معارف اسلامی کورس
( عقائد، احکام،اخلاق )
( 2 )
ترتیب و تدوین
سیّد نسیم حیدر زیدی
بسم الله الرحمن الرحیم
فہرست
پیشگفتار 5
حصہ اوّل ( عقائد ) 8
درس نمبر 1 ( توحید اور شرک کی پہچان ) 9
درس نمبر 2 ( کیا غیر خدا کو پکارنا شرک ہے ؟ ) 16
درس نمبر 3 ( غیرخدا سے مدد مانگنا کیسا ہے؟ ) 22
درس نمبر4 ( بدأ ) 25
درس نمبر 5 ( توسل ) 30
درس نمبر 6 ( اولیائے خدا کی ولادت کے دن جشن منانا ) 35
درس نمبر 7 ( عدم تحریف قرآن ) 40
درس نمبر 8 ( منصب امامت ) 47
درس نمبر 9 ( صحابہ کرام ) 52
درس نمبر 10 60
( شفاعت ) 60
دوسرا حصہ ( احکام ) 63
سبق نمبر11 ( تقلید ) 64
درس نمبر12 ( طہارت و نجاست ) 69
درس نمبر13 ( وضو ) 75
درس نمبر 14 ( حصہ اول ۔غسل ) 81
حصہ دوم ( تیمم ) 87
درس نمبر15 ( نماز ) 90
درس نمبر16 ( واجبات نماز ) 94
درس نمبر18 ( روزہ کی قضا اور اس کا کفارہ ) 107
درس نمبر19 ( خمس ) 111
حصہ سؤم ( آداب واخلاق ) 123
درس نمبر 21 ( عبادت اور عبودیت ) 124
درس نمبر 22 131
درس نمبر 23 ( نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری ) 138
درس نمبر24 ( صلہ رحم ) 155
درس 25 ( مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا ) 161
درس نمبر6 2 ( سوئِ ظن ) 167
درس نمبر27 ( غیبت ) 171
درس نمبر28 ( غیبت کے آثار ) 176
درس نمبر29 ( گناہ اور اس کے آثار ) 182
درس نمبر30 ( توبہ ) 191
پیشگفتار
انسان کی عقل ہمیشہ اور ہر وقت کچھ سوالات کے جواب کی تلاش میں رہتی ہے،اگر یہ سوالات واضح اور حل ہوجائیں تو اس کے ضمن میں سیکڑوں سوالات سے خود بخود نجات مل جائے گی ، انسان کی عقل اچھے اور برے ، غلط اور صحیح ، حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے پر قادر ہے اور جب تک ان سوالات کو حل نہ کرلے ،اس وقت تک اپنی جگہ پر آرام و اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتی، لہٰذا ان کا حل دل و دماغ کے لئے سکون کا باعث ہے ۔ ان سوالات میں سے کچھ کا تعلق ''اصول دین ''سے ہوتا ہے ،کچھ کا تعلق ''فروع دین ''سے اور کچھ کا تعلق'' اخلاق '' سے ہوتا ہے
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں صحیح تعلیم و تربیت کے فقدان کے سبب نوجوان ''معارف اسلامی ''سے نا آگاہ ہیں جسکی وجہ سے بعض ایسے خرافاتی اور بے بنیاد مسائل کو دین اسلام کا جز اور عقائدکا حصہ سمجھتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اور پھر وہ ان ہی باطل عقیدوں کے ساتھ پرائمری ،پھر ہائی اسکول اور انٹر کالج اور اس کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے چلے جاتے ہیں اور یہاں پروہ مختلف افراد، متفرق عقائد کے لوگوں سے سروکار رکھتے ہیں ، چونکہ ان کے عقیدہ کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اور خرافاتی چیزوں کو مذہب کا رکن سمجھتے ہیں اس لئے مختصر سے ہی اعتراضات اور شبہات میں پریشان و متحیر ہوجاتے ہیں ، علمی معیار و عقائدی معلومات کی کمی کی وجہ سے حق و باطل، اچھے اور برے ، غلط و صحیح میں تمیز نہیں دے پاتے جس کے نتیجہ میں اصل دین اور روح اسلام سے بد ظن ہو جاتے ہیں، حیران و سرگردان زندگی
بسر کرتے ہیں ، یا کلی طور پر اسلام سے منھ موڑ لیتے ہیں ، یا کم از کم ان کے اخلاق و رفتار اور اعمال پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اب ان کے اعمال کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہتی ہے اور احکام و عقائد سے لاپروا ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح کی غلط تربیت اور اس کے اثر کو آپ معاشرے میں بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو ان بے چاروں کو ذلت و گمراہی کے اندھیرے سے نکالنے کی فکر کرے ۔
ہمیں چاہیے کہ ایک منظم اور صحیح پروگرام کے تحت نوجوانوں کو صحیح معارف اسلامی سے آگاہ کریں اور بے بنیاد، غلط ماحول اور رسم و رسومات کے خرافاتی عقائد کی بیخ کنی اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں ، ان کے لئے آسان اور علمی کتابیں فراہم کریں ، لائبریری بنائیں اور کم قیمت یا بغیر قیمت کے کتابیں ان کے اختیار میں قرار دیں ، ہر ممکن طریقہ سے پڑھنے لکھنے کی طرف شوق و رغبت دلائیں ۔
سر دست یہ کتاب معارف اسلامی کورس کے عنوان سے نوجوانوں کی دینی معلومات میں اضافہ کیلئے ترتیب دی گئی ہے ، اور اس کے لکھنے میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف بھرپور توجہ رکھی گئی ہے ۔
1۔ کتاب کے مطالب دلیل و برہان کی روشنی میں نہایت سادہ اور آسان انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور اختصار کے سبب صرف ضروری حوالوں پر اکتفا ء کیا گیا ہے ۔
2۔حتیٰ الامکان لکھنے میں علمی اصطلاحوں سے گریز کیا گیا ہے تاکہ کتاب کا مطالعہ لوگوں کے لئے تھکاو ٹ کا سبب نہ بنے ۔
4۔ مشکوک و مخدوش ، بے فائدہ اور ضعیف مطالب سے اجتناب کیا گیا ہے ۔
5۔ اس کتاب میں ان مہم مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا جاننا ہر مسلمان پر
واجب ہے ، تاکہ قارئین دلچسپی کے ساتھ پڑھیں اور پھر تفصیلی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔
قارئین کرام اس مختصر سی کتاب میں عقائد ،احکام اور اخلاق کے تمام مسائل کو بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ اختصارکے پیش نظر صرف چیدہ چیدہ مطالب کو بیان کیا گیا ہے ۔تاکہ قارئین دلچسپی کے ساتھ پڑھیں اور پھر تفصیلی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔
موجودہ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے
پہلا حصہ، عقائد : اس حصہ میں عقیدہ سے متعلق بعض مخالفین کی طرف سے کیے گئے اعتراضات کے نہایت ہی مختصر اور سادہ انداز میں عقلی اور نقلی جوابات دے گئے ہیں ۔
دوسرا حصہ، احکام:جن پر عمل کرنا مکلّف کے لئے ضروری و واجب ہے ۔ اس حصہ میں تمام احکامات کو'' حضرت آیت اللہ العظمیٰ حاج سیّد علی خامنہ ای ''مدّظلّہ العالی کے فتوے کے مطابق بیان کیا گیا ہے ۔
تیسرا حصہ، اخلاق : اس حصہ میںبعض وہ چیزیں بیان ہوئی ہیں جو انسان کی باطنی حالت اور خواہشات سے تعلق رکھتی ہیں ،اور اس کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ۔جن پر عمل کرکے وہ دنیاو آخرت کی سعادت حاصل کرسکتا ہے۔
آخر میں ہم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہیں کہ وہ اس ناچیزکوشش کو قبول فرمائے۔ اور تمام ان حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے جھنوں نے اس کوشش میں کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا۔ طالب دعا
سید نسیم حیدر زیدی
قم المقدسہ
حصہ اوّل ( عقائد )
درس نمبر 1 ( توحید اور شرک کی پہچان )
توحید اور شرک کی بحث میں سب سے اہم مسئلہ دونوں کے معیار کی شناخت ہے۔ اگر کلیدی طور پر اس مسئلہ کو حل نہ کیا گیا تو بہت سے بنیادی مسائل کا حل ہونا مشکل ہے لہٰذا ہم مختصرطور پریہاں عبادت کے مرحلہ میں توحید اور شرک کے معیار پر بحث کرتے ہیں ۔
عبادت میں توحید کی بحث کا اہم جزو یہ ہے کہ عبادت کے معنی کا تعین ہوجائے کیونکہ اس مسئلہ میں ہر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ عبادت صرف خدا کی ذات سے مخصوص ہے اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں ہوسکتی۔ یہ اتفاقی مسئلہ ہے۔ قرآن مجید میں اس سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے:(ایّاک نعبد و ایّاک نستعین) (1)
'' ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ''
قرآن مجید کی آیتوں سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ تمام انبیاء اور سفر اء الٰہی کی دعوت میں یہ بات مشترک تھی اور تمام انبیاء کا یہی پیغام تھا۔ خداوند عالم قرآن مجید میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:(وَ لَقد بَعثْنٰا فی کل أمّة رسولا ان اعبدوا اللّٰه واجتنبوا الطَّاغوت) (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ حمد، آیت 4۔ (2)۔ سورہ مبارکہ نمل، آیت 36۔
'' ہم نے ہر اُمت میں ایک پیغمبر بھیجا تاکہ تم خدا کی عبادت کرو اور طاغوت سے دور رہو۔ ''
اس سے یہ معلوم ہوا کہ بنیادی بات یہی ہے کہ عبادت خدا کی ذات سے مخصوص ہے۔ اگر اس کے خلاف کسی کا عقیدہ ہو تو اس کو موحد نہیں کہا جائے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ''عبادت'' اور ''غیر عبادت'' کے پہچاننے کا معیار کیا ہے؟
کیا ماں باپ، معلم ، علماء کا ہاتھ چومنا ،یا جو احترام کا مستحق ہو، اس کا احترام کرنا عبادت ہے؟ یا مطلق خضوع اور احترام کا نام عبادت نہیں ہے بلکہ اس خضوع اور احترام میں کسی ایک عنصر کا ہونا لازمی ہے جب تک وہ عنصر نہ پایا جائے اس وقت تک اس فعل کو عبادت نہیں کہا جائے گا۔
اب اس بات کی تحقیق ضروری ہے کہ وہ کون سا عنصر ہے جس کے بغیر خضوع اور احترام عبادت نہیں بنتا؟ اور یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔
عبادت کا غلط مفہوم :
بعض مصنفین نے ''خضوع'' یا ''غیر معمولی خضوع'' کو عبادت قرار دیا ہے۔ ایسے افراد قرآن مجید کی بعض آیتوں کو حل کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ قرآن مجید نے بہت ہی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو۔
(وَإذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَم) (1) ''ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو۔ ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ بقرہ، آیت 24۔
یہ صحیح ہے کہ آدم ـ کو سجدہ کرنے کا وہی طریقہ تھا جو خدا کو سجدہ کرنے کا ہے لیکن آدم کو کیا جانے والا سجدہ تواضع اور فروتنی کی بنیاد پر انجام پا رہا تھا اور خداکا سجدہ عبادت اور پرستش کی نیت سے ادا ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی چیز ہے جس نے ایک ہی طرح کے دو سجدوں کی حقیقت اور ماہیت بدل دی؟
قرآن مجید نے ایک دوسرے مقام پر جناب یعقوب کا قصہ یوں بیان کیا ہے کہ جناب یعقوب اور ان کے بیٹوں نے جناب یوسف ـ کو سجدہ کیا۔
( وَرَفَعَ أبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ یَاَبَتِ هَذَا تَاْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّی حَقًّا) (1)
حضرت یوسف ـ نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب نے ان کا سجدہ کیا اور یوسف ـ نے کہا باباجان! یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے دیکھا تھا۔ خدا نے اس کی حقانیت ثابت کردی۔
حضرت یوسف ـ نے خواب میں دیکھا تھا :
(إِنّی رَأیْتُ أحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رأیْتُهُمْ لِی سَاجِدِینَ) (2)
میں نے گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
چونکہ جناب یوسف اپنے وابستگان کے سجدہ کو اپنے خواب کی تعبیر بتا رہے ہیں۔
اس لیے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گیارہ ستاروں سے مراد آپ کے گیارہ بھائی اور
چاند سورج سے مراد آپ کے ماں باپ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ یوسف، آیت 100۔ (2)۔ سورہ مبارکہ یوسف، آیت 4۔
بیان گزشتہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ صرف جناب یوسف ـ کے بھائیوں نے سجدہ نہیں کیا تھا بلکہ آپ کے ماں باپ نے بھی سجدہ کیا تھا۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے سجدہ کو جس میں حد درجہ کا خضوع اور فروتنی شامل ہے۔ عبادت کا نام کیوں نہیں دیا گیا؟
عذرِ گناہ بدتر از گناہ :
مذکورہ مصنفین کا وہ گروہ جو جواب دینے سے عاجز ہے یہ کہتا ہے کہ چونکہ خضوع ، خدا کے حکم سے تھا اس لیے شرک نہیں ہے۔
ظاہر ہے یہ جواب درست نہیں ہے کیونکہ اگر کسی عمل کی حقیقت وماہیت، شرک ہو تو خدا اس کا کبھی حکم ہی نہیں دے سکتا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
(قُلْ إنَّ اﷲَ لاَیأمُرُ بِالْفَحْشَائِ أتَقُولُونَ عَلَی اﷲِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) (1)
'' کہہ دیجئے کہ بے شک خدا تم کو برائی کا حکم نہیں دے سکتا کیا تم جو نہیں جانتے خدا کی طرف اس بات کی نسبت دیتے ہو۔ ''
اصولی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ صرف خدا کا حکم کسی چیز کی ماہیت کو نہیں بدلتا اگر ایک انسان کے سامنے خضوع سے پیش آنے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ عبادت ہے تو اگر خدا بھی حکم دے تو یہی ماہیت رہے گی، یعنی اس انسان کی عبادت ہی ہوگی۔
اس مسئلہ کا جواب اور عبادت کے حقیقی معنیٰ کی وضاحت :
یہاں تک اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ ''غیر خدا کی پرستش'' غلط اور ممنوع ہے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ اعراف، آیت 28۔
اس پر تمام موحدین کا اتفاق ہے اور دوسری بات یہ بھی معلوم ہوگئی کہ جناب آدم ـ کے لیے فرشتوں کا سجدہ اور جناب یوسف ـ کے لیے حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں کا سجدہ عبادت نہیں ہے۔
اب اس بات کی تحقیق کا وقت ہے کہ ایک ہی عمل کبھی عبادت کیسے بن جاتا ہے اور وہی عمل عبادت کے زمرہ سے خارج کیسے ہوجاتا ہے۔
قرآن کی آیتوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کسی موجود کے سامنے خدا سمجھ کر خضوع سے پیش آیا جائے یا اس کی طرف خدائی کاموں کی نسبت دی جائے اور خضوع اختیار کیا جائے تو یہ عبادت ہے اس بیان سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی کہ کسی موجود کے سامنے اس کے خدا ہونے کا عقیدہ رکھ کر یا خدائی کاموں کی انجام دہی کی توانائی کے عقیدہ کے ساتھ خضوع کیا جائے تو یہی عنصر وہ ہے جو خضوع کو عبادت کا رنگ دے دیتا ہے۔
جزیرة العرب اور دوسرے علاقوں کے مشرکین، بلکہ ساری دنیا کے مشرکین اس چیز کے سامنے خضوع و خشوع کا مظاہرہ کرتے تھے جس کو مخلوقِ خدا سمجھتے ہوئے کچھ خدائی کاموں کا مالک سمجھتے تھے اور کم سے کم ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ گناہ بخشنے کا حق رکھتے ہیں اور مقام ِ شفاعت کے مالک ہیں۔
بابل کے مشرکین اجرامِ آسمانی کی پرستش کرتے تھے وہ ان کو اپنا خالق نہیں بلکہ رب مانتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات اور انسانوں کے انتظام کی ذمہ داری ان کو سونپ دی گئی ہے۔ جناب ابراہیم ـ نے ان سے اسی عقیدہ کی بنا پر مناظرہ کی تھا، کیوں کہ بابل کے مشرکین ستاروں اور آفتاب و ماہتاب کو پیدا کرنے والا خدا نہیں سمجھتے تھے، وہ تو
ان کی ربوبیت کے قائل تھے۔
قرآن مجید نے بابل کے مشرکین سے حضرت ابراہیم ـ کے مناظرہ کے ذکر میں لفظ ''رب''(1) کو محور بنایا ہے۔ اور رب کے معنی مالک اور اپنے مملوک کے مدبر کے ہیں۔
عرب، گھر کے مالک کو ''رب البیت'' اور کھیتی کے مالک کو ''رب الضیعہ'' کہتے ہیں کیوں کہ گھر کا مالک گھر کے امور کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اور کھیت کا مالک کھیت کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے۔
قرآن مجید نے مدبر اور اور پروردگارِ کائنات کے عنوان سے خدا کا تعارف کرایا ہے۔ پھر دنیا کے سارے مشرکین سے مبارزہ کرتے ہوئے ان کو ایک خدا کی پرستش کی دعوت دی ہے۔
(ِإنَّ اﷲَ رَبِّی وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاط مُسْتَقِیم ) (2)
'' بیشک ہمارا اور تمہارا رب خدا ہے اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔ ''
(ذَلِکُمْ اﷲُ رَبُّکُمْ لاَإلَهَ إلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوهُ) (3)
'' وہی خدا تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو۔ ''
قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ کی حکایت کرتے ہوئے کہا :
( وَقَالَ الْمَسِیحُ یَابَنِی إسْرَائِیلَ اعْبُدُوا اﷲَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ) (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ انعام، آیت 78۔ 86۔ (2)۔ سورہ مبارکہ آل عمران: آیت 51۔ (3)۔ سورہ مبارکہ انعام، آیت 102۔ (4)۔ سورہ مبارکہ مائدہ، آیت 72۔
'' حضرت عیسیٰ ـ نے فرمایا:اے بنی اسرائیل تم خدا کی پرستش کرو وہ ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ ''
بہرحال بیان گزشتہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوگیا کہ ربوبیت کے عقیدہ یا کسی موجود کی طرف خدائی کاموں کی نسبت دیئے بغیر عبادت کا عنوان پیدا نہیں ہوتا،چاہے خضوع اور فروتنی اپنی انتہا تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔
اسی وجہ سے ماں باپ کے سامنے اولاد کا خضوع، انبیاء کے سامنے امت کا خضوع جو مذکورہ بالا قید سے خالی ہو، عبادت نہیں ہے۔
اس بنا پر وہ سارے کام غیر خدا کی عبادت سے خارج ہیں جن کو کچھ نا واقف افراد غیر خدا کی پرستش اور شرک قرار دیتے ہیں۔ مثلاً۔ آثار اولیاء کو متبرک سمجھنا، ضریح کو بوسہ دینا، حرم کی در و دیوار کو چومنا، خدا کے مقرب بندوں کو وسیلہ بنانا، اس کے صالح بندوں کو پکارنا، اولیاء خدا کی ولادت اور شہادت کی تاریخوں کی یادگار منانا وغیرہ۔
سوالات :
1۔ سورہ مبارکہ نمل، آیت نمبر 36 کاپیغام کیا ہے ؟
2۔قرآن کی کوئی آیت پیش کیجئے جو یہ بیان کرتی ہوکہ عبادت، خدا کی ذات سے مخصوص ہے ؟
3۔ عبادت کے غلط مفہوم کی وضاحت کیجئے ؟
4۔قرآن کی وہ کونسی آیتیںہیں جن میں جناب حضرت آدم (ع) اور جناب حضرت یوسف (ع) کو کیے جانے والے سجدہ ذکر ہے ؟
5۔ عبادت اور غیر عبادت کے معیارکی وضاحت کیجئے ؟
درس نمبر 2 ( کیا غیر خدا کو پکارنا شرک ہے ؟ )
ایک اعتراض یہ کیا جاتاہے کہ کیا خدا کے علاوہ دوسروں کو پکارنا ان کی پرستش کا لازمہ اور شرک نہیںہے؟
اس اعتراض کے اٹھنے کا سبب بعض وہ آیتیں ہیں جن کے ظاہر سے غیر خدا کو پکارنے کی نفی ہوتی ہے۔ ارشاد رب ّ العزت ہے :
'' و أن المَسٰاجد لِلّهِ فَلا تَدْعُوا مع اللّٰهِ أَحَدًا'' (1)
مسجدیں خدا کی ہیں پس خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
'' وَلا تَدْعُ مِنْ دون اللّٰهِ مَا لَا یَنفعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ '' (2)
خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تم کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان کچھ لوگوں نے ان آیات کو بنیاد بناکر اولیاء خدا اور صالحین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد انہیں پکارنے کو شرک اور ان کی پرستش سمجھ لیا ہے۔
اس سوال کے جواب کے لیے لفظ ''دعا'' اور'' عبادت'' کی وضاحت اور تشریح ضروری ہے۔
عربی زبان میں ''دعا'' کے معنی پکارنے اور بلانے کے اور ''عبادت'' کے معنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ جن، آیت نمبر 18 (2)۔ سورہ مبارکہ یونس، آیت نمبر 106
پرستش کے ہیں اور ان دونوں الفاظ کو کسی صورت مترادف اور ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے۔
یعنی ہر'' ندا ''اور درخواست کرنے کو عبادت اور پرستش نہیں کہا جاسکتا ۔ کیونکہ
پہلی بات تو یہ کہ قرآن کریم نے لفظ ''دعوت'' کو ان جگہوں پر استعمال کیا ہے جہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے مراد عبادت ہے۔ جیسے(قَالَ ربّ انّی دعوت قومی لیلاً ونهارا) (1)
''( حضرت نوح نے فرمایا) پالنے والے میں نے (تیری طرف) اپنی قوم کو شب و روز بلایا۔ ''
کیا یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح کا مقصد یہ ہے کہ میں نے اپنی قوم کی شب و روز عبادت کی ہے۔
اس بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دعوت اور عبادت ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ اور اگر کسی نے پیغمبر یا کسی صالح بندہ سے مدد طلب کی اور انہیں پکارا تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے ان کی عبادت کی ہے۔ کیونکہ دعوت ایک ندائِ عام ہے اور پرستش خاص ہے۔
دوسری بات یہ کہ ان تمام آیتوں میں لفظ ''دعا'' مطلقاً پکارنے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ ایک خاص دعوت کے لیے استعمال ہوا ہے جو پرستش اور عبادات کے ساتھ ہوا کرتی ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ آیتیں ان بت پرستوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اپنے بتوں کو چھوٹا خدا سمجھتے تھے۔اور یہ بات واضح ہے کہ بت پرستوں کا بتوں کے سامنے خضوع ، دعا اوراستغاثہ اِس لیے ہوا کرتا تھا کہ وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ نوح، آیت نمبر 5
ان کو حق شفاعت و مغفرت و۔۔۔ کا مالک کہتے تھیاور ان کو دنیا و آخرت کے امور میں
مستقل تصرف کرنے والا سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان حضرات کو دعوت اور اُن سے ہر طرح کی درخواست عبادت اور پرستش ہوگی اور اس بات کا بیّن ثبوت کے بت پرستوں کی دعوت اور پکار میں الوہیت کا عقیدہ شامل تھا قرآن مجید کی یہ آیت ہے(فَما اغنتُ عنهم آلهَتُهُم التی یدعونَ من دون اللّٰه من شیٔ) (1)
خدا کے علاوہ جن (خودساختہ) خداؤں کو وہ لوگ پکارتے تھے (عبادت کرتے تھے) انہوں نے بے نیاز نہیں بنایا۔
اس بنا پر مذکورہ آیت ہماری بحث سے الگ ہے کیونکہ ہماری بحث اس درخواست سے ہے جو ایک بندہ دوسرے بندہ سے کرتا ہے اس طرح کہ جس بندہ سے درخواست کی جاتی ہے نہ اُسے اللہ نہ رب نہ مالک اور نہ ہی دنیا وآخرت کے امور میں متصرف تام الاختیار سمجھتاہے بلکہ درخواست کرنے والا بندہ اس بندہ کے بارے میں جس سے درخواست کررہا ہے یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ کا محترم اور معزز بندہ ہے جسے خداوند عالم نے رسالت اور امامت کا عہدہ عطا کیا ہے اور خدا نے اپنے بندوں کے لیے اس کی دعا کو قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
(وَلَوْ أَنَّهُمْ اذ ظَلَمُوا أنفسهم جاؤکَ فاستغفرو اللّٰهَ واستغفر لَهُمْ الرسولُ لَوَجَدوا اللّٰه توابًّا رَحیمًا) (2)
'' جب ان لوگوں نے نافرمانی کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اگر تمہارے پاس چلے
آتے اور خدا سے معافی مانگتے اور رسول تم بھی ان کی مغفرت چاہتے تو بیشک وہ لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ ھود، آیت نمبر 101 (2)۔ سورہ مبارکہ نسائ، 64
خدا کو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔ ''
اور تیسری بات یہ کہ خود مذکورہ آیتوں میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ مطلق درخواست اور مطلق دعوت سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس دعوت سے منع کیا گیا ہے جو پرستش کا عنوان رکھتی ہو اِسی وجہ سے ایک آیت میں لفظ دعوت کے ساتھ بلافاصلہ اسی معنی کے لفظ عبادت سے تعبیر پیش کردی گئی ہے۔
( وَ قَالَ ربّکم ادعونی استجب لکم انّ الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جَهَنَّمَ داخِریْنَ) (1)
'' تمہارے پروردگار نے یہ کہا کہ مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری دعا کو قبول کروں جو لوگ ہماری عبادت سے سرکشی اختیار کرتے ہیں وہ جلد ہی نہایت ذلیل و رسوا کرکے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا آیت کے شروع میں ''أُدعونی'' اور بعد میں لفظ ''عبادتی'' استعمال ہوا ہے۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دعوت ایسی چیز کے سامنے خاص درخواست یا استغاثہ کی شکل میں تھی جس کو وہ لوگ صفات الٰہی کا حامل سمجھتے تھے۔
نتیجہ :
ان تینوں مقدمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان تینوں آیتوں میں قرآن کا بنیادی مقصد بت پرستوں کی دعوت کی نہی تھی۔ جو بتوں کو خدا کا شریک، مدبر کائنات،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ غافر، آیت نمبر 60
اور مالک شفاعت سمجھتے تھے ان کے سامنے ہر طلب ، ہرنالہ، استغاثہ ، خضوع، طلب شفا
اور درخواست یہ سمجھ کر ہوا کرتی تھی کہ وہ بت چھوٹے خدا ہیں اور خدائی کام انجام دیتے ہیں۔ وہ اس بات کا عقیدہ رکھتے تھے کہ دنیا و آخرت کے بعض کام اُن کے سپرد کردیئے گئے ہیں۔ ان آیات کا ان بندوں سے مدد مانگنے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ جو مدد مانگنے والے یا دعوت کرنے والے کی نظر میں ذرہ برابر بھی بندگی کی سرحدوں سے باہر نہیں نکلے بلکہ وہ خدا کے محبوب اور محترم بندے تھے۔
اگر قرآن یہ کہتا ہے:( وَأنّ المساجدَ لِلّه فلا تدعوا مع اللّٰه أَحَدًا) (1)
'' مساجد خدا کے لیے ہیں لہٰذا خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو'' تو اس کا مقصد وہ دعوت ہے جو جاہل عرب بتوں کی یا اجرام سماوی کی یا فرشتہ یا جن کی پرستش کیا کرتے تھے۔ اس آیت میں یا اس طرح کی دوسری آیتوں میں جو دعوت کی ممانعت ہے وہ کسی شخص یا شیٔ کو معبود سمجھ کر پکارنے یا دعوت دینے کی ممانعت ہے۔
لیکن ان آیتوں کا اُس دعوت یا پکارنے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے جس میں پکارنے والا اور درخواست کرنے والا جسے پکار رہا ہے نہ تو اُسے رب مانتا ہے اور نہ ہی اس کے لیے اس بات کا قائل ہے کہ خدا نے سب کچھ اس کے سپرد کردیا ۔ بلکہ وہ تو اس کو خدا کا لائق اور محبوب بندہ سمجھ رہا ہے۔ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ اولیاء خدا سے اُن کی زندگی میں تو مدد مانگنا جائز ہے مگر ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ان سے کچھ طلب کرنا اور مانگنا شرک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ جن، آیت نمبر 18
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم پیغمبر اور آئمہ جیسے خدا کے صالح بندوں کی روح
پاک سے مدد مانگتے ہیں جو قرآنی آیات کی تصریح کے مطابق زندہ اور شہداء سے زیادہ بلند مقام و منزلت رکھتے ہیں اور عالم برزخ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور اگر ان کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر درخواست کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ان ارواح مقدسہ سے زیادہ ارتباط پیدا ہوتا ہے اور زیادہ نزدیکی کا احساس ہوتا ہے اس کے علاوہ روایتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ مقامات وہ ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ان کے زندہ اورمردہ ہونے کو شرک اور توحید کا ملاک قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
سوالات
1۔کیا غیر خدا کو پکارنا شرک ہے؟اس سوال کے اٹھنے کا سبب کیا ہے ؟
2۔ سورہ مبارکہ جن، کی آیت نمبر 18 اور سورہ مبارکہ یونس، کی آیت نمبر 106 کن کے بارے میں ہے اور ان آیتوں میںدعوت سے مراد کیا ہے ؟
3۔ہم اولیا ء خدا کی قبر وں کے پاس کھڑے ہوکر درخواست اور دعا کیوں کرتے ہیں؟
درس نمبر 3 ( غیرخدا سے مدد مانگنا کیسا ہے؟ )
قرآن میں ارشاد رب العزت ہے :(وَمَا النصر الأمن عند اللّٰه العزیز الحکیم) (1) ''نصرت و مدد صر ف خدا کی طرف سے ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ ''
تو اب ایسی صورت میں کیا خدا کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگنا شرک نہیں ہے ؟ مندرجہ بالا سوال کے جواب کے لیے چند باتوں پر غور کرنا ضروری ہے ۔ غیر خدا سے مدد مانگنے کی دو صورتیں ہیں۔
1۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ہم انسان یا کسی بھی مخلوق سے اس تصور کے ساتھ مدد مانگیں کہ وہ شی وجود کے اعتبار سے یا مدد کرنے میں مستقل حیثیت رکھتی ہے اور خدا سے بے نیاز ہے۔
تو ظاہر ہے کہ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ایسی صورت میں غیر خدا سے مدد مانگنا شرک محض ہے۔ قرآن کریم نے اس عقیدہ کی کمزوری کو واضح طور پر بیان کیا۔
( قُلْ مَنْ ذاالذی یَعْصِمکم من اللّٰه ان اراد بکم سُوء ال و اراد ربکم رحمة وَلَا یجدونَ لَهُمْ من دونِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَلَا نصِیْرًا ) (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر 126 (2)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر 17
'' آپ کہہ دیجئے کہ اگر خدا تمہارے بارے میں عذاب کا ارادہ کرے تو اس سے تم کو کون بچاسکتا ہے۔ یا اگر رحمت کا ارادہ کرے تو (اسے کون روک سکتا ہے) اوریہ لوگ
اپنے لئے خدا کے سوا نہ ولی پائیں گے نہ مددگار۔ ''
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب ہم کسی انسان سے مدد مانگیں تو اُسے خدا کی مخلوق، اور محتاج سمجھیں اور اُسے بذات خود مستقل نہ جانیں اور یہ سمجھیں کے اس کے اندر مدد کرنے کی جو طاقت ہے وہ خدا نے اُسے بعض بندوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے عطا کی ہے۔
اگر اس تصور کی بنیاد پر ہم کسی سے مدد مانگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے اور خدا کے درمیان ایک واسطہ ہے جسے خداوند متعال نے بعض حاجتیں پوری کرنے کے لیے ''وسیلہ'' بنایا ہے۔ اس طرح مدد مانگنا درحقیقت خدا ہی سے امداد حاصل کرنے کی خواہش ہے کیونکہ اسی نے ان وسایل و اسباب کو پیدا کیا ہے اور ان کو دوسروں کی حاجتیں پوری کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو انسانوں کی زندگی اسباب و مُسبّباب کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر ان چیزوں سے مدد نہ لی جائے تو زندگی اجیرن ہوجائے۔ اب اگر ان چیزوں سے مدد لیتے وقت یہ تصور رہے کہ یہ سب خدا کی مدد کو پہنچانے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ان کا وجود اور ان کے اندر مدد کرنے کی قوت و صلاحیت خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔ تو اس طرح مدد مانگنا توحید اور یکتا پرستی کے منافی نہیں ہے۔
اگر ایک موّحِد اور خدا شناس کسان زمین ، پانی ، ہوا اور سورج سے مدد لیتے ہوئے دانہ اُگا کر غلّہ حاصل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقتاً خدا ہی سے مدد
لے رہا ہے کیونکہ خدا ہی نے ان چیزوں کو یہ طاقت و صلاحیت عطا کی ہے۔
اور یہ بات واضح ہے کہ یہ مدد مانگنا روح توحید اور یکتا پرستی کے عین مطابق ہے بلکہ قرآن ہمیں ایسی چیزوں (جیسے نماز اور صبر) سے مدد طلب کرنے کا حکم دیتا ہے۔
( واستعینوا بِالصَّبر وَالصَّلوٰة) (1) ''صبر اور نماز سے مدد طلب کرو۔ ''
واضح سی بات ہے کہ صبر و استقامت انسان کا کام ہے اور ہمیں ایسے کاموں سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے باوجود یہ استمداد، ''ایاک نستعین'' کے منافی نہیں ہے۔
سوالات
1۔غیر خدا سے مدد مانگنے کی کتنی صورتیں ہیںاور کونسی صورت صحیح ہے ؟ ۔
2۔ کیا سورہ مبارکہ آل عمران کی آیت نمبر 126 غیر خدا سے مدد مانگنے کے منافی نہیں ؟
3۔جب ہم کسی انسان سے مدد مانگیںاور اُسے بذات خود مستقل نہ جانیں تو اس کا کیا مطلب ہے ؟
4۔کیا قرآن میں ہمیں خدا کے علاوہ کسی دوسری چیز سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ بقرہ، آیت نمبر 45
درس نمبر4 ( بدأ )
'' بدا'' کیا چیز ہے اورکیا یہ علم خدا میں تبدیلی کا سبب نہیں بنتا؟
جواب: عربی زبان میں لفظ بدا کے معنی ظاہر و آشکار ہونے کے ہیں اور شیعہ علماء کی اصلاح میں ایک انسان کی طبیعی سرنوشت کے رخ کا اس کے صالح اور نیک عمل کی بنا پر بدل جانا ''بدا'' کہلاتا ہے ۔ مسئلہ بدا شیعہ مذہب کا ایک بڑا اور عظیم مسئلہ ہے۔ جو منطقِ وحی اور عقل کی استوارہے۔
قرآن کی نظر میں انسان ہمیشہ اپنی سرنوشت اور تقدیر کے سامنے دست بستہ اور مجبور نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے لیے سعادت کا راستہ کھلا ہوا ہے وہ راہ حق پر چل کر اپنے اچھے عمل سے اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے قرآن نے اس حقیقت کو ایک عام اور دائمی قانون کے طور پر اس طرح بیان کرتا ہے ۔
( انّ اللّٰه لا یغیّر مَا بقومٍ حتّٰی یُغَیِّرُ مَا بِأنْفُسِهِمْ) (1)
'' خداوند عالم کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ '' دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔(ولو أنّ اهل القُریٰ آمنوا وَ اتَّقُوا لَفَتَحْنٰا عَلَیْهم بَرَکاتٍ مِن السَّمٰاء إوالارض) (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ رعد، آیت نمبر 11 (2)۔ سورہ مبارکہ اعراف، آیت نمبر 96
اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔
حضرت یونس کے سر نوشت کے بدل جانے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :
( فَلَو لَا أَنَّه کَانَ مِنَ المُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِهِ اِلٰی یَوْمِ یبعثون)'' (1)
'' اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اس (مچھلی) کے پیٹ ہی میں رہتے''۔
آخری آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ظاہری حالات کی بنا پر حضرت یونس کو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہنا چاہیے تھا مگر ان کے نیک عمل نے (یعنی تسبیح نے) ان کی سرنوشت کا رخ موڑ دیا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات مل گئی۔
اسلامی روایتوں میں بھی اس حقیقت کو قبول کیا گیا ہے پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :
( أنّ الرجل لیحرم الرّزق بالذنب یصیبه وَلا یردّ القدر اِلّا الدُعٰاء وَلَا یزید فی العمر اِلّا البِرّ) (2)
گناہ کے سبب انسان اپنے رزق سے محروم ہوجاتا ہے اور دعا کے علاوہ اس کی تقدیر کو بدلنے والی اور کوئی چیز نہیں ہے اور نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز انسان کی عمر میں اضافہ نہیں کرسکتی۔
اس روایت اور ایسی ہی دوسری روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ اور عصیان کی بنا پر انسان روزی سے محروم کردیا جاتا ہے لیکن دعا کے ذریعہ وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور نیکی کے ذریعہ اپنی عمر میں اضافہ کرسکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ صافات، آیت نمبر 143۔ 144 (2)۔ مسند احمد ج5، ص 277،
نتیجہ :
قرآن و احادیث کی روشنی میں انسان طبیعی اسباب و مسبّبات کی بنا پر عام حالات کے تحت اپنے کاموں کے ردّ عمل میں کسی خاص مصیبت میں گرفتار ہوسکتا ہے اور کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولیاء خدا جیسے پیغمبر اور امام کسی کو یہ خبر دیں کہ اگر تمہاری یہی رفتار رہی تو اس کا انجام ایسا ہوگا، لیکن اچانک کسی بات کی بنا پر وہ رفتار بدل جائے اور جو نتیجہ بتایا گیا تھا اس سے الگ ہٹ کر کوئی دوسرا نتیجہ سامنے آئے۔
منطق ِ وحی، سنت پیغمبر اور عقل سلیم سے حاصل شدہ اس حقیقت کو شیعہ علماء کی اصطلاح میں ''بدائ'' کہا جاتا ہے۔
اور مناسب ہے کہ یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ لفظ ''بدائ'' کی تعبیر محض شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اہل سنت کی تحریروں اور پیغمبر اسلام (ص) کی احادیث میں بھی یہ تعبیر دیکھی جاسکتی ہے مثال کے طور پر پیغمبر کی مندرجہ ذیل حدیث میں لفظ ''بدا'' استعمال ہوا ہے۔
( بَدَاء اللّٰهُ عَزَّوجل أنْ یبتلِیهِمْ ) (1)
اس بات کا تذکرہ کردینا بھی ضروری ہے کہ علم خدا میں تبدیلی کا نام بداء نہیں ہے کیوں کہ خداوند عالم ابتداء ہی سے انسان کی طبیعی رفتار سے واقف ہے اور وہ تبدیلی لانے والے اسباب و عوامل کا جو'' بدائ''کا موجب بنتے ہیں شروع ہی سے جاننے والا ہے۔ وہ خود قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: (یمحوا اللّٰه مَا یشاء و یثبت و عندهأمّ الکتاب''(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) النھایہ فی غریب الحدیث : مجد الدین مبارک ج1، ص 109(2) سورہ مبارکہ رعد، آیت نمبر 39
'' خدا جو چاہتا ہے ثبت کردیتا ہے اور جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اس کے پاس ام الکتاب (لوح محفوظ) ہے۔ ''
اسی بنا پر خداوند عالم بداء کے موقع پر ہماے سامنے اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے جو اس کو ازل ہی سے معلوم تھی ۔ لہٰذا مام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں۔
'' مَا بَد اللّٰه فی شیٔ اِلّا کانَ فی علمه قبل أنْ یبدوله'' (1)
'' کسی بھی موقع پر اللہ کے لیے بداء واقع نہیں ہوا مگر یہ کہ اس کو ازل ہی سے اس بات کا علم تھا۔ ''
فلسفہ بدا :
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان یہ جانتا ہو کہ وہ اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے اور اس سلسلے میں مجبور نہیں ہے۔ تو وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے عزم و ہمت اور حوصلہ کے ساتھ مکمل جدوجہد کریگا۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس طرح توبہ اور شفاعت کا عقیدہ انسان کو یاس و ناامیدی اور سردمہری سے نجات دیتا ہے اسی طرح بداء کا عقیدہ بھی اس کے نشاط اور شادابی کا باعث بنتا ہے۔ مستقبل کی امیدیں بندھاتا ہے کیوں کہ اس عقیدہ کی روشنی میں انسان جانتا ہے کہ وہ خدا کے حکم سے اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے اور اپنے اچھے مستقبل اور بہتر نتائج کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)اصول کافی، ج1، کتاب توحید باب بدائ، حدیث9
سوالات
1۔بداء کے لغوی اور اصطلاحی معنی ٰبیان کیجئے ؟
2۔کیا''بدائ'' کا عقیدہ خدا کے عدم علم پر دلالت نہیں کرتا ؟ وضاحت کیجئے ؟
3۔بدا ے کے بارے میں قرآن کریم کی کوئی دو آیاتیں پیش کیجئے ؟
4۔حضرت ا مام جعفر صادق نے بداء کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟
5۔ ''بدائ'' کا فلسفہ بیان کیجئے ؟
درس نمبر 5 ( توسل )
قربِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے گراں مایہ موجود کو اپنے اور خدا کے درمیان وسیلہ قرار دینے کو ''توسل'' کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
( یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتّقُوا للّٰه وَ ابْتَغُوا اِلَیْهِ الوسیله وَ جَاهِدُوا فی سبیل اللّٰهِ لعلّکم تفلِحُون) (1)
اے اللہ پر ایمان لانے والو! تقویٰ اختیار کرو اور خدا تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔
جوہری اپنی کتاب ''صحاح اللغة'' میں وسیلہ کی اس طرح تعریف کرتے ہیں :
( الوسیلةُ مَا یتقربّ بِه الی الغیر )
'' وسیلہ اُسے کہتے ہیں جس کے ذریعہ دوسرے کا تقرب حاصل کیا جائے''۔
لہٰذا جن قابل قدر چیزوں کے ذریعہ خدا تک پہنچا جاتا ہے کبھی وہ ہمارے نیک اعمال اور مخلصانہ عبادت ہوتی ہے کہ جو ایک مضبوط وسیلہ کے طور پر ہمیں خداوند عالم سے نزدیک کرتی ہے اور کبھی وہ خداکے نزدیک ایک صاحب عزت انسان ہوتا جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مائدہ، 34۔
بارگاہِ خداوندی میں بلند مقام و منز لت رکھتا ہے۔
اقسام توسل :
توسل کی تین قسمیں ہیں۔
1۔ اعمال صالحہ سے توسل۔ جیسا کہ جلال الدین سیوطی آیہ (و ابتغوا الَیہ الوسیلہ) کے ذیل میں''قتاد ہ ''سے روایت کرتے ہیںکہ۔ تم اطاعت خدا اور عمل صالحہ کے ذریعہ خدا کے نزدیک ہوجائو۔(1)
2۔ نیک اور صالح بندوں کی دعا سے توسل، جیسا کہ قرآن مجید نے جناب یوسف ـ کے بھائیوں کی زبانی نقل کیا ہے۔
( قَالُوا یَاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَاإ نَّا کُنَّا خَاطِئِینَ قَالَ سَوْفَ أسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیإ نَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیم) (2)
فرزندان یعقوب نے جناب یعقوب سے کہا: اے بابا جان آپ خدا سے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کریں ہم سے خطا ہوگئی یعقوب نے کہا میں جلد ہی اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
مذکورہ آیت سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت یعقوب ـ کے بیٹوں نے جناب یعقوبـ کی دعا و استغفار سے توسل کیا۔ اور اسے اپنی مغفرت کا وسیلہ بنایا اور جناب یعقوب ـ نے بھی نہ صرف یہ کہ ان کے توسل پر اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے لیے دعا اور استغفار کا وعدہ کیا۔
3۔ قرب الٰہی حاصل کرنے کے لیے ان افراد سے توسل کرنا جو خدا کے نزدیک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ الدر المنثور، ج2، ص 280۔ (2)۔ سورہ یوسف، آیہ 98، 97۔
عزت و وقار اور ایک خاص مقام و منزلت رکھتے ہیں صدر اسلام میں بھی اس طرح کا
توسل مورد قبول تھا اور صحابہ اس پر عمل کرتے تھے۔
اس جگہ پر احادیث، صحابہ اور اکابرین اسلام کی سیرت کی روشنی میں اس مسئلہ کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں :
1۔ '' ایک نابینا شخص نے پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آکر کہا کہ آپ(ص) خدا سے ہمارے لیے عافیت کی دعا کریں آپ(ص) نے فرمایا: اگر تم کہو تو میں دعا کردوں اور اگر تاخیر چاہتے ہو تو میں تاخیر کروں، کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔نابینا نے عرض کی: آپ(ص) دعا فرما دیں۔ آنحضرت نے اُسے وضو کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھو اور اس طرح دعا کرو۔ پروردگارا میں تجھ سے نبی رحمت محمد (ص) کے وسیلہ سے درخواست کرتا ہوں اور ان کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول (محمد (ص)) میں آپ کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو رہا ہوں تاکہ وہ میری حاجت فرمائے۔ اور آپ(ص) کو میرا شفیع قرار دے۔(1)
اس حدیث کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے۔ حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ ابن ماجہ نے بھی ابواسحاق سے نقل کیا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔ ترمذی نے کتاب ''ابواب الادعیہ'' میں اس روایت کی صحت کی تائید کی ہے۔ محمد نسیب الرفاعی ''التوسل الی حقیقة التوسل '' میں نقل فرماتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) مُسند احمد بن حنبل، ج4، ص 138۔ مستدرک حاکم، ج1، ص 313۔ سنن ابن ماجہ، ج1، ص 441۔ التاج، ج1، ص 286۔ الجامع الصغیر، سیوطی، ص 59۔ التوسل والوسیلہ (ابن تیمیہ) ص 98۔
ہیں: اس حدیث کے صحیح ہونے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یقینا
روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ رسولِ خدا کی دعا سے ایک نابینا شخص بینا ہوگیا۔(1)
اس روایت سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ حاجت پوری کرنے کے لیے پیغمبر اسلام (ص) سے توسل کرنا جائز ہے بلکہ پیغمبر اسلام (ص) نے تو اس نابینا کو حکم دیا کہ تم اپنے اور خدا کے درمیان اپنے پیغمبر کو وسیلہ قرار دے کر اس سے دعا کرو۔ اسی چیز کا نام اولیاء خدا سے توسل ہے۔
2۔ ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح میںلکھتے ہیں۔
قحط کے زمانے میں عمر بن خطاب پیغمبر کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے طلب باراں کرتے تھے، اور کہتے تھے بار الٰہا، پیغمبر کی حیات میں تو ہم اُن کا وسیلہ ڈھونڈتے تھے اورہم پر بارانِ رحمت نازل ہوتی تھی اب ہم تیرے نبی کے چچا سے متوسل ہوتے ہیں تاکہ تو ہم کو سیراب کردے۔ اور اس طرح لوگ سیراب ہوجایا کرتے تھے۔(2)
3۔توسل کے حوالے سے ''امام شافعی '' کے دو بیت ملاحظہ فرمائیں :
اَلُ النبی ذریعتی هم الیه وسیلتی
ارجوبهم اعطی غداً بیدی الیمین صحیفتی(3)
پیغمبر اسلام (ص) کی ذریت میرے لیے خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہے اور مجھے اُمید ہے کہ ان کی وجہ سے میرا نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ التوصل الی حقیقة التوسل، ص 158۔ (2)۔ صحیح بخاری، جزء 3، کتاب الجمعہ، باب الاستسقائ، ص 67۔ (2)۔ الصواعق المحرقہ (ابن حجر عسقلانی) ص 178۔
اولیائے خدا سے توسل کے جواز کے سلسلہ میں روایتیں تو بہت ہیں لیکن ہم نے یہاں
جن روایتوں کو بیان کیا ہے اُن سے سنت پیغمبر، روش صحابہ اور عظیم علماء اسلام کی سیرت کا اندازہ ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد اب کلام کو زیادہ طول دینے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔
اس بناء پر ان افراد کے اقوال کا بے بنیاد ہونا اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے جو وسیلہ کو شرک اور بدعت سمجھتے ہیں۔
سوالات
1۔ توسل کے کیا معنی ہیں ؟
2۔توسل کی اقسام بیان کیجئے ؟
3۔توسل کے سلسلے میں کتاب ''صحیح بخاری '' کی روایت بیان کیجئے ؟
4۔توسل سے متعلق ''جناب شافعی '' کا شعر نقل کیجئے ؟
درس نمبر 6 ( اولیائے خدا کی ولادت کے دن جشن منانا )
اولیائے خدا کی یاد تازہ کرنا اور ان کی ولادت کے دن جشن میلاد منانا یہ وہ مسئلہ ہے جو صاحبان عقل اور اہل خرد کے نزدیک بہت ہی واضح ہے لیکن ہر طرح کے شبہات کی بیخ کنی کے لیے اس کے جواز کی دلیلوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
1۔ یاد گار منانا اظہار محبت کا طریقہ ہے۔
قرآن نے مسلمانوں کو پیغمبر اسلام (ص) اور اہل بیت ٪ سے مودت کی دعوت دی ہے۔
(قُلْ لاأسْألُکُمْ عَلَیْهِ أجْرًا إلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی) (1)
اے میرے نبی (ص) آپ ان سے کہہ دیں کہ سوائے اپنے اقرباء کی محبت کے اجر ِ رسالت میں تم سے اور کچھ نہیں مانگتا۔
یقینا اولیاء خدا کی یادگار منانا اُن سے عشق و محبت کی علامت ہے جسے قرآن نے بھی قبول کیا ہے۔
2۔ یادگار منانا پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم ہے۔
( فَالَّذِینَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی ُنزِلَ مَعَهُ ُوْلَئِکَ هُمْ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ شوریٰ، 23۔
الْمُفْلِحُونَ ) (1)
جو لوگ پیغمبر پر ایمان لائے، آپ کی عزت اور مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو
آپ کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ تو یہی لوگ نجات پانے والے اور کامیاب ہیں۔
مذکورہ آیت سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم خدا کی نظر میںایک مطلوب اور پسندیدہ أمر ہے۔ اور ایسے مراسم منعقد کرنا جو پیغمبر اسلام (ص) کی یاد دلائیں اور آپ کے عظیم الشان مقام کو بیان کریں خدا کی خوشنودی اور رضا کا باعث ہیں کیوں کہ اس آیت میں نجات پانے والوں کی چار صفتیں بیان کی گئی ہیں۔
الف۔ الذین آمنو: جو لوگ آنحضرت پر ایمان لائے۔
ب۔ و اتّبعوا النّور الذی انزل معہ: اس نور کی پیروی جو آپ کے ساتھ نازل ہوا۔
ج۔ ونصروہ: آنحضرت (ص) کی نصرت۔
د۔ و عزّروہ: آنحضرت کی تعظیم و تکریم۔
اس بنا پر ایمان، نصرت، احکام کی پیروی کے علاوہ آپ کی تعظیم و تکریم بھی ضروی ہے۔ آپ کی یادگار منانا ''عزروہ'' کے حکم کی بجا آوری ہے۔
3۔ یادگار منانا خدا کی تأسی اورپیروی ہے۔
خداوند عالم نے قرآن مجید میں پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے فرمایا:(وَ رَفَعْنٰا لَکَ ذِکْرَکَ) (2) ''اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔ ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) سورہ مبارکہ اعراف157 (2)۔ سورہ مبارکہ انشراح، آیت 4۔
اس آیت کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ خداوند عالم پیغمبر اسلام (ص) کی عظمت و
جلالت کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے کہ وہ خود بھی قرآن کی بہت سی آیتوں میں آپ
کی شان و شوکت کو بیان کرتا ہے۔
ہم بھی آسمانی کتاب کی پیروی کرتے ہوئے اس اسوہ کمال و فضیلت کی یاد منا کے ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ہم وہی کام کر رہے ہیں جو پروردگار عالم بھی کرتا ہے۔
اور یہ بات بہت واضح سی ہے کہ آپ کی یادگار منانے کے سلسلے میں مسلمانوں کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بلند ہو۔
4۔ نزولِ وحی کا مرتبہ نزولِ مائدہ سے کم نہیں۔
قرآن مجید حضرت عیسیٰ ـ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی اس طرح حکایت کرتا ہے۔
(قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمّ رَبَّنَا أنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَائِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِأوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وأنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ ) (1)
عیسیٰ بن مریم ـ نے کہا: اے پالنے والے ہمارے اوپر آسمان سے ایک خوان نازل فرما تاکہ وہ دن ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے نیز ہمارے حق میں بھی عید قرار پائے۔ اور تیری طرف سے ایک بڑی نشانی ہو تو ہمیں روزی دے اور تو سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے۔
حضرت عیسیٰ ـ خوان نازل کرنے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ لوگ اس دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔سورہ مائدہ، آیت 114۔
عید منائیں۔
اگر ایک نبی اس خوان کے نازل ہونے پر عید مناسکتا ہے جو انسان کی جسمانی لذت
کا باعث ہے تو اب اگر مسلمان وحی کے نازل ہونے یا پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت کے دن عید منائیں تو شرک و بدعت کیسے ہے؟ یہ دن تو وہ دن ہے کہ جب انسانوں کو نجات دینے والے اور بشریت کے لیے سرمایہ حیات نے اس دنیا میں قدم رکھا۔
مسلمانوں کی سیرت :
اہل اسلام کا شروع ہی یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام (ص) کی تعظیم و تکریم کی خاطر آپ(ص) کی یاد مناتے رہے ہیں۔
حسین بن محمد یار بکری ''تاریخ الخمیس'' میں لکھتے ہیں :
مسلمان ہمیشہ پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت کے مہینے میں جشن مناتے ہیں۔ ولیمہ کرتے ہیں اس مہینے کی راتوں میں صدقہ دیتے ہیں خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں طرح طرح کی نیکیاں کرتے ہیں۔ نعتیں پڑھتے ہیں او اس کی عام رحمتیں اور برکتیں سب پر ظاہر ہوتی ہیں۔(1)
اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیائے خدا کی یادگار منانا قرآن مجید کے بیان اور مسلمانوں کی سیرت کے مطابق جائز ہے لہٰذا جو لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں ان کے بے بنیاد کلام کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ بدعت وہ چیزیں ہیں جن کا قرآن و سنت سے کلی یا خصوصی جواز ثابت نہ ہو۔ جبکہ مذکورہ مسلہ کا کلی حکم ہمیں قرآن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ تاریخ الخمیس، حسین بن محمد بن حسن دیار بکری، ج1، ص 223۔
اور مسلمانوں کی سیرت سے ملتا ہے۔
ان یادگاروں کے قیام کا مقصد خدا کے نیک اور شائستہ بندوں کا احترام ہے ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے محتاج ہیں۔
اس وجہ سے اس طرح کی یادگاریں توحید اور یکتا پرستی کی مخالف نہیں لہٰذا جو لوگ اولیائے خدا کی یاد منانے کو شرک کہتے ہیں ان کی یہ بات بے بنیاد ہے۔
سوالات
1۔ولادت کے دن جشن منانا کس چیز پر دلالت کرتا ہے ؟
2۔کیا ولادت کے دن جشن مناناکاجواز کلی طور پر قرآن سے ثابت ہے ؟
3۔ولادت کے دن جشن وغیرہ مناننے کے سلسلے میں مسلمانوں کی کیا سیرت رہی ہے ؟
درس نمبر 7 ( عدم تحریف قرآن )
شیعہ علماء کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے۔ اور موجودہ قرآن وہی آسمانی کتاب ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوئی تھی اس میں نہ کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ ہی زیادتی اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ہم یہاں چند دلیلیں پیش کررہے ہیں :
1۔ پروردگار عالم نے مسلمانوں کی اس آسمانی کتاب کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے(إنا نحن نزّلنا الذکر واِنّا له لحافظون) (1)
ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ ساری دنیا کے شیعہ کیوں کہ قرآن کو اپنی فکر اور اپنے عمل کا محور قرار دیتے ہیں لہٰذا اس آیت کے پیغام کی بنا پرقرآن کے محفوظ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔
2۔ شیعوں کے پہلے امام حضرت علی ہمیشہ پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ رہتے اور آپ ہی سب سے پہلے کاتب وحی تھے۔ آپ نے مختلف مواقع پر لوگوں کو قرآن کی طرف بلایاایک مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں : (ثُمّ انزل علیه الکتاب نورًا لَآتطغاً مصابیحه، و سراجاً لا یخبوا توقده، و منهاجاً لا یضلّ نهجه---- و فرقاناً لا یخمدبرهانه) (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) سورہ مبارکہ حجر آیت نمبر 9 (2)۔ نہج البلاغہ (صبحی صالحی) خطبہ 198
پھر خدا نے ایسی کتاب بھیجی جو نہ بجھنے والا نور اور چراغ ہے ایسا راستہ ہے جو اپنے رہروں کو گمراہ نہیں کرتا اور حق و باطل کو جدا کرنے والی ایسی چیز ہے جس کی دلیلیں کمزور نہیں پڑتیں۔
شیعوں کے امام عالی مقام کے قول سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن ایسا چراغ ہے جو ابد تک جلتا رہے گا اور اپنے پیروکاروں کو اندھیرے میں راستہ دکھاتا رہے گا اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کہ جس کی بنا پر یہ چراغ گل ہوجائے۔ اور اس کے پیروکار راستہ سے بھٹک جائیں۔
3۔ شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :
'' میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت ہیں۔ میری عترت ہے۔ جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔ ''
یہ حدیث اسلام کی ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے شیعہ سنی دونوں نے نقل کیا ہے اس حدیث کی روشنی میں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ شیعوں کی نظر میں قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر قرآن میں تحریف ہوجائے تو اس سے تمسک ہدایت کے بجائے گمراہی کا باعث ہوگا ۔ جبکہ حدیث متواتر یہ کہتی ہے کہ اس سے تمسک کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔
4۔ شیعوں کے آئمہ سے نقل شدہ روایتوں میں۔ جنہیں علماء اور فقہاء نے نقل کیا ہے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ حق و باطل، صحیح اور غلط کی تشخیص کا معیار قرآن ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز ہماری روایت کے نام پر تمہارے سامنے آئے تو اسے قرآن سے
پرکھو اگر قرآن کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے تو وہ حق اور درست ہے اور اگر مطابقت نہ رکھتی ہو تو باطل اور غلط ہے۔
شیعوں کی فقہ اور حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی روایتیں بہت زیادہ ہیں کہ ہم یہاں اُن میں سے صرف ایک حدیث نقل کررہے ہیں۔
'' مالم یوافق من الحدیث القرآن فهو زخرف'' (1)
جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ بیہودہ اور باطل ہے۔
اس طرح کی روایتوں سے بھی بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں تبدیلی ممکن نہیں ہے لہٰذا یہ مقدس کتاب ابد تک میزان حق و باطل کے عنوان سے پہچانی جاتی رہے گی۔
5۔ شیعوں کے بزرگ علماء جو اسلامی اور شیعی ثقافت کے پیشرو تھے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ان تمام علماء اعلام کا ذکر تو یہاں مشکل ہے لیکن نمونہ کے طور پر ہم ان میں سے چند علماء کے نام درج کررہے ہیں۔
1۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی، معروف بہ ''صدوق'' متوفی 381ھ ق فرماتے ہیں:'' ہمارا عقیدہ قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے ، وحی الٰہی ہے ایسی کتاب ہے جس میں باطل کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اِسے خدائے حکیم و دانا نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ اصول کافی، ج1، کتاب فضل العلم، باب الأخذ بالسنة وشواہد الکتاب، روایت 4
(2)۔ الاعتقادات س 93
2۔ سید مرتضیٰ علی ابن الحسین موسوی علوی، معروف بہ ''علم الھدیٰ'' متوفی 436ھ ق، فرماتے ہیں:''اصحاب کی ایک جماعت مثلاً عبداللہ بن مسعود، أبی بن کعب وغیرہ نے شروع سے آخر تک قرآن مجید کو پیغمبر اسلام(ص) کے سامنے بارہا پڑھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن بغیر کسی کمی یا پراکندگی کے مرتب تھا۔(1)
3۔ ابو جعفر محمد ابن حسن طوسی معروف بہ شیخ الطائفہ ، متوفی 460ھ ق فرماتے ہیں:''قرآن میں کمی اور زیادتی کی بات تو اس کتاب کے شایان شان ہی نہیں ہے کیونکہ سارے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں زیادتی نہیں ہوئی ہے اس میں کمی کے بارے میں بھی مسلمانوں میں ظاہر یہی ہے کہ کمی نہیں ہوئی ہے اور یہ بات (قرآن میں زیادتی کا نہ ہونا) ہمارے مذہب کے لیے مناسب ہے۔ اس بات کو سید مرتضیٰ نے قبول کیا ہے اور اس کی تائید بھی کی ہے اور ظاہر روایات بھی اسی حقیقت کا ثبوت ہیں۔ ایسی بہت کم روایتیں ہیں جن میں قرآن میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن یہ روایتیں خبر واحد ہیں جو علم و عمل کا موجب نہیں ہیں اور ان سے اعراض کرنا ہی بہتر ہے۔(2)
4۔ ابو علی طبرسی صاحب تفسیر ''مجمع البیان'' فرماتے ہیں :
'' قرآن میں زیادتی کی بات کے بے بنیاد ہونے پر تمام امت اسلامی کا اتفاق ہے لیکن قرآن میں کمی کی روایتیں ہمارے بعض اصحاب نیز اہل سنت میں فرقہ ''حشویہ'' سے نقل ہوئی ہیں لیکن ہمارے مذہب میں جو چیز قبول شدہ حقیقت ہے وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ مجمع البیان ج1، ص 10 منقول از جواب ''المسائل الطرابلسیّات'' سید مرتضیٰ
(2)۔ تبیان ج1، ص 3
اس کے برخلاف ہے۔(1)
5۔ علی بن طاؤوس حلی معروف بہ سید ابن طاؤوس متوفی 664ھ ق فرماتے ہیں: ''شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی''(2)
نتیجہ :
خلاصہ بحث یہ ہے کہ شیعہ سنی تقریباً تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا تھا اس میں کسی قسم کی تحریف ، تبدیلی اور کمی زیادتی واقع نہیں ہوئی ہے۔
اس بیان سے اس تہمت کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے جو شیعوں پر لگائی جاتی رہی ہے۔ اگر ضعیف روایتوں کا نقل کرنا اتہام کا سبب ہے تو ایسی روایتیں صرف شیعوں ہی کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ مفسرین اہل سنت نے بھی اسی طرح کی ضعیف روایتیںاپنی کتابوں میں نقل کی ہیں جن میں بعض نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہوں۔
1۔ ابو عبداللہ محمد بن انصاری قرطبی اپنی تفسیر میں ابوبکر انباری سے اور وہ ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب (73 آیات) پیغمبر(ص) کے زمانہ میں سورہ بقرہ کے برابر (286 آیات) تھا اس سورہ میں آیت ''رجم'' بھی موجود تھی۔ اوراب سورہ احزاب میں ایسی کوئی آیت نظر نہیں آتی(3 )اسی کتاب میں جناب عائشہ سے منقول ہے: ''سورہ احزاب پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں دو سو آیتوں پر مشتمل تھا، لیکن جب مصحف لکھا گیا تو اب جتنی آیتیں موجود ہیں ان سے زیادہ آیتیں نہیں مل سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ مجمع البیان، ج1، ص 10 (2)۔ سعد العود، ص 44 (3)۔ تفسیر قرطبی جزء 14، ص 113
2۔ صاحب کتاب الاتقان نقل کرتے ہیں کہ جناب أبی '' کے مصحف میں 116 سورہ تھے۔ کیونکہ ''حقہ'' اور ''خلع'' کے نام سے بھی دو دوسرے سورے موجود تھے۔(1)
حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں ایک سو چودہ سورے ہیں اور اب ان دو سوروں (حقہ اور خلع) کا قرآن میں کہیں بھی کوئی نام و نشان نہیں ہے۔
3۔ ہبة اللہ بن سلامہ کتاب ''الناسخ والمنسوخ'' میں انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں :
'' پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ میں ایک سورہ سورہ توبہ کے برابر تھا مجھے اس سورہ کی صرف ایک آیت یاد ہے اور وہ یہ ہے۔ ''
''لو انّ لِابن آدم وادیان من الذهب لابتغیٰ اِلَیْهِمٰا ثَالِثًا وَ لَوْ اَنّ لَهُ ثالِثًا لابتغیٰ اِلَیْهٰا رابعاً وَلَا یملأَ جَوْفَ ابن آدم اِلّا التُراب ویتوبُ اللّٰه علٰی مَن تابَ''
حالانکہ قرآن میں اس قسم کی آیت موجود نہیں ہے اور درحقیقت یہ آیت قرآن کی بلاغت کے منافی ہے۔
4۔ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر ''درالمنثور'' میں عمر بن خطاب'' سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب، سورہ بقرہ کے برابر تھا اور اس میں آیہ رجم بھی موجود تھی۔(2)
بہرحال شیعہ اور سنی فرقوں کے بعض افراد نے قرآن میں تحریف کے سلسلے کی کچھ ضعیف
روایتیں نقل کی ہیں لیکن شیعہ اور سنی اکثریت کے لیے یہ روایتیں قابل قبول نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ اتقان۔ ج1، ص 67(2)۔ درالمنثور ج5، ص 180
بلکہ نص قرآن، صحیح اور متواتر روایات، ہزاروں اصحاب پیغمبر(ص) اور دنیا کے مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تبدیلی ، کمی اور زیادتی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔
سوالات
1۔عدم تحریف قرآن پر قرآن سے کوئی آیت پیش کریں ؟
2۔حدیث ثقلین کس طرح عدم تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہے ؟
3۔عدم تحریف قرآن کے بارے میں شیخ صدوق اور علم الھدیٰ کیا فرماتے ہیں ؟
4 ۔ کیا اہل سنت کی کتابوں میں تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی روایات موجود ہیں ؟ کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟
درس نمبر 8 ( منصب امامت )
شیعہ منصب خلافت کو پابند نص کیوں سمجھتے ہیں؟
جواب: دین اسلام ایک عالمی اور زندہ و جاوید دین ہے جب تک پیغمبر اسلام (ص) موجود تھے تو لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر تھی۔ آپ کی رحلت کے بعد ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری اس کے سپرد ہونی چاہیے جو امت میں سب سے زیادہ اس عہدہ کے لائق ہو۔
پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند نص ہے یعنی خدا کے حکم سے پیغمبر (ص) کسی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کریں گے یا یہ کہ اسے انتخاب کے ذریعہ حل کیا جائے گا؟ اس سلسلہ میں دو نظریئے ہیں :
شیعوں کا عقیدہ ہے کہ منصب خلافت پابند نص ہے اورپیغمبر کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہیے۔
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ یہ مسئلہ انتخابی ہے یعنی پیغمبر کے بعد ساری امت مل کر کسی ایک فرد کو حکومت اور امت کے امور کی نگرانی کے لیے چن لے گی۔
آنحضرت کے زمانہ کی سیاست کا تجزیہ منصب خلافت کے پابند نص ہونے پر دلیل ہے۔
شیعہ علماء نے عقائد کی کتابوں میں منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے بارے
میں بہت سی دلیلیں بیان کی ہیں۔ لیکن ہم یہاں عہد رسالت کے حاکم کے شرائط کا تجزیہ پیش کریں گے جس سے شیعوں کے نظریہ کا صحیح اور درست ہونا واضح ہوجائے گا۔
پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ کی داخلی اور خارجی سیاست کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ(ص) کا جانشین خدا کیطرف سے معین ہونا چاہے۔ اور اس کا اعلان پیغمبر اسلام کی طرف سے کیا جانا ضروری تھا کیونکہ اسلامی معاشرہ کو تین طرف سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ ایک طرف روم کی شہنشاہیت دوسری طرف ایران کی بادشاہت اور تیسری طرف منافقین کی سازشیں، اس طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے مصلحت امت کا تقاضا تھا کہ آنحضرت(ص) اپنا ایک جانشین معین کرکے ساری امت کو متحد کردیں اور داخلی اختلافات کی وجہ سے جو دشمن کو نفوذ کا موقع ملتا ہے اس کا راستہ بند کردیں ۔
وضاحت :
اسلام کو درپیش خطرات کا ایک حصہ روم کی شہنشاہیت تھی جزیرہ عرب کے شمال میں یہ بڑی قدرت کے عنوان سے موجود تھی۔ اور پیغمبر اسلام (ص) کو ہمیشہ اس کا کھٹکا لگا رہتا تھا اپنی عمر کے آخری وقت تک آپ کو اس فکر سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔
روم کے عیسائی لشکر سے مسلمانوں کا پہلا ٹکرائو 8ھ میں سرزمین فلسطین پر ہوا۔ جس میں تین سپہ سالار، جناب جعفرطیار، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگے اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اس شکست سے قیصر روم کے لشکر کی جرأت بڑھ گئی اور ہر لمحہ ان کے حملے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس لیے پیغمبر اسلام (ص) نے 9ھ میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا تاکہ کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کی بہ نفس نفیس رہبری کریں اِس پر مشقت ِ سفر سے لشکر اسلام اپنی دیرینہ حیثیت بچانے اور سیاسی
حیات کی تجدید میں کامیاب ہوا۔
اس سطحی کامیابی سے پیغمبر اسلام (ص) مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دنوں پہلے آنحضرت(ص) نے اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں لشکر اسلام کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔
اسلام کا دوسرا دشمن ایران کی شہنشاہیت تھی۔ خسرو ایران کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ اُس نے غصہ میں آکر پیغمبر اسلام (ص) کا خط پھاڑ دیا اور سفیر کی توہین کے ساتھ اُسے نکال دیا۔ اور اس نے یمن کے حاکم کو لکھا کہ پیغمبر اسلام کو گرفتار کرلو اور اگر وہ آسانی سے گرفتار نہ ہوں تو انہیں قتل کردو۔
ایران کا بادشاہ خسرو پرویز اگرچہ آنحضرت (ص) کی حیات طیبہ ہی میں مر گیا مگر یمن کی آزادی اور استقلال کا مسئلہ ایرانی شہنشاہوںکے لیے لمحہ فکریہ بنارہا۔ ایرانی سیاستدانوں کا غرور و تکبر کسی ایسی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔
تیسرا خطرہ اُن منافقوں کا تھا جو مسلمانوں کے درمیان بیٹھ کر نفاق کے ذریعہ اسلام کی جڑیں کمزور کرنے میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو تبوک اور مدینہ کے درمیان قتل کرنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا۔ اور بعض افراد ایسے بھی تھے جو آپس میں یہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد اسلامی تحریک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور ہم سب چین کی نیند سوئیں گے۔ منافقین کی تخریبی پالیسیاں اتنی خطرناک تھیں کہ قرآن نے انہیں سورہ آل عمران،نسائ،مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت،
احزاب ، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون میں ذکر کیا ہے۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ فروغ ابدیت، (آقا ی جعفر سبحانی) سے اقتباس
کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی گھات میں لگے رہنے والے ایسے قوی دشمنوں کی موجودگی کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) نئے اسلامی معاشرہ کے لیے اپنی جانب سے کوئی دینی اور سیاسی رہبر معین نہ کریں؟
اس وقت کے معاشرہ کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو ایک جانشین اور رہبر معین کرکے اسلامی اتحاد کو بچانا اور دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد امت کو افراتفری اور برے حالات _ کہ ہر گروہ یہ کہے کہ أمیر ہم میں سے ہوگا _ سے بچانے کے لیے رہبر کے علاوہ اور کوئی راستہ ممکن نہ تھا۔اس وقت کے یہ تمام حالات منصب خلافت کے پابند نص ہونے کے نظریہ کی درستی اور صحت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے نص :
پیغمبر اسلام نے معاشرہ کی بنیادی ضرورت کے پیش نظر ابتدائے بعثت سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک ہر موقع پر جانشینی اور خلافت کے مسئلہ کا حل پیش کیا۔ آغاز رسالت میں دعوت ذو العشرہ کے موقع پر آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے درمیان اس مسئلہ کو واضح کیا۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حجة الوداع سے واپسی کے وقت مقام غدیر پر بھی آپ نے اپنا جانشین اور خلیفہ معین فرمایا، اسکے علاوہ بھی مختلف مناسبتوں کے موقع پر اس مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ صدر اسلام کے معاشرتی حالات اور امیر المومنین ـ کی جانشینی کے بارے میں آنحضرت کے ارشادات کے بعد یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خلافت کے مسئلہ کا تنصیبی ہونا ضروری ہے۔
سوالات
1۔پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس سے کیا مراد ہے ؟
2۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں اہل سنّت کا نظریہ بیان کیجئے ؟
3۔خلافت کے تعیّن کے سلسلے میں شیعوں کا نظریہ بیان کیجئے ؟
4۔ خلافت کا عہدہ پابند ِنص ہے اس نظریہ کی درستی پر دلیل پیش کیجئے ؟
5۔ پیغمبر اسلام (ص)نے کتنے موارد پر حضرت علی (ع) کی خلافت کا اعلان کیا کوئی دو مورد بیان کیجئے ؟
درس نمبر 9 ( صحابہ کرام )
صحابہ کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟
جواب: جن لوگوں نے پیغمبر اسلام کا دیدار کیا اور آپ کی صحبت اختیار کی شیعوں کی نظر میں ان کی چند قسمیں ہیں اس گفتگو کی وضاحت سے پہلے اجمالی طور پر صحابی کی تعریف کردینا مناسب ہے۔
صحابی کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
1 ۔سعید بن مسیب کہتے ہیں: ''صحابی وہ ہے جو ایک یا دو سال تک پیغمبر(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دوجنگ میں اس نے آپ(ص) کے ساتھ شریک ہوکر جنگ کی ہو۔''(1)
2۔ واقدی کہتے ہیں: '' جس نے پیغمبر(ص) کو دیکھا ، اسلام قبول کیا، دین کے مسائل میں غوروفکر سے کام لیا، دین سے راضی رہا وہ ہمارے نزدیک صحابی ہے چاہے وہ پیغمبر(ص) کے ساتھ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ رہا ہو۔''(2)
3۔ محمد بن اسماعیل کہتے ہیں: جس مسلمان نے پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کی یا آپ کو دیکھا وہ صحابی ہے۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 11 اور 12(2)۔ اسد الغابہ ج1، ص 12 ۔ 11
(3)۔ اسد الغابہ ج1، ص 12 ۔11(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 21 ۔ 11
4۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے ایک مہینہ ، ایک دن ، یا ایک گھنٹہ بھی پیغمبر(ص) کی محبت
میں گزارا، یا آپ کی زیارت کی وہ صحابی ہے۔(1)
دوسری طرف علمائے اہل سنت کے نزدیک ''عدالت صحابہ'' ایک اصل مسلم ہے ۔ ا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پیغمبر(ص) کی صحبت اختیار کی وہ عادل ہے۔(2)
اب ہم یہاں آیات قرآن کی روشنی میں ان اقوال کو پرکھ کر اس سلسلے میں شیعہ نظریہ بیان کریں گے جو منطق وحی پر استوار ہے۔
تاریخ میں بارہ ہزار سے زیادہ ان افراد کا ذکر موجود ہے جو صحابی پیغمبر(ص) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے افراد پائے جاتے ہیں۔
بیشک پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت ایک بہت بڑا افتخار ہے جو ایک خاص گروہ کو حاصل ہوا ہے۔ ان افراد کو امت اسلامیہ نے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ کیوں کہ وہ دین اسلام کو قبول کرنے والوں میں پیش پیش تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے شوکت اور عزت اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔قرآن نے بھی ان پرچم داروں کی تعریف کی ہے :
(لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بَعْد و قاتلوا) (3)
جن افراد نے فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد انفاق و جہاد کیا بلکہ ان کا درجہ بلند ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرلینا بھی ضروری ہے کہ پیغمبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ اسد الغابہ ج1، ص 21 ۔ 11 (2)۔ الاستیعاب فی اسماء الاصحاب ج1، ص 2، حاشیہ '' الاصابہ''، اسد الغابہ ج1ص 3۔ منقول از ابن اثیر۔ (3)۔ سورہ مبارکہ حدید آیت 10
اسلام(ص) کی صحبت کوئی ایسا کیمیا نہیں تھی جو انسان کی ماہیت بدل دے اور آخر عمر تک کی
ضمانت لے لے اور انہیں عادلوں کی فہرست میں قرار دے دے۔
اس مسئلہ کی ضمانت کے لئے مناسب ہے کہ ہم قرآن مجید کا سہارا لیںجس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔
صحابہ قرآن کی نظر میں :
منطق وحی میں پیغمبر اسلام(ص) کی صحبت سے شرفیاب ہونے والوں کی دو قسمیں ہیں۔
پہلا گروہ:اس میں وہ افراد شامل ہیں، جن کی قرآن مجید نے مدح و ستائش کی ہے۔اوران کو اسلام کی شان و شوکت کی بنیاد رکھنے والوں میں شمارکیاہے قرآنی آیات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
1۔ سابقین :
(والسَّابقونَ الاوّلون من المهاجرین والانصار والّذین اتبعُوهم باحسان رضی اللّٰه عنهم و رضوا عنه' وَ أَعَدَّ لهم جَنّاتٍ تَجْری من تَحْتِهَا الانهار خالدین فِیْهٰا اَبَدًا ذٰلِکَ الفوز العظیم ) (1)
'' اور مہاجرین اور انصار میں سے (ایمان کی طرف) سبقت کرنے والے اور وہ لوگ جنہوں نے نیک نیتی سے (قبول ایمان میں) اُن کا ساتھ دیا، خدا اُن سے راضی اور وہ خدا سے خوش اور اُن کے واسطے خدا نے وہ (ہرے بھرے) باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تیار کر رکھے ہیں۔ وہ ہمیشہ ابدالاباد تک اُن میں رہیں گے یہی تو بڑی کامیابی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر 100
ہے۔ ''
2۔ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے :
( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰه عَنِ المُؤمِنِیْنَ اِذْ یُبٰایِعُونَکَ تحت الشجرةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلوبِهِمْ فَأنزلَ السکینة عَلَیهِم وَ أثابَهُمْ فَتْحًا قریبًا ) (1)
جس وقت مومنین تم سے درخت کے نیچے (لڑنے مرنے) کی بیعت کررہے تھے تو خدا ان سے ( اس بات پر ) ضرور خوش ہوا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا خدا نے اُسے دیکھ لیا پھر ان پر تسلی نازل فرمائی۔ اور انہیں اس کے عوض میں بہت جلد فتح عنایت کی۔
3۔ مہاجرین :
( لِلْفُقراء المُهٰاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخرِجُوا مِنْ دِیٰارِهِمْ وَ أَمْوالِهمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْواناً وَ یَنْصُرُونَ اللّٰه وَ رَسُوَله' أُولٰئِکَ هُمُ الصَّادِقُونَ ) (2)
( اس مال میں) ان مفلس مہاجروں کا (حصہ) بھی ہے جو اپنے گھروں سے اور مالوں سے نکالے اور الگ کئے گئے (اور) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایماندار ہیں۔
4۔ اصحاب فتح :
( مُحمّد رسول اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَه' أَشِدّاء عَلٰی الکفّار رَحْمٰائُ بَینَهُمْ تَرٰیُهُم رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوٰاناً سِیْمٰا هُمْ فِی وُجُوهِهمْ مِن أَثَرِ السُّجُودِ)(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ فتح۔ آیت نمبر 8 (1)۔ سورہ مبارکہ حشر، آیت نمبر8
(3)۔ سورہ مبارکہ فتح، آیت نمبر 29
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بڑے سخت اور آپس میں بڑے رحمدل ہیں۔ تو ان کو دیکھے گاکہ (خدا کے سامنے) جھکے سر بسجود ہیں خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے خواستگار ہیں(کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں میں گھٹے پڑے ہوئے ہیں۔
دوسرا گروہ:پیغمبر (ص) کی صحبت اختیار کرنے والوں میں دوسرا گروہ اُن افراد پر مشتمل تھا جو دو چہرے اور بیمار دل تھے، قرآن نے انکی ماہیت کو آشکار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص) کو اُن کے وجود سے آگاہ کیا۔ اُن میں سے یہاں چند گروہ کا تذکرہ کررہے ہیں۔
1۔ جانے پہچانے منافقین :
( اِذَا جٰائَکَ المُنٰافقونَ قَالوا نشهد انّک لَرسول اللّٰهِ واللّٰه یُعلَمُ انّکَ لَرَسُولُهُ وَاللّٰهُ یَشْهَد أَنَّ المُنَافقین لَکٰاذِبُونَ) (1)
( اے رسول) جب منافقین آپ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں خدا تو جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں وہ (خدا) گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔
2۔ انجانے منافقین :
(و مِمَّنْ حَوْلَکُم مِنَ الأَعرابِ مُنٰافِقُونَ وَ مِن أهْل المَدِیْنَهِ مَرَدُوا عَلی النّفاقِ لَا تَعْلَمَهُمْ نَحْنُ نَعْلَمَهُم )(2)
آپ کے اطراف رہنے والے کچھ بادیہ نشین منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ نفاق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ منافقون از اول تا آخر (2)۔ سورہ توبہ، آیت نمبر101
میں ڈوبے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں پہچانتے میں پہچانتا ہوں۔
3۔ بیمار دل :
(واذ یقول المُنٰافقون والذین فی قلوبهم مَرَض مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ و رَسُولُه' اِلّا غُرُوراً) (1)
منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض تھا کہنے لگے تھے کہ خدا نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے وہ بالکل فریب تھے۔
4۔ گناہ گار :
( و آخَرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلاً صالِحًا وَ آخَرَ سَیِّئًا عسیٰ اللّٰهُ اَنْ یتوبَ عَلَیْهِمْ اِنّ اللّٰه غفور رَحِیْم ) (2)
اور کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا تو اقرار کیا (مگر ) ان لوگوں نے بھلے کام اور کچھ برے کام کو ملا جلا دیا۔ قریب ہے کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے۔ خدا تو یقینا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) کی بہت سی روایتیں بعض اصحاب کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔
1۔ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :
میں تم کو اس حوض کی طرف بھیج رہا ہوں جہاں وارد ہونے والا اس سے سیراب ہوتا ہے اور جو اس سے سیراب ہو وہ ابد تک کبھی پیاسا نہیں ہوتا کچھ افراد وہاں میرے
پاس آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھرہمارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورہ مبارکہ احزاب، آیت نمبر 12 (2)۔ سورہ مبارکہ توبہ، آیت نمبر 102
اور ان کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔
ابو حازم کہتے ہیں کہ جب میں اس روایت کو بیان کررہا تھا تو نعمان بن ابی عیاش نے اِسے سن کر کہا کہ کیا آپ نے سھل سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا ''ہاں'' تو ابو حازم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری نے اس حدیث میں پیغمبر اسلام(ص) کی زبانی کچھ زیادہ بیان کیا ہے۔
(انّهم منّی فیقال انّک لا تدری ما احد ثوا بعدکَ فاقول سحقًا لِمَنْ بدّل بعدی ) (1)
'' یہ لوگ مجھ سے ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا پھر میں کہوونگا کہ رحمت خدا سے دور ہوجائے جس نے احکام خدا کو بدل دیا۔ ''
'' میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے '' اور میرے بعد بدل ڈالا، یہ دونوں جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس سے مراد آنحضرت کے وہ اصحاب ہیں جو مدتوں آپ(ص) کے ساتھ رہے۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے )
2۔ بخاری اور مسلم نے پیغمبر اسلام(ص) سے روایت نقل کی ہے۔
'' قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے کچھ افراد۔ یا آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ افراد میرے پاس آئیں گے پھر حوض کوثر سے دور ہٹا دیئے
جائیں گے۔ پھر میں کہوونگا کہ پالنے والے یہ میرے اصحاب ہیں ۔ تو خدا فرمائے گا :
آپ(ص) کے بعد اِن لوگوں نے جو کچھ کیا آپ کو نہیں معلوم وہ اپنی سابقہ حالت کی طرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) جامع الاصول (ابن اثیر)، ج11 ص 120 ح 7972
پلٹ گئے تھے۔(1)
نتیجہ :
قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام(ص) کی احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنحضرت (ص) کی صحبت میں رہنے والے تمام افراد ایک جیسے اور ایک سطح کے نہیں تھے، ایک گروہ وہ تھا جو پاکیزگی اور شائستگی کی بلندیوں پر فائز تھا۔ ان کی خدمات اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کا سبب بنیں۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا جو شروع ہی سے دو چہرے رکھتا تھا۔ جو منافق ، بیمار دل، اور گناہ گار تھا۔
بیان گذشتہ کی روشنی میں پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر واضح ہوجاتا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو قرآن مجید اور پیغمبر اسلام(ص) کی سنت سے حاصل ہوتا ہے۔
سوالات
1۔اہل سنت کی نظر میں صحابہ کی تعریف کیجئے؟
2۔قرآن کی نظر میں صحابہ کے کتنے گروہ ہیں ؟
3۔صحابہ کے بارے میں شیعوں کا نکتہ نظر بیان کیجئے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ جامع الاصول ج11، ص 120، ح7973
درس نمبر 10
( شفاعت )
اسلام کے مسلم اصولوں میں سے ایک شفاعت ہے جسے تمام اسلامی فرقوں نے قرآن اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے اگرچہ شفاعت کے نتیجہ میں نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک محترم انسان جو خدا کے نزدیک تقرب اور خاص منزلت رکھتا ہو دوسرے انسان کی گناہوں کی بخشش یا اس کے درجات کی بلندی کا خداوند متعال کی بارگاہ میں خواستگار ہو۔
پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا :
'' أُعْطَیْتُ خمسْاً ---- وَ أُعطِیْتُ الشَّفَاعَةَ فاَدّخَرْتُهٰا لِأُمّتِي'' (1)
مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں ۔۔۔ مجھے حق شفاعت عطا کیا گیا لہٰذا میں نے اس کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کرلیا۔
شفاعت کے حدود :
پہلی بات تو یہ کہ شفاعت کرنے والے کو خدا کی طرف سے شفاعت کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ لہٰذا صرف وہی گروہ شفاعت کرنے کا مجاز ہے جو تقرب الٰہی کے ساتھ ساتھ اس سے شفاعت کرنے کی اجازت بھی حاصل کرچکا ہو۔ قرآن مجید میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔مسند احمد ، ج1، ص 301، صحیح بخاری ج1، ص 91
اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے۔
(لا یملکونَ الشفاعة اِلّا من اتخذ عند الرحمٰن عَهْدًا ) (1)
کوئی شخص بھی شفاعت کرنے کا حق نہیں رکھتا مگر جس نے خدا سے شفاعت کا عہد لے لیا ہو۔
( یَوْمَئِذٍ لا تنفع الشفاعة الّا من اذن له الرحمٰن و رَضِیَ لَه' قَوْلاً ) (2)
قیامت کے دن کسی کے بارے میں کسی کی شفاعت سودمند نہیں ہوگی، مگر اس شخص کی شفاعت جس کو خدا نے اجازت دی ہو اور جس کے قول سے راضی ہو۔
دوسری بات یہ کہ جس کی شفاعت کی جائے اس کے اندر شفاعت کرنے والے کے ذریعہ فیض الٰہی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہو یعنی خدا سے ایمانی رشتہ اور شفاعت کرنے والے سے اس کا روحانی رشتہ منقطع نہ ہو۔ لہٰذا کفار جن کا خدا سے ایمانی رابطہ نہیں ہے یا مسلمانوں میں سے بعض گناہگار افراد کہ جن کا شفاعت کرنے والے سے کوئی رابطہ نہیں ہے جیسے بے نمازی، قاتل وغیرہ کی شفاعت نہیں ہوگی۔
قرآن بے نمازیوں اور منکرین معاد کے لیے فرماتا ہے :
(فَمٰا تَنْفَهُم شفاعة الشافعین) (3)
اس وقت شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے کام نہیں آئے گی۔
ظالموں اور ستمگاروں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) سورہ مبارکہ مریم ، آیت نمبر 87 (2)سورہ مبارکہ طٰہٰ ، آیت نمبر109 (3)۔ سورہ مبارکہ مدثر، آیت نمبر 48 (4)۔ سورہ مبارکہ مؤمن، آیت نمبر 18
ظالموں کا نہ کوئی سچا دوست ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا جس کی بات مانی جائے۔
فلسفہ شفاعت :
جو افراد گمراہی اور معصیت میں پڑے ہیں ان کے لیے شفاعت توبہ کی طرح امید کی ایک کرن ہے کہ وہ گناہوں کو چھوڑیں اور باقی زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری میں بسر کریں،کیونکہ ایک گناہگار انسان کو جب اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ محدود شرائط کے ساتھ شفاعت کرنے والے کی شفاعت حاصل ہوسکتی ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ان شرطوں کا پاس اور لحاظ کرکے معین کی ہوئی حدود سے آگے نہ بڑھے۔
شفاعت کا نتیجہ :
بعض مفسرین اسلام کی نظر یہ ہے کہ شفاعت کے ذریعہ گناہ بخشے جاتے ہیں جبکہ بعض کے نکتہ نظر سے شفاعت درجات میں بلندی کا سبب ہے۔
سوالات
1۔شفاعت سے کیا مراد ہے ؟
2۔شفاعت کی حدود بیان کیجئے ؟
3۔شفاعت کا فلسفہ کیا ہے ؟
4۔شفاعت کانتیجہ کیا ہے ؟
دوسرا حصہ ( احکام )
سبق نمبر11 ( تقلید )
خداوند عالم نے ہماری سعادت اور دنیا و آخرت میں نجات کے لئے تمام احکام و قوانین کو اپنے نبی (ص) کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا اور آپ (ص) نے اس امانت عظمیٰ کو ائمہ طاہرین کوودیعت اعطا فرمایا ہے اور حضرت کے جانشین اور خلفائے برحق نے اپنی عمر کے تمام نشیب و فراز میں اس ذمہ داری کو پہنچانے کی کوشش فرمائی ہے جو آج تک ان تمام ادوار کو طے کرتے ہوے ہمارے سامنے حدیثوں اور روایتوں کی کتابوں میں موجود ہیں ۔
اس زمانہ میں چونکہ امام زمانہ تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں اور وظائف کو حضرت سے دریافت کر سکیں ،لہذا مجبور ہیں کہ حدیثوں اور قرآنی آیات سے احکام کا استنباط کریں اور اگر اس پر بھی قادر اور دست رسی نہیں رکھتے تو ضروری ہے کہ کسی مجتہد اعلم (سب سے زیادہ علم رکھنے والا )کی تقلید کریں ۔
روایات و احادیث میں کھری کھوٹی ، صحیح و غلط وضعی جعلی سب ہی موجود ہیں روایات کے اس سمندر سے گوہر کا الگ کرنا ہر ایک کے بس کا م نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو اس بحر بیکراں میں غواصی کر رہے ہوں ، جو اس سمندر کے طغیان اور طوفان سے خوب واقف ہوں جنھوں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے رات و دن نہ دیکھا ، عمر کے لمحات کو نہ شمار کیا ہو ، علوم کے سمندر کی تہہ میں بیٹھے ہوں اس
کی راہوں سے خوب واقف ہوں اس میں سے گوہر و موتی نکالنے میں ان کے لئے کوئیمشکل کام نہ ہو ، ایسے افراد کو مجتہد کہتے ہیں ۔
لہذا ہم مجبور ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو طے کرنے کے لئے ان کے دامن کو تھامیں کیونکہ اس کام کے ماہر وہی ہیں ، مریض ڈاکٹر ہی کے پاس تو جائے گا ، یہ ایک عقلی قاعدہ ہے جس چیز کے متعلق معلوم نہیں اس علم کے ماہر و متخصص سے ہی اس کے بارے میں پوچھا جائے اور حضرات ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بھی دور دراز رہنے والوں کے لئے قریب کے عالم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔
البتہ تقلید میں یہ چیز ذہن نشین رہے ، کہ ایسے مجتہد کی تقلید کی جائے جو تمام مجتہدین میں اعلم ( جو احکام خدا کو سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو ) عادل و پرہیز گار ہو پس اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ، مجتہدین اکثر موارد میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ، سوائے بعض جزئیات کے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ ان جزئیات میں ان کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اس مقام پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم کے پاس فقط ایک حکم موجود ہے اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پایا جاتا وہی حق ہے، اور حکم حقیقی و واقعی فتویٰ کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا ہے ، مجتہدین بھی نہیں کہتے ہیں کہ خدا کے نظریات و احکام ہمارے نظریات و خیالات کے تابع ہیں یا ہمارے حکم کی تبدیلی سے خدا کا حکم بدل جاتا ہے۔
پھر آپ ہم سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے :اگر حکم خدا ایک ہے تو پھر مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟
ایسی صورت میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ : فتویٰ میں اختلاف ان وجوہ
میں سے کسی ایک کی بنا پر ممکن ہے ۔
پہلا : کبھی ایک مجتہد حکم واقعی کو سمجھنے میں شک کرتا ہے تو اس حال میں قطعی حکم دینا ممکن نہیں ہوتا لہذا احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے مطابق احتیاط فتویٰ دیتا ہے تاکہ حکم الٰہی محفوظ رہے ، اور مصلحت واقعی بھی نہ نکلنے پائے ۔
دوسرا : کبھی اختلاف اس جہت سے ہوتا ہے ، کہ دو مجتہدین جس روایت کو دلیل بنا کر فتویٰ دیتے ہیں وہ روایت کو سمجھنے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں ، ایک کہتا ہے امام اس روایت میں یہ کہنا چاہتے ہیں اور دوسرا کہتا ہے امام کا مقصود دوسری چیز ہے ، اس وجہ سے ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔
تیسرا : حدیث کی کتابوں میں کسی مسئلہ کے اوپر کئی حدیثیں موجود ہیں جو باہم تعارض رکھتی ہیں فقیہ ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے کراس کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔
یہاں ممکن ہے کہ مجتہدین کا نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہو، ایک کہے فلاں اور فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر مقدم ہے اور دوسرا کہے ، فلاں و فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر ترجیح رکھتی ہے پس ہر ایک اپنے مد نظر روایت کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔
البتہ اس طرح کے جزئی اختلافات کہیں پر ضرر نہیں پہونچاتے بلکہ محققین اور متخصصین و ماہرین کے نزدیک ایسے اختلافی مسائل پائے جاتے ہیں آپ کئی انجینیر ، اور مہارت رکھنے والے کو نہیں پا سکتے جو تمام چیزوں میں ہم عقیدہ و اتفاق رای رکھتے ہوں ۔
ہم مذکورہ مطالب سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں :
1 : تقلید کرنا کوئی نئی بات نہیں ، بلکہ ہر شخص جس فن میں مہارت نہیں رکھتا ہے اس فن میں اس کے متخصص وماہر کے پاس رجوع کرتا ہے ، جیسے گھر وغیرہ بنوانے کے معاملہ میں انجینیراور بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ،پس احکام الٰہی حاصل کرنے کے لئے مرجع تقلید کی طرف رجوع کریں اس لئے کہ وہ اس فن کے متخصص و ماہر ہیں ۔
2۔ مرجع تقلید : من مانی اور ہوا و ہوس کی پیروی میں فتویٰ نہیں دیتے بلکہ تمام مسائل میں ان کا مدرک قرآن کی آیات و احادیث پیغمبر (ص) اور ائمہ طاہرین ہوتی ہے ۔
3 : تمام مجتہدین ، اسلام کے کلی مسائل بلکہ اکثر مسائل جزئی میں بھی ہم عقیدہ اور نظری اختلاف نہیں رکھتے ہیں ۔
4 : بعض مسائلِ جزئیہ جس میں اختلاف ِنظر پایا جاتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجتہدین اختلاف کرنا چاہتے ہیں بلکہ تمام مجتہدین چاہتے ہیں کہ حکم واقعی خدا جو کہ ایک ہے اس کو حاصل کرکے مقلدین تک پہنچائیں ، لیکن استنباط اور حکم واقعی کے سمجھنے میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے پھراس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ جو کچھ سمجھا ہوا ہے اس کو بیان کر یں ا ور لکھیں جب کہ حکم واقعی ایک حکم کے علاوہ نہیں ہے ۔ مقلدین کے لئے بھی کوئی صورت نہیں ہے مگر اعلم کے فتوے پر عمل کریںاور یہی انکا وظیفہ شرعی ہے
5 : جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ دنیا کا ہر متخصص و محقق و ماہر چاہے جس فن کے بھی ہوں ان کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے ، لیکن لوگ امر عادی سمجھتے ہوئے اس پر خاص توجہ نہیں دیتے ہیں اور اس سے اجتماعی امور میں کوئی رخنہ اندازی بھی نہیں ہوتی ہے ۔
مجتہدین کے بعض جزئیات میں اختلافی فتوے بھی اس طرح کے ہیں ، اس کو امر غیر
عادی نہیں شمار کرنا چاہیے ۔
6 : ہمیں چاہیے کہ ایسے مجتہد کی تقلید کریں جو تمام مجتہدین سے اعلم ہو ، اور احکام الٰہی کے حاصل کرنے میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو نیز عادل و پرہیز گار جو اپنے وظیفہ و ذمہ داری پر عمل کرتا ہو اور قانون و شریعت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہو۔
سوالات
1۔ تقید سے کیا مراد ہے ؟
2۔ کیسے مجتہد کی تقلید کی جائے؟
3۔مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟
درس نمبر12 ( طہارت و نجاست )
نمازکو انجام دینے سے پہلے نماز گزار کو جن مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ان میں سے ایک طہارت ہے۔طہارت سے مراد صفائی نہیں کیونکہ ممکن ہے کوئی چیز صاف ہو لیکن اسلامی احکام کی نگاہ سے پاک نہ ہوطہارت سے مراد یہ ہے کہ نماز گزار اپنے بدن ولباس کو ناپاک چیزوں (نجاسات ) سے پاک رکھے اور نجاسات سے پاکی کے لئے ان کی پہچان اورنجس چیزوں کو پاک کرنے کے طریقے سے آگاہ ہونا ضروری ہے، لہٰذا پہلے اسے بیان کرتے ہیں البتہ نجاسات کو جاننے سے پہلے اسلام کے ایک کلی قاعدہ کی طرف توجہ ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ
'' دنیا میں9چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں، مگریہ کہ کوئی چیزان9چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائے۔ ''
وہ 9 چیزیں یہ ہیں : ا۔پیشاب 2۔پائخانہ 3۔ منی 4۔خون 5۔مردار
6۔ کتّا 7۔سور 8۔کافر(جو کسی بھی آسمانی دین پر عقیدہ نہیں رکھتا ) 9۔مست کردینے والے مشروبات
مندرجہ بالا 9چیزوں کو ''نجاسات '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟
گزشتہ یہ بیان ہوا کہ دنیا میں چند چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں ،لیکن ممکن ہے پاک چیزیں بھی نجس چیزوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائیں، اس صورت میں کہ ان دو ( پاک ونجس)میں سے کوئی ایک چیز گیلی ہواور اس کی رطوبت دوسری چیزمیں منتقل ہوجائے۔
نجس چیز کیسے پاک ہوتی ہے؟
تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی چیزیں جنہیں مطہرات کے
نام سے یاد کیاجاتاہے حسب ذیل میں :
1۔پانی۔ 2۔ زمین۔ 3۔سورج 4۔ اسلام۔
5۔استحالہ 6۔ اانتقال 7۔تبعیت 8۔ نجاست کازائل ہونا
9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء 10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔
1۔پانی
برتنوں کو پاک کرنے کا طریقہ
نجس برتن کو قلیل پانی کے ساتھ تین مرتبہ دھویا جائے ۔لیکن کر اور جاری پانی میں ایک بار کافی ہے ۔
برتنوں کے علاوہ دوسری چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ
٭۔جو چیز نجس ہوگئی ہے عین نجاست دور کرنے کے بعد ایک بار اسے کر یا جاری پانی میں ڈبودیا جائے یا کر سے متصل پانی کی ٹوٹی یا دھار کے نیچے رکھ دیا جائے اس طرح کہ پانی تمام نجس شدہ جگہوں تک پہنچ جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔ اور اگر لباس وغیرہ ہے تو
بنا بر احتیاط واجب پانی میں ڈبونے کے بعد اسے نچوڑایا جھاڑاجاے ،البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نچوڑنا اور جھاڑنا پانی کے باہر ہو بلکہ پانی کے اندر بھی کافی ہے۔
٭جو چیز پیشاب کی وجہ سے نجس ہوگئی ہے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد قلیل پانی دو مرتبہ اس پر ڈالنے سے وہ پاک ہوجائے گی ۔اور جو چیز دوسری نجاسات کی وجہ سے نجس ہو جائے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد ایک مرتبہ دھوئی جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔
٭جس چیز کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ جو پانی اس پر ڈالا جارہا ہے وہ اس سے جدا ہو اور اگر نچوڑنے کے قابل ہے مثلاًلباس وغیرہ تو اسے نچوڑا اور جھاڑا جائے ۔تاکہ پانی اس سے جدا ہو جائے ۔
٭نجس چٹائی کارپٹ وغیرہ کو جب (گھروں میں سپلائی شدہ )ٹوٹی کے پانی سے پاک کیا جائے تو غسالہ کے پانی کا جدا ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ پانی کے نجس جگہ پہنچ جانے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے اور پانی ڈالتے وقت ہاتھ کے ذریعہ سے غسالہ (دھون )کو اپنی جگہ سے حرکت دینے سے طہارت حاصل ہو جائے گی ۔
٭۔تندو رکا ظاہر جو نجس پانی ملی مٹی سے بنایا گیا ،دھونے سے پاک ہوجائے گا اور تندور کے ظاہری حصے کی پاکی کہ آٹا جس کے ساتھ لگتا ہے،روٹی پکنے کے لئے کافی ہے۔
٭۔وہ نجس لباس جو پاک کرتے وقت پانی کو رنگین کردیتے ہیں چنانچہ لباس کا رنگ دینا ،پانی کو مضاف کرنے کا باعث نہ بنے تو نجس لباس پر ڈالنے سے وہ ہو جائیں گے
٭۔وہ نجس لباس جو پانی پھیرنے کے لئے کسی برتن میں رکھے جاتے ہیں اگر ٹوٹی کا
پانی ان پر اس طرح ڈالا جائے کہ پانی ساری جگہ جائے تو کپڑے ،برتن ،پانی اور کپڑوں سے جدا ہونے والے دھاگے وغیرہ جو پانی کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں وہ سب پاک ہیں (البتہ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ کپڑوں وغیرہ کے حوالے سے احتیاط یہ ہے کہ پانی میں غوطہ دینے کے بعد انہیں نچوڑیا جھاڑلیا جائے ۔ )
2۔زمین: زمیں پر چلتے ہوئے اگر پائوں کے تلوے یا جوتے کا تلا نجس ہوجائے تو پاک اور خشک زمین پر دس قدم چلنے سے پاک ہوجاتے ہیں۔ بشرطیکہ نجاست دور ہوجائے۔
یاددہانی :
تارکول والی زمین پاؤں کے تلؤؤں یا جوتوں کی تہوں کوپاک نہیں کرتی
3۔سورج :زمین،اور تمام غیر منقول اشیاء جیسے ،درخت ، نباتات،عمارت اور وہ چیزیں جو عمارت میں نصب کی جاتی ہیں، جیسے دروازہ اور کھڑکی وغیرہ.کو پاک کردیتا ہے
4۔اسلام :کافر، اگر مسلمان ہوجائے توتمام بدن پاک ہوجاتاہے
5۔استحالہ:اگر نجس چیز مکمل طور سے کسی دوسری چیز میں تبدیل ہوجائے تو وہ پاک ہوجائے گی ۔جیسے انسان یا حیوان کا پائخانہ مٹی بن جائے یا جل کر راکھ ہوجائے ۔
6۔انتقال:اگر کسی انسان یا حیوان کا خون کسی ایسے جانور میں منتقل ہوجائے کہ جو خون جھندہ نہ رکھتاہو(یعنی ذبح کے وقت اسکا خون اچھل کر نہ نکلتا ہو) جیسے مچھر وغیرہ اور کہا جائے کہ یہ خون اس جانور کا ہے تو یہ خون پاک ہے ۔
7۔تبعیت:ایک نجس چیز دوسری نجس چیز کے پاک ہونے سے پاک ہوجاتی ہے ۔جیسے اگر شراب سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اسکا برتن بھی خود بخود پاک ہوجاتاہے
8 ۔عین نجاست کا برطرف ہونا:دومواقع پر عین نجاست کے برطرف ہونے سے نجس چیز پاک ہوجاتی ہے اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں :
الف: حیوان کا بدن، مثلا ایک پرندہ کی چونچ نجاست کھانے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہوتو نجاست برطرف ہونے پر پاک ہوجاتی ہے۔
ب۔ انسان کے بدن کا اندرونی حصہ، جیسے منھ، ناک اور کان کا اندرونی حصہ ۔مثلاً اگر مسوڑوں سے خون آئے، اور یہ خون آب دہن میں مل کر ختم ہوجائے توانسان کا منھ پاک ہے اوراس میں پانی ڈالنے کی ضروت نہیں۔
9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء :نجاست خوار جانور کو ایک معین مددت تک خالص پاک غذاکھلانے سے اس کا استبراء ہوجاتا ہے ۔
10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔جب یقین ہو کہ کسی مسلمان کا جسم ، لباس یا اسکی کویء چیز نجس ہے کچھ مددت کے بعد دیکھے کہ وہ چیز کو جوپہلے نجس تھی اب اسے پاک چیز کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔تو اسے پاک ہی تصور کرنا چاہیے ۔البتہ اس میں شرط یہ ہے کہ وہ شخص جسکی چیز ہے وہ اسکے نجس ہو نے کے بارے میں باخبر ہو اور طہارت اور نجاست کے احکام سے آگاہ ہو۔
سوالات
1۔طہارت سے کیا مراد ہے ؟
2۔نجاسات کے نام بتایئے
3۔پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟
4۔مطہرات کے نام بتائیے
5۔نجس برتن کو کیسے پاک کرتے ہیں ؟
6۔نجس لباس اور فرش کو پاک کرنے کا طریقہ بیان کیجئے
7۔ زمین کن چیزوں کو پاک کرتی ہے ؟
درس نمبر13 ( وضو )
نماز گزار کو نماز پڑھنے سے پہلے ، وضو کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اس عظیم عبادت کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔
بعض مواقع پر''غسل'' کرنا چاہئے، یعنی پورے بدن کو دھونا اور اگر وضو یا غسل کرنے سے معذور ہوتو، ان کی جگہ پر ایک دوسرا کام بنام''تیمم'' بجالائے
وضو کا طریقہ :
وضو میںمستحب یہ ہے کہ سب سے پہلے دومرتبہ کلائی تک ہاتھ دھویں پھرتین مرتبہ کلّی کریں اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالیں اس کے بعد واجب یہ ہے کہ چہرے کو دھوئیں پھردائیں ہاتھ کواور پھر بائیں ہاتھ کوکہنیوںسے لیکر انگلیوں کے سرے تک دھوئیں ، ان اعضاء کو دھونے کے بعد، ہتھیلی میں بچی رطوبت سے سرکا مسح کریں یعنی بائیں ہاتھ کو سرپر کھینچ لیں اور اس کے بعد دائیں پائوںکا اور پھر بائیں پائوں کا مسح کریں۔ ا ب وضو کے اعمال سے مذید آگاہی کے لئے درج ذیل خاکہ ملا حظہ فرمائیں :
اعمال وضوکی وضاحت :
٭ چہرہ دھونے کی حدود :
٭لمبائی میں پیشانی کے اوپر بال اگنے کی جگہ سے لیکر ٹھوڑی کے آخر تک
چوڑائی میں چہرے کا وہ حصہ جو انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے درمیان واقع ہے۔
٭ ۔ اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے ۔
٭اگر چہرے پر بال ہوں تو بالوں کے اوپر ہی دھولینا کافی ہے اور ضروری نہیں ہے کہ وضو کا پانی چہرے کی جلد تک پہنچے ،البتہ اگر بال اس قدر کم ہوں کہ چہرے کی جلد واضح نظر آئے تو پھر جلد تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے ۔
دھونے کا معیار یہ ہے کہ پانی تمام عضو تک پہنچے ،اگرچہ ہاتھ پھرنے کے ذریعہ سے ہی ہو اور فقط گیلے ہاتھ کے ساتھ اعضا ء کومسح کردینا کافی نہیں ہے۔
٭ سرکا مسح:1۔ مسح کی جگہ: سرکا اگلا ایک چوتھائی حصہ جو پیشانی کے اوپر واقع ہے۔
2۔ مسح کی واجب مقدار: جس قدر بھی ہوکافی ہے(اس قدر کہ دیکھنے والا یہ کہے کہ مسح کیاہے)۔
3۔ مسح کی مستحب مقدار: چوڑائی میں جڑی ہوئی تین انگلیوں کے برابر اور لمبائی میں ایک انگلی کی لمبائی کے برابر۔
4۔ ضروری نہیں ہے کہ مسح، سرکی کھال پر کیا جائے بلکہ سرکے اگلے حصے کے بالوں پر بھی صحیح ہے۔ اگر سرکے بال اتنے لمبے ہوں کہ کنگھی کرنے سے بال چہرے پر گرجائیں تو سرکی کھال پر یا بالوں کی جڑ پر مسح کیا جائے گا ۔
5۔ سرکے دیگر حصوں کے بالوں پر مسح جائز نہیں ہے اگرچہ وہ بال سرکے اگلے حصے یعنی مسح کی جگہ پر ہی کیوں نہ جمے ہوئے ہوں۔
٭ پا ؤں کا مسح :
1۔مسح کی جگہ: پائوں کا اوپر والاحصہ۔
2۔ مسح کی واجب مقدار: لمبائی میں انگلیوں کے سرے سے پائوں کے اوپر والے حصے
کی ابھار تک اور چوڑائی میں جس قدر بھی ہو کافی ہے اگر چہ ایک انگلی کے برابر ہو۔
3۔ مسح کی مستحب مقدار: پائوں کا اوپر والا پورا حصہ ہے۔
سراور پاؤںکے مسح کے مشترک مسائل :
1۔ مسح میں ہاتھ کو سراور پائوںپر کھینچنا چاہئے اور اگر ہاتھ کو ایک جگہ قرار دے کر سریاپائوں کو اس پرکھنچ لیا جائے تو وضو باطل ہے، لیکن اگر ہاتھ کو کھینچتے وقت سریا پائوں میں تھوڑی سی حرکت پیدا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
2۔ اگر مسح کے لئے ہتھیلی میں کوئی رطوبت باقی نہ رہی ہو تو ہاتھ کو باہر کے کسی پانی سے تر نہیں کرسکتے ،بلکہ وضو کے دیگر اعضاء سے رطوبت کو لے کر اس سے مسح کیا جائے گا۔
3۔ ہاتھ کی رطوبت اس قدر ہونا چاہئے کہ سراور پائوں پر اثر کرے۔
4۔مسح کی جگہ (سر اور پائوں کا اوپر والا حصہ)خشک ہونا چاہئے،اس لحاظ سے اگر مسح کی جگہ تر ہو تو اسے پہلے خشک کرلینا چاہئے، لیکن اگر رطوبت اتنی کم ہو کہ ہاتھ کی رطوبت کے اثر کے لئے مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
بیان ہونے والے شرائط کے ساتھ وضو صحیح ہے،اور ان میں سے کسی ایک کے نہ ہونے پر وضو باطل ہے۔
وضو کے پانی اور اس کے برتن کے شرائط
1۔نجس او رمضاف پانی سے وضو کرنا باطل ہے،خواہ جانتا ہو کہ پانی نجس یامضاف ہے یا نہ جانتا ہو، یا بھول گیا ہو۔
2۔وضو کا پانی مباح ہونا چاہئے،اس لحاظ سے درج ذیل مواقع پر وضو باطل ہے :
٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کا مالک راضی نہ ہو(اس کا راضی نہ ہونا معلوم ہو )
٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کے مالک کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ راضی ہے یا
نہیں۔
٭ اس پانی سے وضو کرنا جوخاص افراد کے لئے وقف کیا گیا ہو،جیسے:بعض مدرسوں کے حوض اور بعض ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے وضو خانے
٭ جب پانی کا محکمہ موٹر کے ساتھ پانی کھینچنے سے منع کردے تو اس صورت میں موٹرلگانا اور اس استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اوراس موٹر سے حاصل شدہ پانی سے وضو کرنا درست نہیں ہے ۔
٭ رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں میں رہنے والے افراد جو سہولیات (پانی وغیرہ )سے استفادہ کرنے کے بعد واجبات ادانہ کریں تو ان کا وضو باطل ہے ۔
3۔اگر وضو کا پانی غصبی برتن میں ہو اور اس سے وضو کر لیا جائے تو وضو باطل ہے۔
اعضائے وضو کے شرائط
1۔دھونے اور مسح کرنے کے وقت ،اعضاء وضو کا پاک ہونا ضروری ہے۔
2۔اگر اعضائے وضو پر کوئی چیز ہو جو پانی کے اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہو یا مسح کے اعضاء پر ہو،اگر چہ پانی پہنچنے میں مانع بھی نہ ہو،وضو کے لئے اس چیز کو پہلے ہٹانا چاہئے۔
3۔ بال پین کی لکیریں،رنگ ،چربی اور کریم کے دھبے،جب رنگ جرم کے بغیر ہوں،تو وضو ء کے لئے مانع نہیںہیں،لیکن اگرجرم دار ہوں تو (کھال پر جسم حائل ہو نے کی صورت میں )اول اسے برطرف کرنا چاہئے۔
کیفیت وضو کے شرائط
1۔ترتیب:وضو کے اعمال ا س ترتیب سے انجام دئے جائیں :
٭ چہرہ کا دھونا ٭ دائیںہاتھ کا دھونا ٭ بائیںہاتھ کا دھونا
٭ سر کا مسح ٭ دائیں پیر کا مسح ٭ بائیں پیر کامسح
٭اگر اعمال وضو میں ترتیب کی رعایت نہ کی جائے تو وضو باطل ہے،
2۔موالات،یعنی اعمال وضو کا پے در پے بجالانا ،
3۔اگر وضو کے اعمال کے درمیان اتنا وقفہ کیا جائے کہ جب کسی عضو کو دھونا یا مسح کرنا چاہے تو اس سے پہلے والے وضو یا مسح کئے ہوئے عضو کی رطوبت خشک ہوچکی ہو،تو وضو باطل ہے۔
دوسروں سے مدد حاصل نہ کرنا
1۔جو شخص وضو کو خود انجام دے سکتا ہو،اسے دوسروں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہئے، لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص اس کے ہاتھ اور منھ دھوئے یا اس کا مسح انجام دے ، تو وضو باطل ہے۔
2۔جو خود وضو نہ کر سکتا ہو،اسے نائب مقرر کرنا چاہئے جو اس کا وضو انجام دے سکے، اگر چہ اس طرح اجرت بھی طلب کرے،تو استطاعت کی صورت میں دینا چاہئے، لیکن وضو کی نیت کو خود انجام دے۔
جن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے :
1۔ نماز اورنمازکے بھولے ہوئے اجزاء کی ادائیگی کے لئے (نماز میت کے علاوہ )
2۔ طواف خانہ کعبہ کے لئے ۔
یاد دہانی :
٭بدن کے کسی بھی حصے کو قرآن مجید کی لکھائی ،خداوندمتعال کے مخصوص اسماء و صفات ،
اور بنا بر احتیاط واجب انبیاء اورائمّہ (ع) کے اسماء گرامی کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا حرام ہے۔
وضو کیسے باطل ہوتا ہے؟ (مبطلات وضو )
1۔انسان سے پیشاب،یا پاخانہ یا ریح خارج ہوجائے۔
2۔نیندآجائے ،جب کان نہ سن سکیں اور آنکھیں نہ دیکھ سکیں۔
3۔وہ چیزیں جو عقل کو ختم کردیتی ہیں،جیسے:دیوانگی،مستی اور بیہوشی انسان پر طاری ہو جائے ۔
4۔عورتوںکواگر خون استحا ضہ آجائے۔
5۔جوچیز غسل کا سبب بن جاتی ہے،جیسے جنابت، مس میت وغیرہ۔
توجہ
عورت اور مرد کے درمیان وضو کے افعال اور کیفیت کے حوالے سے صرف یہ فرق ہے کہ مردوں کے لیے مستحب ہے کہ کہنیوں کو دھو تے وقت باہر سے شروع کریں اور عورتیں اندر سے شروع کریں ۔
سوالات
1۔ جوخود وضو انجام دینے سے معذور ہو، اس کا فرض کیا ہے؟
2۔ وضوکی ترتیب وموالات میں کیا فرق ہے؟
3۔ کن چیزوں کے لئے وضو کرنا واجب ہے ؟
4۔ کیا قرآن کی جلد یا حاشیہ کو بدن کے کسی حصے سے مس کرنے کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ؟
درس نمبر 14 ( حصہ اول ۔غسل )
بعض اوقات نماز (اور ہر وہ کام،جس کے لئے وضو لازمی ہے)کے لئے غسل کرنا چاہئے، یعنی حکم خدا کو بجالانے کے لئے تمام بدن کو سر سے لیکر پاؤں تک خاص شرائط اور کیفیت کے ساتھ دھوئے ، اب ہم غسل کی اقسام ، اس کے طریقے اور کے مواقع کو بیان کرتے ہیں :
غسل کی اقسام :
غسل جنابت،غسل میت ،غسل مس میت ،غسل نذرو عہد ،غسل حیض،غسل نفاس ا ور غسل استحاضہ (تین آخری غسل عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں )
غسل کرنے کا طریقہ
غسل دوطریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے :
'' ترتیبی''اور ''ارتماسی''۔
غسل ترتیبی میں پہلے سروگردن کو دھویاجاتا ہے،پھر بدن کا مکمل دایاں حصہ اور اس کے بعد بدن کا مکمل بایاں حصہ دھویا جاتا ہے۔
ارتماسی غسل میں،پورے بدن کو ایک دفعہ پانی میں ڈبو دیا جاتا ہے، لہٰذا غسل ارتماسی اسی صورت میں ممکن ہے جب اتنا پانی موجود ہو جس میں پورا بدن پانی کے نیچے ڈوب
سکے۔
وضاحت :
غسل میں پورا بدن اور سروگردن دھونا چاہئے،خواہ غسل واجب ہو جیسے جنابت یا مستحب جیسے غسل جمعہ اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔فرق صرف نیت کا ہے ۔
چند اہم مسائل :
1۔موالات اوربدن کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونے کے علاوہ تمام شرائط جو وضو کے صحیح ہونے کے بارے میں بیان ہوئے،غسل کے صحیح ہونے میں بھی شرط ہیں۔
2۔جس شخص پر کئی غسل واجب ہوں تو وہ تمام غسلوں کی نیت سے صرف ایک غسل بجالاسکتا ہے۔
3۔جو شخص غسل جنابت بجالائے،اسے نماز کے لئے وضو نہیں کرنا چاہئے، لیکن دوسرے غسلوں سے نماز نہیں پڑھی جاسکتی بلکہ وضو کرنا ضروری ہے۔
4۔غسل ارتماسی میں پورا بدن پاک ہونا چاہئے،لیکن غسل ترتیبی میں پورے بدن کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے،اور اگر ہر حصہ کو غسل سے پہلے پاک کیا جائے تو کافی ہے۔لیکن اگر کوئی عضو غسل سے پہلے پاک نہ ہو اور ایک ہی مرتبہ دھونے سے چاہے کہ وہ بھی پاک ہو جائے اور غسل بھی ہو جائے تو غسل باطل ہے ۔
6۔واجب روزے رکھنے والا،روزے کی حالت میں غسل ارتماسی نہیں کرسکتا،کیونکہ روزہ دار کو پورا سر پانی کے نیچے نہیں ڈبوناچاہئے،لیکن اگربھولے سے غسل ارتماسی کر لے تواسکا غسل صحیح ہے۔
7۔غسل میں ضروری نہیں کہ پورے بدن کو ہاتھ سے دھویا جائے،بلکہ غسل کی نیت سے
پورے بدن تک پانی پہنچ جائے تو کافی ہے۔
8۔ جب غسل کے دوران حدث اصغر سر زد ہو (مثلاًپیشاب کرے ) تو اس غسل پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ضروری نہیں کہ غسل کو نئے سرے سے شروع کرے بلکہ اسے جاری رکھے ۔لیکن اگر یہ غسل غسل جنابت ہو تو دیگر غسلوں کی مانند نماز پڑھنے کی خاطر وضو کے لئے اور ان سب اعمال کے لئے جس میں حدث اصغر سے طہارت مشروط ہے کافی نہیں ہوگا ۔
غسل جنابت :
اگر انسان کی منی نکل آئے یا جماع کرے تووہ مجنب ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں اسپرنماز وغیرہ کے لئے غسل جنابت واجب ہو جاتاہے ۔
چند مسائل :
1۔اگر منی اپنی جگہ سے حرکت کرے لیکن باہر نہ آئے تو جنابت کا سبب نہیں ہوتا۔
2۔جو شخص یہ جانتا ہو کہ منی اس سے نکلی ہے یا یہ جانتا ہو کہ جو چیز باہر آئی ہے وہ منی ہے، تو وہ مجنب سمجھا جائے گااور اسے ایسی صورت میں غسل کرنا چاہئے۔
3۔جو شخص یہ نہیں جانتا کہ جو چیز اس سے نکلی ہے،وہ منی ہے یا نہیں، تومنی کی علامت ہونے کی صورت میں مجنب ہے ورنہ حکم جنابت نہیں ہے۔
4۔مستحب ہے انسان منی کے نکلنے کے بعد پیشاب کرے اگر پیشاب نہ کرے اور غسل کے بعد کوئی رطوبت اس سے نکلے،اور نہ جانتا ہو کہ منی ہے یا نہیں تو وہ منی کے حکم میں ہے۔
منی کی علامتیں :
٭ شہوت کے ساتھ نکلے ۔
٭ دبائو اور اچھل کر نکلے۔ ٭ باہر آنے کے بعد بدن سست پڑجائے۔
اس لحاظ سے اگر کسی سے کوئی رطوبت نکلے اور نہ جانتا ہو کہ یہ منی ہے یا نہیں تو مذکورہ تما م علامتوں کے موجود ہونے کی صورت میں وہ مجنب مانا جائے گا، ورنہ مجنب نہیں ہے، چنانچہ اگر ان علامتوںمیں سے کوئی ایک علامت نہ پائی جاتی ہو اور بقیہ تمام علامتیں موجود ہوں تب بھی وہ مجنب نہیں مانا جائے گا،اس حکم میں عورت اور بیمار شامل نہیں بلکہ ان کے لئے صرف شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا کافی ہے۔
وہ کام جو مجنب پر حرام ہیں :
٭ قرآن مجید کی لکھائی،خداوندعالم کے نام،احتیاط واجب کے طور پر پیغمبروں،ائمہ اطہار اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہم اجمعین کے اسمائے گرامی کو بدن کے کسی حصہ سے چھونا ۔
مسجد الحرام اور مسجد النبی(ص) میں داخل ہونا،اگر چہ ایک دروازہ سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل بھی جائے۔
٭ مسجد میں ٹھہرنا۔
٭ مسجد میں کسی چیز کو رکھنا اگر چہ باہر سے ہی ہو۔
٭ قرآن مجید کی جن سورتوںمیں واجب سجدہ ہیں ،انکی مخصوص سجدہ والی آیات کا پڑھنا لیکن ان سورتوں کی دیگر آیات کا پڑھنا جائز ہے ۔
٭ ائمہ علیہم السلام کے حرم میںداخل ہونا کرنا۔
قرآن مجید کے وہ سورے جن میں واجب سجدہ ہیں :
( 1 ) 32واں سورہ۔سجدہ۔(آیت 15) (2 ) 41واں سورہ۔فصلت۔(آیت 37)(3)53واں سورہ۔نجم۔ ( آیت 62) (4)96واں سورہ۔ علق۔(آیت 19 )
غسل میت :
1۔اگر کوئی مومن اس دنیا سے چلا جائے،تو تمام مکلفین پر واجب ہے کہ اسے غسل دیں،کفن دیں،اس پر نماز پڑھیں اور پھر اسے دفن کریں، لیکن اگر اس کام کو بعض افراد انجام دے دیں تو دوسروں سے ساقط ہوجاتا ہے۔
2۔میت کو درج ذیل تین غسل دینا واجب ہیں :
اول:سدر (بیری ) کے پانی سے۔
دوم:کافور کے پانی سے۔
سوم:خالص پانی سے۔
غسل مس میت :
1۔اگر کوئی شخص اپنے بدن کے کسی ایک حصہ کو ایسے مردہ انسان سے مس کرے جو سرد ہوچکا ہو اور اسے ابھی غسل نہ دیا گیا ہو،تو اسے غسل مس میت کرنا چاہئے۔
2۔درج ذیل مواقع پر مردہ انسان کے بدن کو مس کرنا غسل مس میت کا سبب نہیں بنتا :
٭ انسان میدان جہاد میں درجہ شہادت پر فائز ہوچکاہو اور میدان جہاد میں ہی جان دے چکا ہو۔
٭ وہ مردہ انسان جس کا بدن گرم ہو اور ابھی سرد نہ ہوا ہو۔
٭ وہ مردہ انسان جسے غسل دیا گیا ہو۔
3۔غسل مس میت کو غسل جنابت کی طرح انجام دینا چاہئے،لیکن جس نے غسل مس میت کیا ہو،اور نماز پڑھنا چاہے تو اسے وضو بھی کرنا چاہئے۔
عورتوں کے مخصوص غسل:(حیض،نفاس و استحاضہ ):
1۔عورت،بچے کی پیدائش پر جو خون دیکھتی ہے،اسے خون نفاس کہتے ہیں۔
2۔عورت،اپنی ماہانہ عادت کے دنوں میں جو خون دیکھتی ہے،اسے خون حیض کہتے ہیں۔
3۔جب عورت خون حیض اور نفاس سے پاک ہوجائے تو نماز اور جن امور میں طہارت شرط ہے ان کے لئے غسل کرے۔
4۔ایک اور خون جسے عورتیں دیکھتی ہیں،استحاضہ ہے اور بعض مواقع پر اس کے لئے بھی نماز اور جن امور میں طہارت شرط ہے اُن کے لئے غسل کرنا چاہئے۔مذید تفصیل کے لئے فقہ کی مفصل کتابیں ملاحظہ فرمائیں ۔
سوالات:
1۔غسل کی اقسام بیان کیجئے؟
2۔غسل ترتیبی کیسے انجام پاتا ہے؟
3۔کیا اس پانی میں غسل ارتماسی انجام دیا جاسکتا ہے،جو کر سے کم ہو؟
4۔نیت غسل کی وضاحت کیجئے؟
5۔ غسل جنابت کب واجب ہوتا ہے ۔
6۔ مجنب پر کونسے کام حرام ہیں؟
حصہ دوم ( تیمم )
( وضو اور غسل کا بدل ہے )
وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا جائز ہے۔
٭ جوچیزبھی زمین میں سے شمار ہومثلاًمٹی ،بجری ،ریت،مٹی کے ڈھیلے ،پتھر (سنگ گچ،سنگ آہک ،سنگ سیاہ سرمہ کا پتھر وغیرہ)پر تیمم صحیح ہے ۔اسی طرح چونااور اینٹ اور اس طرح کی دیگر چیزوں پر صحیح ہے۔سیمنٹ اور ٹائلوں پر تیمم کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط (مستحب) یہ کہ ان پر تیمم نہکیا جائے ۔
٭ تیمم کیسے کیا جائے؟
تیمم کے اعمال: 1۔دونوں ہاتھوں کی،ہتھیلیوں کو ایک ساتھ ایسی چیز پر مارنا،جس پر تیمم صحیح ہو۔
1۔دونوں ہاتھوں کی،ہتھیلیوں کو ایک ساتھ ایسی چیز پر مارنا،جس پر تیمم صحیح ہو۔
2۔دونوں ہاتھوں کو سر کے بال اگنے کی جگہ سے بھوئو ں کے سمیت پیشانی کے دونوں طرف کھینچ کرناک کے اوپرتک لے آنا۔
3۔بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر کھینچنا۔
4۔دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر کھینچنا۔
تیمم کے تمام اعمال کو تیمم کی نیت اور حکم الٰہی کی اطاعت کے قصد سے انجام دینا او راس بات کا بھی خیال رکھنا کہ تیمم وضو کے بدلے ہے یا غسل کے بدلے۔
درج ذیل مواقع پر وضو اور غسل کے بجائے تیمم کرنا چاہئے :
1۔پانی مہیا نہ ہو یا پانی تک رسائی نہ ہو۔
2۔پانی اس کے لئے مضر ہو(مثال کے طور پر،پانی کے استعمال سے کسی بیمار ی میں مبتلا ہو جائے )
3۔اگر پانی کو وضو یا غسل کے لئے استعمال کرے تو،خود یااس کے بیوی بچے یا دوست یا اس سے مربوط افراد تشنگی کی وجہ سے مرجائیں یا بیمار ہوجائیں(حتی ایسا حیوان بھی جو اس کے پاس ہو )
4۔بدن یا لباس نجس ہو اور پانی اتنا ہو کہ صرف ان کو پاک کرسکے اور دوسرا لباس بھی نہ ہو۔
5۔وضو یا غسل کرنے کے لئے وقت نہ ہو۔
کچھ مسائل :
1۔وضو کے بدلے کئے جانے والے تیمم اور غسل کے بدلے کئے جانے والے تیمم میں نیت کے علاوہ کسی چیز میں فرق نہیں ہے۔
2۔جس شخص نے وضو کے بدلے تیمم کیا ہو،اگر وضو کو باطل کرنے والی چیزوں سے کوئی چیز اس سے سرزد ہوجائے تو اس کا تیمم باطل ہوگا۔
3۔اگر کوئی شخص غسل کے بدلے تیمم کرے تو غسل کو باطل کرنے والے اسباب میں سے کسی کے سرزد ہونے پر اس کا تیمم باطل ہوگا۔
4۔تیمم اس صورت میں صحیح ہے کہ وضو یا غسل کرنا ممکن نہ ہو۔ اس لئے اگر کسی عذر کے بغیر تیمم کرے تو صحیح نہیں ہے اور اگر عذر بر طرف ہوجائے،مثلاًپانی نہ تھا اور اب پانیموجود ہے تو اس صورت میں تیمم باطل ہے۔
5۔اگر غسل جنابت کے لئے تیمم کیا گیا ہو تو ضروری نہیں نماز کے لئے وضو کیا جائے لیکن اگر دوسرے غسلوں کے بدلے میں تیمم کیا گیا ہو تو اس تیمم سے نماز نہیں پڑھی جا سکتی ہے بلکہ نماز کے لئے الگ سے وضو کرنا چاہئے اور اگر وضو کرنا اس کے لئے مشکل ہو تو وضو کے بدلے ایک اور تیمم انجام دے۔
تیمم کے صحیح ہونے کے شرائط :
٭ اعضائے تیمم یعنی پیشانی اور ہاتھ پاک ہوں۔
٭ پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کیا جائے۔
٭ وہ چیز ، جس پر تیمم کیا جارہا ہے وہ پاک اور مباح ہونا چاہئے۔
٭ ترتیب کی رعایت کریں۔
٭ موالات کی رعایت کریں۔
٭ مسح کرتے وقت ہاتھ اور پیشانی کے درمیان نیز اسی طرح ہاتھ اور ہاتھ کی پشت کے درمیان مانع نہ ہو۔
٭ تیمم کے کاموں کو خود انجام دے (مباشرت )
سوالات:
1۔کن چیزوںپر تیمم کرنا جائز ہے؟
2۔کن مواقع پر وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم کیا جاسکتا ہے؟
3 تیمم کیسے کیا جاتا ہے ؟
4۔تیمم کے صحیح ہونے کے شرائط کیا ہیں ؟
درس نمبر15 ( نماز )
نماز کے مسائل و احکام سے آگاہی کے لئے سب سے پہلے اس بات کی یاددہانی ضروری ہے کہ نماز یا واجب ہے یا مستحب ،واجب نمازیںجیسے نمازیومیہ،نماز آیات ،نمازمیت، نمازطواف خانہ کعبہ ،نماز قضائے والدین ،نماز نذر وقسم اور عہدواجارہ ۔اور مستحب نمازیں جیسے نوافل یومیہ ،نماز شب وغیرہ
چند اہم مسائل :
1۔واجب نمازوں میں یومیہ نمازوں کے علاوہ باقی نمازوںکا وقت معین نہیں ہوتا بلکہ ان کے انجام کا وقت اس زمانے سے مربوط ہوتا ہے جس کے سبب و ہ نماز واجب ہوجاتی ہے۔
مثلاً:نماز آیات کا تعلق زلزلہ،سورج گرہن،چاند گرہن یا حادثہ کے وجود میں آنے سے ہوتا ہے،او رنماز میت،اس وقت واجب ہوتی ہے جب کوئی مسلمان اس دنیا سے چلا جائے۔
2۔ا گر پوری نماز کو وقت سے پہلے پڑھا جائے یا نماز کو عمداً وقت سے پہلے شروع کیا جائے تو نماز باطل ہے۔
اگر نماز کو اپنے وقت کے اندر پڑھا جائے تو اسے احکام کی اصطلاح میں ''ادا'' کہتے ہیں۔
اگر نماز کو وقت کے بعد پڑھا جاے تو اسے احکام کی اصطلاح میں ''قضا'' کہتے ہیں۔
3۔مستحب ہے کہ انسان نماز کو اول وقت میں پڑھے،اور جتنا اول وقت کے نزدیک تر
ہو بہتر ہے،مگر یہ کہ نماز میں تاخیر کرنا کسی وجہ سے بہتر ہو،مثلاً انتظار کرے تا کہ نماز کو با جماعت پڑھے۔
4۔اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ نماز گزار اگر مستحبات کو بجالائے تو نماز کا کچھ حصہ بعد از وقت پڑھا جائے گا،تو مستحبات کوبجا نہ لائے،مثلاً اگر قنوت پڑھنا چاہے تو نماز کا وقت گزر جائے گا، تو اس صورت میں قنوت کو نہ پڑھے۔
نماز میں بدن کو ڈھانپنا :
1۔مردوں کو اپنی دونوں شرمگاہوں کو چھپانا چاہئے اور بہتر ہے ناف سے زانو تک چھپایا جائے۔
2۔عورتوں کو درج ذیل اعضاء کے علاوہ اپنا پورا بدن ڈھانپنا چاہئے :
٭ ہاتھوں کو کلائی تک۔
٭ پائوں کو ٹخنوں تک۔
٭ چہرے کو وضو میں دھوئی جانے والی مقدار تک۔
4۔نماز گزار کے لباس میں درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے :
٭ پاک ہو(نجس نہ ہو )
٭ مباح ہو(غصبی نہ ہو )
٭ مردار کے اجزاء کا بنا ہوا نہ ہو۔(3) مثلاً ایسے حیوان کی کھال کا بنا ہوا نہ ہو،جسے اسلامی دستورات کے مطابق ذبح نہ کیا گیا ہو،حتی کمر بند اور ٹوپی بھی اس کی بنی ہوئی نہ ہو۔
٭ مردوں کا لباس سونے یاخالص ابریشم کا بنا ہوا نہ ہو۔
چند مسائل :
1۔اگر نماز گزار کا دستانہ،یا موزہ نجس ہو یا پھرایک چھوٹا نجس رومال اسکی جیب میں ہو،اور یہ چیزیں حرام گوشت مردار کے اجزاء سے بنی ہوئی نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے
2۔نماز میں عبا،سفید اور پاکیزہ لباس پہننا،خوشبو کا استعمال کرنا اور عقیق کی انگوٹھی پہننا مستحب ہے۔
3۔کالے، گندے، تنگ اور نقش ونگار والے کپڑے پہننا اور نماز میں لباس کے بٹن کھلے رکھنا مکروہ ہے ۔
نماز گزار کی جگہ کے شرائط :
جس جگہ پر نماز گزار نماز پڑھتا ہے،اس کے درج ذیل شرائط ہونے چاہئے :
٭ مباح ہو(غصبی نہ ہو )
٭ بے حرکت ہو(گاڑی کی طرح حرکت کی حالت میں نہ ہو )
٭ اس پر ٹھرنا حرام نہ ہو (مثلاًایسی جگہ جہاں اسکی جان کو خطرہ ہو یا اسکے کھڑے ہونے کی جگہ پر نام ِاللہ یا قرآنی آیات تحریر ہوں ۔ )
٭( سجدہ کی حالت میں)پیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔
٭ نماز گزار کی جگہ اگر نجس ہو تو اس قدر تر نہ ہو کہ نجاست بدن یا لباس میں سرایت کر جائے۔
٭ سطح ہموار ہو (سجدہ کی حالت میں)پیشانی رکھنے کی جگہ زانو سے اور پائوں کی انگلیوں سے،ملی ہوئی چار انگلیوں سے پست تر یا بلند تر نہ ہو۔
٭ پیغمبر (ص)اور امام(ع) کی قبر کے آگے نہ ہو۔
٭ احتیاط واجب کی بنا پر عورت اور مرد کے درمیان کم ازکم ایک بالشت کا فاصلہ ہونا چاہے برابر میں کھڑے ہوں یا آگے پیچھے ۔
سوالات:
1۔اگر نماز کو وقت کے بعد پڑھا جاے تو اسے احکام کی اصطلاح میںکیا کہتے ہیں۔
2۔نماز آیات کے واجب ہونے کے دو سبب بیان کیجئے؟
3۔نماز گزار کے لباس کے شرائط کیا ہیں؟
4۔اگر نماز پڑھنے کے بعد متوجہ ہوجائے کہ اس کا لباس نجس تھا تو اس کا کیا حکم ہے؟
5۔اگرنماز کے دوران متوجہ ہوجائے کہ اس کا لباس نجس ہے تو تکلیف کیا ہے؟
6۔کیا دوران سفرہوائی جہاز اور ریل گاڑی میں نمازپڑی جاسکتی ہے؟
7۔جانمازاگر نجس ہو جائے تو کیا اسپرنماز پڑھی جاسکتی ہے ۔؟
درس نمبر16 ( واجبات نماز )
1۔''اﷲ اکبر''،کہنے سے نماز شروع ہوتی ہے اور سلام کی ادائیگی سے اختتام کو پہنچتی ہے۔
2۔جو کچھ نماز میں انجام پاتا ہے یا واجب ہے،یا مستحب ۔
3۔واجبات نماز گیارہ ہیں،(نیّت ،تکبیرة الاحرام ،قیام ،قرائت ،رکوع ،سجدہ ،ذکر،تشہد ،سلام ترتیب ،موالات)ان میں سے بعض رکن (نیّت ،تکبیرة الاحرام ،قیام (تکبیرةالاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت )رکوع ،دوسجدے )ا و ربعض غیر رکن ہیں۔
رکن وغیر رکن میں فرق :
ارکان نماز،نماز کے بنیادی اجزاء میں شمار ہوتے ہیں، چنانچہ ان میں سے کسی ایک کو اگر نہ بجالایا گیا یا اس میں اضافہ کیا گیا،اگر چہ فراموشی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو،تو نماز باطل ہے۔
دوسرے واجبات (غیر رکنی)کو اگرچہ انجام دینالازم اور ضروری ہے لیکن اگر فراموشی سے ان میں کم یا زیادہ ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہے۔
واجبات نماز کے احکام :
1۔نیت:1۔نماز گزار کو نماز کی ابتداء سے انتہا تک یہ جاننا چاہئے کہ کونسی نماز پڑھ رہا ہے اور اسے خدائے تعالیٰ کے حکم کو بجالانے کے لئے پڑھنا چاہئے۔
2۔نیت کو زبان پر لانے کی ضرورت نہیں،لیکن اگر زبان پر لائی بھی جائے تو کوئی مشکل نہیں۔
2۔تکبیرة الاحرام:جیسا کہ بیان ہواہے''اللہ اکبر''کہنے سے نمازشروع ہوتی ہے اسے ''تکبیرة الاحرام''کہتے ہیں، کیونکہ اسی تکبیر کے کہنے سے بہت سے وہ کام جو نماز سے پہلے جائز تھے،نماز گزار پر حرام ہوجاتے ہیں :
جیسے :کھانا،پینا،ہنسنا اور روناوغیرہ
تکبیرة الاحرام کے واجبات :
1۔صحیح عربی تلفظ میں کہی جائے۔
2۔''اﷲ اکبر'' کہتے وقت بدن سکون میں ہو۔
3۔تکبیرة الاحرام کو ایسے کہنا چاہئے کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو خودسن سکے،یعنی بہت آہستہ نہیںکہنا چاہئے۔
3۔قیام:قیام یعنی کھڑا رہنا،بعض مواقع پر قیام ارکان نماز میںسے ہے اور اس کا تر ک کرنانماز کو باطل کردیتا ہے،لیکن جو افراد کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے معذور ہوں ان کا حکم جدا ہے،۔
٭قیام کے دورا ن جسم پر سکون ہو،کسی ایک طرف نمایاں طور پر جھکا ہوا نہ ہو ،کسی چیز کا سہارانہ لیا ہوا ہو ۔
4۔قرأت :
پہلی اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور کسی دوسرے سورے کے پڑھنے اور تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۂ حمد یا تسبیحات اربعہ کے پڑھنے کوقرأت'' کہتے ہیں۔
قرأت کے چند احکام :
1۔ تیسری اور چوتھی رکعت کی قرأت کو آہستہ (اخفات کے طور پر) پڑھنا چاہئے، لیکن پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے بارے میں حکم حسب ذیل ہے :
اگر نمازگزار مرد ہو تو نمازصبح اور مغرب وعشاء بلند آواز سے اور نمازظہرو عصر آہستہ آواز
سے پڑھے گا۔نمازظہر اور عصر کے لئے عورت کا بھی یہی حکم ہے ،لیکن نمازصبح اور مغرب
وعشاء اس صورت میں بلنداور آہستہ آواز میں پڑھ سکتی ہے ۔لیکن اگر کوئی نامحرم اسکی آوز سن رہا ہوتو بہتر ہے آہستہ پڑھے ۔
2۔ اگر نماز بلند پڑھنے کی جگہ عمداً آہستہ پڑھی جائے یاآہستہ پڑھی جانے کی جگہ عمداً بلند پڑھی جائے تو نماز باطل ہے، لیکن بھولے سے یا مسئلہ کو نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کیا جائے تو نماز صحیح ہے۔
4۔بلند اور آہستہ آواز میں پڑھنے کا وجوب حمد و سورہ کی قرائت کے ساتھ مخصوص ہے لیکن ذکرِرکوع ،سجدہ تشہد سلام اور دیگر واجب اذکار میں مکلّف بلند یاآہستہ پڑھنے میں مخیّر ہے ۔
5۔واجب نمازوں میں جہر و اخفات کا وجوب ادا اور قضا دونوں نمازوں میں ہے
اگرچہ نمازِقضااحتیاطی ہو ۔
6۔اخفات(آہستہ پڑھنے )کا معیار آواز کا نہ ہونا نہیں ہے بلکہ معیا ر آواز کا آشکار اور واضح نہ کرنا ہے ۔اس کے مقابل جہر (بلند )پڑھنے کا معیار آواز کا آشکار اور واضح کرنا ہے ۔
7۔اگر کوئی حمد و سورہ پڑھتے وقت معمول سے زیادہ آواز کو بلند کرے مثلاًیہ کہ اسے فریاد کے ساتھ پڑھے تو اسکی نماز باطل ہے ۔
8۔ اگر سورۂ حمد پڑھتے ہوئے سمجھے کہ غلطی کی ہے (مثلاً بلند پڑھنے کے بجائے آہستہ پڑھی ہو) تو ضروری نہیں ہے پڑھے ہوئے حصہ کو دوبارہ پڑھے۔
5۔ذکر: یہاں ذکرسے مراد اللہ تعالی ٰ کی یاد پر مشتمل وہ جملے ہیں جو رکوع اور سجود میں کہے جاتے ہیں ۔
٭ ذکر اس انداز میں پڑھے کہ جو جملے ادا کررہا ہے انکا تلفّظ محسوس ہو اور اس کی علامت یہ کہ جو کچھ پڑھ رہا ہے اور زبان پر جاری کررہا ہے اگر خود بہرا نہیں ہے اور ماحول میں شور شرابا نہیں ہے تو اسے خود سن سکے ۔
٭ذکر صحیح عربی اور سکون و قرار کی حالت میں پڑھے جائیں ۔
6۔رکوع:۔ نماز گزار کو ہر رکعت میں قرأت کے بعد اس قدر خم ہونا چاہئے کہ اس کے ہاتھ زانو تک پہنچ جائیں اور اس عمل کو '' رکوع'' کہتے ہیں ۔
٭ذکر رکوع میں ذکر واجب ایک مرتبہ '' سبحان ربیّ العظیم وبحمدہ'' یا تین مرتبہ ''سبحان اللہ''کہنا ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا ذکر اسی مقدار میں کہے تو کافی ہے۔
٭۔ رکوع میں واجب ذکر پڑھنے کی مقدار میں بدن سکون میں ہونا چاہئے۔
٭ذکر رکوع ختم ہونے کے بعد بلند ہونا چاہئے اور اس کے بعد بدن آرام پائے اور پھر سجدہ میں جانا چاہئے اور اگر بلند ہونے سے پہلے یا بلند ہوکر آرام پانے سے پہلے عمدا سجدہ میںجائے تو نماز باطل ہے۔
7۔سجود:1۔ نماز گزار کو واجب اور مستحب نمازوں کی ہر رکعت میں، رکوع کے بعد دوسجدے بجالانے چاہئیں۔
2۔پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور پائوں کے دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھنے کو سجدہ کہتے ہیں۔
ذکرسجدہ میں ذکر واجب ایک مرتبہ'' سبحان ربیّ العظیم وبحمده'' یا تین مرتبہ ''سبحان اللہ''کہنا ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا ذکر اسی مقدار میں کہے تو کافی ہے۔
4۔ سجدہ میں ذکر سجدہ پڑھنے کے بقدر بدن کا سکون میں ہونا ضروری ہے۔
5۔اگر سجدہ کرتے وقت پیشانی سجدہ کی جگہ سے ٹکرا کر بے اختیاری کی حالت میں زمین سے بلند ہو جائے تو پیشانی کو دوبارہ زمین پر رکھ دے اور ذکر سجدہ پڑھے ،یہ ایک سجدہ شمار ہوگا ۔
6۔معدن (جیسے سونا چاندی )اور جو چیزیں کھا نے ،پینے اور لباس کے طور پر استعما ل نہ ہو سب پر سجدہ صحیح ہے ۔
8۔تشہد : دوسری رکعت اور واجب نمازوں کی آخری رکعت میں، نماز گزار کو دوسرے
سجدے کے بعد بیٹھنا چاہئے اوربدن کے سکون میں آنے کے بعد تشہد پڑھنا چاہئے، یعنی کہے :
'' أَشْهَدُ أَنْ لاٰاِلَهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لاٰشَریْکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ''
9۔سلام:1۔ہر نمازکی آخری رکعت میں تشہد کے بعد سلام پڑھ کر نماز کو ختم کرنا چاہئے۔
2۔سلام کی واجب مقدار ''السلام علیکم''اوربہتر ہے کہ''ورحمةاللہ وبرکاتہ'' کا اضافہ کرے یا کہے ''السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحین ''
اور مستحب ہے کہ مذکورہ دوسلاموں سے پہلے یہ کہے ۔
'' السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲ وبرکاتہ ''.
10۔ترتیب:نماز کو اس ترتیب کے ساتھ پڑھنا چاہئے: تکبیرة الاحرام ، قرأت، رکوع، سجود اور دوسری رکعت میں سجدوں کے بعد، تشہد پڑھے اور آخری رکعت میںسجدوں کے بعد، تشہدپڑھے اور آخری رکعت میں ، تشہد کے بعد، سلام کہے۔
11۔موالات:1۔ ، یعنی نماز کے اجزاء کو یکے بعد دیگر ے انجام دینا اور ان کے درمیان فاصلہ نہ ڈالنا۔
2۔اگر اجزائے نماز کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ کہا جائے یہ شخص نماز نہیں پڑھا ہے تو اس کی نماز باطل ہے۔
مبطلات نماز:جب نماز گزار تکبیرةالاحرام کہتا ہے اور نماز کو شروع کرتا ہے تو اس کے خاتمہ تک بعض کام اس پر حرام ہوجاتے ہیں، چنانچہ اگر نماز میں ان میںسے کوئی کام
انجام دے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی ،وہ امور حسب ذیل ہیں :
1۔جن چیزوں کا نماز میں خیال رکھنا ضروری ہے مثلاًواجب ستر (لباس )یا مکان کا
غصبی نہ ہونا وغیرہ میں سے کسی ایک کا ختم ہوجانا ۔ 2۔ہاتھ باندھ کے نمازپڑھنا
3۔کھانا ، پینا۔4۔بات کرنا۔5۔ہنسنا۔ 6۔رونا 7۔قبلہ کی طرف سے رخ موڑنا۔
8۔ ارکان نماز میں کمی وبیشی کرنا۔9۔حمد کے بعد آمین کہنا 10۔وضو کا باطل ہونا۔
11۔نماز کی شکل وصورت کا ختم ہوجانا مثلاًاچھل کودکرناوغیرہ
12۔ایسے شک میں مبتلا ہوجانا جو شک نمازکو باطل کردیتے ہیں ۔جیسے دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعات میں شک
سوالات
1۔ارکان نماز کو بیان کیجئے اور رکن وغیر رکن میں کیا فرق ہے؟
2۔نماز کے پہلے''اﷲ اکبر'' کو کیوں تکبیرة الاحرام کہتے ہیں؟
3۔نیت کی وضاحت کیجئے؟
4۔رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے قیام کی وضاحت کر کے ان کے فرق کو بیان کیجئے؟
5قرأت کیا ہے؟وضاحت کیجئے۔؟
6۔ کیا حمد اور سورہ کو نماز میں بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے؟
7۔ رکوع اور ذکر رکوع میں کیا فرق ہے؟
9۔کیا رکوع کے بعد کھڑاہونا واجب ہے؟
درس نمبر17 ( روزہ )
روزہ کی تعریف :
اسلام کے واجبات اور انسان کی خود سازی کے سالانہ پروگرام میں سے ایک، روزہ ہے، اذان صبح سے مغرب تک حکم خدا کو بجالانے کے لئے کچھ کام انجام دینے (جن کی وضاحت بعدمیں آئے گی)سے پرہیز کرنے کو روزہ کہتے ہیں، احکام روزہ سے آگاہ ہونے کے لئے پہلے اس کی اقسام کو جاننا ضروری ہے۔
روزہ کی اقسام :
1۔واجب 2۔حرام 3۔مستحب 4۔مکروہ
واجب روزے :
درج ذیل روزے واجب ہیں :
1۔ ماہ مبارک رمضان کے روزے 2 ۔قضا روزے 3۔کفار ے کے روزے۔
4۔نذرکی بنا پر واجب ہونے والے روزے۔
5ایام اعتکاف میں تیسرے دن کا روزہ
6۔ باپ کے قضا روزے جو بڑے بیٹے پر واجب ہوتے ہیں۔
بعض حرام روزے :
٭ عید فطر( اول شوال) کو روزہ رکھنا۔
٭ عید قربان ( 10ذی الحجہ) کو روزہ رکھنا۔
مستحب روزے :
حرام اور مکروہ روزہ کے علاوہ سال کے تمام ایام، میں روزہ رکھنا مستحب ہے، البتہ بعض مستحب روزوں کی زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔
جن میں سے چند حسب ذیل ہیں :
٭ ہر جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھنا۔
٭ عید مبعث کے دن (27 ماہ رجب) کو روزہ رکھنا۔
٭ عید غدیر(18ذی الحجہ) کو روزہ رکھنا۔
٭ عید میلاد النبی (17 ربیع الاول) کو روزہ رکھنا۔
مکروہ روزے :
٭ مہمان کا میزبان کی اجازت کے بغیر مستجی روزہ رکھنا۔
٭ مہمان کا میزبان کے منع کرنے کے باوجود مستجی روزہ رکھنا ۔
٭ فرزند کا باپ کی اجازت کے بغیر مستحبی روزہ رکھنا۔
٭ عاشورہ کے دن کا روزہ۔
روزہ کی نیت :
1۔ روزہ ایک عبادت ہے اسے خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے بجالانا چاہئے۔
2۔ انسان ماہ رمضان کی ہر رات کو کل کے روزہ کے لئے نیت کرسکتاہے۔
3۔ واجب روزوں میں روزہ کی نیت کو کسی عذر کے بغیر صبح کی اذان سے زیادہ تاخیر میں نہیںڈالنا چاہئے۔البتہ مستحب روزہ کے لیے دن میں کسی بھی وقت جب روزہ
کاخیال آئے نیت کرسکتا ہے ۔
4۔ واجب روزوں میں اگر کسی عذر کی وجہ سے، جیسے فراموشی یا سفر، کی وجہ سے روزہ کی نیت نہ کی ہو اور ایسا کوئی کام بھی انجام نہ دیا ہوکہ جو روزہ کو باطل کرتاہے، تو وہ ظہر تک روزہ کی نیت کرسکتا ہے۔
مبطلات روزہ : روزہ دار کوصبح کی اذان سے لیکر مغرب کی اذان تک بعض کاموں کو انجام دینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔اوراگر ان میں سے کسی ایک کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے، ایسے کاموں کو'' مبطلات روزہ'' کہتے ہیں ۔مبطلات روزہ حسب ذیل ہیں :
1۔کھانا پینا۔ 2۔غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا۔ 3۔ قے کرنا۔
4۔ مباشرت کرنا 5۔استمناء (یعنی کوئی ایسا کام کرے جس سے اسکی منی باہر نکل آئے) 6۔ اذان صبح تک جنابت کی حالت میں باقی رہنا۔7۔سرکا پانی میں ڈبونا
8۔ خدا، رسول اور معصومین (ع) پر جھوٹ باندھنا
9۔حقنہ لینا (مقعد کے ذریعہ بہنے والی چیزوں کو اندر لینا )
بعض مبطلات روزہ کے احکام
کھانا اور پینا :
1۔ اگر روزہ دار عمداً کوئی چیز کھائے یا پیئے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
2۔ اگر کوئی شخص اپنے دانتوں میں موجود کسی چیز کو نگل جائے، تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
3۔تھوک کو نگل جانا روزہ کو باطل نہیں کرتاخواہ زیادہ کیوں نہ ہو۔
4۔ اگر روزہ دار بھولے سے ( نہیں جانتا ہوکہ روزے سے ہے ) کوئی چیز کھائے یاپیئے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا ہے۔
انجکشن لگوانا :
انجکشن لگوانا، اگر غذا کے بدلے نہ ہو، روزہ کو باطل نہیں کرتا اگرچہ عضو کوبے حس بھی کردے۔
غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا :
1۔ اگر روزہ دار غلیظ غبار کو حلق تک پہنچائے، تو اس کاروزہ باطل ہو جائے گا، خواہ یہ غبار کھانے کی چیز ہو جیسے آٹا یا کھانے کی چیز نہ ہو جیسے مٹی۔
2۔ درج ذیل موارد میں روزہ باطل نہیں ہوتا :
٭ غبار غلیظ نہ ہو۔
٭ حلق تک نہ پہنچے(صرف منہ کے اندر داخل ہوجائے )
٭ بے اختیار حلق تک پہنچ جائے۔
٭ یاد نہ ہو کہ روزہ سے ہے۔
٭ شک کرے کہ غلیظ غبار حلق تک پہنچایا نہیں۔
3۔بنابراحتیاط واجب سگریٹ پینے سے روزہ بطل ہو جاتا ہے ۔
قے کرنا :
1۔ اگر روزہ دار عمداً قے کرے،اگرچہ بیماری کی وجہ سے ہو توبھی اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔
2۔ اگر روزہ دار کو یاد نہیں ہے کہ روزہ سے ہے یا بے اختیار قے کرے، تو اس کا روزہ
باطل نہیں ہے۔
جماع کرنا :
اگرکوئی شخص روزہ کی حالت میں جماع کرے چاہے اسکی منی نہ نکلے پھر بھی اس کا روزہ باطل ہے ۔
استمنائ :
1۔ اگر روزہ دار ایسا کام کرے جس سے منی نکل آئے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا
2۔اگر بے اختیار منی نکل آئے مثلاً احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا
اذان صبح تک جنابت پر باقی رہنا :
اگرکوئی شخص ماہ رمضان میں عمداًحالت جنابت میں اذان صبح تک باقی رہے اور غسل نہ کرے تواس کا روزہ باطل ہے
پورے سر کو پانی کے نیچے ڈبونا۔
1۔ اگر روزہ دار عمداً اپنے پورے سر کو پانی میںڈبودے، اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔
2۔ درج ذیل موارد میں روزہ باطل نہیں ہے :
٭ بھولے سے سر کو پانی کے نیچے ڈبوئے۔
سرکے ایک حصہ کو پانی کے نیچے ڈبوئے۔
٭ نصف سرکو ایک دفعہ اور دوسرے نصف کو دوسری دفعہ پانی کے نیچے ڈبوئے۔
٭ اچانک پانی میں گرجائے۔
٭ دوسرا کوئی شخص زبردستی اس کے سرکو پانی کے نیچے ڈبوئے۔
٭ شک کرے کہ آیا پورا سر پانی کے نیچے گیا ہے کہ نہیں ۔
سوالات :
1۔ مندرجہ ذیل دنوں میں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے :
دسویں محرم، دسویں ذی الحجہ، نویں ذی الحجہ، ، پہلی شوال۔
2۔ کیا مہمان میزبان کی اجازت کے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے؟
3 روزہ کی حالت میں خلال کرنے اور مسواک کرنے کا کیا حکم ہے؟
4۔ کیا روزے کی حالت میںچنگم چبانے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟
5۔ کسی شخص کو پانی پیتے وقت یاد آئے کہ روزہ سے ہے، اس کی تکلیف کیا ہے اور اس کے روزہ کا کیا
حکم ہے؟
6۔ سگریٹ پینا مبطلات روزہ کی کون سی قسم ہے؟
7۔ روزہ کی حالت میں تیرنا کیا حکم رکھتاہے؟
درس نمبر18 ( روزہ کی قضا اور اس کا کفارہ )
قضا روزہ :
اگر کوئی شخص روزہ کو اس کے وقت میں نہ رکھ سکے، اسے کسی دوسرے دن وہ روزہ رکھنا چاہئے، لہٰذا جو روزہ اس کے اصل وقت کے بعد رکھا جاتاہے اسے '' قضا روزہ'' کہتے ہیں۔
روزہ کا کفارہ
کفارہ وہی جرمانہ ہے جو روزہ باطل کرنے کے جرم میں معین ہوا ہے جو یہ ہے :
٭ ایک غلام آزاد کرنا۔
٭ اس طرح دو مہینے روزہ رکھناکہ 31 روز مسلسل روزہ رکھے۔
٭ 60 فقیروںکو پیٹ بھر کے کھاناکھلانا یاہر ایک کو ایک مد طعام دینا۔
جس پر روزہ کا کفارہ واجب ہوجائے''اسے چاہئے مندرجہ بالا تین چیزوں میں سے کسی ایک کو انجام دے۔ چونکہ آجکل'' غلام'' فقہی معنی میںنہیں پایا جاتا،لہٰذا دوسرے یا تیسرے امور انجام دیئے جائیں اگر ان میں سے کوئی ایک اس کے لئے ممکن نہ ہو تو جتنا ممکن ہوسکے فقیر کو کھانا کھلائے اور اگر کھانا نہیں کھلا سکتا ہو تو اس کے لئے استغفار کرنا چاہئے۔
درج ذیل مواردمیں روزہ کی قضا واجب ہے لیکن کفارہ نہیں ہے :
1۔ماہ رمضان میں غسل جنابت کو بجالانا بھول جائے اور جنابت کی حالت میں ایک یا
چند روز روزہ رکھے۔
2۔ ماہ رمضان میں تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہوئی ہے یا نہیں کوئی ایسا کام انجام دے جو روزہ باطل ہونے کا سبب ہو، مثلاً پانی پی لے اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ صبح ہوچکی تھی۔
3۔ کوئی یہ کہے کہ ابھی صبح نہیں ہوئی ہے اور روزہ دار اس پر یقین کرکے ایسا کوئی کام انجام دے جو روزہ باطل ہونے کا سبب ہو اور بعد میں معلوم ہوکہ صبح ہوچکی تھی۔
4۔ اگر ماہ رمضان کے دن تاریکی کی وجہ سے یقین کرلے کہ مغرب ہوگئی ہے اور بعد میں معلوم ہو کہ مغرب نہیں ہوئی تھی ۔
اگربغیر کسی عذر شرعی کے عمداً ماہ رمضان المبارک کا روزہ نہ رکھے یا عمداً روزہ کو باطل
کرے، تو قضا وکفار دونوں واجب ہیں
روزہ کی قضا اور کفارہ کے احکام
1۔ روزہ کی قضاکو فورا انجام دینا ضروری نہیں ہے، لیکن احتیاط واجب کی بناپر اگلے سال کے ماہ رمضان تک بجالائے۔
2۔ اگر کئی ماہ رمضان کے روزے قضا ہوں تو انسان کسی بھی ماہ رمضان کے قضا روزے پہلے رکھ سکتا ہے ۔
البتہ اگر آخری ماہ رمضان کے قضا روزوں کا وقت تنگ ہو مثلا ًآخری ماہ رمضان کے 10 روزے قضا ہوں اور اگلے ماہ رمضان تک دس ہی دن باقی رہ چکے ہوںتو پہلے اسی آخری رمضان کے قضا روزے رکھے۔
3۔ انسان کو کفارہ بجالانے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اسے فورا ًانجام دے۔
4۔ اگر کسی پر کفارہ واجب ہوا ہو، اسے چند برسوں تک بجانہ لائے تو اس پر کوئی چیز
اضافہ نہیں ہوتی۔
5۔ اگر کسی عذر کے سبب جیسے سفر میں روزہ نہ رکھے ہوں۔اور رمضان المبارک کے بعد عذر برطرف ہوا ہونیز اگلے رمضان تک عمدا قضا نہ کرے، تو قضا کے علاوہ، ہر دن کے عوض، فقیر کو ایک مد طعام بھی دے۔
6۔ اگر کوئی شخص اپنے روزہ کو کسی حرام کام کے ذریعہ، جیسے استمناء سے باطل کرے، تو احتیاط مستحب کی بناپر اسے مجموعی طورپر کفارہ دینا ہے، یعنی اسے ایک بندہ آزاد کرنا، دو مہینے روزہ رکھنا اور ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلاناہے۔ اگر تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن نہ
ہو ںتو ان تینوں میں سے جس کسی کو بھی بجالاسکے کافی ہے۔
درج ذیل موارد میں نہ قضا واجب ہے اور نہ کفارہ :
1۔ بالغ ہونے سے پہلے نہ رکھے ہوئے روزے۔
2۔ایک نومسلمان کے ایام کفر کے روزے، یعنی اگر ایک کا فرمسلمان ہوجائے، تو اس کے گزشتہ روزوں کی قضا واجب نہیں ہے۔
3۔ اگر کوئی شخص بوڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا ہو اور ماہ رمضان کے بعد بھی اس کی قضا نہ بجالاسکتا ہو۔تو ہر دن کے لئے ایک مد (تقریباً تین پاؤ)طعام فقیر کو دیدے
سوالات :
1۔ روزہ کی قضا اور اس کے کفارہ میں کیا فرق ہے۔؟
2۔ رمضان المبارک کے قضا روزوں کا وقت بیان کیجئے۔
3۔ روزہ کے کفارہ کا وقت بیان کیجئے۔
4۔ اگر کوئی اگلے سال کے رمضان تک قضا روزے نہ بجالاسکے تو اس کا فرض کیا ہے؟
5۔ جوشخص بوڑھاہونے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا ہو، اس کا فرض کیا ہے؟
درس نمبر19 ( خمس )
مسلمانوں کے اقتصادی فرائض میں سے ایک فریضہ ''خمس'' کا ادا کرنا ہے، اس طرح کہ بعض مقامات میں اپنے مال کا ایک پنجم حصہ ایک خاص صورت میں خرچ کرنے کے لئے اسلامی حاکم کو دینا چاہئے۔
خمس سات چیزوں پر واجب ہے :
1۔جو کچھ سال بھر کے اخراجات سے زیادہ بچ جائے (کسب کار کانفع )
2۔ معدن 3۔ خزانہ 4۔جنگی غنائم 5۔ وہ جواہرات جو سمندر کی تہہ سے نکالے جاتے ہیں۔ 6۔حلال مال جو حرام کے ساتھ مخلوط ہوچکا ہو۔
7۔وہ زمین جسے کافر ذمی ایک مسلمان سے خریدے۔
خمس ادا کرنا بھی نمازو روزہ کی طرح واجبات میں سے ہے اورتمام بالغ اورعاقل اگر مذکورہ سات موارد میں سے ایک کے ،ما لک ہوں تو اس پر عمل کرنا چاہئے
جس طرح شرعی فریضہ کے آغاز پرہرکوئی نمازو روزہ کی فکر میں ہوتا ہے اسے خمس وزکات ادا کرنے اور دیگرواجبات کی فکر میں بھی ہونا چاہئے لہٰذا ضرورت کی حد تک
ان کے مسائل سے آشنائی ضروری ہے، چنانچہ ہم یہاں پر خمس کے سات موارد میں سے صرف ایک کے بارے میں وضاحت کریں گے جس سے معاشرے کے لوگ
زیادہ دوچار ہیں ، اور وہ سال بھر کے خرچ سے بچے ہوئے مال پر خمس ہے :
اس مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے ہمیں درج ذیل دوسوالوں کے جواب پر غور کرنا چاہئے :
1۔ سال کے خرچ سے کیا مراد ہے؟
2۔ کیا خمس کا سال قمری، یاشمسی مہینوںسے حساب ہوتا ہے اور اس کا آغاز کس وقت ہے؟
سال کا خرچہ :
اسلام لوگوں کے کسب وکار کے بارے میں احترام کا قائل ہے اور اپنی ضروریات کو پورے کرنے کو خمس پر مقدم قراردیاہے۔لہٰذا ہر کوئی اپنی آمدنی سے سال بھر کا اپنا خرچہ پورا کرسکتا ہے۔
اور سال کے آخر پرکوئی چیز باقی نہ بچی ، توخمس کی ادائیگی اس پر واجب نہیں ہے ۔ لیکن اگر متعارف اور ضرورت کے مطابق افراط وتفریط سے اجتناب کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے بعد سال کے آ خر میں کوئی چیز باقی بچ جائے تو اس کا ایک پنجم حصہ خمس کے عنوان سے ادا کرے اور باقی 4 حصہ اپنے لئے بچت کرے۔
لہٰذا، مخارج کا مقصد وہ تمام چیزیں ہیںجو اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ مخارج کے چند نمونوں کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں :
٭ خوارک وپوشاک ٭ گھر کا سامان، جیسے برتن، فرش وغیرہ۔
٭ گاڑی جو صرف کسب وکار کے لئے نہ ہو۔ ٭ مہانوں کا خرچہ۔
٭ شادی بیاہ کا خرچ۔ ٭ ضروری اور لازم کتابیں۔ ٭ زیارت کا خرچ
٭ انعامات و تحفے جو کسی کو دئیے جاتے ہیں
٭ اداکیا جانے والا صدقہ، نذر یا کفارہ ۔
خمس کا سال :
انسان کو بالغ ہونے کے پہلے دن سے نماز پڑھنی چاہئے، پہلے ماہ رمضان سے روزے رکھنے چاہئے اور پہلی آمدنی اس کے ہاتھ میں آنے کے ایک سال گزرنے کے بعد گزشتہ مال کے خرچہ کے علاوہ باقی بچے مال کا خمس دیدے۔ اس طرح خمس کا حساب کرنے میں، سال کا آغاز، پہلی آمدنی اور اس کا اختتام اس تاریخ سے ایک سال گزرنے کے بعد ہے۔
اس طرح سال کی ابتدائ :
٭ کسان کے لئے ۔۔۔۔ پہلی فصل کاٹنے کا دن ہے۔
٭ ملازم کے لئے ۔۔۔۔ پہلی تنخواہ حا صل کرنے کی تاریخ ہے۔
٭ مزدورکے لئے ۔۔۔۔ پہلی مزدوری حاصل کرنے کی تاریخ ہے۔
دوکاندار کے لئے ۔۔۔۔۔ پہلا معاملہ انجام دینے کی تاریخ ہے۔
٭ جومال مندرجہ ذیل طریقوں سے حاصل ہوجائے، اس پر خمس نہیں ہے :
1۔وراثت میں ملا ہوامال۔ 2خواتین کا مہریہ 3۔بخشی گئی چیز(ہبہ)۔
4۔ حاصل کئے گئے انعامات۔ 5۔ جو کچھ انسان کو عیدی کے طور پر ملتاہے۔
6۔ وہ مال جو کسی کو خمس، زکات یا صدقہ کے طور پر دیا جاتاہے 7۔ وہ چیزیں جو وقف شدہ ہوں ۔
خمس نہ دینے کے نتائج :
1۔جب تک مال کا خمس ادا نہ کیا جائے، اس میں ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں، یعنی اس کے کھانے کو نہیں کھایا جاسکتا، جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو اور اس پیسے سے کوئی چیز نہیں خریدی جاسکتی ہے جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو۔
2۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسوں سے (حاکم شرع کی اجازت کے بغیر) کاروبار کیا جائے تو اس کار وبارکا 15معاملہ باطل ہے۔
3۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسوں سے پانی لے کر غسل کرے تو وہ غسل باطل ہے۔
4۔ اگر خمس نہ نکالے گئے پیسوں سے مکان خریدا جائے، تو اس مکان میں نماز پڑھنا باطل ہے۔
مصرف خمس :
خمس کے مال کو دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہئے، اس کا نصف سہم امام زمان علیہ السلام ہے اور اسے مجتہد جامع الشرائط جس کی انسان تقلید کرتا ہے یا اس کے وکیل کو دیا جاتا
ہے دوسرے نصف کو بھی مجتہد جامع الشرائط یا اس کی اجازت سے ضروری شرائط کے حامل سادات کو دیا جائے۔
خمس کے محتاج سید کے شرائط :
٭ غریب ہو یا ابن السبیل ہو، اگرچہ اپنے شہر میں غریب ومحتاج نہ ہو۔
٭ شیعہ اثنا عشری ہو۔
٭ کھلم کھلا گناہ کا مرتکب نہ ہو ( احتیاط واجب کی بناپر) اور اسے خمس دینا گناہ انجام دینے میں مددکا سبب نہ ہو۔
٭ احتیاط واجب کی بناء پران افراد میں سے نہ ہو جن کے اخراجات اس (خمس لینے والے) کے ذمہ ہوں، جیسے بیوی بچے۔
سوالات:
1۔ کس قسم کے جواہرات پر خمس نہیں ہے ؟
2۔ کسب وکار کے منافع کی وضاحت کیجئے؟
3۔ سالِ خمس کا آغاز کس وقت ہوتا ہے؟
4شادی وخوشی کے موقع پر دیئے جانے والے تحفہ پر خمس ہے یا نہیں ؟
5۔ مصرف خمس کی وضاحت کیجئے؟
درس نمبر20 حصہ اوّل
( جہاداور دفاع )
چونکہ خورشید اسلام کے طلوع ہونے کے بعد تمام مکاتب ومذاہب ؛باطل، منسوخ اور ناقابل قبول قرار پائے ہیں لہٰذا تمام انسانوں کو دین اسلام کے پروگرام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہونا چاہئے، اگر چہ وہ اسے تحقیق اور آگاہی کے ساتھ قبول کرنے میں آزاد ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کے جانشینوں نے ابتداء میںاسلام کے نجات بخش پروگراموں کی لوگوں کے لئے وضاحت فرمائی اور انھیں اس دین کو قبول کرنے کی دعوت دی جنہوں نے اسلام کے پروگراموں اور احکام سے روگردانی کی ، وہ غضب الٰہی اور مسلمانوں کی شمشیر قہرسے دوچار ہوئے ۔ اسلام کی ترقی کے لئے کوشش اور اس کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے مقابلہ کو ''جہاد'' کہتے ہیں۔اسلام کی ترقی کے لئے اس قسم کا اقدام ایک خاص ٹیکنیک اور طریقہ کار کا حامل ہے اور یہ صرف پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کے جانشینوں۔ (جو ہر قسم کی لغزش اور خطاء سے مبّرا ہیں)کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور معصومین علیہم السلام کے زمانہ سے مخصوص ہے ا ورہمارے زمانہ میں کہ یہ امام معصوم کی غیبت کادورہے، واجب نہیں ہے جہاد کی اس قسم کوجہاد ابتدائی کہتے ہیں لیکن دشمنوں سے مقابلہ کی دوسری قسم کانام جہاد دفاعی'' ہے۔یہ تمام مسلمانوں کا مسلم حق ہے کہ ہر زمان ومکان میں دنیا کی کسی بھی جگہ میں اگر
دشمنوں کے حملہ کا نشانہ بنیں یا ان کا مذہب خطرہ میں پڑے تو اپنی جان اور دین کے تحفظ کے لئے دشمنوں سے لڑیں اورانہیں نابود کردیں۔ ہم اس سبق میںاس واجب الٰہی یعنی''جہاد دفاعی'' کے احکام واقسام سے آشنا ہوںگے۔
اسلام اور اسلامی ممالک کا دفاع :
٭ اگر دشمن اسلامی ممالک پر حملہ کرے۔
٭ یا مسلمانوں کے اقتصادی یا عسکری ذرائع پر تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے۔
٭ یا اسلامی ممالک پر سیاسی تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرے ۔
تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہر ممکن صورت میں ، دشمنوں کے حملہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیںاور ان کے منصوبوں کی مخالفت کریں۔
جان اور ذاتی حقوق کا دفاع :
1۔ مسلمانوں کی جان اور ان کا مال محترم ہے، اگر کسی نے ایک مسلمان، یا اس سے وابستہ افراد، جیسے، بیٹے، بیٹی، باپ ، ماں اور بھائی پر حملہ کیا تو دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے،اگرچہ یہ عمل حملہ آورکوقتل کرنے پر تمام ہوجائے۔
2۔ اگر چور کسی کے مال کو چرانے کے لئے حملہ کردے، دفاع کرنا اور اس حملہ کو روکنا واجب ہے۔
3۔ اگر کوئی نامحرموں پر نگاہ کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں میں جھانکے تو اسے اس کام سے روکنا واجب ہے، اگرچہ اس کی پٹائی بھی کرنا پڑے۔
سوالات:
1۔''جہاد'' اور'' دفاع'' میں کیا فرق ہے۔؟
2۔ دفاع کی قسمیں بیان کیجئے اور ہر ایک کے لئے ایک مثال بیان کیجئے؟
3۔ کس صورت میں چور کے ساتھ مقابلہ واجب ہے؟
حصہ دوم : ( امربالمعروف ونہی عن المنکر )
ہر انسان معاشرے میں انجام پانے والے برے اور ترک کئے جانے والے نیک کاموں کے بارے میں ذمہ دارہے ، اس لئے اگر کوئی واجب کام ترک ہوجائے یا کوئی حرام کام انجام پائے تو اس کے مقابلے میں خاموشی اور لاتعلقی جائز نہیں ہے، اور معاشرے کے تمام لوگوں کو ''واجب''کام کی انجام دہی اور '' حرام'' کام کوروکنے کے لئے قدم اٹھانا چاہئے اس عمل کو '' امر بالمعروف اور'' نہی عن المنکر'' کہتے ہیں ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :
٭ ائمہ معصومین علیہم السلام کے بعض بیانات میں آیا ہے :
٭ '' امر بالمعروف ونہی عن المنکر'' اہم ترین واجبات میں سے ہے۔
٭ دینی واجبات '' امر بالمعروف ونہی عن المنکر'' کے سبب مستحکم وپائیدار ہوتے ہیں ۔
٭'' امر بالمعروف اور نہی عن المنکر'' ضروریات دین میں سے ہے،جو اس سے انکار کرے، وہ کافر ہے۔
٭ اگر لوگ'' امربالمعروف ونہی عن المنکر'' کو ترک کریں، تو برکت ان سے اٹھا لی جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی۔
معروف ومنکر کی تعریف :
احکامِ دین میں تمام واجبات ومستحبات کو '' معروف'' اور تمام محرمات ومکروہات کو'' منکر ''
کہا جاتا ہے، لہٰذا سماج کے لوگوں کو واجب ومستحب کام انجام دینے کی ترغیب دلانا امر ''بالمعروف'' اور انھیں حرام ومکر وہ کام کی انجام دہی سے روکنا '' نہی عن المنکر'' ہے۔
امر بہ معروف ونہی ازمنکرکی حدود : امر بہ معروف اور نہی از منکر کرنا لوگوں میں سے کسی خاص گروہ یا کسی خاص جماعت پر منحصر نہیں ہے ۔اور تمام لوگوں پر جو شرائط کے حامل ہوں ،پر واجب ہے حتیٰ زوجہ اور بیٹے پر واجب ہے کہ جب وہ دیکھیں کہ اسکے شوہر یا والدین کسی واجب کو ترک کر رہے ہیں یا حرام کا ارتکاب کر رہے ہیں تو شرائط کی موجود گی میں انھیں امر بہ معروف اور نہی ازمنکر کریں ۔
امر بہ معروف ونہی ازمنکرکے شرائط :
'' امربالمعروف ونہی عن المنکر'' چند شرائط کی بناء پر واجب ہے اور ان شرائط کے نہ ہونے کی صورت میں ساقط ہے یعنی واجب نہیںہے اور یہ شرائط حسب ذیل ہیں :
1۔امرونہی کرنے والے کوجاننا چاہئے کہ جو کام کوئی فردانجام دیتا ہے وہ حرام ہے اور جسے ترک کرتا ہے ،وہ واجب ہے، لہٰذا جو شخص حرام کام کی تشخیص نہ دے سکتا ہو کہ حرام ہے یا نہیں اس پر نہی کرنا واجب نہیں ہے۔
2۔امرونہی کرنے والے کو احتمال دینا چاہئے کہ اس کا امر ونہی مؤثر ہوگا، لہٰذا اگر جانتاہو کہ مؤثر نہیں ہے یا اس میں شک کرتا ہو، تو اس پر امرونہی کرنا واجب نہیں ہے۔
3۔ گناہگار اپنے کام کو جاری رکھنے پر اصرار کرتاہو، لہٰذا اگر معلوم ہوجائے کہ گناہگار گناہ کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور پھرسے اس کام کو انجام نہیں دے گا یا اس کام کو
پھرسے انجام دینے میں کامیاب نہیں ہوگا، تو امرونہی واجب نہیں ہے ۔
4۔ امر ونہی کرنے والے کے لئے ، امرو نہی کرنا اپنے رشتہ داروں اور دوست یا ہمراہوں، دیگر مومنین کی جان ومال اور آبرو کے لئے قابل توجہ ضررونقصان کا سبب نہ بنے۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مراحل :
امربالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے چند مراحل ہیں اور اگر سب سے نچلے مرحلے پر عمل کرنے سے نتیجہ نکلے تو بعد والے مرحلہ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مراحل حسب ذیل ہیں :
پہلا مرحلہ : گناہگار کے ساتھ ایسا برتائوکیا جائے کہ وہ سمجھ لے کہ اس کا سبب اس کا گناہ میں مرتکب ہوناہے مثلا اس سے منہ موڑلے یا ترش روئی سے پیش آئے یا آنا جانا بند کردے۔
دوسرا مرحلہ :زبان سے امر ونہی کرنا:یعنی واجب تر ک کرنے والے کو حکم دیدے کہ واجب بجالائے اور گناہگار کو حکم دیدے کہ گناہ کو ترک کرے۔
تیسر امرحلہ : طاقت کا استعمال: منکر کو روکنے اور واجب انجام دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا،مثلاً حائل ہوجانا، فرد کا راستہ روک لینا ،ہاتھ سے ہتھیا وغیرہ چھین لینا ،بند کردینا،تھپڑمارنا وغیرہ
سوالات:
1۔ معروف ومنکر میں سے ہر ایک کی پانچ مثالیں بیان کیجئے؟
2۔کس صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے؟
3۔ اگر کوئی کسی گانے کو سن رہا ہواور ہم نہیں جانتے وہ غناہے یا نہیں ؟تو کیا اس کو منع کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ اور کیوں ؟
4۔ گناہ گارکو کس صورت میں زخمی کرنا جائز ہے، دومثال سے واضح کیجئے؟
حصہ سؤم ( آداب واخلاق )
درس نمبر 21 ( عبادت اور عبودیت )
عبادت کیا ہے ؟
ہماری تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے (و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون)(1) ''میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ''
ہم لوگ جو بھی کام انجام دیتے ہیں اگر رضائے پروردگار کی خاطر ہو تو وہ عبادت ہے چاہے وہ کام علم حاصل کرنا ، شادی کرنا یالوگوں کی خدمت کرنا ہو اور یااپنی یا معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر ہو ۔ جو چیز کسی کام کو عبادت بناتی ہے وہ انسان کی مقدس نیت ہے جس کو قرآن مجید کی زبان میں '' صبغة اللہ ''( 2) کہتے ہیں یعنی جس میں خدائی رنگ و بو پائی جائے ۔
فطرت و عبادت :
ہمارے کچھ کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں اور بعض کام فطرت کی بنا پر انجام پاتے ہیں۔ جو کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ کسی اہمیت کے حامل ہوں جیسے ورزش کی عادت اور ممکن ہے وہ کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں ، جیسے چائے پینے ،اور
سگریٹ پینے کی عادت، لیکن اگر کوئی کام فطری ہو یعنی فطرت اور اس پاک سرشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ ذاریات آیہ 56. (2)۔بقرہ آیہ 138.
کی بنا پر ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہر بشر کے اندر ودیعت کی ہے تو ایسا ہر کام اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔عادت پر فطرت کی فوقیت یہ ہے کہ فطرت میں زمان ، مکان، جنسیت، نسل اورسن و سال مؤثر نہیں ہوتے ۔ ہر انسان اس جہت سے کہ انسان ہے فطرت رکھتا ہے جیسے اولاد سے محبت،کسی خاص نسل یازمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے بچے کو چاہتا ہے(1) لیکن لباس اور غذا جیسی چیزیں عادات میں شامل ہیں جن میںزمان و مکان کے اختلاف سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ بعض جگہوں پر کچھ رسم و رواج مو جودہیں لیکن دوسری جگہ پر وہی رسم و رواج نہیں پائے جاتے ہیں۔
عبادت و پرستش بھی ایک فطری امر ہے اسی لئے جتنی بھی قدیم ، خوبصورت اور مضبوط عمارتیں دیکھنے میں آتی ہیں وہ عبادت گا ہیں ، مسجدیا مندر اور چرچ وغیرہ ہیں یا پھر آتش کدے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ عبادت و پرستش کے انواع و اقسام میں کافی فرق پایا جاتا ہے ۔ ایک طرف تو خود معبود میں فرق ؛ یعنی پتھر ، لکڑی اور بت کی عبادت سے لے کر خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت تک۔ اسی طرح عبادت کے طریقوں میں فرق
--------------------------
(1)۔ سوال: اگر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں بعض زمانوں ، جیسے دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟ جواب : فطری مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں جیسے اولاد سے محبت فطری ہے اسی طرح حفظ آبرو بھی فطری ہے ۔عرب کے جاہل لڑکی، کو ذلت کاباعث سمجھتے تھے چونکہ جنگوں میں عورتیں اسیر ہوتی تھیں اور ان سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا آبرو کے
تحفظ کے لئے اپنی لڑکیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے تھے ۔ دور جانے کی بات نہیں ہے مال اور جان دونوں سے محبت کرنا فطرت ہے لیکن کچھ لوگ مال کو جان پر اور کچھ لوگ جان کو مال پر قربان کر دیتے ہیں لہٰذا لڑکی کو آبرو پر قربان کرنا اولا د سے محبت کی فطرت کے منافی نہیں ہے۔
ہے جیسے ناچنے ، مٹکنے سے لے کر اولیاء اللہ کی انتہائی عمیق و لطیف مناجات تک فرق پایا جاتا ہے ۔ انبیاء کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگوں کے اندر خدا کی عبادت و پرستش کی روح پھو نکیںبلکہ انکا اصل مقصد معبو د سے متعلق تصور اور عبادت کے طریقے کو صحیح کرنا تھا ۔
مساجد ، گرجا گھروں اور مندر وغیرہ کی عمارتوں میں اتنا زیادہ پیسہ لگانا ، اپنے وطن کے
پرچم کو مقدس سمجھنا ، اپنی قوم کے بزرگوں اور بڑی شخصیتوں کی قدر کرنا ، لوگوں کے کمالات و فضائل کی تعریف کرنا حتی اچھی چیزوں سے رغبت ہو نایہ سب انسان کے وجود میں روحِ عبادت کے جلوے ہیں ۔
جو لوگ خدا کی عبادت نہیں کرتے ہیں وہ بھی مال و اقتدار یا بیوی ، بچوں،سندا ور ڈگری یا فکر و قانون اوراپنے مکتب فکر یا اپنی راہ و روش کی پوجا کرتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس راہ میں اتنا زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ دل دے بیٹھتے ہیں اور جانفشانی پر تیار رہتے ہیں ۔ اپنی پوری ہستی کو اپنے معبودپر فدا کر دیتے ہیں ۔ خدا کی عبادت انسان کی فطرت کی گہرا ئیوں میں شامل ہے ، چاہے انسان اس سے غافل ہی ہو جیسے مولاناروم کہتے ہیں :
'' انسان اپنی فطرت کی طرف اس طرح رغبت رکھتا ہے جیسے بچہ اپنی ماں سے ، جبکہ اس کا راز وہ نہیں جانتا''۔
خدائے حکیم نے جس رغبت اور چا ہت کو پیکر انسان میں قرار دیا ہے اس کی تکمیل و تشفی کے اسباب و وسائل بھی فراہم کئے ہیں ۔ اگر انسان کو پیاس لگے تواس کے لئے
پانی پیدا کیا ، اگر انسان کو بھوک لگے تو غذا بھی موجود ہے ۔ اگر خداوند عالم نے انسان میں جنسی خو اہش کو رکھا تو اس کے لئے شریک حیات کو بھی خلق کیا،اگر خدا نے قوت
شامّہ دی تو اس کے لئے اچھی خوشبوئیں بھی پیدا کیں ۔
انسان کے متعددجذبات میں سے ایک گہرا جذبہ یہ ہے کہ وہ لا متناہی چیز سے رغبت رکھتا ہے ، کمال سے عشق کرتا ہے اور بقاء کو دوست رکھتا ہے ۔ اور ان فطری رجحانات کی تکمیل ، خداوند متعال سے رابطہ اور اس کی پرستش کے ذریعہ ہوتی ہے ،نماز و عبادت ؛ کمال کے سر چشمہ انسان کا ارتباط ، محبوب واقعی سے اُنس اور اس کی قدرت لا متناہی میں احساس امنیت کرنا ہے ۔
رضائے الٰہی محور عبادت ہے :
جس طرح سے آسمانی کرات اور کرہ ارضی مختلف ( وضعی و انتقالی ) حرکات کے باوجود ہمیشہ ایک ثابت مدار رکھتے ہیں اسی طرح عبادت بھی ہے اپنی مختلف شکلوںکے با وجود ایک ثابت مدار رکھتی ہے اور وہ رضائے الہی ہے ۔ اگرچہ زمان و مکان اور انفرادی و اجتماعی شرائط اس مدار میں انجام پانے والی حرکتوں کو معین کرتے ہیں ۔ جیسے سفر میں چار رکعتی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اور بیماری میں نماز پڑھنے کی شکل بدل جاتی ہے لیکن دو رکعتی یا قصر نماز ، نماز ہے یہ بھی یاد خداا ور رضائے پروردگار کوانجام دینے کے لئے ہوتی ہے ۔(واقم الصلاة لذکری)(1)
عبادت کا جذبہ :
عبادت روح کی غذا ہے ۔ سب سے اچھی غذا وہی ہوتی ہے جو بدن میں جذب ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مبارکہ14
جائے (یعنی بدن کے لئے سود مند ثابت ہو ) نیز بہترین عبادت وہ ہے جو روح میں جذب ہو جائے یعنی خوشی اور حضور قلب کے ساتھ انجام پائے ۔ زیادہ کھانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ سود مند غذا کھانا ضروری ہے ۔
پیغمبر اکرم (ص)،جابر بن عبد اللہ انصاری سے ارشاد فرماتے ہیں :
'' خدا کا دین مستحکم و استوار ہے اس کی نسبت نرم رویہ اختیار کرو ۔(لہٰذا جس وقت روحی اعتبار سے آمادہ نہ ہو اس وقت عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بناؤ )کہ تمہارا نفس اللہ کی عبادت سے نفرت کرنے لگے ۔ ''(1)
رسول اکرم (ص) کی دوسری حدیث میں ہے :
'' کتنا خوش قسمت ہے وہ شخص جو عبادت سے عشق کرتا ہے اور اپنے محبوب کی طرح عبادت کو گلے لگاتا ہے۔''(2)
عبادت سکون کا باعث ہے :
آپ بڑے بڑے سرکش ، سرمایہ داروں اور صاحبان علم و صنعت کو پہچانتے ہیں لیکن کیا ان سب کے یہاں قلبی سکون کا سراغ ملتا ہے ؟ !
کیا اہل مغرب کے پاس روحانی ا ور نفسیاتی سکون موجود ہے ؟
کیا قدرت و صنعت اور مال و ثروت آج کے انسان کو صلح و دوستی اوردلی اطمینان و
سکون عطا کرسکے ہیں ؟ لیکن خدا کی عبادت و اطاعت سے خدا کے اولیاء کو ایسی کیفیت
و حالت حاصل ہوتی ہے کہ کسی بھی حالت میں یہ لوگ مضطرب او رپریشان نہیں ہوتے
-----------------------------
(1)۔ بحار الانوار جلد 71 صفحہ 212.
عبادت کا ما حصل :
عبادت ؛ نصرت و الطاف الہی کے حصول کا ذریعہ ہے :
( واعبد ربک حتی یاتیک الیقین )(1 )
اس قدر عبادت کرو کہ درجہ ٔ یقین پر فائز ہوجاؤ ۔
حضرت موسیٰ ـ آسمانی کتاب توریت کو حاصل کرنے کے لئے چالیس رات دن کوہِ طور پر مناجات میں مشغول رہے اور پیغمبر گرامی اسلام (ص) وحی کو حاصل کرنے کے لئے ایک طولانی مدت تک غار حرا میں عبادت کرتے رہے ۔ روایتوں میں آیا ہے : ''مَن اخلص العبادة للہ اربعین صباحا ظھرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علی لسانہ''(2)
جو شخص بھی چالیس رات دن اپنے تمام کاموں کو عبادت و خلوص کا رنگ دے تو پروردگار عالم حکمت کے چشمے اس کے دل اورزبان پر جاری کر دیتا ہے ۔
جی ہاں خلوص دل سے عبادت وہ یونیورسٹی ہے جو چالیس روز کے اندر تعلیم سے فارغ ہونے و الوں کو ایسا حکیم بناتی ہے جو حکمت کو الٰہی سر چشمہ سے حاصل کرکے اسے دوسروں کی طرف منتقل کرتے رہتے ہیں ۔
--------------------------
(1)۔ حجر آیہ 99 (2)۔ بحار الانوار جلد 53 صفحہ 326.
سوالات :
1۔عبادت کیا ہے ؟
2۔ فطرت اور عادت میں کیا فرق ہے ؟
3۔1گر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟
4۔عبادت کا محور کیا چیز ہے؟
5۔عبادت کا ماحصل بیان کیجئے ؟
درس نمبر 22
( تقویٰ اور پرہیز گاری )
تقویٰ کیا ہے ؟
اپنے کو گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ رکھنا اور ہلاک کنندہ آفات و بلائوں سے حفظ کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور دینی تعلیمات نے ''تقویٰ'' کے عنوان سے یاد کیا ہے۔
تقویٰ اس حالت کا نام ہے جو گناہوں سے اجتناب اور عبادت خدا سے حاصل ہوتی ہے اور تقویٰ دینی اقدار و معنوی زیبائی میں ایک خاص عظمت رکھتا ہے۔
صرف متقی افراد ہی میں ہدایت الٰہی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے :
(ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیهِ هُدًی لِلْمُتَّقِینَ) .(1)
'' یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے.یہ
صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے''۔
(وَاُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِینَ) .(2)
'' اور جنت بھی صرف اور صرف اہل تقویٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ بقرہ آیت 2 (2)سورۂ شعراء آیت 90.
حضرت رسول خدا (ص) کا ارشاد ہے :
''لَوْاَنَّ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ کانَتا رَتْقاً عَلیٰ عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَی اللّٰهَ لَجَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْهُما فَرَجاً وَمَخْرَجاً'' ۔(1)
'' اگر کسی بندہ پر زمین و آسمان کے دروازے بند ہوجائیں ، لیکن اگر وہ بندہ تقویٰ الٰہی اختیار کرے تو خدا اس کے لئے زمین و آسمان کے دروازے کھول دیتاہے''۔
تقویٰ کے آثار و برکات :
1۔ تقویٰ ہدایت قبول کرنے کا پیش خیمہ ہے( هُدیً للمتقین) (2)
2۔ خداوند عالم صاحبان تقویٰ کو علم عطا کرتا ہے۔(واتقوا للّٰه و یُعَلمکم اللّٰهُ (3)
3۔ تقویٰ رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔(واتقو اللّٰه لَعَلْکم تُرْحمون) (4)
4۔ تقویٰ اعمال کے قبول ہونے کا وسیلہ ہے ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ خداوند عالم فقط صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ہے-( انّما یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ-) (5)
5۔ تقویٰ کے باعث انسان کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا ( ویَرْزُقُه' من حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ)(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)عدة الداعی ص305،فصل فی خواص متفرقة ؛بحار الانوار ج67،ص285،باب 56،حدیث8 (2)۔ سورئہ بقرہ، آیت 2 (3)۔سورئہ بقرہ، آیت 282 (4)۔ سورئہ انعام، آیت 155 (5)۔ سورئہ مائدہ، آیت 27 (6)۔ سورئہ طلاق، آیت 3
6۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبان تقویٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بے یار ومددگار نہیں رہیں گے( وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَه' مَخْرَجًا) (1)
7۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمایت اور غیبی امداد صاحبان تقویٰ پر نثار کردیتا ہے۔(وَ اعْلَمُوا انّ اللّٰهَ مَعَ المتقینَ ) (2)
8۔ تقویٰ قیامت کے خطرات سے محفوظ رہنے (3) اور عاقبت بالخیر کا ذریعہ ہے( والعاقبة للمتقین) (4)
تقویٰ میں مؤثر عوامل :
تقویٰ کے آثار و برکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب ہم ان عوامل کا ذکر
کرتے ہیں جو متقی اور پرہیز گار بننے میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔
1۔ مبدأ و معاد پر ایمان رکھنے سے انسان کا گناہوں کے مقابلے میں بیمہ ہوجاتا ہے۔ جس قدر اس کا ایمان قوی ہوگا، تقویٰ بھی اتنا ہی پائیدار ہوگا۔
2۔ عمومی نظارت (امر بالمعروف اور نہی از منکر) معاشرے میں تقویٰ کے رشد کا باعث
بنتی ہے۔
3۔ خاندان کی تربیت، 4۔ لقمہ حلال کا حصول،
5۔ اپنی ذمہ داری کو دیانتداری سے ادا کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورئہ طلاق، آیت 2 (2)۔ سورئہ توبہ آیت 36 اور 123
(3)۔ سورئہ مریم، آیت 72 (4)۔ سورئہ اعراف ، آیت 128
6۔ دوستوں (بیوی، ہم پیشہ، ہمسایہ، اور ہم جماعت افراد) کے ساتھ اچھا برتاؤ۔
7۔ صحیح پیشہ کا انتخاب، (8 ) ۔ با تقویٰ افراد کو دوست رکھنا
یہ سب ایسے عوامل ہیں جو تقویٰ میں مؤثر ہیں۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی نظر میںا ہل تقویٰ کی نشانیاں :
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اہل تقویٰ کے کچھ نشانیاں بیان کی ہیں، منجملہ :
صداقت،ادائے امانت، وفائے عہد، عجز و بخل میں کمی، صلہ رحم، کمزوروں پر رحم، ، خوبی کرنا، اخلاق حسنہ، بردباری میں وسعت، اس علم پر عمل جس کے ذریعہ خدا کے قریب
ہوجائے، اور اس کے بعد فرمایا: خوش نصیب ہیں یہ افراد، کیونکہ ان کی آخرت سعادت بخش نیک اور اچھی ہوگی۔(1)
کیا تقویٰ محدودیت ہے؟
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تقویٰ محدودیت اور قید خانہ ہے ۔ جبکہ تقویٰ تو ایک قلعہ اور حصار ہے۔ قید خانے اور قلعے کے درمیان فرق یہ ہے کہ قید خانے کو باہر
سے تالا لگایا جاتا ہے جو ایک زبردستی کی محدودیت ہے۔ جو انسان کی آزادی سے سازگار نہیں ہے لیکن قلعے کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔ اور پھر خود اُسے اندر سے تالا لگاتا ہے۔ تاکہ حوادث روزگار سے محفوظ رہ سکے۔ آپ خود بتائیں جب ہم پاؤں میں جوتا پہنتے ہیں تو ہم پاؤں کو محدود کرتے ہیں یا محفوظ؟ پس ہر محدودیت بری نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر عیاشی ج2،ص213،حدیث50؛ بحار الانوار ،ج67،ص 282،باب 56،حدیث2.
اور ہر آزادی اہم نہیں ہوتی۔
اسی طرح ہر وسعت کی اہمیت نہیں جیسا کہ سرطان کے جراثیم جو بدن میں پھیل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر عقب نشینی، اور پہلے والی حالت پر واپس پلٹنا برا نہیں۔ مریض ڈاکٹر کیپاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ اسے پہلے والی حالت پر واپس لے آئے۔ اس کا ہدف بیماری سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹنا ہے۔ اس کا یہ واپس آنا اہمیت رکھتا ہے۔ تقویٰ امن و امان کے حصول کا نام ہے۔ جو عورتیں اور لڑکیاں آزادی کے نام پر مختلف انداز میں لوگوں کی نظروں کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں اگر چند منٹ (فقط چند
منٹ) کے لیے غور وفکر کریں چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں تب بھی علم و عقل ان کو عفت و پاکیزگی کی دعوت دے گی۔
بدحجابی یا بے حجابی مندرجہ ذیل مسائل کو ایجاد کرتی ہے۔
1۔ لوگ بے حجاب خواتین کی نسبت سوء ظن رکھتے ہیں۔
2۔ لوگ بے حجاب خواتین کو اغوا کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔
3۔ بے پردہ خواتین کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔
4۔ نوجوان نسل کو روحی طور پر بد اندیشی اور کج فکری کی کھلی دعوت ملتی ہے۔
5۔ بے پردگی سے خواتین خود نمائی اور فضول خرچی کی طرف راغب ہوجاتی ہیں۔
6۔ بے پردگی طالب علموں کے درس و مطالعہ میں فکری تمرکز کو ختم کردیتی ہے۔
7۔ بے بضاعت افراد کو شرمندہ کرتی ہے ۔ جو اس قسم کے لباس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
8۔ بے پردگی اقتصادی حالت کو ابتر بنادیتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں کام محنت سے انجام نہیں دیئے جاتے اور ہمیشہ ہوس بازی کا بازار گرم رہتا ہے۔
9۔ ایسی خواتین اور لڑکیوں کو ناکام کرنا جو اپنی شکل و صورت پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔
10۔ والدین کو حیران و پریشان رکھنا۔ 11۔ بد قماش افراد کو راضی کرنا۔
12۔ منفی رقابت کا پیدا ہونا۔ 13۔ گھر سے فرار کرنا۔
14۔ ناجائز اولاد کا دنیا میں آنا۔ 15۔ ایڈز جیسے امراض کا پیدا ہونا۔
16۔ سقط حمل، خودکشی، قتل وکشتار، حادثات وغیرہ جیسے مسائل کا وجود میں آنا اور یہ سب عدم تقویٰ اور بے حجابی کے مسائل ہیں۔ 17۔ روحی اور نفسیاتی امراض کا زیادہ ہونا۔
اسی لیے شاید قرآن میں تقویٰ کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اور امام جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خطبہ میں تقویٰ کے مسائل بیان کرے۔
قرآن کریم کم مقدار تقویٰ پر قناعت نہیں کرتا اور فرماتا ہے:(فَا تَّقُوا اللّٰه مَا اسْتَطَعتُمْ) (1) جہاں تک ممکن ہو تقویٰ اختیار کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:( وَ اتّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقٰاتِه) (2) جس طرح تقویٰ کا حق ہے اُسی طرح اُسے اختیار کرو۔
البتہ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب بھی ہم کسی گناہ میں گرفتار ہوجائیں تو ہم نماز، توبہ اور اپنے پروردگار سے مدد طلب کرکے گناہوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔سورئہ تغابن، آیت 16 (2) سورہ آل عمران آیت 102
سوالات :
1۔تقویٰ کیا ہے ؟
2۔ تقویٰ کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟
3۔تقویٰ میں کیا عوامل مؤثر ہیں ؟
4۔حضتر علی کی نگاہ میں اہل تقویٰ کی کیا نشانیاں ہیں ؟
5۔کیا تقویٰ محدودیت ہے؟
درس نمبر 23 ( نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری )
خدا وندمتعال نے اپنے خاص لطف و کرم، رحمت ومحبت اور عنایت کی بنا پر انسان کو ایسی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا اہل قرار دیا جن سے اس کائنات میں دوسری مخلوقات یہاں تک کہ مقرب فرشتوںکو بھی نہیں نوازا۔
انسان کے لئے خداوندعالم کی نعمتیں اس طرح موجود ہیں کہ اگر انسان ان کو حکم خدا کے مطابق استعمال کرے تو اس کے جسم اور روح میں رشد و نمو پیدا ہوتا ہے او ردنیاوی اور اُخروی زندگی کی سعادت و کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں 12اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے :
1۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت۔ 2۔ حصول نعمت کا راستہ۔
3۔ نعمت پر توجہ ۔ 4۔نعمت پر شکر۔
5۔نعمت پر ناشکری سے پرہیز۔ 6۔نعمتوں کا بے شمار ہونا۔
7۔نعمت کی قدر کرنے والے۔ 8۔نعمتوں میں اسراف کرنا۔
9۔نعمتوں کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لینا10۔نعمت چھن جانے کے اسباب و علل۔
11۔اتمام ِنعمت ۔ 12۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام۔
آئیے اب ہم قرآن مجید کے بیان کردہ ان عظیم الشان بارہ نکات کی طرف توجہ کرتے
ہیں :
1۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت :
زمین و آسمان کے در میان پائی جانے والی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت خداوندعالم کے ارادہ اور اس کے حکم سے انسان کو فائدہ پہنچارہی ہیں۔
پہاڑ، جنگل، صحرا، دریا، درخت و سبزے، باغ، چشمے، نہریں، حیوانات اور دیگر زمین پر پائی جانے والی بہت سی مخلوقات ایک طرح سے انسان کی زندگی کی مشین کو چلانے میں اپنی اپنی کارکردگی میں مشغول ہیں۔
خداوندعالم کی نعمتیں اس قدر وسیع ، زیادہ، کامل اور جامع ہیں کہ انسان کو عاشقانہ طور پر اپنی آغوش میں لیئے ہوئے ہیں، اور ایک مہربان اور دلسوز ماں کی مانند ،انسان کے رشد
و نمو کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔
انسان کو جن ظاہری و باطنی نعمتوں کی ضرورت تھی خداوندعالم نے اس کے لئے پہلے سے ہی تیار کررکھی ہے، اور اس وسیع دسترخوان پر کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔
چنانچہ قرآن کریم میں اس سلسلے میں بیان ہوتا ہے :
( َلَمْ تَرَوْا أنَّ اﷲَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأرْضِ وأسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً...) .(1)
'' کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور تمہارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل فرمایااور لوگوں میں
بعض ایسے بھی ہیں جو علم ہدایت اور روشن کتا ب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ ٔ لقمان آیت 20.
کرتے ہیں ''.
2۔ حصول نعمت کا راستہ :
رزق کے حصول کے لئے ہر طرح کا صحیح کام اور صحیح کوشش کرنا؛ بے شک خداوندعالم کی عبادت اور بندگی ہے؛ کیونکہ خدائے مہربان نے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اپنے بندوں کو زمین کے آباد کرنے اور حلال روزی حاصل کرنے، کسب معاش، جائز تجارت اورخرید و فروخت کا حکم دیا ہے، اور چونکہ خداوندعالم کے حکم کی اطاعت کرنا عبادت و بندگی لہٰذا اس عبادت و بندگی کا اجر و ثواب روز قیامت ]ضرور[ ملے گا۔
قرآن مجید اس مسئلہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَاْکُلُوا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِإ لاَّ أنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ).(1)
'' اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طریقہ سے نہ کھایا کرو۔مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے معاملہ کرلو ''.
( یَاَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأرْضِ حَلاَلًا طَیِّبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إنَّهُ لَکُمْ عَدُوّ مُبِین) .(2)
'' اے انسانو! زمین میں جو کچھ بھی حلال و پاکیزہ ہے اسے استعمال کرو اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو بے شک وہ تمہاراکھلا دشمن ہے ''.
بہر حال خداوندعالم کی طرف سے جو راستے حلال اور جائز قرار دئے گئے ہیںاگر ان جائز اور شرعی طریقوں سے روزی حاصل کی گئی ہے اور اس میں اسراف و تبذیر سے خرچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ نساء آیت 29. (2)سورۂ بقرہ آیت168.
نہیں کیا گیا تو یہ حلال روزی ہے اور اگر غیر شرعی طریقہ سے حاصل ہونے والی روزی اگرچہ وہ ذاتی طور پر حلال ہو جیسے کھانے
پینے کی چیزیں؛ تو وہ حرام ہے اور ان کا اپنے پاس محفوظ رکھنا منع ہے اور ان کے اصلی مالک کی طرف پلٹانا واجب ہے۔
3۔ نعمت پر توجہ :
کسی بھی نعمت سے بغیر توجہ کئے فائدہ اٹھانا، چوپائوں، غافلوں اور پاگلوں کاکام ہے ، انسان کم از کم یہ تو سوچے کہ یہ نعمت کیسے وجود میں آئی ہے یا اسے ہمارے لئے کس مقصد کی خاطر پیدا کیا گیا؟ اس کے رنگ، بو اور ذائقہ میں کتنے اسباب و عوامل پائے گئے ہیں، المختصر یہ کہ بغیر غور و فکر کئے ایک لقمہ روٹی یا ایک لباس، یا زراعت کے لائق
زمین، یا بہتا ہوا چشمہ، یا بہتی ہوئی نہر، یا مفید درختوں سے بھرا جنگل، اور یہ کہ کتنے کروڑ یا کتنے ارب عوامل و اسباب کی بنا پر کوئی چیز وجود میں آئی تاکہ انسان زندگی کے لئے مفید واقع ہو ؟ !!
صاحبان عقل و فہم اور دانشور اپنے پاس موجود تمام نعمتوں کو عقل کی آنکھ اور دل کی بینائی سے دیکھتے ہیں تاکہ نعمت کے ساتھ ساتھ،نعمت عطا کرنے والے کے وجود کا احساس کریں اور نعمتوںکے فوائد تک پہنچ جائیں، نیز نعمت سے اس طرح فائدہ حاصل کریں جس طرح نعمت کے پیدا کرنے والے کی مرضی ہو۔
قرآن مجید جو کتاب ہدایت ہے ؛اس نے لوگوں کوخداوندعالم کی نعمتوں پر اس طرح متوجہ کیاہے :
( یَاَیُّهَاالنَّاسُ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اﷲِ عَلَیْکُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُاﷲِ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَائِ
وَالْأرْضِ لاَإلَهَ إلاَّ هُوَ فَأنَّی تُؤْفَکُونَ) .(1)
'' اے لوگو! اپنے اوپر ]نازل ہونے والی[ اللہ کی نعمت کو یاد کرو کیا ، ]کیا[ اس کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے ؟وہی تو تمھیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، پس تم کس طرف بہکے چلے جارہے ہو ''.
4۔نعمت پر شکر :
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بعد ''شکر ﷲ '' ]الٰہی تیرا شکر[ یا ''الحمد ﷲ'' کہہ دیا جائے ، یا اس سے بڑھ کر ''الحمد ﷲ رب العالمین'' زبان پر جاری کردیا جائے۔
یاد رہے کہ ان بے شمار مادی اور معنوی نعمتوں کے مقابلہ میں اردو یا عربی میں ایک جملہ
کہہ دینے سے حقیقی معنی میں شکر نہیں ہوتا، بلکہ شکر ، نعمت عطا کرنے والی ذات کے مقام اور نعمت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ، اور یہ معنی اس وقت تک متحقق نہیں ہوں گے، جب تک انسان اپنے اعضاء و اجوارح کے ذریعہ خداوندمتعال کا شکر ادا کرنے کے لئے ان افعال و اقدامات کو انجام نہ دے جن سے پتہ چل جائے کہ وہ پروردگارعالم کا اطاعت گزار بندہ ہے ، پس شکر خدا کے لئے ضروری ہے کہ انسان ایسے امور کو انجام دے جو خدا کی رضایت کا سبب قرار پائیں اور اس کی یاد سے غافل نہ ہونے دیں۔
کیا خداوندعالم کے اس عظیم لطف و کرم کے مقابلہ میں صرف زبانی طور پر''الٰہی تیرا شکر
'' یا ''الحمد للہ'' کہہ دینے سے کسی کوشاکر کہا جاسکتا ہے؟ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ فاطر آیت 3
خواجہ نصیر الدین طوسی ،علامہ مجلسی کی روایت کی بنا پر شکر کے معنی اس طرح فرماتے ہیں :
'' شکر، شریف ترین اور بہترین عمل ہے، معلوم ہونا چاہئے کہ شکر کے معنی قول و فعل اور نیت کے ذریعہ نعمتوں کے مدّمقابل قرار پانا ہے، اور شکر کے لئے تین رکن ہیں :
ا۔ نعمت عطا کرنے والے کی معرفت ، اوراس کے صفات کی پہچان، نیز نعمتوں کی شناخت کرنا ضروری ہے، اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں سب اسی کی طرف سے ہیں، اس کے علاوہ کوئی حقیقی منعم نہیں ہے، انسان اور نعمتوں کے درمیان تمام واسطے اسی کے فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کئے ہیں۔
2۔ ایک خاص حالت کا پیدا ہونا، اور وہ یہ ہے کہ انسان عطا کرنے والے کے سامنے خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ پیش آئے اور نعمتوں پر خوش رہے، اور اس بات
پر یقین رکھے کہ یہ تمام نعمتیں خدا وندعالم کی طرف سے انسان کے لئے تحفے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ خداوندعالم انسان پر عنایت و توجہ رکھتا ہے، اس خاص حالت کی نشانی یہ ہے کہ انسان مادی چیزوں پر خوش نہ ہو مگر یہ کہ جن کے بارے میں خداوندعالم کا قرب حاصل ہو۔
3۔ عمل، اور عمل بھی دل، زبان اور اعضاء سے ظاہر ہونا چاہئے۔
دل سے خداوندعالم کی ذات پر توجہ رکھے اس کی تعظیم اور حمدو ثناکرے، اور اس کی مخلوقات اور اس لطف و کرم کے بارے میں غور و فکر کرے، نیز اس کے تمام بندوں تک خیر و نیکی پہنچانے کا ارادہ کرے۔
زبان سے اس کا شکر و سپاس، اس کی تسبیح و تہلیل اور لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے۔
تمام ظاہری و باطنی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کی عبادت و اطاعت میںاعضاء کو کام میں لائے، اور اعضاء کو خدا کی معصیت و مخالفت سے روکے رکھے''۔
لہٰذا شکر کے اس حقیقی معنی کی بنا پر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ شکر ،صفات کمال کے اصول میں سے ایک ہے، جو صاحبان نعمت میں بہت ہی کم ظاہر ہوتے ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَقَلِیل مِنْ عِبَادِی الشَّکُورُ) .(1)
'' اور ہمارے بندوں میں شکر گزار بندے بہت کم ہیں ''.
5۔نعمت پر ناشکری سے پرہیز :
بعض لوگ ،حقیقی منعم سے بے خبر اورخداداد نعمتوں میں بغیر غور و فکر کئے اپنے پاس
موجودتمام نعمتوں کو مفت تصور کرتے ہیں، اور خودکو ان کا اصلی مالک تصورکرتے ہیں اور جو بھی ان کا دل اور ہوائے نفس چاہتا ہے ویسے ہی ان نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں۔
یہ لوگ جہل و غفلت اور بے خبری اور نادانی میں گرفتار ہیں ،خدائی نعمتوں کو شیطانی کاموں اور ناجائز شہوتوں میں استعمال کرتے ہیں، اور اس سے بدتر یہ ہے کہ ان تمام خداداد نعمتوں کو اپنے اہل و عیال، اہل خاندان، دوستوں او ردیگر لوگوں کو گمراہ کرنے پر بھی خرچ کرڈالتے ہیں۔
اعضاء و جوارح جیسی عظیم نعمت کو گناہوں میں، مال و دولت جیسی نعمت کو معصیت و خطا میں ، علم و دانش جیسی نعمت کو طاغوت و ظالموں کی خدمت میںاور بیان جیسی نعمت کو
بندگان خدا کو گمراہ کرنے میں خرچ کرڈالتے ہیں !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ سباء ،آیت 13.
یہ لوگ خدا ئی نعمتوں کی زیبائی اور خوبصورتی کو شیطانی پلیدگی اور برائی میں تبدیل کردیتے ہیں، اور اپنے ان پست کاموں کے ذریعہ خود کو بھی اور اپنے دوستوں کو بھی جہنم کے ابدی عذاب کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں !
( َلَمْ تَرَی إلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اﷲِ کُفْرًا وَأحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَالْبَوَارِ٭جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ) .(1)
'' کیاتم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے بدل دیا اور اپنے قوم کو ہلاکت کی منزل تک پہنچا دیا۔یہ لوگ واصل جہنم ہوں گے اور جہنم کتنا بُرا ٹھکانہ ہے ''.
6۔نعمتوں کا بے شمار ہونا :
اگر ہم نے قرآن کریم کی ایک آیت پر بھی توجہ کی ہو تی تو یہ بات واضح ہوجاتی کہ خداوندعالم کی مخلوق اور اس کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہے، اور شمار کرنے والے چاہے کتنی بھی قدرت رکھتے ہوں ان کے شمار کرنے سے عاجز رہے ہیں. جیسا کہ قر آن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
( وَلَوْ أنَّمَا فِی الْأرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أقْلَام وَالْبَحْرُ یَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اﷲِ إنَّ اﷲَ عَزِیز حَکِیم) (2)
'' اور اگر روئے زمین کے تمام درخت ،قلم بن جائیں اور سمندر میں مزید سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الٰہی تمام ہونے والے نہیں ہیں ،بیشک اللہ صاحب عزت بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ ابراہیم آیت ،28۔29.
(2)سورۂ لقمان آیت ،27.
ہے اور صاحب حکمت بھی ''.
ہمیں اپنی پیدائش کے سلسلے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور اپنے جسم کے ظاہری حصہ کو عقل کی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ خداوندعالم کی نعمتوں کا شمار کرنا ہمارے امکان سے باہر ہے۔جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
( وَإنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اﷲِ لاَتُحْصُوهَا إنَّ اﷲَ لَغَفُور رَحِیم ) .(1)
'' اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ، بیشک اللہ بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے ''.
7۔نعمتوںکی قدر شناسی :
جن افراد نے اس کائنات ، زمین و آسمان اور مخلوقات میں صحیح غور و فکر کرنے کے بعد خالق کائنات، نظام عالم ،انسان اور قیامت کو پہچان لیا ہے وہ لوگ اپنے نفس کا تذکیہ ، اخلاق کو سنوارنے، عبادت و بندگی کے راستہ کو طے کرنے اور خدا کے بندوں پر نیکی و احسان کرنے میں سعی و کوشش کرتے ہیں، درحقیقت یہی افراد خداوندعالم کی نعمتوں کے قدر شناس ہیں۔
جی ہاں ، یہی افراد خداکی تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں اور اس طریقہ سے خود اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے افراد دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی تک پہنچ جاتے ہیں، اس پاک قافلہ کے قافلہ سالار اور اس قوم کے ممتاز رہبر انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں ، تمام مومنین شب و روز کے فریضہ الٰہی یعنی نماز میں انھیں کے راستہ پر برقرار رہنے کی دعا کرتے ہیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ نحل آیت ،18.
( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ٭صِرَاطَ الَّذِینَ أنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَالضَّالِّینَ). (1)
'' ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ ۔جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تونے نعمتیں نازل کی ہیں ،ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں ''.
جی ہاں، انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام خداوندعالم کی تمام مادی و معنوی نعمتوں کا صحیح
استعمال کیا کرتے تھے، اور شکر نعمت کرتے ہوئے اس عظیم مقام اور بلند مقام و مرتبت پر پہنچے ہوئے ہیں کہ انسان کی عقل درک کرنے سے عاجز ہے۔
خداوندمہربان نے قرآن مجید میں ان افراد سے وعدہ کیا ہے جو اپنی زندگی کے تمام مراحل میں خدا و رسول (ص)کے مطیع و فرمانبردار رہے ہیں، ان لوگوں کو قیامت کے دن نعمت شناس حضرات کے ساتھ محشور فرمائے گا۔
( وَمَنْ یُطِعْ اﷲَ وَالرَّسُولَ فَاُوْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أنْعَمَ اﷲُ عَلَیْهِمْ مِنْ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ اُوْلَئِکَ رَفِیقًا) .(2)
'' اور جو شخص بھی اللہ اوررسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں انبیائ،صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور یہی لوگ بہترین رفقاء ہیں ''.
8۔نعمتوں کا بیجا استعمال :
مسرف ]فضول خرچی کرنے والا[ قرآن مجید کی رُوسے اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے
مال، مقام، شہوت اور تقاضوں کو شیطانی کاموں ، غیر منطقی اور بے ہودہ کاموں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ حمد آیت ،6۔7. (2)سورۂ نساء آیت69.
خرچ کرتا ہے۔
خداکے عطا کردہ مال و ثروت اور فصل کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :
(... وَآتُوا حَقَّهُ یَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَتُسْرِفُوا إنَّهُ لاَیُحِب الْمُسْرِفِینَ) .(1)
'' اور جب فصل ]گندم، جو خرما اور کشمش[ کاٹنے کا دن آئے تو ان ]غریبوں، مسکینوں، زکوٰة جمع کرنے والوں، غیر مسلم لوگوں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے، مقروض، فی سبیل اللہ اور راستہ میں بے خرچ ہوجانے والوں[ کا حق ادا کردو اور
خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے ''.
جو لوگ اپنے مقام و منصب اور جاہ و جلال کو لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے، ان کے حقوق کو ضائع کرنے، معاشرہ میں رعب ودہشت پھیلانے اور قوم و ملت کو اسیر کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
(وَإنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْأرْضِ وَإنَّهُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ) .(2)
'' اور یہ فرعون ]اپنے کو[ بہت اونچا ]خیال کرنے لگا[ہے اور وہ اسراف اور زیادتی کرنے والا بھی ہے ''.
اسی طرح جو لوگ عفت نفس نہیں رکھتے یا جولوگ اپنے کو حرام شہوت سے نہیں بچاتے اور صرف مادی و جسمانی لذت کے علاوہ کسی لذت کو نہیں پہچانتے اور ہر طرح کے ظلم سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ کرلیتے ہیںنیز ہر قسم کی آلودگی ، ذلت اور جنسی شہوات سے پرہیز نہیں کرتے ، ان کے بارے میں بھی قرآن مجید فرماتا ہے :
( ِنَّکُمْ لَتَاْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَائِ بَلْ أنْتُمْ قَوْم مُسْرِفُونَ) .(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ انعام آیت ،141. (2)سورۂ یونس آیت83 (3)سورۂ اعراف آیت81.
تم از راہ شہوت عورتوں کے بجائے مردوں سے تعلقات پیدا کرتے ہو اور تم یقینا اسراف اور زیادتی کرنے والے ہو ''.
قرآن مجیدان لوگوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کے معجزات کے مقابلہ میں تواضع و انکساری اور خاکساری نہیں کرتے اور قرآن ،اس کے دلائل اور خدا کے واضح براہین کا انکار کرتے ہیں اور کبر و نخوت، غرور و تکبر و خودبینی کا راستہ چلتے ہوئے خداوندعالم کے مقابل صف آرا نظر آتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے :
(ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَیْنٰاهُمْ وَ مَن نَّشَآئُ وَ أَهْلَکْنٰا الْمُسْرِفِینَ) (1)
پھر ہم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور انھیں اورا ن کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و بر باد کر دیا ''.
9۔نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنا :
بخل اور اضافی نعمت کو مستحقین پر خرچ نہ کرنے کی برائی کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
( وَلاَیَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اﷲُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَیْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرّ لَهُمْ سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلِلَّهِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأرْضِ وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیر) (2)
'' اور خبردار جو لوگ خدا کے دیئے ہوئے میں مال میں بخل کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ اس بخل میں کچھ بھلائی ہے ۔یہ بہت برا ہے، اور عنقریب جس مال میں بخل کیا ہے وہ روز قیامت ان کی گردن میں طوق بنادیا جائے گا، اوراللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی ملکیت ہے اور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ''.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ انبیاء آیت9.(2)سورۂ آل عمران آیت180.
10۔نعمت ، زائل ہونے کے اسباب و علل :
قرآن مجید کی حسب ذیل آیتوں (سورہ اسراء آیت 83،سورہ قصص آیت 76تا79، سورہ فجرآیت 17 تا 20، سورہ لیل آیت 8تا10) سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ درج ذیل چیزیں، نعمتوں کے زائل ہونے، فقر و فاقہ ، معاشی تنگ دستی اور ذلت و رسوائی کے اسباب ہیں :
نعمت میں مست ہونا، غفلت کا شکار ہونا، نعمت عطا کرنے والے کو بھول جانا، خداوندعالم سے منھ موڑلینا، احکام الٰہی سے مقابلہ کرنا اور خدا ، قرآن و نبوت اور امامت کے مقابل آجانا، چنانچہ اسی معنی کی طرف درج ذیل آیہ شریفہ اشارہ کرتی ہے :
( وَإذَا أَنْعَمْنَا عَلَی الْإنسَانِ أعْرَضَ وَنَأی بِجَانِبِهِ وَإذَا مَسَّهُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا) .(1)
اور ہم جب انسان پر کوئی نعمت نازل کرتے ہیں تو وہ پہلو بچاکر کنارہ کش ہوجاتا ہے اور جب تکلیف ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے ''.
نعمت پر مغرور ہونا، مال و دولت پر حد سے زیادہ خوش ہونا ، غریبوں اور مستحقوں کا حق نہ دے کر آخرت کی زادہ راہ سے بے خبر ہونا، نیکی اور احسان میں بخل سے کام لینا، نعمتوں کے ذریعہ شروفساد پھیلانا، اوریہ تصور کرنا کہ میں نے اپنی محنت ، زحمت اور ہوشیاری سے یہ مال و دولت حاصل کی ہے، لوگوں کے سامنے مال و دولت ، اور زر و زینت پر فخر کرنا اور اسی طرح کے دوسرے کام، یہ تمام باتیں سورہ قصص کی آیات 76 تا 83 میں بیا ن ہوئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ اسراء آیت83.
یتیموں کا خیال نہ رکھنا، محتاج لوگوں کے بارے میں بے توجہ ہونا، کمزور وارثوں کی میراث کو ہڑپ لینا، نیز مال و دولت کا بجاری بن جانا، یہ سب باتیں حسب ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں، ارشاد ہوتا ہے :
( کَلاَّ بَلْ لاَّ تُکْرِمُونَ الْیَتِیمَ ٭وَلَا تَحٰاضُونَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِینَ٭وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَمَّا٭وَ تُحِبُّونَ الْمٰالَ حُبًّا جَمًّا).(1)
'' ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام نہیں کرتے ہو،اور لوگوں کو مسکینوں کے طعام دینے پر آمادہ نہیں کرتے ہو،اور میراث کے مال کو اکھٹا کرکے حلال و حرام سب کھالیتے ہو، اور مال دنیا کو بہت دوست رکھتے ہو''۔
اسی طرح خمس و زکوٰة ،صدقہ اور راہ خدا میں انفاق کرنے میں بخل سے کام لینے یا تھوڑا سا مال و دولت حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کے مقابل میں بے نیازی کا ڈنکا بجانے اورروز قیامت کو جھٹلانے، کے بارے میں بھی درج آیت اشارہ کرتی ہے :
(وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَ اسْتَغْنیٰ ٭وَکَذَّبَ بِالْحُسْنیٰ٭فَسَنُیَسِّرُهُ لِلْعُسْریٰ) (2)
'' اور جس نے بخل کیا اور لا پرواہی برتی اور نیکی کو جھٹلایا ہے ، ہم اس کے لئے سختی کی راہ ہموار کردیں گے ''
جس وقت انسان نعمتوں سے مالامال ہوجائے تو اس کو خداوندعالم اور اس کے بندوں کی بابت نیکی و احسان کرنے پر مزید توجہ کرنا چاہئے، خداوندعالم کی عطاکردہ نعمتوں کے شکرانہ میں اس کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا چاہئے، تاکہ اس کی نعمتیں باقی رہیںاور خداوندعالم کی طرف سے نعمت او رلطف و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ فجر آیت ،17۔20. (2)سورۂ لیل آیت 8۔10
کرم میں اور اضافہ ہو۔
11۔اتمام ِنعمت :
تمام مکتب تشیّع اور اہل سنّت کی معتبرکلامی کتب میں بیان کیا ہے(1) کہ جس وقت پیغمبر
اکرم (ص) ہدایت کے تداوم اور و دین کے تحفظ نیز دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کے لئے خداوندعالم کے حکم سے امام و رہبر اور فکر و عقیدہ اور اخلاق و عمل میں گناہوں سے پاک شخصیت حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کو 18 ذی الحجہ کو غدیر خم کے میدان میں اپنے بعد خلافت و ولایت اور
امت کی رہبری کے لئے منصوب فرمایا، اس وقت خداوندعالم نے اکمال دین اور اتمام نعمت اور دین اسلام سے اپنی رضایت کا اعلان فرمایا کہ یہی دین قیامت تک باقی رہے گا، ارشاد ہوا :
(...الْیَوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإسْلاَمَ دِینًا...) (2
'' آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے''۔
جی ہاں، حضرت علی علیہ السلام کی ولایت ،حکومت ،رہبری اوردین و دنیا کے امور
میںآپ کی اطاعت کرنا اکمال دین اور اتمام نعمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الغدیر ،ج1،ص6۔8. (2)سورۂ مائدہ آیت ،3.
12۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام :
وہ مومنین و مومنات جن کے دل ایمان سے آراستہ اور نفس برائیوں سے پاک ہیں اور وہ اعمال صالحہ بجالانے والے، حق بات کہنے والے، اپنے مال سے جود و کرم اور سخاوت
کرنے والے ، صدقہ دینے والے اور بندگان خدا کی مدد کرنے والے ہیں ؛ان کے لئے اجر و ثواب اور رضوان و جنت اور ہمیشہ کے لئے عیش و آرام کا وعدہ دیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے اپنی نورانی آیات میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اہل ایمان کے اعمال کا اجر و ثواب ضائع نہیں کیا جائے گا۔
کتاب الٰہی بلند آواز میں یہ اعلان کرتی ہے کہ خداوندعالم کا وعدہ سچا اور حق ہے اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔
قرآن مجید، اہل ایمان اور اعمال صالحہ بجالانے والے افراد یا یوں کہا جائے کہ قرآن نے مومنین، محسنین، مصلحین، متقین اورمجاہدین کے لئے کئی قسم کا اجر بیان کیا ہے :
اجر عظیم، اجر کبیر، اجر کریم، اجر غیر ممنون، اجر حسن۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
(وَعَدَ اﷲُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَة وَأجْر عَظِیم). (1)
'' اللہ نے صاحبان ایمان اور عمل صالح بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے ''۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ مائدہ آیت9.
سوالات :
1۔قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں جن12اہم نکات کی طرف
توجہ دلائی ہے وہ کیا ہے ؟
2۔حصول نعمت کا راستہ کیا ہے ؟
3۔نعمتوں پر کس طرح شکر کیا جائے ؟
4۔نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنے کے بارے میں کیا کہا گیا ہے ؟
5۔نعمت ، زائل ہونے کے اسباب و علل کیا ہیں ؟
6۔کونسی سورہ مبارکہ میں اتمام نعمت کا ذکر ہے اور اس سے کیا مراد ہے ؟
7۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام کیا ہے ؟
درس نمبر24 ( صلہ رحم )
دین اسلا م نے جن معاشرتی اور سماجی حقوق کی تاکید کی ہے ۔ اور مسلمانوں کو انکی پابندی کا حکم دیا ہے ۔ان میں سے ایک اپنے ا عزاء و اقرباء کے ساتھ ہمیشہ اچھے روابط قائم رکھنا ہے اسی کو صلہ رحم کہا جاتا ہے ۔لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اعزوء اقرباء سے ملاقات کرتا رہے ان کی مزاج پرسی کرے ،ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ،اگر غریب ہوں تو ان کی امداد کرے ،پریشان حال ہوں تو ان کی پریشانیوں کو دور کرے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہے ،تقوی ٰالھی اور نیک اعمال کی انجام دھی میں ان کے ساتھ تعاون کرے ، اگر کسی کو کوئی مشکل درپیش ہو تو اسے حل کرنے کی کوشش کرے ،اگر ان کی طرف سے کوئی غلط رویہ یا کوئی ناروا کام دیکھے تو خوبصورت طریقے سے انہیں نصیحت کرے۔
یقیناًہرخاندان ، قبیلے اور سماج میں بہت سارے افراد پائے جاتے ہیں جن کی صلاحیتیں ،امکانات اور قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں آپ کو ان کے اندر عالم ،جاہل ،مالدار ،غریب ۔تندرست وتوانا ،کمزور گویا ہر قسم کے افراد مل جائیں گے ۔
آخر وہ کونسی چیز ہے جو اس سماج اور معاشرہ کو ترقی یافتہ اور بالکل معتدل سماج بنا سکتی ہے؟ آپس کے تعلقات ،مستحکم روابط ،اور ایک دوسرے کی نسبت احساس ذمہ داری ہی
وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم اس نیک مقصد تک پہنچ سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے مسلمانوں کو بھائی چارہ اور اخوت و برادری کو مستحکم سے مستحکم تر بنانے کی تاکید کی ہے اور کسی بھی حال میں ان روابط کو توڑنے یا کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔
صلہ رحم روایات کی روشنی میں :
روایات اہل بیت (ع) میں صلہ رحم کی بے حد اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ دین اور ایمان سے اسکے گہرے تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ حضرت امام محمّد باقر (ع) نے
اپنے اجداد طاہرین کے ذریعہ رسول خدا (ص) سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے ۔کہ آپ (ص) نے فرمایا : ''اپنی امت کے موجود ہ اور غیر موجود حتی ٰ مردوں کے صلبوں اور عورتوں کے ارحام میں موجود اور قیامت تک آنے والے ہر شخص سے میری وصیت ہے کہ اپنے اعزاء واقرباء کے ساتھ صلہ رحم کرے چاہے وہ اس سے ایک سال کی مسافت کے فاصلے پر کیوں نہ رہتے ہوں کیوں کہ یہ دین کا حصہ ہے ۔نیز حضرت امام علی رضا (ع) رسول خدا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا : ''جو شخص مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرلے تو میں اسے چار چیزوں کی ضمانت دیتا ہوں ۔اور وہ یہ کہ وہ مجھ سے وعدہ کرے کہ اپنے اعزاء و اقرباء سے صلہ رحم کرے گا تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ خدا اسے محبوب رکھے گا ،اس کے رزق میں وسعت عطا کریگا ،اسکی عمر میں اضافہ فرمائیگا ،اور اس کواس جنّت میں داخل کردیگا ۔جس کا اس سے وعدہ کیا ہے۔(1) آپ (ص) نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) بحارالانوار ج74باب صلہ رحم
اپنے ایک خطبہ کے دوران فرمایا :'' اس میں دین و ایمان ،طول عمر ،کثرت رزق ،خدا کی
محبت و رضا،جنّت اور کیا کچھ موجود نہیں ہے ۔ یہ صلہ رحم ہی تو ہے جو دنیا میں انسان کی ثروت مندی اور آخرت میں اس کی جنّت کا ضامن ہے ۔اور خدا کی مرضی تو سب سے
بڑی ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ صلہ رحم کرنے والا دنیا میں حیات طیّبہ اور آخرت میں روشن اور تابناک مقدّر کا مالک ہے ۔ '' صلہ رحمی کی اتنی اہمیت اور عظمت کو پہچانے کے بعد کیا اب بھی یہ عذر صحیح ہے کہ اعزّاء و اقرباء سے ہم بہت زیادہ فاصلہ پر ہیں یا کام کی زیادتی کی بنا پر بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں لہذا ان سے رابطہ نہیں رکھ پاتے ؟اور اگر کسی کا کوئی عزیز کسی کے ظلم کا شکار ہوتو کیا اس کے ساتھ یہ طریقہ کار واقعاًجائزہے؟
پیغمبر اسلام (ص) نے ہر مومن کے لئے ایک ایسا روشن اور واضح راستہ بتا دیا ہے جس پر چلنے والے ہر شخص سے خدا راضی رہے گا ۔روایات میں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) سے کسی نے یہ شکایت کی کہ مجھے میری قوم والے اذیت دیتے ہیں لہذا میں نے یہی بہتر سمجھا کہ ان سے قطع تعلق کرلوں تو آپ (ص) نے فرمایا : '' خدا وند عالم تم سے ناڑاض ہوجائے گا اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول پھر میں کیا کروں ؟ آپ (ص) نے فرمایا : جو تمھیں محروم کرے اسے عطا کروجو تم سے رابطہ توڑے اس سے رابطہ قائم رکھو جو تمھارے اوپر ظلم کرے اسے معاف کردو اگر تم ایسا کرو گے تو ان کے مقابلہ کے لئے خدا وندمتعال تمھارا یارو مددگار ہے(1) مؤلاے کائنات نے فرمایا ہے : ''اپنے اعزّاء و اقرباء سے صلہ رحم کرو چاہے وہ تم سے قطع تعلق کرلیں ۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) احیاء العلوم کتاب الصحبہ والمعاشرہ
(2) بحار الانوار ج71 ص88 ،103تا 117
قطع رحم (اعزاء واقرباء سے قطع تعلق ):
ہمیں بخوبی معلوم ہوچکا ہے کہ دین اسلام میں صلہ رحم اور اعزاء و اقرباء سے تعلقات استوار رکھنے کی کیا اہمیت ہے ۔ لہذااب یہ جاننا بھی مناسب ہوگا کہ ان لوگوں سے تعلقات توڑلینے کے بعد ایک مسلمان کی زندگی میں کتنے خطرناک اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہے :(فَهَل عَسَیتْم اِن تَوَلَّیتْم اَن تْفسِدْوا فِی الاَرض إوتْقَطِّعْوا اَرحاَمَکم) ' (1) 'تو کیا تم سے کچھ بعید ہے کہ تم صاحب اختیار بن جاؤتو زمین میں فساد برپا کرو اور قرابت داروں سے قطع تعلق کرلو .''
یا دوسری آیت میں ارشادہے :(اَلَّذِینَ یَنقْضْونَ عَهدَاللهِ من بعدِمیثاقهِ و یقطعون أما اَمَرَاللهْ به اَن یْوصل أوَیْفسِدون فی الارضِ اولئک هم الخاسرْون ) (2) ''جو خدا کے ساتھ مظبوط عہد کرنے کے بعداسے توڑدیتے ہیں اور جسے خدانے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاًخسارہ اٹھانے والے ہیں ''
درج بالا آیات میں خداوند عالم نے قطع رحم کو زمین میں فساد بر پا کرنے کے برابر قرار دیا ہے اور اس کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ایک دوسرے سے تعلق توڑلینے کے بعد اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے کے بعد بھی کیا تم کسی سعادت کے امیدوار ہو ؟ جبکہ خداوند متعال نے تم کو حکم دیا ہے کہ ہمیشہ آپسی بھائی چارگی اور صلہ رحم کو زیادہ سے زیادہ مستحکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) سورہ مبارکہ محمّد آیت 22 (2)سورہ مبارکہ بقرہ آیت 27
اور پائیدار بنائے رکھو
قطع رحم کے کیا خطرناک نتائج اور نقصانات ہوسکتے ہیں ان کو احادیث کی روشنی میںملاحظہ فرمائیں ۔
پیغمبراسلام (ص) کا ارشاد گرامی ہے ۔''جس قوم میں کوئی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا موجود ہو اس پر رحمت نازل نہیں ہوسکتی(1)
مؤلائے کائنات (ع) سے مروی ہے : تین چیزیں ایسی ہیں جن کو انجام دینے والا اس وقت تک نہیں مرتا جب تک خود اس کا نتیجہ نہ بھگت لے ۔1۔ بغاوت 2۔ قطع رحم 3۔ جھوٹی قسم
احادیث کے مطابق جو اعزا ئواقرباء ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیتے ہیں ان پر رحمت الٰہی نازل نہیں ہوتی اور یہ کہ قطع رحم ان اعمال میں سے ہے جن کا بھیانک نتیجہ انسان دنیا میں ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے کیونکہ تعلقات اورروابط میں دوری اور آپسی رنجش ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے خطرناک آثار بہت جلد کھل کر سامنے آجاتے ہیں ۔اور قطع رحم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کانٹے بورہا ہو کہ کل اسے کانٹے ہی کانٹناپڑیں گے اسی طرح شرّاور برائی کے بیج بونے سے ندامت اور گھاٹیکے سوا کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)کنز العما ل ج8 ص796
سوالات :
1۔صلہ رحم سے کیا مراد ہے ؟
2۔صلہ رحم کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) کی روایت بیان کیجئے ؟
3۔صلہ رحم کے بارے میں حضرت امام علی رضا(ع) کی روایت بیان کیجئے ؟
4۔قطع رحم کے بارے میں کوئی آیت بیان کیجئے ؟
5۔قطع رحم کرنیوالے کے بارے میں مولائے کائنا ت سے نقل شدہ روایت بیان کیجئے ؟
درس 25 ( مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا )
دوسرے لوگوں کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا بہت بُرا کام اور عظیم گناہ ہے۔
قرآن مجید نے شدت کے ساتھ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے اور مسخرہ کرنے سے منع کیا ہے اور کسی کو ذلیل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ارشاد رب العزت ہے ۔
(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَیَسْخَرْ قَوم مِنْ قَوْمٍ عَسَی أنْ یَکُونُوا خَیْرًا مِنْهُمْ وَلاَنِسَائ مِنْ نِسَائٍ عَسَی أَنْ یَکُنَّ خَیْرًا مِنْهُن...) .(1)
'' ایمان والو! خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو
اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں...''۔
حضرت رسول خدا (ص) نے لوگوں کا مسخرہ کرنے والوں اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا :
'' مسخرہ کرنے والوں کے لئے جنت کا ایک دروزاہ کھولا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جنت کی طرف آگے بڑھو، جیسے ہی وہ لوگ اپنے غم و غصہ کے عالم میں بہشت کے دروازہکی طرف بڑھیں گے تووہ فوراًبند ہوجائیگا''۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ حجرات آیت 11. (2)کنزل العمال ص8328.
جی ہاں، مومنین کا مسخرہ کرنے والوں کا روز قیامت مسخرہ کیا جائے گا اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کو ذلیل کیا جائے گا تاکہ اپنے برے اعمال کا مزہ چکھ سکیں۔
نیز آنحضرت (ص) کا ارشاد ہے :
'' انسان کی بدی اورشر کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا مذاق اڑائے''۔(1)
ظاہری طور پر استہزاء ایک گناہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت وہ چند گناہوں کا مجموعہ ہے مثال کے طور پر مذاق اڑانے میں، تحقیر کرنا، ذلیل و خوار کرنا، کسی کے عیوب ظاہر کرنا، اختلاف ایجاد کرنا، غیبت کرنا، کینہ توزی، فتنہ و فساد پھیلانا، انتقام جوئی کی طرف مائل کرنا، اور طعنہ زنی جیسے گناہ پوشیدہ ہیں۔
مذاق اڑانے کی وجوہات :
1۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ مال و دولت ہے قرآن مجید میں ہے(ویل لِکُلِّ هُمَزَة لُّمَزَةٍ الَّذِیْ جَمَعَ مٰالاً وَّعَدَّده ) (2) وائے ہو اس پر جو اُس مال و دولت کی خا طر جو اس نے جمع کر رکھی ہے پیٹھ پیچھے انسان کی برائی کرتا ہے۔
2۔ کبھی استہزاء اور تمسخر کی وجہ علم اور مختلف ڈگریاں ہوتی ہیں قرآن مجید نے اس گروہ کے بارے میں فرمایا:( فَرِحُوا بِمَا عِنْدَ هُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَاکَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِؤُون) (3) ''اپنے علم کی بناء پر ناز کرنے لگے ہیں اور جس چیز کی وجہ سے وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجموعہ ورام ج2ص121.
(2)۔ سورئہ مبارکہ ھمزہ 1۔2 (3)۔ سورئہ مبارکہ غافر 83
مذاق اڑا رہے تھے اُسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ''
3۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جسمانی قوت و توانائی ہوتی ہے ۔ کفار کا کہنا تھا( مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةَ) (1) ''کون ہے جو ہم سے زیادہ قوی ہے۔ ''
4۔ کبھی دوسروں کا مذاق اڑانے کی وجہ وہ القاب اور عناوین ہوتے ہیں جنہیں معاشرہ میں اچھا نہیں سمجھتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کفار ان غریب لوگوں کو جو انبیاء کا ساتھ دیتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور کہتے تھے:(مَا نَراکَ اتَّبَعکَ اِلّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرذِلْنَا) (2)
'' ہم آپ کے پیرو کاروں میں صرف پست اور ذلیل افراد ہی دیکھ رہے ہیں۔ ''
5۔ کبھی مذاق اڑانے کی علت تفریح ہوتی ہے۔
6۔ کبھی مال و مقام کی حرص و لالچ کی وجہ سے تنقید تمسخر کی صورت اختیار کرلیتی ہے مثال کے طور پر ایک گروہ زکوٰة کی تقسیم بندی پر پیغمبر اسلام (ص) کی عیب جوئی کرتا تھا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا:(وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَلْمِزْکَ فِی الصَّدَقاتِ فَاِنْ أُعْطُوا مِنْهٰا رَضُوا وَ اِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْهٰا اِذَا هُمْ یَسْخَطُونَ) (3) ''اس تنقید کی وجہ طمع اور لالچ ہے کہ اگر اسی زکوٰة میں سے تم خود ان کو دیدو تو یہ تم سے راضی ہوجائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورئہ مبارکہ فصلت 15
(2)۔ سورئہ مبارکہ ھود 27
(3)۔ سورئہ مبارکہ توبہ 58
گے لیکن اگر انہیں نہیں دو گے تو وہ آپ سے ناراض ہوکر عیب جوئی کریں گے۔ ''
7۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جہل و نادانی ہے۔ جیسے جناب موسی ـ نے جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بنی اسرائیل کہنے لگے کیا تم مذاق اڑا رہے ہو؟ جناب موسی ـنے فرمایا:(أَعُوذُ بِاللّٰهِ أَنْ أَکُونَ مِنَ الجٰاهِلِیْن) (1) ''خدا کی پناہ جو میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں''۔یعنی مذاق اڑانے کی وجہ جہالت ہوتی ہے اور میں جاہل نہیں ہوں۔
نا چاہتے ہوئے تحقیر کرنا :
حضرت امام جعفر صادق ـ نے ایک صحابی سے پوچھا اپنے مال کی زکوٰة کیسے دیتے ہو؟ اس نے کہا: فقراء میرے پاس آتے ہیں اور میں انہیں دے دیتا ہوں۔
امام ـ نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤتم نے انہیں ذلیل کیا ہے آئندہ ایسانہ کرنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو بھی میرے دوست کو ذلیل کرے گا گویا وہ مجھ سے جنگ کے لیے آمادہ ہے۔(2)
تمسخر اور مذاق اُڑانے کے مراتب :
٭جس کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہ جس قدر مقدس ہوگا اس سے مذاق بھی اتنا ہی خطرناک ترہوگا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے(أ باللّٰه و آیاتِه وَ رَسُولِهِ کنتم تَسْتَهْزِؤُنَ) (3) ''کیا تم اللہ، اسکی آیات ور رسول کا مذاق اڑا رہے ہو۔ ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ 67
(2)۔مستدرک الوسائل ج/9، ص 105 (3)۔سورئہ مبارکہ توبہ 65
٭ پیغمبر اسلام (ص) نے فتح مکہ کے موقع پر سب مشرکین کو معاف کردیا سوائے ان لوگوں کے جن کا کام عیب جوئی اور مذاق اڑانا تھا۔
٭حدیث میں ہے کہ مومن کو ذلیل کرنا خدا کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف ہے۔(1)
مذاق اڑانے کا انجام :
٭آیات و روایات کی روشنی میں بری عاقبت مذاق اڑانے والوں کا انتظار کررہی ہے
من جملہ :
الف: سورئہ مطففین میں ہے کہ جو لوگ دنیا میں مومنین پر ہنستے تھے، انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے روز قیامت اہل جنت انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان پر ہنسیں گے(فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا مِنَ الکُفَّارِ یَضْحَکُون) (2) ''توآج ایمان لانے والے بھی کفّار کا مذاق اڑائیں گے ''
ب: کبھی کبھی اڑانے والوں کو اسی دنیا میں سزا مل جاتی ہے(اِنْ تسخَرُوا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرو مِنکُمْ کما تَسْخَرُونَ) (3) ''اگر تم ہمارا مذاق اڑاؤگے تو کل ہم اسی طرح تمھارا بھی مذاق اڑائیںگے ''
ج: قیامت کا دن مذاق اڑانے والوں کے لیے حیرت کا دن ہوگا (یَا حَسْرَةً عَلٰی العِبٰادَ مَا یَا تِیْهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ اِلَّا کَانُوا بِه یَسْتَهزَئُ ون)(4) ''کس قدرحسرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ وسائل الشیعہ ج/ 12،ص270 (2)۔ سورئہ مبارکہ مطففین 34
(3)۔ سورئہ مبارکہ ہود 38 (4)۔ سورئہ مبارکہ یس 30
ناک ہے ان بندوں کا حال کہ ضب ان کے پاس کوئی رسول آتاہے تو اسکا مذاق اڑانے لگتے ہیں ''
د: حدیث میں ہے کہ مذاق اڑانے والے کی جان کنی نہایت سخت ہوگی۔''مَاتَ بِشَرّ مَیْتَه' '(1)
ھ: حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: اگر کوئی شخص مومنین پر طعنہ زنی کرتا ہے یا انکی بات کو رد کرتا ہے تو گویا اس نے خدا کو رد کیا ہے۔(2)
سوالات
1۔ قرآن کی کون سی آیت میں مذاق اڑانے اوراستہزاء کو منع کیا گیا ہے ؟
2۔ رسول خدا (ص) نے مذاق اڑانے والے کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟
3۔ مذاق اڑانے کی کوئی بھی پانچ وجوہات بیان کریں ؟
4۔ مذاق اڑانے والے کا انجام کیا ہو گا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ بحار الانوار ج72 ص 145
(2)۔ وسائل الشیعہ ج13، ص 270
درس نمبر6 2( سوئِ ظن )
آج دنیا کے سارے حقوق دان حقوق بشر کی باتیں کرتے ہیں لیکن اسلام ایسے ہزاروں مسائل کو مورد توجہ قرار دیتا ہے جن سے یہ سب حقوق دان غافل ہیں ،ان میں سے ایک سؤء ظن ہے ، کسی کے بارے میں برا گمان کرنا سؤء ظن کہلاتا ہے ۔اسلام سؤء ظن کو بھی حقوق بشر پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھتا ہے ۔لہذا اس نے امن و امان اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر سوء ظن، کو حرام قرار دیا ہے۔سورہ مبارکہ حجرات کی 12 ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :(یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِجْتَنِبُوا کثیراًمِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثم) ''اے ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ''
سوء ظن کی اقسام :
سوئے ظن کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض کی ممانعت کی گئی ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظن رکھنا :
حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص اخراجات کے ڈر سے شادی نہں کرتا ہے تو درحقیقت وہ خداوند عالم کے بارے سوء ظن رکھتا ہے یعنی وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ تنہا رہے گا تب تو
خدا اُسے رزق دینے پر قادر ہے لیکن اگر بیوی ساتھ ہوگی تو خداوند اُسے رزق دینے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس قسم کا سوء ظن رکھنا منع ہے۔
2۔ لوگوں کے بارے میں سوء ظن رکھنا :
جس کی مندرجہ بالاآیت میں ممانعت کی گئی ہے۔
3۔ اپنے بارے میں سوء ظن رکھنا :
یہ قسم مورد ستائش ہے۔ انسان کو اپنے بارے میں حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے کہ اپنے ہرکام کو بے عیب سمجھنے لگے۔ حضرت علی ـ نے (خطبہ ہمام میں) متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: متقین کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوء ظن رکھتے ہیں۔
جو لوگ اپنے آپ کو بے عیب سمجھتے ہیں دراصل ان کے علم و ایمان کا نور کم ہے اور نور کی کمی کے باعث انسان کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا ہے مثال کے طور پر اگر آپ ٹارچ
لے کر ایک ہال میں داخل ہوں تو اس سے فقط بڑی چیزیں ہی دیکھ پائیں گے لیکن اگر ٹارچ کی جگہ کوئی طاقتور لائٹ ہو تو اس وقت ماچس کا تنکا اور سگریٹ کی راکھ بھی ہال میں نظر آئے گی۔
جن لوگوں کے ایمان کا نور کم ہوتا ہے بڑے گناہوں کے علاوہ انہیں کچھ نظر نہیں آتا ہے لہٰذا کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو کسی کو قتل نہیں کیا ، ہم نے تو کسی کے گھر کی دیوار نہیں پھلانگی! وہ فقط اس قسم کے کاموں کو گناہ سمجھتے ہیں لیکن اگر ان کے ایمان کا نور زیادہ ہو تو وہ اپنی معمولی سے لغزشوں کو بھی دیکھ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نالہ و
فریاد کریں گے۔
آئمہ معصومین ـ کی مناجات اور بے حد گریہ کی ایک وجہ ان کی معرفت اور ایمان کا
نور ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے بارے میں خوش بین ہو (اور اپنے افکار و کردار کے بارے میں کسی قسم کا سوء ظن نہ رکھتا ہو) تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ہمیشہ اپنے پیچھے کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ کتنا راستہ طے کرچکا ہے اور پھر اُس پر غرور کرتا ہے لیکن اگر وہ سامنے کی طرف دیکھے کہ اس نے ابھی کتنا راستہ اور طے کرنا ہے تو جان لے گا کہ جو راستہ اس نے ابھی طے نہیں کیا وہ اس راستہ سے کئی گناہ زیادہ ہے جو وہ طے کرچکا ہے۔
جب ہم دیکھتے کہ قرآن پیغمبر اسلام (ص) کو یہ حکم(قل رَبِّ ذدنی عِلْمًا ) (1) دیتا ہے کہ حصول علم کے سلسلے میں کوشاں رہو اور پھر یہ حکم(شَاوِرْهُم فی الأَمْر ) (2) کہ تم لوگوں سے مشورہ کرو اور یہ حکم کہ(فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) (3) جیسے ہی اپنے کام سے فارغ ہوجاؤ تو نئے کام کو فوراً مکمل قدرت کے ساتھ انجام دو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کے لیے ایسے دستور دیئے ہیں تو کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تحصیل علم اور مشورہ کرنے سے بے نیاز سمجھیں۔ نیز اپنی ذمہ داری کو ختم سمجھیں اور اپنے بارے میں حسن ظن رکھیں؟ اس لیے کہ ہمیں اپنے بارے میں خوش بین اور حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ لطف الٰہی اور لوگوں کی رفتار وکردار کے بارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ سورئہ مبارکہ طہ آیت 114
(2)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران آیت 159 (3)۔ سورئہ مبارکہ الم نشرح آیت 7
میں حسن ظن رکھنا چاہیے۔
یادآوری :
٭ اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ حسن ظن سے مراد سادگی ، جلدی یقین کرلینا، سطحی فکر کرنا، سازشوں اور شرارتوں سے غفلت کرنا نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کو بھی حسن ظن کی خاطر بیجا غفلت نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے جا غفلت کے نتیجہ میں دشمنوں کے جال میں پھنس جائیں۔
سوالات :
1۔سوء ظن سے کیا مراد ہے؟
2۔سوء ظن کے حرام ہونے پر قرآن سے کوئی آیت پیش کیجئے َ
3۔سوء ظن کی اقسام بیان کیجئے اور بتائیے اسکی کونسی قسم مورد ستائش ہے ؟
4۔ لوگ اپنے آپ کو بے عیب کیوں سمجھتے ہیں ؟
5۔ اپنے بارے میں خوش بین ہونے کے کیا نقصانات ہیں ؟
درس نمبر27 ( غیبت )
غیبت کی تعریف :
غیبت سے مراد کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا کہ جس سے لوگ بے خبر ہوں اوراگر وہ شخص اُسے سنے تو ناراض ہو۔(1) لہٰذا کسی کے سامنے اُس پر تنقید کرنا ، یا ایسے عیوب بیان کرنا جن سے لوگ باخبر ہوں یا جس کی غیبت ہورہی ہے وہ سنے تو ناراض نہ ہو ،تو پھر یہ غیبت نہیں ہوگی۔ کسی بھی فرد کی غیبت کرنا حرام ہے وہ مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا، آشنا ہو یا بیگانہ، استا ہو یاشاگرد، باپ ہو یا بیٹا، مردہ ہو یا زندہ۔خدا وند متعال نے سورہ حجرات کی آیت نمبر 12میں واضح الفا ظ میںاس برے عمل سے روکا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :(لَا یَغْتَبْ بَعْضُکمْ اَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أِنْ یّٰاکُلَ لَحْمَ أَخِیْهَ مَیْتًا فَکَرِهتُمُوْهُط وَاَتّقُوا اللّٰهَط اِنَّ اللّٰه تَوَّاب رَّحِیْم ) '' ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کہ کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بے شک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اورمہر بان ہے ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ وسائل الشیعہ ج8 ، ص600۔ 604
٭ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: جو کسی مرد یا عورت کی غیبت کرے تو چالیس دن تک
کی نماز اور روزہ قبول نہیں کیا جائے گا۔(1)
٭ روایات میں ہے کہ جو اپنے دینی بھائی کے عیوب تلاش کرے (اور انہیں دوسروں کو بتائے) تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب آشکار رکردے گا۔(2)
غیبت کا ازالہ :
٭ اگر ایسے شخص کی غبیت کی ہو جو اب دنیا سے جاچکا ہوتو اس کے ازالہ کے لیے توبہ کریں اور خدا سے عذر خواہی کریں بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
لیکن اگر وہ زندہ ہو اور اس چیز کا امکان ہو کہ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی تو وہ ناراض ہوگا تو ایسی صورت میں اسے نہ بتایا جائے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان توبہ کریں اور اگر غبیت سننے والوں تک رسائی ممکن ہوسکے تو ان کے سامنے اس کا ذکر خیر اور تعظیم و تکریم کے ذریعہ اپنی کی ہوئی غیبت کا ازالہ کریں اور اگر وہ شخص یہ بتانے سے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی ہے ناراض نہ ہوتا ہو تو خود اُسی سے عذر خواہی کرنی چاہیے۔
٭ شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے شرح تجرید میں پیغمبر اسلام (ص) کی حدیث کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہو اگر اُس نے اُسے سن لیا ہو تو اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ بحار الانوار ج 72، ص 258
(2)۔محجة البیضاء ج5، ص252 (نقل از سنن ابی داؤد ج2، ص 568)
کے ازالہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے پاس جائے اور رسمی طور پر اس سے عذر خواہی کرے
اور اگر اُسے پتہ نہیں چلا ہے تو جب کبھی اس کا ذکر آئے تو اُس کے لیے استغفار کریں۔(اِنَّ کَفَّارَةَ الغِیْبَةِ أنْ تَسْتَغْفِى لِمَنْ اِغْتَبتَه' کُلَّما ذَکَرْتَه) (1)
وہ مقامات جہاں غیبت کرنا جائز ہے :
بعض مقامات پر غیبت کرنا جائز ہے ۔ وہ یہ ہیں :
1۔ مشورہ کے وقت: اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں ہم سے مشورہ کرنا چاہے تو اس کے عیب مشورہ کرنے والے کو بتا سکتے ہیں۔
2۔ باطل کو ردّ کرنے کیلئے: باطل عقیدے کو ردّ کرنے یا پھر ایسے اشخاص کی ردّ کرنے کے لیے جو ایسے عقیدے کے مالک ہوں اس ڈر سے کہ کہیںلوگ ان کے عقائد کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ (غیبت کرنا جائز ہے )
3۔ قاضی کے پا س مجرم کے خلاف گواہی دیتے وقت: جس طرح بے جا دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔
4۔ اس شخص کی گواہی ردّ کرنے کے لیے جو قابل اطمینان نہیں ہے۔
5۔ مظلومیت کے اظہار کے لیے، ظالم کے ظلم کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
6۔ جو شرم و حیاء کے بغیر آشکارہ طور پر گناہ کرتا ہے اس کی غیبت کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جسکی غیبت کی ہے جب بھی اس کا ذکر ہو اس کے لیے استغفار کریں۔
7۔ تقیہ یا بیہودہ دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے غیبت ہوسکتی ہے مثال کے طور پر اگر
کوئی یہ کہے کہ میں مجتہد ہوں ، میں ڈاکٹر ہوں میں سید ہوں اور ہم یہ جانتے ہوں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے تو ہمارے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے۔
غیبت کی اقسام :
غیبت کبھی زبان سے ،کبھی اشارے سے کبھی تحریر سے، کبھی تصویر سے، کبھی شکل و مجسمہ سے، کبھی اس کی نقل اتارنے سے اور کبھی خاموشی کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر کہے کہ افسوس دین نے میری زبان روک رکھی ہے۔ اس جملے سے وہ سب کو سمجھانا چاہتا ہے کہ فلاں صاحب میں بہت عیب پائے جاتے ہیں۔ یا الحمد للّٰہ کہہ کر یہ کہے کہ ہم اس مسئلہ میں گرفتار نہیں ہوتے اس جملے سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ فلان صاحب اس مسئلے میں گرفتا ہیں۔ کبھی اپنے عیوب کے ذکر کے ذریعے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ دوسرے میں عیب پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر وہ یہ کہے کہ انسان ضعیف ہے ہم سب بے صبرے ہیں یعنی وہ ضعیف اور بے صبرے ہیں۔کبھی غیبت سننے کے بعد کہتے ہیں سبحان اللّٰہ ، اللّٰہ اکبر اس ذکر کے ذریعہ غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ غیبت کو جاری رکھے اور کبھی زبان سے کہتے ہیں کہ غیبت نہ کریں لیکن دلی طور پر چاہتے ہیں کہ غیبت سنیں یہ نفاق ہے۔
سوالات :
1۔غیبت کی تعریف کیجئے ؟
2۔غیبت سے متعلق قرآن کی کوئی آیت ترجمہ کے ساتھ بیان کریں ؟
3۔رسول خدا (ص) نے غیبت کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟
4۔ غیبت کا ازالہ کیسے کیا جائے ؟
5۔پانچ ایسے مورد بیان کیجئے جہاں غیبت کرنا جائز ہے ؟
6۔غیبت کی اقسام بیان کیجئے؟
درس نمبر28 ( غیبت کے آثار )
الف ٭ اخلاقی اور اجتماعی آثار۔
1۔ غیبت بغض و کینہ کے پیدا ہونے، اعتماد ختم ہوجانے ، اختلاف اور فتنہ و فساد کے پھیلنے، اور معاشرہ کے لیے مفید اور کارآمد افراد کے ایک طرف ہوجانے کا سبب بنتی ہے۔
2۔ گناہ کے لیے زیادہ جرأت پیدا ہوتی ہے جیسے ہی انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ اس کے عیب اور بدکاری سے باخبر ہوگئے ہیں اور وہ بے آبرو ہوچکا ہے تو اس میں گناہ کرنے کی جرأت زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ گناہ نہ کرنے اور توبہ کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔
3۔ لوگوں کے عیوب نشر کرنے سے اردگرد کا ماحول اور معاشرے کی فضا آلودہ ہوجاتی ہے اور دوسروں کی گناہ کرنے کی جرأت میں اضافہ ہوتا ہے۔
4۔ انتقام لینے کے جذبے کو تحریک ملتی ہے اس لیے کہ جیسے ہی اُسے جس کی غیبت ہوئی ہے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کی آبرو ریزی کی گئی ہے تو وہ پھر اسی فکر میں رہتا ہے کہ اُسے کب موقع ملے اور وہ بھی غیبت کرنے والے کو بے آبرو کرے۔
5۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے آج ہمارا غیبت کرنا اس بات کا سبب بنتا
ہے
کہ کل لوگ ہماری غیبت کریں ۔
ب ٭ أُخروی آثار۔
1۔ غیبت کرنا، نیکیوں اور خوبیوں کی بربادی کا سبب ہے۔
2۔ غیبت کرنا عبادات کی قبولیت میں رکاوٹ ہے۔
3۔ غیبت کرنے سے انسان ولایت الٰہی کے دائرے سے خارج ہوکر شیطان کی ولایت کے دائرے میں چلا جاتا ہے۔
غیبت کی وجوہات :
1۔ کبھی غیبت کی وجہ حسد ہے۔
2۔ کبھی تفریحاً کسی کی غیبت کرتا ہے۔
3۔ کبھی اپنے آپ کو کسی عیب سے بری الذمہ کرکے اُسے دوسروں کی گردن پر ڈالنے کی وجہ سے غیبت کرتا ہے ۔
4۔ کبھی از راہ ہمدردی غیبت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کی طرف سے بہت پریشان ہوں جو اس مشکل میں پریشان ہے۔
5۔ کبھی غیبت کی وجہ غیظ و غضب ہے۔
6۔ کبھی دوسروں کے ساتھ ہم محفل ہونا غیبت کا سبب بنتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کی بدگوئی کررہے ہیں تو ان کا ہم محفل ہونے کی خاطر خود بھی غیبت کرنے لگتا ہے جب کہ وہ اس چیز سے غافل ہے کہ فقط اپنے دوستوں کی نظروں میں محبوب ہونے کے احتمال کی خاطر خدا کے فوری اور یقینی غضب کو مول لے رہا ہے نیز اس نے
لوگوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم کیا ہے جو سب سے بڑا خسارہ ہے۔
7۔ کبھی غیبت کی وجہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔ یعنی دوسروں کو پست کرنا تاکہ اپنی بڑائی ثابت کرسکے ایسا شخص بھی لوگوں کے نزدیک محبوب ہونے کی امید پر قہر الٰہی کو مول لیتا ہے اور یہ ایک نقصان دہ معاملہ ہے۔
8۔ کبھی غیبت کی وجہ دوسروں کا مذاق اڑانا ہے وہ اس سے غافل ہوتا ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے سامنے کسی کی تحقیر کررہا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت سب کے سامنے اس کی تحقیر کرے گا۔
9۔ کبھی تعجب کی صورت میں غیبت کرتا ہے مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ فلاں شخص اتنا علم اور معلومات رکھنے کے باوجود ایسا کیوں ہوگیا ہے جب کہ اُسے تعجب تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اس ایک جملے کے ذریعہ اپنی تمام عبادت کو تباہ و برباد کررہا ہے۔
غیبت کرنے کی اور بھی کئی اوروجوہات ہیں۔
غیبت سننا :
٭ غیبت سننے والے کی ذمہ داری یہ ہے کہ غیبت نہ سنے اور مومن کا دفاع کرے۔ حدیث میں ہے(السّاکِت' شَرِیْکُ القائل) اگر کوئی غیبت سنے اور اُس پر خاموش رہے تو وہ شریک جرم ہے۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔غرر الحکم
٭پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: جو غیبت سننے کے بعد اُسے ردّ کردے تو اللہ تعالیٰ شرّ کے ہزار در دنیا و آخرت میں اس پر بند کردے گا لیکن اگر خاموش رہا اور غیبت سنتا رہا تو جتنا گناہ غیبت کرنے والے کا تھا اتنا ہی گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا۔(1)
٭ پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا: اگر کسی مجلس میں کسی کی بدگوئی ہورہی ہو تو انہیں منع کرے اور وہاں سے سے چلا جائے۔(2)
٭ ایک روایت کے مطابق غیبت کرنا کفر، سننا اور اُس پر راضی رہنے کو شرک کہا گیا ہے۔(3)
غیبت ترک کرنے کے طریقے :
1۔ غیبت کرنے کے خطرات اور اس کے منفی اثرات پر توجہ دیں (جن کے بارے گزشتہ صفحات پر بحث کی گئی ہے )
2۔ اپنے عیوب یاد رکھیں حضرت علی ـ نے فرمایا: کہ تم کس طرح لوگوں کے عیوب بیان کرتے ہو جب کہ خود اس جیسے یا اس سے بدتر گناہ کا ارتکاب کرچکے ہو اور اگر فرض کریں کہ تم میں کوئی عیب نہیں ہے تو تمہاری یہی جرأت کہ تم دوسروں کے عیوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ وسائل الشیعہ ج8، ص608
(2)۔کنز العمال ج2، ص 80
(3)۔ بحار الانوار ج72، ص 226
اور بدکاری کو عام کررہے ہو ان کے عیوب سے بدتر ہے۔(1)
روایات میں ہے کہ خوش بخت ہے وہ شخص جس کے عیوب اُسے مشغول رکھتے ہیں (اور وہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہے) اور لوگوں کے عیوب سے اُسے کوئی سروکار نہیں ہے۔(2)
یاد آوری :
غیبت کی بحث کے اختتام پر چند باتوں کی یاد آوری ضروری ہے :
1۔ غیبت کے حرام ہونے کا حکم فقط اس سورئہ یا اس آیت میں نہیں بلکہ دیگر آیات میں بھی ہے مثلاً آیت(وَیْل لِّکُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ) (3) وائے ہو ہر عیب جو اور بدگوئی کرنے والے پر ، اور آیت(َا یُحِبُّ اللّٰهُ الجَهْرَ بِالسُّوْئِ ) (4) اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ لوگوں کی برائیوں کو عیاں کیا جائے۔ ان آیات سے بھی غیبت کے
حرام ہونے کا پتہ چلتاہے۔
2۔ اگر غیبت عیب جوئی کی وجہ سے کی جائے تو حرام ہے لیکن اگر لوگوں کے عیب اصلاح کی خاطر بیان کیے جائیں تو پھر جائز ہے چاہے جس کے عیب بیان کیے جائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔ نہج البلاغہ۔خطبہ 140
(2)۔ بحار الانوار ج1، ص 191
(3)۔سورئہ مبارکہ ہمزہ آیت 1
(4)۔ سورئہ مبارکہ نساء آیت 148
وہ راضی نہ بھی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر کو مریض کی بیماری کی تفصیلات بتائی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے مریض راضی نہ بھی ہو۔
3۔ جس شخص کی غیبت ہورہی ہے اُسے معین کریں لیکن اگر یوں کہیں کہ بعض لوگ یوں ہیں اور سننے والے اُن بعض لوگوں کو نہ پہچان سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
4۔ کبھی غیبت تو نہیں ہوتی ہے لیکن بات تحقیر اور بدکاری کی اشاعت تک پہنچ جاتی ہے تو یہ بھی حرام ہے۔
سوالات
1۔غیبت کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟
2۔غیبت کرنے کی پانچ وجوہات بیان کیجئے ؟
3۔غیبت سننے والے کی کیا ذمہ داری ہے ؟
4۔غیبت ترک کرنے کے طریقے بیان کریں؟
درس نمبر29 ( گناہ اور اس کے آثار )
ہر انسان ذاتی طور پر اور باطنی لحاظ سے پاک و سالم اس دنیا میں آتا ہے۔
حرص، حسد، بخل، ریاکاری، فسق و فجور او ردیگر گناہ انسان کی ذات میںنہیںہوتے ۔ حضرت رسول اکرم (ص) سے روایت ہے :
(کُلُّ مَولودٍ یولد عَلَی فِطْرَةِ السْلَامِ، حَتّی یَکُونَ ابواه یهودانه وینصِّرانه) (1)
'' ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے،مگر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں .''
منحرف استاد، منحرف معاشرہ اور منحرف سماج، انسان کی گمراہی میں بہت زیادہ موثر ہوتے ہیں۔
چنانچہ انسان انھیں اسباب کی بنا پر فکری و عملی اور اخلاقی لحاظ سے گمراہ ہوجاتا ہے ، اور گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہے،
کیا کیاچیزیں گناہ ہیں ؟
حضرت امام صادق علیہ السلام ' کے کلام میں درج ذیل چیزوں کو گناہوں کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)بحار الانوارج2813؛باب 11،حدیث 22.
'' واجبات الٰہی کا ترک کرنا، حقوق الٰہی جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، جہاد، حج، عمرہ، وضوء ،
غسل، عبادت ِشب، کثرت ذکر، کفارہ قسم، مصیبت میں کلمہ استرجاع(انا ﷲ و انا الیه راجعون) وغیرہ کہنے سے غفلت کرنا، اور اپنے واجب و مستحب اعمال میں کوتاہی
ہونے کے بعد ان سے روگردانی کرنا۔، معصیت الٰہی کی طرف رغبت رکھنا، بری چیزوں کو اپنانا، شہوات میں غرق ہونا،، غرض یہ کہ عمدی یا غلطی کی بنا پر ظاہری اور مخفی طور پر معصیت خدا کرنا۔کسی کا ناحق خون بہانا، والدین کا عاق ہونا، قطع رحم کرنا، میدان جنگ سے فرار کرنا، باعفت شخص پر تہمت لگانا، ناجائز طریقہ سے یتیم کا مال کھانا، جھوٹی گواہی دینا، حق کی گواہی سے کترانا، دین فروشی، ربا خوری، خیانت، مال حرام ،جادو، غیب کی باتیں گڑھنا، نظر بد ڈالنا، شرک، ریا، چوری، شراب خوری، کم تولنا اور کم ناپنا، ، کینہ و دشمنی، منافقت ، عہد و پیمان توڑدینا، خوامخواہ الزام لگانا،فریب اور دھوکہ دینا، اہل ذمہ سے کیا ہوا عہدو پیمان توڑنا، قسم، غیبت کرنایا سننا، چغلی کرنا، تہمت لگانا، دوسروں کی عیب تلاش کرنا، دوسروں کو بُرا بھلا کہنا، دوسروں کو بُرے ناموںسے پکارنا، پڑوسی کو اذیت پہچانا، دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، اپنے اوپر بلا وجہ فخر و مباہات کرنا، گناہوں پر اصرار کرنا، ظالموں کا ہمنوا بننا، تکبر کرنا غرور سے چلنا، حکم دینے میں ستم کرنا، غصہ کے عالم میں ظلم کرنا، کینہ و حسد رکھنا، ظالموںکی مدد کرنا، دشمنی اور گناہ میں مدد کرنا، اہل و عیال اور مال کی تعداد میں کمی کرنا، لوگوں سے بدگمانی کرنا، ہوائے نفس کی اطاعت کرنا، شہوت پرستی ،برائیوں کا حکم دینا، نیکیوں سے روکنا، زمین پر فتنہ و فساد پھیلانا، حق کا انکار کرنا، ناحق کاموں میں ستمگروں سے مدد لینا، دھوکا دینا، کنجوسی کرنا، نہ جاننے والی چیز کے بارے میں گفتگو کرنا، خون پینا، سور کا گوشت کھانا، مردار یا
غیر ذبیحہ جانور کا گوشت کھانا،حسد کرنا، کسی پر تجاوز کرنا، بری چیزوں کی دعوت دینا، خدا
کی نعمتوں پر مغرور ہونا، خودغرضی دکھانا، احسان جتانا، قرآن کا انکار کرنا، یتیم کو ذلیل کرنا، سائل کو دھتکارنا، قسم توڑنا، جھوٹی قسم کھانا، دوسروں کی ناموس اور مال پر ہاتھ
ڈالنا، برا دیکھنا ،برا سننا اور برا کہنا، کسی کو بری نظر سے چھونا، دل میں بُری بُری باتیں سوچنااور جھوٹی قسم کھانا۔۔۔''۔(1)
گناہوں کے برے آثار :
قرآن مجید کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں گناہوںکے برُے آثارنمایاں ہوتے ہیں کہ اگر گناہگار اپنے گناہوں سے توبہ نہ کرے تو بے شک ان کے برے آثار میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
1۔دائمی جھنم :
( بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَةً وَأحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ فَاُوْلَئِکَ أصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ).(2)
'' یقینا جس نے کوئی برائی کی اور اس کی غلطی نے اسے گھیر لیا ، تو ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ''۔
2۔ اعمال کی بربادی :
( قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأخْسَرِینَ أعْمَالًا٭ الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُونَ أنَّهُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا ٭ اُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) بحار الانوار ج 94، ص 328 باب 2
(2)سورۂ بقرہ آیت81.
فَحَبِطَتْ أعْمَالُهُمْ فَلاَنُقِیمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا). ( 1 )
'' اے پیغمبر کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں اطلا ع دیں جو اپنے اعمال میں
بدترین خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی ٔ دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ
خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجا م دیں رہے رہیں،یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے
آیات پروردگار اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، ان کے اعمال برباد ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ''۔
3۔ درد ناک عذاب :
( فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَهُمْ اﷲُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَاب ألِیم...) .(2)
'' ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے ،اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں دردناک عذاب ملے گا...''۔
4۔ کفر کی موت :
( وَأمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إلَی رِجْسِهِمْ...) .(3)
'' اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے مرض میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں''۔
5۔شکم میں آگ :
(إنَّ الَّذِینَ یَاْکُلُونَ أمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إنَّمَا یَاْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا) .(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ کہف آیت ،103۔105. (2)سورۂ بقرہ آیت10. (3)سورۂ توبہ آیت125. (4)سورۂ نساء آیت ،10.
'' جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے
ہیں اور وہ عنقریب واصل جہنم ہوں گے ''۔
6۔گمراہی :
(مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أعْمَالُهُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْئٍ ذَلِکَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ) .(1)
'' جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی مانند ہے جسے آندھی کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے''۔
اس طرح کی آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ گناہوں کے بُرے آثار اس سے کہیں زیادہ ہیں، مثلاً:آتش جہنم میں جلنا، عذاب کا ابدی ہونا، دنیا و آخرت میںنقصان اور خسارہ میں رہنا، انسان کی ساری زحمتوں پر پانی پھرجانا، روز قیامت ]نیک[ اعمال کا حبط ]یعنی ختم[ ہوجانا، روز قیامت اعمال کی میزان قائم نہ ہونا، توبہ نہ کرنے کی وجہ سے گناہوں میں اضافہ ہونا، دشمنان خدا کی طرف دوڑنا، انسان سے خدا کا تعلق ختم ہوجانا، قیامت میں تزکیہ نہ ہونا، ہدایت کا گمراہی سے بدل جانا،مغفرت الٰہی کے بدلہ عذاب الٰہی کا مقرر ہونا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک تفصیلی روایت میں گناہوں کے برے آثار کے بارے میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ ابراہیم آیت ،18.
1۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں تبدیل ہوجاتی ہیں :
عوام الناس پرظلم و ستم کرنا، کار خیر کی عادت چھوڑ دینا، نیک کام کرنے سے دوری کرنا، کفران نعمت کرنا اور شکر الٰہی چھوڑ دینا۔
2۔جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیں :
قتل نفس، قطع رحم ،وقت ختم ہونے تک نماز میں تاخیر کرنا ،وصیت نہ کرنا، لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا، زکوٰة ادانہ کرنا، یہاں تک کہ اس کی موت کا پیغام آجائے اور اس کی زبان بند ہوجائے۔
3۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں :
جان بوجھ کر ستم کرنا، لوگوں پر ظلم و تجاوز کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، دوسرے لوگوں کو ذلیل کرنا۔
4۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان تک نعمتیں نہیں پہنچتیں :
اپنی محتاجگی کا اظہار کرنا،نماز پڑھے بغیر رات کے ایک تہائی حصہ میں سونا یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے، صبح میں نماز قضا ہونے تک سونا، خدا کی نعمتوں کو حقیر سمجھنا، خداوندعالم سے شکایت کرنا۔
5۔جن گناہوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے :
شراب پینا، جوا کھیلنا یا سٹہ لگانا، مسخرہ کرنا، بیہودہ کام کرنا، مذاق اڑانا ، لوگوں کے عیوب بیان کرنا، شراب پینے والوں کی صحبت میں بیٹھنا۔
6جو گناہ نزول بلاء کا سبب بنتے ہیں :
غم زدہ لوگوں کی فریاد رسی نہ کرنا، مظلوموں کی مدد نہ کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے الٰہی فریضہ کا ترک کرنا۔
7۔جن گناہوں کے ذریعہ دشمن غالب آجاتے ہیں :
کھلے عام ظلم کرنا، اپنے گناہوں کو بیان کرنا، حرام چیزوں کو مباح سمجھنا، نیک و صالح لوگوں کی نافرمانی کرنا، بدکاروں کی اطاعت کرنا۔
8۔جن گناہوں کے ذریعہ عمر گھٹ جاتی ہے :
قطع تعلق کرنا، جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی باتیں بنانا، زناکرنا، مسلمانوں کا راستہ بند کرنا، ناحق امامت کا دعویٰ کرنا۔
9۔جن گناہوں کے ذریعہ امیدٹوٹ جاتی ہے :
رحمت خدا سے ناامیدہونا، لطف خدا سے زیادہ مایوس ہونا، غیر حق پر بھروسہ کرنا اور خداوندعالم کے وعدوں کو جھٹلانا۔
10۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان کا ضمیر تاریک ہوجاتا ہے :
سحر و جادو اور غیب کی باتیں کرنا، ستاروں کو موثر ماننا، قضا و قدر کو جھٹلانا، عقوق والدین ہونا۔
11۔جن گناہوں کے ذریعہ ]احترام کا[ پردہ اٹھ جاتا ہے :
واپس نہ دینے کی نیت سے قرض لینا، فضول خرچی کرنا، اہل و عیال اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں بخل کرنا، بُرے اخلاق سے پیش آنا، بے صبری کرنا، بے حوصلہ ہونا،
اپنے کو کاہل جیسا بنانااوراہل دین کو حقیر سمجھنا۔
12۔جن گناہوں کے ذریعہ دعا قبول نہیں ہوتی :
بری نیت رکھنا، باطن میں برا ہونا، دینی بھائیوں سے منافقت کرنا، دعا قبول ہونے کا یقین نہ رکھنا، نماز میں تاخیر کرنا یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے، کار خیر اور صدقہ کو ترک کرکے تقرب الٰہی کو ترک کرنا اور گفتگو کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور گالی گلوچ دینا۔
13۔جو گناہ باران رحمت سے محرومی سبب بنتے ہیں :
قاضی کاناحق فیصلہ کرنا، ناحق گواہی دینا، گواہی چھپانا، زکوٰة اور قرض نہ دینا، فقیروں اور نیازمندوں کی نسبت سنگدل ہونا، یتیم اورضرورت مندوں پر ستم کرنا، سائل کو دھتکارنا، رات کی تاریکی میں کسی تہی دست اور نادار کو خالی ہاتھ لوٹانا۔(1)
حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں فرماتے ہیں :
(لَوْ لَمْ یَتَوَعَّدِ اللّٰهُ عَلٰی مَعْصِیَتِهِ لَکانَ یَجِبُ أن لا یُعْصیٰ شُکْراً لِنِعَمِهِ:) (2)
'' اگر خداوندعالم نے اپنے بندوں کو اپنی مخالفت پر عذاب کا وعدہ نہ دیا ہوتا، تو بھی اس کی نعمت کے شکرانے کے لئے واجب تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے''۔
قارئین کرام! خداوندعالم کی بے شمار نعمتوں کے شکرکی بنا پر ہمیں چاہئے کہ ہر طرح کی
معصیت اور گناہ سے پرہیز کریں اور اپنے بُرے ماضی کو بدلنے کے لئے خداوندعالم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)معا نی الاخبار 270،باب معنی الذنوب التی تغیر النعم ،حدیث 2؛وسائل الشیعہ ،ج16،ص281،باب 41،حدیث 21556؛ بحار الانوار،ج70،ص375،باب 138،حدیث 12.
(2)نہج البلاغہ ،حکمت 842،حکمت 290؛بحار الانوار ج70،ص364،باب 137،حدیث 96.
کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں کیونکہ توبہ استغفار کی بنا پر خداوندعالم کی رحمت و
مغفرت اور اس کا لطف و کرم انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔
سوالات :
1۔ہر انسان دنیا میں پاک و پاکیزہ آتا ہے اس سلسلے میں پیغمبر اسلام(ص) نے کیا فرمایا ہے ؟
2۔حضرت امام جعفر صادق (ع) کی حدیث کی روشنی میں دس گناہوں کے نام بتایئے ؟
3۔قرآنی آیات کی روشنی میں گناہ کے پانچ آثار کی طرف اشارہ کیجئے ؟
4۔امام زین العابدین کی روایت کی روشنی میں جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیںبیان کیجئے َ
5۔وہ گناہ بیان کیجئے جن سے عمر گھٹ جاتی ہے؟
6۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟
درس نمبر30 ( توبہ )
توبہ یعنی خداوندعالم کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کی طرف پلٹنا ،جنت میں پہونچنے کی صلاحیت کا پیدا کرنا، عذاب جہنم سے امان ملنا، گمراہی کے راستہ سے نکل آنا، راہ ہدایت پر آجانا اور انسان کے نامہ اعمال کا ظلمت و سیاہی سے پاک و صاف ہوجانا ہے؛اس کے اہم آثار کے پیش نظریہ کہا جاسکتا ہے کہ توبہ ایک عظیم مرحلہ ہے ، اور ایک روحانی اور آسمانی واقعیت ہے ۔
لہٰذا فقط ''استغفر اﷲ'' کہنے، یا باطنی طور پر شرمندہ ہونے اور خلوت و بزم میں آنسو بہانے سے توبہ حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ جولوگ اس طرح توبہ کرتے ہیں وہ کچھ ہی مدت کے بعد دوبارہ گناہوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں !
گناہوں کی طرف دوبارہ پلٹ جانا اس چیز کی بہترین دلیل ہے کہ حقیقی طور پر توبہ نہیں
ہوئی اور انسان حقیقی طور پر خدا کی طرف نہیں پلٹا ہے۔
حقیقی توبہ اس قدر اہم اور باعظمت ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور الٰہی تعلیمات اس سے مخصوص ہیں۔
امام علی کی نظر میںحقیقی توبہ :
امام علی علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے زبان پر ''استغفر اﷲ''
جاری کیا تھا :
اے شخص ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو جانتا ہے کہ توبہ کیا ہے؟ یاد رکھ توبہ علّیین کا درجہ ہے، جو ان چھ چیزوں سے مل کر متحقق ہوتا ہے :
1۔اپنے ماضی پر شرمندہ اور پشیمان ہونا۔ 2۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا۔
3۔ لوگوں کے حقوق کاادا کرنا۔ 4۔ ترک شدہ واجبات کو بجالانا۔
5۔ گناہوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے گوشت کواس قدر پگھلادینا کہ ہڈیوں پر گوشت باقی نہ رہ جائے،اور حالت عبادت میں ہڈیوں پر گوشت پیدا ہو۔
6۔ بدن کو اطاعت کی تکلیف میں مبتلا کرنا جس طرح گناہ کا مزہ چکھا ہے۔
لہٰذا ان چھ مرحلوں سے گزرنے کے بعد ''استغفر اﷲ'' کہنا۔(1)
جی ہاں، توبہ کرنے والے کو اس طرح توبہ کرنا چاہئے ، گناہوں کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلے، گناہوں کی طرف پلٹ جانے کا ارادہ ہمیشہ کے لئے اپنے دل سے نکال دے، دوسری ، تیسری بار توبہ کی امید میں گناہوں کو انجام نہ دے، کیونکہ یہ امید ایک
شیطانی امید اور مسخرہ کرنے والی حالت ہے، حضرت امام رضا علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں :
''مَنِ اسْتَغْفَرَ بِلِسانِهِ وَلَمْ یَنْدَمْ بِقَلْبِهِ فَقَدِ اسْتَهْزَأ بِنَفْسِهِ...'' (2)
'' جو شخص زبان سے توبہ و استغفار کرے لیکن دل میں پشیمانی اور شرمندگی نہ ہو تو گویا اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)نہج البلاغہ ،878حکمت 417؛وسائل الشیعہ ج16،ص77،باب 87،حدیث 21028؛بحار الانوارج6،ص36،باب 20،حدیث59.
(2)کنزالفوائد ج1،ص330،فصل حدیث عن الامام الرضا(ع)؛بحارالانوارج75،ص356
نے خود کا مذاق اڑایاہے !''
توبہ؛ انسانی حالت میں انقلاب اور دل و جان کے تغیر کا نام ہے، اس انقلاب کے ذریعہ انسان گناہوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے اور خداوندعالم سے ایک مستحکم رابطہ پیدا کرلیتا ہے۔
توبہ؛ ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے،معنوی اور ملکوتی زندگی جس میں قلب انسان تسلیم خدا، نفس انسان تسلیم حسنات ہوجاتا ہے اور ظاہر و باطن تمام گناہوں کی گندگی اور کثافتوں سے پاک ہوجاتا ہے۔
توبہ؛ یعنی ہوائے نفس کے چراغ کو گُل کرنا اور خدا کی مرضی کے مطابق اپنے قدم اٹھانا۔
توبہ؛ یعنی اپنے اندر کے شیطان کی حکومت کو ختم کرنا اور اپنے نفس پر خداوندعالم کی حکومت کا راستہ ہموار کرنا۔
ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ :
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خدا کی بارگاہ میں اپنے مختلف گناہوں کے سلسلہ میں استغفارکرلیا جائے اور ''استغفراﷲ ربی و اتوب الیہ'' زبان پر جاری کرلیاجائے، یا مسجد اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں میں ایک زیارت پڑھ لی جائے یا چند آنسو بہالئے جائیں تو اس کے ذریعہ توبہ ہوجائے گی، جبکہ آیات وروایات کی نظر میں اس طرح کی توبہ مقبول نہیں ہے، اس طرح کے افراد کو توجہ کرنا چاہئے کہ ہر گناہ کے اعتبار سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے، ہر گناہ کے لئے ایک خاص توبہ مقرر ہے کہ اگر انسان اس طرح توبہ نہ کرے تو اس کا نامہ اعمال گناہ سے پاک نہیں ہوگا، اور اس
کے بُرے آثار قیامت تک اس کی گردن پر باقی رہیں گے، اور روز قیامت اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔
تمام گناہوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
1۔ عبادت اور واجبات کو ترک کرنے کی صورت میں ہونے والے گناہ، جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، خمس اور جہاد وغیرہ کو ترک کرنا۔
2۔ خداوندعالم کے احکام کی مخالفت کرتے ہوئے گناہ کرناجن میں حقوق الناس کا کوئی دخل نہ ہو، جیسے شراب پینا، نامحرم عورتوں کو دیکھنا، زنا، لواط، استمنائ، جُوا، حرام میوزیک سننا وغیرہ ۔
3۔ وہ گناہ جن میں فرمان خدا کی نافرمانی کے علاوہ لوگوں کے حقوق کو بھی ضایع کیا گیا ہو، جیسے قتل ، چوری، سود، غصب، مالِ یتیم ناحق طور پر کھانا، رشوت لینا، دوسروں کے بدن پر زخم لگانا یا لوگوں کو مالی نقصان پہچانا وغیرہ وغیرہ۔
پہلی قسم کے گناہوںکی توبہ یہ ہے کہ انسان تمام ترک شدہ اعمال کو بجالائے،قضا نماز پڑھے،قضا روزے رکھے، ترک شدہ حج کرے، اور اگر خمس و زکوٰة ادانہیں کیا ہے تو ان کو ادا کرے۔
دوسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان شرمندگی کے ساتھ استغفار کرے اور گناہوں کے ترک کرنے پر مستحکم ارادہ کرلے، اس طرح کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والا انقلاب اعضاء وجوارح کو دوبارہ گناہ کرنے سے روکے رکھے۔
تیسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کرے ،مثلاً قاتل ،خود کو مقتول کے ورثہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ قصاص یا
مقتول کا دیہ لے سکیں، یا اس کو معاف کردیں، سود خورتمام لوگوں سے لئے ہوئے سودکو ان کے حوالے کردے، غصب شدہ چیزوں کو ان کے مالک تک پہونچادے، مال یتیم اور رشوت ان کے مالکوں تک پہنچائے، کسی کو زخم لگایا ہے تو اس کا دیہ ادا کرے، مالی نقصان کی تلافی کرے، پس حقیقی طور پر توبہ قبول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ چیزوں پر عمل کرے۔
حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ :
معصوم علیہ السلام کا ارشادہے: خداوندعالم توبہ کرنے والوں کو تین خصلتیں عنایت فرماتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی تمام اہل زمین و آسمان کو مرحمت ہوجائے تو اسی خصلت کی بنا پر ان کو نجات مل جائے :
(..إِنَّ اﷲَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ) .(1)
'' بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔
لہٰذا جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اس پر عذاب نہیں کرے گا۔
توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ :
قرآن کریم میں لفظ ''توبہ'' اور اس کے دیگر مشتقات تقریباً 87 مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، جس سے اس مسئلہ کی اہمیت اور عظمت واضح جاتی ہے۔
قرآن کریم میں توبہ کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کو پانچ حصوں میں تقسیم
کیا جاسکتا ہے: 1۔توبہ کا حکم۔ 2۔حقیقی توبہ کا راستہ۔ 3۔توبہ کی قبولیت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ بقرہ آیت222.
4۔توبہ سے روگردانی۔ 5۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب۔
1۔توبہ کا حکم :
(...َتُوبُوا إلَی اﷲِ جَمِیعًا أیُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) .(1)
'' توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جائے''۔
(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(2)
'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔
۔ 2۔حقیقی توبہ کا راستہ :
حقیقت تو یہ ہے کہ ''توبہ'' ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے،بلکہ معنوی اور عملی شرائط
کے ساتھ ہی توبہ محقق ہوسکتی ہے۔
شرمندگی، آئندہ میں پاک و پاکیزہ رہنے کا مصمم ارادہ، برے اخلاق کو اچھے اخلاق و عادات میں بدلنا، اعمال کی اصلاح کرنا، گزشتہ اعمال کا جبران اور تلافی کرنااور خدا پر ایمان رکھنا اور اسی پر بھروسہ کرنا یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن کے ذریعہ سے توبہ کی عمارت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے، اور انھیں کے ذریعہ استغفار ہوسکتا ہے۔
(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(3)
'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔
اور سورہ مائدہ (آیت 39)میں ارشاد ہوا:(فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأصْلَحَ فَإنَّ اﷲَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إنَّ اﷲَ غَفُور رَحِیم).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ نور آیت31 .(2،3)سورۂ تحریم آیت8.
پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے ،تو خدا]بھی[ اس کی توبہ کو قبول کر لے گا اور اللہ بڑابخشنے والا اور مہربان ہے''۔
3۔توبہ قبول ہونا :
جس وقت کوئی گناہگار توبہ کے سلسلہ کے خداوندعالم کی اطاعت کرتا ہے اور توبہ کے شرائط پر عمل کرتا ہے، اور توبہ کے سلسلہ میں قرآن کا تعلیم کردہ راستہ اپناتا ہے، توبے شک خدائے مہربان؛جس نے گناہگار کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہ ضرور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں توبہ قبول ہونے کی نشانی قرار دے دیتا ہے اور اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے، نیز اس کے باطن سے ظلمت و تاریکی کو
سفیدی اور نور میں تبدیل کردیتا ہے۔
(َلَمْ یَعْلَمُوا أنَّ اﷲَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ...) .(1)
'' کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے...''۔
( وَهُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَیَعْفُو عَنْ السَّیِّئَاتِ...).(2)
'' اور وہی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے...''(غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ...). (3)
'' وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے...''۔
4۔توبہ سے منھ موڑنا :
اگر گناہگار خدا کی رحمت سے مایوس ہوکر توبہ نہ کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ رحمت خدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ توبہ آیت104.(2)سورۂ شوری آیت25.(3) سورۂ غافر]مومن[آیت3.
سے مایوسی صرف اور صرف کفار سے مخصوص ہے(1)
اگر گناہگار انسان اس وجہ سے توبہ نہیں کرتا کہ خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخشنے پر قدرت نہیں رکھتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تصور بھی یہودیوں کا ہے۔(2)
اگر گناہگار انسان کا تکبر ، خدائے مہربان کے سامنے جرائت اور ربّ کریم کے سامنے بے ادبی کی بنا پر ہو تو اس کو جاننا چاہئے کہ خداوندعالم اس طرح کے مغرور ،گھمنڈی اور بے ادب لوگوں کو دوست نہیں رکھتا، اور جس شخص سے خدا محبت نہ کرتا ہوتو دنیا و آخرت میں ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔
گناہگار کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ سے منھ موڑنا، جبکہ باب توبہ کھلا ہوا ہے اور لازمی
شرائط کے ساتھ توبہ کرنا ممکن ہے نیز یہ کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر توبہ نہ کرنا اپنے اوپر اور آسمانی حقائق پر ظلم وستم ہے۔
(...ِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَاُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ) .(3)
'' اگر کوئی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ درحقیقت یہی لوگ ظالم ہیں ''.
5۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب :
اگر گناہگار انسان کو توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے اور تمام تر لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرلے تو بے شک اس کی توبہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، لیکن اگر توبہ
کرنے کا موقع ہاتھ سے کھوبیٹھے اور اس کی موت آپہنچے اور پھر وہ اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے یا ضروری شرائط کے ساتھ توبہ نہ کرے یا ایمان لانے کے بعد کافر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ یوسف آیت87. (2) سورہ مائدہ آیت 64 (3) سورہ حجرات آیت 11
ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔
( وَلَیْسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّی إذَا حَضَرَ أحَدَهُمْ الْمَوْتُ قَالَ إنِّی تُبْتُ الْآنَ وَلاَالَّذِینَ یَمُوتُونَ وَهُمْ کُفَّار اُوْلَئِکَ أعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا ألِیمًا) .(1)
'' اور توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو پہلے برائیاں کرتے ہیں اور پھر جب موت سامنے آجاتی ہے توکہتے ہیں کہ اب ہم نے توبہ کرلی اور نہ ان کے لئے ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں کہ ان کے لئے ہم نے بڑا دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ''.
توبہ ، احادیث کی روشنی میں :
حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جناب آدم ]علیہ السلام[ نے خداوندعالم کی
بارگاہ میں عرض کی: پالنے والے مجھ پر ]اور میری اولادپر[شیطان کو مسلط ہے اور وہ خون کی طرح گردش کرتا ہے، پالنے والے اس کے مقابلہ میں میرے لئے کیا چیز مقرر فرمائی ہے؟
خطاب ہوا: اے آدم یہ حقیقت آدم کے لئے مقرر کی ہے کہ تمہاری اولاد میں کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، تو اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ کے مطابق گناہ بھی انجام دے لیا تو اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی گناہ لکھا جائے گا، لیکن اگر تمہاری اولاد میں سے کسی نے نیکی کا ارادہ کرلیا تو فوراً ہی اس کے نامہ
اعمال میں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ پر عمل بھی کیا تو اس نے نامہ اعمال
میں دس برابر نیکی لکھی جائیں گی؛ اس وقت جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا :
پالنے والے! اس میں اضافہ فرمادے؛ آواز قدرت آئی: اگر تمہاری اولاد میں کسی شخص
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ نساء آیت18.
نے گناہ کیا لیکن اس کے بعد مجھ سے استغفار کر لیا تو میں اس کو بخش دوں گا؛ ایک بار پھر جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: پالنے والے! مزید اضافہ فرما؛ خطاب ہوا: میںنے تمہاری اولادکے لئے توبہ کورکھا اور اس کے د روازہ کو وسیع کردیا کہ تمہاری اولاد موت کا پیغام آنے سے قبل توبہ کرسکتی ہے، اس وقت جناب آدم
] علیہ السلام[ نے عرض کیا: خداوندا! یہ میرے لئے کافی ہے۔(1)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت ، رسول اکرم (ص)سے روایت کی ہے: جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک ایک سال زیادہ ہے، جو شخص اپنی موت سے ایک ماہ
قبل توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک مہینہ بھی زیادہ ہے، جو شخص ایک ہفتہ پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ قابل قبول ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک ہفتہ بھی زیاد ہے، اگر کسی شخص نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک دن بھی زیادہ ہے اگر اس نے موت کے آثار دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے۔(2)
حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہیں :
'' اِنَّ اللّٰهَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ما لَمْ یُغَرْغِرْ، تُوبُوا اِلٰی رَبِّکُمْ قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا،وَبادِرُوا
بِالاَعْمالِ الزّاکِیَةِ قَبْلَ اَنْ تُشْتَغِلُوا،وَ صِلُوا الَّذی بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُ بِکَثْرَةِ ذِکْرِ کُمْ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)کافی ج2،ص440،باب فیما اعطی اللہ عز وجل آدم(ع) ،حدیث1؛بحار الانوار ج6،ص18،باب 20،حدیث2. (2)بحار الانوارج6،ص19،باب 20،حدیث4
اِیّاهُ:'' (1)
'' خداوندعالم ، اپنے بندے کی توبہ دم نکلنے سے پہلے پہلے تک قبول کرلیتا ہے، لہٰذا اس سے پہلے پہلے توبہ کرلو، نیک اعمال انجام دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ کسی چیز میں مبتلا ہوجائو، اپنے اور خدا کے درمیان توجہ کے ذریعہ رابطہ کرلو''۔
پیغمبر اسلام (ص) ایک اہم روایت میں فرماتے ہیں:کیا تم جانتے ہوں ہو کہ تائب ]یعنی توبہ کرنے والا[ کون ہے؟ اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ بہتر جانتے ہیں، تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: جب کوئی بندہ توبہ کرے اور دوسروں کے مالی حقوق کو ادا
کرکے ان کو راضی نہ کرلے تو وہ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن خدا کی عبادتوں میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے ]مال حرام سے بنے ہوئے [ لباس کو نہ بدلے وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی صحبت کو نہ بدلے تو وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے اخلاق اور اپنی نیت کو نہ بدلے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے اور اپنے دل سے حقائق کو نہ دیکھے ،اور صدقہ و انفاق میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی آرزؤں کو کم نہ کرے اور اپنی زبان کو محفوظ نہ
رکھے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے بدن سے اضافی
کھانے کو خالی نہ کرے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے. بلکہ وہ شخص تائب ہے جو ان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)بحار الانوار،ج6،ص19،باب20،حدیث5.
تمام خصلتوں کی پابندی کرے ۔(1) اس روایت میں جن چیزوں کے بدلنے کا حکم ہوا
ہے ان سے وہ چیزیں مراد ہیں جو حرام طریقہ سے حاصل کی گئی ہوںیا حرام چیزوں سے متعلق ہوں۔
توبہ کے منافع اور فوائد :
گناہوں سے توبہ کے متعلق قرآن کریم کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام سے مروی احادیث و روایات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں توبہ کے بہت سے منافع و فوائد ذکر ہوئے ہیں، جن کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے ۔
1 (... اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْإ نَّهُ کَانَ غَفَّارًا٭ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ٭ وَیُمْدِدْکُمْ بِأمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ أَنْهَارًا).(2)
''... اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا۔اور اموال واولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا ''.
٢ (... تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهارُ...)(2)
'' توبہ کرو، عنقریب تمہارا پرودگار تمہاری برائیوں کو مٹادے گا اور تمہیں ان جنتوں میں
داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ''.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)جامع الاخبار ص88،الفصل الخامس والاربعون فی التوبة ؛بحار الانوار ج6،ص35،باب20،حدیث52؛مستدرک الوسائل ج12،ص131،باب 87،حدیث 13709
(2)سورۂ نوح آیت10۔12. (3)سورۂ تحریم آیت8.
٣ (وَلَوْ أنَّ أهْلَ الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَائِ وَالْأرْضِ...) .(1)
'' اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ہیں اور تقویٰ اختیا رکر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ''.
'' مجمع البیان'' جو ایک گرانقدر تفسیر ہے اس میں ایک بہترین روایت نقل کی گئی ہے :
'' ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ہے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناہوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی ، اس سے ]بھی [
امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یہی فرمایا: اپنے گناہوں سے استعفار کرو۔
اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: ]فرزند رسول(ص)![ آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے نہیں کہی ہے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے جہاں خداوندعالم نے فرمایا ہے: (استغفروا ربّکم...) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو) ، لہٰذا میں نے سبھی کو ا.ستغفار کے لئے کہا،
ا.ستغفار کے لئے کہا، تاکہ ان کی مشکلات ، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ہوجائیں۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورۂ اعراف آیت96ا (2)مجمع البیان ج10،ص361؛وسائل الشیعہ ج7،حدیث 9055.
بہر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ہیں: گناہوں سے پاک ہوجانا، رحمت الٰہی کا نزول ، بخشش خداوندی،عذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق، روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی، اعضاء و جوارح کی طہارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغات او رنہروں میں برکت، قحطی ،مہنگائی اور غربت کا خاتمہ۔
وآخردعونا ان الحمد للہ ربّ العالمین
سوالات :
1۔توبہ کی تعریف کیجئے ؟
2۔حضرت علی(ع) نے حقیقی توبہ کے بارے میں کیا فرمایا ؟
3۔کیا ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ ہے ؟ وضاحت کیجئے ؟
4۔حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ کیا ہے ؟
5۔آنحضرت (ص) نے تائب کسے کہا ہے ؟
6۔توبہ کے فوائد بیان کیجئے ؟