یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب:ہدیہ مبلّغین
مصنف:مولانا صابر علی بخاری
انتساب
عالم جوانی میں ندائے حق پر لبیک کہنے والے نیک سیرت شاگرد سید مظاہر عباس نقوی کے نام
بسم الله الرحمٰن الرّحیم
حرف اوّل
الحمد لله ربّ العالمین وصلّی الله علٰی محمّد وآله الطاهرین ولعنة الله علٰی أعدائهم أجمعین الی یوم الدین
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں جب رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو فرمایا : اے علی! اگر خداوند متعال تمہارے وسیلہ سے ایک شخص کو بھی نجات دید ے تو تمہارے لئے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے( ۱ ) .
اس میں شک نہیں ہے کہ تبلیغ دین ایک انتہائی مشکل امر ہے جسے علماء کرام ،انبیاء علیہم السلام کی نیابت میں انجام دے رہے ہیں بندہ حقیر کی بھی گذشتہ سالوں سے یہ تمنّا تھی کہ ہر سال ماہ رمضان المبارک اور محرم الحرام کی مناسبت سے تقاریر پر مشتمل ایک مجموعہ شائع کیا جائے جس کے ذریعہ مبلّغین کرام کی خدمت کرکے کسی حدّ تک اس نیک امر میں شریک ہوسکوں.جو میرے گذشتہ گناہوں کے لئے بخشش ا ور توشہ آخرت قرار پائے
زیر نظر کتاب ماہ مبارک رمضان کی مناسبتوں پرمشتمل دروس کا مجموعہ ہے جس میں قرآن کریم کی آیات اور روایات معصومین علیہم السلام سے استفادہ کیا گیاہے.
خدا کرے میں اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاؤں اور میری دیرینہ تمنّا پوری ہوجائے ، اس کے علاوہ جب علماء کرام اس مجموعہ سے لوگوں کی ہدایت کے لئے استفادہ کریں گے تو میرے لئے مزید مسرّت و نجات کا باعث ہوگا .آخر میں میں اپنے محسن حجة الاسلام مولانا صابرعلی بخاری پرنسپل جامعہ زینب سلام اللہ علیھا شعیب گارڈن لاہور کا انتہائی شگر گذار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تالیف اور اسے منظر عام پر لانے میں مادی و معنوی طور پرمیری مدد فرمائی .خدا وند متعال ان کی توفیقات میں اضافہ اور ان کے قلم میں برکت عنائت فرمائے
و آخر دعوانا أن الحمد لله ربّ العالمین
والسّلام علی من اتّبع الهدٰی
خادم العلماء والطلاّب ناظم حسین اکبر
ابو طالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور پاکستان
٢٢ رجب المرجب ١٤٣٠ھ
پہلا درس
ماہ رمضان کی فضیلت
( یا أیّها الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون ) ( ۲ )
ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.
رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور باعظمت مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل ہوتی رہتی ہے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے ہوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا ہے.اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا ہے. اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت ہے جو خدا وند متعال نے انسان کو دی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیںایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الھی ہے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آکر اپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیںجو پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہو چکے ہیں
عزیزان گرامی ! اس مہینہ اور اس کی ان پر برکت گھڑیوںکی قدر جانیں اور ان سے خوب فائدہ اٹھائیں اس لئے کہ نہیں معلوم کہ اگلے سال یہ موقع اور یہ بابرکت مہینہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو
ماہ مبارک عبادت و بندگی کا مہینہ ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :قال الله تبارک و تعالٰی : یا عبادی الصّدیقین تنعموا بعبادتی فی الدّنیا فانّکم تتنعّمون بها فی الآخرة ( ۳ )
خدا وند متعال فرماتا ہے: اے میرے سچے بندو ! دنیا میں میری عبادت کی نعمت سے فائدہ اٹھاؤ تاکہ اس کے سبب آخرت کی نعمتوں کو پا سکو
یعنی اگر آخرت کی بے بہا نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر دنیا میں میری نعمتوں کو بجا لاؤں اس لئے کہ اگر تم دنیا میں میری نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے تو میں تمہیں آخرت کی نعمتوں سے محروم کر دوں گا .اور اگر تم نے دنیا میں میری نعمتوں کی قدر کی تو پھر روز قیامت میں تمھارے لئے اپنی نعمتوں کی بارش کردوں گا
انہیں دنیاکی نعمتوں میں سے ایک ماہ مبارک اور اس کے روزے ہیں کہ اگر حکم پرور دگار پر لبیک کہتے ہوئے روزہ رکھا ، بھوک و پیاس کو تحمل کیا تو جب جنّت میں داخل ہو گے توآواز قدرت آئے گی:
( کلوا و اشربوا هنیئا بما أسلفتم فی الأیّام الخالیة ) ( ۴ )
ترجمہ: اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گذشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے
ماہ مبارک کے روز و شب انسان کے لئے نعمت پروردگار ہیں جن کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہئے لیکن سوال یہ پیدا پوتا ہے کہ ان بابرکت اوقات اور اس زندگی کی نعمت کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے ، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
من قال أربع مرّات اذا أصبح ، ألحمد لله ربّ العالمین فقد أدّٰی شکر یومه و من قالها اذا أمسٰی فقد أدّٰی شکر لیلته ( ۵ )
جس شخص نے صبح اٹھتے وقت چار بار کہا :الحمد لله ربّ العالمین اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جس نے شام کو کہا اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا
کتنا آسان طریقہ بتادیا امام علیہ السلام نے اور پھر اس مہینہ میں تو ہر عمل دس
برابر فضیلت رکھتا ہے ایک آیت کا ثواب دس کے برابر ، ایک نیکی کا ثواب دس برابر،امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہیں :
من قرء فی شهر رمضان آیة من کتاب الله کان کمن ختم القرآن فی غیره من الشّهور ( ۶ )
جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑھے تو اس کااجر اتنا ہی ہے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا ہے
کسی شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا :
یا رسول الله ! ثواب رجب أبلغ أم ثواب شهر رمضان ؟ فقال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : لیس علی ثواب رمضان قیاس ( ۷ )
یا رسول اللہ! رجب کا ثواب زیادہ ہے یا ماہ رمضان کا؟ تو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیںکیا جا سکتا.گویا خدا وند متعال بہانہ طلب کر رہا ہے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آکر جھکے تو سہی کسی طرح آکر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں
رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں :
انّ شهر رمضان ، شهر عظیم یضاعف الله فیه الحسنات و یمحو فیه السیئات و یرفع فیه الدرجات ( ۸ )
ماہ مبارک عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند متعال نیکیوںکو دو برابرکر دیتا ہے. گناہوں کو مٹادیتا اور درجات کوبلند کرتا ہے.
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :اذا أسلم شهر رمضان سلّمت السّنة ورأس السّنة شهر رمضان ( ۹ )
اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رہے تو پورا سال صحیح و سالم رہے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا ہے .اب یہ حدیث مطلق ہے جسم کی سلامتی کو بھی شامل ہے اور اسی طرح روح کی بھی یعنی اگر کوئی شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خدا وند متعال کی مدد اس کے شامل حال ہوگی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گانہوں سے محفوظ رکھے گا اسی لئے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ ہے تہذیب نفس کا مہینہ ہے اس ما ہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا ہے
اور اگر وہ پورے مہنیہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا ہے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کرپائے گا
عزیزان گرامی ! جو نیکی کرنی ہے وہ اس مہینہ میںکر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں .مولائے کائنات امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لئے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن ہے جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن ہے زندہ رہے، ممکن ہے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا ہے اور وہ آج کا دن ہے جو کچھ بجا لانا چاہتا ہے اس دن میں بجا لا.اگر کسی غریب کی مدد کرنا ہے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا ہے تو آج کے دن میں کھلا لے ، اگر کسی کو صدقہ دینا ہے توآج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کاواسطہ دے کر توبہ کرلے، اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میںسرجھکا لے خدارحیم ہے تیری توبہ قبول کر لے گا اس لئے کہ اس نے خود فرمایا ہے :( أدعونی أستجب لکم ) ( ۱۰ )
اے میرے بندے مجھے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا .عزیزان گرامی! یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے بخشش کامہینہ ہے. اور پھر خود رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
انّما سمّی رمضان لأنّه یرمض الذّنوب ( ۱۱ )
رمضا ن المبارک کو رمضان اس لئے کہا جاتاہے چونکہ وہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے .آئیں مل کر دعاکریں کہ اے پالنے والے تجھے اس مقدس مہینہ کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ما ہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب واصلاح اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرماجس طرح تو چاہتا ہے اس لئے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے. آمین
دوسرادرس
ماہ رمضان کی فضیلت (٢)
( یا أیّهاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون ) ( ۱۲ ) .
ترجمہ: اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.
عزیزان گرامی! ہماری گفتگو کا موضوع ماہ مبارک رمضان کی فضیلت تھا جس کے بارے میں گذشتہ درس میں کسی حدّ تک بیان کیا گیا اور آج بھی اسی موضوع پر گفتگو جاری رہے گی تو کل ہم نے عرض کیا کہ یہ مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے اس مہینہ کا نام رمضان اسی لئے رکھا گیا کہ اس میں روزہ دار کے گناہوں کو مٹا کر اسے کمال کی سعادت سے فیضیاب کیا جاتا ہے اس ماہ کے دن ورات کی قدر کریں. رسولخداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
أیهاالنّاس قد أقبل الیکم شهر الله شهر هو عند الله أفضل الشهور و أیّامه أفضل الأیّام و لیالیه أفضل اللّیالی و ساعاته افضل السّاعات ( ۱۳ )
اے لوگو! خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا ہے .وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا ہے ، جس کے دن بہترین دن ، جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیں
اور پھر اس ماہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :أنفاسکم فیه تسبیح و نومکم فیه عبادة ( ۱۴ )
اس ماہ میں تمھارا سانس لینا تسبیح اور تمھارا سونا عبادت شمار ہوتا ہے اس سے بڑھکر عزیزان گرامی اس ذات ذوالجلال کا اپنے بندوں پر کیا لطف و کرم ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی عمل بھی نہیںکررہا مگر وہ خدا اس قدر رؤوف ہے اپنے بندوں پر کہ انہیں اجر پہ اجر دیتا جارہا
امام صادق علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کونصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اذا دخل شهر رمضان ، فاجهدوا أنفسکم فانّ فیه تقسیم الأرزاق و تکتب الآجال و فیه یکتب وفد الله الّذین یفدون الیه و فیه لیلة العمل فیها خیر من العمل فی ألف شهر ( ۱۵ )
جب ماہ مبارک آجائے تو سعی وکوشش کرو اس لئے کہ اس ماہ میں رزق تقسیم ہوتا ہے تقدیر لکھی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں جو حج سے شرفیاب ہونگے .اور اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے کہ جس میں عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقدس مہینہ کے بارے میںفرماتے ہیں :أنّ شهرکم هذا لیس کالشّهور ، أنّه اذا أقبل الیکم أقبل بالبرکة و الرّحمة، و اذا أدبر عنکم أدبر بغفران الذّنوب ، هذا شهر الحسنات فیه مضاعفة ، و اعمال الخیر فیه مقبولة ( ۱۶ )
یہ مہینہ عام مہینوں کے مانند نہیں ہے.جب یہ مہینہ آتا ہے تو برکت ورحمت لیکرآتا ہے اور جب جاتا ہے تو گناہوں کی بخشش کے ساتھ جاتا ہے ، اس ماہ میں نیکیاں دو برابر ہوجاتی ہیں اور نیک اعمال قبول ہوتے ہیں .یعنی اسکا آنا بھی مبارک ہے اور اس کا جانا بھی مبارک بلکہ یہ مہینہ پورے کا پورا مبارک ہے لہذا اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں،کوئی لمحہ ایسا نہ ہو جو ذکر خدا سے خالی ہو اور یہی ہمارے آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی سیرت ہے .امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے :
کان علی بن الحسین علیه السلام اذا کان شهر رمضان لم یتکلّم الّا بالدّعا و التّسبیح والاستغفار والتکبیر ( ۱۷ ) .
جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان پر دعا، تسبیح ،استغفار اور تکبیر کے سوا کچھ جاری نہ ہوتا
عزیزان گرامی!وہ خداکتنا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی بخشش کے لئے ملائکہ کوحکم دیتا ہے کہ اس ماہ میں شیطان کو رسیوں سے جکڑدیںتا کہ کوئی مومن اس کے وسوسہ کا شکار ہوکر اس ماہ کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائے لیکن اگر اسکے بعد بھی کوئی انسان اس ماہ مبارک میں گناہ کرے اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ کرسکے تو اس سے بڑھکر کوئی بدبخت نہیں ہے.رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:قد وکّل الله بکلّ شیطان مرید سبعة من الملائکة فلیس بمحلول حتّیٰ ینقضی شهرکم هذا ( ۱۸ )
خدا وند متعال نے ہر فریب دینے والے شیطان پر سات فرشتوںکو مقرر کر رکھا ہے تاکہ وہ تمہیں فریب نہ دے سکے، یہاں تک کہ ماہ مبارک ختم ہو
کتنا کریم ہے وہ ربّ کہ اس مہینہ کی عظمت کی خاطر اتنا کچھ اہتمام کیا جارہا ، اب اس کے بعد چاہئے تو یہ کہ کوئی مومن شیطان رجیم کے دھوکہ میں نہ آئے اور کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو گناہ سے بچائے رکھے اور نافرمانی خدا سے محفوظ رہے ورنہ غضب خدا کا مستحق قرار پائے گا اسی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :من أدرک شهر رمضان فلم یغفرله فأبعده الله ( ۱۹ ) جوشخص ماہ رمضان المبارک کو پائے مگر بخشا نہ جائے تو خدا اسے راندہ درگاہ کردیتاہے
اس میں کوئی ظلم بھی نہیں اس لئے کہ ایک شخص کے لئے آپ تمام امکانات فراہم کریں اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود وہ آپکی امید پر پورا نہ اترے تو واضح ہے کہ آپ اس سے کیا برتاؤ کریں گے.
عزیزان گرامی!اس مبارک مہینہ سے خوب فائدہ اٹھائیں اسلئے کہ نہیں معلوم کہ آئندہ سال یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو ؟تا کہ جب یہ ماہ انتھاء کو پہنچے تو ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہ گیا ہو جب رمضان المبارک کے آخری ایّام آتے تورسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعافرمایا کرتے:اللّهمّ لاتجعله آخر العهد من صیامی شهر رمضان ، فان جعلته فاجعلنی مرحوما ولا تجعلنی محروما ( ۲۰ )
خدایا! اس ماہ رمضان کو میرے روزوں کا آخری مہینہ قرار نہ دے ، پس اگر یہ میرا آخری مہینہ ہے تو مجھے اپنی رحمت سے نواز دے اور اس سے محروم نہ رکھ.
آئیں ہم سب بھی مل کر یہی دعا کریں کہ اے پالنے والے ہمیں اگلے سال بھی اس مقدس مہینہ کی برکتیں نصیب کرنا لیکن اگر تو اپنی رضا سے ہمیں اپنے پاس بلا لے توایسے عالم میں اس دنیا سے جائیں کہ تو ہم راضی ہو اور ہمارے امام ہم سے خوشنود
تیسرا درس
روزے کا فلسفہ
( یاأیّهاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون ) ( ۲۱ ) .
ترجمہ: اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے تاکہ شاید اس طرح تم متّقی بن جاؤ.
عزیزان گرامی!جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ خداوند متعال نے روزے کا فلسفہ تقوٰی کو قرار دیاہے یعنی روزہ تم پر اس لئے واجب قرار دیا تا کہ تم متقی بن سکو، پرہیز گار بن سکو.اور پھر روایات میں اسے روح ایمان کہا گیا .امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
من أفطر یوما من شهر رمضان خرج روح الایمان منه ( ۲۲ )
جس شخص نے ماہ رمضان میں ایک دن روزہ نہ رکھا اس سے روح ایمان نکل گئی
یعنی روزے کی اہمیت اور اس کے فلسفہ کا پتہ اسی فرمان سے چل جاتا ہے کہ
روزے کے واجب قرار دینے کا مقصد ایمان کو بچانا ہے اوراسی ایمان کو بچانے والی طاقت کا دوسرا نام تقوٰی ہے جسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ١٨٣ میں روزے کا فلسفہ بیان کیا گیا.
تو یہ تقوٰی کیا ہے جسے پروردگار عالم نے روزے کا فلسفہ اور اس کا مقصد قرار دیا ہے ؟ روایات میں تقوٰی کی تعریف میں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں :
١۔ اطاعت پروردگار
٢۔ گناہوں سے اجتناب
٣۔ ترک دنی
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
علیک بتقوی الله فانّه رأس الأمر کلّه
تمہارے لئے تقوٰی ضروری ہے اس لئے کہ ہر کام کا سرمایہ یہی تقوٰی ہے
حقیقت یہ ہے کہ ایسا روزہ جو انسان کو گناہوں سے نہ بچاسکے اسے بھوک و پیاس کا نام تو دیا جاسکتا ہے مگر روزہ نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ روزہ کا مقصد اور اس کا جو فلسفہ ہے اگر وہ حاصل نہ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ جس روزہ کا حکم دیا گیا تھا ہم نے وہ نہیں رکھا ، بلکہ یہ ہماری اپنی مرضی کا روزہ ہے جبکہ خدا ایسی عبادت کو پسند ہی نہیں کرتا جو انسان خداکی اطاعت کے بجائے اپنی مرضی سے بجا لائے ورنہ شیطان کو بارگاہ ربّ العزّت سے نکالے جانے کا کوئی جواز ہی رہتا چونکہ اس نے عبادت سے تو انکار نہیں کیا تھا .حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :قلت یا رسول الله ! ما افضل الأعمال فی هذا الشهر ؟ فقال یا ابا الحسن أفضل الأعمال فی هذا الشّهر ، ألورع من محارم الله عزّوجلّ. ( ۲۳ )
امیرالمؤمنین علیہ السّلام فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !اس مہینہ میں کونسا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : اے ابوالحسن ! اس ماہ میں افضل ترین عمل گناہوں سے پرہیز یعنی تقوٰی الھی ہے.
نیز مولائے کائنات فرماتے ہیں:
علیکم فی شهر رمضان بکثرة الاستغفار و الدّعا فأمّا الدّعا فیدفع به عنکم البلاء و أمّا الاستغفار فیمحٰی ذنوبکم ( ۲۴ )
ماہ رمضان میں کثرت کے ساتھ دعا اور استغفار کرو اس لئے کہ دعا تم سے بلاؤں کو دور کرتی ہے اور استغفار تمھارے گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتا ہے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:من صام شهر رمضان فاجتنب فیه الحرام والبهتان رضی الله عنه و أوجب له الجنان) )( ۲۵ )
جو شخص ماہ رمضان کاروزہ رکھے اور حرام کاموں اوربہتان سے بچے تو خدا اس سے راضی اور اس پر جنّت کو واجب کردیتا ہے
اور پهر ایک دوسری روایت میں فرمایا : انّ الجنّة مشتاقة الی أربعة نفر : ١ الی مطعم الجیعان ٢ وحافظ اللّسان. ٣ و تالی القرآن ٤ وصائم شهر رمضان
جنّت چار لوگوں کی مشتاق ہے:
١۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے والے
٢۔ اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے
٣۔ قرآن کی تلاوت کرنے والے
٤۔ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والے( ۲۶ )
روزے کا فلسفہ یہی ہے کہ انسان حرام کاموں سے بچے اور کمال حقیقی کی راہوں کو طے کرسکے .رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
شهر رمضان شهر فرض الله عزّوجلّ علیکم صیامه ، فمن صامه ایمانا و احتسابا ، خرج من ذنوبه کیوم ولدته أمّه [۲۷]
ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خدا وند متعال نے تم پرروزے واجب قرار دیئے ہیں پس جو شخص ایمان اور احتساب کی خاطر روزہ رکھے تو وہ اسی طرح گناہوں سے پاک ہو جائے گا جس طرح ولادت کے دن پاک تھا
ویسے بھی گناہ سے اپنے آپ کو بچانا اور حرام کاموںسے دور رہنا مومن کی صفت ہے اس لئے کہ گناہ خود ایک آگ ہے جو انسان کے دامن کو لھی ہوئی ہو اور خدانہ کرے اگر کسی کے دامن کو آگ لگ جائے تو وہ کبھی سکون سے نہیں بیٹھتا جب تک اسے بجھا نہ لے اسی طرح عقل مند انسان وہی ہے جو گناہ کے بعد پشیمان ہو اور پھر سچی توبہ کرلے اس لئے کہ معصوم تو ہم میں سے کوئی نہیں ہے لہذااگر خدانہ کرے غلطی سے کوئی گناہ کربیٹھے تو فورا اس کی بارگاہ میں آکر جکھیں ، یہ مہینہ توبہ کے لئے ایک بہترین موقع ہے کیونکہ اس میں ہر دعاقبول ہوتی ہے.آئیں اہل بیت علیہم السلام کا واسطہ دیں اورآئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں، یقینا خداقبول کرے گا .رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :من صام شهر رمضان فحفظ فیه نفسه من المحارم دخل الجنّة ( ۲۸ )
جو شخص ماہ مبارک میں روزہ رکھے اور اپنے نفس کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھے ، جنّت میں داخل ہوگا
امام صادق علیہ السلام روزہ کا ایک اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
انّما فرض الله عزّوجلّ الصّیام لیستوی به الغنیّ والفقیر و ذٰلک أنّ الغنیّ لم یکن لیجد مسّ الجوع فیرحم الفقیر لأنّ الغنیّ کلّما أراد شیئا قدر علیه ، فأراد الله عزّ وجلّ أن یسّوی بین خلقه ، و أن یذیق الغنیّ مسّ الجوع والألم لیرقّ علی الضّعیف فیرحم الجائع ( ۲۹ )
خداوند متعال نے روزے اس لئے واجب قرار دیئے تاکہ غنی وفقیربرابر ہو سکیں .اور چونکہ غنی بھوک کا احساس نہیں کرسکتا جب تک کہ غریب پر رحم نہ کرے اس لئے کہ وہ جب کوئی چیز چاہتا ہے اسے مل جاتی ہے.لہذا خدا نے یہ ارادہ کیا کہ اپنی مخلوق کے درمیان مساوات برقرار کرے اور وہ اس طرح کہ غنی بھوک و درد کی لذت لے تاکہ اسکے دل میں غریب کے لئے نرمی پیداہو اور بھوکے پر رحم کرے
عزیزان گرامی! یہ ہے روزے کا فلسفہ کہ انسان بھوک تحمل کرے تاکہ اسے دوسروں کی بھوک و پیاس کا احساس ہو لیکن افسوس ہے کہ آج تو یہ عبادت بھی سیاسی صورت اختیار کر گئی ہے بڑی بڑی افطار پارٹیاں دی جاتی ہیں جن میں غریبوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کے بھوکے بچوں اور انہیں مزید اذیت دی جاتی ہے نہ جانے یہ کیسی اہل بیت علیہم السلام اور اپنے نبی کی پیروی ہو رہی اس لئے کہ دین کے ہادی تو یہ بتا رہے کہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ غریبوں اور فقیروں کی مدد کرو جبکہ ہم علاقہ کے ایم این اے اور ایم پی اے یا پیسے والے لوگوں کو دعوت کر رہے اور باقاعدہ کارڈ کیے ذریعہ سے کہ جن میں سے اکثر روزہ رکھتے ہی نہیں.
عزیزان گرامی ! روزہ افطار کروانے کا بہت بڑاثواب ہے لیکن کس کو؟ روزہ داراور غریب لوگوں کو ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ ان لوگوںکو افطار نہ کروائیںان کو بھی کروایئں لیکن خدارا غریبوں کا خیال رکھیں جن کا یہ حق ہے خداوندمتعال ہمیں روزے کے فلسفہ اور اس کے مقصد سے آگاہ ہونے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے .اور اس با برکت مہینہ میں غریبوں کی مددکرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے .آمین یا ربّ العالمین
چوتھا درس
رزق حلال
( ومن یتّق الله یجعل له مخرجا.و یرزقه من حیث لا یحتسب ) ( ۳۰ )
ترجمہ: اور جو بھی اللہ سے ڈرتاہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پید اکردیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے
علی بن عبد العزیز کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا عمر بن مسلم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوں وہ تو تجارت کو ترک کرکے عبادت میں مشغول ہوگیا ہے امام علیہ السلام نے فرمایا : وائے ہو اس پر ! کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ بے کا ر آدمی کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے بعض اصحاب رسول جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں کو بند کردیا اور عبادت میں مشغول ہوگئے .وہ یہ کہتے تھے کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے جب یہ بات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ ان کے پاس گئے اور پوچھا کہ کونسی چیز تمھارے اس عمل کا باعث بنی؟عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ ! جب خدا نے ہمارے رزق کی ذمہ داری لے لی ہے تو ہم عبادت میں مشغول ہوگئے
ہیں آنحضرت نے فرمایا : جو بھی ایسا کام کرے گا اس کی دعامستجاب نہیں ہوگی تمہارے لئے ضروری ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلو.
عزیزان گرامی! اس میں شک نہیں ہے کہ خدا نے مومنین کے رزق کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رکھی ہے لیکن وہ رزق اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک کہ انسان اس کی کوشش نہ کرے اور روزے کی ایک شرط یہ ہے کہ انسان روزہ دار سحری و افطاری میں رزق حلال کھائے .اگر کوئی مومن خدا نخواستہ پاک رزق سے ، حلال رزق سے افطار نہ کرے تو اس کا یہ روزہ قبول نہیں ہوگا .اور اسی طرح باقی عبادات بھی ،آنے والے چند درسوں میں ہم یہ واضح کریں گے کہ کیسے رزق حلال حاصل کریں اور وہ کونسے عوامل ہیں جو انسان کے لئے حلال رزق کمانے میں مانع بنتے ہیں
عزیزان گرامی! دین مقدس اسلام میں رزق حلال کی اسقدراہمیت بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے حلال مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے تو اسے شھید کا مرتبہ دیا ہے رسول مکرم اسلام فرماتے ہیں :
من قتل دون ماله فهو شهید ( ۳۱ )
جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شھید ہے .نیز فرمایا :
١۔ فرھنگ موضوعی مبلغان : ٢٣٣
عبادت سات قسموں پر مشتمل ہے جن میں سے افضل ترین قسم رزق حلال کا کمانا ہے( ١)
اسی طرح فرمایا :انّ الله یحبّ أن یری عبده تعبا فی طلب الحلال ( ۳۲ ) خدا وندمتعال پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے کو رزق حلال کے حصول میں تھکتا ہوئے دیکھے
مولائے کائنات امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ فرمان بھی رزق حلال کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:
من أکل أربعین یوما نوّر الله قلبه ( ۳۳ )
جو شخص چالیس دن رزق حلال کھائے توخدا وند متعال اسکے دل کو نورانی کر دیتا ہے
رسولخدا سلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
حقّ الولد علی والده أن یعلّمه الکتابة والسّباحة والرّمایة وأن یرزقه الّا طیّبا ( ۳۴ )
بیٹے کا باپ پر حق یہ ہے کہ وہ اسے لکھنے ، تیرنے اورتیراندازی کی تعلیم دے اور اسے حلال غذاکھلائے.
نیز روایت میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لا تزول قدما عبد یوم القیامة حتّی یسأل عن أربع : عن عمره فیما أفناه و عن شبابه فیما أبلاه و عن ماله من أین کسبه و فیما أنفقه و عن حبّنا أهل البیت ( ۳۵ )
روز قیامت انسان کو اس وقت تک آگے نہ بڑھنے دیا جائے گا جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے: ١۔ عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا
٢۔ جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں گذارا.
٣۔ مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاںخرچ کیا
٤۔ ہم اہل بیت کی محبت کے بارے میں
مال حلال کمانے اور اسے اپنی اولاد کو کھلانے کی بہت تاکید کی گئی ہے اس لئے کہ انسان کی دنیا وآخرت کی بد بختی کا ایک عامل رزق حرام ہے جو انسان کو ہمیشہ خداسے دور رکھتا ہے لذّت عبادت سے آشنا نہیں ہونے دیتا اور اگر انسان
حرام مال کھاکر عبادت بجابھی لائے تب بھی وہ اس عبادت کی لذّت حاصل نہیں کر سکتا اس لئے کہ ایسی عبادت کا کویء فائدہ نہیں ہے .رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
العبادة مع أکل الحرام کالبناء علی الرّمل و قیل : علی الماء ( ۳۶ )
حرام مال کھاکر کی جانے والی عبادت ، ریت کے اوپر کھڑی کی گئی عمارت کے مانند ہے یا کہا گیاہے کہ پانی کے اوپر کھڑی کی گئی عمارت کے مانند
یعنی ایسی عبادت کا کوئی اعتبار نہیں ہے کسی وقت بھی شیطان ایسے انسان کے عمل کو بھی ضائع کرسکتا ہے اور اس کے ایمان کوبھی امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
انّ الرّجل اذاأصاب مالا من الحرام لم یقبل منه حجّ ولا عمرة ولا صلة رحم ، حتیّ انّه یفسد فیه الفرج ( ۳۷ )
جب کسی شخص کے پاس مال حرام آتا ہے تو نہ تو اس کی حج قبول ہوتی ہے ، نہ عمرہ اور نہ ہی صلہ رحم یہاں تک کہ جماع پر بھی اسکا برا اثر پڑتا ہے
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
کسب الحرام یبین فی الذریة ( ۳۸ )
حرام کی کمائی اولاد میں اثر رکھتی ہے
جب کوئی انسان حرام کھاکر بیٹھا ہو تو نہ تو اس پرنصیحت اثر کرتی ہے اور نہ ہی کسی بڑے کی بات آج اگر ہماری اولادیں نافرمان ہیں تو اس کا باعث ہم خود ہی ہیں کتنے لوگ ہیں ہم میں سے جو خمس کے پابند ہیں جنھوںحق زہراء سلام اللہ علیہا غصب نہ کیا ہو.جنھوں نے رسول خدا کی اکلوتی بیٹی کو پریشان نہ کیا ہو .آج ہم فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے مظلوم بیٹے کے قاتلوں پر لعنت تو کرتے ہیں لیکن کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ وہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود ، پیغمبر کا کلمہ پڑھنے کے باوجود کیسے امام وقت کے مقابلہ میں تیر اور تلواریں لے کر آگئے ؟ کیا وہ امام حسین علیہ السلام کو پہچانتے نہیں تھے ؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ وہ جانتے تھے کہ یہ نواسہ رسول ہے ان کے نبی کا بیٹا ہے .تو پھر کونسی چیز باعث بنی کہ انہوں نے جہنم میں جانا قبول کرلیا ؟ اس کا جواب امام حسین علیہ السلام نے وہیں پہ کربلا کے میدان میں ہی دے دیا تھا .جب عمر سعد نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ حسین کے خیموں کا چاروں طرف سے محاصرہ کرلیں تو اس وقت امام علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے کے لیے اپنے خیمہ سے باہر آئے اور ان سے مخاطب ہوئے لیکن ان میں سے کسی نے توجہ ہی نہ کی تو امام مظلوم نے فرمایا :
قد ملئت بطونکم من الحرام فطبع علی قلوبکم ، ویل لکم ! ألا تسمعون ( ۳۹ )
تم کیسے میری بات پر توجہ کروگے جبکہ تمھارے شکم حرام سے بھر چکے ہیں جس کی وجہ سے تمھارے دلوں پر مہر لگ گئی ہے افسوس تم پر ! کیا میری بات نہیں سن رہے ہو
عزیزان گرامی! یہ لقمہ حرام کااثر ہی تھا جس نے عمر سعدملعون اور اس کی فوج کو زمانہ کے امام کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا .اس جملہ پر انتہائی توجہ کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم بھی اپنی اولادوں کو حرام مال کھلا کر امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء کے چاہنے والے ہونے کا دعوی کرتے ہوئے انہیں امام کا دشمن بنا رہے ہوں
خدایا ! تجھے امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا واسطہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرما اور ہمارا شمار امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حقیقی پیروکاروں میں سے فرما .آمین یا ربّ العالمین بحق محمد و آلہ الطاہرین.
پانچواں درس
نماز کی اہمیت (١)
( قال الله تبارک و تعالیٰ : أقیمواالصلٰوة ولا تکونوا من المشرکین
) ترجمہ: نماز قائم کرو اور مشرک مت بنو!
عزیزان گرامی ! نماز ایک ایسیعبادت ہے جسے انبیاء کرام اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے لئے سر لوحہ عبادت ، اسلام کاپرچم ، مومن کی معراج ، اعمال کے لئے میزان اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا گیا ہے.
نماز ایسی عبادت ہے جس سے دل کو سکون ، روح کوتازگی ، رنج وغم سے نجات حاصل ہوتی ہے نمازہی ہے جو انسان کو شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھتی ہے اور قبر میں اس کی مونس و مدد گار ثابت ہوتی ہے.نماز ہی ہے جو انسان کے اعمال کی قبولیت میں اہم کردار رکھتی ہے اور اسے قیامت کے ہولناک عذاب سے بچاتی ہے
نماز کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اسے دین اسلام میں وہی مقام دیا گیا جو سر کو بدن کی نسبت عطا کیا گیا جس طرح سر کے بغیر بدن کی شناخت مشکل ہے اسی طرح نماز کے بغیر اسلام اور مسلمان کی پہچان مشکل ہے
عزیزان گرامی ! حقیقی شیعہ، حقیقی ماتمی وہی ہے جونماز کو کسی حال میں تر ک نہ ہونے دے.اس لئے کہ نماز ہی کے ذریعہ سے ہم امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشیف کو راضی کر سکتے ہیںجیسا کہ روایات میں ملتا ہے : شیعتنا من اتّبعنا فی اعمالنا. ہمارا شیعہ وہ جو اعمال میں ہماری پیروی کرے بے نمازی شخص کو قیامت شفاعت آل محمد علیہم السلام نصیب نہیں ہو گی چاہے وہ کتنے ہی اعمال بجالائے. اس لئے کہ قیامت سب سے پہلا سوال ہی نماز کے بارے میں ہوگا.خاص طور پر میرے نوجوان بھائی اس نکتہ پر توجہ کریں اس لئے کہ نوجوان اور جوان کسی بھی قوم سرمایہ ہوتے ہیں اور شیطان بھی انہیں کو زیادہ گمراہ کرتا ہے .لیکن جو امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء کے سپاہی ہیں وہ پنجگانہ نماز تو دور کی بات اپنی نماز تہجد بھی قضا نہیں ہونے دیتے اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ کس چیز میں ان کے مولا و آقا کی خوشنودی ہے.اور پھر جب کوئی نوجوان مصلائے عبادت پر آکر کھڑا ہوتا ہے تو آواز ربّ العزت آتی ہے اے ملائکہ ! آؤ دیکھو جس آدم پر کل تم اعتراض کر رہے تھے آج اسی کا نوجوان فرزند اپنی تمام ترت مصروفیات کو چھوڑ کر میری بارگاہ میں سر جھکائے ہوئے ہے.آپ نوجوان ہیں خدانے آپ کو نوجوانی اور جوانی کی نعمت عطاکی اس سے بھر پور فائدہ اٹھاؤ اور اس دن کی ندامت و پشیمانی سے اپنے آپ کو نجات دو.خود بھی نماز پڑھو اور اپنے دوتوں کو بھی اسکی عادت ڈالو
عزیزان گرامی! نماز کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ فروع دین میں سے جس قدر قرآن نے نماز پر تاکید کی اس قدر کسی اور حکم کے بارے میں نہیں کی تقریبا ٨٤ مقامات پر نماز کا حکم دیا گیا نماز کی ااہمیت کا پتہ اس کے آثار سے چلتا ہے .ہم آنے والے چند روز اسی موضوع پر گفتگو کریں گے تا کہ میرے نوجوان بھائیوں کے لئے اس اہمیت واضح ہو جائے اس لئے کہ ہمارے خیال کے مطابق جو لوگ نماز سے نزدیک نہیں جاتے اس کی وجہ ان کا اس کی اہمیت سے آگاہ نہ ہونا ہے ورنہ کونسا مومن ایسا ہو سکتاہے کہ اسے نماز کے نہ پڑھنے کے نقصانات اور اس پڑھنے کے اجر و ثواب کا علم ہو اور اس کے باوجود وہ اسے ترک کر دے.
١۔نماز کامیابی کا راستہ:
نمازی شخص دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہوتاہے جیسا کہ پروردگار عالم نے اپنی لاریب کتاب میں اس کی ضمانت دی ہے :
( قد افلح من تزکّی و ذکر اسم ربّه فصلّیٰ ) ( ۴۰ )
ترجمہ: بے شک پاکیزہ رہنے والا کامیاب ہو گیا جس نے اپنے ربّ کے نام کی تسبیح کی اور نماز پڑھی
آج ہر انسان کی کوشش یہی ہے کہ وہ اور اس کی اولاد کسی طرح اس دینا میں بھی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی .مگر قرآن نے اس کے لئے انتہائی آسان نسخہ بتا دیا جس میں نہ تو کوئی خرچ ہے نہ کسی کی محتاجی ، اور پھر ضمانت بھی اس ذات کی طرف سے ہے جو قادر مطلق ہے .اب بھی اگر کوئی شخص اپنی کامیابی کے بارے میں پریشان ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے خدا پر یقین نہیں ہے.اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آج ہمارا عقیدہ جس قدر ڈاکٹر صاحب پر ہے اس قدر خدا کی ذات پر نہیں ہے ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں اور یہی چیز مسلمانوں کی ناکامی اور پوری دنیا میں ذلت ورسوئی کا باعث بن رہی ہے اگر ہم نے خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ہوتا تو آج اس قدر پریشان نہ ہوتے
٢۔خدا سے مدد کا ذریعہ :
نماز خشیت الٰھی کا مظھر اوراس سے مدد حاصل کرنے کاذریعہ ہے:
( واستعینوا بالصبر والصلاة وانها لکبیرة الّا علی الخاشعین ) ( ۴۱ )
ترجمہ:نماز اور صبر کے ذریعہ مدد طلب کرو ، نماز بہت مشکل کام ہے سوائے ان لوگوں کے جو خضوع و خشوع والے ہیں.
دوسرے مقام پر فرمایا :
( یاأیهاالّذین آمنوا استعینوابالصبروالصلاة انّ الله مع الصابرین ) ( ۴۲ )
ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد طلب کرو ،بے شک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.
٣۔تقوٰی کی علامت:
قرآن کریم نے متقی انسان کی علامات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
( ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین الّذین یؤمنون بالغیب و یقیمون الصلاة ) ... ( ۴۳ )
ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے متقیوں کے لئے ھدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں
٤۔ نماز ذکر خدا:
ذکر خدا کی کئی ایک اقسام ہیں لیکن وہ چیز جسے خودخدا نے اپنا ذکر کرنے کا وسیلہ بیان کیا ہے وہ نماز ہے جیسا کہ ارشاد ہوا :
( یا موسیٰ انیّ أنا ربّک فاخلع نعلیک انّک بالواد المقدس طوٰی و أنا أخترتک فاستمع لما یوحٰی انّنی أناا لله فاعبدنی و أقم الصلاة لذکری ) ( ۴۴ )
ترجمہ: اے موسٰی ! میں تمھارا پروردگار ہوں لہٰذا تم اپنی جویوں کو اتارو کیونکہ تم طوٰی نام کی مقدس اور پاکیزہ وادی میں ہو ، اور ہم نے تم کو منتخب کرلیا ہے لہٰذا جو وحی جاری کی جا رہی ہے اسے غور سے سنو ، میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے پس تم میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو
٥۔ رحمت خدا کا باعث:
اگر کوئی شخص پابندی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس دن جب ہر ایک شخص رحمت خدا کا منتظر ہو گا کہ کیا اس کو نصیب ہوتی ہے یا نہیں تو ایسے عالم میں نمازی ہی ہوگا جو اس رحمت پروردگار کا مستحق بنے گا جس کا اس نے اپنے نیک بندوں سے وعدہ کیا ہے :
( أقیمواالصلوة و آتوا الزکاة و أطیعوا الرسول لعلکم ترحمون ) ( ۴۵ )
ترجمہ: نماز قائم کرو ، زکات ادا کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو تاکہ تمھارے
حال پر رحم کیا جائے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح روز قیامت نمازیوں پر رحمت خدا نازل ہوگی اسی طرح بے نمازیوں پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا اور انہیں نماز میں سستی برتنے کی وکہ سے جھنّم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ خود پروردگار عالم نے اس کا فیصلہ فرمایا:( فویل اللمصلین الّذین هم عن صلاتهم ساهون ) ( ۴۶ )
ترجمہ: ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں.
خدا وند متعال ہم سب کو نمازیوں میں سے قرار دے
چھٹا درس
نماز کی اہمیت( ٢)
( أقیموالصلاة ولا تکونوا من المشرکین )
ترجمہ: نماز قائم کرو اور مشرک مت بنو
عزیزان گرامی! ہماری گفتگو نماز کی اہمیت کے بارے میںتھی کل کی تقریر میں قرآنی آیات کے ذریعہ سے یہ عرض کیا گیا کہ نماز کس قدر اہمیت کی حامل ہے اور آج انشاء اللہ یہ بیان کیا جائے گا کہ نماز نہ پڑھنے والے کی کیا سزاہے ؟ اس لئے کہ ہمارے خیال کے مطابق جتنے بھی نوجوان بھائی نماز پڑھنے سے کتراتے ہیں نماز کے وقت مسجد کے قریب سے بھی نہیں گذرتے اس کی وجہ ان کا نماز کے پڑھنے کی اسلام میں اہمیت اور اس کے ترک کرنے کے گناہ سے آشنا نہ ہونا ہے ورنہ کون ایسا مومن ہو گا جو اتنا بڑا گناہ جانتے ہوئے بجا لائے ، لہذا ہم آج نماز نہ پڑھنے کا گناہ اور اس کے نقصانات کو بیان کریں گے تا کہ ہمارے نوجوان عزیز اسے جان لینے کے بعد اسے کبھی ترک نہ کرنے پائیں .قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی روایات جو ہم تک پہنچی ہیں ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے چاہے انسان جنگ کے میدان میں ہی کیوں نہ ہویا اسے کسی اور وجہ سے جان کاخطرہ ہو. امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بھائی علی بن جعفر امام علیہ السلام سے سوال کرتے ہیں کہ مولا اگر انسان ایسی حالت میں ہو کہ وحشی درندہ اس کو گھیرے ہوئے ہو اور نماز کا وقت بھی آپہنچا ہو اب اگر وہ نماز شروع کرے تو اسے اس درندہ حیوان کے حملہ کا زیادہ خطرہ ہے اس لیئے کہ اس کا رخ قبلہ کی جانب نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا کرے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : اسے چاہیئے کہ کھڑے ہو کرنماز پڑھے اور اشارے سے رکوع و سجود بجا لائے.اگرچہ قبلہ کی جانب منہ نہ ہی ہو( ۴۷ )
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص زمین پر پاؤں نہ رکھ سکتا ہو( خدا نخواستہ پانی میں غرق ہورہایاسولی پر لٹکا ہوا ہو) تو اسے چاہئے کہ اشارے سے نماز پڑھے
جس قدر روایات بے نمازی کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں شاید ہی کسی دوسرے گناہ گار کے بارے میں نازل ہوئی ہوں، بے نمازی انسان خدا ، ملائکہ، انبیاء اور یہاں تک کہ پرندے بھی اس پر لعنت بھیجتے ہیں امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :
انّ الفاختة تقول ألّلهمّ العن من ترک الصّلاة متعمّدا
فاختہ کہتی ہے:... اے پروردگار ! جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والے پر لعنت فرما.
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا روایت کرتی ہیںکہ میں نے اپنے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : بابا جان اگر کوئی شخص نماز پڑھنے میں لاپرواہی کرتا ہے تو اس کی کیا سزا ہوگی؟
تو آنحضرت نے فرمایا :اگر کوئی مرد یا عورت نماز کو حقیرسمجھتے ہوئے اسے ترک کردیتا ہے تو اسے دنیا و آخرت میں پندرہ قسم کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ، چھ دنیا میں ، تین مرتے وقت ، تین قبر میں اور تین اس وقت جب اسے قبر سے اٹھایا جایا گا .وہ چھ عذاب جن میں بے نمازی شخص اسی دنیا میں مبتلا ہو گا وہ یہ ہیں :
١۔اس کی عمر سے برکت کو اٹھا لیا جاتا ہے
٢۔ اس کے رزق میں برکت نہ رہتی
٣۔ اس کے چہرے سے نور کو سلب کرلیا جاتا ہے
٤۔ بے نمازی کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا
٥۔بے نمازی کی کوئی دعا مستجاب نہیں ہوتی
٦۔ کسی کی دعا اسکے حق میں قبول نہیں ہوتی
وہ تین عذاب جو موت کے وقت بے نمازی پر نازل ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
١۔بے نمازی ذلّت کی موت مرتا ہے
٢۔ بھوک کے عالم میں اسکی روح قبض ہوتی ہے
٣۔ پیاس کی شدّت طاری ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر پوری دنیا کے دریاؤںاور سمندروں کا پانی پلا دیا جائے پھر بھی سیراب نہیں ہوتا
وہ تین عذاب جو عالم برزخ میں بے نمازی پر نازل ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:
١۔ اس پر ایک فرشتہ کو مأمور کیا جاتا ہے جو روز قیام تک اسے شکنجہ کرتا رہتا ہے
٢۔ اسے دفن کردینے کے بعد اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے فشار قبر میں اضافہ ہو جاتا ہے.
٣۔ اسکی قبر میں تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے اور روشنی کانام و نشان نہیں رہتا
وہ تین عذاب جو روز محشر بے نمازی پر نازل ہونگے :
١۔ ملائکہ اسے پیٹ کے بل گھسیٹتے ہوئے میدان محشرمیں لائیں گے
٢۔ حسا ب لینے میں بہت سختی کی جائے گی
٣۔رحمت خداسے محروم رہے گا( ۴۸ )
بے نمازی انسان ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتاہے اورجس طرح نماز کا ترک کرنا اس کے دین کو نابود کرتا ہے اسی طرح اس کی دنیا بھی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہے اور اس کا اثر صرف اس کی اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے آس پاس کے افراد بھی بے نمازی کی نحوست کی وجہ سے عذاب می مبتلا رہتے ہیں.اس لیے کہ یہ معاشرہ ایک کشتی کے مانند ہے جس کے اند ر سوار لوگوں میں سے کسی بھی ایک کی غلطی کا اثر اس میں سوار تمام افراد پر پڑھتا ہے اسی طرح گناہ کا اثر بھی اس کے انجام دینے والے کے علاوہ باقی تمام معاشرہ پر بھی پڑتا ہے اسی لیے تو پروردگار عالم نے فقط اپنے آپ کو گناہ سے بچنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :( قوا أنفسکم و أهلیکم نارا ) جہاں اپنے کو جہنم کی آگ سے بچا رہے ہو وہاں اپنے گھر والوں کو بھی اس آگ سے بچاؤ .اور شاید اسی لئے روایا ت میں ملتا ہے کہ اگر باپ نماز پڑھ رھا ، آدھی رات سے مصلائے عبادت بچھائے ہو ئے عبادت الہی میں مشغول ہے لیکن جوان بیٹامزے سے سورہا تو اس باپ کی یہ عبادت قبول نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ اپنی اولاد کی دنیا کی فکر تو کرتا ہے مگر اس کی آخرت سے غافل ہے
ایک شخص رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ!میں ایک مالدار آدمی تھا لیکن ایک مرتبہ فقیر وتنگدست ہو گیا ہوں .فرمایا : کیا تم نماز نہیں پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : پانچوں وقت کی نماز پابندی سے پڑھتا ہوں فرمایا : کیا روزہ نہیں رکھتا ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ! سال میں تین ماہ ( رجب ، شعبان اور رمضان ) روزے بھی رکھتا ہوں اب اللہ کے رسول تعجب میں پڑ گئے اور سوچنا شروع کیا کہ پھر تم نے کونسا ایسا گناہ کر لیاجسکی وجہ سے تیرے مال سے برکت اٹھ گئی .اتنے میں جناب جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا :یا رسول اللہ ! خدا آپ پر درود و سلام بھیجتا ہے اور فرما رہا ہے کہ اس بندے سے کہہ سے کہ اس کے گھر کے سامنے ایک باغ ہے جس میں ایک چڑیا کا گھونسلہ ہے اس گھونسلہ میں ایک بے نمازی کی ہڈی موجود ہے جس کی نحوست کی وجہ سے تمھارے مال سے برکت ختم ہو گئی اور تما مفلس و نادار ہو گئے ہو. رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بتایا .وہ شخص باغ میں داخل ہوااوراس ہڈی کو گھونسلہ سے اٹھا کر دور پھنکا جس کے بعد دوبارہ مالدار ہوگیا.( ۴۹ )
تو عزیزان گرامی ! آپ نے دیکھا کہ کس قدر بے نمازی انسان دوسروں کے لئے مشکلات ایجاد کرتا ہے.
اسی طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ کاواقعہ ہے کہ وہ ایک گاؤں میں پہنچے ، دیکھا انتہائی سر سبز اور شاداب ہے نہریں اورچشمے بہہ رہے لوگوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کا انتہائی اچھا استقبال کیا ، بہت اچھے طریقے سے مہمان نوازی کی. جس سے آنحضرت سے بھی تعجب کیا لیکن جب اسی گاؤں سے تین سال کے بعد گذرے تو کیا دیکھا : نہریں اور چشمے خشک ہو چکے ہیں سارا سبزہ خشکی میں تبدیل ہو چکا ، حیران ہو کر اپنے پروردگار سے سوال کیا: پالنے والے اتنی کم مدت میں یہ سب کچھ کیا ہو گیا یہ بستی کیسے ویران ہو گئی ؟
وحی الہی نازل ہوئی اے عیسٰی ! اس بستی کے ویران ہونیکا سبب یہ ہے کہ ایک دن ایک بے نمازی اس بستی میں داخل ہوا اس نے اس کے چشمہ سے منہ ہاتھ دھویا جس کی نحوست کی وجہ سے چشمہ کا پانی بند ہو گیا ، دریا کی روانی رک گئی اور یوں یہ بستی ویران ہو گئی .اور اے عیسٰی سنو! جس طرح نماز نہ پڑھنے سے انسان کی آخرت تباہ ہو جاتی ہے اسی طرح اس کی دنیا بھی تباہ و برباد ہو جاتی ہے( ۵۰ ) .
یہ ہے نماز نہ پڑھنے کا اثر ، آج ہمارے مال میں برکت کیوں نہیں ہے؟ اس لئے کہ بڑا سے بڑا نمازی آپ دیکھ لیں خود نماز پڑھ رہا لیکن بچوں کی نماز کی کوئی فکر نہیں.بیوی نماز پڑھے یا نہ پڑھے اسے اس سے کوئی غرض نہیں جوان بیٹا نماز نہیں پڑھتا تو اسے کہنے کو تیار نہیں جبکہ اسی بیٹے کی دنیا بنانے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کر رہا
عزیزان گرامی ! دین مقدس اسلام نے آپ سے یہ نہیں کہا کہ اپنی نماز پڑھ لو اور بس نہیں بلکہ اس نے تو اپنی نماز کا بھی حکم دیا اور ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں کو بھی اس کا حکم دینے کا امر صادر فرمایا ہے خدا وند متعال ہم سب کا شمار نماز یوں میں سے فرمائے اور اپنے گھر والوں، اپنے دوست احباب کو اس نیک کام کی طرف راغب کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
ساتواں درس
فلسفہ اخلاق
قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم :انّی بعثت لأُتمّم مکارم الأخلاق
مؤمنین کرام رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد مبارک ہے جس میں یہ فرما رہے کہ مجھے مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا .اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اخلاق کی اس اعلٰی منزل تک پہنچے کہ ارشاد قدرت ہوا : انّک لعلٰی خلق عظیم.
(اے میرے رسول ) آپ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں.
تو جس مکارم اخلاق کی تکمیل کو رسالت کامقصد قرار دیا گیا اس سے مراد کیا ہے ؟ امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں : مکارم اخلاق دس چیزیں ہیں ان کے حاصل کرنے میں کوتاہی مت برتو اس لئے کہ ممکن ہے ایک صفت بیٹے میں ہو مگر باپ میں نہ ہو یا باپ میں ہو اور بیٹے میں نہ ہو .اور اسی طرح ممکن ہے کہ غلام میں تو پائی جاتی ہو مگر آزاد میں نہ ہو ، اور وہ صفات یہ ہیں :صدق مع الناس و صدق و اللسان و أداء الأمانة صلة الرحم و اقراء الضیف و اطعام السائل و المکافاة علی الصنایع و التذمّم للجار و التذمّم للصاحب و رأسهنّ الحیاء ( ۵۱ )
١۔ لوگوں سے سچائی
٢۔ صداقت
٣۔ امانت کا اداکرن
٤۔ صلہ رحمی
٥۔مہمان نوازی
٦۔فقراء کی مدد
٧۔ احسان
٨۔ نیکی کا بدلہ نیکی سے
٩۔ہمسایوں سے اچھا سلوک
١٠۔ دوستوں سے بھلائی اور ان تمام نیک صفات کا سر چشمہ حیاء ہے.
امام رضا علیہ السلام رویت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا : اخلاق حسنہ کو حاص کرو اور برے اخلاق سے پرہیز کرو اس لئے کہ نیک اخلاق انسان کو جنّت میں لے جاتا ہے جبکہ برااخلاق اسے جھنّم میں لے جانے کا باعث بنتا( ۵۲ )
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :
حسن الاخلاق برهان الأعراق ( ۵۳ )
اچھا اور نیک اخلاق انسان کی فطرت کے پاک ہونے کی علامت ہے
سئل عن الصادق( ع) : ما حدّ حسن الخلق ؟ قال: نلین جانبک و تقلّب کلامک و تلقٰی أخاک ببشر حسن ( ۵۴ )
امام صادق(ع) سے پوچھا گیا کہ حسن خلق کی کیاعلامت ہے ؟ فرمایا :١۔ نرم مزاج ہونا .٢۔ اچھی گفتگو کرنا .٣۔ دوسروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا
ہم اکثر نماز کے قنوت میں یہ دعا پڑھتے رہتے ہیں : ربّنا آتنا فی الدنیا حسنة . اے پالنے والے ہمیں دنیا میں نیکی عطافرما اس نیکی سے مراد کیا ہے؟ امام معصو م(ع) فرماتے ہیں : اس سے مراد اخلاق حسنہ ہے.(٢)
اسلام میں اخلاق کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:اخلاق حسنہ نصف ایمان ہے( ۵۵ )
اس اخلاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ کس لئے شریعت مقدس اسلام نے اس کی اتنی تاکید فرمائی ہے؟ اس کا جواب واضح ہے کہ یقینا اس میں انسانوں کے لئے دینی و دنیاوی فائدہ پایا جاتا ہے کیو نکہ کوئی بھی حکم اسلام حکمت و فلسفہ سے خالی نہیں ہے روایات میں اخلاق کا فلسفہ جو بیان ہوا ہے وہ یہ ہے:
١۔روح کی لذّت :
امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں :
لاعیش ألذّ من حسن الخلق ( ۵۶ )
حسن خلق سے بڑھکر زندگی کی کوئی لذت نہیں ہے.
٢۔ دوستی کا باعث :
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :حسن خلق دوستی کا باعث اور کینہ کے دور ہونے کا موجب بنتا ہے اور لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا نصف عقل ہے( ۵۷ )
٣۔ گناہوں کی نابودی :
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جس طرح سورج برف کو پگھلا کرختم کردیتا ہے اسی طرح اخلاق حسنہ گناہوں کی نابودی کا باعث بنتا ہے. نیز فرمایا : برااخلق انسان کے نیک اعمال کو اسے طرح ضائع کردیتا ہے جس طرح سرکہ شھد کو ضائع کر دیتاہے( ۵۸ ) .
٤۔رسول خدا سے قربت :
رسول خداصلی اللہ نے فرمایا :أقربکم منّی غداأحسنکم خلقا و اقربکم من الناس ( ۵۹ )
روز قیامت وہی میرے نزدیک ہوگا جس کا اخلاق اچھاہوگا اور لوگوں سے نزدیک ہوگا.
٥۔اجر برتر:
رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان حسن خلق کے ذریعہ سے روزہ داراور شب زندہ دار شخص کا اجر پا سکتاہے( ۶۰ )
٦۔گناہوں کا کفارہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
التبسّم فی وجه المؤمن الغریب من کفّارة الذّنوب ( ۶۱ )
مسافر مومن کے سامنے مسکرانا گناہوں کے کفارہ کاباعث بنتا ہے.
٧۔وسعت رزق:
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
حُسن الخُلق من الّدین وهو یزید فی الرّزق ( ۶۲ )
حسن خلق ایمان کی علامت ہے اور رزق میں وسعت کاباعث بنتا ہے.
٨۔تکمیل ایمان:
امام رضا علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار اور انہوں نے اپنے اجداد سے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ کامل تر ہیں جن کااخلاق اچھا ہو اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجیجانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگوں کو اخلاقی برائیوں سے بچائیں اور انہیں سعادت و کمال اخروی تک پہنچاسکیں اسی لئے شریعت مقدسہ اسلام میں اخلاق پر اس قدر زور دیا گیا ہے آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی مشکل یہی اخلاقی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے آئے دن بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے اگر لوگ اخلاق حسنہ کی خوبیوں اور اخلاق سیئہ کی برائیوں اور اس کے انجام سے آشنا ہو جائیں تو یہ سب برائیاں خود بخود دور ہو جائیں گی اس لئے کہ جب لوگوں کو معنوی غذا ملنی ہی نہیں تو وہ کیسے ان برائیوں سے چھٹکاراپاسکتے ہیں .اور اس کے کئی ایک عوامل ہیں کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا معاشرہ دن بدن کیوں پستی کی طرف جاریا ہے ؟ کیوں ہمارے اندر اخلاقی برایئوں کا اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.؟ اسکی وجہ کیا ہے اور یہ برائیا ں کہاں سے جنم لے رہی ہیں ؟
عزیزان گرامی ! کسی بھی شخص کے بد اخلاق ہونے کے تین عوامل ہیں :
١۔ جھالت:
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :
الخُلق المذموم من ثمار الجهل
برا اخلاق جھالت کا ثمرہ ہے.( ۶۳ )
آج ہمارے معاشرہ میں علم کا بہت فقدان ہے جس کی بناء پرطرح طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور ایسی ایسی بیماریاں جن کا انسان تصور ہی نہیں کر سکتا.لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم کی بیماری کا تعلقاخلاقی بیماریوں سے ہے جس قدر اخلاقی بیماریوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ویسے ہی جسمانی بیماریاںبھی نئی نئی وجود میں آتی جائیں گی. اگر آج سے بیس سال پہلے کے آدمی کو لایا جائے تو وہ موجودہ اخلاقی بیماریوں کو دیکھ کر حیران رہ جائے اس لئے کہ آج جو ڈش ، کیبل اور پھر ان سب سے بڑھ کر انٹر نیٹ کی بیماری ہے جس سے ہمارے بچے بگڑ رہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دن بدن جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے.
اور یہ سب دینی تعلیمات سے جھالت کا نتیجہ ہے جس قدر ھم اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کا خیال رکھتے ہیں کیا کبھی اس کا دسواں حصہ بھی ان دینی تعلیم پر توجہ دی ہے
٢۔ پستی و نجاست:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
النّفس الدّنیة لا تنفک عن الدّناآت ( ۶۴ )
نفس پست ہے اورپستیوں سے جدا ہونے والا نہیں اس لئے جب تک انسان اپنے نفس پر مسلط نہیں ہوگا تب تک وہ اسے اخلاقی بیماریوں میں مبتلا رکھے گا .تبھی تو نفس سے جھاد کو جھاد اکبر کا نام دیا گیاہے اس لئے کہ نفس کا مقابلہ کرنا انتھائی دشوار کام ہے.
٣۔وراثت:
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : خداوند متعال نے جناب آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ایک کے لئے حور اور دوسرے کے لئے جنوں میں سے ایک عورت کا انتخاب کیا جن سے انہوں نے شادی کی جتنے بھی خوش اخلاق لوگ ہیں وہ سب اس حور کی اولاد ہیں اور بد اخلاق جن کی
آٹھواں درس
جھالت کا دین پر اثر (١)
قال الامام المهدی علیه السلام : آذانا جهلاء الشّیعة وحمقائهم ومن دینه جناح البعوضة أرجح منه ( ۶۵ )
تحقیق ہمیں جاہل اور کم عقل شیعہ اور ان لوگوں نے اذیت کی ہے جن کے دین سے مچھر کا پر بھی زیادہ محکم ہے
عزیزان گرامی ! کل کے درس میں یہ بیان کیا گیا کہ کسی بھی انسان کے بد اخلاق ہونے کا ایک عامل، ایک سبب اس کی دینی احکام سے جھالت ہے جھالت کی پستی اور اس کے ناپسند ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ اگر آپ کسی کو جاھل کہیں تو وہ فورا ناراض ہو جائے گا
اس جھل کی دو قسمیں ہیں :
١: جھل بسیط:
کسی بھی انسان کا پڑھنا لکھنا نہ جاننا ، یا یہ کہ دنیا کاعلم تو اس کے پاس بہت ہے مگر علم دین سے بے بھرہ ہے تو ایسے شخص کو جاھل بسیط کا جائے گا. اس لئے کہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ میرے پاس دین کا علم نہیں ہے .اور یہ اس کے لئے نقص شمار ہوتاہو گا. چاہے وہ مرد ہو یا عورت .اگر عورت ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام نے اولاد کی تربیت کے بارے میں کیا کیا احکام بیان فرمائے ہیں کس طرح اولاد کی صحیح تربیت کی جائے ، شریعت مقدسہ اسلام نے شوھر کے کیا حقوق بیان کئے ہیں اور اگر نوجوان ہے تو اسے یہ علم ہونا چاہئے کہ کیسی زوجہ کا انتخاب کرے ؟ اسلام نے نیک زوجہ کی کیا علامات بیان فرمائی ہیں ؟ تاکہ اس کے دین وایمان میں اس کی مدد گار بن سکے ورنہ کتنے افراد ایسے ہیں جو شادی سے پہلے تو نماز بھی پڑھتے تھے ، روزہ بھی رکھتے تھے اور باریش بھی تھے لیکن جیسے ہی بیوی آتی گئی نماز بھی گئی ، روزہ بھی گیا ، مسجد بھی گئی، امام بارگاہ جانا بھی ترک ہو گیا اور آہستہ آھستہ ڈاڑھی بھی کلین شیو ہونے لگی
یہ سب شریعت سے جھالت کا نتیجہ ہے اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :
طلب العلم فریضة علٰی کل مسلم ( ۶۶ )
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے
اور پھر فرمایا :
أطلبو االعلم من المهد الی اللّحد
گود سے لیکر گور تک علم حاصل کرو
اس میں کونسی شرم کی بات ہے کہ اگر انسان مولاناصاحب کے پاس جا کر اپنی نماز یا اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لے .اور اپنی جھالت کو علم میںبدل دے اسلام نے بھی تو اہل علم ہی کی تعریف کی ہے :
یرفع اللّه الّذین آمنوا منکم و الّذین اُوتوا العلم درجات ( ۶۷ )
ترجمہ:خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتاہے.
یہ آیت مجیدہ بتا رہی ہے کہ ایسا شخص جو دین کی سوجھ بوجھ رکھتا ہے اس میں اور جو دین کے احکامات سے جاہل ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے اور آئمہ معصومیں نے بھی اپنی دوستی کا یہی معیار بتایا کہ اگر دیکھنا چاہتے ہو کہ کون ہم سے زیادہ قریب ہے تو ہماری روایات کو معیار قرار دو جو جس قدر ہماری روایات کو بہتر جانتا ہو گا اتنا ہی ہم سے قریب ہو گا
ہشام بن حکم سترہ یا اٹھارہ سال کا جوان ہے ابھی ڈاڑھی کے بال تک نہیں آئے لیکن جب چھٹے امام کی مجلس میں آتا ہے تو امام اپنے مقام سے بلند ہوتے ہیں اس کے استقبال کے لئے اور اسے اپنے پہلو میں بٹھاتے ہیں اب محفل میں موجود بوڑھے افراد پر یہ گراں گذرا کہ اتنا احترام ہمارا نہیں کیا جاتا جتنا ایک نوجوان کا کیا جارہا امام علیہ السلام نے فرمای
هذا ناصرنا بقلبه ولسانه و یده ( ۶۸ )
یہ دل ، زبان اور ہاتھوں سے ہماری مدد کرنے والا ہے یہ مبلّغ اسلام ہے اس کے پاس دین کا علم ہے اس کے بعد امام علیہ السلام نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی گویا امام یہ بتانا چاہ رہے کہ اگرچہ یہ نوجوان ہے لیکن چونکہ اس کے پاس دین کا علم ہے لہذا تم سب پر فضیلت رکھتا ہے اس لئے کہ اسلام میں برتری کا معیار علم ہے.کیونہ علم کمال بشریت ہے جو اپنے حامل کو ہمیشہ سرفراز اور سر بلند رکھتا ہے.
اب اگر کوئی مومن قرآن پڑھنا نہ جانتا ہو تو یہ ایک عیب ہے اسی طرح اگر کوئی ماں یا بہن طہارت و نجاست کے احکام سے آگاہ نہ تو اس کے لئے بھی یہ عیب ہے اس لئے کہ جب وہ طہارت و نجاست سے آگاہ نہ ہوگی تو خود بھی حرام کھائے گی اور اپنے شوہر اور اپنی اولاد کو بھی حرام کھلائے گی. ایسی عورت کبھی بھی کنیز فاطمہ نہیں بن سکتی کبھی بھی سیدہ زینب کی سچی چاہنے والی نہیں بن سکتی اس لئے کہ ان کے جو چیز محبت کا معیار ہے. وہ دین کا علم ہے
آج کتنے نوجوان ایسے ہیں جو بی اے، ایم اے کر چکے لیکن قرآن پڑھنا نہیں جانتے اور یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا نقص ہے
ورنہ ہر مرنے والا علی مولا کی زیارت کرتا ہی کرتا ہے چاہے دنیا میں زیارت کا منکر ہی کیوں نہ ہو مسلمان ہو یا کافر ، مومن ہو یا منافق ، شیعہ ہو یا علی کے شیعوں کو برا بھلا کہنے والا ہر ایک مرنے والا علی مولا کی زیارت کرتا ہے جیسا کہ مولائے کائنات نے حارث ھمدان سے فرمایا :
یا حارث همدان من یمت یرنی من مؤمن أو منافق قبل ( ۶۹ )
ہاں یہ الگ بات ہے کہ کوئی مولا کی زیارت کر کے خوش ہو جاتا ہے اور کوئی غمگین و پریشان اس لئے کہ اگر اس دنیا میں علی مولا کی پیروی کی ہوگی ، اپنے امام کی آواز پر لبیک کہی ہو گی تو جیسے ہی مولا کو دیکھے گا خوش ہو جائے گا لیکن اگر خدا نخواستہ مولا کی بات کو مانا ہی نہیں مسجد میں کبھی گیا ہی نہیں ، نماز کبھی پڑھی ہی نہیں ، روزہ رکھ لے تو تبخیر ہو جاتی ہے، یتیم کے سر پہ کبھی ہاتھ رکھا ہی نہیں. تو ایسا شخص یقینا مولاکو دیکھ کر گھبرا جائے گا اور کبھی بھی مولا کی زیارت کا مشتاق نہیں ہوگا اس لئے کہ اس نے مولا کی تعلیمات پر عمل ہی نہیں کیا اور ممکن ہے کہ اس کی یہ جھالت اسے مرتے وقت دشمن خدا وعلی اور دشمن عزرائیل بنا دے
اس لئے کہ سب کی روح مولا کے حکم سے قبض ہوگی.اگر علم ہوگا یقین ہو گا ایمان کامل ہوگا تو صحیح ورنہ بہت مشکل ہے کہ انسان کا خاتمہ خیر پر ہو اس لئے کہ ایک طرف توشیطان انسان پر مسلسل حملہ کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیا کی محبت اسے اس دنیا سے جانے نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ روایات میں ملتا ہے کہ بعض لوگوں کی روح اس قبض کی جائے گی جس طرح رگ کو بدن سے جدا کیا جاتا ہے یعنی وہ جانا نہیں جاتا اسے زبردستی لے جایا جاتا ہے اس کی روح زبردستی نکالی جاتی ہے اب جب مولائے کائنات اجازت دیں گے اور ملک مقرّب اس کی روح قبض کرنے لگے گا تو چونکہ وہ اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا لہذادشمن خدا بھی بن جائے گا ، دشمن علی بھی اور دشمن عزرائیل بھی اب یہ جب دینا سے جا رہا تو دشمن خدا و علی بن کے جا رہا
عزیزان گرامی !میں اپنے واجب الاحترام بزرگوں اور خاص طور پر نوجواں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ھمیشہ یہ دعا پڑھتے رھا کریںکہ :الّلهمّ اجعل عاقبة أمرنا خیرا اے پالنے والے ! ہماری عاقبت نیکی پر ہو.ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو ، زندہ رہیں تو حسین حسین کرتے ہوئے اور اس دینا سے جائیں تو نام علی زبان پر ہو اور علی مولا کی زیارت نصیب ہو ایسی حالت میں کہ مولا ہم سے راضی ہوں خدانہ کرے کہیں ایسے نہ ہو کہ انسان ساٹھ یا ستر سال تک علی علی کرتا رہے اور موت کے وقت جھالت کی وجہ سے دشمن علی ہو کر مرے.
٢۔ جھل تردید:
جھل کی دوسری قسم جھل تردید ہے یعنی انسان ھمیشہ شک و تردید کا شکار رہے. ماتم ٹھیک ہے یا نہیں ، نماز کوئی فائدہ پہنچاتی ہے یا نہیں ؟ یا علی مدد کہنا درست ہے یا نہیں ؟ تقلیدکرنا جائز ہے یا نہیں؟اور پھر کیا یہ مذہب بھی ٹھیک ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ خدا بھی ہے یا نہیں ؟ اسی طرح پوری زندگی شک وتردید میں گذار دیتا ہے جس اس کی دنیا بھی تباہ ہو جاتی ہے اور دین بھی. اس کی یہ حالت ویسے ہی ہے جیسے بدن کے اندر کوئی کانٹا ہو جو اسے ہر وقت اذیت پہنچاتا رہتا ہو ایسے افراد خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں لیکن ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کردیتے ہیں اس لئے کہ جب انسان کے ذہن میں شک آگیا تو پھر وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پاتا اور آج تو لوگوں کے عقیدوں کو خراب کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انہیں دین ومذہب کے بارے میں شک میں مبتلا کردیں جیسے آج پوری پوری کتابیں لکھی جارہی ہیں کہ نماز کا کوئی فائدہ نہیں ! تقلید کا کوئی فائدہ نہیں !کس لئے علماء کی طرف رجوع کریں ! اور پھر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ایسی کتابیں لکھنے والے خود کو عالم بھی کہلواتے ہیں اور لوگوں کو مسائل حل کروانے کے لئے اپنی طرف رجوع کرنے کا حکم بھی دیتے ہیں ایسے صاحبان سے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر شریعت میں کہیں پہ علماء و فقھاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تو آپ کس عنوان سے لوگوں کے پاس جاکر انہیں ایسی تبلیغ کر رہے اور کس عنوان سے آپ کو دعوت دی جاتی ہے یقینا ایک عالم ہونے کے ناطے بلایا جاتا ہے اگرچہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اہل بیت علیہم السلام کو مانتے نہیں بلکہ ان کے مقصد کے دشمن بھی ہیں اورضعیف مومنین کی جھالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہی وہ علماء ہیں جو دین کا مقدس لبادہ اڑھ کر مومنین کو نامحسوس طریقے سے دین سے دور کررہے ہیں امام عسکری علیہ السلام نے ان کا تعارف یوں کروایا :
عزیزان گرامی ! ایسے علماء سوء سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اور اپنی اولاد کو دین مبین اسلام کی نورانی تعلیمات سے مزیّن نہیں کرتے اس لئے کہ جب ہمیں دین اور غیر دین کی پہچان ہی نہ ہو گی تو پھر دشمنان اسلام و اہل بیت علیہم السلام ہمیں اور ہماری اولاد کو آسانی سے گمراہ کر سکیں گے لہذا خدارا علماء سے استفادہ کرتے ہوئے اس جھالت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں.
خداوند متعال مومنین کو یزید صفت عالم نماملاؤں کے شر سے محفوظ رکھے
نواں درس
جھالت کا دین پر اثر (٢)
قا ل الامام المهدی علیه السلام : آذانا جهلاء الشّیعة و حُمقائهم و من دینه جناح البعوضة أرجح منه
عزیزان گرامی ! یہ امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء کا فرمان ہے جس میں امام اپنے شیعوں سے ان کی جھالت کی شکایت کررہے کہ ہمارے ان شیعوں نے ہمیں اذیت کی ہے ہمیں دشمن سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے جو اپنی جھالت کے سبب دشمن کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ ہماری بھی توہیں کرے اور ہمارے بے گناہ شیعوں کا قتل عام بھی کرے آج جتنااپنے شیعہ، مذہب کو نقصان پہنچارہے ہیں شاید دشمن اسے تصور ہی نہ کر سکتا ہو یہ جاھل اپنی جھالت کو علم ظاہر کرتے ہوئے غلط عقائد کو آئمہ علیہم السلام یا مذہب شیعہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور پھر دشمن اسی کو بہانہ بنا کر مومنین پر کفر و شرک کے بے بنیاد فتوے لگا کر مساجد اور امام بارگاہوں میں ان کا بے گناہ خون بہاتا ہے .لیکن یاد رکھیں عزیزان گرامی ! بانیان مجالس اور سامعین محترم اس بے گناہ خون میں برابر کے شریک ہیں اس لئے کہ یہ بانیان مجالس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کو دعوت دیں جو فرامین اہل بیت علیہم السلام سے لوگوں کو آگاہ کریں اور پھر خود بھی باعمل ہوں، ایسا نہ کہ لوگوں کو تو تبلیغ کریں مگر خود نماز تک ن پڑھتے ہوں! لوگوں کو ماتم کی فضیلت بتاتے ہوں مگر خود زندگی میں کبھی ماتم کیا ہی نہ ہو
عزیزان گرامی! یہ لوگ خائن ہیں، جاہل ہیں لیکن چونکہ ہم خود بھی تو دین سے آگاہی نہیں رکھتے کہ اچھے برے کو سمجھ سکیں لہذا ان کو ہمیں بے وقوف بنانے اور امام زمانہ ارواحنالہ الفداء کو اذیت پہنچانے کا موقع مل جاتا ہے ہماری گفتگو جہل کی دوسری قسم یعنی جھل تردید کے بارے میں تھی کہ مومن کو اپنے عقیدہ میں شک و تردید کا شکار نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ شک انسانی روح کے لئے ایسے ہی ہے جیسے خدانہ کرے کسی کی آنکھ میں خار دار کانٹاچبھا ہوا ہو کس قدر انسان پریشان ہوتا ہے اس کا بدن دکھی رہتا ہے اور جلد سے جلد اس کے علاج کے در پے ہوتا ہے اسی طرح شک بھی انسان کی روح کو ھمیشہ پریشان کئے رکھتا ہے وہ کوئی بھی فیصلہ صحیح طرح سے نہیں کر پاتا لہذا اس کے علاج میں بھی جلدی کرنا چاہئے اور پھر مومن توہے وہ جو شک کو عقیدہ میں آنے ہی نہیں دیتا .اس بارے میںامام صادق علیہ السلام سے دو روایتیں نقل کر رہا ہوں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
ألمؤمن کالجبل الرّاسخ لا تحرّکه العواصف
مومن محکم پہاڑ کے مانند ہوتا ہے جسے آندھیاں اور طوفان اپنے مقام سے ہلا نہیں سکتے
جیسے سخت سے سخت آندھیاں اور طوفان پہاڑ کو اس کی جگہ سے حرکت نہیں دے سکتے اسی طرح زمانہ کے حالات اور تبدیلیاں مومن پر کبھی اثر انداز نہیں ہوتے اس کے عقیدہ کو کوئی شے متزلزل نہیں کرسکتی ، اور یہی وہ زمانہ ہوتا ہے کہ جب ثابت قدم مومنین ، شک وتردید کے شکار مومنین سے جدا ہوتے نظر آتے ہیں اس لئے کہ وہ ہر ایک کی بات کو قبول نہیں کرتے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے امام نے یہ فرمایا ہے :
ہماری غیبت کے زمانہ میں اگر کوئی نئی بات یا نیاعقیدہ تمھارے سامنے پیش کیا جائے تو اس کے بارے میں مت جھگڑو بلکہ جس طرح عمل کرتے چلے آرے ہو اسی پر باقی رہو یہاں تک کہ ہمارا ظہور ہو ( غیبت نعمانی)
آج پوری دنیا میں عقیدے کی جنگ جاری ہے اور خاص طور پر ہمارا ملک اس کا میدان بنا ہواہے اوراس کی وجہ بھی ہماری جہالت ہے جس سے دشمن بھر پور فائدہ اٹھارہا ہے .اور ہم آپس میں لڑ رہے ہیں ایسے حالات میں وہی اپنے ایمان کو بچا پائے گا جو ایمان مستقر کا حامل ہوگا آج کہیں نماز کے تشھّد میں أشھد أنّ علیا ولی اللہ کے نہ پڑھنے والوں کو دشمن اہل بیت کہا جارہا تو کہیں اذان میںسے اس مقدس گواہی کو نکالنے کی مذموم کوششیں کر کے جاہل مومنین کے ایمان کو، ان کے عقیدہ کو متزلزل کیا جارہا ہے لیکن جو مومنین اپنے امام کے فرمان سے آشنا ہیں وہ نہ ان کی بات پر توجہ کرتے ہیں اور نہ ان کی بات پر عمل کرتے ہیں بلکہ جس طرح علماء نے بیان فرمایا اور فقہاء نے فتوٰی دیا اور جس طرح پہلے عمل کر رہے اسی پر ثابت قدم ہیں. اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ نہ ان کے اندر دین کادرد ہے اور نہ ہی اخلاص نام کی کوئی چیز، بلکہ ذاتیات کی جنگ ہے نام کی جنگ ہے شہرت کی جنگ ہے جس میں نقصان مومنین کا ہورہا ہے مومنین کی صفوںمیں پھوٹ ڈالی جارہی ہے زمانہ کے امام کو پریشان کیاجارہا ہے.
دوسری روایت: امام علیہ السلام فرماتے ہیںالمؤمن کالسّنبلة مومن گندم کی بالی کے مانند ہوتا ہے جس طرح گندم کی بالیاں ہوا کے ساتھ ساتھ مڑتی دکھائی دیتی ہیں لیکن پہاڑ کے مانند محکم ہوتی ہیں کبھی ٹوٹنے نہیں پاتیں.
اے نوجوانو! تم بھی اپنے عقیدہ میں پہاڑ کی طرح رہو،اسے دلیل سے مانواور اس پر ثابت قدم رہو. آج کچھ اور کل کچھ یہ درست بات نہیں ہے .آپ ایسے افراد کو جانتے ہوں گے جو آج اس کے مرید تو کل کسی اور کے مرید اور اس پہلے والے کے دشمن یہ کام ابتداء ہی سے اشتباہ ہے اور عام طور پر ایسا کام جاہل افراد ہی کرتے ہیں کہ کسی کی ایک اچھی تقریر سن لی فورا اس کے مرید بن گئے اور اس کے پیچھے دوڑنے لگے ، اس سے بڑھکر کسی کو عالم تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتے ، لیکن جیسے ہی اس سے کوئی اشتباہ ہوا فورا اس کے مخالف بن گئے
بعض گھرانوں کی عورتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں .شوہر نے دس سال بیس سال اچھاسلوک کیا ، ہمیشہ ہر خواہش پوری کی لیکن ایک دن غصہ میں کچھ کہہ دیا یا کوئی خواہش پوری نہ کرسکا توفورا مزاج بگڑ گیا ، پوری زندگی کی نیکیاں بھول گئیں اور بعض اوقات تو یہ جملے بھی زبان پہ جاری ہونے لگتے ہیں کہ تجھ سے تو پوری زندگی نیکی دیکھی ہی نہیں ، معلوم ہے کہ اسے شروع ہی سے شوہر سے محبت نہیں تھی
یا اس کے برعکس ایک عورت گھر کے کاموں کوانتہائی سلیقے سے انجام دیتی ہے کھانا وقت پر آمادہ رکھتی ہے لیکن ایک دن غلطی سے دیر ہو گئی یا کھانا خراب ہو گیا تو ساری محبت ختم ہوگئی ،ڈانٹ پلانا شروع کردی .واضح ہے کہ پہلے ہی سے یہ محبت پہاڑ کے مانند نہیں تھی
عزیزان گرامی ! اگر کسی سے محبت کرو تو بھی پہاڑ کے مانند محکم اور اگر کسی شے پر عقیدہ رکھو تو بھی پہاڑ کے مانند محکم واستوار .یعنی انسان کو محکم ارادہ کا مالک ہونا چاہئے تاکہ اس کی دنیا اور آخرت سنور سکے ورنہ اگر شک و تردید اور جھالت میں زندگی گذار دی تو دنیاو آخرت دونوں میں گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا
دسواں درس
جہالت کا دین پر اثر (٣)
قال المهدیّ علیه السلام : آذانا جهلاء الشّیعة و حمقائهم ومن دینه جناح البعوضة أرجح منه.
عزیزان گرامی ! ہماری گفتگو جھالت کی اقسام کے بارے میں تھی گذشتہ دو درسوں میں جھل کی پہلی اور دوسری قسم کو بیان کیا گیاکہ جھل کی پہلی قسم ،جھل بسیط ہے جس کا معنی یہ ہے کہ انسان ایک چیز کے بارے میں جاھل ہے لیکن اپنی جھالت کے بارے میں علم رکھتا ہے دوسری قسم جھل تردید ہے کہ انسان اپنے عقیدہ کے بارے میں ہمیشہ شک وتردید کا شکار رہے اورجھل کی جس قسم کے بارے میں گفتگو ہو گی وہ جھل مرکب ہے جھل کی یہ قسم پہلی دوقسموں سے زیادہ خطرناک ہے اس قسم کو جھل مرکب کا نام دیا گیا ہے جس کی تعریف یہ کہ انسان ایک چیز کا علم نہیں رکھتا لیکن اپنے کو اس کا عالم سمجھتا ہے سب سے گنہگار ہے مگر اپنے کو سب سے مقدس مآب خیال کرتا ہے.گھر والے اس کی بد اخلاقی سے تنگ ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو سب سے خوش اخلاق تصور کرتا ہے سب سے فاسق ترین شخص ہے مگر خود کو سب سے بڑا مومن سمجھتا ہے جھالت کی یہ قسم اس قدر خطرناک ہے کہ قرآن فرماتا ہے: اگر یہ بری صفت کسی کے اندرراسخ ہوجائے تو ایسا شخص روز قیامت خداسے بھی جھگڑے گا اورقسمیں کھائے گاجب اسکا سیاہ اعمال نامہ اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کہے گا:اے خدایا! میں تو ایک نیک انسان تھا یہ مجھ پر الزام لگایا جارہا ہے قرآن نے اسے یوں بیان فرمایا :
( یوم یبعثهم الله جمیعا فیحلفون له کما یحلفون لکم و یحسبون أنّهم علٰی شیء ألا انّهم هم الکاذبون ) ( ۷۰ )
ترجمہ: جس دن خدا ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا اور یہ اس سے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تم سے کھاتے ہیں اور ان کا خیال ہو گا کہ ان کے پاس کوئی بات ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹے ہیں.
جسطرح لوگوں کے سامنے قسمیں کھایا کرتے کہ ہماچھے ہیں اسی طرح خدا کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے.قرآن فرماتا ہے کہ عجیب قسم کے جھوٹے ہیں اور جھوٹ میں اس حدّ تک آگے نکل چکے کہ روز قیامت خداکے سامنے بھی جھوٹ بولنے میں ان کو کوئی پریشانی نہیں ہورہی آج آپ اپنے منبروں کی حالت دیکھ لیں کہ بعض پڑھنے والے اس قدر واضح جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں کہ عام انسان بھی جان جاتا ہے لیکن وہ اس قدر بااعتمادی کے ساتھ بول رہے ہوں گے کہ جیسے کسی کو ان کے اس جھوٹ کا علم ہی نہیں ہوا اور پھر نہ تو یہ لوگ امام حسین علیہ السلام پر رحم کھاتے ہیں اور نہ خوف خدا کا ڈر ہوتا ہے.
پڑھے لکھے افراد میں بھی ایسوں کی کمی نہیں ہے .انہیں لوگوں کے بارے میںقرآن فرما رہا کہ خدا کے سامنے بھی اکڑ جائیں گے اور کہیں گے خدایا ! تو ہی اشتباہ کررہا ہے یا تیرے ملائکہ نے اشتباہ کیا ہے ہم تو انتہائی نیک لوگ ہیں
قرآن کریم ان افراد کو پست ترین افراد کہہ رہا اورانہیں سب سے زیادہ خسارہ پانے والا قرار دے رہا :
( قل هل ننبّئکم بالأخسرین أعمالا الّذین ضلّ سعیهم فی الحیوة الدّنیا وهم یحسبون أنّهم یحسنون صنعا. ) ( ۷۱ )
ترجمہ:پیغمبر کیا ہم آپ کو ان کے بارے میں اطلاع دیں جواپنے اعمال میں بد ترین خسارہ میں ہیں .یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں
مسجد میں کبھی گیا نہیں ، مجلس کبھی سنی نہیں ،جب اس کہا جاتا ہے کہ درس اخلاق میں شرکت کیا کرتو کہتا ہے میں ان مولویوں سے زیادہ جانتا ہوں.ایک عورت گھر میں انتہائی بد اخلاق ہے لیکن جب کوئی اسے کہتا ہے کہ تو بد اخلاق ہے تو کہتی ہے میرے جیسا کوئی بااخلاق ہے ہی نہیں تم اشتباہ کر رہے ہو ماں باپ سب نصیحت کررہے لیکن کسی کی بات قبول کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ وہی اپنا جھل مرکب دوسروں پر مسلط کرنا چاہ رہی
امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے اسے آپکے سامنے نقل کررہا ہوں تا کہ جھل مرکب کامعنی تمھارے لئے مزید واضح ہو جائے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ جھل مرکب انسان کو بد بختی کی کس حدّ تک پہنچادیتا ہے .آپ کے چھٹے امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
ایک شخص لوگوں کو درمیان بہت شہرت رکھتا تھالوگ اسے مستجاب الدعوات سمجھتے.اس قدر معروف تھا کہ میں سوچااس سے جا کر ملوں .امام علیہ السلام فرماتے ہیں ایک دن کوچے میں کھڑا تھا اور اسکے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ تھی میرے ساتھ والے شخص نے بتایا : یابن رسول اللہ ! یہی وہ شخص ہے جس سے آپ ملنا چاہ رہے تھے امام علیہ السلام فرماتے ہیں : میں آگے بڑھا لیکن اس کی نگاہ جیسے ہی مجھ پر پڑھی لوگوں کو وہیں پہ چھوڑ کر نکل گیا ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے تاکہ خلوت میں اس سے بات کر سکیں.
امام علیہ السلام فرماتے ہیں : یہ شخص ایک تنور پرپہنچا وہاں سے دو روٹیاں چرائیں اور باہر نکل آیا ، اس کے بعد ایک دوکان میں داخل ہوا وہاں سے دو انار چرائے اور باہر نکل آیا وہاں سے سیدھا ایک خرابہ میں داخل ہواوہ روٹیاںاور انار وہاں( چار آدمیوں کو ) صدقہ دیا اور اب جیسے ہی باہر آیا تو میں نے اسے روک کر پوچھا کہ یہ کیسا عمل تھا جو تو نے انجام دیا ، کہنے لگا : میں نے کیا کیا ہے ! میں نے کہا : میں تمھاری تمام تر حرکات کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا : تو کون ہے ؟ میں نے کہا : میں جعفر بن محمد ہوں .جیسے اس شخص نے سنا تو کہنے لگا : تو فرزند پیغمبر ہے اور قرآن نہیں جانتا ، قرآن کہہ رہا ہے :
( من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها و من جاء بالسیئة فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۷۲ )
ترجمہ: جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے اتنی ہی سزا ملے گی
میں نے کہا : اس آیت کا آپ کے اس عمل سے کیاتعلق ہے ؟ کہنے لگا : میں نے دو انار اور دو روٹیاں اٹھائیں جن کے بدلے میں مجھے چار گناہ ملے جبکہ انہیں صدقہ کرنے پر مجھے چالیس نیکیاں مل گیئں اب اگر چالیس میں سے چار کو کم کر دیا جائے تو پھر بھی میرے نامہ عمل میں چھتیس نیکیاں تو آگئیں اور یہ کتنا مفید معاملہ ہے .! میں نے کہا :ثکلتک أمّک تیری ما ں تجھ پر گریہ کرے تو نے تو ایک نیکی بھی نہ پائی بلکہ آٹھ گناہ تمہارے نامہ اعمال میں لکھ دئیے گئے چار چوری کرنے کے اور چار مالک کی اجازت کے بغیر ان چیزوں کو دوسروں کو دینے کے اور پھر فرمایا : دیکھا جھل مرکب انسان کے سا تھ کیا کرتا ہے
ممکن ہے آپ اس روایت سے تعجب کریں لیکن کیا ہمارے پاس ایسے افراد کی کمی ہے جو کم تولتے ہیں مہنگا بیچتے ہیں اور سال سال سامان کو سٹور کئے رکھتے ہیں تاکہ جب مہنگا ہو تب بیچیں لوگوں کا خون چوستے ہیں اور سال میں ایک آدھی مجلس کروا دی اور سمجھ لیا کہ ہماری بخشش ہو گئی ، ہم نے تو بہت بڑا کام کر دکھایا ہم سے بڑا تو کوئی مومن ہے ہی نہیں کیا فرق ہے اس میں اور اس چوری کرنے والے میں اس نے چوری کی راہ خدا میں صدقہ کردیا ،اس نے لوگوں کاخون چوسا ، غریبوں کا مال کھایا اور امام حسین کی مجلس کروا دی .!
ایک خاتون ساری رات عبادت الھی میں مشغول ہے کبھی دعائے توسل پڑھ رہی تو کبھی زیارت عاشورہ، پوری رات گریہ وبکاء میں گذار دی لیکن شوھر اس بیوی سے تنگ ہے اس کا حق کھا رہی اس عورت اور اس چورمیں، اس نے بھی دوسروں کا حق کھایا یہ بھی شوہر کا حق کھا رہی
اسی طرح ایک شخص صدقات و خیرات کررہا مگرگھر والے اچھا کھانے کو اچھا پہننے کو ترس رہے ، اسے اتنا بھی معلوم نہیں :
چراغی کہ بہ خانہ روا است بہ مسجد حرام است
اور اس سے بھی بڑھ کر جھالت تو یہ ہے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جو نہ تو خمس دیتے ہیں اور نہ زکات مگر عشروں کے عشرے کروا رہے جبکہ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : قرآن کی یہ آیت مجیدہ ایسے ہی افراد کے بارے میں ہے :
( انّ الّذین یأکلون أموال الیتامٰی ظلما انّما یأکلون فی بطونهم نارا و سیصلون سعیرا ) ( ۷۳ )
ترجمہ:جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اورعنقریب واصل جھنّم ہوں گے.
ایسا شخص جو خمس ادا نہ کرے اور مجالس وغیرہ یا دوسرے نیکی کے کاموں پر پیسہ خرچ کر رہا ہے یہ بھی ویسا ہی چور ہے قیامت کے دن اسے جہنّم کی آگ کا ایندھن بنا دیا جائے گا
گیارہواں درس
جھالت کا علاج (١)
قال الامام المهدیّ علیه السلام : آذانا جهلاء الشیعة وحمقائهم ومن دینه جناح البعوضة أرجح منه .
عزیزان گرامی!ہماری گفتگو مسلسل کئی روز سے جھالت کی اقسام اور اس کا دین پر جو برا اثر ہے اسکے بارے میں جاری ہے. اور امام زمانہ علیہ السلام ارواحنا لہ الفداء کا فرمان آپ کے سامنے پیش کیا گیا جس میں امام علیہ السلام فرمارہے کہ ہمارے شیعوں نے ہمیں اذیت پہنچائی. اور اس کا باعث مومنین کی علم دین سے ، شریعت کے احکام سے جھالت ہے .جس کے نتیجہ میں وہ ہمیں فائدہ پہنچانے کے ، ہمارے مدد کرنے کے ، ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں جس سے زمانہ کے امام کا دل دکھتا ہے. امام پریشان ہوتے ہیں اس لئے کہ ہر روز کے اعمال امام زمانہ کی خدمت میں پہنچتے .ہیں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہچنتے ہیں جب مومن کا نامہ عمل نیکیوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے تو امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء خوش ہوتے ہیں اور اپنے اس چاہنے والے کے حق میں دعا کرتے ہیں .لیکن خدانخواستہ اگر کسی کے نامہ عمل میں لوگوں کو گمراہ کرنے اور طرح طرح کی برائیوں سے پر ہو تو امام زمانہ پریشان ہو جاتے ہیں اس لئے کہ اس کا تعلق امام زمانہ سے ہے یہ اپنے آپ کو سپاہی امام کہلواتا ہے اور جوانسان جتنا کسی کے قریب ہو اور پھر نافرمانی کرے تو اتنا ہی زیا دہ دکھ ہوتا ہے .اب چونکہ یہ شخص شیعہ ہونے کا دعوٰ ی کررہا اور لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کی یہ اہل بیت علیہم السلام کا چاہنے والا ہے تو اب یہ جو بھی کام کرے گا لوگ اسے اہل بیت کی طرف نسبت دیں گے اسی لئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
شیعتنا کونوا لنا زینا ولا تکونوا علینا شینا
اے ہمارے شیعو! ہمارے لئے باعث زینت بنو ، باعث ننگ وعار مت بنو.
امام یہ جملہ کن سے فرما رہے؟ اپنے چاہنے والوں سے ،اپنے شیعوں سے ، اپنے عزاداروں سے ،مثال کے طور پر آپ ابھی مسجد سے باہر نکلے اور دیکھا کچھ بچے راستے میں کھیل رہے،درس یا نماز میں شرکت نہیں کی آپ سب کو چھوڑ کر ایک بچے کو بلاکر سمجھانا شروع کرتے ہیں جب کوئی پوچھے گا کہ بھئی سب کو چھوڑ کر صرف اس بچے کو کیوں تبلیغ کر رہے جبکہ سب ہی کھیل رہے تھے تو آپ اس کے جواب میں یہی تو کہیں گے کہ اس کا تعلق ہم سے ہے اسی لئے امام علیہ السلام نے بھی کسی اور کو خطاب نہیں کیا بلکہ اپنے چاہنے والوں سے یہ فرما رہے کہ اگر ہماری دوستی کو اپنا ہی لیا ، اگر ہمارے شیعہ بن ہی گئے تو اب ایسا کا م مت کرو جس کی وجہ سے ہمیں خدا کی بارگاہ میں شرمندگی اٹھانا پڑے.
عزیزان گرامی ! یاد رکھیں کہ کوئی بھی مومن یہ نہیںچاہتا کہ اس کی وجہ سے اس کے امام پریشان ہوں .اور کسی مومن سے امام علیہ السلام کو پریشانی ہو رہی تو یہ اس کی جھالت کے باعث ہے اس لئے کہ وہ اپنے عقیدہ کی اصلاح ہی نہیں کرتا جبکہ اس کے پاس عالم دین بھی موجود ہے وقت بھی ہے لیکن چونکہ وہ یہ تصور کرتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس پے وہی صحیح ہے اور یہی جھل مرکب ہے
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان مومن کیا کرے کہ اس جھالت کو دور کر کے اپنے زمانہ کے امام کو راضی کرسکے ؟ تو اس کے لئے ہم جھل کی ہر ایک قسم کا علاج جدا جدا طور پر ذکر کر رہے ہیں امید ہے کہ آپ لوگ توجہ سے سنیں گے اور اس پر خود بھی عمل کریں اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بھی بتائیں گے تا کہ امام زمانہ ہم سب سے راضی ہوں خداہم سے راضی ، شفاعت اہل بیت رسول سب کے شامل حال ہو سکے.
جھل بسیط :جھل بسیط کے بارے میں بیان کیا جا چکا کہ ایک انسان کسی شے کا علم نہیں رکھتا اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ یہ چیز نہیں جانتا اسکا علاج انتہائی آسان ہے اس لئے کہ وہ رسول مکرم جنکے بارے میں روایات میں ملتاہے:
طبیب دوّار ایک ماہر طبیب تھے انہوں نے اس کا علاج بھی ایک حدیث میں بتا دیا فرمایا:طلب العلم فریضة علی کل مسلم
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے چاہے وہ مردہو یا عورت
واضح سی بات ہے کہ جب علم آئے گا توجھالت خود بخود دور ہو جائے گی اگر کوئی شخص علم کو چھوڑ کر کسی اور کام کے پیچھے جاتا ہے تو وہ انتہائی غلط کام کر رہا ہے اس لئے کہ سب سے اہم کام علم ہے اس کے بعد جو چاہے کرے رسول خد ا کی سیرت دیکھیں کہ جب بھی کوئی شخص مسلمان ہوتا تو اسے ایک ایسے مسلمان کے حوالے کرتے جو دین کے احکام سے آشنا ہوتا ،جب وہ شخص دین کے ضروری احکام کو سیکھ لیتا تب اسے اجازت دی جاتی یعنی پیغمبر فقط شھادتین پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ فرماتے اب اگر مسلمان ہو ہی گئے ہو تو آؤآداب مسلمانی بھی سیکھ لو نمازپڑھو بھی اور نماز کے احکام بھی سیکھو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ کے احکام بھی سیکھو .اس لئے کہ اسلام کے احکام سے آشنائی کے بغیر مسلمان بننا کیسے ممکن ہے ؟
تعجب ہے آج کے پڑھے لکھے مسلمانوں سے جن کے پاس دین کے احکام سیکھنے کا وقت نہیں .نماز سیکھ لی سمجھا سارا دین اسی میں آگیا ، نہ تو نماز کے شکیات کا علم اور نہ ہی اس کے آداب کا جبکہ اتنا تو مکہ کے بدو عرب بھی جانتے تھے کہ جب تک اسلام کے ہرہر حکم پر عمل نہ کر لیا جائے تب تک انسان سچامسلمان بن ہی نہیں سکتا
پیغمبر کی خدمت میں ایک عرب بدو حاضر ہوا اور کہنے لگا : اے مسلمانوں کے نبی !
میں نے اپنے علم اور اپنی معلومات کے ذریعہ یہ جان لیا ہے ،مجھے یہ یقین ہو چکا ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں لیکن آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا فرمایا یہ کیسے ایک طرف قبول کررہا اور پھر ایمان کیوں نہیں لاتا؟ کہنے لگا : میں اتنا بھی جاہل نہیں ہوں بلکہ جانتا ہوں کہ اگر آپ پر ایمان لے آیا تو پھر آپ پر جو کچھ نازل ہوا اس سب پر عمل کرنا پڑے گا اور اگر ایمان لے آؤں اور آپ کے بتائے ہوئے احکام پر عمل نہ کروں تو ایسا ایمان مجھے فائدہ نہیں دے سکتا لہذابہتر یہی ہے کہ آپ پر ایمان نہ لے آؤں .چونکہ مجھ میں تین ایسی بیماریاں ہیں جن کو میں چھوڑ نہیں سکتا اور آپ اس کی چھوٹ نہیں سے سکتے فرمایا : کونسی ایسی بیماریاں ہیں جنہیں تم چھوڑ نہیں سکتے ؟ کہنے لگا : اے مسلمانوں کے نبی ! ایک تو میں شراب پیتا ہوں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا دوسرا یہ کہ مجھے جھوٹ بولنے کی عادت ہے چاہوں یا نہ چاہوں جھوٹ بولتا رہتا ہوں اسے چھوڑنا بھی میرے لئے ممکن نہیں ہے اور آپ کا دین اس کی اجازت نہیں دیتا. تیسری بیماری میرے اندر یہ ہے کہ میں کبھی حلال کا مال کھایا ہی نہیں! ہیشہ چوری کر کے کھاتا ہوں .اور مجھے معلوم ہے کہ آپ اس کی اجازت نہیں دیں گے اس لئے میں نے کہا کہ میں آپ کو سچانبی ماننے کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لاسکتا
اللہ کے رسول نے فرمایا : کیا ایک معاملہ کرو گے ؟کہا کونسا ؟ فرمایا: ایک کو تم چھوڑ دو، دو کی ہم تمہیں چھٹی دے دیتے ہیں .اب جو صحابہ کرام پاس بیٹھے تھے حیران ہو گئے کہا : بھئی اب چھوٹ کا زمانہ آیا ہے ہم تو اسلام لانے میں جلدی کربیٹھے.
فرمایا: ایک تم چھوڑ دو ، دو کی ہم تمہیں رخصت دے دیتے ہیں
یہ کہنے لگا: میں اس پر راضی ہوں ایک چیز کو آپ کی خاطر چھوڑنے کو تیار ہوں.
فرمایا : جھوٹ بولنا چھوڑ دے .باقی دو کا میںضامن ہوں .اس نے قبول کرلیا اور خوشی خوشی اٹھ کر چل دیا اب سارا دن اندھیرا چھانے کا انتظار کرتا رہا جیسے ہی رات ہوئی تو چوری کرنے کے ارادہ سے نکلا ایک ایسے مکان کے پاس پہنچا جس میں کوئی نہیں اور سامان سے بھرا ہوا ہے اس نے اطمینان سے چادر بچھائی اور ایک سے ایک چیز چن کر رکھنا شروع کی جب گٹھڑی باندھ کی تو کہا : تھوڑی دیر آرام کر لوں اس کے چلوں گا اب جیسے بیٹھا تو سوچنے لگا کہ اللہ کے نبی سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ جھوٹ نہیں بولوں گا .اور یہ سامان لے کر بازار میں بیچنے گیا تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ سامان کہاں سے لایا ہوں تو کیا کہوں کہ شام سے قافلہ آیا تھا اس سے خریدا ، یہ تو جھوٹ ہو جائے گا اگر شراب خانہ سے واپس جا رہا اور کسی نے پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا
عزیزان گرامی ! اسلام نے اسی لئے فکر کی دعوت دی ہے کہ ہر انسان ہر روزسونے سے پہلے فکر کرے کہ آج میں نے کیا کیا کیا. اور پھر فرمایا :تفکّر ساعة افضل من عبادة سبعین سنة
ایک لمحہ کاتفکر ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے
آپ نے دیکھا کہ ایک لمحہ تفکر کرنے کی بنا پر یہ شخص سارے گناہوں کو ترک کر بیٹھا کہا مجھے اب سمجھ آئی کہ اللہ کے رسول نے مجھ سے فقط جھوٹ ہی نہیں چھڑوایا بلکہ اس کے ذریعہ سے تینوں کاموں سے روک دیا اب چونکہ اللہ کے رسول سے سب کے سامنے وعدہ کر چکا تھا لہذا سامان کو وہیں پہ چھوڑا اور سیدھا گھر پہنچا .نیند نہیں آرہی. اب تک جو اندھیرے کی تلاش میں تھا اب یہ انتظار کر رہا کہ کب سورج نکلے ،روشنی ہو اور وہ اللہ کے رسول کی خدمت میں پہنچ کر سچے مسلمان ہونے کا اظہار کرے
جیسے ہی صبح ہوئی سیدھا پیغمبر کی خدمت میںپہنچا. کہا: یا رسول اللہ میں اپنے سچا مسلمان ہونے کا اظہار کرنے آیا ہوں فرمایا : ٹھہر جاؤ ان صحابہ کو بھی بلا لیں جو کل یہاں موجود تھے سب کو بلایا گیا.اور پھر فرمایا : بتا اب کیا کہنا چاہتا ہے کہنے لگا: یا رسول اللہ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ آپ سے چھوٹ لے لی لیکن حقیقت میں آپ نے جھوٹ سے روک کر مجھے تمام گناہوں سے بچا لیا
عزیزان گرامی! اسے کہتے ہیں طبیب دوار جو مریض کوخالی ہاتھ واپس نہ پلٹائے اب آپ نے دیکھا ؛ کہ پیغمبر کے پاس جانے کا کتنا فائدہ ہوا کہ ایک بھٹکا ہوا انسان راہ راست پر آگیا اسی طرح آج بھی اگر کوئی شخص وارثان رسول یعنی علماء کی صحبت میں رہے گا تو اپنی جھالت بھی دور کر سکتا ہے اور پھر کبھی گمراہ بھی نہیں ہوگا
بارہواں درس
جھالت کا علاج(٢)
قال المھدی علیہ السلام : آذانا جھلاء الشّیعة و حمقائھم ومن دینہ جناح البعوضة أرجح منہ
عزیزان گرامی ! ہماری گفتگو جھالت کے علاج کے بارے میں کہ کیا کیا جائے جس سے ہم اپنی جھالت کو دور کر کے امام زمانہ کوراضی کرسکیں توکل کے درس میں یہ بیان کیا گیا کہ جھل بسیط کو دور کرنے کا واحد علاج یہ ہے کہ انسان علم حاصل کرے علماء کی طرف رجوع کرے. اس لئے کہ علم کے بغیر عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہے قرآن مجید میں تقریبا پچھتر بار جہاں پہ ایمان کا تذکرہ ہوا سا تھ ہی عمل کے بارے میں بھی کہا گیا( الاّ الّذین آمنوا وعملوا الصالحات ) یعنی علم بغیر عمل کے مفید نہیں اور عمل بغیر علم کے فائدہ مند نہیں ہو سکتا
صدر اسلام کے مسلمان جب ایک دوسرے سے ملتے توکہا کرتے( والعصر انّ الانسان لفی خسر الاّ الّذین آمنوا و عملواالصالحات ) اگر کوئی شخص عمل کرنا چاہتا ہے تو اسے عالم ہونا چاہئے لیکن عالم ہونے کا معنی یہ نہیں کہ وہ پانچ یا دس سال مدرسہ میں پڑھے بلکہ اگر اپنی مسجد کے مولانا صاحب کے پاس ہر روز دس منٹ جائے اور اپنی نماز اور جو کچھ دین کے بارے میں جانتا ہے اسے پیش کرے اگر درست ہے تو الحمد للہ ورنہ اصلاح کرے جو لوگ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن صحیح نماز نہیں پڑھتے ، اس کے آداب سے ، احکام نماز شکیات وغیرہ سے آگاہ نہیں ہیں قیامت کے دن انہیں خطاب کیا جائے گاهلّا تعلّمت نماز کے احکام کو کیوں نہیں سیکھا کیا تمھارا بازار جانا ضروری تھا یا تمھاری نماز ، کیا تمھارا دوکان کھولنا ضروری تھا یا تمھاری نماز کیا ایف اے بی اے کرنا ضروری تھا یا احکام نماز تمھیں ان سب کاموں کی فکر تو تھی ، انہیں تو اہمیت دیتے تھے لیکن اگر کسی چیز کی اہمیت نہیں تھی
تو دین کا علم ہے وہ نماز و روزے کے احکام ہیں .پس اسے جھنّم میں لے جایا جائے کتنی حماقت کی بات ہے کہ انسان اس چند روزہ زندگی کے لئے جس کا کوئی بھروسہ ہی نہیں کہ کس وقت ختم ہوجائے اس کے لیے تو دن رات کوشش کرے لیکن وہ زندگی جو ابدی زندگی ہے جو انسان کا ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے اس سے بے خبر رہے اس گھر کے لئے کچھ نہ کرے
عزیزان گرامی !قرآن نے یہاں پر ایک اور بھی ذمہ داری بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنی عاقبت کی فکر کرتا ہے اسی طرح اپنے گھر والوں اپنی بیوی ،اپنے بچوں کی بھی فکر کرے اس لئے کہ کہیں خدا نخواستہ یہ نہ کہ جس اولاد کی خاطر انسان اپنی پوری زندگی کا سکون تباہ کر کے بیٹھاہو وہی اولاد کل باپ کی آنکھوں کے سامنے جہنم کاایندھن بن رہی ہو .لہذاقرآن نے فرمایا:
( یاأیهاالّذین آمنوا قوا أنفسکم و أهلیکم نارا وقودها الناس و الحجارة ) ( ۷۴ )
ترجمہ:اے ایمان والو اپنے نفس اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات منبر پر فرماتے: افسوس آخری زمانہ کے بچوں پر ان کے والدین کی وجہ سے. صحابہ کرام عرض کرتے : یا رسول اللہ کیا وہ مشرک ہوں گے ؟ فرماتے نہیں، ہونگے تو مسلمان لیکن انہیں ان کی دنیا کی فکر تو ہو گی مگر ان کی آخرت سے غافل ہوں گے( ۷۵ )
ماںباپ کو یہ فکر تو ہو گی کہ ہمارے بچے اچھی سے اچھی یونیورسٹی میں پڑھیں تاکہ ان کی دنیا سنور جائے لیکن ان کی آخرت سے بے پرواہ ہونگے ماں کی خواہش یہ ہو گی کہ میری بیٹی ڈاکٹر یا پروفیسر بن جائے لیکن اگر اسے اس کی فکر نہیں کہ اس نے کبھی حجاب کیا ہے یا نہیں ؟ اسے عورتوں کے ضروری مسائل سے آگاہی ہے یا نہیں ؟ ایسے ماں باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کے لئے جھنم خرید رہے اس لئے کہ اتنا پیسہ خرچ کر کے بیٹی کو کالج یا یونیورسٹی میں بھیجا جبکہ اسے نہ تو پردے سے آگا ہکیا اور نہ ہی نامحرم کے ساتھ بولنے یا اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے
تو یقینا ایسی بیٹی خود بھی جھنّم میں جائے گی اور اپنے والدین کو بھی جھنّم لے جائے گی
اگر بیٹی یا بیٹاامتحان میں ناکام ہو جائے تو ماں باپ کوپوری پوری رات نیند نہ آئے لیکن اگر صبح کی نماز نہ پڑھیں تو کوئی فکر نہیں
عزیزان گرامی!ضروری احکام کا سیکھنا سب پر واجب ہے. اے میرے عزیز دوستو اور اے میری ماں بہنو! یاد رکھ لو کہ ایک توضیح المسا ئل جو مجتھد کی ساٹھ یا ستر سال کی زحمت کا نتیجہ ہوتا ہے اسے گھر بیٹھے نہیں سمجھا جا سکتا .لہذاضروری ہے کہ کسی سے پوچھیں ، مجلس میں جائیں ، درس اخلاق میں جائیں علماء کی محفل سے فائدہ اٹھائیں اور یہ بھی یاد رکھ لیں اگر اپنی اولاد کو علماء سے دور رکھو گے اللہ کے رسول فرما رہے کہ ایسی تین بیماریوں میں مبتلا ہو گے جن کے درد کا علاج ممکن نہ ہو گا فرمایا:
سیأتی زمان علٰی امّتی یفرّون من العلماء کما یفرّ الغنم من الذّئب واذاکان کذٰلک سلّط الله علیهم من لا رحم له ولا علم له ولا حلم له و ترفع البرکة من أموالهم و یخرجون من الدّنیا بلا ایمان ( ۷۶ )
میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ علماء سے اسی طرح بھاگیں گے جیسے بھیڑ بھیڑئے سے بھاگتی ہے اور جب ایسی حالت ہوگی تو خدا وند متعال ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جن کے دل میں نہ تو ان کے بارے میں رحم ہوگا ، نہ علم ہوگا ، نہ صبر و بردباری ہوگی اور پھر ان کے اموال سے برکت اٹھا لی جائے گی. اور وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے جائیں گے کہ ان کے دل میں ایمان کا ذرہ نہ ہوگا
آئمہ علیھم السلام کے اصحاب کی سیرت دیکھیں .کیا ہم ان سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں ؟ کیا ہم روایات کو بہتر سمجھتے ہیں یا وہ ؟ یقینا وہ ہم سے بہتر تھے لیکن اس کے با وجود اپنے شک کو دور کرنے کے لئے کیا کیا کرتے ؟ ہمیں بھی ویسا ہی کرنا چاہئے
امام صادق علیہ السلام ، امام رضا علیہ السلام اور امام ہادی علیہ السلام کے صحابہ میں بعض ایسے بھی تھے جو اپنے امام زمانہ کے سامنے اپنا عقیدہ پیش کرتے. جن میں سے ایک شہزادہ عبدالعظیم حسنی ہیں جن کا مقام اتنابلند کہ اگر کوئی ان کی زیارت کرلے تو اسے زیارت امام حسین علیہ السلام کا ثواب مل جائے گا ان کا روضہ تہران میں ہے یہ امام ہادی علیہ السلام کے نمائندہ بھی ہیں لیکن پھر بھی اطمینان قلب کی خاطر امام زمانہ کے پاس آتے ہیں اور آکر عرض کرتے ہیں: یابن رسول اللہ میں عقیدہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہا : میں خدا کو اس کی صفات کے ساتھ مانتا ہوں ، پیغمبر کی نبوت اور آپ کی امامت پر ایمان رکھتا ہوں ، قیامت کو مانتا ہوں خلاصہ ایک ایک عقیدہ بیاں کیا. امام ہادی علیہ السلام نے اس کا عقیدہ سننے کے بعد فرمایا :
هذا دینی و دین آبائی
یہی میرا اور میرے آباؤ و اجداد کا دین ہے
یہ ہے شک اور جھالت کو دور کرنے کا راستہ کہ انسان کسی عالم کے سامنے اپنا عقیدہ پیش کرے اور یوں اپنی اصلاح کرے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو آپ سن چکے کہ خدا وند متعال اسے تین طرح کے عذاب میں مبتلا کردے گا خدا ہم سب کو علماء کی صحبت اور ان سے اپنے اپنے عقیدوں کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین
تیرہواں درس
دنیا میں اعمال کا اثر(١)
قال اللہ تبارک و تعالٰی فی کتا بہ المجید بسم اللہ الرحمٰن الرحیم .و ما أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم و یعفوا عن کثیر
عزیزان گرامی ! تمام ادیان الٰھی اور خاص طور پر دین مقدس اسلام کی نگاہ میں انسان کی اہمیت اور اسکا مقام اس کے اعمال کا مرہون ہے البتہ عمل سے مراد اعضا ء و جوارح کی حرکت نہیں ہے بلکہ انسان کی نیّت اور ا س کی معرفت کو بھی شامل ہے جیسا کہ خدا وند متعال نے بیان فرمایا :
( ولکلّ درجات ممّا عملوا وما ربّک بغافل عمّا یعملون ) ( ۷۷ )
ترجمہ: اورہر ایک کے لئے اس کے اعمال کے مطابق درجات ہیںاور تمہارا پروردگار ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے
نیز سورہ احقاف میں فرمایا :
( ولکلّ درجات ممّا عملوا و لیوفّیهم أعمالهم وهم لا یظلمون ) ( ۷۸ )
ترجمہ: اور ہر ایک کے لئے اس کے اعمال کے مطابق درجات ہونگے اور یہ اس لئے کہ خدا ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا
انسانی حقیقت عمل کے سایہ میں ہے انسان کا نیک یا بد ہونا اس کے عمل کے تابع ہے .جناب نوح علیہ السلام سے خدا وند متعال کا یہ فرمان( انّه لیس من أهلک انّه عمل غیر صالح ) اس میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ خدا نے یہ نہیں فرمایا : تمھارے بیٹے کے اعمال صالح نہیں ہیں بلکہ فرمایا : تمھارا بیٹا عمل صالح نہیں ہے .یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی حقیقت اس کا عمل ہے اور انسان اپنے اعمال کا مجسمہ ہے اب اگر اس کے اعمال نیک ہوں گے تو وہ خود بھی نیک ہی ہو گا اور اگر اس کے اعمال برے ہوں گے تو وہ خود بھی برا ہو گا.
قیامت میں بھی انسان اپنے اعمال کی صورت میںمحشور ہوگا بلکہ اس دنیا میں بھی انسان کا حقیقی چہرا اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے لیکن اسے خاص افراد کے سوا کوئی نہیں درک کر سکتا.
انسان جتنے بھی اعمال بجا لاتا ہے وہ نابود ہونے والے نہیں ہیں روز قیامت کامل طور پر آشکار ہونگے اور اس دنیا میں بھی کسی حد تک ان کا اثر باقی رہتا ہے
یہ اثر کبھی انفرادی ہوتا ہے اور کبھی اجتماعی یعنی یا تو اس کے اعمال کا خود اس پر پڑتا ہے یا پورے معاشرہ پر.اسی طرح انسان کے اعمال کا اثر کبھی اس کی روح پر پڑتا ہے اور کبھی اس کے دنیاوی امور پر.
اس میں شک نہیں ہے کہ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اوراس کی فیملی اس دینا میں اچھی زندگی بسر کرے.انسانی فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے اور پھردین مبین اسلام نے بھی اس کی نفی نہیں کی ہے بلکہ عبادت کے مفہوم کو اس قدر وسعت دی کہ اگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال کی خوشحالی کی خاطر رزق کمانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اس عمل کو عبادت قرار دیا اور بیوی بچوں پر کھلے دل سے خرچ کرنے کو مومن کی علامت قرار دیا کی مومن معاش کے سلسلے میں گھر والوں پر سختی نہیں کرتا اور جو ایسا کرتا خدا وند متعال اس کے رزق میں برکت دیتا ہے اور وہ کبھی بھی تنگ دستی کا شکار نہیں ہوتا البتہ اسراف کی اسلام اجازت نہیں دیتا
تو اسلام نے عبادت کے مفہوم کو صرف نماز و روزہمیں منحصر نہیں کیا ایک مرتبہ صحابہ کرام نے ایک نوجوان کو دیکھا جس کے کندھے پر بیلچہ ہے اور مزدوری کی خاطر جارہا انہیوں نے دیکھ کر کہا : یہ کس قدر پیارا نوجوان ہے اے کاش ! اپنی اس جوانی کو عبادت خد ا میں صرف کرتا تو اللہ کے رسول نے فرمایا : یہ گمان مت کرو کہ سرف نمازو روزہ ہی عبادت ہے بلکہ رزق حلال بھی عین عبادت ہے
نیا کی تلاش بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے اگر اس کے حاصل کرنے کا مقصد برا نہ ہو ایسی دنیا جوانسان کے دین میں، اس کی آخرت میں اس کی مدد گار ہو وہ حقیقت میں دنیا نہیں ہے بلکہ آخرت ہی آخرت ہے ابن ابی یعفور امام صادق علیہ السلام کے صحابی ہیں وہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا : مولا کیا کروں دل میں دنیا کی محبت پیدا ہو گئی ہے. اسے حاصل کرنے کو جی چاہتا ہے. امام علیہ السلام نے فرمایا : دنیا حاصل کرنے کے بعد اسے کیا کر وگے؟ عرض کرنے لگا:میں چاہتا ہوں اپنی اور اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کروں ، صلہ رحمی کروں، صدقہ دوں، اور حج و عمرہ بجا لاؤں. فرمایا : یہ دنیا طلبی نہیں بلکہ آخرت طلبی ہے.
قرآن نے بھی مرنے والے کے مال کو نیکی سے تعبیر کیاہے :
( کتب علیکم اذا حضر أحدکم الموت ان ترک خیرا الوصیة للوالدین والأقربین بالمعروف حقّا علی المتّقین ) ( ۷۹ )
ترجمہ:تمہارے اوپر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تواپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کر دے.یہ صاحبان تقوٰی پر ایک طرح کا حق ہے.
اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
نعم العون علی التقوٰی الغنٰی ( ۸۰ )
تقوٰی حاصل کرنے کے لئے مال بہترین مدد گار ہے
اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اسألوا الله الغنٰی فی الدنیا و العافیة ( ۸۱ )
خدا سے دنیا میں تونگری اورعافیت طلب کرو.
ایسا مال دنیا جو انسان کے حرص و طمع ، لالچ و حسداور شہرت طلبی کا باعث نی بنے بلکہ اسے راہ خدا میں ، راہ حسین میں خرچ کرنے کے لیے طلب کرے تو وہ دنیا کی محبت نہیں کہلائے گا اس لئے کہ دنیاکی محبت ایسی چیز کو کہا جاتا ہے جو انسان کی آخر ت کے لئے مانع بنے ،اسے سعادت اخروی تک پہنچنے سے روک رہی ہو ورنہ ہرطرح کا مال ،مال دنیاشمار نہیں ہوتا
بہر حال اگر دنیا کی محبت ، خدا کی محبت ،۔ اہلبیت علیہم السلام کی محبت کے مقابلہ میں آجائے تو دنیا کی محبت کو محبت خدا، محبت رسول اور محبت آل رسول پر قربان کر دینا چاہئے
آنے والے چند دن ہماری گفتگو کا محور انسان کے اعمال کا اس دنیا میں اثر رہے گا
عزیزان گرامی ! یہ دنیا عمل کا مقام ہے انسان جو کچھ انجام دے گا اس کا نتیجہ بعض اوقات یہاں پر پا لے گا یا پھر آخرت میں .جیساکہ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا :
( ا لّذی خلق الموت والحیاة لیبلوکم ایّکم أحسن عمل )
ترجمہ:( بابرکت ہے وہ ذات)جس نے موت و حیات کو اس لئے پیداکیا ہے تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے.
تو عزیزان گرامی! انسان اگر نیک اعمال انجام دے گا توخدا وند متعال اسے اسی دنیا میں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا کہ جن کے بارے میں اس نے کبھی فکر ہی نہ کی ہو .اس لئے کہ وہ عادی طریقہ سے انسان کو نہیں ملیں گی بلکہ غیر عادی اور غیر طبیعی راستوں سے انسان کو عطا کی جائیں گی.وہ نعمتیں جو ایک نیک انسان کو ، بندہ مومن کو اس دنیا میں عطا کی جائیں گی مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ مشکلات کا حل ہون
٢ ۔ رزق وسیع
٣۔ اجتماعی وقار
٤۔ معاشرہ میں محبوبیت
٥۔ عمر کا طولانی ہون
ان میں سے ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا :
١۔ مشکلات کا حل ہونا:
مجموعی طور پر انسانی زند گی میں جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ دو طرح کی ہیں :
١) ایسی مشکلات جن سے انسان کی عزّت ختم ہو جاتی ،معاشرہ میں اور اپنے جاننے والوں میں اس کا مقام ختم ہوجاتا ہے
ایسی مشکلات اگر راہ خدا میں جھاد کی خاطر نہ ہوں تو انسان کے لئے ننگ وعار شمار ہوتی ہیں ااور دنیا کی کوئی نعمت انسان کی روح کو تسکین نہیں پہنچا سکتی لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ ایسے واقعات کے پیش آنے سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش بھی کرے اور ساتھ ساتھ خدا وند متعال سے پناہ بھی مانگتا رہا
قرآن کریم کی آیا ت اور احادیث کی روشنی میں جوکچھ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اگر بندہ مومن جان بوجھ کر غلط قدم نہ اٹھائے تو خدا وند متعال اسے ایسے حوادث سے محفوظ رکھتا ہے.جیسا کہ خود پروردگار عالم نے فرمایا :( واعلموا أنّ الله مع المتّقین ) ( ۸۲ )
اور یہ سمجھ لو کہ خدا پرہیز گاروں ہی کے ساتھ ہے
دوسرے مقام پر تاکید کے ساتھ فرمایا :
( و انّ الله مع المحسنین ) ( ۸۳ )
اور یقینا اللہ حسن عمل والوں کے ساتھ ہے.
بندہ مومن کو اپنی عزّت و ناموس کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ خدا وند ومتعال کی مدد کی ضرورت ہے اور یہ آیات اسے مایوس نہیں ہونے دیتیںبلکہ اس کی روح کی تسکین کا باعث بنتی ہیں کہ اگر کہیں اس بندہ مومن کو کوئی مشکل پیش آگئی تو اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ خدا اس کی مدد اس کے شامل حال ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے مشکلات سے گھبراتے نہیں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ لمحہ دو لمحہ کے لئے ہے اس کے بعد خود بخود برطرف ہو جائے گی خدا وند متعال ہر مومن کو ایسی مشکلا ت سے محفوظ رکھے جن سے اس کی آبرو ریزی کا خطرہ ہو
چودہواں درس
دنیا میں اعمال کا اثر(٢)
( وما أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکمو یعفوا عن کثیر )
عزیزان گرامی ! کل کے درس میں یہ بیان کیا گیا کہ انسانی زندگی میں جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ دو طرح کی ہیں ایک وہ جن کی وجہ سے انسان کا معاشرہ میں مقام گر جاتا ہے اگر یہ مشکلات خدا کی راہ میں جھاد کی خاطر ہوں تو خدا وند متعال انسان کی مدد فرماتا ہے آج ان مشکلات کی دوسری قسم کو بیان کیا جائے گا :
٢۔ یہ وہ مشکلات ہیں جو اس کے لئے عیب و نقص شمارنہیں ہوتیں اگر یہ انسان کے ارادہ کے قوی ہونے اور صبر و استقامت کا باعث بنتی ہوں تو نعمت شمار ہوں گی لیکن اگر انسان ان کی وجہ سے اپنے آپ کو معاشرہ میں پست وذلیل سمجھنے لگے تو یہ اس کے گمراہ ہونے کا باعث بھی بن سکتی ہیں
نیک اعمال بجالانے کا ایک اثر اس دنیا میں یہ ہے کہ خداوند متعال انسان کو ایسی قدرت عطا فرماتا ہے جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی مشکل بھی بہت معمولی دکھائی دیتی ہے اور ساتھ ساتھ صبرو استقامت کی توفیق بھی ملتی ہے
قرآن کریم نے اس حقیقت کو ایک ہی جملہ میں ایک قانون کی صورت میں بیان فرمایا ہے :
( ومن یتّق الله یجعل له مخرجا ) ( ۸۴ )
ترجمہ: اورجو اللہ سے ڈرتا ہے خدا اس کے لئے نجات کاراستہ پیدا کردیتا ہے.
اگرچہ بعض روایات میں باہر نکلنے سے مراد گناہوں اورشبھات سے باہر نکلنا بیان کیا گیا ہے جیسا کہ مجمع البحرین میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعدفرمایا:
مخرجا من شبهات الدنیا و من غمرات الموت و شدائد یوم القیامة
یعنی دنیا کے شبھات اور موت و روز قیامت کی سختیوںسے بچ نکلنے کا راستہ دکھانا ہے. لیکن جیسا کہ واضح ہے کہ رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روایت میں تمام مصادیق کو بیان نہیں فرمایا بلکہ بعض کو بیان فرمایا ہے اور آیت مجیدہ دنیا کی مشکلات کو بھی شامل ہو گی
جب تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں جناب ابوذر رضی اللہ عنہ کو ربذہ کے پہاڑوں میں جلا وطن کیا گیا تو امیر المؤمنین علیہ السلام جناب عقیل ، امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ انہیں شہر سے باہر خدا حافظی کرنے کے لئے گئے تو جناب ابوذر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
١۔طلاق:٢
یا أبا ذر انّک غضبت لله فارج من غضبت له ، ان القوم خافوک علی دنیاهم وخفتهم علی دینک فاترک فی أیدیهم ما خافوک علیه واهرب منهم بما خفتم علیه ، فما أحوجتهم الی ما منعتهم وما أغناک عمّا منعوک و ستعلم من الرابح غدا و الأکثر حسّدا ولو أنّ السمٰوٰت والأرضین کانتا علی عبد رتقا ثمّ اتقی الله لجعل الله له مخرجا لا یؤنسنّک الاّ الحقّ ولا یوحشنّک الاّ الباطل ؛ فلو قبلت دنیاهم لأحبّوک ولو قرضت منها لأمنّوک ( ۸۵ )
رسول اکرم صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:من أکثر الاستغفار جعل الله له من کلّ همّ فرجا ومن کلّ ضیق مخرجا ( ۸۶ )
جو شخص زیادہ استغفار کرتا ہے خدا وند متعال اسے ہر طرح کے غم و اندوہ سے رہائی اور تمام تر سختیوں سے نجات دیتا ہے.
اسی طرح روایات میں بیان ہوا ہے کہ جب اموی خلیفہ عبدالملک کو خبر ملی کہ پیغمبر کی تلوار امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس ہے تو اس نے قاصد کو بھیجا کہ امام علیہ السلام سے وہ تلوار امانت کے طور پر لے آئے ، امام علیہ السلام نے تلوار دینے سے انکار کردیا. جب عبدالملک کو معلوم ہوا تو امام علیہ السلام کو نامہ لکھ کردھمکی دی کہ اگر شمشیر میرے حوالے نہ کی تو بیت المال سے آپ کا وظیفہ بند کردیا جائے گا امام علیہ السلام نے جواب میں لکھا :أمّا بعد فانّ الله ضمن للمتقین المخرج من حیث یکرهون و الرزق من حیث لا یحتسبون ( ۸۷ )
خدا وند متعال نے پرہیز گاروں کو ان سے سختیوں کے برطرف کرنے اور انہیں ایسے راستہ سے رزق عطا کرنے کی ضمانت دی ہے جس کا وہ گمان تک نہ کرتے ہوں
قرآن کریم نے بھی مشکلات سے نجات پانے والوں کی کئی ایک داستانیں نقل کی ہیں.جنمیں سے دو داستانوں کو بطور نمونہ بیان کررہے ہیں :
۱!۔ حضرت یونس علیہ السلام کا نجات پانا:
قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کے نجات پانے کے قصہ کو یوں بیان کیا ہے( و انّ یونس لمن المرسلین اذاأبق الی الفلک المشحون فساهم فکان من المدحضین فالتقمه الحوت وهو ملیم فلو لا أنّه کان من المسبّحین للبث فی بطنه الی یوم یبعثون فنذناه بالعراء وهو سقیم ) ( ۸۸ )
ترجمہ: اور بے شک یونس بھی مرسلین میں سے تھے جب وہبھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا. پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جبکہ وہ اپنے نفس کی ملامت کر رہے تھے پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو روز قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے .پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جبکہ وہ مریض بھی ہو چکے تھے
سورہ صافات کی یہ آیات واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ اگر جناب یونس علیہ السلام کو شکم ماہی سے نجات ملی تو اس کا سبب ان کا تسبیح و تقدیس پروردگارکرنا تھا ورنہ قیامت تک مچھلی کے شکم میں ہی رہتے.
سورہ انبیاء میں جناب یونس علیہ السلام کی دعا کوان کی نجات کا باعث قرار دیا گیا.( و ذالنون اذ ذهب مغاضبا فظنّ أن لن نقدر علیه فنادٰی فی الظلمات أن لا اله الّا أنت سبحانک انّی کنت من الظالمین فاستجبناه له و نجّیناه من الغمّ و کذٰلک ننجی المؤمنین ) ( ۸۹ )
ترجمہ:اور یونس کو یاد کرو جب وہ غصّہ میں آکر چلے اوریہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جا کر آواز دی کہ پروردگار تیرے سواکوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا .تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلاتے ہیں.
ان آیات سے دو نکتے سامنے آتے ہیں ایک یہ کہ جناب یونس علیہ السلام کی نجات عام طریقہ اور عادی نہیں تھی جس طرح دنیا کے اسباب ہیں اور دوسرا یہ کہ خدا کی بارگاہ میں نیّت خالص کے ساتھ حاجت طلب کی جائے تو بڑی سے بڑی مشکل ٹل سکتی ہے .اور یہ عمل انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ جو بھی خلوص نیت کے ساتھ اس کی بارگا ہ میں جھک جائے وہ اس کی حاجت کو پورا کردیتا ہے اور اس کے لئے بہترین فرصت یہی ماہ مبارک کا مہینہ ہے جس میں انسان اپنی بڑی سے بڑی مشکل حل کروا سکتا ہے لیکن شرط یہ کہ انسان نیک عمل اور اس پروردگار مطلق کی اطاعت و بندگی کے ذریعہ سے اس کے حضور میں پیش ہو
٢۔ جناب زکریاعلیہ السلام کی مشکل کا حل ہونا :
جناب زکریا علیہ السلام کی اولاد نہیں تھی اور وہ اکثر اس وجہ سے پریشان رہتے اگرچہ نبی اللہ ہونے کی وجہ سے ان کے اندر مصائب جھیلنے کی قدرت زیادہ تھی لیکن پھر بھی وارث کا نہ ہونا ہمیشہ انہیں پریشان کئے رکھتا قرآن کریم نے جناب زکریا کی داستان کو یوں بیان کیا ہے :
( وزکریا اذ نادٰی ربّه ربّ لا تذرنی فردا وأنت خیر الوارثین فاستجبناله ووهبنا له یحیٰی و أصلحنا له زوجه انهم کانوا یسارعون فی الخیرات و یدعوننا رغبا و رهبا و کانوا لنا خاشعین ) ( ۹۰ )
ترجمہ:اور زکریا کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے ربّ کوپکاراکہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ دینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے.تو ہم نے انکی دعا کو بھی قبول کرلیااور انہیں یحیٰی جیسا فرزند عطاکردیااور ان کی زوجہ کو صالحہ بنا دیا کہ یہ تمام وہ لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور رغبت و خوف کے ہر عالم میں ہمیں کو پکارنے والے تھے اور ہماری بارگاہ میں گڑگڑا کر التجا کرنے والے بندے تھے
سورہ آل عمران اور سورہ مریم کی آیات کے مطابق حضرت زکریا کی زوجہ محترمہ اولاد کے قابل نہیں تھیں اور ادھر سے جناب زکریا بھی بڑھاپے کے عالم میں تھے لہذا ایسی صورت میں اولاد کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن چونکہ جناب زکریا مجسمہ عمل صالح اور اہل دعا وذکر تھے لہذا پردگار عالم نے ان کی اس پریشانی کو دور کرتے ہوئے انہیں اولاد نرینہ کی نعمت سے نوازا
دعا ایسا عمل صالح ہے جو بلاؤں کو انسان سے دورکر دیتا ہے امام موسٰی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں :
“ جب تم پر مشکل آئے تو خدا سے دعا کرواس لئے کہ دعابلاؤں کے دور ہونے کا سبب بنتی ہے”
خدا وند متعال ہم سب کو نیک اعمال بجالانے کی توفیق عطا کرے اور ہماراشمار امام زمانہ عجّل اللہ فرجہ الشریف کے نیک مدد گاروں میں سے فرمائے .آمین
پندرہواں درس
دنیا میں اعمال کا اثر(٣)
( وما أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم )
عزیزان گرامی ! گذشتہ چند دنوں سے ہماری گفتگوانسان کے اعمال کے بارے میں جاری ہے کہ انسان جواعمال انجام دیتا ہے جس طرح ان کا اثر آخرت میں ظاہرہو گا اسی طرح اس دنیا میں بھی ان اعمال کااثر ظاہر ہوتا رہتا ہے اگر کوئی شخص نیک اعمال بجالاتا ہے تو اسے اسی دنیا میں پانچ طرح کے انعامات سے نوازا جاتا ہے. جن میں سے ایک دینا کی مشکلات سے محفوظ رہنا ہے جسے بیان کرچکے اور دوسری نعمت جو پروردگا ر اپنے نیک بندوں کو عطا کرتا ہے اسے آج کے درس میں بیان کیا جائے گا:
٢۔ رزق بابرکت :
خدا وند متعال اپنے نیک بندوں کو ان کے نیک اعمال کے بدلے میں بابرکت رزق عطافرماتا ہے جس کی بناء پر بندہ مومن دنیا میں کسی کا محتا ج نہیں رہتا .قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے:
( ومن یتّق الله یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب ) ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کا راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ایسے راستہ سے رزق دیتا ہے جس کا وہ خیال بھی نہیں کرتا ہے( ۹۱ )
نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :من انقطع الی الله کفاه الله مؤنته و رزقه من حیث لا یحتسب و من انقطع الی الدنیا وکّله الیها ( ۹۲ )
جو شخص خدا کے لئے دنیاسے قطع تعلق ہوتا ہے خدا اسکے اخراجات کو مہیاکرتا ہے. اوراسے ایسے راستہ سے رزق عطا کرتا ہے جس کا وہ گمان تک نہ کرتا ہو اور جو دنیا سے دل لگا لیتا ہے تو خدا اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے
محمد بن مسلم نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیاہے :أبی الله عزّ وجلّ الاّ أن یجعل أرزاق المؤمنین من حیث لا یحتسبون ( ۹۳ )
خدا وند متعال نے مومنین کے رزق کا ایسی جگہ سے اہتمام کیا ہے جس کا وہ گمان بھی نہ کرتے ہوں
رزق غیر محتسب یعنی ایسا رزق جس کا انسان گمان نہ کرتا ہو اس سے مراد کیا ہے؟ یا یہ کہ ایسارزق جو اعمال صالحہ کا نتیجہ ہے اس سے مراد کیا ہے ؟ روایات اہل بیت علیہم السلام میں اس کے دو معانی بیان کئے گئے ہیں
١۔ جو کچھ دیا گیا وہ اس قدر بابرکت ہے کہ کبھی انسان کو پریشان نہیں ہونے دیتا ورنہ کتنے مالدار لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال و دولت کی کمی نہیں ہے لیکن وہ رزق ان کے حلق سے نہیں اترتا ، ہر پریشان ہیں ہر روز کوئی نئی مصیبت آپڑتی ہے اسے سے پتہ چلتا ہے کہ اسے بابرکت رزق نہیں دیا گیا امام صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :یرزقه من حیث لا یحتسب ای یبارک فیما أتاه ( ۹۴ )
رزق لا یحتسب سے مراد بابرکت رزق ہے ایسا رزق جو بغیر زحمت کے انسان کو مل جائے
امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
من أتاه الله برزق لم یخطّ الیه برجله و لم یمدّ الیه یده ولم یتکلّم فیه بلسانه ولم یشتدّ الیه ثیابه ولم یتعرّض له ،کان ممن ذکره الله فی کتابه: ومن یتّق الله یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب ( ۹۵ )
جس شخص کو خدا وند متعال بغیر چلے ، بغیر ہاتھ ہلائے ، بغیر زبان کو حرکت دیئے ،بغیر سفر کئے،اس کی تگ و دو کئے بغیررزق عطا کرے تویہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں قرآن میں فرمایا : ہم اسے ایسے راستہ سے رزق عطا کریں گے جس کا وہ گمان تک نہ کرتا ہو.
جناب زکریا اور حضرت مریم :
قرآن کریم کے مطابق جن افراد کو غیر منتظر رزق ملا ان میںسے ایک جناب مریم سلام اللہ علیہا ہیں جن کا مسلسل عبادت الٰھی میں مشغول رہنا باعث بنا کہ ان پر طرح طرح کی نعمتیں نازل ہوں قرآن نے حضرت زکریا علیہ السلام کے حضرت مریم کے پاس حالت عبادت میں جانے کی داستان کو یوں نقل کیا ہے :
وکفّلها زکریا کلّما دخل علیهازکریا المحراب وجد عندها رزقا قال یا مریم أنیّ لک هذا قالت هو من عند الله أنّ الله یرزق من یشاء بغیرحساب ( ۹۶ )
ترجمہ:اور زکریا نے اس کی کفالت کی کہ جب زکریا محراب میں داخل ہوتے تو مریم کے پاس رزق دیکھتے اور پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا اور مریم جواب دیتیں کہ یہ سب خدا کی طرف سے ہے وہ جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کردیتا ہے.
امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جناب مریم سلام اللہ علیہا کے پاس گرمیوں میں سردیوں کے پھل اور سردیوں میں گرمیوں کے پھل آیا کرتے تھے .جب حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ غیر طبیعی چیزیں دیکھں تو خدا وند
متعال سے اولاد کی دعا کی اگرچہ ان کی زوجہ بوڑھی ہو چکی تھیں اور ان کی یہ دعا قبول ہوئی( ۹۷ )
یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ جس جھان کو ہم عالم اسباب کے نام سے پہچانتے ہیں وہ مستقل نہیں ہے. اور خدا وند متعال غیر طبیعی اسباب کے ذریعہ سے بھی اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے.لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے انسان اپنے آپ کو متّقی تو بنائے .اس کے بعد دیکھنا کہ کیسے دنیا اس کے سامنے مسخر ہوتی ہے
دو یتیم بچوں کا واقعہ:
انسان کے نیک اعمال کا فائدہ جس طرح اس کی اپنی ذات کو ہوتا ہے اسی طرح اس کی آنے والی نسلوں کو بھی ہوتا ہے قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور حضرت حضر کی داستان کو یوں نقل کیا ہے : موسیٰ نے خضر سے کہا کیا مجھے اپنے ساتھ لے چلو گے تاکہ تمھارے سے علم سیکھ سکوں ؟ اس نے کہا تم صبر نہیں کرپاو گے ان مسائل پر جن کے بارے میں آگاہ نہیں ہو.آنحضرت نے کہا : انشاء اللہ صبر کروں گا
١۔ تفسیر عیاشی ذیل آیت مذکورہ
اور آپ کی مخالفت نہیں کروں گا اس عالم نے کہا :پس جو کچھ میں انجام دوں اس کے بارے میں سوال مت کرنا یہاں تک کہ میں خود تمہیں اس آگاہ کروں
دونوں مل کرچلے ، جب بھی جناب خضر کوئیغیرطبیعی یا خارق العادہ کام انجام دیتے حضرت موسٰی اعتراض کرنے لگتے .یہاں تک کہ وہ اپنے کام کا راز بتاتے. اتنے میں دو یتیم بچوں کی دیوار کے پاس پہنچے اور کہا :و أمّا الجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینة و کان تحته کنز لهما و کان أبوهما صالحا فأراد ربّک أن یبلغا أشدّهما و یستخرجا کنزهما رحمة من ربّک وما فعلته عن أمری ( ۹۸ )
ترجمہ:اور یہ دیوار شہر کے دو بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دن تھا اور ان کا باپ ایک نیک بندہ تھا تو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں طاقت وتوانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور اپنے خزانے کو نکال لیں یہ سب تمہارے پروردگار کی رحمت ہے اور میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا ہے.
یہ آیت مجیدہ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ان دو یتیم بچوں کو خزانہ ملنے کا سبب ان کے آباؤ و اجدادکا نیک وصالح ہونا تھا اس آیت کے ذیل میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:انّ الله لیحفظ ولد المؤمن الی الف سنة و ان الغلامین کان بینهماوبین ابویهماسبعمأة سنة ( ۹۹ )
بے شک خداوند متعال مومن کی نسل کوایک ہزارسال تک محفوظ رکھتا ہے اور ان دو یتیم بچوںاور ان کے والدین کے درمیان سات سو سال کا فاصلہ تھا
عزیزان گرامی ! آپ نے دیکھا کہ نیک اعمال کا اس دنیامیں ایک فائدہ یہ کہ انسان کی نسل نابود نہیں ہوتی اور اس کی واضح مثال خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آج تک اور پھر قیامت تک باقی رہنا ہے جبکہ بنو امیہ اور بنو عباسیہ نے اپنے سارے خزانے لٹوا دیئے تاکہ کسی طرح محمد و آل محمد(ع) کا نام مٹا سکیں .لیکن یہ آل محمد کی عبادت و بندگی پردگار کا نتیجہ تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت طاقت نہ تو ان کو مٹا سکی اور نہ ہی ان کے چاہنے والوں
نیز فرمایا :انّ الله لیصلح بصلاح الرجل المؤمن ولده وولد ولده یحفظه فی دویرته و دویرات حوله ، فلا یزالون فی حفظ الله لکرامته علی الله ، ثمّ ذکر الغلامین فقال : وکان أبوهما صالحا ألم تر أنّ الله شکر صلاح أبیهما ( ۱۰۰ )
خدا وند متعال ایک شخص کے صالح ہونے کی وجہ سے اسکی اولاد اوراس کی اولاد کی اولاد کو بھی نیک وصالح بنا دیتا ہے اور اسے اپنے اور اطراف کے گھروں میں محفوظ رکھتا ہے اور اس شخص کی کرامت کی وجہ سے اس کے اپنے گھر والے اور ہمسائے خداکی پناہ میں رہتے ہیں اس کے بعد امام علیہ السلام نے ان دو یتیم بچوں کا قصہ بیان کیا اور فرمایا : کیا یہ فکر نہیں کرتے ہو کہ خدا نے ان کے نیک باپ کی قدر دانی کی ہے ؟!
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے آپ کو خدا کافرمانبردار بنا لیتا ہے ہر ہر عمل میں اس کے حکم کی پیروی کرتا ہے تو خدا وند متعال اس کو بھی بلند کردیتا ہے اور پھر اس کی نسل کے ذریعہ سے اسے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھتا ہے اور ایسی زندگی جس کے بعد موت نہیں ہے.
سولھواں درس
دنیا میں اعمال کا اثر(٤)
( وما أصابکم من مصیبة. ) .....
عزیزان گرامی! گذشتہ چند دنوں سے ہماری گفتگو انسان کے اعمال کے اس دنیا میں اثر کے بارے میں جاری تھی جس میں یہ عرض کیا گیا کہ اگر کوئی انسان نیک اعمال بجالاتے ہوئے اپنے ربّ کی اطاعت کرتا ہے تو اسے اس کے نیک اعمال کی جزا جہاں آخرت میں دی جائے گی وہاں اس دنیا میں بھی اسے پانچ قسم کے انعامات سے نوازا جائے گا جن میں سے ایک اس دنیا کی مشکلات کا حل ہونا ہے جسے بیانکر چکے اور دوسرا انعام جو عبد صالح کو اس دنیا میں عطا کیا جائیگا وہ بابرکت رزق کا ملنا ہے اور یہ انعامات اور لطف پروردگار اس عبد صالح کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کی نسلیں بھی اس کی وجہ سے ان انعامات سے بہرہ مند ہوتی ہیں جیسا کہ بیان کیا جا چکا اور آج بھی اس بارے میں دو روایتیں نقل کر رہے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
انّ الله لیخلف عبد الصالح من بعد موته فی أهله وماله و ان کان أهله اهل السوء ثمّ قرء هذه الآیة الی آخرها : وکان أبوهما صالحا
خداوند متعال نیک بندے کے مال اورخاندان میں اس کی موت کے بعد اسکی جانشینی اپنے ذمہ لے لیتا ہے.اگرچہ اس کے گھر والے اچھے لوگ نہ ہوں. اور پھراس آیت کی آخر تک تلاوت کی: وکان أبوھما صالحا( ۱۰۱ )
ان آیات و روایات کی روشنی میں اتنا معلوم ہوگیا کہ انسان کے نیک اعمال اس اور اس کی اولاد کے رزق میں بہت اثر رکھتا ہے انہیں نیک اعمال میں سے جو انسان کے رزق میں وسعت کا باعث بنتے ہیں ایک خدا کی بارگاہ میں دعا کرنا ہے آج پوری دنیا کی پریشانی یہی رزق و معاش ہے اس دور میں ہر بندہ پریشان ہے کہ وہ کس طرح اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات کو پورا کرے. ماہ رمضان المبارک تو ہے ہی دعاؤں کا مہینہ ، اس میں جتنی بھی دعائیں پڑھی جائیں کم ہیں.آج آپکو اس پریشانی سے نجات کا ایک نسخہ بتا رہے ہیں اگر خلوص نیّت کے ساتھ خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرو گے تو انشاء اللہ رزق کی مشکل حل ہو جائے گی.خاص طور پر میرے نوجوان دوست اس بات کو توجہ سے سنیں گے.راوی کہتا ہے میں نے امام صادق علیہ السلام سے درخواست کی کہ مولا مجھے وسعت رزق کی دعا تعلیم فرمائیں. تو آنحضرت نے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی جس بڑھ کر میں نے رزق میں مؤثر کسی چیز کو نہیں پایا اور وہ دعا یہ ہے :اللهمّ ارزقنی من فضلک الواسع الحلال الطیب،رزقا واسعا حلالا طیبا بلاغا للدنیا و الآخرة صبا صبا هنیئا مریئا من غیر کدّ ولا منّ من أحد خلقک الا سعة من فضلک الواسع فانّک الواسع فانّک قلت: واسئلوا الله من فضله فمن فضلک أسأل و من عطیتک أسأل و من یدک الملاء أسأل ( ۱۰۲ )
خدایا ! مجھے اپنے وسیع حلال و پاک رزق میں سے دنیاوآخرت میں رزق پاک، حلال ووسیع عطافرما.جو برکت والا ہو ،نہ تو اس میں زیادہ زحمت ہو اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی کا احسان .اس لئے کہ تونے خود ہی تو فرمایا ہے کہ اللہ سے اس کے فضل کی درخواست کرو پس میں تجھ سے تیرے فضل وبخشش اور وسیع قدرت کی درخواست کرتا ہوں
یقینا اگر کوئی شخص امام علیہ السلام کی تعلیم دی ہوئی اس دعا کو ہمیشہ دہراتا رہے تواسے دنیا میں روز گار کی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے خدا وند متعال تمام دوستوں اور بھائیوں کو مالی مشکلات سے نجات دے اور اپنے اہل وعیال کو حلال رزق کھلانے کی توفیق عطا فرمائے
٣۔عمر کا طولانی ہونا :
انسان کے نیک اعمال کااثر جو اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے ان میں سے ایک اس کی عمر کا طولانی ہونا ہے اور بعض اعمال تو ایسے ہیں کہ ان میں تقوٰی بھی شرط نہیں ہے بلکہ اگر کوئی گنہگار شخص بھی انجام دے تواسے بھی اس کا اجر ضرور ملتا ہے جیسے صلہ رحمی وغیرہ اور اس عمر کے طولانی ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان بسا اوقات بڑھاپے میں جا کر گناہوں سے پشیمان ہو جاتا ہے اور یہی چیز خدا کی رحمت کے اس کے شامل حال ہونے کا سبب بنتی ہے
اور دوسری چیز جو دنیا میں انسان کے لئے بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے وہ دوسروں پر احسان کرنا ہے اور یہ مہینہ نیکی اور احسان کا مہینہ ہے جس میں دس برابر اجر عطا کیا جاتا ہے .اس بارے میں ہم چند ایک احادیث نقل کر رہے ہیں تاکہ صلہ رحم اور احسان کی اہمیت واضح ہو سکے :
١۔ امام موسٰی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں :
(یکون الرجل یصل رحمه فیکون قد بقی من عمره ثلاث سنین فیصیّرها الله ثلاثین سنة و یفعل الله ما یشاء ) ( ۱۰۳ )
ایک انسان کی عمر کے تین سال باقی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا ہے جس کی وجہ سے خدا وند متعال اس کی عمر تین سے بڑھا کر تیس سال کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے
٢۔ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
صلة الأرحام تزکّی الأعمال و تنمی الأموال وتدفع البلوٰی و تیسر الحساب و تنسیء الأجل ( ۱۰۴ )
صلہ رحم اعمال کو پاک ، اموال کو زیادہ ، بلاؤں کو دور ،حساب کو آسان اور موت کی تاخیر کا باعث بنتا ہے
٣۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
مانعلم شیئا یزید فی العمر الاّصلة الرّحم... ( ۱۰۵ )
مجھے نہیں معلوم کہ صلہ رحم سے بڑھ کر کوئی شے عمرکے طولانی ہونے کا باعث بنتی ہو...
٤۔ سلیمان بن ہلال کہتا ہے میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ فلاں قبیلہ کے لوگ ایک دوسرے سے اچھا برتاؤ بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسی صورت میں ان کے مال اور اولاد ترقی میں رہیں گے لیکن اگر وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو نہ تو ان کا مال باقی رہے گا اور نہ ہی اولاد( ۱۰۶ )
اگر مسلمان اسلام کے بتائے ہوئے ان احکامات اور اس اہل بیت علیہم السلام کی نورانی تعلیمات پر عمل کرتے تو آج اسلامی معاشرہ کی یہ حالت نہ ہوتی. اپ کے چھٹے امام علیہ السلام فرماتے ہیں :صلة الرحم و حسن الجوار یعمران الدیار و یزیدان فی الأعمار ( ۱۰۷ )
صلہ رحم اور ہمسائیوں سے اچھا سلوک شہروں کو آباد اورعمروں کے طولانی ہونے کا موجب بنتے ہیں.
اسی طرح امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :
القول الحسن یثری المال و ینمی الرزق و ینسی فی الأجل و یحبب الی الأهل و یدخل الجنّة ( ۱۰۸ )
اچھی بات چار طرح کی نعمتوں کا باعث بنتی ہے:
١۔مال کا زیادہ ہونا ۲۔ رزق میں برکت
۳۔ موت کا مؤخر ہونا
٤۔ خاندان کی محبت
سترہواں درس
انسان کے اعمال کااثر(٥)
( وما أصابکم من مصیبة ) ....
عزیزان گرامی! ہماری گفتگو انسان کے اعمال کی تاثیر کے بارے میں جاری تھی کہ اگر کوئی انسان نیک اعمال بجالاتا ہے توخدا وند متعال اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جیسا کہ اس نے خود بھی اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :
فانّ الله لا یضیع أجر المحسنین ( ۱۰۹ )
ترجمہ:خدا احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا اور یہ اجر جس طرح آخرت میں انسان کے نامہ اعمال میںدرج ہوگا.اور اس کی وجہ سے اس کے بجالانے والے پر لطف خدا ہوگا اسی طرح اس دنیا میں بھی نیک انسان کو اس کے اعمال کا نتیجہ اور انعام ملے گا .انہیں انعامات الہی میں سے چوتھے اور پانچویں انعام کے بارے میں آج انشاء اللہ گفتگو کی جائے گی
٤۔ اجتماعی وقار :
تقوٰی اورپرہیز گاری کا دنیا میں ایک اثر یہ ہے کہ متقی انسان کا معاشرے کے اچھے اور برے تمام لوگوں کے درمیان عزّت و احترام ہوتا ہے چاہے وہ اس کا اعتراف کریں یا نہ کریں.ہر معاشرہ میں عام لوگوں کی جن پر امید ہوتی ہے وہ یہی افراد ہیں اس کی بہترین دلیل جناب یوسف علیہ السلام کی داستان ہے جسے قرآن نے بھی نقل کیا کہ دو افراد جو جناب یوسف علیہ السلام کے ہمراہ زندان میں تھے وہ ایمان سے بے بہرہ تھے لیکن اس کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کا تقوٰی باعث بنا کہ وہ ان کی طرف مائل ہوں .انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آکر اپنا خواب بیان کیا اور اس کی تعبیر پوچھی اور اس کی وجہ جناب یوسف علیہ السلام کا ان نظر میں پرہیز گار ہونا تھا( ۱۱۰ )
قرآن واضح طور پر یہ بیان کر رہا کہ وہ لوگ جناب یوسف کے تقوٰی سے متاثر ہوکر ان کے پاس آئے اور پھر مصر کے خزانوں کی چابیوں کا ان کے سپرد کیا جانا بھی ان کے تقوٰی کی بناء پر تھا. قرآن کریم اس بارے میںفرماتا ہے:
( وقال الملک ائتونی به أستخلصه لنفسی فلمّا کلّمه قال انّک الیوم لدینا مکین امین قال اجعلنی علی خزائن الأرض انّی حفیظ علیم و کذالک مکّنا لیوسف فی الأرض یتبوّأ منها حیث یشاء نصیب برحمتنا من نشاء ولا نضیع أجر المحسنین ) ( ۱۱۱ )
ترجمہ: اور بادشاہ نے کہا کہ انھیں لے آؤ میں اپنے ذاتی امورمیں ساتھ رکھوں گا اس کے بعد جب ان سے بات کی توکہا کہ تم آج سے ہمارے دربار میں باوقار امین کی حیثیت سے رہو گے یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو کہ میں محافظ بھی ہوں اور صاحب علم بھی اور طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اختیار دے دیا کہ جھاں چاہیں رہیں .ہم اپنی رحمت سے جس کو بھی چاہتے ہیں دے دیتے ہیں اور کسی نیک کردار کے اجر کو ضائع بھی نہیں کرتے.
توعزیزان گرامی! آپ نے دیکھا کہ جناب یوسف علیہ السلام کے تقوٰی نے انہیں اس قدر مشکل سے نجات بھی دی اور انہیں عزت و وقار بھی.
علّامہ اسمعیل حقّی نے روح البیان میں مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ بادشاہ مصر جناب یوسف علیہ السلام کے کردار کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا اور اس پر یہ بہترین اضافہ کیا ہے کہ اگر یوسف کا کردار بادشاہ مصر کو مسلمان بنا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ابو طالب کے کردار کو ان کے ایمان کی دلیل قرار نہ دیا جائے( ۱۱۲ ) .
یقینا خداوند متعال نیک انسان کے اجر کو ضائع نہیں ہونے دیتا قرآن کریم نے جناب یوسف علیہ السلام کے بھایئوں کے ان پاس گندم لینے کے لئے آنے اور یوسف کے ان شناخت کر لینے کے واقعہ کو یوسف علیہ السلام کی زبانی یوں نقل کیا ہے:أنا یوسف وهذا أخی قد منّ الله علینا انّه من یتّق الله ویصبرفانّ الله لا یضیع أجر المحسنین ( ۱۱۳ )
انہوں نے کہا : میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا ہے اور جو کوئی بھی تقوٰی اور صبر احتیار کرتا ہے اللہ نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
اوریہ حقیقت ہے کہ متّقی انسان ہمیشہ معاشرہ میںباوقار زندگی گذارتا ہے نہ تو اسے مخلوق میں سے کسی کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سے لالچ اگر اسکی نظر میں کوئی چیز ہوتی ہے تو وہ ذات پروردگار ہے.خدا وند متعال ہم سب کو بھی اپنی عبادت کی حقیقی لذت اور اس کے نتیجہ میں باوقار زندگی نصیب فرمائے
٥۔لوگوں کے دلوں میں محبت :
نیک اعمال کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ خدا وند متعال لوگوںکے دلوں میں نیک ومتقی شخص کی محبت ڈال دیتا ہے اور یہ اس وقار سے بڑھکر ہے جسے ہم نے بیان کیا اس بارے خدا وند متعال فرماتا ہے :
( انّ الّذین آمنوا و عملواالصّالحات سیجعل لهم الرحمٰن ودّا )
ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے عنقریب رحمان لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دے گا
علّامہ طباطبائی لکھتے ہیں : یہ آیت مطلق ہے اور اس میںآخرت کی قید نہیں لگائی گئی(١) بنا بر ایں اہل ایمان و صالح افراد اس دنیا میں بھی محبوب ہوتے ہیں اورآخرت میں بھی .رسول خدا فرماتے ہیں:
ماأقبل عبد بقلبه الی الله الّا أقبل الله بقلوب المؤمنین الیه حتٰیّ یرزقه مودّتهم و رحمتهم ( ۱۱۴ )
جب کوئی بندہ اپنے دل کو خدا کی طرف متوجہ کرتا ہے توخدا مؤمنین کے دلوں کو اسکی طرف متوجہ کردیتا ہے تاکہ ان کی دوستی اور شفقت اسے نصیب ہو سکے
نیز فرمایا :انّ الله اذا أحبّ مؤمنا قال لجبرائیل انیّ احببت فلانا فأحبّه فیحبّه جبرائیل ثمّ ینادی فی السماء الا أنّ الله أحبّ فلانا فأحبّوه فیحبّه أهل السماء ثمّ یوضع له قبول فی أهل الأرض ( ۱۱۵ )
خداوند متعال جب کسی مومن سے محبت کرتا ہے توجبرائیل سے فرماتاہے میں فلاں کو دوست رکھتا ہوں تم بھی اس سے دوستی کرو، جبرائیل اس سے دوستی کرتاہے اور پھر آسمان والوں کو ندادیتا ہے کہ اے اہل آسمان! خدا فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت و دوستی کرواور دنیا والوں میں اسکی مقبولیت پیدا کردیتا ہے.
طبرسی علیہ الرحمة نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :
قل اللهمّ اجعل لی عندک عهدا واجعل فی قلوب المؤمنین ودّا فقالهما فنزلت هذه الآیة
کہہ اے پالنے والے ! اپنی بارگاہ میں میرے لئے عھد قرار دے اور لوگو ں کے دلوں میں میری محبت پیدا فرما جب حضرت علی علیہ السلام نے یہ دو جملے کہے تو اس وقت یہی آیت نازل ہوئی
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پروردگار نے علی اور انکی اولاد کی محبت کو تمام مسلمانوں پر اس قدر واجب قرار دیا کہ اگر کوئی مسلمان ان کی محبت کا اقرار نہ کرے تو اس کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی ہے .اوریہ وہی وعدہ الٰہی ہے جواس نے اپنے نیک بندوں کودیا ہے اور وہ اپنے وعدہ کے خلاف ہر گز عمل نہیں کرتا. خدا وند متعال اس ماہ مبارک کے صدقے میں ہمیں سچا محبّ اہل بیت علیہم السلام بننے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے تو فیق عطا فرمائے
والسّلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
حوالے
.[۱]
. سورہ بقرہ : ١٨٣[۲]
. اصول کافی ، باب العبادة ،ح ٢[۳]
. سورہ الحاقة:٢٤[۴]
. اصول کافی باب التحمید والتمجید ،ح ٥ [۵]
. بحار الأنوار٩٣:٣٤٤ [۶]
. بحارالأنوار٩٧: ٤٩[۷]
. وسائل الشیعہ ١٠: ٣١٢[۸]
. وسائل الشیعہ ١٠: ٣١١[۹]
. سورہ مومن : ٦٠[۱۰]
. کنزالعمال ، ح ٢٣٦٨٨[۱۱]
. سورہ بقرہ: ١٨٣[۱۲]
. بحار الأنوار ٦٩: ٣٥٦[۱۳]
. بحار٩٦: ٣٥٦[۱۴]
. فروع کافی ٤: ٦٦[۱۵]
. وسائل الشیعہ١٠:٣١٢[۱۶]
. فروع کافی٤: ٨٨[۱۷]
. بحار الأنوار ٩٦: ٣٧٢[۱۸]
. بحار الأنوار ٧٤: ٧٤[۱۹]
. آدابی از قرآن : ٣٩٨[۲۰]
. سورہ بقرہ: ١٨٣[۲۱]
. وسائل الشیعہ١٠:٢٥١[۲۲]
. بحارالأنوار ٤٢: ١٩٠[۲۳]
. فروع کافی٤: ٨٨[۲۴]
. بحارالأنوار ٩٣: ٣٤٣[۲۵]
. مستدرک٧: ٤٠٠[۲۶]
. تہذیب الاحکام : ٤: ١٥٢ [۲۷]
. فضائل الأشھر الثلاثة: ١٠٧[۲۸]
. وسائل الشیعہ ٧: ٣[۲۹]
. سورہ طلاق : ٢۔٣[۳۰]
. تحف العقول : ٤٤[۳۱]
. فرھنگ موضوعی مبلّغان : ١٩٩[۳۲]
. تحف العقول : ٤٤[۳۳]
. فرہنگ موضوعی : ٢٧٥[۳۴]
. اثنی عشریة : ١٥٥[۳۵]
. عدّة الدّاعی : ١٤١[۳۶]
. امالی طوسی: ٦٨٠[۳۷]
. وسائل الشیعہ ١٢: ٥٣[۳۸]
. العبرات، محمودی٢:١٦[۳۹]
. سورہ اعلیٰ: ٤١۔١٥[۴۰]
. سورہ بقرہ: ٣[۴۱]
. سورہ بقرہ : ٤٥[۴۲]
. سورہ بقرہ : ١٥٣[۴۳]
. سورہ طٰہٰ: ١٢۔ ١٤[۴۴]
. سورہ نور : ٥٦[۴۵]
. سورہ ماعون : ٤۔٥[۴۶]
. کافی٣: ٩٥٤[۴۷]
. بحار الأنوار ٨٠: ٢٣[۴۸]
. شناخت نماز:١٧٥[۴۹]
. شناخت نماز : ١٧٥[۵۰]
. مواعظ العددیہ: ٢٣٦[۵۱]
. جامع الأخبار : ١٢٥[۵۲]
. سفینة البحار ، مادہ خلق [۵۳]
. تفسیر نور الثقلین ٥: ٢٩١[۵۴]
. وسائل الشیعہ ١٢: ٣[۵۵]
. خصال صدوق ١: ٣[۵۶]
. اصول کافی ٢: ٥٧[۵۷]
. در محضر نور : ٢٥[۵۸]
. عیون اخبار الرضا ٢: ٣٧[۵۹]
. سفینة البحار ، مادہ خلق [۶۰]
. عیون أخبارالرضا : ٣٦[۶۱]
. جامع الأخبار:١٠١[۶۲]
. تحف العقول : ٢٧٥[۶۳]
. جامع الأخبار : ١٢٥[۶۴]
. احتجاج طبرسی٢: ٢٨٩[۶۵]
. اصول کافی ١: ٥٤[۶۶]
. مجادلہ: ١١[۶۷]
. سفینة البحار ٢: ٧١٩[۶۸]
. سفینة البحار ١: ٢٣٨[۶۹]
. سورہ مجادلہ : ١٨[۷۰]
. سورہ کھف : ١٠٣و١٠٤[۷۱]
. سورہ انعام : ١٦٠[۷۲]
. سورہ نساء : ١٠[۷۳]
. سورہ تحریم : ٦[۷۴]
. مستدرک٢: ٦٢٥[۷۵]
. اخلاق در خانوادہ: ١٢١[۷۶]
. انعام : ١٣٢[۷۷]
. سورہ احقاف : ١٩[۷۸]
. بقرہ: ١٨٠[۷۹]
. وسائل الشیعہ ١٢: ١٦[۸۰]
. وسائل الشیعہ١٢: ١٩[۸۱]
. سورہ بقرہ : ١٩٤ [۸۲]
. سورہ عنکبوت : ٦٩[۸۳]
. نھج البلاغة ،خطبہ ١٣٠[۸۴]
. تفسیر نور الثقلین ٥: ٣٥٧[۸۵]
. مناقب٤: ١٦٥[۸۶]
. سورہ صافات : ١٤٥[۸۷]
. سورہ انبیاء : ٨٧۔ ٨٨[۸۸]
. انبیائ: ٨٩۔ ٩٠[۸۹]
.[۹۰]
. طلاق : ٢[۹۱]
. تفسیر نور الثقلین ٥: ٣٥٧[۹۲]
. تفسیر نور الثقلین ٥: ٣٥٤[۹۳]
. تفسیر مجمع البیان ٩: ٣٠٦[۹۴]
. تفسیر صافی ٢: ٧١١[۹۵]
. آل عمران : ٣٧[۹۶]
. سورہ کھف : ٨٢[۹۷]
. تفسیرصافی٢:٢٥[۹۸]
. المیزان١٣: ٣٨٤[۹۹]
.[۱۰۰]
. تفسیر نور الثقلین ٣: ٢٧٠[۱۰۱]
. اصول کافی، باب الدعا،ح١[۱۰۲]
. اصول کافی٢: ١٥٠[۱۰۳]
. حوالہ سابق [۱۰۴]
. حوالہ سابق [۱۰۵]
. اصول کافی ٢: ١٥٤[۱۰۶]
. اصول کافی ٢:١٥٤[۱۰۷]
. وسائل الشیعہ ٨: ٥٣٠[۱۰۸]
. سورہ یوسف : ٩٠[۱۰۹]
. سورہ یوسف : ٢٦[۱۱۰]
. سورہ یوسف : ٥٦۔٥٤[۱۱۱]
. یوسف:٩٠[۱۱۲]
. تفسیر المیزان ١٤: ١٢١[۱۱۳]
. حاشیہ قرآن ذیشان حیدر جوادی: ٥١٧[۱۱۴]
. منہج الصادقین ٦۔٥:٤٦١[۱۱۵]
فہرست
انتساب ۴
حرف اوّل ۵
پہلا درس ۶
ماہ رمضان کی فضیلت ۶
دوسرادرس ۹
ماہ رمضان کی فضیلت (٢) ۹
تیسرا درس ۱۲
روزے کا فلسفہ ۱۲
چوتھا درس ۱۶
رزق حلال ۱۶
پانچواں درس ۲۰
نماز کی اہمیت (١) ۲۰
١۔نماز کامیابی کا راستہ: ۲۱
٢۔خدا سے مدد کا ذریعہ : ۲۱
٣۔تقوٰی کی علامت: ۲۲
٤۔ نماز ذکر خدا: ۲۲
٥۔ رحمت خدا کا باعث: ۲۲
چھٹا درس ۲۴
نماز کی اہمیت( ٢) ۲۴
[ ساتواں درس ۲۸
فلسفہ اخلاق ۲۸
١۔روح کی لذّت : ۲۹
٢۔ دوستی کا باعث : ۳۰
٣۔ گناہوں کی نابودی : ۳۰
٤۔رسول خدا سے قربت : ۳۰
٥۔اجر برتر: ۳۰
٦۔گناہوں کا کفارہ: ۳۰
٧۔وسعت رزق: ۳۰
٨۔تکمیل ایمان: ۳۱
١۔ جھالت: ۳۱
٢۔ پستی و نجاست: ۳۲
٣۔وراثت: ۳۲
آٹھواں درس ۳۳
جھالت کا دین پر اثر (١) ۳۳
١: جھل بسیط: ۳۳
٢۔ جھل تردید: ۳۵
نواں درس ۳۷
جھالت کا دین پر اثر (٢) ۳۷
دسواں درس ۴۰
[ جہالت کا دین پر اثر (٣) ۴۰
گیارہواں درس ۴۳
جھالت کا علاج (١) ۴۳
بارہواں درس ۴۷
جھالت کا علاج(٢) ۴۷
تیرہواں درس ۵۰
دنیا میں اعمال کا اثر(١) ۵۰
١۔ مشکلات کا حل ہونا: ۵۲
چودہواں درس ۵۴
دنیا میں اعمال کا اثر(٢) ۵۴
١۔طلاق:٢ ۵۵
۱!۔ حضرت یونس علیہ السلام کا نجات پانا: ۵۵
٢۔ جناب زکریاعلیہ السلام کی مشکل کا حل ہونا : ۵۶
پندرہواں درس ۵۸
دنیا میں اعمال کا اثر(٣) ۵۸
٢۔ رزق بابرکت : ۵۸
جناب زکریا اور حضرت مریم : ۵۹
دو یتیم بچوں کا واقعہ: ۶۰
سولھواں درس ۶۲
دنیا میں اعمال کا اثر(٤) ۶۲
[ ٣۔عمر کا طولانی ہونا : ۶۳
سترہواں درس ۶۵
انسان کے اعمال کااثر(٥) ۶۵
٤۔ اجتماعی وقار : ۶۵
٥۔لوگوں کے دلوں میں محبت : ۶۶
حوالے ۶۸