یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب کا نام : مراثی انیس
(انتخاب)
مصنف : میر ببر علی انیس
مرثیہ نمبر ۱
(یارب،چمنِ.نظم.کوگلزارِارم.کر)
یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر
اے ابرِ کرم، خشک زراعت پہ کرم کر
تو فیض کا مبدا ہے، توّجہ کوئی دم کر
گم نام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر
جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے
اقلیمِ سخن میرے قلمرو سے نہ جائے
ہر باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری
بلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاری
ہر نخل برو مند ہے یا حضرتِ باری
پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری
وہ گل ہوں عنایت چمنِ طبعِ نِکو کو
بلبل نے بھی سُونگھا نہ ہو جن پھولوں کی بو کو
غوّاصِ طبیعت کو عطا کر وہ لآلی
ہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالی
اک ایک لڑی نظمِ ثریّا سے ہو عالی
عالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی
سب ہوں دُرِ یکتا نہ علاقہ ہو کسی سے
نذر ان کی یہ ہوں گے جنھیں رشتہ ہے نبی سے
بھر دے دُرِ مقصود سے اُس دُرجِ دہاں کو
دریائے معانی سے بڑھا طبعِ رواں کو
آگاہ کر اندازِ تکلّم سے زباں کو
عاشق ہو فصاحت بھی، وہ دے حُسن، بیاں کو
تحسیں کا سماوات سے غُل تا بہ سَمک ہو
ہر گوش بنے کانِ ملاحت، وہ نمَک ہو
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دُوں
قطرے کو جو دُوں آب تو گوہر سے ملا دوں
ذرّے کی چمک مہرِ منوّر سے ملا دوں
خاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوں
گلدستہء معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اِک پُھول کا مضموں ہو تو سَو رنگ سے باندھوں
گر بزم کی جانب ہو توّجہ دمِ تحریر
کھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویر
دیکھے نہ کبھی صحبتِ انجم فلکِ پیر
ہو جائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیر
یوں تختِ حسینانِ معانی اُتر آئے
ہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے
ساقی کے کرم سے ہو وہ دَور اور وہ چلیں جام
جس میں عوضِ نشہ ہو کیفیتِ انجام
ہر مست فراموش کرے گردشِ ایّام
صوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکام
ہاں بادہ کشو، پُوچھ لو میخانہ نشیں سے
کوثر کی یہ موج آگئی ہے خُلدِ بریں سے
وہ فرش ہو اس بزم ارم رشک میں نایاب
ہو جس کی سفیدی سے خجل چادرِ مہتاب
دل عرش کا لوٹے کہ یہ راحت کا ہے اسباب
مخمل کو بھی حسرت ہو کہ میں اس پہ کروں خواب
آئینوں سے ہو چار طرف نور کا جلوا
دکھلائے ہر اک شمع رُخِ حُور کا جلوا
آؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزم
خیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولوالعزم
قطعِ سرِ اعدا کا ارادہ ہو جو بالجزم
دکھلائے یہیں سب کو زباں معرکہء رزم
جل جائے عدو، آگ بھڑکتی نظر آئے
تلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے
مصرع ہو صف آرا، صفتِ لشکرِ جرّار
الفاظ کی تیزی کو نہ پہنچے کوئی تلوار
نقطے ہوں جو ڈھالیں تو الف خنجرِ خونخوار
مد آگے بڑھیں برچھیوں کو تول کے اک بار
غُل ہو "کبھی یوں فوج کو لڑتے نہیں دیکھا
مقتل میں رَن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھ"
ہو ایک زباں ماہ سے تا مسکنِ ماہی
عالم کو دکھا دے برشِ سیفِ الٰہی
جرأت کا دھنی تُو ہے، یہ چلائیں سپاہی
لاریب، ترے نام پہ ہے سِکّہء شاہی
ہر دم یہ اشارہ ہو، دوات اور قَلم کا
تو مالک و مختار ہے اِس طبل و عَلم کا
تائید کا ہنگام ہے یا حیدرِ صفدر
امداد ترا کام ہے، یا حیدرِ صفدر
تُو صاحبِ اکرام ہے، یا حیدرِ صفدر
تیرا ہی کرم عام ہے، یا حیدرِ صفدر
تنہا ترے اقبال سے شمشیر بہ کف ہوں
سب ایک طرف جمع ہیں، میں ایک طرف ہوں
ناقدریِ عالم کی شکایت نہیں مولا
کچھ دفترِ باطل کی حقیقت نہیں مولا
باہم گُل و بلبل میں محبت نہیں مولا
میں کیا ہوں، کسی روح کو راحت نہیں مولا
عالم ہے مکدّر کوئی دل صاف نہیں ہے
اس عہد میں سب کچھ ہے، پر انصاف نہیں ہے
نیک و بدِ عالم میں تامّل نہیں کرتے
عارف کبھی اتنا تجاہل نہیں کرتے
خاروں کے لیے رخ طرفِ گل نہیں کرتے
تعریف خوش الحانیِ بلبل نہیں کرتے
خاموش ہیں، گو شیشۂ دل چُور ہوئے ہیں
اشکوں کے ٹپک پڑنے سے مجبور ہوئے ہیں
الماس سے بہتر یہ سمجھتے ہیں خذف کو
دُر کو تو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے ہیں صدف کو
اندھیر یہ ہے، چاند بتاتے ہیں کلف کو
کھو دیتے ہیں شیشے کے لیے دُرِ نجف کو
ضائع ہیں دُر و لعل بدخشان و عدن کے
مٹّی میں ملاتے ہیں جواہر کو سخن کے
ہے لعل و گہر سے یہ دہن کانِ جواہر
ہنگامِ سخن کھلتی ہے دوکانِ جواہر
ہیں بند مرصّع، تو ورق خوانِ جواہر
دیکھے انھیں، ہاں کوئی ہے خواہانِ جواہر
بینائے رقوماتِ ہنر چاہیے اس کو
سودا ہے جواہر کا، نظر چاہیے اس کو
کیا ہو گئے وہ جوہریانِ سخن اک بار
ہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گار
اب ہے کوئی طالب، نہ شناسا، نہ خریدار
ہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوار
کس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئے
جب اُٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے
خواہاں نہیں یاقوتِ سخن کا کوئی گو آج
ہے آپ کی سرکار تو یا صاحبِ معراج
اے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاج
ہوجائے گا دم بھر میں غنی، بندۂ محتاج
اُمید اسی گھر کی، وسیلہ اسی گھر کا
دولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا
میں کیا ہوں، مری طبع ہے کیا، اے شہِ ذی شاں
حسّان و فَرَزدَق ہیں یہاں عاجز و حیراں
شرمندہ زمانے سے گئے دعبل و سحباں
قاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داں
کیا مدح کفِ خاک سے ہو نورِ خدا کی
لکنت یہیں کرتی ہیں زبانیں فُصَحا کی
لا یعلم و لا علم کی کیا سحر بیانی
حضرت پہ ہویدا ہے مری ہیچ مدانی
نہ ذہن میں جُودت، نہ طبیعت میں روانی
گویا ہوں فقط، ہے یہ تری فیض رسانی
میں کیا ہوں، فرشتوں کی طلاقت ہے تو کیا ہے
وہ خاص یہ بندے ہیں کہ مدّاح خدا ہے
تھا جوش کچھ ایسا ہی جو دعوٰی کیا میں نے
خود سربگریباں ہوں کہ یہ کیا کیا میں نے
اک قطرۂ ناچیز کو دریا کیا میں نے
تقصیر بحل کیجئے، بے جا کیا میں نے
ہاں سچ ہے کہ اتنی بھی تعلّی نہ روا تھی
مولا یہ کلیجے کے پھپھولوں کی دوا تھی
مجرم ہوں، کبھی ایسی خطا کی نہیں میں نے
بھولے سے بھی آپ اپنی ثنا کی نہیں میں نے
دل سے کبھی مدحِ اُمرا کی نہیں میں نے
تقلیدِ کلامِ جُہلا کی نہیں میں نے
نازاں ہوں محبت پہ امامِ اَزَلی کی
ساری یہ تعلّی ہے حمایت پہ علی کی
ہر چند زباں کیا مری، اور کیا مری تقریر
دن رات وظیفہ ہے ثنا خوانیِ شبیر
منظور ہے اک باب میں دو فصل کی تحریر
مولا کی مدد کا متمنّی ہے یہ دلگیر
ہر فصل نئے رنگ سے کاغذ پہ رقم ہو
اک بزم ہو شادی کی تو اک صبحتِ غم ہو
شعباں کی ہے تاریخِ سوم روزِ ولادت
اور ہے دہمِ ماہِ عزا یومِ شہادت
دونوں میں بہرحال ہے تحصیلِ سعادت
وہ بھی عملِ خیر ہے، یہ بھی ہے عبادت
مدّاح ہوں، کیا کچھ نہیں اس گھر سے ملا ہے
کوثر ہے صِلہ اِس کا، بہشت اُس کا صلہ ہے
مقبول ہوئی عرض، گنہ عفو ہوئے سب
امید بر آئی، مرا حاصل ہوا مطلب
شامل ہوا افضالِ محمّد، کرَمِ رب
ہوتے ہیں علم فوجِ مضامیں کے نشاں اب
پُشتی پہ ہیں سب رُکنِ رکیں دینِ متیں کے
ڈنکے سے ہلا دیتا ہوں طبقوں کو زمیں کے
نازاں ہوں عنایت پہ شہنشاہِ زمن کی
بخشی ہے رضا جائزۂ فوج سخن کی
چہرے کی بحالی سے قبا چست ہے تن کی
لو برطَرَفی پڑ گئی مضمونِ کہن کی
اِک فرد پُرانی نہیں دفتر میں ہمارے
بھرتی ہے نئی فوج کی لشکر میں ہمارے
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ دوم
ہاں اے فلکِ پیر، نئے سر سے جواں ہو
اے ماہِ شبِ چار دہم، نور فشاں ہو
اے ظلمتِ غم، دیدۂ عالم سے نہاں ہو
اے روشنیِ صبحِ شبِ عید، عیاں ہو
شادی ہے ولادت کی یداللہ کے گھر میں
خورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں
اے شمس و قمر، اور قمر ہوتا ہے پیدا
نخلِ چمنِ دیں کا ثمر ہوتا ہے پیدا
مخدومۂ عالم کا پسر ہوتا ہے پیدا
جو عرش کی ضَو ہے وہ گہر ہوتا ہے پیدا
ہر جسم میں جاں آتی ہے مذکور سے جس کے
نو نورِ خدا ہوں گے عیاں نور سے جس کے
اے کعبۂ ایماں، تری حرمت کے دن آئے
اے رکنِ یمانی تری شوکت کے دن آئے
اے بیتِ مقدّس، تری عزّت کے دن آئے
اے چشمۂ زمزم، تری چاہت کے دن آئے
اے سنگِ حرم، جلوہ نمائی ہوئی تجھ میں
اے کوہِ صفا، اور صفائی ہوئی تجھ میں=
اے یثرب و بطحا، ترے والی کی ہے آمد
لے رتبۂ اعلٰی شہِ عالی کی ہے آمد
عالم کی تغئیری پہ بحالی کی ہے آمد
کہتے ہیں چمن، ماہِ جلالی کی ہے آمد
یہ خانۂ کعبہ کی مباہات کے دن ہیں
یعقوب سے یُوسف کی ملاقات کے دن ہیں
اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر
رونق جو سما پر ہے وہ اب ہوگی سمک پر
خورشید ملا، تیرا ستارہ ہے چمک پر
صدقے گلِ تر ہیں ترے پھولوں کی مہک پر
پَر جس پہ فرشتوں کے بچھیں، فرش وہی ہے
جس خاک پہ ہو نورِ خدا، عرش وہی ہے
یا ختمِ رسل، گوہرِ مقصود مبارک
یا نورِ خدا، اخترِ مسعود مبارک
یا شاہِ نجف، شادیِ مولود مبارک
یا خیرِ نسا، اخترِ مسعود مبارک
رونق ہو سدا، نور دوبالا رہے گھر میں
اِس ماہِ دو ہفتہ کا اجالا رہے گھر میں
اے امّتیو، ہے یہ دمِ شکر گزاری
ہر بار کرو سجدۂ شکریّۂ باری
اللہ نے حل کر دیا مشکل کو تمھاری
فردیں عملِ زشت کی اب چاک ہیں ساری
لکھے گئے بندوں میں ولی ابنِ ولی کے
ناجی ہوئے صدقے میں حسین ابنِ علی کے
اے ماہِ معظم، ترے اقبال کے صدقے
شوکت کے فدا، عظمت و اجلال کے صدقے
اُتری برکت، فاطمہ کے لال کے صدقے
جس سال یہ پیدا ہوئے اس سال کے صدقے
قرباں سحرِ عید اگر ہو تو بجا ہے
نوروز بھی اس شب کی بزرگی پہ فدا ہے
قربان شبِ جمعۂ شعبانِ خوش انجام
پیدا ہوا جس شب کو محمد کا گل اندام
قایم ہوا دین، اور بڑھی رونقِ اسلام
ہم پلّۂ صبحِ شبِ معراج تھی وہ شام
خورشید کا اجلال و شرف بدر سے پوچھو
کیا قدر تھی اس شب کی شبِ قدر سے پوچھو
وہ نورِ قمر اور وہ دُر افشانیِ انجم
تھی جس کے سبب روشنیِ دیدۂ مردم
وہ چہچہے رضواں کے وہ حوروں کا تبسّم
آپس میں وہ ہنس ہنس کے فرشتوں کا تکلّم
میکال شگفتہ ہوتے جاتے تھے خوشی سے
جبریل تو پھولوں نہ سماتے تھے خوشی سے
روشن تھا مدینے کا ہر اک کُوچہ و بازار
جو راہ تھی خوشبو، جو محلّہ تھا وہ گل زار
کھولے ہوئے تھا آہوئے شب نافۂ تاتار
معلوم یہ ہوتا تھا کہ پھولوں کا ہے انبار
گردوں کو بھی اک رشک تھا زینت پہ زمیں کی
ہر گھر میں ہوا آتی تھی فردوسِ بریں کی
کیا شب تھی وہ مسعود ہمایون و معظّم
رُخ رحمتِ معبود کا تھا جانبِ عالم
جبریل و سرافیل کو مہلت نہ تھی اِک دم
بالائے زمیں آتے تھے اور جاتے تھے باہم
باشندوں کو یثرب کے خبر نہ تھی گھروں کی
سب سنتے تھے آواز فرشتوں کے پروں کی
تھی فاطمہ بے چین ادھر دردِ شکم سے
منہ فق تھا اور آنسو تھے رواں دیدۂ نم سے
وابستہ تھی راحت اسی بی بی کے دم سے
مضطر تھے علی بنتِ پیمبر کے الم سے
آرام تھا اک دم نہ شہِ قلعہ شکن کو
پھرتے تھے لگائے ہوئے چھاتی سے حَسن کو
کرتے تھے دعا، بادشہِ یثرب و بطحا
راحم ہے تری ذاتِ مقدّس، مرے مولا
زہرا ہے کنیز اور مِرا بچّہ تیرا بندا
آسان کر اے بارِ خدا مشکلِ زہرا
نادار ہے اور فاقہ کش و زار و حزیں ہے
مادر بھی تشفّی کے لیے پاس نہیں ہے
ناگاہ درِ حجرہ ہوا مطلعِ انوار
دکھلانے لگے نورِ تجلّی در و دیوار
اسما نے علی سے یہ کہا دوڑ کے اِک بار
فرزند مبارک تمھیں یا حیدرِ کرّار
اسپند کرو فاطمہ کے ماہِ جبیں پر
فرزند نہیں، چاند یہ اترا ہے زمیں پر
دیکھا نہیں اس طرح کا چہرہ کبھی پیارا
نقشہ ہے محمد سے، شہنشاہ کا سارا
ماتھے پہ چمکتا ہے جلالت کا ستارا
اللہ نے اس گھر میں عجب چاند اتارا
تصویرِ رسولِ عربی دیکھ رہے ہیں
آنکھوں کی ہے گردش کہ نبی دیکھ رہے ہیں
اُمّ ِ سَلَمہ نے کہا یا شاہِ رسالت
پیشانیِ انور پہ ہے کیا نورِ امامت
لاریب کہ قرآنِ مبیں کی ہے یہ آیت
تم شمعِ رسالت ہو تو یہ نورِ ہدایت
خوش ہو کہ نمازی ہے یہ دلبند تمھارا
اللہ کے سجدے میں ہے فرزند تمھارا
مژدہ یہ سنا احمدِ مختار نے جس دم
بس شکر کے سجدے کو گرے قبلۂ عالم
آئے طرَفِ خانۂ زہرا خوش و خرّم
فرمایا مبارک پسر، اے ثانیِ مریم
چہرہ مجھے دکھلا دو مرے نورِ نظر کا
ٹکڑا ہے یہ فرزندِ محمد کے جگر کا
کی عرض یہ اسما نے کہ اے خاصۂ داور
نہلا لوں، تو لے آؤں اسے حجرے سے باہر
ارشاد کیا احمدِ مختار نے ہنس کر
لے آ کہ نواسہ ہے مرا طاہر و اطہر
اس چاند کو تاجِ سرِ افلاک کِیا ہے
یہ وہ ہے خدا نے جسے خود پاک کیا ہے
میں اس سے ہوں اور مجھ سے ہے یہ، تو نہیں ماہر
یہ نورِ الٰہی ہے، یہ ہے طیّب و طاہر
اسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظاہر
یہ آیتِ ایماں ہے، یہ ہے حجّتِ باہر
بڑھ کر مددِ سیّدِ لولاک کرے گا
کفّار کے قِصّے کو یہی پاک کرے گا
جس دم یہ خبر مخبرِ صادق نے سنائی
اسما اسے اک پارچۂ نرم پہ لائی
بُو اُس گلِ تازہ کی محمد نے جو پائی
ہنسنے لگے، سُرخی رُخِ پُر نور پہ آئی
مُنہ چاند سا دیکھا جو رسولِ عَرَبی نے
لپٹا لیا چھاتی سے نواسے کو نبی نے
جان آ گئی، یعقوب نے یوسف کو جو پایا
قرآں کی طرح رحل دو زانو پہ بٹھایا
منہ ملنے لگے منہ سے، بہت پیار جو آیا
بوسے لیے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا
دل ہل گیا، کی جبکہ نظر سینہ و سر پر
چُوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر
جوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقّت
اِس کان میں فرمائی اذاں اُس میں اقامت
حیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایت
کیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورت
پُر نور ہے گھر، تم کو ملا ہے قمر ایسا
دنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا
کیونکر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہ سی ماں
دو شمس و قمر کا ہے یہ اِک نیّرِ تاباں
کی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماں
حق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبرِ ذی شاں
اعلٰی ہے جو سب سے وہ مقامِ شہِ دیں ہے
بندہ ہوں مَیں اور یہ بھی غلامِ شہِ دیں ہے
عالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سے
سرسبزیِ ایماں ہے اسی ابرِ کرم سے
تا عرش پہنچ جاتا ہے سر، فیضِ قدم سے
عزّت ہے غلاموں کی شہنشاہِ امم سے
کچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث، نہ علی کا
سب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا
فرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحا
بھائی، کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھا
کی عرض یہ حیدر نے کہ اے سیّدِ والا
سبقت کروں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرا؟
فرمایا کہ موقوف ہے یہ رّبِ عُلا پر
میں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر
بس اتنے میں نازل ہوئے جبریلِ خوش انجام
کی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علام
پیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندام
یا ختمِ رسل، ہم نے حُسین اس کا رکھا نام
یہ حُسن میں سردارِ حسینانِ زمن ہے
مشتق تو ہے "احسان" سے تصغیر "حَسن" ہے
"ح" سے ہے اشارہ کہ یہ ہے حامیِ امّت
سمجھیں گے اسی "سین" کو سب سینِ سعادت
"ی" اس کی بزرگی میں ہے یٰسین کی آیت
ہے "ن" سے ظاہر کہ یہ ہے نورِ نبوّت
ناجی ہے وہ اس نام کو لے گا جو دہن سے
یہ حُسن میں دس حصّہ زیادہ ہے حَسن سے
دو نور کے دریا کو جو ہم نے کیا اِک جا
تب اس سے ہوا گوھرِ نایاب یہ پیدا
توقیر میں بے مثل، شجاعت میں ہے یکتا
اب اور نہ ہوگا کوئی اس حُسن کا لڑکا
ہم جانتے ہیں جو نہیں ظاہر ہے کسی پر
کام اس سے جو لینا ہے وہ ہے ختم اسی پر
فیّاض نے کونین کی دولت اسے دی ہے
دی ہے جو علی کو وہ شجاعت اسے دی ہے
صبر اس کو عنایت کیا، ہمّت اسے دی ہے
ان سب کے سوا اپنی مَحبّت اسے دی ہے
اعلٰی ہے، معظّم ہے، مکرّم ہے، ولی ہے
ہادی ہے، وفادار ہے، زاہد ہے، سخی ہے
جب کر چکے ذکرِ کرمِ مالکِ تقدیر
جبریل نے پاس آن کے دیکھا رخِ شبّیر
کی صلّ ِ علٰی کہہ کے، محمد سے یہ تقریر
یا شاہ، یہ مہ رو تو ہے صاف آپ کی تصویر
جب کی ہے زیارت پے تسلیم جُھکے ہیں
اس نور کو ہم عرش پہ بھی دیکھ چکے ہیں
قدسی ترے فرزند کی خدمت کے لیے ہیں
میکال و سرافیل حفاظت کے لیے ہیں
جِنّ و پری و اِنس اطاعت کے لیے ہیں
سامان پہ اس لال کی رحمت کے لیے ہیں
موجود ہے مرکب کے عوض دوش تمھارا
زہرا کی جو گودی ہے تو آغوش تمھارا
ہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبود
یہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجود
ہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم و جود
تھا خلقِ دو عالم سے یہی مطلب و مقصود
مظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کے
سب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے
ہے یہ سببِ تہنیت و تعزیت اس دم
ہے شادی و غم گلشنِ ایجاد میں تواَم
لپٹائے ہیں چھاتی سے جسے قبلۂ عالَم
بے جرم و خطا ذبح کریں گے اسے اظلم
گو حشر بھی ہوگا تو یہ آفت نہ ٹلے گی
سجدے میں چھری حلقِ مبارک پہ چلے گی
ہوگا یہ محرّم میں ستم اے شہِ ذی جاہ
چھپ جائے گا آنکھوں سے اسی چاند میں یہ ماہ
تاریخِ دہم، جمعہ کے دن، عصر کے وقت آہ
نیزے پہ چڑھائیں گے سرِ پاک کو گم راہ
کٹ جائے گا جب سر تو ستم لاش پہ ہوں گے
گھوڑوں کے قدم سینۂ صد پاش پہ ہوں گے
چلائے محمد کہ میں بسمل ہوا بھائی
اے وائے اخی، کیا یہ خبر مجھ کو سنائی
دل ہل گیا، برچھی سے کلیجے میں در آئی
یہ واقعہ سن کر نہ جئے گی مری جائی
ممکن نہیں دنیا میں دوا زخمِ جگر کی
کیونکر کہوں زہرا سے سے خبر مرگِ پسر کی
جس وقت سنی فاطمہ نے یہ خبرِ غم
شادی میں ولادت کی بپا ہو گیا ماتم
چلاتی تھی سر پیٹ کے وہ ثانیِ مریم
بیٹے پہ چھری چل گئی یا سیدِ عالم
خنجر کے تلے چاند سی تصویر کی گردن
کٹ جائے گی ہے ہے مرے شبیر کی گردن
ہے ہے کئی دن تک نہ ملے گا اسے پانی
ہے ہے، یہ سہے گا تعبِ تشنہ دہانی
ہو جائیں گے اک جان کے سب دشمنِ جانی
ہے ہے، مرا محبوب، مرا یوسفِ ثانی
پیراہن صد چاک کفن ہوئے گا اس کا
سر نیزے پہ اور خاک پہ تن ہوئے گا اس کا
صبر اپنا دکھانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں
یوں خلق سے جانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں
جنگل کو بسانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں
امّاں کے رلانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں
ہم چاند سی صورت پہ نہ شیدا ہوئے ہوتے
اے کاش مرے گھر میں نہ پیدا ہوئے ہوتے
دنیا مجھے اندھیر ہے اس غم کی خبر سے
شعلوں کی طرح آہ نکلتی ہے جگر سے
دامن پہ ٹپکتا ہے لہو دیدۂ تر سے
بس آج سفر کر گئی شادی مرے گھر سے
جس وقت تلک جیتی ہوں ماتم میں رہوں گی
"مظلوم حسین" آج سے میں ان کو کہوں گی
بیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہِ عالم
بجھے گی زچہ خانے کے اندر صفِ ماتم
اب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشورِ محرّم
تارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلکِ غم
پوشاک نہ بدلوں گی، نہ سر دھوؤں گی بابا
چِلّے میں بھی چہلم کی طرح روؤں گی بابا
حیدر ہیں کہاں، آ کے دلاسہ نہیں دیتے
زہرا کا برا حال ہے، سمجھا نہیں دیتے
اس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتے
ہے ہے، مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتے
حجرے میں الگ بیٹھے ہیں کیوں چھوڑ کے گھر کو
آواز تو سنتی ہوں کہ روتے ہیں پسر کو
پھر دیکھ کے فرزند کی صورت یہ پکاری
اے میرے شہید، اے میرے بیکس، ترے واری
ہاں، بعد مرے ذبح کریں گے تجھے ناری
بنتی ہوں ابھی سے میں عزادار تمھاری
دل اور کسی شغل میں مصروف نہ ہوگا
بس آج سے رونا مرا موقوف نہ ہوگا
مر جائے گا تُو تشنہ دہن، ہائے حسینا
ہو جائے گا ٹکڑے یہ بدن، ہائے حسینا
اک جان پہ یہ رنج و محن، ہائے حسینا
کوئی تجھے دے گا نہ کفن، ہائے حسینا
گاڑیں گے نہ ظالم تنِ صد پاش کو ہے ہے
رہواروں سے روندیں گے تری لاش کو ہے ہے
فرمایا محمد نے کہ اے فاطمہ زہرا
کیا مرضیِ معبود سے بندے کا ہے چارا
خالق نے دیا ہے اسے وہ رتبۂ اعلٰی
جبریل سوا کوئی نہیں جاننے والا
میں بھی ہوں فدا اس پہ کہ یہ فدیۂ رب ہے
یہ لال ترا بخششِ امّت کا سبب ہے
اس بات کا غم ہے اگر اے جانِ پیمبر
بے دفن و کفن رن میں رہے گا ترا دلبر
جب قید سے ہووے گا رہا عابدِ مضطر
تربت میں وہی دفن کرے گا اسے آ کر
ارواحِ رسُولانِ زمن روئیں گی اس کو
سر پیٹ کے زینب سی بہن روئیں گی اس کو
جب چرخ پہ ہووے گا عیاں ماہِ محرّم
ہر گھر میں بپا ہووے گی اک مجلسِ ماتم
آئیں گے مَلک عرش سے واں رونے کو باہم
ماتم یہ وہ ماتم ہے کہ ہوگا نہ کبھی کم
پُر نور سدا اس کا عزا خانہ رہے گا
خورشید جہاں گرد بھی پروانہ رہے گا
کہہ کر یہ سخن روئے بہت احمدِ مختار
منہ رکھ دیا ہونٹوں پہ نواسے کے کئی بار
یوں لپٹے دہن کھول کے شبیرِ خوش اطوار
جس طرح کوئی دودھ کا ہوتا ہے طلب گار
جوش آگیا الفت کا دلِ شاہِ زمن میں
مولا نے زباں دے دی نواسے کے دہن میں
یُوں چُوسی نواسے نے زبانِ شہِ والا
جس طرح پئے دودھ مزے سے کوئی ماں کا
اللہ رے لعابِ دہنِ پاک کا رتبا
نہریں عَسل و شِیر کی جاری ہوئیں گویا
شیریں ہیں لب و کام و دہن جس کے بیاں سے
پوچھے وہ حلاوت کوئی حضرت کی زباں سے
سو جاتے تھے یوں شیرِ زباں چُوس کے حضرت
جو دودھ پہ ماں کے بھی نہ پھر ہوتی تھی رغبت
بچپن میں تو خالق نے عطا کی تھی یہ نعمت
مرتے ہوئے پانی نہ ملا وائے مصیبت
بے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری
دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری
کیا اوج ہے، کیا رتبہ ہے اس بزمِ عزا کا
غُل عرش سے ہے فرش تلک صلِّ علٰی کا
مشتاق ہے فردوسِ بریں، یاں کی فضا کا
پانی میں بھی ہے یاں کے مزا آبِ بقا کا
دربار معلّٰی ہے ولی ابنِ ولی کا
جاری ہے یہ سب فیض حسین ابنِ علی کا
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ سوم
یارب، مری فریاد میں تاثیر عطا کر
بلبل بھی پھڑک جائے وہ تقریر عطا کر
توفیقِ ثنا خوانیِ شبیر عطا کر
مدّاح کو اب خلد کی جاگیر عطا کر
دعوٰی نہ سخن کا ہے نہ اعجازِ بیاں ہوں
تُو عالم و دانا ہے کہ میں ہیچ مداں ہوں
لو، یاں سے بس اب مجلسِ ماتم کا بیاں ہے
وہ فصلِ خوشی ختم ہوئی، غم کا بیاں ہے
مظلومیِ سلطانِ دو عالم کا بیاں ہے
ہنگامۂ عاشورِ محرّم کا بیاں ہے
ہاں دیکھ لے مشتاق جو ہو فوجِ خدا کا
لو بزم میں کھلتا ہے مرقع شہدا کا
جو چاند سی تصویر ہے وہ خون سے تر ہے
مجروح ہیں اعضا، کہیں تن ہے، کہیں سر ہے
دیکھو تو یہ کس باپ کا مظلوم پسر ہے
برچھی تو کلیجہ میں ہے، برچھی میں جگر ہے
ٹکڑے ہے جو دُولھہ یہ جگر بند ہے کس کا؟
یہ تیر سے مارا ہوا فرزند ہے کس کا؟
دریا پہ جو سوتا ہے وہ کس کا ہے فدائی
مرنے پہ بھی نکلی نہ تھی قبضے سے ترائی
گرمی میں عجب سرد جگہ سونے کو پائی
کس شیر کا فرزند ہے یہ کس کا ہے بھائی
اس شان پہ کیوں کر ہو گماں اور کسی کا
شوکت سے یہ ظاہر ہے کہ بیٹا ہے علی کا
ریتی پہ جو سوتے ہیں یہ دو چاند سے فرزند
کس باپ کے پیارے ہیں یہ کس ماں کے ہیں دلبند
جلوے میں مہِ چہار دہم سے بھی ہیں دہ چند
یہ حیدر و جعفر کے کلیجے کے ہیں پیوند
پایا نہیں پانی بھی کسی تشنہ دہن نے
قربان کیا ہے انھیں بھائی پہ بہن نے
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ چہارم
اے خضرِ بیابانِ سخن، راہبری کر
اے نیّرِ تابانِ خرد، جلوہ گری کر
اے درد، عطا لذّتِ زخمِ جگری کر
اے خوفِ الٰہی، مجھے عصیاں سے بری کر
بندوں میں لکھا جاؤں ولی ابنِ ولی کے
آزاد ہوں صدقے سے حسین ابنِ علی کے
قدسی کو نہیں بار یہ دربار ہے کس کا
فردوس کو ہے رشک یہ گلزار ہے کس کا
سب جنسِ شفاعت ہے، یہ بازار ہے کس کا
خود بِکتا ہے یوسف یہ خریدار ہے کس کا
ملتی ہے کہاں مفت متاعِ سخن ایسی
دیکھی نہیں انجم نے کبھی انجمن ایسی
مجلس کا زہے نور، خوشا محفلِ عالی
حیدر کے محبّوں سے کوئی جا نہیں خالی
عاشق ہیں سب اس کے جو ہے کونین کا والی
اثنا عَشَری، پنجتنی، شیعۂ غالی
ششدر نہ ہو کیوں چرخ عجب جلوہ گری ہے
یہ بزمِ عزا آج ستاروں سے بھری ہے
ان میں جو مُسِن ہیں، وہ پیمبر کے ہیں مہماں
اور جو متوسط ہیں، وہ حیدر کے ہیں مہماں
جو تازہ جواں ہیں، علی اکبر کے ہیں مہماں
شیعوں کے پسر سب، علی اصغر کے ہیں مہماں
سب خورد و کلاں عاشَقِ شاہِ مَدَنی ہیں
پانچ انگلیوں کی طرح یہ سب پنجتنی ہیں
ارشادِ نبی ہے کہ مددگار ہیں میرے
فرماتے ہیں حیدر کہ یہ غم خوار ہیں میرے
حضرت کا سخن ہے کہ عزادار ہیں میرے
میں ان کا ہوں طالب یہ طلبگار ہیں میرے
یہ آج اگر رو کے ہمیں یاد کریں گے
ہم قبر میں ان لوگوں کی امداد کریں گے
غم میں میرے بچوں کے یہ سب کرتے ہیں فریاد
اللہ سلامت رکھے ان لوگوں کی اولاد
بستی مرے شیعوں کی رہے خلق میں آباد
یہ حشر کے دن آتشِ دوزخ سے ہوں آزاد
مرتا ہے کوئی گر تو بُکا کرتا ہوں میں بھی
ان کے لیے بخشش کی دعا کرتا ہوں میں بھی
مردم کے لیے واجبِ عینی ہے یہ زاری
رونا ہی وسیلہ ہے شفاعت کا ہماری
ہے وقتِ معیّن پہ ادا طاعتِ باری
یہ خیر ہے وہ خیر جو ہر وقت ہے جاری
رو لو کہ یہ وقت اور یہ صحبت نہ ملے گی
جب آنکھ ہوئی بند تو مہلت نہ ملے گی
مہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانو
آمادہ ہو رونے پہ، سعادت اسے جانو
آنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانو
ایذا بھی ہو مجلس میں تو راحت اسے جانو
فاقے کیے ہیں، دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیں
آقا نے تمھارے لیے کیا ظلم سہے ہیں
تکلیف کچھ ایسی نہیں، سایہ ہے ہوا ہے
پانی ہے خنک، مِروَحَہ کش بادِ صبا ہے
کچھ گرمیِ عاشور کا بھی حال سنا ہے
سر پیٹنے کا وقت ہے، ہنگامِ بُکا ہے
گزری ہے بیاباں میں وہ گرمی شہِ دیں پر
بُھن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر
لُو چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجار
تھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نار
پانی پہ دَد و دام گرے پڑتے تھے ہر بار
سب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرار
خاک اڑ کے جمی جاتی تھی زلفوں پہ قبا پر
اس دھوپ میں سایہ بھی نہ تھا نورِ خدا پر
قطرے جو پسینے کے ٹپک پڑتے تھے ہر بار
ثابت یہی ہوتا تھا کہ ہیں اخترِ سیّار
شاہد المِ فاقہ پہ ہے زردیِ رخسار
بے آبی سے اُودے تھے لبِ لعلِ گہر بار
دنیا میں ترستے رہے وہ آبِ رواں کو
جن ہونٹوں نے چُوسا تھا محمد کی زباں کو
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ پنجم(اول)
دنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میں
وہ گُل ہے یہ گل، بوئے محبّت نہیں جس میں
وہ دوست ہے یہ دوست، مرّوت نہیں جس میں
وہ شہد ہے یہ شہد، حلاوت نہیں جس میں
بے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری
دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری
گودی ہے کبھی ماں کی، کبھی قبر کا آغوش
گُل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن پوش
سرگرمِ سخن ہے کبھی انساں، کبھی خاموش
گہ تخت ہے اور گاہ جنازہ بہ سرِ دوش
اک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مُسِن کو
شب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں، تابوت میں دن کو
شادی ہو کہ اندوہ ہو، آرام ہو یا جَور
دنیا میں گزر جاتی ہے انساں کی بہر طَور
ماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی دَور
ہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو غور
کس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں جاتا
گل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا
ہے عالمِ فانی کی عجب صبح، عجب شام
گہ غم، کبھی شادی، کبھی ایذا، کبھی آرام
نازوں سے پلا فاطمہ زہرا کا گل اندام
وا حسرت و دردا، کہ وہ آغاز یہ انجام
راحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم تک
مظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم تک
ریتی پہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابتر
شہ کا ہے یہ نقشہ کہ ہیں تصویر سے ششدر
فرزند نہ مسلم کے، نہ ہمشیر کے دلبر
قاسم ہیں، نہ عبّاس، نہ اکبر ہیں نہ اصغر
سب نذر کو دربارِ پیمبر میں گئے ہیں
رخصت کو اکیلے شہِ دیں گھر میں گئے ہیں
منظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی صورت
پھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی محبّت
سجّاد سے کچھ کہنے ہیں اسرارِ امامت
بانوئے دو عالم سے بھی ہے آخری رخصت
مطلوب یہ ہے، زیبِ بدن رختِ کہن ہو
تا بعدِ شہادت وہی ملبوسِ بدن ہو
خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامت
اِک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامت
آنا تو غنیمت تھا، پہ جانا تھا قیامت
تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانا تھا قیامت
واں بَین، اِدھر صبر و شکیبائی کی باتیں
افسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں
حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر
امت کے لیے والدہ صاحب نے سہے جبر
وہ کہتی تھی کیونکر نہ میں روؤں صفتِ ابر
تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبر
لٹتے ہوئے امّاں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں
ہے ہے تہہِ خنجر تمھیں کن آنکھوں سے دیکھوں
اس عمر میں ٹھوڑے غمِ جانکاہ اٹھائے
اشک آنکھوں سے امّاں کے جنازے پہ بہائے
آنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں نہائے
ٹکڑے دلِ شبّر کے لگن میں نظر آئے
حضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں بھائی
انساں ہوں، کلیجا مرا پتھر نہیں بھائی
ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنا
دشوار ہے اِک آن مسافر کا ٹھہرنا
ان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرنا
ہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرنا
صدقے گئی، یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھا
اِک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا
ہے ہے تمھیں میں لے کے کہاں چھپ رہوں بھائی
لٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی کمائی
کس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے لائی
یا رب، کہیں مر جائے یداللہ کی جائی
زہرا کا پسر وقتِ جدائی مجھے روئے
سب کو تو میں روئی ہوں، یہ بھائی مجھے روئے
زینب کی وہ زاری، وہ سکینہ کا بلکنا
وہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکنا
وہ چاند سا منہ اور وہ بُندے کا جمکنا
حضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکنا
حسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بی
پیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی
وہ کہتی تھی، بابا ہمیں چھاتی سے لگاؤ
فرماتے تھے شہ، آؤ نا، جانِ پدر آؤ
ہم کڑھتے ہیں، تم آنکھوں سے آنسو نہ بہاؤ
خوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کی سنگھاؤ
کوثر پہ بھی تم بِن نہیں آرام چچا کو
ہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو
بی بی، کہو کیا حال ہے اب ماں کا تمھاری
کس گوشے میں بیٹھی ہیں، کہاں کرتی ہیں زاری
جب سے سوئے جنّت گئی اکبر کی سواری
دیکھا نہ انھیں، گھر میں ہم آئے کئی باری
تھی سب کی محبّت انھیں بیٹے ہی کے دم تک؟
کیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم تک؟
کس جا ہیں، طلب ہم کو کریں، یاد ہی آئیں
ممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں پائیں
کچھ ہم سے سنیں، کچھ ہمیں حال اپنا سنائیں
اک دم کے مسافر ہیں، ہمیں دیکھ تو جائیں
بعد اپنے یہ لُوٹا ہوا گھر اور لُٹے گا
افسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے گا
غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریر
ثابت ہوا مرنے کو چلے حضرتِ شبیر
سر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیر
چلّائی مجھے ہوش نہ تھا، یا شہِ دلگیر
جاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقا
یہ خادمہ رخصت کے لیے آتی ہے آقا
یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش اقبال
قدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بال
تھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حال
روتے تھے غضب، آنکھوں پہ رکھّے ہوئے رومال
فرماتے تھے جاں کاہ جدائی کا الم ہے
اٹھو تمھیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے
وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مرے سرتاج
والی، انہی قدموں کی بدولت ہے مرا راج
سر پر جو نہ ہوگا پسرِ صاحبِ معراج
چادر کے لیے خلق میں ہو جاؤں گی محتاج
چُھوٹے جو قدم، مرتبہ گھٹ جائے گا میرا
قربان گئی، تخت الٹ جائے گا میرا
یاں آئی میں، جب خانۂ کسرٰی ہوا برباد
وہ پہلی اسیری کی اذیّت ہے مجھے یاد
کی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری امداد
حضرت کے تصدّق میں ہوئی قید سے آزاد
لونڈی سے بہو ہو گئی زہرا و علی کی
قسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبی کی
چھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا پہلو
اب ہجر ہے تقدیر میں یا سیّدِ خوش خو
ہر شب رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو بازو
ہے ہے اسے اب رسّی سے باندھیں گے جفا جو
سر پر نہ ردا ہوگی تو مر جاؤں گی صاحب
چھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی صاحب
حضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا ہے
ہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا ہے
دارِ محن اس دار کو داور نے کہا ہے
ہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہے
فرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی کا
ساتھ آٹھ برس تک رہا زہرا و علی کا
سو سو برس اک گھر میں مَحبّت سے رہے جو
بس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کو
کچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش خو
ہے شاق فلک پر کہ رہیں ایک جگہ دو
کس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحب
اچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں صاحب
لازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر کو
تھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر کو
آنا ہے تمھیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر کو
وارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر کو
کھولے گا وہ رسّی سے بندھے ہاتھ تمھارے
سجّاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ تمھارے
زینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتار
ایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و ناچار
تنہا ہیں کہ بے جاں ہوئے دو چاند سے دلدار
دنیا سے گیا اکبرِ ناشاد سا غم خوار
بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں ہے
ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے
یہ کہہ کے کچھ ارشاد کیا گوشِ پسر میں
بیمار کے رونے سے قیامت ہوئی گھر میں
اندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میں
غش ہوگئی زینب، یہ اٹھا درد جگر میں
ٹھہرا نہ گیا پھر شہِ والا نکل آئے
تنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے
کچھ بڑھ کر پھرے جانبِ قبلہ شہِ بے پر
کج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انور
تھرّاے ہوئے ہاتھوں پہ عمّامے کو رکھ کر
کی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبر
حرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی ہے
کر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی ہے
یا رب، یہ ہے سادات کا گھر تیرے حوالے
رانڈیں ہیں کئی خستہ جگر تیرے حوالے
بیکس کا ہے بیمار پسر تیرے حوالے
سب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے حوالے
عالم ہے کہ غربت میں گرفتارِ بلا ہوں
میں تیری حمایت میں انھیں چھوڑ چلا ہوں
میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالق
بستی ہو کہ جنگل تُو ہی حافظ، تو ہی رازق
باندھے ہیں کمر ظلم و تعدّی پہ منافق
یہ دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافق
حرمت ہے ترے ہاتھ امامِ اَزَلی کی
دو بیٹیاں، دو بہویں ہیں اس گھر میں علی کی
میں یہ نہیں کہتا کہ اذیّت نہ اٹھائیں
یا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ جلائیں
ناموس لٹیں، قید ہوں اور شام میں جائیں
مہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ پائیں
بیڑی میں قدم، طوق میں عابد کا گلا ہو
جس میں ترے محبوب کی امّت کا بھلا ہو
یہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا چاک
اور ڈال لی پیراہنِ پُر نور پہ کچھ خاک
میّت ہوئے شبّیر، کفن بن گئی پوشاک
بس فاتحۂ خیر پڑھا با دلِ غمناک
مڑ کر نہ کسی دوست، نہ غم خوار کو دیکھا
پاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو دیکھا
گردان کے دامن علی اکبر کو پکارے
تھامو مرے گھوڑے کی رکاب، اے مرے پیارے
لختِ دلِ شبّر، کدھر اس وقت سدھارے
بھائی ہیں کہاں، ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارے
آتے نہیں، مسلم کے جگر بند کہاں ہیں
دونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں ہیں
تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکارا
کون آئے کہ فردوس میں تھا قافلہ سارا
گھوڑے پہ چڑھا خود اسداللہ کا پیارا
اونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستارا
شوخی سے فَرَس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پر
غل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر
شبدیز نے چھل بل میں عجب ناز دکھایا
ہر گام پہ طاؤس کا انداز دکھایا
زیور نے عجب حُسنِ خدا ساز دکھایا
فتراک نے اوجِ پرِ پرواز دکھایا
تھا خاک پہ اک پاؤں تو اک چرخِ بریں پر
غل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں پر
بجلی کو نہ تھا اس کی جلو لینے کا یارا
رہوار کو دُلدل کا چلن یاد تھا سارا
اڑنے میں نہ آہُو کبھی جیتا، نہ چکارا
شہباز بھی بازی اسی جانباز سے ہارا
طاؤس کا کیا ذکر، پری سے بھی حَسیں تھا
سایہ تھا کہیں دھوپ میں اور آپ کہیں تھا
جانباز نے طے کی عجب انداز سے وہ راہ
لے آئی سلیماں کو ہوا تا صفِ جنگاہ
وہ رعب، وہ شوکت وہ نہیبِ شہِ ذی جاہ
دلدل کو اڑاتے ہوئے آئے اسد اللہ
غل تھا یہ محمد ہیں کہ خالق کے ولی ہیں
اقبال پکارا کہ حسین ابنِ علی ہیں
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ پنجم(دوم)
نصرت نے صدا دی کہ مدد گارِ جہاں ہیں
صولت نے کہا تاجِ سرِ کون و مکاں ہیں
گویا ہوئی ہمّت کہ محمد کی زباں ہیں
غربت نے کہا فاقہ کش و تشنہ دہاں ہیں
سطوت یہ پکاری بخدا شیر یہی ہیں
بولی ظفر اللہ کی شمشیر یہی ہیں
عکسِ رخِ روشن جو چمکتا ہوا آیا
ذرّوں نے شہِ شرق کے پہلو کو دبایا
جنگل میں پری بن گیا ہر نخل کا سایا
کرسی سے زمیں کہتی تھی دیکھا مرا پایا
تھی چاندنی، خورشیدِ فلک شرم سے گم تھا
وہ روزِ دہم رشکِ شبِ چار دہم تھا
تنہا تھے یہ اللہ ری جلالت شہِ دیں کی
تھرّاتے تھے سب دیکھ کے صولت شہِ دیں کی
گردوں پہ مَلک تکتے تھے صورت شہِ دیں کی
غل تھا کہ یہ آخر ہے زیارت شہِ دیں کی
خود حُسن یہ کہتا تھا کہ شمعِ سحری ہوں
شبّیر کا کیا کوچ ہے میں بھی سفری ہوں
ہاں دیکھ لو تنویرِ جبینِ شہِ والا
یہ حُسن میں ہے ماہِ دو ہفتہ سے دو بالا
ہے برقِ تجلّی اِسی مہتاب کا ہالا
اندھیر ہے پر جب نہ رہا اس کا اجالا
آنکھوں سے نہاں ہوگی جو یہ نور کی صورت
ہو جائیں گی صبحیں شبِ دیجور کی صورت
گر لاکھ جلائے گا دل اپنا کوئی دل سوز
اس کعبۂ ابرو سے نہ ہوگا شمع افروز
گردش میں رہیں گے جو مہ و مہر شب و روز
دیکھیں گے یہ زلفیں نہ یہ رخسارِ دل افروز
کلیاں تو بہت باغ میں نرگس کی کِھلیں گی
ڈھونڈیں گی جو مردم کو تو آنکھیں نہ ملیں گی
خوبی دہن و لب کی سمجھنے میں سب حیراں
روئیں گے جو یاد آئے گا یہ سینۂ تاباں
ملنا دُر و یاقوت کا مشکل نہیں چنداں
دیکھو گے زمانے میں نہ ایسے لب و دنداں
یہ دُرّ ِ گرانمایہ صدف میں نہ ملیں گے
کیا ذکر صدف کا ہے نجف میں نہ ملیں گے
چھانے گی اگر بادِ صبا خاک چمن کی
خوشبو کہیں پائے گی نہ اس سیبِ ذقن کی
ضَو دیکھ رگِ گردنِ سردارِ زمن کی
پر تَو سے زمیں غیرتِ آئینہ ہے رَن کی
سوزِ غمِ فرقت کو نہ بیگانوں سے پوچھو
اِس شمع کے بجھ جانے کو پروانوں سے پوچھو
یہ صدر جو الہامِ الٰہی کا ہے مصدر
دل علم کا، اسلام کا گھر، شرع کا مظہر
دیں دار سمجھتے ہیں اسے مصحفِ اکبر
ہو جائے گا وقفِ تبر و نیزہ و خنجر
کاٹیں گے ہر اک جزوِ تنِ شاہِ امم کو
کُھل جائیں گے شیرازۂ قرآں کوئی دم کو
ان ہاتھوں کو اب لائیں گے مشکل میں کہاں سے
زخمی انھیں کر دیں گے لعیں تیغ و سناں سے
جاری تھی عجب خیر شہِ کون و مکاں سے
ہیہات چلا عقدہ کشا آج جہاں سے
یوں تجھ پہ نہ ان ہاتھوں کا احوال کھلے گا
مشکل کوئی پڑ جائے گی تب حال کھلے گا
لو مومنو، سن لو شہِ ذی جاہ کی تقریر
حضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیر
دیکھو، نہ مٹاؤ مجھے اے فرقۂ بے پیر
میں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویر
واللہ تعلّی نہیں، یہ کلمۂ حق ہے
عالم کے مرقّع میں حُسین ایک ورق ہے
واللہ جہاں میں مرا ہمسر نہیں کوئی
محتاج ہوں پر مجھ سا تونگر نہیں کوئی
ہاں، میرے سوا شافعِ محشر نہیں کوئی
یوں سب ہیں مگر سبطِ پیمبر نہیں کوئی
باطل ہے اگر دعوٰیِ اعجاز کرے گا
کس بات پہ دنیا میں کوئی ناز کرے گا
ہم وہ ہیں کہ اللہ نے کوثر ہمیں بخشا
سرداریِ فردوس کا افسر ہمیں بخشا
اقبالِ علی، خُلقِ پیمبر ہمیں بخشا
قدرت ہمیں دی، زور ہمیں، زر ہمیں بخشا
ہم نور ہیں، گھر طورِ تجلّا ہے ہمارا
تختِ بنِ داؤد مصلّا ہے ہمارا
نانا وہ کہ ہیں جن کے قدم عرش کے سرتاج
قوسین مکاں، ختمِ رسل، صاحبِ معراج
ماں ایسی کہ سب جس کی شفاعت کے ہیں محتاج
باپ ایسا، صنم خانوں کو جس نے کیا تاراج
لڑنے کو اگر حیدرِ صفدر نہ نکلتے
بُت گھر سے خدا کے کبھی باہر نہ نکلتے
کس جنگ میں سینے کو سپر کر کے نہ آئے
کس مرحلۂ صعب کو سر کر کے نہ آئے
کس فوج کی صف زیر و زبر کر کے نہ آئے
تھی کون سی شب جس کو سحر کر کے نہ آئے
تھا کون جو ایماں تہہِ صمصام نہ لایا
اس شخص کا سر لائے جو اسلام نہ لایا
اصنام بھی کچھ کم تھے نہ کفّار تھے تھوڑے
طاقت تھی کہ عزّٰی کوئی لات سے توڑے؟
بدکیشوں نے سجدے بھی کیے، ہاتھ بھی جوڑے
بے توڑے وہ بت حیدرِ صفدر نے نہ چھوڑے
کعبے کو صفا کر دیا خالق کے کرم سے
نکلے اسد اللہ اذاں دے کے حرم سے
ہے کون سا وہ فخر کہ زیبا نہیں ہم کو
وہ کیا ہے جو اللہ نے بخشا نہیں ہم کو
واللہ کسی چیز کی پروا نہیں ہم کو
کیا بات ہے خود خواہشِ دنیا نہیں ہم کو
غافل ہے وہ دنیا کے مزے جس نے لیے ہیں
بابا نے مِرے تین طلاق اس کو دیے ہیں
جو چاہیں جسے بخش دیں ہم ہاتھ اٹھا کے
انگلی نہیں، کنجی ہیں یہ اسرارِ خدا کے
خالی کوئی جاتا نہیں دروازے پہ آ کے
بھر دیتے ہیں فاقوں میں بھی کاسے فقرا کے
سر دیتے ہیں سائل کو جگر بندِ علی ہیں
فیّاض کے بندے ہیں، سخی ابنِ سخی ہیں
اس عہد میں مالک اُسی تلوار کے ہم ہیں
جرّار پسر حیدرِ کرّار کے ہم ہیں
فرزند، محمد سے جہاں دار کے ہم ہیں
وارث شہِ لولاک کی سرکار کے ہم ہیں
کچھ غیرِ کفن ساتھ نہیں لے کے گئے ہیں
تابوتِ سکینہ بھی ہمیں دے کے گئے ہیں
یہ فرق پہ عمّامۂ سردارِ زمن ہے
یہ تیغِ علی ہے، یہ کمر بندِ حَسن ہے
یہ جوشنِ داؤد ہے جو حافظِ تن ہے
یہ پیرہنِ یوسفِ کنعانِ محن ہے
دکھلائیں سند دستِ رسولِ عَرَبی کی
یہ مہرِ سلیماں ہے، یہ خاتم ہے نبی کی
دیکھو تو، یہ ہے کون سے جرّار کی تلوار
کس شیر کے قبضے میں ہے کرّار کی تلوار
دریا نے بھی دیکھی نہیں اس دھار کی تلوار
بجلی کی تو بجلی ہے یہ تلوار کی تلوار
قہر و غضب اللہ کا ہے، کاٹ نہیں ہے
کہتے ہیں اسے موت کا گھر، گھاٹ نہیں ہے
دم لے کہیں رک کر، وہ روانی نہیں اس میں
چلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میں
جز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میں
جل جاؤ گے سب، آگ ہے، پانی نہیں اس میں
چھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمَنِ دیں ہے
نابیں نہیں، غصّے سے اجل چیں بہ چیں ہے
کچھ بس نہ چلے گا جو یہ خونخوار چلے گی
سر اڑنے کی آندھی دمِ پیکار چلے گی
تھم جائے گی ایک بار تو سَو بار چلے گی
اُگلے گا لہو چرخ وہ تلوار چلے گی
میداں سے کہیں بھاگ کے جانا نہ ملے گا
دم لینے کا دنیا میں ٹھکانہ نہ ملے گا
ہم سے کوئی اعلٰی نہیں عالی نَسَبی میں
طفلی سے حمائل رہے آغوشِ نبی میں
ہم مصحفِ ناطق ہیں زبانِ عَرَبی میں
تفسیر ہیں قرآن کی ہم تشنہ لبی میں
مخفی ہیں جو رتبے وہ عیاں ہو نہیں سکتے
خود ہم سے شرف اپنے بیاں ہو نہیں سکتے
سب قطرے ہیں، گر فیض کے دریا ہیں تو ہم ہیں
ہر نقطۂ قرآں کے شناسا ہیں تو ہم ہیں
حق جس کا ہے جامع وہ ذخیرا ہیں تو ہم ہیں
افضل ہیں تو ہم، عالم و دانا ہیں تو ہم ہیں
تعلیمِ مَلک عرش پر تھا وِرد ہمارا
جبریل سا استاد ہے شاگرد ہمارا
گر فیضِ ظہورِ شہِ لولاک نہ ہوتا
بالائے زمیں گنبدِ افلاک نہ ہوتا
کچھ خاک کے طبقے میں بجز خاک نہ ہوتا
ہم پاک نہ کرتے تو جہاں پاک نہ ہوتا
یہ شور اذاں کا سحر و شام کہاں تھا
ہم عرش پہ تھے جب تو یہ اسلام کہاں تھا
محسن سے بدی، ہے یہی احساں کا عوض واہ
دشمن کے ہوا خواہ ہوئے، دوست کے بد خواہ
گمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہ
لو، اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّہ
مل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سے
میں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہرِ خدا سے
بستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گا
یثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گا
صابر ہوں، کسی کا کبھی شکوہ نہ کروں گا
اِس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گا
رونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھٹا ہوں
جو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں
اعدا نے کہا، قہرِ خدا سے نہیں ڈرتے
ناری تو ہیں، دوزخ کی جفا سے نہیں ڈرتے
فریادِ رسولِ دوسرا سے نہیں ڈرتے
خاتونِ قیامت کی بُکا سے نہیں ڈرتے
ہم لوگ، جدھر دولتِ دنیا ہے، اُدھر ہیں
اللہ سے کچھ کام نہیں، بندۂ زر ہیں
حضرت نے کہا، خیر خبردار صفوں سے
آیا غضب اللہ کا، ہشیار صفوں سے
بجلی سا گزر جاؤں گا ہر بار صفوں سے
کب پنجتنی رکتے ہیں دو چار صفوں سے
غربت کا چلن دیکھ چکے، حرب کو دیکھو
لو، بندۂ زر ہو تو مری ضرب کو دیکھو
ہاں گوشۂ عزلت خمِ شمشیر نے چھوڑا
واں سہم کے چلّے کو ہر اک تیر نے چھوڑا
کس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑا
ساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑا
عنقائے ظفر، فتح کا در کھول کے نکلا
شہبازِ اجل صید کو پر تول کے نکلا
جلوہ کیا بدلی سے نکل کر مہِ نو نے
دکھلائے ہوا میں دو سر اک شمع کی لو نے
تڑپا دیا بجلی کو فرس کی تگ و دو نے
تاکا سپرِ مہر کو شمشیر کی ضو نے
اعدا تو چھپانے لگے ڈھالوں میں سروں کو
جبریل نے اونچا کیا گھبرا کے پروں کو
بالا سے جو آئی وہ بلا جانبِ پستی
بس نیست ہوئی دم میں ستم گاروں کی ہستی
چلنے لگی یکدست جو شمشیر دو دستی
معلوم ہوا لٹ گئی سب کفر کی بستی
زور ان کے ہر اک ضرب میں اللہ نے توڑے
ٹوٹیں جو صفیں، بت اسداللہ نے توڑے
کاٹے کبھی منہ سر کبھی گردن سے اڑائے
گہ دستِ قوی بازؤئے دشمن سے اڑائے
یوں روح کے طائر قفَسِ تن سے اڑائے
جس طرح پرندوں کو کوئی بَن سے اڑائے
جانبازوں کا یہ حال تھا شمشیر کے ڈر سے
جس طرح ہرن بھاگتے ہیں شیر کے ڈر سے
دم میں اثرِ قہرِ الٰہی نظر آیا
دوزخ کی طرف قافلہ راہی نظر آیا
جس صفت میں زرہ پوش سپاہی نظر آیا
چو رنگ وہیں صورتِ ماہی نظر آیا
بھاگی تھی ہوا خوف سے شمشیرِ دو دم کے
مچھلی بھی نہ لہراتی تھی دامن میں علم کے
چلنے میں عجب انداز تیغ نے نکالے
سر لے گئی گردن سے نئے ناز نکالے
طاقت تھی کہ ناوک قدر انداز نکالے
سوفار کا کیا منہ تھا جو آواز نکالے
بازو تو جفا کیشوں کے شانوں سے جدا تھے
تیروں سے کماں، تیر کمانوں سے جدا تھے
بجلی سی گری، جو صَفِ کفّار سے نکلی
آواز "بزن" تیغ کی جھنکار سے نکلی
گہ ڈھال میں ڈوبی، کبھی تلوار سے نکلی
در آئی جو پیکاں میں تو سوفار سے نکلی
تھے بند خطا کاروں پہ در امن و اماں کے
چلّے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے
افلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئی
کوندی کبھی جوشن پہ، سپر پر کبھی آئی
گہ پھر گئی سینے پہ، جگر پر کبھی آئی
تڑپی کبھی پہلو پہ، کمر پر کبھی آئی
طے کر کے پھری کون سا قصّہ تھا فرس کا
باقی تھا جو کچھ کاٹ وہ حصّہ تھا فرس کا
بے پاؤں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی
ندّی اُدھر اِک خوں کی ابلتی ہوئی آئی
دم بھر میں وہ سو رنگ بدلتی ہوئی آئی
پی پی کے لہو، لعل اگلتی ہوئی آئی
ہیرا تھا بدن رنگ زمرّد سے ہرا تھا
جوہر نہ کہو، پیٹ جواہر سے بھرا تھا
زیبا تھا دمِ جنگ پری وش اسے کہنا
معشوق بنی سرخ لباس اس نے جو پہنا
اِس اوج پہ وہ سر کو جھکائے ہوئے رہنا
جوہر تھے کہ پہنے تھی دلہن پھولوں کا گہنا
سیبِ چمَنِ خُلد کی بُو باس تھی پھل میں
رہتی تھی وہ شبّیر سے دولھا کی بغل میں
سر پٹکے تو موج اِس کی روانی کو نہ پہنچے
قلزم کا بھی دھارا ہو تو پانی کو نہ پہنچے
بجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہنچے
خنجر کی زباں تیز زبانی کو نہ پہنچے
دوزخ کے زبانوں سے بھی آنچ اس کی بُری تھی
برچھی تھی، کٹاری تھی، سَرَدہی تھی، چُھری تھی
موجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھی
دم خم بھی، لگاوٹ بھی، صفائی بھی، ادا بھی
اک گھاٹ پہ تھی آگ بھی، پانی بھی، ہوا بھی
امرت بھی، ہلاہل بھی، مسیحا بھی، قضا بھی
کیا صاحَبِ جوہر تھی، عجب ظرف تھا اس کا
موقع تھا جہاں جس کا وہیں صرف تھا اس کا
ہر ڈال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کا
تھا لشکرِ باغی میں ازل سے عمل اس کا
ڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے ہر دم اجل اس کا
تھا قلعۂ چار آئینہ گویا محل اس کا
اس در سے گئی کھول کے وہ در نکل آئی
گہ صدر میں بیٹھی، کبھی باہر نکل آئی
تیروں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سے
جا پہنچی کماں داروں پہ بھالوں کی طرف سے
پھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سے
منہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سے
بس ہوگیا دفتر نظری نام و نسب کا
لاکھوں تھے تو کیا، دیکھ لیا جائزہ سب کا
سر پر جو سپر کو کسی خود سر نے اٹھایا
نوکوں پہ اسے تیغِ دو پیکر نے اٹھایا
تلوار نے کیا دیو کو اژدر نے اٹھایا
لڑنے کا مزا خوب ستمگر نے اٹھایا
یوں پھینک دیا خاک پہ سر کاٹ کے تن سے
اگلے کوئی جس طرح نوالے کو دہن سے
مرثیہ نمبر ۱
مطلعِ پنجم(سوم)
ہر ہاتھ کے پرزے تھے تو ہر ڈھال کے ٹکڑے
پونہچے تھے کہ تھے قرعۂ رمّال کے ٹکڑے
کاٹے زرۂ جسمِ بد افعال کے ٹکڑے
تڑپی جو وہ مچھلی تو ہوئے جال کے ٹکڑے
مقتل کی جو سرحد سے چلی شام میں ٹھہری
کیا ماہیِ دریائے ظفر دام میں ٹھہری
جوشن پہ گئی کاٹ کے بازو نکل آئی
سینے سے بڑھی چیر کے پہلو نکل آئی
ہر زخم سے اس طرح وہ مہ رو نکل آئی
معلوم ہوا پھول سے خوشبو نکل آئی
گر پڑتی تھی بجلی جدھر آتی تھی لچک کر
کیا منہ تھا کہ مر جاتے تھے بسمل بھی پھڑک کر
پہنچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑا
ہر ہاتھ میں ثابت کسی گھائی کو نہ چھوڑا
شوخی کو شرارت کو لڑائی کو نہ چھوڑا
تیزی کو رُکھائی کو صفائی کو نہ چھوڑا
اعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کے
قینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے
چڑھتی ہے یہ ندّی تو اترتی ہے بمشکل
جب باڑھ پہ آتی ہے تو ٹھہرتی ہے بمشکل
اس گھاٹ سے کشتی بھی گزرتی ہے بمشکل
دھارے میں جو ڈوبے تو ابھرتی ہے بمشکل
پانی یہ نہیں بحر ہے اس تیغ کے بَر میں
چکّر میں وہ رہتا ہے جو آ جائے بھنور میں
طوفانِ غضب آبِ دمِ شمشیر سے اٹھا
وار اس کا تبر سے نہ کسی تیر سے اٹھا
ضربت کا نہ لنگر کسی تدبیر سے اٹھا
اک موجۂ خوں لشکرِ بے پیر سے اٹھا
اللہ رے تلاطم کہ زمیں ہل گئی رن کی
ضربہ جو پڑا ڈوب گئیں کشتیاں تن کی
وہ نعرۂ شیرانہ وہ حملے وہ تہوّر
تھّراتے تھے ساونت لرزتے تھے بہادر
جنّات کو حیرت تھی ملائک کو تحیّر
وہ سرعتِ شبدیز کہ تھکتا تھا تصوّر
مارا اُسے دو لاکھ میں جا کر جسے تاکا
سب ٹھاٹ تھے ضرغامِ الٰہی کی وغا کا
چار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یارا
چو رنگ تھے سینے تو کلیجہ تھا دو پارا
کہتے تھے زرہ پوش نہیں جنگ کا یارا
بچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دوبارا
جوشن کو سنا تھا کہ حفاظت کا محل ہے
اس کی نہ خبر تھی کہ یہی دامِ اجل ہے
بد کیش لڑائی کا چلن بھول گئے تھے
ناوک فگنی تیر فگن بھول گئے تھے
سب حیلہ گری عہد شکن بھول گئے تھے
بے ہوشی میں ترکش کا دہن بھول گئے تھے
معلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے کہ نہیں ہے
چلاتے تھے قبضے میں کماں ہے کہ نہیں ہے
ڈر ڈر کے قِدراست سنانوں نے جھکائے
دب دب کے سر عجز کمانوں نے جھکائے
ہٹ ہٹ کے عَلم رن میں جوانوں نے جھکئے
سر، خاک پہ گر گر کے نشانوں نے جھکائے
غُل تھا کہ پناہ اب ہمیں یا شاہِ زماں دو
پھیلائے تھے دامن کہ پھریرے کو اماں دو
شہ کہتے تھے، ہے باڑھ پہ دریا، نہ رکے گا
اس موج پہ آفت کا طمانچا نہ رکے گا
بے فتح و ظفر دلبرِ زہرا نہ رکے گا
تا غرق نہ فرعون ہو، موسٰی نہ رکے گا
ہے بحرِ غضب، نام بھی قہرِ صمد اس کا
رکنے کا نہیں شام تلک جزر و مد اس کا
اس صف میں گئے بیچ میں اس غول کے نکلے
جو فوج چڑھی منہ پہ اسے رول کے نکلے
انبوہ سے یوں تیغِ دو سر تول کے نکلے
گویا درِ خیبر کو علی کھول کے نکلے
اک زلزلہ تھا نُہ فلک و ہفت طبق کو
ہر بار الٹ دیتے تھے لشکر کے ورق کو
بڑھتے تھے جو تولے ہوئے شمشیرِ دو دم کو
ہاتھوں کو ظفر چومتی تھی، فتح قدم کو
تھا خوف سے لرزہ عرب و روم و عجم کو
اک شیر نے روکا تھا چھ لاکھ اہلِ ستم کو
دنیا جو بچی روحِ محمد کا سبب تھا
شبّیر اگر رحم نہ کرتے تو غضب تھا
لڑتے تھے مگر غیظ سے رحمت تھی زیادہ
شفقت بھی نہ کم تھی جو شجاعت تھی زیادہ
نانا کی طرح خاطرِ امّت تھی زیادہ
بیٹوں سے غلاموں کی محبّت تھی زیادہ
تلوار نہ ماری جسے منہ موڑتے دیکھا
آنسو نکل آئے جسے دم توڑتے دیکھا
فرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کر
کیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کر
دعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟
ہم چاہیں تو پانی بھی پیئں نہر میں جا کر
پر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہے
اب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے
بھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانی
وہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانی
وہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانی
دکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانی
کس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہے
بعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟
یہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارے
الفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارے
لڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارے
عبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارے
اِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دو
کچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو
لیٹے ہوئے ہو ریت میں کیوں منہ کو چھپائے
اٹھو کہ سکینہ کو یہاں ہم نہیں لائے
غافل ہو، برادر تمھیں کس طرح جگائے
ہے عصر کا وقت، اے اسداللہ کے جائے
خوش ہونگا میں، آگے جو عَلم لے کے بڑھو گے
کیا بھائی کے پیچھے نہ نماز آج پڑھو گے؟
کہہ کر یہ سخن رونے لگا بھائی کو بھائی
تلوار سے مہلت ستم ایجادوں نے پائی
جس فوج نے رن چھوڑ دیا تھا وہ پھر آئی
دو روز کے پیاسے یہ، گھٹا شام کی چھائی
بارش ہوئی تیروں کی ولی ابنِ ولی پر
سب ٹوٹ پڑے ایک حسین ابنِ علی پر
کی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسو
سب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلو
ہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جو
سالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازو
برگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سے
پھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے
زخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکار
ہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلوار
بس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّار
مظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک بار
یوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کے
جس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے
سجدے کی جگہ چھوڑی نہ تیروں نے جبیں پر
تقدیر نے لکھّے کئی نقش ایک نگیں پر
کثرت تھی جراحت کی رخِ قبلۂ دیں پر
ہر جا خطِ شمشیر تھی قرآنِ مبیں پر
تلواروں کے ٹکڑے تھے ہر اک جزوِ بدن پر
مجموعہ پریشان تھا، سی پارۂ تن پر
حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوال
منہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربال
گھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یال
گردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چال
ہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھا
پر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا
جھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرار
منہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوار
چمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگار
اب خاتمۂ جنگ ہے اے اسپِ وفادار
اتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارا
نہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا
زخمی ہے، نہیں اب تری تکلیف گوارا
گرتے ہیں سنبھلنے کا ہمیں بھی نہیں یارا
کیا بات تری، خوب دیا ساتھ ہمارا
آ پہنچا ہے منزل پہ یداللہ کا پیارا
تو جس میں پلا ہے وہ گھر اک دم میں لٹے گا
بچپن کا ہمارا ترا اب ساتھ چھٹے گا
گھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتے
کھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتے
مشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتے
پہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتے
حیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کا
میں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا
کس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاری
میں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماری
گھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساری
دو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاری
حیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پر
منہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر
گردن کو ہلایا کہ مسیحا، نہ اُتریے
دم ہے ابھی مجھ میں مرے آقا، نہ اُتریے
تلواریں لیے گرد ہیں اعدا، نہ اُتریے
سب فوج چڑھی آتی ہے مولا، نہ اُتریے
اے وائے ستم صدر نشیں خاک نشیں ہو
حسرت ہے کہ مر جاؤں تو خالی مری زیں ہو
شہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّت
وہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقت
بتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورت
نہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقت
بہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گا
پھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا
ہے عصر کا ہنگام، مناسب ہے اترنا
اس خاک پہ ہے شکر کا سجدہ ہمیں کرنا
گو مرحلۂ صعب ہے دنیا سے گزرنا
سجدے میں کٹے سر کہ سعادت ہے یہ مرنا
طاعت میں خدا کی نہیں صرفہ تن و سر کا
ذی حق ہیں ہمیں اس کے کہ ورثہ ہے پدر کا
اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والی
خاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالی
اس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالی
خود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالی
کپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھے
اک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے
منہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ فرماتے تھے ہر بار
جا ڈیوڑھی پہ اے صاحبِ معراج کے راہوار
اب ذبح کریں گے ہمیں اک دم میں ستمگار
زینب سے یہ کہنا کہ سکینہ سے خبردار
رہنا وہیں جب تک مرا سر تن سے جدا ہو
لے جائیو بانو کو جدھر حکمِ خدا ہو
یہ کہہ کے جو سرکا اسداللہ کا جایا
اک تیر جبیں پر بنِ اشعث نے لگایا
فریاد نے زہرا کی دو عالم کو ہلایا
پیکانِ سہ پہلو عقبِ سر نکل آیا
تڑپے نہ، زہے صبر امامِ دو جہاں کا
سوفار نے بوسہ لیا سجدے کے نشاں کا
حضرت نے جبیں سے ابھی کھینچا نہ تھا وہ تیر
جو سر پہ لگی تیغِ بنِ مالکِ بے پیر
ابرو تک اتر کر جو اٹھی ظلم کی شمشیر
سر تھام کے بس بیٹھ گئے خاک پہ شبّیر
چلّائے ملک دیکھ کے خوں سبطِ نبی کا
تھا حال یہی مسجدِ کوفہ میں علی کا
بیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پر
جھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سر
تھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پر
یاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہر
بہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارک
ٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک
نیزے کا بنِ وہب نے پہلو پہ کیا وار
کاندھے پہ چلی ساتھ زرارہ کی بھی تلوار
ناوک بنِ کامل کا کا کلیجے کے ہوا پار
بازو میں در آیا تبرِ خولیِ خونخوار
تلوار سے وقفہ نہ ملا چند نَفَس کا
دم رک گیا نیزہ جو لگا ابنِ انَس کا
تھرّا کے جکھے سجدۂ حق میں شہِ ابرار
شورِ دہلِ فتح ہوا فوج میں اک بار
خوش ہو کے پکارا پسرِ سعد جفا کار
اے خولی و شیث و بنِ ذی الجوشنِ جرّار
آخر ہے بس اب کام امامِ ازلی کا
سر کاٹ لو سب مل کے حسین ابنِ علی کا
لکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشر
بارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجر
اک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سر
برقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادر
چلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کے
لو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے
ہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سر
بجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہر
فرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَر
فریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادر
سر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کے
پردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے
اُس بھیڑ میں آ کر وہ ضعیفہ یہ پکاری
اے سبطِ نبی، ابنِ علی، عاشقِ باری
گھوڑا تو ہے کوتل، کدھر اتری ہے سواری
بھیّا، بہن آئی ہے زیارت کو تمھاری
مر جاؤں گی حضرت کو جو پانے کی نہیں میں
بے آپ کے دیکھے ہوئے جانے کی نہیں میں
اُس وقت شہِ دیں نے سنی زاریِ خواہر
جس وقت کہ تھا حلقِ مبارک تہہِ خنجر
فرمایا اشارے سے کہ اے شمرِ ستم گر
زینب نکل آئی ہے، ٹھہر جا ابھی دم بھر
آخر تو سفر ہوتا ہے اس دارِ محن سے
دو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے
منہ پھیر لیا شمر نے خنجر کو ہٹا کے
دی شہ نے یہ زینب کو صدا اشک بہا کے
تڑپاتی ہو بھائی کو بہن بلوے میں آ کے
دیکھو گی کِسے، ہم تو ہیں پنجے میں قضا کے
اٹھ سکتے نہیں جسم پہ تلواریں پڑی ہیں
گھبراؤ نہ، امّاں مرے پہلو میں کھڑی ہیں
جاؤ صفِ ماتم پہ کرو گریہ و زاری
گھر سے نکل آئے نہ سکینہ مری پیاری
فردوس سے آ پہنچی ہے نانا کی سواری
بس اب نہ سنو گی بہن آواز ہماری
رونا ہے تو رو لیجو مرے لاشے پہ آ کے
ہٹ جاؤ کہ سر کٹتا ہے سجدے میں خدا کے
دوڑی یہ صدا سن کے یداللہ کی جائی
چلّائی کہ دیدار تو میں دیکھ لوں بھائی
پر ہائے، بہن بھائی تلک آنے نہ پائی
یاں ہو گئی سیّد کے تن و سر میں جدائی
قاتل کو نہ گردن کو نہ شمشیر کو دیکھا
پہنچیں تو سناں پر سرِ شبّیر کو دیکھا
سر دیکھ کے بھائی کا وہ بے کس یہ پکاری
دکھ پائی بہن آپ کی مظلومی کے واری
خنجر سے یہ گردن کی رگیں کٹ گئیں ساری
تم مر گئے پوچھے گا خبر کون ہماری
آفت میں پھنسی آل رسولِ عَرَبی کی
اب جائیں کہاں بیٹیاں زہرا و علی کی
ہے ہے، پسرِ صاحبِ معراج حُسینا
پردیس میں بیووں کا لٹا راج حُسینا
گویا کہ علی قتل ہوئے آج حُسینا
ہے ہے، کفن و گور کے محتاج حُسینا
پرسا بھی ترا دینے کو آتا نہیں کوئی
لاشا بھی زمیں پر سے اٹھاتا نہیں کوئی
قربان بہن، اے مرے سرور، مرے سیّد
مذبوحِ قفا کشتۂ خنجر، مرے سیّد
اے فاقہ کش و بیکس و بے پر، مرے سیّد
پنجے میں ہے قاتل کے ترا سر، مرے سیّد
دیتے ہو صدا کچھ، نہ بلاتے ہو بہن کو
کس یاس سے تکتے چلے جاتے ہو بہن کو
بھیّا، مرا کوئی نہیں، تم خوب ہو آگاہ
احمد ہیں، نہ زہرا، نہ حَسن ہیں نہ یداللہ
ڈھارس تھی بڑی آپ کی اے سیّدِ ذی جاہ
چھوڑا مجھے جنگل میں یہ کیا قہر کیا، آہ
چلتے ہوئے کچھ مجھ سے نہ فرما گئے بھائی
بھینا کو نجف تک بھی نہ پہنچا گئے بھائی
اے میرے شہید اے مرے ماں جائے برادر
کس سے ترا لاشہ بہن اٹھوائے برادر
کس طرح مرے دل کو قرار آئے برادر
پانی بھی نہ قاتل نے دیا ہائے برادر
انساں پہ ستم یہ کبھی انساں نہیں کرتا
حیواں کو بھی پیاسا کوئی بے جاں نہیں کرتا
خاموش انیس اب کہ ہے دل سینے میں بے چین
لکھّے نہیں جاتے جو زینب نے کیے بین
اب حق سے دعا مانگ کہ اے خالقِ کونین
حاسد ہیں بہت، دل کو عطا کر مرے تو چین
ناحق ہے عداوت انھیں اس ہیچ مداں سے
بے تیغ کٹے جاتے ہیں شمشیرِ زباں سے
(ختم.شدمرثیہ.نمبر۱)
مرثیہ نمبر ۲
(کیازخم.ہے.وہ.زخم.کہ.مرہم.نہیں.جس.کا)
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا
(مطلع ِدوم(اول)
جب باغِ جہاں اکبرِ ذی جاہ سے چُھوٹا
پیری میں برابر کا پسر شاہ سے چُھوٹا
فرزندِ جواں، ابنِ اسد اللہ سے چُھوٹا
کیا اخترِ خورشید لقا ماہ سے چُھوٹا
تصویرِ غم و درد سراپا ہوئے شپّیر
ناموس میں ماتم تھا کہ تنہا ہوئے شپّیر
ہے ہے علی اکبر کا ادھر شور تھا گھر میں
اندھیر تھی دنیا، شہِ والا کی نظر میں
فرماتے تھے سوزش ہے عجب داغِ پسر میں
اٹھتا ہے دھواں، آگ بھڑکتی ہے جگر میں
پیغامِ اجل اکبرِ ناشاد کا غم ہے
عاجز ہے بشر جس سے وہ اولاد کا غم ہے
اس گیسوؤں والے کے بچھڑ جانے نے مارا
افسوس بڑھا ضعف، گھٹا زور ہمارا
دنیا میں محمد کا یہ ماتم ہے دوبارا
عالم ہے عجب جانِ جہاں آج سدھارا
چادر بھی نہیں لاشۂ فرزندِ حَسیں پر
کس عرش کے تارے کو سلا آئے زمیں پر
پیری پہ مری رحم کر اے خالقِ ذوالمَن
طے جلد ہو اب مرحلۂ خنجر و گردن
قتلِ علی اکبر کی خوشی کرتے ہیں دشمن
تجھ پر مرے اندوہ کا سب حال ہے روشن
مظلوم ہوں، مجبور ہوں، مجروح جگر ہوں
تو صبر عطا کر مجھے، یا رب کہ بشر ہوں
پھر لاشۂ اکبر نظر آئے تو نہ روؤں
برچھی جو کلیجے میں در آئے تو نہ روؤں
دل دردِ محبت سے بھر آئے تو نہ روؤں
سو بار جو منہ تک جگر آئے تو نہ روؤں
شکوہ نہ زباں سے غمِ اولاد میں نکلے
دم تن سے جو نکلے تو تری یاد میں نکلے
اک عمر کی دولت تھی جسے ہاتھ سے کھویا
ہر وقت رہا، میں تری خوشنودی کا جویا
پالا تھا جسے گود میں وہ خاک پہ سویا
میں لاش پہ بھی خوف سے تیرے نہیں رویا
قسمت نے جوانوں کو سبکدوش کیا ہے
مجھ کو تو اجل نے بھی فراموش کیا ہے
یہ تازہ جواں تھا مری پیری کا سہارا
آگے مرے اعدا نے اسے نیزے سے مارا
ناشاد و پُر ارمان اٹھا وہ مرا پیارا
اٹھارھواں تھا سال کہ دنیا سے سدھارا
سمجھوں گا میں روئے مجھے روئیں گے اس کو
یہ ہے وہ جواں مرگ کہ سب روئیں گے اس کو
اس حال سے روتے ہوئے داخل ہوئے گھر میں
تر تھی تنِ انور کی قبا خونِ پسر میں
سوزش دلِ پُر داغ میں ہے، درد جگر میں
خم آ گیا تھا بارِ مصیبت سے کمر میں
پنہاں تھا جو فرزندِ جگر بند نگہ سے
موتی رُخِ انور سے ٹپکتے تھے مژہ سے
بانو سے کہا رو کے خوشا حال تمھارا
صرفِ رہِ معبود ہوا مال تمھارا
مقبول ہوئی نذر یہ اقبال تمھارا
سجدے کرو، پروان چڑھا لال تمھارا
دل خوں ہے کلیجے پہ سناں کھا کے مرے ہیں
ہم اُس کی امانت اسے پہنچا کے پھرے ہیں
جیتے تھے تو آخر علی اکبر کبھی مرتے
گر بیاہ بھی ہوتا تو زمانے سے گزرتے
سینے سے کلیجے کو جدا ہم جو نہ کرتے
بگڑی ہوئی امّت کے نہ پھر کام سنورتے
گر حلق سے اس شیر کی شمشیر نہ ملتی
یہ اجر نہ ہاتھ آتا یہ توقیر نہ ملتی
صاحب، تمھیں ہم سے ہے محبت تو نہ رونا
بیٹا تو گیا، صبر کی دولت کو نہ کھونا
اکبر نے تو آباد کیا، قبر کا کونا
ہم بھی ہوں اگر ذبح تو بیتاب نہ ہونا
جز نفع ضرر طاعتِ باری میں نہیں ہے
جو صبر میں لذّت ہے وہ زاری میں نہیں ہے
اکبر نے تو جاں اپنی جوانی میں گنوائی
تھی کون سی ایذا جو نہ اس لال نے پائی
افسوس کہ پیری میں ہمیں موت نہ آئی
تلوار نہ سر پر نہ سناں سینے پہ کھائی
غم کھائیں گے خونِ دلِ مجروح پئیں گے
کیا زور ہے جب تک وہ جِلائے گا جئیں گے
دستور ہے مرتا ہے پدر آگے پسر کے
پہلے وہ اٹھے تھامنے والے تھے جو گھر کے
اب کون اٹھائے گا جنازے کو پدر کے
افسوس لحد بھی نہ ملے گی ہمیں مر کے
سر نیزے پہ اور دشت میں تن ہوگا ہمارا
خاک اڑ کے پڑے گی یہ کفن ہوگا ہمارا
زینب سے کہا رختِ کُہن، لاؤ تو پہنیں
ملبوسِ شہنشاہِ زمن، لاؤ تو پہنیں
موت آ گئی اب سر پہ کفن، لاؤ تو پہنیں
کپڑے جو پھٹے ہوں وہ بہن، لاؤ تو پہنیں
سر کٹ کے جو تن وادیِ پُر خار میں رہ جائے
شاید یہی پوشاک تنِ زار میں رہ جائے
اللہ نے بچپن میں مرے ناز اٹھائے
طفلی میں کسی نے شرف ایسے نہیں پائے
عریاں تھا کہ جبرئیلِ امیں عرش سے آئے
فردوس کے حلّے مرے پہنانے کو لائے
بیکس ہوں، دل افگار ہوں آوارہ وطن ہوں
میں ہوں وہی شبیر کہ محتاجِ کفن ہوں
جو مصلحت اُس کی ہے نہیں رحم سے خالی
صابر کو عطا کرتا ہے وہ رتبۂ عالی
وارث وہی بچّوں کا وہی رانڈوں کا والی
مقہور ہے وہ جس نے بنا ظلم کی ڈالی
قاتل کا دمِ ذبح بھی شکوہ نہ کروں گا
یہ بھی کرم اس کا ہے کہ مظلوم مروں گا
ناشاد بہن پاؤں پہ گر کر یہ پکاری
ماں جائے برادر، تری غربت کے میں واری
بن بھائی کے ہوتی ہے یدُاللہ کی پیاری
گھر لٹتا ہے کیوں کر نہ کروں گریہ و زاری
رونے کو نجف تک بھی کُھلے سر نہ گئی میں
خالی یہ بھرا گھر ہوا اور مر نہ گئی میں
بچپن تھا کہ امّاں سے ہوئی پہلے جدائی
بابا کے لیے ماتمی صف میں نے بچھائی
روتی تھی پدر کو کہ سفر کر گئے بھائی
یثرب بھی چُھٹا دیس سے پردیس میں آئی
غم دیکھوں بڑے بھائی کا ماں باپ کو روؤں
قسمت میں یہ لکّھا تھا کہ اب آپ کو روؤں
فرمایا کہ دنیا میں نہیں موت سے چارا
رہ جاتے ہیں ماں باپ بچھڑ جاتا ہے پیارا
ہجرِ علی اکبر تھا کسی کو بھی گوارا
وہ مر گئے اور کچھ نہ چلا زور ہمارا
دیکھا جسے آباد وہ گھر خاک بھی دیکھو
اب خاتمۂ پنجتنِ پاک بھی دیکھو
کس کس کی نہ دولت پہ زوال آ گیا زینب
پابندِ رضا تھا تو شرف پا گیا زینب
دنیا سے گیا جو تنِ تنہا گیا زینب
کِھلتا نہیں وہ پھول جو مرجھا گیا زینب
جو منزلِ ہستی سے گیا پھر نہیں ملتا
یہ راہ وہ ہے جس کا مسافر نہیں ملتا
میں کون ہوں اِک تشنہ لب و بیکس و محتاج
بندہ تھا خدا کا سو ہوا ہوں میں طلب آج
وہ کیا ہوئے جو لوگ تھے کونین کے سرتاج
نہ حیدرِ کرّار ہیں نہ صاحبِ معراج
کچھ پیٹنے رونے سے نہ ہاتھ آئیگا زینب
آیا ہے جو اس دہر میں وہ جائیگا زینب
کس طرح وہ بیکس نہ اجل کا ہو طلب گار
ناصر نہ ہو جس کا کوئی دنیا میں نہ غمخوار
اک جانِ حزیں لاکھ مصیبت میں گرفتار
اکبر ہیں نہ قاسم ہیں نہ عبّاسِ علمدار
کوشش ہے کہ سجدہ تہِ شمشیر ادا ہو
تنہائی کا مرنا ہے خدا جانیے کیا ہو
قاتل جو چُھری خشک گلے پر مرے پھیرے
خالص رہے نیّت کوئی تشویش نہ گھیرے
کٹنے میں رگوں کے یہ سخن لب پہ ہو میرے
قربان حسین ابنِ علی نام پہ تیرے
بہنوں کی نہ ہو فکر نہ بچّوں کی خبر ہو
اس صبر سے سر دوں کہ مہم عشق کی سر ہو
گو تیسرا فاقہ ہے مگر ہے مجھے سیری
گھبراتا ہوں ہوتی ہے جو سر کٹنے میں دیری
کچھ غم نہیں امّت نے نظر مجھ سے جو پھیری
راضی رہے معبود یہی فتح ہے میری
ہدیہ مرا مقبول ہو درگاہ میں اس کی
آباد وہ گھر ہے جو لُٹے راہ میں اس کی
فرما کے یہ ہتھیار سجے آپ نے تن پر
غُل پڑ گیا شاہِ شہدا چڑھتے ہیں رن پر
احمد کی قبا آپ نے پہنی جو بدن پر
پیدا ہوا اک جلوۂ نَو رختِ کہن پر
اللہ رے خوشبو تنِ محبوبِ خدا کی
پھولوں کی مہک آ گئی کلیوں سے قبا کی
وہ پھول سے رخسار گلابی وہ عمامہ
تعریف میں خود جس کی سر افگندہ ہے خامہ
وہ زرد عبا نور کی وہ نور کا جامہ
برسوں جو لکھیں ختم نہ ہو مدح کا نامہ
کپڑے تنِ گلرنگ کے خوشبو میں بسے تھے
ٹوٹی کمر امّت کی شفاعت پہ کسے تھے
شمشیرِ یداللہ لگائی جو کمر سے
سر پیٹ کے زینب نے ردا پھینک دی سر سے
سمجھاتے ہوئے سب کو چلے آپ جو گھر سے
بچّوں کی طرف تکتے تھے حسرت کی نظر سے
اُس غُل میں جدا شہ سے نہ ہوتی تھی سکینہ
پھیلائے ہوئے ہاتھوں کو روتی تھی سکینہ
شہ کہتے تھے بی بی ہمیں رو کر نہ رلاؤ
پھر پیار کریں گے ہم تمھیں منہ آگے تو لاؤ
وہ کہتی تھی ہمراہ مجھے لے لو تو جاؤ
میں کیا کروں میداں میں اگر جا کے نہ آؤ
نیند آئے گی جب آپ کی بُو پاؤں گی بابا
میں رات کو مقتل میں چلی آؤں گی بابا
فرمایا نکلتی نہیں سیدانیاں باہر
چھاتی پہ سلائے گی تمھیں رات کو مادر
وہ کہتی تھی سوئیں گے کہاں پھر اعلی اصغر
فرماتے تھے بس ضد نہ کرو صدقے میں تم پر
شب ہوئے گی اور دشت میں ہم ہوئینگے بی بی
اصغر مرے ساتھ آج وہیں سوئینگے بی بی
وہ کہتی تھی بس دیکھ لیا آپ کا بھی پیار
میں آپ سے بولوں گی نہ اب یا شہِ ابرار
اچّھا نہ اگر کیجیئے جلد آنے کا اقرار
مر جاؤں گی اس شب کو تڑپ کر میں دل افگار
کیسی ہیں یہ باتیں مرا دل روتا ہے بابا
گھر چھوڑ کے جنگل میں کوئی سوتا ہے بابا
اصغر کبھی ساتھ آپ کے اب تک نہیں سوئے
بہلا لیا امّاں نے اگر چونک کے روئے
شفقت تھی مجھی پر کہ یہ بے چین نہ ہوئے
یہ پیار ہو جس پر اُسے یوں ہاتھ سے کھوئے
جیتے رہیں فرزند کہ سب لختِ جگر ہیں
میں آپ کی بیٹی ہوں وہ امّاں کے پسر ہیں
شہ کہتے تھے صدمہ دلِ مضطر پہ ہے بی بی
ہفتم سے تباہی مرے سب گھر پہ ہے بی بی
اعدا کی یُرَش سبطِ پیمبر پہ ہے بی بی
جس نے تمھیں پیدا کیا وہ سر پہ ہے بی بی
چُھوٹے نہ وہ جو صبر کا جادہ ہے سکینہ
ماں باپ سے پیار اس کا زیادہ ہے سکینہ
لو روؤ نہ اب صبر کرو باپ کو جانی
کچھ دیتی ہو عبّاس کو پیغام زبانی
اُودے ہیں لبِ لعل یہ ہے تشنہ دہانی
ملتا ہے تو بی بی کے لیے لاتے ہیں پانی
محبوبِ الٰہی کے نواسے ہیں سکینہ
ہم بھی تو کئی روز کے پیاسے ہیں سکینہ
دنیا ہے یہ، شادی ہے کبھی اور کبھی آلام
راحت کی کبھی صبح، مصیبت کی کبھی شام
یکساں نہیں ہوتا کبھی آغاز کا انجام
وہ دن گئے کرتی تھیں جو اس چھاتی پہ آرام
ضد کر کے نہ اب رات کو رویا کرو بی بی
جب ہم نہ ہوں تم خاک پہ سویا کرو بی بی
سمجھا کے چلے آپ سکینہ کو غش آیا
غُل تھا کہ اٹھا سر سے شہنشاہ کا سایا
ڈیوڑھی سے جو نکلا اسد اللہ کا جایا
رہوارِ سبک سیر کو روتا ہوا پایا
کس عالمِ تنہائی میں سیّد کا سفر تھا
بھائی نہ بھتیجا نہ ملازم نہ پسر تھا
سائے کی طرح جو نہ جدا ہوتی تھی دم بھر
وہ رات کی جاگی ہوئی سوتی تھی زمیں پر
گردوں کی طرف دیکھ کے فرماتے تھے سروَر
تُو سر پہ ہے، تنہا نہیں فرزندِ پیمبر
کچھ کام نہ اس بیکس و ناشاد سے ہوگا
جو ہوگا وہ مولا تری امداد سے ہوگا
روتے ہوئے مولا جو قریبِ فرس آئے
نصرت کی صفیں باندھے مَلک پیش و پس آئے
فریاد کناں جِن بھی مثالِ جرس آئے
جنگل سے ہٹے پانچ جو دستے تو دس آئے
ڈھالیں لیے سب ہاتھوں کو قبضوں پہ دھرے تھے
لشکر سے جِنوں کے بھی کئی دشت بھرے تھے
تھی قومِ نبی جان بھی سرداری کو حاضر
فوجوں کے طلائے تھے خبرداری کو حاضر
لشکر تھا فرشتوں کا مددگاری کو حاضر
جبریل تھے خود حاشیہ برداری کو حاضر
تولے ہوئے نیزوں کو لڑائی پہ تلے تھے
رہوار تو ابلق تھے علم سبز کھلے تھے
اصرار کیا سب نے پہ حضرت نے نہ مانا
جز حق مددِ غیر کو رد کرتے ہیں دانا
وہ شاہ کہ جس کے یدِ قدرت میں زمانا
کون آیا، گیا کون، یہ مطلق بھی نہ جانا
بندہ وہی بندہ ہے جو راضی ہو رضا پر
اوروں سے اُسے کیا جسے تکیہ ہو خدا پر
کی عرض ملائک نے کہ یا سیّدِ ابرار
ہم آپ کے بابا کی مدد کرتے تھے ہر بار
فرمایا وہ خواہاں تھے کہ مغلوب ہوں کفّار
میں اپنی شہادت کا خدا سے ہوں طلبگار
جان آج ہماری کسی صورت نہ بچے گی
بالفرض بچا لیں تو پھر امّت نہ بچے گی
زعفر نے یہ کی عرض بصد اشک فشانی
ہو حکم تو لے آؤں ابھی نہر سے پانی
کچھ کام تو لے اے اسداللہ کے جانی
فرمایا کہ مطلق نہیں اب تشنہ دہانی
دریا بھی جو خود آئے تو لب تر نہ کروں گا
احمد کا نواسا ہوں مَیں پیاسا ہی مروں گا
جس وقت فلک پر ہو عیاں ماہِ محرّم
ہر تعزیہ خانہ میں بپا ہو مرا ماتم
جو بیبیاں ہیں روئیں گھروں میں مجھے باہم
مَردوں میں یہ ہو شور کہ ہے ہے شہِ عالم
سب پیر و جواں روئیں یہ انجام ہو میرا
مظلوم حسین ابنِ علی نام ہو میرا
دنیا میں مرے گا جو کسی شخص کا بھائی
یاد آئے گی عبّاس دلاور کی جدائی
جاں اپنی بھتیجے نے کسی کے جو گنوائی
روئے گا کہ قاسم نے سناں سینہ پہ کھائی
اولاد کا ماتم جسے ناشاد کرے گا
اکبر کے جواں مرنے کو وہ یاد کرے گا
دس روز شب و روز ہو غل ہائے حُسینا
صدقے ترے اے فاطمہ کے جائے حُسینا
زخمِ تبر و تیر و سناں کھائے حُسینا
سب پانی پیئں اور نہ تُو پائے حُسینا
جب پانی پیئں اشک فشانی کو نہ بھولیں
بچّے بھی مری تشنہ دہانی کو نہ بھولیں
زینب نے پکارا مرے ماں جائے برادر
ناشاد بہن لینے رکاب آئے برادر
اب کوئی مددگار نہیں ہائے برادر
صدقے ہو بہن گر تمھیں پھر پائے برادر
غش آئے گا دو گام پیادہ جو بڑھو گے
اس ضعف میں رہوار پہ کس طرح چڑھو گے
حضرت نے یہ فرمایا کہ خواہر نہ نکلنا
جب تک کہ میں زندہ رہوں باہر نہ نکلنا
لِلہ بہن کھولے ہوئے سر نہ نکلنا
سر کھول کے کیا اوڑھ کے چادر نہ نکلنا
کیا تم نے کہا دل مرا تھرّا گیا زینب
بھائی کی مناجات میں فرق آ گیا زینب
رخصت ہوئے روتے ہوئے سارے مَلک و جن
گھوڑے پہ چڑھا تن کے وہ کونین کا محسن
آفت کا تھا وہ وقت قیامت کا تھا وہ دن
سایا نہ کسی جا تھا نہ پانی کہیں ممکن
عبّاس کے حملے جو لعیں دیکھ چکے تھے
دریا بھی نظر بند تھا یوں گھاٹ رکے تھے
وہ دوپہر اس دشت کی اور دن کا وہ ڈھلنا
وہ گرم زرہ اور وہ ہتھیاروں کا جلنا
وہ گرد کا مقتل میں تتق لوں کا وہ چلنا
وہ بَن میں پہاڑوں سے شراروں کا نکلنا
گرمی سے فرس میں بھی نہ وہ تیزتگی تھی
پیاسے تھے حسین آگ زمانے کو لگی تھی
جب جنگ کو میداں میں شہِ بحر و بر آئے
اللہ ری تمازت کہ پسینے میں تر آئے
غصّے میں جو ہلتے ہوئے ابرو نظر آئے
غل تھا کہ علی تول کے تیغِ دو سر آئے
حُسنِ خمِ ابرو تھا دو بالا مہِ نَو سے
چہرے میں زیادہ تھی ضیا مہر کی ضَو سے
چہرہ وہ کہ رضواں تو دکھائے چمن ایسے
جنّت کے گلستاں میں نہیں گلبدن ایسے
لب بند ہوئے جاتے ہیں شیریں دہن ایسے
ہے شور جہاں میں نمک ایسا سخن ایسے
قرآں نہ اترتا تو قرأت بھی نہ ہوتی
یہ خلق نہ ہوتے تو فصاحت بھی نہ ہوتی
منظورِ نظر گیسو و رخسارۂ تاباں
ظلمت کی سحر گیسو و رخسارۂ تاباں
ہالے میں قمر گیسو و رخسارۂ تاباں
مشک و گلِ تر گیسو و رخسارۂ تاباں
دیکھے نہ کبھی نورِ سحر دیکھ کے ان کو
دو راتوں میں دو چاند نظر آتے ہیں دن کو
آئینے کا کیا منھ کہ جبیں سے ہو مقابل
مہتاب کہوں گر تو وہ ناقص ہے، یہ کامل
چہرے پہ کلف صاف ہے یہ عیب میں داخل
خورشید بھی اصلاً نہیں تشبیہ کے قابل
ہمسر ہوں وہ کیونکر کوئی نسبت نہیں جن کو
یہ رات کو پیشانی سے محجوب وہ دن کو
آراستہ لشکر ہے ادھر ہلتے ہیں بھالے
قبضوں پہ ہیں چالاک جواں ہاتھوں کو ڈالے
بد کیش ہیں واں تیروں کو ترکش سے نکالے
فوجوں پہ تو فوجیں ہیں رسالوں پہ رسالے
خنجر وہ کلیجے پہ جو زہرا کے پھرے ہیں
شاہِ شہدا قلعۂ آہن میں گھرے ہیں
تلواریں لیے دشمنِ جاں ایک طرف ہیں
گھوڑے پہ شہِ کون و مکاں ایک طرف ہیں
تیر ایک طرف گرزِ گراں ایک طرف ہیں
آپ ایک طرف، لاکھ جواں ایک طرف ہیں
سر کٹنے کا دھڑکا نہیں، وسواس نہیں ہے
فوجوں سے وغا اور کوئی پاس نہیں ہے
وہ دشت وہ گرمی وہ حرارت وہ تب و تاب
پانی کا جو قطرہ ہے وہ ہے گوہرِ نایاب
انسان کا تو کیا ذکر پرندے بھی ہیں بے تاب
لوں چلتی ہے مرجھائے ہوئے ہیں گلِ شاداب
اڑتے ہیں شرر آگ بیاباں میں بھری ہے
پھولوں میں نہ سرخی ہے نہ سبزے میں تری ہے
وہ دھوپ ہے جس میں کہ ہرن ہوتے ہیں کالے
ضیغم ہیں ترائی میں زبانوں کو نکالے
ریتی پہ دھرے پاؤں تو پڑ جاتے ہیں چھالے
دھوپ اس پہ یہ، سائے میں جسے فاطمہ پالے
تابش ہے کہ ایک کڑی نرم ہوئی ہے
سب سرخ ہے سینہ پہ زرہ گرم ہوئی ہے
بے سایہ جو ہے لاشۂ ہم شکلِ پیمبر
بکسے ہوئے ہیں دھوپ میں زخمِ تنِ انور
وا حسرت و دردا کہ نہیں لاش پہ چادر
سوتے ہیں لبِ نہر علم دارِ دلاور
تنہا جو وہ ساونت ہزاروں سے لڑا ہے
مارا ہوا اک شیر ترائی میں پڑا ہے
فرماتے ہیں گرمی کی بس اب مجھ کو نہیں تاب
میں تین شب و روز سے جنگل میں ہوں بے آب
مرجھائے ہیں سب باغِ علی کے گلِ شاداب
کیوں کر وہ جئے جس سے بچھڑ جائیں یہ احباب
صابر ہوں میں ایسا ہی کہ غش آ نہیں جاتا
ان پھولوں کو اس خاک پہ دیکھا نہیں جاتا
اتنی مجھے مہلت دو کہ قبریں تو بناؤں
سیدانیوں سے بہرِ کفن چادریں لاؤں
اس خاک میں ان چاند کے ٹکڑوں کو ملاؤں
یہ دفن ہوں میں قبر نہ پاؤں تو نہ پاؤں
قطرہ کوئی اس نہر سے پیاسے کو نہ دینا
مٹّی بھی محمد کے نواسے کو نہ دینا
کیا ان سے عداوت جو گئے دارِ فنا سے
کوتاہ ہیں چلنے سے قدم، ہاتھ وغا سے
مطلب انھیں دریا سے نہ کچھ سرد ہوا سے
رحم ان کا طریقہ ہے جو ڈرتے ہیں خدا سے
مہماں تھے لڑے بھی تو یہ سب حق پہ لڑے ہیں
آخر یہ بشر ہیں کہ جو بے گور پڑے ہیں
مرتا ہے مسافر کسی بستی میں کوئی گر
سب لوگ اسے غسل و کفن دیتے ہیں مل کر
قرآں کوئی پڑھتا ہے کہ بیکس تھا یہ بے پر
لے آتا ہے تربت پہ کوئی پھولوں کی چادر
غم کرتے ہیں سب فاتحہ خوانی میں سِوُم کو
سیّد ہیں یہ اور شرم نہیں آتی ہے تم کو
ان میں کئی بچّے ہیں کہ نکلے تھے نہ گھر سے
نازک ہیں صباحت میں زیادہ گلِ تر سے
افتادہ ہیں اس دھوپ میں یہ تین پہر سے
پوچھے کوئی یہ درد و الم میرے جگر سے
نرغہ ہے کہ تلواروں میں دم لے نہیں سکتا
زندہ ہوں میں اور ان کو کفن دے نہیں سکتا
یہ سن کے پکارا پسَرِ سعد بد افعال
کیسا کفن اور کیسی لحد فاطمہ کے لال
اکبر ہوں کہ ہوں قاسم و عبّاس خوش اقبال
ہم گھوڑوں کی ٹاپوں سے کرینگے انھیں پامال
سینوں پہ گلِ زخم ابھی اور کھلیں گے
سجّاد کو ٹکڑے بھی نہ لاشوں کے ملیں گے
حضرت نے کہا دور ہو او ظالمِ مردود
اللہ شہیدوں کی حفاظت کو ہے موجود
یہ وہ ہیں کہ زہرا و نبی جن سے ہیں خوشنود
ہر لاش کو گھیرے ہوئے ہے رحمتِ معبود
قبروں میں بھی جنّت کے چمن ان کو ملیں گے
فردوس کے حُلّوں کے کفن ان کو ملیں گے
میں دیر سے آمادہ ہوں تلوار کو تولے
کہدے کہ علَم فوج صفیں باندھ کے کھولے
ماروں انھیں پھوٹیں کہیں کچھ دل کے پھپھولے
سر تن سے اڑا دوں کوئی اب منہ سے جو بولے
آرام سفر کر گیا، راحت نہیں باقی
بڑھتا ہوں کہ بس اب کوئی حجّت نہیں باقی
یہ فوج ہے کیا آگ کا دریا ہو تو جھیلیں
کیا ڈر انھیں بچپن میں جو تلواروں سے کھیلیں
الٹیں صِفَتِ کاہ اگر کوہ کو ریلیں
کوفہ تو ہے کیا شام کو اور روم کو لے لیں
چاہیں تو زمیں کے ابھی ساتوں طبق الٹیں
یوں الٹیں کے جس طرح ہوا سے ورق الٹیں
کہتے ہیں جسے اہلِ جہاں گنبدِ گردان
نُہ ورقے ہیں اک جزوِ کتابِ شہ مردان
ہم آج ہیں عالم میں قضا فہم و قدر دان
حق بین و حق آگاہ و سخن سنج و ہنر دان
کس امر میں تقلیدِ محمد نہیں کرتے
فاقوں میں سوالِ فقَرا رد نہیں کرتے
اللہ نے کونین کی شاہی ہمیں دی ہے
امداد رسولوں کی مرے باپ نے کی ہے
مجھ میں بھی وہی دل، وہی شوکت، وہی جی ہے
سر برسے ہیں جب تیغِ علی میان سے لی ہے
سر تن سے کٹے جب تو مہم جنگ کی سر ہے
مر جائے بہ عزّت یہ بہادر کی ظفر ہے
ہم دولتِ دنیا کبھی گھر میں نہیں رکھتے
توقیرِ زر و مال نظر میں نہیں رکھتے
رکھتے ہیں قدم خیر میں، شر میں نہیں رکھتے
کچھ اور بجز تیغ کمر میں نہیں رکھتے
نذرِ رہِ معبود تن و سر ہے ہمارا
زیور ہے یہی اور یہی سر ہے ہمارا
شہر اس کی تب و تاب سے ویرانے ہوئے ہیں
جب چمکی ہے یہ دیو بھی دیوانے ہوئے ہیں
منھ وہ ہے کہ تلواروں میں دندانے ہوئے ہیں
لوہا وہ کہ جبریل جسے مانے ہوئے ہیں
کر دیتی ہے شب دشمنِ ایماں کے دنوں کو
جڑھ آتی ہے تپ اس کے شراروں سے جنوں کو
برباد اسی تیغ سے سر کٹ کے ہوئے ہیں
جانبر جو ہوئے، بھاگ کے یا ہٹ کے ہوئے ہیں
عاجز ہے زرِہ، خود بھی سر پٹکے ہوئے ہیں
اب تک پر جبریلِ امیں لٹکے ہوئے ہیں
باعث یہ نہ ہوتا تو پھر آرام نہ لیتے
تھا خاتمہ گر ہاتھ علی تھام نہ لیتے
مشہورِ جہاں عمرو و علی کی ہے لڑائی
زور اس کا کہ یہ دیو نے قوّت نہیں پائی
خندق کے اِدھر آتے ہی تلوار جو کھائی
گویا تھی مہینوں سے تن و سر سے جدائی
لاشے کا اِدھر ڈھیر، سرِ نحس اُدھر تھا
خندق کو جو دیکھا تو لہو تا بہ کمر تھا
کب میان سے شمشیرِ دو سر لی نہیں ہم نے
لڑنے میں کبھی منہ پہ سپر لی نہیں ہم نے
جب تک کہ زمیں خون سے بھرلی نہیں ہم نے
کچھ اپنے سر و تن کی خبر لی نہیں ہم نے
شمشیر و سپر بعدِ ظفر کھولتے ہیں ہم
جب صاف ہو میداں تو کمر کھولتے ہیں ہم
پیغامِ قضا تیغِ یداللہ کو جانو
ہمتائے علی فاطمہ کے ماہ کو جانو
بینائی ہو تو کوہِ گراں کاہ کو جانو
عاجز نہ کبھی بندۂ اللہ کو جانو
انگشت سے حلقے کو مروڑا ہے علی نے
خیبر کا در اِک ہاتھ سے توڑا ہے علی نے
اللہ رے زورِ یدِ پاکیزہ و طاہر
آثار اِذَا زُلزِلَتِ الاَرض تھے ظاہر
کھاتے تھے سدا نانِ جویں خلق ہے ماہر
کچھ زر نہ سماتا تھا نظر میں نہ جواہر
اسبابِ شہنشاہِ دو عالم یہی بس تھا
قرآں تھا، یہ تلوار تھی، بس ایک فرس تھا
مرثیہ نمبر ۲
(مطلع ِدوم(دوم)
دنیا ہے یہ، شادی ہے کبھی اور کبھی آلام
راحت کی کبھی صبح، مصیبت کی کبھی شام
یکساں نہیں ہوتا کبھی آغاز کا انجام
وہ دن گئے کرتی تھیں جو اس چھاتی پہ آرام
ضد کر کے نہ اب رات کو رویا کرو بی بی
جب ہم نہ ہوں تم خاک پہ سویا کرو بی بی
سمجھا کے چلے آپ سکینہ کو غش آیا
غُل تھا کہ اٹھا سر سے شہنشاہ کا سایا
ڈیوڑھی سے جو نکلا اسد اللہ کا جایا
رہوارِ سبک سیر کو روتا ہوا پایا
کس عالمِ تنہائی میں سیّد کا سفر تھا
بھائی نہ بھتیجا نہ ملازم نہ پسر تھا
سائے کی طرح جو نہ جدا ہوتی تھی دم بھر
وہ رات کی جاگی ہوئی سوتی تھی زمیں پر
گردوں کی طرف دیکھ کے فرماتے تھے سروَر
تُو سر پہ ہے، تنہا نہیں فرزندِ پیمبر
کچھ کام نہ اس بیکس و ناشاد سے ہوگا
جو ہوگا وہ مولا تری امداد سے ہوگا
روتے ہوئے مولا جو قریبِ فرس آئے
نصرت کی صفیں باندھے مَلک پیش و پس آئے
فریاد کناں جِن بھی مثالِ جرس آئے
جنگل سے ہٹے پانچ جو دستے تو دس آئے
ڈھالیں لیے سب ہاتھوں کو قبضوں پہ دھرے تھے
لشکر سے جِنوں کے بھی کئی دشت بھرے تھے
تھی قومِ نبی جان بھی سرداری کو حاضر
فوجوں کے طلائے تھے خبرداری کو حاضر
لشکر تھا فرشتوں کا مددگاری کو حاضر
جبریل تھے خود حاشیہ برداری کو حاضر
تولے ہوئے نیزوں کو لڑائی پہ تلے تھے
رہوار تو ابلق تھے علم سبز کھلے تھے
اصرار کیا سب نے پہ حضرت نے نہ مانا
جز حق مددِ غیر کو رد کرتے ہیں دانا
وہ شاہ کہ جس کے یدِ قدرت میں زمانا
کون آیا، گیا کون، یہ مطلق بھی نہ جانا
بندہ وہی بندہ ہے جو راضی ہو رضا پر
اوروں سے اُسے کیا جسے تکیہ ہو خدا پر
کی عرض ملائک نے کہ یا سیّدِ ابرار
ہم آپ کے بابا کی مدد کرتے تھے ہر بار
فرمایا وہ خواہاں تھے کہ مغلوب ہوں کفّار
میں اپنی شہادت کا خدا سے ہوں طلبگار
جان آج ہماری کسی صورت نہ بچے گی
بالفرض بچا لیں تو پھر امّت نہ بچے گی
زعفر نے یہ کی عرض بصد اشک فشانی
ہو حکم تو لے آؤں ابھی نہر سے پانی
کچھ کام تو لے اے اسداللہ کے جانی
فرمایا کہ مطلق نہیں اب تشنہ دہانی
دریا بھی جو خود آئے تو لب تر نہ کروں گا
احمد کا نواسا ہوں مَیں پیاسا ہی مروں گا
جس وقت فلک پر ہو عیاں ماہِ محرّم
ہر تعزیہ خانہ میں بپا ہو مرا ماتم
جو بیبیاں ہیں روئیں گھروں میں مجھے باہم
مَردوں میں یہ ہو شور کہ ہے ہے شہِ عالم
سب پیر و جواں روئیں یہ انجام ہو میرا
مظلوم حسین ابنِ علی نام ہو میرا
دنیا میں مرے گا جو کسی شخص کا بھائی
یاد آئے گی عبّاس دلاور کی جدائی
جاں اپنی بھتیجے نے کسی کے جو گنوائی
روئے گا کہ قاسم نے سناں سینہ پہ کھائی
اولاد کا ماتم جسے ناشاد کرے گا
اکبر کے جواں مرنے کو وہ یاد کرے گا
دس روز شب و روز ہو غل ہائے حُسینا
صدقے ترے اے فاطمہ کے جائے حُسینا
زخمِ تبر و تیر و سناں کھائے حُسینا
سب پانی پیئں اور نہ تُو پائے حُسینا
جب پانی پیئں اشک فشانی کو نہ بھولیں
بچّے بھی مری تشنہ دہانی کو نہ بھولیں
زینب نے پکارا مرے ماں جائے برادر
ناشاد بہن لینے رکاب آئے برادر
اب کوئی مددگار نہیں ہائے برادر
صدقے ہو بہن گر تمھیں پھر پائے برادر
غش آئے گا دو گام پیادہ جو بڑھو گے
اس ضعف میں رہوار پہ کس طرح چڑھو گے
حضرت نے یہ فرمایا کہ خواہر نہ نکلنا
جب تک کہ میں زندہ رہوں باہر نہ نکلنا
لِلہ بہن کھولے ہوئے سر نہ نکلنا
سر کھول کے کیا اوڑھ کے چادر نہ نکلنا
کیا تم نے کہا دل مرا تھرّا گیا زینب
بھائی کی مناجات میں فرق آ گیا زینب
رخصت ہوئے روتے ہوئے سارے مَلک و جن
گھوڑے پہ چڑھا تن کے وہ کونین کا محسن
آفت کا تھا وہ وقت قیامت کا تھا وہ دن
سایا نہ کسی جا تھا نہ پانی کہیں ممکن
عبّاس کے حملے جو لعیں دیکھ چکے تھے
دریا بھی نظر بند تھا یوں گھاٹ رکے تھے
وہ دوپہر اس دشت کی اور دن کا وہ ڈھلنا
وہ گرم زرہ اور وہ ہتھیاروں کا جلنا
وہ گرد کا مقتل میں تتق لوں کا وہ چلنا
وہ بَن میں پہاڑوں سے شراروں کا نکلنا
گرمی سے فرس میں بھی نہ وہ تیزتگی تھی
پیاسے تھے حسین آگ زمانے کو لگی تھی
جب جنگ کو میداں میں شہِ بحر و بر آئے
اللہ ری تمازت کہ پسینے میں تر آئے
غصّے میں جو ہلتے ہوئے ابرو نظر آئے
غل تھا کہ علی تول کے تیغِ دو سر آئے
حُسنِ خمِ ابرو تھا دو بالا مہِ نَو سے
چہرے میں زیادہ تھی ضیا مہر کی ضَو سے
چہرہ وہ کہ رضواں تو دکھائے چمن ایسے
جنّت کے گلستاں میں نہیں گلبدن ایسے
لب بند ہوئے جاتے ہیں شیریں دہن ایسے
ہے شور جہاں میں نمک ایسا سخن ایسے
قرآں نہ اترتا تو قرأت بھی نہ ہوتی
یہ خلق نہ ہوتے تو فصاحت بھی نہ ہوتی
منظورِ نظر گیسو و رخسارۂ تاباں
ظلمت کی سحر گیسو و رخسارۂ تاباں
ہالے میں قمر گیسو و رخسارۂ تاباں
مشک و گلِ تر گیسو و رخسارۂ تاباں
دیکھے نہ کبھی نورِ سحر دیکھ کے ان کو
دو راتوں میں دو چاند نظر آتے ہیں دن کو
آئینے کا کیا منھ کہ جبیں سے ہو مقابل
مہتاب کہوں گر تو وہ ناقص ہے، یہ کامل
چہرے پہ کلف صاف ہے یہ عیب میں داخل
خورشید بھی اصلاً نہیں تشبیہ کے قابل
ہمسر ہوں وہ کیونکر کوئی نسبت نہیں جن کو
یہ رات کو پیشانی سے محجوب وہ دن کو
آراستہ لشکر ہے ادھر ہلتے ہیں بھالے
قبضوں پہ ہیں چالاک جواں ہاتھوں کو ڈالے
بد کیش ہیں واں تیروں کو ترکش سے نکالے
فوجوں پہ تو فوجیں ہیں رسالوں پہ رسالے
خنجر وہ کلیجے پہ جو زہرا کے پھرے ہیں
شاہِ شہدا قلعۂ آہن میں گھرے ہیں
تلواریں لیے دشمنِ جاں ایک طرف ہیں
گھوڑے پہ شہِ کون و مکاں ایک طرف ہیں
تیر ایک طرف گرزِ گراں ایک طرف ہیں
آپ ایک طرف، لاکھ جواں ایک طرف ہیں
سر کٹنے کا دھڑکا نہیں، وسواس نہیں ہے
فوجوں سے وغا اور کوئی پاس نہیں ہے
وہ دشت وہ گرمی وہ حرارت وہ تب و تاب
پانی کا جو قطرہ ہے وہ ہے گوہرِ نایاب
انسان کا تو کیا ذکر پرندے بھی ہیں بے تاب
لوں چلتی ہے مرجھائے ہوئے ہیں گلِ شاداب
اڑتے ہیں شرر آگ بیاباں میں بھری ہے
پھولوں میں نہ سرخی ہے نہ سبزے میں تری ہے
وہ دھوپ ہے جس میں کہ ہرن ہوتے ہیں کالے
ضیغم ہیں ترائی میں زبانوں کو نکالے
ریتی پہ دھرے پاؤں تو پڑ جاتے ہیں چھالے
دھوپ اس پہ یہ، سائے میں جسے فاطمہ پالے
تابش ہے کہ ایک کڑی نرم ہوئی ہے
سب سرخ ہے سینہ پہ زرہ گرم ہوئی ہے
بے سایہ جو ہے لاشۂ ہم شکلِ پیمبر
بکسے ہوئے ہیں دھوپ میں زخمِ تنِ انور
وا حسرت و دردا کہ نہیں لاش پہ چادر
سوتے ہیں لبِ نہر علم دارِ دلاور
تنہا جو وہ ساونت ہزاروں سے لڑا ہے
مارا ہوا اک شیر ترائی میں پڑا ہے
فرماتے ہیں گرمی کی بس اب مجھ کو نہیں تاب
میں تین شب و روز سے جنگل میں ہوں بے آب
مرجھائے ہیں سب باغِ علی کے گلِ شاداب
کیوں کر وہ جئے جس سے بچھڑ جائیں یہ احباب
صابر ہوں میں ایسا ہی کہ غش آ نہیں جاتا
ان پھولوں کو اس خاک پہ دیکھا نہیں جاتا
اتنی مجھے مہلت دو کہ قبریں تو بناؤں
سیدانیوں سے بہرِ کفن چادریں لاؤں
اس خاک میں ان چاند کے ٹکڑوں کو ملاؤں
یہ دفن ہوں میں قبر نہ پاؤں تو نہ پاؤں
قطرہ کوئی اس نہر سے پیاسے کو نہ دینا
مٹّی بھی محمد کے نواسے کو نہ دینا
کیا ان سے عداوت جو گئے دارِ فنا سے
کوتاہ ہیں چلنے سے قدم، ہاتھ وغا سے
مطلب انھیں دریا سے نہ کچھ سرد ہوا سے
رحم ان کا طریقہ ہے جو ڈرتے ہیں خدا سے
مہماں تھے لڑے بھی تو یہ سب حق پہ لڑے ہیں
آخر یہ بشر ہیں کہ جو بے گور پڑے ہیں
مرتا ہے مسافر کسی بستی میں کوئی گر
سب لوگ اسے غسل و کفن دیتے ہیں مل کر
قرآں کوئی پڑھتا ہے کہ بیکس تھا یہ بے پر
لے آتا ہے تربت پہ کوئی پھولوں کی چادر
غم کرتے ہیں سب فاتحہ خوانی میں سِوُم کو
سیّد ہیں یہ اور شرم نہیں آتی ہے تم کو
ان میں کئی بچّے ہیں کہ نکلے تھے نہ گھر سے
نازک ہیں صباحت میں زیادہ گلِ تر سے
افتادہ ہیں اس دھوپ میں یہ تین پہر سے
پوچھے کوئی یہ درد و الم میرے جگر سے
نرغہ ہے کہ تلواروں میں دم لے نہیں سکتا
زندہ ہوں میں اور ان کو کفن دے نہیں سکتا
یہ سن کے پکارا پسَرِ سعد بد افعال
کیسا کفن اور کیسی لحد فاطمہ کے لال
اکبر ہوں کہ ہوں قاسم و عبّاس خوش اقبال
ہم گھوڑوں کی ٹاپوں سے کرینگے انھیں پامال
سینوں پہ گلِ زخم ابھی اور کھلیں گے
سجّاد کو ٹکڑے بھی نہ لاشوں کے ملیں گے
حضرت نے کہا دور ہو او ظالمِ مردود
اللہ شہیدوں کی حفاظت کو ہے موجود
یہ وہ ہیں کہ زہرا و نبی جن سے ہیں خوشنود
ہر لاش کو گھیرے ہوئے ہے رحمتِ معبود
قبروں میں بھی جنّت کے چمن ان کو ملیں گے
فردوس کے حُلّوں کے کفن ان کو ملیں گے
میں دیر سے آمادہ ہوں تلوار کو تولے
کہدے کہ علَم فوج صفیں باندھ کے کھولے
ماروں انھیں پھوٹیں کہیں کچھ دل کے پھپھولے
سر تن سے اڑا دوں کوئی اب منہ سے جو بولے
آرام سفر کر گیا، راحت نہیں باقی
بڑھتا ہوں کہ بس اب کوئی حجّت نہیں باقی
یہ فوج ہے کیا آگ کا دریا ہو تو جھیلیں
کیا ڈر انھیں بچپن میں جو تلواروں سے کھیلیں
الٹیں صِفَتِ کاہ اگر کوہ کو ریلیں
کوفہ تو ہے کیا شام کو اور روم کو لے لیں
چاہیں تو زمیں کے ابھی ساتوں طبق الٹیں
یوں الٹیں کے جس طرح ہوا سے ورق الٹیں
کہتے ہیں جسے اہلِ جہاں گنبدِ گردان
نُہ ورقے ہیں اک جزوِ کتابِ شہ مردان
ہم آج ہیں عالم میں قضا فہم و قدر دان
حق بین و حق آگاہ و سخن سنج و ہنر دان
کس امر میں تقلیدِ محمد نہیں کرتے
فاقوں میں سوالِ فقَرا رد نہیں کرتے
اللہ نے کونین کی شاہی ہمیں دی ہے
امداد رسولوں کی مرے باپ نے کی ہے
مجھ میں بھی وہی دل، وہی شوکت، وہی جی ہے
سر برسے ہیں جب تیغِ علی میان سے لی ہے
سر تن سے کٹے جب تو مہم جنگ کی سر ہے
مر جائے بہ عزّت یہ بہادر کی ظفر ہے
ہم دولتِ دنیا کبھی گھر میں نہیں رکھتے
توقیرِ زر و مال نظر میں نہیں رکھتے
رکھتے ہیں قدم خیر میں، شر میں نہیں رکھتے
کچھ اور بجز تیغ کمر میں نہیں رکھتے
نذرِ رہِ معبود تن و سر ہے ہمارا
زیور ہے یہی اور یہی سر ہے ہمارا
شہر اس کی تب و تاب سے ویرانے ہوئے ہیں
جب چمکی ہے یہ دیو بھی دیوانے ہوئے ہیں
منھ وہ ہے کہ تلواروں میں دندانے ہوئے ہیں
لوہا وہ کہ جبریل جسے مانے ہوئے ہیں
کر دیتی ہے شب دشمنِ ایماں کے دنوں کو
جڑھ آتی ہے تپ اس کے شراروں سے جنوں کو
برباد اسی تیغ سے سر کٹ کے ہوئے ہیں
جانبر جو ہوئے، بھاگ کے یا ہٹ کے ہوئے ہیں
عاجز ہے زرِہ، خود بھی سر پٹکے ہوئے ہیں
اب تک پر جبریلِ امیں لٹکے ہوئے ہیں
باعث یہ نہ ہوتا تو پھر آرام نہ لیتے
تھا خاتمہ گر ہاتھ علی تھام نہ لیتے
مشہورِ جہاں عمرو و علی کی ہے لڑائی
زور اس کا کہ یہ دیو نے قوّت نہیں پائی
خندق کے اِدھر آتے ہی تلوار جو کھائی
گویا تھی مہینوں سے تن و سر سے جدائی
لاشے کا اِدھر ڈھیر، سرِ نحس اُدھر تھا
خندق کو جو دیکھا تو لہو تا بہ کمر تھا
کب میان سے شمشیرِ دو سر لی نہیں ہم نے
لڑنے میں کبھی منہ پہ سپر لی نہیں ہم نے
جب تک کہ زمیں خون سے بھرلی نہیں ہم نے
کچھ اپنے سر و تن کی خبر لی نہیں ہم نے
شمشیر و سپر بعدِ ظفر کھولتے ہیں ہم
جب صاف ہو میداں تو کمر کھولتے ہیں ہم
پیغامِ قضا تیغِ یداللہ کو جانو
ہمتائے علی فاطمہ کے ماہ کو جانو
بینائی ہو تو کوہِ گراں کاہ کو جانو
عاجز نہ کبھی بندۂ اللہ کو جانو
انگشت سے حلقے کو مروڑا ہے علی نے
خیبر کا در اِک ہاتھ سے توڑا ہے علی نے
اللہ رے زورِ یدِ پاکیزہ و طاہر
آثار اِذَا زُلزِلَتِ الاَرض تھے ظاہر
کھاتے تھے سدا نانِ جویں خلق ہے ماہر
کچھ زر نہ سماتا تھا نظر میں نہ جواہر
اسبابِ شہنشاہِ دو عالم یہی بس تھا
قرآں تھا، یہ تلوار تھی، بس ایک فرس تھا
مرثیہ نمبر ۲
(مطلعِ دوم(سوم)
بھاتا تھا شریکِ فقَرا شاہ کو ہونا
بھولا نہیں راتوں کو مناجات میں رونا
ہے یاد ہمیں بوریے پر راتوں کو سونا
بستر تھا وہی دن کا، وہی شب کا بچھونا
اک ریزۂ زر خانۂ حیدر سے نہ نکلا
دنیا سے اٹھے جب تو کفن گھر سے نہ نکلا
پانی بھی ملک کوثر و تسنیم کا لائے
جبریلِ امیں عرش سے روتے ہوئے آئے
پیوند پہ پیوند جو ملبوس میں پائے
سر پیٹ کے ہم بھائیوں نے اشک بہائے
جو کچھ کہ تھا قبل اپنے شہنشاہ نے بھیجا
کافور نبی نے، کفن اللہ نے بھیجا
اللہ ہے عالم کے وہی حال ہے میرا
ریتی پہ پڑا ہے جو زر و مال ہے میرا
یہ گوہر و یاقوت ہے وہ لال ہے میرا
اس دشت میں جو مال ہے پامال ہے میرا
آرام پس از رنج و محن بھی نہ ملے گا
مجھ کو تو کئی روز کفن بھی نہ ملے گا
ہم اپنے جو لشکر کے پرے تم کو دکھائیں
تم کیا ہو بنی جان کی جانیں ابھی جائیں
جرّار کبھی تاب ٹھہرنے کی نہ لائیں
مر جائیں ہزاروں تو ہزاروں کو غش آئیں
منظور ملائک کی جو امداد کروں میں
اِک اپنے لیے لاکھوں کو برباد کروں میں
میں نے تو بھرے گھر کو تمھارے لیے چھوڑا
دربارِ پیمبر کو تمھارے لیے چھوڑا
اس قبرِ منوّر کو تمھارے لیے چھوڑا
بیماری میں دختر کو تمھارے لیے چھوڑا
نے ماں کے، نہ پہلو میں بڑے بھائی کے جا ہو
قسمت میں یہ تھا قبر مری سب سے جدا ہو
سچ ہے سخنِ حق میں بڑی ہوتی ہے تاثیر
تھرّائے جگر، رونے لگے فوج کے بے پیر
مولا نے سنبھل کر جو رکھی دوش پہ شمشیر
ہٹ کر پسرِ سعد پکارا کہ چلیں تیر
اک حشر بپا ہوگا جو یہ شیر لڑے گا
سر خاک پہ لوٹیں گے، بڑا کھیت پڑے گا
نقّارۂ رزمی پہ لگی چوب یکایک
تھرّانے لگا دشتِ پُر آشوب یکایک
تلواریں کھنچیں زہر میں سر ڈوب یکایک
لشکر سے بڑھے فوج کے سر کوب یکایک
رحم آیا نہ اعدا کو ولی ابنِ ولی پر
نرغہ ہوا مظلوم حسین ابنِ علی پر
غُل طبل کا، قرنا کی وہ آواز ڈرانی
زَہرے جسے سن سن کے ہوئے جاتے تھے پانی
کالے وہ عَلم، شام کے لشکر کی نشانی
دو تیر، جگر دوز کمانیں وہ کیانی
اک تیر سے مر جانے میں عرصہ نہیں کھنچتا
رستم سے بھی جن کا کبھی چلّہ نہیں کھنچتا
تحت الحَنَکیں باندھے سوارانِ تنو مند
جن کے کبھی نیزوں کے نہ رستم سے کُھلے بند
وہ گرز سپر فرق پہ روکے کوئی ہر چند
اک ضرب میں ہو جائے بشر خاک کا پیوند
نہ رُوح ہو تن میں نہ لہو قلب و جگر میں
سر سینے میں ہو سینۂ مجروح کمر میں
تلوار ادھر سیّدِ ابرار نے کھینچی
یا تیغِ دو سر حیدرِ کرّار نے کھینچی
تصویرِ اجل برقِ شرر بار نے کھینچی
گردن طرفِ غار ہر اک مار نے کھینچی
گھبرا گئے صدمہ یہ ہوا رُوحِ امیں پر
سر رکھ دیا جھک جھک کے پہاڑوں نے زمیں پر
آثار نمایاں ہوئے خالق کے غضب کے
شیروں نے ترائی سے کنارہ کیا دب کے
چونک اٹھے وہ جو سوتے تھے جاگے ہوئے شب کے
دل ہل گئے رنگ اڑ گئے کفّارِ عرب کے
سردار قدم گاڑے تھے ہر چند زمیں پر
گر گر پڑے کھل کھل کر کمر بند زمیں پر
نعرہ کیا بڑھ کر شہِ دیں نے کہ خبردار
لشکر سے کہا شمرِ لعیں نے کہ خبردار
صیحہ کیا جبریلِ امیں نے کہ خبرادر
ماہی سے کہا گاوِ زمیں نے کہ خبردار
گیتی یہ یونہیں گریہ زد و کُشت رہے گی
شاخیں مری ہوں گی نہ تری پُشت رہے گی
جنگل میں پہاڑوں کے جگر خوف سے کانپے
گرنے لگے پتّے یہ شجر خوف سے کانپے
گھڑیال تھے پانی میں مگر خوف سے کانپے
تھے دورِ اولی الاجنحہ پر خوف سے کانپے
گر قوّتِ پرواز خدا داد تھی ان کو
رُودادِ پرِ رُوحِ امیں یاد تھی ان کو
چلّاتے تھے ہر صف میں نقیبانِ جفا کیش
ہاں غازیو، اس وقت بڑی جنگ ہے در پیش
فرزندِ علی ہے یہ جگر خستہ و دل ریش
سر کرتے ہیں سر دے کر مہم کو ظفر اندیش
کوشش کی گھڑی جان لڑا دینے کا دن ہے
صفّین کے کشتوں کے عوض لینے کا دن ہے
مولائے امم لشکرِ پُر کید پہ آئے
انبوہِ عناد و حسد و شید پہ آئے
گہ عَمر پہ آئے تو کبھی زید پہ آئے
یوں آئے کہ جس طرح اجل صید پہ آئے
ہلچل تھی کہ طوفاں میں جہاز آتا ہے جیسے
تیغ آتی تھی، کنجشک پہ باز آتا ہے جیسے
سر گرنے لگے جسم سے، چلنے لگی تلوار
چار آئینوں میں جا کے نکلنے لگی تلوار
افعی کی طرح زہر اگلنے لگی تلوار
پی پی کے لہو، رنگ بدلنے لگی تلوار
پانی نے اثر زہرِ ہلاہل کا دکھایا
ہر ضرب میں جلوہ حق و باطل کا دکھایا
ہر غول میں غُل تھا یہ لڑائی ہے غضب کی
انبارِ سر و تن ہیں صفائی ہے غضب کی
سر تن سے اترتے ہیں چڑھائی ہے غضب کی
یہ گھاٹ نیا ہے یہ لڑائی ہے غضب کی
چھپنے کو جگہ دامنِ صحرا میں نہیں ہے
یہ باڑھ غضب کی کسی دریا میں نہیں ہے
تلواریں جو آری ہیں تو بے آب سنانیں
بیکار کمیں میں ہیں کمینوں کی کمانیں
اک منھ میں اسے حق نے جو دو دی ہیں زبانیں
اِس رمز کو جو سیف زباں ہوں وہی جانیں
مطلب تھا کہ اب دین کو کامل یہ کرینگے
وہ شرک کو اور کفر کو باطل یہ کرینگے
بربادی ہوئی کفر کے لشکر کی اسی سے
گردن نہ بچی عَمر دلاور کی اسی سے
کچھ چل نہ سکی مرحب و عنتر کی اسی سے
چُولیں ہوئیں ڈھیلی درِ خیبر کی اسی سے
میدان ہر اک معرکہ میں ہاتھ ہے اس کے
قبضہ کی طرح فتح و ظفر ساتھ ہے اس کے
جو سایۂ شمشیرِ ظفر یاب میں آیا
ماہی کی طرح موت کے قُلّاب میں آیا
ہر طور خلل زیست کے اسباب میں آیا
جو آگیا کاوے میں وہ گرداب میں آیا
کچھ مطلبِ دل ہاتھ بھی مارے سے نہ نکلا
دریائے دمِ تیغ کے دھارے سے نہ نکلا
بجھ بجھ گئے بجلی سی چمک کر جدھر آئی
جل جل گئے شعلہ سی لپک کر جدھر آئی
کٹ کٹ گئے سینہ سے سرک کر جدھر آئی
مر مر گئے مقتل میں لچک کر جدھر آئی
ہر بار نیا رنگ نئی جلوہ گری تھی
آفت تھی، قیامت تھی، چھلاوہ تھی، پری تھی
جب مثلِ سموم آ کے نکل جاتی تھی سَن سے
پتّوں کی طرح خاک پہ سر گرتے تھے تن سے
جو شیر تھے میداں کے، ہرن ہو گئے رن سے
وحشی بھی چلے جاتے تھے بھاگے ہوئے بن سے
افعی نہ فقط ڈر کے دراڑوں میں چُھپے تھے
دب دب کے درندے بھی پہاڑوں میں چھپے تھے
سہمے ہوئے تھے مارِ سیہ کُنڈلیاں مارے
ہرنوں میں جو تھے شیر تو چیتوں میں چکارے
غل تھا کہ جلا دیں گے جہاں کو یہ شرارے
دنیا کی تباہی کے یہ آثار ہیں سارے
تلوار کے پانی سے یہ آتش زدگی ہے
جنگل سے چلو آگ زمانہ کو لگی ہے
اللہ ری مولا کی ہزاروں سے لڑائی
فوجوں سے وغا، ظلم شعاروں سے لڑائی
پُرخاش پیادوں سے، سواروں سے لڑائی
لشکر کی حدیں چار تھیں چاروں سے لڑائی
انبوہ میں سر گرم زد و کشت کہیں تھے
جو صف سے بڑھا تیغ بکف آپ وہیں تھے
ہاتھ اٹھتا تھا جب تا بہ فلک جاتی تھی بجلی
گرتی تھی سروں پر تو کڑک جاتی تھی بجلی
جب بڑھتی تھی تلوار سرک جاتی تھی بجلی
اِس پار سے اُس پار چمک جاتی تھی بجلی
گرجے ہیں پر اس طرح مسلسل نہیں گرجے
نعرے ہیں کہ ایسے کبھی بادل نہیں گرجے
مقتل میں کوئی خاک پہ توڑ رہا تھا
باغی کوئی ہستی کا چمن چھوڑ رہا تھا
ہٹ ہٹ کے کوئی دستِ ادب جوڑ رہا تھا
گھوڑے کی ادھر باگ کوئی موڑ رہا تھا
تلوار کے سائے سے ڈرے جاتے تھے اعدا
بھاگڑ تھی کہ پس پس کے مرے جاتے تھے اعدا
شمشیرِ عدو کُش کی ہوا کے وہ تھپیڑے
ڈوبے ہوئے تھے خون میں سب فوجوں کے بیڑے
گھوڑے کو بڑھانے کے لیے کیا کوئی چھیڑے
بوچھار سروں کی تھی لہو کے تھے دڑیڑے
ساون نہیں برسا کبھی بھادوں نہیں برسا
مینھ برسا ہے ہر سال مگر یوں نہیں برسا
لاشیں تھیں دس اک لاش پہ، سر گرتے تھے سر پر
پاؤں پہ کبھی ہاتھ تو سینے تھے کمر پر
چار آئینہ شانوں پہ کٹے تیر و تبر پر
خنجر تھے انھیں کے جو پھرے ان کے جگر پر
بے چلّہ کماں، گرزِ گراں مشت کے نیچے
تیغیں تہِ گردن، سپریں پشت کے نیچے
سیدھے جو نشاں تھے انھیں کیا تیغ نے الٹا
اس صف کو بجھا کر وہ پرا تیغ نے الٹا
لشکر کا ورق وقتِ وغا تیغ نے الٹا
گردن بھی الگ تھی جو گلا تیغ نے الٹا
جو صاحبِ دفتر تھا وہ مقتل سے ہٹا تھا
جس فرد کے چہرے پہ نظر کی وہ کٹا تھا
چلّاتے تھے گِر گِر کے یہ جن بیرِ الم کے
جانوں کو بچاؤ کہیں یہ تیغ نہ چمکے
جل جائیں گے سائے سے اسی برقِ دو دم کے
رن پڑتا ہے لڑتے ہیں یہ جس کھیت میں جم کے
ہیں سیفِ خدا، عرش سے تیغ اتری ہے ان کو
جانیں وہی ان شیروں سے ہو سامنا جن کو
غالب کوئی ان پر کسی صورت نہیں رہتا
قایم قدمِ صاحبِ جرأت نہیں رہتا
بے سر ہے جو پابندِ اطاعت نہیں رہتا
کلمہ نہ پڑھے جو وہ سلامت نہیں رہتا
حملوں سے اگر ہونٹوں پہ وہ جان نہ لاتے
جنّات جو کافر تھے وہ ایمان نہ لاتے
شیرِ اسدِ قلعہ شکن گونج رہا تھا
جنبش تھی پہاڑوں کو یہ رن گونج رہا تھا
قرنا سے اُدھر چرخ کہن گونج رہا تھا
نعروں سے ادھر ظلم کا بن گونج رہا تھا
غل تھا کہ لہو خوف سے گھٹ جانے کا دن ہے
بھاگو یہی گیتی کے الٹ جانے کا دن ہے
کیا تیغ کی تعریف کرے کوئی زباں سے
جِن مانگیں اماں جان کی جس آفتِ جاں سے
ہے قطعِ سخن خوب جو باہر ہو بیاں سے
دھوئی ہوئی کوثر سے زباں لاؤں کہاں سے
یُوں تیغ کبھی عرش سے اتری ہے کسی کو
یہ وہ ہے خدا نے جسے بھیجا ہے نبی کو
تلواریں ہزاروں ہیں پہ نایاب یہی ہے
بازو درِ نصرت کا یہی، باب یہی ہے
بجلی جسے کہتے ہیں وہ بے تاب یہی ہے
ہے باڑھ پہ دریا ہمہ تن آب یہی ہے
اس قبضہ کو اس میل کو اس ساتھ کو دیکھو
تلوار کو کیا دیکھتے ہو ہاتھ کو دیکھو
ایسا ہے لڑائی کا چلن ہاتھ میں کِس کے
دیکھا ہے یہ بے ساختہ پن ہاتھ میں کِس کے
ہے زورِ شہِ قلعہ شکن ہاتھ میں کِس کے
یہ کاٹ، یہ گردش ہے، یہ کَن، ہاتھ میں کِس کے
تلوار تو کیا انگلیاں وہ تیغِ دو سر ہیں
ہاتھوں کی لکیریں نہیں تعویذِ ظفر ہیں
سر کاٹ دیا فرق پہ جس حال میں پہنچی
چہرے پہ جو گھوڑے کے پڑی بال میں پہنچی
مچھلی تھی کہ جوشن کے کبھی جال میں پہنچی
پنجہ کے لڑانے کے لیے ڈھال میں پہنچی
سمجھا یہ ہر اک، برق گری دشمنِ دیں پر
پنجہ تو سپر میں تھا کلائی تھی زمیں پر
اعضائے سوارانِ تنو مند جدا تھے
نیزے تھے تو کیا، جسم کے سب بند جدا تھے
بیٹوں سے پدر، باپ سے فرزند جدا تھے
کیا وصل تھا پیوند سے پیوند جدا تھے
تنہا نہ سرِ اہلِ ستم کاٹ دیے تھے
تلوار نے رشتے بھی بہم کاٹ دیے تھے
ڈھالوں کی گھٹا کا وہ ادھر جھوم کے آنا
تلوار کی بجلی کا چمکتے ہوئے جانا
جنگل کی سیاہی تھی کہ تیرہ تھا زمانا
دریا کا کنارا تھا کہ جیحوں کا دہانا
یُوں سیل کبھی جانبِ صحرا نہیں آتی
ایسی کبھی برسات میں بَہیَا نہیں آتی
سب تھے سپر انداختہ تلوار کے آگے
دو چار کے پیچھے تھے تو دو چار کے آگے
یوں موت تھی اس صاعقہ کردار کے آگے
جس طرح پیادہ چلے اسوار کے آگے
غل تھا وہ ہٹیں کھیت سے جو آگے بڑھے ہیں
سر نذر کرو آپ لڑائی پہ چڑھے ہیں
(مطلعِ دوم(چہارم)
ڈوبا تھا کوئی اور کوئی خون میں تر تھا
ہر نخل قد اس معرکہ میں زیر و زبر تھا
ڈھالیں تھیں نہ ساعد تھے نہ بازو تھے نہ سر تھا
پتّے تھے نہ شاخیں نہ شجر تھا نہ ثمر تھا
یوں باغ کی رونق کبھی جاتے نہیں دیکھی
ایسی بھی خزاں آج تک آتے نہیں دیکھی
جو برچھیاں بے پھل تھیں وہ خجالت سے گڑی تھیں
آری تھیں وہ تلوار سے تیغیں جو لڑی تھیں
تھیں کند سنانیں وہ جو نیزوں سے کڑی تھیں
جوشن پہ بھی ایسی کبھی کڑیاں نہ پڑی تھیں
رہتی پہ کٹے ہاتھوں کا پشتارہ ہوا تھا
ہر پارۂ چار آئنہ صد پارہ ہوا تھا
ٹکڑے ہیں کمانیں قدر انداز کریں کیا
آفت کا نشانہ ہیں فسوں ساز کریں کیا
بے تیر ہے ترکش کا دہن، باز کریں کیا
اُڑ جائیں پرِ تیر تو پرواز کریں کیا
چلّے بھی تو گوشوں کے ساتھ نہیں ہیں
جس پاس کماں رہ گئی ہے ہاتھ نہیں ہیں
زرہیں جو کٹیں موت کے قابو میں بس آئے
جب دام سے چھوٹے تو میانِ قفس آئے
چو رنگ تھے جو راس و چپ و پیش و پس آئے
وہ بیس ہوئے تیغ کے نیچے جو دس آئے
نہ غول نہ مجمع نہ پرا تھا نہ وہ صف تھی
تھی ایک ہی بجلی پہ چمک چار طرف تھی
رحم ایک جگہ ہے تو عتاب ایک جگہ ہے
اک جا ہے ظفر، فتح کا باب ایک جگہ ہے
برق ایک جگہ ہے تو سحاب ایک جگہ ہے
حیرت کی جا ہے آتش و آب ایک جگہ ہے
وہ نار جسے خوں کی روانی نہ بجھائے
یہ آگ وہی ہے جسے پانی نہ بجھائے
جس فرق پہ یہ صاعقہ کردار گری ہے
سر تن سے گرا، ہاتھ سے تلوار گری ہے
اک بار کہیں برق شرر بار گری ہے
سَو بار یہ اٹھی ہے تو سو بار گری ہے
ٹالے یہ بلا سر سے جو کوئی تو قدم لیں
اتنی ہمیں مہلت نہیں ملتی کہ دم لیں
مولا سا کوئی سائف و سیّاف نہیں ہے
صف کونسی ایسی ہے کہ جو صاف نہیں ہے
دنیا میں عدالت نہیں انصاف نہیں ہے
ایسا تو کوئی قاف سے تا قاف نہیں ہے
دکھلا دیے جوہر تھے جو خالق کے ولی کے
نے قبل لڑا کوئی نہ یوں بعد علی کے
اللہ ری لڑائی میں سبک تازیٔ شبدیز
شہباز بھی تھے قائلِ جانبازیٔ شبدیز
وہ سینہ وہ گردن وہ سر افرازیٔ شبدیز
وہ آنکھ وہ چہرہ وہ خوش اندازیٔ شبدیز
جس طرح فرو رہتی ہے مایوس کی گردن
گردن سے یونہی جھکتی ہے طاؤس کی گردن
کلغی کا وہ بالا ہوا پایا اسی سر پر
بس عقدِ ثریّا نظر آیا اسی سر پر
تاروں کو مہِ نو نے سجایا اسی سر پر
لا ریب ہما ڈالے تھا سایا اسی سر پر
ساری ہے عناصر میں ہوا خاک نہیں ہے
شہباز نے پر کھولے ہیں فتراک نہیں ہے
آہو جو کہیں اس کو تو آہو ہے چکارا
ساتھ اسکے ہما کو نہیں پرواز کا یارا
وہ نعل وہ ہر کیل وہ سم معرکہ آرا
پتلی وہ پری سمجھے جسے آنکھ کا تارا
دیکھی ہے سموں میں کسی گھوڑے کے یہ ضَو بھی
یک جا ہیں ستارے بھی قمر بھی مہِ نو بھی
نعل اور سُم ایسے کبھی پیارے نہیں دیکھے
کیلوں سے چمکتے ہوئے تارے نہیں دیکھے
آہو نہیں دیکھے کہ چکارے نہیں دیکھے
اب تک یہ خوش اسلوب طرارے نہیں دیکھے
دیکھو اسے جب فرش سے جائے یہ سما پر
دیکھا نہ ہو گر تختِ سلیماں کو ہوا پر
اللہ ری جانداریٔ شبدیز وغا میں
تلوار کے چلنے سے بھی تھا تیز وغا میں
دل کا تھا اشارا اسے مہمیز وغا میں
ہر فعل تھا شمشیر شرر ریز وغا میں
ہاتھ اس کے جدھر آئے اجل پا گئی اس کو
اک ٹاپ پڑی جس پہ زمیں کھا گئی اس کو
تلوار کے مانند نہ بھرتا تھا دم اس کا
گردن کے مہِ نو سے وہ منکے وہ خم اس کا
دریا سے روانی میں فزوں تر قدم اس کا
کس طرح لکھے وصف کمیتِ اس کا
دوڑاؤں کہاں تک فرسِ ذہن رسا کو
کہہ دو کسی شاعر نے جو باندھا ہو ہوا کو
غُل تھا کہ چھلاوے میں یہ چھل بل نہیں دیکھی
پھرتی ہوئی یوں آج تلک کل نہیں دیکھی
باریک یہ جلد اور یہ ہیکل نہیں دیکھی
ایسی تو کبھی خواب میں مخمل نہیں دیکھی
نازک ہے کہ مہمیز کی طاقت نہیں رکھتا
ابریشمِ چینی یہ لطافت نہیں رکھتا
جو رگ ہے عوض خوں کے حرارت سے بھری ہے
جلدی جو ہے سب جلد بھی جودت سے بھری ہے
شعلے کی طرح طبع شرارت سے بھری ہے
اُبلی ہوئی ہر آنکھ شجاعت سے بھری ہے
اڑ جاتا ہے برچھوں وہ محل جست کا پا کر
تلواروں کے نیچے سے نکل جاتا ہے آ کر
چلنے میں پری کیا ہے نسیمِ سحری کیا
جس جا پہ پھرے برق کی واں جلوہ گری کیا
طاؤس ہے کیا نسر ہے کیا کبک دری کیا
یاں اوجِ سعادت کا ہما کیا ہے پری کیا
راکب جو ذرا چھیڑ دے اس برقِ شیَم کو
سائے کو نہ وہ پائے نہ یہ گردِ قدم کو
اُس صف کو اُلٹ کر اِدھر آیا اُدھر آیا
فوجوں سے پلٹ کر اِدھر آیا اُدھر آیا
جوں شیر جھپٹ کر اِدھر آیا اُدھر آیا
بجلی سا سمٹ کر اِدھر آیا اُدھر آیا
تھمتا ہے چھلاوہ بھی مگر یہ نہیں تھمتا
طائر بھی ٹھہر جاتا ہے پر یہ نہیں تھمتا
پامال نہ ہوں پھول جو گلزار پہ دوڑے
سم تر نہ ہوں گر قلزمِ زخّار پہ دوڑے
اس طرح رگِ ابرِ گہر بار پہ دوڑے
جس طرح کہ نغمہ کی صدا تار پہ دوڑے
اغراق ہے یاں کچھ نہ تعلّی شُعَرا کی
کافی ہے یہ تعریف کہ قدرت ہے خدا کی
اک ظالمِ شامی سپہِ شُوم سے نکلا
مکّار بڑے ٹھاٹھ بڑی دھوم سے نکلا
لڑنے کے لیے خاصۂ قیّوم سے نکلا
کشتوں کا عوض لینے کو معصوم سے نکلا
دو بھائی بھی اس کے شہِ والا سے لڑے تھے
سر اُن کے کہیں، جسم کہیں رن میں پڑے تھے
غصّہ سے غضب سُرخ تھیں خونخوار کی آنکھیں
بجلی سے جھپکتی تھیں نہ غدّار کی آنکھیں
دیکھی جو نہ تھیں حیدرِ کرّار کی آنکھیں
مستِ مےِ نخوت تھیں جفا کار کی آنکھیں
سر کاٹیے سردار کا سودا تھا یہ سر میں
غّرہ کہ تہمتن نہ سماتا تھا نظر میں
سر طبلکِ معکوس، جبیں حد سے فزوں تنگ
غدار و سلح شور و جفا پیشہ و سرہنگ
کہنے کو بشر پر قد و قامت کا نیا ڈھنگ
حیراں شبِ ظلمات وہ تھی تیرگیِ رنگ
پہلے سے یہ کالا تھا منھ اس دشمنِ رب کا
بن جائے توا عکس سے آئینہ حلب کا
لال آنکھیں وہ ظالم کی وہ منھ قیر سے کالا
شب ایک طرف دن کو ڈرے دیکھنے والا
قد دیو کی قامت سے بلندی میں دوبالا
دانتوں کی کبودی سے دہن مار کا چھالا
شیر اس کی صدا سن کے لرز جاتے تھے بن میں
فاسد تھی ہوا رن کی یہ بد بُو تھی دہن میں
وہ ڈھال کہ جو سینۂ رستم کو چھپا لے
تلوار کا منہ ایسا کہ فولاد کو کھا لے
نیزہ وہ کہ مرحب کو جو مرکب سے اٹھا لے
گرز ایسا کہ عنتر جسے مشکل سے سنبھالے
کج طبع کہ سر جائے پہ کینے کو نہ چھوڑے
خنجر وہ کہ سالم کسی سینے کو نہ چھوڑے
ترکش کا دہن مرگِ مفاجات کا مسکن
وہ سخت کماں نرم جہاں حلقۂ آہن
چار آئینہ کو تیر بنا دیتے تھے جوشن
چلّہ وہ جسے دیکھ کہ تھرّائے تہمتن
کچھ دیو سے بھی زور زیادہ تھا شقی کا
دو ٹانک کا حلقہ تو کبادہ تھا شقی کا
سیدھا ہوا گر قوس کے قبضہ کو پکڑ کے
روحِ تنِ رستم قفسِ جاں میں پھڑکے
چلّے کو جو کھینچے وہ جفا کار اکڑ کے
گرجے وہ کہ بجلی بھی نہ اس قہر سے کڑکے
تاکیں جو نشانہ کو سلح شور کی آنکھیں
ہے کور تو کیا کور کرے مور کی آنکھیں
حضرت نے کہا اپنے ارادے کی خبر دے
آنکھوں سے اٹھا نشۂ پندار کے پردے
بو جاتا ہے اس تخم کو دانا جو ثمر دے
غرّہ یہ ترا تجھ کو کہیں پست نہ کر دے
دنیا میں نہیں کچھ عملِ نیک سے بہتر
پیدا کیا اللہ نے اک ایک سے بہتر
کیوں عمرو کو تھا اپنے تن و توش پہ کیا ناز
مرحب کو یہ دعویٰ تھا کہ مجھ سا نہیں جانباز
تھا ناریوں میں عنترِ مغرور بھی ممتاز
تینوں تھے شقی بندۂ حرص و ہوس و آز
ایک ایک کا تن سر سے اتارا ہے علی نے
تڑپے بھی نہیں یوں انہیں مارا ہے علی نے
وہ کون سی تھی جنگ جو سر کی نہیں ہم نے
کب رن کی زمیں خون سے تر کی نہیں ہم نے
جز خیر کسی سے کبھی شر کی نہیں ہم نے
خواہش کی نظر جانبِ زر کی نہیں ہم نے
بے مانگے ہمیں دیتا ہے مختار ہمارا
مشہور ہے کونین میں ایثار ہمارا
گہ ماہِ ہلالی ہے کبھی موسم دَے ہے
اسباب و زر و مال بھلا کون سی شے ہے
تم کھوتے ہو دنیا کے لیے دین کو ہے ہے
مقلوب کرو زر کو تو وہ ماحز مے ہے
اس نشّہ سے کارہ ہے وہ کچھ بھی جسے حس ہے
زائل جو کرے عقلِ بشر کو وہ نجس ہے
اژدر تھا وہ حیدر نے جسے مہد میں چیرا
بیٹا میں علی کا ہوں، نبی کا ہوں نبیرا
فردوسِ معلّیٰ میں ہمارا ہے ذخیرا
بخل اوروں کا شیوہ ہے، سخا اپنا وطیرا
ہے کون سا قطرہ جسے دریا نہیں کرتے
زر کیا ہے کہ سر دینے میں صرفہ نہیں کرتے
بھر دیتے ہیں کشکول فقیروں کے مع ذیل
دریا ہے کہیں ہاتھ ہمارا تو کہیں سیل
ہے کُفّۂ میزان اسی ہاتھ کے دو کیل
یہ نقرہ و زر دستِ ہنر مند کے ہیں میل
فاقوں میں بھی فیضِ کفِ عالی نہیں جاتا
سائل کبھی دروازہ سے خالی نہیں جاتا
لڑتا ہے تو بڑھ عصر کا ہنگام قریں ہے
اب سجدۂ معبود کی مشتاق جبیں ہے
لشکر ہے ترے ساتھ اِدھر کوئی نہیں ہے
عبّاس سا غازی ہے نہ اکبر سا حَسیں ہے
فاقہ ہے جدا، ضعف جدا، پیاس جدا ہے
اب میں ہوں یہ تلوار ہے اور سر بہ خدا ہے
یہ سنتے ہی سفّاک نے بھالے کو سنبھالا
تلوار کو چمکا کے بڑھے سیّدِ والا
آ پہنچا تھا سینہ کے قریں ظلم کا بھالا
فرزندِ یداللہ نے عجب ہاتھ نکالا
کیا جانیے بجلی تھی کہ تیغِ دو زباں تھی
نہ ہاتھ میں بھالا تھا نہ بھالے میں سناں تھی
حضرت نے کہا، ہول سے دم اس کا جو پُھولا
کافی تھا ترے قتل کو اک تیغ کا ہُولا
سنتے تھے کہ نیزے میں تجھے ہے یدِ طُولا
جو بند کے تھے یاد انھیں خوف سے بُھولا
نے ہاتھ میں طاقت تھی ترے اور نہ تکاں تھی
نیزہ تھا کہ تنکا تھا، قلم تھا کہ سناں تھی
جھنجھلا کے کہا اس نے کہ یا شاہِ سر افراز
سرہنگ نہ مجھ سا ہے نہ سرکش نہ سر انداز
طاقت پہ مجھے فخر تھا نیزے پہ مجھے ناز
کیا جانیے یہ سحر تھا یا آپ کا اعجاز
چمکی تھی کہاں تیغ کہاں چل کے پھری تھی
مجھ پر کبھی اس طرح سے بجلی نہ گری تھی
حضرت نے کہا سحر نہ جان اس کو ستمگر
اعجاز دکھائیں تو نہ تُو ہو نہ یہ لشکر
ہیں سیفِ خدا کوئی ہمارا نہیں ہمسر
اس ہاتھ میں شمشیرِ دو دستی کے ہیں جوہر
ہر وقت یہاں وردِ زباں نادِ علی ہے
بجلی نہیں یہ ضرب بھی ایجادِ علی ہے
قبضہ میں کماں لے کے یہ بد کیش پکارا
تیر اس کے دلِ کوہ کو کرتے ہیں دو پارا
حضرت نے کہا تیغ کا کافی ہے اشارا
کھل جائے گی یہ خیرہ سری او ستم آرا
پیکاں کی طرح غنچۂ خاطر نہ کھلے گا
بھاگے گا تو گوشہ بھی نہ چھپنے کو ملے گا
چلّہ میں اُدھر تیر جفا کار نے جوڑا
کاوے پہ اِدھر ڈال دیا آپ نے گھوڑا
چلّہ کو ادھر کھینچ کے سفّاک نے چھوڑا
گلگوں کو اڑا کر شہِ ذیجاہ نے موڑا
باطل ہوا سرکش کو کماں پر جو گماں تھا
ناوک تھا نہ چلّہ تھا نہ ترکش کا نشاں تھا
حضرت نے کہا شرم سے نہوڑائے ہے کیوں سر
حلقہ ابھی ثابت ہے اٹھا دوسرے سر پر
حلقہ کو پٹک کر یہ پکارا وہ ستم گر
اب گرز ہے اور آپ ہیں یا سبطِ پیمبر
بگڑی ہے وغا، جان پہ اس وقت بنی ہے
بعد اس کے تو پھر معرکۂ تیغ زنی ہے
ظالم نے ادھر گرزِ گراں سر کو اٹھایا
ثابت یہ ہوا دیو نے لنگر کو اٹھایا
نے ہاتھ میں لی تیغ نہ جمدھر کو اٹھایا
مولا نے فقط تیغِ دو پیکر کو اٹھایا
اڑتے ہوئے دیکھا جو ہوا میں شرروں کو
سمٹا لیا تھّرا کے فرشتوں نے پروں کو
شپّیر قریب آ گئے گھوڑے کو ڈپٹ کے
شبدیز اِدھر سے اُدھر آیا جو سمٹ کے
ہر چند بچاتا رہا ضربت کو وہ ہٹ کے
پرکالۂ گرز اڑنے لگے تیغ سے کٹ کے
باقی تھا جو کچھ گرز وہ دو ہو گیا آخر
قبضہ جو اٹھا تھا وہ فرو ہو گیا آخر
مرثیہ نمبر ۲
مطلعِ سوم(اول)
اے سیفِ یداللہ صفائی مجھے دکھلا
خیبر میں جو گزری وہ لڑائی مجھے دکھلا
دریائے شجاعت کی ترائی مجھے دکھلا
اے دستِ خدا عقدہ کشائی مجھے دکھلا
ہاں فتح کا اور تیرا سدا ساتھ رہا ہے
ہر جنگ میں میدان ترے ہاتھ رہا ہے
یا شیرِ خدا سیفِ دو دم دیجیے مجھ کو
یا شاہِ نجف طبل و علم دیجیے مجھ کو
سر بر نہ ہو لشکر وہ حشم دیجیے مجھ کو
میداں جو نہ چھوڑے وہ قلم دیجیے مجھ کو
سب فوج کے چہرے ابھی کٹتے نظر آئیں
نیزے سپۂ شام کے ہٹتے نظر آئیں
کوثر کا بھرا جام پلا دیجیے مولا
بالائے ولا اور ولا دیجیے مولا
پھر غنچۂ خاطر کو کِھلا دیجیے مولا
شمشیرِ فصاحت کو جِلا دیجیے مولا
میں وہ نہیں یا خلق میں انصاف نہیں ہے
مدّت سے جو چپ ہوں تو زباں صاف نہیں ہے
گو پیر ہوں پر زورِ جوانی ہے ابھی تک
سوکھے ہوئے دریا میں روانی ہے ابھی تک
دنداں نہیں پر تیز زبانی ہے ابھی تک
قبضے میں وہ تیغِ صَفَہانی ہے ابھی تک
جوہر ہیں وہی، باڑھ وہی، گھاٹ وہی ہے
کہنہ تو ہے شمشیر مگر کاٹ وہی ہے
اس گھر کے وغا کرنے کا سب ڈھنگ دکھا دے
جس طرح علی لڑتے تھے وہ جنگ دکھا دے
تلوار کی بجلی کو تہِ تنگ دکھا دے
راکب کو بھی، مرکب کو بھی، چورنگ دکھا دے
ٹھہرے نہ کہیں زیں سے جو مرکوب کے نکلے
دو تین وجب خاک میں پھل ڈوب کے نکلے
لو غور سے چلتی ہوئی صمصام کو دیکھو
بے رونقیِ ظالمِ ناکام کو دیکھو
تیغ و سپرِ شاہِ خوش انجام کو دیکھو
اعجاز ہے، اک جا سحر و شام کو دیکھو
قرباں رُخِ تابانِ شہِ جن و بشر کے
خورشیدِ مبیں بیچ میں ہے شام و سحر کے
منہ سرخ ہے سب خاطرِ اقدس ہے جو برہم
رخساروں پر بل کھا رہے ہیں گیسوئے پُر خم
ابرو میں چلتی ہوئی تلوار کا عالم
پتلی کا یہ رعب کہ تھّراتے ہیں ضیغم
لو دیکھ لو اس صاحبِ شمشیر کی آنکھیں
غصّے میں نہ دیکھی ہوں اگر شیر کی آنکھیں
دبتا ہے سرکتا ہے سمٹتا ہے وہ ظالم
گھوڑے کے قریب آ کے پلٹتا ہے وہ ظالم
بڑھ آتے ہیں جب آپ تو ہٹتا ہے وہ ظالم
رد ہوتا ہے جب وار تو کٹتا ہے وہ ظالم
شمشیر کلیجے پہ چُھری پھیرے ہوئے ہے
بھاگے تو کدھر جائے اجل گھیرے ہوئے ہے
غل تھا کبھی دیکھی نہیں رد و بدل ایسی
چلتی نہیں تلوار کبھی بر محل ایسی
اب ہوگی زمانے میں نہ جنگ و جدل ایسی
ہاتھ ایسا زبردست تو برقِ اجل ایسی
بل جسم میں، کَس ہاتھ میں، تلوار میں جَس ہے
سو سر کا وہ دشمن ہو تو اِک وار اسے بس ہے
جب چلتی ہے سَن سے شرر اڑتے ہیں ہوا میں
ذرّے بھی اِدھر سے ادھر اڑتے ہیں ہوا میں
کاٹے ہوئے تیروں کے پر اڑتے ہیں ہوا میں
پرکالۂ قرصِ سپر اڑتے ہیں ہوا میں
کچھ شبہ و تشکیک غلط اس پہ نہیں ہے
اس ڈھال کے سو ٹکڑے ہیں، خط اس پہ نہیں ہے
تلوار چمک کر ادھر آئی جو ادھر سے
برسی تو زرہ گر گئی خود اڑ گیا سر سے
چہرے سے چھلم کھل گئی، زنجیر کمر سے
پہلو سے سپر میں تھی کلائی پہ سپر سے
دنیا سے اسے رشتۂ تقدیر نے کھویا
دستانوں کو بھی ہاتھ سے بے پیر نے کھویا
مولا کی طبیعت جو ذرا جوش پر آئی
تلوار اجل بن کے زرہ پوش پر آئی
گہ فرق پہ چمکی تو کبھی دوش پر آئی
آفت کمر و صدر و تن و توش پر آئی
جانے کی جہاں سے خبر آتی ہے کسی کو
گرتی ہوئی بجلی نظر آتی ہے کسی کو
سر پر جو پڑی تیغ، جبیں سے اتر آئی
کیا ذکرِ جبیں، صدرِ لعیں سے اتر آئی
بڑھ کر کمرِ دشمنِ دیں سے اتر آئی
کیا بندِ کمر، خانۂ زیں سے اتر آئی
خوں بھی نہ تنِ توسنِ چالاک سے نکلا
بجلی سا چمکتا ہوا پھل خاک سے نکلا
تکبیر کا نعرہ جو کیا آپ نے تن کے
صاف آئی صدا بیچ سے یہ چرخِ کہن کے
اے لختِ جگر بادشہِ قلعہ شکن کے
لڑتے ہیں یونہیں فوج سے جو شیر ہیں رن کے
تُو صبر میں ایّوبِ خوش انجام ہے شبّیر
اب سجدے میں جھک عصر کا ہنگام ہے شبّیر
سن کر یہ صدا آپ نے تلوار کو روکا
تلوار کو کیا برقِ شرر بار کو روکا
بے چین تھا پر اسپِ خوش اطوار کو روکا
گردوں کی طرف دیکھ کے رہوار کو روکا
فرمایا کہ جینے سے دل اب تنگ ہے گھوڑے
تھم جا کہ بس اب خاتمۂ جنگ ہے گھوڑے
اب سینے کو وقفِ تبر و تیر کریں گے
اب طاعتِ معبود کی تدبیر کریں گے
اب عصر کی نیّت میں نہ تاخیر کریں گے
اب سجدۂ باری تہِ شمشیر کریں گے
ایذا ہو کہ دکھ سہل ہے سب راہِ خدا میں
سر دے کے بس اب جائیں گے درگاہِ خدا میں
عاشق کو نہیں دُوریِ معشوق گوارا
سر جلد کٹاؤ یہ ہے خالق کا اشارا
مشتاقِ اجل ہے اسداللہ کا پیارا
اب خنجرِ بے آب ہے اور حلق ہمارا
طالب ہوں رضا مندیِ ربّ ِ دو سرا کا
صد شکر کہ وقت آ گیا وعدے کی وفا کا
یہ کہہ کر رکھی میان میں شبیر نے تلوار
حکمِ شہ والا سے کھڑا ہو گیا رہوار
بجلی جو تھمی ہونے لگی تیروں کی بوچھار
دو لاکھ کے نرغے میں گھرے سید ابرار
مجروح ہوا صدر بھی، زخمی ہوا سر بھی
چلنے لگیں تیغیں بھی سنانیں بھی تبر بھی
یہ سنتے ہی مولا نے رکھی میان میں تلوار
حربے لیے پھر رن سے بڑھے فوج کے سردار
ٹوٹے ہوئے پھر رن میں پرے جم گئے اک بار
اترے ہوئے چلّوں کو چڑھانے لگے خونخوار
تھا شور کہ ہاں نیزوں سے پیاسے کو گرا دو
گھوڑے سے محمّد کے نواسے کو گرا دو
چلّے سے شقی تیر لگانے کو پھر آئے
سیّد کا لہو تن سے بہانے کو پھر آئے
زہرا و محمّد کے رلانے کو پھر آئے
کفّارِ عرب کعبے کے ڈھانے کو پھر آئے
خوں بہنے سے بے تاب و تواں ہو گئے شپیر
تلواروں کی کثرت سے نہاں ہو گئے شپیر
دو لاکھ عدہ فاطمہ زہرا کا پسر ایک
فریاد کہ سو خنجرِ خونخوار ہیں سر ایک
نوکوں پہ تو نوکیں ہیں سنانوں کی، جگر ایک
بیداد کو کانٹے ہیں ہزاروں، گلِ تر ایک
کثرت ہے کہ اک زخم سے اک زخم ملا ہے
لالے کا چمن جسمِ مبارک پہ کھلا ہے
تیروں سے سَبُک ہے جو صدرِ شہِ صفدر
پُر خوں وہ قبا، صاف ہے تابوت کی چادر
گرتا ہے جو پیشانی کا خوں ریش سے بہہ کر
چلّو میں اسے لیتے ہیں اور ملتے ہیں منہ پر
فریاد ہے یہ لب پہ امامِ دو سرا کے
جاؤں گا یونہی سامنے محبوبِ خدا کے
طالب ہیں کہ پانی تو پلاؤ مجھے یارو
کہتے ہیں لعیں، ساقیِ کوثر کو پکارو
فرماتے ہیں خیر اب مجھے نیزے تو نہ مارو
وہ کہتے ہیں، ہے حکم کہ سر تن سے اتارو
آفت پہ جو آفت تو ستم ہوں گے ستم پر
پامال ہو لاشہ، یہی تاکید ہے ہم پر
ناگہ بنِ اشعث کی لگی تیغ جبیں پر
تھّرا گیا گھوڑے پہ جگر گوشۂ حیدر
قربوس پہ جھک کر جو اٹھے سبطِ پیمبر
اک بار لگے حلق پہ دو تیر برابر
ناموسِ نبی گھر سے کُھلے سر نکل آئے
دو تیر گلا توڑ کے باھر نکل آئے
مرثیہ نمبر ۲
مطلعِ سوم(دوم)
زھرا کی صدا ہے مرے پیارے کو سنبھالو
گرتے ہوئے اس عرش کے تارے کو سنبھالو
یا شیرِ خدا پیاس کے مارے کو سنبھالو
ہاتھوں پہ مرے راج دلارے کو سنبھالو
نرغے سے یہ مظلوم نکلنے نہیں پاتا
بچّہ مرا گھوڑے پہ سنبھلنے نہیں پاتا
گھوڑے سے گرا جب وہ دو عالم کا خُو زادہ
مرکب سے اتر کر ہوا تب شمر پیادہ
ظالم نے کیا بے اَدَبی کا جو ارادہ
زخموں میں ہوا سینے کے درد اور زیادہ
رکھنے جو لگا حلق پہ خنجر شہِ دیں کے
دو ہاتھ نظر آئے گلے پر شہِ دیں کے
پوچھا ستم ایجاد نے تب غیظ میں آ کے
یہ کون ہے پہلو میں امامِ دو سرا کے
فرمانے لگے سبطِ نبی اشک بہا کے
گردن میں مری، ہاتھ ہیں محبوبِ خدا کے
جھک کر مری گردن پہ گلا دھرتے ہیں نانا
تلوار ہٹا پیار مجھے کرتے ہیں نانا
ہاں اہلِ عزا رؤو اب آتی ہے قیامت
لازم ہے کرو کچھ تو ادا حقِ محبت
نزدیک ہے سر تن سے جدا ہونے کی ساعت
حضرت کو جھکے دیکھتے ہیں اہلِ شقاوت
دنیا سے بس اب کوچ ہے مولا کا تمھارے
بے جرم گلا کٹتا ہے آقا کا تمھارے
شارع کا یہ ہے حکم جو ہے مومنِ دیندار
دنیا میں وہ مجرم کہ ہو قتل اس کا سزاوار
ارشادِ نبی ہے اسے دو اور نہ آزار
مہلت کا ہو طالب تو مناسب نہیں انکار
مارو نہ تبر سے اسے نہ گرزِ گراں سے
سینے کو نہ مجروح کرو تیر و سناں سے
گر بھائی بہن کے ہو وہ دیدار کا خواہاں
دکھلا دو بلا کر تو کرو پھر اسے بے جاں
سن لو جو وصیّت کرے وہ مردِ مسلماں
گھر اس کا پسِ مرگ نہ لوٹو کسی عنواں
پڑھنے دو نماز اس کو جو وقت آئے ادا کا
نرمی تمھیں لازم ہے کہ بندہ ہے خدا کا
پیاسا ہو تو پانی اسے منگوا کے پلاؤ
ہر عضو سے خون اس کا زمیں پر نہ بہاؤ
سو جائے تو ہر گز بہ خشونت نہ جگاؤ
اک ضرب سوا اور اسے ضربت نہ لگاؤ
مر جائے تو مرقد میں دھرو لاش کو اس کی
گھوڑوں سے نہ پامال کرو لاش کو اس کی
فریاد ہے شبّیر پہ کچھ رحم نہ آیا
سرتاجِ فلک احمدِ مختار کا جایا
بے جرم و گنہ پر نہ تَرَس ایک نے کھایا
مرتے ہوئے قطرہ بھی نہ پانی کا پلایا
مانگا کیے خود خاک پہ سر دھرنے کی مہلت
سیّد کو نہ دی سجدۂ رب کرنے کی مہلت
دیکھا دمِ آخر نہ بہن کو نہ پسر کو
ہلنے نہ دیا شمر نے زھرا کے قمر کو
ناموسِ نبی سامنے پیٹا کیے سر کو
کن سختیوں سے ذبح کیا تشنہ جگر کو
دَب دَب کے لہو نور کے آئینے سے نکلا
دم شمر کے زانو کے تلے سینے سے نکلا
جب کٹ گیا حلقِ پسرِ حیدرِ کرّار
خوش ہو کے پکارا پسر سعد جفا کار
اتریں ابھی گھوڑوں سے نہ سب فوج کے اسوار
پیدل بھی ابھی اپنی کمر کھولیں نہ زنہار
قتلِ شہِ بے کس کا صلا دینا ہے مجھ کو
اک کام ابھی اور ہے وہ لینا ہے مجھ کو
جو لوگ ادھر ہیں قدم آگے نہ بڑھائیں
جو آگے ہیں غول اپنے وہ اس سمت کو لائیں
جو میسرہ پر ہیں وہ سوئے میمنہ جائیں
اور میمنہ والے طرَفِ میسرہ آئیں
سب فوج پہ جب یہ ہوئی تاکید شقی کی
پامال ہوئی لاش حسین ابنِ علی کی
بشّاش چلا شمر لعیں جانبِ لشکر
اک ہاتھ میں سر شاہ کا اور ایک میں خنجر
پُر نور تھا چہرہ صفَتِ مہرِ مُنوّر
خوں حلقِ بریدہ سے ٹپکتا تھا زمیں پر
رخساروں پہ زخمِ تبر و تیر پڑے تھے
ماتھے پہ اسی طرح کئی تیر گڑے تھے
عمّامہ نہ تھا فرق پہ، عریاں تھا سرِ پاک
اور دونوں طرف گیسؤوں میں جم گئی تھی خاک
پُر آب تھی چشمِ پسرِ سیّدِ لولاک
ابروئے مُطہّر کئی جا تیغوں سے تھے چاک
خُوں جم گیا تھا ریشِ امامِ دو سرا میں
سوکھے ہوئے لب ہل رہے تھے ذکرِ خدا میں
بجنے لگے باجے ظفر و فتح کے جس دم
آپس میں گلے ملنے لگے فوج کے اظلم
خیمے سے نکل آئی ادھر زینبِ پُر غم
فریاد جو کی ہلنے لگے عرشِ مُعظّم
عُریاں سرِ زھرا و پیمبر نظر آیا
آگے جو بڑھی لاشۂ بے سر نظر آیا
سر پیٹ کے چلّائی کہ ہے ہے مرا بھائی
جیتی رہی میں، لُٹ گئی امّاں کی کمائی
بھیّا ہوئی کس وقت سر و تن میں جدائی
ناشاد بہن آپ تک آنے بھی نہ پائی
کیا قہر ہے وقفِ الم و یاس نہ ہوں میں
کٹ جائے گلا آپ کا اور پاس نہ ہوں میں
کیا گزری تہہِ تیغِ جفا ہائے برادر
یہ ذبح کی ایذا و بلا ہائے برادر
تنہائی میں صدمہ یہ سہا ہائے برادر
دی تم نے بہن کو نہ صدا ہائے برادر
نازک یہ گلا کون سے خونخوار نے کاٹا
آئی یہ صدا شمرِ ستم گار نے کاٹا
پُوچھا کہ دیا تھا دمِ آخر تمھیں پانی
فرمایا کہ اب تک نہ بجھی تشنہ دہانی
چلّائی وہ ناشاد بصد اشک فشانی
تھا پاس کوئی اے اسد اللہ کے جانی
تنہا ستم ایجادوں کے حلقے میں پڑے تھے
فرمایا کہ نانا مرے پہلو میں کھڑے تھے
بے چین مری روح ہے آنسو نہ بہاؤ
سر ننگے خدا کے لیے بلوے میں نہ آؤ
گھر لُوٹنے فوج آتی ہے اب خیمے میں جاؤ
گوشہ کوئی مل جائے تو بچّوں کو چھپاؤ
بیدردوں کے ہاتھوں سے نہ دکھ پائے سکینہ
ڈر ہے نہ کہیں سہم کے مر جائے سکینہ
کیوں چرخ یہ حال اس کا جو ہو خلق کا والی
اک چاند پہ امڈی یہ گھٹا ظلم کی کالی
وہ ناوکِ دلدوز، وہ جسمِ شہِ عالی
حلقہ کوئی جوشن کا نہیں تیر سے خالی
طاری ہے غشی، دل کو سنبھالا نہیں جاتا
اک تیر بھی سینے سے نکالا نہیں جاتا
مظلوم مسافر پہ یہ بیداد صد افسوس
اک جان ہزاروں ستم ایجاد صد افسوس
ٹوٹے ہوئے ہیں پیاسے پہ جلّاد صد افسوس
شہ کی کوئی سنتا نہیں فریاد صد افسوس
جز نیزہ و تیغ و تبر آتا نہیں کوئی
فرزندِ محمد کو بچاتا نہیں کوئی
بے حال ہیں رہوار پہ آقائے خوش اوقات
بند آنکھیں ہیں، خوں بہتا ہے، کی جاتی نہیں بات
سر پیٹتے ہیں اہلِ حرم لٹتے ہیں سادات
حامی نہیں کوئی، کوئی پرساں نہیں، ہیہات
حالِ شہ، آوارہ وطن دیکھ رہی ہے
تلواروں میں بھائی کو بہن دیکھ رہی ہے
لو خاک پہ گھوڑے سے گرے سبطِ پیمبر
تھرّائی زمیں ہلنے لگا عرشِ منوّر
سر پیٹتی مقتل کو چلی زینبِ مضطر
یاں شمر ستم گار بڑھا کھینچ کے خنجر
سر ننگے نجف سے شہِ مرداں نکل آئے
مرقد سے نبی چاک گریباں نکل آئے
چلّائے ملائک کہ قیامت ہوئی برپا
گھبرا کے درختوں سے اُڑے طائرِ صحرا
آندھی ہوئی اک غرب کی جانب سے ہویدا
تھرّانے لگے کوہ، ابلنے لگے دریا
تیرہ ہوا دن، اُڑنے لگی خاک جہاں میں
غل، ہائے حسینا کا اٹھا کون و مکاں میں
اس حشر میں احمد کی نواسی کا یہ تھا حال
گرتی تھی کبھی، اٹھتی تھی گہ، کھولے ہوئے بال
چلّاتی تھی سر پیٹ کے اے فاطمہ کے لال
ہے ہے تمھیں تلواروں میں گھیرے ہیں بد افعال
کیا کیا مجھے صدمہ یہ جدائی نہیں دیتی
لاش آپ کی زینب کو دکھائی نہیں دیتی
بھیّا مجھے رستہ نہیں ملتا کدھر آؤں
کیونکر تمھیں جلّادوں کے پنجہ سے چھڑاؤں
بھیّا تمھیں اس بھیڑ میں کس طرح سے پاؤں
سب قتل ہوئے بہرِ مدد کس کو بلاؤں
کیا ہے کہ جو بابا کی سواری نہیں آتی
بھیّا مجھے آواز تمھاری نہیں آتی
لی جن سے زمیں مول انھیں لوگوں کو بلاؤ
میں کس کو پکاروں کہ ترَس بھائی پہ کھاؤ
اے اہلِ زراعت تمھیں امداد کو آؤ
لٹتے ہوئے کنبے کو محمد کے بچاؤ
کام آؤ غریبوں کے تو احساں ہے تمھارا
یہ بے وطن اس دشت میں مہماں ہے تمھارا
شہ نے جو سنی زاریِ زینب تہِ خنجر
گھبرا کے صدا دی کہ ادھر آؤ نہ خواھر
کہا قہر ہے تم رن میں چلی آئیں کُھلے سر
مشغول ہے امّت کی دعا میں یہ برادر
مطلوب رضا مندیِ معبود ہے زینب
تنہا نہیں، اللہ تو موجود ہے زینب
کس طرح اٹھیں، سینۂ زخمی پہ ہے جلّاد
نانا مجھے گودی میں لیے کرتے ہیں فریاد
امّاں مرے پہلو میں ہیں اے زینبِ ناشاد
روتے ہیں مرے بھائی بھی یہ دیکھ کہ بیداد
گریاں و حزیں خاصۂ قیّوم کھڑے ہیں
بابا بھی سرھانے مرے مغموم کھڑے ہیں
یہ سنتے ہی دوڑی طرَفِ لاش وہ مضطر
چلّائی کہ ہمشیر بھی آتی ہے برادر
لاشے پہ نہ پہنچی تھی کہ برپا ہوا محشر
دیکھا کے لیے جاتا ہے قاتل سرِ سرور
سب تیر اسی طرح سے سینہ میں گڑے ہیں
بے سر شہِ دیں خاک پہ مقتل میں پڑے ہیں
ہاں پیٹ کے سر روئیں وہ جو اہلِ عزا ہیں
یاں احمدِ مختار بھی سرگرمِ بکا ہیں
مقتل میں کُھلے سر حرَمِ شیرِ خدا ہیں
خاک اڑتی ہے، جنباں طبقِ ارض و سما ہیں
سر کٹ چکا لختِ دلِ زھرا و علی کا
اب لٹتا ہے ملبوسِ کہن سبطِ نبی کا
عمّامۂ پُر خوں لیے جاتا ہے کوئی آہ
بھاگا ہے کوئی لے کے عبائے شہِ ذی جاہ
ہاتھوں سے قبا کھینچ رہا ہے کوئی گمراہ
عُریاں ہے زمیں پر تنِ فرزندِ یدُاللہ
اب لشکرِ کیں لاش کو پامال کرے گا
بعد اس کے ستم ہاتھوں پہ جمّال کرے گا
خاموش انیس اب کہ نہیں طاقتِ تحریر
عالم جسے روتا ہے وہ مظلوم ہے شپّیر
خالق سے دعا مانگ کہ اے مالکِ تقدیر
دکھلا مجھے آنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر
محسوب ہوں زوّارِ امامِ دو سرا میں
مر جاؤں تو مدفن ہو جوارِ شُہَدا میں
(ختم.شدمرثیہ.نمر۲)
مرثیہ نمبر ۳
(یارب.عروسِ.فکرکوحُسن.وجمال.دے)
یا رب عروسِ فکر کو حُسن و جمال دے
مُلکِ سخنوری کو دُرِ بے مثال دے
رنگینیٔ کلام کو سحرِ حلال دے
آئے قمر کو رشک وہ اوجِ کمال دے
گُلکاریاں کروں جو مضامیں کے باغ میں
پھولوں کی بُو بہشت سے آئے دماغ میں
ہاں اے زباں روانیِ طبعِ رسا دکھا
دریائے فکر کے گُہَرِ بے بہا دکھا
اس معرکہ میں جوھرِ سیفِ خدا دکھا
تصویرِ رزمِ قاسمِ گلگوں قبا دکھا
شُہرت ریاضِ دہر میں ہو چار سُو مری
بلبل بھی سن کے وجد کرے گفتگو مری
مطلعِ.ثانی
جب رن میں زر فشاں وَرَقِ آسماں ہوا
پنہاں نظر سے حُسنِ رُخِ کہکشاں ہوا
ہر سُو فروغِ نُور سے روشن جہاں ہوا
اسلام کی سپاہ میں شورِ اذاں ہوا
رُو پوش ہو گیا مہِ تاباں حجاب سے
ذرّے نظر لڑانے لگے آفتاب سے
پردے سے آسماں کے جو طالع ہوئی سَحَر
مشغولِ ذکرِ حق ہوئے صحرا کے جانور
کوسوں سما تھا نور کا بالائے خشک و تر
سجدے میں جھک گئے تھے نہالانِ باروَر
جھونکے نسیمِ صبح کے بھی سرد سرد تھے
ذرّوں میں یہ چمک تھی کہ ہیرے بھی گرد تھے
ڈُوبا تھا اپنے رنگ میں ہر گُل جدا جدا
پُھولا تھا ہر طَرَف چَمَنِ قدرَتِ خدا
سبزہ وہ اس کچھار کا، صحرا کی وہ فضا
گویا زمرَّدیں تھا بیابانِ کربلا
تھا ہر طَرَف شَفَق کا گماں لالہ زار سے
جانیں لڑی ہوئی تھیں عروسِ بہار سے
جنّت پہ طعنہ زن چَمَنِ روزگار تھا
پھولوں کی ڈالیوں پہ بھی جوشِ بہار تھا
پر بلبلوں کو خندۂ گل ناگوار تھا
یعنی وہ شورِ قتلِ شہِ نامدار تھا
شبنم جو روئی غم میں شہِ دل ملول کے
موتی بھرے ہوئے تھے کٹوروں میں پھول کے
ظاہر ہوئی سَحَر کی سفیدی جو ایک بار
نکلے درِ خیام سے سلطانِ نامدار
ہمشکلِ مصطفیٰ نے اذاں دی بحالِ زار
باندھیں صفیں سبھوں نے بصد عزّ و افتخار
اس دم زباں پہ تھا یہ ہر اک دل ملول کی
یہ آخری نماز ہے سبطِ رسول کی
بے مثل تھی جماعتِ شاہِ فَلَک سریر
ہنس ہنس کے دیکھتا تھا جوانوں کو چرخِ پیر
کیونکر نہ ہوں وہ جرأت و ہمّت میں بے نظیر
پیرو تھے اسکے جس نے پیا فاطمہ کا شیر
ہر دم سُوئے امامِ غریباں نگاہ تھی
پیاسے تو تھے پہ یُوسُفِ زھرا کی چاہ تھی
وہ دبدبہ، وہ رعب و حَشَم، وہ شکوہ و شان
سوکھے لبوں پہ شکرِ خداوندِ دو جہان
ہر وقت بس اسی کا تصوّر، اسی کا دھیان
ہو جائیں ہم نثارِ شہنشاہِ انس و جان
آقا پہ تھا جو غم تو خوشی ناپدید تھی
الفت ہے اسکا نام کہ مرنے کی عید تھی
رضواں پکارتا تھا یہ جنّت میں بار بار
آؤ مجاہدو کہ سحر سے ہے انتظار
دیکھو یہ باغِ خلد یہ میوے یہ سبزہ زار
یہ حُلّۂ بہشت یہ کوثر یہ لالہ زار
حُبّ ِ حُسین ہے جو تمھاری سرشت میں
دیکھو دیے خدا نے یہ رتبے بہشت میں
حق نے عطا کئے ہیں تمھیں اسطرح کے گھر
جن میں جڑے ہیں لعل کہیں اور کہیں گُہَر
میوے وہ خوشگوار وہ پھولے پھلے شجر
چھایا ہوا وہ سایۂ طُوبیٰ اِدھر اُدھر
نہریں بھی لہریں لیتی ہیں کوثر کے ذوق میں
آنکھیں حباب دیر سے کھولے ہیں شوق میں
حُوروں میں غُل یہ ہے کہ وہ صفدر کب آئیں گے
مضطر ہے دل، حُسین کے یاور کب آئیں گے
پیاسے ہزبر جانبِ کوثر کب آئیں گے
جانیں لڑی ہوئی ہیں وہ گوہر کب آئیں گے
ہاتھوں میں ظرف سُرخ کہیں سبز فام ہیں
چھلکے ہوئے شرابِ طَہُورا کے جام ہیں
فارغ ہوئے نماز سے جب سبطِ مصطفیٰ
خالق سے ہاتھ اٹھا کے یہ کرنے لگے دعا
اے دستگیرِ بے کس و محتاجِ بے نوا
کٹ جائے آج خنجرِ برّاں سے یہ گلا
اترے یہ بارِ دوش تو راحت ہو چین ہو
ہاتھوں پہ سر دھرے ہوئے حاضر حُسین ہو
اعدا کے جو ستم ہیں وہ تجھ سے نہاں نہیں
راحت سے ایک دم کوئی تشنہ دہاں نہیں
صحرا میں شورِ قتل ہے گھر میں اماں نہیں
جاؤں کدھر یہ نرغۂ اعدا کہاں نہیں
ہے قحطِ آب فاطمہ زھرا کے لال پر
ٹکڑے جگر کے ہوتے ہیں بچوں کے حال پر
کیا منہ بشر سے وصف جو ہوئیں ادا ترے
غربت میں لطف عام ہیں صبح و مسا ترے
اشفاق ہیں پدر سے فزوں کبریا، ترے
بچّوں پہ کون رحم کرے گا سوا ترے
خوش ہوں پسر جو زیورِ آہن میں غرق ہو
رسّی میں ہو گلا پہ نہ ہمّت میں فرق ہو
یا رب جہاں میں آلِ پیمبر کو صبر دے
کلثوم کو، حُسین کی دختر کو صبر دے
چادر چھنے تو زینبِ بے پر کو صبر دے
ہر اک گھڑی میں عابدِ مضطر کو صبر دے
ہر حال میں تجھ ہی پہ ہے تکیہ فقیر کا
حافظ ہے تُو بلا میں یتیم و اسیر کا
صابر ہے ہر مہم میں رسولِ خدا کا لال
صدقے ہیں تیری راہ میں اطفالِ خورد سال
راضی ہوں میں اسیر ہو گر فاطمہ کی آل
کچھ غم نہیں کھلیں بھی جو سیدانیوں کے بال
زنداں میں بیٹیاں ہوں جنابِ بتول کی
لیکن رہا ہو نار سے امّت رسول کی
فارغ ہوئے دعا سے جو سلطانِ ذی وقار
اس وقت ہاتھ جوڑ کے بولے یہ جاں نثار
آتے ہیں تیر لشکرِ اعدا سے بار بار
اب اذنِ جنگ دیجیے یا شاہِ نامدار
مولا دلوں کو تاب نہیں اب خدا گواہ
گھیرے ہے چار سمت سے اعدا کی سب سپاہ
باجوں کا شور ہوتا ہے، ہلتی ہے رزم گاہ
بڑھ بڑھ کے مورچوں سے ڈراتے ہیں روسیاہ
گر حکم ہو تو فوجِ ستم سے وغا کریں
ایسا نہ ہو کہ بے اَدَبی اشقیا کریں
فوجِ گراں ادھر ہے تو ہو، کچھ نہیں ہے غم
سب باگیں پھیر لیں گے جو تیغیں ہوئیں عَلَم
کب تک سنیں کلامِ درشت ان کے دمبدم
کچھ انتہا بھی ظلم کی ہے یا شہِ اُمَم
مغرور و بے حیا سِپَہِ بے شعور ہے
مولا اب انکی چشم نمائی ضرور ہے
بولے یہ سن کے حضرتِ عبّاس نیک خُو
سنتے ہیں کچھ حضور دلیروں کی گفتگو
اللہ رے عزّ و شانِ جوانانِ ماہ رُو
دریا بہے گا آج لہو کا کنارِ جُو
لشکر پہ جا پڑیں گے ارادے یہ سب کے ہیں
چتوَن جو قہر کی ہے تو تیور غضب کے ہیں
ایک ایک سرفروش ہے ایک ایک جاں نثار
تکتے ہیں چشمِ غیظ سے اعدا کو بار بار
ڈر ہے گلوں پہ پھیر نہ لیں تیغِ آبدار
بہتر ہے اب کہ ان کو ملے حکمِ کارزار
دم بھر قرار شاق ہے دنیائے زشت میں
جلدی انہیں یہی ہے کہ پہنچیں بہشت میں
بولے بہا کے اشک شہنشاہِ کربلا
بھیّا کسے ملے ہیں یہ انصارِ با وفا
شکوہ نہ پیاس کا ہے نہ فاقوں کا کچھ گِلا
کیونکر انھیں میں برچھیاں کھانے کی دوں رضا
تیغِ الم سے میرا جگر چاک چاک ہے
چھوٹے جو یہ رفیق تو دنیا پہ خاک ہے
دیکھے، یہ دل کسی کے نہ پتّے نہ یہ جگر
پر حیف اب بچھڑتے ہیں یہ غیرتِ قمر
کچھ بس نہیں کھڑے ہیں یہ باندھے ہوئے کمر
اچّھا خوشی ہے ان کی تو جائیں کٹائیں سر
چھوڑیں اکیلا فاطمہ کے نورِ عین کو
ہیں آج سب کے داغ اٹھانے حُسین کو
خوش ہو گئے یہ سن کے رفیقانِ شاہِ دیں
جانے لگا جہاد کو اک ایک مہ جبیں
ایسے لڑے سپاہ سے وہ ناصرانِ دیں
ہتھیار پھینک پھینک کے بھاگے سب اہلِ کیں
نہ وہ صفیں نہ مجمعِ مردم تھا گھاٹ پر
خشکی میں ابتری تھی تلاطم تھا گھاٹ پر
کس کس بہادری سے لڑے عاشقِ امام
اللہ رے حرب درہم و برہم تھی فوجِ شام
لیکن کہاں چھ لاکھ کہاں چند تشنہ کام
کھا کھا کے زخم مر گئے آخر وہ لالہ فام
ایذا تھی دھوپ میں جو تنِ پاش پاش کو
جا کر حُسین لاتے تھے ایک ایک لاش کو
مرثیہ نمبر ۳
مطلعِ سوم(اول)
جب سب رفیق حقِ نمک کر چکے ادا
مرنے کی پھر خوشی سے عزیزوں نے لی رضا
وہ بھی ہوئے شہید تو رونے کی ہے یہ جا
قاسم تھے اور حضرتِ عبّاس با وفا
تھے سامنے جو لاشۂ پُر خوں دھرے ہوئے
تکتے تھے فوجِ شام کو آنسو بھرے ہوئے
مشغول تھے بکا میں شہنشاہِ ذی وقار
جو اقتلو الحسین کی ہونے لگی پکار
گرجے دہل، بلند ہوا شورِ گیر و دار
پھر کھل گئے صفوں میں علَم ہائے زر نگار
نکلے سوار جنگ کو باہم تھمے ہوئے
بڑھنے لگے صفوں سے سپاہی جمے ہوئے
نو بادۂ حَسن نے جو دیکھا یہ ماجرا
ہمشکلِ مصطفٰی سے الگ جا کے یہ کہا
بھیّا، مقامِ غور ہے رونے کی ہے یہ جا
سب مر گئے ہمیں نہ ملی رخصتِ وغا
کھیلے ہوئے تو ساتھ کے پہنچے بہشت میں
ہم نامراد رہ گئے دنیائے زشت میں
خیمہ میں آج صبح سے محشر ہے آشکار
بیٹوں کے غم میں روتی ہیں زینب بحالِ زار
کیا منہ دکھائے جا کے حرم میں یہ سوگوار
پردے کے پاس بیٹھی ہیں امّاں جگر فگار
فرمائیں گی شہید ہر اک تشنہ لب ہوا
قاسم نے لی نہ رن کی اجازت، غضب ہوا
کہتی تھیں شب کو مجھ سے یہ امّاں بچشمِ تر
قربان جاؤں آج قیامت کی ہے سحر
عمّو پہ دیکھنا جو ہجومِ سپاہِ شر
لانا دلہن کا دھیان نہ مطلق مرے پسر
حسرت یہی ہے اور ہے یہ آرزو مری
تم مر کے آئیو کہ رہے آبرو مری
یاں تو یہ ذکر کرتا تھا شبّر کا نونہال
خیمہ میں پیچ و تاب سے مادر کا تھا یہ حال
غم سے عرق جبیں پہ ہے بکھرے ہوئے ہیں بال
دل مضطرب ہے، رونے سے آنکھیں ہیں دونوں لال
صدمہ یہ ہے کہ رن کی اجازت میں کَد نہ کی
قاسم نے اس مہم میں چچا کی مدد نہ کی
کیوں کر نہ دل ہو سینۂ سوزاں میں بے قرار
سو سو طرح سے ہوئے گا امّاں کو انتشار
بھیّا، پھر ایسا وقت نہ پاؤ گے زینہار
دلوا دو تم چچا سے ہمیں اذنِ کارزار
ڈر ہے کہ پھر وغا کا جو غل بے ادب کریں
عبّاسِ نامدار نہ رخصت طلب کریں
جس دم ہجومِ یاس نے گھیرا زیادہ تر
غصّے سے کانپتی ہوئی اٹھی وہ نوحہ گر
فضّہ سے رو کے کہنے لگی وہ نکو سِیَر
لا دے حسن کے لال کی اس دم مجھے خبر
مقتل میں ہیں کہ پاس شہِ کربلا کے ہیں
رخصت ملی ہے یا ابھی طالب رضا کے ہیں
کہیو کہ اے یتیمِ حسن تم پہ مرحبا
کیا خوب ماں کو شاد کیا تم پہ میں فدا
حیراں ہوں میں کھڑے ہوئے تم دیکھتے ہو کیا
اب تک رضا نہ لی، مجھے حیرت کی ہے یہ جا
اب کون ہے جہاں میں شہِ خوشخصال کا
کیا ہے چچا کے بعد ارادہ جدال کا
شب کو کیے تھے آپ نے مادر سے یہ کلام
اقرار کیا کئے تھے، تاسّف کا ہے مقام
عمّو پہ ہے سحر سے یہ نرغہ میں ازدحام
کچھ کر سکے نہ تم مددِ شاہِ خاص و عام
سمجھا گئے تھے باپ بھی کیا کیا ہزار حیف
بازو کی بھی سند کو نہ دیکھا ہزار حیف
کیا کہہ گئے تھے آپ سے شبّر جگر فگار
تجھ کو اسی سخن کا تصوّر ہے بار بار
کہتا تھا کون باپ سے ہنگامِ اختضار
خادم کرے گا پہلے عزیزوں سے سر نثار
اس دم کہاں ہے جرأت و ہمّت وہ آپ کی
ہے ہے عمل کیا نہ وصیّت پہ باپ کی
فضّہ چلی یہ سن کے جو خیمہ سے نوحہ گر
دیکھا کہ آپ آتے ہیں قاسم جھکائے سر
منہ سرخ، تیغ ہاتھ میں، باندھے ہوئے کمر
آتے ہی ماں کے چہرۂ اقدس پہ کی نظر
تھرّائی ماں جو غیظ سے منہ اپنا موڑ کے
قاسم قدم پہ گر پڑے ہاتھوں کو جوڑ کے
بولی اٹھا کے سر کو یہ مادر جگر فگار
واللہ تم سے یہ نہ توقع تھی میں نثار
کام آئے سب وغا میں عزیز و رفیق و یار
تم نے چچا سے کیوں نہ لیا حکمِ کارزار
کیا قہر ہے کہ شاہ سے اذنِ وغا نہ لو
زینب کے لال قتل ہوں اور تم رضا نہ لو
کس کس نے دی نہ آن کے شہ کے قدم میں جان
لو تم نہ اذن، غیر رضا لیں خدا کی شان
کیا ہو گئی وہ جرأت و ہمّت وہ آن بان
ہوتا ہے یوں خموش کوئی وقتِ امتحان
لکھ دی جو حق نے سیرِ ارم سرنوشت میں
دیکھو نصیبِ وہب کہ پہنچا بہشت میں
گر ہے دلہن کی فکر تو بے جا ہے یہ خیال
ہر رنج و غم میں رانڈوں کا حافظ ہے ذوالجلال
صابر ہے دکھ میں، درد میں، خیر النساء کا لال
کُھلنے کا سر کے غم ہے نہ کچھ قید کا ملال
راضی رہیں حُسین، رضا ذوالمنن کی ہو
کنگنا ہو یا رسن میں کلائی دلہن کی ہو
ماں سے سنے جو قاسمِ مضطر نے یہ کلام
آنکھوں سے اشک پونچھ کے بولا وہ لالہ فام
آگاہ دل کے حال سے ہے خالقِ انام
امّاں سحر سے مرنے کو حاضر تھا یہ غلام
کی سو طرح خوشامد و منّت غلام نے
لیکن نہ دی وغا کی اجازت امام نے
قدموں پہ گر کے شہ کے یہ کی عرض چند بار
دیجے رضا کہ مرنے کو جائے یہ جاں نثار
شاہد ہیں اس میں حضرتِ عبّاس نامدار
کیں سو خوشامدیں نہ ملا اذنِ کارزار
شک ہو اگر تو شہ کے برادر گواہ ہیں
بلوا کے پوچھیے علی اکبر گواہ ہیں
امّاں دلہن سے ملنے کی بھی کچھ ہوس نہیں
تیّار جان دینے پہ ہیں پیش و پس نہیں
حامی کوئی نہیں کوئی فریاد رس نہیں
سر پر اجل کھڑی ہوئی ہے اپنا بس نہیں
یارا کلام کا ہے نہ طاقت ہے صبر کی
درپیش آج صبح سے منزل ہے قبر کی
مادر سے رو کے ابنِ حَسن نے یہ جب کہا
بس سر جھکا کے رہ گئی وہ غم کی مبتلا
پھر اشک بھر کے آنکھوں میں بولی کہ میں فدا
ہاں واری، سچ ہے، کیوں نہ ہو شاباش و مرحبا
بہتر ہے جو خوشی ہو شہِ تشنہ کام کی
لازم یونہی ہے تم کو اطاعت امام کی
نرغہ میں آج صبح سے ہیں سرورِ امم
فرصت نہیں ہے لاش اٹھانے سے کوئی دم
کیوں کر کہیں گے وہ کہ سدھارو سوئے عدم
بیٹی کے رانڈ ہونے کا صدمہ، تمھارا غم
دیتے نہیں رضا جو شہِ کربلا تمھیں
میں اب دلائے دیتی ہوں اذنِ وغا تمھیں
جب تک حرم میں آئیں شہنشاہِ نامدار
مل آؤ تم بھی جا کے دلہن سے یہ ماں نثار
جب سے سنا ہے تم کو مہیّائے کارزار
گھونگھٹ میں رو رہی ہے وہ مغموم و سوگوار
ایسی کوئی دلہن بھی نہ بیکس غریب ہو
قسمت میں تھا، بیاہ میں رونا نصیب ہو
باتیں یہ سن کے دل پہ جو صدمہ ہوا کمال
حجلہ میں آ کے بیٹھ گیا مجتبیٰ کا لال
آئے نظر عروس کے گوندھے ہوئے جو بال
بلوے میں سر کے کھلنے کا بس آ گیا خیال
آئی صدا جو کان میں فریاد و آہ کی
کس یاس سے عروس کی جانب نگاہ کی
جُھک کر دلہن کے رخ پہ جو دولھا نے کی نظر
دیکھا کہ ہے لباسِ بدن آنسوؤں سے تر
ہچکی لگی ہے شرم کے مارے جھکائے سر
سہرے سے مل کے گرتے ہیں آنسو اِدھر اُدھر
چہرہ تمام زرد ہے صدمے دو چند ہیں
آنکھیں وہ نرگسی کفِ رنگیں سے بند ہیں
رقّت کو ضبط کر کے یہ بولا حَسن کا ماہ
لو الوداع جاتے ہیں مابینِ رزم گاہ
مہماں ہیں کوئی آن کے، تکتی ہے موت راہ
چارہ نہیں اجل سے کسی کا، خدا گواہ
ناراض والدہ ہوں جو وقفہ ذرا کریں
صاحب یہی لکھا تھا مقدر میں کیا کریں
صاحب بس اب یہ آج کی صحبت ہے مغتنم
پھر ہم کہاں بھلا یہ فرصت ہے مغتنم
اس دکھ میں دو گھڑی کی بھی راحت ہے مغتنم
جی بھر کے دیکھ لیں کہ یہ صورت ہے مغتنم
بے درد، کل پھر آئیں گے بلوائے عام میں
منزل سحر کو ہوئے گی کل راہِ شام میں
یہ صبر کا مقام ہے روؤ نہ زار زار
صاحب تمھارے حال پہ ہوتا ہے دل فگار
ہے تیرِ آہ سینۂ سوزاں کے آر پار
مجبور ہیں، نہ بس ہے کچھ، اپنا نہ اختیار
گو عمر بھر کا منزلِ فانی میں ساتھ ہے
پر کیا کریں اجل کا گریباں میں ہاتھ ہے
دیکھو دلہن کو وہب کی اللہ رے حوصلا
دولھا کو روزِ عقد جو مرنے کی دی رضا
اللہ رے پاسِ خاطرِ دلبندِ مرتضا
دیکھا خود اپنی آنکھ سے کٹتے ہوئے گلا
تعریف ہر زباں پہ ہے اس رشکِ ماہ کی
حاضر ہے اب کنیزی میں ناموسِ شاہ کی
مرثیہ نمبر ۳
مطلعِ سوم(دوم)
جس وقت کہ قتل ہوا وہبِ با وفا
بیوہ نے کی نہ آہ بجز شکرِ کبریا
ہر چند رانڈ ہونے کا صدمہ ہے جانگزا
رونے کی پر دلھن کے نہ آئی کبھی صدا
ماں اس جری کی زینبِ مضطر کے ساتھ ہے
زوجہ جو ہے وہ شاہ کی دختر کے ساتھ ہے
اللہ رے صبرِ مادرِ وہبِ نکو سِیَر
اس کو فدا کیا کہ جو تھا غیرتِ قمر
تیغوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوا جب وہ نامور
بیٹے کی لاش پر بھی نہ روئی وہ نوحہ گر
نہ رخ کیا وطن کا نہ راحت قبول کی
غربت میں اہلِ بیت کی خدمت قبول کی
ظاہر ہے صبرِ مادرِ وہبِ جگر فگار
کچھ غم کیا نہ بیٹے کے مرنے کا زینہار
دولھا کو کس خوشی سے دیا اذنِ کارزار
روئی نہ دل کڑھا نہ ہوئی چشم اشکبار
عورت تھی پر جہاد کی دل سے امنگ تھی
روکیں نہ گر تو خود وہ مہیّائے جنگ تھی
تم بھی اگر خوشی سے رضا دو تو جائیں ہم
ہے آرزو کہ جلدی سے اب سر کٹائیں ہم
اب تا کجا یہ ظلم کے صدمے اٹھائیں ہم
ہے ولولہ کہ جسم پہ تلوار کھائیں ہم
بیٹی ہو کس سخی کی، بہو کس ولی کی ہو
کیوں کر نہ صابرہ ہو کہ پوتی علی کی ہو
صاحب خدا کے واسطے کھولو تو لعلِ لب
اس حال میں یہ شرم مناسب نہیں ہے اب
ہے رحم کا مقام کہ فرقت کی ہے یہ شب
اب یاں سے جا کے دیکھیے ملتے ہیں تم سے کب
کیوں کر بھلا ہراس نہ ایک ایک گام ہو
کیا جانے آج کون سی منزل پہ شام ہو
جاتے ہیں واں جہاں کوئی راحت رساں نہیں
جس جا سراغِ نقشِ رہِ کارواں نہیں
بستی کا ذکر کیا کہیں کوسوں مکاں نہیں
ساتھی نہیں، شفیق نہیں، مہرباں نہیں
کیوں کر نہ خوف ہو کہ نئی واردات ہے
صاحب غضب یہ منزلِ اوّل کی رات ہے
للہ سر جھکا کے نہ آہ و بکا کرو
آساں کرے کریم یہ مشکل، دعا کرو
دل میں خیالِ گریۂ خیر النسا کرو
جانا ہمیں کہاں ہے تصوّر ذرا کرو
اس دکھ میں چاہئے ہے مدد کار ساز کی
منزل کڑی ہے راہ ہے دور و دراز کی
جس دم سنیں دلہن نے یہ باتیں بہ چشمِ تر
کھینچی وہ آہ دل سے کہ تھرّا گیا جگر
آہستہ سر جھکا کے یہ بولی وہ نوحہ گر
شب کی دلہن کو چھوڑ کے صاحب چلے کدھر
دیجے نہ یوں دغا کہ یہ رسمِ وفا نہیں
صاحب مرا جہاں میں کوئی آسرا نہیں
سمجھا رہے ہیں آپ مصیبت میں کیا مجھے
غربت میں کیجیئے نہ اسیرِ بلا مجھے
دکھلائی خوب آپ نے مہر و وفا مجھے
مانگو دعا کہ پہلے اٹھا لے خدا مجھے
سامان وہ ہوا ہے کہ جس کی خبر نہ تھی
بیوہ بنوں گی صبح کو اس کی خبر نہ تھی
جلتی زمیں پہ آپ جو سوئے کٹا کے سر
پھر کون اس غریب کی لے گا بھلا خبر
مہماں ہیں اور کوئی گھڑی شاہِ بحر و بر
امّاں سحر سے روتی ہیں تھامے ہوئے جگر
تقدیر میں لکھا ہے کہ سب در بدر پھریں
نیزے پہ سر ہو آپ کا ہم ننگے سر پھریں
جاتے ہو تم تو سونے کو مقتل میں ہے غضب
صحرا کی ہولناکی میں ہوگی بسر یہ شب
کیوں کر بھلا جگر پہ نہ ہو صدمہ و تعب
سہرا بڑھا نہ تھا کہ اجل نے کیا طلب
قسمت میں ہے کہ ظلم عجیب و غریب ہوں
چوتھی بکا میں، قید میں چالے نصیب ہوں
صاحب کنیز آپ کی الفت پہ ہو فدا
بیوہ بنا کے مجھ کو چلے وا مصیبتا
پر خیر جائیے مگر اتنی ہے التجا
لاشہ جہاں ہو میں بھی وہیں ہوں پئے عزا
جنگل میں کون ہوگا تنِ پاش پاش پر
رویا کروں گی راتوں کو صاحب کی لاش پر
پوچھے گا مجھ سے آ کے جو کوئی کہ اے غریب
پُر خوں یہ کس کی لاش ہے بے یار و بے حبیب
سر پیٹ کر کہوں گی یہ ہے سانحہ عجیب
مجھ سا جہاں میں کوئی نہ ہوگا بلا نصیب
دولھا شہید ہو گیا تقدیر سو گئی
شب کو دلہن تھی صبح کو میں رانڈ ہو گئی
رونے لگی یہ کہہ کے جو وہ غیرتِ قمر
قاسم کا فرطِ غم سے تڑپنے لگا جگر
ناگاہ گھر میں دوڑ کے فضّہ نے دی خبر
بی بی غضب ہوا کہ بڑھی فوجِ بد گہر
اکبر رضا طلب ہیں قیامت ہے صاحبو
لو، اب جوان بیٹے کی رخصت ہے صاحبو
ہمشکلِ مصطفٰی ہیں مہیّائے کارزار
تھامے کمر کھڑے ہیں شہنشاہِ نامدار
آئے کوئی یہ لشکرِ اعدا میں ہے پکار
تھرّا رہے ہیں غیظ سے عبّاس ذی وقار
آیا ہے یہ جلال علَمدارِ شاہ کو
روکا ہے لڑ کے شیر نے جنگی سپاہ کو
جس دم کہا پکار کے فضّہ نے یہ سخن
گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا نو بادۂ حَسن
ہتھیار سج کے تن پہ چلا جب وہ صف شکن
گھونگھٹ ہٹا کے پاس سے تکنے لگی دلھن
غل تھا جہاں سے کوچ ہے اس نونہال کا
مٹتا ہے اب نشان حَسن خوشخصال کا
رخصت کو شہ کے پاس چلا تھا وہ سیمبر
دیکھا کہ آپ آتے ہیں حضرت بہ چشمِ تر
ہیں ساتھ ساتھ اکبر و عبّاس نامور
قاسم نے جلد دوڑ کے رکھّا قدم پہ سر
کی عرض خانہ زاد کو اذنِ وغا ملے
رہ جائے آبرو جو دُرِ مدّعا ملے
مادر نے دی صدا شہِ والا نہ روکیے
ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں، مولا نہ روکیے
میداں سے بڑھتے آتے ہیں اعدا نہ روکیے
مرنے کی ہے انھیں بھی تمنّا نہ روکیے
سینہ میں بے قرار دلِ ناصبور ہے
صدقے گئی، غلام کی خاطر ضرور ہے
شہ نے گلے لگا کے بھتیجے سے یہ کہا
افسوس تم کو موت نے مہلت نہ دی ذرا
کس کس کا داغ دل پہ سہے ابنِ مرتضا
تم بھی چچا کو چھوڑ چلے وا مصیبتا
صدمہ فراق کا تمھیں تقدیر دے چلی
آخر تمھیں عروس، اجل بن کے لے چلی
بہتر ہے جو رضائے خدا خیر غم نہ کھاؤ
پھر ایک بار اور لگا لیں گلے سے آؤ
تم کو بھی ہم نے صبر کیا جاؤ سر کٹاؤ
بیاہی جو ایک شب کی ہے، بیوہ اسے بناؤ
راحت ہو عقد کر کے یہ حکمِ خدا نہ تھا
ہے ہے ابھی تو ہاتھ سے کنگنا کھلا نہ تھا
رونے لگے یہ کہہ کے جو سلطانِ نامدار
تسلیم کو جھکا بہ ادب وہ نکو شعار
پھر عرض کی یہ مادرِ بے کس سے ایک بار
امّاں ذرا عروس کی جانب سے ہوشیار
اب اس مریضِ غم کی پرستار آپ ہیں
بیوہ کی اس الم میں مددگار آپ ہیں
یہ بات کہہ کے مادرِ عالی مقام سے
رخصت ہوئے حسین علیہ السّلام سے
مل کر گلے شبیہِ رسولِ انام سے
تنتا ہوا چلا وہ دلاور خیام سے
دیکھا جو سرخ غیظ سے چہرہ جناب کا
گردوں پہ زرد ہو گیا رنگ آفتاب کا
مرثیہ نمبر ۳
مطلعِ چہارم(اول)
پایا سجا جو اشہبِ گردوں مقام کو
چمکار کر ہَزبر نے تھاما لگام کو
زینِ فرس پہ چڑھ کے جو تولا حسام کو
آگے بڑھی جلو میں ظفر انتظام کو
چہرہ کی ضو سے خاک کو یہ مرتبا ملا
طبقہ زمیں کا چرخِ چہارم سے جا ملا
وہ حسن اور وہ رعب وہ بجلی سا راہوار
وہ ولولہ جہاد کا وہ شوقِ کارزار
خوشبو وہ عطر بیز وہ خلعت ستارہ دار
آنکھوں میں شب سے نیند کا چھایا ہوا خمار
کنگنا بندھا تھا ہاتھ میں اس خوش صفات کے
سہرے سے یہ عیاں تھا کہ دولہا ہیں رات کے
ناگاہ بادِ پا کو اڑایا دلیر نے
نیزہ عجب ہنر سے ہلایا دلیر نے
سایا جو گیسوؤں کا دکھایا دلیر نے
گھوڑے کو قلبِ فوج میں پایا دلیر نے
ہر جا صفوں میں دھوم ہوئی اس جلوس کی
بُو چار سُو مہک گئی عطرِ عروس کی
شان و شکوہ سب حسنِ مجتبیٰ کی تھی
بھالا ہلا رہے تھے پہ حسرت وغا کی تھی
جرأت جو قہر کی تھی تو ہمت بلا کی تھی
اس سن میں تھا وہ رعب کہ قدرت خدا کی تھی
چھایا ہوا تھا نور جو اس لالہ فام کا
فق تھا سحر کی طرح سے رنگ اہلِ شام کا
ناگہ صفوں سے بارشِ تیرِ ستم ہوئی
باجوں کی فوجِ کیں میں صدا دمبدم ہوئی
لڑنے پہ واں سپاہِ عدو سب بہم ہوئی
اور یاں جدا نیام سے تیغِ دو دم ہوئی
جلوہ دیا وغا میں عجب آب و تاب سے
گویا ہلال ڈوب کے نکلا سحاب سے
کھچنا تھا تیغ کا کہ قیامت بپا ہوئی
دہشت سے فوجِ شام میں ہلچل سوا ہوئی
یوں بے حواس رن میں صفِ اشقیا ہوئی
جنگی دہل کی پھر نہ صدا جا بجا ہوئی
کڑکیت یوں صفوف میں گھبرا کے رہ گئے
کیا رعب تھا کہ جھانجھ بھی تھرّا کے رہ گئے
جس پر گری چمک کے کیا تن سے سر جدا
خود و زرہ دو نیم تھی تیغ و سپر جدا
ساعد دو نیم بازو و صدر و کمر جدا
سینے سے دل جدا تھا تو دل سے جگر جدا
چم خم غضب کا تھا کہ لعیں دنگ ہو گئے
ہر وار میں سوار بھی چو رنگ ہو گئے
مارا جو بڑھ کے ہاتھ تو سر کٹ کے گر پڑا
دل بچ گیا اگر تو جگر کٹ کے گر پڑا
جلدی میں کوئی تا بہ کمر کٹ کے گر پڑا
ہر نخل قد برنگِ شجر کٹ کے گر پڑا
سرسبز کوئی بانیِ ظلم و جفا نہ تھا
ایسی ہوا چلی کہ سروں کا پتا نہ تھا
تھی آبرو کی تیغِ دو پیکر کو جستجو
دریائے خوں میں پیرتی پھرتی تھی چار سُو
برہم مزاج شعبدہ کردار تند خُو
دم باز سر تراش ستمگار سرخرو
چلتی تھی بار بار، شرارے غضب کے تھے
بسمل پھڑک رہے تھے، اشارے غضب کے تھے
لڑتا تھا وہ ہزبر عجب آن بان سے
چلتا تھا ہاتھ تیغ کا حیدر کی شان سے
نامی جوان فوج کے عاجز تھے جان سے
جلدی میں بھی نہ تیغ نکلتی تھی میان سے
جانبر دمِ نبرد کوئی اہلِ شر نہ تھا
جس پر جھپٹ کے وار کیا تن پہ سر نہ تھا
جس شخص پر لپک کے وہ آتش زباں گئی
یوں دل جلا کہ لذتِ آرام و جاں گئی
جب مثلِ برق سر پہ وہ آتش فشاں گئی
ثابت نہ تھا کہ روح کہاں تھی کہاں گئی
کفّار کانپ کانپ کے گرتے تھے خون میں
کاسے سروں کے تیرتے پھرتے تھے خون میں
تلوار تولتے ہوئے قاسم جدھر چلے
خود بڑھ کے بہرِ نذر لعینوں کے سر چلے
گر سامنے سے بھاگ کے کچھ بد گہر چلے
تلوار نے لپک کے صدا دی کدھر چلے
بھاگو نہ بار بار صفِ کارزار میں
آؤ ادھر کہ فوج کی بھرتی ہے نار میں
وہ بانکپن، وہ ناز سے چلنا ادھر ادھر
بسمل وہ ہو گیا جسے دیکھا اٹھا کے سر
برچھی چلی ادھر کو نگہ پڑ گئی جدھر
جوہر سے تھا عیاں کہ ستارے ہیں جلوہ گر
بالکل چلن عروس کے سب آشکار تھے
نابیں نہ تھیں گندھے ہوئے پھولوں کے ہار تھے
جس کو چمک کے دور سے چہرہ دکھا دیا
جان اس کی لے کے اور طرف منہ پھرا دیا
پاؤں پہ سر کسی نے جو دھڑ سے گرا دیا
دولھا نے ہاتھ روک لیا، مسکرا دیا
عاری تھی فوج کاٹ سے شمشیرِ تیز سے
خوں بہہ رہا تھا بند تھے کُوچے گریز کے
جب آئی سَن سے تیغ تو تھرّا کے رہ گئے
اٹھّا نہ ہاتھ منہ پہ سپر لا کے رہ گئے
باغی سمومِ تیغ سے مرجھا کے رہ گئے
ترکش کٹا تو تیر بھی چلّا کے رہ گئے
غل تھا کہ تیغِ تیز سے اعدا ملول ہیں
قبضہ نہ تیغ پر ہے نہ ڈھالوں میں پھول ہیں
جب مثلِ برق فوج کے بادل پر آ گری
دی رعد نے صدا کہ وہ برقِ بلا گری
ثابت ہوا نشانیِ قہرِ خدا گری
تلوار کیا کہ کھولے ہوئے منہ قضا گری
یوں مرغِ روح خوف سے اڑ کر ہوا ہوئے
گویا قفس سے طائرِ وحشی رہا ہوئے
چمکی، گری، سروں کو اڑایا، چلی گئی
خوں تن سے ناریوں کا بہایا چلی گئی
موقع جہاں پہ ذبح کا پایا چلی گئی
بیٹھی، اٹھی، جمال دکھایا چلی گئی
برہم رہی وغا میں ہر اک تیغ زن کے ساتھ
چلتی تھی سر جھکا کے مگر بانکپن کے ساتھ
ہلچل بپا تھی رعب سے غازی کے ہر کہیں
اعدا کے تن کہیں نظر آتے تھے سر کہیں
ٹکڑے تھے ہاتھ پاؤں کہیں اور کمر کہیں
بکتر کہیں تھا، تیغ کہیں تھی، سپر کہیں
صحرا میں جانور تھے نہ اژدر پہاڑ میں
روحیں چھپی تھیں خوف سے لاشوں کی آڑ میں
دیکھا جو فوج میں یہ تلاطم یہ شور و شر
گھبرا گئے تمام دلیرانِ نامور
بولا یہ شمر سے پسرِ سعد بد گہر
ارزق کدھر گیا اسے اس کی نہیں خبر
کہہ دو لڑے وہ آن کے اس گلعذار سے
بیٹھا ہے منہ چھپا کے کہاں کارزار سے
آیا شقی تو غیظ سے بولا وہ بے حیا
جا جلد بہرِ جنگ، تامّل نہ کر ذرا
فوجوں میں ابتری ہے تردّد کی ہے یہ جا
کیا وجّہ ہے کہ تو نے نہ کی اب تلک وغا
ہر گز تشفّیِ دلِ مضطر نہ ہوئے گی
جب تک لڑے نہ تو یہ مہم سر نہ ہوئے گی
بولا یہ بات سن کے وہ مغرور و خیرہ سر
آ، ہوش میں ذرا کہ ترا دھیان ہے کدھر
دنیا میں میرے زور سے واقف ہے ہر بشر
سبکی ہے، میں وغا کا ارادہ کروں اگر
یہ طفل ہے میں لڑ کے بھلا اس سے کیا کروں
عبّاسِ نامدار جو آئیں، وغا کروں
لیکن پسر مرے ہیں وہ جرّار و پہلواں
جن کا جواب آج نہیں زیرِ آسماں
شہرہ ہے ان کی جنگ و جدل کا کہاں کہاں
رستم کو ضربِ تیغ سے دیتے نہیں اماں
جائیں گے وہ تو خلعت و انعام پائیں گے
یہ طفل کیا، حسین کا سر کاٹ لائیں گے
یہ سن کے خوش ہوا پسرِ سعد نحس تب
بیٹوں کو رزم گاہ سے اس نے کیا طلب
آئے وہ بے حیا تو یہ بولا وہ بے ادب
تم چار پہلواں ہو، یہ ہے ایک تشنہ لب
شہرہ ہے شش جہت میں تمھارے جہاد کا
سر لاؤ جلد کاٹ کے اس خوش نہاد کا
یہ کہہ کے چپ ہوا جو وہ بد کیش و بد گہر
فوراً بڑھا نبرد کو ان میں سے اک پسر
آیا قریب جب ستم آرا بہ کرّ و فر
تھم کر نگاہِ قہر سے قاسم پہ کی نظر
واں برقِ تیغ قہر و غضب شعلہ در ہوئی
اور یاں دعائے حیدرِ صفدر سپر ہوئی
بولا جری یہ کھینچ کے شمشیرِ برق دم
آ جلد آ کہ دیر سے یاں منتظر ہیں ہم
عرصہ نہ کر جدال میں او بانیِ ستم
واں بے قرار ہیں ملک الموت دم بدم
منطور تھا جو قتل ترا کردگار کو
پہلے تجھی کو موت نے بھیجا شکار کو
یہ بات کہہ کے قاسمِ گلگوں قبا بڑھے
گویا جہاد کو حسنِ مجتبیٰ بڑھے
جس کی بساط خاک نہ ہوئے وہ کیا بڑھے
ملتی ہے کب امان جو تیغِ قضا بڑھے
سب طنطنہ شقی کا فرو ہو کے رہ گیا
نامرد ایک ضرب میں دو ہو کے رہ گیا
بھائی کا ایک بھائی نے دیکھا جونہی یہ حال
غصّہ سے دوسرا بھی ہوا عازمِ جدال
تیر افگنی میں ظالمِ ثانی تھا بے مثال
رستم بھی گوشہ گیر ہو جس سے بہ شکلِ زال
نکلا کماں کو دوش پہ ظالم دھرے ہوئے
ترکش میں تیرِ ظلم و تعدّی بھرے ہوئے
بولے پکار کر یہ علی اکبرِ جواں
لو دوسرا شکار بھی آتا ہے بھائی جاں
بودا ہے کیا بساط ہے گو ہے یہ پہلواں
بھیّا، اسے سناں پہ اٹھا لو معِ کماں
مہلت نہ دو جدال کی اس حیلہ ساز کو
دکھلا تو دو جہاں کے نشیب و فراز کو
یہ بات سن کے غیظ میں آیا جو وہ شریر
کھینچی کماں کہ سہم گئے سب جوان و پیر
خالی کیے شقی نے برابر سے جتنے تیر
اک دم میں سب کو کاٹ گئی تیغِ بے نظیر
کانپا بدن غبارِ الم دل میں بھر گیا
خالی کماں جو رہ گئی، چہرہ اتر گیا
ناوک نہ پڑ سکا کوئی ابنِ حسن پہ جب
نادم ہوا خطا پہ خود اپنی وہ بے ادب
سوچا کہ رخ پھرا کے نکلیے یہاں سے اب
آواز دی یہ قاسمِ گلگوں قبا نے تب
او کج نہاد عزم نہ کیجو گریز کا
لے دیکھ کاٹ اب مری شمشیرِ تیز کا
چھیڑا یہ کہہ کے اشہبِ گردوں خرام کو
جلوہ دیا وغا کا حسینی حسام کو
مارا جو ہاتھ دوڑ کے اس تیرہ فام کو
کاٹا تبر کو، تیغ کو، چلّے کو، دام کو
پایا مزہ جو تیغ نے خوں اسکا چاٹ کے
در آئی جسمِ نحس میں ترکش کو کاٹ کے
مرثیہ نمبر ۳
مطلعِ چہارم(دوم)
راہی ہوا جو ظالمِ ثانی بھی سوئے نار
نو بادۂ حسن نے صدا دی یہ ایک بار
سنتا ہے او لعین بد آئین و بد شعار
اب لا تو ان کو اور جو ہوں آزمودہ کار
ہوویں شریک ان کے عذابِ الیم میں
مالک کو انتظار ہے نارِ حجیم میں
ارزق نے اس کلام سے کھایا جو پیچ و تاب
بس تیسرے پسر کو روانہ کیا شتاب
آیا جو تیغ تول کے وہ خانماں خراب
یاں اسپِ تیز گام اڑا صورتِ عقاب
وہ خاک اڑی کہ دشت بھی پُر گرد ہو گیا
دہشت سے رنگِ تیرہ دروں زرد ہو گیا
آ پہنچا زد پہ تیغ کی جس دم وہ بے ہنر
نیزہ یہاں جری نے اٹھایا بہ کرّ و فر
ماری سناں جو سینۂ دشمن پہ دوڑ کر
تھّرا کے یہ زمیں نے صدا دی کہ الحذر
ثابت ہوا کہ شعلۂ برقِ اجل گرا
رہوار سے الٹ کے شقی منہ کے بل گرا
چوتھے پسر کو دیکھ کے بولا یہ ذی وقار
آ تو بھی بہرِ جنگ کہ پورے ہوں چار یار
سمجھا تجھے بھی نشّۂ جرأت کا ہے خمار
حسرت سے دیکھتی ہے اجل تجھ کو بار بار
دوزخ میں بھی قرار نہیں انتظار میں
ساتھی ترے وہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں نار میں
یہ سن کے آگ لگ گئی اس نابکار کو
نیزہ اٹھا کے گرم کیا راہوار کو
رد کر دیا ہزبر نے ظالم کے وار کو
جولاں کیا تگادرِ آہو شکار کو
مارا لپک کے ہاتھ جو اس شہ سوار نے
گھوڑے سے گر کے سانس نہ لی نابکار نے
چاروں شریر جب ہوئے دوزخ میں ایک جا
کانپا غضب سے ارزقِ ملعون و بے حیا
اس دم یہ بڑھ کے حضرتِ قاسم نے دی صدا
دیکھا ہماری ضرب کو او بانیِ جفا
دبکا ہوا ہے فوج میں کیوں منہ کو پھیر کے
ہشیار اب اجل تجھے لائی ہے گھیر کے
یہ سن کے آ گیا جو حرارت کا دل میں جوش
پہنا شقی نے زیورِ جنگی بصد خروش
چھائی یہ بیخودی نہ رہا دست و پا کا ہوش
بیٹوں بغیر زہر تھا دنیا کا ناؤ نوش
نے رحم کچھ نہ خوف تھا قہرِ الٰہ سے
بدعت ٹپک رہی تھی شقی کی نگاہ سے
بڑھ کر مثالِ دیو، پکارا وہ خیرہ سر
او طفل اب اجل تری آئی ہے بے خبر
مارے ہیں تو نے جان سے، چاروں مرے پسر
پھنکتا ہے جسم، دل میں بھڑکتے ہیں جب شرر
ہے موت زندگی کہ وہ آرامِ جاں نہیں
جب تک عوض میں اسکا نہ لوں، پہلواں نہیں
قبضہ میں ہے مرے وہ حسامِ قضا نظیر
جس سے پناہ مانگتے ہیں سب جوان و پیر
جوڑوں اگر کمانِ کیانی میں بڑھ کے تیر
چلّا کے رزم گاہ سے رستم ہو گوشہ گیر
سیکھے ہیں افسروں نے چلن مجھ سے حرب کے
سکّے پڑے ہوئے ہیں مرے حرب و ضرب کے
سہراب میرے سامنے آئے یہ تاب کیا
نیزہ کوئی شریر ہلائے یہ تاب کیا
تیوری کوئی وغا میں چڑھائے یہ تاب کیا
آنکھ آفتاب مجھ سے ملائے یہ تاب کیا
ہر گز ہٹا نہیں میں صفِ کارزار سے
لاکھوں میں بھی لڑا ہوں اکیلا ہزار سے
دیکھ اب بھی کچھ گیا نہیں لڑنے سے درگزر
دولھا بنا ہے اپنی جوانی پہ رحم کر
بچّہ ہے کیا وغا کے دکھاؤں تجھے ہنر
پھینکے ہیں میں نے کاٹ کے روئیں تنوں کے سر
نعرہ کروں تو شیرِ ژیاں ہانپنے لگے
پیرِ فلک کا ڈر سے جگر کانپنے لگے
بولا یہ بڑھ کے تب حسنِ مجتبیٰ کا لال
او نابکار، دھیان کدھر ہے زباں سنبھال
بس اب نہ کیجیو یہ تعلّی یہ قیل و قال
دم بھر میں اب نہ تیر نہ ترکش ہے اور نہ ڈھال
تیغِ زباں کے وار سے کب ڈرنے والے ہیں
تو کیا کہ تیرے پیر بھی سب دیکھے بھالے ہیں
بیٹوں کا کیا خیال ہے او قیدیِ اجل
پہنچے سزا کو اپنی وہ مکّار و پُر دَغل
باغِ جہاں میں ظلم کا ان کو ملا یہ پھل
چاروں لٹک رہے ہیں جہنم میں سر کے بل
چاروں سقر میں جلتا ہے ایک اک پسر ترا
اب بن رہا ہے پانچویں دوزخ میں گھر ترا
گھبرا نہ او شریر و بد آئین و بد گہر
تو بھی چلا وہیں کہ جہاں ہیں ترے پسر
قعرِ سقر میں بھی تری الفت ہے شعلہ در
لینے کو بار بار لپکتا ہے ہر شرر
مالک ہے بیقرار ترے انتظار میں
جلدی ہے نار کو تجھے کھینچے کنار میں
کیا تیری ضرب کیا تری تیغ اور کیا یہ تیر
آنکھوں سے عین جنگ میں دیکھا ہے گوشہ گیر
مخفی نہیں ہے جانتے ہیں سب یہ او شریر
بھاگے ہزار بار لڑائی میں تیرے پیر
اس پر کہ سب وہ افسرِ فوجِ کثیر تھے
لیکن کھڑے ہوئے تو جنابِ امیر تھے
یہ سن کے اس شقی نے بڑھایا جو راہوار
سنبھلا ادھر سمند پہ شبّر کی یادگار
آئی صدا علی کی یہ پوتے کو ایک بار
جانے نہ دیجیو کہ یہ ہے پانچواں شکار
آتا ہے زد پہ ظلم کے بانی کو دو کرو
ہاں میرے شیر، مرحبِ ثانی کو دو کرو
سربر وغا میں تم سے نہ ہوگا یہ خیرہ سر
تم عاشقِ حسین ہو یہ پیروِ عَمَر
کیا جانتا ہے جنگ کی باتیں یہ بے ہنر
دیکھو کہ لے چلی اجل اس کو سوئے سقر
گو ہے قوی پہ زور کہاں بدخصال میں
ڈوبا ہوا ہے خود عرقِ انفعال میں
دیکھو غرور و کبر سے ہوتا ہے دم میں زیر
یہ بزدلا ہے، تم کو کیا ہے خدا نے شیر
ہے بے حواس دیکھتا ہے منہ کو پھیر پھیر
بس فیصلہ ہے تیغ کے کھچنے کی ہے یہ دیر
الجھا ہے اس کے گھات میں دامِ کمند بھی
غصّہ سے چاہتا ہے دہانہ سمند بھی
مژدہ یہ سن کے ابنِ حسن شادماں ہوا
چہرے پہ اور رعب و تہوّر عیاں ہوا
واں ڈر سے زرد رنگ رخِ پہلواں ہوا
یاں سے ہزبر تازی پہ چڑھ کر رواں ہوا
تھا سامنا وغا کا جو موذی مہیب سے
پڑھتی تھی فتح، آیۂ نصرت قریب سے
وہ ولولہ سوار کا وہ شانِ راہوار
راکب جو ہاں کہے تو یہ ہوئے صفوں کے پار
وہ سُم کہ ہر قدم پہ ہلالِ فلک نثار
وہ جلد پاک صاف کہ منہ دیکھ لے سوار
تن تن کے جست و خیز دکھاتا تھا راہ میں
گویا کہ پھر رہی تھی پری رزم گاہ میں
تلوار تول کر جو بڑھا بانیِ حسد
یاں قاسمِ جرّی نے کہا "یا علی مدد"
دولھا کو دی تھی حق نے اسی فتح کی سند
جتنے شقی نے وار کیے سب ہوئے وہ رد
تصویر سب نبرد میں شانِ حسن کی تھی
کیوں کر بھلا نہ ہو کہ مدد پنجتن کی تھی
فہرست
مرثیہ نمبر ۱ ۴
(یارب،چمنِ.نظم.کوگلزارِارم.کر) ۴
مرثیہ نمبر ۱ ۱۸
مطلعِ دوم ۱۸
مرثیہ نمبر ۱ ۴۴
مطلعِ سوم ۴۴
مرثیہ نمبر ۱ ۴۷
مطلعِ چہارم ۴۷
مرثیہ نمبر ۱ ۵۳
مطلعِ پنجم(اول) ۵۳
مرثیہ نمبر ۱ ۷۱
مطلعِ پنجم(دوم) ۷۱
مرثیہ نمبر ۱ ۹۴
مطلعِ پنجم(سوم) ۹۴
مرثیہ نمبر ۲ ۱۱۹
(کیازخم.ہے.وہ.زخم.کہ.مرہم.نہیں.جس.کا) ۱۱۹
(مطلع ِدوم(اول) ۱۲۰
مرثیہ نمبر ۲ ۱۵۸
(مطلع ِدوم(دوم) ۱۵۸
مرثیہ نمبر ۲ ۱۸۰
(مطلعِ دوم(سوم) ۱۸۰
(مطلعِ دوم(چہارم) ۲۰۰
مرثیہ نمبر ۲ ۲۲۱
مطلعِ سوم(اول) ۲۲۱
مرثیہ نمبر ۲ ۲۳۴
مطلعِ سوم(دوم) ۲۳۴
مرثیہ نمبر ۳ ۲۵۱
(یارب.عروسِ.فکرکوحُسن.وجمال.دے) ۲۵۱
مطلعِ.ثانی ۲۵۳
مرثیہ نمبر ۳ ۲۶۵
مطلعِ سوم(اول) ۲۶۵
مرثیہ نمبر ۳ ۲۷۹
مطلعِ سوم(دوم) ۲۷۹
مرثیہ نمبر ۳ ۲۹۱
مطلعِ چہارم(اول) ۲۹۱
مرثیہ نمبر ۳ ۳۰۷
مطلعِ چہارم(دوم) ۳۰۷