اخلا ق و معنویت
گروہ بندی اخلاقی کتابیں
مصنف آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اخلا ق و معنویت

آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ

کي نگاہ ميں

ناشر :

نشر ولایت پاکستان

مرکز حفظ و نشر آثار ولایت


فصل اول:

تقوي ٰ

تقوي کے معني

تقوي کے معني يہ ہيں کہ خدا وند عالم نے انسان پر جن امور کو فرض کيا ہے انسان انھيں انجام دے يعني واجبات کو ادا کرے اور محرمات سے پرہيز کرے ۔ يہ تقوي کا پہلا مرتبہ ہے ۔تقوي ايک ايسي صفت ہے کہ اگر کسي قوم کے دل ميں گھر کر لے تو اس صورت ميں وہ قوم اس مضبوط قلعے کي مانند ہو جاتي ہے جس ميں کوئي داخل نہيں ہو سکتا ۔

عام طور پر جب تقوي کا تصور ذہن ميں آتا ہے تو ساتھ ساتھ نماز ، روزہ ، عبادت ، دعا وغيرہ کي تصوير بھي ابھر آتي ہے ۔ صحيح ہے کہ يہ تمام مذکورہ امور تقوي کے دائرے ميں آتے ہيں ليکن انہي کوتقوي سمجھنا صحیح نہيں ہے۔ تقوي يعني اپنے امور کي نگہداري کرنا يعني اگر انسان کوئي فعل انجام دے رہا ہو تو جانتا ہو کہ کيا کر رہا ہے ۔ اگر کسي فعل کو انجام دے تو اپنے ارادے ، فکر اور حسن انتخاب سے انجام دے ۔ بالکل اس طرح جس طرح کوئي گھوڑ سوار گھوڑے پر سواري کرتے وقت اپني منزل اور مقصد سے آگاہ ہوتا ہے ۔

تقوي کيا ہے اور اس کو زندگي کے مختلف گوشوں ميں کس طرح رچايا ۔ بسايا جا سکتا ہے ؟ تقوي سے مراد يہ ہے کہ گناہ ، خطا ، صراط مستقيم سے انحراف ، ہوي و ہوس سے اجتناب کيا جائے اور خدا کي طرف سے عائد شدہ احکام پر عمل پيرا رہا جائے ۔ زندگي کے تمام مختلف شعبوں ميں اسي وقت کامياب اور سرفراز ہو اجا سکتا ہے جب باتقوي زندگي گذاري جائے۔ تقوي ہر کاميابي کا راستہ اور ضمانت ہے ۔ تقوي فقط دين سے مربوط نہيں ہے ليکن اتنا ضرور ہے کہ ديني تقوي ، واضح اور روشن ہے ۔

اس بچے سے لے کر جو ابھي تحصيل علم کر رہا ہے ، اس خاتون تک جو امور خانہ داري انجام دے رہي ہے ، سبھي کو باتقوي ہونا چاہيے تاکہ سب راہ مستقيم اختيار کر سکيں اور اپني منزل مقصود تک پہنچ سکيں ۔ ايک نوجوان اپنے آس پاس کے مخصوص ماحول اور معاشرے ميں تقوي کے بغير اپنے تحصيل علم کے ہدف تک رسائي حاصل نہيں کر سکتا ۔ اس نوجوان کو چاہيے کہ غلطيوں اور ہوي و ہوس اور ان تمام سرگرميوں سے اجتناب کرے جو اس کو اس کے ہدف تک پہنچنے سے روکتي ہوں ۔ يہي اس کا تقوي ہے ۔ اس طرح گمراہي ميں ڈوبے ہوئے ايک عورت اور گھر کے باہر ايک مرد پر بھي يہي کليہ اور قانون جاري ہے ۔

ايک مومن اگر چاہتا ہے کہ راہ خدا اور صراط مستقيم کا سفر طے کرے تو اس کے لئے لازم ہے کہ تقوي اختيار کرے ۔ يہي وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ خوشنودي خدا اور نورانيت الہي سے مستفيد ہو سکتا ہے اور ساتھ ہي ساتھ معنويت کے اعلي مراحل بھي طے کر سکتا ہے نیز دين خدا کي سر براہي تک رسائي بھي حاصل کر سکتا ہے ۔

متقين کي عاقبت

’’اتقوا ‘‘ قرآن کريم کا حکم ہے ۔ يہي وہ تقوي ہے جس کے ذريعے تمام امور تک دسترسي حاصل کي جا سکتي ہے ۔ اگر قرآن کريم کے اس مذکورہ حکم پر غور کيا جائے تو تمام عقلي استدلال اور براہين کو عام فہم زبان ميں بيان کيا جا سکتا ہے حتي مسائل غيبي اور ماورائے فطرت و طبيعت امور کو بھي عوام کے لئے واضح کيا جا سکتا ہے ۔

تقوي کا ماحصل يہ ہے کہ کوئي بھي شخص يا معاشرہ اگر تقوي اختيار کر لے تو پھر بھي ميدان ميں داخل ہو جانے پر اس ميدان کو سر کر لے گا ۔ ’’والعاقبة للمتقين ‘‘۔ اس عظيم تاريخي اور کائناتي سفر کا سر انجام متقين پر ہونے والا ہے ۔ دنيا و آخرت دونوں متقين سے متعلق ہيں ۔ امام خميني ۲ اگر متقي نہ ہوتے تو کسي بھي قيمت پر اپني شخصيت کو ہزارہا دوسرے افراد کے لئے محور قرار نہيں دے سکتے تھے اور نہ ہي انقلاب لا سکتے تھے ۔ يہ تقوي ہي تھا جس نے انھيں ہميشہ ہميشہ کے لئے زندہ جاويد بنا ديا ہے ۔

تقوي ،زندگي کے تمام شعبوں ميں موثرہے

تقوي کي خصوصيت يہ ہے کہ يہ زندگي کے تمام شعبوں ميں موثر ہوتا ہے ۔ قرآن مجيد ميں بارہا تقوي سے متعلق تذکرہ ہوا ہے ۔ يہ سب اس لئے نہيں ہے کہ انسان اس دنيا سے چلا جائے تو خدا وند عالم اجر و ثواب عنايت کرے گا ، بلکہ تقوي اس دنيا کے لئے نعمت شمار کيا گيا ہے ۔ اگر ہماري موجودہ زندگي کا انجام بخير و خوبي ہو گيا تو اس پر ہماري آخرت کا بھي انحصار ہے ۔ تقوي کا نہ ہونا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان غفلت اور کوتاہي کا شکار ہو جائے اور يہ غفلت و کوتاہي انسان کو اوندھے منہ زمين پر پٹخ ديتي ہے ۔

تقوي کے ذريعے انسان صراط مستقيم پر باقي رہ سکتا ہے

حضرت علي فرماتے ہيں ’’اوصيکم عباد ا بتقوي ا ‘‘ اے بندگان خدا ! ميں تمہيں تقوائے الہي کي وصيت کرتا ہوں۔ ’’ و اغتنام طاعتہ ‘‘ اور وصيت کرتا ہوں کہ اطاعت خدا کو غنيمت شمار کرو ۔ ’’ما استطعتم ‘‘ جس حد تک کہ تمہارے اندر قدرت و توانائي ہو ۔ ’’في هذه الايام الخالية الفانية ‘‘ اس جلدي گزرنے والي فاني دنيا ميں جتنا ممکن ہو اطاعت خدا کرو ۔ ’’ و اعداد العمل الصالح الجليل يشفي بہ عليکم الموت ‘‘ اور عمل صالح کے ذريعہ ان تمام مشکلات و مصائب کا سد باب کرو کہ جنھيں موت تمہارے اوپر طاري کردے گي ۔

موت کي سختيوں اور مشکلات کا اندازہ صرف اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ اوليائے خدا اور بزرگان دين موت سے مقابلے کے خوف سے لرزہ بر اندام ہو جاتے تھے ۔ موت کے بعد عالم برزخ کے حوادث علمائ اور اوليائ کہ جو کسي حد تک ان حوادث و مصائب کي سختيوں کا آشنا ہوتے ہيں کو لرزا کر رکھ ديتے تھے ۔ ان مشکلات اور سختيوں سے مقابلے کي فقط ايک ہي راہ ہے اور وہ ہے عمل صالح ۔ ’’ و امر کم بالرفض لھذہ الدنيا التارکۃ لکم ‘‘ فرماتے ہيں کہ ميں تمہيں حکم ديتا ہوں کہ اس دنيا کي رنگينياں اور آتي جاتي خوشياں جو تمہيں ايک دن چھوڑ جائيں گي ،کو ابھي سے خير بار کہہ دو ۔ حد سے بڑھ کر ماديات دنيا کي طرف مت بھاگو کيونکہ ’’ الزائلۃ عنکم ‘‘ يہ سب چلي جانے والي ہيں ۔ ’’ و ان لم تکونوا تحبون ترکھا ‘‘ در حاليکہ تم نہيں چاہتے کہ يہ مال اور عيش و عشرت تمہيں چھوڑ کر کہيں اور چلا جائے حالانکہ يہ ہو کر رہے گا ۔ ’’ والمبيلۃ لاجسادکم و ان احببتم تجديدھا ‘‘ يہ دنيا تمہارے جسموں کو خاک ميں ملا کر نيست و نابود کر دے گي اگر چہ تم يہي چاہتے ہو کہ دوبارہ زندہ ہو جائيں ۔ ’’ فانما مثلکم کرکب سلکوا سبيلاً فکانھم قد قطعوا و افضوا الي علم فکانھم قد بلغوہ ‘‘ تم ايک راستہ پر تيزي کے ساتھ آگے بڑھے جا رہے ہو کہ تمہيں دور کسي ايک نشانے تک پہنچنا ہے ليکن تم اس نشانے کو ابھي واضح اور روشن طور پر نہيں ديکھ پا رہے ہو ۔ ايک وقت وہ بھي آئے گا کہ جب تم خواہ نخواہ اس تک پہنچ جاو گے ۔ يہ راستہ ، يہي فاني دنيا ہے ۔ اور وہ نشانہ اور منزل وہي موت اور اجل ہے جس کو آنا ہي آنا ہے ’’ فلا تنافسوا في عز الدنيا و فخرھا ‘‘ اس دنيا کي ظاہري عزت اور جاہ و جلال کے لئے ايک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جھگڑا نہ کرو ۔’’ ولا تجزعوا من ضراعھا و بووسھا ‘‘ دنيا کي ان مختصر سي سختيوں وار پريشانيوں سے تھکان اور خستگي محسوس نہ کرو ۔ ’’ فان عز الدنيا و فخرھا الي انقطاع ‘‘ دنيا کي عزت اور فخر و حشمت ختم ہو جانے والا ہے ۔ ’’ و ان زينتھا و نعيمھا اليارتجاع ‘‘ زيبائي و خوبصورتي اور يہ نعمتيں گذر جانے والي ہيں ۔ يہ جواني ، حسن اور خوبصورتي بڑھاپے اور بد صورتي ميں تبديل ہو جائيں گي ۔ ’’ و ان ضراعھا و بوسھا الي نفاذ ‘‘ اور يہ سختياں اور پريشانياں بھي ختم ہو جائيں گي ۔ ’’ و کل مد ۃ منھا الي منتھا ‘‘ اس کائنات کا يہ زمان و مکان روبہ زوال اور ختم ہو جانے والا ہے ۔ ’’ و کل حي فنيھا الي بلي ‘‘ تمام جانداران موت کي آغوش ميں سو جانے والے ہيں ۔

يہ جملے اس ذات با برکت کي زبان مبارک سے جاري ہوئے ہيں جس کانام علي ہے۔ وہي علي جو اپنے ہاتھوں سے کھيتي کرتے تھے اور کنويں کھودتے تھے ۔ يہ جملے اس وقت کے ہيں جب آپ حکومت فرما رہے تھے ۔ دنيا کے ايک بڑے حصے پر آپ کي حکومت تھي ۔ آپ نے جنگيں بھي لڑي ہيں ، صلح بھي کي ہے ، سياست بھي کي ہے ، بيت المال بھي آپ کي نگراني ميں تقسيم ہوتا تھا ۔ ان سب کے باوجود بھي آپ متقي تھے ۔ لہذا تقوي کا مطلب يہ نہيں ہے کہ دنيا سے قطع تعلق کردیا جائے ۔ تقوي سے مراد يہ ہے کہ انسان اپني ذات کو تمام دنياوي اور مادي امور کا محور قرار نہ دے ، اپني خاطر اپني تمام قوتوں اور صلاحيتوں کو صرف نہ کر ے ، اپني زندگي کے لئے دنيا کو جہنم نہ بنا ئے، مال ، عيش و عشرت اور آرام و سکون کي خاطر دوسرے ہزارہا افراد کي زندگيوں کا سودا نہ کر ے ۔

تقوي يعني يہ کہ اپني ذات سے صادر ہونے والے تمام امور پر سخت نظر رکھي جائے ۔ کوئي بھي قدم اٹھايا يا فيصلہ ليا جائے تو يہ خيال مد نظر رہے کہ کہيں اس سے خود يا دوسرے افراد يا معاشرے کو نقصان تو نہيں پہنچ رہا ہے ۔

تقوي تمام برکات کا سر چشمہ ہے

اگر کوئي فرد يا قوم با تقوي ہو جائے تو تمام خیروبرکات دنيا و آخرت اس فرد يا قوم کا خاصہ ہو جائيں گي ۔ تقوي کا ماحصل فقط يہ نہيں ہے کہ رضائے خدا حاصل کر لي جائے يا جنت کا دروازہ اپنے اوپر کھول ليا جائے بلکہ تقوي کا فائدہ اس دنيا ميں بھي حاصل کيا جا سکتا ہے ۔با تقوي معاشرہ اس دنيا ميں بھي خدا کي نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔ تقوي کے ذريعے دنياوي عزت کے ساتھ ساتھ امور دنيا سے متعلق علم بھي خدا وند عالم کي جانب سے عنايت کر ديا جاتا ہے ۔ با تقوي معاشرہ کي خاصيت يہ ہوتي ہے کہ ايسے معاشرے کي فضا سالم ، محبت آميز اور حسد و نفاق و تعصاب سے پاک ہوتي ہے ۔

تقوي کے ذريعے ہي قدرت خدا کاحصول ہوسکتاہے

ايمان، تقوي اور عمل صالح اس بات کي ضمانت ہيں کہ تمام قدرت خدا ، نعمات الہي اور ساري کائنات پر دسترسي حاصل کي جا سکتي ہے ۔ دشمن کسي بھي ميدان سے ، کسي بھي صورت ميں حملہ کر دے ، ايک با تقوي قوم کا بال بھي بیکانہيں کر سکتا ۔ خدا وند عالم نے بڑے سادہ الفاظ ميں اس گفتگو کا ما حصل صرف ايک آيت ميں بيان فرمايا ہے: ’’و لا تهنوا ‘‘ سستي نہ کرو ۔ ’’و لا تحزنوا ‘‘ غمگين مت ہو ۔ ’’و انتم الاعلون ان کنتم مومنين ‘‘ تم کو برتري حاصل ہے ليکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر تم مومن ہو ۔ دوسري جگہ پر ارشاد فرمايا : ’’و لا تهنوا و تدعوا الي السلم ‘‘ يعني سستي نہ کرو اور نہ ہي دشمن کي سازشانہ دعوت کو قبول کرو ۔

ايران کے اسلامي انقلاب کے بعد اگرجمہوري اسلامي پر ايک غائرانہ نظر ڈالي جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ جن جن شعبہ ہائے حيات ميں اقدار اسلامي کي حفاظت کي گئي ہے وہاں وہاں رشد و ترقي ہوئي ہے اور جن جن شعبو ں ميں اسلامي احکام و اقدار و اخلاق اسلامي سے چشم پوشي کي گئي ہے ان ان شعبوں ميں پسماندگي آج بھي موجود ہے ۔

دنيا کے دوسرے ممالک ميں بھي يہي صورت حال ہے ۔ جہاں جہاں معنويت ، انسانيت اور الہي اقدار سے منہ موڑ ليا گيا ہے وہاں وہاں ديکھا جا سکتا ہے کہ زندگي کس قدر دشوار ہے ، کس قدر نا امني اور بے چيني ہے ۔ ايسے معاشروں ميں قتل و غارت گري اور دہشت گردي زيادہ ہے ۔ ہر چند يہ لوگ اناجتماعي مشکلات و مسائل کے اسباب تلاش کرنے کي کوشش کرتے ہيں ليکن کسي بھي طرح اصلي اور حقيقي علت اور سبب کو تلاش نہيں کر سکے ہيں ۔ ايک ماں اپنے بچے کو قتل کر ديتي ہے ، فوراً ہي لوگوں کا وجدان تڑپ اٹھتا ہے ، صدائيں بلند ہونے لگتي ہيں کہ ايسي ماں کو سولي پر چڑھا ديا جائے ۔ يہ لوگ اس بات سے غافل ہيں کہ ان کي بنياد خراب ہو چکي ہے ۔ ان معاشروں کي بد بختي يہ ہے کہ يہ خدا ، معنويت اور اخلاق سے پشت پھير کر فساد و قتل و غارت گري کے عادي ہو گئے ہيں ۔

مادي اور مالي فساد کسي بھي قيمت پر خوشحالي کا ضامن نہيں بن سکتا۔ جس کي واضح مثال امريکہ ہے۔ ہر چند کہ امريکہ ميں زندگي کے تقريباً تمام شعبوں ميں ہمہ جہت ترقي ہوئي ہے ليکن اس کے باوجود امريکي عوام جن اخلاقي اور معنوي مشکلات کا شکار ہيں ان سے ساري دنيا واقف ہے ۔ انھيں اخلاقي اور معنوي اقدار کي قلت کي بنا پر امريکہ موجودہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ وہ صورت حال کہ جس ميں ايک ماں اپني تسکين شہوت اور ذاتي مفاد کي خاطر اپنے ہاتھوں سے اپنے بيٹے کا قتل کر ديتي ہے ۔

بوسنيا اور ہرزيگوونيا ميں کيا نہيں ہوا ؟ مغلوں کے انداز ميں افواج ’’ سر بريسٹيا ‘‘ ميں گھس کر وحشيانہ انداز ميں قتل و غارت گري کرتي رہيں اور نام نہاد متمدن اقوام و ملل کے کان پر جوں تک نہيں رينگي ۔ اس پر ستم يہ کہ يہي لوگ حقوق بشر کے علمبردار ہونے کا دعوي کرتے ہيں ! کيا ايک شہر ميں ہزاروں معصوم مرد ، عورت اور بچوں کا وحشيانہ قتل عام حقوق بشر کي خلاف ورزي نہيں ہے ؟ جمہوري اسلامي اخلاق اور اسلامي احکام و شريعت کي محافظت کي بنا پر آج ساري دنيا ميں ايک باعزت مقام حاصل کر سکا ہے ۔ آج جب کہ دنيا کي بڑي بڑي طاقتيں ، دنيا کے دوسرے چھوٹے چھوٹے ملکوں کے سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم سے اپني غلامي کرانا اپنا پيدائشي حق سمجھتي ہيں ، ايران ايک مستقل اور آزاد ملک کي حيثيت سے آزاد زندگي گذار رہا ہے ۔ کسي کي اتني مجال نہيں ہے کہ ايران سے غير عادلانہ طور پر ايک حرف يا ايک کلمہ کو قبول کرا لے ۔ يہ سب فقط اور فقط اسلام اور اسلامي اخلاق و معنويات اور اسلامي احکامات اور شريعت کي برکتيں ہيں اور بس ۔


فصل دوم:

اخلاص

اخلاص کے معني

اخلاص سے مراد يہ ہے کہ انسان اپنے کام کو خدا کے لئے اور اپني ذمہ داري و تکاليف کي انجام دہي کي خاطر انجام دے ۔ جس کا نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ انسان نفساني خواہشات ، مال و دولت کے حصول ، شہرت و عزت ، لالچ و حرص وغيرہ کے لئے کوئي کام نہيں کرتا ۔ اخلاص ايک ايسي صفت ہے کہ اگر اس کي بنياد پر اقدام کيا جائے تو يہ تلوار کي طرح اپنے سامنے آنے والے ہر مانع کو دور کرتي جاتي ہے ۔

امام خميني کے اندر يہ صفت کمال کي حد تک تھي ۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ اگر ميرا کوئي عزيز ترين فرد بھي عدل و انصاف کے خلاف کوئي قدم اٹھائے گا تو ميں اس سے بھي چشم پوشي نہيں کروں گا اور ايسا کيا بھي ۔ حساس موقعوں پر وظيفہ کي انجام دہي کے ذريعہ دوسرے لوگوں کو بھي احساس دلايا ۔ خلوت ميں ، جلوت ميں ، چھوٹا کام ہو يا بڑا ، آپ نے ہميشہ اخلاص کو اپني ذاتي زندگي ميں اپنايا ۔ اور يہي وہ درس تھا جس کي بنا پر آپ کے شاگرد ، آپ کے چاہنے والے جوق در جوق سرحد پر دشمن سے جنگ کرنے دوڑے چلے جاتے تھے ۔ يہي وہ درس تھا جس کي بنياد پر ايران ميں معجز نما اسلامي انقلاب نمودار ہوا ۔

ايک بزرگ اہل عرفان و سلوک اپنے ايک مکتوب ميں تحرير فرماتے ہيں : اگر فرض کريں (بہ فرض محال )کہ رسول اکرم اپنے تمام امور کو ايک معين ہدف کے تحت انجام ديتے تھے اور آپ کا ہدف يہي ہوتا تھا کہ اپنے ان امور کو انجام کے مراحل تک پہنچا ديں اور پہنچا بھي ديا کرتے تھے مگر کسي اور شخص کي طرف سے يعني کسي اور کے نام سے ۔ کيا اس صورت ميں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم اپنے اس فعل سے راضي نہيں ہوتے تھے ؟ کيا يہ فرماتے تھے کہ يہ فعل چونکہ دوسرے کي طرف سے انجام دے رہا ہوں لہذا انجام نہيں دوں گا ؟ يا نہيں ، بلکہ آپ کا ہدف اپنے امور کي انجام دہي تھي اور بس ۔

قطع نظر اس سے کہ وہ فعل کس کے نام سے يا کس کي طرف سے انجام ديا جا رہا ہے ۔ حقيقت يہي ہے کہ لکھنے والا صحيح ہے کيونکہ ايک مخلص شخص کي نگاہ ميں کسي فعل کي انجام دہي اہم ہوتي ہے۔ اس کا ذہن ’’ من و تو ‘‘ سے ماورائ ہوتا ہے ۔ وہ اس بات سے بے پرواہ ہوتا ہے کہ اس فعل کا سہرا کس کے سر بندھے گا ۔ ايسا شخص با اخلاص ہوتا ہے اور خدا پر کامل يقين رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا وند متعال يقينا اس کے فعل کا صلہ اس کو دے کر رہے گا کيونکہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے: ?ان جندنا لهم الغالبون ? خدا کے اس لشکر ميں اکثر و بيشتر ميدان جنگ ميں شہيد ہو جاتے ہيں اور ظاہري اعتبار سے ختم ہو جاتے ہيں ليکن خدا وند عالم فرماتا ہے ’’ان جندنا لهم الغالبون ‘‘ يعني يہ لوگ مرنے کے بعد بھي غالب ہيں ۔

اخلاص: اہم ترين اسلحہ

اسلام ميں اصلاح دنیا کے لئے اصل و اصيل ، خود نفس انسان کي اصلاح کو بتايا گيا ہے ۔ ہر مسئلے کي شروعات يہيں سے ہوتي ہے ۔ قرآن کريم اپنے قوي اور محکم بازوں سے اوراق تاريخ پلٹنے والي قوم سے فرماتا ہے: ’’( قوا انفسکم ) ‘‘ ( سورہ تحريم ٦ ) ’( ’ عليکم انفسکم ) ‘‘ ( سورہ مائدہ ١٠٥ ) يعني اپنا تزکيہ نفس کرو ،اپنے نفس کي اصلاح کرو ۔ ’’( قد افلح من زکاها ) ‘‘ ( سورہ شمس ٩ ) اگر صدر اسلام ميں اسلامي معاشرہ انساني نفوس کے تزکيہ سے شروع نہ ہوا ہوتا اور اس ميں مناسب حد تک با اخلاص اور متقي افراد پيدا نہ ہو گئے ہوتے تو اسلام قطعاً اپني بنياديں مستحکم نہيں کر سکتا تھا ۔ يہي مخلص اور متقي اور سچے مسلمان تھے جن کي بنياد پر اسلام دوسرے شرکائے مذاہب اور ممالک پر فاتح ہو کر تاريخ عالم ميں اپنا نام ثبت کر سکا ہے ۔

ہمارا اسلامي انقلاب بھي اس اخلاص ، تقوي اور اپنے ذاتي اور مادي مفادات سے اوپر اٹھ کر الہي اہداف کي انجام دہي جيسے وظيفے اور ذمہ داري کے احساس کي وجہ سے ہي رونما ہوا تھا ۔ ايران عراق جنگ کے دوران ہمارا يہي اسلحہ ہمارے لئے کار گر ثابت ہوا تھا ۔ ہمارے شہيد ، ہمارے جنگي مجروحين اور ان کے شہادت کے عميق جذبے نے ہي آج ہميں اتني بلندياں اور مراتب عطا کئے ہيں ۔ ساري دنيا ميں آج ہماري عزت اور شرف انھيں خدا دوست شہدائ اور مجروحين کي بنياد پر ہے اور بس ۔

اسلامي انقلاب کي بقائ اور دوام کا سر چشمہ صرف اور صرف اخلاص ہے

ہمارے اندر ہمارے سب سے بڑے دشمن نے بسيرا کر ليا ہے اور وہ دشمن نفس امارہ ، شہوات نفساني ، ہوي و ہوس اور خود پرستي ہے ۔ جس لمحے بھي ، خواہ وقتي طور پر ، ہم نے اس زہريلے سانپ اور خطر ناک دشمن کو قابو ميں کر ليا اسي لمحے ہم کامياب اور مجاہد في سبيل ا? ہو جائيں گے اور جب کبھي بھي ہمارا يہ دشمن ہماري عقل اور معنوي و روحاني قوتوں پر حاوي ہو گيا ہم مغلوب اور شکست خوردہ ہو کر رہ جائيں گے ۔

ہميں ہدايت بشر اور نجات انسان کي خاطر خلق کيا گيا ہے۔ لہذا ہمارا فريضہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے نفوس کي اصلاح اور تزکيہ کريں ۔ خدا وند عالم نے بے حد و بے حساب معنوي اور روحاني طاقتوں اور صلاحتيوں کو ہمارے اندر وديعت کيا ہے ۔ ہماري ذمہ داري ہے کہ ان قوتوں کو خود پرستي ، خود خواہي ، ہوي و ہوس نفساني جيسي صفات رذيلہ سے نجات ديں ۔

اخلاص اورایثار ہي اسلامي انقلاب کے موجد ہيں

اسلامي انقلاب اس انقلاب کا نام ہے جس نے ساري دنيا کو ہلا کر رکھ ديا تھا ۔ مشرق سے لے کر مغرب تک ہر زبان پر ايک ہي انقلاب تھا ، اسلامي انقلاب ۔ يہ سب کس نے کيا ؟ يہ انقلاب کون لے کر آيا ؟ کيا کوئي ايراني کہہ سکتا ہے کہ ہاں ! ميں يہ انقلاب لايا ہوں ۔ يقينا کوئي يہ دعوي نہيں کر سکتا ۔ يہ انقلاب صرف اور صرف الہي انقلاب ہے اور اس کا لانے والا اور موجد بھي خدا وند عالم ہے ۔ يہي وجہ ہے کہ کوئي بھي فرد اس انقلاب کو اپني طرف منسوب نہيں کرتا ہے حتي امام خميني ۲ بھي اپني تمام تر عظمتوں اور بے نظير قربانيوں کے با وجود اس انقلاب کو اپني طرف منسوب نہيں کرتے تھے ۔ ہميشہ يہي کہاکہ يہ انقلاب ايراني عوام کي مخلصانہ اور مجاہدانہ کوششوں کا نتيجہ ہے ۔ اگر تجزيہ کريں تو نتيجہ يہي نکلتا ہے کہ امام خميني ۲ صحيح فرماتے تھے ۔ حقيقتاً امام خمیني ۲ عوام کے لئے صرف ايک الہي ذريعہ اور وسيلہ تھے ورنہ اسلامي انقلاب کا اصل محرک خدا وند متعال ہے کيونکہ ايراني عوام نے مخلصانہ اور في سبيل ا? اسلامي انقلاب کے لئے اقدام کئے تھے لہذا مرضي خدا اور عنايت خدا بھي ان کے ساتھ تھي ۔ يہ عوام کا خلوص ہي تھا جس کي بنا پر خدا وند عالم نے اس اسلامي انقلاب کي تائيد کي ہے ۔

ارادہ اور ايمان ہر طرح کے اسلحہ اور طاقت پر غالب ہوتے ہيں

لبنان کے مومن مسلمانوں نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ انسان کا ارادہ اور ايمان دنيا کے ہر مادي اسلحے اور طاقت پر غالب ہے ۔ يہي وہ مومن جوان تھے جنھوں نے بيروت کي سرحدوں تک آجانے والي اسرائيلي فوجوں کو کھديڑ کر اپني حدود سے باہر کر ديا تھا ۔

يہي وہ لبناني عوام تھے جنھوں نے امريکہ اور فرانس کي ان فوجوں کو ذليل و خوار کر کے لبنان سے باہر کر ديا تھا جو اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ لبنان ميں داخل ہو گئي تھيں ۔ لبناني عوام نے يہ کام اسلحوں اور مادي قوتوں اور طاقتوں کے بل بوتے پر نہيں کيا تھا کہ يہ لوگ مادي اسلحے کے لحاظ سے توبالکل تہي دست تھے ۔ بلکہ صرف اور صرف ايماني طاقت کے دم پر انجام ديا تھا ۔ يہ ايک ايسي قوت و طاقت ہے جو ايک مختصر سي اور مظلوم قوم ( وہ قوم جو ايک طويل عرصے سے اسرائيل اور اس کي ہمنوا سفاک طاقتوں کي تختہ مشق بني ہوئي ہے ) کو اتنا قوي اور مستحکم کر ديتي ہے کہ امريکہ ، فرانس اور اسرائيل شرمندہ اور ذليل ہو کر رہ جاتے ہيں ۔

آج بھي يہي ايمان اور اخلاص ، لبنان کے مومن جوانوں ميں ٹھاٹھيں مار رہا ہے ۔ يہ واقعي قابل تعريف اور ستائش ہے کيونکہ يہي وہ قوت ہے جس کے بل پر لبنان ، امريکہ اور يورپ کو يہ باور کرانے سے روکتا رہے گا کہ امريکہ اور اس کي حليف جماعتيں لبنان ميں اس کے آئندہ پر حاوي ہو سکتي ہيں ۔

اخلاص اور قرب خدا : امام خميني ۲ کي کاميابي کا راز

امام خميني ۲ کي کاميابي کا راز اخلاص اور قرب الہي تھا ۔ آپ اپني اس کوشش ميں بحسن ِخوبي کامياب ہو گئے تھے کہ ’’ اياک نستعين ‘‘ کو اپنے ميں مجسم کر ليں اور لا متناہي اور لا محدود الہي قدرت سے متصل ہو جائيں ۔

اگر ننھا سا قطرہ اپنے محدود اور چھوٹے سے وجود کے ساتھ ٹھاٹھيں مارتے ہوئے وسيع و عريض سمندر ميں غرق ہو جائے تو کوئي طاقت اسے ختم نہيں کر سکتي ۔ اگر ہر شخص امام خميني ۲ کي روش پر عمل پيرا ہو جائے تو امام خميني ۲ کي طرح ہو جائے گا ۔ البتہ يہ کوئي آسان کام نہيں ہے ۔ امام خميني ۲ نے اس مشکل اور نادر روزگار کو انجام ديا اور زندہ جاويد ہو گئے ۔ ہم ہر چند اس بلندي تک نہيں پہنچ سکتے ليکن بہر حال ہميں اپني توانائي بھر کوشش کرني چاہيے تاکہ اپني ذمہ داري اور وظيفے کي انجام دہي کسي نہ کسي حد تک ادا کر سکيں ۔

ہميں چاہيے کہ حضرت علي سے اخلاص کا درس حاصل کریں

امام خميني ۲ نے اس دور ميں جو عظيم کارنامہ انجام ديا وہ يہ تھا کہ ساري دنيا کو اسلام کے مقابل خاضع و خاشع بنا ديا اور دشمنان اسلام کو پيچھے ہٹنے پر مجبور کر ديا تھا ۔ نہج البلاغہ ميں حضرت علي فرماتے ہيں :و لقد کنا مع رسول ...........( نہج البلاغہ خطبہ ٥٦ )۔ہم خالصانہ اور مخلصانہ ميدان جنگ ميں ثابت قدم رہتے تھے ۔ ہمارے اعزائ قتل ہوتے رہتے تھے اور يہ سب ہمارے ايمان ميں اضافے کا سبب بنتا رہتا تھا ۔ خدا نے جب ہمارے اس خلوص اور صداقت کو ديکھا تو ہميں فاتح اور ہمارے دشمن کو مغلوب کر ديا ۔ اگر خدا نے ہماري مدد نہ کي ہوتي تو ہم موجودہ حالات تک نہ پہنچ پاتے ۔ ’’ما قام للدين عمود و لا اخضر للايمان عو د ‘‘ دين کا ايک بھي ستون قائم نہ رہ پاتا اور ايمان کي ايک بھي شاخ سرسبز نہ رہ پاتي ۔

يہ سب اس زمانے کے مسلمانوں کے خلوص اور صداقت کي ہي دين ہے کہ آج اسلام اس اعلي مقام تک رسائي حاصل کر سکا ہے اور ساري دنيا ميں اپنے جھنڈے گاڑ چکا ہے ۔ يہ اس زمانے کے با اخلاص مسلمانوں کا ہي کرشمہ ہے کہ موجودہ اسلامي معاشرہ وجود ميں آيا اور آج تک وہي اسلامي تمدن اور اسلامي تحريک ہم تک پہنچي ہے ۔ آج جہاں کہيں بھي مسلمان موجود ہيں ان کو حضرت علي کي حيات طيبہ سے اس عظيم درس کو حاصل کرنا چاہيے ۔

فصل سوم:

ذکر و نماز

انسان کیلئے تاريکي اور جہالت سے نکلنے کا واحد راستہ نماز ہے

عبادات اور ان ميں بھي بالخصوص نماز کو ايک خاص اہميت حاصل ہے ۔ نماز کو دين کا ستون کہا جاتا ہے ۔ نماز اگر مکمل توجہ اور اپني تمام شرائط کے ساتھ انجام دي جائے تو نہ فقط نماز گزار کے قلب و روح کو بلکہ اس کے آس پاس سارے ماحول کو نوراني اور معطر کر ديتي ہے ۔

نماز گزار جس قدر خضوع و خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے گا اتنا ہي خود پرستي ، خود خواہي ، خود غرضي ، حسد ، بغض ، کينہ وغيرہ جيسي صفات رذيلہ کي قيد سے آزاد ہوتا چلا جائے گا اور اتنا ہي اس کے چہرے کي نورانيت ميں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ موجودہ بشر کي تمام تر مشکلات و پريشانيوں کا سبب خدا سے دوري اور ذاتي مفاد سے وابستگي ميں اضافہ اور شدت ہے ۔ نماز انسان کو ظلمتوں اور تاريکيوں سے آزاد کراتي ہے ۔اس کے غيض و غضب اور شہوات و ہوا و ہوس کو مغلوب کر کے اسے تقرب الہي اور امور خيريہ کي طرف راغب کرتي ہے ۔

نماز سکون قلب کي باعث ہے

خدا کي طرف سے انسان پر عائد کردہ وظائف اور عبادات ميں سے نماز کو قرآن کريم نے سر فہرست قرار ديا ہے ۔ ’’( الذين ان مکناهم في الارض اقاموا الصلاة ) ‘‘۔ اگر نماز ميں سے اہداف نظام اسلامي کي مہک نہ آرہي ہوتي تو ايک اہم مقام نہ رکھتي اور اس کے متعدد و مختلف بنيادي فائدے نہ ہوتے تو قطعاً اسلام ميں نماز سے متعلق اس حد تک تاکيدات موجود نہ ہوتيں ۔

حقيقت يہ ہے کہ نماز اپني تمام افاديت اور فوائد کے ساتھ فقط ايک وظيفہ شخصي نہيں ہے بلکہ يہ فرد کے ساتھ ساتھ سارے معاشرے کو رشد و ارتقائ بخشنے ميں ايک اہم رول ادا کرتي ہے ۔ تمام واجبات ميں جس قدر تاکيد اس واجب کے لئے کي گئي ہے وہ بے مثال ہے حتي والدين پر واجب ہے کہ اپنے بچوں کو بچپنے سے ہي نماز سے آشنا و مانو س کريں ۔ يہ تمام تاکيدات صرف اور صرف اسي لئے ہيں کہ نماز فرد کے ساتھ ساتھ سارے معاشرے کو اس قابل بناتي ہے کہ معاشرہ دوسرے تمام وظائف کا بار بھي اپنے کاندھوں پر اٹھا سکے ۔ ان تمام پہلووں کے پيش نظر نماز کو اعلي ترين عمل فرض کرنا چاہيے اور صدائے حي علي خير العمل کو ايک حکمت آميز صدا تصور کرنا چاہيے ۔

نماز ہي ہے جو ايثار ، اخلاص ، توکل بر خدا اور تعبد جيسي صفات انسان کے اندر پيدا کرتي ہے اور اس کو اس لائق بنا تي ہے کہ انسان دوسرے دشوار ترين واجبي امور مثلاً جہاد ، امر بالمعروف و زکات وغيرہ کي انجام دہي پورے جوش و خروش سے انجام دے سکے اور شجاعانہ طور پر اس الہي وادي ميں داخل ہو ئے ۔

آج کا زمانہ الیکڑونک زمانہ ہے ۔جس کا اثر يہ ہے کہ انسان مختلف مسائل و مشکلات کا شکار ہو گيا ہے نتیجتاً بشريت کي کوشش يہ ہے کہ فردي اور اجتماعي زندگي کو مشيني حرکتوں سے ہم آہنگ کيا جا ئے ۔ صلہ رحم ، مروت ، ايثار ، محبت اور نہ جانے کتني دوسري اخلاقي صفات و اقدار اس مشيني نظام زندگي کيبھينٹ چڑھتي جا رہي ہيں ۔ گھروں ميں محبت آميز فضا آہستہ آہستہ اپني رنگت چھوڑتي جا رہي ہے ۔

گذشتہ چند برسوں سے انسانيت کا درد رکھنے والے بعض افراد اس سمت ميں متوجہ کرتے رہے ہيں ليکن افسوس ناک بات يہ ہے کہ ابھي تک کروڑوں افراد مخصوصاً جو اس جہنم ميں خود کو جلا رہے ہيں، انھيں اس سے باہر نکلنے کا کوئي راستہ نظر نہيں آرہا ہے ۔

اسي وجہ سے آج گذشتہ زمانوں سے کہيں زيادہ خدا وند کريم سے معنوي رابطہ قائم کرنے کي ضرورت ہے اور اس سلسلے ميں نماز آسان ترين اور موثر ترين ذريعہ ہے جو ہميں ان اخلاقي اور سماجي مشکلات سے باہر نکال سکتي ہے ۔

اہتمام نماز

اہتمام نماز سے مراد فقط يہ نہيں ہے کہ مومنين و صالحين حضرات نماز بجا لائيں اور بس ۔ يہ کوئي ايسا فعل نہيں ہے کہ جس پر حکومت اسلامي کي تشکيل منحصر ہو بلکہ اس سے مراد يہ ہے کہ نماز کو معاشرہ کا ايک حصہ بنا ديا جائے جہاں ہر شخص نماز کے اسرار و رموز سے واقفيت رکھتا ہو ۔ معنويت اور الہي ذکر و عبادت کي روشني و نورانيت سارے معاشرے کو روشن و منور کرے اور نماز کا وقت نزديک آتے ہي سارے مرد و زن نماز کي طرف ذوق و شوق کے ساتھ دوڑ جائيں اور دامن نماز ميں ايک طرح کا قلبي و روحي سکون حاصل کريں ۔

نماز: دين کا ستون

نماز دين کا حقيقي ستو ن ہے ۔لہذا ضروري ہے کہ ہماري زندگي ميں نمازکو اس کا حقيقي مقام و مرتبہ ديا جائے ۔ دين کے سائے ميں انسان کو حيات طيبہ صرف اسي صورت ميں حاصل ہو سکتي ہے جب وہ اپنے قلب کو ياد خدا سے زندہ اور روشن رکھے کيونکہ انسان صرف اسي ذريعہ سے تمام اقسام کے فساد و شر سے مقابلہ کر سکتا ہے نیز ظاہري اور باطني شيطانوں کو مغلوب کر سکتا ہے اور يہ دائمي ذکر اور خضوع و خشوع فقط نماز کي برکت ہي سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ نماز ايک ايسي حقيقت ہے جو انسان کو اپنے نفس پر غلبہ حاصل کرنے ميں نہايت قوت و قدرت عطا کرتي ہے ۔

نماز سے بڑھ کر ايسا کوئي ذريعہ يا وسيلہ نہيں ہے جو انسان و خدا کے درميان رابطے کو مستحکم تر يا قوي تر کر سکے ۔ ايک عام انسان بھي اگر خدا کے ساتھ اپنے رابطے کو استوار کرنا چاہتا ہے تو نماز ہي سے شروعات کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہي ساتھ خدا کا ايک مقرب ترين بندہ بھي اس نماز کے ذريعہ ہي تنہائيوں اور خلوتوں ميں اپنے خدا ، اپنے محبوب سے راز و نياز کر کے دل کي دنيا کو روشن و جاويداني بناتا ہے ۔ يہ ذکر و نماز ايک ايسا خزانہ ہے جس کا کوئي خاتمہ نہيں ہے ۔ جس قدر اس سے انسيت و قربت بڑھتي جائے گي اتني ہي اس کي نور افشانيوں ميں اضافہ ہوتا جائے گا ۔

نماز کے مختلف جملے اور اذکار خود اپنے آپ ميں معارف و تعليمات دين کي طرف اشارہ کرتے ہيں اور دن ميں کئي کئي بار نماز گزار کو ان تعليمات کي ياد آوري کرائي جاتي ہے ۔ نماز کو اگر اس کي تمام شرائط اور نقائص کے بغير ادا کيا جائے تو يہ نماز انسان کو روز بروز معارف و تعليمات الہي سے قريب اور آشنا کراتي ہے ۔

انسان کو ہميشہ نماز کي ضرورت

ايسي نماز جو اپني تمام تر شرائط کے ساتھ بجالائي جائے، انسان کو صراط مستقیم کي طرف ہدایت کرتي ہے، اس کے پژمردہ قلب کو جلا بخشتي ہے، اس کي نااميديوں کو يقين ميں تبدیل کرتي ہے ساتھ ہي اس کي زندگي کو باہدف بھي بناتي ہے۔ يہي وجہ ہے کہ نماز تمام حالتوںخواہ جنگ کا ميدان ہو يا گھر کا عيش و آرام، ميں واجب ہے۔ انسان ہميشہ نماز کا محتاج ہے مخصوصاًمسائل و مشکلات سے دچارہوتے وقت۔

حقيقت يہ ہے کہ ابھي تک ہمارے سامنے نماز کي اہميت و منزلت صحيح و حقيقي طور پر بيان ہي نہيں ہو سکي ہے اور اسي لئے ہمارے يہاں نماز کو جو مقام ملنا چاہئے تھا نہيں مل سکا۔ علمائ کي ذمہ داري ہے کہ وہ مخصوصاً جوانوں کے سامنے نماز کے اسرار و رموز کو بيان کریں۔ انہيں نماز کي منزلت و فوائد بتائیں۔ يہ نماز ہي کا خاصہ ہے کہ ايک بچے سے لیکر ايک عالم تک نماز کي ضرورت محسوس کرتا ہے۔ حتي عرفائ بھي نماز کي ضرورت کا احساس کرتے ہيں۔ تب ہي تو ’’اسرار الصلوۃ‘‘ جيسي کتابيں لکھي گئي ہيں۔ نماز ايک ايسا سمندر ہے جسکي گہرائي کا اندازہ ابھي تک نہيں لگايا جاسکا ہے۔ اگر چہ نماز کے بارے ميں ائمہ طاہرين سے متعدد روايات اور علمائے دين کے بے شمار اقوال موجود ہيں ليکن اس کے باوجود نماز کي منزلت بہت سے افراد سے ابھي تک پوشيدہ ہے حتي کہ وہ لوگ بھي جو نماز کو واجب سمجھ کر انجام ديتے ہيں ان کے لئے بھي ابھي تک نماز صحيح طور پر بيان نہيں ہو سکي ہے۔

بہر حال، نمازراہ سیر و سلوک کي طرف پہلا قدم ہے جسکو الٰہي اديان نے انسان کے حقيقي ہدف يعني کمال و خوشبختي دنيا و آخرت کي خاطر بشر کے حوالے کيا ہے۔ نماز خدا کي طرف پہلا قدم ہے۔ نماز کي اہمیت کا اندازہ اسي بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم فرماتے تھے نمازميري آنکھوں کا نور ہے اور جب وقت نماز ہوتا تھا تو بلال سے کہتے تھے کہ اذان کے ذريعے ميري روح کے اطمينان و سکون کا انتظام کرو۔ انسان کے تکامل معنوي ميں جسقدر نماز موثر ہے اتني دوسري کوئي عبادت نہيں ہے۔ نماز جہاں معاشرے کو اخلاقي و معنوي صفات و کمالات عطاکرتي ہے وہيں اپني خاص شکل و شرائط کي بنا پر نماز گزار کو نظم و ضبط کا پابند بھي بناتي ہے۔

عبادت رسول اسلام

رسول اکرم اپني تمام تر عظمت و منزلت کے باوجود ہرگزعبادت سے غافل نہيں رہتے تھے۔ رات کے پچھلے پہر ميں گريہ و زاري اور مناجات و استغفار آپکا دائمي شيوہ تھا۔ ا م سلمہ نے ايک رات ديکھا کہ پيغمبر موجودنہيںہيں۔ باہر نکليں تو ديکھا کہ آنحضرت خدا کي بارگاہ ميں دعا کرنے ميں مشغول ہيں۔ اشک جاري ہيں اور استغفار کر رہے ہيں۔ زبان مبارک پر يہ جملہ جاري ہے:’’اللّهم ولا تکلني الي نفسي طرفةعينٍ ‘‘۔ ام سلمہ بے ساختہ روپڑيں۔ رسول اکرم ام سلمہ کي طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمايا: ام سلمہ تم يہاں کيا کررہي ہو؟ ام سلمہ نے کہا کہ يا رسول اللہ ! آپ کو تو خدا بے حد دوست رکھتا ہے اور آپ کو بخش ديا ہے: ’’ليغفرلک اللہ ما تقدّم من ذنبک و ما تآخر۔‘‘ (سورہ فتح۔٢) پھر آپ کيوں گريہ کر رہے ہيںاور کہہ رہے ہيں کہ خدایا ! ہميں ہمارے حال پر مت چھوڑ؟ فرمايا: ’’و ما يومنني‘‘ اگر خدا سے غافل ہوجاؤں تو کون ميري حفاظت کریگا؟

يہ ہمارے لئے ايک درس ہے۔ ہر حال ميں خواہ مصائب کا سامنا ہو يا خوشيوں کا، اچھے حالات ہوں يا برے ، خدا ہي پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اسي سے مدد مانگنا چاہئے نيز اسي پر توکل کرنا چاہئے۔ يہي وہ اہم درس ہے جو رسول خدا ہميں دے گئے ہيں۔


فصل چہارم:

اخلاق

اخلاقي انقلاب

اخلاقي انقلاب يعني يہ کہ انسان تمام رزائل اخلاقي ، صفات بد ، اخلاق بد وغيرہ مختصراً يہ کہ ان تمام صفات سے کنارہ کش ہو جائے جو دوسروں کي يا خود کي اذيت و ضرر کا باعث ہوتي ہوں اخلاقي انقلاب یعني يہ کہ انسان خود کو مکارم اخلاق اور فضائل اخلاق سے آراستہ کرے ۔

اگر کسي معاشرہ ميں صاحب فکر و نظر افراد پائے جاتے ہوں اور وہ اپنے افکار کو دوسرے افراد کے خلاف استعمال نہ کرتے ہوں يا تعليم يافتہ افراد پائے جاتے ہوں اور وہ اپنے علم کو دوسرے افراد کو نقصان پہنچانے اور دشمن کو قوي کرنے کا ذريعہ نہ بناتے ہوں بلکہ معاشرے کے تمام افراد ايک دوسرے کا خيال رکھنے والے اور خير سگالي کے ساتھ زندگي گذارنے والے ہوں ، حاسد اور کينہ پرور نہ ہوں ، فقط اپني زندگي کا اور اپنا خيال نہ رکھتے ہوں تو ايسے معاشرے کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے ميں اخلاقي انقلاب آگيا ہے ۔

مسائل بشر

اخلاقيات اور تزکيہ نفس بھي زندگي کے ان اہم نکات ميں سے ہيں جن کے لئے قرآن کريم اور احاديث ميں شديد تاکيد کي گئي ہے ۔ عالم اسلام ميں متفقہ عليہ حديث نبوي موجود ہے کہ ’’بعثت لا تمم مکارم الاخلاق ‘‘ يعني ميں اس لئے مبعوث کيا گيا ہوں کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں واضح ہے کہ جس معاشرہ ميں اخلاقي اقدار ، صفات حسنہ اور مکارم اخلاقي وغيرہ رائج ہوں گے اس معاشرے کي عام انساني زندگي کا معيار کتنا بلند و عالي ہوگا ۔

آج بشريت کے مسائل و مشکلات انھيں مذکورہ صفات و اقدار کے نہ ہونے کي بنا پر پيدا ہو رہے ہيں ۔ اگر معاشرہ اسلامي خلقيات و اخلاقي اقدار مثلاً صبر و استقامت کا حامل ہو ،توکل ، تواضع ، حلم جيسي صفات کا احترام کرتا ہو اور پابند ہو تو يقينا جنت نشان بن جائے گا ۔

معاشرے کے بنيادي ستون

اسلامي اخلاق سے بہرہ مند ہونے سے مراد يہ ہے کہ معاشرے ميں پرہيز گاري ، بردباري ، شہوت پرستي سے اجتناب ، دنيا طلبي ، حرص ، ذخيرہ اندوزي جيسي صفات سے دوري ، اخلاص ، پارسائي ، نيکي اور ديگر اخلاقي صفات پائي جاتي ہوں اور ان صفات کو اہميت بھي دي جاتي ہو ۔

اگر ان اسلامي اقدار اور اخلاقي صفات پر عمل کر ليا جائے تو معاشرہ اسلامي رشد و ارتقائ کي منزليں طے کرتا اور قوي سے قوي تر ہوتا جائے گا۔ استعداد اور صلاحتيں سامنے آنے لگيں گي اور پھر ايسا اسلامي معاشرہ دوسري اقوام اور ملتوں کے لئے نمونہ بن جائے گا ۔

طالب علم اور خود سازي

نوجوان طالب علموں کي ايک اہم ترين ذمہ داري خود سازي اور تکميل اخلاق ہے ۔ نوجواني خود سازي اور تزکيہ نفس کے لئے بہترين وقت ہوتا ہے ۔ اس سے استفادہ کيجئے ۔ علم اور صنعتي ، سياسي ، سماجي رشد و ارتقائ ، اخلاق کے زير سايہ ہو تو قابل تعريف ہے ۔ يہاں پر قابل غور نکتہ يہ ہے کہ قرب خدا ، اخلاقي رشد و ارتقائ کي بنياد و اساس ہے ۔

اخلاق تمام امور کي بنیادہے

تبليغ دين اور حقائق دين کي ترويج علمائ اور مبلغين اسلام کي ذمہ داري ہے ۔ اگر ہم اقتصادي نقطہ نظر سے اپنا ايک مقام بنا ليں ، سياست کے شعبے ميں اپنا تشخص قائم کرليں، اپنے موجود ہ مقام و منزلت ميں خاطر خواہ اضافہ کر ليں ليکن ہمارا اخلاق اسلامي اخلاق نہ ہو يعني ہمارے درميان صبر ، علم ، ايثار ، عفو جيسي صفات کا فقدان ہو تو اس کا مطلب يہ ہے کہ ہمارا ظاہر تو خوبصورت اور حسين ہے ليکن ہماري بنياديں کھوکھلي ہيں کيونکہ اخلاق تمام افعال و امور کي بنياد و اساس ہے ۔ زندگي کے دوسرے تمام شعبوں ميں ترقي و ارتقائ اخلاق حسنہ کے لئے مقدمہ کے مانند ہے ۔ رسول اکرم کا فرمان ہے: ’’ بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ‘‘ يعني مجھے مبعوث اسي لئے کيا گيا ہے کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں ۔ اسلامي حکومت کا فلسفہ يہي ہے کہ معاشرے کي تربيت کرے ، معاشرے ميں اخلاق حسنہ کي ترويج کرے ، معاشرہ قرب خدا حاصل کرے ، تمام افعال و امور قربت کي نيت سے انجام دئے جائيں ۔ اسلامي نقطہ نظر سے سياست ميں بھي قصد قربت ضروري ہے ۔ قصد قربت کس وقت کيا جاتا ہے ؟ اس وقت کيا جاتا ہے جب انسان مطالعہ و جستجو کرے اور ديکھے کہ خدا وند عالم کي رضا کس چيز ميں پوشيدہ ہے ۔ لہذا انسان جس فعل ميں رضائے خدا کا مشاہدہ کرتا ہے اسے انجام ديتا ہے اور جس فعل ميں رضائے خدا کا مشاہدہ نہيں کرتا ہے اس فعل کو انجام نہيں ديتا ہے ۔

راہ امام خميني ۲

ايک بار ميں نے امام خميني ۲ سے سوال کيا کہ مشہور دعاوں ميں سے کونسي دعا سے آپ زيادہ انس رکھتے ہيں ؟ اور کس دعا پر آپ کو زيادہ اعتقاد و يقين ہے ؟ آپ نے کچھ دير بعد فرمايا : دعائے کميل اور مناجات شعبانيہ ۔ ان دونوں دعاوں ميںمناجات ، حالت استغفار ، استغاثہ اورخضوع و خشوع کو عاشقانہ انداز ميں پيش کيا گيا ہے ۔ يہ دعائيں ايسي دعائيں ہيں کہ ہمارے اور خدا کے درميان رابطہ عشق و محبت کو مستحکم اور عميق کرتي ہيں ۔ يہي وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے امام خميني ۲ نے اپني پوري حيات گذار دي تھي ۔

انساني کمال خواہشات نفساني سے مقابلہ ہے

انسان کي عالي ترين اور کامل ترين زندگي وہ ہے کہ جس ميں وہ راہ خدا ميں قدم آگے بڑھاتا ہے اور خداوند عالم کو خود سے راضي کرتا ہے اور ہوا و ہوس کو اپنے اوپر غالب نہيں ہونے ديتا ہے ۔ ايسا شخص انسان کامل ہے ۔ اس کے برعکس وہ انسان جو اپنے جذبات و احساسات ، ہوائے نفساني اور غيض و غضب کا اسير ہوتا ہے ،وہ انسان پست اور حقير ہے خواہ وہ ظاہراً مقام و مرتبت کا حامل ہو۔ دنيا کے بڑے سے بڑے ملک کا وزير اعظم يا امير ترين شخص اگر اپني خواہشات نفساني کا مقابلہ نہ کر سکے تو وہ بھي ايک حقير انسان ہے ليکن ساتھ ہي ساتھ ايک عام سا اور نادار شخص اگر اپني خواہشات پر قابو پا لے اور غلبہ حاصل کر لے تو انسان بزرگ اور کامل ہے ۔

تحول اخلاقي جوانوں کے لئے آسان ہے

خوش قسمتي سے ان آخري کچھ برسوں ميں جمہوري اسلامي نے معنوي لحاظ سے خاطر خواہ پيشرفت کي ہے ۔ جوانوں ميں معنويات ، دين و عبادت کي طرف رغبت ، نماز و روزہ ميںخضوع و خشوع اور قرب خدا رائج اور عام ہو گيا ہے ليکن فقط يہي سب کچھ تحول اخلاقي نہيں ہے اور شايد کہا جا سکتا ہے کہ ايک ملت کے لئے تحول اخلاقي کس حد تک مشکل ہے اور اسي لئے جب اخلاقي تحول کے حوالے سے گفتگو کي جاتي ہے تو پہلے مرحلے ميں جوانوں کو مخاطب قرار دياجاتا ہے کيونکہ ان کے اندر تبديلي اور تغير کا مادہ زيادہ پايا جاتا ہے ۔ جوانوں کے قلوب روشن اور ان کي طبيعت پاک و سالم ہوتي ہے ۔ ان ميں جاہ طلبي ، شہرت طلبي ، ثروت طلبي وغيرہ نہايت کم پائي جاتي ہے۔ لہذا جوانوں ميں تحول اخلاقي آسان تر ہے البتہ بزرگ اور سن رسيدہ افراد کو مايوس نہيں ہوجانا چاہيے کہ ان کے اندر اخلاقي تحول نہيں ہو سکتا ۔

انقلاب ، معنويات اور اخلاق اسلامي کے بغیر ناممکن ہے

انقلاب اسلامي مکمل طور پر فقط اس صورت ميں تحقق پا سکتا ہے جب ملت حقيقي طور پر مسلمان اور مومن ہو جائے ۔ اسلام کا ايک حصہ افراد کے عمل سے متعلق ہے جس کي بنا پر نظام کلي اجتماعي عالم وجود ميں آتا ہے اور دوسرا حصہ افراد کے ذاتي اور شخصي عقائد ، کيفيات روحي اور عمل و کردار پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر اسلامي انقلاب اور جمہوري حکومت تمام مادي اور معنوي وسائل کے ہوتے ہوئے لوگوں کے قلوب اور خلقيات کو اسلامي نہيں کر سکي ہے جو ديرينہ غلط تربيت کي بنا پر عالم وجود ميں آئے ہيں تو يہ انقلاب قطعاً کامياب اور حقيقي نہيں ہے ۔ حقيقي انقلاب وہ انقلاب ہے جو عوامي ہے ، اجتماعي اور اقتصادي حوالوں سے انقلاب ، عوامي انقلاب کي فرع و شاخ ہے ۔ اگر لوگوں کے قلوب تبديل نہ ہوں تو ايسا انقلاب اور اقتصادي۔ سياسي تبديلياں لا حاصل ہيں۔ بحمد ا? ہمارے يہاں اوائل ميں روحي انقلاب رونما ہوا کہ جو بذات خود ايک نہايت اہم قدم تھا اور جس کا نتيجہ وہي سامنے آيا جو آج ہم خود اپني آنکھوں سے ديکھ رہے ہيں ۔

اس انقلاب کي بدولت جو کچھ رونما اور واقع ہوا اگر مزيد دوام اور استحکام حاصل نہ کر سکے اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اپنے اندر شامل نہ کر سکنے کے علاوہ خدا نخواستہ ظاہراً تو اسلام ، جمہوري اسلامي اور انقلاب اسلامي باقي رہ جائے ليکن در حقيقت واقعہ کچھ اور ہو تو يہ انقلاب قطعي طور پر موفق اور کامياب نہيںہے ۔ خدا نخواستہ ايسي صورت پيش آنے سے پہلے ہم خدا سے پناہ کے خواستگار ہيں ۔ ہميں کسي بھي صورت ميں ايسے حالات پيدا نہيں ہونے دينا چاہيے۔ دشمن آج انھيں نکات اور پہلووں پر آنکھيں گاڑے ہوئے ہے ۔ تمام افراد مخصوصاً علمائ حضرات کي ذمہ داري ہے کہ معاشرے کي تربيت اور قلبي ، روحي اور اخلاقي انقلاب کے استحکام کے لئے کوشاں رہيں ۔

يہ ايک حقيقت ہے کہ جنگ کے دوران اس مملکت کے بعض جوانوں ميں ايک معنوي اور حقيقي انقلاب پيدا ہو گيا تھا ۔ شہدائ کے وصيت نامے کہ جن کے مطالعہ کے لئے امام خميني ۲ نے تاکيد کي ہے اسي لئے ہيں کہ ان ميں سے ہر ايک منفرد شخص کے انقلاب کي عکاس ہیں ۔ ان وصيت ناموں کو جب ايک انسان پڑھتا ہے تو خود بخود ان شہدائ کے اندر پيدا ہونے والے ذاتي اور دروني انقلاب سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔ آج ہماري ذمہ داري ہے کہ ہم اس روش کو عا م اور رائج کر ديں اور ايسا کرنا ممکن بھي ہے ۔ اگر سو فيصد ممکن نہ ہو تو کم از کم يہ تو ممکن ہے کہ اکثريت کے اندر اس اندروني اور ذاتي انقلاب کي آبياري کي جا سکے ليکن اس کے لئے پہلي شرط يہ ہے کہ دوسروں کو نصيحت کرنے سے پہلے خود نصيحت کرنے والے شخص کے اندر انقلاب پيدا ہو جائے اور اخلاق معنويات کے علاوہ توکل بر خدا مستحکم ہو جائے ۔

بہتر ہے اس سمت ميں قبل از ہمہ ہم لوگ قدم آگے بڑھائيں يعني خود اپني ذات سے شروع کريں ۔ واقعيت يہي ہے کہ اگر ہم ميں سے کسي کے اندر بھي اس سلسلے ميں نقص يا کمي باقي رہ گئي تو دوسروں پر ہماري بات کا غلط اثر پڑے گا ۔

اخلاق، بعثت کا ایک اہم پیغام

ہميں چاہيے کہ اپني اصلاح کريں ، اپنے اخلاق کي اصلاح کريں ، خود کو باطني لحاظ سے خدا سے قريب کريں ، ايک فرد کي حيثيت سے شخصي اور ذاتي اصلاح کريں ، خدا وند کريم کي آيات کا مشاہدہ کريں اور قرب خداوند حاصل کريں ۔ يہ ہماري ذمہ داري ہے ۔ ہماري يہ ذاتي و فردي مسؤليت کي انجام دہي، ہمارے دوسرے افراد اور معاشرے سے متعلق امور اور وظائف کي بہتر طور پر انجام دہي ميں معاون ثابت ہو گي ۔ آج ہميں ضرورت ہے کہ اخلاق اور تزکيہ نفس کے سلسلے ميں اپنے اور اپنے دوسرے افراد کے لئے مجاہدت کريں ۔ بعثت کے اہم پيغامات ميں سے ايک پيغام يہي تھا ۔

اخلاق حسنہ

ہمارے يہاں الہي حدود و مقررات نافذ ہو چکے ہيں ، اسلامي نظام اور عدالت اجتماعي تحقق پا چکي ہے ليکن حقيقت يہ ہے کہ ان تمام مراحل کو طے کرنے کے بعد بھي ہم ابتدائي منازل يا پہلے ہي مرحلے ميں ہيں ۔ دوسرا مرحلہ يہ ہے کہ وہ افراد جو اس اسلامي نظام کے تحت پر سکون اور عادلانہ زندگي بسر کر رہے ہيں ان ميں اخلاق حسنہ کے حصول کے لئے رغبت اور شوق پيدا ہو جائے ۔ تشکيل حکومت کا اصل ہدف يہي ہے ۔

لوگ خود بخود اخلاق کي جانب قدم بڑھائيں ۔ اخلاق حسنہ کا حصول، تکامل معنوي ، روحي اور معرفت کا موجب ہوتا ہے ۔ اسي راستے کے ذريعہ انسان کامل بنا جا سکتا ہے ۔ رسول اکرم نے فرمايا تھا : انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ‘‘ مجھے اسي لئے مبعوث کيا گيا ہے کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں ۔ يہ حديث شيعہ اور سني دونوں ہي جانب سے نقل ہوئي ہے ۔

يہاں لفظ ’’ انما ‘‘ نہايت اہميت کا حامل ہے يعني ميري بعثت کا ہدف ہي فضائل اخلاقي کي تکميل ہے ۔بقيہ تمام چيزيں مقدمہ کے طور پر ہيں ’’لا تمم مکارم الاخلاق ‘‘ تاکہ مکارم اخلاق تمام ابنائے نوع کے درميان جگہ بنا لے اور ميري امت کمال تک پہنچ جائے ۔

اگر کسي اسلامي معاشرہ ميں اخلاق الہي اور اخلاق اسلامي کو طاق پر رکھ ديا جائے اور معاشرہ بے راہ روي ، خود پرستي ، کجروي جيسي صفات کے دلدل ميں پھنس کر رہ جائے تو کس طرح اس حکومت کو اسلامي اور الہي حکومت کہا جا سکتا ہے ؟

حکومت اسلامي فقط وہي حکومت ہو سکتي ہے جس ميں تمام اخلاق صفات رائج ہوں اور يہي بعثت لاتمم مکارم الاخلاق کي اساس بھي ہے ۔ آج موجودہ دنيا کو اسي اساسي چيز کي ضرورت ہے ليکن مادي دنيااس خصوصيت سے کلي طور پر محروم ہے ۔

اخلاق کے اثرات وثمرات

پيغام انقلاب اسلامي ، پيغام معنويت ، اخلاق ، قرب خدا اور اس عنصر کو انساني زندگي ميں راسخ کرتا ہے۔ جہاں جہاں اسلامي انقلاب کے پيغام نے اپنا جھنڈا گاڑا ہے وہاں وہاں معنويت کو اپنے ساتھ لے کر گيا ہے حتي بعض عيسائي اور غير اسلامي ممالک اورمعاشروں ميں بھي مشاہدہ کيا جا سکتا ہے کہ اگر ان معاشروں ميں انقلاب اسلامي سے درس ليا گيا اور استفادہ کيا گيا ہے تو معنويت نے بھي اپني جگہ بنائي ہے اور يہي معنويت انقلاب اسلامي کا اولين پيغام ہے ۔

معنويت اور اخلاق سے عاري علم ايٹم بم کے مانند ہے

اگر علم ، معنويت ، وجدان ، اخلاق ، عواطف اور بشري احساسات سے عاري ہو تو کسي بھي صورت ميں بشر کے لئے مفيد ثابت نہيں ہو سکتا ۔ علم اخلاق و معنويت کے بغیر ايٹم بم کے مانند ہے جہاں گرے گا معصوم افراد کو قتل کرے گا ۔ ايسا علم ، علم نہيں بلکہ اسلحہ بن جاتا ہے اور پھر لبنان ، فلسطين اور ديگر جگہوں کے غير فوجي افراد کو اپنا ہدف قرار ديتا ہے ۔ ايسا علم مہلک کيميکل بن جاتا ہے اور پھر دنيا بھر ميں نہ جانے کہاں کہاں مرد و عورت اور بچوں کو اپني لپيٹ ميں لے ليتا ہے ۔ اس طرح کے مہلک کيميکل کہاں سے نمودار ہوئے ؟ يہ سب انھيں علمي مراکز اور يوروپي ممالک سے صادر ہوئے ہيں ۔ ان جگہوں پر ان مہلک اشيائ کو تيار کيا گيا اور پھر نااہل حکومتوں کے حوالے کر ديا گيا ہے اور پھر نتيجہ وہي ہے جو آپ کے سامنے ہے ۔

موجودہ مختلف النوع اسلحہ جات ابھي تک دنيا کو آرام نہيں بخش سکے ہيں اور نہ ہي بخش سکتے ہيں ۔يہ سب اس لئے ہے کیونکہ اخلاق و معنويات کو علم سے جدا کر ديا گيا ہے ۔ ہم نے تمدن اسلامي اور نظام جمہوري اسلامي ميں اس بات کي کوشش کي ہے اور اسي کو اپنا ہدف بنايا ہے کہ علم کو اخلاقيات اور معنويات کے ساتھ ساتھ لے کر چليں ۔


فصل پنجم:

ایمان

ايمان کي علامتیں

ايمان کي علامتيں گناہ انجام نہ دينا ، خدا سے ڈرنا ، بندگان خدا کے ساتھ اچھا برتاو کرنا ، دشمنان خدا کے ساتھ سختي اور دشمني سے پیش آنا ، مومنوں کے چھوٹے موٹے اختلافات کو نظر انداز کر دينا وغيرہ ہيں ۔

در حقيقت ، ايمان اگر محبت و خلوص جيسے رابطوں سے عاري ہو تو اس کي کوئي حيثيت نہيں ہے ۔يہ محبت ہي ہے جو ميدان عمل ميں ايمان کو اہميت و ارزش بخشتي ہے ۔ محبت و خلوص کے بغير کسي تحريک کو آگے نہيں بڑھايا جا سکتا ۔ اسلامي نقطہ نظر سے عشق و محبت کا عالي ترين عنوان ’’ محبت اہلبيت ‘‘ ہمارے پاس ہے ۔ اس محبت کا عروج ہميں کربلا ميں روز عاشورا ديکھنے کو ملا کہ چند افراد پر مشتمل ايک گروہ نے تاريخ و تمدن تشيع کي ايک ايسي بنياد ڈالي کہ آج بھي اس تاريخ و تمدن کے نقوش روز بروز روشن ہوتے جا رہے ہيں ۔

دنيا ميں رونما ہونے والے انقلاب ، حکومتيں ، ادارے وغيرہ اس وقت منحرف ہوتے ہيں جب ان کے اندر معنويت ، ايمان ، خدا سے رابطہ وغيرہ کا فقدان ہو جاتا ہے ۔ انقلاب جمہوري اسلامي سے متعلق بھي اگر غور کيا جائے تو ہميں انھيں مقامات پر خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں مذکورہ بالا صفات کا فقدان پايا گيا ۔

ہمارے اور خدا وند عالم کے درميان تعلق و ارتباط کو غير اہم شمار نہيں کيا جانا چاہيے ہماري زندگي کا انحصار ہي اس رابطہ اور تعلق پر ہے ۔ يہي رابطہ ہے جو دشمن سے مقابلہ کرتے وقت ہمارے دل کي ڈھارس بنا رہتا ہے ۔ يہي رابطہ ہے جو ہميں مومنوںسے محبت کرنے پر اکساتا ہے تاکہ ہم آپسي کے اختلافات کو نظر انداز کر سکيں ۔ يہي رابطہ ہے جو ہم سے کہتا ہے کہ اپني خواہشات کي بنا پر ہم حقائق کو نظر انداز نہ کريں ، اپني ذاتي غرض کي خاطر خدائي مصلحتوں کو فراموش نہ کريں ۔ يہي رابطہ ہے جو ہميں صراط مستقيم سے منحرف ہونے سے بچنے اور اس راہ ميں پيش آنے والي مشکلات و مسائل کو ہمارے لئے آسان کرتا ہے ۔ يہ ايک ايسا رابطہ و تعلق ہے جو ہميشہ اور ہر حال ميں ہمارے لئے ممکن ہے ۔

جمہوري اسلامي کي اسلامي تحريک ، اسلامي انقلاب اور اس کي برکت سے دوسري اسلامي اقوام و ملتوں کے پاس آج جو کچھ بھي ہے وہ خدا پر توکل ، خدا پر بھروسہ اور ذکر خدا کي وجہ سے ہے ۔ اس طرف سے ہميں کسي لمحے بھي غافل نہيں رہنا چاہيے ۔ اگر خدا پر بھروسہ اور توکل نہ ہوتا تو مشکل سے ہي تصور کيا جا سکتا تھا کہ ايران ميں کبھي اسلامي انقلاب آسکے گا ۔ اس اسلامي انقلاب کي اساس اور بنياد انسان سازي پر رکھي گئي ہے ۔ پہلے مرحلے ميں انسان سازي يعني دل کي تعمير اور روح کا آباد کرنا ہے ۔ دنيا اگر نعمتوں اور لذتوں سے پر ہو ليکن انسان اخلاق ، انسانيت اور دينداري سے عاري ہو تو يہ دنيا اہل دنيا کو کچھ نہيں دے سکتي ، بشريت کو آسائش اور تسکين نہيں بخش سکتي ۔ انسان کي آسائش کي تسکين کا سامان اس اخلاق سے فراہم کيا جا سکتا جس کا سر چشمہ دين ہے ۔ دنيا ميں اگر اخلاق و معنويت اور دين نہ پايا جائے تو وہي ہوگا جس کا ہم آج اس دنيا مين مشاہدہ کر رہے ہيں کہ چند استکباري قوتيں اور طاقتيں دنيا کي ايک بڑي مظلوم آبادي پر اپنے مظالم کا منھ کھولے ہوئے ہيں ۔

اسلامي انقلاب کے عوامل

اسلامي انقلاب کن عوامل کي بنياد پر عالم وجود ميں آيا ہے ؟ اسلامي انقلاب کسي ايک وجہ سے نہيں بلکہ متعدد و مختلف عوامل کي بنا پر رونما ہوا ہے ۔ اسلامي انقلاب کو سمجھنے کے لئے علمي ، تاريخي،جامعہ شناس اور عميق و دقيق نگاہ کي ضرورت ہے کہ انسان آئے اور غور و فکر کرے ۔ البتہ يہ انقلاب کن عوامل کي بنا پر رونما ہوا ، ايک طويل علمي بحث ہے ليکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ چيز جس کے ذريعہ اس انقلاب کي روح اور گہرائي تک پہنچا جا سکتا ہے ،وہ حُبِ خدا ، الہي تکاليف کي انجام دہي اور قيام ? یعني خدا کے لئے اٹھ کھڑا رہنا ہے ۔ يہ بھي ممکن ہے کہ بعض افراد کے اذہان ميں دوسرے عوامل مثلاً جنگ وغيرہ بھي آئيں ليکن يہ بھي صحيح ہيں اور يہ بھي اس انقلاب کي علتوں ميں شامل ہيں ۔

اسي طرح کي علتيں انقلاب سے پہلے بھي اذہان ميں پائي جاتي تھيں اور يہ انقلاب کے رونما ہونے ميں موثر تھيں ليکن ان تمام عوامل کے پس پشت بھي ايک طاقت کار فرما تھي اور وہ تھي روح ديني اور ذمہ داري و وظیفہ کي انجام دہي کے احساس کي طاقت کيونکہ ظلم و ستم سے مقابلہ ، فساد سے مبارزہ ، پسماندگي ، فقر وغيرہ سے جنگ ان موارد ميں سے ہيں جو رضائے الہي کا باعث بنتے ہيں ۔ خدا وند عالم نے بھي انسان کیلئے مختلف مقامات پر اس طرح کے احکامات بیان فرمائے ہيں ۔

اگر عنصر ديني نہ پايا جائے تو اس طرح کے عوامل سماج کے ہر طبقے ميں عميق و وسيع صورت ميں سامنے آتے ہيں ۔ يہي وجہ ہے کہ يہ انقلاب ايک ختم نہ ہونے والا انقلاب ہے ۔ اگر عنصر ديني نہ پايا جائے تو کوئي بھي تحريک ہو مختصر سے عرصے کے بعد دم توڑ ديتي ہے ۔

چند معین شدہ افراد ايک سمت ميں آگے بڑھتے ہيں اور پھر آہستہ آہستہ اپني اپني جگہ خاموش بيٹھ جاتے ہيں يا چند افراد اپنے اہداف تک رسائي حاصل کر ليتے ہيں اور چند ديگر حکومت و جاہ و حشم ميں پھنس کر رہ جاتے ہيںايک گروہ عيش و عشرت کا شکار ہو جاتا ہے اور دوسرا فقر و فاقہ کا ۔

اس طرح آہستہ آہستہ يہ قصہ يہيں ختم ہو جاتا ہے ۔

اس کي مثال دنيا کي مختلف تحريکوں اور انقلابوں ميں بطور عياں ديکھي جا سکتي ہے کيونکہ ان تحريکوں ميں اسم خدا ، نام خدا ، ياد خدا ، عنصر عبادت و اخلاص نہيں پايا جاتا تھا ، امام خميني ۲ کے جيسا کوئي الہي معنوي رہبر موجود نہيں تھا ، لہذا يہ تحريکيں اپنا ذرا سا بھي اثر چھوڑ ے بغير مختصر سے عرصے ميں ختم ہو گئيں ليکن اسلامي انقلاب ميں معاشرے کے سارے افراد ، مرد و زن ، بوڑھے ، بچے شريک تھے حتي ايسے افراد بھي اس انقلاب ميں پيش پيش تھے جو اجتماعي امور ميں کبھي دخيل نہيں رہے تھے ۔ اس کے علاوہ ايسے افراد کو بھي ديکھا گيا کہ جنھوں نے اپني پوري زندگي ميں خود اپني خاطر کبھي کوئي بڑا اور خطرناک کام انجام نہيں ديا تھا ۔

يہ تھا اسلامي انقلاب اور ايسا انقلاب کہ ساري اسلامي تاريخ پہلي اسلامي حکومت کے بعد سے ہمارے زمانے تک ايسا انقلاب نہيں دکھا سکتي ۔ آخر يہ کيسا انقلاب تھا ؟ اس انقلاب کے پس منظر ميں کون سي طاقت کار فرما تھي ؟

يہ طاقت تھي اسلامي طاقت ، قرآني طاقت ، ديني طاقت ۔اس انقلاب کي بنياد اس نکتہ پر رکھي گئي تھي کہ آئندہ آنے والي حکومت ایک اسلامي حکومت ہوگي ، قوانين ، اسلامي قوانين ہوں گے ۔ آپ تاريخ اٹھا کر ديکھ ليں ايسا آپ کو کہيں نہيں ملے گا ۔

البتہ يہ بھي ايک حقيقت ہے کہ آج کچھ افراد ناشکري کر رہے ہيں ۔ خدا کي نعمتوں کو حقير شمار کرتے ہيں ۔ بطور مثال اگر کسي عدالت نے ايسا کوئي حکم صادر کر ديا ہے ، کسي سرکاري افسر نے کہيں کوئي ايسي بات کہہ دي ہے جو ان لوگوں کے مزاج اور مرضي کے خلاف ہوتي ہے تو ايک واويلا مچ جاتا ہے ۔ انقلاب ، حکومت ، جمہوري اسلامي ، ولايت یعني اس عظيم تحريک کے تمام جوانب پر ايک سواليہ نشان لگا ديتے ہيں ۔ ہر چيز کي مخالفت شروع کر ديتے ہيں جب کہ يہ لوگ اصل حقیقت آشنا بھي نہيں ہوتے ۔

حقيقت يہ ہے کہ آج انقلاب کے اتنے سال گزرنے کے بعد بھي دنيا کے کونے کونے سے ہمارے پاس مسلمان دانشمند و علمائ حضرات تشريف لاتے ہيں اور ہم سے يہ کہتے ہيں کہ آپ ايران ميں زندگي گزارتے ہيں ، آپ نے اپنے ہاتھوں سے انقلاب کي آبياري کي ہے ، آپ کو احساس نہيں ہے کہ آپ کا برپا کيا ہوا يہ انقلاب کتنا عظيم انقلاب ہے ۔ يہ انقلاب تاريخ کا منفرد انقلاب ہے ۔

ايک ايسا ملک جو امريکہ کي پناہ گاہ تھا ، جس کے وزرائ دنيا کي استکباري طاقتوں کے آگے جبہ سائي کرتے تھے ، جس ملک کي حکومت حاکموں کے گھروں (خاندانوں)ميں تقسيم ہوتي تھي ، روز بروز معاشرے کو دين سے جدا کيا جا رہا تھا ، عوام کو زبردست اخلاقي پسماندگي ، جنسي بے راہ و روي کي طرف مائل کيا جا رہاتھا ، اگر ايسے ملک ميں کوئي آئے اور ايک مستقل، آزاد و عوامي حکومت کي بنياد رکھے تو يہ کوئي معمولي بات نہيں ہے ۔ عوام کے عام طبقے سے خواص تک سبھي انسان ، پارليمينٹ کے اراکين ، قوہ قضائيہ و مجريہ اور فوج وغيرہ کے ذمہ دار افراد سبھي مومن و متدين ہيں ۔ ان ميں سے بعض نافلہ خوان اور نماز شب کے پابند بھي ہيں ۔ ايران کوئي عام ملک نہيں ہے بلکہ ايک ايسا ملک ہے جو امريکہ جيسي طاقت سے بھي بغير کسي خوف و خطر کے ٹکرا جاتا ہے ۔

يہ معمولي نکات نہيں ہيں بلکہ قابل غور و اہم ہيں ۔ بہر حال اگر اسلامي حکومت کے تحت کچھ موارد ايسے مل جائيں جن پر اعتراض کيا جا سکے تو کيا حضرت علي کے دور حکومت ميں ايسے موارد نہيں تھے ؟ کيا اس وقت بد اخلاقي نہيں تھي ؟ حد شرعي جاري نہيں ہوتي تھي ؟ کيا اس زمانے ميں چورياں نہيں ہوتي تھيں ؟ يقينا تاريخ کي روشني ميں کہا جاسکتا ہے کہ يہ سب کچھ تھا ليکن يہ بھي حقيقت ہے کہ جہاں چورياں ہوتي تھيں وہيں حدود شرعي بھي جاري ہوتي تھي ۔ قابل اعتراض يہ نہيں کہ چوري ہو اور حد شرعي بھي جاري ہو بلکہ قابل اعتراض يہ ہے کہ چوراور فاسد افراد کے خلاف حدود شرعي جاري نہ ہوں اور ان کو دين کي طرف مائل نہ کيا جائے ۔

ايک معاشرے ميں، ايک قوم کي تعليم و تربيت ايک مختصر عرصے ميں يعني چند برسوں ميں تو نہيں کي جا سکتي ۔ اس کے لئے ايک طويل زمانہ چاہيے ۔ جمہوري اسلامي ایران کا اسلامي انقلاب ، اتنا عظيم واقعہ ! دوسرے افراد بھي اس بات کي تائيد کرتے ہيں اور ہم بھي اس بارے ميں غور و فکر کرتے ہيں کہ ايک دن آئے گا کہ يہي اسلامي انقلاب ايک بڑي اور عالمي تحريک ميں تبديل ہو جائے گا ۔ اس انقلاب کو ايک عظيم انقلاب کہا جا رہا ہے ۔ اس کي وجہ بھي واضح ہے اور وہ يہ کہ امريکہ ، اسرائيل ، استکباري طاقتيں اور عالمي قوتيں اس اسلامي نظام کو کسي بھي صورت ميں قبول نہيں کر پا رہي ہيں يہي وجہ ہے کہ اس عظيم تحريک کي ساري دنيا مخالفت کر رہي ہے ۔ ايک ايسي قوم کو جو اتنا عظيم انقلاب برپا کر دے اور پھر اس انقلاب کے خاطر خواہ نتائج بھي ظاہر ہو جائيں ، اسي پر اکتفا نہيں کرنا چاہيے بلکہ روز بروز ترقي کي طرف مائل رہنا چاہيے ۔

امريکہ اور اس وقت کي روس جيسي عالمي طاقتيں موجودہ اسلامي نظام کي از اول مخالف تھيں ۔ بحمد ? روس ختم ہو گيا ليکن امريکہ ابھي تک اپني تمام تر پليدگيوں کے ساتھ باقي ہے ۔ امريکہ نے ايران کے سلسلے ميں اپني مخالفت اس طرح ظاہر کي کہ عراق کے پس پردہ ايران کے ساتھ آٹھ سال تک جنگ لڑي ليکن يہ اس انقلاب کي برکت تھي کہ ہماري قوم نے ان تمام مشکلات کا سامنا کيا اور دشمن کو منھ کي کھاني پڑي ۔

مذکورہ عالمي استکباري طاقتوں ميں سے ہر طاقت ميں اتني صلاحيت ہے کہ ايک نظام يا حکومت کو تہہ و بالا کر دے ليکن ايران کے خلاف اقتصادي پابندياں ، جديد ترين اسلحہ جات کے ذريعہ طويل جنگ اس پر مستزاد عالمي پروپيگنڈہ بھي ايران کا کچھ نہ بگاڑ سکا ۔آٹھ سال تک طويل جنگ لڑنے کے باوجود بھي ايران کي ايک انچ زمين حاصل نہ کي جا سکي ۔ يہ کوئي معمولي کارنامہ نہيں ہے بلکہ يہ ايک عظيم کارنامہ ہے ۔

يہ عظيم کارنامہ اس انقلاب اور اس نظام حکومت کي ہي برکت تھي کہ ايران و عراق کے مابين ٨ سالہ جنگ ختم ہوئي اور ايک مرتبہ پھر ملک کي ترقي اور فلاح و بہبود کے لئے کوششيں شروع کر دي گئيں ۔ آج آپ ملک کے کسي بھي گوشے ميں چلے جائيں آپ کو ايسے افراد مل جائيں گے جو ملک کي آئندہ خوشحالي کے لئے کوشاں ہيں۔ ملت ، قوم ، افسران بالا وغيرہ سبھي اس سمت ميں جد و جہد کر رہے ہيں ۔ يہ اس انقلاب کا اثر ہے اور يہ آئندہ بھي دوام حاصل کرے گا ۔ ملک کي خوشحالي ، رفاہ اور فلاح و بہبود کے لئے شروع کي گئي يہ تحريک مستقبل ميں بھي باقي رہے گي ۔ ہماري قوم کسي بھي صورت ميں ميدان چھوڑ کر فرار اختيار نہيں کر سکتي ۔

يہ سب دين کي برکتيں ہيں ۔ يہ انقلاب ، دين و مذہب سے جدا انقلاب نہيں ہے ۔ يہ سياسي پارٹيوں اور مختلف اشخاص کے نظريات پر مبني انقلاب نہيں ہے بلکہ ايک ايسا انقلاب ہے جو ايک متدين اور مذہبي قوم کے ذريعہ عالم وجود ميں لايا گيا ہے ۔ لہذا اس انقلاب کا اصل عنصر بھي يہي ہے ۔

ہمارے معاشرے کي سعادت کا راز خدا پر ايمان

ملت ايران بنام اسلام رو بہ ترقي ہے اور اسلام ہي کي خاطر جد و جہد کر رہي ہے اسي بنا پر يہ عظيم واقعہ بھي رونما ہوا کہ عصر حاضر ميں دين خدا اور اسلامي تعليمات کي اساس پر ايک نظام حکومت و معاشرہ کي بنياد پڑي ۔مادي وسائل کے ذريعہ کسي بھي قيمت پر يہ چيز ممکن نہيں تھي ۔ اسلامي اقوام ، ايران کي اس اسلامي تحريک کي طرف شدت سے مائل ہيں ۔ يہ مبالغہ نہيں ہے بلکہ ايک حقيقت ہے ۔ اس اسلامي مملکت کے خلاف وسيع پيمانے پر پروپيگنڈہ کے با و جود ہم ديکھ رہے ہيں کہ مسلمان قوميں ايران کے اسلامي انقلاب کے متعلق پر اميد ہيں اور اسي لئے اس سمت ميں حرکت بھي کر رہي ہيں ۔ آج دنيا ميں شايد ہي کوئي مسلمان قوم ہو جو اس اسلامي تحريک سے متاثر نہ ہو ۔

مسلمان قوموں ميں اس انقلاب سے متعلق يہ اميد و تمائل اسي صورت ميں باقي رہ سکتا ہے جب ہم دين خدا پر ايمان رکھتے ہوئے ذرہ برابر انحراف کا شکار نہ ہوں۔ عالمي طاقتوں ، عالمي مسائل ، ملکي سياست ، خارجي و داخلي سياست سے بھي ہم مذکورہ صورت ميں ہي مقابلہ کر سکتے ہيں ۔

ہميں چاہيے کہ معاشرے سے اس راز سعادت یعني ايمان بہ خدا کو اپني زندگي اور معاشرے ميں لمحہ بہ لمحہ قوي اور مستحکم کريں ۔ ملک و ملت کو اسلامي تعليمات کي طرف بيشتر راغب کريں ۔ معاشرے کے جوان طبقے کو اسلامي تعليم و تربيت پر عمل پيرا ہونے کي عملي دعوت ديں ۔ ہماري دانشگاہوں کا فريضہ ہے کہ وہ جوانوں کو نہ فقط عالم بلکہ مسلمان عالم با عمل بنا کر معاشرے ميں پيش کريں اور يہي اسکول وکالج وغيرہ کي بھي ذمہ داري ہے ۔ غير ازيں يہ بھي ہماري ذمہ داري ہے کہ معاشرے ميں اسلامي تعليمات کو اس قدر رائج کريں کہ دوسري تمام تعليمات و افکار ماند پڑ جائيں ۔

خدا پرايمان اسلامي فوج کا امتياز

اگر چہ فوج کے لئے اسلحہ وغيرہ بنيادي ضرروتوں ميں سے ہے ليکن وہ چيز جو ہماري اسلامي فوج کو دوسري افواج سے متمائز کرتي ہے وہ خدا پر ایمان ، فرمان الہي کي انجام دہي اور جہاد في سبيل ا? کا احساس ہے ۔ يہ وہ اصل عنصر ہے کہ اگر اس کو جدا کر ديا جائے تو ہماري اسلامي فوج بھي دوسرے ممالک کي افواج کي طرح فقط افراد پر مبني فوج ہو کر رہ جائے گي يعني اگر اسلحہ جات ، افراد ، استعداد وغيرہ پر تسلط حاصل ہو گيا تو ممکن ہے کہ استقامت پيدا ہو جائے ليکن اگر دشمن کي طاقت ہم سے ذرا سي زيادہ ہو گئي تو ممکن نہيں ہے کہ ہم مقابلہ کر سکيں ۔

آج ہم سب پر واضح ہے کہ اسلام دشمن طاقتيں تعداد اور افراد يعني ماديات کے لحاظ سے اسلامي مملکت اور افواج سے قوي تر ہیں ۔ قوي تر اس صورت ميں ہيں جب ہم ايمان کو اسلامي افواج سے خارج کر ديں ليکن اگر ايمان کو مد نظر رکھ کر ديکھا جائے تو دنيا کي بڑي سے بڑي طاقت اسلامي لشکر کا مقابلہ نہيں کر سکتي ۔ يہي وہ عنصر ہے جس کو ہميں اپني فوج ميں راسخ کرنا ہے ورنہ ظاہري قدرت و طاقت کوئي ايسي چيز نہيں ہے جس ميں ہم ان کا مقابلہ نہيں کر سکتے کيونکہ صرف اتنا ہي توہے کہ يہ طاقتيں ہم سے اس ميدان ميں آگے ہيں۔ اگر ہم کوشش کريں تو اس ميدان ميں ہم بھي ان کا مقابلہ کر سکتے ہيں ۔ ايمان ايک ايسا عامل اور ايک ايسا عنصر ہے جو ہمارے قبضہ قدرت ميں ہے ۔ہميں چاہيے کہ ہم اسے اپني دفاعي افواج کي رگ رگ ميں داخل کر ديں ۔

ہمارے انقلاب کي تاريخ ہے کہ ہم جب بھي فاتح ہوئے اسي ايماني قوت کي بنا پر اور جب بھي ہم نے دشمن کے ہاتھوں شکست کھائي اسي ايمان کے نہ ہونے کي بنا پر ۔ اگر عراق کے خلاف ہماري دفاعي جنگ ميں کئے گئے ہمارے مختلف فوجي آپريشن کا تجزيہ کيا جائے تو نتيجہ وہي بر آمد ہو گا جو ذکر کيا جا چکا ہے ۔ جہاں جہاں ہمارے قلوب حرارت ايماني سے شعلہ ور تھے وہاں وہاں ہم نے تمام رکاوٹوں کو جڑ سے اکھاڑ پھينکا تھا اور جس جس مقام پر ہم نے ماديات اور ظاہري فتوحات کي طرف مائل ہو کر فرمان الہي اور احکام شرعي کو پس پشت ڈال ديا تھا اس اس مقام پر مغلوب ہو گئے تھے ۔

خدا کے ساتھ رابطے کي برقراري ہم سب کي ذمہ داري ہے

اس مقام پر ہمارے لئے ضروري ہے کہ ہم اپني ذمہ داريوں کي شناخت حاصل کريں ۔ ہم ميں سے ہر فرد کي ذمہ داري ہے کہ خدا پر ايمان اور خدا کے ساتھ رابطہ کو برقرار رکھے اور کسي بھي قيمت پر اس کو منقطع نہ ہونے دے ۔ خدا کے ساتھ ارتباط و رابطہ سے مراد يہ ہے کہ ہم اپنے قلب ، عمل ، اخلاق ، رفتار و گفتار کو رضائے الہي کے مطابق قرار ديں ۔ خود پرستي ، دروغ گوئي ، تہمت ، فريب ، نفس پرستي و خواہشات نفساني سے پرہيز کريں ۔ ياد خدا ، ذکر خدا ، توجہ بہ خدا ، نفس امارہ کي مخالفت اور عبادت حقيقي کو روز بروز اپنے اندر قوي سے قوي تر کريں ۔ يہي ہم سب کي ذمہ داري ہے ۔

گذشتہ ٢٠ ،٢٥ برسوں ميں ہماري ملت کے اسلامي مجاہدين کي شجاعت ، قدرت توانائي ، ايثار ، روحي استقلال ، خود اعتمادي اور خدا پر توکل وغيرہ کے متعلق جو کچھ گزرا ہے وہ کسي بھي طرح قابل تعريف نہيں ہے ۔ ہماري ملت کے شجاع مردوں اور غيور عورتوں نے دور حاضر کي عالمي طاقتوں کے جديد ترين اسلحوں کا مقابلہ کيا ہے اور انہيں ناکارہ بنا ديا ہے ۔ ان واقعات کا بيان آخر کس طرح کيا جا سکتا ہے ! ان واقعات کو قلم و کاغذ کے ذريعہ مقيد نہيں کيا جا سکتا بلکہ يہ ان سے بھي ماورائ چیزیں ہيں ۔

ايماني قوت کے مقابل استکباري قوت کي کوئي حیثیت نہيں ہے

دور حاضر کے عالمي استکبار کے پاس کيا ہے ؟ آخر امريکہ کے پاس کيا ہے کہ مختلف ممالک اور حکومتوں پر اپنا حکم چلاتا ہے ؟ مادي اسلحہ ، پيسہ ، ايٹم بم ، جنگي جہاز ، جديد ٹيکنالوجي اور کيا ہے ؟ ليکن يہ کہا جا سکتا ہے کہ ظاہري قدرت کے لحاظ سے يہ چيزيں يقينا اہميت کي حامل ہيں ليکن ايمان کے مقابلے ميں ان کے پاس کيا ہے ؟ ايمان ايک ايسي طاقت ہے کہ امريکہ کي ساري ظاہري توانائي و طاقت بھي اس طاقت کے مقابلے ميںصفر ہے ۔

بحمدہ تعالي ہماري ملت اس ايماني قوت سے مالا مال ہے اور يہي وجہ ہے کہ ساري دنيا ميں ظاہري طاقتيں مل کر بھي ايران کے اسلامي انقلاب کو مغلوب نہيں کر سکتيں ۔ ملت ايران اس عميق ايمان کي بنا پر ايک مغلوب نہ ہونے والي ملت ہے ۔ کوئي طاقت اس ملت کو شکست نہيں دے سکتي ۔ نہ خارجي دشمن اور نہ داخلي دشمن ۔

نصرت خدا اور مومنين پر اعتماد

اہم امور کے سلسلے ميں فقط خدا کي نصرت اور عوام الناس کے ايمان پر تکيہ کرنا چاہيے ۔ ظاہري طاقت و قوت ، اسلحہ ، پيسہ وغيرہ کسي خاص اہميت کے حامل نہيں ہيں ۔ البتہ اس بات کا بھي خيال رکھنا چاہيے کہ نصرت الہي اور عوام الناس کا ایمان ايک دوسرے کے مساوي نہيں ہيں يعني جب ہم خدا اور نصرت خدا پر بھروسہ کريں گے تو خود بخود لوگوں کے قلوب خدا وند عالم کي طرف مائل ہو جائيں گے ۔

خدا وند تبارک و تعالي نے رسول گرامي کو عظيم ترين ذمہ دارياں عطا کرنے کے بعد فرمايا ?( هو الذي ايدک بنصره و بالمومنين ) ( سورہ انفال ٦٢ ) يعني اسي نصرت خدا اور مومنين کي امداد نے تمہيں آگے بڑھنے ميں مدد کي ہے ۔ يہي وجہ ہے کہ ہميں يقين ہے کہ جب ظاہري طاقتيں حق کے مقابل آتي ہيں تو ہيچ ہوجاتي ہیں ۔ اگر باطل سے بے اعتنائي برتي جائے اور اپنے ارادے اور نصرت خدا کے سہارے اس کا مقابلہ کيا جائے تو باطل کچھ نہيں کر سکتا ۔ جب کبھي بھي عوامي طاقت کے ذريعہ مقابلہ کيا جائے گا باطل خود بخود عقب نشيني اختيار کرنے پر مجبور ہو جائے گا ۔

اس ايمان کو قوي اور مستحکم ہونا چاہيے اور ملت کو اپني ايماني طاقت کے سہارے پيش قدمي کرنا چاہيے يعني نصرت الہي پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہيے۔ مشکلات و مسائل سے خوفزدہ نہيں ہونا چاہيے تاکہ دشمن ہمارے اندر خود کو نافذ نہ کر سکے ۔ ماضي ميں ايسے افراد تھے جو نہايت سطحي افکار کے حامل تھے اور فقط ظاہر کو ديکھ کر فيصلہ کر ليا کرتے تھے البتہ ان افراد کو متہم نہيں کيا جا سکتا ليکن اتنا ضرور ہے کہ يہ افراد باور نہيں کر پاتے تھے کہ ہماري قوم بھي دشمن کاخاطر خواہ مقابلہ کر سکتي ہے ليکن وہ شخص جو تاريخ اور سنت الہي سے آشنا ہے وہ مقاومت کرتا ہے اور اپنے ارادے کو قوي و مستحکم بنائے رکھتا ہے ۔

اسلام پر ايمان

اسلامي دنيا ميں جو اہم ترين حادثات و واقعات رونما ہوئے ہيں ان ميں کليدي کردار اسلام پر ايمان ہے ۔ چونکہ ہم اسلام کي خاطر فداکاري اور ایثار کرتے ہيں لہذا خدا وند عالم بھي ہماري نصرت کرتا ہے ۔ جمہوري اسلامي ایران چونکہ خدا ، اسلام اور قرآن کي پيرو ہے لہذا دنيا کي دوسري اقوام بھي ايراني قوم کو احترام کي نگاہ سے ديکھتي ہیں ۔

امام خميني ۲ چونکہ صادقانہ اور مخلصانہ طور پر اپني تحريک کو لے کر آگے بڑھے تھے اسي لئے دنيا ميں اُنکا ايک اہم اور محترم مقام بنا اور اسي لئے دنيا کو متاثر کر سکے تھے ۔ يہي وجہ تھي کہ خداوند عالم نے بھي ان کي مدد فرمائي اور دور حاضر کا اتنا بڑا کارنامہ انجام دے ديا ۔

اسلامي انقلاب کي کاميابي کا راز اب تک جو ہم کشف کر سکے ہيں وہ ايمان ہے اور يہي وہ راز ہے جس کي تہہ تک ہمارے دشمن يعني دنيا بھر کي استکباري طاقتيں پہنچ گئي ہيں ۔ اوائل اسلام اور رسول اکرم کے زمانے کي طرح ايک بار پھر دشمن اپني تمام تر قوت و طاقت کے ساتھ ہمارے اس ايمان سے نبرد آزما ہے ۔ لہذا دشمني کي اصل وجہ ايمان ہے ۔ آج دنيا سمجھ گئي ہے کہ ايران اسي ايمان کي بنا پر متحد رہے گا اور اپنے رہبر کا انتخاب کرے گا ۔ يہي ايماني قوت ہے جس کي بنا پر ايران کسي بھي طاقت سے زيادہ خوف زدہ نہيں رہتا ہے ۔ ايران کي ترقي ، عروج ، فلاح و بہبود سب کچھ اس ايمان کي وجہ سے ہے ۔ لہذا آج دنيا ہمارے ايمان ، ہمارے مذہب کي وجہ سے ہماري مخالف ہو گئي ہے اور چاہتي ہے کہ کسي نہ کسي طرح اسلام و اسلامي انقلاب کو مخدوش کر ديا جائے ۔ اپنے خيا ل ميں وہ لوگ ہميں برا بھلا کہتے ہيں ، ہميں قدامت پسند کہتے ہيں در حاليکہ اس صورت ميں وہ ہماري تعريف ہي کرتے ہيں ۔

ہميں فخر ہے کہ ہم اسلامي اصول و تعليمات کي طرف پلٹ آئے ہيں ۔ يہي ہماري بلندي و قدرت کاراز ہے ۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران دنيا بھر نے ہمارے خلاف پروپيگنڈہ کيا ہے ۔ ہماري ملت ايسے افراد کو کسي بھي صورت ميں معاف نہيں کر سکتي جو کسي نہ کسي صورت ميں اسلام کي اہانت کرتے رہے ہيں ۔ اسلام و ايمان ہماري عزت اور ہماري نصرت ہے ۔ يہي اسلام و ايمان ہماري دنيا و آخرت کا ضامن ہے ۔

اسلامي انقلاب اور خدا پر ايمان

دنيا کے دوسرے انقلابوں کے بر خلاف ہمارا اسلامي انقلاب ايمان الہي کي بنا پر عالم وجود ميں آيا ہے ۔ يہي وجہ ہے کہ انقلاب کے حامي اور پيرو دنيا کي کسي بھي مادي طاقت کے آگے سر خم نہيں کرتے ?( و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون ) ( سورہ آل عمران ١٧٠ )

اسلامي ، الہي اور معنوي ايمان کي خصوصيت ، خدا پر کامل ايمان ہے ۔ يہ ايمان اولاً اس بات کا موجب ہوتا ہے کہ انسان دشمن سے خوف زدہ نہ ہو اور ثانياً ايسا انسان جو خدا کا معتقد ہے ، اپني تکليف اور ذمہ داري انجام ديتا ہے اور نتيجے کي پرواہ نہيں کرتا يعني اگر قتل کر ديا تب بھي فاتح اور اگر زندہ بچ گيا تب بھي فاتح ۔ ايسا شخص چونکہ مخلصانہ کام کرتا ہے لہذا خدا وند عالم اس کي کوشش رائگاں نہيں جانے ديتا۔ ايک نہ ايک دن اس کا خون رنگ لاتا ہے اور نتيجہ ظاہر ہو جاتا ہے ۔

ايک مومن اس طرح سوچتا ہے ۔ امام خميني ۲ ، اس انقلاب کے باني ، اسي نظريے کے معتقد تھے ۔ اسي لئے آپ جنگ ، سياست ، اقتصاد يات ، سماجیات وغيرہ کسي بھي ميدان ميں کبھي بھي تذبذب کا شکار نہيں ہوتے تھے ۔

امام خميني ۲ کا راستہ اور منزل واضح تھي ۔ لہذا بغير کسي ترديد و تذبذب کے استقامت کے ساتھ انقلاب کو اس کي منزل مقصود تک پہنچا ديا ۔

قربت خدا اور ہماري اسلامي حکومت

ہم سب ہي کي سعي و کوشش يہ ہوني چاہيے کہ خدا کو اپنے سے راضي کر سکيں ۔ ہماري اور ہمارے انقلاب کي کاميابي کا راز بھي يہي ہے ۔ ايک ايسا نظام کہ ساري دنيا کي مادي طاقتيں جس کي مخالفت کر رہي ہيں اور چاہتي ہيں کہ اس کو نيست و نابود کر ديں ، بحمد ا? روز بروز مستحکم اور قوي ہو رہا ہے ۔ اگر ايران ميں اسلامي نظام کے علاوہ اور کوئي دوسرا نظام ہوتا تو نہ جانے کب کا گزشتہ تاریخ ہوگیا ۔

ہم نے گذشتہ ٢٠ ، ٢٥بر سوں ميں کبھي بھي اپنے اصولوں کي پامالي نہيں کي ہے ۔ ہمارے جو اصول اوائل انقلاب ميں تھے ، آج بھي وہي ہيں اور انشائ ا... ہميشہ رہيں گے ۔ موجودہ اسلامي نظام حکومت کي استقامت اسي قربت خدا کي بنا پر رہي ہے ۔

آج دنيا کے مختلف ممالک ميں ايران کے اسلامي انقلاب کے نام پر نعرے لگائے جا رہے ہيں ۔ ہم يورپ ، افريقہ ، ايشيا وغيرہ کے مسلمانوں سے ايسے کون سے رابطے مستحکم کر سکے ہيں کہ امام خميني ۲ کي تاسف آور رحلت کے بعد ان مسلمانوں نے ہم سے اظہار ہمدردي کيا تھا ؟ امام خميني ۲ کي رحلت کے بعد ايک ايراني وفدکسي دوسرے ملک گيا ہوا تھا ۔ وہاں کي عوام نے اس گروپ کا استقبال اس طرح کيا کہ ان کے ہاتھ پشت گردن پر تھے اور وہ سب گريہ و زاري کر رہے تھے ۔ ہم ميں اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں ميں يہ رابطہ کس نے ايجاد کيا ؟ ہم نے ؟ قطعاً نہيں ، ہمارے اور ان کے درميان يہ روحي و قلبي رابطہ خدا وند عالم نے خلق کيا ہے ۔

قرآن کريم ميں خدا وند عالم نبي کريم سے فرما رہا ہے( لو انفقت ما في الارض جميعاً ما الفت بين قلوبهم ) ( سورہ انفال ٦٣ ) يعني اے رسول ! اگر تم دنيا کي ساري دولت خرچ کر ديتے تب بھي تم لوگوں کے قلوب کو نزديک نہيں لا سکتے تھے ۔ اسي طرح اگر دور حاضر ميں ہم بھي اپني ساري دولت خرچ کرديں تب بھي ہمارے اندر اتني صلاحيت نہيں ہے کہ لوگوں کے درميان روحي و قلبي ارتباط قائم کرسکيں ۔ چونکہ فقط خدا ئے تبارک و تعالي سے قرب ہي لوگوں کے درميان رابطہ ومحبت کا باعث بنتا ہے ۔

اسلام دين توحيد ہے توحيد يعني خدا ئے بزرگ کے ماسوا کسي کي عبادت نہ کرنا ، کسي کے آگے سر تسليم خم نہ کرنا يعني نظام و حکومت بشري کا گريباں چاک کردينا اور شيطاني و مادي طاقتوں کے طلسم کو ختم کر دينا ۔

توحيد يعني خدا کے ذريعہ دئیے گئے مظلوم کي ظالم پر فتح کے سلسلے ميں وعدے پر يقين کامل رکھنا ، رحمت خدا سے پر اميد ہونا اور شکست کے احتمال سے نہ گھبرانا۔ توحيد يعني خدا ئے عز و جل پر اعتماد ، يقين اور بھروسہ ۔

حيات طيبہ اور اسلام

آپ جس وقت عبادت خدا انجام ديتے ہيں ، نماز پڑھتے ہيں ، کسي غريب کي مدد کرتے ہيں يا کوئي دوسرا نيک عمل انجام ديتے ہيں تو آپ کو اندروني لذت حاصل ہوتي ہے۔ يقينا آپ نے اس روحاني لذت کا احساس کيا ہو گا۔ يہ احساس کسي مادي فعل کي انجام دہي کے ذريعہ حاصل نہيں کيا جا سکتا ۔ اس احساس کا مشاہدہ فقط وہي افراد کر سکتے ہيں جو خدا پر اعتقاد رکھتے ہيں ۔ ہر مومن کي زندگي ميں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہيں ،کسي کي زندگي ميں کم اور کسي کي زندگي ميں زيادہ ۔ بعض اوقات انسان ايسي حالت ميں پہنچ جاتا ہے کہ اپني اس حالت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ البتہ انسان کي مادي زندگي اس کو اس روحاني حالت سے باہر نکال ديتي ہے اور اسي لئے يہ روحاني حالت شاذ و نادر ہي حاصل ہو پاتي ہے ۔

وہ افراد جو خدا پر ايمان کامل نہيں رکھتے ہيں اس طرح کي روحاني کيفيات سے لطف اندوز نہيں ہو سکتے ۔ ايسے نہ جانے کتنے افراد ہوں گے کہ مادي زندگي گذارنے کي بنا پر انھوں نے اپني ساري زندگي ميں ايک دفعہ بھي اس لذت بخش کيفيت کا احساس نہيں کيا ہوگا ۔

اسلام اسي ہدف کے تحت نازل کيا گيا تھا کہ انسان کو اس عظیم مقام کي طرف لے جائے جو اس کي منزل مقصود ہے ۔ اسلام قلوب کو منور و روشن کرنے آيا تھا ، برائيوں کي جگہ نيکيوں کو رائج کرنے آيا تھا کہ ان راہوں سے ہم مذکورہ روحاني و معنوي لذت کا احساس کر سکيں اور نہ فقط محراب عبادت ميں بلکہ اپني روز مرہ زندگي ميں بھي يعني ہر طرح کے امور ميں ياد خدا کو فراموش نہ کريں ۔

اگر دنيا ميں ايسے افراد پيدا ہو جائيں کہ جن کا سارا ہم و غم ياد خدا ہو تو ہر طرح کا ظلم و جور ، ناانصافي ، جنگ ، فساد وغيرہ خود بخود ختم ہو جائيں گے ۔ اگر ايسے افراد پيدا ہو گئے تو ان کي حيات کو بھي حيات طيبہ کہا جاسکتا ہے ۔ ليکن حيات طيبہ سے مراد يہ نہيں ہے کہ انسان فقط عبادت گذار ہو ، نماز بجا لاتا ہو ، روزہ رکھتا ہو وغيرہ وغيرہ اور بقيہ امور زندگي سے قطع نظر کر لے بلکہ حيات طيبہ سے مراد يہ ہے کہ دنيا و آخرت ميں باہمي امتزاج پايا جاتا ہو ۔

حيات طيبہ سے مراد يہ ہے کہ اگر ايک ملت اپني ترقي و فلاح و بہبود کے لئے کوشش کر رہي ہے ، معاشيات ، سماجیات ، تعليم ، ٹيکنالوجي وغيرہ جيسے ميدانوں ميں کام کر رہي ہے تو ضروري ہے کہ ساتھ ہي ساتھ اس ملت کے قلوب ياد خدا سے مملو بھي ہوں یعني دنياوي و اخروي امور کے ساتھ ساتھ خدا سے رابطہ بھي برقرار رہے ۔ يہي اسلامي حکومت کا ہدف ہے ۔ يہي وہ ہدف ہے کہ جس کے لئے انبيائے کرام کي طويل فہرست نازل کي گئي ، اسلام نازل کيا گيا ، قرآن نازل کيا گيا ، مصلحان عالم نے بھي اسي ہدف کو بيان کيا ۔ گذشتہ ١٠٠ ، ١٥٠ برسوں ميں مختلف اسلامي شخصيات نے بھي اسي جانب توجہ دلائي ہے۔

اسلام اور حيات طيبہ

ہمارے تمام مشخص اہداف فقط ايک لفظ، اسلام ميں سمٹے ہوئے ہيں ۔ اسلام فقط ايک عقيدہ کا نام نہيں ہے بلکہ اسلام يعني حيات طيبہ ۔ جس وقت نظام اسلامي اور حيات اسلامي کا ذکر آتا ہے تو اس وقت مراد يہي ہوتي ہے کہ يہ ايک ايسا نظام ہے جس ميں بشري ضرورتوں اور اس کے کمال کے لئے تمام احکامات بيان کر دئے گئے ہيں يعني يہ ايسا نظام ہے جس ميں مادي اور معنوي و روحي تمام ضروريات کا لحاظ رکھا گيا ہے ۔ اسلام نے اس کو ثابت بھي کر ديا ہے کہ اگر معاشرہ اسلامي عقائد کا تابع ہو اور اسلامي تعليمات پر عمل پيرا ہو تو اسلام ہر موقع پر اس معاشرہ کا دفاع کر سکتا ہے ۔

آج ساري دنيا فقط اسي وجہ سے ہماري دشمن ہے کہ ہم تابع اسلام ہيں( و ما نقموا منهم الا ان يومنوا با? العزيز الحکيم ) ( سورہ بروج ٨ ) ليکن يہ بھي حقيقت ہے کہ اس پر آشوب دور ميں اگر ہم کو کوئي پناہ گاہ حاصل ہو سکتي ہے تو وہ فقط اسلام ہے ۔ اسي اسلام کے دائرے ميں رہ کر ہم اپني شخصيت ، کردار اور حيات طيبہ کي حفاظت کر سکتے ہيں ۔

اسلام ميں انساني رشد و کمال کے تمام عناصر کا وجود

اسلام کي اہم ترين خصوصيت يہ ہے کہ اس مين انسان کے رشد و کمال کے تمام تر عناصر خواہ مادي ہو ںيا معنوي ، موجود ہيں يعني اسلام ميں( خلق لکم ما في الارض جميعاً ) اور( قل من حرم زينة الله اخرج لعباده ) کے علاوہ رسول اکرم کے ذريعہ ايک کاريگر کا ہاتھ چومنا اور خود امير المومنين کا کسب معاش کرنا پايا جاتا ہے ۔ اسلام نے يہ بھي کہا ہے کہ اگر کوئي شخص کسب معاش نہ کرے تو اس کي دعائيں مستجاب نہيں ہوتي ہيں ۔ رسول اکرم کے زمانے ميں کچھ لوگ ? و من يتوکل علي ا? فھو حسبہ ? پر تکيہ کرتے ہوئے خانہ نشين ہو گئے تو آپ نے فرمايا : خدا تم لوگوں کي کوئي دعا مستجاب نہيں کرے گا ۔ آخر تم لوگ يہ کيا کر رہے ہو ؟

رسول اکرم نے ايسا کيوں فرمايا ؟ اس لئے تاکہ معاشرہ معاشي اعتبار سے بھي وسعت پيدا کرے ۔ اگر اوائل اسلام ( جب اصحاب صفہ مسجد ميں زندگي بسر کر رہے تھے )اور اسلام کے پچاس سال کے بعد کي اجتماعي زندگي کا تقابل کيا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے ۔ يہ بعد کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب معاشرہ ہر طرح کي معاشرتي ۔ اقتصادي نعمتوں سے پر تھا ۔ ہر طرف خوشحالي تھي ، ہر طرف ترقي و رشد تھا۔ يہ ترقي و رشد اسي بنا پر تھا کہ اسلام نے زندگي کے ہر شعبے پر نظر رکھي ہے ۔ مادي زندگي کے علاوہ روحاني اور معنوي زندگي کا بھي خيال رکھا ہے ۔ قرآن فرماتا ہے (( قل ما يعبوا بکم ربي لولا دعائکم يا و قال ربکم ادعوبي استجب لکم ) ‘‘) يعني دعا کرو تاکہ خدا تمہاري دعاوں کو مستجاب کرے گا۔

روحاني و معنوي زندگي فقط اور فقط قرب خدا کے ذريعہ حاصل کي جا سکتي ہے۔ جس لمحے انسان خدا سے غافل رہے گا اس لمحے اس کا قلب مردہ ہوجائے گا اور روح مردہ ہو جائے گي اسي طرح جس لمحے قرب خدا حاصل ہو جائے گا اس لمحے قلب و روح بھي زندہ ہو جائيں گے ۔ ورنہ قلب ہميشہ ہميشہ کے لئے مر جائے گا اور ايک وقت وہ بھي آئے گا جب قلب ، پتھر کي شکل اختيار کر لے گا ۔قرآن کريم فرماتا ہے( آ لم يان للذين آمنوا ان تخشع قلوبهم لذکر ا ) ( سورہ رعد ٢٨ )

اسلام جہاں مادي اور معاشي رشد و ترقي کي طرف ترغيب دلاتا ہے وہيں يہ بھي کہا جا سکتا ہے کہ يہ معاشي اور مادي رشد و ترقي قرب خدا اور رضائے خدا حاصل کرنے کے لئے کي جانا چاہيے ۔ انسان کوئي بھي فعل انجام دے اس کے پيش نظر خدا اور ياد خدا ہوني چاہيے ۔ اسلام مادي ، معنوي و روحاني زندگي کو ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے ۔

اسلام کسي ايک زمانے سے مختص نہيں

قرآن مجيد ميں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( هو الذي بعث في الاميين رسولاً منهم يتلو عليهم آياته و يزکيهم و يعلمهم الکتاب و الحکمة ) ( سورہ جمعہ ٢ ) اس آيت سے مراد يہ نہيں ہے کہ دين خاتم اور رسول خاتم کے آنے سے بشر مکمل طور پر تزکيہ نفس حاصل کر لے گا يا حاصل کر ليا ہے ۔ اس سے مراد يہ نہيں ہے کہ نزول قرآن کے بعد بشر ظلم ، شقاوت ، ناانصافي کو يکسرے خدا حافظ کہہ دے گا بلکہ حقيقت اس کے برخلاف ہے۔ تاريخ شاہد ہے کہ طلوع اسلام کے بعد دنيا ميں حتي اسلامي معاشرہ ميں دو تين دہائياں گذرنے کے بعد بشريت پر ظلم ہوا ، بشر منحرف ہو گيا ، باطل غلبہ پا گيا وغيرہ وغيرہ ۔

لہذا اس آيت سے مراد يہ نہيں ہے کہ رسول کي بعثت کا ہدف نجات انسان ہے ، بلکہ مراد يہ ہے کہ رسول اور اسلام نے جو کچھ بھي بشريت کو عطا فرمايا ، وہ ايک ايسا شفا بخش نسخہ ہے جو ہر زمانے کے مريض کي دوا ہے ۔ ايک ايسا نسخہ ہے جو جہالت ، ظلم يا ناانصافي ، بد اخلاقي جيسے تمام امراض کا علاج ہے ۔

دوسرے تمام نسخوں کي طرح ، اگر اس نسخے پر بھي عمل ہو گيا تو بشريت نجات پا سکتي ہے ورنہ وہي ہو گا جو کسي ڈاکٹر کے تشخيص دادہ نسخہ پر عمل نہ کرنے کي بنا پر ہوتا ہے ۔ کسي اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے بہترين نسخے تجويز کرنے کے بعد اگر اس نسخے پر عمل پيرا نہ ہوا جائے اور مرض سے افاقہ نہ ہو تو اس ميں ڈاکٹر کي کيا خطا ہے ؟

صدياں گذر چکي ہيں ، مسلمان قرآن مجيد کو فراموش کر چکے ہيں ، زندگي ميں قرآن کے لئے کوئي مقام نہيں ہے ، قرآن پر عمل نہيں ہو رہا ہے يا قرآن کو تحريف کر ديا گيا یا غلط تفسير کر دي گئي ہے ، قرآن کو اگر سمجھ بھي ليا گيا ہے تو اقدام کرنے کي جرآت نہيں ہے ۔ اگر رسول اکرم کے زمانے ميں بھي رسول کے فرامين پر عمل نہ کيا جاتا تو کسي بھي صورت ميں معاشرہ کي حالت تبديل نہيں ہو سکتي تھي ۔

اسلام اور عالم اسلام کے مسائل

عرب کے جاہل معاشرہ ميں پائے جانے والے اکثر مسائل آج دوبارہ عالم اسلام ميں اپني جگہ بنا چکے ہيں يا بنا رہے ہيں ۔ غربت ، جہالت ، پسماندگي ، بد اخلاقي ، باہمي اختلافات آج کے مسلم ممالک کا خاصہ ہيں ۔ آج دنيا ميں ايک ارب سے زيادہ مسلمان موجود ہيں۔ يہ ايک اتني بڑي تعداد ہے کہ موجودہ دنيا ميں اپنا تشخص قائم کر سکتي ہے ، اپني بات منوا سکتي ہے ليکن حقيقت اس کے برخلاف ہے ۔ مسلمانوں کے باہمي مسائل خود ہي اتنے زيادہ ہيں کہ وہ انھیں ميں الجھے رہتے ہيں جب کہ اس ايک ارب آبادي ميں علمائ بھي ہيں اور دانشمند بھي ۔ يہ افراد کيا کچھ نہيں کر سکتے ؟ بہت کچھ کر سکتے ہيں ليکن شرط يہي ہے کہ تعليمات رسول اکرم اور قرآن پر عمل کيا جائے ۔

اسلام باعث عزت و افتخار

اسلام انسان کو عزت بخشتا ہے ۔ انسان جب اپنے وجود ميں عزت کا احساس کرتا ہے تو کسي بھي قيمت پر دوسروں کے آگے دست درازي نہيں کرتا ، دشمن کے آگے سر تسليم خم نہيں کرتا ۔ آج ہم مشاہدہ کر رہے ہيں کہ دنيا کي مختلف اسکتباري طاقتيں مخصوصاً امريکہ مختلف ممالک اور اقوام کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں اس کي وجہ فقط اور فقط ان محکوم ممالک اور اقوام ميں عزت نفس کا نہ ہونا ہے ۔ سب سے پہلے ان قوموں کو اسلام اور ان کي تاريخ و تہذيب سے دور کيا جاتا ہے اور پھر ان کو باطل افکار و عقائد کا تابع بنا ديا جاتا ہے ۔ يہ ايک ايسي روش ہے جس پر ساري دنيا سے عمل کر وایاجارہا ہے ليکن ايک ايسي قوم جس ميں قلبي اور حقيقي ايمان پايا جاتا ہے کسي بھي قيمت پر ان شيطاني طاقتوں کي پيروي نہيں کرتي اور اپنے معاملات و مسائل کو استقلالي طور پر خود حل کرتي ہے ۔

اسلام محمدي اور امريکي اسلام

بحمد ا? ہماري راہ و منزل اسلامي ہے ۔ ہمارا راستہ وہ اسلامي راستہ ہے جس سے دشمن ہميشہ خوف زدہ رہتا ہے اور اس کے برعکس مظلوم و کمزور افراد پر اميد اور خوش رہتے ہيں ۔ اسلام اگر فقط ظاہري اسلام رہ جائے تو دشمن کا آلہ کار بن جاتا ہے ۔ يہي وہ اسلام ہے جس کے بارے ميں امام خميني ۲ نے بارہا کہا

تھا کہ يہ امريکي اسلام ہے ۔ہم اس ظاہري اسلام يعني امريکي اسلام کو قطعاً قبول نہيں کرتے ہيں ۔

اسلام محمدي وہ اسلام ہے کہ ساري دنيا ميں ابو جہلانہ طاقتيں اس سے خوف زدہ رہتي ہيں ۔ اگر کسي جگہ اسلام سے ابو جہل اور ابو سفيان کي موجودہ طاقتیں خوف زدہ نہ ہوتي ہوں تو ہميں ايسے اسلام کي طرف شک کي نگاہ سے ديکھنا چاہيے ۔ اگر کہيں مظلوم اور ناتواں افراد اسلام کي طرف پر اميد نگاہوں سے نہ ديکھتے ہوں تو بھي ايسے اسلام کو اسلام نہيں کہا جا سکتا ۔

موجودہ متمدن بشريت ايک مصلح اور عالم مہدي کے انتظار ميں ہے ۔ امام مہدي کے بارے ميں مسلمانوں کا نظريہ يہ ہے کہ( يملآ الله به الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً ) ( بحار الانوار ج ٥١ ، ص ١٢ ) يعني خدا وند عالم امام مہدي کے توسط سے دنيا کو عدل و انصاف سے اسي طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم و جور سے پر ہوگي ۔ لہذا وہ اسلام جس ميں عدل و انصاف کا مادہ نہ پايا جاتا ہو کس طرح بشريت کا منظور نظر بن سکتا ہے ؟ بشريت اسي اسلام کي جانب قدم بڑھا سکتي ہے جس ميں ظلم و جور و ناانصافي وغيرہ کا وجود نہ ہو اور ايسا اسلام وہي اسلام ہے جس ميں مہدي موعود کا تصور موجود ہو ۔

يہي وہ راستہ ہے جس کي طرف امام خميني ۲ نے بارہا اشارہ کيا تھا ۔ ايسا راستہ کہ جس ميں اطمينان بھي پايا جاتا ہے اور اميد بھي ۔ ليکن يہ راستہ با آساني ہاتھ نہيں آسکتا۔ اس کے لئے سعي و کوشش کي ضرورت ہے ۔ اس راستہ کو حاصل کرنے کے لئے ضروري ہے کہ قرب خدا حاصل کيا جائے ۔

اسلام کي عادلانہ حاکميت

حکومت اسلامي يعني حکومت عدل و انصاف۔ ایک ايسي حکومت جو انساني جسم کے ساتھ ساتھ روح ، جذبات ، اخلاق اور معنويات کے مواقع بھي فراہم کرتي ہو اس معني ميں کہ دنيا و آخرت کو باہم لے کر چلے ۔

حکومت اسلامي ، ظلم کے مقابلے ميں ہے ، طاغوت کے مقابلے ميں ہے ۔ حکومت طاغوت يعني حکومت فساد و بد اخلاقي ، حکومت ظلم ۔ اس حکومت ميں دين و دنيا کا ضياع ہوتا ہے ۔

انسانیت کو اسلام محمد ي کي ضرورت

اگر چہ آج دنيا بھر کے تمدن و فرہنگ اسلام سے بہرہ ور ہيں اور بیشک بشر کے درميان موجود تمام صفات و عالي مفاہيم اديان الہي اور انبيائے کرام و آسماني وحي سے مستفاد ہيں ليکن پھر بھي بشر کو معنويت ، تعاليم و معارف اسلامي کي ضرورت ہے اور اسي وجہ سے روز بروز دنيا کے مختلف خطوں کے افراد اسلام کي دعوت کو قبول کر رہے ہيں ۔

اسلامي انقلاب اور دنيا کي بيدار ي

موجودہ اسلامي انقلاب چونکہ خدا کے نام پر عالم وجود ميں آيا ہے لہذا ہميشہ مختلف شيطاني طاقتوں سے جنگ آزما ہے ، چونکہ مظلوم اور ناتواں افراد کا حامي ہے لہذا ظالم و استکباري طاقتوں سے نبرد آزما ہے ، چونکہ انساني اقدار کے لئے ميدان عمل ميں آيا ہے لہذا ہميشہ ان افراد کي مخالفت کا سامنا کر رہا ہے جو انساني اقدار کے مخالف ہيں ۔

اسلامي انقلاب دور حاضر کا ايک ايسا انقلاب ہے جس نے دنيا کو بيدار کيا ہے ۔ ا س سلسلے ميں فلسطين اور شمالي افريقہ جيسے ممالک کا مشاہدہ کيا جا سکتا ہے کہ جہاں اسلام نے اپنا پرچم گاڑ ديا ہے ۔

ايک زمانے سے کافر اور استکباري ثقافت و تہذيب کے مقابلے ميں مسلمانوں کو کمزور اور ضعيف شمار کيا جاتا تھا ليکن آج اسلامي انقلاب کے رونما ہونے کے بعد حالات يکسرے بدل گئے ہيں ۔ کل تک جہاں لاکھوں مسلمان اپني حکومتوں سے اپنا حق مانگتے ہوئے گھبراتے تھے آج اس انقلاب کي بدولت بلاخوف و خطر اپني آواز بلند کرتے ہيں اور حق طلبي کرتے ہيں ۔

آج اسلامي ممالک ميں مساجد آباد ہو گئي ہیں ، نماز جمعہ کا اہتمام ہو گيا ہے ليکن کل تک ان مسجدوں ميں فقط چند بوڑھے افراد ہي آيا کرتے تھے۔ اب مسجدوں ميں فقط بوڑھے افراد نہيں بلکہ بڑي تعداد ميں نوجوان اور جوان طبقہ بھي آتا ہے ۔ يہ جمہوري اسلامي کے موجودہ اسلامي انقلاب ہي کي برکات ہيں ۔

بندہ خدا بندہ انسان نہيں ہو سکت

بعض افراد خيال کرتے ہيں کہ نظريہ توحيد بعد از مرگ زمانے سے مربوط ہے۔ جبکہ حقيقت يہ ہے کہ توحيد پر اعتقاد اور يقين قبل از موت یعني عالم دنيا کي تعمير اور اصلاح کا پيش خيمہ ہوتا ہے ۔ دور حاضر ميں ہميں بلکہ ساري امت اسلاميہ کو اسي نظريہ اور اعتقاد پر عمل پيرا ہونے کي ضرورت ہے ۔ جس قدر ہم توحيد اور عبوديت خدا کي سمت قدم بڑھائيں گے اتنا ہي دنيا کي شيطاني اور استکباري طاقتوں سے محفوظ تر ہوتے جائيں گے ۔ جمہوري اسلامي کي مسلمان ملت نے جس حد تک توحيد خدا وند عالم کو قبول کيا ہے اسي حد تک امريکہ اور دوسري استکباري طاقتوں کے شر سے محفوظ اور ان کي غلامي سے آزاد ہے ۔ يہ ہے توحيد اور عبوديت خدا وندي کا خاصہ ۔

صرف مذہب ہي موجودہ دنيوي مسائل کا حل ہے

اگر مذہب موجود نہ ہو تو دنيا ميں فقط استکبار اور ظلم باقي رہ جائے گا ۔لہذا فقط دين ہي اس طرح کے مسائل و مشکلات کا حل ہے ۔ آج تمام اسلامي ملتوں کا وظيفہ اور ذمہ داري ہے کہ اسلام کو اپني آماجگاہ بنائيں اور اسلام کي حاکميت کو قبول کريں ۔ اتفاقاً اسلامي ملتوں کے علاوہ دوسري تمام ملتوں کے پاس ايسا کوئي عالي اور مقدس نظام حيات اور نظام حکومت نہيں ہے کہ جس کي طرف قدم بڑھائيں۔

يہي وجہ ہے کہ نيشنلزم ان کي قبر بنتا جا رہا ہے ، نيشنلزم نے بشريت کو کيا ديا ہے ؟ ممکن ہے کہ نيشنلزم ايک مختصر سے عرصے کے لئے اطمينان ، سکون اور جوش وغيرہ فراہم کر دے ليکن اس کا نتيجہ نہايت بدتر ہے اور وہ ہے بشريت کا خاتمہ ۔ خود ہمارے علاقے ميں يہ کوشش کي گئي کہ اس علاقے کے مسلمانوں کو نيشنلزم کي بنياد پر ايراني ، ترکي ، عربي وغيرہ ميں تقسيم کر ديا جائے اور نہ فقط بين الاقوامي پيمانے پر بلکہ قومي پيمانے پر بھي يہ کوشش کي گئي ، يہ ہے استعماري سازش ۔

بحمد ا? اسلامي انقلاب نے کسي حد تک اس خطے کے ان مسائل کا سد باب کيا ہے کيونکہ ايک مناسب اور صحيح نظام حکومت اور نظام حيات ہي ملت کو اس طرح کے مسائل سے محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ دوسرے اديان و مذاہب اتفاقاً ايسا کوئي نظام حيات و حکومت نہيں رکھتے جو معاشرے کو ايک صحيح سمت ميں لے جاسکے ۔ يہ ہماري خوش قسمتي ہے کہ ہم اس طرح کے نظام حيات کے حامل ہيں ۔

ہمارا يعني مسلمانوں کا فريضہ ہے کہ ہم نظام اسلامي اور افکار اسلامي کي طرف ايک بار پھر پلٹيں تاکہ دنيا ميں اپنا ايک مقام اور تشخيص قائم کر سکيں ۔ ايک ارب کي آبادي کم نہيں ہوتي ہے ۔ يہي آج کے موجودہ مسائل کا حل ہے اور يہي رسول اکرم کي بعثت کا بھي ہدف تھا اور اگر ايسا ہو گيا تو خليج فارس ميں موجودہ ہماري ان مخالف طاقتوں کو منہ چھپانے کي جگہ نہيں ملے گي ۔

اسلام محور اصلي

محور اسلام ہے ۔ ہمارا فريضہ ہے کہ فقط اسلام کي خاطر قدم اٹھائيں اور اسلام کے نام پر آگے بڑھيں ۔ آج جمہوري اسلامي ، اسلام کا بنيادي مرکز ہے ۔ آج سارے عالم اسلام کي نگاہيں جمہوري اسلامي کي طرف لگي ہوئي ہيں جبکہ دوسري جانب نيشنلزم ميں کشش تو درکنار لوگ اس سے فرار کر اختيار کر رہے ہيں ليکن جمہوري اسلامي ہر شخص کو اپني طرف جذب کر رہا ہے ۔ اس کي وجہ کيا ہے ؟ اس کي وجہ ايمان ، اسلام اور جہاد في سبيل ا? ہے جس ميں ظلم ، فساد ، بد اخلاقي سے جنگ اور آزادي و عدل و انصاف کي حمايت شامل ہے ۔ اسي بنا پر اقوام عالم جمہوري اسلامي کي طرف جذب ہو رہي ہے ۔

اسلامي معاشرہ لوگوں کي عزت کا سبب ہے

اگر ہم خدا کي جانب ايک قدم بڑھائيں تو خدا بھي ہماري نصرت کرے گا ۔’’ من کان ? کان ا? لہ ‘‘ ( بحار الانوار ج ٨٣ ص ٣١٩ ) اگر ہم نے

خالصتاًخدا کي راہ ميں قدم اٹھايا تو خدا وند عالم بھي اپنے ارادے کو ہماري ترقي و ارتقائ ميں قرار دے گا اور پھر ساري کائنات کے اصول و قوانين ہمارے ساتھ ہوں گے اور اگر ايسا نہ ہو سکا تو ہم بھي دنيا کي دوسري اقوام کي مانند ہو کر رہ جائيں گے ۔ اگر انسان خدا سے انس نہ رکھتا ہو ، خدا کے لئے زندگي نہ گذارتا ہو تو کيا فرق پڑتا ہے کہ وہ ايراني ہو يا پاکستاني ، مسلمان ہو يا غير مسلمان۔ يہ ضمانت ہميں کون دے سکتا ہے کہ بالفرض اگر کوئي شخص اسلام پر اعتقاد رکھتا ہو اور کسي حد تک عبادت بھي انجام ديتا ہو تو اس کو دنيوي و اخروي عزت حاصل ہو جائے گي جبکہ ہم نے ديکھا بھي کہ گذشتہ صديوں ميں عزت و افتخار اسلامي ہمارے پاس نہيں رہا ۔

آج بھي ہم مشاہدہ کر سکتے ہيں کہ ايسے افراد موجود ہيں جو مسلمان تو ہيں ليکن ذلت کي زندگي بسر کر رہے ہيں ، کفار ان پر حاوي ہيں ، امريکہ ان پر حکومت کر رہا ہے ، مغربي دنيا کے نام نہاد متخصصين ان پر تجربات کر رہے ہيں ۔ لہذا اگر يہ کہا جائے کہ مسلمان ہونا ہي کافي ہے تو ان سب کو باعزت و با افتخار زندگي بسر کرني چاہيے جبکہ ايسا نہيں ہے ۔

پس اس طرح کہنا چاہيے کہ انسان کو عزت و افتخار، اصل اور حقيقي اسلام سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ فقط ظاہري مسلمان ہونے سے يعني خدا کے سامنے سراپا تسليم ہو جانا ہي حقيقي مسلمان ہونے کے مترادف ہے ۔ ’’الاسلام هو التسليم ‘‘ ( بحار الانوار ج ٦٥ ص ٣٠٩ ) يعني سراپا تسليم ’’( ان الدين عند الله الاسلام ) ‘‘ ( آل عمران ١٩ )۔ دين يعني خدا کے حضور سر تسليم خم کر دينا ۔ ’’( و من يبتغ غير الاسلام دينا ً فلن يقبل منه ) ‘‘ ( آل عمران ٨٥ ) ۔الغرض معاشرہ کے ہر فرد کے لئے خواہ عوام الناس ميں سے ہو يا خواص ميں سے ، لازم ہے کہ بارگاہ خدا وندي ميں سراپا تسليم ہو مخصوصاً معاشرہ کے ذمہ دار افراد ۔

آئندہ زمانہ اسلام کا زمانہ ہے

ہماري خوش قسمتي ہے کہ آج عالم اسلام ميں بيداري کي ايک لہر دوڑ گئي ہے اور مسلمان اسلام کي حاکميت کو قبول کر رہے ہيں ۔ مشرق سے مغرب تک چاروں جانب مسلمانان عالم اسلام کي طرف جذب ہو رہے ہيں ۔

شيطاني اور استکباري حکومتيں کب تک بعض اسلامي ممالک کے جوانوں کو عبادت حج سے روک سکيں گي ؟ کب تک مسلمانوں کو سفر مکہ و مدينہ سے باز رکھ سکيں گي ؟ آج اسلام شمالي افريقہ اور بعض دوسرے اسلامي ممالک کے سياسي حالات ميں تبديلي کا باعث بن رہا ہے ۔ کيا ممکن ہے کہ ان ممالک کے مسلمانوں کو بھي حج جيسي عظيم عبادت سے روکا جا سکے گا ؟ ہم حج اور زيارت حرمين شريفين کو اپنا مسلّم حق سمجھتے ہيں اور اپني تمام تر قدرت و طاقت کے ساتھ اپنے اس حق کا آل سعود سے مطالبہ کرتے ہيں کہ جنھوں نے ہمارے اس مذہبي حق پر تصرف کر رکھا ہے ۔ انشائ ا... ہم ايک دن آل سعود سے اپنا يہ حق چھين کر رہيں گے ۔

موجودہ کفر یعني استکبار کو سمجھ لينا چاہيے کہ آئندہ زمانہ اسلام کا ہے اور اس کے مقابلے ميں کوئي بھي طاقت اسلام کي بڑھتي ہوئي قدرت اور عالم اسلام ميں مسلمانوں کي مخالفت کرنے کي جرآت نہ کر سکے گي ۔

اسلام مسلمانوں کي خود شناسي کا سبب ہے

ايک دوسرا مسئلہ يہ ہے کہ اسلام مخالف طاقتيں اسلام کي بڑھتي ہوئي طاقت اور مسلمانوں کي روز افزوں بيداري سے متعلق باقاعدہ آگاہ ہو گئي ہيں ۔ اس کي وجہ يہ ہے کہ ان لوگوں نے ديکھ ليا ہے کہ اسلام اخلاقي اقدار سے ماورائ ايک نظام حيات پيش کر سکتا ہے يعني اسلام فقط اخلاقيات پر مبني مذہب نہيں ہے ۔

دشمنان اسلام نے ديکھ ليا کہ اسلام ہي تھا جس کي بنا پر ايران ميں اسلامي انقلاب رونما ہوا ، اسلام کي بنياد پر ہي ايک نظام حکومت کي بنا رکھي گئي ، اس دين کي بنا پر ايک ملت آگاہ اور بيدار ہوئي يعني وہ اسلامي قوت ہي تھي جس نے اس ملت کو ذلت اور غلامي سے نکال کر آزادي اور خود اعتمادي بخشي اور پھر ايک وقت ايسا آيا کہ سارے دنياوي وسائل و ہتھيار ان مسلمانوں کے آگے ہيچ ہو کر رہ گئے ۔

ہماراسب کچھ اسلام کي برکت سے ہے

ہمارے پاس جو کچھ بھي ہے اسلام کي برکت سے ہے ۔ ايران کا اسلامي انقلاب اسي اسلام کي برکت سے رونما ہوا ۔ اگر ہمارے پاس ايمان و اسلام نہ ہوتا تو قطعاً ممکن نہيں تھا کہ ظاہري اعتبار سے قوي اور قدرتمند شاہي حکومت کے مقابلے ميں ہماري ملت استقامت کر پاتي ۔

انقلاب کے بعد ، عوام کا ثبات قدم ، جمہوري اسلامي کي عميق ہوتي ہوئي جڑيں ، مختلف جہات سے ترقي و ارتقائ ،ايران عراق کي جنگ ميں ايران کي استقامت ، سياسي اور اقتصادي ميدانوں ميں ہماري فتح و کاميابياں يہ سب کچھ اسي لئے ہوا کہ ہم راہ حق کے مسافر ہيں ۔ يہ سب کچھ اسلام اور اعتقادات اسلامي کا مرہون منت ہے ۔لہذا ہمارا فريضہ ہے کہ ہم اپني اس بيش بہا معنوي قدرت کي حفاظت کريں ۔ ہماري روز مرہ زندگي ميں ، قول و فعل ميں ، معاشرہ ميں ، حکومتي پيمانے پر اس قدرت کا اظہار ہونا چاہيے ۔ ہماري تمام تر توجہ دين پر ہوني چاہيے ۔ ہمارے ذاتيات ، ہمارے جذبات و خواہشات کسي بھي صورت ميں دين پر حاوي نہيں ہونے چاہئيں ۔ ہماري روز مرہ زندگي ، حکومت ، معاشرے کے فيصلے اوراہداف کا معيار دين اسلام ہونا چاہيے۔ اگر ہم نے مذکورہ روش اختيار کر لي اور باقي رکھ لي تب ہي ہم ترقي کر سکتے ہيں ۔

البتہ يہ بھي قابل غور ہے کہ يہاں اسلام سے مراد اسلام محمدي ہے نہ امريکي اسلام يعني وہ اسلام جو مظلوم اور ستم رسيدہ عوام کي حمايت کرتا ہے نہ کہ قدرتمند اور اغنيائ افراد کا کھلونا ۔ دنيا ميں ايسے افراد بھي ہيں جو مسلمان ہونے کا دعوي توکرتے ہيں ليکن ان کا اسلام ،اسلام محمدي نہيں بلکہ ابو جہل و ابو لہب کا اسلام ہے ، امريکي اسلام ہے ۔ ايسے افراد کا اسلام سے فقط اتنا ہي سروکار ہوتا ہے کہ وہ اپني ذاتي زندگي کو کامياب بنا سکيں ، اسلام سے سوئ استفادہ کر سکيں وغيرہ وغيرہ ۔ يہ ايسا اسلام ہے جس سے فقط سرمايہ دار اور صاحب ثروت افراد ہي کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ہم اس اسلام کو کسي بھي قيمت اور کسي بھي صورت ميں قبول نہيں کرتے ہيں ۔

الغرض ہمارے پاس جو کچھ ہے اسلام کي وجہ اور اسلام کي برکت سے ہے یعني خدا پر توکل و ايمان کي وجہ سے ہے۔ لہذا قرب خدا اور ارتباط خدا کو کسي بھي حال ميں فراموش نہيں کيا جا سکتا ۔

اسلام مسلمان قوموں کي راہ نجات ہے

اگر اقوام اسلامي کي ترقي و عروج کے راز کي جستجو کي جائے تو تمام تر تاريخي مطالعات کے بعد خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کي ترقي و عروج فقط اور فقط اسلام پر منحصر ہے ۔ دنيا کے کسي خطے کے مسلمان استکباري طاقتوں کے ذريعہ پيدا کي گئي مشکلات اور مسائل کا سامنا اس وقت تک نہيں کر سکتے جب تک راہ اسلام کو نہ اپنا ليں ۔جمہوري اسلامي نے ايسا ہي کيا اور راہ نجات حاصل کر لي ۔

اسلامي انقلاب يعني صالح افراد کي تربیت

جمہوري اسلامي کا انقلاب اسي لئے عالم وجود ميں آيا ہے کہ صالح افراد پيدا کر سکے ۔ انھيں صالح افراد کي بدولت ہمارا اسلامي انقلاب آج تک باقي ہے ۔ ہماري قوم صالح ہے ليکن ابھي اس سمت ميں ہميں ايک طويل راہ طے کرني ہے ۔

احکام اسلامي کي پیروي

مسلمان ملت جس قدر اسلام کي پيروي کرے گي اسي حد تک دوام اور ترقي حاصل کرسکے گي۔ آج ساري دنيا بلکہ ہمارے مخالفين تک کيوں ہماري خارجہ پاليسي کي تعريف کرتے ہيں ؟ اسي لئے کہ ہماري خارجہ پاليسي احکام اسلامي پر مبني ہے ۔

اسلامي برکات

يہ اسلام ہي کي برکت تھي کہ ہم نے اپنے دشمن کو شکست دي ہے اور مايوس کيا ہے ۔ اسلام ہي تھا جس کي بنا پر ہم نے دشمن کے مختلف النوع حيلوں کو اپنے پيروں تلے روندا ہے ۔ يہ بھي اسلام ہي کي برکت تھي کہ ايران ميں انقلاب آيا اور ہم نے اپني تمام مادي و معنوي ترقي و ارتقائ کا آغاز کيا جو آج بھي جاري ہے ۔ ہمارے پاس جو کچھ بھي ہے اسلام کي وجہ سے ہے ، اسلام کي برکت سے ہے ، قرآن کي برکت سے ہے ۔ ہمارے تمام مسائل و مشکلات کا حل بھي اسلام اور قرآن کي پيروي سے حاصل ہو جائے گا ۔ عالم اسلام جس قدر اسلام سے نزديک رہے گا اتنا ہي اس کي عزت ميں اضافہ ہو گا اور مسلمان جس قدر متحد ہوں گے اتنا ہي اسلام سے استفادہ کا امکان بڑھ جائے گا ۔

اسلام عالمي استکبار کا شديد مخالف ہے

امريکہ اور اس کي حليف طاقتيں اچھي طرح سمجھ گئي ہيں کہ مذہب اور معرفت ديني کي بقا کے ساتھ ساتھ دنيا پر حکومت نہيں کي جا سکتي ۔ ان استکباري قوتوں کي کاميابي اسي ميں پوشيدہ ہے کہ دنيا کو دين و مذہب سے دور رکھيں ، عوام کو بے دين ، بے عقيدہ ، بے ايمان بنا ديں ، ان سے مذہبي حميت و غيرت چھين ليں ۔ امريکہ جيسے ممالک ايسا ہي معاشرہ چاہتے ہيں ۔ لہذا جب بھي اور کہيں بھي يہ ديکھتے ہيں کہ ايمان ، عمل ، جہاد وغيرہ کو رائج کيا جا رہا ہے تو فوراً اس کي مخالفت شروع کر ديتے ہيں لہذا اگر عالم اسلام چاہتا ہے کہ ان استکباري طاقتوں کا مقابلہ کرے تو لازمي ہے کہ پہلے خود کو قوي کرے ۔

قرب خدا اور توکل بر خد

ايک موحد اور خدا پرست قوم کي ترقي اور دوام اس وقت تک باقي رہ سکتا ہے جب تک وہ قرب خدا اور توکل بر خدا کے قانون پر عمل پيرا رہے ۔ اسي قوت نے ہميں آگے بڑھنے کي طاقت عطا کي اور ہميں کاميابي سے سرفراز کيا ہے ۔

يہي الہي قوت تھي جس نے ہميں دشمنوں پر غالب کيا ، ٨ سال تک ايران، عراق جنگ ميں ہميں استقامت عطا کي ،ہمارے داخلي اور خارجي مسائل کا تدارک کيا ، اقتصادي ، سياسي ، سماجي مشکلات سے ہميں باہر نکالا ۔ہماري جگہ اگر کوئي دوسرا ہوتا تو نہ جانے کب کا اپني راہ فراموش کر بيٹھتا ۔ يہي الہي قوت تھي کہ آج جس پر ہم فخر کر رہے ہيں اور باعزت زندگي گذار رہے ہيں ۔

آج اسلام کے ماسوا دوسري کوئي ايسي طاقت نہيں ہے جو دنيا کي موجودہ شيطاني طاقتوں کا مقابلہ کر سکے ۔ خدا کا شکر ہے کہ آج ايک بار پھر خورشيد اسلام نے سارے عالم اسلام پر نور افشاني شروع کر دي ہے اور عالم اسلام ، اسلام کے پرچم تلے ان شيطاني طاقتوں سے مقابلہ کے لئے آمادہ ہو رہا ہے ۔

يہ ايک اميد بخش اور فرحت افزا قدم ہے اور انشائ اللہ. عالم اسلام کي يہ بيداري امريکہ اور اس کي حليف طاقتوں کو پسپا کر دے گي اور دنیا کو نجات بخشے گي ۔

آج تمام اسلامي حکومتوں کي ذمہ داري ہے کہ اسلام محمدي سے قريب ہوں ۔ اگر يہ حکومتيں واقعي اپني عوام کي حامي ہيں تو فقط اسلامي احکام کي پيروي کے ذريعہ ہي اپني عوام کو نجات دلا سکتي ہيں کیونکہ فقط اسلام ہي عزت ، افتخار ، استقلال اور قدرت عطا کر سکتا ہے ۔

اسلامي انقلاب کي بنياد الہي اقدار پر ہے

جس وقت ايران کا اسلامي انقلاب رونما ہوا اس وقت دنيا سے الہي اقدار کا خاتمہ ہو چکا تھا اور ماديت نے انساني زندگي کو مکمل طور پر اپنے شکنجے ميں قيد کر ليا تھا ۔ آج اگر مشاہدہ کيا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ماديت کي بنياديں متزلزل ہو گئي ہيں ۔ وہ انقلاب جس کي بنياد ماديت پر رکھي گئي تھي يعني مارکسزم اور سوشلزم آج ماضي کا حصہ بن کر رہ گيا ہے ۔

انقلاب سے قبل ايسا نہيں تھا ۔اشتراکيت خود کو اس قدر قوي اور قدرتمند سمجھتي تھي کہ فقط اپني قدرت پر ہي اکتفا نہيں کي تھي بلکہ افغانستان پر فوجي حملہ کر دياتھا تاکہ اس طرف سے بھي اشتراکي نظام کو وسيع کيا جا سکے ۔ آج حالت يہ ہے کہ اشتراکيت ميوزيم کا حصہ ہے اور بس ۔ لطف اندوز بات تو يہ ہے کہ جن

ممالک ميں اشتراکي نظام حکومت رائج تھا وہاں اس نظام کي مخالفت کي باگ دوڑ ان ہاتھوں ميں تھي جو دين ، معنويت ، خدا ، عيسائيت کے پيرو تھے ۔ يہ تھي ايران کے اسلامي انقلاب کي نور افشاني ۔

جس وقت اسلامي انقلا ب رونما ہوا اس وقت اسلام کے بارے ميں ايسا کوئي نظريہ نہيں تھا کہ اسلام ايک حيات بخش انقلاب بھي لا سکتا ہے حتي اسلامي ممالک ميں بھي اگر کسي انقلاب کي بنياد رکھي جاتي تھي تو اشتراکيت پر ، انقلابي يعني اشتراکي۔ دنيا والوں نے اپنے زعم ناقص ميں اسلام کو کمزور اور ضعيف کر ديا تھا ۔ ظاہري حالات يہ تھے کہ کوئي شخص مسلمان ہونے کے ناطے خود پرفخر نہيں کرتا تھا ۔ آج حالات مختلف ہيں ، جہاں بھي کچھ مسلمان يکجا ہو جاتے ہيں خواہ اقليت ميں ہي رہ کر ، اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہيں۔ يہ سب کب سے ہوا ؟ اسلامي انقلاب کے بعد ۔

اسلامي انقلاب کي دوسري خصوصيت يہ رہي ہے کہ ظاہري اور مادي طاقتيں ، الہي اور معنوي اقدار کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہيں ۔ دنيا ميں ايسے بہت کم افراد ہوں گے جو اس حقيقت سے آگاہ نہ ہوں۔ فقط وہي افراد اس حقيقت سے نا آشنا ہيں جو دنيا ميں رونما ہونے والے واقعات کا عميق مطالعہ نہيں کرتے ہيں ۔ استکباري طاقتوں کي اہم ترين کمزوري اور شکست يہي ہے کہ آج بھي ايران ميں انقلاب ، اسلام ، اسلامي حکومت باقي ہے اور روز بروز روبہ ترقي ہے ۔ ايک اسلامي حکومت کا عالم وجود ميں آنا اور روز بروز ترقي کرنا دنيوي طاقتوں کي شکست کي علامت ہے کيونکہ يہ طاقتيں کسي بھي صورت ميں اسلامي حکومت کے وجود کو برداشت نہيں کر سکتيں ۔ دنيوي طاقتوں کي تو ہميشہ خواہش ہي يہ ہوتي ہے کہ اسلامي اور معنوي نظام حکومت کو جس طرح ممکن ہو سکے ، نيست و نابود کر ديں ۔ ان شيطاني طاقتوں کي لاکھ کوششوں کے باوجود آج بھي اسلامي انقلاب اور پيام اسلام اپنے مقام پر باقي ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ وسيع سے وسيع تر ہوتا جارہا ہے ۔ ايشيا ، افريقہ اور دنيا کے دوسرے ممالک اس کي واضح مثاليں ہيں يعني دشمنان اسلام ميں اسلام سے مقابلہ کرنے کي طاقت نہيں ہے ۔

معنويت اور نظام جمہوري اسلامي

يہ ايک حقيقت ہے کہ ايک دن ايسا آئے گا جب معنويت اور روحانيت دنيا پر محيط ہوگي ۔ ناممکن ہے کہ امريکہ اور اس کي مانند دوسري قدرتيں دنيا سے الہي اقدار کو ختم کر ديں ۔ امريکہ ، جمہوري اسلامي کي تمام تر مخالفت کے باوجود اپني کوششوں ميں کامياب نہيں ہو سکتا ۔ ہمارا اسلامي نظام حکومت اپني اسي آب و تاب کے ساتھ باقي رہے گا جس آب و تاب کے ساتھ موجودہ حالت ميں ہے بلکہ اس کي ضوفشانيوں ميں روز بروز اضافہ ہوتا رہے گا جيسا کہ آج تک ہوتا رہا ہے ۔ امريکہ کي لاکھ کوششوں کے باوجود اسلامي نظام نے ہر امريکي حملے کا پوري شدت سے جواب ديا ہے ۔


فصل ششم

مناجات و استغفار

استغفار

توبہ انسان کو حقارت اور ذلت سے نجات بخشتي ہے۔ توبہ دلوں کو پاک کرتي ہے۔ دل يعني جان يعني روح يعني حقيقت انسان۔ دل نہايت نوراني شي ہے۔ ہر انسان نوراني ہوتا ہے حتي اگر انسان کا خدا سے رابطہ منقطع ہو جائے تب بھي اسکي ذات اور اسکے جوہر ميں نور باقي رہتا ہے۔ صرف ہوتا يہ ہے کہ گناہوں اور ہويٰ و ہوس کي بنا پر دل غبار آلودہ ہوجاتا ہے۔ توبہ اس غبار کو صاف کر کے دل کو نورانيت بخشتي ہے۔

توبہ يعني طلب مغفرت اور گناہوں سے استغفار۔ توبہ اگر اپنے حقيقي مفہوم کے ساتھ کي جائے تو انسان کے اوپر برکات الٰہي کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ گناہ ہمارے اور ہمارے پروردگار کے درميان حجاب کا کام کرتا ہے جسکا نتیجہ يہ ہوتاہے کہ ہمارے اوپر سارے الٰہي دروازے بند ہوجاتے ہيں ، نہ رحمت الٰہي نازل ہوتي ہے نہ ہدایت الٰہي ، نہ توفیق الٰہي حاصل ہوتي ہے اورنہ فضل خدا۔ توبہ اس حجاب کو ختم کرنے کا باعث ہوتي ہے اور نتیجۃً رحمت و فضل خدا کا دروازہ ہمارے اوپر کھل جاتا ہے۔ يہ ہیں توبہ کے فائدہ۔ قرآن مجيد ميں متعدّد مقامات پر توبہ کے لئے کبھي دنياوي اور کبھي اخروي فوائد شمار کرائے گئے ہيں۔ مثلاً : ’’( و ان استغفروا ربکم ثم توبوا اليه ........يرسل سماء عليکم مدراراً ) ۔‘‘

توبہ يعني خدا کي طرف بازگشت۔ يہ ايک اہم ترين نعمت الہي ہے۔ خدا نے اپنے بندوں کے لئے باب توبہ کھول ديا ہے تاکہ اس کے بندے راہ کمال و سعادت ميں پيش قدمي کرتے رہيں اور گناہ اس راہ ميں مانع نہ ہو سکيں کيونکہ گناہ انسان کو اس کے اعليٰ مقام سے پستي ميں لا کھڑا کرتا ہے۔ ہر گناہ روح انسان اور معنويت انسان پر ايک ضرب کي مانند ہوتا ہے جس سے روح کي شفافيت مکدر ہو جاتي ہے۔ گناہ کے ذريعے انسان و حيوانات کے درميان پايا جانے والا فرق ختم ہو جاتا ہے۔

معنوي جنبہ کے علاوہ گناہ انسان کي زندگي ميں دوسري بہت سي رکاوٹیں بھي کھڑي کر ديتا ہے۔

نہ جانے کتني کاميابياں گناہوں کي انجام دہي کي وجہ سے ناکاميابيوں ميں تبديل ہو جاتي ہيں۔ يہ سب صرف زباني يا تعبدي باتيں نہيں ہيں بلکہ انہيں علمي، فلسفي اور نفسياتي طور پر بھي ثابت کيا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر جنگ احد ميں چند مسلمانوں کي کوتاہي اور تقصير کي بنا پر فتح اوّليہ، شکست ميں تبديل ہو گئي تھي يعني مسلمان پہلے مرحلہ ميں فتح حاصل کر چکے تھے ليکن ان چند لوگوں کي بنا پر جنہيں رسول اسلام نے پہاڑ کے دروں ميں معمور کيا تھا اور انہوں نے رسول کے حکم کي خلاف ورزي کي، مسلمان مشکلات کا شکار ہو گئے تھے۔ رسول اسلام نے حکم ديا تھا کہ مقررہ جگہوں سے مسلمانوں حفاظت کريں ليکن يہ لوگ مال غنيمت کے لالچ ميں اپني اپني کمين گاہوں کو چھوڑ کر ميدان ميں آگئے اور دشمن نے موقع غنيمت سمجھ کر مسلمانوں پر حملہ کر ديا۔

سورہ آل عمران ميں تقريباً دس یابارہ آيتيں اسي شکست سے متعلق ہيں۔ چونکہ مسلمان روحي اعتبار سے نہايت تلاطم اور کشمکش کا شکار تھے لہذا يہ شکست ان پر بے حد ناگوار گزري تھي۔ قرآني آيتيں جہاں ان کے اطمينان قلبي کا باعث ہوتي تھيں وہيں ان کي ہدايت بھي کرتي جاتي تھيں ساتھ ہي انہيں يہ بھي باور کراتي جاتي تھيں کہ اس شکست کي وجہ کيا تھي۔ ’’انّ الذين تولوا منکم يوم التقي الجمعان انما استزلہم الشيطان ببعض ذنوبہم‘‘ يعني تم نے ديکھا کے تم ميں سے بعض افراد نے دشمن کو پشت دکھا دي جس کا نتيجہ يہ ہوا کہ تمہيں شکست ہو گئي۔ يہ لوگ پہلے ہي سے ايسا کرنے کے لئے آمادہ ہو چکے تھے۔ان لوگوں کو ان کاموں کي بنا پر جو يہ پہلے بھي انجام دے چکے تھے، شيطان نے با آساني صراط مستقيم سے منحرف کر ديا يعني انجام شدہ گناہوں نے اپنا اثر ميدان جنگ ميں دکھايا۔

اسي مذکورہ سورہ ميں ايک دوسري آيت ايک دوسرے انداز سے اسي طرف اشارہ کر رہي ہے۔ قرآن کريم در حقيقت کہنا يہ چاہتا ہے کہ اگر تم جنگ احد ميں شکست کھا گئے تو يہ کوئي تعجب و حيراني کي بات نہيں ہے کیونکہ يہ سب زندگي کے معمولات ہيں۔ تم سے پہلے بھي ايسا ہوتا آيا ہے: ’’و کآيّن من نبي قاتل معہ ربيون کثير فما وحنوا لما اصابہم في سبيل اللہ و ما ضعفوا و ما استکانوا‘‘ قرآن مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ آخر تمہيں کيا ہو گيا ہے۔ تم سے پہلے بھي خدا کے نبیوں کو ميدان جنگ ميں مشکلات و شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا ليکن وہ تو ہراسا ںو پريشاں نہيں ہوتے تھے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: ’’وما کان قولہم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا في امرنا‘‘ يعني گزشتہ زمانوں ميں جب اصحاب انبيائ کے حوالي مشکلات و مسائل کا شکار ہوتے تھے تو پروردگار کي بارگاہ ميں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کرکہتے تھے: ’’ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا في امرنا‘‘ پروردگار ہمارے گناہوں اور ہمارے ذريعے کي گئي زيادتيوں اور غفلتوں کو معاف فرما۔

يہيں سے يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ مشکلات و مسائل ہمارے ذريعے انجام دیے گئے گناہوں ہي کا نتيجہ ہوتي ہيں۔ لہذا ضروري ہے کہ ہم اپنے پروردگار کے ذريعے نازل کي گئي اہم ترين نعمت یعني مغفرت سے استفادہ کريں۔ خدا وند عالم نے فرمايا ہے کہ اگر تم نے کوئي قبيح فعل انجام ديا اور اس پر بعد ميں پشيمان ہوئے تو تمہارے لئے استغفار اور توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ گناہ کي مثال کسي بيماري يا علالت کي سي ہے۔ انسان بيماري سے بہت کم محفوظ رہ پاتا ہے۔ گناہ بھي ايک مرض طرح کا ہے ۔اگر انسان اس مرض کا علاج کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ باب توبہ و استغفار کي طرف آئے۔ اگر انسان اس طرف آگيا تو خدا وند وعالم اتنا غفار ہے کہ اس گنہگار انسان کو بخش دے گا۔

صحيفہ سجاديہ کي پينتالیسويں دعا ميں امام سجاد خدا کي بارگاہ ميں عرض کرتے ہيں: ’’انت الذي فتحت لعبادک بابا الي عفوک ‘‘ يعني تو ہي ہے جس نے اپنے بندوں کي طرف عفو و مغفرت کا دروازہ کھول رکھا ہے۔ ’’ و سميتہ التوبۃ‘‘ جسکا نام تونے باب توبہ رکھا ہے۔ ’’و جعلت علي ذالک الباب دليلاً من وحيک لئلّايضلّوا عنه ‘‘ قرآن و وحي سے ايک راہنمابھي اس دروازے پر قرار دے رکھا ہے تاکہ تیرے بندے اس سفر ميں منزل سے بھٹک نہ جائیں۔ اس کے بعد فرماتے ہيں : ’’فما عذر من اغفل دخول ذالک المنزل بعد فتح الباب لاقامۃ الدليل‘‘ يعني اب اس کے بعد انسان کے لئے کيا دليل بچتي ہے کہ اس باب توبہ اور مغفرت الٰہي سے فیض ياب نہ ہو۔ راہ مغفرت الٰہي يعني استغفار۔

رسول اسلام سے حدیث منقول ہے کہ آپ فرماتے ہيں: ’’انّ الله تعالي یغفر للمذنبين الا من لا يريد ان يغفرله ‘‘ یعني خداوند عالم گناہگاروں کے گناہوں کو بخش ديتا ہے مگر ان گناہگاروں کے علاوہ جن کو خدا بخشنا نہيں چاہتا۔ اصحاب نے سوال کيا : ’’يا رسول الله ! من الذي يريد ان لا يغفرله ‘‘ يا رسول خدا وہ کون ہے جس کو خدا بخشنا نہيں چاہتا ؟’’قال من لا يستغفر‘ ‘ يعني وہ جو استغفار نہيں کرتا۔پس استغفار باب توبہ و مغفرت کي چابي ہے۔ استغفار کے ذریعے ہي مغفرت الٰہي کو حاصل کيا جا سکتا ہے۔

غفلت استغفارکي راہ ميں پہلي رکاوٹ ہے

اگر ہم چاہتے ہيں کہ اس نعمت الہي يعني استغفار تک دسترسي حاصل کريں تو ضروري ہے کہ دو صفتوں کو خود سے دور کريں۔ پہلي غفلت و بے توجہي اور دوسري غرور و تکبر۔ غفلت يعني يہ کہ انسان اصلاً متوجہ ہي نہ ہو کہ اس سے گناہ سرزد ہو رہا ہے۔ ايسے بہت سے افراد پائے جاتے ہيں جو گناہ پر گناہ انجام ديتے جاتے ہيں اور انھيں اپنے اس قبيح فعل کا احساس تک نہيں ہوتا۔ دروغ، غيبت، الزام تراشي وغيرہ اسي طرح کے گناہ ہيں۔ بعض افراد ايسے بھي ہوتے ہيں کہ اگر انھيں متوجہ بھي کرايا جائے تو تمسخرانہ انداز ميں قہقہہ بھي لگاتے ہيں۔ گناہ؟ گناہ يعني کيا؟ ايسے افراد اصلاً ثواب و عذاب کے ذرہ برابر بھي معتقد نہيں ہوتے۔ بعض دوسرے ثواب و عذاب کے معتقد تو ہوتے ہيں ليکن مکمل طور پر غفلت اور بے توجہي کے اس قدر شکار ہوتے ہيں کہ اپني ذات سے صادر شدہ فعل کا احساس بھي نہيں کر پاتے۔ اگر ہم اپني روز مرہ زندگي ذرا سا جھانکنے کي کوشش کريں تو با ساني واضح ہو جائے گا کہ ہماري زندگي بھي کم و بيش ايسے ہي حالات سے دو چار ہوتي ہے۔ غفلت ايک بہت خطرناک شئي ہے ۔شايد انسان کے لئے غفلت سے بڑا دشمن اور خطرناک شئي کوئي نہ ہو۔غافل انسان کسي بھي قيمت پر استغفار نہيں کرتا ہے اس کي ساري زندگي گناہوں ميں بسر ہو جاتي ہے اور اس کو احساس تک نہيں ہو پاتا فقط خواب غفلت کا شکار ہوکر رہ جاتا اور بس۔

قرآن کريم نے غفلت کے مد مقابل تقويٰ کو پيش کيا ہے۔ تقويٰ يعني ہميشہ اور ہر حال ميں متوجہ رہنا۔ غافل شخص سينکڑوں گناہ کرنے کے بعد بھي اپنے گناہ کي طرف متوجہ نہيں ہو پاتا ہے۔ اس کے مقابلے ميں متقي و پرہيزگار شخص ہے جہاں چھوٹا سا گناہ اس سے سرزد ہو ا فوراً اپنے گناہ کي طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور جلد از جلد اس کي تلافي کي فکر ميں مشغول ہو جاتا ہے۔ قرآن مجيد فرماتا ہے: ’’ان الذين اتقوا اذا مسهم طائف من الشيطان تذکروا ‘‘ اگر شيطان متقي افراد کے پاس سے گزر بھي جاتا ہے تو يہ لوگ فوراً متوجہ ہو جاتے ہيں۔ ’’فاذا ہم مبصرون‘‘ ايسے ہي لوگ با بصيرت ہوتے ہيں۔

غرور و تکبر راہ استغفار ميں دوسري رکاوٹ ہے

انسان جہاں ذراسا کوئي چھوٹاسا کام انجام دے ليتا ہے فوراً مغرور ہو جاتا ہے۔ صحيفہ سجاديہ کي چھياليسويں دعا ميں ايک جملہ ہے: ’’و الشقا الاشقائ لمن اغتربک ‘‘ يعني شقي ترين شخص وہ ہے جو تیرے سامنے غرور و تکبر سے پيش آئے۔ بعض افراد ايسے ہوتے ہيں جہاں کوئي کار خير انجام ديا فوراً يہ تصور کرلیتے ہيں کہ ہم نے خدا سے اپنا حساب بے باق کر ديا۔ اب ہميں کسي چيز کي ضرورت نہيں ہے۔ البتہ يہ ہو سکتا ہے کہ يہ جملہ زبان تک نہ آئے ليکن دل ميں تو بارہا آتا ہے اور يہي غرور ہے۔

خدانے اگر ہمارے لیے باب توبہ فراہم کردیا ہے تو اس کا مطلب يہ نہيں ہے کہ گناہوں کي کوئي حيثيت نہيں ہے۔ کبھي کبھي يہي گناہ انسان کے وجود حقيقي کو بھي ضائع کر دیتے ہیں اور ا س کو حيات انساني کے عالي مراتب سے ايک پست ترين حيوان ميں تبديل کردیتے ہيں۔

ضروري نہيں ہے کہ انسان ايک مدت تک گناہوں ميں غرق رہے تب ہي گناہوں کاا حساس کر سکتا ہے بلکہ گناہ ، گناہ ہے خواہ ايک گناہ ہو يا گناہوں کا انبار۔ گناہ کو قطعاً حقير نہيں سمجھنا چاہیے۔ روايت ميں’’استحقار الذنوب‘‘کے عنوان سے ايک باب ہے جس کے تحت گناہوں کو حقير فرض کرنے کي شديد مذمت کي گئي ہے۔ خدا کے مغفرت کرنے کي وجہ يہ نہيںہے کہ گناہوں کي کوئي حيثيت نہيں ہے لہذا وہ معاف کریگا بلکہ اسکي وجہ يہ ہے کہ انسان اس کے ذريعے خدا تک واپس آسکتا ہے اور خدا تک برگشت نہايت اہم ہے کہ روايات ميں جس کے لئے نہايت تاکيد کي گئي ہے۔

بہر حال حقيقاً وہي استغفار قابل ستائش ہے جو حقيقي اور دل کي گہرائيوں سے ہو۔ زبان سے توبہ اور استغفار کرنے سے کچھ حاصل نہيں ہو سکتا ۔ استغفار کي شرط يہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر شرمندہ ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا قوي ارادہ رکھتا ہو۔روايت ميں وارد ہوا ہے :’’من استغفره بلسانه و لم يندم بقلبه فقد استحضري بنفسه‘‘ يعني جو شخص زبان سے اسغفار کرے اور دل سے شرمندہ اور نادم نہ ہو ايسا شخص در حقيقت اپنے نفس کي تضحيک کرتا ہے۔ يہ استغفار نہيں ہے۔ استغفار سے مراد يہ ہے کہ انسان واقعي خدا وند عالم کي طرف برگشت کرے اور اس کي بارگاہ ميں دعا کرے کہ وہ اس کے گناہوں کو بخش دے۔

دعا ايمان کو قوي اور الہي وعدوں کو پورا کرتي ہے

دعا انسان کو خدا سے نزديک کرتي ہے۔ معارف ديني کو انسان کے دل ميں اثر انداز اور قائم رکھتي ہے۔ دعا ايمان کو قوي کرتي ہے يعني دعا کئي زاویوں سے برکتوں اور رحمتوں کي حامل ہوتي ہے۔ يہي وجہ ہے کہ قرآن مجيد ميں بارہا دعا اور بندگان صالح کے ذريعے کي گئي دعاؤں سے متعلق گفتگو کي گئي ہے۔ انبيائے الہي مسائل و مشکلات کے وقت خدا کي بارگاہ ميں دعا کرتے تھے ۔خدا سے مدد کي التماس کرتے تھے۔’’فدعا ربه اني مغلوب فانتصر‘‘ جو حضرت نوح سے منقول شدہ دعا ہے يا حضرت موسيٰ کي زباني قرآن فرماتا ہے:( ’’فدعا ربه ان هٰولائ قوم مجرمون ) ‘‘ ۔

قرآن کريم ميں خدا وند عالم نے متعدد آيتوں ميں دعاؤں کي قبوليت اور استجابت کا وعدہ فرمايا ہے مثلاً:( ’’وقال ربکم ادعوني استجب لکم‘ ) ‘ يعني تمہارے پروردگار نے فرمايا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو ميں تمہاري دعاؤں کو مستجاب کروں گا ۔اسي طرح ايک دوسري آيت ميں ارشاد ہوتا ہے:( ’’وسئلوا الله من فضله ان الله بکل شئي عليماً ) ‘‘ يعني اگر چہ خدا عالم ہے اور ہماري حاجتوں سے آگاہ بھي ہے مگر اس کے باوجود تم خدا سے طلب کرو۔ دعائے ابو حمزہ ثمالي ميں امام سجاد اسي طرف اشارہ فرماتے ہيں :’’وليس من صفاتک يا سيدي ان تامر باموال و تمنع العطية ‘‘ پروردگار تيري يہ صفت نہيں ہے کہ اپنے بندوں کو طلب کرنے کا حکم دے اور ان کے طلب کرنے پر انہيں عطا نہ کرے يعني خد اکے کرم اور اس کي قدرت کا مفہوم يہ ہے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ مجھ سے طلب کروتو در حقيقت اس نے ارادہ کر ليا ہے کہ استجابت بھي کرے۔’’واذا سئلک عبادي عني فاني قريب اجيب دعوة الداع اذا دعان ‘‘ ۔يعني جب بھي ميرے بندے آپ سے ميرے بارے ميں سوال کریں تو اے پيغمبر آپ کہديجئے کہ ميں ان کے قريب ہي ہوں ان کي دعاؤں کو سنتا اور استجاب کرتا ہوں۔ اگر کوئي شخص خدا سے کچھ طلب کرتا ہے تو فوراً اس کو حاصل ہو جاتا ہے: ’’بکل مسئلۃ منک سمع حاضر و جواب عتيد‘‘ يہ خدا کا قطعي اور سچا وعدہ ہے يعني خدا ہر طلب و دعا کا جواب ديتا ہے ليکن اس وعدے کے ساتھ کچھ شرائط بھي ہيں جن ميں سے ايک عمل صالح ہے:’’من عمل صالحاً فلنفسه و من اسائ فعليه ‘‘ ۔ قرآن مجيد ميں خدا نے اپنے بندوں سے جا بجا وعدے فرمائے ہيں۔ مثلاً:’’انا لا نضيع اجر من احسن عملاً ‘‘ يعني جو شخص کار خير انجام دیتا ہے خدا اس کي جزا اور اجر کو ضائع نہيں کرتا ہے۔ ايک جگہ فرماتا ہے:’’من کان يريد العاجلة عجلنا له فيها ما نشائ لمن يريد‘‘ يعني اگر کوئي انسان دنيا کو اپنا ہدف بنا لے تو ہم اس کے ہدف تک رسائي ميں اس کي مدد کرتے ہيںليکن کب ؟ جب وہ کوشش کرے ، جستجو کرے اقدام کرے اور آگے بڑھے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے:’’و من اراد الآخرة و سعي لها سعيها و هو مومن فاولئک کا ن سعيهم مشکوراًکلاً ۔۔۔هولائ و هولائ ‘‘ اس آيت ميں فرماتا ہے کہ جو لوگ آخرت کي خواہش کرتے ہيں اور اس سلسلہ ميں سعي و کوشش کرتے ہيں ہم ان کي بھي مدد کرتے ہيں۔

ايک آيت ميں دنيا کا تذکرہ ہے اور دوسري ميں آخرت کا اور دونوں ميں شرط يہ ہے کہ سعي و کوشش کي جائے۔ اگر انسان سعي و کوشش کرے تو خدا وند عالم يقينا اسے اس کے مقصد تک پہنچاتا ہے۔ يہ سنت الہي ہے۔ خدا کسي کي بھي زحمتوں اور کوششوں کو رائيگاں نہيں جانے ديتا۔

خدا وند عالم ايک دوسري آيت ميں يوں وعدہ فرماتا ہے:( ’’وعد الله الذين آمنوا منکم و عملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض کما يستخلف الذين من قبلهم‘‘ ) ۔کوئي بھي قوم اگر عمل صالح انجام دے تو خدا اس قوم کو زمين پر خليفہ بنا دے گاساري زمين کي قدرت اس قوم کے ہاتھ ميں ہوگي۔ ليکن شرط يہ ہے کہ ايمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھي ہو ورنہ فقط ايمان کي کوئي اہميت نہيں ہے۔ فقط ايمان سے کوئي نتيجہ حاصل نہيں ہو سکتا۔

ايک ديگر آيت کريمہ ميں خدا وند عالم وعدہ فرما رہا ہے:( ’’و الذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا ) ‘‘ يعني اگر کوئي راہ خدا ميں قدم اٹھائے تو خدا يقينا اس کي راہنمائي کرے گا۔

البتہ ضروري نہيں ہے کہ دعا ہميشہ معجزاتي طور پر قوانين الہي کو توڑتي ہوئي مستجاب ہو بلکہ دعا کا خاصہ ہے کہ دعا قوانين طبيعي کے دائرے ميں قبول ہوتي ہے۔ وعدہ خدا حق ہے ليکن يہ وعدہ بھي حق ہے کہ اگر انسان اپنے ہدف تک رسائي کے لئے عملي اقدام نہ کرے اور فقط بارگاہ الہي ميں دعا کرتا رہے تو دعا قبول نہيں ہوگي۔ ہو سکتا ہے کسي اور وجہ سے مستجاب ہو جائے ليکن استجابت کي کوئي ضمانت نہيں ہے۔ قوانين طبيعي کے خلاف دعا کي کوئي ضمانت نہيں ہوتي ہے۔ کبھي کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ دعا قوانين طبيعي کي مخالفت کے باوجود بھي قبول ہو جاتي ہے ليکن ايسا بہت ہي کم ہو تا ہے۔ جب دعا دل کي گہرائيوں اور پوري توجہ کے ساتھ کي جائے اور اگر ايسي دعا ميں عملي اقدام بھي شامل ہوجائے تو دعا کي استجابت کے امکانات نہایت روشن ہو جاتے ہيں۔ ساتھ ہي اگر قدرت خدا سے مايوس نہ ہوتے ہوئے مستقل دعا کي جاتي رہے تو بھي قبوليت دعا قوي ہو جاتي ہے۔ لہذا اگر باربار دعا کرنے پر بھي کوئي حاجت پوري نہ ہو تو مايوس نہيں ہونا چاہیے مخصوصاً ملک و قوم سے متعلق مسائل ميں۔ جس وقت فرعون کي ظالمانہ اور استکباري حکومت ميں حضرت موسيٰ متولد ہوئے تو آپ کي والدہ گرامي نہايت شش و پنج ميں مبتلا تھيں کيونکہ يہ واضح اور مسلم تھا کہ اس ملک ميں پيدا ہونے والا ہر لڑکا قتل کر ديا جائے گا۔ اگر حضرت موسی کي جگہ کوئي لڑکي پيدا ہوئي ہوتي تو آپ کي والدہ قطعاً پريشان نہ ہوتيں۔ بہر حال ايک طرف ماں کي محبت اور دوسري طرف فرعون کا حکم۔ اسي درميان خدا کي جانب سے مادر موسيٰ پر وحي ہوئي: ’’( واوحينا الي ام موسيٰ ان ارضعيه ) ‘‘ يعني ہم نے مادر موسيٰ کي طرف وحي کي کہ موسيٰ کو دودھ پلائيں۔’’فاذا خفت عليه فالقيه في اليهم‘‘ پس اگر خطرہ محسوس کرو تو صندوق ميں رکھ کر دريا کے حوالے کردو۔ خدا وند عالم نے قرآن مجيد ميں متعدد مقامات پر اس واقعہ کو نقل کيا ہے اور ہر بار ايک نئي ظرافت اور لطافت کے ساتھ بيان کيا ہے۔ الغرض مادر موسيٰ نے خطرے کا احساس کرتے ہي بچے کو دريائے نيل کے حوالے کر ديا۔ عجيب و غريب کيفيت ہے کہ ايک ماں اپنے نو مولود بچے کو دريا کے حوالے کردے ليکن خدا نے مادر موسيٰ سے اس طرح فرمايا: ’’( انا رادوه اليک و جاعلوه من المرسلين ) ‘‘ اس آيہ کريمہ ميں خدا نے مادر موسيٰ سے دو وعدے فرمائے۔ پہلا يہ کہ اس بچے کو واپس کرديں گے اور دوسرا يہ کہ اس بچے کو مرسلين ميں سے قرار ديں گے۔ جب بچے کو دريا ميں بہا ديا گيا تو خواہر موسيٰ سے کہا: ’’( وقالت لاخته قصيه ) ‘‘ جاؤ ديکھو کيا ہو رہا ہے! جيسے ہي صندوق فرعون کے محل کے نزديک سے گزرا: ’’( فالتقته آل فرعون ) ‘‘ فرعون کے خانوادے نے صندوق باہر نکال ليا۔ اُدھر خدا نے خانوادہ فرعون کے دل ميں يہ بات ڈال دي کہ اس بچے کي پرورش کرے۔ فرعون کي زوجہ، آسيہ نے کہا کہ کيا اچھا ہوگا اگر ہم اس بچے کي پرورش کر ليں۔:’’قرة عيني لي و لک و حرمنا عليه المواضع ‘‘۔ بچے نے دودھ پينے سے انکار کر ديا لاکھ کوشش کي گئي مگر جناب موسيٰ نے دودھ نہيں پيا۔ اس درميان خواہر موسيٰ آگے بڑھيں اور کہا: ’’هل ادلکم علي اهل بيت يکفلونه لکم ‘‘ آيا ميں ايسے گھرانے کي نشاندہي کروں جو تمہارے لئے اس بچے کي پرورش کردے۔

اگر خدا وند عالم ارادہ کر لے تو ا سطرح حالات و کوائف کو کسي کے بھي حق ميں ڈھال ديتا ہے۔ خواہر موسيٰ کو اس بات پر مامور کر ديا کہ وہ اپنے اندر شجاعت پيدا کريں اور فرعون کے محل تک آ جائيں اور فرعون کے سامنے اس طرح کي تجويز رکھيں۔ فرعون نے مثبت جواب دے ديا۔ خواہر موسيٰ گئيں اور مادر موسيٰ کو اپنے ساتھ لے آئيں۔ جيسے ہي موسيٰ نے اپني ماں کي خوشبو محسوس کي فوراً دودھ پينا شروع کر ديا۔ يہ ہے قدرت خدا! فرعون اور فرعونيوں کے ذہن و گمان ميں قطعاً ايسي کوئي بات پيدا نہيں ہوئي کہ يہي موسيٰ کي حقيقي ماں ہو سکتي ہے۔ خدا اس طرح اپنا وعدہ پورا کرتا ہے: ’( ’فرددناه الي امه ) ‘‘ ہم نے اس بچہ کو اس کي ماں کي طرف پلٹا ديا۔( ’’کي تقر عينها ولا تحزن ) ‘‘ تاکہ ان کي آنکھوں کي ٹھنڈک انہيں حاصل ہو جائے اور وہ غمزدہ نہ ہوں۔ ’’( ولتعلم ان وعد الله حق ) ‘‘ ساتھ ہي يہ بھي جان ليں کہ خدا کا وعدہ حق رہتا ہے۔ يہ وہ وعدہ ہے جس کو خود مادر موسيٰ نے اپني آنکھوں سے ديکھ ليا تھا ليکن دوسرا وعدہ: ’’( و جاعلوا من المرسلين ) ‘‘ يہ وہ وعدہ تھا جو مادر موسيٰ سے بعثت موسيٰ کے متعلق کيا گيا تھا جو برسوں کے بعد محقق ہونے والا تھا۔ اس وعدہ کے تحت جناب موسيٰ بطور رسول مبعوث ہونے والے اور بني اسرائيل کو فرعون کے ظلم و جور سے نجات دلانے والے تھے۔ تاريخي مسلمات کي رو سے يہ وعدہ بھي تقريباً چاليس سال کے بعد پورا ہوا اور جناب موسيٰ نے بني اسرائيل کو راہ نجات کي طرف ہدايت فرمائي۔

خدا اپنے وعدے اس طرح پائے تکميل تک پہنچاتا ہے۔ خدا وند عالم مسلمانوں کو فاتح و ظفرياب ديکھنا چاہتا ہے ليکن کب؟ اسي وقت جب مسلمان خواب غفلت سے بيدار ہوں۔ اٹھيں اور اس سلسلہ ميں سعي و کوشش کريں ۔وعدہ الہي يہ ہے کہ اگر کوئي قوم راہ خدا ميں جہاد کرے اور با ايمان بھي ہو تو يقينا فتح ياب ہوگي۔ ’’( ولما رآي المومنون الاحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله و رسوله و صدق الله و رسوله ) ‘‘ جس وقت جنگ احزاب ميں قريش، سقيف، يہوديوں اور دوسرے مختلف گروہوں نے ايک ساتھ مدينے کا محاصرہ کر ليا اور مسلمانوں پر حملہ کرديا تھا اس وقت خود مسلمان دو گروہوں ميں تقسيم ہو گئے تھے۔ ايک گروہ مومنين پر مشتمل تھا اور دوسرا غير مومنين پر۔ غير مومنين کہہ رہے تھے: ’’( ما وعدنا الله و رسوله الا غروراً ) ‘‘ يعني ہم فريب کھا گئے ہيں ۔اسلام ہمارے امن و امان اور عزت کي حفاظت نہيں کرسکا۔ دوسري طرف مومنين کا گروہ تھا جو يہ کہہ رہا تھا:( ’’هذا ما وعدنا الله و رسوله ) ‘‘ يعني يہ وہي وعدہ ہے جو خود خدا اور اس کے رسول نے ہم سے کيا تھا۔ وعدہ خدا و رسول اس واقع طرح ہوتا ہے:( ’’ان الذين آمنوا يقاتلون في سبيل الله و الذين کفروا يقاتلون في سبيل الطاغوت ) ‘‘ وہ لوگ جو مومن ہوتے ہيں راہ خدا ميں جہاد کرتے ہيں اور وہ لوگ جو ايمان نہيں رکھتے راہ طاغوت ميں جہاد کرتے ہيں۔اگر مسلمان ميدان جنگ ميں ڈٹا رہے اور خدا کي قدرت سے مايوس نہ ہو تو يقينا فتح اسي کي ہوگي ليکن اگر مايوس اور پسپا ہوگيا تو وعدہ خدا بھي بہر حال پورا نہيں ہوگا۔ پس اگر دشمن حملہ کردے تو تعجب کا مقام نہيں ہے بلکہ يہ تو وعدہ الہي ہے جو پورا ہو رہا ہے:

’’هذا ما وعدنا الله و رسوله و صدق الله و رسوله ما زادهم الا ايماناً و تسليماً ‘‘۔

تمام شد


فہرست

فصل اول: ۴

تقوي ٰ ۴

تقوي کے معني ۴

متقين کي عاقبت ۵

تقوي ،زندگي کے تمام شعبوں ميں موثرہے ۵

تقوي کے ذريعے انسان صراط مستقيم پر باقي رہ سکتا ہے ۵

تقوي تمام برکات کا سر چشمہ ہے ۷

تقوي کے ذريعے ہي قدرت خدا کاحصول ہوسکتاہے ۷

فصل دوم: ۹

اخلاص ۹

اخلاص کے معني ۹

اخلاص: اہم ترين اسلحہ ۱۰

اسلامي انقلاب کي بقائ اور دوام کا سر چشمہ صرف اور صرف اخلاص ہے ۱۰

اخلاص اورایثار ہي اسلامي انقلاب کے موجد ہيں ۱۱

ارادہ اور ايمان ہر طرح کے اسلحہ اور طاقت پر غالب ہوتے ہيں ۱۱

اخلاص اور قرب خدا : امام خميني ۲ کي کاميابي کا راز ۱۲

ہميں چاہيے کہ حضرت علي سے اخلاص کا درس حاصل کریں ۱۲

فصل سوم: ۱۳

ذکر و نماز ۱۳


انسان کیلئے تاريکي اور جہالت سے نکلنے کا واحد راستہ نماز ہے ۱۳

نماز سکون قلب کي باعث ہے ۱۳

اہتمام نماز ۱۴

نماز: دين کا ستون ۱۵

انسان کو ہميشہ نماز کي ضرورت ۱۵

عبادت رسول اسلام ۱۶

فصل چہارم: ۱۷

اخلاق ۱۷

اخلاقي انقلاب ۱۷

مسائل بشر ۱۷

معاشرے کے بنيادي ستون ۱۸

طالب علم اور خود سازي ۱۸

اخلاق تمام امور کي بنیادہے ۱۸

راہ امام خميني ۲ ۱۹

انساني کمال خواہشات نفساني سے مقابلہ ہے ۱۹

تحول اخلاقي جوانوں کے لئے آسان ہے ۱۹

انقلاب ، معنويات اور اخلاق اسلامي کے بغیر ناممکن ہے ۲۰

اخلاق، بعثت کا ایک اہم پیغام ۲۱

اخلاق حسنہ ۲۱

اخلاق کے اثرات وثمرات ۲۲


معنويت اور اخلاق سے عاري علم ايٹم بم کے مانند ہے ۲۲

فصل پنجم: ۲۳

ایمان ۲۳

ايمان کي علامتیں ۲۳

اسلامي انقلاب کے عوامل ۲۴

اس طرح آہستہ آہستہ يہ قصہ يہيں ختم ہو جاتا ہے ۔ ۲۵

ہمارے معاشرے کي سعادت کا راز خدا پر ايمان ۲۷

خدا پرايمان اسلامي فوج کا امتياز ۲۸

خدا کے ساتھ رابطے کي برقراري ہم سب کي ذمہ داري ہے ۲۸

ايماني قوت کے مقابل استکباري قوت کي کوئي حیثیت نہيں ہے ۲۹

نصرت خدا اور مومنين پر اعتماد ۲۹

اسلام پر ايمان ۳۰

اسلامي انقلاب اور خدا پر ايمان ۳۱

قربت خدا اور ہماري اسلامي حکومت ۳۱

حيات طيبہ اور اسلام ۳۲

اسلام اور حيات طيبہ ۳۳

اسلام ميں انساني رشد و کمال کے تمام عناصر کا وجود ۳۴

اسلام کسي ايک زمانے سے مختص نہيں ۳۵

اسلام اور عالم اسلام کے مسائل ۳۵

اسلام باعث عزت و افتخار ۳۶


اسلام محمدي اور امريکي اسلام ۳۶

اسلام کي عادلانہ حاکميت ۳۷

انسانیت کو اسلام محمد ي کي ضرورت ۳۷

اسلامي انقلاب اور دنيا کي بيدار ي ۳۷

بندہ خدا بندہ انسان نہيں ہو سکت ۳۸

صرف مذہب ہي موجودہ دنيوي مسائل کا حل ہے ۳۸

اسلام محور اصلي ۳۹

اسلامي معاشرہ لوگوں کي عزت کا سبب ہے ۳۹

آئندہ زمانہ اسلام کا زمانہ ہے ۴۰

اسلام مسلمانوں کي خود شناسي کا سبب ہے ۴۰

ہماراسب کچھ اسلام کي برکت سے ہے ۴۱

اسلام مسلمان قوموں کي راہ نجات ہے ۴۲

اسلامي انقلاب يعني صالح افراد کي تربیت ۴۲

احکام اسلامي کي پیروي ۴۲

اسلامي برکات ۴۲

اسلام عالمي استکبار کا شديد مخالف ہے ۴۳

قرب خدا اور توکل بر خد ۴۳

اسلامي انقلاب کي بنياد الہي اقدار پر ہے ۴۴

معنويت اور نظام جمہوري اسلامي ۴۵

فصل ششم ۴۶


مناجات و استغفار ۴۶

استغفار ۴۶

غفلت استغفارکي راہ ميں پہلي رکاوٹ ہے ۴۸

غرور و تکبر راہ استغفار ميں دوسري رکاوٹ ہے ۴۹

دعا ايمان کو قوي اور الہي وعدوں کو پورا کرتي ہے ۵۰