۔ آپعليه‌السلام کی وجہ سے اس وقت کے ظالم حکمرانوں کی ظالمانہ کاروائیوں کی داستانیں عام ہوئیں اور ان کی آمریت کا جنازہ اس طرح اٹھا کہ مستحق لعن و نفریں ٹہرے، یھی وجہ ہے کہ منصور کو مجبور ہو کر کھنا پڑا کہ:

"هذا الشجی معترض فی الحلق"

کہ جعفر بن محمد میرے حلق میں پھنسی ہوئی ھڈی کے مانند ہیں۔ میں نہ ان کو باہر نکال سکتا ہوں اور نہ نگلنے کے قابل رہا ہوں نہ میں ان کا عیب تلاش کرکے ان کو سزادے سکتا ہوں، اور نہ ان کو برداشت کرسکتا ہوں۔"

یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ہمارے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔برداشت کر رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ امام علیہ السلام نے ہمارے خلاف لوگوں کو ایک نہ ایک دن اکٹھا کر ہی لینا ہے۔ اس کے باوجود بھی میں اتنا بے بس ہوں کہ ان کے خلاف ذرا بھر اقدام نہیں کرسکتا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام علیہ السلام نے اپنی حسن سیاست اور بھترین حکمت عملی کی بدولت اپنے مکار، عیار اور با اختیار دشمن کو بے بس کیے رکھا۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے دشمنوں، مخالفوں کے مقابلے میں ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہوشیاری و بیداری کے ساتھ ساتھ ہمارا قومی و ملی اتحاد بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارا بزدل دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ کسی وقت بھی ہمیں نقصان پھنچا سکتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے۔ طاقت و غلبہ کے تصور کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو وقت کی نبض تھام کر سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں اور پھر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

علمی پیشرفت کے اصل محرکات

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں غیر معمولی طور پر ترقی ہوئی ہے۔ معاشرہ میں فکر و شعور کو جگہ ملی گویا سوئی ہوئی انسانیت ایک بار پھر پوری توانائی کے ساتھ جاگ اٹھی، بحثوں، مذاکروں اور مناظروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ انھی مذاکرات سے اسلام کو بہت زیادہ فائدہ ہوا، علمی ترقی اور پیشرفت کے تین بڑے محرکات ہمیں اپنی طرف متوجہ کرنے ہیں۔ پہلا سبب یہ تھا کہ اس وقت پورے کا پورا معاشرہ مذھبی تھا۔ لوگ مذھبی و دینی نظریات کے تحت زندگی گزار رہے تھے۔

پھر قرآن و حدیث میں لوگوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ لوگوں سے کھا گیا تھا کہ جو جانتے ہیں وہ نہ جاننے والوں کو تعلیم دیں، حسن تربیت کی طرف بھی اسلام نے خصوصی توجہ دی ہے۔ یہ محرک تھا کہ جس کی وجہ سے علم و دانش کی اس عالمگیر تحریک کو بہت زیادہ ترقی ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے قافلے کے قافلے اس کا رواں علم میں شامل ہوگئے۔ دوسرا عامل یہ تھا کہ مختلف قوموں، قبیلوں، علاقوں اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔ ان افراد کو تحصیل علم سے خاص لگاؤ تھا۔ تیسرا محرک یہ تھا کہ اسلام کو ہی وطن قرار دیا گیا یعنی جھاں اسلام ہے اس شھر، علاقے اور جگہ کو وطن سمجھا جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس وقت جتنے بھی ذات پات اور نسل پرستی تصورات تھے وہ اسی وقت دم توڑ گئے۔ اخوت وبرادری کا تصور رواج پکڑنے لگا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اگر استاد مصری ہے تو شاگرد خراسانی یا شاگرد مصری ہے تو استاد خراسانی، ایک بہت بڑا دینی مدرسہ تشکیل دیا گیا۔ آپ کے حلقہ درس میں نافع، عکرمہ جیسے غلام بھی درس میں شرکت کرتے ہیں، پھر عراقی، شامی، حجازی، ایرانی، اور ھندی طلبہ کی رفت و آمد شروع ہوگئی۔ دینی ادارے کی تشکیل سے لوگوں کا آپس میں رابط بڑھا اور اس سے ایک ہمہ گیر انقلاب کا راستہ ہموار ہوا۔ اس زمانے میں مسلم، غیر مسلم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے۔ رواداری کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری موجود تھے۔ وہ مسلمانوں اور ان کے علماء کا دلی طور پر احترام کرتے بلکہ غیر مسلم مسلمانوں کے علم و تجربہ سے استفادہ کرتے۔ پھر کیا ہوا؟ کہ دوسری صدی میں مسلمانوں کی اقلیت اکثریت میں بدل گئی ۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کا عیسائیوں کے ساتھ روداری کا مظاہر ہ کرنا کافی حد تک مفید ثابت ہوا۔ حدیث میں بھی ہے کہ اگر آپ کو کسی علم یا فن کی ضرورت پڑے اور مسلمانوں کے پاس نہ ہو تو وہ غیر مسلم سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ نھج البلاغہ میں اس چیز کی تاکید کی گئی ہے اور علامہ مجلسی (رح) نے بحار میں تحریر فرمایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:

"خذوا الحکمة ولو من مشرک"

"یعنی اگر آپ کو مشرک سے بھی علم و حکمت حاصل کرنا پڑے تو وہ ضرور حاصل کریں"۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ:

"الحکمة ضالة المؤمن یاخذها اینما وجدها"

"یعنی حکمت مومن کا گم کردہ خزانہ ہے اس کو حاصل کرو چاہے جھاں سے بھی ملے۔"

بعض جگھوں میں یہ بھی کھا گیا ہے کہ:

"ولو من ید مشرک"

کہ خواہ پڑھانے والا مشرک ہی کیوں نہ ہو۔"

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

( یؤتی الحکمة من یشاء ومن یوت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً ) (۲۶)

"اور جس کو (خدا کی طرف سے) حکمت عطا کی گئی تو اس میں شک ہی نہیں کہ اسے خوبیوں کی بڑی دولت ہاتھ لگی۔"

واقعاً صحیح ہے کہ علم مومن کا گمشدہ خزانہ ہے اگر انسان کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ اس کے لئے کتنا پریشان ہوتا ہے اور ا س کو کس طرح تلاش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کی ایک قیمتی انگوٹھی ہو اگر وہ گم ہوجائے، تو آپ جگہ جگہ چھان ماریں گے اور اگر وہ آپ کو مل جائے تو بہت زیادہ خوشی ہوگی۔ علم سے زیادہ قیمتی چیز کونسی ہوسکتی ہے اس کو تلاش کرنے اور طلب کرنے کیلئے انسان کو اتنی محنت کرنی چاہی ے۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تعلیم دینے والا اور فن سیکھانے والا مومن و مسلمان ہی ہو، بلکہ آپ علوم اور جدید ٹیکنالوجی کافروں، مشرکوں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے "مومن علم کو کافر کے پاس عارضی مال کے طور پر دیکھتا ہے اور خود کو اس کا اصلی مالک سمجھتا ہے" اور وہ خیال کرتا ہے کہ علم کا لباس مومن ہی کو جچتا ہے کافر کو نھیں۔

جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اس بات کا سبب بنا کہ وہ تحقیق و تلاش کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان، عیسائی، یھودی، مجوسی وغیرہ سب ایک جگہ، ایک شھر، ایک محلّہ میں رہتے تھے۔ وہ انتھا پسندی کا مظاہر ہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے۔ یہ بات پورے معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوئی۔ مشہور مور خ جرجی زیدان نے اس وسعت قلبی کو انسانی معاشرہ بالخصوص مسلمانوں کے لیے نیک شگون قرار دیا ہے۔ وہ سید رضی کے واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سید رضی اپنے دور کے بہت بڑے عالم دین تھے بلکہ غیر معمولی طور پر درجہ اجتھاد پر فائز تھے۔ آپ سید مرتضی علم الھدی کے چھوٹے بھائی تھے جب ان کے ہم عصر عالم دین ابو اسحٰق صابی نے انتقال کیا تو رضی نے ان کی شان مین ایک قصیدہ کھا۔ ابو اسحٰق صابی مسلمان نہ تھے یہ مجوسی فرقے سے ملتے جلتے خیالات کے حامل تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عیسائی ہوں۔ یہ اعلی پایہ کے ادیب، ممتاز دانشور تھے۔ ادیب ہونے کے ناطے سے قرآن مجید سے بہت زیادہ عقیدت رکھتے تھے۔ وہ اپنی تحریر و تقریر میں قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ ماہ رمضان میں دن کو کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ ایک غیر مسلم ہیں تو رمضان میں دن کو کھاتے پیتے کیوں نہیں ہیں تو کھا کرتے تھے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ہم افراد معاشرہ کا احترام کرتے ہوئے ان کی مذھبی اقدار کا احترام کریں چنانچہ سید رضی نے کہا۔

ارایت من حملوا علی الاعواد

ارایت کیف خبا ضیاء النادی

کیا آپ نے دیکھا کہ یہ کون شخص تھا کہ جس کو لوگوں نے تابوت میں رکھ کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا؟ کیا آپ نے سمجھا ہے کہ ہماری محفلوں کا چراغ بجھ گیا ہے؟ یہ ایک پہاڑ تھا جو گرگیا کچھ لوگوں نے سید رضی پر اعتراض کیا کہ آپ ایک سید، اولاد پیغمبر اور بزرگ عالم دین ہوتے ہوئے ایک کافر کی تعریف کی ہے؟ فرمایا جی ہاں:

"انما رثیت علمه"

کہ میں نے اس کے علم کا مرثیہ کھا ہے۔"

وہ ایک بہت بڑا عالم تھا، دانشمند تھا میں نے اس پر اس لیے مرثیہ کھا کہ اہل علم ہم سے جدا ہو گیا ہے، اگر اس زمانے میں ایسا کیا جائے تو لوگ اس عالم کو شھر بدر کردیں گے۔ جرجی زیدان کھتا ہے کہ ایک جلیل القدر عالم دین نے حسن اخلاق اور رواداری کا مظاہر ہ کر کے اپنی خاندانی عظمت اور اسلام کی پاسداری کا عملی ثبوت دیا ہے۔ سید رضی حضرت علی علیہ السلام کے ایک لحاظ سے شاگر تھے۔ کہ انھوں نے مولا امیر المومنین علیہ السلام کے بکھرے ہوئے کلام کو جمع کر کے نھج البلاغہ کے نام سے ایک ایسی کتاب تالیف کی کہ جسے قرآن مجید کے بعد بہت زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سید رضی اپنے جد امجد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات سے بہت زیادہ قریب تھے۔ اسی لیے تو کھتے ہیں کہ علم و حکمت جھاں کھیں بھی ملے اسے لے لو۔ یہ تھے وہ محرکات کہ جن کی وجہ سے لوگوں میں فکری و نظریاتی اور شعوری طور پر پختگی پیدا ہوئی اور تعلیم و تربیت، علم و عمل کے حوالے سے جتنی بھی ترقی ہے یہ سب کچھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی مھربانیوں کا نتیجہ ہے۔ پس ہماری گفتگو کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر چہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو ظاہر ی حکومت نہیں ملی اگر مل جاتی تو آپ اور بھی بھتر کارنامے انجام دیتے لیکن آپ کو جس طرح اور جیسا بھی کام کرنے کا موقعہ ملا آپ نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر بے شمار قابل ستائش کام کیے۔ مجموعی طور پر ہم کھہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے جتنے بھی علمی و دینی کارنامے تاریخ میں موجود ہیں وہ سب صادق آل محمد علیہ السلام کے مرہون منت ہیں۔

شیعہ تعلیمی مراکز تو روز روشن کی طرح واضح ہیں۔ اہل سنت بھائیوں کے تعلیمی و دینی مراکز میں امام علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ علوم کی روشنی ضرور پھنچی ہے۔ اہل سنت حضرات کی سب سے بڑی یونیورسٹی الازھر کو صدیوں قبل فاطمی شیعوں نے تشکیل دیا تھا اور جامعہ ازھر کے بعد پھر اہل تسنن کے مدرسے اور دینی ادارے بنتے چلے گئے۔ ان لوگوں کے اس اعتراض (کہ امام علیہ السلام میدان جنگ میں جھاد کرتے تو بھتر تھا؟) کا جواب ہم نے دے دیا ہے ان کو یہ بات بھی بغور سننی چاہی ے کہ اسلام جنگ کے ساتھ کبھی نہیں پھیلا بلکہ اسلام تو امن و سلامتی کا پیامبر ہے۔ مسلمان تو صرف دفاع کرنے کا مجاز ہے، آپ اسے جھاد کے نام سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ امام علیہ السلام کی حلم و بردباری اور حسن تدبر نے نہ فقط ماحول کو خوشگوار بنایا بلکہ لوگوں کو شعور بخشا، علم جیسی روشنی سے مالا مال کر دیا، اسلام اور مسلمانوں کی عظمت و رفعت میں اضافہ ہوا۔

باقی رہا یہ سوال کہ ائمہ طاہر ینعليه‌السلام عنان حکومت ہاتھ میں لے کر اسلام اور مسلمانوں کی بخوبی خدمت کر سکتے تھے انھوں نے اس موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھایا پر امن رہنے کے باوجود بھی ان کو جام شھادت نوش کرنا پڑا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حالات اس قدر بھی سازگار و خوشگوار نہ تھے کہ آئمہ اطہارعليه‌السلام کو حکومت و خلافت مل جاتی؟ امام علیہ السلام نے حکمرانوں سے ٹکرانے کی بجائے ایک اہم تعمیری کام کی طرف توجہ دی۔ علماء فضلاء، فقھاء اور دانشور تیار کر کے آپ نے قیامت تک کے انسانوں پر احسان عظیم کر دیا۔ وقت وقت کی بات ہے آئمہ طاہر ین علیھم السلام نے ہر حال، ہر موقعہ پر اسلام اور مظلوم طبقہ کی بھر پور طریقے سے ترجمانی کی۔ حضرت امام رضا علیہ السلام کو مامون کی مجلس میں جانے کا موقعہ ملا آپ نے سرکاری محفلوں اور حکومتی میٹنگوں میں حق کی کھل کر ترجمانی کی اور جیسے بھی بن پڑا غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مددکی۔ امام رضا علیہ السلام دو سال تک مامون کے قریب رہے۔ اس دور میں آپ سے کچھ نہ کچھ احادیث نقل کی گئیں اس کے بعد آپ کی کوئی حدیث نظر نہیں آتی۔ دوسرے لفظوں میں مامون کے دور میں آپ کو دین اسلام کی ترویج کیلئے کام کرنے کا موقعہ ملا اس کی وجہ مامون کی قربت ہے اس کے بعد پابندیوں کا دور شروع ہو گیا۔ آپ جو کرنا چاہتے تھے وہ بندشوں اور رکاوٹوں کی نظر ہو گیا۔ پھر آپ کو جام شھادت نوش کرنا پڑا۔ جو آپ کے باپ دادا کے ورثہ میں شامل تھا۔

ایک سوال اور ایک جواب

سوال:کیا جابر بن حیان نے ذاتی طور پر امام جعفر صادق علیہ السلام سے علم حاصل کیا تھا؟

جواب:میں نے عرض کیا ہے کہ یہ ایک سوال ہے جو تاریخ میں واضح نہیں ہے ابھی تک تاریخ یہ فیصلہ نہ کر سکی کہ جابر بن حیان نے سوفی صد امام جعفر صادق علیہ السلام سے درس حاصل کیا ہے۔ البتہ کچھ ایسے مورخین بھی ہیں جو جابر کو امام علیہ السلام کا شاگردتسلیم نہیں کرتے ۔ان کا کہنا ہے کہ جابر کا زمانہ امام علیہ السلام کے بعد کا دوران ہے ان کے مطابق جابر امام علیہ السلام کے شاگردوں کا شاگرد ہے۔ لیکن بعض کھتے ہیں کہ جابر نے براہ راست امام علیہ السلام سے کسب فیض کیا ہے۔ جابر نے ان علوم میں مہارت حاصل کی ہے کہ جو پھلے موجود نہ تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے مخلتف شعبوں میں اپنے ہونہار شاگرد تیار کیے تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ اس سمندر علم سے ہر کوئی اپنی اپنی پیاس بجھا کر جائے۔

جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام نے کمیل بن زیاد سے فرمایا ہے:

"ان ههنا لعلما جما لو اصبت له حملة" (۲۷)

آپ نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا دیکھو یہاں علم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش! اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے۔"ھاں کوئی تو ایسا؟ جو ذہین تو ہے نا قابل اطمینان ہے اور دنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا ہے۔ یا جو ارباب حق ودانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے۔


امام موسی کاظمعليه‌السلام کی شھادت اور اس کے محرکات

"انتم الصراط الاقوم والسبیل الاعظم وشهداء دار الفناء وشفعاء دار البقاء" (۲۸)

"آپ ہی صراط اقوام (بہت ہی سیدھا راستہ) ہیں، عظیم ترین راستہ (وسیلہ) اس فانی دنیا کے گواہ، باقی رہنے والی دنیا کے شفیع ہیں۔"

چونکہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم اور مشیت سے زندہ ہیں ان کے علاوہ باقی آئمہ طاہر ین علیھم السلام جام شھادت نوش فرما چکے ہیں۔ان میں سے کوئی امام بھی طبعی موت یا کسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے نہیں گیا۔ ہمارے آئمہ اطہار شھادت کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ سب سے پھلے تو ہمارا ہر امام ہمیشہ اپنے لیے خدا سے شھادت کی دعا کرتا ہے۔ پھر انھوں نے جو ہمیں دعائیں تعلیم فرمائیں ہیں ان میں سے بھی شھادت سب سے پسندیدہ چیز متعارف کی گئی ہے جیسا کہ ہمارا آقا و مولا حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔ میں بستر کی موت کو سخت ناپسند کرتا ہوں۔ مجھ پر ھزار ٹوٹ پڑنے والی تلواریں اور ھزاروں زخم اس سے کھیں بھتر ہیں کہ میں آرام سے بستر کی موت مروں۔ ان کی دعاؤں میں یھی التجاء ہے، تمناؤں میں یھی تمنا، آرزوؤں میں یھی آرزو، مناجات میں یھی دعا ہے کہ خدا ہمیں شھادت کے سرخ خون سے نھلا کر اپنی ابدی زندگی عطا فرما، غیرت رحمیت، حریت، و عظمت میری زندگی کا نصب العین ٹھرے۔ زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

"انتم الصراط الاقوم، والسبیل الاعظم و شهداء دار الفناء وشفعاء دار البقاء"

کہ آپ بہت ہی سیدھا راستہ، عظیم ترین شاہر اہ آپ اس جھان کے شھید اور اس جھان کے شفاعت کرنے، بخشوانے والے ہیں۔"

لفظ شھید امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی کے ساتھ وقف کیا گیا ہے ہم عام طور پر جب بھی آپ کا نام لیتے ہیں"تو الحسین الشھید"کھتے ہیں اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ صادق اور امام موسی ابن جعفر کا لقب موسی الکاظم اور سید الشھداء کا لقب حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ ائمہ طاہر ین علیھم السلام میں سے امام حسین علیہ السلام ہی شھید ہوئے ہیں؟ اس طرح موسی ابن جعفر کے ساتھ کاظم کا لقب ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف وھی کاظم ہیں، امام رضا علیہ السلام کے ساتھ الرضا کا لقب خاص ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے ائمہ رضا نہیں ہیں اگر امام جعفر صادق کو صادقعليه‌السلام کھتے ہیں تو اس کا یہ مفھوم نہیں ہے کہ دوسرے ائمہ صادق نہیں ہیں۔ یہ سارے کے سارے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ہیں اور علیعليه‌السلام بھی ان کی زندگی ایک دوسرے کی زندگی کا عکس ہے۔ تاثیر بھی ایک، خوشبو بھی، ایک سلسلہ نسب بھی ایک مقصد حیات بھی ایک۔

جھاد اور عصری تقاضے

یھاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ تمام ائمہ اطہار علیھم السلام شھید کیوں ہوئے ہیں؟ حالانکہ تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے سوا کوئی امام تلوار لے کر میدان جھاد میں نہیں آیا۔ امام سجادعليه‌السلام خاموشی کے باوجود شھید کیوں ہوئے؟ اسی طرح امام باقرعليه‌السلام ، امام صادقعليه‌السلام امام موسی کاظمعليه‌السلام اور باقی تمام ائمہ شھید کیوں ہوئے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہوگی کہ اگر یہ سمجھیں کہ امام حسینعليه‌السلام اور دیگر ائمہ طاہر ینعليه‌السلام کے انداز جھاد میں فرق ہے؟ اسی طرح کچھ ناسمجھ لوگ تک بھی کھہ دیتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام ظالم حکمرانوں کے ساتھ لڑنے کو ترجیح دیتے تھے اور باقی ائمہ خاموشی کے ساتھ زندگی گزارنا پسند کرتے تھے۔ درحقیقت اعتراض کرنے والے یہ کہہ کر بہت غلطی کرتے ہیں۔ ہمارے مسلمان بھائیوں کو حقیقت حال کو جانچنا اور پھچاننا چاہی ے۔ ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام میں سے کوئی امام ظالم حکومت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ اس لیے خاموش رہتے تھے کہ ظالم حکمران حکومت کرتے رہیں۔ حالات و واقعات کا فرق تھا موقعہ محل کی مناسبت کے ساتھ ساتھ جھاد میں بھی فرق ہے۔ کسی وقت ان کو مجبوراً تلوار اٹھانا پڑی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حالات میں سخت گھٹن پیدا ہوگئی، یہاں تک کہ لوگوں کا سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود ہمارے کسی امام نے بھی حکومت وقت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کیا بلکہ وہ ظالموں، آمروں کو بار بار ٹوکتے اور ان کے مظالم کے خلاف آواز حق بلند کرتے تھے۔

آپ اگر ائمہ طاہر ینعليه‌السلام کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیشہ اور ہر دور میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوموں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ان کی ہر طرح کی مدد بھی کی۔ جب کبھی ان کی اپنے دور کے حکمران سے ملاقات ہوتی تھی تو وہ اس کے منہ پر ٹوک دیتے تھے۔ آپ کو تاریخ میں یہ کبھی نہیں ملے گا کہ آئمہ اطہارعليه‌السلام میں کسی امام نے کسی حکمران کی حمایت کی ہو۔ وہ ہمیشہ مجاہدت میں رہے۔ تقیہ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ آرام و سکون سے زندگی بسر کرنا چاہتے تھے تقیہ وقی سے جیسا کہ تقوی کا مادہ بھی وقی ہے ۔ تقیہ کا معنی یہ ہے کہ خفیہ طور پر اپنا اور اپنے نظریے کا دفاع کرنا۔ ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام تقیہ کی حالت میں جو جو کارنامے سرانجام دیتے شاید تلوار ٹھانے کی صورت میں حاصل نہ ہوتے۔ ہمارے ائمہ کی بھترین حکمت عملی، حسن تدبر اور مجاہدت کی زندگی بسر کرنا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ وقت گزر گیا مورخین نے لکھ دیا کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حق پر تھے۔ ان کا ہر کام اپنے جد امجد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقدس ترین دین کو تحفظ فراہم کر نے کیلئے تھا۔ آج ان کا دشمن دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک قابل نفرین اور مستحق لعنت ہے۔ صدیاں بیت گئیں۔ عبدالملک مروان، اولاد عبدالملک، عبد الملک کے بھتیجے بنی العباس، منصور دوانیقی، ابو العباس سفاح، ہارون الرشید، مامون و متوکل تاریخ انسانیت کے بدنام ترین انسان شمار کیے جاتے ہیں۔ ہم شیعوں کے نزدیک یہ لوگ غاصب ترین حکمران تھے انھوں نے شریعت اسلامیہ کو جتنا نقصان پھنچایا ہے۔ اس پر ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اگر ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام ان کے خلاف جھاد نہ کرتے تو وہ اس سے بڑھ کر بلکہ علانیہ طور پر فسق و فجور کا مظاہر ہ کرتے، نہ جانے کیا سے کیا ہو جاتا۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مخلص نہ تھےائمہ طاہر ینعليه‌السلام کے ساتھ مقابلہ کرنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ظاہر ی طور پر اسلام کا نام لیتے اور علمی مراکز اور مساجد قائم کر کے لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ وہ پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ لیکن ائمہ حق نے نہ صرف ان کے منافقانہ چھروں سے نقاب اٹھا کر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ لوگوں کو بھی راہ راست پر لانے کی بھر پور کوشش کی۔

اگر آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان ظالموں کے خلاف مجاہدت و مقاومت نہ کرتے تو آج تاریخ اسلام میں ان جیسے منافق، خود نما مسلمان حکمرانوں کو اسلام کے ھیرو کے طور پر متعارف کرایا جاتا۔ اگر چہ کچھ اب بھی ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن مسلمان کی اکثریت تاریخی حقائق کو ان کی بات کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ اس نشست میں ہم امام موسی کاظم علیہ السلام کی شھادت کی وجوہات اور محرکات پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ امام علیہ السلام کو شھید کیوں کیا گیا؟ آپ کو سالھا سال کی قید با مشقت اور اسیری کے انتھائی تکلیف دہ ایام گزارنے کے باوجود آپ کو زھر دے کر شھید کیوں کردیا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پر بے پناہ مظالم ڈھانے کے بعد بھی وہ امام کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جب وہ ہر طرح سے ناکام و نامراد ہوگئے تو استقامت اور پائیداری کے اس عظیم المنزلت پہاڑ کو بزدلانہ حرکت کے ذریعہ گرانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔

امام زندان بصرہ میں

امام موسی کاظم علیہ السلام کو ایک زندان میں نہیں رکھا گیا بلکہ آپ کو مختلف زندانوں میں رکھا جاتا۔ آج ایک زندان میں توکل کسی اور زندانوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دینا مقصود تھا اور دوسری وجہ آپ جس جیل میں جاتے وہاں کے قیدی آپ کے مرید بن جاتے۔ سب سے پھلے امام کو عیسی بن ابی جعفر منصور کے زندان میں بھیجا گیا۔ یہ منصور دوانیقی کا پوتا تھا اور بصرہ کا گورنر تھا امام علیہ السلام کی نگرانی اس کے ذمہ تھی۔ یہ عیاش ترین شخص تھا۔ھر وقت نشہ میں مدھوش رھتا اور رقص و سرور، ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرتا تھا۔ ایک کسان کے بقول کہ اس عارف خدا ترس، عابد و زاہد انسان کو ایسی جگہ پر قیدی بنا کر لایا گیا کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، آپ کے کانوں میں ناچنے گانے والوں کی آوازیں آتی تھیں۔ ایسی آوازیں کہ آپ نے زندگی بھر نہ سنی تھیں۔ ۷ ذی الحجہ سال ۱۷۸ کو امام علیہ السلام کو زندان بصرہ میں لایا گیا۔ عید الاضحی کا دن تھا اس لیے لوگ خوشیاں اور جشن منارہے تھے۔ آپ کو روحانی و ذھنی لحاظ سے بہت زیادہ تکلیف پھنچائی گئی۔

آپعليه‌السلام ایک طویل مدت تک اس زندان میں رہے۔ عیسی بن جعفر اہستہ اہستہ آپ کا مرید ہوگیا۔ وہ پھلے آپ کے بارے میں کچھ اور خیال کرتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ امام موسی کاظمعليه‌السلام حکومت و سیاست کیلئے کوشاں ہیں لیکن اس نے جب دیکھا کہ امام علیہ السلام تو بہت ہی عظیم اور عبادت گزار شخصیت ہیں۔ اس کے بعد اس کی سوچ یکسر بدل گئی چناچہ اس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ امام علیہ السلام کے لیے بھترین کمرہ مھیا کیا جائے۔ آپ کا غیر معمولی طور پر احترام کیا جانے لگا۔ ہارون نے اسے پیغام بھیجا کہ اس قیدی کا خاتمہ کر دے۔ عیسی نے جواب میں کھا کہ میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔ بھتر یہ ہے کہ یہ قیدی مجھ سے واپس لے لیا جائے۔ ورنہ میں ان کو آزاد کردوں گا۔ میں اس قسم کے عظیم انسان کو اپنے قید خانے میں نہیں رکھ سکتا چونکہ وہ خلیفہ وقت کا چچا زاد بھائی اور منصور کا پوتا تھا اس لیے اس کی بات میں وزن تھا اور امام کو کسی دوسرے زندان میں منتقل کر دیا گیا۔

امام علیہ السلام مختلف زندانوں میں

حضرت امام موسی کاظم کو بغداد لایا گیا یہاں پر فضل بن ربیع مشھور دروغہ تھا۔ امامعليه‌السلام کو اس کے سپرد کر دیا گیا۔ اس پر تمام خلفاء اعتماد کرتے تھے۔

ہارون نے اس سے خاص تاکید کی تھی کہ امام علیہ السلام کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے بلکہ جتنا ہوسکے ان پر سختی کی جائے لیکن فضل امام کے معصومانہ کردار کو دیکھ کر پسیج گیا اور آپ کا عقیدت مند بن گیا۔ سختی کی بجائے نرمی سے پیش آنے لگا۔ زندان کے کمرے کو ٹھیک کیا اور امام علیہ السلام کو قدرے سھولتیں فراہم کیں۔ جاسوس نے ہارون کو خبر دی کہ امام موسی کاظم فضل بن ربیع کے زندان میں آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ زندان نہیں ہے بلکہ مھمان سرا ہے۔ ہارون نے امام علیہ السلام کو اس سے لے کر فضل بن یحیی برمکی کی نگرانی میں دے دیا۔ فضل بن یحیی بھی کچھ عرصہ کے بعد امامعليه‌السلام سے محبت کرنے لگا۔ ہارون کو جب اس کے رویے کی تبدیلی کی خبر ملی تو سخت غضبناک ہوا اور اپنے جاسوس کو بھیجا کہ جاکر معاملہ کی تحقیق کریں۔ جب جاسوس آئے تو معاملہ ویسا ہی تھا جیسا کہ ہارون کو بتیا گیا تھا۔ہارون فضل برم، کی پر سخت ناراض ہوا اس کا باپ وزیر تھا، یہ ایرانی النسل تھا۔ بہت ہی ملعون شخص تھا۔ اس کو ڈر لاحق ہوا کہ کھیں اس کا بیٹا خلیفہ کی نظروں میں گر نہ جائے، یہ فوری طور پر ہارون کے پاس آیا اور کھا کہ وہ اس کے بیٹے کی غلطی کو معاف کر دے۔ اس کی جگہ پر میں معافی مانگتا ہوں۔ اور میرا بیٹا بھی اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ پھر وہ بغداد آیا امامعليه‌السلام کو اپنے بیٹے کی نگرانی سے لے کر سندی بن شاہک کی نگرانی میں دیا۔ یہ انتھائی ظالم اور سفاک آدمی میں تھا اور مسلمان بھی نہ تھا، اس لیے امام علیہ السلام کے بارے میں اس کے دل ذرا بھر رحم نہ تھا۔ پھر کیا ہوا؟ امام علیہ السلام پر سختی کی جانے لگی اس کے بعد میرے آقا نے کسی لحاظ سے سکون نہیں دیکھا ۔

ہارون کا امام علیہ السلام سے تقاضا

امام علیہ السلام کے زندان میں آخری دن تھے، یہ تقریباً شھادت سے ایک ھفتہ پھلے کی بات ہے۔ ہارون نے یحیی برمکی کو امام علیہ السلام کے پاس بھیجا اور انتھائی نرم اور ملائم لھجہ کے ساتھ اس سے کھا کہ میری طرف سے میرے چچا زاد بھائی کو سلام کھنا اور ان سے یہ بھی کھنا کہ ہم پر ثابت ہو چکا ہے کہ آپ بے قصور ہیں آپ کا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن افسوس کہ میں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس کو توڑ نہیں سکتا۔ میری قسم یہ کہ جب تک آپ اپنے گناہ کا اعتراف نہ کریں گے اور مجھ سے معافی نہیں مانگیں گے تو آپ کو آزاد نہیں کروں گا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے آپ صرف یحیی کے سامنے اعتراف جرم کرلیں۔ میرے سامنے معافی مانگنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اعتراف جرم کے وقت بہت سے لوگ موجود ہوں میں تو صرف اتنا ہی چاہتا ہوں کہ اپنی قسم نہ توڑوں۔ آپ یحیی برمکی کے سامنے اعتراف گناہ کر لیں اور صرف اتنا کھہ دیں کہ معافی چاہتا ہوں، میں نے غلطی کی ہے مجھے معاف کر دیجئے تو میں آپ کو آزاد کردوں گا۔ اس کے بعد میرے پاس تشریف لے آیئے اور میں آپ کی ہر طرح کی خدمت کروں گا۔

اب اس استقامت کوہ گراں کی طرف دیکھئے۔ یہ شفیح روز جزاء کیوں ہیں؟ یہ شھید کیوں ہو جاتے ہیں؟ یہ ایمان اور اپنے نظریہ کی پختگی کی وجہ سے شھید کیے گئے اگر یہ سب آئمہ اپنے موقف کو بدل دیتے اور احکام وقت کی ہاں میں ہاں ملاتے تو ہر طرح کا آرام و سکون حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن رات اور دن اور حق و باطل، روشنی اور تاریکی، سچ اور جھوٹ ایک جگہ پر جمع نہیں ہوسکتے۔ بھلا امام وقت کسی حاکم وقت کے ساتھ کس طرح سمجھوتہ کر سکتا ہے؟! آپ نے یحی کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ہارون سے کھہ دینا کہ میری زندگی کے دن ختم ہو چکے ہیں اس کے بعد تو جان اور تیرا کام جانے۔ ہم نے جو کرنا تھا وہ کرچکے۔ اس کے بعد میرے آقا کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا ۔

امام علیہ السلام کی گرفتاری کی وجہ

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ ہارون نے امام علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم کیوں دیا تھا؟ اس لیے کہ وہ امام علیہ السلام کی عوام میں غیر معمولی مقبولیت کے باعث آپ سے حسد کرتا تھا اور اس کو یہ بھی ڈر تھا کہ لوگ ہمیں چھوڑ کر امام علیہ السلام کو اپنا مذھبی و سیاسی رھنما نہ بنالیں۔ ہارون دیگر خلفاء کی مانند آل محمد علیھم السلام کے ہر فرد سے ھراساں رھتا وہ اس خدشہ کے تحت ہمیشہ چوکنا رھتا تھا کہ آل رسول کھیں انقلاب نہ لے آئیں۔ وہ روحانی و نظریاتی انقلاب سے بھی ڈرتے تھے۔ اس لیے وہ لوگوں کو آئمہ طاہر ین علیھم السلام کے ساتھ ملنے نہ دیا کرتے، لوگوں کی آمد و رفت پر مکمل طور پر پابندی تھی۔ جب ہارون نے چاہا کہ اپنے بیٹوں امین اور اس کے بعد مامون اور اس کے بعد موتمن کی ولیعھدی کا دوبارہ رسمی طور پر اعلان کرے تو وہ شھر کے علماء اور زعماء کو دعوت کرتا ہے کہ وہ مکہ میں اس سلسلے میں بلائی جانے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کریں اور سب لوگ اس کی دوبارہ بیعت کریں لیکن سوچتا ہے کہ اس منصوبہ اور پروگرام کے سامنے رکاوٹ کون ہے؟وہ کون ہے کہ جس کی موجودگی خلیفہ کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔ کون ہے وہ کہ جس کی علمی استعداد اور پاکیزگی کردار لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

کون ہے وہ کہ جس کی معصومانہ کشش اور مظلومانہ انداز احتجاج اس کی حکومت ظلم کی چولیں ھلاسکتا ہے؟ ظاہر ہے وہ امام موسی کاظم علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔ وہ مدینہ آتے ہی امامعليه‌السلام کی گرفتاری کا آرڈر جاری کر دیتا ہے۔ یھی یحیی برمکی ایک شخص سے کھتا ہے کہ مجھے گمان ہے کہ خلیفہ وقت آج نہیں توکل امام علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دے گا۔ اس شخص نے پوچھا وہ کیسے؟ بولا میں خلیفہ مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں گئے تو اس نے اس انداز میں حضور پر سلام کیا السلام علیک یاابن العم۔ سلام ہو آپ پر اے میرے چچا کے بیٹے۔ آپ سے معزرت چاہتا ہوں ۔ میں آپ کے بیٹے موسی کاظم کو گرفتار کرنے پر مجبور ہوں (گویا وہ پیغمبر اسلام کے سامنے بھی جھوٹ بول رہا تھا) اگر میں ایسا اقدام نہ کروں تو ملک میں بہت بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔ اجتماعی اور ملکی مفاد کیلئے کچھ دیر کیلئے امام علیہ السلام کو نظر بند کر رہا ہوں۔ یا رسول اللہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ یحیی نے اپنے ساتھی سے کھا دیکھ لینا آج کل امام علیہ السلام نظر بند ہو جائیں گے۔ چناچہ ہارون نے امام کی گرفتاری کے لیے احکامات صادر کر دیئے۔ پولیس امامعليه‌السلام کے گھر گئی تو آپ وہاں پر موجود نہ تھے۔ پھر وہ مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آئے دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ ان ظالموں نے آپ کو نماز مکمل کرنے کا موقعہ ہی نہ دیا۔ نماز کے دوران امام کو پکڑ کر زبردستی مسجد سے باہر لے آئے۔ اس وقت حضرت نے قبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حسرت بھری نگاہ سے دیکھا اور عرض کی "السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا جداہ" نانا اپنے اسیر و مجبور بیٹے کا سلام قبول فرمائے دیکھ لیا آپ نے کہ آپ کی امت آپ کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے؟

ہارون ایسا کیوں کر رہا ہے؟اس لیے کہ اپنے بیٹوں کی ولی عھدی کیلئے لوگوں کو بیعت پر مجبور کرے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام خاموش رہے ۔ صبر و تحمل سے کام لیا کسی قسم کا انقلاب برپا کرنے کی بات نہ کی کیونکہ اس وقت کا ماحول بالکل آپ کے خلاف تھا کوئی بھی نہ تھا کہ جو آپ کی حمایت کرتا جو حامی تھے وہ بہت مجبور تھے۔ لیکن آپ کی اسیری کا انداز ظالمانہ نظام حکومت کے خلاف پر زور احتجاج بھی تھا اور آمریت کے منہ پر طمانچہ بھی آپ نے قول و فعل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہارون اور اس کے بیٹے غاصب ہیں، مجرم ہیں ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں ۔

مامون کی باتیں

مامون کا طرز زندگی ایسا تھا کہ بہت سے مورخین اس کو شیعہ کھتے اور لکھتے ہیں۔ میرے عقیدہ کے مطابق یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص ایک چیز پر عقیدہ رکھتا ہو لیکن وہ عمل بھی اس پر کرے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شیعہ ہو اور اس کا شمار شیعہ دانشوروں میں سے ہوتا ہو۔ تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ اس نے علماء اہل سنت کے ساتھ متعدد بار مباحثے و مناظرے کیے ہیں۔ میں نے کسی ایسے شیعہ عالم کو نہیں دیکھا جو اس جیسی بھترین گفتگو کرتا ہو۔ چند سال پیش ترکی کے ایک سنی جج کی ایک کتاب چھپی اس کا فارسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے ۔ اس کتاب میں مامون کے اہل سنت علماء کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت حقہ کے بارے میں مباحثے، مناظرے درج کیے گئے ہیں۔ مامون کی عالمانہ، فاضلانہ، دانشمندانہ آراء کو پڑھ کر انسان حیران ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس طرح کی بحثیں تو بڑے سےبڑا عالم بھی نہ کرسکے ۔ مورخین نے لکھا ہے کہ مامون نے ایک مرتبہ کھا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے شیعہ ہونا کس سے سیکھا ہے تو میں کھوں گا کہ میں نے شیعیت کا درس اپنے بابا ہارون سے حاصل کیا ہے ۔

کسی نے بالآخر کھہ ہی دیا کہ تمہارے بابا تو شیعہ اور آئمہ شیعہ کا سخت ترین مخالف ار کٹر دشمن تھا، تو اس نے کھا ھاں ایسا ہی ہے، لیکن میں آپ کو ایک واقعہ سنا تا ہوں وہ یہ کہ میں ایک مرتبہ اپنے بابا کے ہمراہ حج پر گیا اس وقت میں بچہ تھا سب لوگ بابا سے ملنے کیلئے آجارہے تھے ۔ خاص طور پر علماؤ، مشائخ اور زعمائے ملت کی خلیفہ وقت کے ساتھ خصوصی میٹنگیں تھیں ۔ بابا کا حکم تھا کہ جو بھی آئے سب سے پھلے اپنا تعارف خود کروائے، یعنی اپنا نام تمام شجرہ نسب بیان کرے تاکہ خلیفہ کو معلوم ہو کہ یہ قریش سے ہے یا غیر قریش ہے۔ اگر انصار میں سے ہے تو خرزی قبیلہ سے ہے یا اوسی قبیلہ سے۔ سب سے پھلے نوکر اطلاع کرتا کہ آپ کو فلاں شخص، فلاں کا بیٹا ملنے آیا ہے ۔ ایک روز نوکر آیا اس نے بابا سے کھا کہ آپ سے ایک نوجوان ملنے آیا ہے، اور کھتا ہے کہ وہ موسی ابن جعفر بن محمد بن علی ابن الحسین بن علی ابن ابی طالبعليه‌السلام ہے۔ اس نے اتنا ہی کھنا تھا کہ میرا بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور کھا کہ ان سے کھو کہ تشریف لے آئیں۔ پھر بولا کہ ان کو سواری سمیت آنے دیا جائے اور ہمیں حکم دیا کہ اس عظیم القدر شھزادے کا استقبال کیا جائے۔ جب ہم استقبال کیلئے گئے تو دیکھا کہ عبادت وتقوی کے آثار آپ کی پیشانی سے جھلک رہے تھے۔ چھرہ اقدس پر نور ہی نور تھا۔ ان کو دیکھتے ہی ہر انسان نجوبی سمجھ جاتا تھا کہ یہ نوجوان انتھائی پ رہی زگار اور متقی شخص ہے۔ بابا نے دور سے زور سے آواز دی کہ آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ سواری سمیت آئیں۔ وہ نوجوان چند قدم سواری سمیت آیا ہم جلدی سے دوڑے اور اس کی رکاب پکڑ کر اس کو نیچے اتارا۔ انھوں نے انتھائی شائستگی و متانت سے سب کو سلام کیا۔ بابا نے ان کا بہت زیادہ احترام کیا ان کی اور ان کے بچوں کی خیر خیریت دریافت کی۔ پھر پوچھا کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے۔ انھوں نے جواب میں کھا الحمد للہ میں اور میرے اہل و عیال سب ٹھیک ہیں۔ اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے ۔ جب وہ جانے لگے تو بابا نے ہم سے کھا جاؤ ان کو گھوڑے پر سوار کراؤ۔

جب میں ان کے قریب گیا تو اہستگی سے مجھ سے کھا کہ تم ایک وقت خلیفہ بنو گے میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ میری اولاد سے برا سلوک نہ کرنا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ واپس آیا مین تمام بھائیوں کی نسبت زیادہ جرات مند تھا۔ موقع پا کر بابا کے پاس آیا اور کھا کہ جس کا آپ اتنا زیادہ احترام کر رہے تھے وہ تھا کون؟ بابا مسکرا کر کھنے لگے بیٹا اگر تو سچ پوچھتا ہے تو جس مسند پر ہم بیٹھے ہیں یہ ان ہی کی تو ہے ۔ میں نے کھا کیا آپ جو کھہ رہے ہیں دل سے کھہ رہے ہیں؟ بابا نے کھا کیوں نھیں۔ میں نے کھا بس خلافت ان کو دے کیوں نہیں دیتے؟کھا کیا تو نہیں جانتا کہ "الملک عقیم"؟ تو میرا بیٹا ہے اگر مجھے پتا چلے کہ میری حکومت کے خلاف تیرے دل میں فطور پیدا ہوا ہے اور تو میرے خلاف سازش کرنا چاہتا ہے تو تیرا سر قلم کر دوں گا۔ وقت گزرتا رہا ہارون لوگوں کو انعامات سے نوازتا رہا۔ پانچ ھزار سرخ دینار ایک شخص کی طرف اور چار ھزار دینار کسی دوسرے شخص کی طرف۔ میں نے سمجھا کہ بابا جس شخصیت کا حد سے زیادہ احترام کر رہے تھے ان کی طرف بھی زیادہ مقدار میں بھیجیں گے لیکن اس نے ان کی طرف سے سب سے کم رقم ارسال کی یعنی دوسو دینار۔ میں نے وجہ پوچھی تو بابا نے کھا کیا تو نہیں جانتا کہ یہ ہمارے رقیب ہیں سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ہمیشہ تنگدست رہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہ ہو کیونکہ اگر ان کے پاس دولت آگئی تو ممکن ہے ایک لاکھ تلوار کے ساتھ تمہارے بابا کے خلاف انقلاب برپا کردیں ۔

روحانی اعتبار سے امامعليه‌السلام کا اثر و رسوخ

یھاں سے آپ اندازہ لگایئے کہ شیعوں کے آئمہ کا روحانی اثر و رسوخ کس قدر زیادہ تھا۔ وہ نہ تلوار اٹھاتے تھے اور نہ کھلے عام تبلیغ کر سکتے تھے ۔ لیکن ان کی عوام کے دلوں پر حکومت تھی۔ ہارون کی حکومتی مشنری میں ایسے ایسے افراد موجود تھے جو امام علیہ السلام کو دل و جان سے چاہتے تھے ۔ دراصل حق اور سچ ایسی حقیقت ہے جو اندر بلا کی کشش رکھتی ہے ۔ آج آپ نے اخبار میں پڑھا ہو گا کہ اردن کے شاہ حسین نے کھا کہ میں اب سمجھا کہ میرا ڈرائیور میرے مخالفوں کا آلہ کار ہے اور میرا کچن بھی انھیں کی سازشوں کی زد میں ہے ۔ ادھر علی بن یقطین ہارون الرشید کا وزیر ہے یہ مملکت کا دوسرا ستون ہے۔ لیکن شیعہ ہے۔ تقیہ کی حالت میں زندگی بسر کررہا ہے۔ ظاہر میں ہارون کا کارندہ ہے لیکن پس پردہ امام امام موسی علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ اہداف کی ترجمانی کرتا ہے۔ دو تین مرتبہ علی بن یقطین کے خلاف خلیفہ کو رپوٹ پیش کی گئی لیکن امام علیہ السلام نے اسے قبل از وقت بتا دیا اور اس کو ہوشیار رہنے ک تلقین ک جس کی وجہ سے علی بن یقطین حاکم وقت کے شر سے محفوظ رہا۔ ہارون کی حکومت میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام کے بیحد عقیدت مند تھے۔ لیکن حالات کی وجہ سے امام علیہ السلام سے رابط نہیں رکھ سکتے تھے ۔ اہواز کا رہنے والا ایک ایرانی شیعہ کھتا ہے کہ حکومت وقت نے مجھ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ ادائیگی ک صورت ہی میں مجھے چھٹکارا مل سکتا تھا۔ اتفاق سے انھیں دنوں میں اہواز کا گورنر معزدل ہوگیا۔ نیا گورنر آیا مجھے خوف تھا کہ اس نے آتے ہی مجھ سے ٹیکس کا مطالبہ کرنا ہے ۔ میری فائل کھل گئی تو میرا کیا بنے گا؟ لیکن میرے بعض دوستوں نے مجھ سے کھا کہ گھبراؤ نہیں نیا گورنر اندر سے شیعہ ہے اور تم بھی شیعہ ہو۔ ان کی باتوں کو سن کر مجھے قدرے دلی سکون ہوا۔ لیکن مجھ میں گورنر کے پاس جانے کی ہمت نہ تھی ۔

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ مدینہ جا کر امام موسی کاظم علیہ السلام کا رقعہ لے آؤں (اس وقت آقا گھر پر تھے) میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا گوش گزارا کیا۔ آپ نے تین چار جملے تحریر فرمائے جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ اس مرد مومن کی مشکل حل کی جائے ۔ آخر میں آپ نے لکھا کہ مومن کی مشکل کو حل کرنا اللہ کے نزدیک بہت ہی پسندیدہ عمل ہے۔وہ خط لے کر چھپتے چھپاتے اہواز آیا۔ اب مسئلہ خط پھنچانے کا تھا۔ چناچہ میں رات کی تاریکی میں بڑی احتیاط کے ساتھ گورنر صاحب کے گھر پھنچا۔ دق الباب کیا۔ گورنر کا نوکر باہر آیا میں نے کھا اپنے صاحب سے کھہ دو کہ ایک شخص موسی ابن جعفرعليه‌السلام کی طرف سے آپ کو ملنے آیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ گورنر صاحب فوری طور پر خود دروازے پر آگئے۔ سلام ودعا کے بعد آنے کی وجہ پوچھی میں نے امام علیہ السلام کا خط اس کو دے دیا۔ اس نے خط کو کھول کر اپنی آنکھوں پر لگایا اور آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بعد مجھے اپنے گھر میں لے گیا۔ اور مجھے کرسی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گیا۔ بولا کیا تم امام علیہ السلام کی خدمت اقدس سے ہوکر آئے ہو؟ میں نے کھا جی ھاں پھر گورنر بولا کی آپ نے انھیں آنکھوں سے امام علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔ میں نے کھا جی ھاں۔ پھر کھا آپ کی پریشانی کیا ہے؟میں نے اپنی مجبوری بتائی۔ آپ نے اسی وقت افسروں کو بلایا اور میری فائل کی درستگی کے آرڈر جاری کیے۔ چونکہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مومن کو خوش کرنے سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے گورنر صاحب جب میرا کام کرچکے تھے تو مجھ سے بولے ذرا ٹھر جاؤ میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ میرے پاس جتنا سرمایہ ہے اس کا آدھا حصہ آپ کو دیتا ہوں، میری آدھی رقم اور میرا آدھا سرمایہ آپ کا ہے۔ وہ مومن روایت کرتا ہے کہ ایک تو میری بہت بڑی مشکل حل ہوچکی تھی دوسرا گورنر صاحب نے مجھے امام علیہ السلام کی برکت سے مالا مال کردیا تھا۔ میں گورنر کو دعائیں دیتا ہوا گھر واپس آگیا۔ ایک سفر پہ میں امامعليه‌السلام کی خدمت اقدس میں گیا تو سارا ماجرہ عرض کیا آپ علیہ السلام سن کر مسکرا دیئے اور خوشی کا اظہار فرمایا۔

اب سوال یہ ہے کہ ہاروں کو ڈر کس چیز سے تھا؟ جواب صاف ظاہر ہے وہ حق ک جاذبیت اور کشش سے خوف زدہ تھا:

"کونوا دعاة الناس بغیر السنتکم"

"یعنی آپ لوگ کچھ کھے بغیر لوگوں کو حق کی دعوت دیں۔ زبان کی باتوں میں اثر اکثر کم ہی ہوتا ہے۔ اثر و تاثیر تو عمل ہی سے ہے۔"

وہ شخص جو امام موسی کاظم علیہ السلام یا آپ کے اباؤ اجداد اور اولاد کا نزدیک سے مشاہدہ کر چکا ہو۔ وہ جانتا ہے کہ یہ سب حق پر ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے ۔ یہ پاک وپاکیزہ ہستیاں خدا کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ اور خوف خدا صحیح معنوں میں انھی میں ہے۔ یہ خدا سے صحیح محبت کرنے والے ہیں، اور جو کچھ بھی کرتے ہیں اسی میں خدا کی رضا ضرور شامل حال ہوتی ہے ۔

ایک جیسی عادتیں

دو عاتیں ایسی ہیں جو تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام میں مشترک ہیں۔ عبادت اور خدا خوفی کا جذبہ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہستیاں خدا کو اس طرح مانتی ہیں جیسا کہ ماننا چاہی ے۔ خدا خوفی ایسی کہ نام الھی زبان پر آنے یا سننے سے ان کا جسم کانپ اٹھتا تھا یوں محسوس ہوتا ھتا جیسا کہ وہ خدا کو دیکھ رہے ہوں۔ جنت و جھنم کے مناظر آنکھوں کے سامنے ہوں؟ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں تاریخ میں ملتا ہے ۔

"حلیف السجده الطویلة والدموع الغزیرة" (۲۹)

"طویل سجدوں اور تیزی کے ساتھ بھنے والے آنسوؤں کے مالک امام ۔"

جب انسان کا دل اندر سے جوش مارتا ہے تو تب اس کی آنکھوں سے آنسو بھتے ۔ آئمہ طاہر ین علیھم السلام کی دوسری مشترک صفت اور عادت یہ ہے کہ تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام غریبوں سے محبت کرتے ان کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آتے اور غریبوں، بے نواؤں کی فوری اور ہر طرح کی مدد کرتے تھے۔ امام حسنعليه‌السلام ، امام حسینعليه‌السلام ، امام زین العابدینعليه‌السلام ، امام محمد باقرعليه‌السلام ، امام جعفر صادقعليه‌السلام ، امام موسی کاظمعليه‌السلام ، اور دیگر آئمہ سیرت و کردار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ جب ہم ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں مظلوموں، بے کسوں، یتییموں، اور فقراء کی مدد کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ظاہر ی سی بات ہے یہ بے سہارا لوگ ان کو دیکھتے بھی ہوں گے۔ ان کے عمل نے ان کو وہاں تک پھنچا دیا جھاں کوئی بھی نہیں پھنچ سکتا ہے ۔

ہارون کی حکومتی مشنری

امام علیہ السلام ایک عرصہ سے زندان سے مظلومانہ زندگی گزار رہے تھے کہ ہارون نے سازش تیار کی کہ امام علیہ السلام کی حیثیت اور عزت کم کی جائے۔

ایک خوبصورت کنیز کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ زندان میں امام علیہ السلام کے ساتھ رہے اور کھانا پینا آپ کی خدمت میں پیش کرتی رہے۔ انھوں نے انتھائی حیسن عورت کو اس لیے ڈیوٹی پر متعین کیا کہ امام ایک قیدی ہیں اور مرد ہونے کی وجہ سے ان کی خوابیدہ خواہشات بیدار ہوں گی اور وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے کہ ہم ان کو گناہ میں ملوث کرلیں گے۔ ہارون اور اس کے کارندوں کی غلط فھمی تھی لیکن ادھر کیا ہوا یہ کنیز جب تنگ و تاریک کمرہ میں گئی تو اس کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوگیا۔ اور اس نےبھی اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا اور عبادت میں مشغول ہوگئی۔ جاسوسوں نے ہارون کو خبر دی کہ کنیز بھی عبادت کرنے لگی ہے۔ ہارون نے اس کو اپنے دربار میں بلوایا دیکھا وہ تو وہ نہ رہی ، کبھی آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی زمین کی طرف۔ پوچھا گیا اے کنیز تو نے اپنا یہ حال کیوں بنایا ہے؟ کھنے لگی میں تو گناہ کی غرض سے گئی تھی جب تقوی اور پ رہی ز گاری کے عظیم پیکر کو دیکھا تو مجھ میں احساس شرمندگی پیدا ہوا کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ قیدی کس طرح عبادت الھی میں منھمک ہے۔ میں اپنی اس غلطی پر اللہ تعالی سے معافی مانگتی ہوں۔ اللہ میرے دوسرے گناہ بھی بخش دے گا۔ یہ کھتے کھتے وہ وھیں پر انتقال کر گئی۔

امام موسی کاظمعليه‌السلام اور بشر حافی

آپ نے بشر حافی کا واقعہ سنا ہے کہ ایک روز امام علیہ السلام بغداد کے ایک کوچے سے گزر رہے تھے۔ اچانک آپ کو رقص وسرود اور ناچ گانے کی آواز سنائی دی۔ اتفاق سے اسی گھر سے ایک نوکرانی باہر نکلی کہ گھر کا کوڑا کرکٹ ایک جگہ پر پھینکنے۔ آپ نے اس کنیز سے فرمایا کہ کیا یہ گھر کسی آزاد شخص کا ہے یا کسی غلام کا؟ سوال بڑا عجیب تھا وہ کنیز بولی آپ مکان کی ظاہر ی خوبصورتی اور زیبائش و آسائش کو نہیں دیکھ رہے کہ یہ کس شخص کا گھر ہوسکتا ہے۔ یہ گھر بشر حافی کا ہے ۔ بغداد کا امیر ترین یہ شخص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سن کر فرمایا ہاں یہ گھر کسی آزاد ہی کا ہے۔ اگر بندہ ہوتا تو اس کے گھر سے موسیقی، راگ رنگ کی آوازیں بلند نہ ہوتی؟ عجیب تاثیر تھی امام کے جملوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جب وہ نوکرانی کوڑا ڈال کر واپس اپنے مالک کے گھر گئی تو اس نے نوکرانی سے تاخیر کی وجہ پوچھی، تو اس نے کھا کہ ایک شخص نے مجھ سے عجیب و غریب بات کھی ہے۔ بشر بولا وہ کیا؟ بولی کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ گھر کسی آزاد کا ہے یا غلام کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کھا آزاد کا ہی گھر ہے۔ اس شخص نے کھاں ہاں واقعی وہ آزاد ہے۔ اگر بندہ ہوتا تو رقص وسرود کی آوازیں اس کے گھر سے بلند نہ ہوتیں۔ بشر نےپوچھا اس شخص کی کوئی خاص نشانی؟ کنیز نے جب اس کی وضع قطع بتائی تو سمجھا کہ آپ موسی بن جعفرعليه‌السلام ہی تھے۔

بشر نے پوچھا پھر وہ شخص کھاں گیا؟ اس نے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ بزرگ اس طرف جارہے تھے۔ چونکہ وقت کم تھا اگر جوتا پھنتا تو شاید امام علیہ السلام آگے جا چکے ہوتے۔ لہذا وہ پا برھنہ امام علیہ السلام کے پیچھے دوڑ پڑا۔ آقا کے اس جملے نے اس کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ کہ اگر وہ بندہ ہوتا تو اس قسم کا گناہ نہ کرتا۔ یہ ہانپتا کانپتا امام علیہ السلام کی خدمت میں پھنچا۔ مولاعليه‌السلام آپ نےجو کچھ فرمایا سچ فرمایا ہے ۔ میں اپنی غلطی پر خدا سے توبہ کرتا ہوں اور واقعی طور پر اس کا بندہ بننا چاہتا ہوں۔ امام علیہ السلام نےاس کے حق میں دعا کی اور وہ توبہ تائب ہوکر اللہ تعالی کے صالح ترین بندوں میں شامل ہو گیا۔ جب اس طرح کی خبریں ہارون الرشید تک پھنچیں تو وہ اپنے اندر حساس خطر کرنے لگا۔ دل ہی دل میں کھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہی ے گویا وہ کھہ رہا تھا کہ "وجودک ذنب" کہ اے موسی ابن جعفر آپ کا زندہ رھنا میرے نزدیک گناہ ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا میں تمہارے کیا بگاڑا؟ میں نے کونسا انقلاب برپا کیا ہے؟ میں نے ایسا کونسا کام کیا ہے کہ تم مجھ سے گبھراتے ہو؟ ہارون جواب نہ دے سکا لیکن دل میں کھہ رہا تھا کہ آپ کا موجود رھنا بھی خطرے سے خالی نھین ہے۔ امام علیہ السلام یہ باتیں اپنے تحفظ اور دفاع کی خاطر کرتے تاکہ مومنین ہوشیار رہیں اور حکومتی ھتکنڑوں میں پھنس کر اپنا نقصان نہ کر بیٹھیں۔ ہارون کو ہر وقت آپ سے اور آپ کے ماننے والوں سے خطرہ لاحق رھتا تھا۔ اس لیے وہ امام اور ان کے چند خاص موالیوں کے خاتمہ کیلئے مشیروں سے مشورہ کرتا رھتا تھا۔

صفوان جمال اور ہارون

آپ نے صفوان کا واقعہ سنا ہے؟ یہ شخص اس دور میں اونٹ کرائے پر دیتا تھا۔ اس زمانے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری اونٹ ہی ہوا کرتا تھا۔ صفوان کا حکومت وقت کےساتھ بھی اچھا رابطہ تھا۔ کبھی کببہار سرکاری ڈیوٹی کے لیے بھی حکومت کو اونٹ مھیا کرتا تھا۔ ایک روز ہارون نے پروگرام بنایا کہ مکہ جائے۔ چناچہ اس نے صفوان کو بلوایا کہ وہ اس کے لیے چند اونٹ تیار کر لے کرایہ وغیرہ طے پاگیا۔ صفوان امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص شیعوں میں تھا۔ ایک روز امام علیہ السلام کی خدمت اقدس مین حاضر ہوا اس نے آتے ہی امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مولاعليه‌السلام میں نے ہارون کو اونٹ کرائے پر دیئے ہیں۔ حضرت نے فرمایا تو نے اس ظالم، ستم گر شخص کو اونٹ کیوں دیئے ہیں۔ صفوان بولا مولاعليه‌السلام میں تو اس سے کرایہ لیا ہے، پھر اس کا سفر کوئی گناہ کی غرض سے نہ تھا بلکہ سفر حج کیلئے ہے۔ اگر وہ حج پر نہ جاتا تو میں اونٹ اس کو کرائے پر نہ دیتا۔ فرمایا تو نے اس سے پیسے لے لیے ہیں؟ یا اس رقم کا بقایا رھتا ہے؟ اپنے دل سے سوال کر، میں نے اونٹ اس کو کرائے پر دیئے ہیں اس لیے دیئے ہیں کہ ہارون واپس لوٹے گا اور میں اس سے کرایہ لوں گا۔ صفوان بولا جی ھاں مولا ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا ظالم کی زندگی پر راضی رھنا بھی گناہ ہے ۔ صفوان باہر آیا ۔ ہارون سے دیرینہ تعلقات کے باوجود اس نے اپنے تمام اونٹ بیچ دیئے اور اعلان کیا کہ آئندہ وہ یہ کاروبار بلکل نہیں کرے گا۔ اس کے بعد ہارون کے پاس آیا کہ میں نے جو آپ سے معاہدہ کیا تھا وہ منسوخ کرتا ہوں کیونکہ میں نے مجبوری کی وجہ سے اپنے تمام اونٹ فروخت کر دیئے ہیں۔ ہارون نے پوچھا پھر بھی بتائے کہ اونٹ بیچنے کی وجہ کیا ہے؟ صفوان بولا اے بادشاہ سلامت میں بوڑھا ہوچکا ہوں اب اس طرح کا کام مجھ سے نہیں ہوسکتا ۔

ہارون بڑا چالاک شخص تھا اس نے کھا ایسا نہیں ہے کہ جو تم کھہ رہے ہو دراصل تجھے موسی ابن جعفرعليه‌السلام نے منع کردیا ہے ۔ اور انھوں نے اس کام کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اونٹ بیچنے کی تلقین کی ہے ۔ بخدا اگر تمہارے اور ہمارے درمیان پرانی دوستی نہ ہوتی تو تجھے ابھی اور اسی وقت قتل کردیتا ۔ یہ تھے وہ عوامل جو امام علیہ السلام کی شھادت کا سبب بنے ۔ سب سے پھلے تو دشمن کو آپ کے وجود سے سخت خطرہ لاحق تھا۔ دوسرا آپ تقیہ کی حالت میں زندگی گزارتے رہے، یعنی آپ نے اس انداز سے اپنا طور طریقہ رکھا کہ آپ کا دشمن کسی لحاظ سے بھی آپ کو نقصان نہ پھنچا سکا۔ اس کے باوجود آپ تبلیغی فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔ لوگوں کی روحانی و علمی ضروریات پوری کرتے، پسماندہ طبقے کے حقوق کے لیے بھر پور طریقے سے آواز بلند کرتے تھے۔ لیکن آپ نے اس تمام مدت دشمن کو انگشت نمائی کا موقعہ نہ دیا۔

وہ اپنے جاسوسوں، گماشتوں کے ذریعے اس کو کوشش میں رہا کہ امام علیہ السلام پر کوئی نہ کوئی سیاسی یا مذھبی جرم عائد کرکے ان کو سزا دے سکے۔ تیسرا آپ استقامت کا کوہ گراں تھے ۔ جب یحیی برمکی نے آپ سے کھا کہ آپ ایک مرتبہ ہارون سے معافی مانگ لیجئے تو آپ کو نہ صرف رہائی مل سکتی ہے بلکہ وافر مقدار میں انعام واکرام بھی ملے گا۔ آپ نے فرمایا اس زندگی سے مرجانا بھتر ہے اور ہم بہت جلد اس فانی دنیا سے کوچ ہی کرنے والے ہیں ۔

ایک دفعہ ہارون نے کسی دوسرے شخص کو امام کے پاس زندان میں بھیجا اور چاہا کہ پیار و محبت سے امام علیہ السلام سے گناہ کا اعتراف کروایا جائے۔ پھر بھی اس نے یہ لب و لھجہ اپنایا کہ ہم آپ سے دلی عقیدت رکھتے ہیں۔ آپ کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ آپ یھیں پہ رہیں اور مدینہ نہ جائیں۔ ہم آپ کو زندان میں رکھنا نہیں چاہتے ۔ ہم آپ کو اپنے پاس ایک محفوظ مکان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپ کے پاس ایک ماہر باورچی بھیجا ہے تاکہ آپ اپنی پسند کا کھانا تیار کرواسکیں۔ یہ تھا فضل بن ربیع۔ ہارون کو اس پر بہت زیادہ اعتماد تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یھی فضل سادہ لباس میں تلوار اپنے ساتھ حمائل کرکے امام کے پاس پھنچا۔ امام علیہ السلام نماز پڑھنے میں مشغول تھے ۔

امام علیہ السلام کو جب پتہ چلا کہ فضل بن ربیع آیا ہے ۔ فضل اس انتظار میں تھا کہ آپ نماز کو ختم کریں اور میں آپ کو خلیفہ کا پیغام پھنچاؤں۔ آپ نے نماز ختم کرتے ہی دوبارہ اور نماز شروع کردی۔ اس طرح اس کو سلام کرنے اور بات کرنے کی مھلت بھی نہ دی۔ پھلے تو اس نے سمجھا کہ امام علیہ السلام نے چند نمازیں پڑھنی ہیں لیکن پھر اس کو پتہ چلا کہ آپ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے ۔ اس لیے وہ نماز پہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ کافی انتظار کرتا رہا پھر اس کے ذھن میں خیال گزرا کہ ہارون کے ذھن میں بدگمانی نہ ہو۔ امام نماز میں مشغول تھے کہ اس نے بات شروع کردی کہ آپ کے چچازاد بھائی ہارون نے آپ کو اس طرح پیغام بھیجا ہے ۔ ہارون نے پیغام میں کھا ہے کہ ہم پر آپ کی بے گناہی ثابت ہو چکی ہے ۔ اسلئے مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ مدینہ جانے کی بجائے یھیں پہ رہیں۔ مجھے ہارون کی طرف سے حکم ملا ہے کہ بھترین باورچی آپ کی خدمت میں پیش کروں تاکہ حسب خواہش آپ اپنا کھانا تیار کرواسکیں ۔

مؤرخین نے لکھا ہے امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں صرف اتنا کھہ کر دوبارہ نماز شروع کرلی:

"لا حاضر لی مال فینفصنی وما خلقت سؤولا، الله اکبر"

میرے پاس اپنا مال نہیں ہے کہ خرچ کرسکوں میں مال حلال سے کچھ کھاتا پیتا ہوں باقی رہی کسی سے مانگنے کی بات تو مانگنا تو ہم نے اپنی زندگی میں سیکھا ہی نہیں ہے۔ بھلا دینے والے مانگنا گوارا کب کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد کھا اللہ اکبر اور نماز شروع کر لی۔ "

یہ تھا خلفاء کا ہمارے اماموں کےساتھ رویے، وہ کسی نہ کسی طریقے سے آئمہ کو مجبور کرتے رہتے تھے، لیکن آئمہ طاہر ین علیھم السلام کی حسن سیاست اور تدبر کا کیا کھنا کہ دنیا کے طاقتور ترین حکمران ان کی استقامت کے مقابلے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔ وہ آئمہ کے وجود کو اس لیے برداشت نہیں کرتے تھے کہ ان کا وجود ہی ظالموں کی موت ہے اس لیے وہ تلوار کے ذریعہ یا زھر دے کر دنیا میں اللہ تعالی کی خاص نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کےلیے عملی طور پر اس قبیح حرکت کے مرتکب ہوتے تھے، لیکن حق کی سچائی اور فتح ملاحظہ کیجئے کہ وہ قتل کر کے آرام سے نہیں رہ سکتے تھے اور یہ مرکر بھی امر ہوجاتے تھے ۔

شھادت امام علیہ السلام

جیسا کہ ہم نے پھلے عرض کیا ہے کہ امام علیہ السلام کے لیے آخری زندان سندی بن شاہک کا تھا۔ وہ مسلمان نہ تھا اس کے دل میں کسی کے بارے میں کسی قسم کا رحم نہ تھا۔ خلیفہ اس کو جو بھی حکم دیتا وہ فوری طور پر بجا لاتا تھا۔ امام علیہ السلام کو تنگ و تاریک کمرہ میں رکھا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ آپ اس کمرے کی وحشتناکی سے گھبرا کر اور بیماری سے نڑھال ہوکر یو نھی انتقال کر جائیں گے۔ اس سے عوام میں حکومت کےخلاف رد عمل ظاہر نہ ہوگا۔ مؤرخین نےلکھا ہے کہ یحیی برمکی نے ہارون سے کھا کہ امام علیہ السلام کو قتل کرنے کا کام وہ خود ہی کرے گا۔ اس نے سندی کو بلوایا اور اس کو مزید انعام واکرام اور اعلی عھدے کی لالچ دی اور اس کو حکم دیا کہ وہ امام علیہ السلام کا کام تمام کردے۔ یحیی نے انتھائی خطرناک زھر منگوا کر سندی کو دیا وہ زھر کھجور میں رکھ کر امام علیہ السلام کو کھلایا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے چند سرکاری گواہ منگوائے اور چند علماء اور قاضیوں کو بلوایا گیا۔ حضرت کو اس میٹنگ میں لایا گیا۔ ہارون نے کھا لوگو! گواہ رھنا شیعہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں طرح طرح کے پروپیگنڑے کرتے ہیں اور ان کا کھنا کہ امام علیہ السلام زندان میں سخت تکلیف میں ہیں آپ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں کہ وہ تندرست و صحیح و سالم ہیں۔ ہارون کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ قیدی امام علیہ السلام بول پڑے فرمایا ہارون جھوٹ کھتا ہے مجھے ابھی ابھی زھر دیا گیا اور میں چند لمحوں کا مھمان ہوں۔ ۔ ۔ ۔ یھان پر بھی ان عیار ترین حکمرانوں کا منصوبہ بھی پورا نہ ہوسکا۔

پھر کیا ہوا بغداد کا قیدی اور شیعوں و مومنوں کا ساتواں امام شھید ہوگیا۔ شھادت کے بعد غریب بغداد کا جنازہ پل بغداد پر رکھا گیا۔ لوگوں میں پھر پروپیگنڑا کیا گیا کہ ویکھو تو سھی امام کا کوئٰ عضو متاثر نہیں ہوا ہے۔ سر اور زبان سلامت ہے۔ یہ اپنی موت آپ مرے ہیں، ان کی وفات میں ہمارا کسی قسم کا ہاتھ نہیں ہے۔ تین دن تک اس پردیسی اور مظلوم ومسموم امام کا جنازہ بغداد کے پل پر پڑا رہا۔ اس سے صرف لوگوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ قتل امام علیہ السلام میں حکومت کا ہاتھ نہیں ہے۔ لیکن امام علیہ السلام کے ماننے والے (جو اس وقت سخت کرب اور پریشانی میں مبتلا تھے) جانتے تھے۔ امام علیہ السلام کو زھر ہی کے ذریعہ شھید کردیا گیا۔

مورخین لکھتے ہیں کہ ایران سے چند مومنین بغداد آئے ان کی دلی خواہش تھے کہ امام علیہ السلام کی زندان میں ملاقات کریں گے ۔ انھوں نے دروغہ جیل سے ملاقات کی اجازت چاہی تو اس نے انکار کر دیا۔ انھوں نے عھد کر لیا کہ وہ ہر ھال میں اپنے غریب و مظلوم آقا سے مل کر جائیں گے۔ حکام نے ان کے پاس چند سپاہی بھیجے کھا کہ آپ کی درخواست منظور کر لی گئی۔ آپ فلاں جگہ پر انتظار کریں۔ آپ کو اپنے امامعليه‌السلام سے ملایا جائے گا۔ یہ بیچارے اس انتظار میں کھڑے رہے اور دل ہی دل میں کھنے لگے جب ہم واپس اپنے وطن لوٹیں گے تو وہاں لوگوں کو امام علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں بتائیں گے پھر ہم اپنے آقا سے شرعی مسائل بھی دریافت کریں گے۔ ابھی یہ اس طرح کی باتیں آپس میں ک رہی رہے تھے کہ دیکھا چار مزدوروں نے ایک جنازہ اٹھایا ہوا ہے ہمیں جیل کا ایک ملازم کھنے لگا۔ "امام شما ہمین است"کہ آپ نے جس امام سے ملنا ہے وہ یھی ہے ۔ یہ جنازہ تمہارے بیکس امام ہی کا ہے۔ یہ ایرانی مومنین اپنا منہ پیٹتے رہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غریب بغداد کا جنازہ آگے سے گزر گیا۔


مسئلہ ولی عھدی امام رضاعليه‌السلام ( ۱)

آج ہماری بحث کا مرکز انتھائی اہم مسئلہ ہے وہ ہے مسئلہ امامت و خلافت۔ اس کو ہم حضرت امام رضا علیہ السلام کی ولی عھدی کی طرف لے آتے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے یہ مسئلہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مامون امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے سرزمین خراسان "مرو"میں لے آیا اور آپ کو اپنا ولی عھد مقرر کر دیا۔ یا ولی عھد دونوں لفظوں کا معنی و مفھوم ایک ہی ہے۔ یہ اس دور کی اصطلاح میں استعمال ہوتا تھا۔ میں نے چند سال قبل اس مسئلہ پر غور کیا تھا کہ یہ کلمہ کس تاریخ کی پیداوار ہے۔ صدر اسلام میں تو تھا ہی نھیں۔ جب موضوع ہی نہ تھا تو پھر لغت کیسی؟ پھر یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ اس قسم کی اصطلاح آنے والے زمانوں میں استعمال میں لائی گئی۔ سب سے پھلے معاویہ نے اس اصطلاح کو اپنے بیٹے یزید کے لئے استعمال کیا، لیکن اس نے اس کا کوئی خاص نام نہیں رکھا تھا، بلکہ اس نے یزید کےلیے بیعت کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس لیے ہم اس لفظ کو اس دور کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے وقت بھی یہ لفظ زیر بحث آیا۔ تاریخ کھتی ہے کہ امام علیہ السلام نے خلافت معاویہ کے حوالے کردی اور امام علیہ السلام کے نزدیک حاکم وقت کو اپنے حال پہ رہنے دینا ہی وقت کا اہم تقاضا تھا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اعتراض کریں کہ اگر امام حسن علیہ السلام نے ایسا کیا ہے تو دوسرے آئمہ کو بھی کرنا چاہی ے تھا ایک امام کا اقدام صحیح ہے اور دوسروں کا نھیں؟

امام حسن علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام کو حکام وقت کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہی ے۔ یہ دونوں پرچم جھاد بلند کرتے ہوئے شھید ہو جاتے تو بھتر تھا؟اب ہم نے انھیں اعتراضات کا جواب دینا ہے۔ تاکہ بدگمانیوں کا خاتمہ ہو اور لوگوں کو حقائق کے بارے میں پتہ چل سکے۔ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بارے میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں ۔ اب ہم امام رضا علیہ السلام کے دور امامت میں پیش آنے والے تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں تجزیہ کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے مامون کی ولی عھدی قبول فرمائی؟

علویوں کے ساتھ عباسیوں کا رویہ

مامون عباسی سلطنت کا وارث ہے۔ عباسیوں نے شروع ہی میں علویوں کے ساتھ مقابلہ کیا یہاں تک کہ بہت سے علوی عباسیوں کے ہاتھ وں قتل بھی ہوئے ۔ اقتدار کے حصول کے لیے جتنا ظلم عباسیوں نے علویوں پر کیا اور امویوں سے کسی صورت میں کم نہ تھا بلکہ ایک لحاظ سے زیادہ تھا۔ چونکہ اموی خاندان پر واقعہ کربلا کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لیے امویوں کو ظالم ترین تصور کیا جاتا ہے۔ عباسیوں نے جتنا ظلم علویوں پر کیا ہے وہ بھی اپنی جگہ پر بہت زیادہ تھا، دوسرے عباسی خلیفہ نے شروع شروع میں اولاد امام حسینعليه‌السلام پر بیعت کے بھانے سے حد سے زیادہ مظالم کئے ۔ بہت سے سادات کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ کچھ زندانوں میں قید و بندی کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ ان بیچاروں کو کھانے پینے کےلئے نہیں دیا جاتا تھا۔ بعض سادات پر چھتیں گرا کر ان کو شھید کیا جاتا تھا۔ وہ کونسا ظلم تھا جو عباسیوں نے سادات پر روانہ رکھا۔ منصور کے بعد جو بھی خلیفہ آیا اس نے اس پالیسی پر عمل کیا۔ مامون کے دور میں پانچ چھ سید زادوں نے انقلابی تحریکیں شروع کیں۔ ان کو مروج الذھب، مسعودی، کامل ابن اثیر میں تفصیل کےساتھ بیان کیا گیا ہے۔ تاریخ کی بعض کتب میں تو سات آٹھ انقلابی شھزادوں کا ذکر ملتا ہے ۔

عباسیوں اور علویوں کے درمیان دشمنی بغض وکینہ کی حد تک چلی گئی تھی۔ کرسی خلافت کے حصول کیلئے عباسیوں نے ظلم کی انتھا کر دی، یہاں تک کہ اگر عباسی خاندان کا کوئی فرد عباسی خلافت کا مخالف ہوجاتا تو اس کو بھی فوراً قتل کر دیا جاتا۔ ابو مسلم عمر بھر عباسیوں کے ساتھ وفاداریوں کا حق نبھاتا رہا لیکن جو نھی اس کے بارے میں خطرے کا احساس کیا تو اسی وقت اس کا کام تمام کر دیا۔ برمکی خاندان نے ہارون کے ساتھ وفا کی انتھا کردی تھی ۔ انھوں نے اس کی خاطر غلط سے غلط کام بھی کئے اور ان دونوں خاندانوں کی دوستی تاریخ میں ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے ۔ لیکن ایک چھوٹے سے سیاسی مسئلہ کی وجہ سے اس نے یحیی کو مروا دیا اور اس کے خاندان کو چین سے رہنے نہ دیا تھا۔ پھر ایسا وقت بھی آیا یھی مامون اپنے بھائی امین کے ساتھ الجھ پڑا۔ سیاسی اختلاف اتنا بڑھا کہ نوبت لڑائی تک پھنچ گئی ۔ بالآخر مامون کامیاب ہوگیا اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا۔ بدلتا رنگ ہے آسمان کیسے کیسے ۔

پھر حالات نے رخ بدلا، بہت تبدیلی آئی، ایسی تبدیلی کہ جس پر مورخین بھی حیران ہیں۔ مامون خلیفہ امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے بلواتا ہے۔ حضرت کے نام پیغام بھجواتا ہے کہ آپ خلافت مجھ سے لے لیں۔ جب آپ تشریف لاتے ہیں تو کھتا ہے کہ بھتر ہے آپ ولی عھدی ہی قبول فرمائیں اگر نہ کیا تو آپ کے ساتھ یہ یہ سلوک کیا جائے گا۔ معاملہ دھمکیوں تک جاپھنچا۔ یہ مسئلہ اتنا سادا اور آسان نہیں ہے کہ جس آسانی کےساتھ بیان کیا جاتا ہے، بہت ہی مشکل حالات تھے۔ امام علیہ السلام ہی بھتر جانتے تھے کہ کونسی حکمت عملی اپنائی جائے ۔

جرجی زیدان تاریخ تمدن کی چوتھی جلد میں اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔ اس کے بارے میں میں بھی تفصیلی بات چیت کروں گا۔ جرجی زید ایک بات کا اعتراف ضرور کرتا ہے کہ بنی عباس کی سیاست بھی انتھائی منافقانہ اور خفیہ طرز کی سیاست تھی۔ وہ اپنے قریبی ترین عزیزوں اور رشہ داروں سے بھی سیاسی داؤ پیچ پوشیدہ رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر آج تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ مامون امام رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد بنا کر کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟ کیا وجہ تھی کہ وہ آل محمدعليه‌السلام کے ایک ایسے فرد کو اپنا نائب مقرر کر رہا تھا کہ جو وقت کا امامعليه‌السلام بھی تھا اور یہ دل ہی دل میں خاندان رسالتعليه‌السلام کے ساتھ سخت دشمنی رکھتا تھا؟

امام رضاعليه‌السلام کی ولی عھدی اور تاریخی حقائق

امام رضا علیہ السلام کی ولی عھدی کا مسئلہ راز رہے یا نہ رہے لیکن ملت جعفریہ کے نزدیک اس مسئلے کی حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ ہمارے اس موقف کی صداقت کےلیے شیعہ مورخین کی روایات ہی کافی ہیں جیسا کہ جناب شیخ مفید (رح) نے اپنی کتاب ارشاد، جناب شیخ صدوق نے اپنی کتاب عیون اخبار الرضا میں نقل کیا ہے ۔ خاص طور پر عیون میں امام رضا علیہ السلام ہی کی ولی عھدی کے بارے میں متعدد روایات نقل کی گئی ہیں۔ قبل اس کے ہم شیعہ کتب سے کچھ مطالب بیان کریں۔ اہلسنت کے ابو الفرج اصفھانی کی کتاب مقاتل الطالبین سے دلچسپ تاریخی نکات نقل کرتے ہے، ابو الفرج اپنے عھد کا بہت بڑا مورخ ہے یہ اموی خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے یہ آل بابویہ کے زمانے میں زندگی بسر کرتا رہا۔ چونکہ یہ اصفھان کا رہنے والا ہے اس لیے اس کو اصفھانی کھا جاتا ہے۔ ابو الفرج سنی المذھب ہے۔ شیعوں سے اس کا کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کو شیعوں سے کسی قسم کی ہمدردی تھی۔ پھر یہ شخص کچھ اتنا زیادہ نیک بھی نہ تھا کہ کھیں کہ اس نے تقوی اور پ رہی ز گاری کو سامنے رکھتے ہوئے حقائق کو بیان کیا ہے۔ مشھور کتاب الآغانی کا مصنف بھی یھی ابو الفرج اصفھانی ہی ہے۔ الآغانی اغنیۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے آوازیں۔

اس کتاب میں موسیقی کے بارے میں مکمل تعارف، کوائف اور تاریخ تحقیقی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ اٹہارہ جلدوں پر مشتمل یہ کتاب موسیقی کا انسائیکلوپیڑیا ہے ۔ کھا جاتا ہے کہ ابو الفرج کا ایک ہم عصر عالم صاحب بن عباد سفر پر کھیں بھی جاتا تھا۔ ابو الفرج کی چند کتابیں اس کے ہمراہ ہوتی تھیں۔ وہ کہا کر تھا کہ ابو الفرج کی کتابوں کے ہوتے ہوئے اب مجھے دوسری کتابوں کی ضرورت نہ رہی ۔ الآغانی اس قدر جامع اور تحقیقی کتاب ہے کہ اس کو پڑھ کر کسی دوسری کتاب کی احتیاج نہیں رھتی ۔ یہ موضوع کے اعتبار سے منفرد کتاب ہے۔ اس میں موسیقی اور موسیقی کاروں کے بارے میں پوری وضاحت کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ علامہ مجلسی (رح)، الحاج شیخ عباس قمی (رح)، نے بھی الآغانی کو الفرج کی تصنیف قرار دیا ہے۔ ہم نے کھا ہے کہ ابو الفرج کی ایک کتاب مقاتل الطالبین ہے (جو کہ کافی مشھور ہے) اس میں انھوں نے اولاد ابی طالب کے مقتولوں ک تاریخ بیان کی ہے۔ اس میں اولاد ابی طالب کی انقلابی تحریکوں اور ان کی المناک شھادتوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ مختلف تاریخی پھلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شھادت کے اس باب میں علوی سادات کی اکثریت ہے۔ البتہ کچھ غیر علوی بھی شھید ہوئے ہیں۔ اس نےکتاب کے دس صفحے امام رضا علیہ السلام کی ولی عھدی کے ساتھ خاص کیے ہیں۔ اس کتاب کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں۔ تو دیکھتے ہیں کہ اس کے مطالب اور شیعہ قلمکاروں کی تحریریں اس موضوع کی بابت تقریباً ایک جیسی ہیں۔

آپ ارشاد کا مطالعہ کرلیں اور مقاتل الطالبین کو پڑھ لیں ان دونوں کتابوں مین آپ کو کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم شیعہ سنی حوالوں سے اس مسئلہ پر بحث کریں گے لیکن اس سے قبل ہم آتے ہیں مامون کی طرف وہ کونسا عامل تھا کہ جس کی وجہ سے وہ امام رضا علیہ السلام کو ولی عھدی بنانے پر تیار ہوا؟اگر تو اس نے یہ سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ مرجائے یا قتل ہوجائے تو جانے سے پھلے خلافت امام رضا علیہ السلام کے سپرد کر جائے۔ ہم اس کو اس لیے نہیں مانیں گے کہ اگر اس کی امام علیہ السلام کے بارے میں اچھی نیت ہوتی تو وہ ان کو زھر دے کر شھید نہ کرتا۔ شیعوں کے نزدیک اس قول کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ مامون امام کے بارے میں اچھی نیت رکھتا تھا، بعض مورخین نے مامون کو شیعہ کے طور پر تسلیم کیا ہے کہ وہ آل علی علیہ السلام کا بحد احترام کرتا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی ہی مخلص، مومن تھا تو اپنی خلافت سے دست بردار ہو کر اس نے مسند خلافت امام علیہ السلام کے سپرد کیوں نہ کر دی؟اگر وہ سادات کا محبّ تھا تو امام علیہ السلام کو زھر کیوں دی؟

مامون اور تشیع

مامون ایک ایسا حکمران ہے کہ جس کو ہم خلفاء سے بڑھ کر بلکہ پوری دنیا کے حکمران سے بڑھ کر عالم، دانشور مانتے ہیں۔ وہ اپنے دور کا نابغہ انسان تھا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ وہ فکری و نظریاتی لحاظ سے مذھب شیعہ سے زیادہ متاثر تھا۔ شاید یھی وجہ ہے کہ وہ امام علیہ السلام کے علمی لیکچرز میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتا تھا۔ وہ سنی علماء کے دروس میں بھی جاتا تھا۔ اہل سنت کے ایک معروف عالم ابن عبدالبر بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مامون نے چالیس سنی علماء کو ناشتے پر بلایا اور ان کو بحث و مباحثہ کی بھی دعوت دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آقائے محمد تقی شریعتی نے اپنے کتاب خلافت و ولایت میں نقل کرتے ہوئے کھا ہے کہ جس خوبصورتی کے ساتھ مامون نے مسئلہ خلافت پر دلائل دیئے ہیں اتنے کسی اور عالم نے نہیں دیئے ہوں گے۔ مامون نے علماء کےساتھ خلافت امیر المومنین پر بحث مباحثہ کیا اور سب کو مغلوب کر دیا۔

شیعہ روایات میں آیا ہے اور جناب سیخ عباس قمی (رح) نے بھی اپنی کتاب منتھی الآمال میں لکھا ہے کہ کسی نے مامون سے پوچھا کہ آپ نے شیعہ تعلیمات کس سے حاصل کی ہیں؟ کھنے لگا والد ہارون سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کھنا چاہتا تھا کہ ہارون بھی مذھب شیعہ کو اچھا اور برحق مذھب سمجھتا تھا۔ وہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ ایک خاص قسم کی عقیدت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنے بابا سے کھا کرتا تھا کہ ایک طرف آپ امام علیہ السلام سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور دوسرے طرف ان کو روحانی و جسمانی اذیتیں بھی دیتے ہیں؟ تو وہ کھا کرتا تھا "الملک عقیم" عرب میں ایک ضرب المثل ہے کہ اقتدار بیٹے کو نہیں پھچانتا، تو اگر چہ میرا بیٹا ہے لیکن میں یہ ہرگز برداشت نہ کروں گا کہ تو میری حکومت کے خلاف ذرا بھر اقدام کرے۔ حکومت، کرسی اور اقتدار کی خاطر میں تیرا سر قلم کرسکتا ہوں۔ مامون آئمہ کا دشمن تھا اس لیے اس کو شیعہ کھنا زیادتی ہوگی، یا پھر وہ کوفہ والوں کی مانند بے وفا تھا جو امام حسین علیہ السلام کو دعوت دے کر اپنا عھد توڑ بیٹھے اور یزیدی قوتوں کے ساتھ مل گئے۔

اس میں کوئی شک نہیں ماموں ظالم تھا لیکن اس علم کا کیا فائدہ جو اسے استاد کی تعظیم کا درس بھی نہ دے۔ کچھ مؤرخین کا کھنا ہے کہ ماموں نے خلوص نیت سے امام رضا علیہ السلام کو حکومت کی دعوت دی تھی اور امام علیہ السلام کی موت طبعی تھی۔ لیکن ہم شیعہ اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے مصلحت وقت کے مطابق آپ نے ولی عھدی کو قبول فرمایا تھا۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ امام علیہ السلام مامون کی حکومت کو حق مانتے اور جانتے ہوں امام علیہ السلام ایک روز بھی مسند حکومت پر نہیں بیٹھے۔ یو نھی وقت ملا آپ علوم اسلامی کی ترویج کرتے، غریبوں اور بے نواؤں کی خدمت کرتے۔ رہی بات مامون کی تو حکومت اور اقتدار کے بھوکے یہ خلیفے کسی سے مخلص نہ تھے۔ انھوں نے سیاسی مفادات کی خاطر بڑے بڑے مخلص دوستوں کو قتل کروا دیا تھا یہاں تک کہ اپنی اولاد پر بھی اعتبار نہ کیا۔

شیخ مفید و شیخ صدوق کی آراء

ایک اور مفروضہ کہ جسے جناب شیخ مفید (رح) اور جناب شیخ صدوق (رح) نے تسلیم کیا ہے کہ مامون شروع میں امام رضا علیہ السلام کو اپنا نائب بنانے میں مخلص تھا لیکن بعد میں اس کی نیت بدل گئی۔ ابو الفرج، جناب صدوق (رح)، شیخ مفید (رح) نے اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مامون کھتا ہے کہ ایک روز مجھے اپنے بھائی امین نے بلوایا (مامون اس وقت امین کا ولی عھد تھا) لیکن میں نہ گیا۔ کچھ لمحوں کے بعد اس کے سپاہی آئے کہ میرے ہاتھ باندھ کر مجھے خلیفہ امین کے پاس لے جائیں۔ خراسان کے نواحی علاقوں میں بہت سی انقلابی تحریکیں سر اٹھا رہی ں تھیں۔ میں نے اپنے سپاہی وں کو بھیجا کہ ان کے ساتھ مقابلہ کریں لیکن ہمیں اس لڑائی میں شکست ہوئی۔ اس وقت میں نے تسلیم کر لیا کہ اپنے بھائی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک دن میں نے خدا سے توبہ کی مامون نے جس شخص کو یہ بات بتائی وہ اس کو اس کمرے میں لے گیا کہ میں نے اس کمرے کو دھلوایا پاک وپاکیزہ لباس پھنا۔ اور اللہ تعالی سے منت مانی کہ اگر میں تندرست ہو گیا تو خلافت اس شخص کو دے دوں گا جس کا وہ حقدار ہے۔

اسی جگہ پر جتنا مجھے قرآن مجید یاد تھا میں نے پڑھا اور چار رکعتیں ادا کیں۔ یہ کام مین نے انتھائی خلوص کے ساتھ کیا۔ اس عمل کے بعد میں نے اپنے اندر انھونی سی طاقت محسوس کی۔ اس کے بعد میں نے کبھی کبھی کسی محاذ پر شکست نہیں کھائی ۔ سیستان کے محاذ پر میں نے اپنی فوج بھیجی وہاں سے فتح و کامیاب کی خبر ملی پھر طاہر بن حسین کو اپنے بھائی کے مقابلہ میں بیجھا وہ بھی کامیاب ہوا ۔ مسلسل کامیابیوں کے بعد میں اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہتا تھا۔ شیخ صدوق اور دیگر شیعہ مورخین و محدثین نے اس امر کی تائید کی ہے اور لکھا ہے کہ چونکہ مامون نے نذر مانی تھی اسلئے اس نے امام رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد مقرر کیا تھا اس کی اور وجہ کوئی نہیں ہے ایک احتمال تو یہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دوسرا احتمال

دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ اقدام یا یہ سوچ مامون کی طرف سے نہ تھی بلکہ یہ منصوبہ فضل بن سھل نے بنایا تھا۔ اس کے پاس دور عھدوں کا اختیار تھا، اور مامون کا قابل اعتماد وزیر تھا (مامون کے ایک وزیر کا نام فضل بن سھل تھا یہ دو بھائی تھے دوسرے کا نام حسن بن سھل تھا۔ یہ دونوں خالصتاً ایرانی اور مجوسی الاصل تھے) ۔ برمکیوں کے دور میں فضل تعلیم یافتہ اور تجربہ کار سیاستدان کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ علم نجوم میں خاصی دسترس رکھتا تھا۔ برمکیوں کے پاس آکر مسلمان ہو گیا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس کا باپ مسلمان تھا۔ بعض نے یہ لکھا ہے کہ یہ سب مجوسی تھے۔ اور انھوں نے اکٹھے ہی اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد فضل نے ترقی کی اور چند دنوں کے اندر اندر اسے بہت بڑی وزارت کا قلمدان مل گیا۔ گویا وزیر اعظم نامزد ہو گیا اس وقت۔ میں وزیر نہ ہوا کرتے تھے، سب کچھ فضل ہی کے پاس تھا۔ مامون کی فوج اکثریت ایرانی تھے۔ عرب فوج نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ مامون خراسان میں تھا اور امین عرب میں تھا اور ان دونوں کے درمیان جنگ جاری رھتی تھی۔

عرب امین کو پسند کرتے تھے اور مامون خراسان میں رہنے کی وجہ سے ایرانیوں کو پسند تھا۔ مسعودی نے مروج الذھب، التنبیہ والاشراف میں لکھا ہے کہ مامون کی ماں ایرانی تھی۔ اس لیے ایرانی قوم اس کو پسند کرتی تھی۔ اہستہ اہستہ حکومت کے تمام تر اختیارات فضل کے پاس منتقل ہوگئے اور مامون کے آلہ کار کے طور پر رہ گیا) فضل نے مامون سے کھا کہ آپ نے اب تک آل علی علیہ السلام پر بے تحاشا مظالم کیے ہیں اب بھتر یہ ہے کہ اولاد علی علیہ السلام میں اس وقت سب سے افضل شخص امام رضا علیہ السلام موجود ہیں ان کو لے آئیں اور اپنے ولی عھد کے طور پر ان کو متعارف کروائیں۔ مامون دلی طور پر اس پر راضی نہ تھا چونکہ فضل نے بات کی تھی اس لیے وہ اس کو ٹال نہ سکتا تھا اس لیے ہم کھہ سکتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام کا ولی عھدی نامزد کرنا فضل بن سھل کے پرگراموں میں سے ایک پروگرام تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ فضل شیعہ تھا اور حضرت امام رضا علیہ السلام سے عقیدت رکھتا تھا؟یا وہ پرانے مجوسانہ عقائد پر باقی تھا وہ چاہتا تھا کہ خلافت بنو عباس سے لے کر کسی اور کے حوالے کر دے یا وہ خلافت کو کھلونا بنانا چاہتا تھا کیا وہ حضرت امام رضاعليه‌السلام کیلئے مخلص تھا یا کہ نھیں؟ اگر یہ فضل کا منصوبہ تھا وہ ماموں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ مامون جیسا بھی تھا کم از کم مسلمان تو تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو دنیائے اسلام کی فھرست سے نکال کر مجوسیت میں لے جانا چاہتا ہو۔ بھر کیف یہ تھے وہ سوالات جو مختلف جھتوں سے مختلف افراد کی طرف سے اٹھائے گئے۔ میں یہ کبھی نہیں کھوں گا کہ تاریخ کے پاس ان سوالات کا کوئی حتمی جواب بھی ہو ۔

ممتاز مورخ جرجی زیدان فضل بن سھل کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کھتا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو ولی عھد بنانا فضل ہی کا کارنامہ ہے، چونکہ فضل ایک شیعہ تھا اس لیے امام رضا علیہ السلام سے محبت ایک فطری امر تھا۔ لیکن ہم جرجی کے اس نظریئے کی اس لیے تردید کرتے ہیں کہ یہ بات تواریخ کی کتب میں ثابت نہیں ہوسکی۔ روایات میں ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام فضل کے سخت مخالف تھے۔ آپ مامون سے بڑھ کر فضل کی مخالفت کیا کرتے تھے بلکہ اس کو مسلمانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ محسوس کرتے تھے کبھی کبہار آپ مامون کو فضل سے خبردار کیا کرتے تھے فضل اور اس کا بھائی در پردہ امام رضا علیہ السلام کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ چناچہ یہاں پر دو احتمال ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ ولی عھدی کا پروگرام مامون کا ایجاد کردہ تھا اور مامون منت کو پورا کرتے ہوئے مولا رضا علیہ السلام کو خلافت دینا چاہتا تھا اس کے بعد اس نے یہ ارادہ ترک ولی عھدی بنانے کا پروگرام بنالیا۔

شیخ صدوق اور ہمارے دوسرے علماء نے اس نظریہ کو تسلیم کیا ہے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ سارا منصوبہ فضل بن سھل کا تیار کردہ تھا۔ بعض مؤرخین کھتے ہیں کہ فضل ایک مخلص ترین شیعہ تھا اور بعض کا کھنا ہے کہ نہیں وہ ایک بد باطن شخص تھا اور اس کے عزائم انتھائی خطرناک تھے ۔

تیسرا احتمال

الف) شاید ایرانیوں کو خوش کرنا مقصود ہو

ایک احتمال اور ہے کہ ولی عھدی کا پروگرام درحقیقت، مامون ہی کا تھا۔ مامون شروع ہی سے مخلص نہ تھا وہ سب کچھ سیاست اور سازش کے طور پر کر رہا تھا۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ چونکہ ایرانی قوم شیعہ تھی اور امام علیہ السلام اور آل محمدعليه‌السلام سے دلی عقیدت رکھتے تھے، اس لیے مامون نے ایرانیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا۔ جس روز مامون نے حضرت رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد مقرر کیا اس دن اس نے اعلان کیا کہ امام کو رضا کے لقب سے یاد کیا جائے تاکہ ایرانیوں نے نوے سال قبل "الرضا من آل محمدعليه‌السلام " کے نام سے انقلابی تحریک شروع کی تھی اس کی یاد تازہ ہوجائے ۔

اپنے آپ سے کھنے لگا کہ پھلے تو ایرانیوں کو راضی کر لوں اس کے بعد امام رضاعليه‌السلام کے بارے بھی سوچ لوں گا۔ ایک وجہ اور بھی ہے مامون اٹھائیس ۲۸ سالہ نوجوان تھا اور حضرت کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ شیخ صدوق (رح) کے مطابق حضرت کا سن منارک ۴۷ سال تھا شاید یھی قول معتبر ہو۔ مامون نے سوچا ہوگا کہ ظاہر ی طور پر امام کی ولی عھدی میرے لئے نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ امامعليه‌السلام بیس سال مجھ سے بڑے ہیں یہ چند سال اور زندہ رہیں گے اور مجھ سے پھلے انتقال کر جائیں گے۔ چانچہ مامون کی سیاسی چال تھی کہ امام علیہ السلام کو ولی عھد مقرر کرکے ایرانیوں کی ہمدردیاں حاصل کرے ۔

ب) علویوں کی انقلابی تحریک کو خاموش کرنا

بعض مورخین نے لکھا ہے کہ مامون نے یہ اقدام علویوں کو خاموش کرنے کیلئے کیا ہے۔ علوی اس وقت بہت زیادہ انقلابی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور اس حوالے سے ان کو ملک بھر میں ایک خاص شھرت حاصل تھی۔ سال میں چند مرتبہ ملک کے کسی کونے پا گوشے میں وہ حکومت کے خلاف تحریک شروع کرتے تھے۔ مامون کو علویوں کو راضی کرنے کیلئے یہ اقدام کرنا پڑا۔ اس کو یقین تھا جب وہ آل محمدعليه‌السلام میں کسی محترم فرد کو اپنی حکومت میں شامل کر لے گا ایک تو عوامی رد عمل میں کمی واقع ہوجائے گی دوسرا وہ اس سے علویوں کو راضی کر لے گا یا وہ اس سے علوی سادات سے اسلحہ لے لے گا۔

جب وہ امام رضا علیہ السلام کو اپنے قریب لے آیا تو بہت سے انقلابیوں کو اس نے معاف کر دیا۔ امام رضا علیہ السلام کے بھائی کو بھی بخش دیا۔ ایک لحاظ سے فضا خوشگوار ہوگئی دراصل یہ اس کی شاطرانہ چال تھی کہ خلافت یا دوستی کا حوالہ دے کر تمام انقلابی تحریکوں اور مسلح تنظیموں کو خاموش کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ پھر موقع پر ایک ایک کرکے انقلابیوں کو ٹھکانے لگا دے گا۔ اب علوی سادات بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے اگر کسی قسم کا قدم اٹھاتے تو لوگوں نے کھنا تھا کہ اب وہ اپنے بزرگ اور آقا امام رضا علیہ السلام کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ج) امام رضاعليه‌السلام کو نھتا کرنا

ایک احتمال یہ بھی ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی ولی عھدی کا منصوبہ مامون ہی نے تیار کیا تھا اس سے وہ سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ امام رضا علیہ السلام کو نھتا کرنا چاہتا تھا۔ ہماری روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت امام رضا علیہ السلام نے مامون سے فرمایا کہ تمہارا مقصد کیا ہے؟ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب کوئی فرد منفی سوچ رکھتا ہو اور حکومت وقت پر تنقید کرتا ہو تو وہ خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے یھی حال اقوام عالم کا ہے سب سے پھلے تو حکومتیں قوم کو نھتا کرتی ہیں، جب ان سے ہر قسم کا اسلحہ واپس لے لیا جاتا وہ ناکارہ ہوجاتی ہیں تو پھر ظلم کا بازار کھل جاتا ہے اور اپنے مخالفوں کو ہر طرح سے کچل دیتی ہیں۔ اس وقت عوام کا رخ آل علی علیہ السلام کی طرف تھا۔ لوگوں کی دلی خواہش تھی کہ امام رضا علیہ السلام مضب خلافت پر بیٹھیں اور اس غیر آباد دنیا کو آباد کردیں۔ ہر طرف ھریالی ہی ھریالی ہو اور عدل وانصاف کی حکمرانی ہو۔ ظلم کی اندھیری رات چھٹ جائے اور عدل کا سویرا ہو۔

لیکن مامون نے امام علیہ السلام کو ولی عھد بنا کر لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ حکومت کے ہاتھ مضبوط ہیں۔ امام علیہ السلام بھی حکومت کے ساتھ ہیں وہ ہر لحاظ سے امامعليه‌السلام کونھتا کرنا چاہتا تھا، اس کی کوشش تھی کہ امامعليه‌السلام حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے اپنا ذاتی اثر رسوخ کھو بیھٹیں گے۔ اب تاریخ کے لیے یہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے کہ وہ اس نتیجہ تک پھنچ سکے کہ ولی عھدی کا مسئلہ مامون کا ایجاد کردہ ہے یا فضل کو کوئی منصوبہ تھا؟ پھر اگر فضل کا منصوبہ تھا تو اس کی وجہ کیا ہوسکتی تھی؟ اگر اس کی نیت صحیح تھی تو کیا اپنے موقف پر قائم رہا ہے؟اگر وہ حسن نیت رکھتا تھا تو اس کی سیاست کیا تھی؟ تاریخ ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ شیخ صدوق (رح) کا موقف تو یہ ہے مامون کی نیت شروع میں تو ٹھیک تھی لیکن بعد میں اس کا ارادہ بدل گیا اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی ہے کہ لوگ جب پریشانی ومشکل سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ حق کی طرف لوٹ آتے ہیں اور اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں لیکن جب وہ مشکل سے نجات حاصل کر لیتے ہیں تو اپنے کیے ہوئے وعدوں کو بھول جاتے ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔

( فاذا رکبوا فی الفلک دعوا الله مخلصین له الدین فلما نجینهم الی البر اذا هم یشرکون" ) (۳۰)

"پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو نھایت خلوص سے اس کی عبادت کرنے والے بن کر خدا سے دعا کرتے ہیں پھر جب انھیں خشکی میں (پھنچا کر) نجات دیتا ہے تو فوراً شرک کرنے لگتے ہیں۔"

مامون کو جب مشکلات نے گھیرا تو اس نے یہ منت مان لی تھی لیکن جب وہ مشکلات سے نکل آیا تو سب کچھ بھول گیا۔ بھتر یہ ہے کہ ہم حضرت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں تحقیق کریں اور تاریخ کے مسلمہ مکات پر نظر دوڑائیں تو حقیقت کھل کر عیاں ہوجائے گی۔ میرے خیال میں اس تحقیق سے مامون کی نیتوں اور منصوبوں کا بھی پتہ لگانا مشکل نہ ہوگا۔

تاریخ کیا کھتی ہے؟

۱۔ مدینہ سے امامعليه‌السلام کی خراسان میں آمد

تاریخ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے (مرو) خراسان بلوانے پر آپ سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ گویا آپ اپنی مرضی سے نہیں آئے تھے بلکہ لائے گئے تھے۔ مورخین میں سے ایک نے بھی یہ نہیں لکھا کہ امام کو خراسان لانے سے قبل کوئی خط و کتابت کی گئی ہو۔ یا کسی شخص کے ذریعہ آپ تک پیغام بھجوایا گیا ہو، آپ کو آمد مقصد بالکل نہیں بتایا گیا تھا جب آپ "مرو" میں تشریف لائے تو پہلی بار مسئلہ ولی عھدی پیش کیا گیا۔ اس طرح امام سمیت آل ابی طالب حکومتی اہلکاروں کی نظر میں تھے، یہاں تک کہ جس راسے سے امامعليه‌السلام کو لایا گیا وہ راستہ بھی دوسرے راستوں سے مختلف تھا۔ پہلے ہی سے پروگرام طے پایا تھا کہ امامعليه‌السلام کو شیعہ نشین علاقوں سے نہ گزارا جائے۔ کیونکہ بغاوت کا خطرہ تھا ۔ اس لیے مامون نے حکم دیا امامعليه‌السلام کو کوفہ کے راستے سے نہ لایا جائے بلکہ بصرہ خوزستان سے ہوتے ہوئے نیشاپور لایا جائے۔ پولیس کے اہل کار حضرت امام رضا علیہ السلام کے ادھر ادھر بہت زیادہ تھے۔ پھر آپ کے دشمنوں، مخالفوں کو آپ ساتھ تعینات کیا گیا۔ سب سے پہلے تو جو پولیس افسر آپ کی نگرانی کر رہا تھا وہ مامون کا خاص گماشتہ اور وفادار تھا۔ اس کا نام جلودی تھا۔ امام علیہ السلام سے کینہ و بغض رکھتا تھا، یہاں تک کہ جب مسئلہ ولی عھدی مرو میں پیش کیا گیا تو اس جلودی نامی شخص نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مامون نے اسے خاموش رہنے کو کہا لیکن اس نے کہا کہ میں اس کی بھر پور مخالفت کروں گا۔ جلودی اور دوسرے آدمیوں کو زندان میں ڈالا گیا پھر اسی مخالفت اور دشمنی کی وجہ سے ان کو قتل کردیا گیا۔

(جلودی بہت بی ملعون شخص تھا اس نے مدینہ میں علویوں کے خلاف جنگ لڑی لیکن اس کو شکست ہوئی۔ ہارون نے اسی جلودی کو حکم دیا تھا کہ آل ابی طالبعليه‌السلام کا تمام مال، زیورات اور لباس وغیرہ لوٹ لے۔ یہ سادات کے دروازے پر آیا لیکن امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تجھے اندر نہیں جانے دوں گا۔ اس نے بہت اصرار لیا۔ امامعليه‌السلام نے فرمایا یہ ہو ہی نہیں سکھتا۔اس نے کہا میری یہ ڈیوٹی میں شامل ہے ۔ آپ نے فرمایا تو ادھر ہی ٹھر جا جو کہتا ہے وہ ہم خود ہی تجھے دیتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خود اندر تشریف لے گئے آپ نے بیبیوں سے فرمایا آپ کے پاس جو چیز بھی ہے کپڑے، زیورات وغیرہ وہ سب مجھے دے دو تاکہ میں جلودی کو دے دوں)

مورخین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک روز ہارون نے حضرت امامعليه‌السلام اور فضل کی موجودگی میں جلودی کو اپنے دربار میں بلوایا اور اس سے کہا کہ اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔ لیکن جلودی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم سوفی صد اس بات کی مخالفت کریں گے بلکہ ایک شخص نے بد تمیزی بھی کی۔ ہارون نے حکم دیا ان میں سے جو بھی ہماری بات نہ مانے ان کا سر قلم کر دیا جائے۔ چنانچہ دوافراد کو اس وقت قتل کر دیا گیا۔ جلودی کی باری ائی۔ امام رضا علیہ السلام نے ہارون سے فرمایا کہ اسے معاف کر دو لیکن جلودی نے کہا اے امیر! میری آپ سے ایک درخواست ہے وہ یہ ہے کہ اس شخص یعنی (امامعليه‌السلام ) کی سفارش میرے بارے میں قبول نہ کیجئے۔ مامون نے کہا تیری قسمت خراب ہے۔ میں امامعليه‌السلام کی سفارش قبول نہیں کرتا۔ اس نے تلوار اٹھائی اس وقت جلودی کو ڈھیر کر دیا۔ بھر حال امام رضا علیہ السلام کو خراسان لایا گیا۔ تمام سادات ایک جگہ پر اور امام رضا علیہ السلام ایک جگہ پر ۔ ۔ ۔۔ ۔ لیکن پولیس کے سخت پہروں میں تھے اس وقت مامون نے کہا آقا میں آپ کو اپنا ولی عھد مقرر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بات تاریخ کی مسلمہ حقائق میں سے ہے۔

۲- امام رضا علیہ السلام کا انکار

جیسا کہ ہم نے کہا کہ مدینہ میں حضرت سے ولی عھدی کی بات بھی نہ کی گئی اور نہ اس سے متعلق کوئی مشورہ لیا گیا "مرو" میں جب آپ کو ولی عھدی کی بابت بتایا گیا تو آپ نے شدید انکار کیا۔ ابو الفرج نے مقاتل الطالبین میں لکھا ہے کہ مامون نے فضل بن سہل اور حسن بن سہل کو امامعليه‌السلام کے پاس بھیجا جب ان دونوں بھائیوں نے آپ کی ولی عھدی کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہوگا اور تم لوگ یہ کھا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا ہم مجبور ہیں ہمیں اوپر سے حکم ہوا ہے کہ اگر آپ نے انکار کیا تو آپ کا سر قلم کر دیں گے۔ شیعہ علماء نے بار بار اس تاریخی جملہ کو ذکر کیا ہے کہ انکاری کی صورت میں آپ کو اسی وقت قتل کر دیا جاتا لیکن مورخین نے یہ بھی لکھا ہے حضرت نے قبول نہ فرمایا۔ یہ دونوں مامون کے پاس گئے دوسرا مرتبہ مامون خود حضرت کے پاس آیا اور بات چیت کی۔ آخر میں امامعليه‌السلام کو قتل کی دھمکی بھی دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کہا آپ اس عھدے کو قبول کیوں نہیں کرتے؟کیا آپ کے دادا علیعليه‌السلام نے مجلس شورای میں شرکت نہ کی تھی؟ اس سے وہ کہتا چاہتا تھا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ تمہارا خاندانی شیواہ ہے ۔

دوسرے لفظوں میں جب حضرت علی علیہ السلام نے شورای میں شرکت فرمائی تو خلیفہ کے انتخاب میں دخل اندازی کی، اور یہ مانتے اور جانتے ہوئے خاموش ہوگئے کہ خلافت اللہ کی طرف سے انہی کا حق ہے۔ اور آپ نے آنے والے لمحوں کا انتظار کیا۔ پس جب آپ کے دادا علی نے شوری کے فیصلوں کو تسلیم کیا ہے تو آپ ہماری مشاورتی کمیٹی میں شمولیت اختیار کیوں نہیں کرتے؟ امام علیہ السلام نے مجبور ہو کر قبول کر لیا اور خاموش ہوگئے۔ البتہ آپ کے سوال کا جواب باقی ہے جو کہ ہم نے اپنی اس گفتگو میں دینا ہے کہ جب امام علیہ السلام نے انکار کر دیا تھا تو اپنے اس موقف پر قائم رہتے اگر چہ اس کے لیے آپ کو جان بھی قربان کرنی پڑتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کر لیتے۔ امام حسین علیہ السلام نےیزید کی بیعت سے انکار کر کے اپنی مظلومانہ شھادت کو قبول کر لیا۔ لیکن یزیدیت کے سامنے اپنا سر نہ جھکایا۔ جب انکار ہی کیا تھا تو انکار ہی رہنے دیتے؟اس سوال کا جواب ہم اس گفتگو میں دیں گے۔

۳۔ امام رضا علیہ السلام کی شرط

مورخین نے لکہا ہے کہ امام علیہ السلام نے ایک شرط عائد کی کہ ولی عھدی کا منصب میں اس صورت میں قبول کروں گا کہ حکومتی اور سرکاری معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کروں گا اور کوئی ذمہ داری بھی نہ لوں گا۔ در حقیقت آپ مامون کے کسی کام میں تعاون نہیں کرنا چاہتے تھے۔ گویا آپ ایک طرح کی مامون کی مخالفت کر رہے تھے۔ یہ ایک طرح کا احتجاج تھا اور احتساب بھی۔ مامون نے امام علیہ السلام کی یہ شرط مان لی لیکن امام علیہ السلام نماز عید میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ مامون نے امام علیہ السلام سے کہا کہ آپ اس عید پر ضرور تشریف لائیں۔ آپ نے فرمایا یہ میرے معاہدے کے خلاف ہے۔ مامون بولا لوگ ہمارے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں، اس مرتبہ آپ ہر حالت میں شرکت فرمایئے۔ حضرت نے فرمایا ٹھیک ہے آپ نے ایسی صورت میں مامون کی دعوت قبول فرمائی کہ مامون اور فضل کو شرمندگی اٹھانا پڑی، کیونکہ آپ کی وجہ سے ایک بہت بڑے انقلاب کے برپا ہونے کا خطرہ تھا۔ اسی خوف اور خدشے کی بناء پر آپ راستہ ہی میں واپس بھیج دیا گیا اور آپ کو باہر اس لیے نہیں جانے دیا گیا کہ اگر آپ عید کے اجتماع میں شرکت کرتے ہیں تو لوگوں کا انبوہ کثیر آپ کی بیعت کر کے حکومت وقت کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا۔

۴۔ ولی عھدی کے اعلان کے بعد امامعليه‌السلام کا رویہ

اس مسئلہ سے بھی اہم مسئلہ ولی عھدی کے اعلان کے بعد امام رضا علیہ السلام کا مامون کے ساتھ بے غرضانہ رویہ اختیار کرنا ہے۔ اس کے بارے مین اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء اور مورخین نے کہلے لفظوں میں اظہار خیال کیا ہے۔ جب امام رضا علیہ السلام کو ولی عھد نامزد کیا جاچکا تو آپ نے ڈیڑھ سطر کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے اپنی پالیسی کہل کر بیان کی آپ نے اس خطبہ میں نہ مامون کا نام لیا اور چھوٹا سا شکریہ بھی ادا نہ کیا۔ حالانکہ سرکاری پروٹوکول کے مطابق آپ مامون کا نام لینے کے ساتھ ساتھ شکریہ بھی ادا کرنا چاہی ے تھا۔ ابو الفرج بیان کرتے ہیں کہ مامون نے ایک دن اعلان کیا کہ فلاں روز ملک بھر کے عوام ایک جگہ پر جمع ہوں اور علانیہ طور پر امام رضا علیہ السلام کی بیعت کی جائے چنانچہ ایک بہت اجتماع ہوا، اس میں مامون نے امام علیہ السلام کے لیے کرسی صدارت بچھوائی۔ سب سے پھلے مامون کے بیٹے عباس نے بیعت کی پھر علوی سید کو موقعہ بیعت دیا گیا۔ اس طرح ایک عباسی اور ایک علوی بیعت کے لیے آتے جاتے رہے اور ان بیعت کرنے والوں کو بھترین انعامات بھی دیئے گئے۔ آپ نے بیعت کیلئے دوسرے طریقے رکھے ہوئے تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ میرے جد بزرگوار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طریقے سے بیعت لیتے تھے لوگوں نے آپ کے ہاتھ وں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی، خطباء، شعراء اور مقررین نے اپنے الفاظ اور اپنے اپنے انداز میں سرکار رضاعليه‌السلام کی مدح سرائی کی۔ بعض شعراء نے مامون کو بھی سراہا اس کے بعد مامون نے امام رضا علیہ السلام سے کھا:

قم فاخطب الناس وتکلم فیهم"

آپ اٹھ کر لوگوں سے خطاب کریں مامون کو یہ توقع تھی کہ امام علیہ السلام اس کے حق میں توصیفی کلمات ادا فرمائیں گے۔

"فقال بعد حمد الله والثناء علیه"


مسئلہ ولی عھدی امام رضاعليه‌السلام ( ۲)

ھم امام رضا علیہ السلام کی ولی عھدی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس نشست مین بھی ہم اس اہم تاریخی موضوع پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ جرجی زیدان کی طرح کچھ مورخین نے کہلے لفظوں میں کہا ہے کہ بنو عباس کی سیاست نیکیوں کو چھپانا اور حقائق کو دبانا تھا۔ جس کی وجہ سے تاریخ میں سے کچھ چیزیں ایسی بھی رہ گئ ہیں جن کے بارے میں آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ولی عھدی کا مسئلہ امام رضا علیہ السلام سے شروع نہیں ہوا یعنی امام رضا علیہ السلام نے ولی عھد بننے کی نہ خواہش ظاہر کی اور نہ آپ دلی طور پر مامون کا نائب خلیفہ بننا چاہتے تھے اور نہ ہی امام وقت کے شایان شان تھا۔ دراصل شروع ہی اس مسئلہ کو انتھائی راز میں رکہا گیا تھا۔ مامون خراسان میں تھا۔ خراسان اس زمانے میں روس کے ساتھ ملتا جلتا تھا۔ مامون وہاں سے چند افراد کو مدینہ روانہ کرتا ہے۔ کس لیے امام رضا علیہ السلام کو بلوانے کیلئے۔

امام رضا علیہ السلام کی خراسان میں آمد کا پروگرام تک نہ تھا اور آپ کو ان راستوں، شھروں، علاقوں اور دیھاتوں سے گزار کر لایا گیا کہ جھاں آپ کے ماننے اور جاننے والے موجود نہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں امام رضا علیہ السلام پولیس کے کڑے پھرے میں قید کر کے لایا جارہا تھا۔ جب آپ مرو پھنچے تو آپ کو ایک الگ مکان میں لایا گیا۔ مامون اور امام علیہ السلام کے مابین پہلی جو گفتگو تھی وہ یہ تھی کہ میں آپ کو خلافت کی باگ دوڑ دینا چاہتا ہوں۔ پھر کہا کہ اگر آپ یہ قبول نہ فرمائیں تو ولی عھدی کا منصب ضرور قبول کریں۔ آپ نے سخت انکار کیا۔ اب سوال یہ ہے امام علیہ السلام کے انکار کی وجہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں ہم روایات کی طرف چلتے ہیں دیکھتے ہیں وہ کونسی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے امام علیہ السلام کو انکار کرنا پڑا؟ عیون اخبار الرضا مین ذکر ہوا ہے کہ مامون نے امام رضا علیہ السلام سے کہا میں سوچ رہا ہوں کہ مسند خلافت چھوڑ کر اسے آپ کے حوالے کروں اور آپ کی بیعت کروں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا تم خلافت کے مستحق ہو کہ نھیں؟ اگر حقدار ہو تو اللہ تعالی کی طرف سے یہ تمہارے پاس امانت ہے اسے ہر صورت میں اپنے پاس رکھو اگر اس پر تمہارا حق نہیں ہے تو پھر بھی اس پر قابض رہو؟ اس سے امام کا مقصد یہ تھا اگر خلافت تمہارا حق نہیں ہے تو یزید کے بیٹے معاویہ کی طرح اعلان کرو کہ میں حقدار نہیں ہوں۔ میرے آباء واجداد نے غلطی کرتے ہوئے مجبوراً عنان حکومت میرے ہاتھ مین دی ہے۔ معاویہ بن یزید نے کہا تھا کہ میرے باپ دادا نے خلافت غصب کر کے اس پر ناجائز طور پر قبضہ جمایا تھا ار میں جامہ خلافت کو اتار کر واپس جارہاہوں۔ اگر تم بھی خلافت دینا چاہتے ہو تو اسی طرح کرو۔ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے آباء و اجداد اور ان کے انداز حکومت کو ناجائز اور غلط کہنا ہوگا۔ ہارون نے جب یہ بات سنی تو اس کے چھرے کا رنگ فق ہوگیا اور گفتگو کو بدلتے ہوئے اچھا چھوڑو اس بات کو شاید آپ کی کوئی مجبوری ہے ۔

پھر مانون نے کہا کہ آپ کو ہماری شوری میں شرکت تو کرنا پڑے گی۔ مامون ایک پڑھا لکھا شخص تھا۔ حدیث، تاریخ، فلسفہ، ادبیات پر اسے مکمل عبور حاصل تھا۔ طب و نجوم پر بھی خاص مہارت رکھتا تھا۔ آپ اسے وقت کا قابل ترین شخص بھی کھہ سکتے ہیں۔ شاید سلاطین وخلفاء میں مامون جیسا قابل اور لائق شخص پیدا ہی نہیں ہوا ہو۔ اس نے دلیل کا سہارا پکڑتے ہوئے کھا کہ آپ کے دادا علی علیہ السلام نے بھی شوری میں شمولیت اختیار ک تھی؟

اس وقت کی شوری مین چھ آدمی تھے۔ فیصلہ اکثریت کے پاس تھا۔ اس وقت کسی نے دھمکی دی تھی کہ اگر شوری کے فیصلے سے کسی نے انکار کیا تو ابو طلح انصاری اس کا سر قلم کر دے گا۔ یہ صورت حال بھی اس جیسی ہے۔ لھذا آپ اپنے دادا علی علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے ہمارے فیصلے کو قبول کریں۔ ایک لحاظ سے مامون امام علیہ السلام کو سمجھانے کی ایک لاحاصل کوشش کر رہا تھا کہ آپ کے دادا علی علیہ السلام نے خلافت کو اپنا حق جاننے ہوئے بھی شوری کے فیصلوں کو تسلیم کیا حالانکہ علی علیہ السلام کو اس وقت احتجاج کرنا چاہی ے تھا، اور آپ شوری میں شامل ہی نہ ہوتے اور اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھتے جب تک کہ ان کو اپنا حق نہ مل جاتا، لیکن آپ نے کسی قسم کا احتجاج نہ کیا بلکہ اپنی مرضی سے ہی شوری کے اجلاس میں شرکت کی، اور اپنی خوشی سے خلیفہ کے انتخاب میں حصہ لیا۔

لھذا اب بھی وھی صورت حال ہے بھتر یہ ہوگا کہ آپ ہماری شوری میں آجائیں لیکن آپ کی خاموش اور انکار کے بعد اس نے دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے امام علیہ السلام کو ولی عھد بننے پر مجبور کیا۔ یہ نظریہ قطعی طور پر درست نہیں ہے کہ امام علیہ السلام نے ڈر اور خوف کی وجہ سے ولی عھدی کا منصب قبول کیا ہے۔ دراصل یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کیلئے کیا گیا۔ دوسرا آپ نے امامت کی ذمہ داریاں بھی دوسرے امام کی طرف منتقل کرنا تھیں۔ اس کے علاوہ اور بھی شرعی ذمہ داریاں تھیں جن کو امام علیہ السلام نے نبھانا تھا۔ اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو یہ بات پایہ ثبوت تک پھنچ جاتی ہے کہ آپ نے مامون کی پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔ آپ کا ایک بار ٹھکرانا اس بات کی دلیل ہے کہ امام علیہ السلام مامون کی خلافت کو جائز سمجھتے تھے نہ اس کی کسی قسم کی مدد کرنے کو تیار تھے۔ پھر مصلحت کے ساتھ آپ کو خاموش اختیار کرنا پڑی۔

تیسرا مسئلہ جو کہ بہت اہم ہے کہ امام علیہ السلام نے اس پر شرط عائد کی کہ میں خلافت اور حکومت کے کاموں میں مداخلت نہیں کروں گا، اس صورت میں مجھے نائب خلیفہ مقرر کرنا ہے تو کر لو، میرے نام پر سکہ جاری کرنا ہے تو کر لو۔ میرا نام استعمال کرتے ہوئے خطبہ پڑھنا ہے تو پڑھ لو، لیکن عملی طور پر مجھے اس سے دور رکھو۔ میں نہ عدالتی، حکومتی، امور میں دخل اندازی کروں گا اور نہ کسی کو مقرر اور معطل کرنے میں حصہ لوں گا۔ اس کے علاوہ آپ نے حکومت کا سرکاری پروٹوکول بھی قبول نہ کیا۔ اس لحاظ سے آپ اس کو سمجھا رہے تھے کہ وہ اس کی حکومت کے خیر خواہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس خلافت کو جائز سمجھتے ہیں۔

ایک روز مامون نے ملک کے سرکردہ افراد، سیاسی ومذھبی شخصیات کو مدعو کیا۔ سب کو سبز لباس پھننے کی تلقین کی گئی۔ فضل بن سھل نے سبز لباس تجویز کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عباسیوں کا پسندیدہ رنگ کالا تھا۔ فضل نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سبز لباس پھن کر کانفرس میں شرکت کریں۔کھا جاتا ہے یہ رنگ مجوسیوں کا پسندیدہ رنگ تھا لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ بات کسی حد تک سچی ہو؟ چناچہ وقت مقررہ پر سب شرکاء پھنچ گئے۔ جلسہ کی کاروائی شروع ہوئی۔ سب سے پھلے امام علیہ السلام کی ولی عھدی کی رسم ادا کی گئی۔ اس سلسلے میں مامون کے بیٹے عباس نے امام علیہ السلام کی بیعت کی، اس سے قبل وہ اپنے باپ کا ولی عھد تھا۔اس کے بعد ایک ایک کر کے لوگ آتے رہے بیعت کرتے رہے۔ پھر شعراء، خطباء کی باری آئی۔ انھوں نے اپنے اپنے انداز میں انتھائی خوبصورت اشعار کھہ کے محفل کو پر کیف بنا دیا۔ اس کے بعد امام علیہ السلام کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ آپ اپنی نشست سے اٹھ کر سٹیج پر تشریف لائے۔ اور ڈیڑھ سطر پڑھ کر اپنا خطبہ مکمل کر لیا آپ نے فرمایا ہم (اہلبیت اطہارعليه‌السلام ، ہمارے آئمہ) آپ لوگوں پر حق رکھتے ہیں کہ تمہارے سربراہ مقرر ہوں۔ اس کا مفھوم یہ تھا کہ خلافت ہمارا حق ہے۔ اس کے علاوہ اور کچھ نھیں۔ آپ پر ہمارا اور ہمارا آپ پر حق ہے۔ آپ کا ہم پر حق یہ ہے کہ ہم آپ کے سب حقوق کی حفاظت کریں اور امور زندگی میں آپ کی مدد کریں، اور آپ کا فرض یہ ہے کہ ہماری پیروی کریں اور ہم سے رھنمائی لیں۔ آپ لوگوں نے جب ہی ہمیں خلیفہ برحق کے طور پر تسلیم کر لیا تو ہم پر لازم ہے کہ اپنے وظیفہ کو احسن طریقے سے نبھائیں۔ علامہ مجلسی میں یوں عبارت درج ہے:

"لنا علیکم حق برسول الله ولکم علینا حق به فاذا انتم ادیتم الینا ذلک وجب علینا الحق لکم" (۳۱)

اس کا مفھوم اور معنی اوپر درج کیا جاچکا ہے دوسرے لفظوں میں ہم اس کی تعبیر کچھ اس طرح کرسکتے ہیں کہ امام علیہ السلام لوگوں سے یہ کھہ رہے تھے خلافت ہمارا حق ہے تمہارے حق یہ ہے، کہ خلیفہ آپ کے مسائل کو ھل کرے۔ آپ پر فرض ہے کہ ہمارا ہمیں حق دیں اور ہم اس ذمہ داری کو نجوبی انجام دیں گے۔

اس میں آپ نے مامون کا نام تک نہ کیا اور نہ ہی اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس طرح محسوس ہو رہا تھا کہ جس طرح امام علیہ السلام مامون کی ولی عھدی کے خلاف بول رہے ہوں۔ پھر آپ نے عملی طور پر بھی کر دکھایا۔ مامون کے حکومتی امور میں مداخلت نہ کی اور نہ کسی قسم کا شاہی اعزاز لیا جب کہ مامون نے عرض کی تھی کہ آپ نماز عید میں سرکاری طور پر شرکت فرمائیں، لیکن آپ نے اس سے انکار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کیا آپ سے معاہدہ نہیں ہوا کہ میں حکومتی امور میں مداخلت نہ کروں گا۔ جب اس نے اصرار کیا کہ میں اپنے جد بزرگوار کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گھر سے باہر نکلتا ہوں اس نے کھا ٹھیک ہے۔ چناچہ امام علیہ السلام جب عمل کرتے ہوئے گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں اور پورے شھر میں کھلبلی سی مچ جاتی ہے ۔ مامون نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے امام علیہ السلام کو واپس گھر بھجوادیا۔

چناچہ ان شواہد سے یہ ثابت ہوگیا کہ آپ کی ولی عھدی کا منصب قبول کرنا امام علیہ السلام کی مرضی کے خلاف تھا۔ زبردستی طور پر آپ کو اقرار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر آپ نے مصلحت کے تحت اس منصب کو قبول تو کر لیا لیکن حکومت کے کسی مسئلہ میں مداخلت نہ کی اور نہ ہی کسی لحاظ سے شریک اقتدار ہوئے اور آپ نے اس انداز سے کنارہ کشی کی کہ دشمن کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا۔ اور آپ نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ حق و باطل، دن اور رات ایک جگہ پر جمع نہیں ہو سکتے ۔

مشکوک مسائل

اب تک ہم نے کچھ مسائل پر بحث کی ہے دراصل یہ مشکوک نظر آتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اس قسم کی باتوں پر یقین نہیں آتا۔ پھر علماء و مورخین کا بھی آپس میں اختلاف ہے کہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ مامون امامعليه‌السلام کو مدینہ سے مرو بلائے اور اپنے خاندان کو نظر انداز کر کے خلافت آل محمدعليه‌السلام کے سپرد کر دے؟ سوچنے کی بات ہے کہ یہ کام اس نے اپنی مرضی سے کیا ہے یا فضل بن سھل کے مشورے سے ہوا ہے۔ بعض مورخین نے اس کو فضل کا تجویز کردہ منصوبہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہ قول انتھائی کمزور ہے۔ جرجی زیدان نے بھی امام کی ولی عھدی کے مشورہ کو فضل کا پروگرام تسلیم کیا ہے۔ ان کے بقول فضل بن سھل شیعہ تھا وہ اور دل جان سے آل محمد علیھم السلام کو خلافت سپرد کرنا چاہتا تھا۔ اگر یہ قول صحیح ہوتا تو امام رضا علیہ السلام فضل کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرتے تھے تو پھر آپ کو جان سے مار دینے کی دھمکی کیوں دی جا رہی تھی۔

اگر آپ نے ولی عھدی قبول ہی کرلی تھی تو کھل کر حکومتی امور میں مداخلت کرتے۔ پروٹوکول سے لطف اندوز ہوتے اور کوشش کرکے مامون سے مسند خلافت لے ہی لیتے؟ البتہ یہاں پر بھی ایک اعتراض اٹھتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر امام علیہ السلام اور فضل بن سھل ایک دوسرے کے تعاون سے مامون سے خلافت لے لیتے تو پھر بھی فضا خوشگوار نہ ہوسکتی تھی؟ خراسان ایک اسلامی مملکت تھی۔ عراق، حجاز، یمن، مصر، شام الگ الگ ریاستیں تھیں، ان لوگوں کے خیالات اور حالات اہل ایران سے جدا تھے۔ بلکہ ان ملکوں کے لوگ ایرانیوں کے زبردست مخالف تھے۔ بالفرض اگر امام رضا علیہ السلام خراسان کے حاکم ہوتے اور بغداد میں کوئی اور مد مقابل ہوتا اور امام کی ولی عھدی کی خبر بغداد تک پھنچتی اور بنی عباس کو اس کا پتا چلتا تو وہ مامون کو معزول کر کے ابراہی م کو امیدوار کھڑا کرکے اس کی بیعت کر لیتے۔ اس وقت بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا تھا۔ یہ لوگ ضرور اس بات کا احتجاج کرتے کہ ہم نے ایک سو سال محنت کی ہے، اور بے تحاشہ تکلیفیں دیکھیں ہیں۔ اب اس آسانی سے علویوں کو خلافت کیوں دے دیں۔ بغداد میں احتجاج برپا ہو جاتا اور گردو نواح کے لوگ بھی امام علیہ السلام کی مخالفت میں متحد ہو سکتے تھے ۔۔یہ بات بھی حقیقت سے بہت دور ہے اس کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا کہ فضل بن سھل شیعہ ہونے کی بناء پر امام علیہ السلام کو مسند خلافت پر لانا چاہتا تھا۔ سب سے پھلے تو ولی عھدی کا مسئلہ اس کا تجویز کردہ نہیں تھا، دوسرا اس کا شیعہ ہونا وہ بھی تردید سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ نو مسلم تھا۔ وہ ایران کو زمانہ سابق والے ایران کی طرف لانا چاہتا تھا۔ وہ نجوبی جانتا تھا کہ چونکہ ایرانی لوگ پکے مسلمان ہیں وہ اس قدر آسانی سے کوئی بات قبول نہ کریں گے۔ وہ اسلام کے نام پر عباسی خلیفہ سے خلافت لے کر امام رضا علیہ السلام کو دینا چاہتا تھا، پھر وہ امام رضا علیہ السلام کو گونا گوں مشکات میں ڈالنا چاہتا تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو امام علیہ السلام کےلیے محتاط رھنا ضروری اور آپ نے انتھائی محتاط انداز میں قدم رکھا ۔

کیونکہ فضل کے ساتھ چلنا اور تعاون کرنا مامون کی نسبت زیادہ مشکل اور خطرناک تھا۔ اس کے مقابلے میں مامون جو بھی تھا اور جسا بھی تھا فضل سے اچھا تھا۔، کیونکہ مامون ایک مسلم خلیفہ تھا۔ ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ تمام خلفاء ایک جیسے نہ تھے۔ یزید اور مامون میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ مامون ایک تو پڑھا لکھا دانشور اور علم دوست تھا۔ بھترین حاکم، بھترین سیاسدان تھا۔ اس نے جو فلاحی ورفاہی کام کیے شاید کیسی اور عباس خلیفے نے نہ کئے ہوں؟

آج کل جو علمی واسلامی ترقی مسلم قوموں میں موجود ہے اس میں ہارون و مامون کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ یہ روشن فکر اور جدید سوچ رکھنے والے حکمران تھے، آج بہت سے اسلامی کارنامے ان دونوں سلاطین کے مرہون احسان ہیں۔ یہ تو تھا اس کی شخصیت کا مثبت پھلو، لیکن اس کا منفی پھلو یہ تھا کہ اقتدار کے لیے اپنے بیٹے کو بھی قتل کرنے کا قائل تھا۔ یہ جس امام علیہ السلام کو اچھا سمجھتا تھا اس نے اپنے ہاتھ سے انھیں زھر دے کر مروادیا۔ بات کھیں سے کھیں چلی گئی۔

اگر حقیقت حال ایسی ہو کہ جسا کہ ہم نے بیان کی ہے کہ ولی عھدی کا مسئلہ فضل کا تجویز کردہ ہو تو امام علیہ السلام اور تمام مسلمانوں کے حق میں بھتر نہ تھا، کیونکہ فضل بن سھل کی نیت درست نہ تھی۔ ہماری شیعہ روایات کے مطابق امام رضا علیہ السلام فضل بن سھل سے سخت نفرت کرتے تھے۔ جب فضل اور مامون کے مابین اختلاف ہوجاتا تو امام علیہ السلام مامون کی حمایت کرتے تھے۔ روایات میں ہے کہ فضل اور ھشام بن ابراہی م حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ خلافت تو حق آپ کا ہے یہ سب غاصب ہیں۔ آپ اگر ساتھ دیں تو ہم مامون کا کام تمام کردیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ رسمی طور پر خلیفہ ہوجائیں گے۔ حضرت نے ان دونوں کی اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا جس سے انھوں نے سمجھا کہ انھوں نے ایسی بات کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس کے بعد یہ دونوں فوراً مامون کے پاس آئے اور کھا کہ ہم امام علیہ السلام کے پاس گئے۔ اور ان کا امتحان لینے کیلئے ہم نے ان سے کھا کہ آپ اگر ہمارا ساتھ دیں تو ہم مامون کو قتل کر سکتے ہیں، لیکن امام علیہ السلام نے انکار کردیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ مخلص ہیں۔ چند دنوں کے بعد جب مامون کی امام سے ملاقات ہوئی تو مامون نے فضل اور ھشام کی بات امام علیہ السلام کو بتلائی، تو امام علیہ السلام نے فرمایا یہ دونوں جھوٹ کھتے ہیں یہ واقعتاً آپ کے دشمن ہیں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے مامون سے فرمایا ان دونوں سے احتیاط کیا کرو یہ کسی وقت بھی تمھیں نقصان پھنچا سکتے ہیں۔

روایات کے مطابق حضرت علی ابن موسی رضا علیہ السلام مامون کی نسبت فضل بن سھل سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے۔ ان حقائق کو دیکھ کر ہم کھہ سکتے ہیں کہ ولی عھدی کی تجویز فضل ہی کی تھی۔ یہ نیا نیا مسلمان ہوا تھا۔ اس نے سلام کا نام لے کر بہت بڑا فائدہ حاصل کیا ۔ اور ترقی کرتے کرتے وزارت عظمی کے عھد پر پھنچ گیا۔ امام علیہ السلام اس شخص کی اس اس تجویز کو قطعی طور پر اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ کیونکہ آپ کو ان کی نیتوں پر شک تھا بلکہ آپ کو اس بات کا یقین تھا کہ فضل اسلام اور امام علیہ السلام کا نام استعمال کر کے ایران کو صدیوں پیچھے کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔

چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر فضل کی تجویز کار آمد ہوتی تو امام علیہ السلام مامون کےخلاف فضل ہی کی حمایت کرتے۔ امام علیہ السلام شروع ہی سے فضل کو ایک مفاد پرست، سازشی انسان سمجھتے تھے۔ ایک اور فرض کہ اگر یہ تجویز مامون کی تھی تو سوچنے کی بات ہے کہ مامون نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اس کی نیت اچھی تھی یا بری؟ اگر اس کی نیت اچھی تھی تو کیا اپنے اس فیصلے پر برقرار رہا یا فیصلہ بدل لیا؟ اگر یہ کھیں کہ وہ حسن نیت رکھاتا تھا اور آخر تک اسی پر قاقئم رہا تو یہ بات بالکل ہی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ نکتہ کسی حد تک درست ہے کہ وہ شروع میں تو مخلص تھا لیکن بعد میں بدل گیا۔ شیخ مفید اور شیخ صدوق کا نظریہ بھی یھی تھا۔ جناب شیخ صدوق اپنی مشھور کتاب عیون اخبار الرضا میں لکھتے ہیں کہ مامون شروع میں امام کی ولی عھدی کے بارے میں اچھی نیت رکھتا تھا کیونکہ اس نے واقعی طور پر منت مانی تھی۔

وہ اپنے بھائی امین کے ساتھ الجھ گیا تھا۔ اس نے منت مانی تھی کہ اگر خدا نے اس اس کے بھائی امین پر فتح اور غلبہ دیا تو وہ خلافت کو اس کے حقدار کے سپرد کر دے گا۔ امام رضا علیہ السلام نے بھی اس کی پیشکش کو اس لیے ٹھکرا دیا کہ اس نے جزبات میں آکر یہ فیصلہ کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شخص اپنے تمام ارادے تمام قسمیں توڑ ڈالے گا۔ لیکن کچھ مورخین نے یہ لکھا ہے کہ وہ شروع ہی سے اچھی نیت نہ رکھتا تھا۔ یہ اس کی ایک سیاسی چال تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی سیاسی چال کیا تھی؟ کیا وہ امام علیہ السلام کے ذریعہ سے علویوں کی تحریک کو کچلنا چاہتا تھا؟ یا امام رضا علیہ السلام کو بدنام کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امام علیہ السلام ایک گوشہ میں خاموشی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے اور مامون پر سخت تنقید کیا کرتے تھے۔

اس لیے اس نے منصوبہ بنایا کہ حضرت کو حکومت میں شامل کر کے تنقید کا سلسلہ بند کرے۔ جیسا کہ عام طور پر تمام سیاستدان کرتے ہیں اور وہ اپنے مخالفوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کی عوامی مقبولیت کو ختم کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی اہداف و نظریات بدلنے والوں کی جانی قربانی بھی دینی پڑتی ہے کیونکہ دشمن بالآخر دشمنی ہی ہوتا ہے۔ ہمارے اس مدعا کی تائید یہ روایات بھی کرتی ہیں کہ امام علیہ السلام نے ایک مرتبہ مامون سے کھا تھا کہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ تم مجھے حکومت میں شامل کرکے میری روحانی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہو۔ یہ سن کر مومون غصے میں آگیا اور اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اور بولا آپ کیسی باتیں کرتے ہیں اس قسم کی باتیں مجھ سے منسوب کیوں کرتے ہیں؟

چند اعتراضات

ایک مفروضہ یا سوال یہ بھی ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام فضل (جو کہ شیعہ تھا) کے ساتھ تعاون کرتے تو بھتر تھا، پھر آپ نے خلافت کو دلی طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ ہمیں یھیں سے اصل قضیہ یا مسئلہ کو سمجھنا چاہی ے کہ ہم ایک نکتہ نظر سے نہیں بلکہ ایک غیر جانبدار شخص کے طور پر سوچتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام دیندار شخص تھے یا دینا دار؟اگر دیندار تھے تو جس وقت آپ کو خلافت مل رہی تھی تو آپ فضل کے ساتھ تعاون کرتے اگر دنیا دار تھے تو بھی اس کے ساتھ ہر ممکن مدد کرتے لیکن آپ نے اس کے ساتھ تعاون نہ کر کے ثابت کر دیا کہ یہ مفروضہ بھی غلط ہے ۔

لیکن اگر یہ مفروضہ ہو کہ فضل اسلام کو نقصان پھنچانا چاہتا تھا، تو امام علیہ السلام کا اقدام بالکل صحیح تھا، کیونکہ حضرت نے دوسرے اشخاص میں سے اس شخص کو چنا جو برائی کے لحاظ سے کم تھا، وہ تھا مامون کی ولی عھد کو قبول کرنا (وہ بھی شرط عائد کر کے قبول کیا) ۔

سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر ولی عھدی کی دعوت دینا مامون کی تجویز کردہ تھی تو امام علیہ السلام کو ہر حال میں مامون کی دعوت قبول نہیں کرنے چاہی ے تھی بلکہ اس کے خلاف بھر پور طریقے سے جھاد کرتے۔ اس معاہدے سے جان دے دینا بھتر تھا اور آپ کسی لحاظ سے بھی حکومت میں شمولیت اختیار نہ کرتے؟ یہاں پر اس وقت انصاف کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر امام اپنی جان قربان کر دیتے تو کیا شرعی لحاظ سے بھتر تھا؟ بسا اوقات جان بچانا واجب ہے۔ اور کبھی جان قربان نہ کرنا جرم ہے۔ مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ لوگوں کی اصلاح اور ھدایت کے لیے زندہ رہتے۔

آپ نے اس مدت میں دینی علوم کی ترویج و اشاعت کی طرف بھر پور کوشش کی۔ ظلم کے خلاف عملی طور پر آواز اٹھانا، امام علیہ السلام کی موجودگی میں عباسی خلفاء بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جسارت کرنے کی جرآت نہ کرسکتے تھے۔ لیکن جب مسئلہ بہت سنگین صورت اختیار کر جائے جیسا کہ یزید نے امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کی تھی تو آپ نے بیعت کرنے سے جان دینے کو ترجیح دے دی۔ یہ واقعہ اس وقت ظھور پزیر ہوا جب معاشرہ انسانی کو اس قسم کی قربانی کی اشد ضرورت تھی۔ دوسرے لفظوں میں دنیائے اسلام کو بیدار کرنے اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے تقاضیوں کو پورا کرنے کیلئے وھی کچھ کرنا ضروری تھا جو کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے کیا۔ لیکن امام رضا علیہ السلام کا زمانہ کچھ اور تھا۔ ہمارے سبھی آئمہ نے جام شھادت نوش کیا۔ اگر اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالتے تو بات اور تھی لیکن اکثر آئمہ کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔ شیعہ روایات کی رو سے اکثر آئمہ کی شھادت زھر کے ذریعہ ہوئی ہے ۔

یہ تو بے اختیار کی صورت میں تھا۔ اب اگر ایک شخص کو اختیار دیا جائے کہ جان قربان کر دے یا وہ کام کرے جو کہ قاتل لینا چاہتا ہے؟ مثال کے طور پر اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ غروب سے پھلے قتل ہو جاؤ یا فلاں کام انجام دے دو، تو ظاہر ہے زندگی کو ترجیح دوں گا۔ امام رضا علیہ السلام بھی دو کاموں میں صاحب اختیار تھے یا قتل ہوجاتے یا ولی عھدی کا منصب قبول کر لیتے؟ آپ نے اگر قتل کو ترجیح دی ہوتی تو تاریخ آپ کو کسی صورت میں معاف نہ کرتی۔ آپ نے دو صورتوں میں سے جو بھتر تھی اس کو اختیار کیا۔ آپ نے وقتی طور پر ولی عھدی کی حامی تو بھر لی لیکن مامون اور اس کی حمایت کی کسی طرح بھی حمایت نہ کی اور نہ ہی سرکاری امور میں تعاون کیا ۔

آئمہ اطہارعليه‌السلام کی نظر میں خلفاء کے ساتھ تعاون کرنا

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے آئمہ اطہار علیھم السلام باوجودیکہ عباسی خلفاء کے سخت مخالف تھے اور اکثر اوقات لوگوں کو ان کے ساتھ کام کرنے سے منع کرتے تھے لیکن جب اسلامی اہداف اور دینی مقاصد کے فائدے کی بات ہوتی تو آپ اپنے ماننے والوں کو حکومت وقت کے ساتھ تعاون کرنے پر تشویق کرتے تھے۔ صفوان جمال امام موسی کاظم کا مانے والا ہے۔ سفر حج کے لیے ہارون کو اونٹ کرائے پر دیتا ہے، امام علیہ السلام کی خدمت میں آتا ہے، حضرت اس سے کھتے ہیں ایک کام کے سوا آپ کے سب کام ٹھیک ہیں۔ صفوان عرض کرتا ہے وہ کونسا؟ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے اس کو اونٹ دیئے ہیں آپ نے فرمایا تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہی ے تھا کیونکہ تو نے اس سے کرایہ لینا ہے۔ عرض کی جی ھاں اب تمہاری خواہش ہے کہ یہ خیریت سے واپس لوٹے اور تو اس سے اپنا کرایہ وصول کرے، کسی ظالم کی خیریت اور زندہ رہنے کی خواہش کرنا ہی تو گناہ ہے۔ صفوان امام علیہ السلام کا پکا عقیدتمند تھا۔ اس کی ہارون کے ساتھ پرانی دوستی تھی۔ اس نے دنیاوی مقاصد کو ٹھکرا کر امام کا حکم مانا اور آخرت کو ترجیح دی۔ ہارون کو بتایا جاتا ہے کہ صفوان نے اپنے اونٹ بیچ دیئے ہیں۔ صفوان کو دربار میں بلوا کر پوچھتا جاتا ہے یہ تو نے کیا کیا؟ صفوان کھتا ہے چونکہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں میرے بچے یہ کام نہیں کرسکتے اس لیے اپنے اونٹوں کو بیچ دیا ہے۔ ہارون بڑا چالاک شخص تھا، کھنے لگا اس کی وجہ بتاؤ؟کہ تو نے یہ کام کیوں انجام دیا؟یہ سب کچھ امام موسی کاظم علیہ السلام کی وجہ سے کیا ہے۔ صفوان بولا نہیں ایسی بات کوئی نھیں۔ ہارون نے کھا مجھے بے وقوف مت بنا۔ اگر تمہارے اور میرے درمیان دوستی کا پرانا رشتہ نہ ہوتا تو ابھی اور اسی وقت تیرا سر قلم کر دیتا۔

ہمارے آئمہ اس حد تک خلفاء کے ساتھ تعاون کرنے سے بھی منع کرتے تھے لیکن جب کبھی اسلامی تعلیمات اور دینی مقاصد کی بات ہوتی تو آپ اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے کہ جاؤ اور ظلم کے ساتھ رہ کر مظلوموں کی مدد کرو۔ صفوان کا معاملہ خالصتاً ہارون کے ساتھ مدد کرنا تھا ۔ ایک شخص سرکاری عھدے پر رہ کر غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی مدد کرتا ہے تو کام شرعی لحاظ سے جائز ہے، بلکہ ایسے اشخاص اور افراد ک موجودگی پر معاشرہ کے لیے نعمت تصور کی جاتی ہے۔ ہمارے آئمہعليه‌السلام کی سیرت، قرآن مجید ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے ۔

حضرت امام رضاعليه‌السلام کا ایک استدلال

بعض لوگوں نے حضرت امام رضاعليه‌السلام کی پالیسی پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا کہ آیا پیغمبروں کی شان بلند ہے یا ان کے اوصیاء کی؟ کھا گیا پیغمبروں کی۔ فرمایا کیا مشرک بادشاہ برا ہے یا فاسق مسلمان بادشاہ؟ کھا مشرک بادشاہ۔ فرمایا کہ کوئی تعاون کرنیکی خواہش کرتا ہے وہ بھتر ہے یا زبردستی طور پر تعاون کرانا بھتر؟ کھا تقاضا کرنے والا۔ فرمایا حضرت یوسف پیغمبر تھے عزیز مصر کافر و مشرک تھا آپ نے خود ہی اس سے تقاضا کیا تھا کہ:

( اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم ) (۳۲)

"(یوسف نے عزیز مصر سے کھا) مجھے ملکی خزانے پر مقرر کیجئے۔ میں اس کا امانتدار خزانچی اور اس کے حساب کتاب سے واقف ہوں۔"

حضرت یوسف علیہ السلام اس عھد سے حسن استفادہ کرنا چاہتے تھے۔ عزیز مصر کافر تھا اور مامون فاسق مسلمان تھا۔ یوسف پیغمبر تھے اور میں وصی پیغمبر ہوں۔ انھوں نے تقاضا کیا اور مجھے مجبور کیا گیا۔

ادھر حضرت امام کاظم علیہ السلام ایک طرف صفوان جمال کو ہارون کو اونٹ کرائے پر دینے سے منع کر رہے ہیں، دوسری طرف علی بن یقطین (کہ جو مومن تھا اور تقیہ کئے ہوئے تھا۔) حضرت اس کی ہر طرح سے تشویق کرتے ہوئے اس سے فرماتے ہیں کہ اس عھدے پر کام کرتے رہو۔ لیکن خفیہ طور پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ تم شیعہ ہو، وضو کرو تو ان جیسا، نماز بھی انھی کے طریقہ پر انجام دو، اپنے شیعہ ہونے کو حد سے زیادہ راز میں رکھو۔ آپ کا اہم عھدے پر موجود رھنا ہی ضروری ہے، کیونکہ تمہاری وجہ سے ہمارے حقدار مومنوں کی مشکلات دور ہو رہی ہیں۔

عام طور پر ہماری حکومتوں میں بھی ایسا ہوتا رھتا ہے کہ مختلف پارٹیاں اپنے اپنے مقاصد ک یتکمیل کیلئے اپنے نمائندگان ہر دور حکومت میں معین کرتے ہیں۔ مذھبی جماعتیں بھی اپنے مذھبی نظریات کی تبلیغ اور تحفظ کے لیے ہر جگہ اپنے مبلغ بھیجتی ہیں ۔ حق اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے تمام آئمہ اطہار کی حکمت عملی ایک جیسی تھی، وہ ہر کام دینداری، خدا خوفی اور پ رہی ز گاری کے جزبہ کے تحط انجام دیتے تھے۔ یہ تمام حضرت بنو امیہ، بنو عباس کی حکومتوں کے ساتھ مدد کرنے سے منع کرتے تو سخت منع کرتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی ظالم حکومت کو فائدہ دینا ہی در اصل ظلم کی مدد کرنا ہے ۔

لیکن جب اسلام اور مسلمانوں کے فائدہ کی بات ہوتی تو آپ اپنے ماننے والوں کی خوب حوصلہ افزائی کرتے جیسا کہ علی بن یقطین اور اسماعیل بن بزیع کی مخلصانہ خدمات کو سراہا گیا۔ ہماری شیعہ روایات میں حیرت انگیز طور پر ان کی تعریف و توصیف کی گئی۔ ان کو اولیاء اللہ (دوستان خدا) کی فھرست میں شامل کیا گیا ہے۔ جناب شیخ انصاری نے اپنی شھرا آفاق کتاب مکاسب میں ولایت جائز کے بارے میں ان روایات کو نقل کیا ہے۔

ولایت جائز ظالم کی حکومت

ھماری فقہ کی کتب "ولایت جائز بہت اہم مسئلہ ہے۔ فقہ میں ہے کہ ظالم حکومت میں کسی سرکاری عھدہ کو قبول کرنا ذاتی طور پر حرام ہے۔ لیکن ہمارے فقھا نے فرمایا ہے کہ اگر چہ ذاتی حد تک حرام ہے، لیکن بعض امور میں مستجب اور بعض میں واجب ہے مجتھدین نے لکھا ہے کہ اگر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر اور تبلیغی فرائض کی ادائیگی حکومتی عھدہ قبول پر موقوف ہو تو عھدہ قبول کرنا واجب ہے۔ عقلی تقاضا بھی یھی ہے کہ اقتدار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ارفع واعلی اہداف کو حاصل کیا جائے۔ اور اس سے آدمی اپنے دشمنوں کو بھی کمزور کرسکتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور مالی لحاظ سے مضبوط لوگ اپنے آدمی مختلف عھدوں اور سرکاری شعبوں میں رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان سے استفادہ کیا جائے ہم دیکھتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے ولی عھدی کا منصب قبول کر کے حکومت کا ایک کام بھی نہ کیا بلکہ آپ نے اس سے علمی و دینی مقاصد پورےکیے۔ اگر آپ کو یہ عھد نہ ملتا تو آپ کی علمی لیاقت، مذھبی صلاحیت دب کر رہ جاتی۔ جس طرح اس وقت کی حکومت حضرت علی علیہ السلام سے دینی مسائل حل کراتی تھی، اس طرح مامون کی حکومت امام رضا علیہ السلام سے مشورہ کر کے لوگوں کی شرعی ذمہ داریاں پوری کرتی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو کام کرنے کا موقعہ ملا آپ نے علم و عمل کی ترقی و پیشتر میں وہ کارنامے نمایاں انجام دئے کہ جو رھتی دنیا تک یاد رہیں گے۔

حضرت صادق آل محمد علیھم السلام نے بنو عباس اور بنو امیہ کی باہمی چپلقش کی وجہ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ آپ نے بہت کم عرصہ میں چار ھزار طلبہ پیدا کرکے ملت اسلامیہ پر بہت بڑا احسان کر دیا۔ اسی طرح مامون چونکہ ایک دانشور حکمران تھا اس نے مختلف مذاہب کے علماء کو اپنے دربار میں بلوا کر امام رضا علیہ السلام سے مباحثے کرائے۔ اس عرصے میں آپ نے علوم اسلامی کی ترویج و اشاعت میں بھر پور طریقے سے حصہ میں اس عھدہ پر فائز نہ ہوتے تو کما حقہ خدمت نہ کر سکتے۔ امام علیہ السلام نے ولی عھدی کے منصب سے ذاتی فوائد حاصل نہ کئے۔ البتہ علمی و دینی خدمت کے حوالے سے آپ نے اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اور یوں طالبان علم کی جستجوئے علم پوری ہوتی رہی ۔

سوال و جواب

سوال: جب معاویہ نے یزید کو اپنا ولی عھد منتخب کیا تو اس کی سب نے مخالفت کی۔ اس مخالفت کی وجہ یزید کا فسق و فجور نہ تھا بلکہ لوگ بنیادی طور پر اس کی ولی عھدی کے مخالفت تھے۔ تو پھر کیا مومون خلافت میں کسی کا ولی عھد بننا کیسے جائز ہوگیا؟

جواب: سب سے پھلے تو یہ کھنا ہر گز غلط ہے کہ یزید کی صرف ولی عھدی کی مخالفت ہوئی ہے بلکہ مخالفت تو اس بات کی ہوئی کہ دنیا اسلام میں پھلی بار بدعت وجود میں آئی۔ امام حسین علیہ السلام نے بدعت بکے خلاف آواز بلند کی۔ اس وقت یزید اسلامی تعلیمات کو تقریباً کالعدم قرار دے چکا تھا۔ یزید کا رویہ اور انداز فکر کافروں، مشرکوں اور منافقوں سے بھی بدتر تھا۔ اس بد کردار شخص کے بد کرداروں سے انسانیت بھی شرماتی تھی۔ امام رضا علیہ السلام نے خود ولی عھدی کے تصور کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا تھا یہ ولی عھدی کیا چیز ہے بلکہ یہ خلافت تو ہمارا حق ہے۔ آپ نے مامون سے بھی کھا تھا مامون ذرا یہ تو بتا کہ خلافت تیرا حق ہے یا کسی اور کا ہے؟ اگر یہ غیر کا مال ہے تو تو دینے کا حق نہیں رکھتا۔

سوال: آپ فرض کریں کہ اگر فضل بن سھل واقعی طور پر شیعہ تھا کہ اس نے حضرت کو ولی عھد بنانے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد اس نے مامون کی حکومت کی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ اب یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ حضرت نے ایک مدت تک مامون کے حکومتی امور کا جائز قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون کیا حالانکہ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت گواہ ہے کہ آپ ظالم کے کسی کام پر راضی ہونے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔

جواب: لگتا ہے یہ جنو سوال اٹھایا گیا ہے سوچ سمجھ کر نہیں اٹھایا گیا ہے آپ نے کھا ہے کہ فضل بن سھل شیعہ تھا، اور حضرت مامون کی حکومتی سطح پر مدد کرتے رہے اور یہ کام جائز نہیں ہے، کیونکہ حضرت امری علیہ السلام نے معاویہ کی حکومت کو تسلیم نہ کیا تھا۔ بات یہ ہے کہ مامون کی نسبت امام رضا علیہ السلام اور ماومن کی نسبت حضرت علی علیہ السلام کے ما بین بہت فرق ہے۔ حضرت امیر علیہ السلام کا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت علی علیہ السلام کی نیابت میں کام کر ے۔

بھلا علی علیہ السلام جیسا عظیم امام معاویہ جیسے شخص کو کس طرح اپنا خلیفہ مقرر کر سکتا ہے؟ امام رضا علیہ السلام نے تو ایکی روز بھی مامون کے ساتھ کسی قسم کی مدد نہ کی۔ یہاں پر ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ نھے میں نلکے کی ٹوٹی کھول دیتا ہوں اور پانی آپ کے صحن میں جمع ہو جاتا ہے اور آپ کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اس نقصان کا ضامن میں ہوں نہ کہ نلکا،، نہ میں ٹوٹی کھولتا اور نہ آپ کا نقصان ہوتا؟ پھر کسی اور وقت میں گلی سے گزرتا ہوں دیکھتا ہوں کہ وہاں پر نلکا کھلا ہوا ہے اور آپ کی دیوار تک پھنچا ہوا ہے۔ یہاں پر میری اخلاقی ذمہ داری یہ ہے کہ نلکا کو بند کرکے آپ کی خدمت کروں، اور آپ کو نقصان سے بچالوں۔ یہاں پر پانی کا بند کرنا مجھ پر واجب نہیں ہے۔ میں نے عرض کی ہے کہ ان دو باتوں میں آپس میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایک کسی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہے کہ جو چاہو کرتے رہو، اور ایک شخص دوسرے شخص کے کسی کام میں حصہ نہیں لیتا ہے بلکہ اس کو برے کاموں سے بھی روکنا ہے۔ اس صورت میں دوسرا شخص اگر گناہ کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری گناہ کے مرتکب پر ہوگی۔ معاویہ چاہتا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام اس کی حکومت کو تسلیم کریں۔

لیکن مامون کی خواہش یہ تھی کہ امام رضا علیہ السلام اس کی حکومت کے مقابلے میں خاموش رہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ امام عل یہ السلام مامون کی حکومت میں چپ کیون رہے، خاموشی اختیار کیوں کی؟ عرض ہے آپ کسی بڑی مصلحت کے تحت خاموش تھے اور اسلام و مسلمانوں کی خدمت کے حوالے سے ماحول سازگار ہو رہا تھا۔ کسی عظیم مصلحت کی خاطر انتظار کر لینے میں ھرج ہی کیا ہے لیکن معاو ی ۹ ہ کا مسئلہ ایک تو اور نوعیت کا تھا دوسرا امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا کہ ظالم کی کحکومت ایک دن بھی رہے۔ اما علی علیہ السلام معاویہ کی حکومت پر خاموش رہتے تو معاویہ روز بروز طاقتور ہوتا لیکن یہاں پر صبر کیا جا رہا ہے مامون روز بروز کمزور ہوا، امام رضا علیہ السلام مضبوط ہوئے چنانچہ ان دو مسئلوں کا ایک دوسرے بپر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

سوال: میرا آہ سےت سوال یہ ہے کہ آپ نے کھا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو زھر نہیں دیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا لوگوں کو معلوم ہو رہا تھا، خلافت کے حقدار کے حقدار حضرت امام رضا علیہ السلام ہیں، اس لئے مامون نے مجبور ہوکر حضرت کو زھر دے دیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السالام نے ۵۲ سال کی عمر میں دنیا سے کوچ فرمایا۔ آپ کی زندگی بالکل پاک و پاکیزہ تھی آپ کی صحت کو کسی قسم کا خطرہ نہ تھا۔ حدیث میں ہے کہ:

"ما منا الا مقتول و مسموم"

"کہ ہم آئمہ میں سے ہر فرد یا تو قتل ہوا ہے یا زھر سے شھید کیا گیا ہے۔"

یہ بات شیعہ مورخین کے نزدیک مسلم حقیقت کا درجہ رکھتی ہے اب اگر مروج الزھب کے مصنف مسعودی نے غلطی کی ہے تو اس میں حقائق کو تو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ ذرا اس مسئلہ کے بارے میں کچھ وضاحت فرمائیے؟

جواب: میں نے کبھی نہیں کھا اور نہ ہی میرا عقیدہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو زھر سے شھید نہیں کیا گیا، بلکہ آپ نے میرے سوال کو میرا نظریہ سمجھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام علیہ السلام کو اس لیے زھر سے شھید کیا گیا کہ آپ کی مقبولیت عوام میں بڑھتی جا رہی تھی اور مامون کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے یہ بیمانہ حرکت کردی۔ امام علیہ السلام کی شھادت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ بغداد میں انقلابی تحریک کا خطرہ تھا لوگوں کی نظریں امام علیہ السلام کی وجہ خراسان پرچمی ہوئی تھیں۔ اس لیے اس نے امام علیہ السلام کو زھر دے کر شھید کر دیا۔ اس وقت مامون کی عمر ۲۸ سال اور امام علیہ السلام کی ۵۵ سال تھی۔ شروع شروع میں حضرت نے مامون سے فرمایا تھا کہ تم ابھی جوان ہو اور ہم عمر میں تم سے بڑے ہیں۔ اس لیے ہم تم سے اس دنیا سے پھلے کوچ کریں گے مامون نے بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر اپنی عافیت اس میں سمجھی کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو فضل کے درمیان سے ھٹا دیا جائے۔

چنانچہ فضل جب حمام میں گیا تو چند مسلح افراد نے اندر گھس کر اس کا کام تمام کر کے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے، بعد میں مشھور کیا گیا کہ فضل کو خاندانی رقابت اور ذاتی جھگڑوں کی وجہ سے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس کا بھی رائیگان چلا گیا، حالانکہ فضل کے قتل کی سازش مامون ہی کی تیار کردہ تھی۔ فضل کے قتل کے بعد یہ پوری طرح سے ملک اور سیاست پر حاوی ہوگیا۔ جاسوسوں کے ذریعے اس کو بغداد کی سیاسی صورت حال معلوم ہوتی رہی ۔ جب اس نے محسوس کیا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام اور علوی سادات کی موجودگی میں وہ بغداد میں نہیں جاسکتا تو اس نے امام رضا علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنایا اور زھر دے کر آپ کو شھید کر دیا۔ اس لیے ہم کھہ سکتے ہیں اور ہمارے اس مؤقف کی تائید میں تاریخ کی سینکڑوں کتابیں بھری پڑی ہیں کہ امام علیہ السلام طبعی موت نہیں مرے بلکہ زھر کے ذریعے شھادت واقع ہوئی، لیکن اہل سنت کے کچھ مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت طوس میں بیمار ہوئے اور وھیں پہ فوت ہوئے۔ جن مورخین نے امام علیہ السلام کی طبعی موت کے بارے میں لکھا ہے دراصل وہ خبر اسی کی پیداوار ہے تاکہ سفاک قاتل مامون کے بیھمانہ جرم پر پردہ ڈالا جاسکے ۔


امام حسن عسکریعليه‌السلام کے بارے میں چند باتیں

آج کی رات امام عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی رات ہے، عید کی رات ہے اور ہمارے گیارہویں امام حسن عسکری علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے کی رات ہے چناچہ اسی مناسبت سے ہم حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی خدمت اقدس میں ھدیہ تبرک پیش کرتے ہیں۔ میں اس نشست میں امام عسکری علیہ السلام کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا دور انتھائی پریشانیوں اور مشکلات کا دور ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کا زمانہ جوں جوں نزدیک ہوتا جارہا تھا سلاطین جور کی طرف آئمہ پر سختیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ امام حسن عسکری علیہ السلام سامرا میں سکونت پزیر تھے۔ اسی وقت مرکز خلافت یھی شھر تھا۔ معتصم کے زمانہ حکومت میں مرکز خلافت بغداد سے سامرا منتقل ہو گیا۔ کچھ مدت یھی مرکز رہا۔ اس کے بعد دو مرتبہ بغداد بنا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ معتصم کے فوجی لوگوں پر بے تحاشہ ظلم کرتے، بے گناہوں کو بلا وجہ سے ستاتے پریشان کرتے تھے۔ لوگوں نے مظالم سے تنگ آکر شکایت کی۔ شروع شروع میں معتصم نے پروانہ کی لیکن، پھر عوام نے اس مرکز کی منتقلی پر رضا مند کر لیا۔ اس کی ایک اور وجہ بھی تھی کہ فوج اور مردوں میں فاصلہ رہے۔ اس لیے مرکز سامرا آگیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام اور امام ھادی علیہ السلام کو مجبوراً سامرا آنا پڑا۔ آپ "العسکر یا العسکری محلہ" میں رہائش پذیر ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں فوج رھتی ہو اور آپ کو نظر بند کیا گیا ہو۔ امام حسن عسکری علیہ السلام جب شھید ہوئے تو آپ کا سن مبارک ۲۸ سال تھا۔

آپ کے والد گرامی کی عمر مبارک شھادت کے وقت ۴۲ برس تھی۔امام حسن عسکری علیہ السلام کا دور امامت چھ سال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ ان چھ سالوں کے دوران یا تو قید میں رہے اگر کچھ دنوں کیلئے آزادی ملی تو پھر بھی آپ کو پابندیوں میں رکھا گیا۔ لوگوں کا آپ کو ملنا جلنا اور آپ سے ملاقات کرنا بھی ممنوع تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آپ کی زندگی قیدیوں سے بھی زیادہ پریشان کن تھی۔ کبھی کبھی امام حسن عسکری علیہ السلام کو دربار مین بلوا کر پریشان کیا جاتا تھا۔ عجیب و غریب صورت حال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھٹن ہی گھٹن، کوئی بھی نہیں ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی دلجوئی کرے۔ ان کر بناک لمحوں میں امام علیہ السلام نے کس طرح وقت پاس کیا ہوگا؟ یہ تو امام ہی جانتے ہیں۔ یوں تو ہمارے تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام تمام لوگوں سے ممتاز تھے، لیکن ہر امام تمام خوبیوں کی موجودگی میں ایک الگ خوبی بھی رکھتا تھا۔ جیسا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا رعب و جلال اور شان و شوکت اتنی زیادہ تھی دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔ آپ سکون و وقار کے ساتھ قدم رکھتے، انتھائی شائستگی وشفتگی کے ساتھ بات کرتے۔ متانت کے ساتھ تبسم فرماتے تھے۔ جب آپ گفتگو کرتے تو علم وعرفان کی بارش برس پڑتی تھی۔ آپ کا دشمن کے سامنے آیا موم ہوگیا۔ اس وقت کا جابر سے جابر شخص بھی آپ کی طرف آنکھ کر کے دیکھنے اور بات کرنے کی جرات نہ کرسکتا تھا۔

اس سلسلے مین جناب محدث قمی نے اپنی کتاب "الانوار البھیہ" میں ایک واقعہ نقل کیا ہے یا اس کو روایت کیا ہے۔ احمد بن عبداللہ حافان یہ وزیر المعتمد علی اللہ کا بیٹا تھا۔ انھوں نے اپنے آباؤ اجداد سے واقعہ نقل کیا ہے بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام قید با مشقت کی سزا بھگت رہے تھا۔ اس وقت کے حکمرانوں اور لوگوں میں یہ بات عام تھی کہ اسی امام کی صلب میں بارہویں لعل ولایت نے ظھور فرمانا ہے۔ جیسا سلوک فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا اس سے بدتر اس عظیم الشان امام کے ساتھ روا رکھا گیا۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا وھی بچہ تمہارے اقتدار کے زوال کا باعث بنے گا۔ فرعون کے فوجی لڑکوں کو مارتے گئے اور بچیوں کو رہنے دیا۔ بار آور خواتین پر جاسوس عورتیں مقرر کی گئیں۔ یھی صورت حال امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور امامت میں پیدا ہو گئی۔ جناب مولوی نے کیا خوب شعر کھا ہے ۔

حملہ بردی سوی دربندان غیب

تا ببندی راہ بر مردان غیب

یہ بھی کتنا بے وقوف تھا کہ اگر جاسوس کی خبر صحیح بھی ہو کیا وہ حکم الھی کو روک سکتا ہے؟ جب امام حسن عسکری علیہ السلام شھید ہوئے تو چند جاسوس عورتوں کو آپ کے گھر تفتیش کے لیے بھیجا گیا۔ ان کو بتانے والوں نے بتایا دیا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا "محمد"نام سے بیٹا پیدا ہوچکا ہے۔ لیکن اللہ تعالی کے حکم و مھربانی سے ابھی تک یہ راز انتھائی پوشیدہ ہے یہاں تک کہ ولادت کے وقت کسی کو بھی خبر نہ تھی۔ امام مھدی علیہ السلام چھ سال کے تھا کہ والد گرامی کا سایہ اٹھ گیا۔ چند خاص مومنوں کے علاوہ اس معصوم شھزادے کے بارے میں کسی کو خبر نہ تھی ۔

کبھی کبہار حکومت کی جاسوس عورتیں امام علیہ السلام کے گھر میں جاتیں کہ شاید ان کو امام مھدی (عج) نظر آجائیں اور ان کو اسی وقت قتل کر دیا جائے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ تو نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ہی کوئی مقابلہ کرنے کی جسارت کرسکتا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شھادت کے دن پولیس نے امام علیہ السلام کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ کثیر تعداد میں جاسوس عورتیں خانہ امام میں داخل ہو گئیں شاید اسی گھر میں کوئی بار آور خاتون ہو؟ تلاشی لینے کے بعد عورتوں کو ایک کنیز نظر آئی ان کو اس پر شک گزار اس کو گرفتار کر کے زندان میں ڈالا گیا۔ ایک سال تک وہ بیچاری زندان کی سلاخوں کے پیچھے بند رہی لیکن جب سال گزر گیا تو ان کو پتہ چلا کہ یہ خاتون بے قصور ہے۔ بالآخر اس عورت کو رہا کر دیا گیا ۔

امام حسن علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا نام نامی"حدیث" تھا ان کو جدہ بھی کھا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بی بی سرکار امام زمانہ علیہ السلام کی جدہ ہیں اس لیے ان کو جدہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں کچھ ایسی خواتین بھی ہیں کہ جن کو "جدہ" کھا جاتا ہے۔ اصفھان میں دو دینی مدارس "جدہ"کے نام سے رکھے گئے ہیں۔ یہ بی بی جدہ کے نام سے شھرت رکھتی تھیں۔ یہ معظّمہ بہت ہی عظمت و رفعت، رتبہ و منزلت کی مالکہ تھیں۔ جناب محدث قمی رضوان اللہ علیہ نے اپنی کتاب الانوار البھیہ میں لکھا ہے ۔

یہ بی بی امام حسن عسکری علیہ السلام کی شھادت کے بعد مرکزی شخصیت کے طور پر زندگی گزار رہی تھیں۔ شیعہ خواتین آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنے اپنے مسائل حل کراتی تھیں۔ چونکہ امام حسن عسکری علیہ السلام ۲۸ برس کی عمر میں شھید ہوئے تھے، اس لحاظ سے اس بی بی کی عمر ۶۵ برس کے لگ بھگ لگتی ہے ۔

بھت ہی جلیل القدر خاتون تھیں۔ آپ خواتین کے ذریعہ تمام مومنین، مومنات کے علمی و روحانی مسائل حل کرتی تھیں۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں امام جوادعليه‌السلام کی صاجزادی جناب حلیمہ خاتون کے در اقدس پر گیا۔ یہ بی بی امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی تھیں دروازہ پر کھڑے ہو کر میں نے مسئلہ امام کی بابت آپ سے سوال کیا، تو بی بی نے فرمایا گیارہویں امام حسن عسکری علیہ السلام ہیں۔ اور بارہویں امام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑی خاموش ہوگئیں پھر فرمایا ان کا فرزند اجمند۔ ۔ ۔۔ ۔ جو کہ اب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے وہ آخری امام ہے۔ میں نے عرض کیا بی بی اگر ہم اپنے امام وقت سے ملاقات نہ کر سکیں تو شرعی مسائل کے بارے میں کس سے سوال کریں؟ آپ نے فرمایا جدہ کی طرف رجوع کریں۔ میں نے کھا کہ آقا اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور ایک خاتون کے بارے میں وصیت کر گئے ہیں۔ فرمایا امام حسن عسکری علیہ السلام نے وھی کام کیا ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام نے کیا تھا۔ حقیقت میں امام عالی مقام کے وصی امام سجاد علیہ السلام تھے لیکن امام زین العابدین علیہ السلام کی بیماری کی باعث آپ نے اکثر وصیتیں اپنی بھن جناب زینب سلام اللہ علیھا سے کی ہیں، یھی کام امام حسن عسکری علیہ السلام کو کرنا پڑا، کیونکہ آپ کے نائب تو امام مھدی علیہ السلام ہیں لیکن وہ پردہ غیبت میں ہیں اس لیے دینی و شرعی مسائل کی بابت جدہ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا ۔

عدل و انصاف

( وعد الله الذین آمنو و عملو الصالحات یستخلقنهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم ولیمکنن لهم دینهم الذی ارتضی لهم ولیبد لنهم من بعد خوفهم امنا یعبدوننی لا یشرکون بی شیاءً ومن کفر بعد ذلک فاولئک هم الفاسقون ) (۳۳)

"اے ایماندارو! تم میں سے جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کئے ان سے خدا نے وعدہ لیا ہے کہ وہ ان کو (ایک نہ ایک دن) روئے زمین پر ضرور اپنا نائب مقرر کرے گا جس طرح ان لوگوں کو نائب بنایا جو ان سے پھلے گزر چکے ہیں اور جس کو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے (اسلام) اس پر انھیں ضرور ضرور پوری قدرت دے گا اور ان کے خائف ہونے کے بعد (ان کے خوف کو) امن سے ضرور بدل دے گا کہ وہ (اطمینان سے) میری ہی عبادت کرتے رہیں گے اور کسی کو ہمارا شریک نہ بنالیں اور جو شخص اس کے بعد بھی نا شکری کرے تو ایسے ہی لوگ بدکار ہیں۔"

تمام انبیاء اکرامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں میں ہی مبعوث ہوئے ہیں ان کی تشریف آوری کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ ایک مقصد تو یہ تھا کہ اللہ تعالی و مخلوق کے درمیان صحیح طریقے سے رابطہ قائم ہو، دوسرے لفظوں میں اپنے معبود حقیقی اور خالق حقیقی کے سوا کسی کی پرستش اور عبادت نہ کی جائے جیسا کہ کلمہ طیبہ میں کھا گیا ہے:

"لااله الا الله "

کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالی کے ۔"

انبیاء کرام کی بعثت کا دوسرا مقصد انسانیت کے مابین اچھا اور سازگار ماحول پیدا کرنا اور ان کو اچھے طریقے سے رہنے کی تعلیم دینا گویا تعلیم و تربیت انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے، ان تمام نبیوں، رسولوں نے بنی نوع انسان کو عملی طور پر تلقین کی ہے کہ وہ عدل و انصاف، پیار و محبت اور ایک دوسرے کی خدمت کے جذبے کے ساتھ زندگی بس کریں۔ قرآن مجید نے ان دو اہداف کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ پھلے مقصد کی بابت خاتم الانبیاء کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے:

یا یها النبی انا ارسلناک شاهداً و مبشراً نذیراً و داعیاً الی الله باذنه وسراجاً منیرا"

اے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ہم نے آپ کو (لوگوں کا) گواہ اور (نیکیوں کو بھشت کی) خوشخبری دینے والا اور (بروں کو) عذاب سے ڈرانے والا اور خدا کی طرف سے اسی کے حکم سے بلانے والا (ایمان وھدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا۔"

مقصد بعثت کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:

( لقد ارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معهم الکتاب والمیزان لیقوم الناس بالقسط ) (۳۴)

"ھم نے یقیناً اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ ساتھ کتاب اور (انصاف کی) ترازو نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔"

قرآن مجید نے کھلے لفظوں اور پوری و ضاحت کے ساتھ بتایا ہے کہ انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد لوگوں میں عدل و انصاف کو نافذ کرنا ہے۔ آخری آیت میں ارشاد الٰھی ہے کہ ہم نے ان کو کتاب، دستور اور منشور کے ساتھ ساتھ میزان بھی دیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو عادلانہ نظام کے قیام کی تلقین کریں۔ گویا عدل و انصاف ہی انسانیت کی خوشحالی اور بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔

عدالت روشنی بھی ہے اور زندگی بھی، اگر یہ نہ ہوتی تو انسانیت ایک دوسرے کی زیادتیوں کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی۔ تمام انبیاء کرام اس عظیم مقصد کو لے کر انسانوں ہی میں تشریف لائے، ان کا ایک مقصد تھا، ایک مشن تھا ایک ذمہ داری تھی وہ تھی عدالت ہی عدالت ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن مجید نے تعلیم و تربیت اور عدالت کو انتھائی اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

ایک اور مسئلہ پر عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آیا عدالت کلی مراد ہے یا عدالت عمومی؟ یعنی کیا اور ایسا دور کبھی آئے گا کہ اس پوری کائنات میں ہر طرح کے طلم و ستم، جنگوں، نفرتوں، لڑائیوں اور چپقلشوں کا خاتمہ ہوا اور ہر طرح کی برائی کا خاتمہ ہو؟ کیا آنے والی صدیوں، یا مستقبل میں اس قسم کی گھڑی آئے گی کہ جس میں امن ہی امن ہو؟ھماتے دوسرے مسلمان بھائیوں کا عقیدہ ہے کہ مکمل طور پر ہمہ جھت عدالت کبھی کبھی قائم نہیں ہوگی، کیونکہ این خیال است و محال یہ دنیا بہت پست ہے اور اس کے باسی بہت ظلم ہیں۔ یہاں پر تاریکیوں، پریشانیوں، دکھوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اس میں عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو۔ ھرطرح کے جرائم اور مظالم ہوتے رہیں گے۔ عدالت تو صرف آخرت میں ہوگی جو کہ اللہ تعالی خود نافذ فرمائے گا اور خود ہی فیصلہ کرے گا، کچھ غیر اسلامی طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتا ہے، لیکن شیعہ مذھب کھتا ہے کہ آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہی ے۔ ظلم و ستم، جھگڑا و فساد عارضی چیزیں ہیں۔ انھوں نے ایک نہ ایک روز ختم ہونا ہی ہے۔ عدالت ضرور نافذ ہو کر رہے گی یہ روشنی، یہ امید صرف اور صرف مذھب شیعہ میں ہے۔ دیگر مذھب و ادیان اس طرح عقیدہ نہیں رکھتے۔

ہمارے نزدیک انسانیت کا مستقبل تاریک نہیں بلکہ روشن ہے۔ عدالت کا قیام اور ارتقاء ایک نہ ایک دن ضرور عمل میں لایا جائے گا۔ قرآن مجید بھی ہمارے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے نوید دے رہا ہے کہ کائنات کا مستقبل روشن ہے اس سے متعلق متعدد آیات موجود ہیں۔ ان میں ایک آیت یھی ہے جس کو میں نے عنوان مجلس قرار دیا ہے۔ قرآن مجید نے انبیاء کرام کی بعثت کے دو اہم مقاصد بیان کیے ہیں۔ ایک توحید اور دوسرا عدالت کا نفاذ اور اجراء ۔ سب سے پھلے تو انسان کا اپنے معبود حقیقی کے ساتھ رابطہ، دوسرا انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رھنا چاہی ے، بنی نوع انسانوں کو عدل وانصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارانی لوگوں یہ بات یاد کرانی چاہی ے کہ ہمیں ایک نہ ایک روز اس خالق اکبر کے حضور پیش ہونا ہے، اس لیے ہمیں اس کی رضا کیلئے کام کرنا چاہی ے۔ یہ ایک حتمی امر ہے کہ اس جھاں مین انسان نے ایک عادلانہ نظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے ۔ ایک ایسا نظام جس میں عدالت ہی عدالت ہوگی۔ تمام تر تاریکیاں ختم ہوجائیں گی۔ ہر طرف روشنیوں کی حکمرانی ہوگی عدالت کی معطر ہوا تھکی ماندہ اسنانیت کو سکون فراہم کر گی۔ ہماری بحث کا مقصد یہ ہے کہ ایک روز ضرور ہی ایک مستقبل اور ہمہ جھت عدالت قائم ہوگی۔ اسلام بھی یہ کھتا ہے کہ ہم تین موضوعات پر بحث کریں گے۔ سب سے پھلے تو دیکھنا یہ ہے عدالت کیا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا عدالت انسان کی فطرت میں شامل ہے؟ یا فطرت میں شامل نہیں ہے؟ یا جس وقت انسان عدالت کے کھڑے میں کھڑا ہوگا کیا ہ زبردستی طور پر ہوگا یا اس کی اس میں رضا بھی شامل ہوگی؟ تیسری بات کہ عدالت عملی ہوگی یا نھیں، اگر ہوگی تو کس طریقے سے ہوگی؟۔

عدالت کیا ہے؟

پھلی بات تو یہ ہے کہ عدالت کیا چیز ہے؟ شاید اس کی تعریف و تشریح بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ کیونکہ ہم میں سے ہر شخص ظلم سے بخوبی واقف ہے اور عدالت ظلم کے مقابلے میں ایک حقیقت کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر شخص اپنی ضروریات اور خواہش لے کر دنیا میں آیا ہے اور انھیں ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وہ زندگی بھر مصروف کار رھتا ہے۔ عدالت کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنا حق ملے کہ ظلم کے برعکس ہے۔ ظلم یہ ہے کہ حقدار کو حق نہ دیا جائے یا کسی کو بے جاستانا، یا پریشان کرنا بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قدیم زمانوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو عدالت کو سرے ہی سے مانتے تھے۔ قدیم یونان کے فلاسفہ اور یورپ کے مفکرین نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے۔ ان کے نزدیک عدالت نامی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور عدالت کا تعلق طاقت سے ہے۔ قانون کا مقصد یہ ہے کہ انسان سے زبردستی طور پر فیصلے منوائے جائیں۔ میں ان مفکرین کا جواب نہیں دینا چاہتا ورنہ اپنی گفتگوں کا مقصد بھی کھو بیٹھوں گا۔ دراصل عدالت حقیقی ہے اور یہ خلقت سے اخذ شدہ ہے چونکہ خلقت حقیقت ہے اور جو بھی موجود ہے وہ حقدار ہے۔ انسان کو اس کی محنتوں، کاوشوں کا صلہ ملنا چاہی ے۔ عدالت کا معنی یہ ہے کہ حقدار کو حق ملنا چاہی ے۔ متذکرہ بالا عبارت میں جو سوالات پیش کئے گئے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بے معنی سی گفتگو کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے؟

کیا عدالت فطری امر ہے؟

میری بحث کا دوسرا حصہ ا س امر سے متعلق ہے کہ کیا انسان عدالت کی طرف فطری میلان رکھتا ہے کہ نھیں؟ ایک مثال دے کر آپ کو بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، آپ نے اس اجتماع میں شرکت کی ہے۔ آپ لکھے ہوئے بیزز کو دیکھیں کہ درمیان میں "لا الہ الا اللہ" لکھا ہوا ہے اور دائیں طرف "محمد رسول اللہ" اور بائیں طرف "علی ولی اللہ" درج ہے۔ کالے رنگ کا ستارہ نظر آرہا ہے یہ بی بی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا کی عصمت کو بیان کرتا ہے۔ دوسری طرف بارہ اماموں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ قرآنی آیات کو دیکھئے یہ سب آسمانی شعار ہیں۔ کھیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلکھے ہوئے فرامین نظر آرہے ہیں، تو کھیں پر مولائے کائنات علیہ السلام کے ارشادات درج ہیں، کھیں پر امام حسین علیہ السلام کے اقوال زرین لکھے ہیں اور کھیں پر امام حسین علیہ السلام کے ارشادات نظر آرہے ہیں۔ ان خوبصورت فرامین کو انتھائی خوبصورت انداز کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔ آپ ان خوبصورت تحریوں کو دیکھ کر، پڑھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ان کو پسند کرنے پر کسی نے آپ کو مجبور تو نہیں کیا ہے؟ اچھی اور عمدہ تحریریں تھیں، آپ کو پسند آگئیں۔ ہر انسان میں یہ قوت موجود ہے کہ جب بھی وہ اچھی اور خوبصورت چیز کو دیکھتا ہے تو اسے پسند کرتا ہے، یا اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے اب اس کے لیے کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی وہ اس کے لیے کسی کی پابندی قبول کرتا ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے اور فطرت پر کسی کو کسی قسم کا زور نہیں ہے۔ اس نوعیت کے تمام امور انسانی فطرت کے تابع ہیں۔ علم دوستی اور اس طرح کی دوسری چیزیں بھی بشری فطرت میں شامل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عدالت کو پسند کرنا، یا عادل ہونا، یا عادل شخص سے محبت کرنا، انسانی فطرت میں شامل نہیں ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس میں انسان کو کس قسم کا ذاتی قائدہ بھی نہ ہو پھر بھی وہ عدالت کو پسند کرے گا۔ یہاں تک کہ بعض عادل حکمرانوں کی کئی نسلوں تک قومی ھیرو کے طور پر جانا پھچانا جاتا ہے۔ اس موضوع پر مزید بحث کرنے کیلئے ہم مزید آگے قدم بڑھاتے ہیں دیکھتے ہیں کہ ا س کے بارے میں دوسرے دانشور حضرات کیا کھتے ہیں؟

نیچہ اور ماکیاول کے نظریات

بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ انسانی فطرت میں ا س قسم کی قوت سرے ہی سے موجود نہیں ہے۔ یورپ کے اکثر فلاسفر یھی سوچ رکھتے ہیں۔ ان کا کھنا ہے کہ عدالت کا تصور کمزور طبقہ کا ایجاد کردہ نعرہ ہے۔ جب یہ لوگ طاقتور افراد کے مقابلے میں آتے ہیں بے بس ہو کر عدل و انصاف کا نعرہ بلند کرنے لگ جاتے ہیں۔ ان کے بقول عدالت اچھی چیز ہے انسان کو عادل ہونا چاہی ے۔ اس قسم کی باتیں زبانی جمع خرچی کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں، کیونکہ آج کا کمزور شخص کل طاقتور بن جائے تو وہ پسماندہ طبقہ کے خلاف جارجیت کا ارتکاب کرنے لگ جاتا ہے ۔ جرمن فلاسفر نیچہ کھتا ہے کہ مجھے ھنسی آتی ہے کہ لوگوں کو عدالت کی آواز بلند کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں اگر اس شخص کے پاس دولت اور طاقت آجائے تو نہ جانے یہ کیا سے کیا کر گزرے۔ ان فلاسفر کے نزدیک انسانوں کو عدالت پر یقین ہی نہیں ہے۔ یہ جو باتیں سننے میں آتی ہیں یہ سب خالی خولی نعرے ہی تو ہیں ۔

یہ تمام مفکرین اور دانشور انسانی فطرت میں عدالت کے وجود کے قائل ہی نہیں ہیں۔ پھر یہ حضرات دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک گروہ کھتا ہے کہ انسان کو عدالت کے پیچھے آروزو کی تمنا کرتے ہوئے نہیں بھاگنا چاہی ے، بلکہ اسے قوت و طاقت بنانا چاہی ے۔ عدالت تو برائے نام چیز ہے۔ اس کی آرزو بھی نہیں کرنی چاہی ے، اور نہ ہی اس کے پیچھے دوڑنا چاہی ے۔ اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ عدالت کی بجائے طاقت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عدالت نامی چیز کا کوئی تصور بھی نہیں ہے ۔

برٹرنڑرسل کا نظریہ

لیکن دوسرا گروہ اس قسم کی باتیں نہیں کرتا ان کا کھنا ہے کہ عدالت کے نہیں پیچھے دوڑنا چاہی ے۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ انسان کا فائدہ صرف اور صرف عدالت میں مضمر ہے۔ مسڑراسل کا بھی یھی نظریہ ہے وہ انسانی دوستی کے تصور کو دوسرے کاموں پر ترجیح دیتا ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ انسان چونکہ فطری طور پر منفعت پرست پیدا ہوا ہے، اس لیے سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا عدالت برقرار کی جائے؟ کیا انسان عدالت پسند ہے؟ ان تمام تر سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک کام کرنا ضروری ہے کہ انسان علمی، عقلی اور فکری صلاحتیوں میں نکہار پیدا کریں۔ یہاں تک کہ انسانیت درست سمت کی طرف رواں دواں ہوجائے، چونکہ عدالت کے بغیر کوئی شخص کسی قسم کے فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لیے عدالت کے تصور کو عملی جامہ پھنانا از بس ضروری ہے۔ اگر آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں تو آپ لازمی اس نتیجہ پر پھنچیں گے کہ عدالت میں ہی سب کے فائدے موجود ہیں۔ مسڑرسل عدالت کو ذاتی طور پر نہیں مانتے لیکن وہ کھتا ہے کہ عدالت سے انسان کو فکر و دانش کو تقویت حاصل ہوتی ہے اس لیے عدالت کا قیام ایک لازمی امر ہے ۔

نھیں مسڑراسل!! ہر گز نھیں! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ تھیوری قطعی طور پر قابل نہیں ہے۔ مثال پیش کرتا ہوں کہ میں ایک کمزور آدمی ہوں اپنے ہمسایہ سے اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ میں طاقتور ہو جاتا ہوں اب میں اس سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ وہ مجھ سے کمزور ہے اس وقت میں کس طرح عادل ہوسکتا ہوں؟ میرا علم مجھے کس طرح عادل بنا سکتا ہے؟ آپ نے کھا ہے کہ انسان مفاد پرست ہے۔ ادھر علم کھتا ہے کہ مفاد کے لیے بھی عدالت کو مد نظر رکھنا چاہی ے۔ یہ اس وقت ہو گا کہ میں مد مقابل کے سامنے خود کو طاقتور خیال کرتا ہوں، لیکن جب خود کو مد مقابل کے سامنے طاقتور نہیں سمجھتا تو کس طرح عادل ہوسکتا ہوں؟ لھذا راسل کا فسلفہ انسان دوستی کے تمام تقاضوں کے خلاف ہے۔ وہ دنیا کے تمام تر طاقتور لوگوں کو جواز فراہم کرتا ہے کہ وہ جتنا بھی غریبوں، مظلوموں پر ظلم کرسکتے ہیں کریں ۔

مارکسیزم کا نظریہ

ان گروہوں میں تیسرا گروہ بھی ہے جو کھتا ہے کہ عدالت عملی ہے لیکن انسان کے ذریعہ سے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ انسان عدالت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ کام انسان کا نہیں ہے اور نہ ہی انسان کی اس لحاظ سے تربیت کی جاسکتی ہے کہ وہ دل و جان سے عدالت کی آرزو رکھے اور نہ ہی علم و دانش انسان کو عدالت کی جستجو کا درس دیتی ہے۔ آپ عدالت کے پیچھے نہیں دوڑ سکتے ۔ اگر آپ عدالت کو تلاش کرتے ہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ آپ سرے ہی سے عدالت کے طالب نہیں ہیں۔ اگر تم سوچتے ہو تمہاری عقل ایک روز تمھیں عدالت کی طرف بلائے گی تو یہ تمہاری بھول ہے۔ لیکن حالات انسان کو خود بخود عدالت کی طرف لے جائیں گے۔ معاشی و اقتصادی ضروریات انسان کو آگے بڑھاتے ہیں۔ سو شلزم کے نزدیک حالات کی وجہ سے عدالت وجود میں آتی ہے۔ آپ اگر چاہیں یا نہ چاہیں عدالت کو نافذ نہیں کرسکتے۔ انداز کیجئے۔ کہ آیا میری عقل مجھے عدالت کی طرف لے جائے گی آیا میری تربیت مجھے عدالت کی ضرورت کا احساس دلائے گی؟ وہ کھتے ہیں یہ سب باتیں جھوٹی ہیں ۔

اسلام کا نظریہ

اسلام کھتا ہے کہ عدالت انسان کی فطرت میں شامل ہے جو لوگ عدالت سے گریزاں ہیں وہ ابھی تک منزل ارتقاء تک نہیں پھنچے۔ اگر انسان کی صحیح طریقے پر تربیت کی جائے اور اس کی تربیت کرنے والا اچھا انسان ہو تو وہ فطری طور پت عدالت کو ہی پسند کرے گا، جس طرح انسان خوبصورت اور عمدہ چیز کو پسند کرتا ہے۔ اسی طرح وہ عدالت کو بھی پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم مسلمان مفادات کی خاطر اپنے مذھب اور دین کو پسند نہیں کرتے، بلکہ اسے اس لیے پسند کرتے ہیں کہ یہ مذھب ہم مسلمانوں کو زندگی کے کسی موڑ پر تنھا اور بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ ہماری تاریخ میں ایسے افراد بھی پیدا ہوئے ہیں کہ جو خود بھی عادل تھے اور عدالت کو پسند کرتے تھے۔ لیکن انھوں نے ذاتی منفعت کو ذرا بھر ترجیح نہ دی، وہ عدالت کو بہت زیادہ چاہتے تھے، اور عدالت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا یہ لوگ اپنے اپنے دور میں بے مثال انسان تھے۔ انھوں نے حتمی المقدور بنی نوع انسان کو سیدھے راستے پر چلنے کی ھدایت کی۔ اب اگر ہم ان جیسا کردار ادا نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عادلانہ نظام کے قیام کیلئے راہ ہموار تو کر سکتے ہیں ۔

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی ک ودیکھ لیجئے آپ نہ فقط انسان کامل تھے بلکہ پوری نوع انسان کیلئے نمونہ عمل بھی ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی محبت کا دم بھرنے والوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں کردار و گفتار کے حوالے سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اب بھی دیندار طبقہ عدالت کو بیحد پسند کرتا ہے۔ ان کی اولین خواہش عدالت کا نفاذ و اجراء ہی ہے۔ آنے والی نسلوں میں بھی یھی جذبہ کار فرما رہے گا۔

بھت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کا دور مبارک مشکلات اور سختیوں کا دور ہوگا۔ حالانکہ یہ بالکل ہی غلط ہے۔ آپ کا دور حکومت عملی، فکری، اخلاقی غرض کہ ہر لحاظ سے انتھائی ترقی اور خوشحال کا دور ہوگا۔ عدالت اپنے عروج کو پھنچے گی۔ یہ دین اسلام جو ہم تک پھنچا ہے اس نے حضرت حجت کے ظھور کو عدل مکی سے تعبیر کیا ہے ۔ اصول کافی کی حدیث میں ہے جب قائم آل محمد علیہ السلام ظھور کریں گے کہ تو رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسے گی، لوگوں کے اذھان حد سے زیادہ ترقی کریں گی قوت فکر کے غیر معمولی اضافہ کے ساتھ ساتھ قوت عمل بھی حیرت انگیز طور پر بڑھے گی۔ آپ کے ظھور کے بعد بھیڑیئے اور گوسفند کی دیرینہ رقابت بالکل ختم ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ بھیڑیئے بھی ایک دوسرے سے صلح کرکے آرام و سکون سے زندگی بسر کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کونسے بھیڑیئے؟ جنگلوں میں رہنے والے خونخوار بھیڑیئے یا انسانی شکل و صورت میں چلنے پھرنے والے بھیڑیئے؟

دراصل ہر طرح کے خونخوار جانور اپنا وحشی پن چھوڑ دیں گے، ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ اب آتے ہیں آپ کی عمر مبارک کی طرف۔ کیا امام علیہ السلام اب تک زندہ ہیں اور آپ کی طولانی عمر کا کیا راز ہے؟ اور آپ کب تک زندہ رہیں گے؟

امام زمانہ (عج) کی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟

بھت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کے بارے میں سن کر تعجب کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں۔ ان کا کھنا ہے کہ بھلا ایک شخص ایک ھزار دو سو سال کس طرح زندہ رہ سکتا ہے؟ یہ تو قانون فطرت کے خلاف ہے ان لوگوں کا خیال ہے کہ اب تک جتنے بھی دنیا میں کام ہوئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں دوسرے لفظوں مین آج کے جدید علوم مبنی پر حقیقت ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی زندگی کے تمام تر تغیرات و معمولات غیر فطری ہیں۔ کیا روئے زمین پر حیات انسانی کا وجود علومطبعیات کے ساتھ مطابق رکھتا ہے؟ انسان نے سب سے پھلے جو قدم رکھا ہے وہ کونسے طبعی و فطری قانون کے مطابق تھا؟ جدید علوم کی رو سے جاندار سے ہمیشہ جاندار چیز جنم لیتی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ غیر جاندار سے جاندار چیز پیدا ہو۔ سائنس اس کا اب تک جواب نہ دے سکی۔ سب سے پھلی چیز جاندار نے روئے زمین پر کیسے اور کس طرح قدم رکھا؟پھر دو انسانوں سے تخلیق کا عمل کیسے آگے بڑھا؟

اس کے بعد وہ کھتے ہیں تخلیق کا عمل شروع ہی سے دو حصوں میں بٹ گیا، ایک بناتات اور دوسرا حیوانات، نباتات کا سلسلہ خلقت اور ہے اور حیوانات کا اور بعض امور مین ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایسا بھی ہے کہ گھاس ہو اور حیوان نہ ہو۔ اور حیوان ہو اور گھاس نہ ہو۔ درخت پودے یہ سب جاندار چیزیں ہیں، ان کا ماحول کو صحت مند اور پرفضا بنانے میں بہت بڑا کردار ہے۔ آج تک سائنس یہ نہ بتا سکی کہ یہ سلسلہ کب اور کس طرح شروع ہوا تھا۔ جس طرح سائنس انسانی تخلیق کے بارے میں حیران ہے، اس طرح وہ نباتات کے بارے میں بھی سرگرداں ہے۔ بعد کے کچھ مراحل کے متعلق تو کچھ حد تک معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ لیکن تخلیق کے آغاز کی بابت سائنسدان آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے۔ انسان کے اندر ایک بہت بڑی کائنات پوشیدہ ہے۔ اس کی زندگی کا ہر راز ابھی تک پوری طرح سے کھل کر سامنے نہ آسکا۔ انسان کی تخلیق اور قوت مشاہدہ، پختگی شعور اور قوت گویائی، دیگر محسوسات اپنی جگہ پر قدرت کا عظیم شاہکار ہیں۔

کیا وحی کوئی معمولی کام ہے؟ وہ وحی جو انسان کے پاس پھنچ کر غیر معمولی خبریں اور امور کی نشاندھی کرتی رہی کیا وہ انسان کے ایک ھزار تین سو سال تک زندہ رہنے سے کیا کم ہے؟ دراصل یہ ایک فطری امر اور قدرتی عمل ہے۔ یہ قانون فطرت تو ہے جو انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر جدید سے جدید کام لے رہا ہے۔ آج انسان نئی سے نئی ایجادات سامنے لا رہا ہے۔ جدتوں، ندرتوں کی دنیا رنگ برنگی روشنیوں میں بکھر چکی ہے، اور جدید تحقیق کا سلسلہ مزید جاری و ساری ہے۔ بلکہ لمبی عمر پانے کے نئے نئے فارمولے ایجاد کئے جارہے ہیں۔ کوئی شخص یہ نہیں کھہ سکتا کہ قانون فطرت یہ ہے کہ انسان ایک سو سال، پچاس سال یا دو سو سال ہا پانچ سو سال زندہ رہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت ایسا بھی ہو کہ انسان کی لمبی عمر کا راز حاصل کیا جائے۔ اللہ تعالی ہمیشہ اپنی قدرت نمائی اور اپنے معجزات لوگوں کو دکھلاتا رھتا ہے۔ ایک ایسی صورت پیدا ہوتی ہے کہ ہم اس کانون فطرت کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔ خدا کی باتیں خدا ہی جانے، اس لیے یہ ایسا موضوع نہیں ہے کہ اس میں مزید بحث و تمحیض کی جائے۔ یا نعوذ باللہ اس میں شک و شبہ کیا جائے۔ دین اور دنیا سب کے لیے، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی چشم بصیرت کھولے، اور اپنے شعور کی دنیا آباد کرے، اور اپنی فکر کو محدود ماحول سے نکال کر وسیع و عریض فضاؤں میں لے جائے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ امام مھدی علیہ السلام کے دور مبارک میں انسان علم و حکمت، فکر و نظر، عقل و شعور غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کر گا۔ ا سکے بارے مین ہم مزید مطالب بیان کرنا چاہتے ہیں آپ کی صرف اور صرف توجہ در کار ہے ۔

حضرت امام مھدی (عج) کے دور حکومت کی خصوصیات

شیعہ سنی علماء و مورخین کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ

لو لم یبق من الدنیا الا یوم واحد لطول الله ذلک الیوم حتی یخرج رجل من ولدی"

یعنی اگر فرض کریں کہ دنیا میں سے ایک دن سے زیادہ وقت نہ رہ گیا ہو تو اللہ تعالی اس کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میرے بیٹے قائم آل محمد علیہ السلام ظھور کریں گے۔"

اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک یقینی اور حتمی امر ہے کہ اگر دنیا ختم ہونے والی ہو تو بھی امام مھدی علیہ السلام نے تشریف لانا ہے۔ اس روایت کو اہلسنت اور اہل تشیع دونوں فرقوں نے متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

ہمارے بعض احباب جب دیکھتے ہیں کہ حجاز سے آئے ہوئے ہمارے مھمانان گرامی جناب شیخ خلیل الرحمن ہمیشہ امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں تو یہ لوگ تعجب کرتے ہیں کہ یہ شیعہ بھی نہیں ہیں لیکن امام علیہ السلام کے ظھور کی باتیں کر رہے ہیں۔ واقعتاً یہ حضرات امام زمانہعليه‌السلام کے ظھور کے منتظر ہیں۔ دراصل یہ بات کسی ایک فرقے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام مھدی علیہ السلام ایک نہ ایک دن ضرور ظھور فرمائیں گے۔

اس سے آگے چل کر دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امام مھدی علیہ السلام کے دور حکومت کو انسانی ارتقاء کے آخری سٹیج سے تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"المهدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس والزلازل"

کہ حضرت مھدی علیہ السلام اس حالت میں تشریف لائیں گے کہ لوگوں کے درمیان شدید اختلافات اور زلزلے آئیں گے۔ ان زلزلوں سے مراد یہ ہے کہ لوگوں پر خطرات کے بادل منڈ لائیں گے۔

"فیملاء الارض قسطا و عدلاً کما ملئت ظلماً وجورا"

کہ جب پیمانہ ظلم و جور بھر چکے گا تو آپ تشریف لا کر دنیا کو عدل وانصاف سے پر کردیں گے۔

"یرضی عنه ساکن السماء و ساکن الارض"

کہ ان سے خدائے آسمان راضی ہے اور مخلوق خدا بھی اور لوگ شکر خداوندی بجالاتے ہوئے کھیں گے کہ اب ظلم و ستم ختم ہوگیا ہے۔

اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا:

"یقسم المال صحاحا"

کہ حضرت مھدی علیہ السلام لوگوں میں مال و دولت صحیح طریقے سے تقسیم کریں گے ۔

پوچھا گیا۔ یا رسول اللہ وہ کیسے؟آپ نے فرمایا عدل و انصاف کے ساتھ برابر حصوں میں تقسیم کریں گے۔

"و یملا الله قلوب امة محمد غنی و یسعهم عدله" (۳۵)

اور اللہ تعالی امت اسلام کے دلوں کو غنی کر دے گا۔ ان کے دل بھی دنیاوی آسائشوں اور الآئشوں سے بھر جائیں گے اور مالی وسائل کے لحاظ سے بھی وہ بے نیاز ہو جائیں گے غربت و افلاس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گا۔ ہر طرح کی رقابتیں، دشمنیاں ختم ہوں گی۔

حضرت علی علیہ السلام نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

"حتی تقوم الحرب بکم علی ساق بادیا نواجذھا مملوئۃ اخلافھا حلوا رضاعھما علقما عاقبتھا"

"یعنی (اس داعی حق سے پھلے) یہاں تک نوبت پھنچے گی کہ جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی، دانت نکالے ہوئے اور تھن بھرے ہوئے، جن کا دودھ شیرین و خوش گوار معلوم ہوگا لیکن اس کا انجام تلخ و ناگوار ہوگا۔"

الاوفی غدو سیاتی غد بما لا تعرفون"

ھاں کل اور یہ کل بہت نزدیک ہے کہ ایسی چیزوں کو لے کر آجائے جنھیں ابھی تک تم نہیں پھچانتے ۔

"یا خذ الوالی من غیرہا عما لھا علی مساوی اعمالھا"

حاکم و والی جو اس جماعت میں سے نہیں ہوگا تمام حکمرانوں سے ان کی بدکرداروں کی وجہ سے مواخذہ کر گا۔

"و تخرج له الارض افالیذ کبدها"

اور زمین اس کے سامنے اپنے خزانے انڈیل دے گی۔

"و تلقی الیه سلماً مقالیدها"

اور اپنی کنجیاں اس کے آگے ڈال دے گی۔

"فیریکم کیف عدل السیرة"

چانچہ وہ تمھیں دکھائے گا کہ حق و عدالت کی روشنی کیا ہوتی ہے۔

"و یحیی میت الکتاب والسنة"

اور وہ دم توڑ چکنے والی کتاب و سنت پھر سے زندہ کر دے گا۔

ایک اور جگہ پر فرمایا کہ :

"اذا قام القائم حکم بالعدل"

جب قائم آل محمد علیہ السلام تشریف لائیں گے تو عدل و انصاف پر مبنی حکومت قائم کریں گے۔ ہمارے ہر امام کا ایک مخصوص لقب ہے جیسا کہ امیر المومنین کا علی مرتضیعليه‌السلام ، امام حسن کا حسن مجتبیعليه‌السلام ، امام حسینعليه‌السلام کا سید الشھداء اور دوسرے آئمہ السجاد، الباقر، الصادق، الکاظم، الرضا، التقی، النقی، الزکی، العسکری، لقب سے اس طرح امام زمانہ کا قائم ہے۔ یعنی قیام کرنے والا، انقلاب برپا کرنے والا۔ عدل و انصاف کو نافذ کرنے والا، گویا ہمہ گیر انقلاب اور عدالت آپ کی ذات اقدس کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔

"وارتفع فی ایامه الجور"

آپ کے دور حکومت میں ظلم وجود کا نام و نشان تک نہ رہے گا۔

"وامنت به السبل"

تمام راستے امن و سلامتی کی علامت بن جائیں گے۔"

یعنی دریائی، زمینی اور ہوائی سفر محفوظ ترین ہوجائے گا۔ چونکہ عدل و انصاف کے نہ ہونے کی وجہ سے جرائم ھنم لیتے ہیں لیکن جب عدل برقرار ہوگا، تو جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے۔ پھر عدالت کا تصور انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، اسلئے بدامنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

"واخرجت الارض برکاتها"

زمین اپنی تمام برکتوں اور اپنے تمام خزانوں کو باہر لے آئے گی۔

"ولا یجد الرجل منکم یومئذ موضعا لصدقته ولا بره"

(یھاں تک کہ) لوگوں میں صدقہ خیرات لینے والا (اور مانگنے والا) نہ ملے گا۔

"وهو قوله تعالی والعاقبة للمتقین"

ارشاد خداوندی ہے کہ اچھا انجام اور کامیابی نیکوکاروں ہی کیلئے ہے:

اس وقت کے لوگوں کے لیے سب سے مشکل یہ ہوگی کہ ان کو صدقہ دینے کے لیے کوئی فقیر و نادار نہیں ملے گا، گویا غربت و افلاس کا نام تک نہ رہے گا۔ امام علیہ السلام توحید کے بارے میں فرماتے ہیں:

"حتی یوحدوا الله ولا یشرک به شیاء"

کہ سب کے سب توحید پرست بن جائیں گے شرک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا۔

"و تخرج العجوزة الضعیفة من المشرق ترید المغرب لا یؤذیها احد"

ایک بوڑھی خاتون مشرق سے لے کر مغرب تک بھی اگر اکیلا سفر کرے گی تو اسے کوئی گزندتک نہ پھنچا سکے گا۔

امام علیہ السلام کے بے نظیر عادلانہ نظام کے بارے میں کتابوں بہت کچھ موجود ہے کہ آپ جب حکومت الٰھیہ کو تشکیل دیں گے تو لوگوں کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوگا۔ برکتوں، رحمتوں کا نزول ہوگا، عوام مین دولت کی مساوی تقسیم ہوگی۔ بے پناہ و سائل موجود ہوں گے۔ ہر چیز کی فراوانی ہوگی۔ برائیوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا۔ اس وقت انسان گناہوں سے نفرت کرے گا۔ چھوٹ، غیبت، تھمت، اور ظلم کے ناموں کو لوگ بھول جائیں گے۔ آخر یہ کیا ہے اور کیوں ہوگا؟ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ اسلام کھتا ہے کہ انسانیت کا انجام عدالت کا قیام ہی ہے۔ اس دور میں عدالت سب سے زیادہ پسندیدہ چیز سمجھی جائے گی۔ انسان کی روحانی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اس کی تعلیم و تربیت پایہ تکمیل تک پھنچے گی۔ وہ حکومت عالمی امن کے قیام کا سب سے بڑا اداعی ہوگا۔

ایمان اپنی پوری قوت سے جلوہ گر ہوگا۔ خدا پرستی اور خدا شناسی اپنے آخری نقطہ تک پھنچے گی۔ قرآن مجید کو سب سے بڑا مقام ملے گا۔ اس لیے ہم مسلمان خوش قسمت ہیں کہ دنیائے کفر انسانیت کے بارے جتنا مایوس کن رویہ اختیار کرتی ہے، ہم اس سے کھیں زیادہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے آنے سے پھلے ایک عظیم اسلامی حکومت قائم ہوگی، ایسی حکومت کہ جس میں عدل و انصاف کے سوا دوسری چیز موجود نہ ہوگی۔

مسڑر اسل اپنی، "نئی امیدیں" میں لکھتا ہے کہ آج دانشوروں میں سے اکثر اپنی امیدیں ختم کر چکی ہے، کہ جدید دنیا کی جدید سوچ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ نئی ٹیکنا لوجی اتنی زیادہ ترقی کر چکی ہے کہ انسان کا خاتمہ بھی اس کی وجہ سے ہوگا ایک یورپی دانشور کے بقول انسان نے اپنے ہاتھ سے اپنی قبر بنا رکھی ہے اگر ایٹمی بٹن پر انغلی رکھ دی جائے کہ پوری دنیا جل کر بھسم ہوجائے گی۔ واقعتاً اگر ہمیں خدا اور غیبی طاقت پر یقین نہ ہو اور قرآن کی بشارت پر ہمارا ایمان نہ ہو تو ہم بے اطمینانی و بے سکونی کا شکار ہو جائیں۔ آپ آج کی ترقی یافتہ دنیا کو دیکھ لیں تو خیال کریں کہ وہ حق پر ہیں، لیکن یہ ترقی عارضی اور فنا ہونے والی ہے۔ جب ھیرو شیما میں ایٹمی اسلحہ سے انسانی تباہی کو دیکھ لیں تو ترقی کے نام سے نفرت ہونے لگے گی۔ آج آپ جدید ایٹمی ٹیکنا لوجی کو دیکھ لیجئے کہ سائنسدانوں نےانسانی تباہی و بربادی کے لیے کیا سے کیا کر رکھا ہے، ھیاں تک کہ دنیا اس جگہ پر آکھڑی ہوئی ہے کہ جس میں فاتح مفتوح، غالب مغلوب کا تصور ہی نہیں ہے۔ اگر تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے تو اب یہ کوئی نہیں کھہ سکے گا کہ آیا امریکہ جنگ جیت جائے گا یا روس یا چین فتح حاصل کر لیں گے۔ اگر تیسری عالمی جنگ چھیڑ جائے تو چیز مغلوب ہوگی وہ ہے اسنانیت اور جو چیز غالب ہے اس کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن ہم مسلما کھتے ہیں کہ ان تمام تر ایٹمی و سائنسی طاقتوں کے اوپر ایک طاقت ہے قرآن مجید کی سورہ آل عمران آیت نمبر ۱۰۳ میں ارشاد ہے:

"وکنتم علی شفا حفرة من النار فأنقذکم منها"

اور تم (گویا) ہوئی آگ کی بھٹی (دوزخ) کے لب پر (کھڑے تھے) اور گرنا چاہتے تھے، کہ خدا نے تم اس سے بچایا لیا ۔

اور ہمیں یہ بھی کھا گیا ہے کہ :

"افضل الاعمال انتظار الفرج"

کہ تمام اعمال میں سے سب سے بھتر عمل، ایک مکمل کشائش اور فتح کا انتظار کرنا ہے۔"

وہ اس لیے کہ یہ ایک اعلی معیار کی ایمانی طاقت ہے، جو ہمیں امید دلاتی ہے اور کامیابی کی نوید بھی۔ بار الٰھا ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے حقیقی غلاموں اور ماننے والوں میں شمار فرما! خداوند ہمیں ایسا شعور عطا فرما کہ جس سے ہم ان کی حکومت برحق کا صحیح طریقے سے ادراک کر سکیں۔

"اللھم انا رغب الیک فی دولۃ کریمۃ تعزبھا الاسلام واہلہ وتذل بھا النفاق واہلہ وتجعلنا فیھا من الدعاۃ الی طاعتک و القادۃ الی سبیلک"

حضرت امام مھدی علیہ السلام

( وعد الله الذین آمنو منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم ولیمکنن لهم د ینهم الذی ارتضی لهم ولیبد لنهم من بعد خوفهم امنا یعبد وننی لا یشکون بی شیاً ) (۳۶)

"(اے ایماندارو!) تم میں سے جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیے ان سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ و ان کو (ایک نہ ایک دن) روئے زمین پر ضرور (اپنا) نائب مقرر کرے گا۔ جس طرح ان لوگوں کو نائب بنایا جو ان سے پھلے گزر چکے ہیں اور جس دین کو اس نے ان کیلئے پسند فرمایا (اسلام) اس پر انھیں ضرور ضرور پوری قدرت دے گا اور ان کے خائف ہونے کے بعد (ان کے ہر اس کو) امن سے ضرور بدل دے گا کہ وہ (اطمینان سے) میری ہی عبادت کریں گے اور کسی کو ہمارا شریک نہ بنا لیں گے۔"

امام زمانی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے ہماری گزشتہ بحث میں آنجناب علیہ السلام کے بارے میں تھی اور اس نشست میں بھی ہم امام علیہ السلام کے بارے میں چند مطالب بیان کریں گے۔ آج ہم تاریخی حقائق پر روشنی ڈالیں گے جو لوگ تاریخ اسلام اور مذھب حقہ کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے ان کا کھنا ہے کہ مھدویت کا تصور امام علیہ السلام کی ولادت کے زمانہ سے شروع ہوا ہے لیکن میں ان حضرت کی خدمت میں حقائق پر مبنی کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ان کو بتایا یہ مقصود ہے کہ مھدویت کا تصور کھاں سے شروع ہوا اور اس کا مقصد کیا ہے؟

قرآن و حدیث میں مھدویت کا تصور

سب سے پھلے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو واضح الفاظ میں خوشخبری دی گئی ہے۔ حضرت امام زمانہ علیہ السلام نے ہر صورت میں تشریف لا کر یہ عالمگیر اسلامی تشکیل دینی ہے ۔ اس کے بارے میں بہت سی آیات قرآن مجید میں موجود ہیں۔ آپ ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں لیکن ہم ان آیات میں ایک کو نقل کرتے ہیں، ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

"ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرتها عبادی الصالحون "

اور ہم نے تو نصیحت (توریت) کے بعد یقیناً زبور میں لکھ ہی دیا ہے کہ روئے زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے ۔"(۳۷)

قرآن مجید کھہ رہا ہے کہ اس کائنات پر اس زمین پر ہمیشہ ظالم جاگیرداروں و ڈیروں کا قبضہ نہیں رہے گا۔ اسی طرح تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے اور صرف اور صرف اسلام ہی واحد الٰھی مذھب رہ جائے گا۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔

"ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق ینطھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون"(۳۸)

"وھی تو (خدا ہے) جس نے اپنے رسول (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ھدایت اور سچے دین کے ساتھ (مبعوث کر کے) بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگر چہ مشرکین برا مانا کریں"

اب آتے ہیں احادیث کی طرف سوال یہ ہے کہ آیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بارے میں کیا فرمایا؟ کیا آپ نے کچھ فرمایا یا نہیں فرمایا؟ اگر امام مھدی علیہ السلام کے ظھور کے بارے میں صرف شیعہ روایات ہیں تو پھر اعتراض کرنے والے اپنی جگہ پر درست کھتے ہیں اگر یہ مسئلہ واقعی بہت بڑا مسئلہ ہے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ضرور کچھ نہ کچھ فرمایا ہوگا۔ اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر باقی تمام اسلامی فرقوں کی نقل کردہ روایات کو بھی تسلیم کرنا چاہی ے، صرف شیعوں کی روایات کافی نہیں ہیں؟ ان سولات کا جواب واضح ہے۔ اتفاق سے امام مھدی علیہ السلام کے ظھور کے بارے میں صرف شیعوں کی روایات نہیں ہیں بلکہ اہل تسنن کی روایات کے ظھور امام علیہ السلام کی بابت شیعوں سے زیادہ ہیں۔ اگر آپ ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے تو حقیقت حال ایسی ہی ہوگی۔

جس زمانے میں ہم قم المقدسہ کے زیر تعلیم تھے اس دور مین دو اہم کتابیں منظر عام پر آئیں ان میں سے ایک کتاب آیت اللہ صدر مرحوم کی تھی۔ یہ کتاب عربی زبان میں تھی اور اس کا نام المھدی رکھا گیا، اس میں امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں جتنی بھی روایات نقل کی گئیں۔ وہ سب اہل سنت کی کتب میں سے تھیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے مسئلہ مھدویت کے بارے میں اہل سنت کی روایات شیعوں سے زیادہ نہیں ہیں تو کمتر بھی نہیں ہیں۔ دوسری کتاب منتخب الآثر کے نام سے فارسی زبان میں تحریر کی۔ موصوف حوزہ علمیہ قم کے فاضل ترین نوجوان ہیں۔ آیت اللہ بروجردی نے حکم دیا کہ امام علیہ السلام کے بارے میں ایک جامع کتاب تحریر کی جائے۔ چناچہ اس نوجوان فاضل نے یہ کتاب لکھ ڈالی۔ آپ اس کا مطالعہ کریں تو آپ کو زیادہ تر اہل سنت حضرات کی روایات نظر آئیں گی ۔

میں نے روایات کے بارے میں بحث نہیں کرنی۔ میری بحث کا مقصد یہ ہے کہ آیا مسئلہ مھدویت تاریخ اسلام میں موثر ہے کہ نھیں؟جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں اس اہم موضوع کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی علیہ السلام کے ارشادات موجود ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظھور کی خبر سنائی اور لوگوں کو بشارت دی کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا گویا میرا بیٹا اسلامی و الٰھی حکومت کو تشکیل دے گا، وہ گھڑی کتنی خوش نصیب گھڑی ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟

فرمایا مولا علیعليه‌السلام نے

امیر المومنین حضرت علیہ السلام نے نھج البلاغہ میں جو جملہ ارشاد فرمایا ہے آیت اللہ بروجردی کے بقول یہ جملہ احادیث کی دوسری کتب میں تسلسل و تواتر کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ کمیل بن زیاد نخفی کھتے ہیں کہ امیر المو منیں علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبرستان کی طرف لے چلے۔

"فلما اصحر تنفس الصعداء"

جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کھینچی" اور فرمایا:

"الناس ثلاثة فعالم ربانی و متعلم علی سبیل نجاة و همج رعاع"

دیکھو تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر بر قرار ہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ گروہ کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہوتا ہے۔ آپ نے یہاں اپنی تنھائی کا ذکر فرمایا ہے کہ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو مجھ سے اسرار و رموز حاصل کرے اور میں اسے دل کی باتیں بتاؤں پھر فرمانے لگے ۔ ھاں یہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی۔

"اللهم بلی لا تخلو الارض من قائم لله بحجة اما ظاهراً مشهورا واما خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج الله و بیناته یحفظ الله بهم حججه وبینائه حتی یودعوها نظراء هم ویزرعو ها فی قلوب اشباهم" (۳۹)

"ھاں اگر زمین ایسے فرد سے خالی نہیں رھتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے، وہ ظاہر و مشھور ہو خائف و پنھاں ہو تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں۔ خداوند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں انھیں بودیں۔"

قیام مختار اور نظریہ مھدویت

تاریخ اسلام میں سب سے پھلے نظریہ مھدویت مختار ثقفی کے زمانے میں شروع ہوا ہے مختار امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب مختار بہت ہی اچھے، دنیدار، اور مجاہد شخص تھے۔ مختار کو شروع ہی سے پتہ تھا کہ لوگ اس کی قیادت میں جھاد نہیں کریں گے کیونکہ امام وقت حضرت زین العابدین علیہ السلام موجود تھے۔ جناب مختار نے جناب امام سجاد علیہ السلام سے رابط کرکے انتقام لینے کی اجازت چاہی آپ خاموش رہے۔ شاید حالات اس امر کی اجازت نہ دیتے تھے۔ چناچہ مختار نے مسئلہ مھدویت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور محمد بن حنفیہ فرزند امیر المومنین کا نام استعمال کیا۔ ان کا نام بھی محمد تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کا "اسمہ اسمی" وہ میرے ہمنام ہوگا۔ مختار نے کھا اے لوگو! میں مھدی دوران کا نائب ہوں جس کی پیغمبر اسلام نے بشارت دی تھی۔ جناب مختار ایک عرصہ تک خود کو حضرت مھدی علیہ السلام کے نائب کے طور پر متعارف کرواتے رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد بن حنفیہ نے مھدی آخر الزمان کے طور پر اپنا تعارف کروایا تھا؟ بعض مورخین کھتے ہیں کہ یزیدوں سے انتقام لینے کیلئے انھوں نے اس قسم کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس کی حقانیت پر ہمیں اب تک ثبوت نہیں مل سکا۔ (جناب شھید مطھری نے جناب مختار ثفقی کے بارے مین ایک روایت پیش کی ہے ورنہ مختار کی مجاہدت اور ان کی عظمت کی کوئی مثال ہی پیش نہیں کی جاسکتی کیونکہ شھدائے کربلا کے قاتلوں سے جس انداز میں اور جس طرح انتقام لیا وہ کوئی بھی نہ لے سکا اس لیے ان کو مختار آل محمدعليه‌السلام بھی کھا جاتا ہے۔)

زھری کیا کھتے ہیں؟

ابو الفرج اصفھانی جو کہ اموی النسل مورخ ہیں اور شیعہ بھی نہیں ہیں، اپنی کتاب مقاتل الطالبین میں تحریر کرتے ہیں کہ جب زید بن امام سجاد علیہ السلام کی شھادت کی خبر زھری کو ملی تو انھوں نے کھا کہ اہل بیت علیھم السلام کے کچھ افراد جلدی کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ ایک وقت آئے گا کہ ان کا مھدی علیہ السلام ظھور کرے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مھدی علیہ السلام کا مسئلہ اس قدر مسلم تھا کہ جب زھری کو جناب زید کی شھادت کی خبر موصول ہوئی تو ان کا ذھن فوراً جناب زید کے انقلاب کی طرف گیا اور انھوں نے کھا کہ اہلبیت علیھم السلام کے انقلابی اور پر خوش نوجوانوں کو صبر کرنا چاہی ے۔ انقلاب تو صرف ایک ہی آئے گا اور ایک ہی لائے گا۔ وہ ہے انقلاب مھدی علیہ السلام، اور اس انقلاب کو لانے والے حضرت امام مھدی علیہ السلام ہی ہوں گے۔ میں زھری کے بارے میں کچھ نہیں جانتا کہ انھوں نے غلط کھا ہے یا درست، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حضرت امام مھدی علیہ السلام ایک نہ ایک دن ضرور تشریف لائیں گے اور وہ اپنے مشن و مقصد میں کامیاب و کامران ہوں گے۔

نفس زکیہ کا انقلاب لانا اور عقیدہ مھدویت

ھم پھلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام کے بیٹے کا نام بھی حسن تھا۔ ان کو حسن مثنی کھا جاتا ہے، یعنی دوسرے حسن، جناب حسن، امام حسین علیہ السلام کے داماد تھے۔ فاطمہ بنت الحسین، حسن مثنی کی شریکہ حیات ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کو ایک بیٹا عطا فرمایا اس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ چونکہ یہ شھزادہ ماں باپ کے لحاظ سے نجیب الطرفین تھا اس لیے ان کو عبد اللہ کے نام سے پکارا جانے لگا (کہ وہ نوجوان جو خالص الطرفین علوی اور خالص فاطمی ہے) عبد اللہ محض کے دو صاجزادے تھے ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام ابراہی م تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان کا دور آخری اموی دور سے ملتا جلتا ہے۔ آپ اسے ۱۳۰ ہجری کھہ سکتے ہیں۔ محمد بن عبد اللہ محض بہت ہی دیندار اور شریف انسان تھے۔ اس پیکر اخلاق و شرافت کو نفس زکیہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ آخری اموی دور میں حسن سادات نے انقلابی تحریک شروع کی کہ یہاں تک عباسیوں نے محمد بن عبد اللہ محض کی بیعت کی۔ حضرت امام صادق علیہ السلام کو بھی میٹنگ میں مدعو کیا گیا۔ آپ سے درخواست کی گئی کہ ہم انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محض کی بیعت کریں آپ بھی ایک جلیل القدر سید ہیں ان کی بیعت کریں امام علیہ السلام نے فرمایا آپ کا اس سے مقصد کیا ہے؟ اگر محمد امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی خاطر انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی حمایت بھی کریں گے۔

لیکن اگر وہ مھدی دوران بن کر انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ تو وہ سخت غلطی پر ہیں، وہ مھدی نہیں ہوسکتے۔ میں ان کی اس حوالے سے تائید نہیں کروں گا۔ اگر کوئی حمایت کرے گا تو غلط فھمی کی بناء پر کرے گا کیونکہ ایک تو ان کا نام محمد تھا دوسرا ان کے کندھے پر تل کا نشان تھا۔ لوگوں کا کھنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مھدی دوران ہی ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ مھدویت مسلمانوں میں اس قدر اہم اور ضروری تھا کہ جو بھی صالح شخص انقلاب لانے کی بات کرتا تو اس کو مھدی آخر الزمان علیہ السلام تصور کیا جاتا۔ چونکہ آقائے نامدار حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کے ظھور کی مسلمانوں کی خوشخبری دی تھی اس لیے مسلمانوں کے ذھنوں میں یہ بات رچی بسی ہوئی تھی اور یہ تصور ان کی آمد تک رہے گا۔ یعنی اس بات پر سن مسلمان متفق ہیں کہ اللہ تعالی کی آخری حجت حضرت قائم آل محمد علیہ السلام نے ضرور بالضرور تشریف لانا ہے اور دنیا کو عدل و انصاف سے آباد کر دیں گے۔

منصور دوانقی کی شاطرانہ چال

ھم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ عباسی خلفاء میں ایک خلیفہ مھدی ہے یہ منصور کا بیٹا اور سلطنت عباسیہ کا تیسرا خلیفہ ہے۔ پہلا خلیفہ سفاح، دوسرا منصور، اور تیسرا منصور کا بیٹا مھدی عباسی ہے ۔ مورخین نے لکھا ہے کہ منصور نے اپنے بیٹے مھدی سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ وہ لوگوں کو دھوکہ دے سکے چناچہ حسب پروگرام اس نے اعلان کر دیا کہ اے لوگو! جس مھدی کا تم لوگ انتظار کر رہے ہو وہ میرا بیٹا مھدی ہے۔ مقاتل الطالبین کے مصنف اور دیگر مورخین نے منصور کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اکثر کھا کرتا تھا کہ میں نے اپنے بیٹے کو مھدی آخر الزمان کھہ کر جھوٹ بول کر کے عوام سے خیانت کی ہے۔ ایک روز منصور کے پاس اس کا ایک قریبی دوست مسلم بن قیتبہ آیا اور منصور نے اس سے پوچھا کہ محمد بن عبد اللہ محض کیا کھتے ہیں؟ مسلم نے کھا کہ وہ کھتا ہے میں مھدی دوراں ہوں۔ یہ سن کر منصور بولا وہ غلط کھتا ہے نہ وہ مھدی ہے اور نہ میرا بیٹا مھدی ہے۔ البتہ کبھی کبہار منصور لوگوں سے کھا کرتا تھا کہ محمد بن عبد اللہ محض مھدی نہیں ہے بلکہ میرا بیٹا مھدی وقت ہے۔ مختصر یہ کہ پیغمبر اسلام کی روایات کی روشنی میں مھدویت کا تصور لوگوں میں عام تھا۔ اس لیے جب بھی کسی انقلابی نوجوان کو دیکھتے یا اس کا نام سنتے تو اس کو مھدی وقت تصور کرتے تھے ۔

محمد بن عجلان اور منصور عباسی

مورخین نے ایک اور اہم واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ مدینہ کا ایک فقیھہ محمد بن عجلان نے محمد بن عبد اللہ کے پاس جا کر ان کی بیعت کی۔ بنو عباس شروع میں حسنی سادات کے حامی تھے۔ پھر مسئلہ خلافت پیش آیا اور یہ حاکم وقت ٹھھرے ۔ انھوں نے بر سر اقتدار ہوتے ہی حسن سادات کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ منصور نے محمد بن عجلان کو اپنے دربار میں بلوایا کہ تم نے عبد اللہ کے صاجزادے محمد کی بیعت کیوں کی ہے؟ اس نے حکم دیا کہ ان کا ہاتھ کاٹ دیا جائے کیونکہ انھوں نے ہمارے دشمن کی بیعت کی ہے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ مدینہ کے تمام فقھا جمع ہو کر منصور کے پاس آئے اور ابن عجلان کی معافی کی درخواست کی اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کھا اس کا بیعت کرنے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ انھوں نے محمد بن عبد اللہ کو مھدی دوران سمجھ کر ان کی بیعت کی ہے۔ اس سے آپ کی دشمنی اور مخالفت کرنا مقصود نہ تھا ۔

ان حقائق کی دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ مھدویت کس قدر اہمیت کا حامل مسئلہ تھا؟ھم جب بھی تاریخ کے مختلف ادوار کو دیکھتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارا امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا مسئلہ ہر دور میں مسلم رہا ہے۔ یھی وجہ ہے کہ ہمارا ہر امام جب شھید ہوتا ہے تو دنیا والے خیال کرتے تھے کہ وہ امام غائب ہوا ہے مرا نہیں ہے۔ گویا ہر امام کو مھدی دوران کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یھی مسئلہ امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام، امام موسی کاظم علیہ السلام اور دیگر آئمہ کے ساتھ پیش آیا۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صاجزادے سے بہت پیار کرتے تھے۔ جب حضرت غسل و کفن کا اہتمام کر چکے تو آپ کے اس کے سراہنے آکر بلند آواز سے گریہ فرمایا اور بیٹے کے چھرے سے کپڑا ھٹا کر اپنے اصحاب سے کھا کہ دیکھو میرا بیٹا اسماعیل ہے، یہ انتقال کر گیا ہے۔ کل یہ نہ کھنا کہ وہ مھدی تھا اور غائب ہو گیا ہے۔ اس کے جنازہ کو دیکھیے ۔ اس چھرے کو خوب ملاحظہ کیجئے۔ اسے خوب پھچان کر اس کے انتقال کی گواہی دیں۔ یہ تمام باتیں اور شواہد اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ مسئلہ مھدویت مسلمانوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جھاں تک میں نے تاریخ اسلام پر تحقیق کی ہے کہ ابن خلدون کے دور تک کسی ایک عالم دین نے بھی امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث سے اختلاف کیا ہو۔ اختلاف تھا یا تو وہ صرف فرعی اور جزئی تھا کہ آیا یہ شخص مھدی ہیں وہ شخص؟ کیا امام حسن علیہ السلام کا کوئی بیٹا ہے یا نھیں؟کیا وہ امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں؟ لیکن اس امت کا ایک مھدی ضرور ہے؟ اور وہ اولاد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اولاد زھرا سلام اللہ علیھا میں سے ہے اور وہ اس دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ۔ اس بات میں تو کسی کو کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے ۔

دعبل کے اشعار

معروف شاعر دعبل خزاعی امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اشعار پڑھتا ہے ان میں سے ایک شعر یہ ہے:

افاطم لو خلت الحسین مجدلا

وقد مات عطشانا بشط فرات

وہ حضرت زھرا سلام اللہ علیھا سے خطاب کرتے ہوئے ان کی اولاد پر ہونے والے مظالم کو ایک کرکے بیان کرتا ہے۔ دعبل کا مرثیہ تمام عربی مرثیوں میں سب سے بلیغ مرثیہ ہے۔ مورخین نے کھا ہے حضرت امام رضا علیہ السلام دعبل کا مرثیہ سن کر بہت زیادہ گریہ کرتے تھے۔ دعبل اپنے اشعار میں اولاد زھرا علیھا السلام کے مصائب کو ایک ایک کر کے بیان کرتا ہے ۔ کھیں وہ فخ کی مقام پر سوئے ہوئے شھزادوں کا ذکر کرتا ہے، اور کھیں وہ کوفہ کے مزاروں کا درد نام لھجے میں تذکرہ کرتا ہے یعنی محمد بن عبداللہ کی شھادت کو بیان کرتا ہے۔ کھیں پر وہ امام سجاد علیہ السلام کے صاجزادے جناب زید کی شھادت کو بیان کرتا ہے ۔ کبھی سید الشھدا علیہ السلام کا ذکر اور کبھی امام موسی کاظمعليه‌السلام کی شھادت کا تذکرہ اور کھیں پر نفس زکیہ کا ذکر کہ:

"وقبر ببغداد لنفس زکیة"

یہ سن کر امام علیہ السلام فرماتے ہیں یہاں پر اس شعر میں اس چیز کا اضافہ کرو:

"وقبر بطوس یالها من مصیبة"

میں نے عرض کی کہ آقا میں تو اس قبر کو نہیں جانتا فرمایا قبر میری ہے ۔ دعبل اپنے اشعار میں امام مھدی علیہ السلام تک ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آخر ایک روز مصیبتوں، پریشانیوں اور مظالم کی حکمرانی کا دور آئے گا۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھیں تو اس موضوع کی بابت ہمیں بے شمار شواہد ملیں گے کہ مسئلہ مھدویت صدر اسلام سے مسئلہ چلا آراہا ہے۔ گویا یہ مسلمانوں کی ضرورت ہے اور پسندیدہ موضوع بھی کہ آخری کوئی تو آئے گا جو ظلم کا خاتمہ کر کے عدل و انصاف کی حکومت قائم کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً وہ حضرت امام مھدی علیہ السلام ہوں گے جن کا انتظار کائنات کا ذرہ ذرہ کر رہا ہے۔ جب وہ تشریف لائیں گے تو کائنات کا ذرہ ذرہ جھوم اٹھے گا ۔ ۔ ۔ مرحبا یابن رسول اللہ ۔

اہل تسنن و نظریہ مھدویت

یہ مسئلہ صرف شیعوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اہل سنت حضرات بھی ظھور امام مھدی علیہ السلام پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مھدویت کا دعوی کرنے والے جتنے شیعہ تھے اتنے ہی سنی تھے۔ جیسا کہ مھدی سو ڈانی نے اپنے اردگرد کثیر تعداد میں افراد جمع کیے اور پھر اعلان مھدویت کر دیا، حالانکہ وہ سنی نشین علاقے اور ملک سے تعلق رکھتا تھا۔ ھندو پاک میں مھدویت کے دعویدار گزرے ہیں۔ اسی طرح قادیانی مھدویت کے عنوان سے منظر عام پر آئے ہیں ۔

روایات میں ہے کہ جب تک امام مھدی علیہ السلام کا ظھور پر نور ہو نہیں جاتا بے شمار جھوٹے دعویدار اور دجال سامنے آتے رہیں گے۔

حافظ کے اشعار

مجھے معلوم نہیں ہے کہ حضرت شیعہ تھے یا سنی۔ خیال غالب یہ ہے کہ وہ سیعہ نہیں تھے لیکن جب ہم حافظ کے اشعار کو دیکھتے ہیں ان میں کھیں پر مسئلہ مھدویت کی خوشبو ضرور آتی ہے۔ وہ ایک جگہ پر کھتے ہیں:

"کجا است صوفی دجال چشم ملحد شکل"

بگو بسوز کہ مھدی دین پناہ رسید"

کھاں ہے صوفی دجال جو کہ ملحد بھی ہے اور ایک آنکھ سے کانا بھی یعنی بد شکل شخص

اس سے کھہ دو کہ وہ جل جائے کہ مھدیعليه‌السلام دین پناہ تشریف لا چکے ہیں۔

مژدہ ای دل کہ مسیحا نفسی می آید

کہ زانفاس خوش بوی کسی می آید

اے دل! تجھے مبارک کہ تیرے مسیحا تشریف لانے والے ہیں۔

کہ اس کے معطر سانسوں میں کسی کی خوشبو مھک رہی ہے۔

از غم و درد مکن نالہ و فریاد کہ دوش

زدہ ام فالی و فریادرسی می آید

غم سے نڈھال نہ ہو زیادہ رو بھی نہیں کیونکہ

میں نے فال نکالی ہے (مجھے یقین ہے) کہ میرا فریاد رس آرہا ہے ۔

کسی ندانست کہ منزلگہ مقصود کجا است

اینقدر است کہ بانگ جرسی می آید

کسی کو خبر نہیں کہ اس کی منزل مراد کھاں ہے۔

بس اتنی سی بات ہے کہ گھنٹی کی آواز آنے والی ہی ہے۔

خبر بلبل ایں باغ میر سید کہ من

نالہ ای می شنوم کز قفسی می آید

وہ بلبل کی خبر اس باغ سے معلوم کر رہا ہے اور میں

رونے کی آواز سن رہا ہوں کہ وہ بھی آزاد ہو جائے گا۔

میں نے تاریخی لحاظ سء جو کچھ کھنا چاہتا تھا کھہ چکا اب دیکھنا یہ ہے کہ مھدویت کا دعوی کرنے والے جھوٹے اشخاص کس طرح اور کب پیدا ہوں گے؟یہ بھی ایک الگ بحث ہے۔ میں اپنی اس تقریر میں تین اہم مطلب بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ چونکہ دنیا جب تک ظلم و جور سے پر نہیں ہو گی امام زمانہ علیہ السلام تشریف نہیں لائیں گے۔ جب ان کے سامنے اصلاح اور تبلیغ کی بات کی جائے یا کوئی نیکی کا جملہ کھہ دیا جائے تو پریشان ہوجاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے ظلم کو بڑھنا چاہی ے۔ تاریکی زیادہ ہوگی تو امام علیہ السلام ظھور فرمائیں گے۔ ان کا کھنا ہے کہ جو لوگ نیکی پھیلاتے ہیں یا نیکی کی بات کرتے ہیں وہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کی تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔ میں اس مطلب کو سادہ الفاظ میں بیان کرتا ہوں تاکہ حقیقت کھل کر واضح ہوجائے ۔ میں ان سے کھنا ہے کہ نہیں صاحبو! حقیقت یہ نہیں ہے جو تم کھہ رہے ہو یہ عقیدہ تو کھلی گمراہی ہے ۔

انقلاب مھدیعليه‌السلام

بعض حالات دنیا میں دھماکہ بن کر پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کوڑھ کی بیماری کو دیکھ لیجئے خدانخواستہ کسی انسان کے جسم پر جب نمودار ہوتی ہے تو پھیلتی جاتی ہے۔ جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا کے تحت اس پر کوئی دوائی اثر نہیں کرتی۔ اچانک پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بعض ترقی پسند لوگ جو انقلاب کے حامی ہیں وہ حالات و واقعات کو دھماکوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر چیز جو اس قسم کے دھماکوں کو روکتی ہے، وہ چیز اچھی نہیں ہے اس لیے اصلاحی کاموں کے مخالف ہیں، ان کا کھنا ہے برائیاں ہونے دیں، ظلم و ستم کو مزید بڑھتا چاہی ے، پریشانیاں زیادہ ہوں۔ جب برے کاموں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگا تو تب انقلاب کامیاب ہوگا۔ لیکن اسلام اس کی سخت تردید کرتا ہے۔ وہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی ہر دور میں تلقین کرتا ہے۔ معاشرہ میں علم کی روشنی پھیلانے نیکی کی تبلیغ وترویج کرنے والوں کی اسلام میں وسیع پیمانے پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔

اگر ہم ترقی کا نعرہ بلند کرنے والوں کی بات مان لیں تو ہمارا سوال یہ ہے کیا ہم امر بالمعروف اور نھی عن المنکر جیسا اہم فریضہ ترک کر دیں؟ اپنے بچوں کی تربیت کرنا چھوڑ دیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ روزہ نہ رکھیں، زکوٰۃ نہ دیں، حج نہ کریں اور ہر قسم کی برائی کریں۔ اس لیے کہ امام زمانہ کا جلد ظھور ہو؟ دراصل یہ سب کچھ فکری کجروی کے باعث کھا جارہا ہے۔ یہ نعرہ کسی لحاظ سے درست نہیں ہے، بلکہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ رہی بات انتظار امامعليه‌السلام کی تو ایک حتمی اور ضرور امر ہے۔ انتظار کرنا ہم سب مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ ایک طرح کی رحمت الٰھی پر امید رکھنے کا نام ہے، تھکے اور ہارے ہوئے انسانوں کیلئے عدل و انصاف کی برقراری وبحالی کی خوشخبری ہے۔ ان لوگوں کے انقلاب آفریں دھماکے کی بات کی ہے یہ تصور بھی غلط ہے، کیونکہ فطرت کا ہر کام ارتقاء کی طرف جاتا ہے۔ آپ پھل کو دیکھ لیجئے۔ یہ اہستہ اہستہ بڑھتا ہے پھر پک کر تیار ہوتا ہے جب تک وہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کرلیتا اس وقت تک وہ کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔

امام زمانہ علیہ السلام کا ظھور مبارک بھی ایک ارتقاء کے ساتھ خاص ہے، اس لیے اب تک نہیں ہوا کہ معاشرہ میں گناہ کم ہیں، بلکہ دنیا ابھی ارتقاء کی اس منزل تک نہیں پھنچی، لھذا آپ شیعہ روایات میں دیکھتے ہیں کہ جب تین سو تیرہ مخلص مومن پیدا ہوں گے تو امام علیہ السلام ظھور فرمائیں گے، یعنی اس حدتک دنیا زوال پذیر ہوگی کہ اچھے صالح افراد کا ملنا مشکل ہوجائے گا۔ پریشانی بڑھے گی، لیکن پریشانی پریشانی میں بھی فرق ہے۔ دنیا میں عام طور پر جو بھی مشکل پیش آتی ہے اللہ تعالی اس کا جل پیدا کر دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی دنیا بہت زیادہ پریشان ہے، مسائل اور پریشانیاں بڑھتی جا رہی جا رہی ہیں۔ اب ان مسائل کا حل دنیا کے طاقتور ملکوں اور باختیار ترین حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ وسائل کے ساتھ مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہوگا۔ اگر ہوگا تو صرف قائم آل محمد علیہ السلام کے ظھور ہی میں ہوگا۔ اب دیکھیں اس میں ایک سو سال لگتا ہے۔ یا اس سے زیادہ مدت وقت کا کوئی تعین نہیں ہے۔

امام علیہ السلام کے عالمگیر انقلاب اور ظھور کا علم اس ذات اقدس کو ہے جس نے ان کو بھیجنا ہے، اور جس نے امام علیہ السلام کی طولانی عمر اور حفاظت کا اہتمام کر رکھا ہے، اور جس نے اس عظیم امامعليه‌السلام کی برکت سے دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنا ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں دنیا بھر دانشور، مفکرین کا خیال ہے، کہ انسانیت کی تمام تر محرومیوں کا خاتمہ اور حل اس وقت ممکن ہے کہ جب دنیا میں ایک ہی حکمران کی حکومت قائم ہوگی۔ ایک بار پھر میں ان لوگوں سے کھوں گا کہ جو نیکیوں کے فروغ کو ظھور امام علیہ السلام کی تاخیر کا سبب سمجھتے وہ انتھائی غلطی پر ہیں۔ حقیقت میں نیکیاں ہی امام علیہ السلام کے ظھور کو قریب کریں گی۔

انتظار امام علیہ السلام کا مسئلہ ہمارے ذھنوں میں یہ بات نہ ڈال دے کہ چونکہ ہم امام زمانہ کے ظھور کے منتظر ہیں اس لیے فلاں فرض ہم پر ساقط ہے ایسا نہیں ہے، ہر شرعی ذمہ داری ہم پر اسی طرح سے فرض رہے گی جیسا کہ وہ واجب ہوتی ہے۔ اس موضوع کی بابت کچھ اور مطالب بھی ذکر کرنا چاہتا تھا لیکن وقت کی کمی کے باعث اپنی اس گفتگو کو مختصر کرتا ہوں آخر میں صرف اور صرف ایک بات کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مھدویت ایک عالمگیر نظریہ

آپ لوگوں پر فرض ہے کہ مسئلہ انتظار امام علیہ السلام کو ویسے ہی اہمیت دیں جیسا کہ دنیا چاہی ے اور اس کے بارے میں ویسی ہی فکر کریں جیسا کہ اسلام ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم نے اس مسئلہ کو اتنی اہمیت نہیں دی کہ جس کا یہ حقدار تھا۔ ہم اتنے بڑے مسئلہ کو چند جملوں اور چند لفظوں میں بیان کر دیتے ہیں۔ کہ امام علیہ السلام تشریف لائیں گے اور ظالموں سے انتقام لیں گے۔ گویا حضرت امام زمانہ علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم کے منتظر ہیں۔ اور وہ تشریف لائیں۔ ہمیں اپنا شرف دیدار عطا فرمائیں۔ حالانکہ جیسا کہ اسلام ایک عالمی دین ہے اس طرح ظھور امام علیہ السلام بھی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہم شیعیان حیدر کرار علیہ السلام اس مسئلہ کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہماری زندگیوں کا دارمدار اسی انتظار پر ہے، ہماری سوچوں کا محور یھی انتظار ہے۔ ہم پیدا بھی اسی انتظار کے لیے ہوتے ہیں اور زندہ بھی اسی انتظار کے لیے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کائنات کا وارث ضرور تشریف لائے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

( ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثها عبادی الصالحون ) (۴۰)

"ھم نے تو نصیحت توریت کے بعد یقیناً زبور میں لکھ ہی دی ہے کہ روئے زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔"

بات ہو رہی ہے پوری کائنات کی ایک علاقہ کی بات نہیں ہے، اور نہ ہی ایک قوم کی ہے سب سے پھلے تو دنیا کا مستقل خوش آیندہ ہے۔ یورپی مفکرین کا کھنا ہے کہ انسانیت کا مستقل تاریک ہے انسان نے اپنی خود ساختہ ترقی سے اپنی موت خود خرید رکھی ہے۔ ہمارے ہاتھ وں سے بنایا ہوا اپنا ایٹمی اسلحہ ہماری تباہی کا سب سے بڑا سامان بنا ہوا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا۔ انسان اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔ لیکن ہمارا پاک و پاکیزہ مذھب، اسلام ہمیں درس دیتا ہے کہ گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انسانیت کا مستقبل انتھائی روشن اور تابناک ہے۔ انسانی زندگی کا دوسرا عقل و عدالت ہے آپ دیکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی کے تین دور ہیں۔ پہلا دور بچپن، لڑکپن کا ہے جس میں وہ کھیلتا کودتا ہے، دوسرا دور جذبات کا دور ہے، تیسرا دور بڑھاپے کا ہے۔ انسان ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہوتا ہے۔ تجربات انسانی سوچ کو مضبوط اور پختہ بنا دیتے ہیں۔ انسانی معاشرہ بھی تین ادوار اور تین مراحل کو طے کرتا ہے۔ ایک دور افسانوی ہے قرآن نے اس کو زمانہ جاہلیت سے تعبیر کیا ہے۔ دوسرا علم کا دور ہے۔ لیکن علم اور جوانی نے ہمارے دور پر کیا کیا اثرات ڈالے ہیں؟

اگر ہم غور و خوض کریں تو دیکھیں گے کہ ہمارے دور خواہشات و جذبات کا دور ہے۔ ہمارا دور بمبوں کا دور ہے، ایٹمی اسلحہ کا دور ہے۔ ان ادوار کی کوئی حقیقت اور کوئی وقعت نہیں ہے۔ ایسا دور کہ جس میں نہ معرفت موجود ہے نہ عدالت، نہ صلح محبت کا نام و نشان ہے، نہ انسانیت و روحانیت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر ادھورا چھوڑ دیا ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ اس نے ایک روز ضرور ہی منزل و مقصود کی طرف پھنچنا ہے۔ چناچہ مھدویت ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ آپ اندازہ فرمایئے کہ اسلام کے پاس کس قدر خوبصورت اور جامع اصول موجود ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی ہمہ گیر وسعتوں، گھرائیوں اور بلندیوں کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس میں کمال ہی کمال ہے، ارتقاء ہی ارتقا ہے۔ بقاء ہی بقاء، زندگی ہی زندگی، خوشحالی ہی خوشحالی ہے۔ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ ۔ ۔ ماہ رمضان کا بابرکت اور مقدس مھینہ نزدیک ہے دعائے افتتاح کی تلاوت ضرورت کرنا۔ یہ دعا حضرت امام مھدی علیہ السلام کی ذات والاصفات کے ساتھ خاص ہے میں بھی اس دعا کو پڑھوں گا اور آپ بھی ضرور پڑھنا۔ ۔ ۔ ۔

"اللهم انا نرغب الیک فی دولة کریمة تعز بها الاسلام و اهله"

پروردگار ! ہم تجھ سے ایسی عظیم حکومت میں زندگی گزارنے کی دعا کرتے ہیں کہ جس میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت و رتبہ حاصل ہو۔"

وتذل بها النفاق و اهله"

اور اس میں منافقوں کو ذلت و رسوائی ملے گی۔"

"و تجعلنا فیها من الدعاة الی طاعتک و القادة الی سبیلک"

اور ایسی توفیق دے کہ ہم دوسروں کو تیری اطاعت و عبادت کی طرف دعوت دیں اور تیرے راستہ کی طرف لوگوں کی ھدایت کریں۔

بار الھا! ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرمایا! اللہ ہم تجھے اپنے اولیاء اور نیک ہستیوں کا واسط دے کر دعا کرتے ہیں کہ وہ کام کریں کہ جس میں صرف اور صرف تیری ذات کی رضا و خوشنودی پوشیدہ ہے ۔

___________________

۱.نھج البلاغہ، خطبہ ۹۲.

۲.بنی اسرایئل، ۳۳.

۳.نھج البلاغہ، ۱۲۴.

۴.نھج البلاغہ، خطبہ ۱۹۱.

۵.استیعاب، ج۱، ص۲۵۹.

۶.نھج البلاغہ، ۲۳۸.

۷.سورہ انعام، ۵۷.

۸.سورہ زمر، ۶۵.

۹.سورہ اعراف، ۲۰۴.

۱۰.سورہ روم، ۴۰.

۱۱.نھج البلاغہ، خطبہ۹۲. ۱۲.سورہ حج، ۳۹.

۱۳.الاحتجاج طبرسی، ج۱، ص۱۰۷.

۱۴.تاریخ طبری، ج۳، ص۲۹۴۴.

۱۵.نھج البلاغہ،۷۲.

۱۶.مسالک الافھام، ج۳، ص۱۱۴.

۱۷.سورہ حجرات، ۹.

۱۸.بقرہ، ۱۹۰.

۱۹.انفال، ۴۱.

۲۰.نساء، ۱۲۸.

۲۱.نھج البلاغہ، خطبہ ۲۴۰.

۲۲.تاریخ طبری، ج۷، ص۳۰۰.

۲۳.نھج البلاغہ، خطبہ۱۸۲.

۲۴.سورہ یوسف، ۸۴.

۲۵.حج، ۳۹.

۲۶.بقرہ، ۲۶۹.

۲۷.نھج البلاغہ، ۱۳۹.

۲۸.زیارت جامعہ کبیرہ.

۲۹.منتھی الآمال، ج۲۲۲، ۲.

۳۰.عنکبوت ۶۵.

۳۱.بحار الانوار، ج ۴۹، ص ۱۴۶

۳۲.سورہ یوسف، ۵۵.

۳۳.نور، ۵۵.

۳۴.سورہ حدید، ۲۵.

۳۵.اعلام الوری، ص۴۰۱.

۳۶.سورہ نور، ۵۵.

۳۷.سورہ انبیاء، ۱۰۵.

۳۸.توبہ، ۳۳.

۳۹.نھج البلاغہ، حکمت ۱۴۷.

۴۰.سورہ انبیاء، ۱۰۵.


فہرست

حرف ناشر ۴

حضرت علی علیہ السلام کی مشکلات ۶

عثمان کا قتل ۷

عدالت کے بغیر ہرگز نھیں ۱۱

سیاست ہو تو ایسی ۱۱

خوارج حضرت علی عليه‌السلام کیلئے ایک بنیادی مشکل ۱۳

خوارج کے ساتھ علی عليه‌السلام کا رویہ ۱۷

خوارج کا عقیدہ ۱۹

خارجیوں کے ساتھ مولا علی عليه‌السلام کا مجاہدانہ مقابلہ ۲۰

خارجیوں کی ھٹ دھرمی ۲۲

شھادت علی علیہ السلام ۲۷

صلح امام حسن علیہ السلام ۱ ۳۱

پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صلح ۳۲

حضرت علی عليه‌السلام اور صلح ۳۳

فقہ جعفریہ میں جھاد کا تصور ۳۷

سر کشوں سے جنگ ۳۹

صلح اور فقہ جعفریہ ۳۹

صلح حدیبیہ ۴۱

ایک سوال اور ایک جواب ۴۶


صلح امام حسن علیہ السلام (۲) ۴۷

امام حسن عليه‌السلام اور امام حسین عليه‌السلام کے ادوار میں فرق کتنا تھا؟ ۴۷

صلح حسن عليه‌السلام اور قیام حسینی عليه‌السلام کے محرکات ۵۰

قرار داد میں کیا تھا؟ ۵۵

سوال اور جواب ۵۷

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ۶۳

عبادت امام عليه‌السلام ۶۳

پیکرِ محبت ۶۴

کاروان حج کی خدمت کرنا ۶۵

امام عليه‌السلام کا دعا مانگنا اور گریہ کرنا ۶۵

امام جعفر صادق عليه‌السلام اور مسئلہ خلافت ۱ ۶۷

بنی امیہ کے خلاف عوامی رد عمل اور بنی عباس ۶۸

ابو سلمہ کا خط امام جعفر صادق عليه‌السلام اور عبد اللہ محض کے نام ۷۱

امام عليه‌السلام اور عبداللہ محض کا رد عمل ۷۲

ایک تحقیق ۷۴

ھاشمی رھنماؤں کی خفیہ میٹنگ ۷۵

محمد نفس زکیہ کی بیعت ۷۶

امام جعفر صادق عليه‌السلام کے دور امامت کی چند خصوصیات ۷۸

امام جعفر صادق عليه‌السلام اور مسئلہ خلافت ۲ ۷۹

امام حسین عليه‌السلام اور امام صادق عليه‌السلام کے ادوار میں باہمی فرق ۸۰


نظریات کی جنگ ۸۲

امام جعفر صادق عليه‌السلام اور مختلف مکاتب فکر ۸۳

امام جعفر صادق عليه‌السلام کے بار ے میں جناب مالک کے تاثرات ۸۴

جاحظ کا اعتراف ۸۷

میر علی ھندی کا نظریہ ۸۸

احمد زکی صالح کے خیالات ۸۸

جابر بن حیان ۹۰

ھشام بن الحکم ۹۰

علمی پیشرفت کے اصل محرکات ۹۳

ایک سوال اور ایک جواب ۹۶

امام موسی کاظم عليه‌السلام کی شھادت اور اس کے محرکات ۹۸

جھاد اور عصری تقاضے ۹۹

امام زندان بصرہ میں ۱۰۰

امام علیہ السلام مختلف زندانوں میں ۱۰۱

ہارون کا امام علیہ السلام سے تقاضا ۱۰۲

امام علیہ السلام کی گرفتاری کی وجہ ۱۰۲

مامون کی باتیں ۱۰۴

روحانی اعتبار سے امام عليه‌السلام کا اثر و رسوخ ۱۰۵

ایک جیسی عادتیں ۱۰۷

ہارون کی حکومتی مشنری ۱۰۷


امام موسی کاظم عليه‌السلام اور بشر حافی ۱۰۸

صفوان جمال اور ہارون ۱۰۹

شھادت امام علیہ السلام ۱۱۱

مسئلہ ولی عھدی امام رضا عليه‌السلام ( ۱) ۱۱۳

علویوں کے ساتھ عباسیوں کا رویہ ۱۱۳

امام رضا عليه‌السلام کی ولی عھدی اور تاریخی حقائق ۱۱۵

مامون اور تشیع ۱۱۶

شیخ مفید و شیخ صدوق کی آراء ۱۱۷

دوسرا احتمال ۱۱۸

تیسرا احتمال ۱۱۹

الف) شاید ایرانیوں کو خوش کرنا مقصود ہو ۱۱۹

ب) علویوں کی انقلابی تحریک کو خاموش کرنا ۱۲۰

ج) امام رضا عليه‌السلام کو نھتا کرنا ۱۲۰

تاریخ کیا کھتی ہے؟ ۱۲۱

۱۔ مدینہ سے امام عليه‌السلام کی خراسان میں آمد ۱۲۱

۲- امام رضا علیہ السلام کا انکار ۱۲۳

۳۔ امام رضا علیہ السلام کی شرط ۱۲۳

۴۔ ولی عھدی کے اعلان کے بعد امام عليه‌السلام کا رویہ ۱۲۴

مسئلہ ولی عھدی امام رضا عليه‌السلام ( ۲) ۱۲۶

مشکوک مسائل ۱۲۹


چند اعتراضات ۱۳۲

آئمہ اطہار عليه‌السلام کی نظر میں خلفاء کے ساتھ تعاون کرنا ۱۳۳

حضرت امام رضا عليه‌السلام کا ایک استدلال ۱۳۴

ولایت جائز ظالم کی حکومت ۱۳۵

سوال و جواب ۱۳۶

امام حسن عسکری عليه‌السلام کے بارے میں چند باتیں ۱۳۹

عدل و انصاف ۱۴۱

عدالت کیا ہے؟ ۱۴۴

کیا عدالت فطری امر ہے؟ ۱۴۴

نیچہ اور ماکیاول کے نظریات ۱۴۵

برٹرنڑرسل کا نظریہ ۱۴۶

مارکسیزم کا نظریہ ۱۴۶

اسلام کا نظریہ ۱۴۷

امام زمانہ (عج) کی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟ ۱۴۸

حضرت امام مھدی (عج) کے دور حکومت کی خصوصیات ۱۴۹

حضرت امام مھدی علیہ السلام ۱۵۳

قرآن و حدیث میں مھدویت کا تصور ۱۵۴

فرمایا مولا علی عليه‌السلام نے ۱۵۵

قیام مختار اور نظریہ مھدویت ۱۵۶

زھری کیا کھتے ہیں؟ ۱۵۶


نفس زکیہ کا انقلاب لانا اور عقیدہ مھدویت ۱۵۷

منصور دوانقی کی شاطرانہ چال ۱۵۸

محمد بن عجلان اور منصور عباسی ۱۵۸

دعبل کے اشعار ۱۵۹

اہل تسنن و نظریہ مھدویت ۱۶۰

حافظ کے اشعار ۱۶۱

انقلاب مھدی عليه‌السلام ۱۶۲

مھدویت ایک عالمگیر نظریہ ۱۶۴