یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
شاہ است حسین (علیہ السلام)
امام عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت
ترتیب :
محمد وارث
حرفِ آغاز
سید الشہدا، سبطِ نبی (ص) ، فرزندِ علی (ع)، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت بھرا سلام کہنا اردو شاعری میں موضوع کے لحاظ سے ایک اہم صنفِ سخن ہے۔ قدیم و جدید اردو شعراء نے بلا تفریقِ مذہب و ملت و عقیدہ، امام عالی مقام کے حضور میں نذرانۂ عقیدت پیش کیے ہیں۔
واقعۂ کربلا، امام حسین کی اولوالعزمی، شجاعت، استقامت، آپ کے رفقا کی وفاداری و جان نثاری، آپ کے اہلِ بیت کے مصائب، حُر کی حق شناسی، نہ صرف مرثیہ اور سلام کے اہم موضوع ہیں بلکہ اردو شاعری میں استعارہ اور علامت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور قریب قریب سبھی مشہور شعراء نے اپنی اپنی فکر کے مطابق ان کو استعمال کیا ہے۔
میں یہاں پر ایک جسارت کر رہا ہوں کہ اردو شعراء کرام کے کلام میں جو سلام موجود ہیں ان کو پیش کر رہا ہوں۔ میرے مآخذ، شعراء کے دواوین و کلیات اور مختلف انتخاب ہیں۔ ویب پر بھی مختلف کلام ملتا ہے لیکن بہر حال ان میں املاء کی اغلاط ہیں۔
سب سے پہلے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف فارسی رباعی پیشِ خدمت ہے، اور اسی رباعی سے عنوان لینے کی سعادت حاصل کی ہے۔
*
شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین
دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین
*
سر داد نداد دست در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین
***
سلام
میرزا اسد اللہ خان غالب
سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس کو
تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو
*
نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے؟
کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو
*
خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی؟
کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو
*
خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کا
اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟
*
فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علی
کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو
*
کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتی
اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو
*
مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشی
ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو
*
وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو
*
عدو کے سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ بات
کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو
*
بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلند
بہ قدرِ فہم ہے اگر کیمیا کہیں اُس کو
*
نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاک
کہ ایک جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو
*
ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملے
اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو
*
ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حُسنِ صبر کی داد؟
مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو
*
زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں
پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو
*
وہ ریگِ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو
*
امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد
پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اُس کو
*
یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اُس کو
*
یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس کو
*
علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد حسین
کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟
*
نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہے
رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟
*
بھرا ہے غالبِ دل خستہ کے کلام میں درد
غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو
***
امامِ بر حقِ
حسرت موہانی
امامِ بر حقِ اہلِ رضا سلام علیک
شہیدِ معرکۂ کربلا سلام علیک
*
کلِ مرادِ ولایت حسین ابنِ علی
تتمۂ شرفِ مصطفیٰ سلام علیک
*
ثبوت یہ ہے کہ نُورِ شہادتِ کُبریٰ
تری جبیں سے نمایاں ہوا، سلام علیک
*
عبث ہے اور کہیں راہِ صبر و حق کی تلاش
تری مثال ہے جب رہنما، سلام علیک
*
ترے طفیل میں، حسرت بھی ہو شہیدِ وفا
یہی دعا ہے، یہی مدّعا، سلام علیک
***
امام حسین
واصف علی واصف
السّلام اے نُورِ اوّل کے نشاں
السّلام اے راز دارِ کُن فکاں
*
السّلام اے داستانِ بے کسی
السّلام اے چارہ سازِ بے کساں
*
السّلام اے دستِ حق، باطل شکن
السّلام اے تاجدارِ ہر زماں
*
السّلام اے رہبرِ علمِ لَدُن
السّلام اے افتخارِ عارفاں
*
السّلام اے راحتِ دوشِ نبی
السّلام اے راکبِ نوکِ سناں
*
السّلام اے بوترابی کی دلیل
السّلام اے شاہبازِ لا مکاں
*
السّلام اے ساجدِ بے آرزو
السّلام اے راز دارِ قُدسیاں
*
السّلام اے ذو الفقارِ حیدری
السّلام اے کشتۂ تسلیمِ جاں
*
السّلام اے مستیِ جامِ نجف
السّلام اے جنبشِ کون و مکاں
*
السّلام اے رازِ قرآنِ مبیں
السّلام اے ناطقِ رازِ نہاں
*
السّلام اے ہم نشینِ ریگِ دشت
السّلام اے کج کلاہِ خسرواں
*
السّلام اے دُرِ دینِ مُصطفیٰ
السّلام اے معدنِ علمِ رواں
*
السّلام اے گوہرِ عینِ علی
دینِ پیغمبر کے عنوانِ جلی
***
(مجموعہ"شب.چراغ")
تمنّائے کربلا
محمد علی جوہر
بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا
یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا
*
ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار
ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا
*
روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات
جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا
*
جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے
سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا
*
مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات سے
ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے کربلا
*
جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ چیز
اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا
***
احمد ندیم قاسمی
لب پر شہدا کے تذکرے ہیں
لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں
*
جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو
ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں
*
میدان کا دل دہک رہا ہے
دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں
*
کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں نیزے
جھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں
*
پانی نہ ملا تو آنسوؤں سے
چُلو بچوں کے بھر دیئے ہیں
*
آثار جوان بھائیوں کے
بہنوں نے زمیں سے چن لیے ہیں
*
بیٹوں کے کٹے پھٹے ہوئے جسم
ماؤں نے ردا میں بھر لیے ہیں
*
یہ لوگ اصولِ حق کی خاطر
سر دیتے ہیں، جان بیچتے ہیں
*
میدان سے آ رہی ہے آواز
جیسے شبّیر بولتے ہیں
*
جیسے غنچے چٹک رہے ہیں
جیسے کہسار گونجتے ہیں
*
"ہم نے جنہیں سر بلندیاں دیں"
سر کاٹتے کیسے لگ رہے ہیں
*
ہیں یہ رگِ نبی کے قطرے
جو ریت میں جذب ہو رہے ہیں
*
دیکھو اے ساکنانِ عالم
یوں کشتِ حیات سینچتے ہیں
***
انور مسعود
شعر
شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ کربلا
لاکھ مضموں باندھ لیجیے تشنگی رہ جائے گی
مسدس
سوارِ دوشِ محمد (ص) کا رتبۂ عالی
حدیثِ عجز ہے میرا بیانِ اجمالی
کھلی ہے آج تخیل کی بے پر و بالی
دکھائی دیتی ہیں لفظوں کی جھولیاں خالی
یہاں ضعیف ہر اظہار کا وسیلہ ہے
بس ایک دیدۂ خوں بار کا وسیلہ ہے
*
مثیلِ شاہِ شہیدِ شہیر نا ممکن
کوئی غریب ہو ایسا امیر نا ممکن
حسین سا کوئی روشن ضمیر نا ممکن
جہانِ عشق میں اس کی نظیر نا ممکن
وہ جاں نثار عجب اک مثال چھوڑ گیا
کہ اس کا صبر ستم کا غرور توڑ گیا
*
چھپی ہے اس کے تدبّر میں معرفت کیسی
کہ مصلحت کی جنوں سے مناسبت کیسی
ہوس کے ساتھ وفا کی مفاہمت کیسی
ستم گروں کے ستم سے مصالحت کیسی
اسی کی دین ہے یہ سوچ کا قرینہ بھی
کہ ایک جرم ہے ظالم کے ساتھ جینا بھی
*
مثالِ مہرِ جہاں تاب ضو فشاں ہے حسین
ہمہ خلوص ہے ایثارِ بے کراں ہے حسین
حیات راز ہے اور اس کا راز داں ہے حسین
ریاضِ دہر میں خوشبوئے جاوداں ہے حسین
وہ ظالموں کو ہمیشہ کا انتباہ بھی ہے
وہ اپنی ذات میں تفسیرِ لا الہ بھی ہے
***
سیّد الشّہداء
احمد فراز
دشتِ غربت میں صداقت کے تحفظ کے لیے
تُو نے جاں دے کے زمانے کو ضیا بخشی تھی
*
ظلم کی وادیِ خونیں میں قدم رکھا تھا
حق پرستوں کو شہادت کی ادا بخشی تھی
*
آتشِ دہر کو گلزار بنایا تو نے
تو نے انساں کی عظمت کو بقا بخشی تھی
*
اور وہ آگ وہ ظلمت وہ ستم کے پرچم
بڑے ایثار ترے عزم سے شرمندہ ہوئے
*
جرأت و شوق و صداقت کی تواریخ کے باب
تری عظمت، ترے کردار سے تابندہ ہوئے
*
ہو گیا نذرِ فنا دبدبۂ شمر و یزید
کشتگانِ رہِ حق مر کے مگر زندہ ہوئے
*
لیکن اے سیّدِ کونین حسین ابنِ علی
آج بھر دہر میں باطل کی صف آرائی ہے
*
آج پھر حق کے پرستاروں کا انعام ہے دار
زندگی پھر اس وادی میں اتر آئی ہے
*
آج پھر مدِ مقابل ہیں کئی شمر و یزید
صدق نے جن کو مٹانے کی قسم کھائی ہے
*
دل کہ ہر سال ترے غم میں لہو روتے ہیں
یہ اسی عہدِ جنوں کیش کی تجدید تو ہے
*
جاں بکف حلقۂ اعدا میں جو دیوانے ہیں
ان کا مذہب ترے کردار کی تقلید تو ہے
*
جب سے اب تک اسی زنجیرِ وفا کا رشتہ
بیعتِ دستِ جفا کار کی تردید تو ہے
****
(مجموعہ۔"شب.خون")
سلام اُس پر
احمد فراز
حُسین
اے میرے سر بریدہ
بدن دریدہ
سدا ترا نام برگزیدہ
میں کربلا کے لہو لہو دشت میں تجھے
دشمنوں کے نرغے میں
تیغ در دست دیکھتا ہوں
میں دیکھتا ہوں
کہ تیرے سارے رفیق
سب ہمنوا
سبھی جانفروش
اپنے سروں کی فصلیں کٹا چکے ہیں
گلاب سے جسم اپنے خوں میں نہا چکے ہیں
ہوائے جانکاہ کے بگولے
چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہیں
مسافرانِ رہِ وفا، لٹ لٹا چکے ہیں
اور اب فقط تُو
زمین کے اس شفق کدے میں
ستارۂ صبح کی طرح
روشنی کا پرچم لیے کھڑا ہے
یہ ایک منظر نہیں ہے
اک داستاں کا حصہ نہیں ہے
اک واقعہ نہیں ہے
یہیں سے تاریخ
اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے
یہیں سے انسانیت
نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے
*
میں آج اسی کربلا میں
بے آبرو ۔۔۔۔ نگوں سر
شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں
جہاں سے میرا عظیم ہادی
حسین کل سرخرو گیا ہے
*
میں جاں بچا کر
فنا کے دلدل میں جاں بلب ہوں
زمین اور آسمان کے عزّ و فخر
سارے حرام مجھ پر
وہ جاں لٹا کر
منارۂ عرش چھو گیا ہے
*
سلام اُس پر
سلام اُس پر
***
(مجموعہ ۔ "جاناں جاناں)
ہم جیسے
احمد فراز
حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے
کہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم جیسے
*
برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ جیسا
تو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم جیسے
*
وہ اپنی ذات کی پہچان کو ترستے ہیں
جو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم جیسے
*
یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیں
یہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے
*
بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم پہنچے
سبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے
*
خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ سلطاں
ترے لہو کو کریں گے سلام ہم جیسے
*
تُو سر بریدہ ہوا شہرِ نا سپاساں میں
زباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے
*
پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فراز
بغاوتوں کے علم تھے مدام ہم جیسے
***
(مجموعہ۔"نابیناشہرمیںآئینہ")
کوثر نیازی
دل و دماغ میں مہر و وفا کے افسانے
تصورات میں روشن فضائے بدر و حُنین
*
خوشا یہ اوجِ مقدر، زہے یہ عز و شرف
مری زباں پہ جاری ہے آج ذکرِ حُسین
**
نہ فکر سود و زیاں کی، نہ ذکرِ تیغ و تبر
حُسین، راہِ خدا میں تری یہ بے تابی
*
بہار گلشنِ اسلام میں پلٹ آئی
کہ تیرے خون سے قائم ہے اس کی شادابی
**
کہیں بھی اہلِ محبت کی تشنگی نہ بجھی
فرات و نیل کے ساحل سے تا بہ گنگ و جمن
*
برائے لالہ و گل اجنبی ہے فصلِ بہار
خزاں کے دستِ تصرف میں آگیا ہے چمن
**
ہر ایک سمت میں عفریت ظلم کے رقصاں
خدا کے دین کا حلقوم ہے تہِ شمشیر
*
نئے یزید، نئی کربلا ہوئی پیدا
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے کوئی نیا شبّیر
***
مرثیۂ امام
فیض احمد فیض
رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے
ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے
*
مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے
مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے
*
تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے
یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے
**
دشمن کی سپہ خواب میں مدہوش پڑی تھی
پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی
*
ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی
یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی
*
رہ رہ کے بُکا اہلِحرم کرتے تھے ایسے
تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے
**
اِک گوشے میں ان سوختہ سامانوں کے سالار
اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں کے سردار
*
تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار
اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار
*
مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے تھے
ہاں تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے
**
کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی
ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی
*
ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا تھی
ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا تھی
*
پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو دیکھا
پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا
**
الحمد قریب آیا غمِ عشق کا ساحل
الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی نازل
*
بازی ہے بہت سخت میانِ حق و باطل
وہ ظلم میںکامل ہیں تو ہم صبر میں کامل
*
بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو
باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو
**
پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ چمکی
اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی
*
نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ چمکی
شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی
*
دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا صحرا
خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا صحرا
**
پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ اعدا
تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا
*
ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا
یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا
*
کی آنے میں تاخیر جو لیلائے قضا نے
خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء نے
**
فرمایا کہ کیوں در پئے آزار ہو لوگو
حق والوں سے کیوں برسرِ پیکار ہو لوگو
*
واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو لوگو
معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو لوگو
*
کیوں آپ کے آقاؤں میں اور ہم میں ٹھنی ہے
معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی ہے
**
سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم کو
اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم کو
*
زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو
جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم کو
*
سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے
اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں ہمیں بس ہے
**
طالب ہیں اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار
باطل کے مقابل میں صداقت کے پرستار
*
انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے طرفدار
ظالم کے مخالف ہیں تو بیکس کے مددگار
*
جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے
جو جبر کا منکر نہیں وہ منکرِ دیں ہے
**
تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے گا
تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا
*
جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ابرار کہے گا
جو بندۂ حُر ہے، ہمیں احرار کہے گا
*
نام اونچا زمانے میں ہر انداز رہے گا
نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے گا
**
کر ختم سخن محوِ دعا ہو گئے شبّیر
پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے شبیر
*
قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے شبیر
خیموں میں تھا کہرام، جُدا ہو گئے شبیر
*
مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا
اِس خاک تلے جنّتِ فردوس کا در تھا
***
(مجموعہ۔"شامِ.شہرِیاراں")
سلام
منیر نیازی
خوابِ جمالِ عشق کی تعبیر ہے حُسین
شامِ ملالِ عشق کی تصویر ہے حسین
*
حیراں وہ بے یقینیِ اہلِ جہاں سے ہے
دنیا کی بیوفائی سے دلگیر ہے حسین
*
یہ زیست ایک دشت ہے لا حد و بے کنار
اس دشتِ غم پہ ابر کی تاثیر ہے حسین
*
روشن ہے اس کے دم سے الم خانۂ جہاں
نورِ خدائے عصر کی تنویر ہے حسین
*
ہے اس کا ذکر شہر کی مجلس میں رہنما
اجڑے نگر میں حسرتِ تعمیر ہے حسین
***
(مجموعہ۔"ساعتِ.سیّار")
حفیظ تائب
رموزِ عشق و محبت تمام جانتا ہوں
حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں
*
انہی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود
انہی کے گھر کو میں دارالسلام جانتا ہوں
*
میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز
کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں
*
مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات
سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں
*
نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر
جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں
*
میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں
جو خود کو پیروِ خیر الانام جانتا ہوں
*
شکارِ مصلحت و یاس کیوں ہو پھر تائب
جو اس کٹے ہوئے سر کا پیام جانتا ہوں
***
مرثیہ
از میر تقی میر
بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار
جاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک بار
*
ناچار اپنے مرنے کا ہو گا امیدوار
ہے آج رات اور یہ مہمان روزگار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
یک دم کہ تیری ہستی میں ہو جائے گا غضب
سادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ لب
*
برسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی سبب
مت آ عدم سے عالمِ ہستی میں زینہار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
ماریں گے تیر شام کے نامرد سارے لوگ
دیویں گے ساتھ اس کا جنہوں نے لیا ہے جوگ
*
تا حشر خلق پہنے رہیں گے لباسِ سوگ
ہو گا جہاں جوان سیہ پوش سوگوار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
اکبر مرے گا جان سے قاسم بھی جائے گا
عباس دل جہان سے اپنا اٹھائے گا
*
اصغر بغل میں باپ کی اک تیر کھائے گا
شائستہ ایسے تیر کا وہ طفل شیر خوار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
اے کاش کوئی روز شبِ تیغ اب رہے
تا اور بھی جہاں میں وہ عالی نسب رہے
*
لیکن عزیز جس کے مریں سب وہ کب رہے
بے چارہ سینہ خستہ و بے یار و بے وتار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
ذات مقدس ابن علی کی ہے مغتنم
اک دم میں اس کے ہوویں الٰہی بزار دم
*
کیا شب رہے تو ہووے ہے ایام ہی میں کم
آتا ہے کون عالمِ خاکی میں بار بار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
کاکل میں تیرے فتنے ہیں ہر اک شکن کے ساتھ
ہنگامہ لگ رہا ہے ترے دم زدن کے ساتھ
*
رہ کوئی دن عدم میں ہی رنج و محن کے ساتھ
یہ بات دونوں صمع میں رکھتی ہے اشتہار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
جلوے میں تیرے سینکڑوں جلووں کی مے فنا
یعنی سحر پہ آنا قیامت کا ہے رہا
*
دن ہو گیا کہ سبط نبی مرنے کو چلا
ساتھ اپنے دے چکا ہے تلف ہونے کا قرار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
آبِ فرات پر تو بہ شب دن نہ پھر کبھی
خوں ریز ورنہ ہونے لگے گا بہم ابھی
*
سیِّد تڑپ کے پیاس سے مر جائیں گے سبھی
پیغمبرِ خدا ہی کا پروردۂ کنار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
دن شب کو کس امید کے اوپر کرے بھلا
جو جانتا ہو یہ کہ ستم ہو گا برملا
*
نکلے گی تیغِ جور کٹے گا مرا گلا
اے وائے دل میں اپنے لیے حسرتیں ہزار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
ایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتاب
وہ جو غیور مرنے میں اپنے کرے شتاب
*
دے بیٹھے سر کو مصر کے میں کھا کے پیچ و تاب
تر خوں میں دونوں کسو ہوں سر پر پڑے غبار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
جس دم خطِ شعاعی ہوئے رونقِ زمیں
افگار ہو کے نیزہ خطی سیوہ حسیں
*
ہوویں گے جمع پیادے سوار آن کر وہیں
ہو گا جدا وہ گھوڑے سے مجروح بے شمار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
لوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کر کے جوش
فرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہو گا ہوش
*
سجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تئیں خموش
آنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا انتظار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
خورشید کی بلند نہ ہو تیغ خوں فشاں
ہے درمیاں نبی کے نواسے کا پائے جاں
*
ایسا اگر ہوا تو قیامت ہوئی عیاں
وہ حلق تشنہ ہو گا تہِ تیغ آب دار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
روشن ہوا جو روز تو اندھیر ہے نداں
میداں میں صاف ہو کے کھڑا دے چکے گا جاں
*
ناموس کی پھر اس کے نہ عزت ہے کچھ نہ شاں
اک شش جہت سے ہو گی بلا آن کر دو چار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
پھر بعد قتل اس کے غضب ایک ہے یہ اور
بختی چرخ راہ چلے گا انہوں کے طور
*
شیوہ جفا شعار ستم طرز جن کی جور
عابد کے دست بستہ میں دی جائے گی مہار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
خورشید سا سر اس کا سناں پر چڑھائیں گے
عالم میں دن وہی ہے سیہ کر دکھائیں گے
*
بیٹے کے تئیں سوار پیادہ چلائیں گے
ہو گا عنان دل پہ نہ کچھ اس کا اختیار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
پیکر میں ایک کشتہ کے ہو گی نہ نیم جان
خیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ نشاں
*
شوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ کہاں
یہ جائے اعتبار ہے کیا یاں کا اعتبار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
صاحب موئے اسیر ہوئے شام جائیں گے
سو کر جھکائے شرم سے ہر گام جائیں گے
*
ناچار رنج کھینچتے ناکام جائیں گے
لطف خدائے عز و جل کے امیدوار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
لازم ہے خوں چکان روش گفتگو سے شرم
کر اس نمود کرنے کی ٹک آرزو سے شرم
*
تجھ کو مگر نہیں ہے محمد کے رو سے شرم
بے خانماں بے دل و بے خویش بے تبار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
راہِ رضا میں عاقبتِ کار سر گیا
ایسی گھڑی چلا کہ مدینے نہ پھر گیا
*
ہوں آفتاب جانبِ شام آ کے گھر گیا
خاطر شکستہ غم زدہ آزردہ دل فگار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*
آثار دکھ کے ہیں در و دیوار سے عیاں
چھایا ہے غم زمین سے لے تا بہ آسماں
*
کچھ میر ہی کے چہرے پہ آنسو نہیں رواں
آیا ہے ابر شام سے روتا ہے زار زار
*
فردا حسین می شود از دہر نا امید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی سفید
*****
شامِ غریباں
پروین شاکر
غنیم کی سرحدوں کے اندر
زمینِ نا مہرباں پہ جنگل کے پاس ہی
شام پڑ چکی ہے
ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے
اور ان شگوفوں کی سبز خوشبو
جو اپنی نو خیزیوں کی پہلی رتوں میں
رعنائیِ صلیبِ خزاں ہوئے
اور بہار کی جاگتی علامت ہوئے ابد تک
جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے ہوئے سر
ردائے عفت اڑھانے والے
بریدہ بازو کو ڈھونڈتے ہیں
بریدہ بازو کہ جن کا مشکیزہ
ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پایا
مگر وفا کی سبیل بن کر
فضا سے اب تک چھلک رہا ہے
برہنہ سر بیبیاں ہواؤں میں سوکھے پتوں
کی سرسراہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں
بادِ صرصر کے ہاتھ سے بچنے
والے پھولوں کو چومتی ہیں
چھپانے لگتی ہیں اپنے دل میں
بدلتے، سفاک موسموں کی ادا شناسی نے چشمِ
حیرت کو سہمناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے
چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں
کٹے ہوئے سر
شکستہ خوابوں سے کیسا پیمان لے رہے ہیں
کہ خالی آنکھوں میں روشنی آتی جا رہی ہے
***
میں نوحہ گر ہوں
امجد اسلام امجد
میں نوحہ گر ہوں
میں اپنے چاروں طرف بکھرتے ہوئے زمانوں کا نوحہ گر ہوں
میں آنے والی رتوں کے دامن میں عورتوں کی اداس بانہوں کو دیکھتا ہوں
اور انکے بچوں کی تیز چیخوں کو سن رہا ہوں
اور انکے مَردوں کی سرد لاشوں کو گن رہا ہوں
میں اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر فصیلِ دہشت کو چھو رہا ہوں
زمیں کے گولے پر زرد کالے تمام نقطے لہو کی سرخی میں جل رہے ہیں
نئی زمینوں کے خواب لے کر
مسافر اِن تباہ یادوں کے ریگ زاروں میں چل رہے ہیں میں نو
حہ گر ہوں مسافروں کا جو اپنے رستے سے بے خبر ہیں میں ہوش والوں کی بد حواسی کا نوحہ گر ہوں
حُسین،
میں اپنے ساتھیوں کی سیہ لباسی کا نوحہ گر ہوں
ہمارے آگے بھی کربلا ہے، ہمارے پیچھے بھی کربلا ہے
حُسین، میں اپنے کارواں کی جہت شناسی کا نوحہ گر ہوں
نئے یزیدوں کو فاش کرنا ہے کام میرا
ترے سفر کی جراحتوں سے
ملا ہے مجھ کو مقام میرا
حُسین، تجھ کو سلام میرا
***
آنسوؤں کے موسم میں
اقبال ساجد
حُسین تیرے لیے خواہشوں نے خوں رویا
فضائے شہرِ تمنّا بہت اداس ہوئی
*
غبارِ ظلم پہ رنگِ شفق بھڑک اٹھا
زمیں پہ آگ بگولا گُلوں کی باس ہوئی
*
غموں کو کاشت کیا آنسوؤں کے موسم میں
یہ فصل اب کے بہت دل کے آس پاس ہوئی
*
وہ پیاس جس کو سمندر سلام کرتے ہیں
ہوئی تو تیرے لبوں سے ہی روشناس ہوئی
*
جو تُو نے خون سے لکھی حُسین وہ تحریر
کتابِ حق و صداقت کا اقتباس ہوئی
*
کبھی بجھا نہ سکے گی ترے چراغ کی لو
کہ جمع تیری امانت ہوا کے پاس ہوئی
*
دکھوں میں ڈوب گئی دشتِ کربلا کی سحر
ہوائے شام ترے غم میں بد حواس ہوئی
***
قتیل شفائی
سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا ہے
پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ ہے
*
تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے
جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا ہے
*
برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ ہے
*
علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے
نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ ہے
*
کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی
سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ ہے
*
نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر بھی
مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے
*
قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے
*
قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفیٰ سا ہے
***
عبدالحمید عدم
تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین
*
دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق
کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین
*
وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند
درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ حسین
*
کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے کے
نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ حسین
*
وفا سرشت بہتّر نفوس کی ٹولی
گئی تھی جوڑنے تاریخِ زر نگارِ حسین
***
فارغ بخاری
حُسین نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے
حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ سے
*
ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا غرور
یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ سے
*
بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا مقام
صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ سے
*
ترے لہو کا یہ ادنیٰ سا اک کرشمہ ہے
ہوئی ہے عام شہادت کی آرزو تجھ سے
*
کبھی نہ جبر کی قوت سے دب سکا فارغ
ملی ہے ورثے میں یہ سر کشی کی خُو تجھ سے
***
عطاء الحق قاسمی
جب بھی شام کو سورج ڈوبنے لگتا ہے
ایسے میں یہ دل بھی ڈولنے لگتا ہے
*
آنکھوں میں پھر جاتی ہے وہ سوہنی صورت
اور پھر دل پر خنجر چلنے لگتا ہے
*
اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں
خیموں میں کوئی بچہ رونے لگتا ہے
*
چاروں جانب گھیرا جھوٹ کے لشکر کا
سچ کا سایہ اس پر پھیلنے لگتا ہے
*
سچ کا سایہ حُر کی صورت سامنے ہے
وہ ہر دل پر دستک دینے لگتا ہے
*
حرص و ہوس کے بندے لیکن کیا جانیں
مرنے والا کیسے جینے لگتا ہے
*
لیکن تم مایوس نہ ہونا دل والو
دل جو سوچتا ہے وہ ہونے لگتا ہے
****
خالد احمد
اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے
یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے
*
اے تشنگی، یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں
اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے
*
یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا
یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے
*
سایہ ہے سر پہ چادرِ صبر و صلوٰۃ کا
بادل کی آرزو ہے نہ بارش کی آس ہے
*
سوئے دمشق صبر کا سکہ رواں ہوا
اک رخ پہ ہے خراش تو اک رخ پہ لاس ہے
*
اے زینِ عابدین، امامِ شکستگاں
زنجیر زن ہواؤں میں کس خوں کی باس ہے
*
اے سر بلند و سر بہ فلک اہلِ دین و دل
مدفون کربلا میں ہماری اساس ہے
*
تاجِ سرِ نیاز کا ہالہ ہے رفتگی
آہِ امامِ دل زدگاں آس پاس ہے
*
ممکن ہے کسطرح وہ ہماری خبر نہ لیں
ہر سانس، تارِ پیرہنِ التماس ہے
*
خالد شکست و فتح کے معنی بدل گئے
بازارِ شام ہے کہ شبِ التباس ہے
***
محمد اعظم چشتی
جہانِ عشق و محبّت ہے آستانِ حُسین
نشانِ حق و صداقت ہے آستانِ حُسین
*
حدیثِ صدق و صفا، داستانِ صبر و رضا
بنائے شوقِ شہادت ہے آستانِ حُسین
*
جہاں میں مسکن و ماوا ہے اہلِ ایماں کا
دیارِ حُسنِ عقیدت ہے آستانِ حُسین
*
زمانہ کہتا ہے جس کو جمالِ لم یزلی
اسی جمال کی حجّت ہے آستانِ حُسین
*
نظر گئی مگر اب تک نہ لوٹ کر آئی
وہ برجِ اوجِ امامت ہے آستانِ حُسین
*
جو دیکھنا ہو تو میری نگاہ سے دیکھو
گناہ گاروں کی جنّت ہے آستانِ حُسین
*
یہیں سے جلتے ہیں اعظم حقیقتوں کے چراغ
ضیائے شمعِ نبوت ہے آستانِ حُسین
***
رباعیات ۔
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر
نغمۂ بربطِ کونین ہے فریادِ حُسین
جادۂ راہِ بقا مسلک آزاد حُسین
شوخیِ لالۂ رنگین ہے کہیں خونِ شفق
کس قدر عام ہوئی سرخیِ رودادِ حُسین
***
زندہ اسلام کو کیا تُو نے
حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے
***
بڑھائی دینِ مُحمد کی آبرو تُو نے
جہاں میں ہو کے دکھایا ہے سرخرو تُو نے
چھڑک کے خون شہیدوں کا لالہ و گل پر
عطا کیے ہیں زمانے کو رنگ و بُو تُو نے
***
لب پہ جب شاہِ شہیداں ترا نام آتا ہے
ساقی بادۂ عرفاں لیے جام آتا ہے
مجھ کو بھی اپنی غلامی کا شرف دے دیتے
کھوٹا سکہ بھی تو آقا کبھی کام آتا ہے
****
سبط علی صبا
جمود ذہن پہ طاری تھا انقلاب نہ تھا
سکونِ قلب کہیں سے بھی دستیاب نہ تھا
*
حصارِ ظلم کی بنیاد کو اکھاڑ دیا
جہاں میں تجھ سا کوئی بھی تو فتح یاب نہ تھا
*
کچھ اس لیے بھی ترے نام کے ہوئے دشمن
تو وہ سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا
*
کچھ اس طرح سے بہتر کا انتخاب کیا
کسی رسول کا بھی ایسا انتخاب نہ تھا
*
حسین ابنِ علی کو نہ آفتاب کہو
وہ جب تھا جب کہ کہیں نامِ آفتاب نہ تھا
*
حُسین مصدرِ اُمّ الکتاب کیا کہنا
بجز تمھارے کوئی وارثِ کتاب نہ تھا
*
حُسین باعثِ تخلیقِ کائنات ہے تُو
غضب ہے تیرے لیے کربلا میں آب نہ تھا
***
گردھاری پرشاد باقی
سلامی کربلا ہے اور میں ہوں
غمِ کرب و بلا ہے اور میں ہوں
*
کہا شہ نے نہیں کوئی رفیق اب
فقط ذاتِ خدا ہے اور میں ہوں
*
دیا ہے اپنا سر میں نے خوشی سے
قضا ہے یا رضا ہے اور میں ہوں
*
جو کچھ وعدہ کیا پورا کروں گا
یہ خنجر ہے گلا ہے اور میں ہوں
***
نظم طباطبائی
چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں
پھیلی شعاع ہند میں چین و تتار میں
*
پہنچا ستارہ اوج پہ دینِ حُسین کا
اب تک تھا گردشِ فلکِ کج مدار میں
*
چونکیں ذرا یہود و نصاریٰ تو خواب سے
آئی نسیم صبحِ شبِ انتظار میں
*
وردِ زبانِ پاک صحیفہ ہے نور کا
اترا تھا جو خلیل پہ گلزارِ نار میں
*
ہے یاد دشت میں گہر افشانیِ کلیم
اور موعظ مسیح کا وہ کوہسار میں
*
موسیٰ کی رات کی مناجات طُور پر
داؤد کا وظیفہ وہ صبح بہار میں
*
بت ہو گیا ہے سنگ سرِ بت پرست پر
سرکہ بنی شراب کہن بادہ خوار میں
*
وہ جام پی کے اٹھ گئے پردے نگاہ سے
دریائے علم و نور کو پایا کنار میں
***
ثروت حسین
کس کی خوں رنگ قبا آتی ہے
روشنی اب کے سوا آتی ہے
*
ساعتِ علم و خبر سے پہلے
منزلِ کرب و بلا آتی ہے
*
روزِ پیکار و جدل ختم ہوا
شبِ تسلیم و رضا آتی ہے
*
گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے
*
پھر سرِ خاکِ شہیداں ثروت
پھول رکھنے کو ہوا آتی ہے
****
صدائے استغاثہ
افتخار عارف
ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا
ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا
کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گ
کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا
صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز
سنائی دی تھی
جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی
یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی
بازگشت ہے
اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا
سامان کیا جاتا ہے
اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا
جاتا ہے
تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے
اچھے اچھے لوگوں کی باتیں سنتا تھا
سچے سچے لوگوں کی باتیں پڑھتا تھا اور پہروں روتا تھا
اور اب برسوں بیت گئے ہیں
جن آنکھوں میں آنسو تھے اب ان آنکھوں میں حیرت ہے
سچائی کی گواہی دینے والے آخر ظالم کو
ظالم کہنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟
موت سے پہلے مرتے کیوں ہیں؟
***
شورش کاشمیری
قرنِ اوّل کی روایت کا نگہ دار حسین
بس کہ تھا لختِ دلِ حیدرِ کرار حسین
*
عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ حکیم
وادیِ نجد میں اسلام کی للکار حسین
*
سر کٹانے چلا منشائے خداوند کے تحت
اپنے نانا کی شفاعت کا خریدار حسین
*
کوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ ہو
اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار حسین
*
ابو سفیان کے پوتے کی جہانبانی میں
عزّتِ خواجۂ گیہاں کا نگہ دار حسین
*
کرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا ظہور
عشق کی راہ میں تاریخ کا معمار حسین
*
جان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال گیا
حق کی آواز، صداقت کا طرفدار حسین
*
دینِ قیم کے شہیدوں کا امامِ برحق
حشر تک امّتِ مرحوم کا سردار حسین
*
ہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس کی
ہر زمانے کے لیے دعوتِ ایثار حسین
*
کربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی ہے
دورِ حاضر کے یزیدوں سے دوچار حسین
***
شہزاد احمد
وعدہ کر کے بھی نہیں ساتھ نبھانے والے
کتنے بیدرد ہیں یہ لوگ زمانے والے
*
اہلِ کوفہ نے بلایا تو چلے آئے ہیں
کیسے سادہ ہیں محمد کے گھرانے والے
*
رحم کرتے ہیں تو اس کی بھی نہیں حد کوئی
کسی سفاک کو خاطر میں نہ لانے والے
*
فیصلہ آپ کریں، آپ کو کرنا کیا ہے؟
آپ پر چھوڑتے ہیں شمع بجھانے والے
*
ظلم کے تیروں سے چھلنی ہیں حسین ابنِ علی
غلبۂ کفر سے دنیا کو بچانے والے
*
ظلم کرنے پہ تلی بیٹھی ہے دنیا ساری
اور ہم لوگ فقط سوگ منانے والے
*
عرصۂ دہر میں باقی نہیں رہتا کچھ بھی
خاک ہو جاتے ہیں خیموں کو جلانے والے
*
کس کو معلوم کہ دن بھر کے تھکے ہارے ہوئے
شام کو اپنے لہو میں ہیں نہانے والے
*
کیا بتائیں تجھے کیا چیز ہے یہ تشنہ لبی
خشک ہو جاتے ہیں دریا نظر آنے والے
*
جو بچاتے نہیں کل کے لیے اک دانہ بھی
وہی درویش ہیں عقبیٰ کے خزانے والے
*
درِ مولا پہ پڑے ہیں تو بڑے ہیں شہزاد
یہ پرندے نہیں اڑ کر کہیں جانے والے
***
امتناع کا مہینہ
اختر حسین جعفری
اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے
بہرِ پرواز محفوظ تھے آسماں
بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے
اس مہینے میں غارت گری منع تھی یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے
قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینے کی حرمت کے اعزاز میں
دوش پر گردنِ خم سلامت رہے
کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے
میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ
اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے
روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیرِ در مجھ سے کھلتی نہیں
فرشِ ہموار پر پاؤں چلتا نہیں
دل دھڑکتا نہیں
اس مہینے میں گھر سے نکلتا نہیں
***
صبا اکبر آبادی
حسین نزہتِ باغِ پیمبرِ عربی
حسین نازشِ فاقہ، وقارِ تشنہ لبی
*
حسین مرکزِ ایثار و مخزنِ تسلیم
حسین شمعِ حقیقت، چراغِ بزمِ نبی
*
حسین لختِ دلِ مرتضیٰ و جانِ بتول
جہاں میں کس کو میسر ہے یہ علو نسبی
*
حسین، سینۂ اکبر سے کھینچ لی برچھی
حسین سینہ میں اس وقت کیسے آہ دبی
*
ستم کا تیر بھی دیکھا گلوئے اصغر میں
وہ مسکرانے کا انداز روحِ تشنہ لبی
*
جوان بھائی کے شانے کٹے ہوئے دیکھے
یہ صبر ابنِ ید اللہ، یہ رضا طلبی
*
یہی تو شان ہے سبطِ رسول ہونے کی
دعائے بخششِ امت، جوابِ بے ادبی
*
نہیں ہے کوئی ذریعہ صبا، حسین تو ہیں
بڑا سبب ہے زمانہ میں اپنی بے سببی
***
غلام محمد قاصر
جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر
فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر
*
سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے
جو کشتیِ حق کا بادباں ہے سلام اس پر
*
جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں
وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر
*
مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی
جو ان زمینوں کا آسماں ہے سلام اس پر
*
ہر اک غلامی ہے آدمیّت کی نا تمامی
وہ حریّت کا مزاج داں ہے سلام اس پر
*
حیات بن کر فنا کے تیروں میں ضو فشاں ہے
جو سب ضمیروں میں ضو فشاں ہے سلام اس پر
*
کبھی چراغِ حرم کبھی صبح کا ستارہ
وہ رات میں دن کا ترجماں ہے سلام اس پر
*
میں جلتے جسموں نئے طلسموں میں گِھر چکا ہوں
وہ ابرِ رحمت ہے سائباں ہے سلام اس پر
*
شفق میں جھلکے کہ گردنِ اہلِ حق سے چھلکے
لہو تمھارا جہاں جہاں ہے سلام اس پر
***
خورشید رضوی
اشک میں گُھل گیا لہو، سرخ ہوا فضا کا رنگ
عرصۂ جاں پہ چھا گیا پھر وہی کربلا کا رنگ
*
کس سے بھلا وہ ٹل سکے، عزم ہو جب حُسین کا
کون اسے بدل سکے، رنگ ہو جب خدا کا رنگ
*
اس نے بجھا دیا چراغ، تا رہے سہل و سازگار
ظلمتِ پردہ دار میں، بدلی ہوئی ہوا کا رنگ
*
پر وہ سبھی تھے جاں نثار، سود و زیاں سے بر کنار
ان کے دلوں میں تھا کوئی رنگ تو تھا وفا کا رنگ
*
جب بھی خیال آ گیا اس سرِ سرفراز کا
صفحۂ دل سے اڑ گیا مصلحت و ریا کا رنگ
*
ڈھل نہ سکے گا تا ابد اب کفِ دستِ شام سے
خونِ دلِ شہید کا رنگ نہیں حنا کا رنگ
*
صرف کیے سخن ہزار، پھر بھی رہا مآلِ کار
مہر بلب حروف پر حسرتِ مدّعا کا رنگ
****
جلیل عالی
بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے
اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے
*
آبجو پاس تھی بوند پانی کو ترسے ہوؤں کے لیے
منتظر باغِ جنت میں صبر و رضا کے ثمر اور تھے
*
نور پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ اور تھا
چور چہروں پر ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر اور تھے
*
گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی کم تو نہ تھی آپ کی
کربلا میں مگر سرخرو تھے سوا، معتبر اور تھے
*
سطح صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھی
لفظ لیکن لہو سے جو لکھے گئے ریت پر اور تھے
***
رباعیات
جوش ملیح آبادی
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسین
***
اوہام کو ہر اک قدم پہ ٹھکراتے ہیں
ادیان سے ہر گام پہ ٹکراتے ہیں
لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حسین
ہم اہلِ خرابات بھی جھک جاتے ہیں
***
سینے پہ مرے نقشِ قدم کس کا ہے
رندی میں یہ اجلال و حشم کس کا ہے
زاہد، مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ
یہ دیکھ کہ اس سر پر علم کس کا ہے
****
شبِ درمیان۔
عرفان صدیقی
(۱)
یہ عجب مسافتیں ہیں
یہ عجب مصافِ جاں ہے
کہ میں سینکڑوں برس سے
اسی دشتِ ماریہ میں
سرِ نہرِ شب کھڑا ہوں
وہی اک چراغِ خیمہ
وہی اک نشانِ صحرا
وہی ایک نخلِ تنہا
نہ فرشتگاں کے لشکر
نہ بشارتوں کے طائر
وہی اگلے دن کی آہٹ
یہ ستارہ ہے کہ نیزہ
یہ دعا ہے یا دھواں ہے
مگر اک صدا مسلسل
یہ کہاں سے آ رہی ہے
ابھی رات درمیاں ہے
ابھی رات درمیاں ہے
***
(دشتِ ماریہ سے)
(۲)
رکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
*
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آب ہے پہرا لگا ہوا کیسا
*
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خونبار
افق افق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
*
اذان ہے کہ عَلم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
*
یہ لوگ دشتِ جفا میں کسے پکارتے ہیں
یہ باز گشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
*
گلوۓ خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
*
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہوگا، مقابلہ کیسا
*
سلگتی ریت میں کو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
*
یہ سرخ بوند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
*
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئینہ کیسا
*
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لئے
اجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
*
سیاہ نیزوں پہ سورج ابھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
*
تجھے بھی یاد ہے اے آسمان کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے حادثہ کیسا
***
(۳)
خشک ہوتا ہی نہیں دیدۂ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
*
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل میں ہے کوئی نقشِ دگر پانی کا
*
کون مشکیزی سرِ نیزہ عَلم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
*
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا درِ شبّیر پسر پانی کا
*
تیری کھیتی لبِ دریا ہے تو مایوس نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا
****
(۴)
سرابِ دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
*
سوادِ شام یہ شہزادگانِ صبح کہاں
ویاہ شب میں یہ سورج اگانے والا کون
*
یہ ریگزار میں کس حرفِ لا وال کی چھاؤں
شجر یہ دشتِ زیاں میں لگانے والا کون
*
یہ کون راستہ روکے ہوۓ کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
*
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
*
بدن کے نقرئی ٹکڑے، لہو کی اشرفیاں
ادھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
*
یہ کس کے نام پہ تیغِ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
*
ابھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلامِ حق سرِ نیزہ سنانے والا کون
*
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
توٗ اے بدن، مرے رستے میں آنے والا کون
****
(۵)
سب داغ ہاۓ سینہ ہویدا ہمارے ہیں
اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں
*
وابستگانِ لشکرِ صبر و رجا ہیں ہم
جنگل میں یہ نشان و مصلّیٰ ہمارے ہیں
*
نوکِ سناں پہ مصحفِ ناطق ہے سر بلند
اونچے عَلَم تو سب سے زیادہ ہمارے ہیں
*
یہ تجھ کو جن زمین کے ٹکڑوں پہ ہے غرور
پھینکے ہوئے یہ اے سگِ دنیا! ہمارے ہیں
*
سر کر چکے ہیں معرکۂ جوۓ خوں سو آج
روۓ زمیں پہ جتنے ہیں دریا، ہمارے ہیں*
*
*۔آخری.شعرکامصرع ثانی میرمونسؔ.کاہے
***
ٹائپنگ: محمد وارث، اعجاز عبید (مؤخر الذکر صرف انتخابِ عرفان صدیقی)
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
اردو لائبریری ڈاٹ آرگ، کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام اور کتب ڈاٹ ۲۵۰ فری ڈاٹ کام کی مشترکہ پیشکش=
http://urdulibrary.org, http://kitaben.ifastnet.com, http://kutub.۲۵۰free.com
فہرست
حرفِ آغاز ۴
سلام ۵
میرزا اسد اللہ خان غالب ۵
امامِ بر حقِ ۸
حسرت موہانی ۸
امام حسین ۹
واصف علی واصف ۹
تمنّائے کربلا ۱۱
محمد علی جوہر ۱۱
احمد ندیم قاسمی ۱۲
انور مسعود ۱۴
شعر ۱۴
مسدس ۱۴
سیّد الشّہداء ۱۶
احمد فراز ۱۶
سلام اُس پر ۱۸
احمد فراز ۱۸
ہم جیسے ۲۱
احمد فراز ۲۱
کوثر نیازی ۲۳
مرثیۂ امام ۲۴
فیض احمد فیض ۲۴
سلام ۲۹
منیر نیازی ۲۹
حفیظ تائب ۳۰
مرثیہ ۳۱
از میر تقی میر ۳۱
شامِ غریباں ۴۰
پروین شاکر ۴۰
میں نوحہ گر ہوں ۴۲
امجد اسلام امجد ۴۲
آنسوؤں کے موسم میں ۴۳
اقبال ساجد ۴۳
قتیل شفائی ۴۴
عبدالحمید عدم ۴۵
فارغ بخاری ۴۶
عطاء الحق قاسمی ۴۷
خالد احمد ۴۸
محمد اعظم چشتی ۵۰
رباعیات ۔ ۵۱
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ۵۱
سبط علی صبا ۵۲
گردھاری پرشاد باقی ۵۳
نظم طباطبائی ۵۴
ثروت حسین ۵۵
صدائے استغاثہ ۵۶
افتخار عارف ۵۶
شورش کاشمیری ۵۸
شہزاد احمد ۶۰
امتناع کا مہینہ ۶۲
اختر حسین جعفری ۶۲
صبا اکبر آبادی ۶۳
غلام محمد قاصر ۶۴
خورشید رضوی ۶۶
جلیل عالی ۶۷
رباعیات ۶۸
جوش ملیح آبادی ۶۸
شبِ درمیان۔ ۶۹
عرفان صدیقی (۱) ۶۹
(دشتِ ماریہ سے) (۲) ۷۰
(۳) ۷۲
(۴) ۷۳
(۵) ۷۵