یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب کا نام: گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
جمع وترتیب : سید عابد حسین زیدی
ای بک کمپوزنگ : حافظی
نیٹ ورک: شبکہ امامین حسین علیھما السلام
بسم الله الرحمن الرحیم
٭ جس کام سے پہلےبسم الله الرحمن الرحیم نہ پڑھی جائے اس میں شیطان شریک ہوتا ہے ۔حدیث نبوی ہے کہ
"جو کوئی اہم کام بغیربسم الله الرحمن الرحیم کے شروع کیا جائے وہ ناقص اورنا تمام ہوتا ہے "۔
٭ پیغمبر اسلام نے فرمایا :
"جب بندہ خدا سوتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے تو خداوند فرشتوں سے فرماتا ہے میرے ملائکہ صبح تک میرے اس بندے کے سانس لکھتے رہو (ان کا اجر ملے گا )"۔
٭ جو شخص اپنے گھر کے دروازے کے بیرونی حصہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھے تو وہ ہلاکت سے محفوظ رہے گا ۔
تفریظ
نسل انسانی کی بقا کے لئے قانون فطرت مسلسل مصروف عمل ہے جس کی بنا سراسر محبت پر ہے ۔جب حضرت آدم کو تنہائی کا احساس ہوا تو ان کے سکون قلب کے لئے حضرت حوّا کی تخلیق عمل میں آئی اور صنف نازک کی خلقت کی بنیاد سکون قلب فراہم کرنا ہے جو محبت کا ثمر ہوتی ہے اور یہی وہ منزل ہے جہاں انسان محبت پاتا ہے تو اپنا سب کچھ کھو کر بھی اطمینان و سکون حاصل کرتا ہے کیونکہ محبت کی اس دولت کے مقابل کوئی اور دولت حتی کہ انسان کی جان بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور انسان محبت پراپنی جان قربان کر کے بھی اطمینان وسکون پاتا ہے اور دین بھی ہر دیندار سے یہی چاہتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے چند مسائل پوچھے تو ہر سوال کے جواب میں امام نے "محبت کا تقاضا یہ ہے " کہہ کر جواب دیا تو اس سائل نے عرض کیا مولا! میں دینی مسائل کے بارے میں پوچھ رہا ہوں اور آپ ہرجواب میں فرماتے ہیں کہ " محبت کا تقاضا یہ ہے "۔
یہ سن کر امام نے اس سائل سے فرمایا :
"هل الدین الّا الحب "؟ (کیا دین محبت کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟)
دین کا وجود ہی اس لئے ہے کہ وہ بندگان خدا کے دلوں کو جوڑے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور الفت بڑھائے ۔دین یہ نہیں ہے کہ اس کے نام پر نفرتیں اور دشمنیاں پیدا کی جائیں چاہے یہ چھوٹے پیمانے پر ہو یا بڑے پیمانے پر ، اسلام ہمیشہ ان کی نفی کرتا ہے ۔ انسان ایک معاشی حیوان ہے اور اس کے معاشرے کی بنیادی اکائی اس کا گھر ہے جہاں ایک مرد اپنی بیوی کے لئے مکان فراہم کرتا ہے جو اس مکان کو ایثار وقربانی کے ذریعے محبت کی خوشبو پھیلا کر گھر میں تبدیل کرتی ہے اور جب مکان گھر میں تبدیل ہوتا ہے تو مرد کو سوائے اس کے کہیں اور سکون نہیں ملتا اور جب وہ زندگی کی سختیوں ،تکالیف اور پریشانیوں سے تھک جاتا ہے یا گھبرا جاتا ہے تو اپنی اس پناہ گاہ کا رخ کرتا ہے کہ اپنی زندگی کے چند لمحات سکون کے ساتھ گزارسکے ۔
کیا یہ کسی معاشرے کا لمیہ نہیں ہے کہ اس کے مرد سکون کی تلاش میں گھر سے باہر کا رخ کریں ۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ اس معاشر ے کی خواتین ، ان کے فراہم کردہ مکان کو گھر میں تبدیل نہیں کرسکی ہیں جو ان کی تخلیق کے بنیادی مقصد میں ناکامی کی علامت ہے ۔دراصل محبت وہ غیر مرئی مضبوط رسی ہے جو میاں بیوی کو ایک دوسرے سے اور اولاد کے ساتھ مربوط رکھتی ہے ۔معاشرے کی اس ابتدائی اکائی میں شوہر بیوی کے لئے او ر بیوی شوہر کے لئے ہے اور یہ دونوں اولاد کے لئے ہیں اور اولاد ان دونوں کے لئے ہیں اور اپنی اس غیر مرئی رسی نے انہیں مضبوطی سے باندھا ہوا ہے جو
در اصل معاشرے کے لئے ایسی حیثیت رکھتی ہے جیسے کتاب کے لئے شیرازہ ہے ۔ اگر شیر ازہ ہٹ جائے تو اورراق منتشر ہوجاتے ہیں اور کتاب کا جود ہی ختم ہوجاتا ہے ۔
اس طرح معاشرے سے محبت کا جذبہ مفقود ہوجائے تو اس میں بھی انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ دراصل محبت کو بھی کچھ آفتیں اور مصنوعی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں ان میں سے بنیادی بیماریاں "تکبر" اور "حب دنیا " میں غرق ہونا ہے ۔ اور باقی بیماریاں انہیں دوسے پیدا ہوتی ہیں ۔جہاں یہ دونوں بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں تو اب محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی کیونکہ ان کے آثار اور مظاہر محبت کے مکان کو ہی ڈھادیتے ہیں ۔ جب شیشہ دل چور چور ہوجاتا ہے تو نہ اب وہ جوڑا جاسکتا ہے اور نہ اس میں ٹانکے لگائے جاسکتے ہیں ۔
انسان دوچیزوں سے مرکب ہے یعنی روح اور بدن ۔ جسطرح بدن کی سلامتی لازمی ہے اسی طرح روح کی سلامتی بھی لازمی ہے بلکہ روح کی سلامتی جسمانی کمزوری یا بعض کی تلافی کرسکتی ہے مگر جسمانی کمزوری یا بعض کی تلافی کرسکتی ہے مگر جسمانی صحت و روحانی نقصان کا جبران نہیں کرسکتی اس سے پتہ چلتا ہے کہ روحانی صحت کا خیال رکھنا بھی زیادہ ضروری ہے ۔مغربی ثقافت کی یلغار نے معاشرہ کی بنیادی اکائی یعنی گھر اور خاندان کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے اور اصل اسلامی ثقافت کے علم بردار علمائے کرام اس نظام کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں ۔ مرتب نے اس سلسلے میں موثر کوشش کی ہے اور کتابوں سے جمع و ترتیب کرکے جو نسخے تجویز
کئے ہیں وہ مکمل طور پر قران وحدیث اور مکتب اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں ہیں ۔خداوند عالم سے دعا ہے کہ اس کو شش کو شرف قبولیت بخشے اور قارئین کے لئے مفید موثر قراردے اور مرتب کی مساعی کو اس گھرانے کی تائید حاصل رہے جسے خداوند عالم نے "نبوت کا گھرانہ "کہا ہے ۔
حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ذوالفقار علی زیدی
امام جمعہ مسجد محمد مصطفی
عباس ٹاون ،کراچی
پیش لفظ
اس کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص اپنی ذمہ داریوں پر نگاہ ڈالے کہ اپنے گھر کو جنت بنانے میں میرا کردار ہونا چائیے ؟ ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی کوتا ہیاں آپ کے سامنے آجائیں بلکہ ہرشخص یہ سوچے کہ اگر میں نے اپنی کوتاہی دور کرلی تو خدا اپنے فضل وکرم سے میری بیوی کو اور میرے دوسرے گھر والوں کو بھی ہدایت عطا کردے گا ۔
نسخوں پر عمل کرنے سے قبل اپنے اور گھروالوں کی اصلاح کی خوب دعا مانگین کہ خداوندامیری بیوی اور گھر والوں کو میرے آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے اور مجھے بھی ان کے حقوق ادا کردینے والا بنادے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنادے ۔
یاد رکھیے اگر خاندان صحیح ہوتو صحیح معاشرہ تشکیل پائے گا اور اگر گھر کی زندگی صحیح کرلی تو باہر کی زندگی بھی صحیح ہوسکتی ہے ۔
وہ گھر جس میں گناہ ہو ، اختلاف ہو ۔ وہ گھر صلاحیتوں کا قاتل ہے ، بچوں کی استعداد کا قاتل ہے ۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر مبارک ہو، اولاد آپ کے لئے
مبارک ہو تو چائیے کہ آپ کے گھر گناہ نہ ہواگر آپ کا گھر گناہ کا گھر ہے تو اس کے بابرکت ہونے کی امید بیکار ہے ۔
مشہور روایت میں ہے کہ :
"لا تدخلو الملائک فی بیت فیه الکلب "
"وہ گھر جس میں کتا ہو ملائکہ داخل نہیں ہوتے ۔"
یہ روایت بقول علماء تین معنی رکھتی ہے ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ گھر جس میں کتوں کی پرورش کی جاتی ہے وہاں ملائکہ آمد ورفت نہیں رکھتے وہاں شیاطین کی آمد ورفت ہوتی ہے ۔
دوسرے معنی ہیں وہ دل جو ناپاک ہیں ، اخلاقی وروحانی برائیوں سے آلودہ ہیں ، غیبت ،بہتان ،حسد ،بغض ،غصہ اور غضب کی آماجگاہ ہیں وہاں بھی ملائکہ کی آمدورفت نہیں ہوتی ۔ تیسرے معنی ہیں وہ گھر جہاں اختلافات ہیں ،گناہ ہیں وہاں پر بھی ملائکہ کی آمد ورفت نہیں ہوتی ۔
اگر ملائکہ ہمارے گھر آمدورفت نہ رکھیں اور خدا کا دست عنایت سر پر نہ ہو اور ہمارے گھر وں پر اس کی رحمت نہ ہو تو شدید افسوس کا مقام ہوگا اور اس سے بھی زیادہ افسوس ان بچوں پر جو اس گھر میں پکتے ہیں اور ایسا گھر جس میں شیاطین کی امد ورفت ہو وہ آرام کی جگہ نہیں بلکہ پریشانیوں اور مصیبتوں کامنبع ہوگا ۔
لیکن اگر گھر میں ایسا ماحول ہو کہ رہنے والے افراد ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہوں ، محبت والفت ہو ، ہر کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار ہو
اور اگر کوئی ناخوش گواری پیش آجائے تو عذر خواہی کرتے ہوں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت میں ایک دوسرے کے سامنے خوشحال بیٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو آفرین کہیں گے ۔
قارئین کرام! کیا آپ اپنے لئے بہشت چاہتے ہیں ؟ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ اپنے اندر پیدا کریں ، صبر سے کام لیں ،اختلافات کو فورا دور کریں یہاں تک کہ ایک گھنٹہ بھی آپ کے گھر میں اختلاف نہیں ٹہرنا چاہیے۔
"ولا تنازعوا وتفشلوا وتذهب ریحکم "
(انفال آیت ۴۷)
"آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ ہمت ہاروگے اور تمہاری ہوااکھڑ جائے گی "۔
پروردگارا تمام خاندانوں میں اتحاد ،باہمی الفت ومحبت پیدا فرما اور آپس کے جھگڑوں کو ختم کرنے کی تو فیق عطا فرما ۔اور امیر المومنین کی اس وصیت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما کہ جس میں آپ نے فرمایا :
(دیکھو!)"آپس کے اختلافات ختم کردو"۔
ہے کوئی محبت علی کا دعوے دار جو اپنے مولا کی اس وصیت کو پوری کرنے کی کوشش کرے ؟
ادارہ
پیغام وحدت اسلامی
بیوی کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے
حضرت آدم (ع) جب جنت میں تشریف لاتے ہیں تو باغ جنت کا چپہ چپہ انوار الہی سے معمور تھا الطاف کبریائی کا قدم قدم پر ظہور تھا اور ہر طرف نعمتوں کی بارش تھی لیکن پھر بھی آدم اپنے دل کا ایک گوشہ خالی پاتے ہیں ، کسی چیز کی کمی محسوس کرتے ہیں ۔
لہذا پھر حضرت آدم پرنوازشوں اور بخششوں کی تکمیل ہوئی اور جنت حقیقی معنوں میں جنت ثابت ہوئی جب ایک عورت کی تخلیق ہوئی اور شوہر کے لئے ایک بیوی کی ہستی سامنے آئی ۔
-----اگر عورت نہ ہو تو کارخانہ تمدن ہی ختم ہوکر رہ جائے ۔
-----پوری انسانی تہذیب اجڑ کر رہ جائے ۔
-----اے عورت! آپ دوزخ جیسے گھر کو بھی جنت میں بد سکتی ہیں ۔
-----آپ چائیں تو فقیر کو دولت مند اور دولت مند کو فقیر بنادیں ۔
-----مرد کا سکھ آپ کے قدموں میں ہے ،آپ مرد کا نصف جزو اور اس کا آدھا ایمان ہیں ۔
----- تمام مذہبی انسان ،اولیاء ،حکماء ۔آئمہ یہاں تک کہ خدا کے پیغمبر (ص) بھی
آپ کو ماں کہتے ہیں اور آپ کی ہی گود میں پلتے ہیں ۔
----- آپ ہی کے قدموں تلے جنت ہے ۔
-----دنیا کی انتہا اپنا گھر اور گھر کی انتہا عورت ہے ۔
----- نیک عورت کے بغیر گھر بیکار اور مصیبت خانہ ہے ۔
٭ ایک نیک اعمال عورنت ستر اولیاء سے بہتر ہے ۔
٭ ایک بد اعمال عورت ہزار بداعمال مردوں سے بد تر ہے ۔
٭ ایک حاملہ عورت کی دورکعت نماز غیر حاملہ کی اسی رکعتوں سے بہتر ہے ۔
٭ جو عورت اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے اسے اللہ تعالی ایک ایک بوند پر نیکی عطاکرتے ہیں ۔
٭ جب شوہر پریشان حال گھر آجائے اور اس کی بیوی اسے خوش آمدید کہے اور تسلی دے تو اللہ اس عورت کو نصف جہاد کا ثواب عطا فرماتے ہیں ۔
٭ جو عورت اپنے بچے کے رونے سے رات بھر نہ سوسکے اللہ تعالی اس کو بیس غلاموں کو آزاد کرنے کا اجر دیتے ہیں ۔
٭ جو عورت ذکر کرتے ہوئے جھاڑو دے اللہ تعالی اس کوخانہ کعبہ میں جھاڑو دینے کا ثواب عنایت کرتے ہیں ۔
٭ جو عورت نماز ،روزہ کی پابندی کرے اور پاک دامن رہے اور اپنے شوہر کی تابعداری کرے ،اس کو اختیار ہوگا کہ جس دورازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے ۔
٭ جو عورت اپنے بچے کی بیماری کی وجہ سے نہ سوسکے اور اپنے بچے کو آرام دینے کی کوشش کرے تو اللہ تعالی اس کے تمام گناہ معاف کردیتے ہیں اور اس کو بارہ سال کی قبول عبادت کا ثواب ملتاہے ۔
٭ جو عورت حاملہ ہو اس کی رات عبادت اور دن روزہ میں شمار ہوتاہے ۔
٭ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لئے ستر سال کی نماز اور روزہ کا ثواب لکھا جاتا ہے اور بچہ پیدا ہونے میں جو تکلیف برداشت کرتی ہے ۔ہر درد کے عوض ایک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔
٭ بچہ رات کوروئے اور ماں بغیر برابھلا کہے اس کو دودھ پلائے تو اس کو ایک سال کی نمازوں اور روزوں کاثواب ملے گا ۔
٭ جب بچے کا دودھ کا وقت پورا ہوجائے توآسمان سے ایک فرشتہ آکر اس عورت کو خوشخبری سناتا ہے کہ اسے عورت اللہ نے تجھ پر جنت واجب کردی ہے ۔
٭ عورت کاخاوند اس سے راضی ہور اور وہ انتقال کرجائے تو جنت اس پر واجب ہوگي ۔
٭ نیکو کار عورت ستر مردوں سے افضل ہے ۔
٭ عورت بھی اپنے شوہر کے گھر میں کی نیت سے چیزوں کو قرینے سے رکھے گی تو اللہ تعالی اس پر رحمت کی نظر ڈالے گا اور جو بھی اللہ کا منظور نظر ہوگیا اسے عذاب سے امان مل جائے گی ۔
٭ شائستہ عورت ہزارناشائستہ مردوں سے بہتر ہے ۔ جو عورت بھی شوہر کی بھلائی کے لئے سات دن کام کرتی ہے اللہ اس پر جہنم کے سات دروازے بند کردیتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے کھول دیتا ہےکہ وہ جس دروازے سے بھی چاہےجنت میں داخل ہوجائے ۔
٭ پانی کا ایک گھونٹ بھی مرد کے ہاتھ میں دیتی ہے تووہ ایک سال کی مستحب عبادت جس میں وہ دن میں روزے رکھے اور رات کو نماز ادا کرے اس سے بہتر ہے ۔
٭ عورت اپنے شوہر کے لئے لذیذ غذا تیار کرتی ہے اللہ تعالی جنت میں اس کے لئے قسم قسم کے کھانے تیار کرے گا اور فرمائے گا خوب کھاؤ اور پیو یہ ان زحمتوں کی جزا ہے جو تم نے دنیا کی زندگی میں برداشت کی ہیں ۔
٭ اے عورت!آپ ہی مرد کے گھر کی مالکہ ہیں ، ملکہ ہیں ، بس اپنے اندر وہ صفات پیدا کرلیں کہ پھر دین کی رعایت کرتے ہوئے مرد آپ کی ہر بات مان لے ۔
لیکن ابھی ٹہر جائیے!
اس اقتدار کی باگ دوڑ ہاتھ مین لینے سے پہلے آپ کو کچھ قربانیاں دینی ہوں گی ، تاج بہت حسین گلاب کی طرح ہے ،لیکن اس گلاب کو حاصل کرنے کے لئے آپ کو کانٹوں کا مزا چکھنا ہوگا پہلے اپنے اندر اس کی صلاحیت اور استعداد پیدا کرنی پڑے گی ۔
-----گھر کی رانی بننے سے پہلے آپ کو کسی حد تک باندی بننا ہوگا ۔
----- اس گلابی تاج کو پہننے سے پہلے آپ کو گھر میں کانٹوں کا تاج پہننا ہوگا ۔
یہی قدرت کا قانون اور دنیا کا نظام ہے ۔
سرخ رو ہوتا ہے انسان ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد
سرمہ ،نے کہا مجھ پر اتنا ظلم کیوں کرتے ہو کہ اتنا زیادہ پیستے ہو ۔
پیسنے والے نے جواب دیا ! تجھے اس لئے زیادہ پیس رہاں ہوں کہ اشرف المخلوقات کی اشرف الاعضاء یعنی انسان کی آنکھ میں جگہ پانے کے قابل ہوجائے ۔
----- اے نیک بیوی آپ اس انسانیت کیلئے امید کی ایک کرن ہیں پس اپنے آپ کو دیندار ،باپردہ ،نمازی بنائے ، اپنے محلہ کی عورتوں ،رشتہ داروں کو دین پر عمل کرنے اور اس کو چاردانگ عالم میں پھیلانے والی بنایئے ، خدا آپ کو نیک بنائے اور اپنے شوہر کیلئے دنیا آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ۔
----- کیونکہ یہ آدم زاد آپ ہی کے دل کے آئینے میں اپنی محبت دیکھنا چاہتا ہے ۔
----- آپ ہی کی زبان سے اس کا اظہار چاہتا ہے ۔
-----آپ ہی کی مسکراہٹ سے اس کا اظہار چاہتاہے ۔
-----اس کی طرف سے کوئی کڑوی بات ہوجائے تو آپ کی طرف سے صبر والا طرز عمل چاہتا ہے ۔
-----آپ کے منہ سے کھلے ہوئے کوثروتسنیم سے دھلے ہوئے دو میٹھے بولوں سے اپنی ہر بیماری کی شفاچاہتا ہے ۔
----- آپ کی اطاعت وخدمت سے اپنی جوانی کی بقا چاہتا ہے ۔
----- آپ کی معمولی سی توجہ سے اپنی تھکاوٹ کی دوری چاہتا ہے ۔
----- دنیا کے ہر غم اور پریشانی میں آپ کے مشورہ سے تسلی اور تشفی چاہتا ہے ۔
----- آپ کی نمازوں ،ذکر اور تلاوت کی پابندی سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتا ہے ۔
----- آپ کے حسن اخلاق سے اپنے بچوں کی تربیت چاہتا ہے ۔
-----آپ کے حسن معاشرت سے اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کی دعا چاہتا ہے ۔
----- اپنے دوستوں کی بیویوں کا اکرام اور پڑوس کی عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ سے معاشرے میں اپنا مقام اور رتبہ ،بلند چاہتا ہے ۔
-----آپ کی قناعت اور دنیا کی تھوڑی سی چیزوں پر راضی رہنے سے زیادہ کمائی کے جھمیلوں سے آزادی چاہتا ہے ۔
----- آپ کے صاف ستھرے رہنے ،چست ،چاق وچوبند رہنے اور صاف لباس پہننے سے اپنی آنکھوں کی خیانت یعنی نامحرموں پر نگاہ پڑنے سے حفاظت چاہتاہے ۔
----- آپ کے ہاتھوں میں میانہ روی کی مہندی سے اپنے مال کی حفاظت چاہتا ہے ۔
اگر آپ میں یہ صفات ہیں ؟
تو آپ ضرور آج بھی آدم (ع) کے اس بیٹے کے لئے حوا کی بیٹی ہیں ۔
اس کے لئے زوجہ صالحہ ، نیک بیوی ، اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کی راحت ،سرمایہ صحت ،محافظ ایمان ،نصف دین ،اس کی ہمراز ،اس ی مخلص دوست آپ ہیں ،یقین کیجئے آپ ہی ہیں ۔
وہ آپ کو اپنی قبر اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی فکر کرنے اور دوسری عورتوں اور بچوں میں دین پھیلانے اور ایمان اور اسلام کو دنیا میں زندہ کرنے کی بھی فکر سے جنت میں آپ کا ساتھ چاہتا ہے ۔
یاد رکھیئے ! اسلام میں اچھی بیوی کا معیار یہ نہیں کہ وہ کالج سے ایسی ڈگریاں یا ڈپلومےلے کر جو خود مردوں کے حق میں بھی اب بیکار ہوچکے ہیں ۔ معیار آخرت کی کامیابی ہے ۔
وہ زبان جو ہمیشہ سچ ہی پر کھلتی ہے اس زبان مبارک کا ارشاد ہے کہ
"اے عورتوں ! یادرکھو کہ تم میں سے جو عورتیں نیک ہیں وہ نیک مردوں سے پہلے جنت میں پہنچ جائیں گی ۔"
محترم خواتیں!
اور کونسی فضیلت آپ چاہتی ہیں ؟ جنت میں مردوں سے پہلے تو آپ پہنچ گئیں ہاں البتہ نیک بن جانا شرط ہے اور یہ کوئی مشکل نہیں ۔
ہاں البتہ ۔۔۔۔۔اگروہی پرانی روش برقرار رکھی ۔۔۔۔۔وہی بدکلامی
۔۔۔۔۔بدزبانی ۔۔۔۔۔نافرمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر اس مخبر صادق رسول(ص) کا ارشاد سنئے فرماتے ہیں کہ :
"کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی نہ تو نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی اور نیکی ان میں سے ایک عورت ہے جس سے اس کا شوہر ناخوش ہو ۔"
ایک مقام پر فرماتے ہیں :
"کہ دنیا میں جب کوئی عورت اپنے شوہر کوستاتی ہے تو جو حور قیامت میں اس شوہر کی بیوی بنے گی وہ یوں کہتی ہے کہ
(اس کو امت ستا ، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ،تھوڑے ہی دنوں میں تجھ کو چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے گا )"۔
ایسی عورتوں سے بچنے کے لئے دعا مانگی گئی ہے ۔
"اے اللہ ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھا کردے "۔
ایسا نہ ہو کہ جیسے ایک شوہر اپنی بیوی سے کہتاہے کہ میرے انتقال کے بعد تم دوسری شادی کرلینا ۔وہ پوچھتی ہے کیوں ؟ تو کہتا ہے کہ تاکہ دوسرے شوہر کو معلوم ہوجائے کہ میرا اتنی جلدی انتقال کیسے ہوگیا تھا ؟
یا ایسا نہ ہو کہ جیسے ایک صاحب کے ہونٹ کالے ہورہے تھے تو کسی نے وجہ پوچھی توکہا بیگم لاہو رجاہی تھی تو فرط مسرت سے ان کے جانے کی خوشی
بے قابو ہوکر میں نے ٹرین کے ڈبے کو چوم لیا ۔
ایک دانشور معاشرتی واخلاقی مسائل پر تقریر کررہے تھے اپنی باتوں کے دوران انہوں نے کہا ہم اب گھریلو مسائل کے بارے میں اعداد وشمارے سے کام لیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ لوگوں سے درخواست کرتاہوں کہ محفل میں موجودہ لوگ کھڑے ہوجائیں جو اپنی بیویوں کے ظلم سے تنگ ہیں ۔یہ سننا تھا کہ تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے مگر ایک شخص اپنی جگہ بیٹھا رہا ۔ یہ دیکھ کر دانشور نے کہاخدا کا شکر ہے کہ ہماری محفل میں ایک شخص تو ایسا ہے جو اپنی بیوی سے خوش ہے ۔یہ سننا تھا کہ اس شخص نےکہا جناب ایسا نہیں ہے میں اٹھ نہیں سکتا کیونکہ کل میری بیوی نے میری ٹانگ توڑی ہے ۔
تو اس طرح عورت کی بدمزاجی سے پوری زندگی پریشانی اور غمی ہی میں گذرتی ہے ۔
اے مرد کی مونس ،غمخوار اگر آپ اپنے گھر کو جنت کا نمونہ دیکھنا چاہتی ہیں تو آپ کو کچھ کرناپڑےگا جنت یوں ہی نہیں حاصل ہوجاتی اس کے کچھ اصول ہیں ، کچھ نسخہ جات ہیں ۔
٭ زندگی میں کوئی عظمت نہیں ہے مگر دو آدمیوں کی ، ایک عالم باعمل ،دوسرے اس کو غور کے ساتھ سن کریاد کرلینے والے کے لئے ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نسخہ نمبر ۱
--{شوہر پر مسلسل احسانات کریں}--
یہ شوہروں کو غلام بنانے کا شرعی نسخہ ہے ۔
کہتے ہیں کہ نیکی اور بھلائی کرنے والا تو اپنی نیکی بھول جاتاہے لیکن جس سے نیکی کی جاتی ہے وہ نہیں بھولا کرتا حدیث میں کہ "الانسان عبد الاحسان " انسان اپنے اوپر احسان کرنے والے کا غلام بن جاتا ہے ۔ وہ آپ کا قیدی ،غلام اور خادم بن جاتا ہے ۔نیک بیوی کی نیکی بھلائی نہیں جاسکتی ۔
نیک بیوی اپنے آپ کو نیکی پر یہ سوچ کرابھارسکتی ہے کہ:
"میں جس دن دنیا سے چلی گئی ،میری نیکی شوہر کویاد آئے گی اور شوہر میرے لئے دعا کریں گے ، مجھے اچھائی کے ساتھ یاد کریں گے، میری خدمت ان کو رات کے اندھیروں اور دن کے اجالوں میں میرے لئے دعاؤں پر مجبور کرے گی اور شاید یہی میری مغفرت کا اور خدا کے راضی ہونے کا سبب ہوجائے ۔"
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جتنا رشک مجھے خدیجہ پر ہوا اتنا رسول اللہ (ص) کی کسی بیوی پر نہ ہوا حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہ تھا ۔اتنے
رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول کریم اکثر ان کا ذکر کیاکرتے تھے اور آپ کا دستور یہ تھا کہ جب آپ کوئی بکری ذبح فرماتے تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو ان کا گوشت بطور ہدیہ بھیجا کرتے تھے ۔
ایک دن آپ نے ان کاتذکرہ کیا تو میں نے عرض کیا ان ۔۔۔۔کا تذکرہ آپ (ص)کیوں اتنا زیادہ کرتے ہیں ؟ اللہ نے ان سے بہتر آپ کو دے دیا ہے ۔
تو آپ نے فرمایا :
"اللہ کی قسم ! اس کے بعد اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر نہیں ہے وہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگ ابھی کافر تھے ، انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب اورروں نے مجھے جھٹلادیا ، اس وقت اپنا مال مجھ پر نچھاور کیاجب لوگوں نے مجھے محروم کررکھا تھا ۔ اللہ نےمجھے ان سے اولاد دی کسی اور سے نہیں دی ۔"
(ھر کہ خدمت کرد او مخدوم شد)
جس نے خدمت کی وہ سردار بنا ۔
(فکونی له امته یکن لک عبدا)
تو اس کی کنیز بن جا تو وہ تیرا تابعدار غلام بن کررہے گا ۔
پس اگر بیوی یہ چاہتی ہے کہ میرا شوہر میرے کہنے میں رہے میرا غلام بن جائے تو یادرکھے کہ اس کو شوہر پر احسان کرنا ہوگا ۔اس کی خطاؤں کو درگزر
کرنا ہوگا غلام بنانا غلام بننے سے ہوتا ہے پہلے عملا باندی بن جائے وہ خود بخود غلام بن جائے گا ۔محبت ،محبت کوکھینچتی ہے ،اطاعت ،اطاعت کو کھینچتی ہے ۔ سرکشی ،بدزبانی ،بدکلامی ،نفرت اور جھگڑوں کو کھینچ کرلاتی ہے ۔
نسخہ نمبر ۲
--{جی ہاں ۔۔۔۔۔یہ لفظ بولنا سیکھ لیں ۔}--
یہ جھگڑوں سے نجات پانے کا زرّین نسخہ ہے ۔
شوہر کہے کہ آج فلان جگہ چلنا ہے ۔۔۔۔۔ کہے جی ہاں انشااللہ ضرورچلیں گے ۔ اگر شوہر کا کسی تقریب میں جانے کا دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔ تو کہے جی ہاں بالکل نہیں جاؤں گی ،جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔آپ میرے شوہر ہیں آپ کی بات مقدم ہے ، آپ بالکل غم نہ کریں آپ جیسا کہیں گے ویسا ہوی ہوگا ۔۔۔۔۔اب اگر جانے کو زیادہ ہی دل چاہ رہا ہے تو اس دوران دورکعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کرے ۔
"اے اللہ ! سارے انسانوں کے دل آپ کی دوانگلیوں میں ہیں آپ جیسا چاہیں پھیردیں ۔جب آپ کوئی فیصلہ کردیں تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اگر اس جانے میں خیر نہیں تو
میرےدل سے اس حاجت ہی کو نکال دیں ورنہ میرے شوہر کو راضی کردیں "۔
اور پھر جب شوہر کا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت نرمی سے کہے
"مناسب ہوتا اگر آپ مجھے اس شادی میں جانے کی اجازت دے دیں ، آج ان کے گھر میں خوشی کا موقع ہے میں نہ جاؤں گی تو ان کی خوشی مکمل نہ ہوگی اگر آپ اجازت دے دیں تو مہربانی ہوگی ۔"
اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو صبر کرلیں ۔۔۔لیکن چند امور میں ہی ان کی مان لینے سے شوہر کو آپ ایسا اعتماد پیدا ہوجائے گا پھر انشاءاللہ وہ آپ کی باتوں کو کبھی رد نہیں کرے گا ۔
نسخہ نمبر ۳
--{معاف کردیجئے ،آیندہ ایسا نہیں ہوگا}--
یہ ایسا جملہ ہے جو سنگ دل سے سنگدل شخصی کو بھی موم بنادیتا ہے ، سخت سے سخت غلطی کو بھی چھوٹا بنادیتا ہے ، بڑی سےبڑی آگ کے لئے پانی کا کام دیتا ہے ظالم کو رحم پر مجبور کردیتا ہے ،دشمن کودوست بنادیتا ہے ۔
یہ نسخہ کسی انسان کا ، بشر کا قول نہیں بلکہ انسانوں کے پیداکرنے
والے رب العزت جن کے ہاتھ میں سارے انسانوں کے دل ہیں ان کا ارشاد ہے ۔
"ولا تستوی الحسنة ولا السیئة ادفع بالتی هی احسن فاذا الذی بینک وبینه عداوة کانه ولی حمیم "(سورہ سجدہ پارہ ۴۲)
ترجمہ :
"نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ۔آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیں (پھر یکا یک آپ دیکھیں گے )کہ آپ یمں اور اس شخص میں جو عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہوتا ہے "۔
بیوی کو چاہیئے کہ منہ زوری نہ کرے ،بحث ومباحثہ نہ کرے ،ادھر ادھر کی باتین نہ بنائے سو باتوں کی ایک بات ۔۔۔۔معافی چاہتی ہوں ،آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔
یہ لفظ ایسا ہے کہ حجاج بن یوسف جیسے ظالم شخص کو بھی نرمی پرمجبور کردیتا ہے ۔
ایک مرتبہ حجاج نے سفر کے دوران ایک دیہاتی سے امتحان کے لئے پوچھا کہ تمہارا بادشاہ حجاج کیسا ہے ؟
وہ کہنے لگا بڑا ظالم ہے ،اللہ اس سے بچائے وغیرہ وغیرہ ۔
تو حجاج نے کہا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں ؟
اس نے کہا نہیں ۔ تو بادشاہ نے کہا میں حجاج بن یوسف ہوں ۔
دیہاتی نے کہا تم مجھے جانتے ہو میں کون ہوں ۔ حجّاج نے کہا ،نہیں ۔تو اس نے کہا میں مریض ہوں ۔ہر ماہ میں تین دن کے لئے پاگل ہوجاتا ہوں اورآج میرے پاگل بننے کا پہلا دن ہے معاف کرنا ۔
حجّاج یہ سن کر ہنسنے لگا اور اس کو چھوڑدیا ۔
اب میں آپ اندازہ لگائیں کہ اگر ہر چھوٹا اپنے بڑے کے سامنے غلطی کے وقت یہ کہے کہ غلطی ہوگئی آئندہ انشااللہ ایسا نہیں ہوگا ۔
----- معاف کردیجیئے اب خیال رکھوں گی ۔
-----آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی ۔
چنانچہ ہم سب ہی خطا کار ہیں اور ہر عدالت میں اقرار ی ملزم معافی کا طالب ہوتاہے تو اس کے لئے نرمی ہے بمقابلہ انکاری مجرم کے ۔
ایسی ناچاقی اور جھگڑے کے لمحات میں خوف خدا رکھنے والی گھروں میں جھگڑوں کی آگ کو بھجانے والی سمجھدر بیوی کا جواب سنئے ۔
----- غلطی ہوگئی ، آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔
یہ ایسا جواب ہے کہ شیطان کے لئے گھر میں جھگڑے پیدا کروانے کا کوئی ہتھیار باقی نہیں رہے گا ۔
٭ علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نسخہ نمبر ۴
--{مکمل خاموشی}--
جھگڑ ے کے وقت اس کو ختم کرنے کا اکسیری نسخہ ہے ۔
حکایت ہے کہ ایک عورت ایک عالم کے پاس گئی اور کہا کہ مجھے کوئی ایسا تعویذ دے دیجئے کہ میرا شوہر مجھ سے جھگڑا نہ کرے ،میری بات مانے تو عالم نے فرمایا کہ تم تھوڑا ساپانی لے آؤ میں اس میں دعا پڑھ دوں گا ۔چنانچہ پڑھ دیا اور فرمایا کہ جب تمہارا شوہر غصہ میں ہو تو اس میں سے ایک گھونٹ منہ میں لے کر بیٹھ جاؤ مگر خبردار پانی کو حلق سے نیچے نہ اتارنا ۔
چنانچہ اس نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا ،جب بھی خاوند غصّہ میں ہوتا تو منہ میں گھونٹ لے کر بیٹھ جاتی ،بو ل تو سکتی نہیں تھی ،منہ کو تالا لگ گیا تھوڑے ہی دنوں میں شوہر راضی ہوگیا اور اس کا غصّہ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا ۔اگر جھگڑے میں ایک فریق تکرار نہ کرے اور جواب ہی نہ دے تو جھگڑا بڑھ نہیں سکتا ۔
اور اس کے بعد مردکے لئے تو نرم پڑنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ۔اس کے معذرت کرنے کے بعد اس کے پاس کوئی دلیل ہتیھار ہی مواخذہ کا نہیں رہتا ۔
ایک دفعہ ایک عورت ایک بزرگ کے پاس گئی اور شوہر سے روز کے جھگڑے کی شکایت کرنے لگی کہ ہم دونوں لڑتے ہی رہتے ہیں ،بات بات پر شوہر غصّہ کرنے لگتا ہے اور پھرمجھے بھی غصّہ آجاتا ہے ۔ اس پر اس مرد بزرگ نے کہا اس کا علاج نہایت آسان ہے پس شرط یہ ہے کہ تم شیر کی گدّی سے تین بال لے آؤ۔
اب عورت ہمت کرکے چڑیا گھر گئی اور شیر کے لئے کچھ گوشت لے گئی پنجرے میں پھینکا ، شیر نے کھالیا اب تھوڑا سا ڈر ختم ہوا تو روزانہ شیر کے لئے گوشت لے جاتی ۔پہلے دور سے پھینکتی پھر نزدیک سے یہاں تک کہ جب وہ کھاتا تو پنجرے میں ہاتھ ڈال اس کی گدی پر پیار کرنے کی کوشش کرتی ۔ جب شیر کافی مانوس ہوگیا تو گدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تین بال زور سے کھینچ لئے اور مرد بزرگ کے پاس لے آئی اس پر انہوں نے کہا افسو س تم شیر کو تو مانوس کرسکتی ہو اور اس کے تین بال لاسکتی ہو لیکن اپنے شوہر کو مانوس نہیں کرسکیں ۔
تو اس طرح مزاج کی رعایت کرکے شوہر کو مانوس کرلیں ۔(البتہ بال توڑ کرنہیں )۔
بس یہ ہی آپ کی ساری پریشانیوں کاعلاج اور تمام گھریلو بیماریوں کی دوا ہے آپ کا شوہر شیر سے زیادہ درندہ اور آدم خور نہیں ہے بس ہمت کریں اورآئندہ خیال رکھیں ۔
نسخہ نمبر ۵
--{یہ مجرب نسخہ وہ کہاوت ہے 'جو تم مسکراؤ تو سب مسکرائیں}--
شوہر کے آتے ہی اپنے اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کا پاؤ ڈر لگالیجئیے اور خود شوہر اور بچوں کو بھی چاہئیے کہ وہ گھر میں داخل ہوں تو مسکرا تے ہوئے آئیں اور ایک دوسر ے کو سلام کریں ۔ یہ میاں بیوں میں محبت ، مودت اور اتحاد واتفاق کا مجّرب نسخہ ہے ۔
نسخہ نمبر ۶
--{ ہر وقت شکر کرنے کی عادت ڈال لیں ہر حال میں }--
الحمد لله علی کلّ حال ۔۔۔۔۔۔۔ہر وقت الہی تیرا شکر ہے ۔
اتنا شکر کرنے سے آپ کی زبان اور دل شکر (چینی ) کی طرح میٹھی ہو جائیں گی اور آپ کا شوہر سے بھی جھگڑا نہ ہوگا ۔
شوہر گھر میں کیسی بھی چیزیں لائیں اس کا دل رکھنے کیلئے بہ تکلّف ہی
کلمات شکر ادا کیجئے ہر چیز کو شکر کے چشمے لگا کر دیکھیں تو ان برائیاں چھپ جائیں گی ، اچھائیاں آپ کے سامنے آئیں گی ۔
حضور اکرم (ص) ن ےایک دفعہ عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ میں نے دوزخ میں سب سے زیادہ عورتوں کو دیکھا ہے ، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا "تکفرون العشیر" یعنی شوہروں کی ناشکری کی وجہ سے ۔
اگر آپ اس دنیا کو مسافر خانہ سمجھ لیں ، امتحان گاہ سمجھ لیں ۔ یہاں رات دن چیزیں جمع کرنے میں لگے رہنا ہروقت مٹی گارے کے مکان کی سجاوٹ ہی میں مصروف رہنا انتہائی حماقت ہے جب ملک الموت آئے گا تو پھر ایسی عورتیں افسوس کریں گی ۔۔۔۔۔۔کہ مجھے کچھ مہلت دے دو اب میں نیکی کروں گی ، اب گھر کا سامان کم کروں گی۔ فضول خرچی نہیں کروں گی ، آئندہ میں گناہ نہیں کروں گی ، بے پردہ باہر جا کر اللہ تعالی کو ناراض نہیں کروں گی ۔
لیکن اس وقت افسوس اور پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنے اور اپنے شوہر کے قمتی پیسوں کو فقط اور فقط آسائشوں ہی کے حصول میں ضائع نہ کریں بلکہ ان کو جمع کرکے خدا کے اس دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کی کیلئے خرچ کریں ۔
پیسے جمع کرکے شوہروں کودیں کہ جائیے اس پیسے کو علم دین کی ترویج میں خرچ کیجئے ،فلاں ،غریب ، مسکین کی مدد کیجئے ۔غریب رشتہ دار لڑکیوں کی شادی میں خرچ کروائے ۔
ان تمام کاموں میں خرچ کرنے کی برکت سے گھر میں انشااللہ جھگڑے مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے ۔شکر کا یہی مفہوم ہے کہ خدا کی نعمتوں کو اس کی راہ میں خرچ کرنا ۔
شوہر جب کوئی چیز لائے اس کا شکریہ اداکرے "جزاک اللہ خیرا" (خدا آپ کو جزائے خیردے ) یہ کہنے کی عادت ڈالیں ۔
اور چھوٹے بچوں کو بھی اس کا عادی بنائیں ، اگر بچوں کوآپ پانی کا گلاس دیں ، کوئی کھانے کی چیزیں دیں تو یہ کہلوائیے جزاک اللہ خیرا ۔اگر بچے سے کوئی کام لیا اور وہ کام کرلے تو کہئے جزاک اللہ خیرا ۔
نسخہ نمبر ۷
--{زبان شیرین تو ملک گیری}--
شریں زبانی ایک ایسا جاذب وصف او راتنی دلکش خوبی ہے کہ خراب سے خراب عادت کے شوہر بھی اس کے تابع ہوجاتے ہیں ۔ میٹھی زبان ایک ایسا جادو ہے جو ہمیشہ اپنے سامنے والے پر اثرانداز ہوتا ہے ۔شیریں زبان عورتوں کے عیب لوگ بھول جاتے ہیں ۔ ایک عورت میں دنیا بھر کی خوبیاں ہوں لیکن اگر وہ بد زبان ہو تو اس کی ساری خوبیوں پر پانی پھر جاتا ہے ۔
نسخہ نمبر ۸
--{اپنے غصّہ پر قابو پائے}--
زیادہ تر جھگڑوں کی بنیاد غصّہ اور غضب ہے ۔
اگرچند طریقوں پر عمل کرکے غصّہ پرقابو پالیا جائے تو زندگی گویا جنت کا نمونہ ہی بن جائے ۔
اگر آپ کو کبھی شوہر کی کسی بات پر زیادہ غصّہ آجائے تو سوچئے کہ اللہ کے بھی آپ پر حقوق ہیں اور آپ سے بھی اس کے حقوق ادا کرنے میں غلطی اور کمی ہوتی رہتی ہے جب وہ آپ کو معاف کرتا رہتا ہے تو آپ کو بھی چاہئے کہ شوہر کومعاف کرتی رہیں ، اس کی غلطیوں سے اس طرح درگذر کرتی رہیں جس طرح پروردگار عالم آپ کی غلطیوں کو درگذر کرتا ہے ۔
نسخہ نمبر ۹
--{شوہر جب غصّہ میں ہو تو جواب نہ دیں }--
مرد کی واقعی غلطی اور بے جا غصّہ کے وقت بھی زبان دارزی نہ کریں اور
اس وقت خاموش ہوجائیں جب اس کا غصّہ اتر جائے تو اس وقت کہیں کہ اس وقت تو میں بولی نہیں تھی اب بتلاتی ہوں کہ آپ کی فلاں بات غلط تھی ، بے جا تھی ،زیادتی تھی ۔ آپ نے آتے ہی ڈانٹنا شروع کردیا آپ مجھ سے پوچھ تو لیتے تو اچھا رہتا ۔
اس طرح کرنے سے بات کبھی نہ بڑھے گی اور مرد کے دل میں آپ کی سمجھداری ،ہوشیاری اور نیکی کانہ مٹنے والا سکّہ بیٹھ جائے گا اور اس کی نگاہ میں آپ کی زیادہ قدر اور عزت ہوگی ۔
جب شوہر غصہ میں ہو یا آپ غصہ میں ہوں تو "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" پڑھیں ۔اور اگر ہوسکے تو فورا پانی پی لیں ۔
شوہر اور بچوں کو گھر میں داخل ہوتے وقت "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم " سورہ اخلاص اور درود پڑھنے کی تلقین کریں ۔
تو پھر شیاطین کا داخلہ ان گھروں میں بند ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اندر داخل ہی نہیں ہو پاتے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ گھر دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑوں سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔
غصّہ کا ایک اہم علاج ۔وضو بھی ہے ۔اگر انسان غصّہ کی حالت میں کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے ، پانی لے یا وضو کرلے تو غصہ فورا ہی ختم یا اتنہائی کم ہوجاتا ہے ۔
نسخہ نمبر ۱۰
--{رازنہ کھولیں}--
بیوی شوہر کے سامنے اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کے راز نہ کھولے ۔کیونکہ ہونٹوں سے نکلی کوٹھوں چڑھی ۔بس ایک دفعہ بات منہ سے نکلنے کی دیر ہے دیکھئے کہ پھر کہاں سے کہاں پہنچتی ہے ۔آپ اپنے گھر کی باتیں اور راز کھول کر اس حربے کو سکھارہی ہیں جس سے ہوسکتا کہ کبھی وہ آپ کی تذلیل کردے یادرکھیے جو راز آپ کے بتیس دنتوں کے حصار میں چھپ نہیں سکا اب شوہر کے پاس پہنچ کر کیسے محفوظ رہے گا ؟ وہ ہوسکتا ہے کہ اپنی بہنوں اور ماں کو بتلائے اور پھر شوہر کی ماں اپنی بیٹی کی ساس کو بتائے ۔یاد رکھئے راز دولوگوں میں اس وقت راز رہ سکتا ہے جب کہ دوسرا فریق مرچکا ہو ۔ لہذا کسی کی ذات کے متعلق شوہر سے باتیں نہ کریں ۔آپ کسی مرد کے اس قول کو غلط ثابت کردیں کہ 'عورت اپنی عمر کے علاوہ کسی بھی چیز کو راز نہیں رکھ سکتی '۔
اس طرح راز کی باتیں راز میں رکھنے سے آپ آنے والے کئی جھگڑوں کے مواقع کی راہ پہلے ہی بند کردیں گی ۔
نسخہ نمبر ۱۱
--{ہر حال میں شوہر کا ساتھ دیں}--
نیک بیوی کو چاہئیے کہ خوشی کے حالات ہوں یاپریشانی کے حالات گھر میں امیری ہو غریبی ۔ہر حال میں شوہر کا ساتھ دے ۔ ایسا نہ ہو کہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو " جب پیسہ تھا تو خوب محبت اور عزت جب پیسہ نہ رہا تو طعنہ زنی شروع ۔اگر شوہر پریشان ہو ملازمت چھوٹ گئی ،کاروبار ٹھپ ہو گیا ، لوگ پیسہ کھا گئے تو پرانے حالات کے مطابق وہی فرمائشیں اور آسائشیں ورنہ جھگڑے ۔گویا بیوی" زوجۃ المال " تھی مال کی بیوی تھی ، اسی سے نکاح ہوا تھا اس شوہر سے نکاح نہیں ہوا تھا ۔
ایسے مواقع پر اس کے غم کا پسینہ پونچھنے تسلی دے کہ آپ فکر نہ کریں جس پر وردگار نے واپس لیا ہے وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے ۔ اس کے واپس لینے میں بھی خیر ہوگی ۔ آپ نمازوں کی پابندی کریں حضور پر بھی جب کوئی وقت آتا تو نمازوں کی طرف مائل ہوجاتے تھے ۔ آپ چلتے پھرتے یا غنی یا مغنی پڑھتے رہیں ۔ انشااللہ ہم قناعت کی زندگی بسر کر لیں گے جلدی ہی آپ کا کام صحیح ہوجائے گا ۔
آپ بتائیے جب شوہر یہ باتیں سنے گا تو کتنی ہمت اس میں پیدا ہوگی ، ان پریشانیوں میں اس کو ایک نئی راہ دکھائی دے گی اس کا غم ، خوشی میں بدل جائے گا ۔ورنہ اس کے برخلاف معاشی خرابیاں آجانے سے گھروں میں لڑائی جھگڑے کتنے زیادہ ہونے لگتے ہیں ۔
نسخہ نمبر ۱۲
--{نامحرموں سے اجتناب }--
ہر مومنہ کو چاہئیے کہ نامحرم مرد چا ہے کوئی بھی ہو اس سے مذاق کرنے ،کھلم کھلا بغیر پردہ باتیں کرنا ،ان کو گھروں میں بٹھانا ،خصوصا جس وقت شوہر گھر پر نہ ہو ،نامحرم پڑوسیوں کو اپنے گھر وں میں آنے دینا ،پڑوسن کے شوہر یا ان کے جوان بیٹوں سے بے تکلّفی یا بغیر پردہ کے باتیں کرنا ، شوہر کے دوستوں سے بلا ضرورت ملاقات کرنا ، ان امور سے ایسے بچیں جیسے شیر یا سانپ سے بچا جا تا ہے ۔
محترم خواتین!۔۔۔ جو ایک بندی نہیں بنتی اس کو ہزاروں کی باندی اور نوکرانی بننا پڑتا ہے ،جو عورتیں بالکل بے پردہ یا غیر شرعی طرز سے گھر سے باہر نکلتی ہیں اور خدا کے حکم کو نہیں مانتیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ آزاد ہیں ۔
یاد رکھیئے ! جو ایک خدا کی غلامی میں نہیں آتا اس کو ہزاروں کی غلامی اختیار کرنا پڑتی ہے جو ایک کی غلامی اختیار کرلے اس کو ہزاروں کی غلامی سے نجات مل جاتی ہے ۔
آپ کسی بے پردہ خاتون سے پوچھئے کہ آپ پردہ کیوں نہیں کرتیں؟
کیا چیز مانع ہے ۔؟
وہ کہے گی معاشرے کی وجہ سے ، رشتہ داروں کی وجہ سے ،خاندان میں رواج نہ ہونے کی وجہ سے معلوم ہوا کہ وہ خدا کی غلامی چھوڑ کر معاشرے کی غلام ہے ۔
نہیں جھکتا ہے جو سر اللہ کے احکام کے آگے
اسے جھکنا پڑے گا ناتواں اصنام کے آگے
بہر حال دنیا کی زندگی میں کوئی بھی بے قید نہیں ۔ کوئی اللہ کی قید میں ہے کوئی شیطان کی قید میں ہے ، کوئی نفس کی قید میں تو کوئی معاشرے کی قید میں ہے اور قید سے کوئی خالی نہیں ۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے ، کہ آپ کو کون سی قید مطلوب ہے ؟۔
٭ اللہ جب کسی بندے کو توفیق کرامت فرماتا ہے تو وہ شخص علم دین حاصل کرتا ہے (امام جعفر صادق علیہ السلام)
نسخہ نمبر ۱۳
--{جب تک ناراض شوہر کو راضی نہ کرلیں آرام سے نہ بیٹھیں}--
جب تک ناراض شوہر کو راضی نہ کرلیں آرام سے نہ بیٹھیں کیونکہ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں کہ :
"کیا میں تمھاری ان بہترین عورتوں کی نشاندہی نہ کروں جن کا بہشت انتظار کررہی ہے ۔ان میں سے ایک عورت وہ ہے کہ جب کبھی اس سے شوہر کو کوئی تکلیف پہنچے یا وہ اس سے ناراض ہو تو وہ اس سے معافی طلب کرنے کے لئے اس کے پاس آئے اس کا ہاتھ تھامے اور کہے ۔خدا کی قسم! جب تک آپ مجھ سے راضی یا خوش نہ ہوں گے ۔میری آنکھیں نیند سے دور رہیں گی "۔
اگر میاں بیوی میں کسی بات پر ناراضگی ،غمی اور ناچاقی یا گرما گرمی ہو جائے تونیک بیوی کو چاہیئے ،کہ معافی مانگنے میں پہل کرلے ۔اس کے نیک ہونے کی شان کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک وہ ناراض شوہر کو راضی نہ کر
لے تب تک چین سے نہ بیٹھے۔
----- کیونکہ دو دلوں میں ان بن ،خدا کی رحمت کو دور کردیتی ہے ۔
----- مصیبتوں اور بلاؤں کو لاتی ہے ۔
ایسی ایسی طرف سے پر یشانیاں آتی ہیں کہ اس کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا اس لئے کسی مومن کو بھی اور یقینا شوہر اور بیوی کو بھی کبھی دل میں میل نہیں رکھنا چاہئیے اور اس کے لئے قرآن میں یہ دعا تعلیم کی گئی ہے ۔
"ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ربّنا انک رؤف الرحیم "( پارہ ۲۸ سورہ حشر ۔جزو آیت نمبر ۱۰)
"ترجمہ : ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق ورحیم ہیں "۔
اس لئے کہ ان دو میں رنجشیں ،صرف دو میں نہیں بلکہ سو میں رنجشیں ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔ ان دو کی لڑائی سو کی لڑائی بن سکتی ہے ۔دونوں خاندانوں میں لڑائی ٹھن سکتی ہے ،پورے خاندان کا شیرازہ بکھر سکتا ہے ،نئی نسل (اولاد ) تباہی کے کنارے پہنچ سکتی ہے ۔
٭ واجبات بجا لانے کے بعد سب سے اچھا عمل لوگوں کے درمیان صلح وصفائی کرانے کے سوا کچھ نہیں ۔(رسو ال اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نسخہ نمبر ۱۴
--{شوہر اور اولاد کو بھی دیندار بنادیں}--
---- اوقات مقررہ میں انہیں نماز وروزہ یاد دلاتی رہیں ۔
----- ذکر وتلاوت قرآنی کی روز انہ ترغیب دیتی رہیں ۔
اگر شوہر نے قرآن صحیح طرح نہیں پڑھا تو اس کو صحیح پڑھنے کی ترغیب بمعہ ترجمہ دیتی رہیں ۔بہت ہی حکیمانہ اور پیارے انداز سے آہستہ آہستہ ترتیب کے ساتھ وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے دین سے نزدیک لانے کے لئے کام کرتی رہیں یہ آپ کا شوہر اور اپنے بچوں پر بہت بڑا احسان ہوگا ۔
زیادہ تر بیویاں دینی حقوق سے ایک کوتاہی یہ کرتی ہیں کہ مرد کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوششیں نہیں کرتیں ،یعنی اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتیں کہ مرد ہمارے لئے کمائی کرنے میں حرام میں مبتلا ہے اور کمانے میں رشوت،جھوٹ ، قرض کی عدم ادائیگی اور وعدہ خلافی وغیرہ سے بھی احتراز نہیں کرتا اگر ایسا ہے تو آپ اسے سمجھائیں کہ تم حرام ومشکوک آمدنی مت لایا کرو ہم حلال کی چٹنی روٹی ہی پرگزارا کرلیں گے ۔اسی طرح اگر مرد نماز نہ پڑھتا ہو ،روزہ نہ رکھتا ہو تو اس کو بالکل نصیحت نہیں کرتیں حالانکہ اپنی غرض اور اپنےفائدہ کے
لئے آپ ان سے سب کچھ کروالیتی ہیں ۔
صبح سے رات مردوں کا مستقل کمانے کے لئے نکلے رہنا بھی مناسب نہںت بلکہ شوہر اور اولاد کو سمجھائیں کہ ہم صرف کمانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے ،کچھ وقت دین خدا کو بھی دو ،اس کے لئے بھی کچھ وقت نکا لو ،مسجدوں میں جاؤ ،علما کے دروس میں شرکت کرو ،تبلیغات کے سلسلے میں کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے بھی تعاون کرو ۔
اور خود آپ بھی نمازوں اور تلاوت اور تسبیحات کے لئے وقت نکالیں اور یہ نہ سمجھیں کہ آپ کا کام فقط کھانا پکانا ، اور گھر کی صفائی ہے ۔
انشا اللہ آپ کی اس طرح کی فکر ،دعاؤں اور اقدامات سے آپ خود آپ کا شوہر اور آپ کی اولاد نیک ہوجائے گی اور جہاں نیکیاں ہوں وہاں لڑائیاں جھگڑے اور فساد کی جگہ ہی کہاں ہوگی ؟
کیونکہ اگر آپ نیکو کارنہ بنیں اولاد و شوہر کا دین کے سلسلے میں خیال نہ کیا ، بقدر ضرورت علم دین حاصل نہ کیا تویاد رکھئیے ۔
----- ایسی جاہل ماؤں کی گود میں ایسے پھول نہیں کھلاتے ۔
----- فضول خرچ ٹہنیوں پر ایسے قیمتی پرندے نہیں بیٹھا کرتے ۔
----- ایسے نافرمان اور خود غرض گلدستوں پر امام خمینی جیسے گلاب نہیں کھلا کرتے ۔
----- دوسروں کے حقوق سے لا پرواہی کرنے والیوں کے ہاتھوں میں آقائے باقر الصدر جیسے نہیں سویا کرتے ۔
----- خدا کی نعمتوں کے ناقد رداں ٹیلوں اور چوٹیوں پر آمنہ بنت الھدی جیسی ہستیوں کا رنگ نہیں بھرا جاسکتا ۔
----- ایسی اداس شاہراہوں اور بنجر علاقوں میں شہید اول اور شہید ثانی جیسی شخصیات نہیں آیا کرتیں ۔
----- نمازوں کو چھوڑنے اور بے پردہ پھرنے والیوں اور اپنے جسم کے اعضاء کی نمائش کرنے والیوں کے سینے سے حافظ محمد طباطبائی اور صادق وزیری جیسے دودھ نہیں پیا کرتے ۔
----- جو عالم کے انسانوں کو لچکنے اور بل کھانے کے انداز سکھاتیں ان کی آغوش ایسی ذات گرامی کے وطن نہیں بنا کرتے جن کا ذرّہ ذرّہ عظمت اور تقدس کا حامل ہوتاہے ۔جن کے ہاتھوں زمانہ نئی انگڑائی لیتا ہے ۔
چھینی ہوائے غرب نے فیشن کے نام پر
سیدانیوں کے سر سےردا یا علی مدد
----- جو شیعیت کی زندگی کے ہر شعبہ میں دوبارہ دین کی تازگی وشادابی کی بہار لانے کا سبب بنتے ہیں ، عالم ا سلام کی پیشانی پر تبسم کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔
----- عالم اسلام کی عورتیں اپنے نونہالوں کے نام ان کے نام پر رکھنے سے فخر محسوس کرتی ہیں ۔حوّا کی بیٹیاں بارگاہ الہی میں دعا کرتی ہیں الہی مجھے لخت جگر اور نور نظر ملے تو اس کا نام مرتضی (مطہری ) رکھوں گی صادق(وزیری)
رکھوں گی ،زینب وکلثوم رکھوں گی ۔
محترمہ مومنہ! حوّا کی بیٹی ، ہر نئے نونہاں کی آغوش ۔آپ کی شاخ ۔آپ کی شاخ پر بھی ہم کسی ایسے ہی پھول کے منتظر ہیں ۔ آپ کی ہستی پر ہم کسی ایسی ہی چہچہاتی ہوئی مینا کے منتظر ہیں ۔ جس باغ کو رسول وآئمہ اور ان کی اولادوں نے اپنے خون سے سیراب کیا تھا آج اس باغ کے پھول مرجھانے کو ہیں ، اس کی گھاس کو کوئی خون تو کیا اپنے پسینے سے بھی سیراب کرنے والا نہیں ۔
ہے آپ میں سے کوئی جو اس باغ کو سیراب کرے ؟
٭ جب کوئی بندہ علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو خدائے بزرگ وبرتر عرش سے ندا فرماتا ہے کہ مرحبا! اے میرے بندے کیا تجھے معلوم ہے کہ تو کس بلندی کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔تو نے کس منزلت کا ارادہ کیا ہے کیا تم مقرب فرشتوں کا طلبگار ہے کہ تو ان کا ہمسر بن جائے ۔ہاں میں تجھے تیری مراد تک پہنچادوں گا ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
٭ حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ نیکی کی تعریف کیا ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا نیکی یہ نہیں ہے کہ تیرا مال کثیر ہو اور اولاد زیادہ ہو بلکہ نیکی یہ ہے کہ تو اپنے علم میں اضافہ کرے اور تیرا حلم (بردباری) عظیم ہو
شوہر کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے
نسخہ نمبر ۱
--{یہ بات طے کرلیں کہ بیوی ،ماں اور بہنوں کی ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں سنیں گے }--
بیوی سے سنی ہوئی بات سے والدہ یا چھوٹے بھائی بہنوں کو کچھ نہ کہئے اور والدہ اور بہنوں کی شکایت سن کر بلا تحقیق بیوی کو کچھ نہ کہئے ۔
خدا را بیوی سے سنی ہوئی باتوں کی وجہ سے اپنی والدہ کو کبھی کچھ نہ کہئے گا والدہ کی آہ نکلنے سے دنیا وآخرت دونوں برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ والدہ کی واقعی غلطی سامنے آبھی جائے توپیار ومحبت سے سمجھانے کی کوشش کریں یا بڑی بہن کے ذریعے والدہ کو سمجھائیں ۔بیوی کے ذریعے والدہ کو سمجھائیں ۔بیوی کے ذریعے والدہ کو تحفے دلوائیں ۔
حدیث میں بھی ہے کہ "تھادو اتحابوا"( ہدیہ لیا دیا کرو اس سے آپس میں محبت بڑھے گی )۔
آپ کے سامنے بیوی کی کتنی بڑی غلطی بھی بیان کی جائے یا والدہ ،بہنیں یا بھابیاں آپ کی شکایت لگائیں تو اس وقت قصدا کوئی عملی قدم نہ
اٹھائیں اس وقت بیوی کو کچھ نہ کہیں ،کم از کم اتنا صبر کرلیں جس میں دو نمازوں کا وقت گزر جائے یعنی اگر کوئی بات ظہرین کے وقت سننے میں آتی ہے تو مغربین کے بعد سمجھائیں او راگر مغرب کے وقت سننے میں آتی ہے تو فجر کے بعد سمجھائیں ۔
اس تدبیر پر عمل کرنے سے انشا ءاللہ تعالی آپ کے گھر میں بہت زیادہ نمایاں تبدیلی رونما ہوگی ۔آپ کی بات کی قدر بھی ہوگی اور آپ کی بردباری اور عقلمندی کا سکہ جمے گا اور بیوی آپ کی بات پر عمل بھی کرے گی ۔
اگر سمجھانا بھی ہوتو کوشش کریں کہ براہ راست نہ سمجھائیں ہر گز فورا جا کر بیوی سےیہ نہ کہیں کہ تم نے کیوں کہا ؟ بہن یہ کہہ رہی تھیں ۔تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیئے تھا ؟وغیرہ غیرہ ۔بلکہ یادرکھئیے کہ رسول اسلام کے سمجھانے کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی عیب کسی شخص میں دیکھتے تو اس کا نام نہ لیتے بلکہ یوں فرماتے کہ (ما بال الناس ) لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں"۔
تو ہمیں بھی سیرت رسول پر عمل کرتے ہوئے عمومی بات کہنا چاہئے مثلا کہیں ،دیکھو بہت سی عورتوں کویہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ ادھر کی بات ادھر لگاتی ہیں یہ بہت نامناسب بات ہے کہ مجھے ایسا کرنے والیوں سے بہت چڑ ہوتی ہے لہذا تم اس سے ذرا بچنا ۔
ارے بھئی کوئی اپنے گھر کی بات دوسروں کو بتاتا ہے ۔یہ تو حد درجہ حماقت ہے تم کبھی ایسا نہ کرنا ۔۔۔ بلکہ مجھے تو تم پر پورا عتماد ہے کہ تم تو کبھی
ایسا نہ کرتی ہوگی ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔
ایک اہم بات اور یہ ہے کہ کبھی دوسروں کے سامنے بیوی ،ماں یا بہنوں کو نہ سمجھائیں نہ دوسروں کےسامنے ان کی توہین کریں ۔اور اکیلے سمجھاتے ہوئے بھی اس کو دوسری عورتوں کی مثالیں دے کر سمجھائیں ۔کہ دیکھو فلاں بھابی ۔۔۔ سب سے مل جل کر رہتی ہے ، میری بہن کو دیکھا بچوں کی کیسی اچھی تربیت کررہی ہے اور تم ؟۔۔۔
۔۔۔ اس طرح کہنے سے اصلاح نہیں ہوا کرتی ۔اصلاح کے لئے محبت ،اپنا ئیت ،نصیحت ، برداشت اور ہمدردی اور نرم کالامی ہونی چاہیے ،تلخ کلامی اور سخت بیانی سے وقت اصلاح اتنا ہی دور ہونا چاہیے جتنا مشرق ومغرب میں فاصلہ ہے ۔
نسخہ نمبر ۲
--{بیوی کے سلسلے مین اپنے معیار کونیچے لائیے}--
آپ کی اکثر سوچ یہ ہوتی ہے کہ بیوی میرے معیار پر پوری نہیں اتری ۔تو قصور اس غریب کانہیں بلکہ جناب عالی کےبلندمعیار کا ہے اوراس کا علاج فقط یہ ہے کہ آپ اپنے کو ذرا نیچے کیجئے ۔
آپ جب گھر آتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ اس نے آپ کا پر جوش اسقبال نہیں کیا ۔کیا آپ کو احساس ہے کہ وہ بیچاری گھر گر ہستی کے کاموں میں کتنا مصروف رہی ؟
ذرا ایک دن گھر کا مکمل چارج سنبھال کردیکھئے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ آپ کے تمام کام مشین کی طرح انجام دیتی ہے ۔
آپ کھانا پکانے کے لئے ایک خانساماں رکھیئے ،گھر کی صفائی کے لئے ایک ملازم ،کپڑے دھونے کے لئے ایک لانڈری ،اور بچوں کی نگہداشت کے لئے ایک ملازمہ اور گھر کی نگرانی کے لئے ایک چوکیدار ۔۔۔۔۔۔۔مقرر کیجئے ۔
ان تمام ملازمین کی فوج کے باوجود گھر کا نظم و نسق ایسا نہیں چلے گا جیسا کہ یہ مشین چلارہی ہے لیکن آپ کے ذہنی معیار میں اس کی ان خدمات کی کوئی قیمت نہیں
سالہا سال گزرنے کے باوجود آپ نے اپنے خود ساختہ معیار کی بلندیوں سے نیچے اتر کر بیوی کے پوشیدہ کمالات کو جن کو خدا نے حیا کی چادر سے ڈھانک رکھا ہے ،کبھی جھانکا ہی نہیں ۔
آپ کبھی اپنے عرش سے نیچے اتر تے تو اس فرشی مخلوق کو سمجھتے ۔
٭ علم کے ذریعے اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے ۔(حضرت علی علیہ السلام)
نسخہ نمبر ۳
--{اخلاق میں بہترین اور اپنے گھر والوں کے حق میں نرم ترین بن جائیں }--
پیغمبر اسلام فرماتے ہیں کہ : مومنین میں کامل ترین ایمان والا و ہ ہے جو اخلاق میں بہترین ہو اور اپنے گھر والوں کے حق میں نرم ترین ہو"-
نیکی اور بزرگی کا معیار یہ نہیں ہے کہ دفتروں میں ، دوستوں کے مجمع میں ، مجالس میں ،مدرسوں اور مساجد میں کون کیسا نظرآتا ہے بلکہ یہ کہ بیوی اور گھر والوں کے ساتھ نرم برتاؤ کس کا ہے ،گھر کے اندر صبر وتحمل کا ثبوت کون دیتا ہے ۔
جلوت میں نہیں خلوت میں کون کیسا ہے ؟
یہ مسکرانا ،ہنسنا ،بولنا اس کی کوتاہیوں پر صبر کرنا ، اس کی غلطیوں کو معاف کرنا ،غصّہ برداشت کرنا ، اس کی تکالیف وراحت کی باتیں سننا ،دلجوئی کی باتوں سے اس کے دل کو خوش رکھنا ،اس کو شرعی حجاب کے ساتھ پاکیزہ تفریح کے لئے لے جانا ،اس کو جیب خرچ اپنی وسعت کے اعتبار سے دے کراس کا حساب نہ لینا کہ جہاں چاہے وہ خرچ کرے ۔یہ تمام باتیں بھی عبادت میں شامل ہیں ۔
بیوی کو تھوڑا بہت تو روٹھنے کاحق ہے آخر وہ آپ کے سوا کس پر ناز کرے ؟غور کیجئے جب یہ بچی تھی تو اس کا منہ بسور ا دیکھ کر ماں باپ سو کام چھوڑ کر اس کو اٹھاتے تھے جب یہ بڑی ہوگئی اور کبھی اس کی طبیعت بجھی بجھی لگی توقریبی سہیلیاں اس کے دل کا راز جان کر اس کو تسلی دیتی تھیں ۔
اب ۔۔۔ یہ آپ کے پاس سب رشتے ناتوں سے دور ہوکر آئی ہے اگر وہ کوئی بات منوائے ،یا اپنی طرف آپ کو متوجہ کرنے یا صرف اپنے وجود کی آپ کے قلب ونظر میں مزید اہمیت اجاگر کرنے کے لئے روٹھتی ہے تو آپ اس کا ہرگز برانہ مانیں ۔
آخر وہ کس کے سامنے یہ چھوٹا موٹا ناز نخرہ کرے ؟ گھر والوں کو تو دور چھوڑآئی ہے ۔۔۔گال تھپتھپانے والا باپ
بال سنوارے والی ماں
مہندی لگانے والی ہمجولیاں تو اب بہت دور ہیں تو اب وہ کس سے اپنی قیمت پوچھو ائے ؟ کس کے سامنے منہ بسورے کہ کوئی اس کومنائے ؟۔۔۔
اے شوہر محترم! اب آپ ہی اس کا سب کچھ ہیں ۔ آپ کامیاب ترین شوہر ہوں گے اگر آپ نے اپنی بیوی کے مزاج کو سمجھ لیا اور اس کے مزاج کے مطابق اس کو چلانا آگیا ۔
نسخہ نمبر ۴
--{"گڑنہ دیں تو گڑجیسی بات تو کریں" }--
آپ اس آسان نسخہ کا تجربہ تو کرکے دیکھئے انشااللہ آپ کی تمام خانگی پریشانیاں کافور ہوجائیں گی ۔ بیوی آپ سے دلی محبت کرنے لگے گی بچے بھی آپ کے لہجے اور میٹھی زبان سے متاثر ہوکر باہر بھی یہ ہی زبان استعمال کریں گے ،کتنا ہی اہم معاملہ ہو کوشش کریں کہ آپ کا نرم لہجہ چھوٹنے نہ پائے ۔
بڑی سے بڑی تادیبی کاروائی بعض اوقات اتنی مفید ثابت نہیں ہوتی جتنی خوشگوار اور نرم لہجے میں سمجھادینے سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
آج ہی سے آپ اپنا نرم بنا لیجئے ۔اپنی زبان میٹھی بنالیجئے ۔وقتا فوقتا دوستوں ،اٹھنے بیٹھنے والوں اور بیوی وگھر والوں کو کہہ دیجئے کہ اگر میرا لہجہ سخت یازبان دلخراش ہو تو مجھے بعد میں بتا دینا پھر ان کے بتانے کے بعد اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہئے ۔
اپنے گھر کے ایک فرد ،مسلم معاشرے کے ایک رکن اور خاندان اہل بیت سے تمسک کے دعوی کرنے والوں پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھیوں کے لئے اپنا لہجہ نہایت ہی پر سکون اور پر مسرت رکھیں ۔
کوّا کس کی دولت چھینتا ہے ؟
کوئل کسی کو کیا دیتی ہے؟
صرف شیریں کلامی کے باعث سب کادل موہ لیتی ہے
نسخہ نمبر ۵
--{بیوی کے کاموں کی اکثر تعریف کیجئے }--
سچ پوچھئے تو کام کی زیادتی سے بیوی اتنا نہیں تھکتی جتنا حوصلہ شکنی سے تھکتی ہے ۔ اس کا سارا جوش وولولہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے اوراعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور اس کی زندگی بے مصرف ،بے جان کولہو کی بیل کی طرح ہو کر رہ جاتی ہے ۔
جس کے دل میں ہی احساس ہو کہ بیوی کھانے پکانے کی جوخدمت انجام دے رہی ہے یہ اس کی شرعی ذمہ داری نہیں ہے ۔تو وہ اس کے کھانے پکانے اور گھر داری کی تعریف کرے گا ،اس کی ہمت بندھوائے گا اور اس کا حوصلہ بڑھائے گا ۔
لیکن جو شخص اپنی بیوی کو نوکرانی یا خادمہ سمجھتا ہو اس کو تو یہ کام ضرور انجام دینا ہیں ، کھانا پکانا اس کا فرض ہے ،اگر اچھا کھانا پکا رہی ہے تو اس پر اس کی
تعریف کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسا شخص اس کی کبھی تعریف نہ کرے گا ،اچھا کھانا پکانے پر اور کسی معمولی کوتاہی پر ، نمک کی زیادتی یا چینی کی کمی پر گھر میں طوفان بد تمیزی برپا کرے گا اور لمبا چوڑا جھگرڑا شروع کردے گا ۔
یاد رکھئے ! یہ انسانی طبیعت ہے کہ اس کی اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور حوصلہ افزائی کی خواہش جب ہی زیادہ ابھرتی ہے جب کہ اس کی اعلانیہ حوصلہ شکنی ک جارہی ہو خصوصا دیوار انی ، جیٹھانی اور نندیں وغیرہ مسلسل اس کے کام میں رخنہ ڈال رہی ہوں اور ذرا ذرا سی بات پر اس کی پکڑ کی جاتی ہو ۔
یہ ایک ظلم کی کے مترادف ہے ، جس کام کی ستائش نہیں کی جاتی اور اس کو شاباش نہیں کہا جاتا یا ایک لفظ شکریہ کا ادا نہیں کیا جاتا اس کی دل شکنی کی جاتی ہے ،وہ اکثر ہمت چھوڑبیٹھتی ہے اور اس کی صلاحیتیں سلب ہوجاتی ہیں ۔
آج ہی سے اپنا معمول بنا لیجئے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی مثلا چائے بنانے پر ، پانی کا گلاس دینے پر ، دل وزبان سے اس کا شکریہ ادا کریں ۔ پھر دیکھئے کہ بیوی کیسے آپ کے قدرداں بنتی ہے اور گھر میں ہی جنت کا نمونہ بن جائے گا ۔
٭ علم کے ذریعے اللہ کی مغفرت حاصل ہوتی ہے (حضرت علی علیہ السلام)
نسخہ نمبر ۶
--{بیوی کو دوست سمجھیں نوکر نہیں }--
یہ بات یادرکھیں کہ بیوی کے برابر دنیا میں مرد کا کوئی کارآمد دوست نہیں ۔ آپ غور کریں کہ آپ اپنے دوستوں پر ویسا رعب جماسکتے ہیں جیسا نوکروں پر جمایا جاتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ ایسا کرکے تو دیکھیں ،سارے دوست آپ کو چھوڑ کر الگ ہوجائیں گے ۔دوستوں کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کوئی عقلمند انسان نہیں کرسکتا ۔
پھر حیرت کی بات ہے کہ ایسا برتاؤ آپ اپنی بیوی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ۔جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دوست نہیں ہوسکتا ۔تجربہ ہے کہ فلاں ومحبت میں سب دوست واحباب الگ ہوجاتے ہیں ، رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں مگر بیوی ہر حال میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتے ہے ۔
اسی طرح بیماری میں جیسی راحت بیوی سے پہنچتی ہے ،کسی دوست سے تو کیا پہنچتی بعض اوقات اولاد سے بھی نہیں پہنچتی ۔لہذا ایسا رعب جمانا درست نہیں اگر آپ اپنی بیوی سے دوستوں جیسا سلوک روا کھیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں آپ کو گھر میں ایک نمایاں خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوگا ۔
نسخہ تمبر ۷
--{بیوی کی خدمات کا احساس کریں}--
آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر عورت خود بھی بیمار پڑی ہو ، اٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو اور ایس حالت میں شوہر بھی بیمار پڑجائے تو عورت اپنی بیماری بھول جاتی ہے ۔ اب اپنا آرام ۔۔۔۔اپنی راحت ،اپنی بیماری چھوڑ کر شوہر کی تیمارداری میں مشغول ہوجاتی ہے ۔
یہ تو عام بات ہے کہ عورتیں خود کھانا سب سے آخر میں کھاتی ہیں ۔ پہلے مردوں کو کھلاتی ہیں اور اگر اس وقت اچانک کوئی مہمان آجائے تو اپنا کھانا بھی مہمان کے لئے بھیج دیں گی ۔اگر شوہرآدھی رات کو سفر سے واپس آجائے تویہ وفا شعار عورت اپنا آرام اور اپنی نیند قربان کرکے ، اس کی خدمت میں لگ جائے گی ۔ اے شوہر محتر ! بیوی تو آپ پر اپنا سب کچھ قربان کردے اور آپ اس سے بے نیاز رہیں ۔ اس نے تھوڑی سی زبان چلادی اورآپ کبدلہ لینے پر اتر آئے اور اس کی دلداری چھوڑدی ۔آپ کے لئے یہ طریقہ کسی بھی طرح مناسب نہیں بلکہ اس کی ہر وقت خدمات کے صلے میں آپ کو بیوی کی نامناسب باتوں کو برداشت کرنا ہوگا ۔
نسخہ تمبر ۸
--{اگر بیوی کی یہ کوتاہیاں آپ کی بہن یا بیٹی میں ہوتیں ۔۔تو؟}--
ان کی شکا یتیں ان کے سسرال سے آتیں تو جو عذر ان کے لئے یا جو آپ ان کی صفائی میں کہتے وہ بیوی کے لئے کیوں نہیں سوچتے صرف اس لئے کہ وہ آپ کی بیوی ہے ؟ اور کسی دوسرے کی بیٹی یا بہن ہے ؟
اس کی کوتاہیوں کے لئے بھی تو آپ کو عذر پیش کرنے چاہئیں کہ ابھی نئی نئی آئی ہے اتنی جلدی سسرال کے رنگ میں کیسے رنگ جائے ،بھول چوک ہوہی جاتی ہے ،برداشت کرنا چاہئیے وغیرہ وغیرہ ۔
بہن اور بیٹی کو بھی چھوڑیں ۔ذرا سوچیں کہ آپ جو دنیا کی ساری خوبیاں اپنی بیوی میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کا کردار ساری کوتاہیوں سے مبرّا دیکھنا چاہتے ہیں ۔سوچیں کہ جس نے آپ کو بیٹی دی ہے ۔ اگر وہ بھی اور دنیا میں بسنے والے تمام باپ اپنے داماد کے لئے کوئی ایسا معیار ذہن میں مقرر کرلیتے ہیں کہ :
لڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ہو۔
تقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں مقدس اردبیلی جیسا ہو۔
دنیاوی تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم ڈاکٹر عبد القدیر جتنی ہو ۔
اخلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ملامحسن فیض کاشانی کی طرح ہو۔
علم دین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے اعتبار سے علامہ حلی جنتا علم رکھتا ہو ۔
دین ودنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے اعتبار سے بو علی سینا جیسا ہو ۔
تو فرمائیے آپ محترم کس کے داماد بن سکتے تھے ؟ اگر لوگ اپنے بلند معیارات پر اپ کو پرکھنے لگیں اور جب آپ اس معیار پر پورا نہ اتریں تو وہ بات بات پر نکتہ چینی کرکے آپ کا جینا دوبھر کردیں تو آپ ان لوگوں کے متعلق کیا کہیں گے ؟۔۔۔۔۔۔اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑ تے ہیں ۔
شوہر محترم!
یہی کچھ آپ کو بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اس کے ہر عمل کو تنقیدی چشمہ لگا کر دیکھا جاتا ہے اور اچھائی میں کیڑے نکالے جاتے ہیں ۔اگر اس سے کوئی معمولی غلطی بھی سرزد ہوجائے تو گھر میں عدالت کا سا سماں ہوتا ہے ۔ ساس و سسر قاضی بن کر بیٹھ جاتے ہیں ، بھاوج اور بڑی نندیں وکیل بنتی ہیں اور گھر کی ماسی اور چھوٹی نندیں گواہ بن جاتی ہیں اور پھر اس کی معمولی غلطی کو ناقابل معافی جرم قراردے کر سینکڑوں طعنے اور دل چھلنی کرنے والےجملے سزا کے طور پر کہے جاتے ہیں اور اس پر بس نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ اس معصوم کے ماں باپ ،بہن بھائی اس کے پورے خاندان کو بھی نشانہ بنا یا جاتا ہے ۔
اب یہی تمام باتیں آپ کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہوتیں تو آپ ان شکوہ شکایات کرنے والوں کے متعلق کیارائے قائم کرتے ؟
نسخہ نمبر ۹
--{اپنے غصّہ کو برداشت کرنا سیکھئے }--
آج ہی سے فیصلہ کرلیں کہ میں دفتر ،دکان ،ملازمت وکاربار اور باہر والی زندگی کے مسئلے گھر سے باہر چھوڑ کرآؤں گا ۔ اگر کبھی کسی بات پر غصّہ آبھی جائے تو فورا خاموش ہوجائیں ۔
رسول اسلام(ص) فرماتے ہیں :
" جب تم میں سے کسی کو غصّہ آجائے تو وہ فورا خاموش ہو جائے "
یا وہاں سے اٹھ کر چلے جائیں اور تنہائی میں آجائیں ۔
غصّہ قابو کرنے کا ایک عجیب علاج یہ بھی ہے کہ ایک کاغذ پر ایک عبارت لکھ کر ایسی جگہ لگادی جائے جہاں بار بار اس پر نگا ہ پڑتی ہو ۔
"اللہ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت ہے جتنی تجھ کو اپنے بیوی ،بچوں اور ماتحتوں پر قدرت ہے ۔"
کیونکہ آدمی کوغصّہ اسی پر آتا ہے جس کو اپنے نے کمزور پاتا ہے اگر دوسرا طاقتور ہو تو غصہ نہیں آتا لہذا جب بار بار اس تحریر پرنگاہ پڑے گی تو دل ودماغ میں اللہ کی بڑائی کا استحضار ہوگا غصّہ کہاں آئے گا ؟
یاد رکھئیے کہ اگر میاں بیوی اور گھر والوں کی یہ تو تو ،میں میں اور بگ بگ ختم ہو جائے تویہ گھر کے معصوم بچوں پر بہت بڑا رحم ہوگا ۔ورنہ جھگڑوں کے ماحول میں گھٹ گھٹ کر پلنے والے بچے سہمے سہمے رہتے ہیں ،خود اعتمادی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
جس معصوم کے ذہن پر ہر وقت باپ کا طمانچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں کے بہتے ہوئے آنسو۔۔۔۔۔۔کا تصور رہتا ہو جس کے کانوں میں دادی اور پھوپھی کی جھڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باورچی خانے میں روتی ہوئی ماں کی سسکیاں ۔۔۔گونجتی رہیں تو اس بچہ کی خدا داد صلاحتیں اور قابلیت جن سے وہ نجانے دین ودنیا کے اعلی سے اعلی کیا کیا کام کرجائے ۔ختم ہوجاتی ہیں ۔ ٭ علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پرفرض ہے آگاہ ہو کہ اللہ تعالی طالب علم کو دوست رکھتا ہے ۔
نسخہ نمبر ۱۰
--{اپنا مقام پہچانئے ،زن مرید نہ بنئے}--
یہ جو آپ سے بیوی سے نرم رویہ اختیار کرنے ، اس کی دلجوئی کرنے اور نامنا سب بات کی تحمل سے برداشت کرنے کی استدعا کی گئی ہے اس سے یہ نہ سمجھئے گا کہ بیوی آپ پر حاکم ہے ،آپ محکوم ہیں ، وہ آپ کو ڈانٹ سکتی ہے اور جھڑک سکتی ہے آپ کچھ نہیں سکتے اور آپ اس کے غلام ہیں ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ لہذا خدا را زن مرید نہ بنئے گا ۔ آپ کا ایک مردانگی والا مقام ہے گھر کے سربراہ والی ایک ذمہ داری ہے ۔
آپ کے ڈھیلے پن سے گھر کا نظام اندھیرنگری چوپٹ راج والا ہوسکتا ہے ۔ بچے کہیں کے کہیں نکل سکتے ہیں ۔
بیٹیاں آپ کے ہر وقت جی حضوری کے رویہ کو دیکھ کر اپنے شوہروں سے بھی ویسے ہی رویہ کی متمنی ہوجائین گی اور گھرانے کے گھرانے اجڑیں گے ۔جس کے صرف آپ ذمہ دار ہوں گے ۔
بے شک شفقت کا معاملہ رکھئیے کہ اس میں جو رعب ہے وہ ہر وقت کی ڈانٹ ڈاپٹ میں نہیں ہے ۔ بیوی سے ڈرے سہمے مت رہیں اللہ سے اپنا
معاملہ صاف رکھیں گھر میں تعلیم عام کریں ۔
دنیا کی رغبتی اور آخرت کی ترقی کے تذکرے ضرور کریں ۔
تجربہ کار عالم دین بیوی کے گھر کے بڑوں سے بھی ضروری احوال کا مشورہ برائے گھریلو اصلاح (نہ کہ بطور شکایت یا غیبت )کرتے رہیں ۔
یہ بات یادرکھیئے کہ آپ ہاں جی ، والے غلام بنتے ہیں تو آپ کائنات کےنظام میں فساد کا بیج بورہے ہیں ۔
٭ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :" لوگ تین قسم کے ہیں ایک تم عالم ،دوسرے طالب علم ، تیسرے کوڑا کرکٹ (یعنی وہ لوگ جو نہ عالم ہیں نہ طالب علم ، وہ کوڑے کچرے کی طرح بے مقصد اور بیکار لوگ ہیں )۔"
نسخہ نمبر ۱۱
--{بیوی کو دیندار بنا ئیے مگر خود دینداری چھوڑ ے بغیر}--
یعنی طعنہ دے کر ،یاچڑ کر ،برا بھلا کہہ کر نہیں ۔ اپنی بات منوانا اصل کام نہیں بلکہ اسلامی ذہن بنانا اصل کام ہے ۔یعنی آپ اس کے دل کی زمین پر
ایسی محنت کریں کہ زمین خود کہے کہ مجھ کو شرعی احکام کے بیج بوتا کہ
ایمانیت کا جڑ
عبادت کا تنا
اور فرائض واجبات کے برگ وبار
اور اعمال صالحہ کادرخت تیار ہو
پھر اس میں اخلاقیات کے پھل آئیں اور ان میں
اخلاص کا رس ہو ۔
اگر کسی گھر میں معنویت اور روحانیت نہ ہو ،اسلامی تعلیمات پر عمل نہ ہو اس گھر کی حالت خراب ہوہی جاتی ہے ۔
گناہ انسان کے دل کو سیاہ کردیتاہے ،دل کو بیمار کردیتا ہے اورجب دل ہی بیمار ہوجائے تو اس پر سب سے پہلی مصیبت یہ آتی ہے کہ انسان عبادت سے لذت حاصل نہیں کرسکتا بلکہ گناہ سے لذت حاصل کرتاہے اور جو گناہ سے لذت حاصل کرتا ہے وہ جان لے کہ وہ روحانی اعتبار سے بیمار ہے ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ :
"اگر کوئی شخص چاقو کو ہاتھ میں یا پیٹ میں کسی کی کمر میں مارے تو جو ہوتا ہے اس سے زیادہ یہ گناہ دل کے لئے خطرناک ہوتے ہیں ۔"
لہذا یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ اپنی لڑکیوں کو اسلام کے احکام وقوانین
سے روشناس کرائیں اور واجب احکام یاد کرائیں ۔ لیکن اب جب کہ انہوں نے ا س سلسلے میں کوتاہی کی ہے اور سادہ لوح بے گناہ لڑکی کو تعلیم دئیے بغیر شادی کے بندھن میں باندھ دیا ہے تو اب یہ اہم ترین اور سنگین فریضہ شوہر پر عائد ہوتاہے کہ وہ بیوی کو دینی مسائل سے روشناس کرائے اور سلام کے واجبات وحرام چیزوں کے متعلق بتائے اور اس کی فہم اور عقل کے مطابق اس کو اسلامی اخلاق اور عقائد کی تعلیم دے ۔
شوہر محترم! اگر آپ خود اس کام کو انجام دے سکیں تو کیا کہنا ۔
اس کے علاوہ اہل علم سے مشورہ کرکے سودمند اور علمی اور اخلاقی کتب اور رسالے مہیا کرکے اس کو پڑھنے کی ترغیب دلائے اور ضرورت ہو تو ایک قابل اعتماد اور عالم دیندار استاد یا معلمہ کو اس کی تعلیم وتربیت کے لئے مقررکیجئے ۔
اب اگر آپ نے اس فریضہ کو ادا کیا تو آپ ایک دیندار ،دانا ،خوش اخلاق اور مہربان بیوی کے ہمراہ زندگی بسر کریں گے اور اخروی ثواب کے علاوہ بہترین دنیاوی زندگی بھی بسر کریں گے ۔
اور اگر آپ نے اس فریضے کی انجام دہی میں کوتاہی کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دنیا میں ضعیف الایمان اور لاعلم بیوی کا ساتھ رہے گا جو دینی واخلاقی اصولوں سے بے بہرہ ہوگی اور قیامت میں بھی خداوند قہار اس سلسلے میں بازپرس کرے گا ۔
کیونکہ اس سے قرآن میں آپ کی یہ ذمہ داری قراردی ہے کہ :
"اے ایمان والو ، خود اپنے آپ کو اور اپنے خاندان والوں کو اس جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھرہوں گے "۔
امام صادق(ع)فرماتے ہیں کہ :
"جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس کو سن کر ایک مسلمان رونے لگا اوربولا میں خود اپنے نفس کو آگ سے محفوظ رکھنے سے عاجز ہوں اس پر مجھے یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ اپنے گھر والوں کو بھی دوزخ کی آگ سےبچاؤں "۔
تو پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :
" اس قدر کافی ہے کہ جن کاموں کو تم انجام دیتے ہو ان ہی کو کرنے کو ان سے کہو اور خود جن کاموں کو تمہیں ترک کرنا چاہیے ان سے انہین روکتے رہو ۔"
تعلیم وتربیت کے لئے حوصلہ اور وقت درکار ہے اگر عقل اور تدبر سے کام لے کر اس سلسلے میں جس قدر محنت کرے گا خود اس کے مفاد میں ہوگا اور اگلی زندگی اور عالم آخرت تک اس کے اثرات سے بہرہ مند ہوگا ۔
٭ جس دعا کی ابتدا ء بسم اللہ الرحمن الرحیم ہو وہ دعا کبھی نامنظور نہیں ہوتی ۔(حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نسخہ نمبر ۱۲
--{دیندار شوہر گھر میں فقہی قوانین نہ چلائیں کیونکہ گھر الفت ومحبت سے چلتے ہیں ، قانون سے نہیں }--
مثلا اگرآپ بیوی سے یہ کہیں کہ تم اپنے والدین یا فلاں رشتہ دار سے ملنے نہیں جاؤں گی کیونکہ میری اجازت کے بغیر گھر س ے باہر قدم نہیں نکال سکتیں ۔
یہ قانون سے بہت غلط استفادہ ہے ۔آیت اللہ حسین مظاہری، ایک مجتہد کا قول اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ
"بعض عادل شمر سے بھی بدتر ہیں ۔"
قانون سے ایسا غلط استفادہ بظاہر مذہبی مردوں اور عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے ۔مثلا کوئی لڑکی اسکول یا کالج جاتی ہے اور ایک یا دو اصطلاحات یاد کرکے غرور کرنے لگتی ہے اپنے شوہر سے کہتی ہے میں پڑھنا چاہتی ہوں ، میں گھر کا کوئی کام نہ کروں گی کیونکہ یہ مجھ پر واجب نہیں ہے ۔ یہ قانون فقہی سے غلط اسفادہ ہے بقول ان عالم کے یہ لڑکی عادل ہے لیکن شمر سے بدتر ہے کیونکہ آج نہیں تو کال ضرور اس گھر کو برباد کرے گی ۔
اگر چہ آپ ایک مومن ہیں لیکن سخت گیر ہیں ،امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر میں ضرورت سے زیادہ ہی سخت ہیں ۔ آپ کی یہ سخت گیری اور تیز روی ایک دن آپی پاکیزہ بیوی کو اور آپ کی نیک سیرت لڑکی کو ضدی اور خراب کردے گی ۔
نسخہ نمبر ۱۳
--{بیوی سے اچھا سلوک کرنا اور اسے ہمیشہ خوش رکھنا }--
اگر آپ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے داماد بنیں اور وہ آپ سےیہ کہے کہ " دیکھو میری بیٹی س اچھا سلوک کرنا اور اسے ہمیشہ خوش رکھنا " تو آپ کس طرح دل وجان سے اس کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گے اور اس کی ناگوار باتوں کو بھی خندہ پیشانی س برداشت کریں گے ۔
جب صدر یا وزیر اعظم کی بات کی آپ کو اتنی ہی پرواہ ہے تو اگر اس پوری کائنات کا پروردگار آپ سے یہ کہے :
"وعاشر هنّ بالمعروف "
"(دیکھو)ان بیویوں سے اچھا سلوک کرو۔"(سورۃ نساء ۱۹)
تو اب آپ کا رد عمل بیوی سے کیا ہونا چاہئے ،افسوس صدر اور وزیر اعظم
کی ہدایت کی تو اتنی پرواہ ہو اور کائنات کے پروردگار کی ہدایت اور حکم کو اتنی اہمیت بھی نہ ہو جتنی اس کے فاسق وفاجر بندہ کی ہو ۔ افسو س! اگر آپ پروردگار عالم کی اس ہدایت کو یاد رکھیں گے تو گھر میں کبھی جھگڑا نہ ہوگا ۔
نسخہ نمبر ۱۴
--{ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگتے رہنا چاہیئے }--
ان تمام نسخوں پر عمل کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگتے رہنا چاہیئے ۔بعض اوقات انسان کے اپنے گناہوں کی نحوست کایہ اثر ہوتا ہے کہ بیوی یا اولاد نافرمان ہوجاتی ہے اوراسی طرح بیوی کے لئے بھی مسلسل دعائیں مانگتی رہنا چاہیئں ۔ایک مرد دانا کا کہنا ہے کہ میں اپنے گناہوں کا اثر اکثر بیوی بچوں بلکہ گھر کے پالتو جانوروں تک میں پاتا ہوں کہ ہو پہلے کی طرح میرے مطیع وفرمانبردار نہیں رہتے ۔
آخری بات :- آپ نے دیکھا کہ آپ کی بیوی ،ایک لڑکی نے صرف دو بول پڑھ کر آپ سے ایسا رشتہ قائم کیا اور اپنے والدین ان دو بولیوں کی ایسی لاج رکھی کہ ماں کو چھوڑ ا ، باپ کو چھوڑا ،بہن بھائی اور پورے خاندان کو چھوڑا اورآپ کی ہوگئی ۔جب یہ لڑکی ان دو بولیوں کا اتنا بھرم رکھتی ہے کہ سب کو چھوڑ کر ایک
کی ہوگئی لیکن آپ سے نہ ہو سکا کہ یہ دو بول :
"لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی الله "
" پڑھ کر اس اللہ کے ہوجاؤ جس کے لئے یہ دو بول پڑھےتھے :۔؟؟؟
٭ علم حاصل کرو ۔ علم کاحاصل کرنا نیکی ہے ۔ مشق جاری رکھنا تسبیح ہے ۔علمی معاملات میں بحث ومباحثہ جہاد ہے ۔ جاہل آدمی کو تعلیم دینا صدقہ ہے اور علم کی وجہ سے طالب علم خدا سے نزدیکی حاصل کرلیتا ہے ۔ کیونکہ علم کے ذریعے حرام وحلال کے درمیان فرق پہچانا جاتاہے اور علم طالب علم کو جنت کے راستے پر لگادیتا ہے اور علم وحشت میں انیس ہے علم تنہائی میں دوست ہے ۔(حضرت علی علیہ السلام
ساس ،سسر اور گھر کے دیگر افراد کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے
نسخہ بمبر ۱
--{ساس سسر یا گھر میں رہنے والے اور افراد سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر دم کریں }--
کیونکہ رسول اسلام (ص)نے فرمایا ہے :
"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (ص) کی جان ہے ، شیطان اس گھر میں ٹھہر نہیں سکتا جس میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جائے ۔"
اس لئے کہ گھروں میں جھگڑوں سے بچنے کے لئے شیطان مردوں سے بچنے کی بہت زیادہ فکر کی جائے اور جن چیزوں سے گھروں میں شیاطین آتے ہیں ان سے بچا جائے اور جن اعمال سے شیاطین سے حفاظت ہوتی ہے ،ان اعمال کا اہتمام کیا جائے جس میں سے ایک عمل گھر میں سورہ بقرہ کا ختم ہے ۔
نسخہ نمبر ۲
--{ساس سسر یا گھر میں کثرت سے تلاوت قرآن بمعہ ترجمہ کا اہتمام کریں }--
کیونکہ حدیث میں ہے کہ :
" جس گھر میں قران کریم کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ملائکہ اس میں حاضر ہوتے ہیں ،شیاطین نکل جاتے ہیں اور جس گھر میں تلاوت نہ ہو ، اس میں خیر وبرکت کم ہوجاتی ہے ،شیاطین اس گھر میں مسکن بنالیتے ہیں ۔فرشتے وہاں سے چلتے جاتے ہیں "
نسخہ نمبر ۳
--{ حتی الامکان بیٹے کو شادی کے بعد الگ رہنے کی ترغیب دیں }--
دینداری کا دم بھرنے والے اکثر سےایک غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ
سب کا ایک ساتھ ،ایک ہی گھر میں رہنا بہت ضروری ہے ورنہ گھر کی برکت نکل جائے گی ۔
محترم ساس وسسر ! ایک برتن میں کھانا پکنے سے برکت ضرور آئے گی لیکن لڑائی جھگڑے ی وجہ سے گھروں میں نفرت ،حسد ،بغض ،غیبت ،لڑائی ،جھگڑے کا دروازہ کھل جاتا ہے اور وہ پورے گھر کو اللہ کی رحمت سے دور کردیتا ہے ۔ صرف ایک ایسی برکت کے لئے ہزاروں مصیبتوں اور گناہوں کا ارتکاب کیسے جائز ہوگا ؟
یعنی ایک مستحب کے لئے اتنا اہتمام کہ ہزاروں حرام اس کی وجہ سے ہوجائیں یہ کہاں کی عقلمندی ہے ؟
ایک گھر جہاں کئی شادی شدہ بھائی ایک ساتھ رہتے ہوں اور ایک ساتھ کھانا کھاتے ہوں لیکن
----- آپس میں دل گرفتہ ہوں ۔
---- روزانہ جھگڑے بڑھ رہے ہوں ۔
---- حسد اور حرص کی بیماریاں بڑھ رہی ہوں ۔
----- رات کو شوہر آئیں تو بہو ئیں ایک دوسرے کے خلاف باتین کرکے شوہروں (سگے بھائیوں )میں عداوت اور دشمنی کے بیج بورہی ہوں ۔
----- غیبت ،چغل خوری اور جھوٹ کے جراثیم پیداہو کر بڑی بڑی روحانی بیماریاں پیدا کررہے ہوں ۔
---- بیٹے کو ماں اور بہن سے دور کیا جارہا ہو۔
---- بیوی گھر چھوڑنے یا طلاق لینے کی دھمکی دے رہی ہو ۔
----- ساس ، تعویذ ،گنڈوں کی فکر میں ہو ۔
----- سسر ہر نماز کے بعد بد دعا کررہا ہو ۔
-----لڑکے یا لڑکی کی ساس ،پورے خاندان میں سمدھی اور سمدھن کے برا ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو ۔
----- چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے بڑے عیب بنا کر پیش کیا جارہا ہو ۔
----- ان سب کے نتیجے میں گھر کے بعض افراد نفسیاتی ہمسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہوں ۔
----- اپنے بچوں کو مشترک گھر میں رہنے سے حرام سے ڈش انٹینا اور کیبل سے بچانا مشکل ہورہا ہو ۔
اور اس کے بر خلاف ایک گھر ایسا ہو جہاں شادی ک فضول اور بیہودہ رسموں سے پیسے بچا کر اور ایسی شادی کرکے جس میں ش کے تین نقطے نہ ہوں یعنی سادی ،ایسی شادی جو سادہ ہو ، اسراف اور فضول خرچیوں سے مبرا ہو اور ان حرام کاموں سے پیسے بچا کر جب تک مستقل علیحدہ مکان لینے کی گنجائش نہ ہو تو چاہے چھوٹا سا گھر یا فلیٹ بھی کیوں نہ ہو الگ رہ کر ماں ،باپ کی خدمت کرکے زیادہ سے زیادہ دعائیں لی جاتی ہوں ۔
----- نند اور بھاوج میں آپس کی محبت برقراررہے ۔
---- دیورانی اور جیٹھانیاں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہوں ۔
---- بچوں کی اچھی تربیت ہورہی ہو۔
----- روزانہ یا اکثر ملاقات کے لئے آپس میں آنا جانا ہو۔
----- حسب توفیق تحفہ ،تحائف دئیے جاتے ہوں ۔
---- کھانا پکا کر ساس وسسر کے لئے لایا جاتا ہو ۔
----- چھوٹے بچوں میں آپس میں محبت ہو ۔
دونوں زندگیاں آپ کے سامنے ہیں ،دونوں کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔ کون سی زندگی آپ کو پسند ہے ؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
محترم ساس ! جو بات رب العالمین کی شریعت میں بری نہیں ، اس کو برا نہ سمجھئے ، شریعت میں جس کی اجازت ہو اس پر پابندی نہ لگائیے ۔
لیکن بد قسمتی سے اور بعض اوقات آپ کی ہٹ دھرمی سے اور ان تما م خرابیوں کے بعد لڑجھگڑ کر بیٹا اور بیٹا اور بہو کو علیحدہ ہونا ہی پڑتا ہے تو کیا بہتر نہیں کہ ان تمام خرابیوں سے پہلے ہی ان کو الگ کردیں ۔
----- چاہے کتنی بھی طلاقیں ہوں ۔
----- کتنے بھی گھر اجڑیں ۔
----- کتنے نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوں ۔
---- کتنے بہن بھائی ،بہنوں میں اختلاف وجھگڑے ہوں ۔
کیا تب بھی آپ کا فیصلہ وہی رہے گا ؟
اسلامی شریعت نے بھی بہو کے لئے ساس ،سسر کی خدمت کرنے کو حسن سلوک تو کہا ہے لیکن واجب قرار نہیں دیا اور دیور اور جیٹھ کی خدمت تو غیر مناسب بھی ہے اکثر بے پردگی کا اہتمام ہوتا ہے ۔ اور جب یہ سب بہو کے فرائض میں شامل ہی نہیں تو آپ زبردستی خدمت کیسے لیں گے ؟ یہی سوچ فتنے او رفساد کی بنیادیں ہے اور ظلم کی ابتدا ہے ۔
نسخہ نمبر ۴
--{ ہم مزاج بیٹے اور بہو کو ساتھ رکھیں }--
اگر آپ بھی چا ہتے ہیں کہ ایک بیٹا ہمارے ساتھ ہو اور پوتے پوتیوں سے گھر میں رونق ہو تو اس بیٹے کو ساتھ رکھیں جس سے مزاج ملتا ہو ۔اور اس بیٹے اور بہو کو دعائیں بھی دیتے رہیں جو آپ کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔
نسخہ نمبر ۵
--{ کچن تو ضرور علیحدہ ہو }--
اگر مالی حالات یا کسی اور مصلحت سے بہوؤں کو ایک ہی گھر میں رکھنا ہو
تو کم از کم اتنا کیجئے کہ ان کے آنے جانے کا راستہ الگ ہو اور کچن تو ضرور علیحدہ ہو ، زیادہ تر آگ چولہے ہی بھڑکتی ہے ۔'
نسخہ نمبر ۶
--{ حسن اخلاق او رخوش دلی سے جتنی چاہے خدمت کروائیے }--
ساس اور سسر خصوصا ساس اگر سلیقہ مند ہو تو بہو کے ساتھ حسن اخلاق او رخوش دلی سے جتنی چاہے خدمت کرواسکتی ہیں ۔ یہ بہو کے لئے سعادت اور ساس وسسر کے اخلاق کی بلندی کی علامت ہے ۔لیکن بہو سے جبر ا خدمت لینا نہ شرعا جائز ہے اور نہ اخلاقا صحیح ہے ۔
بہو کا اکرام اور عزت کرکے دیکھئے آپ حیران ہوں گے کہ وہ آپ کی بیٹی سے بڑھ کر آپ کی خدمت گزار ہوگی ۔
٭ عالم کو عابد پر وہی فضیلت ہے جو چاند کو چودھویں شب میں تمام ستاروں پر ہے اور علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں ۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نسخہ نمبر ۷
--{ بہو سے بدگمان نہ ہوں }--
اس کی غلطی دیکھ کر بھی اچھی تاویل کریں ،اپنے خیال کی پرواہ نہ کریں ۔
جب آپ ایسا کریں گے تو گویا شیطان کے منہ پر طمانچہ ماریں گے وہ خبیث خود بخود دور ہوجائے گا ۔
امام صادق (ع) نے فرمایا ہ ےکہ :
"اس ناپاک کے منہ پر طمانچہ مارو ،جب اس کو ماروگے ، اس کی باتوں پر عمل نہ کروگے تویہ خود بخود دفع ہوجائے گا ۔"
اس کے برعکس اگر اس کی باتوں کو اہمیت دیں گے اور بہو سے سوء ظن رکھیں گے تو یہ منحوس شیطان آپ کی فکر اور سوچ پر قابض ہو جائے گا لہذا س کا علاج فقط یہ قرآنی حکم ہے کہ :
"لوگوں سے متعلق بد گمانی سے پر ہیز کرو کیونکہ اکثر گمان گناہ ہوتے ہیں ۔"
اگر آپ نے ظن یا گمان بد سے کام لیا تو گویا قرآن کی مخالفت کی ہے ۔
نسخہ نمبر ۸
--{بیٹا اور بہو کے ہر کام میں مداخلت نہ کریں }--
اگر آپ اپنی شادی شدہ اولاد کو سعادت مند دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ان کے ہر کام میں مداخلت نہ کریں ۔
آپ کو حیوانوں سے سبق لینا چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کی اسوقت تک سرپرستی کرتے ہیں جب تک وہ ان کے محتاج ہوتے ہو۔جو نہی وہ ایک مستقل زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں والدین ان کو آزاد چھوڑدیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مستقل زندگی گزارنا شروع کردیں ۔یہی بات پرندوں اور دیگر جانوروں بلکہ انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم اس پر عمل نہیں کرتے ۔
جب اولاد کی شادی ہوجائے تو ان کے کاموں میں بے جا مداخلت نہ کریں ۔
٭ جان لو کہ تم علم کے ساتھ ہی خوش نصیبی حاصل کرسکتے ہو ۔(حضرت علی علیہ السلام)
نسخہ نمبر ۹
--{ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ داماد اور بہو کی طرفداری کریں }--
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں کہ :
"ہمیشہ صلح وصفائی آپ کا مطمع نظر رہے ۔"
بہو کے ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ داماد کی طرفداری کریں اور ساس وسسر کو بہو کی طرفداری کرنی چاہئیے ۔
اگر لڑکی لڑبھڑ کر ماں باپ کے گھر چلی جائے تو لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کو لے جاکر داماد کے حوالے کردے اور اس کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کرباتیں کرے تو داماد کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو،راضی ہوجائے گا اور اگر ساس وسسر گھر میں بہو کے ساتھ الفت ومحبت رکھیں اور اگر جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کی طرفداری کریں تو بہو خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو خود بخود ان کے ساتھ محبت کرنےلگے گی اور جھگڑا فساد ختم ہوجائے گا ۔
امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنی شہادت کے وقت اپنے فرزندوں کو یوں نصیحت فرمائی :
" اے میرے فرزندوں ! میں تمہیں تاکید کرتاہوں کہ تقوی کو اپنا شعار بناؤ ،اپنے معاملات کو منظم رکھو اور اپنے درمیان ہمیشہ صلح وصفائی رکھو"۔
کیونکہ میں نے تمہارے جد پیغمبر اسلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا :-
دو افراد کے درمیان صلح کرنا خدا کے نزدیک ایک سال کی نماز اور روزوں سے افضل ہے ۔"
نسخہ نمبر ۱۰
--{ کبھی بھی بہو کی برائی بیٹے سے یا داماد کی برائی اپنی بیٹی سے نہ کریں }--
ان کی خامیوں کی تلاش میں بھی نہ رہیں ۔
بہت سے لوگ خود اپنے اندر اور دوسروں میں اچھائیاں نہیں دیکھ پاتے ان کو ہر چیز منفی صورت میں نظر آتی ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اندر کیسی کیسی خوبیاں ہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے میں کون کون سی برائیاں ہیں ۔
منفی پہلو کی سوچ گویا مکھی کی طرح ہے وہ باغ میں بھی جائے تو ڈھونڈ تی ہے کہ کہیں کوئی گندگی مل جائے تاکہ وہ اس پر بیٹھ سکے ۔
محترم ساس و سسر ،اپنی بہو اور داماد کے پیچھے نہ پڑیں کہ کسی نہ کسی طرح
کوئی نقص نکال ہی لوں بلکہ آپ کو ایک بلبل کی طرح ہمیشہ پھولوں پر ہی رہنا چاہئیے ۔آپ کو پھولوں ہی کی تلاش ہونی چاہیے ۔بہو میں اچھائی اور مثبت نقاط کی تلاش کرنی چاہیئے ،آپ اس کی ساری اچھائیاں ایک بد سلوکی کی وجہ سے بھلا دیتے ہیں ۔ اور آپ کا رویہ یکدم بدل جاتا ہے ۔
افسوس! قرآن کا بھی یہی مشہورہ ہے کہ انسان وفادار نہیں ہے ۔
نسخہ نمبر ۱۱
--{معافی کواپنا شعار بنائیں }--
واقعا اگر آپ کی بہو بری بھی ہے ،اور اس نے آپ کے ساتھ کچھ زیادتی بھی کی ہے تو آپ اسے معاف کردیں ۔
کیوں ؟
اس لئے کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ قیامت میں خدا آپ کو معاف کردے ؟
آپ نے سنا ہوگا کہ قیامت میں کچھ لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس دنیا میں عفو ،درگذر اور بخشش سے کام لیتے ہیں ۔
نسخہ نمبر ۱۲
--{ جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو}--
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گھر میں (بمعہ ترجمہ) لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دینی چاہئیے ،کہ گھر کے ہر فرد کی نگاہ اس پر پڑتی رہے
"ویدرون بالحسنة "(سورہ قصص)
"جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو"
اے ساس وسسر ! اگر آپ قرآنی احکام پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کو اس آیت پر بھی عمل کرنا ہوگا ۔یہ آیت لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دیں کہ جسے آپ بھی دیکھیں ،بہو بھی دیکھے ،بیٹا بھی دیکھے ،گھر کے بچے بھی دیکھ لیں اور آہستہ آہستہ سب میں معاف کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے ۔ اگر آپ اور بہو میں ہم آہنگی نہ ہو تو بھی بخشش اور حسن سلوک سے اس کمی کو پورا کرسکتے ہیں ۔
٭ علم کی وجہ سے اللہ کے واحد ہونے کا اقرار کیا جاتا ہے علم کے ذریعے صلہ رحم کیا جاتا ہے ۔"
نسخہ نمبر ۱۳
--{اختلافات کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "خود بینی اور خود پسندی "کی بیماری ہے اس کو دور کیجئے"}--
اس مہلک بیماری میں مبتلا شخص پر پتھر پڑجاتے ہیں وہ صرف اپنی خوبیوں کو دیکھتا ہے اور اسے اپنے میں خاص خامی نظر نہیں آتی اور وہ وقت اس سے بھی بد تر ہوتا ہے جب اس مرض میں مبتلا کوئی دوسرا شخص بھی مل جائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی عیب جوئی کریں ۔
محترم ساس ! کہیں یہ عیب آپ میں بھی تو نہیں ہے ۔ممکن ہے کہ زیادتی بہو کی طرف سے بھی ہوتی ہو لیکن آپ کا بھی قصور ہو ۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے کا ایک طریقہ اپنا محاسبہ کرنا ہے ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آپ کی طرف سے بہو کے سلسلے میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں ؟
اگر ہوئی ہیں تو اپنی طرف سے بہو سے حسن سلوک کرکے ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں ۔
بہت سے لوگوں میں یہ مرض اتنا گہرا اور شدید ہوتاہے کہ انہیں اس کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہوتا ۔
نسخہ نمبر ۱۴
--{ اگر آپ خود کو آخرت کے لئے آمادہ کرلیں گے تو گھر کے سارے جھگڑے خود ہی ختم ہوجائیں گے }--
رسول اسلام (ص) فرماتے ہیں کہ :
"وہ شخص جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہوجائے اور اس کے اچھے کام برے کاموں پر غالب نہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو عذاب الہی کے لئے تیاررکھے "-
امام حضرت صادق فرماتے ہیں کہ :
"انسان چالیس سال تک کی عمر تک رحمت الہی کی وسعت میں ہے جب زندگی کے چالیس سال مکمل ہوجاتے ہیں تو خدا فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ اب وہ سخت گیری اور سخت نگرانی سے کام لیں اور اس کے تمام اعمال چاہے کم ہوں یا زیادہ ،چھوٹے ہوں یا بڑے تحریر کریں ۔"
اگر آپ نے علم حاصل کئے بغیر ہی زندگی گزاردی ہے تو جھگڑوں کا ایک سبب یہ جہالت بھی ہے کیونکہ
مولائے کا ئنات فرماتے ہیں کہ :
"جب عقل مند انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی عقل جوان ہوتی ہے اور جب جاہل انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہوتی ہے "۔
اور آپ کی علم حاصل کرنے سے روگردانی آپ کو خلاف شریعت امور کا ارتکاب کرواتی ہے جس سے اولاد او ربھی نافرمان ہوجاتی ہے ۔اگر آپ کو علم ہو کہ کس وقت شریعت کی طرف سے کیا ذمہ داری ہے ، موجودہ حالت میں گھر میں کیسے رہا جائے تو اولاد کبھی نافرمانی کی طرف نہیں جائے گی ۔
رسول اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے ارشاد فرمایا کہ :
"اے علی (ع) ! وہ ماں باپ ،رحمت الہی سے دور ہوں اور بے نصیب ہوں جو اپنے برے طریقوں اور باتوں سے اپنی اولاد کے منحرف او رگمراہ ہونے کا باعث بنتے ہیں اور انہیں اپنی اذیت اور نافرمانی کے راستے پر لگادیتے ہیں "۔
مولائے کائنات فرماتے ہیں کہ:
"جھڑکنے اور ڈانٹ ڈپٹ میں زیادتی ،لڑائی جھگڑے کی آگ کو بڑھا تی ہے "۔
اس پورے کتابچہ کا خلاصہ اگر کیا جائے تو لب لباب اس روایت کا نتیجہ ہے کہ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ہم تین آدمی کسی بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اتنے میں
پیغمبر اسلام پہنچے اور دیکھا کہ ہم جھگڑرہے ہیں ۔یہ دیکھ کر آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا ، میں نے کبھی رسول خدا کو اتنا غصّہ ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔اس کے بعد پیغمبر اسلام نے فرمایا :
" جھگڑا اور تکرار کرنا مسلمانوں کی شان نہیں ،جو لوگ ایسا کریں گے میں ان کی شفاعت نہیں کروں گا ۔"
اس کے بعد فرمایا :
" ابتدائی چیز جس کے بارے میں مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں لوگوں کو جس چیز سے روکوں وہ شرک و بت پرستی کے بعد تکرار اور جھگڑا کرنا ہے ۔"
٭ میرے شیعوں کو میرا سلام پہنچانا اوریہ کہہ دینا کہ اللہ اس بندے پر رحمت کرتاہے جو دوسرے کے پاس بیٹھ کر ہماری حدیثیں یاد کرتا ہے کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا ایک فرشتہ ہوتاہے جو ان دونوں کے واسطے طلب مغفرت کرتا ہے اور جب تم ایک دوسرے سے ملتے ہو اور ہماری حدیثوں کا ذکر کرتے ہو تو اس ملاقات اور ذکر کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارا دین مذہب تمھارے لئے زندہ ہوجاتا ہے اور ہمارے بعد سب سے بہتر وہ شخص ہے جو ہماری حدیثوں کاذکر کرے اورہم کو یاد کرے ۔(امام جعفر صادق علیہ السلام)
اس کتابچہ کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیاگیا ہے ۔
کتاب کانام
۱:- پیارا گھر ۔
۲:- تحفہ دولہا ۔
۳:- تحفہ دلہن۔
۴:- بزرگوں کی ذمہ داریاں ۔
۵:- اسلام دین معاشرت ۔
۶:- ہدیۃ الشیعہ ۔
۷:- خاندان کا اخلاق ۔
۸:- خوشگوار ازدواجی زندگی کے اصول ۔
۹:- ازدواج دراسلام۔
۱۰:- تربیت اولاد ۔
۱۱:-اسلام میں اولاد کی تربیت ۔
فہرست
تفریظ ۵
پیش لفظ ۹
بیوی کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے ۱۲
نسخہ نمبر ۱ ۲۱
--{شوہر پر مسلسل احسانات کریں}-- ۲۱
نسخہ نمبر ۲ ۲۳
--{جی ہاں ۔۔۔۔۔یہ لفظ بولنا سیکھ لیں ۔}-- ۲۳
نسخہ نمبر ۳ ۲۴
--{معاف کردیجئے ،آیندہ ایسا نہیں ہوگا}-- ۲۴
نسخہ نمبر ۴ ۲۷
--{مکمل خاموشی}-- ۲۷
نسخہ نمبر ۵ ۲۹
--{یہ مجرب نسخہ وہ کہاوت ہے 'جو تم مسکراؤ تو سب مسکرائیں}-- ۲۹
نسخہ نمبر ۶ ۲۹
--{ ہر وقت شکر کرنے کی عادت ڈال لیں ہر حال میں }-- ۲۹
نسخہ نمبر ۷ ۳۱
--{زبان شیرین تو ملک گیری}-- ۳۱
نسخہ نمبر ۸ ۳۲
--{اپنے غصّہ پر قابو پائے}-- ۳۲
نسخہ نمبر ۹ ۳۲
--{شوہر جب غصّہ میں ہو تو جواب نہ دیں }-- ۳۲
نسخہ نمبر ۱۰ ۳۴
--{رازنہ کھولیں}-- ۳۴
نسخہ نمبر ۱۱ ۳۵
--{ہر حال میں شوہر کا ساتھ دیں}-- ۳۵
نسخہ نمبر ۱۲ ۳۶
--{نامحرموں سے اجتناب }-- ۳۶
نسخہ نمبر ۱۳ ۳۸
--{جب تک ناراض شوہر کو راضی نہ کرلیں آرام سے نہ بیٹھیں}-- ۳۸
نسخہ نمبر ۱۴ ۴۰
--{شوہر اور اولاد کو بھی دیندار بنادیں}-- ۴۰
شوہر کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے ۴۴
نسخہ نمبر ۱ ۴۴
--{یہ بات طے کرلیں کہ بیوی ،ماں اور بہنوں کی ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں سنیں گے }-- ۴۴
نسخہ نمبر ۲ ۴۶
--{بیوی کے سلسلے مین اپنے معیار کونیچے لائیے}-- ۴۶
نسخہ نمبر ۳ ۴۸
--{اخلاق میں بہترین اور اپنے گھر والوں کے حق میں نرم ترین بن جائیں }-- ۴۸
نسخہ نمبر ۴ ۵۰
--{"گڑنہ دیں تو گڑجیسی بات تو کریں" }-- ۵۰
نسخہ نمبر ۵ ۵۱
--{بیوی کے کاموں کی اکثر تعریف کیجئے }-- ۵۱
نسخہ نمبر ۶ ۵۳
--{بیوی کو دوست سمجھیں نوکر نہیں }-- ۵۳
نسخہ تمبر ۷ ۵۴
--{بیوی کی خدمات کا احساس کریں}-- ۵۴
نسخہ تمبر ۸ ۵۵
--{اگر بیوی کی یہ کوتاہیاں آپ کی بہن یا بیٹی میں ہوتیں ۔۔تو؟}-- ۵۵
نسخہ نمبر ۹ ۵۷
--{اپنے غصّہ کو برداشت کرنا سیکھئے }-- ۵۷
نسخہ نمبر ۱۰ ۵۹
--{اپنا مقام پہچانئے ،زن مرید نہ بنئے}-- ۵۹
نسخہ نمبر ۱۱ ۶۰
--{بیوی کو دیندار بنا ئیے مگر خود دینداری چھوڑ ے بغیر}-- ۶۰
نسخہ نمبر ۱۲ ۶۴
--{دیندار شوہر گھر میں فقہی قوانین نہ چلائیں کیونکہ گھر الفت ومحبت سے چلتے ہیں ، قانون سے نہیں }-- ۶۴
نسخہ نمبر ۱۳ ۶۵
--{بیوی سے اچھا سلوک کرنا اور اسے ہمیشہ خوش رکھنا }-- ۶۵
نسخہ نمبر ۱۴ ۶۶
--{ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگتے رہنا چاہیئے }-- ۶۶
ساس ،سسر اور گھر کے دیگر افراد کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے ۶۸
نسخہ بمبر ۱ ۶۸
--{ساس سسر یا گھر میں رہنے والے اور افراد سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر دم کریں }-- ۶۸
نسخہ نمبر ۲ ۶۹
--{ساس سسر یا گھر میں کثرت سے تلاوت قرآن بمعہ ترجمہ کا اہتمام کریں }-- ۶۹
نسخہ نمبر ۳ ۶۹
--{ حتی الامکان بیٹے کو شادی کے بعد الگ رہنے کی ترغیب دیں }-- ۶۹
نسخہ نمبر ۴ ۷۳
--{ ہم مزاج بیٹے اور بہو کو ساتھ رکھیں }-- ۷۳
نسخہ نمبر ۵ ۷۳
--{ کچن تو ضرور علیحدہ ہو }-- ۷۳
نسخہ نمبر ۶ ۷۴
--{ حسن اخلاق او رخوش دلی سے جتنی چاہے خدمت کروائیے }-- ۷۴
نسخہ نمبر ۷ ۷۵
--{ بہو سے بدگمان نہ ہوں }-- ۷۵
نسخہ نمبر ۸ ۷۶
--{بیٹا اور بہو کے ہر کام میں مداخلت نہ کریں }-- ۷۶
نسخہ نمبر ۹ ۷۷
--{ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ داماد اور بہو کی طرفداری کریں }-- ۷۷
نسخہ نمبر ۱۰ ۷۸
--{ کبھی بھی بہو کی برائی بیٹے سے یا داماد کی برائی اپنی بیٹی سے نہ کریں }-- ۷۸
نسخہ نمبر ۱۱ ۷۹
--{معافی کواپنا شعار بنائیں }-- ۷۹
نسخہ نمبر ۱۲ ۸۰
--{ جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو}-- ۸۰
نسخہ نمبر ۱۳ ۸۱
--{اختلافات کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "خود بینی اور خود پسندی "کی بیماری ہے اس کو دور کیجئے"}-- ۸۱
نسخہ نمبر ۱۴ ۸۲
--{ اگر آپ خود کو آخرت کے لئے آمادہ کرلیں گے تو گھر کے سارے جھگڑے خود ہی ختم ہوجائیں گے }-- ۸۲
کتاب کانام ۸۵