تقیہ کے اسلامی اصول
گروہ بندی قرآن لائبریری
مصنف
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404



بسم الله الرحمن الرحیم

نام کتاب:اہل بیت کی رکاب میں ۔ تقیہ کا اسلامی اصول

موضوع : علمِ کلام /فقہ

مولف :حجۃ الاسلام عبدالکریم بہبہانی / تحقیقی کمیٹی

مترجم : حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

نظرثانی: حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین

کمپوزنگ:شیخ غلام حسن جعفری

اشاعت :اول ۲۰۱۸

ناشر: عالمی مجلس اہل بیت

جملہ حقوق محفوظ ہیں

۵


ص ۵-۶

اہل البیت علیہم السلام، قرآن کے آئینے میں:

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (سورۃٔ احزاب/۳۲ )

ترجمہ :

اے اہل بیت! اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ وہ آپ سےہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھےاور آپ کو ایسے پاک و پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔

اہل بیت رسول علیہم السلام،سنت نبوی کے آئینے میں:

’’ اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقْلَیْنِ کِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تضلُّوْا بَعْدِیْ ‘‘

(صحاح و مسانید)

ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔

وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرےاہل بیت ہیں۔

جب تک تم ان سے تمسک رکھوگے تب تک تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔

ص ۷

عرضِ مجلس

اہل بیت علیہم السلام کا علمی و فکری ورثہ جسے مکتب اہل بیت نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے اور اہل بیت کے پیروکاروں نے اسے ضائع ہونے سے بچایا ہے ایک ایسے مکتب فکر کی تصویر پیش کرتا ہے جو معارف ِاسلامیہ کی مختلف جہات کو محیط ہے ۔اس مکتب فکر نے اسلامی معارف کے اس صاف سرچشمے سے سیراب ہونے کے لائق نفوس کی ایک کھیپ کو پروان چڑھایا ہے ۔اس مکتب فکر نے امت مسلمہ کو ایسے عظیم علماء سے نوازا ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے نظریاتی نقش قدم پر چلے ہیں ۔اسلامی معاشرے کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے مختلف فکری مناہج اور مذاہب کی جانب سے اُٹھنے والے سوالات ،شبہات اور تحفظات پر ان علماء کی مکمل نظر رہی ہے ۔

یہ علماء اور دانشور مسلسل کئی صدیوں تک ان سوالات اور شبہات کے معقول ترین اور محکم ترین جوابات پیش کرتے رہے ہیں ۔

عالمی مجلس اہل بیت نے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان اسلامی تعلیمات و حقائق کی حفاظت کی خاطر قدم بڑھایا ہے جن پر مخالف فِرق و مذاہب اور اسلام دشمن مکاتب و مسالک کے اربابِ بست و کشاد نے معاندانہ توجہ مرکوز رکھی ہے ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اس سلسلے میں اہل بیت علیہم السلام اور مکتب اہلبیت کے ان پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کی ہے جنہوں نے ہر دور کے مسلسل چیلنجوں سے معقول ،مناسب اور مطلوبہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے ۔

ص ۸

اس سلسلے میں مکتب اہل بیت کے علماء کی کتابوں کے اندر محفوظ علمی تحقیقات بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہیں کیونکہ یہ تحقیقات بلند علمی سطح کی حامل ہیں ،عقل و برہان کی بنیادوں پر استوار ہیں اور مذموم تعصبات و خواہشات سے پاک ہیں نیز یہ بلند پایہ علماء و مفکرین کو اس انداز میں اپنا مخاطب قرار دیتی ہیں جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت کی کوشش رہی ہے کہ حقیقت کے متلاشیوں کے سامنے ان پربار حقائق اور معلومات کے حوالے سے گفتگو ،ڈائیلاگ اور شبہات و اعتراضات کے بارے میں بے لاگ سوال و جواب کا ایک جدید اسلوب پیش کیا جائے ۔ اس قسم کے شبہات و عتراضات گذشتہ ادوار میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی انہیں ہوا دی جارہی ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے بعض حلقے اس سلسلے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے بطور خاص جدو جہد کررہے ہیں ۔اس بارے میں مجلس اہل بیت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مذموم طریقے سے بھڑکانے سے اجتناب برتا جائے جبکہ عقل و فکر اور طالبِ حق نفوس کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ ان حقائق سے آگاہ ہوں جنہیں اہل بیت علیہم السلام کا نظریاتی مکتب پورے عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ بھی اس عصر میں جب انسانی عقول کے تکامل اور نفوس و ارواح کے ارتباط کا سفر منفرد انداز میں تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ زیر نظر تحقیقی مباحث ممتاز علماء اور دانشوروں کی ایک خاص کمیٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔ہم ان تمام حضرات اور ان ارباب ِعلم و تحقیق کے شاکر اور قدر دان ہیں جن میں سے ہر ایک نے ان علمی مباحث کے مختلف حصوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں اپنے قیمتی ملاحظات سے نوازا ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ ہم نے اپنی ان ذمہ داریوں میں سے بعض کو ادا کرنے میں ممکنہ کوشش سے کام لیا ہے جو ہمارے اس عظیم رب کے پیغام کو پہنچانے کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور برحق دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے اور گواہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت شعبہ ثقافت


ص۱۰ - ۹

تقیہ کا اسلامی اصول

تقیہ اسلام کی وہ حکمت عملی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے ۔ قرآن کی یہ آیت کریمہ بطور صریح تقیہ کے جواز کو بیان کر رہی ہے :

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّٰهِ الْمَصِيرُ ۔ (ا ٓ ل عمران /۲۸)

ترجمہ:مومنوں کو چاہیے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں ۔جو کوئی ایسا کرے اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ہاں اگر تم ان( کے ظلم )سے بچنے کے لئے کوئی حکمت ِعملی اختیار کرو ( تو اس میں مضائقہ نہیں )۔ اللہ تمہیں اپنے (غضب ) سے ڈراتا ہے اوربازگشت تو اللہ کی طرف ہی ہے ۔

تقیہ کے جواز کا حکم اس آیت کریمہ سے بھی عیاں ہے :

مَن كَفَرَ بِاللَّٰهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (نحل/۱۰۶)

جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کا انکار کرے سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو ( تو کوئی حرج نہیں ) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے


ص ۱۱

اس آیت میں صاف طور پر تقیہ کا ذکر ہوا ہے اور اس کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے کیونکہ ایمان کے تین ارکان ہیں جو یہ ہیں :

قلبی اعتقاد ، زبانی اقرار اور اعضا و جوارح کے ذریعے عمل ۔

عام حالات میں ایمان کا فطری اور قدرتی تقاضا یہی ہے ۔

چونکہ اسلام ایک عملی ضابطۂ حیات ہے جو حقائق پر نظر رکھتا ہے اور جملہ عملی مشکلات کا حل پیش کرتا ہے اس لئے قدرتی بات ہے کہ اسلام عام حالات کے علاوہ استثنائی حالات میں بھی حضرت انسان کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک واضح لائحہ عمل دے گا ۔

بطور مثال اگر انسان گاہے دو راستوں میں سےا یک کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے جن میں سے ایک راستہ موت یا زبردست نقصان اور تکلیف پر منتہی ہوتا ہو جبکہ دوسرا راستہ ایمان کے بعض تقاضوں یا مظاہر کو چھوڑنے کا متقاضی ہو تو اس صورت میں مذکورہ آیت کریمہ یہ رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ اسلام کے پہلے رکن یعنی قلبی اعتقاد سے دستبرداری کی کسی صورت اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ایمان کا اصل جوہر ،بنیاد اور باطنی و معنوی رکن ہے ۔

اس کے برخلاف دوسرے اور تیسرے رکن کے بارے میں اسلام نے مومنین کو اجازت دی ہے کہ وہ موت یا سخت نقصان اور تکلیف سے بچنے کے لئے ان دونوں کے اظہار سے وقتی طور پر اجتناب کریں بشرطیکہ یہ دین کی بربادی یا کمزوری کا موجب نہ ہو ۔


ص ۱۲

یاد رہے کہ یہ آیت حضرت عمار یاسر کے واقعے میں نازل ہوئی تھی ۔ مشرکین نے عمار کو حکم دیا تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہیں اور بتوں کی تعریف کریں ۔ عمار نے سخت ایذا رسانی کے دباؤ تلے ان کے کہنے پر عمل کیا تھا ۔

بعد میں جب عمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آنحضرت نے پوچھا : آپ کے ساتھ کیا ہوا ؟

عمار نے کہا : اے اللہ کے رسول! برا ہو ا۔ انہوں نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہا اور ان کے بتوں کا ذکر ِ خیر نہیں کیا۔

فرمایا : آپ کے دل کی کیا کیفیت ہے ؟

عرض کیا: وہ تو ایمان کے زاوئے سے مطمئن ہے ۔

فرمایا : اگر وہ دوبارہ ایساکریں تو آپ بھی دوبارہ یہی کرنا ۔

(دیکھیے:مستدرک حاکم،۲/۳۵۷،سنن ابن ماجہ ۱/۱۵۰،باب۱۱،تفسیر ماوردی۳/۱۹۲،مطبوعہ بیروت،تفسیر رازی۲۰/۱۲۱ نیز دیگر تفاسیر و مآخذ )


ص۱۳

علمائے اسلام نے تقیہ کے جواز پر مذکورہ دونوں آیتوں سے استدلال کیا ہے ۔

المراغی نے اپنی تفسیر میں تقیہ کی درج ذیل صورتوں کا ذکر کیا ہے :

کافروں ،ظالموں اور فاسقوں کے ساتھ ظاہری نرم رویہ رکھنا ، ان کے ساتھ نرم گفتگو کرنا ، ان کے سامنے مسکرانا اور ان پر مال خرچ کرنا تاکہ ان کی ایذا رسانی سے بچا جائے اور ان کے شر سے اپنی عزت کی حفاظت کی جائے ۔

طبرانی نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کی ہے:

ما وَقی به المومنُ من عِرضه فهُو صَدقة

(دیکھیے تفسیر مراغی ۳/۱۳۶، مطبوعہ مصر)

مومن جس طریقے سےاپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے وہ صدقہ ہے ۔

یہ طرزِ عمل (تقیہ) وہ نفاق نہیں ہے جس کی قرآن کریم نے مذمت کی ہے اور جسے اس نے کفر سے زیادہ سنگین قرار دیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نفاق کفرو عداوت کو چھپانے اور ایمان و محبت کا اظہار کرنے سے عبارت ہے ۔ اس کے برعکس تقیہ ایمان کو چھپانے اور اس کے مخالف طرزِ عمل کو ظاہر کرنے سے عبارت ہے ۔ اگر تقیہ بھی نفاق کی ایک صورت ہوتی تو اللہ سبحانہ و تعالی صریح الفاظ میں اسے جائز قرار نہ دیتا ۔


ص۱۴

اللہ نے تقیہ کرنے پر مومنِ آل فرعون کی تعریف کی ہے اور اس کا یوں ذکر خیر فرمایا ہے :

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ

وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۔ إِنَّ اللَّٰهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (غافر /۲۸)

مومنِ آل فرعون نے جو اپنا ایمان چھپاتا تھا کہا :کیا تم لوگ ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے: میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی نشانیاں لے کر آیا ہے؟

اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اس کے خلاف جائے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب ) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے اس میں سے کچھ تم پر واقع ہو ہی جائے گا ۔ یقینا اللہ تجاوز کرنے والے اور جھوٹے کو ہدایت نہیں دیتا۔

علاوہ ازیں اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں دو جگہوں پر فرعون کی زوجہ کی تعریف کی ہے اور اسے ایمان والوں کے لئے مثال اور نمونہ قرار دیا ہے جبکہ فرعون کی زوجہ فرعون کے ساتھ تقیہ آمیز زندگی گزاررہی تھی ۔

اسی طرح ایک طرف سے تقیہ اور دوسری طرف سے دین کے معاملے میں سودا بازی یا دشمن کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے درمیان بھی بنیادی اختلاف موجود ہے(یعنی یہ دونوں ایک نہیں ہیں ) کیونکہ دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دینا اور ان کے ساتھ سودا بازی کرنا مدمقابل کو تسلیم کرنے اور اس کی خاطر اپنے بنیادی عقائد سے دستبردار ہونے سے عبارت ہیں ۔


ص۱۵

اس کے برعکس تقیہ یہ ہے کہ اپنی حفاظت اور دین کی حفاظت کی خاطر وقتی طور پر دشمن کے ساتھ موافقت کا اظہار اور اپنے اصلی اعتقادات کا ظاہری انکار کیا جائے یہاں تک کہ مجبوری اور کمزوری کا مرحلہ گزرجائے اور تقیہ کرنے والے کو اپنی قوت دوبارہ بحال کرنے کا موقع مل جائے ۔

پس تقیہ عقلائے عالم کے ہاں مرسوم منطقی طرزِ عمل کا نام ہے تاکہ مومن اپنے دشمن کے آگے ہتھیار ڈالنے اور ساز و باز کرنے سے محفوظ رہے نیز اسے روحانی و معنوی طاقت حاصل کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ دشمن کے سخت دباؤ کی وجہ سے تباہی کا شکار نہ ہو اور اپنے ایمان کے کمترین درجے کی حفاظت کرسکے ۔تقیہ کرنے والا مستقبل پر امید کی نظر مرکوز رکھتا ہے اور حالات کو بدل ڈالنے کے لئے مناسب وقت کا منتظر رہتا ہے ۔ اس کے برعکس تقیہ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا عزم ِراسخ ،امید اور موقع ملتے ہی حالات کو بدلنے کی سوچ سے عاری ہوتا ہے ۔

بالفاظ دیگر تقیہ دشمن کے آگے سرتسلیم خم ہونے ،مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہونے ،سودا بازی کرنے اور اپنے برحق موقف سے دستبردار ہونے سے بچنے کی تدبیر کا نام ہے ۔تقیہ دشمن کی اس کو شش کو کہ مومن کو کمزوری اور شکست سے دوچار کیا جائے ناکام بنانے کی حکمتِ عملی کا نام ہے ۔

تقیہ کی حکمت عملی کے ذریعے دشمن کو شکست دینے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ باتیں اس کے دل میں ڈالی جائیں ۔

پس جب دشمن کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ مومن اس کے مقابلے میں تقیہ کی پالیسی پر گامزن ہے اوریہ تقیہ اسے ایک ایسا سرپھرا انسان بنائے گا جو ساز باز اور شکست سے نا آشنا ہو گا تو وہ (دشمن)اپنے مقصد اور ہدف سے مایوس ہو جائے گا ۔


ص۱۶

صحابہ وتابعین کا تقیہ پر عمل

اگر ہم قرآن اور سنت نبوی سے قطع نظر صحابہ وتابعین اور صدر اول کے فقہاء کی روش کا مطالعہ کریں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سب ضرورت پڑنے پر تقیہ کرتے تھے ۔ اس بارے میں ان کے واقعات اور قصے معروف ہیں ۔

ان لوگوں میں عبد اللہ بن مسعود ،ابو درداء ،ابو موسی اشعری ،ابو ہریرہ ،ابن عباس ،سعید بن جبیر ،رجاء بن حَیْوِہ ،واصل بن عطا ،عمرو بن عبید معتزلی اور امام ابو حنیفہ شامل ہیں ۔

مروی ہے کہ حارث بن سوید نے کہا : میں نے عبد اللہ بن مسعود کو یہ کہتے سنا : اگر کوئی مقتدر قوت مجھے کوئی ایسی بات کہنے کا حکم دے جو مجھے ایک تازیانے یا دو تازیانوں سے محفوظ رکھے تو میں وہ بات کہوں گا ۔

ابن حزم نے اس روایت کو المحلی میں نقل کیا ہے ۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم ) میں سے کوئی اس کا مخالف نظر نہیں آتا ۔

(دیکھئے ابن حزم کی المحلی ،ج۸ ،ص ۳۳۶ ،مسئلہ ۱۴۰۹ ، مطبوعہ دار الآفاق الجدیدۃ،بیروت )

امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ صحیح بخاری میں ابو درداء سے روایت کی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے :ہم بہت سے لوگوں کے ساتھ ہنسی و خوشی ملتے ہیں جبکہ ہم دل سے ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ (دیکھیے صحیح بخاری ،ج۸،ص ۳۷ ، کتاب الادب، باب المداراۃ مع الناس )

یہ قول ابو موسی اشعری سے بھی منسوب ہے ۔

(دیکھئے قاضی مالکی کی الفروق ،ج۴،ص ۲۳۶، فرق نمبر ۲۶۴)

ص۱۷

امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی مروی ہے ۔

(دیکھئے مستدرک الوسائل ۱۲ / ۲۶۱ ، ابواب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر ،ح ۲ )

امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے : میں نے رسول اللہ سے دو قسم کی چیزیں یاد کی ہیں ۔ ان میں سے ایک کو میں نے (لوگوں کے درمیان ) پھیلایا ہے ( بیان کیا ہے ) ۔دوسری وہ ہے جسے میں فاش کروں تو میرا یہ حلقوم کاٹ لیا جائے گا ۔

(دیکھیےصحیح بخاری ،۱/ ۴۱، کتاب العلم ،باب حفظ العلم کی آخری حدیث)

ابن حجر نے فتح الباری میں تصریح کی ہے کہ علماء نے اس چیز کو جسے ابو ہریرہ نے فاش نہیں کیا ان احادیث پر حمل کیا ہے جن میں برے حکمرانوں اور ان کے کرتوتوں کا ذکر ہوا ہے ۔ وہ (ابو ہریرہ )ان میں سے بعض کی طرف اشارہ و کنایہ سے کام لیتے تھے لیکن تصریح سے اجتناب کرتے تھے ۔ کیونکہ انہیں ان لوگوں سے اپنی جان کو خطرہ محسوس ہوتا تھا ۔ بطور مثال وہ کہتے تھے :

اعوذ باللّه من راس الستین وامارة الصبیان

(میں اللہ کے ہاں پناہ مانگتا ہوں ساٹھ کی ابتداء سے اور بچوں کی حکمرانی سے ) ۔

یہاں ان کا اشارہ یزید بن معاویہ کی حکومت کی طرف ہے کیونکہ اسے سنہ ۶۰ میں حکومت ملی تھی ۔ (دیکھئے ابن حجرعسقلانی کی فتح الباری ،ج۱،ص ۱۷۳)

طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ عطاء سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : کسی شخص نے ابن عباس سے کہا :معاویہ کے بارے میں آپ کیا تبصرہ کریں گے جس نے ایک رکعت کے ساتھ نماز وتر پڑھی ہے ؟

( وہ شخص چاہتا تھا کہ ابن عباس معاویہ کی برائی بیان کرے لیکن ) ابن عباس نے جواب دیا : ’’معاویہ نےٹھیک کہا ہے ‘‘ حالانکہ اس روایت کے برخلاف طحاوی کی روایت سے واضح ہے کہ ابن عباس کی نظر میں معاویہ کی نماز درست نہیں تھی ۔

چنانچہ طحاوی اپنی سند کے ساتھ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں : میں ابن عباس کے ساتھ معاویہ کے پاس موجود تھا ۔ ہم گفتگو میں مشغول رہے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا تو معاویہ نے کھڑے ہوکر ایک رکعت نماز پڑھی ۔

تب ابن عباس نے کہا : تیرے خیال میں اس گدھے نے یہ کہاں سے لی ہے ؟

اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں : ممکن ہے کہ ابن عباس کا یہ قول کہ ’’معاویہ نے ٹھیک کہا ہے ‘‘ تقیہ پر مبنی ہو ۔

پھر طحاوی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ وتر کی نماز تین رکعتوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔

(دیکھئے طحاوی کی شرح معانی الآثار ۱/ ۳۸۹ ، باب الوتر ،اشاعت دوم ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت ،۱۴۰۷ھ )

ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے حسان بن ابی یحیی کندی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا : میں نے سعید بن جبیر سے زکات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : اسے حاکموں کے حوالے کرو ۔

جب سعید جانے لگا تو میں نے اس کے پیچھے جاکر اس سے کہا : آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں زکات حاکموں کے حوالے کروں حالانکہ وہ اس زکات کے ذریعے فلاں فلاں ۔۔۔کام کرتے ہیں ؟ ( زکات کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ مترجم)

سعید نے کہا : زکات وہاں دو جہاں دینے کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ آپ نے لوگوں کے سامنے مجھ سے سوال کیا ۔ اس لئے میں آپ کو درست جواب نہیں بتا سکتا تھا ۔

(دیکھئے ابو عبیدہ قاسم بن سلام کی کتاب الاموال ،ص۵۶۷، ۱۸۱۳ ، تحقیق ڈاکٹر محمد خلیل ہراس ،اشاعت اول، دار الکتب العلمیہ ،بیروت ، ۱۴۰۶ ھ )

ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے قتادہ سے بھی روایت کی ہے کہ اس نے سعید بن مسیب سے یہی سوال کیا تو سعید بن مسیب نے خاموشی اختیار کی اور اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔


ص۱۸

ادھر جناب علامہ امینی نے ذکر کیا ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص نے سعید بن مسیب سے حدیث غدیر کے بارے میں سوال کیا تو سعید نے تقیہ سے کام لیا ۔

( دیکھئے علامہ امینی کی الغدیر ، ۱/ ۳۸۰ ، مطبوعہ دار الکتب العربی ،بیروت ۱۴۰۳ ھ)

مالکی کہتے ہیں : ادریس بن یحیی کا بیان ہے کہ ولید بن عبد الملک کے حکم سے اس کے جاسوس لوگوں کے حالات کا کھوج لگاتے تھے اور ان کی خبریں لاتے تھے ۔ ان میں سے ایک جاسوس رجاء بن حیوہ کی محفل میں بیٹھ گیا ۔اس نے ان میں سے کسی کو ولید کی بدگوئی کرتے ہوئے سنا جس کی رپورٹ اس نے ولید کو دی ۔ ولید نے (رجاء سے ) کہا : اے رجا ء کیا یہ درست ہے کہ تیری مجلس میں میری برائی بیان کی گئی لیکن تو نے تردید نہیں کی ؟

رجا ء نے کہا : اے امیر المومنین ! ایسا تو نہیں ہوا ۔

ولید نے اس سے کہا:کہو :

الله الذی لا اله الّا الله

(اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں)۔

رجاء نے کہا :

الله الذی لا اله الّا الله

پھر ولید کے حکم سے جاسوس کو ستر کوڑے مارے گئے ۔

جب اس شخص (جاسوس)کی ملاقات رجا ء سے ہوتی تو وہ کہتا تھا : اے رجاء ! تیرا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے جبکہ میری پشت پر ستر کوڑے مارے جاتے ہیں!

رجاء جواب دیتا تھا : تیری پشت پر لگنے والے ستر تازیانے تیرے لیےاس بات سے بہتر ہیں کہ ایک مسلمان کو قتل کردیا جائے ۔

(دیکھئے قرطبی کی الجامع لاحکام القرآن ،۱۰/ ۱۲۴)


ص۱۹

سعد بن اشرس نے بھی تیونس کے سلطان سے اسی قسم کا تقیہ کیا تھا ۔ سعد نے ایک ایسے شخص کو پناہ دی تھی جو سلطان کا معتوب تھا اور سلطان کو اس کی تلاش تھی ۔ جب سعد کو سلطان کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ اس نے اس شخص کو پناہ نہیں دی اور وہ اس کی جگہ کے بارے میں بھی نہیں جانتا ۔

(دیکھئے قرطبی کی الجامع لاحکام القرآن ،۱۰/۱۲۴)

ابن جوزی حنبلی کہتے ہیں : واصل بن عطا ایک جماعت کے ساتھ سفر پر نکلا ۔ راستے میں خوارج کا ایک لشکر ان کے آڑے آیا ۔ واصل نے (اپنے ساتھیوں سے ) کہا : (تم میں سے )کوئی شخص ہرگز بات نہ کرے ۔

تم مجھے ان سے نبٹ لینے دو ۔ پس واصل ان کی طرف گیا ۔ جب وہ ان کے قریب پہنچے تو خوارج نے حملے کا آغاز کرنا چاہا ۔واصل نے کہا : تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو جبکہ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ ہم کون ہیں اور کس لئے آئے ہیں ؟

خوارج نے کہا : ہاں بولو، تم کون ہو ؟

واصل نے کہا : ہم مشرکین کی ایک جماعت ہیں ۔ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے اللہ کا کلام سنیں ۔

پس خوارج ان سے دست بردار ہوئے ۔ ان میں سے ایک شخص نے قرآن کی تلاوت شروع کی ۔جب وہ رک گیا تو واصل نے کہا :

بہ تحقیق میں نے اللہ کا کلام سنا ۔اب تم ہمیں ایک محفوظ جگہ پہنچادو تا کہ ہم وہاں پہنچ کر یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح دین (اسلام ) قبول کریں ۔

خارجی نے کہا : یہ تو واجب ہے ۔چلو چلتے ہیں۔

(راوی کہتا ہے:)پس ہم چلے اور (اللہ کی قسم ) خوارج کئی فرسخ ہمارے ساتھ ہماری حفاظت کرتے رہے یہاں تک کہ ہم ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے جو ان کے دائرہ اختیار سے خارج تھا ۔پس وہ چلے گئے ۔

(ابن جوزی :الاذکیاء ،ص ۱۳۶ ، اشاعت ۱ول،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،بیروت ،۱۴۰۵ ھ )

منصور عباسی کے خلاف ابراہیم بن عبد اللہ بن حسن اور ان کے بھائی محمد بن عبد اللہ بن حسن صاحب نفس زکیہ کے قیام (جس میں وہ دونوں مارے گئے ) کے گیرو دار کے دوران ایک دن منصور نے عمرو بن عبید سے کہا :

مجھے خبر ملی ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن حسن (ذو نفس زکیہ ) نے تجھے ایک خط لکھا تھا ؟

عمرو نے کہا : ہاں مجھے ایک خط ملا تھا جو اس کے خط سے شباہت رکھتا ہے ۔

منصور نے کہا : تو تم نے اس کا کیا جواب دیا ؟عمرو نے کہا : کیا آپ کو ان دنوں جب آپ ہمارے ہاں رفت و آمد رکھتے تھے

مسلح قیام کے بارے میں میرے اس موقف کا علم نہیں ہوا کہ میں اسکے حق میں نہیں ہوں ؟

منصور نے کہا : ہاں لیکن تمہیں میرے پاس قسم کھانی ہوگی تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے ۔

عمرو نے کہا : اگر میں نےتقیہ کی خاطر آپ سے جھوٹ بولا ہوتا تو میں تقیہ کی خاطر آپ کے سامنے قسم بھی کھا سکتا ہوں ۔

ص۲۰

منصور نے کہا : اللہ کی قسم ،اللہ کی قسم ،تم سچے اور نیک ہو ۔

(دیکھئے خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد ،۱۲/ ۱۶۸ ۔ ۱۶۹ ،عمرو بن عبید معتزلی کے حالات )

خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں اپنی سند کے ساتھ سفیان بن وکیع سے نقل کیا ہے کہ عمر بن حماد بن ابی حنیفہ ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور بولے : میں نے اپنے باپ حماد کو یہ کہتے سنا ہے : ابن ابی لیلی کو ابو حنیفہ کے پاس بھیجا گیا۔ اس نے ابو حنیفہ سے قرآن کے بارے میں سوال کیا ۔ ابو حنیفہ نے کہا : قرآن مخلوق ہے ۔ کہا :تو بہ کریں و گرنہ میں آپ کے خلاف کاروائی کروں گا ۔ پس ابو حنیفہ نے اس کی تائید کی اور کہا : قرآن اللہ کا کلام ہے ۔

پس وہ (ابن ابی لیلی ) لوگوں کے درمیان پھرتا اور انہیں یہ خبر دیتا تھا کہ ابو حنیفہ نے اپنے اس موقف سے توبہ کرلیا ہے کہ قرآن مخلوق ہے ۔

پس میرے باپ (حماد ) نے ابو حنیفہ سے کہا : آپ نے اپنا نظریہ کیوں بدلا اور اس شخص کی تا ئید کیوں کی ؟


ص۲۱

ابو حنیفہ نے کہا : اے بیٹے ! مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ میرے خلاف کاروائی نہ کرے۔ اس لئے میں نے اس سے تقیہ کیا ۔

(دیکھیے تاریخ بغداد ،۱۳/ ۳۷۹ ۔ ۳۸۰ ، سوانح ابو حنیفہ )

یہ تھے تقیہ کے بارے میں بڑے بڑے صحابہ ،تابعین اور فقہا کی عملی روش کے بعض نمونے ۔

ان کے علاوہ تقیہ پر عمل کے بہت سارے نمونے اور بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے طوالت کےخوف سے نہیں کیا ۔ اہل سنت کے مآخذ و مصادر میں ان کا ذکر موجود ہے ۔

سید المرسلین کی شریعت پر عمل کرنے والوں کی زندگی کے بارے میں یہ بات مشہور و معروف اور رائج رہی ہے کہ جب حالات انہیں تقیہ کرنے پر مجبور کر دیں تو وہ تقیہ کی روش اپناتے رہے ہیں ۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر منصف مزاج اور طالب حق محقق کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے ۔اسی لئے جمال الدین قاسمی نے بہت سے مواقع پر حق کے مخفی اور حقیقت کے مبہم رہنے کے عوامل کے بارے میں شیخ مرتضی یمانی کے بیان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

قاسمی نے یمانی کا قول یوں نقل کیا ہے : دو وجوہات کے باعث حق کی پہچان زیادہ مشکل ہوگئی اور اس کے ابہام و غموض میں اضافہ ہوا ۔

پہلی وجہ : علمائے سوء ،ظالم حکمرانوں اور شیطان صفت انسانوں سے ان لوگوں کو لاحق خطرہ جو حق سے آشنا تو تھے لیکن ان کی تعداد کم تھی ۔

اس صورت میں قرآن کے صریح فرمان اور مسلمانوں کے اجماع کی رو سے تقیہ جائز ہے ۔ خوف اظہار حق کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا اور اکثر لوگوں کو (دشمنوں کی طرف سے ) تباہی و بربادی کا خطرہ لاحق رہا ۔

(دیکھیے محاسن التاویل ،۴/ ۸۲ ، اشاعت ۲ ،مطبوعہ دار الفکر)


ص۲۲

چونکہ تقیہ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے کردار سے کوئی مومن چشم پوشی نہیں کرسکتا اس لئے ہم اسلامی فقہ کے مختلف ابواب کو تقیہ کے ذکر سے لبریز پاتے ہیں۔اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مکلف (وہ شخص جس پر شرعی احکام کی پابندی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ) پر غیر استثنائی ،قدرتی اور عام حالات میں عبادات و معاملات سے مربوط کسی خاص فقہی مسئلے میں شریعت کا حکم کچھ ہوتا ہے جبکہ استثنائی اور اضطراری حالات میں جب وہ کسی ظالم کے ظلم و تجاوز سے مجبور ہوکر ایک خاص راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے ،شریعت کا حکم کچھ اور ہوتا ہے ۔

یہ اصول عبادات و معاملات کے بشمول فقہ کے تمام ابواب کو محیط ہے ۔کوئی شخص اس حقیقت کا منکر نہیں ہے کہ مذاہبِ اہل سنت کی فقہ میں اضطراری احکام موجود ہیں خاص کر اس شخص کے لئے جو کسی کے ظلم اور تجاوز کی وجہ سے ایک خاص طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو۔

یہ سارے احکام تقیہ کے مصادیق اور موارد ہیں ۔

(اہل سنت کی فقہ میں تقیہ سے مربوط احکام کے لئے دیکھئے سید ثامر العمیدی کی کتاب : واقع التقیہ عند المذاہب الاسلامیۃ من غیر الشیعۃ الامامیۃ ۔اس کتاب میں مصنف نے اس موضوع پر کافی تفصیلی گفتگو فرمائی ہے )


ص ۲۳

مکتب امامیہ کے ہاں تقیہ کے جواز کی دلیل

علمائے امامیہ نے تقیہ کے نہ صرف جواز پر بلکہ بعض صورتوں میں اس کے وجوب پر (مذکورہ بالا دوآیتوں کے علاوہ ) متعدد احادیث و روایات سے استدلال کیا ہے ۔ یہ روایات استفاضہ کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں ۔ وسائل الشیعۃ میں تقیہ سے مربوط روایات کا ایک خاص باب ہے۔ یہ باب کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر کا ایک حصہ ہے ۔

یہاں ان میں سے بعض روایات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے :

۱۔ ابن ابی یعفور سے مروی ہے کہ حضرت ابو عبد اللہ (الصادق ) علیہ السلام نے فرمایا :

’’ التقیّة ترس المومن والتقیة حرز المومن ‘‘

(دیکھئے محمد بن یعقوب کلینی کی اصول الکافی ،ج۲،ص ۲۲۱، باب التقیۃ )

تقیہ مومن کی ڈھال ہے۔تقیہ مومن کا محافظ ہے۔

۲۔ امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے مفضل سے فرمایا : جب تم تقیہ پر عمل کرو گے تو ان (مخالفین) کے پاس اس بارے میں کوئی چارہ کار نہیں رہے گا ۔ تقیہ محفوظ اور مضبوط پناہگاہ ہے ۔ یہ اللہ کے دشمنوں اور تمہارے درمیان حائل ایک دیوار ہے جس میں وہ نقب نہیں لگاسکتے ۔

(دیکھئے محمد بن حسن حر عاملی کی وسائل الشیعۃ ،ج۱۶،ص ۲۱۳ ،باب ۲۴ )

۳۔ امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :

التقیة من افضل اعمال المومن یصون بها نفسه واخوانه عن الفاجرین ۔

(دیکھئے تفسیر امام حسن عسکری ،ص ۳۲۰)

تقیہ مومن کے بہترین اعمال میں سےایک ہے جس کے ذریعے وہ فاجروں کے شر سےاپنی اور اپنے بھائیوں کی حفاظت کا سامان کرتا ہے ۔

۴۔ امام ابو جعفر الباقر علیہ السلام کا فرمان ہے :

التقیۃ من دینی و دین آبائی ۔

(دیکھئے اصول کافی ،ج۲،ص ۲۱۹ ، باب التقیۃ)

تقیہ میرے دین اور میرے آباء کے دین کا حصہ ہے ۔

۵۔ امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

اتقوا علی دینکم فاحجبوہ بالتقیۃ ۔

( دیکھئے اصول کافی ،ج۲،ص ۲۱۹ ، باب التقیۃ)

اپنے دین کے معاملے میں برحذر رہو اور تقیہ کے ذریعے اسے چھپاؤ اور بچاؤ ۔


ص۲۴

تقیہ صرف شیعوں کی امتیازی علامت کیوں بن گیا ؟

یہ ایک واضح اور تلخ حقیقت ہے کہ شیعہ بنی امیہ اور بنی عباس کے پورے دورِ اقتدار میں مشکل ترین سیاسی حالات سے دوچار رہے ۔یہ سلسلہ بارھویں امام کی غیبت کے بعد بھی جاری رہا ۔

ان صدیوں کے دوران اگر کسی شخص کو ’’زندیق ‘‘ کہا جاتا تو یہ اس کے لئے اس بات سے زیادہ سہل تھا کہ اسے ’’’شیعہ ‘‘ کہا جائے کیونکہ اس دور میں شیعیان ِاہل بیت(ع) جان و مال کی قربانی دیتے رہے ،اپنے فطری اور جائز حقوق سے محروم کیے گئے ،جلاوطنی اور تکذیب سے رو برو رہے اور ان پر گمراہ اور بدعتی ہونے کی تہمت لگائی جاتی رہی جو ان کے لئے گاہے بے رحمی کے ساتھ قتل کیے جانے سے بھی سخت تھا ۔

جب اس قسم کے نامساعد حالات کی مدت طویل ہوجائے تو ان لوگوں کے لئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ زندگی گزار نے کا ایک خاص اسلوب اپنائیں جو تقیہ کی بنیاد پر استوار ہو تاکہ جان و مال اور اولاد کی حفاظت ہوسکے ۔اس قسم کی صورتحال اس مظلوم قوم کےد رمیان تقیہ سے مربوط احادیث کی نشر و ترویج میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے ۔یوں تقیہ ان کی امتیازی خصوصیت بن جاتی ہے جو انہیں دوسروں سے ( جو مکمل طور پر نہیں تو ایک حد تک امن و سلامتی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ) الگ اور ممتاز کرتی ہے ۔

اس کے بعد مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے اور ان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے لئے بعض عناصر نے عداوت و مخاصمت کی بنیاد پر تقیہ کے مفہوم کو غلط رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ۔ اس کوشش میں یہ عناصر بھول گئے کہ تقیہ کا اصول قرآن کریم

ص۲۵

اورشریعت اسلامیہ کے مسلمہ اور بدیہی اصولوں میں سے ایک ہے جس پر قدیم و جدید ادوار کے تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔

یہ لوگ اپنی اس ذمہ داری سے بھی غافل رہے کہ انہیں ظلم و ستم کے طوفان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی کیونکہ اس ظلم کی وجہ سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ تقریبا تین صدیوں تک مسلسل تقیہ کرنے پر مجبور رہا ۔ان لوگوں نے ظلم کا مقابلہ کرنے نیز لوگوں کے حقوق اور خون کے ساتھ کھیلنے والوں کا راستہ روکنے کی بجائے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے ان مظلوم لوگوں کو کمزور کرنا شروع کیا جنہوں نے اپنی جان و مال ،دین اور عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر تقیہ کا سیاسی اسلوب اپنایا تھا ۔ شریعت مقدسہ نے اس قسم کے نامساعد حالات میں اپنے پیروکاروں کو تقیہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

مسلمانوں کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کو درپیش یہ ناگفتہ بہ اور سنگین صورتحال ان کھٹن تاریخی حالات کی آئینہ دار ہے جن میں اموی ،عباسی اور عثمانی دور حکومت میں یہ مظلوم طبقہ زندگی گزارتا رہا ۔عثمانی دور حکومت بھی اس قدیم اموی اور عباسی دور حکومت کا تسلسل تھا جس میں شیعیان علی کی ایک جماعت زندگی گزاررہی تھی ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنی ازواج سے بھی اپنے تشیع کو چھپاتے تھے ۔ ان دنوں سب سے سخت الزام یہ تھا کہ کسی پر تشیع کا الزام لگ جائے ۔


ص ۲۶

ابن ابی الحدید نے مدائنی ،نفطویہ اور امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ ایک دن معاویہ بن ابو سفیان نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ ہر اس شخص کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے جو ابو تراب اور اس کے اہل بیت کی فضیلت میں کوئی بات کرے ۔

اس کے نتیجے میں ہر علاقے کے خطیبوں نے ہر منبر سے علی علیہ السلام پر لعن و سبّ کرنے ،آپ سے اظہار برائت کرنے نیز آپ اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام پر تہمت طرازی کا سلسلہ شروع کیا ۔ان دنوں کوفہ والے سب لوگوں سے زیادہ مصیبت اور آزمائش میں مبتلا تھے کیونکہ کوفہ میں شیعیان علی کثیر تعداد میں موجود تھے ۔اسی دوران زیاد بن سمیہ کو کوفہ کا گورنر بنایا گیا اور ساتھ بصرہ کی حکومت بھی اسے سونپی گئی ۔

زیاد ہر جگہ شیعوں کا پیچھا کرتا تھا ۔ وہ انہیں خوب پہچانتا بھی تھا کیونکہ امام علی علیہ السلام کے دور حکومت میں اس کا رابطہ انہی سے تھا ۔ اس نے ہر جگہ انہیں قتل کیا یا عراق سے باہر نکال دیا ۔یوں کوفہ میں کوئی معروف شیعہ باقی نہیں رہا ۔

اسی طرح معاویہ نے ہر جگہ عاملوں کو تحریری حکم دیا کہ وہ علی اور آل علی کے شیعوں کو گواہی دینے کی اجازت نہ دیں ۔ ایک اور خط میں معاویہ نے لکھا : جس شخص کے بارے میں شہادت قائم ہوجائے کہ وہ علی اور آل علی کا محب ہے اس کا نام سرکاری دیوان سے محو کردو نیز اس کا وظیفہ اور رزق کاٹ دو ۔


ص۲۷

ایک اور تحریری حکم میں کہا : جن لوگوں پر تم نے ان ( علی و آل علی ) کے موالی ہونے کا الزام لگایا ہے انہیں عبرتناک سزائیں دو اور ان کے گھروں کو مسمار کردو ۔

یہ صورتحال امام حسن بن علی علیہ السلام کی شہادت تک باقی رہی ۔اس کے بعد آزمائش اور مصیبت میں اضافہ ہوا ۔پس علی کے طرفدار وں میں کوئی ایسا نہیں رہا جسے اپنی جان کا خوف لاحق نہ ہو یا وہ جلاوطن نہ ہو ۔ امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد حالات سنگین تر ہوگئے ۔عبد الملک کا دور اقتدار آیا تو اس نے شیعیان علی پر عرصہ حیات تنگ کردیا ۔ اس نے حجاج بن یوسف کو ان پر مسلط کیا ۔حجاج کے قریب ایسے لوگ جمع ہوگئے جو عبادت گزار ،دیندار اور نیک لگتے تھے ۔یہ لوگ علی سے بغض رکھتے تھے اور علی کے دشمنوں کو چاہتے تھے بلکہ ان لوگوں کو بھی چاہتے تھے جو علی سے دشمنی کے دعویدار تھے ۔ ان لوگوں نے علی علیہ السلام کے مقام کو گھٹانے ،آپ کی شخصیت کو داغدار کرنے ،آپ پر الزام لگانے اور آپ کے خلاف بغض و نفرت پھیلانے کے لئے خوب کام کیا ۔

یہاں تک کہ ایک شخص (جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اصمعی کا جد عبد الملک بن قریب تھا ) نے حجاج کے سامنے کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا : اے میرے امیر ! میرے گھرانے نے میری توہین کرتے ہوئے میرا نام علی رکھا ہے ۔ میں تنگ دست اور فقیر ہوں۔ میں امیر کے عطیے کا محتاج ہوں ۔یہ سن کر حجاج ہنسا اور بولا : تونے جس لطیف طریقے سے سوال کیا ہے اس کی پاداش میں تجھے فلاں علاقے کی امارت سونپتا ہوں ۔

(دیکھئے شرح نہج البلاغہ ،ج۱۱،ص ۴۴ ۔ ۴۶ )


ص۲۸

عباسیوں کے دور میں شیعوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ امویوں کے طرزِ عمل سے کچھ کم نہ تھا ۔ ابن سکیت کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ وہ متوکل کے دور کا زبردست ادیب تھا ۔ خلیفہ نے اسے اپنے دوبیٹوں کا اتالیق مقرر کیا تھا ۔ ایک دن خلیفہ نے اس سے پوچھا : تم ان دونوں کو زیادہ چاہتے ہو یا حسن اور حسین کو ؟

ابن سکیت نے کہا : اللہ کی قسم علی کا خادم قنبر تجھ سے اور تیرے دونوں بیٹوں سے بہتر ہے ۔متوکل نے کہا : اس کی زبان گدی سے کھینچ لو ۔ اس حکم پر عملدرآمد ہوا جس کے باعث ابن سکیت کی شہادت واقع ہوئی ۔

جب ایک قوم صدیوں تک اس طرح کی مظلومانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے تو قدرتی طور پر وہ ایک ایسی حکمت عملی اور ایک ایسا درمیانہ راستہ اختیار کرے گی جس کے طفیل نہ وہ دشمن کے آگے سر تسلیم خم اور مغلوب ہو ، نہ فنا و بربادی سے دوچار ہو۔ بنابریں وہ ایک طرف سے ظلم اور انحراف کو رد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوگی اور دوسری طرف سے اپنے آپ کو زوال ،فنا اور بربادی سے بچائے رکھے گی ۔در اصل تقیہ کا فلسفہ یہی ہے ۔

ان عرائض کی روشنی میں ابن تیمیہ کا یہ قول نامناسب اور بے بنیاد ثابت ہوتا ہے کہ ’’تقیہ جھوٹ اور نفاق سے عبارت ہے ‘‘۔

(منہاج السنۃ ،ج۱،ص ۶۸ ، تحقیق ڈاکٹر محمد رشاد سالم )

اسے نہ عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی قرآن و سنت کی صریح تعلیمات اس کی تائید کرتی ہیں ۔


ص۲۹

جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں نہ صرف قرآن کریم نے تقیہ کا حکم دیا ہے بلکہ سنت نبوی نے بھی اس کی تائید کی ہے اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین نے اس پر عمل کیا ہے ۔علاوہ ازیں سنی فقہ کی تفصیلی کتابوں کے مختلف ابواب تقیہ کے ذکر سے لبریز ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ ہوچکا ہے ۔

یہاں یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ابتدائی صدیوں کے دوران شیعیان اہل بیت کے طرزِ حیات پر صرف تقیہ کا رنگ غالب نہیں رہا بلکہ انہوں نے اپنی انقلابی روح کو بھی زندہ رکھا ۔تاریخ اسلام کے صفحات ان لوگوں کی انقلابی جد و جہد کے دلنشین تذکروں سے لبریز ہیں ۔ اس انقلابی جذبے کے ذریعے انہوں نے سیاسی ،سرکاری اور اقتصادی سطح پر ظلم اور کرپشن نیز ظالم حکمرانوں کے دینی انحراف کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

جی ہاں شیعہ دینِ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر مانتے ہیں جس سے انحراف برتنے یا اسے چھوڑ کر کسی اور نظام کو ماننے کی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی پاکیزہ مقصد کی راہ میں شیعیان اہل بیت نے اپنا سب کچھ قربان کیا نیزاسی پاکیزہ مقصد کی خاطر کائنات کی سب سے قیمتی جانوں کی قربانی پیش کی گئی ۔

اسی مقصد کی تکمیل اور دین اسلام کو بربادی سے بچانے کے لئے حسین بن علی علیہما السلام نے قیام کیاکیونکہ بنی امیہ اسلام اور مسلمانوں کی تقدیر سے کھیل رہے تھے ۔ اموی حکام اسلام اور اس کی عظیم تعلیمات کاکام تمام کرنا چاہتے تھے ۔قیام امام حسین کے بعد اسلامی انقلابات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

ان سب انقلابی تحریکوں کا مقصد دین اسلام کی حفاظت سے عبارت تھا ۔ ان کوششوں کے باعث شیعہ ایک عظیم جہادی قافلے کی شکل اختیار کر گئے جو اپنا سب کچھ اسلام کی راہ میں نچھاور کرتا رہا۔ اگر شیعوں کے دلوں میں نفاق کا اثر و نفوذ ہوتا ( تقیہ نفاق ہوتا ) تو ان کے لئے اس قدر قتلگاہیں نہ سجتیں ۔ اگر شیعیان اہل بیت اپنے دین کے معاملے میں سودابازی اور نفاق سے کام لیتے تو حکمرانوں کی تلواریں اور ان کے تازیانے شیعوں کا کوئی بال بیکا نہ کرتے ۔اس کے برخلاف اپنے عقائد اور ایمان کی تصریح کے باعث شیعیان اہل بیت تلوار کی ضربت کھانے کو دھوکہ و فریب اور ریاکاری پر ترجیح دیتے تھے جبکہ دوسرے لوگ ظالم حکمرانوں اور ضلالت کےعلمبرداروں کی خواہش کے مطابق اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے ۔


ص ۳۰

تقیہ کی قسام

ان مباحث کے بعد اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تقیہ کی اقسام اور ہر قسم کے بارے میں فقہاء کے اقوال کا خلاصہ پیش کیا جائے ۔ یاد رہے کہ مختلف زاویوں اور بنیادوں کے مطابق تقیہ کی متعدد تقسیمات عمل میں آئی ہیں بطور مثال :

الف ۔ جس شخص سے تقیہ کیا جاتا ہے اس کے زاوئے سے تقیہ کی دو قسمیں بنتی ہیں :

کافر سے تقیہ اور مسلمان سے تقیہ ۔

ب ۔ عمل کے زاوئے سے تقیہ کی تین قسمیں بنتی ہیں :

عبادت میں تقیہ ، فتوی میں تقیہ اور سیاسی میدان میں تقیہ ۔

ج ۔ احکام خمسہ کے زاوئے سے تقیہ کی یہ اقسام ہیں :

جائز تقیہ ، واجب تقیہ اور حرام تقیہ ۔

۱۔ کافر سے تقیہ :

اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔قرآن کریم نے کافر سے تقیہ کرنے کے بارے میں دو جگہوں پر گفتگو کی ہے جیسا کہ گزرچکا ۔

۲۔ مسلمانوں سے تقیہ :

علمائے اسلام کے درمیان اس بارے میں بحث و اختلاف پایا جاتا ہے ۔بعض علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں جبکہ بعض جائز نہیں سمجھتے ۔ جو حضرات اسے جائز نہیں سمجھتے وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن نے مسلمانوں کو مشرکوں سے تقیہ کرنے کی اجازت دی ہے لیکن دوسروں سے تقیہ کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔

علمائے امامیہ اور بعض سنی فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے ۔ان کی دلیل قرآن کی سابق الذکر دو آیتیں ہیں ۔ یہ دو آیتیں اگرچہ مشرک سے تقیہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لیکن علم اصول الفقہ کے ماہرین کے ہاں یہ ایک طے شدہ قاعدہ ہے کہ مورد کا خاص ہونا وارد(نازل شدہ بیان یا حکم) کے دائرے کو خاص اور محدود نہیں بناتا ۔ ادھر علمائے تفسیر کے ہاں مسلمہ قاعدہ ہے کہ معیار الفاظ کے مفہوم کی عمومیت ہے نہ کہ سبب کا خاص ہونا ۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کیا قرآن نے مذکورہ دو نوں آیتوں میں مسلمانوں کے حال کو معیار قرار دیا ہے یا مشرک کے حال کو ؟

اگر تقیہ کا معیار مشرک ہوتو اس صورت میں صرف مشرک سے تقیہ کرنا جائز ہوگا اور مسلمان سےتقیہ کرنا جائز نہیں ہوگا ۔لیکن اگر قرآن کی نظر میں مسلمان کا حال معیار ہو ( اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تقیہ کا حکم مسلمان کی حفاظت کے لئے نازل ہوا ہے ) تو اس صورت میں ہر ظالم سے تقیہ کرنا جائز ہوگا خواہ وہ ظالم مسلمان ہو یا کافر ۔


ص۳۱

قرآن کریم کی آیتوں کے مطالعے سے دوسرے معنی کا درست ہونا ظاہر اور واضح ہے کیونکہ تقیہ کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ دشمنوں کے شر اور خطرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جائے ۔ یہ معیار یا سبب مسلمانوں سے تقیہ کرنے میں بھی موجود ہے اور کافر سے تقیہ کرنے میں بھی ۔

اہل سنت کے ایک جید عالم نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :

چوتھا حکم : آیت سے یہ ظاہر ہے کہ صرف مقتدر کافروں سے تقیہ کرنا جائز ہے لیکن شافعی کا یہ نظریہ ہے

(دیکھئے التفسیر الکبیر ،ج۱،ص ۲۰ ، ۱۲۰ )

کہ جب مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی صورتحال ہو جس قسم کی صوررتحال مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ہوتی ہے تو جان کی حفاظت کی خاطر تقیہ جائز ہے ۔

علاوہ ازیں تقیہ تمام عقلائے عالم کی روش ہے اور اسے کسی خاص قسم کے ظالم سے مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ۔ مسلمان سے مسلمان کے تقیہ کرنے کے بارے میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی وجہ شاید جذبات اور عواطف و احساسات سے مربوط ہو کیونکہ مکتب خلفاء کی نظر میں اموی اور عباسی حکومتیں شریعت کے مطابق تھیں نیز ان کی نظر میں ہر نیک یا فاجر حکمران یا امیر کی اطاعت واجب ہے ۔اس لیے قدرتی بات ہے کہ مکتبِ خلفا اموی اور عباسی حکومتوں کی مخالفت پر مبنی کاموں کوغیر شرعی قرار دے ۔

بنابریں شیعوں کا تقیہ آمیز طرزِ عمل اس زاویے سے ان کی نظر میں غیر شرعی ٹھہرے گا ۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمان کا مسلمان سے تقیہ کرنا (ان کی نظر میں ) اصولی طور پر غیر شرعی ہو۔

اس احتمال کی صورت میں ہماری گفتگو تقیہ ،اس کے دلائل اور اس کی اقسام کے دائرے سے خارج ہوگی ۔

اگر یہ بات نہ ہوتو تقیہ عقلائے عالم کے ہاں مرسوم منطقی طریقہ عمل ہے ۔مکتب خلفاء کی بہت سی اہم شخصیات نے اس پر عمل کیا ہے ۔ (جیسا کہ آپ جان چکے ہیں ) چنانچہ جناب ابو ہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ سے دو قسم کی باتیں یاد کی ہیں ۔ان میں سے ایک کو میں نے لوگوں کے درمیان پھیلایا ہے ۔دوسری قسم وہ ہے جسے میں لوگوں کے درمیان پھیلاؤں تو میرا یہ حلقوم کاٹ لیا جائے گا ۔

(دیکھیے صحیح بخاری ،ج۱،ص ۴۱، باب حفظ العلم ،کتاب العلم ،نیز قاسمی کی محاسن التأویل ،ج۴،ص ۸۲ ،مطبوعہ مصر )

کیا یہ مسلمان سے مسلمان کا تقیہ نہیں ہے ؟ اس کے علاوہ دسیوں دیگر مثالوں (جن میں سے بعض کا ذکر ہوچکا ) کا تعلق تقیہ کی اسی قسم سے ہے ۔


ص۳۲

۳۔ عبادت میں تقیہ

اس سے مراد یہ ہے کہ مخالفین کے طریقے کے مطابق عبادت کی جائے جو تقیہ کرنے والے مسلمان کی نظر میں اس کے اپنے مذہب اور حق کے برخلاف ہو تاکہ اس پر ظلم کا خطرہ ٹل جائے یا دیگر اسلامی مذاہب کے ساتھ مدارات اور خیر سگالی کا ثبوت دیا جائے ۔

اس بارے میں امام خمینی ؒ فرماتے ہیں : گاہے تقیہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ اسلام کی مرکزیت کو درپیش کسی متوقع خطرے کو دور کیا جاسکے مثلا ً اس بات کا خطرہ ہو کہ اگر تقیہ نہ کیا جائے تو مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقع ہوگا یا یہ خطرہ ہو کہ مسلمانوں کے افتراق کے باعث اسلام کی مرکزیت کو کوئی اور خطرہ لاحق ہو گا وغیرہ ۔ مدارات ،خیر سگالی اور دلجوئی کے لئے تقیہ کرنے مراد یہ ہے کہ مخالفین سے اظہار محبت اور ان کی مودت حاصل کرنے کے ذریعے افتراق کو اتفاق میں تبدیل کیا جائے اور اس تقیہ کا اصل مقصد بھی یہی ہو اور کوئی خوف بھی لاحق نہ ہو ۔

(دیکھئے الرسائل ،ص ۱۷۴)

مروی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے ہشام بن حکم سے فرمایا : ان لوگوں (غیر شیعہ مسلمانوں ) کے قبیلوں میں نماز پڑھو ،ان کے مریضوں کی عیادت کرو اور ن کے جنازوں میں شرکت کرو اللہ کی قسم خدا کی کوئی ایسی عبادت نہیں کی گئی جو اسے خباء سے زیادہ پسند ہو ۔

امام سے سوال ہوا کہ ’’ خباء ‘‘کیا ہے ؟

فرمایا : تقیہ ۔

(دیکھئے وسائل الشیعہ ،کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر ،باب ۲۶ ، حدیث ۲ )

ص۳۳

۴ ۔ فتوی میں تقیہ

اس سے مراد یہ ہے کہ فقیہ کسی مسئلے میں ایسا فتوی دے جو اس کی نظر میں درست نہ ہو ۔

مختلف حالات اور تقاضوں کے مطابق اس تقیے کی صورتیں بھی مختلف ہوسکتی ہیں ۔ فتوی میں تقیہ گاہے حرام ہے ،گاہے جائز اور گاہے واجب ۔

سید حسن بجنوردی کہتے ہیں : اس قسم کی صورتحال میں ہر طریقے سے فتوی دینے سے احتراز ،فرار اور گلو خلاصی ضروری ہے ۔اگر فتوی جانوں کے ضیاع یا عزت و ناموس کی پامالی کا موجب ہوتو بھی یہی حکم ہے ۔

پہلی صورت میں فقیہ کے لئے فتوی دینا جائز نہیں ہے اگرچہ فتوی نہ دینا خود کے لیے ہلاکت یا قتل کا موجب ہو ۔

رہے ائمہ معصومین علیہم السلام تو اگر چہ انہوں نے بعض اوقات بنیادی حکم واقعی کے برخلاف فتوی دیا ہے لیکن وہ بعد میں متعلقہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ وہ فتوی حقیقت کے برخلاف تھا اور اس کی وجہ یا تو امام کی اپنی جان کی حفاظت تھی یا استفتاء کرنے والے کی جان کی حفاظت

خلاصہ یہ کہ تقیہ کی خاطر خدا کے نازل کردہ حکم کے برخلاف فتوی دینے کا جواز مشکل ہے ۔لوگوں کے درمیان فتوی دینے والے کی اور اس کی رائے

کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کے حساب سے اس کے فتوے کی نوعیت بہت مختلف ہوتی ہے ۔ (دیکھئے القواعد الفقیہہ ،ج ۵ ،ص ۶۸ )

ص۳۴

۵ ۔ سیاسی امور میں تقیہ

یہ ایک واضح مسئلہ ہے اور تقیہ کے اکثر موارد کا تعلق اسی سے ہے ۔ واضح ہوچکا ہے کہ تقیہ ہمیشہ جائز نہیں اور ہر وقت واجب بھی نہیں ہے بلکہ بعض حالات میں حرام ہے ۔ امام خمینی ؒ حرام تقیہ کے بارے میں فرماتے ہیں :

ان میں سے بعض محرمات اور واجبات ایسی ہیں جو شریعت اور اس کے پیروکاروں کی نظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہیں مثلا ً کعبے اور مقدس مقامات

( زیارگاہوں ) کو مسمار کرنا نیز اسلام اور قرآن کی تردید اور ایسی تفسیر جو مذہب کو فاسد کرے اور الحاد کے مطابق ہو

انہی میں سے ایک ہے کہ تقیہ کرنے والا لوگوں کی نظر میں اہمیت اور مقام و مرتبے کا حامل ہو جس کے باعث اگر وہ بطور تقیہ کسی حرام کا ارتکاب کرے یا کسی واجب کو چھوڑ دے تو یہ مذہب کی تضعیف اور اس کی بے حرمتی کا موجب ہو

تقیہ کے عدم جواز کا مذکورہ تمام موارد سے زیادہ اہم مورد یہ ہے کہ تقیہ سے اسلام یا مذہب (حقہ) کے کسی بنیادی اصول یا دین کے مسلمہ امور میں سے کسی امر کو زوال ،بربادی یا تبدیلی کا خطرہ لاحق ہو ۔اس کی مثال یہ ہے کہ سرکش اور منحرف عناصر

ارث اور طلاق وغیرہ کے احکام کو تبدیل کرنے کا ارادہ کریں ۔

(ملاحظہ ہوالرسائل ،ص۱۷۷۔۱۷۶)


ص۳۵

علامہ مظفر رقمطراز ہیں : جن موارد میں ضرر کا خطرہ لاحق ہو ان کے مختلف ہونے کے حساب سے تقیہ کے واجب اور غیر واجب احکام کی مختلف صورتیں ہوں گی ۔ یہ احکام علامء کی فقہی کتابوں کے ابواب میں مذکور ہیں ۔تقیہ ہر جگہ واجب نہیں بلکہ یہ گاہے جائز ہے اور بعض اوقات اس کے برخلاف عمل کرنا واجب ہے مثلا اس وقت جب حق کو ظاہر کرنا اور اس پر اعلانیہ عمل کرنا دین کی نصرت ،اسلام کی خدمت اور راہ خدا میں جہاد محسوب ہو ۔اس صورت میں جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔

(ملاحظہ ہو عقائد الامامیۃ،ص۸۵)


ص۳۶

خلاصہ کلام

تقیہ اسلام کا ایک کلی قانون ہے ۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کا حکم بیان فرمایا ہے ۔

سنت شریفہ کے واضح بیانات اس پر دلالت کرتے ہیں ۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی متعدد روایات بھی تقیہ کے جواز کی دلیل ہیں ۔

اصحاب نبی اور بڑی بڑی شخصیات نے اس پر عمل کیا ہے اور شیعہ و سنی فقہاء نے متعدد موارد میں تقیہ کرنے کا فتوی دیا ہے ۔

تقیہ وہ لافانی اصول ہے جو قیامت تک باقی رہے گا جیساکہ رازی نے اپنی تفسیر میں اس کی تصریح کی ہے ۔

تقیہ وہ اٹل حقیقت ہے جس کے انکار کی کسی صورت گنجائش نہیں ۔

والحمد للہ :

۲۲/۱۲/۲۰۱۷

کمپوزنگ : ۲۳/۱۲/۲۰۱۷

بازنگری : ۲۳۔۱۲۔۲۰۱۷